Author: misbah116@hotmail.com

  • میرے پاس وقت نہیں! ۔ الف نگر

    میرے پاس وقت نہیں! ۔ الف نگر

    الف نگر کے مقابلہ ”الف لیلیٰ” میں پہلی انعام یافتہ کہانی

    میرے پاس وقت نہیں!

    اِنشا علی

    خزاں کا موسم شروع ہوا تو اس کے ساتھ ہی سِمی گلہری بہت زیادہ مصروف ہوگئی۔ درختوں کے پتے اب پیلے اور بُھورے ہوکر تیزی سے گرنا شروع ہوگئے تھے۔ سمی سارا دن خوب شور مچاتی، درختوں اور جھاڑیوں میں بھاگتی، دوڑتی اپنا کھانا تلاش کرتی رہتی تھی۔ خزاں کا موسم شروع ہوتے ہی وہ سوچنے لگی کہ مجھے اپنے لیے ڈھیر سارا کھانا محفوظ کر لینا چاہیے۔ تاکہ سردیوں میں کام آسکے۔ اس سے پہلے بھی وہ خشک پھل اور بیج اکٹھے کرکے درخت کے نیچے دبا دیتی تھی۔ یہ خیال آتے ہی اُس نے بیج اور پھل اکٹھے کرنا شروع کردیے۔ اب وہ اتنی مصروف ہوگئی تھی کہ اُس کے پاس اپنے دوستوں سے ملنے کا بھی وقت نہیں تھا۔

    ”السلامُ علیکم سِمی! تم کیسی ہو؟” ایک دن مِلی چوہیا نے صبح آکر اس کا حا ل پوچھا۔

    ”میں ٹھیک ہوں۔” سِمی نے جواب دیا۔

    ”سِمی! میں آج کل سردیوں کے لیے اپنا نرم اور گرم بستر بنا رہی ہوں۔” مِلی نے کہا۔

    سِمی کہنے لگی: ”اچھا! یہ تو بہت اچھی بات ہے۔”

    مِلی بولی: ”یہ ایک بڑا ہی آرام دِہ، نرم اور گرم بستر ہے۔ میرا خیال ہے کہ اِس سے پہلے میں نے کبھی اتنا اچھا بستر نہیں بنایا۔ سِمی! کیا تم اِسے دیکھنا پسند کرو گی؟”

    ”میرے پاس وقت نہیں ہے۔ میں جلدی میں ہوں۔” سِمی نے بے رُخی سے کہا اور تیزی سے درخت پر چڑھ گئی۔

    ”اوہو!” بے چاری مِلی نے مایوسی سے سرہلایا اور چلی گئی۔

    دوپہر کے وقت سِمی کا دوست ہُد ہُد اس کے درخت پر آبیٹھا اور تنے پر تیزی سے چونچ مارنے لگا۔ کھٹ کھٹ کی آواز سن کر سِمی گھر سے نِکلی تو ہُد ہُد اُسے دیکھ کر خوشی سے بولا: ”سِمی! جانتی ہو میں درختوں کے تنوں میں سوراخ بناتا ہوں ۔ آج میں نے ایک بہت بڑا سوراخ بنایا ہے۔ کیا تم میرے ساتھ چلو گی اُسے دیکھنے؟”

    سِمی نے ناگواری سے کہا: ”بالکل نہیں! میرے پاس وقت نہیںہے، میں جلدی میں ہوں۔”

    ”او ہو!” ہُد ہُد نے مایوسی سے کہا اور چپ چاپ اُڑ گیا۔

    اگلے دِن سِمی کا دوست رابن خرگوش اُس سے ملنے آیا۔

    اُس نے مُسکراتے ہوئے سِمی سے کہا: ”میری دوست! تم جانتی ہو کہ میں زمین میں سوراخ کرکے گھر بناتا ہوں مگر اِس بار تو کمال ہوگیا۔ میں نے اتنی تیزی سے زمین میں سوراخ بنایا ہے کہ جنگل کا کوئی جانور میرا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ میں چاہتا ہوں کہ تم میرے ساتھ آؤ اور مجھے کام کرتے ہوئے دیکھو۔”

    ”نہیں، میرے پاس وقت نہیںہے۔ میں بہت جلدی میں ہوں۔” سِمی گلہری چیخ کر بولی۔

    ”اوہو! بھئی چیخو مَت۔” رابن خرگوش نے اُداس لہجے میں کہا اور اُچھلتا ہوا واپس چلا گیا۔

    سِمی گلہری اب بڑبڑانے لگی: ”کسی کو نظر کیوں نہیں آتا کہ میں بہت مصروف ہوں۔ میرے پاس وقت نہیں ہے۔” یہ کہہ کر وہ دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہوگئی۔

    صبح سے شام تک سِمی گلہری پھل اور بیج اکٹھے کرکے اُنہیں زمین میں دفن کرتی رہتی۔ جب اندھیرا چھاجاتا تو وہ اپنے درخت میں بنے ہوئے گھر میں گُھس کر مزے سے سو جاتی۔

    خدا کا کرنا یہ ہوا کہ ایک دِن جنگل میں تیز ہوا چلنے لگی جو آہستہ آہستہ آندھی کی شکل اختیار کرگئی۔ درختوں کی شاخیں ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگیں۔ سِمی اپنے گھر بیٹھی سخت خوف زدہ تھی۔ اچانک اُسے محسوس ہوا کہ درخت جس میں اس کا گھر تھا، وہ نیچے گِر رہا ہے۔ کچھ دیر بعد واقعی دھڑام کی آواز آئی اور درخت سِمی سِمیت زمین پر آگرا۔

    جب طوفان تھما تو سِمی نے آہستہ آہستہ اپنا منہ سوراخ سے باہر نکالا۔ اس کے سر پر سخت چوٹ آئی تھی اور اس کا سارا گھر بھی برباد ہوچُکا تھا۔

    ”مدد… مدد” سِمی چیخ چیخ کر پُکارنے لگی۔ مِلی چوہیا وہاں سے گزر رہی تھی۔ وہ سِمی کی آواز سُن کر تیزی سے آئی اور پوچھا: ”کیا ہوا سِمی؟” پھر مِلی نے سِمی کو ہاتھ پکڑ کر باہر نکالا۔

    سِمی بہت زیادہ پریشان تھی۔ مِلی نے کہا: ”اَرے دوست! پریشان کیوں ہوتی ہو۔ میرے ساتھ آؤ، تم میرا نرم گرم بستر لے لینا۔ میرا گھر جھاڑی کے نیچے زمین میں ہے۔ وہاں طوفان کا بھی کوئی خطرہ نہیں۔ آئودیکھو! میرے پاس بہت جگہ ہے۔”

    ”شکریہ دوست!” سِمی نے کہا اور مِلی کے ساتھ چلنے لگی۔

    اگلی صبح سِمی اور مِلی دونوں گرے ہوئے درخت کے پاس چلی آئیں تاکہ نقصان کا اندازہ ہوسکے۔

    سِمی روتے ہوئے بولی: ”ہائے اللہ! کتنا خوب صورت درخت تھا۔ میں دوبارہ اتنا خوب صورت گھر کیسے بناؤں گی؟”

    ”پریشان مَت ہو میری دوست! میں نے ایک درخت کے تنے میں بہت بڑا سوراخ بنایا ہے۔ میرے خیال میں وہ تمہارے رہنے کے لیے بہترین ہوگا۔ آؤ دیکھو!” قریب ہی سے ہُد ہُد بولا۔

    ”بہت شُکریہ دوست!” سِمی نے کہا اور ہد ہد کے ساتھ چلنے لگی۔

    جب سِمی نے سوراخ کو اندر باہر سے خوب اچھی طرح دیکھ لیا تو بولی: ”ہد ہد میرے دوست! تم ٹھیک کہتے ہو، یہ تو میرے پہلے گھر سے بھی زیادہ آرام دہ ہے لیکن میں اپنے جمع کیے ہوئے پھل اور بیج یہاں کیسے لاسکتی ہوں؟ میں نے بڑی محنت سے اُنہیں جمع کرکے زمین میں دبایا تھا۔ میری ساری محنت ضائع ہوگئی ہے۔”

    ”کوئی مسئلہ نہیں دوست! میں زمین کھود سکتا ہوں اور ہم سب مِل کر تمہارے سارے پھل اور بیج یہاں لے آئیں گے۔ میں زمین میں ایک نیا اسٹور بنانے میں بھی تمہاری مدد کروں گا۔” یہ آواز رابن خرگوش کی تھی۔ اس کے بعد سب دوست مل کر سِمی کی خوراک زمین سے نکالنے لگے۔

    جب سارا کام مکمل ہوگیا تو سِمی نے اپنے دوستوں کو اپنے گھرانے کی دعوت دی۔ تاکہ وہ اُن سب کا شکریہ ادا کرسکے۔

    مِلی، رابن اور ہد ہد یہ سُن کر ایک ساتھ بولے:

    ”ہمیں افسوس ہے سمی! ہمارے پاس وقت نہیں ہے، ہم جلدی میں ہیں۔” سِمی انتہائی شرمندگی سے بولی۔ ”میں جانتی ہوں کہ میں غلطی پر تھی۔ مجھے دوستوں کے لیے وقت ضرور نکالنا چاہیے تھا۔” یہ سن کر تینوں دوستوں نے ہنسنا شروع کردیا۔

    ”ارے سِمی پریشان مَت ہو، ہم جلدی میں نہیں ہیں اور دوستوں کے لیے ہمارے پاس بہت وقت ہے۔” تینوں نے یک زبان ہوکر کہا اور کھلکھلا کر ہنس دیے۔

    ٭…٭…٭

  • گُلِ مہر اور مونی ۔ الف نگر

    گُلِ مہر اور مونی ۔ الف نگر

    گُلِ مہر اور مونی

    سودہ عنبر

    گُلِ مہر سبزی کی ٹوکری سے رونے کی آواز سُن کر حیران رہ گئی۔ ایک مزے دار کہانی!

    گُلِ مہر چُنی مُنی آنکھوں اور سنہری بالوں والی ایک چھوٹی بچی تھی۔ اُس کا بھائی مونی اتنا شرارتی تھا کہ اکثر لوگ اس کی شکایت کرنے گھر تک آجاتے۔ ایک روز کچن میں پانی پیتے ہوئے گُلِ مہر نے سِسکیوں کی آواز سُنی۔ پہلے تو وہ سمجھ نہ سکی کہ کون رو رہا ہے مگر جب اُس نے غور سے دیکھا تو حیران رہ گئی۔ سامنے میز پر پڑی ٹوکری میں سبزیاں رو رہی تھیں۔ گُلِ مہر بہت پریشان ہوئی۔ اُس نے تروتازہ اور خوش رنگ گاجر، بینگن، شلجم اور پیاز سے رونے کی وجہ پوچھی۔ چُلبلی ہری مرچ چٹاخ پٹاخ بولی: ”گُلِ مہر بیٹا! جب ہم تمہارے گھر آتے ہیں تو تمہارا بھائی ناک بُھوں چڑھاتا ہے اور کہتا ہے کہ بینگن، شلجم، پیاز، ادرک، کریلے، ٹینڈے سب گندے ہیں۔ اِن کو پھینکو۔ گُلِ مہر نے یہ سن کر چُلبلی ہری مرچ کو دِلاسا دیا۔ اتنے میں لال گُلال گاجر بولی: ”مجھے تو سب ہی پسند کرتے ہیں۔ تمہارا بھائی گھر آتے ہی میرا پوچھتا ہے۔ میں تو یہاں خوش ہوں اور آلو چچا بھی مگر ہمارے دوسرے دوستوں کی اِس گھر میں کوئی قدر نہیں ہے۔ اب تو دل چاہتا ہے کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر سبزی منڈی لوٹ چلیں۔”

    آلو چچا سمجھ دار تھے۔ کہنے لگے: ”عزیز دوستو! کیوں نہ ہم گُلِ مہر کے بھائی کو یہاں بلوا لیں اور اِس مسئلے کو حل کریں۔ وہ ابھی نا سمجھ ہے اور اُسے معلوم نہیں کہ اللہ میاں نے کوئی چیز بے فائدہ نہیں بنائی۔ اگر پیاز نہ ہوتی تو کھانوں میں لذّت نہ ہوتی۔ لذیذ چاول نہ پکتے اور نہ ہی خستہ کباب بنتے۔ اِسی طرح ادرک کی اپنی اہمیت ہے۔ یہ ناصرف سالن میں استعمال ہوتی ہے بلکہ چائے میں بھی اِس کی چائے بیماری کو بھگاتی ہے۔ ہر طرح سے یہ ہمارے لیے مفید اور ضروری ہے۔ بینگن کا بُھرتا! واہ کیا بات ہے۔ اس کا سالن بھی مزے دار ہوتا ہے۔” لیموں خوش دلی سے بولا: ”اگر مجھے مسالہ بھرے بیگن کے سالن پر چھڑک کر گرم گرم چپاتیوں کے ساتھ کھایا جائے تو چٹخارے دار چیز بنتی ہے۔”

    مونی قریب کھڑا یہ باتیں سن رہا تھا اور اپنے کیے پر شرمندہ تھا۔ اُسے پتا چل گیا کہ کسی کا دل دُکھانا بہت بُری بات ہے اور غرور تو اللہ کو بالکل بھی پسند نہیں ہے۔ اُس نے فوراً ساری سبزیوں سے معافی مانگی۔ چُلبلی ہری مرچ سمیت تمام سبزیوں نے سچے دل سے مونی کو معاف کردیا۔ گُلِ مہر کہنے لگی: ”مونی بھیا! تم نے سُنا ہوگا: نہیں ہے چیز نکّمی کوئی زمانے میں۔”

    ”گُل آپی! وہ کیسے؟”

    مونی نے پوچھا۔ ”مونی بھائی! وہ ایسے کہ ہمیں اِن چیزوں کے فائدے معلوم ہوں نہ ہوں مگر اللہ میاں نے کوئی چیز بے مقصد نہیں بنائی۔ سبزیاں تو ہمارے جسم میں طاقت پیدا کرتی ہیں۔ سرطان جیسے مُوذی مرض سے بچاتی ہیں۔ ہمارے جسم میں خون پیدا کرتی ہیں۔ ہمیں صحت مند رکھتی ہیں۔” گُلِ مہر کی بات سن کر مونی جھٹ سے اپنی امّی کے پاس پہنچا اور مزے دار سبزیوں کا سالن بنانے کی فرمائش کرنے لگا۔ گُلِ مہر یہ دیکھ کر مُسکرا دی۔

    ٭…٭…٭

  • حضرت لقمان حکیم علیہ السلام   ۔ قرآن کہانی

    حضرت لقمان حکیم علیہ السلام ۔ قرآن کہانی


    حضرت لقمان حکیم علیہ السلام

    عمیرہ علیم

    اسلامی دعوت و تبلیغ کو روکنے کے لیے مشرکینِ مکہ ظلم و ستم کے ہتھکنڈے استعمال کرتے تھے۔ لیکن رسالتِ محمدیۖ کا سورج پوری تاب ناکی سے طلوع ہوچکا تھا۔ آپۖ کے جواں مرد،خوددار، روشن ضمیر اور حوصلہ مند صحابہ کرام آپۖ کے ساتھ کھڑے ہر گھناؤنے وار کو صبر سے برداشت کررہے تھے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ساحرو جادوگر پکارا گیا۔ نَضْربن حارث، ارحم الراحمین کی عظیم الشان کتاب کا مقابلہ کرنے کے لیے رستم و اسفند کے قصے اور شاہانِ عجم کی داستانیں لاکر قِصّہ گوئی کی محفلیں منعقد کرواتا ہے۔ تو کبھی گانے والی لونڈیاں خریدلاتا ہے اور جب کوئی اللہ کی طرف راغب ہوتا تو ایک لونڈی اس پر مسلّط کردی جاتی ہے تاکہ غافل انسان اللہ تعالیٰ اور حضرت محمدۖ کی باتوں میں کھو کر اپنی حقیقت کی شناخت نہ کرلیں۔
    توحید و رسالت کی گونج اہلِ عرب نے پہلی مرتبہ نہ سُنی تھی بلکہ حضرت محمدۖ سے پہلے بھی جن لوگوں کو علم و حکمت اور عقل و دانش عطا فرمائی گئی، وہ بھی اس بات کی تقلید کرتے تھے جو محمدۖ فرماتے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے سورئہ لقمان میں لقمان حکیم کی حکمت و دانائی کا ذکر فرمایا اور بتایا کہ محمدۖ دیارِ عرب کو کچھ نیا یا انوکھا پیغام نہیں پہنچا رہے بلکہ اس ملک میں اللہ کا بھیجا ہوا بندہ لقمان حکیم گزر چکا ہے۔ جن کی حکمت بھری باتیں بہ طورِ ضرب الامثال بیان کی جاتی ہیں۔
    ”حکمت” اللہ تعالیٰ کی وہ نعمت ہے جو صالحین اور پسندیدہ ہستیوں کو عنایت ہوئی۔ حکمت کے لفظی معنی ہیں ”عقل مندی، ذہانت، شعور، دانائی، فہم و فراست۔” اللہ تبارک و تعالیٰ کی صفاتِ حمیدہ میں ایک اَلْحَکِیمْ بڑی حکمت والا، دانا اور بینا بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو ”حکمت والی کتاب” کہا ہے، جو محسنین کے لیے نہ صرف رہبری اور حکمت کا ذریعہ ہے بلکہ اس میں شعور، دانائی اور حکمت کے بیش بہا خزانے ہیں، جو چاہے سمیٹ لے۔
    حکمت و معرفت دو ایسے مقام ہیں جہاں بغیر کسی نبی کے پیغام کے انسان رحمتِ خداوندی کی بہ دولت ہی پہنچ سکتا ہے اور رحمت کا یہ اَبر حضرت لقمان پر ایسا کھل کر برسا کہ ربِ کعبہ نے سورئہ لقمان آپ کے نام سے اُتاری اور آپ کا مرتبہ اور زیادہ بڑھا دیا۔
    اہلِ عرب کے کچھ پڑھے لکھے لوگوں کے پاس صحیفۂ لقمان موجود تھا۔ روایات میں آتا ہے کہ مدینہ کا ایک شخص حج کرنے کے لیے مکہ آیا۔ اس کا نام سوید بن صامت تھا۔ ایسے موقعوں پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم مختلف علاقوں سے آئے ہوئے حاجیوں کے پاس دعوتِ تبلیغ کے لیے جاتے۔ آپۖ بیان فرما رہے تھے تو سوید بن صامت بولا جو آپۖ فرما رہے ہیں اُس سے ملتی جلتی ایک چیز میرے پاس بھی ہے، تو اُس نے مجلّۂ لقمان آپۖ کو سُنایا۔ حضرت محمدۖ نے فرمایا: میرے پاس اس کلام سے بہتر کلام موجود ہے۔ پھر نبی پاکۖ نے قرآن مجید کی تلاوت فرمائی تو وہ کہہ اُٹھا:
    بے شک یہ کلام بہترین ہے۔ سوید بن صامت اپنی بہادری اور عمدہ شعر گوئی کی بناء پر ”کامل” کے لقب سے جانا جاتا تھا۔ آپۖ سے ملاقات کے بعد وہ مدینہ واپس ہوا اور جنگِ بُعاث میں مارا گیا۔ قبیلے والوں کا خیال تھا کہ اس نے آپۖ سے ملاقات کے بعد اسلام قبول کرلیا تھا۔
    حضرت لقمان ایک حبشی غلام تھے۔ وہ نوبہ کے رہائشی تھے۔ نوبہ کا علاقہ مصر کے جنوب اور سوڈان کے شمال میں واقع ہے۔ آپ پیشے کے اعتبار سے بڑھئی تھے۔ حضرت جابر کے فرمان کے مطابق ”آپ پستہ قد اونچی ناک والے، موٹے ہونٹ والے نوبی تھے۔”
    ابو داؤد بیان کرتے ہیں:
    ”حضرت لقمان کسی بڑے گھرانے کے امیر اور بہت زیادہ کنبے والے نہ تھے۔ ہاں ان میں بہت سی بھلی عادتیں تھی۔ وہ خوش اخلاق، خاموش، غوروفکر کرنے والے اور گہری نظر والے، دن کو نہ سونے والے تھے۔ لوگوں کے سامنے تھوکتے نہ تھے۔ نہ پاخانہ پیشاب اور نہ غسل کرتے تھے۔ لغو کاموں سے دور رہتے تھے، ہنستے نہ تھے، جو کلام کرتے تھے وہ حکمت سے خالی نہ ہوتا تھا۔ جس وقت ان کی اولاد فوت ہوئی، یہ بالکل نہیں روئے۔ وہ بادشاہوں اور امیروں کے پاس اس لیے جاتے تھے کہ غوروفکر اور عبرت و نصیحت حاصل کریں۔ اسی وجہ سے انہیں بزرگی ملی۔”
    سعید بن مسیب نے ایک مرتبہ ایک سیاہ حبشی غلام کو نصیحت فرمائی کہ اپنی رنگت کو حقیر نہ جان۔ تین لوگ جو تمام لوگوں سے اچھے تھے وہ تینوں سیاہ رنگ کے حامل تھے۔ حضورۖ کے غلام حضرت بلال، فاروقِ اعظم کے غلام حضرت مہجع اور حضرت لقمان حکیم جو نوبی تھے۔
    اکثر علماء اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ حضرت لقمان نبی نہ تھے بلکہ ولی اور اللہ کے نیک بندے تھے۔ اس لیے وحی کا سلسلہ بھی نہ تھا۔ غلامی، نبوت کی ضد ہے کیوں کہ انبیاء کرام عالی مرتبہ خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے۔ جب کہ آپ کے متعلق ایک عجیب و غریب روایت ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت لقمان کو اختیار دیا کہ حکمت و نبوت میں سے جس کو چاہیں قبول کرلیں، آپ علیہ السلام نے حکمت کو پسند فرمایا۔ جب آپ سے پوچھا گیا کہ کیا وجہ ہے کہ آپ نے نبوت اختیار نہیں فرمائی تو آپ نے فرمایا:
    ”اگر رب تعالیٰ مجھے نبوت عطا فرماتے تو ہوسکتا تھا میں نبھا جاتا۔ لیکن جب اختیار ملا تو میں نے حکمت کو چُنا۔ میں ڈر گیا کہ اگر میں نے نبوت اختیار کی تو شاید میں اُس کو پورا نہ کر پاؤں۔” (واللہ اعلم)
    ایک مرتبہ حضرت لقمان مجلس میں وعظ فرما رہے تھے۔ ایک چرواہا آپ کو دیکھتا ہے تو حیرت زدہ ہوجاتا ہے۔ کہتا ہے: ”کیا تو وہی نہیں جو میرے ساتھ بکریاں چراتا تھا؟” ”آپ علیہ السلام فرماتے ہیں: ”وہاں میں وہی ہوں۔”
    چرواہا کہتا ہے تو نے یہ مرتبہ کیسے حاصل کیا؟” آپ علیہ السلام نے فرمایا: ”سچ بولنے پر اور بے کار کلام نہ کرنے پر۔”
    اللہ سبحان و تعالیٰ نے حضرت لقمان کو نعمتِ حکمت (اسلام کا فہم) کی خوش خبری سُناتے ہوئے سورئہ لقمان میں فرمایا کہ ”اللہ کا شکر ہے۔” بلکہ انسان کو عملی طور پر یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ جن بھی نعمتوں سے نوازا گیا ہے وہ ان پر اللہ تعالیٰ کی رضا میں راضی ہے۔ ذہنی پاکیزگی اختیار کرنا، ذہن کو پراگندہ سوچوں سے بچانا، معبودِ کبریائی کا احسان مند ہونا، کفرانِ نعمت سے بچنا اور انسان کا چھوٹے سے چھوٹا عمل اللہ تبارک و تعالیٰ کی تعلیمات کا مکمل عکاس ہونا ہی درحقیقت شکر گزاری ہے۔ انسان اگر شکر گزار ہے تو اپنے ہی فائدے کے لیے، رب کی ہستی بے نیاز ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں:
    ”جو کوئی شکر کرے تو اُس کا شکر اس کے اپنے ہی لیے مفید ہے اور جو کوئی کفر کرے تو حقیقت میں اللہ بے نیاز اور آپ ہی آپ محمود ہے۔”
    سبحان اللہ! یہ شان، یہ بے نیازی اس حقیقی معبود کو جچتی ہے۔ کائنات کی ہر چیز، ہر ذرّہ اس کی حمد و ثناء بیان کررہا ہے۔ لیکن اگر کوئی نافرمان ہے تو وہ ہیں جن وانس۔
    اولاد وہ نعمتِ خداوندی ہے جو انسان کو دنیا بھر کی تمام نعمتوں سے زیادہ محبوب ہوتی ہے۔ انسان سب سے بہترین چیز اپنی اولاد کو ہی دیتا ہے۔ کیوں کہ والدین اور اولاد کا رشتہ بہت خالص ہے۔ حضرت لقمان کا ذکرِ خیر قرآن مجید میں ایک ناصح کے طور پر آیا ہے اور جو وعظ و نصیحت آپ علیہ السلام نے اپنے بیٹے کوکی، وہ سب سے بہترین تحفہ تھا اور ممکن ہے کہ آپ نے یہ نصیحتیں اپنے بیٹے کو وصال سے پہلے کی ہوں۔
    حضرت لقمان علیہ السلام نے جو پہلی نصیحت اپنے بیٹے کو کی وہ ہے،
    ”بیٹا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا اور حق یہ ہے کہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔”
    اللہ رَبُّ العزت خالق ہے اور باقی سب مخلوق۔ خالق کی شان ہے کہ اس کی بڑائی بیان کی جائے۔ اس کی تخلیق کی ہوئی چیزوں کو اس کے مَدِّ مقابل لاکر ان کی پرستش کرنا انسانی پستی کا شاخسانہ ہے۔ یہ اکبر الکبائر ہے اور بڑی نا انصافی ہے۔ رب تعالیٰ نے انسان کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا۔
    کسی شخص نے اللہ کے رسولۖ سے پوچھا: عند اللہ بڑے سے بڑا گناہ کون سا ہے؟ آپۖ نے فرمایا:
    ”تم کسی کو اللہ کی مثل و مانند گردانوں حالاں کہ تم کو اللہ نے پیدا کیا ہے۔”
    اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے جس دین حنیف کی پیروی کا حکم اپنے بندوں کو دیتا ہے اس کے مطابق بندئہ خدا کا قول، فعل، ارادہ، نیت، سجدہ، تسبیح و تکبر، خاکساری، توکل، انابتِ تقویٰ، نذرونیاز، توبہ، استغفار ذاتِ الٰہی کے علاوہ کسی اور کے لیے ہونا اس کو دشمنِ خدا کی صف میں شامل کرتا ہے۔ کیا کوئی بندہ یہ پسند کرتا ہے کہ اللہ رب العالمین، احکم الحاکمین اور اعلم العالمین نے جو رزق اس کو دیا ہے وہ اس میں اپنے ملازم کو شریک گردانے؟ تو اللہ کی خالص الوہیبت میں کسی کو شریک کرنا زیب نہیں دیتا۔ سورئہ روم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
    ”اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے ایک مثال خود تمہاری ہی ذات سے بیان فرمائی کہ جو کچھ ہم نے تمہیں دے رکھا ہے کیا اس میں تمہارے غلاموں میں سے کوئی بھی تمہارا شریک ہے؟”

  • حضرت مریم علیہ السلام ۔ قرآن کہانی

    حضرت مریم علیہ السلام

    عمیرا علیم

    حضرت مریمؑ وہ پاکیزہ اور راست باز ہستی ہیں جن کا تذکرہ قرآن مجید میں کیا گیا ہے اور جن کی پاکیزگی کی گواہی قرآن خود دیتا ہے۔ آپؑ اللہ کے محبوب رسول حضرت عیسیٰؑ کی والدہ ماجدہ ہیں۔ آپ کے نام پر قرآن مجید میں ایک پوری سورت اتاری گئی اور قرآن آپ کی پیدائش، پرورش، کفالت اور آپ کے ہاں حضرت عیسیٰؑ کی پیدائش کے واقعات کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ لوگ اللہ تبارک تعالیٰ کی محبوب بندی کے بارے میں کوئی الہام نہ رکھیں۔
    حضرت مریمؑ ، حضرت داؤدؑ کی نسل سے تعلق رکھتی ہیں آپ کے والد محترم اس دور میں بنی اسرائیل کے امام نماز تھے اور آپ کی والدہ محترمہ بھی عابدہ و زاہدہ خاتون تھیں۔ اس دور میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر حضرت ذکریاؑ کو مبعوث فرمایا تھا۔ حضرت ذکریاؑ کی بیوی اور حضرت مریمؑ آپس میں بہنیں تھیں کچھ لوگوں کے خیال میں حضرت ذکریاؑ کی بیوی حضرت مریمؑ کی خالہ تھیں۔ آپ کی والدہ کے ہاں کوئی اولاد نہ تھی۔ آپ کی والدہ رب تعالیٰ کے حضورت گڑگڑاتی تھیں کہ رب کریم نیک اور صالح اولاد سے نواز اور انہوں نے نذرمانی کہ اگر ان کے ہاں اولاد متولد ہوئی تو وہ اس کو بیت المقدس کے لیے وقف کر دیں گی۔ ان کی دعا مقبول ہوئی اور انہوں نے حضرت مریمؑ کو جنم دیا تو وہ پریشان ہو جاتی ہیں اور فرماتی ہیں: ’’اے اللہ! میں نے تو جنم دیا ایک لڑکی کو۔‘‘ پھر فرماتی ہیں: ’’اور میں تیری پناہ میں دیتی ہوں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود (کے شر) سے۔‘‘
    حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ جب بھی کوئی آدمی پیدا ہوتا ہے تو شیطان اس کو چھوتا ہے اور شیطان کے چھونے کی وجہ سے وہ چیختا چلاتا ہے ماسوائے مریم اور ان کے صاحبزادے کے۔ پھر حضرت ابوہریرہؓ یہ آیت پڑھا کرتے۔ جس کا ترجمہ یوں ہے
    ترجمہ: میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے بچا کر تیری پناہ میں دیتی ہوں۔
    (آل عمران۔۳۶)
    امام احمد روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمؐ فرماتے ہیں: ’’نسلِ آدم کے ہر بچے کو شیطان اپنی انگلی سے مس کرتا ہے سوائے مریمؑ بنت عمران اور ان کے بیٹے حضرت عیسیٰؑ کے۔‘‘
    جیسا کہ سورۂ آل عمران میں اللہ رب العزت فرماتے ہیں۔
    ’’بے شک اللہ تعالیٰ نے چن لیا آدمؑ اور نوحؑ اور ابراہیمؑ کے گھرانے کو اور عمران کے گھرانے کو سارے جہاں والوں پر ایک نسل ہے بعض ان میں سے بعض کی اولاد ہیں اور اللہ سب کچھ سننے والا ہے۔ جب عرض کیا عمران کی بیوی نے اے میرے رب! میں نذر مانتی ہوں تیرے لیے جو میرے شکم میں ہے (سب کاموں سے) آزاد ہو کے، سو قبول فرما لے (یہ نذرانہ) مجھ سے پھر جب اس نے جنا اسے بولی: اے اللہ! اس نے جنم دیا ایک لڑکی کو اور اللہ خوب جانتا ہے جو اس نے جنا، اور نہیں تھا لڑکا (جس کا وہ سوال کرتی تھی) مانند اس لڑکی کے اور (ماں نے کہا) میں نے نام رکھا اس کا مریم اور میں تیری پناہ میں دیتی ہوں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود (کے شر)سے۔‘‘ (آیات: ۳۶۔۳۳)۔
    حضرت موسیٰؑ اور حضرت ہارونؑ کے والد کا نام ’’عمران‘‘ تھا۔ جس کو بائیبل میں ’’عمرام‘‘ لکھا گیا۔ سورۂ آل عمران کی آیات میں جن عمران کا ذکر فرمایا گیا ہے وہ حضرت موسیٰؑ اور حضرت ہارونؑ کے والد محترم نہیں ہیں کیوں کہ حضرت مریم کا دور اور حضرت موسیٰؑ کے دور کے بعد کا ہے۔ اس طرح عمران کی بیوی یا عورت سے مراد ہے کہ حضرت مریم کی والدہ اس قبیلے سے تعلق رکھتی تھیں۔ سورۂ مریم میں ’’یآخت ہارون‘‘ یعنی (اے ہارون کی بہن) کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ کچھ لوگ یہ فہم رکھتے ہیں کہ حضرت مریمؑ ، حضرت موسیٰؑ اور حضرت ہارونؑ کی بہن تھیں۔ یہ سراسر غلط فہمی ہے۔ اس بارے میں امام احمد فرماتے ہیں کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی کریمؐ نے مجھے نجران بھیجا، وہاں کے لوگ مجھ سے کہنے لگے یہ جو آپ پڑھتے ہیں۔ ’’یااخت ہارون‘‘ جب کہ حضرت موسیٰؑ تو اتنا عرصہ حضرت عیسیٰؑ سے پہلے ہیں اس کے بارے میں تیری کیا رائے ہے؟ حضرت مغیرہ ان کے اعتراض پر چپ رہے اور جواب نہ دے پائے اور انہوں نے آکر نبیؐ کے سامنے یہ ماجرا عرض کیا۔ آپؐ نے فرمایا: ’’آپ نے انہیں یہ کیوں نہیں بتایا کہ وہ لوگ انبیاء اور ان صالحین کے نام پر اپنے نام رکھتے تھے۔‘‘
    مفسرین کے مطابق ان الفاظ کے دومعنی ہو سکتے ہیں ایک ظاہری ہو سکتا ہے کہ حضرت مریمؑ کا کوئی ہارون نامی بھائی ہو اور دوسرے عربی محاورے میں ’’اختِ ہارون‘‘ کے معنی ہوں گے۔ ’’ہارون کے خاندان کی لڑکی۔‘‘ یہ عربی زبان کا ایک مشہور طرزِ بیان ہے۔
    بنی اسرائیل نے جب فلسطین پر قبضہ کیا تو ملک کے انتظامی امور چلانے کیلئے حضرت یعقوبؑ کی اولاد کے بارے قبائل میں تو تمام طرح کے نظم و نسق کو تقسیم کیا گیا جبکہ تیرہواں قبیلہ جو کہ لاوی بن یعقوب کا گھرانا تھا وہ مذہبی خدمات کیلئے مخصوص رہا۔ بیت المقدس میں بخود جلانے اور پاک چیزوں کی تقدیس کا کام جس خاندان کے سپرد تھا وہ دراصل حضرت ہارونؑ کا خاندان تھا۔ دوسرے نبی لاوی بیت المقدس کے اندر نہیں جا سکتے تھے اور صرف کوٹھڑیوں اور صحنوں تک ہی کام کرتے تھے اور بنی ہارون کا ہاتھ بٹاتے تھے۔ بنی ہارون کے چوبیس خاندان تھے جو اپنی اپنی باری پر بیت المقدس کی خدمت پر مقرر تھے۔ ان میں سے ایک ابیاہ کا خاندان تھا۔ جس کی سرداری اللہ کے بنی حضرت ذکریاؑ کے سپرد تھی۔ جس دن آپ کے خاندان کی باری ہوتی آپؑ خدا کے حضور بخود جلانے کا فریضہ انجام دیتے تھے۔
    حضرت مریمؑ کی پیدائش ہو جاتی ہے اور مدتِ رضاعت ختم ہوتی ہے تو آپؑ کی والدہ محترمہ آپ کو مقدس لے جاتی ہیں۔ تاکہ مجاوروں کے سپرد کریں اور اپنی منت پوری کریں۔ مجاور جھگڑنے لگتے ہیں ہر کوئی یہ چاہ رکھتا ہے کہ حضرت مریمؑ کی کفالت اس کے سپرد کی جائے۔ حضرت ذکریاؑ کا دورِ نبوت ہے طے پاتا ہے کہ قرعہ اندازی کی جائے اور جس کا نام قرعہ کے ذریعے نکلے وہ اصلی حقدار ہو۔ مجاوروں نے اپنے اپنے قلم ایک مخصوص جگہ رکھ دیئے اور ایک بچے سے کہا گیا کہ وہ ان میں سے ایک قلم اٹھا لائے۔ رب کریم کی قدرت سے وہ بچہ جو قلم لایا وہ حضرت ذکریاؑ کا نکلتا ہے۔ تمام مجاور ماننے سے انکاری ہو جاتے ہیں اور دوبارہ قرعہ اندازی کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ تمام مجاور اپنا اپنا قلم نہر میں پھینکتے ہیں اور خیال کرتے ہیں جس کا قلم بہاؤ کے خلاف بہے گا وہی کفالت کا حقدار ہو گا۔ اللہ تعالیٰ کی شان سے حضرت ذکریاؑ کا قلم مخالف سمت بہہ نکلا اور باقی پانی کے ساتھ چلے۔ اب کی بار پھر مجاور ماننے سے انکاری ہیں۔ تیسری مرتبہ قرعہ اندازی کا فیصلہ کیا جاتا ہے اور طے پاتا ہے کہ جس کا قلم پانی کے بہاؤ کے ساتھ چلا وہی ہی غالب ہے۔ قلم پھینکے جاتے ہیں تو سب کیا دیکھتے ہیں کہ ایک بار پھر حضرت ذکریاؑ ہی غالب آجاتے ہیں کیوں کہ ان کا قلم پانی کے بہاؤ کے ساتھ چلنے لگتا ہے۔ اس طرح مجاور ہار گئے اور مصلحتِ خداوندی سے شرعاً اور حقیقتاً آپؑ ہی اصل حقدار تھے۔ ایک تو اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی والدہ کی محبت اور قربت سے دور نہ کرنا چاہتا تھا دوسرا حضرت ذکریاؑ کی بیوی، حضرت مریمؑ کی بہن تھیں۔
    اس قرعہ اندازی کا مقصد بھی یہ تھا کہ ان کی والدہ نے آپ کو اللہ تبارک تعالیٰ کی نذر کر دیا تھا اور آپؑ چونکہ لڑکی تھیں اس لیے آپ کی سرپرستی ایک نازُک مرحلہ تھا۔
    سورۂ آل عمران میں رب تعالیٰ حضرت مریمؑ کی کفالت کے واقعہ کو اس طرح بیان فرماتے ہیں: ’’یہ غیب کی خبروں میں ہیں، ہم وحی کرتے ہیں ان کی آپ کی طرف اور نہ تھے آپ ان کے پاس جب پھینک رہے تھے وہ (مجاور) اپنی قلمیں (یہ فیصلہ کرنے کیلئے کہ) کون ان میں سے سرپرستی کرے مریم کی اور نہ تھے آپ ان کے پاس جب وہ آپس میں جھگڑ رہے تھے۔‘‘ (آیت: ۴۴)
    حضرت مریمؑ بیت المقدس رہائش پذیر ہو گئیں۔ آپ کے لیے ایک کمرہ مخصوص کر دیا گیا۔ جہاں حضرت ذکریاؑ کے علاوہ اور کوئی نہیں جا سکتا تھا۔ آپؑ دن رات اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہتیں۔ جب بھی حضرت ذکریاؑ آپ کے پاس آئے تو حیران ہوتے کیوں کہ آپؑ کے پاس بے موسمی پھل موجود ہوتے۔ گرمیوں کے پھل سردیوں کے موسم میں اور سردیوں کے پھل گرمیوں کے موسم میں آپؑ کے حجرے میں موجود ہوتے۔ حضرت ذکریاؑ کی حیرت بجا تھی تبھی حضرت مریمؑ سے پوچھتے کہ یہ پھل کدھر سے آتے ہیں؟ کون دے جاتا ہے؟ حضرت مریم سکون سے فرماتیں: ’’اللہ کے پاس سے‘‘ تبھی حضرت ذکریاؑ نے اللہ تبارک تعالیٰ سے وارث کے لیے دعا فرمائی۔ آپ کی بیوی کے بانجھ ہونے کے باوجود معجزۂ خداوندی سے آپ کے ہاں حضرت یحییٰؑ کی ولادت ہوئی۔
    حضرت مریمؑ کی عظمت و فضیلت کو رب کریم نے بار بار قرآن مجید میں بیان فرمایا ہے اور اپنی مومنہ بندی کی پاکیزگی اور برأت کا اعلان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو اپنے پسندیدہ لوگوں میں شمار کرتے ہیں۔ جیسا کہ سورۂ آل عمران میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔ 
    ’’اور جب کہا فرشتوں نے اے مریم! بے شک اللہ تعالیٰ نے چن لیا ہے تمہیں اور خوب پاک کر دیا ہے تمہیں اور پسند کیا ہے تجھے سارے جہان کی عورتوں سے۔ اے مریم! خلوص سے عبادت کرتی رہ اپنے رب کی اور سجدہ کر اور رکوع کر رکوع کرنے والوں کے ساتھ۔‘‘ (آیات: ۴۳۔۴۲) پھر آگے سورۂ المائدہ میں ارشاد فرمایا: ’’نہیں ہیں مسیح ابنِ مریم مگر ایک رسول گزر چکے ہیں اس سے پہلے بھی کئی رسول اور ان کی ماں بڑی راست باز تھیں۔‘‘ (آیت: ۷۵)
    حضرت ابو موسیٰ الاشعریؓ سے روایت ہے کہ رسولؐ نے فرمایا: ’’مردوں میں کئی کامل ہو گزرے ہیں مگر عورتوں میں کوئی کامل نہیں ہوئی سوائے فرعون کی بیوی آسیہ اور عمران کی بیٹی مریم کے۔ اور عائشہ کو عورتوں پر ایسے فضیلت ہے جیسے ثرید کو تمام کھانوں پر۔‘‘
    حضرت عبداللہ بن جعفر نے حضرت علیؓ ابن ابی طالب سے روایت کی ہے کہ حضور نبی کریمؐ نے فرمایا اپنے دور کی بہترین خاتون مریم حضرت مریمؑ بڑے مقام کی حامل خاتون تھیں۔ آپ کی اہمیت کے بارے میں روایت ہے کہ حضور نبی کریمؐ ایک مرتبہ حضرت خدیجہؓ کے پاس تشریف لے گئے۔ آپؓ بیمار تھیں اور اسی بیماری میں آپؓ کا انتقال بھی ہوا۔ حضور اکرمؐ نے فرمایا: ’’اے خدیجہ! تجھے تکلیف میں دیکھ کر مجھے سخت تکلیف ہو رہی ہے لیکن کبھی کبھی اللہ تعالیٰ تکلیف میں بڑی بھلائی رکھ دیتا ہے۔ کیا تو نہیں جانتی کہ اللہ تعالیٰ نے جنت میں تیرے ساتھ مریم بنتِ عمران، کلثم حضرت موسیٰؑ کی بہن اور فرعون کی بیوی آسیہ کے ساتھ میرا رشتہ ازواج منعقد کر دیا ہے۔ حضرت خدیجہؓ نے عرض کیا: ’’یا رسول اللہؐ! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ ایسا کر دیا ہے؟
    آپؐ نے ارشاد فرمایا:ہاں۔ حضرت خدیجہؓ نے (مبارکباد دیتے ہوئے) 
    عرض کیا: آپؐ کے اور ان کے درمیان اتحاد و اتفاق رہے اور اولاد نصیب ہو۔‘‘
    حضرت مریمؑ کی والدہ ان کو اپنی نذر کو پورا کرنے کیلئے بیت المقدس میں عبادت کیلئے بٹھا دیتی ہیں۔ اللہ تبارک تعالیٰ ان کی حفاظت و کفالت کیلئے حضرت ذکریاؑ کو ان کا نگہبان مقرر فرما دیتے ہیں۔ آپؑ بیت المقدس کے جس محراب میں معتکف ہوئیں وہ مقدس کے شرقی حصے میں واقع تھی۔ اس پر معتکفین ہوئیں وہ مقدس کے شرقی حصے میں واقع تھی۔ اس پر معتکفین کے طریقہ کار کے مطابق پردہ لٹکا ہوا ہوتا اس طرح آپؑ نے خود کو دیکھنے والوں کی نگاہوں سے محفوظ فرما لیا۔ سورۂ مریم میں اللہ تعالیٰ اپنے پیارے نبی کو حضرت مریمؑ کا قصہ سناتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’اور اے نبیؐ! اس کتاب میں مریم کا حال بیان کرو، جب کہ وہ اپنے لوگوں سے الگ ہو کر مشرقی جانب گوشہ نشین ہو گئی تھی اور پردہ ڈال کر ان سے چھپ بیٹھی تھی۔‘‘ (آیت: ۱۷۔۱۶)
    حضرت مریمؑ جس مقصد کیلئے چنی گئی تھیں وہ ابھی باقی تھا۔ آپؑ دن رات رب العالمین کی عبادت و ریاضت میں مشغول رہتی تھیں۔ حتیٰ کہ آپ کی عبادت ضرب المثل بن گئی۔ پھر وہ وقت آتا ہے کہ حضرت جبرائیلؑ آپ کے پاس تشریف لاتے ہیں۔ آپؑ ایک غیرمرد کو اپنے حجرے میں دیکھ کر پریشان ہو جاتی ہیں۔ حضرت جبرائیل انسانی شکل میں تشریف لاتے ہیں۔ حضرت مریمؑ آپ کو دیکھ کر بول اٹھتی ہیں: ’’اگر تو کوئی خداترس آدمی ہے تو میں تجھ سے خدائے رحمن کی پناہ مانگتی ہوں۔‘‘ وہ آپ کو تسلی دیتے ہیں اور پیغامِ الٰہی سے باخبر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’میں تو تیرے رب کا فرستادہ ہوں اور اس لیے بھیجا گیا ہوں کہ تجھے ایک پاکیزہ لڑکا دوں۔‘‘ حضرت مریمؑ کی حالت دیدنی ہے۔ ایک غیرمحرم شخص ان کے پاس موجود ہے وہ خداوند تعالیٰ کا پیغام لایا ہے اور ان کی اولاد کی خوشخبری سنا رہا ہے آپؑ حیرت و پریشانی کے ملے جلے جذبات سے فرماتی ہیں: ’’میرے ہاں لڑکا کیسے ہو گا جب کہ مجھے کسی بشر نے چھوا تک نہیں اور میں کوئی بدکار عورت نہیں۔‘‘ حضرت جبرائیلؑ فرماتے ہیں: ’’ایسا ہی ہو گا تیرا رب فرماتا ہے کہ ایسا کرنا میرے لیے بہت آسان ہے اور ہم ایسا اس لیے کریں گے کہ اس لڑکے کو لوگوں کیلئے ایک نشانی بنائیں اور اپنی طرف سے ایک رحمت اور یہ کام ہو کر رہنا ہے۔‘‘
    سورۂ تحریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوتا ہے: ’’اور (دوسری مثال) مریم بنتِ عمران کی ہے جس نے اپنے گوہر عصمت کو محفوظ رکھا تو ہم نے پھونک دی اس کے اندر اپنی طرف سے روح۔‘‘ (آیت: ۱۲)

  • حضرت شعیب علیہ السلام ۔ قرآن کہانی

    حضرت شعیب علیہ السلام
    عمیرہ علیم

    اللہ تعالیٰ نے اہلِ مَدْیَن کی ہدایت کے لیے اپنے بندے شعیب علیہ السلام کو منتخب کیا۔ مدین کا علاقہ حجاز کے شمال مغرب اور فلسطین کے جنوب میں بحرِ احمر اور خلیج عقبہ کے کنارے پر واقع تھا۔ اس کا کچھ سلسلہ جزیرہ نمائے سینا کے مشرقی ساحل پر بھی پھیلا ہوا تھا۔ یہ ایک تجارت پیشہ قوم تھی جو تجارتی راستہ بحر احمر کے کنارے یمن سے مکہ پھر شام کی طرف جاتا تھا اور ایک دوسرا راستہ جو عراق سے مصر کی طرف جاتا تھا، اس کے عین چورا ہے پر اہلِ مدین کی بستیاں آباد تھیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ایک بیوی قطورا تھیں جن کے بطن سے آپ علیہ السلام کے بیٹے مدیان پیدا ہوئے اور مدین کی ساری آبادی مدیان بن ابراہیم علیہ السلام کی نسبت سے مدین یا مدیان کے نام سے مشہور ہوئی۔ بنی اسرائیل کی طرح یہ لوگ ابتدا میں مسلمان ہی تھے لیکن حضرت شعیب علیہ السلام کی بعثت کے وقت ان کی حالت ایک بگڑی ہوئی مسلمان قوم کی سی تھی۔ مشرک اور بداخلاق قوموں کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے یہ لوگ بھی شرک سیکھ چکے تھے۔
    حضرت شعیب علیہ السلام کو زبان و بیان میں ملکہ حاصل تھا۔ آپ نہایت فصیح و بلیغ گفت گو فرماتے۔ آپ کی تبلیغ کی عبارت نہایت بلند اور معنی خیز ہوتی تھی۔ ابنِ اسحاق، حضرت ابنِ عباس سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حضور نبی کریمۖ جب حضرت شعیب علیہ السلام کا تذکرہ فرماتے تو کہتے:
     ”آپ علیہ السلام خطیب الانبیا تھے۔”
    آپ علیہ السلام کا تعلق عرب قوم سے تھا۔ جیسا کہ حضرت ابو ذر سے روایت ہے کہ حضور نبی کریمۖ کا فرمان ہے:
    ”چار انبیا کا تعلق عرب قوم سے ہے، حضرت ہود علیہ السلام، حضرت صالح علیہ السلام، حضرت شعیب علیہ السلام اور تیرے نبی اے ابو ذر۔”
    سورئہ اعراف میں حضرت شعیب علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
    ”اور مدین والوں کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو بھیجا۔” (آیت: ٨٥)
    جب اللہ کے نبی نے اپنی نبوت کا اعلان کیا اور اپنی قوم کو بھلائی کی طرف بلایا تو قومِ شعیب نے آپ کی بات ماننے سے انکار کردیا۔ درحقیقت ان کے اندر ایک نام نہاد مسلمانی قائم تھی لیکن برائیاں ان کے اندر اس طرح سرایت کر چکی تھیں کہ اچھائی اور برائی کا فرق ناپید ہوچکا تھا۔ حضرت شعیب علیہ السلام کو جو ذمہ داری سونپی گئی تھی، آپ علیہ السلام اس کی تکمیل کے لیے نکل کھڑے ہوئے اور وعظ و تبلیغ کا سلسلہ شروع کردیا۔ آپ علیہ السلام اپنی بگڑی قوم کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
     ”اے برادرانِ قوم! اللہ کی بندگی کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے۔ تمہارے پاس تمہارے رب کی صاف رہنمائی آگئی ہے، لہٰذا وزن اور پیمانے پورے کرو۔ لوگوں کو ان کی چیزوں میں گھاٹا نہ دو اور زمین میں فساد برپا نہ کرو جب کہ اس کی اصلاح ہوچکی ہے۔ اس میں تمہاری بھلائی ہے اگر تم واقعی مومن ہو اور (زندگی کے) ہر راستے پر راہ زن بن کر نہ بیٹھ جاؤ کہ لوگوں کو خوف زدہ کرنے اور ایمان لانے والوں کو خدا کے راستے سے روکنے لگو اور سیدھی راہ کو ٹیڑھا کرنے کے درپے ہوجاؤ۔” (آیات: ٨٦، ٨٥)
    اہلِ مدین میں جو دو بڑی خامیاں موجود تھیں اِن میں سے ایک شرک تھی اور دوسری تجارت کے معاملات میں بدیانتی کرنا۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کو سب سے پہلے غیر اللہ کی عبادت یعنی شرک سے منع فرمایا۔ یہ ایک بہت بڑی روحانی بیماری ہے اور ہر نبی نے سب سے پہلے اپنی قوم کو اس سے منع فرمایا کیوں کہ شرک کی وجہ سے نہ کوئی عبادت مقبول ہوتی ہے اور نہ ہی انسان کی بخشش ہوسکتی ہے۔ جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
    ”بلا شبہ اللہ تعالیٰ یہ بات کبھی نہیں بخشے گا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے۔” ایک مومن کی خیرو بھلائی اسی میں ہے کہ اس کا معیار دنیا پرستوں سے مختلف ہو۔
    اہلِ مدین کو توحیدِ حق کا سبق ناگوار گزرتا ہے لہٰذا حضرت شعیب علیہ السلام کی نصیحت کے جواب میں فوراً کہتے ہیں:
    ”اے شعیب! کیا تیری نماز تجھے یہ سکھاتی ہے کہ ہم ان سارے معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے۔”
    نماز دین داری کا نمایاں مظہر ہے۔ خدا سے غافل معاشرے میں یہ علامتِ مرض کا ظہور لگتی ہے اور جب یہ علامت کسی میں ظاہر ہونے لگے تو وہ دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرنے کی کوشش کرتا ہے تو جس کو وعظ کیا جائے اس کو سخت ناگوار لگتا ہے اور وہ سارا قصور نماز کا گردانتا ہے۔ حضرت شعیب علیہ السلام کی رب کے حضور حاضری کو بھی ان کی قوم پسند نہیں کرتی تھی۔ آپ علیہ السلام اپنی قوم کو اللہ کی بندگی، تمدّن، معاشرت، معیشت، سیاست غرض زندگی کے ہر شعبے میں اصلاح کا وعظ کرتے ہیں کیوں کہ اللہ تعالیٰ کسی ایک مذہبی دائرے میں رہ کر اپنی عبادت کا حکم نہیں دیتا جب کہ اہلِ مدین قدیم جاہلیت کا نظریہ اپنائے ہوئے تھے کہ باپ دادا حق پر ہیں۔
    پھر آپ علیہ السلام اپنی قوم کو تنبیہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
    ”اور ناپ تول میں کمی نہ کیا کرو۔ آج میں تم کو اچھے حال میں دیکھ رہا ہوں مگر مجھے ڈر ہے کہ کل تم پر ایسا دن آئے گا جس کا عذاب سب کو گھیرے گا اور اے برادرانِ قوم! ٹھیک ٹھیک انصاف کے ساتھ پورانا پو اور تو لو اور لوگوں کو ان چیزوں میں گھاٹا نہ دیا کرو اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو۔ اللہ کی دی ہوئی بچت تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم مومن ہو اور بہرحال میں تمہارے اوپر کوئی نگران کار نہیں ہوں۔” (سورئہ ہود، آیات ٨٦، ٨٤)
    حلال مال تھوڑا بھی ہو وہ حرام کی زیادتی سے بہتر ہے۔ حلال باقی رہ جانے والا جب کہ حرام تباہ کرنے والا ہے۔ سورة المائدہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی حضرت محمدۖ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
    ”آپۖ فرما دیجئے! نہیں برابر ہو سکتا ناپاک اور پاک اگرچہ حیرت میں ڈال دے تجھے ناپاک کی کثرت۔”
    اللہ کے نبی حضرت محمدۖ نے فرمایا ہے:
    ”جب کوئی قوم ناپ تول میں کمی کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو قحط اور گرانی اور حکام کے ظلم میں مبتلا کر دیتا ہے۔”
    اللہ رب العزت کو یہ بات سخت ناپسند ہے کہ تجارت میں ہیرپھیر کیا جائے تب ہی قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اس سے بچنے کی تلقین فرمائی گئی ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے:
    ”اور جب ناپ کرو تو پیمانہ بھرا کرو اور تولو تو سیدھے ترازو سے تولا کرو، یہ پورا ناپنا اور تولنا اچھی بات ہے اور اس کا انجام بھی اچھا ہے۔”
    اللہ کے نبیۖ کا فرمان ہے:
    ”قیامت کے دن سچا اور امانت دار تاجر انبیا، صدیقین اور شہدا کے ساتھ ہو گا۔”
    انسان کو زیب نہیں دیتا کہ اپنے ہم جنسوں کو دھوکہ دے۔ اس سے دنیا میں بھی خرابی اور آخرت میں بھی رسوائی اور بدنامی ہے۔
    ناسمجھ قوم اپنے پیغمبر کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتی ہے:
    ”نہ تصرف کریں اپنے مالوں میں جیسے ہم چاہیں (ازراہِ تمسخر بولنے) بس تم ہی ایک دانا (اور) نیک چلن رہ گئے ہو؟” (سورئہ ہود)
    حضرت شعیب حق کی راہ پر تھے تب ہی فرماتے:
    ”اے میری قوم! بھلا یہ تو بتائو اگر میں روشن دلیل پہ ہوں اپنے رب کی طرف سے اور اس نے عطا بھی کی ہو مجھے اپنی جناب سے عمدہ روزی اور میں نہیں چاہتا مگر ہماری اصلاح (اور دوستی) جہاں تک میرا بس ہے اور نہیں ہے میرا راہ پانا مگر اللہ تعالیٰ کی امداد سے اور اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے اور اس کی طرف رجوع کرتا ہوں۔” (سورئہ ہود)
    آپ نہایت مدلل انداز اختیار کرتے ہوئے نرمی اور پیار سے اپنی قوم کی اصلاح چاہتے تھے۔ آپ نہایت عبادت گزار اور بااخلاق شخص تھے۔ آپ جانتے تھے کہ وعظ و نصیحت تب ہی کارگر ثابت ہو سکتی ہیں جب کرنے والا خود بھی اس پر عمل پیرا ہو۔ آپ کے قول و فعل میں تضاد نہ تھا لیکن آپ کی قوم مکمل طور پر بگڑ چکی تھی۔ وہ آپ کی عبادت کا مذاق اڑاتی اور اپنی برائیوں پر اتراتی تھی۔
    حضرت شعیب کی خوش بیانی کا چرچا ہونے لگا۔ آپ کی اپنی قوم راہِ ہدایت سے فیض یاب نہ ہو پا رہی تھی لیکن اردگرد کے لوگ آپ کے پاس آنے لگے۔ انہیں آپ کو سننا اچھا لگتا تھا۔ اہلِ مدین کو یہ معاملہ ناگوار گزرا۔ انہوں نے لوگوں کے راستے روکنے اور لوٹ مار شروع کر دی۔ حضرت شعیب نے ان کو عدل و انصاف کی تلقین فرمائی اور ظلم و زیادتی سے روکا اور فرمایا:
    ”یہ بہتر ہے تمہارے لیے اگر تم ایمان لانے والے ہو اور مت بیٹھا کرو راستوں پر۔” (سورئہ اعراف)
    حضرت ابن عباس فرماتے ہیں:
    ”مدین کے لوگ بہت ظالم تھے۔ راہ پر بیٹھ کر لوگوں کو لوٹا کرتے تھے یعنی ان سے ٹیکس اور چنگی لیتے تھے۔ چنگی کی ابتدا انہی سے ہوئی۔” 
    حضرت شعیب ان کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کو اللہ کے احسانات یاد دلاتے ہیں کہ جب تمہارے آبائو اجداد ان ہی حرکتوںکی وجہ سے تباہ و برباد ہوئے تو ان کی تعداد مٹھی بھر تھی۔ یہ اللہ  تعالیٰ کی مہربانی تھی کہ اس نے تمہیں ایک بڑی جماعت بنا دیا۔ تمہیں اولاد سے نوازا اور مال کی فراوانی عطا فرمائی اور تمہیں سیدھے راستے پر چلایا۔ اب نا تو تم خود راہِ خدا کی پیروی اختیار کرتے ہو بلکہ دوسروں کو بھی اس کے راستے پر چلنے سے روکتے ہو، یہ ایک گناہِ عظیم ہے۔ آپ ان کو عذابِ خداوندی سے ڈراتے ہوئے فرماتے ہیں:
    ”اور اے میری قوم! ہرگز نہ اکسائے تمہیں میری عداوت (اللہ کی نافرمانی پر) مبادا پہنچے تمہیں بھی ایسا عذاب جو پہنچا تھا قومِ نوح یا قومِ ہود یا قوم صالح کو اور قومِ لوط تو تم سے کچھ دور نہیں۔” (سورئہ ہود) اللہ سے اس کی رحمت کے طلب گار بن جائو۔ ان برے کاموں سے کنارہ کشی اختیار کرو اور توبہ کرو۔ بے شک یہ عمل رب تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ ہے۔ ایک مرتبہ صحابہ کرام نے اللہ کے رسولۖ سے فرمایا:
    ”اے اللہ کے رسولۖ! جب ہم آپۖ کی صحبت میں ہوتے ہیں تو ہماری کیفیت اس کیفیت سے مختلف ہوتی ہے جب ہم یہاں سے چلے جاتے ہیں۔” اللہ کے رسولۖ فرماتے ہیں:
    ”اگر ایسا نہ ہوتا تو دنیا میں سب فرشتے ہوتے بلکہ فرشتے نیک لوگوں کے دیدار کو آتے۔ اللہ تم کو ختم کر کے تمہاری جگہ ایک دوسری قوم پیدا کرتا جو گناہ کرتی اور پھر توبہ کر کے اپنی اصلاح کرتی۔ بے شک اللہ توبہ کو پسند فرماتا ہے۔”
    قومِ شعیب سے جب اپنے رسول کی باتوں کا جواب نہ بن پڑا تو انہوں نے آپ کو دھمکیاں دینی شروع کر دیں اور کہنے لگے:
    ”اے شعیب! ہم تجھ کو اور جو تیرے ساتھ ایمان لائے ہیں سب کو اپنی بستی سے نکال دیں گے یا تم واپس لوٹ آئو ہمارے دین میں۔” اور کہنے لگے:
    ”اور اگر تمہارے کُنبے کا لحاظ نہ ہوتا تو ہم نے تمہیں سنگ سار کر دیا ہوتا اور نہیں ہو تم ہم پر غالب۔” حضرت شعیب کو ان کی بے راہ روی دکھی کرتی۔ جب اہل مدین والے ان کو دھمکی دیتے ہیں تو آپ کو اس بات کا دکھ ہوتا ہے کہ کیا میرا قبیلہ اور میرا گھرانا ان کے نزدیک اللہ رب العزت سے زیادہ معزز ہے اور بجائے اللہ کے میرے کنبے کی وجہ سے میرے ساتھ رعایت برت رہے ہیں۔ تو آپ ان پر واضح کر دیتے ہیں کہ تم لوگ اپنی جگہ پر عمل کرو اور میں وہ کام کرتا رہوں گا جو مجھے سونپا گیا ہے اور اللہ عزت والے کو رسوا نہیں کرتا۔ جلد ہی اس بات کا فیصلہ ہو جائے گا کہ حقیقت میں سچائی کے راستے پر کون ہے۔ آپ نے فیصلہ خدا کے سپرد کر دیا اور بارگاہِ الٰہی میں دعا فرمائی:
    ”اے ہمارے رب فیصلہ فرما دے اور ہمارے درمیان اور ہماری قوم کے درمیان حق کے ساتھ اور تو سب سے بہتر فیصلہ فرمانے والا ہے۔”

  • حضرت داؤد علیہ السلام ۔ قرآن کہانی

    حضرت داؤد علیہ السلام

    عمیرا علیم
    ا

    للہ تعالیٰ کے مقربین میں سے ایک نام حضرت داؤدؑ کا بھی ہے۔ اپنی نیک صفات کی بنا پر آپؑ کو حکومت اور نبوت دونوں عطا کی گئیں اور جیسی حکومت آپؑ کو نصیب ہوئی، وہ آپؑ سے پہلے کسی کو بھی نہ ملی۔
    آپؑ پہلے بادشاہ نبی تھے۔ آپؑ کا شجرۂ نسب تیرھویں پشت میں حضرت ابراہیم ؑ کے ساتھ جا ملتا ہے۔ آپؑ کو بنی اسرائیل پر مبعوث کیا گیا۔ آپؑ کا قد چھوٹا، آنکھیں نیلی اور بال کمتھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو پاک اور طاہر دل عطا فرمایا تھا۔
    سورۃ البقرہ میں حضرت داؤدؑ کی بڑائی بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
    ’’اور قتل کردیا داؤد ؑ نے جالوت کو اور عطا فرمائی داؤد ؑ کو اللہ نے حکومت اور دانائی اور سکھا دیا اس کو جو چاہا۔‘‘
    آپؑ سے پہلے نبوت اور بادشاہت کا سلسلہ اس طرح چلتا آرہا تھا کہ نبی ایک نسل سے مبعوث ہوتا اور بادشاہ دوسری نسل سے۔ جالوت کا قتل آپؑ کے ہاتھوں کروا کر اللہ تبارک تعالیٰ نے آپؑ کی ایسی دھاک بٹھائی کہ بنی اسرائیل آپؑ کے شیدائی ہوگئے کیوں کہ جالوت کی طاقت نے بنی اسرائیل کے دل میں خوف بٹھا رکھا تھا۔ جنگ کے دوران جب جالوت نے شہنشاہ طالوت کو للکار کر مقابلے کے لیے آنے کو کہا تو بادشاہ نے اپنے لشکر کو ترغیب دی کہ ان میں سے کوئی آئے اور اس کافر کا مقابلہ کرے۔ حضرت داؤدؑ نے اس دعوت کو قبول فرمایا اور جالوت کو قتل کردیا۔ بعد میں آپؑ بنی اسرائیل کے حاکم مقرر ہوئے۔ کچھ انبیا کرام مخصوص بستیوں کے لیے ہی مبعوث ہوئے لیکن اللہ تعالیٰ نے آپؑ کو وسیع حکومت عطا فرمائی اور آپؑ نے اپنی حکمت و دانائی سے بنی اسرائیل کی ازسرِنو تشکیل کی۔ تبھی تو حضرت عثمان غنیؓ فرماتے ہیں:
    ’’اللہ تعالیٰ قرآن کے ذریعے اتنا (فساد) نہیں روکتا جتنا بادشاہ کے ذریعے روکتا ہے۔‘‘
    سورۃ النساء میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
    ’’اور ہم نے داؤدؑ کو زبور دی۔‘‘ (آیت 163)۔ 
    حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمؐ نے فرمایا:
    ’’حضرت داؤدؑ پر قرآن (زبور) آسمان فرما دیا گیا تھا۔ یہ اپنی سواری کو تیار کرنے کا حکم دیتے اور سواری پر زین کس دی جائے اس سے پہلے ساری زبور پڑھ لیتے تھے اور صرف اپنے ہاتھ کی کمائی ہوئی روزی کھاتے تھے۔‘‘ (بخاری)
    اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
    ’’بے شک ہم نے اپنی جناب سے داؤد ؑ کو بڑی فضیلت بخشی (ہم نے حکم دیا) اے پہاڑو! تسبیح کہو اس کے ساتھ مل کر اور پرندوں کو بھی یہی حکم دیا۔‘‘ پھر یہی بات سورۃ الانبیاء میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے:
    ’’اور ہم نے فرماں بردار بنادیا داؤد ؑ کا پہاڑوں اور پرندوں کو وہ سب ان کے ساتھ مل کر تسبیح کہا کرتے اور (یہ شان) ہم دینے والے تھے۔‘‘
    سبحان اللہ! کیا شان عطا فرماتا ہے ربِ کعبہ اپنے رجوع کرنے والوں کو۔ پہاڑ اور پرندے آپ کے ساتھ مل کر اللہ کا ذکر کرتے اور اپنے رب کی شکر گزاری کرتے۔
    آپؑ کی آواز بے حد خوب صورت تھی۔ ایسی آواز زمین پر کسی کو عطا نہیں کی گئی۔
    آپؑ کی آواز میں ایسا سوز تھا کہ پرندے آکر آپؑ کے ساتھ تسبیح میں شامل ہوتے تو پہاڑوں سے بھی ذکرِ الٰہی کی آوازیں آنے لگتی تھیں اور وہ سب صبح و شام رب تعالیٰ کی تسبیح کرتے۔ حضرت وہب ابن منبہؒ فرماتے ہیں کہ جب کسی انسان کے کان میں ان کی آواز پڑ جاتی تو وہ رقص کے انداز میں اچھلنے کودنے لگتا۔ آپؑ زبور کی آیات کی ایسی خوب صورت آواز سے تلاوت کرتے کہ اُس کی مثال نہیں ملتی۔ جن وانس، چرند پرند سب آپ کی آواز سُننے کے لیے اکٹھے ہوجاتے حتیٰ کہ ان میں سے بعض تو بھوک کی وجہ سے مر جاتے مگر محل سے جانے کا نام نہ لیتے۔
    امام احمد، حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمؐ نے ایک مرتبہ حضرت موسیٰ بن الاشعری کو تلاوتِ قرآن پاک کرتے سنا توفرمایا:
    ’’ابو موسیٰؓ کو لحنِ داؤدی عطا کیا گیا ہے۔‘‘ 
    علماء کرام فرماتے ہیں کہ روزِ قیامت حضرت داؤدؑ اللہ تعالیٰ کے پایۂ بخشش کے پاس کھڑے ہوں گے تو ارشاد ہوگا:
    ’’اے داؤد ؑ ! آج اسی طرح خوب صورت اور مترنم آواز میں میری مدح و ستائش کر جیسے دنیا میں کیا کرتا تھا۔ آپؑ فرمائیں گے اب یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ تو نے تو وہ آواز مجھ سے لے لی ہے تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے۔ آج وہ آواز میں تجھے پھر سے واپس دیتا ہوں۔‘‘ حضرت داؤدؑ اس مہربانی پر بلند آواز میں اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا کریں گے تو اہلِ جنت کو تمام نعمتیں اس آواز کے مقابلے میں ہیچ محسوس ہوں گی۔

  • معین اختر:صدائے ظرافت اب نہ آئیں گے پلٹ کر۔۔۔ ۔ شاہکار سے پہلے


    معین اختر:صدائے ظرافت

    اب نہ آئیں گے پلٹ کر۔۔۔

    کراچی کے ماڈل کالونی قبرستان کا منظر ہے۔ قبروں کے ڈھیر میں کئی انسان دفن ہیں۔ اپنے پیچھے کہانیاں چھوڑ جانے والے بھی، شہرتیں سمیٹنے والے بھی اور دنیا کو روتا چھوڑ کر جانے والے بھی۔ سب اپنی اپنی منزل پر پہنچ چکے ہیں۔ دکھ ،تکلیفیں،غم ،خوشیاں،مسکراہٹیں اور قہقہے۔۔ زندگی کا ہر رنگ دیکھ کر اپنے اصل کی جانب واپس لوٹ جانے والوں میں ایک قبر اس کی بھی تھی۔ گیٹ پر گاڑی آکر رکی۔ اس میں اداس بیٹھا اے آر وائی نیوز کے پروگرام ‘‘سرعام’’کا میزبان اقرار الحسن اب اپنے سنگ ایک نئی اداسی سمیٹنے آیا تھا۔ پاکستان کی مشہورشخصیات کی قبروں کا حال لوگوں کو دکھانے کیلئے ریکارڈ کیا جانے والا یہ پروگرام اقرار کے ساتھ کئی لوگوں کو اداس کر گیا تھا۔ اس وقت بھی اقرار ایک ایسی ہی شخصیت کی قبر سے گرد جھاڑ کر اس پر پھول ڈال رہا تھا۔ یہ قبر ویران پڑی تھی۔ گورکن کے مطابق یہاں کبھی کبھی صرف ایک شخص آتا تھا۔:عمر شریف۔ برِصغیر پاک وہند کا مشہورترین کامیڈین عمر شریف جو شاید جانتا ہے کہ یہ شہرت ،عزت،دولت اور سب سے بڑھ کر یہ زندگی صرف ایک امتحان ہے۔۔ اور ایسے ہی امتحان سے وہ شخص بھی گزر کر گیا تھا جس کی قبر پر اب صرف عمر شریف ہی پھول ڈالنے آتا تھا۔

    اقرار الحسن اپنے پروگرام میں اس قبر میں دفن ہونے والے شخص کے جنازے کی ویڈیو بھی دکھا رہا تھا۔ ‘‘اب ہمارے گھر کا چولہا کیسے جلے گا؟’’اس کے جنازے کے ساتھ ایسی صدا بلند کرنے والے بہت تھے۔ رزق دینے والا بے شک خدا ہے مگر اس خدا کا رزق ایسے گھروں تک پہنچانا جو بھوکے سوتے ہوں ایک عظیم نیکی ہے اور وہ تو تھا ہی ایسا۔ غریبوں کا درد اس کے دل میں تھا۔ ٹی وی کی سکرین پر مختلف کردار نبھانے والا شخص، کبھی ‘‘روزی’’ بننے والا، کبھی نقالی کرکے ہنسانے والا، کبھی سیاسی چہروں کو مزاحیہ انداز میں پیش کرنے والا، کبھی میزبان بن کرتو کبھی مہمان بن کر لوگوں کے چہرے پر مسکراہٹ لانے والا۔۔ کبھی کسی کا روپ بنا کر۔۔ تو کبھی اپنے مخصوص انداز میں قہقہے بکھیرنے والا شخص۔۔ وہ سب کچھ تھا کیونکہ وہ معین اختر تھا۔ وہ معین اختر جسے شاید اپنی موت کا چند دن پہلے ہی اندازہ ہو گیا تھا۔ صرف چند روز پہلے ہی تو اس نے کہا تھا۔
    ‘‘اب تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے زندگی کا یہ سفر اختتام پذیر ہوا چاہتا ہے۔ زندگی جیسے بھی گزاری ہو کائنات میں، مگر دفنائے جاؤ گے بڑی عزت سے’’۔
    اور اس کی بات سچ تھی۔ زندگی اس نے گزاری تو زندگی کا ہر رنگ دیکھا اور جب اپنے خالق حقیقی سے جاملا تب اس کو ایک شان کے ساتھ دفن کیا گیا۔ لاکھوں آنکھیں آنسو لئے اور لاکھوں دل اس کی مغفرت کی دعا مانگ رہے تھے۔ اقرار الحسن ،معین اختر کی قبر پر پھول ڈال کر کسی اور کی قبرکی طرف چل دیا۔ لیکن اس قبر کی اداسی کو وہ پھول محسوس نہیں کر سکتے تھے۔ قبر اداس تھی۔۔۔ شاید ہمیشہ اداس رہنے والی تھی۔۔

    نامہ بر اپنا ہواؤں کو بنانے والے۔۔۔۔۔
    اب نہ آئیں گے پلٹ کرکبھی جانے والے
    مر گئے ہم تو یہ کتبے پہ لکھا جائے گا۔۔۔۔۔
    سو گئے آپ زمانے کو جگانے والے۔۔۔

    ٭٭٭

  • ولیم شیکسپیئر ۔ شاہکار سے پہلے

    ولیم شیکسپیئر

    صوفیہ کاشف
    سولہویں صدی کے لندن کے تھیڑرز میں تفریح کے لیے آنے والا اعلیٰ مہذب اور متمدن طبقہ اشرافیہ گھوڑوں کی پشت پر سوار جب ترون اکڑائے تھیڑکے سامنے پہنچتا تو صدیوں تک انگلش ادب کی تاریخ کے پہلے صفحے سرفہرست زندہ جاوید رہنے والا ویلیم شیکسپیئر ان کے گھوڑوں کی لگامیں تھامنے کو موجود ہوتا۔ لندن کے نواب جب گھوڑے کی پشت سے چھلانگ لگاتے تو آج کے انگلش ڈرامہ کا یہ بے تاج بادشاہ انکساری اور عاجزی سے نظر جھکائے ان کے معزور گھوڑوں کی لگامیں تھامتا اور اصطبل کی طرف چل پڑتا کیونکہ ڈرامہ اور ادب کی دنیا میں سورج بن کر چمکنے سے پہلے ولیم نے روزقار کا آغاز لندن میں تھیٹر کے دروازے پر کھڑے ہونے والے ”ساستیں“ کے طور پر کیا تھا۔ وقت اور صدیوں کی ان گھڑیوں میں جھکے سر والا یہ ساستیں جانتا تھا کہ ادب کے صفحات پر اس کا نام گہرائی سے کھداے جانے والا ہے اور نہ اس کی طرف حقارت سے دیکھ کر گزر جانے والے نواب ہی یہ جانتے تھے کہ جھک کر کورنش بجا لانے والا یہ معمولی سا دربان ایک روز ادب کی سلطنت کا بادشاہ بننے والا ہے جس کی تعظیم کے لیے ان کی نسلیں اس کے حصّے اور الفاظ کو دہراتی اور ان سے شعور سیکھتی رہیں گی۔
    ”موٹ کی اُس نیند میں کس طرح کے خواب آتے ہیں؟“
    موت کی سرزمین پر بسیرا کرتے آسیب ہے خوفزدہ شیکسپیئر اگر یہ ادراک رکھتا کہ اس کی حیات کا اختتام اس کا انجام نہیں بلکہ اس کی شہرت، مقبولیت اور عظمت کا آغاز ہے تو شاید وہ وقت سی پہلے ہی جنتوں کی اس سر زمین پر قدم دھرنے کا سوچنے لگتا۔
    ”شیکسپیئر کے والد) جان شیکسپیئر کو غربت اور تندرستی ورثہ میں نہ ملی تھی مگر گردشِ ماہ وسال میں جان شکسپیئر کی جائیداد اور کاروبار گھٹتے گھٹتے محض ایک صفائی کے کاروبار تک محدود رہ گیا تھا۔ قدرت کا قانون ہے کہ کل کے اندھیرے آنے والے دن کے سویروں میں ڈھل جاتے ہیں اور ایک نسل کی مفلسی دوسری نسل کی امارت لے کر آتی ہے۔ حکومتی محکموں میں سرکاری ملازم ہونے کی وجہ سے جان شیکسپیئر کو کچھ مراعات حاصل تھیں جن میں ایک خدائی تحفہ اس کے بچوں بشمول ولیم کے، کی مفت کی گرامر سکول میں تعلیم بھی تھی۔ شہر اس کے بعد تنگ دامنی آڑے آئی اور کالج میں داخلہ حاصل کرکے مزید تعلیم حاصل کرنا ولیم شیکسپیئر کا مقدر نہ ہوسکا۔ میں شاعرانہ مزاج لڑکے کو قصاب کے کاروبار میں باپ کا ہاتھ بٹانے کے لیے زندگی کے میدان میںنکلنا پڑا۔ کیا یہ محض اتفاق ہے یاکہ فطرت کا ایک خفیہ راز کہ سکولوں اور کالجوں کے باضابطہ سخت ماحول صرف ایک خاص معیار کے انسان بناتے تھک جاتے ہیں جبکہ ان کی حدوں سے دور رہنے والے، فطرت سے سرگوشیاں کرنے والے اور دنیا کی جکی میں گھن کی طرح پسنے والے کامیابی کے اسرارورموز پاجاتے ہیں۔
    قرون وسطیٰ میں شیکسپیئر اندرون انگلستان کا ایک مقبول خاندانی نام تھا جو اس کے بہت سے علاقوں میں بے تحاشا بکھرا ہوا تھا۔ شیکسپیئر جس کا لفظی مطلب نیزہ رافی میں مہارت اور جن کی اہمیت کا حامل تھا۔ خصوصاً سولہویں اور سترھوی صدی عیسوی میں یہ ایک خاندانی نام کے طور پر بکثرت استعمال ہوا یہاں تک کہ کوئی 34 علاقے شیکسپیئر نامی افراد کی آبادی کی اکثریت ظاہر کرتے ہیں یہی وجہ تھی کہ اس دورانیہ میں ولیم شیکسپیئر نامی افراد کی بڑی تعداد کا سراغ ملتا ہے جس کی وجہ سے تاریخ دان اکثر ڈرامہ نگار ویلیم شیکسپیئر کے سفرِ حیات اور حقائق کے بارے میں ابہام کا شکار ہوتے رہے اور آج تک اس کی زندگی کے رازوں کو کھوجنے اور سچائیاں آشکار کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔
    "John Shakespear” کے گھر میں W.Shakespeare کی پیدائش کے ساتھ ہی ان علاقوں مںی بھیانک کالی (plague) موت کا اندھا رقصی شروع ہوگیا۔ بلدیہ کا سرگرم ملازم ہونے کی وجہ سے جان شیکسپیئر نے ان علاقوں میں بے تماشا امدادی کام کئے اور ایسے عہدے میں ترقیاں حاصل کیں جس کی بدولت اگلے کئی سالوں تک ولیم شیکسپیئر سکول کی تعلیم اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ مفت میں حاصل کرتا رہا۔
    تیرہ سال کی عمر میں ولیم کو پڑھائی چھوڑ کر باپ کے بچ رہنے والے واحد مختصر کاروبار میں باپ کا ہاتھ بٹانا پڑا۔ عظیم مشاہدہ اور بہترین تخیلاتی دماغ رکھنے والے شیکسپیئر کے لیے یہ رووگار غیر رومانوی اور غیر دلچسپ تو تھا ہی لیکن کچھ تبصرہ نگاروں کے خیال میں درباروں اور بادشاہوں کی سرکار میں وعظ و خطاب کرنے والے اور شاہانہ زبان میں کلام کرنے والے ویلیم نے یقینا ہر کام بھی بہت شاہانہ انداز میں کیا ہوگا۔
    ”وہ بچھڑا مارے کے لیے اعلیٰ طریقہ اختیار کرتا اور اُس سے پہلے ایک پر مقز خطبہ دیتا!“
    اٹھارہ سال کی عمر میں اپنی عمر سے بڑی خاتون کے ساتھ ویلیم کی شادب محبت کا بندھن تھی یا غم روزگار کا دُکھ، مگر یہ اٹل حقیقت ہے کہ Anne Hathaway کے ساتھ باندھے اس بندھن نے اس کے معاشی مسائل کو سختی کو خاصے حد تک کم کیا۔ Anne ایک بہتر مالی وسائل رکھنے والے خاندان سے تعلق رکھتی تھی اور باپ کی طرف کچھ جائیداد بھی اس کا حصہ بنی جس میں وہ فارم ہاو ¿س بھی شامل تھا جس میں شیکسپیئر کی یادگاراور نشانی کے طور پر محفوظ ہے۔
    1585 کے آخری مہینوں میں ویلیم startford سے رخصت ہوکر اگلے کئی سالوں تک کے لیے تاریخ کے اوراق سے گمشندہ ہوگیا۔ 1596 تک ویلیم شیکسپیئر کی زندگی جدوجہد اور آسائشیں و مصائب کا کوئی تذکرہ نہ کسی دفتری کاغذات میں ملتا ہے نہ دوست احباب کی کہانیوں اور واقعات میں۔ ان گیارہ سال کے وقفے کے بعد ویلیم شیکسپیئر کا سراغ لندن کے مشہور تھیٹرز کی کہانیوں اور ڈراموں سے ملنا شروع ہوتا ہے۔ کچھ داستانوں کے مطابق اس دوران ویلیم بڑی صحت کا شکار ہوکر بیکاری کے دن رات میں آس پاس کے فارم ہاو ¿سز سے ہرن اور پرندے چرانے لگا جس کے نتیجے میںاس کی ان افراد کے ہاتھوں سزا، مار، اور قیدو بند کی صعوبتیں بھی اٹھانا پڑئیں اور یہی وہ ناکامی روزگار کی سزا نہیں تھیں جن سے ہر دل ہوکر شیکسپیئر نے بالآخر startford سے لندن کی طرف کوچ کر جانے کا فیصلہ کیا اور اگلے گیارہ سال تک ایسی بیوی اور بچوں سے لاتعلق نہ سہی بہت فاصلے پر ضرور رہا اور اپنی دلچسپی اور خواہش کے مطابق کوئی روزگار حاصل کرنے کی کوشش میں جگتا رہا!
    وہ کچھ لوگ عظیم پیدا ہوتے ہیں کچھ عظمت حاصل کرلیتے ہیں اور باقیوں پر عظمت مسلط ہوجاتی ہے۔“
    یہ وہ دور تھا کہ ویلیم کا نام نہ تو کسی آبائی عظمت کا وارث تھا نہ اس کے فارم ہاو ¿س سے یا اس کی محنت کی فصل سے عظمت نامی پھل ہی نکلنا شروع ہوئے تھے۔ ہر پہلے سفر پر نکلنے والے مشکلات میں پھسے مسافر کی طرح شیکسپیئر بھی بڑے لوگوں کی عظمت کا شکار تھا۔ اسی لیے ادب کی شاہراہ پر صدیوں تک دوڑنے والے اس شاہ سوار نے پنا سفر تھیٹر کے اصطبل میں ایک سائنس کے طور پر کیا تھا۔
    starford کے دیہاتی علاقے میں گزاری زندگی نے ویلیم کے ذرخیز دماغ اور عظیم قوتِ مشاہدہ کو بہترین رنگوں سے نوازا۔ پرندوں، درختوں، پھولوں، جانوروں کے قریبی ساتھ نے اور فطرت و قدرت کے کُھلے نظاروں کے شیکسپیئر کے تخیل کو اُبھارا اور زندگی کی بہت سی خوبصورتوں اور بدصورتیوں سے متعارف کروایا۔ دیہی علاقے سے حاصل کیا یہی علم اور مشاہدہ تھا کہ گھروں کی کھڑکی پر بنا پرندوں کو گھونسلا گھر کے بابرکت اور پرُامن ہونے کی دلیل دیتا دکھائی دیتا اور تباہی اور بربادی کی رات اُلو اپنا سی گوشت نوچ کھاتے اور گھوڑے اپنے دوستوں کی گردنیں تناول کرجاتے!
    ”غیر فطری کام ہمیشہ غیر فطری نتائج کو جنم دیتے ہیں۔“
    شیکسپیئر سے بہتر اور کون بتا سکتا ہے کہ رات کا اندھیرا گہرا ہوجائے تو برائی اور تباہی کو قوتیں اڑان بھرنے لگتی ہیں اور جرم، گناہ اور زیادتی کے دیوتا پر پھیلاتے زمین کے سکون، امن اور اچھائیوں کو ڈھانپنے لگتے ہیں۔ رات کی تاریکی جب کُھل کر کھیل جائے تو اپنے پیچھے اُدھڑے ہوئے ضمیر، سِسکتی روحیں اور تباہ کن نتائج کا گھمبیر سلسلہ چھوڑ جاتے ہیں۔ یہ وجدان سکول کی کتابوں کے مطالبہ سے نہیں ویلیم شیکسپیئر نے startford کے ہرے بھرے پھولوں بھرے علاقے میں چمکتے دن اور تاریک راتیں گزار کر زندگی کی نرمیاں چھو کر اور گرمیاں سہ کر حاصل کیا تھا۔
    لندن کے تھیٹرز کے دروازوں پر کی گئی خدمت ولیم کو جلد ہی تھیٹر کے اندر لے گئی۔ ملازم لڑے سے آغاز کرکے اب ویلیم کو تھیٹر کے اندر کام کا موقع ملنے لگا۔

    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

  • ساغر صدیقی  ۔ شاہکار سے پہلے

    ساغر صدیقی ۔ شاہکار سے پہلے


    ساغر صدیقی
    صوفیہ کاشف

    بہار سے پہلے بہار اور وقت سے پہلے پذیرائی کا مزا چکھنے والا ساغر صدیقی عروج پر پہنچتے پہنچتے شہر کی گلیوں میں گمشدہ ہو چکا تھا۔سہانے دلنشیں خوابوں کو مشعل راہ بناکر چلنے والے کے سامنے جب دنیا کی حقیقت عیاں ہوئی تو وہ ریزہ ریزہ ہو کر مٹی میں بکھر گیا۔قطرہ قطرہ خون کی بوند بن کر بہ جانے کے بعد بھی اس کے ہنر کی خوشبو آج تک اہل ذوق کے ہاں پہچانی جاتی ہے۔ بدقسمتی سے ساغر کی داستانِ حیات کے باب میں عبرت کی کچھ نشانیاں تو ملتی ہیں مگر زندگی کے سیاق و سباق اور حقیقت کی کہانیاں نہیں ملتیں۔ اس کے باوجود اس کے لیے الفاظ آج بڑی عزت اور محبت سے بھی گائے اور محفلوں میں سنائے جاتے ہیں۔
    اب جنازہ ہے چار تنکوں کا
    آشیاں تھا بہار سے پہلے
    محمد اختر شاہ کے اصلی نام سے ہندوستاں کے شہر انبالہ کے ایک غریب محلے میں پیدا ہونے والاشاعر ساغر صدیقی ،اوائل عمری سے یتیمی کا شکارتھا مگر اس کے ابتدائی حالات کا تذکرہ و تفصیل اس کے قصہ حیات کا اک گمشدہ باب ہے۔
    ”میری زندگی زنداں کی ایک کڑی ہے ۔ میں نہ جانے کہاں پیدا ہوا تھا۔ماں کی مامتا، باپ کی شفقت، بھائی کی محبت اور بہن کا پیار ،یہ سب میرے لیے علی بابا چالیس چور کے پراسرار غار کی کہانی جیسا ہے۔“
     محمد اختر کا دماغ یقینا زرخیز اور شوق ضرور گہرے تھے۔تبھی غربت کی گود میں جنم لینے والا بچہ سکول یامدرسہ کی اوقات نہ رکھنے کے باوجود، گلیوں محلوں میں آوارہ پھرنے کی بجائے محلے کے ایک بزرگ حبیب حسن سے سبق لے کر تعلیم سے جڑا رہا۔ تاریخ کی لاعلمی ایسی کہ ہمیں اس محسن بزرگ کے نام کے علاوہ کوئی تذکرہ نہیں ملتا۔ لفظوں پر اس کا عبور اور مہارت بتاتے ہیں کہ ان کے پیچھے کسی کم علم کا قلم نہیں۔ یہ احسان یقینا اسی بزرگ حبیب حسن کاہو گا۔اپنے حالاتِ زندگی کا ذکر نہ کرنے والے ساغر صدیقی کی زندہ شاعری، ساغر کے شوقِ مطالعہ، عمدہ ذوق اور تخیلاتی اڑان کی وسعت کی گواہی ہے۔
    یہ حیات کی کہانی ہے فنا کا ایک ساغر
    تو لبوں کو مسکرا کے اس جام سے لگا لے
    غیررسمی تعلیم کے باوجود ساغر کی زبان دانی اور مہارت، الفاظ کی جادوگری کے لیے ایسی بارآور ثابت ہوئی کہ سولہ سال کی عمر سے ہی شاعری کی فتوحات ساغر صدیقی کا پیچھا کرنے لگی تھیں….امرتسر میں ایک بڑا مشاعرہ منعقد ہوا جس میں لاہور کے نامی گرامی شعرا کی موجودگی میں ساغر نے اپنے مخصوص ترنم سے غزل پڑھی۔ساغر کی آواز میں بلا کا سوز تھا اور ترنم پڑھنے میں وہ اپنا ثانی آپ تھا سو اس کے الفاظ، سوز اور ترنم نے مشاعرہ لوٹ لیا۔
    مشاعروں میں حاضری سے شاعرانہ صحبتوں کا آغاز ہوا۔ نفیس خلیلی، ظہیر کاشمیری ،احمد راہی اور مرزا جانباز سے راہ و رسم بڑھے۔ ان سب دوستوں کی صحبت اور رہنمائی کی وجہ سے شاعری میں مزید نکھار آیا۔ انیس سال کا سِن تھا جب تقسیم ہند کا واقعہ آن ٹکرایا۔جوان خون ، جذباتی خواب دیکھنے والے ایک شاعر کے دل اور اک نئی سرزمین کے سہانے دل نشیں خوابوں نے کیا کیا طلسم نہ آشکار کیے ہوں گے۔ اپنے تخیلات کو سینے سے لگائے ساغر اپنا تنہا وجود لیے پاک سرزمین کی طرف روانہ ہوا اور عظیم بہاروں اور گلزاروں کے خواب لیے لاہور پہنچ کر دم لیا۔
    ہم یہاں ساغر بنائیں گے نئی تصویر شوق
    ہم تخیل کے مجدد ہم تصور کے امام
    تیکھے خدوخال، سنہری سانولی رنگت اور گنگھریالے بالوں والے ساغر صدیقی کو آغاز میں ہجرت خوب راس آئی۔ ان دنوں اس کی شاعری عروج پر تھی ، پھلنے پھولنے کے مواقع میسر بھی تھے اور خوب ہاتھوں ہاتھ مل بھی لیا جارہا تھا۔ رسالوں میں نظمیں اور غزلیں چھپنے لگیں، فلموں کے لیے گیت لکھنے کے خوب مواقع ملے جن سے ساغر نے انصاف بھی خوب کیا۔ یہ وقت ساغر صدیقی کے عروج کا تھا۔اس دور کی متعدد فلموں کے مقبول گیت ساغر صدیقی کے قلم سے ہی نکلے تھے۔
    خود ساغر نے اس بارے میں کہا ہے:
    ”تقسیم کے بعد سے صرف شعر لکھتا ہوں،شعر پڑھتا ہوں، شعر کھاتا ہوں اور شعر پیتاہوں۔“
    لکھنے لکھانے کے شوق کی مزید تکمیل کے لیے ایک رسالہ شروع کیا جو ایک بہترین کاوش تھا۔ مگر اک نئی مملکت، جہاں کم پڑھے لکھے اور اَن پڑھ دماغوں کی بہتات ہو ، زندگی نئے سرے سے شروع کرنے کی بھاگم ڈور، ایک نفسا نفسی اور افراتفری کی صورت ہو وہاں معیاری چیزوں کو پذیرائی نہ ملنا کوئی انوکھی بات نہ تھی۔ چناچہ خرچہ پورا نہ کر پانے کی وجہ سے اس رسالہ کا بستر بھی گول ہوا۔
    جہاں منصب عطا ہوتے ہیں بے فکروفراست بھی
    وہاں ہر جستجو جھوٹی وہاں ہر عزم ناکارہ
     اگر ساغر صدیقی کا ساغر بھرا ہوتا تو سلگتے جذبوں ، ناآسودگیوں ،چکنا چور خوابوں اور گمشدہ منزلوں کا گداز اظہار اتنی روانی اور تلخی کے ساتھ بیان نہ ہو پاتا جتنا کہ ساغر کے ہاں ملتا ہے۔ زندگی میں آسائشوں ، محبتوں، خوابوں اور ان کی خوبصورت تعبیروں کی فراوانی ہوتی تو شاید یہ مٹھاس میں لتھڑی جلن اور چبھن اس کے الفاظ سے ندارد ہوتی۔ساغر صدیقی کے لیے مضمون لکھتے ہوئے یہ خیال آتا ہے کہ اس کا عنوان شاہکار سے پہلے نہیں شاہکار کے بعد ہونا چاہیے۔کیوںکہ زندگی کی مشکلات بابا ساغر نے گمنامی میں نہیں بلکہ شہرت کے ظہور کے بعد دیکھی ہیں۔ جتنا عروج ساغر کے نصیب میں تھا وہ یہیں تک تھا۔ اس سے آگے اس عظیم شاعر کی ہستی کے زوال اور حساس دل کی شکست کی کہانیاں ہیں۔ اس پستی میں بھی اس کا شعر اپنے عروج کی طرف سفر کرتا رہا۔جو اس کی قلندرانہ طبیعت بھی بہ ظاہر مٹی کا ڈھیر ہوتی دکھائی دیتی تھی درحقیقت تخلیقی طور پر بلندیوں کی طرف سفر پر گامزن رہی۔اسی لیے اس کے چاہنے والوں نے اسے قلندر اور بابا ساغر کے نام سے یاد رکھنا شروع کر دیا۔
    احساس کے میخانے میں کہاں اب فکرو نظر کی قندیلیں
    آلام کی شدت کیا کہیے کچھ یاد رہی کچھ بھول گئے
    اب اپنی حقیقت بھی ساغر بے ربط کہانی لگتی ہے
    دنیا کی حقیقت کیا کہیے کچھ یاد رہی کچھ بھول گئے
    نئی ریاست کی نئی زندگی سے وابستہ عظیم خواب جو ساغر اپنی پلکوں پر سجائے لاہور پہنچا تھا آہستہ آہستہ بکھرنے لگے! خوابوں کی سرزمین پر اقربا پروری، منافقت اور جھوٹ کا دور دورہ دیکھا تو ساغر صدیقی کے تخیل کے روشن اور خوبصورت رنگ پھیکے پڑنے لگے۔امرتسر میں کنگھیاں بناتے جو حوصلے نہ ٹوٹے تھے وہ نئی ریاست کے سینے پر پنپتے لالچ، طمع ،کمینگی اور منافقت سے بھرے رویوں نے توڑ دیے…. زندگی کے اعلی مقاصد اپنا رنگ کھو بیٹھیں تو رشتوں اور محبتوں کی بیڑیاں انساں کو اپنے رستے پر چلائے رکھتی ہیں۔ بہت سے پہاڑ نظریہ ضرورت کے تحت کھودے جاتے ہیں۔ مگر یہاں بھی اپنے سیاہ لباس کو لباسِ غم کے نام سے پکارنے والے ساغر کی تہی دامنی قصوروار نکلی۔خود اس کا اپنا تنہا وجود ہی سفر بھی تھا اور منزل بھی۔ زندگی کا زادِ راہ ماں باپ کی دعائیں ، نہ چوکھٹ سے جڑی بیوی کی نگاہیں اور بچوں کا تو ذکر ہی کیا کہ جن کی قلقاریاں آنکھوں میں روشنی اور جستجوجگائے رکھتیں۔ خودرو جھاڑی کی طرح اُگا اپنا تنہا وجود اس کے لیے معنی کھونے لگا۔کیا ہوں؟ کیوں ہوں؟ اور کس کے لیے ہوں؟جیسے سوال اس کے آس پاس سرسرانے لگے۔
    ”میری زندگی بھی ایک تماشا ہے۔ کچھ سمجھ نہیں آتا میں کیوں پیدا ہوا؟ میری تقدیر کیاہے؟ ابھی تک میں کائنات سے اپنے گمشدہ رشتے کو نہیں پا سکااور اگر شعر میرے دوست نہ ہوتے تو میں صفحہ ¿ ہستی پر موجود نہ ہوتا۔“
    تنہائی کا احساس ساغر کو اپنے ساتھ لیے دلدل میں بہت تیزی سے دھنسائے چلا جا رہا تھا۔ وہ اپنی خودساختہ خودفراموشی کی خاردار تاروں میں الجھ کر ریشہ ریشہ ادھڑنے لگا…. دنیا سے جی اچاٹ ہوا تو یاروں نے خوب یاری نبھائی۔ کسی نے بوجھل اور اُداس طبیعت کو پرسکون کرنے کو نشہ آور ٹیکا لگا دیا تو کوئی کسی اور نشے میں دھت کر دینے کا باعث بنا۔ جن کو زیادہ پیار تھا وہ بھی گرتی دیوار کو دھکا دینے کے عمل میں اپنا حصہ ڈالتے رہے۔ آتے اورتھوڑے سے نشے اور پیسے کے بدلے اس کی غزلیں اٹھا لے جاتے اور خود اپنی شاعری کی دکانوں پر سجاتے رہے۔
    بے وجہ تو نہیں ہیں چمن کی تباہیاں
    کچھ باغباں ہیں برق وشرر سے ملے ہوئے
    ساغر یہ واردات سخن بھی عجیب ہیں
    نغمہ طراز شوق ہوں لب ہیں سلے ہوئے
    ساغر کی بے خودی لوگوں کو مضبوط اور خود ساغر کو کمزور تر کرکے مزید نشے میں دھکیلتی گئی۔بوسکی کی شان دار اچکن پہننے والا ساغر کھدر کی قمیص سے ہوتا ہوا چیتھڑے اوڑھ کر سڑکوں، مزاروں ،تاریک گلیوں اور بدبودار کوٹھریوں کی زینت بننے لگا۔ سگریٹ اور نشے کی عوض وہ غزلیں بیچتا رہا، لوگ خرید کر نام بناتے رہے۔ایک ناشر نے تو روزانہ ایک چائے اور سگریٹ کی ڈبی کے عوض ساغر سے پورے دیوان کا کلام لکھوا کر کتاب چھاپ دی اور ساغر کو جس کا معاوضہ صرف ایک نام کی صورت ملا۔ ”یہی کیا کم ہے کہ ہم نے نام بنا دیا۔“ اور ساغرطنزیہ ہنسی ہنستا رہا ۔
    ”وہ تو میرا خدا بن گیا ہے اور مجھے عزتیں دے رہا ہے!“
    ساغر سڑکیں ناپتا رہا اور اس کے ہنر کی کمائی لوگ کھاتے رہے…. اک واحد ساتھ جو بے وفا اور مطلب پرست نہ نکلا وہ شعر کا تھا۔ فٹ پاتھ پر بیٹھ کر بھی شاعری اپنے عروج پر رہی اور نشے کا دھواں بھی اس کی بصیرت کے رنگ دھندلا نہ سکا۔
    ”وہ بدترین حالات، رسواکن غربت اور آنسو رُلا دینے والے دکھوں کے جنگل میں صرف اپنے ذہن کے ساتھ موجود تھا۔“ (یونس ادیب )
    ساغر کے نصیب کے ساتھ مفلسی اور فقیری لکھی تھی ورنہ روح تو خدا نے راج کرنے کے لیے بنائی تھی۔ اسی لیے مزاروں کا مقدر ہو کربھی اتنا پرتاثیر رہا کہ دہائیوں سے اس کی خوشبو میں کمی نہ ہوئی۔ غرور اتنا تھا کہ قصر سلطانی ٹھکرا دیئے اور عاجزی اتنی کہ حلقہ احباب سے چونی کا طلبگار رہا۔ لوگ مشاعرہ پڑھنے کے لیے خود اٹھا لے جاتے اور ساغر بابا سے ان کا دیا معاوضہ سنبھالا نہ جاتا۔ یا تو پیسے چھوڑ کر بھاگ جاتا یا پھر سڑک پر پڑے کسی فقیر غریب کی جھولی میں ڈال آتا۔ انا اتنی تھی کہ اپنی داستانِ حیات نہیں کہتا تھا اورعاجزی اتنی کہ ہنر جھولی بھر بھر بانٹ دیتا۔لوگوں کے رویے آنکھوں سے دیکھتا اور دل میں ان کا زہر اتار کر پلکیں جھکا لیتا۔لوگ سمجھتے کہ ان کی ذہانت نے اسے لوٹ لیا۔ مگر کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ ساغر بابا خود کو لٹا گیا۔ اس کی قلندرانہ مستی کے پیچھے اس کی تنہایاں ، حساسیت کے علاوہ دنیائے ہستی کے ستم اور ارباب اختیار کی ناانصافیاں بھی شامل تھیں۔مگر شکایت کرنا اس کے شایان شان نہ تھا سو خامشی سے زہر پیتا اور دنیا کے چوراہے پر رائج الوقت انسانیت کے خلاف احتجاج کی تصویر بن کے رہ گیا۔
    اب اور گردشِ تقدیر کیا ستائے گی
    لٹا کے عشق میں نام و نشاں بیٹھے ہیں
    مٹی اور راکھ سے اٹے چہرے اور سوکھ کرتڑخی زمین کی طرح کے کھردرے اور میلے ننگے پیر لیے کالی چادر لپیٹے ،آنکھوں میں روشن روشن افسردگی کے ساتھ گلیوں کی خاک چھانتے چھانتے لازوال غزلیں جنم لیتی رہیں۔کبھی راہ چلتے کسی دکان سے کاغذ قلم مانگ کر اور کبھی سگریٹ کی خالی ڈبیاں سمیٹ کر ان پر شعرلکھے جاتے اور را ت کو اسی شاعری کو جلا کر آگ سینکی جاتی۔ کچھ اپنے برے وقت کے اچھے ساتھیوں کو چلتے پھرتے سنائے جاتے۔ ذلت آمیز غربت اور خودفراموشی کی کیفیت میں بات دوستوں سے چونی مانگنے تک آ پہنچی جو صرف دن کے اختتام پرسامانِ نشہ ہی پورا کر پاتی۔
    دنیائے حادثات ہے اک دردناک گیت
    دنیائے حادثات سے گھبرا کے پی گیا
    کانٹے تو خیر کانٹے ہیں اس کا گلہ ہی کیا
    پھولوں کی واردات سے گھبرا کے پی گیا
    کچھ سنگی ساتھی اور چاہنے والے ساغر کو گھیر کے یا اٹھا کر مشاعروں میں لے جاتے، کچھ نے اس کے علاج کے لیے بھی حیلے بہانے کیے مگر ساغر کی خودفراموشی ان کی کوششوں کو باآور نہ کر سکی۔ظاہری جاہ وجلال ،عزت، رتبہ اور پیسہ اس کے لیے اپنے معانی کھو چکے تھے۔جو لوازمات عام انسانوں کی چاہتوں کی فہرست میں سب سے اوپر جگہ پاتے ہیں بابا ساغر ان سے دور بھاگتا تھا۔ چاہنے والے اسے نئے کپڑے دان کرتے اور بابا ساغر و ہ خوبصورت کپڑے غریبوں میں بانٹ کر اپنے چیتھڑوں میں واپس آ جاتا۔ ایک بار ساغر کے ہاتھ پانچ پانچ سو کے کچھ نوٹ آئے اور وہ یہ سوچ کر نکلا کہ اس سے ریشم کا بستر خریدے گا۔ باہر نکلا تو نکڑ پر ایک ننگ دھڑنگ فقیر نظر آیا۔ ایک فقیر اپنی کمائی دوسرے فقیر کی جھولی میں ڈال کر واپس اپنے پھٹے کمبل میں آ گیا۔ اس بارے میں یونس ادیب نے لکھا ہے۔
     ”ساغر کی یہ عظیم عبادتیں اس کی ابدی زندگی کی ضمانت بن گئیں۔ ننگے زخمی پیروں کو دیکھ کر خود تپتی ہوئی سڑکوں پر ننگے پاﺅں چلتا رہا۔ برہنہ جسموں کی بے حرمتی پر سیاہ پوشی کرنے والے کے حوصلے کا  مقابلہ کون کر سکتا ہے۔ بھوکے معدوں کے غم میں فاقوں کے دوزخ میں جلنا اسی کا کمال تھا۔“
     ایسی قلندری میں قسمت نے یاوری کی کوشش کی اور اچھے وقتوں میں ماشل لا کے حق میں لکھا ایک نغمہ گورنر جنرل ایوب خان کی نظر سے گزرا جو اسے بہت پسند آیا۔ قصر سلطانی سے ہرکارے خوب صورت مستقبل کے خواب ہاتھوں میں تھامے ساغر کو ڈھونڈنے نکلتے ہیں۔ ساغر خزاں کے پتوں کی طرح سڑکوں پر بکھرا ہوا ملا…. ہزار منت سماجت کے باوجود حکمراں کے در پر حاضری پر تیار نہ ہوا۔ جب سرکاری عہدے دار کسی طرح نہ ٹلے تو جھک کر زمین سے سگریٹ کی ایک خالی ڈبی اٹھائی ، اُسے پھاڑ کر سیدھا کیا اور اندر کے صاف گتے پر ایک شعر لکھ دیا.
    ہم سمجھتے ہیں ذوق سلطانی
    یہ کھلونوں سے بہل جاتا ہے
    (ساغر صدیقی بقلم خود)
    ایک شاعر کا ہدیہ شعر سے بڑھ کر کیا ہو سکتا ہے۔ ایوب خان تک وہ ہدیہ پہنچا یا نہیں کوئی نہیں جانتا مگر ساغر میں اگر زندگی کے لیے کوئی خواہش کوئی اُمید باقی ہوتی تو وہ اس موقع سے پورا پورا فائدہ اٹھاتا کیوں کہ یہ زند گی بدل دینے والا لمحہ تھا…. خوش نصیبی خود در پر پہنچی تھی جسے اس درویش نے اک زوردار ٹھوکر سے اُڑا دیا۔

    میں التفات یار کا قائل نہیں ہوں دوست
    سونے کے نرم تار کا قائل نہیں ہوں دوست
    مجھ کو خزاں کی ایک لٹی رات سے ہے پیار
    میں رونقِ بہار کا قائل نہیں ہوں دوست
    سڑکوں پر خود کو خاک بناتے ایک آوارہ کتے سے دوستی ہوئی اور دونوں ایک دوسرے کے والی وارث مقرر ہوئے۔چیتھڑوں کی گدڑی لپیٹے پھرتے سڑکوں پر سوتے جاگتے ساغر پر فالج کا اٹیک ہوا اور صرف ساغر کی قوت ارادہ نے شکست دی لیکن یہ حملہ اس کا دایاں ہاتھ لے گیا۔ یہ ہاتھ ہی ساغر کا کل اثاثہ تھا جس کے بے کار ہونے کے بعد اُس کے لئے شعر لکھنا محال ہو گیا۔
    ”بے کار ہونا ہی تھا تو بایاں ہاتھ ہو جاتا“
    ساغر سے یہ نقصان سہا نہ جاتا…. کوئی بھی زہر ساری عمر نہیں پیا جا سکتا، ایک حد کے بعدانجام تو ہونا ہی تھا۔
    ”میں نے زاد راہ جمع کرنا شروع کر دیا ہے۔“
    ساغر کا یہ فقرہ اس کے دوستوں کے کانوں میں گونجنے لگا- جس وقت ملک میں سب سے بڑی ادبی تنظیم رائٹرز گلڈ کے انتخابات پر پیسہ پانی کی طرح بہایا جا رہا تھا اور بہت سے تعلقات اور وسائل والے ادیب اور شاعر حضرات گھر بیٹھے معذوروں کا وظیفہ وصول کر رہے تھے،شہر کی گلیوں میں فالج زدہ ساغر صدیقی نام کا یہ بڑا شاعر ایڑیاں رگڑتا خون تھوک رہا تھا۔ یونس ادیب سے ملاقات ہوئی تو اس وقت تو ساغر نے سیاہ چادر کی جگہ سفید کرتہ پہن رکھا تھا۔
    ”مقتل کی طرف جانے کی گھڑیاں آ گئی ہیں اور میں نے کفن پہن لیا ہے۔“
    دنیا کے کاروبار میں مگن آس پاس چلتے راہگیر اس صدی کے خوب صورت شاعر کے پاس سے کپڑے بچا کے گزرنے لگے۔ساغر کی آخری سانسیں چوراہوں پر بکھر رہی تھیں اور آس پاس سے لوگ شان بے نیازی سے گزرتے رہے، دکاندار گاہکوں کے ساتھ الجھتے رہے۔ وہ کوئی لکڑی ،پتھر ،یا بے جان شے نہ تھا، یہ ساغر صدیقی کا وجود تھا جو بے وفا اور بے مروت لوگوں کے بیچ نادیدہ ہوا جاتا تھا۔ خون تھوکتا اس کاجسم ایک رات سڑک کنارے اکڑ گیا اور اس کی روح جسم کی ذلت اور غلاظت سے آزاد ہو گئی…. اس کا جنازہ کس نے پڑھا، کفن دفن کس نے کیا، کون اس کے جنازے میں شریک ہوا یہ بھی اس کی زندگی کی گمشدہ کہانی ہی کی ایک کڑی رہی جس کا کوئی سرا کسی تاریخ داں کے ہاتھ نہ لگا۔
    لفظوں کی جادوگری کا سورج ڈوبا اورریڈی میڈ شاعری کی مفت سبیل کا قصہ بھی تمام ہوا۔ شہرت کے مقدر کے ساتھ پیدا ہوئی روح اپنا وعدہ وفا کرکے رہی اور جسم کے ساتھ مفلسی وفاشعار بیوی کی طرح وفا نبھاتی رہی۔گلیوں کی پیداوار گلیوں میں پروان چڑھنے والا آخر اپنے شاہ کار راستوں میں چھوڑ کر گلیوں کی نظر ہو گیا۔ وراثت میں مرحوم نے وہی آوارہ کتا چھوڑا جس کی موت بھی اِسی گلی کے اسی کنارے واقع ہوئی۔جانور کی یہی خوبی ہے، انسانوں کی طرح ابھی بے وفائی اور بے مروتی ان کی گھٹی میں نہیں پڑی….
    موت اک انگبیں کا ساغر ہے
    زندگی زہر کی پیالی ہے
    چونی دینے والوں ، مفت کی شاعری اڑانے والوں اور پیسے دبا کر بیٹھنے والوں نے مر جانے کے بعد ساغر بابا کی موت پر خوب وفا نبھائی کہ جس کے سر پر چھت نہ تھی اس کا سنگ مرمر سے مزین مزار بن گیا۔ جو جسم سڑکوں پر تنہا ننگے سر دھوپ اور بارش سہتا رہا اس کے مزار پر سالانہ میلے لگنے لگے۔زندگی ظالم نہیں زندگی کے ساتھ ملنے والی دنیا ظالم ہوتی ہے جس پر ان کے رب نے صحیفوں پر صحیفے اتارے، پر انسان انسان کا دشمن ہی رہا ، دوست اور درماں نہ بن سکا۔ اگر تاریخ کے اوراق میں ساغر کے لیے زوال کے بعد عروج ہوتا تو آج ہمارے پاس اس کے اپنے ہاتھ سے لکھی سوانح حیات بھی ہوتی اور اس کے بارے میں لکھے گئے مضامین اور مدح سرائی سے بھرے مقالوں اور کتابوں کا انبار ہوتا۔ مگر چونکہ ساغر ایک ٹوٹا تارا تھا، اس لیے اس سڑک چھاپ افیمی شاعر کے لیے نہ کسی پبلشر کو سوانح عمری میں کچھ منافع دکھائی دیا اور نہ ہی حکومتی اور غیر حکومتی اداروں نے لفظوں کے جادوگر سے کوئی تعلق واسطہ پیدا کرنے کی کوشش کی۔ چناچہ آج اس کی زندگی کی کہانیوں کی تلاش کے دوران ہمارے ہاتھوںمیں ایک آدھ کتاب، چند چھوٹے چھوٹے مضامین اور دھندلی تصویروں کے سوا کچھ نہیں آتا۔
    گم سم کھڑی ہیں دونوں جہاں کی حقیقتیں
    میں ان سے کہہ رہا ہوں مجھے یاد کیجیے

    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

  • سٹیفن کنگ ۔ شاہکار سے پہلے

    سٹیفن کنگ ۔ شاہکار سے پہلے

    سٹیفن کنگ
    مدیحہ ریاض

    کامیابی کوئی کہانی نہیں ہے جس کا ایک آغاز، ایک درمیان اور ایک اختتام ہو۔ یہ کوئی راستہ بھی نہیں ہے، کیوں کہ راستوں کی بھی یا تو منزلیں ہوتی ہیں یا dead ends۔ مجھے لگتا ہے کامیابی ایک ذہنی کیفیت ہے، ایک رویہ، کوشش ، کوشش، اور ہر لمحہ کوشش۔۔۔ہنر پر بھروسا۔۔۔خطرہ اٹھانے کی ہمت۔۔۔اور قربانی دینے کا حوصلہ۔۔۔یہ سب وہ کنجیاں ہیں جو اس رویے ، اس کیفیت کا خاصہ ہیں۔ آپ کسی بھی کامیاب انسان کی زندگی کی کہانی اٹھا کر دیکھ لیں، یہ چند عناصر ہر کہانی میں موجود ہوں گے۔
    اس مرتبہ ہم جس شاہکار کی کہانی آپ سے بانٹ رہے ہیں وہ جدید انگریزی فکشن کا ایک بہت بڑا نام ہیں۔ انگریزی فکشن انہیں "Master of Horror”, "The King of Horror” اور "The King” جیسے القابات سے مخاطب کرتا ہے۔ ہارر، مسٹری، سسپنس اور غیر ماورائی بہ شمول سائنس فکشن لکھنے میں انہیں ایک عجیب ملکہ حاصل ہے۔
    یہ تمام وہ اصناف ہیں جنہیں لکھنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ اس کے لیے حقیقتاً ایک انتہائی قابل ذہن ، مسحور کن تخّیل اور قدرتی ہنر بہت ضروری ہیں۔ رومانی اور معاشرتی مسائل پر لکھنا نسبتاً بہت آسان ہے کیوں کہ ان کہانیوں کی مثالیں اور inspirations زندگی کے ہر موڑ پر بکھری پڑی ہیں۔ ہارر ، مسٹری اور سسپنس وہ اصناف ہیں جنہیں لکھنے کے لیے قلم کار کو پچھتر سے اسّی فیصد اپنے تخیل کو ہی استعمال میں لانا پڑتا ہے۔ لیکن اگر آپ کا تخیل سٹیفن کنگ جیسا شان دار اور کہانیوں سے بھرا ہو تو بس، آپ کا آدھا کام تو ہو گیا۔
    سٹیفن کنگ ایک ایسے ہارر رائٹر ہیں جنہوں نے اس صنف کو ایک نئی شکل دی ہے۔ بھوت پریت، غیر ماوارئی مخلوقات، زندہ لاشیں، کراہتے دروازے اور خون سرد کر دینے والی چیخیں، جو تقریباً ہر ہارر سٹوری کا حصہ ہوتی ہیں، خال خال ہی سٹیفن کنگ کی کہانیوں میں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں باقی مصنفین کا ہارر پڑھتے کبھی تو ہنسی چھوٹ جاتی ہے اور کبھی بے یقینی سے آنکھیں گھمانے کا دل کرتا ہے، وہیں سٹیفن کنگ کا ہارر آپ کی رگ رگ جکڑ لیتا ہے۔
    سٹیفن کنگ کا ہارر انسان کی اپنی نفسیات سے جنم لیتا ہے۔ evil کوئی بیرونی واقعہ نہیں جو کرداروں کے ساتھ وقوع پذیر ہوتا ہے بلکہ اس کی جڑیں کرداروں کے خود اپنے اندر ہوتی ہیں۔ سٹیفن کنگ کی بہت کم ایسی کہانیاں ہیں جہاں کردار کسی بیرونی شیطانی طاقت کا سامنا کرتے ہیں، لیکن ان کہانیوں میں بھی آپ کو خوف میں مبتلا کر دینے والی چیزیں وہ طاقت ور غیر ماوارئی مخلوقات نہیں، بلکہ انسانی کرداروں کے ان طاقتوں کا سامنا کرنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے رویے، فیصلے اور اعمال ہیں۔
    اس بارے میں اپنے ایک انٹرویو کے دوران بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا:
    ”میں برائی کے ہونے اور اس کی موجودگی پر یقین رکھتا ہوں۔ لیکن اپنے پورے کیرئیر میں بار بار میں یہ سوچتا رہا ہوں کہ کیا دنیا میں کوئی بہت بڑی، بُری یا بیرونی طاقت ہے جو ہمیں برباد کرنا چاہتی ہے؟ یا پھر یہ تمام برائیاں ہمارا اپنا ہی حصہ ہیں، ہمارے ماحول اور جینیات سے پیدا ہوتی او ر بڑھاوا پاتی ہیں۔ “
    دنیا میں کسی شیطانی طاقت کے ہونے یا نا ہونے پر اتنے معروضی انداز میں بات کرتے ہوئے اس پر اعتماد لکھاری کے بارے میں شبہ ہوتا ہے کہ شاید وہ ہمیشہ سے ہی اتنا پر اعتماد اور مطمئن تھا۔ لیکن اپنے ہنر میں طاق اس لکھاری نے Master of Horror Storytelling کا لقب پانے سے پہلے زندگی کو کیسی کیسی کروٹیں لیتے دیکھا، آئیں جانتے ہیں۔
    سٹیفن کنگ اکیس ستمبر 1947 ءکو امریکی ریاست ©”مین“ کے شہر پورٹ لینڈ میں پیدا ہوئے۔ سٹیفن کنگ کا باپ ایک سمندری تاجر تھا اور ماں ایک گھریلو عورت۔ زندگی نے جب پہلا جھٹکا سٹیفن کنگ کو دیا تب دو سال کا یہ بچہ اس صدمے کی شدت اور بدصورتی محسوس کرنے سے محفوظ تھا۔ ایک عام سی شام تھی جب سٹیفن کنگ کا باپ ڈونلڈ اپنے بیوی بچوں سے سگریٹ خریدنے کا بہانہ کر کے گھر سے نکلا اور پھر کبھی واپس نہیں آیا۔ پتا نہیں اگلے کچھ دن اور کچھ راتیں دو بچوں کی اس نوجوان ماں نے کیسے کاٹی ہوں گی، روتے ہوئے بچوں کو باپ کے واپس آنے کے بارے میں کیا بتایا ہو گا؟