Author: misbah116@hotmail.com

  • ترجیح – صبا سید– افسانچہ

    ترجیح – صبا سید– افسانچہ

    ترجیح

    صبا سید



    ”باجی! تھوڑی مدد کر دےں۔ بچے کو بکھار (بخار) ہے دوائی کے پیسے نہیں۔“

    ”جاﺅ بھئی معاف۔۔۔۔۔“ میرے جملے کے اختتام سے پہلے ہی سمیعہ نے جھٹ پچاس کا نوٹ اسے پکڑا دیا۔

    ”خواہ مخواہ پیسے دیے، ڈرامے ہیں ان کے صرف۔ میں یہاں ہر ہفتے آتی ہوں، اس کے بچے کو ہمیشہ بخار ہوتا ہے؟“ میں نے اسے بتایا۔

    ”اور تم تو سوشل ورک کرتی ہو، تم تو ان لوگوں کو بہتر جانتی ہوگی۔تم کیسے بے وقوف بن سکتی ہو ایسے لوگوں کے ہاتھوں؟“ مجھے حقیقتاً اس کی بے وقوفی پر حیرانی ہوئی تھی۔

    ”ہاں جانتی ہوں، مجھے معلوم ہے یہ سب ڈرامہ ہے۔۔۔“اس نے آہستہ سے کہا۔

    ”مگر میں بے حس ہونے سے زیادہ بے وقوف ہونے کو ترجیح دیتی ہوں۔“



  • تنہا چاند – حریم الیاس – افسانچہ

    تنہا چاند – حریم الیاس – افسانچہ

    تنہا چاند

    حریم الیاس



    >

    وہ "بہو مٹیریل” تھی ہی نہیں شاید….. نہ ہی کوئی ایسی حسین کہ کسی ماں کو اپنے جگرگوشے کے لیے پہلی نظرمیں پسند آتی اوربہنوں کی ہر دل عزیز بھابھی بن جاتی۔

    وہ واجبی سی شکل کی درمیانے قد کی والی فربہی مائل سفید پوش خاندان کی لڑکی تھی۔ رنگت بھی گندمی تھی لیکن اس جیسی سلیقہ شعار، ہونہار، سمجھ دار، ملنسار اور خوش اخلاق لڑکی خاندان بھر میں کوئی نہ تھی۔ اس نے ایم ایس سی کر رکھا تھا اور نگاہیں پی ایچ ڈی پر تھیں، لیکن گھر والے شادی پر بہ ضد تھے۔

    شادی ہو تو کیسے؟ اس کی ساری خوبیاں اس کی واجبی سی شکل اور صحت مند جسم کے پیچھے کہیں چھپ جاتی تھیں اور جو چیزیں ڈرائنگ روم میں بیٹھے مہمانوں کو درکار ہوتیں، وہ چائے کی ٹرے لاتی لڑکی میں مفقود ہوتیں….

    لمبا قد، سمارٹ جسم اور سفید رنگت مہمانوں کو درکار کوئی ایک چیز بھی نہ ہوتی وہاں….

    اس کی جو خوبیاں اس کے ساتھ رہ کر جانچی جا سکتی تھیں وہ ڈرائنگ روم میں چائے ناشتے کے ساتھ چند منٹوں کی ملاقات میں جانچنا مشکل تھا۔ اس لیے ہربار نتیجہ انکار ہی ہوتا…..

    "اوہو یار! تم دل پہ کیوں لیتی ہو؟” اس کا چچا زاد اکثر سمجھاتا جواس کا بہترین دوست بھی تھا۔

    "بس اب دکھ ہوتا ہے۔” وہ مایوسی سے کہتی۔

    "یقین مانو سارہ! میں نے جتنی بھی لڑکیاں آج تک دیکھی ہیں، تم ان میں سب سے بہترین ہو۔” وہ ہمیشہ اسے تسلی دیتا۔

    "اس اچھے ہونے کا فائدہ؟”

    "واقعی یار! میرے نزدیک تم پرفیکٹ لڑکی ہو، تمہارا شوہر بہت خوش نصیب ہوگا۔” وہ ہمیشہ اس کا حوصلہ بڑھاتا۔

    "تم بننا پسند کروگے وہ خوش نصیب؟؟” ایک دن انہی باتوں کے دوران اس نے اچانک سوال کردیا۔

    "میں…. میں کہاں اس قابل، تم مجھ سے کہیں زیادہ اچھا بندہ ڈیزرو کرتی ہو۔” اس اچانک سوال پر وہ گھبرا کر بولا۔

    ٭….٭….٭



  • سونے کی ڈَلی ۔ الف نگر

    سونے کی ڈَلی ۔ الف نگر

    سونے کی ڈَلی

    سیما صدیقی

    چور اُسے گھسیٹتے ہوئے جھاڑیوں میں لے گئے تھے۔

    بخشو ایک محنتی کسان تھا۔ اس کا ایک چھوٹا سا کھیت تھا، جس میں وہ کبھی سبزی اُگاتا تو کبھی اَناج۔ فصل تیار ہوجاتی تو شہر جا کر فروخت کر آتا۔ جو پیسے ملتے اِس سے مہینے کا راشن اور نئی فصل کے لیے بیج اور کھاد خرید لیتا۔ کبھی کبھی اس کی فصل بہت اچھی ہوتی تو اِسے زیادہ پیسے مِل جاتے۔ ان پیسوں سے وہ اپنے اور اپنی بیوی کے کپڑے یا جوتے خرید لیتا۔

    اس کا مکان کچا تھا، جس کی چھت میں بہت سارے سُوراخ ہوگئے تھے۔ نئی چھت بنوانے کے لیے ڈھیر سارے پیسوں کی ضرورت تھی۔ بخشو کی بیوی ”گلابو” بڑی عقل مند تھی۔ اس نے بخشو سے کہا: ”کیوں نہ ہم ایک بڑی سی گُلّک خرید لیں اور ہر ماہ اس میں تھوڑے تھوڑے پیسے ڈالتے رہیں، جب گلّک بھر جائے تو اِن پیسوں سے نئی چھت بنوا لیں۔”

    بیوی کے مشورے سے بخشو گُلّک خرید لایا اور دونوں نے اس میں پیسے جمع کرنے شروع کردیے، کافی دِن گزر گئے مگر ابھی تک گُلّک آدھی ہی تھی۔

    ایک دِن کسان بیج بونے کے لیے زمین کھود رہا تھا کہ اچانک اسے ایک چمک دار چیز نظر آئی۔ بخشو نے اِس پر سے مٹی صاف کی اور دیکھا تو وہ ”سونے کی ایک ڈَلی” تھی۔ خوشی کے مارے بخشو کا برُا حال ہوگیا۔ وہ بھاگا بھاگا گھر آیا اور بیوی کو سونے کی چَم چَم کرتی ڈلی دکھائی۔ گلابو بھی بہت خوش ہوئی۔ ”تمہیں اس سے سونے کی بالیاں بنوا کر دوں گا۔” بخشو نے کہا۔

    ”نہیں! اس سے ہم مکان کی چھت بنوائیں گے۔” گلابو نے کہا۔

    ”چھت بنوانے کے بعد بہت سارے پیسے بچ جائیں گے۔” بخشو نے وضاحت کی۔ اس رات خوشی کے مارے دونوں کو نیند نہ آئی۔

    شہر جانے کے لیے مہینے میں صرف ایک بس گاؤں سے چلتی تھی۔ اب بخشو کو انتظار تھا کہ کب بس روانہ ہو اور کب وہ شہر پہنچے۔ وہ سوچ رہا تھا کہ کاش اس کے پرَ لگ جاتے اور وہ اُڑ کر شہر پہنچ جاتا۔ اس دوران کسان نے نہ کھیتوں میں ہَل چلایا نہ بیج بویا۔ اس نے سوچا کہ اب تو میں اَمیر آدمی بن گیا ہوں۔ اتنی مصیبت اُٹھانے کی کیا ضرورت؟

    آخر کار بس روانہ ہونے کا دن آپہنچا۔ بخشو سفر کے لیے تیار ہوا۔ سونے کی ڈلی اس نے اپنی پگڑی میں چُھپائی اور بس میں سوار ہوگیا۔ جب وہ شہر پہنچا تو بارش شروع ہوگئی۔ بارش سے بچنے کے لیے وہ ایک درخت کے نیچے بیٹھ گیا۔ بارش کی وجہ سے سردی بڑھ گئی تھی۔ بخشو کی پگڑی بھی پانی سے بھیگ گئی۔ اس نے پگڑی اُتار کر نچوڑی پھر سونے کی ڈلی کو دیکھنے لگا۔ ڈلی خوب چمک دمک رہی تھی۔ اتفاق سے وہیں جھاڑیوں میں دو چور چُھپے تھے۔ اُنہوں نے بخشو کے ہاتھ سونے کی ڈلی دیکھی تو فوراً اس کی طرف لپکے۔ چوروں نے پیچھے سے جَھپٹ کر اسے پکڑ لیا اور گھسیٹتے ہوئے جھاڑیوں کے اندر لے گئے۔ کانٹوں سے اُلجھ کر بخشو کے کپڑے پھٹ گئے، اُس کے جسم سے خون بھی نکلنے لگا۔ چوروں نے بخشو کے ہاتھ پاؤں باندھے اور سونے کی ڈلی لے کر بھاگ گئے۔ بخشو بے چارا چیختا ہی رہ گیا۔

    اتفاق سے وہاں ایک نیک دِل آدمی کا گزر ہوا تو اس نے بخشو کورسی سے آزاد کیا۔ ہسپتال لے جا کر مرہم پٹی کرائی اور اپنی گاڑی میں بٹھا کر گاؤں پہنچا دیا۔ بخشو کی بیوی نے اس کی یہ حالت دیکھی تو رونے لگی، پھر اس نے خود کو سنبھالا اور صبر سے اس کی دیکھ بھال کرنے لگی۔

    بخشو کے زخم ٹھیک ہونے میں ایک ماہ لگ گئے۔ جب وہ ٹھیک ہوا تو گلابو نے بتایا کہ گھر میں کھانے پینے کا تمام سامان ختم ہوگیا ہے۔ 

    ”آہ! مجھ سے کتنی بڑی بھول ہوئی، میں نے اِس بار کوئی فصل نہیں اُگائی، اب کیا ہوگا؟ ہم کیا کھائیں گے؟” بخشو بے چارا افسردہ ہوگیا۔

    اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ دونوں میاں بیوی سَر پکڑ کر بیٹھے تھے کہ اچانک گلابو خوشی سے چلاّئی۔

    ”ارے! ہم اپنی گُلّک کو تو بھول ہی گئے۔ جس میں ہم نے تھوڑے تھوڑے کرکے بہت سے پیسے جمع کیے تھے۔” یہ کہہ کر وہ بھاگی اور گُلّک اُٹھا لائی اور اِسے توڑ دیا۔ بہت سارے تُڑے مُڑے نوٹ اور چمک دار سکّے فرش پر بکھر گئے۔

    گلابو نے کہا: ”ہم ان پیسوں سے مہینے کا خرچ چلا لیتے ہیں اور پھر جب تم فصل اُگاؤ گے تو ایک نئی گُلّک خرید کر چَھت کے لیے دوبارہ رقم جمع کریں گے۔” یہ سُن کر بخشو کی جان میں جان آئی۔ اس نے اللہ کا شکر اَدا کیا کہ گُلّک جیسی کام کی چیز ان کے پاس موجود تھی۔ جس میں جمع کی ہوئی رقم برُے وقت میں ان کے کام آرہی تھی۔ بخشو نے اپنی بیوی کو دیکھا اور ہنس کو بولا: ”بھئی واہ! یہ مَٹی کی گُلّک تو سونے کی ڈَلی سے زیادہ کام کی ہے۔”

    ”ہاں بالکل! آئندہ بھی ہم لالچ کے بجائے محنت ہی سے کمائیں گے۔” گلابو یہ کہہ کر پیسے گننے لگی۔

    ٭…٭…٭

  • سوچ کا رخ ۔ الف نگر

    سوچ کا رخ ۔ الف نگر

    سوچ کا رخ

    بینا رانی

    وہ گھٹنوں میں سر دیے مسلسل رو رہی تھی۔ آخر ایسا کیا ہوا تھا؟

    ”ارے میرا پرس… رکو! کون ہو تم؟ اس میں میرے ضروری کاغذات ہیں، ارے کوئی ہے؟” بوکھلائی، ہوئی عاتکہ اس اچکّے کے پیچھے بھاگ رہی تھی۔ اس کے لیے یہ پرس بہت قیمتی تھا۔ اس کی بی ایس سی کی سند اور باقی ضروری کاغذات سب اسی میں تھے۔ آگے داخلے کے سلسلے میں ہی وہ آج اپنی سہیلیوں کے ساتھ یونیورسٹی گئی تھی، مگر آج کام نہیں ہوسکا تھا ، سو وہ سب مل کر واپس آرہی تھیں۔ ابھی آدھے راستے میں ہی تھیں کہ ایک موٹر سائیکل سوار نقاب پوش نے اُس کے کاندھے سے پرس کھینچا اور موٹر سائیکل کی رفتار بڑھا دی۔

    عاتکہ اور اس کی سہیلیاں اس اچانک افتاد سے گھبرا گئیں۔ اس پرس میں عاتکہ کے پیسے بھی تھے جو اس نے بڑی محنت سے کتنی خواہشات کا گلا گھونٹ کر آگے پڑھنے کے لیے جمع کیے تھے، مگر اس وقت اس کے نزدیک اپنی سندوں سے زیادہ اہم کوئی چیز نہ تھی۔ وہ پاگلوں کی طرح اس موٹر سائیکل سوار کے پیچھے بھاگ رہی تھی۔

    ”بھائی! تمہیں اللہ کا واسطہ… بھلے سب کچھ لے لو مگر میرے ضروری کاغذات دے جاؤ۔” وہ بھاگتے بھاگتے چلّا رہی تھی۔ اسے دیکھ کر کچھ اور لوگوں نے بھی اس موٹر سائیکل کا پیچھا کرنا چاہا، مگر وہ تو لمحوں میں نظروں سے اوجھل ہوگیا تھا۔ کوئی کچھ نہ کرسکا اور عاتکہ سڑک پر ہی گھٹنوں میں سردے کر بیٹھ گئی، آنسو تھے کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ اس کی سہیلیوں نے اسے حوصلہ دے کر گھر بھجوا دیا۔

    ایک محفوظ مقام پر پہنچ کر موٹر سائیکل سوار نقاب پوش نے پرس میں سے پیسے نکال کر گننا شروع کردیے۔ اب وہ بڑے کمرے میں داخل ہوا جہاں زکو ان ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا۔

    ”باس! یہ لے، آج تو بڑا ہاتھ مارا ہے۔”

    ”ارے واہ! تُو واقعی چیتا ہے اپنا! یہ لے کچھ پیسے تو بھی رکھ لے۔” زکوان نے کچھ پیسے نکال کر راشی کو دیے۔

    ”باس! ان ڈگریوں کا کیا کروں؟” راشی نے پوچھا

    ”ڈگریاں؟ ہاہاہا… پھینک دے کہیں… ہمارے کس کام کی ہیں۔” زکوان نے بے پروائی سے کہا تو راشی نے واقعی ڈگریاں قریبی نہر میں پھینک دیں پھر وہ دونوں اپنے اپنے گھر کو چل دیے۔

    زکوان کا تعلق متوسط طبقے سے تھا، گھر میں کافی حد تک دینی ماحول تھا مگر برُے دوستوں کی صحبت سے اسے غلط کاموں کی لت پڑ چکی تھی۔ ماں باپ سمجھا سمجھا کر تھک گئے مگر اس کے کان پر جوں تک نہ رینگتی۔ البتہ اپنی لاڈلی بہن اسے جان سے زیادہ عزیز تھی۔ بس کوئی بات مانتا تو اسی کی مانتا اور کوئی اس سے کچھ نہیں منوا سکتا تھا۔

    سارا دن دوستوں کے ساتھ موج مستی کے بعد وہ شام کو گھر میں داخل ہوا تو گھر میں اک کہرام مچا ہوا تھا۔ اس کی بہن کا رو رو کر برُا حال ہوچکا تھا۔ یہ دیکھ کر وہ حیران رہ گیا۔

    ”ارے! کیا ہوا میری بہن کو؟” بہن کی لال سرخ آنکھیں دیکھ کر زکوان کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔ وہ ایک دم پریشان ہوگیا تھا۔

    ”بھیا… بھیا… وہ… وہ…” یہ کہتے ہوئے اس کی بہن اپنے بھائی کے کندھے پرسر رکھ کر رونے لگی۔

    ”ہاں ہاں بتا کیا ہوا؟ کیا چاہیے میری بہنا کو؟” زکوان کی پریشانی بڑھنے لگی۔ ”بھیا! آج یونیورسٹی سے واپسی پر کوئی اچکا میرا پرس چھین کر لے گیا، میرے سارے پیسے اسی میں تھے، میری سندیں اور باقی ضروری کاغذات بھی…” عاتکہ ہچکیاں لے کر بتارہی تھی۔ زکوان کے پیروں تلے سے جیسے زمین نکل گئی ہو۔ اس کا جسم لرزنے لگا۔ اس کے دل میں جیسے تیر لگا تھا۔

    ”بھیا! ایسے لوگوں کو شرم کیوں نہیں آتی؟ وہ کیوں نہیں سوچتے کہ اگر ان کے اپنوں کے ساتھ یا خود ان کے ساتھ کوئی ایسا کرے تو انہیں کیسا لگے گا؟” زکوان ایک دم صوفے پر گرگیا۔ اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھام لیا۔ اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ عاتکہ کو آگے پڑھنے کا کتنا شوق ہے، اور یہ بھی جانتا تھا کہ اس نے یہ پیسے کتنی مشکل سے جمع کیے تھے، جو آج وہ جوئے میں ہار آیا تھا، اور… اور بہن کی قیمتی سندیں… ”اف… یہ میں نے کیا کردیا؟” اس کا سر پھٹنے لگا۔ بہن کی سسکیاں اس کو سانپ کی طرح ڈس رہی تھیں۔ اس سے پہلے اس نے کبھی ایسا نہیں سوچا تھا۔ ضمیر جاگا تو سوچ کا رخ تبدیل ہونے لگا۔ اس کے دماغ میں اپنے سارے گناہوں کی فلم چلنے لگی۔ کتنے لوگوں کو میرے ہاتھ سے تکلیفیں پہنچی ہوں گی؟ وہ سوچنے لگا تھا۔ بس ایک لمحہ ہوتا ہے آگہی کا۔ آج کی رات اس نے رب کے حضور گڑگڑا کے معافی مانگی ،آئندہ کے لیے توبہ کی اور اپنی غلطیوں کے ازالے کا عزم بھی۔

    ٭…٭…٭

  • موہن داس ۔ الف نگر

    موہن داس

    خالد محی الدین 

    جھاڑیوں سے ہاتھ آنے والی گول چیز دیکھتے ہی اُس کی چیخ نکل گئی۔ وہ کون تھا؟ اور وہ چیز کیا تھی؟ پڑھیے اس خوب صورت کہانی میں!

    جب اُسے ہوش آیا تو ہر طرف اندھیرے کا راج تھا۔ تھوڑی ہی دیر میں آنکھیں اندھیرے سے مانوس ہوئیں تو اُسے اپنے ساتھیوںکی یاد آئی اور وہ دائیں بائیں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے لگا۔ وہاں کوئی ہوتا تو دکھائی دیتا۔ پانی کی بوتل اور فوجیوں کا مخصوص راشن جو جنگ کے دنوں میں ہر فوجی کے پاس ہوتا ہے یہ نعمتیں وہ کھو چکا تھا، اس کے بائیں کندھے پر خون اور دھول جمی ہوئی تھی اور زخم ٹھنڈا ہونے سے ٹیسیں اُٹھ رہی تھیں۔ اندھیرے کی وجہ سے اِس علاقے کی پہچان کرنا ممکن نہیں تھا۔ 

    یہ 9 ستمبر 1965ء کی سہ پہر تھی۔ ہر طرف دھول ہی دھول جیسے خاک کا طوفان اُمڈ آیا ہو۔ خاکی وردیوں میں ملبوس کوئی فوجی دکھائی نہیں دے رہا تھا کیوں کہ خاک اور وردیوں کا رنگ ایک جیسا تھا۔ ایسے میں توپ کا گولا قریبی پہاڑی پر گرا، کئی فوجی اس کی زد میں آگئے۔ خوف کا یہ عالم تھا کہ شدید زخمی ہونے کے باوجود سبھی نے لب سی لیے تھے تاکہ آواز نکلنے کی صورت میں وہ پکڑے نہ جائیں۔ رفتہ رفتہ اندھیرا چھانے لگا۔ وہ مٹی پر پڑا کراہ رہا تھا۔ پھر کچھ ہی دیر بعد وہ ہوش و حواس سے بیگانہ ہوگیا۔

    جب اس کی آنکھ کھلی تو ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔ اس کے زخموں سے ابھی بھی خون رس رہا تھا۔ گرتے پڑتے وہ اندھیرے میں ٹٹولتا ہوا بھگوان کا نام لے کر ایک جانب چل پڑا۔ چھوٹی چھوٹی جھاڑیوں سے ٹکراتا’ گرتا پڑتا وہ بہت دیر چلتا رہا۔ بھوک زوروں پر تھی اور وہ جلد از جلد کسی آبادی والے علاقے میں پہنچنا چاہتا تھا تاکہ کھانے کو بھوجن مل سکے۔ وہ جھاڑیوں کو ٹٹولتا جارہا تھا کہ اُس کے ہاتھ ایک نرم اور گول چیز پر جا پڑے۔ اُس نے جیسے ہی اُسے اُٹھایا تو وہ ایک موٹا تازہ سانپ تھا۔ ایک خوف ناک چیخ مار کر اس نے سانپ کو وہیں پٹخا اور لنگڑاتے ہوئے ایک طرف دوڑ لگا دی۔ خوش قسمتی سے وہ آبادی والے علاقے میں پہنچ گیا۔ قریب ہی ایک مکان کے کواڑ کھلے تھے۔ وہ اندر چلا گیا۔

    صحن میں جانوروں کی کھرلی پڑی تھی’ لیکن بالکل ویران۔ نہ گائے نہ بکری۔ ساتھ والے کمرے میں گیا تو کہیں سے آواز نہ آئی۔ نہ کسی نے ہاتھ جوڑ کر پرنام کیا۔ ٹوٹی ہوئی چارپائی، بکھرے ہوئے کپڑے، لڑھکی ہوئی ہنڈیا اور پھوٹے ہوئے گھڑوں نے اُس کا استقبال کیا۔ دیواروں پر اندھا دھند فائرنگ کے نشان تھے۔ یہ دیکھ کر اُسے مایوسی ہوئی اور وہ اس کھنڈر سے نکل آیا۔ ہر سو ویرانی دل پر ہول طاری کر رہی تھی۔ 

    اچانک اُس کی آنکھوں میں چمک پیدا ہوئی۔ سامنے ہی ایک مکان میں لالٹین روشن تھی۔ یہ دیکھ کر اُس میں توانائی لوٹ آئی اور وہ تیز تیز قدم اُٹھاتا دروازے تک پہنچا اور بے دھڑک کھٹکھٹانے لگا۔

    دن بھر کا تھکا ہارا مومن خان چھت پر خوابِ خرگوش کے مزے لے رہا تھا اور اُس کی ماں ماسی برکتے جو اپنے پوتے کو سلا کر خود بھی سونے لگی تھی یہ سوچتے ہوئے دروازے کی طرف آئی کہ اس وقت کون ہو سکتا ہے؟

    جیسے ہی اُس نے دروازہ کھولا، سامنے ایک زخمی فوجی کو کھڑے دیکھ کر ٹھٹک گئی۔ حیران ہوتے ہوئے ماسی نے جلدی سے دروازے کے دونوں پٹ کھول دیے اور وہ لڑکھڑاتا ہوا اندر آتے ہی گرپڑا۔ امّاں برکتے نے جلدی سے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ درد سے کراہ اُٹھا۔

    ”ہائے میں صدقے…” اُس نے زخمی فوجی کی بلائیں لیں اور اُسے فوراً اندر لے جاکر بستر پر لٹا دیا۔ پھر لالٹین لے کر جلدی سے باورچی خانے میں چلی گئی۔ اتنے میں ماسی کا بیٹا مومن خان بھی اُٹھ گیا۔

    ”اماں! کون ہے؟ تُو کس سے باتیں کررہی ہے؟” چھت سے اترتے ہی مومن خان نے پوچھا۔

    ”پتر! کوئی شیر جوان ہے اپنی فوج کا۔” ماسی برکتے ایک ہاتھ میں ہلدی والے دودھ کا پیالہ لیے باورچی خانے سے نکلی۔ مدھم روشنی میں اُسے فوجی کے روپ میں اپنا بیٹا دکھائی دے رہا تھا۔ وہ اپنے بیٹے کا تصور کرکے اس کی تیمار داری کرنے لگی۔ وہ چپ سادھے ماسی سے اپنی خدمت کروا رہا تھااور دل ہی دل میں اس کے سلوک سے متاثر ہورہا تھا۔ پھر اسی حالت میں سوچوں کے سمندر میں کھو گیا۔ وہ اس وقت چونکا جب ماسی برکتے کی آواز اُس کی سماعت سے ٹکرائی: ”میرا شوہر بھی فوج میں تھا۔” یہ کہتے ہوئے ماسی اُسے اپنے ہاتھوں سے دودھ پلانے لگی۔

    اُس نے پیالہ پکڑ لیا اور ماسی برکتے شوہر کے ساتھ بیتے لمحے یاد کر کے افسردہ ہو گئی۔ آواز رندھ گئی اور نحیف آواز میں کپکپاہٹ بڑھ گئی۔ ماسی برکتے بتانے لگی: ”شہادت کی تمنا اُس کے دل میں رچی بسی تھی۔ وہ اکثر اس بات کا  اظہار کرتا تھا۔ اب تم یہی دیکھ لو بزدل دشمن نے چپکے سے پاکستان پر حملہ کردیا۔ نہتے اورمعصوم لوگوں پر گولہ باری کردی۔ ہم مسلمان تو دشمن کو للکار کر وار کرتے ہیں اور شہادت کی تمنا کرتے ہیں۔” ماسی برکتے کی بات سنتے ہی وہ چونک اٹھا:

    ”اوہ! میں… میں کہاں ہوں؟” حیرانی و پریشانی کی ایک لہر اس کے چہرے کو زرد کر گئی۔ ماسی برکتے کا بیٹا مومن خان اب پاس کھڑا ہمدردی سے اُسے دیکھ رہا تھا۔

    ”کک… کیا… میں پاکستانی علاقے میں… غلطی سے…” یہ بات سوچتے ہوئے زخمی فوجی موہن داس کو جھرجھری آگئی۔ دل ہی دل میں وہ خوف زدہ ہوگیا پھر سونے کی ناکام کوشش کرنے لگا۔

    رات خاصی بیت چکی تھی۔ ماسی لالٹین اُس کے چہرے کے قریب لائی جیسے یہ دیکھنا چاہتی ہو کہ اب وہ کس حال میں ہے۔ یہ دیکھ کر ماسی کو اطمینان ہوا کہ وہ سوچکا تھا۔ مومن خان چھت پر چلا گیا اور ماسی برکتے اپنے کمرے میں لالٹین کی لو دھیمی کرکے سونے لگی۔ گہری خاموشی میں جھینگروں کی آواز لوری کا کام دے رہی تھی۔ وہ کب نیند کی آغوش میں گئی، اسے پتا ہی نہ چلا۔

    اچانک کھڑاک کی آواز سن کر ماسی ہڑ بڑا کر اُٹھ بیٹھی اور ڈنڈا تھامے لالٹین لیے صحن میں آئی تو ایک سایہ باہر کے دروازے کی جانب بڑھ رہا تھا۔ ماسی نے چور اُچکا سمجھ کر للکارتے ہوئے ڈنڈا ہوا میں لہرایا تو وہ سایہ دیوار کے ساتھ دبک کر بیٹھ گیا۔ ماسی نے لالٹین کی روشنی اس کے چہرے پر ڈالی تو حیران رہ گئیں۔

    ”تم…؟ تم یہاں کیسے؟”انہوں نے حیرانی سے پوچھا۔

    ”وہ… وہ میرے زخموں کی وجہ سے بہت درد ہورہا تھا۔ میں پانی پینے اُٹھا تھا۔” موہن داس نے گھبراتے ہوئے جھوٹ بولا۔

    دراصل وہ بھارتی فوج میں حوالدار تھا۔ جنگ کے دوران سرحد کے قریب پاک فوج کی بمباری سے زخمی ہوا۔ پھر جنگل سے گرتا پڑتا اندھیرے میں غلطی سے پاکستانی سرحد میں گھس آیا تھا۔ لیکن رات کو باتوں ہی باتوں میں مومن خان اور اس کی ماں سے مل کر اسے حقیقت پتا چلی تھی کہ وہ پاکستانی علاقے میں ہے۔ اب وہ جلد یہاں سے نکل جانا چاہتا تھا تاکہ حقیقت پتا چلنے پر یہ لوگ اُسے مارنہ دیں۔

    لیکن چوری چھپے فرار ہوتے ہوئے امّاں نے اسے دیکھ لیا تھا۔ کچھ لمحوں بعد چھت سے مومن خان بھی اتر آیا۔ ماسی برکتے کے دل میں نہ جانے کیا آئی کہ اُس سے نام پوچھ لیا۔

    موہن داس کی ٹال مٹول اور گھبرائے لہجے کو دیکھ کر ماسی کے بیٹے مومن خان کو کچھ شک گزرا۔ اس نے آگے بڑھ کر موہن داس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو ایک دم حیران رہ گیا کیوں کہ موہن داس کی فوجی وردی پر بھارت کا جھنڈا بنا ہوا تھا۔

    ”اوہ! یہ کیسے ہوسکتا ہے۔” مومن خان کے منہ سے نکلا مگر جلد ہی اس نے خود پر قابو پایا اور موہن داس کو شک نہ ہونے دیا کہ اسے حقیقت پتا چل چکی ہے۔

    ابھی وہ اندھیرے میں کھڑے ایک دوسرے کو دیکھ ہی رہے تھے کہ اچانک موہن داس نے ماسی کے ہاتھ میں پکڑا ڈنڈا چھین کر مومن خان پر حملہ کردیا۔ اس سے پہلے کہ ڈنڈا مومن خان کے سر میں لگتا۔ وہ جلدی سے ایک طرف ہوگیا اور پُھرتی سے اس نے موہن داس کو قابو کرلیا۔

    ”نام بتاؤ اپنا…” مومن خان نے غضب ناک ہوتے ہوئے پوچھا۔

    ”مم… موہن داس…” اس نے مرے ہوئے لہجے میں جواب دیا ساتھ ہی زخم سے اٹھنے والے درد سے کراہنے لگا۔ یہ دیکھ کر مومن خان نے اپنی گرفت ڈھیلی کردی۔

    ”چھوڑ دے اسے پُتر… زخمی ہے۔” اماں برکتے نے کہا تو مومن خان سے اسے چھوڑ دیا۔ موہن داس کا سر جھک گیا تھا۔

    ”آپ مجھے جان سے مار کر اپنا بدلہ لے سکتے ہیں۔” وہ بے بسی کے ساتھ بجھے ہوئے لہجے میں بولا۔

    ”نہیں، ہم نہتے پر وار نہیں کرتے۔” مومن خان نے سرد لہجے میں کہا۔

    موہن داس پر کپکپی اب بھی طاری تھی۔ وہ دل ہی دل میں سوچ رہا تھا یہ کیسے لوگ ہیں جو گھر آئے دشمن کو ناصرف زندہ سلامت چھوڑ رہے ہیں بلکہ اس کی خدمت بھی کررہے ہیں۔

    سوچوں میں گم موہن داس شرمندگی سے زمین میں گڑھا جارہا تھا۔ ایسے میں مومن خان کی آواز گونجی۔

    ”موہن داس! جاؤ اب تم آزاد ہو۔” اس سے پہلے کہ موہن داس قدم اُٹھاتا، پیچھے سے ماسی برکتے نے آواز دی۔

    ”رُکو! صبح ہونے والی ہے۔ میں ابھی آتی ہوں۔” یہ کہہ کر ماسی برکتے باورچی خانے میں گئی پھر جلد ہی لوٹ آئی۔ اس کے ہاتھ میں ایک ٹفن تھا جس میں سالن اور کچھ روٹیاں تھیں۔

    ”لو! یہ ساتھ رکھ لو، بھوک لگے تو کھا لینا۔” ماسی نے ٹفن اس کی طرف بڑھایا۔ تشکر آمیز نگاہوں سے اس نے ماسی کے ہاتھ سے وہ ٹفن لیا اور سرجھکاتے ہوئے ایک طرف چل پڑا۔ لنگڑاتے ہوئے اس نے ماسی برکتے کی دہلیز پار کی پھر رک کر پیچھے دیکھا جہاں ماسی برکتے اور مومن خان اسے واپس جاتا دیکھ رہے تھے۔ نمناک آنکھوں سے موہن داس نے ہاتھ اُٹھا کر انہیں سلیوٹ کیا پھر ایک زرد دار نعرہ بلند کیا: پاکستان زندہ۔

    ٭…٭…٭

  • پاکستان ہمارا ہے ۔ الف نگر

    پاکستان ہمارا ہے

    عثمان طفیل

    رات کے اندھیرے میں اس کا گھر سے نکلنا خطرے سے خالی نہ تھا۔

    ”بتول…! اٹھو بتول…! آدھی رات بیت چکی ہے۔ سب تمہارا انتظار کر رہے ہوں گے۔” جاوید نے بستر پر سوئی بتول کو جھنجھوڑا۔ وہ جلدی سے اپنا دوپٹا ٹھیک کرتے ہوئے اُٹھ بیٹھی۔ پھر وہ دونوں دبے پائوں دروازے کی طرف بڑھے۔

    انہیںیہ تو فکر تھی کہ بچے نہ جاگ جائیں مگر اس سے زیادہ ڈر اس بات کا تھا کہ کوئی پہرے دار انہیں گھر سے نکلتے نہ دیکھ لے۔ جاوید نے آہستہ سے دروازہ کھولا تو ہوا کا ایک سرد جھونکا ان سے ٹکرایا۔ بتول نے چپکے سے سرباہر نکالا اور خالی گلی دیکھ کر دوڑتی ہوئی کونے والے گھر کے سامنے پہنچ گئی۔ پہرے دار کسی بھی وقت آسکتے تھے۔ 

    اس نے دروازہ دھکیلا تو وہ کھلتا چلا گیا۔ جاوید نے بتول کو اندر جاتے دیکھا تو واپس اپنے کمرے میں آگیا۔ دوسری طرف بتول کو لینے کے لیے دو لڑکیاں دروازے کے پاس ہی موجود تھیں۔ انہوں نے دروازہ بند کر کے اندر سے تالا لگا دیا۔ پھر وہ بتول کو لیے گھر کے اندرونی حصے کی طرف بڑھ گئی۔ پورے گھر میں خاموشی کا راج تھا۔

    ایک کمرے میں پہنچ کر ان کے قدم رک گئے۔ فرش پر قالین بچھاہوا تھا۔ ایک لڑکی نے آگے بڑھ کر قالین ہٹایا تو وہاں ایک دروازے کے آثار نظر آئے۔

    دیکھنے میںبالکل بھی اندازہ نہیںہوتا تھا کہ یہاںکوئی دروازہ ہے مگر قالین ہٹانے سے تہ خانے کا راستہ نظر آنے لگا۔ کچھ ہی دیر بعد وہ سب تہ خانے میںموجود تھیں۔ اوپر والے حصے میں گھر کے دو مرد ہی تھے جنہوں نے تمام کمروں کے دروازے اور کھڑکیاں بند کر رکھی تھیں جب کہ دروازوں کے آگے بھاری پردے لگا دیے تھے۔ پوری کوشش کی گئی تھی کہ اس گھر سے کسی بھی قسم کی آواز باہر نہ جا سکے۔ تہ خانے میں محلے بھر سے کوئی درجن بھر خواتین جمع تھیں۔

    بتول کے پہنچتے ہی سب نے خوشی کا اظہار کیا اور پھر اپنے اپنے کام میں جُت گئیں۔

    ان کے سامنے کپڑے کے کئی تھان تھے جو چند نوجوانوں نے اپنی جان پر کھیل کر یہاں پہنچائے تھے گو کہ کچھ روز قبل ہی فوج نے یہ سارا علاقہ چھان مارا تھا۔ ہر گھر کی تلاشی لی گئی بلکہ تلاشی کیا ہر چیز ادھیڑ کر رکھ دی تھی مگر ان کے ہاتھ یہ تھان نہ لگ سکے۔ اگر انہیں ذرا سی بھنک پڑ جاتی کہ یہ تھان اس گھر کے خفیہ تہ خانے میں ہیں تو وہ سارا فرش اکھیڑ دیتے۔

    دو رنگی کپڑے کے یہ تھان انہیں زہر لگتے تھے۔ بہر حال کپڑے کے یہ تھان فوج کو ملنے تھے نہ ملے۔ اس وقت کئی خواتین بتول کی دی گئی پیمائش کے مطابق کپڑا کاٹ رہی تھیں۔ ان کے پاس صرف دوسلائی مشینیں تھیں۔

    فوجیوں کا بس چلتا تو اگست کے آنے سے ایک ماہ قبل ہی ہر گھر سے سلائی مشین اٹھا لیتے لیکن وہ ایسا نہ کر سکے۔ وقت گزرتا گیا۔ بتول اور اس کی ایک سہیلی مسلسل سلائی مشین چلاتی رہیں۔ فجر کی اذان ہوتے ہی ساری خواتین ایک ایک کرکے چپکے سے واپس گھروں کو جانے لگیں۔ جس طرح ان کا آنا بہت بڑا خطرہ تھا اس طرح واپس جانا بھی خطرے سے خالی نہ تھا۔

     اگر کوئی ایک لڑکی اور اس کے پاس موجود دورنگی کپڑا پکڑا جاتا تو پورا علاقہ فوجیوں کے عتاب کا شکار ہوجاتا۔ بہرحال اللہ نے ہر سال کی طرح اِس بار بھی ان کی حفاظت کی اور سب سے آخر میں بتول بھی اپنے گھر پہنچ گئی۔ 11 اگست کا سورج طلوع ہونے میں کچھ وقت باقی تھا اور ابھی مزید دو راتیں بتول نے اسی طرح گزارنی تھیں۔

    کشمیر کی بیٹی بتول کو علم تھا کہ اگر وہ پکڑی گئی تو فوجی اس کے ساتھ کیا سلوک کریں گے مگر اپنے وطن کے لیے اسے اپنا آپ بہت چھوٹا محسوس ہوا ہوتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ اگلی دو راتیں بھی چھپتے چھپاتے گلی کے کونے والے گھر گئی اور فجر سے پہلے واپس آگئی۔ اب اگلی رات مردوں کے لیے آزمائش لیے ہوئے تھی۔ بتول اور باقی کئی خواتین اپنا فرض ادا کر چکی تھیں۔

    13 اور 14 اگست کی درمیانی شب مردوں کی مختلف ٹولیاں بن گئیں۔ یہ سب پہلے سے طے شدہ تھا۔ انہوں نے انتہائی خاموشی سے اپنا کام کیا اور واپس گھروں کو آگئے۔ کئی جگہ فوجیوں سے ٹکرائو ہوتے ہوتے بچا۔

    14اگست کا سورج طلوع ہوا تو قابض فوج سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔ ان کی ہزار کوششوں کے باوجود سارے کشمیر میںسبز ہلالی پرچم لہرا رہے تھے۔ کچھ بہادر جیالوں نے تو سرکاری عمارتوں پر بھی یہ پرچم لہرا دیا تھا۔ مختلف علاقوں سے کشمیری باشندے گروہوں کی شکل میںمرکزی چوراہوں کی طرف بڑھنے لگے۔ ان کے ہاتھوں میں پاکستانی پرچم تھے جو بتول جیسی کشمیری بیٹیوں نے اپنا سب کچھ دائو پر لگا کر تیار کیے تھے۔

    اس پرچم کی شان اور کشمیریوں کے عزم و استقلال کے آگے ساڑھے آٹھ لاکھ قابض فوج اپنے تمام تر اسلحے اور رعونت سمیت بے بس تھی۔ پھر ایک نورانی چہرہ نمودار ہوا۔ آزادی کے سبھی متوالے اس کی طرف بڑھنے لگے۔ فضا میں مظلوم کشمیری مسلمانوں کی آواز گونج رہی تھی۔

    ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے

    ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے

    ٭…٭…٭

  • روشن چہرہ ۔ الف نگر

    روشن چہرہ ۔ الف نگر

    روشن چہرہ

    تنزیلہ یوسف

    دانیال بیٹا! تمہاری دوسری خواہش بھی پوری ہوئی۔

    بابا جی مسکرائے۔

    ”ہے کوئی سخی! جو مجھ اندھے کو سڑک کے اُس پار لے جائے اور بدلے میں اپنی دو خواہشیں پوری کروائے؟” سڑک کنارے کھڑے باباجی صدا لگارہے تھے مگر کوئی بھی ان کی صدا پر کان دھرنا گوارا نہیں کررہا تھا۔ دانیال اسکول جارہا تھا۔ وہ سڑک پار کرنے لگا تو اس کے کانوں سے یہ صدا ٹکرائی۔

    ”ہے کوئی سخی! جو مجھ اندھے کو سڑک کے اُس پار لے جائے اور بدلے میں اپنی دو خواہشیں پوری کروائے؟”

    دانیال نے حیرت سے باباجی کو دیکھا۔ اسی دوران باباجی نے پھر صدا لگائی۔ دانیال نے آگے بڑھ کر ان کا ہاتھ تھاما اور بولا: ”آئیے باباجی! میں آپ کو سڑک کے اس پار لے جاؤں۔”

    ”جیتے رہو میرا بچہ!” باباجی نے بے اختیار دعا دی۔

    دانیال نے اپنے دائیں طرف دیکھا پھر اشارہ بند پاکر سڑک پار کرلی۔

    ”لیجیے باباجی! آپ سڑک کے اس پار آگئے۔ مجھے اجازت دیں میں اسکول جاؤں۔” دانیال نے باباجی سے اجازت چاہی۔

    ”ارے ایسے کیسے میرا بچہ! ابھی تو مجھے تمہاری دو خواہشیں پوری کرنی ہیں۔” باباجی نے یاد دلایا۔

    ”اوہ میں تو بھول ہی گیا۔” دانیال کو یک دم یاد آیا۔ ”لیکن باباجی! مجھے اسکول کے لیے دیر ہورہی ہے۔” اس نے کلائی پر بندھی گھڑی پر وقت دیکھتے ہوئے کہا۔

    ”یہ پاس ہی تو ہے اسکول، پھر کیوں دیر ہورہی ہے؟” باباجی نے اپنی لاٹھی سے بائیں جانب اشارہ کیا۔

    ”ارے! آپ کو کیسے معلوم ہے بابا جی؟ میرا مطلب کہ آپ تو دیکھ ہی نہیں سکتے۔” دانیال نے کچھ جھجکتے ہوئے پوچھا۔

    ”جو دیکھ نہیں سکتے ان کے کان کُھلے ہوتے ہیں۔ بچوں کے شور کی آواز ادھر سے ہی تو آرہی ہے۔” باباجی دانیال کو سمجھاتے ہوئے بولے۔

    ”آئیں ادھر بنچ پر بیٹھیں۔ میں آپ کو اپنی دو خواہشیں بتاتا ہوں۔” دانیال نے ہاتھ پکڑ کر انہیں بٹھایا: ”ہاں بھئی جلدی بولو! ایسا نہ ہو کہ اسکول کا وقت شروع ہوجائے۔”

    ”باباجی! میری پہلی خواہش یہ ہے کہ آپ مجھے روشن پاکستان کی خیالی تصویر دکھائیں۔ میرا ہم جماعت وسیم پاکستانی قوم کو ہر وقت طعنے دیتا ہے۔” دانیال نے کہا۔

    ”بھئی میں تمہیں روشن پاکستان کی خیالی نہیں بلکہ عملی تصویر دکھاتا ہوں۔” بابا جی نے مسکراتے ہوئے کہا۔

    ”یہ دیکھو!” باباجی نے کہا تو دانیال کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا آیا پھر سامنے ایک سکرین روشن ہوئی اور اس پر کچھ چلنے لگا۔

    ”یہ کیا ہے باباجی؟” دانیال کو کچھ سمجھ نہیں آیا۔

    ”خود ہی دیکھو مثالی پاکستان کا روشن چہرہ!”

    سکرین پر ٹریفک جام کا منظر تھا۔ مغرب کی اذان ہوئی تو کچھ لوگ ٹریفک میں پھنسے لوگوں میں پانی کی بوتلیں تقسیم کررہے تھے۔ اگلا منظر اس سے بھی بڑھ کر تھا۔ سڑک کنارے ایک بڑی سی گاڑی کھڑی تھی۔ اس میں کھانے کی اشیا تھیں۔ گاڑی کے پاس کھڑے کچھ لوگ راہ گیروں میں ڈبے تقسیم کرتے جارہے تھے۔ منظر بدلا اور ایک ویران سڑک کے کنارے ٹھنڈے پانی کے بڑے بڑے کولر تھوڑے تھوڑے سے فاصلے پر نصب دکھائی دیے۔

    اگلا منظر ایک بڑے ہسپتال کا تھا۔ پاس ہی سڑک پر ایک حادثہ ہوا تھا۔ زخمیوں کے لیے خون کا عطیہ دینے والوں کی بڑی تعداد اپنی باری کی منتظر تھی۔

    ”یہ تو صرف پاکستان کے ایک شہر کی ہلکی سی جھلک ہے۔ میرے پاکستان کا چہرہ اس سے کئی گنا زیادہ روشن ہے۔ یہاں اگر ایدھی جیسے بوڑھے، لاوارث بچوں کو گود لیتے ہیں، لاوارث لاشیں دفناتے ہیں، یتیموں کے سر پر دستِ شفقت رکھتے ہیں، وہیں حماد صافی، ایّان قریشی، بابر اقبال اور ارفع کریم جیسے بچے اس ملک کا مستقبل روشن کیے ہوئے ہیں۔ جنگ ہو یا امن، مشکل پڑنے پر پاکستانی قوم یک جان نظر آتی ہے۔” باباجی کی آواز میں جوش نمایاں تھا۔

    ”زبردست بابا جی! اور میری دوسری خواہش؟” دانیال پُر جوش انداز میں بولا۔

    ”ہاں بھئی جلدی بولو اپنی دوسری خواہش۔” باباجی نے دوسری خواہش پوچھی۔

    ”میری دوسری خواہش ہے کہ پاکستان دنیا کا ترقی یافتہ ملک بن جائے۔” دانیال نے جلدی سے کہا۔

    ”یہ خواہش بھی پوری ہوئی۔” باباجی دھیمے انداز میں مسکرائے۔

    ”وہ کیسے؟” دانیال حیرانی سے بولا۔

    ”وہ ایسے کہ جب تک پاکستان کا نصیب تم جیسے ہونہار بچے ہیں، پاکستان کو ترقی سے کوئی نہیں روک سکتا۔ دیکھنا! تم جیسے بچوں کی وجہ سے آئندہ چند سال میں پاکستان صفِ اول کے ترقی یافتہ ممالک میں کھڑا ہوگا۔ ان شاء اللہ۔” بابا جی نے کہا۔ 

    ”آہا! میرے روشن پاکستان کا مثالی چہرہ! یہ چہرہ ہم پوری دنیا کو دکھا کر دم لیں گے۔” دانیال نے پُر جوش انداز میں کہا۔

    ”ان شاء اللہ…” بابا جی نے مسکرا کر کہا تو دانیال اسکول کی طرف روانہ ہوگیا۔

    ٭…٭…٭

  • چھین لیا ہے پاکستان ۔ الف نگر

    چھین لیا ہے پاکستان ۔ الف نگر

    چھین لیا ہے پاکستان

    محمد ضیاء اللہ محسن

    وہ ہاتھوں میں درانتی پکڑے تیز قدموں سے کھیتوں کی جانب رواں دواں تھا۔ اس کا نحیف اور کمزور بدن تھکن سے چُور تھا لیکن اس بڑھاپے میں بھی اس کا جذبہ جوان تھا۔ اسے منزل پر پہنچنے کی جلدی تھی۔ ابھی رات ہی کو یہ فیصلہ ہوا تھا کہ گاؤں کے تمام مسلمان گھرانے صبح سحری کے بعد پاکستان کی طرف ہجرت کر جائیں گے۔

    یہ گاؤں آس پاس کے باقی دیہات سے قدرے خوش حال تھا۔ ہندوؤں کی آبادی یہاں زیادہ تھی جبکہ مسلمانوں کے جند ایک گھرانے تھے البتہ مسلمان معاشی طور پر زیادہ خوش حال تھے۔ لمبی چوڑی زمینیں، پالتو جانور اور معاش کے دیگر ذرائع پر مسلمان حاوی تھے مگر کبھی بھی انہوں نے ہندو مسلم تفریق پیدا نہ کرنے کی کوشش نہ کی تھی۔ گاؤں میں سبھی مل جل کر رہتے تھے۔

    ملکی سطح پر سیاسی شورش کے باعث چند جذباتی ہندو نوجوانوں نے مسلمانوں کو تنگ کرنا شروع کردیا تھا۔ جیسے ہی قیام پاکستان کا اعلان ہوا اسی رات نمازِ تراویح سے فارغ ہوکر قطب دین نے گاؤں کے تمام مسلمانوں کو ایک جگہ اکٹھا کیا اور پاکستان کی طرف ہجرت کرنے کے بارے میں رائے طلب کی۔

    متفقہ رائے میں یہ بات سامنے آئی کہ عید کے فوری بعد سبھی مسلمان پاکستان کی طرف ہجرت کرجائیں گے۔ ابھی تمام لوگ اپنے گھروں کو روانہ ہونے والے تھے کہ اچانک ہندو نوجوانوں کا ایک گروہ وہاں آگیا۔ ڈرانے دھمکانے کے بعد قریب تھا کہ وہ مسلمانوں پر حملہ کردیتے مگر بابا قطب دین نے آگے بڑھ کر بچ بچاؤ کرا دیا۔ اس صلح صفائی میں کچھ ہندو بزرگ بھی شامل تھے۔ امن اور شانتی کے ساتھ سب لوگ اپنے گھروں کو روانہ ہوگئے مگر پھر بھی مسلمانوں کے لیے خطرہ بہرحال موجود تھا۔

    چناں چہ بابا قطب دین نے رات کے اندھیرے میں بابا رحمت علی، بابا تاج دین اور دوسرے مسلمان بزرگوں کے گھر چکر لگا کر انہیں صبح سحری کے بعد ہی ہجرت پر راضی کرلیا۔

    ”دوستو! میرے خیال میں اس جگہ ہمارا دانہ پانی اتنا ہی تھا۔ اب مزید یہاں رہنا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ کیوں نا ہم صبح سویرے ہی یہاں سے ہجرت کرجائیں۔” بابا قطب دین نے تشویش ناک صورتِ حال پر باقی بزرگ دوستوں کو الگ الگ جاکر قائل کرنے کی کوشش کی۔

    آخر سبھی نے اس فیصلے کی تائید کی۔ اب رات کو سونے کے بجائے تمام مسلمان گھرانے اپنا ضروری اور قیمتی سازو سامان سمیٹ رہے تھے۔ سبھی کی آنکھیں نمناک تھیں۔ آخر برس ہا برس سے یہاں قیام پذیر مسلمان کیسے اپنے گھروں کو چھوڑ سکتے تھے مگر یہ کرنا پڑا۔

    صبح سحری کے بعد مسلمانوں کا قافلہ تیار ہوچکا تھا۔ وہ منہ اندھیرے گاؤں سے نکلنا چاہتے تھے۔ اچانک بابا قطب دین کو کچھ یاد آیا۔

    ”اوہ! میں اپنے بیلوں کی جوڑی کو تو بھول ہی گیا۔ کل سے بے چارے کھیتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔” انہوں نے تشویش بھرے لہجے میں کہا۔

    ”قطب میاں! چھوڑئیے بیلوں کو… کہاں اتنی دور جائیں گے۔ بیل تو کہیں سے بھی مل جائیں گے۔ ہم چلتے ہیں اللہ کا نام لے کر۔” بابا رحمت علی نے قطب دین کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔

    ”ارے نہیں رحمت بھائی! مجھے بیلوں کا لالچ نہیں، بس ایک چبھن سی ہے کہ بے چارے کل شام کے بندھے ہوئے ہیں۔ اگر ایک دو دن مزید کسی کی نظر نہ پڑی تو بے زبان بھوکے مر جائیں گے اور سارا گناہ میرے سر پر ہوگا۔” قطب دین نے وضاحت کی۔

    ”ارے چھوڑیں قطب میاں! وہ بیل کوئی ہندو یا سکھ لے جائے گا۔ آپ کیوں فکر کررہے ہیں۔” بابا تاج دین نے کہا۔

    ”دیکھو بھائی! اچھا ہی ہے اگر کوئی ہندو یا سکھ انہیں کھول کرلے جائے مگر کیا کروں؟ میرا دل نہیں مانتا۔ بڑے چاؤ سے پالے تھے۔ اب مجبوری ہے تو ہم انہیں چھوڑ کر جارہے ہیں مگر… مگر مجھے خدشہ ہے کہ کسی کی نظر نہ پڑی تو وہ ان کا کیا حال ہوگا؟ ہم خود تو آزاد ہوکر جارہے ہیں مگر بے زبان جانوروں کو کیوں قید کر رکھا ہے؟ آپ سب لوگ ایسا کریں کہ اللہ کا نام لے کر قافلہ روانہ کریں میں درانتی لے کر کھیتوں میں جارہا ہوں۔ ابھی ان بیلوں کی رسیاں کاٹ کر انہیں آزاد کر دوں گا۔ پھر جلد آپ لوگوں کے ساتھ قافلے میں شامل ہوجاؤں گا۔” بابا قطب دین نے تفصیل بتائی۔

    ”اور اگر راستے میں کسی بلوائی یا شدت پسند گروہ سے ٹاکرا ہوگیا تو؟” اللہ بخش نے پوچھا۔

    ”تو کیا…؟ اللہ کرم کرے گا۔ بچ گئے تو غازی، اگر موت وہیں پر لکھی ہوئی تو شہادت!… ویسے بھی اس بڑھاپے میں اور کتنا جینا ہے؟ مجھے جانے دیں، کوشش کروں گا کہ جلد قافلے کے ساتھ مل جاؤں۔” بابا قطب نے کہا اور ہاتھ میں درانتی لے کر کھیتوں کی طرف چل پڑا۔ ادھر قافلے نے تیاری کی اور اللہ کا نام لے کر پاکستان کی راہ لی۔

    ٭…٭…٭

    ”چل بھئی اللہ کے حوالے… اب تُو آزاد ہے۔” بابا قطب نے کھیتوں میں پہنچ کر ایک بیل کی رسی درانتی سے کاٹتے ہوئے اسے تھپکی دیتے ہوئے کہا۔ اس کے بعد اس نے دوسرے بیل کی رسی بھی کاٹی اور انہیں نمناک آنکھوں آزاد کردیا۔ بھوکے پیاسے بیل قریبی دریا کے کنارے کی طرف بھاگ نکلے۔ پیاس کسی شدت سے ان کی زبانیں باہر نکلی ہوئی تھیں۔

    ہاتھ میں درانتی لیے بابا قطب بھی دریا کی طرف ہولیا۔ اُسے تقریباً تین کلو میٹر دور لکڑی سے بنے پل کے ذریعے دریا کے پار جانا تھا۔ تاکہ جالندھر کی اس سرزمین کو خیر باد کہہ کر اپنے پیارے وطن پاکستان میں قدم رکھ سکے۔

    ابھی قطب بابا چار قدم ہی چلا ہوگا کہ عقب سے نعروں اور شور کی آواز سے وہ چونک اٹھا۔

    ”اوہ! بلوائی…؟ شدت پسند…؟” بابا قطب نے ایک لمحے کے لیے سوچا پھر یہ خیال جھٹک کر آگے روانہ ہوگیا۔ اسے پورا یقین تھا کہ وہ اس گاؤں کا اہم فرد ہونے کی وجہ سے گاؤں کے شر پسند نوجوانوں سے محفوظ رہے گا لیکن یہ اس کی خام خیالی تھی۔

    بلوائیاں کے ایک جتھے نے اُسے گھیرے میں لے لیا تھا۔ سبھی کے ہاتھ میں تلواریں، کریانیں اور نیزے تھے۔ ان میں بہت سے چہرے بابا قطب کے جانے پہچانے تھے۔

    شدت پسندوں کو امن کا پیغام دینے کے لیے بابا نے ہاتھ میں پکڑ درانتی پھینک دی۔

    ”میرے بچو! بات سنو ذرا…”

    لیکن جواب میں کئی قہقہے بلند ہوئے۔

    ”پکڑ لو اُسے… جائے نہ پائے یہ بڈھا کھوسٹ مسلا… ہاہاہا…”

    ایک زہریلی آواز بابا قطب کے کانوں سے ٹکرائی اس کے ساتھ ہی خون کے پیاسے کئی بھیڑیے نما انسان اس بوڑھے مسلمان پر پل پڑے۔

    بابا قطب نے حملہ آوروں کے تیور دیکھ کر دوبارہ ہاتھ میں درانتی پکڑلی۔ اپنے اوپر کیا گیا وہ ہر وار درانتی پر لینے کی کوشش کرتا، اتنے میں کرپان کا ایک وار اس کے بائیں کندھے پر لگا۔ خون کا ایک فوارہ ابل پڑا۔ درد کی شدت سے بابا قطب دوہرا ہوا جارہا تھا۔

    اسی اتنا سب نے ایک عجیب منظر دیکھا۔ دونوں بیل جو دریا سے پانی پینے گئے تھے اپنے مالک کو مشکل میں دیکھ کر انہوں نے بلوائیوں پر حملہ کردیا۔ دو چار بلوائیوں کو اپنی ٹکر مار کر پاؤں سے کچل کر انہیں خوب سبق سکھایا۔ مگر ظالم دشمنوں نے بابا قطب دین سے پہلے تلواروں کے وار سے ان دونوں بیلوں کا کام تمام کردیا۔

    آہ! وہ کیا ہی منظر تھا جب دو بے زبان جانور اپنے مالک کی محبت میں پاکستان کے نام پر قربان ہوئے۔

    ادھر بابا قطب کو حملہ آوروں سے چنگل سے نکلنے کا موقع مل گیا۔ بھاگتے ہوئے اس نے دریا میں چھلانگ لگادی۔ اس کا بدن جگہ جگہ زخموں سے چُور تھا۔ درد کی شدت سے اس کی آنکھیں بند ہورہی تھیں۔ دریا کی گہرائی بہت زیادہ تھی۔ یہاں بھی بچ نکلنے کا کوئی امکان نہ تھا۔ پانی بابا قطب کے زخموں کے اندر داخل ہورہا تھا۔

    ایک نظر بھر کر بابا قطب نے دریا کے کنارے کھڑے پلوائیوں کو دیکھا جو قہقہے لگا رہے تھے۔ اسی دوران گاؤں کے ہندو لوہار کا بیٹا نردش تیواڑی بابا قطب کی طرف دیکھ کر چلّایا۔

    ”اے قطبے… اے بڈھے… تیری زمینیں گئیں۔ گھر بار گیا… مال ڈنگر لٹ گیا… چنچل باڑی اور باقی سامان بھی نہ رہا… ایک جان تھی… وہ بھی تو نے گنوا دی: ارے یہ بتاؤ کہ تم لوگوں کو کیا ملا اس کھیل میں… ہا ہا ہا…

    بابا قطب تکلیف کی شدت سے بے حال پانی کی موجوں سے لڑ رہا تھا۔ اس نے تیواڑی کی طرف دیکھ کر ایک دھیمی مسکراہٹ اچھالی اور پوری قوت جمع کرکے ایک جملہ بولا:

    ”چھین لیا نا پاکستان؟… ہا ہا… چھین لیا ہے پاکستان” مسکراتے ہوئے بابا قطب نے یہ جملہ ادا کیا اور اعصاب ڈھیلے چھوڑ دیئے۔ اس کے ساتھ ہی پانی کی ایک بڑی لہر نے قطب بابا کو اپنی لپیٹ میں لیا پھر کچھ دیر بعد پانی کی سطح پر ایک خونی … ہی باقی بچی۔ بابا قطب اپنے رب کے حضور پہنچ چکا تھا۔

    بات ختم کرتے ہی ہماری دادی جان پھوٹ پھوٹ کر رو دیں۔

    ”جانتے ہو بچو! وہ 85 سالہ بابا قطب دین میرے ابا جان تھے۔ ان کی شہادت کے وقت میں مہاجرین کی دیکھ بھال کے لیے پہلے سے منٹگمری میں اپنے شوہر یعنی تمہارے دادا کے ساتھ موجود تھی۔ ہم سبھی رشتہ داروں اور باقی مسلمانوں کی آمد کے ساتھ ساتھ اپنے ابا جان کا انتظار ہی کرتے رہے مگر وہ نہیں آئے۔

    ٭…٭…٭

  • پرستان کی کہانی  ۔ الف نگر

    پرستان کی کہانی  ۔ الف نگر

    الف لیلہٰ کہانی مقابلے کی تیسری بہترین کہانی

    پرستان کی کہانی 

    سعدیہ جاوید گِل

    جبل دیو نے طلسمی گھوڑا کہاں چھپا رکھا تھا؟ پڑھیے اس کہانی میں۔

    ملک اصفہان میں ایک مشہور اور رحم دل جادوگر ہامان رہتا تھا۔ ایک دن وہ اپنے جادُوئی قالین پر سفر کررہا تھا کہ اس کی نظر بادلوں کے پار ایک شفاف گولے پر پڑی۔ گولے سے عجیب قسم کی روشنی پھوٹ رہی تھی۔ کچھ دیر بعد اچانک گولاپھٹ گیا۔ اُس کے پھٹنے پر بھونچال سا آگیا۔ جس سے جادوگر بے ہوش ہوکر نیچے گر پڑا۔ وہ تو شکر ہے اُس کی پرواز نیچی تھی جو اُسے کوئی چوٹ نہ آئی۔

    جب اُس کی آنکھ کھلی تو خود کو ایک خوب صورت وادی میں پایا۔ جس کی زمین روئی کے گالوں سے بھی زیادہ نرم تھی۔ جلد ہی اُسے اندازہ ہوگیا کہ وہ کوہ قاف میں ہے۔ ہامان جادوگر نے چمکیلی ریت سے بنے دو مناروں تک جانے والے راستے پر چلنا شروع کردیا۔ راستے میںاُسے انڈے کی شکل کے چمکیلے مکان نظر آئے۔ اردگرد سناٹا چھایا ہوا تھا۔

    وہ سنہرے میناروں کے قریب ایک نہایت شان دار محل کے قریب رُک گیا۔ محل کے دروازوں پر دربان پتھر کے مجسموں کی طرح بے حس و حرکت کھڑے تھے۔ جب کہ محل کے اندر رنگ برنگی پریاں پتھر کے مجسموں کی صورت میں موجود تھیں۔ ہامان جلد ہی جان گیا کہ یہ طلسماتی اثر ہے۔ پورا محل گھومنے کے بعد وہ دوبارہ مناروں کے قریب واپس آگیا۔

    ابھی وہ مایوسی کے عالم میں جھیل کنارے پاؤں لٹکا کر بیٹھا تھا کہ ایک دھیمی سرگوشی نے اُسے چونکا دیا۔ غور سے دیکھنے پر معلوم ہوا کہ جھیل کے پانی میں بننے والے بلبلوں سے ایک ننھی جل پری اُسے پکار رہی تھی۔ وہ کہنے لگی: ”پیارے جادوگر! گھبراؤ نہیں، میرا نام ارسلا پری ہے اور میں پریوں کی شہزادی ہوں۔ ہمیں تمہاری مدد چاہیے۔”

    ہامان نے ہمت کرکے پوچھا: ”ننھی پری! یہ بتائو کہ پرستان پر کیا مصیبت آن پڑی ہے اور تمہیں میری کیا مدد چاہیے؟”جل پری نے ایک ٹھنڈی آہ بھر کر بتایا: ”کچھ عرصہ قبل جبل نامی ایک دیو نے اس پُرسکون علاقے میں اپنی طاقت کے زور سے سب پریوں کو نقصان پہنچانا شروع کردیا تھا۔ ہم نے ڈٹ کر مقابلہ کیا لیکن اُس نے سنہری پری کی جادوئی چھڑی کو اپنے قبضے میں کرلیا اور پرستان کے مقدس سفید طلسمی گھوڑے کو اپنے ساتھ کالے پہاڑوں پر لے گیا۔ یوں پرستان کا طلسمی نظام گھوڑوں کی عدم موجودگی میں درہم برہم ہوگیا۔ سب پریاں پتھر کی مُورت بن گئیں اور سب جل پریاں پانی کے بلبلوں میں قید ہوکر رہ گئیں۔ یہ سب کچھ تبھی ممکن ہے جب طلسمی گھوڑا واپس آئے گا۔” ہامان نے ساری کہانی سنی اور جل پری سے پوچھا: ”طلسمی گھوڑا جبل دیو نے کہاں چھپا رکھا ہے اور میں اُسے کیسے شکست دے سکتا ہوں؟”

    جل پری بولی: ”اُس نیلی جھیل کے پار ایک گہرا کنواں ہے۔ اُس کے اندر ایک راستہ ہے۔ یہ راستہ سیدھا کالی گھاٹی کی طرف جاتا ہے۔ جبل دیو کے پاس ایک خنجر ہے۔ اِس پر اُس کا نام لکھا ہے۔ اگر تم وہ خنجر حاصل کرلو تو اُس کا خاتمہ کرسکتے ہو۔”

    ”طلسمی گھوڑا بھلا کہاں ہوسکتا ہے؟” ہامان نے ذہن پر زور دیتے ہوئے خود کلامی کی۔ جل پری مسکراتے ہوئے بولی: ”اے بہادر جادوگر! مجھے تمہاری جادوئی طاقت پر پورا بھروسا ہے۔” یہ کہتے ہی جل پری کا عکس نظر آنا بند ہوگیا اور بلبلے بھی غائب ہوگئے۔

    جادوگر کچھ ہی دیر میں جل پری کی بتائی ہوئی جگہ پر پہنچ گیا جہاں اسے طلسمی کنواں نظر آگیا۔ اُس نے جھک کر دیکھا تو کنواں بالکل خالی تھا۔ چند لمحے سوچنے کے بعد اُس نے آنکھیں بند کیں اور کنویں میں چھلانگ لگا دی۔ جیسے ہی اس کے پاؤں زمین پر لگے تو اس نے آنکھیں کھول دیں۔ یہ ایک بہت وسیع میدان تھا۔ وہ آگے قدم بڑھانے لگا۔ آگے چل کر اُسے کالے رنگ کا ایک ریچھ نما جانورنظر آیا۔ ہامان نے آنکھیں بند کیں اور اپنی جادوئی طاقت استعمال کی تو اُسے ریچھ کی جگہ ایک خوف ناک شکل والے دیو کا عکس نظر آیا۔

    ”کون ہو تم… اورتم نے یہاں آنے کی جرأت کیسے کی؟” جبل دیو کی آنکھوں سے شرارے نکل رہے تھے۔ اُس کے آسمان کو چھوتے قد کے سامنے ہامان جادوگر ایک بونے کی طرح لگ رہا تھا۔

    ”میرا نام ہامان ہے اور میں طلسمی گھوڑا لینے آیا ہوں۔” یہ سنتے ہی جبل دیو نے غصّے میں ہامان جادوگر کو اوپر اٹھا لیا۔ وہ اُسے مارنے ہی والا تھا کہ ہامان نے منتر پڑھنا شروع کردیا۔ اُس کی آنکھوں سے نکلنے والی شعاعیں جبل دیو کی کمر سے بندھے خنجر پر پڑیں اور پلک جھپکتے ہی وہ خنجر اُس کے ہاتھ میں آگیا۔ اب ہامان نے ایک ہی وار میں خنجر جبل دیو کے سینے میں اُتار دیا۔

    خنجر کا سینے میں اترنا تھا کہ اچانک زمین ہلنے لگی اور ہر طرف کالا دھواں چھا گیا۔ کچھ دیر میں وہاں نہ کالے پہاڑ تھے اور نہ دیو… بلکہ ایک چٹیل میدان تھا جس میں ہامان جادوگر کے ساتھ طلسمی گھوڑا بھی کھڑا تھا۔

    گھوڑے کے سر پر موجود سینگ سے سفید روشنی نکل رہی تھی۔ہامان جادوگر نے اِس سے پہلے اِس قدر خوب صورت چیز نہیں دیکھی تھی۔ طلسمی گھوڑے نے قریب آکر اپنے پَر پھڑ پھڑائے تو ہامان گھوڑے پر سوار ہوگیا۔ پلک جھپکتے ہی وہ سنہری محل کے سامنے موجود تھے۔ طلسمی گھوڑے کے سینگ سے ایک بار پھر روشنی نکلی اور چاروں طرف پھیل گئی۔

    آن ہی آن میں سب پریاں اپنی اصلی حالت میں واپس لوٹ آئیں۔ ہامان جادوگر حیرت سے یہ سب دیکھ ہی رہا تھا کہ اچانک اُس پر مدہوشی چھانے لگی۔جب اس کی آنکھ کھلی تو اُس نے خود کو جادوئی قالین پر پایا جو واپس اصفہان کی سمت اُڑا جارہا تھا۔

    ٭…٭…٭

  • میاں کی جوتی ۔ کہاوت کہانی ۔ الف نگر

    میاں کی جوتی

    کہاوت کہانی

    پرانے زمانے کی بات ہے ہندوستان کے دور دراز علاقے میں رئیس نام کا ایک بہروپیا رہتا تھا۔ وہ عجیب سی حرکتیں کرکے لوگوں کو ہنسناتا اور اپنے مختلف روپ بدلتا رہتا لیکن اس کام میں اسے زیادہ آمدن نہ ہوتی۔

    ایک دن اُس کے دل میں امیر بننے کاخیال آیا۔ چناں چہ وہ اس پر عمل کرنے کے لیے دوسرے شہر روانہ ہوگیا۔ وہاں جاکر اس نے اپنا تعارف ”رئیس میاں” کے نام سے کروایا اور لوگوں سے کہا: ”مجھے سرکار نے آپ لوگوں کے پاس بھیجا ہے۔”

    لوگ اس کی بات توجہ سے سننے لگے۔ اس نے لوگوں کو بادشاہ کا حکم نامہ سنایا کہ آج کے بعد آپ لوگ کھیتی باڑی کرکیجو بھی غلہ اُگاؤ گے، اس میں شاہی حکومت کا حصہ بھی شامل ہوا کرے گا۔ جو کسان شاہی حکومت کو حصہ نہیں دے گا، اس کے سر پر جوتے مارے جائیں گے۔

    چناں چہ لوگ شاہی فرمان سمجھ کر اپنے اناج میں سے کچھ حصہ رئیس میاں کو بھی دینے لگے۔ رئیس میاں دل ہی دل میں خوش ہورہے تھے کہ چلو بیٹھے بٹھائے اچھا خاصا اناج جمع ہوجائے گا۔ پھر یونہی ہونے لگا۔ جو لوگ اپنے غلے سے رئیس میاں کو حصہ نہ دیتے ان کے سر میں جوتے مارے جاتے۔ دن یونہی گزرتے گئے۔

    آخر تنگ آکر ایک دن کچھ لوگوں نے فیصلہ کیا کہ ہم بادشاہ سلامت کی خدمت میں حاضر ہوکر اس لگان کو معاف کروانے کی کوشش کرتے ہیں۔ چناں چہ شہر کے کچھ سیانے لوگ مِیلوں کا سفر کرکے بادشاہ کے دربار میں پہنچے اور گڑگڑاتے ہوئے بادشاہ کو اپنا دکھڑا سنانے لگے۔ بادشاہ ان کی بات سن کر بہت حیران ہوا کیوں کہ اسے کسی بھی بات کا علم ہی نہ تھا۔ بادشاہ کے سامنے اب رئیس میاں کا بھانڈا پھوٹ چکا تھا۔

    پھر ہوا یوں کہ بادشاہ نے اپنے کارندے بھیج کر رئیس میاں کو گرفتار کروایا اور اسے دربار میں طلب کرلیا۔ رئیس میاں تو اب گردن جھکائے یوں کھڑے تھے جیسے کچھ کِیا ہی نہ ہو۔ بادشاہ نے اچھی طرح تصدیق کرلینے کے بعد متاثرہ کسانوں کو دعوت دی کہ وہ آگے آئیں۔

    اس کے بعد بادشاہ نے رئیس میاں کا جوتا اتروا کر لوگوں کے ہاتھ میں دیا اور کہا: ”ہر کسان دو دو جوتے رئیس میاں کے سر پر مارے۔”

    چناں چہ سب نے ایسا ہی کیا۔ لوگ باری باری آتے اور دو دو جوتے لگاتے ہوئے گزر جاتے اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہتے جاتے: ”میاں کی جوتی میاں کے سر پر” یعنی جو آدمی جیسا کرے گا ویسا ہی پھل پائے گا۔ اس دن کے بعد یہ کہاوت مشہور ہوگئی۔ میاں کی جوتی، میاں کے سر پر۔

    ٭…٭…٭