Author: misbah116@hotmail.com

  • شریکِ حیات قسط ۳

    شریکِ حیات قسط ۳

    شریکِ حیات قسط ۳

    باب سوم

     

    زندگی میں وہ سب نہیں ہوتا جو ہم چاہتے ہیں۔ اگر ہوتا ہے تو کم از کم اس طرح نہیں ہوتا جس طرح ہم چاہتے ہیںاور وہ سب ہوجاتا ہے جو ہم نہیں چاہتے۔

    وہ اس سے پوچھ رہا تھا۔ ”سندھیا تم کیا چاہتی ہو؟”

    ”مجھے نہیں پتا ادا سارنگ، مگر کم از کم یہ سب نہیں جو ہورہا ہے۔ اچھا نہیں لگ رہا مجھے یہ سب،بہت برا لگ رہا ہے۔”

    اسے معلوم تھا وہ کنفیوزڈ ہے، سہمی ہوئی ہے اور فکر مند ہے۔ وہ اسے ایسی صورتِ حال میں مضبوط دیکھنا چاہتا تھا حالاںکہ اسے معلوم تھا وہ کس قدر کمزور اور معصوم سی لڑکی ہے۔ اس کے حوالے سے گھر بھر میں باتیں ہورہی تھیں۔ایک کے بعد ایک ایشو چل رہا تھا۔ ایسے میں اس کا سہما ہوا رہنا کوئی معمولی بات نہ تھی۔

    پورے دو دن خاموشی کی نظر ہوگئے تھے۔

    ایسا لگ رہا تھا جیسے گھر میںراقاص گھوم گیا ہو ۔ مائوں نے بچوں کو ڈرانے کے لیے جو خیالی بھوت کہانیاں بنائیں تھیں، راقاص بھی ان ہی میں سے کسی ایک کہانی کا کردار تھا جسے بدشگونی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔

    گھر میں مایوسی پھیلی کام بگڑنے لگے، یا مایوسی حد درجہ بڑھ گئی تو سمجھو گھر میں راقاص گھوم گیا۔

    سبھاگی ایسے وقتوں میں شور شرابے سے کام لے لیتی تھی اور جیجی افسردہ ہوجاتیں۔ حسن بخش غصہ اور مولابخش کو چپ لگ جاتی تھی۔اسے چپ کیا لگتی مانو گھر میں راقاص گھوم جاتا۔ بیٹی کا رشتہ بہ مشکل طے ہوا اور ہوکر سوالیہ نشان بن گیا کتنی بڑی بات تھی۔

    بیٹیوں سے نہیں ان کے نصیبوں سے ڈر لگتا ہے۔اسے جیجی کی بات یاد آگئی۔

    نصیب اس قدر مہنگا کیوں ہوتا ہے کہ اسے پیسے سے بھی نہیں خریدا جاسکتا۔ پیسے سے خریدا جاتا تو میں خود کو بیچ کر سندھو کا نصیب خرید لیتاوہ مایوس تھا،افسردہ تھا۔

    حسن بپھرا ہوا تھا۔ صادق کی خوب آئو بھگت کی تھی فون پر۔ اس نے فون بند کرکے رکھا ہوا تھا۔ حیدرآباد جارہا تھا تو جیجی نے روک دیا کہ جاکر تماشا نہ لگا شہر میں، کچھ دن ٹھہر جا کرتے ہیں۔ تب تک بھرائی آگئی روتی پیٹتی کہ بیٹے نے بغیر بتائے شادی کر رکھی تھی، وہ کیا کرسکتی تھی۔مگر اب گھر کی بات ہے، خاندان بھر میں پتا لگ گیا ہے کہ سندھیا کو صادق کی پوتی (دوپٹہ اوڑھنی) پہنائی ہے۔ ونی اور بنی (لڑکی اور فصل) عزت والا نہیں چھوڑتا۔ تم سندھیا میرے بل بوتے پر دو، عیش کرے گی۔ گائوں میں گھر کی مالکن بن کر رہے گی۔چابی تو اس کے پاس رہے گی نا۔ وہ موئی شبراتن کب تک، کہاں رہتی ہیں ایسی لڑکیاں گھر بسا کر۔مجھے تو میری سندھیا عزیز ہے۔

  • شریکِ حیات – قسط ۲

    شریکِ حیات – قسط ۲

    شریکِ حیات . قسط ۲

    باب دوم

    جتنا مشکل سوال تھا، اس سے کہیں زیادہ مشکل جواب لے کر آیا۔

    کتنا مشکل ہوتاہے کسی کو یہ یقین دلاناکہ وہ سچ بول رہا ہے۔ کسی کو چھوڑنے سے پہلے یہ جھوٹ کہنا کہ چھوڑ کر نہیں جائوںگا ہمیشہ تمہارے پاس رہوں گا۔

    اسے بھی یہی مشکل پیش آئی جب اس نے اپنے باپ کا ہاتھ پکڑ کر کہا:”میں باہر جائوںگا مگر کچھ عرصے کے لیے ، صرف کام کے لیے جارہا ہوں ابا۔”

    ”چھوڑنے کے لیے کوئی نہ کوئی بہانہ ہی تو ہوتا ہے ۔تو یہاں رہ کر بھی کام کرسکتا ہے سارنگ، تجھے پتا ہے نا سب کو کس قدر تیرا انتظار تھا۔ سب تیرے لیے ترسے ہوئے تھے اور پھر گوٹھ کو تیری کتنی ضرورت ہے۔” وہ جو سوچ رہے تھے وہ سب کچھ سا رنگ سے کہنا چاہتے تھے مگر مجبور تھے۔ 

    سارنگ کی ہلکی مسکراہٹ اب بھی تفکر میں نہ بدلتی تو کب بدلتی۔ ” فیصلوں سے پہلے سوچا جاتا ہے، تم نے یہ فیصلہ کرنے سے پہلے سوچا نہیں ۔”

    ”میں نے بہت سوچ کر یہ فیصلہ کیا ہے ابا سائیں اپنے اور آپ سب کے لیے۔”

    ”ہمارے مستقبل کے لیے ہم سب کے لیے۔جہاں اتنی ساری محنتیں کی ہیں، یہاں تک تو آگیا ہوں نا آپ کی دعا سے۔” 

    ”بہت لمبا انتظار سارنگ۔ بہت انتظار کیا ہے ہم سب نے پر اب نہیں۔ اب ڈسپنسری بسا،اپنے گوٹھ کی خدمت کر، اپنے لوگوں کو دیکھ۔ دیکھ کیسے سارے آس لگائے بیٹھے ہیں اور پھر ہم، ہم سب جوتارے گن گن کر راتیں کاٹتے ہیں تیرے لیے۔ ایک دفعہ پھر سے یہ انتظار بڑا اوکھا ہوجائے گا، اوّلاہوجائے گا۔”

    سارنگ کی چپ کو چپ لگ گئی تھی، اک خاموشی روح کے ساتھ جڑ گئی۔ ابا کا لہجہ دیوار بن گیا تھا سخت دیوار!

    اپنے لوگ، اُن کی محبتیں، ڈسپنسری، یہ سب اپنی جگہ، مگر ابا تھا، جس کا حکم ٹالنا دشوار تھا۔

    چاچا نے سارنگ کے چہرے کو دیکھا اور چہرے پہ چھائی دھند کو دیکھا۔ 

    دھند میں گم ہوتی ہوئی امید کو دیکھا، جب اس کی آنکھیں کچھ مرجھائیں تو وہ اپنی چارپائی سے اٹھا، چائے کی پیالی رکھ دی اور اس کے برابر آکھڑا ہوا۔

    ”سارنگ تو جائے گا،تو ضرور جائے گا۔ تو جو چاہتا ہے وہ کر، تجھے جو صحیح لگتا ہے، وہ ضروری ہی ہوگا۔”

    حسن بخش نے خفگی اور احتجاجی انداز میں مولابخش کو دیکھا اور بولا۔ ”بغیر صلاح مشورے کے تونے کب سے فیصلوں پر مہر لگانا شروع کردی ہے؟” حسن بخش کے لہجے میں غصہ تھا۔

    ”اوبھا! او ادا!ٹھنڈا ہو،ادھر آ۔” کندھے پر بازو پھیلا کے اپنے ساتھ لگایا۔

    ”بہتے پانی کو روکا نہیں جاتا میاں۔ رستہ دیا جاتا ہے۔اسے روک نہیں، اسے رستہ دے۔وہ تیرے ہی کنارے آلگے گا۔” آہستہ سے اُکسایا۔

    ”او نہیں مولابخش۔ یار بڑا انتظار کیا ہے میں نے اب بہت مشکل ہے۔”

    ”اب کچھ مشکل نہیں ہے بھائو، مشکل تب تھا۔”

    ”اب تو آسان ہے،اب سارنگ ہمارے سامنے ڈاکٹر بن کر آیا ہے۔”

    سارنگ نے سستی سے چائے اپنی ٹرے میں رکھ دی، ایک طرف ابا کی ضد اور دوسری طرف اس کا مستقبل تھا۔ سمجھ نہ آیا ابا کو مستقبل بنائے یا مستقبل کو ابا۔ ابھی یہ نہیں معلوم تھا کہ ابا مستقبل بن سکتا ہے یامستقبل ابا۔ دونوں کا اگر ٹکرائو ہو تو بڑا مشکل وقت آجائے گااور دونوں کا ٹکرائو ہونا ہی تھا۔

    مولابخش حسن کو اپنے ساتھ لگاکر آگے بڑھ گیا۔ غالباً وہ خفا ہوکر کمرے کی طرف جانے لگا تھا۔ ”او دیکھ بھائو حسن۔ ہماری خوشی تھی اسے ڈاکٹر بنانا اور اس نے ہماری خوشی پر اپنی جان مٹا دی۔اب اس کی خوشی ہے باہر جانا، تو جان لگادے پر انکار نہ کر۔

  • شریکِ حیات أ قسط ۱

    شریکِ حیات أ قسط ۱

    شریکِ حیات أ قسط ۱

    باب اوّل

    خواب دیکھنے کی عمر کچی ہوتی ہے۔

    سندھیا تو کتنی پیاری ہے!

    جو کھڑکی میں بیٹھ کر اپنے کبوتروں کے پر گنتی ہے، پنجرہ کھول دیتی ہے، کبوتر اڑ جاتے ہیں ایک آواز کے ساتھ۔

    مرغیوں کا ڈربہ کھول دیتی ہے، وہ صحن بھر میں پھرتی ہیں، ٹاں ٹاں کرتی ہوئی، تم سے پیار کرتی ہیں، تمہیں اپنی ماں سمجھتی ہیں۔

    ہائے تم کتنی اچھی ہو۔ پریوں کی کہانیاں پڑھتی ہو اور پیارے پیارے خواب دیکھتی ہو۔

    کھڑکی میں بیٹھ کر اپنے شہزادے کا انتظار کرتی ہو۔سندھیا تم تو سچ میں رانی ہو۔

    تیرے لیے شہزادہ آئے گا دور سے۔

    ”پیاری سندھیا !تم کتنی اچھی ہو۔” کھڑکی میں بیٹھی چڑیا کہتی ہے اور پیاری سندھیا کے چہرے پر گلابیاں بکھر جاتی ہیں ۔ 

    ٭…٭…٭

  • الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸  ۔ قسط نمبر ۷

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۷

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۷

    قصہ آئیلویُولُو کا

    آٹھویں رات:

    شہرزاد نے اپنی سحربیانی اور شیریں زبانی سے سات راتوں تک تو خدا خدا کر کے قتل سے جان بچائی۔ جب آٹھویں رات آئی تو شاہِ کیواں جاہ کو آداب بجا لائی اور یوں سلسلہ سخن کو شروع کیا کہ راویانِ طلیق اللسان نے بیان کیا ہے کہ حسن بدرالدین کو بدقسمتی اور خوبی طالع نے زار زار رلایا اور دیر تک پھوٹ پھوٹ کر رونا آیا۔ آخر کہا، لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔ وہ قادرِ مطلق ہے اور اس کے مرضی کے بغیر کسی کو کوئی قدرت حاصل نہیں۔ میں نے لاکھ جتن کیے کہ احوالِ مراد داستانِ جگر خراش لوگوں کو سناؤں، اپنی مصیبت کا کوئی حل پاؤں مگر کسی نے میری بات نہ سنی۔ سب بے سود ہے، انجام مراد و کشود کا بہر نوع مفقود ہے۔ اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ یہیں زندگانی گزاروں اور جنابِ باری کا شکر بجا لاؤں کہ بے شک اس زمانہء دہشت خیز میں پہنچایا پر ملک الموت سے نہ ملوایا۔ اب صابر شاکر رہوں اور مردانہ وار زندگی کی مشکلوں کا مقابلہ کروں۔ ہمت مرداں مددِ خدا۔

    خود سے یہ عہد کر کے حسن بدرالدین اس گھر میں رہنے لگا۔ وہ گھر جہاں محبت کرنے والی نانی تھی، ایک مسکین مرنجاں مرنج ماموں تھا، ایک بد مزاج و ترش کلام ممانی تھی۔ شعلہ رخسار و گلعذار زلیخا تھی اور بھولا بھالا منا تھا۔ ان سب پر سوا ممانی کا پچھلے شوہر سے بیٹا، غصہ ور اور ہتھ چھٹ بنا تھا۔ یہ انسان تو ویسے ہی تھے جیسے سب انسان ہوتے ہیں لیکن زندگی ویسی نہ تھی جیسی زمانہ ازل سے انسان گزارتا آیا ہے۔ قدم قدم پر جادو کے کرشمے تھے، نئی نئی چیزیں تھیں، ان کے نئے نئے نام تھے، عجب تعجب خیز کام تھے۔ اچانک بجلیاں جل اٹھتی تھیں، بیٹھے بیٹھے گل ہو جاتی تھیں اور گھر والے واپڈا نامی کسی شخص کو کوسنے لگتے تھے۔ دیوار پر لگے چوکھٹے میں ہر وقت کوئی نہ کوئی ہنگامہ بپا رہتا تھا۔ نانی جان فرمائش کرتیں۔ ’’ٹی۔ وی لگاؤ۔‘‘ اور چوکھٹا، آئینہ جہاں نما بن جاتا۔ کبھی پریاں رقص کرتیں تو کبھی پیرانِ فرتوت، عجب کرتوت، لڑتے جھگڑتے نظر آتے۔ ہر چھوٹا بڑا اپنی اپنی تختیاں اٹھائے پھرتا جسے وہ فون کہتے تھے۔ اس عجوبہ روزگار تختی پر بیٹھے بٹھائے کوئی دورہ پڑتا تھا اور گھنٹیاں بجنے لگتی تھیں۔ ادھر گھنٹی بجی، ادھر اسے کان سے لگایا اور مصروف گفتگو ہوئے۔ حسن کا فون بھی بجتا تھا مگر وہ ڈر کر اسے چھپا دیتا تھا، ہاتھ میں نہ لیتا تھا۔ یہ اور ایسی کئی اور چیزیں تھیں جن کی وجہ سے حسن حیران و بے قرار ہوتا تھا اور مثلِ زلف پریشان روزگار ہوتا تھا۔
    پہلا جھٹکا اسے اس وقت لگا جب معلوم ہوا کہ جمعہ کو چھٹی نہیں ہوتی، اتوار کی چھٹی کا رواج ہے۔ حسن حیران ہوا اور کہا لاحول ولا قوۃ ! یہ مسلمانوں کا راج ہے؟ دوسرا جھٹکا تب لگا جب معلوم ہوا کہ اب ملک کا نام ہندوستان نہیں پاکستان ہے۔ حسن کو یہ نام پسند آیا، مگر یہ راز سمجھ میں نہ آیا۔ تیسرا اور سب سے بڑا جھٹکا اسے تب لگا جب چھٹی کے روز ممانی نے اسے حکم دیا کہ مارکیٹ سے انڈے ڈبل روٹی لے آئے۔ یہ کہہ کر ایک کاغذ کا نیلے رنگ کا ٹکڑا اس کے ہاتھ میں تھمایا، اسے پھاٹک کا رستہ دکھایا۔ حسن گھبرایا اور بولا ’’یہ کیا ماجرا ہے؟ یہ مارکیٹ کیا بلا ہے؟ اس کاغذ کے ٹکڑے کا میں کیا کروں؟ کچھ رقم دیجئے کہ جا کر انڈے لاؤں۔‘‘
    یہ سن کر ممانی ناراض ہوئی اور بولی۔ ’’میرا تیرا کوئی مذاق نہیں۔ سیدھی طرح جاتا ہے یا اتاروں جوتی؟‘‘
    ناچار حسن بدرالدین وہاں سے بہ دل اندوہ گیں خستہ و حزیں نکل کھڑا ہوا اور سراسیمہ و پریشان سڑک پر چلنے لگا۔
    اچانک پیچھے سے آواز آئی۔ ’’حسن بھائی حسن بھائی رکیں۔‘‘ مڑا تو دیکھا منا بھاگتا ہوا آرہا ہے۔ وہ حسن کے قریب آیا اور پھولی سانس کے ساتھ بولا۔ ’’میں نے بھی مارکیٹ جانا ہے۔ آج میچ ہے میرا، بال نہیں ہے۔‘‘ یہ کہہ کر حسن کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔

  • الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸  ۔ قسط نمبر ۶

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۶

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۶

    چھٹی رات:

    چھٹی رات آئی تو شہرزاد نے کہانی یوں سنائی کہ حسن بدر الدین نے خود کو ایف سی کالج میں چار درویشوں کی مجلس میں پایا تھا، انہوں نے حسن کو سفوف نشہ آمیز پلایا تھا۔ لیکن پھر چوتھے درویش نے اپنی کہانی سنائی اور حسن کے ہوش و حواس نے سکندری دکھائی۔ گزرا زمانہ یاد آیا، حسن بدر الدین بہت پچھتایا۔ سگریٹ پھینک دی اور زار زار رویا۔ بقیہ درویش، کہ اب نشے میں تھے، اس کے ساتھ مل کر روئے، آخر ایک درویش قلندر نے کہا۔ ’’وہ سب تو ٹھیک ہے، لیکن ذرا اس سگریٹ کے پیسے دیتے جاؤ۔‘‘
    حسن نے آنسو پونچھے اور کہا۔ ’’دولت پیسہ سب غرقاب ہوا، میں خانہ خراب ہوا۔ اب درہم و دینار کیا اور روپیہ پیسہ کیا، میرے پا س پھوٹی کوڑی نہیں ۔ مفلس و بے زرہوں، یہاں ہوں پر دربدر ہوں۔‘‘
    اس پر درویش نے تیوری چڑھائی، چشم خشم دکھائی اور بولا۔ ’’پیسے نہیں تھے تو پہلے کہنا تھا، سگریٹ پینے کیوں بیٹھ گیا؟ خیر ہم یاروں کے یار ہیں۔ ادھار کرسکتے ہیں۔ کل پانچ سو روپے لادینا۔ اور ہاں، آئندہ پیسے نہ ہوئے تو مال نہیں ملے گا۔‘‘
    حسن ناراض ہوا اور بولا۔ ’’بے وقوف کسی اور کو بنانا۔ کیا سونا پیس کر دیا تھا اس نلکی میں؟ اور سونا بھی دیا تھا تو کیا؟ ایک روپیہ تولہ سونا تو میں اپنے ہاتھوں سے خریدتاآیا ہوں۔ اب زیادہ سے زیادہ پانچ روپیہ تولہ ہو گیا ہوگا۔ تم پانچ سو روپے کس چیز کے لیتے ہو؟ اگر دوستی روپے پیسے پر ہی ہے تو ایسی دوستی کو دور سے سلام ہے۔ یہ محبت برائے نام ہے۔‘‘
    چوتھے درویش نے خوش ہوکر باقی درویشوں سے پوچھا۔ ’’آج کیا پلایا ہے اس کو؟ بالکل ٹن ہوگیا ہے۔ مجھے بھی دو، میں بھی ٹرائی کروں۔‘‘
    نعیم نے فکر مند ہوکر کہا۔ ’’آج صبح سے ہی ایسی باتیں کررہا ہے۔ لگتا ہے گھر سے ہی کوئی سستا نشہ کرکے آیا تھا۔‘‘ پھر حسن سے بولا۔ ’’دیکھ بھائی، مفت خوری کا کوئی سین نہیں ہے یہاں۔ پیسے لے کے آیا کر، خود بھی پیا کر، ہمیں بھی پلایا کر۔‘‘
    ان کی یہ گفتگو سنی تو ان کی صحبت سے حسن کی طبیعت نفور ہوئی، پچھلی پاس داشت ومحبت سب کافور ہوئی۔ اچھل کرکھڑا ہوا اور ناراض ہوکر بولا۔ ’’بس میں سمجھا، تم سب مطلب کے یارہو، بے حد شریر قلندرانِ چہار ہو۔ ایسی دوستی سے خدا بچائے۔ اب بندہ روانہ ہوتا ہے، دیوانگی سے ہاتھ چھڑا، فرزانہ ہوتا ہے۔‘‘
    یہ کہہ کرپاؤں پٹختا وہاں سے چلا۔ نعیم اٹھ کر اس کے پیچھے دوڑا اور اس کا بازو پکڑ کر بولا۔
    ’’ٹھہر، میں چھوڑ آتا ہوں۔ پچھلی دفعہ بھی چار سگریٹیں پی کر گیا تھا اور ایکسیڈنٹ کرا بیٹھا تھا۔ موٹر سائیکل ٹوٹل ہوگئی تھی۔ اب ویگن میں جائے گا تو اس حال میں کسی بس کے نیچے آجائے گا۔‘‘
    حسن نے بازو چھڑانے کی کوشش کی مگر اس نے زور سے پکڑ لیا اور گھسیٹ کر لے گیا۔
    تھوڑی دیر بعد حسن بدر الدین نعیم کے ساتھ ایک لوہے کے ویسے ہی گھوڑے پر سوار سڑک پر رواں دواں تھا جیسا گھر میں ماموں نے چلایا تھا۔ ویسے ہی بے شمار گھوڑے اور چرخے اور بغیر گھوڑے کی گاڑیاں سڑک پر چلتی تھیں۔ ان کے شور سے کان پر پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ دھوئیں اور گرد و غبار کا عجب حال تھا، سانس لینا محال تھا ۔ مصیبت میں گرفتار تھا، زندگی کشتی تھی اور یہ منجدھار تھا۔
    خدا خدا کرکے راستہ کٹا اور نعیم حسن بدر الدین کو ماڈل ٹاؤن کے اس مکان کے پھاٹک پر اتار کر پھٹ پھٹ کرتا چلا گیا۔ حسن اندر آیا تو نانی کو گھر کے بڑے کمرے میں بیٹھا پایا۔ اکیلی بیٹھی مٹر چھیلتی تھی۔ حسن پاس جا بیٹھا اور ادب سے سلا م کیا۔ نانی نے واری صدقے ہوکر جواب دیا۔ پھر کہنے لگی۔ ’’آج جلدی آگیا میرے چاند۔ آج پڑھائی نہیں کرنی تھی دوستوں کے ساتھ؟‘‘ پھر جواب کا انتظارکئے بغیر بولی ۔ ’’سارا دن تیری فکر رہی۔ وہ کمبخت بنّا، ہاتھ ٹوٹیں اس کے، اس زور سے مارا تھا میرے لعل کو کہ مجھے لگا چوٹ تجھے نہیں مجھے لگی ہے۔‘‘
    اس شفقت و محبت سے حسن کا دل بھر آیا۔ بے اختیار ہوکر اس نے نانی کی گود میں سررکھ دیا۔ نانی پیار سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگی۔ بلائیں لینے لگی۔
    حسن نے پوچھا۔ ’’یہ بنّے بھائی کون ہیں؟‘‘

  • الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸  ۔ قسط نمبر ۵

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۵

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۵

     

    چھٹی رات قصہ چہار درویش: عروسِ پری چہرہ و پری رُو، نسرینِ تن و قوسِ اَبرُو ملکہء شہرزاد یوں داستاں سرا ہوئی کہ اے سلطانِ جم مرتبہ، قدرِ قدرت، سنجر منزلت، کہانی حسن بدرالدین کی نے یہ موڑ لیا تھا کہ شہرِ مینو سواد لاہور کے ایک مقام بنامِ ایف سی کالج میں حسن بدر الدین کو قسمت نے پہنچایا تھا اور وہاں اس نے ایک سنسنان باغ بنامِ بوٹینکل گارڈن میں خود کو چار قلندر درویشوں کی مجلس میں پایا تھا۔ وہاں انہوں نے کسی سفوف کی بھری نلکی سلگا کر حسن کے منہ سے لگائی تھی، آتشِ شوق بھڑکائی تھی۔ اس کے کش لگانے سے ایسا سرور ہوا کہ رنج و غم دور ہوا۔ حسن نے سوچا خدائی نعمت ملی، دن کیا ہے، روزِ عید ہے۔ یہ جگہ خانہء امید ہے۔ اس راح روح ، کیمیا ئے فتوح کی دو تین مزید نلکیاں مل جائیں تو دنیا باغِ ارم بن جائے گی۔ ان چار درویشوں کی محبت نے اس کے دل میں جگہ پائی اور حسن بدر الدین کی خوب بن آئی۔پوچھا ’’تم کون ہو اور کہاں سے آتے ہو؟ یہاں کیونکر آنا ہوا اور کہاں جاتے ہو؟ مجھ سے اپنا سب حال بیان کرو اورکُل راز عیاں کرو، کہ تم مجھے دل و جان سے زیادہ عزیز ہو۔ اتنی ہی دیر میں معلوم ہوگیا کہ خوش سلیقہ و باتمیز ہو۔‘‘ یہ محبت بھری تقریر سن کر پہلے درویش نے جو حسن کے دائیں ہاتھ بیٹھا تھا اور جس کی چگی داڑھی کے بال سوئیوں کی طرح کھڑے تھے، ایک ٹھنڈی آہ بھری اور بولا:’’ہم میں سے ہر ایک کی ایک ایک کہانی ہے ۔ایسی عجیب و غریب کہ پہلے کبھی دیکھی نہ سنی۔ تمہارا اصرار ہے تو سناتے ہیں۔ وقت اچھا کٹ جائے گا۔ ویسے بھی میرے موبائل کی بیٹری لو ہے۔ اب کرنے کو کچھ نہیں۔ تو لو سنو میری کہانی۔‘‘

    درد بھری کہانی، پہلے درویش کی زبانی:

    پہلے درویش نے اپنی داستان یوں سنائی کہ میں ایک کلرک کا بیٹا ہوں۔ اللہ کی طرف سے آئے تو بندہ جھیل جائے، جو انسان خود اپنے اوپر مصیبت ڈالے تو ا س کا کیا علاج؟ اللہ کی طر ف سے سات پشتوں نے غربت کے علاوہ کسی چیز کا منہ نہ دیکھا تھا لیکن قسمت نے موقع دیا اور میرے ابو سرکاری محکمے میں کلرک لگ گئے۔ لیکن ابو کو ایمانداری کی لاعلاج بیماری لگ گئی۔ جس گھر میں ہن برسن سکتا تھا، وہاں برسات کے موسم میں چھت ٹپکنے کے علاوہ کچھ نہ برسا۔ سونے پر سہاگہ، میرے ماں باپ نے مجھے انجینئر بنانے کا خواب دیکھنا شروع کردیا۔ میں اور میری بہن دو ہی اولادیں تھیں لہٰذا سب ارمانوں کا نشانہ میں ہی بنا۔ بہن کو سرکاری سکول میں ڈالا گیا اور مجھے انگریزی سکول میں۔ میرے خرچے پورے کرنے کے لئے میری ماں نے لوگوں کے گھروں میں کام کرنا شروع کردیا۔ اٹھتے بیٹھتے مجھے یہ سننے کو ملتا تھا کہ یہ ساری محنت و مشقت ا س لیے کی جارہی ہے تاکہ میں انجینئر بنوں اور نہ صر ف خاندان کا نام روشن ہو بلکہ سارے دکھ دلدردور ہوں اور بہن کی اچھی سی جگہ شادی ہوسکے۔ اور میں ؟ اب آپ سے کیا چھپانا یارو، مجھے انجینئرنگ میں خاک دلچسپی نہیں۔ انٹرسٹ ہے تو صرف ایک چیز میں: کھانااور صرف کھانا۔۔۔پکانا، پیش کرنا، سجانا، کھانا۔۔۔ مجھے کھانے سے متعلق ہر چیز سے عشق ہے۔ اپنے باپ سے چھپ کر تین محلے چھوڑ کر ایک تندو پر نوکری کرلی۔ گرمیوں کی چھٹیاں تھیں، میں مزے سے تندور جاتا ، روٹیاں لگاتا اور وہاں کھانا پکتے دیکھتاا ور سیکھتا۔ ایک دن میرے باپ نے مجھے دیکھ لیا۔ اس دن میرا باپ بہت رویا۔ ماں بھی روئی، بہن بھی روئی۔ صرف میں نہیں رویا۔ میں نے ماں باپ سے صاف کہہ دیا کہ مجھے کمپیوٹروں سے نفرت ہے اور کھانے سے عشق۔ میں کمپیوٹر انجینئر نہیں شیف بننا چاہتا ہوں۔ صدمے سے میرے باپ کو ہارٹ اٹیک ہوگیا ۔ وہ دن اور آج کا دن میں ان کے سامنے کھانا پکانے کا نام نہیں لیتا۔ ویسے یوٹیوب پر میں نے بہت سے کوکنگ چینل سبسکرائب کررکھے ہیں۔لیکن انہیں دیکھ دیکھ کربس آہیں بھرتا ہوں اور کڑھتا ہوں۔ زبردستی کی انجینئرنگ گلے پڑی ہے ، نہ رکھی جاتی ہے نہ چھوڑی جاتی ہے۔ مزے کی با ت یہ کہ میری بہن کمپیوٹروں کی دیوانی ہے لیکن اس کو زبردستی کھانے پکانے پر لگایا جاتا ہے کہ آگے کام آئے گا۔ وہ میری سب کتابیں پڑھتی ہے ، میری اسائنمنٹس وہی بناکر دیتی ہے۔ اسی کی وجہ سے میں اب تک پاس ہوتا آیا ہوں۔ لیکن میرا دل مر گیا ہے۔ جب یہ سوچتا ہوں کہ ساری زندگی کمپیوٹر کے آگے بیٹھ کر گزارنی پڑے گی تو خودکشی کرنے کو دل چاہتا ہے۔ پھر اپنے بوڑھے باپ اور بیمار ماں کا خیال آتا ہے تو رک جاتا ہوں۔ بس دوستو! اس غم کو بھلانے کے لئے ڈرگزلیتا ہوں۔ پھر یہ غم ستاتا ہے کہ ان ڈرگز کا خرچہ میری ماں اپنی ہڈیاں توڑ کر دے رہی ہے تو خود سے نفرت ہونے لگتی ہے۔ اس دکھ کو بھلانے کے لئے مزید ڈرگز لیتا ہوں۔ اور یوں یہ شیطانی چکر چلتا رہتا ہے جس میں میں پھنس گیا ہوں۔ یہ کہہ کر وہ مردِ درویش رونے لگا، طنابِ ضبط کھونے لگا۔ بصد دقت آنسو پونچھے، اپنی نلکی کا آخری کش لگایا اور کہا۔ ’’یار ایک سگریٹ اور دینا۔‘‘پھر دوسرے درویش کی طرف اشارہ کرکے کہا۔ ’’اب تم اپنی داستان سناؤ۔‘‘

  • الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸  ۔ قسط نمبر ۴

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۴

    الف لیلہ دو ہزار اٹھارہ داستان ‘‘ 

    چوتھی رات

    دیکھنا حسن بدر الدین کا جادو کے کرشمے اور ملنا صغیر و کبیر سے: 

    چوتھی رات ہوئی تو بادشاہ شہرزاد کے پاس آیا اور حکم دیا کہ کل کی کہانی کا بقیہ حصہ ہم کو سناؤ اور دو گھڑی ہمارا دل بہلاؤ۔ وہ رشکِ پری بہ صد نازِ دلبری بولی کہ بادشاہ کی خوشی ہرطرح منظور ہے۔ ہم اس میں راضی ہیں جو مرضیءحضور ہے۔ خدا جہاں پناہ کو خضروالیاس کی عمر عطا فرمائے اور دشمنوں کی ایک تدبیر نہ چلنے پائے۔
    نہ کیوں ہو تیرے دستور العمل سے شادماں عالم
    کرم کرنا تیری عادت، جفا سے تجھ کو بیزاری
    مقابل میں ترے خواہانِ زینت ہواگر دشمن
    کرے زخموں سے تیری تیغ اس کے تن پہ گلکاری
    اس تقریرِ خوشامدانہ کے بعد شہرزاد یوں گلفشاں ہوئی، زمزہ سنج بیاں ہوئی کہ جب وہ مردِ مسلمان، خوش آواز و خوش الحان حسن بدر الدین کے گلے لگ کے زارزار رونے لگا، اشکوں سے منہ دھونے لگا تو حسن کا دل جو پہلے ہی رنج والم سے معمور تھا، مزید بھر آیا اور وہ بھی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ بہت دیر تک دونوں روتے رہے۔ جب گریہ وزاری اور آہ و بے قراری سے دل کا بوجھ کچھ ہلکا ہوا تو حسن نے پوچھا۔ ’’آپ کون ہیں اور زار زار کیوں روتے ہیں؟ کیا میری طرح آپ کے بھی نصیب سوتے ہیں؟‘‘
    یہ سن کر اس مردِ خوش گلو نے سرد آہ بھری اور کہا ۔’’کیا پوچھتے ہو بیٹا۔ یہ تو وہ سوال ہے جو میں آج تک خود سے پوچھتا آیا ہوں۔ میں کون ہوں، کہاں ہوں ، جہاں ہوں وہاں کیوں ہوں۔ بلھیا کی جاناں میں کون؟‘‘
    یہ تقریرِ دلپذیر سن کر حسن مزید چکرایا، کچھ سمجھ نہ پایا۔ اس مردِ مسلمان نے جو حسن کے چہرے پر ایک رنگ آتے ایک جاتے دیکھا تو ہمدردی سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور پوچھا۔ ’’خیر، مجھے چھوڑو اپنی سناؤ ۔ سب خیر تو ہے۔ اتنی رات گئے کیوں جاگتے ہو؟ کیا آج پھر ممانی نے کچھ کہہ دیا؟‘‘
    حسن نے بصدِ عاجزی اپنا حال عرض کیا اور کہا۔ ’’ایک زنِ مکارہ کہ ساحرہ بدانجام تھی، نے میرے باپ کو بزورِ جادو بکرابنایا، ملکِ عدم کو پہنچایا۔ مجھے زمانے کی گردش میں پھینکا اور میں یہاں آن پہنچا۔ اب کیونکر یہاں سے جاؤں کہ بستہ ء تقدیر ہوں۔ سلسلہ ء قضا میں اسیر ہوں۔ یہ بڑی طویل کہانی ہے، خلاصہ یہ کہ موت کی مہمانی ہے۔‘‘
    وہ مردِ بزرگ غور سے حسن کی داستان سنتا تھا، بولا ’’اچھا اچھا، کالج میں ڈرامہ کررہے ہو؟ خوب، بہت خوب ۔ اچھے ڈائیلاگ ہیں۔ کس کی تحریر ہے؟ آغا حشر؟ چلو اسی بہانے کچھ کتابیں ادب کی پڑھوگے۔ ذہن وسیع ہوگا۔ آج کل کتابوں کو کون پوچھتا ہے۔ دن بھر دکان پر بیٹھا مکھیاں مارتا ہوں اور کتابوں سے گرد جھاڑتا ہوں۔ افسوس کیسے کیسے گوہرِ نایاب گاہکوں کے انتظار میں بوسیدہ ہورہے ہیں۔‘‘
    یہ کہہ کر وہ مردِ پیر آبدیدہ ہوا، اپنی خوش کلامی سے حسن کا پسندیدہ ہوا۔ حسن بدر الدین کہ سودا گر بچہ تھا، دکان کا نا م سن کر کان کھڑے ہوئے، پوچھا۔ ’’کتابوں کی دکان ہے آپ کی؟‘‘
    وہ بولا۔ ’’لیجیے سنیے اب افسانہء فرصت مجھ سے۔
    آپ نے یاد دلایا تو مجھے یاد آیا
    ٹھیک کہتے ہو۔ کتابیں نہیں کہنا چاہیے۔ زروجواہرہیں، لعل و گوہر ہیں، بزرگوں کے نسخے ہیں۔ لیکن کوئی ان کا قدر دان نہیں۔ بِکری نہ ہونے کے برابر ہے۔ اوپر سے مہنگائی ہے کہ بڑھتی جاتی ہے۔ بجلی کا بل اس مہینے اتنا آیا ہے کہ سوچتا ہوں بجلی کٹوادوں۔ آج سارا دن واپڈا کے دفتر کے چکر لگاتا رہا ہوں۔ رشوت مانگتے۔۔۔‘‘ ابھی یہ تقریر جاری تھی کہ یکایک کمرہ روشنیوں سے جگمگا اٹھا ۔ وہ مردِ خوش آوا ز بولا۔ ’’لو آ گئی محترمہ لائٹ۔ لو بیٹا اب اپنے ماموں کو اجازت دو۔ تم بھی جاکر سوجاؤ، صبح کالج جانا ہوگا۔ ‘‘

  • بال کی کھال

    بال کی کھال

    بال کی کھال
    غلام رسول زاہد

    شیخ کریم کا شادی ہال
    شادی ہال میں شیخ اقبال

    شیخ اقبال کے ہاتھ میں تھال
    تھال کے اوپر سُرخ رومال

    سُرخ رومال کے نیچے دال
    دال کے اندر کالا بال

    بال کی خوب اُتاریں کھال
    شیخ کریم اور شیخ اقبال
    ٭….٭….٭

  • پوپو کا عزم – ڈاکٹر بلّو بلونگڑا کا کلینک

    پوپو کا عزم – ڈاکٹر بلّو بلونگڑا کا کلینک

    ڈاکٹر بلّو بلونگڑا کا کلینک
    پوپو کا عزم
    نوید احمد خان

    الف نگر میں آج بہت خوش گوار صبح تھی۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ ڈاکٹر بلّو بلونگڑا اپنا ٹریک سوٹ پہنے واک کررہے تھے۔ جب کافی دیر انہوں نے واک کرلی تو ایک بنچ پر بیٹھ گئے جہاں بچے کھیل رہے تھے۔
    ڈاکٹر بلّو مسکراتے ہوئے انہیں دیکھنے لگے۔ وہ ”پکڑم پکڑائی“ کھیل رہے تھے۔ پوپو پانڈا بھاگ بھاگ کر سب کو پکڑنے کی کوشش کررہا تھا لیکن تھوڑی تھوڑی دیر بعد اُس کا سانس پھول جاتا اور وہ رک کر ہانپنے لگتا۔ باقی بچے پوپو کا مذاق اُڑاتے۔
    ”پوپو بھائی! تم کوئی اور کام کرو، یہ تم سے نہیں ہوگا۔“ ببلو بندر نے کہا تو سب بچے ہنسنے لگے۔
    ”جب پوپو بھائی بھاگتے ہیں تو اِن کا پیٹ کیسے ہلتا ہے۔“ للّو لومڑ کی آواز پر سب نے قہقہہ لگایا۔ ڈاکٹر بلّو بلونگڑا یہ سب سن رہے تھے۔ وہ اُٹھ کر بچوں کے پاس آگئے۔ بچوں نے انہیں سلام کیا۔ ڈاکٹر بلّو بلونگڑا نے سلام کا جواب دیا اور پوپو پانڈا سے باتیں کرنے لگے۔
    ”دیکھیں نا ڈاکٹر انکل! یہ سب میرا مذاق اُڑا رہے ہیں۔“ پوپو نے منہ لٹکا کر کہا۔
    ”بھئی یہ تمہارا نہیں بلکہ تمہارے اس تھیلے کا مذاق اُڑا رہے ہیں۔“ ڈاکٹر بلّو نے اُس کے پیٹ پر انگلی مارتے ہوئے کہا تو سب بچے کھلکھلا کر ہنس پڑے۔
    ”ڈاکٹر انکل! آپ بھی میرا مذاق اُڑا رہے ہیں؟“ پوپو پانڈا اب واقعی رونے والا ہوگیا تھا۔
    ”بھئی کسی نے تمہارا مذاق نہیں اُڑایا بلکہ یہ تو تم خود ہو جس کی وجہ سے یہ سب ہورہا ہے۔“ ڈاکٹر بلّو نے پیار سے کہا۔
    ”میں نے کیا کِیا ڈاکٹر انکل؟“ پوپو پانڈا اُترے ہوئے منہ سے بولا۔
    ”دیکھو بھئی! جب تم خود نہیں اپنا خیال رکھو گے تو دوسرے تمہارا خیال کیوں کریں گے؟ یہ جو تم خود اتنے موٹے ہوگئے ہو تو دوسرے تو کہیں گے نا۔“ ڈاکٹر بلّو نے بات شروع کی تو پوپو انہیں غور سے دیکھنے لگا۔
    ”ابھی تم چھوٹے ہو، چھوٹے بچے بہت Activeہونے چاہئیں۔ اگر اتنی سی عمر میں ہی تم اتنے موٹے ہو جاﺅ گے تو تمہیں اور بھی بہت سی بیماریاں لگ سکتی ہیں۔“ ڈاکٹر بلّوبلونگڑا نے اسے سمجھایا۔
    ”کون سی بیماریاں انکل؟“ پوپو نے آنکھیں بڑی کرتے ہوئے پوچھا۔
    ”ابھی تم بچے ہو لیکن یہی حالت رہی تو تمہیں بلڈ پریشر، شوگر اور ہائی کو لیسٹرول کی بیماریاں لگ سکتی ہیں۔“
    ”انکل! میں نے تو یہ بیماریاں کبھی نہیں سنیں۔“ پوپو معصومیت سے بولا۔
    ”بیٹا! یہ بہت خطرناک ہوتی ہیں۔ ان سے پھر دوسری بڑی بڑی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔“ ڈاکٹر بلّو بلونگڑا نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
    ”اوہ! بڑی بڑی بیماریاں! ڈاکٹر انکل میں اپنا یہ موٹاپا کیسے کم کرسکتا ہوں؟“ پوپو نے پریشان ہوتے ہوئے کہا تو ڈاکٹر بلّو بھی مسکرا دیے۔
    ”پوپو! یہ زیادہ مشکل نہیں ہے۔ بس اگر تم یہ برگر، شوارمے، پیزا، سموسے اور بوتلیں وغیرہ چھوڑ دو، وقت پہ کھانا کھاﺅ، رات سونے سے پہلے کچھ نہ کھاﺅ، کھانے کے بعد پانی نہ پیو بلکہ کھانے سے پندرہ منٹ پہلے پی لو تو تم کامیاب ہوسکتے ہو۔“ ڈاکٹر بلّو نے اسے سمجھایا۔
    ”ڈاکٹر انکل! مجھے اتنا کچھ چھوڑنا پڑے گا؟“ پوپو اُداسی سے بولا۔
    ”پوپو بیٹا! یہ چیزیں نقصان دہ ہیں۔ اِن کے بجائے آپ پھل اور جوسز استعمال کرو۔ اس سے نہ صرف آپ ٹھیک ہو جاﺅ گے بلکہ آپ خود کو activeبھی محسوس کرو گے۔“ ڈاکٹر بلّو نے اسے نہایت تفصیل سے چیزوں کے فائدے اور نقصان بتائے۔
    ”اور ہاں! اگر دن میں تھوڑی دیر تم پارک میں واک کرلیا کرو تو تم اور بھی جلدی ٹھیک ہو جاﺅ گے۔“ ڈاکٹر انکل کی یہ بات سن کر وہاں موجود تمام بچے مسکرا دیے۔
    ”اور بچو! تم بھی خیال کرو۔ کسی کا دل نہیں دکھانا، چاہے وہ مذاق ہی میں ہو، یہ نہایت بری بات ہے۔“ ڈاکٹر انکل نے باقی بچوں کو بھی پیار سے سمجھایا۔
    ”سوری انکل! ہم آئندہ اس بات پر عمل کریں گے۔“ سب بچے ایک آواز میں بولے۔
    ”بلکہ میں اپنا وزن کم کرکے تم لوگوں کو بولنے کا موقع ہی نہیں دوں گا۔“
    پوپو نے خوش ہوکر کہا تو وہاں کھڑے سبھی لوگ ہنس پڑے۔
    ٭….٭….٭

  • سوئ بار

    سوئ بار

    سوئِ بار
    (افسانہ)
    میمونہ صدف

    ٹھنڈی وڈاں گاو ¿ں کے رشک خان کی پوتی گاو ¿ں کی اونچی نیچی پگڈنڈیوں پہ اچھلتی کودتی زمین کی دراڑوں کو دیکھتی جاتی ہے ۔ گہری اور بڑی دراڑیں جنھوں نے زمین کو اندر تک چیر ڈالا تھا۔ اماں بتاتی تھی کہ یہ دراڑیں برسوں پہلے تب پڑی تھیں جب اس علاقے میں شدید بھونچال آیا تھا ، آبادی کی آبادی تلپٹ ہوگئی تھی ۔
    ”اماں بھونچال کیسے آتا ہے؟“ اس کی آٹھ جماعتیں پڑھی ماں بتاتی کہ جب زیرِ زمین پلٹیں سرکتی ہیں تو بھونچال آتا ہے ، زمین ہچکولے کھانے لگتی ہے اور دادا ایسے میں ٹھنڈی آہیں بھرتے کہا کرتے تھے کہ جب زمین پہ بوجھ بڑھ جاتا ہے، تو زمین اس بوجھ کو اتار پھینکنے کو انگڑائیاں لیتی ہے ۔ اس کا ننھا ذہن سوچتا کہ زمین پر آخر کس شے کا بوجھ ہے ؟ انسانوں اور ڈھورڈنگروں کایا شہرکی بڑی بڑی عمارتوں کا ؟
    دادا کہتے تھے ۔ ” جب حضرت انسان حد سے تجاوز کرنے لگتا ہے تو پہاڑ دھرتی بنانے والے کے حضور گزارش کرتے ہیں کہ ایک حکم دیں اور وہ سرک جائیں ، ہوا بھی سوال بن کر کھڑی ہو جاتی ہے کہ آیا وہ سب اڑا لے جائے ، پانی چاہتا ہے کہ وہ سب بہا لے جائے لیکن قدرت خاموش رہتی ہے ۔بنانے والا حکم نہیں دیتا ، مہلت دیتا ہے۔۔ تبھی آدم شیر ہوتا ہے ۔تباہ ہو کر بھی اصلاح نہیں کرتا ، پچھتاتا نہیں ہے۔ سوال کرتا ہے ، اکڑتا ہے اور پھر سے وہی دہراتا ہے ۔“
    رشک خان کی پوتی ناسمجھی سے بس اثبات میں سر ہلا دیتی ۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ دادا کیسی باتیں کرتے ہیں اور رشک خان ماضی میں کھو جاتا جہاں برسوں پہلے زمین کو سرکنے کا حکم جاری ہو ا تھا ۔
    ٭….٭….٭
    ٹھنڈی وڈاں گاو ¿ں میں ایک ہی بات زبانِ زد عام تھی کہ زمان خان کے اِکو اِک پتر کا ضمیر بگڑ گیا ۔ شہر بھیجا تھا پڑھنے کو ، عقل مت سیکھنے کو، افسر بن کر لوٹنے کو ۔ مگر کچھ نہ بنا بس ناخلف بن گیا ، ناشدنی، نافرجام۔ اب اسے انہی القابات سے نوازا جاتا ۔ کبھی و ہ جو باپ کی نیک نامی کا باعث بنا، اب بدنامی کا باعث بن رہا تھا۔ پہلے گاو ¿ں والے اسے سر آنکھوں پر بٹھاتے، اب سب اسے آنکھیں دکھاتے ۔ وہ جو قابل ِ مثال رہا تھا۔
    ”دیکھ شیر گل جیسا بن۔ کتنا لائق نکلا ۔ پورے گاو ¿ں کیا آس پاس کے گاو ¿ں میں بھی کوئی اس جیسا نہیں ۔“ اب بھی قابلِ مثال ہی تھا ۔
    ”خبردار جو شیر گل سا وتیرہ اپنایا۔ ناعاقبت اندیش۔ ہماری سات پیڑھیوں میں اس سا کوئی نہیں نکلا۔“
    تو وہ جو شیر گل تھا اس کے باپ دادا اور تایا کا اس گاو ¿ں میں دیگر لوگوں کی طرح ایک ہی کاروبار تھا ۔ مہاجن ، جو مجبوروں کو قرض دیا کرتے اور سود سمیت وصول کیا کرتے ۔ آس پاس کی دکانوں پر بھی یہ نہیں تو کم و بیش اسی قسم کاکاروبار عام تھا ۔ کوئی سرحد پار سے غیر قانونی اسلحہ منگوا کر دکانوں کی زینت بنا رہا ہے ، تو کوئی پوست کی کاشت سے کما رہا ہے ۔ سب حلال اور باعثِ برکت مانا جاتا ۔کالا دھن سفید سمجھ کر وصولا اور بیچا جاتا۔ اسی مال سے صدقہ کیا جاتا ، خیرات کی جاتی، زکوة دی جاتی۔ وہاں کوئی قاعدہ قانون نہ تھاکہ ان کے اپنے قاعدے اپنے قانو ن تھے اور صدیوںسے ایسا ہی چلا آرہا تھا ۔
    شیر گل جب شہر سے آتا نجانے کس کس کو ایسے کاروبار سے جڑا پاتا ، اندر کہیں سے برا مناتا لیکن ظاہر نہ کرتا ۔ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہی سہی پر کوئی درجہ تو تھا ۔جب رہا نہ گیا تو ایک روز بول پڑا ۔
    ”کاکا یہ کام چھوڑ دو ۔ یہ سارا سود ہے ۔ خدا اور اس کے رسولﷺ کے خلاف اعلان جنگ، یہ آمدن حرام ہے۔ “ زمان خان سکتے میں آگیا ۔ یہ کون سی زبان تھی جو وہ بول رہا تھا ۔ کون سا فتویٰ وہ جاری کر رہا تھا۔
    ”کون کہتا ہے کہ آمدن حرام ہے ؟“
    ”وہ قرض جو نفع لے کر آئے حلا ل کیسے ہو سکتا ہے؟“ زمان خان کا جوان بیٹے پر ہاتھ اٹھ گیا تھا۔
    ”اسی کمائی سے تیرے دادا نے ہمیں پالا اور اسی کمائی سے ہم اپنی نسل کو پال رہے ہیں ۔ اب یہ حرام ہوگئی۔ پاپ چڑھ گیا۔“ وہ انیس سالہ شیر گل کو مارتا رہا اور وہ مار کھاتا رہا ۔ جب وہ مار مار کر ہانپنے لگا تو اس نے شیر گل کے منہ پر تھوک دیا۔
    ”باپ دادا کو حرام خور کہتا ہے۔ شہر اس لیے بھیجا تجھے؟“ شیر گل نے اپنا منہ آستین سے پونچھ ڈالا پھر بھی مو ¿دب کھڑا رہا ۔
    ”شہر حق اور سچ کی تلاش میں بھیجا تھا نا۔ اب جب حق اور سچ کی بات کرتا ہوں، تو سب سے بڑا جھوٹا بھی میں ہوں اور باطل بھی میں۔“
    ”سائنس پڑھنے کو بھیجا تھا، تو ہمیں مذہب پڑھا رہا ہے۔“
    ”سائنس پڑھنا اور مذہب پڑھنا ایک برابر ہے ۔ سچ ہے ۔“
    ”کہاں سے آیا تیرا یہ سچ؟“ زمان خان دہاڑا تھا۔ پہلے کبھی دہاڑا نہیں تھا مگر اب اس سے کم پر بات نہ بن رہی تھی ۔
    ”آسمانوں سے اترا ہے ۔“ وہ نظریں جھکائے کھڑا رہا ۔مو ¿دب بنا رہا۔
    ”نافرمان ہے تو، خمیدہ آگیا تجھ میں ، میری تربیت میں۔ کیا تجھے دکھتا نہیں کہ سب اسی کاروبار سے کما رہے ہیں ، کتنی برکت ہے اس میں ؟“
    ”حرام میں کبھی برکت نہیں ہوتی۔ تبھی یہاں کی عوام کبھی خوشحال نہیں ہوتی ۔“
    ”سب غلط ہیں کیا؟“ اس نے کف اڑایا۔
    ”جو یہ کرتے ہیں وہ غلط ہیں۔“
    ”ایک تو سچا ہے؟“ نخوت سے دیکھا گیا۔
    ”جو یہ نہیں کرتے سب سچے ہیں۔“ ادب سے جواب آیا۔
    ”مردود ہو گیا ہے تو۔“ زمان خان اکلوتے بیٹے کا ماتم منانے کو سر پیٹنے لگا تھا۔
    بات پھیلتے پھیلتے ٹھنڈی وڈاں تو کیا آس پاس کے چھوٹے دیہات تک جا پہنچی تھی۔ سو اب پنجایت بٹھائی گئی۔
    ”تو ہمارے کاروبار کو حرام کہنے والا کون ہوتا ہے؟“ سب گاو ¿ں والے بیٹھے تھے ۔ وہاں ایک ہی عاصی کھڑا تھا ۔ انیس سالہ جوان شیر گل۔
    ”میری کیا مجال۔ یہ تو خدا اور اس کا رسول ﷺ کہتے ہیں ۔“
    ”تجھے کیا خدا نے خود کہا یا فرشتے بھجوائے؟“ بڑا زمیندار ٹھنکا تھا ۔
    ” کلام بھیجا گیا ہے وہاں لکھا ہے سب۔ وہاں درج ہے سب ۔“ وہ سر جھکائے ، ہاتھ باندھے کھڑا تھا ۔
    سب کی تیوریاں چڑھیں۔