دادی جان نے دال پکائی

دادی جان نے دال پکائی

Written by

in

,

نویں انعام یافتہ نظم
دادی جان نے دال پکائی
سارہ قیوم

دادی جان نے دال پکائی
امی، ابو، آپا، بھائی
ناک بھوں سب نے چڑھائی
دادی جان نے دال پکائی

کاش بنائی ہوتی چُوری
کُنا، بھاجی، حلوہ، پوری
گھر میں ہوتا کوئی حلوائی
دادی جان نے دال پکائی

نہ کوئی زردہ نہ کوئی کھیر
نہ فالودہ اور پنیر
نہ کوئی پائے، نہ کوئی پائی
دادی جان نے دال پکائی

مزے کی ہوگئی ایسی دال
ٹپکی سب کی اس پر رال
اتنے میں موٹی ہمسائی
بھاگی دوڑی اندر آئی

ساری دال ہماری کھائی
میرے اللہ تیری دہائی

شیئر کریں

Comments

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے