انارکلی — خالد محی الدین

میرے نزدیک لاہور کو مغلوں کا گلبرگ کہا جائے ‘ تو غلط نہ ہو گا۔ کیوںکہ اکثر مغل شہزادوں اور شہزادیوں نے لاہور ہی کو اپنی جائے سکونت بنایا اور اس کے سرسبز و شاداب خطے کو اپنی یادگاروں سے مزین کیا۔ فرنگی اگر یہاں ریل کی پٹڑیوں کا جال نہ بچھاتے’ تو مغلیہ دور کی کئی عمارتیں’ مقابر اور باغات صفحۂ ہستی سے نابود ہونے سے محفوظ رہتے۔ اس کے باوجود آپ کو لاہور میں مغلوں کے شان دارباغات’ محلات’ مساجد اور مقابر ملیں گے اور طویل خفیہ سرنگیں بھی جو ہنگامی صورتِ حال سے نبٹنے کے لیے بنائی گئی تھیں تاکہ بغاوت یا جنگ کی صورت میں بادشاہ مال و اسباب سمیت ہجرت کر سکے۔اس نشست میں ہمارا ہدف مقبرہ انارکلی سے آپ کا تعارف کرنا ہے جس پر کئی فلمیں اور ڈرامے بن چکے ہیں۔ اکثر مصنفوں نے اسے رومانی کردار سے منسوب کیا ہے، جو سراسر افسانوی ہے اور حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ آئیے اس کی اصل حقیقت جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔





ضلع کچہری لاہور سے ملحق سیکرٹریٹ کی عمارت میں مقبرہ انارکلی رہتی دنیا تک ایک معما ہی رہے گا کہ اس میں کون مدفون ہے؟ میرے نزدیک اس کے اندر کوئی عالمی جاہ ہستی اپنی آخری آرام گاہ سمجھ کر سوئی ہوئی ہے’ لیکن اس ہستی کا نام کیا ہے اس سے متعلق کسی کوکچھ علم نہیں۔ خاص طور پر یورپی سیاحوں نے من گھڑت باتوں سے اِسے مزید اُلجھا دیا ہے۔ البتہ یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ شہنشاہ جہانگیر کے اس کے ساتھ نجی مراسم تھے۔ شرعی تھے یا غیرشرعی اس میں کلام نہیں۔
یورپی سیاح مسٹرہربرٹ اور ایڈورڈ ٹیٹری اسے جلال الدین اکبر کی کنیز لکھتے ہیں اور ولیم فنچ اسے شہزادہ دانیال کی ماں لکھتا ہے، جو اکبر کی وفات کے چھے سال بعد ہندوستان آیا تھا۔انارکلی کا نام زمانہ اکبری کے یورپی سیاحوں کے علاوہ لاہور کے مصنفین میں مصنف تحقیقات چشتی’ مصنف تاریخ لاہور اور مصنف ہسٹری آف لاہور نے بھی لکھا ہے۔
بعض مصنفین نے انارکلی کا اصل نام نادرہ بیگم یا شرف النساء بیگم لکھا ہے۔ اس نام کی وجۂ تسمیہ میں رقم طراز ہیں کہ اکبر کی جے پوری رانی (ابنیری رانی) نے اس کا رقص دیکھ کر اسے انارکلی کا خطاب دیا۔ بعض نے لکھا ہے کہ خود بادشاہ نے اس کو انارکلی کا خطاب دیا تھا۔
ہربرٹ لکھتا ہے ”اکبر کی ایک چہیتی کنیز کا نام انار تھا۔ جہانگیر نے اس سے چھیڑ چھاڑ کی۔ اکبر کو خبر ہوئی اور وہ طیش میں آ گیا۔ لیکن جہانگیر (سلیم) کے معافی مانگنے پر معاف کر دینے کا وعدہ کر کے بادشاہ شہزادے کو حرم سرا میں لے آیا اور آتے ہی پھر طیش میں آ گیا اور بیٹے کو ایسے مکے مارے کہ وہ گر پڑا اور کہا اے احمق اور گدھے تو نے کس طرح میرے وعدے پر یقین کر لیا۔”
ان مصنفین کے ایک ایک لفظ کی تردید پنجاب کے مشہور محقق و مؤرخ مولانا علم الدین سالک ایم۔ اے نے بڑی قابلیت سے کی ہے۔ ان کی تحقیقات کا خلاصہ یہ ہے کہ عہد اکبری کے معاصر مورخین ابوالفضل’ عبدالقادر بدایونی اور بخشی نظام الدین احمد کسی نے بھی اس واقعہ کے متعلق کوئی اشارہ تک نہیں کیا۔ ان میں عبدالقادر بدایونی بے باک نویسی میں تیغ برہنہ تھا۔ وہ ابوالفضل ‘ فیضی اور ٹوڈرمل اور بیریل تو کجا بادشاہ تک کو بھی اپنی شمشیر قلم اور تیغ زباں سے گھائل کر جاتا تھا۔ دربار اکبری کا یہ نکتہ چیں مورخ اس قسم کا واقعہ دیکھ کر کہ اکبر ایک عورت ذات کو محبت کی پاداش میں دیوار میں زندہ چنوا دے کس طرح خاموش رہ سکتا تھا۔
پھر قریب العہد مؤرخین میں بہ زمانہ جہانگیر مصنف اقبال نامہ جہانگیری مصنف مآثر جہانگیری مصنف ریاض الشعرا والہ داغستانی اور خوانی خاں وغیرہ کئی مصنف گزرے ہیں جن میں سے کسی نے اس انسانیت سوز واقعہ کا ذکر نہیں کیا۔ان میں خوانی خان اور والہ داغستانی دونوں جہانگیر کے مخالف تھے۔
جہانگیر نے اپنی توزک میں اپنا نامہ اعمال دل کھول کر بیان کیا ہے اور کسی واقعہ پر سیاسی ملمع کاری سے کام نہیں لیا۔ اس نے اپنے ہر عیب کو ڈنکے کی چوٹ پر ظاہر کیا ہے۔توزک جہانگیری میں اس واقعہ کا کہیں کوئی ذکر نہیں ملتا۔
پھر شہنشاہ اکبر کے حالات زندگی پر نظر ڈالیں۔ اس کی پچاس سالہ حکومت کے عہد میں چھان بین کر لیں۔ بادشاہ کو رحم دلی کا مجسمہ پائیں گے۔ اس نے کئی باغیوں کو معاف کر کے آغوشِ محبت میں لیا۔ جب جہانگیر نے ایک موقع پر خادمِ درگاہ کی کھال کسی جرم میں کھنچوا دی’ تو اسے سخت ڈانٹ ڈپٹ کی۔ تاریخ اس بات کی ہر شہادت نہیں دیتی کہ اکبر نے کسی عورت پر اس قسم کا ظلم ڈھایا ہو۔
یورپی سیاحوں نے اس قسم کی غلط بیانیاں کر کے مغل حکومت کو بدنام کرنے کی بہت کوششیں کی ہیں۔ان لوگوں نے انارکلی کی تاریخ وفات غلط لکھی ہے۔ گویا انہی ایام میں اکبر اور جہانگیر لاہور میں تھے۔ یہیں اکبر نے جہانگیر کو مکے مارے اور یہیں اس نے قلعہ کے شیش محل میں بیٹھ کر انارکلی کا رقص دیکھا۔ یہیں سلیم نے انارکلی کو چھیڑااور یہیں اکبر نے اس کو دیوار میں زندہ چنوائے جانے کا حکم دیا۔لیکن کیا تاریخ اس واقعہ کی شہادت دیتی اور اس کی تائید کرتی ہے؟ تاریخ سے تو علی الاعلان ظاہر ہوتا ہے کہ ١٠٠٨ء میں جو انارکلی کے زندہ چنوائے جانے کا سال ہے اکبر لاہور میں تھا نہ جہانگیر۔ اکبر مہمات دکن میں مصروف تھا اور جہانگیر رانائے چتوڑ کی مہم میں الجھا ہوا تھا۔جہانگیر نے یہ دیکھ کر کہ باپ دارالحکومت آگرہ سے صدہاکوس کے فاصلے پر لڑائی میں مصروف ہے چتوڑ کی مہم کو ناتمام چھوڑ کر بغاوت کی اور آگرہ پر قبضہ کر لینا چاہا ۔ اکبر کو خبر ہوئی تو وہ مہم دکن چھوڑ کر ١٠٠٩ء میں سیدھا آگرہ پہنچ گیا۔ جہانگیر کو آگرہ آنے کی ہمت تو نہ ہوئی البتہ الہ آباد پر قابض رہ کر ١٠١١ء تک باپ کو پریشان کرتا رہا۔





اس واقعہ سے ظاہر ہے کہ اُن ایام میں باپ اور بیٹے کی ملاقات ہی نہ ہو سکی۔ یہ سراسر یورپی مصنفین کے اختراعات کا کمال ہے۔
عہد مغلیہ کے قدیم مصنفین میں داراشکوہ ہی وہ پہلا مصنف ہے، جس نے آج سے ساڑھے تین سو سال قبل انارکلی کا نام لکھا تھا۔ لیکن اس سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ انارکلی کس عورت کا نام تھا یا اس باغ کو باغ انارکلی کیوں کہتے تھے۔ اسی بنا پر مولانا سالک نے انارکلی کے وجود ہی سے انکار کر دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں انارکلی لاہور کا مقبرہ اور انارکلی بٹالہ کی عمارت تعمیرات کی ایک قسم ہیں جو ظاہری شکل و شباہت میں انار کی کلیوں سے ملتی جلتی ہیں۔
خان بہادر میاں الطاف حسین خاں ریٹائرڈ ایس ڈی او۔ و رئیس بٹالہ ٢١جنوری ١٩٤٤ء میں لکھتے ہیں:
”شہر بٹالہ کے مشرق رویہ شمشیر خان کروڑی (حاکم بٹالہ) نے ایک وسیع تالاب تعمیر کرایا اور اس کے متصل ایک حجرہ بنوا کر اس میں اپنی قبر بنوائی اور وہیں دفن ہوا۔ اس کی مشرق جانب ایک چونا گچ عمارت واقع ہے، جس کو مہاراجہ شیر سنگھ نے اپنی شہزادگی کے زمانے میں تعمیر کرا کر لاہور کی انارکلی کے نام پر اس کا نام انارکلی رکھا۔ عمارت بڑی مضبوط ہے تمام سقف اور صحن چونا گچ ہے لکڑی کا کہیں نام تک نہیں۔ اس عمارت کی کرسی تین چار فٹ کی بلندی پر ہے۔
مولانا نے لکھا ہے کہ بٹالہ اور لاہور کی ”انارکلیوں” میں بہت حد تک مماثلت ہے اور دونوں کا افسانہ بھی بہت کم اختلاف کے ساتھ ایک ہی قسم کا ہے۔ راقم کے نزدیک مماثلت کی وجہ تو یہ ہے کہ شیر سنگھ مہاراجہ کی جاگیر میں تھا تو اس نے انارکلی لاہور کی عمارت کے نمونہ پر بٹالہ میں انارکلی کی عمارت تعمیر کرائی تھی۔
لگتا ہے اس مقبرہ کے ساتھ جو باغ تعمیر کیا گیا تھا یا مقبرہ بننے سے پیش تر اس جگہ جو باغ تھا، اس میںاناروں کے درخت بہ کثرت تھے یا وہ باغ ہی اناروں کا تھا اور شاید اس کا نام باغ انار یا انار باغ ہو اور رفتہ رفتہ انارکلی باغ کے نام سے موسوم ہو گیا ہو۔ لاہور میں انگوری باغ’ گلابی باغ اور بید مشک باغ بھی اسی طرح اپنی اپنی مخصوص پیداوار کے لحاظ سے مشہور رہے ہیں۔یہ قیاسات تو باغ انارکلی کی وجہ تسمیہ کے متعلق ہیں لیکن آخر یہ مقبرہ ہے کس کا جو انارکلی کے نام سے مشہور ہے، جس کے فراق میں جہانگیر نے اپنے جذبات دلی کا اظہار مندرجہ ذیل پُردرد سعر میں جو تعویذ قبر پر کندہ ہے کیا ہے…
آہ گر من بازبینم روئے یا خویش را
تاقیامت شکر گویم کرد گار خویش را
(میں قیامت تک خداوند پروردگار کا شکریہ ادا کرتا ہوں
آہ! اگر ایک بار پھر اپنی محبوب کا چہرہ دیکھ لو)
جہانگیر جب شہزادہ تھا تو سلیم کے نام سے پکارا جاتا تھا۔





مولانا سالک لکھتے ہیں یہ قدسی منش خاتون سلطان پرویز کی والدہ زین خاں کوکہ کی دختر اورجہانگیر کی چہیتی بیوی تھی۔ اسی کے بطن سے ٩٩٧ھ میں بہ مقام کابل سلطان پرویز پیدا ہوا تھا۔ اکبر اس شادی کے خلاف تھا’ لیکن اس نے بیٹے کا عشق بلکہ جنون دیکھ کر شادی کی اجازت دے دی۔ یہ بیگم ١٠٠٨ھ میں لاہور ہی میں انتقال کر گئی۔ جہانگیر جو اس وقت شہزادہ تھا لاہور سے باہر ایک مہم پر گیا ہوا تھا اور اکبر مہمات دکن میں مصروف تھا۔
شہزادہ سلیم نے اس کی آخری آرام گاہ پر ایک عظیم الشان مرمریں مقبرہ تعمیر کرایا۔ سرہانے کی طرف باری تعالیٰ کے ننانوے نام بہ حروف عربی خط جلی لکھے ہوئے ہیں۔ اس کے پہلوئوں پر جہانگیر کا وہ پُردرد شعر درج ہے جس کا ذکر ہو چکا ہے۔ سرہانے کی طرف ہی ”مجنوں سلیم اکبر” کے الفاظ درج ہیں۔قبر کے تعویذ پر مندرجہ بالا الفاظ کے علاوہ سنِ وفات ١٠٠٨ھ (١٥٩٩ئ) اور سال تعمیر ١٠٢٤ھ١٦١٥ء درج ہے۔ اس گنبد نما مقبرہ کی دو منزلیں ہیں۔ دونوں کے آٹھ آٹھ دروازے ہیں۔ کئی کھڑکیاں اور بہت سے روشن دان بھی ہیں۔ گنبد کے گرد آٹھ برجیاں ہیں اور ہر برجی میںایک دروازہ ہے۔
مہاراجہ رنجیت سنگھ نے ١٨٧٣ء کو باغ انارکلی میں شہزادہ کھڑک سنگھ کو ولی عہدی کا خلعت دینے کے لیے ایک بہت بڑا جشن کیا۔ سارا باغ اور اس کی چاردیواری راجوں اور سرداروں کے خیموں اور فوج کی نمائش اور ہزارہا تماشائیوں کے جمگھٹے سے بھر گیا اور کئی روز تک یہاں ہنگامہ عیش و عشرت گرم رہا۔
اس کے بعد جب الارڈ صاحب اور فرانسیسی باشندے مہاراجہ کے پاس آ کر ملازم ہوئے تو اُن کی رہائش کا انتظام گنبد انارکلی میں کیا گیا۔ ایک سو پیادہ سکھ فرانسیسی طرز جنگ کی تعلیم کے لیے اُن کے سپرد کیے گئے۔ مہاراجہ معائنہ کرنے خود انارکلی آیا اور فوج کا کام دیکھ کر خوش ہوئے۔ فرانسیسی افسروں کودو ہزار اور سکھ سپاہیوں کو پانچ سو روپیہ انعام دیا، اس کے علاوہ ایک ہزار روپیہ چھائونی انارکلی کی عمارت کے لیے دیا۔
١٨٩٥ء کو مہارانی نکائین (والدہ کھڑک سنگھ ) کا انتقال ہو گیا۔ اسی دن پچھلے پہر انارکلی کے باغ میں اُس کی چتا جلائی گئی۔ غرض سکھوں کے زمانے میں باغ بالکل برباد ہو گیا ۔ اینٹیں خشت فروشوں نے ختم کر دیں بلکہ بنیادوں تک اُکھاڑ کر لے گئے۔ مقبرہ کا چبوترہ سنگ مرمر کا تھا وہ مہاراجہ نے اتروا لیا۔قبر کا تعویذ جس پر اسمائے الٰہی اور اشعار تحریر تھے۔ ناکارہ سمجھ کر چھوڑ دیا گیا۔ انگریزوں کا زمانہ آیا تو انہوں نے مقبرہ کو گرجا گھر بنا کر اس کا نام سینٹ جمیس چرچ رکھ دیا اور برج کلاںپر سنگ سرخ کی دو فٹ طویل ایک صلیب لگا دی، جو شاید آج بھی موجود ہے۔ قبر کا تعویذ جسے سکھ حکومت کے عہد میں ناکارہ سمجھ کر چھوڑ دیا گیا تھا، ایک گوشہ میں رکھ کر بند کر دیا ۔
مغل بادشاہوں کے دور میں مقبرہ کے اردگرد کئی وسیع و عریض باغات تھے اورا س کے ساتھ کئی خوبصورت عمارتیں بنائی گئی تھیں لیکن اب ان کا نام و نشان باقی نہیں ہے۔ دریائے راوی اس کی دیوار کے ساتھ بہتا تھا۔

٭٭٭٭




Loading

Read Previous

شاہین قسط ۲  ”سانپ اور سپیرے” – عمیرہ احمد

Read Next

ذوالفقار — اقراء اعجاز

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!