Tag: اردو

  • کچی کاگر — افشاں علی

    اس کے ننھے ننھے سے قدم اُس کچی ٹیڑھی میڑھی پگ ڈنڈی پر دوڑ رہے تھے جس کے ایک طرف نالہ بہتا تھا تو دوسری جانب کھیت تھے، جن میں گندم کی سنہری ڈالیاں سر اٹھائے اِستادہ تھیں۔
    کھیتوں میں آج کل سنہری ڈالیوں کے بیچ ہرے، نیلے اور سرخ آنچل بھی لہراتے بہار دکھلاتے گندم کی کٹائی میں اپنے شوہر یا باپ بھائی کا ہاتھ بٹاتے نظر آتے۔
    باغوں میں پھل لگنے لگے تھے، تو گندم کی فصل بھی پک کر تیار تھی۔
    کسان گندم کی ان سونے جیسی سنہری ڈالیوں کو بیل گاڑیوں میں لادے منڈیوں کی طرف نکلتے تو شام ڈھلے ہی گھر لوٹتے جہاں گھر کی عورتیں ہانڈی روٹی بنائے ان کی منتظر ہوتیں۔
    وہ بھی ایک عام سا ہی دن تھا۔ جب وہ معمول کی طرح اس کچی پگ ڈنڈی سے گذر کر گائوں کے اس حصے کی جانب چل دی جہاں کمہاروں کے خاندان آباد تھے۔
    یوں تو پورے گائوں میں کھیلنے کی بہت سی جگہیں تھیں۔ نیم کے درخت پر لگا جھولا، ندی کے ٹھنڈے پانی میں کبھی اوپر کو آتی مچھلیاں جنہیں بچے بڑے شوق سے جال ڈالے پکڑنے کی کوشش میں ہلکان ہوتے۔
    جھاڑیوں کے ارد گرد آنکھ مچولی، کھیلتی لڑکیاں، خالی زمین پر لک لکھوٹی کھیلتی بچیاںتو، برگد کے گھنے درخت کے نیچے ٹاٹ بچھائے گھر گھر اور گڑیا گڈے سے کھیلتی لڑکیاں۔





    وہیں دوسری اور کُھلے میدان میں گلی ڈنڈا کھیلتے لڑکے، یعنی کھیلنے کو تو یہاں بہت سے کھیل تھے پر اس کے قدم ہمیشہ دین محمد چاچا کے گھر کی جانب ہی اُٹھتے جہاں کھیلنے کو تو کوئی کھیل نہ تھا ہاں مگر تا حدِ نظر مٹی ہی مٹی دِکھتی نظر آتی۔
    وہ ہی مٹی جس سے انسان کی بنیاد رکھی گئی جس سے اس کا ضمیر اُٹھا اور اسی مٹی سے کوزہ گر بڑی محنت سے نئی بنیاد رکھتے ایک نئے روپ، ایک نئے سانچے میں ڈھالتے۔
    دین محمد جدی پشتی کمہار تھا، اپنے آبائو اجداد کی روایات و پیشے کو برقرار رکھنے پر اسے فخر تھا۔ وہ بھی معمول کی طرح خاموشی سے دین محمد چاچا کے قریب رکھی چوکی پر آ بیٹھی۔
    ”آگئی تو…؟ آج تو میں مٹکا بنانے والا ہوں، شہر سے تیس مٹکوں کا وڈا آڈر آیا ہے…” اس کی آمد کو بغیر گردن مڑے بھی دین محمد نے محسوس کرلیا اور ساتھ ہی اسے مخاطب کیا،
    دین محمد چاچا کی بات سن کر اس کی آنکھیں چمکیں اور چہرے پر خوشی تجسس کے سب رنگ مترشح تھے۔ اس نے اپنی گول گول آنکھیں آس پاس گھمائیں۔
    ہمیشہ کی طرح دین محمد اپنے ازلی حلیے یعنی بنیان نمایاں کے نیچے دھوتی لپیٹے چوکی پر بیٹھا تھا۔
    اس کے بالکل سامنے پانی سے بھری بالٹی کم مٹکی تھی اور دوسری جانب چکنی مٹی کو گوندھ کر کچھ ڈھیلے بنے رکھے تھے۔
    دین محمد نے ان میں سے ایک ڈھیلا اٹھا کر چاک کے بیچوں بیچ رکھا اور ساتھ ہی پاس رکھی شیشم کی چوب دار لکڑی کو چاک میں موجود سوراخ میں پھنسا کر گھمانا شروع کردیا۔ چرچراہٹ کی مخصوص آواز کے ساتھ چاک کا چرخ گردش کرنے لگا اور جونہی چرخ نے رفتار پکڑی۔ دین محمد نے پانی سے بھری مٹکی میں اپنے دونوں ہاتھوں کو ڈبو کر گیلا کیا اور ساتھ ہی گردش کرتے چرخ پر رکھے مٹی کے ڈھیلے کو وہ ایک نئی شکل دینے لگا۔
    ایسا لگ رہا تھا جیسے پانی سے بھرے ٹب میں دونوں ہاتھوں سے کچھ گھنگھولا جارہا ہو۔
    اس کے ماہر ہاتھوں کی رواں حرکت اس بے شکل کے ڈھیلے کو پیچیدگی کے ساتھ ایک نئی شکل میں ڈھال رہے تھے، وقفے وقفے سے وہ اپنے ہاتھوں کو گیلا کرتا اور چرخ کی رفتار کم ہونے پر پھر سے لکڑی چاک میں پھنسا کر چرخ کا گھمائو تیز کردیتا۔
    دیکھتے ہی دیکھتے، چاک کی مسلسل گردش، دین محمد کے ماہر ہاتھوں کے مدو جزر اور گھمائو نے اس بے ڈھنگے مٹی کے ڈھیلے کو ایک نئے سانچے میں ڈھال لیا اور وہ بنا آنکھ جھپکے بڑے شوق و اشتیاق سے اس تیار مٹکے کو دیکھے جارہی تھی جسے اب دین محمد چاچا نے احتیاط سے پکڑ کر قدرے فاصلے پر سوکھنے کے لیے رکھ دیا اور ساتھ ہی نیا مٹکا تیار کرنے کے لیے دوسرا ڈھیلا اٹھالیا۔
    ”واہ… چاچا، تمہارے ہاتھوں میں تو جادو ہے اتنی دیر میں تو چاچی بشیراں تنور سے روٹیاں بھی نہیں نکالتیں، جتنی دیر میں تم نے مٹکا تیار کردیا…” اس کے لہجے میں حیرت تھی۔
    ”ارے! بٹیا، اس ماں جادو کی کے بات ہے کچی مٹی نے تو جیسی چاہو شکل میں ڈھال لیو، ڈھل جاوے ہے۔
    بالکل تم بچہ لوگاں کی طرح، تم چھوٹے بچہ لوگاں نوں بھی جو بھی سکھائو رٹو طوطا کی طرح رٹ لیو ہو یونہی یہ چکنی مٹی اور پانی کی فطرت ہووے ہے۔
    جیسے چاہو صورت میں ڈھال لیو۔ پر جے اگر یہ سوکھ جاوے اور اپنی کوئی شکل لے لیوے تو یہ پکی ہو کر مضبوط ہو جاوے ہے…!”
    ہاتھ جتنی مَشَّاقی سے چل رہے تھے اتنی ہی تیزی سے زبان بھی، جب کہ وہ آٹھ سالہ بچی کچھ سمجھنے اور ناسمجھنے کی کیفیت سے گزرتی نظریں جمائے چاک کی گردش اور دین محمد کے ہاتھوں کے گھمائو میں مگن تھی… ماحول میں گائے، بھینسوں کی جگالی اور چاک کی چرچراہٹ بھی شامل تھی۔
    ”اوئے چھوری…” تبھی سر پر چارے کا گٹھا لادے زینت اماں وہاں چلی آئیں۔
    ”تو تھلے (یہاں) بیٹھی ہے، وہاں تیری ماں تیرے نام کا رولا پا رہی ہے…”
    زینت اماں کی بات سُن کر وہ بے چینی کے ساتھ وہاں سے اٹھ کھڑی ہوئی اور واپسی کے راستے پر چل دی۔
    وہی راستہ تھا، وہی قدم، پر فرق صرف اتنا تھا کہ آتے وقت ان قدموں میں جوش تھا، خوشی تھی مگر اب واپسی کے سمے مایوسی ان ننھے قدموں سے لپٹی اور اُداسی ان چمک دار آنکھوں میں نمایاں تھی۔
    یوں جیسے کسی سے اس کی کوئی پسندیدہ چیز چھین لی جائے۔ یوں جیسے کسی بچے کا پسندیدہ کھلونا ٹوٹ جائے۔
    بالکل اسی طرح گھومتے چرخ کی لٹو کے مانند گھومتی گردش کو دیکھنا اور دیکھتے رہنا اس کا من پسند کام اور کھیل بھی تھا۔
    ٭…٭…٭





    یہ بریک ٹائم تھا۔ اسٹاف روم میں کوئی خاص بات تو نہیں ہورہی تھی۔ بس یونہی سب ایک دوسرے سے اپنے اپنے مسائل ڈسکس کررہے تھے تو کچھ گوسپ اور اس وقت بچوں کی پرورش جیسا اہم موضوع زیربحث تھا۔
    کومل! آپ بہت لکی ہیں جو فی الحال بچوں کا جھنجھٹ ہی نہیں ورنہ نوکری پیشہ خواتین کو گھر اور باہر کی دنیا دونوں کو manage کرنا اور وہ بھی بچوں کے ہوتے ہوئے یہ بہت ہی مشکل ہو جاتا ہے…
    ”نہیں، صاعقہ! آپ نہیں جانتیں دنیا میں لوگ ہمیں کسی بھی حال میں جینے نہیں دیتے۔ اس دفعہ تو حد ہی ہوگئی۔
    لاسٹ ویک اینڈ پر میری خالا ساس کے گھر دعوت تھی اور بھری دعوت میں میری خالہ ساس اور ساس صاحبہ نے مل کر میری سونی گود کی وجہ جاب کو مانتے ہوئے وہ طعنہ زنی کی کہ الآمان…
    بہ قول میری خالا ساس جن عورتوں کے پائوں گھر میں نہیں ٹکتے وہ کبھی بھی اپنے پیروں میں اولاد کی بیڑیاں نہیں پہنتیں…”
    اس نے اپنی خالہ ساس کے الفاظ ہو بہ ہو دہرائے۔ کومل کے لہجے میں اُداسی جھلک رہی تھی۔ کومل کی بات سُن کر تو کچھ پل کے لیے وہاں موجود تمام فی میل لیکچرارز کے درمیان خاموشی سی چھا گئی۔
    ”مس کومل! آپ اُداس مت ہوں، ناسمجھ اور ان پڑھ لوگوں سے ایسی ہی جاہلانہ باتوں کی امید کی جاسکتی ہے حالاں کہ اولاد کا اختیار ہمارے ہاتھ میں کہاں…؟”
    میم عنبر نے اس کی دل جوئی کی۔
    ”ویسے ہماری نیو لیکچرار بھی کافی لکی ہیں اس معاملے میں تو، ان کا ننھا سا اکلوتا بیٹا ان کی ساس و جیٹھانی جو سنبھالتی ہیں، اس لیے یہ تو کافی بے فکر ہیں کیوں نادیہ…؟”
    پروفیسر فرحت نے شرارت سے نادیہ بشیر کو چھیڑا جس کے چہرے پر فخریہ مسکراہٹ پھیلی تھی۔
    ”جی بالکل یہ بات تو آپ نے ٹھیک کہی، ساس کے ہوتے مجھے بڑی آس…”نادیہ بشیر کی بات پر سبھی ہنس دیئے۔
    ”ارے مسز انیس آپ کیوں خاموش ہیں؟ آپ بھی کچھ بولئے، آخر کو آپ بھی بچوں والی ہیں… پروفیسر فرحت کی بات پر لیکچرار رطابہ کا تیزی سے چلتا پین رک گیا۔
    وہ بہ یک وقت اسائنمنٹ بھی چیک کررہی تھی اور ان سب کی باتیں بھی سن رہی تھی۔ اس نے اسائنمنٹ فائلز سائیڈ میں کی۔
    ”میں بہ یک وقت لکی بھی ہوں اور un luckyبھی…”
    ”ایسا کیوں…؟ آپ کے گھر پر تو صبح سے شام تک میڈ ہوتی ہے۔…”
    مس کومل بھی اپنا غم بھول کر سب کی باتوں میں شریک ہوگئیں۔
    ”کہیں ایسا تو نہیں کہ میڈ بچوں پر توجہ نہیں دیتی…؟” صاعقہ نے تبصرہ کیا۔
    ”ہیں؟ میم رطابہ، کیا واقعی یہ سچ ہے…؟ پھر تو ایسی میڈ کو آپ چلتا کریں ویسے بھی آج کل کی میڈ تو ہوتی ہی ایسی ہیں…”
    گوسپ کرتی لیب اسسٹنٹ سائرہ نے بھی ان کی باتوں میں اپنا حصہ ڈالنا ضروری سمجھا جب کہ رطابہ اِن کے فضول تبصروں سے تنگ آگئی۔
    ”افوہ! حد ہوگئی پہلے پوری بات تو سن لیا کرو سائرہ، یونہی شروع ہو جاتی ہو اندازے لگانا۔”
    ارے، میں نے کب کہا کہ میڈ بچوں کو نہیں سنبھالتی، میں تو کچھ اور کہنا چاہ رہی تھی…”
    ”کیا؟”
    سبھی کے چہرے پر تقریباً ایک ہی سوال تھا۔
    ”مانا کہ میری میڈ دوپہر سے شام تک بچوں کے پاس ہوتی ہے پر کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ وہ بچوں کو میڈ بن کر سنبھالتی ہے۔
    ماں بن کر تو نہیں نا…” رطابہ سنجیدہ تھی پر اس کی بات کو سبھی نے شاید غیر سنجیدگی سے لیا تھا۔
    ”چھوڑیں بھی ا تنی قنوطیت بھری باتیں، آج ہم جس مقام پر ہیں، وہاں تک آنے کے لیے کتنے تو پاپڑ بیلے ہیں۔
    یہ چھوٹی موٹی قربانیاں اور سہی، بس کچھ وقت کی ہی تو بات ہے مس رطابہ…” اردو لیکچرار عانیہ میمن نے رطابہ کو تسلی دی۔
    ”اور نہیں تو کیا، آج کل کی جنریشن تو ویسے بھی بہت جینیئس ہے، کوئی پرانے زمانے جیسی تو نہیں کہ ماں کے پلو سے بندھے رہیں…”
    لیکچرار صالحہ کی بات پر سبھی رضامند نظر آرہی تھیں۔
    ”بالکل صحیح کہا، اب میری ہی مثال لیجئے، میں نے جب جاب اسٹارٹ کی تھی تب میرے بچے بہت چھوٹے تھے، پر وقت نے نا صرف بچوں کی پرورش بھی کردی بلکہ مجھے بھی ہمت دی حالاں کہ میرے شوہر تو میری جاب کے خلاف تھے…”
    پروفیسر فرحت جو ناصرف عمر بلکہ تجربے کے لحاظ سے بھی سینئر تھیں انہوں نے اپنی سرگزشت سنائی۔
    ”عدنان نے تو ہمیشہ میری حمایت کی ہے چاہئیں جاب کا معاملہ ہو یا پھر سسرال کے طرف سے ملنے والے طعنے…”
    کومل کے چہرے پر نئی نویلی دلہن جیسی لجاجت پھیلی ہوئی تھی جسے سبھی نے بہ طور خاص نوٹ کرکے ایک ساتھ باقاعدہ چھیڑا تھا جب کہ کومل کو دیکھ کر رطابہ نے سوچا۔
    ”واقعی سہاگن وہی جو پیامن بھائے…”




  • ادھورا پن —- منیر احمد فردوس

    ادھورا پن —- منیر احمد فردوس

    ادھیڑ عمراجوکے لئے ستار ہوٹل اندھیرے میں جلتا ایک ایسا دیا تھا جس کی پھوٹتی روشنی میں وہ اپنے جینے کے راستے تلاش کیا کرتا تھا۔
    دن بھر رکشہ ریڑھی کھینچنے کے بعد شام کو اپنی سانسوں کی اجرت گننے وہ بلاناغہ ہوٹل پر پہنچ جاتا۔
    سانولی رنگت اور درمیانے قد کا دبلاپتلا اجو اپنی بذلہ سنجی اور دل چسپ حرکتوں کی وجہ سے ہوٹل کے مردہ ماحول میںسانسیں بانٹ کر اسے متحرک کر دیتا۔
    وہ اپنے سر کے گرد ہمیشہ نیلاچیک دار مفلر لپیٹے رکھتا جس میں کبھی کبھارسرخ گلاب بھی اُڑسا نظر آجاتا۔
    اپنی سانسوں میں چرس کی ملاوٹ کرنے والے اجو کے منہ سے ایسی پھلجھڑیاں پھوٹتیں کہ ہر بندہ بشر ہنس کے لوٹ پوٹ ہو جاتا۔
    لوگ اس کے مخصوص مزاحیہ انداز میں اس سے فلموں کے ڈائیلاگ اور گھٹی گھٹی آواز میں گانے سُنتے، حکومت اور مختلف سیاسی پارٹیوں کے کبھی خلاف اورکبھی حق میں نعرے لگواتے۔
    وہ ایکٹنگ میں خاصا ماہر واقع ہوا تھا۔ جب کبھی وہ مختلف فلمی اداکاروں کی نقل اتارتا تو ہر طرف قہقہوں کی بوچھار ہوجاتی اور اکثر اپنے منہ سے ساز بجا کر اپنے بے سروپا ناچ سے لوگوں کو دل چسپ تفریح مہیا کرتا۔
    معاوضہ کے طور پر چائے کے ساتھ ساتھ اسے تھوڑی بہت نقدی بھی مل جایا کرتی، جس سے اس کے نشے پانی کاسامان ہو جاتا۔ اجّو صحیح معنوں میں ستارہوٹل کی دھڑکن تھا۔
    شام کا اندھیرا پھیلتے ہی ستار ہوٹل جاگ اُٹھتا اور لوگ دنیا کے بکھیڑوں سے فرار ہو کر وہاں پناہ لینے آ جاتے ۔ جہاں وہ گھنٹوں باتوں اور موسیقی سے بھی لطف اندوز ہوتے رہتے۔





    فضا میں گرم چائے سے اُڑتی بھاپ اور سگریٹ کے تیرتے مرغولوں کے ساتھ ساتھ ہر طرف تمباکو کی سڑاند بھی رچی بسی ہوتی۔
    ہوٹل کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ اب وہ ایک دکان سے پھیل کر دونوں اطراف کی چار پانچ دکانوں کو اپنی لپیٹ میں لے چکا تھا۔ غرض ستار ہوٹل ماں کی طرح تھا، جو دن بھر کے تھکے ماندے افراد کو اپنے پہلو میں بٹھا کر ان کی تھکن اپنے اندر اتار لیتا۔
    مگر حقیقت یہ تھی کہ اس جاگتے ماحول کو دھڑکنیں اجّو ہی عطا کرتا ۔وہ اپنی انوکھی گپ شپ اور منفرد حرکتوں کی بدولت ہر خاص و عام میں اتنا مقبول ہو چکا تھا کہ لوگ اسے شغل مستی کے لئے شادی بیاہ کی محفلوں میں بھی بڑے اہتمام سے بلایا کرتے ،جہاں اجو کے دلچسپ چٹکلوں اور حرکتوں سے محفلیں رنگین ہوجاتی تھیں۔
    اجو کی سب کے ساتھ اچھی خاصی واقفیت ہو گئی تھی اور وہ ہر کسی کے بارے میں تھوڑا بہت ضرور جانتا تھا مگر خود اس کے بارے میں کسی کو بھی صحیح طور سے معلوم نہ تھا کہ وہ کون ہے؟ کہاں سے آیا ہے؟ اس کی ذات، اس کا مذہب اور اس کی پہچان کیا ہے؟ جب کبھی اجّوسے اس کے بارے میں پوچھا جاتا تو وہ ایک دم سنجیدہ ہو کر آنکھیں اوپر کو چڑھالیتا، ماتھے پر بل لے آتا اور گردن ٹیڑھی کر کے اپنے مخصوص انداز میں کہتا: ”اوئے بیوقوفا! تجھے اتنا بھی نہیں معلوم کہ اجّو کہاں سے آیا ہے؟ اللہ سے پوچھ، وہ تجھے بتائے گا کہ اجّو جنت سے آیا ہے۔”
    یہ بات کر کے اجّو خو د ہی ایک بُلند قہقہہ لگاتااور لوگوں کے ہونٹو ںپر ہنسی کی بے شمار تتلیاں رقص کرنے لگتیں۔ اس کی ایسی ہی بے ربط باتوں کی وجہ سے کچھ لوگ اسے نیم پاگل تصور کرتے تھے۔ مگر اکثر وہ بڑی منطقی باتیں کر کے سب کو حیران کر دیا کرتا۔
    مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ایک بار کسی نے مذاق میں اسے پاگل کہہ دیا تھا۔ اجّو کے دل میں یہ بات کسی تیر کی طرح ایسی جا گڑی کہ وہ اس آدمی کے ساتھ ہی بیٹھ گیا اورایک جھٹکے سے اس کی جیب سے پین نکال کر اپنی ہتھیلی پر ایک ٹیڑھی میڑھی سی شکل بنائی۔
    ”یہ کیا ہے؟” اجّو نے ہتھیلی اس آدمی کے سامنے کرتے ہوئے بہت جذباتی انداز میں پوچھا۔غصّے کی شدت سے اس کے ہونٹوں سے جھاگ نکل آیا تھا۔
    ”آدمی ہے۔” اس شخص نے مُسکراتے ہوئے جواب دیا۔
    ”مانتے ہو نا کہ یہ آدمی ہے؟” اجّونے اس پر نظریں جماتے ہوئے دوبارہ پوچھا۔
    ” ہاں مانتا ہوں۔”وہ آدمی بہ دستور مسکراتے ہوئے بولا ۔
    ”اوئے بیوقوفا! جوانسان آدمی کی شکل بنا لے، وہ پاگل کیسے ہو سکتا ہے؟”





    اجّونے طنزیہ کہا اورایک بُلند آواز سا قہقہہ لگا دیا۔وہ آدمی بھی کھسیانا ہو کر ہنسنے لگا۔ اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ آس پاس کے لوگ بھی اس کی بے ساختگی اور سادگی پر کھلکھلا اُٹھے۔
    کبھی کبھی وہ ہوٹل پر کام کرنے والے لڑکوں کا ہاتھ بھی بٹا دیتا اور اکثر لوگوں کی میز وں پر چائے اور پانی کا جگ بھی پہنچادیا کرتا۔ اپنی ان ہی با توں کی وجہ سے اجّو لوگوں کے دلوں پر راج کرتا تھا۔
    مجھے اُس سے اتنا اُنس ہو گیا تھا کہ اسے دیکھنے میں ہوٹل پر ضرور حاضری دیتا۔
    ان ہی دنوں میرے ایک دوست کے بیٹے کی شادی طے پا گئی۔ سب دوستوں کی شدید خواہش تھی کہ شادی میں اجو کو ضرور بلایا جائے اور جب میں نے اسے دعوت دی تو وہ ہنستے ہوئے بولا:
    ”بابو صیب…یہ تو اچھا ہوا کہ آپ نے مجھے بلا لیا اگر آپ نہ بلاتے تو میں یہ شادی ہی رکوا دیتا۔”
    میں اس کی بات سُن کر ہنس پڑا۔ وہ مجھے ہمیشہ بابو صیب ہی کہا کرتا۔ شادی شروع ہوتے ہی اجو ہوٹل سے سیدھا میرے دوست کے ہاں آ جاتا ، جہاں سب لوگ اس کے شدت سے منتظر ہوتے۔
    وہ ہمیشہ قہقہوں کا طوفان اپنے ساتھ لے کر آتا ۔پوری پوری رات شغل مستی میں گزرجاتی۔ مختلف گانوں اورڈھول کی تھاپ پر اجومزے مزے کے ڈانس کرتا، مزاحیہ گانے سناتا، چائے کے دور چلتے، لطیفہ گوئی ہوتی ، پھبتیاں کسی جاتیں ۔ غرض وہ خوب ہلڑ مچائے رکھتا۔ بچے، بوڑھے، جوان سب کے اندر اجو زندگی بھر دیتا۔
    مہندی کی رسم جاری تھی اور اجو ڈھول کی تھاپ پرتھرک رہا تھا، دوسرے لڑکے بالے بھی اس کا پورا پورا ساتھ نبھا رہے تھے بلکہ ایک مقابلے کا ماحول بن گیا تھا۔
    جوں جوں ڈھول کی تھاپ میں شدت آتی جا رہی تھی، اجو کے ڈانس میں بھی تیزی آتی جارہی تھی۔
    تمام لوگ گھیرا ڈالے مسکراتے ہوئے اس کے ڈانس کو دیکھ رہے تھے ، جو پسینے میں ڈوبا نئے نئے انداز میں ٹھمکے لگا رہا تھا کہ اس دوران کسی نے پٹاخے پھوڑدیے۔
    پتا نہیں کیسے داخلی دروازے پر لٹکتے سجاوٹ کے رنگ برنگے بھڑکیلے پردوں پر اچانک چنگاریاں جا پڑیں۔ پلک جھپکتے میں آگ بھڑک اٹھی اور پردے دھڑ دھڑ جلنے لگے۔
    ”آگ لگ گئی ….آگ لگ گئی….” کا واویلا مچ گیا اورچیخ و پکار شروع ہو گئی۔ڈھول بجنا بند ہو گئے اور تھرکتے جسم یک لخت ساکت ہو گئے۔
    آگ… آگ… کی آوازوں نے ماحول میں سراسیمگی بھر دی اور چہروں پر پریشانی کی آگ جل اٹھی۔
    جلتے پردوں اور آگ کی بڑی بڑی لپٹیں دیکھ کراچانک اجو کی حالت غیر ہو گئی اور وہ تھر تھر کانپنے لگا۔
    ”آگ بجھائو….جلدی کرو یار….خدا کے لئے جلدی سے اس آگ کو بجھائو…”





    وہ زور زور سے چلانے لگا ۔ میں اجو کی بوکھلائی ہوئی حالت پر ششدر رہ گیا۔
    شکر ہے کہ کسی نقصان کے بغیرجلد ہی آگ پر قابو پا لیا گیامگر اجو ایک دم سے بجھ گیا اور ساری مستیاں اس کے اندر یوں سو گئیں جیسے آگ پردوں کو نہیں، اس کے اندر کہیں لگی ہو۔
    ہنگاموں سے فارغ ہونے کے بعد جب وہ رات گئے سونے کے لئے لیٹا تو اس کا چہرہ بجھا ہوا تھا۔میری نظریں اسی پر ہی لگی تھیں۔
    وہ کافی دیر تک جاگتا اور بار بار کروٹیں بدلتا رہا۔اسے جب نیند نہ آئی تو وہ اٹھ کر باہر چلا گیا۔ اس کی بے چینی نے مجھے بھی بے چین کر دیا اور تھوڑی دیر بعد میں بھی اٹھ کر اس کے پیچھے چلا گیا۔وہ ایک بند دکان کے تھڑے پر سر جھکائے چپ چاپ بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا اور چرس کی بُو دوردور تک پھیلی ہوئی تھی۔
    ”کیا بات ہے اجو! کوئی مسئلہ ہے کیا؟” میں نے اس کے ساتھ بیٹھتے ہوئے پوچھا ۔ وہ چونک کر میری طرف دیکھنے لگا۔
    ”بابو صیب… کیا آپ کو پتا ہے کہ یہ آگ انسان سے کتنی نفرت کرتی ہے ۔”
    وہ سگریٹ کا کش لگاتے ہوئے بولا مگر میرے جواب دینے سے پہلے وہ دوبارہ گویا ہوا:
    ”بابو صیب…جلتی ہوئی چیزوں میں دراصل انسان کی خوشیاں جل رہی ہوتی ہیںاور بکھری ہوئی راکھ، راکھ نہیں انسان کی خوشیاں ہوتی ہیں۔”
    میں اس کے منہ سے اتنی گہری اور سنجیدہ باتیں سُن کر حیران رہ گیا۔
    ”یہ کیسی باتیں کر رہے ہو اجو؟” میں نے اس کے اداس چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
    ”بابو صیب…آپ نے آگ میں صرف چیزیں جلتی دیکھی ہوں گی مگر میں نے خواہشوں کو زندہ جلتے دیکھا ہے۔
    لوگوں نے آج تک روح نہیں دیکھی ہو گی مگر میں نے روح کو جھلستے دیکھا ہے۔” اس نے دکھی لہجے میں کہااور سگریٹ کا ایک لمبا کش لینے کے بعد اسے تھڑے پر مسل کر دور پھینک دیا۔




  • نگار خانہ — مصباح علی سید

    نگار خانہ — مصباح علی سید

    شام اداس اور ویران تھی۔ ٹھنڈا پڑتا سورج نارنجی تھال سے جھانکتا تھا۔ جیسے جیسے نیچے ہوا کے پھیکے جھونکوں میں تیرتے پنچھی اپنے اپنے آخری دانے دنکے چونچوں میں دبائے آگے بڑھ رہے تھے، وہ مٹھی میں باجرہ چاول لیے چھت پر آئی تھی۔ ڈوبتے سورج کے بعد آجانے والی سیاہی غم کو مزید بڑھانے لگی۔ اس نے دانے پھینک کر دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے کہ پرندوں کی بے ہنگم شور نے اس کا وجد توڑ دیا۔ اس نے خفیف سی گردن گھما کر دیکھا، نگاہوں میں تحیر آبسا تھا۔
    سب لوگ چھوٹے سے صحن میں بیٹھے تھے۔ ابا کچھ دیر پہلے ہی دکان سے آئے تھے۔ جیسے ہی ان کی آمد ہوتی، وہ سارے گھر میں وی آئی پی بن جاتے۔ باجی بھاگ کر پانی کا بھرا گلاس لے آتیں، ٹیپو بوٹوں کی طرف بڑھتا چپل پیش کرتا، آپا گرم گرم روٹیاں اتارنی شروع کر دیتیں اور اماں سب کو ہدایات دیتی کہ ابا کے روبرو بیٹھ جائیں۔ اب بھی ان کے برابر بیٹھی ہاتھ والے پنکھے کو گول گول گھماتی انہیں سارے دن کی روداد سناتے ہوا جھل رہی تھیں۔ ابا نے قمیص اتارتے ہوئے اپنے مخصوص بے زار لہجے میں کہا:
    ”تیرے ہاتھوں میں اگر دم نہیں تو ادھر دے۔”





    انہوں نے نہ صرف پنکھے کی جانب ہاتھ بڑھایا بلکہ تقریباً چھین ہی لیا۔ اماں ”ایہہ” کہتی رہ گئیں۔ اب پنکھے کی ڈنڈی ابا کے ہاتھوں میں گھوم رہی تھی پھر اسی سے پشت کھجاتے کہنے لگے:
    ”جانے کب آئے گی کم بخت۔”
    ”ہائے مر گئے یہ واپڈا والے… ستیاناس ہو اُن کا۔”ابا کی تائید میں صحن کے بیچوں بیچ لگے جنگلے سے نیچے والی منزل کے بڑے میاں نے دہائی دی۔ نچلی منزل کا بند گھر، کئی گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ اور پھر شدید حبس، غصے کے ساتھ گالیاں بھی بنتی تھیں۔
    ابا ان کی بے قراری پر کُھل کر مُسکرا بھی نہ سکے کہ اپنے سٹور سے دھڑ دھڑ قیامت خیز کھڑاک کی آواز آئی تھی اور ساتھ آپا کی دل خراش چیخیں ابھریں:
    ”ہائے میں مرگئی۔”
    ”اسے کیا ہوا…؟ہائے! اسے کیا ہوا؟” اماں سینہ تھامے سٹور کی جانب بڑھیں جہاں بھوت نما آپا چلاتی ہوئی برآمد ہوئیں۔ کچھ دیر پہلے اچھی بھلی آپا کو روٹیاں اتارتے دیکھا گیا تھا۔ ابا کے سامنے ٹرے رکھ کر سٹور سے ان کا بستر ڈھونڈنے گئیں تھیں۔ چادر کا کونا ہاتھ لگا مگر پوری طرح قابو میں نہ آیا تھا، زور لگایا پیٹی پر رکھے بستر کے ساتھ کوئی بھاری سی چیز ان پر آن گری۔
    درد اپنی جگہ، اس سوغات کی خوشبو و رنگینی اپنی جگہ۔ دراصل ٹیپو حد سے زیادہ چٹورا ہو گیا تھا۔ جو چیز دیکھی پیٹ کے دوزخ میں منتقل کرلی۔ اماں نے چُھپ کر اچار ڈال مرتبان اونچی پیٹی پر بستروں کے پیچھے خاصا چھپا کر رکھا تھا۔ چادر کھینچنے سے وہ بھی بدلحاظ بنا آپا سے گلے ملنے آگیا۔ پھر کیا تھا، تیل کی تل چھٹ میں رنگ برنگے مصالحہ جات، آم، آملے اور پھلیوں نے آپا کے وجود پر عجیب وغریب نقش و نگار بنا دیئے۔ عجائب خانے میں رکھتے تو ایک مہینے کا راشن نکل آتا۔ ہاتھ لگانے سے بھی کراہت آرہی تھی۔ اماں کو پہلے اچار کے ضائع ہونے کا قلق ٹھہرا، دو چار اس کے گھونسے جڑے پھر ہنسی آگئی۔ ابا بھاگ کر لالٹین اٹھا لائے، بچی پہچانی تب ساری بات سمجھ میں آئی اور ٹیپو اندھیرے میں ہی اچار کی پھانکیں اٹھا کر بھا گ گیا۔
    ”ستیاناس ہو جائے، اس کلموہی حکومت کا، زندگی سے سارا سکھ چین ہی چھین لیا، جب دیکھو بتی بند، کبھی سالن میں نمک کی جگہ چینی ڈل جاتی ہے تو کبھی چائے میں پتی کی جگہ کلونجی، کہاں تک اپنے دیدوں کی روشنی سے کام لیں؟” اماں کو بے انتہا غصہ آیا۔ سارا اچار بھی تو بدبخت لوڈشیڈنگ کی نذر ہو گیا تھا جیسے ہی اچار کی یاد آئی آپا کی کمر پر جھانپڑ جڑا۔





    ”منحوس! دِکھ نہیں رہا تھا چادر کہیں پھنسی ہوئی ہے، مرتبان نہیں اسے چھوڑ رہا تو تو ہی چھوڑ دیتی۔ اب دفع ہو، جاکر نہا بدن سے تیل کا کیچڑ اتار…”
    ”اوئے ہوئے مِس!…کیسے نہائو گی۔ پانی ختم ہے اور بتی آنے والی نہیں۔”ٹیپو انگوٹھے دکھاتا ناچ رہا تھا۔
    ”ہائے میرے ربّا…” یقین مانو اب آپا کو تیل میں مرچ ہلدی کا احساس ہوا تھا پھر تو سارے بدن میں بھوری چیونٹیاں بھر گئیں۔
    ”میرے اللہ!” اس کی نگاہ آسمان نامی چھوٹے سے نیلے ٹکڑے پر جا ٹھہری۔
    ”قیامت والے دن اس حکومت کو بخشنا نہیں، جس طرح مجھے مرچیں کاٹ رہی ہیں ، انہیں سانپ بچھو ڈسیں۔”
    یہ اس گھر کی ہی نہیں بلکہ چھوٹے سے پیچ دار گلیوں والے علاقے کے دیوار سے دیوار جڑے ہر گھر کی کہانی تھی۔ ڈھونڈتے کچھ ملتا کچھ، پکاتے کچھ پک کچھ جاتا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب نئی نئی لوڈشیڈنگ شروع ہوئی تھی۔ ملک میں ایمرجنسی نافذ ہونے پر بتی جانے لگی۔ لوگ بلبلاتے شور مچاتے، ہڑتالیں، توڑ پھوڑ، ایک دن حکومت نے چھوٹا سا بیان زخم پر برف کی طرح رکھا۔
    ”چند سالوں کے لیے ملک مسائل میں گھرا ہے، تسلی رکھیں پانچ سالوں بعد ہمارے پیارے وطن میں لوڈشیڈنگ کا تصور بھی نہیں رہے گا۔”
    لوجی خوب کہی، پہلے واپڈا اوقات پر پھر اوقات سے باہر ہی ہو گیا۔ لوڈشیڈنگ کا تصور دفعتاً نہیں بچا تھا۔ غالباً لوگ اندھیروں کے عادی ہو گئے تھے۔ اگر کوئی وقت پوچھ لیتا صبح سوا نو سے رات سوا نو تک کی کہانی انگلیوں پر سنا دیتے۔
    ”سوا نو بجے آئے گی، پھر سوا دس بجے جائے گی، پھر سوا گیارہ، سوا بارہ…” آپا نے تو مہارت دکھائی۔ کلاک کے ہندسے ہٹا کر بتی آئی، بتی گئی کا کلاک بنا لیا۔ نئی طرز کا ڈیکوریشن پِیس، پڑوسی پوچھ پوچھ جاتے کہاں سے خریدا ہے۔ حکومت کی پانچ سالہ برف کی نظر کسی کا جمع جتھا، کمیٹیاں، کل پونجی، یو پی ایس کی نظر ہو گئے۔ پھر یہ دیکھا دیکھی ڈینگی کی وبا سے بھی تیز پھیلے۔ پانچ سال گزرے۔ واپڈا اوقات سے کیا سرحدوں سے باہر ہو گیا۔ بتی آئی گئی کا تصور ہی ختم ہو گیا۔ کبھی آرہی ہے تو بے تحاشہ اور کبھی نہیں ہے تو بھلے ساکٹ میں انگلیاں دے لو یا دروازے کے باہر گزرتی تاروں پر پینگیں ڈال لو اور کبھی حسینہ کی طرح پلکیں جھپک جھپک کر چیزیں ساڑ دیتی اور پھر پورے کنبے میں دھینگا مشتی شروع تو کبھی ڈھیٹ بنی سارا دن آوارہ مٹرگشت کرتی۔ میٹرگھما کر اماں ابا کی اتنی لڑائی کرواتی آدھے برتن تو یوں ہی ٹوٹ گئے تھے۔ ”بل کون بھرے۔”
    کچھ دن پہلے کی بات ہے اماں چوکی پر بیٹھی ساگ کی گندلیں صاف کر رہی تھیں کہ یک لخت اپنی اسرافیل کی پھونک جیسی چنگھاڑ نکالی۔
    ”او ٹیپو! اس منحوس فریج کو بند کر دے، آج پاگلوں کی طرح بتی آرہی ہے کہیں چیزوں کو ٹھنڈ نہ لگ جائے۔ پھر تیرا باپ آکر مجھے ٹھنڈا کرے گا۔” نیچے والی منزل کے مائی بابے نے سنا تو قہقہوں سے پیٹ میں بل پڑ گئے۔
    ”اماں!” ٹیپو چھوٹی سی انگلی ٹھوڑی پر جمائے سامنے آکھڑا ہوا۔
    ”آج لائٹ اب تک کیوں آرہی ہے؟” اس نے فریج کی تار کھینچ کر بڑی معصومیت سے پوچھا تھا۔ اماں بدک گئیں۔
    ”آج وہ بدبخت ٹی وی پر بیٹھے گا، اس کی آواز سننے اور تصویر دیکھنے کے لیے دے رہے ہیں۔”
    ”اماں!آج ایگزیکٹو ہمارے ٹی وی پر بیٹھنے آئے گا…” ٹیپو کی مارے حسرت کے آواز پھٹ گئی۔ آواز میں دنیا بھر کا درد اس لیے تھا کہ اگر ایسا ہو تو مخمنی سا ٹی وی کئی حصوں میں بکھر جائے گا اور ابا دوسرا ٹی وی تو قیامت تک نہ لے کر دیں گے۔
    ”ہاں! آکر بیٹھے تو سہی، ڈویاں مار مار سر نہ پھاڑ دوں اس کا… خود تو اے سی لائٹوں والے کمرے میں بیٹھ کر ٹی وی پر آتے ہیں، ایک ہم بے چارے… ہک ہا”
    اماں صد افسوس کرتیں اپنی سبزی اُٹھا کچن کی جانب بڑھیں جہاں ایک اور آفت ان سے لپٹنے کو تیار تھی۔ چند سالوں میں بہ مشکل خود کو بجلی کی لوڈشیڈنگ کا عادی بنایا۔ کچھ دن احتجاج کیا، کھمبے گرائے، تاریں توڑیں، گالیاں بکیں اور پھر بھول بھال گئے۔ عادت بنا لی تھی تو نیا عذاب وارد کر دیا گیا۔ یخ بستہ موسم اوپر سے چولہے ٹھنڈے۔ جب جلائو ”سوں” سائرن بجاتی کان پھاڑ آوازیں جیسے بہت سی ایمبولینیس اکٹھے ہی گزرنا چاہ رہی ہوں۔ کتنی دیا سلائیاں تو اسی جانچ میں ختم ہوئیں کہ اب آئی کہ تب آئی۔ پر ناجی چولہے سے تو کچھ نہ نکلا البتہ اماں کے وزن سے بھی بھاری مغلظات ان کے منہ سے ابلیں۔ حکومت کی آنے جانے والی دس دس نسلوں کو کوسا۔
    پچھلے ہفتے کی بات تھی۔ ابا کو بخار چڑھا تھا، ان کے لیے نرم غذا کے طور پر دلیہ بنانا تھا۔ اماں نے سارا دن تھاپی مار مار ٹھنڈے پانی میں کپڑے دھوئے، جسم اکڑ گیا اور ٹھنڈ چڑھ گئی تو آپا سے ابلے انڈے اور چائے کے پیالے کی فرمائش کی۔ اکتاہٹ بھری آپا نے اپنے ناگوار منہ کو مزید بے زاریت سے سجایا۔ مرے قدموں سے جا کر چولہا جلایا، جو حسبِ عادت رانجھا بنا سارنگی بجا رہا تھا۔ آپا دھر سے چلائیں۔ ”اماں گیس نہیں آرہی۔”





    ”چولہے کو اٹھا، باہر پھینک دے منحوس کو، خواہ مخوا رش بڑھا رکھا ہے۔” اماں نے بلبلا کر کہا آپا تو اس مزاح کو انجوائے کرتی کمرے میں چلی گئیں، اپنی کہانی جو پوری کرنی تھی۔ البتہ ٹیپو سمجھا شاید چولہا پھینکنے سے گیس آجائے گی۔ آپا کی حکم عدولی پر تلخ نگاہ سے انہیں گھورا اور تیزی سے کچن کی جانب بڑھا، والوسے پائپ کھینچ، چولہا اٹھا کر گلی کی کھڑکی کی جانب بڑھنے لگا، صحن میں لگے سیاہ جنگلے میں پائوں پھنسا اور نچلی منزل والے بڑے میاں کے آدھے خالی سر پر برنر کی آہنی ٹھیکری جا گری۔ لو بتائو کوئی پوچھے اس عمر میں کیا تُک بنتی ہے صحن کے بیچ و بیچ جنگلے کے نیچے بیٹھ کر گنگناتے ہوئے اپنے جھالر نما بالوں پر خضاب لگانے کی؟ مانا بتی نہیں تھی پر کبھی تو آتی۔ کون سا ابھی بارات چڑھ رہی تھی۔ مگر نابھئی، پھڑوالیا اپنا طبلے جیسا ماتھا، حالاں کہ اچھی طرح پتا ہے پچھلے ہفتے کروشیابنتی بڑی اماں کے اوپر غلطی سے باجی سے چائے چھلک گئی تھی اور اماں کے پائوں سڑ گئے تھے۔ تب تو بڑے میاں گردن گرائے بیگم پر خوب ہنسے تھے مگر آج اف! کچھ نہ پوچھو۔ بابا جی نے جو قیامت خیز ہوٹر بجائے، چیخ و پکار، گالی گلوچ، چولہا تو وہاں ہی دھرا رہ گیا اور دونوں گھروں کے تمام افراد آپس میں خوب گتھم گتھا ہوئے۔ بڑے میاں کی بہویں نکل آئیں، پوتا پوتی اماں کی ٹانگوں پر چوہوں کی طرح دندیاں ماریں، کسی کے بال کسی کے ہاتھ۔ بڑے میاں کا خضاب اور خون ایک ہو کر چہرہ بہت ہول ناک لگ رہا تھا۔ ایسے میں بخار میں پھنکتے ابا گھر داخل میں ہوئے ان کا جی چاہا سب مل کر مجھے ہی مارو شاید بخار سے ٹوٹتے بدن کو کچھ افاقہ ہو۔ دوا تو پہنچ سے دور تھی۔ کچھ محلے کے لوگ بیچ میں پڑے، صلح صفائی ہوئی تب سب نے مل کر واپڈا پلس گیس کا غائبانہ جنازہ اٹھایا۔ ایسے جنازے دھکا کالونی میں روز اٹھتے تھے۔ نام پر حیرت ہو رہی ہو گی۔ بھئی یہ کالونی ایک مشہور سیاسی لیڈر نے اپنے سیاسی عزائم پورے کرنے کے لیے ناجائز تجاوزات پر غریبوں کے لیے آباد کی تھی اور فی الوقت رہائش پذیر اپنی قسمت کے دھکوں سے اسے چلا رہے تھے۔ خیر…
    جب شروع شروع گیس جانے لگی تو لگا شاید کہیں نئی پائپ لائن بچھ رہی ہے پھر خیال گزرا بلوچیوں کے ڈیرے پر لڑائی ہو گئی ہو گی ایک دوسرے کا سرپھاڑنے کے بجائے راکٹ مار کہ گیس کا کنواں پھاڑ دیا ہوگا۔ لیکن جب تواتر یہی مصیبت نازل رہی تو سب عورتیں اکٹھی ہوئیں اور تھانے دار کی طرح تنی بیلن، چمٹے، ڈویاں اٹھا پہنچ گئیں چوک پر، بے چارے بھوکے پیٹ یا سوکھے پاپے کھا کر رزق کی تلاش میں سکول اور دفاتر کو نکلے پسماندگان کا رستہ روک لیا۔ ٹریفک جام… کیا ان خواتین نے خاندانوں میں آگ لگائی ہو گی جو اس وقت سڑک پر لگائی۔ ایک بے چارہ سردی سے ٹھٹھرا مسافر لمحے کے لیے ہاتھ سینکنے کھڑا ہو گیا۔ بوڑھی سی اماں نے ہاتھ لمبا کر کے اس کے بازو پر ڈوئی ماری۔
    ”اوہ منحوس! تیرے سینکنے کو نہیں دہکائی، اس کا دھواں حکمرانوں کے دیدوں میں چبھانے کے لیے لگائی۔” اتنا ہنگامہ برپا ہوا۔ میڈیا اکٹھا ہو گیا، حکومت کے خلاف نعرے بازی، گالیاں، بددعائیں۔ جلتے پتوں کی خبر حکومت تک بھی پہنچی۔ انہیں بھی ٹھنڈی برف کا گولہ مرہم کی طرح تھما دیا۔
    ”حکومت اقدام کر رہی ہے، جلد حل نکلے گا۔”
    اور حل نکل بھی آیا۔ گھروں میں گھنٹہ بھر کے لیے گیس آنے لگی۔ وہی خواتین جو آٹھ آٹھ بجے تک چارپائیوں پر کھٹمل کی طرح اینٹھی بیٹھی رہتیں۔ پھرکی کی طرح گھوم کر اٹھتیں، نشئیوں کی طرح جھومتی جھامتی ٹم ٹم جلتے چولہے پر ہانڈیاں پکانے لگیں۔ ساری کالونی کے چولہے یک لخت جل اٹھے۔ گیس ٹم ٹم سے ٹماٹم ہو گئی۔ کسی کی ہانڈی پکی، کسی کی کچی، باہر نکل نکل اک دوجے کے دروازے بجا بجا کر اپنا چولہا ہلکا کرنے کی استدعا، پھر حکم اور پھر وہی دھینگا مشتی۔ مفت میں پوری دنیا ہالی وڈ کی ریہرسل سے مستفید ہوئی بلکہ کچھ من چلوں کے دل کی مراد پوری ہو گئی۔ جب حسینہ دروازہ بجاتے آتی تو اک محبت نامہ ہاتھ میں تھما دیتے۔ کوئی بڑھا ہاتھ جھٹک دیتی اور کوئی رقعہ پلوسے باندھے مٹکتی اپنے گھر کی طرف۔ پرسوں آپا گئیں تھیں۔ مٹھی میں رقعہ لے آئیں دس بار پڑھا۔ حکومت کی پالیسی کو دعائیں دیں رابطے کہ کا ذریعہ بنایا۔ آج صُبح دروازہ بجا، سامنے والا رشید انتظار میں تھا۔ دروازہ کھولتے ہی نازُک ہاتھ تھامنا چاہا اور چنگھاڑ نکلی۔ غالباً آج اماں گئیں تھیں۔ اس کی حرکت پر ہاتھ میں پکڑا گرم چمٹا دے مارا۔
    ”منحوس مارے میں تو چولہا ہلکا کرنے کا کہنے آئی تھی، تو آوارگی پر اتر آیا…”
    پھر کیا بتائیں کتنوں کی ایسی حرکتوں پر کیسی کیسی ٹھکائی ہونا۔ روز کا معمول بن گیا۔





    عوام بھی کہاں تک احتجاج کرتی؟ حکومت تو بھیجے میں میخیں ٹھونکے نشے میں چور تھی۔ مفاہمت پسند عوام نے متبادل ڈھونڈ لیا۔ پہلے سے کم خرچے مزید گھٹائے اور کسی نے چھوٹے سلنڈر، تو کسی نے تیل کے چولہے رکھ لیے۔ اماں تیل کے چولہے سے خوف زدہ تھیں۔ پچھلی گلی کی جوان لڑکی مری تھی۔ انہوں نے ابا سے سلنڈر کی فرمائش کی۔ وہ لے بھی آئے اور رات کو اپنی چارپائی کے نیچے رکھ کر سوتے کہ کہیں گھر کی گیس سمجھ کر راتوں کو عیاشی شروع نہ ہو جائے۔ دن میں اس دوکلو گیس پر اماں پہرہ بٹھا دیتیں۔ آپا جیسے ہی سلنڈر کی طرف بڑھتیں، اماں اپنی پاٹ دار آواز میں دھاڑتیں، ساتھ ہی بونس میں اڑتی ہوئی جوتی بھی آتی۔
    ”اے منحوس ماری! بلینک (بلیک) میں بھروائی ہے پانچ سو کی… اب آنے بہانے اڑا نہ دئیو…” خیر جیسے تیسے بچے پراٹھے کھا کر سکول جانے لگے۔ گیس بجلی کا نہ ہونا معمولات میں شامل ہو گیا اور ہم دنیا کی واحد قوم ہیں جو اپنے مسائل حل کرنے کے بہ جائے پہلے معمولات بناتے ہیں پھر اُن سے لطف اندوز ہونے میں ہمارا کوئی ثانی نہیں۔ پٹرول، سی این جی کم ہونے کا رونا پڑا، کچھ دن جلسے جلوس نکالے لیکن پھر عقل پر ماتم کیا۔ لوبھلا یہ تو حکومت نے بلامعاوضہ تفریحی سیشن کا بندوبست کیا ہے۔ غالباً جو مزہ لائنیں دیکھنے کا ہے وہ کہیں بھی نہیں، خاص کر اگر اس میں بارات کھڑی ہو۔
    ارے واہ! کہاوت تو اب صحیح مانوں میں پوری ہوئی تھی۔ پہلے لوگ جوتیاں گھسا کر دلہن لاتے تھے اب ٹائر رگڑوا کر اور بسا اوقات یہی ٹائر کچھ آگے پیچھے کرنے کے چکر میں بندے کچکچاتے دروازے کھول باہر نکل آتے، یقین مانو کیا مجنوں چاک گریباں لیلیٰ کے شہر پہنچا تھا جو دلہا حاضرِ خدمت دلہن ہوتا۔ باراتیوں کے ہیئراسٹائل الگ بدل جاتے۔ جب ایسی صورتِ حال پانی کے فلٹراسٹیشن پر ہونے لگی۔ خالی کینوں والے بھرے کین والے پر ٹوٹ پڑتے اور بھرے کین والا طیش میں آکر اپنا بھاری بھرکم کین سامنے والے کو مارتا۔ پانی سے توخیر ہاتھ دھوتا سو دھوتا سامنے والا دانتوں سے بھی دھل جاتا۔ باقی حاضرین کو ہنسی کے دورے پڑتے۔ پیٹ کے اکثر امراض تو ایسے مجمع کو دیکھ کر ہی ٹھیک ہو جاتے۔ ابا کا بھی جب پیٹ خراب ہوتا یا بجلی کے انتظار میں فارغ بیٹھے بیٹھے تنگ پڑ جاتے تو اپنی پیکو فیشن ڈھک سائیکل اٹھا کر کبھی سی این جی اسٹیشن تو کبھی پانی کے سرکاری فلٹر کا رخ کرتے ۔ مفت کا اسٹیج شو خاصا دل بہلا دیتا، بغیر دوا کے بندہ ٹھیک۔ بھئی اتنی شان دار پرفارمنس اور سلطان راہی، مصطفی قریشی اور شان کی نہ رہی تھی جتنا ٹیلنٹ اس ”نیوجنریشن” میں تھا۔




  • سال ۲۰۴۰ کی سیر —- فریحہ واحد

    ہوا میں تازگی قدرے کم تھی، اب تک لوگ شاید اِس سوکھی ہوا کے عادی ہوچکے تھے ۔سورج نے بھی اپنی فوج میں چند ہزار مزید شعاعیں بھر تی کی تھیں جو کہ خاصی ماہر معلوم ہو تی تھیں۔۔۔ مگر انسانوں سے بھلا اس کا کیسا مقابلہ؟ اور وہ بھی امیر انسانوں سے ۔۔۔ جب کہ سال دو ہزار چالیس میں ان کھر چ کر رکھ دینے والی شعا عوں کو اپنا شکار اب بھی میسر تھا۔ پاس کھڑی آسمان کو چھوتی ان گنت عمارتوں سے مقابلہ نہ کر پانے والے تعداد میں بہت ہی کم سائے دار درخت ، ننھے ننھے پیارے پیارے پھول پتے ، زبان سے محتاج بے زبان جانور اور۔۔ اور غریب۔
    آج عیلی کے دسویں گریڈ کا آخری امتحان تھا ۔ تیاری میں مگن عیلی نے دو راتیں بِنا سوئے ایک پراجیکٹ بنا یا تھا۔ مگر وہ اب بھی پوری طرح مطمئن نہ تھی اور آرکیٹیکچرل ڈسپلے گلاس نامی ٹیکنالوجی کا بہ خوبی استعمال کرتے ہوئے شیشے کی بنی دیواروں پر تیزی سے انگلیاں گُھماتے ہوئے آج کے امتحان کے لئے تیار کی گئی اپنی پریزنٹیشن کا اعادہ کر نے کے ساتھ ہی اپنی پرو فائل پر ایک نظر گھمانے لگی تھی گو یا کوئی ٹچ اسکرین مو بائل ہو۔ اعادہ اور ملا حظہ کر لینے کے بعد اسے کچھ بھوک سی محسوس ہونے لگی تھی۔ اس نے زمین میں لگی ایک ٹائل پر اپنے انگوٹھے کو ایک مخصو ص طریقے سے پھیرا اور وہ ٹائل بنا کسی ہدایت کے اس کے مطابق چلنے لگی تھی اور اسے باورچی خانے لے آئی جہاں اس نے پاس کھڑے نو کر احمد کو انڈا بنا نے کا حکم دیا اور وہیں پر کھڑے ہوکر کچن کی دیوار پر تیزی سے انگلی پھیر کر اپنی پروفائل اور اپنے دوستوں کے کارنامے ملاحظہ کرنے لگی تھی۔





    احمد نے ماربل کے سلیب پر ایک مخصوص جگہ پر انگلی سے دائرہ بنایا اور اس پر انڈا توڑ کر ڈال دیا۔ اس دائرے سے نکلتی دکھائی نہ دینے والی تپش سے وہ انڈا چند سیکنڈ میں تیار ہو گیا اور وہ تپش اپنے آپ بند ہو گئی۔ اس نے وہ انڈا ایک پلیٹ میں ڈال کر سر ونگ ٹرالی پر رکھا اور اس پر بنے ایک بٹن کو دبا دیا جہاں لکھا تھا "عیلی کا کمرہ” اور وہ ٹرالی عیلی کے کمرے کی طرف روانہ ہو گئی اور اس کے پیچھے عیلی بھی اپنی ٹائل سمیت اپنے کمرے میں جا پہنچی۔ اس نے چُھری کانٹے سے آدھا انڈا مکمل کیا ہی تھا کہ اتنے میں کمرے میں لگا الارم انگریزی میں کچھ ہدایت دینے لگا۔
    ”عیلی یو ہیو جسٹ ٹین منٹس لیفٹ، ٹو ارائیو دا اسکول” (عیلی تمہارے پاس صرف بیس منٹ بچے ہیں اسکول پہنچنے کے لیے) عیلی کو یہ سنتے ہی اپنے چہرے کی فکر ہونے لگی اور اس نے بناوقت منٹ ضائع کئے گلا س کی بنی دیوار پر ایک بار پھر انگلی گھمائی اور مرر موڈ ایکٹیویٹ کر دیا اور وہ دیوار اب آر پار دکھانے کی بہ جا ئے صرف اس کا چہرہ دکھا رہی تھی۔ ہر بار اپنے دودھیائی چہرے، لمبے گھنے سیدھے اور سنہری بالوں کو دیکھ کر اس کا خون دو کلو اور بڑھ جاتا۔ وہ خود کو سنو وائٹ یا سلیپنگ بیوٹی نہ سمجھتی بلکہ اسے تو خود میں مشہور ہالی ووڈ گلو کارہ ٹیلر فسیٹا کا عکس دکھائی دیتا تھا جو کہ اپنے زمانے کی شہرت یافتہ گلو کارہ ٹیلر سوئفٹ سے خا صی متا ثر تھی۔ مگر یہ خیال بھی اسے زیادہ دیر خو ش نہ رکھ سکا کیوں کہ اس کے دماغ میں فوراً ہی گھر کے نوکر، احمد کی بیٹی رِمی کی شکل آئی تھی جس کی چہرے سے زیادہ اس کی آنکھیں حسین تھیں اور وہ بھی بنا کسی خرچے یا علاج کے۔۔۔ مگر سب سے بڑی اور دل دہلا دینے والی بات تو تب سامنے آئی جب اس نے دو ہزار سترہ کی ایک اور پر کشش اور کڑوڑوں فالوؤرز رکھنے والی ہالی وڈ اداکارہ کو دیکھا جس کے نین نقش اسے ہو بہ ہو رِمی سے ملتے جلتے معلوم ہوئے۔ تب سے اب تک رِمی ، عیلی کی آنکھوں کی پتلیوں اور دل کی کنجیوں میں جگہ تو دور اس کے سوشل ورک کے دائرے میں بھی جگہ نہ بنا سکی، جہاں وہ ضرورت مندوں پر اپنے ابا حضور کا پیسہ لٹانے کے باعث ڈھیروں شہرت کے ہار کما چکی تھی۔ روزِحشر کا تو معلوم نہیں۔۔۔ ہاں مگر سو شل میڈیا ضرور اسے جنتی قرار دے چکی تھی۔ مگر عیلی نے وقت کا لحاظ کرتے ہوئے فوراً ہی سب خیالا ت جھٹکے اور اپنی آنکھوں کے گرد سیاہ ہلکوں پر ایک ڈنڈی نما چیز پھیری اور وہ گہری سیاہی جیسے کہیں غائب ہو گئی۔





    حسینہ گھر کے اندر کھڑی چیئر لفٹ کے ڈبے نما گاڑی کی طرف چل دی مگر اِن نئی گاڑیوں سے عیلی سے زیادہ اسی کی امی بڑی خو ش تھیں کیوں کہ سال دو ہزار پچیس کی گا ڑیوں کو چلانے کے لئے وہ انگوٹھے کے استعمال پر مجبور تھیں اس کی بھی وجہ در حقیقت یہ تھی کہ ایک بار انہوں نے گاڑی کی سیٹنگ کچھ یوں کر رکھی تھی۔ کہ جب تک وہ شیشہ ان کے ہنستے ہوئے چہرے کا دیدار نہ کر لیتا وہ نہ کھلتا مگر ایک بار وہ کچھ اِس طرح تیار ہوئی کہ سائنس دانوں کی سب سے اعلیٰ تخلیق اس گاڑی کے اندر موجود مائیکرو روبورٹس نے بھی انہیں پہچاننے سے انکار کر دیا اور اس حادثے کے نتیجے میں وہ انگو ٹھے کو ہی غنیمت جانتیں، مگر اب ان کی یہ مشکل بھی دو ہزار چالیس نے حل کر دی تھی۔
    عیلی اپنی گاڑی کے پاس جا کھڑی ہوئی ۔ اس گا ڑی نے جیسے عیلی کے آتے ہی اس کی خوشبو سونگھ لی یا شاید اسے دیکھا یا محسوس کیا تھا کہ اس کے آتے ہی اس نے اپنے سلائیڈنگ ڈو ر کھول دیے تھے۔ سلائیڈنگ ڈور کُھلتے ہی وہ گاڑی کے اندر جا بیٹھی۔ سلائیڈنگ ڈور بند ہوا اور اسکرین پر پانچ جملے نمودار ہوئے:
    1۔ ڈرائیو ٹو اسکول (اسکول چلو)
    2۔ ڈرائیو ٹو ہوم (گھر لے چلو)
    3۔ ڈرائیو ٹو ہائیپر اسٹار (ہائیپر اسٹار لے چلو)
    4۔ ڈرائیو ٹو ہیمیز ہاؤس (ہیمی کے گھر چلو)
    5۔ آئی ول ڈرائیو ، وانٹ ٹو گو سم ویئر ایلس (میں خود چلاؤں گی، کہیں اور جانا ہے)
    اس نے پہلے آپشن پر انگلی سے پریس کیا اور وہ بلٹ پروف گاڑی چل پڑی ۔ گاڑی کے چلتے ہی اسے پھر سے بھوک محسوس ہو نے لگی تھی۔ اس نے گاڑی کے ڈیسک بورڈ کی جگہ سکرین پر کچھ انگلیاں پھیریں اور نہ جانے ایسا کیا جادو کیا کہ اس گاڑی کی چھت سے ایک چھوٹے سے ہوائی جہاز کی طرح کا ٹکڑا نکل کر اُڑنے لگا تھا اور شاید اس کے کھانے کا انتظام بھی اب اس ننھے ہوائی جہاز کے ذمہ تھا۔ اپنے پسندیدہ کھانے کی طرف سے اب وہ بالکل بے فکر تھی کہ اب وہ جانتی تھی کہ اس کے حکم کے مطابق اس کا کھانا اسکول میں پہنچا دیا جائے گا۔ اسکول پہنچتے ہی گاڑی کا دروازہ کُھل گیا اور اس نے اُترتے ہی گا ڑی کے نیچے لگے ایک بٹن کو دبادیا۔ اس بٹن کے دباتے ہی گاڑی کا ایک پہیہ باہر آیا اور اس میں سے ایک اور پہیہ نکل آیا جس کے دونوں طرف ایک ایک پلیٹ لگی تھی۔ عیلی نے دونوں پلیٹس پر اپنا ایک ایک پاؤں رکھا اور وہ پہیہ عیلی کے مطا بق چلنے لگا اور اسکول کے دروازے کے عین قریب لا کھڑا ہوا۔ اسکول کے باہر لگے گلاس کے دروازوں نے خاموشی سے چند سیکنڈ کے اندر عیلی کی چیکنگ کی اور عیلی کے اندر جانے تک اپنی بانہیں کھولے کھڑا رہا اور اس کے اندر جاتے ہی دوبارہ بند ہوگیا۔ اِس ائیر کنڈیشنڈ اسکول میں پڑھنے والے بچوں نے کبھی سورج کی شعاعوں کا سامنا نہ کیا تھا مگر۔۔۔ مگر ان بچوں نے بھی کیا قسمت پائی تھی کہ اِن تپتی لکیروں سے بھی زیادہ بے چین کردینے والی چیزیں ان سے منہ چڑھ کر باتیں کرتی تھیں جس میں سرِفہرست تعلیمی میدان میں بر پا وہ مقابلہ تھا جس میں ہر طالبِ علم ایک جنگ جو کے مانند تھا۔ اب وہ بے چارے کرتے بھی تو کیا کرتے؟ دن بھر ایسے کام کی تلا ش میں رہتے کہ جس سے سو شل میڈیا کی رونقیں بڑھائی جا سکیں اور پھر ایسی ایسی تصویریں اورمواد جمع کرتے جو ان کے ہر جاننے والوں کو ہلا کر رکھ دیتا۔ آج بھی اِس جدید دور میں رشتے داروں اور جاننے والوں سے چاہے سال ہا سال ملا جا تا یا نہیں لیکن ایک تعلق تو ان کے درمیان تقریباً ایک صدی سے چلا آرہا تھا۔ وہ تعلق تھا جلانے اور جلنے کا تعلق۔۔۔ اور اِس تعلق میں اتنی طاقت اور گہرا ئی تھی کہ اپنے ہر عمل سے پہلے، ان کو اور ان کی پسندو نا پسند کا خاصا خیال رکھا جاتا، اور اب یہی ان کی تسکینِ روح کا ذریعہ تھا۔ اب اِس مصروف ترین دن میں اپنی اعلیٰ صلاحیتوں کا بہترین مظاہرہ کر لینے کے بعد وہ سب ہی سپہ سالار نو جوان اپنے بزرگوں کی روایت کو اِس جدید دور میں بھی فروغ دیتے ہوئے رات رات بھر جاگ کر گریڈز کی جنگ میں اپنے جھنڈے گاڑنے کو جُٹ جاتے اور ہر ممکنہ کوشش کرتے ہوئے کتے بلّیوں سی زندگی گزار رہے تھے۔۔۔ نہ کھا نے کی کچھ خبر تھی نہ سونے کی۔۔ مگر اِن سب میں اس ظالم اسکول مینجمنٹ کا بھی بڑا ہاتھ تھا۔ دراصل ترقی یافتہ تعلیمی اداروں کی نئی پالیسی کے تحت اب طالب علموں کے امتحانی نتائج اور ان کے بنائے گئے پراجیکٹس ان کی پروفائلز پر بھی متعارف کروائے جاتے اور ہزاروں نظریں اپنے نشتر لئے اِس گھڑی کی منتظر رہتیں۔۔۔ کب کس کو یہ نشتر نشتر کھانا پڑے۔ مگر یہ وہی زندگی تھی، جو ان کے نزدیک ان کی شان کو برقرار رکھنے میں مدد دیتی۔ مگر اِس دور کے لو گوں کی ہر ایک حرکت اِس بات کی چیخ چیخ کر گواہی دے رہی تھی کہ اب بھی ایک ایجاد باقی ہے۔۔۔ ہاں باقی ہے جو سائنس دانوں کے لئے اب بھی ایک للکار تھی اور شا ید وہ اِس میں کبھی کام یاب ہو بھی نہ سکے۔۔۔ اور وہ ایجاد تھی ایک ایسے آلے کی جو اس جدید دور کے لوگو ں کے رویے اور ذہنیت کو بد ل سکے جو اب بھی ہو بہ ہو ایک تیس سال پرانے معمولی انسان سی ہی تھی۔۔۔۔ خیر اِس من پسند زندگی کے لئے اس گھر کا ہر چھوٹا بڑا، دل ہی دل میں عیلی کے مرحوم دادا کو ہی داد دیتا پھرتا تھا۔ جنہوں نے اپنی پوری زندگی اپنے بال بچوں کے لئے کمانے میں گزار دی اور ماشااللہ اتنا کمایا کہ آج بھی سیف اللہ شریف کے لئے پیسہ ہاتھ کے میل سے زیادہ نہ تھا ۔یہی وجہ تھی کہ عیلی جیسی عام شکل وصورت کی لڑکی بھی اب کسی مومی گڑیا سے کم نہ لگتی تھی ۔۔۔ اور بھلا کس چیز کو ان نوٹوں نے نہ بدلا تھا؟ عیلی کی سانولی رنگت اور سوکھے گھنگھریالے بالوں سے لے کر چہرے پر بار بار اُگ آنے والی مونچھوں تک سب ہی مسائل تو اس کے دنیا میں آنے سے پہلے ہی حل کر دیے گئے تھے۔۔۔ ایسے دادا دعائوں اور داد کے مستحق نہ ہوتے تواور کیا ہوتے؟۔۔۔ دراصل معاملہ بھی کچھ یوں تھا کہ سیف اللہ شریف کے مرحوم والد اور عیلی کے محنتی دادا اپنے زمانے کے ایک نام ور سیاست دان رہ چکے تھے۔۔۔ پھر پیسا تو قدرتی چیز تھا۔




  • خربوزہ کہانی — عائشہ تنویر

    آم پھلوں کا بادشاہ ہے اسی لیے سب کا راج دلارا ہے۔ امیر، غریب سب کی آنکھوں کا تارا ہے۔ اسی لئے سخن کے بادشاہ مرزا غالب نے پھلوں کے بادشاہ کے بارے میں کہا تھا کہ آم میں دو خصوصیات ہونی چاہئیں۔ ایک یہ کہ میٹھا ہو، اور دوسرا یہ کہ زیادہ۔ اپنی اسی ہر دل عزیزی کے باعث اس کا مزاج اور ریٹ آسمان سے باتیں کرتا ہے اور اعلیٰ کوالٹی کا آم مغرور حکمرانوں کی طرح اپنے ملک کی عوام سے ملنے کی بجائے زرمبادلہ کے بہانے باقی دنیا کی سیر کو چلا جاتا ہے۔ اور زیادہ تو دور کی بات، عوام تو تھوڑے کی پہنچ سے بھی ایسے دور ہیں جیسے بچوں کی پہنچ سے دوائیں۔ عوام بے چاری محبت سے بے قرار جو جیسا ملے اس پر ہی اکتفا کرتی ہے۔
    لیکن اب زمانہ بدل گیا ہے۔ جمہوریت آچکی ہے اور پھلوں میں بھی آم کی آمریت ختم ہو چکی ہے۔ اب وقت ہے آم سے عوام تک کے سفر کاجی ہم بات کر رہے ہیں عوامی پھل خربوزے کی۔ جو آم جیسی چمکتی زرد رنگت تو نہیں رکھتا، لیکن اس کا پھیکا پیلا پن بھی کچھ لوگوں کو بہت بھاتا ہے۔
    آم نے اگر محاوروں میں جگہ بنائی ہے اور ”آم کھائو پیڑ نہ گنو، آم کے آم گٹھلیوں کے دام” سننے میں آتا رہتا ہے تو ہمارا خربوزہ بھی کسی سے پیچھے نہیں۔ ”خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے” اور ”چھری خربوزے پر گرے یا خربوزہ چھری پر کٹتا خربوزہ ہی ہے” بھی آپ نے سن ہی رکھا ہوگا۔
    خربوزہ غریبوں کا عوامی پھل ہے، اسی لئے دوا بھی کہلاتا ہے اور غذا بھی۔ اپنے عوامی مزاج کی وجہ سے یہ آم کی طرح خوشبو پھیلاتا اپنی آمد کا اعلان کرتا نہیں آتا، اسے چھپ کر بھی کھا لیا جائے تو گھر میں فساد کا سبب نہیں بنتا اور کسی کو پوچھ بھی لیں تو وہ سارا چٹ کرنے کی حسرت نہیں رکھتا ۔





    درحقیقت خربوزہ لڑکیوں کا پسندیدہ پھل ہے۔ نا یہ آم کی طرح جسم کو موٹاپے کی طرف مائل کرتا ہے اور نہ ہی چاند جیسے چہرے پر داغ کی صورت پمپلز پیدا کرتا ہے ۔آم کی طرح یہ مکھیوں کو دعوتِ عام دے کر گھر کی صفائی پر حرف بھی نہیں اٹھاتا۔ سب سے بڑی بات یہ کہ اس کے اچار، چٹنی، مربے کی فرمائش کر کے نازک اندام حسینائوں کو امتحان میں نہیں ڈالا جا سکتا۔
    آم کی طرح خربوزے کی گٹھلی بھی اٹ کر آپ کے کپڑوں پر نہیں گرتی۔ یہ آم کی طرح آپ کا منہ بھی پیلا نہیں کرتا، جس سے آپ کے مہذب ہونے کا بھرم بھی رہ جاتا ہے۔ زندگی اور خربوزے میں یہ قدر مشترک ہے کہ پھیکا بھی نکل آئے تو پھینکے نہیں جا سکتے۔ ہم کہتے ہیں پھینکنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔
    بھئی سکرین کا انجکشن صحیح نہیں لگ پایا تو یہ خربوزے والے کا قصور ہے، اس میں بے چارے خربوزے کی کیا غلطی؟ زندگی میں رنگ بھرنا بھی ہماری محنت کا ہی نتیجہ ہوتا ہے اور خربوزے کو ذائقہ بھی ہم اپنی مرضی سے دے سکتے ہیں۔ چاہے تو چینی ڈال کر کھائیں، چاہے نمک… کوئی سلیقہ مند بی بی تو آپ کو اس کی ترکاری بھی بنا دیں گی۔
    خربوزے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس کے بیج بھی کھائے جاتے ہیں۔ سو اگر یہ پھیکا نکل بھی آئے تو آپ گھاٹے میں نہیں رہے۔ اگر آپ نے گھر میں بکری یا مرغی پالی ہے تو اس کے کھانے کا انتظام چھلکوں اور بیج سے ہو جائے گا، ورنہ کسی حکیم کو دے دیں تو وہ خشک کر کے دوا میں استعمال کرلیں۔
    ہمارے ایک جاننے والے خربوزے کے رسیا ہیں، خربوزہ اس قدر رغبت سے کھاتے ہیں کہ خربوزہ بھی اپنی قسمت پر رشک کرتا ہے ۔کسی وقت بھی آپ انہیں کہیں وہ خربوزے کے فوائد اور آم کے نقصانات پر تقریر کر سکتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ شاید ان کی ذیابیطس ہو جو انہیں آم سے دور ہی رہنے پر مجبور رکھتی ہے۔ کھانے سے پہلے وہ خربوزہ کھاتے ہیں کہ اس سے بھوک کھلتی ہے۔ پھر وہ خربوزہ کھاتے ہیں پیٹ بھرنے کے لئے اور کھانے کے بعد وہ خربوزہ یہ کہہ کر کھاتے ہیں کہ ذرا ہاضمہ ہو جائے۔
    خربوزے میں پانی کی بہت بڑی مقدار شامل ہوتی ہے، سو کھانے کے وقفوں میں جسم میں پانی پورا کرنے کے لیے بھی خربوزہ کھایا جاتا ہے۔
    خربوزے کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ یہ ہر مشکل کا ساتھی ہے۔ جب دل چاہے کھا لیں، چاہے تو تکیہ بنا کر سر کے نیچے رکھ لیں ، لمبے سفر میں ساتھ لے جائیں تو کھانے کے جھنجھٹ سے جان چھوٹے اور راہ میں کسی سے جھگڑا ہو جائے تو اٹھا کر سامنے والے کے سر پر مار دیں، مزے کی بات یہ کہ کسی چیک پوسٹ پر یہ ہتھیار روکا بھی نہیں جاتا بلکہ اگر روک بھی لیا جائے تو یہ اپنی نوعیت کا واحد ہتھیار ہے جسے سامنے والے کو پیش کر کے آپ کی جان بھی چھوٹ سکتی ہے، بلکہ الٹا اگلا آپ کا احسان مند بھی ہو جاتا ہے۔
    جب سے ون ڈش کا غلغہ اٹھا ہے، ہماری رائے میں تو شادیوں میں خربوزہ ہی رکھ دینا چاہئے۔ چاہے کوئی پیٹ بھرنے کو کھائے یا چینی ڈال کر میٹھا سمجھ کر، میزبان تو بری الذمہ ہوں۔
    میزبانی سے یاد آیا، جب آپ کسی کے ہاں دعوت پر جائیں تو آپ اسے بہ طور تحفہ بھی لے کر جاسکتے ہیں۔ چوں کہ یہ سائز میں بڑا ہوتا ہے، اس لیے کم تعداد میں آپ کا شاپر بھی بھر جائے گا اور آپ خرچے سے بچ جائیں گے۔
    اسی طرح بڑی بڑی میزیں خربوزوں کے ڈھیر سے بھر کر میزبان کھانے کی کثرت پر بہ آسانی فخر کر سکتے ہیں اور بریانی کی طرح اسے شاپر میں ڈال کر پار کرنا بھی آسان نہیں ہے۔ سو بے فکر رہیں، آپ کا کھانا کم نہیں پڑے گا ۔
    ہمیں یقین ہے کہ ہماری خربوزہ کہانی سے متاثر ہو کر آپ ایک آدھ خربوزہ تو کھا ہی لیں گے اور ہم نے جو خربوزے کا کھیت لیا ہے وہ نقصان میں نہیں جائے گا۔

    ٭…٭…٭




  • آدھا سورج —- امایہ خان

    آدھا سورج —- امایہ خان

    تنگ گلی کے دونوں کناروں پر بنے فٹ پاتھ انہی لوگوں کے قبضے میں تھے۔ جن کی صورت بھک منگوں جیسی اور حرکتیں پاگل دیوانوں جیسی تھیں۔ دیواروں سے ٹیک لگائے، آنکھیں بند کیے چند جلالی پیر بھی تھے جنہیں ہر گزرتے شخص کے قدموں کی آہٹ پر ”حق اللہ” کا نعرہ لگانا یاد آجاتا۔ غیر متوجہ زائرین کے گزرجانے کے بعد وہ اپنی کمر کے پیچھے چھپے ہاتھ کو باہر لاتے اور سیاہ ہونٹوں کے کنارے پر باقی ماندہ چرس کا سگریٹ اڑس لیا جاتا۔
    مزار کے سامنے لوگوں کی کثیر تعداد دیکھ کر وہ بہت پہلے ہی گاڑی سے اترگئی تھی۔ یہاں تک چل کر آتے آتے اسے رستے کا کوئی اندازہ نہیں ہوسکا اور شاید غلطی سے وہ اس پچھلی سڑک پر آگئی تھی۔ جہاں ڈیرہ ڈالے تمام افراد کا کھانا پینا چڑھاوے چڑھانے والوں کی ذمہ داری تھا۔ منت مانگنے، اتارنے آئے اکثر لوگ صاحب مزار کے پاس پہنچنے سے قبل ان فقیروں کے منہ سے اپنے لیے دعائے خیر سننے کے عوض جیبیں خالی کردیتے۔ ان کے نزدیک یہ بھی اللہ والے تھے جو اپنا گھر بار چھوڑے یہاں صاحب مزار کے عشق میں چُور محض لوگوں کی بھلائی کی خاطر رل رہے تھے۔ گندگی اور غلاظت کی بو اور تیز اگربتیوں کی مہک آپس میں دست و گریبان تھیں…. کبھی ایک حاوی ہوجاتی تو کبھی دوسری…. فضا ایسی تھی جیسے کثیف دھوئیں کے غبار گلاب کی خوشبو میں لپیٹ دیے گئے ہوں۔ وہ سیاہ بڑی سی چادر اوڑھے تیز قدموں سے چلنے کی کوشش کرتی ہوئی مزار کے اندر پہنچنا چاہتی تھی۔ مگر چلنے کا رستہ کہاں تھا… ہر دو قدم پر اسے ٹھہرجانا پڑتا۔ جب تک نکلنے کی راہ ملتی وہ ان فقیروں کو حسرت سے دیکھتی جو بہ ظاہر دنیا کے جھمیلوں سے آزاد مست زندگی کے مزے لوٹ رہے تھے۔ پھر آگے بڑھتے وہ اپنی چادر درست کرتی چلنے لگتی۔ اسے یوں چادر میں چھپنے کا کوئی شوق نہیں تھا یہ تو مجبوری تھی، بیلا نے کہا تھا اپنے معمول کے حلیہ میں اسے مزار میں داخل ہونے کی اجازت ہر گز نہ ملے گی مجبوراً اسی کا شلوار قمیص پہننا پڑا جو اس کے ناپ سے کافی بڑا تھا۔ جھبلا نما قمیص اور جھول والی شلوار… اوپر سے نہایت میلا اور بدبودار اس کی ماں کی ہدایت پر ہر دم گھر کو چمکانے میں مصروف اس ملازمہ کا پسینے میں شرابور وجود شاید اس قابل نہیں تھا کہ اس پر توجہ دی جاتی یا کم از کم اتنا ریلیف تو دیا جاتا کہ وہ خود بھی اسی طرح صاف ستھری رہے جیسا گھر کی رکھتی ہے۔ اس کا دل اور دماغ اتنے well trained تھے کہ بنا سوچے سمجھے ہر مسئلہ کی جڑ اس کی ماں ہی قرارپاتی اور نہیں تو کیا؟ میں جو بے چین روح کی طرح پورے شہر میں …. جی ماری پھرتی ہوں…. سکون کی تلاش میں ….. اس میں قصور کس کا ہے؟





    اس کا دھیان حال میں تب واپس آیا جب وہ مزار کے احاطے میں داخل ہوکر سیڑھیوں کے سامنے پہنچ گیا سو ڈیڑھ سو سیڑھیاں چڑھ کر عقیدت مند صاحب مزار سے اپنی مرادیں مانگنے جارہے تھے۔ وہ بھی ان میں شامل ہوگئی۔
    ”وہ دیکھو اس پر حاضری آئی ہے” اپنے ساتھ چلتی دو عورتوں میں سے ایک کو نہایت جوش سے کہتے اور سامنے دیکھا، کچھ بھی سمجھ نہ آیا جائے۔ وہ کس طرف متوجہ ہوئی تھیں جو تیزی سے آخری چار سیڑھی پھلانگتی مزار سے پہلے والے کمرے کے دروازے پر جا کھڑی ہوئیں اور ایڑیاں اچک اچک کر سروں کے اوپر سے اندر جھانکنے کی کوشش کرنے لگیں۔ ابھی اندر داخل نہیں ہوا جاسکتا تھا اور نہ ہی کوئی باہر جاسکتا تھا سب جہاں کے تہاں ٹھہرگئے تھے۔ اس چوکھٹ پر جہاں رنگ بہ رنگ موتیوں کی جھالر کچھ تازے کچھ باسی پھولوں کی لڑیاں جابجا لٹک رہی تھیں۔ کھلے صحن کے ایک طرف دیوار پر جالی خانوں میں کبوتر بیٹھے تھے اور کچھ کابکیں خالی تھیں۔ اس نے بھرپور نظر چاروں اطراف دوڑائی، دیوار کے کونے سے…. جہاں چپلیں سنبھال کے بیٹھا شخص لوگوں کو نمبروالی تختیاں پکڑارہا تھا۔ چند پھول فروش تھالیوں میں پھولوں کی پتیاں لیے بیٹھے تھے نیچے گلی میں بھی تو ایسی کئی دکانیں تھیں اس نے، پھولوں کی بھی اور چادروں کی بھی چادریں جن پر اللہ اور رسول کے صفاتی نام خوشنما رنگوں سے چھپے جھلمل ستاروں، ابرق اور افشاں سے سجے تھے ایک قطار میں آخر تک چلتے اس نے ہر شوخ رنگ کپڑے پر لکھے کلمات پڑھ ڈالے تھے یہ چادریں قبر پر چڑھائی جاتی ہیں یا انہیں شانوں پر اوڑھا جاتا ہے اسے دونوں باتوں کا علم نہیں تھا۔ کسی بھی مزار پر آنے کا یہ پہلا تجربہ تھا جب سے سنا تھا درگاہوں پر سکون ملتا ہے۔ مرادیں پوری ہوتی ہیں، اس نے یہ در بھی کھٹکھٹانے کا فیصلہ کرلیا تھا اور آج صاحب قبر کی کرامت کا امتحان لینے پہنچ گئی تھی۔
    یہاں آکر دیکھا تو بھانت بھانت کے لوگ نظر آئے۔ نیاز دینے والوں کا رش، لنگر کھانے والوں کو ہجوم، مانگنے والے فقیر، ناچتے ملنگ، دھمال ڈالتے مرید، نرینگے پھونکنے والے، سارنگی بجانے اور گانے والے جانے کون سا کلام پڑھ رہے تھے وہ سمجھ ہی نہ پائی۔ عجب میلہ سا لگا تھا، یہ ماحول یہ شور کچھ عجیب ہی تھا جیسے کسی نئی دنیا میں آگئی تھی وہ۔ مزار میں داخل ہونے سے پہلے وہ اس شخص کے پاس سے گزری جو تہ شدہ بوری پر آلتی پالتی مارے بیٹھا ایک جوڑی جوتے کی حفاظت کے عوض چار روپے وصول کرتا اپنی ٹوپی میں ڈال رہا تھا جسے اسے الٹا زمین پر رکھا ہوا تھا۔ ایک لمبی ڈوری کا آخری سرا مسلسل اس کے ہاتھ میں تھا جس میں نمبر والی تختیاں پروکر ڈالی ہوئی تھیں پیسے لے کر وہ ایک تختی جوتے میں ڈالتا اور دوسری زائر کو پکڑادیتا۔ مگر اسے تو جوتے اتارنے ہی نہیں تھے وہ پہلے ہی سے ننگے پائوں تھی۔ یونہی مزار کے اندر داخل ہوگئی وہاں موجود بھیڑ انہی جیسے لوگوں پر مشتمل تھی جنہیں وہ باہر چھوڑ آئی تھی۔ اس نے سامنے قبر کی طرف دیکھاجس کے گرد سب دعائیہ انداز میں ہاتھ اٹھائے کھڑے تھے، چند ایک غموں سے چور قبر کے سرے پکڑ کر زمین پر بیٹھے رورہے تھے۔ گڑگڑانے اور گھگیانے سے اسے کوئی دل چسپی نہیں تھی وہ کھڑے ہوئوں کے نزدیک چلی آئی باری باری وہ ہر ایک کے قریب چند سیکنڈرز کے لیے پنجوں کے بل اچک کر ان کی دعا کے الفاظ سننے اور سمجھنے کی کوشش کرتی پھر آگے بڑھ جاتی۔ بآواز بلند دعا مانگنے والوں کی مہربانی سے اس کا آدھا وقت یوں ضائع ہونے سے بچ گیا۔
    یہاں بھی فضا میں اگر بتیوں کے ساتھ وہی بو شامل تھی جو خوش گوار تو ہر گز نہیں تھی مگر دماغ کی نسوں میں گھسی چلتی رہی تھی…. معلوم نہیں کیا تھا؟…. پر کچھ اثر تھا ضرور…. جو اسے پیچھے رہ جانے والی دنیا کے ہر خیال سے دامن چھڑالینے میں مدد دے رہا تھا۔ اپنا وجود یک دم بھاری سا محسوس ہونے لگا تو وہ زمین پر ہی دیوار سے ٹیک لگائے چند زائرین کے درمیان جگہ بنا کر بیٹھ گئی۔
    اس نے پہلے بائیں طرف دیکھا سیاہ چمڑی اور سفید جاٹوں والا، گردن میں رنگ بہ رنگے موتیوں کی ان گنت مالائیں ہزار دانوں کی تسبیح ہاتھ میں لپیٹ کر منہ ہی منہ میں جانے کیا بدبداتا وہ ٹوٹے ناخنوں سے بدرنگ چوغے میں لپٹے بدبودار وجود پر خارش کرتے کرتے اس کی جانب متوجہ ہوا۔ اس کے چہرے پر جابجا سلوٹیں تھیں اور ماتھے پر گہری لکیریں مگر آنکھوں میں شعلوں میں لپک تھی۔ جب کہ اس کی دائیں جانب ایک عورت بیٹھی تھی دھواں دھواں منظر میں تحلیل ہوتی۔
    عام حالات میں شاید وہ ایسے لوگوں کو دور سے دیکھتے ہی بھاگ کھڑی ہوتی پریوں نزدیک آنے کی ہمت ہر گز نہ کرنا مگر اس کی زندگی میں تو عام حالات بھی تھے ہی نہیں… سب کچھ خاص تھا ہمیشہ سے…. بے حد خاص۔ سفید جاٹوں والے بابا نے اپنے ہاتھ سے اس کے ہاتھ میں جانے کیا دیا…. اس نے بھی ساتھ بیٹھی عورت کی دیکھا دیکھی ایک کش لگایا…. بیہوش و خرد آہستگی سے ہاتھ چھڑا کر بھیڑ میں گم ہوگئے۔ ہر کش کے ساتھ منظر دھواں دھواں ہو رہی اور بس ”وہ” یاد آتے تھے پر کیف لمحے…. بے خودی کا عالم….!
    کاش زندگی اسی جنت میں بسر ہو…. ہمیشہ ہمیشہ کے لیے…. اس نے آنکھیں بند کریں اور اندھیروں میں ڈوبتی چلی گئی۔
    ******





    ثروت کافی کے گھونٹ بھرتے ہوئے اخبار کی شہ سرخیوں پر نظر دوڑارہی تھی۔ صبح کا یہ مختصر سا وقت اس کی فراغت کا ہوا کرتا تھا ورنہ باقی دن تو یوں دوڑتے بھاگتے گزرجاتا تھا کہ سانس لینے کی بھی فہرست نہیں ملتی تھی۔ اسی لیے وہ پوری کوشش کرتی تھی کہ ان اوقات میں وہ اطمینان سے بیٹھ کر اپنی کافی انجوائے کرسکے۔
    ہمیشہ کی طرح اعجاز جلدی میں تھا، اسے پھر دیر ہوگئی تھی۔ صبح بیٹی کو اسکول چھوڑ کر واپس آنے کے بعد اس کے پاس اپنے کپڑے استری کرنے اور تیار ہونے کے لیے کافی کم وقت ملا کرتا۔ پہلے پہل اس نے ثروت سے کپڑے استری کرنے کے لیے کہا تو جواباً لمبی تقدیر سننے کو ملی تھی اس کے بعد یہ گستاخی کم از کم اس نے نہیں دہرائی تھی۔ بہ قول ثروت کے رانا نواز علی کی اکلوتی بیٹی ان کاموں کے لیے پیدا نہیں کی گئی۔ یہ نوکروں کے کام ہیں، اعجاز نے مان لیا مگر کپڑے ہمیشہ خود استری کیے۔ اسے بیلا کے ہاتھ سے کی گئی استری شدہ کپڑے پسند نہیں تھے۔ کہیں نہ کہیں شکن رہ جایا کرتی تھی جسے وہ دوبارہ استری کرکے پہنا کرتا اور پھر نہایت غیر محسوس طریقے سے ان دونوں میاں بیوی نے ایک دوسرے کو سمجھ لیا۔ اعجاز کو معلوم ہوگیا کسی بھی کام پر اعتراض کرنے سے بہتر ہے اسے خود کرلیا جائے اور ثروت…. اس کے لیے یہی کافی تھا کہ اعجاز نے اسے سمجھ لیا ہے۔
    عام دنوں میں اعجاز ہاتھ میں جوتے پکڑے ڈائننگ ٹیبل تک آتا تھا۔ انہیں وہاں پھینک کر کرسی پر بیٹھ کے ناشتہ زہر مار کرتے ہوئے وہ پائوں جوتوں میں ڈال کر جلد سے جلد گھر سے روانہ ہونے کی کوشش کرتا تھا، مگر آج ایسا نہیں ہوا تھا کیونکہ گزرا کل بہت خاص دن تھا جسے ثروت کی بے حسی نے برباد کردیا تھا۔ رات کو ان کے جھگڑے کے بعد مسئلہ مزید گھمبیر ہوگیا تھا۔ اعجاز کا موڈ ابھی تک خراب تھا شاید اسی لیے ثروت کو یوں اطمینان سے کافی پیتا دیکھ کر وہ مزید جھنجھلاگیا تھا ”ناشتہ تیار نہیں ہوا ابھی تک….؟”
    ثروت نے بنا اس کی طرف دیکھے جواب دیا، ”بیلا بنا کر لارہی ہے….”
    اعجاز نے بڑی جدوجہد سے اپنے پیر بند تسموں والے جوتوں میں گھسیٹتے ہوئے کہا،
    ”جلدی کروادو مجھے دیر ہورہی ہے۔”
    ثروت کو یوں بار بار ڈسٹرب کیا جانا کھولا گیا، اس نے اخبار میز پر پٹختے ہوئے اور سے بیلا کو آواز دی، hurry up بیلا…. فوراً بریک فاسٹ لائو ٹیبل پر….” ”یوں جاہلوں کی طرح چلانے کے بجائے تم خود اٹھ کر میرا ناشتہ لے آئو تو بہتر ہوگا…” اعجاز نے ثروت کو تنگ کرنے کے لیے کہا اور کامیاب رہا۔ ثروت نے جل کر جواب دیا ”میں تمہاری نوکر نہیں ہوں…. بیلا ہے ‘وہ’ پکارہی ہے تو لا بھی دے گی….”
    اعجاز پھر بھی باز نہیں آیا اس نے پکا ارادہ کرلیا تھا جس طرح ثروت نے کل کا پورا دن اور رات برباد کی تھی وہ بھی آج کا دن خراب ضرور کرے گا۔
    ”بیلا میری بیوی نہیں ہے…. تم ہو…. میرا خیال رکھنا تمہارا فرض ہے….” ثروت سلگ اٹھی، ”اور مجھے پریشان کرنا تمہارا…. سکون سے نیوز پیپر بھی نہیں پڑھ سکتی…. تم جج بن کر فیصلے صادر کرتے رہا کرو…. اور میں حکم بجا لاتی رہوں۔” ہر وقت تمہارے ذہن پر اپنا کام سوا رہتا ہے…. آج جج کہہ دیا ہے کل ملزم کہہ دوگی… واہ کیا بات ہے وکیل صاحبہ کی….” اعجاز جان بوجھ کر اسے تنگ کررہا تھا۔
    ”اپنا طنز اپنے پاس رکھو سمجھے…”، ثروت کے جواب نے اسے سمجھادیا کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب رہا ہے۔ ڈھٹائی سے مسکراتے ہوئے اس نے ثروت کے آگے پڑا اخبار اٹھاتے ہوئے بیلا کے لائے ناشتے کی جگہ بنائی۔ ثروت نے ایک نظر ناشتے کی طرف دیکھا اور زیر لب مسکرادی۔ اب جلنے کلسنے کی باری اعجاز کی تھی جس کا موڈ آف ہوچکا تھا۔
    ”یہ کیا بنایا ہے؟” اس نے جلا ہوا ٹوسٹ اٹھا کر غصے سے پوچھا تو بیلا گڑبڑاگئی، ”وہ …. صاحب آپ کو دیر ہورہی تھی تو میں نے آنچ تیز کردی… تھوڑا جل گیا…. آپ ٹھہریں… میں دوسرا لادیتی ہوں….” تیزی سے واپس جاے لگی، مگر اعجاز اسے فوراً روک دیا اور کہا،” رہنے دو میں پہلے ہی لیٹ ہوچکا ہوں…. یہ اسپیشل ناشتہ اپنی میڈم کو، کھلادینا،” پلیٹ کو ثروت کے سامنے پٹختے ہوئے اعجاز اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔
    ثروت نے بلاتاخیر پلیٹ کو واپس دھکیل دیا، اس کا دل جلانے کی غرض سے مسکراتا ہوا اعجاز سیٹی بجاتا رخصت ہوگیا۔ بیلا خاموشی سے اسے جاتے ہوئے دیکھتی رہی پھر ثروت کی جانب مڑی، تو وہ بھی پیر پٹختی اپنے کمرے میں جاتی نظر آئی…. بیلا نے ایک سرد آہ بھر کر ناشتے کی چیزیں واپس سمیٹتے ہوئے سوچا، ”بڑے ناشکرے لوگ ہیں… اللہ نے ساری نعمتیں دیں پھر بھی جب دیکھو…. لڑتے ہی رہتے ہیں۔”
    ******





    وہ لڑکی piercing کروانے کے دوران غش کھاگئی جونہی اس کی گردن ایک طرف ڈھلکی بون بھی ڈھیلا ہوکر کرسی کی پشت سے ٹک گیا جواد ہڑبڑا کر آدھی اڑی بالی کو یونہی چھوڑ کر اس کی جانب لپکا۔ چلو میں تھوڑا پانی لے کر اس لڑکی کے چہرے چھڑکا مگر پوری طرح بے ہوش ہوچکی تھی۔ چند منٹ پہلے جب وہ لڑکی اس کی دکان کے اندر آئی تھی تو اس کی آمد کا مقصد جان کر اسے شک ہوا تھا کہ وہ لڑکی شاید مذاق کررہی ہے۔ ہاں اس کے پاس عورتیں اپنے کان ناک چھدوانے آیا کرتی تھیں اور آئی بروز کے پاس ایک دور کی piercing بھی کرچکا تھا وہ۔ مگر اس لڑکی کو ناف پر بالی چھدوانی تھی۔ ٹی شرٹ جینز میں ملبوس وہ پر اعتماد لڑکی بہ مشکل پندرہ سال کی ہوگی جو بلا خوف شاپنگ پلازہ کی آخری کونے والی چاندی کے زیورات والی دکان میں یہ کام کروانے پہنچ گئی تھی، اور وہ تن تنہا اس وقت بارہ بج رہے تھے۔ پلازہ میں ایک ایک کرکے تمام دکانیں کھلتی جارہی تھیں۔ مگر گاہکوں کا رش نہیں تھا۔ جواد نے اس کے اصرار پر بالآخر اثبات میں سر ہلاتے ہوئے شوکیس کے نیچے سے سپرٹ کی بوتل اور روئی کا ٹکڑا نکال لیا۔ اس دوران وہ لڑکی اس چھوٹی سی کرسی پر براجمان ہوگئی اور اپنی ٹی شرٹ کو تھوڑا اوپر سِرکا لیا۔ جواد کے لیے یہ اپنی طرز کا انوکھا تجربہ تھا جب ایک نوجوان لڑکی اس سے یہ کام کرواتے ہوئے بالکل بھی شرم محسوس نہیں کررہی تھی۔ جب کہ وہ خود ایک لڑکا ہونے کے باوجود جھجک رہا تھا۔ بڑی ہمت کرکے اس نے خود کو اس کام کے لیے آمادہ کیا اور اب وہ لڑکی بے ہوش ہوچکی تھی تو جواد اس لمحے کو کوس رہا تھا جب اس نے ہمت کا ارادہ کیا تھا۔ اسے فوراً کسی کو بلانا چاہیے ورنہ خود سے کوئی آگیا تو جانے کیا سمجھے۔ ابھی اس نے سامنے والی دکان پر موجود سلیم بھائی کو آواز دینے کے لیے دروازے کی طرف قدم بڑھائے ہی تھے اسی وقت دو خواتین باہر شوکیس میں سجے چاندی کے سیٹ کی قیمت پوچھتی ہوئی اندر داخل ہو گئیں۔ جیسے ہی ان کی نگاہ اس بے ہوش لڑکی پر پڑی وہ ٹھٹھک کروہیں رک گئیں جواد کے تو اوسان خطا ہو گئے، بہ مشکل تھوک نگلتے ہوئے اپنی وضاحت پیش کرتا وہ تقریباً ہلاک ہونے لگا، ”وہ … یہ بالی چھدواتے ہوئے درد سے بے ہوش ہوگئیں شاید…. میں کسی کو مدد کے لیے بلانے ہی والا تھا۔”
    ہر چند کہ وہ سچ بول رہا تھا پر اس کا انداز ان عورتوں کی نظر میں اسے مشکوک بناگیا تھا۔ شاید انہوں نے اس کی بات پر یقین نہیں کیا تھا۔ دونوں برقع پوش خواتین میں سے ایک تو اس لڑکی کو ہوش میں لانے کی کوشش کرنے لگی جو ذرا بڑی عمر کی خاتون تھیں وہ جواد کے سر ہوگئی ”تم نے کیا کیا ہے اس لڑکی کے ساتھ؟”
    ”باجی…. آپ یقین کریں میں تو صرف اپنا کام کررہا تھا…. یہ بے ہوش ہوگئی…. میں نے پانی بھی ڈالا مگر….”
    وہ عورتیں اس کے گال زور زور سے تھپتھپانے لگیں: ”یہ مرتو نہیں گئی؟ یا اللہ! پانی دو گلاس میں…”، جواد نے فوراً حکم کی تعمیل کی۔ کم عمر عورت نے گلاس لے کر ہاتھ میں پانی بھر بھر کر چہرے پر ڈالا، آوازیں دیں اس کے باوجود وہ ہوش میں نہیں آئی، ”اس کے ساتھ کوئی نہیں تھا کیا؟…. اتنی سی بچی کو کوئی اکیلے اس کام کے لیے کیوں بھیجے گا…. ؟”بڑی اماں جی مسلسل جواد پر ہی شک کررہی تھیں۔ ”تم کہہ رہے ہو یہ بالی چھدواتے ہوئے درد سے بے ہوش ہوئی پر اس کے کانوں میں تو کوئی بالی نظر نہیں آرہی… کہاں ہے بالی…؟” انہوں نے دونوں کانوں کی بالی چیک کی۔ ”جی، وہ…. یہاں piercing کی ہے میں نے….” جواد نے اس کی ٹی شرٹ کی طرف اشارہ کیا۔
    ”کہاں…” وہ کچھ بھی نہ سمجھیں تب جواد کو اپنی پوزیشن کلیئر کرنے کے لیے انہیں تفصیل بتانا پڑی۔ بس مصیبت ہوگئی، دونوں عورتیں توبہ توبہ کہتی اپنے کلے پیٹنے لگیں۔ کم عمر عورت نے کسی خیال کے تحت پیروں کے پاس گرا اسکا بینڈ بیگ اٹھاکر شوکیس پر رکھا اور کھول لیا تھوڑی سی تلاش بسیار کے بعد الم غلم سامان سے بھرے بیگ میں سے بالآخر موبائل برآمد ہوگیا۔ اس نے کالز لسٹ کھول کر نام پڑھنا شروع کیے انتہائی بیش قیمت لیٹسٹ ماڈل کا سیل فون…. اس نے ایک بار پھر غور سے اس لڑکی کی طرف دیکھا، ”ہونہہ آج کل ماں باپ بس اولاد کو ڈھیروں آسائشیں خرید کر دینا ہی اپنا فرض سمجھتے ہیں… کچھ ہوش ہی نہیں بچے کیا کرتے پھررہے ہیں…” Mom کے نیچے درج نمبر کو پریس کرتے ہی کال خود بہ خود ڈائل ہونے لگی۔ ”بیل جارہی ہے۔” اس نے گردن موڑ کر اماں جی کو بتایا جو اس لڑکی کے پرس میں تاکا جھانکی کررہی تھی، چار پانچ بیلوں کے بعد دوسری طرف سے فون ریسیو کرلیا۔
    اس خاتون کو تمام تفصیلات سے آگاہ کرکے چند مزید باتوں کے بعد کے بعد کال ڈس کنیکٹ کردی، اماں جی نے اپنی بہو کے کندھے پر ہاتھ رکھا: ”کیا کہا اس کی ماں نے….؟ کیا آرہی ہے اسے لینے کے لیے؟”
    ”نہیں!… کہہ رہی تھی ڈرائیور باہر پارکنگ لاٹ میں ہوگا۔ اسے فون پر دکان کا نام اور نمبر وغیرہ بتاکر یہاں بھیجتا ہے وہی لے کر جائے گا اسے….”
    انہیں زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا تھا۔ اس لڑکی کا ڈرائیور جلد ہی وہاں پہنچ گیا۔ پہلے اس نے باہر سے شاپ کا نام اور نمبر بورڈ پر پڑھ کر زیر لب دہرایا پھر اندر داخل ہوکر اپنی بے ہوش ”چھوٹی میم صاحبہ” کی طرف دیکھا۔ حیرانی کی بات یہی تھی اسے ایسی حالت میں دیکھنے کے باوجود ڈرائیور کے چہرے پر بالکل بھی حیرانی نہیں تھی۔ ڈرائیور نے کوئی سوال پوچھے بغیر اپنی مالکن کا ہینڈ بیگ ایک کندھے پر ڈالا پھر جھک کر اس کا بازو اپنے کندھوں پر پھیلاتے ہوئے سہارا دے کر اسے کرسی سے اٹھالیا اور یونہی ساتھ لگائے ہوا دکان سے باہر نکل آیا۔ دونوں عورتیں بھی اس کے پیچھے پیچھے باہر نکل آئیں۔ انہیں کیا خریدنا تھا وہ کس کے لیے بازار آئی تھیں؟ فی الحال یہ سب کچھ غیر اہم ہوگیا تھا۔ وہ ڈرائیور سے بات کیے بغیر آپس میں کھسر پھسر کرتی اس کے ساتھ گاڑی تک پہنچ گئیں۔ ”باجی میری مدد کریںگی؟ آپ چھوٹی میم صاحب کو پکڑلیں یا گاڑی کا لاک کھول دیں۔” اماں جی نے آگے بڑھ کر لڑکی کو ایک جانب سے سہارا دیا تو ڈرائیور نے جیب سے گاڑی کی چابی نکالی بہو نے ڈرائیور کے ہاتھ سے چابی لے کر ہنڈا سٹی کا دروازہ کھول دیا۔ اس لڑکی کو پچھلی سیٹ پر لٹانے میں انہیں دونوں عورتوں نے مدد کی۔ ڈرائیور ان کابے حد شکر گزار تھا، اچھے طریقے سے شکریہ ادا کرتا گاڑی میں جا بیٹھا اور چند منٹ بعد ہی وہاں سے روانہ ہوگیا۔ بہ ظاہر وہ لڑکی محفوظ ہوگئی تھی ڈرائیور انہیں بتاگیا تھا کہ سیدھا ہسپتال جائے گا جہاں اس کی ماں آکر اسے سنبھال لے گی۔ ان دونوں کا اس لڑکی سے کوئی رشتہ نہیں تھا اس کے باوجود وہ اس کے لیے نہایت فکر مند تھیں۔ اگر ڈرائیور نے اس کے ساتھ کچھ الٹا سیدھا کرنے کی کوشش کی تو کون بچائے گا اسے؟ آخر کو وہ بھی غیر مرد ہے اور جوان بھی۔ ”چلیں امی گھر چلیں۔” بہو نے اماں جی کو مخاطب کیا جو ابھی تک اس جاتی گاڑی کو دیکھ رہی تھیں۔ انہوں نے مُڑ کر اپنی بہو سے کہا: ”ضرور یہ لڑکی نشہ کرتی ہے۔”
    ******





    شام کو اعجاز گھر کا دروازہ کھول کر جیسے ہی اندر داخل ہوا ثروت اسے لائونج میں صوفے پر بیٹھی کسی شخص سے بات کرتی نظر آئی۔ اس نے اعجاز کی آمد محسوس کرنے کے باوجود اپنی گفت گو جاری رکھی، ”کیا نام ہے تمہارا….؟”
    ”جی دلاور…. میں بیرسٹر شفیق صاحب کے گھر آیا ہوں۔”
    ”ہاں مجھے بتایا تھا انہوں نے… چلو ٹھیک ہے تم صبح سات بجے آنا…. تمہاری نوکری پکی…” ”شکریہ میڈم…” دلاور ممنونیت سے کہتا جیسے ہی مڑا اسے اعجاز نظر آیا:” السلامُ علیکم صاحب….”، اعجاز نے خفیف اشارے سے اس کے سلام کا جواب دیا اور دلاور کے جاتے ہی ثروت سے پوچھا: ”کون تھا یہ؟”
    ”میں نے حسن سے بات کی تھی ڈرائیور کے لیے… اس نے اپنے جاننے والوں کے پاس سے بھجوادیا اسے” ”اور تم نے اسے کام پر رکھ لیا…؟” اعجاز کا دماغ گھوم گیا۔
    ”ہاں تو… ہمیں ضرورت تھی ایک ڈرائیور کی… عماریہ کے اسکول پک اینڈ ڈراپ میں مسئلہ نہیں ہوگا….” ثروت نے بے نیازی سے کندھے اچکاتے ہوئے کہا اور اسی انداز پر اعجاز کو غصہ آگیا ”میں نے صرف ایک بار تم سے عماریہ کو پک کرنے کے لیے کہا اور تم نے ڈرائیور بلالیا… کوئی ضروت نہیں ہے… میں ہر گز اجازت نہیں دوںگا کہ میری بیٹی ایک غیر آدمی کے ساتھ آئے جائے۔”
    ”اور میں بھی ہر گز اجازت نہیں دوںگی کہ تم عماریہ کو اسکول سے لاتے لے جاتے اسے میرے خلاف بھڑکاتے رہو…” ثروت بھی بھری بیٹھی تھی آج دوپہر میں اعجاز نے میٹنگ کی وجہ سے ثروت کو عماریہ کے اسکول جاکر اسے پک کرنے کے لیے کہا تھا، وہ بھی عین وقت پر، آفس سے نکلتے وہاں پہنچتے ثروت کو کافی وقت لگ گیا اور تب اسکول خالی ہوچکا تھا۔
    گاڑی میں بیٹھ کر عماریہ ماں سے سیدھے مُنہ بات نہیں کررہی تھی جب ثروت نے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ اس کے پاپا نے ہی دیر میں اطلاع دی اور اس کا اتنا قصور نہیں۔ اس وضاحت کو اس نے قبول نہیں کیا تھا، اس کے خیال میں ثروت اپنے کام میں اس قدر مگن رہی کہ اسے اعجاز کی کال ریسیو کرنے کی فرصت نہیں ملی تھی بالکل اسی طرح جس طرح دو دن پہلے وہ عماریہ کی برتھ ڈے بھول گئی تھی، آج عماریہ کو بھی بھول گئی تھی۔
    اپنی بیٹی کی بدگمانی دیکھ کر ثروت کو شاک لگا تھا۔ ہاں یہ بات درست تھی کہ اس دن وہ مصروفیت کے سبب اعجاز کی کال ریسیو نہیں کررہی تھی لیکن اگر وہ واقعی چاہتا تھا کہ بیٹی کے سالگرہ میں اسے شامل کرے تو ایک دن پہلے اسے بتا تو سکتا تھا۔ وہ بھول گئی تھی تو یاد کروادیتا مگر اس نے ایسا کرنے کے بجائے بیٹی کی نظروں میں ماں کو ویمپ میں بناکر جس طرح پیش کیا وہ ثروت کے لیے ناقابل برداشت تھا۔ اور اس بات کا حساب وہ اعجاز سے بے باک نہ کرتی یہ ممکن نہیں تھا۔
    ”تم اتنے شاطر انسان ہو…. میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی… تم نے گھر میں پارٹی رکھی عماریہ کے سب دوستوں کو بلالیا لیکن مجھے بتایا تک نہیں….”
    ”کیوں؟ تمہیں اپنی اکلوتی بیٹی کا برتھ ڈے یاد نہیں تھا۔ تم پیدا کرکے اسے بھول گئی ہو اسے…” اعجاز کے ترکش میں بھی تیروں کی کمی نہیں تھی۔
    ثروت پل بھر کے لیے لاجواب ہوئی، پھر جیسے اسے اعجاز کا مسئلہ سمجھ آگیا: ”دراصل تم مجھ سے جیلس ہو… اس لیے خوامخواہscene createکرتے رہتے ہو….”
    اعجاز کو اس کی سوچ پر افسوس ہوا،” تم ماں ہوکر بیٹی کی ضروریات کو اتنا سرسری لیتی ہو؟ کیا تمہیں نظر نہیں آتا وہ دن بہ دن تم سے دور ہوتی جارہی ہے؟”
    ”تم تم ہر وقت اسے میرے خلاف بھڑکاتے رہوگے، poison کرتے رہوگے تو یہی ہوگا،”
    اعجاز نے جواباً اسے چیلنج کیا،” اگر تمہیں لگتا ہے یہ میری باتوں کا اثر ہے تو جائو…. غلط ثابت کردو مجھے…. اپنا کام چھوڑو گھر پر بیٹھو… اسے ٹائم دو… تاکہ اسے یقین آجائے کہ تم اس سے واقعی محبت کرتی ہو،”
    ”تمہاری نظرمیں تو ہر مسئلے کا حل بس یہی ہے کہ میں کام چھوڑ کر گھر بیٹھ جائوں۔” ”بالکل… ہمارے مسئلے ہی تمہارے کام کی وجہ سے ہیں۔”
    ”دراصل تم یہ برداشت نہیں کرپارہے کہ میں تم سے زیادہ کامیاب ہوں۔”
    ”میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ تم نہایت غیر ذمہ دار عورت ہو…. اور ایک بہت بری ماں…”. ثروت جاہل عورتوں کی طرح ہاتھ نچاتی ہوئی وہاں سے نکل گئی۔
    ”تم بہت اچھے باپ ہونا….. آئندہ مجھ سے مت کہنا اسے pick کرنے کے لیے…. ”اس کے پیچھے آتے ہوئے اعجاز دھاڑا ”نہیں کہوںگا…. عماریہ میری بیٹی ہے… اور میں اس کے لیے وہ سب کچھ کروںگا جو تم نہیں کرسکتیں… میری طرف سے جہنم میں جائو… ”ثروت نے کمرے کا دروازہ اس کے منہ پر بند کرتے ہوئے کہا، "You too go to hell!””
    *******




  • شاہین قسط ۱  ”برگد کی چڑیلیں” – عمیرہ احمد

    شاہین قسط ۱  ”برگد کی چڑیلیں” – عمیرہ احمد

    شاہین –  ”برگد کی چڑیلیں” – عمیرہ احمد

    ”میرے گھر میں ایک پرانا برگد ہے جس پر چڑیلیں رہتی ہیں جو ہمیں بہت تنگ کرتی ہیں۔ کیا ٹیم شاہین مجھے برگد کی ان چڑیلوں سے چھٹکارا دلواسکتی ہے؟”
    شیر دل نے کاغذ پر انگلش میں لکھی ہوئی اُس تحریر کو باآواز بلند پڑھا تھا اور نایاب اور احد یک دم بہت ہی پرجوش نظر آنے لگے تھے۔
    ”یہ ہوا نا کیس… بس یہ ہی تفتیش کریں گے ہم سب سے پہلے۔” نایاب نے سکول کی ڈیسک پر ہاتھ مار کر جیسے حتمی فیصلہ کردیا۔
    ”کیس ہے کس کا؟” احد نے شیر دل سے پوچھا۔
    ”یوحنّا جوزف کلاس فائیو۔” شیر دل نے اُس کاغذ کے نیچے لکھا نام پڑھتے ہوئے کہا جو ٹیم شاہین کے لاکر میں کسی نے ڈالا تھا۔






    وہ تینوں آج وہ لاکر کھول کر اُس میں موجود وہ سارے خطوط پڑھ رہے تھے جو سکول کے مختلف بچوں نے ٹیم شاہین سے رابطے کے لئے اپنے مسئلے کے ساتھ بھیجے تھے، اور پچھلے آدھے گھنٹے میں کوئی ایک کیس ایسا نہیں تھا جو اُن کے دل کو لگتا۔ وہ عجیب عجیب مسائل تھے جو بچوں نے کیس بناکر اُنہیں بھیج دیئے تھے۔ کسی کو اپنی وہ والی بلّی کی تلاش کروانا تھی جو تین سال پہلے غائب ہوگئی تھی اور کسی کو اپنے گھر کے چوہوں سے نجات چاہیے تھی۔ کسی کو اپنے موزوں سے بدبو کا مسئلہ حل کروانا تھا اور کسی کو کھجلی کی شکایت پر اُن سے رہنمائی چاہیے تھی۔ کسی کو اپنے چھوٹے بہن بھائی کو پٹوانا تھا اور کسی کو اپنے بڑے بہن بھائی کو اغوا کروانا تھا۔ وہ تینوں مسئلے پڑھ پڑھ کر تپ رہے تھے۔ وہ ٹیم شاہین تھے اُس سکول کی پہلی ”جاسوس تنظیم” اور وہ انہیں احمقانہ کیس لکھ لکھ کر بھیج رہے تھے۔ اُن تینوں کا موڈ بے حد خراب ہوگیا تھا ،تب ہی اُن کے ہاتھوں یوحنّا جوزف کا وہ کیس آیا تھا اور یک دم وہ تینوں جیسے کھل اُٹھے تھے۔
    یہ شیر دل شیرازی تھا جسے جاسوسی ناولز پڑھنے اور فلمیں دیکھنے کا جنون تھا اور اس ہی جنون نے اُسے یہ یقین دلادیا تھا کہ وہ خود بھی جاسوس بن سکتا تھا۔ وہ اخباروں اور ٹی وی پر مختلف جرائم کی خبریں سنتا اور پھر انٹرنیٹ پر تب تک اُن کیسز کو فالو اپ کرتا رہتا جب تک وہ حل نہ ہوجاتے اور مجرم پکڑا نہ جاتا۔ اکثر اوقات شیر دل کے جو اندازے مجرم کے بارے میں ہوتے تھے وہ صحیح ثابت ہوتے تھے اور ایسا ہونے پر وہ خوشی سے بے قابو ہوجاتا۔ احد اُس کا بہترین دوست تھا اور نایاب اُس کے چچا کی بیٹی اور وہ دونوں اُس کے کلاس فیلوز بھی تھے اور شیر دل کے اس جنون سے واقف بھی لیکن شیردل کے ذہن میں جب ایک جاسوسی تنظیم بنانے کا خیال آیا تھا تو اُس نے اُن دونوں کو بھی مکمل طور پر بے خبر رکھا تھا۔ وہ اُس وقت تک شرلاک ہومز سے متاثر تھا مگر شرلاک ہومز کی طرح ایک بھی ساتھی رکھنے پر یقین نہیں رکھتا تھا۔ اُس کا خیال تھا وہ سب خود کرسکتا تھا۔
    شاہین کا نام اُس نے اپنی دادی سے علامہ اقبال کے اشعار میں شاہین کا ذکر سن سن کر سوچا تھا۔ اُسے وہ پرندہ ، اُس کی پرواز اور اس سے منسلک شاعر مشرق کا ”فلسفۂ خودی” پسند تھا۔ شاہین بھی اکیلا اونچی پرواز کرتا اپنے ہدف پر جھپٹتا تھا اور شیر دل شیرازی بھی اُس ہی کی طرح تنہا اُس تنظیم کو چلانا چاہتا تھا جس کا اس وقت وہ بانی تھا۔
    گھر بیٹھے اُس نے خود ہی ایک دن شاہین کے اغراض و مقاصد لکھ لئے تھے۔ وہ تنظیم کیا کیا کرسکتی تھی اور کیسز حل کرنے کے لئے جو معاوضہ شاہین لیتی شیردل نے اُس کا بھی تعین کرلیا تھا۔ ایک ویب سائٹ بناکر اُس نے شاہین کے لوگو کے ساتھ یہ ساری معلومات وہاں پر چڑھادیں اور اپنا ای میل ایڈریس اور سکول میں ایک لاکر نمبر ایک pamphletپر ڈیزائن کرکے اُس نے سکول کے نوٹس بورڈ پر لگا دیا۔ ایک گھنٹہ میں ہی شاہین کا لفظ پورے سکول میں گردش کرنے لگا تھا اور نوٹس بورڈ کے نیچے بچوں کا ہجوم اکٹھا ہونے لگا تھا۔
    ”ہم سکول کے بچوں کے کیسز حل کرنے والی پاکستان کی سب سے بڑی جاسوسی تنظیم ہیں جس کی شاخیں عنقریب پاکستان بھر کے سکولوں میں کھولی جانے والی ہیں اور اس سکول میں شاہین کا ہیڈ کوارٹر کھولا جارہا ہے۔ ہمارے پاس جدید ترین جاسوسی کے آلات ہیں اور ٹیکنالوجی پر مہارت رکھنے کی وجہ سے ہم آپ کا کوئی بھی مسئلہ منٹوں میں حل کرسکتے ہیں۔
    شاہین آپ کی زندگی کو مسائل سے پاک وہ پرواز دے گی جس کے آپ اہل ہیں تو آئیں آج ہی اپنی ہر پریشانی اور مسئلے کے حل کے لئے ہم سے رابطہ قائم کریں۔” شیر دل جانتا تھا اُس نے اپنی تنظیم کا تعارف کرواتے ہوئے تھوڑی نہیں بہت زیادہ مبالغہ آرائی سے کام لیا تھا لیکن جھوٹ نہ بولنے پر یقین رکھنے کے باوجود اُس کا خیال تھا پروموشن کے لئے تھوڑا بہت مبالغہ ضروری تھا اور ویسے بھی وہ جو اُس pamphletمیں لکھ رہا تھا وہ ایک دن سب کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔





    ”سنو، یہ شاہین ٹیم تم نے بنائی ہے نا؟” نایاب نے سکول میں اُس pamphlet کو پڑھتے ہی شیر دل سے پوچھا تھا۔ شیر دل نے ٹالنے والے انداز میں کہا۔
    ”میں صرف اس آرگنائزیشن کا فوکل پرسن ہوں اور کچھ نہیں۔”
    ”جھوٹ مت بولو ، ویب سائٹ تم نے بنائی ہے۔” شیر دل بھونچکا رہ گیا۔
    ”تمہیں کیسے پتہ؟”
    ”گھر میں Networking ہے سارے کمپیوٹرز کی، تم رات کو بیٹھے یہ بنارہے تھے اور میں بھی دیکھ رہی تھی۔ ” نایاب نے بڑے اطمینان سے اُسے بتایا اور شیر دل دانت پیس کر رہ گیا تھا۔ نایاب اگر پروگرامر نہ ہوتی تو پھر ہیکر ہوتی، وہ کسی بھی کمپیوٹر کا پاس ورڈ بدل سکتی تھی۔ کسی بھی سسٹم اور سافٹ ویئر تک رسائی کر سکتی تھی۔ انٹر نیٹ پر موجود کسی بھی ویب سائٹ کے بیک اینڈ تک رسائی حاصل کرنا اُس کے بائیں ہاتھ کا کام تھا۔ شیر دل کو پچھتاوا ہوا کہ اُس نے اس ویب سائٹ پر کام کرتے ہوئے Networking ختم کیوں نہیں کی۔
    ”اوکے! لیکن اب اپنا منہ بند رکھنا۔” شیر دل نے اعتراف کرنے کے ساتھ ہی اُسے دھمکایا۔
    ”صرف ایک صورت میں۔”نایاب نے فوراً کہا۔
    ”کیا ؟”
    ”اگر تم مجھے بھی اس میں شامل کرو۔ اپنے سیکنڈان کمانڈ کے طور پر۔” شیر دل ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے اُسے دیکھتا رہا۔ اُس کے پلان آف ایکشن میں کوئی دوسرا ممبردور دور تک نہیں تھا مگر پھرمجبوراً اُس نے نایاب کو اپنا نائب بنانے کی حامی بھرلی۔
    ”ایسا کیا ہے جو تم شاہین کے لئے کرسکتی ہو؟” شیر دل نے اُس سے پوچھا ۔
    نایاب نے اطمینان سے کہا:
    ”بہت کچھ! اس کی ویب سائٹ اور ٹیکنالوجی سے متعلق سارے کام کرسکتی ہوں جو تم بھی کرسکتے ہو لیکن تم ان میں میرا مقابلہ نہیں کرسکتے۔” وہ دھڑلے سے کہہ رہی تھی۔ شیر دل نے اُس کو ٹوکا نہیں۔ وہ سچ کہہ رہی تھی۔
    ”میں Archer ہوں تو کسی بھی مشن میں تمہیں میرے نشانے کی ضرورت پڑے گی اور میں جو ڈو کی بہترین کھلاڑی ہوں ۔ جتنا تمہیں جاسوسی کہانیاں پڑھنے کا شوق ہے اُتنا ہی مجھے بھی ہے۔” وہ بتاتی جارہی تھی اور شیر دل سرکھجاتا سنتا جارہا تھا۔ وہ دونوں ایک ہی گھر میں رہتے تھے۔ نایاب اپنے بڑے بھائی تیمور اور ماں باپ کے ساتھ اوپر والے فلور پر رہتی تھی۔ اُس کا بھائی میڈیکل کا سٹوڈنٹ تھا اور والد ایڈیشنل سیکشن جج۔
    شیر دل نیچے والی منزل پر اپنے ماں، باپ، دادی اور چھوٹی بہن خدیجہ کے ساتھ رہتا تھا۔ اُس کا باپ ایک بینکر تھا اور ماں ایک بیکر۔
    ”اوکے! ٹھیک ہے مگر یہ سب راز رہے گا۔ کسی اور کو اس کی بھنک بھی نہیں پڑنی چاہیے۔” شیر دل نے اُس سے کہا تھا اور اس سے پہلے کہ نایاب کوئی جواب دیتی شیردل کو عقب سے اچانک احد کی آواز آئی۔
    ”تم اب مجھ سے بھی سب کچھ چھپایا کروگے؟” نایاب اور شیر دل جیسے کرنٹ کھا کر پلٹے تھے اور اُن کے عقب میں احد کمر پر دونوں ہاتھ رکھے بے حد غصّے سے کھڑا تھا۔
    احد شیر دل کا بہترین اور بچپن کا دوست تھا۔ اُس کی ماں ایک سول سرونٹ تھی اور باپ کا انتقال ہوچکا تھا اور وہ شیردل کی ہی کالونی میں رہتا تھا۔
    ”اوہ! تم چھپ کر ہماری باتیں سنتے ہو۔” شیر دل نے اُسے ٹالنے کے لئے ناراض ہوکر کہا تھا۔
    ”میں کیوں چھپ کر سنوں گا میں تو ویسے ہی سب سُن سکتا ہوں۔ میرے کان اتنے باریک ہیں اور میں شاہین کا تیسرا ممبر ہوں۔” شیردل نے بے چارگی سے اُسے دیکھا اور کچھ کہنے کی کوشش کی مگر اُس سے پہلے ہی احد نے اُسے پچکارتے ہوئے کہا۔
    ”دیکھو تمہیں پتہ ہے میں کک باکسنگ میں کیا کیا کرسکتا ہوں اور غلیل سے میرا نشانہ نایاب کے تیروں سے بھی زیادہ اچھا ہے اور میں دُنیا کا سب سے بہترین map reader اور سیکیورٹی کیمروں کا ماہر ہوں۔ دُنیا کا ہر کیمرہ ہینڈل کرسکتا ہوں اور میرے پاس کتنے خفیہ کیمرے ہیں وہ بھی پتہ ہے تم لوگوں کو اور…”
    وہ ایک سانس میں بولتا چلا گیا اور اس سے پہلے کہ بولتا ہی چلا جاتا، شیردل نے اُسے ٹوکتے ہوئے کہا:
    ”اچھا اچھا! بس کلاس شروع ہونے والی ہے۔”
    ”تو پھر میں بھی آج سے ٹیم شاہین ہوں؟” احد نے اطمینان اسے اُس سے پوچھا اور شیردل نے جھنجھلا کر اُسے دیکھتے ہوئے کہا:
    ”میرے پاس کوئی چوائس ہے انکار کی؟”
    احد اور نایاب نے بے اختیار کیا۔ ”No۔”
    شیردل نے کندھے اُچکاتے ہوئے جیسے ہتھیار ڈالے۔ شاہین دو دنوں میں ون مین شو سے ٹیم بن گئی تھی۔






    …٭…

  • محبت نام ہے جس کا —– محمد حارث بشیر

    اُداس موسم کی ایک سرد شام ،اُس خزاں گزیدہ شجرکا وجوداپنی پیشانی پر کئی داستانیں رقم کیے کھڑا تھا ۔موسم ِ ِبرگ ریز کا شاخسانہ تھا کہ ایک ایک کرکے زرد پتے زندگی کے پل بِتانے کے بعد شجر سے بچھڑتے جارہے تھے ۔وہ سیدھا سادا،تھکا ہارا شخص آنسوؤں بھرا چہرہ صاف کرتے ہوئے فریاد کناں تھا۔
    ”مولوی جی !کچھ کریں اُس کا ، وہ پاگل ہوگیا ہے… مجنوں بن گیا ہے …کہتا ہے محبت ہوگئی ہے …اب آپ ہی بتائیں ،میں اس عمر میں کیا کروں … کہاں جاؤں ؟ وہ تو میری کچھ سنتاہی نہیں جی…”اُدھیڑ عمر حکمت علی گاؤں کے مولوی کے پاس اپنی قسمت کا رونا رو رہا تھا ۔
    وہ سب اس وقت مسجد کے کچے صحن میں برگد تلے بیٹھے تھے۔ گارے مٹی سے بنی چھوٹی مگر صاف ستھری اور خوبصورت مسجد پنڈسروہا کے سر پر تاج کی طرح سجی تھی۔ گاؤں ڈھلان میں تھا اور مسجد بلندی پر… یہاں سے اُٹھتی اذان کی آواز سارے گاؤں میں گونجتی۔مسجد کا صحن گھاس کی تہ سے ڈھکا ہوا اور اس کے تین اطراف پھول دار پودوں کی بھرمار تھی، جو اس وقت زرد موسم کی لپیٹ میں تھے ۔چوتھا حصہ مسجد کی طرف تھا جسے خالی چھوڑ دیا گیا تھا۔ یہ عقبی حصہ تھا۔یہیں بیٹھ کر مولوی صاحب گاؤں کے بچوں کو درس دیتے۔ آج درس کے بعد حکمت علی بڑے مہذب انداز میں بیٹھااپنی بپتا مولوی صاحب کو سنارہا تھا ۔
    ”حکمت علی!تُو پریشان کیوں ہوگیا بھئی …محبت تو ایک میٹھااحساس ہے ۔” انہوں نے اس کا درد سمجھنے کے بجائے جیسے جان بوجھ کر نمک پاشی کی ہو … حکمت علی سلگ کر رہ گیا۔
    ” نہیں حضور …محبت بھلاکیسے چنگی چیز ہوسکتی ہے۔یہ تو روگ ہے جی روگ …پاگل کر دیتی ہے بندے کو… میرے پترکو نہیں دیکھا آپ نے …؟اچھا بھلا تو تھا پہلے …”
    ”دیکھ حکمت! محبت بندے کو سونا بنا دیتی ہے پھر روگ بھی راگ بن جاتا ہے ۔”
    ”پر وہ تو جی مٹی ہوگیا ہے ۔”حکمت علی نے مولوی صاحب کی طرف خالی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا ۔ وہ بولتا جا رہا تھا ۔”دیکھیں جی ! نہ تو اُسے اپنی فکر ہے، نہ ہم بڈھے ماں پیو کا خیال ہے ۔ ” حکمت علی واقعی مایوسی کی اتھاہ گہرائیوں میں غرق تھا ۔عمر کے اس حصے میں جب والدین اپنی اولاد سے بہت ساری امیدیں وابستہ کرلیتے ہیں کہ وہ ان کے دُکھ درد کا سہارا بنے گی … مگر یہاں تومعاملہ الٹ ہوچکا تھا۔ جوان بیٹا ! محبت کا روگ پال بیٹھا تھا ۔ اولاد کے یوں بگڑنے پر اگر ایک نحیف وجود اورکمزور اعتقاد والا شخص یاسیت کا شکار تھا تویہ عجیب بات نہ تھی ۔
    ”حکمت سائیں ! میری بات لکھ لے ، تیرا پُترجب اس مٹی سے نکلے گا، تودیکھنا سونا بن کر چمکے گا۔” یہ بات سن کر وہ خاموش ہوگیا،پھر کچھ توقف کے بعد خود ہی اس نے یہ خاموشی ختم کی ۔
    ”کہتا ہے جی کہ میں اُس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا …اور یہ بھی کہ وہ میری روح کے اندر تک اُتر چکی ہے… استغفراللہ!” حکمت علی کانوں کو ہاتھ لگانے لگا ۔مولوی صاحب زیر لب دھیما سا مسکرا دیے تھے۔
    ”آہ …محبت بھی انسان سے کیا کچھ اگلوالیتی ہے ۔” انہوں نے سوچااور ایک پھر دوبارہ لب کھولے :” تو حکمت علی! تُو رشتہ کروا دے نا اس کا…”
    ”میںگیا تھا جی ان کے گھر …پر وہ ذات کے سیّد ہیں ،انہوں نے ہم کمیوں کے ہاں کب رشتہ کرنا ہے جی …دروازے ہی سے واپس بھیج دیاتھا۔”
    ”دیکھ میاں حکمت !اگر تو اُس کی محبت سچی اور پاک ہے ،پھر دیکھنا وہ ضرور کامیاب ہوگا اور ایسا کامیاب کہ لوگ رشک کریں گے اس پر…ایسے کامیاب لوگ کمیاب ہی ہوتے ہیں ۔”
    حکمت علی شاید ان باتوں کو سمجھنے سے قاصر تھا ۔وہ بس اثبات میں سر ہلاتے ہوئے ”جی جی ” کی گردان کیے جا رہا تھا۔
    ”تُو اپنے پتر کو میرے پاس بھیج …میں بات کرتا ہوں اُس سے ۔”مولوی صاحب نے کہا۔
    ”بھلا ہوجی آپ کا …اللہ لمبی حیاتی کرے آپ کی۔”وہ اُن کا ہاتھ چومتا ،آنکھوں کو لگاتا ہوا وہاں سے رخصت ہوگیا اور مولوی صاحب اپنے موٹے منکوں والی تسبیح پھیرتے ہوئے اللہ ھو کا ورد کرنے لگے۔
    ٭…٭…٭





    اس کی پیدائش پر گھر والوں نے اس کا نام ”یوسف” رکھا تھا ۔ اس کے علاوہ اسے کوئی اور نام جچتا ہی نہ تھا ۔وہ تھا ہی اتنا خوبصورت…گورا، چٹا، گول مٹول سا ، بڑی آنکھوں ، سنہری بالوں والا یوسف …جسے دیکھنے کے لیے سارا گاؤںہی امڈ آیا تھا ۔یوسف ”حکمت علی ” اور ” فاطمہ ” کی پہلی اولاد تھی۔ شادی کے تیرہ سال بعد ان کی دعاؤں کی قبولیت پر قدرت کی طرف سے یہ ایک تحفہ تھا۔ سارا گاؤں ان دو صابر لوگوں کے گھر میں چاند کی آمد پر خوشی سے نہال تھا ۔ وہ چاند ہی تھا جو غریب کے آنگن میں اسے اپنے نور سے منور کرنے کے لیے اتر آیا تھا۔ مسکراتا تو اس کی آنکھیں روشن دیے کے مانند چمکنے لگتیں۔
    یوسف کا باپ حکمت علی پیشے کے اعتبار سے کسان تھا۔ سارا دن مٹی میں رزق تلاش کرتے گزر جاتا۔وہ اکثر مٹی میں مٹی ہی ہوجاتا ، زمین کی نگہداشت کرتا اور اس سے سونا اگاتا تھا ۔ پھر اس سونے کو تانبے کے داموں بیچ کر اپنا گزارا کرتا۔ اسے کبھی زیادہ کی طلب رہی نہ کم کا غم… رزق تو باری تعالیٰ نے انسان کا پہلے ہی سے لکھ رکھا ہے ۔
    حکمت علی پندرہ سال کا تھا جب اس کے والدین اس دنیا میں اُسے تنہا چھوڑ کر منوں مٹی تلے جا سو ئے، اس کی زندگی میں واحد رنگینی اس کے والدین تھے۔ ان کے بعد تو زندگی گویاکسی طاق میں رکھے بجھے ہوئے چراغ مانند ہوگئی تھی، جس کے ارد گرد اندھیرا ہی اندھیرا تھا ۔
    اس کی زندگی کا چوبیسواں سال تھا جب فاطمہ شریک حیات بن کر اس کی تاریک دنیا کو روشن کرنے کے لیے اس کی زندگی کا حصہ بنی۔ وہ نیک سیرت لڑکی، صابر، وفادار اور بہترین ساتھی ثابت ہوئی۔ فاطمہ کا اس کی زندگی میں آنا ایک خوش گوار تبدیلی تھی ۔ اس کے نزدیک وہ ایک قیمتی ہیرے کی طرح تھی کہ جسے کھو دینے کا وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔
    وہ کئی بار فاطمہ سے اپنی بے لوث محبت کا اظہار کر چکا تھا۔جو دوسری بڑی نعمت اسے ملی ،وہ یوسف کی صورت میں تھی ۔ اس کی اولاد ، اس کے وجود کا حصہ، دونوں کا سب سے قیمتی سرمایہ … ایک طویل ، صبر آزما عرصے کے بعد ملنے والی نعمت…!
    ٭…٭…٭
    بادلوں کی گرج ،بجلی کی چمک ، بارش کی آمدکا مژدہ سنا رہی تھی۔ وہ بچہ اپنے جیسے دوسرے بچوں کو گلیوں میں دوڑلگاتے، گرد اڑاتے اور کاغذ کی کشتیاں بناتے ،بارش کا انتظار کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ پھر اس نے اپنا چہرہ آسمان کی طرف اٹھایا ۔بارش کا پہلا قطرہ اس کے دائیں گال کو تر کر گیا۔
    ” بارش آئی …بارش آئی۔ ” کا ایک شور بلند ہوا۔ بچے اب کافی پُر جوش نظر آنے لگے تھے ۔ وہیں کھڑے کھڑے اس نے خود کو بارش میں بھیگ جانے دیا ۔ آنکھیں موندے وہ اس احساس میں اتنا محو تھا کہ اس نے غور ہی نہیں کیا کہ کب اس کے قدموں تلے زمین کسی جھیل کی طرح پانی سے بھرنے لگی تھی ۔ ایک کاغذ کی کشتی اس کے پاؤں سے ٹکرا کر پانی میں ڈوب گئی ۔ بچے اسے خود میں مگن دیکھ کر اس کے گرد اکھٹے ہوچکے تھے ۔ اس کے کپڑے کیچڑ سے داغ دار تھے ، اناری گال مٹی ہوگئے تھے ۔ادھر بچوں کے قہقہے فضا میں بلند ہوئے تو وہ ناراض ہونے کے بجائے نادم ہوا تھا ۔ چیخنے کے بہ جائے خاموش رہا تھا ۔ وہاں موجود ہر بچہ یہ جانتا تھا کہ وہ کچھ نہیں بولے گا ۔ وہ یوسف کو اچھی طرح جانتے تھے ۔ وہ معصوم تھا ، کم گو ، شریف ، اس کی اپنی ہی دنیا تھی ۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ ان کے ساتھ کھیلنا نہیں چاہتاتھا۔ بس ان بچوں سے وہ یہ بات کہنے کی ہمت نہیںرکھتا تھا ۔ یہ فاطمہ اور حکمت علی دونوں کی خواہش تھی ۔ وہ اسے ایک بڑا کامیاب آدمی بنانا چاہتے تھے ۔جوان کے لیے فخر کا باعث بنتا… وہ خوبصورت تھا اتنا کہ اسے جو بھی دیکھتا ،پھر اسی کے گن گانے لگتا ۔ وہ بلا کا ذہین بھی تھا، ایسا کہ فاطمہ اور حکمت علی کو اپنے خواب پورے ہونے کایقین ہوچلا تھا ۔ وہ پڑھائی میں جتنا اچھا تھا ، بات کرنے میں اتنا ہی نالائق…نہ تو وہ لاڈ پیار کا بگڑا تھا اور نہ ہی ضد کا قائل … یوں کہہ لیں کہ وہ بچپن ہی سے ” اللہ لوک” تھا ۔
    یہ ننھا منا ” اللہ لوک” شکایتیں کرنے کا عادی نہ تھا،لیکن ایک دن تنگ آکر باپ کے پاس پہلی بار شکایت لے کر گیا تھا ۔ اسے اپنے ہم جماعتوں سے شکوہ تھا، وہ اسے اصل نام کے بجائے ”سائیں” کہہ کرپکارتے تھے ۔ یہ نام اسے بالکل پسند نہیں تھا لیکن لفظ ”سائیں ” کی بازگشت اتنی زیادہ پھیلی کہ لوگ ” یوسف ” کو بھولنے لگے تھے ۔
    ”دیکھ پتر! ایسا کہنے سے کچھ نہیں ہوتا …نام تو تیرا یوسف ہی ہے نا … بس تو دل لگا کر پڑھا کر … دیکھنا کل کو جب تُو بڑا آدمی بنے گا ،تویہی لوگ تجھے ” یوسف صاحب” کہیں گے۔”
    ” لیکن مجھے اچھا نہیں لگتا… وہ سب میرا مذاق اڑاتے ہیں ۔” اس کی آنکھوں میں آنسو امڈ آئے تھے ۔
    ”بہادر بچے ایسے نہیں روتے … رونے سے آج تک کوئی مسئلہ حل ہوا بھلا…؟”
    ”تو پھر میں کیا کروں …؟” بلا کی معصومیت اس کے چہرے پر عود آئی ۔
    ” کچھ بھی نہیں … تُو بس اللہ سے دعا کیا کر کہ وہ ان کے دل میں تیرے لیے محبت ڈال دے۔ ” یہ ایک گرُتھا جو ایک باپ اپنے بچے کو سکھا رہا تھا ۔ صبر کرنے کا ، اللہ سے رجوع کرنے کا۔
    ”تو کیا پھر وہ مجھے ایسے نہیں کہیں گے ؟”
    ”جب اللہ چاہے گا ان کے دل پھیر دے گا ۔”
    ” اور اگر اللہ نے ایسا نہ کیا تو …؟”
    ” جو لوگ اللہ کی مرضی مانتے ہیں ۔ ا للہ ان کی ضرور سنتا ہے ۔ جلد یا بدیر ، مگر ضرور سنتا ہے ۔ بس صبر کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے ۔سمجھ گیا ناپُتر…؟”حکمت علی ایسے گویا تھا جیسے اس کے سامنے سات سال کا بچہ نہیں کوئی ہم عمر ہو … یوسف اب خاموش ہو گیا تھا۔ ایسا خاموش کہ پھر اس نے کبھی اس بات کی شکایت ہی نہ کی۔ ” سائیں ”کی بازگشت تھمی اور نہ یوسف کا صبر ٹوٹا۔
    ٭…٭…٭





    وہ اکیلی تھی ، بالکل اکیلی …اس وقت اس پرایسی کیفیت طاری تھی کہ آدمی اپنے سائے سے بھی ڈرنے لگتا ہے ۔وہ اندھیرے میں چیزوں کو ٹٹولتی ہوئی اپنا راستہ تلاش کر رہی تھی، مگر اندھیرا تھا کہ ہر بار اسے ٹھوکر کھانے پر مجبور کررہا تھا۔ کچھ تگ ودو کے بعد وہ اگلے کمرے میں پہنچنے میں کامیاب ہوگئی ۔
    وہا ں روشنی کی ایک باریک سی کرن تھی جو اندھیرے سے لڑتی اپنا وجود کھو رہی تھی ۔ اسے اپنی زندگی بھی اس کمرے کی طرح لگ رہی تھی، خالی ،تاریک اور روشنی کی ایک کرن ” امید ” کا آسرالیے ناامیدی کا مقابلہ کرتی ہوئی ۔ اس کا رُخ کونے میں پڑے ایک صندوق کی طرف تھا ۔ آہستگی سے چلتے ہوئے وہ اس کے سامنے بیٹھ گئی ۔
    کتنی ہی دیر اس کشمکش میں گزری کہ آیا وہ صندوق کھولے یا دل کے بنددریچوں کی طرح اسے بھی بند ہی رہنے دے ۔آخر ہمت کر کے اس نے اسے کھول دیا ۔ کپڑوں کا انبار تھا اور اس کے نیچے کی سطح پر کاغذ کا ایک ٹکڑا … لرزتے ہاتھوں اس نے وہ کاغذ اٹھالیا ،لیکن اسے کھول کر پڑھنے کی ہمت اس کے اندر آج بھی نہیں تھی، بالکل اسی طرح جیسے نو سال پہلے نہیں تھی ۔وجہ تو خیر وہ آج تک نہ جان پائی تھی۔
    نو سال پہلے اس نے صرف ایک سطر پڑھی اور آج بھی صرف وہی ایک سطر … کیسے کیسے خدشات اس کے ذہن میں ا بھرے تھے ۔ اسے زندگی میں سب سے زیادہ ڈر بددعا سے لگا تھا اور پہلی سطر ہی اتنی خوفناک تھی کہ وہ اُسے مزید پڑھنے کی ہمت نہ کرسکی تھی۔ ۔
    ”جب وقت تیرا ڈھل جائے گا ۔”
    آنسوؤں کا ریلا اس کی آنکھوں سے رواں ہوا ۔اس نے وہ کاغذ دوبارہ تہ کر کے رکھ دیا ۔ ایک سطر پڑھی تھی تو آٹھ سال بعد تباہ و برباد ہو کر آئی تھی ۔ آگے پڑھتی تونجانے کیا ہوتا۔
    ٭…٭…٭
    پنڈ سروہا کے مولوی جی کا رُخ مسجد کی طرف تھا جہاں ایک لاچار باپ اپنے دیوانے ، عاشق بیٹے کو لیے ان کی راہ تک رہا تھا ۔ مولوی صاحب چہرے پر مسکان سجائے پاس سے گزرنے والوں کو سلام کا جواب دے رہے تھے ۔ یہ دلفریب مسکان جو چند لمحوں بعد ان کے چہرے سے زرد موسم میں سبزپتوں کی طرح غائب ہوئی تھی ۔ پاؤں برف ہوئے تھے اور آنکھیں پتھر… ان کے سامنے ایک’مجنوں’ بیٹھا ہواتھا ۔ اٹھارہ انیس سال کا دیوانہ… دنیا جہاں سے بے خبر …زمانے بھر سے لا تعلق …میلے کپڑوں اور بکھرے بالوں میں وہ بے تاثر چہرہ لیے آسمان کو تکنے لگا۔
    مولوی صاحب! میکانی انداز میں قدم اٹھاتے ، تسبیح کے دانوں پر بندش ڈالتے اس کی طرف بڑھے۔ دونوں کی نظریں چار ہوئیں ۔ عاشق کے ہلتے ہوئے ہونٹ تھمے اور اُن کے قدم … ماحول پر ایک سکوت چھاگیا تھا ۔ پھر ایک دم خاموشی رخصت ہوئی ۔
    ”اے بالک !پتا ہے تجھے کہ تُوکیا کر رہا ہے؟” بارعب آواز میں پوچھا گیا ۔ پاگل استہزائیہ انداز میں ہنسا ۔
    ” اُسے دیکھنے آیا ہوں … اُدھر آسمان پر اس کی صورت نظر آتی ہے مجھے … مگر زمین پر وہ دکھائی نہیں دیتی … ایسا کیوں ہوتا ہے؟آپ کو تو معلوم ہوگا۔” جواب کے ساتھ ہی سوال آیا تھا۔ درد میں لپٹا ہوا، حاصل کرنے کی لاحاصل جستجوجیسا۔
    ”تیر ایوں گلیوں میں بیٹھنا اسے بدنام کرے گا ۔”
    ”کیسے؟میراعشق توخاموش ہے ۔ سمندر جیسا… اس کا نام تک نہیں لیا میں نے…”
    ”تُو فانی چیز کے پیچھے بھاگ رہا ہے ۔چھوڑ دے یہ تمنا۔” تنبیہ کی گئی تھی، مگر منت کے انداز میں … اندیشوں کے انبار میں …”
    ” فانی تو میں ہوں … چاہت توفانی نہیں ہے … وہ تو ابدی ہے … ہمیشہ رہے گی۔”
    مولوی صاحب کی تنبیہ واقعی بے اثر رہی تھی۔
    ”اس سب سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔” اس بار انداز غصیلا تھا اورآواز کرخت۔
    ”تمنا بھی نہیں…” غصے کو بھاپ کی طرح اڑاتے وہ مسکرایا۔
    دو نظریات تھے اوردو ہی دماغ …کوئی بھی ہار ماننے کو تیار نہ تھا ۔پھرایک دم ماحول پر گہرا سکوت چھا گیا ۔
    ٭…٭…٭





    ” حکمت علی! تُو چلا جا …پتر کو میرے پاس رہنے دے …میں بات کرتاہوں ،تُوتھوڑی دیر بعد آنا ۔”مولوی جی نے حکم جاری کیا تو حکمت علی ذرا سا فکر مند ہوگیا ، مگر مولوی جی پر اعتمادکی بدولت اپنے روایتی انداز میں ”جی جی” کہتا وہاں سے اُٹھ گیا ۔
    مولوی صاحب اور اس عاشق کے درمیان کچھ دیر خاموشی کا غلبہ رہا ۔ انہوں نے اس کے چہرے پر آئے سر کے بالوں کو اپنی انگلیوں سے پرے ہٹاکر اس کی آنکھوں میں جھانکنے کی کوشش کی ۔ وہ چند لمحے دیکھ پائے اور اس کی آنکھوں میں چھپا جذبہ جان گئے۔آنکھوں میں خالی پن تھا، فقدان تھا،پاک، بے ریا محبت کی چمک کا فقدان، وہاں حقیقی محبت اور چاہت کی وہ چمک مولوی جی کو دکھائی نہیں دی تھی۔
    ” تُو جانتا ہے محبت کیا ہے؟” خاموشی ٹوٹی تھی ، لڑکے کی آنکھوں میں حیرت ابھری ۔وہ تڑپ اُٹھا۔پہلی بار اس نے لب کھولے تھے ۔
    محبت بڑی خو ب صورت بلا ہے
    درندوں میں شفقت اسی کی عطا ہے
    ” کیا ہے محبت…؟” سوال دہرایا گیا ۔
    ” کسی کو بے پناہ چاہنا… اتنا کہ ہر جگہ وہی نظر آئے ۔ اپنی ذات کو آدمی بھول جائے۔”
    ” تجھے کتنی محبت ہے اُس سے ؟” ایک اور سوال اس کے سامنے تھا ۔
    ” بہت … اتنی کہ وہ نہ ملی تو مرجاؤں گا ۔”اس کے لبوں پر ایک درد بھری مسکراہٹ عود آئی ۔ ”لیکن …لیکن یہ کیسی محبت ہے ،جو انسان کو زندہ بھی نہیں رہنے دیتی ۔اس سے جینے کا حق ہی چھین لیتی ہے ۔” مولوی صاحب کی آواز میںجلال تھا ۔
    ” محبوب پاس نہ ہو تو انسان زندہ کیسے رہ سکتا ہے ؟ اس سے دوری کا احساس ہر پل موت کی طرف دھکیلتا ہے ۔” اس نے احتجاج کیا تھا ۔
    ” رہ سکتا ہے زندہ … بالکل رہ سکتا ہے، لیکن شاید تم یہ بات نہ سمجھو ۔ مجھے معلوم ہے کہ تمہیں صرف دل لگی ہے، جسے تُو نادانی میں محبت کا نام دے رہا ہے۔”
    ”آپ غلط کہہ رہے ہیں ، جھوٹ بولتے ہیں ، میں اسے بے پناہ چاہتاہوں ۔ وہ نہ ملی تو میرے جینے کا کوئی جواز نہیں ہے۔” وہ ایک دم تڑپ اُٹھا تھا مولوی صاحب کی بات اس کے جسم پر تیزاب کی طرح لگی اوروہ پہلے ہی جلے دل کا مالک تھا ۔
    ” چاہت کی انتہاموت نہیں، زندگی ہے ۔ محبوب جب دل میں بس جاتا ہے، تو زندہ رکھتا ہے ، مارتا نہیں۔”
    ” لیکن میں تو پَل پَل مرتا ہوں اس کے بغیر …” اس نے کمزور آواز میں کہا۔
    ” یہ ابتداہے، اگر تُوسمجھے تو… محبت تو یہ ہے کہ آدمی خود کو محبوب کے رنگ میں رنگ لے۔ اس کی چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھے ۔ اسے بے لوث چاہے ۔ ایسا کہ اس میں نہ کوئی غرض ہو ، نہ ریا ۔ اس کی تصویرکو دل میں ایسے بسائے کہ کوئی اور تمنا دل میں باقی نہ ہو ۔اس کی چاہت تمھارے وجود کے ساتھ ایسے لپٹی رہے کہ وہ تمہیں زندہ رکھے ۔ تمہارے وجود کو امر کرے ۔ انسان محبوب کی عزت مقدم رکھے، تو وہ محبت ہے ۔ تمہاری طرح نہیں کہ وہ اسے بدنام کرے ۔” اب وہ ٹرانس کی کیفیت میں تھا۔
    آخری جملے نے لڑکے کو احتجاج کرنے مجبور کیا ۔
    ” میں نے ایسا کبھی نہیں چاہا… کبھی بھی نہیں ، میں تو اسے ہاتھ کا چھالا بنا کر رکھتا ہوں۔ اسے بدنام کیسے کر سکتا ہوں ؟”
    ”تُو…تُو پھر اپنی محبت کی تشہیر کیوں کرتا ہے؟اسے دل میں بسا کر کیوں نہیں رکھتا کہ وہ تجھے مضبوط بنائے۔ ” مولوی جی اسے ٹریک پر لانا چاہ رہے تھے ۔
    ”محبت تو انسان کو کمزور کردیتی ہے ، بے بس کر دیتی ہے ۔ محبوب کی تصویر چاہے دل میں بسی ہو، مگر من یہ کرتا ہے کہ وہ ہمیشہ آنکھوں کے سامنے رہے ۔ہر وقت ، ہر پل ۔”
    ”محبت انسان کو کمزور نہیں کرتی اگر ایسا ہوتا، تو کبھی پہاڑ سے دودھ کی نہر نہ نکل پاتی۔ کچے گھڑے کے سہارے کبھی دریا نہ پار کیے جاتے ۔”ان کی بات پر وہ خاموش رہا ۔ موقف اب بھی وہی تھا، مگرالفاظ جیسے ختم ہوگئے تھے ۔ بالآخر طویل خاموشی کے بعد وہ ایک تاویل ڈھونڈ لایا۔
    ”مجنوں بھی تو لیلیٰ کی خاطر گلیوں کی خاک چھانتا تھا ۔ اسے تو اس کی گلی کے حقیر جانور سے بھی پیار تھا ۔” وہ اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہ تھا ۔
    ”بالکل … اس نے خود کو محبوب کے لیے وقف کر دیا تھا، اتنا کہ پھر اس حقیر جانور سے بھی اسے محبت ہوگئی تھی ۔ وہ سچی محبت تھی جو امر ہوئی دیکھو !وہ سچی محبت کی رہتی دنیا کے لیے مثال بن گئی اور مثال وہی چیز بنتی ہے جوبے غرض اور سچے جذبوں میں گُندھی ہو۔”
    ”میری محبت میں بھی کوئی غرض نہیں ہے ۔ سچی اور حقیقی چاہت ہے میری۔ میں سچ بولتا ہوں۔ میرا جذبۂ عشق سچا ہے ۔” وہ بے تاب تھا ، مضطرب بھی ۔
    ” تُو جھوٹ بولتا ہے ۔ تیری محبت میں اگر غرض نہیں ہے، تو اس کے نہ ملنے پر مرنے کی باتیں کیوں کرتا ہے ۔ یہ کیوں نہیں کہتا ہے کہ اگر وہ نہ بھی ملی تو تیرے جینے کے لیے اس کی محبت ہی کافی ہے ۔” مولوی صاحب کی باتوں میں وزن تھا ۔لڑکا بے بس ہوچکا تھا ۔
    ”مولوی جی !آپ جو کہہ رہے ہیں وہ ناممکن ہے ۔ اگر وہ نہ ملی تو میری محبت تو ادھوری رہ جائے گی نا۔”
    ”بس یہی تو غرض ہے ۔ تُو اس کے جسم کا متلاشی ہے ۔ تُونے کبھی اس کی روح کو کھوجنے کی تمنا ہی نہیں کی ۔ وہ محبت کبھی امر نہیںہوتی جو فانی چیز کی متلاشی ہو ۔”
    ”میں سمجھا نہیں ۔”کمزور لہجہ اور مریل سی آوازمولوی جی کی سماعتوں سے ٹکرائی ۔
    ” یہ وقت دیکھ رہا ہے تُو…؟اذان ِمغرب ہونے کو ہے ۔دن اور رات کے ملنے کا وقت … یہ تھوڑی دیر کے لیے آتا ہے بس…پھر رات غالب آتی ہے۔ ملن کی گھڑی مختصر ہی ہوتی ہے۔ عشق مجازی بھی ایسا ہی ہے ۔ملن ہوتا ہے، تو مگر تھوڑی دیر کے لیے … پھر اندھیرا غالب آجاتا ہے ۔۔ تُوایسی چیز کے پیچھے بھاگ رہا ہے جو ہاتھوں سے ریت کے مانندپھسل جاتی ہے ۔ امر ہونا چاہتا ہے نا تُو …؟ ” انہوں نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔ وہ اثبات میں سر ہلانے لگا ۔
    ”تو پھر اس محبت کو دل میں یوں بسا کہ یہ تیرے دل کو روشن کردے ۔ تجھے شاد اور آباد رکھے ۔ تُو اسے سیڑھی بنا کر عشق حقیقی کی لذت بھی چکھ کر دیکھ لے۔پھر دیکھ رب سوہنا کرم کرے گا ۔”
    مغرب کی اذان کا وقت ہوگیا تھا ۔ گفتگو کا سلسلہ رک گیا ۔ مولوی جی نہیں جانتے تھے کہ اس لڑکے پر کتنا اثر ہوا ہے، مگر ان کے بس میں صرف یہی تھا ۔
    ٭…٭…٭




  • بڑی آنٹی —– زرین جوشیل

    بڑی آنٹی —– زرین جوشیل

    شگفتہ نازایک نرم ونازک احساس ، جس نے 1950ء میں تقسیمِ ہند کے بعد دہلی سے لاہور منتقل ہوئے ایک متوسط گھرانے میں جنم لیا ۔ یوں تو رشید میاں کے ہاں سات بچیوں کی ولادت ہوئی جن میں سے تین توبچپن ہی میں اللہ کو پیاری ہو گئیں ۔ شاید بیٹا نہ ہونے کے غم نے رشید میاں کو ساری زندگی اپنی زوجہ ، بیگم سیدہ سے دور رکھا ۔پہلوٹھی کی اولاد ہونے کے ناطے شگفتہ ناز نے اپنے والدین کے رشتے میں کشیدگی کو بھانپ لیا تھا۔ وہ شروع ہی سے انتہائی مدّبر اور خاموش طبعتھی ۔ رشید میاں کی اردو بازار میں کتابوں ایک بڑی کی دکان تھی، جس پر وہ اپنے چھوٹے بھائی سید نور کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے۔نور صاحب کم عمری کے باعث تھوڑی چلبلی طبیعت کے مالک تھے جب کہ رشید میاں تو مُسکرانا بھی شاید گناہ سمجھتے تھے۔ بچے ابھی زیادہ بڑے نہیں ہوئے تھے کہ اُن کی امی جان کو ٹی بی جیسا جان لیوا مرض لاحق ہو گیا۔ بس پھر کیا تھا ، ساری ذمے داری شگفتہ ناز کے کمزور کاندھوں پر آپڑی۔ اسکول کے بعد گھر کا کام، امی کی تیمارداری ، بہنوں کی دیکھ بھال، یہ سب کچھ فریضہ اوّل بن گیا تھا، لیکن دن بھر کی تگ ودو کے بعد جب شگفتہ بی بی اپنی دادی کے پاس بیٹھ کر تقسیمِ ہندسے پہلے کے وا قعات اور ہندوستان میں مقیم اپنے رشتہ داروں کے قصے سنتیں ، تو اُن کی ساری تھکن مٹ جاتی ۔ وہ ان کہانیوں میں یوں کھو جاتیں، گویا وہ خود بھی اُن کا حصہ ہو۔ اُردو ادب پر اُنہیں باقی بہنوں کی نسبت خاصا کافی عبور حاصل ہوگیا تھا۔ جب بھی کسی بہن کو لغت کا کوئی مسئلہ درپیش ہوتا وہ سیدھا بڑی باجی سے رجوع کرتی۔ بڑی باجی کہلوانا پسند جو تھا اُسے۔ بھئی بڑے ہونے کے لیے کچھ رعب اور آداب بھی ملحوظِ خاطر رکھنے چاہئیں کہ نہیں؟ شاید یہی وجہ تھی جو تمام بہنیں اُس کی بے پناہ عزت کرتی تھیں یا پھر اُس کے رعب ودبدبے کی وجہ سے اُس سے دل کی بات کرنے سے بھی کترایا کرتی تھیں۔
    رشید میاں دکان بند کرنے کے بعد اپنا زیادہ تر وقت دوست و احباب کی محفلوں میں گزارنا پسند کرتے تھے ۔ کبھی دعوتِ عام کسی کے ہاں ہوتی تو کبھی اپنے یہاں ۔ دستر خوان طرح طرح کے کھانوں سے بھرا رہتا تھا ۔ دادی کے منع کرنے پر اکثر کہا کرتے ۔ امی جان! یہ دستر خوان او ر میری جیب کبھی خالی نہیں رہیں گے۔ دادی جان استغفار پڑھ کر بات آئی گئی کردیتی تھیں،لیکن وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا۔ کون جانے کب کس کی خوشیوں کو نظربد لگ جائے۔ اس خاندان پر سب سے پہلا صدمہ تب گزرا، جب سید نور صاحب کے کسی دوست نے اُنہیں ثریا نامی بیوہ خاتون اور تین عدد بچوں کی ماں سے، انسانی ہمدردی کے ناطے متعارف کروایا۔ ملاقاتوں کا یہ سلسلہ نہ جانے کب بے جوڑ محبت میں تبدیل ہوگیا یہ کوئی نہیں جانتا، لیکن اجازت نہ ملنے پر نور صاحب نے ایک فلمی ہیرو کی طرح بغاوت کی راہ اپنائی اور ثریا سے خفیہ نکاح کر ڈالا۔
    نو بیاہتا جوڑا جب اپنے بڑوں کی دعائیں لینے گھر پہنچا، تو دادی جان نے نا صرف منہ پھیرا بلکہ ثریا پر تعویذ گنڈوں کے الزامات لگاکر اُن کا بیٹا پھنسانے کے جرم میں دھکے دے کر گھر سے نکال دیا لیکن ثریا بی کہاں دودھ کی دھلی تھی۔ اُس نے بھی دادی جان سے بدلہ لینے کی ٹھان لی اور اپنے شوہرکولے کر یہ جا وہ جا ۔ اب تو دادی جان کو بھی اک پل چین نہ رہا ہر وقت ثریا بی کو کوسنے اور بد دعائیں دینا تو جیسے ااُن کا مقصد ِ حیات بن گیا تھا۔ چاروں بچیوں کوچچا جان سے بے انتہا اُلفت تھی اور کیوں نہ ہوتی وہ بھی اِن پر جان چھڑِکتے تھے اور اپنے بھائی بھابی کی بھی بے انتہا عزت کرتے تھے۔زندگی کہاں کسی کے چلے جانے سے رکتی ہے ۔وقت گزرتا گیا والدین کی ناچاقی اور دادی کی باتیں سن سن کر شگفتہ ناز ایک عام سی شکل و صورت ، سانولی رنگت، درمیانے قد اور دبلی پتلی جسامت والی جوان لڑکی میں تبدیل ہوگئیں ۔ لیکن منجھلی بہن شہناز تھی تو قد میں ذرا کم، لیکن صاف رنگت گداز جسم اور تیکھے نین نقش کے باعث کافی دل کش نظر آنے لگی۔ شمع اور بلقیس ابھی چھوٹے ہونے کے ناتے ان خصوصیات سے مبرّا تھیں۔ اسی دوران دادی جان کے دور دراز کے کوئی یتیم مسکین رشتہ دار بنّے میاں اُن کے یہاں پڑھنے کی غرض سے رک گئے۔ آگے پیچھے کوئی ٹھکانہ نہیں تھا اس لیے دادی نے بھی ترس کھا کر اوپر کی برساتی میں اُنہیں رہنے کی جگہ دے ڈالی۔ بننے میاں کے آنے سے ایک رونق سی لگ گئی۔ دن ہو یا رات اس گھر سے قہقہوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔ دیکھنے میں بھی بنّے میاں کسی مزاحیہ کردار سے کم نہ تھے اوپر سے اُن کی شرارتیں ۔ خدا کی پناہ جیسے یہ شخص خوشیاں بانٹنے ہی دنیا میں آیا ہو۔بچیوں کے ساتھ لڈو، تاش ،کیرم کھیلنا ، کبھی بھوت کا لبادہ اوڑھ کر پڑوسی کو ڈرا دینا ۔کوئی ایک تماشا ہو تو بتائیں ۔ بچیاں بھی چچا چچا کرتے نہ تھکتی تھیں۔ اُن کے لیے شاید وہ بچھڑے ہوئے چچا نور جیسے تھے، لیکن کسی کے دل کا بھید کون جانتا ہے؟ ایک دن بنّے میاں نے دادی جان سے شگفتہ ناز سے شادی کی خواہش ظاہر کر ڈالی بس وہ چچا بنّے کا آخری دن تھا اُس گھر میں۔ دادی نے پہلے تو خوب کھری کھری سنائیں اور پھر گھر سے رفع دفع ہونے کا حکم صادر کر ڈالا ۔ بنّے چچا دل کے ارمان آنسوو ٔں میں بہائے گھر خالی کر گئے،کوئی یہ نہ جان سکا کہ چچا پر آخر بیتی کیا؟





    جب امی جان نے دادی سے انکار کی وجہ دریافت کی، تو اُنہوں نے جھٹ سے چچا کے والی وارث نہ ہونے کا بہانہ کرکے بات ختم کردی۔ امی جان بھی چپ ہوگئیں ۔
    شگفتہ ناز شروع سے کافی سمجھ دار تھیں۔ اُن کے لیے اپنی امی کی آنکھ کا اشارہ ہی با ت سمجھنے کے لیے کافی تھا۔ ابھی کچھ ہی دن گزرے کہ امی جان کے کزن لطیف بھائی، جن کی انارکلی بازار میں مٹھائی کی مشہور دکان ہوا کرتی تھی ، ان کی امی نے دادی جان کو اپنے بڑے بیٹے کے واسطے شگفتہ ناز کے رشتہ کا پیغام بھیجوایا۔ بس یہ سننے کی دیر تھی کہِ دادی آگ بگولا ہوکرکہنے لگیں۔
    ”ارے بھیا!میں نہ بیاہوں اُن حلوایوں کے گھر اپنی پوتی کو ، بھلا بتاؤ کتنی بدبو آتی ہے اُن کے باپ کی دھوتی سے ، ملگجے سے کپڑے پہنے رکھتا ہے ہر وقت، ارے بیٹا چاہے جتنا بھی پڑھ لکھ جائے رہیں گے وہی کارخانہ د ار”۔
    شگفتہ بی بی اکثر اُردو رومانی ناولوں کو چاند کی روشنی میں بیٹھ کر پڑھا کرتی تھیں شاید اُن کا افسانوی ہیرو بھی کوئی ایسا ہی قابل شخص تھاکیوں کہ یہی ایک واحد رشتہ تھا جس کے آنے پر اُن کے دل میں کچھ اُمنگ جاگی تھی،لیکن دادی کے صاف انکار پر اُن کا دل ایسا ٹوٹا کہ آیندہ کبھی کسی رشتے کے آنے پر اُنہیں خوش نہ دیکھا گیا۔
    چاروں بہنوں میں سال سال ہی کا فرق تھا۔ ناچاہتے ہوئے بھی گویا وہ ایک دوسرے کے حالات سے بہت حد تک باخبر تھیں۔ دوسری طرف ثریا بانو نے اپنے شوہر کی نافرمانی کرتے ہوئے ، اپنی ذلت کا بدلہ لینے کے لیے رشید میاں پر دکان اور مکان کے بٹوارے کا کیس دائر کردیا۔ کورٹ کچہری کرتے کرتے حالات اتنے بدلے کہ دونوں دکانیں بک گئیں اور یہ سب کرا ئے کے مکان میں آگئے۔
    آخرکار ثریا بانو کا تیر نشانے پر لگا اور اُس نے ہنستا مسکراتا گھر تباہ کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ ایک رات امی جان کی طبیعت اچانک بگڑ گئی۔ وہ اکثر دادی یا مولوی صاحب کا دم شدہ پانی پیا کرتی تھیں۔ جب دوا بے اثر ہونے لگی، تو اُن کے کہنے پر چھوٹی شمع اور بلقیس نے وہی دم کیا ہو ا پانی ماں کو لا دیا۔ بس چند قطرے حلق میں جاتے ہی آنکھیں ایک سمت ٹکٹکی باندھے دیکھنے لگیں اور جسم بے سُدھ ہوگیا۔ سنتے تھے کہ امی جان پر کوئی جن عاشق تھا، وہ اُنہیں زندگی کی تمام تکلیفوں سے نجات دلا کر اپنی دنیا میں لے گیا۔ ہاں یہی ایک خواب تھا ، جو رشید میاں نے اپنی بچیوں کو شایددلاسا دینے کے لیے سنایا تھا کہ ایک رات میں نے خواب کی حالت میں تمہاری ماں کو لال جوڑے میں ملبوس بہت خوش اور صحت مند پایا۔ چاروں معصوم بچیوں نے بھی یقین کرلیا۔
    دن گزرتے رہے۔ گھر میں یا تو ڈیڈی تھے یا دادی، جی بالکل ! شروع ہی سے رشید میاں کو بچیاں ڈیڈی کہہ کر ہی مخاطب کیا کرتی تھیں ۔ وقت جوں جوں گزر رہا تھا ، بچیوں میں خود کو ڈھکنے کا شعور بھی اُجاگر ہورہا تھا۔ خاص طور پر شگفتہ بی بی تو شرم و حیا کا ایسا پیکر تھیں کہ رات سوتے وقت بھی ، مجال ہے جو اُن کا دوپٹہ سر سے سرک جائے ۔ دوسری طرف ثریا نے ماضی کی تلخیاں بھلا کر دوستی کا ہاتھ بڑھانا چاہا او ر بن ماں کی بچیوں سے پیار جتانے کی غرض سے اپنے بچوں کو ان کے گھر چھوڑنا شروع کردیا۔بیٹے کی محبت کے ہاتھوں مجبور دادی نے بھی ثریا کی معافی منظور کرلی۔ ویسے بھی دادی کو کچھ کم دکھائی دینے لگا تھا وہ یہ بھی نہ جان سکیں کہ دشمن تاک لگائے بیٹھا ہے۔
    میل جول اور پیار پروان چڑھتا رہا ،یوں ایک دن یہ تمام بچے پکنک منانے کی غرض سے شالامار باغ گئے، جہاں خاص طور سے چچی جان یعنی ثریا بانو نے بچوں کے لیے بریانی بنا کر بھیجی تھی۔ خدا کی پناہ بریانی کھاتے کھاتے سب کے کھانے میںبال نکلنا شروع ہوگئے اور دیکھتے ہی دیکھتے تمام بچوں کے بیچ ایسی لڑائی ہوئی کہ اینٹ کتے کا ویر۔ بس اگلے ہی دن شگفتہ ناز کو تیز بخار چڑھا اور اُنہوں نے بستر سنبھال لیا ۔ میٹرک کا امتحان سر پر کھڑا تھا ،تپتے بخار میں چھوٹی بہنوں شمع اور بلقیس نے پکڑ پکڑ کر بڑی باجی کو پرچے دلوائے ،بڑی مشکل ہی سے سیکنڈ ڈویژن تک ہی بات بن پائی ۔ جس پر رشید میاں نے کہا کہ میں اتنے کم نمبروں سے پاس ہونے پر کالج میں داخلہ لے کر نہیں دے سکتا ۔ پڑھائی بند کر کے گھر بیٹھو اور یوں چاروں بچیوں کی آگے پڑھنے کی خواہش ادھوری رہ گئی۔ شگفتہ بی بی کا بخار ٹائیفائیڈ میں تبدیل ہوچکا تھا اور نظر بھی کافی حد تک گر گئی۔ ایک دن خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ دادی جان بھی چل بسیں ، بس پھر کیا تھا شگفتہ ناز ہی اب پورے گھر کی بڑی باجی بن کر رہ گئیں ۔گھر والوں کے علاوہ محلے دار رشتہ دار، عزیز و اقارب سب اُنہیں بڑی باجی کے نام سے پکارنے لگے ۔ شمع اور بلقیس بھی جوان ہونے لگی تھیں ۔رشید میاں اب دوسروں کے کتب خانوں میں پارٹ ٹائم نوکری کرتے تھے اس لیے حالات کافی تنگی کا شکار ہونے لگے بھائی کوئی تھا نہیں جو بڑھاپے کا سہارا بنتا ،بس یوں سمجھیئے کہ صورتِ حال کافی گھمبیرتھی۔ کبھی کوئی خالہ چھٹیوں میں باقی بہنوں کو اپنے ساتھ ملتان لے جاتی ،تو کبھی کوئی پھوپھی اپنے ساتھ کراچی گھمانے۔ سیرسپاٹا تو صرف ایک بہانہ تھا اصل مقصد تو اپنے اپنے گھروں میں مفت کام کروانا۔ رشید میاں سیدھے سادھے انسان تھے ، جو رشتہ داروں نے جھوٹ سچ لگایا ، مان لیا اور بچیوں کی کیا مجال کہ وہ بڑوں کے آگے چوں بھی کرجائیں۔
    کہتے ہیں کہ بڑی بہن ماں کی جگہ ہوتی ہے، یہی سوچ شایدشگفتہ ناز کے ذہن میں بھی پروان چڑھ رہی تھی ۔ اپنی بیماری سے اُٹھتے ہی اُنہوں نے کسی دوا بنانے والی کمپنی میں نوکری کرلی۔ گھر میں کچھ پیسے آنے شروع ہوئے تو بڑی باجی کی عزت و عافیت بے پناہ بڑھ گئی اور ساتھ ہی ساتھ ایک کالے موٹے چشمے نے اُن کی آنکھوں پر بیٹھ کر اُن کے رعب و دبدبے میں بھی اضافہ کردیا۔ اب جو بھی رشتہ بڑی باجی کے لیے آتا وہ منجھلی شہناز کو پسند کر جاتا ،لیکن وہ بھی رشتہ سے صاف انکار کردیتی۔عمر بڑھتی جارہی تھی اور رشتے بھاگے جارہے تھے ۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں پھوپھی جان ، شہناز کو اپنے ہمراہ کراچی لے گئیں۔تین مہینے بعد، پھوپھا جان نے رشید صاحب کو شہناز کے نکاح کی اطلاع فون پر دی، تو سنا ہے کہ رشیدمیاں دیواروں سے ٹکریں مار مار کر رو ئے ۔گھر میں جیسے کوئی مر گیا ہو۔ ظاہر ہے ایک شریف آدمی کے لیے یہ مرنے ہی کا مقام ہے جس کی جوان بیٹی نے اُس کی مرضی کے بغیر شادی کرلی ہو۔ میاں صاحب نے صاف صاف کہہ دیا کہ شہناز سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے، میری آج سے صرف تین ہی بیٹیاں ہیں۔
    اب شگفتہ بی بی کی سنو، اِس صدمے کا اُن پر ایسا اثر ہوا کہ اُنہوں نے چھوٹی بہنوں پر کڑی نظر رکھنی شروع کردی۔ اُن کا باہر آنا جانا روک دیا گیا ۔ سہیلی سے ملنے کے لیے بھی ایک مقررہ وقت دیا جاتا تھا۔ میٹرک کا امتحان پاس کرتے ہی ، امی جان کے دوردراز کے عزیز وں کی طرف سے ، عباد میاں کا رشتہ ، شمع کے لیے بڑی چاہت سے مانگا گیا۔





    عباد میاں تھے تو اُس دور کے بڑے گورے چٹے ، قد آور، میٹرک پاس اور نو بہنوں کے اکلوتے بھائی۔ ان کے ابا پوسٹ آفس میں ملازم ہوا کرتے تھے اِسی بنیاد پر عباد میاں کو بھی وہیں ملازمتمل گئی تھی۔ لڑکا برسرِ روزگار، دیکھا بھالا خاندان اور کیا چاہیے تھا؟ بڑی باجی نے کچھ بچت کی کچھ اُدھار پکڑا اور شمع کو گھر سے خوشی خوشی رخصت کر دیا گیا۔
    اب رہ گئی تو صرف بلقیس ، جو تمام بہنوں میں سب سے خوبصورت تھی ، یوں کہ جیسے آسمان سے کوئی حور اُتری ہو لمبا قد، گوری رنگت، نیلی آنکھیں ، سنہرے بال ، لگتا ہی نہیں تھا کہ یہ ایک ہندوستانی خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ ہلکی سی سرخی ہی لگاتی تو کسی لندن کی گوری میم سے کم نہ دکھتی۔ بڑی باجی نے سمجھ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے لگے ہاتھ اپنے ہی رشتہ داروں کے ہاں ایک نہایت شریف خاندان میں ، بلقیس کی بھی منگنی کردی۔ ابھی اس منگنی کو کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ کراچی سے شہناز اور پرویز میاں ، میرا مطلب ہے کہ ان کے سرتاج کی لاہور واپسی کی اطلاع دی گئی ۔ شگفتہ ناز بہن کی محبت میں اپنے ڈیڈی اور بلقیس کو ساتھ لیے لاہور ریلوے اسٹیشن پہنچ گئیں ۔ سامنے سے سات ماہ کی حاملہ شہناز بی بی ، اپنے سامان اور میاں کے ساتھ چلی آئیں اور آتے ہی اپنے ڈیڈی کے قدموں میں گر گئیں ۔ بھلا آدمی کیا کرتا ؟ باپ نے بیٹی اور داماد کو گلے لگا لیا ۔ چوں کہ پرویز میاں دادی کی ایک سہیلی کے بیٹے تھے ، جو کراچی سے لاہور امتحانات کی غرض سے اکثر رشید میاں کے یہاں رک جایا کرتے تھے۔ یوں وہ ان کے لیے اجنبی نہ تھے۔آخرکار ان سب نے کفایت شعاری کی غرض سے ایک ہی چھت کے نیچے اکٹھے ، خوش گوار زندگی جینے کا فیصلہ کیا ۔ شاید شگفتہ ناز کو اپنے والد صاحب کی عمر کے احساس کے ساتھ پنجاب کے حالات کا بھی بہ خوبی علم تھا کہ اس معاشرے میں اکیلی عورت کا رہنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔ سو باجی نے بھی پرویز بھائی کو نا اُمید نہیں کیا اور اندرونِ شہر ایک ایسا گھر لیا گیا جس کا کرایہ بڑی باجی اور پرویز میاں میں برابر تقسیم ہونے لگا۔
    اب سنیے ذرا ، پرویز میاں کی ،شروع کے دنوں میں تو شہناز پر جان نچھاور کرتے تھے، لیکن جیسے ہی تین بچوں کی قطار لگی ، تو جناب کے تیور ہی بدل گئے ۔ ہر وقت گھر میں بچوں پر سختی ، میاں بیوی کے جھگڑے ، چیخ پکار اپنے رشتہ داروں کو کراچی سے بلا کر گھر والوں سے ان کی سیوا کروانا۔ یہ باتیں شگفتہ ناز کو کافی حد تک ناگوار گزرنے لگیں ۔ لیکن ہاں ایک بات تو پرویز میاں کی بھی ماننی پڑے گی کہ تھے تو وہ شگفتہ ناز سے عمر میں کچھ بڑے، لیکن ان کی کیا مجال جو بڑی باجی کے سامنے چوں بھی کرجائیں۔ بلاشبہ اُن کا چیخنا چلانا صرف اپنے خاندان تک ہی محدود ہوتا، تاکہ گھر کا اکلوتا مرد سربراہ ہونے کی حیثیت سے کچھ تو دہشت قائم رکھی جاسکے۔ بڑی باجی جب بھی ان میاں بیوی کے جھگڑے کے بعد اپنے ڈیڈی کو لے کر الگ گھر میں رہنے کا مطالبہ کرتیں ، تو فوری طور پر ان سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ لیا کرتے تھے ۔ باجی بھی معاف کرکے سوچتیں کہ نجانے یہ کھٹکھٹا کب تک چلے گا ؟ ابھی حالات کچھ کارسازگار نہ ہوئے کہ تیسرے نمبر کی شمع کو سسرال والے ان کے یہاں یہ کہہ کر چھوڑ گئے کہ بھیا!علاج کرواؤ اپنی بہن کا، اس پر آسیب ہے۔ چلو جی ، بہن کا خرچہ بھی آن پڑا ، لیکن بڑی باجی نے اُف تک نہ کی اور بہن کے دردِ شقیقہ کے ہر طرح کے حکیمی اور روحانی علاج کروا ڈالے ۔ دو تین مہینے کی مسلسل تگ ودو سے جب شمع بھلی چنگی ہوئی، سسرال والے لینے آگئے ۔
    اب شگفتہ کی زندگی ذرا پٹڑی پر آرہی تھی۔ ملازمت کے دوران ، زاہدہ نامی بیوہ خاتون سے دوستی ہوئی جو ایک عدد جوان بیٹے کی ماں بھی تھی ۔ رازونیاز بانٹے گئے اور زاہدہ بیگم ان کے گھریلو حالات سے باخبر رہنے لگیں ۔ انہی دنوں بلقیس کے منگیتر کو پولیس بے بنیاد غلط فہمی کے باعث ، گرفتار کرکے لے گئی اور اس بے چارے کو پوری رات تھانے میں گزارنی پڑی ۔ معافی تلافی سے بات آئی گئی ہوگئی ، لیکن جی کہاں، پرویز میاں کو تو جیسے موقع مل گیا بڑی باجی کو کچوکے دینے کا۔ اکثر بلند آواز کہہ دیا کرتے کہ ”جاؤ جاؤ ، بلقیس کا نکاح جیل میں ہی پڑھوانا جاکر۔” اُف! بڑی باجی کو بہت غصہ آتا کہ کیا ہمارے ایسے برے دن آگئے ہیں ،جو پرویز میاں کے فضول طعنے بھی سنیں۔ شگفتہ ناز نے جذبات میں اکر منگنی ہی توڑ ڈالی۔ بلقیس تو ویسے ہی شہناز اور پرویز میاں کے بچوں کو پالتے پوستے تھک چکی تھی۔ بڑی باجی کے اس فیصلے سے بلقیس پھوٹ پھوٹ کر روئی کہ نہ جانے اس قید سے وہ کب آزاد ہوگی؟ شاید خدا نے بلقیس کی پکار سُن لی اور اگلے ہی دن ایک درمیانے قدکاٹھ ، گندمی رنگ اور غلافی آنکھوں والا لڑکا ان کے یہاں پرویز صاحب کا دوست بن کر آیا۔بعد میں پتا چلا وہ ان کے آفس میں ہی کام کرتا ہے اور کسی اچھی اور سلجھی لڑکی سے بیاہ کرنا چاہتا ہے۔ اب لگے پرویز میاں، کلیم کے لیے لڑکی ڈھونڈنے، جھٹ سے بلقیس کا خیال آیا اور بڑی باجی اور ڈیڈی کے سامنے رشتہ ڈال دیا۔





    ڈیڈی جی کا تو گھر میں اب عمل دخل کچھ خاص نہیں رہ گیا تھا ۔ سوچنا سمجھنا تو بہنوں کو تھا۔ لو جی چار گواہوں کی موجودگیمیں نکاح ہوا اور سادگی سے ایسے رخصتی کی گئی جیسے بیوا اور رنڈوے کی شادی ہو، یوں بلقیس بھی اپنے گھر کی ہوئی۔ شادی کے سال بعد ہی بلقیس بیگم نے ایک بیٹی کو جنم دیا جب کہ شمع کے یہاں بھی ، شہناز کی طرح تین بچوں کی ولادت ہوچکی تھی ۔ اب تمام بہنوں نے تہیہ کیا کہ کیوں نہ اب اپنی بڑی بہن کا گھر بسایا جائے اور ہر ایک نے اپنی اپنی حیثیت کے مطابق شگفتہ ناز کے لیے رشتہ کی مہم شروع کر ڈالی۔ چوں کہ پرویز اور کلیم میاں دونوں ہی سرکاری ملازم تھے ، تاہم وہ بھی بڑی باجی کے لیے نت نئے رشتوں سے اپنی اپنی بیویوں کو آگاہ کرتے رہتے ، لیکن شگفتہ ناز ان کے بتائے ہوئے رشتوں پر کبھی آمادہ نہ ہوتیں ۔ بھئی ان کی اپنی بہنوں کو کون سا ایسا سکھ مل گیا تھا شادی کرکے جو شگفتہ ناز کو بھی مل جاتا۔
    ایک دن اچانک شہناز نے شمع اور بلقیس کو فون پر بڑی باجی کی بات پکی ہونے کی اطلاع دی اور کہا کہ اس ہفتے ہم نے شگفتہ ناز کے نکاح کا پروگرام رکھا ہے تو ذرا سج دھج کر آنا ۔ دونوں بہنوں کو بڑا تعجب ہوا کہ اچانک سے بڑی باجی رشتہ کے لیے راضی کیسے ہو گئیں ؟بہرحال عین نکاح کے موقع پر جب دُلہا میاں کا چہرہ مبارک سامنے آیا ، تو وہ ساٹھ سالہ رنڈوا بڈھا نکلا ۔ سنا ہے بی بی زاہدہ نے شگفتہ ناز کو بہلا پھسلا کر اس رشتے کے لیے آمادہ کیا تھا ، کہ عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے اب کم عمر لڑکا تو ملنے سے رہا، جس پر پرویز میاں اور اُن کی بیگم نے بھی چھان بین کرکے اچھی طرح تسلی کرلی تھی یا یوں کہیے کہ وہ دونوں بھی بڑی باجی کے فریضے سے جلد از جلد سبک دوش ہونا چاہتے تھے۔ اس لیے شگفتہ ناز کو بغیر تصویر دکھائے پوری تسلی دیتے رہے، لیکن بلقیس اور شمع کو دُلہا میاں کی عمر من ہی من کھٹکے جائے کہ ہماری باجی کی تو پسند ہی وحید مراد جیسا، ہردل عزیز چاکلیٹی ہیرو ہے وہ کیسے اس بے ڈھنگے سے رشتے کے لیے ہاں کرسکتی ہیں۔ نکاح ہونے تک زاہدہ بی بی نے بہنوں کو دلہن کے کمرے میں جانے سے روکے رکھا کہ کہیں اس کا اپنا بھانڈا نہ پھوٹ جائے۔
    فوری رخصتی کے اعلان پر ، جب شگفتہ ناز دُلہا میاں کا چہرہ دیکھا ،تو بے ساختہ خوف سے رو رو کر برا حال کرلیا ،لیکن نکاح ہوچکا تھا مگر، رخصتی تو ہونی ہی تھی۔وہ کسی بھی صورت اس بڈھے کے ساتھ جانا نہیں چاہتی تھیں تاہم اپنے ڈیڈی کی عزت بچانے کے لیے اُنہوں نے گھر سے جانا ہی بہتر سمجھا۔
    اگلے ہی دن جب بہنیں، دل بھاری کرکے بڑے میاں کی طرف ناشتا لے کر پہنچیں ، تو شگفتہ ناز کو اسی حالت میں بیٹھے پایا ،جیسے رات سیج پر چھوڑ کر گئے تھے ۔ معلوم ہوا کہ دُلہا میاں نے تو ساری رات وظائف پڑھنے میں گزار دی اور دلہن کے پاس بھی نہ پھٹکے۔ اب تو شگفتہ ناز نے ٹھان لی تھی کہ اس موئے بڈھے کے ساتھ نہیں رہنا ۔ واپس گھر جاکر بہنوں نے خلع کا نوٹس بھجوا دیا کہ یہ شادی دھوکے کی بنیاد پر ہوئی اور شگفتہ ناز کو تو کیا کسی کو بھی دُلہا کی اصلی عمر کا معلوم نہ تھا۔بڑی تگ و دو کے بعد چھوٹے بہنویوں نے مل کر شگفتہ ناز کی اس بڑے میاں سے جان چھڑائی۔
    بس پھر کیا تھا، شگفتہ ناز کا دل تو جیسے شادی کے نام سے ہی اُچاٹ ہوگیا، اگر کوئی بھول کر بھی ان کے سامنے کسی رشتے کا ذکر کردیتا، تووہ خود کو کمرے میں بند کرکے رونا شروع کردیتیں ۔وقت گزرتا رہا اور اپنی مایوس کن داستان شگفتہ ناز کے چہرے پر ، گہری لکیروں کی صورت چھوڑتاچلا گیا۔ دوسری اور آخری ملازمت انہیں گلبرگ کی نامی گرامی بوتیک میں ملی۔ ان کی زندگی کا محور صرف اپنا کام اورا سٹاف کے لوگ تھے۔مالکن ایک اچھی عورت تھی جوشگفتہ کے لیے ہمدردی کے جذبات بھی رکھنے لگی تھی ۔ سنیاروں کے خاندان سے تعلق ہونے کی بنا پر شگفتہ ناز کو سونے اور ہیرے جواہرات کا علم تھا اس لیے مالکن نے ترقی کے طور پر انہیں جیولری سیکشن کا انچارج بنا ڈالا۔
    ڈیڈی کی بھی کافی عمر ہوگئی تھی ،لیکن شگفتہ ناز کا فریضہ ابھی تک ان کے کندھوں پر تھا۔ کلیم میاںخاصے ہوشیار اور رنگین مزاج شخص تھے اکثر عورتوں کی محفل میں بیٹھ کر ، اپنی سریلی آواز سے اپنا گرویدہ بنانے کا فن خوب جانتے تھے۔ صرف دو یا تین سال ہی بیچاری بلقیس نے سکون کے گزارے ہوں گے، کہ بھائی صاحب کو کسی نے فلم بناکر بہ طور ہیرو آنے کا جھانسا دے ڈالا۔ تبھی کلیم میاں نے بڑی باجی اور ڈیڈی کو اپنے گھر رکھنے کااصرار شروع کردیا۔ بھئی فلمی لوگ رات دیر شوٹنگ میں جو مصروف رہتے ہیں۔ نہ دن کا پتا نہ ہی رات کی خبر، تو پیچھے سے کوئی تو گھر اور بیوی بچوں کی دیکھ بھال کے لیے ہونا چاہیے یا نہیں۔ چل پڑیں بیچاری بڑی باجی دوسری بہن کے گھر کی نگہبان بن کر۔
    ہر عورت کو اپنے شوہر سے وقت درکار ہوتا ہے، لیکن کلیم میاں نے آنکھیں ماتھے پر رکھ کر صاف لفظوں میں اپنی بیگم سے کہہ دیا تھا کہ میں صرف تمہیں پیسہ دے سکتا ہوں، لیکن وقت نہیں، یوں جب بھی بلقیس کو اپنے شوہر کی بے وفائی پر غصہ آتا، بیچاری شگفتہ ناز کی شامت آتی کہ” باجی تم نے میری شادی اس جیسے فلمی اور آوارہ آدمی سے کیوں کروائی؟ بے چاری بڑی باجی خاموشی سے ساری باتیں سنتی رہتیں۔
    اب تو سب بہن بہنویوں نے یہی وتیرہ بنالیا تھا کہ کسی کو بھی اگر کیئر ٹیکر کی ضرورت ہوتی ، تو بس حکم صادر ہوجاتا کہ بڑی باجی سے کہو کہ وہ اپنے کام سے سیدھا ہماری طرف آجائیں۔دنیا کا یہی دستور ہے ، دبنے والے کو اور دبائے جاؤ، لیکن ہاں ایک بات تو ماننی پڑے گی۔ تینوں بہنویوں کے دلوں میںبڑی باجی کے لیے عزت میں بہ تدریج اضافہ ہوتا چلا جارہا تھا اور اپنے بچوں کو بھی شروع سے انہیں بڑی آنٹی کہنے کی عادت ڈلوادی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شگفتہ ناز ، بڑی باجی سے بڑی آنٹی تو بن گئیں، بس ایک شادی ہی تھی جونہ ہوسکی۔





    بلقیس کے سسرال والے ذرا دیہاتی قسم کے لوگ تھے۔ جونہی کلیم میاں کے گھر میں ان کا عمل دخل شروع ہوا ، شگفتہناز کو خود پر زندگی تنگ محسوس ہوتی نظر آئی۔کبھی کلیم میاں کی چھوٹی بہن ان کے بارے میں اوٹ پٹانگ بکواس کرتی، تو کبھی بچوں کے ساتھ مل کر بیمار نانا کی نقل اتارتی رہتی۔ جیسے ہی یہ تمام حرکات و سکنات شگفتہ ناز کو معیوب لگنا شروع ہوئیں انہوں نے اپنے باپ کی عزت بچانے کی خاطر بہنوں کے در پر رہنے کے بہ جائے اپنا الگ مکان لینے کا فیصلہ کیا۔ کمیٹیوں کے پیسے جوڑ جوڑ انہوں نے شہناز اور پرویز میاں کے علاقے ہیمیں ، ایک چھوٹے سے گھر کے دو کمرے کرائے پر لے لیے تاکہ دونوں باپ بیٹی، بہنوں کی سسرالیوں کے طعنوں سے دور عزت و سکون کے ساتھ باقی زندگی گزار سکیں۔
    اب شمع بیگم کی سنیے، نو نندوں کا ساتھ اور پانچ بچوں کو جنم دے کر بے چاری ہڈیوں کا پنجر بن گئی۔ آئے دن بے چاری کے دردِ شقیقہ کا مسئلہ ناسور بنتا گیا اور الزام آیا بڑی باجی پر کہ ہمیں بیمار لڑکی تھما دی۔ ارے ان جاہلوں کو کون بتائے کہ کسی انسان کو تم اچھا کھانے پینے کو نہ دو ، اوپر سے ،کام لو جانوروں کی طرح تووہ بے چارہ تو گیا نا اپنی جان سے۔ نہیں جی !بس جیسے ہی شمع بی کا دوپٹا بندھا سر پر، شگفتہ ناز کو آفس فون کیا جاتا کہ آو ٔ اور سنبھالو اپنی بہن کو۔
    خیر یہ تو ہر ہفتہ کی خواری تھی۔ انہی دنوں فلمسٹار وحید مراد کا انتقال ہوگیا۔ سنا ہے یہ دوسری مرتبہ شگفتہ ناز کسی غیر کے لیے بے انتہا روئی تھی، پہلی مرتبہ وہ ذوالفقار علی بھٹو کے مرنے پر بھی خوب روئی تھیں۔ نہ جانے کیسے کوئی کسی اجنبی کے لیے اتنا رو سکتا ہے؟ یہی تو بات ہے نا، جو انسان خود میں دردچھپائے ہو ، وہی کسی دوسرے کا غم بھی سمجھ سکتا ہے۔ اس پھیکی بے رنگ زندگی میں ایک خوش گوار احساس ، کلثوم کی شکل میں بڑی آنٹی اور ان کی بہنوں کی زندگی میں آیا۔ کلثوم بھی انہی کی بوتیک پر کام کرنے والی سیلز گرلز میں سے ایک تھی ، لیکن اپنی خوبصورتی اور چالاکی کو کیش کرواکر ، کچھ ہی عرصہ میں اپنی بوتیک کھول بیٹھی ۔ اس بیچاری نے سیدھی سادھی بڑی آنٹی میں ، ایک اچھی سہیلی ہونے کے ناطے ، زمانے کے حساب سے کچھ تبدیلیاں لانے کی بھی کوشش کی لیکن ناکام رہی۔
    بہنوں کے حالات بہتر ہوئے تو ان کے پاس گاڑیاں آگئیں، پرصبح سویرے ایک لمبی سی چادر اوڑھے ، آنکھوں پر عینک لگائے خاموشی سے چھے نمبر وین پر لبرٹی کے اسٹاپ پر اُترنا اور وہاں سے پیدل چل کر بوتیک جانا ،بڑی آنٹی کا معمول بن چکا تھا ۔ بس اتنا ہی آسرا کافی تھا کہ جس بہن کے درپر ہوتیں، گاڑی میں بس اسٹاپ تک رسائی ممکن ہو جاتی۔اسی معمول کو دیکھتے دیکھتے بہنوں کے بچے بھی جوان ہوتے گئے اور یہ کھٹکھٹا اسی رفتار سے آگے گھسٹتا چلا گیا۔
    ایک دن کلیم میاں نے باجی کو فون پر بلقیس کی بیماری کی اطلاع دی ۔
    ” ہائے ہائے!تین بچوں کی ماں کو ایسا کیا ہوگیا جو کلیم میاں نے فوری طور پر گھر جانے کا حکم دے ڈالا؟” یہ سوچتے ہی بڑی آنٹی نے کام چھوڑ اپنی بہن کے گھر کا رُخ کیا۔ ماجرا یہ نکلا کہ بلقیس کو اچانک بیٹھے بیٹھے گٹھیا کا مرض لاحق ہو گیاتھا۔ خدا کی پنا ہ !وہ تو اٹھنے جوگی بھی نہ ہے ، اپنا گھر کیسے سنبھالے گی؟یہ خیال آتے ہی ، انہوں نے شہناز بی بی کو اپنے ڈیڈی کا نگہبان مقرر کیا اور بلقیس کے گھراس کی اور اس کے بچوں کی خدمت کے لیے رہنے لگی۔سچ بات تو یہ تھی کہ لاہور کے تمام مہنگے ترین ڈاکٹروں اور حکیموں نے بلقیس کے علاج میں کوئی کسر نہ چھوڑی ، لیکن آرام ہے کہ آتا ہی نہیں ۔اوپر سے بلقیس بیگم تھی بھی کچھ لڑاکا اور وہمی طبیعت کی مالک۔ وہ اسی بات پر اَڑ گئی کہ ہو نہ ہو کلیم کے گھر والوں نے ہی ان پر کوئی کالا علم کروا دیا ہے ، جو توڑ نہ ہونے تک قائم رہے گا۔ اب بھلا بتاو ٔ بیچاری بڑی آنٹی ، بہنوئی کی مانے تو پھنسے اور بہن کی مانے تو بُری بنے۔ سیاست اور چالاکی سے مبرّا یہ ہستی جائے تو کہاں ؟ بہنوئی کے کہنے پر بلقیس کو کبھی ڈاکٹر کے یہاں تو کبھی کسی بزرگ کی درگاہ پر۔ آخرکار مسلسل چھے سات مہینوں کی تگ و دو سے بیماری دور ہو تو گئی ، لیکن بلقیس کے مطابق اسے شفا کسی نیک پیر صاحب کے مزار پر حاصل ہوئی، جب کہ کلیم میاں کا ماننا تھا کہ پیسہ پانی کی طرح جو بہایا تھا علاج پر ، آرام تو یقینی آنا تھا۔ خیر!جان چھٹی تو لاکھوں پائے ، بڑی بہن کا ناطقہ بند کرکے اب دونوں میاں بیوی ساری زندگی چور پولیس کھیلتے رہو۔
    شادی تو بہنوں سے کروائی نہ گئی لیکن خدمتیں خوب کروا ڈالیں ۔ دیکھنے والے تو یہی کہہ دیا کرتے ”کہ دیکھو بیچاری اکیلی ہے ۔ نہ شوہرہے ، نہ بچے، بس ایک واحد ڈیڈی ہیں نجانے کب اُن کا بھی بلاوا آجائے۔ بیچاری شگفتہ تو اکیلی رہ جائے گی۔ ”لیکن کوئی یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ شادی کرنا ہی نہیں چاہتی اور کرتی بھی کیوں…؟ طرح طرح کے بہنویوں کے گھر گرہستی چلانے کی قابلیت کو دیکھ شاید اُن کا شادی نہ کرنے کا فیصلہ یک دم پختہ اور اَٹل ہوچکا تھا۔ اکثر کہہ دیا کرتیں ” شوہر حقیقت میں ایک دوغلا کردار ہے، جو صرف ایک مخصوص ضرورت کے تحت ، اپنی عورت کو ساتویں آسمان پر چڑھا دیتا ہے اور ضرورت پوری ہوجانے پر ایسے گراتا ہے کہ وہ بیچاری زمین کے بجائے کھائی میں گرتی ہے۔ اس لیے میں تو باز آئی ایسی شادی سے۔”




  • پراڈکٹ – نظیر فاطمہ

    سبزی منڈی کے ایک جانب گلی سڑی سبزیوں کے ڈھیر تھے، جن پر مکھیاں اور مچھر بھنبھنا رہے تھے ۔ ارد گرد ناقابلِ برداشت بد بو پھیلی ہوئی تھی ۔ ہلکی سی ہوا چلتی تو بدبو کے یہ بھبھکے اس کے ساتھ لپٹ کر دور دور تک چلے جاتے اور لوگوں کو ناک پر ہاتھ رکھنے پر مجبور کر دیتے ۔ گندے مندے حلیے والے پانچ سات بچّے ان ڈھیر وں میں سے قدرے کم گلی سڑی سبزیاں اکٹھی کر کے اپنی بوریوں میں ڈال رہے تھے۔یہ گلی سڑی سبزیاں ان کا پیٹ بھرنے کا وسیلہ تھیں ۔ بھوک شاید سب سے بڑی بیماری ہے یا پھر غریب سب سے ڈھیٹ مخلوق ۔۔۔تبھی تو یہ گلی سڑی سبزیاں، گندا پانی اور باسی کھانا ان لوگوں کا کچھ نہیں بگاڑ پاتے۔ جب کہ لوگ گلی سڑی سبزیوں کے ان ڈھیروں کے پاس سے گزرنے سے بھی پرہیز کرتے تھے۔





    ایک سیاہ چمچمائی لینڈ کروزران ڈھیروں کے قریب آ کر رکی ۔ گاڑی اتنی چمک دار تھی کہ سیاہ رنگ ہونے کے باوجود اس میں آئینے کی طرح ہر چیز کا عکس دیکھا جاسکتا تھا۔ گاڑی سے ایک شخص اُترا۔اُس کے چہرے پر صحت مندی اور آسودگی کی چمک تھی۔گلے میں نئے ماڈل کا مہنگا ترین کیمرہ لٹک رہا تھا۔ ایک ہاتھ میں بڑا سا شاپر تھا۔ پیروں میں امپورٹڈ جاگرز جو اپنی قیمت کا چیخ چیخ کر اعلان کر رہے تھے ۔مہنگی جینز اور ٹی شرٹ میں ملبوس اس شخص نے گویا آسمان سے سیدھا زمین پر پائوں رکھا تھاجس پر زمین کی کسی مشکل یا گندگی کا ذرا برابر اثر نہیں ہوا تھا۔بدبو کا تیز بھبھکا اس کے نتھنوں سے ٹکرایا۔ اس بدبو کو بڑی مشکلوں سے برداشت کر کے وہ آگے بڑھا۔وہ کوڑے کے ڈھیروں کے قریب پہنچا تو وہاں گلی سڑی سبزیاں چنتے بچّے اپنی بوریاںچھوڑ کر اُٹھ کھڑے ہوئے اور حیرت سے اُسے دیکھنے لگے۔قریب تھا کہ وہ بچّے اپنی بوریاں اُٹھا کر بھاگ جاتے، اُس شخص نے پیش بندی کی۔
    ”ارے، ارے، بچّو! کہاں جا رہے ہو؟ ٹھہرو شاباش! یہ دیکھو میں تمہارے لیے کیا لایا ہوں؟” اُس نے ایک پھولا سا شاپر اُن کے سامنے لہرایا جسے دیکھ کر بچّے وہیں ٹھہر گئے ۔
    ” اوئے کچھ کھانے والا ہو گا۔ رک جاتے ہیں۔” وہ بچّے جن کے چہروں سے بھوک لپٹی ہوئی تھی ، آپس میں کھسر پھسر کرنے لگے۔
    ” اس میں تم لوگوں کے لیے کھانے پینے کی بہت سی چیزیں ہیں، کھائو گے؟” اُن کے ٹھہرنے پر اُس شخص نے اُنھیں جیسے لالچ دیا۔بچّے شرم اور جھجھک کے مارے ایک دوسرے سے لپٹ گئے اور اپنے پیلے دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے ہاں میں سر ہلانے لگے۔
    ” پہلے تم لوگوں کو میرا ایک کام کرنا ہو گا۔بولو کرو گے؟”کھانے کی چیزوں کے لالچ میں بچّے سب کچھ کرنے کو راضی تھے۔
    ”شاباش! ٹھیک ہے۔ پہلے میں تم لوگوں کی کچھ تصویریں اُتاروں گا ۔ پھر یہ ساری چیزیں میں تم لوگوں میں بانٹ دوں گا۔ چلو اب میں جیسے تمہیں کہتا ہوں ویسے کرتے جائو شاباش۔” اُس نے اپنا کیمرہ ہاتھوں میں پکڑ کر سیٹ کرنا شروع کیا۔
    ” چلو تم سب اپنی اپنی بوریاں پکڑ کر اس ڈھیر سے سبزیاں تلاش کرو۔”
    بچّے جھٹ پٹ اپنا کام کرنے لگے، یہ ان کا روز کا کام تھا۔ وہ شخص ہر ہر زاویے سے انہیں فوکس کرنے لگا ۔کوئی دس بارہ تصویریں اُس نے گروپ میں اُتاریں۔ ہر تصویر اُتارتے وقت اُس نے بچّوں کو مختلف ہدایات دی تھیں۔
    ”اب تم یہ گلا ہوا ٹماٹر اس طرح منہ میں ڈالو۔” اُس نے ایک لڑکے کو ہدایت دی۔
    وہ بچّے تو گلی سڑی سبزیاں کچی کھا جانے میں ماہر تھے۔ اُس نے بالکل اُسی طرح وہ ٹماٹر منہ میں ڈالا جس طرح اُسے ہدایت کی گئی تھی۔
    ”گڈ۔” اُس شخص نے حسبِ منشا نتائج ملنے پر خوش ہو کر بچّے کو سراہا۔
    پھر اُس نے ہر بچّے کو انفرادی طور پر ہدایات دے کر فوکس کیا ۔ہر تصویر کو دیکھنے کے بعد وہ شخص جیسے خوشی سے جھوم رہا تھا۔ اُس کا جوش اُس کے چہرے سے چھلک رہا تھا۔ تقریبا ً ایک گھنٹے کی محنت کے بعد اُس شخص نے اپنا کام مکمل کیا، کیمرہ بند کیا اور بڑا شاپر کھول کر اس میں سے چھوٹے چھوٹے شاپر نکالے ۔ ہر شاپر میں دو دو چکن پیٹیزاورجوس کا ایک ایک چھوٹا ڈبہ تھا۔
    ” آئو ، یہ لو ” اُس نے ایک ایک شاپر ہربچّے کو دیا۔
    اس کے بعد اس نے اپنی جیب سے والٹ نکالا اور ہر بچّے کو سو سو روپے کا نوٹ دیا۔ وہ ایک گھنٹے سے یہاں تصویریں اُتار رہا تھا ۔ اُس کو دیکھ کر کئی لوگ وہاں جمع ہو گئے تھے۔ وہ سب دم سادھے اُس شخص کی فیاضی ملاحظہ کر رہے تھے، جو کوڑا کرکٹ چن کر اپنا رزق تلاش کرنے والے بچّوں پر اتنا مہربان ہو رہا تھا۔
    ” اچھا بچّو! اللہ حافظ” وہ پلٹ کر اپنی گاڑی کی طرف جانے لگا تو ایک ادھیر عمر شخص نے اُسے پکارا:
    ”صاب! یہ سب تو غریب بچّے ہیں، ان سے اتنی محبت کیوں؟”اُس نے پلٹ کر سوال کرنے والے کو دیکھا۔
    ”یہ بچّے میرے لیے بہت قیمتی ہیں۔” اُس نے مسکرا کر سامنے دیکھا جہاں وہ بچّے کھانے کے ساتھ نبرد آزما تھے ۔ پھر اُس نے اطمینان بھری گہری سانس کھینچی اور گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔ تھوڑی دیر بعد اس نے گاڑی بھگائی اور گاڑی کے پہیوں سے سے اُڑنے والی دھول نے چند لمحوں کے لیے سارے منظر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
    ٭…٭…٭





    پیرس میں فوٹو گرافی کے عالمی مقابلے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اس مقابلے میں پوری دنیا کے مشہور فوٹو گرافرزنے حصّہ لیا تھا ۔پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے فوٹو گرافر کو لاکھوں ڈالر انعام دیا جاناتھا ۔ ہال لوگوں سے بھرا ہوا تھا اور تھوڑی دیر میں مقابلے کے نتائج کا اعلان ہونے والا تھا۔ نمائش میں حصہ لینے والے تمام فوٹو گرافرز یہاں موجود تھے۔سب کی کھینچی گئی تصاویر ہال کی دیواروں پر آویزاں تھیں۔ مقابلے کا عنوان تھا ”ٹاکنگ فوٹو گرافس”۔ مقابلے کے نتائج کا اعلان شروع ہوا ۔ تیسری اور دوسری پوزیشن کا اعلان ہونے لگا۔ان پوزیشن ہولڈر زکی بڑی اسکرین پر دکھائی جانے والی تصویریں واقعی بولتی ہوئی تھیں۔ تالیوں کا شور تھما تو سب دل تھام کر پہلی پوزیشن کے اعلان کا انتظار کرنے لگے۔
    ”پہلی پوزیشن جاتی ہے عالم گیر جیلانی کو۔”
    انگریزی زبان میں اعلان ہو رہا تھا اور ساتھ ہی بڑی اسکرین پر عالم گیر جیلانی کی کھینچی گئی تصاویر ایک ایک کر کے دکھائی جا رہی تھیں۔کوڑے سے کھانے پینے کی چیزیں چنتے ہوئے بچّے،وہ گلی سڑی سبزیاں کھاتے ہوئے ننگ دھڑنگ بچّے جو جانور بھی سونگھنے کے بعد چھوڑ کر چلے جاتے تھے ۔ عالمگیر جیلانی کی تصاویر”ٹاکنگ فوٹو گرافس’ ‘نہیں بلکہ ”شائوٹنگ فوٹو گرافس” تھیں جوغربت، بھوک، محرومی اور حسرت کا چیخ چیخ اعلان کر رہی تھیں۔
    عالم گیر جیلانی نے تالیوں کی گونج میں دو لاکھ ڈالر کا چیک فخر سے مسکراتے ہوئے وصول کیا۔ دو ہزار کی سرمایہ کاری کر کے اُس نے دو لاکھ ڈالر کمائے تھے۔ آرٹسٹ ہونے کے ساتھ ساتھ وہ بڑا کاروباری ذہن رکھتا تھا اور ایک کاروباری شخص کے لیے اس کی پراڈکٹ سب سے قیمتی ہوتی ہے۔ کیونکہ اس کی کامیابی کا انحصار اُس کی پراڈکٹ پر ہوتا ہے۔ غربت اور کسمپرسی کا چلتا پھرتا اشتہار یہ بچّے عالم گیر کے لیے بہت قیمتی تھے، کیوں کہ وہ اس کی پراڈکٹ تھے۔