لبِ قفل — راحیلہ بنتِ میر علی شاہ

بارش مسلسل برس رہی تھی۔
سردی سے اس کے دانت بج رہے تھے۔ اس نے ایک بے بس سی نگاہ ساس، سسر کے کمرے پر ڈالی۔ وہ جاگے ہوتے یا انہیں پتا ہوتا تو شاید وہ یوں برآمدے میں سردی سے نہ لڑرہی ہوتی۔ زاویار کیسا بھی تھا اس کے ماں باپ بہت محبت کرنے والے تھے۔ تانیر مسلسل رونے کے شغل میں مصروف تھا۔ اس کے بھی گالوں پرگرم سیال بس بہے جار رہا تھا۔
سردی، اذیت اور بے بسی سے ادھ موئی سی ہورہی تھی۔ کیا کروں ؟ سردی سے نیلے ہونٹ دانتوں تلے دبائے وہ تڑپتی ہوئی سوچ رہی تھی۔
تانیر کو کیا تکلیف تھی ؟وہ کیوں ایسے چیخ چیخ کر رو رہا تھا؟ وہ بے بسی سے سوچ رہی تھی کہ اچانک کمرے کا دروازہ ایک زور دار دہاڑ سے کھلا ۔
’’کیوں رلا رہی ہو اسے؟‘‘ سرد نظروں سے اسے گھورتے ہوئے پوچھا گیا ۔ سردی بہت تھی، ہڈیوں میں گھس کر حملہ کرنے والی۔ ہاتھ پیر بے جان کردینے والی، لیکن وہ فریز نہیں ہوئی۔ اس کی سانسیں نہیں رکیں اس کی رگوں کا خون برف نہیں بنا، لیکن یہ لہجہ، یہ سرد آواز ، اس نے تو سانسوں پر بندش لگادی جسم فریز ہوگیاتھا۔ وہ ہل نہ سکی ہلنے کے قابل ہی کہاں بچی تھی۔ تانیر رو رہا تھا حلق پھاڑ پھاڑ کر رو رہا تھا اور وہ ساکت سی بیٹھی تھی اس کی نظریں اس ظالم کے چہرے میں گڑکر منجمد ہوگئی تھیں۔
بارش زور و شور سے جاری تھی ہوائیں سرسرا رہی تھیں کہ اچانک کچھ ہوا۔ کیا ہوا …ایسا کیا ہوا؟ کہ چند لمحے بادل گرجنا بھول گئے۔ ہواوؑں نے گھبرا کر اپنے رخ موڑ دیے۔ اچانک ساکت سی وجود میں بجلی کوندی معصوم سے تانیر کو تھپڑ پڑا تھا ایک نہیں دو نہیں مسلسل وہ بھاری ہاتھ اٹھتا چلا گیا اور وہ معصوم سے وجود کی ڈھال بن گئی۔ اس پر تابڑ توڑ تھپڑ برسے۔
’’کتنی بار سمجھایا ہے، جب سو رہا ہوں، تو اسے کمرے سے دور رکھا کرو ۔خود سارا دن آرام کرتی رہتی ہو۔ یہ نہیں سوچتی کہ میں تھکا ہارا گھر آتا ہوں۔سارا دن آفس میں اور رات اس کی رونے سے خراب ہوتی ہے۔ کچھ خیال ہی کرلو سٹوپڈ!‘‘ ہاتھ کے ساتھ زبان نے بھی اپنے جوہر دکھائے۔
درد ،اذیت کیا ہے ؟ اس کی صحیح معنی تو آج وہ سمجھی تھی۔ اسے ڈانٹ بھی پڑی تھی مار بھی پڑی تھی لیکن تب برداشت کرلیا تھا۔ آج تو ماں کے کلیجے پر ہاتھ پڑا، آج تو اسے لگا کسی نے حلق سے پکڑلیا ہو۔ کسی نے رگوں کو کاٹ کر اس میں اذیت بھر دی ہو اور ایسا لگا جیسے قسمت میں خوشی محبت اور پیار جیسے الفاظ صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہوں۔ ایک بیوی سب برداشت کرسکتی ہے، لیکن ایک ماں اپنی اولاد کی تکلیف برداشت نہیں کرسکتی ۔کیسے برداشت کرے؟…اس نے ایک بیوی کے روپ میں، کٹھن سے کٹھن وقت گزارہ لیکن اب!




اس نے ایک نظر بند دروازے پر ڈالی آنکھوں میں بے ساختہ کچھ چبھا۔
تانیر ارحم زاویار ارحم کا بیٹا !دادا دادی کے آنکھوں کا نور، چار ماموں کے دلوں کا ٹکڑا جب بھی وہ میکے میں ہوتی تو ایک منٹ کے لیے بھی تانیر اس کے پاس نہ چھوڑتے چاروں ماموں ایک سے بڑھ کر ایک تانیر سے بہت پیار کرتے تھے۔ تانیر کو کون اٹھائے گا اس بات پہ مقابلے ہوتے لڑائی ہوتی شور سے تنگ آکر تانیر جو رونا شروع کردیتا، تو چاروں کے ہاتھ پاوؑں پھول جاتے۔ اس کو چپ کرانے کے لیے کوئی مرغا بن جاتا۔ کوئی بلی کی آواز نکالتا۔ غرض تانیر میں ان سب کی جان بسی ہوئی تھی۔ آمانہ بھی یہاں آکر اپنے سارے دکھ درد بھول جاتی تھی۔ اپنے بھائیوں کو دیکھ دیکھ کر جیتی تھی لیکن کبھی بھولے سے بھی زاویار کے ظالمانہ رویے کا ذکر نہیں کیا ورنہ ایک منٹ کے لیے بھی بھائی اس کو سسرال میں نہ رہنے دیتے لیکن ایسا کچھ نہیں کرناچاہتی تھی۔ وہ صبر سے ایک اچھے وقت کے انتظار میں برا وقت گزار رہی تھی، لیکن آج اس کے صبر کا پیمانہ ٹوٹ کر بکھر گیا تھا اس کی ساری ہمت جواب دے گئی۔
اچانک اس نے کچھ سوچا ! فوراً سے بیشتر اٹھی اپنی شال کو اپنے گرد اچھی طرح لپیٹ لیا روتے تانیر کے گرد بھی کمبل درست کیا اور بنا کسی آہٹ کے گھر سے نکل آئی۔ بارش جاری تھی، سردی شدید لیکن اسے پروا نہیں تھی۔ سردی سے شل ہوتے وجود کے ساتھ آدھی رات کو فٹ پاتھ پر چلتی رہی ایسے کہ آگے نہ کوئی منزل تھی اور نہ کوئی ٹھکانا۔ میکے نہیں جانا چاہتی تھی بھائیوں کا اعتماد ان کا بھروسا ان کا مان جو انہوں نے زاویار پر کیا تھا اپنی اکلوتی جان سے عزیز بہن اس کے سپرد کی تھی کیسے وہ مان ٹوٹتا ہوا دیکھ سکتی تھی وہ؟ کیسے سالوں کا حساب دیتی وہ ؟اور کیسے اپنے چپ رہنے کا جواز بتاتی۔ زاویاردوبارہ کمرے میں آکر لیٹ گیا۔
تو اچانک ہی اپنا ہاتھ اٹھاکر اسے دیکھنے لگا۔ احساس ندامت نے اسے گھیرا اس نے کروٹ بدل لی۔ ندامت کے احساس سے بھاگنے کی کوشش کی، مگر کامیاب نہیں ہوسکا۔ کروٹ پہ کروٹ بدلتا رہا، لیکن نیند آنکھوں سے دور جا چکی تھی۔ بارش جاری تھی، سردی حد سے سوا تھی، اسے کمرے میں بھی ٹھنڈ لگ رہی تھی اور وہ… وہ تڑپ کر اٹھ بیٹھا۔ یہ کک کیا کیا میں نے؟ اس نے اپنے بال مٹھی میں جکڑکر خود سے سوال کیا۔ ہونٹ سختی سے کاٹے …..آنکھیں اذیت سے میچ لیں۔ کوئی آگہی کا در، کسی جرم کا احساس، اچانک ہی ہوتا ہے ۔کبھی کبھی صدیاں بھی بیت جاتی ہیں۔بغیر کسی احساس کے تو کبھی ایک لمحہ لگتا ہے پوری زندگی کے احتساب کے لیے اور یہ وہ لمحہ تھا۔ شاید وہی لمحہ تھاجب ہی تو وہ تڑپ کر باہر نکلا، لیکن وہ نہیں تھے۔ وہ کہاں گئے ؟ بے ساختہ اسے سردی کچھ زیادہ لگی ہونٹ کانپ کر رہ گئے۔
امی ابو کے کمرے کی طرف بھاگا، لیکن وہ تو لائٹ آف کیے سو رہے تھے۔ پھر کہاں گئے؟ دل میں کچھ چبھا۔ بھاگ کر داخلی دروازے کی طرف گیا تو اس کے بدترین خدشے کی تصدیق ہوچکی تھی۔ مسلسل برستی بارش اور کڑاکے کی سردی میں امانہ تانیر کو لے کر جاچکی تھی، لیکن کہاں؟ چند لمحے اپنی جگہ ساکت سا کھڑا رہا کچھ سمجھ نہیں پارہا تھا۔
’’کیا کروں؟ ایک مکا دیوار پر مارتے ہوئے بڑبڑایا۔ کیا کیا یہ میں نے ؟ کیوں کیا؟‘‘
دیوار پر مکے برساتے وہ اذیت کی انتہا کو چھونے لگا۔ بارش میں بھیگنے لگا تھا، لیکن وہ کیسا احساس تھا؟ کہ اب وہ دوسرے احساسات سے مبرا ہوگیا تھا۔ وہ واپس کمرے کی طرف بھاگا موبائل اٹھا کر شاہان کا نمبر ڈائل کرکے اسے کال کرنے لگا۔
’’ہیلو‘‘ شاہان کی نیند میں ڈوبی ہوئی آواز سنائی دی۔
’’شاہان!آپ کدھر ہیں اس وقت اور…….‘‘
جی میں اس وقت پوری طرح نیند کے قبضے میں ہوں لہٰذا کسی اور ٹائم کال کرلینا۔
زاویار کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی شاہان نے نیند سے ڈوبی ہوئی آواز میں جواب دیا اور کال ڈس کنکٹ کردی۔
’’افف کیا کروں میں ؟‘‘ بے قراری سے لب کاٹتے ہوے سوچنے لگا ۔چند لمحے کچھ سوچا اور اٹھ کر بھاگتے ہوئے گھر سے نکل آیا … معطر سی ہوا چل رہی تھی ۔بارش اب بھی ہلکی ہلکی سی برس رہی تھی…کبھی کبھی بجلی بھی چمک جاتی جس سے درختوں کے سبز پتوں پر اٹکھیلیاں کرتے اچھلتے کودتے بوندیں کوئی خوبصورت شفاف موتیوں کی طرح دکھائی دیتیں اور پھر وہی بارش کی بوندوں کی آواز اور اندھیرے کی راجدھانی۔ وہ ایک گھنٹے سے اِدھر اُدھر سڑکوں کی خاک چھان رہا تھا۔پورے کپڑے کیچڑ میں لتھڑے سردی سے ہونٹ نیلے اور چہرہ لٹھے کی مانند سفید۔
’’لیکن وہ نہیں ملے ..وہ کہاں گئے؟‘‘ وہ درد وہ اذیت لفظوں میں بیان ہوسکتی ہے؟ نہیں وہ اذیت بیان نہیں ہوسکتی تھی ۔ وہ روح تک گھائل ہوچکا تھا۔ آج اگر وہ نہیں ملے تو کیسے جئے گا؟جس کے گلے میں پھانسی کا پھندا ہو وہ کتنا جی سکتا ہے؟کتنی سانسیں بھر سکتا ہے؟
اس کے گلے میں پھانسی کا پھندا ڈالا جاچکا تھا۔ تختہ کب الٹتا ہے۔ کتنی دیر سے وہ انتظار کررہا تھا۔ اچانک کہیں سے رونے کی آواز آئی اوراس کے مردہ ہوتے وجود میں زندگی پھونک گئی۔ وہ دیوانہ وار پلٹا۔ رونے کی آواز پھر آئی۔ وہ اسی کچے مکان کی سمت بھاگ پڑا جس مکان سے آواز آرہی تھی۔ بھاگتے ہوئے وہاں پہنچا اور دیوانہ وار دروازہ کھٹکھٹایا۔ چند لمحے انتظارکرکے پھر دستک دی اب کی بار کیچڑ میں پاوؑں رکھنے کی آواز سنائی دی اوروہ چند لمحے زاویار کے لیے صدیوں پر محیط ہوئے۔ دروازہ کھلا اور وہ آوؑ دیکھا نہ تاوؑ اندر چلا آیا۔ کیچڑ میں گرتا پڑتا اس کچے کمرے کی طرف بڑھا جہاں سے ہلکی ہلکی روشنی آرہی تھی ۔
جب وہ فٹ پاتھ پر سردی سے ٹھٹھرتی ہوئی جارہی تھی تو ایک باریش بزرگ نے دیکھ لیا۔ وہ کیا کرنے نکلا تھا اس طوفانی رات میں باہر کیا کررہا تھا ؟ اس نے نہیں پوچھا، لیکن وہ ماں بیٹے کے زندگی کا ضامن ثابت ہوا۔ دونوں کو اپنے گھر لے کر آیا۔ ان کے لیے آگ جلادی اور اسی آگ پر ایک دیگچی میں چائے چڑھا دی۔ وہ بالکل خاموش تھا۔ اس نے کچھ بھی نہیں پوچھا ۔ جب چائے بن گئی تو مٹی کے ایک قدرے بڑے سائز کے پیالے میں وہ چائے ڈال دی اور اسی خاموشی سے آمانہ کو پکڑا دی۔ آمانہ نے بزرگ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے چائے لے لی۔ اسے چائے کی سخت طلب ہورہی تھی اور بزرگ کی بنائی چائے پی کر تو وہ ششدر رہ گئی۔ اتنے مزے کی چائے زندگی میں پہلی دفعہ پی تھی۔ اس کا دل چاہا کہ وہ بزرگ سے کچھ پوچھے لیکن وہ چاہ کر بھی کوئی سوال نہ کرسکی۔ سوال لبوں پر آتے آتے رک جاتے تھے۔ جیسے ان کے آگے قفل ہو اور وہ آگے بڑھنے کی بجائے وہیں ٹھٹھر کر رک جاتے۔ بزرگ مصلیٰ بچھاکر نوافل ادا کرنے لگا۔ تانیر خاموش ہوا اور آمانہ دوپٹے کو آگ پر سینک سینک کر سکھانے لگی ۔
اچانک داخلی دروازے پر دستک ہوئی۔ آمانہ بری طرح چونک گئی جبکہ بزرگ نے سلام پھیرا اپنے ہاتھ دعا کے لیے اٹھا دیے چند لمحے زیرلب دعا مانگنے کے بعد اٹھ گیا۔ دروازے پر ایک بار پھر زور کی دستک ہوئی اور بزرگ باہر نکل گیا۔ کمرے میں ابھی بھی آگ جل رہی تھی۔ تانیر رو رو کر اب پھر سے خاموش ہوچکا تھا۔ آمانہ انگنت سوچوں اور وسوسوں میں گھری بیٹھی تھی۔ جب اچانک کمرے میں زاویار داخل ہوا ۔ اس نے متحیر ہوکر زاویار کو دیکھا اور زاویار تڑپ کر آگے بڑھا ۔ وہ جلدی سے اٹھ کر کھڑی ہوئی۔ زاویار نے آگے بڑھ کر تانیر کو اس سے لیا اور اپنی گود میں اٹھالیا اور دیوانہ وار اسے چومنے لگا۔ تانیر جو ابھی ہی چپ ہوا تھا باپ کے گیلے سرد جود سے لگتے ہی ایک بار پھر اپنا پسندیدہ مشغلہ شروع کردیا۔ آمانہ اپنی جگہ ساکت سی بیٹھی تھی۔ یہ کیا ہوا تھا کیسے ہوا تھا؟ اس پہلے کہ وہ یہ سب سوچتی یا کہہ پاتی اس کی نظریں زاویار کے زخمی ہاتھ پر پڑی جس سے بہت خون بہ چکا تھا۔ سارا ہاتھ خون رنگ ہوچکا تھا اب شاید تھوڑا خشک بھی ہوا تھا۔ وہ تڑپ کر اٹھی اپنے دوپٹے کے پلو سے ایک ٹکڑا پھاڑا اور چپ چاپ زاویار کا ہاتھ پکڑ کر اس کے ہاتھ پر باندھ دیا۔ حوا کی بیٹی میں احساس اور رحم ازل سے چلاآیا ہے۔ ہر ظلم ہر زیادتی، ہر ناانصافی ایک لمحے میں معاف کرنے کا ظرف رکھتی ہے۔ ایک میٹھے بول کے لیے سارا دن ایک پاوؑں پر کھڑی رہتی ہے، لیکن پھر بھی ہمیشہ ہر جگہ، ہر گھر میں پیدا ہوتے ہی دکھ، درد قسمت میں لکھوا کر آتی ہے۔ اس کے باوجود کہ جس گھر میں پیدا ہو اس پر اللہ کی رحمتیں برستی ہیں، اس کے باوجود کہ ایک ماں کی صورت میں جنت ان کے پاؤں تلے ہوتی ہے۔ آمانہ نے روتے ہوے تانیر کو زاویار سے لے لیا اور اسے چپ کرانے لگی۔ وہ بوڑھا آدمی حیرت سے کھڑا یہ سب دیکھ رہا تھا۔ زاویار آگے بڑھا اور اس نے اس بزرگ کا بے حد شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس کے بیٹے اور بیوی کی زندگیاں بچالی تھیں اور اپنی شریک سفر کا ہاتھ پکڑکر آگے بڑھ گیا۔ اس سے زندگی نہیں، اس سے تو سانسیں جڑی تھیں۔ یہ تب ہی احساس ہوا جب سانسیں رکنے لگی تھیں۔ وہ خاموش تھا، لیکن اس کی نظریں اپنی شریک سفر کو یہ باور کراچکی تھیں کہ وہ ہر غلطی کا ازالہ کرے گا۔
’’آمانہ! میں معافی تب ہی مانگوں گا جس دن میں اپنے عمل اور محبت سے آپ کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوجاؤں گا کہ میں ایک باپ اور شوہر کہلانے کے لائق ہوں۔‘‘ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد دھیمے لہجے میں وہ گویا ہوا اور آمانہ خان کو خوشیوں کا خزانے تھماگیا۔ صبر کا میٹھا پھل مل گیا تھااوراسے اور کیا چاہیے تھا بھلا؟‘‘
٭…٭…٭




Loading

Read Previous

سرد سورج کی سرزمین — شاذیہ ستّار نایاب

Read Next

کلپٹومینیا — میمونہ صدف

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!