انہیں ہم یاد کرتے ہیں
احمد فراز
احمد فراز
5/5
احمد فراز وہ رومانی، مقبول عام، سادہ لفظوں میں زندگی کا اظہار کرنے والا انسان ہے، جو اردو جاننے، پڑھنے اور بولنے والے دل و دماغ سے ایک مرتبہ تو ضرور گزرا ہو گا۔ ایک ایسی آواز ہیں کہ جو خاموش ہو بھی گئی تو ختم نہیں ہو سکتی، جس کو اردو پڑھنے اردو جاننے والے، محبت کرنے والے،اور اس محبت کے اظہار کے لیے ردھم کو ڈھونڈنے والے ، ہمیشہ سنیں گے اور سمجھیں گے۔اردو شاعری دہلی کے اردو بولنے والے خاندانوں کے گھر کی باندی رہی لیکن اردو کی مقبولیت اور پاکستان کی قومی زبان بننے کے ساتھ ،اردو شاعری ان لوگوں نے بھی کی جن کی پہلی زبان اردو نہ تھی،جن میں فیض احمد فیض اور علامہ اقبال کا نام نمایاں ہے۔ احمد فراز کی بھی پہلی زبان اردو کے بجائے پشتو تھی۔ انہیں شاعرانہ مزاج اور شاعری دونوں ورثے میں ملے تھے۔ والد صاحب فارسی میں شعر کہتے تھے، اور اہل کتاب میں سے تھے۔ احمد فراز کا بھی کہنا تھا کہ انہیں شعر اردو میں ہی کہنا پسند تھا، حالاں کہ مادری زبان پشتو تھی، اور والد فارسی کے گرویدہ۔ جب شعر کہنا شروع کیا تو اردو اچھی طرح جاننے اور لکھنے کے باوجو داردو بولنا آسان نہ تھا۔ نام ’سید احمد شاہ‘ تھا اور تخلص ’فراز‘ لکھتے تھے۔ بچپن ایک لحاظ سے غیر معمولی تھا کہ دادا کی قبر پر مزار تھا، اور وہاں خواہشوں کے دھاگے باندھنے، نا آسودہ دلوں کی،نا مکمل خواہشوں اور زیارتوںکے لیے آنے والوں کا تانتا بندھا ہوتا تھا۔ شاعری کا آغاز ایک بیت بازی کا مقا بلہ جیتنے کے لیے کیا تھا اور جیتنا اس سے تھا، جس کے سامنے ایک نویں کلاس کے ٹین ایجر کا دل ہارا ہوا تھا، ایک کلاس سینئر تھی اور خاندانوں کے رابطے کی وجہ سے گھر آنا جانا تھا۔اس نے ایک دن بیت بازی کا طریقہ سمجھایا اور مستقبل کے شاعر کو مقابلی کی دعوت دی، جو کہ بڑے شوق سے قبول کی گئی تھی لیکن جب بھی شعر یاد کر کے جاتے تو کم پڑ جاتے اور دل جس سے مقابلہ جیتنے کو بے چین تھا، وہ جیت جاتی۔ خیر مقابلہ تو دل ناتواں نے خوب کیا، اور پھر شعر خود بنانے لگے۔جب شعر کہنے با قا عدہ شروع کیے تو اپنی شاعری اپنی والدہ کو سونپی کہ والد صاحب کو دکھا دیں کہ اگر کوئی کمی بیشی ہو تو دور ہو جائے اور اصلاح کی جتنی بھی گنجائش ہو وہ کی جا سکے۔چند دن تو گھر میں خاموشی رہی اور ہزار وسوسوں نے آگھیرا لیکن چند دن بعد والد نے بلایا اور ہلکی پھلکی ڈانٹ پلائی کہ’ عشق و معشوقی کی شاعری کرتے ہو؟ شرم نہیں آتی۔“
1951ءکی بات ہے جب ایک مشاعرے میں شرکت کی اور وہاں زیڈ۔اے ۔ بی آئے ہوئے تھے ، جو کہ اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل کنٹرولر آف پاکستان براڈ کاسٹنگ سروسز تھے۔ کسی سینئر کے گھر ایک ادبی محفل تھی جسے مشاعرے کا نام دیا گیا تھا۔’احمد فراز‘ نے غزل پڑھی تو بخاری صاحب کی طرف سے دوسری غزل کی فرمائش کی گئی۔ غزل سننے کے بعد کہا’ فراز بیٹا جب بھی تمہیں کام کرنے کا خیال آیا تو ریڈیو پاکستان کے دروازے کھلے ہیں‘۔ ابھی شاید ارادہ تو نہ تھا کیوں کہ تعلیم ابھی جاری تھی ، لیکن گھر میں پڑے ایک گل دان نے راستے یوں تبدیل کیے کہ ایک گلدان ٹوٹا والد نے تھوڑا بہت جھاڑا اور حساس شاعر اور غیرت مند پٹھان نے سوچا اب نہیں رہنا یہاں۔ سو ریڈیو پاکستان کی آفر یاد تھی۔ وہاں رابطہ کیا اور فورا µ نوکری کے لیے بلاوے کا خط آ گیا۔سو فرسٹ ائیر بھی چھوڑ دیا اور گھر بھی ۔ یہ ریڈیو پاکستان کا وہ وقت تھا، جب ابھی ریڈیو پاکستان ٹینٹوں میں آباد تھا۔بلڈنگ کہیں جاکر بہت بعد میں بنی تھی۔
کسی جذباتی لمحے میں گھر اور ماں کو تو چھوڑا تھا لیکن رات ماں کو یاد کرتے گزرتی اور دن کام کرتے ۔ اسی روٹین سے تھک کر ایک دن آفس میں گئے اورکہا یا تو میرا استعفیٰ لے لیں یا پھر ٹرانسفر کر دیں۔ پشاور ٹرانسفر ہو گئی اور گھر کا سکھ اور ماں کی محبت پھر سے میسر آئی۔
پھر تعلیم کا سلسلہ بھی چل نکلا ۔ایڈورڈ کالج سے گریجویشن کرنے کے بعد پشاور یونیورسٹی سے ایم اے اردو کیا۔



جواب دیں