Tag: Urdu fiction

  • چڑیا جیسی عورت — روحی طاہر

    چڑیا جیسی عورت — روحی طاہر

    عام سے گھر کے عام سے کمرے میں دوپلنگ ساتھ ساتھ بچھے ہوئے تھے۔ ایک پر چھے سالہ گڈی اور پانچ سالہ ننھی لیٹی ہوئی تھیں۔ پپو امی کے ساتھ چپک کر چھوٹے چھوٹے سوال کئے جا رہا تھا۔ چھوٹی پنگھوڑے پر سوئی ہوئی تھی۔ صبح کا وقت تھا۔ ننھی پکی نیند مگر گڈی آنکھ موندے پڑی تھی۔ سرکاری گھرکے اونچے چھتوں والے کمرے میں روشن دان تھا اور اُس روشن دان میں چڑیوں نے گھونسلا بنا یا ہوا تھا۔ یہ چڑیا نما فاختہ صبح سویرے اُٹھا نے آجاتی تھیں۔ اپنی بولی میں نجانے کیا پوچھ رہی تھیں ایک دوسرے سے۔ پپونے اپنی مدہم سی آواز میں پوچھا:
    ’’امی یہ کیا کہہ رہی ہیں؟‘‘ امی کی ایک ہی حسرت ہوتی: ’’پپو یہ تیری بیویاں ہیں اور تجھ سے خرچہ مانگ رہی ہیں۔‘‘
    امی سرکاری ہسپتال میں ڈاکٹر تھیں۔ سیدھا سادہ زمانہ سیدھے اور حلال کھانے والے لوگ صبح آٹھ بجے سے جو شام تک امی کو فرصت نہیں تھی۔ بچوں کے ساتھ یہی صبح کے چند لمحے یا پھر رات کے چند پل پپو لاڈلا کیوں کہ اکلوتا لڑکا تھا ویسے بھی کہاوت ہے ’’ایک بیٹے کی ماں اندھی۔‘‘ اسے بیٹے کے علاوہ کوئی بھی نظر نہیں آتا۔ صبح کے یہ کچھ لمحات امی پپو کے ساتھ گزارہ کرتی تھیںاس کی چھوٹی چھوٹی باتوں کا جواب، اس کے اندر سے اُٹھتے ہوئے سوال کی اٹھان پر خوش ہونے والی امی کو گڈی اور ننھی سے بھی پیار تھا مگر ننھی کی کم زور صحت اور بڑی آنکھیں انہیں ہمیشہ تشویش میں مبتلا رکھتی تھیں۔ ہاں بینا ابھی چھوٹی تھی آیا کے ساتھ ہوتے ہوئے بھی اپنا پورا وقت لے جاتی تھی۔ گڈی بڑی تھی اور چھے سالہ گڈی سے امی کو بڑی اُمید تھی کہ وہ ان کی جاں نشین بنے گی۔ انہی کی طرح سے تمام ذمہ داریاں اُٹھائے گی۔ ابا کی زندگی لااُبالی تھی وہ بھی اپنی ماں کے اکلوتے تھے اور اکلوتوں والی تمام بیماریاں ان میں موجود تھیں۔ وکیل ہوکر بھی وہ امی کی عدالت میں اپنا مقدمہ ہار جاتے تھے اس لئے اپنی اماں کے مرنے کے بعد انہوں نے بیوی میں ماں ڈھونڈنا شروع کر دی تھی۔ تقسیم کے خرابات سے متاثر یہ کنبہ صرف اماں کی ذمہ داری تھی۔ والد اور بڑے بہنوئی بٹوارے میں پیارے ہوگئے تھے اور ان دونوں خاندانوں کی واحد کفیل امی بن کر رہ گئی تھیں، تیسرا خاندان ان کا اپنا انہوں نے کزن سے شادی کی کہ وہ دکھ ہٹائیں گی اور ان کا ساتھ دیں گے۔ مگر اکلوتے ابا نے امی جوکہ ان سے ایک سال بڑی تھیں میں اپنی مرحوم والدہ ڈھونڈلی اور ایک تیسرا خاندان بھی امی کے حوالے کر دیا۔ گڈی کو امی بالکل روشن دان والی چڑیا نظر آتی تھیں۔ ہر وقت منہ میں دانا لئے کسی نہ کسی کے منہ میں ڈالنے کو تیار۔
    نماز کے وقت آنکھ امی کی لسّی بلونے کی آواز سے ہوتی تھی۔ گھر میں امی نے بھینس پالی ہوئی تھی گو کہ نوکر بھینس کا خیال رکھتے تھے مگر نوکر سرکاری اور بھینس گھر کی، اکثر کوتاہی ہوجاتی اور رات کے وقت گڈی کو بھوکی بھینس کو چرانے جانا پڑتا۔ صبح صبح ہسپتال کا ساراعملہ لسی کی لالچ میں آجاتا اور اماں ڈول بھر بھر کے انہیں دیے جاتیں۔ یہ بھی ان کا صدقہ ہوتا۔ چڑیا اپنے پروں کے نیچے بچوں کو بچانے کے لئے خدا سے دعا کئے جاتی اور صدقہ دیے جاتی۔ نانی کا گھر قریب تھا، صُبح صُبح خالص دودھ دینا گڈی کی ذمہ داری تھی کیوں کہ وہاں بھی چڑیا کے کچھ بچے رہتے تھے، بیوہ بہن کے بچے، نانی کے بچے۔ پھر تمام دن امی ہسپتال اور گھر کے درمیان گھن چکربنی رہتیں۔ چھوٹا شہر، صحت کی سہولتیں کم اور ہسپتال، ایک تمام دن کبھی زچہ بچہ، کبھی کھانسی نزلہ کی دوائی لکھ کر دیتی ہوئی امی۔ گڈی اسکول سے آکر چپکے سے امی کے ہسپتال چلی جاتی، کھڑکی سے لگی دیکھتی رہتی کب اماں کیا کرتی ہیں؟ اماںوہ پرچیاں لکھتیں، عورتوں کے دکھ درد سنتیں اور دلاسے دیتیں امی اسے فرشتہ سی لگتیں۔ کبھی کبھی اسے یہ بھی دکھائی دیتا کہ امی اپنا بڑا سا پرس کھول کر چند نوٹ نکال کر بھی کسی غریب مریض کو دیتیںکہ دودھ پی لینا۔ گڈی کو عجیب سا لگتا کہ دودھ سے کیا ہوگا۔ امی اسے دوائی کیوں نہیں دیتیںیا پھل کھانے کا کیوں کہتی ہیں؟ مگر وہ چڑیا جیسی عورت ہر ایک کا پیٹ بھرنے کی فکر میں رہتی تھی خود ان کی خوراک اتنی سادہ تھی کہ اس سادگی کی عادت بچوں کو بھی ہوگئی۔ یاد ہے وہ بچوں کو چوری بنا کر ایک ایک کے منہ میں نوالادیتی تھیں، خود لسی سے روٹی کھا کر رات کو ابا کے لئے دال چاول یا کوئی اور کھانا بنا کر سو جاتی تھیں۔ گڈی چولہے کے پاس بیٹھی ہوم ورک کرتی ابا کا انتظار کئے جاتی تھی اور جب ابا گھر اتے تو ان کو کھانا دینے کا کام گڈی کے سپرد تھا۔ رات کو ابا اکثر اپنے دفتر سے آتے تھے مگر کام تو تھا ان کے پاس مگر اماں کے لئے پیسے نہیں تھے۔ وہ جب بھی فیس لیتے اس کی فیس امی سے چھپاجاتے اس کے لئے تین خاندان والی عورت کو رات کو دیر تک کام کرنا پڑتا تھا۔ کسی قریب کے گاوُں میں بچے کی پیدائش پر جاتیں، کبھی کسی گاؤں میں اپنی چونچ میں فیس کے ساتھ اصلی گھی کا کنستر اور آموں یا کھجوروں کے ٹوکرے بھی ٹانگوں پر لدے ہوتے۔ ایک بار کنستر گر گیا اور سارا گھی زمین پر گر گیا۔ امی نے توڑی مل کے گھی کو بھینس کے چارے کے لئے رکھ لیا، بچے ساراسال گھی کانشان دیکھتے رہے اور بھینس اصلی گھی والا چارہ کھاتی رہی۔
    امی کی دوسرے شہر تبدیلی ہوگئی، ابا پرانے شہر رہ گئے اور وہ بچوں کی زندگی میں صرف عید تک محدودہوگئے۔ اماں نے تین خاندانوں کے بچے پال لئے۔ ننھی حسن میںیکتاتھی جو بڑی بڑی آنکھیں جو بچپن میں ترس کھانے پر مجبور کرتی تھیں دو آتشہ ہوگئیں۔ دوانشہ شراب ہوگیں۔ اماں نے بیاہ دیا۔ حسبِ معمول ابا نے بہت نخروں سے شرکت کی کہ کہیں اکلوتے کو ذمہ داری کا احساس نہ ہو۔ اس دن اماں نے اپنا زیور نکال کر ننھی کے آگے رکھ دیا۔ حسن کو اماں کے زیور نے چار چاند لگا دئیے دنیا نے اتنی خوب صورت دلہن کہا ںدیکھی تھی؟ جلنے والوں نے سولہ سالہ دلہن کی زندگی میں انگارے
    بھر دیئے اورچڑیا نے بے چین ہوکر یہ داغ لے لیا۔
    چہکنا بند ہوگئی۔ گڈی کواماں میں اپنا آپ نظر آتا تھا حالاں کہ اماں کہا کرتی تھیں کہ تو بالکل باپ جیسی ہے۔ گڈی کی شادی ہوگئی۔ شادی کے بعد اس نے بھی نوکری کرلی اور اپنی زندگی کے رنگ میں مصروف ہوگئی۔ اماں نے سارے ارمان نکال کر بیناکوبیاہا، اسے سسرال سے وہ لاڈ نہ ملا تو دوبارہ سے اماں کے گھر واپس آگئی، ایک داغ اور امی کے لئے۔ پھر پپو کوبیاہا لاڈلا اور اکلوتا ہونے نے اس کے پاس کوئی راستہ نہیں چھوڑا کہ وہ امی کو خوشی دیتا امی بیمار رہنا شروع ہوگئیں گڈی اپنی بھابھی سے مایوس ہوکر امی کو اپنے پاس لے آئی۔ زندگی نے گڈی کوبھی چڑیا بنا دیا تھا، چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ اس نے امی کو بھی اپنے پروں میں چھپالیا۔ آخری داغ اس چڑیا کے دل پر اس وقت لگا جب ننھی ایک دن اچانک سات بچے چھوڑکر اﷲکوپیاری ہوگئی۔ چڑیا چُپ ہو گئی۔ اس کے بعد چڑیا کو بولتے کسی نے نہیں سنا، بس گڈی تھی جس سے وہ بات کیا کرتی تھیں دل کی۔ ایک دن گڈی ان کو دوائی کھلا رہی تھی تین چار گولیاں دیکھ کر بولیں:
    ’’ائے ساریاں میں کھانیا ں نے؟‘‘ گڈی نے کہا:
    ’’آپ تو سب کو دواکھلاتی تھیں یہ شائد اس کی بددعا لگ گئی۔‘‘
    اماں مسکرا کر بولیں۔ ’’تو مجھے اپنے جیسی لگتی ہے گڈی کے لئے یہ ایک اعزاز تھا۔ اس کی آئیڈیل امی جوکہ ہمیشہ ان کی پڑھنے اور لکھنے کی عادت کے باعث اسے ابا سے تشبیہ دیتی تھیں۔ اسے اپنے جیسی کہہ رہی تھیں۔ اس نے ماں کے ہاتھ اور ماتھا چوم لیا، کافی دیران سے بیٹھ کر باتیں کرتی رہی اگلے دن وہ دفتر سے جلدی اُٹھ گئی کہ گھر کچھ پھل لیتی ہوئی جاؤ گھر میں مہمان آئے ہوئے تھے۔ امی کی وجہ سے گھر میں سب لوگ ان سے ملنے آتے تھے پھل لے کر وہ گھر پہنچی تو کہرام برپا تھا، بیٹی نے بتایا نانو فوت ہوگئی ہیں۔ اس کا دل ایک دم چھن سے ٹوٹا ہاتھ میں پھل کے تھیلے کو اس نے زمین پر رکھا اور سوچنے لگی ہر عورت چڑیا جیسی کیوں ہوتی ہے۔
    ٭…٭…٭




  • آبِ حیات — قسط نمبر ۲ (آدم و حوّا)

    آبِ حیات — قسط نمبر ۲ (آدم و حوّا)

    وہ پہلی صبح تھی جب اس کی آنکھ سالار سے پہلے کھلی تھی، الارم سیٹ ٹائم سے بھی دس منٹ پہلے۔ چند منٹ وہ اسی طرح بستر میں پڑی رہی۔ اسے اندازہ نہیں ہو رہا تھا کہ رات کا کون سا پہر ہے۔ بیڈ سائیڈ ٹیبل پر پڑا الارم کلاک اٹھا کر اس نے ٹائم دیکھا پھر ساتھ ہی الارم آف کر دیا۔ بڑی احتیاط سے وہ اٹھ کر بستر میں بیٹھی۔ سائیڈٹیبل کا لیمپ بڑی احتیاط سے آن کرتے ہوئے اس نے سلیپرز ڈھونڈے، پھر اس نے کھڑے ہوتے ہوئے سائیڈ ٹیبل کا لیمپ آف کیا۔ تب اس نے سالار کی سائیڈ کے لیمپ کو آن ہوتے دیکھا۔ وہ کس وقت بیدار ہوا تھا، امامہ کو اندازہ نہیں ہوا تھا۔
    ’’میں سمجھی تم سو رہے ہو۔‘‘ اس نے سالار کے سلام کا جواب دیتے ہوئے کہا۔
    ’’میں ابھی اٹھا ہوں، کمرے میں آہٹ کی وجہ سے۔‘‘
    وہ اسی طرح لیٹے لیٹے اب اپنا سیل فون دیکھ رہا تھا۔
    ’’لیکن میں نے تو کوئی آواز نہیں کی۔ میں تو کوشش کر رہی تھی کہ تم ڈسٹرب نہ ہو۔‘‘ امامہ کچھ حیران ہوئی تھی۔
    ’’میری نیند زیادہ گہری نہیں ہے امامہ! کمرے میں ہلکی سے ہلکی آہٹ بھی ہو تو میں جاگ جاتا ہوں۔‘‘ اس نے گہرا سانس لیتے ہوئے سیل سائیڈ ٹیبل پر رکھا۔
    ’’میں آئندہ احتیاط کروں گی۔‘‘ اس نے کچھ معذرت خوانہ انداز میں کہا۔
    ’’ضرورت نہیں، مجھے عادت ہے اسی طرح کی نیند کی۔ مجھے اب فرق نہیں پڑتا۔‘‘ اس نے بیڈ پر پڑا ایک اور تکیہ اٹھا کر اپنے سر کے نیچے رکھا اور آنکھیں بند کر لیں۔ وہ واش روم میں جانے سے پہلے چند لمحے اسے دیکھتی رہی۔ ہر انسان ایک کتاب کی طرح ہوتا ہے۔ کھلی کتاب جسے کوئی بھی پڑھ سکتا ہے۔ سالار بھی اس کے لیے ایک کھلی کتاب تھا لیکن چائنیز زبان میں لکھی ہوئی کتاب۔
    اس دن اس نے اور سالار نے سحری اکٹھے کی اور ہر روز کی طرح سالار، فرقان کے ساتھ نہیں گیا۔ وہ شاید پچھلے کچھ دنوں کی شکایتوں کا ازالہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ امامہ کا موڈ رات کو ہی بہت اچھا ہو گیا تھا اور اس میں مزید بہتری اس کی اس ’’توجہ‘‘ نے کی۔
    مسجد میں جانے سے پہلے آج پہلی بار اس نے اسے مطلع کیا۔
    ’’امامہ! تم میرا انتظار مت کرنا۔ نماز پڑھ کر سو جانا، میں کافی لیٹ آوؑں گا۔‘‘
    اس نے جاتے ہوئے اسے تاکید کی لیکن وہ اس کی تاکید کو نظر انداز کرتے ہوئے اس کے انتظار میں بیٹھی رہی۔
    وہ ساڑھے آٹھ بجے اس کے آفس جانے کے بعد سوئی تھی۔ دوبارہ اس کی آنکھ گیارہ بجے ڈور بیل کی آواز پر کھلی۔ نیند میں اپنی آنکھیں مسلتے ہوئے، اس نے بیڈ روم سے باہر نکل کر اپارٹمنٹ کا داخلی دروازہ کھولا۔ چالیس، پینتالیس سالہ ایک عورت نے اسے بے حد پُرتجسس نظروں سے دیکھتے ہوئے سلام کیا۔
    ’’مجھے نوشین باجی نے بھیجا ہے۔‘‘ اس نے اپنا تعارف کروایا۔
    امامہ کو ایک دم یاد آیا کہ اس نے نوشین کو صفائی کے لیے ملازمہ کو کل کے بجائے اگلے دن بھیجنے کے لیے کہا تھا۔ وہ اسے راستہ دیتی ہوئی دروازے سے ہٹ گئی۔
    ’’اتنی خوشی ہوئی جب نوشین باجی نے مجھے بتایا کہ سالار صاحب کی بیوی آگئی ہے۔ مجھے تو پتا ہی نہیں چلا کہ کب شادی کر لی سالار صاحب نے۔ ‘‘ امامہ کے پیچھے اندر آتے ہوئے ملازمہ کی باتوں کا آغاز ہو گیا تھا۔
    ’’کہاں سے صفائی شروع کرنی ہے تم نے؟‘‘
    امامہ کی فوری طور پر سمجھ میں نہیں آیا کہ اسے صفائی کے بارے میں کیا ہدایات دے۔
    ’’باجی! آپ فکر نہ کریں۔ میں کر لوں گی، آپ چاہے آرام سے سو جاؤ۔‘‘ملازمہ نے اسے فوری آفر کی۔ یہ شاید اس نے اس کی نیند سے بھری ہوئی آنکھوں کو دیکھ کر کہا تھا۔
    ’’نہیں، تم لاؤنج سے صفائی شروع کرو، میں ابھی آتی ہوں۔‘‘
    آفر بری نہیں تھی، اسے واقعی نیند آرہی تھی لیکن وہ اس طرح اسے گھر میں کام کرتا چھوڑ کر سو نہیں سکتی تھی۔
    واش روم میں آکر اس نے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے، کپڑے تبدیل کر کے بال سمیٹے اور لاؤنج میں نکل آئی۔ ملازمہ ڈسٹنگ میں مصروف تھی۔ لاؤنج کی کھڑکیوں کے بلائنڈز اب ہٹے ہوئے تھے،سورج ابھی پوری طرح نہیں نکلا تھا لیکن اب ھند نہ ہونے کے برابر تھی۔ لاؤنج کی کھڑکیوں سے باہر پودے دیکھ کر اسے انہیں پانی دینے کا خیال آیا۔
    ملازمہ ایک بار پھر گفتگو کا آغاز کرنا چاہتی تھی لیکن وہ اسے بالکونی کی طرف جاتے دیکھ کر چپ ہو گئی۔
    جب وہ پودوں کو پانی دے کر فارغ ہوئی تو ملازمہ لاؤنج صاف کرنے کے بعد اب سالار کے اس کمرے میں جا چکی تھی جسے وہ اسٹڈی روم کی طرح استعمال کرتا تھا۔
    ’’’سالار صاحب بڑے اچھے انسان ہیں۔‘‘
    تقریباً ڈیڑھ گھنٹے میں اپارٹمنٹ کی صفائی کرنے کے بعد امامہ نے اس سے چائے کا پوچھا تھا۔ چائے پیتے ہوئے ملازمہ نے ایک بار پھر اس سے باتوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔ امامہ اس کے تبصرے پر صرف مسکرا کر خاموش ہو گئی۔
    ’’آپ بھی ان کی طرح بولتی نہیں ہیں؟‘‘ ملازمہ نے اس کے بارے میں اپنا پہلا اندازہ لگایا۔
    ’’اچھا، سالار بھی نہیں بولتا۔‘‘ امامہ نے جان بوجھ کر اسے موضوع گفت گوبنایا۔
    ’’کہاں جی۔ حمید بھی یہی کہتا ہے صاحب کے بارے میں۔‘‘
    ملازمہ نے شاید سالار کے ملازم کا نام لیا تھا۔
    ’’لیکن باجی! بڑی حیا ہے آپ کے آدمی کی آنکھ میں۔‘‘
    اس نے ملازمہ کے جملے پر جیسے بے حد حیران ہو کر اس کا چہرہ دیکھا تھا۔ ملازمہ بڑی سنجیدگی سے بات کر رہی تھی۔
    ’’جیسے فرقان صاحب ہیں ویسی ہی عادت سالار صاحب کی ہے۔ فرقان صاحب تو خیر سے بال بچوں والے ہیں لیکن سالار صاحب تو اکیلے رہتے تھے ادھر۔ میں تو کبھی بھی اس طرح اکیلے مردوں والے گھروں میں صفائی نہ کروں۔ بڑی دنیا دیکھی ہے جی میں نے، لیکن یہاں کام کرتے ہوئے کبھی نظر اٹھا کر نہیں دیکھا صاحب نے مجھے۔ میں کئی بار سوچتی تھی کہ بڑے ہی نصیب والی عورت ہو گی، جو اس گھر میں آئے گی۔‘‘
    ملازمہ فراٹے سے بول رہی تھی۔
    ہیٹر کے سامنے صوفے پر نیم دراز زمامہ اس کی باتیں سنتی کسی سوچ میں گم رہی۔ ملازمہ کو حیرت ہوئی تھی کہ باجی اپنے شوہر کی تعریف پر خوش کیوں نہیں ہوئی۔ ’’باجی‘‘ کیا خوش ہوتی، کم از کم اسے اتنی توقع تو تھی اس سے کہ وہ گھر میں کام کرنے والی کسی عورت کے ساتھ کبھی انوالو نہیں ہو سکتا۔ وہ مردوں کی کوئی بری ہی بد ترین قسم ہوتی ہو گی، جو گھر میں کام کرنے والی ملازمہ پربھی نظر رکھتے ہوں گے اور سالار کم از کم اس قسم کے مردوں میں شمار نہیں ہو سکتا تھا۔
    ملازمہ اس کی مسلسل خاموشی سے کچھ بے زار ہو کر جلدی چائے پی کر فارغ ہو گئی۔ امامہ اس کے پیچھے دروازہ بند کرنے گئی تو ملازمہ نے باہر نکلنے سے پہلے مڑ کر اس سے کہا۔
    ’’باجی! کل ذرا جلدی آجاؤں آپ کے گھر؟‘‘
    امامہ ٹھٹک کر رک گئی۔ اس کے چہرے پر یقینا کوئی ایسا تاثر تھا جس نے ملازمہ کو کچھ بوکھلا دیا تھا۔
    ’’باجی! مجھے چھوٹے بچے کو ہسپتال لے کر جانا ہے، اس لیے کہہ رہی تھی۔‘‘ اس نے جلدی سے کہا۔
    ’’ہاں، ٹھیک ہے۔‘‘ امامہ نے بہ مشکل جیسے خود پر قابو پاتے ہوئے کہا اور دروازہ بند کر دیا۔ کل جلدی آنے کے مطالبے نے اسے ساکت نہیں کیا تھا بلکہ اسے ساکت کیا تھا اس کے تین لفظوں نے… ’’آپ کے گھر‘‘ یہ ’’اس کا گھر ‘‘ تھا جس کے لیے وہ اتنی سالوں سے خوار ہوتی پھر رہی تھی۔ جس کی آس میں وہ کتنی بار جلال انصر کے پیچھے گڑ گڑانے گئی تھی۔ وہ بے یقینی سے لاؤنج میں آکر ان دیواروں کو دیکھ رہی تھی جنہیں دنیا ’’اس کے گھر‘‘ کے نام سے شناخت کر رہی تھی، وہ واقعی اس کا گھر تھا۔ وہ پناہ گاہیں نہیں تھیں جہاں وہ اتنے سال سرجھکا کر ممنون و احسان مند بن کر رہی تھی۔ آنسوؤں کا ایک ریلا آیا تھا اس کی آنکھوں میں… بعض اوقات انسان سمجھ نہیں پاتا کہ وہ روئے یا ہنسے… روئے ، تو کتنا روئے… ہنسے، تو کتنا ہنسے… وہ بھی کچھ ایسی ہی کسی کیفیت سے گزر رہی تھی۔ وہ بچوں کی طرح ہر کمرے کا دروازہ کھول کھول کر ایک جگہ سے دوسری جگہ جا رہی تھی۔ وہ جا سکتی تھی وہاں… جو چاہے کر سکتی تھی… یہ اس کا گھر تھا۔ یہاں کوئی جگہ اس کے لیے ’’علاقہ غیر‘‘ نہیں تھی۔ اسے بس اتنی سی دنیا ہی چاہیے تھی اپنے لیے… کوئی ایسی جگہ جہاں وہ استحقاق کے ساتھ رہ سکتی ہو… سالار یک دم جیسے کہیں پیچھے چلا گیا تھا۔ گھر کے معاملے میں عورت کے لیے ہر مرد پیچھے رہ جاتا ہے۔
    سالار نے اسے دوبار وقفے وقفے سے سیل پر کال کی لیکن امامہ نے ریسیو نہیں کی… سالار نے تیسری بار پھر پی ٹی سی ایل پر کال کی، اس بار امامہ نے ریسیو کی لیکن اس کی آواز سنتے ہی سالار کو اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ رو رہی تھی۔ اسے اس کی آواز بھر آئی ہوئی لگی۔ وہ بہت پریشان ہوا۔
    ’’کیا ہوا؟‘‘
    ’’کچھ نہیں۔‘‘
    وہ دوسری طرف جیسے اپنے آنسوؤں اور آواز پر قابو پانے کی کوشش کر رہی تھی۔
    ’’کیوں رو رہی ہو؟‘‘
    سالار کی واقعی کچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیوں رو رہی ہے۔ رات ہر جھگڑے کا اختتام بے حد خوشگوار انداز میں ہوا تھا۔ وہ صبح دروازے تک مسکرا کر اسے رخصت کرنے آئی تھی۔ پھر اب… ؟ وہ اُلجھ رہا تھا۔
    دوسری طرف امامہ کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ اسے اپنے رونے کا کیا جواز پیش کرے۔ اس سے یہ تو نہیں کہہ سکتی تھی کہ وہ اس لیے رو رہی ہے کہ کسی نے اسے ’’گھر والی‘‘ کہا ہے۔ سالار یہ بات نہیں سمجھ سکتا تھا… کوئی بھی مرد نہیں سمجھ سکتا۔
    ’’مجھے امی اور ابو یاد آرہے رہیں۔‘‘ سالار نے بے اختیار ایک گہرا سانس لیا۔
    یہ وجہ سمجھ میں آتی تھی… وہ یک دم پر سکون ہوا۔ ادھر وہ بالکل خاموش تھی۔ ماں باپ کا ذکر کیا تھا، جھوٹ بولا تھا لیکن اب رونے کی جیسے ایک اور وجہ مل گئی تھی۔ جو آنسو پہلے تھم رہے تھے، وہ ایک بار پھر سے برسنے لگے تھے۔ کچھ دیر وہ چپ چاپ فون پر اس کی سسکیاں اور ہچکیاںسنتا رہا۔
    وہ اس غیر ملکی بینک میں انویسٹمنٹ بینکنگ کو ہیڈ کرتا تھا۔ چھوٹے سے چھوٹا investment scam پکڑ سکتا تھا، خسارے میں جاتی بڑی سے بڑی کمپنی کے لیے بیل آؤٹ پلان تیار کر سکتا تھا۔ کمپنیز کے مرجر پیکجز تیار کرنا اس کے بائیں ہاتھ کا کام تھا۔ وہpoint one percentکیprecision کے ساتھ ورلڈ اسٹاک مارکیٹیں کے ٹرینڈز کی پیش بینی کر سکتاتھا۔ مشکل سے مشکل سرمایہ کار کے ساتھ سودا طے کرنے میں اسے ملکہ حاصل تھا لیکن شادی کے اس ایک ہفتے کے دوران ہی اسے یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ امامہ کو روتے ہوئے چپ نہیں کرا سکتا، نہ وہ ان آنسوؤں کی وجہ ڈھونڈ سکتا تھا، نہ انہیں روکنے کے طریقے اسے آتے تھے۔ وہ کم از کم اس میدان میں بالکل اناڑی تھا۔
    ’’ملازمہ نے گھر صاف کیا تھا آج؟‘‘ ایک لمبی خاموشی کے بعد اس نے امامہ کی توجہ رونے سے ہٹانے کے لیے جس موضوع اور جملے کا انتخاب کیا وہ احمقانہ تھا۔ امامہ کو جیسے یقین نہیں آیا کہ یہ بتانے پر کہ اسے اپنے ماں باپ یاد آرہے ہیں، سالار نے اس سے یہ پوچھا ہے۔ پچھلی رات کے سالار کے سارے لیکچرز کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس نے ریسیور کریڈل پر پٹک دیا اور فون منقطع ہوتے ہی سالار کو اپنے الفاظ کے غلط انتخاب کا احساس ہو گیا تھا۔ اپنے سیل کی تاریک اسکرین کو دیکھتے ہوئے اس نے بے اختیار گہرا سانس لیا۔
    اگلے پانچ منٹ وہ سیل ہاتھ میں لیے بیٹھا رہا۔ اسے پتا تھا اس نے اب کال کی تو وہ ریسیو نہیں کرے گی۔ پانچ منٹ کے بعد اس نے دوبارہ کال کی۔ خلاف توقع امامہ نے کال ریسیو کی۔ اس بار اس کی آواز میں خفگی تھی لیکن وہ بھرائی ہوئی نہیں تھی۔ وہ یقینا رونا بند کر چکی تھی۔
    ’’آئی ایم سوری!؟‘‘ سالار نے اس کی آواز سنتے ہی کہا۔
    امامہ نے جواب نہیں دیا۔ وہ اُس وقت اس کی معذرت نہیں سن رہی تھی۔ وہ صرف ایک ہی بات کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کر رہی تھی، اسے سالار پر غصہ کیوں آجاتا تھا…؟ یوں چھوٹی چھوٹی باتوں پر… اتنے سالوں میں جس ایک احساس کو وہ مکمل طور پر بھول گئی تھی، وہ غصے کا احساس ہی تھا۔ یہ احساس اس کے لیے اجنبی ہو چکا تھا۔ اتنے سالوں سے اس نے اللہ کے علاوہ کسی سے بھی کوئی گلہ، کوئی شکایت نہیں کی تھی۔ کسی سے ناراض ہونا یا کسی کو خفگی دکھانا تو بہت دور کی بات ہے، پھر اب یہ احساس اس کے اندر کیوں جاگ اٹھا تھا۔ سعیدہ اماں، ڈاکٹر سبط علی اور ان کی فیملی… اس کے کلاس فیلوز… کولیگز… ان میں سے کبھی کسی پر اسے غصہ نہیں آیا تھا۔ ہاں، کبھی کبھار شکایت ہوتی تھی لیکن وہ شکایت کبھی لفظوں کی شکل اختیار نہیں کر سکی، پھر اب کیا ہو رہا تھا اسے؟
    ’’امامہ پلیز بولو… کچھ کہو۔‘‘ وہ چونکی۔
    ’’نماز کا وقت نکل رہا ہے، مجھے نماز پڑھنی ہے۔‘‘ اس نے اسی الجھے ہوئے انداز میں اس سے کہا۔
    ’’تم خفا نہیں ہو؟‘‘ سالار نے اس سے پوچھا۔
    ’’نہیں۔‘‘ اس نے مدھم آواز میں کہا۔
    وہ نماز کے بعد دیر تک اسی ایک سوال کا جواب ڈھونڈتی رہی اور اسے جواب مل گیا… نو سال میں اس نے پہلی بار اپنے لیے کسی کی زبان سے محبت کا اظہار سنا تھا۔ وہ احسان کرنے والوں کے ہجوم میں تھی، پہلی بار کسی محبت کرنے والے کے حصار میں آئی تھی۔ گلہ، شکوہ، ناز، نخرہ، غصہ، خفگی یہ سب کیسے نہ ہوتا، اسے ’’پتا‘‘ تھا کہ جب وہ روٹھے گی تو وہ اسے منا لے گا، خفا ہو گی تو وہ اسے وضاحتیں دے گا، مان تھا یا گمان… لیکن جو کچھ بھی تھا، غلط نہیں تھا۔ اتنے سالوں میں جو کچھ اس کے اندر جمع ہو گیا تھا، وہ کسی لاوے کی طرح نکل رہا تھا۔ آہستہ آہستہ وہ نارمل ہو رہی تھی۔
    ٭٭٭٭




  • آبِ حیات — قسط نمبر ۱ (آدم و حوّا)

    آبِ حیات — قسط نمبر ۱ (آدم و حوّا)

    پیر کاملؐ سے آبِ حیات تک
    ’’آب حیات‘‘ پیر کاملؐ کا دوسرا حصہ ہے جسے میں نے 2004ء میں پیر کاملؐ کی اشاعت کے فوراً بعد لکھنے کے بجائے کچھ سال بعد آپ کے سامنے لانے کا فیصلہ اس لئے کیا تھا کہ پیر کاملؐ کی کامیابی کی گرد اور بازگشت میں آبِ حیات کا موضوع نظر انداز نہ ہوجائے۔
    ’’آب ِ حیات‘‘ کا موضوع ’’سود‘‘ ہے… وہ فتنہ جسے نبی کریمؐ نے اپنے آخری خطبے میں حرام قرار دیتے ہوئے اس کی بیخ کُنی کا حکم دیا لیکن ان واضح احکامات کے باوجود آج بھی مسلمانوں کی زندگی کا بالواسطہ اور بلاواسطہ حصہ بنا ہوا ہے۔
    بہت سے قارئین کو سود سے پاک ایک طاقتور اسلامی مالیاتی نظام کا وہ خاکہ جو ’’آبِ حیات‘‘ پیش کررہا ہے شاید ایک خیالی پلاؤ اور آئیڈیل ازم سے زیادہ کچھ نہ لگے، اس کے باوجود میں اپنے کرداروں اور کہانی کو اسی یقین اور آئیڈیل ازم کے ساتھ پیش کررہی ہوں کہ لکھے جانے والے الفاظ دنیا کی بڑی بڑی تحاریک کے آغاز کا باعث بنتے ہیں۔ کتابوں کے صفوں پر تخلیق ہونے والے ’’رول ماڈلز‘‘ حقیقی زندگی کے بہت سارے ’’ہیروز‘‘ کو جنم دینے کا باعث بنتے ہیں اور آنے والے زمانوں میں ایک زمانہ ایسا ضرور آئے گا جس میں سود سے پاک ایک اسلامی مالیاتی نظام سے دنیا بھر کے انسان اسی طرح مستفید ہوں گے جس طرح ہم آج مغرب کے دیئے ہوئے سودی نظام پر انحصار کررہے ہیں۔
    سود میں استحصال ہے، فلاح نہیں ہے اور قرآن میں اس کی ممانعت انسانوں کی اپنی بھلائی کے لئے ہے… بالکل اسی طرح جیسے قرآن کے باقی تمام احکامات۔
    لفظ آبِ حیات جن چھے حروف سے مل کر بنا ہے، ان میں ہر حرف انسانی زندگی کی ایک بنیادی اسٹیج کو بیان کرتا ہے :
    آ: آدم و حوّا
    ب: بیت العنکبوت
    ح: حاصل و محصول
    ی: یا مجیب السائلین
    ا: ابداً ابداَ
    ت: تبارک الّذی
    یہ چھے الفاظ پوری انسانی زندگی کا خلاصہ کرتے ہیں۔
    سالار اور امامہ آبِ حیات میں وہی سفر طے کرتے ہیں جو ہم سب کی زندگی کا سفر ہے۔
    آدم و حوّا کا ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہوکر زندگی بھر کا ساتھی بن جانا۔
    دنیا میں اس جنت جیسا گھر بنانے کی خواہش اور سعی میں جت جانا جہاں سے وہ دونوں نکالے گئے تھے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ ان کا گھر بیت العنکبوت (مکڑی کا جالا) جیسی ناپائیداری رکھتا ہے جو بننے میں عرصہ لیتا ہے اور ٹوٹنے میں لمحہ…
    حاصل و محصول کا چکر… کیا کھویا کیا پایا؟ کیا پانے کے لئے کیا کیا کھویا؟ کامیابی، خواب، خواہشات اور تمناؤں کا ایک گرداب جو زندگی کو گھن چکر بنادیتا ہے۔
    اس کے بعد اگلا مرحلہ جہاں آزمائشیں ہوتی ہیں… اتنی اور ایسی ایسی آزمائشیں کہ بس اللہ یاد آتا ہے اور وہی کام آتا ہے کیوں کہ وہ ہی مجیب السائلین ہے۔
    اور پھر وہ مرحلہ جب انسان اپنی اگلی نسل کے ذریعے اپنے عروج کا دوام چاہتا ہے اور اسے احساس ہوتا ہے کہ اس زندگی کو زوال ہے۔
    اور پھر وہ جو زندگی کے ان سارے مرحلوں سے نکل آتے ہیں، مومن بن کے انسانی پستیوں سے نکل کے۔ ان کے لئے تبارک الّذی… اللہ کی ذات جو تمام خوبیوں کی املک ہے۔ بزرگ و برتر ہے اور اپنے بندوں کو سب عطا کردینے پر قادر ہے… جس کی محبت ’’آبِ حیات‘‘ ہے جو انسان کو ابدی جنت میں لے جاتا ہے۔ دنیا ختم ہوجاتی ہے لیکن زندگی نہیں۔
    چند الفاظ آپ سب کے لئے… آپ سب سے ملنے والی عزت اور محبت وہ بیج ہے جس سے میری ہر تحریر پھوٹتی ہے۔ آپ سب کا بہت شکریہ… میں آپ کی داد و ستائش کا بدلہ نہ پہلے کبھی دے سکی، نہ اب دے سکتی ہوں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی نعمتوں اور برکات سے نوازے اور وہی بہترین اجر دینے والا ہے۔
    والسلام
    عمیرہ احمد




  • ہدایت — ساجدہ غلام محمد

    ہدایت — ساجدہ غلام محمد

    ’’دیکھو تو ذرا اس کے کپڑے!‘‘ سمیرا نے خرد کی طرف اپنا موبائل بڑھایا۔ سکرین پر پاکستانی شوبز کا صفحہ کھلا تھا جس میں ملک کی معروف ایکٹریس شیمی کی قابلِ اعتراض تصویر کے ساتھ ایک کار حادثے میں زخمی ہوجانے کی خبر تھی۔
    ’’توبہ! حلیہ تو دیکھو ذرا۔ نجانے اس کے والدین کیا سوچتے ہوں گے جب انہیں اس کی فلموں اور حرکتوں کے بارے میں پتا چلتا ہوگا۔‘‘ خرد نے تصویر کو تعجب سے دیکھتے ہوئے تبصرہ کیا۔دونوں یونیورسٹی کینٹین کے سامنے بنے ایک بنچ پر بیٹھی تھیں۔
    ’’غیرت کہاں ہوتی ہے ان میں۔ ایک بار پیسے اور شہرت کا نشہ لگ جائیتو پھر کچھ قابلِ اعتراض نہیں لگتا۔ خیر! ہمیں کیا۔‘‘ سمیرا نے کیپری کٹ ٹراؤزر والی ایک ٹانگ پر دوسری ٹانگ رکھ کر جھلاتے ہوئے کہا۔ بائیں والے نے افسوس سے دائیں والے کو دیکھا اور رجسٹر کھول کر اس میں کچھ درج کرنے لگا۔
    ٭…٭…٭
    ’’اف!ان کا حلیہ دیکھو ذرا۔‘‘ شگفتہ نے حلیمہ کو ٹہوکا دیتے ہوئے کینٹین کے سامنے بنے بنچ پر بیٹھی خرد اور سمیرا کی طرف آنکھوں سے اشارہ کیا۔
    ’’توبہ! ٹراؤزر میں اتنا لمبا کٹ؟ حد ہی ہو گئی۔ کیا ان کے والدین کو اپنی بیٹیوں کا لباس نظر نہیں آتا ؟ نہ جانے ان کی مائیں انہیں اتنے واہیات فیشن کیسے کرنے دیتی ہیں۔‘‘ جینز کی پینٹ کے اوپر لمبی اور کُھلی سی قمیص پہنی حلیمہ نے ناگواری سے خرد اور سمیرا کی جانب دیکھا تھا۔
    ’’ سب تربیت کی بات ہوتی ہے۔ ہم بھی تو ہیں، ہم بھی فیشن کرتی ہیں لیکن ایک حد میں رہ کر۔ خیر! ہمیں کیا۔‘‘شگفتہ نے کہا اور دونوں کینٹین کے اندر چلی گئیں۔بائیں والے نے افسوس سے دائیں والے کو دیکھا اور رجسٹر کھول کر اس میں کچھ درج کرنے لگا۔
    ٭…٭…٭
    ’’حلیہ دیکھو ذرا ان کا۔‘‘کوثر نے چاٹ کھاتی اسود کو ایک جانب متوجہ کیا تو اسود نے بھی اس کی نظروں کے تعاقب میں کینٹین کے دروازے کی جانب دیکھا۔ وہاں سے شگفتہ اور حلیمہ اندر داخل ہوئی تھیں اور اب کینٹین والے سے چیزیں خرید رہی تھیں۔
    ’’توبہ! دوپٹہ بھی نہیں لیا ہوا انہوں نے تو۔اتنی بے شرمی!حد ہے بھئی۔‘‘اسود کی آنکھوں اور لہجے میں ناگواری در آئی۔
    ’’آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ ان کے ماں باپ کو نظر نہیں آتا کہ اور کچھ نہیں تو کم از کم دوپٹا تو اوڑھا دیں انہیں۔‘‘کوثر نے سر کے کونے پر ٹکے دوپٹے سے جھانکتے بالوں کو کان کے پیچھے اڑسا۔
    ’’ خیر! ہمیں کیا۔ ابھی کلاس شروع ہونے میں تھوڑا وقت رہتا ہے۔ آؤ فوٹو کاپی شاپ سے ہو آئیں۔ میں نے کچھ نوٹس کی فوٹو کاپی کروانا تھے۔‘‘ اسود نے چاٹ کا آخری لقمہ لے کر اٹھتے ہوئے کہا تھا۔ کوثر بھی بیگ سنبھالتے اٹھ کھڑی ہوئی۔ بائیں والے نے افسوس سے دائیں والے کو دیکھا اور رجسٹر کھول کر اس میں کچھ درج کرنے لگا۔
    ٭…٭…٭
    ’’یہ دیکھو ذرا، دوپٹے کا مذاق۔‘‘ فوٹو کاپی دکان سے آتی ارم نے سامنے سے آتی کوثر اور اسود کو دیکھتے ہوئے منہ بنایا۔ اس کے ساتھ چلتی شمامہ نے بھی دونوں کو گھورا۔
    ’’بس دوپٹہ سر پر ڈال لیتی ہیں اور سمجھتی ہیں کہ یہ کافی ہے۔ سارے بال نظر آ رہے ہیں، سینہ بھی دوپٹے سے صحیح طرح نہیں ڈھانپتیں۔حیرت ہے ان کی امی کو نظر نہیں آتا کیا؟ یہ لمبا سا دوپٹا فیشن کے طور پر لے لیتی ہیں، سنبھالا جاتا نہیں ہے۔‘‘شمامہ نے بھی دبے دبے لہجے میں تبصرہ کیا تھا۔دونوں لڑکیاں ان کے پاس سے گزر چکی تھیں۔
    ’’دل تو میرا بھی کرتا ہے کہ بس دوپٹہ ہی لے لیا کروں۔ اتنی گرمی میں یہ عبایا اور پھر اس کے اوپر سکارف، ٹھیک ٹھاک پسینہ آ جاتا ہے لیکن پھر یہی سوچتی ہوں کہ اچھا نہیں لگتا۔ اب اتنی عادت ہو گئی ہے عبائے اور سکارف کی کہ ان کے بغیر اپنا آپ ادھورا سا لگتا ہے اور انہیں دیکھو تو اپنی طرف سے پردہ کیے بیٹھی ہیں۔ خیر! ہمیں کیا۔‘‘ ارم نے ٹشو سے ماتھے پر آتا پسینہ پونچھا اور دونوں کلاس روم کی جانب بڑھ گئیں۔ بائیں والے نے افسوس سے دائیں والے کو دیکھا اور رجسٹر کھول کر اس میں کچھ درج کرنے لگا۔
    ٭…٭…٭
    ’’لاحول ولا قوۃ الا باللہ۔‘‘ نورین کے منہ سے بے اختیار نکلا۔
    ’’کیا ہوا؟‘‘ طیبہ نے چونک کر اس کی جانب اور پھر اس کی نظروں کے تعاقب میں سامنے کی طرف دیکھا۔سامنے ارم اور شمامہ ہنستی بولتی ہوئی ایک کلاس روم میں داخل ہو رہی تھیں۔
    ’’عبایہ دیکھا تھا تم نے ان کا؟ اتنا چست اور فیشن ایبل سا۔ کہیں سے نہیں لگ رہا تھا کہ یہ پردے کے لیے پہنا گیا ہے۔‘‘ نورین نے چہرے سے کھسکتے نقاب کو دوبارہ سیٹ کرتے ہوئے کہا۔
    ’’اس طرح کے پردے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس پردے کا بھی پردہ ہونا چاہیے۔‘‘ طیبہ تمسخرانہ لہجے میں ہنسی۔ اس کی بات سن کر نورین بھی ہنس پڑی۔
    ’’ہاں تو اور کیا۔ اتنے جھلمل کرتے عبائے سے کیا خاک پردے کا مقصد پورا ہو گا۔مجھے تو بس کالے رنگ کا سادہ سا عبایہ اور نقاب پسند ہے۔کسی کو بُرا لگے تو لگے، مجھے دنیا کو تھوڑی دکھانا ہے۔ افسوس تو ان لڑکیوں اور ان کے ماں باپ پر ہوتا ہے، پردے کے نام پر زیادہ پُرکشش عبائے پہن لیتی ہیں اور والدین سوچتے بھی نہیں۔‘‘نورین نے کہا تھا۔
    ’’خیر! ہمیں کیا۔قیامت کے دن پتا چل جائے گا کہ اس طرح کا شوخ پردہ کرنے سے کتنا ثواب کما لیا انہوں نے۔‘‘ طیبہ نے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملائی تھی۔ بائیں والے نے افسوس سے دائیں والے کو دیکھا اور رجسٹر کھول کر اس میں کچھ درج کرنے لگا۔
    ٭…٭…٭
    ’’اللہ!!! میرے اللہ!!! ‘‘ اس کا وجود کانپ رہا تھا۔ وہ زاروقطار رو رہی تھی۔
    ’’میرے مالک! مجھے معاف کر دے! میرے مولا! بس مجھے معاف کر دے، میں بہت زیادہ بھٹک گئی تھی۔ اس دنیا کی لذت نے میری آنکھوں پر پٹی باندھ دی تھی۔ مجھے اس چمک دمک میں تُو یاد ہی نہ آیا، اس دنیا کی شہرت نے مجھے اپنے جال میں پھنسا لیا تھا۔ میرے رب! مجھے معاف کر دے۔ میں تیرے در پر سچی توبہ لے کر آئی ہوں، میں اس شوبز کی گند بھری دنیا سے توبہ کرتی ہوں۔ بس میرے مالک! میرے دل کو نور اور ہدایت سے بھر دے۔ میرے اللہ! مجھے معاف کر دے! مجھے بس ایک بار معاف کر دے۔ میں تجھ سے معافی کی، ہدایت کی طلب گار ہوں۔ اے اللہ! ‘‘ پٹیوں میں لپٹے ہاتھوں سے اپنا منہ ڈھانپے شیمی ہچکیوں کے ساتھ اللہ کی بارگاہ میں سچی توبہ کر رہی تھی۔ بائیں کندھے پر بیٹھے فرشتے نے خوشی سے دائیں کندھے پر بیٹھے فرشتے کی جانب دیکھا۔شیمی کا گناہوں سے بھرا ہوا سیاہ رجسٹر یک لخت بالکل صاف ہو گیا تھا!
    اور اللہ جسے چاہے ہدایت سے نواز دے۔ ہمیں دوسروں کے لیے ہدایت کی دعا کرنے سے زیادہ پُرکشش کام ان پر منفی تبصرہ کرنا ہے۔کیا واقعی ان منفی تبصروں کی اللہ کے نزدیک کوئی اہمیت ہے؟
    ٭…٭…٭




  • اخوّت و احساس — عمارہ کامران

    اخوّت و احساس — عمارہ کامران

    ماہا آج بہت خوش تھی کیوں کہ چھٹیاں شروع ہو چکی تھیں اور اس بار تو عید بھی چھٹیوں میں آنی تھی۔ بڑی عید بھی آنے والی تھی اور اس بار تو وہ دو تین مہینے پہلے ہی قربانی کے لیے بکرا لانے والی تھی۔ اس کے بابا نے اس سے وعدہ کیا تھا کہ اگلی گرمیاں شروع ہوتے ہی اسے اس کی پسند کا بکرا لے دیں گے۔ ہر سال دونوں عیدیں خوب دھوم دھام سے منائی جاتیں اور اس بار تو وہ اپنی دوستوں اور کلاس فیلوز کو بھی بلانے والی تھی۔
    آج اتوار کا دن تھا۔ اس کے بابا جانی کی آج آفس سے چھٹی تھی جس کا صاف مطلب تھا کہ آج وہ اسے بکرا لے کر دینے والے ہیں، پھر مما کے ساتھ ڈھیروں شاپنگ اور من پسند کھلونے، آج تو اسے خوب مزا آنے والا تھا۔
    صبح سے ہی ماہا ادھر ادھر ہنستی مسکراتی اچھلتی کودتی پھر رہی تھی۔ کبھی بابا کو یاد دہانی کرواتی کہ آج اسے کلرز، گلیٹرز اور اسٹیکرز وغیرہ لینے ہیں تاکہ وہ اپنی دوستوں کے لیے دعوتی کارڈز بنا سکے تو کبھی مما کو بتاتی کہ اسے اپنی دوستوں کے لیے گفٹ بھی لینے ہیں۔ ایک لمبی لسٹ تھی اس کے پاس فرمائشوں کی۔ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی وہ چاہتی تھی کہ سب کو بڑی عید کے لیے دعوت دے۔
    اچانک ماہا کا دھیان دادی امی کی طرف گیا۔ آج اماں جی کمرے سے باہر آئیں اور نہ اس کے ساتھ باغ میں ہی گئیں۔ اس نے تو انہیں ناشتا کی ٹیبل پر بھی نہیں دیکھا۔ ویسے تو وہ ہمیشہ صبح کا ناشتا اپنے کمرے میں ہی کرتیں لیکن اتوار کو وہ بابا اور اس کے گھر پر ہونے کی وجہ سے ان سب کے ساتھ ناشتا کرتیں تو پھر آج وہ کیوں نہیں آئیں اس نے سوچا کہیں دادی امی بیمار تو نہیں۔
    مما! اماں جی نے ناشتا کر لیا؟‘‘ اس نے اُبلا ہوا انڈا کھاتے ہوئے سوال کیا۔
    ’’نہیں! ابھی نہیں کیا۔ کہہ رہی ہیں ان کا دل نہیں چاہ رہا۔‘‘ اس کی بریڈ پر مکھن لگاتے ہوئے مما نے جواب دیا۔
    ’’کیوں نہیں دل چاہ رہا؟ کہیں وہ بیمار تو نہیں؟‘‘ اس نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔ اسے یاد تھا پچھلی بار جب اس کی دادی امی بیمار ہوئی تھیں تو انہیں ہاسپٹل لے جایا گیا تھا۔ اسے ہسپتال بالکل اچھے نہیں لگتے تھے۔ کتنے بڑے بڑے انجیکشن اور ڈرپس لگائی تھیں ہسپتال والوں نے دادی امی کو، انہیں کتنا درد ہوا ہو گا۔ اس نے سوچ کر جھرجھری لی۔
    ’’ارے نہیں چندا !تمہاری اماں جی بالکل ٹھیک ٹھاک ہیں۔ تم فکر نہ کرو اور چلو جلدی سے ناشتا مکمل کرو پھر آپ نے شاپنگ کرنے بھی تو جانا ہے نا۔‘‘ اس کی مما نے پیار سے پچکارتے ہوئے اسے تسلی دی۔
    اس نے جلدی جلدی اُبلا ہوا انڈا نگلا اور دودھ کے دو تین بڑے بڑے گھونٹ بھر کر ٹیبل سے اٹھ گئی:
    ’’کر لیا ممی بس اور نہیں۔‘‘ یہ کہتے ہی وہ وہاں سے بھاگ گئی۔ اسے پتا تھا ممی نے پھر سے پکڑ کر اسے زبردستی کھانے کے لیے بٹھا لینا ہے۔
    دادی امی کے کمرے کے دروازے پر دستک دے کر وہ اندر داخل ہوئی۔ ’’اماں جی! السلام علیکم‘‘ وہیں کھڑے کھڑے اس نے اماں جی کو جاسوسوں والے انداز میں دیکھا۔
    ’’وعلیکم السلام میری چندا! جیتی رہ میری جان۔ آ ادھر آ جا میرے پاس۔‘‘ دادی نے اسے دیکھ کر ہمیشہ کی طرح اپنی بانہیں پھیلا دیں۔
    وہ دوڑ کر اماں جی کے بیڈ پر چڑھ کر ان کی کھلی بانہوں میں چھپ گئی۔
    ’’اماں جی آپ نے ناشتا کیوں نہیں کیا؟‘‘ اس نے سوال کیا۔
    ’’دل نہیں چاہ رہا تھا، بعد میں کر لوں گی آپ نے کر لیا ناشتا؟‘‘انہوں نے جواباً اس سے پوچھا۔
    ’’جی کر لیا لیکن مزہ نہیں آیا آپ کے بغیر۔‘‘ اس نے کہا اور مزید تفتیش جاری رکھی۔
    ’’آپ صبح لان میں کیوں نہیں آئیں؟ وہاں گلاب کے پودے پر جو کلیاں ہیں وہ ساری آج پھول بن گئی ہیں۔ اتنے بڑے بڑے پھول کھلے ہیں اور موتیا کے کئی پھول نیچے گرے ہوئے تھے۔ میں نے سنبھال لیے، آپ میرے لیے گجرا بنا دیں گی نا۔‘‘ اس نے لاڈ دکھاتے ہوئے پوچھا۔
    ’’بالکل بنا دوں گی اور آپ کی پونی میں لگا بھی دوں گی۔‘‘انہوں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پیار سے کہا۔
    ماہا نے اپنی آنکھیں سکیڑ کر انہیں دیکھا ۔’’ گھٹنے میں درد ہے کیا؟‘‘
    اپنی ننھی جاسوس کے سوال پر وہ مسکرائیں۔ وہ جانتی تھیں جب تک اس کو وجہ نہیں بتائیں گی وہ یوں ہی ان کے پاس بیٹھی سوال پر سوال کرتی رہے گی۔
    ’’نہیں! گھٹنے میں درد نہیں ہے۔ بس صبح صبح اخبار پڑھا تو پھر کچھ کرنے کو دل نہیں کیا۔‘‘
    ’’اچھا!‘‘ اس نے اچھا کو لمبا کیا۔ ابھی وہ اتنی بڑی نہیں ہوئی تھی کہ خبروں میں دل چسپی لیتی لیکن جب دادی یا بابا خبریں سنتے تو وہ بھی چپ چاپ بیٹھی ٹی وی پر نظر آتی تصویروں سے کہانیاں بناتی رہتی۔
    اماں جی نے محسوس کیا کہ وہ باہر جانے کو بے چین ہے اس لیے اس کے ساتھ اٹھ کھڑی ہوئیں۔’’ چلو باہر چلتے ہیں دیکھوں احمر اور بہو کیا کر رہے ہیں اور تم وہ پھول بھی لے آئو میں مالا میں پرو دوں۔‘‘ اماں جی کی بات سن کر وہ دوڑتی ہوئی اپنے کمرے کی طرف بھاگ گئی۔
    ’’احمر بیٹا فارغ ہو؟ ایک بات کہنی تھی تم سے۔‘‘ اماں جی کچھ بات کرنے لگی تھیں کہ اچانک خبروں پر دھیان گیا۔ ٹی وی پر مختلف مناظر دکھائی دے رہے تھے۔ برما اور شام میں ہوتے مسلمانوں پر ظلم و ستم کا ذکر، ٹوٹے پھوٹے گرتے تباہ شدہ مکان اور سیمنٹ اور گرد سے اٹے بے بس اور معصوم بچوں کے چہرے۔ اماں جی نے عینک کے شیشے صاف کیے اور چادر کے پلو سے اپنی آنکھیں بھی پونچھیں۔ ہمیشہ کی طرح آج بھی وہ یہ خبریں دیکھتے ہوئے رو رہی تھیں اور ساتھ ہی دعا کے لیے ہاتھ اُٹھا لیے۔
    ’’اے اللہ! اے میرے مالک! مسلمانوں کی مدد فرما، انہیں اس ظلم سے بچا، ان کی حفاظت کے لیے درد دل رکھنے والے اپنے بندوں کی مدد بھیج دے اے اللہ!‘‘
    ماہا نے اپنی امی اورابو کو بھی دادی کی دعا پر آمین کہتے ہوئے سنا۔
    اس کے ابو کہہ رہے تھے کہ یہ تو روز کا معمول بن گیا ہے۔ ہر جگہ مسلمان تکلیف اور آزمائش کا شکار ہیں۔ اس کے جواب میں ماہا کی ممی بولیں برما کے حالات تو بہت برے ہیں، روہنگیا کے مسلمانوں سے تو رہنے کی جگہ بھی چھین لی۔ دنیا میں زمین کا کوئی ٹکڑا نہیں جسے وہ لوگ اپنا ملک کہہ سکیں۔
    اس کے ابو اب اماں جی کی بات سن رہے تھے لیکن اس کا ننھا سا ذہن ان سب کی باتوں میں اُلجھا ہوا تھا۔
    وہ چپ چاپ کمرے سے باہر نکل گئی۔ اس کے ہاتھ میں اخبار تھا جسے وہ پڑھ تو نہیں سکتی تھی لیکن اس میں پٹیوں میں لپٹی بچی اسے بالکل اپنے جیسی لگی اس کی طرح چھوٹی سی، بکھرے بکھرے بالوں والی۔ وہ شاید رو رہی تھی لیکن اس کے منہ پر اتنی گرد لگی تھی تو پتا کیسے چلتا۔




  • پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۱۰ (آخری قسط)

    پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۱۰ (آخری قسط)

    وہ اس سے تین قدم آگے کھڑا تھا۔ اتنا قریب کہ وہ ہاتھ بڑھاتی تو اس کا کندھا چھولیتی۔ وہاں ان دونوں کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا۔ وہ اس کے کندھے سے اوپر خانہ کعبہ کے کھلتے ہوئے دروازے کو دیکھ رہی تھی۔ وہ نور کے اس سیلاب کو دیکھ رہی تھی جس نے وہاں موجود ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کردیا تھا۔ وہ خانہ کعبہ کے غلاف پر تحریر آیات کو بآسانی دیکھ سکتی تھی۔ وہ آسمان پر موجود ستاروں کی روشنی کو یک دم بڑھتے محسوس کرسکتی تھی۔
    اس سے آگے کھڑا شخص تلبیہ پڑھ رہا تھا۔ وہاں گونجنے والی واحد آواز اسی کی آواز تھی۔ خوش الحان آواز… اس نے بے اختیار اپنے آپ کو اس کے پیچھے وہی کلمات دہراتے پایا۔ اسی طرح جس طرح وہ پڑھ رہا تھا، مگر زیر لب پھر وہ اپنی آواز اس کی آواز میں ملانے لگی۔ اسی کی طرح مگر زیرلب… پھر اس کی آواز بلند ہونے لگی پھر اس کو احساس ہوا… وہ اپنی آواز اس کی آواز سے بلند نہیں کرپارہی تھی۔ اس نے کوشش ترک کردی۔ وہ اس کی آواز میں آواز ملاتی رہی۔
    خانہ کعبہ کا دروازہ کھل چکا تھا۔ اس نے اس شخص کو آگے بڑھ کر دروازے کے پاس جاکر کھڑے ہوتے دیکھا۔ اس نے اسے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھاتے دیکھا۔ وہ دعا کررہا تھا۔ وہ اسے دیکھتی رہی پھر اس نے ہاتھ نیچے کرلئے۔ اب وہ نیچے بیٹھ کر زمین پر سجدہ کررہا تھا، کعبہ کے دروازے کے سامنے۔ وہ اسے دیکھتی رہی۔ اب وہ کھڑا ہورہا تھا۔ وہ پلٹنے والا تھا۔ وہ اس کا چہرہ دیکھنا چاہتی تھی۔ اس کی آواز شناسا تھی مگر چہرہ، چہرہ دیکھے بغیر… وہ اب مڑرہا تھا۔
    ٭…٭…٭
    وہ یک دم ہڑبڑا کراٹھ بیٹھی۔ کمرے میں تاریکی تھی۔ چند لمحوں کے لئے اسے لگا وہ وہیں ہو، خانہ کعبہ میں، پھر جیسے وہ حقیقت میں واپس آگئی۔ اس نے اٹھ کر کمرے کی لائٹ جلادی اور پھر بیڈپر آکر دوبارہ بیٹھ گئی۔ اسے خواب اپنی پوری جزئیات سمیت یاد تھا، یوں جیسے اس نے کوئی فلم دیکھی ہو، مگر اس آدمی کا چہرہ وہ اسے نہیں دیکھ سکی تھی۔ اس کے مڑنے سے پہلے اس کی آنکھ کھل گئی تھی۔
    ”خوش الحان آواز، جلال انصر کے سوا کس کی ہوسکتی ہے۔” اس نے سوچا۔
    مگر وہ شخص دراز قد تھا۔ جلال انصر سانولا تھا، اس شخص کے احرام میں سے نکلے ہوئے کندھے اور بازوؤں کی رنگت صاف تھی اور اس کی آواز شناسا تھی۔ وہ یہ پہچان نہیں پارہی تھی کہ وہ آواز جلال کی تھی یا کسی اور کی۔
    خواب بہت عجیب تھا مگر اس کے سر کادرد غائب ہوچکا تھا اور وہ حیران کن طورپر پر سکون تھی۔ اس نے اٹھ کر کمرے کی لائٹ آن کی۔ وال کلاک ایک بجارہا تھا۔ امامہ کو یاد آیا وہ رات کو عشاء کی نماز پڑھے بغیر ہی سوگئی تھی۔ اس نے کپڑے بھی تبدیل نہیں کئے تھے نہ ہی سونے سے پہلے وضو کیا تھا۔ اس نے کپڑے تبدیل کئے اور اپنے کمرے سے باہر آگئی۔ سعیدہ اماں کے کمرے میں روشنی نہیں تھی۔ وہ سورہی تھیں۔ پورے گھر میں گہری خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ صحن میں بلب جل رہا تھا۔ ہلکی ہلکی دھند کی موجودگی بھی بلب کی روشنی میں محسوس کی جاسکتی تھی۔ صحن کی دیواروں کے ساتھ چڑھی سبز بیلیں، سرخ انیٹوں کی دیواروں کے ساتھ بالکل ساکت تھیں۔ وہ وضو کرنے کے لئے صحن کے دوسری طرف موجود باتھ روم میں جانا چاہتی تھی مگر صحن میں جانے کے بجائے وہ برآمدے کے ستون کے پاس آکر بیٹھ گئی۔ اپنے سوئیٹر کی آستینوں کو اوپر کرتے ہوئے اس نے اپنی شرٹ کی آستینوں کے بٹن کھولتے ہوئے انہیں اوپر فولڈ کردیا۔ چند لمحوں کے لئے اسے جھرجھری آئی۔ خنکی بہت زیادہ تھی پھر وہ ان بیلوں کو دیکھنے لگی۔ ایک بار پھر جلال انصر کے ساتھ شام کو ہونے والی ملاقات اسے یاد آرہی تھی مگر اس بار اس کی باتوں کی گونج اسے اشک بار نہیں کررہی تھی۔





    دستگیری میری تنہائی کی تونے ہی تو کی
    میں تو مرجاتا اگر ساتھ نہ ہوتا تیرا
    تہ بہ تہ تیرگیاں ذہن پرجب ٹوٹتی ہیں
    نور ہوجاتا ہے کچھ اور ہویدا تیرا
    کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا
    اس کی دولت ہے فقط نقشِ کفِ پا تیرا
    ایک افسردہ سی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر نمودار ہوئی۔ گزرے ہوئے پچھلے ساڑھے آٹھ سالوں میں یہ آواز… اور یہ الفاظ اس کے ذہن سے کبھی معدوم نہیں ہوئے تھے اور پھر اسے کچھ دیر پہلے کے خواب میں سنائی دینے والی وہ دوسری آواز یاد آئی۔
    ”لبیک اللھم لبیک، لبیک لاشریک لک لبیک، ان الحمد والنعمتہ لک والملک لا شریک لک.”
    وہ آواز مانوس اور شناسا تھی مگر جلال انصر کی آواز کے علاوہ اور کسی آواز سے واقف نہیں تھی۔ آنکھیں بند کرکے اس نے خواب میں دیکھے ہوئے اس منظر کو یاد کرنے کی کوشش کی۔ مقام ملتزم، خانہ کعبہ کا کھلا دروازہ، غلاف کعبہ کی وہ روشن آیات… وہ پرسکون، ٹھنڈی معطررات… خانہ کعبہ کے دروازے سے پھوٹتی وہ دودھیا روشنی اور سجدہ کرتا تلبیہ پڑھتا وہ مرد… امامہ نے آنکھیں کھول دیں۔ کچھ دیر تک وہ صحن میں اتری دھند میں نظریں جمائے اس آدمی کے بارے میں سوچتی رہی۔
    اس آدمی کے برہنہ کندھے کی پشت پر ہلکے ہلکے بالوں میں زخم کا ایک مندمل شدہ نشان تھا۔ امامہ کو حیرت ہورہی تھی۔ خواب کی اس طرح کی جزئیات اسے پہلے کبھی یاد نہیں رہی تھیں۔ اس نے زندگی میں پہلی بار خانہ کعبہ کو خواب میں دیکھا تھا اور وہاں بیٹھے اسے خواہش ہوئی تھی کہ کاش وہ کبھی اسی طرح مسجد نبوی ﷺ میں روضہء رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کھڑی ہو۔ اسی طرح مسجد نبوی ﷺ لوگوں سے خالی ہو، وہاں صرف وہ ہو، وہ اندازہ نہیں لگاسکی وہ کتنی دیر وہاں اسی طرح بیٹھی رہی۔ وہ اپنے گرد و پیش میں تب لوٹی تھی جب سعیدہ اماں تہجد پڑھنے کے لئے وضو کرنے کی خاطر باہر صحن میں نکلی تھیں۔ امامہ کو وہاں اس وقت دیکھ کر وہ حیران ہوئی تھیں۔
    ”تمہارے سرکا درد کیسا ہے؟” اس کے پاس کھڑے ہوکر انہوں نے پوچھا۔
    ”اب تو درد نہیں ہے۔” امامہ نے سراٹھاکر انہیں دیکھا۔
    ”رات کو کھانا کھائے بغیر ہی سوگئی تھی؟” وہ اس کے پاس برآمدے کے ٹھنڈے فرش پر بیٹھتے ہوئے بولیں۔
    وہ خاموشی رہی۔ سعیدہ اماں ایک گرم اونی شال اوڑھے ہوئے تھیں۔ امامہ نے ان کے کندھے پر اپنا چہرہ ٹکادیا۔ اس کے سن چہرے کو گرم شال سے ایک عجیب سی آسودگی کا احساس ہوا۔
    ”اب تم شادی کرلو آمنہ!” سعیدہ اماں نے اس سے کہا۔ وہ اسی طرح گرم شال میں اپنا چہرے چھپائے رہی۔ سعیدہ اماں پہلی بار یہ بات نہیں کہہ رہی تھیں۔
    ”آپ کردیں۔” وہ ہمیشہ ان کی اس بات پر خاموشی اختیار کرلیتی تھی۔ کیوں؟ وجہ خود بھی نہیں جانتی تھی لیکن آج پہلی بار وہ خاموش نہیں رہی تھی۔
    ”تم سچ کہہ رہی ہو؟” سعیدہ اماں اس کی بات پر حیران ہوئی تھیں۔
    ”میں سچ کہہ رہی ہوں…” امامہ نے سر ان کے کندھے سے اٹھالیا۔
    ”تمہیں کوئی پسند ہے؟” سعیدہ اماں نے اس سے پوچھا۔ وہ سر جھکائے صحن کے فرش کو دیکھ رہی تھی۔
    ”کوئی مجھے پسند ہے؟ نہیں مجھے کوئی بھی پسند نہیں ہے۔” سعیدہ اماں کو اس کی آواز بھرّائی ہوئی لگی۔ اس سے پہلے کہ وہ اس سے کچھ کہتیں اس نے ایک بارپھر ان کی شال میں اپنا چہرہ چھپالیا۔
    ”تمہاری شادی ہوجائے تو میں بھی انگلینڈ چلی جاؤں گی۔”
    انہوں نے اس کے سر کو تھپتھپاتے ہوئے کہا اور اس کے سرکو تھپتھپاتے ہوئے ہی انہیں احساس ہواکہ وہ ان کی شال میں منہ چھپائے ہچکیوں سے رورہی تھی۔
    ”آمنہ! آمنہ بیٹا کیا ہوا؟” انہوں نے پریشان ہوکر اس کا چہرے اٹھانے کی کوشش کی۔ وہ کامیاب نہیں ہوئیں۔ وہ اسی طرح ان کے ساتھ لگ کر روتی رہی۔
    ”اللہ کے لئے… کچھ تو بتاؤ، کیوں رورہی ہو؟” وہ دل گرفتہ ہوگئیں۔
    ”کچھ نہیں… بس ایسے ہی… سر میں درد ہورہا ہے۔” انہوں نے زبردستی اس کا گیلا چہرہ اوپر کیا تھا۔ وہ اب اپنی آستینوں سے چہرہ پونچھتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔ اس نے سعیدہ اماں سے آنکھیں نہیں ملائی تھیں۔ سعیدہ اماں کی اس کی شادی کی بات کرنے والی اکیلی نہیں تھیں۔ اس کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد ڈاکٹر سبط علی نے ایک بارپھر اس سے شادی کا ذکر کیا تھا۔ وہ نہیں جانتی تب اس نے کیوں انکار کردیا تھا۔ یہ جاننے کے باوجود کہ وہ اب آزاد تھی۔
    ”مجھے کچھ عرصہ جاب کرلینے دیں اس کے بعد میں شادی کرلوں گی۔” اس نے ڈاکٹر سبط علی سے کہا تھا۔ شاید یہ پچھلے کئی سالوں سے ڈاکٹر سبط علی پر مالی طورپر ایک بوجھ بننے کا احساس تھا، جس سے وہ نجات حاصل کرنا چاہتی تھی یا پھر کہیں اس کے لاشعور میں یہ چیز تھی کہ ڈاکٹر سبط علی کو اس کی شادی پر ایک بارپھر اخراجات کرنے پڑیں گے اور وہ یہ چاہتی تھی کہ وہ ان اخراجات کے لئے خود کچھ جمع کرنے کی کوشش کرلے۔ اس نے یہ بات ڈاکٹر سبط علی کو نہیں بتائی تھی مگر اس نے ان سے جاب کی اجازت لے لی تھی۔
    شاید وہ ابھی کچھ عرصہ مزید جاب کرتی رہتی، مگر جلال انصر سے اس ملاقات کے بعد وہ ایک تکلیف دہ ذہنی دھچکے سے دوچار ہوئی تھی اور اس نے یک دم سعیدہ اماں کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے تھے۔ وہ نہیں جانتی۔ سعیدہ اماں نے ڈاکٹر سبط علی سے اس بات کا ذکر کیا یا نہیں مگر وہ خود ان دنوں مکمل طورپر اس کے لئے رشتے کی تلاش میں سرگرداں تھیں اور اس کوشش کا نتیجہ فہد کی صورت میں نکلا تھا۔ فہد ایک کمپنی میں اچھے عہدے پر کام کررہا تھا اور اس کی شہرت بھی بہت اچھی تھی۔ فہد کے گھروالے اسے پہلی بار دیکھ کر ہی پسند کرگئے تھے اور اس کے بعد سعیدہ اماں نے ڈاکٹر سبط علی سے اس رشتے کی بات کی۔
    ڈاکٹر سبط علی کو کچھ تامل ہوا… شاید وہ اس کی شادی اب بھی اپنے جاننے والوں میں کرنا چاہتے تھے، مگر سعیدہ اماں کی فہد اور اس کے گھر والوں کی بے پناہ تعریفوں کے بعد اور فہد اور اس کے گھر والوں سے خود ملنے کے بعد انہوں نے سعیدہ اماں کی پسند پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا، البتہ انہوں نے فہد کے بارے میں بہت چھان بین کروائی تھی اور پھر وہ بھی مطمئن ہوگئے تھے۔
    فہد کے گھروالے ایک سال کے اندر شادی کرنا چاہتے تھے لیکن پھر اچانک انہوں نے چند ماہ کے اندر شادی پر اصرار کرنا شروع کردیا۔ یہ صرف ایک اتفاق ہی تھا کہ ڈاکٹر سبط علی اسی دوران اپنی کچھ مصروفیات کی وجہ سے انگلینڈ میں تھے جب فہد کے گھر والوں کے اصرار پر تاریخ طے کردی گئی تھی۔ سعیدہ اماں فون پر ان سے مشورہ کرتی رہی تھیں اور ڈاکٹر سبط علی نے انہیں اپنا انتظار کرنے کے لئے کہا تھا۔ وہ فوری طور پر وہاں سے نہیں آسکتے تھے، البتہ انہوں نے کلثوم آنٹی کو واپس پاکستان بھجوادیا تھا۔
    اس کی شادی کی تیاری کلثوم آنٹی اور مریم نے ہی کی تھی جو راولپنڈی سے کچھ ہفتوں کے لئے اپنی سسرال لاہور آگئی تھی۔ ڈاکٹر سبط علی نے اس کی شادی کی تاریخ طے ہوجانے کے بعد فون پر اس سے طویل گفتگو کی تھی۔ ان کی تینوں بیٹیوں کی شادی ان کے اپنے خاندان میں ہی ہوئی تھی اور ان کے سسرال میں سے کسی نے بھی جہیز نہیں لیا تھا، مگر ڈاکٹر سبط علی نے تینوں بیٹیوں کے جہیز کے لئے مخصوص کی جانے والی رقم انہیں تحفتاً دے دی تھی۔
    ”ساڑھے آٹھ سال پہلے جب آپ میرے گھر آئیں تھیں اور میں نے آپ کو اپنی بیٹی کہا تھا تو میں نے آپ کے لئے بھی کچھ رقم رکھ دی تھی۔ وہ رقم آپ کی امانت ہے۔ آپ اسے ویسے لے لیں یا پھر میں مریم اور کلثوم سے کہہ دوں گا کہ وہ آپ کے جہیز کی تیاری پر اسے خرچ کریں۔ سعیدہ آپا کی خواہش تھی کہ شادی ان کے گھر پر ہو ورنہ میں چاہتا تھا کہ یہ شادی میرے گھر پر ہو۔ آپ کے گھر پر۔۔۔۔”
    انہوں نے اس سے کہا تھا۔
    ”مجھے اس بات پر بہت رنج ہے کہ میں اپنی چوتھی بیٹی کی شادی میں شرکت نہیں کرسکوں گا مگر شاید اس میں ہی کوئی بہتری ہے۔ میں پھر بھی آخری وقت تک کوشش کروں گا کسی طرح شادی پر آجاؤں۔”
    وہ ان کی باتوں کے جواب میں بالکل خاموش رہی تھی۔ اس نے کچھ بھی نہیں کہا تھا نہ ہی یہ اصرار کیا تھا کہ وہ اپنی شادی پر اپنی رقم خرچ کرے گی اور نہ ہی یہ کہ وہ شادی ان کی رقم سے نہیں کرنا چاہتی۔ اس دن اس کا دل چاہا تھا ان کا ایک اور احسان لینے کو۔ وہ اس پر اتنے احسان کرچکے تھے کہ اب اسے ان احسانوں کی عادت ہونے لگی تھی۔ اسے صرف ان سے ایک گلہ تھا وہ آخر اس کی شادی میں شرکت کیوں نہیں کررہے تھے۔
    ٭…٭…٭
    فہد کے گھر والوں کا اصرار تھا کہ شادی سادگی سے ہو اور اس پر کسی کو بھی اعتراض نہیں ہوا تھا۔ امامہ خود بھی شادی سادگی سے کرنا چاہتی تھی مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ فہد کے گھر والوں کا سادگی پر اصرار دراصل کچھ اور وجوہات کی بناء پر تھا۔
    اس کا نکاح مہندی والی شام کو ہونا تھا، مگر اس شام کو سہ پہر کے قریب فہد کے گھر والوں کی طرف سے یہ اطلاع دی گئی کہ نکاح اگلے دن یعنی شادی والے دن ہی ہوگا۔ تب تک اسے یا سعیدہ اماں کوکوئی اندازہ نہیں ہوا تھا کہ فہد کے گھر میں کوئی مسئلہ تھا۔ مہندی کی ویسے بھی کوئی لمبی چوڑی تقریب نہیں تھی۔ صرف سعیدہ اماں کے بہت قریبی لوگ تھے یا پھر نزدیکی ہمسائے۔ نکاح کی تقریب کے لئے جس کھانے کا اہتمام کیا گیا تھا وہ ان لوگوں کو سرو کردیا گیا۔
    شادی کی تقریب بھی سادگی سے گھرپر ہی ہونی تھی۔ چار بجے بارات کو آجانا تھا اور چھے بجے کے قریب رخصتی تھی لیکن بارات آنے سے ایک گھنٹہ پہلے فہد کے گھر والوں نے سعیدہ اماں کو فہد کی روپوشی کے بارے میں اطلاع دیتے ہوئے اس رشتے سے معذرت کرلی۔
    امامہ کو چار بجے تک اس سارے معاملے کے بارے میں کچھ پتا نہیں تھا۔ فہد کے گھر سے عروسی لباس پہلے بھجوا دیا گیا تھا اور وہ اس وقت وہ لباس پہنے تقریباً تیار تھی جب مریم اس کے کمرے میں چلی آئی، اس کا چہرہ ستا ہوا تھا۔ اس نے امامہ کو کپڑے تبدیل کرنے کے لئے کہا، اس نے امامہ کو فوری طورپر یہ نہیں بتایا تھا کہ فہد کے گھروالے انکار کرکے جاچکے تھے۔ اس نے امامہ سے صرف یہی کہا کہ فہد کے گھر والوں نے شادی کینسل کردی ہے اس کے گھر میں کسی قریبی عزیز کا انتقال ہوگیا ہے۔ وہ یہ بتاکر بہت افراتفری میں کمرے سے نکل گئی۔ امامہ نے کپڑے تبدیل کرلئے لیکن اس وقت اس کی چھٹی حس نے اسے اس پریشانی سے آگاہ کرنا شروع کردیا تھا۔ اسے مریم کی بات پر یقین نہیں آیا تھا۔
    کپڑے تبدیل کرکے وہ اپنے کمرے سے باہر نکل آئی اور باہر موجود لوگوں کے تاثرات نے اس کے تمام شبہات کی تصدیق کردی تھی۔ وہ سعیدہ اماں کے کمرے کی طرف چلی گئی۔ وہاں بہت سے لوگ جمع تھے۔ کلثوم آنٹی، میمونہ نورالعین آپا… ہمسائے میں رہنے والی چند عورتیں، مریم اور سعیدہ اماں… مریم سعیدہ اماں کو پانی پلارہی تھی۔ وہ بہت نڈھال نظر آرہی تھیں۔ ایک لمحے کے لئے اس کے دل کی دھڑکن رکی۔ انہیں کیا ہوا تھا۔ اس کے اندر داخل ہوتے ہی سب کی نظریں اس پر پڑیں۔ میمونہ آپا اس کی طرف تیزی سے بڑھیں۔
    ”آمنہ! تم باہر آجاؤ۔” انہوں نے اسے ساتھ لے جانے کی کوشش کی۔
    ”اماں کو کیا ہوا ہے؟” وہ ان کی طرف بڑھ گئی۔ کلثوم آنٹی نے کمرے میں موجود لوگوں کو باہر نکالنا شروع کردیا۔ وہ سعیدہ اماں کے پاس آکر بیٹھ گئی۔
    ”انہیں کیا ہواہے؟” اس نے بے تابی سے مریم سے پوچھا۔
    اس نے جواب نہیں دیا۔ سعیدہ اماں کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا۔ وہ امامہ کو دیکھ رہی تھیں مگر اسے یوں لگا جیسے وہ اس وقت اسے دیکھ نہیں پارہی تھیں۔ گلاس ہاتھ سے ہٹاتے ہوئے انہوں نے اسے ساتھ لگا کر رونا شروع کردیا۔
    کمرہ خالی ہوچکا تھا۔ صرف ڈاکٹر سبط علی کی فیملی وہاں پر تھی۔
    ”کیا ہوا ہے اماں؟ مجھے بتائیں۔” امامہ نے انہیں نرمی سے خود سے الگ کرتے ہوئے کہا۔
    ”فہد نے اپنے گھر والوں کو بتائے بغیر گھر سے جا کر کسی اور کے ساتھ شادی کرلی ہے۔” مریم نے مدھم آواز میں کہا۔”وہ لوگ کچھ دیر پہلے معذرت کرنے آئے تھے۔ وہ لوگ یہ رشتہ ختم کرگئے ہیں۔”
    چند منٹ تک وہ بالکل ساکت رہی تھی۔ خون کی گردش، دل کی دھڑکن، چلتی ہوئی سانس… چند سیکنڈز سب کچھ جیسے رک گیا تھا۔”
    ”کیا میرے ساتھ یہ بھی ہونا تھا؟” اس نے بے اختیار سوچا۔
    ”کوئی بات نہیں اماں! آپ کیوں رورہی ہیں؟” اس نے بڑی سہولت سے سعیدہ اماں کے آنسو صاف کئے۔ سب کچھ ایک بار پھر بحال ہوگیا تھا سوائے اس کی رنگت کے وہ فق تھی۔
    ”آپ پریشان نہ ہوں۔” سعیدہ اماں کو اس کی باتوں پر اور رونا آیا۔
    ”یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے… میں…” امامہ نے انہیں بات مکمل کرنے نہیں دی۔
    ”اماں! چھوڑیں ناں۔ کوئی بات نہیں، آپ پریشان نہ ہوں۔ آپ لیٹ جائیں۔ کچھ دیر آرام کرلیں۔” وہ انہیں پرسکون کرنے کی کوشش کررہی تھی۔
    ”میں تمہارے دل کی حالت کو سمجھ سکتی ہوں۔ میں تمہارے غم کو جانتی ہوں۔ آمنہ! میری بچی مجھے معاف کردو۔ یہ سب میری وجہ سے ہی ہوا ہے؟” انہیں تسلی نہیں ہوپارہی تھی۔
    ”مجھے کوئی غم نہیں ہے اماں! کوئی تکلیف نہیں ہے۔ میں بالکل ٹھیک ہوں۔” اس نے مسکراتے ہوئے سعیدہ اماں سے کہا۔
    سعیدہ اماں یک دم روتے ہوئے اٹھ کر باہر نکل گئیں۔
    امامہ کسی سے کوئی بات کہے بغیر ایک بارپھر اپنے کمرے میں چلی آئی۔ اس کے بیڈ پر تمام چیزیں اسی طرح پڑی ہوئی تھیں۔ اس نے انہیں سمیٹنا شروع کردیا۔ اس کی جگہ کوئی اور لڑکی ہوتی تو اس وقت وہاں بیٹھی رورہی ہوتی مگر وہ غیر معمولی طور پر پرسکون تھی۔
    ”اگر میں جلال کے نہ ملنے پر صبر کرسکتی ہوں تو یہ تو پھر ایک ایسا شخص تھا جس کے ساتھ میری کوئی جذباتی وابستگی نہیں تھی۔” اس نے اپنے عروسی لباس کوتہ کرتے ہوئے سوچا۔
    ”زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا، یہاں بھی لوگوں کے سامنے نظریں چراکر اور سرجھکا کر چلنا پڑے گا۔
    کچھ باتیں اور بے عزتی برداشت کرنی پڑے گی تو پھر کیا ہوا۔ اس میں میرے لئے نیا کیا ہے۔”
    مریم کمرے میں داخل ہوئی اور اس کے ساتھ چیزیں سمیٹنے لگی۔
    ”ابو کو فون کردیا ہے۔” اس نے امامہ کو بتایا۔
    وہ پہلی بار کچھ جھنجھلائی۔
    ”کیوں خواہ مخواہ تم لوگ انہیں تنگ کررہے ہو۔ انہیں وہاں سکون سے رہنے دو۔”
    ”اتنا بڑا حادثہ ہوگیا ہے اور تم۔۔۔”
    اس نے مریم کی بات کاٹ دی۔
    ”مریم میری زندگی میں اس سے بڑے حادثے ہوچکے ہیں۔ یہ کیا معنی رکھتا ہے۔ مجھے تکلیف سہنے کی عادت ہوچکی ہے۔ تم سعیدہ اماں کو تسلی دو۔ مجھے کچھ نہیں ہوا میں بالکل ٹھیک ہوں اور ابو کو بھی خوا مخواہ تنگ نہ کرو۔ وہ وہاں پریشان ہوں گے۔”




  • معصوم سوال — ناہید حیات

    ’’دادی دیکھیں پھر میری گاڑی لے کر بھاگ رہی ہے۔ مجھے دے نہیں رہی۔‘‘ عون، ماہا کے پیچھے بھاگتا ہوا دادی کے کمرے میں داخل ہوا جو نماز پڑھنے کے بعد وظیفے میں مصروف تھیں۔
    ’’اِدھر آئو دونوں‘‘ دادی نے دونوں کو جائے نماز پر ہی اپنے دائیں بائیں بٹھایا۔ ماہا نے بھی گاڑی نیچے رکھ دی جسے عون نے جلدی سے اٹھا کر اپنی طرف رکھا اور تمیز سے دادی کے پاس بیٹھ گئے۔ دادی نے ان سے کلمہ اور نماز سنی، جو انہوں نے کچھ اٹک اٹک کے سنا دی۔ ’’چلو اب دُعا مانگو‘‘ دونوں نے اپنے ہاتھ دُعا کے انداز میں بلند کیے ’’اللہ میاں ہمیں بھائی دے دے‘‘ آنکھیں بند کر کے انہوں نے طوطے کی طرح رٹی رٹائی دعا مانگی کیوں کہ آج کل گھر میں ہر کوئی ان بچوں سے یہی دعا منگوا رہا تھا۔ دادی نے جوش سے آمین کہا۔ ’’اُلو تمھارے تو پہلے ہی دو بھائی ہیں۔‘‘ پٹاخہ سی ماہا نے کہا۔
    ’’مگر دادی کہتی ہیں میں تم سب کا بڑا بھائی ہوں۔ کیوں دادی؟‘‘ عون نے چہرے پر رعب طاری کر کے کہا۔
    ’’تم میرے کزن ہو اور ہم دونوں سکس ایئر اولڈ ہیں‘‘ ماہا نے جتایا۔
    ’’میں سکس اینڈ آ ہاف ہوں‘‘ عون کو اپنا چھے مہینے کا بڑا پن بھی نہیں بھولتا تھا ان دونوں کو بحث کرتا چھوڑ کر دادی خشوع و خضوع سے دعا مانگنے لگئیں۔
    اچھے وقتوں کے بنے اس چھوٹے سے شہر کے بڑے سے گھر میں دادی اپنے تین بیٹوں ساجد، راشد اور واجد کے ساتھ رہ رہی تھیں جب کہ تین شادی شدہ بیٹیاں اپنے اپنے گھر میں خوشحال زندگی گزار رہی تھیں۔ دادا کا کچھ عرصہ پہلے ہی انتقال ہوا تھا۔ ساجد اور راشد کی اکٹھی ہی شادی ہوئی تھی۔ ان کی مین بازار میں اچھی چلتی ہوئی کپڑے کی دُکان تھی جب کہ واجد ابھی غیر شادی شدہ تھا اور لاہور میں پڑھ رہا تھا۔
    اوپر تلے بچوں کی پیدائش سے گھر کا کام اور ذمہ داریاں بڑھنے کے باوجود مجموعی طور پر گھر کا ماحول خوش گوار ہی تھا جس کی وجہ دونوں بہوئوں مریم اور آسیہ کا آپس میں سگی بہنیں ہونے کے علاوہ دادی کی نرم اور صلح جو طبیعت بھی تھی۔ ساجد اور مریم کے تین بیٹے تھے بڑا عون اور اس سے دو سال چھوٹے جڑواں سعد اور فہد، جو اب چار سال کے ہو چکے تھے۔ راشد اور آسیہ کی تین بیٹیاں تھیں۔ ماہا، زویا اور پھر حبہ۔ حبہ کی پیدائش کے وقت کچھ پیچیدگیوں کی وجہ سے ڈاکٹر نے آئندہ احتیاط کرنے کو کہا۔ چوں کہ آسیہ مرتے مرتے بچی تھی تو بیٹے کی شدید خواہش ہونے کے باوجود راشد نے کہہ دیا کہ تین بچے ہی بہت ہیں خود آسیہ نے بھی بہت دعائیں کی تھیں مگر اللہ کی مرضی کے آگے سر جُھکا لیا اور اب تو حبہ بھی ڈھائی سال کی ہو چکی تھی۔ دادی کو پوتیوں سے بے حد پیار تھا مگر جب راشد کو دیکھتیں ایک سرد آہ ان کے لبوں سے نکل جاتی۔ راشد کو بھی بیٹیوں سے بہت لگائو تھا آسیہ کا بھی خیال رکھتا مگر جب جب ساجد اپنے بیٹوں کو دکان پر لے جاتا یا مسجد میں وہ اس کے ساتھ جاتے تو وہ بڑی حسرت سے ان کو دیکھتا۔ ساجد ہمیشہ بچیوں کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھتا اور راشد سے کہتا رہتا تھا کہ تمہیں ان کی فکر کی ضرورت نہیں۔ دادی کو بھی تسلی تھی کہ دونوں بھائیوں کا اتفاق قائم رہا تو وہ یہ ذمہ داریاں مل بانٹ کر اٹھالیں گے مگر پھر بھی راشد کے دل میں کوئی کسک تھی، حسرت تھی یا خواہش جو دن بدن بڑھتی ہی جا رہی تھی۔ اس کے رویے میں ایک کھچائو سا آگیا تھا۔ جو گھر میں سب نے ہی محسوس کیا تو آسیہ کیسے نہ کرتی اور تب ہی اس نے ایک بار اور قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا۔ راشد نے بھی حبہ کی پیدائش پر جذبات میں آکر کہہ تو دیا تھا کہ تین بچے بہت ہیں مگر اب آسیہ کی خواہش کی مخالفت نہیں کی۔ مریم نے بہت سمجھایا مگر وہ نہ مانی۔ جلد ہی اللہ نے امید لگائی تو دادی اور مریم نے اسے مکمل آرام دیا اور ہر طرح سے ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کرایا۔ جوں جوں دن قریب آرہے تھے لگتا تھا سب نے جائے نماز سنبھال لی۔ صدقہ، خیرات اور دعائیں جاری تھیں کوئی بچہ کچھ کھانے کو بھی مانگتا تو کہا جاتا پہلے دعا کرو اللہ چاچو کو بیٹا دے اور ماہا تو خود ہی پہلے دعا مانگتی: ’’اللہ میاں ہمیں بھائی دینا‘‘ اور پھر اگلی بات شروع کرتی مگر جب دعائیں قبول نہیں ہوتیں تو اس کی مصلحت صرف اللہ جانتا ہے، انسان تو صرف رونا پیٹنا ڈال دیتا ہے۔
    ایک عام سی صبح ماہا اور عون سو کر اٹھے تو گھر میں عجیب طرح کی خاموشی تھی روز والی بھاگ دوڑ نہیں مچی تھی۔ دادی بالکل خاموش اپنے بستر پر لیٹی چھت کو گھور رہی تھیں اور مریم زوہا اور حبہ کو خاموشی سے ناشتہ کروا رہی تھی۔
    ’’امی کہاں ہیں۔‘‘ ماہا کو اُٹھتے ہی آسیہ کی غیرموجودگی کا احساس ہو گیا تھا۔
    ’’وہ ہسپتال میں ہیں۔‘‘ آسیہ نے بتایا۔
    ’’تمھاری بہن پیدا ہوئی ہے۔‘‘ آسیہ نے یہ خبر جتنے غمناک انداز میں سنائی ماہا اور عون نے اتنی ہی خوشی کا اظہار کیا۔
    ’’ہمارے گھر چھوٹا بے بی آیا ہے۔‘‘ دونوں ہی یہ بھول گئے تھے کہ ’’بے بی‘‘ لڑکا ہے یا لڑکی۔ ان کے لیے یہ کافی تھا کہ اب کھیلنے کے لیے ایک کھلونا آرہا ہے۔
    ’’اچھا جلدی سے ناشتہ کر کے تیار ہوئے سکول جائو تاکہ میں ہاسپٹل جا سکوں۔‘‘ مریم نے کہا۔
    ’’ہم نے بھی بے بی دیکھنا ہے۔‘‘ ماہا نے ضد کی۔
    ’’نہیں بیٹا۔ ابھی اس کی طبیعت نہیں ٹھیک، شام کو چلے جانا۔‘‘ مریم نے بچوں کو تیار کر کے سکول بھیجا تاکہ سکون سے کام کر کے ہاسپٹل جا سکے۔
    تین دن ہاسپٹل رہ کر آسیہ ننھی سی لائبہ کو لے کر گھر آگئی۔ اپنی جان پر کھیل کر دنیا میں لانے والے وجود سے آسیہ تو زیادہ دیر غافل نہ رہ سکی مگر راشد نے تو اپنے جذبات چھپانے کی بھی کوشش نہیں کی۔ ساجد اور تینوں بہنوں نے ہر طرح سے سمجھانے اور دل جوئی کرنے کی کوشش کی مگر اس کے چہرے پر جامد تاثرات رہتے۔ ڈھیر سارے دن ایسے ہی گزر گئے مگر راشد کے رویے میں فرق نہ آیا۔ دکان سے بھی وہ اکثر غائب رہتا۔ ساجد کافی عرصے سے دیکھ رہا تھا کہ اس کا اٹھنا، بیٹھنا کچھ اچھے لوگوں میں نہیں ہے۔ اس نے سمجھانے کی کافی کوشش کی مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔ یہ یار دوست ہی تھے جنہوں نے راشد کو گھر سے دور کیا ہوا تھا اور وہی ایسے الٹے سیدھے مشورے دیتے رہتے تھے کہ وہ تو مرد ہے کیا ہوا کہ ایک بیوی بیٹا نہیں دے سکی وہ دوسری لا سکتا ہے جب تک یہ باتیں گھر پہنچتیں اور گھر والے کچھ کر پاتے پتا چلا کہ راشد نے دوسری شادی کر لی ہے اپنے انہی دوستوں میں سے کسی ایک کی طلاق یافتہ بہن کے ساتھ۔ چھوٹے سے شہر میں یہ بات کب تک چھپتی اور راشد نے چُھپانے کی کوشش بھی نہیں کی۔ آسیہ پر تو جو قیامت گزری سو گزری باقی گھر والے بھی ہکّا بکّا رہ گئے۔ سب نے ہی اس کے خوب لتے لیے مگر وہ ڈھیٹ بنا سنتا رہا۔ گھر میں عجیب ٹینشن بھرا ماحول تھا، جس میں بچے بُری طرح نظرانداز ہو رہے تھے۔ آسیہ سارا سارا دن روتی رہتی راشد گھر آتا تو دونوں کی زوروں کی لڑائی ہوتی۔ مریم پھرکی بن گھر کے کام کرتی، آسیہ کو بھی سنبھالتی اور دادی پوتیوں کو دیکھ دیکھ کر آہیں بھرتیں ایسے میں ماہا اور عون دعا کرتے کہ چاچو ہی آجائیں کیوں کہ وہ ان سب سے خوب لاڈ کرتے اور باہر بھی لے جاتے مگر آج کل واجد کے ایگزامز ہو رہے تھے اس لیے وہ گھر نہیں آرہا تھا۔
    جاتی گرمیوں کی خوش گوار سی شام میں دادی باہر صحن میں چارپائی پر بیٹھی بچوں کو کوئی کہانی سنا رہی تھیں جب ساجد کے ساتھ بہت دنوں بعد راشد گھر آیا۔ زوہا اور حبہ باپ کے ساتھ لیٹ گئیں جب کہ ماہا دادی کے پاس بیٹھی رہی۔ لائبہ کمرے میں سو رہی تھی۔ آسیہ کچن سے دیکھ رہی تھی باہر نکلی اور حبہ اور زوہا کو کھینچ کر راشد سے الگ کیا۔




  • پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۹

    پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۹

    لاہور پہنچنے کے بعد اس کے لیے اگلا مرحلہ کسی کی مدد حاصل کرنے کا تھا مگر کس کی؟ وہ ہاسٹل نہیں جاسکتی تھی۔ وہ جو یریہ اور باقی لوگوں سے رابطہ نہیں کرسکتی تھی، کیوںکہ اس کے گھر والے اس کے دوستوں سے واقف تھے اور چند گھنٹوں میں وہ اسے لاہور میں ڈھونڈنے والے تھے، بلکہ ہوسکتا تھا اب تک اس کی تلاش شروع ہوچکی ہو اور اس صورت حال میں ان لوگوں سے رابطہ کرنا خطرے سے خالی نہیں تھا۔ اس کے لئے صبیحہ کی صورت میں واحد آپشن رہ جاتا تھا، مگر وہ اسے بات اس واقف نہیں تھی کہ وہ ابھی پشاور سے واپس آئی تھی یا نہیں۔
    صبیحہ کے گھر پر ملازم کے سوا اور کوئی نہیں تھا۔ وہ لوگ ابھی پشاور میں ہی تھے۔
    ”واپس کب آئیں گے؟” اس نے ملازم سے پوچھا۔ وہ اسے جانتا تھا۔
    ”یہ تو مجھے معلوم نہیں ہے مگر ایک دو دن تک آجائیں گے۔” اس نے امامہ کو بتایا۔
    ”کیا آپ کے پاس وہاں کا فون نمبر ہے؟” اس نے قدرے مایوسی کے عالم میں پوچھا۔
    ”جی، وہاں کا فون نمبر میرے پاس ہے۔” ملازم نے اس سے کہا۔
    ”وہ آپ مجھے دے دیں۔ میں فون پر اس سے بات کرنا چاہتی ہوں۔”
    اسے کچھ تسلی ہوئی۔ ملازم اسے اندر لے آیا۔ ڈرائنگ روم میں اسے بٹھا کر اس نے وہ نمبر لادیا۔ اس نے موبائل پر وہیں بیٹھے بیٹھے صبیحہ کو رنگ کیا۔ فون پشاور میں گھر کے کسی فرد نے اٹھایا تھا اور اسے بتایا کہ صبیحہ باہر گئی ہوئی ہے۔
    امامہ نے فون بند کردیا۔
    ”صبیحہ سے میری بات نہیں ہوسکی۔ میں کچھ دیر بعد اسے دوبارہ فون کروں گی۔” اس نے پاس کھڑے ملازم سے کہا۔
    ”تب تک میں یہیں بیٹھوں گی۔”
    ملازم سرہلاتے ہوئے چلاگیا۔ اس نے ایک گھنٹے کے بعد دوبارہ صبیحہ کو فون کیا۔ وہ اس کی کال پر حیران تھی۔
    اس نے اسے مختصر طورپر اپنا گھر چھوڑ آنے کے بارے میں بتایا۔ اس نے اسے سالار سے اپنے نکاح کے بارے میں نہیں بتایا کیونکہ وہ نہیں جانتی تھی صبیحہ اس سارے معاملے کو کس طرح دیکھے گی۔
    ”امامہ! تمہارے لئے سب سے بہتر یہ ہے کہ تم اس معاملے میں کورٹ سے رابطہ کرو۔ تبدیلی مذہب کے حوالے سے پروٹیکشن مانگو۔” صبیحہ نے اس کی ساری گفتگو سننے کے بعد کہا۔
    ”میں یہ کرنا نہیں چاہتی۔”
    ”کیوں؟”
    ”صبیحہ! میں پہلے ہی اس مسئلے کے بارے میں بہت سوچ چکی ہوں۔ تم میرے بابا کی پوزیشن اور اثرور سوخ سے واقف ہو۔ پریس تو طوفان اٹھادے گا۔ میری فیملی کو بہت ساری پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ میں یہ تو نہیں چاہتی کہ میرے گھر پر پتھراؤ ہو، میری وجہ سے میرے گھر والوں کی زندگی کو خطرہ ہو اور آج تک جتنی لڑکیوں نے اسلام قبول کرکے کورٹ پروٹیکشن لینے کی کوشش کی ہے ان کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ کورٹ دارالامان بھجوادیتی ہے۔ جو کہ جیل بھجوانے کے مترادف ہے۔ کیس کا فیصلہ کتنی دیر تک ہو، کچھ پتا نہیں۔
    گھر والے ایک کے بعد ایک کیس فائل کرتے رہتے ہیں۔ کتنے سال اس طرح گزر جائیں، کچھ پتا نہیں ہوتا اگر کسی کو کورٹ آزاد رہنے کی اجازت دے بھی دے تو وہ لوگ اتنے مسئلے کھڑے کرتے رہتے ہیں کہ بہت ساری لڑکیاں واپس گھر والوں کے پاس چلی جاتی ہیں۔ میں نہ تو دارالامان میں اپنی زندگی برباد کرنا چاہتی ہوں نہ ہی لوگوں کی نظروں میں آنا چاہتی ہوں۔ میں نے خاموشی کے ساتھ گھر چھوڑا ہے اور میں اسی خاموشی کے ساتھ اپنی زندگی گزارنا چاہتی ہوں۔”
    ”میں تمہاری بات سمجھ سکتی ہوں امامہ! لیکن مسائل تو تمہارے لئے ابھی بھی کھڑے کئے جائیں گے۔ وہ تمہیں تلاش کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگادیں گے اور ان لوگوں کے لئے مسائل پیدا ہوں گے جو تمہیں پناہ دیں گے اور وہ جب تمہیں ڈھونڈنا شروع کردیں گے تو مجھ تک پہنچنا تو ان کے لئے بہت آسان ہوگا۔ تمہاری مدد کرکے ہمیں بہت خوشی ہوگی مگر میرے ابو یہی چاہیں گے کہ مدد چھپ کر کر نے کے بجائے کھل کر کی جائے اور کورٹ اس معاملے میں یقینا تمہارے حق میں اپنا فیصلہ دے گا۔ تم ابھی میرے گھر پر ہی رہو۔ میں اس بارے میں ملازم کو کہہ دیتی ہوں اور آج میں اپنے ابو سے بات کرتی ہوں ہم کوشش کریں گے، کل لاہور واپس آجائیں۔”
    امامہ نے ملازم کو بلا کر فون اس کے حوالے کردیا۔ صبیحہ نے ملازم کو کچھ ہدایات دیں اور پھر رابطہ منقطع کردیا۔
    ”میں صبیحہ بی بی کا کمرہ کھول رہا ہوں، آپ وہاں چلی جائیں۔” ملازم نے اس سے کہا۔
    وہ صبیحہ کے کمرے میں چلی آئی مگر اس کی تشویش اور پریشانی میں اضافہ ہوگیا تھا۔ وہ صبیحہ کے نقطہء نظر کو سمجھ سکتی تھی۔ وہ یقینا یہ نہیں چاہتی تھی کہ خود صبیحہ اور اس کی فیملی پر کوئی مصیبت آئے۔ اس معاملے میں صبیحہ کے اندیشے درست تھے۔ اگر ہاشم مبین کو یہ پتا چل جاتا کہ اسے صبیحہ کی فیملی نے پناہ دی تھی تو وہ ان کے جانی دشمن بن جاتے۔ شاید اس لئے صبیحہ نے اس سے قانون کی مدد لینے کے لئے کہا تھا مگر یہ راستہ اس کے لئے زیادہ دشوار تھا۔
    جماعت کے اتنے بڑے لیڈر کی بیٹی کا اس طرح مذہب چھوڑ دینا پوری جماعت کے منہ پر طمانچے کے مترادف تھا اور وہ جانتے تھے کہ اس سے پورے ملک میں جماعت اور خود ان کے خاندان کو کتنی زک پہنچے گی اور وہ اس بے عزتی سے بچنے کے لئے کس حدتک جاسکتے تھے، امامہ جانتی نہیں تھی، مگر اندازہ کر سکتی تھی۔
    وہ صبیحہ کے کمرے میں داخل ہورہی تھی جب اس کے ذہن میں ایک جھما کے کے ساتھ سیدہ مریم سبط علی کا خیال آیا تھا۔ وہ صبیحہ کی دوست اور کلاس فیلو تھی۔ وہ اس سے کئی بار ملتی رہی تھی۔ ایک بار صبیحہ کے گھر پر ہی مریم کو اس کے قبول اسلام کا پتا چلا تھا۔ وہ شاید صبیحہ کی واحد دوست تھی جسے صبیحہ نے امامہ کے بارے میں بتا دیا تھا اور مریم بہت حیران نظر آئی تھی۔
    ”تمہیں اگر کبھی میری کسی مدد کی ضرورت ہوئی تو مجھے ضرور بتانا بلکہ بلا جھجک میرے پاس آجانا۔”
    اس نے بڑی گرم جوشی کے ساتھ امامہ سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا۔ بعد میں بھی امامہ سے ہونے والی ملاقاتوں میں وہ ہمیشہ اس سے اسی گرم جوشی کے ساتھ ملتی رہی تھی۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ اسے اس کا کیوں خیال آیا تھا یا وہ کس حد تک اس کی مدد کرسکتی تھی مگر اس وقت اس نے اس سے بھی رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے موبائل سے فون کرنا چاہا مگر موبائل کی بیٹری ختم ہوچکی تھی۔ اس نے اسے ری چارج کرنے کے لئے لگایا اور خود لاؤنج میں آکر اپنی ڈائری سے مریم کا نمبر ڈائل کرنے لگی۔
    فون ڈاکٹر سبط علی نے اٹھایا تھا۔
    ”میں مریم سے بات کرنا چاہتی ہوں، میں ان کی دوست ہوں۔”
    ”اس نے اپنا تعارف کروایا۔ اس نے پہلی بار مریم کو فون کیا تھا۔
    ”میں بات کرواتا ہوں۔” انہوں نے فون ہولڈ رکھنے کا کہا۔ کچھ سیکنڈز کے بعد امامہ نے دوسری طرف مریم کی آواز سنی۔
    ”ہیلو۔۔۔”
    ”ہیلو مریم! میں امامہ بات کررہی ہوں۔”
    ”امامہ… امامہ ہاشم؟” مریم نے حیرانی سے پوچھا۔
    ”ہاں، مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے۔”
    وہ اسے اپنے بارے میں بتاتی گئی۔ دوسری طرف مکمل خاموشی تھی جب اس نے بات ختم کی تو مریم نے کہا۔
    ”تم اس وقت کہاں ہو؟”
    ”میں صبیحہ کے گھر پر ہوں، مگر صبیحہ کے گھرپر کوئی نہیں ہے۔ صبیحہ پشاور میں ہے۔”
    اس نے صبیحہ کے ساتھ ہونے والی گفتگو کے بارے میں اسے نہیں بتایا۔
    ”تم وہیں رہو۔ میں ڈرائیور کو بھجواتی ہوں۔ تم اپنا سامان لے کر اس کے ساتھ آجاؤ… میں اتنی دیر میں اپنی امی اور ابو سے بات کرتی ہوں۔”
    اس نے فون بند کرتے ہوئے کہا۔ یہ صرف ایک اتفاق تھا کہ اس نے ڈاکٹر سبط علی کے گھر کی جانے والی کال سالار کے موبائل سے نہیں کی تھی ورنہ سکندر عثمان ڈاکٹر سبط علی کے گھر بھی پہنچ جاتے اور اگر امامہ کو یہ خیال آجاتا کہ وہ موبائل کے بل سے اسے ٹریس آؤٹ کرنے کی کوشش کریں گے تو وہ لاہور آکر ایک بار بھی موبائل استعمال نہ کرتی۔
    یہ ایک اور اتفاق تھاکہ ڈاکٹر سبط علی نے اپنے آفس کی گاڑی اور ڈرائیور کو اسے لینے کے لئے بھجوایا تھا، ورنہ صبیحہ کا ملازم مریم کی گاڑی اور ڈرائیور کو پہچان لیتا کیونکہ مریم اکثر وہاں آیا کرتی تھی اور صبیحہ کے ساتھ ساتھ وہ لوگ بھی یہ جان جاتے کہ وہ صبیحہ کے گھر سے کہاں گئی تھی۔
    ٭…٭…٭
    آدھ گھنٹہ کے بعد ملازم نے ایک گاڑی کے آنے کی اطلاع دی۔ وہ اپنا بیگ اٹھانے لگی۔
    ”کیا آپ جارہی ہیں؟”
    ”ہاں۔۔۔”
    ”مگر صبیحہ بی بی تو کہہ رہی تھیں کہ آپ یہاں رہیں گی۔”
    ”نہیں… میں جارہی ہوں… اگر صبیحہ کا فون آئے تو آپ اسے بتادیں کہ میں چلی گئی ہوں۔”
    اس نے دانستہ طورپر اسے یہ نہیں بتایا کہ وہ مریم کے گھر جارہی تھی۔
    ٭…٭…٭
    وہ پہلی بار مریم کے گھر گئی تھی۔ اس کا خیال تھا کہ اسے وہاں جاکر ایک بارپھر مریم اور اس کے والدین کو اپنے بارے میں سب کچھ بتانا پڑے گا۔ وہ ذہنی طورپر خود کو سوالوں کے لئے تیار کررہی تھی مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہوا تھا۔
    ”ہم لوگ تو ناشتہ کرچکے ہیں تم ناشتہ کرلو۔”
    مریم نے پورچ میں اس کا استقبال کیا تھا اور اسے اندر لے جاتے ہوئے کہا۔ اندر لاؤنج میں ڈاکٹر سبط علی اور ان کی بیوی سے اس کا تعارف کروایا گیا۔ وہ بڑے تپاک سے ملے۔ امامہ کے چہرے پر اتنی سراسیمگی اور پریشانی تھی کہ ڈاکٹر سبط علی کو اس پر ترس آیا۔
    ”میں کھانا لگواتی ہوں۔ مریم تم اسے اس کا کمرہ دکھادو… تاکہ یہ کپڑے چینج کرلے۔” سبط علی کی بیوی نے مریم سے کہا۔
    وہ جب کپڑے بدل کر آئی تو ناشتہ لگ چکا تھا۔ اس نے خاموشی سے ناشتہ کیا۔
    ”امامہ! اب آپ جاکر سوجائیں۔ میں آفس جارہا ہوں، شام کو واپسی پر ہم آپ کے مسئلے پر بات کریں گے۔”
    ڈاکٹر سبط علی نے اسے ناشتہ ختم کرتے دیکھ کر کہا۔
    ”مریم! تم اسے کمرے میں لے جاؤ۔” وہ خود لاؤنج سے نکل گئے۔
    وہ مریم کے ساتھ اپنے کمرے میں چلی آئی۔
    ”امامہ! اب تم سوجاؤ… تمہارے چہرے سے لگ رہا ہے کہ تم پچھلے کئی دنوں سے نہیں سوئیں۔ عام طورپر تھکن اور پریشانی میں نیند نہیں آتی اور تم اس وقت اس کا شکار ہوگی۔ میں تمہیں کوئی ٹیبلٹ لاکر دیتی ہوں اگر نیند آگئی تو ٹھیک ہے ورنہ ٹیبلٹ لے لینا۔”
    وہ کمرے سے باہر نکل گئی، کچھ دیر بعد اس کی واپسی ہوئی، پانی کا گلاس اور ٹیبلٹ بیڈ سائیڈ ٹیبل پر رکھتے ہوئے اس نے کہا۔
    ”تم بالکل ریلیکس ہوکر سوجاؤ۔ سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔ تم سمجھوکہ تم اپنے گھر میں ہو۔” وہ کمرے کی لائٹ آف کرتی ایک بارپھر کمرے سے باہر نکل گئی۔
    صبح کے ساڑھے نوبج رہے تھے مگر ابھی تک باہر بہت دھند تھی اور کمرے کی کھڑکیوں پر پردے ہونے کی وجہ سے کمرے میں اندھیرا کچھ اور گہرا ہوگیا تھا۔ اس نے کسی معمول کی طرح ٹیبلٹ پانی کے ساتھ نگل لی۔ اس کے بغیر نیند آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ اس کے ذہن میں اتنے بہت سے خیالات آرہے تھے کہ بیڈپر لیٹ کر نیند کا انتظار کرنا بہت مشکل ہوجاتا۔ چند منٹوں کے بعد اس نے اپنے اعصاب پر ایک غنودگی طاری ہوتی محسوس کی۔
    ٭…٭…٭
    وہ جس وقت دوبارہ اٹھی اس وقت کمرہ مکمل طور پر تاریک ہوچکا تھا۔ وہ بیڈ سے اٹھ کر دیوار کی طرف آئی اور اس نے لائٹ جلادی، وال کلال رات کے ساڑھے گیارہ بجارہا تھا۔ وہ فوری طورپر اندازہ نہیں کرسکی کہ یہ اتنی لمبی نیند ٹیبلٹ کا اثر تھی یا پھر پچھلے کئی دنوں سے صحیح طورپر نہ سوسکنے کی۔
    جو کچھ بھی تھا وہ صبح سے بہت بہتر حالت میں تھی۔ اسے بے حد بھوک لگ رہی تھی، مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ گھر کے افراد اس وقت جاگ رہے ہوں گے یا نہیں۔ بہت آہستگی سے وہ دروازہ کھول کر لاؤنج میں نکل آئی۔ ڈاکٹر سبط علی لاؤنج کے ایک صوفے پر بیٹھے کوئی کتاب پڑھ رہے تھے۔ دروازہ کھلنے کی آواز سن کر انہوں نے سراٹھا کر دیکھا اور اسے دیکھ کر مسکرائے۔
    ”اچھی نیند آئی؟” وہ بڑی بشاشت سے بولے۔
    ”جی…!” اس نے مسکرانے کی کوشش کی۔
    ”اب ایسا کریں کہ وہ سامنے کچن ہے،وہاں چلی جائیں۔ کھانا رکھا ہوا ہے۔ گرم کریں۔ وہاں ٹیبل پر ہی کھالیں اس کے بعد چائے کے دوکپ بنائیں اور یہاں آجائیں۔”
    وہ کچھ کہے بغیر کچن میں چلی گئی۔ فریج میں رکھا ہوا کھانا نکال کر اس نے گرم کیا اور کھانے کے بعد چائے لے کر لاؤنج میں آگئی۔ چائے کا ایک کپ بناکر اس نے ڈاکٹر سبط علی کو دیا۔
    وہ کتاب میز پر رکھ چکے تھے۔ دوسرا کپ لے کر وہ ان کے بالمقابل دوسرے صوفے پر بیٹھ گئی۔ وہ اندازہ کرچکی تھی کہ وہ اس سے کچھ باتیں کرنا چاہتے تھے۔
    ”چائے بہت اچھی ہے۔”
    انہوں نے ایک سپ لے کر مسکراتے ہوئے کہا وہ اتنی نروس تھی کہ ان کی تعریف پر مسکراسکی نہ شکریہ ادا کرسکی۔ وہ صرف انہیں دیکھتی رہی۔
    ”امامہ! آپ نے جو فیصلہ کیا ہے اس کے صحیح ہونے میں کوئی دورائے نہیں ہوسکتی مگر فیصلہ بہت بڑا ہے اور اتنے بڑے فیصلے کرنے کے لئے بہت ہمت کی ضرورت ہوتی ہے۔ خاص طورپر اس کم عمری میں، مگر بعض دفعہ فیصلے کرنے کے لئے اتنی جرأت کی ضرورت نہیں ہوتی جتنی ان پر قائم رہنے کے لئے ہوتی ہے۔ آپ کو کچھ عرصہ بعد اس کا اندازہ ہوگا۔”
    وہ بڑے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہہ رہے تھے۔
    ”میں آپ سے یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا مذہب کی تبدیلی کا فیصلہ صرف مذہب کے لئے ہے یا کوئی اور وجہ بھی ہے۔”
    وہ چونک کر انہیں دیکھنے لگی۔
    ”میرا خیال ہے مجھے زیادہ واضح طورپر یہ سوال پوچھنا چاہئے کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ کسی لڑکے میں دلچسپی رکھتی ہیں اور اس کے کہنے پر یا اس کے لئے آپ نے گھر سے نکلنے کا فیصلہ کیا ہو یا مذہب بدلنے کا۔ اس سوال کا جواب دینے سے پہلے آپ یہ مت سوچنا کہ اگر ایسی کوئی وجہ ہوگی تو میں آپ کو برا سمجھوں گا یا آپ کی مدد نہیں کروں گا۔ میں یہ صرف اس لئے پوچھ رہا ہوں کہ اگر ایسا ہوا تو پھر مجھے اس لڑکے اور اس کے گھر والوں سے بھی ملنا ہوگا۔”
    ڈاکٹر سبط علی اب سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے۔ اس وقت امامہ کو پہلی بار مریم سے اتنی دیر سے رابطہ کرنے پر پچھتاوا ہوا اگر سالار کے بجائے ڈاکٹر سبط علی، جلال سے یا اس کے گھر والوں سے بات کرتے تو شاید…” اس نے بوجھل دل سے نفی میں سرہلادیا۔
    ”ایسا کچھ نہیں ہے۔”
    ”کیا آپ کو واقعی یقین ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہے؟” انہوں نے ایک بارپھر پر سکون انداز میں اس سے کہا۔
    ”جی… میں نے اسلام کسی لڑکے کے لئے قبول نہیں کیا۔” وہ اس بار جھوٹ نہیں بول رہی تھی، اس نے اسلام واقعی جلال انصر کے لئے قبول نہیں کیا تھا۔
    ”پھر آپ کویہ اندازہ ہونا چاہئے کہ آپ کو کتنی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔”
    ”مجھے اندازہ ہے۔”




  • کیوئیں جاناں میں کون — مصباح علی سیّد

    اٹخ پٹخ، جھاڑ پونچھ، چیزیں یہاں سے اٹھا وہاں رکھ، وہاں کی اٹھائی سٹور میں اور سٹور کا فالتو سامان ردی والے کو، مہینوں سے رکھیں اوپر والوں کی چیزیں واپس جارہی تھیں اورعرصے دراز بعد اوپر سے نیچے والوں کا سامان واپس آرہا تھا۔ افراتفری کا ایسا عالم تھا جیسے کوئی نیا نیا مالک مکان آئے یا پھر چھوڑ کر جارہا ہو۔ چیزیں فرش پر بکھری اور بچے دیواروں پر ٹنگے، کیلیں مختلف چیزیں لگانے کے لیے ٹھونک رہے تھے۔ عرصے بعد شام کا بھولا گھر آرہا تھا بدنظر سے بچاؤ کے تعویز اور نقش خاص طور پر پیر جی سے لگاتے تھے اور ایسی جگہ لٹکانے تھے جہاں سے وہ گزرے۔
    ’’خالا…‘‘
    فارحہ اپنی قدرتی صور پھونکتی آواز میں ہانک لگاتی آئی اور کیل ٹھونکتے احمد کی ہتھوڑی کیل کے بجائے اس کے ناخن پر، صد شکر تکلیف سے توازن نہ بگڑا ورنہ وہ خالہ سمیت زمین پر ہوتا اس نے گردن گھما کر اُسے گھورا مگر وہ اطمینان سے استفسار کررہی تھی۔
    ’’امی پوچھ رہی ہیں، ہادی ماموں کو لینے کون کون جائے گا؟‘‘
    ’’وہ تو بارہا منع کررہا ہے، خود ہی آجاؤں گا۔ مگر میں سوچ رہی ہوں‘‘
    انہوں نے کان پر دوپٹہ اڑستے گویا مطلع کیا تھا ’’احمد اور علی دونوں کو بھیج دوں۔‘‘
    ’’خالا میں بھی چلی جاؤں… علی بھائی اور …‘‘ وہ قدرے جھجک کر بولی ’’احمد کے ساتھ…، اس کی شرماتی نگاہ احمد کی پیٹھ پر گئی اپنے نام پر اُس نے بھی مڑ کر دیکھا تھا اس کی آواز گرم پانیوں میں تیرنے لگی تھی۔
    ’’ارے… تم کیا کرو گی…؟‘‘
    خالہ نے گھورا اور ایک کیل احمد کو پکڑاتے متوجہ کیا تھا ’’برابر دو کیلیں لگا، سبز تعویز لٹکانا ہے، پیر جی نے کہا تھا، سبزے کے چھاؤں ہاری کو ہرا بھرا کردے گی۔‘‘
    ’’اے اچھا چلی جانا…‘‘ قدرے محبت سے دیکھا جیسے ہی مڑنے لگی خالہ نے ہانک لگائی۔
    ’’اس سوکھے بدن پر اپنا کالا جوڑا نہ لٹکا لینا، کالا رنگ سوگ کی علامت…‘‘
    اس کی فرما رواہلتی گردن پر احمد کا دل مسوس کررہ گیا۔
    ’’ہائے! کیا غضب ڈھاتی ہے، اس سوٹ میں، سیدھی دل میں لگتی ہے… ٹھاہ‘‘
    اس کا سارا غصہ کیل اور دیوار پر نکلا تھا…
    ’’ہادی ماموں، ہادی بھیا‘‘ ہر جانب اک ہی ورد تھا۔ ہادی، ہادی، ہادی… جیسے ہی وہ گھر میں داخل ہوا بڑی آپانے سات دانے سرخ ڈوڈی مرچ کے اس پر سے وار کے آگ میں پھینکے۔ گھر کی پالتو بلی کو بہ طورِ خاص آج باندھ کر رکھا گیا تھا منحوس رستہ ہی نہ کاٹ دے۔ خوب ڈیل ڈول والی چھوٹی آپا بھی اِدھر اُدھر ڈولتی بڑھیں لمبی سی سبز بوتل سے چوکھٹ کے دونوں اطراف تیل ڈالا بھائی کی بلائیں لیں۔
    ’’امی یہ کیا…! فارحہ کی آواز اُبھری ’’تیل ڈال دیا تاکہ ماموں آتے ہی چوکھٹ رسید ہوجائیں۔‘‘
    امی سے پہلے خالہ کا چھانپڑ پشت پر لگا ’’کم بخت، منحوس ماری، بدفعال کیوں نکال رہی ہے، میرا لاڈلا بھائی کیوں گرنے لگا…‘‘
    فرطِ جذبات سے آگے بڑھیں پہلے ہادی کو گلے لگایا پھر پچڑ پچڑ پیشانی سے گال پر بوسے دے ڈالے۔
    ساتوں بھانجے بھانجیاں صوفے پر بیٹھے ہادی کے گرد حلقہ بنائے ہوئے تھے۔ کوئی گری پھانکتا، کوئی موبائل پر میسج ٹائپ کرتا، کوئی میسج پڑھتی اور کوئی ماموں کے ساتھ سیلفی بناتا۔ گزرے دنوں کی یادیں تازہ کررہے تھے۔ بڑی اور چھوٹی آپا دونوں بہنیں ہونے کے ساتھ دیورانی جیٹھانی بھی تھیں۔ منٹ منٹ بعد اس کے واری صدقے جائیں۔ بس نہیں چل رہا تھا کہ ہر چیز سے نظر اتار لیں۔ حالاں کہ چیزوں سے نظر اتارنے کہ بہ جائے خود کو اس پروار دیتیں یا کم از کم دل ہی بڑا کرلیتیں تو شاید آج ہادی کی زندگی میں سکون ہی ہوتا اور اس کی اجڑی صورت دیکھ کر غمزدہ نہ ہوتیں۔ غم بھی عجیب تھا سات سمندر پار سے برسوں بعد بھائی کی صورت دیکھنے کو ملی تھی۔ بڑا بھائی اللہ نے دیا نہیں چھوٹے کو ہی بھیا کہہ کر دل کی تسکین کرتی رہیں۔ دل کی تسکین بھی عجیب چیز ہے وہاں سے ہوتی ہے جہاں خواہشات ساتھ چھوڑ جائیں اور خواہشات کب مٹھی میں آتیں ہیں۔ اتنی جلدی ہاتھ سے ریت نہیں پھسلتی جتنی جلدی خواہشات پھسل کر سامنے منہ چڑھاتیں ہیں۔ چھوٹی اور بڑی دونوں کی شدید آرزو تھی ہادی کی خندہ پیشانی پر سنہری تاروں والا سہرا لہرائے پر خدا کی پناہ مجال کیا جو کوئی ڈھنگ کی لڑکی اس کے دل میں ٹھہری ہو، نظر سے گزری ہو، یا کسی معقول پر انگشت اشارہ ہی کیا ہو کتنا پوچھا مگر روزہ نہ کُھلا اور عمر پچیس سے بھاگتی پچاس کو چھونے لگی۔
    ’’ماموں آپ نے ہمارے ساتھ اچھا نہیں کیا۔‘‘
    احمد نے موبائل آف کرتے ہوئے ہمیشہ کی طرح درمیان سے جملہ نکالا ’’ہمیں اکلوتی ممانی سے محروم رکھ کر‘‘
    ہادی پوری بات سن کر دھیما سا مسکرا دیئے۔
    سدرہ نے بھی موبائل آف کرتے ہوئے احمد کی ہاں میں ہاں ملائی۔
    ’’تو اور کیا… قسمت سے ایک ہی آنی تھی، وہ بھی نہ آئی…‘‘
    ’’اے کم بخت… آہستہ بولا کر…‘‘
    بڑی آپا نے انگلی کی پورکان کے سوراخ پر رکھی اور اسے نخوت سے گھورا ’’جس دن منحوس پیدا ہوئی تھی اس دن منڈیر پر اتنا کوا بولا کہ دم دینے کو ہوگیا اور اپنی ساری نخوت بھری آواز اس مصیبت کو ہدیہ کرگیا، جواب ہمارے کانوں کے پیچھے پڑی ہے‘‘
    بڑی آپا اس کی آواز سے انتہائی عاجز تھیں۔ مسلسل اُسے گھورتے کہتی رہیں ’’لو بھلا آوازنہ ہوگئی ایف 16- ہوکیا، کان کے پردے پھاڑ ایک سے گھس دوسرے سے نکل…‘‘
    احمد ماں کے تبصرے پر دل مسوس کررہ جاتا اُسے تو اتنی سریلی لگتی تھی کیا کوئل کی کوک ہو، دل کے ہر خانے میں ڈیرہ ڈالتی سی اُس تاسفانہ ماں کو دیکھا۔
    ’’جانے امی کو اس کی آواز سے کیا مسئلہ ہے، بھلا میرے دل سے پوچھے کوئی…‘‘
    احمد کی بڑابڑاہٹ سدرہ نے سن لی اور پلکیں پٹپٹاتے رخساروں پر گلال پھیلتا ہادی ماموں نے اُس کے چہرے پر محسوس کیا تھا پھر مونچھوں تلے ہونٹ مبہم سے پھیل گئے۔
    ’’ابھی کون سا بوڑھا ہوگیا ہے، لوگ ساٹھ ساٹھ کے شادی کرتے ہیں۔‘‘
    چھوٹی آپا ابھی تک پرانے موضوع میں الجھی تھیں۔ ’’اتنے برس پردیس لگایا، کرلیتا کوئی گوری پسند۔‘‘
    دل کو چیرتی تیز لہر سے بے قرار ہوکر اُس نے چھوٹی آپا کو دیکھا تھا وہ سوئے بیلو کے تکیے تلے لوہے کی چُھری چُھپانے میں مصروف تھیں۔ غالباً اُس کی شباب کی عمر آرہی تھی۔ رات کو بار بار کروٹیں بدلتا آنکھ کُھلتی، بے چین رہتا اور آپا کا کہنا تھا اوپری چیزیں ڈراتیں ہیں، لوہے کی کوئی تیز دھار اگر پاس ہو تو چیزیں بھاگ جاتیں ہیں، ہونہ آپا اور اُن کا تضاد۔
    ’’آپا، وہاں کی گوریاں مذہب اغیار سے ہوتیں ہیں۔‘‘




  • پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۷

    پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۷

    پیرس سے واپسی پر اس کی زندگی کے ایک نئے فیز کا آغاز ہوا تھا۔ ابتدائی طورپر وہ اسلام آباد میں اس غیر ملکی بینک میں کام کرتا رہا۔ پھر کچھ عرصے کے بعد وہ اسی بینک کی ایک نئی برانچ کے ساتھ لاہور چلا آیا۔ اسے کراچی جانے کا موقع بھی مل رہا تھا مگر اس نے لاہور کا انتخاب کیا تھا۔ اسے یہاں ڈاکٹر سبط علی کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع بھی مل رہا تھا۔
    پاکستان میں اس کی مصروفیات کی نوعیت تبدیل ہوگئی تھی مگر ان میں کمی نہیں آئی تھی۔ وہ یہاں بھی دن رات مصروف رہتا تھا۔ ایکExceptionalماہر معاشیات کے طورپر اس کی شہرت اس کے ساتھ ساتھ سفر کررہی تھی۔ حکومتی حلقوں کے لئے اس کا نام نیا نہیں تھا مگر پاکستان آجانے کے بعد فنانس منسٹری مختلف مواقع پر وقتاً فوقتاً اپنے زیر تربیت آفیسرز کو دئیے جانے والے لیکچرز کے لئے اسے بلواتی رہتی۔ لیکچرز کا سلسلہ بھی اس کے لئے نیا نہیں تھا۔Yaleمیں زیر تعلیم رہنے کے بعد وہ وہاں مختلف کلاسز کو لیکچر دیتا رہا تھا یہ سلسلہ نیویارک منتقل ہوجانے کے بعد بھی جاری رہا۔ جہاں وہ کو لمبیا یونیورسٹی میں ہیومن ڈویلپمنٹ پر ہونے والے سیمنیارز میں حصہ لیتا رہا بعد میں اس کی توجہ ایک بارپھر اکنامکس کی طرف مبذول ہوگئی۔
    پاکستان میں بھی بہت جلد وہ ان سیمینارز کے ساتھ انوالو ہوگیا تھا۔ جو IBA،LUMS اور FAST جیسے ادارے کروارہے تھے۔ اکنامکس اور ہیومن ڈویلپمنٹ واحد موضوعات تھے جن پر وہ خاموشی اختیار نہیں کیا کرتا تھا۔ وہ اس کے پسندیدہ موضوع گفتگو تھے اور سیمینارز میں اس کے لیکچرز کا فیڈبیک ہمیشہ بہت زبردست رہا تھا۔
    وہ مہینے کا ایک ویک اینڈ گاؤں میں اپنے اسکول میں گزارا کرتا تھا اور وہاں رہنے کے دوران وہ زندگی کے ایک نئے رخ سے آشنائی حاصل کررہا تھا۔
    ”ہم نے اپنی غربت اپنے دیہات میں چھپادی ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے لوگ مٹی کو کارپٹ کے نیچے چھپا دیتے ہیں۔”
    ”اس اسکول کی تعمیر کا آغاز کرتے ہوئے فرقان نے ایک بار اس سے کہا تھا اور وہاں گزارے جانے والے دن اسے اس جملے کی ہولناکی کا احساس دلاتے۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ پاکستان میں غربت کی موجودگی سے ناآشنا تھا۔ وہ یونیسکو اور یونی سیف میں کام کے دوران دوسرے ایشیائی ممالک کے ساتھ ساتھ پاکستان کے بارے میں بھی بہت ساری رپورٹس دیکھتا رہا تھا مگر پاکستان میں غربت کی آخری حدوں کو بھی پار کرنے والے لوگوں کو وہ پہلی بار ذاتی طورپر دیکھ رہا تھا۔
    ”پاکستان کے دس پندرہ بڑے شہروں سے نکل جائیں تو احساس ہوتا ہے کہ چھوٹے شہروں میں رہنے والے لوگ تیسری دنیا میں نہیں دسویں بارھویں دنیا میں رہتے ہیں۔ وہاں تو لوگوں کے پاس نہ روزگار رہے، نہ سہولتیں۔ وہ اپنی آدھی زندگی خواہش میں گزارتے ہیں اور آدھی حسرت میں مبتلا ہوکر کون سی اخلاقیات سیکھا سکتے ہیں آپ اس شخص کو جس کا دن سوکھی روٹی سے شروع ہوتا ہے اور فاقے پر ختم ہوجاتا ہے اور ہم… ہم لوگوں کی بھوک مٹانے کے بجائے مسجدیں تعمیر کرتے ہیں۔ عالی شان مسجدیں، پر شکوہ مسجدیں، ماربل سے آراستہ مسجدیں۔ بعض دفعہ تو ایک ہی سڑک پر دس دس مسجدیں کھڑی ہوتی ہیں۔ نمازیوں سے خالی مسجدیں۔”
    فرقان تلخی سے کہتا تھا۔
    ”اس ملک میں اتنی مسجدیں ہوچکی ہیں کہ اگر پورا پاکستان ایک وقت کی نماز کے لئے مسجدوں میں اکٹھا ہوجائے تو بھی بہت سی مسجدیں خالی رہ جائیں گی۔ میں مسجدیں بنانے پر یقین نہیں رکھتا جہاں لوگ بھوک سے خودکشیاں کرتے پھررہے ہوں جہاں کچھ خاص طبقوں کی پوری پوری نسل جہالت کے اندھیروں میں بھٹکتی پھر رہی ہو وہاں مسجد کے بجائے مدرسے کی ضرورت ہے۔ اسکول کی ضرورت ہے، تعلیم اور شعور ہوگا اور رزق کمانے کے مواقع تو اللہ سے محبت ہوگی ورنہ صرف شکوہ ہی ہوگا۔”
    وہ فرقان کی باتیں خاموشی سے سنتا رہتا تھا۔ اس نے مستقل طورپر گاؤں میں جانا شروع کیا تو اسے اندازہ ہوا فرقان ٹھیک کہتا تھا۔ غربت لوگوں کو کفر تک لے گئی تھی۔ چھوٹی چھوٹی ضرورتیں ان کے اعصاب پر سوار تھیں اور جو ان معمولی ضرورتوں کو پورا کردیتا وہ جیسے اس کی غلامی کرنے پر تیار ہوجاتے۔ اس نے جس ویک اینڈ پر گاؤں جانا ہوتا اسکول میں لوگ اپنے چھوٹے موٹے کاموں کے لئے جمع ہوتے۔ بعض دفعہ لوگوں کی قطاریں ہوتیں۔
    ”بیٹے کو شہر کی کسی فیکٹری میں کام پر رکھوادیں۔ چاہے ہزار روپیہ ہی مل جائے مگر کچھ پیسہ تو آئے۔”
    ”دو ہزار روپے مل جاتے تو میں اپنی بیٹی کی شادی کردیتا۔”
    ”بارش نے ساری فصل خراب کردی۔ اگلی فصل لگانے کے لئے بیج خریدنے تک کے لئے پیسے نہیں ہیں۔ آپ تھوڑے پیسے قرض کے طورپر دے دیں، میں فصل کٹنے کے بعد دے دوں گا۔”
    ”بیٹے کو پولیس نے پکڑلیا ہے، قصور بھی نہیں بتاتے، بس کہتے ہیں ہماری مرضی جب تک چاہیں اندر رکھیں، تم آئی جی کے پاس جاؤ۔”
    ”پٹواری میری زمین پر جھگڑا کررہا ہے۔ کسی اور کوالاٹ کررہا ہے۔ کہتا ہے میرے کاغذ جعلی ہیں۔”
    ”بیٹا کام کے لئے پاس کے گاؤں جاتا ہے۔روز آٹھ میل چل کر آنا جانا پڑتا ہے۔ آپ ایک سائیکل لے دیں تو مہربانی ہوگی۔”
    ”گھر میں پانی کا ہینڈ پمپ لگوانا ہے۔ آپ مدد کریں۔”
    وہ تعجب سے ان درخواستوں کو سنتا تھا۔ کیا لوگوں کے یہ معمولی کام بھی ان کے لئے پہاڑ بن چکے ہیں۔ ایسا پہاڑ جسے عبور کرنے کے لئے وہ زندگی کے کئی سال ضائع کر دیتے ہیں۔ وہ سوچتا۔
    مہینے کے ایک ویک اینڈ پر جب وہ وہاں آتا تو اپنے ساتھ دس پندرہ ہزار روپے زیادہ لے کر آتا وہ روپے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بہت سے لوگوں کو بظاہر بڑی لیکن حقیقتاً بہت چھوٹی ضرورتیں پوری کردیتے۔ ان کی زندگی میں کچھ آسانیاں لے آتے، اس کے لکھے ہوئے چند سفارشی رقعے اور فون کالز ان لوگوں کے کندھوں کے بوجھ اور پیروں میں پڑی نہ نظر آنے والی بیڑیوں کو کیسے اتار دیتے۔ اس کا احساس شاید سالار کو خود بھی نہیں تھا۔
    ٭…٭…٭





    لاہور میں اپنے قیام کے دوران وہ باقاعدگی سے ڈاکٹر سبط علی صاحب کے پاس جاتا تھا۔ ان کے ہاں ہر رات عشاء کی نماز کے بعد کچھ لوگ جمع ہوتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب کسی نہ کسی موضوع پر بات کیا کرتے تھے۔ بعض دفعہ اس موضوع کا انتخاب وہ خود کرتے بعض دفعہ ان کے پاس آنے والے لوگوں میں سے کوئی ان سے سوال کرتااور پھر یہ سوال اس رات کا موضوع گفتگو بن جاتا۔ عام اسکالرز کے برعکس ڈاکٹر سبط علی صرف خود نہیں بولتے تھے، نہ ہی انہوں نے اپنے پاس آنے والے لوگوں کو صرف سامع بنا دیا تھا بلکہ وہ اکثر اپنی بات کے دوران ہی چھوٹے موٹے سوالات کرتے رہتے اور پھر ان سوالات کا جواب دینے کے لئے نہ صرف لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتے بلکہ ان کی رائے کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ان کے اعتراضات کو بڑے تحمل اور برد باری سے سنتے۔ ان کے پاس آنے والوں میں صرف سالار سکندر تھا، جس نے ان سے کبھی سوال کیا تھا نہ کبھی ان کے کسی سوال کا جواب دینے کی کوشش کی تھی۔ وہ کبھی کسی بات پر اعتراض کرنے والوں میں شامل ہوا نہ کسی بات پر رائے دینے والوں میں۔
    وہ فرقان کے ساتھ آتا۔ فرقان نہ آتا تو اکیلا چلا آتا، کمرے کے آخری حصے میں اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھ جاتا، خاموشی سے ڈاکٹر صاحب اور وہاں موجود لوگوں کی گفتگو سنتا۔ بعض دفعہ اپنے دائیں بائیں آ بیٹھنے والے لوگوں کے استفسار پر اپنا ایک جملہ تعارف پیش کرتا۔
    ”میں سالار سکندر ہوں، ایک بینک میں کام کرتا ہوں۔”
    وہ جب تک امریکہ میں رہا تب تک ہر ہفتے ایک بار وہاں سے ڈاکٹر سبط علی کو فون کرتا رہا مگر فون پر ڈاکٹر صاحب کے ساتھ ہونے والی اس کی گفتگو بہت مختصر اور ایک ہی نوعیت کی ہوتی تھی۔ وہ کال کرتا، ڈاکٹر صاحب کال ریسیو کرتے اور ایک ہی سوال کرتے۔
    وہ پہلی بار اس سوال پر تب چونکا تھا جب وہ پاکستان سے چند دن پہلے ہی امریکہ آیا تھا اور ڈاکٹر صاحب اس کی واپسی کا پوچھ رہے تھے۔ اسے تعجب ہوا تھا۔
    ”ابھی تو نہیں…” اس نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے کہا تھا۔ بعد میں وہ سوال اسے کبھی عجیب نہیں لگا کیونکہ وہ لاشعوری طور پر جان گیا تھا کہ وہ کیا پوچھ رہے تھے۔
    آخری بار انہوں نے وہ سوال اس سے تب کیا تھا جب وہ امامہ کی تلاش میں ریڈ لائٹ ایریا میں پہنچا تھا۔ پیرس واپس پہنچنے کے ایک ہفتے کے بعد اس نے ہمیشہ کی طرح انہیں کال کیا تھا۔ ہمیشہ جیسی گفتگو کے بعد گفتگو اسی سوال پر آ پہنچی تھی۔
    ”واپس پاکستان کب آ رہے ہیں؟”
    بے اختیار سالار کا دل بھر آیا۔ اسے خود کو کمپوز کرنے میں کچھ دیر لگی۔
    ”اگلے ماہ آجاؤں گا۔ میں ریزائن کر رہا ہوں۔ واپس آکر پاکستان میں ہی کام کروں گا۔”
    ”پھر ٹھیک ہے، آپ سے اگلے ماہ ملاقات ہوگی۔” ڈاکٹر صاحب نے تب کہا تھا۔
    ”دعا کیجئے گا۔” سالار آخر میں کہتا۔
    ”کروں گا کچھ اور …؟”
    ”اور کچھ نہیں۔ اللہ حافظ …” وہ کہتا۔
    ”اللہ حافظ۔” وہ جواب دیتے۔ گفتگو کا یہ سلسلہ پاکستان آنے تک جاری رہا جب وہ ان کے پاس باقاعدگی سے جانے لگا تو یہ سلسلہ ختم ہوگیا۔
    ٭…٭…٭
    لاہور آنے کے بعد وہ باقاعدگی سے ان کے پاس جانے لگا تھا۔ اسے ان کے پاس سکون ملتا تھا۔ صرف ان کے پاس گزارا ہوا وقت ایسا ہوتا تھا جب وہ کچھ دیر کے لئے مکمل طور پر اپنے ڈیرپشن سے سے آزادی حاصل کرلیتا تھا۔ بعض دفعہ ان کے پاس خاموش بیٹھے بیٹھے بے اختیار اس کا دل چاہتا وہ ان کے سامنے وہ سب کچھ اگل دے جسے وہ اتنے سالوں سے اپنے اندر زہر کی طرح بھرے پھر رہا تھا۔ پچھتاوا، احساس جرم… بے چینی، بے بسی، شرمندگی، ندامت، ہر چیز۔ پھر اسے خوف پیدا ہوتا ڈاکٹر سبط علی اس کو پتا نہیں کن نظروں سے دیکھیں گے۔ اس کی ہمت دم توڑ جاتی۔
    ڈاکٹر سید سبط علی ابہام کو دور کرنے میں کمال رکھتے تھے۔ وہ ان کے پاس خاموش بیٹھا رہتا۔ صرف سنتا، صرف سمجھتا، صرف نتیجے اخذ کرتا۔ کوئی دھند تھی جو چھٹ رہی تھی۔ کوئی چیز تھی جو نظر آنے لگی تھی۔ جن سوالوں کو وہ کئی سالوں سے سر پر بوجھ کی صورت میں لئے پھر رہا تھا ان کے پاس ان کے جواب تھے۔
    ”اسلام کو سمجھ کر سیکھیں تو آپ کو پتا چلے گا کہ اس میں کتنی وسعت ہے۔ یہ تنگ نظری اور تنگ دل کا دین نہیں ہے نہ ہی ان دونوں چیزوں کی اس میں گنجائش ہے۔ یہ میں سے شروع ہوکر ہم پر جاتا ہے۔ فرد سے معاشرے تک۔ اسلام آپ سے یہ نہیں کہتا کہ آپ چوبیس گھنٹے سر پر ٹوپی، ہاتھ میں تسبیح پکڑے ہر جگہ مصلےٰ بچھائے بیٹھے رہیں۔ ہر بات میں اس کے حوالے دیتے رہیں۔ نہیں، یہ تو آپ کی زندگی سے… آپ کی اپنی زندگی سے حوالہ چاہتاہے۔ یہ تو آپ سے راست بازی اور پارسائی کا مطالبہ کرتاہے۔ دیانت داری اور لگن چاہتا ہے۔ اخلاص اور استقامت مانگتا ہے۔ ایک اچھا مسلمان اپنی باتوں سے نہیں اپنے کردار سے دوسروں کو متاثر کرتاہے۔”
    سالار ان کی باتوں کو ایک چھوٹے سے ریکارڈر میں ریکارڈ کر لیتا پھر گھر آکر بھی سنتا رہتا۔ اسے ایک رہبر کی تلاش تھی، ڈاکٹر سبط علی کی صورت میں اسے وہ رہبر مل گیا تھا۔
    ٭…٭…٭
    ”سالار آؤ، اب آ بھی جاؤ۔ کتنی منتیں کر واؤگے؟” انیتا نے اس کا بازو کھینچتے ہوئے ناراضی سے کہا۔
    وہ عمار کی شادی میں شرکت کے لئے اسلام آباد آیا ہوا تھا۔ تین دن کی چھٹی لے کر حالانکہ اس کے گھر والوں کا اصرار تھا کہ وہ ایک ہفتے کے لئے آئے۔ شادی کی تقریبات کئی دن پہلے شروع ہوچکی تھیں۔ وہ ان تقریبات کی ”اہمیت” اور ”نوعیت” سے واقف تھا۔ اس لئے گھر والوں کے اصرار کے باوجود وہ تین دن کی رخصت لے کر آیا اور اب وہ عمار کی مہندی کے فنکشن میں شرکت کر رہا تھا جو عمار اور اس کے سسرال والے مل کر کر رہے تھے۔ عمار اور اسریٰ دونوں کے عزیز و اقارب اور دوست مختلف اور پاپ گانوں پر رقص کرنے میں مصروف تھے۔ ایک طوفان بدتمیزی تھا جو وہاں برپا تھا۔ سلیو لیس شرٹس، کھلے گلے، جسم کے ساتھ چپکے ہوئے کپڑے، باریک ملبوسات ، سلک اور شیفون کی ساڑھیاں، نیٹ کے بلاؤز، اس کی فیملی کی عورتیں بھی دوسری عورتوں کی طرح اسی طرح کے ملبوسات پہنے ہوئے تھیں۔
    مکسڈ گید رنگ تھی اور وہ تقریب شروع ہونے پر اس ہنگامے سے کافی دور کچھ ایسے لوگوں کے پاس بیٹھا ہوا تھا جو کارپوریٹ یا بینکنگ سیکٹر سے تعلق رکھتے تھے اور سکندر یا اس کے اپنے بھائیوں کے شناسا تھے۔
    مگر پھر مہندی کی رسومات کا آغاز ہونے لگا اور انیتا اسے اسٹیج کی طرف لے گئی۔ اسریٰ اور عمار بے تکلفی سے اسٹیج پر بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ وہ پہلی بار اسریٰ سے مل رہا تھا۔ عمار نے اس کا اور اسریٰ کا تعارف کروایا۔ مہندی کی رسومات کے بعد اس نے وہاں سے جانے کی کوشش کی مگر کامران اور طیبہ نے اسے زبردستی روک دیا۔
    ”بھائی کی مہندی ہو رہی ہے اور تم اس طرح وہاں کونے میں بیٹھے ہو۔” طیبہ نے اسے ڈانٹا تھا۔ ”تمہیں یہاں ہونا چاہئے۔”
    وہ ان کے کہنے پر وہیں کامران اور اس کی بیوی کے ساتھ کھڑا ہوگیا۔ اس کے ایک کزن نے ایک بار پھر وہ دو پٹہ اس کے گلے میں ڈالنے کی کوشش کی جو وہ سب ڈالے ہوئے تھے۔ اس نے ایک بار پھر قدرے ناگواری سے اس کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے اسے تنبیہ کی۔
    اگلے چند منٹوں کے بعد وہاں رقص شروع ہوچکا تھا۔ عمار سمیت اس کے سارے بہن بھائی اور کنزنز رقص کر رہے تھے اور انیتا نے اسے بھی کھینچنا شروع کردیا تھا۔
    ”نہیں انیتا! میں نہیں کرسکتا۔ مجھے نہیں آتا۔”
    اس نے اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کرتے ہوئے معذرت کی مگر اس کی معذرت قبول کرنے کے بجائے وہ اور عمار اسے کھینچ کر رقص کرنے والوں کے ہجوم میں لے آئے تھے۔ کامران اور معیز کی شادی میں وہ بھی ایسے ہی رقص کرتا رہاتھا، مگر عمار کی مہندی پر وہ پچھلے سات سالوں میں اتنا لمبا ذہنی سفر طے کر چکا تھا کہ وہاں اس ہجوم کے درمیان خالی بازو کھڑے کرنا بھی اس کے لئے دشوار تھا۔ قدرے بے بس مسکراہٹ کے ساتھ وہ اسی طرح ہجوم کے درمیان کھڑا رہا پھر اس نے انیتا کے کان میں کہا۔
    ”انیتا… میں ڈانس بھول چکا ہوں۔ Please Let me go (براہِ مہربانی مجھے جانے دو)۔”
    ”تم کرنا شروع کرو… آجائے گا۔” انیتا نے جواباً اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔ اب اسریٰ بھی اس ہجوم میں شامل ہوچکی تھی۔
    ”میں نہیں کرسکتا۔ تم لوگ کرو۔ میں انجوائے کر رہا ہوں۔ مجھے جانے دو۔”
    اس نے مسکراتے ہوئے نکلنے کی کوشش کی۔ اسریٰ کی آمد نے اسے اس کوشش میں کامیاب کردیا۔
    ”عروج ہر قوم، ہر نسل کا خواب ہوتا ہے اور پھر وہ قومیں جن پر الہامی کتابیں نازل ہوئی ہوں وہ تو عروج کو اپنا حق سمجھتی ہیں مگر کبھی بھی کسی قوم پر عروج صرف اس بنا پر نہیں آیا کہ اسے ایک کتاب اور نبی دے دیاگیا جب تک اس قوم نے اپنے اعمال اور افعال سے عروج کے لئے اپنی اہلیت ثابت نہیں کردی وہ کسی مرتبہ، کسی مقام، کسی فضیلت کے قابل نہیں ٹھہریں۔ مسلمان قوم یا امت کے ساتھ بھی ایسا ہوتا رہا ہے اور ہورہا ہے۔ ان کا مسئلہ یہ ہے کہ ا ن کے اعلیٰ طبقات تعیش اور نفس پرستی کا شکار ہیں۔ یہ دونوں چیزیں وبا کی طرح ہوتی ہیں۔ ایک سے دوسرے، دوسرے سے تیسرے اور پھر یہ سلسلہ کہیں رُکتا نہیں۔” اسے وہاں کھڑے ان ناچتے ہوئے عورتوں اور مردوں کے ہجوم کو دیکھتے ہوئے بے اختیار ڈاکٹر سبط علی کی باتیں یاد آنے لگیں۔
    ”مومن عیاش نہیں ہوتا نہ تب جب وہ رعایا ہوتاہے نہ تب جب وہ حکمران ہوتا ہے۔ اس کی زندگی کسی جانور یا کیڑے کی زندگی جیسی نہیں ہوتی۔ کھانا پینا، اپنی نسل کو آگے بڑھانا اور فنا ہوجانا۔ یہ کسی جانور کی زندگی کا انداز تو ہوسکا ہے مگر کسی مسلمان کی نہیں۔” سالار بے اختیار مسکرایا۔ وہ آج پھر ”جانوروں” اور ”حشرات الارض” کاایک گروہ دیکھ رہا تھا۔ اسے خوشی ہوئی، وہ بہت عرصہ پہلے ان میں سے نکل چکا تھا۔ وہاں ہر ایک خوش باش، پرسکون اور مطمئن نظر آرہا تھا۔ بلند قہقہے اور چمکدار چہرے اور آنکھیں۔ اس کے سامنے طیبہ عمار کے سسر کے ساتھ رقص کر رہی تھیں۔ انیتا اپنے سب سے بڑے بھائی کامران کے ساتھ۔