میری پری میری جان — اقراء عابد

”پری کا سر گود میں رکھا میں رو رہا تھا اور چیخ رہا تھا کہ مجھے محبت نہیں چاہیے مجھے پری چاہیے۔ مجھے میری پری لوٹا دو، مجھے میری پری لوٹا دو۔ میری چیخ و پکار کو ئی سننے والا نہیں تھا۔ دو سال تک میں یونہی بھٹکتا رہا۔ داراب کے والدین بھی صدمے سے نڈھال تھے۔ مگر میں نے بھی اپنی بہن کھوئی تھی یہ بات سوچ کر انہوں نے مجھ سے کوئی سوال نہ کیا۔
پھر میں مختلف سینٹرز میں جاتا رہا۔ ہاسپٹلز میں، چلڈرن ہومز میں، اولڈ ہومز میں مگر مجھے سکون نہ ملا۔ ایک دن ایک ہاسپٹل میں میں نے تمہاری انجلا کو دیکھا۔ وہ میری پری سے بہت ملتی تھی۔ مجھے اُس میں اپنی پری کی جھلک نظر آئی۔
میں ہر روز ہاسپٹل جاتا۔ اب وہی میری پری تھی اُس کے پاس مجھے سکون ملتا تھا۔ میں نے اُسے اپنے گھر لانا چاہا مگر ڈاکٹرز نے انکار کر دیا۔ میں ہر ماہ اُس کے لئے بڑی رقم ڈاکٹر کو دیا کرتا۔ اُسے ہر سہولت دی گئی تھی میں اُس سے روز ملنے جاتا تھا مجھے معلوم ہوتا تھا کہ ہر ماہ چند روپے انجلا کی بہن بجھواتی ہے مگر وہ کبھی ملنے نہیں آئی۔” وہ اب سنبھل چکا تھا۔
”اچانک بزنس کے سلسلے میں مجھ دوسرے ملک جانا پڑ گیا۔۔ دو ماہ تک میں کسی کے رابطے میں نہیں تھا۔ بہت سے کام نمٹانے والے تھے۔ جب میں واپس لوٹا تو سب سے پہلے میں پری سے ملنے گیا۔ مگر یہ دیکھ کر میرا دل دکھ اور غم سے بھر گیا کہ پری کو بہت گندا کمرہ دیا گیا تھا جہاں نہ پانی تھا اور نہ سانس لینے کی گنجائش۔ میں پری کو گھر لے آیا اور پھر تم آ گئیں پولیس کی نفری کے ساتھ۔ میں بہت ڈر گیا تھا وہ اس میں پوری رات سو نہیں سکا تھا۔۔ میں نے اپنے کانٹیکٹ استعمال کیے اور تمہارے بارے میں پل پل کی خبر لی اور پری نے مجھے پاپا بلایا تو میں جان گیا کہ وہ صرف میری ہے صرف میری بیٹی ہے وہ اب اُسے دنیا کی کوئی طاقت مجھ سے جدا نہیں کرسکتی تم بھی نہیں چاہو تو بھی نہیں۔”
”پری میرے جینے کی آرزو ہے۔ پری میرے جینے کی وجہ ہے۔” اس کی آواز بار بار روہانسی ہورہی تھی۔
”وہ میری زندگی کی آخری امید ہے عندلیب! اُس کے بغیر اب میں جی نہیں پائوں گا۔ اُسے مجھ سے مت چھینو۔ خدارا مت چھینو۔” وہ دونوں کہنیاں میز پر رکھے دونوں ہتھیلیاں جوڑے زار و قطار اس کے سامنے رو رہا تھا اور اپنی پری کی بھیک مانگ رہا تھا۔





”عندلیب نے کچھ دیر اُسے رونے دیا۔ پھر چہرہ اوپر اٹھایا جو کہ آنسوئوں سے تر تھا۔ اُس نے اپنے آنسو صاف کیے اور سُبحان کی دونوں ہتھیلیاں کھولیں۔
”میں کون ہوتی ہوں تم سے تمہاری پری چھیننے والی۔ وہ صرف تمہاری ہے صرف تمہاری بیٹی۔۔۔ ”میں نے تو اُسے کوڑا کڑکٹ سمجھ کر اُسے ہسپتال میں لا پٹخا تھا اپنے مفاد کی خاطر، کبھی پلٹ کر بھی اُس کی طرف نہیں دیکھا تھا۔ وہ کیسی ہے کس حال میں ہے، میں نے کبھی نہیں جاننا چاہا میں ہمیشہ اس بات پر اپنے رب سے معافی مانگتی رہی۔ اور آج تک مانگتی ہوں۔ تمہارے گھر پولیس میں نہیں ڈاکٹر سلیم لایا تھا اور وہ بھی مجھے دھمکا کر کہ اگر میں نہ گئی تو وہ انجلا کو ختم کروا دیں گے۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ میں اُسے کبھی ملنے نہیں گئی تھی۔ جتنا ہو سکتا تھا میں رقم جوڑ کر ہاسپٹل بھیجوا دیتی تھی۔ کیوں کہ اگر میں اُس سے ملتی تو واپس نہ پلٹ پاتی۔
ماں باپ کے بعد ماما۔ مامی کے اتنے طعنے سنے، اتنی ماریں کھائیں کہ تشدد کرنے والا شوہر بھی اچھا لگتا تھا کہ چھت کا آسرا اور چاردیواری کا سہارا تو تھا۔
”وہ ہمیشہ شراب پی کر آتا اور مجھے بہت پیٹتا، مگر میری مجبوری تھی اُس گھر میں رہنا۔جس رات اُس نے طلاق دے کر مجھے گھر سے باہر نکالا اُس دن اُسے میرا انجلا سے ملنے آنے کا پتا چلا تھا۔
”ایسی شادی نبھانے کے بعد اب مجھے شادی کے نام سے بھی خوف آتا ہے، مگر میں بے آسرا ہوں اور تم تنہا۔ شاید خدا نے ہمیں ملانے کیلئے ہی یہ سب کھیل رچایا ہو۔ کیوں کہ اُس کے کھیل نرالے ہوتے ہیں۔ وہ جب چاہے جسے چاہے ملا دے اور جب چاہے جسے چاہے جدا کر دے۔
”ٹھیک ہے عندلیب اگر تمہیں اعتراض نہیں تو پھر تمہاری عدت کے بعد ہم شادی کر لیں گے۔ لیکن ابھی شادی سے پہلے ہی مجھے بھوکا مارنے کا ارادہ ہے کیا؟ لنچ ٹائم سے ڈنر ٹائم آگیا اب تو رونا دھونا بند کرو۔” سبحان احمد نے شوخی سے کہا تو عندلیب نم آنکھوں سے مسکرا دی۔ اب دونوں خوش تھے دونوں نے ڈنر کیا اور گھر آ گئے۔
اگلے دن عندلیب نے فیصلہ کیا کہ جب تک اُس کی عدت پوری نہیں ہو جاتی وہ اور سبحان ایک دوسرے سے نہیں ملیں گے اور وہ عفت آپا کے ساتھ انیکسی میں رہے گی۔ سبحان کو پہلے تو بُرا لگا لیکن پھر اُس نے اجازت دے دی۔
وہ دن سُبحان نے کیسے کاٹے وہ وہی جانتا ہے۔۔ ہر وقت عندلیب کی نم ناک آنکھیں اُس کا پیچھا کرتیں۔ اُس کا حیا دار روپ اُس کے دل میں سما گیا تھا۔
ادھر عندلیب کا بھی کچھ ایسا ہی حال تھا وہ بھی جان گئی تھی کہ سُبحان کتنا اچھا اور سچا انسان ہے۔ وہ بھی دل ہی دل میں اُسے چاہنے لگی تھی۔
پری ابھی بھی سُبحان کے ساتھ ہی رہتی تھی اور اُسی کے ساتھ سوتی تھی۔ لیکن اب آہستہ آہستہ وہ اُسے اس کے کمرے میں سلانے کا عادی بنا رہا تھا اور وہ مان بھی لیتی تھی۔ سُبحان کو پتا تھا اپنی پری کو کیسے منانا ہے وہ ایک پری کھو چکا تھا اب دوسری نہیں کھو سکتا تھا۔ عندلیب کی عدت پوری ہوئے آج تیسرا دن تھا جب عفت آپا کو اُس نے میرون اور سلور کلر کا خوب صورت لہنگا، میچنگ جیولری اور ہیل تھمائی۔
یہ لیجئے آپا! آج اپنی بہو رانی کو خوب سجا سنوار دیجئے گا۔ عصر کے بعد نکاح ہو گا۔ کسی اور چیز کی ضرورت ہو تو بتا دیجئے گا۔۔۔” عفت آپا نے تمام چیزیں عندلیب کے سپرد کیں اور وہ خود ہی تیار ہو گئی۔ مگر بہت ہلکے سے میک اپ میں بھی وہ غضب لگ رہی تھی۔
نکاح میں چند محلے دار اور سُبحان کے دوست ہی شامل تھے۔۔ پری بھی اپنی ماما کو سجا سنورا دیکھ کر مسکرائے جا رہی تھی۔ اب وہ ٹھیک سے چلنے لگی تھی اِس لئے وہ خود چل کر اپنی ماما اور پاپا کے پاس آ کر صوفے پر بیٹھ گئی۔
آج سُبحان کو اُس کی محبت بھی مل گئی تھی اور پری بھی۔ وہ بہت خوش تھا۔ مگر کچھ خلا وقت کے ساتھ ساتھ پرُ ہوتے ہیں۔

٭…٭…٭




Loading

Read Previous

کردار —-ہاجرہ ریحان

Read Next

میں بے زباں —- رفا قریشی

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!