Tag: afsana

  • اگلا سفر – مریم مرتضیٰ

    آج وہ بابا جی ساتھ والے گھر میں آئے ہیں۔وہ دو ماہ پہلے سامنے والے گھر میں آئے تھے اور ان آنٹی کے بیٹے کو اپنے ساتھ لے گئے تھے،آنٹی بہت روئی تھیں چلائی تھیں مگر انہوں نے ان کی ایک نہ مانی تھی۔ انہوں نے کہا تھا اس کا دانہ پانی یہاں سے اٹھ چکا ہے۔اس دن بین ڈالے گئے تھے،سر پیٹے گئے تھے،ہمارے گھر میں سوگ کا سماں تھا ۔میں نے تو دو دن تک کھانا نہیںکھایا تھا ۔
    میںجب سامنے والے گھر میں گئی تھی تو میں نے ان سے پوچھا تھا۔
    ” آپ انہیں کہاں لے کر جا رہے ہیں۔؟”
    ” اگلے سفرپر۔۔اس کا اگلا سفر میرے ساتھ ہے۔” انہوںنے کہا۔وہ بہت خوف ناک تھے۔میرے تو الفاظ حلق میں ہی اٹک گئے۔
    ”کیا ہر کسی کا اگلا سفر ہے؟” میں نے پوچھا۔
    ”ہاں۔۔” ان کی ہاں میں کتنی گہرائی اور سچائی تھی۔
    ” کیا آپ سب کو لے جائیںگے؟” میں نے بے ساختہ پوچھا۔
    ” ہاں! مگر وقت پر۔۔۔” وہ اسی یقینی انداز میں بولے۔
    ” ہر کسی کا وقت مقرر ہے؟” میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور کپکپی سے میرا بدن لرز اٹھا۔
    ”ہاں!”
    ”کیا میرا بھی وقت مقرر ہے؟” میں نے توقف کے بعد پوچھا۔
    ”ہاں!”
    میرا وجود ٹھنڈا پڑنے لگا تھا۔





    ” آپ کوئی مشورہ دے دیں۔” میرے حلق سے الفاظ رک رک کر نکلے تھے۔
    ” میرے ساتھ تمہیں بھی ہر صورت جانا ہو گا مگر اپنے وقت پر۔۔وہ وقت تم کبھی بدل نہیں سکتی ہو۔ لیکن اگر راحت حاصل کرنا چاہتی ہو میرے ساتھ چل کر تو ساتھ اپنے وہ لانا جو تمہارا زیور ہے۔” انہوں نے کہا اور چلے گئے۔
    مجھ پر کپکپی طاری ہو گئی۔ میں کئی دنوں تک خوف میں مبتلا رہی۔ کئی کئی گھنٹے تنہائی میں بیٹھ کر زیور اکٹھے کرنے لگی۔ پھر کچھ ایسا ہوا کہ وقت بدل گیا اور میرا زیورات سے دل اٹھ گیا۔ میں جینے لگی پھر سے اسی طرح عیش و عشرت میں، امنگوں ترنگوں میں مجھے خیال ہی نہ رہا تھا۔ پھر ایک دن میں اکیلی بیٹھی تھی تو سب کہنے لگے چپ ہو جاؤ بابا جی کسی کو لینے آگئے ہیں کیوں کہ مسجد سے بار بار آوازیں آرہی تھیں کہ بابا جی فلاں آدمی کو لینے آئے ہیں۔ کچھ دیر مجھ پر بھی کپکپی طاری ہوئی اور میں پھر سے کا م میں مصروف ہو گئی۔ مجھے خیال ہی نہ رہا انہوں نے مجھے بھی لے جانا ہے۔ میں نے سوچا ہی نہیں۔ دنیا کی خواہشات کی دلدل میں دھنستی ہی چلی جا تی رہی ،نفس کی غلامی سے مجھے چین ملنے لگا تھا، اس نے مجھے اپنا کتا بنا لیا تھا۔ میں نفس کے پاؤں دن رات چاٹتی رہی۔ انسان جتنا امیر ہو گا اتنا ہی زیادہ گرا ہوا اور نفس کا غلام ہو گا۔میں بھی وہی کرتی رہی جو نفس کہتا رہا۔وہ کہتا چلو میں چل پڑتی، وہ کہتا رکو میں رک جاتی،وہ کہتا بیٹھو میں بیٹھ جاتی حتیٰ کہ میں کھانا بھی نفس کی مرضی سے کھاتی نہیں تو بھوکی رہتی۔
    خوابوں اورخواہشوں کے دور میں بابا جی کا خیال کبھی بھول کر بھی نہیںآیا کیوں کہ خواہش کے مطابق شے مل رہی ہو پھر ڈراؤنی چیزوں کو کیا سوچنا؟ چاہے وہ حقیقی کیوں نہ ہوں۔
    آج صبح سویرے جب میں سو رہی تھی تو مجھے رونے پیٹنے کی آوازیں آنے لگیں۔ میں بھاگی بھاگی باہر نکلی، جانے کیا ہو گیا تھا؟ پوچھنے پر پتا چلا ساتھ والے گھر وہی بابا جی آئے ہیں،ان کی جوان بیٹی کو لے جا رہے ہیں۔ گھر والے منتیں ترلے کرتے رہ گئے کہ ابھی اس کی عمر کیا ہے مگر بابا جی نے کہا کہ وقت طے ہو تو عمریں نہیں دیکھی جاتیں۔ بابا جی اسے لے گئے، معلوم نہیں وہ اپنے ساتھ زیور لے کر گئی بھی یا نہیں؟
    زیورات نہ ہوئے اس کے پاس تو بابا جی اسے بہت اذیت میں رکھیں گے۔شام ہوگئی، وہ چلی گئی، رونے کی آوازیں آہستہ آہستہ دھیمی ہو گئی ہیں۔ یہ آوازیں کیوں دھیمی پڑ گئی ہیں؟ چند دنوں بعد یہ آوازیں قہقہوں میں بدل جائیں گی۔ اسے بھول جائیں گے سب۔ وہ سامنے والے گھر میں جب بابا جی آئے تھے تو وہاں لوگ چیخ و پکار کر رہے تھے، سروں میں مٹی ڈال رہے تھے۔ مگر اب ہنسی ہے، قہقہے ہیں خوشیاں ہیں ۔ جسے جانا تھا وہ چلا گیا اب اسے کون یاد رکھتا ہے۔بے وفائی کہوں یا فطرت کچھ سمجھ نہیں آ رہا ہے۔ لیکن مجھے ڈر لگ رہا ہے کہ خوف طاری ہو رہا ہے، ایسے لگ رہا ہے کہ وہ آ رہے ہیں، مجھے ان کی چاپ سنائی دے رہی ہے،آواز بھی آنے لگی ہے۔میرے پاس زیورات بھی نہیں ہیں میں تو خالی ہاتھ ہوں، میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ میرا کیا ہو گا؟ وہ آرہے ہیں۔ میری جب ان سے ملاقات ہو ئی تھی تو میں نے ان سے پوچھا تھا کون سے زیورات پاس ہوں، تو انہوں نے کہا تھا۔
    ”اطاعتِ اللہ و رسول۔”

    ٭…٭…٭




  • دیارِ خلیل – فرحین خالد

    عالیشان محل جیسے گھر میں رہنا کس کی آرزو نہیں ہوتی ؟بڑی لاگت اور مشقت کے بعد یہ مکان تعمیر تو کر لیے جاتے ہیں مگر ان کو ”گھر ” بنانے کے لیے مزید قربانیاں درکار ہوتی ہیں۔گھر کے مکینوں کی اطراف میں کھنچی ان کی محافظ کہیے یا رکاوٹ، ایک دیوار بھی حائل رہتی ہے جس کو مزّین اور آراستہ تو خوب کیا جاتا ہے مگر اس کی نفسیات کو نہیں سمجھا جاتا ۔آیئے آج ایک ایسی ہی دیوار سے اس کی بپتا سنتے ہیں۔





    مجھ سے ملئے …میں، دیارِ خلیل میں کھڑی ایک ساکت دیوار ہوں جو خود کو اس گھر کا اہم جز سمجھتی ہے ۔میں ہوں تو پتھر جیسی مگر دل میرا ، آپ ہی کی طرح نرم ہے۔ یہ بات سن کے آپ کو حیرت ہوئی ؟ کیوں..؟ جب آپ یہ مانتے ہیں کہ دیواروں کے کان ہوتے ہیں، جب آپ یہ مانتے ہیں کہ روز جزا ہر ہر پتھر گواہی دے گا تو یہ ماننے میں بھی حرج نہیں ہونا چاہیے کہ میرا ایک دل بھی ہے جو اپنے مکینوں کے لیے دھڑکتا ہے۔ ہاں ، مجھے ان سے سچی محبت ہے ۔ جب یہاں حزن بسیرا کرتا ہے تو میرا گریہ نہیں رکتا اور جب یہاں شادیانے بجتے ہیں تو میں ان کے قہقہوں کی گونج ہوتی ہوں۔میں جب تک اپنے مکینوں کو نہیں اپناتی ان کی اجنبیت دور نہیں ہوتی ۔
    پچھلے دنوں جب مجھ پہ روغن ہوا تو یہ اندازہ ہوا کہ میرا پھر سے سودا ہوگیا ہے… سوچتی ہوں کہ یہ کیسے سپنوں کے بیوپاری ہیں کہ جب اتنے چاؤ سے میری ایک ایک اینٹ میں خلوص و وفا کا گارا لگا کر مجھے بلندکرتے ہیں تو آخر مجھے بیچ کیوں جاتے ہیں ؟ میں، اپنے خمیر میں گندھی خصلتوں سے مجبور… اپنے ہر ایک باسی سے پیماں نبھاتی ہوں۔بہرحال آج میں خوش ہوں کہ میری ویرانی دور ہو رہی ہے ۔





    صبح سے چہل پہل تھی۔میں اپنی مقابل دیوار پہ بنتے ہیولے دیکھ رہی تھی۔ کچھ اندیشے تھے ، جو بڑھ رہے تھے کچھ آرزوئیں تھیںجو زور پکڑ رہیں تھیںکیوںکہ مزدور قطار در قطار سامان اٹھائے اندر چلے آ رہے تھے۔مجھے بھی اپنے مکینوں کو دیکھنے کا بہت اشتیاق تھا کہ کون ہوں گے؟ کیسے ہوں گے ؟ اللہ کرے کہ بچوں والے ہوں، مجھے ننھے بچوں کی گونجتی کلکاریاں بہت اچھی لگتی ہیں ۔ میں نے دیکھا کہ پہیے جیسی گول گول چیز بھی ہوا میں لہرائی ہے۔ضرور گھر کے کسی بزرگ کی سائیکل ہوگی جو صبح ہی صبح پارک لے کر جائیں گے اور واپسی میں سودا لیتے ہوئے گھر آئیں گے ۔آوازیں تو آ رہی ہیں مگر سمجھ نہیں آ رہا کس زبان میں بول رہے ہیں۔مجھے ایک لمحے کے لیے فکر ہوئی کہ میں اکیلی رہ جاؤں گی مگر دوسرے ہی لمحے میںنے تہیہ کر لیا کہ کوئی بات نہیں میں سیکھ لوں گی اسی ٹی وی لاؤنج میں تو بیٹھیں گے سارا دن یہ لوگ۔
    اب سائے ڈھل گئے تھے اور آوازیں بھی مدھم ہو گئیں تھیں۔ مجھے ابھی تک کسی کی جھلک نہیں دکھائی دی تھی۔ اچانک گھٹنوں گھٹنوں رینگتا ہوا ایک بچہ دکھائی دیا۔میری خوشی کی انتہا نہ تھی کہ خدا نے میری سن لی ہے ۔میری ممتا اس بچے کو اپنی نگاہ میں بھرنے کی مشتاق تھی۔ اچانک ایک سایہ اس کے پیچھے پیچھے کمرے میں نمودار ہوا اور اس نے آواز لگائی ….
    ” بیبو ..بیبو..ارے وہاں کہاں چلی گئیں ؟”
    میںنے سوچا، بڑے فلمی لوگ ہیں!کیسا نام رکھا ہے منے بچے کا؟ مگر جیسے ہی روشنی کا جھماکا ہوا میری آنکھیں خیرہ ہو گئیں۔ اتنے دن ہو گئے تھے اندھیرے میں رہتے ہوئے۔ غور کیا تو نگاہوں پہ یقین نہیں آیا۔ زمین پہ ایک بزرگ خاتون بیٹھی سفید ریشمی بالوں والے بچے کو سہلا رہی تھیں۔ مجھے پانچ دن لگ گئے یہ یقین کرنے میں کہ یہ کوئی بچہ نہیں ایک پالتو بلی ہے، جو بڑی بی کی بے حد لاڈلی ہے۔ اگر وہ میاؤں میاؤں کی آواز نہ نکالتی تو میری ساتھی دیواریں مجھے اندھا کہہ کے ٹال دیتیں ۔
    یہ تین لوگوں کی ایک چھوٹی سی فیملی ہے۔ سونیا گھر کی بہو ہے ،سمیر اس گھر کا واحد مرد اور تابع دار بیٹا ہے ، ایک بیوہ بوڑھی ماں اور ان کی ایرانی نسل کی خوبصورت بلی… بیبو۔ ممی جی اور سمیر کی تو اس میں جان اٹکی رہتی ہے۔ اس کی ایک ایک ادا کو محبت سے دیکھتے ہیں اور ناز نخرے اٹھاتے نہیں تھکتے۔ اسے جب بھی موقع ملتا، سونیا اور سمیر کے بیچ میں آ کے پسر جاتی ۔سونیا کی تو جان ہی جل جاتی تھی ۔ جتنا وہ بیبو سے الرجک تھی اتنا ہی بیبو اس کی التفات کی منتظر رہتی۔ در اصل سونیا گھر میں جانور رکھنے کی قائل نہیں تھی اور دوسرے اس کو سمیر کی توجہ حاصل کرنے کے لیے یہ مقابلہ منظور نہیں تھا، گویا ایک میان میں دو تلواریں نہیں رہ سکتیں۔ روز کا ایک ہی ٹنٹا تھا ، بیبو چیزیں لڑھکاتی ، گند مچاتی ، صبح صبح شور کر کے ان کو جگاتی ، فرنیچر خراب کرتی، ہر چیز میں مخل ہوتی مگر سمیر کو سب ”کیوٹ ”لگتا اور ممی جی ، وہ تو ا س کی ہر ہر ادا کو دس دس بار دہراتے نہ تھکتیں۔ سونیا پیج و تاب کھا کے رہ جاتی۔ میں یہ سلسلہ بہ غور دیکھ رہی تھی اور ان ماں بیٹے کے اس لگاؤ کی وجہ سمجھ رہی تھی۔ صاف ظاہر تھا کہ گھر میں کوئی بچہ نہیں تھا جو ان کا دل لبھاتا یا دھیان بٹاتا … مگر سونیا کو کون سمجھاتا اس کے اندر ایک لاوا پک رہا تھا اور مجھے ڈر تھا کہ یہ گھر آباد ہونے سے پہلے نہ ٹوٹ جائے ۔





    سونیا نے بارہا اور برملا سمیر سے اپنی نا پسندیدگی کا اظہار بھی کیا تھا مگر وہ ماں کی طرف دیکھتا تو مجبور ہو جاتا کیوںکہ ان کو اپنی بلی سے ایک لمحے کی دوری گوارا نہ تھی ۔دراصل وہ ان کی بارہ سالہ پرانی رفیقہ تھی، جس نے ان کی زندگی میں موجود خلا کو پُر کیا تھا اور اب وہ اس کی اتنی عادی تھیں کہ اس کو اپنا جزو لاینفک سمجھتی تھیں۔سمیر مخمصے کا شکار ہوگیا تھا۔ماں کو خوش کرتا تو بیوی ناراض ، بیوی کو خوش کرنے کا مطلب تھا کہ ماں کی دل آزاری ۔ بادی النظر میں رب کی رضا بھی مطلوب تھی۔کرتا تو کیا کرتا ۔میں دیکھ رہی تھی کہ وہ خاموش طبیعت تھا سگریٹ کے ساتھ ساتھ خود بھی سلگ رہا ہوتا تھا ۔
    سونیا بری نہیں تھی۔مشیتِ ایزدی کے آگے مجبور تھی۔ ساس سے شکایت نہیں تھی ، بس ان کے شوق سے تھی ۔بیبو بھی تو نت نئے بہانے ڈھونڈتی تھی اس کو زچ کرنے کے ۔ایک روز جب سونیا نے اپنے کرسٹل کا سامان الماری میں لگانا شرو ع کیا تو میں نے خود دیکھا کہ بیبو صاحبہ آ کے اسی ڈبے میں براجمان ہو گئیں…سونیا کو صفائی اور سجاوٹ کا خبط تھا۔ ایک ہاتھ میں کپڑا اور دوسرے ہاتھ میں کرسٹل اٹھائے وہ جیسے ہی کچھ اور نکالنے جھکی تو بیبونے اندر سے باہر کی جانب چھلانگ لگا دی، اس اچانک حرکت سے سونیا کا توازن بگڑ گیا اور وہ دھڑام سے گر گئی … میرے منہ سے بھی چیخ نکل گئی ۔ آواز سن کے سمیر آیا تو سونیا کا پارہ اور چڑھ گیا اس نے کہا: ”تم کب اس عذاب سے میری جان چھڑاؤ گے! دیکھو ، کتنا نقصان کردیا اس نے میرا”سمیر نے کرسٹل کے ٹکڑوں کو دیکھ کر کہا ”کوئی بات نہیں اور آ جائے گا۔” سونیا کو اس کا اطمینان کو دیکھ کر آگ لگ گئی اس نے تو آؤ دیکھا نہ تاؤ اگلے پچھلے سارے حساب برابر کر دیئے۔ اس کا کہنا تھا کہ اسے چار سال ہو گئے ہیں اس بلی کو برداشت کرتے ہوئے اور اب اُسے کسی قیمت پہ بیبو کی حکمرانی منظور نہیں۔ اس بلی کی وجہ سے سونیا کو الرجی رہنے لگی تھی جو سخت تکلیف کا باعث تھی۔ جواب میں سمیر نے بس اتنا ہی کہا: ”ممی کے کمرے میں چھوڑ آتا ہوں۔” اس نے پیار سے بیبو کو گود میں بھرا اور باہر لے گیا۔سونیا نے اپنے گرد بکھرے کرسٹل کو دیکھا اور پھوٹ پھوٹ کے رو دی ۔ میرا دل کٹ کر رہ گیا ۔مجھے پتا تھا ان ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں میں وہ اپنا دل اور مان دیکھ رہی تھی، جو سمیر نے نہیں رکھا تھا ۔میں سوچ رہ رہی تھی کہ کیا جانور کو انسان پر فوقیت دینا درست ہے ؟ میں تو بس وہی جانتی تھی جس کا مجھے ادراک تھا ۔ باہر کی دنیا جانے کس طرح ایسی گتھی سلجھاتی ہوگی ..؟





    بانو آپا کئی دن سے بیٹے کی گہری خاموشی اور سونیا کا اس سے الگ تھلگ رہنا دیکھ رہیں تھیں ۔ سونیا سے بات کرنے کی کوشش کی تو اس نے رکھائی سے جواب دیا جس سے ان کا قلق بڑھ گیا۔ بیبو نے جب انہیں اُداس بیٹھا دیکھا تو پاس پڑی بال سے خوب کھیل کھیل کر دکھایا اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا مگر وہ گہری سوچ میں ڈوبی رہیں۔ ان کی آنکھوں سے جو مو تی جھڑ رہے تھے وہ اپنے دوپٹے میں سمیٹتی رہیں۔ بیبو بھی آزردہ سی ہو کے پیروں میں بیٹھ گئی ۔
    شام جب سمیر گھر آیا تو نہ بانو آپا تھیں نہ بیبو۔اس نے سونیا سے پوچھا تو اس نے بھی لا علمی کا اظہار کیا۔ وہ دونوں بیٹھے ٹی وی دیکھ رہے تھے اور مجھے اچھا لگ رہا تھا، جب وہ کبھی کبھی ایک ساتھ کسی بات پہ ہنس دیتے ۔جونہی گھنٹی بجی مجھے لگا آ گئے کوئی مہمان کباب میں ہڈی بننے ، کم ہی ہوتا تھا جب وہ دونوں اتنے پرسکون دکھائی دیتے تھے مگر اندر آنے والی کوئی اور نہیں بانو آپا تھیں اور ان کے ہاتھ میں ایک پنجرہ تھا جس میں دو خوبصورت طائرِ محبت کی جوڑی تھی ۔ پوچھنے پہ چہک چہک کے بتانے لگیں کہ وہ اسلم بھائی کو بیبو دے آئیں ہیں، جو ان دنوں بالکل اکیلے تھے اور بدلے میں دو پنچھی لائی ہوں دیکھو تو… سمیر اور سونیا دونوں پنجرے پہ جھکے ہوئے ان کا چہچہانا اور پُھدکنا دیکھ رہے تھے ۔سونیا نے ان سے پوچھا کہ کیا نام رکھیں گی ان کے تو سوچ کے بولیں مشیل اور اوباما ۔ تینوں نے ایک ساتھ فلک شگاف قہقہہ لگایا اور میں بھی یہ منظر دیکھ کر ہنس پڑی … ہنستے ہنستے بانو آپا کی آنکھیں چھلک پڑیں تو بہ مشکل میرے رُکے آنسو بھی رواں ہوگئے مگر آج میں نے ایک نئی بات سیکھی تھی کہ بڑا پن کیا ہوتا ہے۔بانو آپا نے گھر کی خوشیوں کی خاطر اپنی چاہت قربان کی تھی۔ گھر والوں کو جوڑے رکھنے کے لیے ایسی ہی ان گنت قربانیاں دینی پڑتی ہیں تب کہیں جا کر وہ خوشیوں کا گہوارہ بنتا ہے ۔ خدا کرے کہ یہ گھر اور خوشیاں ان کو راس آ جائیں۔





  • استنبول سے انقرہ تک (سفرنامہ) | باب 8

    استنبول سے انقرہ تک (سفرنامہ) | باب 8

    تحریر:مدیحہ شاہد

    ”استنبول سے انقرہ تک ”  (سفرنامہ)

    ”لاہور لاہور ہے”
    باب8

    ہم مقررہ وقت پر استنبول سے جدہ جانے والے جہاز میں سوار ہوئے۔ میری سیٹ ایک محرب خاتون کے ساتھ تھی جس کا نام نادیہ تھا۔ وہ سعودی عرب سے اپنے گروپ کے ساتھ سیرو تفریح کی غرض سے ترکی آئی تھی مگر کسی وجہ سے اسے جلد ہی ترکی سے سعودی عرب جانا پڑا تھا۔ وہ درمیانی عمر کی سوبر، خوش اخلاق اور بہادر خاتون تھی۔ اسے زیادہ انگلش نہیں آتی تھی۔ ہم دونوں کو آپس میں گفتگو کرتے ہوئے اشاروں کی زبان میں بھی بات کرنی پڑی۔ میری پچھلی سیٹ پر عقیلہ آنٹی اور انکل سعید شمسی بیٹھے تھے۔ وہ اردو انگریزی ، عربی اور اشاروں کی زبان میں ہونے والی اس مکس گفتگو کو سنتے ہوئے حیران ہو رہے تھے کئی گھنٹوں کا سفر تھا، ہمسفر خاتون سے بات کرنا بھی ضروری تھا ورنہ سفر بھلا کیسے کٹتا۔ جہاز نے ٹیک آف کیا تو میں ذرا خوفزدہ ہوگئی۔ نادیہ نے مجھے تسلی دی اور کچھ جملے بولے جن کامطلب تھا کہ مسلمان کو صرف اللہ سے ڈرنا چاہیے، اور کسی چیز سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔





    مجھے کچھ تسلی ملی۔ سفر کے دوران ہم باتیں کرتے رہے۔ نادیہ نے مجھے اپنے خاندان والوں کی تصاویر موبائل میں دکھائیں۔ وہ ترکی میں جن سیاحتی مقامات پر گئی تھی۔ ان کی تصاویر بھی دکھاتی رہی۔
    اس نے ہمیں ایک تسبیح تحفے میں دی ۔ ہمیں اندازہ ہوا کہ عرب بے حد دریا دل اور سخی ہوتے ہیں۔
    ائیر ہوسٹس کھانے کی ٹرالی چلاتے ہوئے سب کو کھانا سرو کررہی تھی۔
    ہم نے رغبت سے کھانا کھایا۔
    کہ ہم کافی دیر سے سفر میں تھے۔
    اس تھوڑے سے عرصے میں نادیہ سے میری بہت اچھی دوستی ہوگئی تھی۔ ہم دونوں نے ایک دوسرے کے موبائل نمبرز بھی لئے اور وعدہ کیا کہ اپنے گھر جاکر فون پر رابطہ کریں گے۔ دوستی عجب رشتہ ہے، بعض دفعہ آپ سالوں ایک دوسرے کے قریب رہتے ہیں مگر دوست نہیں بن پاتے اور بعض دفعہ کسی سے دوستی ہونے میں چند لمحے ہی لگتے ہیں۔
    دوستی کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ آپ ایک دوسرے کے ساتھ مخلص ہوں۔
    نادیہ پاکستان کو بہت پسند کرتی تھی اور پاکستانیوں سے مل کر خوش ہوتی تھی۔ بالآخر جہاز جدہ ائیرپورٹ پر لینڈ ہوا۔ ہم جہاز سے اترے۔ رن وے بہت وسیع تھا۔ ہم بس میں سوار ہوکر ائیرپورٹ کی عمارت تک پہنچے۔ ائیرپورٹ کا سعودی سٹاف بے حد بارعب تھا۔ وہ لوگ بلند آواز میں بارعب انداز میں انگریزی بولتے اور مسافر ذرا گھبرا جاتے اور مؤدب ہوجاتے۔ ہم ائیرپورٹ کی وسیع عمارت میں چلتے رہے، کہیں کوریڈور ، کہیں سیڑھیاں ، کہیں لفٹ ، ہم سے ہینڈ کیری سنبھالا نا جارہا تھا۔ مختلف جگہوں پر چیکنگ کرواتے رہے۔ سامان اٹھانے کے معاملے میں یوں بھی ہم اناڑی تھے۔
    اسمارا ہماری مدد کو آئی اور کئی بار ہمارا ہینڈ کیری اٹھا کر چیکنگ والی مشین میں رکھا۔ ہمیں ائیرپورٹ پر کوئی ناکوئی رحمدل اور ہمدرد انسان مل ہی جاتا تھا۔ جو خوشی خوشی سامان اٹھانے میں ہماری مدد کرتا۔ کئی بار سوچا کیا ضرورت تھی اس سوٹ کیس کو ساتھ رکھنے کی اچھا ہوتا دوسرے سامان کے ساتھ بھیج دیتے مگر خیر اب کیا ہوسکتا تھا۔ ہم نے اس تعاون کے لئے اسمارا کا شکریہ ادا کیا۔
    ”اسمارا! تمہارا بہت شکریہ،ورنہ ائیرپورٹ پر کوئی کسی کے لئے رکتا نہیں ہے اور کسی کا سامان اٹھانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
    ہینڈ کیری اتنا بھاری ہے کہ ہم سے اٹھایا نہیں جاتا۔ اب اسے ساتھ لانابھی ضروری تھا۔”
    ہم نے ممنونیت سے کہا۔
    کو”ئی بات نہیں ۔اتنا تو ہم ایک دوسرے کے لئے کر ہی سکتے ہیں”وہ مسکراتے ہوئے بولی۔
    ”ترکی کے سفر میں ہم ساتھ رہے مگر ہمیں آج تمہاری خوبیوں اور اچھائیوں کا اندازہ ہوا ہے نیک اور رحمدل لڑکی خو ش رہو۔”
    ہم نے دلی جذبات کا اظہار کیا۔
    وہ ہنس دی۔
    جن لوگوں نے عمر ے کے لئے جانا تھا ۔ وہ عمرہ کرنے چلے گئے۔ ہم وسیع و عریض ہال میں آگئے۔ جہاں بہت رش تھا۔ مسافر کرسیوں پر بیٹھے تھے اور اپنی فلائٹ کا انتظار کررہے تھے صد شکر کہ ہمیں بیٹھنے کے لئے کرسیاں مل گئیں۔ رات کا وقت تھا۔ میں نے ساتھ والی کرسی پر ہینڈ کیری رکھ دیا اور اسے تکیہ بنالیا اور دو کرسیوں پر لیٹ گئی۔ سوچا کچھ دیر آرام کرلیا جائے۔
    اسمارا سے کہا کہ وہ بھی سوجائے۔
    ”نیند آئے گی تو سوجائوں گی۔”
    وہ اطمینان سے بولی۔
    جدہ سے لاہو رکی ہماری فلائٹ صبح تھی۔ رات ہم نے ائیرپورٹ پر ہی گزارنی تھی۔ ساری رات کرسی پر بیٹھ کر بھلا کیا کرتے، سوچاکچھ دیر آرام کرلیتے ہیں۔ ہم صبح کے انقرہ سے نکلے ہوئے تھے۔ کئی گھنٹوں کی مسافت کے بعد شام کوہم استنبول پہنچے تھے۔ پھر ائیرپورٹ پر بورڈنگ اور چیکنگ میں مصروف ہوگئے۔
    وسیع و عریض ائیرپورٹ پر چلتے رہے۔ پھر کئی گھنٹوں کے سفر کے بعد استنبول سے جدہ آئے۔ تھکاوٹ ہوگئی تھی۔ صبح سے سفر میں تھے، اب رات ہوگئی تھی۔ ایک نظر اِدھر اُدھر دیکھا۔ مختلف سمتوں میں ہمارے گروپ ممبرز کرسیوں پر بیٹھے نظر آئے۔





    اسمارا ہماری ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئی۔
    ”تمہاری دوست رمشہ اپنی والدہ یاسمین مشتاق اور بھائی طلحہ کے ساتھ عمرہ کرنے چلی گئی ہے۔ تم اب میرے ساتھ ہی رہنا۔ پردیس میں ہم وطن بہت اچھے دوست بن جاتے ہیں۔”
    میں نے اسمارا سے کہا۔
    ”جی ہاں۔ ہمارا سفر بہت اچھا گزرا۔ ہمسفر اچھے دوست بن جایا کرتے ہیں۔ اس سفر سے پہلے ہم لوگ ایک دوسرے کے لئے اجنبی تھے مگر اس سفر نے ہمیں محبت اپنائیت اور دوستی کے رشتے میں باندھ دیا۔ یوں تو میں BDSکی پڑھائی میں بہت مصروف رہتی ہوں۔ چھٹیوں میں ہی سیرو تفریح کے پروگرام بنتے ہیں۔ ہماری پڑھائی کی روٹین اتنی ٹف ہے کہ ہم لوگ چھٹیوں کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ رمشہ ترکی جارہی تھی تومیں بھی اس کے ساتھ آگئی۔”
    اسمارا نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
    ہم کچھ دیر باتیں کرتے رہے۔
    رات کے اس پہر بھی ائیرپورٹ کے ہال میں گہما گہمی تھی۔ دکانیں کھلی تھیں اور اسٹاف کے لوگ چاک و چوبند تھے۔ پھر میں کچھ دیر کے لئے سوگئی۔
    نیند آئی ہو اور انسان تھکا ہوا ہو تو وہ ائیرپورٹ کی کرسیوں پر بھی سوسکتا ہے۔
    صبح سویرے میری آنکھ کھلی۔ اسمارا کرسی پر سو رہی تھی۔
    میں گروپ کے باقی لوگوں کو دیکھنے کے لئے Prayer Room میں چلی آئی وہاں میری ملاقات زینب اور شہلا سے ہوئی۔ ان کے ساتھ میں نے ناشتا کیا۔ہماری فلائٹ میں ابھی کافی وقت تھا۔ کچھ ڈالرز پرس میں پڑے ہوئے تھے۔ سوچا کہ اب واپس جا ہی رہے ہیں تو بچے ہوئے پیسے خرچ کرلیتے ہیں ہم نے چائے اور بن خریدے اور Prayer Room میں بیٹھ کر اطمینان سے ناشتہ کیا۔ بہت سے لوگ ابھی سو رہے تھے۔ پھر میں رنگ برنگی چیزوں سے سجی ڈیوٹی فری شاپ میں چلی آئی جو صرف نام کی ہی ڈیوٹی فری شاپ تھی، قیمتیں اتنی زیادہ اور بے حد مہنگی چیزیں تھیں۔
    میں نے وہاں سے کچھ شاپنگ کی اور بچوں کے لئے چاکلیٹس خریدیں اور کچھ دیر یونہی مختلف چیزیں دیکھتی رہی سوچا اس طرح وقت گزر جائے گا۔
    میں واپس آئی تو دیکھا کہ اسمارا اٹھ چکی تھی اور کرسی پر بیٹھی کافی پی رہی تھی۔
    ”اٹھ گئی ہوا ناشتا کرلو۔ وہاں سامنے سے ناشتے کے آئٹمز مل رہے ہیں۔”
    میں نے کہا۔
    ”بس میں نے کافی لے لی ہے۔ جہاز میں ناشتا کرلوں گی۔ فلائٹ میں تھوڑا ہی وقت رہ گیا ہے۔”
    رات میں کس ٹائم سوگئی تھی پتا ہی نہیں چلا۔ نیند آئی ہو تو انسان کرسی پر بیٹھے بیٹھے بھی سوسکتا ہے۔”
    اس نے کافی پیتے ہوئے کہا۔
    سوئے ہوئے لوگ اٹھ گئے تھے۔ کچھ ناشتے والے کائونٹر پر کھڑے تھے، کچھ ڈیوٹی فری شاپ کی طرف جارہے تھے۔ ماحول میں ہلچل سی مچ گئی۔
    ہم ائیرپورٹ پر دیگر مسافروں سے بھی بات چیت کرتے رہے۔ بہت سے لوگ عمرہ کرنے انڈیا سے آتے تھے۔ انڈیا سے آئے لوگ ہمیں بہت سادہ سے لگے۔ سادہ لباس، سادہ انداز اور سادہ سامان، ان کے اردو بولنے کا انداز اور لہجہ مختلف تھا۔ کچھ لوگ Morrocco سے بھی آئے ہوئے تھے۔
    کچھ دیر بعد ہماری فلائٹ کی انائونسمنٹ ہوئی تو ہم لوگ قطار میں کھڑے ہوگئے۔
    اور قطار کی صورت میں ہی ہم باہر نکلے اور جدہ سے لاہور جانے والے جہاز پر سوار ہوگئے۔
    میرے ساتھ ایک خاتون اپنی چھوٹی بچی کے ساتھ بیٹھی تھیں۔
    ان کے شوہر سعودی عرب میں ملازمت کرتے تھے، وہ ان سے ملنے کے لئے آئی تھیں اور اب اپنی بچی کے ساتھ واپس پاکستان جارہی تھیں۔ روزگار کی خاطر پردیس میں رہنے والے پاکستانیوں کی بھی اک الگ داستان تھی۔ سفر میں اس خاتون کے ساتھ ہم گفتگو کرتے رہے۔
    جہاز میں زیادہ تر عمرہ زائرین تھے جو عمرہ کرنے کے بعد پاکستان جارہے تھے اور بے حد خوش تھے۔ ہم بھی بے چینی سے لاہور آنے کا انتظار کررہے تھے۔ جہاز کے ائیرہوسٹس تھوڑی بہت اردو بھی سیکھ گئے تھے ، بلکہ انہیں تو پنجابی بھی آتی تھی۔ انگریزی نا سمجھنے والے لوگوں سے پنجابی میں پوچھ لیتے کہ مرغی چاہیے یا مچھلی چاہیے۔
    ہم نے جہاز میں کھانا کھایا۔ جوس پیے، اور سعودی ائیر لائنز کی سروس سے خوب متاثر ہوئے۔ تھکن کے باوجود ہم خوش تھے کہ اپنے شہر لاہور جارہے ہیں۔ ذہن میں ترکی کی خوبصورت یادیں تھیں اور دل میں اطمینان تھا۔ لاہور سے ہماری محبت مثالی تھی۔
    بلکہ مجھے لاہور شہر سے عشق تھا اور یہ محبت مجھے اپنی والدہ سے ورثے میں ملی تھی۔
    جب ابو فوج سے ریٹائر ہوئے تو انہیں ایک سال کے لئے ٹیکسلا کینٹ میں گھر ملا تھا مگر ابو نے سامان سمیٹ لیا اور لاہور آنے کی تیاری کرنے لگے۔ لوگوں نے روکا بھی کہ آپ ایک سال کے لئے اس گھر میں رہ سکتے ہیں۔ اتنی جلدی لاہور جانے کی کیا ضرورت ہے، ابو بولے کہ کیا کرنا ہے یہاں رہ کر، برسوں نوکری کی وجہ سے ہم مختلف شہروں میں رہے ہیں۔ اب لاہور سیٹل ہونا چاہتے ہیں۔ پھر ابو وہاں رُکے نہیں، سامان پیک کروا لیا اور ایم ای ایس کا سامان انہیں ہینڈ اوور کردیا، جس کی رسید آج بھی ابو کے بریف کیس میں پڑی ہے۔ وہ چیزیں سنبھالنے والے آدمی تھے۔ ان کے بریف کیس میں برسوں پرانے کاغذات ، رسیدیں ، خطوط ۔ حتیٰ کہ دو روپے اور پانچ روپے کے پرانے نوٹ بھی سنبھال کررکھے ہوتے تھے۔ پھر ہم لاہور آگئے۔ امی ابو خوش تھے۔ میں شادی کے بعد راولپنڈی آگئی۔ میاںکے تبادلے کی وجہ سے میں مختلف شہروں میں رہی مگر ہر شہر میں لاہور کی رونقیں ڈھونڈتی رہی۔ ہر شہر مجھے پرایا لگتا۔ میاں کو پنڈی سے انس تھا وہ وہیں خوش رہتے۔ میں پنڈی اور اسلام آباد کے سنجیدہ لوگوں میں لاہوریوں کی خوش مزاجی تلاش کرتی۔ اس جستجو نے مجھے تھکادیا۔ کسی نئے شہر میں نئے دوست اور نیا حلقہ ٔ احباباب بنانا مشکل ہوتا ہے جب آپ کو لوگوں کے رویوں اور عادات کے متعلق بھی زیادہ علم نہ ہو۔





  • استنبول سے انقرہ تک (سفرنامہ)  |  باب 7

    استنبول سے انقرہ تک (سفرنامہ) | باب 7

    تحریر:مدیحہ شاہد

    استنبول سے انقرہ تک ”  (سفرنامہ)”

    انقرہ کی روشنیاں
    باب7

    صبح سویرے ہم ناشتہ کرنے کے بعد کپاڈوکیہ سے انقرہ کے لئے روانہ ہوئے۔ راستے میں ہم ایک جھیل پررکے جس کا نام salt lake Tuz Golu تھا۔ کہاجاتا ہے کہ وہ نمک کی جھیل تھی جس کے کنارے نمک سے بھرے ہوتے تھے۔ یہ جھیل قدرت کا شاہکار ہے۔ ہم بس سے اتر کر جھیل کنارے چلے آئے۔ جھیل کے پانی پر سنہری کرنیں چمک رہی تھیں۔ ہم نے کچھ وقت گزارا۔ یہ ترکی کی دوسری بڑی جھیل ہے۔ جھیل کا نظارہ بہت خوبصورت تھا۔ دور تلک پانی ہی پانی نظر آتا۔
    جھیل کے کنارے پر ذرا فاصلے پر اس جھیل کا نام Tuz Golu جعلی حروف میں لکھا ہوا تھا جس کے پاس بیٹھ کر لوگ تصویریں بنوا رہے تھے۔ جھیل کے کنارے پر چلنا دشوار تھا مگر لوگ جوش وخروش کے عالم میں دشواری کے باوجود چلتے جارہے تھے۔
    کچھ دیر جھیل پر رکنے کے بعد ہم نے دوبارہ سفر شروع کیا اور انقرہ کے لئے روانہ ہوئے۔
    انقرہ ترکی کا دارالحکومت ہے اور ایک ترقی یافتہ شہر ہے۔ یہ اناطولیہ کے وسط میں واقع ہے۔ اس شہر کا پرانا نام انگورہ تھا مگر 1923ء میں اسے ترکی کا دارالحکومت بناکر انقرہ کا نام دیا گیا۔ یہ استنبول کے بعد ترکی کا دوسرا بڑا شہر ہے۔
    انقرہ انگوار کی کاشت اور دیسی شہد کی وجہ سے بھی مشہور ہے۔ انقرہ ترک دفاع اور ایروسپیس کمپنیوں کامرکز بھی ہے۔ ترکی کے دیگر علاقوں سے یہاں طلبہ و طالبات کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے بھی آتے ہیں۔ انقرہ کی سب سے بڑی مسجد کا نام کوکاٹیپی مسجد ہے۔ جسے عثمانی طرز تعمیر کے مطابق بنایا گیا ہے۔ اس شہر میں احمد حمدی ایسقی مسجد بھی موجود ہے۔ جو عثمانی حکومت میں تعمیر کی گئی تھی۔
    ینی مسجد بھی یہاں واقع ہے جسے سولہویں صدی میں معمار سنان نے تعمیر کیا تھا۔
    ابقدس انقرہ کی سب سے قدیم مسجد ہے اس میں اخروٹ کا ایک نقشہ موجود ہے جس میں لکھا ہے کہ یہ مسجد 574ء عیسویں میں تعمیر کی گئی تھی۔ ایک پہاڑی پر انقرہ قلعہ بھی واقع ہے۔ انقرہ میں بہت سی تاریخی عمارات موجود ہیں۔
    انقرہ سرسبز شہر ہے اس لئے اسے گرین سٹی بھی کہاجاتا ہے۔ انقرہ میں بہت سے بازار موجود ہیں اور بہت سارے میوزیم بھی ہیں۔
    ترکی کی نیشنل پولیس اکیڈمی بھی اسی شہر میں واقع ہے۔
    ہم راستے میں ایک جگہ لنچ کے لئے رکے پھر انقرہ پہنچتے پہنچتے ہمیں سہ پہر ہوگئی۔ ہم میوزیم اور بازار میں سے کسی ایک جگہ پر ہی جاسکتے تھے۔
    سرخان نے سب سے مشورہ لینا چاہا۔
    ”آپ لوگ بازار جانا پسند کریں گے یا میوزیم؟”
    اس نے اعلانیہ انداز میں پوچھا۔
    ”بازار، بازار……..”
    سب نے یک زبان ہوکر جوش و خروش کے عالم میں باآواز جواب دیا۔
    ”پھر بازار۔۔۔”
    سرخان عاجز آگیا۔
    ”اور کتنی شاپنگ کریں گے آپ لوگ؟ سامان کا بھی خیال رکھیں، سامان زیادہ ہوگیا تو لے جانے میں مشکل ہوگی، ایئرپورٹ پر لوگ اعتراض کریں گے۔”
    سرخان نے نامحانہ انداز میں کہا۔
    ”ہم پھر بھی بازار ہی جائیں گے۔ بازار صرف شاپنگ کرنے کے لئے ہی نہیں بلکہ رونقیں، دکانیں اور ریسٹورنٹ دیکھنے کے لئے بھی جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں بازاروں میں رش رہتا ہے، لوگ بازار جاتے ہیں اور کچھ نہیں تو یونہی بازار کی گلیوں میں شغل لگاتے ہوئے پھرتے رہتے ہیں۔ اکثر نوجوان تویونہی بازار کے قریب تھڑوں پر بیٹھے دکھائی دیں گے۔ ہمارے ہاں بازار جانا ایک ہابی اور ایکٹیویٹی ہے۔”
    لوگوں نے اپنی اپنی رائے دی۔
    سرخان کو سب کی بات مانتے ہی بنی۔
    ہم ہوٹل پہنچے جس کا نام Best Wester’n hotel Zoooتھا۔ انٹرنس پر شیشے کا بڑا سا دروازہ نصب تھا۔ ہمارا کمرہ تیسری منزل پر واقع تھا۔ ہم نے کمرے میں سامان رکھا ۔ کمرہ خوبصورت اور آرام دہ تھا۔ ہم نے کھڑکی سے باہر جھانکا تو نیچے سڑکیں اور گلیاں نظر آئیں۔ سامنے دکانیں بھی تھیں۔ حسب ِ عادت ہم نے تھوڑی سی کھڑکی کھول دی کہ تازہ ہوا آتی رہے۔ ابھی تک ہم Ceterally heatedماحول کے عادی نہ ہوئے تھے۔
    کمرے میں سامان رکھ کر ہم بازار جانے کے لئے ہوٹل کی لابی میں چلے آئے ، پھر سوچا کہ وائی فائی بھی connectکروا لیں ہم منیجر کے پاس چلے آئے جو باری باری لوگوں کے موبائل پر وائی فائی connectکررہا تھا۔
    ”پانچ منٹ انتظار کرلیں، سیکورٹی کی وجہ سے ہر فلور کا پاس ورڈ مختلف ہے اور یہاں انٹرنیٹ connectکرنے کا طریقہ بھی مختلف ہے۔ تسلی رکھیے میں آپ سب لوگوں کے موبائل پر وائی فائی connectکردوں گا۔ بس تھوڑا سا انتظار کرلیں۔”
    کائونٹر پر کھڑے سوٹڈ بوٹڈ منیجر نے پروفیشنل انداز میں ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ وہ انگلش سمجھتا اور بولتا تھا۔
    وہ سفید رنگت اور بھورے بالوں والا دبلا پتلا خوش اخلاق نوجوان تھا۔ جو اردو ناسمجھتے ہوئے بھی اشتیاق بھرے انداز میں پاکستانیوں کو اردومیں بات کرتے ہوئے بغور دیکھ رہا تھا اور ان کے تاثرات دیکھ کر ان کی بات سمجھنے کی کوشش بھی کررہا تھا۔
    وہ ایک ذہین شخص تھا۔ اسے معلوم ہوگا کیا ہم لوگوں کو انٹرنیٹ connect کرنے کی اور پھر بازار جانے کی جلدی ہے۔
    ”ہم چلتے ہیں یہ لوگ بعد میں آجائیں گے۔”
    ساجدہ نے میرا بازو تھام کر کہا۔
    انہیں انقرہ دیکھنے کی جلدی تھی اور اب وہ ہوٹل میں رکھنے کو تیار نہ تھیں۔”
    ”چلیں آپ لوگ جائیں، ہم بھی پیچھے سے آرہے ہیں۔”یسریٰ نے بے ساختہ کہا۔
    ”منیجر نے یہ گفتگو سنتے ہوئے ہمیں انگریزی میں بازار کا راستہ اور محل و قوع سمجھانے کی کوشش کی اور کاغذ کی چِٹ پر احتیاطاً بازار کا نام بھی لکھ دیا۔
    اس نے وہ کاغذ کا چھوٹا سا ٹکڑا ہماری طرف بڑھایا جس پر Hilmi street لکھا ہوا تھا، ہم نے اس کی ذہانت پر عش عش کرتے ہوئے وہ چٹ لی اور ہوٹل کے دروازے سے باہر نکل آئے۔
    راستے میں ہم وہ کاغذ کا ٹکڑا راہ گیروں کو دکھاتے ہوئے کہ اس بازار کا راستہ بتادیں اور یوں ہم مختلف سڑکوں پر چلتے ہوئے بالآخر ہلمی اسٹریٹ کے بازار پہنچ گئے۔
    انقرہ ایک ماڈرن شہر ہے، یہاں سڑک کے کنارے سٹی منزلوں والے اپارٹمنٹس تھے جن کے سامنے پھولوں کے گملے رکھے تھے۔ دارالحکومت ہونے کی وجہ سے یہ ترکی کا اہما ور ترقی یافتہ شہر ہے۔ یہاں جدید طرز تعمیر والی عمارتیں اور اپارٹمنٹس واقع ہیں۔ یہاں کی رونقیں میں گہما گہمی ہے۔ یہاں کا طرزِ زندگی ترکی کے باقی شہروں سے مختلف ہے۔
    سڑک پر ٹریفک رواں دواں تھا۔ جابجا اونچی عمارتیں نظر آتیں۔ سڑکیں کشادہ اور پررونق تھیں۔ ٹریفک کا شور ماحول پر حاوی تھا۔
    ہلمی اسٹریٹ کا بازار پررونق اور وہاں کا مشہور بازار تھا۔ سڑک کے اطراف جدید طرز کی دکانیں تھیں۔ زیادہ تر دکانیں ترکی کے روایتی عروسی ملبوسات کی تھیں۔ موتی ستاروں والے کامدانی سفید رنگ کے لمبے گھیر دار فراک دکانوں میں سجے ہوئے تھے۔
    ہم نے ایک منی ایکسچینج سے کرنسی تبدیل کروائی اور کچھ دیر کے لئے سڑک کے کنارے رکھی میز کرسیوں کے قریب چلے آئے۔
    وہاں زمین پر
    لکھا ہوا تھا جس کا مطلب ہے۔
    ہم لوگ کافی دیر سے پیدل چل رہے تھے اس لئے کچھ دیر کے لئے کرسی پر بیٹھ گئے۔ قریب ہی ایک درخت بھی تھا۔ عقب میں ترکی کے روایتی عروسی ملبوسات کی دکانیں تھیں۔ شادی پر دلہنوں کے پہننے والے سفید رنگ کے خوبصورت سے فراک سجے ہوئے تھے۔ کچھ فاصلے پر کپڑوں کی دکان بھی تھی۔
    یہ انقرہ تھا۔ ترکی کا دارالحکومت جس کے بارے میں ہم بچپن سے سکول کی درسی کتابوں میں پڑھتے آئے تھے، انقرہ اسلام آباد سے ملتا جلتا تھا۔ انقرہ کی اس پررونق سڑک کے کنارے بیٹھ کر گاڑیوں کو دوڑتے اور لوگوں کو اپنی دھن میں مگن چلتے پھرتے دیکھ کر ہم سوچ رہے تھے کہ بھلا ہم نے کب سوچا تھا کہ ایک دن انقرہ میں سڑک کنارے بیٹھے ہوں گے۔ ہم حیران اور خوش تھے۔ مقدر انسان کوکب کہاں لے آتا ہے، اس کی خبر بھی نہیں ہوتی۔
    کچھ دیر بعد ہم وہاں سے اٹھے اور بازار کی گلیوں میں چلے آئے۔
    راستے میں ہمیں مختلف جگہوں پر ہمارے گروپ کے لوگ ملتے رہے، کوئی کسی دکان سے نکلتا ہوا دکھائی دیا تو کوئی سامنے سے آتا نظر آیا، کسی کونے سے اردو بولنے کی آواز آتی تو کہیں سے پنجابی کے جملے سنائی دیتے۔
    ان دن انقرہ کے مصروف بازار میں ہر جگہ پاکستانی دکھائی دے رہے تھے۔ اردو اور پنجابی میں بولے گئے جملوں کی آوازیں ہر سمت گونج رہی تھیں۔ اس دن وہاں پاکستانیوں کا ہی راج تھا۔
    ہم نے وہاں سے شاپنگ کی اور بچوں کے کپڑے خریدے۔ بازار میں مختلف گلیاں تھیں جہاں مختلف اشیاء کی دکانیں تھیں۔
    ساجدہ ایک کونے میں کچھ سوچتے ہوئے کھڑی تھیں۔ جیسے کوئی فیصلہ نا کر پارہی ہوں۔ ہم نے اس کا سبب دریافت کیا۔
    ”کیا ہوا؟ لوگ شاپنگ میں مصروف ہیں اور آپ یہاں کھڑی کیا سوچ رہی ہیں؟”
    انہوں نے سنجیدگی سے ہماری طرف دیکھا۔
    ”سوچ رہی ہوں کیا خریدوں! میرے بچے جوان ہیں، صرف مخصوص برانڈز کے کپڑے پہنتے ہیں، اور ہر چیز اپنی پسند سے چنتے ہیں ، سمجھ نہیں آرہی ان کے لئے کیا لوں؟”
    وہ سوچتے ہوئے بولیں اور پھر دھیرے سے چلتے ہوئے مردانہ کپڑوں کی اک دکان پر چلی گئیں۔ میں بھی میک اپ سے سجی اک دکان پر چلی آئی جہاں سیل لگی تھی۔ ریک پر میک اپ کا سامان سجا تھا۔ہم نے وہاں سے میک اپ کا سامان خریدااور ہم مختلف رنگوں کی نیل پالش دیکھ رہے تھے کہ وہاں یسریٰ چلی آئی۔
    ”آپ یہاں ہیں؟ واہ بڑی شاپنگ ہورہی ہے؟”
    وہ خوشدلی سے بولی۔
    ”سیل لگی ہے، شاپنگ کر لو میک اپ کی بہت اچھی ورائٹی ہے۔”
    میں نے مسکرا کر کہا۔
    ”کتنی شاپنگ کرنی ہے۔ واقعی یہ دکان تو بہت اچھی ہے۔ بڑی ورائٹی ہے یہاں تو۔”
    اس نے ستائشی انداز میں کہا۔
    دکاندار خاتون یہ گفتگو سنتے ہوئے مختلف چیزیں دکھانے لگی۔ یہاں دکانیں خواتین بھی چلاتی تھیں۔ اور کسی خاتون کا دکان پر بیٹھنا اک نارمل سی بات تھی۔ یہاں بہت سی خواتین اس پروفیشن سے منسلک تھیں۔
    ”یسریٰ تم یہاں ہو۔”
    اچانک رضیہ پھپھو کی آواز آئی۔
    ”تم کہاں چلی گئی تھی، میں نے ہر جگہ دیکھ لیا، مجھے بتا کر تو آتی، میں پریشان ہوگئی تھی، اجنبی دیس ہے۔”
    رضیہ آنٹی نے پریشانی سے کہا۔
    ”میں کچھ دیر کے لئے یہاں چلی آئی، سوچا قریب ہی دکان ہے، میک اپ دیکھ رہی تھی۔”
    اس نے تاویل پیش کی۔
    ”یہ کون ہیں؟”

    دکاندار خاتون نے پوچھا۔
    ”یہ میری پھپھو ہیں۔”
    یسریٰ نے جواباً کہا۔
    دکاندار خاتون حیرت سے دیکھتے ہوئے صورت حال کو سمجھنے کی کوشش کررہی تھی۔
    یسریٰ اور پھپھو دکان سے چلی گئیں۔
    میں شاپنگ کرنے کے بعد باہر آئی۔
    اور کچھ دور چلنے کے بعد مجھے سڑک کے کنارے ایک جیولری شاپ نظر آئی، میں شاپ میں چلی آئی جہاں رفعت آنٹی بھی موجود تھیں۔
    کائونٹر پر سفید بالوں والا بوڑھا شخص بیٹھا تھا، وہ ایک بارعب دکاندار تھا۔
    ”آپ کے پاس سلطان نائٹ کی انگوٹھی ہے؟ اس پتھر کا رنگ بدلتا رہتاہے۔”
    ہم نے مدعا بیان کیا۔
    ”جی ہاں، یہ دیکھیں ، سلطان نائٹ انگوٹھیوں کے بہت سے ڈیزائن ہیں، کون سی انگوٹھی آپ پسند کریں گے؟”
    دکاندار نے ہمیں بہت سی انگوٹھیاں دکھائیں۔ ہم دلچسپی سے مختلف انگوٹھیاں دیکھنے لگے۔
    میں نے اور رفعت نے انگوٹھی خریدی۔
    ”شکرہے کہ ہمیں یہ انگوٹھی مل گئی ہمیں اس کی ہی تلاش تھی۔”
    ہم نے خوشی خوشی وہ انگوٹھی انگلی میں پہن لی اور دکان میں جلتی لائٹوں کی روشنی میں پتھر کا بدلتا ہوا رنگ دیکھ کر خوش ہوتے رہے۔
    سلطان نائٹ ایک قیمتی پتھر کا نام ہے۔ جو ترکی کے پہاڑوں سے نکلتا ہے۔ اس پتھر کا رنگ روشنی کے ساتھ بدلتا ہے۔ یہ ترکی کا مشہور پتھر ہے اور ترکی آنے والے لوگ اس پتھر کی انگوٹھی ذوق و شوق سے خریدتے ہیں۔
    ہم یہ شاپنگ کرکے اس دکان سے باہر نکلے۔
    ایک دکان سے یسریٰ نے خوبصورت سا بیگ خریدا۔ اسی دکان میں زاہدہ فاروق اور ان کا بیٹا حیدر بھی چلے آئے۔ زاہدہ نے بھی بیگ خریدنا تھا۔ بہت سے لوگوں کا سامان خریداری کے باعث بڑھ گیا تھا۔ اس لئے انہیں مزید ایک بیگ کی ضرورت تھی۔
    ”کیا آپ بتائیں گی کہ یہ بیگ کتنے کا ہے؟”
    حیدر نے یسریٰ کا بیگ دیکھتے ہوئے پوچھا۔
    یسریٰ نے بیگ کی قیمت بتادی۔
    پھر وہ اپنی والدہ کی جانب مڑا۔
    ”امی، ایسا بیگ لے لیں، اچھا بھی ہے اور قیمت بھی مناسب ہے۔”

  • یاد کا بوڑھا شجر

    یاد کا بوڑھا شجر
    قرۃ العین خرم ہاشمی

     

    ”ابا میاں کہاں ہیں؟“صبا نے آہستگی سے پوچھا تھاکیوں کہ بڑی بھابھی غضب ناک تیوروں سے اسے گھور رہی تھی۔
    ”آگیا تمہیں بڑے میاں کا خیال؟ پتا بھی ہے کہ بڑے میاں پچھلے کئی دنوں سے شدید بیمار ہیں۔ڈاکٹر نے انہیں مکمل آرام کا مشورہ دیا ہے مگر وہ ہیں کہ کچھ سنتے ہی نہیں!۔تھوڑی طبیعت بہتر ہوتی ہے چھڑی کے سہارے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے،پرانے سٹور روم میں پہنچ جاتے ہیں۔اللہ بخشے تمہاری مرحومہ اماں جان نے ضرور وہاں کوئی خزانہ یا راز چھپایا ہو گا۔ جس کی خبر صرف ان کو ہی ہے تب ہی وہ گھنٹوں وہاں کچھ نہ کچھ تلاش کرتے رہتے ہیں اور سمجھ دار اتنے ہیں کہ کچھ پوچھو تو خاموشی کی چادر اوڑھے ٹکر ٹکر چہرہ دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔“
    صبا نے گہری سانس لے کر اس کے چہرے سے نظر ہٹائی تھی۔لوگوں کو اکثر احساس نہیں ہوتا ہے کہ غصہ اور نفرت اچھے بھلے چہرے کے نقوش بگاڑ کر انہیں خوف ناک بنا دیتے ہیں۔
    ”میں ابا میاں کو دیکھتی ہوں!“صبا وہاں سے خاموشی سے اُٹھ کر اس بڑے سے گھر کے کونے میں بنے پرانے سٹور روم میں چلی آئی جہاں اماں کے زمانے کا پرانا سامان اور فرنیچر پڑا اپنی مدت پوری کر رہا تھا۔پیلے بلب کی روشنی میں صبا نے،سفید کپڑوں میں ملبوس،اپنے کمزور اور نحیف ہاتھوں سے اِدھر اُدھر پڑی چیزیں ہٹاتے کچھ ڈھونڈتے،ابا میاں کو اداسی سے دیکھا تھا۔صبا نہ جانے پچھلے کتنے برسوں سے اپنے باپ کو کسی ان دیکھی چیز کی تلاش میں برف کی سل کی طرح قطرہ قطرہ پگھلتے دیکھ رہی تھی۔تلاش کا سفر ظاہری مسافت رکھتا ہو یا باطن کی تہ در تہ پرتیں کھولتا ہو۔اس میں وجود اورجسم ایسے ہی گھلتے ہیں جیسے تیز دھوپ میں پگھلتی برف!تلاش اپنا خراج فنا کی صورت میں لیتی ہے۔اب یہ فنا کس پیمانے پر اور کتنی تیزی سے ہوتی ہے یہ اپنا اپنا نصیب ہوتا ہے!اپنی اپنی چاہ پر منحصر ہوتا ہے۔جس کی جتنی چاہت ہو گی اس کا حاصل بھی اتنا ہی ہوگا۔

    ”ابامیاں!کیا ڈھونڈ رہے ہیں؟“صبا نے نرمی سے باپ کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اپنی طرف متوجہ کرتے ہوئے پوچھا تھا۔ابامیاں نے چونک کر خالی خالی نگاہوں سے اس کے چہرے کی طرف دیکھا تھا۔اس وقت اُن کے چہرے پر اتنی بے بسی تھی کہ صبا کا دل تڑپ کر رہ گیا۔
    ”ابامیاں!کیوں اپنے ساتھ ساتھ ہمیں بھی اذیت دے رہے ہیں؟سب کہتے ہیں کہ آخری عمر میں پروفیسر صاحب کسی ذہنی مرض کا شکار ہو گئے ہیں مگر ابامیاں!دنیا چاہے کچھ بھی کہے مگر ایک بیٹی کا دل جانتا ہے کہ اس کا باپ پاگل نہیں ہے! جو شخص آج بھی ماضی اورحال کی سب سمجھ بوجھ رکھتا ہو۔آج بھی اپنے طالب علموں میں علم کے خزانے بانٹتا ہو،ایسا شخص بھلا ذہنی طور پر ناکارہ کیسے ہوسکتا ہے؟میں نہیں جانتی کہ آپ کی تلاش کیا ہے، آخر آپ کی زبان تک یہ سچ کیوں نہیں آتا؟ مگر ابامیاں میں آپ کو اتنا بے بس اور لاچار بھی نہیں دیکھ سکتی!زندگی میں وہ مقام بہت تکلیف دہ ہوتا ہے جب ہم اپنے پیاروں کو بے بسی کی دلدل میں لمحہ بہ لمحہ اترتے دیکھتے ہیں اور کچھ بھی نہیں کر پاتے ہیں۔“صبا نے روتے ہوئے باپ کے جھریوں بھرے کمزور ہاتھوں کو تھاما تھا۔ابامیاں نے نم آنکھوں سے اسے دیکھا اور اس کا سر تھپکتے ہوئے کمزور لہجے میں بولے:
    ”میں نے تمہاری اماں کو لیدر کا ایک چھوٹا بیگ دیا تھا جس میں۔۔۔!“اسی وقت آہٹ ہوئی تو دونوں نے چونک کر دروازے کی طرف دیکھا،جہاں متجسس نظروں سے دیکھتی،بڑی بھابھی کھڑی تھی۔ان دونوں کے دیکھنے پر گڑبڑا کر غصے سے بولیں:
    ”اچھا تو بڑے میاں نے گاؤں والی زمین کے کاغذ کسی لیدر کے بیگ میں چھپائے ہیں۔ مجھے پہلے ہی شک تھا کہ زمین کے کاغذ گم ہونے والی بات سراسر جھوٹ پر مبنی ہے۔دیکھو! ذرا خدمت ہم لوگ کریں اور سارا اثاثہ بیٹی لے جائے۔واہ جی کیسا انصاف کیا بڑے میاں نے۔“
    بڑی بھابھی تیز تیز بولتی وہاں سے چلی گئی مگر صبا جانتی تھی کہ یہ بات یہاں پر ہی ختم نہیں ہوگی۔ایسا ہی ہوا شام تک عدالت لگ چکی تھی اور فردِ جرم اس پر عائد کرتے ہوئے اسے سب کچھ سچ سچ بتانے کو کہا گیا تو وہ افسردگی سے مسکرا کر اپنے بڑے بھائی سے بولی:
    ”بھائی!ابامیاں نے بہت پہلے ہی اپنے سب اثاثے،اپنا سب کچھ ہم تینوں بہن بھائیوں میں تقسیم کر دیا ہے۔احمد بھائی اپنا حصہ لے کر دبئی جا چکے ہیں، رہ گئے آپ اور میں تو ہمارے پاس بھی اللہ کا دیا سب کچھ ہے۔جہاں تک گاؤں والی زمین کی ملکیت کی بات ہے تو ابامیاں بہت سال پہلے ہی اس زمین کو گاؤں کے بچوں کے سکول کے لئے وقف کر چکے ہیں۔پھر ایسی بات کرنے یا سوچنے کا کیا فائدہ؟“
    ”ہاں میں جانتا ہوں مگر وہ تمہاری بھابھی کہہ رہی تھی کہ۔۔“بڑے بھائی نے شرمندہ لہجے میں کچھ کہنا چاہا تھا۔
    ”بھائی ہر رشتہ اپنی اپنی جگہ پر سچ اور جھوٹ کے تناسب سے مل کر ہی بنتا ہے مگر اصل بات یہ ہے کہ کس رشتے میں کتنا سچ ہے اور کس رشتے میں کتنا جھوٹ، اس کا فیصلہ ہر خردمند انسان خود کرتا ہے۔“

    اس رات صبا کو ابامیاں کی بگڑتی حالت کے پیشِ نظر وہاں رکنا پڑا۔ابامیاں تین دن زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہے اور پھر ایک صبح خاموشی سے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔موت کی آہٹ سے پھیلا سناٹا، اپنے پنجے بہت اندر تک گاڑ دیتا ہے کہ ایک بار ہی سہی مگر موت کی اذیت سارے جسم میں جمود ضرور طاری کر دیتی ہے۔مگر اس دل چیرتے سناٹے کو زندگی کی ایک چہکار ہی درہم برہم کرنے کے لئے کافی ہوتی ہے، شاید زندگی کی رونقیں اسی لئے ہیں کہ اپنے پیاروں کی موت کے غم کو کسی حد تک بھلایا جاسکے، موت کی سرد چاپ سے، زندگی کی آہٹ کشید کی جا سکے۔ابامیاں سے محبت کرنے والے، انہیں یاد کرنے والے بہت سے لوگ اور بھی تھے جن کی تربیت اور کامیابی میں ابامیاں کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔وہ لوگ بھی اپنے پیارے اور شفیق استاد کی موت کا افسوس کرنے جوق در جوق آ رہے تھے۔
    ”پروفیسر صاحب جیسے نیک لوگ بہت کم ہوتے ہیں، میں ایسے بہت سے غریب اورمستحق طالب علموں کو جانتی ہوں،جن کے تعلیمی اخراجات پروفیسر صاحب نے بہ خوشی پورے کیے تھے۔“وہ خاتون کافی دیر سے وہاں بیٹھی رو رہی تھی۔ابامیاں کو آج اس دنیا سے گئے دس دن گزر چکے تھے۔
    ”ویسے مجھے ایک بات کی سمجھ نہیں آئی۔۔!سنا ہے کہ پروفیسر صاحب آخری دنوں میں عجیب بہکی بہکی سی باتیں کرتے تھے؟کیا یہ سچ ہے کہ وہ کسی ذہنی بیماری کا شکار ہوگئے تھے؟“اس عورت کے پوچھنے پر بڑے بھائی افسوس بھرے انداز میں بولے:

  • سعی

    سعی

    سحر ساجد

    وہ عجیب کیفیت میں تھی….. ناک کے نتھنوں سے، سانس کے نام پر خارج ہونے والی ہوا تپش لیے ہوئے تھی۔ وہ کہاں تھی، آسمان پر یا زمین پر؟ وہ اپنے وجود کو کسی سطح پر محسوس نہیں کرپارہی تھی۔ سر جس قدر بھاری تھا، وجود اسی قدر ہلکا۔ ذہن کسی ایک سوچ پر مرتکز نہیں ہوپارہا تھا۔ اس کے وجود پر ایک نظر ڈالو تو سانس کا اتار چڑھاؤ واضح طور پر محسوس کیا جاسکتا تھا۔ لمبے ادھ کھلے بال، کچھ شانوں پر، کچھ سینے پر اُلجھے، پریشان اور بے ترتیب بکھرے ہوئے تھے۔ خلافِ معمول دوپٹہ گلے میں، کہ ان کے ہاں گھر میں بھی دوپٹہ سر پر لیا جاتا تھا۔ دونوں بازو سیدھے پہلو میں گرے …… ہاتھ کی مٹھیاں سختی سے بند کیں۔ لاؤنج کے کنارے پر کھڑی اک اک چیز کو دیکھے جارہی تھی لیکن نہیں جانتی تھی کہ کیوں دیکھے جارہی تھی۔
    فیصلہ سخت تھا جو اس نے کرلیا تھا اور اس فیصلے کی یاد آتے ہی اس نے دائیں ہاتھ کی مٹھی کچھ اور سختی سے بھینچی تھی۔ ہونٹ لرزے اور آنکھ کے کنارے پر اک قطرہ آکر جم سا گیا تھا۔ دل پر جیسے کسی نے خنجر کا وار کیا تھا۔ لرزتے ہونٹوں کے ساتھ اس نے حلق سے نیچے کچھ اتارا تھا اور اس کی نظر ان چیزوں پر کسی آوارہ بد روح کی طرح بھٹکتی تھی ”آپی!….“
    اچانک لاؤنج کے کسی گوشے سے آواز ابھری تھی۔ وہ بُری طرح سے ڈری اور سہم کر آواز کی سمت دیکھا تھا لیکن اس کاارادہ دائیں ہاتھ کی مٹھی کو کمر کے پیچھے چھپانے کا تھا۔”آپی۔ دیکھیں میرا بے بلیڈ۔“

    اسے بھائی کی آواز کسی باز گشت کی طرح محسوس ہوئی تھی۔ اس نے دھندلی آنکھوں سے بھائی کو دیکھا جو لٹو سے کھیل رہا تھا۔ وہ کسی بے جان وجود کی مانند بھائی کی طرف بڑھی تھی۔ وہ نیچے قالین پر بیٹھا میز پر اپنا لٹو گھمارہا تھا اور وہ اس کے پیچھے موجود صوفے پر جاکر بیٹھی تھی۔ دونوں ہاتھوں کی بند مٹھیاں اب اس کے دائیں بائیں سختی سے صوفے پر جمی تھیں اور وہ اپنے بھائی کو دیکھے ہی چلی جا رہی تھی۔ اس کے بھائی نے بٹن دبایا، لٹو میز کی سطح سے ٹکرایا۔ وہ چونک کر آواز کی سمت متوجہ ہوئی۔ لٹو اب گھوم رہا تھا گول، گول اور تیزی سے…. اس کے بھائی نے مڑ کر اس کا گھٹنا ہلاکر اس سے کچھ کہا تھا۔ کیا؟ وہ محض آواز کااِک احساس ہی محسوس کرپائی تھی۔ لٹو گھوم رہا تھا گول گول اور پھر گھومتے گھومتے وہ یک دم بڑا ہوتا گیا۔ ہوتا گیا، ہوتا ہی چلاگیا۔ لٹو اتنا بڑا ہوگیا کہ وہاں موجود ہر چیز پر حاوی ہوچکا تھا۔ وہ ڈر کے مارے صوفے کی پشت سے ٹکرانے کے سے انداز میں جالگی تھی۔ لٹو ا س کے عین سامنے گھومے چلاجارہا تھا۔ وہ نظریں لٹو کیگھومتی دھاریو ں سے ہٹانا چاہتی تھی لیکن سر کو حرکت نہیں دے پارہی تھی۔ نظر گھوم رہی تھی، سر چکرارہا تھا اور اب اسے متلی محسوس ہورہی تھی، اتنی کہ پیٹ میں شدید بل پڑا۔ وہ بے اختیار آگے کو جھکی۔ اسے زور کی ابکائی آئی تھی۔ وہ سانس لینے کو سیدھی ہوئی اور پیروں تلے سے جیسے زمینیک دم نکلی ہو۔ لٹو عین اس کی آنکھوں کے سامنے ہوا میں معلق گھومے جارہا تھا۔ گھبراہٹ کا احساس شدید تھا۔ وہ ہانپتے ہوئے، کف بہتے منہ کے ساتھ، بری طرح سے خوف زدہ ہوکر اس لٹو کو دیکھتی جارہی تھی۔
    ’آپی۔ آپی!“ اس کا بھائی شانہ ہلارہا تھا لیکن وہ متوجہ نہ تھی۔ وہ متوجہ ہو بھی کیسے سکتی تھی۔
    تنفس کی بگڑی رفتار کے ساتھ وہ خوفزدہ سی لٹو کو دیکھے جارہی تھی۔
    ”مور، مور“ اس کا بھائی ماں کو بلانے بھاگا تھا اور ماں کے آنے تک وہ بے حد گھبراچکی تھی۔ اتنی خوف زدہ ہوچکی تھی کہ اس نے دائیں ہاتھ کی مٹھی کھولی اور اس میں موجود زہریلی گولیاں پھانک لیں۔ اچانک وہاں سناٹا چھاگیا تھا، اتنا کہ جیسے کائنات کی ہر متحرک چیز حالت قرار میں آچکی ہو…. وہاں اب کوئی لٹو نہ تھا۔ وہ بے یقینی سے کھڑی ہوئی لڑکھڑائی اور پھر اوندھے منہ گرگئی اور گرتے ہی تکلیف کی اک لہر، دھماکے کی صورت اس کے وجود سے آن ٹکرائی تھی۔ شدید دباؤ، اندھیرا،گھٹن، پیاس، حلق سوکھ رہا تھا اور وہ تڑپ رہی تھی لیکن کمال کی بات یہ کہ وہ خود ہی اپنے تڑپتے وجود کو ذرا فاصلے پر کھڑی دیکھ رہی تھی۔ وہ محسوس کرسکتی تھی کہ اسے کتنی تکلیف ہورہی تھی۔ وہاں زمین پر اس کا تڑپتا جسم تھا اور وہ دور بس، بہتی آنکھوں کے ساتھ کھڑی خود کو بے بسی سے تڑپتا دیکھ رہی تھی اور میز پر لٹو آہستہ ہوتے ہوتے بالکل ساکت ہوگیا تھا۔
    ٭٭٭٭
    یہ انگور کے باغوں کی سرزمین تھی۔ اس کے خاندان والے پتھریلے پہاڑوں کے درمیان بستے اور اک سخت زندگی گزارتے تھے۔ یہ قلعہ سیف اللہ تھا اور وہ اس کی ہونہار بیٹی جاناں کاکڑ۔ اونچی نیچی گھاٹیوں پر جب چلتی تو یوں محسوس ہوتا تھا گویا جنگل میں کسی ہرنی نے کلانچ بھری ہو۔ تعلیم حاصل کرنے کا اتنا شوق تھا کہ اس کی اماں کہتی تھیں۔ ”جاناں پاگل تو نیند میں بھی اسکول کا سبق دہراتی رہتی ہے۔“

    اور ہاں وہ اتنی ہی پاگل تھی۔ جنونی تھی۔ اسے پڑھنا تھا بہت سارا۔ ڈھیر سارا۔ اپنے نام کے ساتھ ڈاکٹر لکھا دیکھنا تھا۔ ڈاکٹر جاناں کاکڑ۔ ڈاکٹر۔ ڈاکٹر جاناں کاکڑ۔ قلعہ سیف اللہ، قبائل کی آماج گاہ تھا۔ جہاں روایات کی سختی سے پابندی کی جاتی تھی۔ وہ ساتویں جماعت میں تھی تب سے برقعہ پہن کر اسکول جاتی تھی۔ برقعے کے اوپر کالی چادر کے نقاب سے محض اس کی ایک آنکھ ہی نظر آیا کرتی تھی۔ وہ قلعہ سیف اللہ کی ان چندخوش نصیب لڑکیوں میں سے تھی جو پرائمری سے اوپر تعلیم حاصل کررہی تھیں۔ جاناں وہ طالبہ تھی جس نے اپنا ہر امتحان نمایاں درجے میں پاس کیا تھا۔ وہ برف زاروں میں پل کر بڑی ہوئی تھی لیکن خواہش، اک چنگاری کی صورت، طلب بن کر سینے میں بھڑکتی تھی۔ وہ خوش تھی، مگن تھی اور سمجھتی تھی کہ زندگی کا سفر اسی طرح کامیابی و کامرانی سے طے ہوتا چلا جائے گا۔ وہ امتحان پر امتحان پاس کرتی چلی جائے گی اور پھر…… پھر وہ دن ضرور آئے گا کہ جب وہ اسکالرز گاؤن پہنے اپنی Ph.D کی ڈگری وصول کرے گی۔ خوشی سے چیختے ہوئے اسکالرز کیپ کو ہوا میں اچھالے گی اور کوئی نامعلوم فوٹوگرافر اس کی آنکھ کی خوشی، اس کی ہنسی، اس کے چہرے کا جوش، طمانیت سب اک لمحے میں قید کرکے اسے زندہ جاوید بناڈالے گا۔ ہاں …… وہ ایسا ہی سوچتی تھی…… ایسا ہی سمجھتی تھی۔
    جب اس نے میٹرک میں پوزیشن حاصل کی تو خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ وہ اتنی خوش تھی اتنی کہ لگتا تھا کہ بس اب خوشی سے مر ہی جائے گی۔ وہ۔ وہ جاناں کاکڑ۔ اک پسماندہ علاقے کی گورنمنٹ اسکول کی طالبہ، اُسی جاناں کاکڑ نے میٹرک میں ٹاپ کیا تھا۔ ٹاپ۔ یہ پہلی بڑی کامیابی تھی۔ پہلی بڑی کامیابی اور اتنی بڑی خوشی جو اُسے مار بھی ڈالتی تو غم نہ تھا۔ لیکن اسے تو جینا تھا۔ بہت سارا ایک لمبی زندگی گزارنی تھی کیوں کہ اسے تو پڑھنا تھا۔ ڈھیر سارا۔ اتنا زیادہ کہ اس کے نام کے ساتھ لکھا جاتا… ڈاکٹر جاناں کاکڑ……
    ٭٭٭٭

  • خوبصورت آنکھیں

    خوبصورت آنکھیں

    منیر احمد فردوس

     

    ”سر جی…!“ اچانک میرے کانوں سے مانوس سی آواز ٹکرائی۔
    میں جو کافی دیر سے اپنے سامنے رکھی فائل میں سر دیئے کمپیوٹر پر ماہانہ اعداد و شمار بنانے میں بُری طرح سے اُلجھا ہواتھا، چونک اُٹھا۔ سراُٹھا کے دیکھا تو سامنے دفتر کانوجوان چپڑاسی شاکر تھا،جس کے ساتھ نقاب اوڑھے ایک خاتون کھڑی تھی اور اس کی نگاہوں نے میرے چہرے کا محاصرہ کر رکھا تھا۔ یک دم میرے ذہن سے تمام اعداد و شمار جھڑ سے گئے۔میں نے کی بورڈ پر جلدی جلدی انگلیاں چلائیں اور بجلی جانے کے ڈر سے اب تک کا کیا ہوا کام محفوظ کیا۔پھر اس خاتون پر ایک سرسری سی نگاہ ڈالتے ہوئے سوالیہ نظروں سے میں شاکر کی طرف دیکھنے لگا۔اس نے بھی شاید حیرت سے پھیلتی میری آنکھوں میں تیرتا سوال پڑھ لیا تھا۔
    ”سر جی!ہیڈ کلرک صاحب نے میڈم کو آپ کے پاس بھیجا ہے اور کہا ہے کہ ان کو کوئی سٹیٹمنٹ چاہئے۔“
    شاکر نے میڈم کی طرف ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
    ”اچھا…ٹھیک ہے،میں دیکھتا ہوں۔“ میں نے آنکھوں سے حیرت جھاڑتے ہوئے خوش دلی سے کہا۔ میری بات سن کرشاکرچلا گیا۔
    میں نے طائرانہ نظروں سے خاتون کا لمحے بھر کے لئے جائزہ لیا، جس نے سفید چادراوڑھ رکھی تھی اور دائیں ہاتھ کی انگلیوں سے ڈھیلے ڈھالے نقاب کو اپنے گالوں سے چپکا رکھا تھا۔کالے رنگ کا ایک بڑا سا پرس بھی ا س کے دائیں کاندھے پر لٹک رہا تھا۔
    ”میڈم! آپ بیٹھئے نا… کھڑی کیوں ہیں؟“
    میں نے اپنے دائیں جانب کونے میں رکھی ایک اکلوتی کرسی کی طرف ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے پُرتکلف انداز میں کہا-
    ”جی بہت شکریہ۔“ اس نے ملائمت سے کہا اور کسی تابع دار شاگرد کی طرح کرسی پربیٹھ گئی۔

    وہ درمیانے قد کی ایک نفیس خاتون تھی،جسے جوانی خیر باد کہنے کے لیے پر تول رہی تھی۔اس کا سڈول اور بھرا بھرا جسم چادر سے باہر بھی اپنے خطوط واضح کر رہا تھا۔ ہلکے پیلے سوٹ میں وہ بہت نکھری ہوئی لگ رہی تھی۔اس کے گھٹنوں سے لٹکتی قمیص کے گھیرے پر کسی ماہر کشیدہ کار کا فن بول رہا تھا۔اس کے بیٹھتے ہی میرے نتھنوں میں بھینی بھینی خوشبو کے قافلے سے اترنے لگے۔ اس نے بہت ہی عمدہ خوشبو لگا رکھی تھی۔ میں دل ہی دل میں اس کے اعلیٰ ذوق اور خوش لباسی کی داد دیئے بغیر نہ رہ سکا۔
    ”جی میڈم…! فرمائیے کون سی سٹیٹمنٹ چاہئے آپ کو؟“
    میں نے اپنے سامنے رکھی فائل میں فلیگ لگا کر اسے بند کیا اور ویل چیئر پر گھوم کر اس کی طرف دل جمعی سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
    ”جی اصل میں‘ میں ایک این جی او سے منسلک ہوں اور مجھے ایک ہفتہ وار سٹیٹمنٹ اپنے دفتر میں جمع کروانی ہے اور یہ سٹیٹمنٹ اس پر فارمے پر بنا کر دینی ہے۔“ اس نے ایک تہ کیا ہوا پرفارما اپنی گود میں رکھے پرس سے نکال کر مجھے تھماتے ہوئے کہا۔
    اچانک دائیں طرف سے اس کا نقاب ڈھلک کر اس کے سرخ گالوں کی مکمل کہانی سنا گیا، جسے اس نے فوراً ہی دُرست کیا اور اس پر دوبارہ انگلیاں جما کرجھینپتی ہوئی مجھے یوں دیکھنے لگی جیسے اس کی کوئی چوری پکڑی گئی ہو۔
    میں نے پرفارما لیتے ہوئے نقاب سے باہر جھانکتی اس کی آنکھوں کو نظر بھر کے دیکھا۔ سرمے سے دھلی ہوئی اس کی روشن آنکھیں میری آنکھوں میں جیسے ٹھہر سی گئیں۔مجھے ان میں ایک عجیب سی کشش محسوس ہوئی اور اس کی آنکھیں مجھے خوب صورت لگنے لگیں۔ اس کے دیئے ہوئے پرفارمے پر نظریں گاڑے میں اس پر لگے کالمز کو غور سے دیکھنے لگا مگر پتا نہیں کہاں سے میرے دل میں اس کی آنکھوں کو پھر سے دیکھنے کی خواہش مچل اٹھی، جو پل بھر میں شدت اختیار کر گئی۔میں انہیں دوبارہ دیکھنے کے لئے دل ہی دل میں بات کرنے کا کوئی بہانہ تراشنے لگا۔ شاید میں اپنی آنکھوں کی تصدیق چاہتا تھا کہ واقعی وہ آنکھیں خوب صورت ہیں یا مجھے دھوکا ہوا ہے۔
    ”میڈم! آپ یہ بتائیں کہ یہ ڈیٹا آپ کو کب تک چاہئے؟“
    میں نے پرفارما میز پر رکھتے ہوئے اس سے پوچھا اور اس کی آنکھوں کوبڑے اہتمام سے دیکھنے لگا۔
    بہ ظاہر وہ آنکھیں زیادہ خوب صورت نہیں کہی جا سکتی تھیں مگرانہیں عام سی آنکھیں کہنا بھی ناانصافی تھی۔ان میں کوئی بات ایسی ضرور تھی کہ کھلم کھلا باتیں کرتی اس کی چمک دار آنکھیں مجھے بار بار اپنی طرف بلا رہی تھیں۔ کوئی کچھ بھی کہتا مگر میری نظر میں وہ آنکھیں خوب صورت قرار پا چکی تھیں۔ عجیب اتفاق تھا کہ کچھ دن پہلے پڑھا ہوا سعادت حسن منٹو کا افسانہ”آنکھیں“میرے دماغ میں گھوم گیا۔ جس میں منٹو نے ایک معمولی لڑکی کی عام سی آنکھوں کا ذکرکچھ ایسے خاص اندازمیں کیا تھا کہ مجھے بھی اس لڑکی کی آنکھیں خوبصورت لگنے لگی تھیں۔ مجھے یوں لگا جیسے یہ وہ آنکھیں تھیں جو منٹو کے افسانے سے نکل کر میرے روبرو تھیں۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اِن آنکھوں میں روشنیوں کے میلے تھے اور منٹو کے افسانے کی لڑکی نابینا تھی۔

    اس سے پہلے کہ میڈم میری بات کا جواب دیتیں، اچانک میرا اکاؤنٹنٹ ارشد دندناتا ہوا میرے کمرے میں گھس آیا، جس کے ساتھ میری کافی بے تکلفی تھی۔ اس نے آتے ہی بھر پور انداز میں میڈم کاجائزہ لیا جو میری بات کا جواب دیتے دیتے رُک گئی تھی اورمتجسس نظروں سے ارشد کو دیکھنے لگی۔مگر مجھے یہ سمجھنے میں ذرا بھی دیر نہیں لگی کہ وہ کمرے میں کیوں آیا ہے۔وہ داخل ہوتے ہی مجھ سے گویا ہوا:
    ”سوری شاہد صاحب! آپ کو ڈسٹرب کیا۔ میں صرف یہ بتانے کے لئے حاضرہوا تھا کہ آپ نے کرسیوں کے لئے جو ڈیمانڈ بھیجی تھی۔ آپ کے حکم کی تعمیل میں نئی کرسیاں آ گئی ہیں۔ اگر کہیں تو آپ کے کمرے میں بھجوا دوں…؟“
    ارشد نے مجھے دیکھتے ہوئے بڑے ہی سنجیدہ انداز میں کہا۔مگر اس کی سنجیدگی کے پیچھے چھپی شرارت کو میں اس کی آنکھوں میں چمکتا ہوا واضح طور پر محسوس کر رہا تھا۔ کیوں کہ نہ تو میں نے کرسیوں کی کوئی ڈیمانڈ کی تھی اور نہ ہی نئی کرسیاں آئی تھیں۔ بلکہ حقیقت تو یہ تھی کہ گذشتہ ہفتے میں نے اپنے کمرے میں اکلوتے بلب کی جگہ ایک ٹیوب لائٹ لگانے کو کہا تو اس نے معذرت کرتے ہوئے کہا تھا ”یار! بجٹ ہی نہیں ہے، کہاں سے لگوا کر دوں؟“
    خیر ابھی مجھے اس سے جان چھڑا نا تھی۔ میں نے ایک نظر میڈم کو دیکھا جو اس ساری صورتِ حال میں خالی خالی نظروں سے میری طرف دیکھ رہی تھی۔ اس کا یوں معصومیت سے دیکھنا مجھے بہت اچھا لگااور میرے اندر انجانی مسرت کی ایک لہر سی دوڑ گئی۔میں ارشد کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولا:
    ”بہت شکریہ جناب! آپ کی مستعدی کی داد دیتا ہوں۔ بس گذارش ہے کہ آپ فی الحال کرسیوں کو اپنے پاس رکھیں، میں فارغ ہو کر ابھی آپ سے رابطہ کرتا ہوں۔“
    میری بات سُن کر ایک شریر سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر یوں ناچنے لگی، جیسے وہ کہہ رہا ہو کہ کیوں بچہ جمورا! پکڑ لیا نا؟ اکیلے اکیلے گپیں لگاتے ہو؟
    ”ٹھیک ہے سر! ہم تو حکم کے غلام ہیں۔ آپ نے حکم کیا اور فوراً اس کی تعمیل ہوئی۔بس آپ بھی ہمارا خیال رکھا کریں۔“
    ارشد نے دایاں ہاتھ اپنے سینے پر رکھ کر تابع دارانہ انداز میں مُسکراتے ہوئے کہااورکن انکھیوں سے میڈم کی طرف دیکھا، جو اصل حقیقت سے انجان خاموشی سے ہماری فرضی گفت گو سن رہی تھی۔جب کہ میں دل ہی دل میں ارشد کی حرکتوں پر ہنس رہا تھا۔
    ”جی جی جناب!آپ کا احسان ہے، بس میں ابھی آپ سے رابطہ کرتا ہوں“

  • باجی ارشاد

    باجی ارشاد

    باجی ارشاد
    سارہ قیوم

     

    باجی ارشاد سویرے سویرے سارے کام سے فارغ ہو کر نیا جوڑا خرید لائی اور دوپہر کو ٹرک کے نیچے آکر مر گئی۔
    ویسے تو بڑی جی دار تھی جی! باجی ارشاد۔ پچھلے سال اس کی ابو جی سے لڑائی ہوئی تو اس نے دودھ والا بڑا دیگچہ اٹھا کر ابوجی کو دے مارا۔ ابو جی گر پڑا اور امی جی ہائے ہائے کرتی ویسے ہی اس کے اوپر گر گئی۔ ہم ساری دیورانیاں، جیٹھانیاں دل ہی دل میں بڑی خوش ہوئیں۔ بھائی اکرم گھر آیا تو باجی ارشاد سے بڑا لڑا۔ مار مار کر نیل ڈال دیئے پر وہ صلح کو نہ مانی۔ کہتی تھی صلح کروں گی تو خود کروں گی تیری مار سے نہیں کروں گی اور جب صلح کی تو ایسے ہی نہیں کی۔ پوری ایک کلو مٹھائی منگا کر بانٹی پھر صلح کی۔ ایسی عقل مند اور بہادر تھی باجی ارشاد، لیکن جب مری تو منٹوں سیکنڈوں میں ہی مر گئی۔ ذرا حوصلہ نہ کیا۔ ہائے باجی ارشاد تو نے ذرا نہ سوچا کہ کس پہ غصے نکالے گا بھائی اکرم تیرے پیچھے اور کیا کریں گے تیرے بغیر تیرے چھوٹے چھوٹے وکرم، ولیم اور سونیا۔ آپ کو تو پتا ہی ہے جی! یہ آج کل کے بچے بھلا رہتے ہیں ماؤں کے بغیر؟
    چار گھروں کا کام کرتی تھی۔ جب میری نئی نئی شادی ہوئی تو مجھے بھی ساتھ لے جاتی تھی۔ میں اس کے ساتھ صفائی کرا دیتی یا کپڑے دھلوا دیتی۔ لیکن جب میری طبیعت خراب ہو گئی تو میں نے جانا چھوڑ دیا۔ ساری جیٹھانیوں میں سے باجی ارشاد ہی میرا سب سے زیادہ خیال رکھتی تھی جی۔ باجی حمیدہ تو اتنی سست تھی کہ پورے دن میں صرف ایک گھر کا کام کرتی۔ بولتی تو کوئی اس کی بات ہی نہ سنتا۔ دو منٹ کی بات گھنٹے میں کرتی۔ کسی کے پاس اتنا ٹائم ہی نہیں تھا اور باجی بلقیس تو پرلے درجے کی بدتمیز تھی۔ ہر وقت گندے گندے مذاق کر کے ہنستی رہتی اور نت نئے فیشن کرتی رہتی۔ ہم سب میں کالی تھی پر مہرون لپ اسٹک سے کم تو لگاتی ہی نہیں تھی۔ باجی ارشاد سب سے اچھی تھی۔ تھی تو چھوٹی سی، یہ اس کرسی سے ذرا ہی اونچی ہو گی اور کانے جیسی پتلی پر تھی بڑی پھرتیلی۔ چار گھروں میں جھاڑو پوچا کرتی۔ اپنے گھر کا کام کرتی اور جب مجھے اُلٹیاں آتی تھیں تو وہی سنبھالتی تھی۔ میری تو بچی بھی اس نے پیدا کرائی جی۔ جب میرا ٹائم آیا تو میرا میاں گیا دائی کو بلانے۔ دائی مرن جوگی اپنی بیٹی کے گھر گئی ہوئی تھی۔ ادھر میری حالت خراب۔ جب اینڈ ہونے والا ہوا تو باجی ارشاد سامنے بیٹھ گئی اور لو جی باجی ارشاد نے کڑی جمالی۔ نام بھی اسی نے رکھا۔ روزی۔
    باجی ارشاد بڑی خدا پرست تھی۔ اتوار کے اتوار چرچ جا کر نماز پڑھتی اور گیت گاتی۔ ہائے ہائے گاتی بڑا اچھا تھی۔ اصغر لفنگے کے ویاہ پہ اس نے بڑی ڈھولکی بجائی اور ٹپے گائے۔ درزی والا ٹپہ تو سب نے فرمائش کر کے بار بار سنا: اک چولا درزی دا، نہ سانوں گھر ملیا نہ ماہیا مرضی دا۔

    بھائی اکرم نے سنا تو اسے بڑا مارا۔ کہنے لگا اب میں نے نہیں رکھنی، کا گت ہی دینا ہے۔ خیر بھائی اکرم کی تو عادت ہے۔ جس روز باجی ارشاد فوت ہوئی ہے اس سے ایک دن پہلے بھی تو اس نے یہی کیا تھا۔ باجی ارشاد کے بھائی کی منگنی تھی۔ اس نے نیا سوٹ خریدنے کے لیے پیسے مانگے تھے۔ بس جی مارکُٹ کے گھر سے چلا گیا اور کہہ گیا کہ اب نہیں رکھنی۔ کاگت ہی دنیا ہے۔ پہلے تو باجی ارشاد منہ لپیٹ کر پڑی روتی رہی پھر اٹھ کر کام پہ چلی گئی۔ واپسی پر بڑی خوش خوش آئی۔ باجیوں سے پیسے مانگ کر لائی تھی۔ اگلے دن سویرے سویرے سارے کام سے فارغ ہو کر نیا جوڑا خرید لائی۔ دوپہر کو بھائی اکرم کے ساتھ سائیکل پہ بیٹھ کر ماں کے گھر کو نکلی۔ لال بتی پر گاڑیاں رکیں، پیچھے سے ٹرک نے آکر کھڑی سائیکل کو ٹکر مار دی۔ باجی ارشاد سڑک پر گر پڑی اور ٹرک اس کے سر پر چڑھ گیا۔ دوسرا سانس نہ لیا بے چاری نے۔ خونم خون گھر آئی تو ہمیں یقین ہی نہ آیا۔ جنازے پہ اتنا ملک تھا کہ گلی تنگ پڑ گئی۔ جنازہ لے کے ہم پہلے باجی روحی کے گھر گئے۔ وہ بے چاری رو پڑی اور ہزار روپیہ نکال کے باجی ارشاد کی ہتھیلی پر رکھا۔ دو گھر چھوڑ کر بریگیڈئر صاحب کا گھر تھا پر وہ بڑا ڈاہڈا آدمی تھا اس لئے ہم نے اس کے گھر کی گھنٹی نہ بجائی۔ بعد میں پتا چلا لفنگا اصغر دوپہر کو ہی اسے اطلاع دے کر دو ہزار روپے لے آیا تھا۔ آپے ہی کھا پی گیا۔