Author: misbah116@hotmail.com

  • الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸  ۔ قسط نمبر ۱۰

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۰

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۰

    (سارہ قیوم)

    گیارہویں رات

    حسن بدرالدین نے جو ارسلان نامی مہمان کو زلیخا کو تاکتے دیکھا تو چونکا، کان کھڑے ہوئے۔ دل میں سوچا یہ کیا ماجرائےعجیب ہے، داستانِ غریب ہے۔ کون ہے یہ شخص جو اس قدربدبخت، ناہنجار، بداعمال ،بدکردار اور بے ہودہ ہے کہ پرائی بہو بیٹیوں کو تاکتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کوئی ہردیگی چمچہ ہے۔ اس کی یہ حرکت شریف زادوں اور اہلِ آبرو کی وضع کے خلاف ہے۔ یہ آنکھ لڑانے کی کوشش کون سا انصاف ہے؟ ہر چند کہ حسن کی غیرت بے حد جوش میں آتی تھی، بہت طیش کھاتی تھی مگر ممانی کے سامنے کچھ بولنا محال تھا، وہ بزرگ اور حسن خورد سال تھا۔
    کچھ دیر تو حسن بیٹھا برداشت کرتا رہا لیکن جب ارسلان کی گستاخی و شیخی مزاجی عقلِ سلیم سے منزلوں دور ہوئی تو حسن کی طبیعت بالکل نفور ہوئی اور وہ اٹھ کر باورچی خانے میں جا کھڑا ہوا اور ٹھنڈا پانی پی کر دماغ ٹھنڈا کرنے لگا۔ زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ زلیخا بھی چائے کے برتن اٹھائے آ پہنچی۔
    ’’تم کیوں اٹھ کر آگئے؟‘‘ اس نے چائے کے برتن رکھتے ہوئے پوچھا۔
    حسن نے خفگی سے پوچھا: ’’یہ کون کندۂ ناتراش ہے، تمیزداری جس کی پاش پاش ہے؟‘‘
    زلیخا نے کہا: ’’ماما کا دور کا بھانجا ہے۔ تمہیں پسند نہیں آیا؟‘‘
    حسن ناراض ہو کر بولا: ’’مجھے اس کی صورت سے نفرت ہے۔ میری اور اس سفلہ منش، دشمنِ عقل کی کون صحبت ہے؟‘‘
    زلیخا حیران ہو کر بولی: ’’ارے ارے! اتنا غصہ کیوں؟‘‘
    حسن نے کہا: ’’یہ شخص بدتمیز ہے۔ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر تمہیں دیکھتا تھا۔ ذرا شرم نہ کرتا تھا۔ اب تم ہی بتاؤ کہ اس کی صورت سے بندہ کیوں نہ بے زار ہو، اس کی صحبت کیوں کرنہ ناگوار ہو؟‘‘
    زلیخا ہنسنے لگی اور بولی: ’’.Look who is talking، یہ تم کہہ رہے ہو جو ہر راہ جاتی لڑکی پر فدا ہو جاتے ہو؟ اور وہ کرن والا معاملہ تو بڑا recent ہے۔‘‘
    حسن سینہ پھلا کر بولا: ’’میں جو کرتا ہوں ڈنکے کی چوٹ پر کرتا ہوں۔ چھپ کر وار نہیں کرتا ہوں، عقد کا ارادہ رکھتا ہوں۔ شکر ہے کہ میرا ظاہر و باطن یکساں ہے، نہ خرقۂ سالوس دربر، نہ عمامۂ زور برسر۔ لیکن اس شخص کا کیا ارادہ ہے، کچھ سمجھ میں نہیں آتا ہے۔‘‘
    یہ سن کر زلیخا سوچ میں پڑ گئی۔ پھر بولی: ’’سمجھ تو مجھے بھی نہیں آتا لیکن صاف بتاؤں مجھے یہ اچھا لگتا ہے۔ میں سوچتی ہوں بنّے بھائی کے لائے اوٹ پٹانگ رشتوں سے بہتر ہے اسی کو consider کر لوں۔ ماما بھی اس کے حق میں ہیں۔ پڑھا لکھا بھی ہے، نوکری بھی اچھی ہے اور پھر۔۔۔‘‘ زلیخا ہچکچائی۔ ’’اور پھر مجھ میں interested بھی ہے۔ اسے میرے موٹے ہونے سے اور سانولے ہونے سے فرق نہیں پڑتا۔‘‘حسن نے یہ بات سنی تو کہا: ’’ہاتھ کنگن کو آرسی کیا ہے، پڑھے لکھے کو فارسی کیا ہے۔ لگے ہاتھوں اس سے پوچھ لو کہ عشق کے بارے میں اس کا کیا خیال ہے، کیوں عقد کا ارادہ محال ہے؟ دم کے دم میں معلوم ہو جائے گا کہ دلبر ہے یا بے وفا ہے، دل میں خلوص ہے یا جفا ہے؟‘‘
    زلیخا سوچ میں پڑ گئی، پھر بولی: ’’you know what? میرا خیال ہے تم ٹھیک کہتے ہو یہ مجھے فون پر اچھے اچھے میسجز بھیجتا ہے، کبھی کافی کی دعوت دیتا ہے کبھی سینما کی۔ لیکن اس سے آگے نہیں بڑھتا۔ میرا خیال ہے اب مجھے صاف صاف اس سے پوچھ لینا چاہیے کہ اس کا کیا ارادہ ہے۔ لیکن کیسے پوچھوں؟ گھر پر سب لوگ ہوتے ہیں اور باہر میں اس کے ساتھ جانا نہیں چاہتی۔‘‘
    حسن نے کہا: ’’میں پوچھ لیتا ہوں۔ دیکھتے ہیں کیا رنگ لاتی ہے گلہری۔‘‘
    زلیخا نے سوچتے ہوئے کہا: ’’اس نے مجھے امپوریم مال میں فلم دیکھنے کی دعوت دی ہے۔ تم ساتھ چلو تو میں چلتی ہوں۔‘‘
    اور یوں طے پایا کہ زلیخا اور حسن اگلے اتوار اکٹھے فلم دیکھنے جائیں گے، ارسلان سے دل کی بات اگلوائیں گے۔

    *۔۔۔*۔۔۔*

  • الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸  ۔ قسط نمبر ۹

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۹

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۹

    (سارہ قیوم)

    دسویں رات

    رات آئی تو شہرزاد نے کہانی یوں سنائی کہ جب نانی کے پاس بیٹھی ہوئی عورت حسن کے گلے لگ کے رونے لگی تو حسن کو بے انتہا حیرت ہوئی۔ بےحد گھبرایا اور دُبدُہا میں آیا۔ پوچھا: ’’بی بی تم کون ہو؟ اپنا حال من و عن بتاؤ اور یہ تو فرماؤ کہ یہ کیا معاملہ ہے اور کیسا انوکھا ماجرا ہے کہ اشکوں سے منہ دھوتی ہو، غیر مرد کے گلے لگ کر روتی ہو؟‘‘
    نانی بولیں: ’’ہائے ہائے غیر مرد کیوں؟ بھائی لگتا ہے تو اس کا۔ مت بھول کہ اس کی ماں تیرے باپ کی سوتیلی پھوپھی کی بیٹی تھی۔ اس رشتے سے یہ تیری بہن ہے۔ تیرا فرض بنتا ہے اس کاخیال رکھنا۔‘‘
    یہ سن کے وہ عورت اور بھی زورو شور سے رونے لگی اور کہنے لگی: ’’میرے بھائی، میرا تو کوئی نہ رہا دنیا میں۔ اب تم بھی غیروں جیسی باتیں کرو گے تو میں کہاں جاؤں گی؟ کون بچائے گا مجھے اُس ظالم سے؟‘‘
    یہ بات جو حسن نے سنی تو وفورِ شفقت اور برادرانہ جوش سے مغلوب ہوگیا۔ فوراً اس عورت کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا: ’’اے ہمشیرہ، یہ کیا حال ہے؟ تم سے برسرِ جنگ کون بد خصال ہے؟‘‘
    عورت نے روتے ہوئے کہا: ’’میرا میاں بڑا تنگ کرتا ہے مجھے۔ ایک تو گھر کا خرچہ نہیں دیتا اوپر سے لڑائی جھگڑا بھی کرتا ہے۔ آج میں نے کہا کہ گھر میں بچے کے لیے دودھ نہیں ہے، لا دو، تو غصے میں آکر مجھے گالیاں دیں اور مارا پیٹا۔ یہ دیکھو میرے بازو پر نشان۔‘‘ یہ کہہ کر حسن کو اپنا بازو دکھایا جس پر نیل پڑے تھے۔
    یہ دیکھ کر حسن کو بے حد غصہ آیا۔ طیش میں آکر بولا: ’’کون ہے تمہارا شوہر؟‘‘
    نانی بولیں: ’’اپنا بنّا اور کون۔ اسی لیے تو تیری ممانی نے اس کا رشتہ لیا تھا کہ یتیم لڑکی ہے۔ سب مار پیٹ چپ کرکے سہہ جائے گی۔ اب دیکھو کتنا تنگ رکھا ہوا ہے اس کو۔ کہاں جائے بے چاری؟‘‘
    بنّے بھائی کا نام سن کر حسن گھبرایا اور بے اختیار مڑ کر پھاٹک کو دیکھا کہ کہیں آتے ہی نہ ہوں۔ کان دبا کر نانی کے پاس جا بیٹھا۔ وہ عورت بڑی دیر تک نانی کے پاس بیٹھی روتی رہی اور شکایت کرتی رہی۔ آخر نانی نے اسے بہت سی تسلیاں اور کچھ رقم دے کر گھر بھیجا۔
    وہ چلی گئی تو حسن نے پوچھا: ’’بنّے بھائی بیوی کے ساتھ ایسا سلوک کیوں کرتے ہیں؟‘‘
    نانی نے آہ بھری اور بولیں: ‘‘بس بیٹا کیا بتاؤں۔ باپ پر گیا ہے۔ اس کا باپ بھی یہی سلوک کیا کرتا تھا اس کی ماں سے۔ بھلا خون کا اثر بھی کہیں جاتا ہے؟ وہ تو تیز مزاج تھی، اُسے چھوڑ آئی۔ یہ نسیمہ بے چاری تو مسکین ہے۔ ماں باپ مر گئے، بھائی نے باہر جاکر میم سے شادی کرلی۔ اب پوچھتا تک نہیں بہن کو۔ بے چاری کا اب دنیا میں کوئی نہیں۔ تجھے ہی بھائی سمجھتی ہے اور مجھے ماں۔ بیٹا کبھی کبھی جاکر پوچھ آیا کر غریب کو۔‘‘
    یہ حال سن کر حسن کو بہت ترس آیا اور اپنی بے سروسامانی کا زمانہ یاد آیا۔ دل میں ٹھان لی کہ منہ بولی بہن کا حال ضرور پوچھا کروں گا اور گوکہ بنّے بھائی سے چھپ کے اس وقت جاؤں گا جب ان کا سامنا ہونے کا کوئی امکان نہ ہو، مگر اس کو تنہا نہ چھوڑوں گا کہ بہن کا حال دریافت کرنا ضرور ہے اور اس کی مدد نہ کرنا شیوۂ آدمیت سے بعید و دور ہے۔

  • الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸  ۔ قسط نمبر ۸

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۸

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۸

    از: سارہ قیوم

    نویں رات

    جانا حسن بدرالدین کا محبوبہ کے مکان پر

    رات کو جب سلطانِ داراجاہ، گیتی پناہ کو گزشتہ شب کا قصہء دلچسپ یاد آیا تو فوراً شہرزاد کو طلب فرمایا اور کہا، اے طوطی شکر فشانِ خوش بیانی و عندلیب ہزار داستانِ شاخسارِ نکتہ دانی، تیری قصہ خوانی سے میرا دل بدرجہء غائت مسرور ہے اور تیرا کلام اور بیانِ شیریں مشہورِ نزدیک و دور ہے۔ شہرزاد جھک کر آداب بجا لائی اور یوں عرض پرداز ہوئی کہ حسن بدرالدین نے دروازہ کھول کر جو ایک حسینہ خوبرو، عربدہ جُو، قوس ابرو کو دیکھا تو دیکھتے ہی شیفتہ و والا ہوا۔ عشق کا بول بالا ہوا۔ ابھی اس کے حسن و جمال کی دیدمیں محو تھا کہ وہ نازنین اٹھلا کر بولی: ’’اللہ حسن بھائی، اب رستہ دیں گے یا یہیں کھڑا رکھیں گے؟‘‘
    آواز کیا تھی مندر کی گھنٹیاں تھیں۔ حسن بدرالدین عش عش کرنے لگا، جامے میں پھولا نہ سمایا۔ دل چاہا اسی وقت ہاتھ تھام لے اور اظہارِ عشق کرے اور کہے۔ ’’پیاری، میں تجھ پر اپنی جان نثار کرتا ہوں، تہہِ دل سے تجھ سے پیار کرتا ہوں۔ اے زہرہ جمال، ناہید نغمہ، پروی وش وپری رُو۔ آئیلویُولُو، آئیلویُولُو۔‘‘ لیکن قبل اس کے کہ ہاتھ پکڑ پاتا اور اپنے ارادے کو عملی جامہ پہناتا، پیچھے سے زلیخا کی آواز آئی۔ ’’کون آیا ہے حسن؟‘‘
    اس پری رُو حسینہ نے نزاکت سے حسن کے پیچھے جھانک کر صحن میں کھڑی زلیخا کو دیکھا اور اٹھلا کر بولی: ’’ہائے زلیخا۔ ہاؤ آر یو؟‘‘
    زلیخا بھی مسکرائی اور بولی۔ ’’آؤ کرن۔ آج صبح صبح کیسے؟‘‘
    وہ حسینہ مہ جبینہ کہ نامِ نامی جس کا کرن تھا، ناز سے بولی: ’’آج پریکٹیکل ہے میرا ،اور اوورآل نہیں مل رہا۔ میں نے سوچا تم سے پوچھ لوں۔ تمہارے پاس تو پری میڈیکل کا رکھا ہو گا نا۔ اب تو ضرورت نہیں ہو گی تمہیں؟‘‘
    زلیخا کے چہرے کی مسکراہٹ پھیکی پڑ گئی۔ آہستہ سے بولی: ’’ہاں رکھا ہے۔ تم بیٹھو میں لا کر دیتی ہوں۔‘‘
    حسن نے بسر و چشم راستہ دیا اور کرن اپنی پتلی کمر لچکاتی اندر آئی اور تخت پر بیٹھ گئی۔ پھر اس کی نظر صحن میں کھڑے حسن پر پڑی، دونوں کی آنکھ لڑی۔ کرن مسکرائی، حسن کی خوب بن آئی۔ بے جھجک اس کے پاس تخت پر جا بیٹھا۔ وہ ناز سے کھسک کر دور ہوئی تو یہ اور آگے بڑھا۔ اُس نے ٹھنک کر منہ بنایا، اِس نے ہاتھ پکڑنے کو ہاتھ بڑھایا، ابھی یہ لگاوٹ بازی جاری تھی کہ کنیز وہاں بلائے درماں کی طرح آٹپکی۔ حسن کو محبوبہ پری وش کے ساتھ بازو بھڑائے بیٹھے دیکھا تو آنکھیں مٹکا کر بولی: ’’آپ یہاں کیا کر رہے ہیں حسن بھائی؟‘‘
    اس مداخلتِ بے جا پر حسن بہت جھلایا۔ بڑا غصہ آیا۔ ڈانٹ کر بولا: ’’دور ہو۔ تیرا یہاں کیا کام ہے؟ یہ کنیز بڑی بے لگام ہے۔‘‘
    یہ ڈانٹ سن کر کنیز کو غصہ آیا۔ چمک کر بولی: ’’مجھ پہ کیوں ناراض ہو رہے ہیں؟ مجھے پتا ہے کن چکروں میں ہیں آپ۔ میرے سے بنا کے رکھیں ورنہ کام نہیں بننے دوں گی آپ کا۔‘‘
    اسی وقت زلیخا باہر آئی اور ہاتھ میں پکڑا سفید رنگ کا جبہ کرن کے ہاتھ میں تھمایا اور کہا: ’’لو ،کرن۔ تم رکھ لو یہ اوورآل۔ اب مجھے اس کی ضرورت نہیں رہی۔‘‘

  • شریکِ حیات قسط ۶

    شریکِ حیات قسط ۶

    شریکِ حیات قسط ۶

    باب ششم

    نیلے آسمان سے سفیدی غروب تک گھٹ جاتی تھی۔

    یہ ستاروں کی آمد کے اوقات تھے۔

    جب دھیرے دھیرے زمین والوں کی نظر کے کھیل سے اوجھل آنکھ بچاتے کھیل نچاتے، ستارے ایک ساتھ ہی نمودار ہونے لگتے تھے۔

    یہ وقت تھا گرمیوں کے زوال کا۔

    یا پھر موسم کی آنکھ مچولی کا کہ دن میں فصلیں پکاتا سورج گرمی کے شرارے ایسے زمین پر پھینکتا جیسے سرکس باز، تماش گر منہ میں تیل چھڑک کر آگ کے شرارے منہ سے نکالتا ہو۔

    اور غروب تک ایسے ہوجاتاجیسا زمین پر آگ کی یہ ہولی کبھی نہ چلی ہو۔ یہ درمیانہ موسم ناچتا کھیلتا، تیز ہوا کے جھکڑ چلاتا، جھومتا جھامتا ہوائوں پر کھیلتا غروب کے بعد آنے والی رات کی چادر بچھاکر ہر اک گرماہٹ کو ٹھنڈا کردیتا تھا۔

    ایسے میں دیہات کے سادہ لوح لوگ، آدمی، عورتیں، بچے اس وقت صحنوں میں چارپائیاں ڈالے مٹی سے لیپ کیے صحنوں میںچارپائیوں پر طویل تکیے رکھ کر سو لیتے۔ دن کی تھکن کو گھٹانے کی کوشش میں کھیت، کھلیان، پڑوس، محلہ کھیتی، کھلیان، کمہار، لوہار، زر، زمیندار سب کی کچہریاںسجنے لگتیں۔

    صحنوں میں عورتیں بیٹھیں گیت گنگناتیں یا بھرت، کڑھائی، کپڑا، سلائی،دھلائی، بُنائی، مال مویشیوں کے چارے باڑے کا انتظام ہوتا پھر چولہے پھونکتے رات کا دال دلیہ ساگ روٹی مکئی مکھن چاول گڑشیرہ بنانے بیٹھتیں۔ ساتھ کچے چولہے کے گرد کچی اینٹوں سے بنی چوکی پر دو تین چار عورتیں چوکڑا مارے کوئی پیاز چھیلتے، کوئی چولہے میں لکڑیاں جھونکتے، کوئی سبزی ساگ صاف کرتے، کوئی چاول چنتے ہوئے باتیں کرتی رہتیں۔ اور اسی طرح سندھو اورسوہائی اماں کی نظر سے ہٹ کر کانوں میں پھسپھساتے ہنستے ہنساتے پیاز، مٹر، گوبھی، پالک، دال، دلیہ، ساگ، چاول پکاتے، ہنڈیا چڑھاتے بہت سی باتیں کرتیں یعنی آج کی نئی کہانی کیا ہے؟

    سندھو جو نت نئی کتابی کہانیاں پڑھ ڈالتی سوہائی کو فیض یاب کردیتی اور اسی طرح آج بھی ہوا۔

    ”تجھے پتا ہے سوہائی سارنگ اور سندھو والی کُل ملا کے پنج کہانیاں ہیں۔

    پہلی میں سارنگ بت تراش اور سندھو دیوی۔

    سارنگ کے ہاتھ کاٹ لیے جاتے ہیں۔ سندھو دیوی کی قربانی ہوجاتی ہے۔ کہتے ہیں نا کہ سندھو سارنگ نے نہیں ملنا۔

    دوسری داستان، سارنگ بنا گھڑ سوار اور سندھو ہائے سوہائی مت پوچھ دونوں کے بیچ کی وہی جدائی، وہی مات۔

    آخری سندھو سارنگ وہ جب پاکستان آزاد ہوا۔

    سندھو رہ گئی زمین کے اک ٹکڑ پرہند میں اور سارنگ رہ گیا پاکستان۔دونوں کے بیچ لمبی سرحد۔

    پہاڑ ،پربت۔

    سندھو افسردہ۔

    پر سندھو تُو اور ادا سارنگ جو مل گئے ۔سوہائی کہتی۔ 

    مگر سندھو کی آنکھوں میں اداسی تھی۔ وہ سوچ رہی تھی کچھ۔ کچھ ایسا جو سوہائی کبھی نہ سمجھ سکتی۔ وہ بھلا اسے کیا سمجھاتی کہ پگلی یہ ملنا بھی کوئی ملنا ہے۔ وہ یہ سب سوچتی ہی رہ جاتی کہتی کچھ نا۔

    ٭…٭…٭

  • شریکِ حیات قسط ۸

    شریکِ حیات قسط ۸

    شریکِ حیات قسط ۸

     باب ہشتم

    وہی ان ہونی جو ہونی سے ذرا پہلے ہوجاتی ہے۔

    اور پھر صورت حال آپ کے سامنے الٹے تختے کی طرح آجاتی ہے، بچھ جاتی ہے، نہیں پتا چلتا کہ دھرتی اُلٹ گئی یا پھر آسمان بدل گیا یا پھر چاند سو گیا۔

    روشنی بجھ گئی ہے رات کی یا پھر سویرا نہیں ہوا۔ دھرتی گول گھوم گئی ہے یا پھر مرکز نہیں رہا۔

    سب پلٹ جاتا ہے۔کھیل پلٹ جاتا ہے۔تختہ الٹ جاتا ہے۔چابی گھما دی جاتی ہے۔

    چابی ہی گھما دی گئی تھی، اسٹیج پر جیسے کٹھ پتیلوں کے کردار تیزی سے بدلتے گئے۔

    جو جس کا اصل کردار ہو اسے سونپا گیا۔ تیزی سے جیسے چیزوں کا ملمع اُترنے لگا یا پھر ارادوں کا روپ بدل گیا۔

    جو بھی ہوا، حیات گردش میں آگئی۔

    ایک دن کی شام نے بس لمحے کا کھیل کھیلا تھا۔

    سواری الٹی، سمجھو زندگی پلٹ گئی، ہاتھ سے اسٹیرئنگ چھوٹا، مانو اختیارات گئے سفر کے، ایک دھکا لگا۔

    حادثہ، جو جان دار کو بے جان کردے۔

    حادثہ، جو چلنے والے کو معذور کر دے۔

    حادثہ، وہی جس سے پناہ مانگی جاتی ہے۔

    حادثہ، جسے عام زبان میں ان ہونی کہا جاتا ہے۔

    اور سارنگ کے ساتھ وہی انہونی ہوئی تھی جس دن وہ سواری سے سڑک پر نہ آسکا۔

    جس دن اس سے اختیار چھوٹا۔

    جس دن معمولی سی بے احتیاطی نے اسے کچل دیا اور اس کے ساتھ وہ ہوگیا۔

    جسے عام فہم زبان میں لوگ بُرا کہتے ہیں۔اس کے ساتھ برا ہوگیا۔

    ایک روڈ ایکسڈنٹ نے زندگی کی شکل بگاڑ دی، وہ بدل نہ سکا۔

    کہتے ہیں تعلقات پنیری کی طرح ہوتے ہیں۔ پودا لگاتے ہیں، بیج اُگاتے ہیں، پھر انہیں پانی آپس کا پیار دیتا ہے۔ خوب صورت محبت کرتی ہے اور جڑ بھروسہ مضبوط کرتی ہے۔

    وہ سوچتی رہی ہم نے شاید پنیری ہی لگائی تھی اور ہم اسے پروان نہ چڑھا سکے۔

    ایک تعلق جس کی بنیاد خاندانی دباؤ تھا۔

    ایک تعلق جس کی بنیاد کمزوری تھی، مجبوری تھی اور اس تعلق کو دیکھا جائے تو صرف مجبوری اور کمزوری نے ہی جوڑے رکھا تھا۔

    جب کمزوری اور مجبوری ختم ہوجاتی ہے تب تعلق بے جوڑ سا بے معنی سا دکھنے لگتا ہے۔

    جب پیار اور بھروسے کی بات آتی ہے تو سب کچھ بھر بھری مٹی کی طرح ڈھے جاتا ہے۔

    صرف اور صرف سوال اٹھتے ہیں۔

    اور وہ سوال بے جواب ہی مر جاتے یا دبا دیے جاتے ہیں۔ تعلق پھر اسی نہج پر آکھڑا تھا، یعنی جہاں سے دنیائیں دو ہوجاتی ہیں۔ جہاں سے زنجیر کاہُک کھلنے لگتا ہے۔ احساس کی زنجیر ٹوٹنے لگتی ہے اور بکھرنے تک کا وقفہ ہوتا ہے۔

    اس نے پھر سے اسی ہمت کو جمع کرکے کہا تھا۔ ”سارنگ اب وقت آگیا ہے شاید، مجھے اب چلے جانا چاہیے۔ ایک وہ وقت تھا جب آپ پر فرائض تھے۔ آپ نے مکمل کیے بہادری سے، میں اپنی باری کھیلے بغیر ہی جارہی تھی۔مجھے تقدیر نے پھر روک دیا۔اس بار میرا امتحان تھا۔میں پاس ہوئی یا فیل، یہ آپ جانتے ہیںیا میرا اللہ جانتا ہے،بس میں بھاگی نہیں میدان چھوڑ کر،بس میں نے رستہ پکڑ لیا، میں لوٹ گئی۔میرے لیے انہیں رستوں کے دروازے اب دوبارہ کھل گئے ہیں،مجھے بلاتے ہیں، شاید مجھے اب جانا ہے۔ میں نے اپنا فرض ادا کر دیا۔آپ دوبارہ اپنے مقام پر آگئے ہیں۔سب کچھ وہی ہے سارنگ،تکلیف دہ وقت گزر چکا ہے۔ مشکل ہی تھا مگر گزر گیا۔ وہی گھر، کھڑکی، دروازہ، وہی رستہ، وہی لوگ۔” اسے لگا چابی گھومنا رُک چکی ہے۔ وہ شل ہوکر تھکن سے گرنے کے سے انداز میں بیٹھ گئی تھی۔

    ”میں تھک چکی ہوں۔” یہ دبی آواز میں کہا گیا جملہ تھا جو سارنگ کے کانوں نے سن لیا اور اس کی آنکھ کے گوشے میں، ایک بے نام سا رشک،ایک آنسو جو دل کی خاموشی ٹوٹنے پر آنکھوں میں آجاتا ہے۔ وہی آنسو بے وجہ سا یا بہت وجہ سا پل، لمحے، بھروسے اور محبتیں، دوست اور لوگ؟ سب سوال۔

    اس نے سوچا شیبا سے جاکر پوچھے یا پھر سندھیا سے،مگر وہ پہلا سوال خود سے کر بیٹھا تھا۔اسی لیے خطا کھا گیا۔

    پتّا ایک بار اس کے سامنے پھینکا گیا تھا۔چال اسے چلنی تھی۔جوابی پتّا اسے پھینکنا تھا۔

    گیند قسمت نے ایک بار پھر اس کی جیب میں ڈال دی تھی۔

    پھینکنے پر چھکّا ہوتا تو بھی مار پڑتی۔

    آؤٹ کرتا تو جیت اس کی۔ گیند ایک ہی تھی اور باری آخری۔ سارا کھیل بدل جانا تھا۔ میدان منتظر تھا۔

    ٭…٭…٭

  • شریکِ حیات قسط ۷

    شریکِ حیات قسط ۷

    شریکِ حیات قسط ۷

    باب ہفتم

    نیلے آسمان سے سفیدی غروب تک گھٹ جاتی تھی۔

    یہ ستاروں کی آمد کے اوقات تھے۔

    جب دھیرے دھیرے زمین والوں کی نظر کے کھیل سے اوجھل آنکھ بچاتے کھیل نچاتے، ستارے ایک ساتھ ہی نمودار ہونے لگتے تھے۔

    یہ وقت تھا گرمیوں کے زوال کا۔

    یا پھر موسم کی آنکھ مچولی کا کہ دن میں فصلیں پکاتا سورج گرمی کے شرارے ایسے زمین پر پھینکتا جیسے سرکس باز، تماش گر منہ میں تیل چھڑک کر آگ کے شرارے منہ سے نکالتا ہو۔

    اور غروب تک ایسے ہوجاتاجیسا زمین پر آگ کی یہ ہولی کبھی نہ چلی ہو۔ یہ درمیانہ موسم ناچتا کھیلتا، تیز ہوا کے جھکڑ چلاتا، جھومتا جھامتا ہوائوں پر کھیلتا غروب کے بعد آنے والی رات کی چادر بچھاکر ہر اک گرماہٹ کو ٹھنڈا کردیتا تھا۔

    ایسے میں دیہات کے سادہ لوح لوگ، آدمی، عورتیں، بچے اس وقت صحنوں میں چارپائیاں ڈالے مٹی سے لیپ کیے صحنوں میںچارپائیوں پر طویل تکیے رکھ کر سو لیتے۔ دن کی تھکن کو گھٹانے کی کوشش میں کھیت، کھلیان، پڑوس، محلہ کھیتی، کھلیان، کمہار، لوہار، زر، زمیندار سب کی کچہریاںسجنے لگتیں۔

    صحنوں میں عورتیں بیٹھیں گیت گنگناتیں یا بھرت، کڑھائی، کپڑا، سلائی،دھلائی، بُنائی، مال مویشیوں کے چارے باڑے کا انتظام ہوتا پھر چولہے پھونکتے رات کا دال دلیہ ساگ روٹی مکئی مکھن چاول گڑشیرہ بنانے بیٹھتیں۔ ساتھ کچے چولہے کے گرد کچی اینٹوں سے بنی چوکی پر دو تین چار عورتیں چوکڑا مارے کوئی پیاز چھیلتے، کوئی چولہے میں لکڑیاں جھونکتے، کوئی سبزی ساگ صاف کرتے، کوئی چاول چنتے ہوئے باتیں کرتی رہتیں۔ اور اسی طرح سندھو اورسوہائی اماں کی نظر سے ہٹ کر کانوں میں پھسپھساتے ہنستے ہنساتے پیاز، مٹر، گوبھی، پالک، دال، دلیہ، ساگ، چاول پکاتے، ہنڈیا چڑھاتے بہت سی باتیں کرتیں یعنی آج کی نئی کہانی کیا ہے؟

    سندھو جو نت نئی کتابی کہانیاں پڑھ ڈالتی سوہائی کو فیض یاب کردیتی اور اسی طرح آج بھی ہوا۔

    ”تجھے پتا ہے سوہائی سارنگ اور سندھو والی کُل ملا کے پنج کہانیاں ہیں۔

    پہلی میں سارنگ بت تراش اور سندھو دیوی۔

    سارنگ کے ہاتھ کاٹ لیے جاتے ہیں۔ سندھو دیوی کی قربانی ہوجاتی ہے۔ کہتے ہیں نا کہ سندھو سارنگ نے نہیں ملنا۔

    دوسری داستان، سارنگ بنا گھڑ سوار اور سندھو ہائے سوہائی مت پوچھ دونوں کے بیچ کی وہی جدائی، وہی مات۔

    آخری سندھو سارنگ وہ جب پاکستان آزاد ہوا۔

    سندھو رہ گئی زمین کے اک ٹکڑ پرہند میں اور سارنگ رہ گیا پاکستان۔دونوں کے بیچ لمبی سرحد۔

    پہاڑ ،پربت۔

    سندھو افسردہ۔

    پر سندھو تُو اور ادا سارنگ جو مل گئے ۔سوہائی کہتی۔ 

    مگر سندھو کی آنکھوں میں اداسی تھی۔ وہ سوچ رہی تھی کچھ۔ کچھ ایسا جو سوہائی کبھی نہ سمجھ سکتی۔ وہ بھلا اسے کیا سمجھاتی کہ پگلی یہ ملنا بھی کوئی ملنا ہے۔ وہ یہ سب سوچتی ہی رہ جاتی کہتی کچھ نا۔

    ٭…٭…٭

  • شریکِ حیات قسط ۵

    شریکِ حیات قسط ۵

    شریکِ حیات قسط ۵

    باب پنجم 

     

    کسی نے سنا؟

    مولا بخش مر گیا۔

    اس کے مرنے کا یقین کون کرے گا؟

    چارپائی پر خاموش پڑا بے فکر سا وجود، ہلکا پھلکا سا، کوئی فکر نہ فاقہ۔

    اوہ مولا بخش تو اپنی ساری فکریں یہاں ہی چھوڑ گیا۔

    اب کہنے سننے کو کچھ نہ تھا۔ کہا نہ تھا کہ بندہ خاک ہے، ایک دن خاک میں مل جانا ہے۔مٹی کو مٹی میں دفن ہونے دے۔

    ”سبھاگی اب دل بجھ گیا ہے۔تیرا مولا بخش تھک گیا ہے۔” چار چھ دن پہلے بخارمیں تپتے وجود پرجب اس نے ہاتھ رکھا تومولا بخش کا جسم تپ رہا تھا۔

    ”لگتا ہے بخار تیرے سر چڑھ گیا ہے سندھیا کے ابا۔ سٹھیا گیا ہے تو، دماغ پھر گیا ہے تیرا، کیا اُلٹی سیدھی ہانکے جا رہا ہے۔” وہ بگڑاُٹھی۔

    ”اب نہ بگڑیں، نہ کاوڑ جیں (خفا ہونا) نہ بُرا بھلا کہیں۔ اپنے سارے نخرے اپنے مولا بخش تک رکھیں مگر خوش رہیں۔”

    ”توچریا ہو گیا ہے مولا بخش۔ مت ماری گئی ہے تیری۔”

    ” او مت نہیں مری میری سندھو کی ماں۔ دعا کر مت کبھی نہ مرے، مت مرنے سے پہلے مولا بخش مر جائے۔ ”

    ”اللہ نہ کرے مولا بخش۔ بس بھی کردے۔”

    ”تجھے پتا ہے سندھو کی ماں! مٹی کا پتلا جب زمین پر چل چل کر تھک جاتا ہے، جب اُسے دانہ اُگانے کی سکت نہ رہے تو سمجھو دانہ پانی ختم ہوا، اُٹھ گیا۔ کبھی ایسا نہ ہوا کہ کھیتوں کے کاموں سے بے زار ہوا،جی چرایا یا یہ کہا کہ تھک گیا ہوں۔”

    پہلی بار کہا تولمحہ بھرکے لیے توسبھاگی نے بھی بھری آنکھوں سے دیکھتے ہی دل تھام لیا۔” ایسا نہ کہو مولا بخش تو ایسا سوچ بھی کیسے سکتا ہے؟سندھو کی خوشیاں کون دیکھے گا بھلا ؟چریا ہواہے کیا؟ ”

    ”چریا نہیں سیاٹا ہوں۔ تیرا مولا بخش سیاٹا ہے۔ او سبھاگی دیکھ، مٹی کو مٹی سے بڑا قرار آتا ہے۔ تیرا مولا بخش راج کرے گا، وہاں سکھی رہے گا۔پھر دیکھ زمین کے اندر کھیتی کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی، بغیر کھیتی کے اناج دیتی ہے۔ وہاں شاید اناج کی بھی حاجت اور ضرورت نہ ہو۔”

    ”دیکھ تو نے آج مجھے رُلا دیا۔ اپنی سبھاگی کو رُلا دیا ہے تو نے۔” اُٹھ کر جیجی کے پاس گئی۔ ”جیجی ماں کوئی دم درود؟ کوئی تسبیح صلوٰة مولا بخش سٹھیا گیا ہے۔ بخار سر چڑھ گیا ہے، الٹی سیدھی ہانکے جا رہا ہے۔ چپ ہی نہیں ہوتا ۔”

    جیجی اٹھ کر مولا بخش کے کمرے تک آئیں، سر پہ ہاتھ رکھا۔ ”بخار تو اب کم ہے اس کا۔”

    ”لے تو کیا گالھ کر رہا ہے مولا بخش، سبھاگی کو رلایا ہو اہے آج تو نے۔”

    ”جیجی ماںگود میں سر رکھنے دے پھر بتاتا ہوں۔”

    جیجی ماں نے گود میں پناہ دی۔ مولا بخش نے سر ٹیکا۔

    ”او دیکھ جیجی ماں!

    دنیا کے سارے مرد روکھے۔

    ساری مائیاں سوکھیں۔

    شوہر سارے نکمے۔

    بیویاں سگھڑ سوہنڑیں۔

    مولا بخش کوجا سبھاگی چاندی۔”

    ”اس کی باتوں کا اعتبار نہ کریں جیجی ماں۔یہ پل میں کچھ تو پل میں کچھ کہتا ہے۔”

    ”یہ کہہ کیا رہا تھا تو ہی بتا دے۔”

    مولا بخش نے آنکھوں کے اشارے سے اُسے کچھ کہنے سے روکا۔ یہ نہیں کہ مولابخش کا ڈر تھا بلکہ بات ہی ایسی تھی، جو وہ منہ سے نہیں کہہ سکتی تھی۔کہتے ہوئے سو دفعہ ڈرتی تھی۔ کبھی کہتے ہیں منہ کا کہا بھی سُن لیا جاتا ہے۔

    وہ چپ ہو گئی خاموش رہی کچھ نہ بولی۔جیجی کو تسلی ہوئی کہ چلو بخار تھا جو ہلکا ہو گیا ہے۔ اب سب ٹھیک ہے۔

    سب ٹھیک ہے کا کھیل کس قدر جان لیوا ہوتا ہے کبھی کبھار۔ وہ جب انسان سب ٹھیک ہے اپنی زبان سے کہتا ہے اور دل و دماغ نفی کرتے ہیں تو لگ پتا جاتا ہے۔

    دھڑکا لگ جاتا ہے اور پھر تب تک لگا رہتا ہے، جب تک ہاتھ دھڑکن پر رہے۔

    ٭…٭…٭

  • شریکِ حیات قسط ۴

    شریکِ حیات قسط ۴

    شریکِ حیات قسط ۴

     باب چہارم

    ”سارنگ سندھ میںمحبوب کو کہتے ہیں۔” بڑا مان تھا اُس کے لہجے میں۔

    ”تمہیں خوشی ہوتی ہو گی بڑا خوب صورت سا سمبل ہے۔”

    ”مجھے محبوب بننے سے زیادہ ایک کامیاب انسان بننے کی جستجو ہے۔” اس کا لہجہ بہت سادہ تھا۔

    ”تم نے محبوب ہونے کا ذائقہ چکھا نہیں اس لیے کہہ رہے ہو۔” جواب میں کسک کا احساس تھا۔

    وہ فراز سلیم تھا، جنوبی پنجاب سے اس کا تعلق تھا۔ وہ بھی اسپیشلائزیشن کے لیے آیاتھا۔

    مگر اسے بھی اسپیشلائزیشن سے زیادہ موسیقی میں دل چسپی تھی۔ گائیک بننا اس کا خواب تھا، مگر اس کے گلے کے سُر نے اس کی اس خواہش کا گلا بُری طرح سے گھونٹ دیا تھا۔اس کے بعد اسے طبلہ بجانے میں دل چسپی محسوس ہوئی تو اس نے طبلہ بجانے کی باقاعدہ تربیت حاصل کی تھی۔ وہ ڈرم بھی بہت اچھا بجاتا تھا۔

    کل کے کنسرٹ میں وہ بھی شریک تھا، جو اپنی خواہش کی ناکامی کے بعد ماں کی خواہش پر ڈاکٹر بن کر اسپیشلائزیشن کرنے یہاں آیاتھا اور پہلے ہی سمسٹر میں بُری طرح سے پھنس گیا تھا۔یہی ٹینشن تھی جس نے اس کی راتوں کی نیند اُڑا دی تھی اور وہ ایک رات کو بہار کرنے کے لیے سارنگ کے ساتھ کنسرٹ کا حصہ بن گیا تھا اور سارنگ کی بجائی بانسری اور گائیک کے لفظ جیسے اس کے دل پر اثر کر رہے تھے۔

    جب مائیک تھامنے سے پہلے سنگر نے سارنگ کی طرف دھن چھیڑنے کا اشارہ کیا۔سب سے پہلی دُھن بانسری کی دُھن تھی اور کیا لَے تھی جیسے دل ہچکولے کھاتا ہوا تھر کے ریگستان میں سہج سہج کر چلتے ہوئے اونٹوں کی چالوں جیسا ہو جائے۔

    بات سسی کے بھنبھور سے شروع ہوئی تھی۔سسی جسے عام سندھی میں سسوئی کہا جاتا تھا۔ وہ سسی جو بھنبھور کی رہنے والی تھی۔گیت میں سسی کا درد شاعر نے پوری طرح سمو دیا تھا۔ گیت آواز، سر، لے، دھن اور ساز کے ساتھ بجتا ہوا سماعتوں میں ایک جادو جگا گیا، لوک داستانی رنگ چڑھ گیا۔

    دوسرے دن شام ڈھلے ٹریننگ سینٹر سے چھٹی ہونے کے بعد وہ پورا گروپ فراز سلیم، سارنگ، پوجا، صنم اور شیبا سمیت کیفے کے باہر بیرونی پارک میں کل کے گیت، سر اور کہانی پر بات کر رہا تھا۔ جب بات سسی کے بھنبھور سے شروع ہو کر سارنگ کے محبوب پر ختم ہو گئی۔

    اور کبھی وہیں سے شروع ہونی تھی۔

    ٭…٭…٭

  • پائلو کوئلو – شاہکار سے پہلے


    پائلو کوئلو(Paulo Coelho)

    ۔۔۔۔۔اس سے پہلے کہ کیمروں کی فلیش لائٹس اور ریفلیکٹرز کی نیلی ڈسکو سٹائل چمک کے بغیر پائلو کائلو کے قدم اٹھنے سے بیزار ہو جائیں ،رپورٹرز اور پاپا رازیوں کے ہجوم کے بغیر اس کا سانس دوبھر ہونے لگے، انٹرویوز، سیلفیاں اور آٹوگراف اس کے لیے زندگی کی اہم ترین خوشیاں بن جائیں اور وہ ایک عام انسان کی طرح عام بے نیاز لوگوں میں ا ک بے نیازی کے ساتھ چل نہ سکے۔ ا س مشہورِ زمانہ لکھاری کی زندگی میں وہ وقت بھی آتا ہے جب وہ اندھیرے کمرے میں تنہایوں کو دُکھڑے سناتا ہے۔ تاریک راتوں کو مدھم مدھم روشنی دینے والی موم بتیوںکے ساتھ سلگتا ہے۔ آنسوﺅں سے گیلے کاغذ پر کالے حروف اور غمزدہ لمحے اتارتا ہے اور پلکیں سوکھ جانے کے بعد سورج کی اوّلینشعاﺅں کے ساتھ خود سے نئے عزم اور نئے حوصلوں کے وعدے کرتا اور ہر آنے والے دن اپنی محنت اور اپنی جنگ کا دوبارہ صفر سے آغاز کرتا ہے۔
    پائلو کوئلو کی زندگی بھی کوپاکبانا(Copacabana beach) کے ساحل کی سمت کھلنے والی کھڑکیوں والے مہنگے اور پرتعیش فلیٹ سے پہلے Rio de Janeiro کے ایک مڈل کلاس علاقے کے مڈل کلاس گھرانے کے ناکام سپوت کی کہانی تھی۔ایک ایسا ناکام بیٹااور بے کار انسان جو نہ تو اپنے اساتذہ سے توصیف سمیٹ سکا اور نہ ہی والدین کی پلکوں پر اترنے والے خوابوں کا بوجھ اپنی پوروں سے اٹھا سکا۔ ایسا عام انسان جو اپنے اندر ایک مضطرب روح ،ایک بے چین وجود کی شناخت کے سفر پر تھا اور سفر بھی ایسا جو لمبا بھی تھا کٹھن بھی اور پرآسیب بھی۔لیکن برسوں کی دھوپ سر پر کاٹنے، صدیوں کا بوجھ کندھوں پر اٹھا لینے کے بعد جب یہی مضطرب روح منظرعام پر آئی تو نہ صرف شہرت کی تمام حدیں پار کر گئی بلکہ ہزاروں لوگوں کو خواب دینے ، نئی دنیائیں دریافت کرنے کی تحریک دینے اور تعمیر کے اسباق سکھانے لگی۔ دنیا بھر میں دوسو ملین سے زیادہ بکنے والے کتابوں اور سٹرسٹھ (67)زبانوں میں ترجمہ ہونے والے ناول الکیمسٹ(The Alchemist) کا مصنف جس کے لفظوں سے ہزاروں لاکھوں لوگ روزانہ سونے سے پہلے زندگی اور معاشرے کے ہاتھوں اپنی کچلی روحوں کو تسلی دیتے، اپنے ماضی کو دفن کرنے اور نئی صبح کو روشن کرنے کا عزم کرتے ہیں، اسی کا نام پائلو کوئلو ہے۔
    اپنی پیدائش سے ہی بدقسمتی کا شکار پائلو کوئلو نے اپنے پہلے سانس کے ساتھ ہی زندگی کی سختیوں اور مصائب سے لڑنے کی ہمت پکڑ لی تھی۔اسی لیے جب غمزدہ باپ اور آنسو بہاتی ماں اس نوزائیدہ بچے کے کفن دفن کی تیاری کر رہے تھے تو وہ انگڑائیاں لیتا اٹھ بیٹھا۔ اپنے پست قد کے ساتھ بلندیوں کے لیے لڑنے والا پائلو آخر اپنے ریگزاروں، پتھریلی مسافتوں اور نم راتوں سے گزر کر اپنے ہنر کی معراج پر پہنچ گیا۔
    پتلی ٹانگوں اور بڑے سر کے ساتھ بدصورت دکھائی دینے والا بچہ پائلو ابتدائی عمر سے ہی غیر مقبول ثابت ہوا۔ اس میں صنف مخالف کو متوجہ کرنے کی کوئی صلاحیت نہ تھی، دوستوں میں دھاک بٹھانے کو ہمت تھی نہ بہادری ۔ والدین کا لاڈلا بننے کی روایت پسندی نہ تھی۔ ا یسے میں خود کو خوش رکھنے اور دوستو ں کو متاثر کرنے کا ایک ہی ذریعہ تھا اس کے پاس، اس کی کتابیں اور مطالعہ۔۔ بچپن سے ہی مطالعہ کے شوقین پائلو کائلو نے سکول کے دور سے ہی آنکھوں کی پتلیوں پر لکھاری بننے کا ایک خواب ،ایک جذبہ بُن لیا تھا ۔ سکول کی نصابی قابلیت والدین کی تمام تر کوشش کے باوجود وہ آسانی سے حاصل نہ کر سکا۔سکول کے ریکارڈ میں ہمیشہ آخری نمبر پر رہنے والا اور ہر وقت سکول سے نکالے جانے کے خوف میں مبتلا رہنے والا نوجوان جب ایک دن تخلیقی شاعری کے ایک مقابلے میں اپنے سکول میں پہلے نمبر پر آتا ہے تو اس کی آنکھوں کو ایک نیا خواب ملتا ہے۔ ایک ایسا راستہ جس پر اس کے لیے تالیاں بج سکتی ہیں، وہ انعامات جیت سکتا ہے۔ ناکامیوں سے نکل کر کامیابی کا مزا چکھ سکتا ہے۔ اس پر آشکار ہوتا ہے کہ اسی سمت اس کی طبیعت کا میلان اور رجحان ہے۔۔ جلد از جلد والدین کو یہ خوش خبری دینے ، خوابوں کی اونچی اڑان اور لکھاری بننے کا خواب سنانے کی چاہ لیے وہ سکول سے نکلنے والے پہلے طلبا میں سے تھا۔اس کے ہاتھ جیسے قارون کا خزانہ لگا تھا ۔

  • احمد فراز ۔ انہیں ہم یاد کرتے ہیں

    احمد فراز ۔ انہیں ہم یاد کرتے ہیں

    انہیں ہم یاد کرتے ہیں

    احمد فراز

    احمد فراز

    5/5

    احمد فراز وہ رومانی، مقبول عام، سادہ لفظوں میں زندگی کا اظہار کرنے والا انسان ہے، جو اردو جاننے، پڑھنے اور بولنے والے دل و دماغ سے ایک مرتبہ تو ضرور گزرا ہو گا۔ ایک ایسی آواز ہیں کہ جو خاموش ہو بھی گئی تو ختم نہیں ہو سکتی، جس کو اردو پڑھنے اردو جاننے والے، محبت کرنے والے،اور اس محبت کے اظہار کے لیے ردھم کو ڈھونڈنے والے ، ہمیشہ سنیں گے اور سمجھیں گے۔اردو شاعری دہلی کے اردو بولنے والے خاندانوں کے گھر کی باندی رہی لیکن اردو کی مقبولیت اور پاکستان کی قومی زبان بننے کے ساتھ ،اردو شاعری ان لوگوں نے بھی کی جن کی پہلی زبان اردو نہ تھی،جن میں فیض احمد فیض اور علامہ اقبال کا نام نمایاں ہے۔ احمد فراز کی بھی پہلی زبان اردو کے بجائے پشتو تھی۔ انہیں شاعرانہ مزاج اور شاعری دونوں ورثے میں ملے تھے۔ والد صاحب فارسی میں شعر کہتے تھے، اور اہل کتاب میں سے تھے۔ احمد فراز کا بھی کہنا تھا کہ انہیں شعر اردو میں ہی کہنا پسند تھا، حالاں کہ مادری زبان پشتو تھی، اور والد فارسی کے گرویدہ۔ جب شعر کہنا شروع کیا تو اردو اچھی طرح جاننے اور لکھنے کے باوجو داردو بولنا آسان نہ تھا۔ نام ’سید احمد شاہ‘ تھا اور تخلص ’فراز‘ لکھتے تھے۔ بچپن ایک لحاظ سے غیر معمولی تھا کہ دادا کی قبر پر مزار تھا، اور وہاں خواہشوں کے دھاگے باندھنے، نا آسودہ دلوں کی،نا مکمل خواہشوں اور زیارتوںکے لیے آنے والوں کا تانتا بندھا ہوتا تھا۔ شاعری کا آغاز ایک بیت بازی کا مقا بلہ جیتنے کے لیے کیا تھا اور جیتنا اس سے تھا، جس کے سامنے ایک نویں کلاس کے ٹین ایجر کا دل ہارا ہوا تھا، ایک کلاس سینئر تھی اور خاندانوں کے رابطے کی وجہ سے گھر آنا جانا تھا۔اس نے ایک دن بیت بازی کا طریقہ سمجھایا اور مستقبل کے شاعر کو مقابلی کی دعوت دی، جو کہ بڑے شوق سے قبول کی گئی تھی لیکن جب بھی شعر یاد کر کے جاتے تو کم پڑ جاتے اور دل جس سے مقابلہ جیتنے کو بے چین تھا، وہ جیت جاتی۔ خیر مقابلہ تو دل ناتواں نے خوب کیا، اور پھر شعر خود بنانے لگے۔جب شعر کہنے با قا عدہ شروع کیے تو اپنی شاعری اپنی والدہ کو سونپی کہ والد صاحب کو دکھا دیں کہ اگر کوئی کمی بیشی ہو تو دور ہو جائے اور اصلاح کی جتنی بھی گنجائش ہو وہ کی جا سکے۔چند دن تو گھر میں خاموشی رہی اور ہزار وسوسوں نے آگھیرا لیکن چند دن بعد والد نے بلایا اور ہلکی پھلکی ڈانٹ پلائی کہ’ عشق و معشوقی کی شاعری کرتے ہو؟ شرم نہیں آتی۔“
    1951ءکی بات ہے جب ایک مشاعرے میں شرکت کی اور وہاں زیڈ۔اے ۔ بی آئے ہوئے تھے ، جو کہ اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل کنٹرولر آف پاکستان براڈ کاسٹنگ سروسز تھے۔ کسی سینئر کے گھر ایک ادبی محفل تھی جسے مشاعرے کا نام دیا گیا تھا۔’احمد فراز‘ نے غزل پڑھی تو بخاری صاحب کی طرف سے دوسری غزل کی فرمائش کی گئی۔ غزل سننے کے بعد کہا’ فراز بیٹا جب بھی تمہیں کام کرنے کا خیال آیا تو ریڈیو پاکستان کے دروازے کھلے ہیں‘۔ ابھی شاید ارادہ تو نہ تھا کیوں کہ تعلیم ابھی جاری تھی ، لیکن گھر میں پڑے ایک گل دان نے راستے یوں تبدیل کیے کہ ایک گلدان ٹوٹا والد نے تھوڑا بہت جھاڑا اور حساس شاعر اور غیرت مند پٹھان نے سوچا اب نہیں رہنا یہاں۔ سو ریڈیو پاکستان کی آفر یاد تھی۔ وہاں رابطہ کیا اور فورا µ نوکری کے لیے بلاوے کا خط آ گیا۔سو فرسٹ ائیر بھی چھوڑ دیا اور گھر بھی ۔ یہ ریڈیو پاکستان کا وہ وقت تھا، جب ابھی ریڈیو پاکستان ٹینٹوں میں آباد تھا۔بلڈنگ کہیں جاکر بہت بعد میں بنی تھی۔
    کسی جذباتی لمحے میں گھر اور ماں کو تو چھوڑا تھا لیکن رات ماں کو یاد کرتے گزرتی اور دن کام کرتے ۔ اسی روٹین سے تھک کر ایک دن آفس میں گئے اورکہا یا تو میرا استعفیٰ لے لیں یا پھر ٹرانسفر کر دیں۔ پشاور ٹرانسفر ہو گئی اور گھر کا سکھ اور ماں کی محبت پھر سے میسر آئی۔
    پھر تعلیم کا سلسلہ بھی چل نکلا ۔ایڈورڈ کالج سے گریجویشن کرنے کے بعد پشاور یونیورسٹی سے ایم اے اردو کیا۔