کلپٹومینیا — میمونہ صدف

میں ایک ایسی جگہ جہاں ہمیں زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم رکھا جاتاتھا، اپنے رہنے کا مقصد ڈھونڈتی رہتی تھی اور عنقریب تھا کہ میں وہاں سے بھاگنے کی کوشش کرتی۔ ایسی ایک کوشش تھامس نے مجھ سے پہلے ہی کر ڈالی تھی۔ وہ ہم سب میں سب سے بڑا اور مضبوط جسم کا مالک تھا جو گھر کے سب سے مشکل کام انجام دیا کرتا تھا ۔ اسے وہاں رہتے ہوئے نو سال ہو چلے تھے۔ اسی لیے وہ مسٹر ایڈم کی فطرت اور ان کے گھر کے چپے چپے سے واقف تھا۔ دوپہر میں جب مسٹر اور مسز ایڈم سو جاتے اور ہم بچے اپنے اپنے کام ختم کرکے کتابیں کھول کر بیٹھ جاتے، توتھامس ایک ایسی ہی دوپہر کچن میں بنے دروازے سے بھاگنے کی کوشش میں کامیاب ہو گیا۔ وہ گھر سے بھاگ کر سڑک تک پہنچ کر کسی گاڑی کے وہاں سے گزرنے کا انتظار کر رہا تھا تاکہ اس کے ذریعے شہر جا سکے ۔ اس روز مسٹر ایڈم وقت سے پہلے جاگ گئے یا یہ تھامس کی بد قسمتی تھی کہ جس نے انہیں جگایا تھا۔ مسٹر ایڈم نے ہم سب میں تھامس کو نہ پا کر اسے پورے گھر میں ڈھونڈا اور پھر اس کی تلا ش میں اپنی کھٹا را گاڑی نکال کر سڑک تک جا پہنچے جہاں کم عقل تھامس ان کے ہتھے چڑ ھ گیا تھا۔ اس روز پہلی بار ہم نے بغاوت کی سزا کو تھامس کی ٹوٹی ٹانگوں کی صورت میں جانا تھا ۔ وہ ساری عمر بیساکھیوں کے سہارے پر آ گیا تھا ۔
تھامس کا حال دیکھ کر میں مزید وہاں سے باغی ہوتے بھاگنے کے منصوبے بنانے لگی۔ مجھے کوئی منصوبہ بھی تھامس کی طر ح ناقص اور بودا نہیں بنا نا تھا کہ میں پکڑے جانے کی صورت ساری عمر ٹوٹی ٹانگوں پر چلنے میں گزار دیتی ۔ اسی لیے میں دن رات مختلف پہلوؤں پر غور کرتی رہتی ۔ خود ہی کوئی منصوبہ تشکیل دیتی اور خود ہی اسے بے کار سمجھ کر رد کر دیتی۔ نجانے کتنے ماہ میں نے ایسے ہی گزار دیے یا شاید کتنے سال۔ اس گھر میں وقت ہم سب کے لیے ساکن تھا۔ پھر ایک روز مجھے رہائی کا ایک نیا پہلو دکھائی دیا تھا۔ مہینے میں ایک آدھ بار مسٹر ایڈم کے لیے بنک، یتیم خانوں یا ان کے پرانے محکمے جہاں وہ کام کرتے تھے سے ڈاک آیا کرتی تھی۔ میں نے اکثر دروازے پر ڈاکیے کو آتے دیکھا تھا۔ تبھی میرے ذہن نے ایک نیا منصوبہ ترتیب دیا کہ میں ڈاکیے کی مدد سے ایک چھٹی پولیس تک پہنچا کر انہیں مدد کے لیے بلا سکتی ہوں۔ اس مقصد کے لئے میں نے ایک کاغذ پر تمام حالات و واقعات لکھ کر ا سے اپنی پینٹ کے اندرونی حصے میں سی لیا تھا۔ میرا کام اوپری منزل کی صفائی کا تھا، لیکن اگر مجھے ڈاکیے سے ملنا اور اس کے حوالے وہ خط کرنا تھا، تو مجھے ہر دم باہر رہنے کی ضرورت تھی اور باہر وہی بچہ جا سکتا تھا جو باغیچے کی حفاظت کاکام کر تا تھا۔ میں نے مسز ایڈم سے درخواست کی کہ وہ باغیچے کا کام میرے سپرد کر دیں۔ مسز ایڈم کو مجھ پر کسی قسم کا شک نہ ہو اسی لیے میں نے پہلے سے نیتی کو ساتھ ملا لیا تھا جو ان دنوں باغیچے کا کام کرتی تھی اور اسے پھولوں سے الرجی کی شکایت تھی۔ نیتی کی خراب حالت کے پیشِ نظر مسز ایڈم نے مسٹر ایڈم کو بتائے بغیر ہم دونوں کی ڈیوٹی کا تبادلہ کر دیا۔ اس روز کے بعد ہم دونوں ہی ڈاکیے کی آمد کے منتظر رہنے لگی تھیں۔ میں سارا دن باغیچے کے پھولوں پودوں کی دیکھ بھال کرتے دن گنتی رہتی۔ اس ماہ ڈاکیا نہیں آیا اور نیتی یک دم مایوس ہو چلی تھی۔




’’مجھے نہیں لگتا کہ ڈاکیا آئے گا یا تم اس سے مل پاؤ گی اور اگر ایسا ہو بھی گیا، تو بھی وہ تمہاری چٹھی نہیں لے کر جائے گا۔ میں نے ایک جگہ پڑھا تھا کہ ڈاکیا وہی ڈاک لے کر جاتا ہے جو ڈاک خانے والے اس کے حوالے کرتے ہیں۔‘‘
اسے لگتا تھا کہ میرا یہ منصوبہ کوئی خاص کارگر ثابت نہیں ہونے والا، لیکن میں اوّل روز کی طرح پر امید تھی۔
اگلے ماہ کے آغاز میں ہی ڈاکیا مسٹر ایڈم کی ڈاک لایا تھا۔ اس کا سامنا براہ راست مجھ سے ہوا کیوں کہ میں باہر باغیچے میں ہی کام کر رہی تھی ۔ میں نے سب کی نظروں سے چھپ کر اسے خط نکال کر دیتے ہوئے تاکید کی تھی کہ وہ اسے کسی قریبی پولیس اسٹیشن تک پہنچا دے۔ شروع میں اس نے انکار کیا تھا کہ اس طرح ڈاک لے کر جانا اس کے پیشے کے منافی تھا، لیکن میرے بہت واسطے دینے اور منتیں کرنے پر وہ کچھ سوچتے ہوئے اس کام کے لیے مان گیا تھا۔ میں نے اس سے خصوصی درخواست کی تھی کہ وہ اس بات کا تذکرہ کسی سے بھی مت کرے۔ اس روز کے بعد سے میں اور نیتی دن رات پولیس کا انتظار کرنے لگے تھے۔ نیتی بے یقین سی یہی کہے جاتی:
ــ’’نجانے اس ڈاکیے نے وہ خط پہنچایا بھی ہو گا یانہیں۔ کیا خبر اس نے پھاڑ کر پھینک دیا ہو۔‘‘ لیکن میں سارا دن الجھے ذہن کے ساتھ وہاں سے رہائی کے خواب دیکھتی رہتی۔ پورا مہینہ گزر گیا اور کوئی ہماری مدد کو نہ آیا۔ پھر ایک دن ایک شخص ڈاکیے کا لباس پہنے ہوئے مسٹر ایڈم کی ڈاک لے کر آیا۔ مسٹر ایڈم کو ڈاک دینے کے ساتھ اس نے بتایا کہ وہ ابھی اس نوکری پر تعینات ہوا ہے اور اب سے وہی ڈاک لایا کرے گا۔ اس سے مل کر مسٹر ایڈم مطمئن اور میں سخت مایوس ہو چلی تھی۔ اس کا صاف مطلب تھا کہ اس علاقے میں ڈاک کی ترسیل کا کام اب اس نئے ڈاکیے کے حوالے تھا۔
’’نجانے اس ڈاکیے نے میری چٹھی کہاں کی ہو گی؟‘‘ میں نے بددل ہوکر پرانے ڈاکیے کے متعلق سوچا تھا ۔
’’تم ہی اس باغیچے کا کام کرنے والی بچی ہو جس نے ایک خط پچھلے ماہ پولیس اسٹیشن پہنچایا تھا؟‘‘ نئے ڈاکیے نے جاتے سمے مجھ سے کان میں پوچھا۔ میں چونکنے کے ساتھ ڈر گئی تھی۔ بہ مشکل میں نے سر اثبات میں ہلایا تھا ۔
’’یہ بات اپنے تک رکھنا۔ جلد ہی تمہیں اس خط کا جواب مل جائے گا۔‘‘
اور اس ڈاکیے کے وہاں سے جانے کے کوئی تیسرے روز پولیس کی بھاری نفری نے رات کی تاریکی میں اس گھر پر چھاپہ مارتے ہوئے ہم سب کو بازیاب کرواتے، مسٹر اور مسز ایڈم کو گرفتار کیا تھا ۔ اس نفری میں وہ نیا آنے والا ڈاکیا جو اصل میں ایک آفیسر تھا، سب سے آگے تھا جو محض وہاں کا جائزہ لینے تین روز پہلے وہاں آیا تھا۔ وہ دونوں وہاں سے کہاں لے جائے گئے ہم میں سے کوئی نہیں جانتا تھا، لیکن آٹھ برس کی قید کاٹنے کے بعد بالآخر میں کھلی اور آزاد فضا میں سانس لینے کے قابل ہوئی تھی۔ تمام بچوں کو وہا ں سے ایک این جی او کے سپرد کیا گیا جس نے ہمارے رہنے کے ساتھ ساتھ ہماری تعلیم کا بندوبست بھی کیا تھا۔ ہم تمام بچے جو ایک مدت تک حبسِ بے جا میں رکھے گئے تھے مختلف ذہنی اور جسمانی امراض کا شکار ہو چکے تھے جن کا علاج کروایا جانا ضروری تھا۔ وہیں رہتے ہوئے مجھ پر اپنی اس بری عادت کا ادراک ہوا تھا جو نجانے مجھ میں کب پرورش پا گئی میں خود بھی نہیں جانتی تھی ۔میں نے این جی او کے چائلڈ ہوم میں رہتے ہوئے وہاں کی بچیوں کی بہت سی چیزیں چرائی تھیں اور پکڑے جانے کی صورت میں مجھ سے وہ تما م چیزیں لے کر خالی ہاتھ مجھے نکال باہر کیا گیا تھا۔ اس کے بعد میں نے جہاں جہاں بھی نوکری کی ، رہائش اختیار کی، اپنی اس روش سے باز نہیں آئی اور میں نے ایک مدت کے بعد خود ان جگہوں سے چلے جانا مناسب سمجھا کہ اس سے پہلے میں بے عزت ہو کر نکالی جاتی ، عزت سے چلے جانا بہتر تھا ۔‘‘ اس نے گہرا سانس لیتے آنکھیں موند لی تھیں۔ جیسے اب وہ کھلی آنکھوں سے کچھ دیکھنا نہ چاہتی ہو ۔
’’بعض اوقات اس بیماری کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینکنا ممکن نہیں ہوتا ، لیکن اس پر خاصی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔‘‘ وہ ڈاکٹر نیل کے سامنے ہی بیٹھا ہوا تھاجو ایزا کو سکون آور انجکشن دے کر آ رہے تھے اور اب اسے کچھ وقت اس کے زیرِاثر رہنا تھا۔
مذکر اگلے روز ہی ایز اکو ایک معروف سائیکاٹرسٹ کے پاس فلورنس لے کر آیا تھا۔ اپوائنٹمٹ اس نے فون پر ہی لے لی تھی اوراس وقت وہ اور ایزا ڈاکٹر نیل کے اسپتال میں موجود تھے۔ ایزا کلپٹومینیاکا شکار تھی۔ چوری کی بیماری۔ ڈاکٹر نیل نے اس کے لیے کچھ سیشنز کی تاریخیں اور تھیراپیز تجویز کی تھیں۔ کچھ ادویات تھیں جو اسے باقاعدگی سے لیناتھیں ۔اس سب سے بڑھ کر انھیں ایزا کا تعاون درکار تھا کیوں کہ جب تک وہ خود کوشش نہیں کر تی تب تک اس بیماری پر قابو پانا قریب قریب ناممکنات میں سے تھا۔
’’ایزا جن حالات کا شکا ر رہی ہے اس میں کسی بچے کی ذہنی کیفیت پر اس سے کئی گنا زیادہ اثرات مرتب ہو سکتے ہیں جتنے ایزا پر ہوئے ہیں۔ اپنے بچپن کے حالات کی بدولت وہ کسی سے ملنے، بات کرنے سے کتراتی ہے، تنہائی پسند اورماضی میں جینے کی عادی ہے۔ اپنی تمام خواہشات کو بچپن سے دباتے اور ایک ابتر زندگی گزارتے ہوئے ایزا لڑکپن ہی سے اس بیماری میں مبتلا ہو چکی تھی جب وہ اس گھر سے بازیاب کرائی گئی تھی۔ پہلے پہل شاید اسے احسا س نہیں ہوسکا کہ وہ کیا کر رہی ہے، لیکن احساس ہونے پہ بھی وہ خود کو اس سے روک نہیں سکی، نہ ہی اب روک پا رہی ہے، لیکن مثبت پہلو یہ ہے کہ اسے نہ صرف اپنی شخصیت کے تمام کمزورپہلوؤں کا ادراک ہے بلکہ وہ ان سے نکلنا بھی چاہتی ہے اور یہی دماغی امراض میں پہلی کامیابی سمجھی جاتی ہے کہ مریض اپنا علاج کروانے پہ آمادہ ہو۔ بس آپ کو تعاون کرنا ہوگا۔‘‘ مذکر نے نہ صرف ڈاکٹر نیل کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی بلکہ ایزا کاہر طرح سے خیال رکھتے ہوئے ایک اچھا شوہر ہونے کا ثبوت دیا۔ اس نے ایزا سے اس کے ماضی کے متعلق کسی قسم کا تذکرہ نہیں کیا نہ ہی اسے کچھ یاد کروانے کی کوشش کی تھی ۔
’’میں ٹھیک ہو جاؤں گی نا؟‘‘ مذکر کے ہاتھ سے دوا کی خوراک لیتے وہ ہر دوسرے روز یہی سوال کرتی تھی ۔
’’اگر تم ٹھیک ہونا چاہو گی تو۔‘‘
’’میں ماضی سے نکل نہیں پاتی۔ ‘‘ وہ بے بسی سے مذکر کی جانب دیکھ رہی تھی۔
’’تم حال میں رہنا سیکھو گی تو ماضی سے بھی نکل آؤ گی۔‘‘ وہ اسی نرمی سے اسے سمجھاتا جس کی وہ عادی تھی۔
’’تمہیں اب بھی لگتا ہے کہ تمہارا مجھ سے شادی کا فیصلہ درست تھا ؟‘‘ یہ وہ دوسرا سوال تھا جسے وہ کثرت سے دہراتی تھی ۔
’’تم میرے لیے آج بھی پہلی سی ایز ا ہو اور مجھے زندگی میں جتنے مواقع ملیں گے میں تمہیں ہی بیوی کے طور پر دیکھنا پسند کروں گا ۔‘‘ پہلے پہل وہ یہ بات اسے برے دل سے کہتا تھا، لیکن اب دل سے کہہ رہا تھا اور اس کا یہ جواب سن کر ایزا یک دم جیسے پرسکون سی ہو جایا کرتی تھی۔
شروع میں ڈاکٹرنیل کی تمام ہدایات اور ایزا کا ماضی جان لینے کے باوجود اس کے اندر کہیں نہ کہیں ایزا کے حوالے سے بہت سی بدگمانیاں تھیں جنھیں وہ چاہ کر بھی دور نہیں کر پا رہا تھا۔بظاہر سب ٹھیک ہونے کے باوجود وہ اندر سے ایک کشمکش کا شکار رہتا تھا، لیکن وقت کے ساتھ اس نے ایزا کی بیماری اور کیفیت کو قبول کرتے ہوئے اس کا پہلے سے بڑ ھ کر خیال رکھنا شروع کر دیا۔ وہ خود اسے وقت سے دوا دیتا، اس کی غذا کا خیال رکھتا، زبردستی چہل قدمی کے لیے لے کر جاتا، اس کی سنائی ساری ماضی کی داستانیں بہ غور سنتا تھا، اپنی ہر طرح کی مصروفیت کو ایک طرف رکھ کر وہ اسے ڈاکٹر نیل کے ساتھ ہونے والے سیشنز پر لے کر جاتا تھا۔
چند ماہ کی ادویات اور تھراپیز سے اس کی ذہنی کیفیت پر خاصا مثبت اثر پڑا تھا۔ وہ اب پھر سے قریبی اسٹور پر سیلز گرل کی نوکری کرنے لگی، اس کے ساتھ باہر جانے لگی تھی، اس کے واقف کاروں سے ملنے لگی اور ایسی تمام جگہوں سے لوٹ کر وہ بڑی خوشی خوشی مذکر کو بتاتی کہ اس نے کہیں سے کسی کی کوئی شے نہیں اٹھائی ۔
’’میں ٹھیک ہو رہی ہوں مذکر… آج میں نے مسز وحید کی ریسٹ واچ پسند آنے کے باوجود غائب نہیں کی۔‘‘ گھر لوٹ کر وہ بچوں کی طرح خوشی سے اچھلتے ہوئے اسے بتا رہی تھی اور اس کا یہ انداز بھی مذکر کے لیے نیا تھا۔
’’تمہیں پتا ہے پچھلے تین ماہ سے میں نے کسی چیز کو ہاتھ نہیں لگا یا۔‘‘ اس روز وہ مال میں گھومتے چیزیں دیکھتے اسے بتا رہی تھی ۔ وہ خوش تھی اور مذکر اس سے کہیں زیادہ خوش تھا ۔
’’اور اس سب میں ڈاکٹر نیل سے زیادہ تمہارا دخل ہے جو تم نے مجھ جیسی لڑکی کا پاگل پن برداشت کرتے ہوئے میرے ٹھیک ہونے میں مدد کی ۔ میرے ذہن اور دل پر زیادہ بوجھ اس بات کا تھا کہ میں اپنی ذات کی اس کمی کے متعلق کسی کو کھل کر بتا سکوں ۔ میرے اندر کااحساسِ ندامت میرے اس گناہ سے کہیں بڑھ کرتھا جو مجھے بے چین رکھے ہوئے تھا ۔تم نے میری ایک ایک داستان سنتے ہوئے میرے اندر کی اس گھٹن کو کم کیا ہے۔ یہ سب آسان نہیں تھا، لیکن تم نے اسے کس قدرآسان بنا ڈالا۔‘‘ وہ اپنی بہتری میں سارا عمل دخل مذکر کا گردانتی تھی ۔
’’تم میری بیوی ہو اور بیوی ایک مرد کے وجود کا حصہ ہوتی ہے۔ تم ذہنی کرب سے گزر رہی تھی، تو مجھے لگتا تھا میں روحانی طور سے اذیت میں ہوں ۔اب تم ٹھیک ہو تو سب ٹھیک ہے۔‘‘ ایک مان سے اس نے ایزا کو گلے لگا لیا تھا ۔
٭…٭…٭
ایک سال اور تین ماہ کے علاج کے بعد اس کی تھیراپیز بند کر دی گئی تھیں ۔ اس کی ادویات کی مقدار پہلے سے تین گنا کم کر دی گئی۔ پچھلے سات ماہ میں اس نے کہیں سے کوئی چیز نہیں اٹھائی تھی اس کا اقرار وہ خود کر رہی تھی۔ یہ ڈاکٹر نیل کے مطابق اس کا آخری سیشن تھا ۔ڈاکٹر نیل مذکر سے بات کرتے ہوئے اس کی ذہنی حالت میں اس قدر جلد سدھار پر خوش ہوتے ہوئے ایزا کی قوت ِ ارادی کو بھی سراہ رہے تھے۔ ایزارائٹنگ پیڈ پر تیزی سے چلتے ان کے ہاتھ کو دیکھ رہی تھی۔ تبھی ڈاکٹر نیل نے اسے دیکھتے اور مسکراتے ہوئے کہا تھا۔
’’عموماً دنیا کے سائیکاٹرسٹ اس بات پر یقین رکھتے ہیں ایزا کہ کلپٹومینیا کو سرے سے ختم کرنا ممکن نہیں ہے، لیکن سچ یہ ہے کہ کسی بھی بیماری میں مریض کی قوت ِ ارادی کا بڑا دخل ہوتا ہے ۔ مریض ٹھیک نہ ہونا چاہے، تو ایک معمولی نزلہ جاتے جاتے لوٹ آتا ہے اور چاہے توبڑی سے بڑی بیماری سے لڑ سکتا ہے۔ میں ابھی تمہاری ادویات مکمل طور سے ختم نہیں کر رہا۔ مستقبل میں تمہیں ہر چھے ماہ بعد سیشن کے لیے آنا ہوگا اور بعد میں ہوسکتا ہے اس کی ضرورت بھی نہ پڑے۔ کیا تمہیں یہ بریسلٹ پسند آرہا ہے جو میرے ہاتھ میں ہے؟‘‘ وہ بات کرتے کرتے محظوظ انداز میں ایزا کی توجہ اپنے ہاتھ پر پا کر بولے تھے ۔ مذکر نے چونک کر ایزا اور پھر ڈاکٹر نیل کو دیکھا جب کہ ایزا نے محض ڈاکٹر نیل کو۔
’’یہ ایک خوب صورت بریسلٹ ہے لیکن میرا اسے چرانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور میں جھوٹ نہیں بولتی ڈاکٹر نیل۔‘‘ و ہ تینوں ایک ساتھ مسکرائے تھے ۔
٭…٭…٭
واپسی کے سارے سفر میں ایزا خلاف ِ معمول خاموش تھی۔ مذکر خوش تھا اور ضرورت سے زیادہ بول رہا تھا ۔ وہ پچھلی بہت سی باتیں یاد کرتے ہوئے ہنس رہا تھا اور ایزا کبھی کبھار کسی بات پر مسکرا دیتی تھی۔ مذکر نے ایک پھولوں کی دکان پر گاڑی روک کر اس کے لیے سرخ پھولوں کا ایک گلدستہ خریدا۔ ایزا مذکر کے برعکس نہ صرف خاموش تھی بلکہ کچھ ناخوش بھی دکھائی دے رہی تھی۔
’’مذکر میں ٹھیک ہو جاؤں گی نا؟‘‘ وہ کچھ اُداسی سے پوچھ رہی تھی ۔
’’تم ٹھیک ہو چکی ہو ایزا۔ تم نے سنا نہیں ڈاکٹر نیل نے کیا کہا ؟‘‘
’’لیکن ڈاکٹر نیل کے مطابق کلپٹومینیا کبھی جڑ سے ختم نہیں ہوتا۔ اسے کم کیا جا سکتا ہے، ختم نہیں۔‘‘ اس کی آواز میں جیسے مایوسی در آ ئی تھی ۔
’’اور تم نے یہ نہیں سنا کہ انسان چاہے، تو کسی بھی بڑی بیماری کو اپنی مضبوط قوتِ ارادی سے ہرا سکتا ہے۔‘‘ وہ تیز رفتاری سے گاڑی چلاتے ہوئے سمجھ گیا کہ ایزا ڈاکٹر نیل کی بات پہ پریشان ہے۔ اسی لیے وہ اسے تسلی دے رہا تھا ۔
’’تمہاری میڈیسنز قریب قریب بند کر دی گئی ہیں اور اب تمہیں بس کبھی کبھار چیک اپ کے لیے آنا ہے جس کا صاف مطلب ہے کہ تم اب ٹھیک ہو چکی ہو اور جو تھوڑی بہت کسر رہ گئی ہے وہ بھی جلد دور ہو جائے گی ۔کیا تمہیں یقین نہیں ہے؟‘‘
’’مجھے یقین ہے کہ میں جلد بالکل ٹھیک ہو جاؤں گی ۔ جو تھوڑی بہت کسر رہ گئی ہے۔ وہ بھی جلد دور ہو جائے گی کیوں کہ تم میرے ساتھ ہو، لیکن ابھی میں پوری طرح سے ٹھیک نہیں ہوئی ۔پر میری قوت ِ ارادی مضبوط ہے اور میں جلد اس بیماری کو ہرا دوں گی۔ میں یہ جانتی ہوں، لیکن اس سب میں وقت لگے گا۔‘‘ وہ اس کی بات پر مسکرا دیا۔
’’ابھی تم گاڑی واپس موڑو کیوں کہ مجھے ڈاکٹر نیل سے ملنا ہے ۔انھیں کچھ لوٹانا ہے ۔‘‘
’’وہ کیا ؟‘‘ وہ حیران ہوا۔
اس نے اداسی سے مذکر کودیکھتے، مخصوص انداز میں اپناہاتھ کوٹ کی جیب سے نکالتے سامنے پھیلایا جس میں ایک قلم جگمگا رہا تھا۔
فلورنس کے اسپتا ل کی تیسری منزل پر بیٹھے ڈاکٹر نیل نے اپنے قلم دان سے قلم اٹھانے کے لیے جونہی ہاتھ بڑھایا، تو وہ ساکت رہ گئے۔ ا نہیں قلم دان میں ہی قلم رکھنے کی عادت تھی اور اب ان کا وہ قیمتی قلم وہاں نہیں تھاجو انھوں نے چند روز قبل ہی ایک ایگزی بیشن سے خریدا تھا۔ ایزا نے سچ کہا تھا کہ وہ جھوٹ نہیں بولتی۔ اس کا بریسلٹ چرانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ ا سی لیے مذکر کے ساتھ گاڑی کی اگلی سیٹ پر بیٹھی ایزا کے ہاتھ میں ڈاکٹر نیل کا قلم جگمگا رہا تھا اور آنکھوں میں آنسو … مذکر لب بھینچے اب گاڑی واپس فلورنس اسپتال کی جانب موڑ رہا تھا۔ جہاں ایزا کو اب یہ قلم خود جا کر واپس رکھنا تھا کہ اب اسے اپنی اس بیماری نما عادت کو ہرانا اور خودکو جتانا تھا۔ مصمم ارادے ، قوی قوت ِ ارادی اور سچائی کی طاقت سے۔
٭…٭…٭




Loading

Read Previous

لبِ قفل — راحیلہ بنتِ میر علی شاہ

Read Next

دوسرا رخ — عبدالباسط ذوالفقار

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!