Tag: urdu for kids

  • رات کو دیکھوں!

    رات کو دیکھوں!

    رات کو دیکھوں!
    صوبیہ اطہر

    رات کو دیکھوں، جی للچائے
    کوئی تارا ہاتھ میں آئے

    امی بولیں بیٹے پیارے
    تم بھی تو ہو میرے تارے

    پُھولے گال، چمکتی آنکھیں
    خُوش بو، خُوش بو، مہکی سانسیں

    ننھے منّے پیارے پیارے
    ربّ نے بنائے کتنے سارے

    ٹِم ٹِم کرتے پیارے تارے
    دیکھو ربّ کی قدرت سارے

    ٭…٭…٭

  • ہمیں اُن سے عقیدت ہے

    ہمیں اُن سے عقیدت ہے

    ہمیں اُن سے عقیدت ہے
    نوشین فاطمہ عبدالحق

    ہے خوش قسمت وہ وادی جس کا مکہ نام ہے بچو!
    وہاں کا ذرّہ ذرہ قابلِ اکرام ہے بچو!
    اسی وادی میں پیدائش ہوئی حضرت محمدۖ کی
    انہی کی تو بدولت مذہب اسلام ہے بچو!

    خدائے برتر و بالا کا ہے انعام یہ ہم پر
    حضورِ پاک کی امّت میں ہیں ہم، ہوں سلام اُن پر
    سب ان کی عظمتوں کے معترف، انسان، جن، پتھر
    جو لائے ہم تلک وہ رب کا ہی پیغام ہے بچو!

    ہمیں اُن سے محبت ہے ہمیں اُن سے عقیدت ہے
    انہی کے نام سے گل ہیں، گلوں میں رنگ و نگہت ہے
    انہی کی سنتوں پر چلنے کا انعام جنت ہے
    ہر اک سنت کو زندہ رکھنا اپنا کام ہے بچو!

    مشکل الفاظ:

    قابلِ اکرام عزت کے قابل

    برتروبالا عظمت والا

    معترف تعریف کرنے والا

    نگہت خوش بو

  • چلتا جا تُو الف نگر میں!

    چلتا جا تُو الف نگر میں!

    چلتا جا تُو الف نگر میں!
    ضیاء اللہ محسن

    چاند چکوری ہوتا بھیّا

    تارے ہوتے گول
    سورج چاچو لمبے ہوتے

    کھمبے گول مٹول
    چُوں چُوں چڑیا چارہ کھاتی

    ٹھک ٹھک بجتا ڈھول
    کہاں ہے ممکن؟ کیسے ممکن؟

    پیارے بھیّا بول
    چلتا جا تُو الف نگر کے بند دروازے کھول
    بول بول تُو من کی باتیں بول
    ہر ایک چیز سہانی ہے

    کیا دلچسپ کہانی ہے
    شانی، مانی بچے ہیں

    اور بچوں کی نانی ہے
    عینک والا اُلّو ہے

    توتلا تیتر تانی ہے
    جگ مگ جَو جَو جگنو بھیّا

    ثمر کی گڑیا ثانی ہے
    بی بی بطخو بڑی سیانی، بات کرے انمول
    بول بول تُو من کی باتیں بول

  • دادی جان نے دال پکائی

    دادی جان نے دال پکائی

    نویں انعام یافتہ نظم
    دادی جان نے دال پکائی
    سارہ قیوم

    دادی جان نے دال پکائی
    امی، ابو، آپا، بھائی
    ناک بھوں سب نے چڑھائی
    دادی جان نے دال پکائی

    کاش بنائی ہوتی چُوری
    کُنا، بھاجی، حلوہ، پوری
    گھر میں ہوتا کوئی حلوائی
    دادی جان نے دال پکائی

    نہ کوئی زردہ نہ کوئی کھیر
    نہ فالودہ اور پنیر
    نہ کوئی پائے، نہ کوئی پائی
    دادی جان نے دال پکائی

    مزے کی ہوگئی ایسی دال
    ٹپکی سب کی اس پر رال
    اتنے میں موٹی ہمسائی
    بھاگی دوڑی اندر آئی

    ساری دال ہماری کھائی
    میرے اللہ تیری دہائی

  • گلّو اور لومڑ

    گلّو اور لومڑ

    گلّو اور لومڑ
    عبداللہ اذفر

    کسی چراگاہ میں ایک چالاک لومڑ گھوم رہا تھا۔ وہ بہت بھوکا تھا لیکن اس کے پاس کھانے کو کچھ نہ تھا۔ اتنے میں وہاں گُلّو آگیا۔ گُلّو ایک چھوٹا اور پیارا سا گھوڑے کا بچہ تھا۔ لومڑ نے سوچا کہ شکار تو بہت اچھا ہے لیکن میں اسے کیسے کھاؤں؟ یہ میرے ہاتھ نہیں آئے گا۔
    کچھ دیر سوچنے کے بعد اس کے ذہن میں ایک خیال آیا۔ اُس نے سوچا کہ گُلّو کو دھوکا دیا جائے۔ یہ سوچ کر لومڑ چلتے چلتے گُلّو کے پاس آیا اور کہنے لگا:
    ”گُلّو بھائی! اِس چراہ گاہ میں کتنے خوب صورت پھول ہیں۔ تمہیں کسی پھول کی خوش بو سونگھنی ہو تو میرے ساتھ چلو؟”
    گُلّو سمجھ گیا کہ لومڑ اُسے دھوکا دے رہا ہے۔ وہ بولا: ”لومڑ بھائی! اِس وقت مجھے پھولوں کی خوش بو اچھی نہیں لگے گی کیوں کہ میرے پاؤں میں کانٹا چُبھا ہوا ہے۔ مجھے تکلیف ہورہی ہے۔ مہربانی کرکے تم یہ کانٹا نکال دو۔”
    لومڑ بہت خوش ہوا۔ وہ سمجھا کہ گُلّو اُس کی باتوں میں آگیا ہے۔ وہ آگے بڑھا اور کہنے لگا: ”میں تمہارے پاؤں سے کانٹا نکال دیتا ہوں۔ تم ابھی ٹھیک ہوجاؤ گے۔” یہ کہہ کر وہ گُلّو کے پاؤں کے پاس بیٹھ کر کانٹا تلاش کرنے لگا۔
    اچانک گُلّو نے پورے زور سے دولتی لومڑ کے منہ پر دے ماری۔ دولتی لگنے سے لومڑ چکرا کر گِرا۔ اُس کے دانت ہِل گئے اور وہ اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر بھاگ گیا۔ جاتے جاتے وہ آئندہ ایسی حرکت کرنے سے توبہ کر چکا تھا۔