Tag: Urdu fiction

  • گھر کا چراغ — شبانہ شوکت

    گھر کا چراغ — شبانہ شوکت

    ’’روحان ! تنگ مت کرو، میںماروں گا اب۔‘‘
    فاران ٹی وی پر اہم خبریں سننے میں مصروف تھا اور روحان مسلسل آئس کریم کے لیے پیسے مانگ رہا تھا۔ چار بج چکے تھے، وہ اسے اکیلے جانے نہیں دینا چاہتا تھا اور خود جانے کا جی نہیں چاہ رہا تھا۔ اصل میں روحان ذہنی کم زور بچہ تھا۔ تقریباً بارہ سال کی عمر میں وہ آٹھ سال کا دکھائی دیتا تھا اور دماغ تو چھے سال کے بچے سے بھی گیا گزرا تھا۔ بولتابھی توتلا تھا۔ کھیل کود میں بھی کوئی خاص دل نہیں لگتا تھا سو ہر وقت باہر کی سوجھتی تھی۔ ’’مجھے پیچھے( پیسے) دے دیں، میں آئچھ کیم لائوں دا۔‘‘
    ’’بس تھوڑی دیر میںچلتے ہیں ۔‘‘ فاران نے تسلی دی۔’’نیئں ،نیئں‘‘ اس نے نیچے سے جوتی اٹھاکر فاران کو دے ماری۔ وہ غصے سے اُٹھا تو روحان منہ پر ہاتھ رکھ کر پھس پھس کر کے ہنسنے لگا۔ فاران اسے بے بسی سے دیکھ کر ہی رہ گیا۔ عرفہ سو نہ رہی ہوتی تو اسے بہلا سکتی تھی۔ تنگ آکر فاران نے اسے پچاس روپے پکڑائے اور وہ خوشی خوشی نکل گیا۔ فاران ٹی وی دیکھنے لگ گیا۔
    ’’روحان کہاں ہے فاران؟‘‘ عرفہ اُٹھ کر آئی تو اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے اس نے پوچھا۔
    ’’ہیں‘‘ وہ ہڑ بڑا کر اُٹھا، ٹی وی دیکھتے دیکھتے اس کی تو آنکھ ہی لگ گئی تھی اور اب عرفہ کی آواز پر کھلی ۔ وال کلاک پر نظر پڑتے ہی سر گھوم گیا، ساڑھے چھے۔
    ’’وہ ذرا باتھ روم میں دیکھنا وہاں تو نہیں ہے۔‘‘
    ’’نہیں۔ میں ہر طرف دیکھ کر ہی آئی ہوں۔‘‘
    ’’یا اللہ‘‘ فاران کو تو گھبراہٹ ہونے لگی۔ لاہور میں تو پہلے ہی اغوا کی خبریں سن سن کر دماغ گھومے ہوئے تھے اور یہ روحان ابھی تک واپس نہیں آیا۔ وہ تیزی سے گھر سے باہر آیا تھا۔ گلی میں موجود دکان دار سے روحان کا پوچھا۔
    ’’ہاں بھائی آیا تو تھا، آئس کریم لے کر آگے چلا گیا تھا۔‘‘
    فاران اتنی تیزی سے آگے بڑھا کہ دکان دار کی آدھی بات تو منہ میں ہی رہ گئی ۔ پھر رات ہو گئی پر روحان نہیں ملا۔ ارد گرد سب کو معلوم ہو گیا۔ سب ان کے گھر جمع ہو گئے۔ عرفہ کا تو رو رو کر برا حال تھا، سب خواتین اسے تسلیاں دے رہی تھیں۔ ہر ماں کا کلیجہ جل رہا تھا۔ چین کیسے آتا۔
    ’’پولیس میں فوراً رپورٹ کروا دینی چاہیے۔ دیر مناسب نہیں ہو گی۔ یہاں تو سمجھ دار بچوں کا نہیں پتا چل رہا تو یہ تو پھر …‘‘ کہنے والوں کو کوئی احساس نہیں ہوتا کہ وہ دکھی ماں باپ کے زخمی دل کو تیز نشتر سے چھیل رہے ہیں۔ اولاد تو اولاد ہے، کیا ذہین، کیا غبی، اور ان دونوں کا ایک ہی ایک بچہ، ان پر کیا گزر ہی تھی، یہ کوئی دوسرا کیسے جان سکتا تھا۔





    ’’ہے تو بڑا سوہنا، پر بولتا صحیح نہیں ہے۔‘‘
    ’’ تو کیا تو نے خبریں سننی ہیں اس سے؟‘‘
    اشفاق نے چڑ کر جواب دیا۔ نصیبو مسکرائی تھی، ’’میں تو اس لیے کہہ رہی تھی کہ اُستاد یہ نہ کہے مال صحیح نہیں ہے۔‘‘
    ’’اگر ہم یہی چھان ٹھیک کرتے رہیں تو خود نہ دھر لئے جائیں۔‘‘
    بچہ رو رہا تھا۔ ’’ماما، پاپا‘‘۔
    ’’اوئے چپ کر پاپا کا پتر، ایک لگائوں گا منہ پر۔‘‘
    وہ سہم کر دبک گیا پر سسکیاں لیتا رہا۔ ’’کھانا کھائو گے؟‘‘
    اُس نے روتے روتے اثبات میں سر ہلایا۔ ’’او نصیبو، اس کے لیے روٹی لے آ۔‘‘ نصیبو دال اور روٹی لائی تو وہ پیچھے ہو گیا۔
    ’’نیئں یہ نیئں، یہ اچھا نیئں۔‘‘
    ’’شاباشے… یہ اچھا نہیں؟ تیرے لئے ادھر بریانیاں دم کریں؟ کھانا ہے تو کھائو، نہیں تو بھوکے مرو۔‘‘ نصیبو بھڑکی تھی۔
    بچے کی سسکیاں تیز ہو گئیں۔
    رات بیت گئی تھی، ابھی تک روحان کا کوئی پتا نہیں چل سکا تھا۔ عرفہ پر غشی کے دورے پڑ رہے تھے۔ اس کی امی اور بہنیں بھی آگئی تھیں۔ فاران کے بھائی، بھابیاں سب آچکے تھے پر نہیں تھا تو ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دل کا چین روحان کہیں نہیں تھا۔ ہر کسی نے مقدور بھر ملامت کی کہ جب بچہ مکمل سمجھ دار بھی نہیں تھا تو پھر اسے اکیلا بھیجنے کی کیا تک تھی۔ وہ بھی ایسی جلتی دوپہرمیں جب ہر بندہ گھر میں آرام کو ترجیح دیتا ہے اور گلیاں سنسان پڑی ہوتی ہیں۔ حالاںکہ کہنے والے بھی جانتے تھے کہ اب یہ سب کہنے کا کوئی فائدہ نہیں اور یوں تو بچے بھی اغوا ہو رہے ہیں … ایک ابنارمل بچے کا اغوا کیا مسئلہ ہے۔ ’’چلو فاران پولیس اسٹیشن میں رپورٹ تو لکھوا دیں۔ اب تو بہت دیر ہو چکی ہے۔‘‘ کاشان بھائی نے نڈھال سے فاران کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اُسے اُٹھنے کا کہا۔ وہ اُٹھ گیا۔ ان کے بہنوئی ضیاء بھائی اور فاران کا سالا عامر بھی ساتھ چلے گئے۔
    ’’دیکھیں جی ماں باپ کو بہت محتاط ہو کر رہنا چاہیے۔ بچوں کو ہر ممکن حد تک گھر کے اندر مصروف رکھا جائے کیوںکہ یہ اغوا کی وارداتیں پنجاب بھر اور خصوصاً ہمارے شہر لاہور میں بہت زیادہ ہو رہی ہیں، روزانہ ہی کئی کیس رجسٹرڈ ہو رہے ہیں۔‘‘
    ایس ایچ او بہت سلجھا ہوا بندہ تھا، تدبر سے اُن کی بات سُنی اور اپنی سنائی تھی۔ دوسرے دن کئی چینل والے آگئے۔ فاران تو ان سے بات کرنے کے لیے تیار ہی نہیں تھا مگر ان کے نمائندے نے اسے سمجھایا ’’دیکھیں اس طرح آپ کے بچے کی تصویر ٹی وی پر بار بار دکھائی جائے گی تو اس سے یہ فائدہ ہو گا کہ وہ کسی کو نظر آیا تو ہمیں اطلاع مل جائے گی، دوسرا اس سے یہ ہو گا کہ دیگر لوگ محتاط ہو جائیں گے۔‘‘ انہوں نے نہ صرف فاران کا انٹرویو لیا بلکہ بُری طرح روتی ہوئی عرفہ کو بھی کیمرہ بند کیا تھا۔
    ’’اس پاگل کے پیچھے اتنا رو رہی ہے، ہائے ہائے ماں جو ہوئی بے چاری۔‘‘ نصیبو نے ٹی وی پر عرفہ کو روتا دیکھ کر مصنوعی افسوس سے کہا۔
    ’’اچھا تو اس کا دھیان رکھ، میں ذرا کام سے جا رہا ہوں۔‘‘
    ’’نہ تو ہم کب تک اس کے ساتھ پریشانی بھگتیں گے؟ تو استاد کو فون کر کے کہہ لے جائے اس کو، اور ہمیں ہمارا حصہ دے جائے۔‘‘ وہ تنک کر بولی۔
    ’’زیادہ ہوشیار نہ بن، فون تو میں نے کر دیا تھا۔ اب کہیں آنے ہی والا ہو گا دِتہ، اُستاد نے طیفو اور دِتّے کو بھیجا ہے اسے لینے کے لیے۔‘‘
    ’’تو اب تو کہاں جا رہا ہے؟‘‘
    ’’ذرا آگے پیچھے جائزہ لے آئوں گا اگلے شکار کا۔‘‘
    وہ باہر کی طرف بڑھا کہ فون کی بیل بجنے لگی، اس نے اٹینڈ کیا ’’ہاں، اوئے ہوئے، چلو خیر ہے، چل فِر جب ٹھیک ہووے تو آجانا، ہاں ہاں‘‘ ۔
    ’’چلو ان کی گڈی خراب ہو گئی ہے، اب دیر لگ جانی ہے ان کو، تو اس کا خیال رکھ۔‘‘
    ’’یہ موبائل ہے‘‘ بچہ رونا بھول کر اس کے پاس آگیا۔
    ’’ہیں کیا؟‘‘ وہ سمجھ نہیں پایا۔
    ’’یہ فون ہے آپ کا؟‘‘
    ’’ہاں، کیا کرنا ہے تو نے؟‘‘
    ’’دیم (گیم) لا دو۔‘‘
    ’’گیم لگا دو۔ واہ جی واہ۔‘‘ اس نے گیم لگا کر فون بچے کے حوالے کر دیا۔
    ’’اسے کیوں دے رہا ہے۔ کسی کا فون آگیا تو…‘‘
    ’’تو تم لے کر بات کر لینا، میں بس گھنٹے میں آتا ہوں۔‘‘
    وہ چلا گیا، نصیبو نے بچے کو دیکھا، وہ گیم کھیل رہا تھا۔ وہ کمرے سے باہر آئی، دروازے کو کنڈی لگائی اور اپنے کاموں میں لگ گئی۔ بچہ نارمل ہوتا تو وہ کبھی اسے فون نہ دیتے مگر یہ تو بچہ ہے ہی بے چارہ…‘‘ اب ان کے فرشتوں کو معلوم نہ تھا کہ فاران اور عرفہ نے اپنے نمبر اُسے کتنی مشکل سے سہی مگر یاد کروائے ہوئے تھے اور فون بھی پرانے ہندسوں والا تھا، روحان نے گیم روکی اور جلدی جلدی فاران کے نمبر ملائے۔ ’’پاپا، پاپا‘‘ فاران کی آواز سنتے ہی وہ رونے لگا، ’’روحان، روحان میرا بچہ، کہاں ہو تم، کس کے ساتھ ہو، روحان‘‘ وہ اس کی آواز سنتے ہی پاگلوں کی طرح چیخنے لگا تھا، اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ فون سے روحان کو برآمد کر لیتا۔ روحان کا نام سنتے ہی سب ارد گرد بیٹھے افراد الرٹ ہو گئے۔ اندر عرفہ تک بھی یہ بات پہنچا دی گئی تھی، وہ ننگے پائوں دوڑتی ہوئی فاران کے پاس پہنچی۔ ’’پاپا، پاپا‘‘ وہ اسی طرح رو رہا تھا۔ آج پہلی بار فاران کو اپنے بچے کی بے بسی پر رونا آیا، اگر وہ صحیح ہوتا اور بولنے کے قابل ہوتا تو اسے سمجھا تو دیتا کہ وہ کس جگہ پر ہے؟ عامر نے فاران سے فون لیا اور خود نارمل ہو کر اس سے بات کی ’’روحان میں آپ کا عامر ماموں ہوں۔ آپ کیسے ہو، ٹھیک ہو؟ آپ کے پاس کون ہے، انکل ہیں اور آنٹی بھی ہیں، اور بچے بھی ہیں، نہیں ہیں۔ اچھا آپ روئیں نہیں ہم ابھی آتے ہیں۔ ابھی آپ کو وہاں سے لے آتے ہیں۔‘‘
    روحان نے فون بند کر دیا تھا۔ فاران خود پر قابو پاتے پاتے بھی شدتِ جذبات سے روپڑا تھا۔ اندر سے تو وہ ویسے ہی خود کو مجرم سمجھ رہا تھا۔ کیا تھا اگر وہ اپنے ساتھ جا کر اسے آئس کریم دلا کر لے آتا۔ اب اپنی غلطی کی کتنی بڑی سزا بھی تو بھگت رہا تھا۔ روحان کی آواز سُن کر اس کے دل پر چھریاں سی چل گئی تھیں۔ عامر اور کاشان بھائی نے اسے سمجھا بجھا کر ریلیکس کیا تھا۔ عرفہ کو بھی تسلی دی جو بے تحاشا رو رہی تھی۔
    ’’آپی، اب ہم لوکیشن ٹریس کروا کر وہاں پہنچ سکتے ہیں۔ آپ بس دعا کریں۔‘‘ وہ فاران کو لے کر پولیس اسٹیشن پہنچ گئے ’’دیکھیں یہ سب کرنے کے دوران دعا کریں، وہ بچے کو کوئی نقصان نہ پہنچائیں۔ ظاہر ہے انہیں فون کال کا پتا چلا تو کوئی رد عمل تودکھائیں گے۔‘‘
    ’’تو آپ جلدی کریں نا، وہ میرے بیٹے کو کچھ کر نہ دیں۔‘‘
    فاران تو ہراساں ہو کر کھڑا ہو گیا۔ ’’پلیز پلیز‘‘۔ ایس ۔ ایچ۔او کمال صاحب نے تحمل کا اشارہ کیا اور فون پر کسی سے بات کرنے میں مصروف ہو گئے۔
    ٭٭٭٭
    ’’ارے یہ تو فون پر کسی سے بات کرتا رہا ہے، یہ دیکھ یہ کسی کا نمبر بھی ملایا ہوا ہے اور چار منٹ بات بھی کی ہے۔‘‘
    اشفاق باہر سے آیا تو کھانا کھانے بیٹھ گیا، پھر کافی دیر بعد طیفو کا فون آیا کہ وہ آرہے ہیں تو اس کی نظر ڈائلڈ نمبر پر پڑی تو وہ بوکھلا کر اُٹھ گیا۔ ’’ہائے میں مر گئی، اس چول کو فون ملانا بھی آتا ہے۔ ’’اوئے بند کر اس فون کو‘‘۔
    اشفاق نے فون ہی آف کر دیا۔ نصیبو نے بچے کو دو تھپڑ مارے ’’اوئے سانوں کملا بن کے دکھاندا ایں، اندروں پورا ایں۔‘‘
    بچہ بُری طرح بلبلا رہا تھا۔ ’’جلدی جلدی یہاں سے نکلو۔ ہم اڈہ نمبر ۲ پر پہنچ کر طیفو کو بتا دیں گے، وہ وہاں سے اسے لے لے گا۔ جلدی نکل یہاں سے۔‘‘
    لیکن بہت دیر ہو چکی تھی۔ پولیس نے نہ صرف ٹریس کر لیا تھا بلکہ بچے کو نقصان سے بچانے کے لیے بغیر سائرن بہ جائے، بغیر دستک دیئے دیواریں کود کر اندر آئے اور بچے سمیت سب کو گرفتار کر لیا تھا۔ دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ فاران، روحان کو دیکھ کر دوڑ کر آیا اور اُسے بازوئوں میں بھینچ کر بے تحاشا چومنے لگا اور عرفہ کی تو حالت دیکھنے والی تھی جو روتی تھی، ہنستی تھی اور اسے ساتھ لپٹائے بار بار چومتی تھی۔ واقعی ان کی کوئی نیکی ہی کام آئی تھی ورنہ ٹی وی اینکر چیخ رہے تھے خدارا اپنے بچوں کی حفاظت کیجیے، خدارا انہیں گھروں کے اندر محفوظ رکھئے۔ بچو کسی انکل! کسی آنٹی !سے کوئی ٹافی، چپس یا جوس نہیں لینا، ایسے انکل اور آنٹی جنہیں آپ پہلے کبھی جانتے ہی نہیں۔ بوری بند بچوں کی لاشوں کی تصویریں دکھا دکھا کر عبرت دلا رہے تھے۔ اخبار خوف ناک خبروں سے بھرے پڑے تھے اور پھر بھی بچے غائب ہو رہے تھے۔ کیا واقعی آج کل کے ماں باپ بے پرواہ ہو گئے ہیں یا اتنے غافل کہ بچوں سے متعلق اتنے خوف ناک حقائق جان کر بھی ان کے تحفظ کے لیے کوئی لائحہ عمل اختیار نہیں کرتے، کتنے اشفاق اور نصیبو پکڑے جائیں گے۔دس میں سے ایک تو خدارا خود اپنے بچے اپنے گھروں میں، اسکولوں میں محفوظ رکھنے کا بندوبست کریں۔
    ٭٭٭٭




  • پہچان — صائمہ اقبال

    پہچان — صائمہ اقبال

    ’’میں تو وہاں ڈٹ کر کھڑی ہو گئی۔ کسٹم آفیسر اپنے آپ کو پتا نہیں کیا سمجھ رہا تھا۔ بھئی ایک گل دان ہی تو تھا۔ ایسے ٹھونک بجا کر دیکھ رہا تھا جیسے کئی کلو ہیروئن اس میں بھر کر سمگل کرنے والی ہوں۔‘‘
    فاطی نے اپنے شولڈر کٹ بالوں کو ایک جھٹکا دے کر رعونت سے پیچھے کیا تھا۔ وہ سب مسحورہو کر اُسے سُن رہی تھیں۔ گوری چٹی فاطی یہی کوئی چالیس سال کی ہو گی۔ اُس نے اپنے آپ کو کافی فٹ رکھا ہوا تھا اس لئے اپنی عمر سے کچھ چھوٹی ہی لگتی تھی۔ موضوع کوئی بھی ہو، کسی نے بھی شروع کیا ہو فاطی سے زیادہ معلومات کسی کے پاس تھیں اور نہ کوئی اس طرح دلیل سے بات کر سکتا تھا۔
    ’’سب کو عام عورتوں کی طرح ہی ٹریٹ کرتے ہیں۔ جو ان کی بات سُن کر کونوں کھدروں میں جھانکنے لگتی ہیں۔ ذرا انگلش میں بات کیا کی، میڈم میڈم کرنے لگا۔‘‘
    سب کھِی کھِی کرنے لگیں تھیں۔
    ’’یہاں ایسے ہی کرتے ہیں یہ کسٹم والے، تنگ کرنے کا کوئی موقع جانے نہیں دیتے ہاتھ سے۔‘‘
    یہ فارحہ تھی۔ فاطی اور فارحہ کی خوب بنتی تھی۔ خیالات جو ایک جیسے تھے۔ ایک دوسرے کی ہاں میں ہاں ملانا ان کا فرضِ اولین تھا۔
    یہ اپنے وطن سے کوسوں دور بیٹھی عورتوں کی ایک پارٹی کا احوال ہے۔ شاید اسے کِٹی پارٹی کہنا چاہیے ۔ ان کی تعداد یہی کوئی آٹھ دس رہی ہو گی۔ یہ کوئی ایلیٹ کلاس کی بیگمات نہیں ہیں لیکن ’’یہاں‘‘ وہ اپنے آپ کو اسی صف میں شامل کرتی ہیں۔ ان کی سب سے بڑی صفت اوورسیز پاکستانیہوتی ہے۔
    اُسے یہاں آئے ابھی کچھ مہینے ہوئے تھے۔ سب کچھ اُس کے لئے بہت نیا تھا۔ پاکستان سے دور ہونے کی اُسے کبھی خواہش تھی اور نہ ہی جستجو، لیکن شوہر کی جاب کی بدولت اِدھر آنا پڑا تھا۔ حسن علی (اُس کے شوہر کے دوست) کی بیگم شفق کے ساتھ وہ پہلی بار ون ڈش بنا کر اِدھر آئی تھی۔
    اُس کا دھیان باتیں کرتی فاطی سے ہٹ کر سفید پردوں پر جا پڑا تھا۔ پردے باہر سے آتی ہوا سے ہلکے ہلکے لرز رہے تھے۔ ایک گہرا سانس لے کر اُس نے ہوا کی شفافیت کو اپنے اندر اتارا۔
    ’’نقشین اگر نان تھوڑی دیر اور اوون میں رہنے دیتی ناں تو یہ بہت مزے کے بنتے۔‘‘
    کھانا کھل چکا تھا اوراب کھانے کا تیا پانچا ہو رہا تھا۔
    ’’نان تو شمائلہ ہی بناتی ہے اور سچ پوچھو تو اسی نے تو متعارف کروائے ہیں یہاں، اس سے اچھے نان کوئی نہیں بنا سکتا۔‘‘
    پتا نہیں نقشین کی برائی تھی یا شمائلہ کی تعریف، وہ کچھ سمجھ نہیں سکی۔ وہ اچانک ہی بے چینی کا شکار ہوئی تھی۔ اُس نے حلیم کے اوپر کتری ہوئی ادرک ڈالی ہی نہیں اور بھنی ہوئی پیاز اُسے یہاں نظر نہیں آرہی تھی۔ پتا نہیں کسی کا دھیان اس طرف گیا تھا یا نہیں لیکن وہ بے چینی سے کئی بار پہلو بدل بیٹھی تھی۔
    ’’یار تم کیسے رہ لیتی ہو گھر پہ، مجھ سے تو کبھی نہ رہا جائے بڑا مشکل کام ہے گھر پہ سارا سارا دن بھلا بندہ کرے تو کرے کیا اور کچھ کرنے کو نہ ہو تو، میں تو پھر بھی ونڈو شاپنگ کے لئے نکل جاتی ہوں۔‘‘
    اب نشانۂ مشقِ ستم اسی طرح کی کوئی اور بے چاری تھی یہ رِدا تھی جو کھانے کے ساتھ پورا انصاف کرتے، عابی کے بخیے اُدھیڑ رہی تھی۔ عابی بے چاری بغلیں جھانکنے لگی۔ عابی جاب نہیں کرتی تھی کوئی یونی ورسٹی بھی جوائن نہیں کی تھی اور اس کا گھر میں رہنا باقی خواتین کے لیے حیرت، استعجاب اور وحشت کی علامت تھا۔
    ’’ادرک‘‘ نہ ڈالے جانے کی بے چینی کی جگہ اب ’’فارغ‘‘ہونے کی بے چینی نے لے لی تھی۔ وہ بھی تو کچھ نہیں کرتی تھی۔ شکر تھا کہ اکیلے میں پوچھا جانے والا سوال۔
    ’’تم کیا کرتی ہو؟‘‘
    ابھی تک سب کے سامنے نہیں پوچھا گیا تھا۔
    ’’اگر مجھے سارا دن گھر میں رہنا پڑے تو میں تو پاگل ہی ہو جائوں۔‘‘
    حد سے زیادہ روکھے اور خشک بالوں والی ردا نے لمبے ناخنوں والے ہاتھ کچھ اوپر کرتے چہرے پر کچھ ایسے تاثرات سجائے تھے کہ باقی لوگوں کے ساتھ ساتھ اُسے عابی اور خود اپنا آپ بھی بے چارا سا لگنے لگا تھا۔
    جاب کرنا جبری بات نہیں تھی اسی طرح حجاب نہ کرنا بھی بُری بات نہیں تھی۔ لیکن یہاں بیٹھی ساری عورتوں کے لیے یہ بات کسی اچھنبے سے کم نہیں تھی کہ گھر کس طرح دیا جا سکتا ہے۔ کیا ان کے وطن کی ساری خواتین اور وہ خود بھی ایسی ہی تھیں جب وہ اُدھر تھیں۔
    مال میں پھرنا، ونڈو شاپنگ کرنا، کافی شاپ میں بیٹھ کر کافی کے ساتھ چار دوسری عورتوں کی برائیاں کرنا بھی تو ایک ’’بڑا کام تھا‘‘ اور وہ اسے بڑے ذوق و شوق سے انجام بلکہ سرانجام دے رہی تھیں۔
    ’’حارث ٹھیک ہی کہتے ہیں۔ یہ بے چارے گورے تو اپنے کام سے کام رکھتے ہیں۔ کبھی نظر اٹھا کر دیکھتے تک نہیں۔ پاکستانیوں سے اللہ بچائے۔ لڑکی بعد میں دیکھیں گے آنکھیں اُبل کر پہلے باہر آجائیں گی۔‘‘
    فاطی چکن سے انصاف کرتے ایک پھر ایکشن میں تھی۔ ناک سکوڑ کر ناگواری کا اظہار کرتے اُس نے اپنی ……حواریوں کی جانب دیکھا جو اس کی ہاں میں ہاں ملا رہی تھیں۔
    ’’گورے بھی بھلا مرد تھے۔ مرد تو صرف اس کے ہم وطن تھے جن سے ’’پردہ‘‘ جائز تھا۔ باقیوں کے سامنے تو سر جھاڑ منہ پھاڑ پھرا جا سکتا تھا۔‘‘
    ورطۂ حیرت میں غوطہ زن وہ ان مصنوعی خواتین کو سُن رہی تھیں۔
    ’’یاد نہیں وہ’’طوری‘‘ center میں سٹال لگایا تھا جب۔‘‘
    نقشین نے جانے کیا یاد کرانے کی کوشش کی تھی۔
    ’’اُف کیسا عجیب ڈرامہ ہوا تھا۔ اچھی خاصی چل رہی تھی نمائش، بس کچھ ہم وطن لوگوں نے آکر ہی سارا مزا کِرکرا کر دیا تھا۔ میں نے تو فوراً منہ پھیر لیا بھلا اب ان کے سامنے ہم ایسے ہی کھڑے رہیں۔‘‘
    وہ نمائش اس نے بھی دیکھی تھی۔ عین سینٹر میں فاطی اور اُس کی دو سہیلیوں نے سٹال لگایا تھا۔ بنی ٹھنی میک اپ زدہ چہرے لئے وہ جیولری بیچ رہی تھیں لیکن جونہی اُن کے ہم وطن ادھر آنکلے منہ پھیر کر ہی کھڑی ہو گئیں۔
    ’’آج ’’چوچی‘‘ نہیں آئی۔‘‘
    نقشین نے رِدا سے پوچھا تھا۔ ردا نے اپنے کھردرے بم پھٹے بالوں کو بڑی ادا سے سنوارنے کے ساتھ نفی میں جواب دیا ’’چوچی‘‘ کے نام پر باقی چہرے مسکرا اُٹھے تھے۔
    ’’چوچی‘‘ اس محفل سے غیر حاضر ایک ایسی خاتون کا ’’نامِ گرامی‘‘ تھا جو محفل میں موجود دوسری خواتین نے انہیں دے رکھا تھا اور ان کی عدم موجودگی میں انہیں اسی لقب سے یاد کیا جاتا تھا۔ ’’وجۂ تسمیہ‘‘ اُن کی اپنے آپ کو چھوٹے بنا کر پیش کرنے کی کوششیں تھیں۔
    ’’یار مزا نہیں آرہا کچھ ’’چوچی‘‘ کے بغیر۔ کچھ جان نہیں لگ رہی محفل میں۔ اب بھلا میں اپنے آپ کو سب سے چھوٹی بنا کر پیش کرتی اچھی لگوں گی۔‘‘
    یہ شمائلہ تھی جو کب کی چپ تھی۔ کچھ تو اس کا بھی حصہ ہونا چاہیے ناں۔
    ’’سولہ سال کی تھی جب شادی ہوئی تھی۔‘‘
    شمائلہ نے شاید چوچی کی نقل اتاری تھی۔ (اسے ابھی جو چی کا نام معلوم نہیں تھا)
    ’’تم بھول رہی ہو سولہ نہیں پندرہ سال کی تھی چوچی۔‘‘
    فاطی نے اتنی سنجیدگی سے تصحیح کی تھی کہ وہاں بیٹھی سب خواتین ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہی تھیں۔ اس نے سنجیدگی سے ان مہذب و پڑھی لکھی خواتین کو دیکھا جو اس وقت اپنی تہذیب بیگ میں رکھ کر اس کی زپ بند کر چکی تھیں۔
    ہمایوں کو آنے کا کہہ دینا چاہیے۔ بہت دیر ہو گئی ہے اب تو۔ سوچتے سوچتے اُس نے بیگ سے موبائل نکالا۔
    ’’رافعہ؟‘‘ یہ تمہارا شادی کا سوٹ ہو گا۔‘‘
    اُس کے سوچتے سوچتے شاید گفت گو کا موضوع بدل گیا تھا۔ موضوع بحث اب وہ خود ہی تھی۔
    ’’یعنی شادی کی سوٹوں میں سے ایک سوٹ۔‘‘
    فرحین نے تفصیل کے ساتھ تصحیح بھی کر دی۔
    ’’جی۔‘‘
    اس نے بڑے مرے مرے انداز میں جواب دیا تھا۔ اس کی قمیص کی لمبائی درمیانی تھی اور اب کافی لمبی قمیصیں چل رہی تھیں۔ کچھ عرصہ پہلے کا فیشن بکسر بدل گیا تھا۔ ساس اور اپنی امی کی اپنے لیے خریدی ہوئی چیزیں اُس نے اسی احتیاط سے استعمال کی تھیں، جس طرح وہ اپنی پسند کی چیزیں استعمال کرتی تھی۔
    فرحین اس سے سوال پوچھ کر لاتعلق ہو گئی تھی تعریف نہ تنقید، مقصد صرف اسے احساس دلانا تھا۔ باقیوں نے بھی بڑے غور سے اُسے عجوبے کی طرح اوپر سے نیچے تک دیکھا تھا۔
    اُسے ان کی سوچ پر افسوس ہونے لگا۔ عجیب سوچ کی حامل خواتین سے واسطہ بڑا تھا اس کا۔ اس کے بعد نہ کبھی وہ کسی پارٹی میں گئی تھی اور نہ ہی کبھی جانے کی خواہش رہی تھی۔ اُسے اپنا گھر اور گھر کا سکون بے حد عزیز تھا۔ گھر رہنے کی خواہش کو اس نے دل و جان سے پورا کیا تھا بچوں کی ذمہ داریاں اور شوہر کی خوش نودی اُسے ہر چیز سے زیادہ عزیز تھی۔ ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہوئے جہاں آپ کے اپنے جیسے لوگ اور ماحول نہیں ہوتا وہاں آپ کے گھر اور اپنے بچوں کو آپ کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے اور وہ اس ضرورت کو سمجھ گئی تھی۔’’فاطی کی بیٹی نے انگریز کلاس فیلو سے شادی کر لی تھی۔‘‘
    اس بات کا اندازہ اُسے پہلے نہیں ہوا تھا۔ لیکن اب ہو گیا تھا۔ کبھی وہ سوچتی اُسے بچوں کو چار سال کا ہونے سے پہلے ہی ڈے کیئر بھیجنا چاہیے تھا وہ یہاں کی زبان تو اچھے طریقے سے سیکھ لیتے۔ کبھی اُسے لگتا وہ بہت فارغ ہے گھر پر رہتی ہے۔ گھر پر رہنا اُس کی اپنی پسند تھی تو پھر وسوسے کیوں تھے۔ کبھی کبھار اُسے پاکستان والی جاب چھوڑنے کا افسوس ہوتا۔ لیکن اب اُسے احساس ہوا تھا کہ ونڈو شاپنگ، کافی، کِٹی پارٹیز اور پارلر کے چکر اتنے اہم نہیں ہیں جتنا بچوں کو وقت دینا اہم ہے۔
    جاب کے ساتھ آپ اپنی ذمہ داریاں بہت اچھے سے پوری کر سکتی ہیں لیکن بہت زیادہ سوشل ہونا باقی چیزوں کو بہت پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔
    عورت کی ایک ذمہ داری اُس کا اپنے مقام کو پہچاننا بھی ہے۔
    اوورسیز رہنا کوئی قابلیت نہیں نا ہی انگلش بولا قابلیت کے زمرے میں آتا ہے۔ اسی طرح جاب کرنا یا نہ کرنا آپ کی ذاتی پسند ، ناپسند یا حالات پر منحصر ہے۔ فیشن آپ کا شوق ہو سکتا ہے یا سادگی آپ کی ترجیح، سب سے بڑی بات عورت کا اپنے صحیح مقام کا تعین کرنا ہے۔ عورت چاہے وطن میں رہے یا وطن سے باہر، اس کی ذمہ داریاں ایک سی رہتی ہیں۔ ان ذمہ داریوں میں تصنع، بناوٹ، نمائش اور کھوکھلی قابلیت کہیں بھی نہیں ہے۔

    ٭٭٭٭




  • قرض — وقاص اسلم کمبوہ

    قرض — وقاص اسلم کمبوہ

    لاری اڈّے پر ہمیشہ کی طرح ٹریفک کی بہت گہما گہمی تھی۔ میں موٹر بائیک سے اُتر کر بک سنٹر سے دل والے لفافے خریدنے لگا۔واپسی پر روڈ کراس کرنے کے لیے مجھے انتظار کرنا پڑا۔ ایک بڑی شالیمار آکر رکی۔ جس کا سٹاپ پانچ منٹ تھا۔ مسافر ایک دوسرے کے اوپر سے ہوتے ہوئے باہر نکلنے کی کوشش کرنے لگے۔اندر والے باہر اور باہر والے اندر گھسنے کے لیے بھڑنے لگے ۔اس شالیمار بس سے ایک سادہ سی دیہاتی خاتون باہر نکلیں جنہوں نے ایک بڑی سی چادر سے جسم ڈھانپ رکھا تھا۔سادہ لوح خاتون نے اپنی آٹھ سالہ بچی کو کندھوں پر اٹھا رکھا تھا۔ ماں اور بچی کا تعلق کسی بہت غریب اور دکھی گھرانے سے لگ رہا تھا۔بس سے اترکر وہ ایک جانب سڑک پر کھڑے ہوکر آٹو رکشہ کا انتظار کرنے لگیں۔پاس ہی ریڑھی پر خوب صورتی سے سجے سیب دیکھ کر اس بچی کا جی للچایا۔وہ اس طرف اشارہ کرتے ہوئے دھیمی آواز میں بولی:
    ’’ امیمجھے سیب لے دو۔‘‘ ماں نے اس کی بات سُنی اَن سُنی کردی۔بچی کا والیوم اور اصرار بڑھنے لگا۔ماں کے پاس پیسے نہیں تھے اگر تھے بھی تو صرف کرایہ دینے کے لیے، اس لیے وہ بچی کی بات پر کان نہ دھررہی تھی لیکن بچی اپنی ضد کی پکی تھی۔
    ماں نے کہا: ’’بیٹا ہم آگے چل کر لیں گے۔‘‘
    ریڑھی والے کو جب معاملے کا علم ہو اتو اس نے ایک سیب کاٹ کر بچی کو دے دیا۔ماں نے پیسے دینے چاہے لیکن اس بھائی نے لینے سے انکار کردیا کہ میں نے اپنی بچی سمجھ کر دیا ہے۔ماں نے ممنونیت سے نظریں جھکالیں اور ایک شفقت بھری نظر اپنی بیٹی پر ڈالی ۔اتنے میں آٹو رکشہ آگیا۔ جس میں سوار ہوکر وہ آگے بڑھ گئیں۔
    ٭۔۔۔٭۔۔۔٭
    آج اجمل کے گھر میں چوتھی بیٹی کی پیدائش ہوئی۔ جس کا نام آمنہ رکھا گیا۔خاندانی رسم و رواج کے مطابق جب بیٹی کی عمر پانچ سال ہوئی تو اس کی منگنی کردی گئی۔اکبر ایک سال بعد روڈ ایکسیڈنٹ میں فوت ہوگیاتو چھوٹے سے گھرانے میں بڑی قیامت کا سماں تھا، گھر کا چولہا تک ٹھنڈا رہنے لگا۔سب سے بڑی بیٹی شادی کے لائق ہوچکی تھی۔بشریٰ بیگم نے اپنے خاوند کے ہوتے ہوئے جہیز کی کچھ چیزیں خرید لی تھیں۔ اب جب حالات بگڑتے جارہے تھے تو بشریٰ بیگم ایک سکول میں صفائی کا کام کرنے لگی تاکہ گھر کی چکی چلتی رہے۔
    کچھ عرصے بعد بشریٰ بیگم نے اپنی بڑی بیٹی کو بیاہنے کا سوچا ۔اس کے خرچے کے لیے اپنے کانوں کی بالیاں بیچ دیں۔لڑکے والوں سے بات کی گئی توانہوں نے سب سے پہلے جہیز کا پوچھا۔جہیز صرف ضروری اشیا پر مشتمل تھا۔اس بات کا علمہوتے ہی لڑکے والوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ جہیز ہماری مرضی کے مطابق ہوگا، ورنہ شادی نہیں ہوگی۔ دوٹوک جواب سُن کر بشریٰ بیگم کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔انہوں نے منت سماجت کی کہ جیسے ہی میرے پاس پیسے آئیں گے میں اپنی بیٹی کو اور سامان دیتی رہوں گی ،خدارا آپ رشتے سے انکار مت کریںلیکن ان کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔
    بیس سال پہلے کیا گیا یہ رشتہ پل بھر میں ٹوٹ رہا تھا۔ یہ ان کی خاندانی رسم تھی اگر ایک جگہ سے رشتہ ٹوٹ جائے تو پوری عمر لڑکی دوسری جگہ شادی نہیں کرسکتی ۔لڑکی اور والدین کی زندگی میں سوائے طعنوں کے کچھ نہیں بچتا۔ماں کو اس غم نے تقریباً ادھ موا کر دیا۔دن مہینوں اور مہینے سالوں میں کٹ رہے تھے۔اب دونوں چھوٹی بیٹیاں بھی بیاہنے کے لائق ہوگئیں۔ان کے ساتھ بھی اپنی بڑی بہن والا سلوک ہوا تھا۔بیٹیوں کا غم بشریٰ بیگم کو اندر ہی اندر دیمک کی طرح چاٹنے لگا ۔وہ لوگوں کے مزید طعنے برداشت نہیں کرسکتی تھیکیوںکہ اب سوال اس کی ذات کا نہیں بلکہ بیٹیوں کی زندگی کا تھا۔
    وہ انہیں خیالوں میں گم تھی اچانک اس کے ذہن میں خیال آیا ۔ ایک نئے جذبے سے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے کھڑی ہوگئی۔
    ٭۔۔۔٭۔۔۔٭
    آٹو رکشہ نے انہیں ان کی منزل گو گو ہائوس تک پہنچادیا۔یہ ایک بڑی سی حویلی تھی۔ جس میں بندوقیں اٹھائے بھاری بھر کم چا ر گارڈ کھڑے تھے۔ بشریٰ بیگم نے ڈرتے ڈرتے پوچھا:
    ’’ج ۔۔۔جج۔۔۔جی وہ گو گو صاحب؟ ‘‘ایک گارڈ نے اپنے ساتھ والے کمرے کی طرف انگلی کے اشارے سے بتایا۔
    ’’آئو بی بی جی ۔۔۔گوگو نام ہے میرا۔۔۔بو لو کیا کام ہے؟۔‘‘ مسٹر گوگو نے اپنے مخصوص انداز میں پوچھا۔
    یہ بھاری بھر کم آواز ان کی سماعتوں سے ٹکرائی۔جس سے آمنہ تو سہم کر اپنی ماں کو چمٹ گئی۔بشریٰ بیگم نے آنے کی وجہ بتائی۔
    ’’جی بی بی! ہم نے آپ کا کام کردیا ہے۔اگر وعدہ کے مطابق واپسی نہ ہوئی تو ہم نکلوانا بھی اچھی طرح جانتے ہیں۔‘‘ہزارکے نوٹوں والے چھے پیکٹ کائونٹر پر رکھتے ہوئے گوگو نے مکروہ قہقہہ لگایا۔بشریٰ بیگم نے وہ پیکٹ کپڑے میں باندھ کر بغل میں چھپا لیے۔
    انہوں نے گھر آکر بتایا میں نے کسی سے قرض لیا ہے۔ شادی کے بعد آسان اقساط میں واپس کردیں گے۔ اتنے سارے پیسے دیکھ کر گویا مُردہ دلوں میں جان آگئی ۔ شادی کی تیاریں شروع ہوگئیں۔ کچھ جہیز پہلے بنا ہوا تھا۔ان پیسوں سے انہوں نے مزید سامان خرید لیا، جو لڑکے والوں کا منہ بند کرنے کے لیے کافی تھا۔
    ٭۔۔۔٭۔۔۔٭
    آج تینو ں بہنوں کی شادی ہوگئی تھی اور انہیں اگلے گھر عزت سے بیاہ دیا گیا تھا۔ انہوں نے یہ فرض نبھا کر اطمینان کا سانس لیا۔ان کو اب وعدہ کے مطابق قرض کی ادائیگی کرنا تھی۔ گو گو صاحب نے ڈاکٹر کے ساتھ ڈیل کر لی تھی۔ اس بدبخت ماں نے بالآخر بیگانے ہاتھوں میں جاکر ہسپتال میں آپریشن سے اپنا گردہ اس گو گو صاحب کے حوالے کرکے چھے لاکھ کا قرض اتار دیا۔اس کے بعد انہوں نے اپنی بڑی بیٹی کو فون کرکے بتایا میری طبیعت خراب ہے۔ ڈاکٹرنے کچھ دن آرام کا مشورہ دیا ہے مجھے گھر لے جائو۔ گردے کے بدلے قرض کا راز تب کھلا جب دو سال بعد وہ اپنی بیٹیوں کو روتا چھوڑ کر دنیا سے گذر گئیں۔

    ٭٭٭٭




  • سمیٹ لو برکتیں — مریم مرتضیٰ

    ’’ کل پہلا روزہ ہے نا امی‘‘ رات کو کھانے کی میز پر اس نے خوشی سے چہکتے ہوئے کہا۔
    ’’ہاں‘‘ امی نے تائید کی۔
    ’’ اس میںاتنا خوش ہونے والی کیا بات ہے ؟‘‘ وسیم نے حیرانی سے اس کی جانب دیکھا۔
    ’’روزہ خوشی کا ہی تو نام ہے وسیم…کتنا پیارا پیارا سماں ہوتا ہے۔‘‘
    ’’خاک سماں ہوتا ہے دن بھر پیاسے پھرتے رہو یہ آپ کو مبارک ہو۔ میری اپنی مرضی کہ میں روزہ رکھوں یا نہ رکھوں …‘‘ وہ بے رخی سے بولا۔
    ’’ تم اس بار بھی روزے نہیں رکھو گے کیا؟‘‘ اس نے چونک کروسیم سے پوچھا۔
    ’’ ہاں …تو اور کیا اتنی گرمی میں کون بھوکا پیاسا رہے؟‘‘ وہ طنزیہ ہنس دیا۔
    ’’ روزے میں صبر اللہ پاک دیں گے تم ایک بار ہمت تو کر کے دیکھو۔‘‘ اس نے سمجھانے کی کوشش کی۔
    ’’چھوڑو سارہ …کیوں اُلجھ رہی ہو… تم کھانا کھاؤ بس…‘‘ امی نے کہا۔
    ’’امی آپ اسے سمجھا لیں۔‘‘ وسیم نے بے رخی سے کہا
    ’’امی سب آپ کی غلطی ہے ،آپ نے اسے ہمیشہ لاڈ دیا ،گرمی لگ جائے گی روزہ نہ رکھنا اب اس کی عادت بن گئی۔‘‘ وہ ناگواری سے بولی۔
    ’’ ہاں ہاں ہر جگہ میں ہی غلط ہوں ، سارا دن محنت مزدوری کرتا ہے اتنی گرمی میں کیسے رکھے روزے…خود تو تم کالج سے آکر سوئی رہتی ہو اور خبر نہیں ہوتی۔‘‘ امی نے اسے ڈانٹا تھا، وسیم فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھ رہا تھا اور سارہ اب نظریں جھکائے بیٹھی تھی۔
    ’’ امی دکان پر بیٹھنے سے کون سی لو لگ جاتی ہے اسے۔‘‘
    ’’ اچھا اب بس کر‘‘ امی نے غصے سے کہا۔
    ’’ یا اللہ تو ہی انہیں کچھ بتا ناں۔‘‘ اس نے چھت کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
    ’’تمہیں شرم ہے کچھ سارہ۔‘‘ امی نے غصیلے انداز میں آواز بلند کی۔
    ’’ کس بات کی شرم امی؟‘‘





    ’’ یوں اللہ سے بات کرنا شروع ہو جاتے ہیںکیا؟‘‘ امی نے غصے سے کہا۔
    ’’کیوں، کیا ہوا امی؟میں نے اللہ ہی سے کہا ہے وہ میرے پاس ہے ہر وقت ،میں جب چاہوں اس سے کہہ سکتی ہوں ۔‘‘ اس نے شائستگی سے مُسکرا کر کہا۔
    ’’ ایسے ہی نہیں شروع ہو جاتے۔اچھا نہیں ہوتا دوبارہ نہ کہنا۔تمہیں میں نے کئی بار سنا ہے یوں۔ یہ سب ٹھیک نہیں ۔‘‘
    ’’ اچھا! تو پھر کیسے بات کروں اللہ سے امی۔‘‘ اس نے حیرت سے پوچھا۔
    ’’ کچھ آداب ہوتے ہیں کچھ سلیقے ہیں دعا مانگنے کے۔‘‘ امی نے کہا۔
    ’’ امی! دعا مانگنے کے سلیقے ہوں گے، مگر بات کرنے کے نہیں۔اس سے بات کرنے کے لیے مصلے مسجد یا کسی درگاہ کا ہونا ضروری نہیں ، وہ تو ہر جگہ موجودہے۔‘‘ اس کی آنکھوں میں چمک تھی۔امی اس کی بات سن کر استغفار کرنے لگی تھیں۔
    ’’اللہ معاف کرے اس قدر بد تمیزی‘‘ وسیم نے امی کی بات پر اقرار کرتے ہوئے کہا۔
    ’’ تو تمیز وہ ہے جو تم دکھاتے ہو ، اپنی پیاس کی خاطر اس کا حکم جھٹلا دیتے ہو،نافرمانی کرتے ہو۔ امی کو مجھ میں ہی غلطیاں ملتی ہیںوہ جو اپنے لیے جہنم خرید رہا ہے وہ آپ کونظر نہیں آتا۔مجھے بٹھا دیں دکان پر میں تو کوئی روزہ نہ چھوڑوں۔‘‘ وہ ایک ہی سانس میں بول کرکمرے میں چلی گئی۔
    ’’ دیکھا امی کس قدر تیز بولنے لگی ہے۔‘‘
    ’’ اچھا چھوڑو تم کھانا کھاؤ ویسے روزہ رکھ کر دیکھ لو ہو سکتا ہے دن اچھا ہی گزر جائے۔‘‘ امی نے پیار سے کہا۔
    ’’ امی آپ بھی اس کی باتوں میں آگئی ہیں۔‘‘ وہ چڑ کر نوالہ منہ سے پھینکتے ہوئے بولا۔
    ’’روزے فرض ہیں بیٹے۔‘‘
    ’’ جانتا ہوں امی…مگر مجھ سے برداشت نہیں ہوتا۔‘‘ وہ اٹھ کر چلا گیا۔
    ٭…٭…٭
    رمضان شروع ہو چکا تھا،اس نے عشا کی نماز کے ساتھ تراویح پڑھ کر سکون حاصل کیا اور پھر قرآن کھول کر تلاوت میں مشغول ہوگئی۔رات کس قدر پُرسکون اور پُررونق تھی یہ دیکھنے والے ہی کو نظر آرہا تھا۔رحمت برس رہی تھی، مگر ہر کسی کو توفیق کہاں کہ وہ اس کی رحمتوں کو سمیٹ لے۔وہ رات بھر اللہ پاک کی عبادت کرتی رہی ۔ امی تراویح پڑھنے کے بعد سو چکی تھیں جب کہ وسیم رات بھر فلم دیکھنے میں وقت برباد کرتا رہا۔
    ٭…٭…٭
    وہ سحری بنا کر میز پر لگا چکی تھی ۔امی کوبلانے کے لیے وہ کمرے کی طرف بڑھی تو اس کی نظر وسیم پر پڑی جو اپنے کمرے میں اوندھا لیٹا خراٹے لے رہا تھا۔
    ’’ کہتے ہیں رمضان میں شیاطین جکڑ دیے جاتے ہیں، مگرجب انسان خود شیطان بن جائے تو اسے جکڑا نہیں جاتا اس سے یونہی توفیق چھین لی جاتی ہے۔‘‘ وہ کھڑی دل ہی دل میں سوچ رہی تھی
    امی کمرے سے باہر نکل آئیں تھیں۔ وہ متوجہ ہوئی۔
    ’’ امی آئیں سحری کرلیں ناں…‘‘ اس نے کہا۔
    ’’ آ رہی ہوں تم چلو۔‘‘
    ’’ امی وسیم کو جگا دوں۔‘‘ اس نے آہستگی سے کہا۔
    ’’ تم ایک ہی بات پر کیوں ڈٹ جاتی ہو، صبح صبح مجھ سے کچھ سن نہ لینا۔چلو…‘‘ امی نے سخت لہجے میں کہا اور کھانے کی میز کی جانب بڑھیں وہ بھی پیچھے پیچھے آگئی۔
    ’’ سال میں ایک مہینا روزے آتے ہیںاور وہ بھی نہیں رکھتا ،اللہ ہی اسے تو فیق دے۔‘‘ امی کے سامنے کھانا تناول کرتے ہوئے وہ بول رہی تھی
    ’’ ایک مہینا تو ہے، مگر شدید گرمی بھی تو دیکھو ناں۔‘‘
    ’’ امی ! جو اللہ کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں ناں انہیں گرمی نہیں لگتی اور جو اللہ کی چاہت ٹھکرا کراپنی چاہت کے پیچھے بھاگتے ہیں ناں …وہ تڑپتے ہی رہتے ہیں ۔‘‘ اس نے بڑے تفکر سے کہا۔
    ’’ اچھا بس کرو سحری کرنے دو۔ کیا وہ بھی نہیں کرنے دو گی۔‘‘امی کی بات پر وہ چپ چاپ اُداس بیٹھ گئی۔
    ’’ سحری کرو۔کیا نہیںکرنی۔‘‘ امی نے اس کو یوں بیٹھے دیکھ کر کہا۔
    ’’ کرنے کو جی تو نہیں چاہ رہا، مگر کروں گی ضرور کیوں کہ میرے نبیﷺ کی سنت ہے۔‘‘ اس نے نوالہ توڑا۔
    ’’ صبح کالج جانا ہے کیا؟‘‘ امی نے پوچھا۔
    ’’ جی۔‘‘
    ’’ آج پہلا روزہ ہے جانے کتنی گرمی پڑے۔‘‘
    ’’ اللہ صبر دے گا امی…گرمی کو چھوڑیں یہ سوچیں رحمت کا عشرہ ہے ،پہلے عشرے کی دعا ہے ’’اے اللہ مجھے بخش دے مجھ پر رحم فرما، تو سب سے بہتر رحم فرمانے والا ہے۔ ‘‘ اللہ پاک ہماری دعا قبول کرے۔
    ٭…٭…٭
    وہ کالج جانے کے لیے تیار تھی۔ امی وسیم کے میز پر ناشتا لگا چکی تھیں ۔ وہ لڑ کھڑاتا ہواکمرے سے نکلا، تو اسی وقت سارہ بھی کندھے پر بیگ لٹکائے نکل آئی۔
    ’’ جا رہی ہو کالج؟‘‘ وسیم نے جمائی لیتے ہوئے کہا۔
    ’’ ہاں۔‘‘ اس نے روکھے لہجے میں جواب دیا۔
    ’’ موڈ کیوں بنا ہوا ہے تمہارا؟ کیا صبح ہی صبح روزہ لگنا شروع ہو گیا۔‘‘ وسیم نے طنزیہ ہنستے ہوئے کہا۔
    ’’ روزہ لگتا نہیں ہوتا وسیم۔۔‘‘
    ’’ تو کیا چبھتا ہے؟‘‘ اُس نے پھر تمسخر اُڑایا۔
    ’’ روزے سے کچھ نہیں ہوتا یہ صرف تمہارے دماغ کا فتور ہے ۔‘‘
    ’’ اچھا اچھا جاؤ ۔ دما غ نہ کھاؤ۔‘‘ وسیم نے بالوں میں ہاتھ پھیر کر کہا۔
    ’’جا رہی ہوں۔‘‘ وہ پاؤں پٹختی چلی گئی۔
    ٭…٭…٭




  • تعلیم کے گہنے ہم نے پہنے — عائشہ تنویر

    تعلیم کے گہنے ہم نے پہنے — عائشہ تنویر

    تعلیم کی اہمیت پر ابا جی کے بہت لیکچر سنے، اماں کی صلواتیں بھی سنیں مگر اپنی ازلی ڈھٹائی کی بہ دولت ہم نے مانا اور نہ ہی پڑھا ۔اماں اٹھتے بیٹھتے یہی بولتیں۔
    ارے علم تو زیور ہوتا ہے، انسان کی شخصیت نکھار دیتا ہے۔
    ابتدا میں تو ہم نے بہت نظراندازکیا مگر پھر ان کی مسلسل تکرار سے تنگ آکر ایک دن انہیں تسلی سے سمجھانے کی کوشش کی کہ اکلوتی اولاد ہونے کی بہ دولت ان کے جہیز، بری کے تمام زیور کے واحد وارث ہم بہ ذاتِ خود ہیں۔ شکر ہے اللہ کا کہ ہم اتنے لالچی نہیں کہ مزید زیور کی حرص میں پڑیں۔ سادگی بہترین دولت ہے۔ ابھی ہمارا بیان جاری تھا کہ اماں کا دو ہتڑ ہماری کمر سلگا گیا۔ تڑپ کر ہم دو گز پیچھے ہٹے لیکن اپنی بات سے پیچھے ہر گز نہ ہٹے اور اپنے چاند چہرے کی سمت اشارہ کرتے ہوئے یہ مصرع پڑھا۔
    ؎ نہیں محتاج زیور کا جسے خوبی خدا نے دی
    اللہ جانے کہ یہ مصرع ہم نے کہاں سے سن لیا تھا لیکن اس نے تیر بہ ہدف کام دیا اور اماں اب کی بار ہمیں مارنے کے بجائے سر پکڑ کر بیٹھ گئیں۔ اس دن کے بعد اماں نے ہار مان لی اور ہمیں دوبارہ کبھی پڑھنے کو نہیں کہا۔
    علم سے محرومی کا احساس ہمیں پہلی بار تب معلوم ہوا جب ہماری کزنیں دھڑادھڑ کمپیوٹر اور موبائل استعمال کرنے لگیں۔ فیس بک، واٹس ایپ، نت نئے ڈیزائن کے کپڑے، فلمیں اور ڈرامے سب کچھ چار انچ کے ڈبے میں موجود تھا۔ خیر ایسے ویسے تو ہم بھی نہیں تھے، فوراً ایک زنگر کے بدلے فیس بک کا اکاؤنٹ بنوایا اور دانش وروں کی دنیا میں قدم رکھا۔ موبائل ویسے تو خیر ہم استعمال کر ہی لیتے تھے لیکن کبھی کہیں اٹک جاتے تو کسی سے مدد لینا بھی عذاب، آخر ہزار ذاتی چیزیں ہوتی ہیں اس میں ۔
    آپ یہ مت سمجھیں کہ ہم کردار کے کچے ہیں اور نیٹ کا غلط استعمال کرتے ہیں لیکن ہماری سہیلیوں سے کی گئی باتیں ہی ہماری پڑھی لکھی کزنیں پڑھ لیتیں جس میں انہیں کلموہی اور پھپھے کٹنی جیسے الفاظ سے مخاطب کیا جاتا، تو وہ آیندہ کیا خاک کام آتیں۔
    تعلیم سے محرومی کا دوسرا جھٹکا ہمیں تب لگا جب ہماری چاند بلکہ سپر چاند سی صورت چھوڑ کر ڈاکٹر کا رشتہ اپنی اس کزن کی طرف چلا گیا کیوں کہ لڑکے والوں کو پڑھی لکھی لڑکی چاہیے تھی۔ ڈاکٹر کو تو ہم یوں بھی گھاس نہ ڈالتے، ایک تو ان میں سے دوائیوں کی بد بو آتی رہتی اور پھر گھر میں ہی کلینک کھول کر چوبیس گھنٹے سر پر رہتے۔ تیسرا بڑا نقصان یہ کہ بیوی بیماری کا بہانہ کر کے آرام بھی نہیں کر سکتی۔
    یہ سب دلاسے اپنی جگہ لیکن اپنا نظر انداز ہوجانا بھی برداشت نہیں ہورہا تھا۔ اس پر کزن کے دل جلاتے جملے، اس نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ آج کل تو اسکول والے بھی پڑھے لکھے والدین کے بچے لیتے ہیں۔ سو اچھا رشتہ تو دور کی بات تمہیں اپنے بچوں کے لیے اچھا اسکول بھی نہیں ملنا۔ رشتے کی فکر ہمیں یوں نہیں تھی کہ بھاری جہیز خود مقناطیس کی طرح لڑکے والوں کو کھینچتا ہے لیکن اپنی غیر موجود اولاد کے مستقبل کی فکر نے ہماری نیندیں اُڑا دیں۔ مسئلہ یہ تھا کہ ہمیں ڈر تھا کہ ہماری اولاد بھی ہمارے جیسی ہی ہو گی۔ رج کے حسین، ذہین بھی اور ذرا پڑھائی سے بچنے والی بھی۔ اب سرکاری اسکول تو ایسے بچوں کو برداشت کرنے سے رہے۔ مہنگی مہنگی فیسیں ڈکارنے والے پرائیویٹ اسکول ہی ہم جیسوں کو برداشت کر سکتے ہیں۔ تو ہم نے سوچا کہ شکل سے تو ہم ویسے بھی بہت پڑھے لکھے ہی لگتے ہیں۔ "Inglish” میں بھی میرا کی طرح مہارت تھی۔ بس اسلم انکل کے مشورے کے مطابق ایک ڈگری ہونی چاہیے کہ ڈگری، ڈگری ہوتی ہے اصلی ہو یا نقلی۔ مسئلے کا حل ملنا تھا کہ جان میں جان آئی۔ محلے کے ایک لڑکے کو پیسے دیے کہ ہمیں بی-اے کی ڈگری لا دے۔ بی-اے اور پھر بیاہ سے یوں بھی لڑکیاں کم عمر اور معصوم ہی لگتی ہیں ساری عمر لیکن وہ کم عقل ایم-اے کی ڈگری بھی اٹھا لایا اور بولا کہ باجی ڈیل میں سستی مل رہی تھی۔ اب جب وہ لے ہی آیا تو ہم نے بھی احسان کر کے رکھ لی۔
    اگلا رشتہ آیا تو ہم نے تعلیم ایم اے بتائی۔ لڑکے کی بھابھی خوش ہو کر سیدھی ہوئی۔
    ’’ارے واہ! کہاں سے کیا ہے؟‘‘
    ’’جی گورنمنٹ انٹر میڈیٹ کالج سے۔‘‘ ہم نے فوراً جواب دیا تو اس نے آنکھیں پھاڑ کر ہمیں دیکھا۔ اماں اتنی زور سے کھانسیں کہ سب انہیں ہی دیکھنے لگے۔
    ’’مذاق کی بہت عادت ہے اسے۔‘‘ انہوں نے لب زبردستی شرقاً غرباً پھیلا کر دانت پیسے اور سب ہنس پڑے۔ اب اگلا سوال ہوا۔
    ’’کس مضمون میں کیا ہے ماسٹرز؟‘‘ ہم گڑبڑا گئے کہ ابھی تک ڈگری کھول کر بھی نہ دیکھی تھی۔ نہ ہی وہ کم بخت بتا کر گیا تھا کہ ہم نے کیا پڑھا ہے۔ حواس بحال رکھتے ہوئے ہم نے اپنی طرف سے بہت آسان جواب دیا۔
    ’’جی اردو میں۔‘‘ ہم نے اس مضمون کا انتخاب اس لیے کیا تا کہ مزید آگے کے سوالات کے جواب بآسانی دیے جائیں۔
    ’’تھیسز لکھا تھا ؟ کس موضوع پر؟‘‘ مزید دل چسپی سے اگلا سوال آیا اور ہمارا صبر کا پیمانہ ختم ہوگیا۔ ’’ہم نے پڑھانے نہیں آنا آپ کو۔‘‘ بل کھا کر ہم کھڑے ہوئے اور اس سے پہلے کے پاؤں پٹخ کر باہر جاتے لڑکے کی ماں نے خوشی سے بے حال ہوتے ہمیں گلے لگایا اور رشتہ پکا کردیا کیوں کہ بڑی بہو کی تعلیم ان کے گلے کا پھندہ بن چکی تھی۔ جب وہ حلیم کی فرمائش کرتیں تو وہ حلیم پکانے کے بجائے انہیں پکانے بیٹھ جاتیں۔
    ’’اماں اصل لفظ حلیم نہیں دلیم ہے۔‘‘
    ہنڈیا کبھی اچھے سے نہ بھونتی کہ غذائیت ضائع ہو جائے گی۔ اب کی بار انہیں ہماری جیسی چاند چہرہ، معصوم خانہ دار بہو ہی چاہیے تھی جس نے یونیورسٹی سے گولڈ میڈل حاصل کرتے اپنی چاند جیسی رنگت نہ گنوائی ہو اور جو ڈرامے کے ٹائم پر نیوز چینل لگا کر نہ بیٹھ جاتی ہو۔
    اور اب اگلے ماہ ہماری شادی ہے۔ اب ہم انتہائی فخر سے اپنی ایم اے کی ڈگری کے ساتھ خود کو میٹرک فیل بتاتے ہیں اور مزے کی بات یہ کہ اماں بھی غصہ نہیں کرتیں۔

    ٭…٭…٭




  • امّی — شاکر مکرم

    ’’آپ سے کوئی ملنے آیا ہے‘‘ آنے والے نے اندر داخل ہوتے ہوئے کہا۔
    ’’کہاں؟ ویٹنگ روم میں ہے ؟‘‘ اس نے سر اُٹھا کر پوچھا۔
    ’’ہاں!‘‘
    ’’اچھا میں آتی ہوں۔‘‘ تو آج اسے میری یاد آ ہی گئی۔ مصلیٰ لپیٹتے ہوئے وہ کھڑی ہوئی، چہرے پہ ہلکی ہلکی مسکراہٹ ابھری اور آنکھوں میں امید و محبت کے دیے جلنے لگے۔
    وہ سوچ رہی تھی، کہ کتنے عرصے بعد وہ آیا تھا لیکن پھر دل نے کہا اب ایسی باتوں کا کیا فائدہ؟ دیر سے آیا ہے لیکن آیا تو سہی، اب کیا گلے شکوے کرنے اور کیا دل برا کرنا، لیکن چوکھٹ پار کرتے ہی اس کی ساری مسکراہٹ غائب ہوگئی آس، امید جواب تک اسے جوڑے ہوئے تھی، ٹوٹ گئی۔
    ’’السلام علیکم‘‘ اس کے کانوں میں آواز آئی لیکن یہ آواز وہ نہیں تھی، جس کی وہ منتظر تھی، اور نہ ہی یہ چہرہ وہ شناسا چہرہ تھا جسے دیکھنے وہ ویٹنگ روم کی طرف چلی تھی۔ آنکھوں میں جلتے محبتوں کے دیے بجھ گئے۔
    ’’اپ کیسی ہیں‘‘
    ’’میں ٹھیک ہوں۔‘‘ اس نے بے تاثر لہجے میں جواب دیا، پھر پوچھا:
    ’’آپ کون؟‘‘ وہ اب سنبھل گئی تھی۔
    ’’میرا نام ارقم عباس ہے، ماؤں کے عالمی دن کے لئے آپ کا انٹرویو کرنا تھا انتظامیہ نے آپ کو بتایا ہو گا۔‘‘ اس نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے بتایا۔
    ’’جی ہاں! نعیم صاحب نے بتایا تھاانہوں نے کچھ بے پروائی سے کہا۔
    ’’جی میں اسی سلسلے میں آیا تھا دراصل اس دفعہ ہمارا ماہنامہ ماؤں کے عالمی دن پہ ماں کے عنوان سے خاص نمبر۔‘‘
    ’’نام بہت پیارا ہے تمہارا۔‘‘
    انہوں نے اس کی بات درمیان میں ہی کاٹ لی۔
    ’’جی!‘‘ پہلے تو وہ حیران ہوا پھر بے ساختہ بولا:
    ’’میں خود بھی پیارا ہوں۔‘‘
    ’’اور باتیں بھی اچھی کر لیتے ہو‘‘ وہ ہنستے ہوئے بولیں۔
    ’’شکریہ‘‘ اس نے اتنا ہی کہنے پر اکتفا کیا۔
    ’’کیا پوچھنا ہے؟‘‘ وہ بولی۔
    ’’آپ یہاں کب سے؟‘‘





    ’’دوسال، آٹھ ماہ اور بائیس دنوں سے‘‘ انہوں نے بے تاثر لہجے میں کہا
    ’’آنے کادن کون سا تھا ؟‘‘ اس نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا۔
    ’’منگل۔‘‘
    ’’ٹائم؟‘‘
    ’’نوبج کر انتالیس منٹ‘‘
    ’’چھوڑنے کون کون آیا تھا؟‘‘
    ’’بیٹا، بہو اور پوتا‘‘
    ’’دن کیسے گزرتا ہے یہاں؟‘‘
    ’’کچھ یادوں میں، کچھ مصلے پہ ،کچھ واک میں۔‘‘
    وہ اتنے مختصر جوابات سے گھبرا گیا تھا۔ اگر یہ مائی اتنے ہی مختصر جواب دیتی رہی تو انٹرویو تو دو منٹ میں ہی ختم ہو جائے گا، وہ دل ہی دل میں سوچنے لگا۔
    ’’گھر والوں کی یاد آتی ہے؟‘‘
    اس سوال پر پہلے تو اس نے لڑکے کو گھور کے دیکھا پھرہنستے ہوئے کہنے لگی:
    ’’ہاں! چوں کہ بہت سا وقت ساتھ گزرا ہے اس لئے کبھی کبھی یاد آجاتی ہے۔‘‘
    ’’کیا چیز آپ زیادہ مس کرتی ہیں ؟‘‘
    ’’آلو پراٹھے‘‘ اس نے یک دم کہا۔
    ’’کیا؟‘‘ وہ حیرت سے بول پڑا۔
    ’’ہاں! بہو رانی بہت اچھے پراٹھے بناتی تھی، کبھی کبھار کھانے کو بہت دل چاہتا ہے لیکن اب یہاں ہر چیز تو نہیں مل سکتی نا۔‘‘ اس کے لہجے سے افسردگی صاف ظاہر تھی۔
    ’’عجیب عورت ہے پتا نہیں نعیم صاحب نے کس کے پاس بھیج دیا ہے لگتا ہے کسی اور کا انٹرویو بھی کرنا پڑے گا‘‘ اس نے سوچا۔
    ’’آنے سے پہلے بیٹے نے کیسے بتایا کہ وہ اپ کو یہاں شفٹ کرے گا؟‘‘ اس نے چاروناچار اس سے پوچھا۔
    ’’یہاں چھوڑنے کا تو میں نے کہا تھا اسے، ورنہ وہ کہاں لانے والا تھا۔‘‘ انہوں نے صاف جھوٹ بولا۔
    اس کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ بکھری‘‘ ’’روایتی ماں‘‘، زیرِ لب بولا پھر ان کے قریب ہو کے سرگوشی کی:
    ’’یہ مائیں جھوٹ کیوں بولتی ہیں؟‘‘
    انہوں نے بھی اسی انداز میں ابرو اٹھائے مسکراتے ہوئے سرگوشی کی:
    ’’تم انٹرویو کرنے آئے ہو یا مجھے رلانے ؟ سوری بیٹا میں ایموشنلی بلیک میل نہیں ہوا کرتی۔‘‘ انہوں نے ہلکے سے مسکراتے ہوئے مضبوط لہجے میں کہا۔
    ایک خفیف سی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پہ بکھری۔ اب اسے سامنے بیٹھی ہوئی عورت کی شخصیت میں دل چسپی پیدا ہونے لگی۔
    سوال پر سوال ہوتے رہے۔ کسی old people’s home میں ملنے والی یہ پہلی ایسی خاتون تھیں جس کا ہر جواب ارقم عباس کے تجسس میں اضافہ کرتا جا رہا تھا۔
    ’’آپ کا بیٹا اکلوتا تھا تو کوئی ایسا واقعہ یا لمحہ جو آپ کو یاد رہ گیا ہو، بھلائے نہ بھولتا ہو؟‘‘
    ’’کوئی ایسا لمحہ نہیں‘‘ لہجہ پھر سے بے تاثر ہوچکا تھا۔
    ’’جی۔‘‘ حیرت اس کے لہجے سے جھلک رہی تھی۔
    او ہو! بات تو پوری سن لیا کرو۔ ’’انہوں نے اسے ٹوکا تو اس نے شرم سے سر جھکاتے ہوئے کہا: ’’جی بولئے۔‘‘
    ’’کوئی ایسا لمحہ نہیں جو میں بھولی ہوں، سب کچھ یاد ہے مجھے حرف حرف، لفظ لفظ اور یہاں آنے کے بعد تو میرے پاس بہت وقت تھا ماضی کریدنے کے لئے تو میں نے پچھلے سال انہی یادوں کی نذر کئے ہیں، ایک ایک بات یاد کرکے میں نے اسے سینے سے لگایا ہے کیوں کہ جب اپنے پاس نہ ہو تو کم از کم ان کی یادیں تو پاس ہونی چاہئیں۔‘‘ ان کے لہجے میں اب درد اتر آیا تھا۔




  • اِک فیصلہ — حنادیہ احمد

    اِک فیصلہ — حنادیہ احمد

    ’میں ناہید سے اکیلے میں بات کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
    ارسلان کی بات سن کر سارے گھر والوں کو سانپ سونگھ گیا۔
    ’’کیا تمہیں لگتا ہے کہ تمہارے سمجھانے سے اس کا فیصلہ تبدیل ہوجائے گا؟؟‘‘ ارسلان کی ماں نے بیٹے پر چوٹ کرتے ہوئے کہا۔
    ’’مجھے نہیں معلوم پر ایک دفعہ کوشش کرنے میں تو کوئی حرج نہیں ہے نا؟‘‘ ارسلان نے ماں کو دیکھتے ہوئے کہا۔
    ’’ٹھیک ہے بیٹا! تم اس سے بات کرکے دیکھ لو مجھے کوئی اعتراض نہیں بلکہ میرے لئے اس سے بڑھ کر کیا خوشی ہوگی اگر وہ تمہاری بات مان لے۔‘‘ ناہید کی ماں نے اپنے بھانجے کو دیکھ کر کہا۔ وہ خود دِل سے چاہتی تھیں کہ ان کی بیٹی کا گھر دوبارہ سے بس جائے۔ وہ خود ناہید کو سمجھا سمجھا کر تھک گئی تھیں لیکن ناہید تھی کہ دوبارہ شادی کے لیے مان ہی نہیں رہی تھی۔
    ٭…٭…٭
    آج اس کے بیٹے کا آفس میں پہلا دن تھا۔ وہ بہت خوش تھی۔ اسے لگا اس کا فیصلہ صحیح ثابت ہوگیا ہے۔ آج وہ دنیا اور اپنے مرحوم شوہر کے آگے سرخرو ہوگئی ہے۔ کاشف نے کراچی کی ایک مشہور یونیورسٹی سے M.B.A کیا تھا اور اِک ملٹی نیشنل کمپنی میں اچھے عہدے پر فائز تھا۔ ہر ماں کی طرح انہیں بھی چاند سی بہو لانے کی خواہش تھی، وہ اپنے بھانجی کو اپنی بہو بنانا چاہتی تھیں۔ پر کاشف نے مائرہ کو پسند کیا تھا جو اُس کی کلاس میٹ تھی۔ ان کا دل دکھی ہوا مگر مائرہ اور اس کے گھر والوں سے ملنے کے بعد وہ مطمئن سی ہوگئیں۔ اسی لئے وہ جلدی شادی کرنا چاہ رہی تھیں اور بالاآخر وہ دن آگیا جب اپنے بیٹے کاشف کے سر پر سہرا دیکھ کر ان کی خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی۔ سب لوگ اسے ستائشی نظروں سے دیکھ رہے تھے کہ کس طرح ناہید اپنے بچوں کو کتنے اچھے طریقے سے پال کر بڑا کیا کہ آج ایک کی شادی ہورہی تھی جب کہ دوسرا بیٹا حارث M.B.B.S مکمل کرکے امریکا میں سپیشلائیزیشن کررہا تھا۔
    ٭…٭…٭




    ’’ناہید تم اس رشتے سے انکاری کیوں ہو؟؟‘‘ ارسلان آج ناہید سے بات کرکے خود اُس کو راضی کرنا چاہتا تھا۔
    ’’آپ آخر مجھ سے شادی کیوں کرنا چاہتے ہیں ارسلان؟ میں بیوہ ہوں، دو بچوں کا ساتھ ہے آپ چاہیں تو ایک سے بڑھ کر ایک لڑکی مل سکتی ہے آپ کو، پھر میرا انتخاب کیوں؟ ‘‘ ناہید نے اپنے خالہ زاد ارسلان کو سمجھاتے ہوئے کہا۔
    ’’جب ایک سے بڑھ کر ایک لڑکی مجھ سے شادی پر راضی ہوسکتی ہے تو تم کیوں نہیں؟‘‘
    ارسلان نے ناہید کو دیکھتے ہوئے رسانیت سے کہا۔
    ’’اس لئے کہ میں نہیں چاہتی کہ میرے بچوں کے ذہن پہ میرے نئے رشتے کی وجہ سے کوئی غلط فہمی جنم لے۔‘‘ ناہید نے اپنے بچوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا۔ وہ ماں تھی، اُسے اپنی ذات، اپنی خوشیوں سے زیادہ اپنے بچوں کی فکر تھی۔ وہ انہیں کسی قسم کی وسوسوں میں نہیں ڈالنا چاہتی تھی کہ اس کے بچوں کے ذہنوں میں یہ بات آئے کہ اب ان کی ماں پہ کسی اور کا حق ہوجائے گا۔ دونوں بچے اب بڑے ہورہے تھے۔ کاشف آٹھ سال کا اور حارث چھے سال کا ہونے کو تھا۔ دونوں اب اس بات کو تسلیم کرچکے تھے کہ ان کا باپ اب اس دنیا میں نہیں رہا اور اب ان کی ماں ہی ان کے لیے سب کچھ ہے، وہی ان کی ماں ہے اور وہی ان کا باپ۔
    ایسے میں ناہید اپنے بچوں کے ذہنوں میں یہ تصور نہیں ڈالنا چاہتی تھی کہ اب ان کی ماں بھی ان کی اپنی نہیں رہی۔ ناہید خود کو اب صرف ایک عورت کے طور پر نہیں بلکہ ایک ماں کی طرح سوچ رہی تھی۔
    ’’کیا تمہیں مجھ پہ یقین نہیں ہے ناہید؟؟ تمہیں نہیں لگتا کہ زندگی ہمیں ایک اور موقع دے رہی ہے۔ برسوں پہلے ہمارا ساتھ جو نہ ہوسکا شاید قدرت کو وہ اب منظور ہو۔‘‘ ارسلان نے ناہید کو سارے وہ جھٹکنے کا کہا۔
    ’’آپ پہ اعتبار ہے، لیکن اعتبار ٹوٹتے دیر نہیں لگتی ارسلان، خاص طور پر تب جب ایک مرد کی ایک دوسرے مرد کی اولاد پالنے کو ملے، میں نہیں چاہتی کل کو جب آپ کی اپنی اولاد ہو اور اس سے آپ کی محبت دیکھ کر میرے بچے کسی احساس کم تری یا ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجائیں، میں ہی ان کا واحد سہارا ہوں اور کل کو وہ جب بڑے ہوں گے تو میرا سہارا بنیں گے۔‘‘ ناہید نے دو ٹوک انداز میں ارسلان کو ناامید کردیا۔
    ’’بچے سہارے بن سکتے ہیں ناہید لیکن ساتھی نہیں، آج سے دس سال پہلے جب اماں نے بتایا تھا کہ انہوں نے خالہ سے تمہیں میرے لیے مانگ لیا ہے، اس دن سے سمجھو تم میرے لیے خاص ہوگئی تھیں، کب احساسات بدلے پتا ہی نہیں چلا، کب تم خالہ زاد سے زیادہ ہوگئیں احساس ہی نہ ہوا، لیکن پھر ابا کے اچانک ہارٹ اٹیک کی وجہ سے ان کو دکان چھوڑ کے گھر بیٹھنا پڑا، ایسے میں صبح یونیورسٹی شام میں دکان پہ بیٹھنا بہت مشکل تھا وہ وقت ہمارے لئے، زندگی میں جیسے جمود سا طاری ہوگیا تھا رزلٹ کے بعد بھی نوکری نہ ملنے پہ نہ صرف پریشانی نے ہمارے گھر پہ قبضہ کرلیا تھا بلکہ خالہ خالو بھی مجھ سے تمہارا رشتہ جوڑنے پہ پچھتا رہے تھے، ایسے حالات میں طارق کا دبئی جاکے قسمت آزمانے کا مشورہ مجھے سب سے بہترین لگا اور دکان کرائے پہ چڑھا کے میں دبئی چلا گیا، سوچا تھا دو تین سالوں میں واپس آجاؤں گا لیکن کاش! زندگی ویسی آسان ہوتی جیسی ہم سوچتے ہیں لیکن کہاں کسی کو سب ملتا ہے؟ کوئی نہ کوئی کمی رہ جاتی ہے۔
    تین بہنوں کی شادی کرانی تھی، گھر کے اخراجات، ابا کی دوائیاں، اوپر سے اماں کا حکم تھا کہ جب تک اتنا جمع نہ ہوجائے کہ بہنوں کی شادی ہوسکے تب تک واپس نہ آنا اور سب کے لیے سب کرتے کرتے کب خالہ خالو نے میرا انتظار کرنا چھوڑا اور کب تمہیں اختر کے ساتھ رخصت کیا پتا ہی نہ چلا، نہ ہمارے گھر کا ماحول ایسا تھا کہ میں تم سے کوئی رابطہ کرپاتا، لیکن اس سارے معاملے میں خالہ خالو کا کوئی قصور نہ تھا، آخر ان کو بھی تمہارے بعد دو بیٹیاں اور رخصت کرنی تھیں، یہ ہماری قسمتوں کا فیصلہ تھا جس کو قبول کرنے کے سوا کوئی چارا نہ تھا۔ میں جو شروع کے ہر سال واپس پاکستان آنے کا سوچتا تھا تمہاری شادی کا سن کے پھر واپس آنے کا دل ہی نہیں کیا اور وہیں کا ہوکر رہ گیا، اس تمام عرصے میں اماں نے بہنوں کی شادیاں کرا دیں، گھر کی مرمت ہوگئی، ابا کا بائے پاس ہوگیا سب کچھ ہوگیا لیکن اک چیز کھو گئی تھی اور وہ تھی مری زندگی… میں دبئی میں زندگی جی نہیں رہا تھا گزار رہا تھا، وہ ارسلان جو دبئی گیا تھا اک نوجوان تھا اور اب جو تمہارے سامنے ارسلان کھڑا ہے وہ کب ان چھے سالوں میں نوجوان سے تیس برس کا مرد بن گیا پتا ہی نہیں چلا۔ ارسلان ماضی میں گم سا ہوگیا تھا۔ ان چھے سالوں کی مشقت اور تھکن اس کے چہرے پہ آگئی تھی۔




  • آبِ حیات — قسط نمبر ۱۵ (تبارک الذی) آخری قسط

    ’’میرے بچپن میں، میری زندگی میں جتنا بڑا رول آپ لوگوں کی فیملی کا تھا، پچھلے پانچ سالوں میں اتنا ہی بڑا رول اس شخص کا ہے۔‘‘
    عبداللہ نے عنایہ کو بتایا تھا۔ چند ہفتوں بعد ہونے والی اپنی منگنی سے پہلے یہ ان کی دوسری ملاقات تھی۔ عنایہ ایک سیمینار میں شرکت کے لئے کیلی فورنیا آئی تھی اور عبداللہ نے اسے ڈنر پر بلایا تھا۔ وہ اسے ڈاکٹر احسن سعد سے ملوانا چاہتا تھا جو اسی کے اسپتال میں کام کرتے تھے اور وہ ہمیشہ سے ان سے متاثر تھا۔ عنایہ نے کئی بار اس سے پچھلے سالوں میں اس شخص کے حوالے سے سنا تھا جس سے وہ اب تھوڑی دیر میں ملنے والی تھی۔
    ’’مسلمان ہونا آسان تھا میرے لئے… جبریل کے بعد یہ دوسرا شخص ہے جسے میں رول ماڈل سمجھتا ہوں کہ وہ دین اور دنیا دونوں کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں۔‘‘
    عبداللہ بڑے جوش انداز میں عنایہ کو بتارہا تھا اور وہ مسکراتے ہوئے سن رہی تھی۔ عبداللہ جذباتی نہیں تھا، بے حد سوچ سمجھ کر بولنے والوں میں سے تھا اور کسی کی بے جا تعریف کرنے والوں میں سے بھی نہیں تھا۔
    ’’کچھ زیادہ ہی متاثر ہوگئے ہو تم ان سے۔‘‘ عنایہ کہے بغیر نہیں رہ سکی تھی۔ وہ ہنس پڑا۔
    ’’تم جیلس تو نہیں ہورہی؟‘‘ اس نے عنایہ کو چھیڑا
    ’’ہوئی تو نہیں لیکن ہوجاؤں گی۔‘‘ اس نے جواباً مسکراتے ہوئے کہا۔
    ’’مجھے یقین ہے تم ان سے ملوگی تو تم بھی میری ہی طرح متاثر ہوجاؤگی ان سے…‘‘ عبداللہ نے کہا۔ ’’میں اپنے نکاح میں ایک گواہ انہیں بناؤں گا۔‘‘
    عنایہ اس بار قہقہہ مار کر ہنسی تھی۔ ’’عبداللہ، تم اس قدر انسپائرڈ ہو ان سے؟ مجھے تھوڑا بہت اندازہ تو تھا لیکن اس حد تک نہیں… مجھے اب اور اشتیاق ہورہا ہے ان سے ملنے کا۔‘‘ عنایہ نے اس سے کہا۔ ’’یقینا اچھے شوہر بھی ہوں گے اگر تم نکاح میں بھی انہیں گواہ بنانا چاہتی ہوتو۔‘‘ عبداللہ کو مزید تجسس ہوا تھا۔
    ’’بس اس ایک معاملے میں خوش قسمت نہیں رہے وہ۔‘‘ عبداللہ یک دم سنجیدہ ہوگیا۔ ’’اچھی بیوی ایک نعمت ہوتی ہے اور بری ایک آزمائش… اور انہیں دوبار اس آزمائش سے گزرنا پڑا۔ ان کی نرمی اور اچھائی کا ناجائز فائدہ اٹھایا ان کی بیویوں نے۔‘‘ عبداللہ کہہ رہاتھا۔
    Ohhh! that’s sad. عنایہ نے کریدے بغیر افسوس کااظہار کیا۔
    ’’تمہیں پتا ہے تم سے شادی کے لئے بھی میں نے ان سے بہت دعا کروائی تھی اور دیکھ لو، ان کی دعا میں کتنا اثر ہے ورنہ تمہارے پیرنٹس آسانی سے ماننے والے تو نہیں تھے۔‘‘ عبداللہ اب بڑے فخر یہ انداز میں کہہ رہا تھا۔
    ’’میرے پیرنٹس کسی کی دعاؤں کے بجائے تمہارے کردار اور اخلاص سے متاثر ہوئے ہیں عبداللہ۔‘‘ عنایہ نے اسے جتایا۔
    اسے اپنی بے یقینی کا وہ عالم ابھی بھی یاد تھا جب چند مہینے پہلے عبداللہ سے پاکستان میں ملنے کے بعد امامہ نے اسے فون کیا تھا اور اسے بتایا تھاکہ انہوں نے اس کا رشتہ امریکہ میں مقیم ایک ہارٹ سرجن کے ساتھ طے کردیا ہے، وہ کچھ دیر کے لئے بھونچکارہ گئی تھی۔ اس سے پہلے جو بھی پروپوزلز اس کے لئے زیر غور آتے تھے، عنایہ سے مشورہ کیا جاتا تھا اور پھر اسے ملوایا جاتا تھا۔ یہ پہلا پروپوزل تھا جس کے بارے میں اسے اس وقت اطلاع دی جارہی تھی جب رشتہ طے کردیا گیا تھا۔ عجیب صدمے کی حالت میں اس نے امامہ سے کہا تھا۔
    ’’مگر ممی! آپ کو مجھے پہلے ملوانا چاہیے تھا اس سے… اس کے بارے میں مجھ سے کچھ پوچھا تک نہیں آپ نے۔‘‘
    ’’تمہارے بابا نے بات طے کی ہے۔‘‘ امامہ نے جواباً کہا۔عنایہ خاموش ہوگئی۔ عجیب دھچکا لگا تھا اسے۔
    ’’تم نہیں کرنا چاہتیں؟‘‘ امامہ نے اس سے پوچھا۔
    ’’نہیں، میں نے ایسا تو نہیں کہا، پہلے بھی آپ لوگوں ہی کو کرنا تھا تو ٹھیک ہے۔‘‘
    عنایہ نے کچھ بجھے دل کے ساتھ کہا تھا۔ اسے عبداللہ یاد آیا تھا اور بالکل اسی لمحے امامہ نے اس سے کہا۔
    ’’عبداللہ نام ہے اس کا۔‘‘ نام سن کر بھی لحظہ بھر کے لئے بھی اسے خیال نہیں آیا تھا کہ وہ ایرک عبداللہ کی بات کررہی تھی۔ امامہ اس قدر کٹر مخالف تھی ایرک عبداللہ سے شادی کی کہ عنایہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ وہ جس عبداللہ کا اتنے دوستانہ انداز میں ذکر کررہی تھی، وہ وہی تھا۔
    ’’اوکے ۔‘‘ عنایہ نے بمشکل کہا۔




    ’’تم سے ملنا بھی چاہتا ہے۔ وہ نیویارک آیا ہوا ہے، میں نے اسے تمہارا ایڈریس دیا تھا۔‘‘ امامہ کہہ رہی تھی۔
    عنایہ نے بے ساختہ کہا۔ ’’ممی پلیز، اب اس طرح میرے سرپرمت تھوپیں اسے کہ آج مجھے رشتہ طے ہونے کی خبر دے رہی ہیں اور آج ہی مجھے اس سے ملنے کا بھی کہہ رہی ہیں۔ ویسے بھی اب رشتہ طے ہوگیا ہے، ملنے نہ ملنے سے کیا فائدہ ہوگا۔‘‘ ا س نے جیسے اپنے اندر کا غصہ نکالا تھا۔
    ’’اس کی فیملی بھی شاید ساتھ ہو… اس کی ممی سے بات ہوئی ہے میری… اگلے ٹرپ پر میں بھی ملوں گی اس کی فیملی سے… منگنی کافارمل فنکشن تو چند مہینوں بعد ہوگا۔‘‘ امامہ نے اس طرح بات جاری رکھی تھی جیسے اس نے عنایہ کی خفگی کومحسوس ہی نہیں کیا تھا۔
    عنایہ صدمہ کی کیفیت میں اگلے ایک گھنٹے تک وہیں بیٹھی رہی تھی اور ایک گھنٹے کے بعد اس کے دروازے پر بیل بجنے پر اس نے جس شخص کو دیکھا تھا، اسے لگا تھا سردیوں کے موسم میں ہر طرف بہار آگئی ہے۔ گلاب کا ایک اور اد ھ پھول ٹہنی سمیت اسے پکڑاتے ہوئے دروازے پر ہی اس نے عنایہ سے پھاوڑا مانگا تھا تاکہ اس کے دروازے کے باہر پڑی برف ہٹاسکے۔ وہ کئی سالوں بعد مل رہے تھے اور عنایہ کو وہی ایرک یاد تھا جو اکثر ان کے گھر میں لگے پھول توڑ توڑ کر اس کو اور امامہ کو لاکردیا تھا اور جس کا پسندیدہ مشغلہ سردیوں میں اپنے اور ان کے گھر کے باہر سے برف ہٹانا تھا۔
    ’’وہ یہاں ہے۔‘‘ عبداللہ کی آواز سے خیالوں سے باہر لے آئی تھی۔ وہ ریسٹورنٹ کے دروازے پر نمودار ہونے والے کسی شخص کو دیکھتے ہوئے کھڑا ہوا تھا۔ عنایہ نے گردن موڑ کر دیکھا۔ وہ احسن سعد سے اس کی پہلی ملاقات تھی۔ اسے اندازہ نہیں تھا اس سے ہونے والا یہ سامنا اس کی زندگی میں کتنا بڑ ابھونچال لانے والا تھا۔
    ٭…٭…٭
    سکندر عثمان ان سب کی زندگی سے بے حد خاموشی سے چلے گئے تھے۔ وہ حمین کی وہاں آمد کے دوسرے دن نیند سے نہیں جاگے تھے۔ اس وقت اس گھرمیں صرف امامہ اور حمین ہی تھے، طیبہ امریکہ میں تھیں۔
    اس رات حمین، سکندر عثمان کے پاس بہت دیر تک بیٹھا رہا تھا، ہمیشہ کی طرح۔ وہ جب بھی یہاں آتا تھا ، امامہ اور ان کے لئے ہی آتا تھا۔ سکندر عثمان سے وہ سالار کے دوسرے بچوں کی نسبت زیادہ انسیت رکھتا تھا اور ایسا ہی انس سکندر عثمان بھی اسے رکھتے تھے۔ الزائمر کی اس انتہائی اسٹیج پر بھی حمین کے سامنے آنے پر ان کی آنکھیں چمکتی تھیں یا کم از کم دوسروں کو لگتی تھیں۔ کچھ بھی بول نہ سکنے کے باوجود اسے دیکھتے رہتے تھے اور وہ دادا کا ہاتھ پکڑے ان کے پا س بیٹھا رہتا تھا۔ ان سے خود ہی بات چیت کی کوشش کرتا رہتا۔ خود سوال کرتا، خود جواب دیتا، جیسے بچپن میں کرتا تھااور ویسی ہی باتیں جو بچپن میں ہوئی تھیں اور تب سکندر عثمان ان کے جواب دیا کرتے تھے۔
    ’’دادا! بتائیں شترمرغ کی کتنی ٹانگیںہوتی ہیں؟‘‘ وہ ان کے ساتھ واک کرتے کرتے یک دم ان سے پوچھتا۔ سکندر عثمان الجھتے، شتر مرغ کی تصویر ذہن میں لانے کی کوشش کرتے ، پھر ہار مانتے۔
    ’’مرغ کی دو ہوں گی تو شتر مرغ کی بھی دو ہوں گی دادا… یہ تو سوچے بغیر بتادینے والا جواب تھا۔‘‘ سکندر عثمان اس کی بات پر سرہلانے لگتے۔
    سکندر عثمان کی یادداشت کے دیئے، حمین سکندر نے اپنے سامنے ایک ایک کرکے بجھتے دیکھے تھے اور ایک بچے کے طور پر الزائمر کو نہ سمجھنے کے باوجود اس نے اپنے دادا کے ساتھ مل کر ان دیوں کی روشنی کوبچانے کی بے پناہ کوشش کی تھی۔
    وہ کسی بھی چیز کا نام بھول جانے پر انہیں تسلی دے دیا کرتا تھاکہ یہ نارمل بات تھی… اور بھولنا تو اچھا ہوتا ہے، اسی لئے وہ بھی بہت ساری چیزیں بھولتا ہے۔ وہ بچے کی لاجک تھی اور بڑے کے سامنے لنگڑی تھی مگر سکندر عثمان کو اس عمر میں اس بیماری سے لڑتے ہوئے ویسی ہی لاجک چاہیے تھی جو انہیں یہ یقین دلا دیتی کہ وہ ٹھیک تھے، سب کچھ ’’نارمل‘‘ تھا۔
    حمین ان کی بیماری کے بڑھتے جانے پر آہستہ آہستہ کرکے ان کے کمرے کی ہر چیز پر اس چیز کا نام کاغذ کی چٹوں پر لکھ کر چسپاں کردیا کرتا تھا تاکہ دادا کچھ نہ بھولیں، وہ جس چیز کو دیکھیں، اس کا نام یاد کرنے کے لئے انہیں تردد نہ کرنا پڑے۔ وہ چٹیں سینکڑوں کی تعداد میں تھیں اور اس کمرے میں آنے والے شخص کو ایک بار، سکندر عثمان کے ساتھ اس بیماری سے لڑنے والے اس دوسرے شخص کے بارے میں سوچنے پر مجبور کردیتیں اور حمین نے اس بیماری کے سامنے پہلی بار اس دن مانی تھی جس دن سکندر عثمان اس کا نام بھول گئے تھے ۔ وہ بے یقینی سے ان کا چہرہ دیکھتا رہا تھا۔ وہ آخر اس کا نام کیسے بھول گئے تھے؟ اس وجود کا جو چوبیس میں سے بارہ گھنٹے ان کے اردگرد منڈلاتا رہتا تھا۔ اس کے سامنے کھڑے سکندر عثمان اس کا نام یاد کرتے، اٹکتے، الجھتے، ہکلاتے، گڑگڑاتے رہے اور حمین ان کی جدوجہد اور بے بسی دیکھتا رہا۔
    پھر وہ بڑی خاموشی سے سینٹر ٹیبل کے پاس گھنٹے ٹیک کر بیٹھا۔ وہاں پڑی ایک اسٹک آن چٹ اس نے اٹھائی، اس پر اپنا نام لکھا اور پھر اپنے ماتھے پر اسے چسپاں کرتے ہوئے وہ سکندر عثمان کے سامنے آکر کھڑا ہوگیا۔ اس وقت وہ پھوٹ پھوٹ کر رونا چاہتا تھااور شاید زندگی میں پہلی بار، لیکن وہ نہیں رویا تھا، اس نے جیسے سکندر عثمان کے سامنے اس بات کو مذاق میں اڑانے کی کوشش کی تھی لیکن وہ بات الزائمر سے جنگ کرتے اس شخص کے لئے مذاق نہیں تھی۔ وہ اس کے نام کے اسپیلنگ کرتے ہوئے ہنس پڑے تھے اور پھر ہنستے ہنستے وہ وہیں کھڑے کھڑے اپنی مٹھیاں بھنچتے، رونے لگے تھے اور ان سے قد اور عمر میں چھوٹے حمین نے اپنی عمر سے بڑے اس بوڑھے شخص کو تھپکتے ہوئے تسلی دی تھی جو اپنی ’’نااہلی‘‘ اور ’’مجبوری‘‘ پر نادم تھا اور جو اپنے چہیتے ترین رشتے کا نام یاد رکھنے سے بھی قاصر تھا۔ ان کی بیماری نے حمین سکندر کو وقت سے پہلے میچور کردیا تھا۔ جبریل نے سالار سکندر کی بیماری کو جھیلا تھا، حمین نے سکندر عثمان کی۔ وہ اسے اپنے ساتھ جوڑے رکھنے کے لئے اسے اپنی چیزیں دینا شروع ہوگئے تھے۔
    ’’دادا! آپ کو یہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ حمین جیسے سمجھ جاتا تھا کہ وہ بار ٹرڈیل… کس شے کے لئے تھی۔
    ’’میرے پاس دنیا میں جتنا وقت ہے، آپ کے لئے ہے۔‘‘
    وہ جیسے انہیں یقین دلانے کی کوشش کرتا۔ وہ پھر بھی اسے کچھ نہ کچھ دینے کی کوشش کرتے، حمین ان کے بہت سارے رازوں سے واقف تھا۔ ان بہت ساری جگہوں سے بھی جہاں وہ اپنی قیمتی چیزیں چھپاتے تھے۔ اس پر ان کے اعتبار کا یہ عالم تھا کہ وہ ہر چیز چھپاتے ہوئے صرف حمین سکندر کو بتاتے تھے صرف اس لئے کیوں کہ انہیں یہ خدشہ تھا کہ وہ کہیں اس جگہ کو بھی بھول نہ جائیں جہاں وہ سب کچھ چھپارہے تھے اور ایسا ہی ہوتا تھا، ان کے بھولنے پر حمین انہیںوہ چیز نکال کردیتا تھا۔ وہ کمرہ جیسے ان دونوں دادا اور پوتے کے لئے چھین چھپائی والی جگہ بن گیا تھا۔
    ’’ایک دن تم بہت بڑے آدمی بنوگے۔‘‘سکندر عثمان اس سے اکثر کہا کرتے تھے۔ ’’اپنے بابا سے بھی بڑے آدمی۔‘‘
    وہ ان کی بات غور وفکر کے بغیر سنتا لیکن بیچ میں انہیں ٹوک کر پوچھتا۔
    ’’خالی بڑا آدمی بنوں گا یا rich ؟ بابا تو rich نہیں ہیں۔‘‘ اسے جیسے فکر لاحق ہوئی سکندر عثمان ہنس پڑے۔
    ’’بہت امیر ہوجاؤگے… بہت زیادہ۔‘‘
    ’’ پھر ٹھیک ہے۔‘‘ اسے جیسے اطمینان ہوتا۔ ’’لیکن آپ کو کیسے پتا؟‘‘ اسے یک دم خیال آیا۔
    ’’کیوں کہ میں تمہارے لئے دعا کرتا ہوں۔‘‘ سکندرعثمان بڑھاپے کی اس لاٹھی کو دیکھتے جو ان کے سب سے عزیز بیٹے کا ان کے لئے تحفہ تھا۔
    ’’اوکے۔‘‘ حمین کے ذہن میں مزید سوالات آئے تھے لیکن وہ دادا سے اب بحث نہیں کرتا تھا۔
    ’’میں تم پر دنیا میں سب سے زیادہ اعتماد کرتا ہوں۔‘‘ وہ اکثر اس سے کہا کرتے تھے اور وہ بڑی سنجیدگی سے ان سے کہتا۔
    ’’اور آپ واحد انسان ہیںجو یہ کام کرتے ہیں۔‘‘ اور عثمان جواباً کسی بچے کی طرح ہنسنے لگتے تھے۔
    ’’جب میں اس دنیا سے چلا جاؤں گا تو یہ رنگ تم امامہ کو دے دینا۔ ‘‘ اعتماد کے ایسے ہی یک لمحے میں انہوں نے حمین کو وہ انگوٹھی دکھائی تھی، جسے وہ کئی سال اپنی ماں کی انگلی میں دیکھتا رہا تھا۔
    ’’یہ تو ممی کی رنگ ہے۔‘‘ حمین جیسے چلایا تھا۔
    ’’ہاں تمہاری ممی کی ہے… سالار نے شادی پر گفٹ کی تھی اسے… پھر وہ اسے بیچ کر سالار کے سارے پراجیکٹ میں کچھ انویسٹمنٹ کرنا چاہتی تھی، تو میں نے اسے لے کر اسے وہ رقم دے دی۔ میں اسے واپس کردوں گا تو وہ نہیں لے گی اور میں نہیں چاہتا، وہ اور سالار اسے بیچ کر میرا قرض واپس دینے کی کوشش کریں۔‘‘
    سکندر عثمان بتاتے گئے تھے۔ انہوں نے اسے ایک تھیلی میں ڈال کر اپنی وارڈ روب کے ایک چور خانے میں حمین کے سامنے رکھا تھا۔ وہ چور خانہ حمین نے بھی پہلی بار ہی دیکھا تھا۔
    ’’آپ اسے لاکر میں کیوں نہیں رکھوا دیتے؟‘‘ اس نے سکندر عثمان کو مشورہ دیا تھا۔ وہ مسکرادیئے تھے۔
    ’’میرے مرنے کے بعد لاکر سے جو کچھ بھی نکلے گا، وہ ساری اولاد کی مشترکہ ملکیت ہوگا۔ کوئی یہ امامہ کونہیں دے گا۔‘‘ سکندر نے کہا۔
    ’’لیکن آپ Will میں لکھ سکتے ہیں۔‘‘ سکندر اس کی بات پر ہنس پڑے تھے۔
    ’’میری اولاد بہت اچھی ہے لیکن میں زندگی میں ان سے بہت ساری باتیں نہیں منواسکتا تومرنے کے بعد کیسے منوا سکوں گا، جب تمہاری اولادہوگی تو تمہیں سمجھ آجائے گی میری باتوں کی۔‘‘ انہوں نے جیسے بڑے پیار کے ساتھ اس سے کہا تھا۔
    سکندرعثمان کی موت کے ایک ہفتے کے بعد اس گھر میں ان کی اولاد ترکے کی تقسیم کے لئے اکٹھی ہوئی تھی اور حمین سکندر کی سمجھ میں وہ بات آگئی تھی… سکندر عثمان اپنی زندگی میں ہی سب کچھ تقسیم کرچکے تھے۔ انہوں نے اپنے پاس صرف چند چیزیں رکھی تھیں جن میں وہ گھر بھی تھا، لیکن ان چند چیزوں کی ملکیت پر بھی سب میں کچھ اختلاف ہوگئے تھے اور یہ اختلاف بڑھ جاتے اگر سالار سکندر اور اس کا خاندان سکندر عثمان کے رہ جانے والے اثاثوں پر اپنے حصے کے حوالے سے کلیم کرتا۔ وہ ان کے خاندان کا مشترکہ فیصلہ تھا۔
    سکندر عثمان کے بچنے والے اثاثوں میں سے سالار سکندر اور اس کے خاندان نے کچھ نہیں لیاتھا۔ البتہ سکندر عثمان کا وہ گھر حمین سکندرنے خرید نے کی آفر کی تھی کیونکہ طیبہ پہلے بھی زیادہ تر اپنے بیٹوں کے پاس بیرون ملک رہتی تھیں اور اب مستقل طور پر ان کے پاس رہنا چاہتی تھیں اور ان کے وہاں سے شفٹ ہوجانے کے فیصلے کے بعد اس گھر کو فروخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور اس فیصلے کے دوران کسی نے امامہ کے بارے میں نہیں سوچا تھا۔ سالار سکندر اور اس کے اپنے بچوں کے علاوہ جنہیں یہ احساس ہورہا تھا کہ سکندر عثمان کے چلے جانے کے بعد اس گھر کے رہنے سے ایک شخص ایک بار پھر دربدر ہونے والا تھا۔ حمین نے اس گھر کو صرف امامہ کے لئے خریدا تھا اور ان یادوں کے لئے جو ان سب کی اس گھر سے وابستہ تھیں اور اس نے جس قیمت پر اسے خریدا تھا، وہ مارکیٹ سے دوگنی تھی۔
    ٭…٭…٭
    ’’ممی! مجھے آپ کو ایک امانت دینی ہے۔ ‘‘ حمین رات کو سالار اور امامہ کے کمرے میں آیا تھا۔ وہ صبح واپس جارہا تھا۔ باری باری … سب ہی واپس جارہے تھے۔ سالار اور وہ دونوں کچھ دیر پہلے ہی کمرے میں آئے تھے، جب وہ دستک دے کر ان کے کمرے میں آیا تھا۔
    ’’امانت؟‘‘ وہ کچھ حیران ہوئی تھی۔ حمین نے ایک تھیلی اس کے ہاتھ پر رکھی اور اس کے قریب صوفے پر بیٹھ گیا۔
    ’’یہ کیا ہے؟‘‘ اس نے کچھ حیران ہوتے ہوئے پہلے حمین پھر سالار کو دیکھا جو فون پر کسی سے بات کرنے میں مصروف تھا۔
    ’’آپ خود دیکھ لیں۔‘‘ حمین نے اسے کہا، امامہ نے تھیلی میں ہاتھ ڈال کر اندر موجود چیز نکالی اور ساکت رہ گئی۔
    فون پر بات کرتا سالار بھی اسی طرح ٹھٹکا تھا۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ دونوں اس انگوٹھی کو سیکنڈز میں نہ پہچان جاتے جو ان کی زندگی کی بہترین اور قیمتی ترین یادوں میں سے ایک تھی۔
    ’’یہ تمہیں کہاں سے ملی؟‘‘ امامہ نے لرزتی ہوئی آواز میں پوچھا تھا۔ سالار نے فون منقطع کردیا تھا۔
    ’’دادا نے بچپن میں میرے سامنے وارڈروب میں ایک دراز میں رکھتے ہوئے مجھ سے کہا تھا کہ اگر وہ اسے بھول جائیں تو ان کے مرنے کے بعد میں اسے وہاں سے نکال کر آپ کو دے دوں؟‘‘ حمین کہہ رہا تھا۔
    ’’وہ آپ کو یہ واپس دے دینا چاہتے تھے لیکن انہیں خدشہ تھا کہ آپ اسے نہیں لیں گی اور ایسا نہ ہو آپ اور بابا ان کا قرض ادا کرنے کے لئے اسے بیچ دیں۔‘‘
    آنسو سیلاب کی طرح امامہ کی آنکھوں سے نکل اس کے چہرے کو بھگوتے چلے گئے۔ سکندر عثمان ہمیشہ اس کا بہت شکریہ ادا کرتے رہتے تھے لیکن اس تشکر کو انہوں نے جس طرح اپنے جانے کے بعد اسے پہنچایا تھا، اس نے امامہ کو بولنے کے قابل نہیں چھوڑا تھا۔ وہ ایک شفیق سسر تھے۔
    ’’تم نے پہلے کبھی بھی اس رنگ کے بارے میں ذکر نہیں کیا۔‘‘ سالار نے اپنے سامنے بیٹھے اپنے اس بیٹے کو دیکھا جو آج بھی ویسا ہی عجیب اور گہرا تھا جیسا بچپن میں تھا۔
    ’’میں نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ میں کبھی کسی کو اس انگوٹھی کے بارے میں نہیں بتاؤں گا۔ یہ ایک امانت تھی، میں خیانت نہیں کرسکتا تھا۔‘‘ اس نے عجیب سی مسکراہٹ کے ساتھ باپ سے کہا اور پھر اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔ ہموار قدموں سے چلتا ہواوہ دروازہ کھول کر باہر نکل گیا۔ وہ دونوں تب تک اسے دیکھتے رہے جب تک وہ غائب نہیں ہوگیا۔
    ’’میں یہ انگوٹھی حمین کی بیوی کو دوں گی۔ اس پر اگر کسی کا حق ہے تو وہ حمین کا ہے۔‘‘ اس کے جانے کے بعد امامہ نے مدھم آواز میں سالار سے کہا تھا۔ وہ انگوٹھی ابھی بھی اس کی ہتھیلی پر تھی جسے وہ بہتے آنسوؤں کے ساتھ دیکھ رہی تھی، کئی سالوں کے بعد، کئی سال پہلے کی ساری یادیں ایک بار پھر زندہ ہوگئی تھیں۔
    سالار نے اس کی بات کے جواب میں کچھ نہیں کہا۔ اس نے امامہ کے ہاتھ سے وہ انگوٹھی لی اور بڑی نرمی سے اس کی انگلی میں پہنادی۔ اس کی مخروطی انگلی میں آج بھی بے حد آسانی سے پوری آگئی تھی۔
    ’’تمہارا بہت شکریہ ادا کرنا چاہتا تھا میں امامہ۔‘‘ اس نے امامہ کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہنا شروع کیا۔ ’’تم نے پاپا کی جتنی خدمت کی ہے، وہ میں نہیں کرسکتا تھا نہ ہی میں نے کی ہے۔‘‘
    ’’سالار!‘‘ امامہ نے اسے ٹوکا تھا۔ ’’تم مجھے شرمندہ کررہے ہو۔‘‘
    ’’مجھے اگر زندگی میں دوبارہ شریک حیات کا انتخاب کرنے کا موقع ملے تو میں آنکھیں بند کرکے تمہیں چنوں گا۔‘‘
    وہ نم آنکھوں کے ساتھ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔
    اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے اس نے ہاتھ کی پشت پر سجی اس انگوٹھی کو دوبارہ دیکھا۔ سولہ سال کی جدائی تھی جو اس نے اس گھر میں سالار سے الگ رہ کر جھیلی تھی۔ وہ تب چند سال یہاں گزارنے آئی تھی اور تب وہ جیسے تلوار کی ایک دھار پر ننگے پاؤں چل رہی تھی۔ وہ سکندر عثمان کا خیال رکھتے ہوئے دن رات سالار کے لئے خوف زدہ رہتی تھی اور اس نے سالار کو یہ نہیں بتایا تھا مگر اس نے یہ دعا کی تھی تب کہ اگر سکندر عثمان کی خدمت کے عوض اسے اللہ نے کوئی صلہ دینا تھا تو وہ سالار سکندر کی زندگی اور صحت یابی کی شکل میں دے دے اور آج سولہ سال بعد اسے لگتا تھا شاید ایسا ہی ہوا تھا۔ اس کی زندگی کا وہ سولہ سال بالآخر ایک بار پھر سے سالار اور اپنے بچوں کے ساتھ مستقل طور پر امریکہ جاکر رہ سکتی تھی۔ بے شک وہ اپنے رب کی کسی بھی نعمت کا شکریہ ادا کرسکتی تھی۔
    ٭…٭…٭




  • جناح کا وارث — ریحانہ اعجاز

    جناح کا وارث — ریحانہ اعجاز

    سارا گھر برقی قمقموں سے جگمگا رہا تھا ۔ مسٹر اور مسز احسن کے چہرے بھی خوشی سے کھلے ہوئے تھے۔ آج علینہ کی دسویں سالگرہ تھی۔ علینہ ان کی اکلوتی اور لاڈلی بیٹی تھی۔
    اللہ نے انہیں یکے بعد دیگرے تین بیٹے دے کر واپس لے لیے تھے۔ مسٹر اور مسز احسن قدرت کی اس ستم ظریفی پر شکوہ کناں تھے ،لیکن اللہ نے علینہ کی صورت انہیں خوشی عطا کی۔ جب علینہ نے دنیا میں سانس لیا، تو دونوں میاں بیوی بہت خوف زدہ تھے۔ انہوں نے علینہ کو حقیقتاً ہاتھوں کا چھالا بنا کر رکھا تھا۔ اُسے چھینک بھی آ جاتی تو وہ پریشان ہو جاتے۔ اسی طرح علینہ نے مکمل صحت کے ساتھ زندگی کی دس بہاریں دیکھ لیں۔
    علینہ لاڈ پیار میں پلی۔ اکلوتی بیٹی ہونے کے باوجودنہایت شُستہ اور سلجھے مزاج کی لڑکی تھی۔ ماں باپ کا لاڈ پیار اور پیسے کی بہتات نے بھی اسے بگڑنے نہیں دیا تھا ۔ آج دسویں سالگرہ پر مسٹر احسن نے علینہ کو ایک پیارا سا ٹیبلٹ گفٹ کیا جسے پا کر وہ بے حد خوش تھی ۔وہ ٹیبلٹ پر گیمز کھیلتی اور کارٹونز دیکھتی۔ احسن صاحب بھی فارغ اوقات میں علینہ کو ٹیبلٹ ، کمپیوٹراور جدید ٹیکنالوجی کے صحیح استعمال اور فوائد سے آگاہ کرتے رہتے۔ علینہ اپنی پڑھائی سے بھی غفلت نہیں برتتی تھی۔ اسی طرح خوشیوں کے ہنڈولوں میں جھولتے ہوئے علینہ نے اسکول کے بعد کالج کو بھی خیر باد کہتے ہوئے یونیورسٹی کی دنیا میں قدم رکھا جس کے ماحول کو دیکھ کر علینہ حیران تھی کہ یہاں لڑکے لڑکیاں پڑھنے آتے ہیں یا محض ٹائم پاس کرنے؟ نت نئے فیشن اور شغل میلے سے ہٹ کر پڑھائی سے کسی کو کوئی لگاؤ نہیں تھا۔ بس ڈگری یافتہ ہونا ہی ان کے لیے کافی تھا ۔ سارا دن ٹولیوں کی صورت گپیں مارتے یا موبائلز پر مصروف رہتے۔ علینہ نے اپنے پہلے گفٹ کے طور پر ملنے والے ٹیبلٹ سے لے کر اب تک بہت سے مختلف اور مہنگے موبائلز استعمال کیے تھے، لیکن کبھی ان کا غلط استعمال نہیں کیا تھا۔
    ایک دن یونیورسٹی سے واپسی پر اس کی گاڑی کے سامنے اچانک ایک سولہ سترہ سالہ لڑکا آگیا۔ بروقت بریک لگانے سے بڑا حادثہ ہوتے ہوتے رہ گیا۔ علینہ فوراً گاڑی سے اتری اور لڑکے کے پاس آگئی جو اپنے کپڑے جھاڑ رہا تھا ، پاس ہی اس کا موبائل گرا ہوا تھا۔ علینہ نے موبائل اٹھا کر لڑکے کو دینا چاہا تو ہاتھ لگتے ہی اس کی اسکرین روشن ہو گئی اور اس میں موجود تصویر پر نظر پڑتے ہی علینہ شرم سے پانی پانی ہوگئی۔ لڑکے کی طرف دیکھا، تو وہ بھی شرمسار سا کھڑا تھا۔علینہ نے موبائل اس کے ہاتھ میں دیا تو وہ شرمندگی سے بولا:
    ’’سوری!‘‘ علینہ نے سوالیہ انداز میں اس کی طرف دیکھا تو وہ عجلت سے بولا :
    سوری سِسٹر! میرے دوست نے یہ تصویر واٹس ایپ کی تھی، اسی کو ڈیلیٹ کر رہا تھا جب اچانک آپ کی گاڑی سے ٹکرا گیا۔ وہ چہرے مہرے سے اچھے گھر کا شریف لڑکا نظر آ رہا تھا۔ چند لمحے توقف کر بعد علینہ نے پوچھا :
    ’’تمہارا نام کیا ہے؟‘‘
    ’’میرا نام عظام ہے۔‘‘
    ’’کیا کرتے ہو؟‘‘
    ’میں نے میٹرک کے پیپرز دیے ہیں، آج کل فری ہوں۔‘‘عظام اب قدرے پرسکون اندازمیں بات کررہا تھا۔




    ’’آؤ بیٹھو! کہاں جانا ہے میں چھوڑ دیتی ہوں۔‘‘ علینہ نے گاڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
    ’’نہیں نہیں! میں دوست کی طرف جا رہا تھا۔ آپ کا شکریہ، میں چلا جاؤں گا ۔ ‘‘
    ’’کوئی بات نہیں آجاؤ۔‘‘ عظام جھجکتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ گیا۔ ’’چلیںٹھیک ہے آپ مجھے میرے گھر پر اتار دیں۔‘‘
    علینہ نے اس سے ایڈریس پوچھا جو اس کے گھر کے بالکل پاس تھا۔
    ’’تم کتنے بہن بھائی ہو؟‘‘
    میرے والد امپورٹ ایکسپورٹ کا کام کرتے ہیں ، اکثر ملک سے باہر ہوتے ہیں ، بڑی بہن کی شادی ہو چکی ہے اوربڑا بھائی پڑھنے کے لیے امریکا گیا ہوا ہے۔ مما کا سوشل سرکل کافی بڑا ہے تو وہ بھی مصروف رہتی ہیں۔ میں میٹرک کے پیپر دے کر فری ہوں اور اب رزلٹ کا انتظار ہے۔ بائیک خراب ہو گئی تھی اس لیے پیدل دوست کی طرف جا رہا تھا کہ آپ کی گاڑی سے ٹکرا گیا۔ اگر آپ برا نہ مانیں تو میں آپ کو آپی کہہ سکتا ہوں؟‘‘عظام نے اپنا تفصیلی تعارف کروانے کے بعد پوچھا۔
    ’’بالکل! کہہ سکتے ہو۔ اگر میرا کوئی چھوٹا بھائی ہوتا، تو یقینا تمہارے جیسا ہی ہوتا۔‘‘ علینہ نے خوش دلی سے کہا۔ اتنے میں اس کا گھر بھی آگیا۔
    ’’آؤ! پہلے میں تمہیں اپنی مما سے ملواؤں، پھر گھر جانا۔ آج سے میری تمہاری دوستی پکی۔‘‘ علینہ نے عظام کو اپنی مما سے ملوایا۔ وہ بھی عظام سے مل کر بہت خوش ہوئیں۔ عظام جانے لگا تو علینہ نے کہا:
    ’’دو دن بعد میری یونیورسٹی سے چھٹی ہے۔ تم اپنے دوست کو لے کر میرے پاس آنا جس نے تمہیں واٹس ایپ کیا تھا۔‘‘ عظام شرمندگی سے سر جھکا تے ہوئے بولا :
    ’’جانے دیں آپی! آئندہ ایسا نہیں ہو گا۔‘‘
    ’’عظام میرا مقصد تمہیں شرمندہ کرنا نہیں ہے ۔مجھے اندازہ ہو گیا ہے کہ تم اچھے لڑکے ہو ، مجھے آپی کہا ہے تو اپنے دوست کو ضرور لے کر آنا۔‘‘ علینہ نے نرمی سے کہا۔
    عظام وعدہ کرکے وہاں سے رخصت ہو گیا۔ علینہ ہر بات اپنی ماں سے شیئر کرنے کی عادی تھی۔ جب اس نے یہ بات مما سے شیئر کی تو مسز احسن ٹھنڈی سانس لیتے ہوئے گویا ہوئیں ۔
    ’’بیٹا آج کل کی نوجوان نسل یہ ہی کچھ کر رہی ہے۔ تباہی اور بربادی یہیں سے شروع ہوتی ہے۔‘‘
    ’’مما! اگر ہم کسی ایک کو بھی راہِ راست پر لے آئیں تو یہ بھی نیکی ہو گی نا؟‘‘
    ’’بالکل بیٹا! نیکی ہو گی، لیکن تم کن چکروں میں پڑ رہی ہو؟ اپنی پڑھائی پر توجہ دو۔‘‘
    ’’مما آپ بالکل بے فکر رہیں۔ میری پہلی ترجیح پڑھائی ہی ہے، لیکن میں کچھ سوچ رہی ہوں، اگر آپ میرا ساتھ دیں تو آپ کو بتاؤں۔ مجھے آپ کی اجازت کی ضرورت ہے۔‘‘
    مسز احسن نے سوالیہ نگاہوں سے علینہ کو دیکھا۔
    ’’ہر انسان کی زندگی کا ایک خاص مقصد ہونا چاہیے اور میں نے آج سے بلکہ ابھی سے سوچ لیا ہے کہ عظام جیسے اگر دو چار نوجوانوں کو بھی راہِ راست پر لے آئی تو مجھے لگے گا میرا دنیا میں آنے کا مقصد پورا ہو گیا۔‘‘ مسز احسن نے تعجب سے علینہ کو دیکھا اور کہا:
    ’’میں کچھ سمجھی نہیں؟‘‘
    ’’دیکھیں مما! میں جب سے یونیورسٹی گئی ہوں تب سے شدید الجھن کا شکار ہوں کہ نوجوان لڑکے لڑکیاں یونیورسٹی کو صرف سیرو تفریح کی جگہ سمجھ کر انجوائے کرتے ہیں اور سارا دن ہنسی مذاق یا موبائلز پر مصروف رہتے ہیں۔ سنجیدگی سے پڑھنے اور آگے بڑھنے والوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہوتی ہے۔ آپ اجازت دیں تو میں ایک کمرے کوایک انسٹی ٹیوٹ کی شکل دے کر عظام جیسے تازہ تازہ اسکول سے فارغ ہونے والے لڑکوں کو مثبت راہ پر چلنے کا درس دوں؟ جدید ٹیکنالوجی کے فوائد جیسے پاپا نے مجھے سمجھائے ہیں، میں ان کو سمجھاؤں۔ان میں آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا کروں جس سے ہمارا ملک ترقی کرے۔ جب نوجوان نسل وقت کا صحیح استعمال سمجھ لے گی، تو یقینا ملک کی ترقی میں بھی نمایاں تبدیلیاں نظر آئیں گی۔‘‘
    یہ سُن کر مسز احسن ہنس پڑیں۔
    ’’بیٹا! یہ آپ کے بس کی بات نہیں۔ ان کے ماں باپ انہیں نہیں روک سکتے تو آپ نے کیا کر لینا ہے؟‘‘
    ’’مما پلیز! یہ آپ مجھ پر چھوڑ دیں۔ میں پاپا سے بھی مدد لوں گی اور مجھے یقین ہے پاپا مجھے کبھی منع نہیں کریں گے۔‘‘ علینہ نے منت بھرے انداز میں کہا:
    مسز احسن نے پیار سے بیٹی کے جوش اور خوشی سے تمتماتے چہرے کو دیکھا اور بے ساختہ اس کا ماتھا چوم کر بولیں۔
    ’’جیسے میری بیٹی کی خوشی ، اللہ تمہیں کام یاب کرے۔‘‘
    ٭…٭…٭
    یہ ہفتے کا دن تھا۔ عظام اپنے دوست صارم کے ساتھ علینہ کے گھر آیا۔ علینہ بہت خوش تھی۔ وہ دونوں کو اپنے ساتھ اس کمرے میں لے گئی جسے اس کے پاپا نے دو دن کے اندر اندر اس کی خواہش کے مطابق کمپیوٹر سسٹم ، میز اور کرسیوں سے ایک نئی شکل دی تھی۔ عظام نے حیرت سے دیکھتے ہوئے کہا:
    ’’آپی! آپ بچوں کو پڑھاتی ہیں؟‘‘علینہ ہنستی ہوئی بولی:
    ’’پڑھاتی نہیں ہوں ، لیکن اب پڑھاؤں گی، اپنے پیارے سے بھائی عظام اور اس کے دوستوں کو۔‘‘
    ’’آپی میں کچھ سمجھا نہیں۔‘‘ عظام حیرانی سے بولا۔
    ’’تم لوگ بیٹھو! سب سمجھ میں آ جائے گا۔ اس کے بعد اس نے صارم سے اس کے بارے میں پوچھا۔ وہ کم و بیش عظام جیسا ہی تھا اور میٹرک کے رزلٹ کا انتظار کررہا تھا۔یہ فارغ وقت وہ صرف بائیک پر ریس لگاتے یا موبائل استعمال کرتے گزار رہا تھا۔




  • آبِ حیات — قسط نمبر ۱۴ (تبارک الذی)

    جبرل نیند سے فون کی آواز پر ہڑبڑا کر اٹھا تھا۔ اسے پہلا خیال ہاسپٹل کا آیا تھا لیکن اس کے پاس آنے والی وہ کال ہاسپٹل سے نہیں آئی تھی۔ اس پر نسا کا نام چمک رہا تھا۔ وہ غیر متوقع تھی۔ ایک ہفتے پہلے اسفند کی تدفین کے دوران اس کی ملاقات نسا سے ایک لمبے عرصے کے بعد ہوئی تھی اور اس کے بعد اس طرح رات کے اس وقت آنے والی کال…
    کال ریسیو کرتے ہوئے دوسری طرف سے اس نے جبریل سے معذرت کی تھی کہ وہ رات کے اس وقت اسے ڈسٹرب کررہی تھی اور پھر بے حد اضطراب کے عالم میں اس نے جبریل سے کہا تھا۔
    ’’تم عائشہ کے لئے کچھ کرسکتے ہو؟‘‘
    جبریل کچھ حیران ہوا۔ ’’عائشہ کے لئے، کیا؟‘‘
    ’’وہ پولیس کسٹڈی میں ہے۔‘‘
    ’’What?‘‘ وہ ہکا بکا رہ گیا۔ ’’کیوں؟‘‘
    ’’قتل کے کیس میں۔‘‘ وہ دوسری طرف سے کہہ رہی تھی۔
    جبریل سکتہ میں رہ گیا۔ ’’کس کا قتل؟‘‘ وہ اب رونے لگی تھی۔
    ’’اسفد کا۔‘‘ جبریل کا دماغ گھوم کر رہ گیا۔
    ٭…٭…٭




    لاک اپ میں بیٹھ کر اس رات عائشہ عابدین نے اپنی گزری زندگی کو یاد کرنے کی کوشش کی تھی، مگر اس کی زندگی میں اتنا بہت کچھ ہوچکا تھا کہ وہ اس کوشش میں ناکام ہورہی تھی، یوں جیسے وہ اٹھائیس سال کی زندگی نہیں تھی آٹھ سو سال کی زندگی تھی۔ کوئی بھی واقعہ اس ترتیب سے یاد نہیں آرہا تھا جس ترتیب سے وہ اس کی زندگی میں ہوا تھا اور وہ یاد کرنا چاہتی تھی۔
    لاک اپ کے بستر پر چت لیٹے، چھت کو گھورتے، اس نے یہ سوچنے کی کوشش کی تھی کہ اس کی زندگی کا سب سے بدترین واقعہ کون سا تھا۔ سب سے تکلیف دہ تجربہ اور دور…
    باپ کے بغیر زندگی گزارنا؟
    احسن سعد سے شادی؟
    اس کے ساتھ اس کے گھر میں گزارا ہوا وقت؟
    ایک معذور بیٹے کی پیدائش؟
    احسن سعد سے طلاق؟
    اسفد کی موت؟ یا پھر اپنے ہی بیٹے کے قتل کے الزام میں دن دیہاڑے اسپتال سے پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہونا؟ اور ان سب واقعات کے بیچوں بیچ کئی اور ایسے تکلیف دہ واقعات جو اس کے ذہن کی دیوار پر اپنی جھلک دکھاتے ہوئے جیسے اس فہرست میں شامل ہونے کے لئے بے قرار تھے۔
    وہ طے نہیں کرسکی۔ ہر تجربہ، ہر حادثہ اپنی جگہ تکلیف دہ تھا… اپنی طرز کا ہولناک… وہ ان کے بارے میں سوچتے ہوئے جیسے زندگی کے وہ دن جینے لگی تھی اور اگلے واقعہ کے بارے میں سوچنا شروع کرتے ہوئے اسے یہ اندازہ لگانا مشکل ہوگیا تھا کہ پچھلا واقعہ زیادہ تکلیف دہ تھا یا پھر وہ، جو اسے اب یاد آیا تھا۔
    کبھی کبھی عائشہ عابدین کو لگتا تھا وہ ڈھیٹ ہے… تکلیف اور ذلت سہہ سہہ کر وہ اب شرمندہ ہونا اور درد سے متاثر ہونا چھوڑ چکی تھی۔ زندگی وہ اتنی ذلت اور تکلیف سہ چکی تھی کہ شرم اور شرمندگی کے لفظ جیسے اس کی زندگی سے خارج ہوگئے تھے… وہ اتنی ڈھیٹ ہوچکی تھی کہ مرنا بھی بھول گئی تھی۔ اسے کسی تکلیف سے کچھ نہیں ہوتا تھا۔ دل تھا تو وہ اتنے ٹکڑے ہوچکا تھا کہ اب اور ٹوٹنا اس کے بس میں نہیں رہا تھا۔ ذہن تھا تو اس پر جالے ہی جالے تھے… عزتِ نفس، ذلت، عزت جیسے لفظوں کو چھپا دینے والے جالے… یہ سوچنا اس نے کب کا چھوڑ دیا تھا کہ یہ سب اس کے ساتھ ہی کیوں ہوا تھا، ا س نے تو کسی کا کچھ نہیں بگاڑا تھا… اس سوال کا جواب ویسے بھی اسے احسن سعد نے رٹوا دیا تھا۔
    ’’لکھو اس کاغذ پر کہ تم گناہ گار ہو… اللہ سے معافی مانگو… پھر مجھ سے معافی مانگو… پھر میرے گھر والوں سے معافی مانگو…بے حیا عورت!‘‘
    پتا نہیں یہ آواز اس کے کانوں میں گونجنا بند کیوں نہیں ہوتی تھی… دن میں… رات میں… سینکڑوں بار ان جملوں کی باز گشت اسے اس کے اس سوال کا جواب دیتی رہتی تھی کہ یہ سب اس کے ساتھ ہی کیوں ہوا تھا۔
    وہ ایک گناہ گار عورت تھی… یہ جملہ اس نے اتنی بار اپنے ہاتھ سے کاغذ پر لکھ کر احسن سعد کو دیا تھا کہ اب اسے یقین ہوگیا تھا کہ وہ جملہ حقیقت تھا۔ اس کا گناہ کیا تھا؟ یہ اسے یاد نہیں آتا تھا، مگر اسے پھر بھی یقین تھا کہ جو بھی گناہ اس نے کبھی زندگی میں کیا ہوگا، بہت بڑا ہی کیا ہوگا۔ اتنا بڑا کہ اللہ تعالیٰ اسے یوں بار بار ’’سزا‘‘ دے رہا تھا۔ سزا کا لفظ بھی اس نے احسن سعد اور اس کے گھر میں ہی سنا اور سیکھا تھا… جہاں گناہ اور سزا کے لفظ کسی ورد کی طرح دہرائے جاتے تھے۔ ورنہ عائشہ عابدین نے تو احسن سعد کی زندگی میں شامل ہونے سے پہلے اللہ کو خود پر صرف ’’مہربان‘‘ دیکھا تھا۔
    ’’بے حیا عورت…!‘‘ وہ گالی اس کے لئے تھی۔ کسی مجسمے کی طرح، کھڑی کی کھڑی، یوں جیسے اس نے کوئی سانپ یا اژدھا دیکھ لیا ہو… وہ ناز و نعم میں پلی تھی۔ گالی تو ایک طرف اس نے کبھی اپنے نانا، نانی یا ماں سے اپنے لئے کوئی سخت لفظ بھی نہیں سنا تھا… ایسا لفظ جس میں عائشہ کے لئے توہین یا تضیحک ہوتی اور اب اس نے اپنے شوہر سے اپنے لئے جو لفظ سنا تھا اس میں تو الزام اور تہمت تھی۔
    وہ ’’بے حیا‘‘ تھی… عائشہ عابدین نے اپنے آپ کو بہلایا تھا، سو تاویلیں دے کر کہ یہ گالی اس کے لئے کیسے ہوسکتی ہے… یا شاید اس نے غلط سنا تھا یا پھر ان الفاظ کا مطلب وہ نہیں تھا جو وہ سمجھ رہی تھی۔ وہ اس کیفیت پر ایک کتاب لکھ سکتی تھی، ان توجیہات، ان وضاحتوں پر جو پہلی گالی سننے کے بعد اگلے کئی دن عائشہ عابدین نے اپنے آپ کو دی تھیں۔ اپنی عزتِ نفس کو دوبارہ بحال کرنے کے لئے اینٹی بایوٹکس کے ایک کورس کی طرح لیکن یہ سب صرف پہلی گالی کی دفعہ ہوا تھا پھر آہستہ آہستہ عائشہ عابدین نے ساری توجیہات اور وضاحتوں کو دفن کردیا تھا… وہ اب گالیاں کھاتی تھی اور بے حد خاموشی سے کھاتی تھی اور بہت بری بری… اور اسے یقین تھا وہ ان گالیوں کی مستحق تھی کیونکہ احسن سعد اس سے یہ کہتا تھا… پھر وہ مار کھانا بھی اسی سہولت سے سیکھ گئی تھی… اپنی عزتِ نفس کو ایک اور دلاسادیتے ہوئے۔
    پانچ افراد کا وہ گھرانہ اسے یہ یقین دلانے میں کامیاب ہوگیا تھا کہ اس کے ساتھ جو کچھ بھی ہورہا تھا وہ اسی قابل تھی۔
    وہ مومنین کے ایک ایسے گروہ میں پھنس گئی تھی جو زبان کے پتھروں سے اسے بھی مومن بنانا چاہتے تھے کیونکہ وہ ’’گناہ گار‘‘ تھی۔
    احسن سعد کی زندگی میں کیسے آیا تھا اور کیوں آگیا تھا…
    ایک وقت تھا جب اسے لگتا تھا کہ وہ اس کی خوش قسمتی بن کر اس کی زندگی میں آیا ہے اور پھر ایک وہ وقت آیا جب اسے وہ ایک ڈراؤنا خواب لگنے لگا تھا، جس کے ختم ہونے کا انتظار وہ شدو مد سے کرتی تھی اور اب اسے لگتا تھا کہ وہ، وہ عذاب ہے جو اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے کردہ ناکردہ گناہوں پر اس دنیا میں ہی دے دیا ہے۔
    وہ ہاؤس جاب کررہی تھی جب احسن سعد کا پروپوزل اس کے لئے آیا تھا۔ عائشہ کے لئے یہ کوئی انوکھی بات نہیں تھی۔ اس کے لئے درجنوں پروپوزلز پہلے بھی آچکے تھے اور اس کے نانا نانی کے ہاتھوں رد بھی ہوچکے تھے۔ اس کا خیال تھا کہ یہ پروپوزل بھی کسی غو رکے بغیر رد کردیا جائے گا کیوں کہ اس کے نانا، نانی اس کی تعلیم مکمل ہوئے بغیر اسے کسی قسم کے رشتے میں باندھنے پر تیار نہیں تھے، مگر اس بار ایسا نہیں ہوا تھا… احسن سعد کے والدین کی میٹھی زبان عائشہ عابدین کی فیملی پر اثر کرگئی تھی اور اس پر بھی۔
    ’’ہمیں صرف ایک نیک اور اچھی بچی چاہیے اپنے بیٹے کے لئے… باقی سب کچھ ہے ہمارے پاس۔ کسی چیز کی کمی نہیں ہے اور آپ کی بیٹی کی اتنی تعریفیں سنی ہیں ہم لوگوں نے کہ بس ہم آپ کے ہاں جھولی پھیلا کر آئے بغیر رہ نہ سکے۔‘‘ احسن کے باپ نے اس کے نانا سے کہا تھا اور عائشہ عابدین کو تب پتا چلا تھا کہ اس کی ایک نند اس کے ساتھ میڈیکل کالج میں پڑھتی تھی۔ ان دونوں کا آپس میں بہت رسمی سا تعارف تھا، مگر اسے حیرت ہوئی تھی کہ اس رسمی تعارف پر بھی اس کی اتنی تعریفیں وہ لڑکی اپنی فیملی میں کرسکتی تھی جو کالج میں بالکل خاموش اور لئے دیئے رہتی تھی۔
    عائشہ عابدین کے لئے کسی کی زبان سے اپنی تعریفیں سننا کوئی اچنبھے کی بات نہیں تھی۔ وہ کالج کی سب سے نمایاں اسٹوڈنٹس میں سے ایک تھی اور وہ ہر شعبے میں نمایاں تھی۔ اکیڈمک قابلیت میں نصابی اور غیر نصابی سرگرمیون میں اور پھر اپنی پرسنالٹی کی وجہ سے بھی… وہ اپنے بیچ کی نہ صرف حسین بلکہ بے حد اسٹائلش لڑکیوں میں گنی جاتی تھی… بے حد باعمل مسلمان ہوتے ہوئے بھی اور مکمل طور پر حجاب لئے ہوئے بھی… حجاب عائشہ عابدین پر سجتا بھی تھا۔ یہ اس کی کشش کو بڑھانے والی چیز تھی اور اس کے بارے میں لڑکے اور لڑکیوں کی یہ متفقہ رائے تھی اور اب اس لڑکی کے لئے احسن سعد کا پرپوزل آیا تھا جس کی فیملی کو اس کے نانا نانی نے پہلی ملاقات میں ہی اوکے کردیا تھا۔
    پتا نہیں کون ’’سادہ ‘‘ تھا… ا س کے نانا، نانی جنہیں احسن کے ماں باپ بہت شریف اور سادہ لگے تھے یا پھروہ خود کہ ماں باپ کی دین داری کا پاس کیا تھا، لیکن اس کے باوجود انہوں نے شادی سے پہلے احسن سعد اور عائشہ کی ایک ملاقات کروانا ضروری سمجھا تھا۔ احسن سعد
    اس وقت امریکا میں ریزیڈنسی کررہا تھا اور چھٹیوں میں پاکستان آیا ہوا تھا۔
    احسن سعد سے پہلی ملاقات میں عائشہ کو ایک لمبے عرصے کے بعد جبریل یاد آیا تھا اور اسے وہ جبریل کی طرح کیوں لگا تھا؟ عائشہ کو اس سوال کا جواب نہیں ملا۔
    وہ مناسب شکل و صورت کا تھا، تعلیمی قابلیت میں بے حد اچھا اور بات چیت میں بے حد محتاط… اس کا پسندیدہ موضوع صرف ایک تھا۔ مذہب، جس پر وہ گھنٹوں بات کرسکتا تھا اور اس کے اور عائشہ عابدین کے درمیان رابطے کی کڑی یہی تھا۔
    پہلی ہی ملاقات میں وہ دونوں مذہب پر بات کرنے لگے تھے اور عائشہ عابدین اس سے مرعوب ہوئی تھی۔ وہ حافظ قرآن تھا اور وہ اسے بتارہا تھا کہ زندگی میں کبھی کسی لڑکی کے ساتھ اس کی دوستی نہیں رہی، وہ عام لڑکوں کی طرح کسی الٹی سیدھی حرکتوں میں نہیں پڑا۔ وہ مذہب کے بارے میں جامع معلومات رکھتا تھا اور وہ معلومات عائشہ کی معلومات سے بہت زیادہ تھیں، لیکن وہ ایک سادہ زندگی گزارنا چاہتا تھا اور عائشہ بھی یہی چاہتی تھی۔
    ایک عملی مسلمان گھرانے کے خواب دیکھتے ہوئے وہ احسن سعد سے متاثر ہوئی تھی اور اس کا خیال تھا وہ اپنی عمر کے دوسرے لڑکوں سے بے حد میچور اور مختلف ہے۔ وہ اگر کبھی شادی کرنے کا سوچتی تھی تو ایسے ہی آدمی سے شادی کرنے کا سوچتی تھی۔ احسن سعد پہلی ملاقات میں اسے متاثر کرنے میں کامیاب رہا تھا۔ اس کی فیملی اس کے گھر والوں سے پہلے ہی متاثر تھی۔
    شادی بہت جلدی ہوئی تھی اور بے حد سادگی سے… یہ احسن سعد کے والدین کا مطالبہ تھا۔ عائشہ اور اس کے نانا نانی اس پر بے حد خوش تھے۔ عائشہ ایسی ہی شادی چاہتی تھی اور یہ اسے اپنی خوش قسمتی لگی تھی کہ اسے ایسی سوچ رکھنے والا سسرال مل گیا تھا۔ احسن سعد کی فیملی کی طرف سے جہیز کے حوالے سے کوئی مطالبہ نہیں آیا تھا بلکہ انہوں نے سختی سے عائشہ کے نانا، نانی کو ان روایتی تکلفات سے منع کیا تھا، مگر یہ عائشہ کی فیملی کے لئے، اس لئے ممکن نہیں تھا کیونکہ عائشہ کے لئے اس کے نانا نانی بہت کچھ خرید تے رہتے تھے اور جس کلاس سے وہ تعلق رکھتی تھی، وہاں جہیز سے زیادہ مالیت کے تحائف دلہن کے خاندان کی طرف سے موصول ہوجاتے تھے اور عائشہ شادی کی تقریب میں بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ بہت سادگی سے کی جانے والی تقریب بھی شہرکے ایک بہترین ہوٹل میں منعقد کی گئی تھی۔ احسن سعد اور اس کے خاندان کو عائشہ اور اس کی فیملی کی طرف سے دیئے جانے والے تحائف کی مالیت بے شک لاکھوں میں تھی، مگر اس کے برعکس احسن سعد کی فیملی کی جانب سے شادی پر دیئے جانے والے عائشہ کے ملبوسات اور زیورات احسن سعد کے خاندانی رکھ رکھاؤ اور مالی حیثیت سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔ وہ بس مناسب تھے۔
    عائشہ کی فیملی کا دل برا ہوا تھا، لیکن عائشہ نے انہیں سمجھایا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ ’’سادگی‘‘ سے شادی کرنا چاہتے تھے۔ اگر انہوں زیورات اور شادی کے ملبوسات پر بھی بہت زیادہ پیسہ خرچ نہیں کیا تو بھی یہ ناخوش ہونے والی بات نہیں تھی۔ کم از کم اس کا دل ان چھوٹی موٹی باتوں کی وجہ سے کھٹا نہیں ہوا تھا۔