Tag: reading

  • دادی جان نے دال پکائی

    دادی جان نے دال پکائی

    نویں انعام یافتہ نظم
    دادی جان نے دال پکائی
    سارہ قیوم

    دادی جان نے دال پکائی
    امی، ابو، آپا، بھائی
    ناک بھوں سب نے چڑھائی
    دادی جان نے دال پکائی

    کاش بنائی ہوتی چُوری
    کُنا، بھاجی، حلوہ، پوری
    گھر میں ہوتا کوئی حلوائی
    دادی جان نے دال پکائی

    نہ کوئی زردہ نہ کوئی کھیر
    نہ فالودہ اور پنیر
    نہ کوئی پائے، نہ کوئی پائی
    دادی جان نے دال پکائی

    مزے کی ہوگئی ایسی دال
    ٹپکی سب کی اس پر رال
    اتنے میں موٹی ہمسائی
    بھاگی دوڑی اندر آئی

    ساری دال ہماری کھائی
    میرے اللہ تیری دہائی

  • بلّی اور پرندہ

    بلّی اور پرندہ

    بلّی اور پرندہ
    عبدالمجید سالک

    سنا ہے کسی گھر میں تھی ایک بلّی
    وہ چوہوں کو کھا کھا کے تنگ آگئی تھی
    اسے صبح شام ایک کھانا نہ بھاتا
    بھلا صبر اک چیز پر کیوں کر آتا؟
    بس اک روز بلّی نے یہ دل میں ٹھانا
    کہ ڈھونڈوں گی اب میں نیا کوئی کھانا
    چڑھی ایک کوٹھے پہ یہ سوچ کر وہ
    لگی جھانکنے پھر اِدھر اور اُدھر وہ
    نظر اک طرف جب اُٹھائی تو دیکھا
    کہ ہے ایک لڑکے کا چھوٹا سا کمرہ
    دریچے میں ننّھا سا پنجرا ٹنگا ہے
    اور اُس میں پرندہ کوئی خوش نما ہے
    پرندہ وہ پنجرے میں جب چہچہایا
    وہیں منہ میں بلّی کے پانی بھر آیا
    اُٹھی اور دبے پاؤں کمرے کو چل دی
    قدم کو اُٹھاتی چلی جلدی جلدی
    جو دیکھا کہ کمرے میں لڑکا نہیں ہے
    اور اُس کے پرندے کا پنجرا وہیں ہے
    غضب ناک ہو کر وہ پنجرے پہ جھپٹی
    وہ گویا کہ بپھری ہوئی شیرنی تھی
    پڑا ہاتھ بلّی کا پنجرے کے در پر
    زمیں پر گری اُس کی زنجیر کھل کر
    نہ پھولی سمائی جو بلّی نے دیکھا
    کہ اب تو ہے قبضے میں میرے پرندہ

    ابھی باہر اِس کو پکڑ لاؤں گی میں
    ابھی پھاڑ کر اِس کو کھا جاؤں گی میں
    پرندے نے دیکھا کہ آئی ہے آفت
    نہیں آج کچھ جان بچنے کی صورت
    اچانک جو در کو کُھلا اُس نے دیکھا
    وہ پھر سے اُڑا اور پنجرے سے نکلا
    وہ جنگل کی جانب اُڑا گیت گاتا
    چہکتا گیا اور تانیں اُڑاتا
    وہ بلّی ہوئی غرق شرمندگی میں
    یہ پہلی شکست اُس کی تھی زندگی میں
    یہ دھوکا جو کھایا پریشان تھی وہ
    پرندے کے اُڑنے سے حیران تھی وہ
    وہ کہتی تھی اک بے حقیقت پرندہ
    مجھے حیف! اِس طرح دے جائے دھوکا
    نتیجہ یہ ہے اِس کا اے پھول بچّو!
    پرندے سے عقل اور دانائی سیکھو
    کہ کام آتی ہے وقت پر عقل مندی
    نہ جانے دو ہاتھوں سے موقع کو تم بھی
    ٭…٭…٭

  • ہوا اور بادل

    ہوا اور بادل

    ہوا اور بادل
    سارہ قیوم

    ایک تھا بادل! نرم نرم، جیسے کہ روئی کا کوئی گالا، اس میں بہت سا پانی بھرا ہواتھا، اتنا کہ بادل بے چارے سے چلا نہ جاتا تھا۔ وہ چپ چاپ آنکھیں موندے آسمان میں کھڑا تھا۔ ہوا لہرا تے ہوئے بادل کے پاس سے گزری تو بادل کی چیخ نکل گئی۔
    ”اُف،ہائے…” بادل نے کراہ کر کہا ”مجھے نہ چھیڑو مجھ میں اتنی بارش بھری ہے کہ میرے پیٹ، بازو، سر، غرض ہر جگہ درد ہے۔” ہوا کو بادل پر بڑا ترس آیا۔
    ”تم اپنی بارش برسا دو۔” اس نے بادل کو مشورہ دیا۔
    ”کیسے برسائوں؟” ”دیکھو تو ذرا نیچے سمندر ہے۔ میں یہاں بارش برسائوں گا تو سمندر غصے میں آکے دوبارہ میرے اندر ڈھیر سارا پانی بھر دے گا۔” بادل اداس ہو کر بولا۔
    ہوا سوچ میں پڑ گئی، آخر اسے ایک ترکیب سوجھی۔
    ”میں تمہیں سہارا دے کر لیے چلتی ہوں۔” اس نے بادل سے کہاپھر چہکتے ہوئے بولی:
    ”ہمت ِ بادل، مددِ ہوا۔ ”
    ”ارے نہیں یوں کہو ”ہمت مرداں، مددِ خدا۔” بادل نے کہا تو ہوا مسکرا دی ۔
    آخربادل نے ہوا کی بات مان لی، تب دونوں آہستہ آہستہ چلنا شروع ہوئے۔ چلتے چلتے وہ ایک ہرے بھر ے میدان کے اوپر جاپہنچے۔
    ”یہاں برس جائوں؟” بادل نے ہانپتے ہوئے پوچھا۔
    ”یہاں نہیں ذرا نیچے تو دیکھو۔” ہوا بولی۔
    بادل نے نیچے نظر ڈالی تو دیکھا کہ میدان میں میلا لگاہوا ہے۔ لوگ رنگے برنگ کپڑے پہنے خوشی خوشی سیر سپاٹا کررہے ہیں۔ کھانے پینے کے اسٹال لگے ہیں۔ کہیں کھیل تماشے ہو رہے ہیں، کہیں کرتب دکھائے جا رہے ہیں۔ بچے جھولا جھول رہے ہیں۔
    ہوا نے کہا: ”اگر تم نے یہاں بارش برسا دی، تو سارا میلا برباد ہو جائے گا۔ لوگوں کی خوشیوں پر پانی پھر جائے گا۔”
    ”اچھا تو پھر چلو آگے چلیں۔” بادل نے ٹھنڈی سانس بھری۔
    کچھ دیر بعد دونوں دوسرے شہر کے اوپر پہنچے۔
    ”بس بھئی اب اور نہیں چلا جاتا۔ ”میرا خیال ہے مجھے یہیں برس جانا چاہیے۔” بادل نے تھک کر کہا۔
    ”ذرا نیچے تو دیکھو۔” ہوا نے کہا۔
    بادل نے دیکھا ایک شہر ہے جہاں بہت سڑکیں اور عمارتیں بن رہی ہیں اور جگہ جگہ زمین کھدی ہوئی ہے۔ بادل سوچ میں پڑ گیا۔
    ”میں یہاں نہیں برسوں گا۔” آخر اس نے فیصلہ کیا ”میری بارش سے گڑھوں میں پانی بھر جائے گا اور کیچڑ سے لوگ پھسل کر گریں گے۔”
    ہوا یہ سُن کر بہت خوش ہوئی اور دوبارہ بادل کو سہارا دے کر آگے لے گئی۔ تھوڑی دیر بعد دونوں ایک گائوں کے اوپر پہنچے۔ بادل نے دیکھا کہ کھیت سوکھے پڑے ہیں۔ ندی میں پانی ختم ہے لوگ اور جانور پیاسے ہیں۔ جب بادل کا سایہ گائوں پر پڑا تو بچے، مرد اور عورتیں سب گھروںسے نکل آئے، سر اُٹھا کر بادل کی طرف دیکھنے اور بارش کی دعائیں کرنے لگے۔
    ”آہا” بادل خوش ہو کر بولا۔ ”یہاں میری ضرورت ہے۔” پھر اس نے خوش ہوتے ہوئے ہوا کی طرف دیکھا، تو وہ بھی مُسکرا کر بولی : ” چل میرے بادل …بسم اللہ…”
    ہوا کا اشارہ پاکر بادل سے پانی کا پہلا قطرہ ٹپکایا، پھر دوسرا، تیسرا اور دیکھتے ہی دیکھتے موسلا دھار بارش ہونے لگی۔
    لوگ خوشی سے ناچنے لگے۔ پودے ہرے بھرے ہو گئے۔ ندی پانی سے بھر گئی۔ ہوا کے ٹھنڈے جھونکے چلنے لگے۔ درخت جھوم اُٹھے اور پتے تالیاں بجانے لگے۔ ہر طرف خوشیاں بکھر گئیں۔
    بادل ہلکا پھلکا ہو کر اِدھر اُدھر اُڑنے لگا اور ہوا کے ساتھ کھیلنے لگا۔
    ”اب تم سمجھے میرے پیارے بادل! دنیا کی سب سے بڑی خوشی دوسروں کے کام آنے میں ہے۔” ہوا نے اسے اچھالتے ہوئے کہا۔
    ٭…٭…٭