کرتا — دلشاد نسیم

چھوٹے سے لال اینٹوں کے بنے صحن کے ایک طرف کمرہ تھا اور اْس کے بالکل سامنے چولہا رکھا تھا۔ جسے باورچی خانہ کا نام دے دیا گیا تھااور اسی کے ساتھ دیوارپر لگی پیتل کی ٹوٹی ۔۔جس سے سرکاری پانی قطرہ قطرہ یوں بہتا رہتا جیسے کوئی بِرہن ہجر کی ماری بن بات رو پڑے۔۔ زمین میں عین اس جگہ سوراخ ہو چکا تھا معلوم ہوتازمین کی سختی بھی اِس مسلسل عذاب سے گھبرا چکی ہے ، تو پھر کچے دھویں میں روٹیاں پکاتی تاجی کا جی کیوں نہ گھبراتا۔۔
تاجی کا آٹھ سالہ بیٹا معین جس کو غربت نے پھلنے پھولنے کا موقع ہی نہ دیا بہ مشکل پانچ ایک سال کا نظر آتا۔ صحن کی پیلی ،کمزور یرقان زدہ روشنی میں سکول کا کام کر رہاتھا، نذیر اپنے اطراف روز کی طرح بہت سے میلے، پرانے، گوٹے کناری والے مَسلے کپڑے لیے بیٹھا ،خوش ہو رہا تھا۔۔ تاجی کو ہمیشہ حیرت ہوتی نذیر اتنا خوش کیسے رہتا ہے اور وہ کیوں نہیں رہ سکتی یکدم روٹیاں سینکتی تاجی کے کان میں نذیر کی آواز آئی، کھردری بلغمی آواز جس کو سن کے ایک بار تاجی غیر ارادی طور پے اپنا گلا ضرور صاف کرتی مگر اس نے نذیر سے کبھی نہ کہاکہ اْس کی آواز تاجی کی ملائم سماعت پر خراشیں ڈالتی ہے اْسے نذیر سے محبت ہوتی تو اْسے کوئی صلاح دیتی ۔۔ نذیر بہت خوش تھا۔ ’’لے بھئی دیکھ ہم غریب مہنگائی کو روتے ہیں اور بابو لوگ نئے نکور کپڑے کچے پکے برتنوں کے لئے آرام سے بیچ دیتے ہیں ۔۔یہ دیکھ کیسا پیس ہے۔۔؟‘‘
تاجی کو بات ہضم نہیں ہوئی اپنے دھیان میں روٹیاں دسترخوان میں لپیٹتے لپیٹتے بولی: ’’امیروں کو کیا پڑی ہے کچے برتن خریدنے کی وہ بھی پھیری والے سے وہ تو اپنی کام والیوں کو دے دیتے ہوں گے پرانے دھرانے کپڑے۔۔ وہی بیچ باچ دیتی ہوں۔۔۔۔۔‘‘
بات کرتے کرتے تاجی نے سر اْٹھایا اس سے پہلے بھی کئی بار ایسا ہوا تھا وہ معین کے لئے پرانے کپڑوں میں سے کچھ رکھ لیتا کئی تاجی کو بھی دان مل جاتا مگر تاجی دیکھ کے بات کرنا بھول گئی وہ جسے پیس کہہ رہا تھا،۔۔ نذیر ہاتھ اْونچا کیے جو دِکھا رہا تھا ایک کُرتا تھا۔ پیلی روشنی کرتے کی سفیدی نگل چکی تھی۔۔۔ یا پھر کُرتا ہجر کے دکھ سے زرد پڑ چکا تھا۔۔۔
نذیر نے بلغمی قہقہہ لگایا اور کرتا تاجی کی طرف بڑھا دیا۔۔ کہنے لگا ’’ مجھے پہلے ہی پتا تھا تُو دیکھے گی تو دیکھتی رہ جائے گی ہاتھ میں پکڑ کے دیکھ بزاری کڑائی (کڑھائی) نیئں لگتی۔۔ لگتا ہے کسی نے بڑی جان ماری ہے ۔۔ ‘‘ پھر بے پروا سی ہنسی ہنس کے بولا: ’’ہمیں اس سے کیا۔‘‘
اُسے نذیر زندگی میں پہلی بار خوش قسمت لگا جس کو اس سے کچھ نہیں تھا کہ کس نے اس کُرتے کے لئے جان ماری ہے۔۔ اُس نے کُرتا گول مول کر کے اپنی لکڑی کی ٹانگ کے نیچے دبایا۔۔ ’’تُو کھانا لگا بڑی سخت بھوک لگی ہے چل معین بند کر اپنا بستہ تْو شام کو اپنا کام کیوں نئیں کر لیتااب کھانے کے ٹیم پہ تجھے سکول کا کام یاد آجاتا ہے۔۔ تاجی!‘‘ اْس نے تاجی کو دیکھا مگر محسوس کئے بغیر بولا: ’’کھانا لگا جلدی سے۔۔ معین میرے ہاتھ دُھلا دے۔۔‘‘
تاجی کا سکتہ ٹوٹا وہ ایک پلیٹ میں سالن اور چنگیر میں روٹیاں لے کر خود کو گھسیٹتی ہوئی اْٹھی باپ بیٹے کے سامنے کھانا رکھ کے پلٹنے لگی کہ نذیرنے اْس کا ہاتھ پکڑ لیا ۔اْسے جب تاجی پہ بہت پیار آتا وہ یہی کہتا: ’’جب تک تُو نیئں آئے گی میں کھانا نیئں کھاؤں گا۔ ‘‘
’’میں پانی لے آؤں۔۔‘‘ تاجی نے مری مری آواز میں کہا۔۔
نذیر نے ہاتھ چھوڑ دیا اور ہنس کر بولا: ’’کل اسے بیچ کر جتنے پیسے ملیں گے سب تیرے ہاتھ پہ رکھ دوں گا کل تو نے مرغا پکانا ہے۔۔‘‘ پھر ہنستے ہوئے کہتا ہے۔۔ ’’اتنی دال کھلائی ہے تو نے اُس کو چُگنے کے لیے مرغا بہت ضروری ہے۔۔‘‘ وہ تاجی کا جواب لئے بغیر ہی ہنستا چلا گیا تاجی کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اْس کے مْنہ پہ ہاتھ رکھ دے۔۔ نذیر سے آنے والے دن میں ملنے والی دھاڑی کی خوشی چُھپائے نہیں چُھپ رہی تھی۔۔
کُھلے آنگن میں گرمیوں کا چاند بادلوں سے کھیل رہا تھا کبھی روشنی بہت تیز اور کبھی مدہم ہو جاتی پیتل کی ٹوٹی کی ٹپ ٹپ سکوت کو توڑدیتی تو کبھی اُس کی اپنی لا متناہی سوچیں۔۔۔ نذیر جاگ رہا تھا ورنہ اْس کے خراٹے اْس کی چھوٹی سی دنیامیں زلزلہ لانے کو کافی تھے۔۔ نذیر نے دیکھا تاجی کی چمک دار آنکھوں کی نمی چاند کی روشنی میں ستارے بنا رہی تھی نذیر کو ہمیشہ گُمان رہا کہ خاموشی تاجی کی عادت ہے وہ ہے ہی روکھی پھیکی اُس نے کبھی یہ نہ سوچا۔۔ دو وقت کی روٹی، ایک بچہ اور کچا پکا مکان زندگی نہیں ہوتا۔۔ زندگی جینے کے لئے کچھ اور بھی چاہیے لیکن نذیر ایسے لطیف احساس سے بہت دور تھا۔ ’’تاجی۔۔‘‘ نذیر نے بلایا تاجی نے کچھ کہے بغیر اس کی طرف کروٹ لی دونوں کی چارپائیوں کے بیچ بہ مشکل تین بالشت کا فاصلہ ہو گا لیکن یہ تین بالشت کا فاصلہ تاجی کو تین جنموں کا لگتا۔۔
’’کیا تو بھی وہی سوچ رہی ہے جو میں سوچ رہا ہوں؟‘‘
’’تم کیا سوچ رہے ہو ؟ ‘‘اْس نے اْلٹا سوال کیا ۔۔





’’میں سوچ رہا ہوں آج کل پہلے جیسے حالات نیئں رہے بڑی شو شا آگئی ہے لوگوں میں، کوئی پرانی چیزوں کو خریدتا ہی نہیں ۔۔ پھر بھی تیرا کیا خیال ہے کتنے میں بک جائے گا کُرتا۔۔۔ ؟‘‘
’’تمہیں کتنے میں ملا؟۔۔‘‘ سوال کرتے کرتے اْس نے اپنی دل کی دھڑکن کو اپنے کانوں میں سنا۔۔
’’شیدا بتا رہا تھا چار کچی مٹی کی پیالیاں دی تھیں اس نے ۔۔۔‘‘
تاجی نے مارے دکھ کے اپنا نچلا ہونٹ دانتوں میں لے کر برُی طرح کچلا۔۔۔ ’’بس ۔۔ چار کچی مٹی کی پیالیاں؟ یہ قیمت لگی اُس کُر۔۔۔۔ تے کی۔۔‘‘ اْس نے اپنی آہوںکو خود محسوس کیا تاجی کی آنکھ سے پھر ایک تارہ ٹوٹا اور کان کی کٹوری میں غائب ہو گیا ۔۔۔
میں بھی یہی سوچ رہا تھا جانے اْس کا اچھا مول لگتا ہے کہ نہیں سو روپے معین کی فیس جاتی ہے تم بتا رہی تھی سکول سے خط آیا ہے کہ فیس نہ دی تو وہ معین کو سکول سے نکال دیں گے اگر مرغا آگیا تو فیس۔۔۔ فیس کہیں رہ نہ جائے۔۔۔ سو ڈیڑھ سو سے زیادہ کا تو نہیں بک سکے گا۔۔۔‘‘
تاجی نے دل کی دیواروں کو توڑتے طوفان کو بڑی مشکل سے روکا ۔۔’’اور اگر کل نہ بک سکا تو۔۔؟‘‘
نذیر پھیکی ہنسی ہنس کے بولا ۔۔۔۔’’ مجھے پہلے ہی شک تھاتیری نیت ضرور خراب ہو جائے گی۔۔۔‘‘ تاجی نے اَن سنی کر کے پوچھا۔۔ ’’شیدے نے کہاں سے لیا۔۔۔ کُرتا‘‘ ۔۔ کرتا اُس نے زیرِلب ہی کہا۔۔ جیسے آہ بھری ہو۔
نذیر نے خود کو گھسیٹا اور کروٹ بدلی: ’’مجھے کیا پتا کہاں سے لیا تھا۔۔۔ مجھے سونے دے۔۔۔‘‘
اْسے نذیر کے سونے کا ہی تو انتظار تھا فضا میں ٹوٹی کے ٹپکتے قطروں کی جگہ اب نذیر کے خرّاٹوں نے لے لی تھی اُس نے سر اُٹھا کے اپنے ادھورے شوہر کو دیکھا اْسے خود پرترس آگیا ۔۔ معین کا ہاتھ پرے کیا اس کی شرٹ اوپر تک آئی ہوئی تھی اْسے معین کے کمر سے لگے پیٹ سے خوف محسو س ہوتا تھا۔۔ یہ وہ سکون تو نہیں تھا جس کا خواب ماں نے تاجی کی آنکھ میں رکھا تھا وہ تو خواب سے پہلے تعبیر کا غم ڈھو رہی تھی۔۔ تاجی نے معین کی شرٹ نیچے کی اور خود بے آواز اْٹھ کر کمرے میں چلی گئی کپکپاتے ہاتھوں سے کھٹکا دبا یا اندھیرے کمرے میں مردہ سی روشنی پھیل گئی تاجی نے بے تابی ے کپڑوں کی گٹھڑی کو کھولا اور کپڑوں میں ہاتھ ڈال کر کُرتے کی اپنائیت کو محسوس کیا۔۔ بے تابی مگر احتیاط کے ساتھ اُس نے ہاتھ کھینچا۔۔۔ کُرتا اُس کے ہاتھ میں تھا اْس نے پلکیں جھپکیں جانے کرْتا میلا تھا یا اْس کی آنکھوں میں بسی آنسوؤں کی دھند نے اسے ملگجا کر دیا تھا ۔۔ تاجی نے اپنے ہاتھ کی پشت سے اپنی آنکھیں صاف کیں۔۔ مگرآنسو اب کہاں رُکنے والے تھے۔۔ اُس نے کرتے پر یوں ہاتھ پھیرا جیسے کرتا اُس کے ہاتھ میں نہ ہومنوں نے پہن رکھا ہو اور تاجی اس سے شکوہ کر رہی ہو۔۔ ’’رے منوں تُو نے میرا پیار کچی مٹی کی چار پیالیوں کے عوض بیچ دیا ۔۔ تُو تو کہتا ہے تھا تُو مر جائے گاپر ساری عمر اِسے سینے سے لگا کے رکھے گا۔۔‘‘
تاجی نے گٹھڑی دوبارہ باندھ دی اور کرتا تہ کر تے کرتے کئی بار اس کا ضبط ٹوٹا اْس نے کئی بار اْسے وارفتگی سے چوما، آنکھوں سے لگایا اور کمرے کی کھڑکی کے پیچھے پردے میں رکھتے رکھتے بھول گئی کہ نذیر جب صُبح اُسے گٹھڑی میں نہیں پائے گا تو ۔۔۔ تو کیا ہو گا۔
اُس رات بھی چاند ایسے ہی چمک رہا تھا جب منوں نے اس سے کہا تھا۔۔ ’’تیرا پیار۔۔پیار تھوڑی ہے میرے لئے احسان ہے ۔جو احسان بھولے، کافر ہو کے مرتاہے۔‘‘
تاجی کے سارے منظر ہی دھندلے ہو گئے۔ ہائے منوںمیرا پیا ربھول جاتا احسان تو نہ بھولتا۔
اس رات نے تو جیسے پیروں میں لوہے کی زنجیریں پہن لی ہوں۔سرک ہی نہ رہی تھی۔ جیسے میّت کا گھر۔ساری رات بین کرتے گزر گئی۔اذانوں کے وقت ذرا سی جھپکی لگی کہ نذیر نے آواز دی ۔
’’چل اْٹھ اذانیں ہو رہی ہیں،نماز نہیں پڑھنی کیا ؟‘‘
اسے یوں لگا جیسے نذیر نے کہا ہو، میّت نہیں دفنانی کیا۔ وہ رات کی جاگی وحشت سے نذیر کو دیکھے گئی۔
’ایسے کیا دیکھ رہی ہے ؟‘۔نذیر نے اِسے محبت جانا۔
تاجی نے پلاسٹک کی چپل پیروں میں اــڑسی اور بنا کچھ کہے اٹھ کر چلی گئی۔
معین نے سکو ل جانا تھا اور نذیر نے کام پہ ۔۔ آندھی ہو یا طوفان شیدا اپنے وقت پہ آجاتا تھا مگر پتا نہیں کیوں اُس دن وقت گذر ہی نہیں رہا تھا۔۔۔ شیدا آیا معین اور نذیر دونوں کو لے کے چلا گیا۔ تاجی نے دروازہ بند کر کے بھاگ کے کرتا نکا لا اور جلدی جلدی دھونے لگی۔ اسے اتنی محبت سے ایک بار پہلے بھی وہ دھو چکی تھی جب اس نے کاڑھ لیا تھا، سلائی سے پہلے۔ منوں سے چُھپ کر گرمیوں کی کتنی تپتی دوپہر یں اس نے کمرے میں بند ہو کے گزاریں۔۔ تب کہیں جاکر مکمل ہوا تھا۔ کُرتا تار پر ڈال کر اس نے جلدی جلدی ہانڈی چڑھائی۔ بار بار اس کی نظر ہوا کی شہہ پہ ہلتے کُرتے پہ جاتی اسے یوں لگتا منوں سینے پر ہاتھ باندھے اسے دیکھ رہا ہے۔ ایک بار تو اس نے منو کا ہاتھ بھی جھٹکا۔ ’مجھے کھانا پکانے دے شیداروٹی لینے آتا ہی ہوگا۔ کہہ کر جب اس نے سر اُٹھایا، وہاں کوئی نہیں تھا تار پر بے وفائی کھڑی تھی۔
تاجی کو یاد آرہا تھا چھت پر سیمنٹ کی دیوار سے ٹیک لگائے لگائے اس نے کتنے نخرے سے پوچھا تھا۔’یہ تو بتاکتنا پیار کرتا ہے مجھ سے؟‘۔منوں سوچ میں پڑ گیا۔
تاجی کا دل بُجھ سا گیا۔اس نے کتنے دنوں کی گرمی کھا کر اس کے لئے سفید لون کا کرتا کاڑھا تھا اور اس کو دینے آئی تھی۔
منو کو یوں سوچ میں گُم دیکھا تو کرْتا دوپٹے کی آڑ میں چُھپا لیا اور اٹھنے لگی۔’’۔رہن دے پیارہوگا تو بتائے گا نا۔‘‘ وہ اُٹھ گئی۔۔ اٹھتے اٹھتے تاجی کی چوٹی منوں کے ہاتھ میں آگئی اس نے ہاتھوں پہ دو بل دے کہ اسے اور قریب کر لیا۔ ’میں تو یہ سوچ رہا تھا کاش میں اگلے چار سو سال تک تجھے اس طرح بیٹھ کر دیکھتا رہوں۔۔‘‘ اس کالہجہ مخمور ہونے لگا۔ تاجی کا دل زور سے دھڑکا۔ بے ساختہ اس کا سر منوں کے کاندھے پہ ٹک گیا۔ شور مچاتی دھڑکنوں کے سازپر سرگوشی میں بولی: ’چار سو ایک سال کیوں نہیں؟‘ منوں نے اس کے کان میں کہا ’’ہو سکتا ہے میں اتنا نہ جی سکوں۔‘‘
تاجی ایک جھٹکے سے منو ںسے علیحدہ ہوئی ۔۔ ’’ شکل اچھی نہ ہو تو بات ڈھنگ کی کر لیا کرو۔۔‘‘ پھر اترا کے بولی: ’’اچھا خیر۔۔ چار سو سال ہی ٹھیک ہے‘۔یہ دیکھ۔۔‘‘، اس نے خوش ہو کر دوپٹے کی آڑ سے کر تا نکالا۔ ’تیرے لئے کاڑھاہے۔ سیا بھی خود ہے میں نے ۔‘‘
منو ںنے کرتا آنکھوں سے لگا لیا۔ ’’میرے لئے؟‘‘۔ ناقابلِ یقین حیرت سے پوچھنے لگا تو تاجی مغرور سی ہو گئی۔ ’’ہاں تیرے لئے ۔۔بتایا تو ہے میں نے خود بنایا ہے۔‘‘
منو ںنے کرتے پر ہاتھ پھیرا ’’اتنا خوب صورت، ایک ایک ٹانکے میں اپنا پیار پرو کے دے دیا تْونے تو ‘‘ اس نے کُرتا چوم لیا۔تاجی نے سخاوت سے کہا ’’تجھے اچھا لگا تو ایک اور بنا دوںگی‘‘۔ منوں گھبرا کر بولا ’’نہیں نہیں۔‘‘ اس نے تاجی کے ہاتھ سید ھے کئے جہاں سوئیوں نے چھوٹے چھوٹے سوراخ کر دیئے تھے ۔’’میں تجھے اور تکلیف نہیںدے سکتا‘‘۔ تاجی ہنس دی۔’’بہت پاگل ہے تو اس میں تکلیف کی کیا بات ہے۔ سو روپے کا کپڑا آیا بتیس روپے کا دھاگا اور دس روپے کی چھپائی، کل ملا کر کتنے ہوئے۔؟‘‘ ہنس دیتی ہے۔ ’’تو اسے تکلیف سمجھتا ہے۔‘‘ اس نے تکلیف پر زور دے کر کہا۔ ’’اتنا تو سستا بنا ہے۔‘‘
منوں نے تاجی کی آنکھوں کو چوم لیا: ’’تیری آنکھوں کا نور ہے یہ سوچتا ہوں کیسے چکا پاؤں گا اس کی قیمت۔ اتنی محبت۔ اتنی چاہت۔‘‘تاجی منو ںکے ماتھے کی لٹ پیچھے کر کے وارفتگی سے بولی: ’’جب تو اسے پہنے گا تواس کی قیمت آپ ہی چکتا ہو جائے گی۔‘‘ پھر مِنت سے کہا: ’’پہن کر دکھا ناں۔‘‘
منوں مُسکرا کے اسے دیکھ رہا تھا۔ ’’میں اسے تیرے بیاہ والے دن پہنوں گا۔‘‘ اْس نے تاجی کو چھیڑا۔۔
تاجی یاد کرتے کرتے کیسے دنیا سے بے خبر لگ رہی تھی۔۔ کئی سالوں بعد وہ آپ ہی آپ ہنس رہی تھی دروازہ بج رہا تھا۔ تاجی ہوش کی دنیا میں واپس آگئی ہنڈیا کے جلنے کی بو سارے گھر میں پھیل چکی تھی۔تاجی نے جلدی سے ہنڈیا اُتاری اور دروازہ کھولا۔
شیدا کھانا لینے کے لئے کھڑا تھا۔شیدے نے بھی جلنے کی بو محسوس کی۔’’پرجائی سالن لگ گیا لگتا ہے۔‘‘
’’ہاں‘‘ اس نے مختصراََ کہااورہمت کر کے کرتے کے مالکوں کا پتا پوچھا۔
شیدا ہنس دیا۔ ’’استاد کہہ رہا تھا عورتوں کو تو کوئی اچھی شے دکھانی ہی نہیں چاہئے۔‘‘
’’خفا تو نہیں تھا۔‘‘ تاجی کا دل پھر زور سے دھڑکا۔شیدے نے بد رنگ مگر صاف دستر خوان کی گرہ لگائی اوراسے دیکھ کر روانی سے بولا: ’’پرجائی تجھ پہ خفا ہوتے کبھی دیکھا نہیں استاد کو۔‘‘ شیدا جاتے جاتے مڑا۔ ’’ویسے تم نے کیا کرنا ہے؟ گھر بہت دور ہے سواری کے بغیر کوئی نہیں جاسکتا وہاں۔‘‘ تاجی نے سر ہلایا۔ ’’تیری مرضی ہے میرا کام تھا صلاح دینا۔‘‘
تاجی نے دروازہ بند کیا او ر رو پڑی۔ اس منحوس صلاح ہی نے تو مارا تھا مجھے۔
تاجی نے اپنا صاف ستھرا دوپٹہ جستی ٹرنک سے نکالااور کرتا تہ کر کے اس میں یوں لپیٹا جیسے اس کا دوپٹہ دوپٹہ نہ ہو جزدان ہو اور کرتاکرتا نہ ہو کوئی صحیفہ ہو۔یکدم اْس پہ بے بسی کی کیفیت چھا گئی جیسے کوئی مرض الموت میں مبتلا اْس کے سامنے ہو اور اُس کی سارے دعائیں کہیں زمین آسمانوں کے درمیان رہ گئی ہوں۔۔ منوں تو نے کیوں بیچا میرا پیار۔اتنا سستا۔ اس کا سانس بند ہو رہا تھا۔ ایسی بھاری سل سینے پہ دھری تھی کہ جیسے اب جان نکلی کہ تب۔
بے بسی نے ایڑھیاں رگڑنے کی سی حا لت کر دی تھی۔تمہیں تو یاد بھی نہیں ہوگا منوں جب تم نے مجھے اماں کی آرزو سنائی تھی۔میں تو اماں کو منع کر چکی تھی کہ مجھے کسی کے ساتھ بیاہ نہیں کرنا پر تیرے سامنے۔۔




Loading

Read Previous

۱۳ ڈی — نفیسہ سعید

Read Next

بڑا افسر — صبا احمد

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!