Author: misbah116@hotmail.com

  • ڈرامے پر اِک نظر ۔ سکرین پلے ۔ کمرشل رائٹنگ

    ڈرامے پر اِک نظر ۔ سکرین پلے ۔ کمرشل رائٹنگ

    ڈرامے پر اِک نظر

    ڈرامہ کیا ہے اور اس کے ذریعے ہم تربیت کیسے کر سکتے ہیں۔ 

    معاشرے کی تربیت ،بچوں کی تربیت اور خود اپنی بھی۔ 

    ڈرامہ ایک طاقتور میڈیم ہے۔ جس زمانے میں ٹی وی یا ریڈیو وغیرہ نہیں تھا۔ اس زمانے میں بھی ایسے ڈرامے اسٹیج کےَ جا تے جن میں اصلاحی پہلو ہوا کرتے تھے۔اس کی مثال اوپیراز ہیں۔ اوپیراز یونان میں دکھاےَ جا تے تھے۔ یہ منظوم ڈرامہ ہوا کرتا ۔ عام طور پر ان کا تھیم مذہبی ہو تا یا کسی بادشاہ کا کوئی کارنامہ ،یا کوئی جنگی داستان بیان کی جا تی تھی۔ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ دنیا میں ڈراموں کی ابتدا اوپیراز سے ہویٔ تھی۔ 

    ایتھینز کے تھیٹر ز میں دکھائے جانے والے ڈراموں کی تین اقسام ہوا کرتی تھیں، المیہ ،طربیہ اور طنزیہ ۔ (یہ باقاعدہ ڈرامے ہوا کرتے ۔ مذہبی تھیٹرز ان کے علاوہ ہوا کرتے تھے) 

    کہا جا تا ہے کہ انسان اپنی پیدائش کے ساتھ ہی ڈرامے کا فن لے کر آیا ہے۔ اس کی ڈائیلاگز ڈلیوری، چہروں کے تاثرات، جذبات کا اظہار، یہ سب کیا ہے۔ یہ سب ڈرامہ ہی تو ہے۔ 

    لفظ ڈرامہ یونانی لغت کا حصہ ہے۔ اس کا مطلب عمل یا حرکت ہے۔ ڈرامے کو ادب کی اصناف میں سب سے قدیم تصور کیا جا تا ہے۔ خیال کیا جا تا ہے کہ دنیا کے پہلے انسان کے ساتھ ہی ڈرامہ وجود میں آگیا ہو گا۔ مشہور جملہ ہے کہ ہم سب دنیا کے اسٹیج پر اداکاروں کی طرح ہیں۔ اپنا اپنا کھیل دکھا کر چلے جائیں گے۔ 

    کسی قسم کے نمائشی ردِ عمل کو بھی ڈرامہ ہی کہا جا تا ہے۔ عام طور پر سننے میں آتا ہے کہ دیکھوتو کیسا ڈرامہ کررہا ہے۔ بیوی رو رہی ہو توروایتی شوہر حضرات کہتے ہیں کہ بس اب ڈرامہ بند کرو، بہت ہو گیا۔ 

    ڈرامہ زندگی کی عملی تصویر ہے۔ اب دیکھیں کہ مختلف مفکروں نے ڈرامے کی کیا تعریف کی ہے:

    افلاطون تمام فنون کو اصل کی نقل کہتا ہے۔ 

     ارسطو کے نزدیک ڈرامہ زندگی کی نقالی ہے۔ 

     سیسرو نے ڈرامے کو زندگی کی نقل ،رسم و رواج کا آئینہ اور سچائی کا عکس کہا ہے۔ سادہ ترین تعریف یہ ہے ”زندگی کے واقعات کو منصوبے کے تحت اسٹیج پر عملی طور پر پیش کرنا ڈرامہ ہے۔ ”

    اس سلسلے میں سنسکرت کے ڈرامہ نگاروں نے ڈرامہ کے جو اصول وضع کیے تھے۔ وہ آج تک چلے آرہے ہیں۔ جیسے:

    ١۔ ڈرامہ کے لےَ ایک کہانی یا پلاٹ ضروری ہے۔  

    ٢۔ ایک اسٹیج جہا ں ڈرامہ کیا جا سکے ۔ 

    ٣۔ موسیقی۔

    ٤۔ رقص ۔ 

     ٥۔ سوانگ (گیٹ اپ ۔ یا میک اپ ) 

     ٦۔ سیٹ ڈیزائین ۔ 

    ٧۔ سامان (پرابس ) 

     ٨۔ کاسٹیوم ۔ 

     یہ سب عناصر آج بھی ضروری ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ڈرامے کے لیے تین کرداروں کو لازمی قرر دیا تھا:

     ١۔ نائیک (ہیرو)

    ٢۔ نائیکہ (ہیروئین ) 

    ٣۔ کھل نائیک(ولن ) 

    ہماری کہانیاں کم و بیش آج بھی ان ہی تین مرکزی کرداروں  کے گرد گھومتی ہیں۔ 

     ڈراموں کی قدیم تاریخ بتا تی ہے کہ اوپیرا یعنی منظوم ڈرامے، یونان اور اٹلی میں پرفارم کےَ جاتے تھے۔  

    موجودہ دور میں اس کی مثال آغا حشر کاشمیری کے ڈرامے ہیں۔ جیسا کہ توفیق کس حال میں ہے۔۔۔شیر لوہے کے جال میں ہے۔ 

     ہندوستان کی ایک فلم تھی ،،ہیر رانجھا ،،اس میں راج کمار ہیرو تھا۔ اس کے سارے مکالمے منظوم تھے۔خود میں نے میوزک کی ایک لنکنگ لکھی تھی جو منظوم تھی ۔ جیسے:خالی کمرہ ہے۔ فون کی گھنٹی بج رہی ہے۔ لڑکی بولتی ہوئی داخل ہو تی ہے۔”سارے جہاں  میں شورِ قیامت کےَ بغیر ۔۔رکتا نہیں ہے فون مصیبت کےَ بغیر”۔ 

    ریسیور اٹھا کر ۔”ہیلو ۔  یہ کیسا شور مچایا ہے تم نے آج۔ ۔۔ابا کو سوتے سے اٹھا یا ہے تم نے  اوپیرا ز بھی اسی قسم کے ہوا کرتے تھے۔ 

     اوپیراز کاآغاز ١٦٠٠ عیسوی میں اٹلی میں ہوا تھا۔ 

    ڈرامہ حرکت یا عمل کو ظاہر کرتا ہے۔ شاعری میں بھی ڈرامہ موجود ہے، یعنی حرکت۔ امیر خسرو کا ایک دوہا سنیں:

    کھیر پکائی جتن سے چرخہ دیا جلا۔۔۔آیا کتا کھا گیا توُ بیٹھی ڈھول بجا۔ لا پانی پلا ۔ 

    اس میں پوری ایک موومنٹ ہے۔ ایک متحرک تصویر بن گئی ہے۔ 

    پوچھا جو میں نے چاند نکلتا ہے کس طرح۔۔۔زلفوں کو رخ پہ ڈال کے جھٹکا دیا کہ یوں۔ ہے نا حرکت۔ 

    یا پھر،،،،ذرا شوخی تو دیکھےَ گا ،لےَ زلفِ خم کدہ کو ہاتھ میں۔۔۔۔میرے پیچھے آےَ دبے دبے مجھے سانپ کہ کر ڈرا دیا۔ 

     ڈرامے کی جڑ تھیٹر سے جڑی ہے۔ شہنشاہیت کے دور میں جب زندگی بہت گھٹی ہوئی ہوتی تھی توجرأت مند لکھنے والوں نے اپنی آواز پہنچانے کے لئے تھیٹر کا سہارا لیا تھا۔ 

    ہر حال میں حق بات کا اظہار کریں گے۔۔۔منبر نہ مل سکا تو سرِ دار کریں گے

    اس زمانے کے بیشتر ڈرامے ضائع ہو چکے ہیں یعنی ہم تک نہیں پہنچے۔ آج کی دنیا صرف چند ناموں سے واقف ہے۔ جن میں سب سے اہم ”سوفو کلیز”ہے ۔طربیہ لکھنے والوں میں ”ارسٹوفینز” تھا۔ ٤٧٢ قبل مسیح اس کے ایک ڈرامے نے اوّل انعام حاصل کیا تھا۔ جی ہاں اس زمانے میں بھی اس قسم کے مقابلے ہوا کرتے تھے!!

    یونانی طربیہ ڈراموں کو بھی تین ادوار میں تقسیم کیا گیا ہے۔ یعنی

    قدیم کامیڈی، وسطی کامیڈی اور جدید کامیڈی۔ 

    یونانی ڈراموں کے مقابل رومی ڈرامے تھے۔ ان کی بھی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی یونانی ڈراموں کی۔ رومن ڈرامے اپنی پیشکش کے لحاظ سے یونانی ڈراموں سے بہت بہتر اور ماڈرن ہوا کرتے۔ یہیں سے ڈراموں کی روایت یورپ اور انگلینڈتک گئی ہے۔ 

    اینڈرونیکس اور نیو وییس روم کے مشہور ڈرامہ نگار ہوا کرتے تھے۔ اور ایک مشہو ڈرامہ رائٹر پلاٹس بھی تھا۔ اس کا زمانہ 205 اور 184 قبل مسیح کا تھا۔ 

    قدیم کے بعد ڈراموں کا وہ دور آتا ہے جسے ہم وسطی کہتے ہیں۔ اس زمانے تک ڈراموں کی روایت پورے یورپ میں پھیل چکی تھی۔ اسی زمانے میں مسٹری تھیٹر کا آغاز ہوا تھا۔ 

    سولہویں اور سترہویں صدی، انگلینڈ میں ڈراموں کے عروج کی صدیاں تھیں۔ کرسٹوفر مارلو، تھامس میڈلٹن اور شیکسپیئر کے ڈرامے اس دور کی بہترین مثال ہیں۔ 

    شیکسپیئر کے ڈرامے ،ہیملٹ،جولیس سیزر اور میکبیتھ وغیرہ اپنی مثال آپ ہیں۔ اس کا ایک ڈرامہ ”مرچنٹ آف وینس ”انسان کی منفی علامت کا شاہ کار ہے۔ 

    انیسویں اور بیسویں صدی میں ڈرامہ اپنے خدوخال  اورپلاٹ کے حوالے سے کمال کو پہنچا۔ ناروے کا ہنرک ازبن، جرمنی کا بریخت، ان کے علاوہ چیخوف، اوجین اونیل،برناڈ شا ،ارتھر ملر وغیرہ ان گنت نام ہیں، جنہوں نے ڈراموں کو عروج تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ 

    اگاتھا کرسٹی کا ایک ڈرامہ پورے تیس برس تک مسلسل اسٹیج ہوتا رہا۔ اس ڈرامے کا نام ”ماؤس ٹریپ” تھا۔

    اس سے اندازہ لگا لیں کہ لوگوں کو ڈرامہ دیکھنے میں کتنی دل چسپی تھی۔ 

    یہ وہ ڈرامہ رائیٹر تھے جو جدید تقاضوں سے باخبر تھے۔ اسی لےَ علامتی ڈرامے لکھے گےَ ۔ سماج کے بے شمار مسائل پر توجہ دی گئی اور ڈرامے، اربابِ اختیار تک اپنی آواز پہنچانے کا ایک مؤثر ذریعہ بن گئے۔

    یونان اور اٹلی کے علاوہ ڈرامے کا ایک اور مرکز بھی تھا، ہندوستان۔ ہندوستانی تھیٹر در اصل سنسکرت کا تھیٹرہے۔ 

    ہندو اساطیرکے مطابق لارڈ شیو،ڈرامے کی تکنیک کو لارڈ وشنو کی عبادت کے لئے استعمال کرتے تھے۔ 

    ان لوگوں نے ڈراموں کو کئی شعبوں میں تقسیم کیا ۔ جس کا ذکر ہو چکا ہے۔ یعنی کاسٹیوم، گیٹ اَپ کہانی وغیرہ۔ 

    کالی داس کی شکنتلا ،راجہ ہریش چندر وغیرہ ایسے ڈرامے ہیں جنہوں نے مغرب کو بھی متاثر کیا۔ اس زمانے میں چین ،جاپان اور کوریا میں بھی  تھیٹر بھی بہت فعال تھا۔ 

    ہندوستان میں ڈراموں کا جدید عہد اور اُردو ڈرامے 

    ہندوستان میں ڈراموں کا جدید عہد بہت طاقت ور رہا۔ ایسے ڈرامے لکھے گےَ جن کے موضوعاتحب الوطنی، انسان کی اپنی شناخت ،روحانیت اور سماج کے دُکھ تھے۔ رابندر ناتھ ٹیگور کو جدید ڈرامہ کے بانیوں میں شمار کیا جا تا ہے۔ انہوں نے بنگالی میں لکھا اور بہت خوب لکھا۔ ان کے ڈرامے،ڈاک گھر اور چترا وغیرہ اپنی مثال آپ ہیں۔ 

    جدید عہد کے بڑے ڈرامہ نگاروں میں گرش کرناڈ،وجے ٹنڈولکر اور ٹنڈانی وغیرہ ہیں۔ 

    اُردو ڈرامے

    اب آجائیں اردو ڈراموں کی طرف:

    ان کی ابتدا ایک طرح سے نواب واجد علی شاہ کی سرپرستی سے ہوتی ہے۔ ان کے ،،رہس ،،کے ڈرامائی تجربات نے امانت لکھنوی سے ،،اندر سبھا ،،جیسا ڈرامہ لکھوایا۔ امانت سے یہ سفر پارسی تھیٹر تک جاتا ہے۔ 

    امانت لکھنوی کے کردار ،،لال دیو اور سبز پری،،ایک عرصے تک علامت کے طور پر استعمال ہوتے رہے۔ 

    امانت لکھنوی کے بعد اُردو ڈرامہ آغا حشر کاشمیری کے پاس چلا گیا ۔ جن کو اُردو کا شیکسپیئر بھی کہا جا تا ہے۔ ان کے ڈرامے ،بے انتہا مقبول ہوئے جیسے صیدِ ہوس ، رستم و سہراب وغیرہ۔ ان کے مکالمے اپنی گھن گرج میں بے مثال ہوا کرتے تھے۔ 

    اُردو ڈراموں نے بہت کم عرصے میں اپنی ساکھ بنا لی تھی کیوں کہ خوش قسمتی سے اس زبان کو ادبی دنیا کے دیو قامت لوگ مل گےَ تھے۔ جیسے ،امتیاز علی تاج،کرشن چندر،منٹو، رفیع پیر ،اوپندر ناتھ اشک،غلام ربانی، پروفیسر مجیب اور بہت سے دوسرے۔ کمال احمد رضوی بھی ان میں شامل تھے۔ ان لوگوں نے نہ صرف طبع زاد ڈرامے لکھے بلکہ ماخوذبھی کیے۔ 

    اب ماڈرن تھیٹر کا دور آیا

    سماجی وسیاسی مسائل پر کمال کے ڈرامے لکھے گئے ۔ لکھنے والوں کی ایک توانا کھیپ سامنے آگئی۔ جیسے :پروفیسر حسن،غلام جیلانی برق ، جے این کوشل، شمیم حنفی، جمیل شیدائی، دانش اقبال، سعید عالم، شاہد انور وغیرہ۔ 

    ہندوستان میں سعید عالم اپنی طنزیہ اور مزاحیہ تحریروں سے پہچانے جاتے ہیں۔ دانش اقبال کا ڈرامہ دارا شکوہ اپنی مثال آپ ہے۔ دانش نے مشہور شاعر ”ساحر لدھیانوی ”کو بھی بہ طورِ کردار تھیٹر کیا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے فیض صاحب کے ان خطوط کو بھی اسٹیج پر پیش کیا جو فیض صاحب نے جیل میں لکھے تھے۔ ممبئی کے اقبال نیازی نے اور کتنے جلیانوالا باغ ،،جیسا ڈرامہ لکھا ۔ 

    ہم مغرب کے ڈراموں سے ہوتے ہوےَ ہندوستان کی طرف آئیجہاں سے اُردو ڈراموں کی روایت ہمارے سامنے آئی۔ اب ہم پاکستان کی طرف دیکھتے ہیں۔ 

    پاکستان میں تھیٹر 

    پاکستان میں تھیٹر کی ابتدا پاکستان بنتے ہی ہو گئی تھی۔ 

    اس زمانے میں فرخ نگار اور ان کی بہنوں نے خواتین کے مسائل پر اسٹیج ڈرامے لکھے تھے۔ ابتدا میں سنجیدہ ڈرامے پیش کیے جاتے رہے، اس کے بعد ڈرامے کمرشل ہو گئے۔ 

    مقامی تھیٹر کو زندہ رکھنے کا کا م عمر شریف ،معین آختر ، امان اللہ اور ببو برال جیسے فنکاروں نے انجام دیا۔ یہ عام لوگوں کی دلچسپی اور تفریح طبع کے ایسے ڈرامے ہوا کرتے جن میں ہلکے پھلکے انداز میں سماجی مسائل کی نشان دہی کی جا تی۔

    ہمیں خواجہ معین الدین کو نہیں بھولنا چاہئے جن کے ڈرامے تعلیمِ بالغاں نے ایک دھوم مچا دی تھی۔ اس ڈرامے میں سماجی، سیاسی اور معاشرتی مسائل پر گہرے اور بھر پور طنز کےَ گےَ تھے۔ ان کے دیگر ڈرامے بھی قابلِ ذکر ہیں۔ جیسے لال قلعے سے لالو کھیت، مرزا غالب بندر روڈ پر وغیرہ۔ 

    پھر پاکستان میں سنجیدہ اور تخلیقی ڈراموں کا ایک دور آیا۔ بہت سے گروپس قائم ہوئے جنہوں نے بہترین تھیٹر پیش کئے ۔ ان کی مثال کے طور پر  ایکٹنگ وھیل، بلیک فش وغیرہ پیش کیے جا سکتے ہیں۔ 

    ایک اخبار کی طرف سے پاکستان میں پہلا مزاحیہ ڈراموں کا فیسٹیول بھی پیش کیا گیا، جس میں شائقین کو بہترین ڈرامے دیکھنے کو ملے۔

    سنجیدہ اور ماخوذ ڈراموں کا ایک سنہرا دور آیا، ذہین ترین لوگ اس میں شامل ہوتے گئے۔ ضیاء محی الدین،راحت کاظمی، حسن رضا، عثمان خالد بٹ اور انور مقصود، جنہوں نے پونے چودہ اگست، دھرنا اور سیاچن جیسے ڈرامے لکھے اور پیش کئے۔ اس بہاؤ میں بہت خوبصورت ڈرامے دیکھنے کو ملے۔ جیسے نظام سقہ، بیک ٹو دی فیوچر، کاؤنٹ ٹو دی مانٹی کرسٹو وغیرہ۔ 

     ڈراموں کی اقسام 

    اب ہم اسٹیج سے ہٹ کر ڈراموں کے دوسری اقسام کی طرف آتے ہیں۔ 

    ڈراموں کی چار اقسام ہیں۔ 

    ١۔ تحریری ڈرامے۔ ایسے ڈرامے جنہیں اسٹیج کرنا مشکل ہوتا ہے۔ یہ ڈرامے صرف پڑھنے کے لئے ہوتے ہیں۔ 

    ٢۔ اسٹیج ڈرامے (ان پر ہم گفتگو کر چکے ہیں ) ۔

     ٣۔ ریڈیا ئی ڈرامے۔ ریڈیو پر پیش کےَ جانے ڈرامے جو صرف سنے جا سکتے ہیں۔

     ٤۔ ٹی وی کے ڈرامے ۔ جن سے ہر ایک واقف ہے۔ 

    ( ڈراموں کی پیشکش کا ایک اور طریقہ اسٹریٹ تھیٹر بھی ہے۔ اس میں کچھ لوگ کہیں بھی کھڑے ہو کر ڈائیلاگز بولنا شروع کر دیتے ہیں۔ ان میں اسٹیج ،سیٹ یا پراپس کی ضرورت نہیں ہوتی ۔) 

    پاکستان میں ریڈیائی ڈرامے 

    ایک زمانہ تھا جب ٹی وی ابھی قائم نہیں ہوا تھا، تب ریڈیو کے ڈرامے بہت مقبول ہوا کرتے تھے۔ اسٹوڈیو نمبر نو میں پیش کےَ جانے ڈراموں کا بے چینی سے انتظار رہتا تھا۔ با کمال ادیبوں نے ریڈیو کے لےَ لکھنا شروع کیا۔ ان لکھاریوں میں اشفاق احمد، بانوقدسیہ، ریاض فرشوری، سلیم احمد صاحب، انتظار حسین وغیرہ شامل تھے۔ 

    ریڈیو کے ڈراموں کی تکنیک مختلف ہوا کرتی۔ ان میں مناظر کو جملوں کے ذریعے واضح کیا جاتا۔ ان ڈرامہ نگاروں نے، او ہنری،موپساں کو بھی اپنایا کیا اور وہ بھی اتنی خوبی کے ساتھ کہ ڈرامے اوریجنل معلوم ہوا کرتے۔ ریڈیو کے ڈراموں میں صوتی اثرات کا بڑا کمال ہوا کرتا تھا۔ 

    اس زمانے میں ریڈیو، فنکاروں کی تربیت کا سب سے بڑا ذریعہ تھا۔ مکالمہ جات بولنے کی تربیت دی جاتی۔ ا س وقت پاکستان میں ہم جنہیں عظیم آرٹسٹ مانتے ہیں، ان کی تربیت ریڈیو ہی سے ہوئی ہے۔ ان ڈراموں میں اخلاقی اور اصلاحی پہلو کو خاص طور پر مدِّنظر رکھا جاناایسا کوئی ڈرامہ نشر نہ جا تا تھا جو معاشرتی اقدار کے خلاف ہو۔ 

    ریڈیو ڈرامہ نگاروں کے یہ صرف چند نام ہیں ورنہ تو اس زمانے میں ایک سے ایک نابغۂ روزگار شخصیت موجود تھی۔

    ٹی وی کے ڈرامے

    ٹی وی کے قائم ہوتے ہی ڈرامہ صنعت یک دم کئی جست طے کر گئی۔ اب لوگ صرف صوتی تاثرات پر گزارا نہیں کرتے تھے بلکہ مناظر کو آنکھوں سے دیکھ بھی سکتے تھے۔ مستند ادیبوں نے ٹی وی کے لئے ڈرامے لکھے۔ ان میں اشفاق حسین بانو قدسیہ، انتظار حسین، حسینہ معین، انور سجاد، یونس جاوید، مستنصر حسین تارڑ ،سلیم احمد، فاطمہ ثریا بجیا، کمال احمد رضوی جیسے بے مثال لکھاری شامل ہیں۔

    ابتدا کے ڈراموں میں چونکا دینے والے عناصر کم ہو تے تھے، بلکہ ایسی گھریلو کہانیاں پیش کی جاتیں جو زندگی سے وابستہ ہو تی تھیں۔ چونکہ اس زمانے میں زندگی بھی بہت ٹھہری ہوئی اور پُر سکون ہوا کرتی تھی ۔ اسی لئے ڈراموں میں بھی اس کا عکس دکھائی دیتا تھا۔ 

    گلیمر کی وبا نہ ہونے کے برابر تھی۔ ڈرامے زندگی کے قریب ترین ہوا کرتے تھے۔ سیدھے سادے سیٹ ہوتے تھے اور سیدھے سادے لباس لیکن اس سادگی سے قطع نظر فن کاروں کی پر فارمنس اپنی انتہا کو ہوتی تھی۔ 

    تعلیم و تربیت 

    اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم ڈراموں سے تعلیم و تربیت کا کام کیسے لے سکتے ہیں۔ ؟ 

     یہ ایک اہم سوال ہے۔ 

     اس کے کیٔ پہلو ہو سکتے ہیں۔ جیسے :

    ١۔ کہانی کا انتخاب۔ (ایسی کہانیاں جن میں ساس بہو کے جھگڑوں ، دوسری بیوی، بیوی کی موجودگی میں کسی اور سے عشق کا سلسلہ، تشدد، سوتن کی چالیں ،وغیرہ نہ ہوں یا کم ہوں۔ ذرا آج کے ڈراموں کے موضوعات پر نظر ڈالیں۔ ستر فی صد ڈراموں میں عورت غیروں سے عشق کرتی نظر آرہی ہے)( یہ کیا بکواس ہے؟ ستر فیصد ڈراموں میں مرد غیروں سے عشق کرتا نظر آ رہا ہے. کیوں نہیں لکھا جا سکا؟ کیونکہ سچ ہے؟) 

    اسی لئے کہانی کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کرنا چاہئے۔ 

    عمدہ اور شان دار الفاظ اور مکالمے دیکھنے والوں کی زبان و بیاں کو نکھار دیتے ہیں۔

    ٢۔مکالمے: یہ کسی بھی ڈرامے کا مضبوطی کے لحاظ سے بہت اہم عنصر ہے۔ موجودہ دور میں ایسے عامیانہ قسم کے جملے سننے کو ملتے ہیں کہ افسوس ہو نے لگتا ہے۔ خاص طور پر مزاح کے نام پر۔

    ٣۔ تلفظ اور زبان کی غلطیاں بہت ہوتی ہیں، ان کی درستی پر توجہ نہیں دی جاتی۔حالاںکہ ڈرامے تربیت کرنے ،سکھانے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ 

    ان دنوں ہمارے ڈراموں میں ممبئی کے ٹپوریوں کی زبان استعمال کی جانے لگی ہے۔ کیا زیڈ اے بخاری،اسلم اظہر ،آغا ناصر جیسے لوگ ایسی زبان کو برداشت کر پاتے؟ 

    (ڈراموں پر ایک نظر ۔۔منظر امام ) 

  • Cutoffs کیسے بنائیں؟ ۔ سکرین پلے ۔ کمرشل رائٹنگ

    Cutoffs کیسے بنائیں؟

    دلشاد نسیم

     

    دوستو! الف کتاب میں پچھلے ماہ ہم نے اپنے لکھاریوں کے ساتھ ون لائنر لکھنے کا طریقہ شیئر کیا تھا۔ ہر چند یہ کوئی بہت بڑی سائنس نہیں ہے مگر پھر بھی جیسے امتحانی پرچہ حل کرنے کے گُر ہوتے ہیں بس اسی طرح ڈرامہ لکھنے کے کچھ آداب ہوتے ہیں۔ جنہیں دھیان میں رکھ کر ڈرامہ لکھا جائے تو ڈرامہ لکھنا بہت آسان کام ہے۔ اسے ہم ڈرامہ نگاری کی تکنیک بھی کہتے ہیں اور یہی تکنیک کسی ڈرامے کو ناول، افسانہ اور ناولٹ سے مختلف بناتی ہے۔ ڈرامے یا سکرپٹ کے ون لائنز کے بارے میں آپ کو پچھلے شمارے میں بتایا گیا تھا اب باری ہے کہ کٹ آفس (cutoffs) کیسے بنائے جائیں؟

    کٹ آفس (cutoffs) جیسا کہ معنی سے ظاہر ہے ”ٹکڑوں میں بانٹنا۔” پہلے ہم اپنی پوری کہانی کو ٹکڑوں میں بانٹتے ہیں۔ اس کے لیے پہلے تو ہمیں یہ سوچنا ہے ہماری کہانی کتنی اقساط پر مشتمل ہے۔ بالفرض چھبیس اقساط کی سیریل ہے تو آپ ذہن میں رکھیں کہ پہلے ہم پانچ پانچ اقساط پر کام کریں گے۔ پہلی پانچ اقساط بہت اہم ہیں کیوں کہ کرداروں کا تعارف بھی انہی اقساط میں ہوتا ہے اور کہانی کی رفتار بھی پتا چلتی ہے۔

    جب آپ نے پہلی پانچ اقساط پر کام شروع کیا تب ہر قسط کی کہانی بنالیں کہ آپ اس میں کیا دکھانا چاہ رہے ہیں اور پھر ہر قسط کا فریز بھی۔ فریز قسط کے آخری سین کو کہتے ہیں۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے یہ ایک ایسا مقام ہے، جو اگلی قسط کے لیے تجسّس چھوڑتا ہے۔

    اب آتے ہیں قسط کے کٹ آف کی طرف، ایک سیریل کی قسط 26سے 30 سین پر مشتمل ہوتی ہے اور ہر سین کی اپنی ایک کہانی ۔ کسی قسط میں غیرضروری بات یا غیر ضروری سین نہیں ہونا چاہئے۔ سین میں وہی بات بیان کی جاتی یا دکھائی جاتی ہے جس کا تعلق دوسرے سین سے پیوستہ ہو یا جس پر بعد میں باقاعدہ ایک سین لکھا جائے۔

    ہر سین کا دوسرا سین سے تعلق بہت ضروری ہے یوں سمجھ لیں سوپ یا سیریل کی ایک قسط ایک مالا ہے اور اس میں سین موتیوں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مالا کو اتنا مضبوط ہونا چاہیے کہ ایک موتی بھی نکالنے کی گنجائش نہ ہو، ہر موتی کا دوسرے موتی سے ربط بہت ضروری ہے اور ہر قسط میں رائٹر جو کہنا چاہتا ہے دِکھانا چاہتا ہے وہ بتائے گا۔ مگر ڈرامائی عنصر باقی رہنا بہت ضروری ہے۔

    سین نمبر 1

    مقام: لوکیشن (سب لوکیشن)

    وقت: (دن، رات، صبح، شام)

    کردار: (سین میں موجود تمام کرداروں کے نام)

    (یہاں پر سین کی وضاحت ہو)

    یہ وہ طریقہ ہے جس کو دیکھ کر سین پوری وضاحت سے سامنے آجائے گا۔ اس طرح آپ تمام کے تمام چھبیس سین لکھ کر رکھ لیں۔ سین لکھنے کے بعد فریز لکھیں تاکہ یہ پتا چل سکے کہ قسط اپنے اختتام کو پہنچ چکی ہے۔

     

    Cut

  • قاری کو پسند آنے والی نان فکشن تحریروں کے راز ۔ نان فکشن ۔ کمرشل رائٹنگ

    قاری کو پسند آنے والی نان فکشن تحریروں کے راز

    ایک متاثر کن اور بہترین مضمون وہی ہوتا ہے جو پڑھنے والے کو اپنے سحر میں جکڑ لے۔ سوال یہ ہے کہ ایسا مضمون لکھا کیسے جائے۔ماہرین کے مطابق ایک یادگار مضمون صرف وہ ہوتا ہے جوپڑھنے والی کی خواہشات اور ترجیحات کو مدِ نظر رکھ کر لکھا جائے۔ نئے لکھنے والوں کے لیے سب سے بہترین مشورہ یہ ہے کہ اپنی ذات کو اپنی ڈائری تک محدود رکھیں، مضمون لکھیں تو صرف قاری کے لیے، اپنے لیے نہیں۔

    قلم سے قاری تک:

    بہترین تصنیف کے لیے یعنزگھسے پٹے اصول و ضوابط کی پیروی کرنے کی ضرورت نہیںبلکہ اکثر مضمون نگاراپنی تصنیف میں تازگی پیدا کرنے کے لیے قواعد و ضوابط سے بغاوت کرتے نظر آتے ہیں۔اپنی راہ خود تلاش کرنے کے لیے ضروری ہے کہ دوسروں کے نقشِ قدم پر نہ چلا جائے۔لیکن بڑے سے بڑا مصنف بھی مطالعہ کی شرط سے آزاد نہیں۔اگر آپ کو دوسروں کی تصانیف غور سے پڑھنے کی عادت نہیں تو یہ عادت ڈال لیجیے۔جب آپ کسی اور کی تصنیف میں کسی ایسے حصے سے گزریں جو آپ کو اپنی گرفت میں لے لے تو رکیے اور اس مخصوص حصے کو دوبارہ ٹھہر ٹھہر کر پڑھیے۔اس بات کا عمیق جائزہ لیجیے کہ مصنف نے ایسی کون سی تکنیک استعمال کی ہے جس نے اس حصے کو اس قدر متاثر کن بنا دیا ہے۔صرف یہ مت دیکھیے کہ کیا لکھا گیا ہے، یہ بھی دیکھیے کہ کیا نہیں لکھا گیا ۔

    اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ اگرآپ کو کوئی تحریر پڑھتے وقت روکھی پھیکی اور بے سروپا لگے تو رکیے اور اس حصے کو بغور دوبارہ پڑھیے اور دیکھیے کہ کب ، کہاںاور کیوں یہ تحریر ایک بری تحریر کے خانے میں جا کھڑی ہوئی۔دوسرے مصنفین کے کامیاب تجربوں کی نشاندہی کر لینے سے آپ کے اپنے ترکش میں کئی تیروں کا اضافہ ہو جاتا ہے جنہیں آپ موقع آنے پر اپنی تحریر میں استعمال کرسکتے ہیں۔اسی طرح جب آپ کسی اور کے قلم کو ٹھوکر کھاتے دیکھتے ہیں تو اپنے قلم کی راہ بدل لیتے ہیں۔ دوسروں کی تحریر میں خامیوں کی نشاندہی آپ کو اپنی تحریروں میں غلطیوں سے بچنے کا موقع دیتی ہے۔

    مقام کا تعین کیجیے:

    دنیا کے بہت سے شہروں میں ایسی بسیں چلتی ہیں جن کی پیشانی پر ایک سائن لگا ہوتا ہے جس پر ان تمام مقامات کے نام جلی الفاظ میں لکھے ہوتے ہیںجہاں وہ بسیں رکتی ہیں۔ مثلاً لاہور میں آپ نے ایسی بسیں دیکھی ہوں گی جن پر ریلوے سٹیشن، گڑھی شاہو،مال روڈ لکھا دکھائی دیتا ہے۔ ان بسوں میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو تسلی رہتی ہے کہ یہ بس فلاں فلاں مقام پر جائے گی اور وہاں یا اس کے آگے پیچھے اپنی مرضی کے مقام تک پہنچ جائیں گے۔

    ان بسوں کی مثال اس لیے کہ اس ہی طرح ایک مضمون پر بھی اپنے مقام کے واضح تعین کا سائن بورڈ لگا ہونا چاہئے۔پڑھنے والوں کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ یہ مضمون کس موضوع پر لکھا گیا ہے اور اپنی منزل تک پہنچتے پہنچتے اس میں کون کون سے مقامات آئیں گے۔یہ نہ ہو کہ قاری کا وہی حال ہوجو ایک انجان منزل کی طرف رواں دواں بس میں بیٹھے مسافر کا ہو سکتا ہے۔

    آئیے ایک مثال دیکھتے ہیں۔ رچرڈ روڈریگز اپنے متاثر کن مضمون Mr. Secrets کی ابتدا ء یوں کرتے ہیں:

    ”سات سال قبل جب میری آپ بیتی کا پہلا مضمون شائع ہوا تو فوراً ہی میری والدہ نے مجھے خط لکھااور مجھے ہدایت کی کہ آئندہ میں خاندانی معاملات کا ڈھنڈورا پیٹنے سے باز رہوں۔’آئندہ کسی اور چیز کے بارے میں لکھنا۔ خاندانی زندگی ہمارا نجی معاملہ ہے۔’ اور یہ بھی کہ ‘ بھلا غیروںکو یہ بتانے کی کیا ضرورت ہے کہ تم خود کو اپنوں سے کٹا ہوا محسوس کرتے ہو؟’  آج میں اپنی میز پر ان کاغذات کے پلندوں میں گھرا بیٹھا ہوںاور اس سوال کا جواب تلاش کر رہاہوں۔”

    آپ پوچھیں گے اس پیراگراف میں مقامات دکھانے والا سائن بورڈ کدھر ہے۔آئیے،بنظر غائر روڈریگز کی تحریرکا جائزہ لیں۔اس تحریر میں رائٹر نے:

    )مرکزی کردار متعارف کروا دیے ہیںجن کے گرد یہ مضمون گھومتا ہے۔ یعنی اس کی والدہ اور وہ خود۔

    ) یہ واضح کر دیا کہ لکھنا اس کی زندگی کا اہم ترین مقصد ہے۔

    )وہ بنیادی سوال پیش کر دیا جس پر یہ مضمون لکھا گیا ہے: کیا چیز ہے جو اسے اجنبیوں کو اپنے ذاتی خلفشار میں شریک کرنے پر مجبور کرتی ہے؟

     

    دو نسلوں کے درمیان رسہ کشی، مصنف کی سماجی تنہائی اور یہ سوال کہ کیا چیز ذاتی ہے اور کیا عوامی۔۔۔یہ وہ عناصر ہیں جو اس مضمون کے مرکزی خیال کا احاطہ کرتے ہیں۔

    ہم اس کو یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ مضمون ایک بس ہے۔ اس کا ہر پیراگراف ایک پڑائو ہے اور مصنف نے ہمارے ہاتھ میں وہ نقشہ تھما دیا ہے جس کے مطابق چلتے چلتے ہم اس سفر سے بھرپور لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔

    فاصلہ رکھیے:

    اپنے مضمون کو ذاتیات کی حدود سے نکال کرپبلک میں لانے کے لیے جو سب سے اہم کام آپ کو کرنا ہے وہ یہ ہے کہ اپنی ذات سے نکل کر پرے ہٹ کر کھڑے ہو جائیں۔اور اپنے تجربات کا بنظرِ غور ، ایک تیسرے شخص کی حیثیت سے جائزہ لیں۔

    یہ فاصلہ کیوں ضروری ہے؟اس لیے کہ جب تک مصنف اپنی ذات کا قیدی رہتا ہے، اس کا مضمون اس کے بارے میں بہت سے باتیں چھپا جاتا ہے۔اپنی زندگی کو دور سے دیکھتا ہوا مصنف سب کچھ کھول کر رکھ دیتا ہے۔اور سب کچھ کا مطلب ہے، برا بھلا سب کچھ۔

    انسانی فطرت کی سب سے بڑی سچائی یہ ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی پرفیکٹ نہیں۔ہم نقائص کا مجموعہ ہیں۔ہماری فطرت میں اونچ بھی ہے، نیچ بھی،بھلائی بھی، برائی بھی۔ اور جوں ہی آپ اپنے آپ کو ایک چپٹا سا ، یک رخی کردار بنا کر پیش کرتے ہیں( جو ہر وقت عظمت کے مینار پر چڑھا ہے، یا جو صرف خامیوں کا مجموعہ ہے، جو یا تو مکمل فرشتہ ہے یا پورا شیطان)۔۔قاری کا اعتماد آپ پر سے اٹھ جاتا ہے۔وہ آپ کی لکھی ہوئی ہر بات کو شک کی نظرسے دیکھنے لگتا ہے۔اگر وہ اپنے اس تجزیے کو الفاظ میں نہ بھی ڈال سکے، تب بھی وہ اپنے اندر یہ رائے قائم کر لیتا ہے کہ آپ نے اپنا جو پرفیکٹ خاکہ پیش کیا ہے وہ ضرور غلط ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں آپ قاری کی دلچسپی کھو بیٹھتے ہیں۔

    گہرائی میں جا کر دیکھئے:

    دنیا کے بہترین لکھاری کبھی بھی معاملات کو سطحی طور پر دیکھنے کے عادی نہیں ہوتے۔وہ جس موضوع پر بھی لکھتے ہیں، ان کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ اس کی اوپری سطح کو اٹھا کر دیکھیں کہ اس کے نیچے کون سے سوالات یا آئیڈیاز موجود ہیں۔ یہاں مثال کے طور پر میں ایک مضمون کا حوالہ ملاحظہ کیجیے:

    Floyd Skloot ایک مشہور مصنف ہیں جنہوں نے Silence the Pianos  کے عنوان سے ایک شاہکار مضمون لکھا ہے۔اس کا ابتدائیہ کچھ اس طرح ہے:

    ”آج سے پورے ایک سال پہلے، آج کے دن، میری والدہ نے کھانا پینا چھوڑ دیا۔ان کی عمر اس وقت چھیانوے (٩٦) سال تھی اور وہ dementia  کی اس سطح پر پہنچ چکی تھیں جہاں انہیں سب کچھ بھول گیا تھا۔وہ کہاں تھیں؟ میں کون تھا؟اور وہ خود کون تھیں، انہیں کچھ یاد نہ تھا۔اپنے وسیع ماضی سے اگر ان کو کچھ یاد تھا تو بس موجودہ لمحے سے قبل کے کچھ سیکنڈز۔”

    کسی محبوب ہستی کی بیماری کا دکھی یا والدین کی دائمی جدائی کا صدمہ ان چند موضوعات میں سے ایک ہیں جن پر سب سے زیادہ لکھا جاتا ہے۔اور اس کی وجہ بھی ہے۔یہ وہ واقعات ہیں جو ہمیں اندر تک جھنجھوڑکر رکھ دیتے ہیں۔لیکن عام طور پر ہوتا یہ ہے کہ جب مصنف ان اندوہ گیں واقعات پر قلم اٹھاتا ہے تو اس کا زیادہ زور یہ ثابت کرنے پر ہوتا ہے کہ جو کچھ بھی اس کے ساتھ ہوا ، وہ بڑی نا انصافی تھی یا یہ کہ جو محبوب ہستی اس سے جدا ہو گئی، اس کی کمی نے زندگی میں کبھی نہ پر ہونے والا خلا بھر دیا ہے۔

    کیا یہ جذبات سچے ہیں؟

    جی ہاں۔

    کیا قاری کو ان میںکوئی دلچسپی ہے؟

    جی نہیں۔

    مسئلہ یہ ہے کہ کئی چیزیں ایسی ہیں جوقاری پہلے سے جانتا ہے۔ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کسی محبوب ہستی کی بیماری یا موت کے ہاتھوں جدائی ایک گہرا گھائو ہے جو بھرتے بھرتے ہی بھرتا ہے۔اور یہ کہ جب ایسا کوئی صدمہ پہنچتا ہے تو اپنا آپ کس قدر مظلوم لگتا ہے اور یہ بھی کہ جب اس قسم کا کوئی واقعہ ہوتا ہے تو کتنے ہی پچھتاووں کے ناگ کس شدت سے ڈسنے لگتے ہیں۔

    جب یہ واقعات اور ان کے رد عمل ہماری زندگیوں میں پیش آتے ہیں تو یہ ہمیں پوری زندگی پر محیط نظر آتے ہیںاور ان کے بارے میں لکھنا ہمیں ایک عظیم مقصد کی طرح لگتا ہے۔اسی وجہ سے ہمارے لیے یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ ہمارے نقصانِ عظیم کا اس قاری پر کوئی اثر نہیں ہوتا (یا بہت کم ہوتا ہے)، جو نہ تو ہماری محبوب ہستی کو جانتا تھا، نہ ہی ہم سے واقف ہے۔جس قاری نے زندگی میں کبھی ایسا صدمہ نہیں دیکھا، وہ سرے سے انہیں سمجھنے ہی سے قاصر ہے۔

    دوسرے لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہماری زندگی کے کئی لمحات ہمارے لیے اس یاد کی مانند ہوتے ہیںجسے ہم بار بار پلٹ کر دیکھنا چاہتے ہیں اور جن کے بارے میں لکھنا ہمارے لیے بڑا فرحت بخش تجربہ ہوتا ہے۔مگر یہی یادگار لمحات جب تحریر کی صورت میں ڈھل کر قاری کے سامنے پہنچتے ہیں تو اس کے لیے چند بے روح لفظوں کے سوا کچھ نہیں ہوتے۔

    اصل کامیابی:

    کسی بھی رائٹر کے لیے یاد رکھنے کا سب سے اہم سبق یہ ہے کہ مصنف کو اپنے ذاتی خیالات سے باہر قدم رکھنا پڑے گا، اور اپنے قلم کو اس قاری کی طرف متوجہ کرنا پڑے گاجو حقیقی زندگی کا ایک جیتا جاگتا کردار ہے۔یہ قاری ہمیں نہیں جانتا ، نہ ہی وہ ہمیں پڑھنے پر مجبور ہے۔اگرچہ زیادہ تر قاری پڑھے لکھے، حساس اور کشادہ دل ہوتے ہیں لیکن انہیں ہماری زندگیوں کے غیر دلچسپ مسائل (یا خوشیوں)میں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔

    یہ ہے وہ پبلک جسے آپ اپنی تحریر کے ذریعے اپنا آپ پیش کر دیتے ہیں۔

    اپنی ذات کا اظہار ایک مصنف کے کیرئر کا نقطہ ء آغازتو ہو سکتا ہے، نقطہ ء انجام کبھی نہیں۔اپنے قاری کے دل تک پہنچنے کا صرف ایک طریقہ ہے، اور وہ یہ کہ آپ کی توجہ صرف اور صرف اپنے پڑھنے والوں پر ہو، جنہیں آپ تو نہیں جانتے لیکن وہ آپ کے لکھے ہوئے لفظوں سے آپ کے اخلاص اور لگن کا اندازہ کر سکتے ہیں۔اخلاص ہی وہ چیز ہے جو آپ کے قلم سے ایک ایسا شاہکار لکھواتا ہے جو آپ کے پڑھنے والوں کے لیے ایک قابلِ قدر تجربہ ہے۔اور یہی اس کامیابی کی مکمل تعریف ہے جسے حاصل کرنے کی تمنا لیے ایک مصنف اپنا دل کھول کر کاغذ پر رکھ دیتا ہے۔

  •  نان فکشن کی بہترین تکنیک، ان پانچ ٹپس سے ۔ نان فکشن ۔ کمرشل رائٹنگ

     

     نان فکشن کی بہترین تکنیک، ان پانچ ٹپس سے

     

    کہنے کے تو افسانوی اور غیر افسانوی تحریریں بنیادی طور پر ہی دو الگ چیزیں ہیں۔ پہلی صنف کی خواہش تفریح پہنچانا ہے ، جب کہ دوسری صنف علم میں اضافے کے لیے ہے۔ 

    لیکن دونوں اصناف پر ایک گہری نظر ان میں مماثلت کو نمایاں کرتی ہے۔ فکشن یوں تو ہے ہی مکمل تخیل،لیکن اس تخیلاتی دنیا کے اصول حقیقت پر مبنی ہونے چاہیے۔ بالکل اسی طرح نان فکشن میں جھوٹ اور تخیل کی گنجائش نہیں، لیکن جب تک آپ اپنے حقائق اور سچائی بیان کرتے ہوئے کہانی کاری کی کچھ نہ کچھ تکنیک استعمال نہیں کریں گے، آپ کی غیر افسانوی تحریر غیر متاثر کن اور بو ر رہے گی۔ 

    اس کی بنیادی وجہ بس ایک ہے: انسان کہانیاں سننے کا شیدائی ہے۔ 

     

    اس آرٹیکل میں ہم آپ کو ایسے پانچ گر دینے والے ہیں جنہیں کام میں لا کر آپ اپنی نان فکشن تحریروں کو دلچسپ تر اور پر اثر بنا سکتے ہیں۔

     

    ایک یادگار کہانی لکھیں:

    تاریخ کی ابتداء سے ہی کہانی سے متاثر ہونا انسان کی نفسیات رہا ہے۔ ہم اپنے ساتھ رہنے والے لوگوں کو مختلف قصے کہانیاں سناتے ہیں، رات کو ہم اپنے بچوں کو کہانیاں سنا کر انہیں بہلاتے ہیں اور ٹی۔ وی پر پُر تجسس پروگراموں کا مزہ لیتے ہیں۔

    ہمیں کہانیاں کسی بھی تمثیلی قواعد، کلیوں اور تصورات کی نسبت زیادہ بہتر یاد رہتی ہیں۔ آپ کے مضامین اور کہانیاں اور بھی متاثر کن ہوسکتے ہیں اگر آپ ان میں چھوٹی چھوٹی سی مثالیں، تجربات اور موازنے شامل کریں۔ اس سے نہ صرف آپ کی تحریر میں اثر پیدا ہوگا بلکہ آپ کی تحریر قارئین ذاتی تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے بھی پڑھ سکیں گے۔

     

    مثال کے طور پر:

    اپنے دلائل کو کہانی/ مثالوں کے ساتھ پر اثر بنائیں۔ جس طرح کہ آپ کسی ایسے ایتھلیٹ کی کہانی سنائیں جس نے اپنی غذا میں چند بنیادی تبدیلیاں متعارف کروائیں اور اس کی پرفارمنس پر نہایت اچھے اثرات مرتب ہوئے۔ آپ کی طرف سے کہے گئے محض چند اضافی کلمات آپ کی تحریر کو قارئین کے لیے بے حد دل چسپ بنا سکتے ہیں۔

     

    قارئین کی مناسبت سے تحریر لکھیں:

    اچھا، غیر معمولی نوعیت کا افسانہ قارئین کو شروع سے ہی اپنے حصار میں جکڑ لیتا ہے اور آخر تک اس میں سے نکلنے نہیں دیتا۔

    تو ایسا ہی غیر افسانوی طرزِ تحریر میں کیوں نہیں کیا جاسکتا؟

    اگر آپ کا آرٹیکل آن لائن ہے، تو اس کا مقابلہ ہزاروں بلکہ لاکھوں آرٹیکلز سے ہے۔ آپ کا قاری فوری طور پر ان لاکھوں میں سے کسی ایک کو پڑھنے کے لیے منتخب کر لیتا ہے۔ ایسا کرنا نہ صرف آسان ہے ، مفت ہے بلکہ آج کل ایک بہت بڑی حقیقت بن چکا ہے۔ ایک ایسی دنیا میں ناظرین اور قارئین کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لینا ہی سب سے زیادہ اہم ہے۔

    کیا آپ کا پہلا جملہ، قاری کو دوسرا جملہ پڑھنے پر مجبور کرتاہے؟اور کیا آپ کا دوسرا جملہ تیسرے جملے کی طرف راغب کرتا ہے؟ اپنے آرٹیکل کو بہتر سے بہترین طریقے سے آغاز دینے کے لیے ہر ممکن آپشن پر غور کریں۔ایک اچھی حکمتِ عملی یہ ہے کہ کہانی ذاتی یا تجربات یا تاریخ کے کسی دلچسپ واقعے سے شروع کریں۔ 

    اوپر بیان کی گئی تجاویز پر ایک نظر ڈالیں اور اس بات کو ہمیشہ یقینی بنائیں کہ آپ کے قاری کے اندر یہ تجسس برقرار رہے کہ آگے کیا ہے۔

    آپ کو کوئی ایسا سوال بھی اپنے قارئین سے کرنا چاہئے جو انہیں بھی متاثر کرسکے۔ اگر آپ ایک آرٹیکل لکھ رہے ہیں جس کا عنوان ہے ”رقم کیسے بچائی جائے” تو اسے ایسے شروع کریں۔

    ”کیا یہ الجھن کا باعث نہیں کہ ہر مہینے کے آخر میں آپ کی جیب خالی ہوتی ہے۔” اس طرح آپ اکثر قارئین کے دل کی حالت بیان کرکے انہیں اپنی طرف متوجہ کرلیتے ہیں۔ آپ اپنی بات کسی دل چسپ اور مزاحیہ خیال سے بھی شروع کرسکتے ہیں۔ اگر آپ چاند کے مراحل پر بات کرنا چاہتے ہیں تو اپنی تحریر یوں شروع کرسکتے ہیں۔

    ”کیا آپ جانتے ہیں کہ چاند پر آپ کا وزن، زمین پر آپ کے وزن کی تناسب صرف 16.5% ہوتا ہے۔”

    یہ تراکیب استعمال کرکے، آپ اپنے قائین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرسکتے ہیں۔

     

    جذباتی زبان کا انتخاب کریں:

    بعض ایسی غیر افسانوی تحاریر جو کہ زیادہ مقبول نہیں ہوپاتیں، ان میں غیر ضروری حقائق جابہ جا شامل کئے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے لکھاری ایک خاص قسم کی پیچیدہ زبان کا انتخاب کرتے ہیں تاکہ وہ ماہر اور معتبر لکھاری لگ سکیں۔

    تریاق:

    زیادہ منظر کشی کا استعمال کریں، زیادہ جذبائیت اور شخصی جذبائیت کا استعمال کریں۔ استعارات کا استعمال بھی آپ کی تحریر کو اور نمایاں کرسکتا ہے

    آپ کے خیالات جینے کم تمثیلی ہوں گے، اتنا ہی بہتر ہے۔ آپ کا کردار اگر لوگ دیکھ سکتے ہیں، چھو سکتے ہیں تو لوگوں کے لیے آپ کا کردار زیادہ قریب تر محسوس ہوگا۔ اس طرح لوگ نہ صرف آپ کی تحریر پڑھ سکیں گے بلکہ محسوس بھی کرسکیں گے۔

     

    سادہ زبان استعمال کیجئے:

    کیا آپ نے کبھی کوئی تحریر صرف اس لیے چھوڑی ہے کہ اسے پڑھتے ہوئے آپ بور ہوگئے ہوں؟

    اگر آپ کے پاس تحریر کرنے کے لیے کچھ اچھا ہے تو اسے خفیہ نہ رکھیے۔ بلکہ اپنے قارئین کے لیے اپنے پاس موجود مواد کو جتنا ہوسکے، آسان کرکے پیش کریں۔ کیوں کہ جتنی آسانی اور سہولت آپ اپنے قاری کو فراہم کریں گے، وہ اتنا ہی آپ کی تحریر سے لطف اندوز ہوسکے گا۔

    اپنے آئیڈیاز کو مختصراً اور جامع لکھیں۔ لیکن یہ جملے قاری کو بہ آسانی سمجھ آنے چاہئیں۔ بہت سے عمدہ ناولز بہت آسان زبان میں لکھے گئے ہیں۔ کہانی زبان و بیان کی وجہ سے وہ قارئین میں مقبول ہوجاتے ہیں۔ 

    Charles Bukowski کا کوئی ناول لیں۔آپ کو نہیں لگتا کہ اس کے جملے آپ کو متاثر کررہے ہیں؟ ایسا اس لیے ہے کیوں کہ Bukowski کی تحاریر کی خاصیت ہے کہ وہ کردار اور جملوں کی سادگی اور آسانی میں قاری کو جکڑ لیتا ہے۔ لہٰذا اپنی تحریر کو جتنا ممکن ہوسکے، سادہ زبان میں لکھیں۔ لیکن یہ خیال بھی رکھیں کہ آپ اپنا خیال واضح طور پر پیش کرسکیں۔

     

    قارئین کو حیران کریں:

    ایک اچھا افسانہ پر ہر سطح پر حیران کن عناصر سے بھرا ہوتا ہے۔ لیکن غیر افسانوی طرزِ تحریر عموماً متوقع اور بورنگ ہوتا ہے۔ لہٰذا اس میں کہیں کہیں، جہاں ممکن ہو”twist” ضرور شامل کریں۔ یہ چیز آپ کے قارئین کی دل چسپی کو اور بڑھا دیتی ہے۔

    کبھی آپ نے سوچا ہے کہ آپ کو ڈرامہ کیوں پسند آتے ہیں؟ یا وہ تحفے جو آپ کو اچھے سے لفافہ میں پیک کرکے دیئے جائیں، وہ کیوں آپ کا دل لبھاتے ہیں؟ کیوں کہ یہ وہ چیزیں ہوتی ہیں جن کا ہم انتظار کرتے ہیں۔

    تحریر کے دوران اپنے قارئین سے کوئی سوال کریں اور پھر غیر متوقع جواب کے ذریعے انہیں حیران کریں۔ مثال کے طور پر، اگر آپ روبوٹس کے متعلق کوئی آرٹیکل پڑھ رہے ہیں تو آپ قارئین سے پوچھ سکتے ہیں کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ روبوٹس بنانے کا آئیڈیا سب سے پہلے کس کے ذہن آیا تھا؟

    کیا آپ کوئی جملہ ایسا بھی لکھ سکتے ہیں جو آپ کے قارئین کے ذہن میں ایک تضاد پیدا کردے۔ لیکن بعد میں آپ خود اس کا حل بھی پیش کردیں۔

    ایک دم سے کوئی لطیفہ یا موازنہ بھی آپ کے قارئین کی دل چسپی باندھے رکھتے ہیں۔

    آخر میں، یہ آپ کے اپنے اوپر ہے کہ آپ اپنے آپ کو ان تراکیب پر عمل پیرا ہوتے ہوئے کس طرح ایک اچھے غیر افسانہ نگار بن سکتے ہیں۔

    یاد رکھیں! اچھا لکھنے کے لیے پڑھنے کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ تو جتنا ہوسکے عظیم تحاریر پڑھئے۔ جتنے بڑے لکھاریوں کو پڑھیں گے اتنا ہی آپ کی تحریر میں نکھار آئے گا۔

    ٭…٭…٭

  • ”پہلی کتاب سے بہترsequel لکھنے کا راز” ۔ فکشن ۔ کمرشل رائٹنگ

    ”پہلی کتاب سے بہترsequel لکھنے کا راز”

    آج کل تو ہر چیز کا Sequel بنایا جارہا ہے۔ ایک نظریے سے دیکھا جائے تو اس کا مطلب کہانی کو ایک جدید شکل دینا ہے۔ آج کی کہانی بالکل مختلف ہے۔ اب لوگوں کو sequel کا پہلی کتاب سے زیادہ انتظار ہوتا ہے اور کیوں نہ ہو آخر سب کا دل چاہتا ہے کہ وہ اپنے پسندیدہ کرداروں سے دوبارہ ملاقات کریں، دوبارہ اُسی رونگٹے کھڑے کردینے والی سنسنی کو محسوس کریں ، اور اپنی پسندیدہ کہانی کو نئے موڑ لیتے دیکھیں۔ اور اگر ایک لکھاری کی نظر سے دیکھا جائے تو sequel بہت منافع بخش بھی ثابت ہوسکتا ہے۔ اگر آپ کی پہلی کتاب کو پسند کیا گیا ہے تو قوی امکان ہے کہ آپ کی دوسری کتاب کو بھی سراہا جائے گا۔لیکن ایک ایسا sequel جو پہلی کتاب سے زیادہ داد سمیٹے، اسے لکھنے سے پہلے خود سے سوال چند سوال کیجئے۔

    ١۔ کیا آپ خود کو ہرا سکتے ہیں؟

    کہانی کا دوسرا حصہ لکھتے ہوئے یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ کیا ہم دوسرے حصے کو پہلے حصے سے بہتر بناسکتے ہیں۔ لکھاری ہونے کے ناطے یہ ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم دوسری کتاب کو پہلی سے بہتر بنائیں۔ اگر آپ یہ نہیں کرسکتے تو پھر آپ کے پاس اس کہانی کا دوسرا حصہ لکھنے کا کوئی جواز نہیں۔

    اس سوال میں خود کود ہرانے سے مراد ایک بہتر خیال سے نئی کتاب لکھنا ہے۔ کتاب کا دوسرا حصہ بنانے کیلئے یہ ضروری ہے کہ ہم ایک نئے اور عمدہ موضوع کا چناؤ کریں بجائے اس کے کہ پچھلے خیال کو بڑا بنانے کی کوشش کریں۔

    اچھے sequel کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم پرانے کرداروں کو لے کر ایک نئی کہانی تشکیل دیں۔کہانی کے sequel کا مطلب یہ نہیں کے پہلے حصے کی کہانی کو اُنہیں کرداروں کے ساتھ لمبا کردیا جائے بلکہ sequel کا مطلب یہ ہے کہ ُانہیں کرداروں کو ایک نئے احاطے کے اندر لے جاکر ایک نئی کہانی تشکیل کی جائے، کوئی نیا ایڈونچر، کوئی راز جو پہلی مرتبہ آنکھوں سے اوجھل ہو گیا، کچھ ایسا جو ادھورا رہ گیا۔

    ٢۔کیا آپ کی کہانی دوسرے حصے کے لیے کافی ہے؟

    آپ کو اس بات کا بہ خوبی اندازہ ہونا چاہیے کہ آپ کے ذہن میں جو کہانی ہے ، کیا وہ ایک مکمل کہانی ہے؟ ایک پوری کتاب کے لیے کافی ہو گی؟ آپ کی اس بات کی مکمل خبر ہونی چاہیے کہ صرف کرداروں کو نئی situations میں ڈال دینا کافی نہیں ہو گا۔ بلکہ آپ ایک کے پاس ایک مضبوط پلاٹ بھی ہو نا چاہیے تا کہ آپ کی دوسری کتاب یا دوسری فلم بھی پہلی جتنی شہرت اور مقبولیت سمیٹ سکے۔

    ٣۔آپ Sequel لکھ کیوں رہے ہیں؟

    Sequel لکھنے سے پہلے آپ کو اپنے اندر جھانک کریہ جان لینا چاہیے کہ آپ sequel لکھ کیوں رہے ہیں۔ ذیل میں ہم آپ کو چند نکات دے رہے ہیں جن کے بارے میں سوچ بچار آپ کو اس سوال کا جواب دینے میں آسانی مہیا کرے گی۔

    منافع: یہ درست ہے کہsequelsعام طور پر اکیلی کہانیوں سے زیادہ منافع بخش ہوتے ہیں کیوں کہ آپ کے فینز پہلے سے ہی کہانی کی بنیاد اور کرداروں وغیرہ سے مانوس ہوتے ہیں۔ وہ پہلے سے ہی کتاب کا sequelپڑھنے کے انتظار میں ہوتے ہیں تو دوسرا حصہ لکھ کر آپ یقینا آسانی سے پیسے کما سکتے ہیں۔ لیکن پیسہ وہ واحد وجہ نہیں ہونی چاہیے جس کی بناء پر آپ اپنی کہانی کا دوسراحصہ لکھنے کا فیصلہ کریں۔ فکشن اور فلموں کی دنیا ایسی کئی بری مثالوں سے بھری پڑی ہیں جن میں صرف پیسے کے لیے sequelsلکھے گئے اور وہ شدید خسارے کا شکار ہوئے۔ 

    دباؤ: کئیدفع ایسا بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ ہم بھی بھیڑ چال کا حصہ بن جاتے ہیں۔ کہ اگر سب sequel لکھ رہے ہیں تو میں کیوں نہیں۔ تو ایک لکھاری کے لیے یہ بالکل غلط ہے۔ادب کی چند بہترین مثالیں اٹھا کر دیکھ لیں۔ کسی بھی کہانی کا دوسرا حصہ نہیں لکھا گیا: راجہ گدھ، بستی، وغیرہ۔

    پرانے کرداروں سے محبت: کئی دفعہ اپنے پسندیدہ کرداروں کو الوداع کہنابہت کٹھن ثابت ہوتا ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ کہانی کو بغیر کسی وجہ کے لمبا کیا جائے۔یا اس کادوسرا حصہ لکھ دیا جائے۔ کرداروں سے اپنی محبت کا اظہار اسی کہانی کو بار بار پڑھ کے بھی کیا جا سکتا ہے۔ 

    کہانی کا دوسرا حصہ لکھنے کی چند صحیح وجوہات:

    کہانی اور کرداروں سے انس: دوسرا حصہ لکھنے کی ایک بہتر وجہ اصل کہانی اور کرداروں سے عشق ہے۔ کچھ کردار اتنے مضبوط اور کہانیاں اتنی دلچسپ ہوتی ہیں کہ ان کا حق ہوتا ہے کہ ان پر بار بار لکھا جائے۔ اگر آپ ایسے کردار تخلیق کر چکے ہیں تو sequelضرور لکھیے۔ 

    پڑھنے والوں کی دلچسپی :ایک لکھاری ایک بادشاہ ہوتا ہے اور پڑھنے والے اس کی رعایا۔ تو ایک بادشاہ ہونے کے ناطے ایک لکھاری کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنی رعایا یعنی پڑھنے والوں کا خیال کرے اور اگر وہ چاہتے ہیں کہ کہانی کا دوسرا حصہ لکھا جائے تو اس کا مطلب ہے کہ کہانی کو مزید آگے بڑھانے کی گنجائش ہے۔لیکن اس کا فیصلہ صرف اسی ایک وجہ پر نہ کریں تو بہتر ہے۔ 

    نئے اور دلچسپ خیالات:اپنی کہانی کو جاری رکھنے کی سب سے بہترین اور دانش مندانہ وجہ یہ ہی ہے۔ کہانی کے دوسرے حصے کو کھڑا کرنے کے لیے سب سے اہم چیز ایک نیا خیال ہے جو ایک ستون کی مانند ہے اور جس پر کہانی انحصار کرسکتی ہے۔اگر آپ کے پاس کچھ عمدہ نئے خیالات ہیں تو کاغذ قلم سنبھال لیجیے۔ 

    کہانی کا دوسرا حصہ کس بارے میں ہونا چاہیے

    ایک بہترین Sequel کے لیے یہ ضروری ہے کہ پرانی کہانی کے پلّو سے پیچھا چھڑوا کر، اس کے اختتام کو مدنظر رکھ کر نئی کہانی لکھی جائے۔

    کچھ کہانیاں اختتام کے وقت ایک نئی کہانی کی گنجائش چھوڑ دیتی ہیں۔ تو ایک لکھاری کو اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور کہانی کے دوسرے حصے کو شروع کرنی چاہیے۔ مگر یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ دوسرے حصے کی شروعات پہلے حصے سے کافی مختلف ہو۔ ایک لکھاری کا یہ بھی فرض بنتا ہے کہ وہ کہانی کے پہلے حصے میں اٹھائے گئے سوالات کا دوسرے حصے میں جواب دے۔

    آپ پہلی کتاب سے ہی لوگوں کے دل میں اپنا گھر بنا چکے ہوتے ہیں تو آپ کے لیے کتاب کے دوسرے حصے کو کامیاب بنانا قدرے آسان ہوجاتا ہے۔

    مگر سچ یہ ہے کہ Sequel کے ناکام ہونے کا خطرہ بھی اتنا ہی بڑھ جاتا ہے۔ لوگ آپ سے بہت پختہ امیدیں لگا بیٹھتے ہیں اور لوگوں کی امیدوں پر پورا اترنا کوئی آسان کام نہیں۔

    لوگ جتنا آپ کی پہلی کتاب کو پسند کرتے ہیں اتنی ہی شدت سے آپ کی اگلی کتاب کا انتظار کرتے ہیں اور یہ انتظار اگر ایک بہترین کتاب کی صورت میں پورا نہ ہو تو تنقید کے ایک بڑے طوفان کا سامنا کرنے کے لیے آپ کو تیار رہنا پڑے گا۔ 

    ٭…٭…٭

  • تحریری سفر کا آغاز ناول سے کرنے سے گریز کریں ۔ فکشن ۔ کمرشل رائٹنگ

    تحریری سفر کا آغاز ناول سے کرنے سے گریز کریں ۔ فکشن ۔ کمرشل رائٹنگ

    تحریری سفر کا آغاز ناول سے کرنے سے گریز کریں

    کسی بھی نئے لکھاری کے لیے سب سے برا مشورہ یہ ہو سکتا ہے کہ اسے ناول لکھنے کے لیے قائل کیا جائے۔ ماہرین کی نظر میں نئے لکھاریوں کو کم سے کم ایک سال افسانچے اور افسانے لکھنے چاہیے۔ اس کی وجہ کیا ہے، ہم آپ کو بتاتے ہیں۔

    (1) افسانہ بمقابلہ ناول

    چھوٹی کہانیاں لکھنے سے مصنف اپنے آپ پر تجربات کرسکتا ہے اپنے ہنر کو پرکھ سکتا ہے۔ ابتدائی دور میں بہت کم ہی لکھاریوں کا اپنا رنگ ہوتا ہے۔۔۔ چھوٹی کہانیوں میں آپ خود کو تلاش کرسکتے ہیں۔ اپنا سٹائل پکا کرسکتے ہیں۔ مصنف اپنے مخصوص انداز کا انتخاب کرسکتا ہے۔ شروع میں آپ اکثر اپنے پسندیدہ مصنف جیسا لکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور آپ خود کہیں کھوجاتے ہیں۔اس لیے بہتر ہے کہ یہ غلطیاں ناول جیسے بڑے پیمانے پر نہ کی جائیں۔ 

    (2) مختلف قسم کے تجربات

    اگر کچھ طلباء مل کر ایک ناول لکھ رہے ہیں۔ ہوسکتا ہے وہ اپنے پہلے سال میں دو ناول لکھ لیں اور اس طرح وہ لکھنے کے صرف دو طریقوں سے روشناسی حاصل کرسکتے ہیں۔ لیکن اگر وہ شارٹ سٹوریز لکھیں گے تو ہر ہفتے لکھائی کی ایک صنف سے ملاقات کرسکتے ہیں۔ تھوڑے وقت میں وہ زیادہ تجربہ حاصل کرسکتے ہیں۔

    (3) کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی عادت

    چھوٹی کہانیوں سے کام کا آغاز کرنے کا یہ فائدہ ہے کہ آپ کو کام مکمل کرنے کی عادت پڑ جاتی ہے۔ کیوں کہ 2000 الفاظ کی کہانی کو مکمل کرنا ناول لکھنے کی نسبت بہت آسان کام ہے۔

    (4) جلد اور بہترین آرائ

    چوں کہ چھوٹی کہانی مکمل انفرادیت رکھتی ہے اور قاری کے لیے اسے پڑھنا اوراس پر رائے دینا آسان ہوتا ہے تو آپ بہت جلد اپنی خوبیاں اور خامیاں جان سکتے ہیں اور ان پر کام کر سکتے ہیں۔

    (5) اساتذہ آپ کو آسانی سے سکھا سکتے ہیں

    آپ کے جو جو حصے کمزور ہیں آپ کے اساتذہ آسانی سے ان جگہوں کے لیے کہانیاں مرتب کرسکتے ہیں جب کہ ناول لکھتے ہوئے سکھانا بہت مشکل ہوتا ہے۔

    (6) بامعنی تنقید

    آپ چھوٹی کہانیاں لکھ کر اپنے دوستوں سے ان کی کہانیاں پڑھنے کے بدلے اپنی پڑھوا سکتے ہیں۔ اس طرح ایک دوسرے کی کہانیوں پر بامعنی تنقید کرکے ایک دوسرے کو بہتر بنا سکتے ہیں۔

    (7) نظم و ضبط

    چھوٹی کہانیاں لکھتے ہوئے آپ بڑی سے بڑی بات کم سے کم الفاظ میں لکھنا سیکھتے ہیں اور یہ ہنر بعد میں آپ کو ایک اچھا ناول نگاربناتا ہے۔

    (8) کم خرچ بالانشیں

    ایک ناول کے ضائع ہونے کا مطلب ہے ایک سال ضائع ہونا اور ایک چھوٹی کہانی کا ضائع ہونا مطلب ایک ہفتہ ضائع ہونا ۔اور ہر کہانی کے ضائع ہونے پر آپ کچھ نہ کچھ ضرور سیکھتے ہیں مطلب ایک سال میں ساری کہانیاں بھی ضائع ہوجائیں تو آپ 52 سبق سیکھیں گے اور اگر ایک ناول ضائع ہو تو ایک سبق۔

    (9) کچھ ضائع نہیں ہوا

    ناول کو مختصر کر کے افسانے کی شکل شاید ہی دی جاتی ہو، لیکن افسانوں کو ناول تک لے کر جانا بہت عام پریکٹس ہے۔ مختصر کہانیاں آپ کو مستقبل کے ناولز کی تھیمز اور بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ تحریر پر مضبوطی حاصل کرنے کے بعد آپ اپنے افسانوں پر ناول بھی لکھ سکتے ہیں اور فلم بھی بنا سکتے ہیں۔

    (10) افسانے میں اچھی لکھائی کے تمام عناصر موجود ہوتے ہیں

    شروعات، کلائمکس، اختتام، کردار نگاری وغیرہ جیسی تمام چیزیں افسانے میں پائی جاتی ہیں۔ آپ کا استاد آپ کو کسی محاورے پر کہانی لکھنے کو کہہ سکتا ہے کہ آپ اس محاورے کو استعمال کیے بغیر اس پر کہانی لکھئے لیکن اس طرح ناول لکھوانا بہت مشکل ہے۔

    ٭…٭…٭

  • نا پسندیدہ مرکزی کردار ۔ فکشن ۔ کمرشل رائٹنگ

    نا پسندیدہ مرکزی کردار ۔ فکشن ۔ کمرشل رائٹنگ

    نا پسندیدہ مرکزی کردار

     

    ٹی وی ڈرامہ آہستہ آہستہ اپنی چھپ بدل رہا ہے۔ یک جہتی کرداروں کی جگہ ایسے کردار لکھے جا رہے ہیں جو زیادہ دلچسپ اور حقیقت سے قریب تر ہوں۔ ایسے کردار جنہیں عام لوگ اپنے جیسا خیال کر سکیں۔ ان کی نفسیات اور رویے اتنے ہی پیچیدہ ہوں جتنے عام زندگی میں افراد کے ہوتے ہیں۔ 

    حقیقت سے قریب ترین تحریروں نے کئی ایسے مرکزی کردار جنم دیے ہیں جنہیں ”ہیروز” نہیں کہا جا سکتا۔ کیوں کہ روایتی طور پر ہیرو وہ ہے جوغلطی نہ کر سکے اور جو سب کو پسند آئے، جس کی خامیاں بھی فلم یا ڈرامے کے اختتام تک خوبیوں میں بدل چکی ہوں۔ اب ایسے ہیروز کا وقت گزر چکا ہے۔ ناظرین اب ایسے ہیروز دیکھنا پسند کر رہے ہیں جنہیں وہ ان کی خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ پردے پر دیکھ سکیں۔ 

    ایسے مرکزی کرداروں میں ”زندگی گلزار ہے” کا ”زارون” حال ہی کی ایک مثال ہے۔ زارون ایک روایتی امیر خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ ایک ایسا خاندان جہاں عورت کی جہاں دیدہ آزادی عام سی بات ہے لیکن اپنے باپ کو اپنی ماں کی جانب سے ساری زندگی اگنور ہوتا دیکھ کر وہ اپنی بیوی کے طور پر ایک ایسی عورت کی خواہش رکھتا ہے جو ایک روایتی مشرقی عورت کی طرح اس کے آگے پیچھے گھوم سکے اور اس کی ہر بات پر سر جھکائے۔ 

    ڈرامے میں زارون کا کردار باقی سب کرداروں کی طرح تبدیلیوں سے گزرتا ہے اور کئی خامیوں سے پیچھا بھی چھڑاتا ہے، لیکن عورت اور مرد کے بارے میں اس کے دہرے معیار ڈرامے کے اختتام تک قائم رہتے ہیں ۔ اور ناظرین کو یہ بات اس لیے نہیں چبھتی کہ اصل زندگی میں بھی بچپن کی سوچ اور خیالات کو تبدیل کرنا اتنا آسان کام نہیں کہ بس چند ماہ و سال میں سر انجام دیا جا سکے۔ حقیقت سے قریب ترین یہ کردار اپنی انہی خامیوں اور خوبیوں سمیت ناظرین کی یاد داشت میں محفوظ ہو چکا ہے۔ اگر آپ بھی ایک ایسا مرکزی کردار لکھنا چاہتے ہیں جو ہیرو اور ہیروئن کی روایتی تعریف پر پورا نہ اترتا ہو تو ہمارے پاس آپ کے لیے کچھ ٹپس ہیں:

     

    ناظرین کو ہیرو کی پرواہ ہونی چاہیے:

     

    یہ بنیادی نکتہ سمجھنا نہایت ضروری ہے۔ آپ کا ہیرو نا پسندیدہ ضرور ہو سکتا ہے، لیکن اسے ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ دیکھنے والے اس سے نفرت کرنے لگیں ، یا وہ کوئی ایسا کام کر بیٹھے جو عوام میں ناقابلِ معافی ہے۔ ایسے کام آپ ولن کے لیے چھوڑ دیں۔ ہیرو کو ناپسندیدہ بناتے ہوئے اچھائی اور برائی کا اتنا توازن رکھیں کہ دیکھنے والے کو آپ کے مرکزی کردار کی پرواہ ہو۔ انہیں پردے پر چل رہی زندگیوں کی پرواہ ہو۔ 

    یہ پرواہ مختلف طریقوں سے دلائی جا سکتی ہے۔ مرکزی کردار جس کی بنیادی صفت خود غرضی ہے، آپ کسی سین میں اسے بنا ء کسی وجہ کے دوسروں کی کوئی سی بھی مدد کرتے ہوئے دکھا دیں۔ 

    دوسرا طریقہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ اس کا ماضی کچھ ایسی مشکلوں سے بھرا دکھا دیں جس سے عام لوگ اس کردار کے ساتھ اپنا تعلق محسوس کر سکیں۔ پرواہ دلانے کے لیے آپ اپنے ہیرو کے سامنے کوئی اتنی پیچیدہ مشکل بھی لا سکتے ہیں جسے حل کرنے میں وہ بے بسی کی آخری حدوں تک پہنچ جائے،یہ ہمدردی جلد ہی ناظرین کی پرواہ میں بدل جائے گی۔

     

    پیش آنے والی مشکلات غیر معمولی نوعیت کی ہوں:

     

    اگر آپ روکھی پھیکی یا سو مرتبہ کی دیکھی گئی مشکلات ہی اپنے ہیرو کے سامنے رکھ رہے ہیں تو آپ اس کم پسندیدہ کردار کو اور زیادہ غیر معروف بنا رہے ہیں۔ ایسے کردار کے سامنے مشکلات اتنی بڑی، غیر معمولی اور پیچیدہ ہونی چاہیے، یا کم سے کم انہیں اس انداز اور اتنی رکاوٹوں میں سامنے آنا چاہیے کہ انہیں حل کرنا ایک معمولی نوعیت کے انسان کے بس کی بات نہ لگے۔ 

    اس کے ساتھ ساتھ ہیرو کو در پیش چیلنجز اتنے reletableبھی ہونے چاہیے کہ دیکھنے والے اکثر لوگ اسے اپنی ہی تبدیل شدہ کہانی سمجھیں۔ آپ کا ہیرو دیکھنے والوں کی زندگیوں اور نفسیات سے جتناقریب ہو گا ، اتنا ہی لوگ اس کی مشکل کو اپنی مشکل سمجھیں گے اور اس کی حمایت کریں گے۔ 

     

    مرکزی کردار سے ہمدردی:

     

    یہ بہت اہم ہے کہ آپ کے ناظرین آپ کے کرداروں کے ساتھ ہمدردی رکھیں۔ اور مرکزی کردار کے لیے تو یہ شرط لازمی ہو جاتی ہے۔ یہ ہمدردی ہی ہے جو دیکھنے والوں کو آپ کے مرکزی کردار کی خوشی میں خوش اور غم میں رونے پر مجبور کرے گی۔ 

    ناظرین میں یہ ہمدردی پیدا کرنے کے کچھ آزمائے ہوئے طریقے ہیں:

    ١۔پہلا یہ کہ مرکزی کردار کی زندگی کو کسی بھی پہلو سے بد نصیبی کا شکار دکھا دیں۔ 

    ٢۔ انہیں کسی ایسے مسئلے کا شکار کریں کہ دیکھنے والے سب لوگ ہیرو کے ساتھ اس مسئلے کا حل تلاش کرنے میں لگ جائیں۔

    ٣۔ ان کی خوبیاں کچھ اس طرح کی دکھائیں کہ دیکھنے والوں کو یقین ہو جائے کہ ہیروبنیادی طور پر ایک اعلیٰ کردار کا انسان ہے اور اس کی برائیاں صرف اس کے ماحول اور زندگی کا نتیجہ ہیں۔ 

     

    ان تین نمایاں ٹپس سے ہٹ کر بھی کچھ ایسے گر ہیں جو اگر آپ اپنا لیں تو آپ کا ناپسندیدہ مرکزی کردار جلد ہی ایک معروف کردار کا روپ دھار لے گا۔

     

    ١۔ کردار کو کسی ہنر میں انتہائی طاق دکھا دیں۔

    ٢۔ کردار کو اپنی اندرونی شخصیت سے شناسا دکھائیں۔ وہ جانتا ہے کہ وہ جیسا ہے ویسا کیوں ہے۔ اسے معلوم ہے کہ اس کی زندگی کے اصول کیا ہیں اور ان کے لیے وہ کس حد تک جا سکتا ہے۔

    ٣۔ کردار کی زندگی، اس کی صورتِ حال ایسی دکھائیں جو دیکھنے والوں کی اپنی زندگیوں سے قریب تر ہو، تا کہ وہ سکرین پر دکھائی جانے والی کہانی سے اپنا تعلق جوڑ سکیں۔ 

    ٤۔ کردار اور دیکھنے والوں کو ایک ہی وجود تصور کریں۔ سکرین پر ناظرین کو کوئی ایسی چیز نہ دکھائیں جو اس مرکزی کردار کے علم میں نہیں۔ کہانی جیسے جیسے کردار کے سامنے کھلے گی، ویسے ہی اور اسی وقت ناظرین کے سامنے بھی۔ اس طرح آپ کے ناظرین آپ کے کردار کے بارے میں کوئی بھی سخت رائے قائم کرنے سے باز رہیں گے۔ اور اس سے اپنا رشتہ مضبوط سمجھیں گے۔

    ہم امید کرتے ہیں یہ چند ٹپس آپ کو ایک دلچسپ anti-heroکا کردار لکھنے میں مدد دیں گی۔ اپنی رائے سے ہمیں ضرور آگاہ کیجیے گا۔

  • خود شناسی کو اپنے تحریری عمل کا حصہ بنائیں ۔ فکشن ۔ کمرشل رائٹگ

    خود شناسی کو اپنے تحریری عمل کا حصہ بنائیں ۔ فکشن ۔ کمرشل رائٹگ

    خود شناسی کو اپنے تحریری عمل کا حصہ بنائیں

     

    عموماََ ایسا ہوتا ہے کہ جب ہم کچھ لکھنے بیٹھیں تو خیالات ساتھ چھوڑنے لگتے ہیںاور موضوع کے چناؤ میں ہمیں دقّت پیش آتی ہے۔ایسی صورتحال سے نبٹنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اپنے آپ کو پرکھیں، خود اپنی شخصیت کھنگالیںتاکہ نئے خیالات ذہن میں جنم لیں۔اس مضمون کے ذریعے ہم آپ کو ایک ایسی مشق کروا رہے ہیں جو نئے آئیڈیازپر کام کرنے میںآپ کے لیے مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ 

     

    ذیل میںاپنی شخصیت کا تجزیہ کرنے کے حوالے سے چند سوالات ترتیب دیے گئے ہیں۔ آپ ایک صفحے پر ان تمام سوالات کے جوابات پوری سچائی سے تحریر کریں۔پھر ان جوابات پر ایک ناقدانہ نگاہ دوڑاتے ہوئے کوئی ایک جواب اپنی اگلی تحریر کے موضوع کے طور پر چُن لیں۔

     

    پہلا مرحلہ 

    دوسرا مرحلہ 

    کیا کبھی کسی کتاب کی بدولت آپ کی زندگی میں کوئی تبدیلی آئی؟

    اگر ہاں، تو وہ کون سی کتاب تھی اور کس قسم کی تبدیلی لائی؟

    کیا کبھی کسی رشتے یا تعلق کی وجہ سے آپ کی زندگی میں کوئی تبدیلی آئی؟

    کب؟ کیسے؟اور کیوں؟

    آپ کی نظر میں دوستی کا رشتہ کیسا ہونا چاہیے؟

    کیوں؟

    آپ کی نظر میں دوستی کا رشتہ کیسا نہیںہونا چاہیے؟

    کیوں؟

    کیا آپ کو کبھی شدید قسم کا غصہ آیا؟

    کب؟ کہاں؟اور کیوں؟

    کیا آپ نے زندگی میں کبھی خود کو بہت طاقتور محسوس کیا؟

    وہ کون سا واقعہ تھا جس کے بعد آپ کو ایسا محسوس ہوا؟

    کیا آپ نے کبھی خود کو نہایت حیرت انگیز صورتحال سے دوچار پایا؟

    وہ کون سا واقعہ تھا جس کے بعد آپ کو ایسا محسوس ہوا؟

    اپنی شخصیت کا وہ کون سا پہلو ہے جو آپ بدلنا چاہیں گے؟

    کیوں؟

    مستقبل میں آپ دنیامیں کیا تبدیلی دیکھنا چاہیں گے؟

    کیوں؟

    ماضی کی ایسی کون سی بات ہے جو آپ بدلنا چاہیں گے؟

    کیوں؟

     

    یہ ذہنی ورزشیں آپ کے تحریری عمل کو نہ صرف تروتازہ بنا دیتی ہیں بلکہ آپ کے ذہن کو نت نئے خیالات کے لیے زرخیز بناتی ہیں۔ 

  • سلیم ناصر ۔ انہیں ہم یاد کرتے ہیں

    سلیم ناصر ۔ انہیں ہم یاد کرتے ہیں

    سلیم ناصر
    لعل خان


    یہ 1982/83ء کی بات ہے ،انور مقصود صاحب نے اپنے مشہورِ زمانہ شو ‘‘سلور جوبلی ’’ میں آنے والے مہمان کا تالیوں کی گونج میں استقبال کیا۔ آپ اگر انور مقصود صاحب کو پانچ منٹ کے لیے بھی جانتے ہیں تو آپ یہ بھی جانتے ہوں گے کہ وہ برِصغیر کے مایہ ناز رائٹر ہونے کے باوجود ‘‘ان اسکرپٹڈ ’’ باتیں کرنا بہت پسند کرتے ہیں۔ اب ان کی بذلہ سنج طبیعت اور برجستگی کی تعریف کرنا بھی جان جوکھوں کا کام ہے، بس آپ اتنا جان لیجیے کہ وہ معین اختر صاحب کے‘‘خوفناک’’ سینس آف ہیومرکے سامنے بھی ٹک جایا کرتے تھے۔ انور مقصود صاحب نے آنے والے مہمان کو منی بیگم کے برابر میں بٹھایا اور مسکراتے ہوئے پوچھا۔
    ‘‘آپ سنجیدہ اداکاری کے لیے کافی مشہور ہیں؟’’ مہمان کے چہرے پر سادہ سی مسکراہٹ بکھر گئی۔
    ‘‘صاحب پرانی بات ہے…تب پی ٹی وی بھی سنجیدہ ہوا کرتا تھا۔’’
    انور مقصود صاحب نے موقع پا لیا۔ ترنت بولے۔
    ‘‘تو کیا آج ایسا نہیں ہے؟’’
    مہمان کی مسکراہٹ رخصت ہو گئی اور اس نے گہری سنجیدگی سے کہا۔
    ‘‘نہیں صاحب …آج تو باہر کافی گرمی ہے۔’’
    ہال قہقہوں سے گونج اٹھا۔ انور مقصود صاحب بھی خود کو روک نہیں پائے۔ بات چیت دوبارہ شروع ہوئی۔ ایک موقع پر انور صاحب بولے۔ ‘‘آپ کی بیوی بھی آرٹسٹ ہیں، تو آپ میں اور ان میں کافی کچھ مشترک ہو گا؟’’
    مہمان نے پھر سادگی سے مسکرا کر انور صاحب کی طر ف دیکھا۔
    ‘‘بجا فرمایا صاحب …بہت کچھ مشترک ہے ہم دونوں میں …میں گاڑی چلاتا ہوں، وہ زبان چلاتی ہیں …میں جاگتا ہوں، وہ سوتی ہیں…میں کھاتا ہوں ،وہ پانی پیتی ہیں …اور بھی بہت کچھ مشترک ہے۔’’
    اس مرتبہ ہال میں پہلے سے زیادہ گونجدار قہقہے پڑتے رہے۔
    ان دنوں ہر طرف ‘‘ان کہی’’ ڈرامہ چھایا ہوا تھا۔ انور صاحب کے مہمان اس ڈرامے میں اداکارہ شہناز شیخ کے ‘‘ماموں’’ کا رول کر رہے تھے۔ انور صاحب نے اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈرامے کی سچوئیشنز کے مطابق سوال کیا۔
    ‘‘آپ کے خیال میں شہناز شیخ کی شادی شکیل اور جاوید شیخ میں سے کس کے ساتھ ہونی چاہیے تھی؟’’
    مہمان نے اس مرتبہ نہایت سنجیدگی سے قدرے خائف ہو کر انور صاحب کی طرف دیکھا اور کہا۔
    ‘‘کمال کرتے ہیں صاحب ….ہم کوئی اصلی والے ماموں تھوڑی ہیں!’’
    اگلے دو منٹ تک ‘‘سلور جوبلی’’ کے سیٹ پر ہر کونے سے قہقہے فواروں کی طرح ابلتے رہے۔ میرا خیا ل میں آپ سمجھ ہی چکے ہوں گے کہ انور صاحب کے یہ مہمان کون تھے؟
    جی ہاں، آپ بالکل ٹھیک سمجھے ،یہ سلیم ناصر تھے۔ وہی سلیم ناصر جنہیں آپ یقینا ‘‘اکبر’’ کے نام سے بھی جانتے ہوں گے۔ آنگن ٹیڑھا کے ‘‘اکبر’’ جنہیں انور مقصود صاحب نے ہی تخلیق کیا تھا۔
    سلیم ناصر 15نومبر 1944ء کو ناگپور (برٹش انڈیا) میں پیدا ہوئے۔ نسلاً پٹھان تھے، مردان کے سید گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ پیدائشی نام سید شیر خان تھا۔ بچپن کے واقعات بہت کم ملتے ہیں۔ کہیں کہیں پڑھنے کو ملا ہے کہ انتہائی شریف النفس قسم کے بچے تھے ۔کم گو انسان تھے اور اپنے کام سے کام رکھنے کو انسانوں کی سب سے بڑی خوبی گردانتے تھے۔ ان کی فیملی پڑھی لکھی اور روشن خیال تھی۔ پارٹیشن کے بعد 1948ء میں یہ لوگ ناگپور سے کراچی شفٹ ہوئے۔ گریجوایشن کے بعد ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کراچی کے شعبہء تعلقاتِ عامہ میں بحیثت افسر تعینات ہوئے۔ مگر یہ ان کی منزل نہیں تھی، چنانچہ کچھ عرصہ کے بعد انہوں نے اس جاب کو خیرباد کہہ دیا۔
    اس کے بعد انہوں نے ریڈیو پاکستان میں قسمت آزمائی شروع کر دی۔ سلیم ناصر صاحب کی فنکارانہ صلاحیتیں ریڈیو کے زمانے سے ہی کھل کر سامنے آنے لگی تھیں۔ ریڈیو پر حالاتِ حاضرہ کے پروگرام میں ان کے تبصروں نے ان کے اندر چھپے ہوئے اس فنکار کو باہر نکالا جس نے بعد ازاں اپنی ڈائیلاگ ڈیلیوری سے ٹی وی اور فلم کے منجھے ہوئے اداکاروں کو حیران کر دیا تھا۔
    سال 1976ء سلیم ناصر کے اداکارانہ کیرئیر کی شروعات بتایا جاتا ہے۔ اس سال لاہور کی ایک فلم کمپنی ‘‘نور محل پکچرز’’ کے تحت ‘‘زیب النساء’’ کے ٹائٹل سے ایک فلم بنائی گئی جس میں شمیم آراء اور وحید مراد نے مرکزی کردار ادا کیے تھے۔اس فلم کو فرید احمد نے ڈائریکٹ کیا تھا۔ جب کہ پروڈیوسر محمد اکرم چوہدری تھے ۔اس فلم کے لیے اس وقت کی مشہور گلوکارہ ارونا لیلیٰ اور مہدی حسن صاحب نے گانے بھی گائے تھے۔ سلیم ناصر پہلی مرتبہ بڑی اسکرین پر ‘‘بہادر شاہ ظفر’’ کے روپ میں سامنے آئے تھے۔ فلم باکس آفس پر کوئی کمال نہ دکھا سکی مگر سلیم ناصراپنی منفرد اور جاندار اداکاری کی وجہ سے پاکستان ٹیلی ویژن کی نظروں میں آ گئے۔
    یہاں میں آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ اس زمانے میں ہماری ڈرامہ انڈسٹری کو ہندوستان میں فلمی اداکاروں سے زیادہ جانا جاتا تھا۔ ستر اور اسی کی دہائی میں ہمارے ڈراموں کا معیار یہ تھا کہ بھارت کے ‘‘پونا انسٹیٹیوٹ’’ میں وہاں کے نئے ٹی وی اداکاروں کو ہمارے ڈرامے دکھائے جاتے تھے اور ہمارے ٹی وی اداکاروں کو بھارت سے باقاعدہ دعوتیں موصول ہوا کرتی تھیں اور یہ وہاں جا کر نئے اداکاروں کو سکھایا بھی کرتے تھے۔
    کنور آفتاب، قنبر علی شاہ، نصرت ٹھاکر، قاسم جلالی، شہزاد خلیل، راشد ڈار اور محمد نثار حسین جیسے لوگ ڈراموں کی ڈائریکشن کرتے تھے اور قوی خان، علی اعجاز، قمر چوہدری، ظفر مسعود، قاضی واجد، محمود علی، اطہر شاہ خان، روحی بانو، خالدہ ریاست، ذہین طاہرہ، عرس منیر، شہنازشیخ، مرینہ خان، راحت کاظمی، عثمان پیرذادہ، نوید شہزاد، ظہور احمد، محمد یوسف، نیلوفر عباسی، شکیل، محمود صدیقی، سبحانی بایونس، رفیع خاور (ننھا)، کمال احمد رضوی، بشریٰ انصاری، اسماعیل تارا، زیباشہناز، جمشید انصاری، خورشید شاہد، سلمان شاہد، خیام سرحدی، بندیا، روبینہ اشرف، شجاعت ہاشمی، محبوب عالم، فردوس جمال، ایوب خان، اورنگزیب لغاری اور نثار قادری جیسے بلند فنکارانہ قد رکھنے والے لوگ پرفارم کیا کرتے تھے۔
    پورا برِصغیر اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ پاکستان ٹیلی ویژن نے اپنے ابتدائی دور میں جو اداکار پیدا کیے ہیں ان کا آج بھی کوئی ثانی پیدا نہیں ہو سکا۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان ٹیلی ویژن کے اس عروج کے زمانے میں کسی نئے اداکار کے لیے جگہ بنانا اور وہ بھی اس طرح کہ پوری انڈسٹری کے دل میں گھر کر جانا ۔۔۔ یہ صر ف سلیم ناصر کا ہی کمال تھا۔ اس دور میں ڈائریکٹرز اداکار کی معمولی غلطیوں پر انہیں سیٹ پر ہی کان پکڑوا دیا کرتے تھے۔ اداکاری جیسے شعبے میں جگہ بنانا نئے لوگوں کے لیے تقریباً ناممکن تھا مگر سلیم ناصر صاحب نے ریڈیو پر صداکاری کے بعد ‘‘بہادر شاہ ظفر’’ بن کر اس ناممکن کو ممکن کر دکھایا تھا۔
    اور یہاں سے سلیم ناصر صاحب کا جادو چلنا شروع ہو جاتا ہے۔ ان کی فنکارانہ زندگی کا مکمل احاطہ کرنا ممکن نہیں ہے، انہوں نے کم و بیش 400 کے قریب ڈراموں،27 سیریلز اور کم و بیش 10 فلموں میں کام کیا ہے اور اداکاری کے ہر میدا ن میں اپنا لوہا منوایا ہے۔ مگر ان کے چند ڈرامے در اصل ایسے ہیں کہ جن کا ذکر کیے بنا انہیں خراجِ تحسین پیش کرنا ممکن ہی نہیں۔ ان ڈراموں میں سرِ فہرست انور مقصود صاحب کا تحریر کردہ ‘‘آنگن ٹیڑھا’’ ہے۔
    یہ1980ء کا ڈرامہ ہے۔ آپ اگر پچاس سال سے زائد عمر کے ہیں تب شائد آپ نے اس ڈرامے کا صحیح معنوں میں لطف اٹھایا ہو گا کیونکہ آپ ہی ہو سکتے ہیں جنہوں نے شکیل اوربشریٰ انصاری جیسے اداکاروں کے ساتھ سلیم ناصر کے طلسمی فن کو اپنے آنکھوں سے پہلی مرتبہ دیکھا ہوگا۔ اس کے بعد یہ کتنی مرتبہ کون کون سے چینل سے آن ائیر ہوا اس کا مجھے علم نہیں مگر میں نے بہرحال اسے یوٹیوب پر دیکھا ہے۔ اس ڈرامے کی خاص بات یہ ہے کہ اس کا نام ذہن میں آتے ہی ‘‘اکبر’’ نامی کردار ہماری آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے اور پھر ہم مسکرائے چلے جاتے ہیں۔
    شکیل اور بشریٰ انصاری نے بلاشبہ اس ڈرامہ میں پائے کی اداکاری کی ہے مگر سلیم ناصر کے سامنے ان کا چراغ بھی مدھم ہوا ہے اور اس کا ثبوت ہم یوں دے سکتے ہیں کہ شکیل صاحب کو پھر کسی نے ‘‘محبوب احمد’’ کے نام سے یاد نہیں کیا، بشریٰ انصاری بھی ‘‘جہاں آراء بیگم ’’ کو اپنی شناخت نہیں بنا سکیں مگر سلیم ناصر صاحب نے ‘‘اکبر ’’ کو اپنی زندگی کا سچ مان کر نبھایا تھا جبھی تو آج اتنے برسوں بعد بھی ہم ‘‘اکبر’’ کے سحر سے آزاد نہیں ہو سکے۔ سلیم ناصر نے کئی مواقع پر اس بات کا برملا اظہار کیا ہے کہ یہ ان کی زندگی کا سب سے مشکل مگر دلچسپ کردار تھا جو ان کے دل کے بہت قریب ہے ہاں یہ الگ بات ہے کہ ‘‘اکبر’’ کو شناخت بنانے کے لیے انہیں بہت محنت کرنی پڑی تھی اور بڑے پاپڑ بیلنے پڑے تھے۔‘‘اکبر’’ کے روپ میں انہوں نے ایسے کلاسک ڈانس کے دلدادہ گھریلو ملازم کا رول نبھایا تھا جس کی ہر حرکت اور ہر بات میں ہنسی، لطف اور تفریح ہوا کرتی تھی۔
    اس یادگار ڈرامے کے ساتھ ایک بد قسمتی بھی جڑی ہوئی ہے۔ یہ ڈرامہ جنرل ضیاء الحق کے دور میں آن ائیر ہوا تھا۔ اس زمانے میں انور مقصود صاحب اپنے قلم کو مارشل لاء اور جنرل ضیا ۔۔۔ دونوں کے خلاف کھل کر استعمال کر رہے تھے جس کی سزا اس ڈرامے کو بھگتنا پڑی، اسے جنر ل ضیاء الحق کے حکم پر بند کر دیا گیا تھا۔ یہ ڈرامہ 12 اقساط پر مشتمل ہے۔
    سلیم ناصر صاحب کی دوسری شناخت ان کا ایک اور کردار ‘‘ماموں’’ بنا۔ یہ کردار انہوں نے ڈرامہ سیریل ‘‘ان کہی’’ میں نبھایا تھا جو پاکستان کی معروف ڈرامہ نگار حسینہ معین کے زورِ قلم کا نتیجہ تھا۔ اس ڈرامے میں انہوں نے شہناز شیخ کے ماموں کا کردار ادا کیا تھا۔ انور مقصود صاحب نے اپنے شو میں ان سے پوچھا تھا۔
    ‘‘سلیم …آپ کو کبھی کسی پر شدید قسم کا غصہ آیا؟’’
    تو سلیم ناصر نے بڑے سنجیدہ انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا ۔‘‘جی ہاں، ایک مرتبہ حسینہ معین پر آیا تھا ….انہوں نے پہلے پہل مجھے صرف ‘‘ماموں’’ بنایا مگر بعد میں پتا چلا کہ میرے دو نوجوان بھانجے بھی ہیں …بس اسی وجہ سے ان پر بہت غصہ آیا تھا۔’’
    اس ڈرامہ میں ان کے ساتھ شہناز شیخ، جاوید شیخ، قاضی واجد، شکیل، جمشید انصاری، بدر خلیل اور بہروز سبز واری صاحب جیسے ورسٹائل ادااکاروں نے کام کیا تھا۔ ان کہی میں سلیم ناصر صاحب کے کردار کی خاص بات یہ ہے کہ یہ خاص نہ ہو کر بھی سب کے لیے بہت خاص بن گیا تھا اور اس کا کریڈٹ صرف سلیم ناصر صاحب کو ہی جاتا ہے جنہوں نے اپنی عادت کے مطابق اپنے ‘‘ماموں’’ کے کردار کواپنا اوڑھنا بچھونا بنا کر ہی نبھایا تھا۔
    ‘‘دستک’’ ان کا ایک اور منی سیریل تھا جس میں انہوں ایک وکیل کا کردار نبھایا۔ یہ ایک انتہائی سنجیدہ کردار تھا جس کے لیے انہیں بہت سراہا گیا تھا ۔اس ڈرامے میں ان کے ساتھ ایاز نائیک، شازیہ اختر اور قاضی واجد صاحب تھے۔ انہوں نے ‘‘نشانِ حیدر’’ کے نام سے کیپٹن سرور شہید پر بنائے جانے والے ڈرامہ میں مرکزی کردار ‘‘کیپٹن سرور’’ کو بے حد عمدگی سے نبھایا۔ ‘‘آخری چٹان’’ ان کا ایک اور بہترین ڈرامہ ہے جس میں انہوں نے سلطان جلال الدین منگو بیروی کا یادگار کردار ادا کیا۔ اس کردار کو نبھاتے وقت بھی انہیں کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ یہ ڈرامہ چونکہ تاریخ پر مبنی تھا لہٰذا شوٹنگ کافی سخت اور کٹھن مراحل سے گزرنے کے بعد مکمل ہوتی تھی۔ ان کٹھنائیوں کا سلیم ناصر اپنے مخصوص مزاحیہ مگر بظاہر سنجیدہ اندازسے کیسے ذکر کرتے ہیں ۔۔۔ ملاحظہ کیجیے:
    انور مقصود صاحب نے جب ‘‘آخری چٹان’’ کا ذکر کرتے ہوئے سلیم ناصر صاحب کی تعریف کی تو انہوں نے جواب کچھ اس طرح دیا۔
    ‘‘جانے دیجیے صاحب …اب ہم نے تاریخی ڈراموں میں کام ہی نہیں کرنا تو پھر ذکر کرنے سے کیا فائدہ۔ ’’
    انور مقصود صاحب نے حیرت سے وجہ پوچھی۔ کہنے لگے:
    ‘‘صاحب، بات کچھ اس طرح سے ہے کہ چنگیز خان کے دور میں مسلمانوں پر اتنے ظلم نہیں توڑے گئے ہوں گے جتنے ‘‘آخری چٹان’’ کی شوٹنگ کے زمانے میں کراچی کے فنکاروں پر توڑے گئے ہیں۔’’
    انور مقصود صاحب کے مزید استفسار پر فرماتے ہیں۔
    ‘‘دراصل ڈائریکٹر صاحب کے پاس دو طرح کے گھوڑے تھے، ایک پولیس والے اور دوسرے ریس والے ….اب صاحب پولیس والے کا گھوڑا تب تک نہیں بھاگتا جب تک کہ اس کے پیچھے چور کا گھوڑا نہ لگا ہو….اور ریس والے گھوڑے کو نوٹ دکھانے پڑتے ہیں…تو جناب میرے حصے میں جو گھوڑا آیا وہ ریس کا تھا …میں اسے دس کا نوٹ دکھاتا تو تیز چلنے لگتا اور سو کا نوٹ دکھاتا تب جا کر وہ بھاگتا تھا۔’’
    ان کا ایک اور بہترین شاہکار ‘‘یانصیب کلینک’’ تھا جس میں انہوں نے ایک ڈاکٹر کا رول بہترین انداز میں نبھایا۔ ‘‘جانگلوس’’ ان کی زندگی کا آخری ڈرامہ تھا۔ اس میں انہوں نے ایک سخت گیر بھائی کا انتہائی سنجیدہ رول نبھایا تھا جسے برسوں تک دیکھنے والوں نے یاد رکھا۔ شوبز کے ناقدین کے مطابق 1976ء سے 1989ء تک پاکستان ٹیلی ویژن میں سلیم ناصر صاحب کا کوئی جوڑ نہیں تھا۔ یہ فن کا ایک ایسا دریا تھا جو تیرہ سال تک بڑی روانی سے بہتا رہا اور ہماری ٹی وی انڈسٹری کو سیراب کرتا رہا۔ ان کے کریڈٹ پر دس فلمیں بھی ہیں جن میں سے ایک پنجابی فلم تھی ۔
    سلیم ناصر صاحب کی فیملی میں ان کی بیگم کے علاوہ دو بیٹیاں اور ایک بیٹا شامل ہیں۔ شخصی اعتبار سے وہ بہت خوبصورت انسان تھے۔ ماضی کی معروف اداکارہ ‘‘صابرہ سلطانہ’’ ان سے کافی قریب رہی ہیں۔ ان کے مطابق سلیم ناصر صاحب ان کے لیے چھوٹے بھائی کی طرح تھے اور انہیں دل سے بڑی بہن کا درجہ دیتے تھے۔ صابرہ سلطانہ کہتی ہیں کہ سلیم ناصر صاحب ایک مؤدب انسان تھے۔ اپنے سینئرز کے ساتھ ہمیشہ بے حد احترام اور تمیز سے بات کرتے تھے۔ پروڈیوسرز اور ڈائریکٹرز کے بھی فیورٹ ہوا کرتے تھے کیونکہ یہ بہت جلد ان کی مرضی اور منشاء کو نہ صرف سمجھ لیتے تھے بلکہ خود کو بہت آسانی سے اس شکل میں ڈھال بھی لیتے تھے۔ کبھی کسی جھگڑے یا تلخ کلامی تک کی نوبت نہیں آئی۔ غصے کی حالت میں چپ رہتے اور منظر سے غائب ہو جایا کرتے تھے۔ سلیم ناصر صاحب نے اپنی پوری زندگی میں خود کو ایک اچھا اداکار تسلیم نہیں کیا۔ جب بھی ساتھی اداکاروں یا دوستوں کی محفل میں بیٹھتے تو ان کی تعریفیں شروع ہو جایا کرتیں تھیں جن کے جواب میں یہ بڑی سنجیدگی سے کہا کرتے ۔۔۔
    ‘‘نہیں بھائی ….میرے اندر وہ بات نہیں جو فلاں اداکار میں ہے۔’’
    اور اس فلاں کے بعد اداکاروں کی ایک طویل لسٹ ہوا کرتی تھی جس میں تقریباً پوری ٹی وی انڈسٹری ہی آجایا کرتی تھی۔ ہمیشہ اپنی تعریف پر کہا کرتے، ‘‘ابھی میں اچھے اداکاروں میں شامل نہیں ہوتا مگر میں دن رات محنت کر کے ایک نہ ایک دن ضرور اس قطار میں شامل ہو جاؤں گا۔’’
    آپ اسے سلیم ناصر صاحب کی اعلیٰ ظرفی سمجھ لیجیے یا ان کا بڑا پن کہ وہ اپنے جونیئرز کی کھل کر تعریف کیا کرتے اور جوابی تعریف کو یکسر مسترد کر دیا کرتے تھے۔
    ان کے حوالے سے ایک اور دل چسپ بات یہ ہے کہ وہ ماضی کے معروف فلمی ہیرو محمد علی صاحب کے بہت بڑے پرستار تھے اور اکثر ان کی نقل کرنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔ خاص کر عدالتی مناظر میں ان کی پوری کوشش ہوا کرتی تھی کہ وہ محمد علی بن جائیں۔ کچھ لوگوں کے مطابق ان کی یہ خواہش اس لیے تھی کیونکہ وہ چہرے مہرے سے محمد علی صاحب کی طرح دکھتے تھے مگر حقیقت میں وہ بس محمد علی صاحب کی اداکاری پر فدا تھے اور ان جیسا پرفارم کرنے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔
    اکتوبر 1989ء میں سلیم ناصر صاحب دل کی تکلیف میں مبتلا ہوئے، دل کا پہلا دورہ برداشت کرنے کے چند ہی دن بعد 19 اکتوبر 1989ء کو انہیں دوسرا شدید دورہ پڑا۔ انہیں ہاسپٹل لے جایا جا رہا تھا مگر وہ راستے میں اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بہت مختصر وقت کے لئے اس دنیا میں بھیجا تھا ۔سلیم ناصر صاحب نے 45 برس کی عمر پائی۔
    انہیں بعد از مرگ پرائیڈ آ ف پرفارمنس ایوارڈ سے نوازا گیا۔
    انور مقصود صاحب نے اپنے شو میں ان سے ایوارڈ کے متعلق بھی پوچھا تھا اور جواباً سلیم ناصر صاحب نے کہا تھا۔
    ‘‘ایوارڈ تو صاحب …جب تک نہیں ملے گا کام کرتے رہیں گے مگر میری اس معاملے میں اوپر والے سے بات ہو گئی ہے …بس اب ملنے ہی والاہے۔’’
    اور جب ان سے ‘اوپر والے’ کے بارے میں پوچھا گیا تو کہتے ہیں ۔‘‘اوپر …بہت اوپر، ہماری اللہ میاں سے بات ہوئی ہے …ہمیں ایوارڈ ضرور ملے گا۔’’
    مجھے آنگن ٹیڑھا کا ایک سین یاد آ رہا ہے۔
    اکبر کچن میں ایک اسٹول پر بیٹھا ہوا ہے، اس کی آنکھوں میں آنسو ہیں جنہیں وہ قمیص کے دامن سے صاف کررہا ہے۔ جہاں آراء بیگم کچن میں آتی ہیں تو اکبر خفگی اور ناراضی سے ان کی طرف دیکھتا ہے اور کہتا ہے۔
    ‘‘آپ دیکھنا، ہم ایک دن یہاں سے چلے جائیں گے …ہاں بس ذرا جلدی چلے جائیں گے۔’’
    جہاں آرا بیگم کے فرشتوں کو بھی خبر نہ تھی کہ اکبر جو کہہ رہا ہے وہ سچ کر دکھائے گا۔
    سلیم ناصر جیسے لوگ دنیا میں ایک مثال بن کر اترتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے ذریعے ہم عام انسانوں کو یہ پیغام دیتا ہے کہ جس نے کرنا ہے اس کے لیے زندگی کی لمبائی چوڑائی کی کوئی اہمیت نہیں، وہ صرف چند برسوں میں اتنا کام کر جاتا ہے جتنا لوگ ایک صدی جی کر بھی نہیں کر پاتے ۔سلیم ناصر صاحب ہماری ٹی وی کی تاریخ کی سب سے خوبصورت، دلکش اور اثر انگیز یاد ہیں۔ یہ وہ تابندہ ستارے ہیں جن کی چمک تاریخ کے صفحوں پر کبھی ماند نہیں پڑے گی۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے ۔۔۔ آمین۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد

    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

  • کلپٹومینیا ۔ ناولٹ

    کلپٹومینیا
    میمونہ صدف



    رات کے پچھلے پہر وہ اوپری منزل کی جانب بڑھتا ہو ا ہر چیز کو آگے پیچھے اوپر نیچے سے یوں ٹٹول رہا تھا جیسے وہ لڑکی نہیں کوئی تتلی ہو جواُڑ کر کہیں چھپ گئی ہو۔ اگر وہ نیچے کہیں نہیں تھی تو اسے اوپر ہی ہونا چاہیے تھا بلکہ لازمی ہونا چاہیے تھا اور اگر وہ اوپر بھی نہ ہوتی تو؟ اس’ تو‘ کا اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا ۔ باہر جانے کے دو ہی راستے تھے، اپارٹمنٹ کا فرنٹ ڈور اور کچن میں موجود بیک ڈور جو آس پاس کے ایک ہی طرز کے بنے سبھی اپارٹمنٹس میں موجو د تھے۔ دونوںہی دروازے اندر سے اچھی طرح مقفل تھے ۔ کھڑکیاں شدید سردی کی وجہ سے اس نے سردیوں کے آغاز پر ہی بند کر دی تھیں ورنہ وہ کھڑکی کے ذریعے باہر نہ چلی گئی ہو یہ سوچ بھی اس کے ذہن میں آتی اگر کوئی کھڑکی اسے کھلی ملتی تو، لیکن اس جما دینے والی ٹھنڈ میں وہ کمرے کی گرمائش ، میٹھی نیند، انگیٹھی میں جلتی بجھتی لکڑیوں اور نرم گرم لحاف چھوڑ کر اوپر کیا کر رہی تھی؟ جہاں ٹیرس پر شمال کی جانب سے آنے والی یخ بستہ ہوا ئیں استقبال کرنے کو تیار رہتی تھیں۔ ٹیرس کے ایک جانب اسٹور نما کمرا تھا جہاں گھر کا پرانا اور فالتو سامان رکھا ہوا تھا۔ پہلی بار اپنے نئے پروجیکٹ کے سبب وہ اتنا مصروف رہا تھا کہ اس نے کبھی اوپر جھانکنے کی زحمت نہیں کی تھی۔ یہ اپارٹمنٹ اسے حال ہی میں کمپنی کی جانب سے اس ترقی پر ملا تھا جو شادی کے دو ماہ بعد ہی ہوئی تھی اور جسے اس نے اپنے بجائے اپنی بیوی کی اچھی قسمت گردانا تھا ۔
    زینہ عبور کرتے ہی اس کی نظر سامنے اسٹور کے ادھ کھلے دروازے سے چھن کر آتی ملگجی پیلی روشنی پر پڑی تو ایک گہری سانس اس کے سینے سے آزاد ہوئی۔ اسٹور سے آتی روشنی اس بات کی غماز تھی کہ وہ اندر ہی موجود ہے ۔ وہ اسی طرح دبے قدموں چلتا ہوا دروازے تک آیا ۔ نیم وا دروازے سے اندر کا منظر واضح تھا ۔ وہ ٹھنڈے فرش پر اپنے شب خوابی کے لمبے موٹے گاو ¿ن میں ملبوس، بال کھولے، بکھرائے، اردگرد ڈھیروں متفرق اشیا پھیلائے بیٹھی نہ جانے کہاں گم تھی کہ اسے اس کے آنے کی خبر تک نہ ہوئی تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ اسے مخاطب کرتا، اس سے پوچھتا کہ وہ رات کے اس پہربنا اسے بتائے، یہاں کیا کر رہی ہے، اس کی نظر سامنے پڑی چیزوں پہ پڑی اور اس کے ذہن میں ایک جھماکا ہونے کے ساتھ ہی قدم وہیں جم گئے ۔
    ٭….٭….٭