Tag: write

  • اُوپر حلوائی کی دکان — علینہ معین

    ”اماں! کدھر ہو؟” ”اماں جلدی آئو”۔ شبانہ بلند آواز میں پکار رہی تھی۔ ایک تو صبح سویرے خالہ شیداں کا فون اس کی سپنوں بھری نیند میں خلل ڈال گیا اوپر سے شادی کا بلاوا۔ مطلب جانا لازمی۔ پارہ کیسے نہ ہائی ہوتا… ”اماں” اس نے پھر ہانک لگائی۔ بالآخراماں اسے اندر آتی نظر آہی گئیں۔ ”کیا ہے شبانہ؟ کیوں صبح صبح گلا پھاڑ رہی ہے؟” اماں نے چھوٹتے ہی کہا۔ ”اماں تیری بہن کا فون آیا تھا۔ کنیز باجی کا ویاہ ہے اگلے مہینے۔” شبانہ عرف شبو نے وہیں پڑے پڑے پیغام پہنچایا۔
    ”ہائے ہائے اینی گرمی دے وچ ویاہ؟ شیداں دا دماغ خراب ہو گیا ہے اور اس موٹی نوں کنے پسند کر لیا اتنی گرمی وچ۔” اماں کو اپنی پڑ گئی۔ ”اماں کیا مطلب ہے تیرا گرمی کے موسم میں لوگ شادی نہیں کرتے یا کڑی نہیں پسند کر سکتے؟ کیا پتا کوئی مجھے بھی گرمی میں ہی پسند کر لے۔” شبانہ عرف شبو نے خواب دیکھنا شروع کیا۔





    ”رہن دے شبو گرمی وچ تے ہر بندہ ویسے ہی بھینگا لگدا اے تو تو ہے ہی پیدائشی بھینگی تجھے کون پسند کرے گا۔” اماں نے اس کی خوش فہمی پر تیل ڈال کر آگ ہی لگا دی ۔ ”اُٹھ اماں باہر نکل مجھے سونا ہے۔ آنکھوں میں ذرا سا فرق کیا ہوا تو نے مجھے بھینگی ہی بنا دیا۔ کوئی اپنی بیٹیوں کو یوں بھی کہتا ہے؟” شبانہ نے صبح صبح رونا شروع کر دیا۔ ”چلو جی اِس منحوس نے تو سویرے ہی تماشا لگا لیا اے” اماں نے جاتے جاتے ایک جان دار دھموکا اس کے کاندھے پر رسید کر ہی ڈالا۔
    لو جی شبانہ چک جھمری جانے کے لئے تیار ہو رہی تھیں صبح۔ ابا بے چارے مستری تھے اور وسائل اتنے نہیں تھے کہ سب جاتے کیوں کہ اس طرح ابا کے کام کا حرج جو ہوتا اور پھر سال پیچھے اماں خود ہی بہن کے گھر چکر لگا آئیں یا پھر خالہ خود ہی آجاتی اپنی موٹی سی بیٹی کنیز کو لے کر جو تھوڑا اونچا بھی سنتی تھی۔ شبانہ کے بے حد اصرار اور جذباتی دھمکیوں کے نتیجے میں اماں نے دوچھتی پر پڑے بڑے سے ٹرنک سے اس کے لئے بھی چمک دمک والے دو جوڑے نکال دیے۔ گھنگھرو والا پراندہ اور ایڑی والے جوتے وہ خود خرید لائی تاکہ اس کے شہری ہونے کا تاثر تو پڑے اُن سب پر۔ ہاں بس میں بیٹھتے ہی کالا چشمہ لگانا نہ بھولی آخر کو تھوڑی ہی سہی، بھینگی تو تھی نا۔ اماں نے خوب لتے لیے مگر اثر کس پر ہوتا۔ چک جھمری آتے آتے ماں بیٹیاں گرمی سے گھوم ضرور گئی تھیں مگر اماں کی زبان فراٹے بھر رہی تھی۔ ”نی شیداں ٹٹ مریں اتنی گرمی وچ بلا کے ناس مار دیتا ای۔”
    سیون اپ کی ٹھنڈی ٹھار بوتلیں پی کر بھی گرمی کا اثر کم نہیں ہو رہا تھا۔ بس کے مسافر بے چارے زیر لب مسکرائے جا رہے تھے۔ خدا خدا کر کے سٹاپ آیا تو دونوں اتریں۔ جہاں گرمی نے مت مار رکھی تھی، ساتھ ہی حلیے بھی بگاڑ کے رکھ دیئے تھے۔ اتنی محنت سے کیا گیا میک اپ بہ کر شبو کو ڈرائونا بنا رہا تھا۔ نیلا آئی شیڈ غازے کی جگہ اور غازہ بہ کر گردن پہ۔ ”ہائے نی شبو جا اُس نلکے توں منہ دھو جا کے لگ رہا ہے چڑیل نوں نیل پے گئے نیں۔” اماںرکنے والی نہیں تھی لہٰذا فوراًً بات مان لی۔منہ دھو رہی تھی کہ خالہ شیداں کا بیٹا آگیا انہیں لینے۔ ”ارے یہ پا صدیق اتنا بڑا ہو گیا؟” اس نے فٹ کالا چشمہ آنکھوں پہ چڑھایا اور آگے بڑھی۔ خالہ کا گھر آتے آتے پسلیاں ہل گئیں۔ تانگے کی سواری کے نتیجے میں جوڑ دکھنے لگے تھے۔ دو تین بار صدیق کی طرف نگاہ اُٹھی تو وہ مسکرا مسکرا کر اسی کی طرف دیکھ رہا تھا۔ شبانہ نے فوراً منہ پھیر لیا۔ ”ہنہ لگ رہا ہے گنے کو مونچھیں لگائی ہیں۔”
    جونہی ماں بیٹی اندر داخل ہوئیں گھر میں شور مچ گیا ”میداں آگئی۔ نی شیداں تیری بہن آگئی۔” دونوں بہنیں جھپیاں ڈال ڈال کر ملنے لگیں۔ ”ارے میداں یہ شبو ہے نا! کتنی بڑی ہو گئی ” ”شکر ہے میرا بھی دھیان آیا۔” شبانہ دن میں سوچتے ہوئے بڑے انداز سے مسکرائی ”پتر یہ کالی عینک اتار تے آرام نال بیٹھ”۔ اس نے بڑے سے صحن میں نظر گھمائی مگر چارپائیوں کے انبار پر موٹی موٹی عورتوں کے ڈھیر پڑے تھے کوئی بیٹھی اور کوئی لیٹی ہوئی تھی۔ خالہ کو بھی احساس ہوا تو خود ہی اندر لے گئیں۔ کھانا کھا کے جان میں جان آئی تو کنیز کا خیال آیا۔ ”خالہ شیداں کنیز باجی کدھر ہے؟” ”پتر صبح ناشتے میں پائے نہاری کیا کھا لیے تب کی پڑی سو رہی ہے۔ میں نے بھی نہیں اٹھایا ایک دن کی تو پروہنی ہے وچاری۔” شبانہ کو اچھو لگ گیا ”بارہ من کی دھوبن اور و چاری”۔ اماں نے پوچھا ”آپا منڈا کرتا کیا ہے؟” ”میداں نال دے پنڈ میں دو چنگ چیاں چلاتا ہے۔ چنگا کمائو ہے۔ مال ڈنگر بھی ہے گھر میں۔ خوش حال لوگ نیں۔” لڑکے کی اتنی خوبیاں سن کر اماں کو اپنی بیٹی کی پڑ گئی۔ ”ہائے میری شبانہ کا وی رشتہ ہو جائے تے میں بھی سکون لواں”۔





    ”رہن دے اماں! میرے لئے کوئی چنگ چی ڈرائیور ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں۔” شبانہ نے دانت پیس کر اماں کو گھرکا۔ ”کیوں؟ تو کوئی حور پری ہے یا ابا وزیر ہے ملک کا جو اتنے اونچے خواب نیں تیرے۔”
    ”اماں لحاظ کر لو کچھ میرا ہم مہمان آئے ہیں ادھر۔” شبو دروازے میں پا صدق کو دیکھ کر ہڑبڑا اٹھی۔ مگر اماں کہاں رکنے والی تھیں۔ شبو کی مدح سرائی جاری رکھی ”نا تو ہے تو میری دھی ایک تے بھینگی اوپر سے رنگت بھی کوئی خاص نہیں۔ اپنے ابے دی کاربن کاپی، تورشتہ آئے شاہد آفریدی دا۔ بلے وی بلے” اماں کی زبان کون روکتا۔ خالہ شیداں اور پا صدیق کے چہروں پر مسکراہٹ تھی، جب کہ شبانہ عرف شبو آنسو بہا رہی تھی اور کوس رہی تھی اس لمحے کو جب اس نے اماں کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔ شام کو مہندی کی رسم تھی۔ خالہ شیداں نے باقاعدہ جھٹکے دے دے کر کنیز کو اٹھایا۔ مندی آنکھوں کے ساتھ وہ منہ ہاتھ دھوتی اندر آئی خالہ کو سلام کرنے۔ شبانہ سے بھی ملی کہ پہلے بھی کوئی خْاص لگائو تو تھا نہیں پھر بھی لحاظ مروت میں آگئی کہ کل رخصت ہو جانا ہے۔ اماں حسب عادت نہ رہ سکیںا ور چھوٹتے ہی بولیں: ”ہائے کنیز کچھ پتلی ہی ہو جاتی۔ ارے وہ ڈائٹنگ ہی کر لیتی دھیے۔” مگر افسوس کنیز سنتی بھی کم ہی تھی نجانے کیا سمجھ آئی۔ ”فائٹنگ؟ خالہ نہیں میں تو سو رہی تھی اور تو تو جانتی ہے خالہ میں ہوں بھی بڑی شریف سی۔” اس نے شبانہ کو گھوری ڈالتے معصومیت سے کہا۔ ”شبانہ! تو نے ابھی تک عینک نہیں اتاری؟ ادھر کمرے میں بھی تجھے کیا دھوپ پڑ رہی ہے ادھر تو تجھے کوئی دیکھنے والا بھی نہیں آتا”۔ کنیز نے اس کے تن بدن میں آگ لگا دی۔ مجبوراً خاموش رہی کہ اماں پھر نہ اسٹارٹ ہو جائیں۔ شبانہ نے بھی دل میں بدلہ لینے کی ٹھان لی کہ چھوڑوں گی نہیں تجھے کنیز باجی۔
    شدید گرمی نے مت مار رکھی تھی مگر عورتوں اور لڑکیوں کے چمکیلے بھڑکیلے لباس تو ایک دوسرے کو مات دے رہے تھی اور کسر تو شبانہ نے بھی نہیں چھوڑی تھی۔ پیلا سوٹ جس پہ اس نے خود گوٹا لگایا تھا بڑے ارمانوں سے، کانوں میں بڑے بڑے جھمکے پراندہ اور اونچی ایڑی کے سینڈل کے ساتھ لشکتے میک اپ میں خود کودوسری مونا لیزا سمجھ رہی تھی۔
    ”باجی، راستہ دے دیں۔” وہ جو جلدی تیار ہو کر صحن میں کھڑی انتظام دیکھ رہی تھی اور کڑھ رہی تھی کہ کیا تھا جو میرا بھی بیاہ ہو جاتا۔ چونک کر پلٹی تو دیکھا صدیق کسی لڑکے کے ساتھ دیگ اٹھائے کھڑا راستہ مانگ رہا تھا۔ ”ہٹ کر کھڑی ہو شبانہ، راہ دے۔ گرمی نال جان نکل رہی ہے۔” پسینے میں نہایا صدیق اب باقاعدہ گھور رہا تھا۔ ”ہائے ہائے جان دیکھو اس گنے کی اور غصہ دیکھو۔” دل ہی دل میں پیچ و تاب کھاتی ایک طرف ہو گئی۔ صحن سے پیچھے کھلے برآمدے میں کام والی اماں ابٹن مہندی کے تھال سجا رہی تھی۔ شبانہ بھی ادھر ہی چل دی۔ مہندی کی دھانسو تیاری میں شبانہ کا کالا چشمہ بھی شامل تھا، جسے دیکھ کر گائوں کے شریر لڑکے اور شریر ہو رہے تھے۔ ”گورے گورے مکھڑے پہ کالا کالا چشمہ” ہائے ہائے چال اور مستانی ہو رہی تھی شبو کی۔ مگر ہائے ری قسمت اس کی صاف گو اماں یہاں بھی آگئی سلطان راہی بن کے۔ ”وے اندھیو! اے میری دھی کدھروں گوری لگدی اے۔ تو اڈی بہن ہے کج تے خیال کرو بے غیرتو۔بھینگی ہے اس لئے عینک لائی اے تسی گانے گان لگ گئے او۔” اماں نے لاج کیا رکھنی تھی الٹا پول کھول کر سب کے سامنے رکھ دیا۔ منہ چھپانے کو جگہ نہ ملی۔ آئندہ کہیں بھی اماں کے ساتھ نہیں جانا۔ اس نے دل میں عہد کیا۔ لڑکے بغلوں میں منہ دے دے کر ہنس رہے تھے۔ شبو نے بسورنا شروع کیا ہی تھا کہ سٹیج سے چیخ و پکار کی آوازیں آنے لگی۔ کنیز باجی سٹیج پر لڈیاں ڈال رہی تھی۔ ”ہائے اماں۔ ہائے اماں” کی گردان کے ساتھ اچھل کود ہو رہی تھی۔ مگر ایسا کچھ نہ تھا، بس کنیز کا واویلا تھا اور حیران پریشان مہمان۔ ابھی تو اسے ابٹن لگانا شروع ہی کیا تھا۔ آخر دو سیون اپ ڈکار کر اور 4 رس گلے کھا کر بولی ابٹن میں مرچیں ہیں۔ بس پھر اماں جو شروع ہوئیں گرمی سے پہلے ہی برا حال ہو رہا تھا ”نی دھی کنیز، دو گھنٹے لا کے منہ تے توں کریماں مل مل کر آئی ہے چھلے آلو جیسا منہ ہو گیا اے تیرا۔ ایس لئی مرچاں لگ رہیاں نیں۔ ”




  • دیو اور پری — سارہ عمر

    بہت پرانی بات ہے ایک دیو کا ایک بستی پر سے گزر ہوا۔ اس کی نظر اک گھر کے باغ میں کھڑی خوب صورت لڑکی پر پڑی۔
    لڑکی کیا تھی پری تھی۔ شہزادیوں کی سی آن بان والی۔ دیو نے خوب صورت لڑکی کو پانے کا فیصلہ کر لیا۔ دیو ایک خوبصورت شہزادے کا روپ دھار کر گھوڑے پر سوار اس گھر کے آگے جا پہنچا۔
    دروازے پر دستک دی اور کہا کہ شہزادہ راستہ بھول بیٹھا ہے مسافر ہے کیا پناہ مل سکتی ہے؟
    شہزادی جیسی لڑکی اور اس کے ماں باپ تو اس شہزادے کا رنگ روپ، آن بان اور شان و شوکت دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ انہوں نے اسے گھر آنے کی اجازت دے دی۔ وہ ان کے گھر آیا اور پھر یہیں کا ہو کر رہ گیا۔ کچھ ہی عرصے میں لڑکی کے گھر والوں کو سبز باغ دکھا کر اپنی دولت کے قصے سنا کر اور اپنی باتوں میں الجھا کر ایسا ہوش سے بے گانہ کیا کہ وہ اپنی بیٹی دینے پر راضی ہو گئے۔
    اس لڑکی کا نام پری تھا، لگتی بھی پریوں جیسی تھی۔ وہ تو خود شہزادے پر دل و جان سے گرویدہ ہو گئی لیکن مشرقی شرم و حیا کے باعث بول نہ سکی۔ دل ہی دل میں مستقبل کے خواب سجائے، وہ خاموشی سے اپنے سپنوں کے راجا کے سنگ رخصت ہو گئی۔
    اس کے ماں باپ بہت خوش تھے کہ دور دیس کا راجا صرف ان کی بیٹی کو لینے اتنی دور کا سفر کر کے آیا۔
    دیو شہزادے نے پری کو گھوڑے پر بٹھایا اور گھوڑا ہوا سے باتیں کرتا دوڑتا چلا گیا۔
    پری اپنے خیالوں میں کھوئی ہوئی تھی اچانک اسے لگا گھوڑا سچ میں آسمان سے باتیں کرتا اوپر کی طرف جا رہا ہے۔ آہستہ آہستہ گھوڑا بادلوں میں گم ہوتا گیا۔ دیو کا محل بادلوں کے اوپر تھا۔





    دیو کا محل آگیا تھا۔ دیو جو ابھی شہزادے کے ہی روپ میں تھا اپنی دلہن کا ہاتھ پکڑ ے اپنے محل لے گیا۔ وہ حیران و پریشان تھی کہ یہ کہاں آگئی؟………
    شہزادے نے کہا: ”پری میں زمین پر سیر کرنے گیا تھا جب تم پر نظر پڑی۔ مجھے لگا کہ تمہارے بغیر میری زندگی ادھوری ہے تمہارے آنے سے میرا گھر مکمل ہو گیا۔ اب یہ تمہارا گھر ہے ہمیشہ کے لئے۔”
    پری کچھ گھبرائی اور بولی: ”لیکن میر ے ماں باپ؟ کیا میں ان سے کبھی مل نہ سکوں گی۔”
    ”نہیں نہیں اب ایسا بھی نہیں کچھ سال تو انتظار کرنا پڑے گا نا… کیوںکہ بار بار زمین پر جانے کی اجازت نہیں ملتی۔”
    پری اب کیا کرتی شادی تو ہو گئی تھی۔ شہزادہ اسے لے کر بادلوں کی سیر کرتا، محل کا ایک ایک گوشہ گھماتا پھراتا رہا۔
    کئی ہفتے اسی طرح گزر گئے۔ دیو اپنی اصلیت چھپاتے چھپاتے تنگ آگیا تھا۔ دیو نے ایک دن پری سے کہا: ”بہت دن گزر گئے اب تم اپنے گھر کو سنبھالو۔ مثلاً کھانا پکانا صفائی ستھرائی وغیرہ۔ پری پریشان ہوئی اور بولی:” تم مجھے ماسی بنا کر لائے ہو کیا؟”
    دیو شہزادہ بولا: ”نہیں مجھے باورچی کے ہاتھ کے کھانے نہیں پسند۔ تم دل سے میرے لئے پکائو گی تو مجھے اچھا لگے گا۔”
    پری بولی: ”لیکن میرے ماں باپ نے مجھے کھانا بنانا نہیں سِکھایا۔ شادی بھی اتنی جلدی میں ہوئی کہ کچھ سیکھنے کا موقع ہی نہ ملا۔”
    شہزادہ بولا: ”باورچی سے سیکھ لو آہستہ آہستہ سب آجائے گا۔”
    پری شہزادے کی محبت میں راضی ہو گئی۔ باورچی محل کا ایک ہی ملازم تھا۔ وہ ایک جن تھا مگر اس نے اپنی اصلیت نہیں بتائی۔ وہ ایک عام انسان کے روپ میں تھا۔ باورچی نے اسے بتایا: ”پری بی بی! شہزادے صاحب کا کھانا بنانا آسان بات نہیں۔ دراصل ان کے نخرے بہت زیادہ ہیں۔ وہ چھوٹی چھوٹی بات کا برا مان جاتے ہیں۔ شہزادے کی پسندیدہ چیز تیار کرنا جان جوکھم کا کام ہے۔”
    پری کو لگا کہ باورچی خواہ مخواہ اپنی اہمیت جتا رہاہے۔ کچھ شادی کا نشہ تھا اور کچھ اپنے حسن کا غرور جن کا شکار تو شہزادہ ایک ہی وار میں ہو گیا تھا۔ پری دل لگا کر سیکھنے کی کوشش کرتی رہی۔ اس نے باورچی کے ساتھ مل کر بہت محنت سے کھانا بنایا۔ مصالحے وغیرہ اپنے ہاتھ سے ڈالے تا کہ اس کا شوہر اس کی محنت و محبت کا حترام کرے ۔
    کھانا میز پر لگایا گیا۔ شہزادے نے جیسے ہی کھانا چکھا اس کے غیظ و غضب کی انتہا نہ رہی۔ وہ غصے سے چلایا: ”اتنا نمک اور اتنی مرچ کتنا بد مزہ کھانا بنا کر رکھا ہے میرے آگے۔ ”
    وہ ایک شیر کی طرح دھاڑا اور اسی وقت اس کا شہزادے والا روپ ختم ہوا اور لبادہ اُتر گیا۔ اس کی جگہ ایک دیو نے لی۔ معصوم پری اس صورتِ حال سے گھبرا کر چلاتی ہوئی سیڑھوں سے اوپر کی جانب بھاگی اور اپنے کمرے میں کنڈی لگا کر بے تحاشا روئی۔ روتے روتے وہ کمرے کی واحد کھڑکی کے پاس آگئی اور باہر دیکھتے ہوئے رونے لگی اور اس کے آنسو قطار در قطار بادلوں پر گرنے لگے۔ ننھے ننھے موتیوں نے پانی کے ڈھیر سارے قطروں کی شکل اختیار کر لی اور بادل بہت زور سے کڑکے اور برش برسنے لگے گئی۔ پری روتی جاتی تھی اور بارش کی جھڑی رکنے کا نام نہ لیتی تھی۔
    پری کا دل بہت بری طرح ٹوٹا تھا۔ کہاں وہ نازک پری شیشے جیسی کانچ جیسی آبگینے کی طرح اور کہاں وہ ظالم دھاڑتا ہوا دیو۔ اوپر سے اس کے سامنے اس کی بنائی ہوئی چیز کی برائی۔ بھلا گھر میں اس کے ساتھ کبھی ایسا سلوک ہوا تھا۔ اب ماں باپ کی یاد نے اس کا دل اپنی مٹھی میں لے لیا۔ دھیان دیو سے ہٹ کر اپنے گھر کی طرف چلا گیا تھا۔ اپنے ماں باپ کے پاس۔ ناجانے کس حال میں ہوں گے۔
    موسلا دھار بارش ہو رہی تھی۔ کتنے عرصے بعد بارش ہوئی تھی۔ پری کی ماں نے ہاتھ کھڑکی سے باہر نکالا تاکہ بارش کے کچھ قطرے سمیٹ لے۔ لیکن پانی کے یہ قطرے جیسے ہی اس کے ہاتھ پر پڑے۔ اسے لگا یہ قطر ے نہیں پری کے آنسو ہیں۔
    اس کا دل بہت بری طرح بے قرار تھا۔ وہ پریشانی سے پری کے باپ سے بولی: ”کتنے دن ہو گئے پری کی کوئی خیر خبر نہیں۔ کیا تمہارے پاس اس کا پتا تک نہیں؟” پری کا باپ بھی اداس تھا۔ وہ اپنی کم عقلی پر حیران ہوا کہ واقعی مجھے اس کا پتا پوچھنے کی فرصت نہ ملی اور یوں انجان شخص کے ساتھ اپنی پھول سی بیٹی بھیج دی۔ نہ جانے کس حال میں ہو گی۔ دونوں ماں باپ اب پری کے لئے بے چین اور مضطرب سے ہو گئے۔
    پری نے آہستہ آہستہ حالات کے ساتھ سمجھوتا کر لیا تھا۔ کیا کرتی شادی جو ہو گئی تھی۔ اس نے کھانا پکانا بھی سیکھ لیا تھا۔ وہ سارا سارا دن محل کی صفائی کرتی، کھانا پکاتی ،برتن دھوتی اور کپڑے دھوتی۔ حالاںکہ دیو چاہتا تو اسے کچھ نہ کرنا پڑتا۔ لیکن وہ چاہتا تھا کہ وہ اتنا تھک جائے کہ اسے اپنے گھر کی یاد نہ ستائے۔ اپنے ماں باپ سے ملنے کی خواہش نہ ہو کیوںکہ اگر وہ زمین پر چلی گئی اور میری اصلیت بتا دی تو بھلا اس کے ماں باپ اسے دوبارہ کب آنے دیں گے۔ اس سوچ نے دیو کو خود غرض بنا دیا۔
    پری کو ہر وقت غم رہتا کہ اس کے ماں باپ نے اس کی شادی جس انسان سے کی وہ کیا نکلا؟ سب پیار، محبت، عزت واحترام کے وعدے ہوا ہو گئے اور بس کچھ ہی مہینوں میں اس کی اہمیت ختم ہو گئی۔
    پری دن رات وہاں سے نکلنے کے منصوبے بناتی۔ لیکن کیسے؟ کیا کرے؟ کھڑکی سے چھلانگ لگا دے؟ بادلوں پر گرے گی تو کہاں جائے گی؟ اسے لگتا کہ دیو اس کو قید میں ڈال کر بھول گیا ہے۔




  • آؤ کتابیں کھولیں

    آؤ کتابیں کھولیں

    آؤ کتابیں کھولیں
    آؤ کتابیں کھولیں

    ہم اسکول سے ہولیں
    بات ادب کی بولیں

    کرلی ہم نے بہت ہے مستی
    ملے گی اس سے شہرت سستی

    ہوگی ورنہ پھر رسوائی
    جو کام نہ کسی کے آئی

    چلو اب ہی محنت کرلیں
    اور قسمت کو بدل لیں

    جو وقت بچا ہم پائیں
    تو مُلک کو خوب چلائیں

    سب کو پیچھے چھوڑیں ہم
    آگے آگے دوڑیں ہم

    آؤ کتابیں کھولیں
    آؤ کتابیں کھولیں

  • لیپ ٹاپ — ثناء سعید

    لیپ ٹاپ — ثناء سعید

    اس کے ہاتھ کی بورڈ پر تیزی سے چل رہے تھے، کی بورڈ کی keys کی ٹِک ٹِک اور صفحے پلٹنے کی آوازوں کے علاوہ وہاں اگر کوئی اور آواز تھی تو اس کے زور زور سے دھڑکتے دل کی تھی، جو شاید وہ خود ہی سن سکتی تھی… اسے اپنے دل کے دھڑکنے کی رفتار مسلسل بڑھتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی… دراصل بجلی پچھلے ایک گھنٹے سے غائب تھی۔ اس کا آٹھ سالہ پرانا لیپ ٹاپ اب اپنی آخری سانس لے رہا تھا… نوٹیفکیشن پینل میں بار بار ایک پیغام آرہا تھا۔
    "20% available. Please replace your battery or plug in charger”
    مائیکرو سافٹ آفس پر کام کرتے ہوئے وہ بہ یک وقت تین ایپلی کیشنز پر کام کر رہی تھی… اسے اپنی پریزنٹیشن تیار کرنا تھی اور ایم ایس ورڈ میں ایک ڈاکومنٹ بھی جمع کروانا تھا… کچھ ضروری اعداد و شمار کو ایکسل میں مینو پلیٹ بھی کرنا تھا۔
    ابھی چند سیکنڈ پہلے اس کے لیپ ٹاپ سے اُٹھنے والی بیپ کی آواز کے ساتھ ہی سکرین خالی ہوئی اور ساری بتیاں بجھ گئیں سوائے ایک بتی کے، جو نکھرے نکھرے رنگوں کے بعد اب انتہائی سڑے ہوئے زرد شیڈ میں بدل کے جلنے بجھنے لگی تھی، وہ بھی انتہائی سست انداز میں… یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے اسے سانس کا مرض ہو… وہ بے اختیار اپنی مٹھیاں بھینچ کر رہ گئی تھی۔
    ”اُف! اب یہ آن ہونے میں بھی وقت لگائے گا… ایک تو یہ بڈھا لیپ ٹاپ بھی چیونٹی کی رفتار سے چلتاہے۔”
    انتہائی کوفت بھرے انداز میں اس نے دوبارہ پاور کا بٹن دبایا… وہ آنکھوں میں بے زاری اور بے چینی کا امتزاج لیے سکرین پر نظریں جمائے بیٹھی تھی۔ Continue with window resume کا پیغام سکرین پر نمودار ہوتے ہی اس نے پوری قوت سے Enter کا بٹن دبایا ۔ یہاں ”اولڈ از گولڈ” والا محاورہ اس کے کام آیا تھا ورنہ تو اس کا کی بورڈ کب کا خراب ہو چکا تھا…
    اب سیاہ پس منظر میں "resuming window” کے الفاظ کے سانس کا اتار چڑھائو واضح تھا، جو اس کی کوفت میں اضافے کا باعث بنا۔
    آخر کار اس کا سسٹم آن ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ اس نے فوراً ایگزل، پاور پوائنٹ اور ورڈ کی فائلز کھولیں اور Ctrl+S دبایا… اور اب وہ دوبارہ ورڈ کی فائل میں کام کر رہی تھی۔ اس کی انگلیاں بڑے ماہرانہ انداز میں تیزی سے حرکت کر رہی تھیں، مگر وہ کچھ زیادہ ہی پریشان تھی، اسی لئے وہ بار بار غلط بٹن دبا رہی تھی… یہ سلسلہ اس کی کوفت میں مسلسل اضافے کا باعث بن رہا تھا۔





    اس نے بہ مشکل اپنی کوفت پر قابو پایا، تبھی وہ پوری توجہ کام پر مرکوز کرنے کی کوشش میں کامیاب ہو پائی۔ آخر کار مزید بیس منٹ چلنے کے بعد اس کا لیپ ٹاپ ایک ہلکی سی آواز کے ساتھ بند ہو گیا ۔
    اداس چہرے پر بے پناہ بے بسی، غصہ اور معصومیت لئے اس کا دل چاہا کہ وہ لیپ ٹاپ اٹھائے اور دیوار پر پٹخ دے۔ یہ نہیں تو وہ کم سے کم لیپ ٹاپ پر ایک زور دار مکا ہی دے مارے… ”نہیں” اس کے اندر سے ایک آواز اُبھری… اگر وہ ایسا کرے گی تو نقصان اس کا اپنا ہی ہو گا۔ لیپ ٹاپ ٹوٹنے سے اس کا مالی نقصان ہی نہیں بلکہ خاصا دماغی نقصان بھی ہو گا… اس کا سارا ڈیٹا اسی لیپ ٹاپ میں ہی تھا… اس کے ٹوٹ جانے کی صورت میں وہ ڈیٹا توری کور کر سکتی تھی، لیکن اگر ہارڈ ڈسک ہی جل جاتی تو… نہیں وہ کوئی ایسا کام کرنے کی پوزیشن میں ہرگز نہ تھی۔ شام کے پانچ بج رہے تھے اور کل نو بجے اسے پریزینٹیشن دینا تھی۔
    ہنوز اسی موڈ میں کسی بھٹکی ہوئی روح کی مانند کمرے کے اندر باہر کئی چکر لگانے کے بعد اس نے ایک کُشن اُٹھایا اور اپنی پوری قوت سے سامنے دیوار پر دے مارا، جو دیوار کے ساتھ رکھی ڈریسنگ ٹیبل پر رکھے پرفیوم کی بوتل کو جا لگا… اب پرفیوم اور کشن دونوں زمین پر بے ترتیب انداز میں پڑے تھے… یہ دیکھ وہ پیچ و تاب کھا کے رہ گئی… ناچار اپنی جگہ سے اٹھی اور کشن اور پرفیوم دوبارہ اپنی جگہ پر رکھے۔ اپنے کمرے میں وہ مکمل طور پر آزاد تھی۔ جو چیز چاہتی اُٹھا کے پٹخ سکتی تھی، اس طرح کم از کم اس کے دل کا بوجھ تو ہلکا ہو جاتا، مگر وہ ایسا بھی نہیں کر سکتی تھی… اس طرح اس کا کمرہ درہم برہم ہو جاتا، پھر اسے واپس اپنی حالت میں بھی خود ہی لانا تھا۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ بکھرے کمرے سے بذاتِ خود اُسے بھی سخت اُلجھن ہوتی تھی، وجہ نمبر دو اگر وہ کمرے کو اسی حالت میں چھوڑ دیتی تو ماما… اگر وہ کمرے میں آگئیں تو اس کی کیا دُرگت بنے گی؟ یہ سوچ کر ہی وہ کانپ اٹھی۔
    ٭٭٭٭
    لائٹ کا انتظار کرتے کرتے دو گھنٹے گزر چکے تھے، باہر اندھیرا چھا رہا تھا۔ اسے اپنے اندر بھی سب کچھ اندھیرے میں ڈوبتا ہوا محسوس ہونے لگا۔ آخرکار وہ بے چارگی کے عالم میں تھک کر بیٹھ گئی۔ اس کا دل بے اختیار رونے کو چاہا، مگر اگلے لمحے ایک خیال آتے ہی اس نے خود کو پوری قوت سے روکا…
    آپ کے خیال میں اسے کیا خیال آسکتا ہے؟… شاید اس کے دماغ میں کوئی متبادل حل نکل آیا مثلاً آس پڑوس سے یا کسی کزن وغیرہ سے لیپ ٹاپ کچھ وقت کے لئے ادھار مانگ لے، تو آپ غلط سوچ رہے ہیں وہ ایسا بالکل بھی نہیں کر سکتی تھی کیوںکہ جس ڈیٹا کی بنیاد پر اسے ادھوری پریزنٹیشن تیار کرنا تھی، وہ ڈیٹا اور ادھوری پریزنٹیشن دونوں ہی اس مرے ہوئے لیپ ٹاپ میں تھے
    … دوسرا آپشن کیا ہو سکتا ہے؟… وہ یو۔پی۔ ایس والے کسی خوش نصیب گھر میں جا کر گزارش کرے… ایسا بھی بالکل نہیں تھا… وہ ضرورتاً کسی کے گھر میں قدم رکھنا بھی شدید گناہ سمجھتی تھی… تو کیا ہو سکتا ہے؟… درحقیقت اس نے امید کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا … وہ جانتی تھی بجلی آئے گی ضرور چاہے رات کے کسی پہر چور کی طرح آئے اور چپکے سے چلی جائے… اس قدر سمجھ داری اور اُمید کے پیچھے ایک خاص وجہ کار فرما تھی… رونے سے سر میں درد ہوتا ہے اور پھر کوئی بھی کام ٹھیک سے سرانجام نہیں دیا جا سکتا … اسے تو صبح پریزنٹیشن ہر حال میں دینی تھی… اف اس کے سر کا درد… ایک دفعہ شروع ہو جائے تو آسانی سے جاتا نہیں… بس یہ ہی بات تھی۔ وہ اچھی طرح سے جانتی تھی اپنے سر درد کو … دوا کھانے سے تو اسے چڑ تھی … رہی بات بجلی کے چوروں کی طرح آنے کی، تو اس مسئلے کا حل اس کے پاس موجود تھا۔ وہ یہ کہ نومبر کے مہینے میں وہ پنکھا پوری رفتار سے چلا کے سوئے گی، وہ بھی کمبل اوڑھے بغیر، جس سے بجلی آنے پر اس کی آنکھ خود بہ خود ہی کھل جائے گی… لیکن اس کی نوبت نہ آئی۔ عصر، مغرب اور عشا کی نماز کے بعد انتہائی خشوع وخضوع سے مانگی گئی دعا قبول ہو گئی تھی… عین سات بج کے پندرہ منٹ پر بجلی آگئی… وہ مارے خوشی کے زمین سے کوئی دو فٹ اوپر اچھلی اور فوراً بھاگتی ہوئی اپنے کمرے میں پہنچی اورپھر اس نے بجلی دوبارہ نہ جانے کی دعائیں کرتے ہوئے لیپ ٹاپ آن کیا۔ حسبِ سابق لیپ ٹاپ انتہائی سست روی سے آن ہوا۔ اس دوران اس کے ہونٹ مسلسل حرکت کر رہے تھے… شاید وہ کوئی ورد کررہی تھی۔ لیپ ٹاپ آن ہوتے ہی اس نے ایک بار پھر اپنا کام شروع کیا، ورڈ کی فائل میں موجود آخری پیراگراف غائب تھا… مگر وہ پرواہ کئے بغیر ایک بار پھر تیزی سے اپنا کام کر رہی تھی…
    ٭٭٭٭




  • نگار خانہ — مصباح علی سید

    نگار خانہ — مصباح علی سید

    شام اداس اور ویران تھی۔ ٹھنڈا پڑتا سورج نارنجی تھال سے جھانکتا تھا۔ جیسے جیسے نیچے ہوا کے پھیکے جھونکوں میں تیرتے پنچھی اپنے اپنے آخری دانے دنکے چونچوں میں دبائے آگے بڑھ رہے تھے، وہ مٹھی میں باجرہ چاول لیے چھت پر آئی تھی۔ ڈوبتے سورج کے بعد آجانے والی سیاہی غم کو مزید بڑھانے لگی۔ اس نے دانے پھینک کر دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے کہ پرندوں کی بے ہنگم شور نے اس کا وجد توڑ دیا۔ اس نے خفیف سی گردن گھما کر دیکھا، نگاہوں میں تحیر آبسا تھا۔
    سب لوگ چھوٹے سے صحن میں بیٹھے تھے۔ ابا کچھ دیر پہلے ہی دکان سے آئے تھے۔ جیسے ہی ان کی آمد ہوتی، وہ سارے گھر میں وی آئی پی بن جاتے۔ باجی بھاگ کر پانی کا بھرا گلاس لے آتیں، ٹیپو بوٹوں کی طرف بڑھتا چپل پیش کرتا، آپا گرم گرم روٹیاں اتارنی شروع کر دیتیں اور اماں سب کو ہدایات دیتی کہ ابا کے روبرو بیٹھ جائیں۔ اب بھی ان کے برابر بیٹھی ہاتھ والے پنکھے کو گول گول گھماتی انہیں سارے دن کی روداد سناتے ہوا جھل رہی تھیں۔ ابا نے قمیص اتارتے ہوئے اپنے مخصوص بے زار لہجے میں کہا:
    ”تیرے ہاتھوں میں اگر دم نہیں تو ادھر دے۔”





    انہوں نے نہ صرف پنکھے کی جانب ہاتھ بڑھایا بلکہ تقریباً چھین ہی لیا۔ اماں ”ایہہ” کہتی رہ گئیں۔ اب پنکھے کی ڈنڈی ابا کے ہاتھوں میں گھوم رہی تھی پھر اسی سے پشت کھجاتے کہنے لگے:
    ”جانے کب آئے گی کم بخت۔”
    ”ہائے مر گئے یہ واپڈا والے… ستیاناس ہو اُن کا۔”ابا کی تائید میں صحن کے بیچوں بیچ لگے جنگلے سے نیچے والی منزل کے بڑے میاں نے دہائی دی۔ نچلی منزل کا بند گھر، کئی گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ اور پھر شدید حبس، غصے کے ساتھ گالیاں بھی بنتی تھیں۔
    ابا ان کی بے قراری پر کُھل کر مُسکرا بھی نہ سکے کہ اپنے سٹور سے دھڑ دھڑ قیامت خیز کھڑاک کی آواز آئی تھی اور ساتھ آپا کی دل خراش چیخیں ابھریں:
    ”ہائے میں مرگئی۔”
    ”اسے کیا ہوا…؟ہائے! اسے کیا ہوا؟” اماں سینہ تھامے سٹور کی جانب بڑھیں جہاں بھوت نما آپا چلاتی ہوئی برآمد ہوئیں۔ کچھ دیر پہلے اچھی بھلی آپا کو روٹیاں اتارتے دیکھا گیا تھا۔ ابا کے سامنے ٹرے رکھ کر سٹور سے ان کا بستر ڈھونڈنے گئیں تھیں۔ چادر کا کونا ہاتھ لگا مگر پوری طرح قابو میں نہ آیا تھا، زور لگایا پیٹی پر رکھے بستر کے ساتھ کوئی بھاری سی چیز ان پر آن گری۔
    درد اپنی جگہ، اس سوغات کی خوشبو و رنگینی اپنی جگہ۔ دراصل ٹیپو حد سے زیادہ چٹورا ہو گیا تھا۔ جو چیز دیکھی پیٹ کے دوزخ میں منتقل کرلی۔ اماں نے چُھپ کر اچار ڈال مرتبان اونچی پیٹی پر بستروں کے پیچھے خاصا چھپا کر رکھا تھا۔ چادر کھینچنے سے وہ بھی بدلحاظ بنا آپا سے گلے ملنے آگیا۔ پھر کیا تھا، تیل کی تل چھٹ میں رنگ برنگے مصالحہ جات، آم، آملے اور پھلیوں نے آپا کے وجود پر عجیب وغریب نقش و نگار بنا دیئے۔ عجائب خانے میں رکھتے تو ایک مہینے کا راشن نکل آتا۔ ہاتھ لگانے سے بھی کراہت آرہی تھی۔ اماں کو پہلے اچار کے ضائع ہونے کا قلق ٹھہرا، دو چار اس کے گھونسے جڑے پھر ہنسی آگئی۔ ابا بھاگ کر لالٹین اٹھا لائے، بچی پہچانی تب ساری بات سمجھ میں آئی اور ٹیپو اندھیرے میں ہی اچار کی پھانکیں اٹھا کر بھا گ گیا۔
    ”ستیاناس ہو جائے، اس کلموہی حکومت کا، زندگی سے سارا سکھ چین ہی چھین لیا، جب دیکھو بتی بند، کبھی سالن میں نمک کی جگہ چینی ڈل جاتی ہے تو کبھی چائے میں پتی کی جگہ کلونجی، کہاں تک اپنے دیدوں کی روشنی سے کام لیں؟” اماں کو بے انتہا غصہ آیا۔ سارا اچار بھی تو بدبخت لوڈشیڈنگ کی نذر ہو گیا تھا جیسے ہی اچار کی یاد آئی آپا کی کمر پر جھانپڑ جڑا۔





    ”منحوس! دِکھ نہیں رہا تھا چادر کہیں پھنسی ہوئی ہے، مرتبان نہیں اسے چھوڑ رہا تو تو ہی چھوڑ دیتی۔ اب دفع ہو، جاکر نہا بدن سے تیل کا کیچڑ اتار…”
    ”اوئے ہوئے مِس!…کیسے نہائو گی۔ پانی ختم ہے اور بتی آنے والی نہیں۔”ٹیپو انگوٹھے دکھاتا ناچ رہا تھا۔
    ”ہائے میرے ربّا…” یقین مانو اب آپا کو تیل میں مرچ ہلدی کا احساس ہوا تھا پھر تو سارے بدن میں بھوری چیونٹیاں بھر گئیں۔
    ”میرے اللہ!” اس کی نگاہ آسمان نامی چھوٹے سے نیلے ٹکڑے پر جا ٹھہری۔
    ”قیامت والے دن اس حکومت کو بخشنا نہیں، جس طرح مجھے مرچیں کاٹ رہی ہیں ، انہیں سانپ بچھو ڈسیں۔”
    یہ اس گھر کی ہی نہیں بلکہ چھوٹے سے پیچ دار گلیوں والے علاقے کے دیوار سے دیوار جڑے ہر گھر کی کہانی تھی۔ ڈھونڈتے کچھ ملتا کچھ، پکاتے کچھ پک کچھ جاتا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب نئی نئی لوڈشیڈنگ شروع ہوئی تھی۔ ملک میں ایمرجنسی نافذ ہونے پر بتی جانے لگی۔ لوگ بلبلاتے شور مچاتے، ہڑتالیں، توڑ پھوڑ، ایک دن حکومت نے چھوٹا سا بیان زخم پر برف کی طرح رکھا۔
    ”چند سالوں کے لیے ملک مسائل میں گھرا ہے، تسلی رکھیں پانچ سالوں بعد ہمارے پیارے وطن میں لوڈشیڈنگ کا تصور بھی نہیں رہے گا۔”
    لوجی خوب کہی، پہلے واپڈا اوقات پر پھر اوقات سے باہر ہی ہو گیا۔ لوڈشیڈنگ کا تصور دفعتاً نہیں بچا تھا۔ غالباً لوگ اندھیروں کے عادی ہو گئے تھے۔ اگر کوئی وقت پوچھ لیتا صبح سوا نو سے رات سوا نو تک کی کہانی انگلیوں پر سنا دیتے۔
    ”سوا نو بجے آئے گی، پھر سوا دس بجے جائے گی، پھر سوا گیارہ، سوا بارہ…” آپا نے تو مہارت دکھائی۔ کلاک کے ہندسے ہٹا کر بتی آئی، بتی گئی کا کلاک بنا لیا۔ نئی طرز کا ڈیکوریشن پِیس، پڑوسی پوچھ پوچھ جاتے کہاں سے خریدا ہے۔ حکومت کی پانچ سالہ برف کی نظر کسی کا جمع جتھا، کمیٹیاں، کل پونجی، یو پی ایس کی نظر ہو گئے۔ پھر یہ دیکھا دیکھی ڈینگی کی وبا سے بھی تیز پھیلے۔ پانچ سال گزرے۔ واپڈا اوقات سے کیا سرحدوں سے باہر ہو گیا۔ بتی آئی گئی کا تصور ہی ختم ہو گیا۔ کبھی آرہی ہے تو بے تحاشہ اور کبھی نہیں ہے تو بھلے ساکٹ میں انگلیاں دے لو یا دروازے کے باہر گزرتی تاروں پر پینگیں ڈال لو اور کبھی حسینہ کی طرح پلکیں جھپک جھپک کر چیزیں ساڑ دیتی اور پھر پورے کنبے میں دھینگا مشتی شروع تو کبھی ڈھیٹ بنی سارا دن آوارہ مٹرگشت کرتی۔ میٹرگھما کر اماں ابا کی اتنی لڑائی کرواتی آدھے برتن تو یوں ہی ٹوٹ گئے تھے۔ ”بل کون بھرے۔”
    کچھ دن پہلے کی بات ہے اماں چوکی پر بیٹھی ساگ کی گندلیں صاف کر رہی تھیں کہ یک لخت اپنی اسرافیل کی پھونک جیسی چنگھاڑ نکالی۔
    ”او ٹیپو! اس منحوس فریج کو بند کر دے، آج پاگلوں کی طرح بتی آرہی ہے کہیں چیزوں کو ٹھنڈ نہ لگ جائے۔ پھر تیرا باپ آکر مجھے ٹھنڈا کرے گا۔” نیچے والی منزل کے مائی بابے نے سنا تو قہقہوں سے پیٹ میں بل پڑ گئے۔
    ”اماں!” ٹیپو چھوٹی سی انگلی ٹھوڑی پر جمائے سامنے آکھڑا ہوا۔
    ”آج لائٹ اب تک کیوں آرہی ہے؟” اس نے فریج کی تار کھینچ کر بڑی معصومیت سے پوچھا تھا۔ اماں بدک گئیں۔
    ”آج وہ بدبخت ٹی وی پر بیٹھے گا، اس کی آواز سننے اور تصویر دیکھنے کے لیے دے رہے ہیں۔”
    ”اماں!آج ایگزیکٹو ہمارے ٹی وی پر بیٹھنے آئے گا…” ٹیپو کی مارے حسرت کے آواز پھٹ گئی۔ آواز میں دنیا بھر کا درد اس لیے تھا کہ اگر ایسا ہو تو مخمنی سا ٹی وی کئی حصوں میں بکھر جائے گا اور ابا دوسرا ٹی وی تو قیامت تک نہ لے کر دیں گے۔
    ”ہاں! آکر بیٹھے تو سہی، ڈویاں مار مار سر نہ پھاڑ دوں اس کا… خود تو اے سی لائٹوں والے کمرے میں بیٹھ کر ٹی وی پر آتے ہیں، ایک ہم بے چارے… ہک ہا”
    اماں صد افسوس کرتیں اپنی سبزی اُٹھا کچن کی جانب بڑھیں جہاں ایک اور آفت ان سے لپٹنے کو تیار تھی۔ چند سالوں میں بہ مشکل خود کو بجلی کی لوڈشیڈنگ کا عادی بنایا۔ کچھ دن احتجاج کیا، کھمبے گرائے، تاریں توڑیں، گالیاں بکیں اور پھر بھول بھال گئے۔ عادت بنا لی تھی تو نیا عذاب وارد کر دیا گیا۔ یخ بستہ موسم اوپر سے چولہے ٹھنڈے۔ جب جلائو ”سوں” سائرن بجاتی کان پھاڑ آوازیں جیسے بہت سی ایمبولینیس اکٹھے ہی گزرنا چاہ رہی ہوں۔ کتنی دیا سلائیاں تو اسی جانچ میں ختم ہوئیں کہ اب آئی کہ تب آئی۔ پر ناجی چولہے سے تو کچھ نہ نکلا البتہ اماں کے وزن سے بھی بھاری مغلظات ان کے منہ سے ابلیں۔ حکومت کی آنے جانے والی دس دس نسلوں کو کوسا۔
    پچھلے ہفتے کی بات تھی۔ ابا کو بخار چڑھا تھا، ان کے لیے نرم غذا کے طور پر دلیہ بنانا تھا۔ اماں نے سارا دن تھاپی مار مار ٹھنڈے پانی میں کپڑے دھوئے، جسم اکڑ گیا اور ٹھنڈ چڑھ گئی تو آپا سے ابلے انڈے اور چائے کے پیالے کی فرمائش کی۔ اکتاہٹ بھری آپا نے اپنے ناگوار منہ کو مزید بے زاریت سے سجایا۔ مرے قدموں سے جا کر چولہا جلایا، جو حسبِ عادت رانجھا بنا سارنگی بجا رہا تھا۔ آپا دھر سے چلائیں۔ ”اماں گیس نہیں آرہی۔”





    ”چولہے کو اٹھا، باہر پھینک دے منحوس کو، خواہ مخوا رش بڑھا رکھا ہے۔” اماں نے بلبلا کر کہا آپا تو اس مزاح کو انجوائے کرتی کمرے میں چلی گئیں، اپنی کہانی جو پوری کرنی تھی۔ البتہ ٹیپو سمجھا شاید چولہا پھینکنے سے گیس آجائے گی۔ آپا کی حکم عدولی پر تلخ نگاہ سے انہیں گھورا اور تیزی سے کچن کی جانب بڑھا، والوسے پائپ کھینچ، چولہا اٹھا کر گلی کی کھڑکی کی جانب بڑھنے لگا، صحن میں لگے سیاہ جنگلے میں پائوں پھنسا اور نچلی منزل والے بڑے میاں کے آدھے خالی سر پر برنر کی آہنی ٹھیکری جا گری۔ لو بتائو کوئی پوچھے اس عمر میں کیا تُک بنتی ہے صحن کے بیچ و بیچ جنگلے کے نیچے بیٹھ کر گنگناتے ہوئے اپنے جھالر نما بالوں پر خضاب لگانے کی؟ مانا بتی نہیں تھی پر کبھی تو آتی۔ کون سا ابھی بارات چڑھ رہی تھی۔ مگر نابھئی، پھڑوالیا اپنا طبلے جیسا ماتھا، حالاں کہ اچھی طرح پتا ہے پچھلے ہفتے کروشیابنتی بڑی اماں کے اوپر غلطی سے باجی سے چائے چھلک گئی تھی اور اماں کے پائوں سڑ گئے تھے۔ تب تو بڑے میاں گردن گرائے بیگم پر خوب ہنسے تھے مگر آج اف! کچھ نہ پوچھو۔ بابا جی نے جو قیامت خیز ہوٹر بجائے، چیخ و پکار، گالی گلوچ، چولہا تو وہاں ہی دھرا رہ گیا اور دونوں گھروں کے تمام افراد آپس میں خوب گتھم گتھا ہوئے۔ بڑے میاں کی بہویں نکل آئیں، پوتا پوتی اماں کی ٹانگوں پر چوہوں کی طرح دندیاں ماریں، کسی کے بال کسی کے ہاتھ۔ بڑے میاں کا خضاب اور خون ایک ہو کر چہرہ بہت ہول ناک لگ رہا تھا۔ ایسے میں بخار میں پھنکتے ابا گھر داخل میں ہوئے ان کا جی چاہا سب مل کر مجھے ہی مارو شاید بخار سے ٹوٹتے بدن کو کچھ افاقہ ہو۔ دوا تو پہنچ سے دور تھی۔ کچھ محلے کے لوگ بیچ میں پڑے، صلح صفائی ہوئی تب سب نے مل کر واپڈا پلس گیس کا غائبانہ جنازہ اٹھایا۔ ایسے جنازے دھکا کالونی میں روز اٹھتے تھے۔ نام پر حیرت ہو رہی ہو گی۔ بھئی یہ کالونی ایک مشہور سیاسی لیڈر نے اپنے سیاسی عزائم پورے کرنے کے لیے ناجائز تجاوزات پر غریبوں کے لیے آباد کی تھی اور فی الوقت رہائش پذیر اپنی قسمت کے دھکوں سے اسے چلا رہے تھے۔ خیر…
    جب شروع شروع گیس جانے لگی تو لگا شاید کہیں نئی پائپ لائن بچھ رہی ہے پھر خیال گزرا بلوچیوں کے ڈیرے پر لڑائی ہو گئی ہو گی ایک دوسرے کا سرپھاڑنے کے بجائے راکٹ مار کہ گیس کا کنواں پھاڑ دیا ہوگا۔ لیکن جب تواتر یہی مصیبت نازل رہی تو سب عورتیں اکٹھی ہوئیں اور تھانے دار کی طرح تنی بیلن، چمٹے، ڈویاں اٹھا پہنچ گئیں چوک پر، بے چارے بھوکے پیٹ یا سوکھے پاپے کھا کر رزق کی تلاش میں سکول اور دفاتر کو نکلے پسماندگان کا رستہ روک لیا۔ ٹریفک جام… کیا ان خواتین نے خاندانوں میں آگ لگائی ہو گی جو اس وقت سڑک پر لگائی۔ ایک بے چارہ سردی سے ٹھٹھرا مسافر لمحے کے لیے ہاتھ سینکنے کھڑا ہو گیا۔ بوڑھی سی اماں نے ہاتھ لمبا کر کے اس کے بازو پر ڈوئی ماری۔
    ”اوہ منحوس! تیرے سینکنے کو نہیں دہکائی، اس کا دھواں حکمرانوں کے دیدوں میں چبھانے کے لیے لگائی۔” اتنا ہنگامہ برپا ہوا۔ میڈیا اکٹھا ہو گیا، حکومت کے خلاف نعرے بازی، گالیاں، بددعائیں۔ جلتے پتوں کی خبر حکومت تک بھی پہنچی۔ انہیں بھی ٹھنڈی برف کا گولہ مرہم کی طرح تھما دیا۔
    ”حکومت اقدام کر رہی ہے، جلد حل نکلے گا۔”
    اور حل نکل بھی آیا۔ گھروں میں گھنٹہ بھر کے لیے گیس آنے لگی۔ وہی خواتین جو آٹھ آٹھ بجے تک چارپائیوں پر کھٹمل کی طرح اینٹھی بیٹھی رہتیں۔ پھرکی کی طرح گھوم کر اٹھتیں، نشئیوں کی طرح جھومتی جھامتی ٹم ٹم جلتے چولہے پر ہانڈیاں پکانے لگیں۔ ساری کالونی کے چولہے یک لخت جل اٹھے۔ گیس ٹم ٹم سے ٹماٹم ہو گئی۔ کسی کی ہانڈی پکی، کسی کی کچی، باہر نکل نکل اک دوجے کے دروازے بجا بجا کر اپنا چولہا ہلکا کرنے کی استدعا، پھر حکم اور پھر وہی دھینگا مشتی۔ مفت میں پوری دنیا ہالی وڈ کی ریہرسل سے مستفید ہوئی بلکہ کچھ من چلوں کے دل کی مراد پوری ہو گئی۔ جب حسینہ دروازہ بجاتے آتی تو اک محبت نامہ ہاتھ میں تھما دیتے۔ کوئی بڑھا ہاتھ جھٹک دیتی اور کوئی رقعہ پلوسے باندھے مٹکتی اپنے گھر کی طرف۔ پرسوں آپا گئیں تھیں۔ مٹھی میں رقعہ لے آئیں دس بار پڑھا۔ حکومت کی پالیسی کو دعائیں دیں رابطے کہ کا ذریعہ بنایا۔ آج صُبح دروازہ بجا، سامنے والا رشید انتظار میں تھا۔ دروازہ کھولتے ہی نازُک ہاتھ تھامنا چاہا اور چنگھاڑ نکلی۔ غالباً آج اماں گئیں تھیں۔ اس کی حرکت پر ہاتھ میں پکڑا گرم چمٹا دے مارا۔
    ”منحوس مارے میں تو چولہا ہلکا کرنے کا کہنے آئی تھی، تو آوارگی پر اتر آیا…”
    پھر کیا بتائیں کتنوں کی ایسی حرکتوں پر کیسی کیسی ٹھکائی ہونا۔ روز کا معمول بن گیا۔





    عوام بھی کہاں تک احتجاج کرتی؟ حکومت تو بھیجے میں میخیں ٹھونکے نشے میں چور تھی۔ مفاہمت پسند عوام نے متبادل ڈھونڈ لیا۔ پہلے سے کم خرچے مزید گھٹائے اور کسی نے چھوٹے سلنڈر، تو کسی نے تیل کے چولہے رکھ لیے۔ اماں تیل کے چولہے سے خوف زدہ تھیں۔ پچھلی گلی کی جوان لڑکی مری تھی۔ انہوں نے ابا سے سلنڈر کی فرمائش کی۔ وہ لے بھی آئے اور رات کو اپنی چارپائی کے نیچے رکھ کر سوتے کہ کہیں گھر کی گیس سمجھ کر راتوں کو عیاشی شروع نہ ہو جائے۔ دن میں اس دوکلو گیس پر اماں پہرہ بٹھا دیتیں۔ آپا جیسے ہی سلنڈر کی طرف بڑھتیں، اماں اپنی پاٹ دار آواز میں دھاڑتیں، ساتھ ہی بونس میں اڑتی ہوئی جوتی بھی آتی۔
    ”اے منحوس ماری! بلینک (بلیک) میں بھروائی ہے پانچ سو کی… اب آنے بہانے اڑا نہ دئیو…” خیر جیسے تیسے بچے پراٹھے کھا کر سکول جانے لگے۔ گیس بجلی کا نہ ہونا معمولات میں شامل ہو گیا اور ہم دنیا کی واحد قوم ہیں جو اپنے مسائل حل کرنے کے بہ جائے پہلے معمولات بناتے ہیں پھر اُن سے لطف اندوز ہونے میں ہمارا کوئی ثانی نہیں۔ پٹرول، سی این جی کم ہونے کا رونا پڑا، کچھ دن جلسے جلوس نکالے لیکن پھر عقل پر ماتم کیا۔ لوبھلا یہ تو حکومت نے بلامعاوضہ تفریحی سیشن کا بندوبست کیا ہے۔ غالباً جو مزہ لائنیں دیکھنے کا ہے وہ کہیں بھی نہیں، خاص کر اگر اس میں بارات کھڑی ہو۔
    ارے واہ! کہاوت تو اب صحیح مانوں میں پوری ہوئی تھی۔ پہلے لوگ جوتیاں گھسا کر دلہن لاتے تھے اب ٹائر رگڑوا کر اور بسا اوقات یہی ٹائر کچھ آگے پیچھے کرنے کے چکر میں بندے کچکچاتے دروازے کھول باہر نکل آتے، یقین مانو کیا مجنوں چاک گریباں لیلیٰ کے شہر پہنچا تھا جو دلہا حاضرِ خدمت دلہن ہوتا۔ باراتیوں کے ہیئراسٹائل الگ بدل جاتے۔ جب ایسی صورتِ حال پانی کے فلٹراسٹیشن پر ہونے لگی۔ خالی کینوں والے بھرے کین والے پر ٹوٹ پڑتے اور بھرے کین والا طیش میں آکر اپنا بھاری بھرکم کین سامنے والے کو مارتا۔ پانی سے توخیر ہاتھ دھوتا سو دھوتا سامنے والا دانتوں سے بھی دھل جاتا۔ باقی حاضرین کو ہنسی کے دورے پڑتے۔ پیٹ کے اکثر امراض تو ایسے مجمع کو دیکھ کر ہی ٹھیک ہو جاتے۔ ابا کا بھی جب پیٹ خراب ہوتا یا بجلی کے انتظار میں فارغ بیٹھے بیٹھے تنگ پڑ جاتے تو اپنی پیکو فیشن ڈھک سائیکل اٹھا کر کبھی سی این جی اسٹیشن تو کبھی پانی کے سرکاری فلٹر کا رخ کرتے ۔ مفت کا اسٹیج شو خاصا دل بہلا دیتا، بغیر دوا کے بندہ ٹھیک۔ بھئی اتنی شان دار پرفارمنس اور سلطان راہی، مصطفی قریشی اور شان کی نہ رہی تھی جتنا ٹیلنٹ اس ”نیوجنریشن” میں تھا۔




  • سال ۲۰۴۰ کی سیر —- فریحہ واحد

    ہوا میں تازگی قدرے کم تھی، اب تک لوگ شاید اِس سوکھی ہوا کے عادی ہوچکے تھے ۔سورج نے بھی اپنی فوج میں چند ہزار مزید شعاعیں بھر تی کی تھیں جو کہ خاصی ماہر معلوم ہو تی تھیں۔۔۔ مگر انسانوں سے بھلا اس کا کیسا مقابلہ؟ اور وہ بھی امیر انسانوں سے ۔۔۔ جب کہ سال دو ہزار چالیس میں ان کھر چ کر رکھ دینے والی شعا عوں کو اپنا شکار اب بھی میسر تھا۔ پاس کھڑی آسمان کو چھوتی ان گنت عمارتوں سے مقابلہ نہ کر پانے والے تعداد میں بہت ہی کم سائے دار درخت ، ننھے ننھے پیارے پیارے پھول پتے ، زبان سے محتاج بے زبان جانور اور۔۔ اور غریب۔
    آج عیلی کے دسویں گریڈ کا آخری امتحان تھا ۔ تیاری میں مگن عیلی نے دو راتیں بِنا سوئے ایک پراجیکٹ بنا یا تھا۔ مگر وہ اب بھی پوری طرح مطمئن نہ تھی اور آرکیٹیکچرل ڈسپلے گلاس نامی ٹیکنالوجی کا بہ خوبی استعمال کرتے ہوئے شیشے کی بنی دیواروں پر تیزی سے انگلیاں گُھماتے ہوئے آج کے امتحان کے لئے تیار کی گئی اپنی پریزنٹیشن کا اعادہ کر نے کے ساتھ ہی اپنی پرو فائل پر ایک نظر گھمانے لگی تھی گو یا کوئی ٹچ اسکرین مو بائل ہو۔ اعادہ اور ملا حظہ کر لینے کے بعد اسے کچھ بھوک سی محسوس ہونے لگی تھی۔ اس نے زمین میں لگی ایک ٹائل پر اپنے انگوٹھے کو ایک مخصو ص طریقے سے پھیرا اور وہ ٹائل بنا کسی ہدایت کے اس کے مطابق چلنے لگی تھی اور اسے باورچی خانے لے آئی جہاں اس نے پاس کھڑے نو کر احمد کو انڈا بنا نے کا حکم دیا اور وہیں پر کھڑے ہوکر کچن کی دیوار پر تیزی سے انگلی پھیر کر اپنی پروفائل اور اپنے دوستوں کے کارنامے ملاحظہ کرنے لگی تھی۔





    احمد نے ماربل کے سلیب پر ایک مخصوص جگہ پر انگلی سے دائرہ بنایا اور اس پر انڈا توڑ کر ڈال دیا۔ اس دائرے سے نکلتی دکھائی نہ دینے والی تپش سے وہ انڈا چند سیکنڈ میں تیار ہو گیا اور وہ تپش اپنے آپ بند ہو گئی۔ اس نے وہ انڈا ایک پلیٹ میں ڈال کر سر ونگ ٹرالی پر رکھا اور اس پر بنے ایک بٹن کو دبا دیا جہاں لکھا تھا "عیلی کا کمرہ” اور وہ ٹرالی عیلی کے کمرے کی طرف روانہ ہو گئی اور اس کے پیچھے عیلی بھی اپنی ٹائل سمیت اپنے کمرے میں جا پہنچی۔ اس نے چُھری کانٹے سے آدھا انڈا مکمل کیا ہی تھا کہ اتنے میں کمرے میں لگا الارم انگریزی میں کچھ ہدایت دینے لگا۔
    ”عیلی یو ہیو جسٹ ٹین منٹس لیفٹ، ٹو ارائیو دا اسکول” (عیلی تمہارے پاس صرف بیس منٹ بچے ہیں اسکول پہنچنے کے لیے) عیلی کو یہ سنتے ہی اپنے چہرے کی فکر ہونے لگی اور اس نے بناوقت منٹ ضائع کئے گلا س کی بنی دیوار پر ایک بار پھر انگلی گھمائی اور مرر موڈ ایکٹیویٹ کر دیا اور وہ دیوار اب آر پار دکھانے کی بہ جا ئے صرف اس کا چہرہ دکھا رہی تھی۔ ہر بار اپنے دودھیائی چہرے، لمبے گھنے سیدھے اور سنہری بالوں کو دیکھ کر اس کا خون دو کلو اور بڑھ جاتا۔ وہ خود کو سنو وائٹ یا سلیپنگ بیوٹی نہ سمجھتی بلکہ اسے تو خود میں مشہور ہالی ووڈ گلو کارہ ٹیلر فسیٹا کا عکس دکھائی دیتا تھا جو کہ اپنے زمانے کی شہرت یافتہ گلو کارہ ٹیلر سوئفٹ سے خا صی متا ثر تھی۔ مگر یہ خیال بھی اسے زیادہ دیر خو ش نہ رکھ سکا کیوں کہ اس کے دماغ میں فوراً ہی گھر کے نوکر، احمد کی بیٹی رِمی کی شکل آئی تھی جس کی چہرے سے زیادہ اس کی آنکھیں حسین تھیں اور وہ بھی بنا کسی خرچے یا علاج کے۔۔۔ مگر سب سے بڑی اور دل دہلا دینے والی بات تو تب سامنے آئی جب اس نے دو ہزار سترہ کی ایک اور پر کشش اور کڑوڑوں فالوؤرز رکھنے والی ہالی وڈ اداکارہ کو دیکھا جس کے نین نقش اسے ہو بہ ہو رِمی سے ملتے جلتے معلوم ہوئے۔ تب سے اب تک رِمی ، عیلی کی آنکھوں کی پتلیوں اور دل کی کنجیوں میں جگہ تو دور اس کے سوشل ورک کے دائرے میں بھی جگہ نہ بنا سکی، جہاں وہ ضرورت مندوں پر اپنے ابا حضور کا پیسہ لٹانے کے باعث ڈھیروں شہرت کے ہار کما چکی تھی۔ روزِحشر کا تو معلوم نہیں۔۔۔ ہاں مگر سو شل میڈیا ضرور اسے جنتی قرار دے چکی تھی۔ مگر عیلی نے وقت کا لحاظ کرتے ہوئے فوراً ہی سب خیالا ت جھٹکے اور اپنی آنکھوں کے گرد سیاہ ہلکوں پر ایک ڈنڈی نما چیز پھیری اور وہ گہری سیاہی جیسے کہیں غائب ہو گئی۔





    حسینہ گھر کے اندر کھڑی چیئر لفٹ کے ڈبے نما گاڑی کی طرف چل دی مگر اِن نئی گاڑیوں سے عیلی سے زیادہ اسی کی امی بڑی خو ش تھیں کیوں کہ سال دو ہزار پچیس کی گا ڑیوں کو چلانے کے لئے وہ انگوٹھے کے استعمال پر مجبور تھیں اس کی بھی وجہ در حقیقت یہ تھی کہ ایک بار انہوں نے گاڑی کی سیٹنگ کچھ یوں کر رکھی تھی۔ کہ جب تک وہ شیشہ ان کے ہنستے ہوئے چہرے کا دیدار نہ کر لیتا وہ نہ کھلتا مگر ایک بار وہ کچھ اِس طرح تیار ہوئی کہ سائنس دانوں کی سب سے اعلیٰ تخلیق اس گاڑی کے اندر موجود مائیکرو روبورٹس نے بھی انہیں پہچاننے سے انکار کر دیا اور اس حادثے کے نتیجے میں وہ انگو ٹھے کو ہی غنیمت جانتیں، مگر اب ان کی یہ مشکل بھی دو ہزار چالیس نے حل کر دی تھی۔
    عیلی اپنی گاڑی کے پاس جا کھڑی ہوئی ۔ اس گا ڑی نے جیسے عیلی کے آتے ہی اس کی خوشبو سونگھ لی یا شاید اسے دیکھا یا محسوس کیا تھا کہ اس کے آتے ہی اس نے اپنے سلائیڈنگ ڈو ر کھول دیے تھے۔ سلائیڈنگ ڈور کُھلتے ہی وہ گاڑی کے اندر جا بیٹھی۔ سلائیڈنگ ڈور بند ہوا اور اسکرین پر پانچ جملے نمودار ہوئے:
    1۔ ڈرائیو ٹو اسکول (اسکول چلو)
    2۔ ڈرائیو ٹو ہوم (گھر لے چلو)
    3۔ ڈرائیو ٹو ہائیپر اسٹار (ہائیپر اسٹار لے چلو)
    4۔ ڈرائیو ٹو ہیمیز ہاؤس (ہیمی کے گھر چلو)
    5۔ آئی ول ڈرائیو ، وانٹ ٹو گو سم ویئر ایلس (میں خود چلاؤں گی، کہیں اور جانا ہے)
    اس نے پہلے آپشن پر انگلی سے پریس کیا اور وہ بلٹ پروف گاڑی چل پڑی ۔ گاڑی کے چلتے ہی اسے پھر سے بھوک محسوس ہو نے لگی تھی۔ اس نے گاڑی کے ڈیسک بورڈ کی جگہ سکرین پر کچھ انگلیاں پھیریں اور نہ جانے ایسا کیا جادو کیا کہ اس گاڑی کی چھت سے ایک چھوٹے سے ہوائی جہاز کی طرح کا ٹکڑا نکل کر اُڑنے لگا تھا اور شاید اس کے کھانے کا انتظام بھی اب اس ننھے ہوائی جہاز کے ذمہ تھا۔ اپنے پسندیدہ کھانے کی طرف سے اب وہ بالکل بے فکر تھی کہ اب وہ جانتی تھی کہ اس کے حکم کے مطابق اس کا کھانا اسکول میں پہنچا دیا جائے گا۔ اسکول پہنچتے ہی گاڑی کا دروازہ کُھل گیا اور اس نے اُترتے ہی گا ڑی کے نیچے لگے ایک بٹن کو دبادیا۔ اس بٹن کے دباتے ہی گاڑی کا ایک پہیہ باہر آیا اور اس میں سے ایک اور پہیہ نکل آیا جس کے دونوں طرف ایک ایک پلیٹ لگی تھی۔ عیلی نے دونوں پلیٹس پر اپنا ایک ایک پاؤں رکھا اور وہ پہیہ عیلی کے مطا بق چلنے لگا اور اسکول کے دروازے کے عین قریب لا کھڑا ہوا۔ اسکول کے باہر لگے گلاس کے دروازوں نے خاموشی سے چند سیکنڈ کے اندر عیلی کی چیکنگ کی اور عیلی کے اندر جانے تک اپنی بانہیں کھولے کھڑا رہا اور اس کے اندر جاتے ہی دوبارہ بند ہوگیا۔ اِس ائیر کنڈیشنڈ اسکول میں پڑھنے والے بچوں نے کبھی سورج کی شعاعوں کا سامنا نہ کیا تھا مگر۔۔۔ مگر ان بچوں نے بھی کیا قسمت پائی تھی کہ اِن تپتی لکیروں سے بھی زیادہ بے چین کردینے والی چیزیں ان سے منہ چڑھ کر باتیں کرتی تھیں جس میں سرِفہرست تعلیمی میدان میں بر پا وہ مقابلہ تھا جس میں ہر طالبِ علم ایک جنگ جو کے مانند تھا۔ اب وہ بے چارے کرتے بھی تو کیا کرتے؟ دن بھر ایسے کام کی تلا ش میں رہتے کہ جس سے سو شل میڈیا کی رونقیں بڑھائی جا سکیں اور پھر ایسی ایسی تصویریں اورمواد جمع کرتے جو ان کے ہر جاننے والوں کو ہلا کر رکھ دیتا۔ آج بھی اِس جدید دور میں رشتے داروں اور جاننے والوں سے چاہے سال ہا سال ملا جا تا یا نہیں لیکن ایک تعلق تو ان کے درمیان تقریباً ایک صدی سے چلا آرہا تھا۔ وہ تعلق تھا جلانے اور جلنے کا تعلق۔۔۔ اور اِس تعلق میں اتنی طاقت اور گہرا ئی تھی کہ اپنے ہر عمل سے پہلے، ان کو اور ان کی پسندو نا پسند کا خاصا خیال رکھا جاتا، اور اب یہی ان کی تسکینِ روح کا ذریعہ تھا۔ اب اِس مصروف ترین دن میں اپنی اعلیٰ صلاحیتوں کا بہترین مظاہرہ کر لینے کے بعد وہ سب ہی سپہ سالار نو جوان اپنے بزرگوں کی روایت کو اِس جدید دور میں بھی فروغ دیتے ہوئے رات رات بھر جاگ کر گریڈز کی جنگ میں اپنے جھنڈے گاڑنے کو جُٹ جاتے اور ہر ممکنہ کوشش کرتے ہوئے کتے بلّیوں سی زندگی گزار رہے تھے۔۔۔ نہ کھا نے کی کچھ خبر تھی نہ سونے کی۔۔ مگر اِن سب میں اس ظالم اسکول مینجمنٹ کا بھی بڑا ہاتھ تھا۔ دراصل ترقی یافتہ تعلیمی اداروں کی نئی پالیسی کے تحت اب طالب علموں کے امتحانی نتائج اور ان کے بنائے گئے پراجیکٹس ان کی پروفائلز پر بھی متعارف کروائے جاتے اور ہزاروں نظریں اپنے نشتر لئے اِس گھڑی کی منتظر رہتیں۔۔۔ کب کس کو یہ نشتر نشتر کھانا پڑے۔ مگر یہ وہی زندگی تھی، جو ان کے نزدیک ان کی شان کو برقرار رکھنے میں مدد دیتی۔ مگر اِس دور کے لو گوں کی ہر ایک حرکت اِس بات کی چیخ چیخ کر گواہی دے رہی تھی کہ اب بھی ایک ایجاد باقی ہے۔۔۔ ہاں باقی ہے جو سائنس دانوں کے لئے اب بھی ایک للکار تھی اور شا ید وہ اِس میں کبھی کام یاب ہو بھی نہ سکے۔۔۔ اور وہ ایجاد تھی ایک ایسے آلے کی جو اس جدید دور کے لوگو ں کے رویے اور ذہنیت کو بد ل سکے جو اب بھی ہو بہ ہو ایک تیس سال پرانے معمولی انسان سی ہی تھی۔۔۔۔ خیر اِس من پسند زندگی کے لئے اس گھر کا ہر چھوٹا بڑا، دل ہی دل میں عیلی کے مرحوم دادا کو ہی داد دیتا پھرتا تھا۔ جنہوں نے اپنی پوری زندگی اپنے بال بچوں کے لئے کمانے میں گزار دی اور ماشااللہ اتنا کمایا کہ آج بھی سیف اللہ شریف کے لئے پیسہ ہاتھ کے میل سے زیادہ نہ تھا ۔یہی وجہ تھی کہ عیلی جیسی عام شکل وصورت کی لڑکی بھی اب کسی مومی گڑیا سے کم نہ لگتی تھی ۔۔۔ اور بھلا کس چیز کو ان نوٹوں نے نہ بدلا تھا؟ عیلی کی سانولی رنگت اور سوکھے گھنگھریالے بالوں سے لے کر چہرے پر بار بار اُگ آنے والی مونچھوں تک سب ہی مسائل تو اس کے دنیا میں آنے سے پہلے ہی حل کر دیے گئے تھے۔۔۔ ایسے دادا دعائوں اور داد کے مستحق نہ ہوتے تواور کیا ہوتے؟۔۔۔ دراصل معاملہ بھی کچھ یوں تھا کہ سیف اللہ شریف کے مرحوم والد اور عیلی کے محنتی دادا اپنے زمانے کے ایک نام ور سیاست دان رہ چکے تھے۔۔۔ پھر پیسا تو قدرتی چیز تھا۔




  • بیلا کا ساون — عطیہ خالد

    چھم چھم بادل برس رہا ہے۔ ٹین کی چھتوں پر ساز بُنتا، کہیں درختوں سے چھیڑ چھاڑ کرتا، پھولوں کے رنگ نکھارتا، دورکہیں پربتوں پر چنگھاڑتا، آج تو چھاجوں چھاج مینہ برس رہا ہے۔مینہ جو دھرتی میں زندگی کے دیئے جلاتا ہے۔ کلیوں اور پھولوں پھلوں میں رس بھرتا ہے۔ یکساں برستا یہ پانی سب پر ایک طرح برستا کیوں نہیں؟ راجنوتے میں گرمی خوب پڑتی ہے اورپھر ساون بھی خوب برستا ہے۔ کالی کالی گھٹاؤں کے سنگ جھوم جھوم کے… بیلا کو اور اس کے راجنوتے کے موروں کو تو ساون بہت پسندہے۔ وہ پنکھ پھیلائے ناچتے ہیں چھتوں پر، اور آنگن میں بیلا اپنی سکھیوں کے سنگ لہراتی ہے۔اس کے کھیتوں اور آموں کے باغ کی خوشی کا تو کیا ہی کہنے… آم میٹھے ہو جاتے ہیں اور رسیلے…ایسے میں برکھا کے گیت آپ بیلا کے من سے پھوٹ پڑتے ہیں۔
    اس کی سب سکّھیاں دھانی چنریاں اوڑھے بارش میںنہاتی ہیں۔ موراں، نیلم، دیپا اور ارملا سب ہی اس کے آنگن میں اکٹھی ہو جاتی ہیں۔ اس کا بابا ان کے لئے دو دو جھولے ڈال دیتا ہے… وہ جھولے جھولتی ہیں اور بھوری اماں میٹھے گلگلے اور پوڑے تل تل کر ان کو دیتی جاتی ہے۔بابا آم بالٹی میں بھر کر ان کے پاس رکھ دیتا ہے…بارش ان کو ٹھنڈا کر دیتی ہے تو وہ سب مل کر آم چوستی اور گاتی ہیں۔
    بجلی چمکے
    بدرا گرجے
    رِم جھم پڑے پھوار
    کہ ساون آئیو رے
    کہ ساون آئیو رے…





    اب کے برس اس ساون کے بعد بیلا کا بیاہ ہو جائے گا۔ٹھاکر کی حویلی میں چلی جائے گی وہ وداع ہو کر… سُنا ہے بہت بڑی حویلی ہے، بھانیانا گاؤں کے بڑے زمین دار ہیں وہ لوگ۔ بابا کے زمین دارے سے بھی بڑا زمین دارا ہے ان کا۔ وہاں بھی امبر برستا ہو گا۔سرمئی،اودی اور کالی گھٹاؤں کا روپ دھارے، چنگھاڑتا ہوا، چھاجوںچھاج۔مائی نے بڑی بڑی پائلیں گھڑوائیں ہیں ڈھیر سارے گھنگرؤں والی۔وہ پہنا کروں گی برکھا والے دن اور بسنتی اور دھانی چوڑیاں۔ سکھیاں نہیں ہوں گی تو کیا ہوا، ٹھاکر جو ہوگا میرے سنگ۔۔۔ دھیرے سے مُسکائی پھر آنکھیں موند کر ہنس پڑی بیلا۔ٹھاکر کا نام ہی مانو گدگدی کرتا ہو اسے۔برکھا اور ٹھا کر کے خیال نے گلال مل دیا تھا اس کے گالوں پر۔جانے کب تک وہ ٹھاکر کے خیالوں میں بھیگی ہی رہتی مگر موروں کی می آؤں… می آؤں نے اسے جگا دیا۔لہراتی ہوئی باہر آئی تو دیکھا کہ موٹی موٹی بوندیں پڑنے لگی تھیں۔اس نے باہر نکل کر ارملا کو آواز دی ۔کچھ ہی دیر بعد میں سب سکھیاں جمع ہو گئیں اور لگیں اسے چھیڑنے۔
    ”سنا ہے بڑا گھبُرو جوان ہے ٹھاکر!” نیلم اسے کہنی مارتے ہوئے بولی۔
    ”تو؟” اٹھلا کر ابرو کے اشارے سے بیلا نے پوچھا،جیسے کہتی ہو میں کیا کسی سے کم ہوں اور اپنی چُنر کو اٹِھلا کر پیچھے پھینکا۔
    ”سنتے ہیں ہمارے راجنوتے میں کوئی بھی تو نہیں ٹھاکر جیسا!” نیلم نے بیلاکو گدگدایا۔
    ”بابا بھی بتا رہا تھا مائی کو اور بھوری اماں کو۔” بیلا جیسے اٹھلائی۔
    ”صرف وہی لگا اس کومیرے جوڑ کا تبھی تو اتّی دور بھیج رہاہے مجھے۔” بیلا بھی کب ہار ماننے والی تھی؟
    اگلے ساون میں تو تو ٹھا کر کے ساتھ رہے گی ناں!” موراں کھلکھلاکر بولی۔
    کون جانے اس کے سسرال میں برکھا میں گلگلے پکتے ہیں کہ نہیں، سکھیاں گیت گاتی ہیں یا بارش میں نہاتی بھی ہیں یا نہیں…بیلا من ہی من میں سوچ رہی تھی۔
    وہ تو ضرو ربنائے گی پوڑے اور گلگلے۔سوجی کا میووں والا حلوہ تو وہ ضرور سیکھ کر جائے گی بھوری امّاں سے اور جب ٹھاکر کے شہری دوست آئیں گے تب بنایا کرے گی۔بابا نے جب سے بتایا تھا کہ کہ ٹھاکر کا شہر آنا جانا ہے۔اس کے شہری دوست بھی حویلی آتے ہیں تب سے بیلا کی سوچ گھوم گھما کر اس طرف بھی جا نکلتی کہ کیسے وہ اپنے سلیقے کا رعب ڈالے گی۔





    سمے بھی کبھی رُکتا ہے؟ دیکھتے ہی دیکھتے بیاہ کا دن آگیا اور بیلا ٹھاکر کے ساتھ وداع ہو گئی۔ کندن کے کام سے سجا ہرا گھاگھرا،لال کرتی اور لال چنر میں ڈھیروں زیورات سے سجی،ٹھاکر کا ہاتھ پکڑے پکڑے دھیرے دھیرے وہ حویلی کی ڈیوڑھی میں داخل ہوئی۔شہنائی والوں نے سواگت (استقبال) کی دھن چھیڑ دی۔ اس کی ساس نے آگے بڑھ کر اس کا ماتھا چوما اور کتنے ہی تھال اس کے ہاتھ سے چھوا کر آگے دان کے لئے بھیجے، تب وہ دونوں آگئے بڑھے جہاں ٹھاکر کی چاچیاں، مامیاں، موسیاں، بہنیں سبھی ملن کے گیت گا رہی تھیں۔
    رات دیر تک ہنسی ٹھٹھول ہو تا رہا، بیاہ کی رسمیں ہوتی رہیں پھر ٹھا کر کی بہنیں اور بھوجائی اس کو کمرے میں بٹھا گئیں۔
    ”چاند سورج کی جوڑی ہے دونوں کی، اب سویرے ملیں گے۔ بھیجتی ہوں دیور جی کو۔” بھوجائی جاتے ہوئے بولیں۔
    ساری تھکان پر ایک لجا بھرآنند (خوشی) چھا گیا تھا۔ آہٹ پر وہ کچھ اور جُھک کر سمٹ گئی۔ چھپر کھٹ پر بیٹھتے ہوئے ٹھاکر بولا:
    ”سنا ہے راجنوتے کے موروں سے بھی سندر ہے ہماری دلہن، ذرا دیکھیں تو۔ دوسروں کے کہے سنے پر ذرا کم ہی وشواس (بھروسہ) کرتے ہیں ہم۔” ٹھاکر نے اس کا گھونگٹ اٹھایا اور بولا:
    ”غلط! با لکل غلط” وہ رُکا تو جیسے بیلا نے سانس روک کر نظر اٹھائی ایک دم… اور ٹھاکر کے چہرے پر پھیلی مسکان دیکھ کر ایک دم جھینپ گئی۔
    ”ہماری دلہن تو سورگ(جنت) کی اپسراؤں جیسی ہے۔اس سے تو چندرما بھی شرمائے گا۔”
    مہندی رچے ہاتھوں کی باس محسوس کرتے ہوئے اس نے اس کے ہاتھوں میں جڑاؤ کنگن پہنائے اور بھید بھری بھاری آواز میں بولا:
    ”تم میری کسم ہو،رادھا ہو،شکنتلا ہو۔تمہاری ہر خوشی،ہر کامنا (خواہش)پوری کرنے کا وچن دیتا ہوں تم کو منہ دکھائی میں…پورے کا پورا گگن راج ٹھاکر تمہارا ہو ا…”
    وہ ایسا پھیلا ہوا آکاش تھا جس نے بیلا کو پورے کا پورا ڈھانپ لیا تھا۔ وہ اس کی چھایا میں کھل اٹھی، مہک اٹھی تھی۔ ٹھاکر کا پریم اس کے لئے ہر روز نئے نئے روپ دھارتا۔ وہ پریم دیوانی چہکتی پھرتی۔ ٹھاکر کی بڑی بہنوں کے بیاہ کے بعد سونی پڑی حویلی میں جیسے جان پڑ گئی تھی۔ ہر گذرتے دن بیلا ضرور سوچتی کہ ساون آنے میں کتنے دن رہ گئے ہیں؟
    اس نے اپنی زیور کی الماری میں نچلے خانے میں بسنتی اور دھانی چوڑیاں،چاندی کی چوڑی پائل،گھنگرؤں والی ماتھا پٹی اور گھنگرؤں والا گانی سیٹ بھی رکھ لیا تھا جو ٹھاکر شہر سے لایا تھا۔
    ہر روز زیور بدلتے و قت وہ ان چیزوں کو دیکھ کر مُسکاتی۔ دومہینے گذرے تو ساس نے میٹھے میں ہاتھ لگوا کر سبھی چابیاں اور ذمہ داری اس کو سونپ دی۔اس نے اپنی سوجھ بوجھ سے سب کام سمجھ لیاتھا۔ سبھی رشتہ دار اور گاؤں والے اس کی ساس کو بدھائیاں دیتے کہ اس کو ایسی سوجھوان بہو ملی۔یوں تو بیلا کو ساری ہی حویلی بہت بھائی تھی۔سامنے کے سارے حصے میں میں سفید پتھر لگا ہوا تھا مگر پچھلی طرف کے ستونوں والے بر آمدے اور آنگن میں لال لا ل اینٹوں کا صحن تھا۔تو ت،بکائن اور امرود کے درخت تھے۔یہ حصہ تو اس کے سپنوں جیسا تھا۔اس نے بکائن پر دو جھولے ڈلوالئے تھے۔





    ساس اس کو گھر کے کاموں میں جٹا دیکھ کر بہت خوش ہوتی اور کہتی:
    ”دودھوں نہاؤ،پوتوں پھلو…”ٹھا کر کے سامنے پر شنسا(تعریف) کرتی کہ بہو بہت گن وان ہے۔ ٹھا کر دھیرے سے اس کی طرف جھک کر کہتا:
    ”ان گنت گن تو میں جانتا ہوں…!” وہ آنکھوں میں جھوٹا غصہ لاتی،مند مند مسکاتی۔
    برکھا رت آن کھڑی تھی۔آس پاس کے گاؤں میں تو بارش پڑنے لگی تھی۔چپکے چپکے بیلا نے سبھی تیاریاں کر لی تھیں۔ مہاور منگوا لیا تھا۔ دھانی گھاگھرا اور بسنتی چولی اور چنر کو ٹرنک میں سب سے اوپر رکھ لیا تھا۔جنداں کو گلگلے اور میوؤں والا حلوہ بنانا تو کبھی کا سکھا چکی تھی۔
    سوموار کی صبح ٹھا کر گھر سے نکلا،اور ادھر بیلا کے من میور(مور) نے می آؤں،می آؤں کی تان لگائی مانو بر کھا کی باس پا لی ہو۔جنداں کو سبزی کاٹنے پر لگایا اور شیام کی ماں کو اصلی گھی میں سوجی بھوننے کا کہہ کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔گنگناتے ہوئے جلدی جلدی دھانی گھاگھرا،بسنتی چولی اور چنر پہنی۔ ہاتھ بھر بھر کے بسنتی چوڑیاں، پائل، گانی، جھمکے اور گھنگرؤں والی ماتھا پٹی۔گالوں اور ہونٹوں پر لالی لگاکر آئینے میں اپنی نرالی چھب دیکھتی ہوئی نکل آئی۔
    کالے کالے بادل گھر آئے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے موٹی موٹی بوندیں پڑنے لگیں تھیں۔بار بار اناج کی کوٹھری سے رسوئی میں جاتی بات بے بات کھلکھلا کر ہنستی… کہیں دال چکھتی،کہیں گلگلے تلواتی وہ گھوم رہی ہے۔
    اس کی مدھر ہنسی سے ساری حویلی کھلکھلا رہی ہے۔ برکھا کی بوندوں کے ساتھ اس کی پائل،چنر اور گھاگھرے کے گھنگرؤں کا سرگم مدھر تال بن رہا ہے۔
    ٹھا کر جب دیکھے کا تو کیسا خوش ہو گا۔ارد کی مکھنی دال،سیم اور آلو کی بھاجی،بوندی رائتہ اور ساتھ میں سوجی کے حلوے کی سوندھی سوندھی مہک سارے گھر میں چکرا رہی ہے۔
    ”اری اور بہو رانی!” اس کی ساس نے بڑے پریم سے پکارا۔
    ”جنداں کو بول جلدی ہاتھ چلا… دیکھ تو کیسا پانی برس رہا ہے۔ سب کھالوں میں بھر جائے گا یہ پانی۔ایسے ہی کھالے میں پھسل گیا تھا ٹھاکر کا پاؤں…ایسا گرا کہ کولہے کا جوڑ ہل گیا۔ بہتیرا دوا دارو کیا، مگر لنگ رہ ہی گیا ناں،میں تو اس کی آواز سن کے دکھی ہو جاؤں ہوں۔ ”ا س کی ساس کی آواز بھیگی ہوئی تھی۔ اتنے میں ٹھاکر اندر آیا۔ لنگ والا پاؤں پہلے اندر رکھا۔ ایسا گھبرو جوان ہے، یہ لنگ تو کالا ٹیکہ ہے اس کا۔ بیلا نے سوچا ٹھاکر آج جلدی آگیا۔ برسات منانے آیا ہوگا۔ اس کا جیا دھڑ دھڑ کرنے لگا۔ جلدی سے ستو کا گلاس اور پوڑوں او ر گلگلوں کا تھال لے کر آئی تو وہ مائی سے کہہ رہا تھا:
    ”دیکھ مائی! آج میں جلدی آگیا کہ تو چنتا کرے گی۔” بیلا کے مہاور سے منڈے ہاتھوں سے گلاس پکڑ کر مسکرایا اور ہاتھ بڑھا کر پچھلی کھڑکی بند کر دی کہ کہیں اس کی پیاری پر پیچھے سے آتی بو چھاڑ کی کوئی چھینٹ نہ پڑ جائے۔
    بیلا کے شرنگھار(سجاوٹ) کو غور سے دیکھا پھر اس کا ہاتھ پکڑ قریب ہی بٹھا لیا۔
    ”میگھا (بادل) کو تو نجانے کیسا غصّہ ہے جو ایسے برس رہا ہے…مانو سبھی کو بہا کر لے جائے گا…ہر طرف پانی ہی پانی ہے” ۔
    اور سر جھٹک کر باہر کی طرف دیکھتے ہوئے بولا:
    ”بس اب یہیں اندر بیٹھی رہو ہمارے پاس۔کہیں بھیگ کر تاپ نہ چڑھ جائے۔جنداں پروس دے گی رسوئی۔جانے کب دھوپ نکلے گی اور پانی سوکھے گا۔”

    ٭…٭…٭




  • اللہ کی مرضی — احسان راجہ

    یہ شاید 1988ء کے آس پاس کی بات ہے، یاد نہیں کیوں میں ان دنوں گائوں گیا ہوا تھا۔ باہر زمینوں میں ہریالی تھی، یعنی برسات کے بعد کے دن تھے۔ بارانی علاقوں میں سبزہ ساون کے بعد ہی نظر آتا ہے۔ عصر کے بعد کا وقت تھا اور بیٹھک میں، میں اکیلا ہی تھا۔ اس وقت ہمارا گھر گائوں کے شروع میں ہی تھا۔
    ”السلام و علیکم۔” دروازے پر اچانک نمودار ہونے والے پردیسی نوجوان نے سلام کیا۔
    میں نے اسے اندر آنے کو کہا مگر اس نے ”جلدی” کی معذرت کرلی اور گائوں کے چوکی دار کا پتا پوچھا۔ مجھے علم تھا کہ وہ آج تحصیل آفس گیا ہوا ہے۔ نووارد کو جب میں نے یہ بتایا تو وہ اندر آگیا اور بولا: ”میں نے دراصل سپاہی شیر محمد ولد بہادر خان کے گھر جانا ہے۔”
    میرا ماتھا ٹھنکا۔ گائوں کے بیش تر نوجوان فوج میں ملازم تھے۔ یہ آنے والا جوان بھی بہ ظاہر ڈیل ڈول، خاص کر اپنے بالوں کے سٹائل سے فوجی ہی لگ رہا تھا۔
    ”خیریت تو ہے؟ اس کے بیٹھتے ہی میں نے پوچھ لیا۔





    ”وہ جی دراصل شیر محمد سیاچن میں ایک چھوٹی سی لڑائی میں شہید ہوگیا۔ میرا نام شادی خان ہے۔ میں سٹیشن ہیڈکوارٹر سے یہی اطلاع دینے آیا ہوں۔” اس نے اپنے یہاں آنے کی وجہ تفصیلاً بیان کردی۔
    یہ وہ دور تھا جب موبائل تو کیا لینڈ لائنبھی اتنے عام نہیں ہوئے تھے اور ٹیلی گرام کی بروقت ترسیل دور دراز دیہاتوں کے لیے ایک مشکل بلکہ ناممکن عمل تھا۔ شیر محمد کا گھر زیادہ دور نہیں تھا۔ میں بجھے دل کے ساتھ اسے لے کر اُدھر چل پڑا۔
    شیر محمد گائوں کا ہردل عزیز نوجوان تھا۔ خوب صورت، لمبا تڑنگا، شوخ طبیعت، مگر حد درجہ ہم درد اور ملنسار۔ مڈل پاس کرنے کے کچھ ہی عرصہ بعد علاقائی روایت کے مطابق فوج میں چلا گیا تھا۔ اس دوران وہ گائوں کی طرف سے کبڈی بھی کھیلتا رہا تھا اور ارد گرد کے قصبوں میں شیرو کے نام سے کافی مشہور بھی ہوگیا تھا۔ میں نے جب کبڈی کا ذکر کیا تو شادی خان چونکا۔
    ”پھر تو میں نے اسے کبڈی کھیلتے دیکھا ہوا ہے۔ میں خود اسی علاقے کے فلاں گائوں کا رہنے والا ہوں۔ آرمی والوں نے اسی تعلق کی وجہ سے یہ ڈیوٹی میرے ذمہ لگائی ہے۔” شیر محمد کی شادی دو سال قبل اپنی پھوپھی کی بیٹی نسیم سے ہوئی تھی اور اس کا شیر خوار بیٹا بھی تھا۔
    ہم شیر محمد کے گھر پہنچ چکے تھے۔ وہی دیہاتی طرز کا گھر، پیچھے ایک لائن میں تین چار کمرے، سب کمروں کے سامنے ایک لمبا سا برآمدہ اور آگے بڑا کھلا صحن، چار دیواری زیادہ اونچی نہ ہونے کی وجہ سے گھر کا پورا منظر ہمارے سامنے تھا۔ کمرے مشرق کی طرف ہونے کی بنا پر سایہ برآمدہ سے باہر بھی کافی پھیل چکا تھا۔ شیرو کی بھابھی تندوری میں لکڑیاں جلا رہی تھی، اس کی ماں تخت پوش پر بیٹھی شاید نماز یا تسبیح پڑھ رہی تھی۔ اس کا بھائی اور والد مویشیوں کو باندھتے پھر رہے تھے۔ لگ رہا تھا کہ ابھی ابھی انہیں چرا کر لائے ہیں۔ نسیم ایک چارپائی پر سمٹ کر بیٹھی تھی۔ جیسے بیٹے کو دودھ پلا رہی ہو۔ شیرو کی دونوں چھوٹی بہنیں، جوکہ اتنی چھوٹی بھی نہیں تھیں،۔ دوسری چارپائی پر بیٹھی شیرو کی بھتیجی کے ساتھ کھیل رہی تھیں اور قہقہے لگا رہی تھیں۔ ہمیں دیوار کے پاس کھڑا دیکھ کر گھر کا کتا بھونکتا ہوا ہم پر لپکا۔ شاید وہ شادی کو بری خبر سنانے سے منع کررہا تھا۔ ہماری ہمت بھی نہیں بن رہی تھی کہ کون کس طرح اس ہنستے کھیلتے اور پرسکون ماحول میں ایسی اندوہ ناک خبر سنائے۔ کتے کے اچانک بھونکنے پر شیر محمد کا معصوم بیٹا نیند سے جاگ کر زور زور سے رونا شروع ہوگیا تھا۔ ہوسکتا ہے پریوں نے چپکے سے اس کے کانوں میں کوئی منحوس سرگوشی کردی ہو۔ سارا گھر ہماری طرف متوجہ ہوچکا تھا۔ چناں چہ میں نے ہمت کرکے شیرو کے بڑے بھائی احمد کو آواز دے ہی دی۔ اس نے وہیں کھڑے کھڑے جواب دیا۔
    ”بھائی اندر آجائو۔”





    اس دوران ہم ذرا پیچھے ہٹ کر اوٹ میں چلے گئے تھے۔ میرا خیال تھا کہ ایک بوڑھے باپ کو یہ الم ناک خبر نہ سنائی جائے۔ جوان بیٹے کی موت کی خبر چہ جائے کہ وہ ایک عظیم موت تھی، شہادت کی موت۔ مگر پھر بھی ایک بیٹے کی موت تھی۔ لمحہ بھر وقفہ کے بعد ہم نے احمد کے بہ جائے اس کے والد کو دروازے سے نکلتے دیکھا۔
    ”اُف خدایا یہ کیا ہوگیا۔ اب کیا ہوگا۔” ہم ایک دوسرے کو دیکھ ہی رہے تھے کہ وہ ہمارے قریب آگئے۔
    ”کی گل اے پتر اندر کیوں نئیں آئے؟”
    ہم خاموشی سے زمین کو گھور رہے تھے۔ ہماری خاموشی ہمیں مشکوک بنا رہی تھی۔ جہاں دیدہ بزرگ نے تھوڑا سا توقف کیا اور ہمیں غور سے دیکھتا رہا۔ پھر شادی خاں کو کندھوں سے پکڑ کر اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پرُاعتماد آواز میں بولا:
    ”اوئے تو میرے پتر شیرے دی کوئی خبر لے کے تے نئیں آیا؟”
    ان کی اس بات پر ہم دونوں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔
    شادی خان بولا:
    ”ہاں جی چاچا جی تہاڈا شیر محمد شہید ہوگیا اے۔”آخر کار شادی خان نے کانپتے ہوئے ہونٹوں سے بوڑھے باپ کو اس کے جوان بیٹے کی شہادت کی خبر سنا ہی دی۔
    میں نے دیکھا کہ خاموش بند کس طرح ٹوٹتا ہے اور پھر بے کراں پانی کس طرح بہ نکلتا ہے۔ ان کا چہرہ آسمان کی طرف تھا۔ ہاتھ اوپر اُٹھے ہوئے تھے اوروہ زمین پر اکڑوں بیٹھتے جارہے تھے۔ جو الفاظ میں سن پا رہا تھا وہ شاید یہی تھے۔
    ”اچھا میرے پُتر! اچھا میرے اللہ! اللہ دی مرضی۔”
    ابھی تک گلی میں ہم تینوں ہی تھے۔ مگر چچا کی یہ حالت دیکھ کر دو نوجوان پڑوسی بھی آگئے تھے۔
    ”کی ہویا چاچا… کیا ہوا چاچا” پاس آکر وہ دونوں نوجوان بولے۔
    میرے منہ سے صرف اتنا ہی نکل سکا۔
    ‘شیرا شہید ہوگیا ہے۔”





    ہم شیرے کے والد کو سہارا دے کر دروازے کی طرف لانے لگے تو محسوس ہوا کہ وہ باہمت بزرگ اپنے زور پر خود چل رہا ہے۔ پڑوسی لڑکے بھاگ کر اندر احمد کے پاس گئے اور اسے صورتِ حال سے آگاہ کیا۔ مگر کیا شان تھی جبر اور حوصلہ کی بھاگ کر آیا اور اپنے والد سے لپٹ گیا۔
    ”اباجی صبر… ابا جی صبر۔” اور آگے سے بوڑھا والد کہہ رہا تھا: ”اوئے شیر محمدا۔ اے تے میری واری سی، تو کیویں لے لئی۔”
    یہ الفاظ جب صحن میں گونجے تو پھر کیا باقی تھا جو کسی سے پوشیدہ رہتا؟۔ سب کچھ آشکار ہوگیا۔ نسیم اوڑھنی لپیٹ کر روتے بچے کو لیے کمرے کے اندر چلی گئی تھی۔ احمد کی بیوی تندوری میں پانی انڈیل کر وہاں ساکت بت بنی کھڑی تھی۔ کتا بھی کچھ محسوس کر چکا تھا کیوں کہ دور کونے میں جاکر بیٹھ گیا تھا۔ شیرے کی ماں شیرنی کی طرح لپک کر شادی خان کو اُچک کر چارپائی پر لے جاچکی تھی۔ وہ پوری تفصیل جاننا چاہتی تھی۔ شیرے کی بہنیں سہمی سہمی اُسی چارپائی کے پائیوں پر جھکی گفت گو کی طرف متوجہ تھیں۔ مگر شادی خان کے پاس نہ کچھ تھا نہ ہی بتا سکا۔ تھوڑی دیر کے بعد مسجد سے اعلان ہورہا تھا کہ راجا بہادر خان کا بیٹا سپاہی شیر محمد سیاچین میں شہید ہوگیا ہے۔ جنازے کا اعلان کل میت آنے کے بعد کیا جائے گا۔
    بس پھر کیا تھا، آناً فاناً پورا گائوں ان کے گھر موجود تھا۔ رونے کی چیخ و پکار میں عورتوں کے بین مزید اضافہ کررہی تھی۔ لوگوں کے گھروں سے چارپائیاں آرہی تھیں۔ پڑوسیوں نے سارے ڈھور ڈنگر اپنے یہاں منگوا لیے تھے اور جگہ کو چار پائیوں کے لیے صاف کردیا تھا۔ قریبی رشتہ داروں کی طرف سے کھانا بھی آگیا تھا۔ مگر دکھی دلوں میں کہاں کچھ کھانے کی تمنا تھی۔
    رات ہوچکی تھی۔ گھر والوں کا دماغ تو تقریباً مائوف تھا۔ رشتہ داروں اور دوست احباب کو اطلاع بھجوائی جارہی تھی۔ نوجوان گھوڑوں، سائیکلوں اور موٹرسائیکلوں پر بے لوث یہ ڈیوٹی انجام دے رہے تھے۔ کسی نے خود سے سوزوکی پک اپ نسیم کے میکے والوں کو لانے کے لیے ان کے گائوں بھجوا دی تھی۔ نسیم خود گُم صُم بچے کو بانہوں میں بھینچے برآمدے کے ستون سے ٹیک لگائے زمین پر بیٹھی تھی۔
    رات کافی بیت چکی تھی۔ رش بھی تھم گیا تھا۔ مگر پھر بھی کافی مرد و زن اندر اور باہر موجود تھے۔ ہر کوئی اپنے اپنے ذہن کے مطابق شہادت کے بارے قیاس آرائیاں کررہا تھا۔ مگر سب کی متفقہ رائے تھی کہ گولی سینے پر کھائی ہوگی اور کئی دشمنوں کو مار کر شہید ہوا ہوگا۔ کوئی زندگی کے قصے سنا رہا تھا، تو کوئی کبڈی کے کارنامے۔ ماں اس کی لائی ہوئی چیزوں کو سینے سے لگا کر رو رہی تھی تو بھائی اپنے اکیلے رہ جانے کے احساس سے پر آنسو بہا رہا تھا۔ والد بہادر خان بتا رہا تھا کہ ایک ہفتہ بعد تو اُن کی یونٹ نے سیاچین سے واپس آجانا تھا۔ تب اس کو ایک مہینہ کی چھٹی مل جانی تھی۔ ابھی یہ یادگار یادیں بانٹی ہی جارہی تھیں کہ باہر سے خواتیں کے رونے کی آوازیں آنے لگیں۔ شاید نسیم کے گھر والے آ گئے تھے پھر سے کہرام مچ گیا۔ ہر عورت شیر محمد کی والدہ اور بیوی سے گلے لگ کر رو رہی تھی اور اپنے جذبات سے مغلوب ایسے دل خراش بین کررہی تھی کہ اپنے تو اپنے، غیر بھی سسکیوں کے ساتھ رونے پر مجبور تھے۔ مگر کیا مجال کہ نسیم کی آنکھوں سے ایک قطرہ بھی ٹپکا ہو۔ وہ پتھر کی مورتی کی طرح بے حس و بے جان بیٹھی رہی۔ کون سویا تھا رات کو مگر، جس نے بھی صبح دیکھا نسیم اسی جگہ بیٹھی پھٹی پھٹی آنکھوں کے ساتھ خلائوں میں گھور رہی تھی۔
    شیر محمد کے گھر والوں کے لیے تو زندگی تھم چکی تھی مگر قدرت کے شب و روز رواں دواں تھے۔ جوں جوں سورج بلند ہورہا تھا۔ لوگوں کا رش پھر سے بڑھتا جارہا تھا۔
    ”بھائی بہادر اللہ دی مرضی” یہ وہ ڈائیلاگ تھا جو مردوں میں بہ کثرت استعمال ہورہا تھا اور عورتوں میں بھی شیر محمد کی والدہ ہر کسی کو جواب میں کہہ رہی تھیں۔ ”بس جی اللہ دی مرضی”۔ ماحول انتہائی سوگوار تھا۔ نسیم کو غشی کے دورے پڑ رہے تھے۔ اتنی دیر سے بھوکی پیاسی تھی، یہ حالت تو ہونی ہی تھی۔
    ”نسیم بیٹے کچھ کھا پی لو۔ اپنے لیے نہ سہی اس ننھی سی جان کے لیے ہی سہی۔”




  • محبت نام ہے جس کا —– محمد حارث بشیر

    اُداس موسم کی ایک سرد شام ،اُس خزاں گزیدہ شجرکا وجوداپنی پیشانی پر کئی داستانیں رقم کیے کھڑا تھا ۔موسم ِ ِبرگ ریز کا شاخسانہ تھا کہ ایک ایک کرکے زرد پتے زندگی کے پل بِتانے کے بعد شجر سے بچھڑتے جارہے تھے ۔وہ سیدھا سادا،تھکا ہارا شخص آنسوؤں بھرا چہرہ صاف کرتے ہوئے فریاد کناں تھا۔
    ”مولوی جی !کچھ کریں اُس کا ، وہ پاگل ہوگیا ہے… مجنوں بن گیا ہے …کہتا ہے محبت ہوگئی ہے …اب آپ ہی بتائیں ،میں اس عمر میں کیا کروں … کہاں جاؤں ؟ وہ تو میری کچھ سنتاہی نہیں جی…”اُدھیڑ عمر حکمت علی گاؤں کے مولوی کے پاس اپنی قسمت کا رونا رو رہا تھا ۔
    وہ سب اس وقت مسجد کے کچے صحن میں برگد تلے بیٹھے تھے۔ گارے مٹی سے بنی چھوٹی مگر صاف ستھری اور خوبصورت مسجد پنڈسروہا کے سر پر تاج کی طرح سجی تھی۔ گاؤں ڈھلان میں تھا اور مسجد بلندی پر… یہاں سے اُٹھتی اذان کی آواز سارے گاؤں میں گونجتی۔مسجد کا صحن گھاس کی تہ سے ڈھکا ہوا اور اس کے تین اطراف پھول دار پودوں کی بھرمار تھی، جو اس وقت زرد موسم کی لپیٹ میں تھے ۔چوتھا حصہ مسجد کی طرف تھا جسے خالی چھوڑ دیا گیا تھا۔ یہ عقبی حصہ تھا۔یہیں بیٹھ کر مولوی صاحب گاؤں کے بچوں کو درس دیتے۔ آج درس کے بعد حکمت علی بڑے مہذب انداز میں بیٹھااپنی بپتا مولوی صاحب کو سنارہا تھا ۔
    ”حکمت علی!تُو پریشان کیوں ہوگیا بھئی …محبت تو ایک میٹھااحساس ہے ۔” انہوں نے اس کا درد سمجھنے کے بجائے جیسے جان بوجھ کر نمک پاشی کی ہو … حکمت علی سلگ کر رہ گیا۔
    ” نہیں حضور …محبت بھلاکیسے چنگی چیز ہوسکتی ہے۔یہ تو روگ ہے جی روگ …پاگل کر دیتی ہے بندے کو… میرے پترکو نہیں دیکھا آپ نے …؟اچھا بھلا تو تھا پہلے …”
    ”دیکھ حکمت! محبت بندے کو سونا بنا دیتی ہے پھر روگ بھی راگ بن جاتا ہے ۔”
    ”پر وہ تو جی مٹی ہوگیا ہے ۔”حکمت علی نے مولوی صاحب کی طرف خالی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا ۔ وہ بولتا جا رہا تھا ۔”دیکھیں جی ! نہ تو اُسے اپنی فکر ہے، نہ ہم بڈھے ماں پیو کا خیال ہے ۔ ” حکمت علی واقعی مایوسی کی اتھاہ گہرائیوں میں غرق تھا ۔عمر کے اس حصے میں جب والدین اپنی اولاد سے بہت ساری امیدیں وابستہ کرلیتے ہیں کہ وہ ان کے دُکھ درد کا سہارا بنے گی … مگر یہاں تومعاملہ الٹ ہوچکا تھا۔ جوان بیٹا ! محبت کا روگ پال بیٹھا تھا ۔ اولاد کے یوں بگڑنے پر اگر ایک نحیف وجود اورکمزور اعتقاد والا شخص یاسیت کا شکار تھا تویہ عجیب بات نہ تھی ۔
    ”حکمت سائیں ! میری بات لکھ لے ، تیرا پُترجب اس مٹی سے نکلے گا، تودیکھنا سونا بن کر چمکے گا۔” یہ بات سن کر وہ خاموش ہوگیا،پھر کچھ توقف کے بعد خود ہی اس نے یہ خاموشی ختم کی ۔
    ”کہتا ہے جی کہ میں اُس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا …اور یہ بھی کہ وہ میری روح کے اندر تک اُتر چکی ہے… استغفراللہ!” حکمت علی کانوں کو ہاتھ لگانے لگا ۔مولوی صاحب زیر لب دھیما سا مسکرا دیے تھے۔
    ”آہ …محبت بھی انسان سے کیا کچھ اگلوالیتی ہے ۔” انہوں نے سوچااور ایک پھر دوبارہ لب کھولے :” تو حکمت علی! تُو رشتہ کروا دے نا اس کا…”
    ”میںگیا تھا جی ان کے گھر …پر وہ ذات کے سیّد ہیں ،انہوں نے ہم کمیوں کے ہاں کب رشتہ کرنا ہے جی …دروازے ہی سے واپس بھیج دیاتھا۔”
    ”دیکھ میاں حکمت !اگر تو اُس کی محبت سچی اور پاک ہے ،پھر دیکھنا وہ ضرور کامیاب ہوگا اور ایسا کامیاب کہ لوگ رشک کریں گے اس پر…ایسے کامیاب لوگ کمیاب ہی ہوتے ہیں ۔”
    حکمت علی شاید ان باتوں کو سمجھنے سے قاصر تھا ۔وہ بس اثبات میں سر ہلاتے ہوئے ”جی جی ” کی گردان کیے جا رہا تھا۔
    ”تُو اپنے پتر کو میرے پاس بھیج …میں بات کرتا ہوں اُس سے ۔”مولوی صاحب نے کہا۔
    ”بھلا ہوجی آپ کا …اللہ لمبی حیاتی کرے آپ کی۔”وہ اُن کا ہاتھ چومتا ،آنکھوں کو لگاتا ہوا وہاں سے رخصت ہوگیا اور مولوی صاحب اپنے موٹے منکوں والی تسبیح پھیرتے ہوئے اللہ ھو کا ورد کرنے لگے۔
    ٭…٭…٭





    اس کی پیدائش پر گھر والوں نے اس کا نام ”یوسف” رکھا تھا ۔ اس کے علاوہ اسے کوئی اور نام جچتا ہی نہ تھا ۔وہ تھا ہی اتنا خوبصورت…گورا، چٹا، گول مٹول سا ، بڑی آنکھوں ، سنہری بالوں والا یوسف …جسے دیکھنے کے لیے سارا گاؤںہی امڈ آیا تھا ۔یوسف ”حکمت علی ” اور ” فاطمہ ” کی پہلی اولاد تھی۔ شادی کے تیرہ سال بعد ان کی دعاؤں کی قبولیت پر قدرت کی طرف سے یہ ایک تحفہ تھا۔ سارا گاؤں ان دو صابر لوگوں کے گھر میں چاند کی آمد پر خوشی سے نہال تھا ۔ وہ چاند ہی تھا جو غریب کے آنگن میں اسے اپنے نور سے منور کرنے کے لیے اتر آیا تھا۔ مسکراتا تو اس کی آنکھیں روشن دیے کے مانند چمکنے لگتیں۔
    یوسف کا باپ حکمت علی پیشے کے اعتبار سے کسان تھا۔ سارا دن مٹی میں رزق تلاش کرتے گزر جاتا۔وہ اکثر مٹی میں مٹی ہی ہوجاتا ، زمین کی نگہداشت کرتا اور اس سے سونا اگاتا تھا ۔ پھر اس سونے کو تانبے کے داموں بیچ کر اپنا گزارا کرتا۔ اسے کبھی زیادہ کی طلب رہی نہ کم کا غم… رزق تو باری تعالیٰ نے انسان کا پہلے ہی سے لکھ رکھا ہے ۔
    حکمت علی پندرہ سال کا تھا جب اس کے والدین اس دنیا میں اُسے تنہا چھوڑ کر منوں مٹی تلے جا سو ئے، اس کی زندگی میں واحد رنگینی اس کے والدین تھے۔ ان کے بعد تو زندگی گویاکسی طاق میں رکھے بجھے ہوئے چراغ مانند ہوگئی تھی، جس کے ارد گرد اندھیرا ہی اندھیرا تھا ۔
    اس کی زندگی کا چوبیسواں سال تھا جب فاطمہ شریک حیات بن کر اس کی تاریک دنیا کو روشن کرنے کے لیے اس کی زندگی کا حصہ بنی۔ وہ نیک سیرت لڑکی، صابر، وفادار اور بہترین ساتھی ثابت ہوئی۔ فاطمہ کا اس کی زندگی میں آنا ایک خوش گوار تبدیلی تھی ۔ اس کے نزدیک وہ ایک قیمتی ہیرے کی طرح تھی کہ جسے کھو دینے کا وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔
    وہ کئی بار فاطمہ سے اپنی بے لوث محبت کا اظہار کر چکا تھا۔جو دوسری بڑی نعمت اسے ملی ،وہ یوسف کی صورت میں تھی ۔ اس کی اولاد ، اس کے وجود کا حصہ، دونوں کا سب سے قیمتی سرمایہ … ایک طویل ، صبر آزما عرصے کے بعد ملنے والی نعمت…!
    ٭…٭…٭
    بادلوں کی گرج ،بجلی کی چمک ، بارش کی آمدکا مژدہ سنا رہی تھی۔ وہ بچہ اپنے جیسے دوسرے بچوں کو گلیوں میں دوڑلگاتے، گرد اڑاتے اور کاغذ کی کشتیاں بناتے ،بارش کا انتظار کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ پھر اس نے اپنا چہرہ آسمان کی طرف اٹھایا ۔بارش کا پہلا قطرہ اس کے دائیں گال کو تر کر گیا۔
    ” بارش آئی …بارش آئی۔ ” کا ایک شور بلند ہوا۔ بچے اب کافی پُر جوش نظر آنے لگے تھے ۔ وہیں کھڑے کھڑے اس نے خود کو بارش میں بھیگ جانے دیا ۔ آنکھیں موندے وہ اس احساس میں اتنا محو تھا کہ اس نے غور ہی نہیں کیا کہ کب اس کے قدموں تلے زمین کسی جھیل کی طرح پانی سے بھرنے لگی تھی ۔ ایک کاغذ کی کشتی اس کے پاؤں سے ٹکرا کر پانی میں ڈوب گئی ۔ بچے اسے خود میں مگن دیکھ کر اس کے گرد اکھٹے ہوچکے تھے ۔ اس کے کپڑے کیچڑ سے داغ دار تھے ، اناری گال مٹی ہوگئے تھے ۔ادھر بچوں کے قہقہے فضا میں بلند ہوئے تو وہ ناراض ہونے کے بجائے نادم ہوا تھا ۔ چیخنے کے بہ جائے خاموش رہا تھا ۔ وہاں موجود ہر بچہ یہ جانتا تھا کہ وہ کچھ نہیں بولے گا ۔ وہ یوسف کو اچھی طرح جانتے تھے ۔ وہ معصوم تھا ، کم گو ، شریف ، اس کی اپنی ہی دنیا تھی ۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ ان کے ساتھ کھیلنا نہیں چاہتاتھا۔ بس ان بچوں سے وہ یہ بات کہنے کی ہمت نہیںرکھتا تھا ۔ یہ فاطمہ اور حکمت علی دونوں کی خواہش تھی ۔ وہ اسے ایک بڑا کامیاب آدمی بنانا چاہتے تھے ۔جوان کے لیے فخر کا باعث بنتا… وہ خوبصورت تھا اتنا کہ اسے جو بھی دیکھتا ،پھر اسی کے گن گانے لگتا ۔ وہ بلا کا ذہین بھی تھا، ایسا کہ فاطمہ اور حکمت علی کو اپنے خواب پورے ہونے کایقین ہوچلا تھا ۔ وہ پڑھائی میں جتنا اچھا تھا ، بات کرنے میں اتنا ہی نالائق…نہ تو وہ لاڈ پیار کا بگڑا تھا اور نہ ہی ضد کا قائل … یوں کہہ لیں کہ وہ بچپن ہی سے ” اللہ لوک” تھا ۔
    یہ ننھا منا ” اللہ لوک” شکایتیں کرنے کا عادی نہ تھا،لیکن ایک دن تنگ آکر باپ کے پاس پہلی بار شکایت لے کر گیا تھا ۔ اسے اپنے ہم جماعتوں سے شکوہ تھا، وہ اسے اصل نام کے بجائے ”سائیں” کہہ کرپکارتے تھے ۔ یہ نام اسے بالکل پسند نہیں تھا لیکن لفظ ”سائیں ” کی بازگشت اتنی زیادہ پھیلی کہ لوگ ” یوسف ” کو بھولنے لگے تھے ۔
    ”دیکھ پتر! ایسا کہنے سے کچھ نہیں ہوتا …نام تو تیرا یوسف ہی ہے نا … بس تو دل لگا کر پڑھا کر … دیکھنا کل کو جب تُو بڑا آدمی بنے گا ،تویہی لوگ تجھے ” یوسف صاحب” کہیں گے۔”
    ” لیکن مجھے اچھا نہیں لگتا… وہ سب میرا مذاق اڑاتے ہیں ۔” اس کی آنکھوں میں آنسو امڈ آئے تھے ۔
    ”بہادر بچے ایسے نہیں روتے … رونے سے آج تک کوئی مسئلہ حل ہوا بھلا…؟”
    ”تو پھر میں کیا کروں …؟” بلا کی معصومیت اس کے چہرے پر عود آئی ۔
    ” کچھ بھی نہیں … تُو بس اللہ سے دعا کیا کر کہ وہ ان کے دل میں تیرے لیے محبت ڈال دے۔ ” یہ ایک گرُتھا جو ایک باپ اپنے بچے کو سکھا رہا تھا ۔ صبر کرنے کا ، اللہ سے رجوع کرنے کا۔
    ”تو کیا پھر وہ مجھے ایسے نہیں کہیں گے ؟”
    ”جب اللہ چاہے گا ان کے دل پھیر دے گا ۔”
    ” اور اگر اللہ نے ایسا نہ کیا تو …؟”
    ” جو لوگ اللہ کی مرضی مانتے ہیں ۔ ا للہ ان کی ضرور سنتا ہے ۔ جلد یا بدیر ، مگر ضرور سنتا ہے ۔ بس صبر کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے ۔سمجھ گیا ناپُتر…؟”حکمت علی ایسے گویا تھا جیسے اس کے سامنے سات سال کا بچہ نہیں کوئی ہم عمر ہو … یوسف اب خاموش ہو گیا تھا۔ ایسا خاموش کہ پھر اس نے کبھی اس بات کی شکایت ہی نہ کی۔ ” سائیں ”کی بازگشت تھمی اور نہ یوسف کا صبر ٹوٹا۔
    ٭…٭…٭





    وہ اکیلی تھی ، بالکل اکیلی …اس وقت اس پرایسی کیفیت طاری تھی کہ آدمی اپنے سائے سے بھی ڈرنے لگتا ہے ۔وہ اندھیرے میں چیزوں کو ٹٹولتی ہوئی اپنا راستہ تلاش کر رہی تھی، مگر اندھیرا تھا کہ ہر بار اسے ٹھوکر کھانے پر مجبور کررہا تھا۔ کچھ تگ ودو کے بعد وہ اگلے کمرے میں پہنچنے میں کامیاب ہوگئی ۔
    وہا ں روشنی کی ایک باریک سی کرن تھی جو اندھیرے سے لڑتی اپنا وجود کھو رہی تھی ۔ اسے اپنی زندگی بھی اس کمرے کی طرح لگ رہی تھی، خالی ،تاریک اور روشنی کی ایک کرن ” امید ” کا آسرالیے ناامیدی کا مقابلہ کرتی ہوئی ۔ اس کا رُخ کونے میں پڑے ایک صندوق کی طرف تھا ۔ آہستگی سے چلتے ہوئے وہ اس کے سامنے بیٹھ گئی ۔
    کتنی ہی دیر اس کشمکش میں گزری کہ آیا وہ صندوق کھولے یا دل کے بنددریچوں کی طرح اسے بھی بند ہی رہنے دے ۔آخر ہمت کر کے اس نے اسے کھول دیا ۔ کپڑوں کا انبار تھا اور اس کے نیچے کی سطح پر کاغذ کا ایک ٹکڑا … لرزتے ہاتھوں اس نے وہ کاغذ اٹھالیا ،لیکن اسے کھول کر پڑھنے کی ہمت اس کے اندر آج بھی نہیں تھی، بالکل اسی طرح جیسے نو سال پہلے نہیں تھی ۔وجہ تو خیر وہ آج تک نہ جان پائی تھی۔
    نو سال پہلے اس نے صرف ایک سطر پڑھی اور آج بھی صرف وہی ایک سطر … کیسے کیسے خدشات اس کے ذہن میں ا بھرے تھے ۔ اسے زندگی میں سب سے زیادہ ڈر بددعا سے لگا تھا اور پہلی سطر ہی اتنی خوفناک تھی کہ وہ اُسے مزید پڑھنے کی ہمت نہ کرسکی تھی۔ ۔
    ”جب وقت تیرا ڈھل جائے گا ۔”
    آنسوؤں کا ریلا اس کی آنکھوں سے رواں ہوا ۔اس نے وہ کاغذ دوبارہ تہ کر کے رکھ دیا ۔ ایک سطر پڑھی تھی تو آٹھ سال بعد تباہ و برباد ہو کر آئی تھی ۔ آگے پڑھتی تونجانے کیا ہوتا۔
    ٭…٭…٭
    پنڈ سروہا کے مولوی جی کا رُخ مسجد کی طرف تھا جہاں ایک لاچار باپ اپنے دیوانے ، عاشق بیٹے کو لیے ان کی راہ تک رہا تھا ۔ مولوی صاحب چہرے پر مسکان سجائے پاس سے گزرنے والوں کو سلام کا جواب دے رہے تھے ۔ یہ دلفریب مسکان جو چند لمحوں بعد ان کے چہرے سے زرد موسم میں سبزپتوں کی طرح غائب ہوئی تھی ۔ پاؤں برف ہوئے تھے اور آنکھیں پتھر… ان کے سامنے ایک’مجنوں’ بیٹھا ہواتھا ۔ اٹھارہ انیس سال کا دیوانہ… دنیا جہاں سے بے خبر …زمانے بھر سے لا تعلق …میلے کپڑوں اور بکھرے بالوں میں وہ بے تاثر چہرہ لیے آسمان کو تکنے لگا۔
    مولوی صاحب! میکانی انداز میں قدم اٹھاتے ، تسبیح کے دانوں پر بندش ڈالتے اس کی طرف بڑھے۔ دونوں کی نظریں چار ہوئیں ۔ عاشق کے ہلتے ہوئے ہونٹ تھمے اور اُن کے قدم … ماحول پر ایک سکوت چھاگیا تھا ۔ پھر ایک دم خاموشی رخصت ہوئی ۔
    ”اے بالک !پتا ہے تجھے کہ تُوکیا کر رہا ہے؟” بارعب آواز میں پوچھا گیا ۔ پاگل استہزائیہ انداز میں ہنسا ۔
    ” اُسے دیکھنے آیا ہوں … اُدھر آسمان پر اس کی صورت نظر آتی ہے مجھے … مگر زمین پر وہ دکھائی نہیں دیتی … ایسا کیوں ہوتا ہے؟آپ کو تو معلوم ہوگا۔” جواب کے ساتھ ہی سوال آیا تھا۔ درد میں لپٹا ہوا، حاصل کرنے کی لاحاصل جستجوجیسا۔
    ”تیر ایوں گلیوں میں بیٹھنا اسے بدنام کرے گا ۔”
    ”کیسے؟میراعشق توخاموش ہے ۔ سمندر جیسا… اس کا نام تک نہیں لیا میں نے…”
    ”تُو فانی چیز کے پیچھے بھاگ رہا ہے ۔چھوڑ دے یہ تمنا۔” تنبیہ کی گئی تھی، مگر منت کے انداز میں … اندیشوں کے انبار میں …”
    ” فانی تو میں ہوں … چاہت توفانی نہیں ہے … وہ تو ابدی ہے … ہمیشہ رہے گی۔”
    مولوی صاحب کی تنبیہ واقعی بے اثر رہی تھی۔
    ”اس سب سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔” اس بار انداز غصیلا تھا اورآواز کرخت۔
    ”تمنا بھی نہیں…” غصے کو بھاپ کی طرح اڑاتے وہ مسکرایا۔
    دو نظریات تھے اوردو ہی دماغ …کوئی بھی ہار ماننے کو تیار نہ تھا ۔پھرایک دم ماحول پر گہرا سکوت چھا گیا ۔
    ٭…٭…٭





    ” حکمت علی! تُو چلا جا …پتر کو میرے پاس رہنے دے …میں بات کرتاہوں ،تُوتھوڑی دیر بعد آنا ۔”مولوی جی نے حکم جاری کیا تو حکمت علی ذرا سا فکر مند ہوگیا ، مگر مولوی جی پر اعتمادکی بدولت اپنے روایتی انداز میں ”جی جی” کہتا وہاں سے اُٹھ گیا ۔
    مولوی صاحب اور اس عاشق کے درمیان کچھ دیر خاموشی کا غلبہ رہا ۔ انہوں نے اس کے چہرے پر آئے سر کے بالوں کو اپنی انگلیوں سے پرے ہٹاکر اس کی آنکھوں میں جھانکنے کی کوشش کی ۔ وہ چند لمحے دیکھ پائے اور اس کی آنکھوں میں چھپا جذبہ جان گئے۔آنکھوں میں خالی پن تھا، فقدان تھا،پاک، بے ریا محبت کی چمک کا فقدان، وہاں حقیقی محبت اور چاہت کی وہ چمک مولوی جی کو دکھائی نہیں دی تھی۔
    ” تُو جانتا ہے محبت کیا ہے؟” خاموشی ٹوٹی تھی ، لڑکے کی آنکھوں میں حیرت ابھری ۔وہ تڑپ اُٹھا۔پہلی بار اس نے لب کھولے تھے ۔
    محبت بڑی خو ب صورت بلا ہے
    درندوں میں شفقت اسی کی عطا ہے
    ” کیا ہے محبت…؟” سوال دہرایا گیا ۔
    ” کسی کو بے پناہ چاہنا… اتنا کہ ہر جگہ وہی نظر آئے ۔ اپنی ذات کو آدمی بھول جائے۔”
    ” تجھے کتنی محبت ہے اُس سے ؟” ایک اور سوال اس کے سامنے تھا ۔
    ” بہت … اتنی کہ وہ نہ ملی تو مرجاؤں گا ۔”اس کے لبوں پر ایک درد بھری مسکراہٹ عود آئی ۔ ”لیکن …لیکن یہ کیسی محبت ہے ،جو انسان کو زندہ بھی نہیں رہنے دیتی ۔اس سے جینے کا حق ہی چھین لیتی ہے ۔” مولوی صاحب کی آواز میںجلال تھا ۔
    ” محبوب پاس نہ ہو تو انسان زندہ کیسے رہ سکتا ہے ؟ اس سے دوری کا احساس ہر پل موت کی طرف دھکیلتا ہے ۔” اس نے احتجاج کیا تھا ۔
    ” رہ سکتا ہے زندہ … بالکل رہ سکتا ہے، لیکن شاید تم یہ بات نہ سمجھو ۔ مجھے معلوم ہے کہ تمہیں صرف دل لگی ہے، جسے تُو نادانی میں محبت کا نام دے رہا ہے۔”
    ”آپ غلط کہہ رہے ہیں ، جھوٹ بولتے ہیں ، میں اسے بے پناہ چاہتاہوں ۔ وہ نہ ملی تو میرے جینے کا کوئی جواز نہیں ہے۔” وہ ایک دم تڑپ اُٹھا تھا مولوی صاحب کی بات اس کے جسم پر تیزاب کی طرح لگی اوروہ پہلے ہی جلے دل کا مالک تھا ۔
    ” چاہت کی انتہاموت نہیں، زندگی ہے ۔ محبوب جب دل میں بس جاتا ہے، تو زندہ رکھتا ہے ، مارتا نہیں۔”
    ” لیکن میں تو پَل پَل مرتا ہوں اس کے بغیر …” اس نے کمزور آواز میں کہا۔
    ” یہ ابتداہے، اگر تُوسمجھے تو… محبت تو یہ ہے کہ آدمی خود کو محبوب کے رنگ میں رنگ لے۔ اس کی چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھے ۔ اسے بے لوث چاہے ۔ ایسا کہ اس میں نہ کوئی غرض ہو ، نہ ریا ۔ اس کی تصویرکو دل میں ایسے بسائے کہ کوئی اور تمنا دل میں باقی نہ ہو ۔اس کی چاہت تمھارے وجود کے ساتھ ایسے لپٹی رہے کہ وہ تمہیں زندہ رکھے ۔ تمہارے وجود کو امر کرے ۔ انسان محبوب کی عزت مقدم رکھے، تو وہ محبت ہے ۔ تمہاری طرح نہیں کہ وہ اسے بدنام کرے ۔” اب وہ ٹرانس کی کیفیت میں تھا۔
    آخری جملے نے لڑکے کو احتجاج کرنے مجبور کیا ۔
    ” میں نے ایسا کبھی نہیں چاہا… کبھی بھی نہیں ، میں تو اسے ہاتھ کا چھالا بنا کر رکھتا ہوں۔ اسے بدنام کیسے کر سکتا ہوں ؟”
    ”تُو…تُو پھر اپنی محبت کی تشہیر کیوں کرتا ہے؟اسے دل میں بسا کر کیوں نہیں رکھتا کہ وہ تجھے مضبوط بنائے۔ ” مولوی جی اسے ٹریک پر لانا چاہ رہے تھے ۔
    ”محبت تو انسان کو کمزور کردیتی ہے ، بے بس کر دیتی ہے ۔ محبوب کی تصویر چاہے دل میں بسی ہو، مگر من یہ کرتا ہے کہ وہ ہمیشہ آنکھوں کے سامنے رہے ۔ہر وقت ، ہر پل ۔”
    ”محبت انسان کو کمزور نہیں کرتی اگر ایسا ہوتا، تو کبھی پہاڑ سے دودھ کی نہر نہ نکل پاتی۔ کچے گھڑے کے سہارے کبھی دریا نہ پار کیے جاتے ۔”ان کی بات پر وہ خاموش رہا ۔ موقف اب بھی وہی تھا، مگرالفاظ جیسے ختم ہوگئے تھے ۔ بالآخر طویل خاموشی کے بعد وہ ایک تاویل ڈھونڈ لایا۔
    ”مجنوں بھی تو لیلیٰ کی خاطر گلیوں کی خاک چھانتا تھا ۔ اسے تو اس کی گلی کے حقیر جانور سے بھی پیار تھا ۔” وہ اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہ تھا ۔
    ”بالکل … اس نے خود کو محبوب کے لیے وقف کر دیا تھا، اتنا کہ پھر اس حقیر جانور سے بھی اسے محبت ہوگئی تھی ۔ وہ سچی محبت تھی جو امر ہوئی دیکھو !وہ سچی محبت کی رہتی دنیا کے لیے مثال بن گئی اور مثال وہی چیز بنتی ہے جوبے غرض اور سچے جذبوں میں گُندھی ہو۔”
    ”میری محبت میں بھی کوئی غرض نہیں ہے ۔ سچی اور حقیقی چاہت ہے میری۔ میں سچ بولتا ہوں۔ میرا جذبۂ عشق سچا ہے ۔” وہ بے تاب تھا ، مضطرب بھی ۔
    ” تُو جھوٹ بولتا ہے ۔ تیری محبت میں اگر غرض نہیں ہے، تو اس کے نہ ملنے پر مرنے کی باتیں کیوں کرتا ہے ۔ یہ کیوں نہیں کہتا ہے کہ اگر وہ نہ بھی ملی تو تیرے جینے کے لیے اس کی محبت ہی کافی ہے ۔” مولوی صاحب کی باتوں میں وزن تھا ۔لڑکا بے بس ہوچکا تھا ۔
    ”مولوی جی !آپ جو کہہ رہے ہیں وہ ناممکن ہے ۔ اگر وہ نہ ملی تو میری محبت تو ادھوری رہ جائے گی نا۔”
    ”بس یہی تو غرض ہے ۔ تُو اس کے جسم کا متلاشی ہے ۔ تُونے کبھی اس کی روح کو کھوجنے کی تمنا ہی نہیں کی ۔ وہ محبت کبھی امر نہیںہوتی جو فانی چیز کی متلاشی ہو ۔”
    ”میں سمجھا نہیں ۔”کمزور لہجہ اور مریل سی آوازمولوی جی کی سماعتوں سے ٹکرائی ۔
    ” یہ وقت دیکھ رہا ہے تُو…؟اذان ِمغرب ہونے کو ہے ۔دن اور رات کے ملنے کا وقت … یہ تھوڑی دیر کے لیے آتا ہے بس…پھر رات غالب آتی ہے۔ ملن کی گھڑی مختصر ہی ہوتی ہے۔ عشق مجازی بھی ایسا ہی ہے ۔ملن ہوتا ہے، تو مگر تھوڑی دیر کے لیے … پھر اندھیرا غالب آجاتا ہے ۔۔ تُوایسی چیز کے پیچھے بھاگ رہا ہے جو ہاتھوں سے ریت کے مانندپھسل جاتی ہے ۔ امر ہونا چاہتا ہے نا تُو …؟ ” انہوں نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔ وہ اثبات میں سر ہلانے لگا ۔
    ”تو پھر اس محبت کو دل میں یوں بسا کہ یہ تیرے دل کو روشن کردے ۔ تجھے شاد اور آباد رکھے ۔ تُو اسے سیڑھی بنا کر عشق حقیقی کی لذت بھی چکھ کر دیکھ لے۔پھر دیکھ رب سوہنا کرم کرے گا ۔”
    مغرب کی اذان کا وقت ہوگیا تھا ۔ گفتگو کا سلسلہ رک گیا ۔ مولوی جی نہیں جانتے تھے کہ اس لڑکے پر کتنا اثر ہوا ہے، مگر ان کے بس میں صرف یہی تھا ۔
    ٭…٭…٭




  • بڑی آنٹی —– زرین جوشیل

    بڑی آنٹی —– زرین جوشیل

    شگفتہ نازایک نرم ونازک احساس ، جس نے 1950ء میں تقسیمِ ہند کے بعد دہلی سے لاہور منتقل ہوئے ایک متوسط گھرانے میں جنم لیا ۔ یوں تو رشید میاں کے ہاں سات بچیوں کی ولادت ہوئی جن میں سے تین توبچپن ہی میں اللہ کو پیاری ہو گئیں ۔ شاید بیٹا نہ ہونے کے غم نے رشید میاں کو ساری زندگی اپنی زوجہ ، بیگم سیدہ سے دور رکھا ۔پہلوٹھی کی اولاد ہونے کے ناطے شگفتہ ناز نے اپنے والدین کے رشتے میں کشیدگی کو بھانپ لیا تھا۔ وہ شروع ہی سے انتہائی مدّبر اور خاموش طبعتھی ۔ رشید میاں کی اردو بازار میں کتابوں ایک بڑی کی دکان تھی، جس پر وہ اپنے چھوٹے بھائی سید نور کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے۔نور صاحب کم عمری کے باعث تھوڑی چلبلی طبیعت کے مالک تھے جب کہ رشید میاں تو مُسکرانا بھی شاید گناہ سمجھتے تھے۔ بچے ابھی زیادہ بڑے نہیں ہوئے تھے کہ اُن کی امی جان کو ٹی بی جیسا جان لیوا مرض لاحق ہو گیا۔ بس پھر کیا تھا ، ساری ذمے داری شگفتہ ناز کے کمزور کاندھوں پر آپڑی۔ اسکول کے بعد گھر کا کام، امی کی تیمارداری ، بہنوں کی دیکھ بھال، یہ سب کچھ فریضہ اوّل بن گیا تھا، لیکن دن بھر کی تگ ودو کے بعد جب شگفتہ بی بی اپنی دادی کے پاس بیٹھ کر تقسیمِ ہندسے پہلے کے وا قعات اور ہندوستان میں مقیم اپنے رشتہ داروں کے قصے سنتیں ، تو اُن کی ساری تھکن مٹ جاتی ۔ وہ ان کہانیوں میں یوں کھو جاتیں، گویا وہ خود بھی اُن کا حصہ ہو۔ اُردو ادب پر اُنہیں باقی بہنوں کی نسبت خاصا کافی عبور حاصل ہوگیا تھا۔ جب بھی کسی بہن کو لغت کا کوئی مسئلہ درپیش ہوتا وہ سیدھا بڑی باجی سے رجوع کرتی۔ بڑی باجی کہلوانا پسند جو تھا اُسے۔ بھئی بڑے ہونے کے لیے کچھ رعب اور آداب بھی ملحوظِ خاطر رکھنے چاہئیں کہ نہیں؟ شاید یہی وجہ تھی جو تمام بہنیں اُس کی بے پناہ عزت کرتی تھیں یا پھر اُس کے رعب ودبدبے کی وجہ سے اُس سے دل کی بات کرنے سے بھی کترایا کرتی تھیں۔
    رشید میاں دکان بند کرنے کے بعد اپنا زیادہ تر وقت دوست و احباب کی محفلوں میں گزارنا پسند کرتے تھے ۔ کبھی دعوتِ عام کسی کے ہاں ہوتی تو کبھی اپنے یہاں ۔ دستر خوان طرح طرح کے کھانوں سے بھرا رہتا تھا ۔ دادی کے منع کرنے پر اکثر کہا کرتے ۔ امی جان! یہ دستر خوان او ر میری جیب کبھی خالی نہیں رہیں گے۔ دادی جان استغفار پڑھ کر بات آئی گئی کردیتی تھیں،لیکن وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا۔ کون جانے کب کس کی خوشیوں کو نظربد لگ جائے۔ اس خاندان پر سب سے پہلا صدمہ تب گزرا، جب سید نور صاحب کے کسی دوست نے اُنہیں ثریا نامی بیوہ خاتون اور تین عدد بچوں کی ماں سے، انسانی ہمدردی کے ناطے متعارف کروایا۔ ملاقاتوں کا یہ سلسلہ نہ جانے کب بے جوڑ محبت میں تبدیل ہوگیا یہ کوئی نہیں جانتا، لیکن اجازت نہ ملنے پر نور صاحب نے ایک فلمی ہیرو کی طرح بغاوت کی راہ اپنائی اور ثریا سے خفیہ نکاح کر ڈالا۔
    نو بیاہتا جوڑا جب اپنے بڑوں کی دعائیں لینے گھر پہنچا، تو دادی جان نے نا صرف منہ پھیرا بلکہ ثریا پر تعویذ گنڈوں کے الزامات لگاکر اُن کا بیٹا پھنسانے کے جرم میں دھکے دے کر گھر سے نکال دیا لیکن ثریا بی کہاں دودھ کی دھلی تھی۔ اُس نے بھی دادی جان سے بدلہ لینے کی ٹھان لی اور اپنے شوہرکولے کر یہ جا وہ جا ۔ اب تو دادی جان کو بھی اک پل چین نہ رہا ہر وقت ثریا بی کو کوسنے اور بد دعائیں دینا تو جیسے ااُن کا مقصد ِ حیات بن گیا تھا۔ چاروں بچیوں کوچچا جان سے بے انتہا اُلفت تھی اور کیوں نہ ہوتی وہ بھی اِن پر جان چھڑِکتے تھے اور اپنے بھائی بھابی کی بھی بے انتہا عزت کرتے تھے۔زندگی کہاں کسی کے چلے جانے سے رکتی ہے ۔وقت گزرتا گیا والدین کی ناچاقی اور دادی کی باتیں سن سن کر شگفتہ ناز ایک عام سی شکل و صورت ، سانولی رنگت، درمیانے قد اور دبلی پتلی جسامت والی جوان لڑکی میں تبدیل ہوگئیں ۔ لیکن منجھلی بہن شہناز تھی تو قد میں ذرا کم، لیکن صاف رنگت گداز جسم اور تیکھے نین نقش کے باعث کافی دل کش نظر آنے لگی۔ شمع اور بلقیس ابھی چھوٹے ہونے کے ناتے ان خصوصیات سے مبرّا تھیں۔ اسی دوران دادی جان کے دور دراز کے کوئی یتیم مسکین رشتہ دار بنّے میاں اُن کے یہاں پڑھنے کی غرض سے رک گئے۔ آگے پیچھے کوئی ٹھکانہ نہیں تھا اس لیے دادی نے بھی ترس کھا کر اوپر کی برساتی میں اُنہیں رہنے کی جگہ دے ڈالی۔ بننے میاں کے آنے سے ایک رونق سی لگ گئی۔ دن ہو یا رات اس گھر سے قہقہوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔ دیکھنے میں بھی بنّے میاں کسی مزاحیہ کردار سے کم نہ تھے اوپر سے اُن کی شرارتیں ۔ خدا کی پناہ جیسے یہ شخص خوشیاں بانٹنے ہی دنیا میں آیا ہو۔بچیوں کے ساتھ لڈو، تاش ،کیرم کھیلنا ، کبھی بھوت کا لبادہ اوڑھ کر پڑوسی کو ڈرا دینا ۔کوئی ایک تماشا ہو تو بتائیں ۔ بچیاں بھی چچا چچا کرتے نہ تھکتی تھیں۔ اُن کے لیے شاید وہ بچھڑے ہوئے چچا نور جیسے تھے، لیکن کسی کے دل کا بھید کون جانتا ہے؟ ایک دن بنّے میاں نے دادی جان سے شگفتہ ناز سے شادی کی خواہش ظاہر کر ڈالی بس وہ چچا بنّے کا آخری دن تھا اُس گھر میں۔ دادی نے پہلے تو خوب کھری کھری سنائیں اور پھر گھر سے رفع دفع ہونے کا حکم صادر کر ڈالا ۔ بنّے چچا دل کے ارمان آنسوو ٔں میں بہائے گھر خالی کر گئے،کوئی یہ نہ جان سکا کہ چچا پر آخر بیتی کیا؟





    جب امی جان نے دادی سے انکار کی وجہ دریافت کی، تو اُنہوں نے جھٹ سے چچا کے والی وارث نہ ہونے کا بہانہ کرکے بات ختم کردی۔ امی جان بھی چپ ہوگئیں ۔
    شگفتہ ناز شروع سے کافی سمجھ دار تھیں۔ اُن کے لیے اپنی امی کی آنکھ کا اشارہ ہی با ت سمجھنے کے لیے کافی تھا۔ ابھی کچھ ہی دن گزرے کہ امی جان کے کزن لطیف بھائی، جن کی انارکلی بازار میں مٹھائی کی مشہور دکان ہوا کرتی تھی ، ان کی امی نے دادی جان کو اپنے بڑے بیٹے کے واسطے شگفتہ ناز کے رشتہ کا پیغام بھیجوایا۔ بس یہ سننے کی دیر تھی کہِ دادی آگ بگولا ہوکرکہنے لگیں۔
    ”ارے بھیا!میں نہ بیاہوں اُن حلوایوں کے گھر اپنی پوتی کو ، بھلا بتاؤ کتنی بدبو آتی ہے اُن کے باپ کی دھوتی سے ، ملگجے سے کپڑے پہنے رکھتا ہے ہر وقت، ارے بیٹا چاہے جتنا بھی پڑھ لکھ جائے رہیں گے وہی کارخانہ د ار”۔
    شگفتہ بی بی اکثر اُردو رومانی ناولوں کو چاند کی روشنی میں بیٹھ کر پڑھا کرتی تھیں شاید اُن کا افسانوی ہیرو بھی کوئی ایسا ہی قابل شخص تھاکیوں کہ یہی ایک واحد رشتہ تھا جس کے آنے پر اُن کے دل میں کچھ اُمنگ جاگی تھی،لیکن دادی کے صاف انکار پر اُن کا دل ایسا ٹوٹا کہ آیندہ کبھی کسی رشتے کے آنے پر اُنہیں خوش نہ دیکھا گیا۔
    چاروں بہنوں میں سال سال ہی کا فرق تھا۔ ناچاہتے ہوئے بھی گویا وہ ایک دوسرے کے حالات سے بہت حد تک باخبر تھیں۔ دوسری طرف ثریا بانو نے اپنے شوہر کی نافرمانی کرتے ہوئے ، اپنی ذلت کا بدلہ لینے کے لیے رشید میاں پر دکان اور مکان کے بٹوارے کا کیس دائر کردیا۔ کورٹ کچہری کرتے کرتے حالات اتنے بدلے کہ دونوں دکانیں بک گئیں اور یہ سب کرا ئے کے مکان میں آگئے۔
    آخرکار ثریا بانو کا تیر نشانے پر لگا اور اُس نے ہنستا مسکراتا گھر تباہ کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ ایک رات امی جان کی طبیعت اچانک بگڑ گئی۔ وہ اکثر دادی یا مولوی صاحب کا دم شدہ پانی پیا کرتی تھیں۔ جب دوا بے اثر ہونے لگی، تو اُن کے کہنے پر چھوٹی شمع اور بلقیس نے وہی دم کیا ہو ا پانی ماں کو لا دیا۔ بس چند قطرے حلق میں جاتے ہی آنکھیں ایک سمت ٹکٹکی باندھے دیکھنے لگیں اور جسم بے سُدھ ہوگیا۔ سنتے تھے کہ امی جان پر کوئی جن عاشق تھا، وہ اُنہیں زندگی کی تمام تکلیفوں سے نجات دلا کر اپنی دنیا میں لے گیا۔ ہاں یہی ایک خواب تھا ، جو رشید میاں نے اپنی بچیوں کو شایددلاسا دینے کے لیے سنایا تھا کہ ایک رات میں نے خواب کی حالت میں تمہاری ماں کو لال جوڑے میں ملبوس بہت خوش اور صحت مند پایا۔ چاروں معصوم بچیوں نے بھی یقین کرلیا۔
    دن گزرتے رہے۔ گھر میں یا تو ڈیڈی تھے یا دادی، جی بالکل ! شروع ہی سے رشید میاں کو بچیاں ڈیڈی کہہ کر ہی مخاطب کیا کرتی تھیں ۔ وقت جوں جوں گزر رہا تھا ، بچیوں میں خود کو ڈھکنے کا شعور بھی اُجاگر ہورہا تھا۔ خاص طور پر شگفتہ بی بی تو شرم و حیا کا ایسا پیکر تھیں کہ رات سوتے وقت بھی ، مجال ہے جو اُن کا دوپٹہ سر سے سرک جائے ۔ دوسری طرف ثریا نے ماضی کی تلخیاں بھلا کر دوستی کا ہاتھ بڑھانا چاہا او ر بن ماں کی بچیوں سے پیار جتانے کی غرض سے اپنے بچوں کو ان کے گھر چھوڑنا شروع کردیا۔بیٹے کی محبت کے ہاتھوں مجبور دادی نے بھی ثریا کی معافی منظور کرلی۔ ویسے بھی دادی کو کچھ کم دکھائی دینے لگا تھا وہ یہ بھی نہ جان سکیں کہ دشمن تاک لگائے بیٹھا ہے۔
    میل جول اور پیار پروان چڑھتا رہا ،یوں ایک دن یہ تمام بچے پکنک منانے کی غرض سے شالامار باغ گئے، جہاں خاص طور سے چچی جان یعنی ثریا بانو نے بچوں کے لیے بریانی بنا کر بھیجی تھی۔ خدا کی پناہ بریانی کھاتے کھاتے سب کے کھانے میںبال نکلنا شروع ہوگئے اور دیکھتے ہی دیکھتے تمام بچوں کے بیچ ایسی لڑائی ہوئی کہ اینٹ کتے کا ویر۔ بس اگلے ہی دن شگفتہ ناز کو تیز بخار چڑھا اور اُنہوں نے بستر سنبھال لیا ۔ میٹرک کا امتحان سر پر کھڑا تھا ،تپتے بخار میں چھوٹی بہنوں شمع اور بلقیس نے پکڑ پکڑ کر بڑی باجی کو پرچے دلوائے ،بڑی مشکل ہی سے سیکنڈ ڈویژن تک ہی بات بن پائی ۔ جس پر رشید میاں نے کہا کہ میں اتنے کم نمبروں سے پاس ہونے پر کالج میں داخلہ لے کر نہیں دے سکتا ۔ پڑھائی بند کر کے گھر بیٹھو اور یوں چاروں بچیوں کی آگے پڑھنے کی خواہش ادھوری رہ گئی۔ شگفتہ بی بی کا بخار ٹائیفائیڈ میں تبدیل ہوچکا تھا اور نظر بھی کافی حد تک گر گئی۔ ایک دن خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ دادی جان بھی چل بسیں ، بس پھر کیا تھا شگفتہ ناز ہی اب پورے گھر کی بڑی باجی بن کر رہ گئیں ۔گھر والوں کے علاوہ محلے دار رشتہ دار، عزیز و اقارب سب اُنہیں بڑی باجی کے نام سے پکارنے لگے ۔ شمع اور بلقیس بھی جوان ہونے لگی تھیں ۔رشید میاں اب دوسروں کے کتب خانوں میں پارٹ ٹائم نوکری کرتے تھے اس لیے حالات کافی تنگی کا شکار ہونے لگے بھائی کوئی تھا نہیں جو بڑھاپے کا سہارا بنتا ،بس یوں سمجھیئے کہ صورتِ حال کافی گھمبیرتھی۔ کبھی کوئی خالہ چھٹیوں میں باقی بہنوں کو اپنے ساتھ ملتان لے جاتی ،تو کبھی کوئی پھوپھی اپنے ساتھ کراچی گھمانے۔ سیرسپاٹا تو صرف ایک بہانہ تھا اصل مقصد تو اپنے اپنے گھروں میں مفت کام کروانا۔ رشید میاں سیدھے سادھے انسان تھے ، جو رشتہ داروں نے جھوٹ سچ لگایا ، مان لیا اور بچیوں کی کیا مجال کہ وہ بڑوں کے آگے چوں بھی کرجائیں۔
    کہتے ہیں کہ بڑی بہن ماں کی جگہ ہوتی ہے، یہی سوچ شایدشگفتہ ناز کے ذہن میں بھی پروان چڑھ رہی تھی ۔ اپنی بیماری سے اُٹھتے ہی اُنہوں نے کسی دوا بنانے والی کمپنی میں نوکری کرلی۔ گھر میں کچھ پیسے آنے شروع ہوئے تو بڑی باجی کی عزت و عافیت بے پناہ بڑھ گئی اور ساتھ ہی ساتھ ایک کالے موٹے چشمے نے اُن کی آنکھوں پر بیٹھ کر اُن کے رعب و دبدبے میں بھی اضافہ کردیا۔ اب جو بھی رشتہ بڑی باجی کے لیے آتا وہ منجھلی شہناز کو پسند کر جاتا ،لیکن وہ بھی رشتہ سے صاف انکار کردیتی۔عمر بڑھتی جارہی تھی اور رشتے بھاگے جارہے تھے ۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں پھوپھی جان ، شہناز کو اپنے ہمراہ کراچی لے گئیں۔تین مہینے بعد، پھوپھا جان نے رشید صاحب کو شہناز کے نکاح کی اطلاع فون پر دی، تو سنا ہے کہ رشیدمیاں دیواروں سے ٹکریں مار مار کر رو ئے ۔گھر میں جیسے کوئی مر گیا ہو۔ ظاہر ہے ایک شریف آدمی کے لیے یہ مرنے ہی کا مقام ہے جس کی جوان بیٹی نے اُس کی مرضی کے بغیر شادی کرلی ہو۔ میاں صاحب نے صاف صاف کہہ دیا کہ شہناز سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے، میری آج سے صرف تین ہی بیٹیاں ہیں۔
    اب شگفتہ بی بی کی سنو، اِس صدمے کا اُن پر ایسا اثر ہوا کہ اُنہوں نے چھوٹی بہنوں پر کڑی نظر رکھنی شروع کردی۔ اُن کا باہر آنا جانا روک دیا گیا ۔ سہیلی سے ملنے کے لیے بھی ایک مقررہ وقت دیا جاتا تھا۔ میٹرک کا امتحان پاس کرتے ہی ، امی جان کے دوردراز کے عزیز وں کی طرف سے ، عباد میاں کا رشتہ ، شمع کے لیے بڑی چاہت سے مانگا گیا۔





    عباد میاں تھے تو اُس دور کے بڑے گورے چٹے ، قد آور، میٹرک پاس اور نو بہنوں کے اکلوتے بھائی۔ ان کے ابا پوسٹ آفس میں ملازم ہوا کرتے تھے اِسی بنیاد پر عباد میاں کو بھی وہیں ملازمتمل گئی تھی۔ لڑکا برسرِ روزگار، دیکھا بھالا خاندان اور کیا چاہیے تھا؟ بڑی باجی نے کچھ بچت کی کچھ اُدھار پکڑا اور شمع کو گھر سے خوشی خوشی رخصت کر دیا گیا۔
    اب رہ گئی تو صرف بلقیس ، جو تمام بہنوں میں سب سے خوبصورت تھی ، یوں کہ جیسے آسمان سے کوئی حور اُتری ہو لمبا قد، گوری رنگت، نیلی آنکھیں ، سنہرے بال ، لگتا ہی نہیں تھا کہ یہ ایک ہندوستانی خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ ہلکی سی سرخی ہی لگاتی تو کسی لندن کی گوری میم سے کم نہ دکھتی۔ بڑی باجی نے سمجھ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے لگے ہاتھ اپنے ہی رشتہ داروں کے ہاں ایک نہایت شریف خاندان میں ، بلقیس کی بھی منگنی کردی۔ ابھی اس منگنی کو کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ کراچی سے شہناز اور پرویز میاں ، میرا مطلب ہے کہ ان کے سرتاج کی لاہور واپسی کی اطلاع دی گئی ۔ شگفتہ ناز بہن کی محبت میں اپنے ڈیڈی اور بلقیس کو ساتھ لیے لاہور ریلوے اسٹیشن پہنچ گئیں ۔ سامنے سے سات ماہ کی حاملہ شہناز بی بی ، اپنے سامان اور میاں کے ساتھ چلی آئیں اور آتے ہی اپنے ڈیڈی کے قدموں میں گر گئیں ۔ بھلا آدمی کیا کرتا ؟ باپ نے بیٹی اور داماد کو گلے لگا لیا ۔ چوں کہ پرویز میاں دادی کی ایک سہیلی کے بیٹے تھے ، جو کراچی سے لاہور امتحانات کی غرض سے اکثر رشید میاں کے یہاں رک جایا کرتے تھے۔ یوں وہ ان کے لیے اجنبی نہ تھے۔آخرکار ان سب نے کفایت شعاری کی غرض سے ایک ہی چھت کے نیچے اکٹھے ، خوش گوار زندگی جینے کا فیصلہ کیا ۔ شاید شگفتہ ناز کو اپنے والد صاحب کی عمر کے احساس کے ساتھ پنجاب کے حالات کا بھی بہ خوبی علم تھا کہ اس معاشرے میں اکیلی عورت کا رہنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔ سو باجی نے بھی پرویز بھائی کو نا اُمید نہیں کیا اور اندرونِ شہر ایک ایسا گھر لیا گیا جس کا کرایہ بڑی باجی اور پرویز میاں میں برابر تقسیم ہونے لگا۔
    اب سنیے ذرا ، پرویز میاں کی ،شروع کے دنوں میں تو شہناز پر جان نچھاور کرتے تھے، لیکن جیسے ہی تین بچوں کی قطار لگی ، تو جناب کے تیور ہی بدل گئے ۔ ہر وقت گھر میں بچوں پر سختی ، میاں بیوی کے جھگڑے ، چیخ پکار اپنے رشتہ داروں کو کراچی سے بلا کر گھر والوں سے ان کی سیوا کروانا۔ یہ باتیں شگفتہ ناز کو کافی حد تک ناگوار گزرنے لگیں ۔ لیکن ہاں ایک بات تو پرویز میاں کی بھی ماننی پڑے گی کہ تھے تو وہ شگفتہ ناز سے عمر میں کچھ بڑے، لیکن ان کی کیا مجال جو بڑی باجی کے سامنے چوں بھی کرجائیں۔ بلاشبہ اُن کا چیخنا چلانا صرف اپنے خاندان تک ہی محدود ہوتا، تاکہ گھر کا اکلوتا مرد سربراہ ہونے کی حیثیت سے کچھ تو دہشت قائم رکھی جاسکے۔ بڑی باجی جب بھی ان میاں بیوی کے جھگڑے کے بعد اپنے ڈیڈی کو لے کر الگ گھر میں رہنے کا مطالبہ کرتیں ، تو فوری طور پر ان سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ لیا کرتے تھے ۔ باجی بھی معاف کرکے سوچتیں کہ نجانے یہ کھٹکھٹا کب تک چلے گا ؟ ابھی حالات کچھ کارسازگار نہ ہوئے کہ تیسرے نمبر کی شمع کو سسرال والے ان کے یہاں یہ کہہ کر چھوڑ گئے کہ بھیا!علاج کرواؤ اپنی بہن کا، اس پر آسیب ہے۔ چلو جی ، بہن کا خرچہ بھی آن پڑا ، لیکن بڑی باجی نے اُف تک نہ کی اور بہن کے دردِ شقیقہ کے ہر طرح کے حکیمی اور روحانی علاج کروا ڈالے ۔ دو تین مہینے کی مسلسل تگ ودو سے جب شمع بھلی چنگی ہوئی، سسرال والے لینے آگئے ۔
    اب شگفتہ کی زندگی ذرا پٹڑی پر آرہی تھی۔ ملازمت کے دوران ، زاہدہ نامی بیوہ خاتون سے دوستی ہوئی جو ایک عدد جوان بیٹے کی ماں بھی تھی ۔ رازونیاز بانٹے گئے اور زاہدہ بیگم ان کے گھریلو حالات سے باخبر رہنے لگیں ۔ انہی دنوں بلقیس کے منگیتر کو پولیس بے بنیاد غلط فہمی کے باعث ، گرفتار کرکے لے گئی اور اس بے چارے کو پوری رات تھانے میں گزارنی پڑی ۔ معافی تلافی سے بات آئی گئی ہوگئی ، لیکن جی کہاں، پرویز میاں کو تو جیسے موقع مل گیا بڑی باجی کو کچوکے دینے کا۔ اکثر بلند آواز کہہ دیا کرتے کہ ”جاؤ جاؤ ، بلقیس کا نکاح جیل میں ہی پڑھوانا جاکر۔” اُف! بڑی باجی کو بہت غصہ آتا کہ کیا ہمارے ایسے برے دن آگئے ہیں ،جو پرویز میاں کے فضول طعنے بھی سنیں۔ شگفتہ ناز نے جذبات میں اکر منگنی ہی توڑ ڈالی۔ بلقیس تو ویسے ہی شہناز اور پرویز میاں کے بچوں کو پالتے پوستے تھک چکی تھی۔ بڑی باجی کے اس فیصلے سے بلقیس پھوٹ پھوٹ کر روئی کہ نہ جانے اس قید سے وہ کب آزاد ہوگی؟ شاید خدا نے بلقیس کی پکار سُن لی اور اگلے ہی دن ایک درمیانے قدکاٹھ ، گندمی رنگ اور غلافی آنکھوں والا لڑکا ان کے یہاں پرویز صاحب کا دوست بن کر آیا۔بعد میں پتا چلا وہ ان کے آفس میں ہی کام کرتا ہے اور کسی اچھی اور سلجھی لڑکی سے بیاہ کرنا چاہتا ہے۔ اب لگے پرویز میاں، کلیم کے لیے لڑکی ڈھونڈنے، جھٹ سے بلقیس کا خیال آیا اور بڑی باجی اور ڈیڈی کے سامنے رشتہ ڈال دیا۔





    ڈیڈی جی کا تو گھر میں اب عمل دخل کچھ خاص نہیں رہ گیا تھا ۔ سوچنا سمجھنا تو بہنوں کو تھا۔ لو جی چار گواہوں کی موجودگیمیں نکاح ہوا اور سادگی سے ایسے رخصتی کی گئی جیسے بیوا اور رنڈوے کی شادی ہو، یوں بلقیس بھی اپنے گھر کی ہوئی۔ شادی کے سال بعد ہی بلقیس بیگم نے ایک بیٹی کو جنم دیا جب کہ شمع کے یہاں بھی ، شہناز کی طرح تین بچوں کی ولادت ہوچکی تھی ۔ اب تمام بہنوں نے تہیہ کیا کہ کیوں نہ اب اپنی بڑی بہن کا گھر بسایا جائے اور ہر ایک نے اپنی اپنی حیثیت کے مطابق شگفتہ ناز کے لیے رشتہ کی مہم شروع کر ڈالی۔ چوں کہ پرویز اور کلیم میاں دونوں ہی سرکاری ملازم تھے ، تاہم وہ بھی بڑی باجی کے لیے نت نئے رشتوں سے اپنی اپنی بیویوں کو آگاہ کرتے رہتے ، لیکن شگفتہ ناز ان کے بتائے ہوئے رشتوں پر کبھی آمادہ نہ ہوتیں ۔ بھئی ان کی اپنی بہنوں کو کون سا ایسا سکھ مل گیا تھا شادی کرکے جو شگفتہ ناز کو بھی مل جاتا۔
    ایک دن اچانک شہناز نے شمع اور بلقیس کو فون پر بڑی باجی کی بات پکی ہونے کی اطلاع دی اور کہا کہ اس ہفتے ہم نے شگفتہ ناز کے نکاح کا پروگرام رکھا ہے تو ذرا سج دھج کر آنا ۔ دونوں بہنوں کو بڑا تعجب ہوا کہ اچانک سے بڑی باجی رشتہ کے لیے راضی کیسے ہو گئیں ؟بہرحال عین نکاح کے موقع پر جب دُلہا میاں کا چہرہ مبارک سامنے آیا ، تو وہ ساٹھ سالہ رنڈوا بڈھا نکلا ۔ سنا ہے بی بی زاہدہ نے شگفتہ ناز کو بہلا پھسلا کر اس رشتے کے لیے آمادہ کیا تھا ، کہ عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے اب کم عمر لڑکا تو ملنے سے رہا، جس پر پرویز میاں اور اُن کی بیگم نے بھی چھان بین کرکے اچھی طرح تسلی کرلی تھی یا یوں کہیے کہ وہ دونوں بھی بڑی باجی کے فریضے سے جلد از جلد سبک دوش ہونا چاہتے تھے۔ اس لیے شگفتہ ناز کو بغیر تصویر دکھائے پوری تسلی دیتے رہے، لیکن بلقیس اور شمع کو دُلہا میاں کی عمر من ہی من کھٹکے جائے کہ ہماری باجی کی تو پسند ہی وحید مراد جیسا، ہردل عزیز چاکلیٹی ہیرو ہے وہ کیسے اس بے ڈھنگے سے رشتے کے لیے ہاں کرسکتی ہیں۔ نکاح ہونے تک زاہدہ بی بی نے بہنوں کو دلہن کے کمرے میں جانے سے روکے رکھا کہ کہیں اس کا اپنا بھانڈا نہ پھوٹ جائے۔
    فوری رخصتی کے اعلان پر ، جب شگفتہ ناز دُلہا میاں کا چہرہ دیکھا ،تو بے ساختہ خوف سے رو رو کر برا حال کرلیا ،لیکن نکاح ہوچکا تھا مگر، رخصتی تو ہونی ہی تھی۔وہ کسی بھی صورت اس بڈھے کے ساتھ جانا نہیں چاہتی تھیں تاہم اپنے ڈیڈی کی عزت بچانے کے لیے اُنہوں نے گھر سے جانا ہی بہتر سمجھا۔
    اگلے ہی دن جب بہنیں، دل بھاری کرکے بڑے میاں کی طرف ناشتا لے کر پہنچیں ، تو شگفتہ ناز کو اسی حالت میں بیٹھے پایا ،جیسے رات سیج پر چھوڑ کر گئے تھے ۔ معلوم ہوا کہ دُلہا میاں نے تو ساری رات وظائف پڑھنے میں گزار دی اور دلہن کے پاس بھی نہ پھٹکے۔ اب تو شگفتہ ناز نے ٹھان لی تھی کہ اس موئے بڈھے کے ساتھ نہیں رہنا ۔ واپس گھر جاکر بہنوں نے خلع کا نوٹس بھجوا دیا کہ یہ شادی دھوکے کی بنیاد پر ہوئی اور شگفتہ ناز کو تو کیا کسی کو بھی دُلہا کی اصلی عمر کا معلوم نہ تھا۔بڑی تگ و دو کے بعد چھوٹے بہنویوں نے مل کر شگفتہ ناز کی اس بڑے میاں سے جان چھڑائی۔
    بس پھر کیا تھا، شگفتہ ناز کا دل تو جیسے شادی کے نام سے ہی اُچاٹ ہوگیا، اگر کوئی بھول کر بھی ان کے سامنے کسی رشتے کا ذکر کردیتا، تووہ خود کو کمرے میں بند کرکے رونا شروع کردیتیں ۔وقت گزرتا رہا اور اپنی مایوس کن داستان شگفتہ ناز کے چہرے پر ، گہری لکیروں کی صورت چھوڑتاچلا گیا۔ دوسری اور آخری ملازمت انہیں گلبرگ کی نامی گرامی بوتیک میں ملی۔ ان کی زندگی کا محور صرف اپنا کام اورا سٹاف کے لوگ تھے۔مالکن ایک اچھی عورت تھی جوشگفتہ کے لیے ہمدردی کے جذبات بھی رکھنے لگی تھی ۔ سنیاروں کے خاندان سے تعلق ہونے کی بنا پر شگفتہ ناز کو سونے اور ہیرے جواہرات کا علم تھا اس لیے مالکن نے ترقی کے طور پر انہیں جیولری سیکشن کا انچارج بنا ڈالا۔
    ڈیڈی کی بھی کافی عمر ہوگئی تھی ،لیکن شگفتہ ناز کا فریضہ ابھی تک ان کے کندھوں پر تھا۔ کلیم میاںخاصے ہوشیار اور رنگین مزاج شخص تھے اکثر عورتوں کی محفل میں بیٹھ کر ، اپنی سریلی آواز سے اپنا گرویدہ بنانے کا فن خوب جانتے تھے۔ صرف دو یا تین سال ہی بیچاری بلقیس نے سکون کے گزارے ہوں گے، کہ بھائی صاحب کو کسی نے فلم بناکر بہ طور ہیرو آنے کا جھانسا دے ڈالا۔ تبھی کلیم میاں نے بڑی باجی اور ڈیڈی کو اپنے گھر رکھنے کااصرار شروع کردیا۔ بھئی فلمی لوگ رات دیر شوٹنگ میں جو مصروف رہتے ہیں۔ نہ دن کا پتا نہ ہی رات کی خبر، تو پیچھے سے کوئی تو گھر اور بیوی بچوں کی دیکھ بھال کے لیے ہونا چاہیے یا نہیں۔ چل پڑیں بیچاری بڑی باجی دوسری بہن کے گھر کی نگہبان بن کر۔
    ہر عورت کو اپنے شوہر سے وقت درکار ہوتا ہے، لیکن کلیم میاں نے آنکھیں ماتھے پر رکھ کر صاف لفظوں میں اپنی بیگم سے کہہ دیا تھا کہ میں صرف تمہیں پیسہ دے سکتا ہوں، لیکن وقت نہیں، یوں جب بھی بلقیس کو اپنے شوہر کی بے وفائی پر غصہ آتا، بیچاری شگفتہ ناز کی شامت آتی کہ” باجی تم نے میری شادی اس جیسے فلمی اور آوارہ آدمی سے کیوں کروائی؟ بے چاری بڑی باجی خاموشی سے ساری باتیں سنتی رہتیں۔
    اب تو سب بہن بہنویوں نے یہی وتیرہ بنالیا تھا کہ کسی کو بھی اگر کیئر ٹیکر کی ضرورت ہوتی ، تو بس حکم صادر ہوجاتا کہ بڑی باجی سے کہو کہ وہ اپنے کام سے سیدھا ہماری طرف آجائیں۔دنیا کا یہی دستور ہے ، دبنے والے کو اور دبائے جاؤ، لیکن ہاں ایک بات تو ماننی پڑے گی۔ تینوں بہنویوں کے دلوں میںبڑی باجی کے لیے عزت میں بہ تدریج اضافہ ہوتا چلا جارہا تھا اور اپنے بچوں کو بھی شروع سے انہیں بڑی آنٹی کہنے کی عادت ڈلوادی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شگفتہ ناز ، بڑی باجی سے بڑی آنٹی تو بن گئیں، بس ایک شادی ہی تھی جونہ ہوسکی۔





    بلقیس کے سسرال والے ذرا دیہاتی قسم کے لوگ تھے۔ جونہی کلیم میاں کے گھر میں ان کا عمل دخل شروع ہوا ، شگفتہناز کو خود پر زندگی تنگ محسوس ہوتی نظر آئی۔کبھی کلیم میاں کی چھوٹی بہن ان کے بارے میں اوٹ پٹانگ بکواس کرتی، تو کبھی بچوں کے ساتھ مل کر بیمار نانا کی نقل اتارتی رہتی۔ جیسے ہی یہ تمام حرکات و سکنات شگفتہ ناز کو معیوب لگنا شروع ہوئیں انہوں نے اپنے باپ کی عزت بچانے کی خاطر بہنوں کے در پر رہنے کے بہ جائے اپنا الگ مکان لینے کا فیصلہ کیا۔ کمیٹیوں کے پیسے جوڑ جوڑ انہوں نے شہناز اور پرویز میاں کے علاقے ہیمیں ، ایک چھوٹے سے گھر کے دو کمرے کرائے پر لے لیے تاکہ دونوں باپ بیٹی، بہنوں کی سسرالیوں کے طعنوں سے دور عزت و سکون کے ساتھ باقی زندگی گزار سکیں۔
    اب شمع بیگم کی سنیے، نو نندوں کا ساتھ اور پانچ بچوں کو جنم دے کر بے چاری ہڈیوں کا پنجر بن گئی۔ آئے دن بے چاری کے دردِ شقیقہ کا مسئلہ ناسور بنتا گیا اور الزام آیا بڑی باجی پر کہ ہمیں بیمار لڑکی تھما دی۔ ارے ان جاہلوں کو کون بتائے کہ کسی انسان کو تم اچھا کھانے پینے کو نہ دو ، اوپر سے ،کام لو جانوروں کی طرح تووہ بے چارہ تو گیا نا اپنی جان سے۔ نہیں جی !بس جیسے ہی شمع بی کا دوپٹا بندھا سر پر، شگفتہ ناز کو آفس فون کیا جاتا کہ آو ٔ اور سنبھالو اپنی بہن کو۔
    خیر یہ تو ہر ہفتہ کی خواری تھی۔ انہی دنوں فلمسٹار وحید مراد کا انتقال ہوگیا۔ سنا ہے یہ دوسری مرتبہ شگفتہ ناز کسی غیر کے لیے بے انتہا روئی تھی، پہلی مرتبہ وہ ذوالفقار علی بھٹو کے مرنے پر بھی خوب روئی تھیں۔ نہ جانے کیسے کوئی کسی اجنبی کے لیے اتنا رو سکتا ہے؟ یہی تو بات ہے نا، جو انسان خود میں دردچھپائے ہو ، وہی کسی دوسرے کا غم بھی سمجھ سکتا ہے۔ اس پھیکی بے رنگ زندگی میں ایک خوش گوار احساس ، کلثوم کی شکل میں بڑی آنٹی اور ان کی بہنوں کی زندگی میں آیا۔ کلثوم بھی انہی کی بوتیک پر کام کرنے والی سیلز گرلز میں سے ایک تھی ، لیکن اپنی خوبصورتی اور چالاکی کو کیش کرواکر ، کچھ ہی عرصہ میں اپنی بوتیک کھول بیٹھی ۔ اس بیچاری نے سیدھی سادھی بڑی آنٹی میں ، ایک اچھی سہیلی ہونے کے ناطے ، زمانے کے حساب سے کچھ تبدیلیاں لانے کی بھی کوشش کی لیکن ناکام رہی۔
    بہنوں کے حالات بہتر ہوئے تو ان کے پاس گاڑیاں آگئیں، پرصبح سویرے ایک لمبی سی چادر اوڑھے ، آنکھوں پر عینک لگائے خاموشی سے چھے نمبر وین پر لبرٹی کے اسٹاپ پر اُترنا اور وہاں سے پیدل چل کر بوتیک جانا ،بڑی آنٹی کا معمول بن چکا تھا ۔ بس اتنا ہی آسرا کافی تھا کہ جس بہن کے درپر ہوتیں، گاڑی میں بس اسٹاپ تک رسائی ممکن ہو جاتی۔اسی معمول کو دیکھتے دیکھتے بہنوں کے بچے بھی جوان ہوتے گئے اور یہ کھٹکھٹا اسی رفتار سے آگے گھسٹتا چلا گیا۔
    ایک دن کلیم میاں نے باجی کو فون پر بلقیس کی بیماری کی اطلاع دی ۔
    ” ہائے ہائے!تین بچوں کی ماں کو ایسا کیا ہوگیا جو کلیم میاں نے فوری طور پر گھر جانے کا حکم دے ڈالا؟” یہ سوچتے ہی بڑی آنٹی نے کام چھوڑ اپنی بہن کے گھر کا رُخ کیا۔ ماجرا یہ نکلا کہ بلقیس کو اچانک بیٹھے بیٹھے گٹھیا کا مرض لاحق ہو گیاتھا۔ خدا کی پنا ہ !وہ تو اٹھنے جوگی بھی نہ ہے ، اپنا گھر کیسے سنبھالے گی؟یہ خیال آتے ہی ، انہوں نے شہناز بی بی کو اپنے ڈیڈی کا نگہبان مقرر کیا اور بلقیس کے گھراس کی اور اس کے بچوں کی خدمت کے لیے رہنے لگی۔سچ بات تو یہ تھی کہ لاہور کے تمام مہنگے ترین ڈاکٹروں اور حکیموں نے بلقیس کے علاج میں کوئی کسر نہ چھوڑی ، لیکن آرام ہے کہ آتا ہی نہیں ۔اوپر سے بلقیس بیگم تھی بھی کچھ لڑاکا اور وہمی طبیعت کی مالک۔ وہ اسی بات پر اَڑ گئی کہ ہو نہ ہو کلیم کے گھر والوں نے ہی ان پر کوئی کالا علم کروا دیا ہے ، جو توڑ نہ ہونے تک قائم رہے گا۔ اب بھلا بتاو ٔ بیچاری بڑی آنٹی ، بہنوئی کی مانے تو پھنسے اور بہن کی مانے تو بُری بنے۔ سیاست اور چالاکی سے مبرّا یہ ہستی جائے تو کہاں ؟ بہنوئی کے کہنے پر بلقیس کو کبھی ڈاکٹر کے یہاں تو کبھی کسی بزرگ کی درگاہ پر۔ آخرکار مسلسل چھے سات مہینوں کی تگ و دو سے بیماری دور ہو تو گئی ، لیکن بلقیس کے مطابق اسے شفا کسی نیک پیر صاحب کے مزار پر حاصل ہوئی، جب کہ کلیم میاں کا ماننا تھا کہ پیسہ پانی کی طرح جو بہایا تھا علاج پر ، آرام تو یقینی آنا تھا۔ خیر!جان چھٹی تو لاکھوں پائے ، بڑی بہن کا ناطقہ بند کرکے اب دونوں میاں بیوی ساری زندگی چور پولیس کھیلتے رہو۔
    شادی تو بہنوں سے کروائی نہ گئی لیکن خدمتیں خوب کروا ڈالیں ۔ دیکھنے والے تو یہی کہہ دیا کرتے ”کہ دیکھو بیچاری اکیلی ہے ۔ نہ شوہرہے ، نہ بچے، بس ایک واحد ڈیڈی ہیں نجانے کب اُن کا بھی بلاوا آجائے۔ بیچاری شگفتہ تو اکیلی رہ جائے گی۔ ”لیکن کوئی یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ شادی کرنا ہی نہیں چاہتی اور کرتی بھی کیوں…؟ طرح طرح کے بہنویوں کے گھر گرہستی چلانے کی قابلیت کو دیکھ شاید اُن کا شادی نہ کرنے کا فیصلہ یک دم پختہ اور اَٹل ہوچکا تھا۔ اکثر کہہ دیا کرتیں ” شوہر حقیقت میں ایک دوغلا کردار ہے، جو صرف ایک مخصوص ضرورت کے تحت ، اپنی عورت کو ساتویں آسمان پر چڑھا دیتا ہے اور ضرورت پوری ہوجانے پر ایسے گراتا ہے کہ وہ بیچاری زمین کے بجائے کھائی میں گرتی ہے۔ اس لیے میں تو باز آئی ایسی شادی سے۔”