فیصلہ — محمد ظہیر شیخ

’’تمہیں کہا تھا نا. دنیا میں سب کچھ تمنا کرنے سے نہیں مل جاتا۔ کچھ چیزیں حاصل کرنے کے لیے طاقت کا استعمال ناگزیر ہوتا ہے۔ محبت اچھی چیز ہے مگر حالات کے مطابق ہو تب۔ کچھ کاموں میں ہٹلرانہ رویہ ہی رکھنا پڑتا ہے۔‘‘ وہ دونوں رات کے دس بجے اپنے اپنے بستر پر موجود، موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کررہے تھے ۔ عامر سر جھکائے اس کی ڈانٹ سن رہا تھا ۔ ناصر بولے جا رہا تھا۔
’’اب بھی وقت ہے ہمیں کچھ کرنا ہوگا۔ خیر جمع کا صیغہ استعمال کررہا ہوں حالانکہ تم سے کیا ہوگا سوائے چاپلوسی کے ۔ مجھے ہی کچھ کرنا ہوگا۔‘‘
’’چھوڑو یار! جب قسمت ہی خراب ہے تو پھر کسی سے جھگڑا کرنے کا فائدہ؟‘‘
’’تیری سوچ کو سرخ سلام پیش کرتا ہوں ۔ خیر جیسا منہ ویسی بات ۔ ایک سوال کا جواب دو۔ کیا نیلم کے بغیر رہ سکو گے، زندگی گزار سکو گے اس کے بنا؟ ادھر میری طرف دیکھ کر جواب دو۔‘‘ ناصر نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا تو اس نے نگاہیں جھکا لیں۔
’’تمہاری مجرمانہ خاموشی کو میں اقرار سمجھ کر آج تجھ سے وعدہ کرتا ہوں کہ نیلم تیری ہوگی وگرنہ کسی کی نہیں۔‘‘ عامر نے کچھ کہنے کے لیے لب ہلائے مگر پھر اپنی طبیعت کے باعث چپ سادھ لی۔ اس کی راتوں کی نیند پہلے ہی اڑی ہوئی تھی۔ اس کی دنیا اندھیر ہو چکی تھی ۔ اگر کسی غیر سے جھگڑا ہوتا تو وہ کچھ کر بھی لیتا، مگر یہاں اپنی ہی برادری سامنے تھی۔ اسے ناصر کی حرکتوں کا پتا تھا ۔ وہ جانتا تھا کہ ناصر آخری حد تک چلا جائے گا ۔ اسے یاد تھا کہ بچپن میں ایک بار اس کے کسی کزن نے عامر کو پتھر پھینک کر معمولی زخمی کیا تو ناصر نے اس کزن کو مار مار کر لہولہان کردیا تھا۔ بعد میں لڑائی جھگڑا بڑوں تک پہنچا تو عورتوں کی الگ تو تو میں میں اور تکرار ہوئی ۔ بات تھانے کچہری تک چلی گئی مگر جلد ہی خاندان کے بڑوں نے صلح صفائی کروا کر معاملہ ختم کروا دیا، بصورت دیگر چھوٹی سی بات کا اتنا بتنگڑ بنتا کہ سب سر پکڑ کر رہ جاتے۔ اس کے بعد بھی ایک دو واقعات ایسے ہوئے جن سے عامر کو محسوس ہوا کہ ناصر اس کے ساتھ کسی قسم کی بھی زیادتی برداشت نہیں کرتا ۔ گو کہ دوستی ان میں شروع دن سے تھی مگر اس کی شرافت کے سامنے ہمیشہ ناصر ڈھال بن کر کھڑا رہا تھا۔ اسے بخوبی اندازہ تھا کہ زندگی کے اس اہم موڑ پر اور اتنے اہم فیصلے میں اس کی ناکامی کسی صورت ناصر کو برداشت نہ ہوگی۔ وہ لڑائی جھگڑے سے ڈرتا تھا اور ایسے کاموں سے ہمیشہ اجتناب کرتا تھا اس لیے اب وہ خوفزدہ تھا کہ کہیں آنے والے دنوں میں کسی بڑی لڑائی کا موجب نہ بنے وہ ۔ یہ سب سوچتے سوچتے اس نے رات گزار دی جبکہ دوسری جانب عابد بھی جاگ رہا تھا۔ وہ ہمیشہ سے ناصر کی باغیانہ حرکتیں اور بدمزاج طبیعت کو دیکھتا اور اس کے بارے میں سنتا آیا تھا۔ عابد خود بھی ماردھاڑ اور بدمعاشی میں کسی سے کم نہ تھا ، مگر اس کے اندر خدائی فوجداری والی حس نہیں تھی۔ وہ اپنے کام سے کام رکھنے والوں میں سے تھا۔ یہ الگ بات تھی کہ اس کے معاملات میں مداخلت کرنے والا اور ٹانگ اڑانے والا اپنی ٹانگیں تڑوا کر ہی جاتا تھا ۔ وہ رات کے پچھلے پہر اس بات پر تلملا رہا تھا کہ ناصر کا لہجہ اس کے لیے حاکمانہ تھا۔
’’تم نے عابی کو بھی ڈرپوک سمجھا ہوا ہے پتر! پر شاید تیرا واسطہ ہی ڈرپوک اور بزدلوں سے پڑا ہوگا۔‘‘ وہ زیر لب بڑبڑایا ۔ اسے رہ رہ کر ناصر کا رویہ یاد آرہا تھا۔وہ اس بات پر بھی افسوس کررہا تھا کہ اس نے وہاں ناصر کے سامنے نرم لہجے میں بات شروع ہی کیوں کی اور بحث و تکرار تک نوبت ہی کیوں آنے دی۔ وہ افسوس کرنے لگا کہ اسے ناصر کے ساتھ اسی کی زبان میں بات کرنی چاہیے تھی۔
’’اب تیرے اندر ہمت ہوئی تو مجھ سے پنگا لینا تیری ساری بدمعاشی نہ نکال دی تو کہنا۔‘‘ وہ مسکراتے ہوئے بڑبڑایا یہ سوچ کر وہ مطمئن ہوگیا اور سونے کی کوشش کرنے لگا۔
٭…٭…٭





گاؤں میں عابد اور نیلم کے بارے میں افواہیں پھیلے کچھ دن ہی گزرے تھے کہ ہر شخص کو ایک بریکنگ نیوز ملی ۔ آنے والے جمعہ کی شام عابد اور نیلم کی منگنی تھی۔ ایک طرف خوشیوں کے شادیانے تھے تو دوسری جانب عامر اور ناصر کے لیے مرگ ناگہاں سی کیفیت ۔ ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ اتنا جلد یہ سب ہو جائے گا ۔ عابد ہوا کے گھوڑے پر سوار تھا اس نے جلد از جلد منگنی کی رسم ادا کرنے کے لیے گھر والوں پر دبا ڈالا جس کے بعد جمعہ کے دن تقریب کے انعقاد کا عندیہ دے دیا گیا ۔ منگنی میں دو دن باقی تھے کہ ناصر نے شام کو میدان میں اسے پکڑ لیا ۔ دونوں کے درمیان تند و تیز جملوں کا تبادلہ ہوا، بات بڑھی تو گالم گلوچ سے ہوتی ہوئی دست و گریباں تک پہنچی۔ دوسرے لڑکوں نے دیکھا تو بھاگ کر آئے۔ ان کے پہنچنے تک وہ دونوں ایک دوسرے کی اچھی خاصی درگت بنا چکے تھے۔ بڑی مشکل سے انہیں ایک دوسرے سے الگ کیا گیا ۔ ان کے منہ سے گالیوں کی بوچھاڑ اور ایک دوسرے کو زندہ درگور کرنے کی دھمکیاں بھی دی جارہی تھیں ۔ دونوں کو ایک دوسرے سے دور لے جایا گیا اور پھر بڑی مشکل سے رام کرکے گھر پہنچا دیا گیا ۔ ناصر کی آنکھ کے قریب نیل پڑا ہوا تھا اور ایک دانت بھی ٹوٹ گیا تھا۔
عابد اس سے تگڑا تھا اس نے جوش کے بجائے ہوش سے کام لیا تھا ۔ اسے معمولی چوٹیں آئیں تھیں جبکہ ناصر کو اپنے تکبر کے باعث وقتی مات ہوئی تھی ۔ دونوں گھرانوں کے درمیان پہلے روابط بحال تھے مگر اس واقعہ کے بعد تعلقات میں پھوٹ پڑ گئی۔ رات کو ناصر کو گھر والوں کی طرف سے سرزنش بھی کی گئی مگر اس نے صاف بتا دیا کہ وہ کسی صورت عابد کو معاف نہیں کرے گا ۔ وہ اس سے اپنی درگت کا بدلہ لینے کا پکا ارادہ کر چکا تھا ۔ اس کے والد نے اسے بہتیرا سمجھایا کہ ایسا نہ کرے ۔ غم و غصہ کی لہر دونوں طرف تھی ۔ خاندان کے باقی بڑوں تک بات پہنچی تو اگلے دن جرگہ رکھا گیا۔ ان کی بدقسمتی سے گاؤں میں ایک فوتیدگی کے باعث اگلے دن معاملہ زیر بحث نہ آسکا۔ جمعرات کا دن باقی بچا تھا جس سے اگلے دن منگنی کی رسم تھی ۔ ناصر پر ہر گزرتا لمحہ بھاری تھا۔
دونوں طرف پراسرار سی خاموشی تھی۔ انتقام اور بدلے کی آگ میں جلتے ناصر کو کسی پل چین نہیں تھا۔ اس نے گھر والوں سے چوری چھپے اپنے والدہ کا پستول نکال کر اپنے کمرے میں چھپا دیا تھا۔ حالات کس رخ پر جانے والے تھے کسی کو خبر نہ تھی ۔ جمعرات کی شام جرگہ، عابد کے گھر رکھا گیا۔ ناصر بھی وہیں موجود تھا، بڑوں کی موجودگی میں اسے بولنے نہ دیا گیا۔ باتیں ہوتی رہیں، افہام و تفہیم سے معاملہ حل کرنے پر زور دیا جارہا تھا ۔ لڑائی ختم کرنے کے لیے ناصر نے اپنی واحد شرط یہی پیش کی تھی کہ عابد، نیلم سے دستبردار ہو جائے مگر عابد اپنے موقف اور نیلم کی طلب سے ایک انچ پیچھے ہٹنے کو تیار نہ تھا۔ اس کے بولتے ہی عابد نے جواباً تلخ لہجے میں بات کی تو اس نے عابد کی طرف چھلانگ لگا دی ۔ ایک دم ہڑبونگ مچ گئی ۔ ناصر ، عابد کو گھسیٹتے ہوئے باہر کو لے گیا جبکہ وہاں موجود لوگ انہیں چھڑانے میں ناکام ہو کر ان کی طرف باہر کو لپکے۔سب سے پہلے ناصر کے والد ان دونوں تک پہنچے اور پھر اچانک ہی فائر کی آواز گونجی تو سب کے رونگٹے کھڑے ہو گئے ۔ گولی چلنے کی آواز سن کر آس پاس کے گھروں سے بھی بہت سارے افراد عابد کے گھر کی جانب دوڑے۔ افراتفری کے باعث شور میں کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی، گولی عابد کو لگی تھی جو کٹے شجر کے مانند گرا تھا۔ ناصر کے والد نے پستول فوری طور پر اس سے چھین لیا تھا ۔ باقی لوگوں نے اس پر توجہ نہ دی وہ سب عابد کی جانب متوجہ تھے جو خون سے لت پت برآمدے میں پڑا تھا۔ جلدی سے گاڑی نکالی گئی جو وہاں آنے والے ایک فرد کی تھی ۔ اسے فی الفور ہسپتال پہنچایا گیا ۔ سب لوگ خوفزدہ تھے اور آہستہ آہستہ اپنے گھروں کی جانب روانہ ہوگئے ۔ ناصر کو بھی اس کے والد واپس لے آئے تھے ۔ وہاں کسی میں اتنی جرات نہ تھی کہ وہ اس پر ہاتھ ڈالتا۔ عابد کے گھر کہرام مچ گیا ۔ گولی کہاں لگی اور کیسے کسی کو خبر نہ تھی۔ سب نے پستول ناصر کے والد کے ہاتھ میں دیکھا تھا مگر انہیں شک تھا کہ وہ ناصر کے پاس موجود تھا۔ ناصر کے اپنے گھر خوف و ہراس پھیل گیا تھا، دہشت کی اس فضا میں ڈرامائی موڑ تب آیا جب رات کے پچھلے پہر یہ اطلاع ملی کہ عابد ہسپتال میں دم توڑ گیا ہے ۔ گولی زہر قاتل ثابت ہوئی تھی اور اس نے پھیپھڑوں کو بری طرح متاثر کیا تھا۔ گاؤں میں ابھی یہ خبر نہیں پھیلی تھی کیونکہ اکثر گھروں میں لوگ سو رہے تھے ۔ راجہ شہباز کے بیٹے راجہ عابد کے قتل کی خبر اگلے دن زبان خلق کے لیے ایک موضوع تھا جس پر ہر جگہ چہ میگوئیاں ہورہی تھیں۔ قاتل کے طور پر ایک ہی نام سامنے آیا تھا اور وہ تھا ناصر کا۔
٭…٭…٭




Loading

Read Previous

آسیب — دلشاد نسیم

Read Next

ہم رکاب — عرشیہ ہاشمی

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!