Author: misbah116@hotmail.com

  • گیہوں ۔ الف نگر

    گیہوں

    دلشاد نسیم

    دُور سے آتا بحری جہاز دیکھ کر ساحل پر کھڑے لوگ جوش میں آگئے۔ ایک بہت خوب صورت کہانی!

    پرانے زمانے کی بات ہے افریقہ میں سمندر کنارے ایک بہت خوب صورت شہر آباد تھا۔ سمندری لہروں کے تھپیڑوں کو روکنے کے لیے یہاں ایک بہت بڑا، اونچا اور مضبوط پُشتہ بنایا گیا تھا۔

    پیارے بچو! پُشتہ اُس بند کو کہتے ہیں جو ساحل پر سمندر کے پانی کو روکنے کے لیے مٹی اور پتھروں سے بنایا جاتا ہے۔ اسی کی وجہ سے بڑے بڑے تجارتی جہاز ساحل پر آکر رکتے ہیں۔ ان جہازوں پر مختلف ملکوں کا تجارتی سامان لدا ہوتا ہے۔ اسی تجارت کی وجہ سے وہ شہر بہت ترقی کرگیا۔

    شہر کے لوگ زیادہ مال و دولت کی وجہ سے غرور کرنے لگے اور خاص طور پر ایک عورت اس کام میں بہت آگے تھی کیوں کہ اس کے بہت سے تجارتی جہاز دنیا کے ہر گوشے میں پہنچتے۔ یہ مغرور عورت رفتہ رفتہ ترقی کرکے اس علاقے کی ملکہ بن گئی۔ جب وہ گھوڑا گاڑی میں بیٹھ کر شہر کی گلیوں سے گزرتی تو لوگ گھروں کی چھتوں پر آجاتے، عورتیں حسرت بھری نگاہ سے اُسے دیکھتیں۔

    ایک روز ملکہ نے اپنے سب سے بڑے جہاز کے کپتان کو بلایا اور کہا: ”فوراً بادبان چڑھائو، لنگر اٹھائو اور جہاز لے کر روانہ ہوجاؤ۔ جو چیز تمہیں سب سے اچھی، عجیب اور قیمتی نظر آئے وہ جہاز میں بھر کر لے آؤ۔ میں اپنے شہر کے لوگوں کو ایسی چیز دکھانا چاہتی ہوں جو واقعی لاجواب اور سب سے زیادہ قیمتی ہو۔”

    کپتان فوراً ساحل پر پہنچا۔ اُس نے اپنے سب ملاحوں کو جمع کیا پھر جہاز کے بادبان کھول کر اُس کا لنگر اٹھایا اور روانہ ہوگیا۔ جہاز کچھ دیر بعد سمندر کے درمیان میں پہنچا تو کپتان نے بحری جہاز میں تمام کارکنوں کو اپنے پاس بلا لیا۔

    ”ہمیں کیا چیز لانی چاہیے اور کہاں چلنا چاہیے؟” کپتان نے ایک نظر سب پر ڈال کر پوچھا۔ جواب میں کسی نے کہا کہ عمدہ ریشم سے بہتر کوئی چیز نہیں ہو سکتی۔ کسی نے کہا کہ ایسے زیورات خریدے جائیں جن کی بناوٹ اور ساخت بالکل نئی ہو۔ کسی نے اعلیٰ قسم کے نیلم، زمرد، لعل ویاقوت خریدنے کا مشورہ دیا لیکن اِس دوران ایک بوڑھا ملّاح چپ بیٹھا رہا۔ اپنی باری آنے پر وہ کہنے لگا: ”معلوم ہوتا ہے کہ تم لوگوں پر کبھی برا وقت نہیں آیا، اس لیے تمہیں کسی چیز کی قدر و قیمت کا درست اندازہ نہیں ہے۔ جب تم لوگ بہت زیادہ بھوکے یا پیاسے ہوتے ہو تو کون سا ہیرا یا موتی کھا کر زندہ رہتے ہو؟ اگر غور کیا جائے تو ہماری زندگی میں گیہوں یعنی گندم سب سے اہم چیز ہے۔”

    سب لوگ حیران رہ گئے کہ گیہوں سب سے زیادہ قیمتی چیز بھلا کیسے ہو سکتی ہے؟ لیکن کپتان نے سوچا کہ بوڑھا ملّاح ٹھیک کہہ رہا ہے۔ چناں چہ جہاز کا رخ سرزمین مصر کی جانب کر دیا گیاجہاں گیہوں سب سے اچھا اور صحت بخش تھا۔ مصر پہنچ کر کپتان نے گیہوں کے مالکان سے ملاقات کی اور گندم کے بڑے بڑے ذخیرے خرید کر جہاز پر لاد لیے۔

    دوسری طرف جہاز روانہ ہو جانے کے بعد اُس ترقی یافتہ افریقی شہر کو سمندری طوفان نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ تمام کھیت، فصلیں اور بڑی تعداد میں گھر زیرِ آب آگئے۔ حالت یہاں تک آپہنچی کہ لوگ فاقوں پر مجبور ہوگئے۔ خود مغرور عورت کے گودام بھی غلے اور دیگر کھانے پینے کی اشیاسے خالی ہونے لگے۔ پڑوسی ملکوں سے امداد کی درخواست بھی رد ہو چکی تھی۔ ایسے میں اِس مغرور حکمران عورت کے ہوش ٹھکانے آگئے۔ پورے ملک میں سخت مایوسی پھیل چکی تھی۔ یہاں تک کہ ایک روز بہت دُور سمندر کے سینے پر لوگوں کو ایک جہاز آتا دکھائی دیا۔ لوگ سمجھ گئے کہ یہ ملکہ کا بھیجا ہوا جہاز ہی ہے۔ بچے، بوڑھے، سبھی اس سوچ میں تھے کہ نہ جانے جہاز پر کون سی قیمتی چیز ہو گی۔ اس قیمتی چیز کو دیکھنے کے لیے سب لوگ بے تاب اور منتظر تھے۔

    جب جہاز لنگر انداز ہوا تو کپتان اپنی ملکہ کے پاس پہنچا جو جہاز کی خبر سن کر ساحل تک چلی آئی تھی۔ کپتان نے ملکہ سے کہا: ”مادام! میں ایک بہت ہی عمدہ اور قیمتی چیز لایا ہوں جو حقیقت میں زندگی کا سہارا ہے۔” یہ سن کر ملکہ بہت حیران ہوئی۔

    ”قیمتی چیز… وہ کیا بھلا؟” اُس نے جلدی سے پوچھا۔

    ”آپ اِس چیز سے  واقف تو ہوں گی، اِسے کہتے ہیں گیہوں!” کپتان نے اپنی مٹھی کھول کر دکھائی جس میں گندم کے کچھ دانے تھے۔

    ”کک… کیا کہا، گیہوں؟” ملکہ پر حیرانیوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ ارد گرد کھڑے لوگوں نے جب یہ خبر سنی تو وہ خوشی سے چلّا اٹھے اور نعرے لگانے لگے۔ ملکہ نے لوگوں کے یہ تاثرات دیکھے تو اُس کے چہرے پر بھی مسکراہٹ پھیل گئی اور وہ بھی خوشی سے چِلّا اٹھی: ”گیہوں؟ واہ کمال کر دیا۔ واقعی اس وقت یہ سب سے قیمتی چیز ہے۔”

    ملکہ نے کپتان کو شاباش دی پھر گیہوں کا ایک حصہ اپنے گودام میں رکھوایا۔ باقی گیہوں عوام میں تقسیم کروادی۔ یوں اُس بوڑھے ملاح کی دُور اندیشی سے نہ صرف ملکہ خوش ہوئی بلکہ شہر کے لوگ بھی اِس خزانے سے فائدہ اٹھانے لگے۔

    ٭…٭…٭

  • تم اچھی ہو! ۔ الف نگر

    تم اچھی ہو!

    ترجمہ: گلِ رعنا صدیقی

    کیا تم اپنے گھر میں بھی ایسی حرکتیں کرتی ہو؟ آنٹی غصے میں تھیں۔

    ”مینی! میں اور تمہارے ابو ضروری کام کے سلسلے میں شہر سے باہر جارہے ہیں۔ ہم تمہیں آنٹی سوسن کے گھر چھوڑ جائیں گے۔” مینی کی امی نے اُسے بتایا۔

    ”نہیں! نہیں! میں بھی آپ لوگوں کے ساتھ جاؤں گی۔ مجھے آنٹی سوسن اچھی نہیں لگتیں۔” مینی نے پاؤں پٹخے۔ وہ اپنے ماں، باپ کی اکلوتی اولاد ہونے کے ناتے خاصی بدتمیز اور بگڑی ہوئی بچی تھی۔

    ”نہیں بیٹا! آنٹی سوسن تو بہت اچھی ہیں۔” امی نے سمجھایا۔ آخر مینی کے امی ابو اسے آنٹی سوسن کے پاس چھوڑ گئے۔

    ”مجھے اُمید ہے کہ تم گھر کے کاموں میں میری مدد کرو گی اور میرے بنائے ہوئے کھانے پسند کرو گی۔” آنٹی سوسن نے مینی سے کہا لیکن مینی نے تو ٹھان لی تھی کہ وہ آنٹی کے کسی کام میں اُن کی مدد نہیں کرے گی۔ وہ بات بات پر پاؤں پٹختی رہتی۔ اصل میں تو اُسے پٹائی کی ضرورت تھی۔

    ”مینی! کیا تم اپنے گھر میں بھی ایسی ہی حرکتیں کرتی ہو؟” آنٹی سوسن نے پوچھا۔

    ”بالکل، جب میرا دل چاہے گا، میں سونے جاؤں گی، جب دل چاہے گا، میں سوکر اُٹھوں گی، جو دل چاہے وہ پہنوں گی اور بس وہی کروں گی جو میرے دل میں آئے گا۔” مینی نے غصیلی لہجے میں کہا۔ آنٹی یہ سُن کر ہنس پڑیں اور بولیں: ”بہت خوب! اگر تم ایسے رہنا چاہتی ہو تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ جو دل میں آئے، کرتی رہو۔” مینی یہ سُن کر خوش ہوگئی۔

    اُس رات مینی رات دیر تک ٹی وی دیکھتی رہی آنٹی سوسن نے کوئی نوٹس نہیں لیا بلکہ وہ چپکے سے مینی کو شب بہ خیر کہہ کر اُوپر اپنے کمرے میں چلی گئیں۔ رات دیر سے سونے کی وجہ سے صبح ساڑھے نو بجے اُس کی آنکھ کھلی۔ وہ ہاتھ دھوکر جب ناشتا کرنے آئی تو میز پر ناشتا موجود نہیں تھا۔

    ”میں نے ناشتا کرلیا ہے۔” آنٹی سوسن نے اطلاع دی۔ ”میں روز جلدی ناشتا کرلیتی ہوں۔” مینی کو ناشتا نہیں ملا۔ اُسے بہت غصّہ آیا۔ آنٹی بازار چلی گئیں۔ مینی نے فریج کھولنا چاہا مگر وہ لاک تھا چناں چہ سارا دن اُسے بُھوکا رہنا پڑا۔

    دوپہر کو کھانا کھاتے وقت اُس نے سالن اپنے کپڑوں پر گِرا لیا۔ ”مینی! تمہیں اپیرن پہن کر کھانا چاہیے تھا۔” آنٹی سوسن نے کہا۔

    ”کوئی بات نہیں! میں کپڑے بدل لوں گی۔ آپ میرے یہ والے کپڑے دھو دیجیے گا۔” مینی نے بے فکری سے کہا۔

    ”سوری! میرے پاس کپڑے دھونے کا وقت نہیں ہے۔” مینی نے اپنا نیا سُوٹ نکال کر پہن لیا اور پھر پینٹ برش سے کھیلنے لگی۔

    ”تمہیں معلوم ہے نا کہ اس طرح کے کھیل ایپرن باندھ کر کھیلنے چاہئیں؟” آنٹی نے پوچھا۔

    ”ہاں! مُجھے معلوم ہے لیکن میں ایسے ہی کھیلنا چاہتی ہوں۔” مینی نے فوری جواب دی۔ شام تک اُس کا پورا لباس داغ دھبّوں سے بھرچکا تھا۔ آنٹی نے اُسے چائے پینے کے لیے آواز دی۔ مینی نے چیخ کر کہا: ”میں اپنی پینٹنگ مکمل کرکے آؤں گی۔” جب وہ چائے پینے گئی تو برتن بھی سمیٹے جاچکے تھے۔ مینی نے پاؤں پٹخے اور چیخی، چلّائی لیکن آنٹی نے کوئی نوٹس نہیں لیا۔ ”تم وہی کرتی ہو جو تمہارا دل چاہے، لہٰذا میں بھی وہی کروںگی جو میرا چاہتا ہے۔” آنٹی نے سوئیٹر بُنتے ہوئے کہا۔

    شام سات بجے آنٹی نے گھڑی کی طرف دیکھا اور بولیں: ”مینی! کیا تم کچن میں جاکر پتیلی کے نیچے چُولہا جلا دوگی؟”

    ”نہیں!” مینی نے غصے سے جواب دیا۔ آنٹی سوسن اُٹھ کر خود کچن میں گئیں۔ ”مجھے بھوک لگ رہی ہے، میں نے شام کی چائے بھی نہیں پی تھی۔ مجھے کچھ کھانے کو دیں۔” مینی نے کچھ دیر بعد آنٹی سے کہا۔

    ”میں تمہارے لیے جارہی تھی، اسی لیے تم سے چولہا جلانے کہا تھا لیکن کیوں کہ تمہیں کوئی پروا نہیں لہٰذا مجھے بھی نہیں ہے۔” آنٹی نے کندھے اُچکائے۔

    ”مجھے پروا ہے۔” مینی بھُوک سے چلّائی پھر اُس نے اپنے لیے خود آملیٹ بنایا اور ڈبل روٹی کے ساتھ کھالیا۔ رات کو وہ سونے کے لیے اپنے کمرے میں گئی لیکن اُس کا کمرا ویسے ہی تھا جیسا وہ صبح چھوڑ کر گئی تھی۔ وہ بھاگ کر نیچے گئی: ”آنٹی! آپ میرا کمرا صاف کرنا بھُول گئیں، بہت گندا ہوا پڑا ہے۔”

    ”تو تم خود صاف کرلو!” آنٹی مسکرائیں۔

    یہ سنتے ہی مینی غُصّے سے چلّانے لگی مگر آنٹی پر اُس کے چیخنے چلّانے کا کوئی اثر نہیں ہوا۔

    اگلی صُبح وہ آٹھ بجے ناشتے کی میز پر پہنچ گئی۔ اُس نے اپنا آخری صاف لباس پہنا ہوا تھا کیوں کہ وہ صرف تین جوڑے لے کر یہاں آئی تھی۔

    ”کیا یہ بہتر نہیں کہ تم ایپرن پہن کر ناشتا کرو؟”

    ”میں کوئی چھوٹی بچّی نہیں ہوں۔” مینی نے سخت جواب دیا لیکن دس منٹ بعد ہی اُس نے چائے اپنے کپڑوں پر گِرالی۔ اب دل ہی دل میں وہ افسوس کرنے گی۔

    کچھ دیر بعد پڑوس کی لڑکی مینی کو شام چائے کی دعوت پر بُلانے آئی۔ ”اوہ ضرور! مجھے دعوت میں جانا بہت پسند ہے۔” مینی کِھل اُٹھی۔ جب پڑوسی لڑکی چلی گئی تو مینی نے نسبتاً دھیمی آواز میں اپنی آنٹی سے کہا: ”آنٹی! میرے سارے کپڑے میلے ہوگئے ہیں۔ میں آج شام دعوت میں کیا پہن کر جاؤں؟ کیا آپ میرا ایک جوڑا دھودیں گی؟”

    ”بھئی! میری طرف سے معذرت! میں آج خود بہت مصروف ہوں۔” آنٹی نے بے ساختہ جواب دیا۔

    ”لیکن آنٹی! میں میلے کپڑے پہن کر دعوت میں نہیں جاسکتی۔” مینی نے تقریباً روتے ہوئے کہا۔

    ”ہاں! یہ تو ہے!” آنٹی نے اتفاق کیا۔ ”ایسا کرو تم میلے کپڑوں کے اوپر ایپرن پہن کر چلی جاؤ۔” آنٹی نے مسکراتے ہوئے کہا۔

    ”لیکن میں ایپرن پہن کر دعوت میں نہیں جاسکتی، سب میرا مذاق اُڑائیں گے۔” مینی چلّائی۔

    اُس روز مینی دعوت میں نہیں گئی اور پڑوس سے آنے والے قہقہوں اور بچّوں کے کھیل کُود کی آوازیں سُن کر روتی رہی اور سوچتی رہی کہ اپنی مَن مانی کرنے میں کوئی فائدہ نہیں ہے۔” مینی نے اکتاہٹ سے بھرپور انگڑائی لی اور اپنا کمرہ صاف کرنا شروع کردیا۔

    پھر اُس نے باغ سے کچھ پھُول توڑ کر اپنے کمرے کے گُل دان میں سجائے۔ اپنی آنٹی کے کمرے کے لیے بھی ایک گُل دستہ بنایا۔ شاید وہ چاہتی تھی کہ آنٹی کبھی تو اس کی تعریف کریں۔

    ”شکریہ مینی! یہ بہت خوب صورت گُل دستہ ہے۔ پرسوں شہر میں ایک سرکس آرہا ہے۔ میں اس کے ٹکٹ خریدوں گی پھر ہم دونوں مل کر سرکس دیکھنے چلیں گے۔”

    اگلے دن مینی باہر گھومنے نکلی لیکن نہ تو اُس نے سوئیٹر پہنا اور نہ ہی ٹوپی۔ آنٹی نے اُسے پیچھے سے آواز دی: ”بارش ہونے والی ہے۔ مینی! تم اپنا سوئیٹر، ٹوپی تو پہن لو۔”

    ”آنٹی! آپ پریشان مت ہوں۔ میں ایسے ہی ٹھیک ہوں۔” مینی نے کہا کچھ دیر بعد تیز بارش شروع ہوگئی۔ مینی بارش میں بھیگتی ہوئی وہ گھر کی جانب دوڑی۔

    ”مینی! جلدی سے کپڑے بدل کر بستر میں لیٹ جاؤ، ورنہ بیمار پڑ جاؤ گی۔” اُس کی آنٹی نے کہا لیکن مینی نے ان کی بات نہ مانی۔ اگلے دن صُبح تک اُسے تیز بُخار ہوگیا۔ اب وہ بستر سے اُٹھنے کے بھی قابل نہیں تھی۔ وہ سوچنے لگی، ایسا نہ ہو کہ آنٹی اُسے سوتا ہوا سمجھ کر خود ناشتہ کرلیں۔ اب تو وہ سرکس میں بھی نہیں جاسکے گی۔” مینی تکیے میں مُنہ چُھپا کر رونے لگی۔

    اتنے میں آنٹی سوسُن ناشتے کی ٹرے لے کر کمرے میں داخل ہوئیں۔ اُنہوں نے مینی کا ہاتھ مُنہ دُھلوایا، بال برش کیے، بستر دُرست کرکے اُس کے سامنے ناشتے کی ٹرے رکھ دی۔

    ”آنٹی! میں بیمار پڑگئی ہوں۔ اب ہم سرکس میں تو نہیں جاسکتے نا؟ کیا سرکس کے ٹکٹ ضائع ہوجائیں گے؟” مینی نے دھیمی آواز میں کہا۔

    ”میری پیاری بچّی! جب کل تم سوئیٹر اور ٹوپی کے بغیر گھر سے باہر جارہی تھی تو مجھے معلوم تھا کہ تم بارش میں بھیگ کر ضرور بیمار ہوجاؤ گی۔ اس لیے میں نے ٹکٹ خریدے ہی نہیں تھے۔ میں تمہاری طرح نادان نہیں ہوں۔ اگر تم وعدہ کرو کہ میری بات مانو گی تو میں تمہارا خیال رکھوں گی۔” آنٹی سوسن نے کہا۔

    ”جی آنٹی! میں وعدہ کرتی ہوں کہ اب وہی کروں گی جو آپ کہیں گی۔” مینی نے آنٹی کا ہاتھ پکڑ کر شرمندگی سے کہا۔

    ”بہت خوب! مُجھے یقین تھا کہ تم اچھی بچی بن سکتی ہو۔”

    شکریہ آنٹی! اب میں وہ نہیں کرنا چاہتی جو میرے دل میں آئے بلکہ وہ کرنا چاہتی ہوں جو آپ کو پسند ہو۔” مینی نے کہا تو آنٹی مسکرا دیں۔

    ٭…٭…٭

  • ٹیپو کا روزہ ۔ الف نگر

    ٹیپو کا روزہ ۔ الف نگر

    رمضان کہانی

    ٹیپو کا روزہ

    دلشاد نسیم

    ٹیپو کا پہلا روزہ تھا۔ اس نے اپنے امی ابو سے یہی سنا تھا کہ رمضان المبارک صبر کا مہینہ ہوتا ہے لیکن اس کی سمجھ میں کبھی نہیں آیا کہ صبر کیا ہے؟ اتنے مزے کی سحری ہوتی ہے۔ پراٹھے انڈے، دہی، پھیونیاں اور افطاری میں بھی فروٹ چاٹ، پکوڑے، سموسے، شربت وغیرہ۔

    اُس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ بھی روزہ رکھے لیکن ابھی اس کی عمر کم تھی جب کہ روزہ رکھنے کی خواہش بہت زیادہ! امی بھی راضی نہ تھیں۔

    ”ٹیپو بیٹا! گرمی بہت ہے۔” امی نے ٹیپو کو پیار کرتے ہوئے کہا۔

    ”کوئی بات نہیں، تم روزہ رکھو، اللہ صبر دے گا۔” ابو نے ہمت بندھائی۔

    چناں چہ طے یہ پایا جمعہ کو ٹیپو روزہ رکھے گا۔ اسکول میں اس نے ایک ایک بچے کو بتایا کہ جمعہ کو اس کی روزہ کشائی ہے۔ وہ بہت خوش تھا اس لیے رات کو جلدی سو گیا بلکہ اس روز تو اس نے ٹی وی بھی نہیں دیکھا اور نہ ہی امی سے کہانی سنی کیوں کہ اسے سحری کے لیے جاگنا تھا۔

    سحری میں ٹیپو سے کچھ بھی کھایا نہیں جا رہا تھا۔ پراٹھے کے دو چار نوالے لیے تو اس کا دل بھر گیا۔ امی پریشانی سے بولیں: ”بیٹا! سارا دن کیسے گزارو گے؟”

    ”صبر سے۔” ٹیپو نے مسکرا کے کہا: 

    سب ہنس دیئے کیوں کہ ٹیپو کو تو شاید صبر کے معنی بھی نہیں آتے تھے۔ سحری کا وقت ختم ہوا تو امی نے ٹیپو سے کہا: ”بیٹا! روزے کی نیت کرلو!” پھر ساتھ ہی عربی میں اُسے دعا یاد کروانے لگیں۔

    وَ بِصَوْمِ غَدٍ نَّوَیْتُ مِنْ شَھْرِ رَمَضَانَ۔

    ٹیپو نے اس کو دُہرایا اور ابو کے ساتھ نماز کے لیے مسجد چلا گیا۔ راستے میں ابو نے بتایا کہ نیت کا مطلب ہے ارادہ یعنی ہم جو کام کرنے لگے ہیں، اس کے لیے ہم بالکل تیار ہیں جیسے ابھی ہم نماز کا ارادہ کرکے مسجد کی جانب جارہے ہیں۔” ٹیپو کے لیے ساری باتیں نئی تھیں۔ وہ نماز پڑھ کر آیا تو ٹی وی پر کارٹون لگا کر بیٹھ گیا۔ امی نے قرآن مجید پڑھتے ہوئے اُسے آواز دی:

    ”بیٹا! اتنی صبح ٹی وی نہیں دیکھتے۔” یہ سن کرٹیپو نے ٹی وی بند کیا اور سیپارہ پڑھ کر کچھ دیر کے لیے آرام کرنے لگا۔ جب وہ سو کے اٹھا تو دن کا اُجالا تھا۔ دوپہر تک تو اس کو بالکل بھوک نہیں لگی البتہ پانی پینے کو دل کر رہا تھا۔ تین بجے کے بعد تو وقت گزر ہی نہیں رہا تھا۔ یوں لگتا کہ جیسے گھڑی کی سوئیوں نے بھی روزہ رکھ لیا ہو۔ ٹیپو نے اپنی پیاس امی پر ظاہر نہیں ہونے دی کیوں کہ وہ ٹیپو کی ذرا سی بھی پریشانی سے بہت زیادہ فکر مند ہو جاتی تھیں۔

    شام ہوئی تو ٹیپو کرکٹ کھیلنے باہر چلا گیا۔ گھر کے قریب ہی ایک جگہ مزدوروں کو کام کرتا دیکھ کر وہ حیران رہ گیا۔ سب اتنی گرمی میں کام کر رہے تھے۔ ٹیپو نے ایک مزدور سے پوچھا: ”انکل! بہت گرمی ہو رہی ہے، آپ کو پیاس لگی ہے تو میں پانی لے آئوں؟”

    مزدور نے بہت پیار سے ٹیپو کے سر پر ہاتھ پھیرا اور دعا دیتے ہوئے کہا: ”بیٹا جی! میرا روزہ ہے۔”

    ٹیپو حیران رہ گیا کہ مزدوروں نے اتنی سخت گرمی میں روزہ رکھا ہوا ہے؟ وہ گھر واپس آتے ہوئے سوچنے لگا کہ میں ان مزدوروں کے لیے کیا کر سکتا ہوں؟ اتنے میں امی آگئیں، انہوں نے ٹیپو کو چپ دیکھ کر پوچھا: ”بیٹا! بھوک تو نہیں لگ رہی؟” ٹیپو نے انکار میں سرہلایا تو امی نے دوبارہ پوچھا: ”پیاس لگ رہی ہے؟”

    ٹیپو ان کی بات سُن کر خاموش ہو گیا۔ جب امی نے بہت اصرار کیا تو وہ دھیرے سے بولا: ”جی امی! آج آپ بہت سارا شربت بنائیے گا۔”

    امی نے پیار سے ٹیپو کو گلے لگا لیا۔ افطاری کے وقت انہوں نے بہت سارا شربت، پکوڑے، سموسے، چاٹ اور دیگر بہت سی چیزیں بنائیں۔ ابھی روزہ کھلنے میں کچھ ہی دیر تھی۔ ٹیپو نے ابو سے پوچھا:

    ”ابو جی! کیا ہم اپنی افطاری سے کچھ چیزیں نکال سکتے ہیں؟”

    ”ہاں بیٹا! کیوں نہیں! مگر تم نے کیوں پوچھا؟” ابو نے مسکرا کے بولے۔

    ”ابو جی! وہ جو سامنے گھر بن رہا ہے، مجھے یہ سامان وہاں مزدوروں کو دینا ہے۔” یہ سن کر ابو بہت خوش ہوئے اور ٹیپو کے ساتھ جا کر شربت اور افطار کا دوسرا سامان مزدوروں کو دے آئے۔ ٹیپو اب کافی خوش نظر آرہا تھا۔ اس نے امی کو بتایا کہ مزدور بے چارے گرمی میں روزہ رکھ کر اتنی محنت سے کام کر رہے ہیں۔ امی کہنے لگیں:”بیٹا! مزدوروں کے پاس یہ ہمت، طاقت اور یہ حوصلہ روزہ دار کے لیے اللہ کا انعام ہیں۔” ٹیپو سوچ میں پڑ گیا: ”امی! مجھے اللہ میاں سے کیا انعام ملے گا؟”

    ”بیٹا! ہماری زندگی کے سارے اچھے کام اللہ کا انعام ہیں۔ تمہارا روزہ بھی اور روزے میں صبر کے ساتھ افطاری کا انتظار بھی!” امی نے مسکرا کر کہا، اتنے میں ٹیپو کے ابو کہانیوں کی کتابیں اور IPod لے آئے اور ٹیپو کو گلے سے لگا کر کہنے لگے: ”بیٹا! جو انعام آپ کو اللہ تعالیٰ دیں گے وہ تو بہت ہی اچھا ہو گا لیکن کچھ تحفے میں بھی تمہارے لیے لایا ہوں۔”

    ”آہا! یہ بہت پیارے ہیں لیکن بابا جان! مجھے تو اللہ پاک سے انعام چاہیے۔” ٹیپو چہک کر بولا۔

    ”واہ بیٹا! تم نے واقعی صبر کرنا سیکھ لیا ہے۔” ابو بولے۔انہوں نے بے ساختہ ٹیپو کو گلے لگا کر بہت پیار کیا۔

    ”ٹیپو بیٹا! بھوک پیاس کے باوجود تم نے مزدوروں کا احساس کیا۔ اس پر بھی ہم سب بہت خوش ہیں اور یقینا اللہ بھی، اسی لیے تم ڈبل انعام کے حق دار ہو۔” امی نے کہا تو ٹیپو خوش ہوگیا۔

  • ننھی مچھلی ۔ الف نگر

    ننھی مچھلی ۔ الف نگر

    ننھی مچھلی

    عنیقہ محمد بیگ

    مچھیرے کی قید سے بچنے کے لیے چھوٹی مچھلیوں نے کیا منصوبہ بنایا؟ پڑھیے ایک دلچسپ کہانی!

    سمندر کے نیل گوں پانی میں تیرتے ہوئے اُسے بہت مزا آرہا تھا۔ ننھی مچھلی کو گہرے پانی میں تیرنے اور خود سے خوراک تلاش کرکے کھانے کا بہت شوق تھا لیکن وہ ابھی زیادہ بڑی نہیں تھی۔ اُس کی ماں نے اسے زیادہ دور جانے سے منع کررکھا تھا۔ آج وہ اپنی ماں یعنی سنہری مچھلی سے اجازت لے کر اپنی تینوں سہیلیوں کی طرف جانے لگی۔ ننھی مچھلی کی سہیلیاں یعنی کالی مچھلی، جامنی، پیلی اور گلابی مچھلیاں پانی کے اندر ایک قریبی پارک میںرہتی تھیں۔ وہاں جاکر اُسے معلوم ہوا کہ وہ سب سبز پارک میں جانے کی تیاری کررہی ہیں۔ ننھی مچھلی حیران ہوکر کہنے لگی:

    ”پیاری سہیلیو! مجھے ڈر ہے کہ تم کسی مصیبت میں نہ پھنس جائو کیوں کہ وہاں انسانوں نے جال بچھا رکھے ہیں۔”

    ”مگر ہمیں تو پیلی مچھلی کی سال گرہ کے لیے وہاں سے پھل، کیک اورمٹھائیاں لانی ہیں۔” گلابی مچھلی نے کہا توننھی مچھلی سوچ میں پڑگئی۔ ابھی صبح ہی اُس کی ماں یعنی سنہری مچھلی نے اُس سے وعدہ لیا تھاکہ وہ سبز پارک میں نہیں جائے گی۔

    ”اگر تم نہیں جانا چاہتی تونہ جاؤ مگر ہم ضرور جائیں گے۔” کالی مچھلی نے کہا تو ننھی مچھلی نے اپنی تمام سہیلیوں کی طرف دیکھا پھر ان سب کے ساتھ جانے کے لیے تیار ہوگئی۔ اب یہ تمام سہیلیاں سبز پارک کی طرف تیرنے لگیں۔

    سبز پارک میں بہت سی کھانے پینے کی چیزیں پڑی ہوئی تھیں۔ ساتھ ہی کچھ جال بھی بچھے ہوئے تھے۔

    ”پیاری سہیلیو! ذرا احتیاط سے …میری امی بتاتی ہیں کہ نانی اماں اسی طرح کے ایک جال میں پھنس گئی تھیں اور پھر واپس نہیں آئیں۔” ننھی مچھلی نے بات مکمل کی مگر کسی نے بھی اس کی بات پر توجہ نہیں دی۔ وہ سبھی میٹھی چیزوں کو دیکھ کر خوش ہورہی تھیں۔ اب سب نے مل کر فیصلہ کیا کہ باری باری ہر مچھلی کُنڈیوں اور جال سے بچ کر مٹھائیاں اور کیک لائے گی۔

    سب سے پہلے ننھی مچھلی اور جامنی مچھلی نے ایک دوسرے کاہاتھ پکڑا اور آگے بڑھنے لگیں۔ میٹھے پھل، کیک اور سینڈوچ پاکر وہ بے حدخوش تھیں۔ تیرتے ہوئے اچانک جامنی مچھلی کو ایک جھٹکا لگا۔کوئی سخت چیز اس کے جسم سے ٹکرائی تھی۔جلد ہی اسے احساس ہوگیا کہ وہ ایک جال میں پھنس چکی ہے۔ وہ زور زور سے چیخنے لگی:

    ”بچاؤ! بچاؤ!” جامنی مچھلی کی چیخ و پکار سن کر ننھی مچھلی نے سب چیزیں پھینک دیں۔ اب وہ جامنی مچھلی کو بچانے کے لیے جال توڑنے کی کوشش کرنے لگی مگر ناکام رہی۔ جامنی مچھلی کو مصیبت میں دیکھ کر دور کھڑی باقی مچھلیوں نے بھی رونا شروع کردیا مگرننھی مچھلی نے ہمت نہ ہاری۔ اُس نے چیخ کر جامنی مچھلی کو مخاطب کیا:

    ”جامنی مچھلی! جامنی مچھلی ! جیسے ہی مچھیرا یہ جال کھولے ، تم اُچھل کر سمندر میںکود جانا۔”

    جامنی مچھلی روتے ہوئے بولی: ”نہیں ننھی مچھلی! مجھے لگتا ہے میں مرجاؤں گی۔”

    جال تیزی سے کنارے کی طرف جارہا تھا۔ باہر سے ننھی مچھلی نے جال کے اندر موجود جامنی مچھلی کا ہاتھ پکڑ لیا۔ اس طرح جامنی مچھلی کے ساتھ ننھی مچھلی بھی اوپر جانے لگی۔ جب جال پانی کی اوپر والی سطح پہنچا تو ننھی مچھلی التجا بھری نظروں سے مچھیرے کی طرف دیکھتے ہوئے مِنت کرنے لگی: ”اے نیک دل انسان! میری سہیلی جامنی مچھلی کو چھوڑ دو۔” ادھر مچھیرے نے جال پانی سے باہر نکالا تووہ ننھی مچھلی کے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔ جامنی مچھلی اب مچھیرے کی قید میں تھی۔ ننھی مچھلی پانی کی سطح پر آکر بار بار مچھیرے کو پکا ررہی تھی : ”اے انسان! میری سہیلی کو چھوڑ دو۔” مچھیرا ننھی مچھلی سے بے خبر تھا۔ اُس نے ایک کے بعد دوسری مچھلی اپنے بیگ میں ڈالنا شروع کی۔ یہ دیکھ کر ننھی مچھلی کا دل گھبرانے لگا۔ ایسے میں اُسے جامنی مچھلی کی کانپتی ہوئی آواز سنائی دی: ”خدا حافظ ننھی مچھلی! یہ انسان اب مجھے نہیں چھوڑے گا۔” یہ کہتے ہوئے وہ رونے لگی۔

    مچھیرے نے باقی مچھلیوں کو تھیلے میں ڈالا۔ اب وہ جامنی مچھلی کو ہاتھ میں اُٹھا چکا تھا۔ وہ مچھیرے کے ہاتھ پر تڑپنے لگی ۔یہ منظر دیکھ ننھی مچھلی روتے ہوئے مچھیرے کو پکارنے لگی: ”اے نیک انسان! میری سہیلی کو چھوڑ دو۔ بھلے اُس کے بدلے میں تم مجھے پکڑ لو۔ تمہارا بڑا احسان ہوگا۔”

    مچھیرا ننھی مچھلی کی آواز سے بے خبر جامنی مچھلی کوغور سے دیکھ رہا تھا پھر اُسے جامنی مچھلی کی چھوٹی سی جسامت پر ترس آگیا۔ چناں چہ اُس نے پیار سے اُسے واپس سمندر میں پھینک دیا۔ پانی میں پہنچتے ہی جامنی مچھلی کی جان میں جان آگئی۔ ننھی مچھلی خوشی سے مچھیرے کا شکریہ ادا کرنے لگی۔ پانی میں جاتے ہی جامنی مچھلی نے ننھی مچھلی کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا اور اب وہ واپس اپنے سہیلیوں کے پاس جانے لگیں۔ اچانک مچھیرے کا پاؤں پھِسلا اوراُس کا بٹوہ سمندر میں گرگیا۔ وہ پریشانی سے پانی میں ہاتھ مارنے لگا مگر اُس کا بٹوہ گہرے پانی میں جاچکا تھا۔

    اِدھر کالی، گلابی اور پیلی مچھلی تیزی سے جامنی کے پاس آگئیں جب کہ ننھی مچھلی اُس مچھیرے کا افسردہ چہرہ دیکھ رہی تھی۔ وہ بے چارا اپنا بٹوہ حاصل کرنے کے لیے بار بارپانی میں جال پھینک رہا تھا۔

    ”بھاگو ننھی مچھلی بھاگو! یہاں سے چلو ورنہ ہم سب پکڑی جائیں گی۔” کالی نے چیخ کر کہا مگر ننھی مچھیرے کے بٹوے کی طرف بڑھنے لگی۔ گلابی مچھلی بولی: ”ننھی دوست! واپس آؤ، یہاںبہت خطرہ ہے۔”

    ”نہیں دوست! میں یہ بٹوہ مچھیرے کو لوٹانا چاہتی ہوں کیوں کہ اُس نے جامنی مچھلی کو آزاد کیا ہے۔” ننھی مچھلی نے جواب دیا۔ جامنی مچھلی نے ننھی مچھلی کا ہاتھ تھام لیا اور پیار سے بولی: ”ٹھیک ہے ننھی دوست! میں اِس کام میں تمہاری مدد کروں گی۔”

    ان دونوں کی ہمت دیکھ کر باقی سہیلیاں بھی اُن کی مدد کے لیے آگے بڑھیں۔ آخر فیصلہ یہ ہواکہ بٹوہ مل جُل کر سمندر سے باہر پھینکا جائے۔اس کام میں ساری سہیلیوں نے ننھی مچھلی کا ساتھ دیا۔ ہمت کرکے تمام سہیلیاں مچھیرے کا بٹوہ سمندر سے باہر لے آئیں۔ سب کی سانس پھول رہی تھی۔ مچھیرا اپنا بٹوہ پانی پر تیرتا دیکھ کر حیران رہ گیا۔ اُس نے وہاں موجود انسانوں کو چیخ چیخ کر اپنی طرف متوجہ کیا:

    ”دیکھو! وہ دیکھو! کس طرح چھوٹی مچھلیاں میرا بٹوہ سمندر سے نکال لائی ہیں۔” یہ کہہ کر مچھیرے نے اپنا بٹوہ پکڑ لیا۔ آس پاس کھڑے لوگ یہ منظر دیکھ کر بہت حیران ہوئے۔ انہوں نے دل کھول کر مچھلیوں کو داد دی۔ مچھیرے نے پیاری پیاری مچھلیوں کا شکریہ ادا کیا پھر تمام سہیلیاں ہنسی خوشی اپنے گھر کی طرف تیرنے لگیں۔

    ٭…٭…٭

  • کی میکر ۔ الف نگر

    کی میکر ۔ الف نگر

    کی میکر

    حنا نرجس

    اوہ! چابی تو کمرے میں ہی رہ گئی۔ اب کیا ہوگا؟ پڑھیے ایک سبق آموز کہانی۔

    ”واہ ممّا! آپ کے ہاتھوں میں تو جادو ہے۔ آہا! کتنی خوب صورت لگ رہی ہے میری فراک ہے نا!” حرا نے واپس رکھتے ہوئے اپنی ماں کے ہاتھ چوم لیے۔

    یہ عالیہ کی مہارت تھی کہ اپنے جالی دار گلابی دوپٹے پر سفید اور گلابی لیس لگا کر حرا کا اتنا پیارا فراک سی ڈالا تھا۔ پہلی نظر میں کسی مہنگے برانڈ کے تیار کردہ فراک کا گمان ہوتا تھا۔ دونوں ماں بیٹی ابھی فراک دیکھ رہی تھیں کہ بیرونی دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔ بابا آ گئے تھے۔ حرا نے بہ مشکل ان کے کھانا کھانے تک انتظار کیا پھر وہی سوال کر دیا جس کے لیے وہ بابا کے آنے کا انتظار کر رہی تھی۔

    ”بابا! آپ مجھے پانچ سو روپے دے رہے ہیں نا؟”

    ”اوہ! ابھی نہیں بیٹا! اصل میں…” وہ کچھ کہتے کہتے رک گئے۔

    ”بابا! آپ کو پتا ہے! صبح آخری تاریخ ہے۔ کل ہر صورت پیسے جمع کروانے ہیں، ورنہ میرا نام ٹرپ پر جانے والے بچوں میں شامل نہیں ہو گا۔” حرا نے قدرے اُداس لہجے میں کہا۔

    ”میں کوشش تو کر رہا ہوں بیٹا! امید ہے ایک دو دن تک… بلکہ ٹیچر سے کہو کہ وہ تمہارا نام ٹرپ پر جانے والے بچوں میں شامل کر لیں۔ ہم سوموار تک پیسے جمع کروا دیں گے۔”

    ”سوری بابا! وہ ایسے نہیں مانیں گے۔ آپ مجھے صبح پیسے ضرور دے دیں۔ ممّا تو میرا فراک سی چکی ہیں اور گلابی جوتے میرے پاس پہلے ہی موجود تھے۔ ویسے بھی اب میں سب دوستوں کو بتا چکی ہوں۔ پلیز آپ…” یہ کہتے کہتے اُس کی آنکھیں بھیگ گئیں۔

    ”بیٹا! تم اللہ سے دعا کرو۔ وہ ضرور کوئی سبیل پیدا کر دے گا۔” بابا نے حرا کا کندھا تھپتھپاتے ہوئے کہا۔

    ”میں ضرور دعا کروں گی بابا!” حرا یہ کہہ کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔

    اپنے بستر پر آنکھیں موندے لیٹا کامل علی خود بھی دعا کر رہا تھا۔ وہ چابی بنانے کا ماہر یعنی ”کی میکر” تھا۔ خود تعلیم حاصل نہ کر سکا لیکن اپنی بیٹی کو اعلیٰ تعلیم دلانا چاہتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اُس نے حرا کو اپنی مالی حیثیت سے قدرے اونچے انگلش میڈیم اسکول میں داخل کروایا تھا۔ وہ تیسری جماعت کی طالبہ تھی۔ حرا بے جا ضد کرنے والی بچی نہیں تھی۔ وہ گھر کے حالات کو سمجھتے ہوئے اکثر اپنی خواہشات پر قابو پا لیا کرتی لیکن دو ہفتے قبل جب ٹیچر نے بچوں کے لیے ایک روزہ ٹرپ کا اعلان کیا تو حرا کا دل اُچھلنے لگا تھا۔

    ٭…٭…٭

    صارم اپنے ٹیوٹر سر طارق کو دروازے تک خدا حافظ کہہ کر اپنے کمرے کی جانب آیا۔ اس نے دروازے کا ہینڈل گھمایا: ”اوہ! چابی تو کمرے کے اندر ہی تھی اور دروازہ غلطی سے لاک ہوگیا۔ اب کیا ہوگا؟” صارم پریشان ہوگیا۔

    ”امی! امی! میرے کمرے کی چابی اندر ہی تھی لیکن دروازہ لاک ہو گیا؟ ابو کب آئیں گے؟” صارم امی کے کمرے کی طرف بھاگا۔

    ”تمہارے ابو کچھ دیر تک آجائیں گے لیکن تالا کھلوانے کے لیے تو کی میکر کو ہی بلوانا پڑے گا۔”

    ”اوہو! یہ سب آج ہی ہونا تھا۔ کل میرا ریاضی کا پیپر ہے۔ کیا کروں میں اب؟”

    ”کتابیں تو تمہارے ہاتھ میں ہیں۔ ایک رات کے لیے تم میرے کمرے میں سو جاؤ۔”

    ”لیکن میرا کیلکولیٹر اور یونیفارم بھی تو اندر ہی ہے۔” صارم نے روہانسے لہجے میں کہا۔

    ابو ذرا تاخیر سے گھر آئے تو صارم نے انہیں اپنی پریشانی سے آگاہ کیا۔ ”اوہ! اب تو کوئی ”کی میکر” بھی نہیں ملے گا۔ مارکیٹ بند ہوچکی ہے۔” صارم کے ابو نے افسوس سے ہاتھ ملتے ہوئے کہا پھر انہوں نے صارم کو سونے کے لیے بھیج دیا۔

    ٭…٭…٭

    صبح صارم اور اُس کے ابو نمازِ فجر ادا کر کے راحیل صاحب کے گھر چلے آئے راحیل صاحب نے خوش دلی سے اُن کا استقبال کیا۔ صارم کے ابو نے اپنا مسئلہ بیان کیا:

    ”راحیل بھائی! مجھے یاد پڑتا ہے کہ ایک بار آپ کے چھوٹے بچے نے خود کو کمرے میں لاک کر لیا تھا اور پھر آپ کو تالا کھلوانے کے لیے کی میکر کو بلوانا پڑا تھا۔ کیا مجھے بتا سکتے ہیں وہ کی میکر کہاں ملے گا؟”

    "ہاں، کیوں نہیں بھئی! میں آپ کو اُس کا رابطہ نمبر دیتا ہوں۔” راحیل صاحب نے کی میکر کا نمبر انہیں دے دیا۔

    اِدھر کامل علی مسجد سے نماز پڑھ کر نکلا ہی تھا کہ اُس کے موبائل کی گھنٹی بج اٹھی۔ دوسری جانب اسے کوئی اپنا مسئلہ بتا رہا تھا۔ ”جی! جی میں حاضر ہوتا ہوں جناب!” کامل نے یہ کہہ کر فون بند کردیا پھر گھر آکر اپنے اوزار لیے باہر نکل گیا۔ اِدھر حرا کی ممّا اسے اسکول کے لیے جگا رہی تھیں۔

    کامل اپنے کام میں ماہر تھا۔ چند منٹ میں ہی اُس نے صارم کے کمرے کا لاک کھول دیا۔ یہ دیکھ کر صارم کی جان میں جان آگئی۔ ابو نے ”کی میکر” کا شکریہ ادا کیا اور بتائی گئی اُجرت سے کچھ زیادہ رقم دیتے ہوئے کہا:

    ”آپ نے صبح سویرے میری مشکل حل کردی۔ آپ کا بہت شکریہ۔”

    ٭…٭…٭

    بابا گھر پہنچے تو حرا بے دِلی سے اسکول کے لیے تیار ہو رہی تھی۔ چہرے پر افسردگی کے آثار واضح تھے۔ کامل کو اُس کی روٹھی شکل پر بہت پیار آیا۔ اُس نے آگے بڑھ کر حرا کے ماتھے پر پیار کیا اور اُسے پانچ سو روپے تھما دیے۔ یہ دیکھ کر حرا تو حیران ہی رہ گئی۔

    ”بابا! کیا یہ اصلی ہیں؟” حرا کے اِس سوال پر بابا مسکرا دیے۔

    ”بیٹا! تم نے دعا کی تھی نا! بس اللہ نے آپ کی دعا قبول کر لی اور صبح سویرے مجھے ایک کام دے دیا۔ ایک بچے کا کمرہ لاک ہو گیا تھا، وہ کھولنا تھا۔ اور پتا ہے کیا؟ وہ بچہ بہت پریشان تھا۔ مجھے یقین ہے کہ اُس نے بھی تمہاری طرح دعا کی ہو گی اور دُعا نے چابی کا کام کیا۔ اللہ نے دونوں کا مسئلہ حل کر دیا۔”

    حرا کا چہرہ خوشی سے چمکنے لگا۔ وہ بے اختیار پکار اٹھی: ”تھینک یو اچھے اللہ میاں! اور بابا جانی! آپ کا بھی بہت شکریہ۔”

    ٭…٭…٭

    آرٹ بریف

    ایک سادہ سے گھر کا منظر جہاں بارہ سالہ حرا کی 40 سالہ ماں اُس کو گلابی رنگ کا فراک دکھا رہی ہے۔ قریب ہی 44 سالہ کامل صاحب گھنی مونچھیں ہلکی ڈاڑھی والے۔ کچھ پریشان سے کھڑے ہیں۔

    ایک عالی شان گھر کا منظر۔ جہاں پندرہ سالہ صارم اپنے کمرے کے باہر پریشان کھڑا ہے اور اپنی امی کو کچھ بتا رہا ہے۔ ساتھ اس کی 38 سالہ مما حیرانی سے کمرے کا لاک دیکھ رہی ہیں۔

    ٭…٭…٭

  • عید مِلن پارٹی ۔ الف نگر

    عید مِلن پارٹی ۔ الف نگر

    عید مِلن پارٹی

    ساجدہ غلام محمد

    اتنے غباروں کا کیا کریں گے صاحب؟ وہ آدمی حیران تھا۔ پڑھیے عید کے حوالے سے خاص کہانی!

    ”کیا ہوا؟ کیا آج پھر کوئی نہیں آیا کھیلنے؟” امی نے عماد کا اُداس چہرہ دیکھ کر پوچھا۔

    ”جی امی! پتا نہیں یہاں بچے گرائونڈ میں جا کر کیوں نہیں کھیلتے۔ امی! ہم اس کالونی میں کیوں آگئے ہیں؟پرانی جگہ اچھی تھی، وہاں میرے دوست تھے اور ہم روز مل کر کھیلتے تھے۔” عماد کے لہجے میں افسردگی تھی۔

    ”بیٹا! آپ کے ابو جی کو یہاں جاب مل گئی اس لیے ہم یہاں آگئے۔ آؤ میں آپ کے ساتھ کھیلتی ہوں۔” امی نے اسے بہلانا چاہا۔

    ”امی جی! کیا میری عید بھی ایسے ہی گزرے گی؟ اکتاہٹ والی!” عماد زیادہ ہی اُداس تھا۔ امی اُس کے پاس آ کر بیٹھ گئیں۔

    ”اکتاہٹ کیوں؟ میرے پاس ایک ترکیب ہے، کیوں نہ ہم عید پر آپ کے تمام کلاس فیلوز کی دعوت کریں؟”

    ”دعوت؟ میرے کلاس فیلوز کی؟” عماد نے حیرت سے امی کی جانب دیکھا۔

    ”جی ہاں! آپ کے تین کلاس فیلوز اسی گلی میں رہتے ہیں نا! ہم مل کران سب کے لیے کارڈز بناتے ہیں،دعوتی کارڈز! آپ کل اسکول میں انہیں دے دینا اور کہنا کہ کسی کاغذ پر اپنی ایک نمکین اور ایک میٹھی ڈش کے نام بھی لکھ دیں۔” امی نے عماد کو تفصیل بتائی تو وہ خوش ہوگیا۔

    ٭…٭…٭

    ”میں اپنے گھر میں آپ تینوں کی عید پارٹی کر رہا ہوں۔ آپ لوگ ضرور آنا۔” اگلے دن عماد نے اپنے ہاتھ سے بنے خوب صورت کارڈز دوستوں کو دیے تو حیرت اور خوشی سے سبھی کی آنکھیں پھیل گئیں۔

    ”بہت خوب صورت کارڈز ہیں۔ تمہاری ڈرائنگ تو بہت ہی پیاری ہے۔” صائم نے ستائشی لہجے میں کہا تو عماد مسکرا دیا۔

    ”میں تو ضرورآئوں گا۔ آنٹی کیا کیا بنائیں گی؟” کھانے کے شوقین حسن نے شرارت سے پوچھا تو عماد فوراً بولا: ”ارے ہاں! یاد آیا۔ آپ سب مجھے اپنے پسندیدہ کھانوں کے نام تو بتائیں ذرا! پھر امی مینو بنائیں گی۔ سرپرائز مینو ہوگا ان شاء اللہ!” اس نے لہجے کو پراسرار بناتے ہوئے آنکھیں گھمائیں تو صائم، حنان اور حسن اس بات پر ہنس دیے۔

    ٭…٭…٭

    ”عید مبارک!”

    ”عید مبارک!” 

    عید کی نماز کے بعد عماد اور اُس کے ابو جی ڈرائنگ روم کو رنگ بہ رنگ غباروں سے سجانے لگے۔

    ”ارے واہ! آپ دونوں نے مل کر کمرے کو بہت پیارا سجایا ہے۔” کچھ دیر بعد امی کمر ے میں آئیں تو بے اختیار کہہ اٹھیں۔

    ”آج ہمارے بیٹے کی عید پارٹی جو ہے۔ پہلی بار اِس کے دوست آرہے ہیں۔” ابو جی نے ایک دیوار پرٹیپ سے غبارہ چپکاتے ہوئے کہا تو عماد مسکرا دیا۔

    دوپہر کو حنان، حسن اور صائم اس کے گھر آگئے۔

    اسی وقت عماد کی امی ٹھنڈا ٹھنڈا ، مزے دار دودھ سوڈا لے آئیں۔

    ”پہلے کھیلنا ہے یا کھانا ہے؟” انہوں نے ٹرے میز پر رکھتے ہوئے پوچھا۔

    ”پہلے کھانا ہے!میں نے تو صبح سے بس سویاں کھائی ہیں۔ سوچا تھا عماد کے گھرجا کر دعوت کھاؤں گا۔” حسن نے جواب دیا تو سبھی ہنس پڑے ۔ کچھ ہی دیر میں کھانے کی میزسب کی پسندیدہ ڈشوں سے سجی ہوئی تھی۔

    ”تھینک یو آنٹی! یہ بہت مزے کا ہے۔” حنان نے پیزے کا پہلا لقمہ لیتے ہوئے کہا۔

    ”واؤ، برگرز!” حسن کی پسندیدہ ڈش بھی میز پر موجود تھی۔

    ”بھئی میں نے فرائیڈ چکن لکھا تھا۔” صائم نے میز پر نظریں دوڑاتے ہوئے کہا۔

    ”وہ بھی ملے گا بچو! پہلے یہ چیزیں تو کھاؤ نا! امی نے محبت سے کہا تو صائم نے جھینپ کر ایک برگر اپنی پلیٹ میں رکھ لیا۔ سب نے خوب ہلّا گلّا کرتے، ہنستے ہنساتے کھانا کھایا۔ کھانے کے دوران عماد کے ابو نے لطیفوں کا مقابلہ کروایا۔ سب نے مزے مزے کے لطیفے سنائے۔ حنان نے کچھ مشہور لوگوں کی پیروڈی کی تو سب نے خوب لطف اٹھایا۔ کھانے سے فارغ ہو کر وہ قالین پر بیٹھ گئے۔ اب ایک نیا کھیل شروع ہونے والا تھا۔

    ”بچو! یہ ایک ڈبّا ہے۔ جیسے ہی میں ہلکا سا میوزک چلاؤں تو آپ نے یہ ڈبّا ایک دوسرے کی طرف بڑھانا ہے۔ جس بچے پر میوزک بند ہو گا، وہ ڈبّے کا ریپر اتارے گا اور اندر سے نکلنے والی چیز اس کی ہوگی۔” امی نے ہدایات دیں تو سبھی پُرجوش ہو کر بیٹھ گئے۔

    ”یہ تو pass the parcelگیم ہے۔ ہم کزنز مل کر خوب کھیلتے ہیں۔” حسن نے ڈبّا صائم کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔ اچانک میوزک بند ہوا، تب صائم کی باری تھی۔ اُس نے ریپنگ پیپر اتارا۔

    ”اوہ! اس کے اندر تو پین ہے۔” صائم نے منہ بناتے ہوئے پین کھولا تو اچانک پٹاخے کی آواز آئی اور چاروں بچے اچھل پڑے۔ یہ پٹاخے والا کھلونا پین تھا۔ سب بچے ہنسنے لگے۔ پین کے ساتھ ایک چاکلیٹ بھی تھی۔ صائم نے فوراََ ریپر اتارا۔

    دوبارہ میوزک شروع ہوا، توبچوں نے ایک بار پھر ڈبّا ایک دوسرے کی طرف بڑھانا شروع کر دیا۔ اس بار ڈبّا عماد کے ہاتھ میں آیا تو اس نے ریپر اتارا۔ اندر ایک پرچی تھی جس پر لکھا تھا:

    ”ایک ٹانگ پر کھڑا ہو کر پورے کمرے کا چکر لگائیں۔” عماد نے ایک ٹانگ پر اچھلتے کودتے کمرے کا چکر لگایا تو بچوں کے قہقہے چھوٹ گئے۔ انعام میں اسے بھی چاکلیٹ ملی۔ حسن کے حصے میں کوئی مشہور ملی نغمہ گانا تھا اور حنان نے خوانچہ فروش بننا تھا۔ سبھی بچے اس کھیل سے خوب لطف اندوز ہوئے۔

    ”چلو اب باہر صحن میں کھیلتے ہیں۔” ابو جی نے کہا تو سب فوراََ باہر کی طرف لپکے۔ وہاں ابو جی نے پہلے سے پلاسٹک کے کچھ چمچ اور آلو رکھے ہوئے تھے۔

    ”آلو چمچ ریس!!” بچوں نے فوراََ اندازہ لگا لیا تھا۔ کچھ ہی دیر میں چاروں دوست اپنے اپنے منہ میں چمچ دبائے، ایک آلو کو اس چمچ پر رکھ کر ریس لگا رہے تھے۔ ریس کے آغاز ہی میں صائم کے چمچ سے آلو گر گیا جب کہ حنان کے چمچ والا آلو عین اس وقت گرا جب وہ جیتنے والی لائن کے پاس تھا۔

    ”میں جیت گیا! میں جیت گیا!” حسن ایک ہاتھ میں چمچ اور دوسرے ہاتھ میں آلو لہراتا ہوا خوشی سے اچھلنے لگا۔

    ”ارے! آج عید کا دن ہے، آج کوئی جیت ہار نہیں ہے۔ آج تو بس خوشیاں ہی خوشیاں ہیں۔” امی جی نے سب بچوں کو چپس کا ایک ایک پیکٹ پکڑاتے ہوئے کہا تو شکریہ کہہ کر سب مسکرا دیے۔

    ”جی ہاں آنٹی! ہمیں بہت مزا آرہا ہے۔” صائم نے چپس منہ میں ڈالتے ہوئے کہا۔

    ”بس اب جلدی جلدی چپس ختم کرو پھر ہم پٹّھو گرم کھیلیں گے۔” ابو جی بولے۔ واقعی کچھ دیر بعد پورا گھر پٹّھو گرم پٹّھو گرم کی آوازوں سے گونج رہا تھا۔ اتنی دیر میں عماد کی امی باہر صحن میں ہی ایک ٹرے میں گرما گرم فرائیڈ چکن لے آئیں۔

    ”یاہو!” صائم نے بے اختیار نعرہ لگایا۔ چکن فرائیڈ کھاتے ہوئے سب بچوں نے اپنے پسندیدہ کارٹون دیکھے، ساتھ ساتھ وہ ہنسی مذاق بھی کیے جارہے تھے۔

    ”اور اب میری پسندیدہ آئس کریم کی باری ہے نا؟” عماد نے امی سے پوچھا تو وہ ہنس پڑیں۔

    ”جی ہاں! آج عید ہے اس لیے مزے کرو۔”

    کرکٹ، میوزیکل چیئرز اور دوسرے کھیل کھیلتے اندازہ ہی نہ ہوا کہ کب مغرب کا وقت قریب آپہنچا۔ اچانک ہی گلی میں ایک غبارے والے کے باجے کی آواز آئی۔

    ”امی جان! آج تو عید کا دن ہے، آج بھی یہ آدمی غبارے بیچ رہا ہے؟” عماد کے لہجے میں تعجب تھا۔

    ”بیٹا! ان غریبوں کو ہر روز کام کرنا پڑتا ہے، تبھی ان کے پاس پیسے آتے ہیں اور کھانا پکتا ہے۔” عماد کے ابو جی نے جواب دیا۔ صائم نے گیٹ کھول کر باہر جھانکا۔ غبار وں والا آدمی قریب آچکا تھا۔

    ”بات سنو!” اس نے سب دوستوں کو بلایا پھر چاروں میں کھسر پھسر شروع ہو گئی۔ عماد کی امی نے حیرت سے عماد کے ابو کی جانب دیکھا لیکن انہوں نے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔

    ”انکل! ہم اپنی عید ی سے کچھ حصہ اِس آدمی کو دینا چاہتے ہیں۔” حنان نے جھجکتے ہوئے عماد کے ابو جی سے کہا تو وہ بے اختیار مسکرا دیے۔

    ”ماشاء اللہ! یہ تو بہت پیاری سوچ ہے بچو! ماشاء اللہ! عید ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ غریبوں کا بھی احساس کیا جائے اور اپنی خوشیوں میں انہیں بھی شریک کیا جائے۔” ابو نے خوشی بھرے لہجے میں بچوں کی جانب دیکھ کر کہا۔ جیسے ہی غباروں والا آدمی قریب آیا، ابو نے اُسے پیسے دے کر سارے غبارے خرید لیے۔

    ”اتنے غباروں کا کیا کریں گے صاحب؟” اس آدمی کی آنکھوں میں خوشی نظر آرہی تھی۔

    ”کسی کو تحفے میں دینے ہیں۔” ابو جی نے مسکرا کر کہا اور پھر سارے غبارے اسی کو واپس پکڑا دئے۔

    ”یہ لو! ہماری طرف سے عید کا تحفہ!اب تم چاہو تو انہیں بیچ دو، چاہو تو اپنے گھر لے جاؤ، تمہارے بچے کھیل لیں گے۔” ابو جی نے کہا تو وہ آدمی حیرت سے اِن کی جانب دیکھنے لگا۔

    ”ارے حیران ہونے کی ضرورت نہیں۔ ان بچوں نے اپنی عیدی کے پیسوں سے یہ غبارے خریدے اور بطور تحفہ تمہیں لوٹا دیے۔ اتنے سارے غباروں کا ہم کیا کریں گے۔” ابو نے مسکراتے ہوئے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ سب کو دعائیں دیتا خوشی خوشی اپنی راہ چل دیا۔ جاتے ہوئے امی نے اس کے لیے کھانے پینے کا کچھ سامان بھی لفافے میں ڈال دیا تھا۔ حنان، صائم، حسن اور عماد بہت خوش تھے۔ ابھی وہ گیٹ بند کرنے ہی لگے تھے کہ حسن کے ابو کی گاڑی سامنے آ کر رکی۔

    ”چلیں عبداللہ صاحب! اپنی گاڑی نکالیں ۔ آؤ بھئی بچو! بیٹھو گاڑی میں! ہم سب مغرب کی نماز ادا کرنے کے بعد واٹر پارک جا رہے ہیں۔” یہ سن کر تمام بچے خوشی سے اچھل پڑے۔ عماد کے ابو مسکراتے ہوئے اپنی گاڑی کی جانب بڑھ گئے۔

    واٹر پارک میں پانی کے ساتھ اٹکھیلیاں کرتے ہوئے سبھی بچے بہت خوش تھے۔

    ”انکل! آج سے پہلے کبھی ہماری عید اتنی اچھی نہیں گزری، بہت مزا آرہا ہے۔”

    ”بیٹا جی! عید تو اپنوں کے سنگ ہنس کھیل کر، مل بیٹھ کر اور دوسروں کی مدد کرکے گزارنے کا نام ہے۔”

    ”جی! یہی تو اصل خوشیاں ہیں۔” سب بچوں نے ایک ساتھ کہا پھر وہ واپسی کی تیاری کرنے لگے۔

    ٭…٭…٭

  • حقیقی دوستی ۔ الف نگر

    حقیقی دوستی ۔ الف نگر

    حقیقی دوستی

    ارم عبدالرزاق

    خرگوش جج نے ایسا فیصلہ سنایا کہ بکری حیران ہی رہ گئی۔ ایک سبق آموز کہانی۔

    پیارے بچو! کسی علاقے میں ایک ہرا بھرا جنگل تھا۔ جہاں تمام جانور اتفاق سے رہتے تھے۔ سب مل جل کر کھاتے پیتے اور کوئی جھگڑا نہ کرتے۔ جنگل کے جانوروں نے اپنے لیے ایک عدالت بھی قائم کررکھی تھی تاکہ اگر کسی کا کوئی جھگڑا ہو تو اس عدالت سے فیصلہ کروایا جاسکے۔ عدالت کا جج ایک بوڑھا خرگوش تھا۔

    خرگوش کافی سمجھ دار تھا۔ اُس نے جانوروں کے لیے جنگل میں گھاس کے الگ الگ حصے مقرر کررکھے تھے تاکہ ہر جانور اپنے حصے سے گھاس کھائے۔ اسی طرح گوشت کھانے والے جانوروں کے علاقے بھی تقسیم کردیے تھے۔

    اسی جنگل میں ایک بکری اور ایک ہرنی بھی رہتی تھیں۔ دونوں میں گہری دوستی تھی۔ ہرنی بہت شریف جب کہ بکری کچھ شرارتی تھی۔ وہ کبھی کبھار شرارت سے دوسرے جانوروں کا حصہ بھی ہڑپ کرجاتی۔ ہرنی اسے سمجھاتی مگر بکری باز نہ آتی۔

    ایک دن بکری نے بھینس کے حصے میں جاکر گھاس چرنا شروع کردی۔ بھینس نے دیکھا تو غصے سے آگ بگولہ ہوگئی: ”ارے بکری بی! یہ میرا علاقہ ہے یہاں تمہیں گھاس چرنے کی اجازت نہیں ہے۔” بھینس نے بکری کو گھورتے ہوئے کہا لیکن بکری پر اثر نہ ہوا۔

    ”اری بھینس بہن! بس تھوڑی دیر ہی تو کھاؤں گی۔” یہ کہہ کر بکری دوبارہ چرنے لگی۔ بھینس روتی پیٹتی خرگوش کی عدالت میں جاپہنچی۔

    ”حضور! مجھے انصاف دلائیں۔ بکری نے میرے حصے کی گھاس کھائی ہے۔” بھینس نے عدالت میں جاکر شکایت لگائی تو خرگوش نے کوئل کے ذریعے بکری کو طلب کرلیا۔ اب بکری سر جھکائے بوڑھے خرگوش کے سامنے کھڑی تھی۔ پھر کچھ دیر بعد اُس نے زبان کھولی: ”حضور! میں نے بھینس کے حصے کی گھاس نہیں کھائی۔” بکری کی بات پر سب جانور حیران رہ گئے۔ چناں چہ خرگوش نے گواہی کے لیے ہرنی کو طلب کرلیا۔ بکری خوش ہوگئی۔ اسے یقین تھا کہ ہرنی اس کی دوست ہے اس لیے وہ میرے ہی حق میں گواہی دے گی لیکن یہ اس کی خوش فہمی تھی۔

    ہرنی نے خرگوش جج کے سامنے بیان دیا: ”حضور! بکری نے بھینس کی گھاس کھائی ہے، میں نے خود دیکھا تھا۔” اپنی دوست ہرنی کے اس بیان پر بکری حیران رہ گئی۔ اُسے رہ رہ کر ہرنی پر غصہ آرہا تھا لیکن اب کیا ہوسکتا تھا۔ چناں چہ خرگوش نے بکری کو سزا سنائی کہ ایک ہفتے تک بکری والا گھاس کا حصہ بھی بھینس کے قبضے میں رہے گا اور بکری بھوکی رہے گی۔ یہ سنتے ہی بکری کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔

    بوڑھے خرگوش نے دو کتوں کو حکم دیا کہ باری باری وہ بکری کی نگرانی کریں تاکہ وہ اپنے اور بھینس والے حصے میں گھاس کھانے نہ جاسکے۔

    اِس فیصلے کے بعد بوجھل قدموں سے بکری عدالت سے باہر آئی۔ اسے شدید بھوک لگ رہی تھی مگر اب وہ کچھ کھا نہیں سکتی تھی۔ یوں ہی بھوک پیاس میں پورا ایک دن گزر گیا۔ غصے میں آکر بکری نے ہرنی سے دوستی بھی ختم کرلی تھی۔ جب دوسرے دن کا آغاز ہوا تو بھوک کی وجہ سے بکری سے چلا نہیں جارہا تھا۔ دوپہر تک اُس کی حالت بہت خراب ہوگئی۔ وہ بے ہوش ہونے کو تھی کہ دور سے اُسے ہرنی آتی دکھائی دی۔ غصے سے بکری نے ہرنی کو دیکھا لیکن ہرنی مسکرا رہی تھی۔

    ”پیاری بہن بکری! کیسی ہو؟” ہرنی نے قریب آکر کہا مگر بکری نے منہ دوسری طرف پھر لیا۔

    ”بکری بہن! تمہیں معلوم ہے کہ قصور تمہارا ہی تھا۔ میں تمہیں سمجھاتی رہی لیکن تم نے بات نہ مانی۔ اِس کا مطلب یہ نہیں کہ میں تمہاری دوست نہیں ہوں بلکہ میں تمہاری خیر خواہی چاہتی تھی کیوں کہ بِلاوجہ کسی کا حق مارنا ظلم ہے۔” ہرنی نے کہا لیکن بکری پھر بھی دوسری طرف منہ کیے خاموش رہی۔ ہرنی دوبارہ بولی: ”مجھے معلوم تھا کہ جھوٹی گواہی دینا اچھی بات نہیں۔ اِس لیے میں نے وہاں سچ بولا۔ پیاری بہن! میں تمہیں بھوکا نہیں دیکھنا چاہتی۔ یہ دیکھو! تمہارے لیے کیا لائی ہوں۔” یہ کہہ کر ہرنی نے گھاس والی گٹھڑی اس کی طرف اچھال دی پھر خود وہاں سے چلی گئی۔

    بکری بھوک سے نڈھال تھی۔ اُس نے تازہ اور ہری بھری گھاس دیکھی تو فوراً اِس پر ٹوٹ پڑی۔ گھاس چرتے ہوئے وہ سوچنے لگی کہ ہرنی بی نے ٹھیک ہی کہا ہے۔ قصور تو میرا اپنا تھا لیکن ہرنی نے اپنا حق ادا کیا پھر اپنے حصے سے میرے لیے چارہ بھی لائی۔ حقیقی دوستی تو یہی ہے۔ یہ سوچ کر بکری نے گھاس ختم کی اور معافی مانگنے ہرنی کی طرف چل پڑی۔

    ٭…٭…٭

  • چل میرے بادل! ۔ الف نگر

    چل میرے بادل! ۔ الف نگر

    الف لیلٰہ مقابلے میں دوسری انعام یافتہ کہانی

    چل میرے بادل!

    سارہ قیوم

    ایک تھا بادل، نرم نرم جیسے روئی کا کوئی گالا! اُس میں اتنا پانی بھرا ہواتھا کہ بے چارے سے چلا نہ جاتا تھا۔ وہ چپ چاپ آنکھیں موندے آسمان میں کھڑا تھا۔ ہوا اِس لہرا تے ہوئے بادل کے پاس سے گزری تو بادل کی چیخ نکل گئی۔

    ”اُف!!! مجھے نہ چھیڑو۔ مجھ میں اتنی بارش ہے کہ جسم درد کررہا ہے۔” بادل نے کراہ کر کہا۔

    ”ارے تم اپنی بارش کہیں برسا دو۔” ہوا کو بادل پر بڑا ترس آیا۔ 

    ”کیسے برسائوں؟ دیکھو نیچے سمندر ہے۔ میں یہاں بارش برسائوں گا تو سمندر غصے سے پھر میرے اندر ڈھیر سارا پانی بھر دے گا۔” بادل اُداس ہو کر بولا۔  آخر ہوا کو ایک ترکیب سوجھی۔ وہ بولی:

    بادل بھائی! ”میں تمہیں سہارا دے کر لیے چلتی ہوں جہاں بارش کی ضرورت ہوئی تم وہاں برسنا۔ ہمت ِ بادل، مددِ ہوا۔” ہوا نے بادل سے کہا۔ ”ارے نہیں بلکہ یوں کہو: ہمت مرداں، مددِ خدا۔” بادل نے کہا تو ہوا مسکرا دی۔ آخربادل نے ہوا کی بات مان لی اور دونوں آہستہ آہستہ چلنا شروع ہوئے۔ چلتے چلتے وہ ایک ہرے بھر ے میدان کے اُوپر جاپہنچے۔

    ”کیا یہاں برس جائوں؟” بادل نے ہانپتے ہوئے پوچھا۔

    ”یہاں نہیں ذرا نیچے تو دیکھو۔” ہوا بولی۔

    بادل نے نیچے نظر ڈالی تو دیکھا کہ میدان میں میلہ لگا ہوا ہے۔ لوگ رنگ برنگ کپڑے پہنے خوشی خوشی سیر سپاٹا کررہے ہیں۔ کھانے پینے کے اسٹال لگے ہوئے ہیں۔ کہیں کھیل تماشے ہو رہے ہیں تو کہیں کرتب دکھائے جا رہے ہیں۔ ایک طرف بچے جھولا جھول رہے ہیں۔

    ہوا نے کہا: ”اگر تم نے یہاں بارش برسا دی تو سارا میلہ برباد ہو جائے گا۔ لوگوں کی خوشیوں پر پانی پِھر جائے گا۔”

    ”اچھا! تو پھر چلو آگے چلیں۔” بادل نے ٹھنڈی سانس بھری۔ کچھ دیر بعد دونوں دوسرے شہر کے اوپر پہنچے۔ ”بس بھئی اب اور نہیں چلا جاتا۔ مجھے یہیں برس جانا چاہیے۔” بادل نے تھک کر کہا۔

    ”ذرا نیچے تو دیکھو۔” ہوا نے کہا۔ بادل نے دیکھا کہ ایک شہر ہے جہاں بہت سی سڑکیں اور عمارتیں بن رہی ہیں اور جگہ جگہ زمین کُھدی ہوئی ہے۔ بادل سوچ میں پڑ گیا۔ ”میں یہاں نہیں برسوں گا۔” ”ورنہ گڑھوں میں پانی بھر جائے گا اور کیچڑ سے لوگ پھسل کر گریں گے۔” اُس نے فیصلہ کیا۔

    ہوا یہ سُن کر بہت خوش ہوئی اور دوبارہ بادل کو سہارا دے کر آگے لے گئی۔ تھوڑی دیر بعد دونوں ایک گائوں کے اوپر پہنچے۔ بادل نے دیکھا کہ گاؤں میں کھیت سوکھے پڑے ہیں۔ ندی میں پانی ختم ہوچکا ہے۔ لوگ اور جانور پیاسے ہیں۔ جب بادل کا سایہ گائوں پر پڑا تو بچے، مرد اور عورتیں سب گھروںسے نکل آئے۔ وہ سب سر اُٹھا کر بادل کی طرف دیکھنے اور بارش کی دعائیں کرنے لگے۔

    ”آہا! یہاں میری ضرورت ہے۔” بادل خوش ہوا تو ہوا بھی مُسکرا کر بولی:

    ”چل میرے بادل… بسم اللہ!”

    ہوا کا اشارہ پاکر بادل نے پانی کا پہلا قطرہ ٹپکایا پھر دوسرا اور تیسرا… یوں دیکھتے ہی دیکھتے موسلا دھار بارش ہونے لگی۔ لوگ خوشی سے جُھومنے لگے۔ پودے بارش میں نہا گئے۔ ندی پانی سے بھر گئی۔ ہوا کے ٹھنڈے جھونکے چلنے لگے۔ درخت جھوم اُٹھے اور پتے تالیاں بجانے لگے۔ ہر طرف خوشیاں بکھر گئیں۔ بادل ہلکا پھلکا ہو کر اِدھر اُدھر اُڑتے ہوئے ہوا کے ساتھ کھیلنے لگا۔

    ”اب تم سمجھے میرے پیارے بادل! دنیا کی سب سے بڑی خوشی دوسروں کے کام آنے میں ہے۔” ہوا نے اُسے اچھالتے ہوئے کہا تو بادل نے بھی اثبات میں سر ہلا دیا۔

    ٭…٭…٭

  • عقل مند چڑیا ۔ الف نگر

    عقل مند چڑیا

    شبینہ گل

    پرندے یہاں آکر بسیرا کرنے لگے تو تم بھوکے مروگے۔ پڑھیے ایک خوب صورت کہانی!

    جامن کا وہ سرسبز درخت بہت گھنا اور اونچا تھا۔ اِس کی جڑ میں سفید خرگوش نے اپنا گھر بنا رکھا تھا۔درخت کے پہلے ہی تنے میںایک گلہری نے سوراخ کرکے رہنے کے لیے ایک کھوہ سی بنالی تھی۔ اِس سے اوپر ایک موٹی شاخ پر میاں مٹھو اور سب سے اوپر آخری شاخ پر کوے نے اپنا گھونسلہ بنا رکھا تھا۔ یہ چاروں دوست آپس میں مل جل کر رہتے اور دُکھ سُکھ میں ایک دوسرے کے کام آتے۔ وہ میٹھی جامنوں سے اپنا پیٹ بھرتے پھر کہیں گھومنے نکل جاتے اور شام گئے واپس آتے۔

    ایک دن وہ سب سیر کو جانے لگے تو اچانک کوے کی طبیعت خراب ہوگئی۔ شاید اُسے بخار تھا۔ اُس کی حالت دیکھ کر گلہری کہنے لگی :

    ”کوے بھائی! تم آج گھر پر ہی آرام کرو۔ ہم تمہارے لیے گرم سُوپ لے آئیں گے۔” یہ بات سن کر کوا اپنے گھونسلے میں چلا گیا جب کہ گلہری، خرگوش اور طوطا مل کر سیر کو نکل گئے۔

    کچھ دیر تو کوا گھونسلے میں آرام کرتا رہا جب ذرا دل گھبرایا تو درخت کی نچلی شاخوں پر آبیٹھا۔ اچانک اُس کی نگاہ زمین پر گئی جہاں ایک زخمی چڑیا کراہ رہی تھی۔ کوا اُسے دیکھ کرنیچے اتر آیا۔

    ”کہاں سے آئی ہو بی چڑیا ؟” کوے نے پوچھا تو زخمی چڑیا نے اپنا حال بتانا شروع کیا:

    ”بھائی کوے! کچھ شرارتی بچوں نے مجھے پتھر مار کر زخمی کردیا ہے۔ میں بہت تکلیف میں ہوں، یہ جامن کا درخت مجھے اچھالگا تومیں نے اب یہیں رہنے کا ارادہ کیا ہے۔” چڑیا کی بات سن کر کوا غصہ میں آگیا ۔

    ”نہیں چڑیا بی! یہاں تمہیں کوئی نہیں رہنے دے گا۔” کوا بے چاری چڑیا کو ڈانٹنے لگا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اگر چڑیا نے یہیں رہنے کا فیصلہ کرلیا تو جامن تیزی سے ختم ہوجائیں گے۔ چڑیا نے بہت منت کی لیکن کوے نے ایک نہ سنی بے چاری چڑیا مشکل سے خود کو گھسیٹ کر وہاں سے جانے لگی لیکن اگلے ہی قدم پر اوندھے منہ گرگئی۔اُس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔

    اچانک دور سے اُسے طوطا، گلہری اور خرگوش آتے دکھائی دیے۔ آج وہ وقت سے پہلے ہی لوٹ آئے تھے۔ انہوں نے زخمی چڑیا اور کوے کو دیکھا پھر ساری کہانی معلوم کرنے کے بعد تینوں نے کوے کو دیکھا۔ آخر طوطا بولا: ”کوے بھائی! یہ درخت تو ہمیں اللہ نے دیا ہے۔ ہم اس پر کسی کو گھر بنانے سے کیسے روک سکتے ہیں؟”

    کوا غصّے سے بولا: ”اگر دوسرے پرندے یہاں بسیرا کرنے لگے تو تم لوگ بھوکے مرو گے۔”

    ”رزق دینے والی اللہ کی ذات ہے۔” گلہری نے کہا تو خرگوش نے بھی اپنا فیصلہ سُنا دیا:

    ”آج سے چڑیا ہماری دوست ہے، جب تک یہ اُڑ نہیں سکتی، میرے گھر میں رہے گی۔ 

    کوے کو یہ بات پسند نہ آئی مگر وہ خاموش رہا۔ اِدھر طوطے، چڑیا اور خرگوش نے مل کر چڑیا کی مرہم پٹی کی تو اگلے دن تک چڑیا اچھی بھلی ہوگئی لیکن ابھی اُسے آرام کی ضرورت تھی۔

    ”بی چڑیا! ابھی تمہیں مزید سکون کی ضرورت ہے۔ تم اسی درخت پر آرام کرو، ہم تمہارے لیے کچھ کھانے کو لے آئیں گے۔” گلہری نے چڑیا سے کہا۔ اس کے بعد کوے سمیت وہ سب چڑیا کو درخت پر چھوڑ کر سیر کو نکل گئے۔ ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ درخت کی اوپر والی شاخ سے کوے کے بچوں کی چیخنے کی آواز آئی: ”کائیں، کائیں، کائیں” وہ مسلسل چیخ رہے تھے۔ چڑیا اُڑتی ہوئی بچوں کے پاس پہنچی تو حیران رہ گئی۔ گھونسلے کے قریب ایک کالا سانپ کوے کے بچوں گھور رہا تھا۔ چڑیا یہ دیکھ کر گھبرا گئی۔ وہ چاہتی تو اُڑ کر کہیں چلی جاتی اور اپنی جان بچا لیتی مگر کوے کے بچے بہت چھوٹے تھے۔ وہ ابھی اُڑنا بھی نہیں جانتے تھے اور چڑیا انہیں سانپ کا لقمہ بنتے نہیں دیکھ سکتی تھی۔

    آخر چڑیا کو ایک ترکیب سُوجھی۔ اُس نے کانٹوں بھری ایک ٹہنی اُٹھائی سانپ کی دُم پر چبھو دی۔ ایک دم سانپ تکلیف سے دہرا ہوگیا اور اپنا توازن برقرار نہ رکھتے ہوئے درخت سے نیچے جاگرا۔ چڑیا نے جلدی سے کوے کے بچوں کو درخت کی ٹہنیوں میں چھپا دیا۔

    اِدھر جب کوا، خرگوش، طوطا اور گلہری واپس آئے تو انہوں نے سہمی ہوئی چڑیا کو کوے کے گھونسلے کے پاس بیٹھے دیکھا۔ کوے نے اپنے بچوں کو کانٹے دار ٹہنیوں اور پتوں میں چھپا دیکھ کر شور مچا دیا۔ وہ چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا:

    ”دیکھ لیا چڑیا سے ہمدردی کا انجام؟ یہ میرے بچوں کی جان لینے کی کوشش کررہی تھی۔ اگر میں وقت پر نہ پہنچ جاتا تو آج میرے بچے مرچکے ہوتے۔”

    چڑیا بے چاری آنکھوں میں آنسو بھر لائی۔ طوطا اور گلہری بھی پریشان ہوگئے۔ اچانک کوے کے بچوں نے بولنا شروع کیا:

    ”چڑیا بی! چڑیا بی! آپ ہمیں چھوڑ کر مت جائیں۔ ہم آپ کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔” کوا یہ سن کر بہت حیران ہوا۔ تب بچوں نے تمام ماجرا سُنایا تو سب خوف زدہ ہوگئے۔ کوا تو بہت زیادہ شرمندہ ہوا اور چڑیا سے معافی مانگنے لگا۔ چڑیا بولی:

    ”کوے بھائی! اس وقت یہ سوچنا ضروری ہے کہ ہم سانپ سے خود کو کیسے بچا سکتے ہیں؟”

    ”ہم کمزور ہیں، بھلا اس کا مقابلہ کیسے کرسکتے ہیں؟” گلہری نے کہا۔

    ”ویسے بھی یہ درخت بہت اچھا ٹھکانہ ہے۔ معلوم نہیں پھر ایسا درخت ملے نہ ملے۔” خرگوش نے کہا تو کوے نے اُس کی تائید کی۔ چڑیا بالکل خاموش تھی۔ خرگوش نے پوچھا:

    ”چڑیا بہن! کیا تم ہمارے ساتھ نہیں جاؤ گی؟” یہ سُن کر کوا پرُجوش ہوکر بولا: ”ہاں نا! آج سے ہم سب دوست ہیں، سب مل کر رہیں گے۔”

    چڑیا بی کہنے لگی: ”میں یہ سوچ رہی تھی کہ اگر کوئی ہمارے گھر پر قبضہ کرے تو گھر چھوڑنے کے بجائے ہمیں دشمن کا مقابلہ کرنا چاہیے۔” سب حیران ہوکر چڑیا کی بات سُننے لگے۔ آخر گلہری بولی: ”بھلا ہم کیسے سانپ کا مقابلہ کرسکتے ہیں؟”

    چڑیا نے کہا: ”جب میں اکیلی اُسے مار کر بھگا سکتی ہوں تو ہم سب مل کر اُس کا مقابلہ کیوں نہیں کرسکتے؟” چڑیا کی بات وہ سب سانپ سے بچاؤ کی ترکیب سوچنے لگے۔ آخرکار چڑیا ہی کے ذہن میں ایک ترکیب آئی۔

    اگلے دن پانچوں دوست قریبی جھاڑیوں میں چھپ گئے۔ اُن کی توقع کے عین مطابق آج پھر سانپ درخت کی طرف آنکلا تھا۔ اُسے دیکھ کر سب کے دل تیزی سے دھڑکنے لگے۔ سانپ چوں کہ کافی لمبا تھا اس لیے ابھی وہ درخت کے نچلے تنے تک ہی پہنچا تھا کہ خرگوش نے ایک لمبی جست لگا کر اُس کی دُم پر کاٹ لیا۔ تکلیف کی شدت سے سانپ بلبلا اُٹھا اور دُم کو اِدھر اُدھر پٹختا ہوا تیزی سے اوپر چڑھنے لگا۔ اِسی وقت طوطا، چڑیا اور کوا آگے بڑھے اور سانپ کو اپنی تیز چونچوں سے ٹھونگنے لگے۔ تکلیف اور غصے سے سانپ کا منہ کھل گیا۔ یہ دیکھتے ہی گلہری نے اُس کے منہ میں باریک کانٹے دار ٹہنیاں گھسا دیں جو اُس کے حلق میں پھنس گئیں۔ جیسے ہی سانپ کوے کے گھونسلے کے قریب پہنچا تو اسی وقت کوے نے پتوں والی ٹہنیاں اس کی آنکھوں پر ڈال دیں۔

    سانپ اب اندھوں کی طرح اِدھر اُدھر ٹکریں مارنے لگا۔ وہ برُی طرح زخمی ہوچکا تھا۔ اِدھر طوطا، کوا اور چڑیا مسلسل اُسے ٹھونگیں مار رہے تھے۔ آخر کار وہ درخت سے نیچے گر گیا۔ یہ دیکھتے ہی خرگوش اور گلہری تیزی سے اُس پر حملہ آور ہوئے اور اُس وقت تک اپنی چونچوں سے اُسے ٹھونگیں مارتے رہے جب تک اُس کا دم نہ نکل گیا۔ سانپ کے مرنے کے بعد وہ سب بے یقینی کی کیفیت میں ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ جب انہیں یقین ہوگیا کہ وہ اپنے طاقت ور دشمن سے نجات حاصل کرچکے ہیں تو خوشی خوشی ایک دوسرے کو مبارک باد دینے لگے اور اللہ کا شکر ادا کرنے لگے۔ کوے نے چڑیا کو شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا:

    ”بہن چڑیا! میں غلطی پر تھا، آج تمہاری ذہانت، ہمت اور عقل مندی نے ہم سب کو بچا لیا۔”

    چڑیا مسکراتے ہوئے بولی: ”میں اکیلی تو شاید کچھ بھی نہیں کرسکتی، یہ ہم سب کے اتفاق اور اتحاد سے ممکن ہوا ہے۔” اِس کے بعد سب نے مل کر جامن کے درخت پر چڑیا کا گھر بنایا اور یوں پانچوں دوست مل جل کر رہنے لگے۔

    ٭…٭…٭

  • روشنی کا دِیا ۔ الف نگر

    روشنی کا دِیا ۔ الف نگر

    روشنی کا دِیا

    فوزیہ خلیل

    انہیں جھیل کے پاس روشنیاں دکھائی دیں تو وہ حیران رہ گئیں۔ وہ روشنیاں کیا تھیں؟ پڑھیے اس کہانی میں۔

    آج جماعت ہفتم کی طالبات مِس حریم کے ساتھ پِکنک منانے آئی ہوئی تھیں۔ یہ ایک تفریحی مقام تھا۔ موسم بھی بہت سُہانا تھا۔ ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ طالبات بہت خوش تھیں۔ شام سے پہلے سب کو واپس جانا تھا۔

    اچانک کالی گھٹا چھائی اور اندھیرا سا پھیل گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے پورا آسمان کالے بادلوں سے بھر گیا۔ اتنے میں لڑکیوں کو دُور جھیل کے پاس چھوٹی چھوٹی روشنیاں دِکھائی دِیں۔

    ”ارے وہ کیا؟” فارعہ نے حیرت سے پوچھا۔

    ”بیٹی! وہ جُگنو ہیں۔” مِس حریم نے جواب دیا۔

    ”مِس! کیا ہم اِنہیں پکڑ سکتے ہیں؟” مریم نے پوچھا۔

    ”جی بالکل! ہم انہیں پکڑ سکتے ہیں۔”

    ”مِس! اِن سے روشنی کیسے نکلتی ہے؟” آمنہ نے سوال کیا۔

    ”بیٹی! جُگنو سانس لینے کے نظام سے روشنی پیدا کرتے ہیں۔ جب وہ سانس لیتے ہیں تو سانس کی نالی کے ذریعے ہوا اُن کے اندر پائے جانے والے کیمیائی مادہ کو چُھوتی ہے۔ ہوا لگتے ہی یہ مادہ روشنی کی صُورت میں چمک اُٹھتا ہے۔” مس حریم نے بچوں کو بتایا۔

    ”مِس! جُگنو خوراک کیا کھاتے ہیں؟” مُسفرہ نے سوال کیا۔

    ”بیٹی! اُن کی خوراک گونگھوں اور چھوٹے کیڑوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ یہ اپنے شکار کو کھاتے نہیں بلکہ پی جاتے ہیں۔ اِن کے منہ پر انٹینا نما دو اعضا ہوتے ہیں جن کی مدد سے وہ شکار کے جسم میں ایک لیس دار مادہ داخل کرتے ہیں۔ یہ مادّہ فوراً کیڑے مکوڑوں کو مائع میں تبدیل کردیتا ہے اور وہ اس مائع کو پی لیتے ہیں۔” طالبات یہ سب باتیں سُن کر حیران ہورہی تھیں۔ کچھ طالبات تو جُگنو کو پکڑنے کی کوشش کررہی تھیں۔

    ”مِس! جُگنو انڈے دیتے ہیں نا!” ہاجرہ نے پوچھا۔

    ”ہاں بیٹی! یہ انڈے دیتے ہیں اور حیرت کی بات یہ ہے کہ تاریکی میں ان کے انڈے چمکتے بھی ہیں۔” مِس مریم نے ذرا توقف کیا اور بات دوبارہ شروع کی۔

    ”بچو! پرُانے زمانے میں لوگ راتوں کو سفر کے دوران جُگنو کی روشنی سے مدد لیتے تھے۔ کچھ لوگ بید کی ٹوکریوں میں بہت سے جُگنو بند کرلیتے اور دورانِ سفر اُنہیں ساتھ رکھتے تھے۔ کچھ لوگ سفر کے دوران اُن کو ننھے مُنّے چراغ کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ جب وہ کسی جنگل میں سفر کرتے تو جُگنوپکڑ کر دھاگے کی مدد سے اپنے ہاتھ یا پاؤں سے باندھ لیتے اور بہ آسانی سفر طے کرلیتے۔” مِس حریم نے تفصیل سے بتایا۔

    ”جی مس! ہمارے قومی شاعر علامہ اقبال نے بھی اپنی ایک نظم میں جگنو کی اس خصوصیت کا ذکر کیا ہے۔” رافعہ نے بتایا۔

    ”مِس! میں بھی جگنو کے متعلق کچھ بتانا چاہتی ہوں۔” سارہ نے اجازت لے کر بات شروع کی۔ ”مِس! میں نے سنا کہ لڑکیاں جُگنوؤں کو باندھ کر اپنے بالوں میں سجا لیتی ہیں۔ رات کے وقت یہ بالوں میں ہیروں کی طرح چمکتے ہیں۔”

    ”مس! میں نے کہیں پڑھا تھا کہ ایک عام جُگنو آدھے انچ سے زیادہ بڑا نہیں ہوتا لیکن جنوبی امریکا میں ایسے جُگنو بھی پائے جاتے ہیں جو دو انچ تک لمبے ہوتے ہیں۔” عافیہ نے بتایا۔

    ”جی مِس! میں نے بھی ایسے جُگنوؤں کے بارے میں پڑھا تھا۔ اِن دو انچ لمبے جُگنوؤں کے جسم سے بیک وقت سُرخ اور ہری روشنیاں نکلتی ہیں۔ سُرخ روشنی سر کی جانب سے اور ہری روشنی دُم کے نیچے سے پیدا ہوتی ہے۔” ارفعنے بتایا۔

    مس حریم بچیوں سے معلومات سن کر بہت خوش ہورہی تھیں۔

    ”مِس! جگنو دن کے وقت کہاں رہتے ہیں؟” اب کی بار عاتکہ نے سوال کیا۔

    ”بیٹی! یہ دن بھر چُھپے رہتے ہیں۔ عام طور پر پتوں، گیلی گھاس اور فصلوں میں… باغ اور سبزے میں بھی دکھائی دیتے ہیں۔ ویسے ان کو جھیلوں اور دریاؤں وغیرہ کے نزدیک رہنا زیادہ پسند ہے۔” مس حریم نے بتایا۔

    ”مِس! جُگنو کی ٹانگیں چھوٹی اور تعداد میں چھے ہوتی ہیں نا؟” رومیصا نے پوچھا۔

    ”اگر ایسا ہے تو پھر یہ درختوں پر بھی چڑھ جاتے ہوں گے۔” خدیجہ نے کہا۔

    ”بالکل رمیصا اور خدیجہ! اِن کی چھے ٹانگیں ہوتی ہیں اور یہ درختوں پر چڑھنے کی صلاحیت پر رکھتے ہیں لیکن یہ اُڑتے ہوئے اپنے لیس دار مادّہ کی مدد سے دیواریا درخت کی سطح پر چپک جاتے ہیں اور پھر آہستہ آہستہ اُوپر چڑھتے ہیں۔” مس حریم نے انہیں بتایا۔

    ”اللہ تعالیٰ کی قدرت دیکھیے۔ اُس نے کیسے کیسے جانور اور کیڑے مکوڑے پیدا کیے ہیں۔” ودیعہ بولی تو مس حریم مسکرا دیں۔

    اب بادل سرخ ہورہے تھے پھر اچانک بارش شروع ہوگئی تھی۔ اتنے میں انہیں بس آتی دکھائی دی۔ مس حریم کے حکم پر تمام طالبات بھاگ کر اُس میں سوار ہوگئیں۔ وہ سوچ رہی تھی آج کی پکنک بہت شان دار رہی۔

    ٭…٭…٭