Tag: Urdu fiction

  • ورثہ — ارم سرفراز

    مریم نے آفس کی کھڑکی سے باہر جھانکا ۔ صبح کی تیز بارش، اب ہلکی سی پھوار کی شکل دھار چکی تھی۔ امریکا کے شہر سیاٹل میں سارا سال بارش کا نہ ہونا عجیب بات ہوتی تھی ، اس کا ہونا نہیں ۔ مریم کا گھر آفس سے تھوڑی ہی دور تھا اور وہ اکثر پیدل ہی آ جاتی تھی ۔ اس نے پرس اٹھایا، چھتری کھولی اور باہر نکل آئی ۔ بہار کی آمد تھی اور درختوں کی ویران شاخیں، نئے پتوں سے بھرنے لگی تھیں ۔ مستقل بارش نے پتوں اور پھولوں کی رنگینی کو مزید تازہ کر دیا تھا اور ہوا میں مٹی کی سوندھی خوشبو رچی ہوئی تھی۔
    مریم کے گھر کا راستہ چھوٹے سے شاپنگ ایریا سے گزرتا تھا جس میں موجود دکان دار اب اسے پہچانتے تھے اور اکثر سامنا ہونے پر خوش دلی سے ’’ہیلو‘‘ بھی کرتے تھے۔ اپنے اونچے قد، چمکیلے گہرے بھورے بال اور کالی آنکھوں کے ساتھ وہ چالیس سال کی عمر میں بھی خاصی دلکش تھی ۔ امریکا میں ہی پلنے بڑھنے کی بہ دولت اس کے طور طریقے بھی وہاں کے گورے باشندوں کی طرح ہی تھے ۔ان لوگوں کو بھی اس میں الگ صرف اس کا نام اور اس کی مشرقی نین نقش نظر آتے تھے یا پھر اس کا مسلمان ہونا جس کا ذکر ایک انتہائی نازک موضوع ہونے کی بنا پر وہ اپنی گفت گو میں شاذ و نادر ہی لاتے تھے۔ مذہب کے معاملے میں مریم نے امریکیوں کو دو طرح کا پایا تھا ۔ یا تو انتہائی منہ پھٹ اور بد لحاظ یا پھر انتہائی تمیزدار اور ، شعوری یا لاشعوری طور پر دامن بچاتے ہوئے ۔ اس کا پالا دونوں سے ہی پڑتا تھا اور دونوں میں دوسری قسم ہی ہر لحاظ سے غنیمت تھی ۔
    مریم کا شوہر علی بھی وہیں کا پیدائشی مسلمان تھا۔ ان کی شادی کو سولہ سال ہو چکے تھے۔ ایک ہی کلچر میں پلنے بڑھنے کی بدولت ان میں کافی ذہنی مطابقت تھی۔ بحث اور چھوٹی موٹی لڑائیاں اتنی ہی تھیں جتنی کسی بھی شادی شدہ گھر میں ہوتی تھیں ۔ لیکن ہر بحث اور لڑائی خوش اسلوبی سے نمٹ جاتی تھی ۔ شاید اس کی وجہ مریم کا اس بات پر یقین تھا کہ شادی کی کام یابی کا انحصار کم توقعات اور زیادہ ہم آہنگی کے اصول پر ہوتا ہے۔ وہ فطرتاً ہی صلح جو تھی اور یہ وہ خاصیت تھی جو وہاں پلی بڑھی پاکستانی عورتوں میں نہ ہونے کے برابر تھی ۔ ان کے دو بچے رائنا اور عمر ان کی فیملی کو مکمل کرتے تھے۔
    ادھر ادھر کی سوچوں میں بھٹکتا ہوا اس کا ذہن اپنے اور علی کے درمیان ہونے والی حالیہ بحث پر جا کر اٹک گیا جس کا حل اس کی صلح جوئی بھی نہیں نکال پا رہی تھی ۔ مسئلہ علی کا اس کی اس adoption agency میں نوکری کا تھا جس میں وہ پچھلے چار سال سے کام کر رہی تھی ۔ اول تو وہ یہ پارٹ ٹائم نوکری اور وہ بھی ہفتے میں تین دن پیسے کے لیے نہیں بلکہ وقت کے ایک مثبت مصرف کی خاطر کر رہی تھی ۔ اس کے باوجود بھی علی کی ناپسندیدگی اسے کچھ بھا نہیں رہی تھی ۔ علی کو اس کے نوکری کرنے پر کوئی اعتراض نہیں تھا، صرف اس جگہ پر تھا جہاں وہ نوکری کر رہی تھی ۔ مریم بار بار اس نوکری کی سہولتیں گنواتی کہ وہ گھر سے قریب ہے، پارٹ ٹائم ہے اور اسے ایک حقیقی خدمت ِخلق کا موقع دیتی ہے۔ گو کہ علی کی اس خاص نوکری سے ناگواری کے پس ِپہلو سے وہ آگاہ تھی لیکن اس کے نزدیک اس وجہ سے علی کی اس نوکری کے لیے حمایت میں اضافہ ہونا چاہیے تھا نہ کہ ناگواری میں ۔
    اس کے گھر پہنچنے تک ہلکی سی پھوار بھی مکمل طور پر رک چکی تھی ۔ لال اینٹوں ، چوڑی فرنچ کھڑکیوں، اور وسیع فرنٹ لان والا اس کا گھر سٹریٹ پر دوسرے گھروں سے ملتا جلتا تھا ۔ اینٹوں کی سرخی پر چڑھتی ہری بیلوں اور جگہ جگہ موجود سفید اور پیلے پھولوں نے گھر کی خوب صورتی میں مزید اضافہ کر دیا تھا ۔ ڈرائیو وے میں علی کی گاڑی کھڑی تھی۔ ایک انجینئرنگ فرم میں پارٹنر ہونے کی وجہ سے اسے اکثر جلدی گھر آ جانے اور گھر سے کام کرنے کی آسائش تھی ۔
    مریم کچن کی دروازے سے اندر آئی تو وہ کچن کے اندر کھڑا فون پر کسی دوست سے بات کر رہا تھا ۔
    ’’ہاں ہاں! صنم کو بھی ضرور ساتھ لانا ۔ویسے بھی بیویوں کے بغیر کہیں جاؤ تو انہیں شک کی شدید تکلیف ہو جاتی ہے۔” علی نے مریم کو اندر آتے دیکھ لیا تھا اور اپنے دوست کو یہ آخری ہدایت غالباً اسے ہی چھیڑنے کے لیے دی گئی تھی۔ علی کے جوابی قہقہہ سے صاف ظاہر تھا کہ دوسری طرف سے اس بات کا جواب بھی کچھ اُلٹا ہی آیا تھا۔
    ’’ہاں! مریم بھی ابھی ابھی آئی ہے ۔ ٹھیک ہے، پھر ایک گھنٹے میں ملتے ہیں۔‘‘علی نے فون بند کیا اور اس کی طرف مڑا ۔ لیکن اس کے کچھ بولنے سے پہلے ہی مریم نے ہاتھ اٹھا کر اسے روکا ۔




    ’’ٹھہرو! مجھے بوجھنے دو یہ کون ہے۔‘‘ اس نے سوچنے کی ایکٹنگ کی۔
    ’’رضوان تھا اور ایک گھنٹے میں صنم کے ساتھ آ رہا ہے؟‘‘علی زور سے ہنس پڑا ۔
    ’’یہ تو تم سب سن ہی چکی تھی۔تمہارا کیا کمال ہو؟اتم لوگ تو ویسے ہی ہم لوگوں کے ہر فون پر کان لگا کر بیٹھی ہوتی ہو۔‘‘ اس نے اسے چھیڑا ۔
    ’’جیسے تم لوگ نہیں بیٹھے ہوتے۔‘‘مریم نے بھی فٹ سے جملہ داغا۔
    ’’ہاں بھئی ! میں ہر وقت بھول جاتا ہوں کہ کچھ عورتیں خوب صورت ہونے کے ساتھ ساتھ عقل مند بھی ہوتی ہیں۔ ان سے آپ کوئی بحث نہیں جیت سکتے ۔‘‘مریم اس کی چاپلوسی پر مسکرا دی ۔
    ’’کم خوب صورت تو آپ بھی نہیں لیکن چھوڑو یہ سب باتیں ۔ یہ بتاؤ کہ یہ لوگ اچانک کیوں آرہے ہیں؟‘‘ وہ اور علی باتیں کرتے کرتے اپنے کشادہ فیملی روم میں آ چکے تھے۔
    ’’رضوان نے جو نئی جاب کی آفر قبول کی ہے، اسی کے بارے میں کچھ ڈسکس کرنا چاہ رہا ہے وہ۔‘‘ علی نے اپنی پسندیدہ آرام کرسی پر جگہ سنبھال لی تھی اور اب ٹی وی ریموٹ کے لیے نظریں دوڑا رہا تھا ۔
    ’’تم تھکی ہوئی تو نہیں ہو؟‘‘
    ’’نہیں تھکی! ہوئی تو نہیں ہوں۔‘‘ وہ بھی اسی کے پاس پڑے صوفے پر بیٹھ گئی ۔ پھر اچانک اسے کچھ خیال آیا۔‘‘
    ’’تم نے آج امی جی کو کال کی تھی؟‘‘ اس نے اپنی ماں کے بارے میں پوچھا۔
    ’’میں نے تو کال نہیں کی۔میرے خیال سے امی جی اور ابو دونوں اس وقت اتنا مزا کر رہے ہوں گے اور وہ تو میرا فون بھی نہیں اٹھائیں گے۔‘‘ وہ اپنی ہی بات پر ہنسا ، مریم بھی مُسکرا دی۔
    ان دنوں ان کے دونوں بچے، بارہ سالہ عمر اور چودہ سالہ رائنا اپنی سپرنگ بریک کی ایک ہفتے کی چھٹیاں گزارنے کے لیے اپنے نانا نانی، شازیہ اور نذیر عبید کے پاس لاس اینجلس گئے ہوئے تھے۔ یہ ان دونوں کی چھٹیوں کا معمول تھا اور دونوں پارٹیاں نہ صرف ان ملاقاتوں کی شدت سے منتظر رہتیں۔ بلکہ ان کو بھرپور طریقے سے انجوائے کرنے کے نت نئے طریقے بھی سوچ کر رکھتی تھیں۔ دو دن پہلے ہونے والی گفت گو میں بھی مریم کو اپنے اندازوں کے مطابق ہی معلومات ملی تھیں ۔ نانا اور نواسہ گھر کے پاس والی جھیل میں جی بھر کر مچھلیوں کا شکار کر رہے تھے جب کہ رائنا اپنی نانی کے ساتھ مال میں شاپنگ اور نئی موویز دیکھنے میں مشغول تھی ۔
    ’’ان لوگوں کے لیے کوئی خاص چیز بنانی ہے کیا؟‘‘ مریم کا اشارہ رضوان اور صنم کی طرف تھا ۔
    ’’نہیں! وہ لوگ کھانے پر کہیں انوائٹڈ ہیں اس لیے کھانا نہیں کھائیں گے ۔‘‘
    ’’ٹھیک ہے! میں چائے اور سموسے بنا دوں گی۔‘‘ علی نے صرف سر ہلانے پر اکتفا کیا ۔ اس نے اپنا من پسند سپورٹس چینل لگا لیا تھا ۔
    ’’تمہاری آفس کی پارٹی کیسی رہی؟‘‘ علی کو اچانک خیال آیا ۔ البتہ آنکھیں اس کی ابھی بھی ٹی وی پر ہی لگی ہوئی تھیں۔
    مریم کے آفس میں اس کی ایک کولیگ جاب چھوڑ جا رہی تھی اور اس کے لیے آفس والوں نے فیئرویل پارٹی کا انتظام کیا تھا۔
    ’’اچھی تھی پارٹی! الیسن کو اچھی فل ٹائم جاب مل گئی ہے ۔ خوش ہے وہ۔‘‘ لیکن مریم کا عام سا تبصرہ اس کے اپنے ہی گلے پڑ گیا۔ علی کو اچانک ان دونوں کی آپس کی وہ بحث یاد آ گئی جس کے حل کا کوئی سرا ابھی تک ان کے ہاتھ نہیں لگا تھا۔ اس کی وجہ شاید یہ بھی تھی کہ مریم اس بار اپنے مؤقف پر خاموشی سے ہی سہی، لیکن ڈٹی ہوئی تھی۔
    ’’تمہیں بھی اتنی ہی اچھی فل ٹائم جاب مل سکتی ہے،۔‘‘ علی نے اسے پھر سے یاد دلایا۔
    ’’بلکہ جاب آفر بھی آئی پڑی ہے لیکن تم ہو کہ ضد کیے جا رہی ہو۔‘‘ علی کے لہجے میں ہلکی سی ناگواری جھلک رہی تھی۔
    ’’اپنی سائیکولوجی کی اتنی اچھی ڈگری کو ضائع کر رہی ہوتم۔‘‘
    علی کی دوست کی بیوی قریبی اسکول ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن میں اچھی پوزیشن پر تھی اور اسے وہیں پر اسکول سائیکولوجسٹ کے طور پر پچھلے ایک ماہ سے مستقل بلا رہی تھی ۔ مریم کو اکثر شک ہوتا تھا کہ جاب کی یہ آفر بھی کہیں علی کے دباؤ کی وجہ سے ہی نہ ہو ۔مریم کا اس وقت بحث کا موڈ تو نہیں تھا لیکن علی کو جواب دینا بھی ضروری تھا ۔
    ’’علی میری جاب سے متعلق تمہارے احساسات کا مجھے اندازہ ہے لیکن مجھے وہاں کام کرنا اچھا لگتا ہے۔‘‘ اس نے سبھا سے بات شروع کی۔
    ’’تمہیں اچھی طرح پتا ہے کہ میں یہ جاب پیسوں کے لیے نہیں بلکہ انسانی ہمدردی کے تحت کرتی ہوں۔‘‘
    ’’اسکول سائیالوجسٹ کی جاب بھی ایک انسانی ہم دردی ہو گی۔‘‘ علی نے اس کی بات کو زیادہ اہمیت نہیں دی ۔
    ’’لیکن یہ پارٹ ٹائم ہے اور گھر سے نزدیک بھی۔‘‘
    ’’اسکول بھی یہاں سے صرف تین میل دور ہے۔‘‘ اس نے اس کے اس نقطے کو بھی چیلنج کیا۔ مریم نے اس بار بات ختم کرنے کی کوشش کی۔
    ’’کیا ہم اس ٹاپک پر پھر کبھی بات کر سکتے ہیں؟ ابھی ہمارے پاس مہمان بھی آنے والے ہیں۔‘‘
    ’’میں اس ٹاپک پر بار بار بات کرنا ہی نہیں چاہتا مریم۔ میں تو اسے ختم کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ اب علی کی آواز میں ایک برہمی نمایاں تھی ۔ ٹی وی کا والیوم بھی اس نے بند کر دیا تھا۔
    ’’لیکن تم ہو کہ بات کو ختم ہونے ہی نہیں دے رہیں۔‘‘
    علی کے اچانک بجنے والے فون نے مریم کو جواب دینے سے بچا لیا تھا ۔ ویسے بھی مریم کے پاس اسے دینے کوئی جواب تھا ہی نہیں۔ مریم نے دل ہی دل میں شکر ادا کیا ۔
    ’’وعلیکم السلام امی جی، کیسی ہیں آپ؟‘‘ علی نے خوش دلی سے اپنی ساس کو سلام کیا تھا ۔ یہ علی کی قابلِ تعریف صفت تھی کہ وہ ایک آدمی کا غصہ کسی دوسرے پر نہیں نکالتا تھا۔ اس وقت بھی اس کے لہجے میں چند ہی لمحوں پہلے مریم سے ہونے والی گفت گو کے تناؤ کی کوئی کیفیت نہیں تھی۔
    ’’بچے آپ کو بہت زیادہ تنگ تو نہیں کر رہے ؟ اور عمر اپنی کتابوں کی ریڈنگ کر رہا ہے؟‘‘ وہ اب انہیں بچوں کے متعلق ہدایت دے رہا تھا۔
    ’’رائنا کو انٹرنیٹ پر زیادہ ٹائم مت بیٹھے رہنے دیا کریں۔‘‘
    ’’جی جی!ہم بھی خیریت سے ہیں۔ بچے آئیں تو ان کی بھی ہم سے بات کروا دیں۔‘‘ بچے غالباً گھر پر نہیں تھے۔ کچھ منٹ اور بات کرنے کے بعد علی نے فون اسے تھما دیا ۔ مریم فون لے کر کچن میں آ گئی ۔ باتیں کرنے کے ساتھ ساتھ وہ مہمانوں کے لیے سنیکس کی تیاری بھی کر رہی تھی ۔
    "مریم تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے ؟” شازیہ عبید نے اچانک ہی پوچھا۔ ان کی آواز میں تشویش تھی۔
    ’’علی بھی کچھ ٹینس لگ رہا تھا۔‘‘ مریم نے گہرا سانس لیا۔ مائیں اولاد کے مزاج کی سفاکی کی حد تک رسائی رکھتی ہیں اور شازیہ سے تو باتیں چھپانا نا ممکن تھا ۔ علی کے لہجے کی خوش گواریت کے باوجود انہیں کچھ غلط لگ رہا تھا۔
    ’’نہیں امی جی! ہم دونوں ٹھیک ہیں۔‘‘ مریم نے انہیں اطمینان دلانے کی کوشش کی۔ ایک بحث سے جان بچا کر وہ اب دوسری میں نہیں پڑنا چاہتی تھی۔
    ’’جاب سے آیا ہے تو اسی لیے تھکا ہوا ہے ۔ شاید اسی لیے آپ کو لگ رہا ہوگا۔‘‘
    ’’تم دونوں کی پھر کوئی لڑائی تو نہیں ہوئی؟ اب کس بات پر ہوئی ہے؟‘‘ شازیہ نے جیسے اس کی کوئی بات سنی ہی نہیں اور فوراً ہی وجہ کی جڑ تک پہنچنے کی مہم شروع کر دی ۔ مریم نہ چاہتے ہوئے بھی مسکرا دی۔ اس کی اپنی ماں کیچھٹی حس اور اندازوں پر فولادی اعتماد تھا ۔ ان سے مزید چوہے بلی کا کھیل کھیلنا فضول ہی ہوتا ۔
    ’’وہی جاب والی بات اور کیا۔‘ ‘مریم نے بتایا۔
    ’’کہہ رہا ہے ریزائن کر دو ۔ اپنی ہی ضد پر اڑا ہوا ہے۔‘‘ مریم کی آواز میں بے زارگی تھی ۔ شازیہ نے گہرا سانس لیا ۔
    ’’تم بھی تو اپنی ضد پر اڑی ہوئی ہو۔‘‘ انہوں نے کسی بھی لگی لپٹی رکھے بغیر اسے گھرکا۔
    ’’اپنے بارے میں کیا خیال ہے؟‘‘
    ’’امی جی میں لمبی بات نہیں کر سکتی ۔ علی کا دوست آنے والا ہے۔‘‘ مریم نے انہیں فی الحال ٹالا۔
    ’’مریم تم یہ جاب چھوڑ دو ۔‘‘ شازیہ نے اسے سمجھایا۔
    ’’صرف ایک نوکری ہی تو ہے ۔ اس کے پیچھے اپنے گھر کا سکون کیوں برباد کرتی ہو؟‘‘ ہر عقل مند ماں کی طرح انہوں نے بھی اسے عقل دینے کی کوشش کی ۔
    ’’میں آپ سے پھر بات کروں گی امی جی۔‘‘ مریم نے بات ٹالنے کی غرض سے کہا۔
    ’’مریم اب بہت دیر ہو چکی ہے۔‘‘ شازیہ نے اچانک کہا، مریم ایک لمحے کو منجمد ہو گئی۔ خدا حافظ کہتے کہتے شازیہ انتہائی خار دار رستے پر جا نکلی تھیں۔
    ’’تم اب اس معاملے میں کچھ نہیں کر سکتیں۔‘‘ مریم جواب دینے کے قابل نہیں رہی تھی ۔ اس کے جاب نہ چھوڑنے کا سرا انھوں نے پہلی بار اس سالوں پرانی بات سے جوڑا تھا جسے بھولنے کی لاکھ کوشش اسے مزید اس کی یاد دلائے جاتی تھی ۔ شاید انہیں ہمیشہ سے ہی علم تھا لیکن لاعلمی کا ڈھونگ رچا کر وہ صرف اس کا بھرم رکھ رہی تھیں ۔ لیکن جو بھی تھا ، اس بات کی تردید بہرحال بے معنی تھی ۔
    ’’مجھے معلوم ہے امی جی۔‘‘ اس نے آہستہ سے جواب دیا۔
    ’’لیکن ان لاوارث بچوں کو اچھے گھروں اور خاندانوں میں بھیجتے ہوئے میرے دل کو ایک عجیب سا اطمینان ہوتا ہے۔‘‘
    ’’وہ بھی ایک اچھے ، مضبوط گھر اور ذمہ دار لوگوں کے ہاتھوں میں گئی ہے۔‘‘ مریم گویا گونگی ہی ہو گئی ۔ شازیہ کو بات کی نبض پکڑنا خوب آتا تھا لیکن یہ ان کی آواز کا وثوق تھا جس نے اسے ششدر کر دیا تھا ۔
    ’’آپ کو کیسے معلوم؟‘‘ مریم کی آواز محض ایک سرگوشی تھی ۔
    ’’مجھے معلوم ہے۔‘‘ مریم سمجھ نہیں پائی کہ وہ ان کا یقین تھا کہ محض ان کا وجدان جو ان کے لہجے کو اس قدر اعتماد بخش رہا تھا ۔ ان کی بات ابھی جاری تھی۔
    ’’اپنی اس نوکری کو ایک مرہم کے طور پر استعمال کرنا چھوڑ دو کیوں کہ تمہاری یہ بے کار سی تدبیر علی کے لیے تکلیف بن رہی ہے۔” مریم نے خاموشی سے فون بند کر دیا ۔اس کی زبان مزید اس کا ساتھ نہیں دے رہی تھی ۔
    وہ کچن کی کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی ۔ لان کی تازہ ہریالی پر شام کے سائے اتر رہے تھے لیکن اس وقت رات کا گہرا ہوتا اندھیرا اسے سکون دے رہا تھا ۔ اسے اس وقت یہ اندازہ نہیں تھا کہ ماں کی یہ دو ٹوک گفت گو اس کے گھٹنے ٹیکنے کا سبب بن جائے گی ۔
    ٭…٭…٭
    امریکا کے شہر نیو آرلینز سے وہ ایک بے حد ضروری فون کال کا منتظر تھا ۔ یہ کچھ دنوں کا نہیں بلکہ کئی مہینوں کا بے چین انتظار تھا جو اب اختتام پر تھا ۔ ہر گزرتا لمحہ اس کے دل میں موجود بے نام اندیشوں اور اضطراب میں اضافہ کر رہا تھا ۔ اس کا ذہن مستقل اپنے فیصلے کے ممکنہ نفع اور نقصانات کو ہر زاویے سے جانچنے میں مصروف تھا لیکن اپنے دل کی گہرایوں میں اسے اچھی طرح اندازہ تھا کہ کسی بھی تجزیے اور سوچ و بچار کا کوئی جواز ہی نہیں تھا۔ فیصلے کے صحیح یا غلط ہونے کا سوال تو وہاں ہوتا ہے جہاں ایک چیز کے علاوہ کسی دوسری چیز کے انتخاب کا اختیار بھی پاس ہو ۔ یہاں تو مرتے کیا نہ کرتے کے مصداق کچھ بھی اور کرنے کا اختیار تھا ہی نہیں ۔
    متوقع فون کال اگلی صبح بلاخر آ ہی گئی ۔ اس کال کے فوراً بعد اس نے امریکی ریاست کولاراڈو کے شہر ڈینور میں مقیم اپنے دوست کو فون کیا ۔ دونوں نے نیو آرلینز کی فلائٹس بک کروا لیں ۔ ان دونوں نے اسی دن چار بجے کے قریب آگے پیچھے ہی نیو آرلینز انٹرنشنل ائیرپورٹ پر پہنچنا تھا ۔انہیں امید تھی کہ اس ٹائم تک بچہ اس ایڈاپشن ایجنسی تک پہنچ چکا ہوتا جہاں انھیں جانا تھا ۔ صبح صبح اپنے پاس آنے والے فون پر وہ یہ پوچھنا ہی بھول گیا تھا کہ بچہ لڑکی تھی یا لڑکا لیکن اس بات سے اسے کوئی فرق پڑتا بھی نہیں ا تھا۔
    دونوں دوست دوپہر ڈھلنے پر مقررہ وقت پر نیو آرلینز ائیرپورٹ، پھر ائیرپورٹ سے گاڑی رینٹ کر کے پانچ میل دور اس ایڈاپشن ایجنسی پہنچے جو اس ہسپتال سے منسلک تھی جہاں بچے کی پیدائش کچھ گھنٹے پہلے ہی ہوئی تھی ۔ ائیرپورٹ پر لینڈ کرتے ہے اسے ٹیکسٹ آ گیا تھا کہ وہ ایک بچی ہے ۔ اس کا دل ایک لمحے کو لرزا اور ساتھ ہی اس کے حوصلے کو بے پناہ تقویت پہنچی کہ اس نے بلا شبہ ایک بہترین فیصلہ کیا تھا ۔ اس کا دوست ایسے کسی اندیشوں کا شکار نہیں تھا ۔ وہ صرف خوش تھا ، بے حد مسرور ۔
    ’’تم مجھ پر مکمل بھروسہ کر سکتے ہو۔‘‘ اس نے اسے پچھلی کئی بار دی جانے والے تسلی ایک بار پھر دہرائی ۔
    ’’میں اس بچی کی پرورش بالکل اپنی سگی اولاد کی طرح کروں گا۔‘‘ اس کے دوست کو بچے کا لڑکا یا لڑکی ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑا تھا ۔ جواب میں اس نے کچھ نہیں کہا، صرف خاموشی سے گاڑی چلاتا رہا ۔
    ’’لیکن ایک بات مجھے بتاؤ۔‘‘ اس کے دوست کے ذہن میں اچانک خیال آیا۔
    ’’وہاں اور بھی نوزائیدہ بچے ہوں گے ۔ تم اسی بچی کو کیسے پہچان پاؤ گے؟ میرا مطلب ہے کم از کم مجھے تو تمام نوزائدہ بچے ایک ہی جیسے دکھتے ہیں۔‘‘
    وہ اپنے دوست کی سادہ لوحی پر محض مُسکرا کر رہ گیا ۔ اب وہ اسے کیا بتاتا کہ کوئی اپنے خون کو بھلا کس طرح نہ پہنچانتا؟
    ایڈاپشن ایجنسی والوں کے پاس اس وقت پانچ نوزائیدہ بچے، نامعلوم اور بے نام طریقے سے گود لیے جانے کے لیے موجود تھے۔نرسری کے شفاف شیشے کی دیوار سے اندر دیکھتے ہوئے اس نے فقط ایک نظر میں ہی اسے پہچان لیا تھا۔ اس نے سنا تو تھا لیکن اب اسے یقین ہو گیا کہ خون واقعی خون کو کھینچتا ہے ۔ یہ تو محبت کی لازوال اور انمول ترین مثال ہوتی ہے ۔
    اس کی نشان دہی پر اندر موجود نرس نے بچی کو نرم سفید دلائی میں لپیٹا اور باہر لا کر اس کے ہاتھوں میں تھما دیا ۔ اس کے دل کو ایک جھٹکا سا لگا اور آنکھوں کے سامنے نمی کی دھند آ گئی ۔ سو بچوں میں بھی وہ اپنے خون کو پہچان لیتا، یہ تو صرف پانچ تھے ۔ اس نے ہلکے سے بچی کے پھولے ہوئے گلابی گال کو چھوا ۔ بچی نے اپنی خوب صورت ، گہری بھوری آنکھیں کھول دیں اور انتہائی خاموشی اور سنجیدگی سے اپنے اوپر جھکے دونوں لوگوں کے چہرے کو دیکھنے لگی ۔ ایک چہرے پر دکھ کی گہری پرچھائی تھی اور ایک پر خوشی کی۔
    بچی کو گود میں لیے اس کو پھر اپنے فیصلے کے درست ہونے کا یقین ہوا ۔ اگر وہ اس وقت یہ قدم نہیں اٹھاتا تو وہ بلا شبہ اپنی باقی زندگی ایک ایسی سولی پر ٹنگے ہوئے کاٹتا، جہاں ملال کا خنجر اسے جیتے جی دن میں کئی دفعہ مارتا اور بے غیرتی کا شدید احساس اس کی سانسیں روکے رکھتا۔ اب وہ بے شک اس کے اپنے گھر میں نہیں جا رہی تھی لیکن کم از کم اسے اتنی تسلی تو تھی کہ وہ قابل اعتبار ، ذمہ دار اور مشفق ہاتھوں میں تھی ۔ اس کا دوست بچی کے لیے ضرورت کی سب چیزیں لے کر آیا تھا ۔ نئے کپڑوں اور موزوں سے لے کر کار سیٹ تک ۔ ساری کاغذی کارروائیاں مکمل ہونے میں دو گھنٹے لگ گئے ۔ چوں کہ اس نے پورا process پہلے سے شروع کر رکھا تھا اسی لیے ساری معلومات خفیہ تھیں جس کے مطابق بچی کے اصل لواحقین اور گود لینے والے ایک دوسرے کے لیے نامعلوم رہتے۔
    وہ اسی طرح کا کام چاہتا تھا ۔ نامعلوم افراد کی بچی گود لینے کا مقصد ہی یہی تھا ۔ جب تک اس کا دوست ساری کاغذی مکمل کرتا رہا، بچی اس کی گود میں ہی سوئی رہی ۔ اسے لگا جیسے وہ اس کا لمس پہچان گئی تھی ۔ وہ اس کے خوب صورت اور معصوم چہرے سے نظریں نہیں ہٹا پا رہا تھا ۔ وہ بے شک ایک سنگین غلطی کا نتیجہ تھی لیکن وہ بلا شبہ بے قصور بھی تھی ۔ وہ دونوں بچی کے ساتھ وہاں سے نکلے اور سیدھا ائیرپورٹ گیے جہاں سے اس کے دوست نے فورا ہی بچی کے ساتھ واپسی کی فلائٹ لے لی تھی ۔ وہ اس وقت تک وہیں کھڑا رہا جب تک اس کے دوست کا جہاز ٹیک آف نہیں کر گیا ۔ پھر اس نے بکنگ کاؤنٹر پر جا کر اپنی بھی واپسی کی بکنگ کروا لی ۔ اس کے دل اور دماغ میں اس وقت احساسات کی طغیانی سی تھی جن میں سب سے زور آور احساس، ایک عظیم جدوجہد میں سر خروئی کا تھا ۔
    ٭…٭…٭




  • آبِ حیات — قسط نمبر ۱۳ (تبارک الذی)

    اوول آفس سے ملحقہ ایک چھوٹے سے کمرے میں پروٹوکول آفیسر کی رہنمائی میں داخل ہوتے ہوئے سالار سکندر کے انداز میں اس جگہ سے واقفیت کا عنصر بے حد نمایاں تھا۔ وہ بڑے مانوس انداز میں چلتے ہوئے وہاں آیا تھا اور اس کے بعد ہونے والے تمام Rituals سے بھی واقف تھا۔ وہ یہاں کئی بار آچکا تھا، کئی وفود کا حصہ بن کر… لیکن یہ پہلاموقع تھا جب وہ وہاں تنہا بلایا گیا تھا۔
    اسے بٹھانے کے بعد وہ آفیسر اندرونی دروازے سے غائب ہوگیا تھا۔ وہ پندرہ منٹ کی ایک ملاقات تھی، جس کے اہم نکات وہ اس وقت ذہن میں دہرا رہا تھا۔ وہ امریکہ کے کئی صدور سے مل چکا تھا، لیکن وہ صدر جس سے وہ اس وقت ملنے آیا تھا، خاص تھا۔ کئی حوالوں سے…
    وال کلاک پر ابھی 9:55ہوئے تھے۔
    صدر کے اندر آنے میں پانچ منٹ باقی تھے۔ اس سے پہلے 9:56 پہ ایک ویٹر اس کو پانی پیش کرکے گیا تھا۔ اس نے گلاس اٹھا کر رکھ دیا تھا۔ 9:57 پہ ایک اور اٹینڈنٹ اسے کافی سرو کرنے آیا تھا۔ اس نے منع کردیا۔ 9:59 پہ اوول آفس کا دروازہ کھلا اور صدر کی آمد کا اعلان ہوا۔ سالار اٹھ کھڑا ہوا۔
    اوول آفس کے دروازے سے اس کمرے میں آنے والا صدر، امریکہ کی تاریخ کا کمزور ترین صدرتھا۔ وہ 2030ء کا امریکہ تھا۔ بے شمار اندرونی اور بیرونی مسائل سے دوچار ایک کمزور ملک … جس کی کچھ ریاستوں میں اس وقت خانہ جنگی جاری تھی۔کچھ میں نسلی فسادات… اور ان سب میں امریکہ کا وہ پہلا صدر تھا جس کی کابینہ تھنک ٹینکس میں مسلمانوں اور یہودیوں کی تعداد اب برابر ہوچکی تھی۔ اس کی پالیسیز کے ساتھ ساتھ گورنمنٹ بھی اندرونی خلفشار کا شکار تھی لیکن یہ وہ مسائل نہیں تھے جن کی وجہ سے امریکہ کا صدر اس سے ملاقات کررہا تھا۔
    امریکہ اپنی تاریخ کے سب سے بڑے مالیاتی بینکنگ بحران کے دوران اپنی بین الاقوامی پوزیشن اور ساکھ کو بچانے کے لئے سرتوڑ کوشش کررہا تھا اور SIF سربراہ سے وہ ملاقات ان ہی کوششوں کا ایک حصہ تھی۔ ان آئینی ترامیم کے بعد جو امریکہ کو اپنے ملک کی حیثیت کو مکمل طور پر ڈوبنے سے بچانے کے لئے کرنی پڑی تھیں۔
    اپنی تاریخ کے اس سے بڑے مالیاتی بحران میں جب امریکہ کی اسٹاک ایکسچینج کریش کرگئی تھی، اس کے بڑے مالیاتی ادارے دیوالیہ ہورہے تھے۔ ڈالر کی ویلیو کو کسی ایک جگہ روکنا مشکل ہوگیا تھا اور مسلسل گرتی ہوئی اپنی کرنسی کو استحکام دینے کے لئے امریکہ کو تین مہینے کے دوران تین بار اس کی ویلیو خود کم کرنی پڑی تھی۔ صرف ایک ادارہ تھا جو اس مالیاتی بحران کو جھیل گیا تھا۔ لڑکھڑانے کے باوجود وہ امریکہ کے بڑے مالیاتی اداروں کی طرح زمین بوس نہیں ہوا تھا، نہ ہی اس نے ڈاؤن سائزنگ کی تھی، نہ بیل آؤٹ پیکجز مانگے تھے۔ اور وہ SIF تھا۔ پندرہ سال میں وہ ایک بین الاقوامی مالیاتی ادارے کے طور پر اپنی شان دار ساکھ اور نام بناچکا تھا اور امریکہ اور بہت سے دوسرے چھوٹے ملکوں میں وہ بہت سے چھوٹے بڑے اداروں کو ضم کرکے اپنی چھتری تلے لاچکا تھا اور وہ چھتری مغربی مالیاتی اداروں کی شدید مخاصمت اور مغربی حکومتوں کے سخت ترین امتیازی قوانین کے باوجود پھیلتی چلی گئی تھی۔




    پندرہ سالوں میں SIFنے اپنی بقا اور ترقی کے لئے بہت ساری جنگیں لڑی تھیں اور ان میں سے ہر جنگ چومکھی تھی لیکن SIFاور اس سے منسلک افراد ڈٹے رہے تھے اور پندرہ سال کی اس مختصر مدت میں مالیاتی دنیا کا ایک بڑا مگرمچھ اب SIF بھی تھا جو اپنی بقا کے لئے لڑی جانے والی ان تمام جنگوں کے بعد اب بے حد مضبوط ہوچکا تھا۔
    یورپ اور ایشیا اس کی بڑی مارکیٹیں تھیں لیکن یہ افریقہ تھا جس پر SIF مکمل طور پر قابض تھا۔ وہ افریقہ جس میں کوئی گورا 2030ء میں SIF کے بغیر کوئی مالیاتی ٹرانزیکشن کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔ افریقہ SIF کے ہاتھ میں نہیں تھا۔ سالار سکندر کے ہاتھ میں تھا، جسے افریقہ اور اس کے لیڈر ز نام اور چہرے سے پہچانتے تھے۔ پچھلے پندرہ سالوں میں صرف سالار کا ادارہ، وہ واحد ادارہ تھا جو افریقہ کے کئی ممالک میں بدترین خانہ جنگی کے دوران بھی کام کرتا رہا تھا اور اس سے منسلک وہاں کام کرنے والے سب افریقی تھے اور SIF کے مشن اسٹیٹمنٹ پر یقین رکھنے والے… جو یہ جانتے تھے جو کچھ SIF ان کے لئے کررہا تھا اور کرسکتا تھا، وہ دنیا کا کوئی اور مالیاتی ادارہ نہیں کرسکتا تھا۔
    SIF افریقہ میں ابتدائی دور میں کئی بار نقصان اٹھانے کے باوجود وہاں سے نکلا نہیں تھا، وہ وہیں جما اور ڈٹا رہا تھا اور اس کی وہاں بقا کی بنیادی وجہ سود سے پاک وہ مالیاتی نظام تھا جو وہاں کی مقامی صنعتوں اور صنعت کاروں کو نہ صرف سود سے پاک قرضے دے رہا تھا، بلکہ انہیں اپنے وسائل سے اس انڈسٹری کو کھڑا کرنے میں انسانی وسائل بھی فراہم کررہا تھا۔
    پچھلے پندرہ سالوں میں SIF کی افریقہ میں ترقی کی شرح ایک اسٹیج پر اتنی بڑھ گئی تھی کہ بہت سے دوسرے مالیاتی اداروں کو افریقہ میں اپنا وجود قائم رکھنے کے لئے SIF کا سہارا لینا پڑا تھا۔
    سالار سکندر سیاہ فاموں کی دنیا کا بے تاج بادشاہ تھا اور اس کی یہ پہچان بین الاقوامی تھی۔ افریقہ کے مالیاتی نظام کی کنجی SIF کے پاس تھی اور سالار سکندر کے اس دن وائٹ ہاؤس میں بیٹھے ہونے کی ایک وجہ یہ بھی تھی۔ امریکہ ورلڈ بینک کو دیئے جانے والے فنڈز میں اپنا حصہ ادا کرنے کے قابل نہیں رہا تھا اور ورلڈ بینک کو فنڈز کی فراہمی میں ناکام رہنے کے بعد اس سے سرکاری طور پر علیحدگی اختیارکررہاتھا۔ ورلڈ بینک اس سے پہلے ہی ایک مالیاتی ادارے کے طور پر بری طرح لڑکھڑا رہا تھا۔ یہ صرف امریکہ نہیں تھا جو مالیاتی بحران کا شکار تھا۔ دنیا کے بہت سے دوسرے ممالک بھی اسی کساد بازاری کا شکار تھے اور اس افراتفری میں ہر ایک کو صرف اپنے ملک کی معیشت کی پروا تھی۔ اقوام متحدہ سے منسلک ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف جیسے اداروں کے ذریعے ترقی پذیر ممالک کی اقتصادیات پر قابض رہنا اب نہ صرف ناممکن ہوگیا تھا، بلکہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں آئے ہوئے مالیاتی بحران کے بعد اب یہ بے کار بھی ہوگیا تھا۔
    ورلڈ بینک اب وہ سفید ہاتھی تھا جس سے وہ ساری استعماری قوتیںجان چھڑانا چاہتی تھیں اور کئی جان چھڑا چکی تھیں۔ اقوام متحدہ کا وہ چارٹر جو اپنے ممبران کو ورلڈ بینک کے ادارے کو فنڈ ز فراہم کرنے کا پابند کرتا تھا۔ اب ممبران کے عدم تعاون اور عدم دلچسپی کے باعث کاغذ کے ایک پرزے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا تھا۔ اقوام متحدہ اب وہ ادارہ نہیں رہا تھا جو بین الاقوامی برادری میں سیکڑوں سالوں سے چلے آنے والے ایک ہی مالیاتی نظام میں پروئے رہنے پر مجبور کرسکتا۔
    دنیا بدل چکی تھی اور گھڑی کی سوئیوں کی رفتار کے ساتھ مزید بلدتی جارہی تھی اوراس رفتار کو روکنے کی ایک آخری کوشش کے لئے امریکہ کے صدر نے SIF کے سربراہ کو وہاں بلایا تھا۔
    ایوان ہاکنز نے اندر داخل ہوتے ہوئے اپنے اس پرانے حریف کو ایک خیر مقدمی مسکراہٹ دینے کی کوشش کی جو اس کے استقبال کے لئے مؤدبانہ اور بے حد باوقار انداز میں کھڑا تھا۔ سیاست میں آنے سے پہلے ایوان ایک بڑے مالیاتی ادارے کا سربراہ رہ چکا تھا۔ سالار سکندر کے ساتھ اس کی سالوں پرانی واقفیت بھی تھی اور رقابت بھی۔ SIF نے امریکہ میں اپنی تاریخ کا پہلا بڑا نضمام اس کے ادارے کو کھا کر کیا تھا۔ اور اس انضمام کے بعد ایوان کو اس کے عہدے سے فارغ کردیا گیا تھا۔ وہ آج امریکہ کا صدر تھا، لیکن وہ ناکامی اور بدنامی آج بھی اس کے ریکارڈ میں ایک داغ کے طور پر موجود تھی۔ یہ ایوان کی بدقسمتی تھی کہ اتنے سالوں کے بعد وہ اسی پرانے حریف کی مدد لینے پر ایک بار پھر مجبور ہوا تھا۔ وہ اس کے دورِ صدارت میں اسے دھول چٹانے آن پہنچا تھا۔ یہ اس کے احساسات تھے۔ سالار کے نہیں۔ وہ وہاں کسی اور ایجنڈے کے ساتھ آیا تھا۔ اس کا ذہن کہیں اور پھنسا ہوا تھا۔
    ’’سالار سکندر…‘‘ چہرے پر ایک گرم پر جوش مسکراہٹ کا نقاب چڑھائے، ایوان نے سالار کا استقبال تیز رفتاری سے اس کی طرف بڑھتے ہوئے یوں کیا تھا جیسے وہ حریف نہیں رہے تھے، بہترین دوست تھے، جو وائٹ ہاؤس میں نہیں کسی گالف کورس پر مل رہے تھے۔ سالار نے اس کی خیر مقدمی مسکراہٹ کا جواب اتنی ہی خوش دلی کے ساتھ مصافحہ کرتے ہوئے دیا تھا۔ دونوں کے درمیان رسمی کلمات کا تبادلہ ہوا۔ موسم کے بارے میں ایک آدھ بات ہوئی، جو اچھا تھا اور ا س کے بعد دونوں اپنی اپنی نشست سنبھال کر بیٹھ گئے تھے۔ وہ ون آن ون ملاقات تھی۔ کمرے کے دروازے اب بند ہوچکے تھے اور وہاں ان دونوں کا اسٹاف نہیں تھا اور اس ون آن ون ملاقات کے بعد ان دونوں کی ایک مشترکہ پریس کانفرنس تھی جس کے لئے اس کمرے سے کچھ فاصلے پر ایک اور کمرے میں بیٹھے دنیا بھرکے صحافی بے تابی سے منتظر تھے۔
    اس ملاقات سے پہلے ان دونوں کی ٹیم کے افراد کئی بار آپس میں مل چکے تھے۔ ایک فریم ورک وہ ڈسکس بھی کرچکے تھے اور تیار بھی… اب اس ملاقات کے بعد باضابطہ طور پر وہ دونوں وہ اعلان کرتے جس کی بھنک میڈیا کو پہلے ہی مل چکی تھی۔
    امریکہ اب ورلڈ بینک کے ذریعے نہیں SIF کے ذریعے دنیا کے ترقی پذیر ممالک میں گھسنا چاہتا تھا۔ خاص طور پر افریقہ میں اور اس کے لئے وہ ورلڈ بینک سے باضابطہ علیحدگی اختیارکررہا تھا مگر اس کے سامنے مسئلہ صرف ایک تھا۔ امریکہ کا ایجنڈا SIF کے ایجنڈے سے مختلف تھا اور اس ملاقات میں سالار سکندر کو غیر رسمی انداز میں… آخری بار ان امریکی مفادات کے تحفظ کی یاد دہانی کروائی تھی۔ امریکہ SIF کی ٹیم کے بہت سارے مطالبات مان کر اس فریم ورک پر تیار ہوا تھا۔ یہ وہ امریکہ نہیں رہا تھا جو بندوق کی نوک پر کسی سے کچھ بھی کرواسکتا تھا۔ یہ انتشار کا شکار ایک کھوکھلا ہوتا ہوا ملک تھا جو بات سنتا تھا۔ مطالبات مانتا تھا اور اپنی پوزیشن سے پیچھے ہٹ جاتا تھا یا پھر آخری حربے کے طور پر اپنے مفادات کی خاطر وہ کرتا تھا جو اس بار بھی اس میٹنگ کے اچھے یا برے نتیجے کے ساتھ پہلے سے مشروط تھا۔
    میٹنگ کا نتیجہ ویسا ہی نکلا تھا جیسی ایوان کو توقع تھی۔ سالار سکندر کو SIF کے ایجنڈے کے حوالے سے کوئی ابہام نہیں تھا۔ نہ ہی امریکی حکومت کے ایجنڈے کے حوالے سے… وہ امریکی حکومت کی مدد کرنے پر تیار تھا۔ اس فریم ورک کے تحت جو اس کی ٹیم نے تیار کیا تھا، لیکن SIF کو امریکہ کا ترجمان بنانے پر تیار نہیں تھا۔ اس نے ایوان کی تجویز کا شکریہ کے ساتھ رد کردیا تھا۔ دو مگرمچھوں کے درمیان دشمنی ہوسکتی تھی، دوستی نہیں مگر دشمنی کے ساتھ بھی وہ ایک ہی پانی میں رہ سکتے تھے۔ بڑے محتاط اور پرُامن طریقے سے، اپنی اپنی حدود میں، اور اس نے ایوان کو بھی یہی مشورہ دیا تھا جس سے ایوان نے اتفاق کیا تھا۔ سالار سکندر سے انہیں جیسے جواب کی توقع تھی انہیں ویسا ہی جواب ملا تھا۔
    SIF کو اب ایک نئے سربراہ کی ضرورت تھی جو زیادہ لچک دار رویے کا حامل ہوتا اور زیادہ سمجھدار بھی… سالار سکندر میں ان دونوں چیزوں کی اب کچھ کمی ہوگئی تھی۔ یہ ایوان کا اندازہ تھا۔
    سی آئی اے کو SIF کے نئے سربراہ کے بارے میں تجاویز دینے سے پہلے SIF کے پرانے سربراہ کو ہٹانے کے لئے احکامات دے دیئے گئے تھے اور یہ اس میٹنگ کے بعد ہوا تھا۔
    اس سے پہلے ایوان نے سالار سکندر کے ساتھ اس پریس کانفرنس میں شرکت کی تھی، جس میں امریکہ نے باقاعدہ طور پر ملک میں ہونے والے مالیاتی بحران سے نپٹنے کے لئے نہ صرف SIF کی مدد لینے کا فیصلہ کیا تھا بلکہ SIF کے ساتھ طے پانے والے اس فریم ورک کا بھی اعلان کیا تھا، جس کی منظوری صدر نے بے حد دباؤ کے باوجود دے دی تھی۔
    ایوان ہاکنز کو اس اعلان کے وقت ویسی ہی تضحیک محسوس ہورہی تھی جتنی اس نے اس وقت محسوس کی تھی، جب اس کے مالیاتی ادارے کا انضمام SIF کے ساتھ ہوا تھا اور جس کے بعد وہ اپنے عہدے سے فارغ ہوگیا تھا۔ اسے یقین تھا تاریخ اس بار اپنے آپ کو کچھ مختلف طریقے سے دہرانے والی تھی۔ اس دفعہ اسکرین سے غائب ہونے والا اس کا پرانا حریف تھا، وہ نہیں۔
    ٭…٭…٭




  • آبِ حیات — قسط نمبر ۱۲ (ابداً ابدا)

    آبِ حیات — قسط نمبر ۱۲ (ابداً ابدا)

    امامہ کے لئے کیرولین کی فون کال ایک سرپرائز تھی۔ اس نے بڑے خوشگوار انداز میں اس سے بات چیت کرتے ہوئے امامہ کو اس اجازت کے بارے میں بتایا تھا جو اس نے ایرک کو دی تھی اور امامہ حیران رہ گئی تھی۔ اسے ایرک اور جبریل کے درمیان اس حوالے سے ہونے والی گفتگو کا علم نہ تھا۔
    ’’ممی! مجھے یقین تھا وہ نہ اپنی ممی سے بات کرے گا نہ ہی وہ اسے اجازت دیں گی۔‘‘ جبریل نے ماں کے استفسار پر اسے بتایا تھا۔
    امامہ نے اسے کیرولین کی کال کے بارے میں مطلع کرتے ہوئے بتایا تھا۔
    ’’لیکن اب اس کی ممی نے مجھے کال کرکے کہا ہے کہ انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے تو اب کیا کریں؟‘‘ امامہ نے کہا۔
    ’’کیا کرنا ہے۔‘‘ وہ ہنس پڑا تھا۔ ’’قرآن پاک سکھاؤں گا اسے اب۔‘‘ جبریل نے ماں سے کہا تھا۔
    اسے اپنے جواب پر امامہ کے چہرے پر خوشی نظر نہیں آئی۔
    ’’آپ کو پریشانی کس بات کی ہے۔ پہلے یہ تھی کہ اس کی فیملی کو اعتراض نہ ہو لیکن اب تو اس کی فیملی نے اجازت دے دی ہے پھر اب تو کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔‘‘
    جبریل نے جیسے ماں کو کریدنے کی کوشش کی تھی۔ امامہ اس سے کہہ نہیں سکی کہ اسے سارا مسئلہ عنایہ کی وجہ سے ہورہا تھا۔ قرآن پاک سیکھنے کی یہ خواہش اگر ایرک کی اس خواہش کے بغیر سامنے آتی تب وہ کچھ اور طرح کے تامل اور جھجک کا شکار ہوتی لیکن خوشی خوشی ایرک کو اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر قرآن پاک سیکھنے دیتی۔
    ’’مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے… جوبھی ہوتا ہے، اللہ کی مرضی سے ہی ہوتا ہے اور ہم کچھ بھی بدلنے پر قادر نہیں ہیں۔ ٹھیک ہے ایرک تم سے قرآن پاک سیکھنا چاہتا ہے تو تم سکھاؤ اسے۔‘‘ امامہ نے بالآخر جیسے ہتھیار ڈال دیئے تھے۔
    ٭…٭…٭





    گیارہ سال کی عمر میں قرآن پاک سے ایرک کا وہ پہلا باقاعدہ تعارف تھا۔ اس سے پہلے وہ صرف اس کتاب کا نام جانتا تھا۔ جنرل نالج کے حصے کے طور پر…
    وہ سالار اور امامہ کے گھر جاکر مسلمانوں کے قریب ہوا تھا اور جبریل کی تلاوت سن سن کر وہ قرآن پاک سے متاثر ہونا شروع ہوگیا تھا۔ وہ زبان اور وہ تلاوت اسے جیسے کسیfantasy میں لے جاتی تھی۔ وہ لفظ ’’ہیبت‘‘ سے آشنا نہیں تھا… ہوتا تو شاید یہی استعمال کرتا اس کے لئے… جبریل کی آواز دلوں کو پگھلا دینے والی ہوتی تھی، وہ خوش الحان نہیں تھا۔ وہ بلا کا خوش الحان تھا اور گیارہ سال کا وہ بچہ اس زبان اور اس کے مفہوم سے واقف ہوئے بغیر بھی صرف اس کی آواز کے سحر میں گرفتار تھا۔
    جس دن اس نے جبریل سے قرآنی قاعدہ کا پہلا سبق لیا تھا، اس رات اس نے آن لائن قرآن پاک کا پورا انگلش ترجمہ پڑھ لیاتھا۔ وہ کتابیں پڑھنے کا شوقین اور عادی تھا اور قرآن پاک کو اس نے ایک کتاب ہی کی طرح پڑھا تھا۔ بہت ساری چیزوں کو سمجھتے ہوئے… بہت ساری چیزوں کو نہ سمجھتے ہوئے۔ بہت ساری باتوں سے متاثر ہوتے ہوئے… بہت سارے احکامات سے الجھتے ہوئے… بہت سارے جملوں کو ذہن نشین کرتے ہوئے… بہت سارے واقعات کو اپنی کتاب بائبل سے منسلک کرتے ہوئے…
    اس نے بائبل بہت اچھی طرح پڑھی تھی اور اس نے قرآن پاک کو بھی اسی لگن سے پڑھا تھا۔ اس کی ماں کی یہ رائے ٹھیک تھی کہ ایرک کو جب ایک چیز کا شوق ہوجاتا تھا تو پھر وہ شوق نہیں جنون بن جاتا تھا، لیکن اس کی ماں کا یہ خیال بالکل غلط تھا کہ وہ ایک دو ہفتوں کے بعد خود ہی اپنے اس شوق سے بے زار ہو جانے والا تھا کیوں کہ وہ متلون مزاج تھا۔
    جبریل کو حیرت نہیں ہوئی تھی جب دن ایرک نے اسے قرآنی قاعدہ کا سبق بالکل ٹھیک ٹھیک سنایا تھا۔ وہ بے حد ذہین تھا اور وہ اتنے سالوں سے اس سے واقف ہونے کے بعد… یہ تو جانتا تھا کہ ایرک کوئی بھی چیز آسانی سے بھلاتا نہیں تھا، لیکن وہ یہ جان کر کچھ دیر خاموش ضرور ہوگیا تھا کہ ایرک نے ایک رات میں بیٹھ کر قرآن پاک کا پورا ترجمہ پڑھ لیا تھا۔
    ’’اس کا فائدہ کیا ہوا؟‘‘ جبریل نے اس سے پوچھا تھا۔
    ’’کس چیز کا…؟ قرآن پاک پڑھنے کا؟‘‘ ایرک نے اس کے سوال کی وضاحت چاہی۔
    ’’ہاں!‘‘ جبریل نے جواب دیا۔
    ایرک کو کوئی جواب نہیں سوجھا، اس کا خیال تھا جبریل اس سے متاثر ہوگا۔ وہ متاثر نہیںہوا تھا، الٹا اس سے سوال کررہا تھا۔
    ’’فائدہ تو نہیں سوچا میں نے، میں نے تو بس تجسس میں پڑھا ہے قرآن پاک۔‘‘ ایرک نے کندھے اچکا کر پوچھا۔
    ’’تو اب تمہاری کیا رائے ہے قرآن پاک کے بارے میں…؟ اب بھی سیکھنا چاہتے ہو؟‘‘ جبریل نے اس سے پوچھا۔
    ’’ہاں… اب اور بھی زیادہ۔‘‘ ایرک نے کہا۔ ’’مجھے یہ بے حد انٹرسٹنگ لگی ہے۔‘‘
    جبریل اس کی بات پر مسکرایا تھا۔ وہ ایسے بات کررہا تھا جیسے انسائیکلوپیڈیا کے بارے میں بات کررہا ہو یا کسی دلچسپ کتاب کے بارے میں جو وہ مکمل پڑھے بغیر نہیں رہ سکا ہو۔
    ’’مقدس کتابوں کو صرف پڑھ لینا کوئی بڑی بات نہیں ہوتی۔‘‘ جبریل نے اس سے کہا تھا۔ ’’اسے پڑھنے کے ساتھ ساتھ اس پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔‘‘
    ایرک اس کو بغور دیکھتے ہوئے اس کی بات سن رہا تھا۔
    ’’یہ میں جانتا ہوں۔‘‘ اس نے کہا، یہ وہی بات تھی جو وہ اپنے ماں باپ سے بھی بہت بار سن چکا تھا۔
    اس دن جبریل نے اسے دوسرا سبق قرآنی قاعدہ کا نہیں دیا تھا۔ اس نے اسے دوسرا سبق اسے ایک ’’اچھا انسان‘‘ بننے کے حوالے سے دیا تھا۔
    ’’کوئی بھی ایسی چیز جس کا تعلق اللہ سے ہے اور جو ہم سیکھتے ہیں تو پھر اس دن ہمارے اندر دوسروں کے لئے کچھ زیادہ بہتری آنی چاہیے تاکہ یہ نظر آئے کہ ہم کوئی ’’خاص چیز‘‘ سیکھ رہے ہیں۔‘‘
    جبریل نے اسے سمجھایا تھا۔ وہ تبلیغ کرنا نہیں چاہتا تھا اور یہ مشکل کام بھی تھا کہ اپنے مذہب کا ڈنکا بجائے بغیر کسی کو یہ سمجھا سکے کہ اسلام آخری مذہب کیوں تھا… کامل ترین کیوں تھا۔
    ’’وہ سارے سبجیکٹ جو ہم اسکول میں پڑھتے ہیں اور جو ہم وہاں سیکھتے ہیں، وہ ہماری پرسنالٹی پر اثر انداز نہیں ہوتے وہ صرف تب ہمارے کام آتے ہیں جب ہمیں ایگزام دینا ہو… جاب کرنی ہو… یا بزنس کرنا ہو… کتابیں ہمیں باعلم بناتی ہیں… باعمل نہیں… باعمل ہمیں صرف وہ کتاب بناسکتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو صرف باعمل کرنے کے لئے اتاری ہے۔‘‘
    ایرک اس کی بات بڑی توجہ سے سن رہا تھا، بالکل ویسے ہی جیسے اس سے پہلے کوئی چیز سمجھا کرتا تھا۔
    ’’بابا نے مجھ سے کہا تھا اگر ہم اچھے انسان نہ بن سکیں اور اپنے خاندان اور معاشرے کے لئے تکلیف کا باعث ہوں تو عبادت کرنے اور مذہب کے بارے میں پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں کیوں کہ مذہب اور مذہبی کتابیں اللہ تعالیٰ نے صرف ایک مقصد کے لئے اتاری ہیں کہ ہم اچھے انسان بن کر رہیں… ایک دوسرے کے حقوق و فرائض کا خیال رکھیں۔ خاص طور پر ان کا جو ہماری ذمہ داری ہیں… جیسے تمہارے چھوٹے بہن، بھائی اور تمہاری ممی تمہاری ذمہ داری ہیں… تمہارا اپنا جسم اور ذہن تمہاری اپنی ذمہ داری ہے۔‘‘
    جبریل بڑی ذہانت سے گفتگو کو اس موضوع کی طرف موڑ رہا تھا جس پر وہ ایرک سے بات کرنا چاہتا تھا اور ایرک یہ بات سمجھ رہا تھا۔ وہ چھوٹا تھا، بے وقوف نہیں تھا۔ وہ کہیں اور بیٹھا ہوتا تو کبھی اس موضوع پر کسی کو بات کرنے کی اجازت نہ دیتا۔ وہ ان ایشوز کے حوالے سے اتنا ہی حساس تھا، لیکن وہ اس گھر میں آکر کسی سے بھی کچھ بھی سن لیتا تھا۔
    ’’تو اب تم نے دیکھنا ہے کہ جس دن تم آقرن پاک پڑھ کر جاتے ہو… اس دن تمہارے اندر کیا تبدیلی آتی ہے… اس دن تم اپنی فیملی کے لئے اور دوسروں کے لئے کیا اچھا کام کرتے ہو۔‘‘ جبریل نے جیسے اسے چیلنج دیا تھا۔
    ’’میں کوشش کروں گا۔‘‘ ایرک نے وہ چیلنج قبول کرلیا تھا۔ پھر اس نے جیسے اس کی مدد مانگی۔ ’’تو آج میں گھر میں جا کر کیا کروں؟‘‘
    ’’تم آج ایک ایسا کام مت کرنا جس سے تمہیں پتا ہو کہ تمہاری ممی اپ سیٹ ہوتی ہیں۔‘‘
    جبریل نے اس سے کہا تھا۔ ایرک کچھ خجل سا ہوگیا۔ اسے اندازہ نہیں تھا جبریل اتنے بے دھڑک انداز میں اس کے بارے میں ایسی بات کہے گا۔
    ’’تم مجھے عبداللہ کہا کرو۔‘‘ ایرک نے جان بوجھ کر بات کا موضوع بدلنے کے لئے اسے ٹوکا۔
    ’’عبداللہ تو اللہ کا بندہ ہوتا ہے… سب سے Kind سب سے زیادہ خیال رکھنے والا اور احساس کرنے والا… کسی کو تکلیف نہ دینے والا، میں تمہیں عبداللہ تب کہنا شروع کروں گا۔ جب تم سب سے پہلے اپنی ممی کو تکلیف دینا بند کردوگے۔‘‘
    جبریل نے اس کی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا تھا۔ ایرک جیسے کچھ اور خجل ہوا۔ ایک لمحے کے لئے اسے لگا جیسے جبریل اس سے جو کچھ کہہ رہا تھا، وہ اس کی ممی کے کہنے پر کہہ رہا تھا، لیکن وہ اس سے بحث میں نہیں الجھا تھا اس نے خاموشی سے اس کی بات سن لی تھی۔
    اس دن ایرک گھر جاکر پہلی بار رالف سے خوش دلی سے ملا تھا… کیرولین اور وہ دونوں سٹنگ ایریا میں بیٹھے فٹ بال میچ دیکھ رہے ہیں۔ رالف اور کیرولین کو ایک لمحے کے لئے لگا، شاید ایرک سے غلطی ہوئی تھی یا پھر انہیں وہم ہورہا تھا۔ اس نے پہلی بار رالف سے خوش مزاجی کا مظاہرہ کیا تھا اور کیرولین اس بات پر شروع شروع میں اسے ڈھیروں بار ڈانٹ اور سمجھا چکی تھی۔ زچ ہوچکی تھی اور پھر اس نے ایرک کو کچھ کہنا ہی چھوڑ دیا تھا۔ ایرک اور رالف کے درمیان کبھی کوئی تکرار نہیں ہوئی تھی، لیکن رالف یہ جانتا تھا کہ وہ اسے پسند نہیں کرتا اور اس نے بھی ایرک کے ساتھ فصلے کم کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔
    اس کا خیال تھا، ان دونوں کے درمیان فاصلہ رہنا ہی بہتر تھا تاکہ لحاظ ختم نہ ہو، لیکن وہ ذاتی حیثیت میں ایک اچھا سلجھا ہوا آدمی تھا اور وہ ایرک کے حوالے سے کیرولین کی پریشانی کو بھی سمجھتا تھا۔
    ایرک رکے بغیر وہاں سے چلا گیا تھا۔ رالف اور کیرولین نے ایک دوسرے کو حیرانی سے دیکھا۔
    ’’اس کو کیا ہوا؟‘‘ رالف نے کچھ خوش گوار حیرت کے ساتھ کہا تھا۔
    ’’پتا نہیں۔‘‘ کیرولین نے کندھے اچکا کر لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔
    وہ پہلی تبدیلی نہیں تھی جو ایرک میں آئی تھی۔ وہ آہستہ آہستہ مزید تبدیل ہوتا گیا تھا۔ ویسا ہی جیسا وہ پہلے ہوا کرتا تھا۔ قرآن پاک کا سبق ہفتے میں دو دن کے بجائے وہ اب ہر روز لینے جایا کرتا تھا… اگر کبھی جبریل یہ کام نہ کرسکتا تو حمین یا امامہ اسے سبق پڑھا دیتے، لیکن ایرک کو یہ اعتراف کرنے میں عار نہیں تھا کہ جیسے جبریل اسے پڑھاتا تھا، ویسے اور کوئی نہیں پڑھا سکتا تھا۔ اس کی آواز میں تاثیر تھی، ایرک اس سے پہلے بھی متاثر تھا، لیکن اس سے قرآن پاک پڑھنے کے دوران وہ اس سے مزید قریب ہوگیا تھا۔
    اس گھر میں ایرک کی جڑیں اب زیادہ گہری اور مضبوط ہوگئی تھیں۔ امامہ کی تمام تر احتیاط کے باوجود…
    ٭…٭…٭
    جبریل لوگوں کو نہ سمجھ میں آنے والے انداز میں متاثر کرتا تھا۔ تیرہ سال کی عمر میں اس کا ٹھہراؤ اس کی عمر کے عام بچوں کے برعکس تھا۔ سالار کی بیماری نے امامہ کے ساتھ ساتھ دس سال کی عمر میں اسے بھی بدل دیا تھا۔ وہ ضرورت سے زیادہ حساس اور اپنی فیملی کے بارے میں زیادہ ذمہ دار ہوگیا تھا یوں جیسے وہ اسی کی ذمہ داری تھی اور سالار اور امامہ یقینا خوش قسمت تھے کہ ان کی سب سے بڑی اولاد میں ایسا احساس ذمہ داری تھا۔
    اس نے امریکا میں سالار کی سرجری اور اس کے بعد وہاں امامہ کے بھی وہیں قیام کے دوران اپنے تینوں چھوٹے بہن، بھائیوں کی پروا کسی باپ ہی کی طرح کی تھی۔
    سکندر عثمان اور طیبہ، سالار کے بچوں کی تربیت سے پہلے بھی متاثر تھے، لیکن ان کی غیر موجودگی میں جبریل نے جس طرح ان کے گھر پر اپنے بہن بھائیوں کا خیال رکھا تھا، وہ ان کو مزید متاثر کرگیا تھا۔ امامہ نے اپنے بچوں سے کہا تھا کہ یہ ہمارا گھر نہیں ہے، ہم یہاں مہمان ہیں اور مہمان کبھی میزبان کو شکایت کا موقع نہیں دیتے اور ان چاروں نے ایسا ہی کیا تھا۔ طیبہ اور سکندر کو کبھی ان چاروں بچوں کے حوالے سے کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا نہ ہی انہیں ان کے حوالے سے کسی اضافہ ذمہ داری کا احساس ہوا تھا۔
    وہ تینوں اپنا ہر کام خود ہی کرلینے کی کوشش کرتے تھے اور رئیسہ کی ذمہ داری ان تینوں نے آپس میں بانٹی ہوئی تھی کیوں کہ ان چاروں میں سب سے چھوٹی اور کسی حد تک اپنے کاموں کے لئے، وہی دوسروں پر انحصار کرتی تھی۔
    اپنے بہن بھائیوں کی ذمہ داریاں اس طرح اپنے سر لینے نے جبریل کو بہت بدلا تھا۔ ایک دس سالہ بچہ کئی مہینے اپنا کھیل کود، اپنی سرگرمیاں بھلا بیٹھا تھا اور یہی وہ وقت تھا جب جبریل ذہنی طور پر بھی بدلتا چلا گیا تھا۔
    تیرہ سال کی عمر میں ہائی اسکول سے ڈس ٹنکشن کے ساتھ پاس کرکے یونیورسٹی جانے والا وہ اپنے اسکول کا پہلا اسٹوڈنٹ تھا اور وہ یونیورسٹی صرف ڈس ٹنکشن کے ساتھ نہیں پہنچا تھا، وہ وہاں بل گیٹس فاؤنڈیشن کی ایک اسکالر شپ پر پہنچا تھا۔ وہ، وہ پہلی سیڑھی تھی جو میڈیسن کی طرف جاتے ہوئے اس نے چڑھی تھی سالار سکندر کے خاندان کا پہلا پرندہ یونیورسٹی پہنچ چکا تھا۔
    ٭…٭…٭




  • ہم — کوثر ناز

    ہم — کوثر ناز

    محبت کسی تتلی کے مانند اس کے دل سے اڑ گئی تھی یا شایدکسی غبارے سے ہوا کی طرح نکل گئی تھی۔ وہ شخص جو کبھی میرے لیے تپتی دوپہر میں سڑک پر کھڑا میرے کالج سے واپسی کا منتظر ہوا کرتا تھا، جو میرے وصل کی خواہش میں مرا جاتا تھا اس کے لیے میں اس قدر ارزاں ہوگئی ہوں کہ اس سے کسی شے کو طلب کرتے ہوئے یا اپنی ضرورت اسے بتاتے ہوئے بھی مجھے شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔ اسے اب میری جدائی محسوس نہیں ہوتی۔ وہ مجھ سے دور رہ کر خود کو پرسکون محسوس کرتا ہے۔
    مجھے اپنے بھائی کے گھر آئے آج پندرہ دن گزر چکے ہیں، لیکن اس نے پلٹ کر ایک بار خبر تک نہیں لی۔ نہ جانے کیوں اس کی محبت پانی کا بلبلا ثابت ہوئی۔ یہاں آتے ہوئے جہاں مجھے یہ امید بھی تھی کہ لاکھ بے زاریاں سہی، لیکن وہ مجھے روک لے گا۔ میری دھمکیوں کا اس پر اثر ہوگا، تو وہیں یہ خوف بھی من میں سر اٹھا رہا تھا کہ کہیں وہ نہ لوٹا تو؟ عمر کے اس حصے میں آکر جدائی میرا نصیب بن گئی تو؟ اور کہیں وہ اسی جدائی میں سکون پانے لگا تو؟ میں اپنی ذات کو لے کر کہاں جاؤں گی؟ بھائی کو کیا کہوں گی کہ محبت کی شادی کا انجام اس عمر میں آکر کیوں ظاہر ہوا جب میری ہستی آدھی بکھر گئی ہے۔ جب عمر کی منازل میرے چہرے کی جھریوں پر لکھی جاچکی ہیں لیکن میں پھر بھی آگئی ۔اس ڈر کو ساتھ لیے کہ کہیں مجھے خود ہی نہ لوٹنا پڑے کیوں کہ اگر ایسا ہوا تو وہ میری ذات اور نسوانی انا کوپیروں تلے روند دے گا جیسے وہ شادی کے دو سال بعد سے میری محبت کو روندتا آیا ہے۔
    ہاں! اس کی محبت، رانجھا کی سی محبت، شادی کے دو سال بعدہی اس سمیت چاہ یوسف میں گر کر گم ہوگئی تھی۔ وہ سب بھول گیا اس کی محبت بھی، میری ذات بھی اور اتنا عاجز آگیا کہ اگر میں کوئی بات شادی سے پہلے کی یاد دلواتی تو وہ کروٹ بدل کر سو جاتا یا سونے دو کہہ کر کر بازو آنکھوں پر رکھ لیتا اور میں، شرمندگی میں تو کبھی پچھتاوا لیے اس کی پیٹھ کو تکے جاتی۔ اگر کوئی مرد محسوس کرنے والا ہو، تو اس کے ڈوب مرنے کے لیے یہی بات کافی ہے کہ اس کی ہم سفر، اسے اپنے لیے چننے پر پچھتاوا محسوس کرنے لگی ہے۔ لازمی نہیں محسوس صرف تب ہو جب اقرار زبانی ہو جو خاموشی وآنکھوں کی بیانی محسوس کرتے اور سنتے ہیں، انہیں ہی محبوب کہتے ہیں اور میں تو چپ اس لیے بھی تھی کہیں میرے زبان کھولنے پر وہ مجھے میکے کا راستہ نہ دکھا دیں کیوں کہ ان سے کوئی بعید نہیں جو مجھے کسی زمانے میںاپسرا کا خطاب دیا کرتے تھے۔ وہ اب مجھے بدہیئت کہنے پر اتر آئے تھے۔ شادی، وہ رشتہ جہاں جوڑے کے درمیان کئی بار نفرت تو کئی بار محبت ہوتی ہے، لیکن وہ اب مجھے مسلسل بے زاری دکھا رہا تھا۔ میرے ذوق و شوق وہی ہیں، میں شاعری کا ذوق اب بھی رکھتی ہوں کہ اس کے لیے میری محبت کہیں نہ کہیں اب بھی دفن ہے۔میں نے اپنی ذات اس کے لیے گنوا دی، مگروہ سب دفنا چکا ہے۔ اسے اب نہ تو شاعری سے شغف ہے، نہ اسے مجھ سے پہلے سی محبت ہے۔ اتنا ہی نہیں، وہ میری محبت بھری باتوں سے، جنہیں سنتے سنتے وہ کبھی نیند کے آغوش میں چلے جانا چاہتا تھا، اب اسے میری وہی باتیں سننا بالکل ایسا لگتا ہے جیسے کسی پرانے ریڈیو کو سن کر سماعت کو اذیت دینا۔ اس کے لیے میں ایک ایسا علاقہ تھی جسے فتح کرنے اور کچھ عرصہ قیام کے بعد آگے بڑھنا ضروری ہوگیا تھا، مگر میں وہی تھی، دل و جان سے مشرقی لڑکی جو اس کے لیے اب بدہیئت ہوچکی تھی۔ میں جان نثار کرنے والی ہی رہی اور وہ راہ بدل گیا۔ وہ بھول گیا محبت اور یہ بھی کہ محبوبہ گر بیوی بھی بن جائے یا عمر کی کتنی بھی منازل طے کرلے وہ توجہ اور محبت اوّل روز والی ہی چاہتی ہے کہ اگر اس کی ذات اجڑی ہے، تو تمہیں اور تمہارے گھرانے کو آباد کرنے کو۔




    وہ کہتا ہے مجھے اس کی توجہ پانے کی ایک مہلک بیماری لگ چکی ہے۔ جس کے لیے میں کبھی غصہ کرتی ہوں تو کبھی شادی سے پہلے کی باتیں یاد دلواتی ہوں تو کبھی طنز کرتی ہوں، لیکن وہ دونوں ہاتھ اٹھائے ہر الزام سے بری الذمہ نظر انداز کرتا پایا جاتا کہ وہ میری بیماری پر دستِ شفا مزاجی خدا کی حیثیت سے بھی نہیں رکھ سکتا۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں میں اس کا ہاتھ تھام نہ لوں اور وہ اس گستاخی کے نتیجے میں کہیں سزا کا حق دار نہ ٹھہرا دیا جائے۔
    میں نے اس کی نسل بڑھانے کی سعی میں اسے تین ہونہار اولادیں دیں جو اپنے اپنے کیرئیر بنانے میں مصروفِ عمل ہیں، مگر وہ میری قدر بھول گیا۔ اسے اس بات سے چڑ تھی کہ میں اس کی محبوبہ کیوں تھی؟ وہ اس عمر میں مجھ سے رویہ بدلنے کی امید کررہا تھا۔ میں اپنا رویہ کیسے بدل لیتی؟ مجھے تو اوّل روز کے مانند اس سے ویسی ہی محبت تھی، شدید اور خواہش تھی کہ کہیں نہ کہیں وہ مجھے وہی خصوصی توجہ دے جو میرا حق ہے ۔ وہ ہمیشہ مجھے یہ باور کروادیا کرتا کہ ہر شے کا اپنا اپنا ایک وقت ہوتا ہے اور وقت گزر جائے تو وہ تاریخ بن جاتی ہے اور ماضی میں رہنے والوں کا حال ہمیشہ برا ہوتا ہے۔ اسے شاید اس بات سے بھی چڑ تھی کہ میں نے عمر کی منازل کیوںطے کیں، لیکن میرے پاس ایسا کوئی کلیہ نہیں تھا کہ میں اپنی بڑھتی عمر کو روک لیتی۔ اسے یہ بھی احساس نہیں تھا کہ میں نے کبھی اس کی بڑھتی عمر کی جانب اس کی توجہ نہیں دلوائی۔ اس بات کا کبھی احساس نہیں ہونے دیا کہ وہ بھی اب نوجوان نہیں ہیں، چالیس کے ہندسے کو کب سے عبور کرچکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میری آنکھیں اند ر اور بال آدھے رہ گئے ہیں، لیکن انہیں یہ احساس نہیں ہواکہ مجھے بچوں کی تعلیم وتربیت اور گھر کو جوڑنے نے ایسا کردیا ہے ۔وہ بچے بھی ہم دونوں ہی کے ہیں، وہ گھر بھی ہمارا ہی ہے۔ وہ شوخ مزاج شاید نظروں کے پہلی بار کے تصادم کا سا لطف ، پہلی بارش میں بھیگنے کی سی سرشاری، ہاتھوں میں ہاتھ تھام کر سرمئی کہر میں پہلی بار اترنے کا سا تجربہ اور شادی کے پہلے چند ماہ کے دوران وصل و سرور سے لبریز دن اور راتیں چاہتا تھا اور تبھی جواباً میں اس کی توجہ پا سکتی تھی، مگر وقت بدلتا ہے تو رشتوں کے درمیان محبتوں کے طریقے ضرور بدل جاتے ہیں، مگر محبتیں ہوا نہیں ہوجاتیں۔
    وہ کہتا تھا کہ ایک مارکیٹنگ اینڈ سیلز منیجر جس کے سر پر ٹارگٹ سوار ہوں، وہ مجھ سے محبت میں نبھا اس عمر تک آتے آتے کیسے کرے، لیکن وہ سمجھتا ہی نہ تھا کہ کبھی کبھی محبتیں جان بوجھ کر بھی بانٹنی پڑتی ہیں کہ اگر جواباً گرم جوشی ملے تو انسان میں محبت کی کاشت پھر سے شروع ہوجاتی ہے۔ رشتوں کی ٹوٹتی سانسیں ایسے بھی بحال کی جاسکتی ہیں، مگر افسوس صد افسوس کہ سب پیچھے رہ گیا۔ سارا محبت کا نشہ ہرن ہوگیا اور ہاتھ میں ذلت و رسوائی کے سوا میں اور کچھ نہیں دیکھ رہی۔ اے خدا تعالیٰ! میری ذات کو بکھرنے سے بچا لے۔ میرا مان میرے اپنوں کے سامنے سلامت رکھناـ۔ بستر پر پڑی چھت کو ایک ٹک گھورتی وہ ماضی سے حال کا سفر طے کرآئی تھی اور اب آنکھوں سے بہتا گرم سیال صاف کرتی وہ خدا کے حضور دعا گوتھی۔ تب ہی بھائی نے آکر دروازے پر دستک دی، تو اس کی محویت ٹوٹی اور اس نے اٹھ کر دروازہ کھولا۔ بھائی نے جو خبر دی،اسے سن کر شدید مسرت و حیرانی سے دوچار ہوئی اور واپس مڑکر جلدی سے آئینے کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔ حلیہ درست کرتے ہوئے اس نے جلدی سے سامنے پڑی سرخی سے لبوںکو ذرا سا سرخ کیا اور دھڑکتے دل کی آواز سنی جو محبت کے گیت گارہا تھا مگر وہ ڈر گئی کہ اسے یہ سب پسند نہیں۔ لیکن دل تو آخر بچہ تھا، خوشی سے شاد تھا۔ وہ آخری نظر آئینے میں نظر آتے اپنے سراپے پر ڈالتے ہوئے ہتھیلی پر آیا پسینا صاف کرتے ہوئے اسی جانب چل دی جہاں سے بھائی آئے تھے۔
    ٭…٭…٭
    ٹھنڈی چلتی تیز ہوائیں اور پرفسوں شام، اس پر ریل گاڑی کے ماحول کی مخصوص مگر مدھم سی خاموشی جو کم مسافر ہونے کے باعث تھی۔ کچھ باہر برستی ہلکی بوندوںکا اثر تھا کہ ہر شخص قدرت کے عنایت کیے گئے اس حسین موسم سے لطف اندوز ہورہا تھا۔ ایسے میںسحر عالم اپنے ہم سفردبیر عالم مارکیٹنگ اینڈ سیلز منیجر ، بلا کے کرخت اور خود سے بے زار انسان کو اپنا ہاتھ تھامے بیٹھے دیکھے تو حیرت توہوتی ہے۔ ایسے میں سحر عالم کو اس کی خاموشی بھلی نہیں لگ رہی تھی۔ آج ایک عرصے بعد اس کی آنکھوں میں وہ دیپ روشن تھے جو شادی کے اوئل دنوں میں ہوا کرتے تھے۔ وہ جب اس کے سامنے گئی تو اس نے صرف اتنا ہی کہا تھا کہ:
    سحر چلو، جلدی سے جاکر اپنا سامان پیک کرو، اگلی ریل سے گھر کے لیے نکلنا ہے ۔‘‘ سحر عالم بے خودی میں ہونقوں کی طرح اسے دیکھے گئی تھی۔ اس کے دوبارہ کہنے پر سحر عالم شاک سے باہر نکلی اور جاکراپنا سامان اٹھا لائی اور اب ریل میں اس کے سامنے نشست پر بیٹھی اسے مسلسل سوچتے دیکھ کر سحر کو کل کی وہ نظم یاد آئی گئی تھی جو اس کی بھتیجی نے اسے سنائی تھی اور اس نے لفظ بہ لفظ باہر برستی بارش کو دیکھتے ہوئے اسے کہہ سنائی۔
    کچھ کہنا چاہتی ہے
    مگر کہہ نہیں سکتی
    کھل کر نہیں برستی
    تمہاری طرح
    بارش کسی الجھن میں ہے
    دبیر عالم نے اسے بہ غور دیکھا اور عقیدت سے بھرپور نگاہ سحر عالم کے چہرے پر ڈالی کہ، سحر عالم وہ عورت تھی جس کے ساتھ میں نے خواب دیکھے تھے جس کے وصل کی چاہ لیے میں کئی مہینوں تک ہر رات اپنے بستر پر کروٹیں بدلتا تھا۔
    میں اس سے بے زار کیسے ہوگیا؟ یہ تو آج بھی مجھے اسی شدت سے چاہتی ہے۔
    ’’تم نے سچ میں میری آنکھیں کھول دیں میرے اجنبی محسن! تم نے مجھے سوچنے کا نیا زاویہ دیا ہے، بہت شکریہ ‘ آسودگی سے مسکراتے ہوئے دبیر عالم نے اس اجنبی کو سوچا جو لاہور جاتے ہوئے اس کا ہم سفر تھا اور اپنی بیوی کم محبوبہ کے لیے شاعری کررہا تھا۔ اس کی یاد سے اس اجنبی کی آنکھوں میں نمی تھی اور حیرت انگیز بات یہ تھی کہ اس کی عمر بھی مجھ سے قطعی کم نہ تھی، مگر محبت تاحال قائم تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ محبت کی اصل جگہ دل ہے، اس کے سوا اس کا کوئی اور ٹھکانہ ہوہی نہیں سکتا۔ اس نے یہ بھی کہا کہ محبت صنوبر کے کسی بلند پیڑ کے مخروطی پتے پر لرزاں ، برستی ہوئی بارش کا کوئی قطرہ نہیں ہے کہ ایک ہوا کے جھونکے سے بے نام اتھاہ گہرائیوں میں ہمیشہ کے لیے گم ہوجائے، نہ ہی کیلنڈر کا صفحہ ہے جو مہینہ ختم ہوتے ہی پلٹ دیا جائے۔ یہ تو خدا کا پرتو ہے۔ محبت آگے ، اطراف ، نیچے، اوپر اور پیچھے ایک ہی ہیئت رکھتی ہے۔ اسی لیے اسے ہمیشہ اور ہرجگہ رہنا ہے۔ اس نے اپنی کہانی بتائی۔ اس کے لفظوں میں اتنی تاثیر تھی کہ میں خود کو تمہارے معاملے میں بے اختیار سا پانے لگا۔ اس اجنبی کے دل میں اپنی بیوی کے لیے اتنی تعظیم تھی کہ وہ شرمندگی کی اتھاہ گہرائیوں میں گرتا چلا گیا۔ میں محبت کو پراڈکٹ اور وہ منافع سمجھتا تھا جو ہمیشہ حاصل کرنا چاہتا تھا اور بدقسمتی سے میں کھوتا جارہا تھا ۔
    محبت پالینے سے پہلے
    کبھی نہاں ، کبھی فغاں ہے
    پالینے کے بعد
    مسلسل امتحان ہے
    ’’پڑھنے کے بعد میں سمجھ گیا بلکہ اس کی محبت کے انداز و اطوار، اس کے پرخلوص لفظوں نے مجھے سمجھا دیا تھا کہ محبت میں جو پیچھے مڑ کر نہیں دیکھ سکتا، وہ زندگی میں کبھی آگے نہیں بڑھ سکتا۔ مجھے اندازہ ہوگیا سحر عالم کہ میں ہی غلط تھا۔ پرانی باتیں یاد کرنے سے تو رشتے جوان ہوتے ہیں، انہی کے ذکر سے تو ہم اپنی بے رنگ زندگی میں کچھ رنگ بھرنے کی پھر سے کوشش کرسکتے ہیں کہ ہم کیا تھے۔ سحر عالم میرا تم سے وعدہ ہے۔ اب سے ہر دم تم میری محبت کی گھنی چھاؤں میں رہو گی۔ اسی لیے میں اسٹیشن پر اترا کہ تمہیں ابھی ساتھ لے چلوں کیوں کہ تمہارے ہونے سے میرا گھر مکمل ہوتا ہے۔‘‘ وہ سوچتے سوچتے جانے کب بولنے لگے تھے۔ سحر عالم دم بہ خود سکتے کی سی کیفیت میں انہیں سنے جارہی تھی اورا ب ان کی آنکھوں میں آنسو تھے، تشکر لیے۔ وہ دل ہی دل میں اپنے اجنبی محسن کا شکریہ ادا کرنے لگی اور ساتھ ہی خدا کے حضور گویا ہوئی :
    ’’اے خدا! تیرے احسانات کا بدلہ اگر میں تاحیات سجدے میں رہ کر بھی گزار دوں تو ممکن نہیں۔ تونے مجھے رسوائی سے بچا کر میرے دامن میں خوشیاں بھر دیں۔ شکر ہے میرے مالک، کرم ہے تیرا۔‘ سحر عالم نے مسکرا کر دبیر عالم کو دیکھا جو اب ان کی پلکوں سے آنسو چن رہے تھے۔

    ٭…٭…٭




  • آبِ حیات — قسط نمبر ۱۱ (ابداً ابدا)

    گرینڈ حیات ہوٹل کا بال روم اس وقت Scripps National Spelling Bee کے 92 ویں مقابلے کے دو فائنلسٹس سمیت دیگر شرکاء ان کے والدین، بہن بھائیوں اور اس مقابلے کو دیکھنے کے لئے موجود لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا ہونے کے باوجواد اس وقت پن ڈراپ سائلنس کا منظر پیش کررہا تھا۔
    دونوں فائنلسٹ کے درمیان راؤنڈ 14 کھیلا جارہا تھا۔ 13 سالہ نینسی اپنا لفظ اسپیل کرنے کے لئے اس وقت اپنی جگہ پر آچکی تھی۔ پچھلے 92 سالوں سے اس بال روم میں دنیا کے بیسٹ اسپیلر کی تاجپوشی ہورہی تھی۔ امریکہ کی مختلف ریاستوں کے علاوہ دنیا کے بہت سارے ممالک میں اسپیلنگ بی کے مقامی مقابلے جیت کر آنے والے پندرہ سال سے کم عمر کے بچے اس آخری راؤنڈ کو جیتنے کے لئے سردھڑکی بازی کے شرکاء آج بھی اسٹیج پر تھے۔
    "Sassafras” نینسی نے رکی ہوئی سانس کے ساتھ پروناؤنسر کا لفظ سنا۔ اس نے پروناؤنسر کو لفظ دہرانے کے لئے کہا پھر اس نے خود اس لفظ کو دہرایا۔ وہ چیمپئن شپ ورڈز میں سے ایک تھا لیکن فوری طور پر اسے وہ یاد نہیں آسکا، بہر حال اس کی ساؤنڈ سے وہ اسے بہت مشکل نہیں لگا تھا اور اگر سننے میں اتنا مشکل نہیں تھا تو اس کا مطلب تھا وہ ٹرکی لفظ ہوسکتا تھا۔
    نوسالہ دوسرا فائنلسٹ اپنی کرسی پر بیٹھا، گلے میں لٹکے اپنے نمبر کارڈ کے پیچھے، انگلی سے اس لفظ کو اسپیل کرنے میں لگا ہوا تھا۔ وہ اس کا لفظ نہیں تھا لیکن وہاں بیٹھا ہر وہ بچہ بھی غیر ارادی طور پر اس وقت یہی کرنے میں مصروف تھا جو مقابلے سے آؤٹ ہوچکا تھا۔
    نینسی کاریگولر ٹائم ختم ہوچکا تھا۔ اس نے لفظ کو اسپیل کرنا شروع کیا۔ s.a.s.sوہ پہلے چار لیٹرز بتانے کے بعد ایک لمحے کے لئے رکی۔ زیر لب اس نے باقی کے پانچ لیٹرز دہرائے، پھر دوبارہ بولنا شروع کیا۔
    "A.F.R” وہ ایک بار پھر رکی، دوسرے فائنلسٹ نے بیٹھے بیٹھے زیر لب آخری دو لیٹرز کو دہرایا ـ”U.S” مائیک کے سامنے کھڑی نینسی نے بھی بالکل اسی وقت یہی دو لیٹرز بولے اور پھر بے یقینی سے اس گھنٹی کوبجتے سنا جو اسپیلنگ کے غلط ہونے پر بجتی تھی۔ حیرت صرف اس کے چہرے پر نہیں تھی، اس دوسرے فائنلسٹ کے چہرے پر بھی تھی۔ پروناؤنسر اب Sassafras کی درست اسپیلنگ دہرایا تھا۔ نینسی نے بے اختیار اپنی آنکھیں بند کیں۔
    ’’آخری لیٹر سے پہلے A ہی ہونا چاہیے تھا… میں نے U کیا سوچ کر لگا دیا۔‘‘ اس نے خود کو کوسا۔
    تقریباً فق رنگت کے ساتھ نینسی گراہم نے مقابلے کے شرکاء کے لئے رکھی ہوئی کرسیوں کی طرف چلنا شروع کردیا۔ ہال تالیوں سے گونج رہا تھا۔ اس کے قریب پہنچنے پر اس نے نینسی سے آگے بڑھ کر ہاتھ ملایا۔ نینسی نے ایک مدھم مسکراہٹ کے ساتھ اسے جواباً وش کیا اور اپنی سیٹ سنبھال لی۔ ہال میں موجود لوگ دوبارہ اپنی نشستیں سنبھال چکے تھے اور دوسرا فائنلسٹ مائیک کے سامنے اپنی جگہ پر آچکا تھا۔ نینسی نے کسی موہوم سی امید کے ساتھ اسے دیکھنا شروع کیا۔ اگر وہ بھی اپنے لفظ کو مس اسپیل کرتا تو وہ ایک بار پھر فائنل راؤنڈ میں واپس آجاتی۔
    "That was a catch 22.” اس سے ہاتھ ملاتے ہوئے اس نے کہا تھا۔ وہ اندازہ نہیں لگاسکی، وہ اس کے لئے کہہ رہا تھا یا وہ اس لفظ کو واقعی اپنے لئے بھی catch 22 ہی سمجھ رہا تھا… وہ چاہتی تھی ایسا ہوتا… کوئی بھی ہوتا، یہی چاہتا۔
    سینٹر اسٹیج پر اب وہ نو سالہ فائنلسٹ تھا۔ اپنی شرارتی مسکراہٹ اور گہری سیاہ چمکتی آنکھوں کے ساتھ… اس نے اسٹیج پر کھڑے چیف پروناؤنسر کو دیکھتے ہوئے سرہلایا۔ جوناتھن جواباً مسکرایا تھا اور ہونٹوں پر ایسی مسکراہٹ رکھنے والا وہ وہاں واحد نہیں تھا۔ وہ نو سالہ فائنلسٹ اس چیمپئن شپ کو دیکھنے والے کراؤڈ کا سوئیٹ ہارٹ تھا۔
    اس کے چہرے پر بلا کی معصومیت تھی۔ چمکتی ہوئی تقریباً گول آنکھیں جو کسی کارٹون کریکٹر کی طرح بے حد animatedتھیں اور اس کے تقریباً گلابی ہونٹ جن پر وہ وقتاً فوقتاً زبان پھیر رہا تھا اور جن پر آنے والا ذرا سا خم بہت سے لوگوں کو بلاوجہ مسکرانے پر مجبور کررہا تھا… وہ معصوم فتنہ تھا، یہ صرف اس کے والدین جانتے تھے جو دوسرے بچوں کے والدین کے ساتھ اسٹیج کی بائیں طرف پہلی صف میں اپنی بیٹی کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔




    وہاں بیٹھے دوسرے فائنلسٹ کے والدین کے برعکس وہ بے حد پرسکون تھے۔ ان کے چہرے پر اب کوئی ٹینشن نہیں تھی، جب ان کا بیٹھا چیمپئن شپ ورڈ کے لئے آکر کھڑا ہوا تھا۔ ٹینشن اگر کسی کے چہرے پر تھی تو وہ ان کی سات سالہ بیٹی کے چہرے پر تھی جو دو دن پر مشتمل اس پورے مقابلے کے دوران دباؤ میں رہی تھی اور وہ اب بھی آنکھوں پر گلاسز ٹکائے پورے انہماک کے ساتھ اپنے نو سالہ بھائی کو دیکھ رہی تھی جو پروناؤنسر کے لفظ کے لئے تیار تھا۔
    ـ”Cappelletti” جوناتھن نے لفظ ادا کیا۔ اس فائنلسٹ کے چہرے پر بے اختیار ایسی مسکراہٹ آئی جیسے وہ بمشکل اپنی ہنسی کو کنٹرول کررہا ہو۔ اس کی آنکھیں پہلے کلاک وائز پھر اینٹی کلاک وائز گھومنا شروع ہوگئی تھیں۔ ہال میں کچھ کھلکھلاہٹیں ابھری تھیں۔
    اس نے اس چیمپئن شپ میں اپنا ہر لفظ سننے کے بعد اسی طرح ری ایکٹ کیا تھا۔ بھنچی ہوئی مسکراہٹ اور گھومتی ہوئی آنکھیں… کمال کی خود اعتمادی تھی۔ کئی دیکھنے والوں نے اسے داد دی۔ اس کے حصے میں آنے والے الفاظ دوسروں کی نسبت زیادہ مشکل تھے۔ یہ اس کی ہارڈ لک تھی لیکن بے حد روانی سے بغیر اٹکے بغیر گھبرائے اسی پر اعتماد مسکراہٹ کے ساتھ وہ ہر پہاڑ سر کرتا رہا تھا اور اب وہ آخری چوٹی کے سامنے کھڑا تھا۔
    "Definition Please.” اس نے اپنا ریگولر ٹائم استعمال کرنا شروع کیا۔
    "Language of origin.”
    اس نے پروناؤنسر کے جواب کے بعد اگلا سوال کیا۔ ’’اٹالین‘‘ اس نے پروناؤنسر کے جواب کو دہراتے ہوئے کچھ سوچنے والے انداز میں ہونٹوں کو دائیں بائیں حرکت دی۔ اس کی بہن بے حد پریشانی اور دباؤ میں اسے دیکھ رہی تھی۔ اس کے والدین اب بھی پرسکون تھے۔ اس کے تاثرات بتارہے تھے کہ لفظ اس کے لئے آسان تھا۔ وہ ایسے تاثرات کے ساتھ پچھلے تمام الفاظ کو اسپیل کرتا رہا تھا۔
    "Use in a sentence please.”
    وہ اب پروناؤنسر سے کہہ رہا تھا۔ پروناؤنسر کا بتایا ہوا جملہ سننے کے بعد اس نے گلے میں لٹکے ہوئے نمبر کارڈ کی پشت پر انگلی سے اس لفظ کو اسپیل کیا۔
    "Your Finish Time starts.”
    اسے ان آخری 30 سیکنڈز کے شروع ہونے پر اطلاع دی گئی جس میں اس نے اپنے لفظ کو اسپیل کرنا تھا۔ اس کی آنکھیں بالآخر گھومنا بند ہوگئیں۔
    ـ”Cappelleti” اس نے ایک بار پھر اپنے لفظ کو دہرایا اور پھر اسے اسپیل کرنا شروع ہوگیا۔
    "C.a.p.p.e.l.l” وہ اسپیلنگ کرتے ہوئے ایک لحظہ رکا، پھر ایک سانس لیتے ہوئے اس نے دوبارہ اسپیل کرنا شروع کیا۔
    "e.t.t.i.” ہال تالیوں سے گونج اٹھا اور بہت دیر تک گونجتا رہا۔
    اسپیلنگ بی کا نیا چیمپئن، صرف ایک لفظ کے فاصلے پر رہ گیا تھا۔
    تالیوں کی گونج تھمنے کے بعد جوناتھن نے اسے آگاہ کیا تھا کہ اسے اب ایک اضافہ لفظ کو اسپیل کرنا تھا۔ اس نے سرہلایا۔ اس لفظ کو اسپیل نہ کرسکنے کی صورت میں نینسی ایک بار پھر مقابلے میں واپس آجاتی۔
    "weissnichtwo.” اس کے لئے لفظ پروناؤنس کیا گیا تھا۔ ایک لمحہ کے لئے اس کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوئی تھی، پھر اس کا منہ کھلا اور اس کی آنکھیں پھیل گئی تھیں۔
    ’’اوہ! مائی گاڈ؟‘‘ اس کے منہ سے بے اختیار نکلا۔ وہ شاکڈ تھا اور پوری چیمپئن شپ میں یہ پہلا موقع تھا کہ اس کی آنکھیں اور وہ خود اس طرح جامد ہوا تھا۔
    نینسی بے اختیار اپنی کرسی پر سیدھی ہوکر بیٹھ گئی تھی۔ تو بالآخر کوئی ایسا لفظ آگیا تھا جو اسے دوبارہ چیمپئن شپ میں واپس لاسکتا تھا۔
    اس کے والدین کو پہلی بار اس کے تاثرات نے کچھ پریشان کیا تھا۔ کیا crunch تھا ان کا بیٹا۔ اب اپنے نمبر کارڈ سے اپنا چہرہ حاضرین سے چھپا رہا تھا۔ حاضرین کی انگلیوں اور ہاتھوں کی کپکپاہٹ بڑی آسانی سے اسکرین پر دیکھ سکتے تھے اور ان میں سے بہت سوں نے اس بچے کے لئے واقعی بہت ہم دردی محسوس کی تھی۔ وہاں بہت کم ایسے تھے جو اسے جیتتے ہوئے دیکھنا نہیں چاہتے تھے۔
    ہال میں بیٹھا ہوا صرف ایک فرد ریلیکسڈ تھا… ریلیکسڈ؟… یا ایکسائیٹڈ؟… کہنا مشکل تھا اور وہ اس بچے کی سات سالہ بہن تھی جو اب اپنے ماں باپ کے درمیان بیٹھی ہوئی تھی اور جس نے بھائی کے تاثرات پر پہلی بار بڑے اطمینان کے ساتھ کرسی کی پشت کے ساتھ مسکراتے ہوئے ٹیک لگائی تھی۔ گود میں رکھے ہوئے اپنے دونوں ہاتھوں کو بہت آہستہ آہستہ اس نے تالی کے انداز میں بجانا شروع کردیا تھا۔ اس کے ماں باپ نے بیک وقت اس کے تالی بجاتے ہاتھوں اور اس کے مسکراتے چہرے کو الجھے ہوئے انداز میں دیکھا پھر اسٹیج پر اپنے لرزتے کانپتے کنفیوزڈ بیٹے کو جو نمبر کارڈ کے پیچھے اپنا چہرہ چھپائے انگلی سے نمبر کارڈ کے پیچھے کچھ لکھنے اور بڑبڑانے میں مصروف تھا۔
    ہال اب آہستہ آہستہ تالیاں بجا رہا تھا۔ وہ اب اپنا کارڈ نیچے کرچکا تھا یوں جیسے ذہنی تیاری کرچکا ہو… 92 ویں اسپیلنگ بی کے فائنل مقابلے میں پہلی بار پہنچنے والا وہ فائنلسٹ اپنی قسمت آزمانے کے لئے تیار تھا۔
    ’’w-e-i-s-s-n-i-c-h-t-w-o‘‘ حمین سکندر نے ایک ہی سانس میں رکے بغیر Championship word کے ہجے کئے… کسی روبوٹ کی طرح بنارکے… خلا میںدیکھتے ہوئے… یوں جیسے وہ ان حروف کو خلا میں کہیں لکھا دیکھتے ہوئے، پڑھ رہا تھا۔ وہ اس مقابلے کا پہلا لفظ تھا جسے اس نے بنارکے اس طرح ادا کیا تھا ورنہ وہ ہر لفظ کو سوچ سوچ کر ہجے کرتا تھا یوں جیسے ناپ تول رہا ہو۔
    ’’An unknown place‘‘ اس نے لفظ کے ہجے کرتے ہی اسی رفتار سے اس کا مطلب بتایا… پھر اس کی نظریں pronouncer پر ٹکیں… pronouncer کے منہ سے نکلی ’’درست‘‘ کی آواز ہال میں گونج اٹھنے والی تالیوں کی آواز میں گم ہوگئی تھی… ہال میں اب حاضرین، والدین اور بچے اپنی اپنی سیٹوں سے تالیاں بجاتے ہوئے کھڑے ہورہے تھے… وہ 92nd اسپیلنگ بی کے نئے فاتح کو خراج تحسین پیش کررہے تھے جو اسٹیج پر فلیش لائٹس اور ٹی وی کیمروں کی چکا چوند کردینے والی روشنیوں میں ساکت کھڑا تھا۔ دم سادھے… گنگ … اس کی گول آنکھیں گھومنا تک بھول گئی تھیں… یوں جیسے وہ ابھی تک اس شاک سے نکل نہ پایا ہو کہ وہ جیت چکا ہے۔ یہ حمین سکندر تھا اور یہ حمین سکندر ہی ہوسکتا تھا۔
    تالیوں کی بہرہ کردینے والی گونج اور کیمروں کی خیرہ کردینے والی روشنیوں میں اس نو سالہ بچے نے خود کو سنبھالا… اپنے اعصاب اور حواس پر ایک ہی وقت میں قابو پانے کی کوشش کی اور پھر جو پہلا جملہ اس کے سامنے لگے مائیک نے حاضرین تک پہنچایا تھا اس نے ان تالیوں کی گونج میں ایک بلند شگاف قہقہے کی آواز کو بھی شامل کیا تھا۔
    ’’اوہ ! مائی گاڈ۔‘‘ وہ اس سے زیادہ کچھ نہیں بول سکا… حاضرین کی ہنسی نے جیسے اسے کچھ اور نروس کیا… پھر نادم … پھر پرجوش اور پھر اس نے سرجھکا کر حاضرین کی تالیوں کاجواب دیا… پھر ایک قدم آگے بڑھا کر ججز کی اس قطار کا ، جو حاضرین سے کچھ آگے بیٹھے ہوئے تھے، لیکن اب کھڑے تالیاں بجا رہے تھے، پھر اس نے پلٹ کر اس طرف دیکھا تھا جہاں اس کے ماں باپ اور رئیسہ بیٹھے تھے۔ وہ بھی اب سب کے ساتھ کھڑے اس کے لئے تالیاں بجارہے تھے۔
    حمین سکندر تقریباً بھاگتا ہوا ان کی طرف گیا تھا اور اس کے ساتھ ہی وہ سپاٹ لائٹ بھی گئی جو اس سے پہلے اسٹیج پر اس کو فوکس کئے ہوئے تھی۔ وہ تالیاں بجاتی اور آنسو بہاتی امامہ سے آکر لپٹا تھا… پھر اس سے الگ ہوتے ہوئے اس نے اسی تیزی سے امامہ کے گالوں پر بہتے ہوئے آنسو دونوں ہاتھوں سے رگڑے پھر ان ہاتھوں کو اپنی شرٹ پر رگڑتے ہوئے وہ سالار سے لپٹ گیا۔ ــ”Did I make you proud?” اس نے ہمیشہ کی طرح باپ سے پوچھا۔
    "Very proud!” اس نے اسے تھپکتے ہوئے کہا۔
    اس کی آنکھیں چمکیں… مسکراہٹ گہری ہوئی… پھر وہ رئیسہ کی طرف گیا۔ دونوں ہتھیلیاں پھیلاتے ہوئے اس نے بازو ہوا میں بلند کرتے ہوئے رئیسہ کے پھیلائے ہوئے ہاتھوں پر ہائی فائی کیا… اپنے گلے میں لٹکا نمبر کارڈ اتار کر اس نے رئیسہ کے گلے میں ڈالا… پھر جھک کر اسے تھوڑا سا اٹھایا… وہ کھلکھلائی… حمین نے اسے نیچے اتارا اور اسی طرح بھاگتا ہوا واپس اسٹیج کے درمیان چلا گیا جہاں میزبان اب اس سے پھر بات چیت کرنے کے لئے منتظر کھڑے تھے۔
    ’’آخری لفظ کتنا مشکل تھا؟‘‘ ابتدائی کلمات کے بعد میزبان نے چھوٹتے ہی اس سے پوچھا۔ وہ چند سیکنڈز پہلے سب فائنلسٹ سے ہاتھ ملاتے، ان کی مبارک بادیں وصول کرتے ہوئے اس کے پاس پہنچا تھا۔ ہال میں موجود سب لوگ، اب دوبارہ نشستیں سنبھال چکے تھے اور تقسیم انعامات کی تقریب دیکھنے کے منتظر تھے۔
    ’’آخری لفظ تو بے حد آسان تھا۔‘‘ حمین نے بڑے اطمینان سے کندھے اچکا کر کہا۔ ہال میں قہقہہ گونجا۔
    ’’تو پھر مشکل کیا تھا؟‘‘ میزبان نے چھیڑ چھاڑ والے انداز میں کہا۔
    ’’اس سے پہلے پوچھے جانے والے سارے الفاظ۔‘‘ حمین نے بے حد سنجیدگی سے ترکی بہ ترکی کہا۔ ہال میں پہلے سے زیادہ اونچا قہقہہ بلند ہوا۔
    ’’کیوں؟‘‘
    ’’کیوں کہ میں ہر لفظ بھول گیا تھا۔ بس تکے لگا تارہا، ہر لفظ کے ہجے کرنے کے لئے… بس آخری لفظ تھا جومیں آنکھیں، کان، ناک سب بند کرکے بھی ہجے کرسکتا تھا۔‘‘




  • فیصلے — نازیہ خان

    فیصلے — نازیہ خان

    ہر انسان اس زندگی میں اپنے حصے کی خوشیاں اور غم لے کر آتا ہے۔ وہ چاہے کوئی کتنا ہی خوش نصیب کیوں نہ ہو، اُس کے حصے کا دکھ اور درد اُسے ہی سہنا پڑتا ہے۔ بس اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کا ظرف آزمانا ہوتا ہے۔ بے پناہ محبتوں کے ہوتے ہوئے بھی وہ بتاتا ہے کہ اُس کی محبت سچی ہے اور اسی کے فیصلے اٹل ہیں۔
    دنیا والوں کا ظرف نہیں، مگر وہ بڑے سے بڑا گناہ بھی معاف کرنے والا ہے۔ میں نے اس دُنیا کی بے تحاشا محبتوں کے بعد آخر اپنے رب کی محبت پا ہی لی۔
    میں ایک ایسے گھرانے میں پیدا ہوئی جہاں کئی سالوں بعد ہزاروں منتوں اور دعاؤں کے بعد بیٹی پیدا ہوئی۔ میرے بابا جان کے تین بھائی اور ایک بہن تھی۔ یہ ایک ایسا گھرانہ تھا جہاں عورتوں پر پردے کا بڑا سخت حکم تھا اور بات بات پر اُن پر پابندیاں لگائی جاتی تھیں۔
    یہ اُس دور کی بات ہے جب میرے دادا جان زندہ اور پورے گاؤں میں ایک وہی پڑھے لکھے شخص تھے۔ اس لیے سب لوگ اُن کی عزت کرتے اور اُن کی ہر بات مانی جاتی تھی۔ اُن کا بہت رعب اور دبدبہ تھا۔ وہ غریبوں کی مدد کرنے والے انسان تھے، مگر عورتوں کے معاملے میں بہت سخت تھے۔ کوئی بھی عورت اپنی حدود سے تجاوز کرتی تو اُس کی شادی کسی لولے لنگڑے سے کروا دی جاتی، اب چاہے وہ عورت گھر کی ہو یا باہر کی۔
    عورتوں کے معاملے میں وہ کچھ زیادہ ہی سخت مزاج تھے۔ انہوں نے اپنے چاروں بیٹوں کو پڑھایا، مگر پھوپھو کو اسکول تک نہیں بھیجا۔
    اُن کی یہ سختیاں شاید اللہ پاک کو پسند نہیں آئیں کہ اُن کی وفات کے بعد بھی اِس خاندان میں کوئی بیٹی ہی پیدا نہیں ہورہی تھی۔ دادی جان بہت چاہتی تھیں کہ اُن کے کسی ایک بیٹے کے گھر بیٹی پیدا ہو۔ میرے بابا جان اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ میرے بڑے تایا جان کے چار بیٹے اور چھوٹے دونوں تاؤں کے تین تین بیٹے تھے، مگر بیٹی کوئی نہ تھی۔ جب پھوپھو کی شادی ہوئی تو دادی جان نے بیٹی کے لیے بہت دعائیں کیں، مگر اُن کے ہاں بھی بیٹا پیدا ہوا۔ پھر میرے بابا جان کی شادی کے بعد سب لوگ بیٹی کے لیے منتیں مانگنے لگے۔ بہت سی منتوں اور دعاؤں سے دو بھائیوں کے بعد خاندان میں پہلی بیٹی پیدا ہوئی اور وہ میں تھی۔
    سب بتاتے ہیں کہ میری پیدائش پر مٹھائیاں بانٹی گئیں اور گاؤں کے قرب وجوار کے سب درباروں میں منتیں اتاری گئیں۔




    میری وجہ سے گھر میں بابا جان اور اماں جان کو بھی زیادہ پیار اور عزت ملنے لگی۔ میں اپنے گھر میں سب سے لاڈلی تھی۔ نہ صرف اپنے گھر والوں میں بلکہ پورے خاندان میں۔ پورے گاؤں میں جہاں جہاں تک لوگ ہمارے گھر والوں کو جانتے تھے، سب مجھے بہت محبت دیتے۔ جو محبت اور پیار میں نے اس دُنیا میں دیکھا، وہ شاید ہی کسی اور لڑکی نے دیکھا ہو۔مجھے کبھی اندازہ ہی نہیں ہوا کہ میں کسی بہت قدامت پرست خاندان میں پیدا ہوئی ہوں جہاں عورتوں کے معاملے میں اتنی سختی ہے۔ میں گھر کی باقی عورتوں کے ساتھ ساتھ گاؤں کی عورتوں کو بھی بابا جان اور تایا جان سے ڈرتے دیکھتی تو بہت حیران ہوتی۔
    میری پھوپھو کے ایک بیٹے کی پیدائش کے بعد اُن کا خاوند انہیں چھوڑ کر بیرون ملک چلا گیا اور پھر نہ پھوپھو کو اُس کی اطلاع ملی اور نہ ہی اُس کے گھر والوں کو۔ اُس کے چلے جانے کے کچھ مہینوں بعد بابا اور تایا جان پھوپھو کو گھر لے آئے۔ اب وہ بھی ہمارے ساتھ ہی رہتی تھیں کیوں کہ پھوپھو نے اپنا وہ دور دیکھا تھا جب اُن پر پابندیاں لگائی جاتی تھیں۔ اس لیے مجھے اتنی آزادی ملنے پر وہ کافی جلتی تھیں۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ مجھے پیار نہیں کرتی تھیں۔ وہ بھی مجھ سے محبت کرتی تھیں مگر اکثر مجھے گھر کے اصول اور طور طریقے سمجھانے بیٹھ جاتیں مگر مجھے کبھی اُن کی کوئی بات سمجھ نہ آتی۔ میں اُن سے دور دور رہتی تھی۔ ہمارے گھرانے میں لڑکیوں کو تعلیم دلوانے پر بھی پابندی تھی مگر مجھے شہر کے سب سے بڑے اسکول میں بھیجا گیا۔ میں ڈرائیور کے ساتھ جاتی اور ڈرائیور کے ساتھ ہی آتی، پھوپھو اس بات پر بھی حیران ہوتیں۔ میری ہر بات مانی جاتی۔ اگر کسی بات سے انکار ہو جاتا، تو میں دادی جان کی طرف دوڑی چلی جاتی اور وہ ہر بات منوانے میں میرا ساتھ دیتیں۔
    میری زندگی گھر کے لڑکوں سے بھی منفرد تھی۔ وہ لوگ بھی مجھ سے جلتے تھے کیوں کہ جو چیز وہ لوگ ضد کرکے منگواتے، وہ چیز اُن سے پہلے میرے لیے خریدی جاتی۔ چوں کہ ہم سب ایک ہی حویلی میں رہتے تھے تو لڑکوں کو بھی اِن سب باتوں کی عادت ہوگئی تھی۔ جیسے جیسے میں بڑی ہوتی گئی، میری آسائشیں اور بھی زیادہ ہوتی گئیں۔ میرا کمرا سب سے خوب صورت، بڑا اور شان دار چیزوں سے مزین تھا۔ بچپن میں میرے بھائی اور کزن چھپ چھپ کر میری گیمز کھیلا کرتے اور میں بڑے غرور اور شوخی سے ان میں اپنی گیمز بانٹا کرتی۔ مجھے بچپن ہی سے ایسا لگنے لگا تھاکہ شاید میں واقعی کچھ الگ ہوں۔ میرے گھر والوں کی بے انتہا محبت پر مجھے بہت مان تھا۔ میں بھی ان سے بہت محبت کرتی تھی، مگر میں آزاد ہواؤں میں اُڑنے لگی تھی۔ میں عمر میں تو بڑی ہورہی تھی مگر سمجھ داری میں نہیں۔ بہت معصوم لیکن مغرور سی لڑکی تھی میں۔
    اتنی زیادہ محبت اور لاڈ پیار ملنے کے باوجود میری زندگی کے ہر فیصلے کا اختیار بابا اور تایا جان کے ہاتھ میں ہی تھا، مگر میں نے اس بات کو کبھی محسوس ہی نہیں کیا۔ یہاں تک کہ مجھے آگے کیا پڑھنا ہے، کس کالج میں جانا ہے، حتیٰ کہ کیا پہننا ہے، یہ فیصلے بھی وہ لوگ خود کرتے۔ اُن کا ہر فیصلہ میری خوشی میں ہوتا تھا، اس لیے مجھے لگتا شاید یہ لوگ وہی کرتے ہیں جو میں چاہتی ہوں۔
    اسکول کے بعد میں ایک بہت اچھے کالج جانا چاہتی تھی اور بابا جان نے میرے نمبرز کم ہونے کے باوجود بھی مجھے اُسی کالج میں بھیجا، مگر میری رائے پوچھے بغیر۔ وہ لاہور کا سب سے اچھا گرلز کالج تھا۔
    ہر ہفتے ہاسٹل گاڑی بھیجی جاتی کہ میں گھر والوں سے ملنے جاؤں کیوں کہ وہ میرے بغیر بہت اُداس ہو جاتے۔ میں جب بھی گھر جاتی تو عید کا سا سماں ہوتا۔ کالج بھیجنے کے لیے بابا اور تایا جان نے میری خاطر بہت بڑا دل کیا تھا۔ جب کالج جانے کے لیے پہلی بار بابا جان کے ساتھ میں شہر آنے والی تھی تو اماں جان نے مجھے آواز دے کر بلایا اور ہاتھ پکڑ کر چپکے سے کچن میں لے گئیں کیوں کہ وہاں کوئی نہیں تھا ۔ کچن میں آکر انہوں نے سرگوشی کے انداز میں مجھے نصیحت کرتے ہوئے کہا:
    ’’سنو ماہا! تم اتنے بڑے کالج جارہی ہو، وہاں دھیان سے رہنا، کچھ غلط نہیں ہونا چاہیے۔ تم نے اپنے بابا اور تایا جان کی محبت دیکھتی ہے بیٹا، مگر ان کی نفرت کبھی نہ دیکھنا۔کچھ ایسا مت کرنا جو تمہارے بابا جان کی عزت میں کمی کا باعث بنے۔‘‘
    اماں جان نے آہستہ سے ڈرتے ہوئے یہ سب بولا۔ میں کچھ دیر حیرانی سے انہیں دیکھتی رہی اور پھر ہنستے ہوئے باہر آگئی۔ دراصل مجھے اُن کی بات سمجھ نہیں آئی کہ وہ کہنا کیا چاہتی ہیں۔ میں بابا جان کے ساتھ ہاسٹل آگئی۔ کالج کے دو سال بہت اچھے گزرے۔ گھر سے دور رہنے کے باوجود میں نے بہت انجوائے کیا۔ نئے نئے دوست بنانا اور اُن کے ساتھ باہر جانا، گھومنا پھرنا۔ غرض یہ کہ زندگی بہت خوب صورت تھی۔ جن لڑکیوں کے ساتھ میری دوستی تھی، وہ بھی اچھے گھروں کی تھیں، مگر وہ پھربھی مجھے دیکھ کر رشک کرتیں۔
    کالج بند ہونے کے چار مہینے بعد میں واپس گھر چلی گئی۔ ہاسٹل رہتے ہوئے مجھے اپنی شاپنگ خود کرنے کی عادت ہوگئی تھی۔ گھر واپس جاکر میں نے اماں جان سے شاپنگ پر جانے کے لیے کہا تو وہ حیران رہ گئیں۔ انہوں نے قدرے غصے سے کہا:
    ’’تمہیں جو بھی منگوانا ہے لکھ دو، میں منگوا دوں گی۔‘‘
    یہ سن کر میں نے غصہ کیا تو دادی جان نے مجھے ڈرائیور کے ساتھ شاپنگ پر بھیج دیا۔ جب میں گھر واپس آئی تو بابا جان غصے سے برآمدے میں ہی ٹہل رہے تھے۔ مجھے دیکھ کر وہ آگے آئے اور قدرے سخت لہجے میں کہا:
    ’’ہمارے گھر کی لڑکیاں ایسے بازاروں میں نہیں جاتیں۔‘‘ ان کی اس بات پر دادی جان نے میری طرف داری کی اور میں آرام سے اپنے کمرے میں چلی گئی۔
    مجھے کبھی گھر کے اصولوں کا اندازہ ہی نہیں ہوا۔ بابا اور تایا جان اب بھی دادا جان کی طرح بھاگی ہوئی عورتوں کو سزا سنایا کرتے تھے اور ان کی شادیاں لولے لنگڑے مردوں سے کروا دی جاتی تھیں، اس سے بھی مجھے کوئی سروکار نہیں تھا کیوں کہ میں خود کو سب سے الگ سمجھتی تھی۔ میرے اندر ابھی بھی بچپنا اور معصومیت تھی۔
    کچھ مہینوں بعد میری کالج کی ایک دوست کی کال آئی ۔ اس نے بتایا کہ وہ یونیورسٹی میں داخلہ لے رہی ہے۔ میں نے بابا جان سے یونی ورسٹی کی بات کی تو انہوں نے پیار سے ٹال دیا اور پھر تایا جان سے کہا تو انہوں نے صاف انکار کردیا۔ چوں کہ یونی ورسٹی میں لڑکیاں اور لڑکے اکٹھے پڑھتے ہیں اس لیے وہ مجھے یونی ورسٹی نہیں بھیجیں گے۔ ان کا انکار سن کر مجھے حیرانی ضرور ہوئی لیکن میں پریشان نہ ہوئی۔ مجھے پتا تھا بابا جان میری بات ضرور مانیں گے۔ کچھ دن بعد میری اُسی دوست کی کال آئی اور اُس نے داخلے کی آخری تاریخ بتائی۔ اس پر میں غصے سے دادی کے پاس گئی اور بناوٹی ناراضی سے ان سے کہا:
    ’’کوئی میری بات کیوں نہیں سُن رہا؟ میرا ایڈمیشن کروائیں، مجھے آگے پڑھنا ہے۔‘‘ دادی جان نے بابا جان سے بات کی تو انہوں نے کہا:
    ’’اماں! وہ تو بچی ہے، آپ کیوں بچی بن رہی ہیں۔ اب کیا ہم اُسے لڑکوں کے ساتھ پڑھنے کی اجازت دیں گے؟ ایسا بالکل نہیں ہوسکتا۔‘‘




  • کارآمد — عریشہ سہیل

    کارآمد — عریشہ سہیل

    میں بچپن ہی سے چوہوں سے شدید خوف زدہ رہتی تھی۔ کبھی کبھار گھر میں کوئی چوہا گھس آتا، تو میں اسے دیکھتے ہی کسی اونچی جگہ پر چڑھ جاتی اور چیخ چیخ کر سارا گھر سر پر اُٹھا لیتی۔ میری چیخیں سن کر چوہا بھاگ جاتا اور گھر والے مجھے اگلے آدھے گھنٹے تک نیچے اترنے کے لیے قائل کرتے رہتے۔ دراصل یہ ڈر مجھے وراثت میں اپنی اماں سے ملا تھا۔ ویسے تو میرے ددھیال کی بھی تمام خواتین اس ’’بلا‘‘ سے ڈرتی تھیں، مگر چوہے سے خوف کھانے میں میری اماں کا کوئی مقابلہ نہ کر سکا۔ انہیں خوف زدہ دیکھ کر تو اچھے اچھے دل پکڑ لیتے کہ نہ جانے کیا ناگہانی آفت آگئی ہے۔
    ایک بار یوں ہوا کہ امی باورچی خانے میں برتن دھو رہی تھیں۔ پانی کے شور میں انہیں میری چیخیں سنائی نہ دیں اور پھر جیسے ہی انہیں آواز گئی، وہ معاملے کی نزاکت جانے بغیر بلا خوف و خطر چمٹا اٹھائے لائونج میں چلی آئیں۔ میں جو پہلے ہی صوفے پر کھڑی چیخ رہی تھی، امی کو دیکھ کر مزید چیخنے لگی۔ اس سے قبل کہ وہ مجھ پر برستیں، ان کی نظربھاگتے دوڑتے ڈرائونی شکل والے موٹے سے چوہے پر پڑی۔ بس اسے دیکھتے ہی امی ایک ہی چھلانگ میں صوفے پر آدھمکیں۔ان کے ہاتھ سے چمٹا چھوٹ کر ہوا میں لہراتا ہوا اس بدشکل چوہے کے عین سر پر گرا اور خون کا فوارہ پھوٹ پڑا۔ ہمیں حادثاتی طور پر نشانہ ٹھیک لگنے سے بھی خوشی نہ ہوئی بلکہ ہم دونوں کتنی ہی دیر اس کی لاش کو دیکھ کر سہمی اور ایک دوسرے سے لپٹی رہیں۔ یہاں تک کہ اس روز ابو جی کو دروازہ چابی سے کھول کر اندر آنا پڑا کیوں کہ میں یا امی اس زمین پر کیسے قدم رکھ سکتی تھیں جس پر چوہے کا سایہ بھی پڑ جائے۔
    میں نے گھر والوں سے سنا تھا کہ چوہے گھروں میں گھس کر راشن کھا جاتے اور ہر چیز کتر دیتے ہیں۔ یہ سُن کر مجھے ان چور نما چوہوں سے خوف کے ساتھ ساتھ نفرت بھی محسوس ہونے لگی جو انتہائی دیدہ دلیری سے کسی کے بھی گھر گھس کر نقب زنی کرتے ہیں۔اس کے بعد مجھے چوہوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے مرتا دیکھ کر ایک عجیب سی تسکین ہونے لگی۔ میں اپنے ہاتھوں سے آٹے کی گولیوں میں زہر ملا کر گھر کے ہر کونے میں ان کے لیے رکھ دیتی۔ یہ میرا ذاتی خیال ہے کہ چوہوں کے آباء واجداد کا تعلق یقینا امریکا یا برطانیہ سے ہو گا۔ اسی لیے کسی کے بھی گھر پر بڑی مہارت سے قبضہ جما لیتے ہیں۔ کسی گھر میں کس طرح نقب لگائی جاتی ہے اس کی تربیت یقینا امریکی فوج نے ہی انہیں دی ہو گی۔
    بڑے ہوتے ہوتے میرا خوف اس وقت حیرت میں بدلنے لگا جب میں نے لوگوں کو چوہے کے ذریعے کام کرتے دیکھا۔ بچے، نوجوان، بوڑھے اور یہاں تک کہ لڑکیاں بھی چوہوں کی مدد سے کام کرتی نظر آتی تھیں۔انہیں دیکھ کر میرے چہرے کے زاویے از خود ہی بگڑنا شروع ہو جاتے۔ گھروں میں تو پھر بھی چوہوں کا استعمال زیادہ نہیں تھا، مگر دفاتر میں چوہوں کے بغیر کام کرنا اپنی توہین سمجھی جانے لگی۔ مگر پھر جلد ہی طالب علموں کے سبب گھروں میں بھی چوہے استعمال کیے جانے لگے۔ گویا ہوم ورک کرنے کے لیے چوہے لازمی جز بن گئے۔ ہائے ری قسمت! دنیا اتنی ترقی کرنے لگی کہ چوہے دھیرے دھیرے سب کی ضرورت بن گئے۔ اب میرے لیے اس ضرورت سے آنکھیں چرانا ناگزیر ہوتا جا رہا تھا۔
    اپنی تمام تر توانائی جمع کر کے ایک روز میں نے بھی چوہا استعمال کرنے کی ٹھانی۔ خوف کے مارے میرا بدن کانپ رہا اور ہاتھ پائوں ٹھنڈے پڑ رہے تھے۔ قریب کھڑے میرے بھائی مجھے چوہے کا استعمال سمجھا رہے تھے۔ میں نے ڈرتے ڈرتے لرزتا ہاتھ کالے مینڈک جیسے چوہے کی پشت پر رکھا اور اس کی ایک آنکھ کو دھیرے سے دبایا۔ احتجاجاً چوہے نے صدا بلند کی اور میں نے گِھن کھاتے ہوئے آنکھیں میچ لیں، مگر پھربھائی کے حوصلہ دینے پر میں نے آنکھیں کھولیں اور چوہے کا باقاعدہ استعمال سیکھا۔دھیرے دھیرے میرے اندر سے خوف جاتا رہا اور مجھے چوہے کو دیکھنے اور چھونے کی عادت ہو گئی بلکہ اُسے ہاتھ میں پکڑنا اچھا لگتا۔ کچھ ہی عرصے میں، میں چوہوں کی صلاحیتوں کی دل سے قائل ہو گئی۔
    رفتہ رفتہ انسان ان کارآمد چوہوں کے عادی ہوتے چلے گئے اور ان کے بغیر زندگی گزارنا مشکل لگنے لگا۔ بھلا ہو ان سائنس دانوں کا جو سوتے جاگتے نت نئی ایجادات کرتے رہتے ہیں۔چند ہی سالوں میں ان کار آمد چوہوں کو قید کرنے کی منظم سازش کی گئی اور سائنس دان اپنی اس سازش میں کام یاب بھی ہو گئے۔ انسان اندھا دھند چوہوں کے رقیب خریدنے لگے، مگر میرا دل چوہے کو چھوڑنے پر آمادہ نہ ہوا۔ کچھ ہی عرصے میں یہ چوہے قصۂ پارینہ بن گئے۔ لوگ یہ بھی بھول گئے کہ کس طرح ان چوہوں نے ہمارا ساتھ دیا اور رات دن کا فرق بھلا کر ہمارے کام آسان کیے تھے۔ اب ان چوہوں کی آخری آرام گاہ اسٹور روم میں قید یا کچرے کا ڈھیر تھی۔
    بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے ہوئے میں بھی نئی ایجادات سے محظوظ ہونے لگی۔ میرا لاڈلا چوہا ڈبے میں قید گھر کے ایک کونے میں پڑا میری راہ تکتارہتا، مگر مجھے کبھی اس معصوم کا خیال تک نہ آیا۔ کچھ عرصے بعد میں نے محسوس کیا کہ یہ نئی ایجادات اتنی سہولت فراہم نہیں کرتیں جتنا کہ چوہے کیا کرتے تھے۔ یہ احساس ہوتے ہی میں نے بھائی سے اپنے لاڈلے کی واپسی کا مطالبہ کیا، جو کافی عرصے سے اسٹور روم میں قیدتھا، تو جب بھائی نے مجھے یہ اطلاع دی کہ میرا لاڈلا چوہا اسٹور روم میں پڑے پڑے اس جہانِ فانی سے کُوچ کر گیا ہے۔ اِک پل میں میرا دل ٹوٹ کر چکنا چور ہوگیا۔ ایک اور چوہے کی کارستانی کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوئی تھی۔دوسرے چوہے نے اس کی دم کتر دی تھی اور پیٹ کی انتڑیاں بھی نظر آرہی تھیں۔ اس نے وہیں تڑپ تڑپ کر جان دے دی اور مجھے خبرتک نہ ہوئی۔ بس یہی احساس ِ ندامت مجھے جینے نہیں دے رہا تھا۔ہر وقت مجھے اپنے لاڈلے کی یاد ستاتی رہتی۔ ہر چیز سے دل اُچاٹ ہو گیا ۔بھائی نے لاکھ سمجھایا، مگر مجھ پر اثر نہ ہوا۔ اتنے سالوں کی رفاقت بھلانا میرے لیے آسان نہیں تھا۔پھر ایک دن بھائی میرے لیے ایک نیا چوہا لے آئے۔اسے دیکھ کر میرا غم غلط ہو گیا۔ وہ رنگ روپ میں میرے لاڈلے سے مشابہ تھا۔ میں نے پیار سے اسے سینے سے لگا لیا اور عہد کیا کہ اب کبھی اسے نظر انداز نہیں کروں گی۔
    میں نے اپنی پچیس سالہ زندگی میں یہی جانا ہے کہ جو آرام ’’مائوس‘‘ کے ساتھ کام کرنے میں ہے، وہ لیپ ٹاپ یا اینڈرائیڈ فون سے کام کرنے میں نہیں ہے۔ لہٰذا میں اب اپنے چوہے کو لیپ ٹاپ کے ساتھ کنیکٹ کر کے سہولت سے کام کرتی ہوں اور آج بھی اس بات کی دل سے قائل ہوں کہ چوہے واقعی کارآمد ہوتے ہیں۔
    ٭…٭…٭




  • آبِ حیات — قسط نمبر ۱۰ (یا مجیب السائلین)

    آبِ حیات — قسط نمبر ۱۰ (یا مجیب السائلین)

    ’’نہیں کوئی ایسی بات نہیں ہے… فلو کی وجہ سے ہی گیا تھا دوبارہ… بس گپ شپ کرتے ہوئے فون ٹیبل پر رکھا اور پھر اٹھانا یاد ہی نہیں رہا۔‘‘
    سالار نے اس رات فون پر امامہ سے بات کرتے ہوئے کہا۔ وہ مطمئن ہوگئی۔
    ’’اور فلو…؟ اس کا کیا ہوا؟‘‘
    ’’بس چل رہا ہے۔‘‘
    ’’ٹیسٹوں کی رپورٹس آگئیں؟‘‘
    ’’ہاں سب ٹھیک ہے بس وائرل انفیکشن ہے، اس نے کچھ میڈیسنز دی ہیں، ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘
    ’’میں تو پریشان ہی ہوگئی تھی… میں نے سوچا پتا نہیں کیا مسئلہ ہے۔ کیوں دوبارہ اسپتال میں فرقان کے ساتھ بیٹھے ہو۔‘‘
    وہ خاموشی سے اس کی گفتگو سنتا رہا۔ فرقان نے ٹھیک مشورہ دیا تھا۔ اسے بھی امامہ کو کچھ بھی نہیں بتانا چاہیے تھا، لیکن اس کے لہجے میں جھلکنے والے اطمینان نے اسے عجیب طریقے سے گھائل کیا تھا… وہ اسے دھوکا دے رہا تھا۔
    وہ اب اسے بچوں کے بارے میں بتارہی تھی۔ بچوں سے باری باری بات کروا رہی تھی۔ وہ پچھلے تین دن سے جبریل کو قرآن پاک نہیں پڑھا پایا تھا۔ امامہ نے اسے یاد دلایا۔
    ’’تم پڑھادو۔‘‘ سالار نے جواباً کہا۔
    ’’میں تو پچھلے تین دن سے پڑھا رہی ہوں۔ revision (دہرائی) کروا رہی ہوں۔ نیا سبق تو تم ہی دوگے۔‘‘ وہ اس سے کہہ رہی تھی۔
    ’’کتنے پارے رہ گئے؟‘‘ سالار نے اس کی بات پر عجیب غائب دماغی سے پوچھا۔
    امامہ نے نوٹس کیا۔ ’’آخری دس۔‘‘
    ’’جلدی ہوجائیں گے۔‘‘ وہ بڑبڑایا۔





    ’’ہاں انشاء اللہ… وہ ماشاء اللہ ذہین بھی تو بہت ہے۔ دس سال کا ہونے سے پہلے ہی قرآن پاک مکمل ہوجائے گا اس کا۔‘‘
    وہ اس بار سالار کے لہجے پر غور کئے بغیر کہتی گئی۔ وہ چاہتے تھے جبریل اس سے بھی کم عمری میں قرآن پاک حفظ کرلیتا کیوں کہ وہ بلا کا ذہین تھا اور اس کی زبان بے حد صاف تھی، لیکن سالار نے اسے اس عمر میں قرآن پاک حفظ کرنے پر لگایا تھا جب وہ کچھ باشعور ہوکر اس کے معنی و مفہوم کے ساتھ ساتھ اس فریضے کی اہمیت سے بھی واقف ہوگیا تھا۔
    اسکائپ کی اسکرین پر اب باری باری اس کے بچے دکھنے لگے تھے… وہ اب لیپ ٹاپ آن کئے ہوئے بیٹھا ان کی شرارتوں کو دیکھ رہا تھا۔ وہ ایک بھیانک حقیقت کے اندر بیٹھا ایک خوب صورت خواب دیکھ رہا تھا۔ وہ باری باری اپنی طرف کے کمپیوٹر کے کیمرے کے سامنے منہ کر کر کے باپ کو ہیلو کہہ رہے تھے۔
    ’’بابا! آج میں نے ککی بنائی ہے۔‘‘ عنایہ اسے اسکرین پر ایک بڑے سائزکا بسکٹ دکھا رہی تھی۔
    ’’واہ یہ تو بہت یمی دکھتی ہیں۔‘‘ سالار نے اپنے اندر کے فشار کو چھپاتے ہوئے بیٹی کو داد دی۔ وہ سب کچھ وہ اس طرح دیکھ رہا تھا جیسے زندگی میں پہلی بار دیکھ رہا تھا، کیوں کہ وہ سب کچھ ختم ہوجانے والا تھا۔
    امامہ ان سب کو وہاں سے ہٹا کر لے گئی تھی کیوں کہ اب جبریل کو نیا سبق پڑھنا تھا۔ وہ اور اس کا نو سالہ بیٹا آمنے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ سالار سے اگلا سبق پوچھ رہا تھا۔ سالار نے اسے پچھلا سبق سنانے کے لئے کہا تھا۔ جبریل نے پڑھنا شروع کیا تھا۔ سینے پر ہاتھ باندھے آنکھیں بند کئے خوش الحان آواز میں… اس نے باپ سے صرف ذہانت ورثے میں نہیں پائی تھی، خوش الحانی بھی پائی تھی۔
    نو سال کی عمر میں بھی اس کی قرأت دلوں کو چھو لینے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ کسی بھی سننے والے کی آنکھوں کو نم کرسکتی تھی۔ جبریل نے کب اپنا پہلا سبق ختم کیا تھا، سالار کو اندازہ ہی نہیں ہوا، وہ کہیں اور پہنچا ہوا تھا۔ جبریل نے آنکھیں کھول کر اپنے ہاتھ سینے سے ہٹا کر سامنے رکھے قرآن پاک کو دیکھا پھر اسکرین پر باپ کے نظر آنے والے چہرے کو کو جو کسی بت کی طرح بے حس و حرکت تھا۔
    ’’بابا!‘‘ جبریل کو ایک لمحہ کے لئے لگا شاید نیٹ کا کنکشن ختم ہوگیا تھا یا سگنلز کی وجہ سے streaming نہیں ہوپائی تھی۔
    سالار چونکا اور اپنا گلا صاف کرتے ہوئے اس نے جبریل کو ایک بار پھر پچھلا سبق سنانے کو کہا۔ وہ حیران ہوا تھا۔ ’’وہ تو میں نے سنادیا۔‘‘
    ’’میں نہیں سن سکا ایک بار پھر سناؤ۔‘‘
    وہ پہلا موقع تھا جب جبریل نے باپ کے چہرے کو بے حد غور سے دیکھا تھا۔ کچھ مسئلہ تھا اس دن باپ کو… اسے یہ اندازہ ہوگیا تھا، لیکن کوئی سوال کئے بغیر اس نے ایک بار پھر پچھلا سبق سنانا شروع کردیا۔ اس بار سالار پہلے کی طرح کہیں اور محو نہیں ہوا تھا۔ اس نے بیٹے کو نیا سبق پڑھا کر اور چند بار دہرانے کے بعد اسکائپ بند کردیا تھا۔
    "Is baba ok?”(کیا بابا ٹھیک ہیں؟) جبریل نے اسکائپ پر سالار سے باتکرنے کے بعد ماں سے پوچھا۔
    ’’ہاں! وہ ٹھیک ہیں، بس فلو ہے، اس لئے کچھ طبیعت خراب ہے ان کی۔‘‘ امامہ نے اس کے سوال پر زیادہ غور کئے بغیر کہا۔
    "When is he returning?” (’’وہ واپس کب لوٹ رہے ہیں؟‘‘)
    جبریل نے اگلا سوال کیا۔
    ’’ابھی تو امریکا جارہے ہیں دو ہفتے کے لئے پاکستان سے… کہہ رہے تھے کچھ میٹنگز ہیں، پھر امریکا سے آئیں گے۔‘‘
    امامہ نے سالار سے فون پر ہونے والی گفتگو اسے بتائی۔
    ٭…٭…٭
    ورلڈ بینک کی نائب صدارت چھوڑنے سے صرف دو ہفتے پہلے جب سالار کانگو میں الوداعی ملاقاتیں اور فیئر ویل ڈنرز لینے میں مصروف تھا، وال اسٹریٹ جرنل نے ورلڈ بینک کی صدارت سے انکار کی وجہ ڈھونڈ نکالتے ہوئے سالار سکندر کو ہونے والے برین ٹیومر کی نیوز بریک کی تھی اور پھر یہ خبر صرف اس اخبار ہی نے نہیں، ڈھیروں دوسرے اخبارات نے بھی لگائی تھی۔ سالار سکندر کے برین ٹیومر کی بریکنگ نیوز میں مغرب کو دلچسپی نہیں تھی نہ ہی میڈیا کو… دلچسپی اگر تھی تو سی آئی اے کو… اس اسٹیج پر سالار کی مہلک بیماری کی خبر بریک کرنے کا مطلب اس پروجیکٹ کے شروع ہونے سے پہلے ہی اس کی کمر توڑ نے کے مترادف تھا جس پر سالار کام کررہا تھا۔ ’’وہ‘‘ جانتے تھے سالار ورلڈ بینک سے الگ ہونے کے بعد کیا کرنے جارہا تھا اور انہیں یقین تھا، جو وہ کرنے کے خواب دیکھ رہا تھا، وہ ناممکنات میں سے تھا۔ اس کے باوجود حفاظتی اقدامات ضروری تھے اور سب سے بہترین دفاعی حکمت عملی وہی تھی جو انہوں نے اختیار کی تھی۔ وہ سالار سکندر کی بیماری کو مشتہر کرنے کے بعد اب اس پروجیکٹ کے ممکنہ سرمایہ کاروں کے پیچھے ہٹ جانے کا انتظار کررہے تھے۔ وہ شطرنج تھی۔ سالار اپنے مہرے سجا کر پہلی چال چلنے کی تیاری کررہا تھا۔ ’’وہ‘‘ پہلے سے تیار بیٹھے تھے۔ ’’انہوں‘‘ نے پہلی چال چل دی تھی اور پہلی چال میں ہی بادشاہ کو شہہ مات ہونے والی تھی… یہ کم از کم ’’ان‘‘ کو یقین تھا۔
    ٭…٭…٭
    اس نے انٹر نیٹ پر glioma کا لفظ گوگل پر سرچ کیا… پھر oligodendrogliomaکو … ساڑھے نو سال کی عمر میں محمد جبریل سکندر نے ان دو لفظوں کو Spelling Bee کے مقابلے میں حصہ لینے کے لئے ان الفاظ کی فہرست میں شامل کیا تھا جس کی اسپیلنگ اسے یاد کرنا تھی۔ اسے ان دو الفاظ کی اسپیلنگ یاد کرتے ہوئے یہ اندازہ نہیں تھا۔ وہ اپنے باپ کو لاحق دنیا کے مہلک ترین برین ٹیومر سے واقفیت حاصل کررہا تھا۔
    Spelling Bee کے مقابلے کے لئے جبریل نے صرف ان الفاظ کی اسپیلنگ یاد کی تھی۔ وہ دو الفاظ کیا تھے، وہ کھوجنے کی کوشش اس نے بت کی تھی جب اس نے انٹر نیٹ پر اپنے باپ کے نام کے ساتھ اس کی بیماری کے حوالے سے ایک خبر دیکھی تھی۔ وہ ورلڈ بینک کی ویب سائٹ تھی جو ان کے ڈیسک ٹاپ کا ہوم پیج تھا اور کئی بار سالار کے زیر استعمال آتا تھا اور ہوم پیج پر تازو ترین اسکرول ہونے والی خبروں میں سے ایک سالار سکندر کی بیماری کے حوالے سے وال اسٹریٹ جرنل کی نیوز تھی جو صرف آدھ گھنٹہ پہلے بریک ہوئی تھی۔
    ساڑھے نو سال کے اس بچے نے اس بیماری کو کھوجنا شروع کیا تھا۔ سالار ابھی گھر نہیں لوٹا تھا۔ امامہ دوسرے کمرے میں بچوں کو پڑھا رہی تھی اور جبریل انٹر نیٹ پر ساکت بیٹھا یہ پڑھ رہا تھا کہ اس کا باپ گریڈ ٹوکے oligodendroglioma کا شکار تھا۔ اس ٹیومر کا علاج نہیں ہوسکتا تھا۔ مکمل طور پر کامیاب علاج… اور اگر علاج ہو بھی جاتا تو مریض سات سے دس سال تک زندہ رہ سکتا تھا۔ اس برین ٹیومر کے مریض صحت مندرہ کر بھی اس سے زیادہ نہیں جی سکتے تھے۔
    ساڑھے نو سال کا وہ بچہ اس دن چند لمحوں میں بڑا ہوگیا تھا۔ اس گھر میں سالار کے بعد وہ پہلا شخص تھا جسے سالار کی بیماری اور اس کی نوعیت اور اثرات کا علم ہوا تھا۔ جبریل کی سمجھ میں نہیں آیا تھا، وہ اس ہولناک انکشاف کا کیا کرے۔ ماں کو بتادے یا نہ بتائے… یہ اس کا Dilemma (مخمصہ) نہیں تھا۔ اس کا مخمصہ اور تھا۔
    ’’حمین! جاؤ بھائی کو بلا کے لاؤ، وہ سونے سے پہلے تم لوگوں کو دعا پڑھا دے۔ پتا نہیں اتنی دیر کیوں لگا دی اس نے۔‘‘
    بچوں کو پڑھانے سے فارغ ہونے کے بعد انہیں سونے کے لئے لیٹنے کا کہتے ہوئے امامہ کو جبریل یاد آیا۔ اسے کمرے سے گئے کافی دیر ہوگئی تھی۔
    ’’آج میں پڑھاتا ہوں۔‘‘
    حمین نے اعلان کرتے ہی اپنے دونوں ہاتھ کسی نمازی کی طرح سینے پہ باندھتے ہوئے بڑے جذب کے عالم میں دعا پڑھنے کے لئے اپنا منہ کھولا اور امامہ نے تحکمانہ انداز میں فوری طور پر اسے ٹوکا۔
    ’’حمین! بھائی پڑھائے گا۔‘‘
    حمین نے بند آنکھیں کھول لیں اور سینے پر بندھے ہاتھ بھی… اس سے پہلے کہ وہ کمرے سے نکل جاتا، امامہ نے نائٹ سوٹ کے اس پاجامے پر لگی گرہ کو دیکھا جو وہ ابھی ابھی باتھ روم سے پہن کر باہر نکلا تھا۔ پاجامے کے اوپری حصے کو ازابندکے بجائے ایک بڑی سی گرہ لگا کر کسا گیا تھا اور اس گرہ کے دونوں سرے کسی خرگوش کے کانوں کی طرح اس کے پیٹ کے اوپر کھڑے تھے۔
    ’’ادھر آؤ…‘‘ امامہ نے اسے بلایا۔ ’’یہ کیا ہے؟‘‘ اس نے جھک کر نیچے بیٹھتے ہوئے اس گروہ کو کھولنے کی کوشش کی، تاکہ پاجامے کو ٹھیک کرسکے۔
    حمین نے ایک چیخ ماری اور جھٹکا کھا کر اس گرہ پر دونوں ہاتھ رکھے، پیچھے ہٹا۔ ’’ممی! نہیں۔‘‘
    ’’اس کی string کہاں ہے؟‘‘ امامہ کو اندازہ ہوگیا تھا کہ اس گرہ کو باندھنے کی وجہ کیا تھا۔
    ’’میں نے اسکول میں کسی کو دے دی ہے؟‘‘
    امامہ نے حیرانی سے پوچھا۔ ’’کیوں…؟‘‘
    ’’چیریٹی میں…‘‘ حمین نے جملہ مکمل کیا۔
    امامہ نے ہکا بکا ہوکر اپنے اس بیٹے کا اعتماد اور اطمینان دیکھا۔ ’’چیریٹ میں؟‘‘ وہ واقعی حیرن تھی۔ ’’صرف ایک ڈوری کو؟‘‘
    ’’نہیں…‘‘ مخصر جواب آیا۔
    ’’پھر…؟‘‘
    ’’ڈوری سے بیگ کو باندھا تھا۔‘‘
    ’’کس بیگ کو؟‘‘ امامہ کا ہاتھ ٹھٹکا۔
    ’’اس بیگ کو جس میں toys (کھلونے) تھے۔‘‘ جواب اب بھی پورا آیا تھا۔
    ’’کس کے toys (کھلونے)؟‘‘ امامہ کے ماتھے پر بل پڑے۔
    {"Well”حمین نے اب ماں، رئیسہ اور عنایہ کو باری باری… محتاط انداز میں دیکھا اور اپنے جواب کو گول مول کرنے کی بہترین کوشش کی۔
    "There were many owners.” (وہ کئی لوگوں کے تھے)
    امامہ کو ایک لمحے میں سمجھ میں آیا تھا۔
    ’’ many owners کون تھے۔ کس کو دیئے؟ کیوں دیئے کس سے اجازت لی؟‘‘
    اس نے یکے بعد دیگرے تابڑ توڑ سوالوں کی بوچھاڑ کردی۔




  • نئے موسموں کی خوشبو — دانیہ آفرین امتیاز

    نئے موسموں کی خوشبو — دانیہ آفرین امتیاز

    روڈ پر اِکا دُکا گاڑیاں نظر آرہی تھیں۔ سورج نے مکینوں کو گھروں سے نکلنے سے باز رکھا ہوا تھا۔
    ’’اُف! اللہ کی پناہ یہ گرمی۔‘‘ اس نے رومال سے اپنی پیشانی سے پسینہ صاف کیا۔ ستمبر شروع ہونے والاتھا‘ مگر گرمی کے مزاج نہیں بدلے تھے۔
    دوپہر تقریباً ڈھل چکی اور سائے بڑھنے لگے تھے۔ ہلکی ہلکی ہوا بھی چل رہی تھی‘ لیکن اس کے باجود فضا میں حبس اس قدر زیادہ تھا کہ وہ اسٹیشن پر کھڑے کھڑے پسینے میں نہا گئی۔ ’’یا اللہ کوئی رکشا جلدی سے بھیج دے۔‘‘ اس نے قریب سے گزرتے سواریوں سے بھرے رکشوں کو بے زاری سے دیکھتے ہوئے دل سے دعا کی تھی۔ تب ہی ہارن کی تیز آواز نے اس کا دل دھڑکا دیا۔ گاڑی والا ہارن پر ہاتھ رکھ کے اٹھانا بھول گیا تھا۔
    اس نے غصے سے اس کی طرف دیکھا اور اگلے ہی پل کھل اٹھی۔ چادر سنبھالتی وہ تیزی سے گاڑی کی طرف آئی ۔ فرنٹ سیٹ پر موجود خوب رو نوجوان نے اس کے لیے اگلا دروازہ کھولا تھا۔
    ’’شکر ہے آپ آگئے ورنہ آج میرا حشر ہو جاتا۔‘‘ وہ بیٹھتے ہی شروع ہوگئی۔ نوجوان نے خاموشی سے بیک مرر میں دیکھتے ہوئے گاڑی آگے بڑھا دی۔
    ’’اگر مزید اس گرمی میں کھڑی ہوتی تو مر ہی جاتی۔‘‘ اس سے پہلے کہ اس کی بات مکمل ہوتی، وہ نوجوان درمیان میں ہی بول پڑا۔
    ’’تمہارا کب ختم ہو رہا ہے آخری سمیسٹر؟ ‘‘سادہ سے لہجے میں سمپل سا سوال۔ وہ اس کی شانِ بے نیازی پر اندر ہی اندر تلملا گئی۔ اسے دیکھ کر ابھرنے والا سارا جوش جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔ وہ خود بھی سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔ آج اسے گھر جانا تھا، تب ہی اس وقت کیمپس کے باہر کھڑی بس کا انتظار کررہی تھی۔ بس تو کیا، کوئی خالی رکشا بھی نہیں آیا تھا۔
    اسے لگا شاید وہ اس کے روڈ پر کھڑے ہونے سے خفا تھا۔ تب ہی جواب میں وضاحت بھی دے گئی، مگر شاید کبھی کبھی وضاحتوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ خاموشی سے ڈرائیو کرتا رہا۔ کچھ ہی دیر میں وہ بس پر تھے ۔ سبین نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا اسے لگا۔ وہ اسے گاؤں تک چھوڑ کے آئے گا، مگر وہ ٹکٹ لے کر واپس آگیا۔
    ’’چلو! تمہیں سیٹ دکھا دوں اور ہاں، یاد سے کسی کو فون کر دینا کہ تمہیں لینے اسٹاپ پر ضرور آجائے۔‘‘ وہ اس کا بیگ اٹھاتے ہوئے بولا۔
    سبین جو اس کی گاڑی کو دیکھ کر پرجوش سی ہوئی تھی ۔ اب مرجھا سی گئی تھی۔
    ٭…٭…٭




    آسمان پر پھیلتی سرمئی نیلاہٹ کے ساتھ ہی باورچی خانے سے کھٹ پٹ کی آوازیں آنے لگی تھیں۔ جھنجھلاہٹ سے کروٹیں بدلتے اسے ایک گھنٹا گزر گیا، مگر نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔
    برتنوں کے شور کے ساتھ ساتھ صحن میں بیٹھی دادی کی آواز بھی اس کے کانوں سے ہو کر سر پر ڈنڈے برسا رہی تھی۔ تنگ آکر اس نے منہ سے چادر ہٹائی اور جھٹکے سے پلنگ سے اٹھ گئی۔ پچھلی دو راتوں سے وہ جاگ رہی تھی ۔ آج فجر کے بعد نیند نے بھولے سے دستک دی، تو گھر کے فوجی ماحول نے اسے سونے نہ دیا ۔ دادی محترمہ کا حکم تھا کہ زمین پر صبح کی پہلی کرن پڑتے ہی چولہا جل جائے۔ دیر کرنے سے گھر سے برکت اٹھ جاتی ہے اور بھلا ہو اماں کا جو اپنی فولادی قوت جہیز میں لائی تھیں۔
    اگر اماں ہلکے سے بھی تپائی پر برتن رکھ دیتیں تو یوں معلوم ہوتا گاؤں کی بڑی عمارت گر گئی ہو۔صبح جلدی جلدی میں اماں برتن پٹختیں تو گاؤں کے سب لوگ بے دار ہو جاتے ۔یہ گونج دار آواز گاوؑں والوں کے لیے الارم کا کام دیتی۔الارم بھی وہ جس کے بجنے کے بعد کسی کا سونے کو دل ہی نہ چاہے۔
    ’’السلام علیکم!‘‘ سر تھامے وہ کمرے سے نکل آئی۔ سامنے چارپائی پر دادی تشریف فرماں تھیں اور اماں کو ایسے مشوروں نواز رہی تھیں جیسے اماں نو بیاہتا ہوں اور کل رات ہی دہلیز پر قدم رکھا ہو۔
    ’’وعلیکم السلام! اُٹھ گئی پتر؟‘‘ دادی نے مشورے روک کر اپنی شہری پوتی کو پیار سے دیکھا۔
    ’’جی! ہلکی سی آواز میں کہہ کر وہ چارپائی پر ان کے برابر بیٹھ گئی۔ دادی کو وہ کیا بتاتی کہ پچھلی دو راتوں سے جاگ رہی ہے۔
    ’’گڑیا ناشتا بناؤں تمہارے لیے؟‘‘ اماں نے کچن ہی سے آواز لگائی۔
    ’’بس چائے دے دیں اماں۔‘‘ اس پر بے زاریت چھائی ہوئی تھی۔
    پتر! صبح صبح یہ کلموا پانی نہ پیا کر، تازہ دودھ پیا کر۔ کالا پانی پی پی کر دیکھ رنگ کیسا کملا گیا ہے۔‘‘ دادی نے اپنے مخصوص انداز میں محبت سے سمجھایا۔
    ’’دادی مجھ سے صبح صبح دودھ نہیں پیا جاتا ۔‘‘سبین نے منہ بنا کر کہا۔
    اس سے پہلے کہ دادی اپنی نصیحتوں کی پٹاری کھولتیں، اماں ناشتا لیے صحن میں آگئیں۔ دادی بسم اللہ پڑھ کر رغبت سے دودھ ، اصلی گھی کا پراٹھا اور بھنی مرغی نوش فرمانے لگیں۔ چائے کا کپ تھامے وہ ان کوحیرت سے دیکھتی رہ گئی۔
    ٭…٭…٭
    چائے سے سر درد میں کچھ کمی آئی تو اس نے اُٹھ کے کپڑے تبدیل کیے، بال بنائے اور اماں کو بتا کر اپنی بچپن کی سہیلی نیلم کے گھر چلی گئی۔ گاؤں آئے اسے دو روز ہو گئے تھے، مگر اپنی سستی کی وجہ سے وہ گھر سے نہیں نکلی تھی۔ سب سہیلیاں خود ہی آکے مل گئی تھیں۔
    ’’السلام علیکم چچی! دروازے پر دستک دے کر وہ اندر آئی تو بینا چچی صحن میں ہی بیٹھی نظر آگئیں۔‘‘
    ’’وعلیکم السلام!‘‘ چاولوں سے بھرا تھال نیچے رکھ کے چچی خوش دلی سے ملیں۔
    ’’واہ بھئی! آج تو سبین نے یہاں کا رخ کیا ہے۔‘‘ چچی نے اسے گلے لگاتے ہوئے کہا۔
    ’’نیلم کمرے میں ہے، جا بیٹا اندر چلی جا۔‘‘چچی نے اسے پیار دیتے ہوئے کہا تو وہ کمرے میں چلی گئی۔
    نیلم صاحبہ بڑے مزے سے خراٹے لے رہی تھیں۔ اس نے کمرے میں اِدھر اُدھر نظریں دوڑائیں تو اسٹڈی ٹیبل پر اپنی مطلوبہ چیز پا کر اس کے چہرے پر شریر سی مسکراہٹ پھیل گئی۔
    وہ مسکراتے ہوئے آگے بڑھی اور پانی سے بھرا جگ نیلم پر تیزی سے انڈیل دیا۔ ایک چیخ کے ساتھ گھبرا کے اٹھی، سامنے سبین پیٹ پر ہاتھ رکھے کھڑی ہنس رہی تھی۔ نیلم نے اسے خون خوار نظروں سے دیکھا، دونوں کا قہقہہ ایک ساتھ کمرے میں گونجا تھا۔
    ’’صبح بہ خیر!‘‘ سبین نے ہنستے ہوئے کہا۔
    ’’بدلہ اُدھار رہا۔‘‘ نیلم نے ناک سکیڑ کر کہا۔
    ’’کیا ہوا بیٹا؟‘‘ بینا چچی کی آواز پر دونوں نے چونک کر دروازے کی طرف دیکھا‘ جہاں بیناچچی حیران و پریشان کھڑی دونوں کو دیکھ رہی تھیں۔ کچھ لمحے بعد اُن کے چہرے پر بھی مسکراہٹ اُمڈ آئی۔
    ’’تم دونوں نہیں سدھرنے والی۔‘‘ بینا چچی نے ہنس کے کہا۔
    ’’امی سبین کے لیے سینڈوچ اور بروسٹ بنا لیں ۔‘‘نیلم نے ماں کو مخاطب کیا۔
    ’’سبین کے لیے یا تمہارے لیے ؟‘‘ بینا چچی نے اسے گھورا۔
    ’’دونوں کے لیے ۔‘‘ نیلم نے مسکرا کر کہا۔
    ’’چچی بس سینڈوچ بنا دیں‘ میں نے آپ کے ہاتھ کے سینڈوچز تو ہاسٹل میں بہت مس کیے۔‘‘
    بینا چچی خود بھی پڑھی لکھی تھیں اور انہوں نے جدید کھانے بنانا‘ کراچی میں مقیم اپنی نند سے سیکھے تھے جو ہر سال چھٹیوں میں گاؤں کا ضرور چکر لگاتی تھیں۔
    باتوں باتوں میں وقت کیسے گزرا‘ پتا ہی نہیں چلا۔ تپتی دوپہر شام میں تبدیل ہو رہی تھی۔ سبین ایک خوش گوار دن گزار کر نیلم سے اس کے گھر آنے کا وعدہ لے کر لوٹ آئی۔
    دادی صحن میں بیٹھی تسبیح پڑھ رہی تھیں اور اماں کچھ دیر سستانے کے لیے کمرے میں پلنگ پر لیٹی تھیں۔ وہ بھی خاموشی سے اماں کے ساتھ لیٹ گئی ۔کچھ دیر بعد اسے نرم گداز ہاتھوں کا لمس اپنے سر پر محسوس ہوا۔ سبین نے موندی موندی آنکھوں سے دیکھا اماں مسکراتے ہوئے اس کا سر سہلا رہی تھیں۔
    ’’کیا بات ہے؟ آج چودھرانی جی کو ہم پر بڑا پیار آرہا ہے؟‘‘ سبین نے شریر لہجے میں کہا۔
    ’’جب کڑیاں بڑی ہو جائیں تو ان کی جدائی کی سوچ ہر وقت ماں باپ کو بے چین رکھتی ہے۔‘‘ سبین نے چونک کر دیکھا‘ اماں کی آنکھیں نم تھیں۔
    ’’میں نے آپ سے دور نہیں جانا، وہ لاڈ سے ماں کے گلے لگ گئی۔
    ’’چل پگلی! ایک دن ہر کڑی نے رخصت ہونا ہوتا ہے۔‘‘ اماں نے پیار سے اس کے سر پر چپت لگائی۔
    ’’سبین! تیرے بابا بتا رہے تھے کہ بھائی فخر، بھابی اور سب بچے اسی ماہ گاؤں آرہے ہیں۔ اکتیس کو وہ لوگ تیرے اور زین کے ویاہ کا کہہ رہے ہیں۔ وقت ہی کتنا ہے؟ آج پانچ تاریخ ہے اور تیاری کے لیے ہفتہ دو ہفتہ ہے، بس پھر تو تو مایوں بیٹھ جائے گی۔‘‘ اماں نے فکر مندی سے کہا۔
    ’’اماں اتنی جلدی ؟‘‘ سبین کا منہ حیرت سے کھلے کا کھلا رہ گیا۔ دو دن تو ہوئے تھے اسے ہوسٹل سے گاؤں آئے۔
    ’’بیٹا! بھائی فخر تیری پڑھائی ختم ہونے کا کب سے انتظار کر رہے تھے۔ پھر سردیوں کی چھٹیوں میں سب رشتے دار بھی جمع ہوتے ہیں۔اچھا ہے، سب شریک ہو جائیں گے۔ نیک کام میں مزید دیر کرنا مناسب نہیں۔ اماں اسے سمجھاتے ہوئے بولیں۔
    ’’کل خریداری کرنے نیلم کے ساتھ شہر چلی جانا۔ تمہارے بابا لے جائیں گے تم دونوں کو۔‘‘ اماں مزید پروگرام ترتیب دینے لگیں اور وہ غائب دماغی سے سر جھکائے سنتی رہی۔
    ٭…٭…٭
    رات دھیرے دھیرے اپنے پنکھ پھیلا رہی تھی۔ شام ڈھلتے ہی ٹھنڈ میں بھی اضافہ ہوگیا۔ چاروں طرف پھیلے امرود کے درخت اندھیرے میں چھپ گئے تھے۔
    چاند کی ہلکی سی روشنی کھیتوں کو روشن کیے ہوئے تھی۔ سوچوں کا جہاں آباد کیے چھت کی منڈیر پر وہ مضطرب کھڑی تھی۔ ذہنی طور پر وہ خود کو تیار نہیں کر پا رہی تھی۔ یہ سب تو بہت پہلے سے طے تھا کہ ایک نہ ایک دن اسے زین کی سنگت میں نئی دنیا آباد کرنی ہی تھی ‘ مگر اتنی جلدی اس نے یہ نہیں سوچا تھا۔
    ہائے اللہ!نیلم کو اپنے عقب میں دیکھ کر سبین کے منہ سے بے ساختہ چیخ نکلگئی۔
    ’’کن خیالوں میں گم ہو؟‘‘وہ بھی اس کے ساتھ چھت کی منڈیر سے ٹیک لگا کر کھڑی ہو گئی۔
    ’’زین کے گھر والے عید پر شادی کا کہہ رہے ہیں۔‘‘ سبین نے اسے بتایا۔
    ’’تو اس میں دکھی ہونے کی کیا بات ہے؟‘‘ نیلم نے اپنی نظریں اس کے پریشان چہرے پر ٹکاتے ہوئے کہا۔
    ’’یار! مجھے زین سے ڈر لگ رہا ہے۔‘‘سبین آسمان کو تکتے ہوئے اپنا خدشہ زبان پر لے آئی۔
    ’’زین سے ڈر؟ کیوں؟ وہ کوئی بھوت ہے کیا؟‘‘نیلم نے ہنستے ہوئے کہا۔ اسے حیرت ہوئی۔
    ’’نہیں یار!‘‘وہ مضطرب تھی۔
    ’’کھل کے بتا سبین کیا بات ہے ؟ ‘‘نیلم نے اس کا ہاتھ تھام کر کہا۔ سبین نے گاؤں آتے وقت زین سے ہونے والی ملاقات کا قصہ من و عن نیلم کے گوش گزار کر دیا اورساتھ ہی اپنے دل میں جنم لینے والے سب خدشات بھی اسے بتا دیے۔نیلم خاموشی سے سنتی رہی۔
    ’’اُف سبین! اس بے کار سی بات کو تم دل پر لے بیٹھی ہو؟ کیا پتا زین بھائی اس وقت پریشان ہوں۔‘‘نیلم نے غصے سے کہا۔
    ’’جو بھی ہو‘ بھلا اپنی منگیتر کے ساتھ کوئی ایسے کرتا ہے ۔‘‘سبین نے منہ پھلا کے کہا۔ اس کی ستواں ناک غصے سے سرخ ہو رہی تھی۔
    ’’تم دونوں اس وقت تنہا تھے‘ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ وہ کچھ جھجک رہے ہوں۔‘‘ نیلم کو اس وقت وہ چھوٹی سی بچی لگ رہی تھی۔




  • تسکین — امینہ خان سعد

    میرا بھائی سامی جو مجھ سے عمر میںنوسال چھوٹا تھااس سال نیو ایئر منانے کی ضد کر رہا تھا- میری ماما اس کو سمجھانے کی کو شش کر رہی تھیں کہ نیو ایئرنائٹ پر باہر جانا محفوظ نہیںہے ۔اس کی ضد کی وجہ سے مجھے اس پر بہت غصّہ آرہا تھا بلکہ اپنے ہی بھائی سے نفرت سی ہورہی تھی۔ یہ احساس نیا نہیںتھا۔ کم ازکم سال میں دو مرتبہ میراجی اسے دل کھول کر مارنے اور نوچنے کا چاہتا تھا۔
    ’’امّی میرے سب دوست اپنے گھر والوںکے ساتھ نئے سال کاجشن مناتے ہیں ـ،گھومتے پھرتے ہیں ،پٹاخے پھوڑتے ہیں۔ ایک تو ہم کہیں جاتے نہیںاوپر سے بابا ہر سال دس گیارہ بجے تک گھر کی سب لائٹیںبند کرکے ہمیںزبردستی سلا دیتے ہیں۔‘‘ سامی نے ماما کا ہاتھ پکڑ کر کہا۔
    ’’ ارے بھئی! ہم مسلمان ہیں یہ کوئی ہمارا نیو ایئرتھوڑی ہے اور اسلام میں سادگی کو پسند کیا گیا ہے۔‘‘ماما سامی کو بہلانے لگیں۔
    ’’ ما ما ذرا اس سے پوچھیںتو صحیح کہ اس نے آپ کو امّی کیوں کہا ،اگر میںنے بابا کو شکایت کردی تو نئے سال پر تو کیا یہ کسی دن بھی باہر نہیں جاسکے گا ۔‘‘ میں غصّے سے بولتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی۔
    بعض اوقات مجھے احساس ہوتاکہ میں سامی کے ساتھ زیادتی کر جا تی ہوں پر غصّے میں مجھے کچھ سمجھ نہیں آتا۔ سامی کو اجازت نہیں تھی کہ وہ امّی کو امّی پکارے۔ یہ پابندی بھی میں نے لگائی تھی کہ ماما کو ہم دونوں صرف ماما بولیں گے۔ یہ فیصلہ تو سامی کے پیدا ہونے کے چھ ماہ بعد ہی ہوگیا تھا۔ عام حالات میں ہم لوگوں کی کوئی خاص لڑائی نہیں ہوتی تھی ۔ ویسے بھی ماما بابا ہم دونوں میں سے کبھی کسی ایک کی طرف داری نہیں کرتے تھے۔ دونوں کو ہی سمجھا کر یا جس کی غلطی ہو اس کو ڈانٹ کر لڑائی فوراً ختم کروا دیتے تھے۔
    سال 2015ختم ہونے میں ابھی پندرہ دن باقی تھے۔ ہر نئے سال کی آمد مجھے چڑچڑا بنا دیتی تھی۔
    ’’اُف نیا سال۔۔۔‘‘ میںیہ سوچ ہی رہی تھی کی ماما دستک دے کر کمرے میں داخل ہوئیں۔
    ’’ سکینہ ـ۔‘‘
    ’’ جی ماما ۔‘‘
    ’’ بیٹا مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔‘‘
    ’’ ابھی؟‘‘
    ’’ ہاں بیٹا، صرف دو چار منٹ لگیں گے۔‘‘
    ’’ ماما میںسونا چاہتی ہوں۔‘‘ میں نے رک رک کے بولا۔
    ’’ ٹھیک ہے تو آپ لیٹ جائو، میں مختصر سی بات کرکے چلی جائوں گی۔‘‘
    میں سمجھ گئی کہ ماما کچھ خاص بات کرنے والی ہیں۔میں فوراً لیٹ گئی تاکہ ماما جلدی جلدی اپنی بات ختم کرلیں۔




    ’’بیٹاسامی بچّہ ہے ، باقی بچّوں سے قصّے کہانیاں سنتا ہے تو اس کا دل بھی تفریح کرنا چاہتا ہے۔ آپ حسّاس ہونے کے ساتھ سمجھدار بھی تو ہو۔‘‘ ماما نے جھک کر میرے ماتھے پر پیار کیا اور وہیں میرا غصّہ پانی کے بلبلے کی طرح غائب ہوگیا۔
    ’’ دوسری بات جو کہ کافی خاص ہے وہ یہ کہ ایک بہت اچھی فیملی آپ کے لیے اپنے بیٹے کا رشتہ لے کر آنا چاہتی ہے۔‘‘ ماما جملہ مکمّل کرکے چند سیکنڈ کے لیے رکیں پر جب میں چپ رہی تو انھوں نے بات جار ی رکھی ۔
    ’’ بیٹا ہم نہیں چاہیں گے کہ آپ ہر ایک کے آگے ٹرے سجا کر لائو۔ آپ کے بابا تو انجان لوگوں کے منہ اٹھا کر چلے آنے کے سخت خلاف ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ پہلے آپ لڑکے کی تصویر دیکھ لو اور لڑکا آپ کی۔اور شکل و صورت پسند آنے کی صورت میں ہی بات آگے بڑھائی جائے۔‘‘
    ’’پر آپ لوگوں کو اچانک شادی کی کیوں پڑگئی؟ کہیں سامی کی دلہن بھی ابھی سے لانے کا ارادہ تو نہیں ہو گیا؟‘‘ میں نے بات ٹالنا چاہی۔
    ’’ شریر لڑکی اس میں ابھی بہت وقت ہے۔ وہ تو تم ہمارے داماد کے ساتھ مل کر خود ڈھونڈنا۔ بیٹا تمہاری پڑھائی مکمّل ہو چکی ہے،ماشااللہ سے تیئس برس کی ہوگئی ہو، یہ بالکل صحیح عمر ہے شادی کی۔‘‘ماما مجھے زیادہ تر آپ کہہ کر مخاطب کرتی تھیںاور مذاق کے موڈ میں تم۔
    تو یہ تھی مختصر بات جو ابھی تک مکمّل ہی نہیں ہوئی؟
    ’’سکینہ بیٹا۔ بابا کے دوست کے بیٹے کا رشتہ تو آپ نے قبول نہیںکیا تھا، چلو اس وقت تو آپ پڑھ بھی رہی تھیںمگر اب سنجیدگی سے سوچئے گا۔‘‘ ماما کو سنجیدہ دیکھ کر میں اٹھ کر بیٹھ گئی۔
    ’’ بیٹا سعیدہ آپا جنہوں نے سارہ کا رشتہ کروایا تھا انہوں نے ایک بہت اچھا رشتہ بتایا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ تصویر چھوڑواوران پر اعتماد کرکے لڑکے والوں کو گھر بلالو۔‘‘
    سارہ آپی ماما کی بھانجی تھیں۔ ان کی شادی پچھلے سال ایک بہت اچھے گھرانے کے نہایت شریف اور پڑھے لکھے شخص سے ہوئی تھی۔وہ اپنی شادی شدہ زندگی سے پوری طرح مطمئن تھیں اور اٹھتے بیٹھتے رشتے والی سعیدہ آپاکو دعائیں دیتی تھیں۔
    ’’ اچھا وہ کتنے بہن بھائی ہیں ؟ ماں باپ کیسے ہیں؟کہاں رہتے ہیںجو بابا نے پہلے تصویر دیکھنے کا کہا ہے‘‘ میں نے اپنے ذہن میں موجود سوال ایک سانس میںپوچھ ڈالے۔
    ’’سکینہ CID سانس تو لے لو ، اگر ہماری شہزادی کی اجازت ہو تو تفتیش کے لیے اس ویک اینڈ بلوا لیتے ہیں ۔ سعیدہ آپا کے مطابق وہ لوگ لڑکے کے بارے میں مل کرکچھ خاص بات بتانا چاہتے ہیںاور ویسے بھی ہمیںبھی ان کو حقیقت سے آگاہ کرنا ہوگا۔ رشتے سچ کی بنیاد پر ہی رکھنا چاہئیں۔‘‘ماما نے گہرا سانس لیا۔’’اور ہاں جہاں تک تمھارے سوالات کا تعلّق ہے، آمنے سامنے بیٹھ کرتمام سوالات بھی کر لیں گے اور ان کوان کے سوالات کے جوابات بھی دے دیں گے۔‘‘
    میں نے ماما کوزور سے گلے لگا لیااور ماما مجھے پیار کرکے کمرے سے باہر چلی گئیں۔جاتے جاتے کمرے کی ڈم لائٹ اور دروازہ بند کر گئیں۔
    حقیقت، نیا گھر، نئے انجان لوگ اور نئے سال کی آمد،یہ سب خیالات مجھے بے چین کرنے کے لیے کافی تھے۔
    ماما اور بابا دونوں ہی بہت شفیق تھے۔ میں نے ہمیشہ ان کی آنکھوں میں پیار اور لہجے میں نرمی پائی۔ سامی اور مجھے ایک جیسا پیاردیا۔ جب بھی مجھے غصّہ آتا ،میں سامی کو چڑاتی کہ بابا مجھے زیادہ پیار کرتے ہیں پر مجھے معلوم ہوتا کہ سامی کو اس بات پر کبھی یقین نہیں آئے گاکیوں کہ مامابابا بیلنس رکھنے میں ماہر تھے۔
    میں نے دھیان بٹانے کو اپنی دراز سے کتاب نکالی، لحاف اوڑھا اور لیٹ کر کتاب پڑھنا شروع کردی۔ مجھے رومانوی کتابیں پڑھنا بہت پسند تھا مگر ابھی تو جیسے میں الفاظ رومانوی پڑھ رہی تھی اور کہانی میرے دماغ میںڈرائونی چل رہی تھی۔
    ایک دم یادیں مجھے سولہ سال پیچھے دھکیل کر لے گئیں۔سال 2000 نے میری زندگی بدل کر رکھ دی تھی ،ہاں شاید اچھے کے لیے پر اس سال رونما ہونے والے واقعات نے میرا اب تک پیچھا نہیں چھوڑا تھا۔
    اس نئے سال2000 کا سب کو بڑی بے چینی سے انتطار تھا۔
    ہر کوئی میلینیئم ) (Milleniumمیلینیئم (Millenium)کر رہا تھا۔ چونکہ میری عمر اس وقت صرف سات برس تھی اور مجھے اسکول میں کلاس ٹیچر کی باتیں سن کر یہ لگنے لگا تھا کہ سال 2000ء شروع ہوتے ہی دنیا بدل جائے گی اور پھر حقیقتاً میری دنیا ہی بدل گئی۔ ہم حیدرآباد میں رہتے تھے کیوں کہ ابّو کی وہاں نوکری تھی۔میں نے ابّو سے ضد کی کہ نیا سال منانے ماموں کے گھر کراچی چلیں۔
    ’’بھئی اس سال ایسی کیا خاص بات ہے ؟‘‘ابّو نے پوچھا۔
    ’ابّونئے سال کے ساتھ نئی صدی شروع ہو رہی ہے‘، میں نے بڑے جوش سے بتایا۔
    پہلے توابّو خرچے کا سوچ کر پریشان ہوئے مگرمیرے پیچھے پڑنے پر راضی ہو گئے۔
    ہم اکتیس دسمبر 1999کی دوپہر ایک بجے کراچی پہنچے۔ ماموں ہمیں اپنے ساتھ گھر لے گئے۔ماموں اچھے تھے مگر ممانی سے نہ جانے کیوںمجھے ڈر لگتا تھا۔ اس وقت بھی مجھے خوف تھا کہ ممانی کہیں گھومنے پھرنے پر پابندی نہ لگادیں۔ماموں ممانی کا ایک ہی بیٹا تھا، نادر۔نادر بھائی مجھ سے چھ سال بڑے تھے۔وہ بہت ہی پڑھاکو تھے اور ہر وقت ’’جی امّی، جی امّی‘‘ کرتے رہتے تھے۔
    شام کی چائے پر ابّو نے ذکر چھیڑا۔
    ’’بھئی بچّے سمندر کی سیر کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
    ’’بھائی جان آپ نے ہمیں کراچی کی نئے سال کی رونقیں دکھانی ہیں۔‘‘ امّی بولیں۔
    میں بہت پُرجوش ئٹڈ ہو گئی پر وہی ہواجس کا مجھے ڈر تھا۔ ممانی فوراً بولیں:
    ’’رونقیں کیا، بے ہودگی ہوتی ہے ، بائیک والے سائیلنسر نکال کر سڑکوں پر ہلڑ بازی کرتے پھرتے ہیں۔ ایسا کرتے ہیں سمندر پر کل دوپہر کو چلیں گے، میں بریانی اور کباب بنالوں گی اور پکنک بھی ہو جائے گی۔ ممانی نے تجویز پیش کی۔ نادر بھائی اپنی امّی کی بات سن کر کھل اُٹھے۔
    ’’بریانی، پکنک،یاہوووو۔‘‘
    دوسری طرف میرا چہرہ اتر گیا۔میں نئے سال کی آمد پر باہر جانا چاہتی تھی۔ میں دیکھنا چاہتی تھی کہ ملینیئم کیا تبدیلی لاتا ہے۔ کیا آسمان کا رنگ بدل جائے گا؟ ایسی کیا تبدیلی ہوگی جس کا حیدرآباد میں موجود میری دوستوں کو بھی انتظار تھا؟ایک دم میرے ننھے دماغ میں خیال آیا کہ کیا پتا چاکلیٹ کی بارش ہو ویسے بھی کراچی اتنا بڑا شہر ہے یہاں تو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔
    ’’ماموں جان آج ہی چلیں نہ سمندر پر۔‘‘ میں نے آہستہ سے کہا۔
    ماموں مسکراتے ہوئے بولے:
    ’’بیٹا آج رات تو سمندر کا راستہ بند ہوتا ہے، کنٹینر لگے ہوتے ہیں، پھر بھی کچھ من چلے کچھ نہ کچھ کرکے کر پہنچ ہی جاتے ہیں۔ لیکن ہم کہیں اور چلیں گے فکر نہ کرو بڑا مزہ آئے گا۔‘‘
    ’’ہاںبھئی سنا ہے اس دفعہ تو لوگوں کا کچھ ذیادہ ہی موج مستی کا ارادہ ہے، نئی صدی میں جو داخل ہورہے ہیں۔ ہم تو نئی صدی اور نئے سال کا استقبال کرنے آپ کے پاس آگئے ہیں۔‘‘ ابّو بڑے جوش سے بولے۔
    ’’بہت اچھا کیا بھائی صاحب، ہمارا نادر ویسے بھی اکیلا ہوتا ہے۔ آپ سب کے آجانے سے اس کے بھی مزے ہوگئے ہیں۔‘‘ ممانی نے خوشی خوشی جوا ب دیا۔
    اس رات سب رات کا کھانا دس بجے تک کھا کر تیّار ہوگئے۔ اس زمانے میں کراچی کے علاقے کلفٹن میں ایک نیا مال بنا تھا۔ہم چوں کہ حیدرآباد سے آئے تھے لہذا ہم نے مال نہیں دیکھا تھا۔ماموں نے ہمیں مال گھمانے کا ارادہ کیا۔ نادر بھائی نے مال کی اتنی تعریف کی تھی کہ مجھ سے تو صبر نہیں ہو رہا تھا۔
    رات گیارہ بجے کے قریب جب ہم وہاں پہنچے توپتا چلا کہ مال تو بند تھا۔ ماموں کا خیال تھا کہ نئے سال کی تقریبات رات گئے تک مال میں ہو رہی ہوں گی مگر وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ اس رات تو مقامی حکومت نے مال کھلنے ہی نہیں دیا تھا۔
    ہم بچّے رونے والے ہوگئے۔ماموں نے ہماری حالت دیکھ کر کہا کہ اب یہاں تک آگئے ہیں تو کسی طرح راستے عبور کرکے سی ویو جانے کی کوشش ضرور کریں گے۔ یہ سن کر میری خوشی کا ٹھکانا نہ رہا اور میں نے خوشی میں امّی کو چومنا شروع کر دیا۔
    ’’سکینہ بس کرو بیٹھ جائو، گاڑی چلے گی تو گر جائوگی‘، امّی نے کہا۔
    ’’امّی دیکھ لیں یہ موقع اس سال پھر نہیں آئے گا۔ اب تو میں آپ کو اگلی صدی میں ہی پیار کروں گی۔‘‘
    میری بات سن کر سب ہنس پڑے۔
    ماموں نے دوبارہ گاڑی چلانا شروع کی۔ابھی تھوڑا ہی آگے گئے تھے کی ابّو بولے :
    ’’یہاں قریب میں بڑا مزار بھی ہے نا؟‘‘‘
    ’’’جی جی۔‘‘ ماموں نے جواب دیا۔