
محبت نام ہے جس کا —– محمد حارث بشیر
اُداس موسم کی ایک سرد شام ،اُس خزاں گزیدہ شجرکا وجوداپنی پیشانی پر کئی داستانیں رقم کیے کھڑا تھا ۔موسم ِ ِبرگ ریز کا شاخسانہ
![]()

اُداس موسم کی ایک سرد شام ،اُس خزاں گزیدہ شجرکا وجوداپنی پیشانی پر کئی داستانیں رقم کیے کھڑا تھا ۔موسم ِ ِبرگ ریز کا شاخسانہ
![]()

شگفتہ نازایک نرم ونازک احساس ، جس نے 1950ء میں تقسیمِ ہند کے بعد دہلی سے لاہور منتقل ہوئے ایک متوسط گھرانے میں جنم لیا
![]()

”امی تصویریں دیکھیں لیزا کی؟ کیسی لگیں آپ کو؟” فاخر نے اشتیاق سے پوچھا۔ ”ہاں! اچھی پیاری لڑکی ہے، مگر ہے کون؟” ”امی میری کلاس
![]()

”محبت کی کہانی دنیا میں سب جگہ ایک جیسی ہوتی ہے۔” یہ پہلا جملہ جو میں نے اُس سے سُن کر اپنے آپ کو دنیا
![]()

لڑکیوں کو منہ دکھائی میں کنگن ملتے ہیں، لاکٹ ملتے ہیں اور مجھے ملا ”جمی بے چارہ”۔ جب میں رخصت ہوکر سسرال آئی تو دروازے
![]()

اگلے دن ماں اور مُنی ناشتہ کر رہی تھیں کہ منی نے ڈرتے ڈرتے بات شروع کی۔ ”اماں ایک بات کہوں؟ناراض تو نہیں ہوگی؟” ”ہاں
![]()

سبزی منڈی کے ایک جانب گلی سڑی سبزیوں کے ڈھیر تھے، جن پر مکھیاں اور مچھر بھنبھنا رہے تھے ۔ ارد گرد ناقابلِ برداشت بد
![]()

عجیب بات ہے کہ مجھے آیا اچھی نہیں لگتی تھی مگر اس کی بیٹی اچھی لگنے لگی تھی۔ آمنہ۔۔۔ آمنہ فرمان ۔۔۔ آمنہ ۔۔۔عبداللہ آمنہ
![]()

وہ گونگا نہیں تھا۔ گونگے تو ہمہ وقت ”آں آں، غوں غوں ” کر کے اپنے ہاتھوں کو زور زور سے حرکت دے کر دوسرے
![]()

چھوٹی سی زندگی امایہ خان خود کو پانی کی سطح پر تیرتے دیکھ کر مجھے یقین ہو گیاکہ دنیا کی ساری عورتیں مر چکی ہیں۔
![]()