معین اختر:صدائے ظرافت اب نہ آئیں گے پلٹ کر۔۔۔ ۔ شاہکار سے پہلے

ایوارڈز

معین اختر کو جب پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ سے نوازاگیا تو ان کے والد روپڑے۔ یہ ایک باپ کے خوشی کے آنسو تھے جن میں گزرے وقت کی تکلیفوں اور غموں کا پانی شامل تھا۔ معین کو ملنے والے متخلف ایوارڈز درج ذیل ہیں:

٭اسپیشل ایوارڈ فار کامیڈی 2005
٭پرائیڈ آف پرفارمنس 1996
٭ڈیلاس کی اعزازی شہریت 2005
٭ستارہ امتیاز2011

٭٭٭

آخری وقت

22اپریل 2011ء کا دن تھا۔ چار بج کر تیس منٹ کاوقت تھا۔ معین اختر نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا۔ غسل کیا۔ مسواک کیا۔ اپنے تمام کام نمٹائے جو وہ روٹین کی لائف میں کرتے تھے۔۔. اور .۔۔ ان کے جسم کی بائیں جانب درد اٹھا۔ یہ دل کا پرانا درد تھا۔۔۔ اور یہ آخری ہارٹ اٹیک تھا۔ ان کا بیٹا منصورانہیں دیکھ رہا تھا۔ وہ سجدے کی حالت میں گرے تھے۔۔۔ اور ان کا رخ قبلے کی طرف تھا۔ خدا نے اس نیک انسان کو اس کی شخصیت کی مطابق موت دی تھی۔ اسے کسی کا محتاج نہ بنایا تھا نہ اس کا آخری وقت تکلیف دہ تھا۔ ان کی شان سلامت تھی۔
معین اختر کی نمازِ جنازہ توحید مسجد میں جنید جمشید نے پڑھائی۔
معین اختر کی تین بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں۔ ان کا یہ عزم ہے کہ وہ باپ کی طرح انسانیت کی خدمت کریں گے۔ 

معین اختر کے ہی الفاظ سے میں اس مضمون کو ختم کروں گا۔۔۔

‘‘میں نے جو کچھ کیا وہ تاریخ کا حصہ ہے اور تاریخ کھنگالنا ہمیشہ مشکل ہوتا ہے لیکن ایک دن آئے گا جب لوگ یاد کریں گے۔۔۔ ایک شخص تھا جس نے کِیا تھا اور اس نے سب سے مختلف کِیا تھا۔’’

٭٭٭٭
ختم شد

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

Loading

Read Previous

ولیم شیکسپیئر ۔ شاہکار سے پہلے

Read Next

 محمد علی ۔ شاہکار سے پہلے

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!