Author: misbah116@hotmail.com

  • مایا اینجلو ۔ شاہکار سے پہلے

    مایا اینجلو ۔ شاہکار سے پہلے

    الماس آصف

    ہم میں سے بہت سے لوگ، مایا اینجلو کوایک عظیم امریکی مصنفہ اور شاعرہ کے طور پر جانتے ہیں مگر یقینا اس کی شخصیت کے ان خفیہ پہلووں سے واقف نہیں، جنہوں نے اسے مارگریٹ اینی جانسن سے ”مایا اینجلو“ بنایا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مایا نے زندگی میں جن مشکلات کا سامنا کیا، کوئی عام عورت ان میں سے نصف کو بھی برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتی۔
    4 اپریل 1928ءکو ریاست میزوری کے اہم شہر سینٹ لوئز کے سیاہ فام امریکی خاندان میں جنم لینے والی مایا کی آزمائشوں سے بھرپور زندگی کا آغاز اسی دن سے ہو گیا تھا جب محض تین برس کی عمر میں اس کے والدین نے روز روز کے جھگڑوں سے تنگ آ کراپنی زندگی کی راہیں جدا کرنے کا فیصلہ کیا اور بعدازاں بچوں کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالنے کی ناکام کوششوں کے بعد بالآخر اسے چار سالہ بھائی بیلے کے ہم راہ آرکنساس ان کی دادی کے پاس بھجوا دیا۔ معصوم بہن بھائی تنِ تنہا اپنا مختصر سامان سنبھالے بہ ذریعہ ٹرین طویل سفر طے کرنے کے بعد دادی کے گھر پہنچے تو ان کے لئے یہ ایک نئی زندگی کا آغاز تھا۔
    یہ وہ دور تھا جب دنیا پر دوسری جنگِ عظیم کے سائے لہرانے شروع ہو گئے تھے۔ سیاہ فام امریکی، بنیادی انسانی حقوق سے محروم کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔ مایا کی دادی اشیائے خوردونوش بیچنے کا کاروبار کرتیں جس سے خاصی معقول آمدنی ہو جایا کرتی۔ اسی بنا پر وہ سمجھتیں کہ اس مشکل گھڑی میں وہ دونوں بچوں کی بہترین نگہداشت کے قابل ہیں۔
    اگلے چار برس کمسن مایا کا بچپن، بھائی کے ساتھ خوش گوار انداز میں بسر ہوا۔ تاہم جب وہ آٹھ برس کی ہوئی تو ایک روز اچانک ہی اس کا باپ اپنے دونوں بچوں کو لینے آن پہنچا اور یوں انہیں واپس ان کی ماں کی سرپرستی میں دے دیا گیا۔ مایا، والدین کے گھر واپسی کو اپنی زندگی کا ”ٹرننگ پوائنٹ“ قرار دیتی ہے جس کی بڑی وجہ کمسنی میں اس کا اپنی ماں کے بوائے فرینڈ کے ہاتھوں عصمت دری کا وہ واقعہ ہے جس نے زندگی میں پہلی بار اسے ایک شدید ترین ذہنی صدمے سے دوچار کیا۔ یہ تکلیف دہ سانحہ اس کی پوری زندگی پربہت اثرانداز ہوا۔ مایا نے اس واقعے کا تذکرہ صرف بیلے سے کیا جس کے ذریعے یہ بات اس کے رشتہ داروں اور پھر پولیس تک جا پہنچی۔ گرفتاری کے بعد فری مین نامی شخص محض دو روز بعد ضمانت پر رہا کر دیا گیا، تاہم رہائی کے چار روز بعد ہی مایا کے رشتہ داروں نے اسے رنجش کی بنا پرموت کی نیند سلا دیا۔ اس سنگین واقعے کاکمسن مایا کے ذہن پر اس قدر گہرا اثر ہوا کہ احساس جرم اورصدمے کی کیفیت میں مبتلا ہو کر وہ پانچ برس کے لئے قوت گویائی سے تقریباً محروم ہوکر رہ گئی۔ مایا اس واقعے کے نفسیاتی پہلو پر بات کرتے ہوئے اپنی سوانح حیات میں لکھتی ہیں:
    ”اس قتل کے بعد میں نے اپنے اوپرخاموشی طاری کر لی کیوں کہ مجھے لگا کہ میری آواز اتنی طاقت ور تھی جو ایک انسان کے قتل کا باعث بنی۔ میں سمجھتی تھی میری آواز نے ہی اس شخص کی جان لی تھی اور اگر دوبارہ زبان کھولی تو میں پھرکسی انسان سے اس کی زندگی چھین لوں گی۔ میں ایسا ہرگز نہیں چاہتی تھی کیوں کہ میں اندرونی طور پرنہایت خوف زدہ ہو کررہ گئی تھی۔ میں بالکل خاموش رہ کر زندگی گزارنا چاہتی تھی۔“
    مذکورہ واقعے کے تناظر میں مایا کوایک بار پھراس کی دادی کی سرپرستی میں دینے کا فیصلہ ہوا، جہاں اس کی زندگی ایک مختلف انداز میں بسر ہونے لگی۔ پانچ برس کا خاموش دور اس کے لئے روحانی طور پرنہایت مفید ثابت ہوا۔ اس دوران اسے اپنے اردگرد کے ماحول، انسانی رویوں اور زندگی کے دیگر واقعات کا مشاہدہ کرتے ہوئے قیمتی ترین باتیں سیکھنے کا موقع ملا۔ پانچ برس کے اس طویل عرصے میں وہ سوائے اپنے بھائی یا ذاتی ڈائری کے کسی سے دل کی بات نہ کر سکی۔ بات کرنے پر آمادہ کرنے کی ناکام کوششوں کے بعد بالآ خراس کی دادی اور ماموں نے ہار مانتے ہوئے اسے اس کے حال پر چھوڑ دینے کا فیصلہ کیا۔
    وہ اپنے زمانہ ¿ طالب علمی سے متعلق یادداشت رقم کرتے ہوئے لکھتی ہے۔

  • کفن میں پاکٹ  ۔ افسانچہ

    کفن میں پاکٹ ۔ افسانچہ

    کفن میں پاکٹ

    فاطمہ شیخ

    ”کیا صاحب؟ ایک جیکٹ کم قیمت میں خریدنے کے لیے آپ نے سارا دن ہمارا ٹانگ تڑوایا۔“ گل خان اپنے مخصوص پختون انداز میں بولا۔

    ”کچھ تو خوفِ خدا کرو گل خان! ہمیں صرف دو گھنٹے لگے ہیں۔“ ولی نے اس کی مبالغہ آرائی پر کانوں کو ہاتھ لگایا۔

    ”صاحب دو گھنٹے میں بھی ٹانگ بہت دکھ جاتا ہے۔“ گل خان نے منہ بسورا۔

    ”تمہیں ناصر بھائی کے ساتھ رہ رہ کر گاڑی کے مزے لگ گئے ہیں۔“ ولی نے رُک کر اپنے سامنے والی سڑک پر ایک بُری طرح سے جھلسی ہوئی دکان کا جائزہ لیتے ہوئے گل خان کو گھرکا۔

    ”ویسے صاحب بُرا نہ ماننا، لیکن ناصر صاحب آپ کی طرح کنجوس نہیں تھا۔ کیا ٹھاٹ تھا اس کا، شان سے ایک بڑی سی دکان میں گھسا اور اچھا سا چیز اٹھا کر اس کا پیسہ دیا اور ایسے ہی شان سے گاڑی میں آکر بیٹھ گیا اور ایک تم ہو…. جب تک ہمارا ٹانگ نہ دکھا دو کچھ خریدتا نہیں ہو او صاحب! ہمارا ایک بات غور سے سنو، کفن میں پاکٹ نہیں ہوتا…. یہ تم اتنی کنجوسی دکھا کر اتنا ڈھیر سارا پیسہ کدھر لے کر جائے گا؟“ گل خان نے تپ کر ولی کو غیرت دلانہ چاہی۔

    ”بالکل غلط گل خان! کفن میں پاکٹ ہوتا ہے۔“ وہ فلسفیانہ انداز میں بولا۔

    ایک پوشیدہ پاکٹ…. جو دکھتا نہیں لیکن ہوتا ہے اور میں اپنی کنجوسی سے بچائے پیسے کو اپنے کفن کی اسی پاکٹ میں جمع کر کے رکھتا ہوں….“

    ”او صاب! تم کدھر جاتا ہے؟“ گل خان نے ولی کو اس جھلسی ہوئی دکان کی سمت بڑھتا دیکھ کر پوچھا جس کے باہر دکان کا بوڑھا مالک سر پر ہاتھ رکھے بیٹھا تھا۔

    ”اس مہنگی جیکٹ سے بچے ہوئے پیسے کو اپنے کفن کی پاکٹ میں رکھنے….“ وہ اب اس بوڑھے شخص کے کندھے پر ہاتھ رکھے اسے تسلی دیتا دوسرے ہاتھ سے اپنی پاکٹ سے پیسے نکال رہا تھا۔

    ٭….٭….٭

  • سکرین رائٹرز  ۔ سکرپٹ ۔ کمرشل رائٹنگ

    سکرین رائٹرز 

    ایک سکرین رائٹر، سکرین رائٹر اور بس سکرین رائٹر ہی ہوتا ہے۔ کئی سکرین رائٹرز ٹی وی، فلم، مزاج اور ڈرامہ لکھ سکتے ہیں مگر ان میں سے ہر صنف کا مزاج الگ ہوتا ہے۔

    مثال کے طور پر ٹی وی کے لیے مزاج لکھنے والے لکھاری نہ صرف عام طور پر مزاحیہ مزاج رکھتے ہیں بلکہ اپنے کام کی بدولت فلم سازوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے میں اور بعض اوقات انتہائی دبائو کے عالم میں بھی کام کرنا پڑے تو کر سکتے ہیں۔ سِٹ کام سکرین رائٹنگ یا مزاحیہ ڈرامہ یا سین بنانے میںپورا ایک گروپ متحرک ہوتاہے۔ ایک روایتی سِٹ کام کی تکمیل میں دس بارہ کل وقتی لکھاریوں کی کوششیں شامل ہوتی ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر لکھاری کے بڑے سے کمرے میں اپنا زیادہ تر وقت گزارتے ہیں۔ جہاں بھانت بھانت کے لوگ مختلف واقعات و گفتگو شیئر کرتے ہیں۔ ہر قسط کے پلاٹ کے ہرہر نقطے کو زیر بحث لاتے ہیں۔ لطائف بازی ہوتی ہے جن سے کہ مزاحیہ سین کشید کیے جاتے ہیں اور سکرپٹ کے ہر ہر سین پر اُس وقت تک بحث ہوتی ہے جب تک کہ وہ شوٹنگ کے لیے تیار نہیں ہو جاتے۔

    سکرین رائٹر کیسے بنتے ہیں؟

    سکرین رائٹر بننے کے لیے سب سے پہلے اپنی تحریری صلاحیتوں کو نکھاریئے اور اس کے ساتھ بطور لکھاری بھی اپنا ایک مضبوط تشخص ابھاریئے۔ یعنی کہ آپ کو لکھاری کے طور پر سنجیدگی سے لیا جائے۔

    آپ کا اوّلین ہدف سکرین رائٹر بننا یا ٹی وی سکرپٹ لکھنا نہیں بلکہ صرف ” لکھنا ” ہونا چاہیے۔ کچھ بھی، کوئی مضمون، شارٹ سٹوری، کہانی، افسانہ یا کچھ بھی لکھیں۔سب سے پہلے اپنی تحریر میں پختگی لائیں۔ جب آپ کو ”لکھنا” آ جائے گا تو پھر آپ مزیدآگے بڑھ سکتے ہیں۔

    یہ ایک صبر آزما مرحلہ ہے جسے صرف ثابت قدمی سے ہی طے کیا جا سکتا ہے۔ لکھنا، لکھنا اور بس لکھنا۔ اپنی ان اوّلین تحریروں کو ایک ناقد کی نظر سے خود پڑھیں، دوسروں کو پڑھائیں اور ان کی آرا کی روشنی میں اس مشق کو مطلوبہ معیار تک جاری رکھیں۔ مشق آخر کار آپ کو پختہ کار بنا دے گی۔

    کچھ لوگ باقاعدہ کسی ادارے سے باقاعدہ ترتیب لینا زیادہ سود مند تصور کرتے ہیں۔ ان میں کالج کورس، فلم سکول پروگرام یا آن لائن رائٹنگ ورکشاپس جیسے رہنمائی دینے والے میڈیاہیں۔ ان اداروں کو جوائن کرنے کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وہاں آپ کو ایک مقررہ وقت پر کام کر کے دکھانا ہوتا ہے اور پھر اس کا گریڈ بھی ملتا ہے یا مقابلے بازی کا رجحان ہوتا ہے۔ کسی فلم سکول میں داخلے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہاں آپ کا براہِ راست واسطہ فن کاروں، لکھاریوں اور فلم سازوں سے پڑتا ہے۔ جہاں آپ کام ہوتے دیکھتے اور کئی نئے نئے آئیڈیاز بھی پاتے ہیں۔ اور اگر ایک محنتی ہونے کے ساتھ ساتھ خوش قسمت بھی ہیں تو براہِ راست یہاں ملازمت بھی حاصل کرتے ہیں۔

    سکرین رائٹر سافٹ ویئر

    سکرین رائٹر سافٹ ویئر شوقیہ اور پیشہ ورانہ دونوں اقسام کے سکرین رائٹرز کے لیے یقینا مددگار ثابت ہوتا ہے۔ سکرین رائٹر سافٹ ویئر خریدنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ انڈسٹری سٹینڈرڈ کے مطابق بنائے گئے فارمیٹ کے مطابق اپنا سکرپٹ تیار کر سکتے ہیں۔

    ایک بڑی اہم، عجیب اور منفرد بات یہ ہے کہ آدھے گھنٹے کے سِٹ کام، ایک گھنٹے کے سِٹ کام، ایک گھنٹے کا ٹی وی ڈرامہ اور فیچر فلم، ان میں سے ہر ایک کا فارمیٹ الگ ہوتا ہے۔ ان سب کے لیے ایک فارمیٹ کام نہیں دے سکتا۔ اور اس سے بھی انوکھی بات یہ کہ کچھ خاص شوز کے لیے گفتگو کے نکات تحریر کرنے کے لیے فارمیٹ بالکل مختلف ہوتے ہیں۔

    جب آپ اپنا سکرپٹ کسی پروڈیوسر یا ایجنٹ کے ہاتھ میں تھماتے ہیں تو وہ سب سے پہلے یہ دیکھتا ہے کہ اس میں کرداروں کے نام اور مقام کس طرح سے لکھے گئے ہیں، سین کی وضاحت کیسے کی گئی ہے، اور کیا سین میں تسلسل ہے۔ آپ fade out اور jump cut  کے بارے میں کتنا جانتے ہیں؟

    تواپنا پہلا سکرین پلے یا سکرپٹ کسی پروڈیوسر یا ادارے کو بھیجنے تک پوری کوشش کریں کہ ان تمام جزئیات پر آپ کو پورا عبور حاصل ہے۔

  • کامیابسکرپٹ لکھنے کے چھے گُر  ۔ سکرپٹ ۔ کمرشل رائٹنگ

    کامیابسکرپٹ لکھنے کے چھے گُر  ۔ سکرپٹ ۔ کمرشل رائٹنگ

    کامیابسکرپٹ لکھنے کے چھے گُر 

    (ملین ایئر سکرپٹ رائٹر کے قلم سے)

    ہر گزرتے دن کے ساتھ فلم انڈسٹری میں ایک سے بڑھ کر ایک سکرین رائٹرمنظرِ عام پر آرہا ہے، جن میں سے ہر رائٹر کے خیالات ہر لحاظ سے پختہ اور جامع ہوتے ہیں۔ وہ اپنے خیالات اورتجربات کو قلم کی مدد سے صفحۂ قرطاس پر منتقل کرتا ہے اوراس طرح بہترین سکرپٹ ترتیب پاتا ہے۔ اس کے بعد رائٹر بنا سوچے سمجھے اپنا سکرپٹ اور ون لائنر پروڈیوسرز کو بھیج دیتا ہے جہاں سے وہ سکرپٹ بری طرح رد ہونے کے بعد مصنف کے پاس واپس پہنچتا ہے۔آخرایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس آرٹیکل میں ہم نے اپنے قارئین کو ان ہی وجوہات سے آگاہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن کی بنا پر بہت اچھے اچھے سکرپٹ بھی رد کر دیئے جاتے ہیں۔

    سکرپٹ لکھتے ہوئے اگر ان چھے باتوں کا خیال رکھا جائے تو کوئی بھی پروڈیوسر آپ کا سکرپٹ رد نہیں کر سکتا بہ شرط یہ کہ خیال بھی عمدہ ہو۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ آخر وہ ایسے کون سے اصول ہیں۔

    1۔ اپنی تحریر پر باربار نظرثانی کریں:

     سینما گھر یا ٹی وی سکرین پر جو ڈراما یا فلم آپ بہت شوق سے دیکھتے ہیں، وہ فلمائے جانے سے قبل پروڈیوسرز کی جانب سے بار بار رد ہوتی ہے یا اس کے سکرپٹ میںوقتاً فوقتاً اس قدر تبدیلیاں کی جاتی ہیں کہ ابتدائی مسودے اور فائنل سکرپٹ میں بہت کم مماثلت رہتی ہے۔سکرپٹ فائنل ہونے کے بعد جب شوٹنگ شروع ہوتی ہے تو بعض اوقات ہفتوں اور مہینوں کی محنت کو بری طرح سے رد کر دیا جاتا ہے کیوں کہ جس اداکار نے کام کرنا ہوتا ہے، وہ موجود نہیں ہوتا یا پھر وہ لباس نہیں مل پاتے جو اس نے پہننا ہوتے ہیں۔تو ذہنی طور پر اپنے لکھے ہوئے کو بار بار دوبارہ لکھنے کے لیے تیار رہیں۔ 

    2۔ ذہن میں ایک سٹار کا تصور رکھیں:

    جب بھی آپ اپنی مووی کا سکرپٹ لکھنے لگیں، تو آپ کے ذہن میں مرکزی کردار کے مطابق ایک اداکار لازمی ہونا چاہیے۔ ہوسکتا ہے جس وقت آپ فلم لکھ رہے ہوں،آپ کو ایسا محسوس ہو کہ اس وقت فلمی دنیا میں وہ کردار ادا کرنے کے لئے چودہ کے قریب اداکار ہوں۔ لیکن اس کے باوجود آپ کو اس بات کی مکمل یقین دہانی کرنی چاہیے کہ کیا ان میں سے ایک یا دو اداکار آپ کے سکرین پلے کے لئے بالکل موزوں ہیں ۔

    ہالی ووڈ انڈسٹری میں بننے والی کسی بھی فلم کا بجٹ کم از کم ڈھائی کروڑ ڈالر تک ہوتا ہے۔ اور اگر کوئی اپنی فلم پر اس قدر خطیر رقم خرچ کررہا ہے، تو اس فلم میں کم از کم ایک اچھا اداکار لازمی ہوناچاہیے۔ اس لیے وہاں سکرپٹ لکھتے ہوئے لکھاریوں کے ذہن میں اکثر ایک نامور ادارکار ہوتا ہے جسے وہ اپنے کردار کے لیے بالکل موزوں سمجھتے ہیں۔ آپ کے سکرپٹ کے لیے کیا کوئی کامیاب اداکار آپ کے ذہن میں ہے؟

    3۔فلم کے روایتی فارمولے کو ترک مت کریں:

    آپ کی فلم کا آئیڈیا بالکل منفردہو نا ضروری ہے، لیکن اس کا فارمولا باقی موویز کی طرح ہی ہونا چاہیے۔ آپ کو ایسا سکرپٹ لکھنا چاہئے جس کی فلم کے تیس سیکنڈ کے ٹریلر سے ہی ناظرین مکمل فلم دیکھنے پر مجبور ہوجائیں اور ایسی تمام فلموں کی ساخت ایک جیسی ہی ہوتی ہے۔

    فلم کی بنیادی ساخت کچھ ایسی ہوتی ہے کہ سکرپٹ لکھتے ہوئے آپ ایک آدمی کو لیں، اس کو درخت پر چڑھائیں، پتھر ماریں، اور پھر اس کو درخت سے نیچے اتاریں اور آخر میں دوبارہ چڑھا دیں۔

    مثال کے طور پر Die Hard   The Matrix, Casablanca,  ان تینوں فلموں میں ہیروز کو ان کی خواہش کے برعکس حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن آخر میں وہ جیت گئے۔ یہ ایک فلم کا سٹرکچر ہے، جس پر عمل کر کے آپ مشکلات سے بچ سکتے ہیں۔

    4۔ابتدائیہ اختتام سے بھی زیادہ اہم ہے:

    سکرین پلے کے ابتدائی دس صفحات وہ ہیں جو نہ صرف کسی بھی فلم کے ناظرین بلکہ ہالی ووڈ انڈسٹری میں موجود پروڈیوسرز اور اداکاروں کی توجہ اپنی طرف مبذول کروانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔اگر آپ کے سکرین پلے کا ابتدائی حصہ مزے دار اور دل چسپ نہیں ہیں تو کوئی آگے کی کہانی نہیں پڑھے گا۔

    ابتدائیہ بالکل اوریجنل ہونے چاہیے تاکہ اس پر بننے والی فلم فوراً ناظرین کی توجہ اپنی طرف مبذول کرواسکے۔ سکرپٹ پڑھنے والوں کی توجہ اختتام سے زیادہ سکرین پلے پر ہوتی ہے۔ اگر آپ کی توجہ اچھی فلموں کے اختتام پر ہے، تو تقریباً تمام فلموں کا اختتامیہ ایک ہی جیسا ہوتا ہے۔بروس ولز ولن کو ہرادیتا ہے، ہیرو ڈیتھ سٹار کو مار دیتا ہے، لوگ شارک کو ماردیتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔

    5۔مسودے سے زیادہ اہم کہانی بیان کرنا ہے:

    کہانی کوبیان کرنے کا عمل سیکھنے سے زیادہ اہم چیز کوئی نہیں ہوسکتی۔ اگر آپ ایک اچھے سکرین رائٹر بننے جارہے ہیں، تو آپ کو اس کے ساتھ ساتھ ایک اچھا اداکار اور سیلزمین بھی بننا پڑے گا۔ آپ کو کسی پروڈیوسر سے بات کرتے ہوئے دس منٹ کے اندر اندر اپنا آئیڈیا سنانا ہوگا ، اور اس کو اپنا وہ نظریہ دکھانا ہوگا جس سے آپ خود اپنی مووی کو دیکھتے ہیں، اور یہ کہ اس کے اندر آپ کو کیا چیز پسند ہے۔ بعض اوقات یہ مسودے کو پیش کرنے سے بھی زیادہ اہم ہوتا ہے۔

    6۔ جملوں کے لئے زیادہ باریک بین نہ ہوں:

    بہت سے نئے لکھاری اپنے سکرپٹ سے زیادہ توجہ جملوں اور مکالموں پر دیتے ہیں، ان کے نزدیک ان کی فلم کی کامیابی ان کے اچھے جملوں کی مرہونِ منت ہے۔ حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہوتی ہے۔آپ کے جملے شوٹنگ کے پہلے ہی دن اداکار رد کردیتے ہیں، وہ یا تو اپنی طرف سے ان جملوں کو تبدیل کرتے ہیں یا پھر نئے سرے سے ان کو لکھتے ہیں۔آپ کا سکرپٹ اتنا اچھا اور شاندار ہونا چاہیے کہ ایک کامیاب اداکار اس کو کرنے کے لئے حامی بھر لے لیکن ساتھ ہی آپ کو یہ بھی امید کرنی چاہیے کہ وہ اس فلم میں آپ کے تخلیق کردہ کردار کے اندر رہ کر ایک شاندار اداکاری کا مظاہرہ کرے اور ساتھ ہی نئے جملے بھی لکھے۔فلم میں بنیادی چیز پلاٹ ہوتا ہے نہ کہ مکالمے۔

    دوسری طرف سائنس فکشن اور کچھ دوسری اصناف میںمکالمے بہت اہم ہوتے ہیں کیوں کہ ڈائیلاگز کی مدد ہی سے فلم کے حقائق کا پتہ چلتا ہے، ہاں البتہ مزاح اور ڈرامہ میں آپ اداکاروں کو آزادی دیں تاکہ وہ خود سے اپنا حصہ بھی ڈال سکیں۔ ایک اچھا اداکار اپنے کردار میں خود کو ڈھالتا ہے، اس کی طرح بولنے کا انداز اپناتا ہے اور یہ ایک اچھی چیز ہے۔

    آپ کے نزدیک ان تمام ٹپس میں سے سب سے زیادہ کارآمد کون سی ہے؟

  • کہانی زیادہ ضروری ہے یا کردار؟ ۔ سکرپٹ ۔ کمرشل رائٹنگ

    کہانی زیادہ ضروری ہے یا کردار؟

    اعلیٰ پائے کے تمام مصنفین اس بات پر متفق ہیں کہ کہانی کرداروں کی نسبت بہت زیادہ اہم ہوتی ہے۔ اگر پلاٹ اور کہانی کی ڈھانچہ مضبوط نہیں تو صرف دلچسپ اور پر کشش شخصیتوں والے کردار آپ کے ہر سکرپٹ کو مقبولیت نہیں دے پائیں گے۔ مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ہم کرداروں کو نظر انداز کردیں۔

    دیکھا جائے تو کہانی اور کرداروں کو دو الگ چیزیں تصور کرنا ایک غلطی ہے۔ یہ در اصل دو جسم ایک جان والا معاملہ ہے۔آپ جس کہانی کا بھی معائنہ کرلیں، کردار کہانی کے بغیر کچھ نظر نہیں آئے گا اور کہانی کردار کے بغیر کچھ نہیں لگے گی۔ جب کبھی کوئی کردار مشہور ہوا ہے تو وہ کہانی کے سر پر ہوا ہے اور جب کبھی کسی کہانی کو پذیرائی ملی ہے تو وہ کرداروں کے باعث۔

    کہانی لکھنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ آپ کہانی کے پلاٹ اور تھیم سے آگاہ ہونے کے بعد اپنے کرداروں پر توجہ دیں۔ کہانی لکھنے سے پہلے کرداروں کی مکمل اور تفصیلی بائیوگرافی لکھیں۔ یہ طریقہ کار مشہور مصنفہ جے کے رولنگ کا ہے۔ ہیری پوٹر کا مسودہ لکھنے سے پہلے انہوں نے ہیری پوٹر کی پوری دنیا، کرداروں کا پس منظر، ہر چھوٹے بڑے کردار کی مکمل بیک گرائونڈ سٹوری تخلیق کی۔ یہ طریقہ ء کار وقت لیتا ہے لیکن اس کے نتائج نہایت عمدہ اور ایک باریک بینی سے لکھی ہوئی دلچسپ کہانی کی صورت میں نمودار ہوتے ہیں۔ 

    دوسرا طریقہ ء کار اس کے بالکل بر عکس ہے۔ کچھ مصنفین کے مطابق اس طرح کی چیزیں کہانی کو کرداروں سے بہت دور کردیتی ہیں۔ان کا ماننا ہے کہ ایک لکھاری کہانی لکھنے سے پہلے کرداروں کو دریافت کرے اس سے بہتر ہے کہ وہ کرداروں کوخود ہی کہانی دریافت کرنے دے۔ اس سے نہ صرف کہانی نمایاں مقام لے گی بلکہ کردار خود بخود اس کے نئے نئے موڑ دریافت کرتے رہیں گے۔ عین ممکن ہے کہ اس اپروچ کو استعمال کر کے لکھاری خود اپنی کہانی اور کرداروں کے بارے میں چونک جائیں۔ 

    کیوں کہ دیکھا جائے تو اگر ایک کہانی اپنے لکھاری کو ہی متاثر نہیں کر پاتی تو بہت مشکل ہے کہ وہ اپنے پڑھنے والوں کو متاثر کر سکے ۔

    لیکن اس سے پہلے کہ آپ ان دونوں طریقوں میں سے اپنے لیے ایک منتخب کرنے کا سوچیں، یہ ضرور جان لیں کہ ہر لکھاری ایک الگ انداز اور الگ نظر رکھتا ہے۔ کچھ لکھاری کرداروں پہ تفصیلی کام کر کے ہی کہانی کو آگے بڑھا سکتے ہیں، جب کہ کچھ مصنفین کہانی کے پیچ و خم پر کام کرتے کرداروں کو ثانوی حیثیت دیتے ہیں۔ یہ طریقہ ء کار خاص طور پر مسٹری، سسپنس اور تھرل لکھنے والے مصنفین استعمال کرتے ہیں۔ 

    رومینس، تاریخ، فیملی ڈرامہ، اور ایسی دوسری اقسام کے لیے بہتر ہے کہ پہلے کرداروں پر توجہ دی جائے تا کہ قاری کردار کے جذبات کے ساتھ جڑ سکے۔ 

    اچھی کہانی تخلیق کرنے کے لیے ان تمام پہلوئوں کا بغور جائزہ لے کر، اور اپنی طبیعت کے قدرتی میل کے مطابق فیصلہ کیجیے کہ آپ کے لیے کردار زیادہ اہم ہیں یا کہانی۔

    ٭…٭…٭

  • سکرپٹ، ڈائریکٹر کے حوالے کرنے سے پہلے کچھ ۔ سکرپٹ ۔ کمرشل رائٹنگ

    سکرپٹ، ڈائریکٹر کے حوالے کرنے سے پہلے کچھ ۔ سکرپٹ ۔ کمرشل رائٹنگ

    سکرپٹ، ڈائریکٹر کے حوالے کرنے سے پہلے کچھ

    احتیاطی اقدامات

    پروڈیوسر ڈائریکٹر ٹونی بل نے دنیائے تحریر یا صحافت سے کچھ ایسے نئے لکھاری دریافت کیے ہیں جو ہالی ووڈ کے بڑے بڑے ناموں پر حاوی ہیں۔ ان میں ٹیرنس (Terrenc Malick)ہے جس نے The Thin Red Lineلکھی، پال (Paul Schoader) جس نے Taxi Driverلکھی، کرٹس (Curtis Hanson) ہے جس نے La Confidential   اور جان پیٹرک  (John Patrick) نے Moonstruck جیسی شہرہ آفاق کہانیاں لکھی ہیں۔ اس کے علاوہ بھی اس فہرست میں کئی بہت سے نام شامل ہیں کہ جن کا تذکرہ اس بحث کو بہت طویل کر دے گا۔

    بل نے ان نئے لیکن بے حد اچھے لکھاریوں کو جن خصوصیات کی بنا پر منتخب کیا، انہیں سمیٹتے ہوئے انہوں نے بارہ نکات پر مشتمل ایک رہنمائی گائیڈ لائن مرتب کی ہے جو نئے لکھاریوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اپنا سکرپٹ مناسب ہاتھوں میں دینے سے پہلے ان نکات پر عمل ضروری ہے۔

    بل کا کہنا ہے کہ جو لکھاری ان سادہ لیکن بے حد قیمتی آرا کو مدِّنظر نہیں رکھے گا وہ نقصان اُٹھائے گا۔ یہ بے حد بنیادی اصول ہیں جو معمولی ہوتے ہوئے بھی بے حد اہمیت کے حامل ہیں کیوں کہ کسی بھی پروڈیوسر یا ڈائریکٹر کی نظر پہلے انہی خامیوں پر جاتی ہے۔ آپ میں سے اکثر لکھاری ان باتوں میں سے کچھ سے اگرچہ آشنا ہوں گے مگر پھر بھی آپ کی رہنمائی کے لیے 12 اصول دینے جا رہے ہیں کہ سکرپٹ جمع کرانے سے پہلے دیکھ لیں کہ آپ درست سمت میںجا رہے ہیں۔ آپ کا سکرپٹ پسندیدگی کی نظر پائے گا کہ ردی کی ٹوکری کا منہ دیکھے گا۔

    (1)  فینسی فائل کور مت استعمال کریں

    مسودہ فائنل کرنے کے بعد اس کے لیے کوئی سادہ سا فائل کور منتخب کیجیے نہ کہ مرصع و مرقع یا پھول بوٹوں والا اور نہ ہی اس پہ کو ئی عبارت یا دیگر سجاوٹ ہو۔

    یہ بھی خیال رکھیں کہ فائل کور نرم ہو، تاکہ آسانی سے موڑا اور گول کیا جا سکے۔ اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ پروڈیوسر اس مسوّدے کو کسی بھی وقت (کام کے دوران بھی مثلاً چلتے پھرتے یا گاڑی میں یا چائے پیتے ہوئے بھی) آسانی سے ساتھ رکھ سکتا ہے اور گاہ بہ گاہ تحریر پر بھی نظر ڈالتا رہتا ہے۔ اگر فائل کور سخت پلاسٹک کا ہو گا تو مسودہ پڑھنے کے لیے پروڈیوسر کو الگ سے وقت درکار ہو گا۔ جو ممکن نہیں اور اس طرح آپ کا مسودہ نظر انداز ہوتے ہوتے ردی میں شامل ہو جائے گا۔ 

    سفید صفحات پر لکھے کئے مسودے کو تین متوازن جگہوں سے اس طرح پنچ کیجیے کہ صفحات عمدہ طریقے سے قابو میں رہیں۔ پنچ شدہ سوراخوں میں ڈالی گئی ڈوری کو تھوڑا ڈھیلا رکھیں تاکہ ورق آرام سے پلٹا جا سکے۔ مسودے کے شروع میں ایک سادہ صفحے پر آپ خوش خطی سے مسودے کا عنوان اور اپنا نام لکھ سکتے ہیں۔ اس لکھائی کے لیے آپ کالا پن استعمال کیجیے۔

    (2)  کردار اُجاگر نہ کریں

    کبھی بھی یہ کوشش نہ کریں کہ مسودے میں موجود کرداروں سے متعلق تفصیل دیں۔ آپ کا مسودہ پڑھنے پر کردار خود ہی اپنا تعارف کروائیں گے اور بہتر انداز میں کروائیں گے۔ آپ کا یہ عمل آپ کی کوشش پر منفی اثر ڈالے گا۔

    (3)  ٹائٹل پیج سادہ بنایئے

    اپنے مسودے کے ٹائٹل پیج کو زیادہ سے زیادہ سادہ رکھنے کی کوشش کیجئے۔ صفحے کے درمیان میں مسودے کا عنوان لکھئے، صفحے کے نیچے دائیں جانب اپنا نام،رابطہ نمبر اور پتا تحریر کیجیے۔ رابطہ نمبر یا فون نمبر ایک سے زیادہ بھی ہو سکتے ہیں۔ اگر تو آپ کا مسودہ بک چکا ہے تو اسے پروڈویوسر کے حوالے کرنے سے پہلے اس پر تاریخ ڈالئے وگرنہ تاریخ کہیں درج نہ کیجیے۔ کیوں کہ آپ نہیں جانتے کہ مسودے کس رفتار سے ”پرانے” ہوتے چلے جاتے ہیں۔ صفحات پر نمبر بھی نہ ڈالیے۔

    ایک اور اہم بات کہ کبھی بھی پہلی بار کا لکھا ہوا مسودہ آگے نہ بھیجیں۔ ہمیشہ تیسری یا چوتھی بار تحریری دہرائی کے بعد ہی مسودہ بھیجیں تاکہ وہ خوش خط اور اغلاط سے پاک ہو۔ املا یا الفاظ کی غلطیاں بھی تحریر کا تاثرغلط کر ڈالتی ہیں۔

    (4) اداکاروں کا چنائو

    اپنی کہانی یا مسودے کی مناسبت سے اداکاروں کا چنائو آپ کی ذمے داری نہیں۔ ایسا کرنے پر پروڈیوسر یا ڈائریکٹر اسے اپنے کام میں دخل اندازی تصور کریں گے۔ آپ کی کہانی کے کردار، خود اپنے لئے بہتر چنائو کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    (5)  کہانی کا خاکہ

    کبھی بھی اپنی کہانی کا خاکہ یا مختصر تعارف اس کے ساتھ نتھی نہ کیجیے۔ اس طرح آپ کی کہانی کا تعارف پہلے ہی چند سطروں میں ہو جائے گا اور پروڈیوسر آپ کی کہانی پڑھنا گوارا نہ کرے گا۔ پوری کہانی پڑھنے پر ہو سکتا ہے کہ کوئی ایسی بات اُس کے دل کو لگ جائے جو آپ خاکے میں واضح نہ کر سکے ہوں۔ لہٰذا پروڈیوسر کو گائیڈ لائن نہ دیجئے۔

    (6)  کور لیٹر کو درخواست نہ بنائیں

    کور لیٹر، موٹی ویشن لیٹر یا موٹی ویشنل لیٹر دراصل تعارف ہوتا ہے جو مطلوبہ مقصد کے اظہار کے لئے لکھا جاتا ہے۔ آپ جانتے ہوں گے کہ ملازمت کی درخواست کے ساتھ بھی ایک کور لیٹر درکار ہوتا ہے۔ ویسا ہی یہ کور لیٹر ہے جو مصنف اپنی تحریر کے حوالے سے لکھتا ہے تو بعض مصنف کور لیٹر میں اپنی تحریر کی سفارش کرتے نظر آتے ہیں۔ درخواست گزار ہوتے ہیں کہ ان کہانی میں اگر کوئی غلطی ہو تو صرفِ نظر کر دی جائے اور پلیز اس تحریر کو دھیان سے پڑھا جائے وغیرہ وغیرہ۔

    لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ اس طرح وہ اپنی تحریر کو منظور نہیں بلکہ نامنظور کروانے کا سبب بن رہے ہوتے ہیں۔ کور لیٹر کو ہمیشہ باوقار  انداز میں لکھیں۔

    (7)  تکنیکی اور کیمرے سے متعلق ہدایت سے بھی نہیں

    یہ ڈائریکٹر کا کام ہے جس میں دخل اندازی آپ کا تاثر خراب کر سکتی ہے۔ مسودہ لکھنے کے دوران مختلف مناظر کے ساتھ اس طرح کی ہدایات کہ ”قریب سے دکھائیں”، ”اس زاویئے سے دکھائیں”، ”اس منظر کے دو سین بنائیں” یا اس طرح کی دیگر ہدایات ڈائریکٹر کو بارِ خاطر گزریں گی اور وہ چڑ جائے گا ۔ یوں نادانستگی میں آپ اپنا نقصان خود ہی کر بیٹھیں گے۔ کیوںکہ ہدایت کار کیوں چاہے گا کہ وہ کسی اور سے ہدایات لے؟ لہٰذا آپ سیدھے سادے طریقے سے اپنا مسوّدہ مکمل کیجئے۔ 

    (8)  کرداروں کے لہجے نہ متعین کیجئے

    اپنے مسودے میں ناراضی، حیرانی یا خوشی کے اظہار کے لیے استعمال ہونے والے الفاظ کے ساتھ یہ مت لکھئے کہ کردار نے اسے کیسے بولنا ہے۔ آواز بلند رکھنی ہے کہ پست یا اگر آپ نے اوہ، افوہ یا وائو جیسے الفاظ استعمال کیے ہیں تو کردار کو بھی وہی بولنا لازم ہے۔ ایسی شرط باندھنا بالکل غلط ہے۔ ایکٹر کا اپنا ایک انداز ہوتا ہے جس میں وہ بہتر طورپر الفاظ کی ادائی کر سکتا ہے۔

    (9)  مسودے کی مناسب طوالت

    اپنے مسودے کی طوالت 100 صفحات سے کم اور 140 صفحات سے زیادہ نہ ہونے دیں۔ اس میں آپ کوئی چالاکی نہ برتیں کہ ہاتھ کی لکھائی یا فونٹ سائز بڑا کر دیں یا صفحے کا حاشیہ زیادہ چھوڑ کر یا سطروں کے درمیان فاصلہ بڑھاتے یا گھٹاتے ہوئے آپ مطلوبہ صفحات تک اپنی تحریر کو پھیلا دیں، یہ غلط ہے۔ عمومی طور پر ایک فیچر فلم کا مسوّدہ 110 سے 120 صفحات پر مشتمل ہوتا ہے۔ مسوّدے کے ہر صفحے کو سکرین پر ایک منٹ کے برابر تصور کیا  جاتا ہے۔

    (10) اغلاط سے پاک مسودہ

    مسوّدے کو غلطیوں سے مبرا رکھنے کی کوشش کریں۔ انگریزی لکھنے کے دوران تو کمپیوٹرز میں موجود Spell-check پروگرام آپ کے بے حد کام آتا اور غلطیوں کی درستی کرتا چلا جاتا ہے مگر ہاتھ سے لکھنے کی صورت میں آپ کو اُردو اور انگریزی دونوں زبانوں کی صحت کا خاص خیال رکھنا پڑتا ہے، خاص طور سے گرائمر کا۔ آپ کے جملے سبک اور جامع ہونے چاہیں۔ طویل اور غلط سلط جملے پڑھنے والے کو ذہنی کوفت میں مبتلا کرتے ہیں۔

    اپنے مسودے کو بار بار پڑھئے یہاں تک کہ اس کی اغلاط سے پاک بہترین شکل نکل آئے۔ کچھ ایسے پروڈیوسرز بھی ہیں جو سکرپٹ کے پڑھنے کے دوران پہلے صفحات میں چھے سے سات غلطیاں ملنے پر سکرپٹ کو ایک طرف کر دیتے ہیں۔ اس لیے اپنی تحریر کا بار بار جائزہ لیتے ہوئے اسے مکمل طور پر اغلاط سے پاک تحریر بنائیں۔

    (11) مناظر پر نمبر نہ لگائیے

    سکرپٹ میں منظر بندی یا گنتی اس وقت لگائی جاتی ہے جب وہ شوٹنگ کے مراحل میں داخل ہوتا ہے۔ رائٹر کا مسوّدے کے مناظر پر نمبر لگانا مناسب نہیں۔ سین کو نمبر وار ترتیب دینا شوٹنگ کا تقاضا ہوتا ہے کہ جس کی روشنی میں مقامات، شوٹنگ کے مراحل یا بجٹ جیسے معاملات طے کیے جاتے ہیں۔ اگر آپ کمپیوٹر کا فینسی سافٹ ویئر استعمال کر بھی رہے ہیں تو اس کا نمبرنگ والا آپشن بند کر دیجئے۔

    (12)  عمدہ کاپی کیجئے

    اگر آپ ہاتھ سے لکھے مسوّدے کی کاپی یا نقل بھیجنا چاہیں تو اس کے لیے بے حد عمدہ کارکردگی کے حامل پرنٹر یا فوٹو کاپیئر کا انتخاب کیجئے تاکہ آپ کی نقل صاف اور واضح ہو۔ اس کی سکیننگ بہت واضح اور عمدہ ہو تاکہ مسوّدہ پڑھنے میں کسی قسم کی دشواری نہ آئے۔

    اشاعتی دنیا کے برعکس’ فلمی دنیا میں مسودے کئی مختلف طریقوں سے جمع کرائے جاسکتے ہیں۔ موجودہ زمانے میں مسودہ بہ ذریعہ ڈاک ارسال کرنے سے کہیں آسان طریقہ ای میل کرنے کا ہے۔

  • کہانی کی چھے منازل ۔ سکرپٹ ۔ کمرشل رائٹنگ

    کہانی کی چھے منازل

    اس مضمون میں میں آپ کو رومانی فلموںکی کہانیوں کے ایک ایسے ڈھانچے کے بارے میں بتائوں گا، جو آپ کو اکثر رومینٹک فلموں میں دیکھنے کو ملے گا۔کہانی کا یہ خاکہ یا ڈھانچا آپ کو یہ نہیں سکھاتا کہ آپ کیا کہانی لکھیں؟ یا کیسے لکھیں؟، یہ آپ کو بتاتا ہے کہ وہ کون سے بیٹس، کون سے لمحات اور کہانی کے وہ کون سے اتار چڑھائو ہوتے ہیں، جو ایک رومانی فلم کو کامیاب بناتے ہیں۔لیکن ذہن میںرکھیں  کہ رومینٹک فلم لکھنے کے لیے صرف ایک یہی طریقہ نہیں جو آپ استعمال کر سکتے ہیں، مگر یہ یقینا آپ کے سیکھنے کے عمل کے لیے  ایک اچھا آغاز ہے۔

    چند مشہور فلمیں جن میں کہانی کا یہ طریقۂ کار استعمال کیا گیا، ان میں Titanic، Meet Joe Blackاور The Notebook   وغیرہ شامل ہیں۔ فلموں کی مقبولیت سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ طریقہ کتنا کامیاب اور کارآمد ہے۔اس طریقے کو استعمال کرنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ آپ کی فلم کا اختتام اداس ہو یا خوش گوار، یہ دونوں طرح کی کہانیوں میں کافی  کارآمد ہے۔

    فلمی  سکرپٹ لکھنے سے پہلے اس طریقۂ کار کے بارے میں جاننے کے  لیے ہوم ورک کے طور پر سب سے پہلے آپ یہ چند فلمیں ضرور دیکھیں۔

    Titanic:  اشرافیہ کے خاندان سے تعلق رکھنے والی ایک سترہ سالہ لڑکی کو ایک غریب لیکن مہربان فن کار سے محبت ہو جاتی ہے، جب وہ ایک بد قسمت بحری جہاز، ٹائٹینک ،پر اپنی ماں اور منگیتر کے ساتھ برطانیہ سے امریکا کے سفر پر نکلتی ہے۔ 

    Meet Joe Black:موت ، ایک نوجوان لڑکے کا روپ دھار کر دنیا میں آتی ہے اور میڈیا سے تعلق رکھنے والے ایک نامور آدمی کو اپنے گائیڈ کے طور پر لے کر اس سے دنیا پر موجود زندگی کے بارے میں سیکھتی ہے، اور اس دوران اسے اپنے گائیڈ کی بیٹی سے محبت ہو جاتی ہے۔

    The Notebook:ایک غریب اور جذبے سے بھرپور لڑکے کو ایک امیر اور نوجوان لڑکی سے محبت ہو جاتی ہے اور وہ اسے آزادی سے جینے کا ایک احساس دیتا ہے۔لیکن جلد ہی وہ اپنے مالی اور سماجی فرق کی وجہ سے ایک دوسرے سے الگ ہو جاتے ہیں۔

    رومانی کہانیوں کی چھے منازل:

    پہلا ایکٹ)تیس منٹ)

    ابتدائی  تیس منٹوں کا صحیح استعمال کریں ۔ناظرین کو اپنے ہیرو ہیروئن سے ملوانے کے لیے، فلم کے پہلے سین سے دیکھنے والوں کو متوجہ کرنے کے لیے اور وہ نکتہ پیش کرنے کے لیے، جس کی وجہ سے ہیرو ہیروئن کا ملن مشکل یا شاید نا ممکن ہو گا۔

     -1 پہلا سین: فلم کا پہلا سین ایسا رکھیں، جو کہانی کے مرکزی کرداروں کے ساتھ ناظرین کا تعلق فوری طور پر جوڑ دے۔ ان دونوں کی زندگی کی محرومی کیا ہے؟اس محرومی کی وجہ سے ان کی زندگی میں کوئی فرق پڑتا ہے، اگر ہاں، تو کیا؟ کرداروں کو اتنا دل چسپ بنائیں کہ ناظرین ان دو فرضی کرداروں کی زندگی کی محرومی ختم ہونے کی دعائیں مانگنے لگیں!

    -2 آپس کی کشش:یہ وہ منزل ہے جہاں آپ ناظرین کو بتا سکتے ہیں کہ کیسے یہ دو الگ افراد ایک دوسرے کے لیے ایک دم بہترین ہیں، کس طرح یہ دونوں ایک دوسری کی محرومی کو ختم کر سکتے ہیں، لیکن ابھی یہ ایک دوسرے کی طرف مکمل طور پر مائل بھی نہیں ہیں۔آپ کو یہ دکھانا ہے کہ ان کے رشتے کی جڑ کیا ہو گی، اس کی روح کیا ہے، اور کس طرح ایک دوسرے تک آنے اور محبت کرنے کے لیے انہیں اپنی موجودہ شخصیت کو تبدیل کرنا ہو گا۔

    -3  اس مختصر آغاز کا اختتام:

    بیرونی اثر: کہانی کے آغاز کو ختم کرتے ہوئے، آپ اسے درمیانی حصے پر لانے کے لیے تیار ہو جائیں۔ ایک ایسا بیرونی واقعہ دکھائیں جس کی وجہ سے دونوں کردار ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے کے لیے مجبور ہو جاتے ہیں۔

    اندرونی اثر:کردار ایسا کون سا قدم اُٹھا رہے ہیں، جس سے ان دونو ں کی ایک دوسرے کی جانب کشش نمایاں ہو رہی ہے؟

    دوسراایکٹ(تیس سے نوے منٹ)

    مرکزی کردار ایک دوسرے کی جانب  متوجہ تو ہو رہے ہیں لیکن ابھی بھی دلوں میں کچھ ڈر ہے، خوف ہے۔ ایک قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔

    پِنچ پوائنٹ(Pinch Point): یہ کہانی کے وہ موڑ ہوتے ہیں، جو کرداروں کو ، کہانی کو،اس کی پوری شدت سے آگے نہیں بڑھنے دیتے۔ حرکت اور جمود کے بیچ کی کیفیت۔ یہ پوائنٹس کہانی میں کلائمکس اوردل چسپی کو اور زیادہ بڑھانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ ان پوائنٹس کی ذریعے آپ ناظرین کو بتاتے ہیں کہ کردار ایک دوسرے کی طرف بڑھتے بڑھتے کیوں رک جاتے ہیں اور یہ بار بار کا رُکنا ان کے رشتے پر کس طرح اثر انداز ہو رہا ہے۔

    -4 فلم کا انٹرویل:جب تک آپ کی فلم انٹرویل تک پہنچے، اس سے پہلے پہلے ان دو سوالوں کے جواب ناظرین تک ضرور پہنچا دیں:

    دونوں کردار ایک دوسرے سے اپنی وابستگی ثابت کرنے کے لیے ایک دوسرے سے کیا اظہار کرتے ہیں، یا کیا اشارے دیتے ہیں؟

    دونوں کردار کس طرح ابھی تک اپنی اپنی شخصیت اور محرومی کے خول سے باہر نہیں آ سکے (اور اس وجہ سے ان کا رشتہ ضرور ناکام ہو گا؟)

    -5 بحران: یہ کہانی کا وہ حصہ ہے جہاں دونوں کردار اپنی کہانی کے بحران سے پہلی بار کھل کر آمنے سامنے آتے ہیں۔

    بیرونی اثر:کس چیز کا ڈر دونوںیا دونوں میں سے ایک کردار کودوسرے کے طرف سے خوف میں مبتلا کر دیتا ہے، اور اس وجہ سے وہ دوبارہ اپنے خول میں سمٹ جاتے ہیں؟

    اندرونی اثر:کردار(یا کرداروں) کو احساس ہوتا ہے کہ ان کا رشتہ مزید نہیں چل سکتا، اسے ناکام ہی ہونا ہے۔

    تیسراایکٹ(نوے سے ایک سو بیس منٹ)

    کہانی کے اس آخری حصے میںدونوں مرکزی کردار تمام اندرونی اور بیرونی رکاوٹیں عبور کر کے ، اپنے اندر سے سب خوف ختم کر کے ایک دوسرے کی طرف پیش قدمی کرتے ہیں۔

    -6 کلائمکس: 

    بیرونی واقعہ:کس طرح ان دونوں کے درمیان کی رکاوٹیں اور فرق ایک آخری بار ان کے رشتے کو خطرے میں ڈالتے ہیں؟

    اندرونی اثر:کس طرح دونوں کردار ایک حتمی فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ ہر صورت اپنی باقی زندگی ایک ساتھ گزارنا چاہتے ہیں؟

    کلائمکس کے بعد: یہاں ناظرین کو ایک آخری سین یا چند مکالمات کے ذریعے دکھائیں کہ کس طرح یہ دونوں کردار حقیقتاً ایک دوسرے کے لیے بہترین ہیں۔

     ان چھے منازل کا سفر یہاں ختم ہوتا ہے۔ اگر آپ اس موضوع کو اور تفصیل میں جانچنا اور سیکھنا چاہئیں تو یہ چند فلمیں ضرور دیکھیں ،جو کہانی کی ان چھے منازل کو خوبصورتی سے استعمال کرتی ہیں:

    Atonement

    Silver Linings Playbook

    Pride and Prejudice

    Eternal Sunshine of the Spotless Mind

    Pretty Woman

    500 Days of Summer

    Ghost

    (نوٹ: کمنٹس میں ضرور بتائیں کہ ایک لکھاری کے طور پر آپ نے ان فلموں سے کیا سیکھا؟)

  • شارٹ فلم لکھنے کی جدو جہد ۔ سکرین پلے ۔ کمرشل رائٹنگ

    شارٹ فلم لکھنے کی جدو جہد

    مصنفین جانتے ہیں کہ لکھنا ایک عرق ریزی والا کام ہے۔ قاری چند ساعتوں میں جس کتاب یا کہانی کے اچھا یا برا ہونے کا فیصلہ کر دیتا ہے، لکھاری نے اکثر اسے لکھنے کے لیے راتیں کالی کی ہوتی ہیں۔ اور یہ مشکل کام تب اور مشکل ہو جاتا ہے جب بات مختصر تحریر کی آئے۔ اگر آپ تحریر کے شعبے سے ذرا سا بھی شغف رکھتے ہیں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ طویل تحریر کے مقابلے میں مختصر تحریر لکھنا زیادہ مشکل ہے، کیوں کہ آپ کے پاس بیان، پس منظر، مکالمے، کردار نگاری، غرض ہر وہ چیز جو تحریر کو گہرائی اور شخصیت دیتی ہے، اسے پوری تفصیل سے لکھنے کی گنجائش کم رہ جاتی ہے۔ 

    ایسا ہی سکرین رائٹنگ کے حوالے سے ہوتا ہے۔ ایک معمول کے دورانیے کی فلم آپ کو تحریر کے ہر شعبے سے انصاف کرنے کی جگہ دیتی ہے، لیکن اچھی شارٹ فلم صرف وہی لکھاری لکھ سکتا ہے جو حقیقتاً تحریر کے ہر زاویے سے واقف ہو اور اس پر عبور رکھتا ہو۔ کہانی کی کشمکش، کردار، عروج اور پھر حل۔۔یہ سب بہترین انداز میں سکرین پر دکھانے کے لیے سکرین رائٹر کے پاس صرف چند صفحات کی جگہ ہوتی ہے۔ 

    اب سوال یہ ہے کہ ان چند صفحات کو پر اثر انداز میں کیسے پیش کیا جا سکتا ہے؟ 

    آئیں اس کا جواب کھوجتے ہیں۔ 

    کہانی کو اثر دینے کے لیے فلم کے مناظر کی ترتیب بدل دیں۔ سینز میں سے تمام مکالموں کو نکال کر ان سینز پر نظر ڈالیں۔ کیا ان سینز سے آپ کے کہانی ناظرین تک پہنچ رہی ہے؟ ان مناظر کو اونچی آواز میں پڑھیں تا کہ آپ انہیں سن سکیں، اور ذہن میں منظر نگاری کر سکیں۔ کیا جو منظر آپ کے ذہن کے پردے پر آ رہا ہے، مضبوط ہے؟

    اپنے مکالموں پر نظر ثانی کریں۔ ایک شارٹ فلم کے سکرپٹ میں بھاری بھرکم ڈائیلاگ بازی کی ضرورت نہیں ہوتی نا ہی وہ اس صنف سے میل کھاتا ہے۔ اپنے مکالموں کو اونچی آواز میں پڑھیں یا ریکارڈ کر کے سنیں۔۔۔اگر وہ آپ کو بھاری محسوس ہو رہے ہیں تو انہیں سکرپٹ سے نکال پھینکیں۔ 

    اگر آپ کو محسوس ہو کہ مکالموں کی کمی آپ کی کہانی کو کمزور کر رہی تو سوچیں کہ مکالمے کی جگہ کیا چیز شامل کر کے آپ فلم بین تک اپنی بات پہنچا سکتے ہیں۔ کردار کو کوئی خاص عادت، کوئی انوکھا انداز، کوئی عام سی حرکت جو حالات کے تناظر میں کچھ الگ دکھے اور دیکھنے والوں تک ایک خاص پیغام پہنچا جائے؟ یہ سب وہ آلے اور ہتھیار ہیں جنہیں استعمال کر کے آپ مکالموں کی کمی پر قابو پا سکتے ہیں۔ 

    لیکن اہم بات یہ بھی ہے کہ جو بھی مکالمے سکرپٹ میں موجود ہوں، وہ انتہائی مضبوط، احساسات سے بھر پور ، اور کرداروں کی اندرونی کیفیت کی مکمل عکاسی کرتے ہوں۔ مختصر، حقیقت سے قریب اور جامع مکالمے کسی بھی شارٹ فلم کی جان ہو تے ہیں۔ آپ کی فلم کس genre ہے، یہ حقیقت بھی آپ کو مکالموں کی تعداد اور معیارکا تعین کرنے میں مدد دیتی ہے۔ ایک شارٹ فلم جو ”ڈرامہ” کے genre سے تعلق رکھتی ہے، اس کی نسبت ایک ہارر شارٹ فلم کم اور معمول کے مکالموں کو استعمال کر کے بھی بنائی جا سکتی ہے۔ 

    مکالموں اور سینز کے علاوہ ایک اور اہم جز ہے ریسرچ۔ 

    شارٹ فلم پاکستان میں بہت کم بنائی جا رہی ہے۔ اس لیے ہماری سکرین رائٹرز کے لیے اس صنف میں مہارت حاصل کرنے کے لیے ماضی کی شاندار مثالیں موجود نہیں ہیں۔ مشاہدے اور شارٹ فلم کی مثالوں کے لیے آپ کو بین الاقوامی سینما کی مدد لینی ہو گی۔ اور یہ آ پ کے لیے blessing in disguiseثابت ہو گی کیوں کہ بین الاقوامی سینما اس صنف میں کئی دہائیوں کا تجربہ رکھتا ہے۔اور وہاں اس صنف میں آپ کو ہر طرح اور ہر معیار کی شارٹ فلم دیکھنے کو ملے گی۔ اور یہ وسیع body of work   نہ صرف آپ کو مشاہدہ دے گی بلکہ تکنیک کے حوالے سے بھی آ پ کی تربیت کرے گی۔ 

    دوسرے سینماز کی شارٹ فلمز دیکھنے کے علاوہ آپ اپنی طرح کے دوسرے سکرین رائٹرز سے بات کر کے بھی فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔ آپ کو اندازہ ہوگا کہ ہر سکرین رائٹر کے لیے شارٹ فلم لکھنے کا عمل مختلف ہوتا ہے ، اور یہی فرق آ پ کو اپنی شارٹ فلم کی شخصیت تلاش کرنے اور اسے نکھارنے میں مدد دے گا۔ 

    ہمیں امید ہے یہ چند pointersاس جدو جہد میں آپ کی مدد کریں گے۔ ہمیں اپنے فیڈ بیک سے ضرور آ گاہ کیجیے گا۔

  • سکرین پلے تیار کرنے کے تین طریقے ۔ سکرین پلے ۔ کمرشل رائٹنگ

    سکرین پلے تیار کرنے کے تین طریقے

    اگر آپ اپنے ذہن میں اُبھرتی کہانی کو سکرین پلے کی صورت کاغذ پر اتارنے کے خواہاں ہیں لیکن ایسا کرنے کے دوران الجھاؤ کا شکار رہتے ہیں تو یہ مضمون ضرور پڑھیں۔ ایک اچھا سکرپٹ لکھنے کے لیے کسی ایک طریقے پر پابند رہنا ضروری نہیں ہے بلکہ اہم بات یہ ہے کہ جو طریقہ اپنایا جائے اس کا صحیح استعمال بھی کیا جائے ۔

    خیالات کا بہائو:

    بعض او قات آپ کے ذہن میں ایک مبہم آئیڈیا جنم لیتا ہے ۔ چند ادھورے مناظر جنہیں مکمل کرنے کی سعی میں آپ سکرین پلے لکھنے کی ٹھانتے ہیں۔ اس طرح آپ ذہن میں اچانک اُبھرنے والے خیالات کو ایک تواتر سے کاغذ پر منتقل کرتے چلے جاتے ہیں۔اس طریقۂ کار کے تحت سکرپٹ لکھنے کے جہاں بہت سے فائدے ہیں، وہیںچند مسائل بھی ہیںجو آپ کو درپیش آ سکتے ہیں۔

    اس طریقۂ کار کے فوائد:

    ١۔ ا س طرح لکھنے میں چونکہ زیادہ سوچ بچار نہیں کرنی پڑتی لہٰذا کہانی لکھنے کا عمل آسان اور پُر لطف ہو جاتا ہے۔

    ٢۔ آپ پلاٹ،اورذیلی پلاٹ ترتیب دینے کی مشقت سے بچ جاتے ہیں۔

    ٣۔ذہن میںمتواتر اُبھرنے والے خیالات کو قلمبند کرتے ہوئے آپ کی کہانی میں برجستگی جھلکنے لگتی ہے۔ یہاں تک کہ بعض مکالمے کاغذ پر اتارتے ہوئے آپ خود بھی حیران رہ جاتے ہیں۔

    ٤۔لکھنے کے اس طریقۂ کار پر عمل کرتے ہوئے ذہن میں نت نئے آئیڈیازجنم لیتے ہیںجنہیں نوٹ کر کے آپ آئندہ استعمال میں لا سکتے ہیں۔

    اس طریقۂ کار کے ساتھ منسلک چند مسائل:

    ١۔ اس طرح لکھتے ہوئے چونکہ ذہن میں اُبھرنے والے بے ترتیب خیالات کو الفاظ کی صورت ڈھالا جاتا ہے لہٰذا سکرپٹ مکمل کر لینے کے بعد اس کی کانٹ چھانٹ کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اپنے سکرپٹ کو ختمی شکل دیتے ہوئے غیر ضروری مکالمے اور بے معنی جملے اپنے مسودے سے خارج کر دیں۔

    ٢۔ ہو سکتا ہے کہ اپنے کچھ پسندیدہ سین سکرپٹ سے خارج کرنا آپ کو مشکل لگے۔ لیکن اپنے سکرپٹ کو نکھارنے کے لیے یہ از حد ضروری ہے۔

    ٣۔ممکن ہے کہ کہانی کا بنیادی ڈھانچہ غیر مضبوط رہ جائے۔ 

    ٤۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کہانی تکنیکی لحاظ سے کمزور ہو۔

    اس طریقۂ کار کا استعمال ان لکھاریوں کے لیے زیادہ مفید ہے جن کا ذہن ہر وقت کوئی نہ کوئی کہانی بُننے میں مصروف رہتا ہے۔ 

    تجزیاتی لکھائی:

    کچھ لکھاری باقاعدہ سکرپٹ لکھنے سے پہلے کہانی کو اس کی تمام تر جزئیات کے ساتھ سوچتے ہیں۔پلاٹ کے ساتھ جڑی ہر تفصیل باریکی سے نوٹ کی جاتی ہے ۔ Index Cards, Outlines   حتیٰ کہ Excel sheets وغیرہ استعمال کر کے کہانی کا بہائو اور تفصیلات کی فراہمی تکنیکی طور پر مضبوط کی جاتی ہے۔ اس طرح لکھنے کے بھی فائدے اور نقصانات دونوں ہیں۔

    اس طریقۂ کار کے فوائد:

    ١۔ چونکہ آپ آغاز سے لے کر اختتام تک کی ساری کہانی پلان کر چکے ہوتے ہیں لہٰذا سکرپٹ لکھنے کے لیے زیادہ وقت درکار نہیں ہوتا۔

    ٢۔ پہلے سے کہانی کا خاکہ بنانے کی صورت میں آپ اپنے مسوّدے میں بار بار تبدیلی کرنے کی کوفت سے بچ جاتے ہیں۔

    ٣۔ آپ کا سکرپٹ ایک معیاری سکرین پلے کے تمام تر اجزاء سے مزیّن ہوتا ہے۔

    ٤۔ قلم اُٹھانے سے قبل کہانی سوچنے کی صورت میں آپ سکرپٹ لکھتے ہوئے اپنی پوری توجہ مکالموں کو جاندار بنانے پر صَرف کر سکتے ہیں۔

    اس طریقۂ کار کے ساتھ منسلک چند مسائل:

    ١۔ کہانی کی بُنت اور پھر اس کا ابتدائی خاکہ بنانے میں آپ کو کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔

    ٢۔ پلاٹ زبردست ہونے کے باوجود جو چیز کمزور رہ جاتی ہے وہ ہے کردارنگاری ۔

    اس طریقۂ کار کا درست استعمال یہ ہے کہ پہلا مسودہ لکھنے کے دوران کہانی کے پلاٹ پر پوری توجہ دی جائے جبکہ دوسرے مسودے میں کردار نگاری کو بہتر بنایا جائے۔ اسی طرح تیسرے مسودے میں مکالموں پر محنت کریں اور آخری مسودے میں اپنے سکرپٹ کو حتمی شکل دیں۔ 

    ترتیب وار لکھائی: 

    اس طریقہ ء تحریر میں پچھلے دونوں طریقوں کی اچھائیوں کا مرکب شامل ہے۔ اس سے کہانی کو شروع سے ہی ایک مضبوط بنیاد میسر آتی ہے۔ اس طریقے میں ایک بنیادی خیال کو لے کرآگے چلتے ہیں۔ یہی بُنیادی خیال کہانی میں رُونما ہونے والے تمام واقعات کا سبب بنتا ہے۔

     اس طریقۂ کار کے فوائد:

    ١۔سکرپٹ کا پہلا مسوّدہ کافی حد تک مکمل ہوتا ہے لہٰذا اسے حتمی شکل دینے میں زیادہ وقت صَرف نہیں کرنا پڑتا۔

    ٢۔ پہلے سے سوچے گئے بنیادی خیال کے گرد کہانی کے تانے بانے بنتے ہوئے خیالات ایک روانی سے ذہن میں جنم لیتے ہیں جس کی وجہ سے لکھنے میں مزید لُطف آتا ہے۔

    اس طریقۂ کار کے ساتھ منسلک چند مسائل:

    ١۔ یہ طریقہ خاصا وقت طلب ثابت ہو سکتا ہے۔

    ٢۔ جیسے جیسے کہانی آگے بڑھتی ہے کرداروں کی شخصیت میں بھی تبدیلی واقع ہوتی ہے۔ یہ تبدیلی دکھانے کے لیے ہر کردار کے پسِ منظر پر تفصیلی طور پر کام کرنا پڑتا ہے۔

    ایک اچھا سکرین پلے وہ ہوتا ہے جو اپنے پڑھنے والے کو جکڑنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ یہ مضمون ان تمام پہلوؤں پر روشنی ڈالتا ہے جنہیں زیرِ استعمال لا کرآپ ایک اچھا سکرین پلے ترتیب دے سکتے ہیں۔ 

  • ناول کو سکرین پلے میں بدلیں ۔ سکرین پلے ۔ کمرشل رائٹنگ

    ناول کو سکرین پلے میں بدلیں

    آپ چاہیں مانیں یا نہ مانیں: ناول اور سکرین پلے دو بالکل مختلف چیزیں ہیں۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ آپ ایک جنگلی بلّی کا مقابلہ اپنی پالتو بلی کے ساتھ کریں۔۔۔ دونوں ہی بلیاںہیں، لیکن ایک کو آپ پیار کرنا چاہیں گے، اپنے ساتھ بٹھانا چاہیں گے، اور دوسری کو۔۔۔شاید نہیں۔

    ایک تین سو سے چھے سو صفحات کے ناول کو بطور سکرین پلے ماخوذ کرنا بہت مشکل کام ہوتا ہے۔ سکرین رائٹر کو ایک ہی وقت میں اپنے پروڈیوسر، سٹوڈیو میں موجود لوگوں اور پرستاروں کی امیدوں پر پورا اترنے کی بھرپور کوشش کرنی ہوتی ہے۔اس کے علاوہ اس کتاب کے مصنف کی بھی، جو اپنے کام کے حوالے سے بہت زیادہ حساس بھی ہوسکتا ہے۔ایک کامیاب ماخوز فلم تب جنم لیتی ہے جب سکرپٹ رائٹر اور ناول نگار مل کر ، اور تخلیقی سمجھوتوں کے ساتھ ایک پروجیکٹ پر کام کریں۔

    ہالی وڈ اپنے ناول نگاروں میں اس لحاظ سے بری طرح بدنام ہے کہ ہالی وڈ کے سکرین رائٹرزناول کی کہانی پر فلم بناتے بناتے کہانی پوری بدل دیتے ہیں۔۔۔فلم کامیاب ہو گئی تو رائٹر اور سٹوڈیو کے اختلاف ختم، لیکن اگر ناکام ہو گئی تو الزامات کا ایک سلسلہ ہے جو چل پڑتا ہے۔

    یہ سچ ہے کہ ایک مکمل ناول کوکبھی بھی پوری تخلیقی ایمانداری کے ساتھ فلم کے پردے پر منتقل نہیں کیا جا سکتا، دونوں بہت الگ اصناف ہیں۔ اگر آپ ایک ناول نگار ہیں اور آپ کے ناول پر فلم یا ڈرامہ بننے جا رہا ہے تو اپنے آپ کو یاد دلا دیں کہ سکرین پر جو آپ دیکھیں گے وہ ضروری نہیں آپ کے خیال سے مطابقت رکھے۔

    ہیری پوٹر سیریز کی مثال لیجیے۔ ان کتب کے سچے فینز کبھی بھی آپ کو فلموں کی کھلے دل سے تعریف کرتے نظر نہ آئیں گے۔ کچھ اتنے اہم حصے ،کردار اور واقعات کتاب سے سکرین کی اس منتقلی میں تبدیل ہوئے کہ اصل کہانی بدل کر رہ گئی۔لیکن اگر آپ نے پہلے کتابیں نہیں پڑھیں تو فلمیں دیکھ کر یقینا آپ کا کتابیں پڑھنے کا دل چاہے گا۔ اگر آپ فلمیں دیکھنے کے شوقین ہیں تو یہ فلمیں ضرور آپ کی دلچسپی کا باعث بنیں گی۔ ۔۔اس کی وجہ یہ ہے کہ سٹوڈیو نے ہیری پوٹر سیریز کی تمام فلموں کے لیے جے کے رولنگ اور اپنے سکرین رائٹرز کو ایک ساتھ کام کروایا۔ سکرین رائٹرز ہر اہم تبدیلی کے لیے جے کے رولنگ سے ڈسکس کرتے تا کہ نا تو ناول کی کہانی اور فلم میں بہت تضادات ہوں اور نہ ہی فلم اپنی ساخت کھو دے۔

    ان سمجھوتوں اور ڈسکشنز کا نتیجہ یہ ہے کہ ہیری پوٹر سیریز کی تمام فلمیں، کتابوں سے تضادات کے باوجود، ہالی وڈ تاریخ کی کامیاب ترین فلموں میں سے ہیں۔

    اب سوال یہ ہے کہ کیا آپ کو کتاب کے ساتھ ہمیشہ مخلص رہنا چاہیے؟آپ رہنا بھی چاہیں تو آپ نہیں رہ پائیں گے۔ ناول میں کبھی کبھی پورے چیپٹرز صرف کرداروں کی اندرونی خلش دکھانے کے لیے ہوتی ہیں اور تین گھنٹے کی فلم میں آپ کے پاس اتنا وقت نہیں کہ آپ یہ اندرونی کشمش دکھا سکیں۔اس لیے تبدیلی تو آپ کو کرنی پڑے گی۔ سکرین پلے میں کرداروں کو یا تو کم کردیا جاتا ہے یا پھر ملا دیا جاتا ہے۔کہانی کے مرکزی پلاٹ کے ساتھ بھی کم و پیش یہی کیا جاتا ہے۔ کرداروں کے اندرونی مسائل کو باہر لایا جاتا ہے تاکہ وہ لوگوں پر اپنا تاثر چھوڑ سکیں اور ساتھ ہی ڈرامائی بھی نظر آسکیں۔ یاد رکھیں، ایک ناولسٹ کے پاس اپنی کہانی کے ہر سین ، کردار اور موڑ کو بہت تفصیل اور باریک بینی کے ساتھ کھوجنے کے لیے مکمل آزادی حاصل ہوتی ہے، لیکن ایک سکرین رائٹر کے پاس یہ آزادی نہیں ہوتی۔ سکرین رائٹر وقت اور ساخت کے ساتھ محدود ہوتا ہے، اور وہ صرف ایک ہی چیز کے ساتھ ایمان دار رہ سکتا ہے، کہانی۔

    ایک سکرپٹ رائٹر کے طور پر یہ سارا کام اس وقت شروع ہوتا ہے، جب آپ کو ماخوذ کرنے کے لئے مواد ملتا ہے۔ جب آپ کے پاس ناول آتا ہے، آپ اس کو دو بار پڑھیں۔ پہلی بار صرف تفریح اور مزے کے لئے پڑھیں۔کیوں کہ، اگر آپ کو وہ کتاب پڑھنے میں مزہ ہی نہیں آئے گا، تو آپ اس کتاب کو وہیں پر رکھ دیں گے۔اگر آپ اس کتاب کو ایک سکرپٹ میں تبدیل کرنے میں خود ہی رضامند نظر نہیں آئیں گے تو ایک ایسا ہی سکرپٹ لکھ سکیں گے جو کسی کو بھی پسند نہیں آئے گا۔

    دوسری بار میں آپ کتاب کو باریک بینی سے پڑھیں، اور کہانی کے ڈرامائی عناصر کو اپنے ذہن میں رکھ کر پڑھیں۔ پڑھنے کے دوران کہانی میں موجود مناظر آپ کے دماغ میں چلنے شروع ہوجائیں۔ آپ کرداروں، مناظر کو تخیل میں دیکھیں ،ان کے نوٹس بنائیں، دوسری بار پڑھنے کے بعد ، ان کو ایک سکرین پلے کی ساخت میں تشکیل دیناشروع کردیں۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے مائیکل انجیلو نے مجسمہ سازی کے حوالے سے کہا تھا : مجسمہ تو پہلے سے ہی موجود تھا ،اس نے صرف اس پر سے موجود زائد مواد کو ہٹایا تھا۔

    اگر آپ ایک ناول کو ماخوذ کرنے کی ٹھان لیں، تو سب سے زیادہ مشکل اس کی سنیمائی تشکیل ہوتی ہے۔اس مرحلے کے لیے ناول نگار کو ضرور اپنے ساتھ رکھیں۔ کہانی کو جس باریکی سے وہ جانتا ہے آپ نہیں جانتے۔ بار بار کی ڈسکشن سے یقینا کچھ ایسی چیز ضرور سامنے آئے گی جو کتا ب اور فلم دونوں کے ساتھ حد درجہ انصاف کر سکے گی۔

    یاد رکھیں،ناول کو سکرین پلے میں تبدیل کرتے وقت بہت سے لوگوں کی بہت سی امیدیں آپ سے وابستہ ہوتی ہیں۔ بطور سکرین رائٹر، آپ اس بات کا اندازہ نہیں لگا سکتے کہ آپ ان سب پر۔۔۔یا کم سے کم ان میں سے کسی ایک پر بھی پورا اتر سکیں گے یانہیں۔ جوواحد کام آپ کرسکتے ہیں وہ یہ کہ آپ صرف وہ لکھیں جو کہانی آپ سے لکھوانا چاہ رہی ہے۔