Tag: write

  • اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں ۔ احمد فراز ۔ شاعری

    اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں ۔ احمد فراز ۔ شاعری

    اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں ۔ احمد فراز



    اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
    جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں

    ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی
    یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں

    غم دنیا بھی غم یار میں شامل کر لو
    نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں

    تو خدا ہے نہ مرا عشق فرشتوں جیسا
    دونوں انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں

    آج ہم دار پہ کھینچے گئے جن باتوں پر
    کیا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں میں ملیں

    اب نہ وہ میں نہ وہ تو ہے نہ وہ ماضی ہے فرازؔ
    جیسے دو شخص تمنا کے سرابوں میں ملیں

  • پورا دکھ اور آدھا چاند ۔ پروین شاکر ۔ شاعری

    پورا دکھ اور آدھا چاند ۔ پروین شاکر ۔ شاعری

    پورا دکھ اور آدھا چاند ۔ پروین شاکر



    پورا دکھ اور آدھا چاند
    ہجر کی شب اور ایسا چاند

    دن میں وحشت بہل گئی
    رات ہوئی اور نکلا چاند

    کس مقتل سے گزرا ہوگا
    اتنا سہما سہما چاند

    یادوں کی آباد گلی میں
    گھوم رہا ہے تنہا چاند

    میری کروٹ پر جاگ اٹھے
    نیند کا کتنا کچا چاند

    میرے منہ کو کس حیرت سے
    دیکھ رہا ہے بھولا چاند

    اتنے گھنے بادل کے پیچھے
    کتنا تنہا ہوگا چاند

    آنسو روکے نور نہائے
    دل دریا تن صحرا چاند

    اتنے روشن چہرے پر بھی
    سورج کا ہے سایا چاند

    جب پانی میں چہرہ دیکھا
    تو نے کس کو سوچا چاند

    برگد کی اک شاخ ہٹا کر
    جانے کس کو جھانکا چاند

    بادل کے ریشم جھولے میں
    بھور سمے تک سویا چاند

    رات کے شانے پر سر رکھے
    دیکھ رہا ہے سپنا چاند

    سوکھے پتوں کے جھرمٹ پر
    شبنم تھی یا ننھا چاند

    ہاتھ ہلا کر رخصت ہوگا
    اس کی صورت ہجر کا چاند

    صحرا صحرا بھٹک رہا ہے
    اپنے عشق میں سچا چاند

    رات کے شاید ایک بجے ہیں
    سوتا ہوگا میرا چاند



  • گئے موسم میں جو کھلتے تھے گلابوں کی طرح ۔ پروین شاکر ۔ شاعری

    گئے موسم میں جو کھلتے تھے گلابوں کی طرح ۔ پروین شاکر



    گئے موسم میں جو کھلتے تھے گلابوں کی طرح
    دل پہ اتریں گے وہی خواب عذابوں کی طرح

    راکھ کے ڈھیر پہ اب رات بسر کرنی ہے
    جل چکے ہیں مرے خیمے مرے خوابوں کی طرح

    ساعت دید کہ عارض ہیں گلابی اب تک
    اولیں لمحوں کے گلنار حجابوں کی طرح

    وہ سمندر ہے تو پھر روح کو شاداب کرے
    تشنگی کیوں مجھے دیتا ہے سرابوں کی طرح

    غیر ممکن ہے ترے گھر کے گلابوں کا شمار
    میرے رستے ہوئے زخموں کے حسابوں کی طرح

    یاد تو ہوں گی وہ باتیں تجھے اب بھی لیکن
    شیلف میں رکھی ہوئی بند کتابوں کی طرح

    کون جانے کہ نئے سال میں تو کس کو پڑھے
    تیرا معیار بدلتا ہے نصابوں کی طرح

    شوخ ہو جاتی ہے اب بھی تری آنکھوں کی چمک
    گاہے گاہے ترے دلچسپ جوابوں کی طرح

    ہجر کی شب مری تنہائی پہ دستک دے گی
    تیری خوش بو مرے کھوئے ہوئے خوابوں کی طرح