Tag: Urdu fiction

  • سوئٹو کا محافظ — عمارہ خان

    سوئٹو کا محافظ — عمارہ خان

    میری شخصیت بچپن سے ہی کمزور رہی ہے،اعتماد سے عاری فرد ہوں میں ۔جلدی گھبراجانا،لوگوں کا سامنا کرنے میں عجیب جھجک اور شور وغل سے گھبراہٹ کا شکار ہوجانا میرے لئے معمولی بات ہے۔گھر میں جب کبھی باجی کی سہیلیاں آجاتیں تب بھی میرا وقت زیادہ تر اپنے کمرے میں ہی گزرتا تھا جب کہ وہ مجھ سے ملنا اور میرے ساتھ وقت گزارنا چاہتی تھیں۔
    اب آپ سوچیں گے کیوں؟ایسا کیوں تھا؟۔۔اس کی وجہ یہ ہے کہ میں اپنے والدین کے بڑھاپے کی اولاد ہوں،مجھے سے پندرہ اور تیرہ سال بڑے سہیل بھائی اور رانی باجی ہیں،وہ ویسے بھی مجھے چھوٹا سا کھلونا سمجھتے ہیں جس سے وہ ہروقت کھیلیں اور خوش ہوں۔آخری اولاد ہونے کے ناطے تھوڑے زیادہ ہی لاڈ پیار سے پرورش کی گئی ہے میری اور سب نے ہی مجھے بگاڑنے میں اپنا پورا حصہ ڈالاہے۔کچھ پیدائشی رنگ روپ میں قدرت نے بھی فیاضی سے کام لیا تھا۔ باقی کسر میرے گھر والوں کے لاڈ پیار نے پوری کر دی ۔
    قد کاٹھ اچھا تھا اور رنگ بھی ماشاء اللہ اور سونے پہ سہاگا ایسے گھنے اور کالے سیاہ بال کہ بس۔۔جو بھی دیکھتا تو امی سے پوچھتا ۔ ”اے بہن!سوئٹو کے بالوں میں کیا لگاتی ہو۔ایسا گھنا پن تو کم کم دیکھنے میں آتا ہے اب۔”
    اور امی اُن نظر باز لوگوں کے جاتے ہی میری نظر اتارتیں تب کہیں جاکے انہیں اور پھر مجھے سکون ملتا تھا۔
    ویسے جب بھی امی اور باجی یہ کہتی تھیں :”سوئٹو پہ نخرہ بہت ہی جچتا ہے ”
    تو میری گردن میں خود بہ خود ہی ایک اکڑ سی آجاتی اور مجھے لاڈ و بچہ بننا اچھا لگتا ۔میری شخصیت کا کباڑاکرنے میں انہی دو خواتین کا ہاتھ سب سے زیادہ ہے،ہمیشہ ہتھیلی کا چھالابنا کر رکھا۔میں نے ”پراعتماد” شخصیت تو بننا ہی تھا۔
    بچپن سے ہی میرے بھائی اور باجی میرے محافظ کا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔در اصل ہمارے چھوٹے سے علاقے میںلڑکے لڑکیاں مڈل تک ساتھ ہی پڑھتے تھے ،سو باجی اور بھائی نے مجھے ہمیشہ ہی اپنی نگرانی میں رکھا ،پھر کالج میں بھی کُچھ ایسے ساتھی مل گئے کہ مجھے کبھی اکیلے آنے جانے کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہوا ۔
    وہ تو جب باجی کی شادی ہوئی ،تواحساس ہوا کہ وہ گھر میں میری کتنی بڑی دُوسراہٹ تھیں۔کیوں کہ مجھ میں تو اعتماد نام کی کوئی چیز نہ تھی لہٰذاباجی نے ہمیشہ ابا جی تک میری آواز پہنچائی اور کامیاب لوٹیں۔۔آپ کو تو معلوم ہی ہے بھائی کہاں اتنی پروا کرتے ہیں۔انہیں تواحساس بھی نہیں ہوتا کہ گھر میں چھوٹا بہن یا بھائی اکیلا ہے۔۔اُسے کُچھ وقت دے دیا کریں۔۔کُچھ خیال کر لیا کریں۔۔

    جب مجھے اکیلے رہنا پڑا تو معلوم ہوا کہ باجی سے کتنی رونق تھی گھرکی۔۔اُن کی سہیلیاں آتیں تو ہلچل مچی رہتی تھی ۔ہ بھی مجھے اور بھائی کو اپنے ساتھ ہی لگائے رکھتیں۔ان کے جانے کے بعد تو گھر بے رونق ہی ہوگیا تھا۔۔میرا دل ہی نہیں لگتا تھا گھر میں۔۔کالج سے آکے جب مجھے میرے کمرے کی ویرانی سے سامناکرنا پڑتا تو دل گھبراجاتا ۔اسی وجہ سے میرا پڑھائی میں دل لگنے لگا تھا۔ظاہر ہے جب کچھ کرنے کو نہیں تو اب انسان یا تو پڑھے گا یا باہر نکل جائے گا۔
    باہر نکلنا اور وہ بھی اکیلے۔۔اُف ف ف ف ف ۔۔۔توبہ توبہ۔۔سوچ کر ہی جھرجھری آجاتی ہے۔پتا نہیں کالج کے دو سال بغیر بھائی کے آنا جانا کیسے ہوتا رہا۔ورنہ میرا تو موڈ پڑھائی چھوڑ کر گھر بیٹھ جانے کا تھا ،تاکہ سکون سے کچھ لکھنا شروع کردوں۔۔کیوں کہ مجھے لگتا تھا کہ ایک عظیم لکھاری میرے اندرموجود ہے جو تڑپ رہا ہے باہر نکلنے کو۔۔ویسے بھی لکھنا لکھانا تو فارغ۔۔۔میرا مطلب ہے حساس لوگوں کا کام ہے نا۔۔اب مجھ سے زیادہ حساس بھلا کہاں ملے گا کسی کو۔۔اور پھر پڑھ لکھ کر مجھے کرنا ہی کیا تھا۔۔
    مجھے پڑھ لکھ کر کون سی ملازمت کرنے کی اجازت مل جاتی ۔بتایا تھا نا آپ کو کہ میں ذرا لاڈلی اولاد ہوں۔۔گھر بھرمجھے زمانے کی ہوا نہیں لگنے دینا چاہتا تو مجھے بھی کون سی مصیبت پڑی تھی، جو زمانے سے بھگتوں۔۔جب گھر بیٹھے آسائشیں میسر ہوں تو بے وقوف تھوڑا ہی ہوںجوایسی خواہش رکھوں اور اپنا رنگ و روپ خراب کروں۔
    ابا جی کی اتنی اچھی اور چلتی ہوئی دودھ دہی کی دُکان جومیرے نام ہے۔۔ایک دُکان بھائی کے نام بھی ہے لیکن وہ کرائے پر دے رکھی ہے اور باجی کو تو جہیز ہی اتنا دے دیا تھا کہ اب ہمارے معاشرے کی روایات کے عین مطابق جائیداد میں اُن کاحصہ نہ رکھا گیا۔ویسے بھی وہ ابا کے بڑے بھائی کے گھر ہی تو بیاہی تھیں کون سا کسی غیر کے گھر۔
    تو اب آپ کو اندازہ ہوگیا ہوگا میرے اکیلے پن اور نازک صورت حال کا۔۔کیوں کہ گھر میں کوئی ہے ہی نہیں ،جس کے ساتھ وقت گزاروں تو مجھے۔۔یعنی سوئٹو کو کُچھ شیئر کرنے کے لئے کاغذ قلم کا سہارالینے پر مجبور ہونا پڑتا تھا۔۔۔
    آج آپ لوگ میرے ایک راز سے واقف ہونے والے ہیں۔
    مجھے۔۔مجھے پیار ہوگیا ہے۔۔ہاں جی وہی پیار ،عشق،محبت اور عاشقی۔۔جو مرضی نام دے دیں۔۔ویسے آپ لوگ بھی حیران ہوں گے کہ کمزور اور دبو شخصیت رکھتے ہوئے پیار۔۔؟۔۔بس جی یہ تو ہو جانے والی چیز ہے۔۔کسی کا بس کہاں چلتا ہے اس پر۔۔تو میری زندگی میں بھی بہار آگئی۔۔اور مانو اجالا ہی ہوگیا۔
    پہلے تو مجھ پرایک جمود سا طاری رہتا تھا اور اب دن رات کیسے گزرتے ہیں نہیں معلوم۔۔ہر وقت محبوب کا خیال مجھے بے چین کئے رکھتا ہے۔۔دل چاہتا ہے کہ چوبیس گھنٹے اپنی چھت سے برابر والوں کی چھت پر ٹکٹکی باندھے رکھوں۔
    آپ بھی سوچتے ہوں کہ یہ اچانک کیا معاملہ پیش آگیا۔حقیقت یہ ہے کہ میرے محبوب کا گھر برابر والا ہی تو ہے۔۔خیر سے ”وہ”ہمارے نئے پڑوسی ہیں۔۔جب دوسال پہلے وہ لوگ ادھر آئے تھے تو مجھے کیا معلوم تھا کہ میری ویران زندگی میں چپکے سے بہار آنے والی ہے۔
    میرے ”اُن” کے بات کرنے کا اسٹائل۔۔آہ، اُف!۔۔اور کیا ہمت و بہادری پائی ہے۔۔اس پر اعتماد کی دولت سے مالا مال شخصیت۔۔اُف !کیا غصہ ہے میرے ”اُن” کا۔۔اور بات کرنے کا ایسا بارعب انداز کہ کوئی آگے سے بول نہ پائے ۔۔مجھے تو یہ اندازہ ہی نہیں تھا کہ لوگ اتنے باہمت بھی ہوتے ہیں۔۔۔اپنے محبوب کو دیکھا تو احساس ہوا۔
    میں اللہ کا جتنا شکر ادا کروں۔۔کم ہے۔۔۔سب جانتے ہیں کہ آج کل اچھے رشتے ملتے کہاں ہیں۔۔اب اگر مجھے پڑوس میں ہی اپنا شان دار ”مستقبل” مل گیا تو خوش قسمتی ہے نا میری۔۔میرا محبوب اتنا بہادر ہے کہ اکیلا رکشے میں آتا جاتا ہے۔۔اور پورے گھر کا کام بھی کرتا ہے۔۔مجال ہے کہ اُسے کسی کاڈر ہو ۔
    دراصل وہ اکلوتی اولاد ہے نا اسی لئے اُس کے والدین نے اُس کی پرورش اور تربیت بہادر مردوں کی طرح کی ہے۔۔ورنہ مجھے کیا معلوم تھا کہ لوگ اس عمر میں اتنے بہادر بھی ہوتے ہیں کہ دوسرے بات کرتے ہوئے بالکل بھی ڈریں ۔
    اُس کی شجاعت اور بہادری کے بہت سے چشم دید گواہ ہیں اور بس اُسی وقت میرا نازک سا دل اُس کا طلب گار ہوامگرمحبوب تو سنگ دل ہی ہوتا ہے نا ، سو اُس نے نظر اُٹھا کر بھی مجھے نہ دیکھا ۔۔کہ کوئی کتنی میٹھی میٹھی نظروں سے اُس کا حصار کئے ہوئے ہے۔
    واقعہ کچھ یوں ہوا کہ میری وین جو ابا جی نے میری سہولت کے لئے لگوارکھی ہے وہ گھر سے کچھ دور خراب ہوگئی اور میرا پریشانی کے مارے بُرا حال تھا کیوں کہ گلی کے نکڑ پر کُچھ اوباش لڑکے بیٹھے رہتے تھے ۔ اُنہیں بس موقع چاہئے ہوتا تھا مجھے چھیڑنے کا،لچے لفنگے کہیں کے ۔۔خیر تو جیسے ہی وین پنکچر ہوئی میں نے فوراً بھائی کو فون کیا اوریہ سن کر مجھے غش ہی آگیا کہ انہوں کہا کہ وہ ابھی یونی ورسٹی میں ہیں اور اباجی ظاہر ہے اس وقت دُکان پر تھے ،اب امی کو فون کر کے گلی سے باہربلانا کچھ مناسب نہیں لگ رہا تھا آخر میں اُن کی جوان اولاد ہوں ۔۔بے شک جسمانی لحاظ سے کمزور ہی سہی پر ہوں تو جوان جہان۔
    ہمت مرداں مدد ِخدا کے تحت اپنی پیٹھ خود ٹھونکی ۔یہ الگ بات ہے کہ میرا دل اتنی تیزی دھڑک رہا تھا جیسے ابھی باہر نکل کر آ جائے گا۔دھک دھک کی آواز گویا میرے کانوں میں گونج رہی تھی۔۔اور ہتھیلیاں پسینا پسیناہوچکی تھیں۔میں نے اپنا بیگ درست کیا ،فائل میرے ہاتھ میں لرز رہی تھی، مضبوطی سے پکڑی اور خود کو تسلی دیتے ہوئے لرزتی ٹانگوں سے گھر کی جانب قدم بڑھادئیے۔۔
    مجھے اندازہ ہوچکا تھا کہ وہ بدمعاش مجھے دور سے دیکھ کر کسی شرارت کی پلاننگ میں مصروف ہیں ۔اتنی دور سے بھی کم بختوں کے چہروں پر پھٹکارصاف نظر آرہی تھی۔ایسے نازک وقت میں،میری ذات اُن کا آسان ہدف تھی کیوں کہ میرے محافظ بھائی اور بہن ساتھ نہیں تھے۔اُن کے قریب پہنچتے ہی میرے قدم خود بہ خود سست پڑتے گئے اور حلق بالکل خشک ہوچکا تھا ۔
    اچانک۔۔اچانک گلی کے نکڑ پر ایک رکشہ رُکا اور وہ بدمعاش ادھر متوجہ ہوگئے ۔
    کیوں کہ اُس رکشے میں دو حسین لڑکیوں کے ساتھ میرے مستقبل کا محافظ بھی تھا۔شائد اُن لفنگوں نے کوئی نازیبا با ت کی۔بس ایک بجلی سی چمکی اور وہ جو اس بد معاش ٹولے کا سردار تھا چاروں شانے چت پڑا دھول چاٹ رہا تھا۔اُس کے باقی دوست مدد کوآگے بڑھے ہی تھے کہ محلے والوں نے بیچ میں آکر معاملہ رفع دفع کرادیا۔میں نے موقع کا فائدہ اٹھایا اور جلدی سے گھر کا راستہ ناپا اور تقریباً بھاگتے ہوئے گھر میں داخل ہوکر سکون کا سانس لیا۔
    لیکن بس۔۔وہ ایک پل ہی سکون کا تھا۔۔اب تو اٹھتے بیٹھتے صبح شام اُسی ظالم کا دھیان رہنے لگا تھا۔دل چاہتا فوراً امی کو بتادوں۔۔۔لیکن آہ۔۔! یہ مشرقی روائتیں بھی نا۔۔اکثر ضبط کا امتحان لیتی ہیں۔لیکن۔۔کچھ تو کرنا ہی تھا نا۔۔ایسے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر تو نہیں بیٹھا جاسکتا تھا۔

  • دانہ پانی — قسط نمبر ۴

    دانہ پانی — قسط نمبر ۴

    لیا چکر مقدراں اِنج بُلھیا
    اسی اُجڑ گئے اوہ شاہ ہوگئے
    وہ رات مراد پر بڑی بھاری گزری تھی۔ وہ ایک لمحے کے لئے بھی آنکھ بند نہیں کرسکا تھا۔ اس نے ماں کا یہ روپ پہلی بار دیکھا تھا کہ مراد کسی شے کی تمنا کرے اور تاجور وہ لانے کے لئے دوڑ نہ پڑے۔ تو پھر موتیا کی دفعہ کیا ہو گیا ماں کو؟
    اس کے کمرے میں قانون کی کتابوں کے ڈھیر میں موجودکسی کتاب میں اس کا جواب نہیں تھا۔ وہ ماں پر جان قربان کرنے والا فرماں بردار بیٹا تھا اور موتیا پر آکر وہ نافرمان کیوں ہوا تھا؟ قانون کی کسی کتاب میں اس کا جواب بھی نہیں تھا۔ کوئی مراد سے پوچھتا تو وہ اسے محبت کہتا۔ تاجور سے پوچھتا تو وہ اُسے آزمائش کہتی۔
    وہ ساری رات کمرے میں پڑی میز پر ماچس کی تیلیوں سے تاج محل بناتا رہا تھا۔ وہ تاج محل جس میں اُس نے موتیا کو بسانا تھا۔ پر اس تاج محل کا دروازہ وہ نہیں بنا سکا تھا۔
    فجر کے وقت چوہدری شجاع نماز کے لئے اُٹھے تھے اورانہوں نے مراد کے کمرے کی روشنی دیکھی تھی پھر کھڑکی سے بیٹے کو سر پکڑے دیکھا تھا اور ان کے جیسے کلیجے پر ہاتھ پڑا تھا۔ عشق معشوقی انہوں نے خود کبھی نہیں کی تھی پر ہیر وارث شاہ بڑی سنی تھی۔ رانجھے کی فریاد بھی، مرزا کو لگنے والے تیروں کے نوحے بھی اور مہیوال کے اپنی ران کے گوشت کو کاٹ کر سوہنی کو کھلانے کی داستانیں بھی۔ پر جو حال انہوں نے اس وقت بیٹے کا دیکھا تھا انہیں سب کچھ بھول گیا تھا۔
    ”تاجور! یہ نہ کر۔ جوان اولاد ہے وہ بھی اکلوتی، نہ کر اتنی ضد اس کے ساتھ۔” چوہدری شجاع نماز کے لئے نیت باندھتی ہوئی تاجور کو ٹوک بیٹھے تھے۔ تاجور کو ان کی یہ مداخلت بے حد بُری لگی تھی۔

    ”صبح سویرے اللہ کا نام لیتے ہوئے آپ کو ن سے قصے لے کر بیٹھ گئے ہیں۔” اس نے بے حد ناخوش انداز میں مصلّے پر کھڑے ہوئے میاں سے کہا تھا۔
    ”مراد ساری رات نہیں سویا۔ میں نے کھڑکی سے دیکھا ہے۔ وہ پریشان بیٹھا ہوا ہے۔” چوہدری شجاع نے اُسے بتایا۔
    تاجور نے جواب دینے کے بجائے ہاتھ اُٹھا کر نیت باندھ لی مگر چوہدری شجاع کے جملے جیسے اُس کے ذہن میں اٹک گئے تھے۔ وہ ہر دوسری آیت بھولی تھی۔ کبھی کچھ آگے کردیتی کچھ پیچھے۔ وہ اکلوتا بیٹا تھا۔ اس کی پریشانی کا سن کر تاجور بھی اپنے حواس میں نہیں رہی تھی پر شوہر کے سامنے وہ اپنے آپ کو کمزور ظاہر نہیں کرسکتی تھی۔ چوہدری شجاع نماز پڑھنے چلے گئے تھے اور جب وہ نماز پڑھ کر آئے تو تاجور تسبیح لے کر بیٹھی ہوئی تھی۔
    ”تم نے کچھ سوچا تاجور؟” چوہدری شجاع نے آتے ہی اس سے کہا تھا اور وہ جیسے آگ بگولہ ہوگئی تھی۔
    ”آپ چاہتے ہیں کہ میں ایک کمی کی بیٹی بیاہ کر گھر لے آوؑں۔”
    ”میں صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ اس سارے معاملے کو حکمت سے سنبھالو۔ وہ ایک دو مہینے کے لئے یہاں ہے، واپس چلا گیا تو موتیا کی محبت کا بخار بھی اُتر جائے گا۔ ابھی ضد نہ کرو اُس کو ماہ نور کے ساتھ کسی رشتے میں باندھنے کی۔ بس اُسے کہہ دیتے ہیں کہ ہمیں سوچنے کے لئے کچھ وقت دے۔ وہ اگلے سال آئے گا تو پھر فیصلہ کریں گے۔” شجاع نے جیسے اُسے سمجھا کر کوئی حل نکالنے کی کوشش کی ۔
    ”وہ نہیں مانے گا۔ اس نے ضد لگائی ہے ماں سے اور ضد میں کوئی تاجور کو کیسے ہرا دے۔”
    تاجور نے چوہدری شجاع کے سامنے دو ٹوک انداز میں کہا تھا۔ وہ مسلسل تسبیح کے دانے گرا رہی تھی اور چوہدری شجاع اس کا چہرہ دیکھ رہے تھے۔ انہوں نے ضد کرنے والی ماؤں کا سنا تھا پر وہ دیکھ پہلی بار رہے تھے اور بے بس تھے۔ باپ ہوکر بھی وہ ماں کی اس ضد کے سامنے بیٹے کے لئے کچھ نہیں کرسکتے تھے۔
    ”میں نے نیا وظیفہ شروع کیا ہے اس کے لئے۔ آپ دیکھئے گا چار دن میں سیدھا ہوجائے گا۔ یہ سب جادو ٹونے ہیں جن کے اثر میں ہے وہ۔ جب اثر سے نکلے گا تو موتیا کی تو شکل بھی نہیں دیکھے گا۔”
    تاجور نے بے حد اعتماد سے شوہر سے کہا تھا۔ وہ اسی طرح تسبیح کے دانے گراتی ہوئی کمرے سے نکل کر باہر صحن میں چلی گئی تھی جہاں برآمدے میں مراد کے کمرے کی کھڑکی سے اب بھی روشنی آرہی تھی۔ تاجور نے تسبیح پھیرتے ہوئے ڈوبتے دل کو سمجھاتے ہوئے اس کھڑکی سے نظریں چرائیں۔
    ”دل کو پکّا رکھنا تاجور! ایک دفعہ کمزور پڑی تو بس تیری سلطنت گئی تیرے ہاتھ سے۔” اس کے اندر جیسے کسی نے اس کو پکار کر کہا تھا اور تاجور نے اس پکار کو بار بار سنا تھا۔
    …٭…
    گامو اللہ وسائی کا چہرہ دیکھتا ہی رہ گیا تھا۔
    ”تو کیا کہہ رہی ہے اللہ وسائی ؟ چوہدرائن اپنے بیٹے کا رشتہ لے کر ہمارے گھر آئے گی۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟” اللہ وسائی نے جواباً بڑے اعتماد سے اس سے کہا:
    ”تجھے بتایا تو ہے گامو! موتیا کو پسند کرتا ہے چوہدری مراد۔ اُس نے کہا ہے اس سے کہ وہ رشتہ بھیجے گا۔”
    اللہ وسائی نے جھجکتے جھجکتے اُسے موتیا اور مراد کے بارے میں جیسے سب کچھ سنا دیا ۔ گامو بے حد پریشان ہوا تھا اور کچھ دیر کے لئے جیسے اس سے بات ہی نہیں ہوسکی تھی۔
    ”کچھ تو عقل کر اللہ وسائی! کہاں چوہدری کہاں ہم۔ تو نے موتیا کو سمجھانا تھا۔”
    ”سمجھایا تھا گامو! پر موتیا کا تو کوئی قصور نہیں، دل تو مراد کا آیا ہے۔ رشتہ بھیجنے کی خواہش تو اُس نے کی ہے۔”
    اللہ وسائی نے موتیا کے جذبات پر پردہ ڈالتے ہوئے گامو کے سامنے بیٹی کا دفاع کیا۔ گامو اُس کا چہرہ دیکھ کے رہ گیا۔ اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔
    ”تیرا بھی تو دل کرتا تھا نا کہ چوہدری مراد کے ساتھ موتیا کا رشتہ ہوجائے۔تو نے بھی تو مجھ سے کہا تھا کہ میری موتیا کے ساتھ صرف وہی سجتا ہے۔” اللہ وسائی نے یک دم جیسے عجیب سے لہجے میں اُس کے جملے دہرائے۔
    ”میرے سوچنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ میں تو پاگل ہوں، عقل کم ہے مجھ میں۔ ہر الٹی سیدھی بات سوچ لیتا ہوں۔ تو میری بات کیوں دہرارہی ہے؟” وہ یک دم گڑبڑا کر اللہ وسائی سے کہنے لگا۔
    ”کیا پتا چوہدرائن واقعی رشتہ لینے آجائے۔” اللہ وسائی نے شوہر کے ساتھ بحث نہیں کی تھی۔ اس نے جیسے تمنا کی تھی۔
    ”وہ نہیں آئے گی اللہ وسائی! میں جانتا ہوں چوہدرائن کو اور تو بھی جانتی ہے۔ اس لئے جھوٹے خواب نہ دیکھ۔” گامو نے اسے ڈانٹ دیا۔ اس نے جواباً بڑی عجیب سی مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھا۔
    ”تو اور میں تو جھوٹے خواب دیکھتے ہیں پر موتیا تو ہمیشہ سچے خواب دیکھتی ہے۔ اس نے دیکھا ہے کہ چوہدرائن رشتہ لے کے آئی ہے اس کے لئے۔” گامو اس کا چہرہ دیکھ کر رہ گیا ۔
    اس کی سمجھ میں نہیں آیا، وہ آمین کہے ، ما شاء اللہ یا الحمد للہ ۔ موتیا کا خواب ہمیشہ سچا ہوتا تھا۔ یہ وہ بھی جانتا تھا۔ پر یہ خواب کیسے سچا ہوسکتا تھا؟
    …٭…

  • کسک — حسنین انجم

    کسک — حسنین انجم

    کتنا شوق تھا اُسے کہ اُس کی کہانی بھی لکھی جائے۔ پتا نہیں وہ اپنے آپ کوایسا اہم یا الف لیلوی کردار کیوں سمجھتی تھی۔ یہ اُس کی عجیب سی خواہش تھی۔ جہاں کسی لکھنے والے سے میل ملاقات ہوتی، کہانیوں کے سُراغ میں لگ جاتی اور اپنی تشنہ خواہش کو ہونٹوں پر لے آتی۔ قلم کار اُسے یہ کہہ کر چُپ کروا دیتے کہ وہی پرانی باتیں، رشتوں کاکرب، رویوں کی منافقت، نمود و نمائش، خود غرضی و بے حسی، خود فریبی، پچھتاوے اور فلمی اختتام۔ ایسی کہانی کی کیا اہمیت ہو گی۔ کوئی نیا پن ہو تو نئی کہانی بنے۔ بار بار کا دہرایا ہوا قصہ اور کتنی بار دہرایا جا سکتا ہے۔ مگر اُسے اِن باتوں کی سمجھ ہی نہ آتی تھی، لیکن آج وہ بہت سوں کو قلم اُٹھانے پر مجبور کر گئی تھی۔ اُس کی کہانی گاؤں سے نکل کر شہر شہر پہنچ چکی تھی۔ وہ اپنے محبوب شوہر کے ہاتھوں بے دردی سے قتل ہو کر زبانِ زدِ خاص و عام ہو گئی تھی۔ اُس کا سراپا، اُس کا عام سا کردار، سطحی سی باتیں ذہنوں سے اس طرح لپٹی تھیں کہ قلم اٹھائے بغیر رہا نہیں جا سکتا تھا۔
    اِرد گرد سے بے خبر دوپٹہ گلے میں ڈالے وہ نیل پالش لگانے میں محو تھی۔ سرخ سرخ ناخن دیکھ کر آپ ہی آپ اُس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی کتنے اچھے لگ رہے ہیں میرے ہاتھ۔ اُس نے بہ غور اپنے ہاتھ دیکھے اور پھر اپنے پیروں کے ناخن سنوارنے لگے۔
    ”مریم تم ہر وقت خود کو سنوارتی نہ رہا کرو۔ کچھ کام بھی کر لیا کرو”۔شمع پھوپھو نے تار پر کپڑے پھیلاتے ہوئے اُسے آواز دی۔ ”لو… اور کیا تمہاری طرح ہو جاؤں بڈھی روح۔”وہ ہر نصیحت کو سن کر سر جھٹک دینے کی عادی تھی۔ ”نہیں بیٹا !کم تو اپنے وقتوں میں میں بھی نہ تھی۔ بس اپنے اپنے نصیب کی بات ہے”۔ شمع پھوپھو کہیں کھو سی گئیں۔ ”اپنی بزدلی کو نصیب کا نام نہ دو پھوپھی۔ میں ایسا حل نکالوں گی کہ کہ تم حیران ہو جاؤ گی۔ زمین و آسماں ایک نہ کر دیے تو پھر کہنا۔”
    وہ سدا سے ہی جوشیلی تھی۔ دِن رات خیالوں کی دُنیا میں کھوئی رہتی۔ برائے نام سا کام کرتی، پڑھنا پڑھانا سب ختم ہو چکا تھا۔ دِن میں دو چار گھروں کی خیر خبر لینا، بار بار بال سنوارتے رہنا اور باقی وقت میں رومانی قسم کے ڈائجسٹ پڑھنا اُس کا معمول تھا۔
    ”مریاں مجھے تیری حرکتوں سے کبھی کبھار بڑا ڈر لگتا ہے۔” شمع پھوپھو اُس کے پاس آبیٹھیں۔ ”ڈر” وہ زیر لب دہرا کر ہنس پڑی ”جب پیار کیا تو ڈرنا کیا” اُس کی گنگناہٹ بڑھ گئی۔ ”مریم تو میری ذات سے نصیحت پکڑ، میری ساری عمر باپ اور بھائی کی دہلیز پر بیٹھے گزر گئی ہے۔ خواہش، حسرت بن گئی۔ رنگ رُوپ بجھ گیا، دل مر گیا۔ برسوں بیت گئے پر آج بھی باہر نکلوں تو کئی اُنگلیاں میری طرف اُٹھتی ہیں۔ لوگ سرگوشیوں میں باتیں کرتے ہیں۔” شمع کی باتوں میں ادھورے خوابوں کا کرب پھیلا ہوا تھا۔
    ”یہی تو حماقت تھی آپ کی۔ بزدل تھیں آپ۔ میں آپ کی جگہ ہوتی تو حشر کر دیتی”۔ وہ جواباً جوش سے بولی۔
    ”حشر تو میں نے بھی اٹھایا تھا جب میں بپھری ہوئی شیرنی کی طرح پنڈال میں جاپہنچی تھی” وہ نیل پالش کا ایک اور کوٹ کرتے کرتے شمع کی باتیں غور سے سننے لگی۔ جو اکثر اوقات ہی اپنے تلخ ماضی کو دہراتی رہتی تھی۔

    صابر حسین نے اپنی سوزوکی وین باہر روکی۔ اور پاؤں جھٹک کر اندر داخل ہوا۔ یہ اُس کی پرانی عادت تھی کہ گھر میں داخل ہوتے ہی وہ ایک زور دار قدم رکھتا تھا۔ وہ آج بھی اپنی لوگوں کی روایت کو لے کر چل رہا تھا کہ کھانس کر یا قدم جما کر گھر والوں کو آنے کی خبر دی جائے اور آج تو اُسے غصہ بھی بہت تھا۔ اسلم کریانے والے کے پاس وہ سگریٹ لینے رُکا تو دو چار منٹ میں ہی اماں رحمتے نے اُسے دو چار کھری کھری سُنا دی تھیں۔ ”اماں اپنا تمباکو اور پتی لو اور جاؤ میری دکان داری خراب نہ کرو”۔ اسلم نے اماں کو چلتا کر دیا تھاورنہ جانے وہ کیا کیا کہہ دیتی۔
    ”مریاں کی ماں اسے کسی کال کوٹھری میں بند کر دے یا رسی سے باندھ دے۔ مجھ سے یہ بکواس برداشت نہیں ہوتی۔” مریاں کی ماں آٹا گوندھتی گوندھتی لُتھڑے ہوئے ہاتھوں سے ہی صحن میں چلی آئی۔ ”کیا ہوا خیر تو ہے”؟
    ”ابھی تو خیر ہے لیکن جلدی ختم ہو جائے گی”۔ وہ حیرت سے صابر حسین کو دیکھ رہی تھی جس کا سانولارنگ غصے سے تپ کرسیاہ ہو گیا تھا۔ ”وقت نے جو راکھ دبا دی ہے مجھے لگتا ہے وہ اُڑ کرپھر میرے سر پر پڑے گی۔ مریاں کو گھر سے باہر نہ جانے دیا کر۔ اور میں کہتا ہوں اس کا رشتہ ڈھونڈ اور بس”۔ ”سیدھی طرح بات کہو۔ کیا اِدھر اُدھر کی سُنا رہے ہو”۔
    ”اری بھلی مانس اس کے بارے میں باتیں ہو رہی ہیں لوگ گلی گلی کھڑے ہو کر میری شرافت کا مذاق اُڑا رہے ہیں۔ اس کا کوئی چکر ہے اُن کے لڑکے سے جس سے ہماری سالوں پرانی عداوت ہے”۔
    صابر حسین بیوی کو اُن باتوں کی تفصیل بتا رہا تھاجو کئی دنوں سے وہ سن رہا تھا۔ جبھی وہ ٹِک ٹک کرتی چلی آئی اور باہر دروازے کی طرف بڑھی۔ ”کدھرجا رہی ہو مریم؟” صابر حسین کی بارعب آوازنے اُس کے بڑھتے قدم روک لیے۔ ”حنا سے ڈیزائن ٹریس کروانا ہے اُدھر جاری رہی ہو”۔
    ”کوئی ضرورت نہیں۔ بہانے کرتی ہو۔ کبھی حنا، کبھی چندا اور کبھی ڈولی۔ چارجماعتیں پڑھ کر دماغ خراب ہو گیا ہے تمہارا”۔
    ”باباچار نہیں۔ دس جماعتیں، میٹرک پاس ہوں” وہ بات ہنسی میں اُڑا کر منہ بنائے گھر کے پچھواڑے بنے باغیچے میں چلی گئی۔ صابر حسین پریشان تھا۔ اس لیے مریم کی ماں بھی سوچوں میں گھرگئی تھی کہ بات یقینا کچھ ہے۔ ”یا اللہ عزت رکھنا گھر بیٹیوں سے بھرا پڑا ہے۔ سویا ہوا فتنہ پھر سے جاگنے لگا ہے، شمع نے کیا کسر چھوڑی تھی جو اس نے پر پُرزے نکال لیے”۔
    اپنی سوچوں میں گم صم وہ آٹا گوندھنے لگی۔ صابر حسین دِل کا غبارنکال کر سگریٹ کے کش لے رہا تھا اور مریاں اپنے ماں باپ کی فکروں سے بے نیاز شمع کے ساتھ رازو نیاز میں مصروف تھی۔ ”شمع پھوپھی، دانی نے آج پکا وعدہ کیا ہے کہ اپنی آپا کو ہمارے گھر بھیجے گا”۔
    ”خدا تیرے حال پہ رحم کرے مریاں، تو کن گورکھ دھندوں میں پڑ گئی ہے۔ یہ تو بڑی لمبی منزل ہے۔ میلوں سے خاک اُڑ اُڑ کر سروں پر پڑتی ہے اور خواب پھر بھی ادھورے رہ جاتے ہیں”۔
    ”دیکھ پھوپھی تو ایسی حسرت زدہ باتیں کر کے میرے رنگ میں بھنگ نہ ڈالا کر۔ تو بزدل تھی جو ڈر گئی۔ پیار محبت تو سب کا حق ہے کوئی گناہ تھوڑی ہے”۔ وہ عشق میں سر شار ڈائیلاگ بول رہی تھی۔
    ”ہرہفتے سینما میں لیڈیز شو دیکھ دیکھ کر تجھے ڈائیلاگ بازی خوب آگئی ہے”۔ شمع نے اُسے ٹوک دیا ”ایک یہی تو تفریح ہے ہم غریبوں کی۔ اب یہ بھی نہ کریں۔ ویسے بابا سے بہانہ کرتے ہوئے ڈر تو لگتا ہے پر مزا بھی بہت آتا ہے”۔ وہ مست مست سی لگ رہی تھی۔ ”جس دن پول کھل گیا تب سارا مزا نکل جائے گا”۔ پھوپھی نے اُسے ڈرانا چاہا۔ ”تم کس لیے ہو پھوپھی۔ بچا لینا مجھے”۔ شمع پھوپھو سے اُس کی شروع سے دوستی تھی۔ پھوپھو انہی کے پاس تو رہتی تھی۔ اُن دونوں کی گاڑھی چھنتی تھی۔
    سلائی مشین سرکا کر انہوں نے ایک طرف کی اور بکھرے کپڑے کو تہ کر کے رکھ دیا۔ پھر ڈبہ کھول کر سوئی نکالی اور دھاگا ڈالنے کی کوشش کرنے لگیں۔
    ”یہ سب چھوڑیے اور میری بات سنیے آپا”۔ ”سُن رہی ہوں۔ ساتھ ساتھ کام کرنے دو۔ یہ قمیص آج مکمل کر کے زینو کو دینی ہے اُس سے سلائی لی ہے ناں۔”دانتوں سے دھاگا کاٹتے ہوئے وہ دانش کی طرف متوجہ ہوئیں جو کافی دیر سے بیٹھاانہیں اپنی پریشانی بتا رہا تھا۔ وہ بڑی بہن ہونے کے ناطے اُسے سختی سے روک بھی نہ سکتی تھیں کہ اُس کے باغی ہو جانے کا ڈر تھا۔ ”دیکھو دانی ہمارے ماں باپ سر پہ نہیں ہیں، جو تمہیں برا بھلا بتائیں اِس قصے کو یہیں چھوڑ دو”۔ انہوں نے بڑی محبت سے سمجھایا۔ ”لیکن ذکیہ آپا۔ اب بات بڑھ گئی ہے۔ سمیٹناتو ہے ناں قصہ”۔ ”تم تایا جی کے پاس چلے جاوؑ۔ وہ سب کچھ سنبھال لیں گے”۔ وہ مسئلے کا حل بتا رہی تھیں۔ ”ہرگز نہیں”۔ ”تھوڑے دنوں کی بات ہے جب معاملہ ٹھنڈا پڑ جائے گا تم آجانا”۔
    ”آپا وہ میرا بچپن تھا جو اِدھر اُدھر کھیل کود کر بیت گیا۔ اب میں وہاں جا کر رہ نہیں سکتا”۔ اُسے تایا ابا کا بارعب چہرہ یا د آگیا۔ ”تمہیں اس مقام تک لانے میں اُن کا کتنا ہاتھ ہے یہ بھول گئے تم۔ اتنی محبت دی انہوں نے ہمیں، کوئی سگا بھی کیا دیتا”۔ ”آپا وہ اُن کی مجبوری تھی۔ بڑے لوگوں کی باتیں بڑی ہی ہوتی ہیں۔ ہماری دادی کا دودھ پیا تھا انہوں نے جب اُن کی اپنی ماں بیمار تھی۔ دُنیا داری نبھاتے ہیں لوگ۔ بچپن میں بے سہاروں کو ترس کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے لیکن ہوش سنبھالنے کے بعد اندازِنگاہ بدل جاتا ہے۔” اُس کے لہجے کی تلخی سے ذکیہ آپا کو غصہ سا آگیا تھا۔
    ”تم خواہ مخواہ بکواس نہ کرو”۔ ”یہ حقیقت ہے آپا۔ میں نے اُن کے مزاج کوبہت قریب سے دیکھا ہے۔ پچھلے سال گاوؑں آئے تو مجھ سے ملنے نہیں آئے۔ میں خود گیا تھا حویلی ملنے اور وہ حجاب جو مجھ سے کئی سال چھوٹی ہونے کے باوجود سکول میں مجھے کمپنی دیتی تھی۔ باقاعدہ لنچ لاتی تھی میرا۔ بریک میرے ساتھ گزارتی تھی۔ اب میں لاہورجاؤں تو میری ہیلو ہائے پر ہی تایا جی منہ بنالیتے ہیں”۔ وہ بے زار سابول رہا تھا۔ ”چلو خیر میں خود تایا جی کے پاس جاتی ہوں کسی دِن۔”
    اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق ذکیہ کچھ دنوں بعد تایا جی کی طرف پہنچ گئیں اور سارا قصہ گوش گزارکر دیا۔ وہ سنتے ہی آگ بگولا ہو گئے۔ سِلے ہوئے زخم پھر سے کھل گئے تھے۔
    اُن دنوں وہ آرمی میں میجر تھے، جب اُن کے بھائی کا گاؤں میں افیئرشروع ہوا تھا۔جب معاملہ اُن تک پہنچا تو انہوں نے چند ہی دنوں میں بھائی کی مرضی کے برعکس اپنے ماموں کے گھر بات ٹھہرا دی۔ بھائی نے انہیں بہت دھمکیاں دیں۔ گھر سے بھاگ جانے اور کورٹ میرج کے دعوے بھی کئے لیکن وہ ڈٹ گئے تھے۔ ”صابر حسین تانگے والے کی بہن کے ساتھ کبھی بھی تعلق نہیں بن سکتا۔ دُنیا اِدھر کی اُدھر ہو جائے۔”

  • وہ راحت جاں — دانیہ آفرین امتیاز

    وہ راحت جاں — دانیہ آفرین امتیاز

    دروازہ بند ہونے کی آواز نے ماحول میں خلل پیدا کیا تھا تو قدموں کی چاپ نے باقی کسر بھی پوری کر دی تھی۔ محویت سے کتابوں کو گھورتے بہت سارے اسٹوڈنٹس کی گردنیں اوپر اٹھیں۔ کئی ایک نے ناگواری سے اس نووارد کو گھورا بھی تھا۔ کرسی کھسکانے کی زوردارآواز نے کتابی کیڑوں کی قرطاس پر سے ایک بار پھر توجہ ہٹائی تھی۔ یہ عظیم جرم کرنے والا بے پروائی سے اپنے آگے جنرل میڈیسن کی کتاب کھول کے بیٹھ گیا۔ پانچ منٹ میں دس صفحے پلٹنے کے بعد اس کی چوڑی پیشانی پر چند شکنیں نمودار ہوئیں ۔لمبی سانس خارج کرتے ہوئے بڑی بے زاریت سے اپنے اِرد گرد دنیا ومافیہا سے گم اسٹوڈنٹس کو تکنے لگا۔ دائیں طرف ایک ٹیبل پر اس کی نگاہیں ٹھہر گئیں، بھوری آنکھیں اچانک خوشی سے چمکنے لگیں۔ چند لمحے سوچنے کے بعد وہ کرسی کھسکاتا ہوا اُٹھا، اِرد گرد کے لوگوں کی غصے بھری نظروں کو نظر انداز کرتے ہوئے وہ چندقدم کا فاصلہ طے کر کے عین اس کے سامنے جا کھڑا ہوا۔
    علم الادویہ کی کتاب میں میڈیسن کے کیمیائی فارمولوں میں ڈوبی وہ یہ بھی نوٹ نہ کر پائی کہ کوئی عین اس کے سامنے آ براجمان ہوا ہے۔
    ”ایکسیوزمی میم ”
    Acetoaminophineپیراسیٹامول کے اثرات پر غور کرتی ارم چونکی تھی ۔
    ”جی آپ کون ؟” سیاہ فریم والی عینک کے پیچھے سے گھورتے ہوئے اس نے ناگواری سے پوچھا۔
    ”مجھے آپ سے ایک فیور چاہیے۔” اس کے سوال کو نظر انداز کرتے ہوئے چہرے پر مسکراہٹ سجائے علی نے کہا : ”جی میری فیور!!” وہ اجنبی کی بات سُن کر کافی حیران ہوئی تھی ۔
    ”ہوں”انصاری صاحب، لائبریری انچارج اپنے کیبن میں غصے سے ہنکارے ۔

    سائلنٹ لائبریری کے اصول کے مطابق پین گرنے کی آواز بھی جرم تھی مگر ڈاکٹر علی من موجی تھے۔ ان کی موجودگی میں لائبریری میں خاموشی بن آب بارش کے مترادف تھی۔ اس لیے انصاری صاحب نے محض ہنکارا بھرنے پر ہی اکتفا کیا تھا، زیادہ سختی کرتے تو ڈاکٹر علی کے دیے چائے پانی کے پیسوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ۔
    ”میم میں آپ کو ایک ہفتے سے روز یہاں دیکھ رہا ہوں۔ غالباً آپ کے امتحانات ہو رہے ہیں۔ دس بجے آپ کا پیپر شروع ہوتاہے۔ پیپر کے لیے جانے سے پہلے آپ ایک دعا پڑھتی ہیں۔ وہ دعا مجھے بتادیں پلیز مجھے بھی اس کی سخت ضرورت ہے۔ ”کسی جاسوس کی طرح ساری معلومات اُگلنے کے بعد آخر میں اس نے معصومیت سے التجا کی ۔
    ارم اُس کی معلومات پر دنگ رہ گئی کہ وہ شخص کب سے اس کی حرکات وسکنات پر گہری نظر رکھے ہوئے تھاجب کہ وہ یکسر لا علم تھی۔ جھنجلاہٹ کے عالم میں ارم نے اپنی نوٹ بک نکالی اور اسے دعا نوٹ کرائی اور پھر اپنی کتابیں سمیٹ کر اٹھنے لگی ۔
    ”میم یہ دعا کتنی دفعہ اورکب پڑھنی ہے؟”گلابی دوپٹے کے ہالے میں معصوم چہرے کو دیکھتے ہو ئے اس نے مؤد بانہ انداز میں پوچھا ۔
    ”پیپر دینے جا رہے ہوں تو اس وقت سات بار پڑھ لیجیے گا” جواب دینے کہ بعد وہ جانے کے لیے مڑی ۔
    ”ارم جی میں آپ کا سینئر ہوں ایم بی بی ایس فورتھ ائیر میں ہوں۔ پیر سے میرے پیپرز شروع ہو رہیہیں پلیز دعا کیجیے گا۔” آواز پر ارم کے بڑھتے قدم رک گئے تھے۔ اس نے مڑ کے حیرانی سے دیکھا ”اس شخص کو میرا نام کیسے پتا چلا؟” ارم نے دل میں سوچا ۔
    ” نوٹ بک پر آپ کا نام لکھا ہے” شاید یہ شخص سوچ پڑھنے کا ماہر تھا۔ ارم کے ہاتھ میں موجود نوٹ بک کی طرف،اشارہ کر کے الوادعی مسکراہٹ کے ساتھ آگے بڑھ گیا ۔
    ارم چند لمحے اس عجیب وغریب سے شخص کے بارے میں سوچتی رہی پھر تمام سوچیں ایک جانب جھٹک کے pharma کا پیپر دینے امتحانی کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
    ***************
    دن بیتتے گئے، وقت سِرکتا رہا۔ دن شام میں ، شام رات میں اور رات صبح میں بدلتی رہی۔ کئی موسم آئے بہار میں پھول کھلے، خزاں میں پتوں نے اپنی شاخیں چھوڑیں، سردیوں میں سرد ہواوؑں نے ابن آدم کو اپنی لپیٹ میں رکھا۔ موسم گرما میں لوگ ٹھنڈے سائے تلاش کرتے رہے، یوں دو برس بیت گئے۔ ان دو برسوں میں بدلتے موسم کے ساتھ ساتھ ارم اور علی کے مضامین اور کلاسز بھی بدلتی رہیں۔
    ارم اب حقیقتاً ڈاکٹر ارم بن گئی تھی اور لوگوں کے دانتوں پہ اپنے ہاتھ صاف کرنے لگی تھی۔
    ”سارہ آج بہت گرمی ہے میں کچھ دیر لائبریری جا رہی ہوں”پیشانی پہ آئے پسینے کو ٹشو پیپر سے صاف کرتے ہوئے وہ اپنا موبائل اور بیگ اٹھائے او پی ڈی سے نکل گئی ۔
    ابھی وہ پہلی منزل پر ہی تھی کہ اچانک اس کی ٹکر ایک فولادی شخص سے ہو گئی۔ اپنا سر تھامے اس نے مقابل کو گھورا۔ بدقسمتی سے سامنے وہی ڈاکٹر ”اوّل جلول” تھا ڈاکٹر علی کو ارم نے ہی اس خاص نام سے نوازا تھا ۔
    ”ارے واہ تم یہاں!!کیسی ہو؟” ارم کے غصے سے قطع نظر اس نے بشاشت سے پوچھا ۔
    ”ٹھیک ہوں”اپنی پیشانی کو دائیں ہاتھ سے دباتے ہوئے ارم نے چبا چبا کے جواب دیا ۔
    ”میں تمہاری او پی ڈی سے ہی آ رہا تھا” اس نے اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ کہا ۔
    ”اللہ خیر یہ شخص او پی ڈی کیوں آ رہا تھا؟”
    ”خیر ہی ہے بس مجھے تم سے ایک ضروری بات کرنی تھی”اس سے پہلے کہ ارم اس کے بارے میں مزید کچھ سوچتی وہ بول پڑا۔آج بہت عرصے بعد دونوں کا آمنا سامنا ہوا تھا۔ لائبریری والے واقعے کے بعد ایک آدھ بار علی نے ہی اسے آتے جاتے ہیلو ہائے کیا تھا مگر آج وہ شخص صرف ہیلو ہائے نہیں بلکہ تفصیلاً بات کے موڈ میں تھا ۔
    ”یہاں سیڑھیوں پہ کھڑے بات کرنا مناسب نہیں لگتا۔ اگر تم مائنڈ نا کرو تو ہم نیچے چل کے بات کر سکتے ہیں؟”اس نے ارم کو سوالیہ نظروں سے دیکھا تو ارم نے سر کو ہلکے سے جنبش دے کر رضامندی ظاہر کی۔ اسے یقین تھا کوئی راہ ِفرار نہیں جب تک کہ وہ اس شخص کی بات سن نہ لے۔
    آگے پیچھے دونوں سیڑھیاں اُترتے نیچے آگئے۔ علی نے بنچ پر بیٹھتے ہوئے ارم کو پہلے بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔
    ”جی بولیے کیا کہنا تھا آپ کو؟”ارم نے اس کے اشارے کو نظر انداز کرتے ہوئے پوچھا ۔
    کچھ لمحے توقف کے بعد اس نے بولنا شروع کیا، شاید وہ مناسب لفظ ترتیب دے رہا تھا:
    ”ارم مجھے معلوم ہے میں تم سے جو کہوں گا وہ تمہارے لیے حیرانی کا باعث ہو گاکیوںکہ میں تمہیں زیادہ نہیں جانتا ناہی تم مجھے جانتی ہو۔ مگر مجھے لگتا ہے کہ ہم دونوں ایک ساتھ اچھی زندگی گزار سکتے ہیں۔میرا ہاؤس جاب مکمل ہو چکا ہے اور میں کئی جگہ جاب کے لیے اپلائی بھی کر رکھا ہے۔ اب میں چاہتا ہوں کہ زندگی کے بارے میں کوئی فیصلہ کروں۔ اس لیے یہ بات کہنے کے لیے تمہارا وقت لیا۔”اپنی بات کہنے کے بعد وہ سامنے حیران وپریشان کھڑی ارم کے تاثرات پڑھنے کی کوشش کرنے لگا جب کے ارم اپنی جگہ حیران کھڑی تھی۔ پرپوز کرنے کا یہ نیا طریقہ وہ آج دیکھ رہی تھی ۔
    ”میں جانتا ہوں یہ ایک بہت ہی اہم فیصلہ ہے میں تمہیں اپنا نمبر دے رہا ہوں۔ تمہارا دل اگر میری سچائی کی گواہی دے تو رابطہ کر لینا”چٹ اس کی طرف بڑھاتا ہوا وہ بینچ سے اٹھ گیا ”میری اچھی جگہ جاب کے لیے دعا کرنا” اللہ حافظ کہہ کے وہ رکا نہیں بلکہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہسپتال کا خارجی دروازہ عبور کر گیا ۔
    ارم کچھ دیر کھڑی اس عجیب شخص کو سوچتی رہی۔ قریب سے گزرتے لوگوں کیآوازوں پر وہ سوچوں کی دنیا سے حال میں لوٹی تھی۔
    ہاتھ میں پکڑی چٹ ڈسٹ بن میں پھینک کے وہ سر جھٹکتی لائبریری کی طرف بڑھ گئی۔ اس نے اپنی زندگی میں شادی کے علاوہ سب کچھ سوچا تھا۔اُسے ابھی اپنے شعبے میں اپنا نام بنانا تھا، شادی اس کی ترجیحات کی فہرست میں کہیں آخر پر تھی۔
    ***************
    اس کی سادہ لیکن پُرکشش شخصیت ارد گرد کے لوگوں کو لمحے بھر کے لیے ٹھٹھک کر دیکھنے پہ مجبور کر دیتی تھی، وہ اپنے حسن سے بے نیاز لبوں پر دل فریب مسکراہٹ سجائے کبھی روٹ کینال جیسا مشکل کام کر تی تو کبھی عقل ڈاڑھیں نکال کے اک فاتح مسکراہٹ کے ساتھ ماضی کی ڈری سہمی ارم کو باور کراتی ”اگر حوصلے اور عزم بلند ہوں تو سب کچھ ممکن ہے۔”
    ٹراما وارڈ میں ڈیوٹی کے دوران وہ کچھ اداس سی رہتی لیکن ساتھ ساتھ اورل سرجری کی فیلڈ میں اس کی دلچسپی بڑھتی گئی۔
    ”پھر بیٹا جی آگے کے کیا ارادے ہیں؟” ناشتے کی میز پر اخبار کا مطالعہ کرنے کے بعد عینک ایک طرف رکھتے ہوئے بابا نے پوچھا۔
    ”بابا مجھے اورل سرجری کا شعبہ پسندہے۔” اپنے مخصوص دھیمے لہجے میں مسکراتے ہوئے اس نے جواب دیا ۔
    ”گڈ ہاوؑس جاب تو تقریباً مکمل ہونے والی ہے آپ کی پھر کیا سوچا؟ ”
    بابا کی توجہ اب مکمل ارم کی جانب تھی ۔
    ”میں کنفیوز ہوں مجھے سمجھ نہیں آرہا اورل سرجری کے میدان میں F.C.P.S کے ذریعے قدم رکھوں یا پھر M.D.S کروں ۔”
    اُس نے پر سوچ انداز میں اپنی الجھن بابا کے گوش گزار کی۔
    ”بیٹا اس بارے میں تو آپ کی فیلڈ کا کوئی فرد ہی بہتر طور پر گائیڈ کر سکتا ہے۔ آپ اپنے کسی سینئر سے ڈسکس کریں، باقی جو آپ کا فیصلہ ہوگا ہمیں بہ خوشی منظورہوگا”بابا نے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا ۔
    ”تھینک یو بابا میں جلد ہی فیصلہ کر کے آپ کو بتاتی ہوں۔” جوس کا آخری گھونٹ لیتے اس نے بابا کا پر شفقت ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا ۔
    بیٹیاں کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو جائیں باپ کے لیے وہ ہمیشہ چھوٹی سی گڑیا ہی رہتی ہیں ۔
    ”بابا میں چلتی ہوں ڈیوٹی آورز شروع ہونے والے ہیں اللہ حافظ ۔”
    ماما اور بابا کی دعاوؑں اور محبت کے سائے میں وہ اسپتال روانہ ہو گئی۔ ارم نے اپنے کالج سے منسلک اسپتال میں کام کرنے کی بجائے گورنمنٹ سیٹ اپ کو ترجیح دی تھی۔
    مصروف دن کے بعد چند لمحے سکون کے میسر آئے تو وہ چائے پینے کیفے چلی آئی۔
    ہاوؑس جاب کے بعد اس نے اسی اسپتال میں ہی ملازمت شروع کر دی تھی۔ ساتھ ساتھ وہ M.D.S کے انٹری ٹیسٹ کی تیاری بھی کر رہی تھی زندگی اتنی مصروف ہو گئی تھی کہ جو چند لمحے اسے تنہائی اور سکون کے میسر آتے اس میں بھی اس کی سوچیں ڈاؤ میڈیکل کی عمارت میں گھومتی رہتیں، پتا نہیں اس کا ایڈمیشن ہوگا کہ نہیں؟ کہیں اسے ایم ۔ایس سی نہ کرنا پڑ جائے۔ آج ایک بار پھر سوچوں کا محور M.D.S اور ڈاوؑ میڈیکل تھا ۔

  • عداوت — ہما شہزاد

    عداوت — ہما شہزاد

    کوئی سوال؟ ہمیشہ کی طرح لیکچر کے اختتام پر اُس نے مارکر کا کیپ بند کر کے ایک نظر کلاس میں بیٹھے ہوئے سٹوڈنٹس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
    ”جی عمران؟” جن سٹوڈنٹس نے سوال پوچھنے کے لیے ہاتھ کھڑے کیے تھے اُن میں سے ایک کو اُس نے مخاطب کیا اور خود ڈائس کی جانب آگئی۔
    ”میڈم آپ نے بتایا کہ ہماری ہینڈ رائٹنگ ہماری شخصیت کی عکاسی کرتی ہے۔ ”عمران نے بات کا آغاز کیا۔
    ”جی بالکل!” سویرا نے اثبات میں سر ہلایا۔
    ”لیکن میڈم میرا ایک دوست ہے وہ آج کل ایک رائٹنگ بک لے کر آیا ہے۔ اُس بک میں مختلف سٹائلز کی ہینڈ رائٹنگ سیکھنے کے لیے lessons ہیں۔”
    سویرا کے ساتھ کلاس میں موجود سب ہی سٹوڈنٹس بہ غور عمران کی بات سن رہے تھے۔
    ”تو میڈم جب کوئی اپنی رائٹنگ اُس بک کے مطابق بدل لے گا تو کیا اُس کی شخصیت بھی تبدیل ہو جائے گی؟” عمران نے اپنا سوال مکمل کرتے ہوئے ڈائس کے پیچھے کھڑی اپنی سائیکولوجی کی ٹیچر کی طرف دیکھا جو بڑے سکون سے اُس کی بات مکمل ہونے پر ہلکا سا مسکرا رہی تھی۔
    ”اچھا سوال ہے” سویرا نے ڈائس پہ اپنے دونوں بازو پھیلاتے ہوئے کہا۔
    ”عمران، آپ کے دوست کی شخصیت میں تبدیلی نہیں آئے گی۔” وہ فقط ایک جملہ بول کر خاموش ہو گئی۔
    ”لیکن میڈم! ظاہر ہے جب اُس کی رائٹنگ بدلے گی تو پھر اس کی شخصیت کو ہم اُس کی نئی رائٹنگ کی بنیاد پر ہی جانچیں گے۔” پہلی قطار میں بیٹھی فرح نے کہا۔
    اُس سمیت کلاس میں بیٹھے سب ہی سٹوڈنٹس اپنے ذہنوں میں یہی سوال لئے ہوئے تھے۔ عمران بھی اپنے سوال کا مناسب جواب نہ ملنے پر ماتھے پر بل ڈالے اُلجھا سا بیٹھا تھا۔ ”ٹھیک کہا فرح آپ نے” سویرا مسکرائی۔ ”ہم عمران کے دوست کو اُس کی نئی رائٹنگ کی بنیاد پر ہی جانچیں گے۔” سویرا کی اس بات پر کلاس ایک مرتبہ پھر تذبذب کا شکار ہو گئی۔

    لیکن اُس کی اگلی بات نے نہ صرف اُن کے تذبذب کو دور کر دیا بلکہ عمران بھی اپنے سوال کے جواب پر مطمئن ہو گیا۔ ”اصل میں سٹوڈنٹس آپ لوگ آج کے ٹاپک کو ٹھیک طرح سے سمجھ نہیں پائے۔” سویرا نے کلاس میں نظر دوڑاتے ہوئے کہا۔ ”لیکن عمران نے بہت اچھا سوال پوچھا ہے جس سے آپ لوگوں کی اُلجھن دور ہو جائے گی۔ میں نے یہ کہا کہ عمران کے دوست میں رائٹنگ تبدیل کرنے کے بعد کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔
    جانتے ہیں میں نے ایسا کیوں کہا؟”
    سب سٹوڈنٹس نے نفی میںسر ہلایا۔
    ”وہ اس لئے سٹوڈنٹس کہ عمران کے دوست میں چینج پہلے ہی آچکا ہے اور وہ اُسی چینج کی وجہ سے اپنی رائٹنگ تبدیل کر رہا ہے ورنہ وہ اپنی پہلی رائٹنگ کو ہی جاری رکھتا۔” کلاس میں موجود سب سٹوڈنٹس اب بات سمجھ آنے پر مسکرا رہے تھے۔
    ”یہی میں آپ کو سمجھا رہی تھی کہ رائٹنگ سٹائل آپ کی شخصیت کا عکاس ہوتا ہے۔جیسی آپ کی شخصیت ہوگی، آپ کی سوچ ہو گی، ویسا ہی آپ کے لکھنے کا انداز ہو گا۔” سویرا نے اپنی بات مکمل کی۔ ”یعنی میڈم! عمران کا دوست اب رائٹنگ بک میں سے جو رائٹنگ پسند کرے اور اُس کی پریکٹس کرے گا اصل میں وہ رائٹنگ اُس کا ذہن منتخب کرے گی۔ تو اس کیس میں رائٹنگ بک اس کو چینج نہیں کرے گی بلکہ اس کے اندر آنے والی تبدیلی کسی رائٹنگ کو منتخب کرے گی۔” عمران کے ساتھ بیٹھے باسط نے بات کو مزید کھول کر بیان کیا۔
    ”بالکل” سویرا نے اثبات میں سرہلاتے ہوئے اس کی تائید کی۔ ”اور کوئی سوال؟ ہمارے پاس چند منٹ ہی باقی ہیں۔” سویرا نے بائیں بازو پر بندھی گھڑی پہ وقت دیکھتے ہوئے کہا۔
    ”جی ثمرین؟” سویرا نے ہاتھ کھڑا کیے پہلی صف میں بیٹھی سٹوڈنٹ کو مخاطب کیا۔
    ”میڈم آپ نے آج کے لیکچر میں یہ بھی بتایا کہ بائیں ہاتھ سے لکھنے والوں کی پرسنالٹی دائیں ہاتھ سے لکھنے والوں سے مختلف ہوتی ہے ۔ میں نے نوٹ کیا ہے میڈم کہ بہت سے دائیں ہاتھ سے لکھنے والے لوگ، بائیں ہاتھ سے لکھنے کی کوشش بھی شوق سے کرتے ہیں کیوںکہ بائیں ہاتھ سے لکھنے والوں کی رائٹنگ بہت خوب صورت ہوتی ہے۔”
    سویرا پوری توجہ سے ثمرین کی بات سن رہی تھی۔
    ”تو میڈم! آپ کی رائٹنگ تو بہت خوب صورت ہے لیکن کیا آپ نے کبھی بائیں ہاتھ سے لکھنے کی کوشش کی؟ شائدآپ کی بائیں ہاتھ کی رائٹنگ اور بھی خوب صورت ہوتی۔”
    ثمرین کے سوال کے بعد کلاس میں ایک دم ہی مکمل خاموشی چھا گئی۔
    سب ہی سٹوڈنٹس سویرا کی جانب دیکھتے ہوئے اُس کے جواب کے منتظر تھے۔
    سویرا سوال سن کر کچھ دیر تک خاموشی سے کھڑی رہی، جیسے کسی گہری سوچ میں تھی۔ پھر وہ جواب دینے کی بجائے مارکر اٹھائے وائٹ بورڈ کی جانب آگئی۔
    ”میں اپنے بائیں ہاتھ سے بھی اتنا ہی خوب صورت لکھ سکتی ہوں۔”
    یہ جملہ اُس نے اپنے بائیں ہاتھ سے بورڈ پر تحریر کیا اور کلاس کی طرف دیکھ کر مسکرا دی۔
    سٹوڈنٹس کے چہروں پر پھیلی مسکراہٹ اُس کی رائٹنگ کی خوب صورتی کا اعتراف تھا۔
    ”یعنی میڈم آپ نے بھی شوقیہ بائیں ہاتھ سے لکھنا سیکھا۔”
    ثمرین نے بورڈ پر دیکھتے ہوئے تبصرہ کیا۔
    ”نہیں شوقیہ نہیں۔ ”سویرا نے نفی میں سر ہلایا۔ ”بلکہ ایک حادثے کے نتیجے میں۔” بات مکمل کرتے ہوئے اُس کے لہجے میں عجیب سی اُداسی تھی۔
    ٭٭٭٭
    ”ڈاکٹر سویرا آپ کو ڈاکٹر نوید اپنے کمرے میں بلا رہے ہیں۔” وہ مریض دیکھ کر فارغ ہوئی ہی تھی کہ ریسپشنسٹ نے اُسے انٹر کام پر اطلاع دی۔
    ”’اوکے پھر میرے واپس آنے تک آپ کوئی مریض نہ بھیجیں۔” اُس نے ریسیور رکھا اور کرسی سے اٹھ گئی۔
    وہ شام کو جس پرائیویٹ ہسپتال میں جاب کرتی تھی،ڈاکٹر نوید وہاں کے سربراہ تھے۔
    ”آپ نے بلایا سر؟” وہ دروازے پہ ہلکی سی دستک دے کر اندر داخل ہوئی۔
    ”جی ڈاکٹر سویرا، پلیز بیٹھیں۔” درمیانی عمر کے سوبر سے ڈاکٹر نوید نے ایک نظر اُس پہ ڈال کر میز کے سامنے موجود کرسیوں کی جانب اشارہ کیا۔
    ”اصل میں ڈاکٹر سویرا! یہ میرے ایک مریض کی رپورٹ ہے اور اُسے کچھ سائیکولوجیکل ٹریٹمنٹ (Psychological Treatment) کی ضرورت ہے۔ میں چاہتا ہوں کل سنڈے ہے تو آپ اس رپورٹ کو سٹڈی کر لیں۔ پیر کو وہ مریض آپ کے پاس آئے گا۔”
    سویر اکے بیٹھتے ہی انہوں نے اپنے سامنے رکھی ایک فائل کھولتے ہوئے کہا۔
    ”جی سر۔ ”سویرا نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
    ”یہ اصل میں ایک بزرگ مریض ہیں اور …”
    ڈاکٹر نوید کی بات ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی کہ اُن کے موبائل پر کال آنے لگی۔
    ”ایکسکیوزمی!” انہوں نے معذرت کرتے ہوئے کال ریسیو کی۔
    ڈاکٹر نوید بات کرنے میں مصروف ہو گئے تو وہ ایسے ہی سامنے موجود میز پہ پڑی چیزوں پہ نظر دوڑانے لگی۔
    میز پر زیادہ تر مریضوں کی فائلز یا لفافوں میں بند رپورٹس رکھی تھیں۔
    سویر انے اپنے دائیں جانب موجود لفافے پر نظر ڈالی تو پھر جیسے وہ پلک جھپکنا بھی بھول گئی۔
    ”گل رعنا رضا” لفافے پر لکھا نام بہت جانا پہچانا تھا۔ سویرا کی نظریں اُسی نام پر ساکت ہو گئیں۔
    ”جی ڈاکٹر سویرا!” ڈاکٹر نوید نے کال ختم ہونے کے بعد اُسے پکارا تو جیسے وہ کسی خواب سے جاگی۔
    ”جی سر!” اُس نے لفافے سے اپنی نظریں ہٹاتے ہوئے کہا۔
    تھوڑی دیر تک مریض کی کیس ہسٹری سننے کے بعد وہ ڈاکٹر نوید سے فائل لے کر اپنے کمرے میں واپس آگئی۔
    لیکن اُس کا دماغ ابھی بھی ڈاکٹر نوید کے کمرے میں پڑے لفافے میں اٹکا ہوا تھا۔
    جس وقت وہ سب مریض دیکھ کر فارغ ہوئی رات کے 9 بج رہے تھے۔ وہ بے دلی سے اُٹھ کر کھڑکی کی جانب آگئی۔
    نیچے پارکنگ میں کھڑی گاڑیوں کو دیکھتے ہوئے اُس کی نظر ڈاکٹر نوید پر پڑی جو اپنی کار کا دروازہ کھول رہے تھے اور تب ہی ایک خیال کوندے کی طرح اُس کے ذہن میں لپکا۔
    ”افشاں! ڈاکٹر نوید ہیں کمرے میں؟” اُس نے دھڑکتے دل کے باوجود لہجے کو نارمل رکھتے ہوئے ریسپشن پہ موجود لڑکی کو مخاطب کیا۔
    ”نہیں ڈاکٹر سویرا، سر ابھی ابھی گئے ہیں۔ آپ کو کوئی کام تھا؟” ریسپشنسٹ نے پوچھا۔
    ”ہاں، اصل میں انہوں نے کہا تھا کہ میں ایک مریض کی رپورٹ جاتے ہوئے اُن کے کمرے سے لیتی جاؤں۔”
    ”ٹھیک ہے ڈاکٹر سویرا، سر نے کہا تھا تو آپ اُن کے کمرے سے وہ رپورٹ لے لیں۔”
    افشاں نے جیسے اُس کی مشکل آسان کر دی۔
    ”ہاں یہ ٹھیک ہے” وہ مسکراتے ہوئے ڈاکٹر نوید کے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔
    کمرے میں موجود میز پر ابھی بھی لفافے موجود تھے لیکن سویرا کا مطلوبہ لفافہ نظر نہ آیا۔
    اُس نے کانپتے ہاتھوں سے اُوپر والے لفافوں کو ہٹانا شروع کیا تو نیچے وہ لفافہ موجود تھا، جسے کھول کے پڑھنے کے لیے وہ بے چین تھی۔
    اُس نے گہرا سانس لے کر اُسے اپنے شولڈر بیگ میں رکھا اور کمرے سے باہر آگئی۔
    ٭٭٭٭

  • دانہ پانی — قسط نمبر ۳

    دانہ پانی — قسط نمبر ۳

    لکھ منتاں منیاں پر لاحاصل
    اک منت کیتی من یار گیا
    اک مسئلہ زیر، زبر دا سی
    جو سمجھ گیا لنگھ پار گیا
    موتیا نے بے اختیار چیخ ماری اور پھر وہ چیختی ہی چلی گئی تھی۔ اُس کی پہلی چیخ نے مراد کے قدموں میں جیسے زنجیر ڈال دی تھی۔
    ”ابّا سانپ! وہاں سانپ!”
    موتیا اب تھر تھر کانپتے ہوئے ہاتھ سے مراد کے پیروں کی طرف اشارہ کررہی تھی۔ مراد، اللہ وسائی اور گامو نے بہ یک وقت وہ سانپ دیکھا تھا۔
    مراد کچھ خوف کے عالم میں پیچھے ہٹا تھا مگر گامو نے لپک کر ہاتھ میں پکڑ ی لاٹھی سے سانپ پروار کیا تھا۔ سانپ ضرب کھا کر تڑپا اور اُس کی لاٹھی کے گرد لپٹنے لگا۔ گامو لاٹھی سے اُسے پٹخ پٹخ کر تب تک مارتا رہا جب تک وہ مر نہیں گیا۔
    پیر ابراہیم کے ڈیرے کے لوگ موتیا کی چیخیں سن کر جب تک وہاں پہنچے تھے تب تک گامو سانپ مار چکا تھا۔
    ”تو تم موتیا ہو، گامو چاچا کی بیٹی۔ ”
    وہ پہلا جملہ تھا جو مراد نے خود سے کچھ فاصلے پر کھڑی تھر تھر کانپتی موتیا کو دیکھ کر کہا تھا ۔ گامو اور اللہ وسائی دونوں اس سانپ کے پاس کھڑے اب اُسے لاٹھی اور چھڑی سے ایک درخت کے تنے کی جڑ میں ڈھیر کررہے تھے اور موتیا کی چیخوں پر آنے والے مزارعے اُن کی مدد کررہے تھے۔موتیا ساکت کھڑی تھی۔
    وہ مراد کا سوال نہیں تھا جس نے زرد پڑتی کانپتی موتیا کو ساکت کیا تھا۔ وہ اُس کی نظریں تھیں جن میں پہچان کا ایسا گوڑھا (گہرا) رنگ تھا جو مہندی کے رنگ کی طرح جوبن دکھا رہا تھا۔
    ”تم نے میری جان بچالی۔”

    وہ مراد کا دوسرا جملہ تھا۔ وہ بس اتنا نہیں کہنا چاہتا تھا۔ جو کچھ کہنا چاہتا تھا وہ یہاں کہہ نہیں سکتا تھا۔ نہ وقت تھا نہ موقع اور پھروہاں ”دنیا” بھی تھی۔ یہ دُنیا ہر جگہ کیوں آجاتی ہے۔ مراد نے عجیب کسک سے ایک ہاتھ کی مٹھی بند کرکے مسلی تھی۔
    ”پتر! تو تو ٹھیک ہے نا؟” گامو اُس کی طرف آیا اور مراد موتیا سے نظر ہٹانے پر مجبور ہوگیا تھا۔
    ”میں ٹھیک ہوں چاچا۔” مراد نے آگے بڑھ کر گامو کو لپٹا کر اُس کا شکریہ ادا کیا تھا۔
    ”بڑا لمبا اور زہریلا سانپ تھا۔ ”گامو نے اُسے تھپکتے ہوئے دور سانپ کے مردہ وجود کی طرف اشارہ کیا جو اب بے جان پڑا تھا۔
    ”یہ تو موتیا کی نظر پڑگئی ورنہ اتنی لمبی گھاس میں مجھے کہاں نظر آتا۔”
    گامو نے کہا تھا اور جیسے مراد کو ایک اور موقع دیا موتیا کو دیکھنے کا۔ اُن دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تھا اور نظریں چرالی تھیں۔
    مراد کو سانپ نہیں لڑاتھا، پیار لڑگیا تھا۔ اور پیار کا کاٹا پانی نہیں مانگتا۔
    …٭…
    پیر ابراہیم کے ڈیرے پر مراد پر سانپ کے حملے کی خبر مراد کے واپس پہنچنے سے پہلے ہی پہنچ چکی تھی اورتاجور حواس باختہ پیر ابراہیم کے ساتھ لپکتی ہوئی آئی تھی مگر تب تک مراد گامو کے خاندان کے ساتھ واپس پہنچ چکا تھا۔ تاجور نے اُسے سینے سے لگا کر جیسے اُس کے جسم کے ایک ایک حصّے کو چھو کر اس کے خیر وعافیت سے ہونے کی تسلی کی تھی اور اس وقت اُسے یہ بھی بھول گیا تھا کہ وہاں موتیا بھی تھی جسے مراد کی نظر سے دور رکھنے کے لئے اُس نے سوجتن کئے تھے۔
    ”تمہارا بڑا احسان آگیا ہے ہمارے کندھوں پر گامو!”
    پیر ابراہیم نے وہاں کھڑے کھڑے بے حد ممنون انداز میں گامو کے دونوں ہاتھوں کو تھام کے کہا تھا اور گامو جیسے پانی پانی ہوگیا تھا۔ کہاں وہ کہاں پیر صاحب، اُس کی کیا اوقات تھی کہ وہ اُن پر احسان کرتا۔
    ”نہیں نہیں پیر صاحب! آپ گناہ گار نہ کریں ہمیں، ہم نے کیا احسان کرنا ہے آپ پر۔ احسان تو آپ کے ہیں ہمارے سر۔” گامو نے دونوں ہاتھ جوڑ کر کہا تھا۔
    ”ہمیں بس معاف کردیں۔ موتیا سے گناہ ہوگیا ایک۔ آپ کے درخت سے ایک امرود اتار کر کھا لیا اس نے۔” گامو نے بندھے ہاتھوں کے ساتھ پیر ابراہیم سے کہا تھا اور اس بار اُس کے جملے پر تاجور نے چونک کر جیسے پہلی بار موتیا کو دیکھا اور پھر اُس نے مراد کو دیکھا جس کی نظریں موتیا پر ٹکی ہوئی تھیں اور اُن میں جوتاثر تھا، اُس نے تاجور کو ہلا دیا تھا۔
    ”کھا یا نہیں تھا ابھی، سانپ آگیا تھا تو میرے ہاتھ سے گرگیا۔” موتیا نے جیسے وضاحت دی تھی او رپیر ابراہیم نے بے حد محبت سے اُس کے سر پر ہاتھ رکھ کر اُسے تھپکتے ہوئے کہا:
    ”موتیا کو اجازت ہے گا مو ہمارے باغ کے جس بھی درخت کا پھل چاہے توڑ کے کھالے۔”
    اُن کے لہجے کی شفقت اور احترام تاجور کو جیسے کانٹے کی طرح چبھا تھا۔ اس نے اپنے باپ کے لہجے میں ایسا احترام اپنے علاوہ کبھی کسی کے لئے نہیں دیکھا تھا۔
    ”میری موتیا کے لئے دعا کریں پیر صاحب! اللہ اُس کے نصیب کھولے اور کسی بڑی اچھی جگہ رشتہ ہوجائے اس کا۔” اللہ وسائی نے کھڑے کھڑے پیر ابراہیم سے بیٹی کے نصیب کے لئے دعا کرنے کا کہا تھا۔
    اس سے پہلے کہ پیر ابراہیم کچھ کہتے، تاجور نے مداخلت کی تھی۔
    ”ہاں ہاں! میں کروں گی کسی نہ کسی سے بات۔ مزارعوں کی بیویاں اپنے بچوں کے رشتوں کے لئے مجھ سے کہتی رہتی ہیں۔ تو اسے حویلی لایا کر اللہ وسائی!” تاجور کے جملے پر پیر ابراہیم نے بیٹی کو دیکھا تھا پھر عجیب سی مسکراہٹ کے ساتھ انہوں نے ایک بار پھر موتیا کے سر پر ہاتھ رکھ کے کہا تھا۔
    ”کسی مزارع کے گھر نہیں جائے گی موتیا۔ اونچے درجہ پر رہے گی ہمیشہ اونچا ہی رتبہ رہے گا۔”
    تاجور کو باپ کی بات نے جیسے ایک بار پھر تکلیف پہنچائی تھی۔ وہ پیر ابراہیم تھے، سات گاؤں جن کے مرید تھے اور وہ ایک ماشکی کی بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھ کر اُس کے رتبے اور درجے کی بشارتیں دے رہے تھے۔ کیوں؟ کس لئے؟ صرف اس لئے کہ اُس کے باپ نے مراد کی جان بچائی تھی۔ تاجور جل کر بھسم ہونے سے پہلے کوئلہ ہوئی تھی۔ پر باپ کے سامنے وہ کچھ کہہ نہیں سکتی تھی۔
    گامور اور اللہ وسائی کے چہرے پر وہ چمک موتیا نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی جو اُس نے پیر ابراہیم کی دعا پر دیکھی تھی ۔ پیر ابراہیم نے اُسے نظربھر کے بھی نہیں دیکھا تھا۔ موتیا کے سامنے وہ نظریں جھکائے ہی رہے تھے اور موتیا نے اُن کا چہرہ بغور دیکھا تھا۔اُن کی دعا اورالفاظ اس کی سمجھ میں نہیں آئے تھے۔ وہ اُسے بس یہ دعا دے دیتے کہ اُسے مراد مل جائے گا تو موتیا کی ڈکشنری وہیں شروع اور ختم ہوجاتی۔ ایک لمحہ کو اس کا دل چاہا تھا وہ پیر ابراہیم سے کہے وہ اسے مراد کا ساتھ نصیب ہونے کی دعا دیں جس کی نظریں اس وقت بھی اس کے چہرے کا طواف کررہی تھیں۔ جو اس سے بس پندرہ قدم دور کھڑا تھا موتیا جیسے فاصلہ ناپ چکی تھی اور اب پندرہ قدموں میں مراد اور اس کے بیچ بس تاجور تھی۔ وہ نہ ہوتی تو وہ اس سے چودہ قدم دور ہوتا۔
    وہ مراد کی طرح دلیر نہیں تھی کہ وہاں کھڑی اُس کو اُسی طرح دیکھتی جیسے وہ دیکھ رہا تھا۔ پر وہ پھر بھی اُسے دیکھ رہی تھی۔ سفید شلوار قمیص میں ہاتھ سینے پر لپیٹے وہ چپ چاپ کھڑا تھا۔ اُس نے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ پر اُس سے پندرہ قدم دور کھڑی موتیا جیسے پھر بھی وہ ساری گفتگو سن رہی تھی جو اس کی نظریں کررہی تھیں۔
    وہ مرد کی نگاہ نہیں تھی، محبوب کی نگاہ تھی۔ جس میں بس قربان ہوجانے، نثار ہوجانے کی آرزو تھی۔ پروانہ بن کر جل جانے کی تمنا تھی۔ جو اس پر جمی اس سے کہہ رہی تھی ۔ تجھ سا کوئی دوسرا ہے ہی نہیں موتیا اور نہ کبھی ہوگا۔
    وہ گامو اور اللہ وسائی کے ساتھ اس بولتی نگاہ کے جواب میں کچھ بھی کہے بغیر پیر ابراہیم کے ڈیرے سے واپس آئی تھی اور مراد کا چین قرار ایک بار پھر لوٹ کر چلی گئی تھی۔
    حسن اس نے بے پناہ دیکھا تھا پر موتیا سا نہیں دیکھا تھا۔ وہ اپنے گھمنڈ میں رہنے والا مرد تھا جس کو لگتا تھا وہ کبھی کسی عورت پر فدانہیں ہوسکتا۔ کنگز کالج میں وکالت پڑھتے ہوئے جو آخری چیز کبھی اس کے دماغ میں آتی تھی، وہ محبت ہی ہوسکتی تھی اور یہاں ایک نظر میں لٹا تھا اور ایک نظر میں لٹنے والا تو کبھی کسی کو بتا بھی نہیں سکتا کہ اُس کے ساتھ ہوا کیا۔ دل کیسے گیا؟ جاں کہاں گئی ؟ وہ پری چہرہ کیا کیا لے گئی؟
    …٭…
    ”اُس رات بخار کے علا ج کے لئے بھی آپ نے موتیا کو بلوایا تھا؟ ”
    تاجور مراد کے ساتھ اپنے گاؤں واپس آرہی تھی جب مراد نے رستے میں ٹانگے پر بیٹھے اُس سے پوچھا اور تاجور کو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا۔ وہ کہاں کہاں آکر کھڑی ہوجاتی تھی اُس کے اور اُس کے بیٹے کے بیچ۔
    ”تمہیں کس نے بتایا؟” تاجور نے اُس سے نگاہ ملائے بغیر باہر کھیتوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
    ”مجھے بے ہوشی میں وہ نظر آئی تھی۔ مجھے لگا میرا وہم تھا۔ ” سیدھے سادے لہجے میں کہے گئے جملے نے تاجور کو کہیں کا نہیں رہنے دیا تھا۔ وہ اُس کے بیٹے کو بے ہوشی میں بھی نظر آنے لگی تھی جس کو وہ ہوش میں چھپانے کے جتن کررہی تھی۔
    ”چاچا گامو نے بڑا اچھا کیا موتیا کو میڈیکل پڑھارہے ہیں۔ گاؤں کو بڑی ضرورت ہے ڈاکٹر کی۔” مراد نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔
    ”یہ تمہارے باپ کا احسان ہے کہ گامو پڑھا رہا ہے بیٹی کو ورنہ میرے بس میں ہوتا تو میں تو کبھی گاؤں کی کسی لڑکی کو لڑکوں کے ساتھ شہر میں نہ پڑھنے دیتی۔ بے حیائی سی بے حیائی ہے۔”
    ”امّی ماہ نور بھی تو پڑھ رہی ہے شہرجاکر۔”
    تاجور اس کے جملے پر جیسے تڑپ اٹھی۔ وہ اس کی بھتیجی کا مقابلہ موتیا سے کررہا تھا۔
    ”ماہ نور اور موتیا کا کیا مقابلہ؟ تو اُس کی ذات اور اوقات تو دیکھ۔”
    تاجور خفا ہوئی تھی اور مراد ماں کے جملے پر کچھ اور حیران۔
    ”یہ ذات اور اوقات کیا ہوتی ہے امّی؟”
    تاجور کو اس سوال کا جواب نہیں آیا یا پھر شاید وہ موتیا کے ذکر سے تنگ آگئی تھی۔ اُس نے یک دم بات بدل دی۔
    ”تمہیں ماہ نور کیسی لگی؟” مراد اُس کے سوال پر ایک بار پھر حیران ہوا۔
    ”ماہ نور اچھی ہے۔ سب کزنز کی طرح۔ آپ کیوں پوچھ رہی ہیں؟ ”
    مراد نے ماں کو کریدا، اس کی چھٹی حس نے اُسے کوئی عجیب سا سگنل دیا تھا۔ تاجور بڑے پراسرار انداز میں مسکرائی تھی۔
    ”بتادوں گی۔ بتادوں گی۔ ایسی جلدی کیا ہے ؟”
    مراد ماں کے چہرے کو بغور دیکھتا رہا لیکن اُس نے مزید کوئی سوال نہیں کیا تھا۔
    …٭…

  • میری ڈائریاں میرے خواب —- محسن علی شامی

    میری ڈائریاں میرے خواب —- محسن علی شامی

    سنہری دھوپ میں نہائے گورنمنٹ ڈگری کالج بھکر کے طلائی رنگ و روپ سمیٹے درودیوار آنکھوں کو لبھا رہے تھے… کیفے ٹیریا کے سامنے بنے واکنگ ٹریک پر کچھ منچلے طلبا خراماں خراماں چلتے ہوئے بیگ سینے سے لگائے گفت گو میں مصروف نظر آتے تھے…
    ہوامیں قدیم زمانے کی صندلیں خوشبو کی مانند باس سی پھیلی ہوئی تھی… ”میں” ایم۔ اے بلاک کے مشرقی جانب رکھے دو سنگی بنچوں میں سے ایک پر بیٹھا تھا… میرے ساتھ والا بنچ فی الحال ویران پڑا تھا… لان میں کچھ سنجیدہ طبیعت طلبا کسی بحث میں اُلجھے نظر آتے تھے… جیسے ہی اُن کی آواز ذرا بلند ہونے لگتی تھی تو میں ایک اُچٹتی سی نظر اُن پر ڈال کر اپنی اسائنمنٹ کی طرف متوجہ ہو جاتا جو آج ہی فزکس کے پروفیسر راؤ راحت صاحب کو جمع کروانی تھی…
    اچانک میں نے B.Sc. کے عمار زیدی کی بلند آواز سنی… وہ شاید پاکستان سے متعلق کوئی بات کر رہا تھا… آواز کی لہریں کسی ٹوٹے ستار کی مانند، بھدا پن لئے ہوئے تھیں… کئی خراشیں ڈالتے ہوئے وہ آوازیں میری سماعت میں اترنے لگی تھیں۔عمار زیدی کہہ رہا تھا…
    ”یار… پاکستان ہے کیا آخر… کرپشن، لوٹ مار، ٹارگٹ کلنگ، ساری معاشرتی برائیاں اِس میں موجود ہیں… سفارش شاید یہاں کی دل کش ترین چیز ہے جو بازار میں سجی دھڑا دھڑ بِک رہی ہے… ایم۔ اے پاس دھکے کھا رہے ہیں… اِس سے تو اچھا ہے کہ بندہ بیرونِ ملک چلا جائے… کم از کم بھوکے تو نہیں مریں گے… لعنت ہے ہم پر جو اس ملک میں گزارا کر ہے ہیں…”

    اُس کی بات سن کر مجھے لگا ڈگری کالج کے درو دیوار نمی سی چھوڑنے لگے ہوں… وہ نمی جو کھارا پانی کہلاتی ہے… جسے عرفِ عام میں ”آنسو” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے… انسان کا رزق تو خدا کے ذمے ہے بھلا اسے بیرون ملک سے کیوں مشروط کیا جاتا ہے…
    رافع اِکرام بھی اُسی کا کلاس فیلو تھا… پیپل کے گھنے پتوں میں چھپی بیٹھی بلبل اب سر نکالے غم زدہ سی نیچے جھانک رہی تھی… اُس کی خاکستری آنکھوں میں ایک رنگ بہت واضح اور مکمل تھا… اور وہ رنگ ”حب الوطنی” کا تھا… کسی ویران مرقد کے طاقچے میں جلتی موم بتی کی نارنجی رُوشنی کا سا… جو آنکھوں کو جھپکنے پر مجبور کرتی ہے…
    رافع اِکرام کسی بغاوتی ٹولے کا سرغنہ، بُری طرح بھڑک رہا تھا…” بالکل ٹھیک کہا عمار نے… بھئی ہم نے تو پکا سوچ لیا ہے… M.Sc. کرنے کے بعد بیرونِ ملک ہی فلائی کر جانا ہے… بیوی، بچے سب وہیں ہوں گے… پھر عیش ہی عیش … اِس ٹوٹی سڑکوں، گرتی بلڈنگوں والے ملک کے ہر دروازے کی اُوٹ سے غربت جھانک رہی ہے… لندن میں تو صاف ستھری سڑکیں، حسین نظارے، اور عیش و آرام ہو گا… یہاں تو ترقی کے امکانات بھی نہیں ہیں…”
    عابد جلیل نے سر دُھنتے ہوئے کہا تھا… ”ہاں… یار… یہاں بھائی، بھائی کا دُشمن ہے… مذہب کے نام پر آئے دِن ہونے والے ہنگامے ناک میں دم کیے ہوئے ہیں… حادثات یہاں معمول کا حصہ بن چکے ہیں… جس طرح زندہ رہنے کے لیے آکسیجن ضروری ہے اِسی طرح نت نئے حادثات پاکستان کی شناخت بن چکے ہیں…”
    میں نے اس ساری گفت گو کے تناظر میں سفیدے کے درخت کے سرسراتے پتوں کو دیکھتے ہوئے سوچا کیا میری سوچ بھی اُن جیسی ہے…؟؟
    کچھ سوالات مختصر ہوتے ہوئے بھی اتنے مشکل کیوں ہوتے ہیں… میں ”محسن علی” جو اِس ملک کا باسی ہوں اور اپنے قلم کے تیکھے انداز سے ہم وطنوں کی سوچ بدلنے کے لئے اِس میدان میں اُترا ہوں،میں کہاں تک ثابت قدم رہ سکوں گا…؟ ہر کسی کی سوچ میں وطن سے بدگمانی اور بددیانتی کا قصہ واضح ہے… میں کیا اِس بات کا یقین خود کو دِلا سکتا تھا کہ میں سب کی سوچ بدل ڈالوں گا… شاید کبھی نہیں… مگر پھر جانے دُور پار کے پربتوں کی چوٹیوں سے ایک صدا، میرے وجود میں اودھم مچانے کی سعی کرتی ہے…
    ”قطرے قطرے سے دریا بنا کرتے ہیں… ذرّے ، ذرّے سے پہاڑ تخلیق ہوا کرتے ہیں… دیئے سے دِیا جلانا ضروری ہے…”
    میں نے غوروخوض کے سکّوں کو اپنی سوچ کی گُلک میں ڈالتے ہوئے سوچا تھا کہ ایک بار تو سوچ بدل دینے کی روایت قائم کی جائے… صرف ایک بار… کیا خبر میری روایت پر کسی اور قدم کی چاپ بھی آن موجود ہو… میں نے اپنے گھر کے درو دیوار کی شکستگی پر کبھی ملال نہیں کیا… یہ شکستگی تو کچھ ہے ہی نہیں اصل قصہ تو شاید سوچوں کی پختگی کا ہے…
    سرسراتی ہوا کے لمس کو محسوس کرتے ہوئے بے طرح ایک باز گشت مجھے مسکرانے پر مجبور کر دیتی ہے…”علم والے مال و زر کے ذائقے سے ناشناس ہوتے ہیں…”
    کہا جاتا ہے پاکستان میں آسودگی عنقا ہے… مگر اُس بوڑھے مصور کی مسکراہٹ میں مکمل مٹھاس اور سکون کیوں ہے، جو اکثر فٹ پاتھ پر کان پر پنسل ٹکائے بیٹھا ہوتا ہے… شاید اُس نے وہ عبارت پڑھی ہو گی جو میری گولڈن ڈائری کے پہلے ورق پر درج ہے…
    ”عقل والوں کے لیے ”علم” ہے… اور جاہلوں کے لیے ”مال ” ہے…”
    بعض اوقات زندگی کی رونقوں سے ہٹ کر کسی سنسان راستے پر چہل قدمی کرنے کی خواہش بہت دھیمے سے دِل کے کسی گوشے میں سر اُٹھاتی ہے… اور پھر دِلوں کی باتیں کہاں رد کی جا سکتی ہیں…
    سنسان سڑک کے گرد لگے قطار در قطار درختوں کے ساتھ ساتھ چلتے مجھے کبھی بھی پاکستان کی اِن سڑکوں کو برا بھلا نہیں کہنا پڑا… لوگ جانے اتنے کم ظرف کیوں ہوتے ہیں کہ زندگی کی سلیٹ پر ایک ”خامی” درج ہوتے ہی ساری خوبیوں پر ”خاک” پھیر دیتے ہیں… جس کی دُھول میں خامیوں کا عکس واضح نظر آنے لگتا ہے…
    میں نے اکثر لوگوں کو پاکستان کے خلاف تقریریں کر کے ڈائس توڑتے دیکھا ہے… ڈائس کا ٹوٹنا قابلِ برداشت سہی … مگر لوگوں کے دِلوں کو تو پاکستان کی محبت سے خالی نہ کرو… مدتوں سے تعمیر ہونے والی محبت کو اِک پل میں مسمار کر دینا انصاف نہیں… میں تھک ہار کر قلم کو کورے ور ق پر رکھتے ہوئے سوچتا ہوں…
    ”خدا نے قلم جیسی عظیم نعمت سے تو نواز دیا ہے مگر اس کا استعمال کیسے کروں… سوچوں کو بدل ڈالنے کی آرزو جلد پوری ہونے والی نہیں… مگر پھر وہی ایک صدا یاد آتی ہے…”
    پیوستہ رہ شجر سے اُمیدِ بہار رکھ…
    ٭٭٭٭
    میرا آئیڈیل تو کارل فلومی ہے… ہئیر سٹائل، قد ہر چیز زبردست ہے…” پہلی آواز نے کہا تھا… جانے یہ کارل کون تھا…؟… فاطمہ جناح پارک میں پھولوں کی سحر انگیز خوشبو بہت بھلی لگ رہی تھی… میں نے ایک قرمزی رنگ پرندے کو فلک بوس سفیدے کی چوٹی پر بیٹھتے دیکھا تھا… جسموں سے ٹکراتی مدھر سی ہوا ڈانوا ڈول پھر رہی تھی…
    دوسری آواز نے کہا تھا… ”ہاں یار… وہ بہت پُرکشش اور چارمنگ ہے… ہزاروں لڑکیاں مرتی ہیں اُس پر … مسکراکر دل نکال لیتا ہے…” دوسری آواز نے سرد آہ بھر کر کسی خواہش ناتمام کا ماتم کیا تھا…
    میں نے پلٹ کر دیکھا… وہ دو لڑکے مجھ سے کافی بڑے تھے… جھولے پر بیٹھے تھے مگر اُن کی کتابیں گھاس پر پڑی تھیں… ایک بیگ کی زِپ کھلی تھی آدھی چیزیں اندر آدھی باہر… وہ دونوں ”آئیڈیل، آئیڈیل…” کھیل رہے تھے… میں نے اپنی گولڈن ڈائری میں گوند سے چپکائی ہوئی تصویروں کا البم دیکھا … صفحے کے شروع میں کالے مارکر سے ”میرے آئیڈیلز…” کی فہرست چسپاں تھی…
    ”قائداعظم محمد علی جناح، علامہ محمد اقبال، اشفاق احمد…” میں نے گھبرا کر ڈائری بند کر دی… دیواروں کے کان ہوتے ہیں… تو ہواؤں کی آنکھیں کیوں نہیں ہو سکتیں…؟ ہواؤں نے میرے آئیڈیلز کی فہرست دیکھ کر چہ مہ گوئیاں کرنا تھیں… کیا پتا ہوائیں دُور چٹانوں اور پہاڑیوں پر میری ذات کو موضوع گفت گو بنائیں… مجھے موضوع گفت گو بننا کبھی بھی تو پسند نہ رہا تھا…
    ڈائری جلد بند کرنے کی کوشش میں ایک آوارہ ورق اُن لڑکوں کے پاس جا ٹھہرا… بلی کی آنکھوں والے لڑکے نے تو بس جھولا روکنے کی زحمت کی تھی… جب کہ دوسرا جس کے بال عورتوں کی طرح لمبے تھے اور اُس نے چوٹی بنا رکھی تھی، وہ میری ڈائری کا ورق پڑھنے لگا… وہ لہک لہک کر پڑھ رہا تھا… پاکستان میرا ملک ہے اور مجھے اس سے بے حد محبت ہے۔ قائداعظم، شاعرِ مشرق اور ان جیسے دیگر رہنما اور دانش ور میرے ہیرو ہیں۔ میں بھی ان کے نقشِ قدم پر چلنا پسند کروں گا۔ ہوا میں اجنبی احساسات کی گرد اُڑ اُڑ کر جمود طاری کرنے لگی تھی… میرا ایک بغاوتی نمکین آنسو ڈائری کے اُوپری ورق پر گرا تھا… ایک پل کو لگا میں کسی پرائمری سکول کا نکما طالب علم ہوں جو پورے سکول کے سامنے پڑھ رہا تھا…

  • دانہ پانی — قسط نمبر ۲

    دانہ پانی — قسط نمبر ۲

    عشق فقیری جد لگ جائے
    پاک کرے ناپاکاں نوں
    عشق دی آتش لے جاندی اے
    عرشاں تیکر خاکاں نوں
    وہ ایک سانپ تھا، تاریک رات کی طرح سیاہ ، تارکول جیسی چمک لئے شاید چھ فٹ یا سات فٹ لمبا یا شاید اس سے بھی زیادہ، اس کی سیاہ رنگت میں بھی اس کی جلد کے نقش و نگار یوں نمایاں تھے جیسے کسی انسان کے تیکھے نقوش۔ اس کی گول چمک دار سیاہ آنکھوں میں وحشت کے علاوہ کوئی تاثر نہیں تھا اور اس کا کسی تاج کی طرح تنا ہو اپھن اس کے کنڈلی مارے ہوئے وجود پر کسی چھتری کی طرح جھک جھک کر تن رہا تھا۔
    وہ اس جنگل میں کب سے اس کا پیچھا کررہا تھا لیکن کیوں، یہ اندازہ اسے نہیں ہوا تھا پر اس کے وجود کی سرسراہٹ اس کے کانوں سے کسی سیٹی کی گونج کی طرح چپکی ہوئی تھی۔
    اس نے اسے بل کھاتے، لہراتے، برق رفتاری سے اپنے پیچھے آتے بھی دیکھا تھا اور اب جب وہ ان درختوں کے بیچوں بیچ اپنے عقب میں آنے والے اس دشمن کا سامنا کرنے کے لئے رُک گئی تھی تو وہ اپنا پھن اٹھائے کنڈلی مار کر اُس کے سامنے بیٹھ گیاتھا۔
    وہ دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ساکت تھے۔ اس سانپ کو اگر اس کی آنکھوں میں خوف دیکھنے کی خواہش تھی تو اس کی خواہش پوری نہیں ہوئی تھی۔ وہ خوف زدہ نہیں تھی اور پھر اس نے سانپ کے عقب میں کسی کے قدموں کی چاپ سنی تھی، سانپ برق رفتاری سے پلٹا اور اپنے عقب میں کھڑے اس مرد کو دیکھ کر پھنکارا۔
    اس مرد کی نظر موتیا پر تھی۔ وہ جیسے اس کے حسن سے مبہوت تھا۔ موتیا نے اس سانپ کو اس مرد کے پیروں کی جانب جاتے دیکھا اور تب اس نے پہلی بار خوف محسوس کیا تھا اور تب ہی اسے یہ احساس بھی ہوا تھا کہ وہ ناگن تھی۔ ”کوبرا” اس نے چلانا چاہا لیکن وہ چلانہیں پائی۔ وہ ناگن اس مرد کے پیروں کے پاس پہنچ چکی تھی۔ اُس نے اپنا پھن اُٹھایا اور کاٹنے کے لئے جُھکی۔
    موتیا ایک جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھی تھی۔ وہ لرز رہی تھی اور اس کا جسم پسینے سے شرابور تھا۔ وہ آنکھیں کھول کر بھی جیسے خواب ہی دیکھ رہی تھی اور اس کا حلق خشک ہورہا تھا۔ صحن میں گامو اور اللہ وسائی اس کے دائیں بائیں اپنی اپنی چارپائیوں پر رات کے اس پچھلے پہر گہری نیند سو رہے تھے۔ دور کہیں کسی کتے کے بھونکنے کی آواز آئی تھی۔ پتا نہیں وہ کتا تھا یا گیدڑ، موتیا نے جیسے عجیب سی کیفیت میں آواز سنی تھی۔
    ٹھنڈی ہوا کے جھونکے جو گامو کے گھر میں لگے ہوئے موتیا کے پھولوں سے مہکے ہوئے تھے، انہوں نے اندھیرے میں چارپائی پر بیٹھی موتیا کو جیسے سہلایا تھا۔
    موتیا ٹانگوں پر پڑے کھیس کو ہٹاتے ہوئے زمین پر کھڑی ہوگئی تھی۔ اپنی چپل کو پاؤں سے ٹٹولتے ہوئے اس نے ایک دم چپل پہننے کا ارادہ ترک کردیا، اس کی چپلوں کی آواز سے گامو اور اللہ وسائی جاگ جاتے۔

    ننگے پاؤں وہ صحن میں پڑے لکڑی کے اس اسٹینڈ کی طرف گئی تھی جس پر پانی کا ایک کچا مٹکا رکھا تھا اور مٹکے کے منہ کے گرد موتیا کے پھولوں کا ایک ہار لپٹا ہوا تھا جو اللہ وسائی صبح سویرے ہی پرو کر چڑھا دیتی۔ موتیانے گلاس اٹھا کر مٹکے پر پڑا ڈھکن ہٹایا اور مٹکا جھکاتے ہوئے گلاس میں پانی بھرا اور پھر غٹاغٹ پی گئی۔ پانی نے جیسے اس کی اکھڑی ہوئی سانس بحال کی تھی پر اس کی نیند اڑ گئی تھی۔
    گلاس واپس رکھ کے موتیا نے سر اٹھا کر چودھویں کے چمکتے ہوئے چاند کو دیکھا جس کی روشنی نے اس کے گھر کے صحن کو عجیب سحر انگیز چاندنی سے روشن کررکھا تھا۔ اسی طرح دبے پاؤں وہ اپنی چارپائی کی طرف آکر لیٹ گئی تھی۔
    پورا آسمان ستاروں سے بھرا ہوا تھا اور چاند ان کے جھرمٹ میں کسی بادشاہ کی طرح لگ رہا تھا۔ بالکل گول، روشن، حسین وہ چاند پر نظریں جمائے اسے دیکھتی رہی۔ مگر اس کا ذہن وہیں اٹکا ہوا تھا۔ اس خواب میں نظر آنے والے مرد پر اور اس سانپ پر جوناگن تھی۔
    ”پاگل ہے تو موتیا! خوامخواہ فکر کرنے بیٹھ جاتی ہے۔ خواب ہے خواب، نہ دنیا میں یہ مرد ہے نہ وہ سانپ۔ سوجا۔”
    اس نے ہمیشہ کی طرح زیرِ لب اس خواب کو بڑبڑاتے ہوئے جھٹلایا۔ پر آسمان پر نظر آنے والے اس خوب صورت چاند پر یک دم جیسے اسی مرد کا چہرہ ابھرنے لگا تھا۔ اُس کی آنکھیں، ناک، مسکراتے ہوئے لب، اٹھی ہوئی ٹھوڑی، لمبی گردن۔
    وہ عجیب حیرت سے چاند میں ابھرنے والی شبیہہ دیکھنے لگی۔ پھر اس نے ہاتھ اٹھا کر چاند میں ابھرنے والے اس چہرے کو جیسے چھونے کی کوشش کی تھی۔ اور وہ چھوپائی تھی، موتیا کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی تھی۔
    اس نے آنکھیں بند کرکے دوبارہ کھولیں، چاند اب بھی وہی چہرہ بنا آسمان پر براجمان تھا اور تارے اسے اپنے جھرمٹ میں لئے ہوئے تھے۔ وہ آنکھیں کھولے آسمان پر چاند کو دیکھتی رہی، اس چکور کی طرح جسے وہ اکثر رات کو اڑتے دیکھتی تھی۔
    موتیا نے آسمان پر اس چاند کو دیکھتے ہوئے کلمہ پڑھنا شروع کردیا۔ زیرِ لب ایک، پھر دوسرا، پھر تیسرا، چوتھا،پانچواں،چھٹااور پھر وہ ساری سورتیں جو اس کو بچپن سے حفظ تھیں اور وہ آیات جو مسجد کے مولوی صاحب نے اسے رٹوائی تھیں۔ پھر وہ سارے اسمِ الٰہی جنہیں اس نے اسمِ اعظم ڈھونڈنے کے لئے یاد کیا تھا۔ پھر وہ سارے اسمِ محمدۖجو اس نے اس لئے رٹے تھے کیونکہ اللہ کے نام کے ساتھ نبی ۖ کا نام نہ آئے یہ کیسے ممکن تھا۔
    اور یہ سب پڑھتے پڑھتے وہ نیند کی وادی میں اترنے لگی تھی مگر وہ چہرہ اب بھی وہیں تھا، اس کے دل کے آسمان پر چاند بن کے بیٹھا ہوا، پر وہ ناگن؟ وہ ناگن کیوں آگئی تھی اس کے اور اس کے چاند کے بیچ۔
    …٭…
    کھل کے بہتے پانی میں ڈوبے موتیا کے خوب صورت پاؤں کسی جوہری کی دکان کے شیشے میں سجے ہیرے جواہرات جیسے لگ رہے تھے۔
    بتول نے بڑی حسرت سے ان نازک دو دھیا پیروں کو دیکھا جن پر اس کی نظر ہمیشہ ہی اٹک جاتی تھی اور پھر اٹکی ہی رہتی تھی۔
    ”پھر کیا ہوا بتول؟”
    موتیا نے اب ہاتھ سے کھل کا پانی مٹھی میں لے کر بتول پر پھینکا تھا اور جیسے اس کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔ وہ دونوں کنویں پر اس جگہ آکر بیٹھی ہوئی تھیں جہاں گاؤں کی عورتیں کپڑے دھونے آتی تھیں۔ چلتے ہوئے رہٹ کو کھینچتے بیل دو وقت باری باری کنویں سے کھیتوں کے لئے پانی نکالتے تھے اور جب تک وہ رہٹ چلتا رہتا، عورتیں وقفے وقفے سے وہاں آکر کپڑے دھوتی رہتیں۔
    ”کیا ہونا تھا؟” بتول نے بھی جیسے بدلہ لیتے ہوئے پانی دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں میں لے کر اس پر اچھالا تھا۔
    ”سنا تو دیا تجھے سب کچھ۔”
    وہ اب اپنی چیزیں سمیٹ رہی تھی۔ بالٹی میں گیلے کپڑے او رپھر وہ ڈنڈا جو کپڑوں پر مار مار کے اس نے کھیس دھوئے تھے۔
    ”بڑا کمینہ ہوا پھر تو سعید۔” موتیا نے جیسے برا مناتے ہوئے بتول سے کہا تھا جس نے کچھ دیر پہلے اسے اپنی اور سعید کے درمیان ہونے والی ملاقات کی کہانی سنائی تھی۔ سعید بتول کے چاچے کا بیٹا تھا۔ وہ کویت میں کام کرتا تھا اور بتول اس پر مرتی تھی پر وہ ڈرپوک تھا اور ڈرپوک مرد سے پیار گلے میںپھانسی کے پھندے کی طرح ہوتا ہے۔
    ”نہیں! وہ کمینہ نہیں ہے، چاچا زیادہ کمینہ ہے۔ وہ بس ڈرپوک ہے۔ ” بتول نے جیسے موتیا کو سعید کا مسئلہ سمجھانے کی کوشش کی تھی۔
    ”لو تو پھر پیار کرنے کی کیا ضرورت تھی؟”موتیا قائل نہیں ہوئی تھی۔
    ”اس نے تھوڑی پیار کیا تھا۔ وہ تو میرا دماغ خراب ہوا تھا۔ ”
    بتول نے بڑے اطمینان سے اسے بتایا۔ موتیا اس کا چہرہ دیکھتی رہ گئی۔
    ”یعنی بس تو پیار کرتی ہے اتنے سالوں سے وہ نہیں کرتا؟”
    اس نے جیسے مذاق اڑانے والے انداز میں بتول سے کہا تھا۔ اس نے گہرا سانس لے کر موتیا کو دیکھا۔
    ”جب پہل عورت کی طرف سے ہوئی ہو نا تو پھر ساری عمر یہی سنتی رہتی ہے عورت کہ تجھے ہوا تھا نا پیار میں تو سمجھاتا تھا تجھے، تو بس سعید پیار کرکے بھی اپنا پیار چھپاتا رہتا ہے۔”
    موتیا کے سر کے اوپر سے اس کی باتیں گزری تھیں۔
    ”تو پھر دفع کر سعید کو۔” موتیا نے جیسے کچھ خفا ہوکر کہا، بتول قہقہہ مار کر ہنسی۔
    ”پیار میں دفع کرنا ہی تو مشکل ہوتا ہے۔” وہ اب اپنی قمیص کا گیلا دامن نچوڑ رہی تھی۔
    ”میں کرتی ہوں سعید سے بات اور اسے کہتی ہوں کہ یوں لارے نہ لگائے تجھے۔ آر کر ے یا پار۔ ماں باپ کو نہیں مناسکتا تو۔۔۔”
    بتول نے موتیا کی بات بیچ میں کاٹی۔
    ”تو مجھے چھوڑدے۔ یہ حل مجھے قابلِ قبول نہیں ہے موتیا اور تو یہ باتیں نہیں سمجھ سکتی۔ تو نے پیار نہیں کیا نا اس لئے۔”
    بتول اب اپنی بالٹی اٹھا کر اٹھ کھڑی ہوئی تھی جس میں کپڑے تھے۔

  • کتنی صدیاں بند ہیں —- فائزہ افتخار

    کتنی صدیاں بند ہیں —- فائزہ افتخار

    ”کاشی…او کاشی…!” ابھی اسے کھیلنے میں مزہ ہی آنے لگا تھا کہ کوثر کی آواز سنائی دی۔
    ”کیا ہے امی؟” اس نے وہیں بیٹھے بیٹھے منہ اوپر کر کے جواب دیا۔
    ”تیرے ابے کے آنے کا ٹیم ہوگیا ہے۔چل واپس آ۔” اس نے چھت کی ٹوٹی منڈیر سے جھانک کر تاکید کی۔وہ گھر سے چند قدم آگے کچی گلی کے بیچوں بیچ اپنے ہم عمر دوستوں کے ساتھ بیٹھا کنچے کھیل رہا تھا۔
    ”سنا نہیں! کانوں میں روئی دی ہوئی ہے کیا؟جلدی آ… منہ ہاتھ دھو کے صاف کپڑے پہن لے،ابھی تک اسکولے(سکول) والی وردی میں پھر رہا ہے۔”
    کوثر نے بھی صرف ایک بار آواز دینے پر اکتفا نہ کیا۔ آخر اس کے مسلسل واویلا پہ کاشف جھنجھلا کے اٹھا۔غصے کے اظہار کے طور پر اس نے چپل سے بے نیاز پیروں کو زور سے کیچڑ میں مار کر اور بھی غلیظ کیا۔میلے کف سے بہتی ہوئی ناک کو رگڑ کے صاف کرنے کی اپنی سی کوشش کی اور لکڑی کے رنگ اُڑے کواڑ کو دھکیل کے اپنے گھر کی تاریک متعفن ڈیوڑھی میں داخل ہوا۔ روشنی سے ایک دم اندھیرے میں آجانے سے کتنی ہی دیر وہ آنکھیں چندھی کیے کھڑا رہا۔
    ”وے کاشی…!”اوپر سے کوثر اب تک اسے آوازیں دے رہی تھی۔
    ”آگیا ہوں۔” وہ ایسے چِلّایا جیسے آکر کوئی بہت بڑا احسان کیاہو۔ اب آنکھیں گھر کی نیم تاریکی سے ذرا مانوس ہورہی تھیں۔صرف چار فٹ لمبی اور ڈیڑھ فٹ چوڑی۔اس لال اینٹوں والے فرش کی ڈیوڑھی میں سے گزر کے جانا کسی عام آدمی کے بس کی بات نہیں۔صرف وہی باآسانی گزرسکتے تھے جو اس سے آنے جانے کے عادی ہوں۔ورنہ اور کوئی ہو تو اس کا تو حشر ہی خراب ہوجائے۔اس قدر بدبو سے… دروازے کے بالکل ساتھ جس اونچے سے ڈربے پہ بدرنگ پردہ لٹک رہا تھا،وہ اس گھر کا واحد ”باتھ روم” تھا جہاں باتھ… یعنی غسل کرنے والا صاف تو کیا ہوتا، الٹا ناپاک ہوکر ہی نکلتا۔ذرا سی جگہ میں نلکا،نلکے کے نیچے ٹوٹی ہوئی غلیظ پلاسٹک کی بالٹی اور اس میں تیرتا تانبے کا ٹیڑھا میڑھا ڈبہ… چھت پہ ٹین کی چادر، دیواروں میں جا بہ جا اینٹیں اکھڑی ہوئیں اور ان کو بھرنے کے لیے یا بے پردگی سے بچنے کے لیے پرانے کپڑے گول مول کر کے ٹھونسے گئے تھے جو بدبو چھوڑ رہے تھے۔ ہر طرح کے کیڑے مکوڑے نالی کے راستے یہاں با آسانی پائے جاتے تھے۔ یہاں سے نکلنے والی نالی ڈیوڑھی سے ہوتی ہوئی گلی میں جاتی تھی اور یہی اس جگہ کی بدبو کا راز تھا اور جو رہی سہی کسر تھی وہ یہاں کوڑے کے ڈھیر سے پوری ہوجاتی تھی۔ کوثر گھر گھر صفائی کا کام کرتی تھی، واپسی پہ بچا کھچا کھانالے آتی، گرمیوں کے موسم میں اکثر راستے میں ہی یہ کھانا خراب ہوجاتا جو کھانے کے قابل نکلتا کھالیا جاتا، باقی اسی ڈھیر کی زینت بنتا۔پہلے سے گلے سڑے پھلوں کے مزید گلے ہوئے چھلکے، بوٹیاں، بچی ہوئی ہڈیاں…وغیرہ، وغیرہ…

    اپنے ماں باپ اور بہنوں کی طرح کاشف بھی اس بدبودار ماحول کا عادی تھا، مگر ہمیشہ کی طرح باہر سے آنے پہ آج بھی اسے بدبو کا احساس ہوا جو تھوڑی دیر تک تو رہنا ہی تھا رفتہ رفتہ اس کا احساس کم ہوتا جاتا۔ وہ اپنے کچے صحن میں بچھی بان کی چارپائی پہ آبیٹھا۔ اس صحن میں دو ہی چارپائیوں کی گنجائش تھی۔اس صحن میں رکھی بانس کی سیڑھی اوپر جاتی تھی۔ گھر کے واحد کمرے کے اوپر کی جگہ چھت کا کام دیتی جہاں کوثر فارغ وقت میں پائی جاتی، اس وقت بھی وہ سبزی کی ٹوکری اٹھائے نیچے اتررہی تھی۔
    ”کیا پک رہا ہے۔” اس نے چھلکوں کا ڈھیر دیکھ کر پوچھا۔
    ”ٹینڈے… یہ پھلیاں تو ملکانی جی کی ہیں، چھیلنے کے واسطے لائی تھی۔نی کڑیو! تم بھی ذرا ہاتھ ہلا لیا کرو۔ میں باہر کے بھی سیاپے کروں،گھر کے بھی نمٹاؤں۔ یہ ذرا سی رہ گئی ہیں، دونوں مل کے منٹوں میں بنا لو۔”
    ”فیدہ…؟” سب سے بڑی پندرہ سالہ تنک مزاج اور تیکھے نقش والی مروفاں نے اپنے کوکے والی ناک چڑھا کر کہا۔
    ”ایک کلو پھلیاں بنانے میں بیس پچیس منٹ لگتے ہیں اور ایک کلو کی بنوائی یہ مالکن بس دوروپے دیتی ہے۔ کیا فیدہ! دو گھنٹے لگا کے دس روپے بھی نہ ہاتھ لگیں۔ پتا نہیں تو کیا کیا کام پکڑ لاتی ہے، کبھی گھٹڑ ساگ کا، کبھ بھرے چنے نکالنے واسطے۔کبھی لہسن چھیلنے واسطے تو کبھی پھلیاں۔ اتنا شوق ہے ان لوگوں کو مشکل مشکل سبزیاں کھانے کا تو آپ بنا لیا کریں۔بڑا احسان کرتی ہیں کلو کے پیچھے دو روپے دے کے۔”
    ”تیرے لیے دس روپے کوئی چیز نہیں ہوں گے۔گھر بیٹھی ہے نا اوروہ بھی ماں پیو کے گھر۔ میرے سے پوچھ، دس روپے میں آدھا کلو دودھ آجاتا ہے سارے دن کی چائے کے لیے، دس روپے میں پاؤ بھر دال آجاتی ہے۔ایک وقت پکانے کے لئے اور دس روپے میں…”
    ”ہاں ہاں ،بڑا کچھ آجاتا ہے دس روپے میں۔” مروفاں نے ہاتھ ہلا کر کہا اور صحن میں رکھے چولہے کو جلانے لگی۔
    ”دس روپے میں تین کیلے آجاتے ہیں جو آدھے آدھے کاٹ کے ہمارا سارا ٹبر کھاتا ہے۔دس روپے میں ابا کے سگریٹ کی آدھی ڈبی آجاتی ہے جو اس نے سارے دن میں لازمی پھونکنی ہوتی ہے۔ٹھیک ہے بھئی اماں! کما دس روپے۔” وہ زور زور سے سلور کی پرات میں حساب سے نکالا آٹا گوندھنے لگی۔ٹینڈے کا شوربے والا سالن وہ پہلے ہی چڑھا چکی تھی۔بہن کے دل جلے تبصروں پہ ہمیشہ کی طرح کاشف دانت نکال رہا تھا۔
    ”وے بیڑہ غرق… کیسا مٹّی میں رُل کے آرہا ہے۔دفع ہو’ جا کے منہ ہاتھ دھو۔ پیو آنے والا ہے۔” کوثر کا دھیان پھر اس کی جانب گیا۔
    ”ہاں ہاں، ہاتھ منہ دھو۔ ابا آنے والا ہے۔ اس نے آتے ہی تیرا منہ چومنا چاٹنا ہے۔”
    مروفاں نے پھر سے زہر اگلا۔ کاشف کے لب عادتاً پھیلے مگر ساتھ ہی سکڑ بھی گئے۔اس کا چہرہ اترسا گیا اور وہ ڈھیلے قدموں کے ساتھ منہ دھونے چل پڑا۔ اور یہ سچ بھی تھا کہ بالے نے تین بیٹیوں کے بعد منّتوں مرادوں سے پیدا ہونے والے اکلوتے بیٹے کو کبھی بانہوں میں بھر کر پیار نہ کیا تھا کبھی اس کا ماتھا چوم کے لاڈ نہ کیا تھا۔ جب وہ بہت چھوٹا ہوگا تب شاید کبھی گود میں اٹھا کے پھرا ہو۔ کاشف کو تو ایسا کوئی واقعہ یاد نہ تھا۔ ایسا نہ تھا کہ وہ بیٹے کی جانب سے لاپروا تھا یا کبھی اس کی جانب نظر نہ اٹھا کے دیکھتا تھا۔دیکھتا تھا، گھر آتے ہی دیکھتا تھا مگر کھاجانے والی نظروں سے۔
    پوچھتا تھا مگر مارنے کے بہانے کسی کام کی خاطر۔
    اسی لیے اس کے آنے سے پہلے کوثر اسے نہلا دھلا، صاف کپڑے پہنا کر، گڈا سا بنا کے چارپائی پہ کتابیں دے کر بٹھا دیتی مگر اقبال دین عرف بالے کو کوئی نہ کوئی بہنا مل جاتا اس کی کھنچائی کرنے کا۔
    لال صابن سے رگڑ کے منہ دھونے کے بعد وہ تختی لے کر لکھنے بیٹھ گیا۔
    ”مانو نے آج فیر تیری گاچی کھائی تھی۔” اس کی تختی دیکھ کے منجھلی والی رانی کو سب سے چھوٹی کی حرکت یاد آئی تو اس نے شکایت لگانے کا موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا۔مانو کو مٹی کھانے کی عادت تھی۔کبھی کبھی وہ کاشف کی تختی پہ پھیرنے والی ”گاچی” بھی ہضم کرجاتی۔
    ”ماں… مانو نے میری گاچی کھائی ہے۔ ابھی پرسوں ہی ڈھیلا لیا تھا۔” وہ چلّایا اور کوثر نے نزدیک رکھی جھاڑو اٹھائی اور دھڑا دھڑ مانو پہ برسانی شروع کردی۔اس نے سن رکھا تھا کہ جسے جھاڑو سے مار پڑے وہ تنکے کی طرح سوکھنا شروع ہوجاتا ہے،اس لیے ہر بار ہی مانو کی پٹائی کرنے کے لیے وہ بڑے اہتمام سے جھاڑو اٹھاتی تھی تاکہ اسی بہانے مٹی، ریت اور گارا کھا کھا کے پلنے والی موٹی کپّا اس کی گیارہ سالہ تیسرے نمبر کی لڑکی کچھ دبلی ہی ہوجائے مگر جس طرح مٹی اور گاچی اسے وٹامن اور کیلشیم کی طرح لگتے تھے،اسی طرح جھاڑو بھی شاید کسی ٹانک کا کام دیتا تھا۔ وہ اور بھی پھولتی جارہی تھی۔البتہ تیرہ سالہ کالی کلوٹی بھینگی آنکھوں والی رانی کے چہرے پہ اطمینان بھری مسکراہٹ کھیلنے لگتی تھی۔اپنی شکایت کے اس بھرپور اور تسلی بخش رد عمل پہ۔
    ”اماں! بتّی جلا دے، اندھیرا ہوگیا ہے۔” کاشف نے اس مار کٹائی کے عمل میں دخل دیا۔گرمیوں میں سات بجے تک اس گھر میں بتی نہیں جلتی تھی۔حالانکہ وہ کمرہ جو اچھی بھلی کوٹھری تھا، وہاں دن کو بھی بغیر بتی جلائے کچھ نظر نہ آتا تھا، اسی لیے یہ واحد کوٹھری کم ہی استعمال میں آتی۔سارا دن اس مختصر سے صحن میں گزرجاتا، جہاں قدرتی روشنی سے تب تک کام چلانے کی کوشش کی جاتی، جب تک رات کے اندھیرے گہرے نہ ہوجائے۔
    ”ابھی مغرب نہیں ہوئی، تیرا پیو آگیا تو میری ماں بہن ایک کردے گا کہ بجلی ضائع کررہی ہوں۔”
    ”تُو ادھر آکے تختی لکھ لے کاشی! ادھر چولہے کے بالن کی بڑی روشنی ہے۔” مروفاں نے اسے اپنے نزدیک بلایا۔
    ”ناں… میں نئیں آتا، ہانڈی پکنے کی بو بڑی زہر لگتی ہے مجھے۔” اس نے ناک پہ ہاتھ رکھا۔
    ”لے… تُو تو دوجے جی سے ہونے والی زنانیوں کی طرح نخرے دکھا رہا ہے۔”
    کوثر نے ٹھٹھا مار کے ایک بے جھجھک مذاق کیا، جس میں اس کے قہقہے کا ساتھ اس کی کم عمر کنواری بیٹیاں بڑی بے باکی سے دے رہی تھیں۔
    منہ پھلا کے بیٹھے کاشف کی نظر یونہی دروازے کی جانب چلی گئی۔ لکڑی کے کواڑ میں بے شمار درزیں اور سوراخ تھے۔جن سے باہر کی روشنی اور دھوپ چھن چھن کے راستہ بناتی باریک لکیروں کی صورت نیم تاریک ڈیوڑھی میں نظر آتی رہتی تھی۔مغرب کا وقت بس ہوا ہی چاہتا تھا، لیکن روشنی کی یہ لکیریں اب تک واضح تھیں۔جیسے ہی کاشف کی نظر دروازے پہ گئی، اچانک اسی وقت یہ لکیریں غائب ہوگئیں۔ جیسے کسی نے ان سوراخوں کا منہ بند کردیا ہو، ساری درزیں بھردی ہوں۔
    ”ابا…!” اس نے پھنکارتی ہوئی سرگوشی کی۔کوثر کے قہقہے، مروفاں کی کھی کھی، رانی کی شوخی اور مانو کی ریں ریں… سب کچھ تھم گیا۔ جیسے کسی نے جادوکی چھڑی گھما کے اس ڈیڑھ مرلے کے نیم کچے مکان کو سوئے ہوئے محل میں تبدیل کردیا ہو۔ اگلے ہی لمحے بالے کے کھنکھارنے کی آواز نے گویا پھر کسی منتر کا کام دیا، سب بُتوں میں جان پڑگئی۔کوثر نے سبزی کی ٹوکری اس چارپائی کے نیچے سرکائی جہاں کاشف اب ہل ہل کر زیرِ لب اپنا سبق دوہرا رہا تھا۔خود وہ اٹھ کے کنڈے کھولنے چلی گئی۔ مروفاں نے پیڑھی پہ پڑا دوپٹہ اٹھا کے سر پہ رکھا اور انگلیوں میں پہنے رنگ برنگے چھلے سرعت سے اتار کے چولہے کے پیچھے چھپائے اور بڑے انہماک کے ساتھ سلور کی پچکی ہوئی دیگچی میں ڈوئی ہلانے لگی۔ مانو اپنا آنسوؤں سے تر اور مٹّی سے لتھڑا چہرہ لے کر اندر چُھپ چکی تھی اور رانی ستّو کا شربت بنانے کے لیے شکر گھولنے لگی تھی۔
    ”یہ ہنسی ٹھٹھول کس خوشی میں ہورہا تھا؟” اس نے آتے ہی اپنی کھوجی آنکھیں ایک ایک کے چہرے پہ گاڑتے ہوئے تفتیش شروع کردی۔

  • عام سی عورت — مریم جہانگیر

    عام سی عورت — مریم جہانگیر

    شام کا پرندہ روشنی کو قطرہ قطرہ اپنے اندر جذب کر کے دن بھر کی تھکن اتارنا چاہتاتھا۔ اُسے خوابوں کی سر زمین پہ قدم رکھنے کی جلدی تھی۔فلک پہ ہلکی ہلکی سی شفق اپنی بے بسی کا نوحہ پیش کر رہی تھی۔
    مجھے بھی زندگی سے کوئی امید نہ رہی تھی بالکل بھی نہیں۔۔۔۔ بڑی عام سی لڑکی تھی، میں نے کبھی خواب نہیں پالے۔ نہ کسی کے ملن کی دعائیں مانگیں نہ کسی کے ہجر میں آہیں بھریں۔ مجھ جیسی سینکڑوں لڑکیاں عام سی زندگی جیتی ہیں اور کبھی جیتے جیتے زندگی ہار جاتی ہیں۔ انہیں ڈپریشن جیسے امیرانہ مرض سے کبھی واسطہ نہیں پڑتا۔کبھی وہ راتوں کو چھت پہ بیٹھ کر اپنی کم مائیگی کا رونا نہیں روتیں۔ وہ زندگی کو عام سا سمجھتیں ہیں اور زندگی انہیں عام سا جان کر گزر جاتی ہے۔ جب ان کی موت کا سندیسہ آتا ہے تو اَن گنت بے چین رشتے بال کھول کر بین کرنے لگتے ہیں۔ بہت سے تعلقات اور دوستیاں تکیوں کو گیلا کر دیتی ہیں۔
    زندگی میں پتا نہیں کہ عورت کا ہونا معنی بھی رکھتا ہے یا نہیں لیکن موت بتاتی ہے کہ نجانے کتنی زند گیا ں، کتنے وجود یہ عورتیں اپنے سر پہ لئے پھر تی ہیں ۔ایک ان کے نہ ہونے سے نظامِ زندگی شکایت کرتا ہے اور باقاعدگی ماتم کرنے لگ جاتی ہے۔ مجھے ایسا ہی بننے کا شوق تھا ایک عام سی لڑکی۔۔ ایک عام سی عورت۔۔۔۔ میں نے کسی بجتی سیٹی کو سن کر نہیں سوچا کہ یہ میرے لہراتے آنچل کا نتیجہ ہے۔میں نے کبھی کسی قطار میں لگ کر بے چینی کا مظاہرہ نہیں کیا کہ کسی بھی غلط درست راستے کو اپنا کر پہلے اپنا کام نکلوا لوں۔ مجھ میں قدرتی طور پہ بہت سرد مزاجی تھی، بہت چین بہت سکون۔۔۔۔۔۔ نہ نمازوں میںلمبے لمبے سجدے کرتی اور نہ ہی منڈیر پہ بولتے کوئے کی کائیں کائیں سے کسی کے آنے کو منسوب کرتی۔۔۔ لیکن ایک لڑکی ہوں ناں ؟ کب تک اکیلی رہتی میری زندگی میں کسی کو آنا ہی تھا اور وہ آیا۔۔۔ اس کا نام فواد مرزا تھا اور میرا نام سمیعہ ناز۔۔۔۔۔ میں نے اس کو دیکھا نہ جاننے کی خواہش ظاہر کی ۔سچ تو یہ ہے کہ میرے اندر اُسے دیکھنے کی خواہش بھی نہ پیدا ہوئی تھی۔
    مجھے تلاطم سے خوف آتا ہے، مجھے ہیجان انگیز رویے پریشان کرتے ہیں۔ میں شدتوں سے بھاگنے والی بڑی عام سی ڈگر کو چننے والی اور اس پہ نپے تلے سے قدم رکھنے والی لڑکی ہوں۔ میرے اندر کبھی ایسا طوفان اٹھا ہی نہیں کہ مجھے اپنی طاقت کا اندازہ ہوتا۔فواد میری زندگی میں آئے تو کچھ دنوں کے لئے مجھے لگا کہ میری ذات اور ساری راز کی باتیں بودی ثابت ہوں گی جس طرح وہ میرے ہر رمز پہ ہاتھ رکھ کر مجھ سے انوکھے رویوں اور طریقوں کی فرمائش کرتے ہیں۔ ضرور میرے اندر کوئی جوار بھاٹا اٹھا ہی دیں گے لیکن یہ سارا خیال، یہ سب قیاس وقتی ثابت ہوا۔وہ مجھے روح پرور لگتے، میرے جنم جنم کے ساتھی ۔۔۔۔ میرے اندھیروں کے دوست ۔۔۔میرے لئے روشنی کا منبع ۔۔۔اس سب کے باوجود میں ان کے لئے دیوانی نہیں ہوئی۔ بہ ظاہر سب کچھ وار دیتی لیکن کہیں اندر ہی اندر یہ احساس کروٹیں لیتا کہ یہ جو ظاہر کر رہی ہوں یہ کچھ بھی نہیں اس سے کہیں زیادہ جولانی میرے اندر ہے۔ لیکن میں بس اتنا ہی اپنا آپ ظاہر کرتی جتنی مجھے ضرورت ہوتی، جتنا اشد ضروری ہوتا اس سے آگے لفظ ہونٹوں کا ساتھ چھوڑ دیتے اور آنکھیں مفہوم سمجھنے سے انکاری ہو جاتی۔پھر یوں ہوا کہ مجھے امید مل گئی۔

    میرے دل کو پر لگ گئے اور وہ ہر وقت سات آسمانوں کے چکر کاٹتا۔ میں اتنی خوش تھی کہ ہر کوئی حیرت سے مجھے دیکھتا۔ فواد بھی کہتے کہ تمہیں دلہناپے میں اتنا روپ نہیں آیا تھا جتنا حسن تمہیں ماں بننے کی خوشی نے بنا دیا ہے۔میں خود تسلیم کرتی کہ میرے قدم تو زمین پر لگتے ہی نہ تھے، میں اڑی اڑی پھرتی، ہوا کی دوش پہ خود کو آزاد چھوڑ دیتی۔ مجھے لگتا ہر لمحہ مجھے جھومنے پر مجبور کر رہا ہے اور میں روئے ارض پہ سب سے خوش نصیب عورت ہو جس نے اعتدال میں رہ کر اللہ کی نعمتوں کو خود پہ مہربان کر لیا ہے۔
    جھولتی مہکتی رہی اور مجھے پتا ہی نہیں چلا کب میرا پاؤں سیڑھی سے پھسلا اور کب میرے پیروں تلے سے زمین کھسکنے لگی۔ میری مدہوشی ہوش میں بدلی تو اپنا آپ اتنا گناہ گار محسوس ہوا کہ آئینہ دیکھنے سے بھی شرمندگی محسوس ہوتی۔رائی کے دانے برابر تکبر بھی جہنم میں لے جائے گا۔ کہیں یہ اعتدال میں رہنے کا غرور مجھے اس جہان میں تہی دامن نہ کر دے۔میرا دل شکنجے میں آگیا۔ میں جب ہسپتال میں داخل ہوئی تو ڈاکٹر نے زندگی کی نوید سنائی۔۔۔۔
    میری جان کا حصہ، میری جان مجھ میں زندہ تھا۔ باقی تھا میں پھر سے جی اٹھی۔مجھ پہ یہ عقدہ کھلا کہ توبہ سے کہیں پہلے احساسِ ندامت کی کیفیت بھی رب کی رحمتوں کی نشانی میں سے ایک ہے۔
    مجھے احتیاط کی ضرورت تھی۔ فواد نے مجھ پہ زندگی اور موت کو آتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔ ان کی سرکاری اعلیٰ عہدے کی نوکری کی مہربانی سے مجھے سرکاری ہسپتال میں تمام آسائشات کے ساتھ داخل کر لیا گیا کہ جب تک میں زندگی کو موت کے منہ سے کھینچ نہیں لاتی یہیں میری دیکھ بھال ہوگی۔
    میں خوش ہوگئی کہ گھر میں کوئی اور تھا نہیں جو مجھے صحیح غلط یا احتیاط اور پرہیز سمجھاتا۔ مجھے ہسپتال کا ہر کارندہ نجاتِ دہندہ لگتا، ہر ذی روح پہ مسیحا کا گمان ہوتا۔سب اچھے لوگوں سے واسطہ پڑا۔بڑے دروازے پہ کھڑا وہ بوڑھا سا بابا، جب فواد پھول لے کر آتے تو مسکرا کر انہیں دیکھتا پھر نظر اوپر کی کھڑکی پہ ڈالتا اور ایک پیاری سی مسکراہٹ سے مجھے بھی نوازتا۔
    شاید وہ بھی کبھی ۔۔۔۔کسی کو ایسے ہی گلاب دیتا رہا ہوگا، جس کی یاد اسے مسکرانے پہ مجبور کردیتی۔ کوڑے دان کو خالی کرنے کے لئے آتی بزرگ خاتون جو بہت پیار سے مجھے دلاسہ دیتی، اپنے ہونے کا احساس دلاتی جواباً میں بھی اس کی مٹھی گرم کردیتی۔ مجھے بھی تو اپنے ہونے کا احساس دلانا تھا۔
    نرس آتی، انجکشن لگاتی، میرا معائنہ کرتی، میری آنکھوں میں سو ڈر اور ہزار وسوسے جاگ جاتے۔ میرے لرزاں لب اپنی پریشان حالی کا رونا رونے کو مچلنے لگتے۔وہ سفید کوٹ والی، زندگی آسان کرنے والی میرے دائیں ہاتھ کو اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر سہلاتی اور تھپکتی کیوںکہ بائیں ہاتھ میں لگا کینولا اسے اس شفقت کی اجازت نہ دیتا۔ایک کرخت آواز والی مائی بھی کمرے اور راہ داری کی صفائی کرتی اور بڑبڑاتی رہتی ”غلاظتیں پھیلانے والے غلاظتیں سمیٹنے والوں کو جوتی کی نوک پہ کیوں رکھتے ہیں؟ اتنے ہی ستھرے ہیں تو اپنا گند خود کیوں نہیں اٹھاتے۔ اُجلے لباس پہن کر اپنے اندر کی کالک چھپانے والے ہماری محنت کو نظر بھر کر نہیں دیکھتے۔” سب اس کی باتیں خاموشی سے سنتے وہ بولنے والوں کو موقع دینے والوں میں سے نہیں تھی۔ نرم خو قدرے پکی عمر کی ڈاکٹر بھی میرے کمرے میں آتی۔انتہائی پیشہ ورانہ مسکراہٹ نچھاور کرتی فٹا فٹ روزمرہ کا معائنہ کرتی آدھا جملہ اردو میں بولتی اور بقایا آدھے میں اپنی انگریزی کے ٹوٹے جوڑتی جیسے رلّی (سندھی چادر) بناتے ہیں جس میں ہزار ٹکڑے جڑتے ہیں لیکن پھر بھی نظر کو برے نہیں لگتے۔
    ایسے ہی اس کی آواز بھی کانوں کو مانوس سی لگتی۔شائستہ سی، نپی تلی،ٹھہری ٹھہری۔۔۔۔۔ پھر وہ ہوا کی دوش سے قدم ملاتی اگلے کمرے کی جانب بڑھ جاتی جہاں بسترِ مرض پہ پڑی کوئی عورت شدت سے منتظر ہوتی۔
    دن قریب آگئے مجھے متلی کی شکایت رہنے لگی حالاںکہ شروع میں کبھی نہیں ہوئی تھی۔ ہر عورت کا ماں بننے کا تجربہ دوسری عورت سے مختلف ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ کچھ نہ کچھ ایسا ضرور ہوتا ہے جو اسے یقین دلاتا ہے کہ وہ دنیا سے نرالا کام کرنے جا رہی ہے۔
    اس انتظار میں کتنا لطف ہے؟ مجھے ہر لمحہ محسوس ہوتا کہ اب بس میرا لمس، میرے ہی لمس سے آشنا ہوجائے گا۔ فواد آتے تو مجھے کمرے سے باہر راہ داری میں ہاتھ پکڑ کر واک کرواتے۔ گردوپیش کی عورتیں حسرت سے دیکھتیں اور میں ناز سے بوجھ ان کے مضبوط ہاتھوں پہ ڈال دیتی ۔ وہ فخر سے مجھے سنبھال رہے ہوتے۔ ایک دن جونہی کمرے سے باہر نکلے، صفائی والی مائی ہاتھ روک کر میرے چہرے کی طرف دیکھنے لگی: ”نی کڑئیے تجھے آرام نہیں؟ اتھوں میں صفائی کیتی نال ہی تیرا دل کھٹا ہوگیا۔ ہون گندے پیر ایتھے اُوتھے مارے گی تے میرا کام ودائے گی۔”اس کی آواز میں عجب کرختگی تھی اس نے اپنی بات مجھ تک پہنچانے کے لئے گلابی پنجابی کا سہارا لیا۔
    یہی بات وہ پیار سے کہتی تو میں کچھ دیر بعد چہل قدمی کر لیتی۔چوںکہ اس نے بات غلط طریقے سے کی تھی اس لئے ردِ عمل بھی مجھ پہ واجب تھا۔ فواد کسی دوسری عورت کی طرف کم ہی متوجہ ہوتے چاہے وہ کیسی بھی ہو۔ان کے رویے سے متعلق شکایت ان کے ساتھ کام کرنے والی لڑکیاں بھی ذومعنی انداز میں مجھ سے کرتیں۔ لیکن میں کان نہ دھرتی۔ کوئی دوسرے معنی نہ ڈھونڈتی بس ہنس کر ٹال دیتی۔مجھے واک کرانے اور باقی سارے کام کرنے کے بعد رات میں فواد کو گھر جانا تھا اور مجھے وہ لذت آمیز خواب دیکھنا تھا۔
    میں نے خواب دیکھا کہ میں جھیل کے کنارے بیٹھی ہوں، جس کے ہلکورے لیتے پانی کی ٹھنڈک دور سے ہی محسوس ہو رہی ہے۔ اس کے صاف پانی پر ہتھیلی برابر بڑے بڑے سرخ گلاب تیررہے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ میری نظر میری ہی گود پہ واپس آتی ہے تو ایک انتہائی پیارا بچہ میری گود میں ہے جس کی پیشانی کے بائیں جانب میری انگلی کے پپوٹے کے برابر سیاہ رنگ کا داغ ہے۔ میرا دل مامتا کے جذبات سے لبریز ہو کر اس کی پیشانی پہ بوسہ دینے کی خواہش کرتا ہے۔ میں جب اسے چومتی ہوں تو اس کے وجود سے مجھے میری اپنی خوشبو آتی ہے۔میں اُسے خود میں بھینچ لیتی ہوں مجھے احساس ہوتا ہے کہ یہ میرا ہی بیٹا ہے۔ اتنے میں فواد آتے ہیں اور مجھے شال اوڑھاتے ہیں۔ اسی اثنا میں میری آنکھ کھل گئی۔ دیکھا تو صبح کا وقت تھا اور فواد واقعی مجھے کمبل اوڑھا رہے تھے میں مسکرائی۔ انہیں خواب میں شریک کیا وہ بھی مسکرانے لگے۔ نماز پڑھی مجھے ناشتہ دے کر وہ دفتر کے لئے نکل گئے۔ دس بجے نرس آئی اور مجھے تھپک کر ایک انجکشن لگا کر چلی گئی۔
    کوئی گیارہ بجے کا وقت تھا درد کی ایک شدید لہر اٹھی۔۔۔ ہائے میں مر گئی۔۔۔اللہ جی۔۔۔۔ مجھے واقعی اللہ یاد آگیا تھا۔آہ! اُف۔۔۔۔ میرا پورا جسم پسینے میں نہا گیا۔ بہ مشکل کال بیل پہ ہاتھ رکھا اور دہری ہوگئی۔۔۔۔ اللہ۔۔۔۔۔ وہ اللہ کتنا عظیم خالق ہے، اتنی مخلوق کی تخلیق کرتا ہے اور صرف کن کہتا ہے بس وہ ہو جاتی ہے۔۔۔ ہم عورتیں صرف اپنی اولاد کوجنم دیتی اور اتنا درد سہتی ہیں۔مجھے کوئی بھی تکلیف ہوتی تو میں سوچتی تھی کہ اس سے زیادہ درد بھی تو ہوسکتا ہے لیکن آج درد کی جو ٹیسیں اٹھ رہیں تھیں اس سے زیادہ تو اُٹھ ہی نہیں سکتیں۔ مجھے لگا میری ساری ہڈیاں ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہوگئی ہیں۔پھرمیں نے ایک آخری سانس بھری۔ یہ دراصل سانس نہیں تھی بلکہ ایسی چٹکی تھی جو انسان جاگتے ہوئے یقین دہانی کے لئے لیتا ہے کہ آیا میں خواب تو نہیں دیکھ رہا؟
    اس آخری سانس کے ساتھ ہی کمرے میں نومولود کے رونے کی آواز گونجی میرا بچہ۔۔۔میرا بیٹا ۔۔۔میں نے پسینے سے تر بتر چہرہ اٹھا کر ایک نظر بچے پہ ڈالی اور بے سدھ ہو گئی۔ ہوش میں آنے سے پہلے مجھے امید تھی کہ جب میں آنکھیں کھولوں گی تو فواد مجھ پرجھکے ہوں گے اور میرا بیٹا میرے پہلو میں لیٹا ہو گا۔ لاشعور سے شعور میں قدم رکھتے ہوئے میں نے اطمینان سے آنکھیں کھولی اور جو امید میں نے زندگی سے لگائی تھی وہ پہلی بار ہی ٹوٹ گئی۔ فواد سامنے دیوار سے لگے کھڑے تھے ان کے چہرے پہ ازحد پریشانی رقم تھی۔ میں چونکی۔۔۔ اگر بیٹی ہوتی تب بھی فواد ایسا چہرہ بنانے والوں میں سے نہیں یہ توپھر بیٹے کی پیدائش کا موقع ہے۔ پھر ان کی حالت ایسی کیوں ؟ ابھی میں ان کا چہرہ پڑھنے کی کوشش کر رہی تھی کہ میری ڈاکٹر آگے بڑھی ”آپ کا بچہ اب اس دنیا میں نہیں ہے” فواد اسے روکنا چاہتے تھے لیکن اس کے بتانے پر وہیں فرش پر بیٹھ گئے اور رونے لگے۔ میری آنکھوں کے سامنے ایک دفعہ پھر اندھیرا چھا گیا ۔میں ہوش میں آئی تو چلا رہی تھی اور فواد مجھے سنبھالتے سنبھالتے بے حال ہورہے تھے ”میرا بیٹا نہیں مرسکتا۔ میں نے خواب دیکھا ہے میرے خواب سچے ہوتے ہیں میرا بیٹا نہیں مر سکتا میرا بیٹا زندہ ہے۔ اسے بھوک لگی ہے اسے میرے پاس لاؤ۔ میں کہہ رہی ہوں میرا بیٹا زندہ ہے۔”میں چیخ رہی تھی میرا حلق خشک ہو گیا تھا فواد میرے سر پہ ہاتھ رکھے مجھے سینے سے لگائے سن سے کھڑے تھے۔میرے اندر کی سیدھی سادی عورت مر گئی تھی اور ایسی وحشی عورت جاگ گئی تھی جو ایک پل میں سارا جہان خاکستر کر سکتی تھی۔”میرا بیٹا زندہ ہے مجھے دکھاؤ کہاں ہے میرا بیٹا؟” فواد نے میرے اصرار پہ نرس کو اشارہ کیا۔۔۔ وہ کمبل میں لپٹا چھوٹا سا وجود لے آئی میرے قریب آئی تو میں نے بائیں ہاتھ سے فواد کا بازو سختی سے تھاما اور دائیں ہاتھ سے بچے کے منہ سے کمبل ہٹایا۔”شکر الحمدللہ یہ میرا بیٹا نہیں ہے” میں نے اطمینان سے کہا۔سامنے کھڑی نرس کے چہرے کا رنگ فق ہو گیا۔فواد نے میری طرف ایسے دیکھا جیسے انہیں میری ذہنی حالت پہ شبہ ہو لیکن میں مطمئن تھی بالکل مطمئن۔ کسی میدانی علاقے کی ہوا کی طرح۔۔۔۔۔
    ”میرا بیٹا زندہ ہے۔” میں پھر بولی۔فواد نے میرا سر تھپکتے ہوئے مجھے دلاسہ دینے کی کوشش کی۔ بستر سے اُتر کر میں سیدھی سادی نہیں رہی تھی بالکل بھی نہیں۔ کسی عام سی عورت کی طرح میں اپنا بیٹا اتنی آسانی سے ہاتھ سے جانے نہیں دے سکتی تھی۔ فواد ہکا بکا کھڑے میری شکل دیکھ رہے تھے۔ڈاکٹر کے کمرے میں جا کر اس کا گلا دبوچ لیا ”بول کہاں ہے میرا بیٹا؟ بتا کہاں ہے میرا بیٹا ؟ میں نے اپنے بیٹے کو دیکھا تھا اس کی پیشانی کے بائیں جانب سیاہ نشان تھا اس بچے کا نہیں ہے یہ میرا بیٹا نہیں ہے۔بتا۔میرا بیٹا کدھر گیا؟ ”میرے ہاتھ کا گھیرا اس کی گردن کے گرد تنگ ہورہا تھا۔ میں چلانے لگی۔ فواد مجھے اس سے الگ کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور میری بات سُن کر پریشان تھے۔ میں نے انہیں بھی اپنا خواب سُنایا تھا۔ اتنے میں نرس آگے آئی، وہ تو میری ساتھی تھی مجھے تھپکتی تھی، مجھے لگا میرا ساتھ دے گی۔لیکن اس نے کمال جھٹکے سے مجھے ڈاکٹر سے الگ کیا اور بستر پر دھکا دیا۔ڈاکٹر اپنی گردن مسلتی باہر چلی گئی۔ ”ماں۔۔۔۔۔” میں رو رہی تھی، واقعی ماں بننے کے بعد سب سے زیادہ یاد ماں کی ہی آتی ہے۔فواد نے مجھ سے تسلی سے ساری بات پوچھی اور غضب ناک ہو کر تین چار جگہ فون کئے۔ ہسپتال میں صحیح معنوں میں افراتفری مچ گئی۔انہوں نے ہمیں عام سا سمجھ لیا تھا! میرا بیٹا چھیننے چلے تھے!!
    میں اور فواد کمرے سے باہر نکلے اور ہسپتال کا ہر کمرہ چھان مارا۔ لیبر روم سے لے کر واش روم تک اور کینٹین سے لے کر دل کے مریضوں کی وارڈ تک۔ میں زخمی شیرنی کی طرح دھاڑتی پھر رہی تھی۔ ہر کمبل کے پاس جا کر بڑی امید سے کمبل ہٹاتی اور پھر رونے لگ جاتی لیکن اگلے کمرے تک جاتے جاتے تازہ دم ہوجاتی۔ پورے ہسپتال میں میرے متعلق چہ مہ گوئیاں ہورہی تھی۔اولاد انسان سے وہ کچھ کرواتی ہے جس کا وہ کبھی تصور بھی نہیں کرسکتا۔ کسی نے مجھے نہیں روکا۔میرا بیٹا کہیں نہیں تھا، کسی بھی جگہ پر موجود نہیں تھا۔ہم واپس کمرے میں آگئے اب پولیس کا انتظار تھا جسے اپنے وقت پر ہی آنا تھا۔دروازہ دھڑاک سے کھلا میں نے دیکھا تو صفائی والی مائی تھی ”،نی کڑئیے۔۔۔ ” آج اگر یہ مجھے کچھ کہتی تو میں اسے چیر پھاڑ کر کھا جاتی۔ وہ میرے پاس آئی اور بند مٹھی پھیلا دی اس میں ایک چُرمرایا ہوا کاغذ تھا۔ ہاتھوں سے وہ کاغذ کانپتے کھولا تو ایک گاڑی کا نمبر لکھا تھا۔ آئی ۔ایس۔بی۔ سات ہزار پانچ سو اسی۔۔۔

    ٭٭٭٭