Tag: afsana

  • عشق من محرم — علینہ ملک

    عشق من محرم — علینہ ملک

    جمال یار سے آنکھوں میں عکس بنتا ہے
    عکس جب روح میں اترے تو نقش بنتا ہے
    واعظ ! آئو میں سمجھائوں رقص کی تشکیل
    روح جب وجد میں آئے تو رقص بنتا ہے
    ہوا میں ہلکی ہلکی سی سرگوشی ابھری تھی۔ شاید یہ کسی نئی کہانی کے آغاز کا سندیسہ تھا۔ کہانیاں تو ازل سے تخلیق ہوتی چلی آرہی ہیں ، فرق صرف قلم کار کی سوچ کا ہے کہ وہ نوکِ قلم سے اسے کس سانچے میں ڈھال دے ورنہ زندگی تو ہمیشہ سے ایک ہی سمت رواں ہے، پیدائش سے موت تک… اور موت سے عالمِ بالا تک… ہاں یہ بھی حقیقت ہے کہ اصل کہانی کار تو اوپر والے کی ذات ہے جس کی لکھی کہانیوں میں کوئی جھول نہیں اور جس کے کردار اس کے پیدا کردہ چلتے پھرتے انسان ہیں۔ جو دنیا میں آتے ہیں اور اپنا کردار نبھا کر چلے جاتے ہیں۔ ہر شخص اپنی پیدائش کے ساتھ ایک نئی کہانی لاتا ہے مگر عمر بھر وہ یہ نہیں جان پاتا کہ اس کی کہانی کا انجام کیا ہوگا؟ ہے نہ حیرت کی بات کہ انسان ساری کائنات مسخر کر کے بھی اپنی کہانی کو تسخیر نہیں کر پایا۔ تو بات شروع ہوئی تھی کہانی کی اور کہانی بھی وہی عام تھی ۔وہ سیاہ داسی ،سیاہ پوش۔
    بھلا سوچنے والے بھی کہتے ہوں گے یہ کیسا نام ہوا۔ تو بات ہی ایسی تھی کہ وہ سیاہ داسی، سیاہ رنگ کی عاشق، سیاہ رنگ کی غلام تھی۔اس کے خیال میں سیاہ رنگ عشق کا رنگ ہوتا، وہی تو ایک رنگ ہے جو سارے رنگوں کو اپنے اندر سمو لیتا ہے۔ محبت، خلوص اور چاہت کا رنگ۔پھر سیاہ رنگ تو غلافِ کعبہ کا بھی ہے اور اسے تو کعبہ سے بھی عشق تھا۔ نام اس کا آمنہ نور، اور نور تو اس کے چہرے سے پھوٹتا تھا۔مگر سیاہ رنگ کی کشش نے اسے سیاہ داسی بنا ڈالا ۔
    کہتے ہیں جن کا عشق خدا ہو انہیں سپنے بھی سچے دکھائی دیتے ہیں۔آج تیسری بار وہ یہی خواب دیکھ رہی تھی۔وہ سر تا پا سیاہ لباس میں ملبوس صحرا کی گرد پیروں میں لپیٹے وہاں حرم میں موجود تھی، کعبہ کے عین سامنے مقام ابراہیم کے پاس ایک شفاف ستون سے سر ٹکائے وہ نجانے خدا سے کیا راز و نیاز میں مصروف تھی کہ اس کے عین عقب سے وہی جانی پہچانی آواز ابھری ۔
    ”کیوں بھاگتی پھر رہی ہو مجھ سے اے پاکیزہ روح؟ کیا تمہیں میری حالت پر ذرا رحم نہیں آتا؟ جانتی ہو نہ میں تمہیں دیکھ کر جیتا ہوں؟”
    ”مجھے دیکھ کر؟” اس نے سیاہ معصوم آنکھوں سے حیران ہو کر پوچھا تھا۔





    ”ہاں! ایک تمہارا سراپا ہی تو دیکھ پایا ہوں مگر تمہاری معصوم اور روشن آنکھیں اس بات کی عکاس ہیں کہ تمہارا چہرہ بھی تمہارے کردار کی طر ح شفاف آئینہ ہو گا۔”
    اس نے بے چینی سے پہلو بدلا اور نگاہیں فرش پر گاڑھ دیں۔ اتنی بے باک تعریف وہ بھی کسی اجنبی سے سننا، اسے کچھ ناگوار گزرا۔
    ”سنو ابن عبداللہ! تم کیوں ہاتھ دھو کر میرے پیچھے پڑ گئے ہو؟جاؤ چلے جاؤ یہاں سے مجھے انسانوں میں کوئی دلچسپی نہیں۔ میری زندگی صرف میرے رب کے لیے ہے اور پھر چار دن کی اس زندگی میں کسی اجنبی سے دل لگانا مجھے گوارہ نہیں۔” غصہ سے اس کی آنکھیں سرخ ہوئی تھیں۔
    ”میں تمہاری ایک نظر کا طالب ہوں اے سیاہ پوش حسینہ! مجھے دل میں تھوڑی سی جگہ دے دو۔ میں جی اٹھوں گا۔”وہ ملتجی ہوا تھا۔
    ”تم نے مجھے دیکھا ہی کب ہے جو میرے حسن کے قصیدے پڑھ رہے ہو؟ کیا میں نہیں جانتی کہ مرد عورت کو تعریفوں کے خوبصورت جال میں پھنساتا ہے اور پھر تمام عمر اس کو تنہا کر کے رلاتا ہے۔”
    ”تم غلط سوچتی ہو۔ میں ان مردوں میں سے نہیں۔ ایک بار مجھ پر بھروسہ کر کے تو دیکھو۔”
    ”ابن عبداللہ! تم دنیا کے آخری مرد بھی ہوئے نا تو میں تب بھی تم پر بھروسہ نہیں کروں گی۔” وہ منہ پھیر کر بولی تھی۔ مگر کون جانے کے اس کی کھائی ہوئی قسم کب ٹوٹ جائے کہ قدرت کے کھیل قدرت ہی بہتر جانتی ہے۔ وہ کب کسے توڑ دے اور کب توڑ کر جوڑ دے، سبھی اختیار اس کے ہیں۔
    وہ ابنِ عبداللہ جسے وہ خواب میں دیکھتی آئی تھی، اب حقیقت میں اس کی زندگی میں آچکا تھا۔ اسے نہیں یاد کہ اچانک وہ اجنبی کب،کیسے اور کیوں اس کی زندگی میں آیا ۔مگر یہ بھی سچ ہے کہ اس پہلی ملاقات کے بعد ابنِ عبداللہ نے اس کا پیچھا نہیں چھوڑا۔وہ ہر موڑ،ہر رستے اور ہر جگہ سائے کی طرح اس کے ساتھ تھا ۔
    ”تم آخر میرا پیچھا چھوڑ کیوں نہیں دیتے؟ بولو۔”
    ”بھلا پروانہ شمع کے پاس نہیں آئے گا تو اور کہاں جائے۔”
    ”پروانہ نہیں بھنورا کہو۔تم بھنورا صفت انسان ہو۔ ڈالی ڈالی، کلی کلی منڈلانے والے۔ تم کیا جانو کہ محبت کی حقیقت کیا ہے اور عشق کسے کہتے ہیں۔”
    ”جانتے ہو عشق کی حقیقت کیا ہے؟ عشق تو وہ ہے جب دوئی کا فرق مٹ جاتا ہے۔ سانس کوئی لیتا ہے تو نبض کسی کی چلتی ہے عشق تو روحوں کا ملن ہے۔جانتے ہو سچے عاشق تو ایک ہی در کے فقیر بن جاتے ہیں۔ پھر نہ آنکھوں کو کوئی دوسرا دکھائی دیتا ہے نہ کانوں کو کوئی اور سنائی دیتا ہے۔ بس تو ہی تو، تو ہی تو۔من مندر میں ایک خدا اور وہی دکھے جابجا۔” وہ روانی میں کہہ رہی تھی۔
    ”عشق سیکھنا ہے تو نرمگس سے سیکھو جو ایک ملکہ کی خواہش میں اپنی ساری زندگی یہاں تک کہ جان تک ہار بیٹھتا ہے اور ابنِ عبداللہ اسے ہر بار کچھ یوں اپنے سچ کی گواہی دیتا:
    ” تمہیں میری محبت پر یقین نہیں نا تو دیکھ لینا، ایک دن یقین بھی آجائے گا۔ میں تمہیں پاکر تمہارے ہر خدشے کو دھو ڈالوں گا۔” اور پھر وہ وہاں ٹھہرا نہیں۔ اس کی نظروں سے اوجھل ہو گیا۔
    وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا۔ انسان ہزار تاویلیں گھڑ لے مگر جو ہونا ہوتا ہے وہ ہو کر ہی رہتا ہے۔ دو سال گزر چکے تھے۔ اب اسے سچے خواب آنا بند ہو گئے تھے ۔ہاں وہ جاگتے میں خواب بننے لگی تھی۔ وہ خواب جو اس کی مرضی کے تھے۔ بھلا مرضی کے خواب بھی کبھی تعبیر پاتے ہیں۔ مگر وہ انسان ہی کیا جو زندگی میں ایک بار خطا نہ کرلے۔پھر وہ بھی تو عام انسان ہی تھی پھر کیونکر خطا وار نہ ٹھہرتی۔جس بات سے وہ ڈرتی تھی وہ بات پوری طرح اس کی ذات پر حاوی ہو چکی تھی۔کہتے ہیں پانی کی بوندیں اگر مسلسل پتھر پر گرتی رہیں تو اس میں بھی شگاف ڈال دیتی ہیں۔ پھر وہ تو موم سے بھی زیادہ نرم تھی۔ عبداللہ کی بار بار التفات نے اس کے دل میں بھی شگاف ڈال دیا۔
    ایسا شگاف جو کئی گنا گہرا تھا اور جس کو بھرنا۔ناممکن تھا ۔وہ بھی اب سر تا پیر عشق میں ڈوب چکی تھی۔
    دیکھو ابن عبداللہ! تم مجھے اپنا لو۔ وقت بہت گزر چکا ہے۔ میں خدا کی نافرمان بن کر نہیں جی سکتی کہ اس سے عشق بھی کروں اور حکم عدولی بھی۔ اسے بھی چاہوں اور غیر محرم کو بھی۔ میری سوچیں دن رات تمہارا طواف کرتی ہیں۔ آنکھیں صرف ایک تصور میں رہتی ہیں۔ خدا کے لیے مجھے اپنا نام دے دو۔ یوں بے راہ روی کی زندگی مت جیو میں۔ عمر بھر تمہاری داسی بن کے رہوں گی۔ وہ اپنی انا، خودداری سب کچھ تیاگ کر آج اس کے رو برو تھی۔ وقت گزر رہا تھا اور نا محرم محبت نے اسے اس کی اپنی نظر وں میں گرا ڈالا تھا۔
    ”لوٹ جاؤ آمنہ نور! میں بہت مجبور ہوں۔” وہ منہ پھیر کر دھیمے لہجے میں بولا۔
    ”کیوں ابن عبداللہ! کیوں مجبور ہو تم؟تم تو کہتے تھے عمر بھر ساتھ نبھاؤں گا۔”
    ”میں مجبور ہوں اس لیے کہ میں اپنی ماں کا حکم نہیں ٹال سکتا۔مجھے ان کی خواہش کا ہر حال میں احترام کرنا ہے۔ میں بہت شرمندہ ہوں۔”
    ”تو تم بھی وہی عام مرد نکلے ابنِ عبداللہ!جو معصوم عورت کے دل، جذبات اور احساسات سے کھیلتے ہیں۔پہلے محبت اور زندگی بھر ساتھ کے حسین خواب دکھاکر اپنے ساتھ چلاتے ہیں اور پھر دکھ کی اندھیری کھائی میں دھکیل جاتے ہیں۔اگر اتنا ہی ماں کی خواہش کا احترام تھا تو محبت بھی ماں سے پوچھ کر کرتے۔مگر نہیں، تم کو تو اپنے کنوارے پن کا وقت کاٹنا تھا سو میرے اجلے من کو سیاہ کر کے کاٹ لیا۔ اب تمہاری بلا سے میں جیو یا مروں۔ واہ ابنِ عبداللہ خوب محبت نبھائی ہے تم نے۔”وہ نم آلود لہجے میں بولی تھی۔
    ”بس کرو آمنہ نور! تم مجھ پر الزام پہ الزام لگا رہی ہو۔محبت کے اس پر خار رستے کو تم نے اپنی مرضی سے چنا تھا۔ میں نے تمہیں کبھی مجبور نہیں کیا تھا۔ہاں صرف دوستی کا ہاتھ ضرور بڑھایا تھا مگر تم عورتیں بھی عجیب ہوتی ہو۔ اگر کوئی محبت کر لے ان سے تو شادی کے در پے ہو جاتی ہو۔ ضروری تو نہیں ہر محبت کا انجام شادی ہو۔”وہ استہزایہ ہنسا تھا۔
    اور وہ آمنہ نور اپنی ہی نظروں میں منہ کے بل گری تھی ۔خاموشی نے اس کی زبان کو تالا لگا دیا تھا۔ اب نہ اس کے پاس کہنے کو الفاظ تھے اور نہ ہی بولنے کو زبان۔بس ایک زخمی سی نگاہ اوپر آسمان کی طرف اٹھی تھی اور پھر وہ واپسی کا رستہ ڈھونڈنے لگی۔
    واپسی بھی کتنی کٹھن ہوتی ہے، پاؤں تپتے صحرا کی خاک پر آبلہ پا اور آنکھیں رستے سے خار چنتے چنتے آلودہ۔
    زخم تو روح کو لگے تھے اور روح کو لگ جانے والے گھاؤ کب بھرتے ہیں۔
    سکون ختم ہو چکا تھا۔ آنکھیں سرخ رہنے لگی تھیں اس کی نمازوں میں سجدے طویل ہوتے جارہے تھے گناہ کی لذت بھی اور لت بڑی عجیب ہوتی ہے۔ جب لگتی ہے تو کچھ سجھائی نہیں دیتا مگر جب لذت ختم ہو جائے تو پھر زبان سے حلق تک کرواہٹ بھر جاتی ہے۔ وہ بھی ایک گناہ کر بیٹھی تھی، یہ جانتے ہوئے بھی کہ نامحرم مرد اور عورت دوست کبھی نہیں ہوتے ۔وہ یا تو محرم ہوتے ہیں یا پھر اجنبی۔ مگر اس نے اللہ کی قائم کردہ حدود جو توڑی تھی تو اب معافی ملنا بھی آسان نہیں تھا۔




  • بے اثر — سحرش مصطفیٰ

    بے اثر — سحرش مصطفیٰ

    وہ سب سے بے خبر خود کو دیکھے جارہی تھی اور پھر اس نے جیسے سبھی سے نظریں چرا کر اپنے اندر جھانکا تھا۔ یہ ایک بے حد مشکل اور کٹھن مرحلہ تھا، لیکن ہر انسان کی زندگی میں ایک نہ ایک عمر میں یہ مرحلہ آتا ہے جب اسے اپنے اندر جھانکنا پڑتا ہے ۔ وہ سردیوں کا عروج تھا، لیکن پھر بھی وہ پسینے میں نہا گئی تھی۔ صدف عثمان نے نظر بھر کر بسمہ کامران کو دیکھا تھا۔ چمکتا ہوا اُجلا چہرہ ہمیشہ کی طرح مطمئن۔ بہت کچھ کھو دینے کے باوجود غم سے عاری آنکھیں۔ اس نے اپنی آنکھیں بند کیں اور اپنے آپ کو ماضی کی بھول بھلیوں میں کھو جانے دیا تھا۔
    بچپن کی دھوپ چھاؤں سے لے کر جوانی کی نو بہار تک وہ بسمہ کامران سے خار کھاتی تھی۔ خار کا ذائقہ تلخ اور اثر زہریلا ہوتا ہے سوچ کو کڑوااور روح کو نیلا کردیتا ہے ۔ تکلیف کے وہ لمحات روز بہ روز اذیت ناک ہوتے جارہے تھے۔
    بارہواں یا شاید گیارہواں سال تھا ۔ جب اس کے دل میںخواہش پیدا ہوئی تھی۔ جب پہلی بار عاجزی کا غرور اس کی روح میں اترا تھا ۔
    اس کی ماں کے لہجے کی حلاوت اور مزاج میں موجود مروت بے مثال تھی۔ سارے خاندان کے لیے ایک مثال تھی۔ وہ خوب صورت انسانی صفات کا ایک مثالی نمونہ تھیں ۔جو پہلی بار ملتا وہ دوسری بار ملنے کی خواہش دل میں رکھتا ۔وہ ستائش پسند تھی ۔ اپنی ماں کے لیے لوگوں کے منہ سے نکلنے والے الفاظ اسے کسی تصوراتی دنیا کی سیر کراتے۔ وہ خود کو ان کی جگہ محسوس کرتی تھی ۔ یہ خیال اور خواہش اتنی پختگی اختیار کرگئی تھی کہ اس نے ماں کے نقش قدم کو اپنانا چاہا۔کم عمری میں روزے رکھے ۔پنج وقت نماز ادا کی۔ ماں باپ کی فرماں برداری اختیار کی۔ہر اچھی عادت کو اپنانے کے بعد ملنے والی دا د و تحسین اسے مزید نیکیوں پر اکساتی تھی ۔ وہ ہواؤں میں تھی کہ اچانک بسمہ کامران اسے زمین پر لے آئی۔ اس کی سگی چچا زاد اس کے روبرو آگئی تھی۔ وہ خوب صورت تھی ، چمک دار آنکھیں، صاف رنگت اور چہرے کے نقوش میں جمی ہوئی ملکوتی معصومیت۔ وہ ذہین تھی، ہر سال حاصل کی جانے والی اوّل پوزیشن اسے صدف کے مقابلے میں آگے لے آئی ۔ اس کے چھکے چھوٹ گئے تھے ۔ اس احساس کے ساتھ کہ کوئی اس سے آگے نکل رہا تھا۔ تعریف و توصیف کے ڈونگروں کی وہ اکلوتی حق دار نہیں تھی ۔ عمر کے بارہویں سال میں وہ روشنی میں نہائی تھی اور پندرہویں برس میں اس پر تاریکی کا سایہ لہرایا تھا۔ وہ ”صدف ” اور ”بسمہ” کے فرق کو پہچان سکتی تھی۔ بسمہ کے پاس ذہانت تھی۔ وہ ذہانت جودنیا کو چونکا دیتی ہے ۔جو کسی بھی خاندان کا فخر ہوتی ہے۔ وہ ذہانت جو برسوں میں پیدا ہوتی ہے اور فنا ہونے کے بعد بھی اپنی جزیات ہوا کے جھونکوں کو سپرد کرجاتی ہے۔ وہ سب کی آنکھ کا تارا تھی اور اس کی آنکھ کا تنکا۔ جھوٹ، حسد اور بغض کے تیزاب کو اپنے ذہن پر روز انڈیل دیتی اورآہستہ آہستہ گھلتی رہتی۔





    اس کی عبادت ایک مثال تھی ۔عبادت آخرت کا سہارا ہوتی ہے۔ اس نے اپنی عبادت کو دنیا میں آگے بڑھنے کی لاٹھی بنالی۔
    وہ عبادت گزار تھی روشنی میں نہائی ہوئی تھی۔ وہ اپنی عبادت پر نازاں تھی اس پر تاریکی کا ہلکا سا پہرہ تھا۔
    سترہویں سال میں ایک صبح بسمہ نے اسے میڈیکل میں داخلے کی خوش خبری سنائی اور اگلے دن صدف نے ایک خواب ”گھڑ” لیا۔
    ”چاچی میں نے دیکھا کہ اس کالج کے باہر ایک گڑھا ہے۔ کالے گدلے بدبو دار پانی والا اور بسمہ اس میں گر پڑی۔” جھوٹ کا بھوت اس کے سر پر سوار تھا۔
    اس کے اس خود کھدے خواب نے بسمہ کے خوبوں کو مٹی کردیا۔ اسے آرزو تھی اسے بلکتا ہوا دیکھنے کی جو آرزو ہی رہی ۔ بسمہ کامران بڑی ”پکی اور ہوشیار” نکلی اس نے صبر کا سہارا لیا اور جو صبر کرلے، تو دکھ کی کیا مجال کہ آنکھوں کو آنسوؤں سے تر کرلے۔ چاچا نے اس کے لیے ایک اور میڈیکل کالج منتخب کیا۔ اس نے چاچی کے کان بھرے۔
    ”میں نے خواب دیکھا چاچی کہ بسمہ کے میڈیکل کالج میں آگ لگ گئی ہے اور وہ اس کے دھویں میں گھری بری طرح کھانس رہی ہے ۔” چاچی دھک سے رہ گئیں۔ بسمہ کا خواب اس نام نہاد خواب نے تباہ کردیا ۔ وہ سب کی نظروں میں معتبر تھی۔ اس کی عبادتیں گنتے تھے وہ لوگ ۔ اس نے اس گنتی کا خوب فائدہ اٹھایا ۔طے ہوا کہ مسیحائی بسمہ کی قسمت میں نہیں ہے ۔
    بسمہ سسک کر رہ گئی ۔
    پھر تو یہ نیا وتیرہ بن گیا تھا۔ آئے دن اسے کوئی نہ کوئی خواب آتا جو بسمہ کے خواب چکنا چور کردیتا ۔ اس کی آنکھیں خواب دیکھ کر تھکتی ہی نہیں تھیں۔ بسمہ بس چپ تھی۔ بسمہ کے لیے آنے والا ہر اچھا رشتہ اس کے استخارہ کی روشنی میں ہمیشہ ہی ریجیکٹ ہوجاتا ۔ اس کے تقویٰ اورعبادت پر سب کو یقین تھا۔
    وہ نادان تھی یہ بات سمجھ نہ پائی کہ یہ سارے جھوٹے خواب اسے ایمان کی بستی کی حدود سے نکال کر انگار وادی میں دھکیل رہے تھے۔ حسد کی آگ سے تخلیق ہونے والی انگار وادی۔ وہ خوشی سے اس آلودہ بارش میں نہاتی رہی اور پھر خوابوں کا وہ سلسلہ رکا نہیں۔ بسمہ کی ہر کامیابی اور ہر نئے خواب کے بعد ایک خواب گڑھ لیا جاتا تھا ۔ابتدا میں اسے دقت ہوتی جھوٹ ”سوچنا” پڑتاتھا، لیکن پھر جھوٹ خود بہ خود اس کے منہ سے ”ادا” ہونے لگا ۔ وہ بے اختیار کچھ نہ کچھ برا کہہ دیتی ۔ کچھ ایسا جو بسمہ کو تکلیف پہنچائے ۔
    حیرت تو اسے بسمہ پر ہوتی تھی ۔ اسے لگتا تھا کبھی نہ کبھی وہ اسے برا بھلا کہے گی ۔ اسے شعلہ بار نظروں سے گھورتے ہوئے لفظوں سے آگ برسائے گی پر اس کا رویہ ویسا کا ویسا تھا۔ بس اس کی آنکھوں کی میں اداسی کی تہ گہری ہوتی جارہی تھی ۔
    ایک کے بعد ایک خواب، صدف عثمان بودی اور کھوکھلی ہوتی چلی گئی۔ بسمہ کامران گہری ہوتی گئی۔ وہ بغض اور جھوٹ کے سہارے چلتی گئی۔ بسمہ شکر ، صبر اور دعا پر انحصار کرنے لگی ۔
    اس کے نفلی روزوں کی تعداد بڑھنے لگی اس کی نماز کا دورانیہ طویل ہونے لگا ۔ وہ ایک ریس میں داخل ہوچکی تھی۔
    پھر زندگی کی ایک نئی ڈگر شروع ہوئی ایک نئے دور کا آغاز ۔ وہ بہار بن کر صارم کی زندگی میں داخل ہوئی اور اس کے کچھ عرصے بعد بسمہ بھی بسمہ کامران سے بسمہ اظفر بن گئی ۔
    شادی کے ایک سال بعد بسمہ کے پیروں تلے جنت آگئی اور وہ صدف عثمان اس نعمت سے محروم رہی ۔ محروم ہی رہی ۔ ایک سال تک اسے کوئی پریشانی نہیں ہوئی ۔ بسمہ کی اولاد نے اسے بے چین کیا ۔ پھر یاسیت ہی یاسیت تھی ۔ اداسی کے سارے رنگ اس کیے غم کے آگے پھیکے پڑ گئے ۔ وہ وظیفے کرتی ، دعائیں ، استخارہ ، علاج، پیر ، فقیر اور صدقہ خیرات لیکن سب بے سود ۔ کاش انسان اپنے گناہ کسی کو خیرات کرسکتا ۔ گزرتا ہوا ہر نیا دن ، گناہ کا بڑھتا ہوا ہر نیا احساس اس کے احساس جرم کو بڑھاتا رہا ۔ دس سال پر لگا کے اڑگئے تھے ۔ بسمہ تین بچوں کی ماں بن گئی اور چوتھا آنے والا تھا۔
    وہ اب پژمردگی کا شکار رہنے لگی تھی ۔ اس کی عبادتوں میں بے رغبتی آنے لگی۔ اس کی خاموشی سونے پن میں بدلنے لگی ۔ صارم بہت اچھا انسان تھا۔ وہ اسے دلاسے دیتا اس کی قدر کرتا تھا ۔ اسے اللہ پر یقین رکھنے کی تلقین کرتا تھا ۔ پھر بسمہ کی چوتھی اولاد دنیا میں آئی۔ وہ بیٹا تھا۔ پیدائش کے ساتویں دن اس بچے کے عقیقے والے دن بسمہ نے اپنی اولاد اسے تھمادی ۔ وہ حیران رہ گئی ۔ اس بچے کو ہاتھ میں تھامے اس نے بسمہ کو اس قدم سے روکنا چاہا، لیکن وہ نہ رکی۔ اس کی آواز گھٹ کر رہ گئی۔ اس ننھے وجود کی نرماہٹ نے اسے سر تا پا موم بنادیا ۔ اور اس دن اسے احساس ہوا کہ اللہ نے بسمہ کو اتنا کیوں نوازا تھا۔ ڈھول کی تھاپ پر سب خوشیاں منانے میں مصروف تھے ۔ کون کہاں اجڑا کون کہاں بسا کس کو پروا تھی، کس کو خبر تھی لیکن جس کو خبر تھی وہ ہول کھارہی تھی ۔عاجزی پر کیا گیا غرور سلو پوائزن کی طرح ہوتا ہے اور وہ سلو پوائزن ہماری روح کے اندر بہت سے سانپ تخلیق کرنے کی وجہ بنتا ہے اور وہ اسی لمحے کے حصار میں تھی۔ وہ حصار نہیں تھا قید تھی، ہر ایک لمحہ زنجیر تھا۔ ایک ہی چھت تلے دو نفوس تھے ۔ ایک نے نفس کو گرو بنایا تھا اور وہ نفس اس کی ساری عبادات اور ریاضات کو کھا چکا تھا ۔ ڈھول کی دھمک اور اونچی ہوتی جارہی تھی، لیکن وہ دھمک اس کے دل کی دھڑکن کو قابو کرنے میں ناکام تھی۔ وہ خوف زدہ ہوئے بغیر انہیں دیکھ رہی تھی ۔اُنہیں جنم دینے والا وجود اس کا تھا وہ کیسے ان سے خوف کھاتی۔ غرور بے وقوفی کی نشانی ہوتا ہے ۔ حسد ہمارے اندر موجود کم ظرفی کو بیان کرتا ہے ۔ صدف عثمانحسد، کم ظرفی اور غرور سے تخلیق کردہ ان سانپوں کو گھور رہی تھی ۔اس کا پنا آپ ایک سوالیہ نشان تھا ۔اس کی زندگی بھی سوالیہ نشان تھی ۔ سب کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ پھولوں اور روشنیوں سے سجا گھر ، قہقہے ، سب کی مسکراتی نظریں اور اس ننھے وجود کے نرماہٹ جسے ابھی ابھی امی نے اسے تھمایا تھا۔
    شرمندگی تھی کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی ۔ جو کچھ وہ کرتی رہی سب بے اثر تھا ۔
    کسی بھی چیز یا انسان کی دلکشی اور ذہانت اس کی اپنی تخلیق نہیں ہوتی ۔ اللہ کی دین ہوتی ہے۔ سب تعریفیں اللہ کے لیے ہوتی ہیں ۔ اس کی دین سے اختلاف کرنے والے کا کیا انجام ہوتا ہے ؟ وہ سوچنے لگی ۔ کیا تھا اگر بسمہ کامران کا چہرہ نگاہوں کو مقید رکھنے کی صلاحیت رکھتا تھا ۔ کیا تھا اگر اس کی ذہانت اسے درجنوں میں نمایاں کرتی تھی ۔ کیوں کیا اس نے ایسا ؟ آخر کیوں ؟ اسے اب حیرت ہورہی تھی کہ اس کی
    عبادت نے اسے یہ سب باز رکھنے کی طاقت کیوں نہیں دی تھی ۔ کیسے دے سکتی تھی ؟
    وہ عبادت جو خلق کی ”واہ” کی ”چاہ” میں کی جائے وہ بے اثر ہوتی ہے ۔ کئی سال پہلے اپنی ماں کی دنیاوی ساکھ سے متاثر ہوکر اس نے جو عبادت شروع کی تھی۔ وہ اسی دنیا میں کہیں ٹکراتی پھررہی تھی۔ وہ عبادت خالق کو راضی کرنے کا راستہ نہیں تھی ۔ تو اتنے سالوں تک میں نے کیا کیا صرف ایک ریہرسل۔ وہ ایک نئے خوف میں مبتلا ہوگئی تھی ۔ آنسو ایک مرتبہ پھر اس کے گالوں کو چھونے لگے تھے ۔ وہ کتنا رحیم ہے ۔ کتنا کریم ہے کہ اس نے آج تک اس کا پردہ رکھا تھا۔ اس نے صدف عثمان پر رحم کیا تھا، لیکن ساتھ ہی ساتھ بسمہ کامران کے ساتھ انصاف کیا تھا۔ اس نے ایک نظر اپنے وجود میں نیند کی وادی میں اترے ہوئے وجود کو دیکھا اور ایک نظر سامنے کھڑی بسمہ کو دیکھا تھا۔ بسمہ نے اس کی آنکھوں کی چمک کو تاک لیا تھا۔ وہ بے اختیار آگے بڑھی اور صدف عثمان کو گلے لگالیا۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رودی تھی ۔ پچھتاوے کے آنسو اتنی آسانی سے کیسے تھم سکتے ہیں۔ دکھاوے اور دوسروں کو کم تر ثابت کرنے والی عبادت زہر آب ہوتی ہے۔ ہمارے سارے وجود کو گھٹن زدہ کردیتی ہے اور بے اثر ہوتی ہے۔ ہماری آنکھوں پر خوش فہمیوں کی طویل پٹی باندھ دیتی ہے ۔اس پٹی کے اترنے کے بعد بھی انسان کئی سال تک اس کی چبھن اور دھندلے پن کا شکار رہتا ہے ۔ وہ بھی ایسی ہی تکلیف میں مبتلا تھی۔

    ٭…٭…٭




  • شہربانو کا آخری خط — محمد انس حنیف

    شہربانو کا آخری خط — محمد انس حنیف

    کانپتے وجود کے ساتھ اُس نے شہر بانو کے خط کی آخری سطر پڑھی، اُس نے بہت مضبوطی سے اُس کاغذ کو تھاما ہوا تھا، لیکن ہاتھوں کی لرزش پر قابو نہ پانے کی وجہ سے خط اُس کے ہاتھوں سے زمین پر آن گرا۔ اُس نے اردگرد دیکھا وہاں کوئی نہیں تھا۔ اُس نے جلدی سے کمرے کی چٹخنی لگائی اور نیچے جھکتے ہوئے خط اُٹھا لیا۔
    آنکھوں میں نمی اُتر آئی تھی۔ یہ اس کی شہربانو کے ہاتھوں سے لکھا ہوا خط تھا۔ وہ لکھائی پہچان سکتی تھی،وہ اُس کی ماں تھی اور کیسے ممکن تھا کہ وہ اپنی شہر بانو کی لکھائی نا پہچان پاتی…لیکن یہ اس کی شہربانو کے ہاتھ سے لکھا ہو ا آخری خط تھاکیونکہ شہر بانو اب دنیا میں نہیں رہی تھی۔
    ”شہربانو مر چکی تھی۔”
    اس نے خط کو اپنے ہونٹوں اور آنکھوں سے لگاتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رو نا شروع کردیا اور کتنی ہی دیر وہ اسی طرح روتی رہی۔ اسے کوئی چپ کرانے والا تھا نا کوئی درد سمجھنے والا۔ درد تو اب اسی طرح رہنا تھا اور یہ درد تو روگ بننے والا تھا عمر بھر کا روگ،اُس نے لمبی گہری سانسیں لیتے ہوئے خود پر قابو پانے کی کوشش کی۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ باہر صحن میں لیٹے اُس کے شوہر، بیٹے یا بہو کو اُس کی اس حالت کا علم ہو۔
    اپنے آپ کو نارمل کرنے کے بعد وہ چپکے سے کمرے سے نکلی،وہ تینوں اب سو چکے تھے ۔اُن کی طرف دیکھتے ہوئے بہت احتیاط اور دبے قدموں کے ساتھ وہ کچن میں آئی۔ اُس نے پھر سے دو تین گہرے لمبے لمبے سانس لیے، اپنے اندر تھوڑی ہمت پیدا کرتے ہوئے چولہا جلایا، چند لمحے انتظار کے بعداپنی مٹھی میں بھینچا ہوا شہر بانو کا آخری خط اُس دہکتی آگ میں رکھ دیا۔ نظریں موڑ کر اُ س نے کھڑکی سے باہر صحن میں دیکھا جہاں اُس کی بہو،بیٹا اور شوہر چارپائیوں پر لیٹے نیند میں گم تھے۔
    اور اس کی نیند؟ نیند تو اُس سے اب روٹھ گئی تھی۔ شاید ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔
    آگ میں جلتے ہوئے شہر بانو کاخط اب مکمل طور پر راکھ میں بدل چکا تھا۔شہربانو کے گناہ پر پردہ ڈالنے کے لیے اس کاغذ کا راکھ بننا ضروری تھا۔ ہاں شہربانو کے گناہ کو چھپانے کے لیے۔ شہربانو کا گناہ؟ یا اُس کا اپنا گناہ یا پھر صحن میں لیٹے ہوئے اُس کے شوہر اور بیٹے کا گناہ … وہ کس کس کا گناہ چھپا رہی تھی؟
    ٭…٭…٭





    شہربانو کون تھی؟ ایک معصوم سی فرشتہ صفت لڑکی۔ کسی نازک سی گڑیا کے مانند۔ بالکل موم کی طرح، اپنے بھائی کی لاڈلی، باپ کی دُلاری، ماں کی رانی۔ جیسے آسمان پر چمکتا کوئی تارہ ہو۔ ہاںوہ ایسی ہی تھی، بالکل کسی ناول یا کہانی کی ہیروئن کی طرح۔
    اُس کی پیدائش پر موتی چو ر کے لڈو بانٹے گئے، دیگیں چڑھائی گئیں۔ آخر وہ ملی بھی تو کئی منتوں اور مرادوں کے بعد تھی۔ اپنے ماں باپ کی شادی کے سات سال بعد۔
    شمیم بیگم اور ولی احمد اپنی پہلی اولاد بیٹی چاہتے تھے۔ یہ ایک اتفاق ہی تھا کہ شمیم بیگم چار بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی اور ولی احمد کے بھی بس تین بھائی ہی تھے۔ ولی احمد نے ہمیشہ سے ایک بہن کی کمی محسوس کی تھی اور یہی وجہ تھی جب شمیم کے امید سے ہونے کی خبر ملی تو ولی احمدنے اُس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا :
    ”شمیم اللہ سے دعا کرو ہماری پہلی اولاد بیٹی ہو۔” اپنے شوہر کی بات پر شمیم کی آنکھیں بھر آئیں تھیں۔ وہ بھی تو یہی چاہتی تھی ،لیکن دل کی اس بات کو اس نے ہمیشہ دل ہی میں رکھا تھا اور آج ولی احمد کی خواہش نے اسے عجیب سی خوشی دی تھی۔اُس نے دن رات اللہ سے بیٹی کی پیدائش کی دعائیں مانگنا شروع کر دیں، لیکن اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اللہ نے انہیں بیٹا عطا کیا تھا اور اگلے چھے سال تک اُن کے ہاں کوئی اولاد پیدا نہیں ہوئی تھی۔
    ولی احمد زمیندار تھا،کئی مربعوں کا مالک ،سخت محنت کرکے خوب پیسا بھی کمایا تھااور اسی پیسے نے اُسے عزت دی تھی۔ گائوں والے اپنے لڑائی جھگڑوں کے فیصلے کروانے زیادہ تر اُسی کے پاس آتے تھے۔ ولی احمد اپنی زندگی سے خوش تھا،لیکن کئی دفعہ اُسے بیٹی کی کمی بُری طرح افسردہ کردیتی تھی۔
    شادی کے سات سال بعد دعا کی قبولیت کا وقت آیااور اللہ نے شمیم کی گود میں شہربانو کو ڈال دیا۔ گویا ولی احمد تو جیسے ساتویں آسمان پر پہنچ گیا۔ شہربانو کی پرورش کسی شہزادی کے مانند ہوئی تھی۔ ماں باپ اور بھائی سب اُس پہ صدقے واری جاتے تھے اور فضلو بھی اُس سے بہت پیار کرتا تھا۔
    فضلو شہربانو کا چچا تھا۔ سگا تو نہیں، لیکن اس کے ابا کا کزن تھا۔ ولی احمد سے پندرہ برس چھوٹاتھا۔ اس دنیا میں بالکل اکیلا ماں باپ اُس کے بچپن میں ہی چل بسے تھے۔ بہن بھائی اپنا اپنا گھر بسا کراپنی دنیا میں مگن تھے۔ فضلو نے بھی گھر بنانے کی کوشش کی ،لیکن فضلو کی بیوی شادی کے ایک سال بعد ہی کسی دوسرے مرد کے ساتھ بھاگ گئی۔ فضلو کا واحد قصور اُس کا غریب ہونا تھا،پہلی دفعہ گھر ٹوٹنے کے بعد فضلو کے اندر ہمت نہ تھی نہ گھر بنانے کی اور نہ ہی کسی ددوسری عورت پر اعتبار کرنے کی۔
    اُس کی تنہائی کا خیال کرتے ہوئے ولی احمداُسے اپنے گھر لے آیا تھا۔ یہاں اُس کا دل لگ گیا تھا۔ بھینسوں کی دیکھ بھال اور ولی احمد کے بچوں کے ساتھ کھیلنا اس کی دنیا بس اتنی سی ہی تھی اور وہ اسی دنیا میں بے حد خوش تھا۔
    شہربانو، بے حد لاڈ پیار میں پل کر بچپن سے جوانی کو پہنچی تھی اور اس لاڈ پیار نے شہر بانو کو بگاڑنے کے بجائے سنوار دیا تھا۔ اس کے لہجے میں شرم تھی حیا تھی،اُس کے ماں باپ اور بھائی جب جب اس کی طرف دیکھتے تو کلمہ شکر پڑھتے تھے۔
    شہربانو نے ایف اے کیا ،جب اس کے ماموں نے اپنے بیٹے کے لیے اس کا ہاتھ مانگا ۔ ولی احمد کو یہ بات بُری طرح چبھی، شہربانو سب سے الگ تھی وہ اپنی بیٹی کے لیے کوئی اُس جیسا لڑکا ہی چاہتا تھا۔ کوئی پڑھا لکھا،شریف پیسے والا عزت والا۔ اُس نے شہربانو کے لیے ایسا ہی مرد چاہا تھا جو ہر باپ اپنی بیٹی کے لیے چاہتا تھا اور ولی احمدکی یہ خواہش کوئی اتنی غلط بھی نہیں تھی۔
    ولی احمد نے شمیم بیگم سے اُس کے بھائی کو انکار کرنے کے لیے کہا،تو شمیم بیگم نے نہایت مناسب الفاظ میں اُسے انکار کردیا تھا۔ شمیم بیگم کی بھاوج نے اُس کے آگے جھولی پھیلا دی، لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔ بھاوج پھر منتوں پر اُتر آئی تھی،مگر انکار اقرار میں نہ بدلا تھا۔
    شمیم کا بھائی اُس کا انکار سُن کر بھڑک اُٹھا تھا۔بظاہر اس کے بیٹے میں کوئی خامی تھی بھی نہیں۔ میٹرک کرنے کے بعد وہ اپنے باپ کے ساتھ زمین کی دیکھ بھال میں مصروف تھا۔ شکل کا بھی اچھا اورمالی لحاظ سے بھی ولی احمد کے لیول کا ،لیکن شمیم اور ولی احمد کو بس وہ اپنی شہربانو کے لیے پسند نہیں تھا اور اسی ناپسندیدگی نے حالات میں کشیدگی پیدا کردی۔ یہ کشیدگی شاید مزید بڑھتی چلی جاتی، لیکن اچانک شہربانو کا ایک رشتہ آیا اور جھٹ منگنی اور پٹ بیاہ ہوگیا۔
    یہ ویسا ہی رشتہ تھا جیسا رشتہ شہربانو کے والدین اس کے لیے چاہتے تھے۔ لڑکا سول انجینئر تھا اور شکل و صورت کا بھی اچھا تھا۔ شہربانو کو رخصت کرتے وقت جہاں شمیم اور ولی احمد اُداس تھے،وہاں ان کا دل خوشی سے باغ باغ بھی تھا۔
    لیکن ماں باپ بیٹیوں کے لیے اچھے مقدر کی دعا ہی کر سکتے ہیں۔ بیٹیوں کے لیے دنیا کی ہر چیز خریدنے کے باوجود وہ اُن کے کے لیے اچھا مقدر نہیں خرید سکتے۔ شمیم بیگم اور ولی احمد نے بیٹی کو لاکھوں کے جہیز کے ساتھ رخصت کرتے ہوئے کبھی سوچا تک نہ تھا کہ ان کی بیٹی دس ماہ بعد طلاق یافتہ ہونے کا لیبل لگوا کر واپس آجائے گی۔ ان کی بیٹی …ان کی شہزادی…نازو میں پلی شہربانو۔
    ٭…٭…٭

    بیس سال کی عمر میں شان و شوکت کے ساتھ رخصت ہونے والی شہر بانو دس ماہ میں طلاق یافتہ ہو کر باپ کے گھر لوٹ آئی تھی۔ اس دس مہینوں نے شہر بانو کو بہت حد تک توڑ دیا تھا۔
    طارق اپنی کلاس فیلو میں دلچسپی رکھتا تھا۔ شہربانو سے شادی اُس نے باپ کے دبائو میں آکر کی تھی۔ اُس کا باپ ہر صورت اپنے دوست کی بیٹی کو ہی بہو بنانا چاہتا تھا۔شہر بانو خوبصورت تھی ،طارق کو پہلی نظر میں اچھی بھی لگی تھی۔ طارق نے اُس کے ساتھ خوشحال زندگی گزارنے کی کوشش کی۔ شادی کا ابتدائی کچھ عرصہ وہ اس کوشش میں کامیاب رہا ،لیکن اُس کے لیے اپنی محبت کو بھلانا آسان نہیں تھا۔ شہربانو کی خوبصورتی کا جو نشہ اُسے چڑھا تھا وہ آہستہ آہستہ اُترنا شروع ہو گیا جو طلب تھی وہ مٹ گئی اور اُسے ایک مرتبہ پھر سے پرانی محبوبہ کی یاد ستانے لگی۔
    شہربانو نے اپنے شوہر میں واضح تبدیلی محسوس کی تھی۔ وہ پہلے کی طرح اُس کا ہاتھ نہیں تھامتا تھا۔ اُسے اپنے سینے کے ساتھ نہیں لگاتا تھا ،آخر کیا ہوا تھا؟ اور جو ہوا تھا اُس نے شہربانو کی نیندیں اُڑا دی تھیں۔شہربانو نے اس رشتے کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن طلاق یافتہ ہونے کا لیبل اُس کے ماتھے پر لگ کر ہی رہا تھا اور وہ طلاق لے کر روتی دھوتی اپنے باپ کے گھر آگئی تھی۔
    شہربانو کے ساتھ گھر میں سب کا رویہ نارمل تھا۔ابا ،امی،بھائی ،بھابی اور فضلو… سب اُس کے ساتھ ایسے ہی پیش آتے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو،جیسے سب کچھ نارمل ہو لیکن کچھ بھی نارمل نہیں تھا اور اس بات کو شہربانو اچھی طرح جانتی تھی۔
    شہربانو کی عدت پوری ہوئی تو شمیم بیگم نے اپنی بھابی سے اندر ہی اندر بات کی کہ وہ اپنے بیٹے کے لیے شہربانو کا ہاتھ مانگ لے آخر وہ شہربانو کو پسند کرتی تھی۔
    ”آئے ہائے میرے بیٹے کی قسمت میں طلاقن ہی رہ گئی ہے۔”
    بھابی کی بات نے شمیم بیگم کو ہکا بکا کر دیا تھا۔ اُسے یقین ہی نہیں آیا تھا کہ یہ بات اُس کی بھابی نے کہی جو شہربانو کو بہو بنانے کے لیے کبھی ترلے منتیں کیا کرتی تھی۔شمیم بیگم کو اُس دن احساس ہوا تھا کہ کسی لڑکی کی ساری خوبیاں صرف ایک لفظ پس پشت ڈال دیتا ہے۔ طلاق کا لفظ۔
    شمیم بیگم نے کسی رشتہ کروانے والی سے شہربانو کے لیے کوئی لڑکا ڈھونڈنے کو کہا اور رشتے والی چالیس سالہ لڑکے کا رشتہ لے آئی جو تین بچوں کا باپ تھا۔ولی احمد اس رشتے کا سُن کر جیسے حواس باختہ ہو گیا۔ وہ زور زور سے چلایا ،شمیم بیگم کے ساتھ جھگڑا کیا ،شمیم بیگم نے ڈرتے ڈرتے رشتے والی کو واپس بھیجا اور کوئی اور رشتہ ڈھونڈنے کو کہاتھا۔
    رشتے والی اور جتنے بھی رشتے لائی وہ سب ایسے ہی تھے۔ شادی شدہ بچوں کے باپ… ولی احمد اس سارے تماشے سے تنگ سا آگیا۔ آخر کار اُس نے دوٹوک اپنا فیصلہ سُنادیا تھا:
    ”میری بیٹی بوجھ نہیں مجھ پہ ،اس گھر میں کس چیز کی کمی ہے۔ آج کے بعد اس گھر میں شہر بانو کی شادی کی بات نہیں ہو گی۔”
    اور اُس دن کے بعد واقعی ہی شہر بانو کی شادی کی بات نہیں ہوئی۔ سب جیسے مطمئن سے ہو گئے۔ چند ماہ گزرے تھے جب شہربانو نے باپ سے کہا تھا:
    ”ابا جو آخری رشتہ آیا تھا،مجھے اُس پر کوئی اعتراض نہیں۔”
    شہربانو کی بات مکمل نہیں ہوئی تھی۔ ولی احمدکی آنکھوں میں آنسوآگئے۔ بیٹی خود کو بوجھ محسوس کررہی تھی۔
    ”بانو تو اپنے باپ پر بوجھ نہیں ہے۔”
    ”مگر ابا!” اُس نے کہنا چاہا تھا، مگر ولی احمد نے روک دیا۔
    ”اس گھر میں کس چیز کی کمی ہے ،روٹی ؟پانی ؟ کپڑا؟ ” ولی احمد پوچھ رہا تھا اور وہ سوچ رہی تھی کہ کاش وہ بتا سکتی۔
    ”اس گھر میں کس چیز کی کمی تھی ویسے؟”
    ولی احمد ٹھیک ہی تو تھا۔سب کچھ تھا ،روٹی ،پانی کپڑا،سب اُس پر جان وارتے تھے۔
    یہی سب تو چاہیے زندگی بسر کرنے کے لیے۔
    ہاں اور کیا تھا؟
    سب کچھ تو تھا۔
    ٭…٭…٭




  • قصّہ اُس حویلی کا — سارہ عمر

    قصّہ اُس حویلی کا — سارہ عمر

    گاڑی کے ٹائر چرچرائے اور زور دار دھماکے کی آواز آئی۔ شاید ٹائر پھٹ گیا تھا اور گاڑی سنبھالتے سنبھالتے بھی سامنے والے پر چڑھ گئی۔ اس نے زور دار چیخ ماری۔ وہ اسے مارنا نہیں چاہتا تھا، مگر سفید لباس میں ملبوس وہ انسان، اس کی گاڑی کے نیچے آگیا تھا۔ ایک دم گاڑی کی ونڈو اسکرین پر خون کی بارش ہونے لگی۔ تیز خون کی بارش کے ساتھ اولوں کی طرح پتھر بھی تھے جو گاڑی کی ونڈ اسکرین کو توڑ رہے تھے۔ وہ چیخیں مار مار کر بے ہوشی کی وادی میں اتر گیا۔
    ٭…٭…٭
    ”یار! میرے پاس ایک آئیڈیا ہے۔ سچ بتا رہا ہوں، بوریت دور ہوجائے گی۔” احمد نے چٹکی بجا کر کہا۔
    ایف ایس سی کے پیپرز کے بعد تینوں ہی فارغ تھے اور ان کا یہ پہلا ہفتہ تو برُی طرح بور گزرا۔
    ”کیا ہے؟ بول بھی دو۔” نوید نے بے زاری سے کہا۔
    ”سنو گے تو داد دو گے میری ذہانت کی۔”
    احمد کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔ احمد نے دونوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کے سرگوشی کرتے ہوئے کچھ کہا وہ دونوں سُن کر ایسے پیچھے ہٹے جیسے بچھو نے کاٹ لیا ہو۔
    ”پاگل ہوگیا ہے کیا؟ کیوں جیتے جی مروائے گا؟” نوید نے کانوں کو ہاتھ لگاکر کہا، جب کہ شرجیل کے چہرے پر ایک رنگ آ اور ایک جارہا تھا۔
    ”تجھے مذاق سوجھ رہا ہے؟ پتا ہے میرے گھر میں تو اِس بات کا ذکر بھی ممنوع ہے۔ پاپا نے مجھے سختی سے منع کیا ہے، آج سے نہیں، بچپن سے۔” شرجیل کی بات سن کر اس نے قہقہہ مارا۔
    ”تُو تو ازل سے ہی بزدل ہے نوید، تجھ سے یہ امید نہیں تھی۔ یار زندگی میں کوئی تھرل، کوئی ایڈونچر بھی ہوناچاہیے۔” احمد خوب شوخی میں تھا۔
    ”اتنا شوق ہے خودکشی کرنے کا تو وہ نئی گیم کھیل لے نا، نیلی مچھلی والی۔” شرجیل نے چڑ کرکہا۔
    ”لو! میں نے کب کہا کہ مجھے خود کشی کرنے کا شوق ہے۔” احمد خوب بدمزہ ہوا۔
    ”یہ کام بھی خود کشی کے برابر ہی ہے۔ مجھے تو بچنے کے چانسز بھی نظر نہیں آتے۔” نوید نے بھی شرجیل کا ساتھ دیا۔
    ”اچھا خاصا پروگرام بنارہا تھا، فضول میں سب ستیاناس کردیا۔ ویسے مزہ بہت آنا تھا۔” احمد کو غصہ آنے لگا۔
    ”تجھے پتا تو ہے کہ میرے بابا سنتے ہی نہیں۔” شرجیل نے دلیل دی۔
    ”تو تجھے کہہ کون رہا ہے ان کو بتا کے جا ؟ بڑا ہوگیا ہے، اب اپنا کوئی کام خود بھی کرلے۔ کہہ دے کہ دوستوں کے ساتھ مری جارہا ہوں۔ ادھر کا بتانا ضروری ہے؟” احمد ہر صورت اسے راضی کرنا چاہتا تھا۔
    ”اچھا سوچتا ہوں، ویسے میرا دل نہیں مانتا۔” وہ اب بھی راضی نہیں تھا۔
    ”چل نوید! ہم پیکنگ کرلیتے ہیں۔” احمد نے کن انکھوں سے دیکھا۔





    ”نہیں! میں آجاؤں گا۔” شرجیل نے ہتھیار ڈال ہی دیے تھے۔ اتنے دن اسے دوستوں کے بغیر سانس کیسے آنی تھی؟ خیر، سانس تو اب ادھر جاکے بھی نہیں آنی تھی۔
    شرجیل، احمد اور نوید کی بہت پکی اور پرانی دوستی تھی۔ احمد اور شرجیل کزن تھے، لیکن برسوں پہلے کسی بزنس ڈیل کی وجہ سے دونوں گھروں میں کافی جھگڑا ہوگیا تھا اور اب دونوں کا ایک دوسرے کے گھر میں آنا جانا ختم ہوگیا تھا۔ بڑوں میں تو اختلافات ہوگئے لیکن بچوں کی دوستی نہ ٹوٹ سکی تھی۔ ان کی دوستی بہ دستور پہلے جیسی ہی تھی۔ کبھی خوشی غمی کے موقع پر ان کے والدین کی ملاقات ہو بھی جاتی تو دنیا کے دکھاوے کو رسمی سلام دعا ہی کرتے، ورنہ ایک دوسرے کی شکل بھی نہ دیکھتے۔ رشتے داروں نے ان کے والدین کو بتایا تھا کہ ان کے بیٹوں میں اب بھی دوستی قائم ہے۔ احمد کے والد نے تو اسے کچھ نہ کہا، مگر شرجیل کے پاپا نے تنبیہ کرتے ہوئے کہا۔
    ”تم احمد کے ساتھ کھاؤ پیو، اٹھو بیٹھو جو مرضی کرو، میں منع نہیں کروں گا، مگر کان کھول کے سن لو، کبھی اس حویلی کا نام مت لیتا۔”
    ”ایسا بھی کیا ہے وہاں؟” وہ متجسس ہوا تھا، مگر ان کے خاندانی مالی نے بتایا تھا کہ وہ بہت پُراسرار حویلی ہے۔ اس کی کہانی بھی بڑی دل چسپ تھی۔
    پرانی طرز کی بنی ہوئی قدیم حویلی، ملک اسفند یار کی ملکیت اور نتھیا گلی میں واقع تھی۔ برسوں پہلے اسفند یار نے بہت بڑی اراضی پر حویلی تعمیر کروائی تھی۔ پاکستان بننے کے بعد اسفند یار ہجرت کرکے آئے تو انہیں کلیم میں کافی اراضی ملی تھی۔ اس حویلی کے بعد، انہوں نے بیٹوں کے لیے تین گھر اسلام آباد میں بھی بنوائے۔ اب وہ تینوں انہی گھروں میں رہتے ہیں۔ کامران، سفیان اور فرحان، اسفند یار کے بیٹے تھے۔ وہ تینوں چھوٹے ہی تھے جب اسفندیارفیملی سمیت اسلام آباد شفٹ ہوگئے۔ وہ اپنی زندگی میں اکثر حویلی میں آتے جاتے رہتے۔ خوب رونق لگتی اور بڑی شاہانہ دعوتیں ہوتیں، لیکن اسفند یار کی وفات کے بعد تینوں بیٹوں نے حویلی جانا کم کردیا۔
    کامران اور سفیان اکثر حویلی چکر لگا لیتے تھے۔ ابھی صرف کامران کی ہی شادی ہوئی تھی۔ سفیان اور فرحان میں دس سال کا وقفہ تھا۔ فرحان بہت ہی لاابالی سانوجوان تھا جسے پڑھائی، نوکری، زمین اور نظام وانتظام سے کوئی غرض نہ تھی۔ بس دوستوں کے ساتھ گھومنا اور کھانا پینا ہی اس کی زندگی کا مقصد تھا۔ کامران نے تنگ آکر سفیان کے ساتھ ساتھ فرحان کی شادی بھی کردی کہ شاید وہ سدھر جائے، مگر اس کا لااُبالی پن ختم ہوا اور نہ ہی دوست چھوٹے تھے۔ہاں تھوڑی بہت تبدیلی ضرور آئی تھی۔ دونوں بھائیوں کے بچے بھی ساتھ ساتھ ہی ہوئے تھے۔ سب کچھ صحیح چل رہا تھا جب اچانک ایک واقعہ ہوا جس نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔
    سفیان اور فرحان نے بات چیت چھوڑ دی اور غیر آباد پڑی حویلی مزید ویران ہوتی گئی۔ صرف ایک چوکی دار ہی اپنی فیملی کے ساتھ وہاں رہ رہا تھا۔ کامران اور سفیان نے حویلی کی ملکیت اپنے نام کروا کے باقاعدہ طور پر فرحان کو اس حویلی کا حصہ دے کر بے دخل کردیا۔ فرحان کو اس حویلی سے کوئی غرض نہ تھی، سو اس اقدام سے بھی کوئی فرق نہ پڑا۔ وہ اپنا حصہ پا کر خوش تھا۔
    سفیان اور کامران نے حویلی ایک ہوٹل کو کرائے پر دے دی، لیکن پہلے ہی ماہ کمرے سے پراسرار طور پر دو لڑکوں کی لاشیں ملیں۔ یہ بہت عجیب بات تھی۔ دوسرے ماہ، ایک لڑکے نے کھڑکی سے کود کر خود کشی کرلی۔ اس واقعہ کے بعد لوگوں نے یہ یقین کرلیا کہ وہاں ماورائی مخلوق کا بسیرا ہے۔
    ہوٹل کی ساری ساکھ ختم ہوگئی۔ بالآخر ہوٹل کی انتظامیہ نے وہ حویلی خالی کردی۔ زیادہ تر لوگ اس ویران پڑی حویلی کو ”پُراسرار حویلی” کہنے لگے۔
    سفیان اور کامران چھٹیوں پر اکثر وہاں جاتے تھے، مگر ان لوگوں کو وہاں کبھی ڈر نہیں لگا۔ ایک مرتبہ احمد بھی کچھ دن حویلی میں رہ کر گیا تھا۔ اس حویلی میں فیملی کے ساتھ دو تین دن اسے بہت ہی مزہ آیا تھا ۔ اس لیے احمد چاہتا تھا کہ نوید اور شرجیل بھی اس کے ساتھ چلیں۔ اس کے نزدیک حویلی میں کچھ بھی نہیں تھا، صرف لوگوں کی اُڑائی ہوئی باتیں تھیں۔
    ٭…٭…٭
    ”احمد! تو ضد تو کررہا ہے اور مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔” شرجیل نے رو دینے والے لہجے میں کہا تو احمد اور نوید دونوں کو ہی ہنسی آگئی۔
    ”تو پاگل ہے، بس اور کچھ نہیں۔ مرد بن مرد۔” احمد نے اس کی مردانگی جگانے کی کوشش کی۔
    ”یار! تم دونوں کے تو اور بہن بھائی ہیں، لیکن میں اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا ہوں۔ کیوں مجھے موت کے کنویں میں دھکیل رہے ہو؟” شرجیل سامان رکھتے ہوئے بھی منمنانا رہا تھا۔
    ”ایسے بول رہے ہو، جیسے ہم تمہیں کنویں کی منڈیر سے دھکا دے کے واپس آگئے ہیں۔ خود بھی تو اس پُراسرار گھر میں مرنے جارہے ہیں۔” نوید نے مذاق کرتے ہوئے کہا۔ سارا سامان پیک کرلیا گیا تھا اور وہ لوگ نوید کے گھر سے روانہ ہورہے تھے۔ نوید نے گھر بتا دیا تھا کہ وہ احمد کی پرانی حویلی جارہے ہیں، لیکن احمد اور شرجیل نے اپنے گھروں میں صرف مری جانے کا ہی بتایا تھا۔ ظاہر ہے، حویلی میں قیام کی اجازت انہیں گھر والے کیسے دیتے۔
    انہیں نکلتے نکلتے سہ پہر ہوگئی۔ احمد نے بابا کی ڈائری سے نذیر چوکی دار کا نمبر لے لیا تھا، لیکن اسے آنے کی اطلاح نہیں کی تھی۔ یہ بھی ایک ایڈونچر تھا۔ احمد نے گاڑی شرجیل کے حوالے کردی کیوں کہ شرجیل کی ڈرائیونگ اچھی تھی۔
    وہ ابھی گاڑی چلانا شروع ہی ہوا تھا کہ گاڑی زوردار جھٹکے کھانے لگی۔ جیسے کوئی اسے اچھال رہا ہو۔ اس نے گاڑی بندکرکے دوبارہ اسٹارٹ کی تو وہ صحیح چلنے لگی۔ وہ تینوں مطمئن ہوگئے۔ پانچ منٹ کی مسافت کے بعد، شرجیل کی گاڑی کے سامنے کوئی آیا تھا کہ اس نے تیزی سے گاڑی موڑی۔ سڑک زیادہ کشادہ نہ ہونے کے باعث گاڑی درخت سے جالگی۔
    ”پاگل ہوگیا ہے؟” گاڑی درخت سے ٹکرانے کے بعد نوید نے غصے سے دہاڑ کر کہا۔
    ”یار! میرے سامنے بطخ آگئی تھی۔” شرجیل حواس باختہ سا ہوکر بولا تو وہ دونوں اس کا منہ دیکھنے لگے۔
    ”دن میں تارے دکھ رہے ہیں کیا؟” وہ دونوں ہی حیران تھے، مگر وہ یقین دلاتا رہا۔ نقصان کم ہی ہوا تھا، بس ٹائر پنکچر ہوگیا تھا۔ اب راستہ بھی تھوڑا تھا۔ احمد نے ٹائر تبدیل کرکے دوبارہ سے سیٹ سنبھال لی۔ خدا خدا کرکے وہ حویلی پہنچ گئے۔
    بڑا سا فولادی کا دروازہ لیے وہ نہایت خوب صورت قدیم سفید حویلی، درختوں اور جھاڑیوں کے بیچ عجیب پُراسرار سا منظر پیش کررہی تھی۔ شرجیل کا دل تو حلق میں آگیا تھا۔
    احمد نے چوکی دار کو کال ملائی، نمبر بند جارہا تھا۔
    ”اُف کیا مصیبت ہے؟” احمد نے جھلا کر موبائل جیب میں ڈالا۔
    ”کوئی ہے؟” وہ دروازہ پکڑ کے زور سے چلایا۔ دروازہ چرچراہٹ کے ساتھ کھلتا چلا گیا۔
    ”اندر آجاؤ۔” کسی آواز نے انہیں چونکا دیا، لیکن وہاں کوئی بھی نہیں تھا۔ ان تینوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور گاڑی میں بیٹھ کے حویلی کے مرکزی دروازے سے اندر داخل ہوگئے۔ دونوں طرف جھاڑیوں اور درختوں کی قطار تھی جو اندھیرے میں ڈوبی ہوئی تھی، صرف حویلی کے مرکزی دروازے پر لائٹ جل رہی تھی۔ وہ وہاں پہنچنے تو چوکی دار سامان اتارنے کھڑا تھا۔
    ”نذیرتم؟ تمہیں ہمارے آنے کا کس نے بتایا؟” احمد حیران ہوا تھا۔
    ”اطلاع مل گئی تھی۔” وہ اتنا کہہ کر سامان اتارنے لگا۔
    ”یہ… یہ دروازہ کس نے کھولا؟” شرجیل تو خوف سے باہر ہی نہیں نکل پارہا تھا۔
    ”میں نے ہی کھولا ہے۔ آجائیں، کمرے تیار ہیں۔” نذیر آگے چل کے راستہ دکھانے لگا۔
    ”نذیر! ہم ایک ہی کمرے میں رہیں گے، الگ الگ نہیں۔” احمد نے کہا، تو شرجیل نے سکھ کا سانس لیا۔
    کمرا صاف ستھرا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے لوگ ادھر آتے جاتے رہتے ہیں۔ حالاں کہ یہ وہ ریسٹ روم نہیں تھا جس میں احمد اپنی فیملی کے ساتھ ٹھہرا تھا۔ یہ کمرا اسے بہت الگ لگا۔ نہ جانے کیوں؟
    ”نذیر! کچھ کھانے کا بندوبست کرو، پھر ہم سوئیں گے۔” احمد نے کہہ کر دروازہ اندر سے بند کرلیا۔ یہ بڑا سا ہال کمرا تھا جس کی ایک کھڑکی باہر لان کی طرف کھلتی تھی۔ ایک طرف واش روم تھا۔ تین سنگل بیڈ، سائڈ ٹیبل کے ساتھ لگے ہوئے تھے۔ ایک طرف چھوٹی سی میز کے ساتھ تین کرسیاں رکھی تھیں۔ احمد کو حیرت ہوئی، تین بیڈ اور تین کرسیاں۔آخر تین ہی کیوں؟ اس کی فیملی کو جو کمرا ملا تھا، اس میں تو ماسٹر بیڈ تھا۔ وہ الجھ کے رہ گیا۔
    ”میں فریش ہوکر آتا ہوں۔” احمد منہ ہاتھ دھو کے نکلا، تو شرجیل کافی حد تک سنبھل چکا تھا۔
    شرجیل بھی اٹھ کر واش روم کی طرف بڑھ گیا۔ صاف ستھرا ٹائلوں والا واش روم دیکھ کے لگتا نہیں تھا کہ یہ کوئی پرانی حویلی ہے۔ اس نے نلکا کھولا تو بے اختیار بدبو کا بھبکا سا اٹھا۔ اس نے بے اختیار اپنا ہاتھ ناک پر رکھا اور ہاتھ نل کے نیچے کیا، تو اسے لگا کہ کسی نے تیزاب پھینک دیا ہو۔ شرجیل نے اپنے ہاتھ کی طرف دیکھا تو وہ خون سے بھرا ہوا تھا۔ اُس نے آنکھیں پھاڑے نلکے کی طرف دیکھا، تو وہاں سے پانی کی جگہ سُرخ خون نکل رہا تھا جس نے اس کا ہاتھ جلا دیا۔ شرجیل چیخ مار کر مڑا تو کسی سے ٹکرا گیا۔ لمبے بال کھولے ایک لڑکی جس کے منہ پر جگہ جگہ خون لگا تھا، اسے دیکھ کر ہنس رہی تھی۔ وہ چیخیں مارتا ہوا دروازے سے باہر نکلا۔ اس کی چیخیں سن کے وہ دونوں اس کی طرف بھاگے۔
    ”کیا ہوا؟ کیا ہوا؟” وہ دونوں ہی اس آفت پر حیران و پریشان تھے۔
    ”میرا ہاتھ، میرا ہاتھ۔” اس کے ہاتھ بالکل ٹھیک تھے، مگر وہ چلائے جارہا تھا۔
    ”اُف! جل گیا میرا ہاتھ۔” وہ خوف سے باقاعدہ کانپ رہا تھا۔ موسم سرد ہونے کے باوجود اس کی پیشانی پسینے سے تر تھی۔
    ”ہوا کیا ہے؟” ان دونوں نے اسے جھنجوڑا۔ اس نے آنکھیں کھول کے اپنا ہاتھ دیکھا، تو خود بھی حیران رہ گیا۔وہ بالکل ٹھیک تھا۔
    ”میرا ہاتھ! وہ نلکے سے خون آرہا تھا۔”وہ باتھ روم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اٹک اٹک کر بولا۔
    اس کی بات پر دونوں کی ہنسی کا فوارہ چھوٹ گیا۔انہیں لگا وہ انہیں ڈرانے کی کوشش کررہا ہے۔
    ”ہمیں بے وقوف بنا رہا ہے؟ چل! میں دوبارہ واش روم جاتا ہوں ۔” واش روم ویسا ہی تھا۔ وہ دروازہ بند کرکے دو منٹ اندر کھڑا رہا۔ اسے کچھ بھی ایسا ویسا محسوس نہ ہوا۔
    ”میں واش روم نہیں جاؤں گا۔” احمد نے اسے باہر آکر بتایا، تو شرجیل نے ویسے ہی ڈرے ڈرے انداز میں کہا۔
    ”ٹھیک ہے! باہر جھاڑیوں میں چلے جانا۔” احمد نے اس کا مذاق اڑایا۔ نوید بھی واش روم سے ہو آیا، تو احمد نے نوید کی طرف دیکھا۔ شرجیل اس کا اشارہ سمجھ گیا تھا۔ وہ دونوں اسے ڈرپوک اور جھوٹا سمجھ رہے تھے۔
    کھانا بھی خاموشی سے کھایا گیا۔ کھانے کے بعد وہ سونے کی تیاری کرنے لگے۔ شرجیل کو درمیان والا بیڈ دیا گیا تاکہ اگر دونوں طرف سے چڑیل آئے تو شرجیل کا نمبر بعد میں آئے۔ اس فیصلے سے شرجیل کو اطمینان ہوا، مگر یہ دیرپا نہیں تھا۔
    لائٹ بند ہوتے ہی شرجیل نے کمبل منہ تک اوڑھ لیا۔ پانچ منٹ بعد اسے لگا کہ کوئی اس کے پاؤں کا انگوٹھا مسلسل ہلا رہا ہے۔ اسے لگا شاید یہ اس کا وہم ہو، مگر انگوٹھا مسلسل ہل رہا تھا۔ کوئی اسے انگوٹھا پکڑ کر ہلا رہا تھا۔ وہ جی کڑا کیے لیٹا رہا۔
    ”شرجیل!” کوئی آہستہ سا اس کے کان میں بولا، تو اس نے دھیرے سے منہ کمبل سے ہٹایا۔ یک دم کوئی اس کے اوپر بیٹھ کر اس کا گلا دبانے لگا۔ اس کے گلے سے غرانے کی آوازیں نکلنے لگیں جسے سن وہ دونوں چونک گئے۔ احمد نے جلدی سے لائٹ آن کی تو شرجیل آنکھیں بند کیے، اپنے گلے سے کسی نادیدہ شے کو ہٹانے کی کوشش کررہا تھا۔ دونوں نے شرجیل کو پکڑ کر زور سے جھنجھوڑا تو وہ ہوش میں آیا۔
    ”چھوڑو مجھے؟” یہ کہہ کروہ بے ہوش ہوگیا۔ ساری رات وہ لائٹ جلا کر اس کے سرہانے بیٹھے رہے۔ وہ کبھی سوتا، کبھی اٹھتا، تو کبھی بے ہوشی میں ڈر کر عجیب عجیب سی آوازیں نکالتا۔ اس کا رویہ ان دونوں کے لیے بہت عجیب تھا۔ ڈرپوک تو وہ تھا ہی، مگر اتنا بھی نہیں۔
    صبح ہوئی تو انہوں نے سکھ کا سانس لیا۔
    ”چل بیٹا! صبح ہوگئی ہے۔ اب تُو بیٹھ، ہم زرا آرام کرلیں۔ اب تو نہیں ڈرے گا نا؟” نوید نے بستر پر لیٹے لیٹے نیند سے چور آنکھوں سے کہا۔
    ”میں رات کو تو نہیں ڈرا تھا۔” وہ منمنایا۔
    ”وہ تو ہم ڈرے تھے۔” احمد نے چڑ کرکہا اور موبائل پہ الارم لگا کر سوگیا۔ وہ حیرانی سے ان دونوں کو دیکھنے لگا۔
    آدھے گھنٹے بعد کسی نے دروازہ کھٹکایا اس نے سوچا کہ نذیر ہوگا اور دروازہ کھول دیا۔
    دروازہ کھلتے ہی یخ بستہ ہوا کا جھونکا اس کے منہ سے ٹکرایا۔ چہرے کے آگے بڑا سا گھونگھٹ کیے اورٹرے پکڑے وہ کوئی لڑکی تھی۔
    ”بابا نے بھیجا ہے۔” یہ کہہ کر اس نے گرم گرم ناشتا کمرے میں داخل ہوکر میز پر رکھ دیا۔ چہرے کے آگے تو گھونگھٹ تھا، البتہ آدھی آستین کی چولی سے اس کے گورے بازو دکھائی دے رہے تھے جن میں اس نے کانچ کی چوڑیاں پہنی ہوئی تھیں۔ گھیرے والے لہنگے کے نیچے سے اس کے گورے پاؤں بھی نمایاں تھے جن میں پہنی پائل، چلنے سے چھن چھن کی آواز دے رہی تھی۔
    ”پھر ملنا۔” وہ سرگوشی کرتی باہر نکل گئی تو وہ ہوش میں آیا۔ نہ جانے نذیر نے اسے کیوں بھیج دیا؟ شرجیل میز پر بیٹھا اور گرم گرم ناشتا دیکھ کر ہاتھ نہ روک سکا۔
    کھانا بہت لذیذ تھا۔ وہ باقی ناشتا ڈھک کر بستر پر لیٹ گیا۔ اسے اب پھر سے نیند آرہی تھی۔ اس کی آنکھ کسی کے لمس سے کھلی تھی۔ کوئی اس کے بالوں میں ہلکی ہلکی انگلیاں پھیر رہا تھا۔




  • خزاں کے پھول — محمد طاہر رفیق

    خزاں کے پھول — محمد طاہر رفیق

    میں ہرے بھرے کھیتوں کے درمیان ایک پگڈنڈی پر چلا جا رہا تھا۔ہر سو خزاں کا راج تھا۔
    چاروں طرف ہرے بھرے کھیت تھے لیکن ان کی حد پر لگے درخت ٹنڈ منڈ حیران و افسردہ کھڑے تھے۔ اداس اور پریشان، جیسے کسی کے گھر میت کا پرسہ دینے آئے ہوں۔ ان سے بچھڑے ہوئے سوکھے پتے میرے پاؤں کے نیچے آکر ہلکا سا احتجاج کرتے او ر پھر خاموش ہو جاتے۔
    مجھے ہمیشہ سے خزاں کا موسم بہت پسند تھا اور پھر خزاں کے بعد زندگی کی نوید سناتی بہار بھی۔ جب ٹنڈ منڈ درختوں اور بے جان ٹہنیوں سے ننھے ننھے شگوفے پھوٹتے تھے۔
    خزاں ہر بار کی طرح اس بار بھی غمگین، اداس اور پریشان لگ رہی تھی جیسے کوئی اپنے بچپن کے سنگی ساتھی کے بچھڑنے پر اداس ہوتا ہے۔
    میں کل رات ہی دو سال کے بعد د یارِ غیر سے وطن لوٹا تھا۔ اب صبح کی نماز کے بعد قبرستان جا رہا تھا۔ اسی قبرستان میں جہاں دادا جی، دادی جان اور اب میری پیاری امی جان بھی منوں مٹی کی چادر اوڑھے لیٹی تھیں اور بہت سارے دوسرے لوگوں کے ساتھ اپنا ایک الگ جہاں بسائے کب سے وہیں مقیم تھیں۔
    صبح کے ملگجے اجالے میں ہلکی ہلکی خنکی کی لہر تھی۔ کھیتوں میں لگی فصلوں پر شبنم کی چادر بچھی تھی۔ دور کھیتوں کے کنارے لگے بڑے بڑے درخت کسی خوفناک دیو کے مانند لگ رہے تھے۔
    آج امی جان کو ہم سے بچھڑے چار سال اور کچھ دن ہوگئے تھے۔ میں جب تک پاکستان میں تھا تو تقریباً روزانہ ہی ان کی قبر پر جا کر فاتحہ پڑھتا تھا۔ کبھی کبھار ہی اس عمل کا ناغہ ہوتا۔
    آج اتنے عرصے بعد جاتے ہوئے مجھے بہت عجیب لگ رہا تھا، جیسے کوئی اپنے بہت عزیز سے ملنے جا رہا ہو اور وہ عزیز آپ سے خفا ہو یا روٹھا۔ اس وجہ سے کہ اتنے عرصے بعد کیوں آئے ہو؟
    انہی سوچوںاور خیالوں میں غلطاں میں قبرستان آگیا تھا۔ میں نے دعا پڑھی اور امی جان کی قبر کی طرف بڑھنا شروع کیا۔ گو کہ ان دو سالوں میں امی جان کے ہمسایوں کی تعداد میں بہت اضافہ ہو گیا تھا، لیکن میں پھر بھی آسانی سے ان کی قبر تک پہنچ گیا تھا۔میں نے جونہی ان کی قبر کی طرف نگاہ کی تو حیران و پریشان رہ گیا۔
    …٭…





    امی جان فردوس خالہ کے گھر گئیں تھی اور میں انہیں لینے گیا تھا۔ وہ دروازے تک آ کر پھر اندر کی طرف پلٹ گئیں۔ پھر جب پانچ سات منٹ کے بعد آئیں تو ان کے ہاتھ میں سدا بہار کے چند پودے جڑوں سمیت دیکھ کر میں بولے بنا نہ رہ سکا:
    ”امی جان! آپ کہیں بھی جاتی ہیں تو واپسی پر لازمی سدا بہار کا پودا آپ کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ لگتا ہے پورا کھیت لگانا ہے۔”
    ”بیٹا کیا کروں جتنا مجھے یہ سدا بہار کے پھول پسند ہیں اتنا ہی یہ میرے آنگن سے خفا رہتے ہیں۔ لگتا ہے انہیں میرے آنگن کی مٹی راس نہیں آتی۔”
    انہوں نے ایک پیار بھری نظر سدا بہار کے پھولوں والی شاخوں پر ڈالی اور پھر بولیں۔
    ”اور کھیت کی بات بھی خوب کہی تم نے۔ ویسے اب تک میں جتنے پودے لگا چکی ہوں وہ سب کے سب لگ جاتے تو کسی کھیت سے بھی زیادہ ہوتے۔”
    امی جان نے ایک ٹھنڈی آہ بھری۔
    گھر آتے ہی امی جان بھوک پیاس کی پروا کیے بغیر پودے لگانے جت گئیں اور میں ٹھنڈا پانی پی کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
    …٭…
    شام کو میں سو کر اٹھا تو امی جان دن کو لگائے ہوئے پودوں کو پانی دے رہی تھیں۔
    شاید ہفتہ گزرا ہوگا کہ میری نظر ان نئے لگائے پودوں پر پڑی تو وہ پتوں اور پھولوں سمیت مرجھائے پڑے تھے۔
    کچھ دن بعد امی جان دوبارہ سدا بہار کے پودے دوسری کیاری میں لگا رہی تھیں۔ یہ پودے بھی شاید وہ اپنی کسی سہیلی کے گھر سے لائی تھیں۔میرے پوچھنے پر بتایا کہ پہلے جو پودے لگائے تھے وہ مالٹے کے بڑے درختوں والی کیاری میں لگائے تھے۔ مجھے کسی نے بتایا ہے کہ بڑے درختوں کی جڑوں کی وجہ سے چھوٹے پودے وہاں پھلتے پھولتے نہیں۔ اسی لیے اب میں ان کو دوسری کیاری میں لگا رہی ہوں۔
    کچھ دن بعد ان پودوں کا بھی وہی حال تھا جو دوسرے پودوں کا ہوا تھا۔ اس بار پھر امی جان کا ارمان پورا نہ ہوا تھا۔
    اس بار امی جان کو اپنی ذاتی تحقیق سے پتا چلا کہ اس بار والے پودے پانی کی زیر زمین ٹینکی کے ساتھ والی کیاری میں لگائے گئے تھے اور یہی وجہ تھی کہ وہ بہت زیادہ نمی کی وجہ سے نمو نہ پا سکے اور جان کی بازی ہار گئے تھے۔
    خیر امی جان نے پھر بھی ہمت نہ ہاری اورکچھ ہفتے بعد جب بڑی باجی کا فون آیا ہوا تھا اور امی جان انہیں بھی کسی پودے کو اپنے ساتھ لانے کا کہہ رہی تھیں۔ پھر جب بڑی باجی آئیں تو اپنے ساتھ بہت سارے رنگوں کے سدا بہار کے پودے لائی تھیں۔ باجی نے اپنے سامان والے بیگ بعد میں کھولے اور امی جان کے سا تھ مل کر سدا بہارکے پودے لگانے بیٹھ گئی تھیں۔ اس بار امی جان اور باجی نے دوبارہ پہلے والی غلطی نہیں کی تھی بلکہ اس بار کے لائے گئے پودے بڑے بڑے مٹی کے گملوں میں میں لگائے گئے تھے۔
    اب کی بار کچھ دن رنگ برنگ پھولوں نے بہاردکھائی تھی۔ شاید اس بار محنت زیادہ ہوئی تھی یا گملوں کی وجہ سے، یا پھر کوئی اور وجہ تھی۔ لیکن کچھ دن تو وہ پودے ہرے بھرے رہے اور پھول بھی کھلے رہے۔
    امی جان ڈاکٹر کی دوائی کی طرح دن میں تین بار ان میں پانی ڈالتیں اور میرے چھوٹے بھائی سے دیسی کھادبھی منگوا کر ڈالتیں۔ امی جان کی تو جیسے عید ہوگئی تھی۔ وہ شام کی چائے انہی پھولوں والی جگہ بیٹھ کر پیتی تھیں اور محلے کی آئی گئی عورتوں سے گپ شپ بھی وہیں بیٹھ کر لگاتی تھیں۔
    دو تین ماہ تو ان پودوں نے بہار دکھائی پھر آہستہ آہستہ مرجھانے لگے۔ امی جان نے ہر ممکن طریقے سے انہیں بچانے کی کوشش کی لیکن ان کی کوشش کارگر ثابت نہ ہوئی۔
    اس کے بعد امی جان کئی دنوں تک اداس اداس پھرتی رہیں۔
    اس بار مجھ سے ان کی اداسی دیکھی نہ گئی۔ میں نے ایک اچھی نرسری سے سدا بہار کے مختلف رنگوں کے بیج اور کھاد خریدی اور ساتھ ہی ہر طرح کی احتیاطی تدابیر بھی ان سے پوچھیں۔
    گھر آکر امی جان کو خوشخبری سنائی کہ ایک بار پھر ان کا خواب شرمندۂ تعبیر ہونے والا تھا۔
    کئی گھنٹے لگا کر ہم نے گملوں کی پرانی مٹی نکال کر نئی مٹی اور کھاد تبدیل کی اور پھر کچھ دن ان میں پانی ڈال کر ان میں مناسب نمی آنے کا انتظا ر کرتے رہے۔ پھر کچھ دن بعد ہم نے ان میں بیج بو دیے۔




  • کفنی — خواجہ حسن نظامی

    کفنی — خواجہ حسن نظامی

    ”دلشاد گدگدیاں نہ کر مجھے سونے دے۔ نماز قضا ہوتی ہے، تو کیا کروں۔ آنکھ کھولنے کو جی نہیں چاہتا۔”
    بیوی: ”گدگدیاں میں نے نہیں کیں۔ یہ گلاب کا پھول تمہارے تلوؤں سے آنکھیں مل رہا ہے۔”
    ”میں اس پھول کو مسل ڈالوں گی۔ اتنی سویرے مجھے کیوں جگاتی ہے۔ میرا دل ابھی سونے کو چاہتا ہے۔ ذرا سندری کو بلا۔ بانسلی بجائے۔ ہلکے سروں میں بھیرویں سنائے۔ گل چمن کہاں ہے، چپی کرے، تو کوئی کہانی شروع کر۔”
    ”کہانی کہوں گی تو مسافر راستہ بھولیں گے۔ دن کو کہانی نہیں کہنی چاہیے۔ سندری حاضر ہے۔ گل چمن کو بلاتی ہوں، اماں جان آجائیں گی تو خفا ہوں گی کہ مہ جمال کو اب تک بے دار نہیں کیا، نماز کا وقت جاتا ہے۔”
    سندری بانسلی بجا رہی تھی کہ مہ جمال نے آنکھیں کھول دیں۔ بالوں کو سمیٹا، مسکرائی، کلمہ پڑھا، نرگس نے سلام کیا۔ جواب میں اس کے ایک چٹکی لی گئی، انگڑائی لے کر اُٹھ بیٹھی اور کہا:
    ”دلشاد! ہم نے نرگس کے چٹکی لی، تو یہ ہنسی نہیں۔ منہ بنالیا۔ آ تو آ۔ تیرے کان مروڑوں اور تو خوب ہنس۔”
    دلشاد اٹھ کر بھاگی، دور کھڑی ہوئی اور کہا: لیجیے میں کھلکھلا کر ہنستی ہوں، آپ سمجھ لیجیے کان مروڑ دیے۔”
    مہ جمال نے پھر انگڑائی لی اور مسکراتی ہوئی طشت چوکی پر گئی۔ وضو کیا، نماز ادا کی، صحن میں نکلی، باغ کے پاس تخت پر بیٹھی، قرآن شریف شروع کیا۔ سب لونڈیاں فرش کی درستی میں مصروف ہوئیں، ناشتے کا سامان کرنے لگیں۔
    مہ جمال تلاوت سے فارغ ہوئی تو مالن چنگیر میں چند ہری مرچیں لیے حاضر ہوئی۔ پہلے مہ جمال کی بلائیں لیں، دعائیں دیں، پھر بولی: سرکار آج حضور کے لگائے ہوئے پودوں میں یہ مرچیں لگی تھیں۔ نذر کے لیے لائی ہوں۔
    مہ جمال نے چنگیر لے لی۔ سب لونڈیوں کو پکارا اور مرچوں کی آمد سے محل میں ایک دھوم مچ گئی۔ نرگس نے کہا ”کیسی ہری ہری چکنی صورت ہے۔” دلشاد بولی”جیسے بیوی کے گال۔” سندری نے کہا ”کیسی چپ چاپ چنگیر میں لیٹی ہیں، جیسے بیوی چھپرکھٹ میں سوتی ہیں۔ گل چمن بولی”ڈالی سے ٹوٹی ہیں، گھر سے چھوٹی ہیں، اس لیے ذرا چپ چپ ہیں۔”
    مہ جمال نے کہا ”مالن کو جوڑا دو، کپڑے پہناؤ، پانچ روپے نقد بھی دینا، میرے درختوں کا پہلا پھل لائی ہے، اس کا منہ بھی میٹھا کرنا۔”
    مالن کو ریشمی جوڑا ملا۔ چاندی کے کڑے پہنائے گئے۔ لڈو کھلائے گئے۔ پانچ روپے نقد اور ایک پان کا بیڑا ملا۔ وہ دعائیں دیتی ہوئی اپنے گھر گئی۔ یہاں اماں جان کو لونڈی خبر دینے پہنچی کہ بیوی کے درختوں کا پہلا پھل آیا ہے۔ وہ برابر کے مکان سے آئیں۔ مغلانی ساتھ تھیں بیٹی کی بلائیں لیں۔ مہ جمال نے آداب کیا۔ اماں اور مغلانی نے مرچوں کی خوب تعریفیں کیں اور تھوڑی دیر تک مرچوں کا غلغلہ گھر میں برپا رہا۔





    مہ جمال خورشید جمال کی اکلوتی بیٹی تھی۔ اس کے والد میرزا نیلی شاہ عالم کے بیٹے اکبر شاہ ثانی کے بھائی تھے جو مرچکے تھے۔ خواصوں سے ان کے کئی بیٹے تھے مگر بیگم سے صرف مہ جمال ایک لڑکی پیدا ہوئی تھی اور وہ بھی بڑھاپا جانے کے بعد۔ جب میرزا نیلی مرے ہیں تو مہ جمال کی عمر پانچ سال تھی۔ اب ماشا اللہ پندرہویں سال میں ہے۔ صورت سانولی ہے، چہرہ کتابی ہے، قد میانہ ہے، آنکھیں سیاہ اور بے حد رسیلی اور مخمور ہیں۔ آواز میں قدرتی درد ہے۔ جب ہنس کے بولتی ہے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ کوئی مرثیہ پڑھا گیا۔ سن کر کلیجے پر چوٹ لگتی ہے۔ وہ بہت چنچل، شوخ، آرام طلب اور نازک مزاج ہے۔ لاڈ پیار میں پلی ہے۔ شہزادی ہے، بن باپ کی اکلوتی ہے اور کچھ فطرتاً ضدی اور ہٹیلی ہے۔ بدن بہت دبلا ہے۔ چلتی ہے تو غیر مصنوعی انداز سے بدن کو جھکاتی، پھولوں کی ٹہنی کی طرح اِدھر اُدھر جھکولے کھاتی ہے۔ ٹھوکر قدم قدم پر لگتی ہے۔ لونڈیاں ساتھ دوڑتی ہیں۔ بسم اللہ یا اللہ خیر کہتی جاتی ہیں۔
    پھول والوں کی سیر تھی۔ بہادر شاہ اپنے محل میں جو درگاہ حضرت خواجہ قطب صاحب کے دروازہ کے قریب بنا تھا، تشریف رکھتے تھے۔ بیگمات اندر تھیں، مگر خورشید جمال اور مہ جمال نے دوسرا مکان لیا تھا، کیوں کہ میرزا نیلی کے وقت سے ان کی اور بہادر شاہ کے ان بن تھی۔ بہادر شاہ کو انگریز لاکھ روپے دیتے تھے، اس میں سے ایک ہزار روپے مہینہ خورشید جمال کا علیحدہ بھیج دیا جاتا تھا۔ سستا سماں تھا، ہزار روپے آج کل کے لاکھ روپے کے برابر تھے اور خورشید جمال خوب عیش آرام سے زندگی بسر کرتی تھیں۔ جس شام کو پنکھا چڑھا۔ مہ جمال عصر کے وقت سے برآمدہ میں چلمن کے پاس بیٹھی تھی۔ نفیری بج رہی تھی۔ دہلی کے ہندو مسلمان زرق برق کپڑے پہنے پنکھے کے ساتھ تھے۔ دکانیں آراستہ تھیں، سقے کٹورے بجا رہے تھے۔
    مغرب کا وقت آیا تو خورشید جمال نے لونڈیوں سے کہلا بھیجا کہ پہلے آن کر نماز پڑھ لو پھر تماشا دیکھنا۔ مہ جمال اُٹھی تو چلتے وقت اس نے دیکھا اور ایک فقیر سفید کفنی پہنے، زرد چہرہ۔ ننگے سر، ننگے پاؤں، پنکھے کے پاس سے گزر کر اس کو دیکھتا ہوا چلا گیا۔ اس کی صورت اور کفنی دیکھ کر مہ جمال ڈر گئی۔ نماز میں بھی اسی کا خیال رہا۔ سیر سے فارغ ہوکر سوئی تو ہلکا ہلکا بخار تھا۔ ماں کو خبر ہوئی، اس نے کچھ پڑھ کر دم کیا۔ صندوقچہ سے ایک نقش نکال کر پیالے میں ڈالا، فقیروں کو خیرات بھجوائی۔
    دوپہر کو بخار تیز ہوگیا۔ مہ جمال چونکتی تھی اور کہتی تھی ”وہ کفنی والا آیا، وہ مجھ کو بلاتا ہے، اماں جی آنا وہ دیکھو کھڑا مسکراتا ہے۔”
    ماں نے لونڈیوں سے پوچھا۔ انہوں نے کہا: ایک فقیر کل شام کو کفنی پہنے جاتا تھا، بیوی نماز کے لیے اٹھیں تو چلمن کا پردہ ہٹ گیا۔ فقیر نے ان کو گھور کر دیکھا اور بیوی نے اس کو دیکھا۔ اس کے بعد وہ کہیں چلا گیا۔
    خورشید جمال نے نوکروں کو حکم دیا کہ اس حلیہ کا فقیر جہاں ملے اس کو لاؤ۔ نوکر سارے میلے میں ڈھونڈتے پھرے۔ شام کے قریب وہ ملا۔ اس کو ساتھ لے کر مکان پر لے آئے۔ خورشید جمال نے پردہ کے پاس بٹھا کر لڑکی کا حال کہا۔ وہ بولا مجھے اندر لے چلو میں دم کر دوں گا اچھی ہو جائے گی۔ خورشید جمال نے اندر پردہ کرادیا۔ فقیر کو پلنگ کے پاس کھڑا کیا۔ اس نے آنکھ بند کرکے دونوں ہاتھ اپنے رخساروں پر رکھے اور کچھ دیر چپ کھڑا رہا اور پھر کہا: ”لو لڑکی اچھی ہوگئی۔”
    دیکھا تو واقعی بخار اتر گیا تھا۔ مہ جمال اٹھ بیٹھی۔ خورشید جمال اور سب لونڈیاں حیران ہوگئیں۔ فقیر کو بٹھایا۔ کچھ روپے اور کپڑے کے دو تھان نذر کیے۔ فقیر نے کہا:
    ”یہ میں نہیں لیتا، مجھے لڑکی کی صورت دکھا دو، ورنہ پھر بیمار ہو جائے گی۔”
    خورشید جمال نے پہلے تو کچھ تامل کیا، پھر خیال آیا کہ فقیر تو ماں باپ ہوتے ہیں، پردہ ہٹایا۔ مہ جمال نے فقیر کو دیکھا اور سر جھکا لیا۔ فقیر نے مہ جمال کو دیکھا اور برابر دیکھتا رہا۔ کچھ دیر کے بعد ”بھلا ہو بابا” کہہ کر اٹھا اور چلا گیا۔
    یہ تیس برس کا جوان تھا، مگر بیمار معلوم ہوتا تھا۔ چہرے پر زردی بہت زیادہ تھی۔ سفید کفنی کے سوا کوئی کپڑا پاس نہ تھا۔ آنکھیں ایسی معلوم ہوتی تھیں گویا روتے روتے سوج گئی ہیں۔
    یہ شخص اس مالن کا بیٹا تھا جو مہ جمال کے باغ کی محافظ تھی۔ مہ جمال کو ایک سال پہلے اس نے باغ میں دیکھا تھا۔ اپنی غریبی اور مہ جمال کی شان کا خیال کرکے اس کو ہمت نہ ہوتی تھی کہ اس تکلیف کو کسی کے سامنے بیان کرے جوکہ جمال کے دیکھنے سے خود بہ خود اس کے اندر پیدا ہوگئی تھی۔
    چھے مہینے وہ اس خلجان میں پریشان رہا۔ اس کے بعد اس کو ایک ہندو جوگی ملا جس سے اس نے اپنا حال بیان کیا۔ جوگی نے ایک سفید کفنی دی کہ اس کو پہن لے تیرے سب کام پورے ہو جائیں گے۔ کفنی پہنتے ہی وہ مجذوب ہوگیا اور گھر بار چھوڑ کر جنگل میں نکل گیا۔ چھے مہینے تک جنگلوں میں پھرتا رہا۔ چھے ماہ بعد اب پھر وہ آبادی میں آیا تھا، جہاں اس نے پھر مہ جمال کو دیکھا، مگر اب اس کے دیکھن میں ایسی قوت پیدا ہوگئی تھی کہ مہ جمال کو اس نے نگاہ میں بیمار کردیا۔
    ١٤ ستمبر ١٨٥٧ء کو ایک رتھ نجف گڑھ کے قریب کھڑا تھا اور خاکی وردی کے فوجی سپاہی اس کو گھیرے ہوئے تھے۔ یہ سب لشکر سے تعلق رکھتے تھے۔ اس رتھ میں خورشید جمال، مہ جمال اور دو لونڈیاں سوار تھیں، باہر چار نوکر تلواریں لیے کھڑے تھے۔ فوج والے کہتے تھے ہم اندر کی تلاشی لیں گے، اس میں کوئی باغی پوشیدہ ہے۔ بیگم کے نوکر کہتے تھے، اندر عورتیں ہیں، ہم پردہ نہ کھولنے دیں گے۔ نوبت لڑائی کو پہنچی تو نوکروں نے تلوار چلائی اور وہ سب ایسے لڑے کہ ایک بھی زندہ نہ بچا۔ فوجیوں نے رتھ کا پردہ اُلٹ دیا۔ عورتوں کو دیکھا اور زیور کا صندوقچہ ان سے چھین لیا۔ اس کے علاوہ اور جس قدر اسباب تھا وہ بھی لوٹ کر آگے بڑھ گئے۔ رتھ بان بھاگ گیا تھا۔ بیگم لونڈیوں کو لے کر نجف گڑھ کی طرف ہو لیں کہ اتنے میں چند گوجر لٹھ لیے ہوئے آئے اور ان سے زیورات اور کپڑے مانگنے لگے۔ بیگم نے کہا: ہم کو تو فوج والوں نے لوٹ لیا ہے اب ہمارے پاس کچھ بھی باقی نہیں ہے، تم رتھ اور بیل لے لو۔ مگر گوجر نہ مانے اور انہوں نے زبردستی ان کے برقعے اتار ڈالے۔ پاجاموں کے سوا تمام کپڑے چھین لیے۔ خورشید جمال اور لونڈیوں نے ان کو برا کہنا شروع کیا۔ ایک گوجر نے خورشید جمال کے سر پر لکڑی ماری اور دوسرے نے لونڈیوں پر لکڑیوں کے وار کیے۔ مہ جمال ڈری سہمی چپ کھڑی تھی۔ اس کو کسی نے نہ چھیڑا۔ خورشید جمال کا سر پھٹ گیا اور تڑپ کر مر گئیں۔ لونڈیاں بھی دونوں چوٹ کے صدمے سے تمام ہوگئیں۔ مہ جمال اکیلی کھڑی تماشا دیکھتی تھی۔ ماں کو مرتے دیکھا تو چمٹ کر رونے لگی۔ گوجر تو مار کوٹ کر چلے گئے اور مہ جمال روتے روتے بے ہوش ہوگئی۔ ہوش آیا تو اس نے دیکھا نہ اس کی ماں کی لاش ہے نہ لونڈیوں کی لاشیں ہیں، نہ وہ جنگل ہے بلکہ وہ ایک گھر کے اندر چارپائی پر لیٹی ہے۔ سامنے ایک گائے بندھی کھڑی ہے۔ چند مرغیاں صحن میں پھر رہی ہیں اور ایک میواتی چالیس پچاس برس کی عمر کا سامنے بیٹھا اپنی بیوی سے باتیں کررہا ہے۔




  • مڈل کلاس — سارہ عمر

    مڈل کلاس — سارہ عمر

    ”لے زوباریہ پکڑ یہ کارڈ سیٹھ صاحب کے گھر سے آیا ہے۔” ہانپتی کانپتی امی نے دوپٹے سے پسینا پونچھتے ہوئے اس کی طرف کارڈ بڑھایا تھا۔
    ”سیٹھ ماموں کے گھر سے؟ کیسا کارڈ ہے؟” اس نے لپک کر کارڈ جھپٹا تھا۔
    ”ہزار بار کہا ہے تجھے مت بولا کر ماموں۔ سنیں گے تو غصہ کریں گے۔ کون سا تیرا سگا ماموں لگا ہے وہ۔ انکل بولا کر انکل، ایسے رشتہ نہیں پتا لگتا نا۔” اماں نے ایک تھپڑ کمر پر جڑتے اسے کھری کھری سنائی تھیں۔
    ”کیا ہے اماں؟میں تو بولوں گی ماموں۔ایک تو ان امیروں کو اپنے رشتے داروں میں سو کیڑے نظر آتے ہیں۔” وہ کارڈ کھولتے ہوئے بولی۔
    ”تو غریبوں سے بھلا کون رشتہ رکھتا ہے؟ بس عید تہوار، شادی تک کے لئے گھر بلا لیتے ہیں احسان ہے ان کا۔” اماں ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے بولی تھیں۔
    ”اُف اماں! اتنے بھی غریب نہیں ہیں۔ ہم مڈل کلاس ہیں مڈل کلاس۔” اس نے فخر سے اپنی کلاس بتائی تھی۔ جیسے کہہ رہی ہو ”منسٹر ہیں منسٹر۔”
    ”ان سے تو غریب ہیں نا۔ اچھا اب کھول بھی لے سعدیہ کی شادی کا کارڈ۔” وہ جو کارڈ کے اوپر بنے پھولوں میں گم تھی، ایک دم اُچھلی۔
    ”سعدیہ کی شادی؟ مگر کس سے۔” اس نے جلدی جلدی کارڈ کھول کر نام پڑھا تھا۔
    ”سکندر کریم شاہ، یہ کس سے ہورہی ہے اس کی شادی؟” وہ جھلا کر بولی۔
    ”تو کس سے ہونی تھی؟ اپنے جیسوں میں کررہے ہیں۔ وڈیرے ہیں، بڑی زمینوں والے ہیں۔ ڈیفنس میں بنگلہ ہے ان کا۔”
    ”مگر وہ تو…”بولتے بولتے اس نے زبان منہ میں دبالی ۔
    ”ہائے میری ہانڈی جل گئی ہوگی۔ چل سنبھال کر رکھ کارڈ، دس تاریخ ہے بھول نہ جائیو۔ ایک دن تو ڈھنگ کا کھانا کھانے کو ملے گا۔” اماں نے کچن کی طرف قدم بڑھائے تھے اور اس کا دماغ میں گھوڑے دوڑنے لگ گئے تھے۔
    ”چلو سعدیہ تمہاری محبت کا بھی یہی انجام ہوا۔ تم اپنے سیٹھ ابا کے حکم کے آگے سرنگوں ہوکر یہ زہر کا پیالہ پینے پر تیار ہو ہی گئیں۔ ایک اور محبت امیر اور غریب کی تفریق کے بھینٹ چڑھ گئی۔” اسے ماضی کے تمام واقعات یاد آنے لگے تھے۔
    ”پتا نہیں یہ محبت اتنی ارزاں کیوں ہے؟ سب سے پہلے سولی چڑھانے کو اسی کا خیال کیوں آتا ہے۔” سوال آہستہ آہستہ اس کے دماغ میں سراٹھانے لگے۔
    ٭…٭…٭




    ”زوباریہ ہوگئی تیار؟ باہر تیرے ابا ٹیکسی لے کر کھڑے ہیں وہ اور کرایہ مانگے گا، نکل بھی چک۔” اماں نے دروازے سے آواز دی۔
    ”آئی اماں! بس یہ بڑے والے جھمکے پہن لوں۔ کبھی بھی پہننے کا موقع نہیں ملتا۔” وہ جھمکا کان میں ڈال رہی تھی۔
    ”آئے ہائے اتار یہ لمبے لمبے جھمکے، چھوٹے پہن ذرا۔ پہلے ہی تیری سیما آنٹی کہتی ہے کہ اتنے بڑے بڑے جھمکے پینڈو عورتیں پہنتی ہیں۔ چھوٹے ear rings ماڈرن لُک دیتے ہیں۔”اماں نے ہاتھ نچا کر ”آنٹی” اور ”ماڈرن” پر خاص زور دیا تھا۔
    ”اچھا اچھا اتار رہی ہوں۔ ایک تو ان امیروں کے چونچلے، اب تیار بھی ان کی مرضی سے ہوکر جاؤ۔ ہونہہ!” اس نے دراز کھول کر چھوٹے ear rings نکالے۔
    ٭…٭…٭
    ”اُف! شکر ہے جان چھوٹی ان شادیوں کے چکر سے۔ ان امیروں کی شادیاں بھی نرالی ہی ہوتی ہیں۔ شروع ہوتی ہیں تو برسات کی طرح سات دن سے پہلے ختم ہی نہیں ہوتیں۔ یہ نہیں کہ نکاح پڑھائیں اور رخصت کریں۔ نہیں بھئی! چھے چھے ڈھولکیاں، مایوں ، مہندی، نکاح، رخصتی، ولیمہ، جوتا چھپائی، مکلاوہ ۔” اماں اس کے سر کی مالش کرتے ہاتھ کے ساتھ ساتھ زبان بھی چلا رہی تھیں۔
    ”اے زوبی تجھے کیا ہوا ہے؟ اتنی چپ کیوں ہے شادی کے بعد سے۔” اماں حیران ہوئیں۔
    ”اماں! سعدیہ کی شکل دیکھی تھی؟” وہ منمنائی تھی۔
    ”دیکھی تو تھی اتنی پیاری حور لگ رہی تھی۔ پچاس ہزار کا میک اپ اور دو لاکھ کاجوڑا تھا، حور تو لگنی ہی تھی۔” اماں نے بال کس کر اس کی چٹیا بنائی۔
    ”اماں وہ خوش نہیںتھی۔” وہ آہستہ سے بولی۔
    ”چل ہٹ! اتنا پیسے والا امیر کبیر میاں ملا ہے، اندر سے تو خوش ہوگی۔ اب کیا ناچنا شروع کردے؟ ہے تو مشرقی دُلہن نا! چاہے جتنی بھی امیر ہو۔” اماں نے خوش ہوکر کہا تھا۔
    ”امیر کبیر کے ساتھ ہٹا کٹا موٹا تازہ بھی کہیں نا۔” اسے دیو جیسا دلہا زہر لگا تھا۔
    ”پاگل ہوئی ہے، کھاتا پیتا گھرانا ہے ان کے سامنے مت بولیو! آئندہ گھر نہیں بلائیں گے۔ جاجاکر چائے بنا، باتیں سنو اس کی۔” اماں نے تیل کی بوتل بند کی اور اس کی سوچوں کا در کھول دیا۔
    ”کیا برائی تھی عدیل بھائی میں؟ پڑھے لکھے، ہینڈسم سے کزن تھے سعدیہ کے، بس ایک مڈل کلاس ہی برائی تھی۔ بس یہ مڈل کلاس انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑتی۔” وہ بوتل اٹھاتی اٹھ کھڑی ہوئی۔ اماں کو کیا پتا اس کے دل کا روگ، وہ تو اس کی ہم راز تھی۔
    ٭…٭…٭
    ”اب دکھا بھی چک زوباریہ صبح سے ٹال رہی ہے۔” رمشا نے اسے کہنی ماری تھی جو کینٹین میں سموسا کھا رہی تھی۔
    ”صبر کرلے تھوڑا سا، ایک ہی موبائل ہے۔ کمیٹی ڈال کر خریدا ہے اماں نے۔ یہاں کسی Procter کے ہتھے چڑھ گیا تو واپس بھی نہیں ملنا۔” وہ اس کے کان میں منمنائی۔
    ”چلو باہر چلیں۔” باہر ایک سنسان گوشے میں آکر ا س نے موبائل آن کرکے تصویریں نکالیں۔
    ”اللہ! زوباریہ کتنی پیاری لگ رہی ہے اپنی سعدی۔”
    ”تو تو ایسے سعدی بول رہی ہے جیسے میری نہیں تیری کزن لگتی ہو۔” وہ جل کر بولی۔
    ”اچھا نا! ملی تو ہوں نا اتنی بار تیرے ساتھ کالج میں۔ جان پہچان ہے۔ پری لگ رہی ہے، میاں تو مر ہی گیا ہوگا دیکھ کر۔”
    ”اللہ کرے مر ہی جائے۔” وہ اور جل گئی۔
    ”ہائے کیسے بول رہی ہے، اس کا سہاگ ہے اب تو۔” رمشا نے منہ میں انگلی دبائی۔
    ”پتا تو ہے تجھے عدیل بھائی کو پسند کرتی تھی۔ تین بار رشتہ بھجوایا تھا لیکن سیٹھ ماموں نے اسی ڈر سے بی اے کے دوران ہی اس کی شادی کروا دی۔ سال تو ختم ہونے والا ہے پیپر تک رک جاتے مگر نہیں۔ زبردستی کی ہے۔” وہ اسے تفصیل بتارہی تھی۔
    ”اوہ! تب ہی میں کہوں اتنے میک اپ کے بعد بھی اُداسی چہرے پر تھی۔”
    ”چل چل ابھی تو بڑی پری لگ رہی تھی۔ اب اداس پری لگنے لگ گئی۔” وہ موبائل آف کرتے ہوئے بولی۔
    ”اچھا نا! اپنا موڈ تو صحیح کر۔”
    ”رمشا ایک بات بولوں؟ مجھے اپنی کلاس بہت اچھی لگتی ہے۔”
    ”لو اس میں اچھائی والی کون سی بات ہے؟” اس نے آنکھیں پھیلائیں۔
    ”دیکھ نا رمشا! بندہ اپنی مرضی کی زندگی تو گزارے۔ اپنی پسند نا پسند کا اختیار ہو۔ یہ سب سے اچھی کلاس ہے، مڈل کلاس۔ نہ امیر نہ غریب۔ ان کے پاس کبھی کبھی پیسے آجاتے ہیں تو اپنے شو ق پورے کرتے ہیں، گھر لینا گاڑی لینا وغیرہ وغیرہ مگر کبھی بھی امیر نہیں بن سکتے۔ ان کے لیول تک نہیں جاتے اور نہ ہی اتنے غریب ہوجاتے ہیں کہ فاقوں کی نوبت آئے۔ مگر بس ہر وقت اسی حال میں ہوتے ہیں کہ یا تو مقروض ہوتے ہیں یا کھینچ تان کر اپنی زندگی کی ضرورتوں کو پورا کررہے ہوتے ہیں۔”
    ”اس میں اچھائی والی کون سی بات ہے؟”
    ”دیکھ نا! اگر سعدیہ مڈل کلاس کی ہوتی تو اس کی شادی عدیل بھائی سے ہوجاتی۔” اس نے دلیل دی۔
    ”اور اگر عدیل امیر ہوتا تو بھی تو اس کی شادی سعدیہ سے ہوجاتی۔” رمشا نے جواب دیا۔
    ”لیکن کم از کم عدیل نے کوشش تو کی نا۔ اظہار تو کیا نا! سعدیہ کی طرح خاموشی اختیار نہیں کی۔” وہ بہ ضد تھی۔
    ”مڈل کلاس میں بھی شریف لڑکیاں کھل کر پسند کااظہار نہیں کرتیں۔” رمشا بولی۔
    ”مگر مڈل کلاس…”
    ”ہر جگہ مڈل کلاس رکاوٹ نہیں ہوتی، کہیں کہیں بیچ میں نصیب بھی آجاتاہے، جو جس کا نصیب۔” رمشا کی بات پر وہ چپ ہوگئی۔
    ٭…٭…٭
    زوباریہ اپنے ماںباپ کی اکلوتی بیٹی تھی۔ ابا کی گارمنٹس کی دکان تھی۔ مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والی زوباریہ کی واحد دوست رمشا ہی تھییا گھر میں اماں سے دوستی تھی۔
    وہ جس کالج میں پڑھتی تھی، وہ شہر کا سب سے اچھا گورنمنٹ کالج تھا۔ اس کا ایڈمیشن ادھر میرٹ پر ہوا تھا۔ فیس بھی کم تھی اور سارے شہر کی کریم ادھر ہی جمع ہوجاتی۔ سعدیہ نے بھی اپنا ایڈمیشن ادھر کروایا تھا۔ وہ زوباریہ سے ایک سال سینئر تھی۔ اب اس کا بی۔ اے ختم ہونے والا تھا۔ سعدیہ پڑھائی میں بہت اچھی نہیں تھی اور سیٹھ صاحب تو پرائیوٹ کالج کے حق میں تھے مگر سعدیہ کو بہت شوق تھا ادھر ایڈمیشن کااور میرٹ پر نام نہ آنے کی صورت میں انہوں نے پیسے دے کر اسپیشل سیٹ ارینج کرلی تھی۔ سیٹھ صاحب کی ٹیکسٹائل کی کئی ملیں تھیں مگر ان کے حصے میں کچھ غریب رشتے دار وراثت میں آگئے تھے جن کو وہ اکھاڑکر پھینک نہیں سکتے تھے۔ سو دور دور سے ہی سلام والا حال تھا۔ سعدیہ بھی کم گھلتی ملتی تھی مگر گھر پر ہونے والی ملاقاتوں میں ایک بار اس کے منہ سے عدیل کا ذکر نکل آیا اور وہ یہ راز زوباریہ کو بتا بیٹھی تھی۔ اس نے بھی اس راز کو راز ہی رکھا مگر سعدیہ اپنی محبت میں ناکام ہوگئی تھی جس کا غم زوباریہ کو بھی لگ گیا تھا اور وہ قصور وار صرف امارت کو ہی ٹھہرا رہی تھی۔
    ”زوباریہ تیرا اسپیچ میں اور ایمبرائیڈری میں پرائز ہے؟” رمشا نے تیزی سے آکر اس کے سامنے بریک ماری تھی اور اکھڑتی سانسوں سے بولی تھی۔
    ”ہاں ہے۔” اس نے بک سے سراٹھایا۔
    ”چل بھئی! فوٹو شوٹ کے لیے تیار ہوجا ہیرو کے ساتھ۔”
    ”کیا بکواس کررہی ہے؟ کون ہیرو؟” وہ منہ بناکر بولی۔
    ”ارے وہ رانا دلاور ہے نا نیا MNA، دیکھا ہے؟ وہ آرہا ہے annual prize distribution پر۔” وہ بہت ایکسائٹڈ تھی۔
    ”تو پرائز دینے آرہا ہے، سب لڑکیوں کو دے گا میں انوکھی ہوں کیا؟ میری طرف سے بھاڑ میں جائے۔ مجھے میرا کپ مل جائے بس۔ رانا سے ملے یا کسی اور سے مجھے مطلب نہیں۔” اُس نے بوریت سے کہا۔
    ”تجھے تو سدا سے امیروں سے چڑ ہے۔ ایسی کمال breaking news دی تھی میرا دل ہی توڑ دیا تو نے۔” رمشا نے منہ بنایا تو وہ دیکھ کر کھلکھلا کر ہنس پڑی۔
    ٭…٭…٭




  • سراغِ زندگی — خدیجہ شہوار

    ”آج میں بھی تمہارے ساتھ ڈوب جاؤں گا، پھر میری کبھی سحر نہ ہو گی۔” اس نے آسمان پر چمکتے آفتاب کو سرخی مائل آنکھوں سے نمکین پانی بہاتے کہا تھا ۔سورج کی کرنیں ہر چیز کا سایہ زمین پر بنا رہی تھیں۔اس کا زمین پر پڑتا سایہ اس سے کہیں بڑا محسوس ہوتا تھا۔وہ ایک بائیس سالہ نوجوان تھا جس کے سیاہ گرد آلود بال پیشانی پر بکھرے تھے۔گرد سے اٹے بال اس کے لمبے سفر کا پتا دیتے تھے۔وہ پہاڑ کی بلند چوٹی کے آخری سرے پر نڈر کھڑاتھا۔ ا س نے برا ؤن لیدر جیکٹ اپنے دائیں ہاتھ میں پکڑے اپنے دائیں کندھے پر ڈال رکھی تھی۔اس کا دوسرا ہاتھ اس کی اسکن جینز کی فرنٹ جیب میں تھا۔
    ”آج ہم دونوں ایک جیسے ہیں۔تمہیں بھی ڈوب جانا ہے اور میں نے بھی ڈوب جانا ہے۔” وہ بے بس کھڑا درد بھرے لہجے میں کہہ رہا تھا۔ اس کی تھکی ماندی متورم آنکھوں کی روشنی مانند پڑ چکی تھی۔چہرے پر افسردگی کا پہرہ تھا۔وہ زندگی سے بے حد اکتایا ہوا تھا۔نجانے زندگی نے اس سے کیا چھینا تھا؟ اس نے کچھ سوچتے ہوئے جینز کی فرنٹ جیب سے نکالا۔
    ”مجھے زندگی سے نفرت ہے۔ ہاں… اس دنیا کی ہر چیز سے…نفرت ہے، نفرت ہے۔ ہاں نفرت ہے۔ کیا دیا اس زندگی نے؟زندگی میں کیا رکھا ہے؟کچھ بھی تو نہیں ہے۔” اس نے حلق میں اٹکے تھوک کو با مشکل نگلتے ہوئے بلند آواز میں کہا ۔شاید وہ اپنا دکھ اپنے اردگرد موجود ہوا، روشنی ،سورج کی کرنوں اور پتھروں کو سنانا چاہتا تھا یا شاید مرنے سے پہلے دل ہلکا کرنا چاہتا تھا۔ اس نے اپنے ایک قدم کے فاصلے پر موجود کھائی کو بے جان آنکھوں سے گھورا ۔اس کی آنکھیں اس کے مرنے سے پہلی ہی مر چکی تھیں۔
    وہ پہاڑ کے آخری سرے پر کھڑا اس بات سے باخبر تھا کہ اس کا معمولی سا پاؤں بھی اگر آگے کو پھسلا تو اس کی کہانی ختم ہو جائے گی۔ موت سے ملنے کے لیے اسے صرف ایک قدم بڑھانا تھا۔ اس کے سامنے کھائی اور پیچھے سنسنان جنگل تھا۔ اس کے اردگرد دور دور تک کسی ذی روح کا نام و نشان تک نہیں تھا۔ بس وہ تھا اور تندو تیز ہوا کے روح کو چھید دینے والے پر اسرار جھٹکے تھے۔ وقفے وقفے سے کھائی میں پتھر ٹوٹ کر گرنے کی دہشت زدہ آواز اس کے درد کو بجائے بڑھانے کے تسکین دے رہی تھی۔وہ بھی ان بے جان پتھروں کی طرح سناٹے بھرتی کھائی میں گر جانا چاہتا تھا اور وہ اسی لیے وہاں موجود تھا۔





    وہ وہاں کھڑا دور پہاڑوں میں بنے راستوں پر وقفے وقفے سے گزرتی ٹریفک بھی دیکھ سکتا تھا، لیکن وہ ٹریفک اُس سے اس قدر دور تھی کہ کوئی چاہ کر بھی اس کی وہاں موجودگی کا سراغ نہیں لگا سکتا تھا۔
    ”کون ہے جو میرے لیے تڑپے؟ کون ہے جو مجھے یاد کرے؟ آخرمیں کیوں جی رہا ہوں؟ مجھے موت کیوں نہیں آجاتی۔” اس نے چیختے ہوئے اپنا سر پیچھے کی طرف جھٹکا۔ وہ خود کو مارنا چاہتا تھا۔ اسے زندگی میں کوئی دلچسپی نہ تھی۔ کچھ تو تھا جو اسے زندگی سے بے زار کر گیا تھا، لیکن کون؟ انسان؟ کوئی جذبہ؟یا اس کی اپنی ہی سوچیں؟
    ”میرا وجودمیرے لیے باعث اذیت ہے، میری سانس مجھے چھوڑ کیوں نہیں جاتی۔” اس نے آنکھوں سے بے دھڑک آنسو بہاتے اور چیختے ہوئے کہا ۔بے بسی اس کے لہجے سے بے دھڑک چھلک رہی تھی۔
    I hate this life.I hate everything.I hate myself.I hate you.I hate you.
    اس نے ایک جھٹکے سے کندھے پر رکھی جیکٹ کو تلخی سے کھینچااور اگلے ہی لمحے وہ جیکٹ ہوا کے زور سے اڑتی ہوئی کھائی میں جا گری ۔وہ خاموش نظروں سے اُسے کھائی کی خاموشی میں گم ہوتا دیکھتا رہا ۔ لمحہ بھر میں وہ جیکٹ کہیں بھی نہیں تھی۔وہ یہ وحشت زدہ منظر دیکھ تو رہا تھا مگر محسوس کرنے سے قاصر تھا۔ شایدوہ جیکٹ کی طرح خود کو بھی ہمیشہ کے لیے آزاد کروانا چاہتا تھا اور اس کے پاس ایک ہی طریقہ تھا کہ وہ بھی جیکٹ کی طرح کھائی میں گم ہو جائے۔
    ”آج کے بعد زندگی مجھ سے کبھی نہیں کھیلے گی۔آج سے میں، زندگی سے یہ حق چھین رہا ہوں۔ ہاں…نہیں کھیلے گی، اب اورنہیں کھیلے گی۔” اس نے گڑ گڑاتے ہوئے بلند آواز میں کہا۔اس کے گڑگڑانے کی آواز نے جنگل کی خاموشی توڑ دی۔ نجانے اس کے اندر ایسا کیا احساس تھا جو اسے بلند آواز چیخنے پر مجبور کر رہا تھا۔اس کی ہولناک چیخیں پہاڑ کی چوٹی پر پھیل جاتیں، جنگل میں دور تک گونجتیں اور پھر ہوا میں تحلیل ہو جاتیں۔
    ”مجھے وہ کیوں نہیں ملا جو میں نے مانگا۔ یہ سب میرے ساتھ ہی کیوں…یہ درد میرے حصے میں ہی کیوں؟” اس نے آسمان کی طرف نگاہیں اٹھائے بے بسی سے کہا۔ اسے آج سورج بھی ڈرا سہما حسرتوں سے لبریز لگا تھا بالکل اپنی طرح۔
    ”زندگی میری جھولی میں وہ سب ڈ ال دیتی جو میں نے مانگا تھا، تو اِس کا کیا جاتا۔” اس نے آہ بھر تے ہوئے سوچا۔ اس نے اپنے جسم میں ایک کپکپی محسوس کی جو بے بسی سے لبالب تھی۔ وہ خود کو کسی پنجرے میں جکڑا محسوس کر رہا تھا۔اس کا تنفس تیز اور پیشانی پر پسینے کے قطرے نمودار ہوتے اور پھر بہ نکلتے۔
    ”آج کے بعد زندگی کو دکھ دینے کے لیے کسی اور کی راہ تکنی ہوگی۔ میری دہلیز زندگی کے لیے بند ہونے کو ہے۔ بس اب اور نہیں۔ اس اذیت سے بچنے کا ایک ہی حل ہے۔” اس کے دماغ پر ایک زبردست بوجھ تھا۔ اسے اپنے سر پر ہتھوڑے برستے محسوس ہوئے ۔اس کی سوجھی ہوئی آنکھیں ایک بار پھر کھائی پر ٹک گئی تھیں ۔ اس نے آگے کی طرف اپنے پاؤں کھسکائے۔ توایک پتھراس کے پاؤں سے ٹکرا کر تاریک کھائی میں جا گرا۔ اس نے ٹھہری آنکھوں سے وہ پتھر گہری کھائی میں گرتا دیکھا۔اس نے یک لخت بے بسی سے اپنی آنکھیں زور سے بھینچیں۔ اس نے حلق میں کب سے اٹکی ہچکی باہر نکالی جیسے وہ اس کی آخری ہچکی ہو۔ صرف ایک جھٹکا باقی تھا جو اسے موت کو گلے لگانے کے لیے کافی تھا۔اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا۔وہ زندگی کو الوداع کہنے ہی والا تھاکہ…
    شکاری کتوں کے بھونکنے کی دہشت زدہ آوازوں نے جنگل کا سناٹا توڑا ۔اس نے آنکھیں کھولے بے ساختہ پلٹ کر جنگل کی طرف دیکھا ۔کتوں کی ہولناک آوازوں نے بھی اس کے رونگٹے کھڑے نہیں کیے تھے۔ وہ موت کودل سے مان چکا تھا اور جو مر چکا ہو اسے ڈر کیسا؟ وہ زندہ تھا مگر زندہ کہاں تھا؟ کتوں کے بھونکنے کی آواز دور جاتی محسوس ہوئی۔اس نے تیز تیز سانس لیتے ہوئے پھر سے کھائی کو گھورا۔کھائی کی سیاہی اندر ہی اندر مدغم ہوتی گئی اور ماضی کی ایک یاد ابھر آئی۔ ایک موہنی سی صورت فضا میں نظر آنے لگی۔اس کا دل ماضی کی یادوں میں جلنے اوردماغ ہچکولے کھانے لگا۔
    ”میرے ہوتے ہوئے تم کبھی نہیں مر سکتے۔میں تمہیں مرنے ہی نہیں دوں گی۔تم میری زندگی ہو۔” یہی کہا تھا نا تم نے…” وہ اپنے پورے ہوش و حواس میں اس موہنی سی صورت کو دیکھتے ہوئے چلایا۔وہ لاشعوری دنیا کے گرداب میں پھنسا ہوا تھا۔
    ”کہاں ہو اب؟ میری بربادی کیوں نہیں دیکھتی؟ مجھے مرتا دیکھو… دیکھو میں مر رہا ہوں۔ میری زندگی کے دن گنے جاچکے ۔اب تم کہاں ہو؟” وہ متواتر چلاتا رہا۔ پہاڑپر موجود دہشت زدہ خاموشی ایک بار پھر اس کی درد بھری چیخوں سے ٹوٹ گئی تھی۔
    ”مجھے مرتادیکھو…مجھے مار کر کہاں چل دی تم؟ آؤ مجھے چپ چاپ مرتا دیکھو۔ اب کہاں ہو تم…تم دیکھتی کیوں نہیں؟” اس کا وجود کسی غیر مرئی قوت نے گھیر رکھا تھا۔وہ اپنی بد حواسیوں میں گھرا چلا رہا تھا۔
    ”ایک بار تو آؤ بس ایک بار … ایک…بار… آکر میری حالت تو دیکھو۔” اس نے اپنا دایاں ہاتھ پیشانی پر زور سے مارتے ہوئے بے بسی سے سر کو پیچھے کی جانب جھٹکا ۔اس کی نظریں بار بار کھائی کی طرف جا رہی تھیں۔ جیسے اس کی اذیت کا ایک ہی حل ہو اور وہ تھا موت…
    ”تم پر میں اپنی ساری زندگی ۔۔نثار کرتی ہوں ۔ تم میری، زندگی ہو۔”
    ”تمہارے بغیرمیں…کچھ بھی نہیں۔”
    ”تم …میری …محبت ہو…میں تمہیں کبھی نہیں چھوڑسکتی۔ یہی کہا تھا تم نے۔” مجھے سب یاد ہے۔ ہاںیاد ہے۔ پھرتم مجھے ۔ کیسے چھوڑ گئی؟’ ‘وہ لاشعوری طور پر سوچوں کے جہاں میں لڑکھڑاتا ہوا کبھی گرتا کبھی سنبھل جاتا۔ اس کے دماغ میں یادوں کا طوفان ہچکولے کھا رہا تھا۔نجانے کس کی یادیں تھیں جو اسے جیتے جی مار گئی تھیں۔
    ”تم میری آخری…محبت…میں مر جاؤں۔۔گی تمہارے بغیر سب جھوٹ تھا۔ جھوٹی…جھوٹی…تم جھوٹی ہو۔ تم…جھوٹی…ہاں تم نے جھوٹ بولا۔ تم جھوٹی ہو۔” وہ بلا توقف چلارہا تھا۔ پھر یک لحظہ خاموش ہو گیا۔اسے لگاوہ موہنی سی صورت اس پر ہنس رہی ہے۔ اس کے جذبوں کا مذاق اُڑا رہی ہے، اس کی قیمت لگا رہی ہے۔ اس نے الجھ کر سر جھٹک دیا اور بھیگی آنکھوں سے دوبارہ کھائی کو گھورا جو اسے اس اذیت سے چھٹکا را دلا سکتی تھی۔وہ گہری کھائی اس کی آخری امید تھی۔ اس نے آنکھیں بھینچتے ہوئے ہاتھ کی مٹھیاں دبوچیں ۔اس کی پیشانی پر پسینہ نمودار ہوا۔ سانس چھوٹی اور تیز ہو گئی۔ دماغ میں آندھیاں چلنے لگیں۔
    ٭…٭…٭




  • لیکھ — عطیہ خالد

    لیکھ — عطیہ خالد

    دھرتی کے سینے پر’کچھ جھولیاں بھر کر بھی’ الٹی پڑی ہوتی ہیں۔ لیکھ کی لکیریں’ نیت کی سیاہی سے’ بڑا انت مچاتی ہیں۔۔انت کی سیاہی سے پہلے لیکھ کی سیاہی اور سفیدی سے پرے ابھی کچھ اور رنگ بھی تھے۔مخملیں ،عنابی ،ہرے اور سنہرے…دسمبر کا پالا … اورکڑاکے کی سردی تھی۔ ایسے میں اس کی د وستی گاؤں کے چولہوں کے ادھ جلے کوئلوں کی طرح’ بڑا سکھ دیتی تھی۔ اس کی آوازیں جو کبھی جھنکار تھیں’ اب بڑا واویلا کرتی تھیں۔سونی راتوں میں ہواؤں کے سنگ سنگ ڈولتی اس کی گمشدہ آواز بڑا شور مچاتی تھی۔ کبھی پراندے کو گھما گھما کر جب وہ آنکھیں مٹکا کر باتیں کرتی، تو بڑی سوہنی لگتی تھی” سوہنی۔”
    ” بڑا سجتی ہے تو میرے ساتھ۔”مختار اس کی نظر پہلے اتارتی تھی ‘ اتراتی بعد میں تھی۔
    ”جان پر جان وار دوں اور انکار نہ کروں سچی۔” مختار نظر اتارتی’ وہ جان وار دینے کو ہوتی۔
    دونوں کے سہلاپے کو اگر کوئی مثال دی جا سکتی، تو وہ چاند اور سورج کی تھی۔دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم تھیں۔ ایک پل بھی دونوں کا ایک دوسری کے بنا گزارا نہیں تھا۔ تھیں بھی دونوں رج کے سوہنی ۔پورے گاؤں میں ان جیسی کوئی دوسری لڑکی نہیں تھی۔ الگ الگ ماؤں کے پیٹوں میں پل کر بھی ان کا رنگ روپ ،قد بت ،لمبے سیاہ بال ،بہت کچھ ایک جیسا تھااور ایسا تھا کہ پہلی نظر ڈالنے والا نظر ہٹانی بھول جاتا اور جو ہٹا لیتا وہ دوسری ،تیسری اور چوتھی نظر ڈالنے پر خود کو مجبور پاتا۔ مرد تو مرد عورتوں کا بھی یہی حال تھا۔آدھے گاؤں کی لڑکیاں رشک میں مبتلا تھیں تو بقایا حسد میں مری جاتی تھیں۔
    دونوں کے گھر کی درمیانی دیوار سانجھی تھی، لیکن انہیں دیوار سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ دونوں میں سگی بہنوں سے بڑھ کر پیار تھا۔ سارا دن دونوں ساتھ ساتھ گزارتیں ۔اور ساری رات جیسے ایک دوسرے کے کانوں میں سندیسے بھیجتی رہتیں۔ صبح سورج کے کواڑ کھٹکھٹاتے ہی اٹھ بیٹھتیں اور دیوار میں بنائے موکھے سے جھانک کرباتیں کرنے لگتیں۔ مائیں جو بھی کام بتاتیں جلد جلد نپٹا کر پھر موکھے کے قریب آکھڑی ہوتیں۔سارے کام ختم ہوجاتے، تو گاگریں لے کر نہر کنارے ٹیوب ویل پر ٹھنڈا پانی بھرنے چل پڑتیں۔سوہنی کے رشتے آنے شروع ہو گئے تھے ۔جب کہ مختار کا نکاح بہت کم عمری میں اپنے خالہ زاد رستم علی سے ہو گیا تھا جو اپنے خاندان کے سیلاب میں بہ جانے کے بعد انہی کے ساتھ رہتا تھا۔ بڑا خوبصورت گھبرو جوان تھا رستم اوپر سے سولہویں جماعت میں پڑھ رہا تھا۔ مختار کو تو بڑی تسلی تھی کہ اس کا بیاہ ہو بھی جاتا، تو اس کو اسی گھر میں رہنا تھا البتہ سوہنی کے لیے وہ بڑی پریشان ہوتی کہ نجانے اس کا سنجوگ کہاں لکھا تھا۔دونوں کا دل ایک دوسری سے بچھڑنے کے خیال سے گھبراتا تھا۔
    اس دن بھی دونوں گاگریں بھرنے کے بعداس قسم کی باتیں کر رہی تھیں۔ سوہنی کے لیے کسی دور کے گاؤں کے زمینداروں کے گھر سے رشتہ آیا تھا۔اس کی اماں کو رشتہ پسند آیا تھا۔بس دوری کے خیال سے ڈانواں ڈول ہو رہی تھیں دونوں۔ واپسی کے لیے انہوں نے گاگریں اٹھائیں ہی تھیں کہ شہر سے لوٹتا ہوا پیاس سے بے حال رستم علی ان کی طرف آگیا۔





    ”پیاسے کو پانی پلا دو کڑیو۔”اس نے مختار پر نظریں جمائے جمائے کہا۔ مختار تو شرما کر سوہنی کے پیچھے ہو گئی ۔سوہنی نے اپنی گاگر سے پانی رستم کی اوک میں گرانا شروع کیا۔دھوپ سے اس کا چہرہ لال سوہا ہو رہا تھا۔سر جھکائے رستم پانی پی رہا تھا اور پیاس جیسے سوہنی کی بجھ رہی تھی۔ کچھ ایسا فسوں تھا اس گھڑی میں جس نے سوہنی کے دل کی کیفیت بدل دی ۔تپتی دھوپ اس کے لیے ٹھنڈی میٹھی چھاؤں بن گئی،من میں گھنٹیاں سی بجنے لگیں تھیں۔
    رستم نے جب پانی پی کر سر اٹھانا چاہا، تو سوہنی نے شرارت سے پوری گاگر اس پر الٹا دی اور قہقہہ لگا کر ہنس پڑی۔ سوہنی کی قل قل کرتی ہنسی بھی ساتھ شامل ہوگئی ۔تینوں ہنستے ہنستے گھر کی طرف روانہ ہوگئے۔ بوڑھے وقت نے سوہنی کی پوری کی پوری بدلی چال کو دیکھا اور افسردگی سے مسکرا دیا۔
    سوہنی کے دل میں رستم کی چاہ جاگ گئی تھی۔اس رستم کی چاہ جو کسی بھی حال میں اس کا نہیں ہوسکتاتھا۔ چاہے اس کی جان جاتی چاہے دل۔ رستم جو مختار کی امانت تھا اور سوہنی کا دل اس امانت میں کسی بھی قسم کی خیانت کرنے کو تیار نہیں تھا۔ کبھی اسے خیال آبھی جاتا کہ کیا ہے اس جھلی مختار کے پاس جو سوہنی کے پاس نہیں تھا۔تو وہ اپنے کلے پیٹ ڈالتی، توبہ تلا کرتی۔ اگر مختار سچے دل سے اس پر فدا تھی تو سوہنی بھی اس سے رج کے محبت کرتی تھی ۔صورت تو دونوں کی ایک سے بڑھ کر ایک تھی۔ ہاں مختار جھلی تھی۔ سوہنی کو اور مختار کو ان کی ماؤں نے ایک ساتھ گھر داری ،سلائی کڑھائی سکھانی شروع کی تھی۔سوہنی تو دنوں میں طاق ہوگئی لیکن مختار ٹھس کی ٹھس رہی۔ وہ آٹا گوندھتی تو گیلا کر دیتی، روٹیاں بناتی تو جلا دیتی، کپڑے دھونے بیٹھتی تو خود گیلی ہوجاتی پوری کی پوری اور ہنڈیا بھوننا تو اسے بالکل نہیں آیا تھا۔ سلائی کڑھائی میں بھی اس کا یہی حال تھا۔ کوئی ٹانکا سیدھا تو کیا لگتا البتہ سوئی چبھ چبھ کر انگلیاں زخمی ہو جاتیں، لیکن سارا جھل پن ایک طرف اور اس کا سونے جیسا دل ایک طرف ۔وہ اندر سے بڑی خالص تھی ۔بڑا نتھرا ستھرا قالب تھا اس کا ۔حسد ،جلن جیسی چیزوں کو تو وہ پہچانتی تک نہ تھی۔بس دل سے محبت کرتی تھی وہ سوہنی سے اس کی اماں سے ،اپنی ماں پر تو وہ ساری جان سے قربان تھی اور رستم وہ تو اس کا محبوب شوہر تھا جس کی سانسوں سے اس کی سانس کی ڈور بندھی تھی۔
    ایسی جھلی مختار کا مقدر کتنا تیز تھا۔ رستم جیسا بانکا سجیلا جوان اس کا تھا جو دو تین سال گزرتے تو بڑا افسر لگ جاتا ۔مختار کے تو مزے ہو جانے تھے ۔اب دن رات سوہنی کی ماں یہ سوچتی اور ہوکے بھرتی اور اس کی اماں کے دل میں رستم کو داماد بنانے کی چاہ کب سے تھی اس کی سوہنی کو کچھ خبر نہ تھی۔ نہ ہی اس بات کی خبر تھی کہ اس کی اماں ہر وقت رستم کا رخ سوہنی کی طرف پھیرنے کے جتنوں میں لگی رہتی تھی۔
    ہر گزرتے دن کے ساتھ سوہنی کی طلب میں اضافہ ہو رہا تھا، لیکن اس نے ضبط کے کڑے پہرے بٹھا رکھے تھے۔ ساری بے چینیوں بے قراریوں کو تھپک تھپک کر سلا رکھا تھا، توادھر اس کی اماں کا دماغ ترکیبیں لڑانے میں لگا تھا۔
    رستم کو وہ روزانہ ہی کسی بہانے گھر بلا لیتی یا پھر سوہنی کے ہاتھ کی پکی کوئی چیز لے کر اس کے دسترخوان پر چن دیتی تھی۔ بظاہر ہنس ہنس کر مختار کے پھوہڑ پنے کے قصے رستم کو سناتی۔ وہ ایسی باتیں سن کر ایسے ہنستا جیسے کوئی بہت لاڈلے بچے ک
    ی شرارتوں پر ہنستا ہو۔اور سوہنی کی ماں نئے سرے سے سوہنی کے سلیقے اور ہنر گنوانے لگتیں۔ کبھی سوہنی کے ہاتھ کے کڑھے کرتے اسے پیش کرتی جو وہ بڑی خوشدلی سے پہن کر مختار کی طرف یوں دیکھتا جیسے پوچھتا ہو، کیوں جچ رہا ہے نا تمہارا رستم! اور سوہنی کو ایک پھیکے شکریے کے سوا کچھ نہ ملتا۔ ایک بھرپور نگاہ تک نہیں، البتہ مختار سوہنی کی جی بھر کے شکرگزار ہوتی۔ اس کی تعریفیں کرتی کہ وہ اس کے رستم کے لیے کتنی محنت کرتی تھی، لیکن نہ اماں ہمت ہارتی نہ ہی سوہنی۔ خصوصاً اب جب کہ اماں نے سوہنی کی نظروں کو رستم کا طواف کرتے دیکھ لیا تھا اور اس دن سے جیسے اسے یقین ہو گیا تھا کہ وہ رستم کو سوہنی کا بنانے میں کامیاب ہو جائے گی۔
    ادھر رستم نے افسری کا امتحان پاس کیا ادھر مختار کی ماں کو دل کا دورہ پڑا۔ بس تین دن ملک الموت سے جیسے مستعارلے کر اماں نے رستم اور مختار کی شادی کی رسم ادا کی اور اپنی جان جان آفریں کے سپرد کردی۔ مرتے ہوئے وہ بڑی پرسکوں تھی کہ بیٹی کو گھر بار والا کر دیا تھا۔ مختار ماں کے غم سے نڈھال پڑی تھی جب سوہنی اور اس کی اماں نے حق دوستی ادا کردیا۔ نیتوں کے بھید تو وہی جانتا ہے، مگربظاہر تو ان دونوں نے کمال کر دیا تھا۔ سوہنی تینوں وقت ان کو کھانا پہنچاتی۔ اصرار کر کر کے کھلاتی ،گھر کی صفائی ستھرائی کرتی ۔سارا گھر سوہنی کے سلیقے کا اعلان کرتا جگر جگر کرتا۔ اب اماں کو گزرے مہینہ ہو گیا تھا۔




  • خود غرض — ماہ وش طالب

    وہ ایک وسیع قبرستان تھا اور قبروں کا حجم غیرمعمولی حد تک چھوٹا تھا۔ قبروں کے ارد گرد اور درمیان میں خود روجھاڑیوں نے اُسے مزید پراسرار بنا دیا تھا جیسے آدم زاد کو یہاں سے گزرے مدت بیت گئی ہو۔ قبرستان کے دائیں جانب ذرا فاصلے پر خستہ حال گرجا گھر تھا جس کے عین وسط میں استادہ دیو قامت جامن کا درخت کسی اور دیس کی کہانیاں سنا رہا تھا۔ سوکھے پتوں سے سرکتی تیز ہوا خاموش فضا میں ارتعاش پیدا کر رہی تھی اور دور کہیں وقفے وقفے سے کتوں کے بھونکنے کی آوازیں تھرا دینے والی تھیں۔ ایک جگہ چار پانچ قبریں جو ایک دوسرے سے کافی فاصلے پر تھیں اُن میں سے ایک نسبتاً بڑی قبر کے سرہانے ایک عورت بیٹھی گریہ و زاری کررہی تھی۔ وہ غلیظ بدبو دار عورت جسے روتے دیکھ کر حیرت ہو رہی تھی۔ پھر ایک سیاہ بلی دم ہلاتی قبرستان میں داخل ہوئی اور دوسری لحد کے سرے پر جاکر بیٹھ گئی۔ بلی کی چمکتی سبز آنکھوں سے وحشت ٹپک رہی تھی۔ نہ جانے اچانک کیا ہوا کہ منظر بدل گیا اور قبرستان کی جگہ کسی کھلے میدان نے لے لی جس کے احاطے میں بے شمار سبزیاں اور خوش رنگ پھول کھلے تھے۔ پھر اچانک اس باغیچہ نما جگہ پر کچھ بچے جن میں دو آٹھ سالہ لڑکیاں اور تین نو دس سال کے لڑکے تھے، نمودار ہوئے۔
    اونچ نیچ کا پہاڑ
    سات موتیوں کا ہار
    پانچ بچے گول دائرہ بناکر کھڑے تھے اور انہی میں سے ایک نسبتاً لمبا اوردبلا بچہ انگلی کے اشارے سے سب کو پگا رہا تھا۔ پھر منظر بدلا۔ وہی خوش شکل اور خوش لباس بچے اس چوکور سے احاطے میں مسکراتے دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں طرف بھاگ رہے تھے۔ منظر نے ایک اور رنگ بدلا۔ اب وہی بچے چھپن چھپائی کھیل رہے تھے اور میدان کے وسط میں بنے ایک پختہ کمرے کے کونوں سے ظاہر ہو ہوکر ایک دوسرے کو ہا ہا کر رہے تھے۔ وہ کمرا باہر سے زنگ آلود تالے سے مقفل تھا جس کا لوہے کا دروازہ بھی اپنا اصل رنگ کھو چکا تھا۔ اچانک اسی منظر میں ایک دبلی پتلی خاتون ظاہر ہوئی۔ اس نے کالے رنگ کا چغہ پہن رکھا تھا۔ گہرے رنگ سے غلاظت ٹپکتی تھی اور گلے میں تین چارنارنجی، ہرے اور سیاہ رنگ کے منکے لٹک رہے تھے۔ چغے کا گلا اتنا گہرا تھا کہ ڈھلکتی چھاتیاں بھی نظرآتی تھیں۔ اس کے ہاتھوں میں ایک دو مومی لفافے تھے۔ جیسے ہی وہ عورت کیاریوں سے راستہ بناتی دروازے تک پہنچی، بچے سہم کر احاطے سے نکلنے لگے۔ اب وہ ڈراؤنی عورت گریبان کے ساتھ چِپکی پوٹلی سے چابی نکالنے لگی۔ کچھ لمحوں بعد جھٹکے سے دروازہ کھلا۔ اس عورت کے اندر آنے سے لے کر کمرے میں نانی کے پاس بیٹھنے تک میرے ذہن میں یہ کھٹ پٹ چلتی رہی کہ میں نے اسے کہیں دیکھا ہے۔ مگر کہاں ؟ یہ سوچنے کی اتنی ضرورت بھی نہ تھی اور نہ ہی وقت تھا کہ ابھی نائمہ کو سوال نامہ بھی بنا کر دینا تھا۔ ایک ہفتے بعد اس کے دسویں جماعت کے سالانہ امتحانات شروع ہونے والے تھے۔ سو اسی لیے میں شام کو اسے لے کر بیٹھ جاتی۔ کچھ دیر پہلے داخلی دروازے پر دستک ہوئی اور دروازہ میں نے ہی کھولا تھا۔




    ”تمہاری نانی ہے گھر پر؟” جب وہ بولی تو مجھے گمان ہوا یہ لہجہ پہلے بھی کہیں سن رکھا ہے۔
    اس کی بولی اس علاقے سے میل نہ کھاتی تھی۔ خیر نانی کے ”کون ہے” پکارنے پر میں نے اسے اندر آنے کا راستہ دیا اور خود ساتھ والے کمرے میں چلی گئی جہاں نائمہ جنرل سائنس کے رٹے لگا رہی تھی۔ میرے بے حد اصرار بلکہ سمجھانے کے باوجود اس کوڑھ مغز نے آگے بائیو نہ رکھی تھی۔ کچھ نانا بھی زور زبردستی کے قائل نہ تھے لہٰذا میں بھی زیادہ دلائل نہ دے سکی تھی۔
    نائمہ میری چھوٹی کزن اور ماموں کی بیٹی تھی۔ ماموں کے انتقال کے بعد ممانی نے اپنی بیٹی کو چھوڑ کر دوسری شادی رچانے میں زیادہ دیر نہیں لگائی تھی۔ لہٰذا پہلے میں اور پھر نائمہ اپنے نانا نانی کے سہارے خود ان ہی کا سہارا بن گئے تھے۔ بات کتنی عجیب تھی نا، پر تھی تو سہی کیا کریں ۔ سرد آہ خارج کرکے میں نے نائمہ کی کتاب اور کاپی گھٹنوں پر رکھ لی۔
    سردی کے باوجود آج فضا میں گھٹن گھٹن محسوس ہوتی تھی۔ نہ کھل کر دھوپ لگتی تھی نہ ہی دھند نے غلاف چڑھائے ہوئے تھے۔ نانا اس وقت اپنے دوست کے یہاں گئے تھے اور نانی تخت والے کمرے میں اون سلائیاں سنبھالے نجی ٹی وی چینل پر انتہائی فضول ڈراما دیکھنے میں مصروف تھیں۔ اس گرد آلود فضا کی زد میں آنے سے خود کو بچانے کے لیے میں نے بھی فی الفور کڑک چائے کا ایک کپ تیار کیا اور کمرے کی کھڑکی سے کھلے صحن میں جھانکنے لگی۔ آج چھٹی تھی لہٰذا بہرام کوسوچنے کے لیے میرے پاس فراغت ہی فراغت تھی۔ یہ الگ بات کہ مصروفیت کے انتہائی لمحات میں بھی اس کاخیال کسی نیورون کی طرح میرے ذہن میں زندہ رہتا تھا۔
    ”اب یہ بہرام کون تھا؟”
    ماسٹرز مکمل کرنے کے بعد مجھے نجی ادارے سے منسلک ہوئے دو ماہ ہی ہوئے تھے۔ جب ایک خوش شکل اور خوش اطوار لڑکا ہماری کمپنی میں آیا۔ مجھ سمیت میری کولیگز بھی خوش گوار حیرت میں مبتلا ہوئے بنا نہ رہ سکیں کہ مجسمہ سازی جیسی فیلڈ کا رُخ زیادہ تر گاؤں دیہات کے دبو اورکسی حد تک بدذوق لڑکے ہی کرتے تھے۔ پھر میٹنگ میں ابتدائی تعارف کے دوران معلوم ہوا کہ موصوف نا صرف اس شعبے کے ڈگری ہولڈر ہیں بلکہ دو تین آن لائن اضافی کورسز بھی کر رکھے ہیں۔ اپنی ساتھیوں کے سامنے کیے گئے میرے اس تبصرے میں حسد کی ذرا سی بو تھی۔ پھر جب گاہ بہ گاہ انہیں بہرام نامی شہزادے کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے دیکھتی تو حلق تک کڑوا ہوجاتا کہ ایک تو خوب صورت اوپر سے اتنا ایٹی ٹیوڈ، اپنے کام سے کام رکھنے والا، محنتی اور ذمہ دار۔ بات اتنی غیر معمولی تو نہ تھی پر وہ مجھے یعنی قمروش آفاقی کو بھی نظرانداز کرتا رہا۔ یہ بات کسی صورت ہضم ہونے میں نہیں آرہی تھی کہ جسے ایک دنیا تو نہیں مگر زمانہ طالبِ علمی میں ایک دو ہم جماعت اور حالیہ نوکری کے دوران بھی اسی ریشو سے کولیگ چاہنے لگے تھے۔ اسے یہ بہرام نامی شہزادہ کیوں نہ دیکھ سکا۔ اس کا نام بھی تو اس کی شخصیت کے بالکل مترادف تھا ۔ میرے ساتھ بھی تو یہی معاملہ ہوا۔ خود کو بے پروا، بے نیاز ظاہر کرتے کرتے نہ جانے کب اور کیسے وہ میرے دل پر قابض ہوگیا۔ شاید تب، جب پہلی بار سب کی مداخلت کے باوجود اسے سپورٹ کرنے پر وہ بہ طورِ خاص میرا شکریہ ادا کرنے میرے کیبن میں آیا تھا اور مجھے کافی کی پیشکش کی تھی یا شاید تب جب نانا کی طبیعت خراب ہوجانے پر مجھے ایمرجنسی چھٹی لینی پڑی تھی تو اس نے ناصرف میری درخوست منظور کروالی بلکہ میری طرف سے اس دن کا سارا کام بھی ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کو جمع کروا دیا۔ مگر میں اس کی منظورِ نظر کیوں کر ٹھہری؟ شاید اس کی طرف بھی ایسے ہی کچھ واقعات ذمہ دار ٹھہرے ہوں گے۔
    گو کہنے کو یہ تعلق ضرورت کی بنیاد پر قائم ہوا تھا مگر شاید اس خوبصورت ناریل کے پانی کی طرح تازہ دم کردینے والے جذبے کو یوں ہی قائم ہونا تھا۔ یوں بھی گزرتے وقت کے ساتھ احساس اور اعتبار ایسے بیل بوٹے اس محبت کو مزید دلکش تو بناہی رہے تھے۔ بہرام فطرتاً تنہائی پسند تھا، اس بات کا اندازہ بھی مجھ سمیت دیگر اسٹاف کو اچھی طرح ہوگیا۔ جب وہ دو ٹوک انداز میں کولیگز کے ساتھ لنچ یا آؤٹنگ میں جانے سے انکار کردیتا۔ اسے اپنے گرد جمگھٹا بالکل پسند نہ تھا۔ یہ بات بھی سچ تھی کہ وہ میرے ساتھ چلتے۔ اس ڈیڑھ سالہ ریلشن شپ میں بھی بہ مشکل تین بار ہی ڈنر پر گیا تھا۔ اسے جو بات کرنی ہوتی، خاص یا عام، وہ سب کے سامنے میرے کیبن میں آتا تھا۔ کوئی پوچھتا تو ڈنکے کی چوٹ پر اعتراف کرتا کہ قمروش آفاقی اس کی زندگی میں بے حد اہم مقام رکھتی ہے۔ یہ خیال ہی کتنا مغرور کردینے والا ہے نا کہ دنیا ہے اس کے پیچھے، لیکن وہ میرے پیچھے۔ چہرے پر آئی لٹوں کو کانوں کے پیچھے اڑستے ہوئے میں نے چائے کی چسکی بھری تھی۔
    ٭…٭…٭
    ہفتے بھر بعد وہ خاتون پھر نانی کے تخت پر براجمان تھی۔ گہرا رنگ، دبلا سراپا مگر بڑی بڑی آنکھیں جنہیں سرمے کی سلائیوں سے خوب بھرا گیا تھا۔ آج پھر اسے دیکھ کر ذہن میں ایک شبیہہ لہرائی مگر دھند میں لپٹی ہوئی اتنی دھندلی کہ نانی کے کہنے پر جب تک میں نے چائے بنا کر ان کے سامنے پیش کی تو وہ بھی شاید چینی کی طرح گھل کر غائب ہوچکی تھی۔ میں نے محسوس کیا کہ میرے کمرے میں ٹھہرنے تک بہ جائے اس کے وہ براہِ راست مجھ سے کچھ پوچھتی، عجیب سی نظروں سے وہ میرا جائزہ لیتی رہی۔ نائمہ کا ایوننگ شفٹ کا پرچہ تھا لہٰذا وہ بھی گھر پر نہ تھی کہ اس سے کچھ کہہ سن لیتی لیکن میرے دل میں خواہش ابھری کہ میں دوبارہ کبھی اس عورت کو نہ دیکھوں۔ مگر کچھ دعائیں شاید قبولیت کے درجے پر فائز ہونے کے لیے نہیں نکلتیں یا یوں کہنا چاہیے کہ کچھ دعائیں ٹھیک نشانے پر نہیں لگتیں۔ وہ آر پار ہو کر آپ کو کسی نہ کسی صورت کم یا زیادہ فائدہ تو دے جاتی ہیں مگر نشانہ چوک جانے کا دکھ بہرحال رہتا ہے۔ مجھے دفتر سے آئے کچھ وقت ہی گزرا تھا لہٰذا تازہ دم ہونے کی غرض سے غسل خانے چلی گئی۔
    ٭…٭…٭