Author: misbah116@hotmail.com

  • ڈریکولا کا بھوت

     

    -1 کیا ماورائی کردار ”ڈریکولا“ واقعی انسانی آبادیوں میں داخل ہوکر انسانی خون چوسنا شروع ہوگئے تھے؟

     

    -2 کیا انسپکٹر جمشید بھی ڈریکولا بن گئے تھے؟ یا فرزانہ نے یہ بات کسی اور وجہ سے کہی تھی؟

     

    -3 ڈریکولا آخر خون کے کس گھناﺅنے دھندے میں ملوث تھے؟

     

    -4 انسپکٹر جمشید کے دوست نے فرانس سے ڈریکولا سے متعلق کیا معلومات بھیجی تھیں؟

     

    -5 انسپکٹر جمشید اور ان کی ٹیم کو بکسوں میں بند کردینے کے بعد ڈریکولا ان کے ساتھ کیا کرنے والے تھے؟

     

    -6 شہریوں کے لیے رات کے وقت کیا ہدایات جاری کی گئی تھیں؟

    پڑھیے سنسنی خیز واردات کا احوال ”ڈریکولا کا بھوت“ میں۔

    ٭….٭….٭


    خون کہاں گیا

    ڈاکٹر رحمان انصاری کے کلینک میں ایک شخص ایک بچے کو اٹھائے اندر داخل ہوا اور دوسرے مریضوں کی پروا کیے بغیر ڈاکٹر تک جاپہنچا۔

    ”ڈاکٹر صاحب ! پہلے اسے دیکھیے۔“

    ”میں مریضوں کو باری کے مطابق دیکھتا ہوں، آپ سے پہلے بھی بہت سے مریض یہاں موجود ہیں، تشریف رکھیے اور اپنی باری کا انتظار کیجیے۔“

    ڈاکٹر رحمان انصاری نے اس آدمی کی طرف دیکھے بغیر کہا۔ وہ اس وقت ایک بوڑھے آدمی کا معائنہ کررہا تھا جو دمے کا مریض تھا۔ اس کے ہاں ہمیشہ مریضوں کی بھیڑ لگی رہتی تھی۔ شہر کا مشہور ڈاکٹر تھا، لیکن بہت مہنگا تھا۔ غریب آدمی اس سے علاج کرانے کے بارے میں سو چ بھی نہیں سکتے تھے۔

    ”لیکن یہ مررہا ہے ڈاکٹر پہلے اسے دیکھیے، اس کا سانس اُکھڑ رہا ہے۔ اُف میرا بچہ۔“ آدمی نے بوکھلائے ہوئے لہجے میں کہا۔

    اب ڈاکٹر نے نظر اُٹھا کر بچے کو دیکھا اور پھر چونک اٹھا۔ اس کا رنگ ہلدی کے مانند زرد ہورہا تھا اور وہ لمبے لمبے سانس لے رہا تھا، جیسے سانس لینے میں بہت تکلیف ہورہی ہو۔

    ”اسے کیا ہوا؟“ ڈاکٹر انصاری بوڑھے کو چھوڑ کر اس کی طرف مڑا۔

    ”خدا جانے اسے کیا ہوا، کس کی نظر لگ گئی، دو دن پہلے تو بالکل ٹھیک تھا۔ بھاگتا دوڑتا کودتا پھرتا تھا۔“ باپ نے کہا۔

    ”اسے لٹادیں، میں دیکھتا ہوں۔“

    باپ نے بچے کو مریضوں کے لیے بچھائے اسٹریچر پر لٹادیا۔ 

    ڈاکٹر انصاری اس پر جھک گیا۔ چند منٹ تک وہ مختلف طریقوں سے اس کا جائزہ لیتا رہا، پھر سیدھا ہوتا ہوا بولا:

    ”اس کے جسم میں تو خون بالکل نہیں ہے؟“

    ”لیکن دو دن پہلے تو یہ بالکل ٹھیک تھا، اسے کوئی چوٹ بھی تو نہیں لگی۔“

    ”اوہ! تو پھر خون کہاں گیا؟“ ڈاکٹر انصاری کے منہ سے نکلا۔

    ”جج جی…. میں کیا بتا سکتا ہوں۔“

    ”کل اس کی کیا حالت تھی؟“ ڈاکٹر نے پوچھا۔

    ”کل صبح یہ سو کر اُٹھا تو اس کا رنگ زرد ہورہا تھا، ہم دیکھ کر حیران رہ گئے۔ محلے کے ڈاکٹر کو دکھایا تو اس نے طاقت کی دوائیں لکھ دیں اور بتایا کہ بچے کو کوئی بیماری نہیں ہے، بس خون کی کمی ہے، ہم بہت حیران ہوئے کہ یکا یک خون کیسے کم ہوگیا۔ خیر دوائیں شروع کردیں ۔ آج یہ اٹھا تو رنگ بالکل ہی زرد تھا۔ ہم بری طرح گھبراگئے اور میں بچے کو آپ کے پاس لے آیا۔ “ وہ بتاتا چلا گیا۔

    ڈاکٹر انصاری چند لمحے کے لیے سوچ میں ڈوب گیا۔ اس کی پیشانی پر فکر کی لکیریں اُبھر آئیں۔ آخر اس نے کہا:

    ”عجیب بات ہے، اس طرح یکا یک خون کا غائب ہونا کچھ سمجھ میں نہیں آتا، بہر حال سب سے پہلے میری فیس جمع کرادیں، اس کے بعد میں اس کا تفصیل سے معائنہ کروں گا، خون کا گروپ معلوم کروں گا اور اگر اس گروپ کا خون مل گیا، تو بچے کو دیا جائے گا، مجھے اُمید ہے کہ بچہ خون ملتے ہی تندرست ہوجائے گا۔“

    ”بہت بہتر !آپ کی فیس کتنی ہے۔“

    ”دو سو روپے، باقی خرچ کی تفصیل بعد میں بتائی جائے گی۔“

    ”بہت بہتر!“ یہ کہہ کر باپ بچے کو وہیں چھوڑ کر باہر نکل گیا۔ وہاں ڈاکٹر کا کلرک بیٹھا تھا، اس نے بچے کا نام پتا لکھا اور دو سو روپے وصول کرکے ایک چٹ اسے تھمادی۔یہ چٹ ا س نے اندر لے جاکر ڈاکٹر کو دی جو اب پھر دمے کے مریض بوڑھے کو دیکھ رہا تھا۔ آخر اس سے فارغ ہوکر وہ پھر بچے کی طرف بڑھتے ہوئے بولا:

    ”آ پ کا نام غلام جیلانی ہے۔“

    ”جی ہاں۔“ باپ نے کہا۔

    ”آ پ تو شہر کے بہت مشہور آدمی ہیں، اخبارات میں عام طور پر آپ کا نام شائع ہوتا رہتا ہے۔“

    ”جی ہاں! میں شہر میں اُون کا سب سے بڑا تاجر ہوں۔“

    ”او ر بچے کا نام کیا ہے؟“ ڈاکٹر نے پوچھا۔

    ”طاہر جیلانی۔“ غلام جیلانی نے کہا۔

    ”ہوں! اب میں اس کا معائنہ کرنے لگا ہوں، آپ تھوڑی دیر کے لیے باہر چلے جائیے۔“

    ”جی، وہ کیوں؟“ غلام جیلانی کے لہجے میں حیرت تھی۔

    ”ہم بچے کا خون لیں گے، ریڑھ کی ہڈی میں سے چند قطرے لیں گے اور یہ کافی تکلیف دہ طریقہ ہے، آپ باپ ہیں، آپ یہاں موجود رہیں گے تو آپ کو بھی تکلیف ہوگی۔“

    ”اوہ! اچھا میں باہر چلا جاتا ہوں۔“

    غلام جیلانی نے کہا اور اس کمرے میں آکر بیٹھ گیا جس میں مریض بیٹھے اپنی باری کا انتظار کررہے تھے۔ اس کا دل دھک دھک کررہا تھا، بچے کے لیے بری طرح تڑپ رہا تھا۔ شہر کا سب سے بڑا تاجر، کروڑوں روپے میں کھیلنے والا، لیکن بچہ صرف ایک ہی تھا، اب اگر وہ بھی جل بستا تو اس کے لیے دنیا میں کیا رہ جاتا۔

    ایک ایک منٹ ایک ایک سال بن کر گزرا، آخر پندرہ منٹ بعد ڈاکٹر کے اسسٹنٹ نے دروازے میں سر باہر نکال کر کہا:

    ”غلام جیلانی صاحب، اندر تشریف لے آئیں۔“

    وہ اُٹھ کر ڈاکٹر کے پاس پہنچا، تو اس کا رنگ سفید ہورہا، آنکھوں میں خوف تھا، ہاتھ اور پیروں میں کپکپی تھی۔

    ”کیا ہوا ڈاکٹر صاحب! خیر تو ہے؟“

    ”جو کچھ میں نے اندازہ لگایا ہے، وہ اس قدر بھیانک اور لرزہ خیز ہے کہ میں بتانے کی ہمت نہیں کر پارہا ہوں۔“ ڈاکٹر انصاری نے تھر تھر کانپتی آواز میں کہا۔

    ”یا اللہ رحم! آخر بات کیا ہے۔“ غلام جیلانی کے منہ سے ڈرے ڈرے لہجے میں نکلا۔

    ”بات تو میں بعد میں بتاﺅں گا، پہلا مسئلہ تو بچے کو خون دینے کا ہے، اگر اسے چند منٹ کے اندر اندر خون نہ دیا گیا تو یہ چل بسے گا، اس کے خون کا گروپ او ہے، اس وقت میرے پاس اس گروپ کا خون نہیں ہے۔ یہاں ایک خون کا پرائیویٹ بنک ہے، اگر آپ کہیں تو میں فون پر ان سے بات کروں ، وہ فوراً خون یہاں پہنچادیں گے۔“

    ”ضرور کریں، اس میں پوچھنے والی کیا بات ہے؟“ غلام جیلانی نے کہا۔

    ڈاکٹر نے اس کے سامنے کوئی نمبر گھمایا اور گروپ کے خون کے بارے میں بات کی پھر ریسیور پر ہاتھ رکھ کر غلام جیلانی سے بولا:

    ”دس ہزار روپے ایک بوتل کے مانگے ہیں اور آپ کے بیٹے کو کم از کم پانچ بوتل خون کی ضرورت ہے۔“

    ”جلدی کیجیے۔ میں دس لاکھ روپے کا خون بھی خریدنے کے لیے تیار ہوں۔“

    ”بہت بہتر۔“ یہ کہہ کر اس نے خون کے لیے ہدایت دی اور ریسیور رکھ دیا گیا۔ اس کا اسسٹنٹ بچے کے جسم میں خون داخل کرنے کے لیے سٹینڈ وغیرہ لگانے لگا۔ ابھی دس منٹ بھی نہ گزرے ہوں گے کہ خون کی پانچ بوتلیں اٹھائے وہ آدمی اندر داخل ہوئے۔ غلام جیلانی نے انہیں اس وقت پچاس ہزار روپے کا چیک کاٹ دیا۔ وہ چیک لے کر چلے گئے۔ کراس میچنگ ہوگئی تو تھوڑی دیر بعد خون قطرہ قطرہ کرکے طاہر جیلانی کے جسم میں داخل ہونے لگا، ڈاکٹر انصاری نے اب دوسرے مریضوں کو دیکھنا شروع کردیا تھا۔

    اس طرح دو گھنٹے گزرگئے۔ طاہر کے منہ کی رونق واپس آنے لگی، اس کا سانس درست ہو گیا۔ باپ کی بے قراری دور ہوگئی۔ کلینک سے باہر اس کے گھر کے دوسرے افراد بھی بے چین تھے۔ اس نے انہیں جاکر بتایا کہ اب طاہر کی حالت بہتر ہے۔ آپ لوگ بے فکر ہو جائیں۔ یہ سن کر سب لوگ قدرے مطمئن ہوگئے۔ غلام جیلانی ڈاکٹر انصاری کے فارغ ہونے کا انتظار کرنے لگا۔ مگر مریض تھے کہ بڑھتے ہی جارہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر انصاری خود ہی طاہر جیلانی کو دیکھنے چلے آئے۔ غلام جیلانی نے موقع غنیمت جانا اور ڈاکٹر انصاری سے اس مرض کے حوالے سے پوچھنے لگا۔ ڈاکٹر انصاری نے مختصر سا جواب دیا کہ ”فی الحال میں اسے خون لگانے کے سوا کچھ نہیں کرسکتا۔“

    ” اس سلسلے میں جتنی بھی کتابیں میرے پاس ہیں، میں آج رات سونے سے پہلے ان کا مطالعہ کروں گا اور غور کروں گا خدا جانے کیا چکر ہے۔ دیکھیے نا…. آخر بچے کا خون اس طرح یکا یک کہاں چلا گیا، جب کہ اس کے جسم پر کوئی چوٹ نہیں لگی، خون نہیں بہا۔ جسم سے خون اسی وقت نکلتا ہے جب اس کے چوٹ لگے، کٹ جائے ورنہ خون نہیں نکل سکتا۔“ ڈاکٹر بولا۔

    ”اب میں کیا کروں؟ سوال تو یہ ہے۔“ غلام جیلانی نے کہا۔

    ”رات کو اپنے گھر کے تمام دروازے بند کرکے سویئے، کھڑکیوں میں اگر لوہے کی سلاخیں نہیں ہیں تو فوراً سلاخیں لگوالیں، کیونکہ یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ ڈریکولا قسم کے لوگوں میں طاقت بہت ہوتی ہے، گولی انہیں زخمی تو کرسکتی ہے، لیکن ختم نہیں کرسکتی، جس کا یہ خون پی لیتے ہیں وہ مرجاتا ہے، تو وہ بھی انہی کی طرح ڈریکولا بن کر دوبارہ زندہ ہوجاتا ہے اور لوگوں کا خون چوسنے لگتا ہے۔ اس طرح اور لوگوں کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔“

    ”آپ تو مجھے ڈرا رہے ہیں ڈاکٹر صاحب! مجھے چل کر فوراً دروازوں اور کھڑکیوںکا بندوبست کرنا چاہیے۔“

    ”ہاں اور رات کو دیر تک جاگتے رہیں، اس بچے کے پا س موجود رہیں، مکان کی بتیاں نہ بجھائیں بلکہ کچھ اور بلب لگالیں، کیوں کہ ایسے لوگ روشنی سے گھبراتے ہیں۔ “ ڈاکٹر نے اسے ہدایت دی۔

    ”بہت اچھا! میں چلتا ہوں۔“

    غلام جیلانی گھر پہنچا ، تو اندر کسی کے زور زور سے باتیں کرنے کی آواز آئی۔ وہ فوراً ڈرائنگ روم کی طرف بڑھا اور پھر اس کے منہ سے نکلا۔

    ”ارے خان رحمان تم۔“

    ”ہاں میں! بھائی نے مجھے سب کچھ بتادیا ہے، انہوں نے مجھے فون کیا تھا۔ میں فوراً چلا آیا۔ ڈاکٹر کیا کہتا ہے؟“ خان رحمان جلدی جلدی بولے، وہ اس کے دوست تھے۔

    غلام جیلانی نے انہیں سب باتیں بتادیں جو ڈاکٹر نے بتائی تھیں۔ خان رحمان کسی گہری سوچ میں ڈوب گئے۔ کافی دیر بعد انہوں نے سراُوپر اٹھایا اور بولے:

    ”ان حالات میں کوئی ڈاکٹر ہماری شاید ہی مدد کرسکے۔ صرف ایک شخص ایسا ہے ، جو اس مسئلے کا حل تلا ش کرسکتا ہے۔“

    ”لیکن اب تو طاہر ٹھیک ہوچکا ہے، اب ہمیں کسی کی مددکی کیا ضرورت؟“ غلام جیلانی نے حیران ہوکر کہا۔

    ”یہ سوچنا غلط ہے۔ صرف اپنے بچے کے بارے میں نہ سوچو، اگر شہر میں واقعی کوئی ڈریکولا قسم کا آدمی موجود ہے، تو وہ اور لوگوں کے لیے بھی تو خطرہ ہے۔ میرا اشارہ اس طرف تھا، لہٰذا مجھے اس شخص کو فون کرکے یہاں بلانا ہی ہوگا۔“

    انہوں نے کہا۔

    ”اوروہ کون ہے؟“

    ”اس کا نام انسپکٹر جمشید ہے۔“

    خان رحمان نے کہا اور فون پر جھک گئے۔

    ٭….٭….٭

    خون کا پیغام

    تینوں اپنی تجربہ گاہ میں تھے ۔فارغ ہوتے تو یہاں آکر بیٹھ جاتے اور اِدھر اُدھر کی آوازیں سنا کرتے تھے۔ اس وقت بھی اسی شغل میںمصروف تھے۔

    ”ہمیں یہ کام بغیر کسی وجہ کے نہیں کرنا چاہیے۔ اس طرح ہم لوگوں کی باتیں سن لیتے ہیں۔“ محمود کہہ رہا تھا۔

    ”لیکن ہم ان کے چہرے تو نہیں دیکھتے،ہمیں کیا ، کہنے والا اور سننے والا کون ہے۔“ فرزانہ نے جواب دیا۔

    ”ہم تو دن رات ایسے ہی کام کرتے رہتے ہیں، اس طرح تو ہمیں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر صرف اپنی تعلیم کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ بے چاری تعلیم بھی ہمارے بارے میں کیا سوچتی ہوگی کہ ہم اس کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے جب کہ دوسرے طالب علم دن رات کتابوں سے چمٹے رہتے ہیں۔“ فاروق نے مسکرا کر کہا۔

    ”فکر نہ کرو، تعلیم ہم سے بہت خوش ہے، جو طالب علم دن رات کتابیں پڑھتے ہیں، ہم ہر سال ان سے زیادہ نمبر حاصل کرتے ہیں پھر بھلا تعلیم کیوں کچھ سوچے گی؟ ویسے بھی سوچ بچار کرنا جان داروں کا کام ہے، نہ کہ بے جان چیزوں کا۔“ فرزانہ نے جل کر کہا۔

    ”ہائیں! تو کیا تعلیم بے جان ہے؟ پھر اسے حاصل کرنے کا کیا فائدہ۔“ فاروق نے منہ بنایا۔

    ”اس کا مطلب ہے، تم صرف جان دار چیزیں حاصل کرتے رہتے ہو۔“ محمود کے لہجے میں حیرت تھی۔

    ”ہاں ! میں ذرا شکاری قسم کا آدمی ہوں۔“ فاروق نے مسکرا کر کہا۔

    ”شکاری قسم کے ہو، شکاری تو نہیں ہونا اور پھر شکاری تو پرندوں اور جانوروں کو مارتے ہیں، زندہ کب پکڑتے ہیں۔“ فرزانہ نے کہا۔

    ”بہادر شکاری اپنے شکار کو زندہ پکڑتا ہے اور ا س کے بعد حلال کرتا ہے، ایک بار میری ملا قات ایک شیر سے ہوگئی تھی۔ کہنے لگا…. “ فارو ق کہہ رہا تھا کہ محمودنے اسے ٹوک دیا۔

    ”ٹھہرو! پہلے اتنا بتادو کہ یہ کب کی بات ہے۔“

    ”عجیب احمق ہو، یہ میں ڈائری دیکھ کر ہی بتا سکتا ہوں اور ڈائری اس وقت میرے پاس نہیں ہے۔“

    ”وہ کس کے پاس ہے۔“ فرزانہ شوخ انداز میں مسکرائی۔

    ”کانے دیو کے پاس، اس کے دو بڑے نوکیلے دانت ہیں، لیکن مصیبت یہ ہے کہ ڈائری اس نے اپنے پا س بھی نہیں رکھی، شاید اسے خطرہ تھا کہ میں اس سے حاصل کرنے کے لیے اس کے سر پر پہنچ جاﺅں گا۔ اگرچہ اس کا سربہت چکنا ہے اور پھسلنے کا خطرہ ہے، پھر بھی میں یہ خطرہ ضرور مول لیتا، جانتے ہی ہو، ہم خطرات مول لینے میں کس قدر تیز ہیں، ہاں تو میں کہہ رہا تھا، دیو نے ڈائری اپنے پا س رکھنے کے بجائے نیلے طوطے کی چونچ میں دے رکھی ہے اور اس نیلے طوطے تک پہنچنا اور اسے ہلاک کرنا بہت مشکل ہے۔“

    ”کیوں! ابھی تو تم شیر کے شکار کی بات کررہے تھے اور طوطے کا شکار نہیں کرسکتے؟“

    ”اس لیے کہ وہ طوطا، عام طوطا نہیں ہے، اسے مارنا اسی لیے بہت مشکل ہے کہ اس کی جان اس کانے دیو میں ہے۔“ فاروق کہتا چلا گیا۔

     ”یہ کیا بات ہوئی۔ آج تک تو جنوں اور دیوﺅں کی کہانیوں میں یہ پڑھا ہے کہ جنوں اور دیوﺅں کی جان کسی جانور یا پرندے میں ہوتی ہے اور تم اُلٹ بات کہہ رہے ہو۔“ محمود نے کہا۔

    ”ثابت ہوا، تم جنوں ، دیوﺅںا ور بھوتوں کی کہانیاں پڑھتے ہو، لاحول ولاقوة، کیسا شوق ہے تمہارا۔“ فاروق نے برا سا منہ بنایا۔

    ”غلط سمجھے! میں نے ایسی کہانیاں کبھی نہیں پڑھیں، لیکن جب ہم بہت چھوٹے تھے اور دادی جان زندہ تھیں، تو اس وقت وہ رات کو سونے سے پہلے ایسی کہانیاں ضرور سنایا کرتی تھیں۔“ محمود نے کہا۔

    ”ارے ہاں! یاد آیا۔ دادی اماں کتنی اچھی تھیں۔“ فاروق نے درد بھر ے لہجے میں کہا۔

    ”لو! ڈائری سے دادی اماں تک پہنچ گئے۔“ فرزانہ جھلا اُٹھی۔

    ”ڈائری سے نہیں، شیر کے شکار سے دادی اماں تک ۔“ فاروق مسکرایا۔ ”میں نے بات شیر کے شکار کی شروع کی تھی۔ درمیان میں ڈائری ٹپک پڑی۔“

    ”ٹپکی کہاں بے چاری! وہ تو طوطے کے منہ میں ہے۔“ فرزانہ مسکرائی۔

    ”بہت دیر سے تمہاری اوٹ پٹانگ باتیں جاری ہیں، شام کے کھانے کا وقت ہوگیا اور تمہارے ابا جان آنے والے ہیں، اس لیے اب یہاں سے اُٹھ کر میز پر پہنچ جاﺅ، آج میں نے بیگم شیرازی کو بھی چائے کی دعوت دے رکھی ہے۔“اچانک بیگم جمشید نے دروازے پر آکر کہا۔ وہ چونک اُٹھے۔

    ”بہت اچھا امی جان ! ہم پہنچ رہے ہیں۔“

    بیگم جمشید مسکراتے ہوئے چلی گئیں۔ وہ اُٹھے ہی تھے کہ ٹرانسمیٹر پر ایک آواز سنائی دی۔ ساتھ ہی سبز رنگ کا ننھا سا بلب جلنے بجھنے لگا۔

    ”ہیلو…. میں پہنچ رہا ہوں، خون کا بندوبست ہوگیا ہے۔“

    اس جملے کے بعد خاموشی چھا گئی۔ انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھااور پھر تینوں کے منہ سے ایک ساتھ نکلا:

    ”خون کا بندوبست۔“

    پھر وہ کچھ نہ سمجھنے کے انداز میں اٹھے اور کھانے کی میز پر آئے۔ یہاں بیگم شیرازی موجود تھیں۔ انہیں دیکھتے ہی وہ حیرت زدہ ہوگئے۔ بیگم شیرازی کا رنگ زرد تھا اور وہ برسوں کی بیمار نظر آرہی تھیں۔ اسی وقت دروازے کی گھنٹی بجی۔ انداز انسپکٹر جمشید کا تھا۔ فرزانہ نے جلدی سے دروازہ کھولا۔جونہی انسپکٹر جمشید کی نظر بیگم شیرازی پر پڑی وہ چونک اُٹھے۔

    ”ارے! آپ کو کیا ہوا؟“ ان کے منہ سے نکلا۔

    ٭….٭….٭

    سب کی نظریں بیگم شیرازی پر جم گئیں۔ ان کا رنگ ہلدی کی مانند زرد نظر آرہا تھا۔ حالانکہ وہ بہت صحت مند تھیں اور سرخ رنگ کی تھیں۔ ابھی چند روز پہلے ہی تو انہوں نے پانچوں کو شام کے کھانے پر بلایا تھا۔ اس وقت بھی بالکل ٹھیک ٹھاک تھیں۔

    ”میں خود حیران ہوں کہ یکا یک مجھے کیا ہوگیا ہے۔ کل میں اٹھی تو زبردست کمزوری محسوس کی، بلکہ اُٹھتے وقت مجھے چکر بھی آگیا۔ میں نے آئینے میں خود کو دیکھا تو زرد رنگ دیکھ کر حیران رہ گئی۔ آج ڈاکٹر کے پاس گئی تھی۔ اسے بھی بہت حیرت ہوئی وہ میری بیماری کو سمجھ نہیں سکا، تاہم اس نے طاقت کی دوائیں لکھ دی ہیں، میں نے وہ دوائیں شروع کردی ہیں۔“ انہوں نے بتایا۔

    ”اگر بیماری اس کی سمجھ میں نہیں آئی تو پھر آپ کو کسی اور ڈاکٹر کو دکھانا چاہیے تھا۔“ انسپکٹر جمشید نے فکر مند لہجے میں کہا۔

    ”میں بھی یہی سوچ رہی ہوں، صبح ڈاکٹر انصاری کو جاکر ملوں گی ۔ سنا ہے ، وہ شہر کا سب سے مشہور ڈاکٹر ہے۔“ انہوں نے کہا۔

    ”ہاں! مشہور بھی اور مہنگا بھی، آ پ اس کے پاس ضرور جائیں، لیکن بات ہے بہت عجیب۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”خیر دیکھا جائے گا، آیئے چائے پئیں۔‘ ‘ بیگم شیرازی بولیں۔

    اور وہ چائے کی طرف متوجہ ہوگئے، لیکن ابھی چائے شروع کی ہی تھی کہ فون کی گھنٹی بج اُٹھی۔ انسپکٹر جمشید نے چائے کا کپ رکھتے ہوئے فون کا ریسیور اُٹھایا اور بولے:

    ”ہیلو! جمشید بول رہاہوں۔“

    ”جمشید فوراً یہاں پہنچ جاﺅ۔“ انہیں خان رحمان کی آواز سنائی دی۔

    ”ارے رحمان تم؟ کیا بات ہے، خیر تو ہے، مجھے کہاں بلا رہے ہو۔“ انسپکٹر جمشید جلدی سے بولے، کیونکہ خان رحمان کی آواز میں گھبراہٹ شامل تھی۔

    ”میں غلام جیلانی کے گھر سے بول رہاہوں، تم انہیں جانتے ہی ہوگے۔ اُون کے سب سے بڑے تاجر ہیں اور میرے دوست ہیں۔ یہاں تمہاری خاص ضرورت ہے، بہت اہم معاملہ ہے، ا س لیے فوراً آجاﺅ۔“ وہ کہتے چلے گئے۔

    ”اچھی بات ہے، میں پہنچ رہا ہوں۔“ انہوں نے کہا۔ دوسری طرف سے ریسیور رکھ دیا گیا۔ وہ ان کی طرف مڑتے ہوئے بولے:

    ”خان رحمان نے مجھے ایک جگہ بلایا ہے، کوئی اہم معاملہ ہے، تم لوگ چائے پیو۔“

    ”نہیں ابا جان ! ہم بھی چلیں گے، ورنہ ہم الجھن میں رہیں گے۔“

    ”اچھا چلو، بیگم تم بیگم شیرازی کو جانے نہ دینا، یہ رات کا کھانا بھی ہمارے ساتھ کھائیں گی، ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے، کہاں پکاتی پھریں گی۔“ انہوںنے اٹھتے ہوئے کہا۔

    ”ارے ارے بھائی جان ! اس کی ضرورت نہیں۔“ بیگم شیرازی جلدی سے بولیں۔

    ”اس کی ضرورت ہے۔“ انہوں نے کہا اور محمود، فاروق اور فرزانہ کو ساتھ لے کر باہر نکل گئے۔

    محکمے نے چند روز پہلے انہیں جیپ دے دی تھی۔ اگرچہ وہ انکار کرتے رہے تھے، لیکن آئی جی نہیں مانے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ موٹر سائیکل ان کے لیے ناکافی ہے، اکثر ان چاروں کو اچانک کسی مہم پر جانا پڑجاتا ہے تو مشکل پیش آتی ہے۔ اس طرح انسپکٹر جمشید کو ان کی بات ماننا پڑی، لیکن اس کے باوجود انسپکٹر جمشید کو جب تنہا کہیں جانا پڑتا تو اپنی موٹر سائیکل ہی استعمال کرتے تھے، جیپ میں بیٹھ کر وہ غلا م جیلانی کے گھر کی طرف روانہ ہوگئے۔ انہیں حیرت تھی کہ خان رحمان وہاں کیا کررہے ہیں اور انہیں کیا پریشانی آپڑی ہے۔ پندرہ منٹ کے بعد غلام جیلانی کی شاندار کوٹھی کے سامنے پہنچ گئے۔ گھنٹی بجانے پر ان کے ملازم نے دروازہ کھولا اور انہیں اندر لے گیا۔ ڈرائنگ روم میں انہیں خان رحمان کے ساتھ ایک ادھیڑ عمر آدمی ایک عورت اور دو ملازم نظر آئے۔

    ”السلام علیکم ۔“ چاروں نے اندر داخل ہوتے ہوئے ایک ساتھ کہا۔

    ”وعلیکم السلام، آﺅ آﺅ جمشید ، ہم تمہارا بے تابی سے انتظار کررہے تھے۔“

    ”خیر تو ہے۔“ انسپکٹر جمشید کے منہ سے نکلا۔

    ”خیریت ہی تو نہیں ہے۔“ خان رحمان نے جلدی سے کہا ، پھر انہیں ساری بات بتادی۔ ڈاکٹر انصاری کا جو خیال تھا، وہ بھی سنادیا، وہ حیرت زدہ رہ گئے۔ سب سے پہلے انسپکٹر جمشید نے طاہر جیلانی کا معائنہ کیا۔ خاص طور پر اس کے گلے کو عد سے کی مدد سے دیکھا ، وہاں دوبار یک سے نشان موجود تھے، ایسے نشان جیسے کسی چیونٹی کے کاٹنے سے بن جاتے ہیں یا انجکشن کی سوئی چھوڑ دیتی ہے۔ محمود، فاروق اور فرزانہ نے بھی ان نشانوں کو دیکھا، پھر وہ کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ کمرے میں مو ت کی سی خاموشی تھی، پھر اس خاموشی میں انسپکٹر جمشید کی آواز اُبھری:

    ”میں نے اس موضوع پر بہت سی کتابیں پڑھی ہیں۔ ان واقعات کا تعلق فرانس کی سرزمین سے بتایا جاتا ہے، لیکن ابھی تک یہ بات ثابت نہیں ہوسکی کہ ان واقعات میں حقیقت بھی ہے یا نہیں۔ میں آپ کو مختصر طور پر بتاتا ہوں۔ ڈاکٹر ڈریکولا روحانیت کا ماہر تھا، اس نے مرتے ہوئے اپنی روح ایک مردہ جسم میں داخل کرلی تاکہ ہمیشہ زندہ رہ سکے، لیکن اس جسم کی خوراک صرف خون تھی۔ اب وہ خون پی کر زندہ رہ سکتا تھا۔ اس نے سب سے پہلے ایک لڑکی کو اپنا شکار بنایا، وہ اس کے گھر میں رات کے وقت داخل ہوا اور اس نے اپنے نوکیلے دانت ا س کے گلے میں گاڑ دیے۔ لڑکی کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے دیکھا، ایک خوف ناک سا آدمی اس کے اوپر جھکا ہوا ہے، اس کا لباس سیاہ ہے، چہرے پر بھیانک مسکراہٹ ہے، بازوﺅں پر اس کا لباس اس طرح لٹک رہا ہے جیسے وہ لباس نہ ہو، اس کے بازوﺅں کے پر ہوں، وہ اسے کوئی بہت بڑی چمگادڑ لگا، لیکن اس پر تو بے ہوشی سی طاری تھی، وہ جاگ بھی رہی تھی اور نیند کے عالم میں بھی تھی، کافی دیر تک وہ خوفناک آدمی اس کے گلے سے چمٹا رہا، پھر الگ ہٹ گیا۔ ا س کے ہونٹ خون سے ترتھے، اس کے ساتھ ہی لڑکی کو نیند آگئی۔

    دوسری رات کو وہ پھر لڑکی کے کمرے میں آگیا۔ اس نے پھر اس کا خون پیا اور چلا گیا۔ جاتے وقت وہ کھڑکی میں سے کو دکر گیا، حالانکہ کمرا دوسری منزل پر تھا۔ ساتھ ہی لڑکی نے پروں کے پھڑپھڑانے کی آوازیں بھی سنی تھیں، یہ آواز اس نے اس وقت بھی سنی تھی۔ جب وہ اندر آیا تھا۔ اسے ایسا معلوم ہوا جیسے وہ شخص اڑ سکتا ہے۔ دوسری طرف لڑکی کے گھر والے پریشان تھے، ڈاکٹر بھی حیران تھے، ابھی وہ اس بیماری کو سمجھ بھی نہ پائے تھے کہ لڑکی مرگئی۔ اسے دفن کردیا گیا، لیکن انہیں کیا معلوم تھا کہ وہ مری نہیں، اب وہ ڈریکولا کی ایک ساتھی بن کر اُٹھے گی۔ پھر وہ اپنی قبر سے نکل آئی اور ڈریکولا کی طرح لوگوں کا خون پینے لگی۔ اس طرح وہ بھی ڈریکولا کی ساتھی بن گئی۔ ان کے ساتھیوں میں بہت تیزی سے اضافہ ہونے لگا، پھر انہوں نے اپنا ایک محل بنالیا اور اس میں رہنے لگے۔

    ”یہ تو ہے وہ کہانی جو بار بار شائع ہوئی اور لوگوں نے پڑھی، اس کے بعد جو واقعات بیان کیے جاتے ہیں، وہ یہ ہیں کہ ڈ ریکولا اور اس کے ساتھیوں کو مارنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا گیا، مگر وہ کسی طرح بھی نہ مرتے تھے، گولی سے زخمی ضرور ہوجاتے تھے، لیکن ہوا میں اُڑتے ہوئے نظروں سے اوجھل ہوجاتے تھے کسی کو ان کے ٹھکانے کا پتا نہیں تھا۔ آخر ان کا علاج ڈھونڈ لیا گیا اور اب یہ کہا جاتا ہے کہ ایسے آدمی کے عین دل میں اگر لکڑی کی سیخ ٹھونک دی جائے تو اس کی موت واقع ہوجاتی ہے اور وہ پھر کبھی نہیں اٹھ سکتا، لیکن اب ان کی تعداد اس قدر زیادہ ہوگئی ہے کہ فرانس کو ان کی سرزمین کہا جانے لگا ہے۔“ یہ کہہ کر انسپکٹر جمشید خاموش ہوگئے۔

    ”آپ کا یہ کہانی سنانے سے کیا مطلب ہے؟ کیا آ پ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہمارے شہر میں ڈریکولا کا کوئی ساتھی آگیا ہے۔“ محمود نے سوال کیا۔

    ”میں ابھی کچھ نہیں کہنا چاہتا۔ صرف یہ بتایا ہے کہ ڈریکولا کی کہانیاں کیا ہیں۔ انہوں نے کہا۔

    ”پھر اب تمہارا کیا پروگرام ہے، تم طاہر جیلانی کے لیے کیا کروگے؟“خان رحمان نے پوچھا۔

    ”طاہر جیلانی کی حفاظت کے لیے تو کچھ نہ کچھ کر ہی لیا جائے گا، مجھے تو فکر ان بچوں کی ہے جن کے بارے میں ہمیں معلوم نہیں اور وہ ڈریکولا کا شکار بننے والے ہوں گے۔“ انہوں نے کہا۔

    ”اوہ! ان سب کے منہ سے نکلا، سب کو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا۔

    ”ارے!“ اچانک انسپکٹر جمشید کے منہ سے نکلا اور وہ انہیں گھورنے لگے۔ ان کا چہرہ ایک دم زرد پڑ گیا تھا۔ پھر ان کا کپکپاتا ہوا ہاتھ فون کی طرف بڑھا ، انہوں نے نمبر گھمائے اور بولے:

    ”ہیلو،کون …. ہاں …. بیگم یہ میں ہوں…. دیکھو…. بیگم شیرازی کو ان کے گھر ہر گز نہ جانے دینا، ان کی بیماری کا مجھے پتا چل گیا ہے، میں ابھی واپس آرہا ہوں۔ وہ اپنے گھر ہر گز نہ جانے پائیں۔“

    ان کے الفاظ نے محمود ، فاروق اور فرزانہ کو بری طرح چونکا دیا۔ وہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر انسپکٹر جمشید کو دیکھنے لگے۔ ان کے چہرے پر بلا کی سنجیدگی طاری تھی۔

    ٭….٭….٭


    کانچ کا ٹکڑا

    ”اُف اللہ ! تو کیا آپ کے خیال میں بیگم شیرازی بھی کسی ڈریکولا کا شکار ہوئی ہیں۔“ فرزانہ نے بوکھلا کر پوچھا۔

    ”اس کے علاوہ اور کیا کہا جاسکتا ہے، جب کہ ڈاکٹر کو ان کی بیماری بھی سمجھ میں نہیں آئی۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”یہ ہم کن حالات کا شکار ہوگئے؟“ محمود کے منہ سے نکلا۔

    ”حالات تو ہمیں ہمیشہ ہی شکار کرتے رہتے ہیں، اب سوال یہ ہے کہ ہمیں کیا کرنا ہے، ادھر آنٹی کا سلسلہ ہے اور ادھر طاہر جیلانی صاحب کا۔“

    فاروق نے کہا۔

    ”ہم دو پارٹیوں میں تقسیم ہوجاتے ہیں، میں اور فرزانہ واپس جائیں گے اور بیگم شیرازی کی حفاظت کریں گے، تم دونوں اپنے انکل کے ساتھ یہاں رہو گے اور طاہر جیلانی کو نظروں میں رکھوگے۔“ انسپکٹر جمشید نے تجویز پیش کی۔

    ”لیکن ابا جان ! اس طرح تو یہ تین ہوجائیں گے اور ہم دو ہی رہ جائیں گے۔“ فرزانہ نے اعتراض کیا۔

    ”اور امی جان کہاں گئیں۔“ محمود مسکرایا۔

    ”اوہ ہاں! بالکل ٹھیک۔ تو پھر چلیے امی اور آنٹی پریشان ہوں گی۔“

    ”ہاں، بس چلتے ہیں، میں ان تینوں کو کچھ ہدایات دے دوں۔“

    یہ کہہ کر وہ محمود، فاروق اور خان رحمان کو الگ ایک کونے میں لے گئے اور دبی آواز میں انہیں کچھ کہنے لگے۔ آخر میں انہوں نے کہا۔

    ”رحمان ! تمہارے پاس پستول تو ہوگا؟“

    ”نہیں! میں یہاں اپنے دوست کے بیٹے کی بیماری کی خبر سن کر آیا تھا، پستول کیسے ساتھ لاتا۔“ انہوں نے جواب دیا۔

    ”میرا مطلب تھا، گھر میں تو ہوگا۔“

    ”ہاں بھلا گھر میں کیوں نہ ہوگا۔“ وہ بولے۔

    ”تو جاکر وہ پستول لے آﺅ یا ظہور کے ذریعے منگالو۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”وہ تو پستول کو ہاتھ لگاتے ہوئے بھی کانپتا ہے۔“ خان رحمان مسکرائے۔

    ”ارے ! وہ کیوں؟“

    ”کہیں پستول چل نہ جائے، خیر…. تم فکر نہ کرو، میں ابھی جاکر پستول لے آتا ہوں۔ ابھی تو سورج بھی غروب نہیں ہوا، یہ ڈریکولا قسم کی چیزیں ، جہاں تک میرا خیال ہے، دن کی روشنی میں حملہ آور نہیں ہوتیں۔ 

    ”ہاں ! دن کے وقت انہیں دکھائی نہیں دیتا۔“

    بس تو پھر ، فکر کی کیا بات ہے، میں ابھی جاکر لے آﺅں گا۔“

    ”ٹھیک ہے، میں تمہیں سمجھا چکا ہوں کہ کیا کرنا ہے۔اچھا۔“

    اب ہم چلتے ہیں، ہمیں ادھر جاکر بھی کچھ انتظامات کرنے ہیں۔“

    ”ٹھیک ہے۔ آپ فکر نہ کریں ، آج رات ڈریکولا طاہر گیلانی کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔“ محمود نے کہا۔

    انسپکٹر جمشید اور فرزانہ اُن سے رخصت ہوکر گھرپہنچے تو بیگم جمشید اور بیگم شیرازی کے رنگ واقعی اُڑے ہوئے تھے۔

    ”آپ نے وہ فون کیوں کیا تھا۔“ بیگم جمشید نے جلدی سے پوچھا۔

    ”ان کا تنہا رہنا ٹھیک نہیں، فکر کی کوئی بات نہیں ، آپ ہمارے ساتھ نہایت سکون سے رہیں گی، بیگم آج تم انہیں اپنے ساتھ سلا لینا، میں فرزانہ کے ساتھ ان کے کمرے میں سوجاﺅں گا۔“ انہوں نے کہا۔

    ”آخر بات کیا ہے۔ آپ نے فون پر کہا تھا ، میری بیماری سمجھ گئے ہیں۔“ بیگم شیرازی نے کہا۔

    ”ہاں اور آپ کے علاج کی تیاری کررہا ہوں، اسی لیے آپ کو گھر نہیں جانے دیا۔“ انہوں نے مسکرا کر کہا اور پھر فرزانہ سے بولے۔

    ”آﺅ فرزانہ ہم تمہاری آنٹی کے گھر کے سب دروازے بند کر آئیں۔“

    ”جی بہتر۔“ فرزانہ ان کا مطلب سمجھ کر بولی۔

    دونوں بیگم شیرازی کے گھر میں داخل ہوئے، سب سے پہلے انہوں نے تمام کھڑکیاں اور دروازے اندر سے بندکیے اور پھر بیگم شیرازی کے سونے کے کمرے کا معائنہ کرنے لگے۔ انہوں نے ایک ایک انچ دیکھ ڈالا، لیکن کوئی سراغ نہ ملا۔

    ”اس نے اپنا کوئی نشان نہیں چھوڑا، کہیں وہ سچ مچ ڈریکولا ہی تو نہیں ہے۔“ فرزانہ کے منہ سے نکلا۔

    ”اگر وہ ڈریکولا ہے تو پھر اسے سراغ چھوڑنے اور نہ چھوڑنے کی کیا پروا ہوسکتی ہے۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”اس کا مطلب ہے،ا گر ہمیں کوئی سراغ مل جاتا ہے کہ وہ واقعی ڈریکو لا ہے۔“ فرزانہ کے لہجے میں حیرت تھی۔

    ”ابھی یہ بھی نہیں کہا جاسکتا ، حالات غیریقینی ہیں اور ہم جب تک خود اسے اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں، کچھ نہیں کہہ سکتے، آﺅ ہم برآمدے اور صحن کا جائزہ لیں۔“

    وہ کمرے سے باہر نکلے اور برآمدے کا جائزہ لینے لگے، اچانک کوئی چیز چمکتی نظر آئی۔ انسپکٹر جمشید نے جھک کر دیکھا برآمدے میں بلب روشن تھا، اس کی روشنی میں انہوں نے دیکھا ، وہاں کانچ کا ایک ننھا سا ٹکڑا پڑا تھا اور اس ٹکڑے پر خون لگا تھا۔

    ٭….٭….٭

    رات سرد اور تاریک تھی۔ چاند کی آخری تاریخیں تھیں اور آسمان پر اَبر تھا، اس لیے تارے بھی نہیں نکلے تھے، سونے پر سہاگا یہ کہ ہلکی ہلکی بارش بھی شروع ہوگئی ، ایسے میں فاروق کے دانت بج اٹھے تو یہ کوئی عجیب بات نہیںتھی، لیکن محمود کو اس پر غصہ آگیا تھا۔

    ”اگر تمہارے دانتوں کی آواز ڈریکولا کے کانوں تک پہنچ گئی ، تو وہ ڈر کر بھاگ جائے گا۔“

    ”ہائیں! میرے دانت بجنے کی آواز اس قدر خوفناک ہے، پھر تو اسے ٹیپ کرالینا چاہیے اور جہاں کہیں بھی ڈریکولا کے آنے کا خطرہ ہو، وہ ٹیپ چلا دینا چاہیے، ویسے کیا تم یقین سے کہہ سکتے ہو کہ ڈریکولا کے کان بھی ہوتے ہیں۔“ فاروق شوخ لہجے میں کہتا چلا گیا۔

    ”کیوں ڈریکولا کے کان کیا کسی عورت نے کھا لیے تھے۔“ محمود کے لہجے میں حیرت تھی۔

    ”بھوت تو ڈریکولا سے ویسے ہی ڈر جائے، یار کیا خیال ہے، اگر ان دونوں کی کشتی کرادی جائے۔“ فاروق نے کہا اور خان رحمان بے ساختہ مسکرادیے۔

    تینوں طاہر جیلانی کے کمرے میں موجود تھے۔ انہوں نے غلام جیلانی ، اس کی بیگم اور گھر کے دوسرے افراد کو آرام سے سونے کی ہدایت کی تھی اور خود طاہر کے کمرے میں رات بھر جاگتے رہنے کا پروگرام بنایا تھا۔ طاہر نیند کے انجکشن کے زیر اثر گہری نیند سو رہا تھا۔

    ”لو! کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔“ محمود نے براسا منہ بنایا۔

    ”جہاں تم کہو پہنچ جاتا ہوں۔“ فاروق بولا۔

    ”فی الحال تو اسی کمرے میں موجود ہو۔“

    ”اچھی بات ہے، ہاں تو تم میرے دانتوں کی آواز کی بات کررہے تھے۔ اوّل تو ڈریکولا کے کان اتنے تیز نہیں ہوسکتے، دوسرے ابھی ہم یہ بھی نہیں جانتے ، وہ ڈریکولا ہے بھی یا نہیں۔“ فاروق بولا۔

    ”اگروہ ڈریکولا نہیں ہے تو پھر کیا ہے؟“ خان رحمان نے سوال کیا۔

    ”ہوسکتا ہے ڈریکولاکا بھوت ہو۔“ فاروق کے منہ سے سوچے سمجھے بغیر نکل گیا۔

    ”ڈریکولا کا بھوت۔“ دونوں کے منہ سے ایک ساتھ حیرت زدہ انداز میں نکلا۔ 

    ”ہاں!ڈریکولا کا بھوت!“

    ”بھئی واہ! یہ نئی بات ہوئی ، ایک ڈریکولا ہی کیا کم تھا کہ تم نے اس کے ساتھ بھوت کا بھی اضافہ کردیا۔“ خان رحمان مسکرائے۔

    ”ویسے خیال ہے خوب۔“ محمود مسکرایا۔

    ”میں مذاق نہیں کررہا، ہمارے ملک میں بھلاڈریکولا کہاں سے آسکتا ہے، یہ ضرور ا س کا کوئی بھوت ہے جو فرانس سے بھٹکتا ہوا یہاں تک پہنچ گیا ہے۔“

    ”اگر وہ ڈریکولا کا بھوت ہے تو پھر تو اس کا مقابلہ کرنا اور بھی مشکل ہوگا۔“ خان رحمان گھبراکر بولے۔

    ”فکر نہ کریں انکل، ہم نے بڑے بڑے بھوتو ں کو دیکھ رکھا ہے۔“ فاروق نے مذاق اڑانے والے لہجے میں کہا۔

    ”لیکن ڈریکولا کے بھوت کو نہیں دیکھا ہوگا۔“ محمود نے کہا۔

    ”ہم تمام دروازے اور کھڑکیاں بند کرچکے ہیں جن کھڑکیوں میں سلاخیں نہیں تھیں ، ان میں لکڑیاں پھنسا چکے ہیں ، دوسرے یہ کہ اس کمرے میں ہم خود موجود ہیں، ان حالات میںڈ ریکولا یا اس کے بھوت کی کیا دال گلے گی۔“ فاروق نے کہا۔

    ”ہائیں ! وہ دال کھاتا ہے۔“ محمو دکے منہ سے نکلا۔

    ”میں نے محاورہ استعمال کیا ہے۔“ فاروق نے جھلا کرکہا۔

    ”تو کاٹ کھانے کو کیوں دوڑ رہے ہو۔“ محمود تڑسے بولا۔

    ”لو اور سنو! انکل میں کوئی دوڑ رہا ہوں۔“ فاروق خان رحمان کی طرف مڑا۔

    ”نہیں تو…. تم تو چل بھی نہیں رہے، ہمارے پا س بیٹھے ہو۔“ خان رحمان گھبرا کر بولے۔

    ”تو پھر اسے سمجھادیں ،جھوٹ نہ بولا کرے۔‘ ‘ فاروق مسکرایا۔

    ”جھوٹ بولنا تو واقعی بہت بری بات ہے۔“ خان رحمان بولے۔

    ”انکل آپ بھی اس کی باتوں میں آگئے، میں نے بھی تو مذاق میں محاورہ بولا تھا۔“

    ”ارے ہائیں! تم نے پہلے کیوںنہیں بتایا۔“ فاروق کے لہجے میں حیرت تھی۔

    ”بنو نہیں! میں جانتا ہوں، تم محاوروں کو اچھی طرح سمجھتے ہو۔“ محمود نے براسا منہ بنایا۔

    ”تو ہم میں سے محاوروں کو بری طرح کون سمجھتا ہے، ذرا یہ بھی بتاتے چلو، کیونکہ میں محاوروں کی بے عزتی برداشت نہیں کرسکتا، انکل آپ کرسکتے ہیں؟“ فاروق کہتے کہتے خان رحمان کی طر ف متوجہ ہوگیا۔

    ”ہر گز نہیں، محاوروں کی بے عزتی بھی بری بات ہے۔“ انہوں نے مسکراکر کہا۔

    ”انکل! آپ اس کی اُوٹ پٹانگ باتوں میں اس کا ساتھ دے رہے ہیں۔“ محمود کے لہجے میں حیرت تھی۔

    ”اور کیاکروں۔اگر خاموش بیٹھ گئے تو رات کس طرح گزرے گی؟ یہ پہاڑ جیسی رات۔“ خان رحمان نے چھت کی طرف دیکھ کر ٹھنڈا سانس بھرا۔

    ”آج تک یہ بات میری سمجھ میں نہیں آئی کہ رات پہاڑ جیسی کس طرح ہوسکتی ہے؟ رات کالے دیو کی طرح تو ہوسکتی ہے، پہاڑ جیسی ہر گز نہیں ہوسکتی۔“ فاروق نے کہا۔

    ”یہ بھی محاورہ ہے۔“محمو دمسکرایا۔

    ”کہیں ہم پر محاوروں کا بھوت تو سوار نہیں ہوگیا۔“فاروق کے منہ سے نکلا۔

    ”نہیں تو…. ہم پر تو ڈریکولا کا بھوت سوار ہے۔“ محمود نے ہنس کر کہا۔

    ”ارے باپ رے۔“ فاروق نے بوکھلا کر اپنے سر پر ہاتھ پھیرا پھر فوراً پرسکون ہوکر بولا:

    ”یار کیوں مذاق کرتے ہو، میرے سر پر تو میرے بالوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔“

    ”ویسے تم دونوںکا خیال ہے، آج یہاں وہ ڈریکولا کا بچہ آئے گا۔“خان رحمان نے پوچھا۔

    ”کچھ کہا نہیں جاسکتا ، سننے میں تو یہی آیا ہے کہ ڈریکولا اپنے شکار کا خون اس وقت تک پیتا رہتا ہے جب تک وہ مر نہیں جاتااور قبر میں نہیں پہنچ جاتا، کیونکہ اسے معلوم ہے کہ قبر میں جانے کے بعد جب وہ اس میں سے اُٹھے گا تو اس کا ساتھی بن چکا ہوگا۔“

    ”پھر تو وہ یہاں ضرور آئے گا۔“خان رحمان بولے۔

    ”جی ہاں! اسی لیے تو ہم یہاں موجود ہیں۔“ محمود بولا۔

    ”رات کے گیارہ بج چکے ہیں۔ عام خیال یہ ہے کہ وہ گیارہ اور بارہ کے درمیان آتا ہے۔ ا س لیے اب ہمیں ابا جان کی ہدایات پر عمل شروع کردینا چاہیے۔“ فاروق بولا۔

    ”ٹھیک ہے، انکل آپ یہیں ٹھہریں۔ ہم اپنا کام ختم کرکے آتے ہیں۔ “

    خان رحمن پھٹی پھٹی آنکھوں سے دائیں بائیں دیکھنے لگے۔ ہر طرف خاموشی کا راج تھا۔ انہیں محمود اور فاروق شدت سے یاد آئے جن کی باتوں سے کم از کم خوف کا احساس تو جاتا رہتا تھا۔ خان رحمن ابھی یہی سوچ رہے تھے کہ کسی چیز کے کھٹکے کی آواز سے چونکے۔

    دراصل محمود اور فاروق اپنا کام نمٹا آئے تھے جو آنے والے حالات کے پیش نظر انہوں نے پلاننگ کی ہوئی تھی۔ ان دونوں کو دیکھ کر خان رحمن مسکرا دیے۔ اب تینوں نے سر جوڑ کر پلان کے نقشے پر نظریں جما دیں۔

    ٭….٭….٭

    کھنڈرات کی آواز

    ”یہ تو کانچ کا ٹکڑا ہے۔“ فرزانہ کے منہ سے نکلا۔

    ”ہاں ہم جانتے ہیں، بیگم شیرازی بہت صفائی پسند ہیں، ان کے گھر میں صفائی کرنے والی ہر روز آتی ہے اور گھر کے ایک ایک انچ کو صاف کرتی ہے، پھر یہ ٹکڑا یہاں کہاں سے آگیا؟ اور اس پر خون بھی لگا ہوا ہے۔“

    ”ہوسکتا ہے، یہ اسی صفائی کرنے والی کا خون ہو۔“ فرزانہ بولی۔

    ”برآمدے میں کوئی نہ کوئی اور دھبا کہیں نظر نہیں آرہا۔یہ کس قدر عجیب بات ہے کہ صرف اس ٹکڑے پر خون لگا ہوا ہے۔ خیر ہم اس ٹکڑے کو محفوظ رکھ لیتے ہیں ۔ اس پر بعد میں غور کریں گے۔ میرا خیال ہے، یہاں کوئی اور کام کی چیز نہیں ہے،اس لیے واپس چلتے ہیں۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”ڈریکو لا اگر یہاں آیا ، تو آنٹی کو نہ پاکر کس قدر مایوس ہوگا، کیا وہ واپس چلا جائے گا؟“ فرزانہ نے سوال کیا۔

    ”واپس جانے کے سوا وہ اور کر بھی کیا سکتا ہے، لیکن نہیں، وہ یہاں سے ہوکر سیدھا ہمارے گھر آئے گا۔“ انہوں نے چونک کر کہا۔

    ”یہ آ پ کس طرح کہہ سکتے ہیں، اسے کس طرح معلوم ہوجائے گا کہ آنٹی ہمارے ہاں ہیں۔“

    ”خون کی بو سے ،یہ لوگ اپنے شکار کی بو بہت دور سے محسوس کرلیتے ہیں۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”آپ تو اس انداز سے کہہ رہے ہیں جیسے ڈریکولا کا سچ مچ وجود ہے جب کہ میں اسے محض کہانیاں خیال کرتی ہوں۔“

    ”یہ ہوسکتا ہے کہ دنیا میں ڈریکولا کاکوئی وجود نہ ہو اور یہ صرف کہانیاں ہوں، لیکن ہمارے سامنے جو حالات پیش آئے ہیں، ان کی روشنی میں دعوے سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ دیکھو نا، آخر طاہر جیلانی کے جسم کا خون کہاں چلا گیا؟ بیگم شیرازی کیوں زرد نظر آرہی ہیں؟ ڈاکٹروں کی سمجھ میں ان لوگوں کی بیماری کیوں نہیں آئی؟ انسانی جسم سے خون صرف چوٹ لگنے یا کٹنے کی صورت میں نکلتا ہے، طاہر جیلانی کے جسم پر زخم کا کوئی نشان نہیں ملا، البتہ اس کی گردن پر ضرور انجکشن کی سوئیوں جیسے دو نشان موجود ہیں۔“ انسپکٹر جمشید کہتے چلے گئے۔

    ”اور ہم آنٹی کے گلے کو دیکھنا بالکل ہی بھول گئے۔“ فرزانہ مسکرائی۔

    ”اوہ ہاں! آﺅ چلیں پہلے ان کے گلے کا معائنہ کریں۔ پھر ان کی حفاظت کے سلسلے میں ضروری اقدامات کریں گے۔“

    یہ کہہ کر وہ بیگم شیرازی کے گھر سے باہر نکل آئے۔ دروازے کو انہوں نے تالا لگا دیا تاکہ ڈریکولا تالا دیکھ کر ہی سمجھ جائے کہ اندر کوئی نہیں ہے۔ اپنے گھر میں داخل ہونے کے بعدانہوں نے دروازے اور کھڑکیاں اندر سے بند کرلیں اور اندرونی کمرے میں آئے یہاں بیگم جمشید او ربیگم شیرازی بستروں میں دُبکی باتیں کررہی تھیں۔

    ”میں آپ کی گردن کا معائنہ کرنا چاہتا ہوں۔“ انسپکٹر جمشید نے بیگم شیرازی کی طرف بڑھتے ہوئے کہا۔

    ”کیامطلب…. کیا مجھے گلے کی کوئی بیماری ہے اور یہ آپ ڈاکٹر کب سے ہوگئے؟“ بیگم شیرازی کے لہجے میں حیرت تھی۔

    ”ایسی کوئی بات نہیں، میں ایک خیال کے تحت آپ کی گردن دیکھنا چاہتا ہوں۔“ انہوں نے کہا۔

    بیگم شیرازی نے گردن کے گرد سے دوپٹا ہٹالیا اور چہرہ اوپر کرلیا۔ انسپکٹر جمشید نے جیب سے عدسہ نکالا اور ان کی گرد ن پر جھک گئے۔ پھر انہوں نے عدسہ فرزانہ کے حوالے کردیا۔ اس نے عدسہ میں سے آنٹی کی گردن دیکھی اور پھر زور سے چونکی۔ انجکشن جیسے نشان ان کی گردن پر بھی موجود تھے۔ دونوں سکتے ہیں آگئے، انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا ،جیسے کہہ رہے ہوں، یہ تو سچ مچ کسی ڈریکولا کا کام معلوم ہوتا ہے۔ وہ اصل بات ان دونوں کو بتا کر خوف زدہ نہیں کرنا چاہتے تھے، تا ہم بیگم جمشید نے بھانپ لیا کہ کوئی گڑبڑ ہے۔ انہوں نے پریشان ہوکر کہا:

    ”خیر تو ہے ، آپ ان کی گردن پر کیا دیکھ رہے ہیں۔“

    ”کچھ نہیں، یونہی ایک خیال آیا تھا، لیکن فکر والی کوئی بات نہیں، رات کافی گزرچکی ہے، اب آپ دونوں سونے کی کوشش کریں۔ کمرے کا دروازہ اندر سے بند کرلیں۔“

    ”کیا کوئی خطرہ ہے؟“ بیگم شیرازی نے پریشان ہوکر پوچھا۔

    ”نہیں !ہمارے ہوتے ہوئے خطرے کی کیا بات ہوسکتی ہے۔“ یہ کہتے ہی انسپکٹر جمشید باہر نکل آئے تاکہ وہ کوئی اور سوال نہ کر بیٹھیں۔

    ساتھ ہی انہوں نے دروازے کی چٹخنی لگنے کی آواز سنی۔

    ”تمہاری امی کو شک ہوگیا ہے، وہ جان گئی ہیں کہ خطرہ ہے۔“ انسپکٹر جمشید نے سرگوشی کی۔

    ”یہ تو اور اچھی بات ہے، اب وہ بھی ہوشیار رہیں گی۔“ فرزانہ بولی۔

    ”لیکن ان کے ہوشیارہونے سے کچھ فائدہ نہیں، اگر ڈریکولا ان کے سامنے آگیا تو وہ کچھ بھی کرنے کے قابل نہیں رہیں گی۔“

    ”خیر دیکھا جائے گا۔ اب ہمیں کیا کرنا ہے؟“ فرزانہ بولی۔

    ”بس دیکھتی جاﺅ۔“

    یہ کہہ کر انہوں نے جیب سے کوئی چیز نکالی اور برآمدے کے فرش پر جھک گئے۔ عین اسی وقت انہوںنے کسی شیشے کے ٹوٹنے کی آواز سنی۔

    ان کے کان کھڑے ہوئے، وہ چونک کر سیدھے ہوگئے اور پھر بے ساختہ بیرونی دروازے کی طرف لپکے۔ بیرونی دروازے میں لگا شیشہ ٹوٹا ہوا تھا، اس کی کرچیاں اندر کی طرف بکھر گئی تھیں۔ انسپکٹر جمشید بلا کی تیزی سے دروازے تک پہنچے۔ چٹخنی بھی گری ہوئی تھی، لیکن اندر تو کوئی بھی نہیں تھا۔ کیا شیشہ توڑ کر دروازہ کھولنے والا باہر ہی رہ گیاتھا، لیکن یہ کیسے ہوسکتا تھا۔ ان کے ذہن تیزی سے گردش کرنے لگے۔

    ”ابا جان ! کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ ہمارے یہاں آنے سے پہلے ہی اندر داخل ہوچکا ہو؟“ فرزانہ بولی۔

    ”ہم برآمدے میں سے آرہے ہیں۔ اگر اس نے ہمارے قدموں کی آواز سن لی تھی اور وہ اندر بھی داخل ہوچکا تھا تو پھر دو ہی باتیں ہوسکتی ہیں۔ یا وہ باہر نکل گیا یا وہ تمہارے کمرے میں چھپ گیا ہے۔ تمہارے کمرے میں ہونے کی صورت میں بھی وہ جب چاہے پائیں باغ والی کھڑکی کے راستے فرار ہوسکتا ہے، اس لیے تم فوراً پائیں باغ میں پہنچو، میں ادھر سے تمہارے کمرے میں داخل ہوتا ہوں۔“

    ”بہت بہتر!“ فرزانہ نے کہا اور دوڑتی ہوئی باہر نکل گئی۔ اس کا دل دھک دھک کررہا تھا۔ پائیں باغ میں پہنچ کر اس نے دیکھا، کھڑکی بند تھی۔ وہ اس کے نیچے چلی آئی اور کان اندر سے آنے والی کسی آواز کی طرف لگادیے، لیکن اندر تو گہری خاموشی طاری تھی ، اس نے سوچا ،کیا ابھی تک ابا جان اندر داخل نہیں ہوئے، شاید وہ اسے کھڑکی کے نیچے پہنچنے کی مہلت دینے کے لیے صحن میں ہی رُک گئے ہیں۔ اسی وقت اس کے کان کھڑے ہوگئے، جسم میں سنسنی کی لہر بجلی کی طرح سرایت کرگئی۔ اس نے ایک عجیب خوفناک قسم کی آواز سنی تھی۔

    ایسی آواز اس نے اپنی زندگی میںپہلے کبھی نہیں سنی تھی۔ یہ آواز نہ تو کسی انسان کے حلق سے نکلی تھی او رنہ کسی درندے کے، فرزانہ اندا ز ہ نہ لگا سکی کہ آوا ز کس جان دار کی تھی۔

    اس کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہوتے چلے گئے۔ عین اسی وقت ایک فائر کی آواز گونجی۔

    ٭….٭….٭

    ان کے سامنے زندگی کا سب سے حیران کن ترین منظر تھا خان رحمان کمرے کے فرش پر اُوندھے منہ بے ہوش پڑے تھے۔ ان کا پستول ان کے سر سے تھوڑی دور پڑا تھا۔ طاہر جیلانی بستر پر دراز تھا اور اس پر ایک عجیب خوف ناک آدمی جھکا ہوا تھا۔ اس کے جسم پر سیاہ لباس تھا اور شاید سر سے پیر تک ایک ہی کپڑا تھا۔ دونوں بازوﺅں میں بھی کپڑا لٹک رہا تھا جیسے چمگادڑکے پر ہوں۔ ابھی وہ اس کا چہرہ نہیں دیکھ سکے تھے، کیونکہ چہرہ تو طاہر جیلانی پر جھکا ہوا تھا۔خدا جانے وہ اس کے چہرے پر جھکا کیا کررہا تھا۔ محمود اور فاروق کے اوسان خطا ہوچکے تھے۔ یہ بات ان کی سمجھ سے باہر تھی کہ ایک منٹ کے اندر کیا ہوگیا تھا۔ خان رحمان جیسے دلیر آدمی کس طرح بے ہوش ہوگئے تھے، کیا انہیں پستول چلانے کاموقع نہیں ملا تھا۔ اچانک محمود چونک اُٹھا، اس نے اپنے سر کو جھٹکا دیا اور پھر لپک کر پستول اُٹھالیا۔ اس کے ساتھ ہی فاروق بھی جیسے ہوش میں آگیا۔ اس نے چلا کرکہا۔

    ”خبردار! گولی ماردیں گے، سیدھے کھڑے ہوجاﺅ۔“

    اس عجیب مخلوق نے کوئی گھبراہٹ ظاہرنہیں کی،نہایت سکون سے اسی طرح جھکے جھکے گردن ان کی طرف گھمائی اور وہ لرز اُٹھے۔

    ان کے سامنے ایک خوفناک مخلوق موجود تھی۔ اس کے سامنے والے دانت ہونٹوں سے باہر نکلے ہوئے تھے جن سے خون ٹپک رہاتھا۔ آنکھوں میں ایک ایسی خوفناک چمک تھی، جو دوسروں کو بے ہو ش کردینے کے لیے کافی تھی۔ چہرے پر موت کی زردی پھیلی ہوئی تھی، دانتوں کے ساتھ ہونٹ بھی خون سے تر تھے۔ اس کی ناک لمبی تھی۔ جبڑوں کی ہڈیاں اُبھری ہوئی اور قد بہت لمبا تھا۔ یہ بالکل وہی حلیہ تھا جو ڈریکولا کی کہانیوں میں بیان کیا جاتا ہے۔

    ان کے ہاتھ میں پستول دیکھ کر وہ سیدھا کھڑا ہوگیا اور پھر ایک ایک قدم ان کی طرف بڑھنے لگا۔

    ”محمود! فائر کرو۔“ فاروق نے تیز آواز میں کہا۔

    محمود نے اس کے سینے کا نشانہ لے کرٹریگر دبادیا۔ گولی چلنے کو دھماکا ہوا، ڈریکولا بدستور ان کی طرف بڑھتا رہا۔ گولی نے اس کا بال بھی بیکا نہیں کیا تھا۔ دونوں کے جسموں میں سرد لہریں دوڑ گئیں۔ اچانک محمود کو کوئی خیال آیا، اس نے اس کے بازو کا نشانہ لیا اور فائر کردیا۔

    دوسرا لمحہ چونکا دینے والا تھا، ڈریکو لا کے منہ سے ایک ہولناک چیخ نکلی اور اس کے اُٹھتے قدم رُک گئے۔ چند سیکنڈ کے لیے وہ انہیں گھورتا رہا، پھر کھڑکی کی طرف مڑا اور گویا ہوا میں اڑتا ہوا اس تک جا پہنچا۔ انہیں یہی معلوم ہوا تھا جیسے وہ ہوا میں اُڑتا ہوا کھڑکی تک پہنچا ہو۔ اس نے ایک جھٹکے سے کھڑکی کے پٹ کھول ڈالے مگر کھڑکی میں تو سلاخیں لگ چکی تھیں۔ اس نے سلاخوں پر ایک زور دار ہاتھ رسید کیا،کھڑکی کی چوکھٹ اُکھڑ گئی اور دوسری طرف جا گری۔ یہ دیکھ کر محمود اور فاروق کی سٹی گم ہوگئی۔ اس کا صاف مطلب یہ تھا کہ ڈریکولا بلا کی طاقت رکھتا ہے اور پھر انہوں نے اپنی زندگی کا سب سے زیادہ عجیب منظر دیکھا۔ ان کی آنکھوں کے سامنے ڈریکولا نے کھڑکی میں سے چھلانگ لگادی۔

    دونوں بے تحاشا دوڑتے ہوئے کھڑکی تک آئے۔ انہوں نے دیکھا، ڈریکولا تیرکی طرح نیچے جارہاتھا۔ جیسے کوئی پرندہ ہوا میں غوطہ لگاتاہے۔ پھر ا س کے قدم زمین سے ٹکرائے، وہ اچھلا جیسے کوئی گیند اچھلتی ہے اور پھر جونہی دوبارہ قدم زمین سے لگے۔ اس نے دوڑنا شروع کردیا۔

    ”فاروق جلدی کرو ،کہیں وہ نکل نہ جائے۔“ محمود نے گھبرا کر کہا۔

    وہ پوری رفتار سے دوڑتے ہوئے زینے تک آئے اور سیڑھیاں اُترنے لگے۔ انہوں نے اپنے پیچھے دوڑتے قدموں کی آوازیں بھی سنیں، شاید گھر کے لوگ بیدا ر ہوگئے تھے۔ گھر سے باہر نکلتے ہی وہ اس سڑک پر دوڑنے لگے جس پر ڈریکولا کو دوڑتے دیکھا تھا۔ دور بہت دور وہ گویا ہوا میں اڑا جارہا تھا۔ اس کے قدم زمین پر لگتے بھی دکھائی دیتے تھے اور پھر وہ اس طرح اُچھلتا جیسے سڑک اسے اُوپر اچھال رہی ہو۔ ان چھلانگوں نے اس کی رفتار کو بہت زیادہ کردیا تھا اور ان دونوں کے بس کی بات نہیں تھی کہ دوڑتے ہوئے اس تک جاپہنچیں، تاہم انہوں نے ہمت نہ ہاری اور دوڑتے رہے۔

    وہ دوڑتے چلے گئے ، اگرچہ اب ڈریکولا انہیں نظر بھی نہیں آرہا تھا۔ انہوں نے فیصلہ کرلیا تھا، اس وقت تک دوڑتے رہیں گے جب تک کہ ا س کے ٹھکانے پر نہیں پہنچ جاتے۔ انہیں یہ بات معلوم تھی، جس سڑک پر وہ چلے جارہے ہیں، وہ شہر سے باہر ویرانوں میں لے جاتی ہے۔ ان ویرانوں میں بے تحاشا کھنڈر بھی تھے اور ان کھنڈروں میں کسی حد تک قابل استعمال عمارات بھی تھیں۔ یہ اس قدر بوسیدہ اور پرانی تھیں کہ کوئی ان کی طرف رُخ کرنا پسند نہیں کرتا تھا اور کچھ عرصے سے تو شہر میں یہ بات مشہور ہوچکی تھی کہ ان کھنڈروں میں کوئی بد روح رہتی ہے جو راتوں کو عجیب و غریب آوازیں نکالتی ہے۔ پاس سے گزرنے والے اگر ان آوازوں کو سن لیتے ہیں تو بے ہوش ہوکر گرجاتے ہیں۔ اس لیے لوگوں نے رات کے وقت تو کیا، دن کے اوقات میں بھی ان کھنڈروں کی طرف سے گزرنا چھوڑ دیا تھا۔

    محمود اور فاروق بے تحاشا دوڑے ہوئے اب انہی کھنڈروں کی طرف بڑھ رہے تھے۔ محمود کے دائیں ہاتھ میں ابھی تک پستول دبا ہوا تھا۔ ڈریکولا اب ان کی نظروں سے اوجھل ہوچکا تھا۔ آدھ گھنٹے تک دوڑتے رہنے کے بعد وہ شہری حدود سے باہر نکل آئے اور اب وہ ویرانہ شروع ہوگیا۔

    یہاں ہولناکی کا راج تھا، ایک عجیب اور خوفناک سا سنسان پن طاری تھی۔ اب انہوں نے دوڑنا بند کردیا اور آہستہ آہستہ کھنڈروں کی طرف بڑھنے لگے، وہ سمجھ گئے، انہی میں سے کسی ایک کھنڈر میں ڈریکولا رہتا ہے اور اسی کھنڈر کو تلاش کرنا تھا۔

    ایک ایک کھنڈر کا احتیاط سے جائزہ لیتے ہوئے وہ آگے بڑھنے لگے۔ اچانک ان کے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ اسی وقت وہ آواز کھنڈروں کا سینہ چیرتی ان کے کانوں سے ٹکرائی تھی۔ 

    آواز کان کے پردے پھاڑ دینے والی تھی اور عجیب ترین بات یہ تھی کہ ہر کھنڈر سے اُٹھتی محسوس ہوئی تھی۔ یہاں تک کہ اس وقت وہ جس کھنڈر میں کھڑے تھے، آوازیں اس میں سے بھی گونجتی محسوس ہوئی تھیں۔

    وہ کپکپا اُٹھے۔

    ٭….٭….٭


    تعاقب میں

    انسپکٹر جمشید نے کمرے میں قدم رکھا تو فوراً ہی انہیں احساس ہوگیا کہ وہاں کوئی موجود ہے۔ گہری تاریکی کی وجہ سے وہ اسے دیکھ نہ سکے۔ کمرے کا بلب بجھادیا گیا تھا اور برآمدے کا بلب وہ خود بجھا کر آئے تھے۔ دروازہ انہیں کھلاملا تھا۔

    کسی کے زور زور سے سانس لینے کی آواز ان کے کانوں سے ٹکرائی تو وہ سمجھ گئے کہ وہ جو کوئی بھی ہے، کسی کونے میں موجود ہے، تاریکی میں اس پر حملہ کرنا خطرناک ہوسکتا تھا، کیونکہ وہ نہیں جانتے تھے، مقابلہ کس سے ہے اور وہ کس قسم کے ہتھیاروں سے لیس ہے، چنانچہ اندر داخل ہونے کے بعد وہ فوراً فرش پر لیٹ گئے اور دم سادھ لیا۔ ان کا ہاتھ جیب میں رینگ گیا۔ دوسرے ہی لمحے پستول ان کے ہاتھ میں تھا، انہوں نے سانسوں کی آواز کے ذریعے نشانہ لیا اور گولی چلانے ہی والے تھے کہ کمرے میں ایک عجیب و غریب آواز گونجی۔ انہوں نے ایسی آواز پہلے کبھی نہیں سنی تھی، وہ دھک سے رہ گئے۔ انہوں نے آﺅ دیکھا نہ تاﺅ، آواز کی سمت فائر کردیا۔گولی کی آواز پورے کمرے میں گونج اُٹھی، لیکن جواب میں کوئی چیخ سنائی نہ دی۔ شاید گولی اس کے نہیں لگی تھی۔ اسی وقت انہوں نے محسوس کیا،کوئی ہوا میں اُڑتا ہوا کمرے کے دروازے سے نکلتا چلاگیا ہے۔ وہ فوراً کمرے سے باہر نکلے اور صدر دروازے کی طرف دوڑے ، دروازہ فرزانہ کی وجہ سے اندر سے بند نہیں کیا تھا۔ انہوں نے باہر نکل کر دیکھا ، لیکن کوئی بھی نظر نہ آیا۔ انہوں نے سوچا، کہیں وہ باہر جانے کی بجائے اندر نہ چلا گیا ہو۔ فوراً ہی وہ مڑے اور بیگم کے کمرے کی طرف لپکے۔ انہوں نے ہدایت کی تھی کہ دروازہ اندر سے بند رکھا جائے، لیکن یہ دیکھ کر ان کی سٹی گم ہوگئی کہ دروازہ چوپٹ تھا۔ اندر داخل ہوتے ہی ان کے ہوش اڑگئے۔

    ڈریکولا قسم کاایک آدمی بیگم شیرازی پر جھکا ہوا تھا اور بیگم جمشید ایک طرف بے ہوش پڑی تھیں۔

    ”خبردار ! سیدھے کھڑے ہوجاﺅ۔“

    ڈریکولا نے پلٹ کر دیکھا اور ان کے ہاتھ میں پستول دیکھ کر چونک اُٹھا۔ دوسری طرف انسپکٹر جمشید حیرت زدہ تھے۔ ان کے سامنے واقعی ایک عدد ڈریکولا کھڑا تھا جب کہ وہ اب تک یہ سمجھتے رہے تھے کہ یہ سب شرارت کوئی چالاک آدمی کررہا ہے، لیکن اس شخص کی شکل صورت اس حلیے کے عین مطابق تھی جو فلموں میں ڈریکولا کا دکھایا جاتا رہا تھا یا کتابوںمیں لکھا گیا تھا۔ ایک پل کے لیے انہوں نے سوچا…. تو کیا وا قعی کوئی ڈریکولا ہمارے ملک میں آگیا ہے، لوگوں کا خون پینے کے لیے اور اپنے ساتھیوں کی تعداد میںا ضافہ کرنے کے لیے، دوسرے ہی لمحے وہ چونکے۔ انہوں نے اس کے دل کا نشانہ لے کر فائر کردیا، لیکن کچھ بھی نہ ہوا۔ انہوں نے کچھ سوچ کر اس کے بازو کانشانہ لے کر فائر کیا۔ اس مرتبہ ڈریکولا کے منہ سے بھیانک چیخ نکل گئی اور وہ گویا ہوا میں اُڑتا ہوا کمرے کی دروازے کی طرف چلا۔ یہ دیکھ کر انسپکٹر جمشید نے ایک ساتھ کئی فائر کرڈالے، اس کے باوجود وہ ان کے سر کے اُوپر سے گزرتا ہوا برآمدے میں جا پہنچا اور وہاں سے بیرونی دروازے تک پہنچ گیا۔ انسپکٹر جمشید جتنی دیر میں بیرونی دروازے تک پہنچتے، وہ باہر نکل چکا تھا۔ باہر نکلتے ہی انہو ں نے ڈریکولا کو ٹھوکر کھا کر اُوندھے منہ گرتے دیکھا۔ یہ کام فرزانہ نے دکھایا تھا، اس نے اپنی ٹانگ آگے کردی تھی۔ ڈریکولااس کی طرف سے بے خبر تھا، اس لیے دھڑام سے گرا۔ انسپکٹر جمشید نے یہ دیکھ کر فوراً اس پر چھلانگ لگائی، انہیں یوں لگا جیسے وہ کسی لوہے کے بنے ہوئے آدمی پر گرے ہوں جسم کے مختلف حصوں پر سخت چوٹیں آئیں مگر انہوں نے پروانہ کی اور ڈریکو لا کو گلے سے دبوچ لیا، لیکن پھر کئی فٹ اُونچا اچھلے اور زمین پر آرہے۔ ڈریکو لا میں خوفناک طاقت تھی، اس نے اپنی طاقت سے کام لے کر انہیں ہلکے پھلکے کھلونے کی طرح اچھال دیا تھا۔ دوسرے ہی لمحے وہ ایک بار پھراُڑا چلا جارہا تھا، اس کے قدم مشکل سے ہی زمین پر لگتے نظر آتے تھے۔ جب تک وہ دونوں سنبھلے، وہ بہت دور جاچکا تھا۔

    ”آﺅ فرزانہ جلدی کرو، کہیں وہ نکل نہ جائے۔“ انسپکٹر جمشید چلائے اور جیپ کی طرف دوڑ پڑے۔ فرزانہ بھی فوراً جیپ پر سوار ہوگئی۔ انسپکٹر جمشید نے جیپ کوپوری رفتار پر چھوڑ دیا۔ ان کا خیال تھا کہ وہ بہت جلد اس تک پہنچ جائیں گے، لیکن ان کا یہ خیال غلط نکلا، کیونکہ دو منٹ تک جیپ دوڑتے رہنے کے باوجود انہیں ڈریکولاکہیں نظر نہیں آیا۔

    ”حیرت ہے۔ وہ اتنا تیز کس طرح دوڑ سکتا ہے؟“ انسپکٹر جمشید بڑبڑائے۔

    ”یوں لگتاہے جیسے وہ اُڑنے کی طاقت رکھتا ہے اور اگر یہی بات ہے تو ہم جیپ پوری رفتار پر چھوڑ کر بھی اسے نہیں پکڑ سکتے ۔“ فرزانہ بولی۔

    ”لیکن ایک انسان کس طرح اڑ سکتا ہے؟ آج تک ایسا نہیں ہوا۔“ انہوں نے کہا۔

    ”ڈریکولا کے بارے میں تو یہی سنا ہے، وہ تقریباً ہوا میں اُڑسکتا ہے۔“

    ”یہ سب قصے کہانیاں ہیں، حقیقت میں ایسا نہیں ہوسکتا۔“ انہوں نے کہا۔

    ”لیکن اب تو ہم آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں۔“ فرزانہ بولی۔

    ”ہوسکتا ہے، وہ جیپ کو آتے دیکھ کر ادھر ادھر کہیں چھپ گیا ہو اور ہم اس سے آگے نکل آئے ہوں۔“ انہوں نے خیال ظاہر کیا۔

    ”ہاں! یہ بھی ہوسکتا ہے، پھر کیا ہم واپس چلیں۔“ فرزانہ بولی۔

    ”نہیں! واپس جاکر بھی ہم اسے نہیں پاسکیں گے۔“ انہوں نے کہا۔

    ”کہیں وہ واپس آنٹی تک نہ پہنچ جائے۔“ فرزانہ نے خوف زدہ لہجے میں کہا۔

    ”کم از کم آج رات وہ دوبارہ ان تک نہیں پہنچ سکتا۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”وہ کیوں؟“ فرزانہ نے پوچھا۔

    ”اس لیے کہ وہ زخمی ہوچکا ہے اور زخمی حالت میں اسے خون پینے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اس لیے وہ اپنے ٹھکانے پر جاکر خون روکنے کا بندوبست کرے گا اور آرام کرے گا،کل ہوسکتا ہے ، وہ پھرآئے۔“انہوں نے کہا۔

    ”آخر یہ ڈریکولا ہمارے شہر میں کہاں سے آگیا؟“ فرزانہ نے پریشان ہوکر کہا۔

    ”آگیا نہیں، آگئے، میرا خیال ہے ، یہ ایک سے زائد ہیں۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”اوہ ! آ پ یہ کس طرح کہہ سکتے ہیں؟“ 

    ”اس طرح کہ ادھر تو بیگم شیرازی پر حملہ کیاگیا ہے، ادھر طاہر جیلانی کے ساتھ بھی ایسا ہی واقع پیش آیاہوگا۔ اس کا مطلب ہے ، یہ ایک سے زیادہ ہیں۔“

    ”لیکن ابھی یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ اُ دھر بھی ڈریکولا پہنچا ہوگا، ہوسکتا ہے، اسی کو بعد میں ادھر جانا ہو، یا یہ وہاں سے ہوکر آیا ہو۔‘ ‘فرزانہ نے اعتراض کیا۔ اس بات کو سن کر انسپکٹر جمشید عجیب سے انداز میں مسکرائے ، پھر بولے:

    ”مجھے پہلے ہی اس بات کا خیال تھا اور میں نے محمود اور فاروق کو ہدایت کی تھی کہ اگر ڈریکولا آئے تو گھڑی پر ضرور نظر ڈال لیں۔ میں بھی وقت نوٹ کوچکا ہوں، اس طرح ہمیں معلوم ہوجائے گا کہ ڈریکولا ایک ہی ہے یا ایک سے زائد۔“

    ”لیکن ابا جان ! اس میں اتنی طاقت کیوں ہے۔“

    ”انسانی جسم میں اصل طاقت خون کی بدولت ہے او روہ خون پیتا ہے۔ نہ جانے اس وقت تک کتنے انسانوں کا خون پی چکا ہوگا، تو پھر اس میں طاقت کیوں نہ ہوگی۔“ انہوں نے جواب دیا۔

    ”آپ کی بات سن کر میںمحمود اور فاروق کے لیے پریشان ہوگئی ہوں۔“

    ”فکر نہ کرو، شاید وہ بھی ہمیں اسی سڑک پر کہیں مل جائیں، اسی لیے تو میں واپس نہیں مڑاا ور آگے چلاآیا ہوں۔“ انہوں نے کہا۔

    ”اوہ۔“ فرزانہ کے منہ سے نکلا۔

    ”عین اسی وقت انسپکٹر جمشید نے بریک لگائے۔ وہ شہری حدود سے باہر نکل کر ویرانوں کی حدود میں آگئے تھے۔ فرزانہ نے سنا ،ا نسپکٹر جمشید اس طرح بڑبڑائے تھے جیسے خواب میں بولے ہوں۔

    ”اوہو…. ان کھنڈروں کے بارے میں تو میں بہت کچھ سن چکا ہوں۔ آﺅ فرزانہ ذرا ان پر ایک نظر ڈال لیں۔“

    یہ کہہ کر وہ جیپ سے اُتر آئے۔ فرزانہ نے بھی نیچے چھلانگ لگادی۔ دونوں آگے بڑھے اور پھر پہلے کھنڈر میں ٹارچ کی روشنی ڈالتے ہی وہ زور سے اُچھلے۔

    ٭….٭….٭

    ”یار یہ آواز کیسی تھی ؟“ محمود کے منہ سے نکلا۔

    ”یہ شاید کسی روح کی آواز تھی، کیونکہ انسانوں اور درندوں کی آوازیں تو ہم پہچانتے ہیں۔“

    ”اس کا مطلب ہے، تم نے پہلے کبھی کسی روح کی آواز نہیں سنی۔“ محمود بولا۔

    ”نہیں!“ فاروق کے منہ سے نکلا۔

    ”پھر تم کس طرح کہہ سکتے ہو کہ یہ کسی روح کی آواز تھی؟“ محمود بولا۔

    ”اگر یہ روح کی آواز نہیں تھی تو بتاﺅ ، کس کی تھی۔“

    ”ڈریکولا کی۔“ محمود بولا۔

    ”ابھی ہم نے اسے ڈریکولا تسلیم نہیں کیا۔“ فاروق نے جواب میں کہا۔

    ”آﺅ اس کھنڈر سے باہر نکل کر دیکھیں ، شاید ہمیں کوئی سراغ مل جائے۔“

    ”کیوں ڈریکولا کے ہتھے چڑھنا چاہتے ہو، وہ ہمارا خون پی جائے گا۔“ فاروق نے مسکرا کر کہا۔

    ”اب یہاں تک آئے ہیں تو اس کا ٹھکانہ دیکھ کر ہی واپس جائیں گے۔“ محمود نے فیصلہ کن لہجے میں کہا۔

    ”ٹھکانہ مل جانے کے بعد تم کہو گے، اب ٹھکانہ مل گیا ہے تو ڈریکولا سے کشتی لڑکر ہی جائیں گے، لیکن میں تمہیں بتائے دیتا ہوں کہ مجھے اس سے کشتی لڑنے کا کوئی شوق نہیں، تم ضرور اس سے دو دو ہاتھ کرلینا۔“

    ”گویا تم دور کھڑے تماشا دیکھتے رہوگے؟“ محمو دنے جل کر کہا۔

    ”ہاں! اسی طرح ہم ڈریکولا کو شکست دے سکتے ہیں۔“ فاروق مسکرایا۔

    ”وہ کیسے، ذرا میں بھی تو سنوں۔“ محمود نے حیران ہوکر کہا۔

    ”جب تم اس کا تنہا مقابلہ کروگے اور میں درمیان میں دخل نہیں دوں گا تو ڈریکولا بہت متاثر ہوگا اور خیال کرے گا کہ ہم کتنے بااصول ہیں کہ ایک کے مقابلے میں صرف ایک آیا ہے، دوسرا اس کی مدد نہیں کررہا، تو وہ خود اپنی ہار کا اعلان کردے گا اور اس طرح ہم فتح پائیں گے۔“ فاروق کہتا چلا گیا۔

    ”شاید تمہارا دماغ چل گیا ہے، ڈریکولا جیسے لوگ کسی اصول کو نہیں مانتے۔“ محمود نے انکار میں سرہلایا۔

    ”اگر تم سچ مچ اس کا مقابلہ کرنا چاہتے ہو تو اس کے لیے میری ایک تجویز ہے، اگر سننا پسند کرو۔“

    ”چلو بتاﺅ، کیونکہ اس وقت فرزانہ ہمارے ساتھ نہیں ہے۔“

    ”تجویز یہ ہے کہ ہم ڈریکولا کا ٹھکانہ دیکھ کر یہاں سے واپس چلتے ہیں اور ابا جان اور فرزانہ کو ساتھ لے کر آتے ہیں، بلکہ انکل رحمان کو بھی ساتھ لے آئیں گے اور پھر مل کر اس کا مقابلہ کریں گے۔“ فاروق نے کہا۔

    ”ایک دشمن کے مقابلے میں اتنے آدمی ساتھ لاﺅگے، ابھی تو اصول پرستی کی بات کررہے تھے؟“

    ”تم نے خود ہی تومیری وہ بات نہیں مانی تھی۔“

    ”اچھا بھائی یونہی سہی۔ آﺅ پہلے اس کا ٹھکانہ تو ڈھونڈلیں۔“ محمود نے تنگ آکر کہا۔

    ”لیکن آواز تو اس کھنڈر سے بھی آئی تھی۔ آخر یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ تمام کھنڈروں سے آواز آئے۔“ فاروق بولا۔

    ”ڈریکولا سے پوچھ کر بتاﺅں گا۔“ محمود نے منہ بنایا۔

    ”تو ذرا جلدی پوچھو، میں انتظار کرنے کا عادی نہیں۔“ فاروق نے مسکرا کر کہا۔

    ”یار تنگ نہ کرو، اچھا آﺅ ، پہلے اسی کھنڈ رکو ٹھوک بجاکر دیکھ لیتے ہیں۔“ محمود نے کہا۔

    ”میرے پاس ٹھوک بجا کر دیکھنے کے لیے کوئی چیز نہیں ہے پہلے کیوں نہیں بتایا، گھر سے کوئی ہاکی یا کرکٹ کا بلاہی لے آتے۔“ فاروق نے کہا۔

    ”ہم ہاتھوں سے کام لیں گے اور اگر تم ہاتھ پیر ہلانے کے لیے بالکل تیار نہیں ہو تو ایک طرف کھڑے رہو۔“

    یہ کہہ کر محمود نے واقعی کھنڈر کی دیواروں کو ٹھوکنا، بجانا شروع کردیا۔ فاروق سے رہا نہ گیا ، وہ بھی اس کا ساتھ دینے لگا۔ یہ دیکھ کر محمودمسکرایا۔

    ”آخر تم خود کو کام چور ثابت کرنے کے چکر میں کیوں رہتے ہو جب کہ ہو نہیں۔“

    ”اس طرح میں شیخی بگھارنے سے بچ جاتا ہوں۔“ فاروق نے کہا۔

    اچانک انہوں نے اپنے پیچھے کھٹکے کی آواز سنی۔ دونوں چونک کر مڑے، لیکن دیر ہوچکی تھی، سروں پر پڑنے والی لکڑیاں ان کی آنکھوں میں تارے نچاگئیں، پھر یہ تارے بھی ڈوب گئے اور ان کے ذہن اندھیروں میں ڈوب گئے۔

    ٭….٭….٭

    خون کا بنک

    ”اُف اللہ! یہ تو محمود اور فاروق ہیں۔“ فرزانہ کی آواز میں کپکپاہٹ تھی۔

    ”ہاں ! دونوں بُری طرح زخمی بھی ہیں۔“ انسپکٹر جمشید نے فکر مند ہوکر کہا۔ پھر وہ جھکے اور فاروق کو اپنے کندھے پر ڈال کر کھنڈر سے نکل آئے۔ فرزانہ محمود کا وزن نہیں اٹھا سکی تھی، اس لیے وہ وہیں کھڑی رہی۔ انسپکٹر جمشید جلد ہی واپس آئے اور محمود کو اٹھا لیا، اب فرزانہ بھی ان کے ساتھ جیپ تک آئی۔ انسپکٹر جمشید نے دونوں کو پچھلی سیٹوں پر لٹا دیا تھا۔

    ”تم ان کو سنبھالے رہنا، کہیں لڑھک نہ جائیں۔“

    یہ کہہ کر وہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے ، دوسرے ہی لمحے جیپ شہر کی طرف اُڑی جارہی تھی۔

    ”ابا جان ! میرا دل بیٹھا جارہا ہے۔“ فرزانہ نے تھر تھر کانپتی آواز میں کہا۔

    ”اللہ پر بھروسا رکھو بیٹی! انہیں اس کے تعاقب میں اتنی دور نہیں نکل جانا چاہیے تھا۔ ڈریکو لا کوئی عام مجرم نہیں ہے اور نہ ہم اس سے عام مجرموں کی طرح مقابلہ کرسکتے ہیں، غلطی مجھ سے بھی ہوئی کہ انہیں تعاقب سے منع نہیں کیا، خیر جو ہونا تھا، ہوگیا۔“

    محمود اور فاروق کو ہسپتال پہنچا کر اور فرزانہ کو ان کے پاس چھوڑ کر وہ گھر آئے۔ اس وقت انہیں یاد آیا، بیگم کو بھی وہ بے ہوش چھوڑ کر ڈریکولا کے تعاقب میں روانہ ہوگئے تھے۔ گھر پہنچے تو بیگم ہوش میں آچکی تھیں، البتہ بیگم شیرازی ابھی تک گہری نیند میں تھیں۔

    ”کیا ہوا تھا بیگم۔“ انہوں نے پوچھا۔

    ”اُف توبہ! میں نے اپنی زندگی میں اتنا خوفناک آدمی کبھی نہیں دیکھا۔ پھر بھی میں اسے دیکھ کربے ہوش نہیں ہوئی تھی۔ اس کی آنکھوں میں نہ جانے کیا تھا، اس نے میری آنکھوں میں دیکھا اور میں بے ہوش ہوکر گرپڑی۔“ بیگم جمشید نے بتایا، پھر چونک کر بولیں©:

    ”ارے فرزانہ کہاں ہے۔“

    ”فرزانہ، محمود اور فاروق کے پاس ہسپتال میں ہے۔“ 

    ”جی ۔ ہسپتال میں؟“بیگم جمشید بوکھلا کر بولیں۔

    ”ہاں۔ وہ زخمی ہوگئے ہیں، لیکن فکر کی کوئی بات نہیں، ان کی حالت اچھی ہے اور میں تمہیں لینے کے لیے آیا ہوں۔“

    ”اوہ! “ وہ اچھل کر کھڑی ہوگئیں۔ ان کے منہ سے نکلا:

    ”میرے بچے!“

    ”کیا تم چلنے کے لیے تیار ہو۔“

    ”جی ہاں! لیکن بیگم شیرازی کا کیا کریں ، انہیں بھی تو تنہا نہیں چھوڑ ا جاسکتا۔“

    ”انہیں بھی ساتھ لے چلتے ہیں، آخر یہ بھی تو بے ہوش ہیں۔“

    انہوں نے بیگم شیرازی کو پچھلی سیٹ پر لٹادیا۔ بیگم جمشید ان کے پاس بیٹھ گئیں اور جیپ چل پڑی۔ ہسپتال پہنچنے میں انہیں چند منٹ سے زیادہ نہیں لگے۔ بیگم جمشید ، محمود اور فاروق کو دیکھ کر بھونچکاکر رہ گئیں ، ان کے سر پر پٹیاں باندھی جاچکی تھیں اور وہ ابھی تک بے ہوش تھے۔ ڈاکٹر کمرے میں موجود تھا اور اس کا کہنا تھا کہ ابھی ان کے ہوش میں آنے میں دیر لگے گی۔ انسپکٹر جمشید نے بیگم شیرازی کو ساتھ والے کمرے میں داخل کرادیا تاکہ دیکھ بھال میں آسانی رہے۔

    اور پھر ادھر دن نکلا ، ادھر محمود ہوش میں آگیا۔ اس کے چند منٹ بعد فاروق نے بھی آنکھیں کھول دیں، وہ مسکرانے لگے۔ ڈاکٹر نے ان کامعائنہ کرنے کے بعد بتایا کہ حالات خطرے سے باہر ہیں۔ البتہ ابھی چند دن ہسپتال میں رہنا پڑے گا۔ دوسری طرف بیگم شیرازی ہو ش میں آچکی تھیں۔ ڈاکٹر وں نے ان کے معائنے کے بعد خون کی زبردست کمی بتائی تھی اور جب ان کے خون کا گروپ دیکھا گیا تو ہسپتال کے بلڈ بنک میں ان کے گروپ کا خون نہ ملا ڈاکٹر وں کا کہنا تھا کہ ان کے لیے خون بہت ضروری ہے۔

    اچانک انسپکٹر جمشید کو یاد آیا۔ غلام جیلانی اپنے بیٹے کو ڈاکٹر انصاری کے پاس لے گیا تھا اور اس نے کسی پرائیویٹ بلڈ بنک سے خون منگوایا تھا۔ انہوں نے فرزانہ کو ساتھ لیا اور ڈاکٹر انصاری کے کلینک کی طر ف روانہ ہوگئے، لیکن ابھی تو دن نکلا تھا، ڈاکٹر انصاری وہاں کہاں تھا، البتہ ایک چوکیدار ضرور موجود تھا۔ انہوں نے اس سے ڈاکٹر کے گھر کا پتا معلوم کیا اور وہاں پہنچ گئے۔ گھنٹی کا بٹن دبانے پر ایک ملازم نے دروازہ کھولا۔©

    ”ہمیں ڈاکٹر انصاری صاحب سے ملنا ہے۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”اتنے سویرے…. وہ تو ابھی سو رہے ہیں۔“

    ”ان سے ملاقات بہت ضروری ہے۔ ایک مریض کی زندگی کا سوال ہے، تم انہیں جگادو۔“

    ”لیکن ان کی ہدایت ہے، سوتے میں انہیں جگایا ہر گز نہ جائے۔“

    ”تم فکر نہ کرو، وہ تمہیں کچھ نہیں کہیں گے۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”نہیں جناب! میں یہ نہیں کرسکتا، ایک دن اسی طرح کسی کے مجبور کرنے پر میں نے جگادیا تھا، انہوں نے میری پندرہ دن کی تنخواہ کاٹ لی تھی۔“ اس نے بتایا۔

    ”اگر انہوں نے تمہاری تنخواہ کاٹی تو میں تمہیں دوگنا تنخواہ جیب سے ادا کردوں گا اور اگر ملازمت سے نکالا تو اس سے بہتر ملازمت دلوادوں گا، بے فکرہوکر جاﺅ۔“

    ”یہ بات ہے تو میں ضرور جاﺅں گا، کیونکہ میں خود اس ملازمت کو چھوڑ نا چاہتا ہوں۔“ اس نے خوش ہوکر کہا اور اندر چلا گیا۔ وہ انہیں دروازے پر ہی چھوڑ گیا تھا۔

    ”عجیب ڈاکٹر ہے، یہ شاندار کوٹھی بتارہی ہے کہ بہت مال دار ہے، لیکن اپنے ملازموں کی تنخواہیں کاٹ لیتا ہے۔“

    ”ایسے لوگ اسی طرح مال دار بنتے ہیں۔ غلام جیلانی نے بتایا تھا کہ اس نے بہت بھاری فیس وصول کی تھی۔“

    ”اور ہاں سب سے پہلے ڈریکولا کا خیال پیش کرنے والا بھی یہی ڈاکٹر ہے۔“ فرزانہ بولی۔

    ”تم کیا کہنا چاہتی ہو۔“ انسپکٹر جمشید نے اُسے چونک کردیکھا۔

    ”یہ کہ کہیں یہی شخص تو ڈریکو لانہیں۔“

    ”ارے نہیں ! یہ تو بہت پرانا اور مشہور ڈاکٹر ہے۔ کم از کم اپنے پیشے کے اعتبار سے بہت قابل آدمی ہے۔“ انہوں نے مسکرا کر کہا۔

    اسی وقت قدموں کی آواز سنائی دی۔ انہوں نے دیکھا، ملازم چلا آرہا تھا۔ اس کا چہرہ غصے سے سرخ تھا۔

    ”مجھے ملازمت سے نکال دیا گیا ہے جناب۔“ اس نے آتے ہی کہا۔

    ”بہت خوب، تم فکر نہ کرو اور اس جیپ میں جاکر بیٹھ جاﺅ۔ اب اس ڈاکٹر کے بچے سے مل کر ہی جاﺅں گا۔“ انسپکٹر جمشید کو بھی غصہ آگیا۔

    انہوں نے گھنٹی کے بٹن پر ہاتھ روک لیا اور پھر ہٹانے کی کوشش نہ کی۔ گھنٹی بدستور بجتی چلی گئی۔ یہاں تک کہ ایک نوجوان لڑکا آتا نظر آیا ، وہ آنکھیں ملتے ہوئے ان کی طرف بڑھ رہا تھا، چہرے پر ناگواری تھی۔

    ”کیا بات ہے جناب! آپ کیا چاہتے ہیں؟“

    ”ہم ڈاکٹر سے ملنا چاہتے ہیں اور ملے بغیر ہر گز نہیں جائیں گے۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”وہ ابھی آرام کررہے ہیں، دو گھنٹے بعد کلینک میں ملیں گے۔“ اس نے کہا۔

    ”تم ان کے بیٹے ہو۔“ انسپکٹر جمشید نے پوچھا۔

    ”جی ہاں۔“ وہ بولا۔

    ”تو پھر اپنے ابا جان سے جا کر کہہ دو دروازے پر کھڑا ہوا شخص ان سے ملے بغیر نہیں جائے گا، چاہے کچھ بھی ہوجائے۔“یہ کہتے وقت ان کا چہرہ غصے سے سرخ ہوگیا۔ فرزانہ کپکپا اٹھی۔ وہ ان کے اس روپ سے اچھی طرح وا قف تھی۔ عام طور پر بہت ہی برے مجرموں پر انہیں اس قدر غصہ آتا تھا، لیکن آج یہ غصہ شہر کے سب سے مشہور ڈاکٹر پر آیا تھا۔

    لڑکا خاموشی سے واپس چلا گیا۔ وہ انتظار کرنے لگے اور جب ایک منٹ گزرنے پر بھی کوئی اندر سے نہ آیا تو انہوں نے پھر گھنٹی کے بٹن پر انگلی رکھ دی۔

    اس بار وہی لڑکا پھر نمودار ہوا اور تلملا کر بولا©©:

    ”آیئے جناب!ڈرائنگ روم میں تشریف رکھیے۔“

    ”شکریہ۔“ انسپکٹر جمشید نے منہ بناکر کہا۔

    ڈرائنگ روم میں بیٹھے انہیں پانچ منٹ گزر گئے۔ پھر انہوں نے دروازے کی گھنٹی بجنے کی آواز سنی۔ شاید کوئی اور ملاقاتی آگیا تھا اور پھر انہوں نے بھاری قدموں کی آواز سنی۔ فوراً ہی کمرے میں کچھ پولیس والے داخل ہوئے۔ سب سے آگے ڈاکٹر انصاری تھا جو سب انسپکٹر کے ساتھ چلا آرہا تھا۔ اس کے پیچھے تین کانسٹیبل تھے۔

    ”یہی وہ شخص ہے جس نے مجھے بے آرام کیا ہے، میرے ملازم نے اسے بتادیا تھا کہ میں سورہا ہوں تو جگایا جانا پسند نہیں کرتا، اس کے باوجود اس نے ملازم کو جگانے کے لیے کہا، میں نے اسے تو اسی وقت نوکری سے نکا ل دیا، کیونکہ اس نے میری ہدایت پر عمل نہیں کیا تھا۔ اس نے پھر گھنٹی بجائی تو میرے لڑکے نے اسے بتایا کہ میں دو گھنٹے بعد کلینک میںمل سکتا ہوں۔ یہ اس پر بھی باز نہیں آیا اور گھنٹی بجاتا چلا گیا۔ آخر مجھے آپ کو فون کرنا پڑا، اسے گرفتار کرلیجیے۔ میں چاہتا ہوں ، اس پر اتنا مضبوط مقدمہ بناﺅ کہ اس کی آئندہ نسلیں بھی یاد رکھیں کہ کسی کو بے آرام کرنے کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔“

    ڈاکٹر رحمان انصاری کہتا چلا جارہاتھا ، دوسری طرف سے سب انسپکٹر مارے حیرت کے آنکھیں پھاڑے کھڑا تھا۔ وہ انسپکٹر جمشید کو بخوبی جانتا تھا۔ آخر ڈاکٹر کے خاموش ہونے پر اس نے کہا۔

    ”مجھے افسوس ہے جناب! میں انہیں گرفتار نہیں کرسکتا۔“

    ”یہ کیا بات ہوئی ، کیا یہ کوئی بہت اہم آدمی ہے، اگر یہ بات ہے تو میں آپ کو بتادوں ، میں بھی کوئی کم اہم آدمی نہیں ہوں، میرے تعلقات بھی بڑے بڑے لوگوں سے ہیں۔ اگر آپ نے اسے گرفتار نہ کیا تو میں ڈی آئی جی صاحب کو فون کروں گا۔“

    ”ڈی آئی جی صاحب بھی ان کی گرفتاری کا حکم جاری نہیں کریں گے۔“

    ”یہ کیسے ہوسکتا ہے، کیا اس شخص کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ یہ جس شہری کی بھی چاہے ، نیند حرام کرسکتا ہے۔“ ڈاکٹر انصاری نے تلملا کرکہا۔

    ”جی نہیں! ایسی کوئی بات نہیں، انہوں نے اگر آپ کو بے آرام کیا ہے تو اس کی کوئی ٹھوس وجہ ضرور ہوگی۔“

    ”آخر یہ کون ہے؟“ ڈاکٹر انصاری چیخ کربولا۔

    ”میں ان کی اجازت کے بغیر آپ کو نہیں بتا سکتا۔“ سب انسپکٹر نے کہا اور انسپکٹر جمشید کی طرف دیکھنے لگا۔ وہ مسکرائے اور پھر بولے۔

    ”ایک ڈاکٹر کا فرض دوسروں کی جانیں بچانا ہے، لیکن اگر وہ اپنے آرام کو زیادہ اہمیت دینے لگے تو پھر وہ دوسروں کی جانیں نہیں بچاسکتا۔ اس طرح ڈاکٹر انصاری خود اپنے پیشے کے مجرم ہیں اور انہیں اپنی سزا خود تجویز کرلینی چاہیے۔ مجھے اتنی صبح سویرے یہاں اس لیے آنا پڑا کہ ایک مریضہ کی جان خطرے میں ہے۔ ا س کے جسم میں سے خون نہ جانے کہاں چلا گیا ہے۔ یہ کل اس قسم کا ایک کیس دیکھ چکے ہیں۔ انہوں نے اس مریض کے لیے خون کے ایک پرائیویٹ بنک سے خون کا بندوبست کیا تھا۔ میں ان سے صرف یہ معلوم کرنے آیا تھا کہ اس بنک کا پتا کیا ہے تاکہ وہاں سے مریضہ کے لیے خون حاصل کیا جاسکے۔ مریضہ سرکاری ہسپتال میں ہے اور اس کے گروپ کا خون بنک میں نہیں ہے۔“ انسپکٹر جمشید رُکے بغیر کہتے چلے گئے۔ سب انسپکٹر اور ڈاکٹر انصاری خاموش کھڑے ان کی باتیں سن رہے تھے۔ ایک لمحے کے لیے رُک کر انہوں نے کہا:

    ”ڈاکٹر صاحب! اب آپ فوری طور پر اس بنک کا پتا بتادیں۔ پہلے ہی بہت دیر ہوچکی ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ مریضہ کی حالت خراب ہوجائے۔ بعد میں آپ ڈی آئی جی صاحب کو فون کرتے رہیے گا اور جو بھی قانونی کارروائی آ پ کرنا چاہیں کرسکتے ہیں، میرا نام اور پتا یہ آپ کو بتادیں گے۔“ یہ کہہ کر وہ خاموش ہوگئے اور ڈاکٹر کی طرف دیکھنے لگے۔

    ”آخر آپ کون ہیں۔“ ڈاکٹر نے تھکے تھکے انداز میں کہا، لہجے میں حیرت بھی تھی۔

    ”اگر آپ میرا نام جانے بغیر بنک کا پتا نہیں بتانا چاہتے تو سن لیں، مجھے انسپکٹر جمشید کہتے ہیں۔“

    ”اوہ!“ ڈاکٹر انصاری دھک سے رہ گیا۔ پھر اس کے ہونٹ اس طرح کھلے جیسے خواب میں بول رہا ہو:

    ”خون کا وہ بنک نیازی روڈ پرواقع ہے، اس سڑک پر سب سے اُونچی عمارت۔“

    ”بہت بہت شکریہ ! اب ہم چلیں گے۔ اگر آپ اس معاملے کو آگے بڑھانا چاہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہ ہوگا، عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں یا ڈی آئی جی صاحب سے بات کریں، لیکن آج کے بعد آپ اپنے کسی ملازم کو یہ ہدایت نہیں کریں گے کہ کسی ملاقاتی کے آنے پر آپ کو جگایانہ جائے۔“

    یہ کہتے ہوئے انسپکٹر جمشید تیزی سے مڑے دروازے کی طرف چل پڑے، فرزانہ نے بھی ان کا ساتھ دیا۔

    سب انسپکٹر ، کانسٹیبل اور ڈاکٹر انصاری پتھر کے بتوں کی طرح کھڑے کے کھڑے رہ گئے۔

    ٭….٭….٭


    خون کے قطرے

    ”انسپکٹر جمشید اور فرزانہ نیازی روڈ پر پہنچے۔ انہیں بلڈ بنک تلاش کرنے میں کوئی دشواری نہ ہوئی۔ بنک کھل چکا تھا۔ وہ اندر داخل ہوئے تو کاﺅنٹر پر ایک لمبا چوڑا نوجوان نظر آیا۔ اس نے فوراً کہا:©

    ”جی فرمایئے!“

    ”ہمیں ڈاکٹر انصاری نے بھیجا ہے۔“ انسپکٹر جمشید بولے اور فرزانہ نے انہیں چونک کردیکھا۔ دوسری طرف کاﺅنٹر کلرک کے منہ سے نکلا©©:

    ”اوہ ! تب تو آپ سیدھے اندر چلے جایئے اور فاضلی صاحب سے مل لیں،آپ کا کام وہی بتاسکیں گے۔“

    ”بہت شکریہ! سیدھے جاکر کس طرف مڑنا ہے۔“

    ”دائیں ہاتھ آخری کمرہ ہے۔“ اس نے کہا۔

    اور دونوں اندر کی طرف بڑھ گئے۔ فرزانہ نے سرگوشی کی:

    ”ابا جان ! یہ کیا معاملہ ہے۔“

    ”میںاندازہ لگا چکاہوں۔ ڈاکٹر انصاری کے اس بنک سے کچھ خاص تعلقات ہیں، اسی لیے میںنے ڈاکٹر انصاری کا نام لے دیا تھا، لیکن مجھے خیال ابھی نہیں تھا کہ اس کا نام لینے کے بعد ہمیں خاص اہمیت دی جائے گی۔ خیر آﺅدیکھتے ہیں۔“ انہوں نے کہا اور برآمدے کا موڑ مڑ گئے۔ آخر میں ایک کمرا نظر آیا۔ دروازہ پر چک پڑی تھی۔

    انہوں نے چک اٹھائی اور اندر داخل ہوگئے۔ دن کے نوبج کر دس منٹ ہوچکے تھے۔ سورج کی خوش گوار دھوپ پھیل چکی تھی اور اس کمرے میں دھوپ اس کھڑکی کی وجہ سے داخل نہیں ہورہی تھی جس میں اندھے شیشے لگے ہوئے تھے۔انہیں یہ دیکھ کر حیرت ہوئی،کیونکہ سردیوں کے موسم میں ایسا کون شخص ہوگا جو دھوپ کا راستہ روکے گا۔ کھڑکی کے ساتھ ایک میز اور ایک کرسی بچھی تھی،میز کے دوسری طرف دروازے کے نزدیک تین کرسیاں اور موجود تھیں۔ سامنے والی کرسی پر ایک لمبے قد کا آدمی بیٹھا تھا، اس کی آنکھوں پرچمک دار شیشوں والی عینک تھی۔ ان شیشوں میں سے اس کی آنکھیں اگر چہ نظر آرہی تھیں، لیکن یہ اندازہ کرنا مشکل تھا کہ آنکھوں کارنگ کیسا ہے۔ اس نے دونوںکو گھور کردیکھا اور بولا:

    ”تو آپ کو انصاری نے بھیجا ہے۔“

    ”جی ہاں ! ہمیں او گروپ کا خون چاہیے۔“

    ”مل جائے گا، ڈاکٹر انصاری ہمارے بہت اچھے دوست ہیں اور ان کے بھیجے ہوئے گاہکوں کو ہم ہر حالت میں خون مہیا کرتے ہیں۔ آپ کوکتنی بوتلوں کی ضرورت ہے۔“

    ”کم از کم چاربوتلیں۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”چار بوتلوں کی قیمت بارہ ہزار روپے ہوگی۔“ اس نے کہا۔

    ”اوہ! اس قدر زیادہ قیمت۔“ انسپکٹر جمشید چونکے۔

    ”لوگ اپنا خون سستا تو نہیں بیچتے، ضرورت مند آکر خون بیچنے پر مجبور ہوجاتے ہیںتو منہ مانگی قیمت ضرور وصول کرتے ہیں۔“

    ”خیر، چار بوتلیں پیک کرادیں۔میں بارہ ہزار وپے کا چیک لکھ دیتاہوں۔“ انہوں نے کہا۔

    ”چیک مجھے دے دیں اور بوتلیں کاﺅنٹر سے لے لیں۔“

    ”بہت بہتر!“ انہوں نے کہا اور جیب سے چیک بک نکال کر چیک لکھنے لگے۔ تھوڑی دیر بعد وہ مکان سے باہر نکل رہے تھے اور ایک پلاسٹک کی ٹوکری میں چار بوتلیں انسپکٹر جمشید کے ہاتھ میں لٹک رہی تھیں۔

    ”اس مکان کے اندر مجھے کچھ عجیب سا احساس ہوتا رہا ہے۔“ فرزانہ پریشان ہوکر بولی۔

    ”شاید اس لیے کہ یہ خون کی دکان ہے، کسی عام چیز کی نہیں۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”اوہ! ہم طاہر جیلانی کے بیٹے کے بارے میں معلوم کرنا تو بھول ہی گئے، نہ جانے وہاں کیا حالات پیش آئے ہوں گے۔“

    ”خون ڈاکٹروں کے حوالے کرنے کے بعد معلوم کریں گے۔“انہوں نے کہا۔

    ہسپتال پہنچ کر انہوں نے غلام جیلانی کے ہاں فون کیا تو ادھر سے خان رحمان نے بتایا:

    ”ڈریکولا مکان کے اندر گھس آیا تھا، محمود اور فاروق اس وقت باہر جائزہ لینے گئے ہوئے تھے۔ نہ جانے ڈریکولا کی آنکھوںمیں کیا تھا کہ میں بے ہوش ہوگیا، گھر کے دوسرے لوگوں سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ رات مکان کے اندر گولی بھی چلائی گئی تھی۔ یہاں خون کے قطرے بھی پڑے ملے ہیں، میں نے تمہیں ہر جگہ فون کیا، لیکن کہیں نہ مل سکے، اس لیے مجبور ہوکر پولیس اسٹیشن فون کرنا پڑا۔“

    ”کیا وہ لوگ آگئے ہیں۔“ انسپکٹر جمشید نے پوچھا۔

    ”ہاں۔“ انہوں نے کہا۔

    ”تو انہیں میری طرف سے کہہ دو خون کا تجزیہ ضرور کرایا جائے۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ وہ خون کسی انسان کا ہے یا مردے کا۔“

    ”بہت بہتر! لیکن تم کہاں تھے، محمو د اور فاروق کا کوئی پتا چلایا نہیں۔

    اس پر انہوں نے اپنے دونوں بیٹوں کے بارے میں بتایا ، پھر سلسلہ کلام بند کرکے فرزانہ کی طرف مڑے۔

    ”اس کا مطلب ہے، ڈریکولا واقعی ایک سے زائد ہیں۔“ فرزانہ بولی۔

    ”ہاں !میرا پہلے ہی یہی خیال تھا۔“

    ”اور مزے کی بات یہ کہ کم از کم دو ڈریکولازخمی ہوچکے ہیں۔ ان کا خون راستے میں گرتا چلا گیا ہوگا اور ان کھنڈروں میں بھی قطرے موجود ہوں گے۔ یہ قطرے ہمیں ان کے ٹھکانے تک لے جاسکتے ہیں۔“

    ”بہت خوب! ہمیں فوراً روانہ ہوجانا چاہیے، کہیں خون کے قطرے مٹادیے جائیں۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”لیکن پہلے محمود اور فاروق کو تو دیکھ لیں۔“

    ”ہاں ! یہ بھی ضرور ی کام ہے۔“ انہوں نے چونک کر کہا اور ان کے کمرے کی طرف چل پڑے۔

    یہاں بیگم جمشید کے علاوہ پروفیسر داﺅد اور شائستہ بھی موجود تھے۔

    ”ارے !آپ کو کس طرح خبر ہوگئی۔“

    ”میں نے اور شائستہ نے آج ناشتا تمہارے ساتھ کرنے کا پروگرام بنایا تھا۔ گھر گئے تو تم وہاں نہیں تھے، بیگم شیرازی سے معلوم کرنا چاہتا تو وہ بھی وہاں نہیں تھیں،لیکن تمہارے گھر میں خون کے قطرے ضرور موجود تھے، ہم سمجھ گئے، رات کو ئی حادثہ ہوگیا ہے، اس لیے سیدھے یہاں چلے آئے۔“پروفیسر داﺅد بولے۔

    ”بہت خوب! آپ تو جاسوس بنتے جارہے ہیں انکل۔“ فرزانہ نے مسکرا کر کہا۔

    ”شاید یہ تمہاری صحبت کا اثر ہے۔ ورنہ ایک سائنس دان کا جاسوسی سے کیا تعلق۔“

    ”لیکن میں آپ کو یہ بتادینا چاہتا ہوں کہ وہ خون ان کا نہیں، ایک ڈریکو لا کا ہے۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”کیا مطلب؟“ پروفیسر داﺅد زور سے چونکے۔

    انہوں نے تفصیل سے ساری بات دہرادی۔ اتنے میں خان رحمان بھی وہاں آگئے۔ اب سب نے مل کر کھنڈروں کا جائزہ لینے کا پروگرام بنایا۔ وہ دروازے کی طرف مڑے ہی تھے کہ ایک آواز نے ان کے قدم روک لیے۔ 

    ”آپ اتنی آسانی سے کھنڈروں میں نہیں جاسکیں گے۔“

    وہ چونک کر مڑے، فاروق شوخ انداز میں مسکرا رہا تھا۔ یہ جملہ اس کے منہ سے نکلا تھا۔

    ”تو پھر کتنی آسانی سے جاسکیں گے؟“ فرزانہ نے جھلا کر کہا۔

    ”ہمیں ساتھ لے جانا ہوگا۔“ محمود بولا۔

    ”چل بھی سکو گے۔“ فرزانہ بولی۔

    ”چوٹ ہمارے سروں پر آئی ہے ، نہ کہ پیروں میں۔“ فاروق بولا۔

    ”لیکن ڈاکٹر صاحبان نے تمہیں چلنے پھرنے سے منع کیا ہے۔“

    ”ڈاکٹروں کو کیا معلوم ، ہم کتنے مضبوط ارادے کے مالک ہیں۔“ محمود نے کہا۔

    ”اچھا تو پھر ہم پہلے ڈاکٹر صاحبان سے اجازت لے لیں۔“

    ”ہاں ضرور! وہ آکر ہمارا معائنہ کرسکتے ہیں، ہم انہیں بالکل ٹھیک نظر آئیں گے۔“ فاروق بولا۔

    ”چناچہ ڈاکٹر صاحبان کو آنا پڑا، دونوں کا معائنہ کرنے کے بعد وہ حیرت زدہ رہ گئے۔ آخر انہیں یہ کہنا پڑا۔

    ”یہ دونوں چلنے پھرنے کے قابل ہیں، حالانکہ ہمارا خیال تھا ابھی اس حالت تک پہنچنے میںانہیں ایک ہفتہ لگے گا۔“

    ”یہ ہمارے ارادے کی طاقت کا کمال ہے۔“ فاروق بولا۔

    تھوڑی دیر بعد وہ کھنڈروں کی طرف روانہ ہوگئے۔ خان رحمان، پروفیسر داﺅد اور شائستہ بھی ان کے ساتھ تھے۔ اچانک ایک جگہ انسپکٹر جمشید نے اپنی جیپ روک لی۔ پروفیسر داﺅد کو بھی کار روکنا پڑی۔ ابھی وہ شہری حدود سے نہیں نکلے تھے۔

    ”کیا بات ہے ابا جان۔“ فرزانہ نے پریشان ہوکر کہا۔

    ”میں ایک کام بھول گیا ، اکرام کو کچھ ہدایات دینی ہیں۔“

    یہ کہہ کر وہ جیپ سے نیچے اُتر آئے۔ سامنے ہی ایک انگریزی ادویات کی دکان تھی۔ انہوں نے وہاں سے اکرام کو فون کیا اور واپس جیپ میں آبیٹھے۔

    ”آپ نے انکل اکرام کو کیا ہدایات دی ہیں؟“ فرزانہ نے پوچھا۔

    ”بیگم شیرازی اور تمہاری امی ہسپتال میں تنہا رہ گئی ہیں، ان کی حفاظت کا انتظام کرنا ضروری تھا۔ ادھر غلام جیلانی کے بیٹے کی حفاظت کے لیے بھی کچھ کرنا ضروری تھا، لہٰذا میں نے اکرام کو ہدایات دی ہیں کہ طاہر جیلانی کو بھی ہسپتال پہنچادے۔ ان تینوں کو ایک کمرے میں رکھا جائے اور اس کمرے کو پولیس کے پہرے میں دے دیا جائے، اندر خود اکرام موجود رہے،اس کے ہاتھ میں پستول ہو اور انگلی ٹریگر پر ڈریکولاکے بارے میں بھی میں نے اُسے سب کچھ بتادیا ہے۔ یہ بھی کہ وہ اسے کس طرح بھگا سکتا ہے۔“ انہوں نے بتایا۔

    ”آپ تو اس طرح کہہ رہے ہیں جیسے ہم رات سے پہلے ہسپتال واپس نہیں لوٹیں گے۔“ محمود نے پریشان ہوکر کہا۔

    ”کچھ کہہ نہیں سکتا۔ ان کھنڈروں میں خدا جانے کیا حالات پیش آئیں۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”لیکن سننے میں تو یہ آیا ہے کہ ڈریکولا جیسے لوگ دن کے وقت اپنی قبروں سے نہیں نکلتے۔“ فاروق نے کہا۔

    ”ہاں! اس کے باوجود وہاں خطرہ ہے۔“ انہوں نے کہا۔

    ”خیر! دیکھا جائے گا۔“ محمود نے کندھے اُچکا ئے۔

    ان کی جیپ اور پروفیسر داﺅد کی کار آگے پیچھے چلتے ہوئے شہر سے باہر نکل آئیں۔ آسمان بالکل صاف تھا اور سورج خوب چمک رہا تھا۔کھنڈروں کا سلسلہ شروع ہوتے ہی انسپکٹر جمشید نے جیپ روک دی۔ کار بھی رُک گئی، پھر سب نیچے اُتر آئے۔

    ”پروفیسر صاحب! آپ کا ڈریکولا اور اس کی کہانیوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟“

    ”یہ سب بکواس ہے۔ صرف کہانیاں ہیں۔“ پروفیسر داﺅد فوراً بولے۔

    ”پہلے میرا بھی یہی خیال تھا، لیکن اب تو میں ایک عدد ڈریکولا کو اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا ہوں۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”اور ہم بھی دیکھ چکے ہیں۔“ محمود نے کہا۔

    ”اگر ایسا ہے ، تو یہ میرے لیے اس صدی کا سب سے حیرت انگیز واقعہ ہے۔“ انہوں نے کہا، پھر چونک کر بولے۔” یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ چند آدمیوں نے ڈریکولا کا روپ دھار لیا ہو۔“

    ”لیکن وہ اڑنے کے سے انداز اور رفتار سے کس طرح دوڑسکتے ہیں۔“ محمود نے اعتراض کیا۔

    ”اور انسان کا خون کس طرح پی سکتے ہیں۔“ فرزانہ بولی۔

    ”بھئی میں کیا کہہ سکتا ہوں۔یہ میری لائن کی چیز نہیں ہے۔“ پروفیسر داﺅد بولے۔

    ”تو کیا یہ ہماری لائن کی چیز ہے؟“ خان رحمان فوراً بولے۔

    ”شاید یہ ہم میں سے کسی کی لائن کی بھی چیز نہیں۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

    پھر سب آگے بڑھے۔ سب سے پہلے ان کے سامنے وہی کھنڈر آیا جس میں محمود اور فاروق بے ہوش ملے تھے۔

    ”اوہو! ہم تو یہاں کس خیال کے تحت آئے تھے، شاید سبھی بھول گئے۔“ فرزانہ چونک کر بولی۔

    ”ارے ہاں ! ہمیں توخون کے قطرے تلاش کرنے ہیں۔“ 

    ”واقعی باتوں میں اس کا تو خیال ہی نہیں رہا۔ تو ایسا کرتے ہیں، سب کے سب الگ الگ سمتوں میں خون کے قطرے تلاش کرتے ہیں، اس طرح کام آسان ہوجائے گا۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”یہ ٹھیک رہے گا۔“

    خون کے قطروں کی تلاش شروع ہوئی۔ دور دور تک کھنڈر پہلے ہوئے تھے۔ یوں لگتا تھا جیسے کسی زمانے میں یہاں اچھی خاصی آبادی رہی ہو جو شاندار قسم کی عمارات میں رہتی تھی، بعض کھنڈر تو اب تک اچھی حالت میں تھے۔ ان میںسے چند ایک گنبد نما بھی تھے اور ایک گنبد نما عمارت کے کھنڈر کے سامنے فاروق چلا اُٹھا:

    ”ابا جان ذرا اِدھر آیئے۔“

    وہ سب فاروق کی طرف لپکے، وہ جھکا ہوا تھا ۔ نزدیک پہنچنے پر انہوں نے دیکھا، اس جگہ خون کے کچھ قطرے موجود تھے اور ان کا سلسلہ ایک سمت میں چلا گیا تھا۔ یہ جگہ سڑک کے کنارے تھی اور زخمی ڈریکولا شاید اسی جگہ سڑک سے کھنڈر میں داخل ہوا تھا۔ البتہ سڑک پر انہیں خون کے قطرے نظر نہ آئے۔

    ”سڑک پر گاڑیاں گزرتی رہتی ہیں، ان کے ٹائروں نے خون کے قطرے مٹادیے ہوں گے۔“ خان رحمان نے خیال ظاہر کیا۔

    ”تب بھی ان کے نشانات سڑک پر ہونے تو چاہئیں تھے۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”ہوسکتا ہے، ڈریکولا کو کوئی کارمل گئی ہو یا اس نے اپنی کار کہیں چھپا رکھی ہو اور وہ اس میں بیٹھ کر یہاں تک آیا ہو۔“ فاروق نے خیال ظاہر کیا۔

    انسپکٹر جمشید اس کی بات سن کر مسکرائے اور بولے:

    ”تو پھر کار یہاں موجود ہونی چاہیے تھی۔“

    ”اوہ! “ ان سب کے منہ سے ایک ساتھ نکلا۔

    ”یہاں ایک بہت ضروری مسئلہ پیدا ہوگیا ہے اور میں سمجھتا ہوں، اس نقطے کے سمجھ میں آجانے سے ہی کیس حل ہوگا۔ اگر ڈریکولا یا دونوں زخمی ہونے والے ڈریکولا کے پاس کار تھی تو سڑک پر سے کارکون لے گیا۔“ انسپکٹر جمشید پرجوش انداز میں بولے۔

    ”ٹھہرئیے ابا جان !ہم دیکھ چکے ہیں کہ ڈریکو لا ہوا میں اُڑتا ہوا معلوم ہوتا تھا ، وہ لمبی لمبی چھلانگیں لگا رہا تھا اور اس کے پاﺅں کبھی کبھی ہی سڑک پر لگتے نظر آتے تھے۔ ان حالات میں ہوسکتا ہے خون کافی دور دور گرا ہو۔“ فرزانہ نے نیا خیال ظاہر کیا۔

    اس پر انسپکٹر جمشید نے ایک زور دار قہقہہ لگایا اور ان کھنڈروں میں ان کا قہقہہ دیر تک گونجتا رہا۔ انہوں نے حیرت بھرے انداز میں انہیں دیکھا، کیوں کہ فرزانہ کی بات سن کر کسی اور کو تو ہنسی تک نہیں آئی تھی اور وہ قہقہہ لگا رہے تھے۔

    ”خیر تو ہے ابا جان ! آپ نے فرزانہ کی بات پر قہقہہ لگایا ہے یا کوئی اور بات ہے؟ کہیں ڈریکولا کا بھوت تو آپ سے نہیں چمٹ گیا۔“ فاروق نے بوکھلا کر کہا۔

    ”نہیں فرزانہ کی بات ہی اتنی مزے دار تھی کہ میں ہنسے بغیر نہیں رہ سکا۔“ انہوں نے کہا۔

    ”لیکن اس کی یہ بات ہمیں کیوں مزے دار نہیں لگی۔“ محمود کے لہجے میں حیرت تھی دوسری طرف فرزانہ بھی حیران کھڑی تھی۔ بات اس کی سمجھ میں بھی نہیں آئی تھی۔

    ”دیکھو نا….اگر ڈریکولا تقریباً ہوا میں اڑ رہا تھا تو اس کا خون تو مسلسل بہ رہا تھا، خون تو سڑک پر برابر گرتے رہنا چاہیے تھا۔ ہوا میں اڑنے کی صورت میں قطروں کا درمیانی فاصلہ تھوڑا بہت ہی زیادہ ہوسکتا ہے۔ لمبی چھلانگوں کے مطابق ہر گز نہیں ہوسکتا۔“

    ”واقعی آپ کی بات ٹھیک ہے، تو کیوں نہ ہم پہلے سڑک پر شہر کی طرف چل کر دیکھیں ، خون کے قطرے یہاں سے کتنے فاصلے پر ملتے ہیں۔“ محمود نے کہا۔

    ”بالکل ٹھیک! میں بھی یہی چاہتا ہوں۔“ انسپکٹر جمشید جلدی سے بولے۔

    ”تو پھر چلو۔“ پروفیسر داﺅد بولے۔

    وہ سب سڑک پر چلنے لگے، انہوں نے نظریں سڑک سے چپکادیں ۔ سڑک پر خون کا ننھا سا قطرہ بھی ان کی نظروں سے چھپا نہیں رہ سکتا تھا، لیکن تقریباً ایک فرلانگ تک چلتے رہنے کے بعد بھی انہیں خون کا کوئی قطرہ نظر نہیں آیا۔ اب تو اُن کی حیرت کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہا۔

    ”کم از کم اس کی چھلانگیں اتنی لمبی نہیں تھیں۔“ انسپکٹر جمشید کے منہ سے نکلا۔ کھنڈروں میں ہم دیکھ چکے ہیں، خون کے قطروں کی ایک قطار سی آگے چلی گئی ہے۔“ 

    ”ہوں! پھر تو وہی نقطہ دوبارہ پیداہوگیا۔“ فاروق کے منہ سے نکلا۔

    ”ہاں! ہمیں اس پر غور کرنا ہوگا کہ سڑک پر خون کے قطرے کیوں نہیں ہیں اور اب ہم واپس اسی جگہ چلیں گے جہاں سے سڑک پر چلنا شروع کیا تھا۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

    وہ واپس اس جگہ پہنچے اور پھر دھک سے رہ گئے۔ انہوں نے پہلے زمین کو اور پھر ایک دوسرے کو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھا۔

    خون کے قطرے غائب ہوچکے تھے اور دور دور تک کوئی نشاننظر نہیںآرہا تھا۔

    ٭….٭….٭

    ڈریکولا کا بھائی

    ”یا اللہ رحم! یہ کیا ماجرا ہے؟“ خان رحمان کے منہ سے نکلا۔

    ”میں نے تو پہلے ہی کہا تھا۔“ فاروق نے کہا اور جملہ درمیان میں چھوڑ دیا۔

    ”کیا کہا تھا؟“ فرزانہ اس کی طرف جھلا کر پلٹی۔

    ”یہی کہ ہمارا واسطہ ڈریکولا سے نہیں، ڈریکولا کے بھوت سے ہے۔“ اس نے کہا۔

    ”اور اگر یہ ڈریکولا ہے تو پھر بہت عقل مند ڈریکولا ہے، جس نے ہمیں آتے دیکھ کر خون کے قطرے مٹادیے۔“ محمود نے کہا۔

    ”سوال تو یہ ہے کہ اس نے قطرے کس طرح مٹادیے، یہاں تو کھرچنے کے نشان بھی نہیں ہیں۔“ خان رحمان بولے۔

    ”یہ کچھ مشکل نہیں، سپرٹ یا پٹرول جیسی چیزوں سے یہ کام لیا جاسکتا ہے، کیا تم لوگ ہوا میں بو محسوس نہیں کررہے؟“ پروفیسر داﺅد بولے۔

    ”ہاں! بو تو محسوس ہورہی ہے۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔”خیر! اگر قطرے مٹادیے گئے ہیں تو کیا ہوا، ہمیں سمت تو معلوم ہوچکی ہے۔ آﺅ اس طرف چلیں۔“

    ”ابا جان ! کیا اس جگہ ہم خطرے میں نہیں ہیں، کیا خون کے قطرے صاف کرنے والا ہماری تاک میں نہیں ہوگا؟“ فرزانہ نے کہا۔

    ”ہاں! یہ ٹھیک ہے، لیکن بھئی ! ہم خطرے میں کب نہیں ہوتے، خطرات سے کھیلنا تو ہمارا مشغلہ بن چکا ہے۔“ انسپکٹر جمشید مسکرائے اور آگے بڑھنے لگے۔ وہ سب ان کے ساتھ قدم اُٹھانے لگے۔ دل دھک دھک کررہے تھے۔

    اب وہ صرف اندازے سے چل رہے تھے۔ خون کے قطرے نہ مٹادیے گئے ہوتے تو نہایت آسانی سے اس جگہ پہنچ جاتے جہاں ڈریکولا گیا تھا۔ تقریباً پندرہ منٹ تک ملبے کے ڈھیروں اور گری ہوئی دیواروں کو پھلانگتے آخر وہ ایک گنبد والی عمارت کے سامنے پہنچ گئے۔ اس کی سیڑھیاں ابھی تک سلامت تھیں اور ان کی آنکھوں کے سامنے تھیں۔ پورے علاقے پر ہو کا عالم طاری تھا اور سورج ان کے سروں پر چمک رہا تھا۔ اگر چہ موسم سرما تھا، تاہم اس وقت انہیں پسینہ آگیا تھا۔ اب خدا جانے یہ پسینہ خوف سے آیا تھا یا بھاگ دوڑسے۔

    ”کیا خیال ہے، اس عمارت کو اندر سے کیوں نہ دیکھا جائے۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”دیکھ لو یار…. کہیں پھنس نہ جائیں۔“ خان رحمان بولے۔

    ”اللہ مالک ہے۔“ انہوں نے مسکرا کر کہا اور سیڑھیوں پر قدم رکھ دیا۔ فوراً ہی وہ سب مارے خوف کے اچھل پڑے انسپکٹر جمشید کے سیڑھیوں پر قدم رکھتے ہی ایک ہولناک گڑگڑاہٹ ہوئی تھی، یوں جیسے پوری وادی میں زلزلہ آگیا ہو۔ انسپکٹر جمشید بھی چونک کر پیچھے ہٹ آئے۔ گڑگڑاہٹ فوراً رُک گئی۔

    ”میرا خیال ہے، جمشید اندر نہ جاﺅ۔“ خان رحمان نے کپکپائی ہوئی آواز میں کہا۔

    ”اندر جائے بغیر کام کیسے چلے گا۔“ وہ بولے۔

    ”کہیں یہ واقعی روحوں کا معاملہ نہ ہو، جیسا کہ فرانس میں سننے میں آتا ہے۔“

    ”میرا ان باتوں پر ایمان نہیں۔‘ ‘ انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”پھر بھی…. کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ ہم شہر جاکر پوری تیاری کرکے آئیں۔“ پروفیسر داﺅد بولے۔

    پوری تیاری سے آپ کی کیا مراد ہے؟“ انسپکٹر جمشید نے پوچھا۔

    ”یہی کہ ہم لکڑی کی میخیں تیار کر ا لائیں۔ ہوسکتا ہے، اندر ہمارا واسطہ ڈریکولوں سے پڑجائے، لکڑی کی میخوں کے بغیر ہم انہیں ٹھکانے نہیں لگا سکیں گے۔ اب ہم ان کا ٹھکانا دیکھ ہی چکے ہیں اور وہ یہاں سے کہیں جا بھی نہیں سکتے۔“ پروفیسر داﺅد کہتے چلے گئے۔

    ”اگر آپ سب کی مرضی یہی ہے تو واپس چلے چلتے ہیں۔“ انسپکٹر جمشید نے مجبور ہوکر کہا ، ورنہ وہ تو اسی وقت اندر جانا چاہتے تھے۔

    آخر وہ واپس ہوئے۔ راستے میں انہوں نے ایک اخبار فروش لڑکے سے اخبار خریدا…. کیونکہ وہ تو صبح سویرے ہی اس مہم پر نکل کھڑے ہوئے تھے اور ابھی تک اخبار نہیں پڑھ سکے تھے۔ پہلے ہی صفحے نے ان کا سکون درہم برہم کردیا۔ سرخی یہ تھی:

    ”شہر کے پانچ دولت مند آدمیوں کا خون چوس لیاگیا۔“

    نیچے تفصیل درج تھی۔ یہ وارداتیں ایک دن پہلے کی تھیں۔ اس رات دو واقعات تو ان کے سامنے ہی ہوئے تھے اور ان کے علاوہ بھی یقینا ہوئے ہوں گے، جن کے بارے میں انہیں کل ہی معلوم ہوسکتا تھا۔ اخبار میں ڈریکولا کے امکان پر بھی بات کی گئی تھی اور ڈریکولا کے بارے میں پوری تفصیل سے لکھا گیاتھا لوگوں کو اس سے بچنے کی ترکیبیں بھی لکھ دی گئی تھیں۔

    اب شہر میں خوف و ہراس پھیل جائے گا۔ میرا خیال تو یہ تھا کہ ڈریکولا ایک سے زائد ہیں ، یعنی دو یا تین ہوں گے، لیکن اخبار پڑھنے کے بعد یہ کہنا پڑتا ہے کہ ان کی تعداد تقریبا ً پانچ تو ضرور ہے اور ہمیں جلد از جلد اس گنبد والی عمارت پر حملہ کردینا چاہیے۔“ انسپکٹر جمشید کہتے چلے گئے۔

    ”حیرت ہے، یہ اتنے ڈریکولا ہمارے شہر میں کہاں سے آگئے؟“ فرزانہ کے منہ سے نکلا۔

    ”اور وہ بھی یکا یک…. ابھی کل ہی تو پہلی مرتبہ یہ چیز سامنے آئی ہے۔“ محمود نے کہا۔

    ”ہوں، پروفیسر صاحب، کیوں نہ اس گنبد والی عمارت کو ٹینک کے ذریعے روند ڈالا جائے۔“ خان رحمان نے نئی ترکیب سوچی۔

    ”اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ڈریکولا اپنے جسموں سے ضرور ہاتھ دھو بیٹھیں گے، لیکن وہ اپنی روحیں دوسرے جسموں میں داخل کرلیں گے، انہیں مارنے کا تو بس ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یہ کہ جب وہ دن کے وقت سو رہے ہو ں تو ان کے سینوں میں عین دل کے مقام پر لکڑی کی میخیں ٹھوک دی جائیں۔ بس وہ ختم ہوجائیں گے۔“ پروفیسر نے بتایا۔

    ”میں بھی یہی سمجھتا ہوں، لیکن ابھی تک میرا ذہن یہ بات ماننے پر تیار نہیں کہ دنیا میں واقعی ڈریکولا کا وجود موجود ہے۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”خدا ہی بہتر جانتا ہے، میں نے تو جو کچھ ڈریکولا کی کہانیوں میں پڑھا ہے ، وہی بتایا ہے۔“ پروفیسر بولے۔

    وہ گھر پہنچے، سب سے پہلے انسپکٹر جمشید نے اکرام کو فون کیا۔ اس نے بتایا کہ ہسپتال میں خیریت ہے۔ انہوں نے اسے ہدایت دیں اور رات کے وقت خاص طور پر ہوشیار رہنے کے لیے کہا۔ پھر وہ لکڑی کی میخیں تیار کرنے میں مصروف ہوگئے۔ اس کام کے لیے وہ کسی بڑھئی کی مدد بھی لے سکتے تھے ،لیکن انسپکٹر جمشید نے اسے مناسب نہ سمجھا۔

    انہیں یہ سب کچھ بہت عجیب لگ رہا تھا۔ دوپہر سے پہلے وہ ایک بار پھر اس عمارت تک پہنچ جانا چاہتے تھے مگر میخیں تیار کرتے اور دوپہر کا کھانا کھاتے انہیں دیر ہوگئی اور ابھی انہیں ہسپتال بھی جانا تھا، وہاں بیگم شیرازی اور طاہر جیلانی کے پاس کچھ بیٹھنے کے بعد وہ باہر نکلے تو سورج مغرب میں جھک گیا تھا۔

    ”میرا خیال ہے، اب جانے کا کوئی فائدہ نہیں۔“ پروفیسر بولے۔

    ”ابھی تو سورج غروب ہونے میں دیر ہے۔“محمود نے کہا۔

    ”ہاں ! لیکن اس وقت تک وہ اپنی نیند پوری کرچکے ہیں اور ہم ان تک پہنچیں گے تو وہ جاگ جائیں گے، جب کہ ہم سوتے میں ان کے سینوں میں میخیں ٹھوکنا چاہتے ہیں۔“

    ”کمال ہے، ہم تو اس طرح باتیں کررہے ہیں، جیسے سچ مچ کے ڈریکولوں سے واسطہ آپڑا ہو اور جیسے وہ سب کہانیاں بالکل سچ ہیں جو ہم نے پڑھی ہیں۔“ فاروق نے ہنس کر کہا۔

    ”تو پھر تمہارا کیا خیال ہے، بات دراصل یہ ہے۔“ انسپکٹر جمشید نے اسے دلچسپ نظروں سے دیکھ کر کہا۔

    ”میں تو یہ سمجھتاہوں کہ کوئی شہر کو الو بنارہا ہے۔“

    ”شہر کو الو…. تمہارا مطلب ہے کوئی شخص پورے شہر کو الو بنارہا ہے۔“ محمود نے حیران ہوکر کہا۔

    ”ہاں اور شہر میں ہم بھی رہتے ہیں۔“ فاروق مسکرایا۔

    ”یار کچھ تو خیال کرو، ہمارے ساتھ پروفیسر انکل اور انکل خان رحمان بھی ہیں۔“ محمود نے جھلا کر کہا۔

    ”خیر خیر…. تمہیں بہت جلد معلوم ہوجائے گا۔“ فاروق نے منہ بنایا۔

    ”فاروق ! تم کہنا کیا چاہتے ہو؟“ انسپکٹر جمشید نے پوچھا۔

    ”یہی کہ یہ سب کسی نے چکر چلایا ہے۔“ اس نے کہا۔

    ”تھوڑی دیر کے لیے تمہاری بات مان لیتے ہیں۔ اب تم یہ بتاﺅ کہ طاہر جیلانی اور بیگم شیرازی کا خون کہاں چلا گیا؟ شہر کے پانچ دولت مند آدمیوں کا خون کس طرح غائب ہوگیا۔“انہوں نے پوچھا۔

    ”میں ابھی اس سوال کا جواب نہیں دے سکتا، تاہم گنبد والی عمارت کا جائزہ لینے کے بعد کچھ کہہ سکوں گا۔“ فاروق نے کہا۔

    ”خدا کا شکر ہے کہ تم اس سوال کا جواب نہیں دے سکتے۔“ فرزانہ مسکرائی۔

    ”ہاں!ورنہ تمہیں بہت دکھ ہوتا کہ تمہاری بجائے میں نے کیوں جواب دے دیا۔“ فاروق جل بھن کر بولا۔

    ”اچھا تو پھر کیا طے رہا، کل صبح کھنڈروں کا رخ کریں گے۔“

    انسپکٹر جمشید نے بات بدلتے ہوئے کہا۔

    ”ہاں ! کل ہی ٹھیک رہے گا۔“

    ”اس کا مطلب ہے، آج رات ہمیں ہسپتال میں گزارنا ہوگی۔“ محمود کے منہ سے نکلا۔

    ”ہاں!ہوسکتا ہے، ڈریکولا کا کوئی بھائی طاہر جیلانی یا بیگم شیرازی کا خون چوسنے آئے۔“ فاروق نے مسکرا کر کہا۔

    ”ڈریکولا کا بھائی۔ بھئی واہ۔ یہ بھی خوب رہی۔“ خان رحمان ہنسے بغیر نہ رہ سکے۔

    ”وہ رات انہوں نے ہسپتال میں جاگ کر گزاری ، لیکن کچھ بھی نہ ہوا۔ طاہر جیلانی اور بیگم شیرازی کی حالت بہت بہتر تھی، چنانچہ وہ سورج نکلتے ہی کھنڈرات کی طرف روانہ ہوگئے۔ انہوں نے اپنی اس مہم کے بارے میں کسی کو کچھ نہیں بتایا تھا، روانہ ہونے سے پہلے انہوں نے اخبار ضرور دیکھ لیا تھا اور شہر میں جگہ جگہ ڈریکولا کے حملوں کی خبریں پڑھنے میں آئی تھیں۔ پورا شہر خوف کی لپیٹ میں آچکا تھا۔ حکام نے اخبارات اور ویڈیو کے ذریعے اپنے دروازوں اور کھڑکیوں میں لوہے کی سلاخیں لگوانے کا مشورہ دیا تھا۔اور رات کے وقت اپنے گھر وں میں آگ جلائے رکھنے اور بلب روشن رکھنے کی ہدایات شائع ہوئی تھیں۔ خیال ظاہر کیا گیا تھا کہ جلائی ہوئی لکڑی سے اگر ڈریکولا پر حملہ کیا جائے تو وہ بھاگ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ محکمہ پولیس کے اعلیٰ حکام نے فرانس کے حکام سے بھی رابطہ قائم کیا تھا۔ تاکہ وہاں سے کسی ماہر کو بلوایا جاسکے جو ڈریکولوں کا مقابلہ کرنے کا کام انجام دے سکے۔

    ”ایسے میں کسی کو انسپکٹر جمشید کا خیال تک نہ آیا، کیونکہ کوئی یہ سوچ ہی نہ سکا کہ وہ بھی ڈریکو لا کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔ ان کے محکمے کے تمام لوگ بھی اس بات سے بے خبر تھے کہ انسپکٹر جمشید کہاں اور کس حال میں ہیں اور وہ ان کھنڈارت کی طرف بڑھ رہے تھے۔ اپنی پوری پارٹی کے ساتھ۔ اکرام کی ڈیوٹی آج بھی ہسپتال میں ہی تھی۔

    ان کی جیپ کی پچھلی سیٹ پر لکڑی کی لمبی لمبی میخیں رکھی تھیںا ور لوہے کے دو ہتھوڑے بھی۔ محمود، فاروق اور فرزانہ بار بار مڑ مڑ کر ان ہتھیاروں کو دیکھ رہے تھے۔آج تک کسی دشمن کا مقابلہ انہوں نے اس قسم کے ہتھیاروں سے نہیں کیا تھا۔ وہ لمحہ بہ لمحہ کھنڈروں کے نزدیک ہوتے جارہے تھے۔

    ٭….٭….٭

    سڑک کے کنارے انہوں نے جیپ اور کار روک دی اور نیچے اتر آئے۔ لکڑی کی میخیں ہاتھوں میںتھام کر اور ہتھوڑے پکڑ کر وہ اس گنبد والی عمارت کی طر ف بڑھے۔ انسپکٹر جمشید نے ہاتھ میں پستول بھی تھام رکھا تھا۔

    ”آج کا معرکہ فیصلہ کن ہوگا، ہم کامیاب لوٹیں گے، ورنہ یہیں ختم ہوجائیں گے، کیونکہ ناکام لوٹنے کی صورت میں یہ لوگ ہمارے شہر پر چھاجائیں گے اور جینا حرام کردیں گے۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”ٹھیک ہے ابا جان! آج ہم ان ڈریکولا کے بچوں کو ناکوں چنے چبوادیں گے۔“ فاروق نے کہا اور اس کے جملے پر انہیں ہنسی آگئی۔ دور دور تک ان کے علاوہ وہاں اور کوئی نہ تھا۔

    بس ٹوٹی پھوٹی دیواریں ، ستون اور ملبے کے ڈھیرہی ڈھیرتھے۔ ان ڈھیروں کے درمیان سے ہوتے ہوئے وہ برابر اس عمارت کی طرف بڑھ رہے تھے اور آخر اس کے سامنے پہنچ گئے۔

    ”کیا تم لوگ تیار ہو؟“ انسپکٹر جمشید نے دبی آواز میں کہا۔

    ”جی ہاں! ہم تیار ہیں۔“ محمود نے کہا۔

    ”تم میں سے ہر ایک ، ایک میخ تھام لے ، ہتھوڑوں کاکام اینٹوں سے بھی لیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا، خان رحمان اورپروفیسر داﺅد کے پاس ہتھوڑے موجود تھے۔ اس لیے محمود، فاروق اور فرزانہ نے اینٹیں اٹھالیں ۔ شائستہ کو تو ہسپتال میں ہی چھوڑ آئے تھے اور اس نے آنے کے لیے ضد بھی نہیںکی تھی۔

    جونہی انسپکٹر جمشید نے پہلی سیڑھی پر قدم رکھا۔ ہولناک گڑگڑاہٹ ہوئی، اگر کوئی اور ہوتا تو شاید چیخیں مارتا ہوا بھاگ کھڑا ہوتا، لیکن انہوں نے پروانہ کی اور ان کے پیچھے دوسرے بھی چڑھتے چلے گئے۔ گڑگڑاہٹ کے ساتھ وہ آواز بھی شروع ہوگئی جو نہ کسی درندے کی تھی اور نہ انسان کی البتہ بہت خوف ناک تھی۔ جیسے کچھ لوگوں کا گلا کاٹا جارہا ہو اور خرخراہٹ کی بے شمار آوازیں مل جل کر آرہی ہوں۔ ایک بار تو ان کے دل دہل گئے۔ اگر انسپکٹر جمشید ساتھ نہ ہوتے تو شاید وہ بھاگ ہی کھڑے ہوتے، لیکن انسپکٹر جمشید تو بدستور آگے بڑھ رہے تھے اور انہیں چھوڑ کر وہ کیسے بھاگ سکتے تھے۔

    سیڑھیاں ختم ہونے کے بعد ایک دروازہ تھا، وہ اس دروازے میں داخل ہوئے تو ان کے سامنے برآمد ہ آگیا اور برآمدے میں دائیں طرف ایک کمرے کا دروازہ ۔ دروازہ کھلا تھا۔ وہ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے کمرے کے اندر داخل ہوگئے اور پھر دھک سے رہ گئے۔ اندر پانچ تابوت رکھے تھے ان کے دروازے بند تھے، انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا جیسے کہہ رہے ہوں ، تو کیا ڈریکولا کی کہانیاں سچ ہی ہیں۔

    تابوت کے نزدیک پہنچتے ہی عمارت میں گہری خاموشی چھا گئی۔ ان کے دل دھک دھک کر رہے تھے اور اس خاموشی میں وہ دلوں کی دھڑکنیں صاف سن سکتے تھے۔

    ”ہم بیک وقت خطرہ مول نہیں لیں گے، پہلے صرف ایک تابوت کھول کر دیکھیں گے اور اگر ہمیں اس میں کوئی مردہ لیٹا نظر آیا تو اس کے دل میں لکڑی کی میخ ٹھوک دیں گے۔“ پروفیسر داﺅد بولے۔

    ”ٹھیک ہے۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔ وہ اس وقت بہت حیران تھے، تابوتوں کو دیکھ کر ان کے سب خیالات غلط ثابت ہورہے تھے۔ انہوں نے تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ واقعی ڈریکو لا ﺅں سے مقابلہ کرنا پڑے گا۔

    انہوں نے آگے بڑھ کر سب سے پہلے تابوت کا ڈھکنا اٹھایا۔ دوسرے ہی لمحے ان سب کی چیخیں نکل گئیں، لیکن انسپکٹر جمشید کے منہ سے کوئی چیخ نہیں نکلی تھی، البتہ دم بخود وہ بھی رہ گئے تھے۔

    اندر ڈریکولا سے ملتی جلتی شکل کا ایک آدمی لیٹا تھا۔ اس کے دو نوکیلے دانت باہر نکلے ہوئے تھے، ہونٹ تازہ خون سے تر تھے۔ آنکھیں کھلی تھیں، جن میں بلا کی چمک تھی، یہ چمک انتہائی خوفناک تھی۔ دونوں آنکھیں انہیں بری طرح گھورتی معلوم ہوئیں۔

    ”رحمان جلدی کرو، میخ اس کے دل میں اتار دو۔“ پروفیسر داﺅد چلائے۔

    ”خان رحمان نے تھر تھر کانپتے ہاتھوں سے لکڑی کی میخ اس کے دل کے مقام پر رکھ دی اور پروفیسر داﺅد نے ہتھوڑا میخ کے سر پر پوری قوت سے دے مارا۔ فوراً ہی ایک بھیانک چیخ عمارت میں گونجی اور خون اس کے سینے سے فوارے کے مانند اُبل پڑا۔ انہیں اس کی آنکھیں باہر کو اُبلتی معلوم ہوئیں۔ ان کے رونگٹے کھڑے ہوئے۔

    انسپکٹر جمشید نے یہ منظر بغور دیکھا، انہوں نے اس کارروائی میں کوئی حصہ نہیں لیا تھا۔ اتنی دیر میں خان رحمان اور پروفیسر داﺅد دوسرے تابوت کی طرف بڑھ چکے تھے۔ وہ جلد از جلد اس کام سے فارغ ہوجانا چاہتے تھے جیسے انہیں کسی نظر نہ آنے والے دشمن کی تلاش ہو۔ اسی وقت دوسری چیخ گونجی اور انہیں معلوم ہوگیا کہ خان رحمان اور پروفیسر داﺅد نے دوسرے ڈریکولا کے ساتھ بھی وہی سلوک کر ڈالا ہے۔

    وہ اس کارروائی کو اس طرح دیکھتے رہے جیسے ان کا اس سے کوئی تعلق ہی نہ ہو۔ نہ جانے یکا یک انہیں کیا ہوگیا تھا۔ ادھر خان رحمان اور پروفیسر داﺅد تیسرے ڈریکولا کے بعد چوتھے کا رُخ کررہے تھے اور اس وقت فرزانہ نے اس تبدیلی کو محسوس کرلیا جو ان میں رونما ہوئی تھی۔ وہ ان کے قریب کھسک سے آئی اور سرگوشی میں بولی:

    ”ابا جان! خیر تو ہے، آپ کچھ پریشان دکھائی دے رہے ہیں۔“

    ”ہاں! میں پریشان ہوں۔“ انہوں نے کھوئے کھوئے انداز میں کہا۔

    ”آخر کیوں…. بات کیا ہے، کیا یہ سب کچھ آپ کی مرضی کے مطابق نہیں ہورہا۔“

    ”کچھ کہہ نہیں سکتا۔“ انہوں نے عجیب لہجے میں کہا۔

    ”بات کوئی ضرور ہے اور آپ چھپا رہے ہیں۔“ فرزانہ بولی۔

    ”شاید تم ٹھیک کہتی ہو ، مجھے ایسا محسوس ہورہا ہے جیسے کوئی ہماری ان حرکات پر خوب قہقہے لگا رہا ہو، جسے ہم کامیابی سمجھ رہے ہیں، دراصل یہ ہماری ناکامی ہو۔“

    ”بظاہر تو ایسا نظر نہیں آتا۔“ فرزانہ نے کہا۔

    ”خیر، پانچوں چیخ بلند ہونے دو، پھر دیکھیں گے۔“ انہوں نے کہا اور پھر خان رحمان اور پروفیسر داﺅد کی طرف متوجہ ہوگئے۔

    وہ اب پانچویں تابوت کی طرف بڑھ رہے تھے اور پھر فضا میں پانچویں چیخ بھی گونج اٹھی۔ خان رحمان خوشی سے اچھل پڑے۔

    ”وہ مارا! ہم نے اس مصیبت کا خاتمہ کردیا۔ اب کسی کے جسم کا خون غائب نہیں ہوگا۔“ انہوں نے بلند آواز میں کہا۔

    ”بالکل ٹھیک، اور اب ہم شہر چلیں گے، شہر والوں کو یہ خوش خبری سنائیں گے۔“ پروفیسر داﺅد بولے۔

    ”مگر ابا جان کیوں خاموش ہیں۔“ محمود نے پریشان ہو کر کہا۔

    ”کوئی خا ص بات نہیں۔“ انہوں نے مسکر اکر کہا۔

    ”تو پھر چلو…. واپس چلیں۔“ خان رحمان نے کہا۔

    ”ہاں ! چلو….“ پروفیسر داﺅد بولے۔

    وہ عمارت کے بیرونی دروازے کی طرف بڑھے۔ اچانک انہیں محسوس ہوا، انسپکٹر جمشید ان کے ساتھ قدم نہیں اُٹھا رہے ہیں وہ چونک کر مڑے۔

    ”کیا بات ہے ابا جان ! کیا آپ نہیں چلیں گے۔“

    ”ہوں، چلو چل رہا ہوں۔“ انہوں نے اس طرح کہا جیسے اب تک سوتے رہے ہوں اور قدم اُٹھانے لگے ۔ 

    ”وہ ان سب سے پیچھے چلنے لگے۔ پستول اب تک ان کے ہاتھ میں تھا۔ سب سے آگے خان رحمان تھے، وہی دروازے تک پہنچے اور پھر چونک اُٹھے۔ دراوزہ بند تھا جب کہ اندر داخل ہوتے وقت انہوں نے دروازہ کھلا چھوڑ دیا تھا۔

    ”ارے! دروازہ کس نے بند کیا؟“ ان کے منہ سے نکلا۔

    ”شش…. شاید…. کسی بھوت نے شرارت کی ہو۔“ فاروق ہکلایا۔

    خان ر حمان نے دروازے کا ہینڈل پکڑ کر کھینچا،لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوا۔ خان رحمان کا رنگ اڑگیا۔ انہوں نے پورا زور لگاڈالا، لیکن دروازہ نہ کھلا ۔ اب تو ان سب کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ چہروں پر ہوائیاں دوڑ گئیں۔

    ”یہ…. یہ کیا چکر ہے؟“ خان رحمان نے بوکھلا کر کہا۔

    ”مم…. میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ یہ ڈریکولا نہیں، ڈریکولا کا بھوت ہے،آخر پھنس گئے نہ بھوت کے چکر میں۔“ فاروق نے پرسکون آواز میں کہا۔

    ”جمشید! تم کیوں خاموش ہو، کچھ بولتے کیوں نہیں۔“

    ”کیا بولوں…. مجھے کافی دیر پہلے یہ احسا س ہوگیا تھا کہ ہم اس عمارت میں قید کرلیے گئے ہیں۔“ انہوں نے سنجیدہ لہجے میں کہا۔

    ”تو بتایا کیوں نہیں تھا۔“ پروفیسر داﺅد جھلا کر بولے۔

    ”جب مجھے یہ احساس ہوا ہم اندر آچکے تھے اور باہر نکلنے کا موقع ہاتھ سے نکل چکا تھا۔“

    ”آخر دروازہ کس نے بند کیا؟ ڈریکولا تو سارے اندر موجود ہیں۔“پروفیسر داﺅد بولے۔

    ”یہ ڈریکولا نہیں ، ان کے مجسمے ہیں۔“

    ”مجسمے؟“

    ان سب کے منہ سے ایک ساتھ نکلا۔ سب کی آنکھیں مارے حیرت اور خوف کے پھیلتی چلی گئیں۔

    ٭….٭….٭


    قید اور انجام

    ”کیا کہا، تم نے مجسمے؟“ پروفیسر داﺅد بری طرح چیخے۔

    ”ہاں! مجسمے…. آپ مجسموں کے سینوں میں میخیں گاڑ تے رہے ہیں۔“

    ”شاید تمہارا دماغ چل گیا ہے۔ کیا تم نے ان کے سینوں سے خون اُبلتے نہیں دیکھا؟“ پروفیسر داﺅد بولے۔

    ”ہاں! دیکھا ہے۔ اس کے باوجود میں یہی کہوں گا کہ یہ مجسمے ہیں۔“

    ”آخر کیسے؟“

    ”انہیں چھو کر دیکھ لیں، یہ پلاسٹک کے مجسمے ہیں، گوشت پوست کا ان سے دور کا بھی واسطہ نہیں ، ہمیں نہایت خوبصورتی سے بے وقوف بنایا گیا ہے۔ اسی لیے خون کے قطرے مٹادیے گئے تھے تاکہ ہم شک میں پڑجائیں اور اس طرف چلے آئےں۔ دراصل ان واقعات کے پیچھے کسی بہت ہی چالاک ذہن کا ہاتھ ہے۔“

    ”اور اس ذہن کا مقصد کیا ہے، ظاہر ہے کہ خون واقعی جسموں سے نکالا گیا ہے۔“

    ”ہاں ! اس میں کوئی شک نہیں، لیکن خیر، تفصیل بعد میں بتاﺅں گا، پہلے تو یہ یقین کرلینا چاہیے کہ یہ پلاسٹک ہی کے ہیں یا نہیں۔“

    یہ کہہ کر وہ تابوتوں کی طرف پلٹے۔ ان کے ڈھکنے ابھی تک کھلے پڑے تھے۔ انہوں نے پہلے ڈریکولا کے جسم کو چھو کر دیکھا اور پھر انہیں بھی چھونے کی دعوت دی۔ چند لمحے بعد ہی انہیں یہ حقیقت تسلیم کرنا پڑی کہ وہ واقعی پلاسٹک کے بنے ہوئے مجسمے تھے۔

    ”اُف میرے اللہ ! یہ کیا چکر ہے، اگر یہ پلاسٹک کے ہیں تو ان میں خون کہاں سے آگیا۔“

    ”پلاسٹک کی ہی تھیلیوں میں خون بھر کر اگر ان مجسموں میں رکھ دیا جائے اور لکڑی کی میخوں سے ان میں سوراخ کردیا جائے تو خون باہر نکلے گا، کیونکہ پلاسٹک ٹھوس حالت میں استعمال کیا گیا ہے۔“ انہوں نے بتایا۔

    ”لیکن آخر ایسا کیوں کیا گیا ہے؟“

    ”صرف اس لیے، اگر کوئی ادھر آہی نکلے تو اسے یہ یقین کرلینا پڑے کہ ان کا واسطہ واقعی ڈریکولا سے ہے۔“

    ”تب تو ہم یہ یقین کرسکتے تھے، پھر ہمیں یہاں سے نکل کیوں نہیں جانے دیا گیا۔“پروفیسر داﺅد نے اعتراض کیا۔

    ”اس لیے کہ مجھے پہچان لیا گیا ہے اور مجرم مجھ سے اچھی طرح واقف ہے، وہ جانتا ہے، میں اس کی بنائی ہوئی کہانی پر یقین نہیں کروں گا۔ اس لیے دروازہ بند کردیا گیا ہے، ہمارے علاوہ یہاں جو کوئی بھی آئے گا،اوّل تو سیڑھیوں پر سے ہی خوف زدہ ہوکر واپس چلا جائے گا ، ورنہ ان تابوتوں کو ایک نظر دیکھ لینے کے بعد تو کسی کو شک رہ ہی نہیں جائے گا اور شہر یہ خبر آنافاناً میں مشہور ہوجائے گی کہ یہاں واقعی ڈریکولا آبسے ہیں۔“

    ”تو آخر حقیقت کیا ہے۔“ خان رحمان چلائے۔

    ”حقیقت تمہارے سامنے ہے، یہ سب نقلی ڈریکولا ہیں، مجرم ڈریکولا کے روپ میں لوگوں کے جسموں سے خون نچوڑ لیتے ہیں اور پھر ضرورت مند لوگوں کو مہنگے داموں فروخت کردیتے ہیں۔“

    ”اوہ…. تت…. تو ….کیا….“ فرزانہ ہکلائی، اس کی آنکھیں مارے حیرت کے پھیل گئیں۔

    ”ہاں! تم ٹھیک سمجھیں۔ “ انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”تو کیا تم مجرم کو جان چکے ہو۔“ خان رحمان نے بے تاب ہوکر پوچھا۔

    ”اگر میں پہچان نہ گیا ہوتا تو اس وقت اس عمارت کا دروازہ بند نہ کردیا جاتا۔“ انہوں نے کہا۔

    ”اوہ! اب ہم کیسے نکلیں گے یہاں سے؟“

    ”خدا ہم پر مہربان ہے، ہم لوہے کے ہتھوڑے ساتھ لے کر آئے ہیں، ان سے دیوار توڑی جاسکتی ہے۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

    لیکن فوراً ہی ان کی مسکراہٹ بجھ گئی۔انہوں نے ناک سکیڑلی، پھر گھبرا کر بولے۔

    ”اوہ ! یہ گیس….“

    ان کے الفاظ درمیان میں ہی رہ گئے۔ فوراً ہی وہ تڑپے گرے اور سب کے سب بے ہوش ہوگئے۔

    ہوش آیا تو اسی عمارت میں تھے اور رسیوں سے جکڑے پڑے تھے۔ انہوں نے گردن اِدھر اُدھر گھما کر دیکھا، کمرے میں ان کے علاوہ تین آدمی اور تھے جو تابوتوں کے اوپر بیٹھے تھے۔ انہیں دیکھ کر فرزانہ کی آنکھیں مارے حیرت کے پھیل گئیں، البتہ انسپکٹر جمشید مسکراتے رہے۔

    ”میں پہلے ہی جان گیا تھا کہ ان واقعات کے پیچھے تمہارا ہاتھ ہے۔“ انہوں نے کہا۔

    ”تم سمجھ گئے تھے، اسی لیے تو یہاں نظر آرہے ہو۔ اب سنو ! ہمارا پروگرام…. تمہیں ان تابوتوں میں بند کردیا جائے گا۔ تمہارا لباس اور رنگ ڈھنگ ڈریکولا جیسے بنادیے جائیں گے۔ تمہیں مکمل طور پر بے ہوش کردیا جائے گا اور منہ پر ٹیپ چپکا دی جائے گی، کپڑوں کے اندر سے نائیلون کی رسیاں گزار کر تمہیں ان تابوتوں سے جکڑ دیا جائے گا۔ پھر ہم شہر میں خون چوسنے کی وارداتیں کریں گے اور جان بوجھ کر کچھ دلیر لوگوں کو اپنے پیچھے لگا لائیں گے۔ وہ اس عمار ت میں آئیں گے اور تابوتوں میں تمہیں بند دیکھ کر خیال کریں گے کہ ڈریکولا بند ہیں، چنانچہ وہ شہر جائیں گے او رلکڑی کی میخیں لے کر یہاں آجائیں گے،پھر تمہارے سینوں میں وہ میخیں گاڑ دیں گے، کہو کیسی رہے گی؟“

    ”بہت اچھی رہے گی۔“ فاروق نے ہنس کر کہا۔ حالانکہ دل ہی دل میں وہ ان کا پروگرام سن کر کانپ گیا تھا۔

    ٭….٭….٭

    ”ابا جان! آخر یہ کون لوگ ہیں۔“ محمود نے پوچھا۔

    ”ارے ہاں! اس کیس کے دوران تمہیں ان سے ملنے کا تو اتفاق ہی نہیں ہوا۔ سنو …. یہ تین ہیں، ان میں سے دو ڈریکولا کے بھیس میں خون حاصل کرتے ہیں، طریقہ یہ ہے کہ گیس کے ذریعے اپنے شکار کو بے ہوش کردیتے ہیں اور پھر سرنج کے ذریعے نسوں سے خون نکال لیتے ہیں۔ خون نکالنے کے لیے یہ خاص طور پر گلے کے قریب سے گزرنے والی نسوں کا انتخاب کرتے رہیں تاکہ دیکھنے والے کو یہی گمان ہو کہ گردن سے خون چوسا گیا ہے۔ اگر کوئی ان کا تعاقب کرتا ہے تو کھنڈروں کی طرف آنے والی سڑک پر دوڑ پڑتے ہیں۔ انہوں نے اپنے جوتوں میں ایک خاص قسم کی ربڑ لگوا رکھی ہے، یہ ربڑا نہیں اوپر اچھال دیتی ہے اور یہ اُڑتے ہوئے نظر آتے ہیں اور اگر کوئی تعاقب کرتا ہے تو تیسرا ساتھی کار لے کر سڑک پر موجود رہتا ہے اور ان دونوں کو کار میں لے کر ہوا ہوجاتا ہے۔ کار میں ہی یہ ڈریکولا کے لباس سے چھٹکارا حاصل کرلیتے ہیں۔ ان کا پیچھا کرنے والے کھنڈروں تک پہنچ جاتے ہیں۔ یہ بھی آگے جاکر کھنڈروں میں داخل ہوجاتے ہیں۔ یہاں انہوں نے ٹیپ ریکارڈ اور لاﺅڈ سپیکر فٹ کررکھے ہیں۔ ان پر یہ وہ عجیب اور خوفناک آواز نشر کرتے ہیں اور اس طرح تعاقب کرنے والے خوفزدہ ہوجاتے ہیں۔ اس عمارت کی سیڑھیوں کے نیچے گڑگڑاہٹ پیدا کرنے کے لیے ایک مشین لگا رکھی ہے ۔ اب میں تمہیں یہ بھی بتادوں کہ یہ ہیں کون۔ ان میں سے ایک تو ڈاکٹر انصاری ہے، دوسرا خون بنک کا فاضلی اور تیسرا فاضلی کا ساتھی، جو بنک کے باہر کاﺅنٹر پر موجود رہتا ہے۔ یہ بھی بتاتا چلوں کہ مجھے شک کیسے ہوا، بیگم شیرازی کے گھر میں ملنے والا شیشے کا وہ ٹکڑا تو تمہیں یاد ہوگا، جس پر خون بھی لگا ہوا تھا۔ اس روز دراصل اتفاق سے سرنج ڈاکٹر انصاری کے ہاتھ سے گر کر ٹوٹ گئی تھی، خون کے نشانات تو اس نے سپرٹ وغیرہ سے صاف کردیے لیکن وہ ٹکڑا اس کی نظروں میں آنے سے رہ گیا۔یہیں سے میں نے اصل معاملے کو تاڑنا شروع کیا تھا۔ پھر سڑک کنارے خون کے دھبے ملے تھے، لیکن سڑک پر نہیں تھے، ہم نے ایک ڈیڑھ فرلانگ تک سڑک کاجائزہ بھی لے ڈالا تھا، لیکن دھبے نہیں ملے، اس لئے میں نے اندازہ لگالیا کہ وہ یہاں تک کار پر آئے تھے، کار موجود نہیں تھی، بس میں سمجھ گیا کہ ان کی تعداد ایک سے زائد ہے اور میں تمہیں یہ بھی بتادوں…. تم سوچ رہے ہوگے کہ میں نے یہ سب باتیں کیسے جان لیں تو سنو ، فرانس اگرچہ اس قسم کے واقعات کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، لیکن دراصل وہاں بھی ایسے ہی فرضی ڈریکولا ملتے ہیں جنہوں نے کہانیوں کی وجہ سے یہ رُوپ دھا رکر خون جمع کرنے کا کاروبار کررکھا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ وہاں کچھ لوگ واقعی خون چوسنے لگ گئے ہوں، لیکن بدروحوں کا کوئی وجود نہیں، میں نے فرانس میں موجود اپنے ایک دوست سے ایک بار ان واقعات کی حقیقت معلوم کی تھی تو اس نے مجھے جواب میں ا س کی تفصیل لکھی تھی۔ اور یہی تفصیل ان دنوں میں میرے کام آئی۔“

    انسپکٹر جمشید بتاتے چلے گئے اور ان پر سب راز کھلتے چلے گئے۔

    ”تو پھر آپ نے یہاں پھنسنا کیوں منظور کیا؟“ محمود نے سوال کیا۔

    ”اس کے بغیر یہ لوگ سامنے نہیں آسکتے تھے۔ جب انہوں نے وہ گیس چھوڑی اور سب بے ہوش ہوکر گرے، اس وقت بھی میں بے ہو ش نہیں ہوا تھا اور جب یہ لوگ مجھے باندھ رہے تھے تو میں نے اپنے جسم کو پھلا لیا تھا، چنانچہ اب میں نے اپنے جسم سے زائد ہوا نکال دی ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ رسیاں ڈھیلی ہوگئی ہیں اور میں ان میں سے ہاتھ نکال سکتا ہوں، نہ صرف یہ کہ ہاتھ نکال سکتا ہوں، اپنی خفیہ جیب سے پستول بھی نکال سکتا ہوں جو میں ایسے ہی موقعے کے لیے چھپالایا تھا۔ اگر تم لوگوں کو یقین نہیں تو یہ دیکھ لو۔“

    ان الفاظ کے ساتھ ہی ان کا پستول والا ہاتھ سامنے آگیا اور تینوں مجرم دھک سے رہ گئے اور ان سب کے چہرے خوشی سے کھل اُٹھے۔

    ”ارے! یہ تو دیکھتے ہی دیکھتے کایا پلٹ گئی۔“ فاروق کے منہ سے نکلا۔

    ”سچ بات تو یہ ہے کہ ابا جان ان سے بھی بڑے ڈریکولا ہیں۔“ فرزانہ نے مسکرا کر کہا۔

    ”ہائیں ! تم ابا جان کو ڈریکولا بنارہی ہو۔ جب کہ انہوں نے ڈریکولاﺅں کو آدمیوں میں بد ل دیا۔“ محمود نے بھی شوخ لہجے میں کہا۔

    ”شکر کرو کہ وہ تمہیں ڈریکولا نہیں بنارہی۔“ فاروق بولا اور سب ہنسنے لگے۔

    انسپکٹر جمشید خود کو رسیوں سے آزاد کرتے جارہے تھے اور ان کے پستول کی نالی بدستور ان تینوں کی طرف اُٹھی ہوئی تھی۔

    ٭….٭….٭

    اس سلسلے کی مزید تحاریر


    موت کا جزیرہ

    موت کا جزیرہ

    • مئی 25, 2020


    پانچ قدم پہ موت

    پانچ قدم پہ موت

    • مئی 25, 2020


    سازشی چہرہ

    سازشی چہرہ

    • مئی 25, 2020


    بھوت بنگلہ

    بھوت بنگلہ

    • مئی 25, 2020


    خونی جال

    خونی جال

    • مئی 25, 2020


    آخری امید

    آخری امید

    • مئی 25, 2020


    چوہے دان

    چوہے دان

    • مئی 25, 2020


    ڈریکولا کا بھوت

    ڈریکولا کا بھوت

    • مئی 25, 2020


    خونی سائنسدان

    خونی سائنسدان

    • مئی 25, 2020
  • پانچ قدم پہ موت


    پیچھا کرنے والے

    پروفیسر داﺅد اور ان کی بیٹی شائستہ ایک دکان سے نکلے۔ ان کے ہاتھوں میں خریدی ہوئی چیزوں کے بنڈل تھے۔ سڑک کے کنارے ان کی نیلے رنگ کی کار کھڑی تھی۔ دونوں کار میں بیٹھ گئے پھر انہوں نے کار موڑ لی اور گھر کی طرف روانہ ہو گئے۔ اچانک شائستہ چونک اٹھی۔

    ”ابا جان! ایک سرخ کار ہمارے پیچھے آرہی ہے۔“ شائستہ نے بیک ویو آئینے میں دیکھتے ہوئے کہا۔

    ”تو کیا ہوا۔ ہمارے پیچھے تو بہت سی کاریں ہیں۔“

    ”ابا جان! جب ہم گھر سے چلے تھے تو اس وقت بھی یہ کار ہمارے پیچھے تھی۔“

    ”یہ اتفاق بھی ہو سکتا ہے۔“

    ”اور سیاہ کپڑوں میں جو شخص کار چلا رہا ہے، میں نے اسے دکان کے اندر بھی دیکھا تھا کیا یہ بھی اتفاق ہے۔“

    ”کیا۔ یہ شخص دکان میں بھی ہمارے پیچھے تھا؟“

    ”ہاں!“

    ”اوہ! پھر تو بات خطرے والی ہے۔“

    ”جی ہاں۔ کار میں پچھلی سیٹ پر تین آدمی اور بھی ہیں۔“

    ”ہوں! تم ٹھیک کہتی ہو۔“

    ”اور آگے جا کر ہو سکتا ہے یہ اپنی کار کو آگے نکال لیں اور پھر ہمیں کار روکنے پر مجبور کر دیں۔“

    ”ہاں! ایسا ہو سکتا ہے۔“

    ”تو پھر۔ کیا یہ بہتر نہیں رہے گا کہ آپ کوٹھی کی طرف جائیں ہی نہ۔“

    ”تو پھر۔ کسی پولیس اسٹیشن چلوں؟“

    ”ہاں! یہ ٹھیک رہے گا۔“ شائستہ نے ان کی بات مانتے ہوئے کہا۔

    پروفیسر داﺅد نے تیزی سے اپنی کار ایک دوسری سڑک پر موڑ لی اور پوری رفتار پر چھوڑ دی لیکن یہ دیکھ کر ان کی پریشانی کی کوئی انتہا نہ رہی کہ سرخ کار نے بھی اتنی ہی تیزی سے موڑ کاٹا تھا اور اب وہ پھر ان کے پیچھے تھی۔

    ”اب کوئی شک نہیں رہا۔ یہ ضرور ہمارا تعاقب کر رہے ہیں اور ان کے ارادے بھی نیک نہیں ہیں۔“

    ”ہاں! آپ کا خیال ٹھیک ہے۔ کیا اس سڑک پر کوئی پولیس اسٹیشن ہے؟“

    ”معلوم نہیں۔ مجھے بھلا پورے شہر کے پولیس اسٹیشنوں کے بارے میں کیسے معلوم ہو سکتا ہے۔“

    ”آپ رفتار کیوں نہیں بڑھاتے؟“ شائستہ نے کہا۔ ”انہیں آگے نہ نکلنے دیجئے گا۔“

    ”ابھی تو انہوں نے آگے نکلنے کی کوشش کی نہیں۔“

    ”سڑک خالی دیکھ کر نکلیں گے۔ آپ یوں کریں، سڑک پر کوئی موڑ آئے تو گاڑی ایک دم اس پر موڑ دیں۔“

    ”کیوں؟ اس سے کیا ہو گا؟“

    ”ہو سکتا ہے اس سڑک پر کوئی پولیس اسٹیشن ہو یا کوئی پولیس والا نظر آجائے۔“

    ”اب تو مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ ہم کون سی سڑک پر ہیں۔“ پروفیسر نے گھبرا کر کہا۔

    ”رفتار تیز کر دیں۔ دیکھا جائے گا۔“ شائستہ نے کہا۔

    پروفیسر داﺅد نے ایک بار پھر رفتار بڑھائی۔ اسی وقت سڑک آگے سے ایک طرف مڑتی نظر آئی۔ انہوں نے آﺅ دیکھا نہ تاﺅ، کار اس سڑک پر موڑ دی۔

    ”ارے! اس سڑک پر تو انکل جمشید کا گھر ہے۔“ شائستہ چلائی۔

    ”ہاں! یہ سڑک وہی ہے۔“

    ”تو پھر آپ سیدھے ان کے گھر کی طرف چلیں۔“

    ”ٹھیک ہے۔ تم فکر نہ کرو۔ اس سے پہلے کہ سرخ کار ہمارے پاس پہنچے ہم انسپکٹر جمشید کے گھر میں پناہ لے چکے ہوں گے۔“

    ”گڈ!“ شائستہ کے منہ سے نکلا۔

    جونہی انسپکٹر جمشید کا گھر قریب آیا، پروفیسر داﺅد نے کار سڑک سے نیچے اتارتے ہوئے ایک دم بریک لگائے اور ساتھ ہی انہوں نے کار کا دروازہ کھول دیا۔ دوسری طرف شائستہ بھی دروازہ کھول چکی تھی۔ دونوں تیزی سے انسپکٹر جمشید کے گھر کی طرف دوڑے۔

    ادھر وہ دروازے پرپہنچے ادھر سرخ کار ان کی کار سے تھوڑے فاصلے پر آکر رکی۔ وہ چاروں کار سے اتر کر ان کی طرف دوڑے۔

    ”ابا جان! دروازہ بند ہے۔ اس سے پہلے کہ ہم گھنٹی بجا کر دروازہ کھلوائیں وہ لوگ یہاں پہنچ جائیں گے۔“ شائستہ بوکھلا گئی۔

    ”پھر کیا کریں۔“ پروفیسر کے منہ سے نکلا۔

    ”آئیے۔ پائیں باغ میں رینگ جائیں۔ اس وقت وہ لوگ ہمیں نظر نہیں آرہے ہیں۔“

    ”ٹھیک ہے۔“

    دونوں تیزی سے جھکے اور جھکے جھکے پائیں باغ میں داخل ہو گئے۔

    اس کے تقریباً تیس سیکنڈ بعد دوڑتے قدموں کی آواز آئی اور وہ چاروں دروازے پر پہنچ گئے۔

    باڑھ کے پیچھے چھپے ہوئے پروفیسر داﺅد اور شائستہ نے دیکھا وہ دروازے کی گھنٹی بجا رہے تھے۔ سورج غروب ہو چکا تھا اور تاریکی پھیلتی جا رہی تھی۔

    ٭……..٭

    شام کی چائے آج انہوں نے دیر سے پی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ انسپکٹر جمشید دفتر سے ابھی تک نہیں لوٹے تھے۔ پہلے تو وہ چائے کی میز پر ان کا انتظار کرتے رہے اور جب وہ نہ آئے تو محمود نے شیرازی صاحب کے ہاں جا کر فون پر معلوم کیا کہ اس کے والد دفتر سے ایک چوری کے کیس کی تحقیقات کرنے چلے گئے ہیں اور آج دیر سے لوٹیں گے۔

    چنانچہ انہوں نے چائے پی لی اور اب وہ ناشتے کی میز پر ہی بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔

    ”آج کل چوروں کو بھی آرام نہیں۔ چوریوں پر چوریاں ہو رہی ہیں۔“ فرزانہ کہہ رہی تھی۔

    ”وہ تمہاری طرح کام چور تو نہیں ہیں۔“ فاروق نے فوراً کہا۔

    ”اگر مجھے کام چور کہا تو اچھا نہ ہو گا۔“ فرزانہ کو غصہ آگیا۔

    ”تو پھر تمہیں کیا کہا جائے تاکہ اچھا ہو سکے۔“ فاروق شریر انداز میں مسکرایا۔

    ”بس بس! مجھ سے بات نہ کرو۔“

    ”کیوں! تم سے بات کرنا جرم ہے؟“ فاروق بھی اس کے پیچھے پڑ گیا تھا۔

    ”اُف! کس سے پالا پڑا ہے۔“ فرزانہ نے دونوں کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں۔

    ”فاروق سے۔“

    ”سمجھوں گی تم سے۔“ فرزانہ نے جل کر کہا۔

    ”جو سمجھنا ہے، ابھی سمجھ لینا ورنہ ابا جان آجائیں گے اور اگر انہوں نے تمہیں کچھ سمجھتے دیکھ لیا تو پھر وہ بھی تمہیں وہی کہیں گے۔“

    ”وہی کیا؟“

    ”کام چور!“

    ”معلوم ہوتا ہے امی، یہ دونوں آج لڑے بغیر نہیں رہیں۔“ محمود نے دخل دیا۔

    ”تمہارا بھی جی چاہ رہا ہے کیا؟“ فرزانہ اس پر الٹ پڑی۔

    ”لو۔ اب مجھ پر برس پڑیں۔“ محمود نے مذاق اڑانے والے انداز میں کہا۔

    ”کیا بات ہے فرزانہ آج تمہارا موڈ کیوں خراب ہے؟ ان دونوں سے اگر ٹھنڈے دماغ سے لڑو گی تو اچھی رہو گی۔“ بیگم جمشید نے مسکرا کر کہا۔

    ”امی جان۔ آپ نے سنا نہیں۔ فاروق نے مجھے کام چور کہا ہے۔ وہ بھی ایک بار نہیں۔ دوبار۔“

    ”دوبار؟ نہیں تو ایک بار ہی تو کہا ہے۔“ فاروق نے حیرت سے کہا۔

    ”ہاں! دوسری بار تو اس نے ابا جان کی طرف سے کہا تھا۔“ محمود پھر ہنسا۔

    ”دیکھا۔ میں نے کہا تھا نا۔ ٹھنڈے دل سے کام لو۔“ بیگم جمشید پھر مسکرائیں۔

    ”آپ بھی ان ہی کی طرف داری کر رہی ہیں۔“ فرزانہ جھنجھلا گئی۔

    ”آج تمہیں ہوا کیا ہے؟“ انہوں نے پوچھا۔

    ”میں ابا جان کی وجہ سے پریشان ہوں۔ نہ جانے کس وقت آئیں۔“

    ”وہ دیر سے آئیں گے۔“

    ”اسی لیے تو پریشان ہوں۔“

    ”معلوم ہوتا ہے، کوئی بڑی واردات ہو گئی ہے۔“ فاروق نے کہا۔

    ”ہوں! ایسا ہی ہو گا۔“ محمود نے تائید کی۔

    ”کیا باہر کا دروازہ بند ہے۔“ بیگم جمشید نے پوچھا۔

    ”جی ہاں! میں نے بند کیا تھا۔“ محمود نے بتایا۔

    ”تو ٹھیک ہے۔“

    ”کیوں نہ کیرم کی بازی لگائی جائے۔“ فاروق نے تجویز پیش کی۔

    ”خیال بُرا نہیں ہے۔“ محمود نے کہا۔

    ”تو میں لاتی ہوں۔“ فرزانہ اٹھتی ہوئی بولی۔

    عین اسی وقت دروازے کی گھنٹی بجی۔

    ”شاید ابا جان آگئے۔“

    ”ہوں! میں دیکھتا ہوں۔“ محمود دروازہ کی طرف بڑھا۔

    اس نے دروازہ کھول دیا پھر بری طرح چونکا۔ دروازے میں چار لمبے تڑنگے بدمعاش کھڑے تھے۔

    ”کیوں؟ کیا بات ہے؟“ محمود نے ناگواری سے کہا۔

    ”اس گھر میں ابھی ابھی ایک بوڑھا شخص اور ایک بچی داخل ہوئے ہیں۔ ہمیں ان سے کچھ کام ہے۔“

    ”لیکن یہاں تو کوئی بھی نہیں گھسا۔“ محمود نے حیران ہو کر کہا۔

    ”تم جھوٹ بولتے ہو۔ وہ دونوں ہمارے سامنے اس دروازے پر آئے تھے۔“

    ”کیا بات ہے محمود؟“ اندر سے بیگم جمشید نے پوچھا۔

    ”ہٹو! ہم مکان کی تلاشی لیں گے۔“ ان میں سے ایک نے محمود کو دھکیلتے ہوئے کہا۔

    ”تم تلاشی نہیں لے سکتے۔ تمہیں کیا حق ہے۔“ محمود بھی تن کر کھڑا ہو گیا۔

    دوسرے ہی لمحے بیگم جمشید، فاروق اور فرزانہ بھی وہاں پہنچ گئے۔

    ”کیا بات ہے؟ کون ہو تم لوگ؟“ بیگم جمشید نے جھلا کر کہا۔

    ”آپ کے مکان میں ایک بوڑھا اور ایک لڑکی داخل ہوئے ہیں۔ ہمیں ان سے کچھ کام ہے۔ انہیں باہر بھیج دیں۔“

    ”تم غلط کہتے ہو۔ مکان میں ہم چاروں کے سوا کوئی نہیں ہے۔“

    ”اگر یہ سچ ہے تو ہمیں مکان کی تلاشی لے لینے دیں۔“

    ”تم کون ہوتے ہو تلاشی لینے والے۔“ بیگم جمشید نے تنک کر کہا۔

    ”ہمیں کون روک سکتا ہے۔“

    ”اگر تم مکان میں داخل ہوئے تو تمہار اانجام اچھا نہیں ہوگا۔“ محمود نے کہا۔

    ”ہٹو پیچھے۔ اسرار تم دروازے پر ہی ٹھہرو۔“ ان میں سے ایک نے کہا اور وہ تینوں انہیں دھکیلتے ہوئے اندر داخل ہو گئے۔

    ”تم بھگتو گے۔“

    ”بھگت لیں گے۔“ اسی نے کہا جس نے اسرار کو باہر ٹھہرنے کے لیے کہا تھا۔ پھر وہ اپنے دونوں ساتھیوں سے بولا۔ ”پرویز، وزیر سارے گھر کی تلاشی لو۔ میں ان چاروں کے پاس ٹھہروں گا۔“

    ”بہت اچھا استاد۔“ ان میں سے ایک نے کہا اور مکان کے ایک کمرے میں گھس گئے۔

    ”تمہاری بھلائی اسی میں ہے ان دونوں کو خود ہی ہمارے حوالے کر دو۔“

    ”اس گھر میں کوئی بوڑھا اور لڑکی داخل ہی نہیں ہوئے تو حوالے کہاں سے کر دیں۔“ بیگم جمشید نے جھنجھلا کر کہا۔

    ”ہم نے اپنی آنکھوں سے انہیں اس مکان میں داخل ہوتے دیکھا ہے۔“

    ’خیر۔ تمہیں معلوم ہو ہی جائے گا۔ ویسے وہ دونوں کون ہیں اور تم انہیں کیوں پکڑنا چاہتے ہو۔“ محمود نے پرسکون آواز میں کہا۔

    ”یہ ہمارا کاروباری معاملہ ہے۔ ہم اس کے متعلق تمہیں کچھ نہیں بتائیں گے۔“

    ”تمہاری مرضی۔“ محمود نے شانے جھٹکے۔

    ”تم لوگ کیا کام کرتے ہو؟“ بدمعاشوں کے استاد نے پوچھا۔ اس کا منہ محمود کی طرف تھا۔

    ”پڑھتے ہیں۔“ محمود کے بجائے فاروق نے جواب دیا۔

    ”میر امطلب تھا، تمہارے والد کیا کام کرتے ہیں۔“

    ”وہ سرکاری ملازم ہیں۔“ محمود نے گول مول جواب دیا۔

    ”خود تم لوگ کیا کیا کرتے ہو۔“ فرزانہ نے نفرت سے منہ بناتے ہوئے کہا۔

    ”ہم؟ ننھی لڑکی۔ کیا کرو گی معلوم کر کے؟ یہ تمہارے جاننے کی باتیں نہیں ہیں۔“

    ”اچھا۔“ فرزانہ نے حیرت کا اظہار کیا۔

    ”ہاں۔ اس مکان میں کتنے کمرے ہیں؟“ استاد نے پوچھا۔

    ”چھ کمرے۔“ فاروق بولا۔

    ”ہوں! تمہارے والد کہاں گئے ہیں؟“

    ”کسی کام سے گئے ہیں۔ آتے ہی ہوں گے۔“ فاروق نے گویا انہیں دھمکی دی۔

    ”ان کے آنے سے پہلے ہمارا کام ختم ہو جائے گا۔“

    ”آخر وہ دونوں کون ہیں اور تم ان سے کیا چاہتے ہو؟“ 

    فاروق نے پیچ و تاب کھاتے ہوئے کہا۔

    ”میں نے کہا نا۔ یہ نہیں بتا سکتا۔“

    اسی وقت اس کے دونوں ساتھی وہاں پہنچ گئے۔

    ”وہ دونوں مکان میں نہیں ہیں۔“ ان میں سے ایک بولا۔

    ”کیا بکتے ہو۔“

    ”وزیر ٹھیک کہتا ہے استاد۔ ہم نے مکان کا چپہ چپہ چھان مارا لیکن ان دونوں کا کہیں پتا نہیں چلا۔“ پرویز بولا۔ ”حیرت ہے۔ ہم نے خود مکان کے پھاٹک میں انہیں داخل ہوتے دیکھا ہے۔“ استاد نے کہا۔

    ”استاد۔“ پرویز چونکا۔

    ”کیا بات ہے؟“

    ”کہیں وہ دونوں بائیں ہاتھ کے باغ میں نہ گھس گئے ہوں۔“

    ”اوہ! تم ٹھیک کہتے ہو۔ ہم سے غلطی ہو گئی جو پہلے وہاں نہیں دیکھا۔“ استاد بولا۔

    ”تو کیا ہوا استاد۔ اسرار دروازے پر موجود ہے۔ وہ نکل کر نہیں جا سکے ہوں گے۔ ضرور وہ دونوں باغ میں چھپے ہوں گے۔“

    ”تو آﺅ۔ جلدی کرو۔“

    تینوں تقریباً دوڑتے ہوئے باہر نکل گئے۔

    ٭……..٭

    بند کھڑکی

    ان کے باہر نکلتے ہی محمود اور فاروق اپنے کمرے کی طرف لپکے۔

    ”کیوں تم کہاں جا رہے ہو؟“

    ”ہم دیکھنا چاہتے ہیں، وہ دونوں بدنصیب کہیں سچ مچ باغ میں چھپے تو نہیں ہیں۔“

    ”میں بھی تمہارے ساتھ چلتی ہوں۔“ فرزانہ نے کہا۔

    ”اور میں دروازہ اندر سے بند کر کے تمہارے پاس آتی ہوں۔“ بیگم جمشید بولیں۔

    محمود اور فاروق نے اپنے کمرے کا دروازہ کھولتے ہی کھڑکی تک پہنچنے میں پھرتی دکھائی۔ دوسرے ہی لمحے انہوں نے کھڑکی کھول دی۔ عین اسی وقت تینوں بدمعاش مکان سے باہر نکل کر دروازے پر پہنچ چکے تھے اور اپنے ساتھی اسرار سے پوچھ رہے تھے۔

    ”اس باغ میں سے کوئی نکلا تو نہیں۔“

    ”باغ میں سے کیا مطلب؟“ اس نے حیران ہو کر پوچھا۔

    ”وہ دونوں اندر نہیں ہیں۔“

    ”تو کیا وہ دونوں باغ میں ہیں؟“

    ”خیال تو یہی ہے۔“

    ”لیکن اندر تو اندھیرا ہے۔ وہ ہمیں نظر نہیں آئیں گے۔“ اسرار نے کہا۔

    ”تم تینوں دروازے پر ہی ڈٹے رہو۔ میں کار میں سے ٹارچ نکال لاتا ہوں۔“ استاد نے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔

    ”کہیں باغ میں سے نکلنے کا کوئی راستہ دوسری طرف نہ ہو۔“ اسرار نے کہا۔

    ”اگر کوئی دوسرا راستہ ہو گا تو وہ کب کے جا چکے ہوں گے۔“ وزیر بولا۔

    ”ہاں یہ تو ہے۔“

    ”اور اگر ایسا ہوا تو آج ہماری بھی شامت آجائے گی۔“

    ”دیکھا جائے گا۔“ استاد بھی تو ہمارے ساتھ ہے۔ وہ خود ہی جواب دے دے گا۔“

    اسی وقت محمود نے دو سایوں کو کھڑکی کی طرف بڑھتے دیکھا۔

    ”فاروق! ان دو سایوں کو دیکھ رہے ہو۔ یہ ضرور وہی دونوں ہیں۔“

    ”شاید تم ٹھیک کہہ رہے ہو۔“

    ”اگر یہ دونوں پکڑے گئے تو نا جانے یہ لوگ ان کے ساتھ کیا سلوک کریں۔“

    ”تو پھر؟“ فاروق نے پوچھا۔

    ”ہمیں ان کی مدد کرنی چاہیے۔“

    ”لیکن ان کی مدد کرتے کرتے ہم خود مصیبت میں نہ پھنس جائیں۔“ فاروق نے خدشہ ظاہر کیا۔

    ”پھنستے ہیں تو پھنس جائیں۔ لیکن مصیبت زدوں کی مدد تو کرنی ہی چاہیے۔“

    ”تو ٹھیک ہے۔ اس سے پہلے کہ ان کا ساتھی ٹارچ لے کر آئے، ان دونوں کو اوپر چڑھا لو۔“

    ”اور اوپر چڑھاتے ہی دروازہ بند کر دو۔“

    ”ٹھیک ہے۔“

    عین اسی وقت وہ دونوں کھڑکی کے نیچے پہنچ گئے۔

    ”اِدھر آجائیے۔“ محمود نے سرگوشی کی۔ اندر اسی وقت بیگم جمشید بھی داخل ہو گئیں۔

    محمود نے ہاتھ نیچے لٹکا دیا تھا۔ دوسرے ہی لمحے ایک ننھا منا سا ہاتھ اس کے ہاتھ میں آگیا۔ اس نے اسے اوپر کھینچ لیا۔ کمرے میں بھی اندھیرا تھا اور انہوں نے بجلی کا بلب احتیاطاً روشن نہیں کیا تھا۔ اندھیرے میں انہوں نے دیکھا کہ یہ کوئی لڑکی تھی۔

    اس کے بعد محمود اور فاروق دونوں نے اپنا اپنا ہاتھ نیچے لٹکا دیا۔ ان دونوں کے ہاتھوں کو دو ہاتھوں نے مضبوطی سے پکڑ لیا۔ ساتھ ہی دروازے کی طرف سے آواز آئی۔

    ”میں ٹارچ لے آیا ہوں۔ آﺅ اندر دیکھیں۔“ یہ استاد کی آواز تھی۔

    ”کیوں نہ ہم میں سے ایک دروازے پر ہی ٹھہرے۔“ اسرار نے پوچھا۔

    اس سے پہلے کہ وہ تینوں ٹارچ لیے باغ میں داخل ہوتے، محمود اور فاروق بوڑھے آدمی کو کھینچ کر کھڑکی بند کر چکے تھے۔

    ٭……..٭

    وہ تینوں باغ میں داخل ہوئے۔ استاد سب سے آگے تھا۔ ٹارچ اس کے ہاتھ میں تھی۔ یہ ایک چھوٹا سا پائیں باغ تھا۔ اس میں پھولوں اور پھلوں کے بے شمار پودے تھے۔ ٹارچ کی روشنی درختوں، پودوں اور باڑھ پر رینگنے لگی۔

    ”ہم سے ایک غلطی ہو گئی ہے۔“ پرویز کو اچانک خیال آیا۔

    ”وہ کیا؟“ وہ ٹھٹک کر رک گئے۔

    ”ہمیںچاہیے تھا کہ اسرار کو پروفیسر کی کار کے پاس کھڑا کر دیتے۔ ہو سکتا ہے وہ دونوں کسی طرف سے نکل کر کار تک پہنچنے میں کامیاب ہو جائیں۔“

    ”ہوں! بات تو ٹھیک ہے۔ اچھا۔ تو تم جا کر اسرار سے کہہ دو۔“ استاد نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔ پھر بولا۔

    ”اور تم خود دروازے پر ٹھہرنا۔“

    ”اچھا۔“ پرویز چلا گیا۔

    وزیر استاد کے ساتھ ساتھ آگے بڑھنے لگا۔ انہوں نے پوری باڑھ اور تمام درخت دیکھ ڈالے لیکن پروفیسر اور ان کی بیٹی کا کہیں پتا نہ چلا۔

    ”حیرت ہے۔ انہیں زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا۔ آخر وہ کہاں چلے گئے۔“

    ”اور پھر ان کی کار باہر ہی موجود ہے۔“

    ”خیر! وہ یہاں سے کچھ فاصلے پر جا کر ٹیکسی لے کر جا سکتے ہیں۔ کار، جان سے زیادہ پیاری تو نہیں ہو سکتی نا۔“

    ”ہوں! پھر کیا کیا جائے؟“

    ”ایک چکر اور لگا کر دیکھ لیتے ہیں۔ ہو سکتا ہے وہ کسی درخت یا پودے کے پیچھے چھپے ہوئے ہوں اور ہمیں نظر نہ آئے ہوں۔“

    ”مجھے امید نہیں۔ ہم نے بہت غور سے دیکھا تھا۔“

    ”پھر بھی کیا حرج ہے۔“

    ”چلو۔ دیکھ لیتے ہیں۔“

    ایک بار پھر پائیں باغ کی تلاشی کا کام شروع ہوا۔ انہوں نے اس مرتبہ اور بھی زیادہ احتیاط سے دیکھا۔ پوری باڑھ چھان ماری۔ ایک ایک درخت اور پودا دیکھ ڈالا۔ اچانک ٹارچ کی روشنی بند کھڑکی پر پڑی۔ وہ دونوں چونک اٹھے۔

    ”تم اس کھڑکی کو دیکھ رہے ہو؟“ استاد نے کہا۔

    ”ہاں! استاد دیکھ رہا ہوں۔“ وزیر بولا۔

    ”کیا خیال ہے۔“ استاد نے عجیب لہجے میں کہا۔

    ”آپ یہی سوچ رہے ہیں نا کہ کہیں وہ دونوں اس کھڑکی کے ذریعے اندر نہ پہنچ گئے ہوں۔“

    ”ہاں! تمہارا خیال ٹھیک ہے۔“ استاد نے کہا۔

    ”لیکن۔ ہم تو مکان کی اندر سے تلاشی لے چکے ہیں۔“

    ”تم نہیں سمجھے۔ وہ دونوں تلاشی کے بعد اندر داخل ہوئے ہوں گے۔“

    ”تو پھر ہم کیا کریں؟“ وزیر نے پوچھا۔

    ”ہم ایک بار پھر مکان کی تلاشی لیں گے۔“

    ”یہ ٹھیک ہے۔“

    ”تو آﺅ چلیں۔“

    دونوں باغ سے نکل کر دروازے کی طرف بڑھے۔ یہاں وزیر موجود تھا۔

    ”کیوں۔ کیا رہا؟“

    ”وہ دونوں باغ میں نہیں ہیں۔ اسرار کہا ہے؟“

    ”پروفیسر کی کار کے پاس۔“

    ”ہم ایک بار پھر مکان کی تلاشی لیں گے۔ اس لیے تم اسرار سے کہہ آﺅ کہ وہ کار اور دروازے دونوں پر نظر رکھے۔ ہم تینوں اندر چلیں گے۔“

    ”اچھا۔“

    پرویز کار کی طرف چلا گیا۔ دونوں اس کی واپسی کا انتظار کرنے لگے۔ جونہی وہ واپس آیا، استاد نے ایک بار پھر دستک دی۔

    ٭……..٭


    نیا خطرہ

    ”کمرے کی بتی نہ جلانا۔“ بیگم جمشید نے دھیمے لہجے میں کہا۔

    ”ہاں۔ ان دونوں کو دوسرے کمرے میں لے چلتے ہیں۔“

    دوسرے کمرے میں پہنچتے ہی انہوں نے بجلی کا بلب روشن کر دیا۔ دوسرے ہی لمحے ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔

    ”آپ!“ چاروں کے منہ سے حیرت اور خوف کی زیادتی سے نکلا۔

    ان کے سامنے پروفیسر داﺅد اور شائستہ کھڑے تھے۔

    ”یہ سب کیا ہے۔ یہ کون ہیں جو آپ کا پیچھا کر رہے ہیں؟“

    ”معلوم نہیں کون لوگ ہیں۔ ہم دونوں شاپنگ کے لیے گھر سے نکلے تھے واپسی پر ان کے تعاقب کا پتا چلا۔ ہم اندھا دھند بھاگ کھڑے ہوئے۔ پھر اس سڑک پر مڑ گئے۔ تمہارے گھر کے پاس پہنچ کر یہ خیال آیا کہ ہم یہاں زیادہ محفوظ رہیں گے۔ اس خیال کے آتے ہی ہم کار سے اتر کر تمہارے دروازے کی طرف دوڑے۔ عین اسی وقت ان کی کار آکر رکی۔ دروازہ اندر سے بند تھا۔ اس لیے اتنا وقت نہیں تھا کہ دستک دے کر دروازہ کھلوایا جا سکتا۔ چنانچہ ہم دونوں پائیں باغ میں گھس گئے۔“

    ”ہوں۔ وہ لوگ ایک بار اندر کی تلاشی لے چکے ہیں۔“

    ”میں جانتا ہوں۔“ پروفیسر بولے۔ ”جمشید کہاں ہے؟“

    ”وہ ابھی تک واپس نہیں لوٹے۔ کوئی بڑی چوری ہو گئی ہے۔ موقع واردات پر گئے ہیں۔“

    ”اوہ! یہ تو بہت بُرا ہوا۔“

    ”کیوں۔ بُرا کیا ہوا۔ اب تو وہ لوگ باغ کی تلاشی کے بعد چلے ہی جائیں گے۔“ محمود نے کہا۔

    ”شاید وہ اتنی آسانی سے نہ جائیں۔ ان کی نظر پائیں باغ والی کھڑکی پر ضرور پڑے گی اور پھر باہر میری کار موجود ہے۔“

    ”ہوں! امی آپ دروازہ بند کر چکی ہیں نا۔“

    ”ہاں!“

    ”اور کھڑکی بھی اندر سے بند کر دی گئی ہے۔“ فاروق نے بتایا۔

    ”بس پھر۔ فی الحال گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اطمینان سے بیٹھیں۔“ بیگم جمشید نے کہا۔

    ”نہیں امی۔ ہمیں آئندہ کے لیے سوچ لینا چاہیے۔ فرض کیجئے، وہ لوگ پھر تلاشی لینے آجاتے ہیں تو اس صورت میں ہمیں کیا کرنا ہو گا۔“ محمود نے کہا۔

    ”سوچو۔ ذہن پر زور دو۔“ فاروق نے کہا۔

    ”کچھ تم بھی اپنے ذہن کو کام میں لاﺅ۔“ فرزانہ بولی۔

    ”ترکیبیں سوچنے میں تمہارا جواب نہیں ہے۔ اس لیے میں یہ ذمے داری تمہی کو سونپتا ہوں۔“

    ”سب لوگ سوچیں۔“ بیگم جمشید بولیں۔ ”یہ وقت مذاق کا نہیں ہے۔ اگر تمہارے ابا جان گھر میں ہوتے تو کوئی پریشانی والی بات نہیں تھی۔“

    ”ہاں۔ یہ تو ٹھیک ہے۔“

    پھر سب ہی گہری سوچ میں کھو گئے۔ چند سیکنڈ بھی نہ گزرے ہوں گے کہ فرزانہ نے پرجوش انداز میں چٹکی بجائی۔

    ”وہ مارا۔“

    ”میں جانتا تھا۔ تم ہی مارو گی۔“ فاروق نے مسکرا کر کہا۔

    ”جلدی بتاﺅ۔ کیا سوچا ہے تم نے۔“ بیگم جمشید نے کہا۔

    ”انکل اور شائستہ کو ایک کمرے میں بند کر دیتے ہیں اور دروازے پر تالا لگا دیتے ہیں۔“

    ”گڈ!“ محمود کے منہ سے نکلا۔

    ”ترکیب تو….“

    اسی وقت دروازے پر زور سے دستک دی گئی۔

    ’دلو وہ لوگ آگئے۔“ بیگم جمشید گھبرا گئیں۔

    ”گھبرائیے نہیں امی۔“ محمود بولا۔

    ”اب کیا کریں؟“ فاروق نے کہا۔

    ”گھر میں جو سب سے اچھا تالا ہے، وہ جلدی سے لے آئیں امی۔“

    ”اچھا۔ ابھی لائی۔“ بیگم جمشید دوڑی گئیں۔

    اسی وقت دوبارہ دستک دی گئی۔

    ”ہو سکتا ہے، یہ ابا جان ہوں۔“ فاروق نے خیال ظاہر کیا۔

    ”ابا جان اتنی زور سے دستک نہیں دے سکتے۔“

    ”ہوں! ٹھیک ہے۔ یہ ضرور وہ لوگ ہیں۔“

    تیسری مرتبہ پھر دروازہ کھٹکھٹایا گیا۔

    ”کیسے جاہل لوگ ہیں۔ دروازے پر کال بیل کا بٹن لگا ہوا ہے پھر بھی دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیں۔“ پروفیسر بولے۔

    ”رعب ڈالنے کے لیے۔“

    ”ہوں!“

    اسی وقت بیگم جمشید تالا لیے اندر داخل ہوئیں۔

    ”جائیے امی۔ آپ دروازہ کھول دیں لیکن کھولنے سے پہلے ایک آدھ منٹ ضائع کرنا نہ بھولیں۔“ محمود نے کہا۔

    ”اچھا۔“ بیگم جمشید دروازے کی طرف چلی گئیں۔

    ”انکل۔ آپ اور شائستہ اس کمرے میں بے فکر رہیں۔ کمرے کی کھڑکیاں بند ہیں۔ اگر کسی کھڑکی پر تین بار انگلی سے دستک دی جائے تو آپ وہ کھڑکی کھول دیجئے گا۔“

    ”یہ کیوں؟“ پروفیسر حیران رہ گئے۔

    ”شاید ایسا کرنا پڑے۔ اب آپ بے فکر رہیں۔“

    محمود نے کہا اور تینوں کمرے سے نکل آئے۔ اس کے بعد محمود نے کمرے کے دروازے پر تالا لگا دیا اور تیزی سے اس کمرے سے ہٹ آئے۔ پھر وہ اپنے کمرے میں چلے آئے۔

    ”اب اس چابی کا کیا کریں؟“ محمود نے پوچھا۔

    ”لاﺅ میں اسے پائیں باغ میں کہیں چھپا آﺅں۔“ فرزنہ بولی۔

    ”اچھا۔ یہ لو۔“

    فرزانہ نے چابی لی، کھڑکی کھولی اور آواز پیدا کیے بغیر باغ میں اتر گئی۔اس نے جلدی سے ایک درخت کے نیچے ایک خشک شاخ کی مدد سے گڑھا کھودا اور چابی اس میں دفن کر دی۔ دوسرے ہی لمحے وہ دوبارہ کمرے میں تھی۔ اسی وقت بیرونی دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔

    ٭……..٭

    بیگم جمشید نے دروازے پر پہنچ کر پوچھا۔

    ”کون ہے؟“

    ”ہم ہیں۔ دروازہ کھولو۔“ باہر سے رعب دار آواز آئی۔

    ”ہم کون؟“ انہوں نے کہا۔

    ”وہی۔ جنہوں نے ابھی ابھی مکان کی تلاشی لی تھی۔“

    ”اب کیا چاہتے ہو؟“

    ”ہم ایک بار پھر تلاشی لینا چاہتے ہیں۔“

    ”ہرگز نہیں۔ تم تلاشی نہیں لے سکتے۔“

    ”ہم لے سکتے ہیں۔ دروازہ کھولو۔“

    ”دروازہ نہیں کھلے گا۔“

    ”تو ہم دروازہ توڑ دیں گے۔ دروازہ کھولتی ہو یا ہم توڑنا شروع کریں۔“

    ”ٹھہرو۔ میں کھولتی ہوں۔“ بیگم جمشید نے کہا اور دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑی ہو گئیں۔ کئی سیکنڈ اسی طرح گزر گئے۔

    ”کیا بات ہے۔ تم نے دروازہ نہیں کھولا۔“

    بیگم جمشید نے کوئی جواب نہیں دیا۔ انہوں نے پھر دروازہ کھٹکھٹایا۔ بیگم جمشید مسکرائیں اور قدموں کی آواز پیدا کرتے ہوئے دروازہ کھول دیا۔

    ”میں ذرا چابی لینے گئی تھی۔“

    ”چابی؟“ ان کے استاد نے حیران ہو کر کہا۔

    ”کہاں ہے تالا۔“ استاد نے پوچھا۔

    ”تالا! ارے تالا کہاں گیا۔“ بیگم جمشید نے بھی حیرت کا مظاہرہ کیا۔

    ”بتاﺅ۔ کہاں ہے تالا؟“

    ”دراصل اس مکان پر آسیب کا سایہ ہے۔“

    ”یہ کیا بکواس ہے۔“ پرویز چلایا۔

    ”ہاں! یہ مکان آسیب زدہ ہے۔ ابھی ابھی تالا اور چابی میرے ہاتھ میں تھے اور اب غائب ہیں۔“

    ”ہمیں تمہاری کسی بات پر یقین نہیں۔ ہم جانتے ہیں وہ دونوں مکان کے اندر موجود ہیں۔“

    ”کون دونوں؟“ بیگم جمشید نے انجان بن کر کہا۔

    ”وہی دونوں۔ جن کی تلاش میں ہم ہیں۔“

    ”ابھی چند منٹ پہلے تو تم نے تلاشی لی ہے۔“

    ”اب پھر لیں گے۔“

    ”جیسے تمہاری مرضی۔ لیکن کہے دیتی ہوں تم ایک غیرقانونی کام کر رہے ہو جس کے لیے تمہیں بھگتنا پڑے گا۔“

    ”ہم جانتے ہیں۔ تم فکر نہ کرو۔“ وزیر بولا۔

    ”بہتری اسی میں ہے کہ اسی جگہ سے لوٹ جاﺅ۔“

    ”تو تم یہ چاہتی ہو کہ ہم تلاشی نہ لیں۔“ استاد نے کہا۔

    ”ہاں! کیوں کہ تمہاری بچت اسی میں ہے۔ کیوں کہ اگر تم یہاں سے نہ گئے اور میرے شوہر آگئے تو پھر تم بچ کر نہیں جا سکو گے۔“

    ”بس بس! تقریر ختم۔ چلو آگے بڑھو۔ تمہارے بچے کہاں ہیں۔“

    ”وہ اپنے کمرے میں ہوں گے۔“

    ”چلو۔ پہلے انہی کے کمرے میں چلو۔“

    ”تم لوگ پچھتاﺅ گے۔“ بیگم جمشید زیادہ سے زیادہ وقت گزار دینا چاہتی تھیں۔

    ”اگر ہم نے اس شخص کو نہ پکڑا تو بھی پچھتانا تو پڑے گا ہی۔“

    ”کون ہے وہ؟“

    ”ہے ایک مشہور آدمی۔ چلو ہمیں اپنے بچوں کے کمرے میں لے چلو۔“

    ”اچھا۔ آﺅ۔“

    بیگم جمشید انہیں لیے پائیں باغ والے کمرے میں آئیں۔ یہاں تینوں موجود تھے۔ ان بدمعاشوں کو دیکھ کر انہوں نے چونکنے کی ایکٹنگ کی۔

    ”ارے! تم لوگ پھر آگئے۔“ محمود بول اٹھا۔

    ”ہاں! ہم ایک بار پھر تلاشی لیں گے۔“ استاد نے کہا۔

    ”کیوں۔ اب کیا ہوا؟“

    ”ہمارا خیال ہے کہ وہ دونوں اسی مکان میں کہیں چھپے ہوئے ہیں۔“

    ”تو دیکھ لو۔وہ یہاں نہیں ہیں۔“

    ”جاﺅ تم دونوں مکان کا چپہ چپہ چھان مارو۔ کوئی کونا رہ نہ جائے۔“ استاد نے اپنے دونوں ساتھیوں کو حکم دیا۔

    دونوں چلے گئے۔

    ”تمہارے والد ابھی تک نہیں آئے۔“

    ”آنے ہی والے ہیں اور آتے ہی تم سے نبٹ لیں گے۔“

    ”ہم سے!“ استاد ہنسا۔

    ”کیوں۔ تم ہنسے کیوں۔ کیا تم سے نبٹا نہیں جا سکتا؟“ محمود نے پوچھا۔

    ”ہمارا نام ہی سن کر ان کا دم نکل جائے گا۔“

    ”اچھا! کیا نام ہے تمہارا۔ ذرا ہم بھی تو سنیں، دیکھتے ہیں ہمارا دم نکلتا ہے یا نہیں۔“

    ”کیا کرو گے جان کر۔ میں بچوں کو اپنا نام بتاتا نہیں پھرتا۔“

    ”ارے! کہیں تمہارا نام سلطانہ ڈاکو تو نہیں ہے۔“ فاروق نے مذاق اڑانے والے انداز میں کہا۔

    ’دتم بھول رہے ہو فاروق۔ وہ تو مر چکا ہے۔“ فرزانہ بولی۔

    ”تو پھر یہ بادل ڈاکو ہوں گے۔“ فاروق پھر ہنسا۔

    ”اگر یہ بادل ڈاکو ہیں تو زمین پر کیوں پھر رہے ہیں۔“ محمود نے حیران ہو کر کہا۔

    ”بہت بدتمیز ہو تم تینوں۔“

    ”یہ ہمارے لیے ایک نئی خبر ہے۔“ فاروق نے اعلان کیا۔

    ”تم چپ نہیں رہو گے؟“ استاد جھلا اٹھا۔

    ”تم نے اپنا نام نہیں بتایا۔“

    ”تو تم میرا نام ضرور جاننا چاہتے ہو۔“

    ”ہاں! ہمارا بے ہوش ہونے کا پروگرام ہے۔“ فاروق نے خوش ہو کر کہا۔ ”دراصل ہم آج تک بے ہوش نہیں ہوئے۔ ذرا دیکھیں تو سہی بے ہوش ہونے پر کیسا محسوس ہوتا ہے۔“

    ”اگر تم اب بولے تو میں تمہیں مار بیٹھوں گا۔“ استاد نے غرّا کر کہا۔

    ”یہ پابندی صرف مجھ پر لگا رہے ہو یا ہم سب پر۔“ فاروق نے پوچھا۔

    ”تم یوں نہیں مانو گے۔ تمہارے ایک آدھ ہاتھ رسید کرنا ہی پڑے گا۔“ وہ فاروق کی طرف بڑھتا ہوا بولا۔

    ”کیا تم آدھا ہاتھ بھی رکھتے ہو۔ گویا تمہارے اڑھائی ہاتھ ہیں۔“

    ”ابھی بتاتا ہوں۔“ استاد نے اپنا بھاری بھرکم ہاتھ فاروق کو مارنے کے لیے اٹھایا۔

    ”ٹھہرو دوست۔ یہ تو زیادتی ہے۔“ محمود نے پرسکون آواز میں کہا۔

    ”کیا مطلب؟“ استاد کا اٹھا ہوا ہاتھ رُک گیا۔

    ”اس نے صرف تمہارا نام ہی تو پوچھا تھا۔ کیا تمہارا نام معلوم کرنے کی سزا مقرر ہے۔“ محمود نے کہا۔

    ”میرا نام جاننا چاہتے ہو؟“

    ”جی ہاں!“ محمود نے ادب سے کہا۔

    ”مجھے بہزاد ڈاکو کہتے ہیں۔“

    ”کیا!“ ان چاروں کے منہ سے نکلا، کیوں کہ وہ سچ مچ حیران رہ گئے تھے۔

    ٭……..٭

    فرزانہ کی غلطی

     ۱ 

     باقر گنج جانے سے پہلے انہوں نے بہزاد ڈاکو کا نام اپنے والد کی زبان سے کئی بار سنا تھا۔ ان دنوں اس نے شہر میں ہل چل مچائی ہوئی تھی۔ پھر کچھ دنوں بعد وہ بالکل ہی غائب ہو گیا تھا اور کسی واردات کے سلسلے میں اس کا نام سننے میں نہیں آیا تھا۔ آج بہزاد ڈاکو ان کے سامنے موجود تھا۔

    ”ارے۔ کیا واقعی تم بہزاد ڈاکو ہو؟“

    ”ہاں!“

    ”لیکن تم تو غائب ہو گئے تھے۔“

    ”میں دوسرے شہروں میں ہاتھ مارنے گیا ہوا تھا۔“ بہزاد ڈاکو نے بتایا۔

    ”بھئی واہ! بڑا نیک کام ہے۔“ فاروق نے خوش ہو کر کہا۔

    ”مسٹر بہزاد! بڑی خوشی ہوئی تم سے مل کر۔ واہ۔ ڈاکو ہو تو ایسا ہو۔“ محمود بولا۔

    ”بڑا نام پیدا کیا ہے آپ نے تو۔“ فرزانہ بھلا کب چپ رہنے والی تھی۔

    بہزاد تینوں بچوں کو حیرت سے دیکھ رہا تھا۔

    ”آپ بیٹھ جائیں ڈاکو بھائی۔ تھک جائیں گے۔“ فرزانہ نے خوش اخلاقی کا مظاہرہ کیا۔

    ”ہاں ہاں! تشریف رکھیں۔ امی جان ڈاکو صاحب کے لیے چائے تیار کر دیں۔ یہ ہمارے مہمان ہیں۔“ محمود بولا۔

    ”خالی چائے سے کام نہیں چلے گا امی! کچھ کیک پیسٹریز بھی ہوں۔“ فاروق چہکا۔

    ”یہ سب کیا ہے۔ تم کس قسم کے بچے ہو؟“ بہزاد نے جھنجھلا کر کہا۔

    ”بچے کس قسم کے ہوتے ہیں۔ پہلے تو یہ بتائیں؟“ فرزانہ نے پوچھا۔

    ”اے۔ تم کہاں جا رہی ہو؟“ بہزاد ڈاکو نے دروازے کی طرف بڑھتی ہوئی بیگم جمشید سے کہا۔

    ”آپ کے لیے چائے بنانے۔“ بیگم جمشید نے مسکرا کر کہا۔

    ”خبردار! تم میں سے کوئی کمرے سے باہر قدم نہ رکھے۔“

    ”کیوں۔ کیا چائے پینے کا موڈ نہیں ہے۔“ فرزانہ نے پوچھا۔

    ”خاموش رہو۔ عجیب آدمی ہو تم۔“

    ”آدمی کہاں۔ بچے ہیں۔“ فاروق بولا۔

    ”اگر اب تم میں سے کوئی بولا تو میں برداشت نہیں کروں گا۔“

    ”شکریہ! آپ نے ہمیں بتا تو دیا کہ آپ کب تک برداشت کر سکتے ہیں۔“

    اسی وقت بہزاد ڈاکو کے دونوں ساتھی وہاں آ دھمکے۔

    ”وہ دونوں پورے مکان میں کہیں نہیں ہیں استاد۔ البتہ۔“ پرویز کچھ کہتے کہتے رک گیا۔

    ”البتہ ایک کمرے کو تالا لگا ہوا ہے۔“

    ”کیا مطلب؟“

    ”پورے مکان میں صرف ایک کمرے کو تالا لگا ہوا ہے۔ ہم اس کی تلاشی نہیں لے سکے۔“

    ”اس کمرے کے تالے کی چابی کہاں ہے؟“ بہزاد ڈاکو نے پوچھا۔

    ”ابا جان کے پاس۔“ محمود نے تیزی سے کہا۔

    ”کیا مطلب؟“ اس نے غصے سے کہا۔

    ”کس بات کا مطلب پوچھ رہے ہیں آپ۔ ابا جان کے پاس کا؟“ محمود نے مذاق اڑانے والے لہجے میں کہا۔

    ”خاموش۔“

    ”جی بہتر۔“ اس نے ڈر کر کہا۔

    ”جس وقت پہلے تلاشی لی گئی تھی۔ اس وقت بھی کمرے کو تالا لگا ہوا تھا؟“ بہزاد ڈاکو نے اپنے دونوں ساتھیوں سے پوچھا۔

    ”جی نہیں۔ اس وقت ہم نے کسی کمرے کو تالا لگا ہوا نہیں دیکھا تھا اور تمام کمروں کی تلاشی لی تھی۔“ پرویز نے کہا۔

    ”تو پھر۔ اب یہ تالا کیسے لگ گیا؟“ بہزاد ڈاکو نے ان چاروں کو سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔

    ”ہاں واقعی۔ یہ سوال تو بہت اہم ہے۔ آخر تالا کیسے لگ گیا۔“ فاروق بولا۔

    ”بات بہت عجیب ہے۔“ فرزانہ نے خوفزدہ ہو کر کہا۔

    ”ہمیں چل کر دیکھنا چاہیے۔ کس کمرے کو تالا لگا ہے اور کیسے لگ گیا ہے۔“

    ”یا الٰہی خیر۔“ بیگم جمشید نے کہا۔

    ”ڈاکو صاحب! ہمیں اجازت ہے۔“ محمود نے پوچھا۔

    ”ہم سب چل رہے ہیں۔“ بہزاد ڈاکو نے کہا۔

    ”تو بسم اللہ کیجئے۔ قدم رنجا فرمائیے۔“

    ”تم لوگ عجیب ہو۔“ بہزاد ڈاکو نے انہیں گھورتے ہوئے کہا۔

    ”یہ جملہ کتنی مرتبہ کسنے کا ارادہ ہے۔“ فاروق نے معصومیت سے پوچھا۔

    ”کیوں۔ یہ کیوں کہا تم نے؟“

    ”اس لیے کہ اس وقت تک آپ تین مرتبہ تو کہہ چکے ہیں۔“

    ”بکومت۔ چلو دکھاﺅ وہ کون سا کمرہ ہے؟“

    سب باہر نکل کر بند کمرے کے دروازے پر آئے۔

    ”کیا وہ دونوں اس کمرے میں ہیں؟“ بہزاد ڈاکو نے اچانک سوال کیا۔

    ”کون دونوں؟“ فرزانہ تیزی سے بولی۔

    ”ہاں۔ کون دونوں؟“ محمود نے بھی کہا۔

    ”وہی بڑے میاں اور لڑکی۔“

    ”اگر وہ اس کمرے میں ہیں تو ہمارے لیے اس سے زیادہ حیرت کی بات نہیں ہو سکتی، کیوں کہ یہ ہمارے والد کا کمرہ ہے اور وہ اسے مقفل رکھتے ہیں لیکن اس سے یہ نہ سمجھ لینا کہ وہ اس میں اپنی تمام نقدی رکھتے ہوں گے اس لیے قفل لگا کر رکھتے ہیں۔ دراصل یہ بات نہیں ہے۔ اس کمرے میں وہ اپنے کاغذات رکھتے ہیں اس لیے ہمیشہ قفل لگا کر رکھتے ہیں۔“

    ”لیکن تھوڑی دیر پہلے تو تالا لگا ہوا نہیں تھا۔“ وزیر نے کہا۔

    ”تب پھریہ ضرور بھوت پریت کی شرارت ہو گی۔“ بیگم جمشید نے کہا۔

    ”کیا مطلب؟“

    ”میں نے بتایا تھا نا کہ مکان آسیب زدہ ہے۔ ہو سکتا ہے جس وقت آپ نے پہلے تلاشی لی تھی، اس وقت بھوتوں نے آپ کے احترام میں تالا کھول دیا ہو۔ ورنہ اس کمرے کو تو ہر وقت تالا لگا رہتا ہے۔ صرف میرے شوہر ضرورت پڑنے پر اسے کھولتے ہیں۔“

    ”لیکن ہم اس کمرے کو کھول کر ضرور دیکھیں گے۔“ بہزاد ڈاکو نے ضد پر اڑتے ہوئے کہا۔

    ”آپ اسے کیسے کھولیں گے؟“ محمود نے معصومیت سے پوچھا۔ ”اس پر تو تالا لگا ہوا ہے۔“

    ”ہم تالا کھول لیں گے اور اگر تالا نہ کھلا تو اسے توڑ دیں گے۔“

    ”ہاں۔ ڈاکو ہی ٹھہرے۔ دن رات یہی کام تو کرتے ہیں۔“ فاروق نے طنزیہ کہا۔

    ”بالکل! تم ٹھیک سمجھے۔ وزیر چابیوں کا گچھا مجھے دو۔“

    ”مگر استاد وہ تو کار میں ہے۔ کیا معلوم تھا کہ اس کی ضرورت پڑے گی۔“

    ”تو کیا ہوا۔ جا کر لے آﺅ۔“

    ”جی بہتر۔“

    وزیر چابیوں کا گچھا لینے کے لیے چلا گیا۔

    ”تمہارے گھر میں بھی تو چابیوں کا گچھا ہو گا۔“ بہزاد ڈاکو نے بیگم جمشید سے پوچھا۔

    ”ہم ڈاکو نہیں ہیں۔“ ان کے بجائے فاروق نے کہا۔

    ”ہاں بالکل۔ چابیوں کا گچھا تو ڈاکوﺅں اور چوروں کے پاس ہوتا ہے۔“ محمود بولا۔

    ”ہر گھر میں چابیوں کا ایک گچھا ہوتا ہے۔“ بہزاد ڈاکو نے آنکھیں نکالیں۔

    ”اچھا۔ مجھے نہیں معلوم تھا۔“ فاروق نے حیرت کا اظہار کیا۔

    ”کمال ہے۔ یہ بات تو مجھے بھی معلوم نہیں تھی۔“ محمود بولا۔

    ”کیوں امی، کیا ہمارے گھر میں کوئی چابیوں کا گچھا ہے؟“

    ”ہاں۔ ایک ہے تو سہی۔“

    ”تب تو ڈاکو میاں ٹھیک ہی کہتے ہیں۔“

    ”ذرا وہ گچھا تو لاﺅ۔“ بہزاد نے کہا۔

    ”اچھا۔“ بیگم جمشید جانے کے لیے مڑیں۔

    ”ٹھہرو۔“ بہزاد ڈاکو نے سخت لہجے میں کہا۔

    ”تم عجیب ڈاکو ہو۔“ فاروق نے چیں بچیں ہو کر کہا۔

    ”کیوں؟“

    ”خود ہی تو کہا ہے کہ چابیوں کا گچھا لاﺅ۔ اب اگر وہ جانے لگیں تو کہتے ہو ٹھہرو۔“

    ”ہاں۔ میرا ساتھی ساتھ جائے گا۔“ بہزاد ڈاکو نے کہا۔

    ”بالکل۔ وہ تو جائے گا ہی۔ ساتھیوں کا کام ہی ساتھ جانا ہوتا ہے۔“ فرزانہ نے کہا۔

    ”میرا ساتھی تمہاری امی کے ساتھ جائے گا۔“

    ”کیوں۔ اس کی کیا ضرورت ہے؟“

    ”تاکہ یہ پولیس کو فون نہ کر دیں۔“

    ”لیکن ہمارے گھر میں تو فون ہے ہی نہیں۔“ محمود نے بتایا۔

    ”اچھا۔ فون نہیں ہے؟“

    ”نہیں۔“

    ”پھر بھی یہ ساتھ جائے گا۔ احتیاط کا تقاضا یہی ہے۔“

    ”ٹھیک۔ ساتھی صاحب ہماری امی کے ساتھ جاﺅ۔“

    محمود نے گویا حکم دیا۔

    وہ دونوں چلے گئے۔

    ”تم تینوں کی زبان بہت تیزی سے چلتی ہے۔“

    ”کیا آپ کو بُرا لگا ہے؟“

    ”ہاں!“

    ”اچھا تو ہم اب خاموش رہیں گے۔“

    ”تم پڑھتے ہو۔“

    تینوں خاموش رہے۔

    ”جواب کیوں نہیں دیتے؟“

    ”کیا تمہیں سانپ سونگھ گیا ہے؟“

    ”عجیب ڈاکو ہو۔ خود ہی کہتے ہو ہمارا بولنا تمہیں ناگوار گزرتا ہے۔ اب ہم خاموش ہو گئے ہیں تو کہتے ہو بولو۔“ فاروق نے بُرا سا منہ بنایا۔

    ”بتاﺅ۔ کیا تم پڑھتے ہو؟“

    ”ہاں۔“ محمود نے ایسے لہجے میں کہا جیسے یہ بتا کر ڈاکو پر احسان کیا ہو۔

    ”تم تینوں کو میں اپنا ساتھی بناﺅں تو کیسا ہے؟“ بہزاد نے ہنس کر کہا۔

    ”کیا مطلب؟“ تینوں بری طرح چونکے۔

    ”تم تینوں کافی تیز طرار ہو۔ میں تمہیں جاتے وقت اپنے ساتھ لے جاﺅں گا اور پھر تم بھی ایک دن میرے ساتھی بن جاﺅ گے۔ نامی گرامی ڈاکو کہلاﺅ گے۔ تم تینوں مجھے بہت پسند آئے ہو۔“

    ”شکریہ! ہمارا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے۔“ محمود نے کندھے جھٹکے۔

    ”ہو نہ ہو۔ میں تمہیں لے جاﺅں گا۔“

    اسی وقت اس کا ساتھی چابیوں کا گچھا لے کر آگیا۔

    ”پرویز کہاں گیا؟“ اس نے پوچھا۔

    ”وہ ان کی ماں کے ساتھ گھر کا چابیوں کا گچھا لینے گیا ہے۔“

    ”ہاں! یہ ٹھیک ہے۔“

    جونہی بہزاد ڈاکو چابیوں کا گچھا لیے تالے کی طرف بڑھا، ان کے دل اس ڈر سے دھڑک اٹھے کہ کہیں تالا کھل نہ جائے۔

    اسی وقت ان کی امی بھی پرویز کے ساتھ وہاں پہنچ گئیں۔

    ”کیوں استاد۔ کوئی چابی لگی؟“ پرویز نے پوچھا۔

    ”ابھی تو شروع ہی کرنے لگا ہوں۔“ اس نے کہا اور پہلی چابی تالے کو لگائی۔

    پہلی چابی تالے میں گھوم کر رہ گئی۔ اس کے بعد اس نے اپنے گچھے کی سب چابیاں لگا کر دیکھ لیں لیکن کامیابی نہ ہوئی۔ اس کے بعد اس نے پرویز کے ہاتھ سے بیگم جمشید والا چابیوں کا گچھا لیا اور اس کی چابیاں آزمانے لگا۔ اب بیگم جمشید اور تینوں بچوں کے چہر پرسکون تھے کیوں کہ وہ جانتے تھے اس گچھے کی کوئی چابی تالے کو نہیں لگے گی۔

    ”حیرت ہے۔ میری زندگی میں یہ پہلا تالا ہے جو اتنی چابیوں سے بھی نہیں کھلا۔“

    ”کیا تم سب چابیاں لگا چکے ہو۔“ وزیر نے پوچھا۔

    ”ہاں! اب ہمیں دروازے کو توڑنا ہی پڑے گا۔“ بہزاد ڈاکو نے کہا۔

    ”یہ کون سا مشکل کام ہے۔ ابھی توڑے ڈالتے ہیں۔“ پرویز نے کہا۔

    ”لیکن اس طرح شور پیدا ہو گا۔“ بہزاد نے کہا۔

    ”پھر کیا کیا جائے؟“

    ”ہم بھول رہے ہیں۔“ بہزاد ڈاکو مسکرایا۔

    ”کیا مطلب!“ نہ صرف بہزاد کے ساتھی بلکہ وہ چاروں بھی چونکے۔

    ”دروازے کو تالا انہوں نے ہی لگایا ہے اور اس تالے کی چابی بھی ضرور انہی کے پاس ہے۔“

    ”اوہ۔ بات تو ٹھیک ہے۔“

    ”بس تو پھر ان سے معلوم کرو کہ چابی کہاں ہے اور اگر یہ نہ بتائیں تو انہیں گولیاں مار دو اور ان کے پائیں باغ میں ہی دفن کر دو۔“ بہزاد نے سخت لہجے میں کہا۔

    ”کہاں ہے چابی؟“ پرویز غرّایا۔

    ”ابا جان کے پاس۔“ محمود نے جواب دیا۔

    ”بکو مت۔ تمہیں بتانا پڑے گا۔ ورنہ ہم تمہیں زندہ نہیں چھوڑیں گے۔“ یہ کہتے ہوئے اس نے جیب سے پستول نکال لیا۔

    ”بہزاد ڈاکو تمہیں حکم دیتا ہے کہ فوراً سے پہلے بتا دو۔ ورنہ میرے اشارہ کرتے ہی تم خون میں تڑپتے نظر آﺅ گے۔“ بہزاد نے قہرآلود آواز میں کہا۔

    ”ٹھہرو۔ میں بتاتی ہوں۔ چابی پائیں باغ میں ہے۔“ فرزانہ بولی۔

    ”کیا بکتی ہو۔ چابی کا باغ میں کیا کام؟“ بیگم جمشید غصے سے چلائیں۔

    ”میں نے وہاں چھپائی تھی۔“

    ”تو وہ دونوں اس کمرے میں بند ہیں۔“

    ”ہاں!“ فرزانہ کے منہ سے نکلا اور وہ تینوں فرزانہ کو بُری طرح گھورنے لگے کہ یہ اس نے کیا کیا۔


    چکر پر چکر

    ”یہ تم نے کیا کیا۔ میں تمہیں اپنا دودھ نہیں بخشوں گی۔ تم نے گھر میں پناہ لینے والوں کی حفاظت نہیں کی۔“ بیگم جمشید چلائیں۔

    فرزانہ جواب میں خاموش رہی۔ اس کا سرشرم سے جھک گیا تھا۔

    ”جاﺅ۔ چابی لے کر آﺅ۔ وزیر تم اس کے ساتھ جاﺅ۔“ بہزاد نے کہا۔

    ”اچھا استاد۔“ وزیر نے فرزانہ کو بازو سے پکڑتے ہوئے کہا۔

    فرزانہ نے محمود کی طرف دیکھا اور وزیر کے ساتھ باہر چلی گئی۔

    ”ہم بازی ہار چکے ہیں امی۔ اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ہم ان دونوں کو ان کے حوالے کر دیں۔“ محمود نے کہا۔

    ”تم ٹھیک کہتے ہو۔“ بیگم جمشید بولیں۔

    ”مسٹر ڈاکو۔ کیا میں پیشاب کر سکتا ہوں؟“

    ”ہاں ہاں۔ کیوں نہیں۔“ بہزاد نے اپنی کامیابی پر خوش ہوتے ہوئے کہا۔

    محمود تیزی سے مڑا اور کمرے کے دوسری طرف آیا۔ اس نے کھڑکی پر تین بار آہستہ آہستہ انگلی ماری۔ کھڑکی فوراً ہی کھل گئی۔ محمود نے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر ان کو خاموش رہنے اور باہر آنے کا اشارہ کیا۔ دونوں آواز پیدا کیے بغیر کھڑکی سے باہر آگئے۔ محمود انہیں اپنے کمرے میں لے آیا۔

    ”آپ دونوں باتھ روم میں چلے جائیں۔ دروازہ اندر سے بند کر لیں۔ اگر دروازہ توڑا جانے لگے تو باتھ روم کا دروازہ دوسرے کمرے میں بھی کھلتا ہے۔ آپ خاموشی سے پہلے کمرے میں جا کر دروازہ اندر سے بند کر دیں۔ ایک بار پھر آپ اسی کمرے میں پہنچ جائیں گے اور باہر پھر سے تالا لگ چکا ہو گا۔“

    یہ باتیں اس نے دھیمے لہجے میں کہی تھیں۔ ان کے غسل خانے میں جانے کے بعد وہ کمرے سے باہر نکل آیا اور بہزاد ڈاکو کی طرف بڑھا۔ اسی وقت فرزانہ بھی دوسرے ڈاکو کے ساتھ مکان میں داخل ہوئی۔

    ”کیوں۔ مل گئی چابی؟“

    ”ہاں استاد مل گئی۔ کام بن گیا۔“

    ”بہت خوب۔ لاﺅ چابی مجھے دو۔“

    بہزاد نے چابی لی۔ تالے میں لگائی۔ دوسرے ہی لمحے کھٹاک کی آواز کے ساتھ تالا کھل گیا۔ اس نے بے تابی سے دروازہ کھول دیا۔ دروازے میں داخل ہوتے ہی وہ دھک سے رہ گئے۔ کمرہ خالی پڑا ان کا منہ چڑا رہا تھا۔

    ”یہ کیا۔ کمرہ تو خالی ہے۔“ بہزاد نے کہا۔ وہ سخت حیران تھا۔

    ”تو آپ کا کیا خیال تھا۔ اس کمرے میں دولت کے انبار لگے ہوں گے۔“

    ”بکو مت۔ وہ دونوں کہاں ہیں جن کو تم نے پناہ دی تھی؟“

    ”ہم نے کسی کو بھی پناہ نہیں دی تھی۔“

    ”تو پھر اس کمرے کو تالا کیوں لگایا تھا؟ چابی پائیں باغ میں کیوں چھپائی تھی؟“

    ”ہمارے ابا جان کا حکم ہے کہ کمرہ کسی کو نہ دیکھنے دیا جائے۔“ محمود نے بات بنائی۔

    ”تم جھوٹ بولتے ہو۔ وہ دونوں ضرور اس کمرے میں تھے۔“

    ”تو پھر ڈھونڈ لو۔ کہاں گئے وہ دونوں۔“ فاروق نے تنگ آکر کہا۔

    تینوں بدمعاشوں نے ایک بار پھر غصے کے عالم میں تلاشی شروع کی یہاں تک کہ وہ ان کے کمرے میں داخل ہوئے۔ وزیر نے آگے بڑھ کر باتھ روم کا دروازہ دھکیلا۔ دروازہ ٹس سے مس نہ ہوا تو وہ چونک اٹھا۔

    ”غسل خانے کا دروازہ اندر سے بند ہے۔“ اس نے کہا۔

    ”کیا؟ بند ہے۔ کون ہے اندر؟ یہ چاروں تو ہمارے پاس کھڑے ہیں۔“

    ”میں کہہ چکی ہوں۔ مکان آسیب زدہ ہے۔ ضرور کسی آسیب نے دروازہ اندر سے بند کر لیا ہو گا۔“

    ”نہیں۔ اندر وہی دونوں ہیں۔ دروازہ توڑ دو۔“ بہزاد ڈاکو نے کہا۔

    ”تم کیسے ڈاکو ہو۔ جو موت کی بجائے دو انسانوں کو پکڑنا چاہتا ہے۔ آخر کیا کرو گے تم ان دونوں کو پکڑ کر۔“ محمود نے کہا۔

    ”چلو۔ دروازہ توڑو۔“

    وزیر نے پیچھے ہٹ کر دروازے پر کندھا مارا۔ ایک زوردار آواز کمرے میں گونجی۔ اسی طرح اس نے دس بارہ مرتبہ کندھا دروازے پر مارا۔ جب دروازہ نہ ٹوٹا تو اس کے ساتھ پرویز بھی شامل ہو گیا۔ اب بیک وقت دو آدمی دروازے پر ٹکریں مار رہے تھے۔ آخر کب تک۔ دروازہ ٹوٹ کر اندر کی طرف جا گرا۔

    تینوں بدمعاش ایک ساتھ اندر داخل ہوئے۔ یہ دیکھ کر ان کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی کہ اندر کوئی نہیں تھا۔

    ”کمال ہے۔ یہاں تو کوئی بھی نہیں ہے۔“ وزیر نے حیرت کے عالم میں کہا۔

    ”تو پھر دروازہ اندر سے کس نے بند کیا۔“ بہزاد نے پوچھا۔

    ”کہیں واقعی یہ مکان آسیب زدہ تو نہیں ہے۔“ پرویز بولا۔

    ”کیا بکتے ہو؟“ ارے۔ اس دوسرے دروازے کو دیکھو۔“

    پرویز اور وزیر دوسرے دروازے کی طرف جھپٹے۔ یہ دروازہ بھی دوسری طرف سے بند تھا۔ تینوں چکرا کر رہ گئے۔ دوڑتے ہوئے باہر نکلے اور اس کمرے کے دروازے کی طرف آئے جس میں تھوڑی دیر پہلے پروفیسر داﺅد اور ان کی بیٹی بند تھے اور جس کے دروازے پر تالا لگا ہوا تھا۔

    یہ دیکھ کر ان کی حیرت کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا کہ دروازہ اس مرتبہ اندر سے بند تھا۔

    ٭……..٭

    نیا محاذ

    ”اور اب وہ دونوں بچ کر کہاں جائیں گے؟“ بہزاد نے ہنس کر کہا۔ ”اب ہم اس کمرے کا دروازہ توڑیں گے۔ پھر تم انہیں کیسے بچاﺅ گے؟“

    چاروں چکرا گئے کیوں کہ اب پروفیسر اور شائستہ کو بچانے کا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا تھا۔

    ”وزیر تم غسل خانے کے دروازے پر پہنچ جاﺅ۔ پستول ہاتھ میں رکھنا۔ پروفیسر نکل کر بھاگنے نہ پائے۔ ہم ادھر سے دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوں گے۔“

    ”اچھا استاد۔“ وزیر نے کہا اور محمود، فاروق کے کمرے کی طرف چلا گیا۔ 

    ”استاد۔ دروازہ بہت مضبوط ہے۔“ پرویز بولا۔

    ”پروا نہیں۔ میں نے بھی بڑے بڑے دروازے توڑ ڈالے ہیں۔“ بہزاد نے کہا اور دونوں مل کر دروازے پر ٹکریں مارنے لگے۔

    چاروں حد درجے فکر مند نظر آرہے تھے۔ ان کے ذہنوں میں اس وقت بار بار یہی سوال گونج رہا تھا۔ کیا دروازہ ٹوٹ جائے گا اور یہ لوگ پروفیسر کو پکڑ کر لے جائیں گے۔ اگر ایسا ہو گیا تو ہم ابا جان کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔“

    ان خیالات کے ساتھ ہی انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ محمود نے فاروق کی طرف دیکھا اور اس نے محمود کی طرف۔ دونوں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک انوکھا پروگرام بنایا۔

    بہزاد ڈاکو اور پرویز دروازے پر ٹکر مارنے کے لیے پیچھے ہٹ رہے تھے۔ محمود اور فاروق ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہو گئے۔ ان کے درمیان میں سے بہزاد اور پرویز کو دوڑتے ہوئے دروازے تک جانا تھا۔ جونہی انہوں نے دوڑنا شروع کیا۔ محمود اور فاروق تیار ہو گئے۔ دونوں ان کے پاس پہنچے تو اچانک انہوں نے اپنی ایک ٹانگ آگے نکال دی۔ بہزاد اور پرویز منہ کے بل زمین پر آرہے۔ اسی وقت فرزانہ نے بجلی کی سی پھرتی سے گرے ہوئے بہزاد کی جیب میں سے پستول نکال لیا۔

    ”خبردار! اپنی جگہ لیٹے رہو۔ حرکت نہ کرنا۔ محمود تم دوسرے کا پستول بھی نکال لو۔“ وہ بولی۔

    محمود نے دوسرے ساتھی کا پستول نکالنے میں دیر نہیں لگائی۔ جونہی وہ پستول نکال کر پیچھے ہٹا، بہزاد اور اس کا ساتھی اٹھ کھڑے ہوئے۔

    ”میں نے تم سے کہا تھا کہ اپنی جگہ سے حرکت نہ کرنا۔“ فرزانہ بولی۔

    ”تم۔ تم ننھے بچے پستول چلانا کیا جانو۔ لاﺅ پستول ہمارے حوالے کر دو۔“ بہزاد بے خوفی سے فرزانہ کی طرف قدم اٹھاتا ہوا بولا۔ اس کا ساتھی محمود کی طرف بڑھ رہا تھا۔

    ”خبردار۔ آگے نہ بڑھنا۔ ورنہ ہم گولی چلا دیں گے۔“ محمود نے گھبرا کر کہا۔

    ”تم گولی چلاﺅ گے۔ کبھی خواب میں بھی گولی چلائی ہے۔“ بہزاد ڈاکو ہنسا۔

    ”ہم گولی چلا سکتے ہیں۔“ فرزانہ نے اکڑ کر کہا۔

    ”تو پھر چلاﺅ۔ چلاتے کیوں نہیں؟“

    ”تم پر رحم آرہا ہے۔ اتنا بڑا ڈاکو اور چھوٹے چھوٹے بچے اسے ہلاک کر دیں۔“ فاروق ہنسا۔

    ”تم ننھے منے کیڑے مجھے ہلاک نہیں کر سکتے۔“ بہزاد برابر آگے بڑھا آرہا تھا۔

    ”اللہ تعالیٰ چاہے تو چیونٹی سے ہاتھی کو ہلاک کرا دے۔“فرزانہ بولی۔

    ”بہت خوب۔ تو تم چیونٹیاں ہو۔“

    ”ہم انسان ہیں۔“ فاروق نے بُرا سا منہ بنا کر کہا۔

    اب بہزاد اور اس کا ساتھی ان دونوں سے تین چار قدم کے فاصلے پر رہ گئے تھے۔ محمود اور فرزانہ کی انگلیاں اپنے اپنے پستول کے ٹرائیگر پر تھیں۔ دونوں پستول کی نالیں ان کی طرف اٹھی ہوئی تھیں۔ اب محمود اور فرزانہ کے پاس دو راستے تھے۔ ایک تو یہ کہ وہ ان دونوں پر گولی چلا دیں کیوں کہ اسی صورت میں پروفیسر بچ سکتے تھے۔ دوسرے یہ کہ وہ ان دونوں کو یہ یقین دلا دیں کہ وہ پستول چلانا جانتے ہیں۔ اس صورت میں ڈاکوﺅں کے اٹھتے قدم رک جاتے۔ اس کا ایک فائدہ اور بھی ہوتا۔ لہٰذا محمود نے دوسرا راستہ اختیار کیا۔ وہ اچانک بولا۔

    ”ٹھہرو۔ شاید تم یہ سمجھ رہے ہو کہ ہم دونوں پستول چلانا نہیں جانتے ہوں گے۔“

    ”ہاں۔ اس میں کیا شک ہے۔“

    ”لیکن ہمیں پستول چلانا آتا ہے۔“

    ”یہ بکواس ہم ماننے کو تیار نہیں۔ تم ہمیں ڈرانا چاہتے ہو۔“

    ”اچھا تو سنو۔ یہ انسپکٹر جمشید کا گھر ہے۔“ محمود نے پُرسکون آواز میں کہا۔

    ”کیا کہا۔ انسپکٹر جمشید کا۔“ بہزاد اور اس کا ساتھی حیران رہ گئے۔

    ”ہاں! ہم انسپکٹر جمشید کے بچے ہیں۔ تمہیں بتا دوں۔ میرا نام محمود ہے، یہ فرزانہ ہے اور یہ صاحب فاروق ہیں، یہ ہماری امی ہیں۔ اب اگر تم نے ایک قدم بھی آگے بڑھایا تو بغیر جھجک کے گولی مار دیں گے۔“

    دونوں کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔ انہوں نے انسپکٹر جمشید کے ساتھ ساتھ ان کے بچوں کے کارناموں کا حال اکثر اخبارات میں پڑھا تھا۔ دوسری طرف محمود نے انہیں ڈرا کر دوہرا فائدہ اٹھایا تھا۔ اگر وہ ان پر فائر کر دیتے تو بہزاد ڈاکو کے دوسرے دو ساتھیوں کو علم ہو جانا لازمی تھا اور پھر صورتِ حال اور بھی خطرناک ہو جاتی۔ اچانک فاروق کو ایک خیال آیا۔ اس نے بیگم جمشید سے کہا۔

    ”امی! آپ میرے ساتھ آئیے۔ یہاں کے لیے محمود اور فرزانہ ہی کافی ہیں۔

    ٭……..٭

    پروفیسر داﺅد اور ڈاکوﺅں کی کار سے تھوڑے فاصلے پر ایک سفید رنگ کی کار کھڑی تھی۔ اس کا دروازہ کھلا۔ اس میں سے سیاہ کپڑوں میں ملبوس ایک شخص نکلا اور سڑک پر چلنے لگا۔ یہاں تک کہ وہ ایک پبلک فون بوتھ میں داخل ہوا۔ اس نے کسی کے نمبر ملائے اور انگریزی زبان میں کہا۔

    ”ہیلو! کون صاحب؟“

    ”تم کون ہو؟“ دوسری طرف سے پوچھا گیا۔

    ”جیری۔“

    ”تب تم نے ٹھیک نمبر پر فون کیا ہے۔ کیا رپورٹ ہے؟“

    ”بہزاد نے پروفیسر کا تعاقب گھر سے نکلتے ہی شروع کر دیا تھا۔ پروفیسر اپنی بیٹی کے ساتھ بازار گیا۔ وہاں اس نے کچھ چیزیں خریدیں۔ واپسی پر اسے تعاقب کا علم ہو گیا۔ وہ اندھا دھند بھاگ کھڑا ہوا۔ بہزاد کی کار بدستور اس کے تعاقب میں رہی۔ پروگرام یہی تھا کہ پروفیسر کو گھر سے باہر نکل جانے پر مجبور کیا جائے لیکن اچانک پروفیسر نے کار ایک سڑک پر موڑ دی۔ میں بہزاد کی کار کے پیچھے رہا جیسا کہ حکم دیا گیا تھا۔“

    ”تم نے ٹھیک کیا۔ آگے بتاﺅ۔ پھر کیا ہوا؟“ دوسری طرف سے بے چینی سے پوچھا گیا۔

    ”پروفیسر نے اچانک اپنی کار سڑک سے اتار کر کھڑی کر دی اور ایک طرف بھاگ کھڑا ہوا۔ اس کی بیٹی اس کے ساتھ تھی۔ پھر بہزاد اور اس کے ساتھی بھی کار سے اترے اور اس کے پیچھے بھاگے۔ میں نے ان دونوں کو ایک بڑے سے مکان کے بیرونی دروازے میں داخل ہوتے دیکھا تھا۔ پھر بہزاد اور اس کے ساتھی بھی اس میں داخل ہو گئے اور۔“

    ”اور کیا؟“

    ”اور اب انہیں اندر گئے تقریباً آدھ گھنٹہ ہو گیا ہے، وہ باہر نہیں نکلے۔“

    ”کیا مطلب؟“

    ”بہزاد اور اس کے ساتھی مکان سے باہر نکلتے ہوئے نہیں دیکھے گئے۔“

    ”اور پروفیسر۔“

    ”وہ بھی نہیں نکلے۔“

    ”کمال ہے۔ یہ لوگ اندر کیا کر رہے ہیں؟ اور دونوں کاریں؟“

    ”وہ اسی طرح سڑک کے کنارے کھڑی ہیں۔“

    ”ہوں! تو تم اندر جا کر حالات کا جائزہ لے سکتے ہو۔“

    دوسری طرف سے کہا گیا۔

    ”جی بہتر۔ لیکن میں آپ کو ایک بات اور بتانا چاہتا ہوں۔“

    ”کیا؟“

    ”جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے۔ یہ مکان انسپکٹر جمشید کا ہے۔“

    ”کیا!“ دوسری طرف سے حلق پھاڑ کر پوچھا گیا۔

    ”جی ہاں!“

    ”کیا بہزاد کو اس بات کا علم نہیں تھا۔“

    ”میرا خیال ہے وہ نہیں جانتا تھا۔“

    ”یہ تو بہت بُرا ہوا۔ اگر بہزاد کو پکڑا گیا تو ہمارا راز فاش ہو جائے گا۔ اب تم اندر مت جانا۔ اسی جگہ ہمارا انتظار کرو ہم پہنچ رہے ہیں۔“

    ٭……..٭


    انوکھے وار

    فاروق اپنے کمرے میں داخل ہوا۔ یہاں وزیر غسل خانے کے دروازے پر موجود تھا۔ وہ اسے اندر داخل ہوتے دیکھ کر چونکا۔ اس کا پستول فاروق پر تن گیا۔

    ”کیوں۔ تم یہاں کیوں آئے ہو۔ کیا بات ہے؟“

    ”بہزاد نے تمہیں بلایا ہے۔ انہوں نے پروفیسر اور اس کی لڑکی کو پکڑ لیا ہے۔“

    ”کیا۔ پکڑ لیا ہے؟“

    ”ہاں۔“

    ”کیا دروازہ ٹوٹ گیا تھا۔“

    ”ہاں!“

    ”چلو۔ تم نے بہت بڑی خوشخبری سنائی ہے۔ اس کام کے بدلے میں ہمیں ہزاروں روپے ملیں گے۔“ وزیر خوش ہو کر بولا۔

    دونوں کمرے کے دروازے کی طرف چلے فاروق اس کے پیچھے تھا۔

    ”میرے آگے چلو۔“ وزیر نے کہا۔

    ”مجھے تمہارے اس پستول سے ڈر لگتا ہے۔ کہیں چل گیا تو؟“

    ”ارے! اب اس کی ضرورت نہیں۔ میں اسے جیب میں رکھ لیتا ہوں۔“ وزیر نے کہا اور پستول جیب میں رکھ لیا۔

    فاروق اس کے آگے آگیا اور چلتا ہوا کمرے سے باہر نکل آیا۔ باہر نکلنے سے پہلے وہ کھانسا بھی تھا۔ اس کے پیچھے وزیر باہر نکلا۔ ساتھ ہی اس کے سرپر کوئی چیز پورے زور سے مار دی گئی۔ وہ تیورا کر گرا۔ اس کے حلق سے آواز تک نہ نکل سکی۔

    ”بہت خوب امی۔ آپ نے بہت شاندار ہاتھ مارا۔“ فاروق نے دیوار کے ساتھ لگی کھڑی اپنی امی سے کہا۔ ان کے ہاتھ میں ہاکی سٹک تھی۔

    ”میں نے زندگی میں پہلی مرتبہ کسی کو اس طرح زخمی کیا ہے۔“ بیگم جمشید نے گھبرا کر کہا۔

    ”لیکن یہ بہت ضروری تھا امی۔“

    ”ہاں! اب کیا کرنا چاہیے۔“

    ”پہلے اسے رسی سے باندھ دینا چاہیے۔“

    ”اچھا۔ میں رسی لاتی ہوں۔“

    دونوں نے مل کر اس کے ہاتھوں او رپیروں کو رسی سے جکڑ دیا۔ اس کے بعد وہ بیرونی دروازے کی طرف بڑھے۔ یہاں اسرار موجود تھا۔ فاروق باہر نکل آیا۔

    ”تمہیں بہزاد نے بلایا ہے۔“

    ”اچھا۔“

    وہ پوچھے تاچھے بغیر ہی اندر گھس گیا۔ اسے تو اندر پیش آنے والے واقعات کی خبر ہی نہیں تھی۔ جونہی وہ اندر داخل ہوا، ہاکی سٹک نے اس کا مزاج پوچھا اور وہ بھی فرش پر ڈھیر ہو گیا۔ انہوں نے مل کر اسے بھی باندھا اور گھسیٹ کر ایک طرف ڈال دیا۔

    ”اب آپ یہیں ٹھہریں۔ میں بھی اپنے کمرے سے ہاکی سٹک لے آﺅں۔“ فاروق نے کہا۔

    ٭……..٭

    محمود اور فرزانہ الجھن میں تھے۔ ان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کب تک ان دونوں پر پستول اٹھائے کھڑے رہیں گے۔ وہ سوچ سوچ کر پریشان ہو رہے تھے کہ فاروق اور امی کہاں چلے گئے۔ نہ جانے ان کے ساتھ کیا بیتی۔ اچانک ان دونوں نے دیکھا کہ بہزاد ڈاکو اور اس کا ساتھی پرویز آہستہ آہستہ سرکتے ہوئے ان سے کافی نزدیک آچکے تھے۔ یہ سب کچھ بے خبری میں ہوا تھا لیکن خطرے سے پہلے ہی وہ سنبھل گئے۔

    ”آگے مت بڑھو۔ تم جانتے ہی ہو، تمہاری گرفتاری پہلے ہی پولیس والوں کے لیے پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہے۔“محمود نے انہیں روکنے کے لیے کہا۔

    ”ہم تمہارے ساتھ ایک سوا کرنے کے لیے تیار ہیں۔“ بہزاد ڈاکو نے کہا۔

    ”کیسا سودا؟“

    ”تم ہمیں یہاں سے جانے دو۔ ہم تمہیں کچھ نہیں کہیں گے، اور تم اگر ان دونوں باپ بیٹی کو ہمارے حوالے کر دو تو ہم تم کو نقدی کی صورت میں کئی ہزار روپے پیش کرسکتے ہیں۔“

    ”بہت خوب! شاید تم نہیں جانتے، وہ باپ بیٹی کون ہیں۔“ فرزانہ نے کہا۔

    ”جانتے ہیں۔ وہ ایک پروفیسر ہے۔“

    ”پروفیسر داﺅد؟“ فرزانہ نے مسکرا کر کہا۔

    ”ارے! تم اسے جانتے ہو؟“

    ”ہم تینوں انہیں انکل کہتے ہیں۔ وہ ہمارے والد کے دوست ہیں۔“

    ”اوہ!“ بہزاد حیران رہ گیا۔

    ”اس صورت میں تم سوچ سکتے ہو کہ ہم انہیں کسی قیمت پر تمہارے حوالے نہیں کرسکتے۔“

    ”تو ہمیں جانے دو۔“

    ”کیوں؟ اب حالات ہمارے قابو میں ہیں۔“

    ”ابھی میرے دو ساتھی باہر موجود ہیں۔ وہ ادھر نکل آئے تو تمہارا بچنا مشکل ہو جائے گا۔“

    ”وہ ادھر آئیں گے تو ہم ان سے بھی سمجھ لیں گے۔ تم فکر نہ کرو۔“

    ”تمہاری مرضی۔“ بہزاد ڈاکو نے شانے اُچکائے۔

    اسی وقت محمود اور فرزانہ نے فاروق اور امی کو دبے پاﺅں بہزاد اور اس کے ساتھی کی طرف بڑھتے دیکھا۔ وہ گھبرا گئے۔ ان دونوں کے ہاتھوں میں ہاکی سٹکیں تھیں۔ ان کے دل دھک دھک کرنے لگے۔ ایسے میں فرزانہ نے سوچا کہ انہیں باتوں میں لگائے رکھنا چاہیے تاکہ یہ پیچھے مڑ کر نہ دیکھنے پائیں۔ وہ فوراً بولی۔

    ”ویسے محمود! اگر ہم ان کی پہلی بات مان لیں تو۔“

    ”کیا مطلب؟“ محمود نے غصے سے کہا۔ وہ فرزانہ کا مطلب سمجھ گیا تھا۔

    ”میرا مطلب یہ ہے کہ ہم انہیں جانے دیں تو اس کے بدلے میں یہ ہمیں کیا دیں گے؟“

    ”اس کے بدلے میں ہم تمہیں کچھ نہیں دے سکتے۔ البتہ اگر تم پروفیسر داﺅد کو ہمارے حوالے کردو تو ہم تمہیں پانچ ہزار روپے اسی وقت دے سکتے ہیں۔“

    ”ارے! بس صرف پانچ ہزار؟“ فرزانہ نے مذاق اڑانے والے انداز میں کہا۔

    ”چلو سات ہزار لے لو۔“

    ”میں تو تھوکتی ہوں ایسے سات ہزار پر۔ محمود تم کیا کہتے ہو۔“ فرزانہ نے کہا۔

    ”میں تو تھوکنا بھی پسند نہیں کرتا۔“

    ”دس ہزار؟“ بہزاد نے بولی دینے والے انداز میں کہا۔

    ”ناممکن!“ محمود کے منہ سے نکلا۔

    ”بیس ہزار؟“

    ”توبہ کرو۔“ فرزانہ بولی۔

    ”ایک لاکھ کھرب کی بات کرو تو ہم یہ سوچیں گے کہ۔“محمود کہتے کہتے رک گیا۔

    ”کیا سوچو گے تم؟“ فرزانہ نے غصیلے لہجے میں کہا۔

    ”کہ ہمارے چچا کی اس قدر کم قیمت لگانے پر ان دونوں کو کیا سزا دی جائے۔“ محمود نے مسکرا کر بات مکمل کی۔

    ”بہت خوب۔ یہ ہوئی نہ بات۔ بھلا کوئی چچا کو بھی بیچتا ہے۔“

    ”ڈاکو لوگ بیچتے ہوں گے؟“

    ”بکو مت۔“ بہزاد غصے سے چلایا۔

    ”بہت اچھا۔ آپ ہی سودا کرنے کے لیے کہہ رہے تھے۔“

    ”میں جانتا ہوں۔ تم سودا دو۔“

    اس کے الفاظ درمیان میں ہی رہ گئے۔ اسی وقت دونوں کے سروں پر ہاکی سٹکیں پوری قوت سے پڑی تھیں۔

    ”خس کم جہاں پاک۔“ فاروق نے ہاتھ جھاڑتے ہوئے کہا۔

    ٭……..٭

    انسپکٹر جمشید کی آمد

    سخت سردیوں کے موسم میں شام کے آٹھ بجے ہی یوں لگنے لگتا ہے جیسے رات آدھی سے زیادہ بیت گئی ہو۔ انسپکٹر جمشید کو تفتیش کے کام سے فارغ ہونے کے بعد کچھ ایسا ہی محسوس ہوا۔ وہ اپنی موٹرسائیکل پر سوار ہوتے وقت سوچ رہے تھے کہ شاید سب بچے سوچکے ہوں اور صرف ان کی بیگم انتظار کررہی ہوں گی۔ جونہی انہوں نے موٹرسائیکل سٹارٹ کی، تیز ہوا ان کے جسم سے ٹکرائی، وہ کپکپا اُٹھے۔ انہوں نے بائیں ہاتھ سے کوٹ کے کالر کھڑے کرلیے۔

    اب وہ پوری رفتار سے گھر کی طرف اڑے جارہے تھے۔ وہ بھوکے بھی تھے اور جلد سے جلد گھر پہنچ جانا چاہتے تھے۔ گھر کی سڑک پر مڑتے ہی انہیں اپنے گھرسے چند قدم کے فاصلے پر دو کاریں نظر آئیں۔ انہوں نے پہلے تو ان کی طرف کوئی دھیان نہ دیا لیکن قریب پہنچنے پر وہ پروفیسر داﺅد کی کار دیکھ کر کھٹکے۔ پھر ان کی نظر کار کے نمبر پر پڑی تو انہیں معلوم ہوگیا کہ کار پروفیسر کی ہی ہے۔ وہ سوچ میں پڑ گئے کہ اس وقت پروفیسر داﺅد کا یہاں کیا کام۔

    وہ موٹر سائیکل مکان کے بیرونی دروازے تک لیتے چلے گئے۔ انہوں نے موٹر سائیکل کا انجن بند کیا اور نیچے اتر آئے۔ دروازہ دھکیل کر دیکھا تو وہ کھلا ہوا تھا۔ وہ دبے پاﺅں اندر داخل ہوگئے۔ چند قدم آگے بڑھے ہوں گے کہ چونک اٹھے۔ کوئی شخص رسیوں سے بندھا فرش پر پڑا تھا۔ انہوں نے جھک کر اسے دیکھا، وہ ہوش میں تھا۔ اس کے منہ پر بھی ایک کپڑا بندھا تھا۔ انہوں نے منہ سے کپڑا ہٹایا اور پوچھا۔

    ”کون ہو تم اور یہاں کیوں بندھے پڑے ہو؟“ وہ حیران تھے۔

    ”میں…. مم…. میں۔“ وہ ہکلایا۔

    ”ہاں! کون ہوتم اور یہاں کیسے پہنچے؟“

    بندھا ہوا شخص خاموش رہا۔ شاید وہ اپنے بارے میں کچھ بتانا نہیں چاہتا تھا۔ انسپکٹر جمشید نے وقت ضائع کرنا مناسب نہ سمجھا اور اس کے منہ پر کپڑا باندھ کر آگے بڑھے۔ ان کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی جب انہوں نے ایک اور آدمی کو بندھا ہوا پایا۔

    ”یا الٰہی خیر! یہ کیا ماجرا ہے۔ یہ میرا گھر ہے یا کوئی غنڈوں کا اکھاڑہ۔“ وہ دل ہی دل میں بڑبڑائے۔

    آگے جانے سے پہلے وہ محمود اور فاروق کے کمرے میں گھس گئے۔ ایک بار پھر انہیں زبردست جھٹکا لگا۔ ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ غسل خانے کا دروازہ ٹوٹا پڑا تھا۔

    ”یا اللہ! یہ سب کیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے یہاں باقاعدہ جنگ ہوئی ہے۔“

    اب وہ کمرے سے نکل کر اندرونی حصے کی طرف بڑھے۔ ایک کمرے سے انہیں باتیں کرنے کی آواز آئی۔ کمرے کا دروازہ بند نہیں تھا۔ ایک طرف کھڑے ہوکر غور سے اندر ہونے والی گفتگو سننے لگے۔

    ”بھئی میں تو مان گیا۔ آج تک ان کے کارناموں کے متعلق سنا یا پڑھا تھا۔ آج سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔“ یہ پروفیسر داﺅد کی آواز تھی۔ انسپکٹر جمشید سمجھ گئے محمود فاروق اور فرزانہ نے آج پھر کوئی معرکہ مارا ہے۔

    ”اب ہمیں اور شرمندہ نہ کریں انکل۔“ محمود کی آواز آئی۔

    ”تم شرمندہ ہونا بھی جانتے ہو؟“ فرزانہ نے حیران ہوکر کہا۔

    ”جی نہیں۔ وہ تو بس تمہیں ہی آتا ہے۔“

    ”تمہارا آج کا کارنامہ سنہری لفظوں میں لکھنے کے قابل ہے۔“

    ”لیکن انکل سنہری روشنائی کہاں سے آئے گی؟“ فاروق نے مذاق میں کہا۔

    ”میں بناﺅں گا تمہارے لیے سنہری روشنائی۔“ پروفیسر کے ہنسنے کی آواز آئی۔

    ”ویری گڈ انکل۔ اچھا اس خوشی کے موقع پر آپ ہمیں کوئی ننھا منا ہتھیار بھی بنا کر دیں گے یا نہیں۔“

    ”کیوں نہیں۔ میں تم تینوں کو تین حیرت انگیز چیزیں بنا کر دوں گا۔“

    ”بھئی واہ! خدا ایسے انکل ہر ایک کو دے۔“ فرزانہ نے غیرارادی طور پر کہا۔

    ”ایسی دعا نہ مانگو۔“ فاروق بولا۔

    ”کیوں؟“ محمود اور فرمانہ نے بیک وقت حیران ہوکر پوچھا۔

    ”ملک میں سائنس دان ہی سائنس دان ہو جائیں۔“

    ”ہاں! یہ بھی ٹھیک ہے۔“ وہ سب ہنس پڑے۔

    ”اچھا فرزانہ پہلے یہ بتاﺅ۔ تم نے ایک دم چابی کے متعلق کیوں بتا دیا تھا۔“ بیگم جمشید نے کہا۔

    ”ہاں! ہمیں تم پر بہت غصہ آیا تھا۔“ محمود بول اُٹھا۔

    ”اس وقت بہزاد نے ہمیں قتل کرنے کی دھمکی دی تھی اور میں نے اس کی آنکھوں میں ایک خوف ناک چمک دیکھی تھی۔ اس چمک نے مجھے فوراً یہ کہا کہ یہ شخص اپنے حکم کی فوراً تعمیل کرانے والا ہے۔ اس لیے میں نے جھٹ چابی کا پتا بتا دیا۔ کیوں کہ چابی ان کے حوالے کر دینے کے بعد بھی کچھ کرنے کے بہت مواقع تھے۔“

    ”بہت خوب۔ میرا خیال ہے اس نے ٹھیک ہی کیا۔“ انسپکٹر جمشید نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔

    وہ سب انہیں دیکھ کر چونک اُٹھے۔

    ”ارے! تم کب آئے۔“ پروفیسر بولے۔

    ”ابھی تھوڑی دیر پہلے۔ میں تم لوگوں کی باتیں سن چکا ہوں۔ پہلے یہ بتاﺅ۔ تم کس بہزاد کا ذکر کررہے تھے۔“ انہوں نے پوچھا۔

    ”بہزاد ڈاکو کا۔“

    ”کیا کہا۔ بہزاد ڈاکو۔“

    ”جی ہاں! وہ انکل کو اغوا کرکے لے جانا چاہتا تھا۔“

    ”اوہ!“

    پھر پروفیسر نے پوری تفصیل سے انہیں بتایا کہ کیسے وہ یہاں تک پہنچے۔ اسی کے بعد کی کہانی کا کچھ حصہ محمود اور فرزانہ نے سنایا اور کچھ حصہ فاروق اور بیگم جمشید نے۔

    ”وہ دونوں اب کہاں ہیں؟“ انسپکٹر جمشید نے ساری کہانی سننے کے بعد پوچھا۔

    ”آپ کے کمرے میں بندھے پڑے ہیں۔“ بیگم جمشید نے بتایا۔

    ”مجھے یقین نہیں آتا کہ بہزاد ڈاکو کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”کیا آپ اسے پہچانتے ہیں؟“ محمود نے پوچھا۔

    ”نہیں۔ یہی تو مصیبت ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ اس کا آمنا سامنا کسی پولیس افسر سے نہیں ہو سکا۔ ہمارے ریکارڈ میں بھی اس کی کوئی تصویر نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ آج تک پکڑا نہیں جا سکا اور آج تم کہہ رہے ہو کہ تم نے بہزاد ڈاکو کو پکڑ لیا ہے۔“

    ”تو پھر چل کر دیکھ لیں۔ اس کے ساتھیوں سے سوالات کرنے سے سب کچھ معلوم ہوسکتا ہے۔“

    ”ہاں ٹھیک ہے۔ چلو۔ لیکن نہیں۔ ٹھہرو۔ ہم ایک ضروری کام تو بھول ہی گئے۔“انسپکٹر جمشید نے کہا۔

    ”وہ کیا؟“ پروفیسر داﺅد بولے۔

    ”کیا کسی نے پولیس کو فون کیا ہے۔“

    ”اوہ! نہیں۔“ محمود کے منہ سے نکلا۔

    ”حالاں کہ یہ سب سے ضروری تھا۔“

    ”تو میں ابھی فون کر دیتا ہوں جا کر۔“ محمود نے کہا۔

    ”ہاں! تم جاﺅ جا کر فون کر آﺅ۔ ہم بہزاد ڈاکو سے بات کرتے ہیں۔“ محمود گھر سے باہر نکل کر شیرازی صاحب کے گھر چلا گیا اور انسپکٹر جمشید دوسرے لوگوں کے ساتھ اس کمرے میں داخل ہوئے جس میں بہزاد ڈاکو موجود تھا۔ وہ اور اس کا ساتھی رسیوں سے بندھے پڑے تھے۔ ان کے سروں سے خون بہہ کر چہرے پر جم گیا تھا۔

    ”کیا تم بہزاد ڈاکو ہو؟“

    بہزاد ڈاکو خاموش رہا۔ اگر وہ اقرار کرلیتا تو ساری عمر کے لیے جیل چلا جاتا۔ اس لیے وہ کیسے اپنے منہ سے کہہ سکتا تھا۔ اس کے خاموش رہنے پر انسپکٹر جمشید نے پرویز سے سوال کیا۔

    ”کیا تمہارا یہ ساتھی بہزاد ڈاکو ہے۔“

    وہ بھی خاموش رہا۔ انسپکٹر جمشید تھوڑی دیر تک کچھ سوچتے رہے پھر کمرے سے نکل آئے۔ ان کے پیچھے دوسرے بھی نکل آئے۔

    ”یہ تو مشکل ہی اقرار کرے گا۔“ فرزانہ بولی۔

    ”ہاں! لیکن یہ ہے بہزاد ڈاکو ہی۔“ انسپکٹر جمشید نے کہا۔

    ”یہ کیسے کہہ سکتے ہیں آپ؟“ بیگم جمشید نے پوچھا۔ دوسرے بھی انہیں سوالیہ نظروں سے دیکھ رہے تھے۔

    ”اگر یہ بہزاد ڈاکو نہ ہوتا تو فوراً کہتا۔ میں بہزاد ڈاکو نہیں ہوں۔ لیکن یہ میرے سوال کے جواب میں خاموش رہا، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ بہزاد ڈاکو ہی ہے۔“

    ”لیکن سوال یہ ہے کہ تم اسے کیسے ثابت کرو گے۔“ پروفیسر داﺅد نے سوال کیا۔

    ”ابھی ثابت کیے دیتا ہوں۔ یہ کون سا مشکل کام ہے۔“

    ”آخر کیسے؟“ فاروق نے پوچھا۔

    ”بس دیکھتے جاﺅ۔“

    وہ سب بہزاد ڈاکو کے اس ساتھی کے پاس آئے جو دروازے پر بندھا پڑا تھا۔ انسپکٹر جمشید نے اس کے منہ سے کپڑا ہٹایا۔

    ”تم کس کے ساتھ ہو؟“

    ”کیا مطلب؟“ اس نے حیران ہوکر پوچھا۔

    ”تمہارے گروہ کے سردار کا کیا نام ہے؟“

    ”کیوں؟ آپ کیوں پوچھ رہے ہیں؟“ اس نے پوچھا۔

    ”اس لیے کہ تمہارے تینوں ساتھی مارے جاچکے ہیں۔“ انسپکٹر جمشید نے اچانک کہا۔

    ”کیا کہا۔ مارے جاچکے ہیں؟“ اس کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔

    ”ہاں! صرف تم ہی بچے ہو۔ تمہارے سامنے اس وقت انسپکٹر جمشید کھڑا ہے۔ یہ میرا ہی مکان ہے۔ تم نے کسی عام آدمی کے مکان پر چڑھائی نہیں کی تھی۔ مکان اس وقت پولیس کے گھیرے میں ہے۔ تمہارے تینوں ساتھی فرار کی کوشش کرتے ہوئے ہلاک ہوچکے ہیں۔ لہٰذا تمہارے لیے بہتر یہی ہے کہ سچ سچ بتا دو کہ تمہارے گروہ کا سردار کون تھا۔“

    ”بہزاد ڈاکو۔“ اس نے پریشان ہوکر کہا۔

    انسپکٹر جمشید مسکرائے۔

    ”اسے میرے کمرے میں بند کردینا چاہیے۔“ انہو ںنے کہا۔

    پروفیسر داﺅداور انسپکٹر جمشید نے مل کر اسے اٹھایا اور کمرے میں ڈال کر دروازہ بند کردیا۔

    اب وہ دوسرے قیدی کی طرف بڑھے جو محمود اور فاروق کے کمرے کے دروازے کے پاس بندھا پڑا تھا۔ جلد ہی اس نے بھی یہ اقرار کرلیا کہ وہ بہزاد ڈاکو کا ساتھی ہے۔

    ٭….٭….٭

    محمود نے شیرازی صاحب کے دروازے پر دستک دی۔ دروازہ بیگم شیرازی نے کھولا۔

    ”السلام علیکم آنٹی!“

    ”وعلیکم السلام۔ آﺅ محمود کیا بات ہے؟“

    ”مجھے ذرا پولیس اسٹیشن فون کرنا ہے۔“

    ”اچھا آﺅ۔“

    ”شیرازی صاحب کہاں ہیں؟“

    ”اپنے کمرے میںآرام کررہے ہیں۔“

    ”اچھا!“

    دونوں فون والے کمرے میں آئے۔ محمود نے فون پر نمبر ملائے اور ریسیور کان سے لگاتے ہوئے بولا۔

    ”ہیلو۔“

    ”پولیس اسٹیشن۔“ دوسری طرف سے کہا گیا۔

    ”کون صاحب؟“

    ”میں سب انسپکٹر ابراہیم بول رہا ہوں۔ آپ کون ہیں؟“

    ”محمود! انسپکٹر جمشید کا لڑکا۔ آپ فوراً کچھ کانسٹیبل لے کر یہاں پہنچ جائیں۔“

    ”کیوں۔ خیر تو ہے؟“

    ”ہاں! سب خیریت ہے لیکن ذرا جلدی کیجیے۔“

    ”کیا انسپکٹر صاحب گھر میں موجود ہیں؟“

    ”ہاں! وہ بھی ہیں۔“

    ”کیا یہ انہی کا حکم ہے؟“

    ”ہاں!“

    ”اچھا! میں آرہا ہوں۔“

    ”جلدی آئیے۔“ محمودنے کہا اور ریسیور رکھ دیا۔

    ”کیا بات ہے محمود۔ تم نے پولیس کو کیوں بلایا ہے۔“

    ”ہمارے ہاں اس وقت کچھ مجرم بندھے پڑے ہیں۔“

    ”ارے!“ وہ حیران رہ گئیں۔

    ”جی ہاں! بہزاد ڈاکو اور اس کے تین ساتھی۔“

    ”ان لوگوں کا تمہارے گھر میں کیا کام؟“

    ”وہ پروفیسر داﺅد کو اغوا کرنا چاہتے تھے۔“

    ”تو کیا پروفیسر داﺅد تمہارے ہاں موجود تھے۔“

    ”جی ہاں!“

    ”انہیں تمہارے والد نے پکڑا؟“

    ”نہیں وہ گھر میں موجود نہیں تھے۔“

    ”تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان چاروں کو تم نے پکڑا ہے۔“

    ”جی ہاں!“

    ”بھئی واہ! کمال کیا تم نے۔“

    ”اچھا آنٹی میں چلتا ہوں۔“

    ”اچھا۔“

    محمود ان کے مکان سے نکل کر اپنے دروازے کی طرف بڑھا ہی تھا کہ ٹھٹک کر رک گیا۔ تین غیرملکی ان کے مکان میں داخل ہورہے تھے۔

    ٭……..٭


    نئے حملہ آور

    ”بہت خوب! اسے بھی ایک کمرے میں بند کرنا چاہیے۔“ انسپکٹر جمشید نے کہا۔

    دوسرے کمرے میں اسے ڈال کر دروازہ بند کردیا گیا۔ اب وہ ڈرائنگ روم میں آکر بیٹھ گئے۔

    ”میری سمجھ میں ابھی تک یہ بات نہیں آئی کہ بہزاد ڈاکو کو مجھ سے کیا دشمنی ہے۔ آخر وہ مجھے کیوں پکڑنا چاہتا تھا۔“ پروفیسر داﺅد نے آرام سے بیٹھنے کے بعد کہا۔

    ”ہم اس سے یہ بات اگلوا لیں گے۔ آپ فکر نہ کریں۔“

    ”ابا جان! ہو سکتا ہے کوئی اور بہزاد ڈاکو کے ذریعے انکل کو پکڑوانا چاہتا ہو۔“ فرزانہ نے خیال ظاہر کیا۔

    ”ہاں! یہ بھی ممکن ہے۔ بہزاد ڈاکو کو بھاری رقم کے لالچ میں ایسے کام پر آمادہ کرنا کچھ مشکل بھی نہیں۔“

    ”اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون ہے جو ایسا چاہتا ہے۔“

    ”آپ لوگ ٹھہریں۔ میں بہزاد سے معلوم کرکے آتا ہوں۔“

    انسپکٹر جمشید نے کہا اور کمرے سے نکل کر بہزاد ڈاکو والے کمرے میں پہنچے۔

    ”یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ تم بہزاد ڈاکو ہو۔ تمہارے دوسرے دو ساتھیوں نے اس بات کا اقرار کرلیا ہے۔“ انہوں نے کہا۔

    ”کسی کے کوئی بات کہنے سے کیا بنتا ہے۔“

    ”تو کیا تم بہزاد ڈاکو نہیں ہو؟“

    ”نہیں!“ اس نے جواب دیا۔

    ”بہت دیر بعد عقل آئی۔“ انسپکٹر جمشید مسکرائے۔

    ”کیا مطلب؟“

    ”مطلب یہ کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے جب میں نے آکر پوچھا تھا تو تم نے کوئی جواب نہیں دیا تھا بلکہ خاموش ہو گئے تھے۔ تم نے اس وقت کیوں نہ کہہ دیا کہ تم بہزاد نہیں ہو۔“

    ”تم کہنا کیا چاہتے ہو؟“

    ”یہی کہ تم بہزاد ہو۔“

    ”لیکن میں بہزاد نہیں ہوں۔“

    ”خیر! ہم ثابت کردیں گے۔ تم یہ بتاﺅ کہ پروفیسر کو اغوا کرنے سے تمہارا کیا مقصد تھا۔“

    ”کوئی پروفیسر کو اغوا کرانا چاہتا ہے۔ پچیس ہزار روپے کے بدلے میں نے اس کام کو کرنے کا وعدہ کیا ہے۔“

    ”بہت خوب۔ کیا تمہیںرقم مل چکی ہے؟“

    ”نہیں۔ کام کے بعد ملے گی۔“

    ”کون پروفیسر کو اغوا کرانے کا خواہش مند ہے۔“

    ”یہ میں تمہیں نہیں بتا سکتا۔“

    ”کیوں؟“ انسپکٹر جمشید نے تیز لہجے میں کہا۔

    ”اس لیے کہ یہ میرا کاروباری معاملہ ہے۔“

    ”ہمیں اگلوانا آتا ہے۔“

    ”مجھ سے اگلواﺅ گے…. یعنی….“ وہ کچھ کہتے کہتے رُک گیا۔

    ”ہاں ہاںکہو۔ رک کیوں گئے۔ کہتے کیوں نہیں۔ تم یہی کہنے والے تھے نا۔ مجھ سے اگلواﺅ گے۔ یعنی بہزاد ڈاکو سے۔“

    بہزاد خاموش رہا۔

    ”تو تم اس کا نام نہیں بتاﺅ گے؟“

    ”نہیں۔“

    ”اب تم یہاں سے بچ کر نہیں جاسکو گے۔“ انسپکٹر جمشید نے کہا۔

    ”میں صاف بچ کر نکل جاﺅں گا اور تم دیکھتے رہ جاﺅ گے۔“

    بہزاد ہنسا۔

    ”ابھی میرے ساتھی یہاں پہنچ جائیں گے۔“

    ”کن ساتھیوں کی بات کررہے ہو۔ جنہوں نے تمہیں اس کام پر مامور کیا ہے؟“

    ”نہیں۔ میرے اپنے ساتھی۔“

    ”تمہارا ایک ساتھی تو تمہارے پاس موجود ہے۔“ انسپکٹر جمشید نے ہنس کر کہا۔ 

    ”دو دوسرے کمرے میں بندھے پڑے ہیں اور ساتھی کہاں سے آئیں گے۔ کیا پروگرام بنا کر آئے تھے کہ پروفیسر داﺅد کو گھیر کر انسپکٹر جمشید کے گھر میں لے جایا جائے گا اور پھر وہاں جب ہم پھنس جائیں تو دوسرے ساتھی بھی وہاں پہنچ جائیں۔“

    بہزاد ڈاکو کے پاس اُن کی اس بات کا کوئی جواب نہ تھا۔ اس لیے وہ خاموش رہا۔

    ”بہت اچھا۔ تم نہیں بتاتے نہ بتاﺅ۔ اب سب کچھ معلوم کرنا میرا کام ہے۔“

    انہوں نے کہا اور کمرے سے نکل آئے۔

    ٭……..٭

    سڑک کے کنارے کھڑی سفید کار کے پاس ایک اور چھوٹی سی سبز کار آکر رُکی۔ اس میں سے تین غیرملکی نیچے اُترے۔ سفید کار میں بیٹھا ہوا آدمی انہیں دیکھ کر کار سے نکل آیا۔

    ”کیا حالات بدستور ہیں؟“ ان میں سے ایک نے انگریزی میں پوچھا۔

    ”جی ہاں!“ سفید کار والے نے جواب دیا۔

    ”تو آﺅ۔ اندر چل کر دیکھیں تو سہی ماجرا کیا ہے۔“ ایک بولا پھر اس نے اپنے ساتھی سے کہاجو ڈرائیور تھا۔ تم باہر ہی ٹھہرو گے۔“

    ”کیا آپ کے پاس پستول موجود ہیں؟“ سفید کار والے نے پوچھا۔

    ”ہاں! کیوں۔ تم نے یہ کیوں پوچھا؟“

    ”یہ انسپکٹر جمشید کا گھر ہے۔“

    ”اوہ! کیا فضول بات کہی تم نے۔ چلو اندر۔“

    تینوں دروازے کی طرف بڑھے۔

    ”یاد رہے۔ کسی کی زبان پر ایک دوسرے کا نام نہ آئے ورنہ ملکی حالات بگڑ جائیں گے۔ دونوں ملکوں کے سفارتی تعلقات ٹوٹ جائیں گے۔“ سبز کار والوں میں سے ایک بولا۔

    ”ٹھیک ہے۔ ہم سمجھتے ہیں۔“

    ”لیکن ہم اندر جائیں گے کیسے؟ دروازہ تو اندر سے بند ہوگا؟“

    ”نہیں۔ دروازہ اندر سے بند نہیں ہے۔“ سفید کار والے نے کہا۔

    ”کیوں؟ تمہیں کیسے معلوم؟ کہیں ہم سے پہلے اندر تو نہیںہو آئے؟“

    ”نہیں! ابھی ابھی ایک لڑکا گھر سے نکل کر ساتھ والے مکان میں گیا تھا۔“

    ”سوال یہ ہے کہ وہ دوسرے مکان میں کس لیے گیا ہے؟“

    ”یہ مجھے کیا معلوم۔“

    ”مجھے تو خطرے کی بو آرہی ہے۔“

    ”تم آﺅ تو سہی۔ اگر ضرورت پڑی تو ہم بلا جھجک اپنے پستول استعمال کریں گے اور کسی کو زندہ نہ چھوڑیں گے تاکہ کسی کو شک کرنے کا موقع نہ ملے۔“

    انہوں نے آواز پیدا کیے بغیر دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوگئے۔ سب سے پہلے وہ ایک کمرے کے دروازے پر پہنچے۔ اس کا دروازہ باہر سے بندھ تھا۔ ان میں سے ایک نے آہستہ سے دروازہ کھولا اور اندر جھانک کر دیکھا۔ دوسرے ہی لمحے وہ چونک اٹھے۔ اندر کوئی بندھا پڑا تھا۔

    ”یہ کون ہے؟“ سبز کار والے نے پوچھا۔

    ”بہزاد کا ساتھی۔“

    ”اوہ! تو یہ لوگ پکڑے جاچکے ہیں۔“

    ”آﺅ۔ پہلے آگے چل کر دیکھ لیں۔“

    وہ تینوں آگے بڑھے۔ اس مرتبہ انہوں نے محمود اور فاروق کے کمرے کا دروازہ کھول کر دیکھا۔ یہاں بھی انہیں بہزاد کا ایک ساتھی بندھا ملا۔

    ”یہ کیا ماجرا ہے؟ انہیں الگ الگ کمرے میں کیوں رکھا گیا ہے؟“

    ”خدا جانے کیا چکر ہے۔“

    وہ آگے بڑھے تو ایک کمرے سے انہیں کئی آدمیوں کے باتیں کرنے کی آوازیں سنائی دیں۔ وہ دبے پاﺅں آگے بڑھنے لگے۔

    ٭……..٭

    محمود ٹھٹک کر رہ گیا۔ اس نے سڑک پر چار کاریں کھڑی دیکھیں جن میں سے ایک پروفیسر کی تھی۔ دوسری یقینا بہزادڈاکو کی تھی۔ باقی دو کاریں؟ اس نے سوچا۔ ضرور ان غیرملکیوں کی ہیں۔ اس خیال کے آتے ہی اس نے اپنی جیب کو ٹٹولا لیکن جیب خالی تھی۔

    وہ ایک بار پھر شیرازی صاحب کے مکان میں گھس گیا۔ بیگم شیرازی اسے دیکھ کر چونک اُٹھیں۔

    ”خیر تو ہے۔ تم واپس آگئے؟“

    ”ایک پنسل اور کاغذ کی ضرورت ہے۔ جلدی کریں۔“

    ”اچھا۔ لیکن بات تو بتاﺅ۔“ بیگم شیرازی اُٹھتے ہوئے بولیں۔

    ”بہزاد ڈاکو کے کچھ ساتھی ہمارے مکان میں داخل ہوئے ہیں۔ ان کی کاریں سڑک پر کھڑی ہیں۔ ان کے نمبر نوٹ کرنا چاہتا ہوں۔“

    ”اوہ!“ بیگم شیرازی گھبرائیں۔ جلدی سے انہوں نے کاغذ اور پنسل محمود کے ہاتھوں میں پکڑا دیے۔ محمود باہر کی طرف لپکا تو وہ بھی اس کے پیچھے چلی آئیں۔

    محمود سڑک کے کنارے کھڑی کاروں کے پاس پہنچا اور جھک کر ان کے نمبر نوٹ کرنے لگا۔ ایک کار کے نمبر نوٹ کرنے کے بعد دوسری کار کی طرف بڑھا۔ یہ سبز رنگ کی کار تھی۔ وہ جھکا اور نمبر نوٹ کرنے ہی والا تھا کہ ایک تیز آواز نے اسے بوکھلا دیا۔

    ”کیا بات ہے صاحبزادے۔ یہ نمبر کس خوشی میں نوٹ ہورہے ہیں؟“

    محمود ایک دم سیدھا کھڑا ہوگیا۔ اس نے دیکھا کہ وہ سبز کار کا ڈرائیور تھا جو کار سے باہر بجلی کے ایک کھمبے سے لگا اسے گھور رہا تھا۔

    ”تم نے کار کے نمبر کیوں نوٹ کیے ہیں؟“ اس نے دوبارہ سخت لہجے میں پوچھا۔

    ”جی…. جی….“ محمود سے کوئی بات نہ بن سکی۔

    ”بتاﺅ؟“

    ”جی…. جی دراصل یہ میرا شوق ہے۔“ اس نے بات بنا ہی ڈالی۔

    ”یہ تمہارا شوق ہے؟“ کار کے ڈرائیور نے حیران ہوکر کہا۔

    ”جی ہاں!“

    ”تو تم نے اپنے گھر کے سامنے کھڑی دو کاروں کے نمبر کیوں نوٹ نہیں کیے؟“ ڈرائیور نے پوچھا۔

    ”کون سی دو کاروں کے؟“ محمود نے یونہی پوچھا۔

    ”وہ جو کھڑی ہیں۔“ اس نے پروفیسر داﺅد اور بہزاد کی کار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جو شیرازی صاحب کے گھر کے سامنے کھڑی تھیں۔

    محمود سمجھ گیا کہ چوں کہ اس نے اسے شیرازی صاحب کے گھر سے نکلتے دیکھا ہے اس لیے یہ سمجھا ہے کہ یہی اس کا گھر ہے۔ اب وہ جواب دینے کے لیے تیار تھا۔

    ”ان دونوں کے نمبر تو میں پہلے ہی نوٹ کرچکا ہوں۔“

    ”ذرا دکھانا تو کاغذ۔“

    مجبوری کے عالم میں اس نے کاغذ ڈرائیور کی طرف بڑھا دیا۔

    ”لیکن اس پر تو صرف ایک کار کا نمبر درج ہے۔“

    ”ان دو کاروں کے نمبر دوسرے کاغذ پر درج کیے تھے۔وہ گھر میں رکھا ہے۔“

    ”ہوں۔ بھاگ جاﺅ۔ اس کار کا نمبر نوٹ کرو۔“

    ”میرا کاغذ تو مجھے دے دیں۔ میں آپ کی کار نمبر نہیں نوٹ کرتا۔“ 

    ”دوڑ جاﺅ۔“

    محمود نے مڑتے مڑتے سبز کار کے نمبر پر نظر ڈالی۔ اس کا نمبر ذہن میں محفوظ ہوچکا تھا۔

    ٭……..٭

    پروفیسر داﺅد کا اغوا

    انسکپٹر جمشید بہزاد ڈاکو کے کمرے سے نکل کر ڈرائنگ روم کی طرف بڑھے ہی تھے کہ چونک کر رُک گئے۔ تین غیرملکی ڈرائنگ روم کے دروازے پر کھڑے اندر ہونے والی گفت گو سن رہے تھے۔ انہوں نے سوچا کیا یہی لوگ پروفیسر کو اغوا کروانا چاہتے ہیں؟ اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ خود ہی آگئے۔“ یہ خیال آتے ہی انہوں نے جیب سے پستول نکال لیا۔

    ”اپنے ہاتھ اوپر اٹھا دو۔ خبردار تم میں سے کوئی حرکت نہ کرے۔“ انہوں نے وہیں کھڑے کھڑے انہیں للکارا۔

    وہ بھڑک کر مڑے۔ دوسرے ہی لمحے ان کے ہاتھ اوپر اُٹھ گئے۔ انسپکٹر جمشید کی آواز ڈرائنگ روم کے اندر بھی پہنچ گئی۔ فاروق اور فرزانہ صورتِ حال معلوم کرنے کے لیے دروازے کی طرف دوڑے۔ فاروق نے دروازے پر پہنچتے ہی پوچھا۔

    ”کیا بات ہے ابا جان؟“

    انسپکٹر جمشید نے جونہی فاروق کی طرف دیکھا۔ ان تینوں میں سے ایک نے بجلی کی سی پھرتی سے ہاتھ گرا دیا۔ دوسرے ہی لمحے اس کے ہاتھ میں پستول تھا۔ ساتھ ہی پستول سے فائر ہوا اور انسپکٹر جمشید کے ہاتھ سے پستول نکل کر فضا میں اچھلا پھر فرش پر گر گیا۔

    ”اب تم سب ہاتھ اوپر اٹھا دو۔“ پستول والے نے کہا۔ فاروق کا رنگ زرد پڑ گیا کیوں کہ یہ اچانک تبدیلی اس کی وجہ سے آئی تھی۔ اس کا سر شرم سے جھک گیا۔

    ”کوئی بات نہیں۔“ انسپکٹر جمشید نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا۔

    ”ایسا بھی ہوتا ہے۔“

    اور ان سب کے ہاتھ اوپر اُٹھ گئے۔

    ”جلدی کرو۔ بہزاد اور اس کے ساتھیوں کو کھول دو۔ اس کے بعد ہمیں یہاں سے پروفیسر سمیت جانا ہے۔ اس کام میں دو منٹ سے زیادہ نہیں لگنے چاہئیں۔“ پستول والے غیرملکی نے کہا۔ اس کے ساتھ ہی اس کے دونوں ساتھیوں نے بھی پستول نکال لیے تھے۔ وہ دونوں بہزاد ڈاکو والے کمرے کی طرف دوڑے گئے۔ انہوں نے پہلے بہزاد اور اس کے پاس پڑے ساتھی کی رسیاں کاٹیں پھر بہزاد کا ساتھی اپنے دونوں ساتھیوں کو آزاد کرنے کے لیے دوڑا گیا۔

    ایک منٹ کے اندر اندر وہ سب ڈرائنگ روم میں جمع تھے۔ ان کی طرف بیک وقت چھے پستول اُٹھے ہوئے تھے۔

    ”اور اب پروفیسر صاحب آپ ہمارے ساتھ چلیں گے۔ باقی سب لوگ یہیں رہیں گے۔“ایک غیرملکی نے کہا۔

    ”سب لوگ دیوار کی طرف منہ کرکے کھڑے ہو جائیں۔ پروفیسر صاحب آپ ہمارے پاس چلے آئیں۔“

    تعمیل کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ وہ سب دیوار کی طرف منہ کرکے کھڑے ہوگئے۔ پروفیسر بے بسی کی حالت میں ان کی طرف بڑھتے چلے گئے۔

    ”پروفیسر کو مکان سے باہر نکال کر کار میں بٹھا دو۔ ہم بھی پہنچ رہے ہیں۔“ غیرملکی نے بہزاد اور اس کے ساتھیوں سے کہا۔

    ”جی بہت اچھا۔“ بہزاد ڈاکو نے کہا اور وہ پروفیسر داﺅد کو لے کر نکل گئے۔

    ”انسپکٹر جمشید! اس سے بڑی شکست آج تک تم نے نہیں کھائی ہوگی۔ آج کی شکست تمہیں ساری عمر یاد رہے گی۔ دیوار کے ساتھ لگے کھڑے رہو۔ اگر کسی نے پلٹ کر دیکھنے کی کوشش کی تو کامیابی کے اس مقام پر ہم فوراً گولی مارنے کے سوا کچھ نہیں کریں گے۔“ غیرملکی نے کہا۔

    وہ سب خاموش کھڑے رہے۔ انسپکٹر جمشید جانتے تھے کہ اس وقت کچھ بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ذرا بھی حرکت کرنے کا مطلب موت کے سوا کچھ نہیں تھا۔ پھر انہوں نے دروازہ بند ہونے اور چٹخنی لگنے کی آواز سنی۔

    وہ پلٹے۔ دروازہ بند ہوچکا تھا۔ فاروق اور فرزانہ دروازے کی طرف دوڑے۔

    ”کوئی فائدہ نہیں۔ دروازے باہر سے بند کیا جا چکا ہے۔“ انسپکٹر جمشید نے انہیں روکنے کے لیے کہا۔

    لیکن اتنی دیر میں وہ دونوں دروازے تک پہنچ چکے تھے۔ انہوں نے دروازے کا ہینڈل پکڑ کر کھینچا۔ لیکن وہ باہر سے بند کیا جاچکا تھا۔

    ٭……..٭

    محمود شیرازی صاحب کے دروازے کی طرف بڑھ رہا تھا۔ وہ سیدھا اپنے گھر میں نہیں گھس سکتا تھا کیوں کہ سبز کار کا ڈرائیور ابھی تک اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ دروازے کے پاس پہنچ کر اس نے سب سے پہلے سبز کار کے نمبر کاغذ پر لکھ لیے۔

    ”کیا بات ہے محمود؟ تم پھر واپس آرہے ہو؟“ دروازے کے اندر کھڑی بیگم شیرازی نے پوچھا۔

    ”کار کا ڈرائیور سڑک پر موجود تھا۔ اس نے مجھے نمبر نوٹ کرتے دیکھ لیا ہے۔ اب میں اپنے گھر میں جانا چاہتا ہوں۔ کیوں کہ خدا جانے وہاں کیا حالات پیش آئے ہوں۔ ڈرائیور مجھے آپ کے گھر سے نکلتے دیکھ چکا ہے۔ اس کے ساتھی ہمارے مکان میں داخل ہوچکے ہیں۔ اب اگر میں اس طرف جاتا ہوں تو وہ ضرور مجھے ٹوکے گا۔“

    ”پھر کیا کیا جائے؟“

    ”خطرہ بہت بڑھ گیا ہے اور میں کچھ سوچ نہیں پا رہا ہوں۔“

    ”کیا میں شیرازی صاحب کو بلا لاﺅں؟“ انہوں نے پوچھا۔

    ”نہیں۔ ان کی ضرورت نہیں۔“

    اسی وقت محمود نے اپنے گھر کا دروازہ کھلتے دیکھا۔ دوسرے ہی لمحے اس کی آنکھیں حیرت کی وجہ سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ بہزاد ڈاکو کا ایک ساتھی باہر نکل رہا تھا اور اس کے پیچھے باہر نکلنے والے شخص پر نظر پڑنے پر تو اس کا رنگ ہی اُڑ گیا۔ یہ پروفیسر داﺅد تھے۔ ان کے پیچھے بہزاد ڈاکو اور اس کے دو ساتھی برآمد ہوئے۔

    یہ پانچوں پروفیسر داﺅد کے برابر کھڑی کار میں بیٹھ گئے۔ فوراً ہی کار کا انجن سٹارٹ ہوگیا لیکن وہ اپنی جگہ کھڑی رہی۔ ابھی محمود اپنے ہوش و حواس درست بھی نہیں کر پایا تھا کہ اسے ایک شدید جھٹکا لگا۔ وہ حد درجے پریشان ہوگیا۔

    تینوں غیرملکی اندر سے نکل کر سبز کار کی طرف بڑھ رہے تھے۔ جیسے ہی کار میں بیٹھے کار سٹارٹ ہوگئی۔ اس کے پیچھے بہزاد ڈاکو کی کار چل پڑی۔ ان دونوں کے بعد سفید کار والا بیٹھا اور ان کے پیچھے روانہ ہوگیا۔

    محمود اچھل کر اپنے گھر کی طرف دوڑا۔ وہ اندھا دھند اندر داخل ہوا اور چلایا۔

    ”ابا جان! آپ کہاں ہیں؟“

    ”ہم ڈرائنگ روم میں ہیں۔“ انسپکٹر جمشید کی آواز آئی۔

    وہ بے تحاشہ ڈرائنگ روم کی طرف بھاگا اور فوراً دروازہ کھول دیا۔

    ”آپ سب ٹھیک تو ہیں؟“ اس نے پوچھا۔

    ”ہاں! ہم سب ٹھیک ہیں مگر۔“ بیگم جمشید کے منہ سے نکلا۔

    ”میں جانتا ہوں۔ وہ لوگ انکل کو لے گئے۔“ یہ کہتے وقت اس نے شائستہ کو دیکھا وہ بری طرح سسک رہی تھی۔

    ”شائستہ! میری بچی نہ رو۔ میں صبح ہونے سے پہلے ان لوگوں سے پروفیسر کو واپس حاصل کرکے رہوں گا۔“ انسپکٹر جمشید نے اس کا شانہ تھپکتے ہوئے کہا۔ پھر بولے۔

    ”تم میرے ساتھ آﺅ۔ میں شہر کے تمام پولیس اسٹیشنوں کو باخبر کرنا چاہتا ہوں۔“

    ”چلیے۔“

    دونوں گھر سے نکلے۔ دوسری طرف سے بیگم شیرازی حالات جاننے کے لیے آرہی تھیں۔

    ”واپس چلیے۔ مجھے کچھ فون کرنا ہیں۔“

    ”اچھا!“

    تینوں فون والے کمرے میں آئے۔ انہوں نے سب سے پہلے اکرام کو وہاں پہنچنے کے لیے فون پر کسی سپاہی کو حکم دیا۔ پھر انہوں نے مختلف سمتوں میں فون کے گھوڑے دوڑائے۔ جب وہ اس کام سے فارغ ہوچکے تو محمود نے کہا۔

    ”ابا جان میرے پاس دو کاروں کے نمبر ہیں۔ مجرم انہی دو کاروں میں فرار ہوئے ہیں۔“

    ”کیا؟ یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟“ انسپکٹر جمشید خوشی سے چلائے۔

    ”جی ہاں! جب تینوں غیرملکی اندر داخل ہوئے تو میں نے ان دونوں کاروں کے نمبر نوٹ کر لیے تھے۔“ اس نے پُرجوش لہجے میں نمبر بتائے۔ انسپکٹر جمشید نے نوٹ بک میں دونوں نمبر نوٹ کرلیے۔

    انہوں نے کئی بار بے چینی کے عالم میں ان نمبروں کو پڑھا۔ پھر فون پر رجسٹریشن آفس کے نمبر ڈائل کرنے لگے لیکن دوسری طرف سے کسی نے فون کا ریسیور نہیں اٹھایا۔ انہیں یاد آگیا کہ رات کا وقت ہے۔ اس وقت دفتر میں کوئی نہیں ہوگا۔ اس پر انہوں نے ڈی آئی جی کے گھر نمبر ڈائل کیے۔ دوسری طرف سے فوراً ہی جواب دیا گیا۔

    ”جی! میں انسپکٹر جمشید ہوں۔ حالات بہت نازک ہیں۔ مجھے اسی وقت دو کاروں کے بارے میں معلوم کرانا ہے کہ وہ کس کی ہیں۔“ انہوں نے گھبرا کر کہا۔

    ”اس وقت! آخر بات کیا ہے؟“ ڈی آئی جی نے حیران ہوکر پوچھا۔

    ”ایک ایک لمحہ قیمتی ہے۔ کاروں کے نمبر سنیے اور رجسٹریشن آفس کے کسی افسر کو فوراً معلومات بہم پہنچانے کے لیے وہاں بھیج دیں۔ پھر میں آپ کو تمام حالات فون پر بتا دوں گا۔“

    ”اچھا!“ دوسری طرف سے کہا گیا۔

    ”تمہارا نمبر کیا ہے؟ میں تمہیں ابھی آدھ گھنٹے کے اندر معلوم کرکے فون کروں گا۔“

    انسپکٹر جمشید نے نمبر بتا دیے۔دوسری طرف سے ریسیور رکھ دیا گیا۔ انہوں نے بھی ریسیور رکھ کر بیگم شیرازی سے کہا۔

    ”ہم ابھی آدھ گھنٹے بعد آئیں گے۔“

    ”اچھا!“

    جونہی وہ باہر نکلے، سب انسپکٹر ابراہیم کچھ کانسٹیبل کے ساتھ جیپ سے اترا۔

    ”انسپکٹر صاحب! آپ بہت جلدی آئے۔ اب آپ ان دونوں کاروں کی تلاش میں روانہ ہوجائیں۔ وہ اس سڑک پر گئے ہیں۔ خیال رہے کہ وہ پروفیسر داﺅد کو اغوا کرکے لیے جارہے ہیں۔ صرف تعاقب کریں اور وائرلیس پر اطلاع دیتے رہیں۔“

    ´´”جی بہتر۔“ انسپکٹر ابراہیم نے دونوں کاروں کے نمبر نوٹ کیے اور دوبارہ جیپ میں بیٹھ کر چلا گیا۔

    چھت پر

    آدھ گھنٹے بعد وہ پھر بیگم شیرازی کے گھر میں موجود تھے کہ فون کی گھنٹی بجی۔ انسپکٹر جمشید نے ریسیور کان سے لگاتے ہوئے کہا۔

    ”یس سر!“

    ”جمشید۔ میں نے ان دونوں کاروں کے متعلق معلوم کرلیا ہے۔“ دوسری طرف سے ڈی آئی جی کی آواز آئی۔

    ”بہت بہت شکریہ! وہ کاریں کن کی ہیں؟“

    ”تمہیں یہ سن کر حیرت ہوگی کہ وہ ہمارے ایک دوست ملک کے سفارت خانے کی کاریں ہیں۔“

    ”کیا؟“ انسپکٹر جمشید کا منہ حیرت سے کھلا کا کھلا رہ گیا۔

    ”ہاں!“

    ”کاریں کن آفیسروں کے نام ہیں؟“ انسپکٹر جمشید نے حیران ہوکر پوچھا۔

    دوسری طرف سے ڈی آئی جی صاحب نے نام بتاتے ہوئے پوچھا۔

    ”اب تم بتاﺅ۔ بات کیا ہے؟“

    ”ان لوگوں نے پروفیسر داﺅد کو اغوا کرلیا ہے۔“

    ”کیا؟“ ڈی آئی جی پریشان کن لہجے میں حیران ہوکر بولے۔

    ”جی ہاں! یہ ابھی ابھی تقریباً پینتالیس منٹ پہلے کا واقعہ ہے۔“

    ”اوہ! پھر۔ تمہیں ان دونوں کاروں کے نمبر کیسے معلوم ہوگئے؟“ انہوں نے پوچھا۔

    جواب میں انسپکٹر جمشید نے انہیں پوری تفصیل سنا دی۔

    ”اوہ! تو بہزاد ڈاکو بھی ان کے لیے کام کررہا ہے؟“

    ”جی ہاں!“

    ”اب تم کیا چاہتے ہو؟“

    ”میں چاہتا ہوں۔ سفارت خانے کی عمارت کو مکمل طور پر گھیرے میں لے لیا جائے۔ ابھی ان لوگوں کو خیال بھی نہیں گزر سکتا کہ ہم ان تک پہنچ جائیں گے۔

    ”ٹھیک ہے۔ میں احکامات جاری کررہا ہوں۔ تم کتنی دیر میں وہاں پہنچ رہے ہو؟“

    ”میں پندرہ منٹ بعد وہاں پہنچ جاﺅں گا لیکن عمارت کو صرف حصار میں لیا جائے۔ کوئی قدم نہ اٹھایا جائے تو بہتر ہے۔“

    ”ٹھیک ہے، میں سمجھتاہوں۔ ایک دوست ملک کا معاملہ ہے۔ اگر ہمارا اقدام غلط ہوا تو اس سے تعلقات خراب ہو جائیں گے۔“

    ”تعلقات تو ویسے بھی خراب ہوں گے۔ اگر پروفیسر داﺅد وہاں سے برآمد کرلیے گئے۔“

    ”ہاں! اس صورت میں تو ہم خود اس ملک سے اپنے تعلقات ختم کرلیں گے۔“

    ”بس تو پھر آپ عمارت کو گھیرے میں لے لینے کے احکامات صادر فرمادیں۔“

    ”اچھا ٹھیک ہے۔“

    دوسری طرف سے فون کا سلسلہ منقطع ہوگیا۔ انسپکٹر جمشید اور سب انسپکٹر اکرام واپس آئے تو فرزانہ نے پوچھا۔

    ”کیا رہا ابا جان؟“

    ”کاروں کے مالکان کے نام معلوم ہوگئے ہیں۔“

    ”کون ہیں وہ؟“

    ”بیٹی معاملہ اتنا معمولی نہیں ہے۔ جتنا ہم سمجھ بیٹھے تھے۔ یہ ایک دوست ملک کی کارستانی ہے۔ جو ظاہر میں تو ہمارا دوست ہے لیکن درحقیقت وہ بدترین دشمن ہے۔ میں تمہیں اس سے زیادہ کچھ نہیں بتا سکتا۔ اچھا۔ اب ہم جارہے ہیں۔ تم لوگ دعا کرنا کہ ہم پروفیسر صاحب کو ساتھ لے کر لوٹیں۔“

    ”تو آپ ہمیں ساتھ نہیں لے جائیں گے؟“

    ”نہیں! معاملہ اپنے ملک کا نہیں ہے۔“

    ”پھر کیا ہوا؟ آپ ہمیں ساتھ لے جائیں۔“

    ”اچھا آﺅ۔“

    وہ جیپ میں سوار ہوکر سفارت خانے کی طرف روانہ ہوگئے۔

    ٭……..٭

    تینوں کاریں برق رفتاری سے دوڑ رہی تھیں۔

    ”تم لوگ مجھے کہاں لے جانا چاہتے ہو؟“ پروفیسر داﺅد نے پریشان ہوکر پوچھا۔

    ”ہم تمہیں اس ملک سے باہر لے جانا چاہتے ہیں۔“ بہزاد ڈاکو نے کہا۔

    ”کس لیے؟“

    ”یہ میں نہیں جانتا، یہ غیرملکی جانتے ہیں۔“

    ”تم اس ملک سے تعلق رکھتے ہو؟“ پروفیسر نے پوچھا۔

    ”ہاں! میں یہیں پیدا ہوا، پلا بڑھا، جوان ہوا، کیوں تم نے یہ کیوں پوچھا؟“

    ”اس لیے کہ تم اس ملک سے غداری کررہے ہو۔“

    ”میں ایک ڈاکو ہوں۔“

    ”جانتا ہوں۔ پھر بھی ڈاکو اپنے وطن کے لوگوں کا دشمن ہوتا ہے۔ وطن کا نہیں۔“

    ”کیا مطلب؟“

    ”یہ لوگ ہمارے وطن کے دشمن ہیں۔“

    ”مجھے اس سے کیا۔ مجھے تو ان سے پچیس ہزار روپے تمہارے اغوا کے لیے ملے ہیں لہٰذا جب تک میں تمہیں ان کے گھر تک نہ پہنچا دوں۔ اس وقت تک میں ان کا زر خرید غلام ہوں۔“

    ”مجھے یہ سن کر حیرت ہوئی کہ ڈاکو بھی کسی کے زر خرید غلام بن سکتے ہیں۔“ پروفیسر نے طنزیہ لہجہ میں کہا۔

    ”اس قسم کا کام میں نے پہلی مرتبہ کیا ہے۔“

    ”اور ساری عمر پچھتاﺅ گے۔“

    ”یہ کام مجھے نہیں آتا۔“ بہزاد ڈاکو نے ہنس کر کہا۔

    ”تم انسان نہیں پتھر ہو۔“

    ”پتھر میرے آگے کیا چیز ہے۔ میں تو اس سے بھی سخت ہوں۔“

    ”ہاں! میرا بھی یہی خیال ہے۔ لیکن کاش تم محب وطن شہری ہوتے۔“

    ”ڈاکو محب وطن بھی ہوتے ہیں۔“ بہزاد نے طنزیہ لہجے میں کہا۔

    ”ہوتے ہیں۔ کچھ ہوتے ہیں مگر تم نہیں ہو۔“

    ”مجھے محب وطن بننے کا شوق نہیں۔“

    ”لعنت ہے تم پر۔“ پروفیسر نے غصے سے سر کو جھٹکا۔

    تینوں کاریں اسی طرح برق رفتاری سے دوڑتی رہیں پھر اچانک اگلی کار کی رفتار کم ہوتی محسوس ہوئی۔ اس کے ساتھ ہی پچھلی کاروں کی رفتاری بھی سست پڑتی چلی گئی۔ یہاں تک کہ تینوں کاریں ایک سفید رنگ کی بڑی سی عمارت کے سامنے رک گئیں۔

    وہ سب کاروں سے اترے۔

    ”سر!“ سبز کار کے ڈرائیور نے کچھ کہنا چاہا۔یہ بھی غیر ملکی تھا۔

    ”کیا بات ہے ڈرائیور؟“ ایک غیرملکی نے پوچھا۔

    ”میں کچھ کہنا چاہتاہوں۔“

    ”اس وقت نہیں۔ دیکھ نہیں رہے ہو ہم پروفیسر کو پکڑ لائے ہیں اور ہمارے لیے اس سے زیادہ ضروری کوئی کام نہیں کہ پہلے پروفیسر کو اصل جگہ پہنچا دیں۔“

    ”میں بھی اسی سلسلے میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔“

    ”کہو۔ کیا کہنا ہے۔“

    ”سر! ایک بات مجھے الجھن میں ڈال رہی ہے۔“

    ”بس کیا یہی کہنا تھا۔ بے وقوف کہیں کے ہمارا وقت بہت قیمتی ہے ہٹو پیچھے۔“

    ”سنیے تو سہی۔ میں نے ایک لڑکے کو سفید کار کا نمبر نوٹ کرتے دیکھا تھا۔“ ڈرائیور نے اس ڈر سے جلدی سے کہا جیسے اگر اس نے ایک سکینڈ کی بھی دیر لگائی تو اسے کہنے کا موقع نہیں ملے گا۔

    ”کیا کہا؟ سفید کار کا نمبر نوٹ کررہا تھا؟ یہ کیا بکواس ہے؟“

    ”انسپکٹر جمشید کے گھر کے ساتھ والے مکان سے وہ لڑکا نکلا تھا اور اس نے جھک کر سفید کار کا نمبر نوٹ کرلیا تھا۔ پھر جب میں نے اسے ڈانٹا تو وہ بھاگ کھڑا ہوا۔ یہ کہتا ہوا کہ یہ اس کا مشغلہ ہے۔ ویسے کاغذ میں نے اس سے چھین لیا تھا۔“

    ”کیا بکواس کرتے ہو۔ وہ لڑکا کون تھا؟“

    ”یہ مجھے کیا معلوم؟“

    ”ہوسکتا ہے وہ انسپکٹر جمشید کا لڑکا ہو؟“ دوسرے غیرملکی نے ڈرائیور کی بات پر سنجیدہ ہوتے ہوئے کہا۔

    ”اوہ! اگر یہ بات ہے تو ہم سب خطرے میں ہیں۔ الو کہیں کے تم نے یہ بات ہمیں پہلے کیوں نہیں بتائی تھی۔“ غیرملکی نے غصے سے کہا۔

    ”اس وقت میں نے اس بات کو اہمیت نہیںدی تھی لیکن پھر جوں جوں میں نے اس پر سوچا میرا ذہن الجھتا چلا گیا۔“

    ”اگر کوئی مصیبت آئی تو ہم تمہارے ذہن کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سلا دیں گے سُور۔“ غیرملکی غصے سے لال بھبوکا ہورہا تھا۔

    ”کیوں کہ تم سے زیادہ بے وقوف کوئی نہیں ہوسکتا۔“

    ”اس پر بعد میں ناراض ہو لینا۔ پہلے یہ سوچ لینا چاہیے کہ اب ہم کیا کریں گے۔ کہیں ہم گھیر نہ لیے جائیں۔“دوسرے غیرملکی نے کہا۔

    ”ہاں! یہ ٹھیک ہے۔ خیر فی الحال اندر لے چلو اسے۔“

    وہ پروفیسر کو لے کر اندر آئے۔ یہ ایک بہت عالی شان عمارت تھی۔ انہوں نے پروفیسر داﺅد کو ایک کرسی پر بٹھا دیا۔ اس کے بعد ایک غیرملکی نے ایک الماری میں سے وائرلیس نکالا اور اس کا بٹن دبا کر کہنے لگا۔

    ”ہیلو…. ہیلو….“

    دفعتہ وائرلیس سیٹ پر ایک سرخ بلب جلنے بجھنے لگا۔ پھر دوسری طرف کی آواز آئی۔

    ”ہیلو! کون بول رہا ہے۔“

    ”سفارت خانے سے۔ نمبر تین۔“

    ”کیا بات ہے؟“

    ”پروفیسر داﺅد کو اغوا کرلیا گیا ہے۔“

    ”بہت اچھے! تم نے بہت بڑی خوش خبری سنائی ہے۔“

    ”لیکن….“ غیرملکی کہتے کہتے رک گیا۔

    ”لیکن کیا؟“ دوسری طرف سے پوچھا گیا۔

    ”پولیس ہمارے پیچھے ہے۔ شاید جلد ہی سفارت خانے کو گھیر لیا جائے۔“

    ”پروا نہ کرو اور پل پل کی خبر دیتے رہو۔ ہم ابھی کچھ پروگرام بناتے ہیں۔“

    ”جی! بہتر۔“ اس نے کہا۔

    سرخ بلب جلنا بجھنا بند ہوگیا۔ اس نے بھی وائر لیس سیٹ بند کرکے الماری میں رکھ کر الماری کو تالا لگا دیا۔

    ”عمارت کی چھت پر پہنچ جاﺅ۔ چاروں کونوں پر ایک ایک آدمی موجود رہے۔ اگر عمارت کو گھیرے میں لیا جائے تو فوراً نیچے آکر بتا دینا۔“ غیرملکی نے بہزاد اور اس کے ساتھیوں سے کہا۔

    ”بہت اچھا۔“ بہزاد ڈاکو کمرے سے نکلنے کے لیے مڑا۔

    ”کیا تم چاروں کے پاس پستول ہیں؟“

    ”تین کے پاس ہیں۔“

    ”چوتھے کو ہم دے دیتے ہیں۔“

    بہزاد ڈاکو کے ساتھی کو پستول مل گیا تو وہ عمارت کے زینے چڑھتے ہوئے چھت پر پہنچ گئے۔

    ٭……..٭


    وہی کاریں

    وہ سفارت خانے کی عمارت سے کافی فاصلے پر ہی جیپ سے اتر گئے۔

    ”کیا خیال ہے کیا اس وقت تک عمارت کو گھیرے میں لیا جاچکا ہوگا۔“ انسپکٹر جمشید نے اکرام سے پوچھا۔

    ”خیال تو یہی ہے۔“

    ”مجھے تو کوئی آثار نظر نہیں آتے۔“

    ”اندھیرے میں گھیرے کا اندازہ لگانا اتنا آسان بھی نہیں۔“

    ”تو آﺅ۔ آگے چلتے ہیں۔“ انسپکٹر جمشید نے کہا۔

    وہ سب آگے بڑھنے لگے۔ ایک جگہ انہیں ایک جیپ کھڑی نظر آئی۔ وہ اسے دیکھ کر رک گئے۔ پھر انسپکٹر جمشید اور اکرام اٹنشن ہوگئے کیوں کہ جیپ میں ڈی آئی جی صاحب موجود تھے۔

    ”تم پہنچ گئے۔“ انہوں نے پوچھا۔

    ”جی ہاں! آپ نے کیوں تکلیف کی۔ ہم دیکھ لیتے۔“انسپکٹر جمشید نے کہا۔

    ”نئی بھئی! معاملہ دوست ملک کے سفارت خانے کا ہے۔“

    ”کیا عمارت کو گھیرے میں لیا جاچکا ہے؟“

    ”ہاں! مکمل طور پر۔ کوئی شخص عمارت سے نکل کر نہیں جاسکتا۔“

    ”ٹھیک ہے۔ اب میں سفارت خانے کی تلاشی لینا چاہتا ہوں۔“

    ”یہ بہت مشکل کام ہے۔ اگر عمارت سے پروفیسر برآمد نہ ہو سکے تو کیا ہوگا۔ دونوں ملکوں کے تعلقات خراب ہو جائیں گے۔“

    ”مجھے یقین ہے۔ یہ ملک ہمارا دوست نہیں ہے۔“

    ”حکومت ہماری بات پر بلاوجہ تو یقین کرے گی نہیں۔ثبوت بھی تو ہونا چاہیے۔ ہاں اگر پروفیسر یہاں سے برآمد ہو جائیں تو بات دوسری ہے۔“ ڈی آئی جی صاحب بولے۔

    ”مجھے جب تک یہ یقین نہیں ہو جاتا کہ پروفیسر عمارت میں موجود ہیں، اس وقت تک عمارت کی تلاشی نہیں لی جائے گی۔“

    ”تم کیسے یقین کرو گے۔“ ڈی آئی جی نے پوچھا۔

    ”اس کے لیے میرے ذہن میں ایک تجویز ہے۔“

    ”وہ کیا؟“

    ”میرے ساتھ آئیے۔“

    یہ کہہ کر انسپکٹر جمشید عمارت کے دروازے کی طرف بڑھے۔

    ”ابا جان کیا ہم بھی آئیں؟“ فاروق نے پوچھا۔

    ”ابھی نہیں۔ اکرام تم ساتھ آﺅ۔“

    ”جی اچھا!“

    ”تینوں عمارت کے دروازے پر پہنچ گئے۔ پھاٹک پر چوکیدار موجود تھا۔

    ”خان صاحب! ہمارا تعلق پولیس سے ہے۔“ انسپکٹر جمشید نے کہا۔ کیوں کہ وہ تینوں اس وقت سادہ لباس میں تھے۔

    ”خوچہ…. تمہارا وردی کِدر ہے۔“ پٹھان چوکیدار نے پوچھا۔ جس پر انہیں ہنسی آگئی۔ اکرام نے ہلکی سی سیٹی بجائی جس کے جواب میں فوراً پانچ کانسٹیبل وہاں آکھڑے ہوئے۔

    ”کیوں؟ اب یقین آگیا؟“ اکرام نے پوچھا۔

    ”بالکل بالکل۔ ام سے غلطی ہوگیا۔ معافی دیو ساب۔“

    ”اچھا معاف کیا۔ ذرا اندر سے ڈرائیور کو بلا لاﺅ۔“

    ”کون سے ڈرائیور کو۔“ پٹھان نے پوچھا۔

    ”اندر کتنے ڈرائیور موجود ہیں۔“

    ”دو ساب جی۔“

    ”دونوں کو بلا کر لے آﺅ جلدی۔“

    ”اچھا ساب جی۔“ پٹھان اندر دوڑا گیا۔

    ”آخر تم ڈرائیوروں سے کیا معلوم کرو گے۔“ ڈی آئی جی صاحب نے بے چین ہوکر پوچھا۔

    ”بس دیکھتے جائیے۔“

    ”تمہاری ہر بات عجیب ہوتی ہے۔“ انہوں نے جھنجھلا کر کہا۔

    اتنے میں پٹھان دو نوجوان غیرملکیوں کے ساتھ برآمد ہوا۔

    ”کیا تم دونوں سفارت خانے کی کاروں کے ڈرائیور ہو؟“ انسپکٹر جمشید نے انگیریز میں پوچھا۔

    ”جی ہاں! فرمائیے۔“ ان میںسے ایک نے کہا۔

    ”ہمارا تعلق پولیس سے ہے۔ ابھی ابھی ہمیں ایک فون موصول ہوا تھا۔ کسی نے کہا تھا کہ سفارت خانے کی دو کاریں چوری کر لی گئیں۔“

    ”ارے۔ نہیں تو۔ کاریں تو اندر موجود ہیں۔“

    ”اچھا! حیرت ہے۔“

    ”کسی نے یونہی اڑائی ہوگی۔“

    ”لیکن ہم اپنا اطمینان کرنا چاہتے ہیں۔“

    ”آئیے! آپ کو کاریں دکھا دیں۔“

    وہ دونوں انہیں لے کر کاروں کے پاس آئے۔ انہوں نے گیراج کے بلب کی روشنی میں کاروں کے نمبر پڑھے۔ دونوں کے نمبر وہی تھے جو محمود نے نوٹ کیے تھے۔

    بہزاد ڈاکو تیزی سے سیڑھیاں اترتا ہوا غیرملکیوں کے کمرے میں پہنچا۔ وہ تینوں وائرلیس میز پر رکھے بیٹھے تھے وائرلیس کا سوئچ آن تھا۔

    ”کیا خبر ہے؟“ ان میں سے ایک نے بہزاد سے اُردو میں پوچھا۔

    ”عمارت کو چاروں طرف سے گھیرا جاچکا ہے۔ دروازے پر انسپکٹر جمشید اور پولیس والے موجودہیں۔“

    ”آخر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ یہ سب کچھ اس نامعقول ڈرائیور کی وجہ سے ہوا۔“

    ”ہاں! اسے اس لڑکے کو کاروں کے نمبر نوٹ نہیں کرنے دینے چاہئیں تھے اور اگر اس نے نوٹ کر ہی لیے تھے تو اس کو پکڑ لینا چاہیے تھا۔“

    ”اس پر گرم بعد میں ہو لینا۔ فی الحال یہ خبر آگے پہنچاﺅ۔“

    ”اچھا!“ اس نے کہا اور وائرلیس کے قریب منہ لے جا کر کہنے لگا۔

    ”ہیلو…. ہیلو….“ جونہی اس نے ہیلو ہیلو کہا، سُرخ بلب جلنے بجھنے لگا۔

    ”ہیلو…. نمبر تین۔ کیا خبر ہے؟“ دوسری طرف سے پوچھا گیا۔

    ”عمارت کو چاروں طرف سے گھیرا جاچکا ہے۔“

    ”اوہ!“

    ”اب ہم حکم کے منتظر ہیں۔“

    ”پروفیسر یہاں سے برآمد نہ ہو۔“ دوسری طرف سے حکم دیا گیا۔

    ”اس کے لیے ہم کیا کریں؟“

    ”یہ سوچنا تمہارا کام ہے۔“

    ”بہت اچھا! میرے ذہن میں ایک بہت شان دار ترکیب آئی ہے۔ میں فوراً اس پر عمل کرتا ہوں۔“

    ”میں یہ نہیں پوچھوں گا کہ وہ ترکیب کیا ہے؟ نہ ہی مجھے اس سے غرض ہے۔ میں تو یہ چاہتا ہوں کہ ہمارے دفتر سے پروفیسر کو برآمد نہ کیا جاسکے۔“

    ”ایسا ہی ہوگا۔ آپ مطمئن رہیں۔“

    ”تب پھر میں تمہاری طرف سے خوش خبری سننے کا منتظر رہوں گا۔“ آواز آنی بند ہوگئی۔ سرخ بلب جلنا بجھنا بند ہوگیا۔

    ”آپ نے کیا سوچا ہے؟“ بہزاد ڈاکو نے پوچھا۔

    ”تم اوپر چھت پر جاﺅ اور حالات کا جائزہ لیتے رہو۔ ہمیں باخبر رکھو۔“

    ”اچھا!“

    ڈاکو چلا گیا تو دوسرے غیرملکی نے پوچھا۔

    ”تم کیا کرنا چاہتے ہو؟ جو کچھ کرنا ہے جلدی کرو۔ ہمارے پاس وقت بہت کم ہے۔“

    ”ہاں! میرے ساتھ آﺅ۔“

    تینوں اٹھ کر پروفیسر داﺅد والے کمرے کی طرف بڑھے۔ اسی وقت پٹھان چوکیدار اندر داخل ہوا۔

    ”ساب جی! کچھ پولیس والا منا مانگتا ہے۔“ اس نے کہا۔

    ”تم انہیں ڈرائنگ روم میں بٹھاﺅ۔ ہم آتے ہیں۔“

    ”اچا۔ ساب جی۔“ پٹھان نے کہا اور باہر چلا گیا۔

    ”جلدی کرو۔“ دوسرے غیرملکی نے کہا۔

    ٭……..٭

     ”کہیے؟ کیا خیال ہے۔“ انسپکٹر جمشید نے سیدھے ہوتے کہا۔ 

    ”دونوں کاریں وہی ہیں۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے یہ میرے گھر کے پاس موجود تھیں۔“

    ”ہوں۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پروفیسر اندر موجود ہیں۔“

    ”اور کیا کہا جاسکتا ہے۔“

    ”آپ کس پروفیسر کی بات کررہے ہیں۔“ ایک ڈرائیور نے انجان بن کر کہا۔

    وہ اس کا جملہ سن کر چونک اُٹھے۔

    ”اکرام ان دونوں کو حراست میں لے لو۔ پستول کے نشانے پر انہیں جیپ تک لے چلو اور انہیں کانسٹیبلوں کی نگرانی میں دے آﺅ۔“

    ”اوکے سر!“ اکرام نے پستول نکال لیا۔

    ”چلو۔“

    ”آخر ہم نے کیا کیا ہے؟“ ایک ڈرائیور نے حیران ہوکر کہا۔ یہ وہی سبز کار کا ڈرائیور تھا۔

    ”چلو ورنہ بُری طرح پیش آﺅں گا۔“

    دونوں اس کے آگے آگے چلتے ہوئے عمارت کے دروازے سے باہر نکل گئے۔ جلد ہی اکرام واپس آگیا۔

    ”اب کیا کریں؟“ ڈی آئی جی نے پوچھا۔

    ”اندر کی تلاشی لینے کے سوا کیا کرسکتے ہیں؟“

    ”ہاں! اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں۔“

    ”تو پھر آئیے۔“

    وہ پانچ چھ کانسٹیبلوں سمیت ایک بار پھر دروازے پر آئے۔ اس بار محمود،فاروق اور فرزانہ بھی ان کے ساتھ تھے۔ یہاں چوکیدار موجود تھا۔

    ”اندر جا کر کہو ہم ملنا چاہتے ہیں۔“

    ”اچھا ساب۔“ وہ بھی گھبرایا ہوا تھا کیوں کہ اس نے ابھی ابھی دونوں ڈرائیوروںکو پستول کے نشانے پر آگے آگے چلتے دیکھا تھا۔ فوراً اندر دوڑا گیا۔

    واپس آکر بولا۔

    ”چلیے ساب جی۔“ وہ انہیں لیے ڈرائنگ روم میں لے آیا اور انہیں بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے بولا۔

    ”آپ لوگ بیٹھیں۔ ساب لوگ ابی آتا ہے۔“ یہ کہہ کر وہ کمرے سے نکل گیا۔

    ”اکرام تم دروازے پر ٹھہرو۔ ایسا نہ ہو کہ وہ کوئی چال چل جائیں۔“

    ”جی بہتر۔“ اکرام اٹھا اور پہرے داروں کی طرح ڈرائنگ روم کے دروازے پر جاکھڑا ہوا۔

    ”کہیں ہم پروفیسر کو کھو نہ دیں۔“ اچانک انسپکٹر جمشید نے کہا۔

    ”کیا مطلب؟“ ڈی آئی جی چونکے۔

    ”یہ لوگ بہت چالاک ہیں۔ ہمارا وقت ضائع کررہے ہیں۔ ہمیں اٹھ کر تلاشی شروع کردینی چاہیے۔ ایسا نہ ہو کہ ہم یہاں بیٹھے رہ جائیں اور وہ لوگ کوئی کام دکھا جائیں۔“

    ”تو پھر اٹھو۔ سوچتے کیا ہو؟ پروفیسر کی زندگی ملک کے لیے بہت قیمتی ہے۔“

    وہ اٹھے ہی تھے کہ تینوں غیرملکی اندر داخل ہوئے۔ انسپکٹر جمشید چونک اٹھے۔ یہ تینوں وہ نہیں تھے جو ان کے گھر سے پروفیسر کو اغوا کرکے لائے تھے۔ ان کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی۔

    ”کیا بات ہے جناب! آپ لوگ کیسے تشریف لائے۔“ ایک غیرملکی نے پوچھا۔

    ”ہمیں سفارت خانے کی تلاشی لینی ہے۔“

    ”کیا مطلب؟ تلاشی لینی ہے لیکن کیوں؟“

    ”ہمیں شک ہے کہ یہاں ایک شخص پروفیسر داﺅد نامی کو اغوا کرکے لایا گیا ہے۔“

    ”ناممکن۔ یہ سراسر الزام ہے۔ ہم آپ کی حکومت سے احتجاج کریں گے۔ ویسے بھی آپ وارنٹ کے بغیر تلاشی نہیں لے سکتے۔“

    ”یہ ٹھیک ہے مگر ہم تلاشی لیں گے۔“

    ”کیا مطلب؟“

    ”مطلب یہ۔“ انسپکٹر جمشید نے پستول نکال لیا۔

    ”یہ کیا۔ معلوم ہوتا ہے تم اپنی ملازمت سے ہاتھ دھونا چاہتے ہو۔ کون ہو تم؟“

    ”انسپکٹر جمشید!“

    ”تم کوئی بھی ہو۔ ہم تلاشی نہیں دیں گے۔“

    ”اکرام۔ اپنے آدمیوں کے ساتھ پوری عمارت چھان مارو۔“

    ”اوکے سر!“

    ”خبردار! تلاشی مت لینا۔“ ایک غیرملکی نے دھمکی دینے والے انداز میں کہا۔

    ”اپنے ہاتھ اوپر اٹھا دو۔ اگر تم نے ہلنے کی کوشش کی تو میں گولی مار دوں گا۔ اکرام تم اپنا کام کرو۔“

    ان دونوں کے ہاتھ اوپر اٹھ گئے۔ اکرام اور اس کے ساتھی کمرے سے نکل گئے۔ اب ڈی آئی جی صاحب بھی پستول نکالے کھڑے تھے۔

    اسی وقت بہزاد دوڑتا ہوا کمرے میں داخل ہوا اور بولا۔

    ”جناب! پولیس کا گھیرا تنگ….“ اس کے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے کیوں کہ اس کی نظر انسپکٹر جمشید اور ڈی آئی جی کے ہاتھ میں پکڑے ہوئے پستولوں پر پڑ گئی تھی۔

    ”بہت خوب! یہ رہا جناب بہزاد ڈاکو۔ تم بھی ہاتھ اوپر اٹھا دو۔“

    بہزاد کے ہاتھ بھی اوپر اُٹھ گئے۔

    ٭……..٭

    غیرملکی بوڑھا

    سب انسپکٹر اکرام اندر داخل ہوا۔

    ”پروفیسر داﺅد عمارت میں موجود نہیں ہیں۔“

    ”کیا کہتے ہو۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟“ انسپکٹر جمشید نے غصے سے کہا۔

    ”میں نے پوری عمارت دیکھ ڈالی ہے۔“

    ”کیا عمارت میں کوئی اور بھی موجود ہ ہے؟“

    ”سوائے ایک بوڑھے شخص کے کوئی نہیں۔ وہ سو رہا ہے۔“

    ”بوڑھا؟ سو رہا ہے؟“ انسپکٹر جمشید نے حیران ہوکر کہا۔

    ”جی ہاں! میں نے اسے جگانے کی کوشش کی تھی لیکن وہ نہیں جاگا۔“

    ”چلو۔ میں چل کر دیکھتا ہوں۔“ انسپکٹر جمشید نے کہا۔

    ”آپ یہیں موجود رہیں اور کانسٹیبلوں کو بھی یہیں رکھیں۔“

    ”ٹھیک ہے۔ تم بے فکر ہو کر جاﺅ۔ میں انہیں سنبھال لوں گا۔“

    ”انسپکٹر جمشید اکرام کے ساتھ باہر نکلنے لگے تو محمود بول اٹھا۔

    ”ابا جان! ہم بھی ساتھ چلیں گے۔“

    ”آجاﺅ!“ انہوں نے فکرمند ہوکر کہا۔

    وہ سب اس غیرملکی بوڑھے کے بستر کے قریب آئے۔ بوڑھا گہری نیند سورہا تھا۔

    ”یہ تو کوئی انگریز بوڑھا ہے۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”لیکن سوال تو یہ ہے کہ یہ جاگتا کیوں نہیں؟ یہ کیسی نیند ہے کہ اسے جھنجھوڑنے پر بھی نہیں ٹوٹی۔“ اکرام نے کہا۔

    ”ہوں۔ اسے جگانا چاہیے۔“ یہ کہہ کر انسپکٹر جمشید نے اس کے جسم سے چادر اتار دی اور اس کو ہلانے لگے مگر بوڑھا ٹس سے مس نہیں ہوا۔

    ”حیرت ہے۔“ فاروق کے منہ سے نکلا۔

    ”کیا بات ہے؟ تمہیں کس بات پر حیرت ہورہی ہے؟“

    ”بوڑھے کو دیکھ کر ہورہی ہوگی۔“ فرزانہ بولی۔

    ”جی نہیں۔ میں تو بوڑھے کے ہاتھوں کو دیکھ کر حیران ہورہا ہوں یہ ہاتھ کسی انگریز کے نہیں ہوسکتے۔“

    وہ چونک اُٹھے۔ ان کا دھیان ابھی تک بوڑھے کے ہاتھوں پر نہیں گیا تھا۔ اب انہوں نے غور سے دیکھا تو حیران رہ گئے۔ بوڑھے کے ہاتھ تو پروفیسر داﺅد کے تھے۔

    ”انکل کی انگوٹھی بھی دیکھ لیں۔“ فاروق نے کہا۔

    ”انہیں اسی طرح ڈرائنگ روم میں لے چلو۔“ انسپکٹر جمشید نے کہا۔

    اکرام نے چار کانسٹیبلوں کو بلایا۔ انہوں نے چارپائی اٹھائی اور ڈرائنگ روم میں لے آئے۔ ڈرائنگ روم میں موجود سب لوگ چونک اٹھے۔

    ”یہ بوڑھا کون ہے؟“ انسپکٹر جمشید نے غیرملکیوں سے پوچھا۔

    ”یہ میرے والد ہیں۔“ ایک غیرملکی نے غصے سے کہا۔

    ”اسے کیا ہوا؟“

    ”یہ بیمار ہیں۔“ اس نے کہا۔

    ”لیکن یہ جاگتا کیوں نہیں؟“

    ”ایک گھنٹے پہلے ڈاکٹر نے انہیں نیند کا انجکشن دیا ہے۔“

    ”اوہ! تو یہ بات ہے لیکن اس کے ہاتھوں کو کیا ہوا۔ یہ اتنے سفید کیوں نہیں جتنا اس کا چہرہ؟“

    غیرملکی سے کوائی جواب نہ بن پڑا۔ وہ خاموش رہا۔

    ”لیجیے جناب!“ انسپکٹر جمشید ڈی آئی جی صاحب سے بولے۔

    ”پروفیسر داﺅد حاضر ہیں۔“

    ”کیا مطلب؟“ ڈی آئی جی چونکے۔

    ”جی ہاں! یہ پروفیسر داﺅد ہیں۔“

    ”یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ یہ تو بالکل کوئی انگریز معلوم ہوتا ہے۔“

    ”یہ میک اپ کا کمال ہے۔ دیکھیے میں ابھی انہیں پروفیسر داﺅد میں تبدیل کیے دیتا ہوں۔“

    انہوں نے یہ کہہ کر بوڑھے کے چہرے پر سے کوئی چیز جھٹکے سے اتار دی۔ یہ ایک جھلی تھی۔ اس کے اترتے ہی پروفیسر داﺅد کا چہرہ نظر آنے لگا۔

    ”حیرت ہے۔ اتنا زبردست میک اپ۔“

    ”یہ اس فن میں ماہر ہیں۔ ہمارے دوست ملک نے جوکہ دراصل دشمن ہے، چن کر آدمی بھیجے ہیں، یہ وہی تینوں ہیں، جنہوں نے میرے مکان سے پروفیسر صاحب کو اغواکیا تھا۔ انہوں نے اپنی شکلیں بھی تبدیل کرلی ہیں۔“

    ”مگر ابا جان! بہزاد ڈاکو کے ساتھی یہاں نظر نہیں آرہے ہیں۔“

    ”وہ بھی مل جائیں گے۔ اکرام ان کو تلاش کرو۔ وہ شاید چھت پر ہوں گے۔ کیوں بہزاد تمہارے ساتھی چھت پر ہیں نا؟“ انسپکٹر جمشید نے پوچھا۔

    بہزاد ڈاکو نے کوئی جواب نہ دیا۔ اکرام کمرے سے نکل گیا۔

    ”ایک بات سمجھ میں نہیں آئی۔“ ڈی آئی جی صاحب نے پوچھا۔

    ”جی۔ وہ کیا؟“

    ”یہ پروفیسر کو کیوں اغوا کرنا چاہتے تھے؟“

    ”اپنے ملک لے جانا چاہتے ہوں گے کیوں کہ ان کی ایجادات کی وجہ سے ہمارا ملک بہت مضبوط ہوچکا ہے۔ یہ چاہتے تھے کہ پروفیسر ان کے ملک میں جا کر ان کے لیے ایجادات کریں۔“

    ”ہوں! اب اس ملک سے ہمارے دوستانہ تعلقات نہیں رہیں گے۔“

    ”ابا جان! اب ہمیں جلدی چلنا چاہیے۔“ فرزانہ نے کہا۔

    ”کیوں بیٹا؟“

    اسی وقت اکرام تینوں ڈاکوﺅں کو ہتھکڑیاں پہنائے اندر داخل ہوا۔

    ”لیجیے جناب یہ بھی مل گئے۔“

    ”بہت اچھے۔ اب ہمیں چلنے کی تیری کرنی چاہیے۔“ ڈی آئی جی بولے۔

    ”ہاں فرزانہ تم کیا کہہ رہی تھیں؟“

    ”یہی کہ شائستہ پریشان ہورہی ہوگی۔“

    ”ہاں ٹھیک ہے، بس چلتے ہیں۔“

    ”لیکن ابا جان! انکل ہوش میں کیسے آئیں گے؟“

    ”خود بہ خود ہوش میں آجائیں گے۔ انہیں بے ہوشی کا انجکشن لگایا گیا ہے۔“

    ”اور کمال تو یہ ہے کہ انہوں نے انکل کو کپڑے بھی دوسرے پہنا دیے۔“ محمود بولا۔

    ”اگر یہ ایسا نہ کرتے تو اکرام ہی پہچان لیتا کہ یہ پروفیسر ہیں۔“

    ”ابا جان!“ فرزانہ بولی۔

    ”کیا بات ہے بیٹی؟“

    ”اگر محمود کاروں کے نمبر نہ نوٹ کرتا تو اس وقت ہم سب کس قدر پریشان ہورہے ہوتے۔“

    ”ہاں واقعی! یہ محمود کا بہت بڑا کارنامہ ہے۔“ ڈی آئی جی نے محمود کے شانے پر تھپکی دیتے ہوئے کہا۔

    ”جی ہاں! جیسے ہم نے تو کچھ کیا ہی نہیں۔“ فرزانہ بُرا سا منہ بنا کر بولی۔

    ”اور نہ ہی میں نے کچھ کیا ہے۔“ فاروق مسمسی صورت بنا کر بولا۔

    ان کی اس انداز پر ان سب کو ہنسی آگئی۔

    ٭……..٭

    اس سلسلے کی مزید تحاریر


    موت کا جزیرہ

    موت کا جزیرہ

    • مئی 25, 2020


    سازشی چہرہ

    سازشی چہرہ

    • مئی 25, 2020


    خونی جال

    خونی جال

    • مئی 25, 2020


    ڈریکولا کا بھوت

    ڈریکولا کا بھوت

    • مئی 25, 2020


    پانچ قدم پہ موت

    پانچ قدم پہ موت

    • مئی 25, 2020


    خونی سائنسدان

    خونی سائنسدان

    • مئی 25, 2020


    بھوت بنگلہ

    بھوت بنگلہ

    • مئی 25, 2020


    آخری امید

    آخری امید

    • مئی 25, 2020
  • بھوت بنگلہ


    نیا شکار

    انسپکٹر جمشید اور ان کے بیوی بچے باقر گنج کے ہوٹل میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ ویٹر ان کی میز پر ناشتا لگا رہا تھا۔ جونہی ویٹر پیچھے ہٹا، فاروق بڑھ بڑھ کر ناشتے پر ہاتھ صاف کرنے لگا۔ دوسرے بھی ناشتا شروع کر چکے تھے۔ اچانک ان کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے اور ہاتھ درمیان ہی میں اُٹھے رہ گئے۔

    چار آدمی ایک چارپائی اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوٹل میں داخل ہو رہے تھے۔ چارپائی خالی نہیں تھی۔ اس پر کوئی چادر سر سے پاﺅں تک اوڑھے لیٹا تھا۔ ہوٹل میں موجود لوگوں میں چند ایک کے منہ سے نکلا:

    ”بھوتوں کا نیا شکار!“

    وہ کل ہی یہاں پہنچے تھے۔ یہ ایک چھوٹا سا پہاڑی مقام تھا۔ شہر سے صرف ستر میل کے فاصلے پر تھا اور بہت ہی پرفضا خیال کیا جاتا تھا۔ ان کا پروگرام بس اچانک ہی بن گیا تھا۔ ہوا یہ کہ اسکول گرمیوں کی چھٹیوں کے سلسلے میں بند ہو گئے تھے اور محمود، فاروق اور فرزانہ شہر میں کچھ زیادہ ہی بوریت محسوس کر رہے تھے۔ آخر ایک دن تنگ آکر فرزانہ کے منہ سے نکل ہی گیا۔

    ”ابا جان! ہم سخت بور ہو رہے ہیں۔“

    ”کیوں؟ کیا بات ہے؟“

    ”میرا مطلب ہے کیا یہ تمام چھٹیاں یوں ہی گزر جائیں گی؟“

    فرزانہ نے محمود اور فاروق کو مدد کا اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

    ”تم کیا کہنا چاہتی ہو؟“ انسپکٹر جمشید نے اس کے اشارے کو بھانپتے ہوئے پوچھا۔

    ”کیوں نا اس مرتبہ کہیں جانے کا پروگرام بنایا جائے۔“ محمود بول اٹھا۔

    ”بھئی تم بڑی خوشی سے کہیں جانے کا پروگرام بنا سکتے ہو۔ کیا چھٹیاں پروفیسر داﺅد کے گھر گزارنا چاہتے ہو یا پھر خان رحمان کے ہاں جانا چاہتے ہو؟“

    ”جی نہیں!“

    ”ارے! تو پھر بتاﺅ نا۔ کہاں جانا ہے؟“

    ”باقر گنج!“ فرزانہ کے منہ سے نکلا۔

    ”کیا؟ باقر گنج؟ گویا تم شہر سے باہر جانا چاہتے ہو؟“

    ”جی ہاں! یہاں گرمی بہت ہے۔“

    ”لیکن میں تم تینوں کو باقر گنج جانے کی اجازت نہیں دے سکتا۔“

    ”تو ہم کب کہتے ہیں آپ اجازت دیں۔“ فرزانہ شوخ انداز میں مسکرائی۔

    ”کیا مطلب؟“ انسپکٹر جمشیڈ چونکے۔

    ”آپ اور امی ہمارے ساتھ چلیں۔“

    ”یہ کیسے ہو سکتا ہے؟“ انسپکٹر جمشید نے تیز لہجے میں کہا۔

    ”کیوں؟ کیوں نہیں سکتا؟“ بیگم جمشید بھی بول پڑیں۔

    ”ہائیں! کیا تم نے مل کر میرے خلاف سازش کی ہے؟ بیگم! تم بھی ان کا ساتھ دے رہی ہو۔“

    ”ہر سال بچے یہیں چھٹیاں گزارتے ہیں۔ اس مرتبہ انہیں جانا ہی ہو گا۔“

    ”اچھا سوچوں گا۔“

    ”ابا جان!“ فرزانہ بولی۔

    ”کیا بات ہے بیٹا؟“

    ”آپ کب تک سوچ لیں گے؟“

    ”یہی ایک دو روز تک۔“ وہ دراصل ٹالنا چاہتے تھے۔

    ”جی اچھا۔ دو دن بعد سہی۔“

    دو دن بعد پھر فرزانہ نے انہیں جا پکڑا۔

    ”ابا جان! وہ آپ کے دو دن پورے ہو گئے۔ امید ہے کہ آپ نے سوچ لیا ہو گا۔“

    ”کیا سوچ لیا ہو گا۔ تم کیا کہہ رہی ہو؟“ انسپکٹر جمشید انجان بن گئے۔

    ”جی وہی! باقر گنج جانے کے بارے میں۔“

    ”اوہ۔ اوہ۔ بھئی وہ تو میں بھول ہی گیا۔“ ان کے اس فقرے پر تینوں کے منہ لٹک گئے۔

    ”کیوں ان بچوں کو مایوس کرتے ہیں۔ پہلی بار تو انہوں نے کوئی خواہش کی ہے۔“ بیگم جمشید بولیں۔

    ”معلوم ہوتا ہے بچوں سے زیادہ آپ کا جی چاہ رہا ہے۔“

    ”چلئے! اب میرے پیچھے پڑ گئے۔“

    ”مجھے چھٹی نہیں ملے گی۔“

    ”کیوں نہیں ملے گی۔ بیس سال کی ملازمت کے دوران آپ نے کبھی چھٹی نہیں کی۔ محکمہ ہنسی خوشی آپ کو چھٹی دے گا۔“

    ”اچھا میں چھٹی کی درخواست دے دیتا ہوں۔ اگر منظور ہو گئی تو چلے چلیں گے۔“

    ”ٹھیک ہے! ہمیں منظور ہے۔“

    شام کو فرزانہ نے ان سے پوچھا۔

    ”کیا چھٹی کی درخواست منظور ہو گئی؟“

    انسپکٹر جمشید نے اسے تیز نظروں سے گھورا۔ پھر محمود اور فاروق کو گھورا او رتیز لہجے میں بولے۔

    ”معلوم ہوتا ہے تم باز نہیں آﺅ گے۔“

    ”جی! آجائیں گے۔ اگر آپ کی یہی خواہش تو باز آجاتے ہیں۔“ محمود نے رونی صورت بنا کر کہا۔ انسپکٹر جمشید ہنس پڑے۔

    ”چھٹی منظور ہو گئی ہے۔ ہم کل باقر گنج چل رہے ہیں۔“

    ”وہ مارا!“ تینوں چلائے اور بیگم جمشید مسکرانے لگیں۔

    ٭….٭….٭

    گاڑی سے اتر کر وہ ایک ٹیکسی کی طرف آئے۔ انسپکٹر جمشید نے ڈرائیور سے کہا:

    ”ہمیں کسی اچھے سے ہوٹل تک لے چلو۔“ ڈرائیور ان کی بات سن کر مسکرایا۔

    ”صاحب یہاں تو ہوٹل ہی صرف ایک ہے۔“

    ”کیا؟ اس پورے علاقے میں صرف ایک ہوٹل ہے؟“

    ”جی ہاں! اس کے علاوہ چھوٹی چھوٹی سرائیں ہیں۔ مکانات بھی کرائے پر مل جاتے ہیں لیکن یہ سرائیں اور مکانات ڈھنگ کے نہیں ہیں سوائے ایک مکان کے۔ لیکن….“

    ”لیکن کیا؟“ انسپکٹر جمشید نے پوچھا۔

    ”جی! جی کچھ نہیں۔ آپ تشریف رکھیے۔ میں آپ کو ہوٹل تک پہنچا دیتا ہوں۔“

    وہ ٹیکسی میں بیٹھ گئے۔ سڑک کے دونوں طرف چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں تھیں جن پر لدا ہوا سبزہ اور اونچے اونچے درخت عجیب بہار دے رہے تھے۔ پندرہ منٹ کے سفر کے بعد ٹیکسی ایک ہوٹل کے سامنے رکی۔

    ”آبگینہ ہوٹل!“ فرزانہ نے ہوٹل کا نام پڑھا۔

    ”بھئی واہ! نام تو بہت اچھا ہے۔“

    ”ہوٹل بھی نام کی طرح خوب صورت ہے۔“

    پانچوں نیچے اتر آئے ہوٹل کا ایک ملازم تیزی سے ان کی جانب لپکا اور ٹیکسی کے اوپر سے سوٹ کیس اٹھا لیا۔ انسپکٹر جمشید کاﺅنٹر کی طرف بڑھے۔ وہاں ایک پتلا دبلا آدمی بیٹھا تھا۔ ناک بہت لمبی، آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئیں اور ان پر عینک تھی۔ انہیں دیکھ کر وہ اس طرح اکڑ کر بیٹھ گیا جیسے وہی اس پوری وادی کا مالک ہو۔

    ”جی فرمائیے!“ انسپکٹر جمشید کے قریب پہنچنے پر اس نے پوچھا۔

    ”دیکھئے ہمیں ایک ڈبل کمرہ چاہیے۔“

    ”آپ ڈبل کی بات کرتے ہیں۔ یہاں تو سنگل کمرہ بھی نہیں بچا۔“

    ”کیا؟ کوئی کمرہ نہیں بچا؟“ انسپکٹر جمشید نے ہوٹل کے ہال کا جائزہ لیتے ہوئے کہا۔

    ”جی ہاں! اس وقت کوئی کمرہ خالی نہیں ہے۔“

    ”پھر کوئی اور بندوبست بھی ہے یا نہیں۔“

    ”آج کل تو شاید کوئی مکان بھی خالی نہیں ملے گا۔ البتہ کسی سرائے میں جگہ مل جائے تو میں کہہ نہیں سکتا۔“

    ”سرائے میں۔“

    ”جی ہاں! لیکن وہ جگہ آپ جیسے لوگوں کے شایانِ شان نہیں ہے۔“

    ”تو پھر کوئی حل بتاﺅ پیارے۔ کیا ہم اتنی دور آکر مایوس لوٹ جائیں گے؟“

    ”صرف ایک ہی صورت ہے۔“ عینک والا بولا۔

    ”اور وہ کیا؟“

    ”یہاں سے تھوڑے سے فاصلے پر ایک بہت خوبصورت مکان ہے۔ لیکن….“ وہ کچھ کہتے کہتے رک گیا۔

    ”لیکن کیا؟“ انسپکٹر جمشید نے چونک کر پوچھا۔ کیوں کہ ٹیکسی ڈرائیور نے بھی مکان کا ذکر بیچ میں ہی چھوڑ دیا تھا۔

    عینک والے کے ہونٹ کچھ کہنے کے لئے ہلے ہی تھے کہ پیچھے سے ایک چہکتی ہوئی آواز آئی:

    ”ارے! یہ میں کیا دیکھ رہا ہوں۔ کہیں میری آنکھیں دھوکا تو نہیں کھا رہی ہیں۔“ انسپکٹر جمشید چونک کر مڑے۔

    ”ارے واصف تم! تم یہاں کہاں؟“

    ”میں چھٹیاں یہاں گزار رہا ہوں۔ تم سناﺅ۔ کیا ابھی آرہے ہو؟“

    ”ہاں! اور شاید ابھی واپس جانا پڑے۔“

    ”کیوں کیوں؟ اوہ! سمجھا۔ کوئی کمرہ خالی نہیں ہو گا۔ دراصل یہاں ٹھہرنے کے لئے چھ ماہ پہلے ہی کمرہ بک کرنا پڑتا ہے۔“

    ”بھئی میں تو پہلی مرتبہ آیا ہوں۔ اب مجھے کیا معلوم تھا کہ یہاں یہ صورت حال سامنے آئے گی۔“

    ”خیر تم فکر نہ کرو۔ میں آج واپس جا رہا ہوں۔ تم اپنا سامان میرے کمرے میں لے چلو۔“

    ”کیا مطلب؟ ابھی تو تم کہہ رہے تھے کہ چھٹیاں یہاں گزار رہے ہو۔“

    ”ہاں! گزار چکا ہوں۔ آج تو واپس جا رہا ہوں۔“

    ”اچھا! اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا کام بن گیا۔“

    ”کیوں نہیں! مسٹر یوسف خان۔ میرا کمرہ آج سے ان کے نام لکھ دو۔“ واصف عینک والے کی طرف مڑا پھر ان سے بولا۔

    ”یہ مسٹر یوسف ہی اس ہوٹل کے مالک ہیں اور بہت اچھے آدمی ہیں۔“

    ”اچھا یہی مالک ہیں۔“

    ”ہاں! اور تم کیا تنہا ہی آئے ہو؟“

    ”وہ سامنے دیکھ رہے ہو نا، میرے بیوی بچے ہیں۔“

    ”ارے تو پہلے کیوں نہیں بتایا۔“ واصف ایک طرف کھڑے ہوئے محمود، فاروق، فرزانہ اور بیگم جمشید کی طرف تیزی سے بڑھا۔

    ”السلام علیکم بھابی اور پیارے بھتیجو تم کیسے ہو۔ آپ لوگ مجھے نہیں جانتے نا۔ خیر میں تعارف کرائے دیتا ہوں۔ میرا نام واصف ہے، پروفیسر ہوں اور جمشید کا بچپن کا دوست ہوں، اسکول کے زمانے کا۔ آج ایک زمانے کے بعد اسے دیکھا ہے۔ دراصل جو آدمی پولیس میں ملازمت کرے، وہ کسی کا دوست نہیں رہتا۔ اب دیکھ لیں، ایک ہی شہر میں رہتے ہوئے کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔“

    ”اب تو ہو گئی نا۔ یہاں سے واپس جائیں گے تو آپ کے ہاں ضرور آئیں گے۔“ بیگم جمشید نے مسکرا کر کہا۔

    ”کس کی باتوں میں آگئی ہو۔ یہ حضرت کبھی گھر ملتے ہی نہیں۔ ملاقات کیسے ہو سکتی ہے۔“ انسپکٹر جمشید کاﺅنٹر پر پیشگی کرایہ ادا کرنے کے بعد ان کے پاس آکھڑے ہوئے تھے۔

    ”اچھا یہ باتیں تو ہوتی رہیں گی۔ چلو میں کمرہ دکھا دوں۔“

    ہوٹل کے ملازم نے ان کا سوٹ کیس اٹھایا اور وہ سیڑھیاں چڑھنے کے بعد کمرے کے سامنے پہنچ گئے۔ واصف نے جیب سے چابی نکال کر دروازہ کھولا اور چابی انسپکٹر جمشید کو دیتے ہوئے بولا:

    ”آج سے یہ چابی تمہاری۔ ویٹر! تم میرا سوٹ کیس اٹھا کر نیچے لے چلو۔“

    ”ہاں امید ہے کہ اس کمرے میں گزارہ ہو جائے گا۔“

    ”ہوں! کمرہ تو کافی بڑا ہے۔ اگر اس میں ایک بیڈ اور ڈال دیا جائے تو گزارہ بخوبی ہو سکے گا۔“

    ”میں مسٹر یوسف سے کہتا جاﺅں گا۔ وہ بیڈ کا بندوبست کر دیں گے۔“

    ”تم کچھ دیر تو بیٹھو ہمارے پاس۔“ انسپکٹر جمشید نے کہا۔

    ”نہیں بھئی میں پہلے بہت لیٹ ہو چکا ہوں۔ اچھا خدا حافظ۔“

    ”خداحافظ۔“ ان کے منہ سے نکلا۔

    واصف کمرے سے نکل گیا۔

    ٭….٭….٭

    ”مجھے بے وقوف سمجھتا ہے۔ الو کہیں کا۔“ انسپکٹر جمشید نے واصف کے جانے کے بعد کہا۔

    ”کیا مطلب؟“ محمود نے چونک کر پوچھا۔

    ”دراصل اس نے ہمیں ہوٹل کے اندر داخل ہوتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔ اسے یہ بھی معلوم تھا کہ ہوٹل میں کوئی کمرہ خالی نہیں ہے۔ یہاں ہر سال آتا ہے جب اس نے تم لوگوں کو بھی میرے ساتھ دیکھا تو اپنا کمرہ ہمیں دینے کا پروگرام بنا لیا اور میں بتاﺅں یہ یہاں سے جائے گا نہیں۔ نہ ہی اس کا جانے کا پروگرام تھا۔“

    ”اس کا مطلب ہے انہوں نے ہماری وجہ سے کمرہ خالی کر دیا۔ اب وہ خود کہاں جائیں گے؟“ فرزانہ نے پریشان ہو کر پوچھا۔

    ”وہ یہاں ہر سال آتا ہے۔ اس پورے علاقے سے واقف ہے۔ کوئی جگہ ڈھونڈ ہی لے گا۔ میں نے اس کی یہ قربانی اس لئے قبول کر لی کہ تم لوگ میرے ساتھ تھے اور تمہاری پریشانی کی وجہ سے میں نے اس کے جھوٹ کو جان بوجھ کر سچ سمجھ لیا۔“

    ”ہماری وجہ سے انہیں پریشانی ہوئی۔“

    ”کل اس سے معذرت کر لیں گے۔“ انسپکٹر جمشید مسکرائے۔

    ”کل؟ وہ کیسے! کیا وہ کل یہاں آئیں گے؟“

    ”کیوں نہیں۔ کھانا تو اسی ہوٹل سے کھائے گا۔“

    ”لیکن آپ سے یہ کہنے کے بعد وہ یہاں سے جا رہے ہیں پھر کیسے یہاں آسکتے ہیں؟“ بیگم جمشید نے پوچھا۔

    ”تم اسے نہیں جانتیں وہ بہت شیطان ہے۔ کل کھانے کی میز پر آئے گا اور کہے گا یار مجھے بہت افسوس ہے ایک ضروری کام کی وجہ سے جا نہیں سکا۔“

    ”عجیب ہے آپ کا یہ دوست۔“

    ”نہیں! عجیب نہیں، پرخلوص کہو۔ آج کل ایسے دوست کہاں ملتے ہیں۔“

    ”مجھے تو رہ رہ کر یہی خیال آرہا ہے وہ کہاں جائیں گے۔“ فرزانہ نے کہا۔

    ”تم اس کی فکر نہ کرو اور سوٹ کیس سے کپڑے وغیرہ نکال لو۔ ہم تھوڑی دیر آرام کریں گے۔ پھر شام کو سیر کرنے نکلیں گے۔“

    ”ابا جان! آپ نے ایک بات تو بتائی نہیں۔“ فاروق کو کچھ خیال آیا۔

    ”وہ کیا؟“

    ”آپ کتنی چھٹیاں لے کر آئے ہیں۔“

    ”صرف تین۔“

    ”جی؟ کیا کہا؟ صرف تین؟“ تینوں دھک سے رہ گئے۔

    ”ہاں بھئی! تین ہی چھٹیاں ملی ہیں۔“

    ”تب پھر یہاں آنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔“ فرزانہ نے منہ لٹکا لیا۔

    ”اس سے تو ہم اپنے شہر میں ہی اچھے تھے۔“ محمود کی آواز بجھ گئی۔

    ”انکل واصف کو بھی یونہی تکلیف دی۔“ فاروق بولا۔

    ”کیا ضرورت تھی آخر یہاں آنے کی۔ اب پرسوں یہاں سے واپس جانا ہو گا۔ اگر مجھے پہلے معلوم ہوتا کہ صرف تین دن کی چھٹی ملی ہے تو کبھی نہ آتی۔“ بیگم جمشید نے غصے سے کہا۔

    ”تو اب واپس چلی جاﺅ۔“ انسپکٹر جمشید مسکرائے۔

    ”آپ تو بس مسکرائے جاتے ہیں اور یہاں ہمارا جی جل رہا ہے۔“ بیگم جمشید بولیں۔

    ”کس نے کہا ہے کہ تم سے جی جلانے کو، خوش رہو۔ ہنسو، کھیلو،کودو، گاﺅ، ناچو، کیوں کہ میں پورے پندرہ دن کی چھٹی لے کر آیا ہوں۔“

    ”کیا!“ چاروں ان کے آخری جملے پر خوشی سے اچھل پڑے۔

    واصف سیڑھیاں اتر کر سیدھا کاﺅنٹر کی طرف آیا۔ یوسف خان اسے دیکھتے ہی بولا:

    ”میں حیران ہوں مسٹر واصف یہ آپ نے کیا کیا۔ آپ کا ارادہ تو یہاں پورے ایک ماہ اور رہنے کا تھا۔“

    ”ہاں۔ ایک ماہ ہی رہوں گا۔“

    ”بھئی وہ میرا بچپن کا دوست ہے۔ اس کے بیوی بچے ساتھ تھے۔ لہٰذا میں نے اپنا کمرہ ان کے لئے خالی کرنے کا پروگرام انہیں دیکھتے ہی بنا لیا۔“

    ”لیکن اب آپ کیا کریں گے؟ کہاں جائیں گے؟ اس وقت تو شاید کسی سرائے میں ہی جگہ ملے۔“

    ”میں تمہارے اس خوب صورت مکان میں ٹھہروں گا۔“

    واصف مسکرایا۔

    ”کیا؟ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟“

    ”جو تم سن رہے ہو۔“

    ”نہیں! یہ نہیں ہو سکتا۔“

    ”کیوں نہیں ہو سکتا؟“

    ”آپ جانتے ہی ہیں۔ مکان آسیب زدہ ہے۔ برسوںسے اس پر بھوتوں کا قبضہ ہے۔“

    ”میں جانتا ہوں۔“

    ”اور پھر بھی آپ جانا چاہتے ہیں۔“

    ”ہاں! میں بھوتوں کو نہیں مانتا۔“

    ”لیکن اس سے پہلے بھی ضدی گاہک وہاں ٹھہر کر نقصان اٹھا چکے ہیں۔“

    ”وہ ڈرپوک ہوں گے۔“

    ”ان میں بڑے بڑے دلیر تھے۔“

    ”کچھ بھی ہو، میں ایک ماہ اسی مکان میں گزاروں گا۔ تم مکان کا کرایہ بتاﺅ۔“

    ”نہیں نہیں! یہ نہیں ہو سکتا۔“

    ”کیوں نہیں ہو سکتا۔ تم اپنا کرایہ وصول کرو۔ اس کے بعد جو کچھ ہو گا۔ اس کی ذمہ داری مجھ پر ہو گی۔“

    ”آپ میرے مستقل گاہک ہیں۔ خدا کے لئے اپنے ارادے سے باز آجائیں۔“

    ”میں ایک بار جو ارادہ کر لیتا ہوں پھر پیچھے نہیں ہٹتا۔ لاﺅ مکان کی چابی، کرایہ جو جی چاہے میرے حساب میں لکھ لینا۔“

    ”اس کا کرایہ تین ہزار ماہوار ہے۔“ آخر یوسف خان نے تنگ آکر کہا۔

    ”مجھے منظور ہے۔“

    ”میں آپ کو ایک بار پھر منع کرتا ہوں۔“

    ”اور میں ایک بار پھر کہتا ہوں مجھے منع نہ کرو۔“ واصف ہنسا۔

    ”اچھا آپ کی مرضی۔ لیکن یاد رکھیئے، ساری ذمہ داری آپ پر ہو گی۔ آج تک نہ جانے کتنے آدمی وہاں سے بدحواس ہو کر نکلتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔ بہت سے مکان سے باہر نکلتے ہی بے ہوش ہو گئے اور کئی کئی دن ہوش میں نہیں آئے۔ چند ایک تو دماغی توازن ہی کھو بیٹھے اور کئی ماہ کے علاج کے بعد صحت یاب ہوئے۔“

    ”میں سب جانتا ہوں۔ تم بے فکر رہو۔ آج کے بعد کوئی اس مکان سے پاگل ہو کر نہیں نکلے گا۔ بس یوں سمجھو کہ اب بھوتوں کے دن گئے۔ میں ان سے باقاعدہ کُشتی لڑوں گا۔ دیکھوں گا کہ کتنے طاقت ور ہیں۔ اب انہیں یہاں سے بھاگتے ہی بنے گی اور تمہارا مکان ہمیشہ کے لئے بھوتوں سے پاک ہو جائے گا۔ پھر تم اسے تین ہزار تو کیا چھ ہزار روپے کرائے پر دے سکو گے۔ اس میں تمہارا ہی بھلا ہے۔“

    ”آمین!“

    ”مجھ سے زیادہ تم یہ دعا کر رہے ہو گے کہ مکان سے بھوتوں کا قبضہ ختم ہو جائے۔ تم فکر نہ کرو۔ میرے پاس بھی ایسے ایسے منتر ہیں کہ بھوت جل کر خاک ہو جائیں گے۔“

    ”خدا کرے ایسا ہی ہو۔“ یوسف خان نے فکرمندانہ لہجے میں کہا۔

    ”اچھا! خداحافظ۔ اور ہاں! کیا کسی ملازم کو وہاں صفائی کے لئے بھیج سکتے ہو؟“ واصف جاتے جاتے رک گیا۔

    ”کوئی ملازم وہاں جانے کے لئے تیار نہیں ہو گا۔“ یوسف خان نے افسوسناک لہجے میں کہا۔

    ”اچھا! خیر کوئی بات نہیں۔ میں خود ہی صفائی کر لوں گا۔“

    ”مجھے افسوس ہے آپ کو بہت تکلیف ہو گی۔“

    ”نہیں کوئی بات نہیں۔“

    یہ کہتے ہوئے واصف اپنا سوٹ کیس اٹھا کر چابی انگلی پر گھماتے ہوئے باہر نکل گیا۔

    ٭….٭….٭

    شام کی سیر نے انہیں اتنا تھکا دیا تھا کہ واپس آکر کھانا کھاتے ہی سو گئے اور پھر صبح ہی ان کی آنکھ کھلی۔

    ”ناشتا یہاں ہی منگوایا جائے یا ہال میں؟“ انسپکٹر جمشید نے بچوں سے پوچھا۔

    ”ہال میں ہی ٹھیک رہے گا۔“

    ”تو پھر چلو۔ نیچے چلنے کی تیاری کرو۔“

    نہا دھو کر وہ نیچے ہال میں آبیٹھے۔ زیادہ تر میزیں پُر تھیں۔ لوگ ناشتے پر ٹوٹے پڑ رہے تھے۔ جلد ہی ناشتا چن دیا گیا۔

    ”جگہ تو واقعی بہت پیاری ہے۔ جیسا سنا تھا اس سے بڑھ کر پایا۔“

    بیگم جمشید نے چائے کی پیالی اٹھاتے ہوئے ذرا بلند آواز میں کہا کیوں کہ ہال میں چمچوں اور پلیٹوں کی کھنکھناہٹ گونج رہی تھی۔

    ”امی جان! اب تو ہم ہر سال یہاں آیا کریں گے۔“ فرزانہ نے کہا۔

    ”بشرطیکہ تمہارے ابا جان کو یہ بات منظور ہو۔“

    ”کیوں ابا جان۔ آپ کا کیا خیال ہے؟“ فرزانہ نے پوچھا۔

    ”اگلا سال جب آئے گا اس وقت سوچوں گا ابھی کچھ کہہ نہیں سکتا ہوں۔ خدا جانے ان دنوں حالات کیا ہوں۔“ انسپکٹر جمشید نے جواب دیا۔

    ”حالات کیا ہوں گے۔ ہر سال حالات ایک جیسے ہی رہتے ہیں۔“ بیگم جمشید بولیں۔

    ”خیر چھوڑیے اس بات کو۔ اگلا سال جب آئے گا دیکھا جائے گا۔ فی الحال تو ناشتے کی طرف توجہ دیں۔“ فاروق نے کہا۔

    ”ہاں یہ ٹھیک ہے۔“ انسپکٹر جمشید نے کہا۔

    ”نا جانے بے چارے واصف کا کیا بنا ہو گا۔خدا جانے رات کہاں گزاری ہو گی۔“

    ”وہ بڑے مزے سے سویا ہو گا۔ تھوڑی دیر بعد یہاں مسکراتا ہوا آجائے گا۔ بے فکر رہو۔“

    ”انکل واصف شہر میں کہاں رہتے ہیں؟“ فاروق نے پوچھا۔

    ”مسلم آباد میں۔“

    ”ہم ان کے ہاں ضرور جائیں گے۔“ فرزانہ نے کہا۔

    ”ہاں ہاں! کیوں نہیں۔ وہ میرا بہت اچھا دوست ہے۔“

    ”اس میں کیا شک ہے۔“ بیگم جمشید نے کہا۔

    ”ابا جان! فاروق کو دیکھ رہے ہیں کس تیزی سے ہاتھ چلا رہا ہے۔“ محمود نے کہا۔

    ”بہت بھوک لگی ہے۔ کیا کروں؟“

    ”پھر بھی آہستہ آہستہ کھانا چاہیے۔“ انسپکٹر جمشید نے کہا۔

    ”جی بہتر!“ فاروق نے کہا اور بہت ہی آہستہ آہستہ منہ چلانے لگا۔ یہاں تک کہ ایک ہی لقمے کو چباتے ہوئے دو منٹ گزر گئے۔ چاروں کو اس کی حرکت پر ہنسی آگئی۔

    ”بیٹا! کچھ رفتار تیز کر لو ورنہ نقصان میں رہو گے۔“

    بیگم جمشید نے ہنستے ہوئے کہا۔

    ”جی اچھا!“ فاروق نے کہا اور ایک بار پھر بڑھ بڑھ کر ہاتھ مارنے لگا۔

    دفعتاً وہ چونک اٹھے۔ چار آدمی ایک بیڈ اپنے کندھے پر اٹھائے ہوٹل میں داخل ہو رہے تھے۔ چارپائی خالی نہیں تھی۔ اس پر کوئی لیٹا ہوا تھا۔ اسے سر سے پاﺅں تک چادر اوڑھا دی گئی تھی۔ ہوٹل میں موجود کچھ لوگوں نے لاپروائی سے کہا۔

    ”بھوتوں کا نیا شکار!“

    انسپکٹر جمشید کے لئے سب سے حیرت ناک بات یہ تھی کہ ہوٹل کے ہال میں بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے کسی نے اس طرف دھیان نہیں دیا تھا۔انہوں نے قریب کھڑے ویٹر کو بلا کر پوچھا:

    ”یہ سب کیا ہے؟“

    ”کوئی آدمی بھوتوں کا شکار ہو گیا ہے۔“

    ”جی ہاں۔“

    ”صاف صاف بتاﺅ۔ میں نہیں سمجھا۔“

    ”کیا آپ کل شام ہی آئے ہیں؟“ بیرے نے پوچھا۔

    ”ہاں۔“

    ”اسی لئے پوچھ رہے ہیں۔ بات دراصل یہ ہے کہ یہاں ایک خوب صورت مکان ہے۔“

    ”پھر وہی مکان!“ فرزانہ بڑبڑائی۔

    ”ہاں تو پھر؟ “ انسپکٹر جمشید نے پوچھا۔

    ”اس مکان پر بھوتوں کا قبضہ ہے۔“

    ”تمہارا مطلب ہے مکان آسیب زدہ ہے۔“

    ”جی ہاں۔“

    ”آگے بتاﺅ۔“

    ”اس مکان کو کوئی نہ کوئی شخص ضد کر کے کرائے پر حاصل کر لیتا ہے، جسے کوئی کمرہ یا مکان کرائے پر نہ ملے اور پھر اگلی صبح وہ مکان کے باہر بے ہوش پایا جاتا ہے۔“

    ”بے ہوش پایا جاتا ہے۔“ انسپکٹر جمشید نے حیران ہو کر کہا۔

    ”ہاں!“

    ”تو کیا یہ لوگ اس جگہ سے کسی بے ہوش آدمی کو اٹھا کر لائے ہیں؟“

    ”جی ہاں!“

    ”لیکن یہاں کیوں لائے ہیں ہسپتال میں کیوں نہیں لے گئے؟“

    ”یہاں کوئی ہسپتال نہیں ہے۔ ہوٹل کا ایک ڈاکٹر ہے۔ اس لئے بے ہوش ہونے والوں کو یہاں ہی لایا جاتا ہے۔“

    ”ہوں! دیکھنا چاہیے۔“

    چارپائی کو کاﺅنٹر کے پاس ہی رکھ دیا گیا تھا۔ انسپکٹر جمشید اٹھے اور چارپائی کی طرف بڑھے۔ ان کے پیچھے محمود اور فاروق بھی تھے۔ بیگم جمشید اور فرزانہ میز پر ہی بیٹھی رہیں۔ انسپکٹر جمشید نے قریب جا کر بے ہوش آدمی کے چہرے سے چادر الٹ دی۔ دوسرے ہی لمحے وہ تینوں بری طرح اچھلے۔

    بے ہوش آدمی واصف کے علاوہ کوئی نہ تھا۔

    ٭….٭….٭

    بھوت کا قہقہہ

    ”یہ سب کیا ہے؟“ انسپکٹر جمشید ہوٹل کے مالک یوسف خان کی طرف مڑے۔

    ”میں نے ایک آدمی بھیج دیا ہے۔ ڈاکٹر ابھی آتا ہی ہو گا۔“

    ”لیکن یہ سب ہے کیا؟ اسے کیا ہوا ہے؟“

    ”یہ ضد کر کے آسیب زدہ مکان میں چلے گئے تھے۔“

    ”کیا تم ہی اس مکان کے مالک ہو؟“

    ”ہاں۔“

    ”پھر تم اسے کرائے پر کیوں دیتے ہو۔“

    ”میں کہاں دیتا ہوں جناب۔ لوگ زبردستی اسے کرائے پر حاصل کر لیتے ہیں۔“

    ”ہوں! ڈاکٹر بھی ابھی تک نہیں آیا۔“

    ”بس آنے والا ہی ہے۔“

    ہال میں باقی لوگ بے فکری سے اپنی اپنی میزوں پر بیٹھے کھانے پینے میں مصروف رہے، کسی نے اٹھ کر دیکھنے کی کوشش نہیں کی۔

    ”تم یوں کرو کہ اسے میرے کمرے میں پہنچا دو۔ ڈاکٹر وہیں آجائے گا۔“ آخر تنگ آکر انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”جی اچھا۔“

    ایک بار پھر چار آدمیوں نے مل کر واصف کو اٹھایا اور اسے اوپر کمرے میں لے آئے۔

    انسپکٹر جمشید بھی بیوی بچوں سمیت کمرے میں آگئے۔

    ”یہ ہماری وجہ سے اس مصیبت میں گرفتار ہوا ہے۔“

    ”ہاں! اگر مجھے معلوم ہوتا کہ یہاں کوئی اس قسم کا مکان ہے اور واصف اسے کرائے پر لے گا تو کبھی اسے ایسا نہ کرنے دیتا۔“

    اسی وقت دروازے پر دستک ہوئی۔ محمود نے اٹھ کر دروازہ کھولا۔ ڈاکٹر اندر داخل ہوا، وہ منہ ہی میں بڑبڑا رہا تھا۔

    ”بے وقوف کہیں کے۔ جب سب کو معلوم ہے کہ مکان آسیب زدہ ہے تو وہاں جا کر رہتے ہی کیوں ہیں۔ روز روز کی مصیبت سے میں تو تنگ آگیا ہوں۔“ پھر وہ واصف پر جھک گیا۔ اس کی آنکھوں کے پپوٹے اٹھا کر ان میں جھانکا پھر نبض دیکھی۔ اس کے بعد اس نے واصف کو ایک انجکشن دیا۔

    ”یہ پندرہ بیس منٹ تک ہوش میں آجائے گا۔“ اس نے لاپروائی سے کہا اور کمرے سے باہر جانے لگا۔

    ”شکریہ ڈاکٹر صاحب۔ آپ نے اپنا تعارف نہیں کروایا۔“ انسپکٹر جمشید نے کہا۔

    ڈاکٹر چونک کر مڑا۔ اب پہلی بار اس نے ان سب کو ذرا توجہ سے دیکھا اور بولا:

    ”تعارف؟ تعارف کیا بس ہوٹل کا ڈاکٹر ہوں۔“

    ”آپ کا نام۔“

    ”مجھے ڈاکٹر ریاض کہتے ہیں۔ کیوں آپ نے میرا نام کیوں پوچھا؟“

    ”بس یونہی! آپ کا چہرہ کچھ جانا پہچانا سا لگ رہا ہے۔“

    ”کیا آپ شہر میں بھی پریکٹس کرتے رہتے ہیں؟“

    ”شہر میں۔ جی۔ جی نہیں تو۔ میں تو ایک مدت سے یہیں کام کرتا ہوں۔“

    ”اوہ! شاید مجھے ہی غلط فہمی ہوئی۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”مجھے سرور بیگ کہتے ہیں۔“ انسپکٹر جمشید نے کہا اور محمود، فاروق اور فرزانہ انہیں حیرت سے دیکھنے لگے۔

    ”اچھا تو مسٹر سرور میں اب چلتا ہوں۔ کل پھر آکر مریض کو دیکھ جاﺅں گا۔ اگر اسے دو گھنٹے تک ہوش نہ آئے تو مجھے دوبارہ بلا لیجئے گا۔“

    ”شکریہ!“

    ”آپ نے اپنا نام غلط کیوں بتایا؟“ بیگم جمشید نے پوچھا۔

    ”بس یونہی! اصل نام بتانے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ لوگ عجیب عجیب نظروںسے دیکھتے ہیں۔“

    ”تو کیا ہوٹل کے رجسٹر میں بھی آپ نے اپنا یہی نام لکھا ہے۔“

    ”ہاں!“

    وہ دو گھنٹے تک بیٹھے باتیں کرتے رہے۔ ٹھیک دو گھنٹے بعد واصف نے آنکھیں کھول دیں۔ پہلے تو بے خیالی میں اِدھر اُدھر دیکھتا رہا پھر اس کی نظریں انسپکٹر جمشید کے چہرے پر ٹک گئیں۔

    ”ہیلو واصف! کیا حال ہے؟ اب تمہاری طبیعت کیسی ہے؟“

    ”کیوں؟ مجھے کیا ہوا ہے؟“

    ”کچھ نہیں! کچھ بھی تو نہیں۔“

    ”میں کہاں ہوں؟ ارے میں تو رات کو اس مکان میں سویا تھا۔ پھر یہاں کیسے پہنچ گیا؟ یہ سب کیا ہے؟“

    ”تم رات کو اس مکان میں سوئے تھے؟“ انسپکٹر جمشید نے پوچھا۔

    ”ہاں!“

    ”پھر رات کے وقت وہاں کیا واقعات پیش آئے۔“

    ”واقعات؟ اوہ!“ اچانک اس کی آنکھیں دہشت سے پھیل گئیں۔ پھر وہ تھر تھر کانپنے لگا۔

    ”واصف! تمہیں کیا ہوا ہے۔ ہوش میں آﺅ۔“

    اس کی حالت چند منٹ بعد معمول پر آگئی۔ آخر وہ بولا:

    ”میں نے بہت بھیانک رات بسر کی۔ مگر میں یہاں کیسے پہنچ گیا۔ اوہ! سمجھ گیا۔ مجھے ضرور چار آدمی چارپائی پر ڈال کر لائے ہوں گے۔“

    ”ہاں! کیا تم اس خوفناک مکان سے ڈر کر بھاگ نکلے تھے؟“ انسپکٹر جمشید نے پوچھا۔

    ”بھاگ نکلا تھا؟ نہیں تو، میں تو شاید مکان کے اندر بے ہوش ہو گیا تھا۔“

    ”آخر تمہیں وہاں کیا نظر آیا؟“

    ”کیا نظر آیا؟“ واصف سوچنے لگا اور ایک بار پھر اس پر کپکپی طاری ہو گئی۔

    ”نن۔ نہیں! میں نہیں بتا سکتا۔ نہیں بتا سکتا۔“

    ”اچھا نہ بتاﺅ۔ آرام سے لیٹ جاﺅ۔ بلکہ سو جاﺅ۔ تم اتنا تو بتاﺅ کہ تمہارا سامان کہاں ہے؟“

    ”سامان۔ سامان تو وہیں تھا۔ اسی مکان میں۔“

    ”تمہارے پاس نقد رقم تو نہیں تھی۔“

    ”تھی۔ کیوں نہیں۔ میرے پاس پچیس ہزار روپے تھے۔“ واصف نے بتایا۔

    ”وہ کہاں ہیں؟“

    ”وہیں ہوں گے۔ اس مکان میں ہی۔“

    ”وہ تم نے کہاں رکھے تھے۔“

    ”اپنے سوٹ کیس میں۔“

    ”اور سوٹ کیس کہاں رکھا تھا؟“

    ”جس کمرے میں میں سویا تھا، اس میں ایک الماری تھی اسی میں سوٹ کیس رکھا تھا۔“

    ”اچھا! میں وہ سوٹ کیس جا کر لے آتا ہوں۔“

    ”نہیں نہیں! ہرگز نہیں۔“

    ”کیا مطلب؟“

    ”وہ۔ وہ۔ وہ تم وہاں نہ جاﺅ۔ ہرگز نہیں۔“

    ”کیوں؟ ارے بھئی سامان تو وہاں سے لانا ہی ہو گا۔“

    ”نہیں نہیں۔ وہاں نہ جانا۔ خدا کے لئے وہاں نہ جانا وہاں جانا خطرے سے خالی نہیں۔“

    ”آخر تم نے وہاں کیا دیکھا تھا؟“

    ”کچھ یاد نہیں آتا۔ میں بھول گیا ہوں۔ یاد کرنے کی کوشش کرتا ہوں تو ڈر لگنے لگتا ہے۔“

    ”اچھا۔ میں وہاں نہیں جاﺅں گا۔ تم بے فکر رہو۔ کیا اس مکان کی چابی تمہارے پاس ہے۔“

    ”پتا نہیں۔ میری جیب میں ہو گی۔“ یہ کہہ کر واصف نے اپنی پتلون کی جیبیں ٹٹولیں لیکن چابی نہ ملی۔

    ”نہیں! چابی میری جیبوں میں نہیں ہے۔“

    ”کیا تم نے جیب میں رکھی تھی؟“

    ”ہاں!“

    ”ٹھیک ہے۔ تم سو جاﺅ۔“

    واصف نے آنکھیں بند کر لیں۔ وہ اسے حیرت سے دیکھ رہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد انسپکٹر جمشید نے اسے آواز دی مگر اس کی طرف سے کوئی جواب نہ ملا۔

    ”میں ذرا جا کر اس کا سوٹ کیس لے آﺅں۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”مجھے تو ڈر لگ رہا ہے۔ آپ کو وہاں نہیں جانا چاہیے۔“

    ”ڈرنے کی بھلا کیا ضرورت ہے۔ دن کے وقت کوئی خطرہ نہیں ہو سکتا۔“

    ”تو ابا جان ہمیں بھی ساتھ لے چلئے۔“ فرزانہ نے کہا۔

    ”ڈرو گی تو نہیں؟“

    ”بالکل نہیں۔“

    ”تو آﺅ۔“

    ”ذرا ٹھہریئے ابا جان۔ کیا آپ ہمیں ڈرپوک سمجھتے ہیں؟ ہم بھی آپ کے ساتھ چلیں گے۔“

    ”چلو بھئی چلو میں جانتا ہوں۔ تم تینوں قطعاً ڈرپوک نہیں ہو۔“

    ”میں واصف کے پاس ٹھہرتی ہوں۔“ بیگم جمشید بولیں۔

    ”ہاں ٹھیک ہے۔“

    ”چاروں سیڑھیاں اترتے ہوئے کاﺅنٹر پر آئے۔ یوسف خان نے انہیں اپنی عینک میں سے دیکھا۔

    ”مسٹر یوسف! مجھے اس مکان کی چابی چاہیے۔“

    ”چابی؟ اس آسیب زدہ مکان کی چابی؟“

    ”ہاں۔“

    ”کیوں؟ آپ کیا کریں گے اس کا؟“ یوسف خان نے حیران ہو کر پوچھا۔

    ”میرے دوست واصف کا سامان وہیں رہ گیا ہے۔“

    ”آپ وہاں نہ جائیں تو بہتر ہے۔“

    ”کیوں اس میں کیا حرج ہے؟“

    ”اس سے پہلے بھی جو لوگ وہاں سے ڈر کر بھاگے یا بے ہوش پائے گئے، اپنا سامان وہاں چھوڑ کر آچکے ہیں۔ ان میں سے چند ایک کے دوست اور رشتہ دار جب وہاں سامان لینے پہنچے تو سر پر پاﺅں رکھ کر خالی ہاتھ وہاں سے بھاگتے ہوئے آئے۔ آج تک بھوتوں کے کسی شکار کا سامان وہاں سے نہیں لایا گیا۔“

    ”حیرت ہے۔ پھر وہ سامان کہاں جاتا ہے؟“

    ”جاتا کہاں ہو گا۔ سب کا سامان وہیں پڑا ہو گا۔“

    ”کیا تم نے بھی کبھی وہاں جا کر دیکھا؟“ انسپکٹر جمشید نے پوچھا۔

    ”میں نے؟ میری تو وہاں جانے کے نام سے روح لرزتی ہے۔“

    ”آخر تم وہاں کسی کو ٹھہرنے ہی کیوں دیتے ہو؟“

    ”لوگ زبردستی کرتے ہیں۔“

    ”کیا پولیس کو ان حادثات کی اطلاع دی ہے؟“

    ”ہاں! شروع شروع میں دو تین مرتبہ پولیس والے بھی آئے تھے لیکن روز روز کون آئے۔ آخر انہوں نے آنا بند کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگ وہاں ٹھہرتے ہی کیوں ہیں۔“

    ”آج کے حادثے کی اطلاع پولیس کو دی گئی؟“ انہوں نے پوچھا۔

    ”نہیں! اب میں نے اطلاع دینی چھوڑ دی ہے۔“

    ”کیوں؟“

    ”اطلاع دینے کا فائدہ ہی کیا ہوتا ہے۔ پولیس والے بھی تو اس مکان میں داخل ہونے سے گھبراتے ہیں۔“

    ”کیا آج تک کوئی پولیس والا مکان میں داخل ہوا ہے؟“

    ”جی ہاں! ایک اے ایس آئی یہاں نیا نیا آیا تو اسے ان حادثات کی اطلاع ملی۔ وہ بہت اکڑتا ہوا مکان میں داخل ہوا لیکن دیکھنے والوں نے اسے بدحواس ہو کر نکلتے دیکھا، پھر وہ باقر گنج ہی چھوڑ کر چلا گیا۔“

    ”ہوں! آج تک جتنے بھی حادثات ہوئے ہیں۔ یعنی بھوتوں کے کسی شکار نے بتایا بھی کہ اسے کیا واقعات پیش آئے۔ یا اس نے مکان میں کیا دیکھا۔“

    ”یہی تو سب سے بڑی حیرانی کی بات ہے۔ آج تک کوئی بھی نہیں بتا سکا کہ اندر اس کے ساتھ کیا ہوا یا اس نے کیا دیکھا۔“ یوسف خان نے بتایا۔

    ”حیرت ہے۔“

    ”کوئی ایسی ویسی حرکت۔ میں تو سوچ سوچ کر پاگل ہونے لگتا ہوں۔“

    ”کوئی شخص آج تک مرا تو نہیں؟“ انسپکٹر جمشید نے پوچھا۔

    ”جی نہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ ایسی کوئی بات نہیں ہوئی۔“

    ”مہینے میں کتنے آدمی بھوتوں کا شکار ہو جاتے ہوں گے؟“

    ”جی! بات دراصل یہ ہے کہ باقر گنج میں سیروتفریح کے لئے مقامی اور غیرملکی لوگ سارا سال ہی آتے رہتے ہیں اور کوئی نہ کوئی اس مکان کو خالی پاکر پوچھتا پاچھتا میرے پاس آ جاتا ہے۔ لاکھ سمجھانے پر بھی جب وہ نہیں مانتا تو میں تنگ آکر اسے مکان کرائے پر دے دیتا ہوں۔“

    ”ہوں! اچھا خیر مہربانی فرما کر تم مجھے مکان کی چابی دے دو۔“

    ”میں پھر کہتا ہوں آپ کو وہاں نہیں جانا چاہیے۔“

    ”میرے دوست پر یہ مصیبت میری وجہ سے آئی ہے۔ اس لئے میں وہاں جا کر اس کا سامان ضرور لاﺅں گا۔“

    ”اچھا! جیسے آپ کی مرضی۔ لیکن ساری ذمہ داری آپ کی ہو گی۔ میں نے آپ کو خبردار کر دیا ہے۔“

    ”ہاں! ہاں! تم بے فکر رہو۔ میں تمہیں کوئی الزام نہیں دوں گا۔“

    ”تو یہ لیجئے چابی۔ خدا آپ کو ہر مصیبت سے بچائے۔“

    ”شکریہ! ایک بات رہ جاتی ہے۔ مکان ہے کس طرف؟“

    ”یہ سیدھی سڑک جا رہی ہے۔ آگے جا کر دائیں ہاتھ مڑیئے گا۔ آپ کو مکان دور سے نظر آجائے گا۔“

    ”اس مکان کو تالا کون لگاتا ہے جب کہ قیام کرنے والا وہاں سے بھاگ کھڑا ہوتا ہے یا مکان سے باہر بے ہوش ملتا ہے؟“ انسپکٹر جمشید نے سوال کیا۔

    ”یہی تو سب سے عجیب بات ہے۔“ یوسف نے کہا۔

    ”کیا مطلب؟“

    ”صبح سویرے تالا لگا ہوا ملتا ہے۔“

    ”تمہارا مطلب ہے بھوت مکان کو تالا لگا دیتے ہیں۔“

    ”اس کے علاوہ اور کیا کہا جا سکتا ہے۔“

    ”ہوں! ٹھیک ہے۔ آﺅ بچو۔“

    ”ارے! کیا آپ ان بچوں کو بھی ساتھ لے جا رہے ہیں؟“ یوسف نے حیرت سے آنکھیں پھاڑ کر پوچھا۔

    ”ہاں۔“

    ”کیا آپ ہوش میں ہیں؟“

    ”ہاں! میں ہوش میں ہوں۔“

    ”خدا کے لئے ان بچوں کو ساتھ نہ لے جائیں۔“

    ”خدا آپ کے حال پر رحم کرے۔“

    وہ ہوٹل سے باہر نکل آئے۔ یوسف خان انہیں اس طرح آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہا تھا جیسے وہ کسی دوسری دنیا کی مخلوق ہوں۔

    ”بہتر یہی ہو گا کہ تم میرے ساتھ نہ جاﺅ۔“ انسپکٹر جمشید نے باہر آکر کہا۔ حالاں کہ وہ جانتے تھے بچے ہرگز اس پر آمادہ نہیں ہوں گے۔

    ”کیوں؟“ محمود نے پوچھا۔

    ”تم نے یوسف خان کی باتیں نہیں سنیں؟ ان حالات میں تمہارا وہاں جانا ٹھیک نہیں۔“

    ”کیا آپ سمجھتے ہیں کہ وہاں سچ مچ بھوت رہتے ہیں؟“

    فرزانہ بولی۔

    ”نہیں! خیر میں یہ تو نہیں سمجھتا۔“

    ”تب پھر ہمیں وہاں لے جانے میں کیا حرج ہے؟“

    ”ہو سکتا ہے کہ وہاں کوئی اور خطرہ ہو۔“

    ”کچھ بھی ہو، ہم ساتھ جائیں گے۔“ فاروق نے اٹل لہجے میں کہا۔

    ”میں جانتا تھا تم نہیں مانو گے۔“ انسپکٹر جمشید مسکرائے۔

    ”تو پھر آپ کیوں کہہ رہے تھے؟“

    ”صرف تمہیں آزما رہا تھا کہ کہیں ہوٹل کے مالک کی باتیں سن کر ڈر تو نہیں گئے۔“

    ”ابھی تک تو نہیں ڈرے۔ آگے خدا بہتر جانتا ہے۔“

    ”لو بھئی! سڑک کا موڑ آگیا ہے۔ یہاں سے دائیں طرف مڑنا ہے۔“

    وہ دائیں ہاتھ مڑ گئے۔ مڑتے ہی انہیں ایک شاندار مکان دکھائی دیا۔ اس وقت دن کے دس بج رہے تھے۔ ہر طرف دھوپ پھیل چکی تھی اور پہاڑیاں دھوپ میں سونے کی مانند چمک رہی تھیں۔ ہوا میں خنکی تھی۔

    ”یہی معلوم ہوتا ہے۔“ فرزانہ بولی۔

    ”ہاں! آس پاس کوئی اور مکان نہیں ہے۔“ فاروق بولا۔

    ”معلوم ہوتا ہے تمہیں ڈر لگ رہا ہے۔“ محمود نے مسکراتے ہوئے کہا۔

    ”رنگ تو اڑا ہوا ہے تمہارے چہرے کا۔“ فرزانہ بولی، اس کے ہونٹوں پر شدید مسکراہٹ تھی۔

    ”اور تمہاری ٹانگیں لرز رہی ہیں۔“ فاروق نے جل کر کہا۔

    ”کتنی سنسان جگہ ہے۔ دور دور تک کسی آدمی کا نام و نشان تک دکھائی نہیں دیتا۔“ انسپکٹر جمشید چاروں طرف دیکھتے ہوئے بولے۔

    ”وہ لوگ جو یہاں قیام کرنے کی ضد کر بیٹھتے ہیں، کتنے دلیر ہوتے ہوں گے پھر بھی انہیں یہاں سے بھاگنا ہی پڑتا ہے۔“

    ”آس پاس کوئی اور مکان بھی تو نہیں ہے۔“ فاروق نے کہا۔

    ”اور اردگرد کی پہاڑیاں بالکل جنوں اور دیوﺅں کی مانند ہیں۔ جیسے یہ اس مکان کی محافظ ہوں۔“

    ”ویسے مکان ہے بہت خوب صورت، مکان دکھائی ہی نہیں دیتا۔“ فرزانہ بولی۔

    ”پھر کیا خیال ہے کیا ہم ہوٹل سے اس مکان میں منتقل ہو جائیں۔“ محمود نے پوچھا۔

    ”مجھے تو کوئی اعتراض نہیں۔ البتہ فاروق شاید اس پر تیار نہیں ہو گا۔“ محمود نے پوچھا۔

    ”کیوں؟ میں کیوں تیار نہیں ہوں گا؟“

    ”ڈرپوک جو ٹھہرے۔“

    ”اچھا! یہ بات ہے۔ تو ہم آج ہی اس مکان میں منتقل ہو جائیں گے۔ ابا جان میں یہ طعنہ برداشت نہیں کر سکتا۔“

    ”تو تم جو طعنہ برداشت کر سکتے ہو وہ ہمیں بتا دو۔“ محمود انسپکٹر جمشید کے کچھ کہنے سے پہلے بولا۔

    ”ہم اس کے متعلق بعد میں فیصلہ کریں گے۔ سب سے پہلے تو ہمیں واصف کا سوٹ کیس یہاں سے نکال کر اس کے حوالے کرنا ہے۔“

    ”جی ہاں۔ ٹھیک ہے۔“ تینوں ایک ساتھ بولے۔

    اب وہ مکان کے بالکل سامنے پہنچ گئے تھے۔ مکان کا رنگ خون کی مانند سرخ تھا۔ البتہ دروازوں اور کھڑکیوں کو نیلا رنگ کیا گیا تھا۔ سرخ اور نیلے رنگ کا ملاپ واقعی کچھ ڈراﺅنا سا منظر پیش کر رہا تھا۔ انسپکٹر جمشید نے دروازے کے پاس پہنچ کر جیب سے یوسف خان کی دی ہوئی چابی نکالی تو انہوں نے چابی تالے کے سوراخ میں داخل کی۔ دوسرے ہی لمحے تالا کھٹاک کی آواز کے ساتھ کھل گیا۔ انہوں نے دروازہ اندر کی طرف دھکیلا تو تیز چڑچڑاہٹ کی آواز کے ساتھ کھلتا چلا گیا۔ دروازے کی آواز نے تینوں کو سہما دیا۔

    ”اُف توبہ! کس قدر خوف ناک چڑچڑاہٹ تھی۔“ محمود بولا۔

    ”بس ابھی سے ڈر گئے۔“ فاروق نے کہا۔ غالباً وہ ہنس کر اپنا خوف دور کرنا چاہتا تھا۔

    ”ڈرکون کمبخت رہا ہے۔“ محمود نے اکڑ کر کہا۔

    ”میرا خیال ہے تم تینوں باہر ہی ٹھہرو میں اندر جا کر سوٹ کیس لے آتا ہوں۔“

    ”جی نہیں! ہم آپ کے ساتھ چلیں گے۔“

    ”دیکھو ضد نہ کرو۔“

    ”ہم آپ کو تنہا اندر نہیں جانے دیں گے۔“ محمود نے اٹل لہجے میں کہا۔

    ”اچھا آﺅ۔“ یہ کہہ کر انسپکٹر جمشید دروازے میں داخل ہو گئے۔ ان کے پیچھے تینوں بھی اندر داخل ہو گئے۔

    اور عین اسی وقت دروازہ اسی قسم کی تیز چڑچڑاہٹ کے ساتھ یک دم بند ہو گیا۔ ساتھ ہی مکان کے اندر ایک طویل خوف ناک قہقہہ گونجا:

    ”ہاہاہا۔ہاہا۔ ہا۔“

    قہقہے کی آواز اس قدر خوف ناک تھی کہ ان کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ تینوں کی ٹانگیں کانپنے لگیں۔ یوں بھی دروازہ بند ہوتے ہی مکان میں گھپ اندھیرا چھا گیا تھا۔

    ”ابا جان! دروازہ خود بخود بند ہو گیا۔“ محمود چلایا۔

    ”پرواہ نہ کرو۔ بجلی کا سوئچ تلاش کرو۔ میں دائیں طرف دیکھتا ہوں۔ تم بائیں طرف دیکھو۔“

    ”قہقہہ ابھی تک جاری تھا۔ کسی طرح ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔“

    ”سن رہے ہو؟“ فاروق بولا۔

    ”کیا؟“ محمود کے منہ سے نکلا۔

    ”بھوت کا قہقہہ۔ اُف توبہ کس قدر لمبا ہے یہ قہقہہ۔ بھوت بھی اتنا ہی لمبا ہو گا جتنا قہقہہ۔“ فرزانہ کی کپکپاتی ہوئی آواز آئی۔

    اچانک قہقہے کو جیسے بریک لگ گیا اورمکان میں مکمل سناٹا چھا گیا۔ یہ سناٹا بھی انہیں بے حد خوف ناک لگا۔

    ”اس خاموشی سے تو وہ قہقہہ ہی اچھا تھا۔“ محمود نے تلملا کر کہا۔

    ”تو تم خود کیوں نہیں شروع کر دیتے۔“ فاروق نے مشورہ دیا۔

    ”اسی وقت بجلی کا بلب روشن ہو گیا۔ وہ مکان کے برآمدے میں کھڑے تھے۔ محمود کو روشنی ہونے کے بعد سب سے پہلے دروازے کا خیال آیا۔ وہ دروازے کی طرف جھپٹا۔

    دروازے کا ہینڈل پکڑ کر اپنی طرف کھینچا لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوا۔

    ”ابھی کھولنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ آﺅ اندر چلیں۔“

    تینوں ایک لمحے کے لئے ہچکچائے۔ پھر ان کے پیچھے چل پڑے۔ جوں ہی انہوں نے قدم بڑھائے۔ کسی کے بھاری بھرکم قدموں کی زور دار آہٹ آنے لگی۔

    ”بھوت ہمارے ساتھ چل رہے ہیں۔“ فرزانہ نے گھٹی گھٹی آواز میں کہا۔

    ”نت۔ تو۔ تم تمہاری جان کیوں نکل رہی ہے۔“ محمود ہکلایا۔

    ”اور تم کیوں ہکلا رہے ہو؟“ فاروق بولا۔

    ”میں۔ مم۔ میں تو بھوتوں کا دل رکھنے کے لئے ہکلا رہا ہوں تاکہ انہیں مایوسی نہ ہو۔“ محمود بولا۔

    ”بہت خیال ہے تمہیں بھوتوںکا۔“ فاروق نے کہا۔

    ”ہمارے میزبان جو ٹھہرے۔“

    ”آہا! تو کیا ہم بھوتوں کے مہمان ہیں۔“ فرزانہ بولی۔

    ”ہاں! میں نے کسی سے سنا تھا کہ بھوت بہت مہمان نواز ہوتے ہیں۔ اپنے مہمانوں کی خوب آﺅ بھگت کرتے ہیں۔ ابا جان۔“ محمود نے انسپکٹر جمشید کو ایک کمرے میں داخل ہوتے دیکھ کر کہا۔ پھر وہ تینوں بھی تیزی سے اس کمرے میں داخل ہو گئے۔ اس کے ساتھ ہی بھوتوں کے قدموں کی آوازیں رک گئیں۔

    ”لو بھئی! آواز رک گئی۔ معلوم ہوتا ہے بھوت صاحبان بھی اس کمرے میں داخل ہو چکے ہیں۔“ محمود بولا۔

    ”خبردار ان کرسیوں پر نہ بیٹھنا۔“ فاروق نے بلند آواز میں کہا۔

    ”کیوں؟“ فرزانہ نے حیران ہو کر پوچھا۔

    ”ہو سکتا ہے، بھوت ان کرسیوں پر ہم سے پہلے ہی بیٹھ چکے ہوں۔“ فاروق کی بات پر تینوں کو بے تحاشہ ہنسی آگئی۔

    ”کمرے میں بستر لگا ہوا ہے۔ الماری بھی ہے۔ واصف ضرور یہیں سویا ہو گا۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”تو الماری کھول کر دیکھئے نا۔ اس میں سوٹ کیس ہو گا۔“ فرزانہ نے کہا۔

    انسپکٹر جمشید نے الماری کے پٹ کھول ڈالے۔ دوسرے ہی لمحے چاروں کے منہ سے بے ساختہ چیخیں نکل گئیں۔ الماری میں سے بیسیوں چمگاڈریں پھڑپھڑاتی ہوئی نکلی تھیں اور اب وہ کمرے میں چکر لگا رہی تھیں۔

    الماری خالی تھی!

    ٭….٭….٭

    انسانی ڈھانچہ

    تینوں بچے چمگاڈروں کو ڈری ڈری حالت میں دیکھ رہے تھے۔ چمگاڈروں کی آوازیں بھی لمحہ بہ لمحہ تیز ہوتی جا رہی تھیں۔

    ”مم۔ معلوم ہوتا ہے بھوتوں نے چمگاڈروں کا روپ بدل لیا ہے۔“ فاروق کپکپاتی آواز میں بولا۔

    ”تمہاری آواز کیوں رو رہی ہے؟“ محمود نے پوچھا۔

    ”میں چمگاڈروں کی آواز میں آواز ملا رہا ہوں۔“ فاروق نے جملہ چست کیا۔

    ”کیا دوسرے کمرے دیکھیں گے؟“

    ”ہاں! وہ تو دیکھنے ہی پڑیں گے۔“

    چاروں اس کمرے سے نکل آئے اور دروازہ بند کر دیا اس کمرے کے ساتھ ہی ایک دوسرا کمرہ تھا۔ انسپکٹر جمشید نے اس کا دروازہ کھولا۔ دروازہ کھلتے ہی ایک بلی کی تیز اور دردناک چیخ فضا میں ابھری۔ ساتھ ہی ایک سیاہ اور موٹی تازی بلی انسپکٹر جمشید پر جھپٹی۔ انسپکٹر جمشید اس حملے کے لئے تیار نہیں تھے۔ پھر بھی انہوں نے خود کو بڑی پھرتی سے ایک طرف کر لیا۔ بلی اپنے زور میں دیوار سے ٹکرائی۔ وہ اٹھی اور پھر ان کی طرف آئی۔ اس مرتبہ انسپکٹر جمشید نے اسے پاﺅں کی ایک ٹھوکر رسید کی لیکن یہ دیکھ کر ان کی حیرانی کی انتہا نہ رہی کہ بلی ایک بار پھر اسی جوش و خروش کے ساتھ ان پر حملہ کر رہی ہے۔ آخر تنگ آکر انہوں نے جیب سے پستول نکالا اور اس پر فائر کر دیا۔ فائر کی آواز کے ساتھ ایک بار پھر وہی خوفناک طویل قہقہہ شروع ہو گیا۔ بلی کمرے کے درمیان پڑی تڑپ رہی تھی اور قہقہہ تینوں بچوں کے ہوش اڑائے دے رہا تھا۔

    اس کمرے میں بھی انہیں سوٹ کیس نہ ملا۔ تیسرے کمرے کا دروازہ کھلتے ہی ایک خوف ناک دھمک کی آواز سنائی دینے لگی۔ جیسے دور بہت دور جنگلی قبائلیوں کا کوئی قبیلہ کسی شخص کی قربانی دینے سے پہلے بڑے بڑے ڈھول بجا رہا تھا۔ یہ دھمک کی آواز اس قدر پراسرار تھی کہ ان کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔

    ”بھوت۔ ڈھ۔ ڈھول بجا رہے ہیں۔“ فاروق کے منہ سے نکلا۔

    ”ہاں۔ شش۔ شاید کسی بھوت کی شادی ہو رہی ہے؟“

    ”ہم۔ ہم بھی دعوت کھا کر جائیں گے۔“ فرزانہ کی پرسکون آواز سنائی دی۔

    ”آﺅ! یہاں بھی کچھ نہیں ہے۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”دھمک اس وقت تک جاری رہی جب تک کہ کمرے کا دروازہ بند نہیں کر دیا گیا۔ نچلی منزل پر صرف تین ہی کمرے تھے۔ انسپکٹر جمشید زینے پر چڑھے لیکن اس کے دروازے پر تالا لگا ہوا تھا۔

    ”اس کا مطلب یہ ہے کہ واصف انہی تین کمروں میں سے کسی میں سویا ہو گا۔ کیوں کہ نچلی منزل میں صرف یہی تین کمرے سونے کے ہیں۔ کیا خیال ہے ڈرائنگ روم بھی دیکھ لیا جائے؟“

    ”جی ہاں! ضرور۔ لیکن کیا واصف چچا ڈرائنگ روم میں سوئے ہوں گے؟“

    ”نہیں! پھر بھی دیکھ لینے میں کیا حرج ہے؟“

    ”جی! حرج تو کچھ نہیں۔ لیکن ہو سکتا ہے بھوت ڈرائنگ روم میں کوئی پرائیویٹ میٹنگ کر رہے ہوں۔“ فاروق بولا۔

    ”آﺅ بھئی! دیکھیں گے ان بھوتوں کو بھی پہلے سوٹ کیس تو دیکھ لیں۔“

    ”تو چلئے! بسم اللہ کیجئے۔“ محمود بولا۔

    وہ ڈرائنگ روم کے دروازے پر پہنچے۔ دروازہ کھولا اور اندر داخل ہو گئے۔ اس مرتبہ تو کسی چمگاڈر نے انہیں پریشان کیا، نہ ہی سیاہ بلی نے حملہ کیا۔ کوئی خوف ناک دھمک بھی سنائی نہیں دی۔ ان سب باتوں کے باوجود وہ سب دھک سے رہ گئے۔ ان کے اٹھتے قدم لڑکھڑا گئے محمود فاروق اور فرزانہ کسی طرح بھی اپنے منہ سے نکلنے والی چیخوں کو نہ روک سکے۔ صحیح معنوں میں وہ اس مرتبہ خوفزدہ ہوئے تھے۔ ورنہ اس سے پہلے تو وہ مذاق ہی کرتے رہے تھے۔ کمرے کے بیچوں بیچ ایک انسانی ڈھانچہ رسی سے لٹکا ہوا تھا۔ رسی چھت سے لگے لوہے کے ایک کنڈے سے باندھی ہوئی تھی اور اس کا دوسرا سرا ڈھانچے کی گردن سے لپٹا ہوا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے اس شخص کو برسوں پہلے اس کمرے میں پھانسی دی گئی تھی۔

    ”اُف میرے خدا! یہ تو سچ مچ کسی آدمی کا ڈھانچہ ہے۔“

    ”بھوتوں کا شکار!“ فرزانہ کے منہ سے نکلا۔

    ”معلوم ہوتا ہے اسے برسوں پہلے پھانسی دی گئی تھی اور اس وقت سے یہ جوں کا توں لٹکا ہوا ہے۔“ محمود نے خیال ظاہر کیا۔

    ”ہاں! اور ان کئی برسوں میں اس کا گوشت گل سڑ گیا ہو گا۔ اب تو کمرے میں کسی قسم کی بو بھی نہیں ہے۔“

    ”تم تینوں واقعی بہت دلیر ہو جو اس ماحول میں کھڑے باتیں کر رہے ہو ورنہ کوئی عام آدمی تو شاید اپنے ہوش میں بھی نہیں رہ سکتا۔ آﺅ چلیں۔ یہاں کوئی سوٹ کیس نہیں ہے۔“

    ”لیکن ابھی آپ نے تلاش ہی کہاں کیا ہے؟“

    ”کیا تم چاہتے ہو میں کمرے کی الماریاں بھی دیکھ ڈالوں؟“

    ”جی ہاں!“ محمود بولا۔

    ”کمال ہے! تمہیں ڈرگ نہیں لگ رہا ہے۔“

    ”ڈر؟ آپ ساتھ ہیں نا۔ اس لئے ڈر نہیں لگ رہا ہے۔“

    ”اچھا تم تینوں یہیں ٹھہرو۔ میں الماریاں دیکھ لیتا ہوں۔“

    ”لیکن ابا جان….“ فاروق کچھ کہتا کہتا رک گیا۔

    ”کہو۔ کیا بات ہے؟“

    ”سوٹ کیس اس کمرے میں ہرگز نہیں ہو سکتا ہے۔“

    ”لو فرزانہ! اسے ڈر لگ رہا ہے۔“ محمود ہنسا۔

    ”نہیں! یہ بات نہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ واصف چچا اس کمرے کے دروازے سے آگے بڑھنے کی جرا¿ت نہیں کر سکے ہوں گے۔ واصف چچا ہی کیا۔ کوئی بھی شخص اس کمرے میں داخل نہیں ہو سکا ہو گا۔“

    ”بہت خوب: میں یہی دیکھنا چاہتا تھا تاکہ تم میں سے یہ خیال پہلے کس کو آتا ہے۔ اسی لئے میں نے کہا یہاں سوٹ کیس نہیں ہو سکتا۔“

    ”تو پھر چلئے واپس چلیں۔“

    جونہی وہ واپس مڑے ایک بار پھر وہی بھیانک قہقہہ کمرے میں گونجنے لگا۔ اس مرتبہ آواز بہت زیادہ تیز تھی۔ وہ چونک کر مڑے اور اس وقت چاروں نے صاف محسوس کیا۔

    آواز اس ڈھانچے کے منہ سے آرہی تھی۔

    ٭….٭….٭

    قہقہہ کسی طرح رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ آخر انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”آﺅ چلیں۔ سوٹ کیس یہاں بھی نہیں ہے۔“

    چاروں دروازے کی طرف بڑھے۔ دروازہ بدستور بند تھا۔ انسپکٹر جمشید نے اسے کھولنے کے لئے ہینڈل پکڑ کر اپنی طرف کھینچا لیکن وہ اپنی جگہ سے نہ ہلا۔

    ”دروازہ شاید باہر سے بند ہو گیا ہے۔“ وہ بولے۔

    ”کسی بھوت نے بند کر دیا ہو گا۔“ فرزانہ بولی۔

    ”پھر اب کیا ہو گا کیا ہم یہیں قید ہو کر رہ جائیں گے؟“ محمود نے کہا۔

    ”تم تینوں باری باری دروازہ کھولنے کی کوشش کرو۔“ تینوں نے زور لگانا شروع کیا مگر ناکام رہے۔

    ”ابا جان! کیوں نہ کوئی کھڑکی آزمائی جائے۔“ فاروق نے کہا۔

    ”ہاں! ٹھیک ہے۔“

    انہوں نے ایک بار پھر پہلے کمرے کا رخ کیا۔ یہاں اب کوئی چمگاڈر چکر نہیں لگا رہی تھی۔

    ”معلوم ہوتا ہے چمگاڈریں پھر الماری میں چلی گئی ہیں۔“ فاروق نے کہا۔

    ”یا پھر بھوتوں کی صورت اختیار کر لی ہو گی انہوں نے۔“ فرزانہ نے خیال ظاہر کیا۔

    ”کیوں نہ الماری کھول کر دیکھا جائے۔“ محمود نے تجویز پیش کی۔

    یہ کہہ کر انسپکٹر جمشید نے کھڑکی کی چٹخنیاں گرا دیں لیکن یہ دیکھ کر ان کی مایوسی کی کوئی حد نہ رہی کہ اس میں لوہے کی سلاخیں لگی تھیں۔

    تینوں کمرے کی کھڑکیاں سلاخوں والی تھیں۔ وہ تھک کر برآمدے میں آکھڑے ہو گئے۔ مکان میں ایک بار پھر مکمل طور پر سناٹا چھا گیا تھا۔ یہ سناٹا انہیں حد درجے ڈراﺅنا لگا۔ آخر محمود بولا:

    ”اب کیا کیا جائے۔ یہاں سے نکلنے کی کیا صورت ہو سکتی ہے؟“

    ”اب صرف ایک ہی صورت باقی ہے۔“ انسپکٹر جمشید نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔

    ”اور وہ کیا؟“

    ”دروازے کو توڑ دیا جائے۔“

    ”لیکن دروازہ کیسے ٹوٹے گا؟“ محمود نے پوچھا۔

    ”میں اسے توڑ دوں گا۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”آپ توڑیں گے؟ لیکن کیسے؟“

    ”اپنا کندھا مار کر۔“

    ”یہ بہت مشکل کام ہو گا۔“

    ”اب اس کے سوا چارہ بھی کیا ہے؟“ وہ بولے۔

    ”آپ کے کندھے پر چوٹ لگے گی۔“

    ”تم فکر نہ کرو، مجھے اس کام کی کافی مشق ہے، اس سے پہلے بھی کئی دروازے توڑ چکا ہوں۔“

    ”لیکن یہ دروازہ بہت مضبوط ہے۔“

    ”پروا نہیں۔ آﺅ چلیں۔“

    ”کیوں نہ اس مکان میں کوئی کلہاڑی تلاش کی جائے۔“

    ”نہیں ملے گی۔ میں نے چاروں کمروں کو بغور دیکھا ہے اور اوپر والی منزل کے زینے پر تو تالا ہی لگا ہوا ہے۔“

    یہ کہہ کر وہ دروازے کی طرف چل پڑے۔ تینوں ان کے پیچھے تھے۔ جونہی وہ دروازے کے سامنے پہنچے، حیرت سے ان کی آنکھیں پھٹی رہ گئیں۔

    دروازے کے دونوں پٹ چوپٹ کھلے تھے۔

    ٭….٭….٭

    پندرہ منٹ بعد وہ پھر ہوٹل کے کاﺅنٹر کے پاس کھڑے یوسف خان سے باتیں کر رہے تھے۔ وہ جس وقت وہاں پہنچے، یوسف خان نے انہیں ایسی نظروں سے دیکھا تھا جیسے وہ خود بھوت ہوں۔

    ”خدا کا شکر ہے کہ آپ خیریت سے واپس آگئے۔ کہیے کیسا رہا؟“

    ”ہمیں مکان میں کوئی سوٹ کیس نہیں ملا؟“

    ”کیا؟ وہاں کوئی بھی سوٹ کیس نہیں ملا۔ کسی اور کا بھی نہیں؟“

    ”نہیں!“

    ”حیرت ہے۔ آج تک نہ جانے کتنے مسافروں نے اس مکان میں قیام کیا ہے۔ سبھی کا سامان وہیں رہ جاتا ہے۔ اس لحاظ سے تو وہاں بے شمار سوٹ کیس اور دوسری چیزیں ہونی چاہئیں تھیں۔ پھر اس سے کیا مطلب نکالا جا سکتا ہے؟“ یوسف نے کہا۔

    ”اس سے صرف یہی مطلب نکالا جا سکتا ہے کہ وہ سوٹ کیس اور دوسرا سامان بھوت لے جاتے ہیں۔“ محمود بولا۔ اس کا یہ جملہ سن کر یوسف خان کپکپا اٹھا۔ اس کے چہرے پر زلزلہ سا طاری ہو گیا۔

    ”خدا کے لئے بھوتوں کا نام نہ لیں۔ میری جان نکلنے لگتی ہے۔“

    ”بہت ڈرپوک واقع ہوئے ہیں آپ۔“ فاروق نے کہا۔

    ”اب بھوتوں سے کون ٹکر لے۔ ان کے معاملے میں تو ڈرپوک ہونا ہی بہتر ہے۔“

    ”ان حالات میں میں سمجھتا ہوں کہ تھانے میں رپورٹ کر دینی چاہیے۔“ انسپکٹر جمشید نے کہا۔

    ”تھانے میں رپورٹ؟“ یوسف خان نے حیران ہو کر کہا۔ ”لیکن اس سے کیا ہو گا؟“

    ”ہو سکتا ہے کہ اس مکان میں سے کوئی چور سوٹ کیس وغیرہ اڑا لے جاتا ہو اور پھر میرے دوست کے سوٹ کیس میں پچیس ہزار روپے تھے۔ آخر بھوتوں کو روپوں کی کیا ضرورت؟ کیا آپ بتا سکتے ہیں؟“

    ”میری تو عقل حیران ہے صاحب۔ میں کیا کہہ سکتا ہوں۔ جو آپ کا جی چاہے کریں۔“

    ”تو ٹھیک ہے۔ میں ابھی تھانے جا کر رپورٹ درج کرائے دیتا ہوں۔“

    ”لیکن اس کا نتیجہ کوئی نہیں نکلے گا۔“ یوسف نے کہا۔

    ”کیوں؟“

    ”کوئی پولیس والا بھی اس مکان کا رخ نہیں کرے گا۔ اس بستی میں رہنے والوں میں سے تو کسی میں بھی جرا¿ت نہیں کہ اس مکان میں داخل ہو سکے۔“

    ”آخر ہم بھی تو ہیں۔ جو اس سارے مکان کو چھان آئے ہیں۔“

    ”مجھے حیرت ہے۔ آپ اور آپ کے بچے بڑے دل گردے والے ہیں۔ آپ کو وہاں کوئی حادثہ تو پیش نہیں آیا؟“

    ”نہیں!“

    ”آپ نے کوئی بھی عجیب بات نہیں دیکھی؟“ اس نے حیران ہو کر پوچھا۔

    ”نہیں! بالکل کچھ نہیں تھا وہاں۔“

    ”حیرت ہے۔ پھر لوگ کیوں وہاں سے بدحواس ہو کر بھاگ نکلتے ہیں۔“

    ”وہ بھوتوں پر یقین رکھتے ہوں گے۔ میرا خیال ہے کہ اس دنیا میں بھوتوں کا کوئی وجود نہیں ہے۔“

    ”میری زندگی میں آپ پہلے آدمی ہیں جو ایسی بات کہہ رہے ہیں، ورنہ باقر گنج کا تو بچہ بچہ بھوتوں پر یقین رکھتا ہے۔“

    ”میں باقر گنج کا باشندہ نہیں ہوں۔“

    یہ کہہ کر انسپکٹر جمشید مڑے اور تینوں بچے سمیت آئے۔ یہاں واصف کی حالت پہلے سے بہتر تھی۔ وہ بیگم جمشید سے باتیں کر رہا تھا۔

    ”ہیلو۔ واصف! اب تم کیسے ہو؟“

    ”میں ٹھیک ہوں۔ کہو کیسا رہا؟“

    ”کیا مطلب؟“ انسپکٹر جمشید نے حیران ہو کر پوچھا۔

    ”میں جانتا ہوں، تم اس مکان سے ہو کر آرہے ہو۔“

    ”بیگم کیا تم نے اسے بتایا ہے؟“

    ”میں نے،نہیں تو۔“

    ”میں تمہاری ضدی طبیعت سے واقف ہوں یار! بتاﺅ کیا تیر مار کر آرہے ہو؟“

    ”کچھ نہیں۔ وہاں تمہارا سوٹ کیس نہیں ملا۔ یہ تم نے کس کمرے میں ڈیرہ ڈالا تھا؟“

    ”برآمدہ طے کرنے کے بعد دائیں ہاتھ جو کمرہ ہے، اس میں۔“

    ٹھیک ہے! میرا بھی یہی خیال تھا۔ کیا تم نے اسی کمرے کی الماری میں سوٹ کیس رکھا تھا؟“

    الماری میں؟ نہیں تو۔ میں نے تو اسے چارپائی کے نیچے رکھا تھا۔“

    ”کیا تم نے الماری کھولی تھی؟“

    ”الماری؟ نہیں نہیں! مجھ سے اس مکان کے بارے کچھ نہ پوچھو۔“ واصف ایک بار پھر لرزنے لگے۔

    ”اچھا چھوڑو۔ دیکھو میں تھانے میں رپورٹ درج کرانے جا رہا ہوں۔“

    ”کیا؟ تھانے میں رپورٹ درج کرانے جا رہے ہو۔ لیکن اس کی کیا ضرورت ہے؟“

    ”ضرورت ہے۔ یہ میں تم سے بہتر سمجھتا ہوں۔“

    ”تو کیا تم بھوتوں کے خلاف رپورٹ درج کراﺅ گے۔“ واصف نے حیران ہو کر پوچھا۔

    ”ہاں!“ انسپکٹر جمشید نے کہا اور اٹھ کھڑے ہوئے۔

    ٭….٭….٭

    انسپکٹر جمشید باقر گنج کا تھانہ دیکھ کر مسکرائے۔ تھانہ کیا تھا، دو کمروں پر مشتمل ایک چھوٹی سی عمارت تھی جس کے سامنے چھوٹا سا باغیچہ تھا اور باغیچے کے بیچوں بیچ تھانے کے اندر آنے کے لئے راستہ بنا ہوا تھا۔ سامنے والے کمرے میں انہیں میز کرسی سنبھالے ایک صاحب نظر آئے جنہوں نے پولیس کی وردی پہن رکھی تھی۔ دروازے سے باہر ایک کانسٹیبل بھی کھڑا تھا۔ دوسرا کمرہ شاید کانسٹیبلوں کے لئے تھا کیوں کہ اس کمرے سے کئی آدمیوں کے بولنے کی آوازیں آرہی تھیں۔

    وہ دروازے پر کھڑے کانسٹیبل کی طرف دیکھے بغیر اندر گھس گئے اور ایک کرسی پر بیٹھ گئے۔ ان کے سامنے بیٹھا ہوا شخص جو کسی گہری سوچ میں کھویا ہوا تھا، چونک اٹھا۔

    ”جی فرمائیے! کیا بات ہے؟“ اس کے لہجے میں سختی تھی۔

    ”ایک رپورٹ درج کرانی ہے۔“ انسپکٹر جمشید مسکرائے۔

    ”رپورٹ؟ کیسی رپورٹ؟“ وہ حیران ہو کر بولا۔

    ”آپ کی تعریف؟“ انسپکٹر جمشید نے اس کا نام پوچھا۔

    ”سب انسپکٹر شیر محمد!“ اس نے اکڑ کر کہا۔

    ”تو جناب انسپکٹر صاحب۔ مجھے چوری کی ایک رپورٹ درج کرانی ہے۔“

    ”جی فرمائیے! آپ کی کیا چیز چوری ہوئی ہے؟“

    ”میری نہیں بلکہ میرے ایک دوست کی۔“

    ”آپ کے دوست کی؟ تو وہ خود کیوں نہیں آئے؟ کہیں وہ خود بھی تو ساتھ چوری نہیں ہو گئے؟“ شیرخان نے مذاق اڑایا۔

    ”وہ! دراصل ان کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہے۔“

    ”اچھا خیر! تفصیل سے لکھوائیں۔ اور یہ بھی لکھ دیں کہ شک کس پر ہے۔“

    ”جی بہتر! میرے دوست نے، جس کا نام واصف محمود ہے، کل شام آسیب زدہ مکان کرائے پر لیا تھا۔“

    ”کیا کہا؟ آسیب زدہ مکان کرائے پر لیا تھا۔“ شیر محمد لکھتے لکھتے رک گیا۔

    ”ہاں! لکھتے جائیے۔ وہ وہاں ایک سوٹ کیس لے کر رہنے کے لئے گیا تھا۔ اس کے سوٹ کیس میں پچیس ہزار روپے تھے۔ صبح اس کو بے ہوشی کی حالت میں اٹھا کر ہوٹل آبگینہ میں لایا گیا۔ میں اس کا سوٹ کیس لینے کے لئے مکان میں گیا۔“

    ”کیا کہا؟ آپ اس مکان میں سوٹ کیس لینے گئے تھے؟“ شیر خان ایک بار پھر لکھتے لکھتے رک گیا۔

    ”جی ہاں! لیکن مکان کے چاروں کمروں کی تلاشی لینے کے بعد بھی سوٹ کیس نہیں ملا۔“

    ”آپ نے نچلی منزل کے کمروں میں سوٹ کیس تلاش کیا تھا؟“ اس کی آنکھیں حیرت سے ابلی پڑ رہی تھیں۔

    ”جی ہاں!“

    ”آپ کا نام۔“

    ”جی! سرور بیگ۔“

    ”کہاں سے آئے ہیں؟“

    ”شہر سے۔ یہاں آبگینہ میں قیام ہے۔“

    ”بس یا کچھ اور لکھوانا ہے؟“

    ”جی بس! یہی کچھ ہے۔“

    ”ہوں! ان حالات میں اظہار ہے آپ کسی پر شک نہیں کر سکتے؟“

    ”کیوں؟ کیوں نہیں سکتا؟“

    ”کیا مطلب؟ کیا آپ کو کسی پر شک ہے؟“ شیرخان کا حیرت کے مارے برا حال تھا۔

    ”جی ہاں!“ انسپکٹر جمشید مسکرائے۔

    ”کس پر؟“

    ”آسیب زدہ مکان کے بھوتوں پر۔“

    ”کیا آپ مذاق کے موڈمیں ہیں؟“ شیرخان کو غصہ آگیا۔

    ”جی نہیں تو۔ بھلا اس کے علاوہ اور کیا نتیجہ نکالا جا سکتا ہے۔“

    ”تو کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں بھوتوں کو یہاں پکڑ کر لاﺅں۔“

    ”یہ آپ کا کام ہے، آپ جانیں۔“

    ”آپ عجیب آدمی ہیں۔“

    ”ویسے میں یہ مشورہ ضرور دے سکتا ہوں کہ اس کی تحقیقات آبگینہ ہوٹل کے ان ملازموں سے شروع کی جائے جو میرے دوست کو چارپائی پر اٹھا کر لائے تھے۔“

    ”شکریہ! مجھے کسی کے مشورے کی ضرورت نہیں۔ مجھے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں یہ میں اچھی طرح جانتا ہوں۔“

    ”اچھا تو پھر مجھے اجازت ہے؟“

    ”ہاں! آپ جا سکتے ہیں لیکن ابھی آپ آبگینہ ہوٹل چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔“

    ”وہ کس لئے؟“ انسپکٹر جمشید نے حیران ہو کر پوچھا۔

    ”کیا آپ اپنے دوست کا سوٹ کیس نہیں چرا سکتے تھے۔“

    ”بہت خوب! تو یہ بات ہے۔ لیکن آپ اس وقت تک مجھ پر پابندی کیسے لگا سکتے ہیں جب تک کہ میرا دوست مجھ پر شک کا اظہار نہ کرے؟“

    ”میں آج ہی مسٹرواصف سے ملوں گا۔“

    ”میں اگر آبگینہ ہوٹل سے کہیں گیا تو آپ مجھے آسیب زدہ مکان میں مل سکتے ہیں کیوں کہ فی الحال میں وہیں قیام کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔“

    ”جی!“ شیر محمد کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔

    انسپکٹر جمشید مسکراتے ہوئے مڑے اور تھانے سے باہر نکل آئے۔ شیر محمد ابھی تک منہ پھاڑے انہیں دیکھ رہا تھا۔ وہاں سے نکل کر وہ تار گھر آئے اور انہوں نے کسی کو ایک لمبا چوڑا تار دیا۔

    ٭….٭….٭


    روانگی

    انسپکٹر جمشید واپس پہنچے تو تینوں بچے، ان کی والدہ اور واصف اپنے کمرے میں ہنس ہنس کر باتیں کر رہے تھے۔

    ”تم لوگ بہت خوش نظر آرہے ہو۔ کیا سوٹ کیس مل گیا ہے؟“

    ”سوٹ کیس؟ بھلا وہ کیسے مل سکتا ہے۔ اسے تو بھوت لے جا چکے ہیں۔“ انہوں نے ہنس کر کہا۔

    ”میں نے رپورٹ درج کرا دی ہے۔“

    ”کیا فائدہ؟ میں جانتا ہوں کہ اب سوٹ کیس واپس نہیں ملے گا۔“ واصف نے کہا۔

    ”لیکن میں ابھی ایک فیصلہ کر چکا ہوں۔“ انسپکٹر جمشید کے تیز لہجے نے ان سب کو چونکا دیا۔

    ”کیسا فیصلہ؟“ بیگم جمشید نے کہا۔

    ”میں آج رات اس آسیب زدہ مکان میں گزاروں گا بلکہ ہو سکتا ہے کہ دو تین راتیں گزاروں۔“

    ”کیا؟ یہ کیا کہہ رہے ہو تم؟“ واصف حلق پھاڑ کر چلایا۔ اس کے چہرے پر خوف کی پرچھائیاں تھیں اور وہ انسپکٹر جمشید کو بری طرح گھور رہا تھا۔

    ”ہاں! میں بھوتوں سے تمہارا سوٹ کیس لے کر رہوں گا۔“

    ”یہ پاگل پن ہو گا۔“ واصف بولا۔

    ”جو بھی سمجھو۔ کیا تم نے یوسف خان کو ایک ماہ کا کرایہ ادا کر دیا تھا؟“

    ”ہاں! تین ہزار روپے۔“

    ”بس ٹھیک ہے۔ اب اسی کرائے میں وہاں میں رہوں گا۔“

    ”لیکن میں تمہیں ایسا نہیں کرنے دوں گا۔ تم نہیں جانتے۔ وہاں رات کے وقت کتنے خوف ناک واقعات پیش آتے ہیں۔“

    ”تو تم بتا دو۔“

    ”افسوس! میں جب بھی بتانے کا ارادہ کرتا ہوں مجھ پر کپکپی طاری ہو جاتی ہے۔ زبان لڑکھڑانے لگتی ہے اور محسوس ہونے لگتا ہے جیسے میں ابھی بے ہوش ہو جاﺅں گا۔“

    ”بس تو پھر۔ میں خود ہی جا کر معلوم کر لوں گا۔“

    ”ابا جان! کیا آپ وہاں تنہا رہیں گے؟“ محمود نے پوچھا۔

    ”ہاں بیٹا!“

    ”تو کیا آپ ہمیں یہیں چھوڑ جائیں گے؟“ فرزانہ بولی۔

    ”بالکل!“

    ”یہ کیسے ہو سکتا ہے ابا جان۔“ فاروق بولا۔

    ”کیوں؟ کیوں نہیں سکتا؟“

    ”ہم بھی آپ کے ساتھ جائیں گے۔“ فاروق نے فیصلہ کن انداز میں کہا۔

    ”نہیں! تم تینوں وہاں ڈرو گے۔“

    ”کیا ہم آپ کے ساتھ گئے نہیں تھے؟“

    ”دن کی بات اور ہے۔ رات کو وہاں زیادہ خوف ناک چیزیں نظر آئیں گی۔“

    ”آپ کے ہوتے ہوئے ہمیں بالکل ڈر نہیں لگتا۔“

    ”لیکن صبح تو تم تینوں کا ڈر کے مارے دم نکلا جا رہا تھا۔“ انسپکٹر جمشید مسکرائے۔

    ”وہ تو ہم بھوتوں کا دل رکھنے کے لئے ایکٹنگ کر رہے تھے۔“

    ”جی ہاں! کیا آپ کا خیال ہے ہم ڈر رہے تھے۔“

    ”نہیں! میں تمہیں اپنے ساتھ نہیں لے جاﺅں گا۔ تم واصف چچا کے ساتھ اس کمرے میں رہو گے۔“

    ”آپ کا وہاں تنہا جانا کسی طرح بھی مناسب نہیں۔“ اس مرتبہ بیگم جمشید بولیں۔

    ”تو کیا میں آپ کو ساتھ لے جاﺅں؟“ انسپکٹر جمشید نے مذاق اڑانے کے انداز میں کہا۔

    ”ہاں! ہم چاروں ہی آپ کے ساتھ چلیں گے۔“

    ”ویری گڈ! یہ ہوئی بات۔“ محمود خوشی سے چلایا۔

    ”امی جان زندہ باد۔“ فاروق نے نعرہ لگایا۔

    ”ہم سب….“ فرزانہ بولی۔

    ”ساتھ جائیں گے۔“ محمود اور فاروق نے جملہ پورا کیا۔

    ”اچھا بھئی! تم جیتے اور میں…. میں بھی جیتا۔ میں ابھی جا کر یوسف خان سے بات کرتا ہوں۔“

    ٭….٭….٭

    ”مسٹر یوسف! میں تمہارے ہوٹل سے جا رہا ہوں۔“ انسپکٹر جمشید نے کاﺅنٹر پر آکر کہا۔

    ”اس کمرے کی ہم سے زیادہ واصف کو ضرورت ہے۔ اس کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہے۔“

    ”لیکن ڈاکٹر نے تو بتایا تھا کہ وہ اب ٹھیک ہے۔“

    ”ہاں! پہلے سے تو بہتر ہے لیکن ظاہر ہے کہ کہ اب وہ آپ کے آسیب زدہ مکان میں تو جائیں گے نہیں۔“

    ”ہاں! یہ بات تو ہے۔“

    ”اسی لئے ہم نے یہاں سے جانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔“

    ”مجھے بے حد افسوس ہے۔ مگر آپ جائیں گے کہاں؟“

    ”آسیب زدہ مکان میں۔“ انسپکٹر جمشید نے مسکراتے ہوئے پرسکون آواز میں کہا۔

    ”کیا؟“ ہوٹل کا مالک اس قدر زور سے چلایا کہ ہال میں بیٹھے ہوئے تمام لوگ چونک کر اسے دیکھنے لگے۔

    ”یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟“

    ”میں بیوی بچوں سمیت وہاں جا رہا ہوں۔ آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں؟“

    ”اعتراض؟ کوئی ایسا ویسا اعتراض؟ میں ہرگز آپ کو وہاں نہیں جانے دوں گا۔ غضب خدا کا۔ آپ وہاں بیوی بچوں سمیت جائیں گے۔ توبہ! ایسی بات کبھی سوچی نہ سنی۔ نہ جانے آپ کس مٹی کے بنے ہوئے ہیں۔“

    ”تم جانتے ہی ہو کہ میرے تینوں بچے صبح بھی میرے ساتھ وہاں گئے تھے۔“

    ”تو کیا بچے بھی آپ کے ساتھ اندر گئے تھے؟“ یوسف خان نے حیران ہو کر پوچھا۔

    ”ہاں!“

    ”خیر دن کی بات اور ہے لیکن آپ اور آپ کے بیوی بچے رات کو وہاں ایک پل نہیں ٹھہر سکتے۔“

    ”لیکن میں نے عہد کر لیا ہے کہ اپنے دوست کا سوٹ کیس واپس لے کر رہوں گا۔“

    ”آپ کے دماغ میں ضرور کوئی خلل ہے۔“

    ”جو جی میں آئے سمجھو۔ ہاں میں تو اسی وقت وہاں جا رہا ہوں۔ میرے دوست والا کرایہ ہی کافی ہو گا یا نئے سرے سے کرایہ ادا کرنا ہو گا؟“ انسپکٹر جمشید نے پوچھا۔

    ”آپ کو تین ہزار روپے دینے ہوں گے۔“ یوسف خان نے کہا۔

    ”اور جو میرے دوست نے کل تین ہزار روپے جمع کرائے تھے؟“

    ”تو آپ کے دوست کو کس نے منع کیا ہے۔ جاکر رہ لے ایک ماہ تک وہاں۔“

    ”بہت اچھا! یہ لو، رسید کاٹ دو۔“ انسپکٹر جمشید نے جیب سے بٹوہ نکالتے ہوئے کہا۔

    ”رسید! ہاں رسید لے لیں۔“

    یوسف خان نے روپے گن کر رسید کاٹ دی۔ عین اسی وقت سب انسپکٹر شیر محمد اندر دخل ہوا۔

    ٭….٭….٭

    ”آئیے آئیے انسپکٹر صاحب! تشریف لائیے۔ بہت دنوں بعد تشریف آوری ہوئی ہے۔“

    ”ہاں۔ کہاں ہیں وہ مسٹر واصف۔ جنہوں نے کل آسیب زدہ مکان میں قیام کیا تھا اور جن کا سوٹ کیس وہاں رہ گیا تھا۔“ اس نے آتے ہی کہا۔

    ”وہ اوپر کمرے میں ہیں۔“

    ”میں پوچھتا ہوں آخر تم لوگ اس مکان کو کرائے پر دیتے ہی کیوں ہو۔ تمہیں کتنی مرتبہ منع کیا ہے۔“

    ”لوگ زبردستی کرتے ہیں۔“

    ”آج کے بعد کسی کو وہ مکان کرائے پر نہ دینا۔“

    ”میں کیا کروں، لوگ مانتے ہی نہیں۔ وہ ہر بات کی ذمے داری اپنے اوپر لیتے ہیں۔“

    ”اور اب مجھے جو آنا پڑا ہے۔“

    ”یہ مسٹر واصف کی وجہ سے تو نہیں آنا پڑا۔ ان کے دوست سرور بیگ کی وجہ سے آپ کو تکلیف ہوئی۔“ یوسف خان نے انسپکٹر جمشید کی طرف اشارہ کیا۔

    ”انہیں بھی دیکھ لوں گا۔ ذرا پہلے ان سے مل لوں اور ہاں! میں نے کہہ دیا نا آئندہ وہ مکان کسی کو کرائے پر نہ دینا۔“

    ”مسٹر سرور بیگ چند منٹ پہلے اسے کرائے پر لے چکے ہیں۔“

    ”کیا؟“ شیر محمد حلق پھاڑ کر چلایا۔

    ”جی ہاں!“

    ”مسٹر سرور بیگ! آپ کا دماغ درست ہے!“

    ”جی ہاں! بالکل درست ہے۔ دراصل مجھے اپنے دوست کا سوٹ کیس بھوتوں سے حاصل کرنا ہے۔“

    ”کر چکے حاصل…. اپنا بھی سامان گنواﺅ گے اور خود کو بھی مصیبت میں ڈالو گے۔“

    ”کیا؟“ ایک بار پھر وہ پوری قوت سے چلایا۔

    ”جی ہاں۔ یہ بھی ٹھیک ہے۔“

    ”تب آپ کا دماغ واقعی خراب ہو گیا ہے۔“

    ”شکریہ!“

    ”یوسف خان۔ اپنے ان چاروں ملازموں کو بلاﺅ جو مسٹر واصف کو کل لائے تھے۔“

    ”جی اچھا!“

    ”چند منٹ بعد چاروں ملازم وہاں کھڑے تھے۔“

    ”تم مسٹر واصف کو کہاں سے اٹھا کر لائے تھے؟“ شیرخان نے پوچھا۔

    ”مکان کے باہر سے۔“ ان میں سے ایک بولا۔

    ”تمہیں کیسے معلوم ہوا تھا کہ وہ مکان کے باہر پڑا ہے۔“

    اچانک انسپکٹر جمشید نے سوال کیا اور شیرخان انہیں گھورنے لگا۔

    ”ہمیں خان صاحب نے بھیجا تھا۔“ ایک ملازم نے یوسف خان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا۔

    ”اور آپ کو کیسے معلوم ہوا تھا۔“ انسپکٹر جمشید نے پوچھا۔

    ”مجھے۔ مجھے تو معلوم ہوتا ہی ہے جب بھی کوئی کرایہ دار وہاں قیام کرتا ہے، اگلی صبح اسے وہاں سے اٹھوا کر لانا ہی پڑتا ہے۔“

    ”ہوں۔ تم لوگ مکان کے اندر بھی داخل ہوئے تھے۔“ انسپکٹر جمشید نے پوچھا۔

    ”جی۔ مکان کے اندر۔“ اس سوال سے ہی وہ سہم گئے۔

    ”ایک بات بتائیں گے مسٹر سرور بیگ۔“ شیرخان نے غصے سے کہا۔

    ”جی فرمائیے۔“ انسپکٹر جمشید مسکرائے۔

    ”انسپکٹر میں ہوں یاآپ؟“

    ”جی۔ آپ ہیں۔“

    ”اور سوال ان لوگوں سے آپ کر رہے ہیں۔“

    ”اگر آپ کو بُرا لگا ہے تو میں معافی چاہتا ہوں۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”تم جا سکتے ہو۔“ شیرخان نے گردن اکڑ کر کہا۔ چاروں ملازم چلے گئے۔

    اس کے بعد شیرخان انسپکٹر جمشید کے ساتھ واصف کے پاس آیا اور پوچھا:

    ”کیوں مسٹر واصف۔ کیا آپ سوٹ کیس تلاش کروانا چاہتے ہیں؟“

    ”جی۔ جی۔ جی ہاں!“ واصف نے انسپکٹر جمشید کی طرف دیکھ کر کہا۔

    ”تو پھر بتائیے۔ آپ کو کس پر شک ہے؟“

    ”شک؟ جی شک تو کسی پر بھی نہیں۔“

    ”آپ کو مسٹر سروربیگ پر تو شک نہیں۔“

    ”جی سرور بیگ پر؟ آپ کا دماغ تو ٹھیک ہے۔ یہ میرے بچپن کے دوست ہیں۔“

    انسپکٹر جمشید نے بروقت اشارہ کر دیا تھا کہ یہ میرا فرضی نام ہے۔

    ”ہوں! دیکھئے مسٹر واصف۔ جب تک آپ کسی پر شک کا اظہار نہیں کریں گے، سوٹ کیس کو تلاش کرنا مشکل ہی ہے۔ پھر بھی ہم کوشش کریں گے۔“

    یہ کہہ کر وہ کمرے سے نکل گیا۔

    ”اب چلنے کی تیاری کرو۔ میں شام سے پہلے ہی وہاں پہنچ جانا چاہتا ہوں۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”کیا یوسف خان مان گیا؟“ واصف نے پوچھا۔

    ”ہاں مان گیا ہے، لیکن تین ہزار روپے کرایہ لے کر۔“

    ”کیا مطلب۔ کیا میرا کرایہ ختم ہو گیا ہے؟“ واصف نے حیران ہو کر پوچھا۔

    ”اس کا کہنا ہے، تم بڑے شوق سے مکان میں رہ سکتے ہو۔ اسے کوئی اعتراض نہیں۔ کیا تم مکان میں چل کر رہ سکتے ہو؟“

    ”ہرگز نہیں۔ قیامت تک نہیں۔“

    ”بس تو پھر تمہارا کرایہ ختم ہو گیا اورآج سے ہمارا کرایہ شروع ہو رہا ہے۔“ انسپکٹر جمشید نے مسکرا کر کہا۔

    ”کمال ہے۔“ واصف نے حیران ہو کر کہا۔

    ”اچھا اب اٹھ چلو۔“

    انہوں نے اپنے کپڑے وغیرہ سوٹ کیس میں رکھے اور نیچے اتر کر آئے۔ یوسف خان انہیں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہا تھا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ کوئی شخص بیوی بچوں سمیت اس مکان میں رہنے کے لئے جا رہا تھا۔ ہال میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو بھی یہ بات معلوم ہو چکی تھی۔ وہ بھی انہیں پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ آخر یوسف خان سے نہ رہا گیا۔

    ”مسٹر سرور بیگ! میں ایک بار پھر آپ کو سمجھاتا ہوں اپنے ارادے سے باز آجائیں۔ اپنے اوپر نہیں تو ان معصوم بچوں پر رحم کریں۔“

    ”میں نے انہیں منع کیا تھا لیکن یہ بھی میرے ساتھ جانے پر بضد ہیں۔“

    ”خدا آپ پر رحم کرے۔“

    ”امید ہے کہ صبح آپ چارآدمیوں اور ایک چارپائی کے بجائے بیس آدمی اور پانچ چارپائیاں روانہ کریں گے۔“ انسپکٹر جمشید مسکرائے۔ اس پر وہ سب بے تحاشا ہنسے۔

    ”اُف خدا! میں نے آپ سے زیادہ عجیب آدمی آج تک نہیں دیکھا۔“

    وہ سب کو حیران و پریشان چھوڑ کر ہوٹل سے نکل آئے۔

    ٭….٭….٭

    بھوت کا جوتا

    ایک بار پھر وہ آسیب زدہ مکان کے سامنے پہنچ گئے۔ انسپکٹر جمشید نے جیب سے چابی نکالی، تالا کھولا اور دروازے کے پٹ کھول دیئے۔

    ”بیگم! میں تمہاری طرف سے فکرمند ہوں۔“ وہ بولے۔

    ”کیوں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ مجھے اندر ڈر لگے گا؟“

    ”ہاں!“

    ”آپ کے ہوتے ہوئے ڈرنے کی کیا ضرورت ہے۔ آپ چلئے اندر۔ لیکن میں حیران ہوں۔ کیا آپ صرف واصف کے سوٹ کیس کے لئے یہاں آئے ہیں؟“ بیگم جمشید نے پوچھا۔

    ”ایک مقصد یہ بھی ہے۔“ انہوں نے جواب دیا۔

    ”اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی اور مقصد بھی ہے۔“ فرزانہ بولی۔

    ”ہاں! میں دیکھنا چاہتا ہوں اس مکان میں ہو کیا رہا ہے۔“

    ”کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بھوتوں والی بات غلط ہے؟“

    ”خدا جانے کیا معاملہ ہے۔ یہی تو بات دیکھنے آیا ہوں کہ آخر یہ بھوت چاہتے کیا ہیں؟“

    ”خدا کی پناہ! تو کیا آپ بھوتوں سے یہ بات معلوم کریں گے؟“

    ”شاید! ان سے براہِ راست بات ہی ہو جائے۔“

    ”اب اندر بھی چلیں گے یا دروازے پر ہی کھڑے رہیں گے؟“

    ”میں اندر جانے سے پہلے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اپنے ہوش و حواس قائم رکھنا۔“

    ”آپ بے فکر رہیں۔ جو ہو گا دیکھا جائے گا۔“

    وہ اندر داخل ہوئے۔ اس مرتبہ مکان کا بیرونی دروازہ ان کے اندر جانے کے بعد خودبخود بند نہیں ہوا۔ نہ ہی کوئی طویل قہقہہ سنائی دیا۔

    ”معلوم ہوتا ہے بھوت اس وقت سو رہے ہیں۔“ فاروق نے کہا۔

    ”یا پھر گھومنے پھرنے چلے گئے ہوں گے۔“ محمود نے خیال ظاہر کیا۔

    ”دونوں باتیں غلط ہیں۔ دراصل بھوت یہیں موجود ہیں لیکن وہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ ہم اتنی جلدی دوبارہ بھی آسکتے ہیں، کیوں کہ آج تک یہاں کوئی واپس آیا ہی نہیں ہو گا۔“

    ”یہاں تو کچھ بھی نہیں ہے۔ پھر یہ لوگ اس قدر کیوں خوف زدہ ہیں۔ صبح جب آپ آئے تھے تو کیا کچھ خوف ناک چیزیں دکھائی دی تھیں۔“

    ”ہاں کچھ ہوا تو تھا۔ لیکن اس وقت وہ شاید تم سے شرما رہے ہیں۔“ انسپکٹر جمشید کو بھی مذاق کی سوجھی۔

    ”لیجئے! اب مجھے بھی گھسیٹنے لگے۔ میرے کیا رشتے دار ہیں بھوت۔“

    وہ پہلے کمرے میں پہنچ گئے۔ یہ وہی کمرہ تھا جس کی الماری میں سے چمگاڈریں نکلی تھیں۔ اس میں دو پلنگ موجود تھے۔

    ”ہمیں دوسرے کمرے میں سے دوچارپائیاں اس کمرے میں لے آنی چاہئیں۔ کیوں کہ ہم رات کو ایک ہی کمرے میں سوئیں گے۔“ انسپکٹر جمشید نے کہا۔

    ”بشرطیکہ بھوتوں نے سونے دیا۔“ فرزانہ بولی۔

    ”چلو محمود فاروق۔ دوچارپائیاں لے آئیں۔“

    ”ابا جان! صرف ایک چارپائی سے کام چل جائے گا۔“ محمود نے کہا۔

    ”وہ کیسے؟“

    ”ایک پر آپ ایک پر، امی اور فرزانہ اور تیسری پر ہم دونوں۔ اس طرح ہمیں ڈر کا احساس بھی نہیں ہو گا۔“ محمود نے بتایا۔

    ”چلو یونہی سہی۔ تو آﺅ میرے ساتھ۔ یا پھر تم یہیں ٹھہرو۔ میں خود ہی اٹھا لاتا ہوں۔“

    ”جی نہیں! ہم اٹھالائیں گے۔ آپ ہمارے ساتھ چلیں۔“

    دوسرے کمرے میں پہنچ کر انسپکٹر جمشید نے دھیمی آواز میں کہا:

    ”دن میں یہاں ہم نے جو کچھ سنا اور دیکھا تھا۔ اس کا ذکر اپنی امی سے نہ کرنا۔ خاص طور پر اس ڈھانچے کا ذکر نہ آنے پائے۔“

    ”جی بہتر!“

    وہ چارپائی اٹھا کر لے آئے۔

    ”اب ہم کیا کریں۔ ظاہر ہے کہ بیکار تو بیٹھا نہیں جائے گا۔“ بیگم جمشید نے کہا۔

    ”کیوں نہ اس مکان کو ایک نظر دیکھ لیا جائے۔“

    ”بات تو ٹھیک ہے۔ آپ تینوں تو صبح دیکھ چکے ہیں۔“

    ”اب ہم بھی دیکھ لیں۔“

    ”ہاں۔ ہاں ضرور!“

    وہ سب اٹھ کھڑے ہوئے۔ انسپکٹر جمشید انہیں دوسرے کمرے میں لائے۔ اس کمرے میں ان کی ملاقات سیاہ بلی سے ہوئی تھی۔ اس کی لاش ابھی تک جوں کی توں پڑی تھی۔

    ”اوہ! اسے تو ہم بھول ہی گئے۔ اسے اٹھا کر باہر پھینک دینا چاہیے۔“ انسپکٹر جمشید اسے دیکھ کر چونکے۔

    ”یہ کیسے مری؟“ بیگم جمشید نے پوچھا۔

    ”یہ مری نہیں۔ ماری گئی۔“ محمود نے بتایا۔ پھر بلی کے متعلق تفصیل سے بتانے لگا۔ اس دوران انسپکٹر جمشید نے بلی کو دم سے پکڑ کر کھڑکی کی سلاخوں میں سے باہر پھینک دیا۔ پھر وہ اس کمرے سے نکل کر تیسرے کمرے میں آئے۔ یہاں بھی اس وقت کوئی عجیب بات محسوس نہیں ہوئی۔ اس کے بعد وہ ڈرائنگ روم کی طرف بڑھے ہی تھے کہ انسپکٹر جمشید بول اٹھے:

    ”اس کمرے کا دروازہ نہیں کھلتا۔ ہم صبح کوشش کر چکے ہیں۔“

    ”تو اوپر چلئے۔“

    ”اوپر کی منزل بھی مقفل ہے۔ زینے پر تالا لگا ہے۔“

    ”اس کا مطلب ہے ہمیں صرف ان تین کمروں میں ہی رہنا ہو گا۔“ بیگم جمشید بولیں۔

    ”ہمیں کون سا یہاں مستقل طور پر رہنا ہے۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”کیوں؟ کیا چھٹیاں یہاں نہیں گزاریں گے؟“

    ”ہو سکتا ہے یہیں گزاریں۔ یہ سب حالات پر منحصر ہے۔“

    ”ہوں! یہ بھی ٹھیک ہے۔ لیکن اس مکان میں تو کوئی بھی عجیب بات نظر نہیں آئی۔ پھر آخر لوگ کیوں اس سے ڈرتے ہیں۔“

    ”تمہیں اس بات کا جواب رات کو مل جائے گا۔“ انسپکٹر جمشید نے کہا۔

    ”کیوں؟ رات کو کیا ہو گا؟“

    ”بھوتوں کا کھیل دراصل رات ہی کو شروع ہوتا ہے۔“

    ”اوہ!“ بیگم جمشید کے منہ سے نکلا۔

    ”گھبرانے کی ضرورت نہیں۔“

    ”نہیں! میں گھبرا نہیں رہی ہوں۔“

    ”ابا جان ذرا اس الماری کو تو کھول کر دیکھیں۔“ محمود نے کہا۔

    ”نہیں! ہمیں ضرورت ہی کیا ہے اسے کھولنے کی۔“

    ”کیوں؟ اس الماری میں کیا بات ہے۔“ بیگم جمشید نے پوچھا۔

    ”کچھ نہیں! صبح ہم نے اسے کھولا تھا تو اس میں سے چمگاڈریں نکل پڑی تھیں۔“ انسپکٹر جمشید نے کہا۔

    ”اوہ! تب تو اسے نہ ہی کھولیں۔ ورنہ اس کمرے میں نہیں ٹھہرا جائے گا۔“

    ”ہاں! بالکل۔“

    یہ مکان ہوٹل آبگینہ اور دوسری آبادی سے ایک میل کے فاصلے پر بالکل الگ تھلگ بنا ہوا تھا۔ گویا اس وقت وہ اس مکان میں بالکل تنہا تھے۔ آس پاس کوئی اور انسان موجود نہیں تھا۔ کوئی اور ہوتا تو شاید بیوی بچوں سمیت آنے کی جرا¿ت نہ کرتا۔ لیکن یہ انسپکٹر جمشید تھے۔ اپنے وقت کے دلیر ترین آدمی۔ صبح کے وقت اگرچہ بہت خوف ناک واقعات دیکھنے میں آئے تھے پھر بھی وہ اس وقت یہاں بیوی بچوں سمیت موجود تھے اور اس وقت شام کے سائے لمبے ہوتے جا رہے تھے۔ یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا اور تاریکی گہری ہونے لگی۔

    ”تمام بلب روشن کر دو۔ اس مکان میں جتنے بھی بلب نظر آئیں سب کو روشن کر دو۔“ انسپکٹر جمشید نے محمود اور فاروق سے کہا اور ان کے ساتھ خود بھی اٹھ کھڑے ہوئے۔ فرزانہ نے اس وقت بچوں کا ایک ناول شروع کر دیا تھا اور بیگم جمشید ایک موٹا سا ناول پڑھنے لگی تھیں۔

    ”تینوں کمرے کا بلب جلا کر باہر نکل گئے۔ سب سے پہلے انہوں نے برآمدے کا بلب روشن کیا۔ پھر باقی مانندہ دونوں کمروں کے بلب بھی روشن کر دیے۔

    ”ابا جان! ڈرائنگ روم کا بلب بھی روشن کریں؟“ محمود نے پوچھا۔

    ”ہاں! وہ تو کرنا ہی پڑے گا۔“

    ”اگر امی نے پوچھ لیا کہ اس کمرے کا دروازہ کیسے کھل گیا تو؟“

    ”بھئی! کہہ دوں گا کہ بھوتوں نے کھولا ہو گا۔ اول تو ہم انہیں اس کمرے سے ہی نکلنے نہیں دیں گے۔“

    ”ہوں! یہ بھی ٹھیک رہے گا۔“

    انسپکٹر جمشید نے ڈرائنگ روم کا دروازہ کھول دیا۔ ڈھانچہ اسی طرح لٹک رہا تھا اور اندھیرے میں بھی چمک رہا تھا۔ انہوں نے کمرے کا بلب روشن کر دیا۔

    جونہی وہ کمرے سے باہر نکل کر برآمدے کی طرف آئے بیرونی دروازہ خودبخود زوردار آواز کے ساتھ بند ہو گیا۔

    ٭….٭….٭

    ”لو بھئی! بھوتوں کا پروگرام شرو ع ہو گیا۔“ انسپکٹر جمشید نے دروازے کو گھورتے ہوئے کہا۔

    ”چلئے! کمرے میں چلیں۔“ محمود بولا۔

    ”ہاں چلو۔“

    وہ اپنے کمرے میں آئے اور اس کا دروازہ اندر سے بند کر لیا۔ اس کے بعد انہوں نے ڈبوں میں بند کچھ خشک چیزیں کھائیں اور پڑھنے کے لئے ناول رسالے نکالے اور چارپائیوں پر لیٹ کر پڑھنے لگے۔ پڑھتے پڑھتے ان سب کو نہ جانے کس وقت نیند آگئی۔ وہ تو اس وقت جاگے جب وہ خوفناک اور طویل قہقہہ کمرے میں گونجنا شروع ہوا۔ وہ بڑبڑا کر اٹھے اور یہ دیکھ کر چونک اٹھے کہ انسپکٹر جمشید اپنے بستر میں نہیں تھے اور کمرے کی چٹخنی گری ہوئی تھی۔

    ”ارے! یہ ابا جان کہاں چلے گئے۔“ فرزانہ نے بدحواس ہو کر کہا۔

    ”خداجانے۔“ بیگم جمشید بولیں۔

    ”آﺅ! باہر دیکھتے ہیں۔“

    چاروں کمرے سے باہر نکل آئے۔ قہقہہ ابھی تک جاری تھا اور اس کی گونج دیواروں سے ٹکرا کر بھیانک سماں پیدا کر رہی تھی۔

    ”تت۔ توبہ ہے! یہ قہقہہ تو کسی طرح رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔“ بیگم جمشید کپکپا اٹھیں۔

    ”بھوت کا قہقہہ ہے، اس کی جسامت کے لحاظ سے ہی طویل ہو گا۔“ فرزانہ بولی۔

    ”چلو! اس دوسرے کمرے میں دیکھتے ہیں۔“ جونہی وہ دوسرے کمرے کے سامنے پہنچے، قہقہہ رک گیا۔

    وہ دوسرے کمرے کا دروازہ کھولتے ہوئے اندر داخل ہوئے۔ عین اسی وقت ایک سیاہ بلی نے محمود پر چھلانگ لگائی۔ وہ بری طرح اچھلا اور اس کا خوف زدہ ہو کر اچھلنا ہی اسے بچا گیا، ورنہ بلی سیدھی اس کی طرف آئی تھی۔

    ”ارے! اسے تو ابا جان نے مار دیا تھا۔“ فاروق کے منہ سے نکلا۔

    ”یہ دوسری ہو گی۔“ محمود نے کہا اور پھر اچھل کر ایک طرف ہو گیا۔

    بلی کے حملوں میں تیزی آتی جا رہی تھی اور بڑھ بڑھ کر حملے کر رہی تھی۔ بیگم جمشید اور فرزانہ اسے حیرت سے دیکھ رہی تھیں۔ انہوں نے اپنی زندگی میں ایسی بلی نہیں دیکھی تھی جو انسانوں پر حملہ کرے۔ پھر انہوں نے دیکھا کہ محمود کی اچھل کود کی رفتار سست پڑتی جا رہی ہے۔

    ”فاروق، فرزانہ آگے بڑھو اور اس بلی کو فٹبال سمجھ لو۔“بیگم جمشید چلائیں۔

    پھر کمرے میں فٹ بال کا ایک میچ شروع ہو گیا۔ وہ اچھل کر ایک طرف ہوتے اور بلی کے ایک ٹھوکر رسید کر دیتے۔ تینوں تین طرف سے حملہ کر رہے تھے اور بلی اب ان پر غراغرا کر جھپٹ رہی تھی۔ اچانک فاروق کی ایک زبردست ٹھوکر اس کے سر پر لگی۔ ہوا یہ کہ وہ سیدھی فاروق کی طرف جھپٹی تھی، فاروق نے اِدھر اُدھر ہونے کے بجائے وہیں کھڑے رہ کر پاﺅں کی ٹھوکر اسے ماری جو اس کے سر پر لگی۔ اس کے حلق سے ایک دلدوز چیخ نکلی اور وہ دوسری طرف الٹ گئی اور اس کے بعد نہ اٹھ سکی۔

    ”بے ہوش ہو گئی۔“ فاروق نے ہانپتے ہوئے کہا۔

    ”عجیب بلی تھی یہ۔ صبح والی بلی نے اسی طرح حملہ کیا تھا؟“ بیگم جمشید نے پوچھا۔

    ”ہاں! اسے ابا جان نے پستول سے مارا تھا۔“

    ”کمال ہے۔ تمہارے ابا جان تو یہاں بھی نہیں ہیں۔ آﺅ تیسرے کمرے میں چلیں۔“

    ”چلئے!“

    تیسرے کمرے کا دروازہ کھلا تو نقاروں کی دھمک شروع ہو گئی۔

    ”ارے یہ نقارے کہاں بج رہے ہیں۔“ بیگم جمشید کی آواز سے خوف ٹپک رہا تھا۔

    ”اسی مکان میں بج رہے ہیں۔ صبح بھی بجے تھے۔“

    ”بالکل ایسا لگتا ہے جیسے کوئی ہمارے سروں پر بجا رہا ہے۔“ فرزانہ بولی۔

    ”میرے تو رونگٹے کھڑے ہو گئے ہیں۔ اُف! توبہ کتنی پراسرار آواز ہے۔“

    ”اور میری ٹانگیں کانپنے لگی ہیں۔“ فرزانہ نے سچے لہجے میں کہا۔ وہ واقعی ڈر رہی تھی۔

    ”چلو! خدا کے لئے یہاں سے نکل چلو۔ میں یہ دھمک برداشت نہیں کر سکتی۔“ بیگم جمشید کا رنگ اڑا جا رہا تھا۔

    چاروں اس کمرے سے بھی نکل آئے۔ ان کے نکلتے ہی دھمک بند ہو گئی۔ اب برآمدے کے دوسری طرف ڈرائنگ روم رہ گیا تھا۔

    ”اسے بھی دیکھ لینا چاہیے۔“ فرزانہ نے کہا۔

    ”نہیں! یہ تو بند ہے۔“ محمود نے کہا۔

    ”ہو سکتا ہے کہ اس وقت یہ کھلا ہو۔“ بیگم جمشید نے کہا۔

    ”ہاں بھوتوں نے کھول لیا ہو گا۔“ فرزانہ بول اٹھی۔

    ”تمہارے حلق سے بھی آواز نکلنے لگی۔ ابھی کمرے میں تو جان نکل رہی تھی۔“

    ”اُف! اس کمرے کا ذکر نہ کرو۔ مجھے وہ دھمک پھر یاد آگئی ہے اور ساتھ ہی میرے کانوں میں پھر سے گونجنے لگی ہے۔ کیا تم بھی اس کی گونج سن رہے ہو۔“ بیگم جمشید نے گھبرا کر کہا۔

    ”نہیں! ہمیں تو کچھ سنائی نہیں دے رہا ہے۔“

    ”جلدی سے اس کمرے کو بھی دیکھ ڈالو۔ خداجانے وہ کہاں چلے گئے ہیں۔“

    ”جب اس کمرے کا دروازہ ہی بند ہے تو دیکھیں کیسے؟“

    ”میں دیکھتی ہوں۔ دروازہ بند ہے یا کھلا۔“ یہ کہہ کر فرزانہ دروازے کی طرف بڑھی۔

    محمود نے چاہا کہ آگے بڑھ کر اسے روک لے مگر وہ اس سے زیادہ پھرتیلی ثابت ہوئی۔ وہ اس سے پہلے دروازے پر پہنچ گئی اور ایک جھٹکے سے دروازہ کھول دیا۔ اتنی دیر میں بیگم جمشید بھی دروازے کے سامنے پہنچ چکی تھی۔ دوسرے ہی لمحے ان کے منہ سے طویل چیخیں نکلنے لگی۔ دونوں چیخے جا رہی تھیں۔ محمود اور فاروق دوڑ کر ان سے لپٹ گئے اور انہیں تسلی دینے لگے۔

    ”امی! ہوش میں آئیے۔“ محمود چلایا۔

    ”فرزانہ! فرزانہ!“ فاروق نے محمود کو تھپکی دی۔

    کمرے کے بیچوں بیچ انسانی ڈھانچہ موٹے سے رسے سے بندھا لٹک رہا تھا۔ اچانک ایک بار پھر وہی طویل قہقہہ مکان میں گونجنے لگا۔ اس مرتبہ قہقہہ پہلے سے کئی زیادہ بلند آواز میں تھا اور مکان کی ہر دیوار سے آتا محسوس ہو رہا تھا۔

    اس پر قہقہے کے ساتھ ہی وہ دھمک شروع ہو گئی۔ دھمک کے ساتھ ہزاروں کتوں اور بلیوں کے رونے کی تیز آوازیں شروع ہو گئیں۔ انہیں یوں لگا جیسے ان کے کانوں کے پردے پھٹ جائیں گے۔

    اس وقت تو محمود اور فاروق بھی خوف زدہ ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ چاروں انسانی ڈھانچے کے سامنے کھڑے تھرتھر کانپ رہے تھے۔

    ”بھوت۔ بھوت…. رو رہے ہیں۔“ فاروق نے ہمت کر کے کہا۔ شاید وہ بول کر ان کی ہمت بڑھانا چاہتا تھا لیکن خود اس کا برا حال تھا۔ اس سے جملہ بھی بہت مشکل سے نکلا۔

    ”شش۔ شاید…. کک…. کوئی بھوت…. مر گیا ہے۔“ محمود بولا۔

    ”ارے یہاں سے بھاگ چلو۔“ بیگم جمشید کے منہ سے آواز نکلی۔

    ”لیکن اباجان۔“ فرزانہ نے بلند آواز میں کہا۔

    ”خدا جانے وہ اس مکان میں بھی ہیں یا نہیں۔“ بیگم جمشید نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے چاروں طرف دیکھا۔

    ”پھر بھی امی جان ہم ان کے بغیر اس مکان سے کیسے جا سکتے ہیں۔ نہیں ہم انہیں یہاں چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔“

    ”ارے بے وقوفو میں اس مکان سے بھاگنے کے لئے کب کہہ رہی ہوں میں تو اس کمرے کے پاس سے بھاگنے کے لئے کہہ رہی ہوں۔“ انہوں نے چلا کر کہا کیوں کہ خوف ناک قہقہہ، پراسرار دھمک اور کتوں بلیوں کی آوازوں کی وجہ سے کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔

    وہ گرتے پڑتے اپنے کمرے میں داخل ہوئے۔ یک لخت وہ ایک ساتھ پوری قوت سے چلائے۔

    ان کی آنکھیں کمرے کے درمیان فرش پر پڑی وہ ایک چیز کو پھٹے پھٹے انداز میں دیکھ رہی تھیں۔

    کمرے کے بیچوں بیچ ایک دو اڑھائی فٹ لمبا جوتا پڑا تھا۔

    ٭….٭….٭

    خون ٹپکتا ہے!

    ”بھ۔ بھوت کا جوتا!“ فاروق کے منہ سے ڈری ڈری آواز میں نکلا۔

    ”لل۔ لیکن۔ دوسرا۔ جج…. جوتا۔“ محمود ہکلایا۔

    ”بھوت ایک ٹانگ کا ہو گا۔“ فاروق نے جلدی سے کہا۔

    ”اسے اٹھا کر باہر پھینک دو۔“ بیگم جمشید بولیں۔

    ”اور اگر بھوتوں نے ہم پر امانت میں خیانت کا الزام لگایا تو؟“ فاروق بولا۔

    ”بڑی زبان چل رہی ہے تمہاری۔“ فرزانہ نے اسے گھورا کیوں کہ وہ زیادہ ہی ڈر گئی تھی۔

    ”چل کہاں رہی ہے چلا رہا ہوں۔ تم کیا جانو کہ اسے چلانے کے لئے کتنا زور لگانا پڑ رہا ہے۔“

    ”میں کہتی….ہوں اسے اٹھا کر برآمدے میں پھینک دو۔“

    ”جی اچھا….!“

    محمود ڈرتا ڈرتا آگے بڑھا۔ اس نے جوتا اٹھانے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوا۔

     ”ارے! یہ تو بہت وزنی ہے۔ فاروق ادھر آﺅ۔ مل کر اٹھاتے ہیں۔“

    ”نہ بابا! میں اسے ہاتھ نہیں لگاﺅں گا۔ کہیں بھوت ناراض نہ ہو جائے۔“

    ”چلو ادھر۔“ محمود نے سخت لہجے میں کہا۔

    فاروق اس کے قریب گیا۔ دونوں نے مشکل سے جوتا اٹھایا اور کمرے سے باہر پھینک دیا۔ اس کے گرتے ہی ایک بار پھر ہزاروں آوازیں گونجنے لگیں۔ ان میں سب سے بلند وہ قہقہہ تھا۔ دھمک بھی رونگٹے کھڑے کئے دے رہی تھی اور اس پر بلیوں اور کتوں کی آوازوں نے تو جیسے آسمان سر پر اٹھا لیا تھا۔

    ”دیکھا! میں نے کہا تھا نا کہ بھوت ناراض ہو جائے گا۔“ فاروق بولا۔

    ”تو جاﺅ۔ اٹھا لاﺅ اسے برآمدے سے اور رکھ لو یہاں کمرے میں۔“ فرزانہ نے جل کر کہا۔

    ”تم کیوں مرچیں چبا رہی ہو۔“

    ”کہاں! نہیں تو۔“ فرزانہ نے اسے منہ کھول کر دکھا دیا جس پر اس خوف ناک ماحول میں بھی انہیں ہنسی آگئی۔

    بے خیالی میں فرزانہ نے کھڑکی کے پٹ کھول دیے۔ بس پھر کیا تھا، ان سب آوازوں کے ساتھ کھڑکی سے نکلنے والی چمگاڈروں کی آوازیں بھی شروع ہو گئیں۔ پھڑپھڑاتی ہوئی چمگاڈریں ان کے سروں پر چکر لگانے لگیں۔ اب ان کے لئے کمرے میں ٹھہرنا محال تھا۔ بوکھلاہٹ اور بدحواسی کے عالم میں وہ ایک بار پھر کمرے سے نکل کر برآمدے میں آئے۔ یہاں بھوت کا جوتا کہیں بھی نظر نہیں آیا۔

    ”ارے! وہ جوتا کہاں گیا؟“

    ”بھوت لے گیا ہو گا۔“

    گھبراہٹ میں وہ دوڑتے ہوئے دروازے کی طرف آگئے۔ بیگم جمشید نے دروازہ کے ہینڈل کو پکڑ کر اسے کھولنا چاہا لیکن دروازہ نہ کھلا۔

    ”ارے! یہ تو باہر سے بند ہے۔“ ان کے منہ سے نکلا۔

    ”تو کیا بھوت ہمیں مکان میں بند کر کے چلے گئے۔“ فرزانہ نے کہا۔

    ”چلے کہاں گئے ہیں خود بھی اندر ہی موجود ہیں۔ یہ غل غپاڑہ بھوت نہیں تو اور کون مچا رہا ہے۔“ فاروق بولا۔

    ”اب ہم کہاں جائیں۔ جائیں تو کس کمرے میں جائیں۔ جہاں جاتے ہیں، نئی مصیبت سامنے آتی ہے۔“ بیگم جمشید نے کہا۔

    ”ابا جان بھی خدا جانے کہاں چلے گئے ہمیں اس خوفناک مکان میں تنہا چھوڑ کر۔“ فرزانہ نے کہا۔

    ”آئیے! ہم اپنے کمرے میں چلیں۔“

    ”لیکن…. وہ چمگاڈریں۔“

    ”میرا خیال ہے کہ وہ الماری میں واپس چلی گئی ہوں گی۔“ محمود نے کہا۔

    ”کیا مطلب؟ کیا وہ اسی الماری میں رہتی ہیں۔“

    ”جی ہاں۔“

    ”توچلو! وہیں چلو۔“

    وہ پھر کمرے میں آئے۔ محمود نے دروازہ بند کر دیا۔ اسی وقت آوازیں بند ہو گئیں اور مکمل سناٹا چھا گیا۔

    ”چٹخنی نہ لگانا۔ نہ جانے ابا جان کس وقت آجائیں۔“ فاروق نے کہا۔

    ”اچھا!“

    وہ چارپائی پر بیٹھ کر بری طرح ہانپنے لگے۔ اب کمرے میں کوئی چمگاڈر چکر نہیں لگا رہی تھی۔ اچانک فرزانہ کی نظر دروازے کے ہینڈل پر پڑی اور اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ ان سے خوف جھانکنے لگا۔ ساتھ ہی منہ سے ایک ہلکی سی چیخ نکل گئی۔

    ”کیا بات ہے…. فرزانہ کیا ہوا؟“ بیگم جمشید نے چونک کر پوچھا۔

    ”جی۔ وہ۔ وہ۔ جی وہ۔“ اس کے منہ سے نکلا۔

    ”یہ وہ وہ کا کیا مطلب؟“ فاروق بولا۔

    ”در۔ در۔ دروازے پر۔“

    تینوں نے چونک کر دروازے کو دیکھا۔ دروازے کے ہینڈل اور چٹخنی سے چار پانچ چمگاڈریں چپکی ہوئی تھیں۔ بیگم جمشید بول اٹھیں:

    ”ارے! یہ یہاں کیسے آگئیں۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے تو دروازے سے کوئی چمگاڈر نہیں چپکی ہوئی تھی۔“

    محمود نے کمرے میں چاروں طرف دیکھا اور پھر اس کے بدن میں سنسنی دوڑ گئی۔

    ”اُف میرے خدا! یہ تو سینکڑوں کی تعداد میں ہیں۔“

    ”کیا۔ کیا کہہ رہے ہو تم۔“ بیگم جمشید نے پوچھا۔

    ”وہ دیکھیے! کھڑکی اور دروازے کے پردوں پر۔ یہ سیاہ رنگ کے پھول نہیں ہیں، تمام کی تمام چمگاڈریں ہیں۔“

    پردوں پر دیکھتے ہی ان کی سٹی گم ہو گئی۔

    ”خدا کے لئے اس منحوس کمرے سے نکل چلو۔ دیکھو تو سہی یہ سب چمگاڈریں ہمیں کیسے گھور رہی ہیں۔“

    ”لیکن دروازہ کیسے کھولیں۔ ہینڈل پر بھی تو چمگاڈریں موجود ہیں۔“

    ”ٹھہرو میں اپنی قمیص سے اتارتا ہوں۔“ فاروق نے کہا۔

    ”خبردار! قمیص نہ اتارنا۔ یہ میری چادر لے لو۔“ بیگم جمشید نے اپنی چادر اسے دے دی۔

    جونہی فاروق نے ہینڈل پر بیٹھی چمگاڈروں کو چادر کے ذریعے اڑانا چاہا، کمرے میں موجود تمام چمگاڈریں ایک خوفناک آواز کے ساتھ پھڑپھڑاتی ہوئی پردوں سے اٹھیں اور کمرے میں چکر لگانے لگیں۔ یہ منظر اس قدر خوف ناک تھا کہ اس کی چیخیں نکل گئیں۔ لیکن دوسرا لمحہ ان کے ہوش اڑانے کے لئے کافی تھا۔ چمگاڈریں بہت نیچے آگئی تھیں اور اب ان چاروں پر جھپٹ رہی تھیں۔ وہ ہاتھ پاﺅں مارنے لگے۔ فاروق زور زور سے چادر ہلانے لگا۔

    ”بھاگو! اس کمرے سے نکلنے کی کوشش کرو۔ یہ تو آدم خور چمگاڈریں معلوم ہوتی ہیں۔“ فاروق چلایا اور چادر گھماتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھنے لگا۔ اسی وقت ایک چمگاڈر نے طیش میں آکر اس کی ننگی کلائی پر جھپٹا مارا اور فاروق کے منہ سے ایک تیز چیخ نکل گئی۔ اس چمگاڈر کے دانت اس کے بازو میں گڑ گئے گئے تھے۔ اس نے پوری قوت سے بازو کو جھٹکا۔ چمگاڈر دیوار سے ٹکرائی۔ اسی وقت فاروق نے دروازے کے دونوں پٹ کھول دیئے اور وہ بے تحاشہ بھاگتے ہوئے برآمد میں آگئے۔ چمگاڈروں نے ان کا پیچھا نہیں کیا۔

    ”اُف خدا! یہ کیا مصیبت ہے۔ یہ گھر تو سچ مچ بھوت گھر معلوم ہوتا ہے۔ ضرور اس جگہ بھوت رہتے ہیں۔“ بیگم جمشید نے کہا۔

    ”اب ہم کہاں جائیں۔ کس کمرے میں جائیں۔“ فرزانہ بولی۔

    ”حوصلہ رکھیں! گھبرائیں نہیں۔“ فاروق نے اپنی کلائی پر رومال باندھتے ہوئے کہا۔ اس جگہ خون بہنے لگا تھا۔

    اسی وقت ایک نئی مصیبت شروع ہوئی۔ اس مرتبہ گونجنے والی آوازیں پہلی تمام آوازوں سے اونچی تھیں۔ انہیں یوں لگا جیسے بہت سے آدمی آپس میں زورو شور سے لڑ پڑے ہوں۔ کرسیاں گرنے، برتنوں کے ٹوٹنے، فرنیچر کے دھڑادھڑ چلنے کی ملی جلی بے شمار آوازیں ان کے کانوں میں دھمک پیدا کرنے لگیں۔ انہیں اپنے قریب کرسیوں اور میزوں کے گرنے اور برتنوں کے ٹوٹنے کی آوازیں آرہی تھیں۔

    ”یہ سب کیا ہے؟“ بیگم جمشید کا چہرہ سفید ہو رہا تھا۔

    ”خخ۔ خدا جانے۔“ فرزانہ لرزنے لگی۔

    ”مم۔ میرا۔ خیال ہے۔ بھبھوت۔ کُشتی لڑ رہے ہیں۔“ محمود بولا۔

    ”نن۔ نہیں! کُشتی لڑنے میں اتنی آوازیں نہیں پیدا ہوا کرتیں۔“ فاروق بولا۔

    ”تو پھر۔ تمہارے خیال میں یہ کیا ہو رہا ہے۔“ محمود نے اپنی امی اور فرزانہ کا دھیان بٹانے کے لئے کہا۔

    ”مم۔ میرا خیال ہے۔ بھوت کبڈی کھیل رہے ہیں۔“

    ”تت۔ تم ٹھیک کہتے ہو۔“

    اچانک ان کی نظر دروازے پر پڑی۔ وہ چونک اٹھے۔ دروازے کے دونوں پٹ کھلے ہوئے تھے۔ وہ بغیر سوچے سمجھے دروازے کی طرف دوڑے۔ جونہی وہ دروازے کی طرف بڑھے دروازہ خود بخود بند ہو گیا اور ساتھ ہی بھوتوں کی کبڈی بھی۔ 

    ٭….٭….٭

    ان کے اٹھتے قدم رک گئے۔

    ”کبڈی کا میچ ختم ہو گیا۔“ فاروق بولا۔

    ”اور ساتھ ہی دروازہ بند ہو گیا۔“ محمود نے کہا۔

    ”یا اللہ! ہم کس مصیبت میں پھنس گئے۔ آخر تمہارے ابا جان کہاں چلے گئے۔“

    ”مجھے خود بھی حیرت ہے۔ وہ تو اس کمرے میں ہی لیٹ کر کوئی رسالہ پڑھ رہے تھے پھر شاید ہم سو گئے تھے۔“

    ”ہاں! اور وہ کچھ بتائے بغیر نہ جانے کہاں چلے گئے۔“

    ”اب ہم کیا کریں۔ کہاں جائیں۔ کیا ساری رات برآمدے میں ہی کھڑے رہیں گے۔“

    ”ٹھہریئے! میں کمرے میں جھانک کر دیکھتا ہوں۔ شاید چمگاڈریں الماری میں چلی گئی ہوں۔“ محمود نے کہا اور کمرے کے دروازے کی طرف چلا۔

    ”دروازہ تھوڑا سا کھول کر دیکھنا۔“ فاروق نے خوف زدہ لہجے میں کہا۔

    ”اچھا!“

    ”امی مجھے ایک اور خیال سوجھا ہے۔“ فاروق اچانک بولا۔

    ”اور وہ کیا بیٹا؟“

    ”کیوںنہ اوپر والی منزل کو دیکھا جائے۔“

    ”لیکن زینے پر تو تالا نہ لگا ہو۔“

    ”ہو سکتا ہے اس وقت تالا نہ لگا ہو۔“

    ”یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ تالا خود بخود کیسے کھل سکتا ہے۔“

    ”مم۔ میرا مطلب ہے۔ شاید بھوت اوپر والی منزل پر رہتے ہوں اور انہوں نے کھول ڈالا ہو۔“

    ”تو چلو۔“

    ”اوپر جانا ٹھیک نہیں۔“ فرزانہ نے کہا۔

    ”کیوں؟“

    ”تالا ضرور کسی نہ کسی وجہ سے لگایا گیا ہے۔ کیا معلوم اوپر کیا حالات پیش آئیں۔“

    ”تمہیں ڈر لگ رہا ہے تو یہیں رہو یا کمرے میں جا کر چمگاڈروں کو کچھ نصیحت وغیرہ کرو۔“ فاروق بولا۔

    ”میں ڈرپوک نہیں ہوں لیکن ان حالات میں، جب کہ ابا جان ابھی ساتھ نہیں ہیں، ادھر کا رخ کرنا ٹھیک نہیں۔“

    ”رہنے دو بڑی بی اپنی باتیں۔ آنا ہے تو آﺅ ہم چلتے ہیں۔“

    ”میرا خیال ہے فرزانہ ٹھیک ہی کہہ رہی ہے۔“ بیگم جمشید نے کہا۔

    ”آپ تو ہمیشہ اسی کی بات کو ٹھیک سمجھتی ہیں۔“

    ”اچھا چلو آﺅ فرزانہ۔“

    چاروں زینے کی طرف چل پڑے۔ اس وقت پورے مکان پر گہرا سناٹا طاری تھا۔ ان کے دل دھک دھک کر رہے تھے اور اس سناٹے میں دھک دھک کی آواز وہ صاف سن رہے تھے۔

    ”معلوم ہوتا ہے بھوت حضرات کو نیند آگئی۔“

    ”ہاں! تبھی تو اتنی خاموشی ہے۔“

    ”ارے! وہ دیکھو۔ دروازہ پھر کھل گیا۔“ فرزانہ کی نظر دروازے پر پڑی تو چلا اٹھی۔

    انہوں نے بھی دیکھا۔ واقعی دروازہ کھلا ہوا تھا۔

    ”جونہی ہم اس کے پاس جائیں گے بھوتوں کی آنکھ کھل جائے گی اور پھر وہ قیامت خیر قہقہہ شروع ہو جائے گا۔“

    ”کھلا رہنے دو دروازہ۔ ہمیں یہاں سے جانا ہی نہیں ہے تو اس کے کھلنے یا بند ہونے سے کیا غرض۔“

    ”ہاں ٹھیک ہے۔ ابا جان کے بغیر ہم نہیں جا سکتے۔ خدا جانے وہ کہاں ہیں؟“

    ”شاید اسی مکان میں کسی جگہ ہوں گے۔“ فرزانہ نے کہا۔

    ”ہاں۔ میرا بھی یہی خیال ہے۔“ فاروق نے فرزانہ کی تائید کی۔

    ”لیکن اس مکان کی نچلی منزل میں چار کمروں اور ایک برآمدے کے سوا ہے ہی کیا۔“ بیگم جمشید بولیں۔

    ”وہ زینے کے پاس پہنچے ہی تھے کہ اچانک قیامت کا شور مکان میں ابھرا۔ ایک بار پھر وہی قہقہہ گونجنے لگا۔ اس کے ساتھ ہی دھمک شروع ہو گئی۔ بلیاں اور کتے رونے لگے اور پھر فرنیچر اور برتن گرنے اور ٹوٹنے کی آوازیں شروع ہو گئیں۔ انہیں اپنے دماغوں میں دھمک محسوس ہونے لگی۔ انہیں یوں لگا جیسے کوئی ان کے اندر بیٹھا یہ سارا شور مچا رہا ہو۔ ان کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ اچانک بیگم جمشید چیخ اٹھیں۔ ان کی خوف زدہ آنکھیں سیڑھیوں پر لگی ہوئی تھیں۔ تینوں نے بھی اس طرف دیکھا اور پھر تھرتھر کانپنے لگے۔ زینے پر تالا جوں کا توں لگا تھا لیکن اس وقت اس سے خون ٹپک ٹپک کر زینے کو سیراب کر رہا تھا۔

    ٭….٭….٭


    پردے اُٹھتے ہیں

    ”خون!“ فاروق چلایا۔

    ”اُف خدا! یہ خون اس تالے میں سے ٹپک رہا ہے۔“ فرزانہ کی لرزتی ہوئی آواز آئی۔

    ”خونی تالا۔“ فاروق کے منہ سے نکلا۔

    ”یہ تمہارے ابا جان ہمیں کس مصیبت میں چھوڑ گئے ہیں۔ آخر ہم کب تک ان حالات میں اپنے ہوش و حواس قائم رکھیں گے۔“

    ”حوصلہ رکھئے امی۔“

    خون بہتا ہوا سب سے نچلی سیڑھی تک پہنچ چکا تھا۔ عین اسی وقت پورے مکان میں گہری تاریکی چھا گئی۔ تمام بلب بجھ گئے تھے۔

    ”ارے! یہ بجلی کو کیا ہوا؟“ بیگم جمشید کے منہ سے نکلا۔

    ”بھوتوں سے ڈر گئی۔“ فاروق گھگھیایا۔

    ”امی جان! دیوار سے لگ کر کھڑی ہو جائیں۔“

    وہ دیوار سے لگ کر کھڑے ہو گئے۔ دیوار سے لگتے ہی انہوں نے محسوس کیا کہ وہ تمام آوازیں اس دیوار میں سے آرہی ہیں۔

    ”ارے! یہ آوازیں تو اس دیوار میں سے آرہی ہیں۔“ بیگم جمشید بولیں۔

    ”بھوتوں کے لئے دیواروں میں گھسنا کیا مشکل ہے۔“

    ”ہمیں ڈرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔“ محمود نے جواب دیا۔

    اسی لمحے مکان جگمگا اٹھا۔ تمام بلب روشن ہو گئے تھے اور ساتھ ہی شور تھم گیا۔

    ”کیوں نہ ہم کھلے دروازے کے پاس جا کر کھڑے ہو جائیں۔ کچھ تازہ ہوا ہی محسوس ہو گی۔یہاں تو دم گھٹتا جا رہا ہے۔“ بیگم جمشید نے تجویز پیش کی۔

    ”ہاں۔ اس خون آلود تالے کو ہاتھ لگانے کی تو ہم جرا¿ت بھی نہیں کرسکتے۔“

    ”سیڑھیاں بھی تو خون سے بھر گئی ہیں۔“

    وہ دروازے کے پاس پہنچے۔ دروازہ اس وقت بھی کھلا تھا۔

    ”کیوں نہ ہم اس مکان سے باہر نکل جائیں۔“ فرزانہ نے کہا۔

    ”اور ابا جان!“ فاروق بولا۔

    ”انہوں نے ہمیں کب کہا تھا کہ مکان سے کسی حالت میں بھی باہر نہ نکلنا۔“ بیگم جمشید نے کہا۔

    ”پھر بھی! ابا جان کیا سوچیں گے۔“ محمود بولا۔

    ”شاید وہ خوش ہوں گے کہ ہم خطرے سے بچنے کے لئے مکان سے باہر چلے گئے تھے۔“

    ”میں تو ہرگز نہیں جاﺅں گا۔“

    اچانک زوردار آواز کے ساتھ دروازہ بند ہو گیا۔

    ”لیجئے! باہر جانے اور نہ جانے کا سوال ہی ختم ہو گیا۔“

    دفعتاً انہیں زینے کے پاس عجیب و غریب سی آوازیں سنائی دیں۔ یہ اس وقت تک سنائی دینے والی آوازوں سے بالکل مختلف تھیں۔ وہ زینے کے نزدیک پہنچے تو انہوں نے صاف محسوس کیا، اوپری منزل پر کوئی بھاری بھرکم قدموں کے ساتھ چل رہا تھا۔

    ”بھوت چہل قدمی کر رہا ہے۔“ فاروق بولا۔

    ”تو کیا اس مکان میں صرف ایک بھوت ہی رہتا ہے؟“

    ”نہیں اور بھی ہوں گے لیکن اس وقت ڈیوٹی پر یہی ہو گا۔ باقی سو رہے ہوں گے یا سیر کرنے نکل گئے ہوں گے۔“ فاروق نے جواب دیا۔

    ”رات کے وقت سیر!“ محمود نے حیران ہو کر کہا۔

    ”بھوت رات کو نہیں تو کیا دن کو سیر کریں گے۔“ فاروق جل کر بولا۔

    قدموں کی آواز اب زینے کے بالکل پاس آگئی تھی۔ ان کی نگاہیں تالے پر جم گئیں۔ اب اس سے خون نہیں ٹپک رہا تھا۔ زینے پر بھی اب خون نہیں تھا۔

    ”ارے۔ وہ۔ خون کہاں گیا۔“ فرزانہ کے منہ سے نکلا۔

    ”بھوتوں کا خون ہو گا، غائب ہو گیا۔“

    اسی وقت زینے کا تالا خود بخود کھل کر زمین پر گر گیا اور زینے کا دروازہ چوپٹ کھل گیا۔

    ”لو بھئی! کھل گیا زینہ!“ فاروق بولا۔

    ”پھر ایک ایسی چیز نظر آئی جس نے انہیں لرزا دیا۔ ان کی ٹانگیں تھرتھر کانپنے لگیں۔ زینے پر سر سے لے کر پاﺅں تک سفید کپڑے میں لپٹا ایک بھوت کھڑا تھا۔ اس کے ہاتھ آگے کی طرف اٹھے ہوئے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ سیڑھیاں اترنے لگا۔ ان کے دل دھک دھک کرنے لگے اور منہ سے ڈری ڈری چیخیں نکلنے لگیں۔ وہ الٹے قدموں دروازے کی طرف چلنے لگے۔ ان کے رنگ اڑ گئے تھے۔ منہ حیرت اور خوف سے کھلے کے کھلے رہ گئے تھے اور پھٹی پھٹی آنکھوں سے بھوت کو دیکھتے وہ پیچھے ہٹ رہے تھے۔ یہاں تک کہ بھوت آخری سیڑھی تک پہنچ گیا اور پھر فرش پر اتر آیا۔ اب درمیانی فاصلہ چند قدموں سے زیادہ نہیں تھا۔ اس وقت مکان میں مکمل خاموشی چھا گئی تھی۔

    بھوت کے قدم آہستہ آہستہ اٹھ رہے تھے۔ اسی کی مناسبت سے ان کے قدم اٹھ رہے تھے۔ دہشت کا ایک عالم ان پر چھا گیا تھا۔ اسی طرح وہ دروازے کے پاس پہنچ گئے۔ فاروق نے جرا¿ت سے کام لیا۔ اچانک مڑا اور دروازے کا ہینڈل پکڑ کر کھینچا۔

    دوسرا لمحہ حیرت زدہ کر دینے کے لئے کافی تھا۔ دروازے کے دونوں پٹ کھل گئے۔ وہ بے تحاشہ مڑے اور چاہتے تھے کہ بھاگتے ہوئے دروازے سے نکل جائیں کہ اچانک ٹھٹھک کر رک گئے۔

    دروازے پر تین آدمی کھڑے تھے۔

    ٭….٭….٭

    جس طرح وہ چاروں تین آدمیوں کو دیکھ کر چونکے تھے، اسی طرح بھوت بھی ضرور چونکا ہو گا۔ کیوں کہ ان کو دیکھ کر اس کے قدم رک گئے تھے۔ یوں لگتا تھا جیسے اس کے قدم زمین میں گڑ گئے ہوں۔

    چاروں نے ان تینوں کو دیکھا اور حیران ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ تینوں مسکرا رہے تھے لیکن ان کی مسکراہٹیں خوف ناک نہ تھیں۔ وہ حیران حیران کبھی ان تینوں کو دیکھ رہے تھے اور کبھی بھوت کو جواب بھی اسی طرح گم صم کھڑا تھا۔ پھر اچانک جیسے اسے ہوش آگیا۔ اس کا ہاتھ اپنے سفید لبادے میں رینگ گیا۔ دوسرے ہی لمحے اس کے سفید کپڑے میں لپٹے ہوئے ہاتھ میں پستول نظر آیا۔

    ”ارے! یہ کیا۔ کیا آج کل بھوت بھی پستول چلانا جانتے ہیں۔“ فاروق نے حیرت کا اظہار کیا۔

    ”ہاں! یہ ماڈرن بھوت ہے نا۔ اس لئے۔“ تین آدمیوں میں سے ایک نے کہا۔

    ”اور آپ لوگ کون ہیں؟ ہمیں تو آپ تینوں بھی بھوت سے کسی طرح کم دکھائی نہیں دیتے۔“ محمود نے کہا۔

    تینوں اس کی بات پر مسکرائے۔

    ”خبردار! کوئی اپنی جگہ سے حرکت نہ کرے۔“ بھوت نے بلند آواز میں کہا۔

    ”لو بھئی! یہ بھوت تو آدمیوں کی طرح بولنے لگا۔“ فاروق بولا۔

    ”خاموش رہو۔“ بھوت نے اسے ڈانٹ دیا۔

    ”جی بہت بہتر بھوت صاحب۔“ فاروق نے سہم کر کہا۔

    ”اپنے ہاتھ اوپر اٹھا دو۔“ بھوت گرجا۔

    ”اس کی ضرورت نہیں بھوت صاحب۔“ پیچھے سے آواز آئی۔

    سب چونک کر مڑے! انسپکٹر جمشید بھوت کے پیچھے کھڑے مسکرا رہے تھے۔

    ”خبردار! تم بھی اپنی جگہ سے حرکت نہ کرنا۔“ بھوت نے گھبرا کر کہا۔

    ”میں نے کہا نا۔ اس کی ضرورت نہیں۔ تمہارا پستول بالکل خالی ہے۔“

    ”یہ کیا بکواس ہے؟“ بھوت بولا۔

    ”اگر تمہیں یقین نہیں تو چلا کر دیکھ لو۔“

    ”بھوت نے ٹرائیگر دبا کر دیکھا لیکن کوئی فائر نہ ہوا۔ اس نے پستول انسپکٹر جمشید پر پھینک مارا لیکن انہوں نے جھک کر اپنے آپ کو بچا لیا۔ یہ دیکھ کر بھوت نے ان پر چھلانگ لگائی۔ وہ ایک طرف ہٹ گئے۔ بھوت اپنے ہی زور میں آگے نکل گیا لیکن پھر پلٹا اور اس مرتبہ آندھی کی طرح ان پر آیا۔ انہوں نے ایک زوردار مکا اس کی پیشانی پر رسید کیا۔ مکا کھا کر وہ دوسری طرف الٹ گیا۔ اس کے ساتھ ہی ایک ٹھوکر اس کے پیٹ میں بھی لگی اور وہ بے دم ہو کر ہانپنے لگا۔

    ”کھیل ختم ہو گیا۔“ انسپکٹر جمشید نے ہاتھ جھاڑتے ہوئے کہا۔

    ”لیکن ہمارے پلے تو کچھ نہیں پڑا۔“ ان تینوں میں سے ایک نے کہا۔

    ”ابھی سمجھ میں آجائے گا۔ پہلے میں اپنے آدمیوں کو اندر بلا لوں۔“ یہ کہہ کر وہ دروازے پر آئے اور منہ سے سیٹی کی آواز نکالی۔ فوراً ہی سب انسپکٹر اکرام اندر داخل ہوا۔ وہ سادہ لباس میں تھا۔ اس کے ساتھ چار کانسٹیبل بھی تھے۔

    ”شیرخان کہاں ہے؟“ انسپکٹر جمشید نے پوچھا۔

    ”جی وہ بھی یہیں ہے۔ لیکن اسے مکان میں داخل ہوتے ڈر لگ رہا ہے۔ انسپکٹر صاحب آجائیں۔“

    شیرخان ڈرتا ڈرتا اندر داخل ہوا اور انسپکٹر جمشید کو دیکھتے ہی بولا:

    ”ارے! آپ تو وہی ہیں جو صبح مسٹرواصف کے سوٹ کیس کی چوری کی رپورٹ درج کرانے آئے تھے۔ کیا نام بتایا تھا آپ نے؟ ہاں یاد آیا۔ سرور بیگ! تو سرور بیگ صاحب کیا چکر ہے؟ آپ رات کو اس وقت یہاں کیا کھیل کھیل رہے ہیں؟“

    ”پہلے آپ بتائیے۔ آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟“ انسپکٹر جمشید نے مسکرا کر پوچھا۔

    ”مجھے سپرنٹنڈنٹ پولیس کا حکم نامہ ملا تھا کہ اپنے ساتھ رات کے وقت چار آدمیوں کو لے کر یہاں پہنچ جاﺅں، سو میں پہنچ گیا۔ ہدایت یہ تھی کہ جو شخص رقعہ لے کر آئے اس کی ہدایت پر عمل کرنا اور یہ صاحب میرے پاس رقعہ لے کر آئے تھے۔ شیرخان نے اکرم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

    انہوں نے مجھے مکان کے باہر روکے رکھا ورنہ میں تو کبھی کا مکان میں داخل ہو جاتا۔ یہ دیکھنے کے لئے کہ اندر ہو کیا رہا ہے لیکن آپ لوگ کون ہیں اور یہاں کیا کر رہے ہیں؟“

    سب ان کی باتوں پر مسکرا دیئے۔ اکرم کا تو ہنسی کے مارے برا حال تھا کیوں کہ شیرخان مکان کے باہر کھڑا بری طرح کانپتا رہا تھا۔

    ”ابھی بتاتا ہوں۔ پہلے تو آپ اسے ہتھکڑی پہنا دیں۔“ انسپکٹر جمشیدنے مسکراتے ہوئے کہا۔ بے ہوش بھوت پر نظر پڑتے ہی شیرخان کی گھگھی بندھ گئی۔

    ”یہ۔ یہ۔ ارے۔ یہ کون ہے؟ کیا کوئی مردہ ہے؟“ وہ ہکلایا۔

    ”جی نہیں! یہ مردہ نہیں ہے زندہ ہے اور اس مکان کا بھوت ہے۔“

    ”کیا کہا؟ بھبھوت۔“

    ”جی ہاں! اسے ہتھکڑی پہنا دیں۔“

    ”بھبھوت کو؟“

    ”ہاں! جلدی کریں۔“

    ”پہلے یہ بتائیں آپ ہیں کون؟“

    ”کیا تمہیں اپنے سپرنٹنڈنٹ کی ہدایت یاد نہیں؟“اکرام نے سخت لہجے میں کہا۔

    ”اوہ! جی ہاں۔ لیجئے۔“

    اس نے بھوت کے ہاتھوں میں ہتھکڑی ڈال دی۔ وہ ابھی بے ہوش تھا۔

    ”اب آپ لوگ اندر تشریف لے آئیں۔“

    وہ سب اندر چلے آئے۔ کانسٹیبل بھوت کو اٹھا لائے۔

    انسپکٹر جمشید نے کمرے کا دروازہ کھولا۔ اب یہاں کوئی چمگاڈر نہیں تھی۔ وہ کرسیوں اور چارپائیوں پر بیٹھ گئے۔

    ”ہاں! اب فرمائیے۔ یہ سب کیا معاملہ ہے؟“

    ”پہلے میں ایک دوسرے کا تعارف کروا دوں۔ یہ میرے بیوی بچے ہیں۔“ انہوں نے کہا۔

    ”اور آپ تینوں باقرگنج کے اعلیٰ حکام ہیں۔ یہاں کا پورا نظم و نسق انہی کے حوالے ہے۔ یہ شخص، جو سادہ لباس میں موجود ہے شہر سے آیا ہے اور ایک پولیس آفیسر ہے۔“ انہوں نے اکرام کی طرف اشارہ کر کے کہا۔

    ”اور شیر خان کو تو آپ جانتے ہی ہیں، باقر گنج کے تھانے دار ہیں۔“ یہ سن کر شیرخان نے اپنی بڑی بڑی مونچھوں پر ہاتھ پھیرا۔

    ”اور آپ کون ہیں؟ آپ نے اپنا نام نہیں بتایا؟“ ایک آفیسر نے پوچھا۔

    ”ذرا ایک منٹ ٹھہریئے، پہلے میں یہ بتا دوں کہ آپ تینوں میری ہی درخواست پر یہاں آئے ہیں۔“

    ”کیا مطلب؟ کیا وہ خط آپ نے ہمیں بھیجا تھا؟“

    ”جی ہاں!“

    ”لیکن…. اس میں تو لکھا تھا….“

    ”میں وہی سب کچھ بتانا چاہتا ہوں۔ آئیے پہلے آپ کو مکان کی تھوڑی سی سیر کرا دوں۔“

    وہ سب کمرے سے نکل آئے۔ کانسٹیبل بھوت کے ساتھ اندر ہی رہ گئے۔ انسپکٹر جمشید بتانے لگے:

    ”یہ بات تو آپ لوگ جانتے ہی ہیں کہ یہ مکان آج سے دس سال پہلے آسیب زدہ نہیں تھا۔“

    ”جی ہاں۔ اس مکان کا مالک یہاں کا سب سے دولت مند آدمی تھا اور وہی اس مکان میں رہا کرتا تھا۔“ یہ ان میں سے ایک آفیسر نے کہا۔

    ”بالکل ٹھیک۔ کیا آپ یہ بھی بتا سکتے ہیں کہ سیٹھ کریم خان اب کہاں ہے؟“ انسپکٹر جمشید نے پوچھا۔

    ”وہ آج سے دس سال پہلے غائب ہو گیا تھا۔ آج تک اس کا پتا نہیں چلا۔“

    ”آبگینہ ہوٹل بھی اسی کا تھا؟“

    ”ہاں۔ موجودہ مالک یوسف خان اس کا چھوٹا بھائی ہے۔“

    ٹھیک ہے! میں آپ کو سیٹھ کریم سے ملائے دیتا ہوں۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”کیا؟ سیٹھ کریم۔“ ان سب نے حیرت سے کہا۔

    ”جی ہاں! آئیے۔“

    ”کیا وہ زندہ ہے؟“

    ”آپ آئیے تو سہی۔“ انسپکٹر جمشید ڈرائنگ روم کے دروازے کے پاس پہنچ چکے تھے۔ پھر انہوں نے دروازہ کھول دیا۔ انسانی ڈھانچہ رسی سے لٹک رہا تھا۔

    ان سب کے منہ سے بھیانک چیخیں نکلنے لگیں۔ سب بری طرح کانپ رہے تھے سوائے انسپکٹر جمشید اور ان کے بیوی بچوں کے۔ شیرخان کا حال سب سے برا تھا۔

    ”یہ سیٹھ کریم خان ہے۔“ انہوں نے پرسکون آواز میں کہا۔

    ”کیا؟“ وہ حلق پھاڑ کر چلائے۔

    ”ہاں! اور آپ سب لوگ یہیں ٹھہریں۔ میں ابھی واپس آجاتا ہوں۔“ یہ کہہ کر انسپکٹر جمشید زینے کی سیڑھیاں چڑھنے لگے۔ پھر وہ ان کی نظروں سے اوجھل ہو گئے۔

    دو منٹ بھی نہ گزرے ہوں گے ایک خوف ناک اور طویل قہقہے نے ان کے ہوش اڑا دیئے۔ قہقہہ سیٹھ کریم خان کے پنجر کے منہ سے نکل رہا تھا۔

    ”ارے باپ رے۔“ شیرخان زمین پر گر کر کانپنے لگا۔ اچانک نقاروں کی دھمک اور کتوں اور بلیوں کا شور بھی قہقہے کے ساتھ شامل ہو گیا۔ ان سب کا حال بہت برا تھا۔ وہ بری طرح کانپ رہے تھے۔ پھر شور بند ہو گیا۔ اس کے بعد اس کا ڈھانچہ نیچے آنے لگا ساتھ ہی انسپکٹر جمشید کی آواز آئی۔

    ”میں اسے نیچے اتار رہا ہوں۔ گھبرائیے نہیں۔“

    پھر ڈھانچے کے پاﺅں زمین سے لگے اور آہستہ آہستہ وہ زمین پر لیٹ گیا۔ اس کے بعد رسا بھی نیچے آرہا۔ جلد ہی انسپکٹر جمشید ان کے پاس پہنچ گئے۔

    ”اب آپ اس ڈھانچے کے قریب آئیں۔ ڈریئے نہیں۔ اسے مرے ہوئے تو دس سال ہو چکے ہیں۔“

    وہ قریب آگئے۔

    ”اس کے منہ کے اندر دیکھئے۔“

    انہوں نے دیکھا۔ ڈھانچے کے منہ میں ایک چھوٹا سا لاﺅڈ اسپیکر فٹ تھا۔

    ”ارے! یہ تو لاﺅڈ اسپیکر ہے۔“

    ”جی ہاں! اوپر والی منزل پر آپ کو ٹیپ ریکارڈر بھی ملے گا۔ یہ قہقہہ نقاروں کی آواز، کتوں، بلیوں کا شور اور فرنیچر اور برتن ٹوٹنے کی آوازیں سب کی سب ٹیپ کی ہوئی ہیں۔ جب ریکارڈر چلایا جاتا ہے تو ترتیب وار سب آوازیں اس ڈھانچے کے منہ سے نکلنے لگتی ہیں۔ نہ صرف اس ڈھانچے کے منہ سے بلکہ اس پورے مکان میں چھوٹے چھوٹے اسپیکرز فٹ کئے گئے ہیں۔ روشن دانوں میں، دیواروں کے اندر بھی۔ اس طرح آوازیں مکان کے گوشے گوشے سے آتی معلوم ہوتی ہیں۔“

    ”تو یہ ہے وہ آسیب۔ اور وہ بھوت کون ہے؟“

    ”وہ ابھی معلوم ہوا جاتا ہے پہلے تفصیل سن لیں۔ آج سے دس سال پہلے سیٹھ کریم کو اس مکان میں سوچے سمجھے منصوبے کے تحت قتل کر دیا گیا۔ قتل کرنے والوں نے اپنے جرم سے بچنے کے لئے انوکھی تجویز سوچی۔ انہوں نے سوچا کہ کیوں نہ اس مکان کو آسیب زدہ بنا دیا جائے۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے جگہ جگہ لاﺅڈ اسپیکر فٹ کئے اور ٹیپ ریکارڈر رکھا۔ مکان میں چمگاڈریں جمع کیں….“

    ”وہ کیسے؟“ فاروق نے پوچھا۔

    ”باقر گنج کے جنگل میں اس قسم کی چمگاڈروں کی کثرت ہے۔ یہ گوشت کھانے کی بہت شوقین ہوتی ہیں۔ قاتل نے سیٹھ کریم کا گوشت ان کے آگے ڈال دیا اور مکان تک ڈالتا چلا آیا۔ یہاں تک کہ چمگاڈریں مکان تک پہنچ گئیں پھر وہ مردہ کریم خان سے چمٹ گئیں اور چند دنوں کے اندر اندر اس کے جسم کا سارا گوشت چٹ کر گئیں۔ اس کے بعد قاتل نے ان چمگاڈروں کو مستقل طور پر رکھنے کے لئے ایک کمرے تک گوشت کی لائن بچھا دی۔ چمگاڈریں گوشت کھاتی ہوئی کمرے تک پہنچ گئیں۔ گوشت کا سلسلہ ایک الماری تک چلا گیا تھا۔ اس دن کے بعد سے تمام چمگاڈریں الماری میں رہنے لگیں۔ کیوں کہ قاتل ہر روز انہیں گوشت الماری میں ہی پہنچا دیا کرتا تھا۔“

    ”یہ گوشت وہ کہاں سے لاتا تھا؟“

    ”بازار سے۔ گائے بھینس کا گوشت۔“

    ”بہت خوب۔ آگے چلئے۔“

    ”لاﺅڈ اسپیکرز مکان میں فٹ کر دیئے گئے۔ اس ڈھانچے کے منہ میں بھی ایک فٹ کیا گیا۔ سب تیاریاں مکمل کر کے بعد میں انہوں نے مکان کو آسیب زدہ ثابت کرنے کے لئے ریکارڈر بجانے شروع کر دیئے۔ راتوں کو آس پاس سے گزرنے والے سادہ لوح لوگ یہ خوفناک آوازیں سنتے اور سہم جاتے۔ کوئی مکان کے پاس بھی نہ بھٹکتا۔

    کئی دن تک لوگوں کو سیٹھ کریم خان کی گمشدگی کا بھی پتا نہ چلا۔ آخر سیٹھ صاحب کا کوئی پتا نہ چلا تو اس کا پریشان بھائی یوسف خان تھانے پہنچ گیا اور رپورٹ درج کرائی کہ اس کا بڑا بھائی غائب ہے۔ شیرخان تحقیقات کے لئے مکان میں گئے۔ دن کا وقت تھا، دو مین کانسٹیبل بھی ساتھ تھے۔ لیکن سب گرتے پڑتے باہر نکل آئے اور یوسف خان کو اندر جو کچھ دیکھا تھا، بتایا۔ انہوں نے یہ ہی خیال کیا کہ بھوتوں نے سیٹھ کریم خان کو مار کر مکان پر قبضہ کر لیا ہے۔ ظاہر ہے کہ کوئی اس سلسلے میں کیا کر سکتا تھا اور اسی طرح دس سال گزر گئے۔ ان دس سالوں کے دوران آپ جانتے ہیں کتنے لوگ اس مکان میں ضد کر کے رہے۔ سینکڑوں آدمی، لیکن سب کے سب چند گھنٹے سے زیادہ مکان میں نہ ٹھہر سکے۔“

    ”حیرت ہے۔ اس قدرزبردست منصوبہ بنایا گیا۔“

    ”اور اس سے دوہرا فائدہ اٹھایا گیا۔“

    ”دوہرا؟ کیا مطلب؟“ محمود چونکا۔

    ”آئیے کمرے میں چلتے ہیں۔ ابھی آپ لوگوں کو اس بھوت کا چہرہ بھی تو دکھانا ہے۔“

    ”آخر وہ کون ہے؟“ ایک آفیسر نے بیچ میں ہو کر پوچھا۔

    ”ابھی آپ لوگ دیکھ ہی لیں گے۔“

    سب کمرے میں آئے۔

    ”اس کے چہرے سے کپڑا ہٹا دو۔“ انسپکٹر جمشید نے ایک کانسٹیبل سے کہا۔ بھوت اب ہوش میں آچکا تھا۔

    کانسٹیبل نے اس کے چہرے سے کپڑا ہٹا دیا۔ شیرخان، محمود، فاروق، فرزانہ، بیگم جمشید اور تینوں آفیسرز کی آنکھیں حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ یہ ہوٹل آبگینہ کا وہی ڈاکٹر ریاض تھا جس نے واصف کو آکر دیکھا تھا۔

    ”ارے! یہ تو ہوٹل کا ڈاکٹر ہے۔“ شیرخان کے منہ سے نکلا۔

    ”ہاں!“

    ”کیا یہی قاتل ہے؟“ ایک آفیسر نے پوچھا۔

    ”نہیں! اس کا ساتھی۔ اس کا مددگار۔“

    ”تو پھر آخر قاتل کون ہے؟“

    ”یہ ڈاکٹر شہر میں پریکٹس کرتا تھا۔ وہاں اس نے دو تین مجرمانہ کام کئے۔ کچھ جعلی سرٹیفکیٹ جاری کئے۔ پولیس اسے گرفتار کرنے گئی تو بھاگ نکلا۔ اس کا ریکارڈ شہر کے ایک تھانے میں موجود ہے اور اسی لئے مجھے اس کا چہرہ جانا پہچانا لگا تھا۔ اس مکان میں قیام کرنے والوں کو ڈرا کر باہر بھاگنے پر مجبور کرنا اس کا کام تھا۔“

    ”اور قاتل؟ آخر وہ کون ہے؟“

    ”یہاں سے ہم قاتل کے پاس ہی جا رہے ہیں۔“

    ”ابا جان ایک منٹ میں! دو ایک باتیں پوچھنا چاہتا ہوں۔“ محمود بولا۔

    ”ہاں ہاں! پوچھو۔“

    ”کمرے میں ہمیں بہت بڑے سائز کا جوتا نظر آیا تھا جو ہم نے برآمدے میں پھینک دیا تھا۔ بعد میں وہ غائب کیسے ہو گیا؟“

    ”اوہ! یہ معمولی بات ہے۔ اس مکان کے ہر کمرے کے چھت کے بیچوں بیچ ایک چوکور سوراخ بنایا گیا ہے۔ تم دیکھ رہے ہو اس کمرے کی چھت کو۔ بظاہر اس میں سوراخ نظر نہیں آتا۔ البتہ ایک سیاہ رنگ کی جالی سی نظر آتی ہے اور پھر اس سوراخ سے کمرے میں کوئی بھی چیز جو اس میں سے گزر سکے گرائی جا سکتی ہے۔“

    ”بہت خوب۔ لیکن وہ برآمدے سے غائب کیسے ہو گیا؟“

    ”اوپر تمہیں ایک ڈوری کے سرے پر ایک ہک لگی ہوئی ملے گی۔ یہ ہک بالکل مچھلیاں پکڑنے والے کانٹے کی مانند ہے اس ڈوری کو نیچے لٹکا کر جوتا اس میں پھنسا کر اوپر اٹھا لینا کون سا مشکل کام ہے۔“

    ”ایک سوال اور!“ فاروق بول اٹھا۔

    ”تم بھی کہو۔“

    ”ہم نے زینے پر لگے ہوئے تالے سے خون ٹپکتے دیکھا تھا۔ وہ کیا معاملہ تھا؟“

    ”کسی جانور کا خون پچکار میں بھر کر اندر ایک سوراخ کے ذریعے تالے پر مارا جاتا ہے جو تالے سے ٹپکتا نظر آتا ہے اب تم سوچو گے وہ پچکر کیسے ہو گی۔ انجکشن لگانے والی بڑی سرنج سمجھ لو۔ جس سے جانوروں کو ٹیکہ لگایا جاتا ہے۔“

    ”میں سمجھ گیا۔“

    ”ایک بات رہ جاتی ہے۔“ یہ فرزانہ تھی۔

    ”ہاں ہاں! ضرور۔“

    دوسرے لوگ بھی نہایت دلچسپی اور حیرت سے باتیں سن رہے تھے۔

    ”میں نے آج تک ایسی بلیاں نہیں دیکھیں جو انسانوں پر حملہ کرتی ہوں کیا باقر گنج کی بلیاں ایسی ہی خونخوار ہیں؟“ فرزانہ نے پوچھا۔

    ”ہاں! یہ بات واقعی ایسی ہے جس پر انسانی ذہن جتنا سوچے، الجھتا چلا جائے گا۔ دراصل ہمارا مجرم، جس نے بھوت کا بھیس بھر رکھا ہے، ایک ڈاکٹر بھی ہے۔ یہ کوئی ایسا انجکشن بلی کو لگا دیتا ہے کہ وہ مشتعل ہو جاتی ہے۔ آج صبح بھی جب ہم اندر داخل ہوئے اس نے ایک بلی کو انجکشن لگایا اور کمرے کی چھت سے اسے نیچے پھینک دیا۔ رات کو بھی اس نے یہی کیا تھا۔“

    ”ٹھیک ہے۔ اب سارا معاملہ صاف ہو گیا۔ لیکن ابھی ایک بات رہتی ہے اور وہ یہ آپ کو یہ سب باتیں کیسے معلوم ہوئیں؟“ یہ بات شیرخان نے پوچھی تھی۔

    ”ہاں! یہ بات تمہیں ضرور بتاﺅں گا کیوں کہ اس کے بغیر تم مطمئن نہیں ہو سکتے۔ ہم پرسوں یہاں پہنچے تھے اور کل صبح اپنے دوست واصف کو چارپائی پر ڈال کر ہمارے سامنے ہی لایا گیا تھا۔ یہاں سے مجھے آسیب زدہ مکان کے بارے معلوم ہوا۔ پھر میں باقرگنج کے لوگوں سے معلومات حاصل کرنے نکل کھڑا ہوا۔ میں نے اس مکان کے بارے میں تمام معلومات حاصل کر لیں اور پھر تھانے میں رپورٹ درج کرانے چلا گیا۔ اس کے بعد شہر میں ٹیلی گرام دیا۔ جس کی وجہ سے ایک تو میرا یہ آدمی یہاں پہنچ گیا۔ دوسرے آپ تینوں حضرات کو یہاں رات کے وقت پہنچ جانے کے لئے فون کر دیا گیا اور اس طرح سب کام بخیرخوبی انجام پایا۔“

    ”یہ سب تو ٹھیک ہے۔ لیکن میری ایک بہت بڑی الجھن کسی طرح بھی دور نہیں ہو رہی ہے۔“ ایک آفیسر نے پوچھا۔

    ”اور وہ کیا؟“ انسپکٹر جمشید نے پوچھا۔

    ”آپ اپنے ساتھ اپنے بیوی بچوں کو بھی لے آئے اور پھر انہیں تنہا چھوڑ کر چلے گئے۔ آپ کو اس بات پر کوئی پریشانی نہیں ہوئی کہ آپ کی عدم موجودگی میں آپ کے بیوی بچے ڈریں گے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خوف کی وجہ سے ان میں سے کوئی بے ہوش ہو جاتا یا پھر اس کے ذہن پر برا اثر پڑ سکتا تھا۔ آخر آپ نے اتنا برا خطرہ کیوں مول لیا؟“

    ”میں نے سرے سے کوئی خطرہ مول نہیں لیا۔“ انسپکٹر جمشید نے مسکرا کر کہا۔ ان کے ساتھ ہی محمود، بیگم جمشید، فاروق اور فرزانہ بھی مسکرا رہے تھے۔

    ”کیا مطلب؟“ آفیسر نے چونک کر پوچھا۔

    ”مطلب یہ کہ آج رات ہم نے اس مکان میں ایک ڈرامہ کھیلا تھا۔“

    ”ڈرامہ کھیلا تھا؟ میں سمجھا نہیں۔“ آفیسر نے حیران ہو کر کہا۔ دوسرے بھی حیرت بھری نظروں سے انسپکٹر جمشید کو دیکھ رہے تھے۔

    ”جی ہاں! ہرروز تو یہاں ڈاکٹر ریاض ڈرامہ کھیلا کرتا تھا۔ آج ہم نے اس کے ساتھ ڈرامہ کھیلا۔“

    ”ہم اب بھی نہیں سمجھے۔“ دوسرے آفیسر نے کہا۔

    ”یہاں آنے سے پہلے ہی میں نے تینوں بچوں اور اپنی بیوی کو یہ سمجھا دیا تھا کہ دراصل اس مکان میں کوئی بھوت پریت نہیں رہتے۔ البتہ ایک چالاک مجرم لوگوں کو بے وقوف بنا رہا ہے اور اس کو گرفتار کرنے کے لئے تم لوگوں کو خوف زدہ ہونے، چیخیں مارنے اور تھرتھر کانپنے کی ایکٹنگ کرنی ہے اور میں خوش ہوں ان چاروں نے اپنا پارٹ بڑی خوبی سے ادا کیا۔“

    ”لیکن ریاض نے آپ کے بارے میں کیوں نہ سوچا؟“

    ”اس لئے کہ میں اٹھ کر مکان سے باہر نکل گیا تھا۔ ڈاکٹر نے سوچا ہو گا کہ میں خوف زدہ ہو کر نکل گیا ہوں گا۔ یا کوئی اور کام پڑ گیا ہو گا۔ اس دوران میں نے سوچا کہ میرے بیوی بچوں کو اس حد تک ڈرا دیا جائے کہ میرے آنے پر وہ مکان میں ایک منٹ نہ ٹھہریں یا اس سے پہلے ہی مکان سے نکل جائیں۔“

    ”ہوں۔ اب سب باتیں صاف ہو گئیں۔ یہ بھی بتا دیں کہ قاتل کون ہے؟“

    ”ہم وہیں چل رہے ہیں۔ قاتل اس وقت آبگینہ ہوٹل میں گہری نیند کے مزے لے رہا ہو گا۔ اس کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہ ہو گی کہ دس سال پہلے اس نے جو قتل کیا تھا، اس جرم کے سلسلے میں گرفتار ہونے کا وقت آج آیا ہے۔“

    ”لیکن آپ کے پاس اس کے خلاف کیا ثبوت ہے؟“ ایک آفیسر نے پوچھا۔

    ”ڈاکٹر ریاض سب سے بڑا ثبوت ہے۔ کیوں ڈاکٹر؟ یہ قتل تمہارے سامنے کیا گیا تھا اور ڈاکٹر! یاد رکھو سچ بولنے کے باعث تم پھانسی کے تختے سے بچ جاﺅ گے۔ ورنہ اس ڈھانچے کی موجودگی میں اس مکان سے تمہیں گرفتار کیا گیا ہے، لہٰذا قتل کا الزام بھی تم پر آئے گا اور اس صورت میں تم کسی طرح بھی پھانسی کے تختے سے نہیں بچ سکو گے۔

    ”نہیں۔ نہیں۔ ایسا نہ کہو۔ اس نے میرے سامنے قتل کیا تھا۔ ہاں۔“

    ”اور ایک ثبوت اور بھی ہے میرے پاس۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”وہ کیا؟“

    ”وہ نقدی اور قیمتی چیزیں جو لوگ یہاں سے بھاگتے وقت چھوڑ جاتے تھے۔ اس کے پاس سے برآمد ہوں گی۔ ہو سکتا ہے لوگوں کے سوٹ کیس بھی ملیں۔“

    ”تو چلئے پھر۔ اب یہاں کیا رہ گیا ہے؟“

    ”میں چاہتا ہوں آپ لوگ اوپر چل کر وہ سب انتظامات دیکھ لیں جو دونوں مجرموں نے بھوتوں کا ڈرامہ کھیلنے کے لئے کر رکھے ہیں۔“

    ”چلئے یہ بھی ٹھیک ہے۔“

    اوپر انہوں نے وہی کچھ دیکھا۔ جس کے بارے میں انسپکٹر جمشید پہلے ہی بتا چکے تھے۔ پھر وہ ہوٹل آبگینہ کے لئے روانہ ہوئے، انسپکٹر جمشید نے ہوٹل کے اندر داخل ہونے کے بعد ایک کمرے پر دستک دی۔ کافی دیر تک دروازہ کھٹکھٹانے کے بعد کہیں دروازہ کھلا۔ وہ سب اسے دیکھ کر چونک اٹھے دروازہ کھولنے والا ہوٹل کا مالک یوسف خان تھا۔

    ”اس کے ہتھکڑیاں لگا دوں؟“ یہ جملہ سن کر وہ بری طرح چونکا۔

    ”کیا مطلب؟“

    ”مطلب بھی سمجھ میں آجائے گا۔ ذرا ادھر دیکھو کون ہتھکڑیاں پہنے کھڑا ہے۔“

    یوسف خان نے ڈاکٹر ریاض کو دیکھتے ہی ایک چیخ ماری۔ اسی وقت دو کانسٹیبلوں نے اس کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈال دیں۔

    اس وقت رات کے تین بج رہے تھے لیکن ان کی آنکھوں میں نیند کا دور دور تک پتا نہیں تھا۔

    ”بس صاحبان! یہی کچھ تھا۔ اب آپ لوگ اپنے اپنے گھروں میں جا کر آرام فرمائیں۔“

    ”اور آپ؟“

    ”ہم اس ہوٹل کے مالک کے کمرے میں رات بسر کریں گے۔ کیوں کہ اب اس وقت یہی جگہ مل سکتی ہے۔“

    ”یہ بھی ٹھیک ہے۔“

    ”لیکن ابا جان۔ وہ انکل واصف کا سوٹ کیس اور دوسرے لوگوں کے سوٹ کیس؟“ فاروق نے یاد دلایا۔

    ”انہیں تلاش کرنے کا کام صبح کا تھا لیکن اگر آپ لوگوں کو نیند نہ آرہی ہو تو اسی وقت برآمد کئے جا سکتے ہیں۔ کیا خیال ہے؟“ انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”ہم میں سے تو شاید کسی کو بھی نیند نہیں آرہی ہے۔“ ایک آفیسر نے کہا۔

    ”ہاں! بالکل نیند نہیں آرہی۔“ ایک اور صاحب بولے۔

    ”تو پھر آئیے۔“ یہ کہہ کر انسپکٹر جمشید یوسف خان کے کمرے میں گھس گئے۔ سامنے والی دیوار میں ایک اور کمرے کا دروازہ نظر آیا۔

    ”یوسف خان اس کمرے کی چابی کہاں ہے؟“

    ”مجھے نہیں معلوم!“ یوسف خان نے مردہ دلی سے کہا۔

    ”تمہیں نہیں معلوم ہو گا تو پھر کسے معلوم ہو گا۔ جلد بتاﺅ ورنہ ہمیں معلوم کرنے کے دوسرے طریقے بھی آتے ہیں۔“

    ”چابی میز کی دراز میں ہے۔“ آخر اس نے بتا دیا۔

    چابی کے ذریعے کمرے کا دروازہ کھولا گیا تو اس میں سینکڑوں سوٹ کیس ایک دوسرے کے اوپر رکھے نظر آئے۔

    ”حیرت ہے! جرم کا ثبوت اس نے اپنے ساتھ ساتھ رکھا۔“

    ”تو یہ اتنے سوٹ کہاں لے جاتا۔ یہی تو مزے کی بات ہے۔ جب لوگوں کو سوٹ کیس کہیں بھی نہ ملتے تو خواہ مخواہ یہ خیال کیا جاتا تھا کہ انہیں ضرور بھوت لے گئے ہیں۔“

    ”ہوں! تو یہ بات ہے۔“ شیرخان غرایا۔

    ”اب ان تمام سوٹ کیسوں کو ان کے مالکان کے حوالے کرنا آپ کا کام ہے۔“ انسپکٹر جمشید نے شیرخان سے کہا۔

    ”جی بہتر!“

    ”خبردار! جو کسی کی امانت میں ذرا بھی خیانت ہوئی۔“

    ”جی نہیں! ایسا نہیں ہو گا۔“

    ”بس صاحبان! یہی سب کچھ تھا۔ جو دس سال سے یہاں ہو رہا تھا۔ اگر ہم اس طرف اتفاق سے سیروتفریح کی غرض سے نہ آجاتے تو نہ جانے یہ چکر کب تک یونہی چلتا رہتا۔ یوسف خان اور ڈاکٹر ریاض ہزاروں روپے ماہوار کماتے رہتے۔“

    ”اُف خدا۔ کیا ہمارا دماغ خراب ہو گیا ہے۔“ ایک آفیسر چونک کر بولا۔

    ”کیا مطلب؟“ دوسرے نے پوچھا۔

    ”عجیب و غریب حالات کی بھول بھلیوں نے ہماری سب کی مت مار دی ہے۔“ اسی نے کہا۔

    ”کیا مطلب؟ میں ابھی تک سمجھا نہیں۔“ دوسرا حیران ہو کر بولا۔

    ”اب ایسی کون سی بات رہ گئی ہے، جس سے یہ ظاہر ہو کہ ہماری مت ماری گئی ہے۔“

    ”ہے ایک ایسی بات۔ خدا کی قسم وہ آج کی رات کا سب سے اہم سوال تھا جو ہم بھول گئے۔“اس کا یہ جملہ سن کر انسپکٹر جمشید مسکرا اٹھے۔

    ”آخر ایسی کون سی بات ہے، کچھ ہمیں بھی بتائیے۔“ تیسرے آفیسر نے کہا۔

    ”ہم نے ان سے یہ نہیں پوچھا کہ یہ خود کون ہیں؟“پہلے نے انسپکٹر جمشید کی طرف اشارہ کر کے کہا۔

    ”اوہ! واقعی۔“ کئی ایک کے منہ سے نکلا۔

    ”تو صاحب۔ اب آخری بات یہ بھی بتا دیں کہ آپ کون ہیں؟ آخر آپ کی خواہش پر ہی حکام نے ہمیں یہاں پہنچنے کے لئے فون کیا تھا اور پھر شہر سے آپ کے یہ ساتھی بھی یہاں آئے۔ خدا کے لئے بتائیے آپ کون ہیں؟“

    ”سرور بیگ!“ انسپکٹر جمشید نے مسکرا کر کہا۔

    ”مذاق نہ کیجئے۔ اگر آپ کا نام سرور بیگ ہے تو یہ فرمائیے کہ آپ کون سے محکمے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان تمام رازوں کو اتنی آسانی سے حل کر دینا ایک عام آدمی کے بس کا روگ تو ہرگز نہیں۔“

    ”اگر آپ نہیں مانتے تو بتائے دیتا ہوں خاکسار کو انسپکٹر جمشید کہتے ہیں۔“ آخر انہوں نے بتا دیا۔

    ”انسپکٹر جمشید! اوہ۔ اوہ!“ ان کے منہ سے نکلا حیرت کے مارے ان کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔

    ”تت۔تت۔ یہ بچے۔ ضرور محمود، فاروق اور فرزانہ ہوں گے۔“ ایک آفیسر نے کہا۔

    ”اخبارات میں آئے دن ان کے متعلق چھپتا رہتا ہے ابھی پچھلے دنوں شاید کسی تہہ خانے کے سلسلے میں ان کے متعلق چھپا تھا۔“

    ”آپ ٹھیک سمجھے۔“

    اور پھر یہ مجلس حیرت پر ہی ختم ہوئی۔ کمرے سے رخصت ہوتے وقت ان سب کے چہروں پر حیرت تھی۔ ان کے جانے کے بعد انسپکٹر جمشید نے اکرام سے کہا:

    ”ہم اپنی چھٹیوں کے دن باقر گنج میں ہی گزاریں گے۔ تم صبح واپس چلے جانا۔“

    ”جی بہتر!“ اکرام نے کہا۔

    ”ابا جان! اب ہم کہاں رہیں گے؟“ فرزانہ نے پوچھا۔

    ”اسی آسیب زدہ مکان میں۔ اور کہاں؟“ فاروق نے کہا۔

    ”بالکل ٹھیک۔ ہم پندرہ دن وہیں گزاریں گے۔“

    ”ٹھیک ہے اب تو دن نکلنے والا ہے۔ صبح ناشتا کرنے کے بعد وہیں چلیں گے۔“

    دوسرے دن پورے باقر گنج کے بچے بچے کی زبان پر آسیب زدہ مکان کی ہی کہانی تھی۔

    ٭….٭….٭

    اس سلسلے کی مزید تحاریر


    موت کا جزیرہ

    موت کا جزیرہ

    • مئی 25, 2020


    سازشی چہرہ

    سازشی چہرہ

    • مئی 25, 2020


    خونی جال

    خونی جال

    • مئی 25, 2020


    ڈریکولا کا بھوت

    ڈریکولا کا بھوت

    • مئی 25, 2020


    پانچ قدم پہ موت

    پانچ قدم پہ موت

    • مئی 25, 2020


    خونی سائنسدان

    خونی سائنسدان

    • مئی 25, 2020


    بھوت بنگلہ

    بھوت بنگلہ

    • مئی 25, 2020


    آخری امید

    آخری امید

    • مئی 25, 2020
  • قرنطینہ ڈائری ۔ پہلا دن

    قرنطینہ ڈائری
    پہلا دن: 24 مارچ 2020

    ڈیئر ڈائری!
    لاک ڈاﺅن کا پہلا دن کیسا گزرا؟ ویسا ہی جیسے باقی دن گزرتے ہیں۔ وہی گھر کے کام، وہی بچوں کی چہکار اور وہی ملازموں کے نخرے۔ وہی دوستوں سے فون پر باتیں، وہی لکھنا پڑھنا اور وہی موسم کی رنگینیاں۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہ معلوم نہیں کہ یہ زندگی آج ہے، کل ہو گی یا نہیں۔
    آج سارا دن موسم بہت سہانا رہا۔ رات میں بوندا باندی ہوئی تھی۔ صبح بادل کھل کر برسے اور ہوا یوں نکھر گئی جیسے کسی ننھے شرارتی بچے کو ماں نے زبردستی پکڑ کر نہلا دیا ہو اور وہ چمکتا دمکتا خوشبوﺅں میں بسا یوں لگے کہ جیسے کبھی میلا ہوا ہی نہ تھا۔ ایسی بہاروں کی خوشبو سے ہوا اور موسم میں ہماری سوسائٹی کی سڑکیں بڑی پررونق ہو جاتی ہیں۔ بچے سڑکوں پر کرکٹ کھیلتے ہیں۔ بڑے سڑکوں اور پارک میں چہل قدمی کرتے ہیں اور گھروں سے پکوانوں کی خوشبوئیں اور باتوں کی چہکاریں اٹھتی ہیں۔ آج لیکن ہو کا عالم تھا۔ چہار سو سناٹا، نہ آدم نہ حیوان۔ نہ بوڑھا نہ جوان۔
    اس ساری تمہید کا کیا مقصد ڈیئر ڈائری؟ مقصد کہ یوں تو زندگی گزارنے کا کوئی مسلمہ اصول نہیں لیکن کچھ اصول ایسے ہیں کہ اپنا لیے جائیں تو زندگی سہل گزر جاتی ہے۔ ان میں سے ایک اصول نوے دس کا ہے۔ نوے دس کا اصول یہ ہے کہ زندگی میں جو کچھ ہمارے ساتھ ہوتا ہے اس کا صرف دس فیصد زندگی یا قسمت ہمارے ساتھ کرتی ہے۔ باقی نوے فیصد اس دس فیصد پر ہمارا ردعمل ہوتا ہے۔ اب دیکھیے کرونا آیا، وبا پھیلی، یہ کہانی کا دس فیصد ہے جس پر ہمارا اختیار نہیں۔ باقی نوے فیصد ہمارے اختیار میں ہے۔ ہاتھ دھونا، گھر میں رہنا، ماسک پہننا، ہائی جین کا خیال رکھنا، قوتِ مدافعت کو فعال رکھنا، لیکن سب سے بڑھ کر ڈیئر ڈائری خوش رہنا۔ زندگی نعت، صحت اس سے بڑی نعمت، رزق نعمت، چھت نعمت، اولاد نعمت جب تک ہیں تب تک خوش رہیں ہر حال میں خوش رہیں۔ ارے خوش رہنے کے بڑے فائدے ہیں۔ صحت بہتر ہوتی ہے۔ امیونٹی بڑھ جاتی ہے۔ دوست شاد ہوتے ہیں اور دشمن ناشاد، نہ بھی ہوں تو ہمیں کیا فرق پڑتا ہے۔ ہم تو پہلے ہی خوش ہیں۔
    تو بھئی جونہی کل دوپہر لاک ڈاﺅن کا اعلان ہوا، ہم نے پہلا کام یہ کیا کہ بھاگم بھاگم جا کر بچوں کی جناتی سائز ٹیبل ٹینس کی میز اٹھوا لائے جو میاں صاحب کے کلینک کے سٹور میں پڑی تھی۔ چار بچوں کو گھر میں بند رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ کسی ایسے کھیل میں لگایا جائے جس سے ان کی ورزش ہوتی رہے۔ بچے میز دیکھ کر بہت پرجوش ہوئے اور آناً فاناً اوپر کے لاﺅنج میں میز سیٹ کی اور دے میچ پر میچ شروع ہو گئے۔ گھنٹہ بھی نہ گزرا تھا کہ دھڑام کی ایک ایسی دلخراش آواز آئی جس سے دل بند ہوتے ہوتے بچا۔ میں نیچے بیٹھی کتاب پڑھ رہی تھی۔ بھاگتی دوڑتی اوپر پہنچی تو دیکھا کہ میز چاروں شانے چِت پڑی ہے کیوں کہ ایک سال سٹور میں بند رہنے کی وجہ سے اس کے سارے قبضوں پر زنگ لگ گیا تھا اور ہمارے بچوں کی پرجوش دھکم پیل کی تاب نہ لا کر محترمہ شہید ہو چکی ہیں۔ اب نہ جانے کب لاک ڈاﺅن ختم ہو گا اور اس مضروبہ کو ویلڈر کے پاس لے جا کر مرہم پٹی کروائی جائے گی۔
    آج صبح ماسی کو مع تنخواہ چھٹی دے دی تھی۔ آپس کی بات ہے، ماسی کو فارغ کرنے کے ارمان تو کب سے میر دل میں تھے۔ ماسی کو دیکھ کر عصمت چغتائی کی ننھی کی نانی یاد آتی تھی جو نہ صرف لُتری تھی بلکہ چور بھی۔ چوں کہ سارے کام میں ساتھ ساتھ کرواتی ہوں اس لیے ماسی کو کبھی کھل کھیلنے کا موقع نہ ملا۔ لیکن دنیا میں اگر کبھی ہاتھ کی صفائی کا مقابلہ ہو تو ہماری ماسی ضرور اول آئے گی۔ پکتے سالن میں سے بوٹیاں نکال لینا، چوری چھپے پرفیوم لگا لینا، ایک مالٹا دکھا کر درجنوں لے جانا، ہاٹ پاٹ میں سے رات کی بچی روٹیاں غائب کر دینا ہماری ماسی کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ میں نے ہمیشہ یہ سوچ کر درگزر کیا کہ غریب عورت ہے، اس کی لگی ہوئی روزی نہ چھینی جائے۔ ماسی چمچیاں گلاس لے گئی، سرف پہ ہاتھ صاف کیا، عماد کے فائنل ایئر کے تھیسس کے کاغذ ردی میں بیچ دیے۔ اور تو اور 14 اگست کا جھنڈا تک اتار لے گئی، میں نے درگزر کیا۔ لیکن کل محترمہ نے میز پر پڑے ملائی کے پیالے پر ہاتھ صاف کیا اور تقریباً سارا پیالہ کھا گئی۔ اب بھئی کھانے کو جھوٹا کرنا تو مجھے برداشت نہیں۔ مصیبت یہ ہے کہ جو چیز آنکھوں سے نہ دیکھی، اس کا الزام کیوں کر لگایا جائے۔ کبھی پوچھا بھی تو اس نے رونا دھونا ڈال دیا کہ مجھ غریب پر ظلم کرتے ہو اور الزام لگاتے ہو۔ ماسی وہ چھچھوندر بن چکی تھی جو نہ اگلی جاتی تھی نہ نگلی جاتی تھی۔ اب جو لاک ڈاﺅن لگا تو بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا۔ ماسی کو بقیہ ہفتے کی تنخواہ دے کر چھٹی بھیج دیا کہ بھئی گھر بیٹھو حکومت کا حکم ہے۔ ماسی خوشی، ہم خوش، ہمارا خدا خوش۔ بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی۔
    ابھی میں ماسی سے جان چھٹنے کی خوشی منا ہی رہی تھی کہ ایک دوسری خوشخبری وصول ہوئی۔ ہمارے ہمسائے میں رہنے والی آنٹی نے اپنے باغ سے تازہ تازہ سبزی بھیجی۔ سبزی بھی وہ جو میری پسندیدہ ہے یعنی مونگرے۔ واہ! آلومونگرے کی چٹپٹی بھاجی ہو اور ساتھ ماش کی دال اور مرچوں کا اچار۔ زندگی کی نعمتوں کی تو کوئی حد ہی نہیں۔ اچار سے یاد آیا، آج دیسی لہسن کا دو طرح کا اچار ڈالا۔ ایک سرکے میں، ایک سرسوں کے تیل میں۔ دیسی لہسن قوتِ مدافعت کے لیے اکسیر ہے اور کرونا کے خلاف ایک ہتھیار۔ تو آج ہم نے یہ ہتھیار تیار کر لیا۔ جب مونگرے اور دال پکنے کی خوشخبری میں نے بچوں کو سنائی تو انہوں نے اس دکھی دل اور تاسف سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا جیسے آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے سے کہہ رہے ہوں۔ ”ہائے سٹھیا گئی ہماری ماں۔“ سب نے ایک ایک ٹھنڈی آہ بھری اور ادھر اُدھر کھسک گئے۔
    دوپہر میں گرم گرم روٹی پر رکھ کر آلومونگرے کا سالن کھایا (مونگرے اور میتھی، ان دونوں کو روٹی پر رکھ کر کھانا چاہیے۔ علیحدہ کھانا ان جنت کی سبزیوں کی توہین ہے۔) اور کھانا کھا کر اتنی خوشی ہوئی اور اتنا سکون ملا کہ زوروں کی نیند آئی اور میں وہیں صوفے پر سو گئی۔ بھئی میاں صاحب کا حکم ہے کہ نیند پوری کرو، امیونٹی کے لیے اچھا ہے۔ چوں کہ نہ واک پر جانا تھا اور نہ کسی کے آنے کا امکان تھا۔ لہٰذا لمبی تان کر سو رہی۔ سو کر اٹھی تو معلوم ہوا عمر نے جو ہمارے تیسرے نمبر کے صاحبزادے ہیں اور کھانا پکانے کے بے حد شوقین بھی، فریزر سے قیمہ اور چیز نکال کر اپنے اور بھائیوں کے لیے برگر بنائے تھے اور مونگروں اور دال کو ہری جھنڈی دکھا دی تھی۔ مجھے لگتا ہے کہ اگر یہ لاک ڈاﺅن یونہی جاری رہا تو میرے مہینے بھر کے راشن کو یہ بچہ دس دن میں ختم کر دے گا۔
    رات کے دس بجے تو اردگرد کی مسجدوں اور چھتوں سے اذان کی آوازیں آنے لگیں۔ آج پورے ملک میں اجتماعی اذان اور دعا ہوئی۔ ہم سب بھی گھر کی چھت پر اکٹھے ہوئے۔ بہت دیر ہم خاموش کھڑے اذان کی آوازیں سنتے رہے۔ سناٹا، خاموشی، ویرانی، چاندنی رات، بادل، خنک ہوا اور یکے بعد دیگرے چھتوں سے بلند ہوتی اذان کی آواز۔ پھر عماد نے ہاتھ باندھے اور اذان دی۔ ایسے کام ہمیشہ عماد ہی کرتا ہے جس عمر میں بچے نرسری رائمز گاتے ہیں، وہ اذان دیا کرتا تھا۔ تھوڑا بڑا ہوا تو مسجدوں میں جا کر اذان دینے لگا۔ اب گھر میں بھی کبھی اذان ہو، جماعت ہو، امامت کرنی ہو، عماد ہی کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اذان ادھر شروع ہوئی، ادھر ختم بھی ہو گئی۔ بہت دیر ہم سب چپ چاپ کھڑے رہے۔ زندگی بھی تو ایسی ہی ہے۔ ادھر شروع ہوئی، ادھر ختم ہو جائے گی اور پھر سناٹا اور خاموشی۔ اے اللہ! تیری امانت ہے۔ تو نے دی، تیرا شکر، واپس لے گا تو بڑی عاجزی اور شکرگزاری سے تجھے تیری چیز لوٹا دیں گے۔ اے سترماﺅں سے زیادہ محبت کرنے والے، تو نے جو دیا اس کا شکر، جو نہیں دیا اس کا بھی شکر، جو دے کر لے لیا اس کا ہزار ہا شکر اور جو وہاں دوسرے جہان میں دے گا اس کا کروڑ ہا شکر۔ بس تو ہمارا نام بھی راضی برضا رہنے والوں میں، شکرگزاروں میں اور محبت کرنے والوں میں لکھ لے۔ اے دونوں جہانوں کے مالک! اس وبا کو ہم پر سے ٹال دے اور ہم پر رحم کر، وہ رحم جو تیری تمام صفات میں سے خود تیری پسندیدہ صفت ہے۔ آمین یا رب العالمین۔
    سارہ قیوم
    ٭….٭….٭

  • الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸  ۔ قسط نمبر ۱۵

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۵

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۵

    (سارہ قیوم)

    سولہویں رات

    رات آئی تو شہرزادِ شیریں بیاں و طلیق اللساں نے کہانی یوں سنائی کہ اے شہنشاہِ عالم پناہ، حسن بدر الدین مع اپنے دوستوں کے ایک جلسہ فریدوں بزم میں آیا (جسے یہ لوگ پارٹی کہتے تھے) اور اسے رشکِ طبقاتِ جناں پایا۔ باغ کیا تھا، باغ ِ ارم تھا، اسباب اور روشنیوں اور موسیقی کا عجب عالم تھا۔ وہاں جاکر بیٹھے تو دیکھا کئی حسینانِ پری جمال ، خوش تمثال ، بادۂ حسن کے سرور میں چور ، جوانی کے نشے میں مست و مخمور ناچتی ہیں اور ان کی انواع و اقسام کی پوشا کیں بدن ڈھانپنے سے قاصر ہیں، چاندی سے جسم لباس سے باہر ہیں۔
    حسن بدر الدین کے لئے یہ محافل نئی نہ تھیں، سمجھ گیا کہ محفل بادۂ و سرور ہے اور شہر کی نامی گرامی طوائفوں کو بلایا گیا ہے کہ امرا ء و شرفا کا دل بہلائیں اور رقص و موسیقی کا رنگ جمائیں۔ اس کے اپنے زمانے میں بھی راگ رنگ کی ایسی محفلیں آئے روز جمتی تھیں۔ بس فرق یہ تھا کہ پرانے زمانے کی طوائفیں پورا لباس پہنتی تھیں اور نئے زمانے میں ادھورا۔ اُس زمانے میں صرف طوائفیں ناچتی تھیں ، اس زمانے میں تماش بین بھی ساتھ ناچ رہے تھے۔ یعنی مرد آپے سے باہر تھے، عورتیں جامے سے۔ عجب بوا لعجبی تھی۔
    ابھی وہاں بیٹھے نیرنگئی دوراں دیکھ رہے تھے کہ غفران آتا دکھائی دیا۔ دوستوں کو دیکھ کر بہت خوش ہوا۔
    ‘‘ویلکم ۔ ویلکم۔’’ اس نے بازو پھیلا کر کہا۔ ‘‘Enjoying the Party?’’
    بندو نے منہ بناکر کہا۔ ‘‘پارٹی تو بعد میں انجوائے کریں گے، پہلے تو تیرے گارڈز نے جیب خالی کرادی ہماری۔ یار تین ہزار کی ایک Ecstasy Pill؟ تو خود بتا کتنا ظلم ہے۔’’
    غفران ہنسا اور بولا۔ ‘‘یہ تو ڈسکاؤنٹ پرائس ہے۔ اور انٹری فیس یا Pill خریدنا تو پارٹی رولز ہیں۔ آج کل ہر پارٹی میں ہوتے ہیں۔’’
    لیکن بندو کو تسلی نہ ہوئی، وہ منہ بناتا رہا۔
    آخر غفران نے کہا۔ ‘‘اچھا مراکیوں جارہا ہے، کتنی Pills ہیں تیرے پاس؟’’
    بندو نے کہا۔ ‘‘دو۔’’
    ‘‘غفران نے حیران ہوکر کہا۔ ‘‘بس؟ دو پہ ہی جان جارہی ہے؟ اچھا یہ بتا خود کھانی ہیں؟’’
    بندو نے ہاتھ اٹھائے ، قطعیت سے بولا۔ ‘‘نہ…… میری صحت کچھ ٹھیک نہیں رہتی۔ چرس ہی ہینڈل کرلوں تو بڑا ہے۔ Ecstasyکھا کے تو اللہ کو پیارا ہوجاؤں گا۔’’
    غفران نے ہنس کر کہا۔ ‘اچھا تو حسن کو دے دے، یہ بڑا انجوائے کرتا ہے ایسی چیزوں کو۔’’
    بندو نے نظر بھر کے حسن کو دیکھا اور کہا۔ ‘‘حسن کو رہنے دے یار۔ معصوم ہے بے چارہ۔’’
    غفران پھر ہنسا اوربولا۔ ‘‘اچھا۔ چل تیری مشکل حل کرتا ہوں۔ آ تجھے ایک لڑکی سے ملواؤں۔ بڑی نوٹ والی ہے۔ اسے بیچ دے۔ کچھ پیسے اوپر سے بھی لے لے گا تو اسے پتا نہیں چلنا۔ نشے میں ہوتی ہے تو بڑی generous ہوجاتی ہے۔’’
    یہ کہہ کر بندو کا بازو پکڑا اور ایک طرف کو لے چلا۔ تجسس کے مارے حسن بھی ساتھ چلا کہ دیکھوں کیا کرتا ہے اور کس سے ملواتا ہے۔ شاید کوئی بنارس کی نامی گرامی طوائف ہو یا لکھنؤ کی کوئی حسین، مجرا کرنے والی۔
    تھوڑا آگے بڑھے تو حسن نے دیکھا کہ ناچنے والوں کے گروہ سے ایک حسین و جمیل لڑکی علیحدہ ہوئی اور ایک طرف لگی میز کی طرف چلی۔ وہاں جاکر شراب ِناب کا پیمانہ بھر اور غٹاغٹ چڑھا گئی۔
    ‘‘اوہ نو۔’’ غفران نے پریشان ہوکرکہا۔ ‘‘پی پی کے مرجائے گی کسی دن۔ میں اس کو گھسیٹ کے ڈانس کی طرف لے جاتا ہوں، یہ پھر بار میں پہنچ جاتی ہے۔ آؤ تمہیں ملواؤں۔’’
    اس کے قریب پہنچے تو حسن نے دیکھا کہ نشے کی زیادتی سے اس کی آنکھیں سرخ تھیں اور کھڑے کھڑے لڑکھڑا رہی تھی۔ غفران کو قریب آتے دیکھا تو یوں آنکھیں پھاڑکے گھورنے لگی جیسے کسی اجنبی کو پہچاننے کی کوشش کررہی ہو۔ دو قدم پیچھے ہٹی تو گرتے گرتے بچی۔
    غفران نے ا سے بازو سے تھام کر سیدھا کھڑا کیا اور بولا۔ ‘‘ہیلو ڈارلنگ۔پھر سے بھول گئیں مجھے؟ آج تین مرتبہ اپنا تعارف کروا چکا ہوں۔ میں غفران۔ میرے دوستوں سے ملو۔ یہ بندو ہے اور یہ حسن۔’’
    لڑکی نے منہ پھا ڑ کر قہقہہ لگایا اور مصنوعی نزاکت سے بولی۔ ‘‘ہاں ہاں تم غفران ہو۔ تمہارے دوست ہیں، میرے بھی دوست ہیں۔’’
    غفران نے کہا۔ ‘‘بندو ، حسن ان سے ملو ۔ یہ تانیہ ہے۔ وہ جو فلاں پارٹی کے وزیر ہیں نا ں؟ ان کی بیگم۔’’ پھر سرگوشی میں بولا۔ ‘‘دوسری بیگم۔’’
    تانیہ نے ٹھنک کر کہا۔ ‘‘Oh please dont call me begum.…… خود کو بوڑھا محسوس کرنے لگتی ہوں میں۔’’
    ‘‘چلو وہاں بیٹھیں۔’’ غفران نے کہا اور اس کو لے کر اسی جگہ آبیٹھے جہاں نعیم اور عاصم بیٹھے تھے۔ محسن موجود نہیں تھا۔ معلوم ہوا پچھلی طرف تکہ کباب بنانے والوں اور نان سینکنے والوں کو دیکھنے گیا ہے۔
    تعارف کے بعد غفران نے تانیہ سے پوچھا۔ ‘‘اور سناؤ تانیہ۔ واٹس اپ؟’’
    تانیہ نے کہا۔ ‘‘ابھی دبئی سے واپس آئی ہوں۔ ورساچی کی سپرنگ کلیکشن آئی تھی، سوچا چلی ہی جاؤں۔ کچھ رہ ہی نہیں گیا پہننے کے لئے میری وارڈروب میں۔’’
    غفران نے کہا۔ ‘‘اچھا کیا۔ کھاؤ پیو موج اڑاؤ۔ ورساچی پہنو اور شوہر کی کمائی حلال کرو۔’’
    تانیہ بولی۔ ‘‘آف کورس۔ آخرسوسائٹی میں عزت بھی کوئی چیز ہے۔’’
    غفران نے کہا۔ ‘‘کھانے پینے سے مجھے یاد آیا۔ کچھ کھا یا بھی ہے یا پیئے چلی جارہی ہو؟’’
    یہ سن کر تانیہ ہنسی اور بولی۔ ‘‘کھانے کے لئے کون آتا ہے پارٹی میں؟ پارٹی تو پینے کے لئے ہوتی ہے۔’’
    غفران نے کہا۔ ‘‘ارے یار تم کہو تو سہی۔ تمہارے مطلب کی کھانے کی چیز بھی حاضر کردیتے ہیں ہم۔’’
    یہ کہہ کر بندو کو اشارہ کیا۔ بندو نے دو گولیاں نکال کر میز پر رکھ دیں۔
    تانیہ کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ گولیوں کو اٹھا کر غور سے دیکھا اور بولی۔ ‘‘Esctasy ۔ کتنے کی ہے؟ مجھے دونوں دے دو۔’’
    یہ کہہ کر بغیر جواب کا انتظار کئے اپنا بٹوہ کھولا اور پندرہ ہزار روپے گن کر میز پر رکھ دیئے۔ بندو نے اس میں سے بارہ ہزار گن کر جیب میں ڈالے اور تین ہزار واپس کردیئے۔
    ‘‘رکھ لے یار۔’’ غفران نے دبی آواز میں ڈانٹا۔
    ‘‘نہیں یار۔ تجارت کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں۔ دو گنا سے زیادہ منافع جائز نہیں۔ وہ نشے میں ہے تو میں اس کا فائدہ اٹھالوں؟ نہیں یار۔’’ بندو نے جواب دیا۔
    تانیہ نے پاس گزرتے ملازم کے ہاتھ سے شراب کا جام لیا اور ایک ہی گھونٹ میں گولی اور شراب دونوں چڑھا گئی۔ غفران فکر مند نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔
    تھوڑی ہی دیر میں تانیہ کی آنکھیں چڑھنے لگیں۔ میز کو یوں چٹکیاں کاٹنے لگی گویا کوئی اس پر پڑی کوئی چیز اٹھانا چاہتی ہے۔ پھر ہنسنے لگی اور گنگنانے لگی۔ گانا ختم کرچکی تو رونے لگی۔
    ‘‘روتی کیوں ہو ڈارلنگ؟’’ غفران نے ہمدردی سے پوچھا۔
    ‘‘میری زندگی خالی ہے۔ بالکل خالی۔ ’’ اس نے روتے ہوئے کہا۔ ‘‘میں نے اپنی زندگی میں کیا دیکھا؟ کچھ نہیں۔ کیا پایا؟کچھ نہیں۔’’
    غفران نے تسلی دے کرکہا۔ ‘‘تم نشے میں ہوتی ہو تو تمہیں یونہی لگنے لگتا ہے۔ سب کچھ تو ہے تمہارے پاس۔’’
    اس نے روکر کہا۔ ‘‘نشے میں نہ بھی ہوں تو بھی یوں ہی لگتا ہے۔ ڈپریشن کی گولیاں کھاتی ہوں۔ پھر اس ڈپریشن کو بھلانے کے لئے بازاروں میں نکل جاتی ہوں۔ اندھا دھند شاپنگ کرتی ہوں۔ لاکھوں روپے اڑاتی ہوں۔ صرف ایک دن …… میں تمہیں بتاؤں صرف ایک دن کی خوشی دیتی ہے شاپنگ۔ اس کے بعد پھر وہی ڈپریشن۔’’
    یہ کہہ کر ناک پونچھا اور پاس بیٹھے حسن کا ہاتھ پکڑ لیا۔ ‘‘تم نے کبھی دکھ دیکھے ہیں؟تمہیں پتا بھی ہے دکھ ہوتا کیا ہے؟ نہیں تمہیں کیا پتا۔’’
    حسن چپ چاپ اسے دیکھے گیا۔
    وہ کہتی رہی۔ ‘‘دکھ دیکھنے ہوں تومجھے دیکھو۔ ارب پتی باپ کی بیٹی ہوں میں۔ سولہ سال کی عمر میں میرے باپ کے دوست نے مجھے ریپ کیا۔ میں نے باپ کو بتایا تو اس نے کہا، خاموش رہو۔ وہ بڑا آدمی ہے۔ اس سے تعلقات بگڑگئے تو میرے بزنس کو نقصان ہوگا۔ اس کے بعد وہ آدمی برابر آتا رہا، ہمارے ڈرائنگ روم میں بیٹھا میرے باپ کے ساتھ قہقہے لگاتا رہا۔ میں ڈپریشن میں چلی گئی۔ سائیکالوجسٹ کے چکر کاٹنے لگی۔ پھر میں نے سوچا واٹ دا ہیل۔ جب میرے باپ کو پرواہ نہیں تو مجھے اس کی عزت یا اس کے پیسے کی کیوں پرواہ ہو؟ میں نے باپ کا پیسہ اڑانا شروع کیا اور پے در پے بوائے فرینڈ بدلنے لگی۔ لوگوں میں میرے چرچے ہونے لگے۔ اپنے باپ کو جلانے کے لئے میں نے عمر میں اپنے سے تین گنا بڑے مرد سے شادی کرلی اور اس کی دوسری بیوی بن گئی۔ میرا شوہر میرے باپ کی مخالف پارٹی کا وزیر تھا اور کرپشن میں بدنام۔ میرا خیال تھا میرا باپ مجھے عاق کردے گا۔ لیکن ہوا پتا ہے کیا؟ میرا باپ بہت خوش ہو ااور کہا۔ ‘‘یہ بڑے کام کا آدمی ہے۔ اسے بڑا کیش کراسکتے ہیں ہم۔’’ اب تم مجھے بتاؤ ، اس سارے کھیل میں میں نے کیا پایا؟ ایک بوڑھا شوہر جو مجھے گھر ڈال کر بھول چکا ہے اور اپنے سے بڑے سوتیلے بچے۔ لوگ سمجھتے ہیں میں لیمبورگینی میں پھرتی ہوں، لاکھوں کا جوتا پہنتی ہوں، لاکھوں کا پرس پکڑتی ہوں، کروڑوں کے ڈائمنڈز ہیں میرے پاس تو میں خوش ہوں۔ کوئی مجھ سے پوچھے یہ چیزیں مجھے کتنی خوشی دیتی ہیں۔ زیرو، بالکل زیرو۔ اپنے غم بھلانے کے لئے retail therapyکا سہارا لیتی ہوں لیکن مجھے اس سے وہی خوشی ملتی ہے جو کسی غریب عورت کو آلو پیاز خریدنے سے ملتی ہو گی۔ بلکہ شاید اس سے بھی کم۔ اپنے دکھ بھلانے کے لئے نشہ کرتی ہوں، لیکن اس سے بھی کیا ہوتا ہے۔ کچھ ہوتا ہے؟’’
    اس کی یہ کہانی سن کر حسن بدر الدین ، کہ انتہا درجے کا رحمدل اور رفیق القلب نوجوان تھا، آب دیدہ ہوا۔ بصد ہمد ری کہا۔ ‘‘نہیں نشے سے کیاہوتا ہے، الٹا درد غم بڑھ جاتا ہے۔’’
    ‘‘Exactly۔’’ تانیہ نے آنسو پونچھ کرکہا۔ ‘‘مجھے لوگوں نے کہا نمازیں پڑھو، سکون مل جائے گا۔ لیکن اب میں الکوحل کے بغیر نہیں رہ سکتی۔ گھر میں اپنا بار ہے۔ اب جب ہر وقت ایک چیز سامنے ہو تو انسان کیسے نہ پیئے؟ اور الکوحل کے ساتھ نماز نہیں ہوتی۔ میری قسمت دیکھو، لوگوں نے تو مجھے دکھ دیئے ہی دیئے، مجھے تو خدا نے بھی نہیں اپنایا۔’’
    یہ کہہ کر آنسو پوچھے، پھر قہقہہ لگا کر ہنسی اور بولی۔ ‘‘خیر چھوڑو۔ زندگی ایک دفعہ ملتی ہے۔ انجوائے کرکے گزارنی چاہیے۔’’
    پھر اونچی آواز میں پکاری۔ ‘‘اے ڈی جے یہ کیا بکواس سونگ لگا رکھا ہے۔ کوئی ڈھنگ کا میوزک لگاؤ۔ کیوں غفران ، لگتا ہے اسے بھی چڑھ گئی ہے۔ فری کی شراب دیکھ کر لوگ آپے سے باہر ہوجاتے ہیں۔’’
    یہ کہہ کر پھر منہ پھاڑ کر قہقہہ لگایا۔ اس کے قریب بیٹھے حسن کو اس کی کالی داڑھیں نظر آئیں، بے اختیار کراہت آئی۔ اب تانیہ کو تیز نشہ چڑھنے لگا تھا۔ زبان لڑکھڑا رہی تھی اور وہ اول فول باتیں کرنے لگی تھی۔ سگریٹ سلگانے لگی تو انگلیاں کانپنے لگیں۔ حسن نے مدد کی ، ماچس جلا کر دی۔ وہ کش پہ کش لینے لگی۔ اس کی آنکھیں بار بار چڑھ جاتی تھیں اور کچھ بڑبڑانے لگتی تھی۔
    اتنے میں وہاں سے ایک نوجوان گزرا۔ تانیہ کو دیکھ کر قریب آیا اور کہا۔ ‘‘اے بے بی۔ کیسی ہو؟ کیا کررہی ہو؟…… Want to have fun?’’
    تانیہ نے اس کی گردن میں بازو ڈالے اور کہا۔ ‘‘Yes yes I want to have fun.’’
    نوجوان نے اسے اسی طرح لپٹائے ہوئے اٹھا کر کھڑا کیا اور بولا۔ ‘‘تو چلو پھر۔’’
    غفران نے دبی آواز میں کہا۔ ‘‘چھوڑو یار ۔ نشے میں ہے۔’’
    نوجوان ہنس کر بولا۔ ‘‘یہ کب نشے میں نہیں ہوتی؟ویسے بھی اس کی مرضی سے لے جارہا ہوں۔ کیوں بے بی ،چلو گی؟’’
    ‘‘یس بے بی، یس۔’’ تانیہ نے لڑکھڑا کر کہا۔
    یہ کہہ کر ا سکی بانہوں میں جھولتی ، لڑکھڑاتی اس کے ساتھ چلی۔ وہ اسے لے کر سیدھے اس میز پر گیا جسے غفران نے بار کہا تھا۔ وہاں موجود شخص کو جیب سے چند نوٹ نکال کر دیئے۔ اس شخص نے اسے ایک چابی تھمائی۔ چابی پکڑکر وہ شخص تانیہ کی کمر میں ہاتھ ڈالے ایک طرف کو غائب ہوگیا۔
    حسن یہ سب دیکھتا تھا اور اس کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ یہ کیا ہورہا ہے۔ اس نے غفران سے پوچھا۔
    ‘‘خدارا اس راز سے پردہ اٹھاؤ کہ یہ کیا معاملہ ہے۔ یہ طوائفیں کہاں سے بلوائی ہیں اور یہ کیسا مجرا ہے جس میں سب لوگ ناچتے ہیں؟ یہ شخص تانیہ کو کہاں لے گیا ؟’’
    غفران نے حیران ہوکر کہا۔ ‘‘طوائفیں ؟ خدا کا خوف کرو یار۔ یہ سب بڑے اچھے گھروں کی لڑکیاں ہیں۔ وزیروں، سفیروں، بزنس مینوں کی بیٹیاں۔ لگتا ہے تم نے پہلی مرتبہ کوئی پارٹی اٹینڈ کی ہے۔ ڈانس پارٹی میں تو ایسے ہی ہوتا ہے۔ تم لوگ بھی ڈانس کرو، ناچو، شراب پیو۔ بار مین کے پاس اوپر کے کمروں کی چابیاں ہیں۔ کوئی لڑکی پسند آئے ، اور اسے تم پسند آؤ تو بار مین کو دو ہزار روپے دو، چابی لو اور لڑکی کو لے جاؤ اوپر۔ آؤ تمہیں ملواتا ہوں چند لڑکیوں سے۔’’
    یہ سب سن کر حسن کا حیرت اور اچنبھے سے یہ حال ہواکہ حیطۂ تحریر سے خارج ہے۔ یہ سب کچھ تو زمانوں سے ہوتا آیا تھا لیکن یہ کام وہ عورتیں کرتی تھیں جو طوائفوں کے گھرانوں میں پیدا ہوتی تھیں اور کاروبار کے طور پر خود کو بیچتی تھیں۔ یہ سوچ کر حسن کے رونگٹے کھڑے ہوگئے کہ شریف اور اعلیٰ گھرانوں کی لڑکیاں نشے میں دھت ناچتی ہیں اور نشے کے عالم میں کوئی بھی ہاتھ پکڑ کر لے جائے، انہیں پرواہ نہیں۔ وہ مرد جو ابھی تانیہ کو لے کر گیا، جانتا تھا کہ وہ کسی کی بیوی ہے، اس وقت اپنے آپ میں نہیں ہے، پھر بھی اسے پھسلا کر لے گیا۔ یہ سوچ کر حسن کو یکدم متلی محسوس ہوئی۔ وہ اندھا دھند اٹھا اور جھاڑیوں میں جاکر قے کردی۔ انسانیت کی اور عورت کی اس سے بڑی تذلیل اس نے کبھی نہ دیکھی تھی۔
    واپسی آکر بیٹھا تو غفران نے پوچھا۔
    ‘‘کیا ہوا؟ طبیعت خراب ہے؟ کچھ پینے کو منگواؤں؟’’

  • الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸  ۔ قسط نمبر ۱۴

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۴

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۴

    (سارہ قیوم)

    پندھرویں شب کا قصہ: 

    پندرھویں شب کو جب بادشاہِ فیروز بخت سکندر صولت نے تسنیم و تنسیقِ سلطنت سے فراغت پا کر محل سرا میں قدم رنجہ فرمایا اور اس کو رشکِ باغ نعیم بنایا تو کہانی یاد کر کے شہرزاد کو طلب فرمایا اور کہا کہ کل کی کہانی اور اس بدبخت حجام کا بقیہ حال سناؤ اور ہمارا دل بہلاؤ۔ تمہاری سحربیانی گدگداتی ہے، کہانی سنے بغیر نیند نہیں آتی ہے۔ شہرزاد دل ہی دل میں خوش ہوئی کہ خدانے بڑے موذی سے جان بچائی، الحمدللہ کہ یہاں تک تو نوبت آئی کہ اب بادشاہ کو داستان کی سماعت کا شوق چراتاہے اور قصۂ دلگداز ان کو لبھاتا ہے۔ عرض کیا کہ شہنشاہِ عالم، پشت و پناہِ سلاطینِ جہاں کو خدائے تعالیٰ قیامت تک سلامت رکھے، بااقبال و باکرامت رکھے۔ دوست شادو دشمن پائمال ہوں، رفقا و وابستگانِ دامنِ دولت سیم و زر سے مالا مال ہوں۔

    رہیں جب تک الٰہی مہرو ماہ و کوکب و اختر
    رہے جب تک الٰہی اس زمین پر چرخِ زنگاری
    میسسرخیرخواہوں کو تو عیشِ جاودانی ہو
    ترے بدخواہ کو حاصل ہمیشہ ذلت و خواری

    اے شہریارِ والاتبار، جب حجام نے حسن بدر الدین کو کرسی پر بٹھایا تو یکایک ایک تیز دھار استرا اس کے حلق پر جمایا اور یوں چلایا۔ ‘‘ایسے ہوتا ہے قتل۔’’
    حسن بدرالدین کا کلیجہ منہ کو آیا، بڑا صدمہ اٹھایا۔ خوف سے گھبرایا، گھبرا کر چلایا۔ ‘‘یاالٰہی یہ کیا ماجرا ہے؟ یہ نائی ہے یا اجل حجام کا بھیس بدل کر آئی ہے؟’’
    یہ سن کر حجام نے استرا اٹھایا اور دانت نکوس کر بولا: ‘‘ڈر گئے؟ ہاہاہا!’’
    حسن کو اس قدر غصہ آیا کہ قریب تھا کہ مارے غصے کے اپنے کپڑے چاک کر ڈالے اور سخت ست سنائے کہ حجام نے اطمینان سے استرا بند کر کے میز پر رکھا اور کہا: ‘‘وہ جو نئی فلم آئی ہے نا ‘‘مرڈر؟’’ اس میں ایک بندے کو ایسے قتل کرتا دکھاتے ہیں ۔مجھے بڑا شوق ہے ایکٹنگ کا۔ دن کی دو فلمیں ضرور دیکھتا ہوں۔ ایک انڈیا کی اور ایک انگلش۔ پھر جو سین سب سے زیادہ پسند آتا ہے اس کی پریکٹس کرتا ہوں۔ آپ کی فیورٹ ایکٹریس کون ہے سر؟’’
    حسن نے بگڑ کر کہا: ‘‘تم اپنا کام کرو، تمہیں مجھ سے کیا سروکار ہے؟ تم نے اتنی دیر میں میرا کلیجہ پکا دیا اور سر پھرا دیا۔’’
    حجام نے کہا: ‘‘بہت جلدی میں لگتے ہیں سر، خیریت تو ہے؟’’ پھر معنی خیزی سے سرگوشی میں بولا: ‘‘گرل فرینڈ سے ملنے جا رہے ہیں؟’’
    حسن نے کہا: ‘‘اے بومِ شوم! یہ استرا اٹھا اور میرے حلق پر چلا۔ بندہ درگاہ اس حجامت سے باز آئے، تیری صحبت سے بہتر ہے کہ موت آئے۔’’
    حجام نے اطمینان سے کہا: ‘‘استرے سے کون بال کاٹتا ہے سر؟ یہ تو میں نے بس لوگوں کو ڈرانے کے لیے رکھا ہوا ہے۔ ہیئرکٹ کے ساتھ ساتھ انٹرٹینمنٹ بھی مل جاتی ہے کسٹمر کو اور جب لوگ ڈرتے ہیں نا سر تو ان کے بال کھڑے ہو جاتے ہیں پھر ان کو کٹ کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ بس اس لیے یہ استرا رکھ چھوڑا ہے۔ ورنہ میں ٹیکنالوجی کو کام میں لانا پسند کرتا ہوں۔ الیکٹرک شیور ہوتا ہے نا سر؟ اس سے کام لیتا ہوں، ہیئرکٹ کے لیے بھی اور داڑھی کے لیے بھی۔ ہر سٹائل کے لیے میرے پاس علیحدہ نمبر کی مشین ہے۔ بتائیے آپ کیا سٹائل بنوانا پسند کریں گے؟ رونالڈو کٹ، ڈیوڈ بیکہم کٹ، پیالہ کٹ، آرمی کٹ۔ آپ کی داڑھی میں جوئیں تو نہیں ہیں سر؟’’
    اس اول جلول تقریر سے حسن اس قدر پریشان ہوا کہ اسے معلوم ہوتا تھا کہ یہ شخص اس کے دماغ کے کیڑے تک چاٹ جائے گا اور قصہ ختم نہ ہونے پائے گا۔
    حسن نے جیب سے پیسے نکالے اور کہا: ‘‘یہ پیسے رکھو اور میری گردن سے یہ کپڑا اتارو۔ اب میرا حجامت بنوانے کو جی نہیں چاہتا۔’’
    حجام نے یہ سنا تو دکھی ہوکر کہا ۔ ‘‘کیا بات کرتے ہیں سر! ناراض کیوں ہوتے ہیں؟ آپ مجھے بے شک ایک پیسہ نہ دیں لیکن بغیر ہیئر کٹ کے میں آپ کو جانے نہ دوں گا۔ بلکہ میری طرف سے آفر ہے کہ ہمارا فیشل اور پیڈی کیور مینی کیور پروموشل آفر میں ٹرائی کریں۔ ففٹی پرسٹ آف۔ جو ایک مرتبہ میرے پاس آتا ہے، پھر کہیں نہیں جاتا۔ بڑے بڑے آرٹسٹ اور امیر وزیر میرے پاس آتے ہیں اور انعام دے کر جاتے ہیں۔ آپ کے اپنے فادر میرے فادر کے پاس آیا کرتے تھے۔ کہتے تھے فضل الٰہی میں ساری دنیا پھرا ہوں لیکن جیسی چمپی تم کرتے ہو، ویسی اور کوئی نہیں کرسکتا ۔آپ چمپی کرائیں گے سر؟’’
    تنگ آکر حسن نے کہا۔ ‘‘تم بس صرف حجامت بناؤ اور اپنا راستہ لو۔ میرا سر نہ پھراؤ۔ معاف فرماؤ۔’’
    حجام کمبخت نے اطمینان سے کہا۔ ‘‘اتنی جلدی میں کیوں ہیں سر؟ جلدی میں کبھی کام اچھا نہیں ہوتا۔ میں آپ کے لئے کولڈ ڈرنک منگواتا ہوں۔ تسلی سے بیٹھیں، گپ شپ کریں۔’’
    حسن نے جھلا کر کہا۔ ‘‘بس بس تم اپنی گپ اور من ترانس رہنے دو۔ وقت ہاتھ سے جاتا ہے، نمازِ جمعہ کا زمانہ قریب آتا ہے۔ جس قدر جلد ممکن ہو حجامت بناؤ، دیر نہ لگاؤ۔ بعد از نمازِ جمعہ مجھے ایک ضروری کام سے جانا ہے۔ خبردار اب قصد لا یعنی سے با آ اور جلد خط بنا۔’’
    یہ ڈانٹ سن کر حجام نے اپنی بیہودہ سرائی موقوف کی۔ ژاژخائی منسوخ کی اور قینچی اٹھا کر کچھ اٹکل پچو ہاتھ چلائے،کھٹ کھٹ کچھ بال کاٹے اور پھر ایک عجیب وضع کی چیز نکالی، اس کا کوئی پرزہ دبایا اور دم کے دم میں اس چیز کو حسن کی گدی پر جمایا۔ معاً اس میں سے گھُر گھُر کی صدائے کریہہ بلند ہو ئی اور حسن کی گدی پر پے درپے چرکے سے لگنے لگے۔
    حسن گھبرا کر چلایا۔ ‘‘او بدبخت ناہنجار، بداعمال بدکردار، تو نائی ہے یا جلاد ہے؟یا چنگیز خان کا داماد ہے؟ حماقت کی آندھی ہے، میرے قتل پر کمر باندھی ہے؟’’
    یہ کہہ کر چاہا کہ اس حجام لعین کو ٹالے، کسی طرح خود کو وہاں سے نکالے مگر وہ خرانٹ ، گرگ باراں دیدہ تاڑ گیا کہ کپڑا گلے سے نکال کر بھاگا جاتا ہے، پھر ہاتھ نہیں آتا ہے۔ جھپٹ کر حسن کی گردن میں ہاتھ ڈالا اور پہلوانوں کی طرح گردن بازو کے شکنجے میں کس لی۔
    پچکار کر کہا۔ ‘‘پریشان کیوں ہوتے ہیں سر؟ لگتا ہے کبھی الیکٹرک شیو ر یوز نہیں کیا۔ اس لئے تو اتنا براہیر کٹ رکھا ہوا تھا۔ اب ذرا میرا کمال دیکھیں کہ کیا لک دیتا ہوں آپ کو۔ ماشاء اللہ خوبصورت ہیں، سر کی شیپ بھی کتنی اچھی ہے۔ ایسے ویسے ہیر ڈریسر ز کے پاس جاجا کر آپ نے ستیاناس کرلیا ہے اپنی لکس کا۔’’
    حسن صاحب نے جو دیکھا کہ اس پاجی کمینے کے پھندے سے نکلنے کی کوئی صورت نہیں تو دم سادھ کر بیٹھ رہے۔ دل میں موقع کی تلاش میں تھے کہ یہ ذرا چو کے تو اس سے اپنے کو بچاؤں اور اس کی صحبت سے نجات پاؤں،مگر وہ بلا کی طرح چمٹا ہی رہا۔
    بارے حجامت سے فراغت پائی تو حسن نے نظر اٹھائی۔ اب جو آئینے میں نظر پڑی تو آنکھوں پر یقین نہ آیا۔ اس کے بال جو ہمیشہ خیالاتِ پریشاں کی طرح بے قابو رہتے تھے، اب اس سلیقے سے سرپر جمے تھے کہ کیا ہی کسی شاعر کامل فن کے مصرعے جمتے ہوں گے ۔
    پہلے تو بالوں کی یہ صورت تھی کہ ہمہ وقت ماتھے پر گرے ہیں، کبھی گردن سے چمٹے ہیں تو کبھی داڑھی سے لپٹے ہیں۔ اور اب یہ صورت کہ سامنے کے بال لہریئے کی صورت میں پیچھے کو جاتے تھے۔ روشن پیشانی سے پردہ اٹھاتے تھے۔ داڑھی جو پہلے مانند ِجھاڑ جھنکاڑ تھی۔ اب مثل گلِ رخسار تھی۔ داڑھی کی لمبائی دو انگشت کے برابر، مونچھیں گویا دو سنکھ اول تا آخر ۔
    اپنی صورت جو دیکھی تو حسن بدر الدین بے اختیار پکار اٹھا۔ ‘‘یہ میں ہوں؟ حسن بد ر الدین سوداگرزادہ؟ یا  کوئی  شہزادہ بلند ارادہ؟ سروقامت سہی بالا، ابروئے پیوستہ دیوان خوبی، مجسم رعنائی و خوش اسلوبی ، خندہ پیشانی، صاحب طبع نورانی۔ اے حجام، تیرے ہنر سے میں نے وہ صورت پائی ہے کہ خدا نے اپنی قدر ت ِکاملہ دکھائی ہے۔ تیری کاریگری پر مجھے بے حد استعجاب ہے، واللہ تیرا فن لاجواب ہے۔’’
    جونہی یہ تقریر ختم ہوئی، پیچھے سے تالیاں بجنے کی آواز آئی۔ مڑ کر جو دیکھا تو ایک مردِ شریف کو کھڑا پایا جو آئینے میں حسن کو دیکھتا تھا اور بے اختیار تالیاں بجاتا تھا۔

  • الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸  ۔ قسط نمبر ۱۳

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۳

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۳

    رات:14

    آنا حسن بدرالدین کا غیض و غضب میں اور چڑھنا حجام کے ہتھے:

    چودھویں شب کو جب شہریارِ سکندر جاہ خاقانِ کلاہ نے انتظامِ سلطنت سے فراغت پائی تو خاتونِ جمیلہ شہرزاد یوں چہچہائی کہ جب سوداگر بچے حسن بدرالدین نے زلیخا کو گوشۂ صحن میں چپکے چپکے روتے پایا تو بہت بے قرار ہوا اور زلیخا سے بصد اصرار اس گریہ و بکاہ کا سبب پوچھنے لگا۔ زلیخا پہلے تو ٹالتی رہی، آخر بار بار کے اصرار سے مجبور ہو کر روتے ہوئے یوں گویا ہوئی۔ ‘‘جب میں چیک اپ کرانے گئی تو…… ڈاکٹر نے مجھے….. اس نے مجھے…molest کیا۔’’
    زلیخا نے انگریزی کا جو لفظ بولا اس کا مطلب حسن کو معلوم نہ تھا۔ اگرچہ حسن زمانِ پاستان سے آیا تھا مگر بفضل ِخدا بلا کا ذہن پایا تھا۔ اس کی چھٹی حس نے گھنٹی بجائی اور کُل امور اس کے سامنے روزِ روشن کی طرح عیاں کر دیے کہ اگر ایک نوجوان طرحدار لڑکی ایک خرانٹ، گرگِ باراں دیدہ ڈاکٹر سے مل کر آتی ہے اور پھر تنہائی میں لاکھ لاکھ آنسو بہاتی ہے تو اس کا کیا مطلب ہو سکتا ہے۔ شک کے عوض حسن کو یقین ہو گیا کہ اس بدبخت، ناہنجار ڈاکٹر نے دست درازی کی ہو گی، کچھ نہ کچھ حیلہ بازی کی ہو گی۔
    اس حقیقت کا ظاہر ہونا تھا کہ مارے غیض و غضب کے حسن تھرتھر کانپنے لگا۔ ماموں زاد بہن کے ساتھ ایک لعین مرد کی دست درازی کی بات سن کر بھلا کیوں کرنہ تاب آئے اور انسان قتل پر کیوں نہ آمادہ ہو جائے؟
    پس حسن اچھل کر کھڑا ہوا اور چلاٌ کر بولا: ‘‘کہاں ہے میری تلوار و شمشیر، نیزہ و تیر؟ فوراً حاضر کرو کہ جا کر اس بدکارناہنجار کا کام تمام کروں، غیرت دار مردوں میں نام کروں۔’’
    زلیخا نے جو حسن کو اس طیش اور غیض و غضب میں دیکھا تو گھبرا کر بولی: ‘‘پلیز آہستہ بولو۔ دیکھو اتنا غصہ نہ کرو۔ پلیز بیٹھ جاؤ۔’’
    لیکن حسن اس وقت شمشیرِ عریاں تھا، غصہ ور مثل شیرژیاں تھا۔ بدماغ ہو کر بولا:
    ‘‘بیٹھ جاؤں؟ مجھے کیا سمجھ رکھا ہے کہ اتنی بڑی بات سن کر بھی میں بیٹھ جاؤں؟ میں چاہتا ہوں کہ اسی وقت جاؤں اور اس مردود کا گلا دباؤں۔ تلوارِ تیز کا ایسا تلا ہوا ہاتھ دوں کہ لاش پھڑکتی نظر آئے، پانی نہ مانگنے پائے۔’’
    زلیخا نے گھبرا کر حسن کا ہاتھ پکڑ کر اسے کرسی پر بٹھایا اور بصد ِمنت و سماجت بولی: ‘‘خدا کا واسطہ ہے اتنا شور نہ مچاؤ۔ کسی نے سن لیا تو میری عزت جائے گی اور تمہاری جان۔ ارادۂ قتل کے الزام میں پکڑے جاؤ گے۔’’
    یہ کہہ کر پانی حسن کو دیا، حسن نے ایک سانس میں پیا۔ ٹھنڈے پانی سے غیض و غضب کی آگ تھوڑی ٹھنڈی ہوئی مگر پوری طرح نہ بجھی۔
    زلیخا نے رنجیدہ ہو کر کہا: ‘‘اسی لیے میں نے کسی کو بتایا نہیں تھا۔ اسی ری ایکشن کا خدشہ تھا مجھے۔ تم نے مجھے کمزور لمحے میں پکڑ لیا۔ ورنہ میں تمہیں کبھی بھی نہ بتاتی۔’’
    حسن نے غصے سے کہا: ‘‘کیوں نہ بتاتی؟ اور میں تو پوچھتا ہوں اسی وقت کیوں نہ بتایا؟ میں اسی وقت اس عفریتِ پلید کی خبر لیتا۔ اسے قتل کرتا اور خدا سے اجر لیتا۔’’
    زلیخا نے سر جھکا لیا۔ کچھ دیر خاموش رہی، پھر آہستہ سے بولی: ‘‘پہلے تو مجھے کچھ سمجھ ہی نہیں آئی۔ میں اس سے پیٹ درد کا علاج کرانے گئی تھی۔ پیٹ تو اس نے چیک کرنا ہی تھا۔ ہاتھ سے بھی اور اسٹیتھوسکوپ سے بھی۔ لیکن پھر۔ پھر اس نے اور جگہ بھی۔ اور جب میں گھبرائی توکہنے لگا، آپ کے ریفلیکسز چیک کر رہا ہوں۔ گھٹنے پر ہتھوڑی مار کر چیک کیا، پاؤں پر بھی اور پھر۔ پھر اچانک اس نے۔۔۔۔۔۔’’

  • الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸  ۔ قسط نمبر ۱۲

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۲

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۲
    (
    سارہ قیوم)

     

    تیرہویں شب کا قصہ:

    تیرہویں شب کو شاہِ باذل نے محل سرا میں قدم رنجہ فرمایا تو شہرزاد کو بلوایا اور فرمائش کی کہ اپنی قصہ گوئی کا کمال دکھاؤ اور عاصم کے آئیلو یولو کے بعد حسن سوداگر بچے کے حال بتاؤ۔ عاصم اور اس کے آئیلویولو کا ذکر سن کر شہرزاد نے پہلے تو تھو تھو کیا، پھر یوں آغازِ گفتگو کیا کہ اے سلطانِ فریدوں بزم جب ماڈل ٹاؤن لاہور کے مکان نمبر چار سو بیس۔ ڈی میں صبح کا سورج طلوع ہوا تو اس نے حسن بدر الدین کو صحن میں مغموم بیٹھا پایا۔ ہر دم یاد اپنی مصیبت کا قصۂ جگر خراش تھا، دل پاش پاش تھا۔ اپنے حال پر غور و فکر میں مصروف تھا کہ زلیخا ایک قاب لیے اندر سے نکلی اور اس کے پاس آکر ٹھہر گئی۔ ایک پیالی قاب سے اٹھائی اور حسن کو دے کر کہا۔
    ‘‘
    لو چائے پیو۔’’
    حسن نے چونک کر نگاہ اٹھائی۔ پیالی چائے سے بھری ہوئی پائی۔ ٹھنڈا سانس بھر کر پیالی تھام لی اور اسے ہاتھ میں لے کر ازسرِنو مصروفِ سوچ بچا ہوا ، ملال و فکر کا گرفتار ہوا۔
    زلیخا چند لمحے کھڑی اسے دیکھتی رہی پھر اس کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ گئی۔ بیٹھتے بیٹھتے منہ سے ایک کراہ نکلی اور پیٹ پر ہاتھ رکھ کر دوہری ہوگئی۔ حسن نے گھبرا کر نگاہ اٹھائی تو دیکھاکہ زلیخا کا رنگ زرد ہے، پیٹ میں درد ہے۔ اسے کل رات کا حال یاد آیا جب دیوار پر لٹکے اس نے لات چلائی تھی جو زلیخا کے پیٹ میں لگی تھی۔ اپنی حرکتِ ناپسند یدہ یاد آئی، حسن کی آنکھ بھر آئی۔حال زار ہوگیا، دل بے قرار ہوگیا۔ بصد درد مندی و ہمدردی زلیخا سے کہا:
    ‘‘
    اے خاتونِ مہربان، خوش وضع و خوش بیان، یہ تیرا کیا حال ہے؟ مجھے اس حادثے کا سخت ملال ہے۔ گو کہ تجھے دکھ دینے کا کوئی ارادہ دل میں نہ تھا۔ پھر بھی اس حادثے کا میں قصور وار ہوں۔ معافی کا خواستگار ہوں۔’’
    زلیخا نے نظر اٹھائی تو دیکھا کہ حسن کے چہرے سے ملال کی کیفیت عیاں ہے۔ بشرے سے درد و غم کی حالت نمایاں ہے۔ اداس مسکراہٹ کے ساتھ بولی:
    ‘‘
    چھوڑو، جانے دو۔ میں جانتی ہوں تم جانتے بوجھتے کسی کو تکلیف نہیں پہنچاسکتے۔’’
    یہ کہہ کر چائے کا گھونٹ بھرا اور غور سے حسن کو دیکھتے ہوئے کسی قدر تجسس سے بولی:
    ‘‘
    لیکن یہ تو بتاؤ، تم رات کو کر کیا رہے تھے؟’’
    حسن نے ایک آہِ سرد بھری، بہ دلِ پُردرد بھری اور کہا:
    ‘‘
    گھر سے بھاگ رہا تھا۔’’
    زلیخا بےساختہ ہنس پڑی۔ بولی:
    ‘‘
    وہ تو خیر میں سمجھ ہی گئی تھی، لیکن کہاں بھاگ رہے تھے؟ اور زیادہ اہم سوال یہ کہ کیوں بھاگ رہے تھے؟ ایسا بھی کیا فیل ہونے کا غم کہ انسان گھر سے ہی بھاگ جائے؟’’
    حسن نے آبدیدہ ہوکر کہا:
    ‘‘
    میرا حال نہ پوچھو زلیخا کہ ستم رسیدہ ہوں، غم و الم رسیدہ ہوں۔ میری کہانی اور پھر وہ بھی میری ہی زبانی، مجھے آٹھ آٹھ آنسو رلائے گی اور طبیعت اس داستانِ غم کے بیان سے پریشان ہو جائے گی۔’’
    زلیخا نے ہمدردی سے حسن کو دیکھا۔ پھر بولی:
    ‘‘
    اچھا! بس اتنا ایموشنل ہونے کی ضرورت نہیں۔ چائے پیو اور مجھے بتاؤ کہ بھاگ کیوں رہے تھے؟’’
    بموجب ِہدایت حسن نے چائے کا گھونٹ بھرا اور زلیخا کو ایم آر آئی کی دہشت اور بنّے بھائی کی ہیبت کا تمام حال بلا کم و کاست کہہ سنایا۔
    زلیخا سوچتے ہوئے بولی:
    ‘‘
    ایم آر آئی سے ڈر گئے تم؟ چلو خیر یہ تو سمجھ میں آتا ہے۔ بہت سے لوگ جنہیں کلاسٹرو فوبیا ہوتا ہے، ایم آر آئی سے ڈرتے ہیں۔ تم بھی شاید اس لیے نہیں کرانا چاہتے ۔ لیکن یہ تو بتاؤ آخر تم بنّے بھائی سے اتنا ڈرتے کیوں ہو؟ وہ ذرا تمہیں ڈانٹتے ہیں اورتم ڈر کے مارے کانپنے لگ جاتے ہو ۔ اسی لیے وہ تمہیں اور بھی زیادہ bully کرتے ہیں۔’’
    ‘‘
    حسن نے رندھی ہوئی آواز میں کہا:
    ‘‘
    اگر گوشِ ہوش سے سنو تو عرضِ حال کروں، اظہارِ بالا جمال کروں کہ مجھ بدبخت کو ماں باپ نے ہتھیلی کا چھالا بنا کر پالا تھا۔ ماں صدقے واری جاتی تھی۔ باپ پیروں تلے ہاتھ دھرتا تھا۔ میرے باپ نے کبھی ڈانٹنا تو درکنار، کبھی مجھے سخت نظر سے بھی نہ دیکھا تھا۔ جس نے کبھی کسی کی اونچی آواز نہ سنی ہو، وہ بنّے بھائی سے ڈرے گا نہیں تو اور کیا کرے گا؟’’
    حسن کی یہ بات سن کر زلیخا حیران ہوئی اور بے یقینی سے پوچھا:
    ‘‘
    تم بدر پھوپھا کی بات کررہے ہو؟’’
    حسن نے اثبات میں سر ہلا کر کہا:‘‘ہاں!’’
    زلیخا نے ترس کھانے والے انداز میں کہا:
    ‘‘
    تم آٹھ مہینے کے تھے جب بدر پھوپھا کا انتقال ہوا تھا۔ بھلا آٹھ مہینے کے بچے کو کوئی کیا ڈانٹتا؟’’
    لیکن حسن کچھ نہ سن رہا تھا۔ باپ کے ذکر نے اس کے دل میں آگ لگا دی تھی۔ وہ بظاہر وہاں موجود تھا مگر اس کا دل و دماغ اپنے زمانے و وقت میں پہنچ چکا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا:
    ‘‘
    افسوس میں نے تمام زندگی اپنے ماں باپ کو کوئی خوشی نہ دی، کچھ خدمت نہ کی۔ ایک ساحرہ کے ظلم سے والدِ ماجد کا ارتحال ہوا، مجھے صدمہ و قلق کمال ہوا۔ دو سال کے اندر اندر میں نے دولت یوں اڑائی کہ دیوالہ نکل گیا۔ میری ماں یہ غم نہ سہار سکی۔ والدِ ماجد کے دو سال بعد وہ بھی تیرِ مرگ کا نشانہ ہوئی۔ باغ ِارم کی سیر کو روانہ ہوئی۔ وا دردا، واحسرتا، ہائے ہائے۔’’
    زلیخا نے حیران پریشان ہوکر پوچھا:
    ‘‘
    کون سے باغ کی سیر کو روانہ ہوئیں؟’’
    حسن خیالوں سے باہر آیا، بولا:
    ‘‘
    باغ ِارم۔’’
    زلیخا پریشان ہوکر سوچ میں پڑ گئی۔ پھر بولی:
    ‘‘
    اس نام کا تو کوئی باغ لاہور میں نہیں۔’’
    حسن نے کہا:
    ‘‘
    لاہور کا نہیں، یہ جنت کا باغ ہے۔’’
    زلیخا ہکا بکا ہوکر بے ساختہ بولی:
    ‘‘
    ہیں؟ تو سیدھے سیدھے کیوں نہیں کہتے کہ ڈیتھ ہوگئی؟ اینی وے، پھوپھو کا انتقال تو پھوپھا کے مرنے کے سولہ سال بعد ہوا تھا، جب تم میٹرک میں تھے ۔ مجھے لگتا ہے تمہاری لانگ ٹرم میموری پہ اثر پڑا ہے۔ شاید فیل ہونے کی بھی یہی وجہ ہو۔’’
    یہ باتیں ہورہی تھیں کہ پھاٹک کھلا اور کنیز اندر آئی۔ حسن اور زلیخا کو وہاں بیٹھے دیکھا تو خوش ہوکر بولی:
    ‘‘
    واہ جی واہ، بڑی خوشبوئیں آرہی ہیں چائے کی۔ زلیخا باجی اور چائے ہے؟ میں پی لوں؟’’
    زلیخا بے ساختہ مسکرائی اور مسکراہٹ دبا کر ہلکی سی ڈانٹ یوں بتائی۔
    ‘‘
    ہر وقت کھانے پینے کی فکر میں نہ رہا کرو۔ ابھی کام شروع کرو۔ جب دادی جان کے لیے بناؤں گی، اس وقت پی لینا ۔’’
    کنیز نے منہ بنایا اور زلیخا کی پیالی کی طرف اشارہ کرکے بولی:
    ‘‘
    تو پھر یہی دے دیں اگر بچی ہے تو، سردی ہوگئی ہے، دو گھونٹ پی لوں گی تو ذرا طاقت آجائے گی۔’’
    زلیخا نے اپنی پیالی اسے تھما دی اور وہ وہیں کھڑے کھڑے سڑکے مار کر چائے پینے لگی۔ حسن نے اس سے پوچھا:
    ‘‘
    اے کنیزِ سراپا تمیز، ہر دل عزیز ، کیا تو نے میرا پیغام میری معشوقہ رنگیں ادا، دلربا کو دے دیا تھا؟’’
    کنیز نے چائے کا بڑا سا گھونٹ بھرا اور بولی:
    ‘‘
    ہاں دے دیا تھا۔’’
    حسن نے اشتیاق سے کہا:
    ‘‘
    پھر اس نے کیا کہا؟ بہت روئی ہوگی؟ رو رو کر جان کھوئی ہوگی؟ــــ’’
    کنیز بے ساختہ ہنسی اور بولی:
    ‘‘
    نہیں، سفید جوڑا ڈھونڈ رہی تھیں۔ آپ کے قلوں پر پہننے کے لیے۔’’
    یہ سن کر حسن از حد ملول و مغموم ہوا۔ زلیخا نے اس کے رنج کا یہ عالم دیکھا تو کنیز کو ڈانٹ کر بھگایا اور حسن سے کہا:
    ‘‘
    اس کی باتوں میں نہ آیا کرو، بڑی فتنہ لڑکی ہے۔’’ یہ کہہ کر اس کے ہاتھ سے پیالی پکڑی اور کہا:
    آؤ ،اندر آ کے ناشتہ کرو۔’’
    یہ کہہ کر زلیخا کرسی سے اٹھی۔ اٹھتے اٹھتے منہ سے کراہ نکل گئی۔ بے اختیار ہوکر پہلو تھام لیا۔ حسن پریشان ہوا، سخت پشیمان ہوا۔ گھبرا کر بولا:
    کیا زیادہ تکلیف ہے؟’’
    زلیخا نے پہلو پکڑے پکڑے کہا۔
    ‘‘
    ہاں! لگتا ہے ڈاکٹر کو دکھانا پڑے گا۔ کچھ عرصے سے ویسے ہی پیٹ میں درد تھا، اب چوٹ بھی لگ گئی۔ کہیں اپینڈکس ہی نہ ہو، چیک کراناچاہیے۔’’ یہ کہہ کر زلیخا اندر چلی گئی۔

    ٭……٭……٭

  • عبادالرحمن

    عبادالرحمن

    عبادالرحمن 

    حریم الیاس

    (پہلا حصہ)

    پیش لفظ

    یہ کہانی ایک روشنی نامی لڑکی کے گرد گھوم رہی ہے جو والدہ کے انتقال کے بعد اپنے والد کے ساتھ اسلام آباد کے ایک چھوٹے سے علاقے میں رہتی اور اپنے ایک کالج فیلو اظفر کو پسند کرتی ہے۔ کہانی آگے اس وقت بڑھتی ہے جب روشنی ایک درس میںسورة الفرقانکے آخری رکوع کے حوالے سے بیان سنتی ہے جس میںعباد الرحمنیعنی رحمن کے بندوں کی خصوصیات بیان کی جاتی ہیں اور وہ لاشعوری طور پر ان خصوصیات پر اظفر کو تصور کرنے لگتی ہے کہ جیسے وہ ان تمام خصوصیات کا حامل ہے۔

    بعدازاں جب اس کے والد روشنی کی بے حد ضد پر اس کی شادی اظفر سے کر دیتے ہیں تو وہ جو کہعبادالرحمنکا خاکہ ذہن میں لیے اظفر کی ساتھ زندگی گزار رہی ہوتی ہے، ناامید ہو جاتی ہے ۔ جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ اظفر ویسا نہیں جیسا اس نے تصور کیا تھا۔ آہستہ آہستہ یہ پسند کی شادی گھریلو حالت اور معاشی بدحالی کی وجہ سے زوال کا شکار ہوجاتی ہے۔ اسی دوران روشنی ایک بیٹی کی ماں بھی بن جاتی ہے اور اظفر کے اچھا بن جانے کی امید لیے اس شادی کو قائم رکھتی ہے، لیکن یہ شادی اس وقت ناکام ہوتی ہے جب اظفر گھریلو جھگڑے کے دوران غصے میں آکر روشنی پر تیزاب پھینک دیتا ہے اور وہ اس دنیا میں اپنی بیٹی اور تیزاب کے بعد آنے والے تکلیف دہ مراحل کا سامنا کرنے لیے اکیلی رہ جاتی ہے۔ روشنی اپنی بیٹی کی ساتھ تنہا سماج کی سوالیہ نگاہوں کا سامنا کرتی ہے۔

    جب وہ اس بات پر یقین کر لیتی ہے کے اس دنیا میں کوئی عبادالرحمن کے خانے میں فٹ نہیں آتا تب صحیح معنوں میں عبدالہادی اور اس کے والدین جیسے اچھے لوگ اس کی زندگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ عبدالہادی نا صرف روشنی سے شادی کرتا ہے بلکہ اس کی بیٹی کو اچھا مستقبل بھی فراہم کرتا ہے۔ روشنی جو کہ ایک عرصے سے حالات اور معاشرے کی بدسلوکی کا شکار ہوتی ہے، تلخ بن جانے کے بہ جائے مثبت رہتی ہے اور اپنی بیٹی کی پرورش بھی مثبت انداز میں کرنے کے ساتھ ہمیشہ اس جملے کے ساتھ کرتی ہے کہ اسے دوسروں کے کام آنا ہے ہمیشہ اچھا بن کر رہنا ہے۔

    وہ اجالا کو سرجن بناتی ہے تاکہ وہ زندگی سے مایوس جلے ہوئے لوگوں کا علاج کرے اور انہیں وہ سہولیات دے جن سے اس وقت روشنی محروم رہی تھی۔ لیکن یہ کہانی اس وقت نیا موڑ لیتی ہے جب اجالا کے پاس اس کی (بہن (اظفر کی دوسری بیوی کی بیٹی ایسڈ اٹیک کا شکار ہو کر آتی ہے۔ یہ اجالا کی زندگی کا سب سے بدترین ایسڈ اٹیک کیس ہوتا ہے۔ اس لیے وہ اس لڑکی سے بہت قریب ہوجاتی ہے اور حقیقت سے بے خبر اس کا دل جمعی سے علاج کرتی ہے یہاں تک کہ اس لڑکی کے باپ یعنی اپنے سگے باپ کو اصرار بھی کرتی ہے کہ وہ اس کے مجرم کی خلاف کیس لڑے اور وہ اس لڑائی میں اس کے ساتھ ہے۔ اس دوران اس پر حقیقت آشکار ہوجاتی ہے، لیکن وہ اپنے باپ اور اپنی بہن سے اپنی ماں کا بدلہ لینے کے بہ جائے اُن کا ساتھ دیتی ہے اور روشنی کی اچھی پرورش کا مان رکھتے ہوئے عبادالرحمن کے خاکے پر پورا اترتی ہے۔

    ٭….٭….٭

  • الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸  ۔ قسط نمبر ۱۱

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۱

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۱

    سارہ قیوم

    بارہویں شب کا قصہ:

    داستانِ عبرت تو امان یعنی ہسپتال کا بیان:

    جب لیلائے شب زلفِ عنبر بارو مشک بو ُ کھولے ہوئے آئی، تو شہرزادِ شیریں زبان و سحر بیاں نے بعد شانِ نازنینی یوں کہانی سنائی کہ جب اس محرمِ راز و یارِ دم ساز نعیم نے رزلٹ آنے کی خبر سنائی تو اس صدمہء دلدوز سے نانی کا جگر پارہ ہوا، دل غم کا مارا ہوا ۔ایک چیخ مار کر بے ہوش ہو گئی، رنج و محن کے دوش بدوش ہو گئی۔
    زلیخا گھبرا کر نانی کے تلوے سہلانے لگی۔ حسن بھی گھبرا کر بھاگا اور نانی کے پاس بیٹھ کر ان کا سر اپنی گود میں رکھ لیا۔ بے حد درمندی سے پکارا: ‘‘اے مادرِ مہربان! میرا دنیا میں بجز تیرے کوئی نہیں۔ تجھے یہ کیا ہو گیا؟ تیرے اس صدمۂ علالت و بیماری سے زندگی مجھے جنجال ہے۔ اب تیری طبع مبارک کا کیا حال ہے؟’’زلیخا نے جو یہ باتیں سنیں تو بددماغ ہو کر بولی: ‘‘کتنا کہتی تھی کہ کلاسز اٹینڈ کرو، آوارہ گردی بند کرو اور کچھ پڑھ لو بیٹھ کے۔ نہیں سنی نا میری بات؟ اب اگر ذرا کچھ غیرت ہے تو چلو بھر پانی میں ڈوب مرو۔’’
    حسن بے حد حیران ہوا، پریشان ہوا۔ گھبرا کر بولا: ‘‘وہ سب تو ٹھیک ہے مگر غلام اس قدر تو سن لے کہ خانہ زاد کا کیا قصور ہے اور اس قدر برہم کیوں مزاجِ حضور ہے؟ یوں تو غلام ہر دم گنہگار ہے مگر معلوم تو ہو کہ اب کس جرم میں سزاوار ہے؟’’
    یہ سن کر زلیخا کو اور غصہ آیا، ڈپٹ کر بولی: ‘‘بند کرو یہ ایکٹنگ۔ کچھ احساس ہے کتنی بڑی بات ہے امتحان میں ناکام ہونا؟ کنویں میں گئی انجینئرنگ۔ اب ساری زندگی سیلز مین بنے رہنا۔’’
    زلیخا تو یہ باتیں سناتی تھی اور ڈانٹتی تھی مگر حسن بدرالدین نے صرف ایک ہی جملہ سنا تھا۔جب اس نے یہ سنا کہ امتحان میں ناکام ہو گیا ہے تو اس کا رنگ فق ہو گیا، کلیجہ شق ہو گیا۔ دل کو اس زور کا دھچکا لگا کہ غش آگیا۔
    بیٹھا تو گرا، گرا تو بے ہوش۔
    ہوش آیا تو خود کو برآمدے میں نانی کے تخت پر لیٹا پایا۔ نانی کو ہوش آچکا تھا اور وہ حسن کے پاس بیٹھی زار زار روتی تھیں۔ پاس زلیخا پانی کا کٹورا ہاتھ میں لیے کھڑی تھی اور بے بسی سے کبھی حسن کو کبھی نانی کو دیکھتی تھی۔ نعیم کہیں غائب ہو چکا تھا۔
    حسن نے نانی کو آٹھ آٹھ آنسو روتے دیکھا تو حال زار ہوا، دل بے قرار ہوا۔ دل میں سوچا، یہ مجھ سے کیا حرکتِ ناپسندیدہ بیش آئی کہ امتحان میں فیل ہو گیا۔ کاش موت آتی، امتحان سے پہلے ہی جان نکل جاتی تو اس مصیبت سے چھوٹ جاتا، یہ خرابۂ دہشت خیز دیکھنے میں نہ آتا۔ میرے باپ نے مجھے اعلیٰ سے اعلیٰ مدرسوں میں پڑھایا، تجارت کا ہر گُر سکھایا اور آج میں نے باپ کے نام کو بٹہ لگایا۔
    باپ کی یاد آئی، حسن بدرالدین کی آنکھ بھرآئی۔ بے قرار ہو کر رونے لگا، اشکوں سے منہ دھونے لگا۔ نانی نے جو اس کو یوں روتے دیکھا تو تڑپ کر اس کا سر سینے سے لگا لیا اور روتے ہوئے بولی: ‘‘ماں صدقے، ماں قربان۔ نہ میرا بچہ، نہ رو۔ پاگل ہیں سارے پروفیسر جنہوں نے تجھے فیل کر دیا۔ میں تیرے کالج جاؤں گی، خود بات کروں گی پروفیسروں سے۔ بھلا ایسے کیسے فیل کر دیا انہوں نے تجھے؟ تو ُ فکر نہ کر، تیری نانی زندہ ہے ابھی۔’’
    نانی کی اس محبت کو دیکھ کر حسن کے دل میں اور بھی شرمندگی کا زور ہوا، مارے ندامت کے زندہ درگور ہوا۔ لڑکھڑاتا ہوا وہاں سے چلا اور اپنے کمرے میں آکر پڑ رہا۔
    شام تک ملال والم گراں بار ہوا، حسن مارے قلق کے بیمار ہوا۔ ہلہلا کر تاپ چڑھا اور حال ناگفتہ بہ ہو گیا۔ نانی پاس بیٹھی بلائیں لیتی تھی، دعائیں دیتی تھی۔ چپکے چپکے سسکیاں بھرتی تھی، آنسو پونچھتی تھی۔ اس خاتونِ بزرگ و مقدس میں حسن کو اپنی مادرِ مہربان نظر آتی تھی، اس کو یوں گلوگیر دیکھ کر رنج کے سبب سے حسن کی جان نکلی جاتی تھی۔ زلیخا بار بار آتی تھی، کبھی چائے تو کبھی دوا لاتی تھی۔ حسن کچھ نہ کھاتا تھا، بے ہوش ہوا جاتا تھا۔ صیدِمصیبت و ادبار تھا، اجل سے دوچار تھا۔
    صبح صبح چند آوازیں حسن کے کان میں پڑیں اور اسے ہوش آیا۔ آنکھیں کھولنے کا یارا نہ تھا، سو آنکھیں موندے چپکا پڑا رہا اور نانی اور زلیخا کی آوازیں سنتا رہا جو چپکے چپکے ہلکی آواز میں ایک دوسرے سے باتیں کر رہی تھیں۔
    حسن نے سنا ، زلیخا کہہ رہی تھی: ‘‘آپ کیوں اٹھ کر آگئیں دادی اماں؟ رات دو بجے تو سوئیں تھیں۔ اس طرح تو آپ بھی بیمار ہو جائیں گی۔ آپ آرام کریں، میں ہوں حسن کے پاس۔’’
    نانی نے گلوگیر آواز میں جواب دیا: ‘‘مجھ بوڑھی کا کیا آرام اور کیا بیماری۔ میری زندگی میرے بچے کو لگ جائے۔ دیکھو ایک رات میں کیا حال ہو گیا ہے بے چارے کا۔’’ اتنا کہہ کر نانی کی آواز بھر آئی اور وہ سسکیاں لے کر رونے لگی۔
    زلیخا نے ٹھنڈی سانس بھری اور بولی: ‘‘پتا نہیں کتنے سبجیکٹس میں فیل ہوا ہے، نعیم آئے تو اس سے پوچھوں۔ ویسے جس طرح اس نے خبر دی تھی، لگتا ہے تین سے زیادہ میں ہی فیل ہوا ہے۔’’
    نانی تڑپ کر بولیں: ‘‘اللہ نہ کرے۔ ہاتھ ٹوٹیں ان پروفیسروں کے جنہوں نے میرے حسن کو فیل کر دیا۔ اتنا محنتی لائق فائق بچہ ایسے کیسے فیل ہو سکتا ہے؟’’
    زلیخا کچھ گو مگو کے عالم میں دبی آواز میں بولی: ‘‘ہو بھی سکتا ہے۔’’
    نانی برا مان گئیں: ‘‘کیوں ہو سکتا ہے؟ دیکھتی نہیں تھی کتنا پڑھتا تھا؟’’