
سائیں! سنو تو، بہت درد ہے۔ جسم تھر کی خشک سالی سہتی ہوئی زمین کی طرح دراڑوں سے بھرا ہے سائیں۔ یہ رخنے بھی عام
![]()

حضرت موسیٰ کے وصال کے بعد بنی اسرائیل نے کچھ عرصہ تو راہِ ہدایت پر گزارا۔ لیکن بعد میں وہ بدعت اور گمراہی کے راستے
![]()

اُداس موسم کی ایک سرد شام ،اُس خزاں گزیدہ شجرکا وجوداپنی پیشانی پر کئی داستانیں رقم کیے کھڑا تھا ۔موسم ِ ِبرگ ریز کا شاخسانہ
![]()

شگفتہ نازایک نرم ونازک احساس ، جس نے 1950ء میں تقسیمِ ہند کے بعد دہلی سے لاہور منتقل ہوئے ایک متوسط گھرانے میں جنم لیا
![]()

محبت کا ستایا ہوا انسان اکثر بھٹک جاتاہے، وہ بھی اسی سفر کی ایک تھکی ماندی مسافر تھی۔ ”اماں ابھی نماز کا وقت ہے؟” اس
![]()

کنول شکل سے اجڑی ہوئی، چہرے پر خراشیں اور چوٹ کے نشان لیے بار بار بے چینی سے ریحان کے فلیٹ پر کھڑی بیل دے
![]()

کلاس روم اس وقت ہنستے کھلکھلاتے ہوئے چہروں سے بھرا ہوا تھا۔ ہر چہرے پر سُرخی تھی۔ ہر لب کے کنارے پھیلے ہوئے تھے۔ دائیں
![]()