Tag: Remove term: ahad raza mir

  • اب میرا انتظار کر — عمیرہ احمد

    17جنوری
    لاہور
    ڈیئر مریم!
    السلام علیکم!
    تمہاری شادی کے بعد انگلینڈ سے بھیجا ہوا تمہارا پہلا خط مجھے آج ہی ملا ہے۔ فاصلے دلوں کے رابطوں کو اور مضبوط کر دیتے ہیں۔ یہ تم نے ہی کہا تھا ناں (کاش ایسا نہ ہوتا) سات سال کی طویل دوستی کے بعد اب تم اتنی دور جا بیٹھی ہو کہ مجھے اپنے اردگرد کے لوگوں میں تمہارے جیسا چہرہ تلاش کرنے میں بہت دیر لگے گی۔ (شاید مجھے کبھی بھی تمہارے جیسا کوئی دوسرا نہ ملے)
    پتا نہیں مجھے یہ احساس کیوں ہونے لگا ہے کہ میں آہستہ آہستہ سب کچھ کھو دوں گی۔ کچھ پہلے کھو دیا۔ کچھ اب کھو رہی ہوں جو باقی بچا ہے وہ بھی کب تک رہے گا۔ پھر خالی ہاتھ اور خالی دل کے ساتھ میں کہاں جاؤں گی۔ اب تو رونے کے لیے تمہارا کندھا بھی نہیں ہے۔ نہیں پریشان مت ہونا۔ میں رو نہیں رہی ہوں۔ کوشش کر رہی ہوں۔ تمہاری ہدایات پر عمل کرنے کی اور تم سے کیے ہوئے وعدے نبھانے کی۔
    تم نے خط میں پوچھا تھا۔ میں کیسی ہوں۔ کیوں مریم تم نے ایسا کیوں لکھا؟ پہلے تو کبھی تم نے اپنے کسی خط میں مجھ سے میرا حال نہیں پوچھا پھر اب کیوں ؟ کیا تمہیں لگ رہا ہے کہ … میں ٹھیک ہوں میں اچھی ہوں بہت ہی خوش ہوں’ اتنی ہی خوش ہوں جتنا آج کے دور میں میری جیسی لڑکی ہو سکتی ہے۔
    اپنے خط میں یہ مت پوچھنا کہ میرے جیسی سے تمہاری کیا مراد ہے۔ میری باتیں تمہیں ابنارمل لگ رہی ہیں’ میں واقعی آج کل ابنارمل ہو رہی ہوں۔ تم نے کبھی دلدل میں پھنسے ہوئے شخص کو دیکھا ہے؟ کیسے ہاتھ پاؤں مارتا ہے وہ۔ کوئی رشتہ’ کوئی اثاثہ’ کوئی دولت بچانے کے لئے نہیں بس ایک جان بچانے کے لیے۔ میں بھی پچھلے کئی سالوں سے ایک دلدل میں پھنسی ہوئی ہوں’ بس فرق یہ ہے کہ میں’ میں ہاتھ پاؤں نہیں مار رہی ہوں۔ جان بچا کر آخر کرنا ہی کیا ہے۔ میرا خط پڑھتے ہوئے رونا مت شروع کر دینا۔ میں تمہیں پریشان کرنے کے لیے یہ سب کچھ نہیں لکھ رہی ہوں۔ تمہیں پتا ہے مجھے اکثر ڈپریشن کے دورے پڑتے ہیں۔ آج بھی ایسا ہی ہے۔ دل چاہ رہا ہے کہیں بھاگ جاؤں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر کسی پہاڑ پر جا بیٹھوں خاموشی میں سناٹے میں اور پھر روؤں زور زور سے دھاڑیں مار مار کر۔ اور میری ہر سسکی’ ہر آہ’ ہر چیخ پہاڑوں میں گونج بن کر پھرتی رہے۔ (کیا اشفاق احمد اور بانو قدسیہ اس سے زیادہ فلاسفی لکھ سکتے ہیں)
    یہ جان کر سکون مل رہا ہے کہ تم ناصر کے ساتھ بہت خوش ہو۔ لیکن مریم! تم ناصر کے ساتھ ہی نہیں کسی بھی شخص کے ساتھ خوش رہ سکتی تھیں۔ تمہیں خدا نے میرے جیسے روگ نہیں دئیے۔ تم نے لکھا ہے ناصر بہت اچھا ہے۔ تمہارا بہت خیال رکھتا ہے۔تم سے بہت محبت کرتا ہے۔ میری دعا ہے۔ تم ہمیشہ اپنے ہر خط میں یہی تین جملے لکھتی رہو۔ ان میں کبھی تبدیلی نہ آئے۔ ہاؤس جاب چھوڑ کر تم نے اپنے والدین کی خوشی کے لیے اپنا کیریئر قربان کر دیا ہے۔ تمہیں اتنا اجر تو ملنا ہی چاہیے کہ جس شخص کے ساتھ تمہاری شادی ہوتی’ وہ تم سے محبت کرتا۔
    تم نے میری روٹین اور مصروفیات کے بارے میں پوچھا ہے۔ تمہیں کیا لگتا ہے کیا تمہارے بغیر صرف ایک ماہ میں سب کچھ بدل گیا ہے۔ نہیں مریم! سب کچھ ویسا ہی ہے۔ بس خاموشی کچھ زیادہ بڑھ گئی ہے’ پہلے میرے اندر ہی تھی۔ اب آہستہ آہستہ میرے اردگرد بھی پھیلنے لگی ہے۔ ہاسپٹل سے آنے کے بعد کافی کامگ لے کر اب میں اکیلی اپنے کمرے کی کھڑکی میں کھڑی ہوتی ہوں۔ (پہلے تو تم بھی ساتھ ہوتی تھیں) پھر مجھے بہت کچھ یاد آتا رہتا ہے لیکن میں خاموشی سے کافی کے سپ لیتے ہوئے کھڑکی سے باہر جھانکتی رہتی ہوں۔ (پہلے میں سب کچھ تم سے کہا کرتی تھی)
    میں اب اپنا کمرہ کسی سے شیئر نہیں کر سکتی۔ میں تمہاری جگہ کسی کو نہیں دے سکتی۔ ساری شام اس کھڑکی میں اسی طرح گزار دیتی ہوں۔ پھر رات آ جاتی ہے۔ اور اس شخص کی یاد کے ساتھ اب تمہاری یاد بھی شامل ہو گئی ہے۔
    بس ایک سال باقی ہے پھر میرے پر کاٹ کر مجھے بھی قفس میں بند کر دیا جائے گا اور مریم! میری دعا ہے۔ یہ سال اتنا لمبا ہو جائے کہ کبھی ختم ہی نہ ہو مگر میرے کہنے سے وقت کی رفتار نہ بڑھے گی نہ تھمے گی اور ایک سال بعد جب میں اپنے خوابوں اور خواہشوں کے تابوت میں آخری کیل گاڑ کر واپس لوٹ جاؤں گی تو تم آنا’ سیدہ درمکنون علی عباس رضوی کو دیکھنے … روحانی طور پر بیمار مسیحا کو جسمانی شفا بانٹتے ہوئے۔ مریم ! سال میں تین سو پینسٹھ دن کیوں ہوتے ہیں تین ہزار تین سو پینسٹھ کیوں نہیں۔
    مجھے خط لکھتی رہنا۔ کم از کم اس سال تو۔ پھر جب واپس اپنے گاؤں چلی جاؤں تو مجھے کوئی خط نہ لکھنا۔ پھر شاید میں کسی رابطے کے قابل نہ رہوں۔ میں مایوس نہیں ہو رہی۔ حقیقت کو تسلیم کرنا سیکھ رہی ہوں۔ تم ہی نے ایک دفعہ کہا تھا نا۔ ”درمکنون تمہارا مسئلہ حالات نہیں تمہارا رومانٹسزم ہے۔” خوش ہو جاؤ مریم رومانٹسزم ختم ہوتا جا رہا ہے۔
    درمکنون
    ***




    20 فروری
    لاہور
    ڈیئر مریم!
    السلام علیکم!
    اپنے خط میں اتنی نصیحتیں اور ہدایات مت لکھا کرو۔ میرا دل گھبرانے لگتا ہے۔ ساری زندگی مجھے نصیحتوں اور ہدایات کے علاوہ دیا ہی کیا گیا ہے۔ اب تم بھی وہی سب کچھ کرنے لگی ہو جو میرے ماں باپ ہمیشہ سے کرتے آ رہے ہیں۔
    بار بار خوش رہنے کا کہتی ہو۔ تم بھی تو ڈاکٹر ہو ۔ خوش رہنے کے لیے کوئی نسخہ کیوں نہیں تجویز کر تیں یا پھر کوئی دوائی بھیج دو۔ انگلینڈ سے خوشی کے لیے جس کے تین ڈرا پس مجھے خوشی سے مالا مال کر دیں اور اگر ایسا نہیں کر سکتیں تو بس پھر خوش رہنے کے لیے مت کہا کرو’ یہ بھی میرے بس میں نہیں۔
    تمہاری بھیجی ہوئی چیزیں مجھے مل گئی ہیں مگر اب دوبارہ کچھ مت بھیجنا۔ تم جانتی ہو مریم! یہ سب چیزیں میرے لیے بے کار ہو چکی ہیں مجھے ان کی ضرورت نہیں ہے۔ مجھے صرف تمہارے تحریر کیے ہوئے چند لفظوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ آج کل بہت محتاج ہو گئی ہوں۔ ہر چیز’ ہر بات کے لیے۔ لوگوں کو میری بات کا مفہوم سمجھنے میں بڑی دیر لگتی ہے۔ اور میں چاہتی ہوں۔ کوئی میری بات سمجھنے کی کوشش کرے ہی نہ ۔ وقت کے ضیاع کے اور بھی تو طریقے ہوتے ہیں۔
    ”مریم! آج میں بہت روئی ہوں۔ تم جانتی ہو کیوں؟ ہاں تم ہی تو جانتی ہو۔ پتا ہے مریم آج پھر عاشر کا خط اور کارڈ آیا ہے۔ اس شخص کو جیسے ہر بات کی خبر ہوتی ہے۔ اسے تمہاری شادی اور انگلینڈ چلے جانے کا بھی پتا چل گیا ہے۔ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ تم سے جدائی میرے اعصاب پر کس طرح سوار ہو گئی ہے۔ اسے یہ بھی علم ہے کہ تنہائی میرے وجود کو کس طرح پگھلا رہی ہے اور میرا باپ کہتا ہے۔ محبت کوئی چیز نہیں اور میرا دل چاہتا ہے۔ میں اس کے سارے خط ان کے سامنے پھینکوں اور کہوں مجھے جاننا’ مجھے سمجھنا ہے تو ان خطوں کو پڑھ کر جانیں۔ ان کو پڑھ کر سمجھیں اور پھر مجھے بتائیں۔ ان کی بیٹی درمکنون ان کو کیسی لگتی ہے۔ پتا نہیں ماں باپ کو یہ غلط فہمی کیوں ہوتی ہے کہ ان سے زیادہ ان کی اولاد کو کوئی نہیں سمجھ سکتا۔ کوئی نہیں جانتا۔ حالانکہ انہیں تو کچھ بھی پتا نہیں ہوتا۔ انہیں ہی توکچھ پتا نہیں ہوتا۔ انہیں تو صرف ہمارا وجود نظر آتا ہے۔ دو ٹانگوں’ دو ہاتھوں’ دو آنکھوں اور ایک دماغ والا وجود۔ وہ اسے ہی کُل سمجھتے ہیں یہ کُل کہاں ہے کُل تو دل ہے اور میرے دل تک ساری دنیا پہنچ سکتی ہے بس میرے ماں باپ نہیں پہنچ سکتے۔
    پہلے زمانے کے لوگ اچھے تھے۔ بیٹیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ گاڑ دیتے تھے۔ اب یہ کام آل رسولۖ کرتی ہے مگر بیٹیوں کو جوان کرنے کے بعد۔
    تم نے لکھا ہے۔ مایوس نہ ہو مایوسی کفر ہے مریم! کیا صرف مایوسی ہی کفر ہوتی ہے اور کوئی چیز نہیں؟ تمہارا کیا خیال ہے جو مایوس نہیں ہوتے وہ پکے اور سچے مسلمان ہوتے ہیں؟ کیا دوسروں کی آنکھوں کے خواب چھین لینا کفر نہیں ہوتا؟ کیا دوسروں کے دلوں کی خواہشات کو روند دینا کفر نہیں؟ اور مریم! بعض دفعہ مایوسی کفر سے بچا بھی تو لیتی ہے جیسے مجھے بچا رہی ہے۔ بعض دفعہ آسوں’ امیدوں کا ختم ہو جانا بھی بڑی نعمت ہوتا ہے۔ میں جانتی ہوں۔ تم اس پیراگراف کو تین دفعہ پڑھوگی اور تمہیں وہ بات سمجھ میں آ جائے گی جو میں نے نہیں لکھی۔
    ”مریم! تم … تم خدا کے لیے عاشر سے کہہ دو مجھے خط نہ لکھے۔ مجھے کارڈ نہ بھیجے۔ میری جان چھوڑ دے اس سے کہو سوچ لے کہ درمکنون مر گئی ہے مان لے کہ درمکنون کبھی تھی ہی نہیں۔ اور بس مجھ سے کوئی رابطہ نہ کرے۔ تم تو کہہ سکتی ہو اس سے ۔ مریم تم تو سمجھا سکتی ہو۔ تم اس کے شہر میں ہو۔ اس کے پاس ہو۔ اس سے کہو۔ میرا پیچھا چھوڑ دے۔ اپنی زندگی تباہ نہ کرے۔ اسے تو ابھی بہت کچھ کرنا ہے۔ مریم! تم ایک بار عاشر سے ملو۔ یہ مشکل کام تو نہیں ہے۔ ایک بار میری خاطر اس سے ملو۔ شاید تم اسے وہ سب کچھ سمجھانے میں کامیاب ہو جاؤ جو میں نہیں سمجھا سکتی۔ جو کوئی دوسرا نہیں سمجھا پایا۔
    پتا ہے’ اس بار اس نے اپنے خط میں کیا لکھا ہے۔ اس نے لکھا ہے۔
    ”درمکنون! تمہیں یہ غلط فہمی کیوں ہے کہ تم میرے بغیر خوش رہ سکتی ہو؟ خوشی تو دور کی بات ہے۔ تم تو زندہ بھی نہیں رہ پاؤ گی۔”
    اور لوگ کہتے ہیں دلوں کے بھید صرف اللہ جانتا ہے’ ہے نا مریم! لوگ پھر بھی یہی کہتے ہیں۔ اور میرا دل چاہتا ہے مریم! میں عاشر سے کہوں کہ وہ میرے وجود پر پڑی ہوئی فریب اور ڈھکوسلے کی چادر کو یونہی پڑا رہنے دے۔ یہ خود فریبی جب تک ہے۔ میں ہوں اور جب یہ نہیں ہو گی تو…
    وہ اپنے ہر خط میں پتا نہیں کون کون سے اسکالرز کے ریفرنسز دیتا رہتا ہے۔ اسے لگتا ہے’ وہ اس طرح مجھے قائل کر لے گا۔ مریم میں کب قائل نہیں ہوں۔ وہ کوئی دلیل کوئی ریفرنس نہ دے تب بھی میں جانتی ہوں۔ وہ ٹھیک کہہ رہا ہے لیکن وہ۔ وہ کیوں میرے پاؤں میں پڑی بیڑیوں کو نہیں دیکھتا۔ وہ چاہتا ہے۔ میں بغاوت کروں۔ میں لڑوں۔ اپنا حق مانگوں۔ اسے نہیں پتا’ سید زادیوں کے کوئی حق ہوتے ہی نہیں۔ پھر حق مانگنے اور لینے کا سوال کہاں سے آتا ہے؟ تمہیں یاد ہے نا وہ کتنا Optimistic (خوش امید) ہوا کرتا تھا۔ وہ اب بھی ویسا ہی ہے اس کا خط کسی بھی لڑکی کو بغاوت پر آمادہ کر سکتا ہے۔ کسی کو بھی ہپناٹائز کر سکتا ہے۔ مگر میں … میں تو سید زادی ہوں۔ مجھے خوف آتا ہے مریم! کہیں میرا Pessimism (قنوطیت) اس کے Optimism (رجائیت) کو نہ لے ڈوبے پھر وہ اپنی زندگی کیسے گزارے گا۔ دنیا کو میری طرح کالے شیشے کی عینک پہن کر دیکھنا۔ کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے اور میں نہیں چاہتی۔ یہ تکلیف کبھی اس کی زندگی میں آئے پھر بھی مریم میں کچھ نہیں کر سکتی۔ محبت اس کا قصور تھی میں نے اس سے نہیں کہا تھا کہ مجھ سے محبت کرو۔ یہ سب اس نے اپنی مرضی سے کیا تھا۔
    اس وقت بھی مجھے اس کھڑکی سے باہر کھڑے دو گارڈز نظر آ رہے ہیں جو میری ”حفاظت” کے لیے ہر وقت میرے ساتھ رہتے ہیں۔ کس قدر اہم ہوں میں مریم! کس قدر اہم ہوں میں اپنے ماں باپ اپنے خاندان کے لیے۔ مریم حفاظت اور نگرانی میں کیا فرق ہوتا ہے کیا تم کو پتا ہے؟ مجھے پتا ہے تم نے فلمز میں اکثر تیروں کو جسم چھلنی کرتے دیکھا ہو گا۔ کبھی کسی چہرے کو تیروں سے چھلنی ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔
    اگر کبھی دیکھنے کی خواہش ہوئی تو میرا چہرہ دیکھنا۔ جو لوگ آپ کی حفاظت کر رہے ہوں’ وہ تو آپ کے اردگرد موجود اور آپ کے ملنے والے لوگوں کو دیکھتے ہیں۔ مگر میرے محافظ مجھ سے ملنے والے ہر شخص کا چہرہ پڑھنے کے بجائے میرا چہرہ پڑھتے ہیں۔ (انہیں احکامات پر عمل کرنا ہے) اور تب مریم! تب مجھے یوں لگتا ہے جیسے ایک کے بعد ایک سنسناتا ہوا تیر میرے چہرے میں ترازو ہو جاتا ہے اور میرا چہرہ مسخ ہوتا جاتا ہے اور میں چیخنے چلانے رونے کے بجائے ہنستی ہوں۔ مسکراتی ہوں۔ کیا اس سے زیادہ اذیت ناک چیز کوئی اور ہو سکتی ہے مریم؟
    میں اگر سلیپنگ پلز نہ لوں تو شاید اب کبھی سو نہ سکوں۔ لیکن پتا نہیں مریم! اب یہ گولیاں بھی بے اثر ہوتی جا رہی ہیں۔ ہر گزرنے والے ہفتے کے ساتھ مجھے ان کی ڈوز ڈبل کرنی پڑ رہی ہے ورنہ میں سو نہیں پاتی۔ مریم! میرے لیے دعا کیا کرو۔ مجھے اپنی دعا نہیں لگتی۔ شاید تمہاری لگ جائے۔ دعا کرو۔ مجھے سکون مل جائے دعا کرو۔ میرا دل دنیا میں لگ جائے۔ دعا کرو۔ مجھے زندگی کے سارے پھندے اچھے لگنے لگیں۔ دعا کرو۔ اللہ کو کبھی بھول کر میرا خیال آ جائے۔
    خدا حافظ
    تمہاری درمکنون
    ***




  • بس اِک داغِ ندامت — عمیرہ احمد

    بس اِک داغِ ندامت — عمیرہ احمد

    گیٹ کھلا ہوا تھا۔ وہ اندر داخل ہو گئی۔ گھر میں مکمل خاموشی تھی۔ پہلے وہ جب گھر آتی تھی تو اس کے بھتیجے بھتیجیوں کا ہنگامہ باہر تک آ رہا ہوتا تھا۔ لان عبور کر کے وہ اندرونی دروازے تک پہنچ گئی اور پھر اس میں اتنی ہمت اور حوصلہ باقی نہیں رہا کہ وہ بیل بجاتی اور گھر والوں کو اپنی آمد کی اطلاع دیتی’ کوئی بھی لڑکی اس کی جگہ ہوتی تو اتنی ہی بے حوصلہ ہوتی۔ وہ برآمدے کی سیڑھیوں میں بیٹھ گئی۔ آنسو اس کے گالوں کو بھگوتے ہوئے دوپٹے میں جذب ہو رہے تھے۔ اور وہ جیسے ان سے بالکل بے خبر تھی۔ پھر عذرا بھابھی نے اچانک اسے اندر والی کھڑکی سے دیکھ لیا تھا۔ غم و غصہ میں ڈوبی ہوئی وہ کچن میں گئی تھیں۔
    ”کیا ہوا؟” میمونہ بھابھی نے انہیں اس سراسیمگی کے عالم میں آتے دیکھ کر پوچھا تھا۔
    ”مومل واپس آ گئی ہے۔”
    ”کیا؟” میمونہ بھابھی کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ ”کہاں ہے وہ؟”
    ”وہاں برآمدے میں بیٹھی ہے۔ میں نے اسے کھڑکی سے دیکھا تھا۔ تم یہ بتاؤ’ فاروق کیا کر رہا ہے؟”
    ”وہ تو سو رہے ہیں۔”
    ”بس ٹھیک ہے ۔ تم میرے ساتھ آؤ۔” عذرا بھابھی میمونہ کو ساتھ لے کر باہر آ گئیں۔
    دروازہ کھلنے کی آواز پر اس نے پلٹ کر دیکھا اور بے ساختہ اٹھ کر کھڑی ہو گئی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو اور تیزی سے بہنے لگے۔
    ”کیا لینے آئی ہو یہاں؟” عذرا بھابھی کا سوال اس کی سماعت سے بم کی طرح ٹکرایا تھا۔
    ”بھابھی!” وہ صرف یہی کہہ سکی۔
    ”یہاں سے چلی جاؤ جہاں تین دن گزارے ہیں وہاں باقی زندگی بھی گزار سکتی ہو۔” عذرا بھابھی نے دبی آواز لیکن تلخ لہجے میں اس سے کہا۔
    ”بھابھی! میرا کوئی قصور نہیں ہے۔ مجھے تو اغوا کر لیا گیا تھا۔ آپ…”
    عذرا بھابھی نے تیزی سے اس کی بات کاٹ دی۔ ”یہ ڈرامہ کسی اور کے سامنے کرنا۔ ہمارے لیے تم اور تمہارے لیے ہم مر گئے ہیں۔ تم اپنے بھائیوں کو اچھی طرح جانتی ہو اگر انہیں تمہارے آنے کا پتا چل گیا تووہ تمہیں جان سے مار دیں گے۔ اس لیے بہتر ہے تم اپنی جان بچاؤ اور یہاں سے دفع ہو جاؤ۔ ” عذرا بھابھی نے بہت زہریلے لہجے میں کہا تھا۔
    ”بھابھی پلیز’ مجھ پر رحم کریں۔ میری کوئی غلطی نہیں۔ میں کہاں جاؤں گی؟” وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ عذرا بھابھی پر اس کے آنسوؤں کا الٹا اثر ہوا۔
    ”یہ اس وقت سوچنا تھا جب گھر سے بھاگی تھی۔ تمہیں اپنے بھائیوں کو تماشا بناتے ہوئے شرم نہیں آئی۔ تم نے یہ نہیں سوچا کہ لوگ ان سے کیسے کیسے سوال کریں گے۔ تم نے ہم پر رحم نہیں کیا ہم تم پر رحم کیوں کریں۔ ہم نے بھی اپنی بیٹیاں بیاہنی ہیں اور تمہیں گھر میں رکھ کر ہم ان کی زندگی برباد کرنا نہیں چاہتے۔ ہمیں معاف کرو اور یہاں سے چلی جاؤ۔ ہم پر رحم کرو۔ تمہارے بھائی تمہیں قتل کر دیں گے اور خود پھانسی چڑھ جائیں گے۔ تم کیوں ہمارا گھر برباد کرنا چاہتی ہو؟ یہاں سے جاؤ۔”
    بھابھی بات کرتے کرتے اسے بازو سے پکڑے ہوئے گیٹ تک لے آئیں اور پھر گیٹ کھول کر ایک جھٹکے سے اسے باہر دھکیل دیا۔ گیٹ بند کرتے وقت انہوں نے کہا۔
    ”دوبارہ یہاں مت آنا۔” وہ سکتے کے عالم میں بند گیٹ کو دیکھتی رہی۔ یہ سب کچھ اس کے لیے ناقابل یقین تھا۔ وہ جانتی تھی۔ اسے گھر والوں کی نفرت اور غصے کا سامنا کرنا پڑے گا مگر اسے یہ توقع نہیں تھی کہ وہ اسے گھر سے نکال دیں گے ۔ شاید اس لیے کیونکہ وہ اپنے آپ کو بے قصور سمجھ رہی تھی۔ لیکن اسے بے قصور نہیں سمجھا گیا۔ وہ نہیں جانتی تھی’ وہ اب کہاں جائے گی پھر اس نے باری باری اپنے سارے رشتہ داروں اور دوستوں کے دروازے کھٹکھٹانے شروع کیے اور جیسے کوئی پینڈورا باکس کھل گیا تھا۔





    ایک ہی دن میں اس نے بہت کچھ سیکھ لیا جو چیزیں گزرے ہوئے بیس سال اسے نہیں سکھا سکے تھے۔ وہ اس ایک دن نے اسے سکھا دی تھیں۔ وہ رشتہ داروں کے رویے سے دلبرداشتہ نہیں ہوئی اگر سگی بھابھیاں اسے اپنے گھر میں نہیں رکھ سکی تھیں تو کوئی چچا یا پھوپھی کیسے رکھ لیتے لیکن دوستوں کے روئیے نے اسے حقیقتاً رلایا تھا۔ شاید اس کے بھائی اس کی تلاش میں اس کی سب دوستوں کے گھر جا چکے تھے۔ اس لیے وہ جہاں گئی وہاں پہلے سے ہی اس کے بارے میں بہت سی داستانیں موجود تھیں۔ باری باری وہ اپنی چاروں دوستوں کے گھر گئی۔ فاریہ کی امی نے دروازے پر ہی اس سے کہہ دیا کہ فاریہ گھر پر نہیں ہے اور پھر دروازہ بند کر لیا۔
    سائرہ کی امی نے بڑی درشتی سے اس سے پوچھا۔
    ”سائرہ سے کیا کام ہے؟” وہ کہنے کی ہمت نہیں کر پائی اور وہاں سے پلٹ آئی۔ باقی دونوں دوستوں کے گھر بھی اس کے ساتھ ایسا ہی سلوک ہوا تھا۔ وہ دوست جو تین دن پہلے تک اسے کھینچ کھینچ کر اپنے گھر لے جاتی تھیں۔ اب اسے پانی تک پلانے پر تیار نہیں تھیں۔ مومل میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ ان سے مدد مانگتی’ اس نے ان کی شہہ پر اپنی زندگی برباد کر لی تھی اور وہ اسے پہچاننے کو تیار نہیں تھیں۔ اس کے آنسو خشک ہو چکے تھے۔ ایک سڑک کے کنارے لگے ہوئے سرکاری نلکے سے اس نے پانی پیا اور دوبارہ بے مقصد سڑکوں پر چلنے لگی۔ اس کی دوست اس کا واحد سہارا اور آخری امید تھیں اب اور کوئی نہیں تھا جس کے پاس وہ مدد کے لیے جا سکتی۔ وہ خالی الذہنی کی کیفیت میں سڑک پر چل رہی تھی جب اس نے اچانک کسی کے منہ سے اپنا نام سنا تھا۔
    ”مومل! مومل۔” اسے اپنا نام بے حد اجنبی لگا تھا۔ پھر اچانک کسی نے اسے کندھے سے پکڑ کر جھنجھوڑا۔
    ”کہاں گم ہو تم؟ آواز ہی نہیں سنتیں۔ میں کب سے تمہیں آوازیں دے رہی ہوں۔”
    اس بار اس نے آواز اور چہرہ پہچان لیا’ وہ فاطمہ تھی۔ اس کے ساتھ ایک اور لڑکی تھی جو بڑی دلچسپی سے اسے دیکھ رہی تھی۔ مومل سپاٹ چہرے کے ساتھ اسے دیکھتی رہی۔ فاطمہ اس کا چہرہ دیکھتے ہی کچھ چونک گئی تھی۔
    ”کیا ہوا مومل! تم ٹھیک تو ہو ؟” اس نے تشویش سے اس کی سوجی ہوئی آنکھوں اورستے ہوئے چہرے کو دیکھ کر کہا تھا۔
    ”کیا ہوا ہے مومل! تم اس طرح مجھے کیوں دیکھ رہی ہو؟” اس بار فاطمہ نے ہلکے سے اس کا کندھا جھنجھوڑا تھا۔ مومل کے لیے بس اتنا ہی کافی تھا۔
    ”انہوں نے مجھے گھر سے نکال دیا۔” وہ یہ کہہ کر بلک بلک کر رونے لگی۔
    فاطمہ اور اس کی ساتھی لڑکی اسے روتے دیکھ کر گھبرا گئیں۔ وہ مین روڈ پر کھڑی تھیں اور لوگ آتے جاتے ہوئے انہیں گھور رہے تھے۔
    ”فاطمہ! میں گاڑی لاتی ہوں۔ ہم مومل کو ہاسٹل لے جاتے ہیں پھر وہیں سب کچھ پوچھنا۔”
    ربیعہ یہ کہہ کر تیزی سے کار پارکنگ کی طرف گاڑی نکالنے چلی گئی۔ فاطمہ اسے چپ کروانے میں لگ گئی لیکن وہ چپ ہونے کے بجائے اور زیادہ رونے لگی تھی۔ اس کے اس طرح رونے پر فاطمہ کے ہاتھ پیر پھول رہے تھے۔ اس کی کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ چند منٹوں بعد ربیعہ کار لے آئی اور فاطمہ اسے کار میں بٹھا کر ہاسٹل لے آئی تھی۔ ہاسٹل کے کمرے میں پہنچنے کے بعد بھی وہ اسی طرح ہچکیوں اور سسکیوں سے روتی رہی مگر اس بار فاطمہ نے اسے چپ کروانے کی کوشش نہیں کی۔ ربیعہ اور فاطمہ دونوں خاموشی سے ایک دوسرے کو دیکھتی رہیں۔ پھر ربیعہ نے دراز سے ایک ٹیبلٹ نکال کر پانی کے گلاس کے ساتھ فاطمہ کو تھما دی۔
    ”اسے یہ ٹیبلٹ کھلا دو اگر یہ اسی طرح روتی رہی تو مجھے ڈر ہے کہیں اس کا نروس بریک ڈاؤن نہ ہو جائے۔ تم اسے چپ کرواؤ۔ میں تمہارے لیے چائے اور اسنیکس بھجواتی ہوں۔”
    ربیعہ ہلکی آواز میں کہتے ہوئے کمرے سے نکل گئی۔ فاطمہ نے بڑی نرمی سے ایک بازو اس کے کندھے کے گرد حمائل کر لیا اور پیار سے اسے تھپکنے لگی۔
    ”میری طرف دیکھو مومی! دیکھو چپ ہو جاؤ۔ مجھے بتاؤ۔ تمہیں کیا پریشانی ہے۔ پرسوں تمہاری بھابھی نے ہاسٹل فون کیا۔ انہوں نے بتایا کہ تم یونیورسٹی سے گھر نہیں پہنچیں اور تمہاری یونیورسٹی کی فرینڈز نے بتایا ہے کہ تم اس دن یونیورسٹی گئی ہی نہیں۔ وہ مجھ سے پوچھ رہی تھیں کہ کہیں تم میرے پاس تو نہیں آئیں۔ میں نے انہیں بتا دیا کہ تم یہاں نہیں آئیں اور دو دن میں انہیں فون کر کے پوچھتی رہی کہ تمہارا کچھ پتا چلا کل میں تمہارے گھر بھی گئی مگر تمہارے گھر والوں کو تمہارا کچھ پتا نہیں تھا۔ اور آج تم مجھے سڑک پر مل گئی ہو اور تم کہہ رہی ہو کہ انہوں نے تمہیں گھر سے نکال دیا۔ آخر معاملہ کیا ہے؟ تم اتنے دن کہاں غائب رہی تھیں؟” فاطمہ اس سے پوچھ رہی تھی اور وہ آنسو بہاتی رہی۔
    ”مومل! اپنی پریشانی مجھے بتاؤ۔ ہو سکتا ہے’ میں تمہاری مدد کر سکوں۔” وہ بڑے نرم لہجے میں اس سے پوچھ رہی تھی۔
    ”فاطمہ ! اگر میں نے تمہیں سب کچھ بتا دیا تو کیا تم مجھے یہاں سے نکال دو گی؟”
    اس نے روتے روتے فاطمہ سے پوچھا تھا۔ فاطمہ نے اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔ ”نہیں مومل! میں بھلا ایسا کیوں کروں گی۔ میں تمہارا ساتھ نہیں چھوڑوں گی’ چاہے تم سے کوئی غلطی کیوں نہ ہوئی ہو۔”
    فاطمہ نے جیسے اس کی ڈھارس بندھائی تھی۔ وہ بہتے آنسوؤں کے ساتھ ہونٹ بھینچے ہوئے اس کا چہرہ دیکھتی رہی۔
    فاطمہ سے اس کی دوستی بڑے عجیب انداز میں ہوئی تھی۔ فاطمہ میڈیکل کی اسٹوڈنٹ تھی۔ پہلی دفعہ ان کی ملاقات مومل کے کالج میں ہوئی تھی جہاں انہوں نے بلڈ کیمپ لگایا تھا۔ مومل اپنا بلڈ گروپ چیک کروانے گئی تھی مگر وہاں فاطمہ کے اصرار پر اس نے اپنا بلڈ ڈونیٹ کیا۔ دونوں کے درمیان دوستی کا آغاز ہو گیا تھا۔ فاطمہ کی ساری فیملی سعودی عرب میں تھی اور وہ اکیلی پاکستان میں تعلیم حاصل کر رہی تھی۔ پھر دونوں اکثر ملنے لگیں۔ مومل ہر ویک اینڈ پر فاطمہ کو اپنے گھر بلا لیتی اور اکثر خود بھی اس کے ہاسٹل جایا کرتی۔ جلد ہی دونوں کی دوستی اتنی مضبوط ہو گئی تھی کہ باہر سے آنے والی چیزوں میں سے آدھی چیزیں فاطمہ اسے تھما دیا کرتی تھی۔ مومل کے یونیورسٹی میں ایڈمیشن لینے کے بعد ملاقاتوں میں کچھ کمی آ گئی تھی مگر فاطمہ کے التفات میں نہیں’ وہ اب بھی پہلے ہی کی طرح اسے فون کیا کرتی تھی لیکن اب وہ پہلے کی طرح ہر ویک اینڈ پر اس کے گھر نہیں آتی تھی کیونکہ وہ میڈیکل کے فائنل ایر میں تھی اور اتنا فالتو ٹائم اس کے پاس نہیں ہوتا تھا۔
    مومل کو پہلے فاطمہ کے پاس جانے کا خیال نہیں آیا تھا کیونکہ اس کا خیال تھا کہ وہ بھی دوسری دوستوں کی طرح اسے دھتکار دے گی۔ مگر اب اسے فاطمہ کے پاس ہی پناہ ملی تھی۔
    مومل دو بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی۔ وہ اس وقت دس سال کی تھی جب اس کے والدین کا ایک حادثے میں انتقال ہو گیا تھا اور اسے دونوں بڑے بھائیوں نے پالا تھا۔ انہوں نے اسے بالکل پھولوں کی طرح رکھا تھا۔ بھابھیوں کو نند سے شوہروں کا یہ التفات کھٹکتا تھا لیکن وہ زہر کے گھونٹ پینے پر مجبور تھیں۔ شوہروں کو خوش کرنے کے لیے وہ ظاہری طور پر اس پر صدقے واری جاتی تھیں۔ کیونکہ اس کے طفیل ان کی بہت سی فرمائشیں ان کے شوہر پوری کر دیتے تھے۔ مومل اگر سمجھ دار ہوتی تو بھابھیوں کے بناوٹی روئیے کو سمجھ جاتی لیکن اس میں اگر یہ خوبی ہوتی تو شاید وہ اس حال تک کبھی نہ پہنچتی۔ وہ ہمیشہ دوسروں کے اشاروں پر چلا کرتی تھی۔ کسی نے اس کی تھوڑی سی تعریف کی اور کسی کام پر اکسایا اور اس نے بلا سوچے سمجھے وہ کام کر دیا۔ اس بات کا اندازہ لگائے بغیر کہ اس کا نتیجہ کیا ہو گا اور اس پر کیا اثر ہو گا۔ وہ ہمیشہ وہی کرتی تھی جو اس کی دوستیں کہا کرتی تھیں۔
    بعض دفعہ اسے اس بات کا فائدہ ہوتا مگر زیادہ تر اسے نقصان اٹھانا پڑا۔ اس کی دوستوں کو سائنس سبجیکٹس سے کوئی دلچسپی نہیں تھی’ اس نے شاندار نمبروں کے باوجود سائنس پڑھنے سے انکار کر دیا۔ اس کی دوستوں کو کسی چیز کی ضرورت ہوتی’ وہ کسی کو بتائے بغیر وہ چیز اپنی فرینڈز کو پہنچا دیتی۔ اس کی دوستوں نے ہمیشہ اس کے کندھے پر بندوق رکھ کر چلائی۔ سائرہ کو سکول سے باہر کوئی لڑکا تنگ کرتا تھا۔
    ”مومل یار! تم تو بہت بہادر ہو۔ یار! کسی طرح میرا پیچھا اس لڑکے سے چھڑاؤ۔”
    سائرہ کا اتنا کہنا ہی کافی تھا۔ اگلے دن وہ چھٹی ہوتے ہی سائرہ کے بتانے پر سیدھی اسی لڑکے کے پاس پہنچ گئی اور جاتے ہی اسے دھمکانے لگی۔ وہ لڑکا اس صورت حال پر گھبرا گیا۔ اور وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا اور دوبارہ سائرہ کے لیے وہاں کھڑا نہیں ہوا’ اس کی دوستوں نے اسے خوب شاباشی دی۔ لیکن سکول میں اس کے بارے میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں۔ شاید ان داستانوں میں کچھ اور اضافہ ہو جاتا لیکن خوش قسمتی سے وہ سکول میں اس کا آخری سال تھا۔
    کالج پہنچنے پر بھی اس نے اپنے طور طریقے نہیں چھوڑے۔ دوستوں کے لیے اس کے کارناموں میں وہاں بھی کمی نہیں آئی۔ ہر مشکل مرحلے پر وہ اسے ہی سامنے کرتیں اور وہ بلاخوف و خطر ڈٹ جاتی۔ بعد میں اس کی دوستیں اس کی بے تحاشا تعریفیں کرتیں۔
    ”بھئی ‘ مجھے تو مومل پر رشک آتا ہے۔ کتنی بولڈ ہے وہ’ ہم تو لڑکوں کو دیکھتے ہی چھپنے لگتی ہیں۔ یہ اسی کی ہمت ہے کہ انہیں منہ توڑ جواب دیتی ہے۔ لڑکیوں کو اسی جیسا ہونا چاہیے۔”
    تعریفوں کے یہ پل مومل کو ساتویں آسمان پر پہنچا دیتے۔ یونیورسٹی میں جانے کے بعد بھی اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ پہلی دفعہ وہ اور اس کی فرینڈز کو ایجوکیشن میں آئی تھیں۔ اس لیے کافی نروس تھیں۔ لیکن آہستہ آہستہ اس کی دوستوں نے پھر پرانے حربے استعمال کرنے شروع کر دئیے۔ جو لڑکا ان پر ریمارکس پاس کرتا وہ جواب دینے کے لیے مومل کو آگے کر دیتیں۔
    نتیجہ یہ ہوا کہ وہ پہلے سال ہی یونیورسٹی میں خاصی مشہور ہو گئی۔ لیکن یہ شہرت نیک نامی کے زمرے میں نہیں آتی تھی۔ لڑکے پہلے کی نسبت اب اس پر زیادہ ریمارکس دیتے تھے۔
    پھر انہیں دنوں ڈیپارٹمنٹ میں ایک لڑکے کے چرچے ہونے لگے اور یہ چرچے صرف لڑکیوں میں ہی نہیں لڑکوں میں بھی تھے۔ اسفند حسن کے لیے یونیورسٹی نئی نہیں تھی۔ چند ماہ پہلے اس نے اسی یونیورسٹی سے اکنامکس میں ماسٹرز میں ٹاپ کیا تھا اور اب وہ سی ایس ایس کی تیاری کے لیے دوبارہ کلاسز اٹینڈ کرنے کے لیے یونیورسٹی آنے لگا تھا۔ اور اس کی آمد نے انگلش ڈیپارٹمنٹ کی لڑکیوں کے درمیان بناؤ سنگھار کا ایک مقابلہ شروع کر دیا تھا۔ اور اس میں ان کا کوئی اتنا زیادہ قصور بھی نہیں تھا جس شخص کا نام اسفند حسن تھا۔ وہ واقعی دیکھنے کی چیز تھا۔ اس کی صرف پرسنالٹی ہی زبردست نہیں تھی بلکہ اس کا ذہن بھی کچھ غیر معمولی ہی تھا۔ سارے پلس پوائنٹ ہونے کے باوجود حیرت کی بات یہ تھی کہ یونیورسٹی میں اس کا کوئی سکینڈل کبھی مشہور نہیں ہوا تھا۔ وہ ہمیشہ اپنے کام سے کام رکھتا تھا۔ یونیورسٹی میں اس کی پرسنالٹی اور ذہانت کی وجہ سے اس کا شہرہ تھا۔ وہ مکمل تیاری کے ساتھ لیکچرز اٹینڈ کیا کرتا تھا اور کلاس میں اس کی موجودگی پروفیسرز کو خاصا چوکنا رکھتی تھی کیونکہ اس کی نالج کسی بھی چیز کے بارے میں بہت اپ ٹوڈیٹ تھی اور وہ کسی بھی لمحہ کوئی بھی سوال کر سکتا تھا اور اس کے سوالات عام نہیں ہوتے تھے۔ وہ اکثر پروفیسرز کو مشکل میں ڈالتا رہا تھا۔ سی ایس ایس کی تیاری کے سلسلے میں وہ انگلش ڈیپارٹمنٹ میں بھی ایک کلاس اٹینڈ کرنے آیا کرتا تھا اور اس کی آمد نے انگلش ڈیپارٹمنٹ میں اچھی خاصی ہلچل مچا دی تھی۔
    جن دنوں اس نے آنا شروع کیا تھا۔ ان دنوں مومل بیمار تھی اور اس نے ایک ہفتہ کی چھٹی لی ہوئی تھی۔ ایک ہفتے کے بعد جب وہ یونیورسٹی آئی تھی تو وہ اپنی دوستوں کی گفتگو سن کر حیران رہ گئی تھی۔ ان کی زبان پر بس ایک ہی بات تھی۔
    ”ہائے آج اسفند بلیک ڈینم میں کیسا لگ رہا تھا؟”
    ”اسفند پرگلاسز کتنے اچھے لگ رہے تھے۔”
    مومل کو اس کے بارے میں سن سن کر اسے دیکھنے کا اشتیاق ہو گیا تھا۔ پھر جب وہ ان کے ڈیپارٹمنٹ میں آیا تو اس کی دوستوں نے بطور خاص اسے اسفند کا دیدار کروایا تھا۔ چند لمحوں کے لیے تو وہ بھی بہت متاثر ہوئی تھی۔ وہ واقعی مردانہ حسن کا نمونہ تھا۔ چند دن وہ بھی اپنی دوستوں کے ساتھ اس کے حسن اور پرسنالٹی کے قصیدے پڑھتی رہی اور اپنی دوستوں کی طرح ڈیپارٹمنٹ میں اس کی آمد کا انتظار کرتی رہتی۔ لیکن پھر آہستہ آہستہ وہ اس روٹین سے تنگ آ گئی۔ وہ یکسانیت پسند نہیں تھی لیکن اپنی دوستوں کی خاطر وہ اب بھی اس کے انتظار میں کھڑی ہوتی تھی کہ وہ ڈیپارٹمنٹ میں کب آتا اور کب جاتا ہے۔ وہ اپنی دوستوں کے ساتھ اس کلاس کے باہر کھڑی ہوتی کیونکہ اس کی دوست اکیلے وہاں نہیں کھڑی ہو سکتی تھیں اس لیے مومل جیسے ”جواں مرد” کی موجودگی ضروری تھی۔ اسے مجبوراً ان کے ساتھ جانا پڑتا حالانکہ اس کے انتظار میں بے وقوفوں کی طرح آدھ گھنٹہ گزارنا اسے کافی مشکل لگنے لگا تھا۔ لیکن دوستی تو دوستی ہے۔ میں انہیں اکیلا تو نہیں چھوڑ سکتی۔ وہ ہر بار یہی سوچتی۔ لیکن وہ یہ بات نہیں جانتی تھی کہ ان کا گروپ آہستہ آہستہ لوگوں کی نظروں میں آ رہا ہے۔ پورے ڈیپارٹمنٹ میں ان کے بارے میں سرگوشیاں ہونے لگی تھیں۔ لیکن اس نے اس جانب زیادہ توجہ نہیں دی۔




  • کوئی بات ہے تیری بات میں — عمیرہ احمد

    ڈور بیل تیسری بار بجی تھی جب اس نے جھنجھلا کر بالآخر اٹھنے کا ارادہ کر ہی لیا تھا۔ ہاتھ بڑھا کر سائیڈ ٹیبل سے اس نے رسٹ واچ اٹھا کر ادھ کھلی آنکھوں سے وقت دیکھا صبح کے ساڑھے گیارہ بجے تھے۔
    اس نے بیڈ سے اٹھ کر سلیپرز پہنے اور پھر شرٹ پہن لی۔ شرٹ پہنتے ہوئے بیل ایک بار پھر بجی تھی اور وہ بری طرح جھنجھلایا ہوا تھا۔
    گیٹ پر جو کوئی بھی تھا وہ بڑے تواتر سے بیل بجا رہا تھا اور کافی مستقل مزاج بھی لگتا تھا۔
    واچ مین اس وقت اپنے کوارٹر میں ہوتا تھا اور وہ جانتا تھا کہ دروازہ اسے ہی کھولنا پڑے گا کیونکہ گھر میں اس وقت کوئی نہیں تھا بالوں کو ہاتھوں سے سنوارتے ہوئے وہ اندر سے نکل آیا۔
    پورچ سے گیٹ تک کا فاصلہ طے کرنے کے دوران بیل پھر بجی تھی اور اس بار اس نے عقبی لان سے جیک کو بھونکتے ہوئے بھاگتے دیکھا۔ اس کے گیٹ تک پہنچنے سے پہلے ہی جیک گیٹ پر پہنچ گیا تھا اور اپنے اگلے پنجوں سے گیٹ کو بجاتے ہوئے وہ بڑے زور و شور سے بھونک رہا تھا۔
    گیٹ کے نچلے حصے میں لگی ہوئی سلاخوں سے اس نے کسی لڑکی کی ٹانگیں دیکھی تھیں جو کتے کے بھونکنے پر گیٹ سے کافی دور چلی گئی تھی۔ اس سے پہلے کہ بیل دوبارہ بجتی اس نے ایک جھٹکے سے دروازہ کی چین اتار کر اسے کھول دیا۔
    سامنے موجود چہرہ اس کا شناسا نہ تھا۔ وہ انیس بیس سال کی ایک لڑکی تھی جو چادر میں لپٹی ہوئی تھی۔ دھوپ میں کھڑے رہنے کی وجہ سے اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا وہ بول اٹھی تھی:
    ”سوری جی میں نے آپ کو ڈسٹرب کیا۔”
    شاید اس نے اندازہ لگا لیا تھا کہ وہ جھنجھلایا ہوا تھا۔ وہ ا سکی معذرت پر کچھ کہتے کہتے رک گیا تھا ورنہ وہ اسے بار بار بیل کرنے پر جھڑکنا چاہتا تھا۔
    ”میں ٹیچر ہوں، ہم لوگ فیصل آباد سے یہاں ایک شارٹ کورس کرنے کے لئے آئے ہیں۔ ہم یہ ساتھ والی عمارت میں ٹھہرے ہوئے ہیں۔ آپ کو معلوم ہی ہو گا کہ وہاں سارے کرسچینز ہوتے ہیں لیکن میں مسلم ہوں۔ مجھے دراصل آٹھواں سیپارہ چاہئے اگر آپ مجھے دے دیں تو میں پڑھ کر آپ کو واپس کر جاؤں گی۔”
    اس نے اس لڑکی کی بات کافی حیرت سے سنی تھی کیونکہ اسے ایسی کسی فرمائش کی توقع ہی نہیں تھی۔ چند لمحوں کے لئے وہ شش و پنج میں پڑا رہا۔
    ”اوکے میں دیکھتا ہوں۔” وہ بالآخر کہہ کر واپس مڑ گیا۔
    ”پلیز ایک منٹ” وہ دو قدم ہی چلا تھا کہ دوبارہ اس لڑکی نے اسے آواز دی۔ وہ واپس مڑ آیا۔
    ”دیکھیں یا تو آپ اس گیٹ کو اندر سے بند کرکے جائیں یا اس کتے کو یہا ں سے لے جائیں۔” اس نے جیک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا جو بڑے اطمینان سے زمین پر بیٹھا ہوا تھا۔





    ”ایک تیسرا راستہ اور بھی ہو سکتا ہے میں آپ کو اندر کیوں نہ لے جاؤں۔” وہ بے اختیار بولتے بولتے رکا تھا۔
    ”یہ کچھ نہیں کہتا” اس نے مسکرا کر اسے تسلی دینے کی کوشش کی تھی۔
    ”کر تو بہت کچھ سکتا ہے۔” جواب بہت برجستہ تھا۔ اگرچہ اس لڑکی کی نگاہ ابھی تک کتے پر ہی مرکوز تھی۔
    ”یہ کرتا بھی کچھ نہیں۔” اس نے ایک بار پھر مسکرا کر کہا۔
    ”پھر بھی آپ گیٹ بند کرکے جائیں۔” وہ ابھی بھی اپنے مطالبے پر قائم تھی۔
    ”آپ اندر آجائیں۔” اس نے بالآخر اسے پیشکش کر ہی دی۔
    ”نہیں شکریہ آپ بس مجھے سیپارہ لا دیں۔”
    اس نے اس لڑکی کے انکار پر کندھے اچکائے اور بنا کچھ کہے گیٹ بند کرکے اندر کی طرف چل دیا۔
    وہ اندر آکر سوچ میں پڑ گیا کہ سیپارہ اسے مل کہاں سکتا ہے۔ بچپن میں بلاشبہ اسنے قرآن پاک پڑھا تھا لیکن اب بہت عرصے سے اس نے کبھی قرآن پاک کی تلاوت ہی نہیں کی تھی۔ غلطی اس کی نہیں تھی وہ پچھلے چھ سات سال سے امریکا میں تھا اور اس سے پہلے جب وہ پاکستان میں تھا تب بھی اس پر والدین کی طرف سے اس قسم کی کوئی پابندی نہیں تھی اور فطری طور پر بھی وہ مذہب سے کچھ دور ہی تھا۔ پھر باہر رہنے سے تو وہ جو سال میں دو بار جیسے تیسے عید کی نماز پڑھ لیتا تھا اس سے بھی گیا تھا۔ اس لئے اب اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ سیپارے یا قرآن پاک کہاں تلاش کرے۔
    چند لمحے وہ ایسے ہی پریشانی کے عالم میں کھڑا رہا۔ پھر ایک خیال آنے پر اپنی دادی کے کمرے کی طرف چل دیا۔ اسے یاد آگیا تھا کہ دادی باقاعدگی سے نماز پڑھتی تھیں اور ان کے کمرے میں یقینا قرآن پاک بھی ہو گا۔ کمرے میں داخل ہونے کے چند لمحوں تک متلاشی نظروں سے ادھر ادھر دیکھتا رہا پھر تخت پوش کے ساتھ والی الماری کی طرف بڑھ گیا اور الماری کھولتے ہی اس کے سامنے بڑے سلیقے اور نفاست سے رکھے گئے بہت سے سیپارے اور قرآن پاک آگئے تھے۔ وہ سیپاروں کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے یک دم ٹھٹک گیا۔ بے وضو ہونے کا خیال آنے پر اس نے واش روم جا کر ہاتھ دھوئے۔ پھر واپس آکر وہ آٹھواں سیپارہ تلاش کرنے لگا۔ لیکن اب مسئلہ یہ تھا کہ سیپاروں کے اوپر عربی اور اردو میں گنتی کے نمبر تھے اور دونوں ہی گنتیاں اس کی سمجھ سے باہر تھیں۔ اس نے کچھ اندازہ کرنے کی کوشش کی آٹھواں سیپارہ کون سا ہو سکتا ہے۔ لیکن جس مقدس کتاب کو اس نے پچھلے پندرہ سولہ سال سے کھول کر نہیں دیکھا تھا اب اس کے بارے میں کچھ یاد کیسے آجاتا۔ اس نے ان پاروں کو ویسے ہی رکھ دیا۔
    واپس لاؤنج میں آکر اس نے فریج سے سپرائٹ کاٹن نکالا اور اسے کھول کر پیتے ہوئے باہر آگیا۔ جب اس نے گیٹ کھولا تو وہ لڑکی اس کے ہاتھ میں اپنی مطلوبہ چیز کی بجائے سپرائٹ کا ٹن دیکھ کر بہت حیران ہوئی تھی۔
    ”دیکھیں میں نے سیپارہ تلاش کرنے کی کوشش کی ہے لیکن مجھے وہ نہیں ملا کیونکہ مجھے عربی یا اردو کی گنتی نہیں آتی۔ آپ ایسا کریں کہ خود ہی اندر آکر مطلوبہ سیپارہ لے لیں۔” اسے لگا کہ اس کی بات پر لڑکی نے ملامت بھری نظروں سے اسے دیکھا تھا۔ لیکن وہ نظریں چرا کر ایک طرف ہٹ گیا۔
    چند لمحے سوچنے کے بعد لڑکی نے اندر قدم رکھ دیا۔اس نے جیک کو پاؤں سے چھوتے ہوئے اسے جانے کا اشارہ کیا تھا اور وہ اس کے اشارے پر بھاگتا ہوا پھر عقبی لان کی طرف چلا گیا۔ کتے کے جانے پر وہ کافی مطمئن نظر آرہی تھی۔
    وہ اسے اپنی دادی کے کمرے میں لے آیا اور پھر وہیں دروازے پر کھڑا ہو گیا۔
    ”سامنے والی الماری میں ہیں۔” اس نے اشارے سے لڑکی کو بتایا تھا اور خود اطمینان سے ٹن کو دوبارہ منہ سے لگالیا۔ وہ لڑکی الماری کھول کر بڑی احتیاط سے سیپاروں کو دیکھنے لگی تھی۔ وہ دروازے سے ٹیک لگائے سپرائٹ کے سپ لیتا ہوا اس کی کارروائی دیکھتا رہا۔ اسے جلد ہی سیپارہ مل گیا تھا اور باقی سیپاروں کو اسی احتیاط کے ساتھ اس نے واپس رکھ دیا۔ پھر الماری بند کرکے وہ چلتی ہوئی اس کے پاس آئی۔ ایک لمحے کے لئے اس نے اس کے قریب رک کر سیپارے کو سیدھا کیا اور اس کی طرف دیکھے بغیر اس نے اردو میں لکھے ہوئے آٹھ پر انگشت شہادت پھیرتے ہوئے کہا:
    ”یہ اردو کا آٹھ اور انگلش کا Eight ہے۔”
    اس نے بے اختیار اس کے چہرے کی طرف دیکھا۔ وہ اب اس کی طرف ایسے دیکھ رہی تھی جیسے جاننا چاہ رہی ہو کہ وہ اس کی بات سمجھا ہے یا نہیں اس نے بغیر سوچے سمجھے سرہلا دیا۔
    پھر وہ کچھ کہے بغیر بیرونی دروازے کی طرف چلنے لگی۔ دروازہ سے نکلتے ہوئے اس نے اچانک مڑ کر کہا۔
    ”میں پڑھنے کے بعد اسے واپس کر جاؤں گی۔” وہ صرف سرہلا کر رہ گیا۔
    گیٹ بند کرکے جب وہ واپس لوٹا تو وہ مسلسل اس کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ بہت عجیب سا تاثر چھوڑا تھا اس نے اس پر، لیکن جلد ہی وہ اس کے ذہن سے نکل گئی تھی۔
    …****…
    وہ فیکٹری جانے کے لئے تیار ہو کر پورچ میں کھڑی گاڑی میں بیٹھ رہا تھا جب بیل ایک بار پھر بجی تھی۔ اسے یک دم اس لڑکی کا خیال آیا تھا اور وہ گاڑی میں بیٹھتے بیٹھتے رک گیا تھا۔ واچ مین اس وقت دروازے پر موجود تھا اس لئے اب کی بار اسے دروازہ کھولنے کے لئے نہیں جانا پڑا۔ وہ وہیں گاڑی کے کھلے دروازے سے بازو ٹکائے گلاسز ہاتھ میں لئے اسے دور سے آتا دیکھتا رہا۔ وہ سیدھی اس کے پاس آئی تھی۔ سیپارہ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے اس نے شکریہ ادا کیا تھا۔ پھر جب اس نے سیپارہ پکڑنے کے لئے ہاتھ بڑھایا تو اس نے اچانک پوچھا۔
    ”آپ نے وضو کیا ہوا ہے؟” اس کے سوال کے جواب میں اس نے نفی میں سرہلا دیا اور اس لڑکی نے سیپارہ پکڑاتے ہوئے یک دم ہاتھ واپس کھینچ لئے تھے۔ اسے بے ساختہ شرمندگی کا احساس ہوا تھا۔
    ”تو پھر آپ سیپارہ کیوں لے رہے ہیں؟”
    اسے لگا کہ اس لڑکی کے لہجے میں ہلکی سی تلخی تھی۔ وہ اس کی بات کا جواب نہیں دے سکا لیکن اس نے بڑی ناگواری سے اسے کہا تھا۔
    ”آپ ایسا کریں کہ اندر رکھ آئیں ملازم اندر ہے۔” وہ کہہ کر گاڑی میں بیٹھنے لگا تھا جب اس نے دوبارہ اسے آواز دی۔ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی رُک گیا ورنہ اس کا موڈ بری طرح بگڑ چکا تھا۔
    ”مجھے ایک درخواست کرنی ہے، کیا جتنے دن میں یہاں ہوں کیا آپ کے گھر سے قرآن پاک لے کر پڑھ سکتی ہوں۔” وہ اسے بس دیکھ کر رہ گیا۔ اس کے لہجے میں چند لمحے پہلے کی ترشی کی بجائے عجیب سی التجا تھی۔
    ”Why not (کیوں نہیں) لیکن آپ ایسا کریں کہ ایک قرآن پاک لے جائیں اور جب آپ کو واپس جانا ہو تب آپ واپس کر جائیں۔” اس نے اس کے سامنے ایک تجویز پیش کی تھی۔
    ”میں نے یہ سوچا تھا لیکن پھر میری سمجھ میں نہیں آیا کہ میں اسے کہاں رکھوں گی۔ وہاں زیادہ تر غیر مسلم ٹھہرتے ہیں اور وہ ہے بھی ان کا مذہبی مرکز وہاں الماریاں تو ہیں لیکن میں وہاں قرآن پاک رکھنا نہیں چاہتی کیونکہ پتا نہیں پہلے وہا ں کیا رکھا گیا ہو۔ میں جانتی ہوں کہ آپ کو تکلیف ہو گی لیکن صرف چند دنوں کی تو بات ہے۔ کم از کم مجھے یہ تسلی تو رہے گی کہ قرآن پاک، پاک جگہ پر رکھا گیا ہے۔”
    ”میں آپ کو پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا بلکہ… میں تو صرف آپ کی آسانی کے لئے کہہ رہا تھا۔ اگر آپ کو آنے میں کوئی پرابلم نہیں تو ٹھیک ہے… آپ جب چاہیں آسکتی ہیں۔”
    اس نے بڑے کھلے دل سے اسے آفر کی تھی۔ اس لڑکی نے بڑی ممنونیت سے اسے دیکھا۔ پھر وہ اس کا شکریہ ادا کرکے اندر چلی گئی۔ وہ اسے اندر جاتا دیکھتا رہا۔ چند لمحوں کے بعد وہ اندر سے نکل آئی اور گیٹ کی طرف چل دی۔
    ”ایکسکیوزمی! آپ کا نام کیا ہے؟” اس نے اسے روکا تھا وہ اس سوال پر کچھ ہچکچائی تھی جیسے وہ جواب نہ دینا چاہ رہی ہو۔
    ”میرا نام مریم ہے” بالآخر اس نے کہہ دیا۔
    ”تھینک یو بس یہی پوچھنا تھا” وہ دوبارہ گیٹ کی طرف چل دی۔ وہ کچھ سوچتے ہوئے اسے جاتے دیکھتا رہا۔
    …****…




  • میں نے خوابوں کا شجر دیکھا ہے — عمیرہ احمد

    ایک آگ سی میرے وجود کو جلا رہی تھی۔ میں نے کار کا دروازہ کھول کر نیچے اترتے ہوئے اس بنگلے پر نظر دوڑائی۔ وہ میرے بنگلے سے بہت بڑا تھا۔ آگ بھڑکتی ہی جارہی تھی۔ میں گیٹ کی طرف بڑھ گئی۔ کال بیل بجاتے ہوئے میں نے گھر کے مالک کا نام پڑھا۔ مجھے لگا، کسی نے مجھے دھکیل کر پھانسی کے تختے پر چڑھا دیا ہو۔ شبہ کی کوئی گنجائش نہیں رہی تھی۔
    چند لمحے بعد گیٹ کھول کر ایک چوکیدار باہر آیا۔ اس نے مجھ سے میرے آنے کا مقصد پوچھا تھا۔ میں نے اسے جواب دینے کے بجائے دروازہ دھکیل کر اندر چلی گئی۔ وہ میرے پیچھے آیا مگر مجھے روک نہیں سکا۔ سامنے وسیع و عریض پورچ میں ایک بچہ سائیکل چلا رہا تھا۔ وہ مجھے دیکھ کر رک گیا۔ میں اس کا چہرہ دیکھا۔ کسی نے میرے گلے میں پھندا ڈال دیا۔ چہرہ شناسا تھا آج زوال کا دن تھا۔ میں لپکتی ہوئی اس کے پاس گئی۔
    ”تمہارا نام کیا ہے؟”
    ”ولید عمر۔” اس نے کچھ کنفیوز ہو کر جواب دیا کسی نے پھندے کو کس دیا تھا۔
    ”تمہاری امی کہاں ہیں؟” میں نے رکتی ہوئی سانس کے ساتھ پوچھا۔ اس نے ہاتھ سے میری پشت کی طرف اشارہ کیا۔ میں پیچھے مڑ گئی، ایک عورت لان سے میری طرف آرہی تھی۔ میں نے اس کے چہرے پر نظر دوڑائی۔ چہرہ پہچاننے میں دیر نہیں لگی۔ سب کچھ شناسا تھا۔ کسی نے میرے پیروں کے نیچے سے تختہ نکال لیا۔ میں پھندے سے جھولنے لگی تھی۔ اس نے بھی مجھے دیکھا تھا۔ اس کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں ابھرا۔ اس نے دوبارہ مجھ پر نظر نہیں ڈالی۔ وہ میرے پاس سے گزر کر اپنے بیٹے کے پاس گئی اور اسے لے کر اندر چلی گئی۔ میں بھاگتی ہوئی گیٹ سے باہر آ گئی۔ ڈرائیور نے مجھے دیکھ کر دروازہ کھول دیا۔ میں نے اندر بیٹھ کر آنکھیں بند کرلیں۔ دنیا ختم ہو گئی تھی۔ سب کچھ تباہ ہو گیا تھا اور میں… میں زندہ تھی۔
    …***…
    میں نے عمر حسن کو اتنا چاہا ہے کہ شاید کبھی کسی او رنے اسے نہیں چاہا ہو گا۔ اس کی ماں نے بھی نہیں۔ وہ میرے لئے میرے وجود کا دوسرا حصہ تھا اور حیرت کی بات یہ ہے میں کبھی بھی اسے یہ بات نہیں بتا سکتی تھی۔ وہ میری خالہ کا بیٹا تھا اور میرے چچا کا بھی۔ اس سے میرا دوہرا رشتہ تھا۔ ہم دونوں کے گھر پاس پاس تھے اور گھروں میں آنا جانا بھی بہت تھا۔ میرے ابو بزنس مین تھے، اس کے ابو واپڈا میں سپرنٹنڈنٹ تھے۔ مالی لحاظ سے ہم ان سے بہت بہتر تھے بلکہ یہ کہنا بہتر ہو گا کہ ہمارا اور ان کا کوئی مقابلہ نہیں تھا۔ لیکن اس کے باوجود دونوں گھرانوں کے تعلقات بہت اچھے تھے، شاید وجہ وہ دہرا رشتہ ہو جو ہمارے والدین کے درمیان تھا بہر حال جو بھی وجہ تھی۔
    ہم دونوں خاندان بہت قریب تھے۔ ہمارے گھروں کی دیواریں آپس میں ملی ہوئی تھیں اور صحن میں دروازہ بھی تھا۔ جو ہر وقت کھلا رہتا۔ ہم اسی دروازے سے ایک دوسرے کے گھر آتے جاتے تھے۔ میری ایک بہن اور دو بھائی تھے اور عمر کی تین بہنیں اور ایک بھائی تھا۔ وہ یونیورسٹی میں اکنامکس میں ماسٹرز کر رہا تھا۔ مجھے اس سے محبت کب ہوئی، میں نہیں جانتی۔ شاید کسی کو بھی یہ پتا نہیں چلتا کہ اسے محبت کب ہوتی ہے۔





    عمر کی امی میری پسندیدگی کو جانتی تھیں اور صرف وہی نہیں، میری امی بھی اس بات سے واقف تھیں اور انہوں نے کبھی اس پر اعتراض نہیں کیا۔ خالہ کئی بار اشاروں اشاروں میں کہتی رہتی تھیں کہ وہ مجھے بہو بنا کر اپنے گھر لائیں گی اور میں اپنے لئے ان کی محبت سے واقف تھی۔ وہ میری امی سے بھی اس رشتے کے بارے میں بات کر چکی تھیں اور امی کو بھی کوئی اعتراض نہیں تھا۔ لیکن عمر سے میری شادی کوئی زیادہ جلدی نہیں ہو سکتی تھی۔ وہ گھر میں سب سے بڑا تھا اور اس سے چھوٹی تین بہنیں تھیں اور وہ تینوں جوان تھیں خالہ کا خیال تھا کہ وہ کم از کم دو بیٹیوں کی شادی کرکے پھر عمر کی شادی کریں گی۔
    عمر، بی اے کے بعد سے ماسٹرز کرنے کے ساتھ ساتھ سرجیکل کے آلات ایکسپورٹ کرنے کا چھوٹا موٹا بزنس شروع کئے ہوئے تھے اور وہ بہت مصروف رہتا تھا۔ خالہ سے شادی کے بارے میں اس کے خیالات کا اکثر پتا چلتا رہا تھا۔
    ”وہ کہتا ہے کہ جب تک کاروبار صحیح طرح سیٹ نہیں ہو جاتا، میں شادی نہیں کروں گا۔ خوامخواہ کی ذمہ داری اٹھانے اور بڑھانے کا مجھے کوئی شوق ہے نہ ہمت۔”
    میں خالہ کے سامنے اس کی سوچ کی تعریف کرتی۔ لیکن اندر ہی اندر میری اداسی بڑھتی جاتی۔ پھر بھی ان دنوں میں بہت خوش رہا کرتی تھی۔ زندگی کا ہر رستہ کسی رکاوٹ کے بغیر تھا۔ عمر مجھ سے باتیں کر لیتا تھا بلکہ کافی باتیں کر لیتا تھا مگر وہ سب باتیں عام سی ہوتی تھیں مجھے اس کی نظروں، اس کی باتوں میں وہ جذبات دکھائی نہیں دیتے تھے جو میرے دل میں اس کے لئے تھے۔ وہ بڑی عام سی باتیں کرتا تھا۔
    ”کباب بہت اچھے بنائے ہیں، بناتی رہا کرو۔”
    ”آج چائے تم بناؤ کیونکہ چائے تم سے اچھی کوئی نہیں بناتا۔”
    ”ٹی وی ذرا کم دیکھا کرو۔ کوئی فائدہ نہیں ہے ان بے کار چیزوں کو دیکھنے کا۔”
    ”تم نے پلانٹس کو بہت اچھے طریقے سے رکھا ہے۔ پورے گھر کو خوبصورت بنا دیا ہے تم نے۔”
    ”کیا اسے نظر نہیں آتا کہ میری آنکھوں میں اس کے لئے کیا ہے؟ کیا وہ نہیں جانتا کہ میں اس کے گھر کس کے لئے جاتی ہوں؟ وہ آخر یہ سب کیوں نہیں سمجھ لیتا یہ سب پہیلی تو نہیں ہے پھر آخر وہ یہ سب کیوں کرتا ہے۔ اتنا بے خبر، اتنا انجان کیوں بنا ہوا ہے۔ کیا مرد اتنا بے وقوف ہوتا ہے، کیا اس کا دل نہیں ہوتا؟”
    میں سوچتی اور کمرے کے چکر لگاتی رہتی۔ پانی پیتی اور اپنے اندر کی آگ کو بجھاتی رہتی۔ گہرے سانس لیتی اور اپنے غصہ کو ٹھنڈا کرتی رہتی۔
    …***…
    ”عمر حسن کسی اور سے محبت کرتا ہے۔ کسی اور سے شادی کرنا چاہتا ہے اور میں؟ میرا کیا ہو گا؟ مجھ میں کیا نہیں تھا جو اسے مجھ سے محبت نہیں ہوئی۔”
    مجھے لگا تھا، کسی نے میرے وجود کو گہری کھائی میں دھکیل دیا تھا۔ میری امی کو تھوڑی بہت پریشانی ہوئی مگر پھر شاید انہوں نے خدا کا شکر ادا کیا ہو گا کہ انہوں نے میرا اور عمر حسن کا رشتہ طے نہیں کیا تھا صرف زبانی کلامی ہی بات ہوئی تھی ورنہ ان کی بہت بدنامی ہوتی۔ مگر انہیں کیا پتا تھا کہ تعلق دلوں میں بنتے ہیں اور عمر حسن سے میرا جو تعلق بن چکا تھا وہ اب کبھی بھی نہیں ٹوٹنا تھا۔
    ایک ہفتہ بعد خالہ، ثناء کا رشتہ مانگنے چلی گئی تھیں اور ثناء کے گھر والوں نے فوری طور پر ہاں کر دی تھی۔ اس رات میں بہت روئی تھی۔ اتنا روئی تھی کہ اگلی صبح میری آنکھیں کھل نہیں پا رہی تھیں۔ مجھ پر کیا گزر رہی تھی کوئی نہیں جانتا تھا، امی اسے میری… بیوقوفی سمجھ رہی تھیں۔
    ”تمہارا تو دماغ خراب ہو گیا ہے۔ تمہارے لئے رشتوں کی کیا کمی ہے اور عمر میں کون سے سرخاب کے پر لگے ہیں۔ تمہارے لئے تو میں اس سے کئی گنا اچھا رشتہ ڈھونڈوں گی اور یہ اچھا ہی ہوا کہ ابھی میں نے اس سے تمہارا رشتہ طے نہیں کیا تھا ورنہ تم خود سوچو اگر کہیں بعد میں یہ سب پتا چلتا تو ہم کیا کرتے۔”
    انہو ں نے اگلے دن میری سوجی ہوئی آنکھیں دیکھ کر کہا تھا۔ میں نے بڑی خاموشی سے ان کی باتیں سنی تھیں اور اسی طرح انہیں دوسرے کان سے نکال دیا۔
    ”یہ محبت کو کیا سمجھتی ہوں گی۔ انہوں نے کبھی محبت کی ہوتی تو یہ جانتیں کہ کسی کو دل سے نکالنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔” میں نے سوچا تھا۔
    …***…
    عمر کی ثناء سے صرف نسبت طے نہیں ہوئی تھی بلکہ ایک ماہ کے اندر اندر وہ بیاہ کر عمر کے گھر آگئی۔ حالانکہ خالہ نے اس پر بہت شور مچایا تھا۔ وہ چاہتی تھیں کہ پہلے وہ کم از کم دو بیٹیوں کی شادی کریں پھر عمر کی شادی ہو مگر ثناء کے گھر والوں کو جلدی تھی اور عمر نے اپنی امی کو بس یہ کہہ کر چپ کروا دیا تھا۔
    ”میں جانتا ہوں، میری تین بہنیں ہیں اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ وہ غیر شادی شدہ ہیں لیکن میں نے کب ان کی ذمہ داری اٹھانے سے انکار کیا ہے۔ وہ اب بھی میری ذمہ داری ہیں شادی کے بعد بھی میری ذمہ داری رہیں گی اور اس سلسلے میں آپ کو مجھ سے کبھی کوئی شکایت نہیں ہو گی۔ جہاں تک ثنا کا تعلق ہے تو وہ کبھی بھی آپ کے لئے کوئی مسئلہ کھڑا نہیں کرے گی۔ وہ میرے گھر کے بارے میں بھی جانتی ہے اور میری ذمہ داریوں کے بارے میں بھی لیکن اس کے والدین کو بھی ابھی دو بیٹیاں بیاہنی ہیں۔ ثناء کی شادی کریں گے تو دوسری بیٹیوں کی شادی کر سکیں گے۔ ان کی بھی مجبوری ہے۔ آپ کو اگر یہ خدشہ ہے کہ بہت پیسہ خرچ کرنا پڑے گا تو اس کے بارے میں بھی پریشان نہ ہوں۔ بہت سادگی سے شادی کردیں۔
    کسی دھوم دھام کی ضرورت نہیں ہے۔ جو روپیہ خرچ ہو گا، وہ میں خرچ کروں گا۔ آپ کو کوئی پریشانی اٹھانی نہیں پڑے گی۔”

    بہت سادگی سے شادی ہوئی تھی۔ مہندی وغیرہ کی کوئی رسم نہیں ہوئی تھی۔ خالہ نے شادی پر بہت قریبی عزیزوں کو بلایا تھا اور میں نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی شادی پر گئی تھی۔ کیونکہ یہ میری امی کی ضد تھی۔ وہ چاہتی تھیں کہ مجھے کسی بات پر ماتم کرنے کے لئے گھر میں نہیں بیٹھنا چاہئے۔ اس طرح صرف دوسرے لوگ تماشا دیکھتے ہیں۔ میں دل پر جبر کرتے ہوئے اس کی شادی میں شریک ہوئی تھی۔
    عمر حسن بے حد خوش تھا۔ میں نے اس سے پہلے کبھی بھی اس کو اتناخوش نہیں دیکھا۔ اس کا ہر قہقہہ میرے دل کا خون کر رہا تھا۔ اس کی بیوی خوبصورتی میں کسی طور پر بھی میرے مقابل نہیں آ سکتی تھی۔ وہ دلہن بن کر خوبصورت لگ رہی تھی اور میں اس دن دلہن نہ ہوتے ہوئے بھی بے تحاشا خوبصورت لگ رہی تھی۔ اس رات شادی سے واپس آنے کے بعد میں کمرہ بند کرکے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھ گئی تھی۔ آئینہ کہہ رہا تھا میں بے حد خوبصورت ہوں اور آج تو قیامت ہی ڈھا رہی ہوں۔
    ”لوگ کہتے ہیں میں خوبصورت ہوں اور لوگ جھوٹ نہیں بولتے۔ پھر بھی عمر حسن! تمہیں میرا حسن نظر کیوں نہیں آیا؟ اس کی کون سی چیز مجھ سے بہتر ہے؟ آنکھیں، بال، ہونٹ، ناک، رنگت کسی چیز میں بھی تو وہ مجھ سے بہتر نہیں ہے پھر بھی تم نے اسی کو کیوں چنا؟ مجھے کیو ں نہیں؟ اس نے تم پر کیا پڑھ کر پھونکا تھا کہ تم مجھے نہیں دیکھ سکے۔ وہ کون سا منتر ہے جو مجھے نہیں آتا۔ میں ساری دنیا کے لئے غلط ہو سکتی ہو ں مگر خدا جانتا ہے۔ تمہیں تو میں نے دل سے چاہا تھا، کم از کم تمہارے لئے میری محبت میں کوئی کھوٹ نہیں تھا۔ پھر بھی عمر حسن! آخر تم مجھے کیوں نہیں ملے؟”
    اس رات میں ایک بار پھر بلک بلک کر روئی تھی۔ میں اس رات سو ہی نہیں سکی۔ ایک آگ تھی جو میرے وجود کو جلانے لگی۔
    ”وہ ثناء کو کیوں لایا ہے؟ اسے اس سے محبت کیوں ہوئی ہے؟ آج وہ ہنس رہا تھا بے حد خوش تھا۔ پتا نہیں آج وہ اس سے کیا کیا وعدے کر رہا ہوگا؟ وہ سب باتیں جو میں اپنے لئے اس کے منہ سے سننا چاہتی تھی آج وہ اس سے کہہ رہا ہو گا اور اسے احساس بھی نہیں ہے کہ اس نے مجھے تباہ کر دیا ہے۔ برباد کر دیا ہے۔”
    میں جلے پیروں کی بلی کی طرح کمرے کے چکر کاٹتی رہی۔
    ”کاش ثناء مر جائے کاش وہ آج ہی مر جائے۔” میں جو بددعا اسے دے سکتی تھی میں نے دی تھی۔
    مگر جس کی دعا میں اثر نہیں ہوتا، اس کی بد دعا میں کیا اثر ہو گا، قیامت تو صرف وہی تھی جو مجھ پر گزر گئی تھی۔ دوسروں کے لئے تو دنیا بھی باقی تھی اور ثناء اور عمر کے لئے تو زندگی شاید اب ہی شروع ہوئی تھی۔ پتا نہیں کیا بات تھی لیکن عمر حسن سے میری محبت میں کمی آنے کے بجائے اور شدت آگئی تھی۔ جتنی شدت سے میں اس سے محبت کرتی تھی۔ اتنی ہی شدت سے میں ثناء سے نفرت کرتی تھی۔ میں نے سوچ رکھا تھا کہ جب عمر کی شادی ہو جائے گی پھر میں کبھی خالہ کے گھر نہیں جاؤں گی۔ لیکن میں اپنے اس فیصلے پر قائم نہیں رہ سکی۔ میں اس کی شادی کے بعد بھی اس کے گھر پہلے ہی کی طرح جاتی رہی، بلکہ شاید پہلے سے بھی زیادہ اور خالہ پہلے سے بھی زیادہ میری خاطر مدارت کرتی تھیں۔ ثناء کے ساتھ ان کا رویہ بے حد روکھا اور خشک ہوتا تھا اور مجھے بہت اچھا لگتا تھا ان کی یہ کڑوی باتیں سن کر۔




  • آؤ ہم پہلا قدم دھرتے ہیں — عمیرہ احمد

    آؤ ہم پہلا قدم دھرتے ہیں — عمیرہ احمد

    وہ آہستہ سے دروازہ بجا کر اس کے کمرے میں داخل ہو گئیں۔ وہ بیڈ کے پاس کرسی پر بیٹھا ہوا کچھ پیپرز دیکھ رہا تھا۔ وہ انھیں اس وقت اپنے کمرے میں آتے دیکھ کر حیرن ہوا تھا۔ ابھی کچھ دیر پہلے ہی تو وہ اپنی نانی کے کمرے میں امی کو سلام کر کے آیا تھا۔
    ”کیا بات ہے امی! آپ سوئی نہیں؟” اس نے پوچھا تھا۔
    امی کوئی جواب دیے بغیر اس کے پاس بیڈ پر بیٹھ گئیں۔
    ”کیا بات ہے امی؟” اس نے پہلی بار ماں کا چہرہ غور سے دیکھا تھا۔ ان کا چہرہ ستا ہوا تھا۔ شاید وہ روئی بھی تھیں۔ یہ چیز اس نے نانی کے کمرے میں نوٹ نہیں کی تھی اور یہ نوٹ کرتے ہی اس کی بے چنیی اور اضطراب میں اضافہ ہو گیا تھا۔
    ”امی! کیا ممانی سے کوئی جھگڑا ہوا ہے؟” اس نے ماں کی خاموشی پر ایک اور سوال کیا تھا۔
    ”نہیں۔ کوئی جھگڑا نہیں ہوا۔ تم اس دن بات کر رہے تھے کہ کوئی گھر لے سکتے ہو۔ الگ رہنے کے لیے؟”
    ”ہاں تو؟’ معیز نے کھوجتی ہوئی نظروں سے ماں کے چہرے کو دیکھا تھا۔
    ”تو پھر لے لو، میرا خیال ہے۔ اب ہمیں الگ ہی رہنا چاہیے اور پھر اس طرح تمھیں بھی سہولت ہو جائے گی۔” ان کے لہجے میں عجیب سی شکست خوردگی تھی۔
    ”یہ اچانک آپ جانے پر راضی کیسے ہو گئی ہیں، پہلے تو آپ مان نہیں رہی تھیں۔”
    وہ کچھ حیران ہوا تھا لیکن وہ جواب میں چپ سادھ کر رہ گئی تھیں۔ کیسے بتا دیتیں کہ آج بھائی کی باتوں نے کس طرح ان کا دل چیر کر رکھ دیا تھا۔
    معیز دس سال کا تھا جب وہ بیوہ ہو کر بھائی کے در پر آ بیٹھی تھیں۔ ان کے تین بھائی تھے جو پہلے اکٹھے رہتے تھے اور بعد میں انھوں نے اپنے پورشن الگ کر لیے تھے۔ عدت کے پورا ہوتے ہی بھائی انھیں لینے آ پہنچے تھے۔ لیکن وہ معیز کو ساتھ نہیں لانا چاہتے تھے اور رابعہ معیز کو چھوڑنا نہیں چاہتی تھیں اور ان کی یہ ضد ہی معیز کو ننھیال لانے کا سبب بنی تھی۔ وہ شادی کے پانچ سال بعد پیدا ہوا تھا اور ان کا اکلوتا بیٹا تھا ان کے شوہر ناصر مسقط میں کسی فرم میں انجینئر تھے اور وہ بھی اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے تھے۔ شادی کے پندرہ سال انھوں نے جیسے ایک مستقل بہار میں گزارے تھے۔ روپے پیسے کی ریل پیل تھی اور ساس سسر چاہنے والے تھے۔
    معیز شادی کے پانچ سال بعد پیدا ہوا تھا اور جیسے منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا ہوا تھا۔ کون سا ناز نخرہ تھا جو اس کا نہیں اٹھایا گیا تھا۔ وہ صرف ماں باپ کا ہی نہیں بلکہ خالاؤں اور ماموؤں کا بھی چہیتا تھا اور ہوتا کیوں نہ اس وقت رابعہ کے پاس بے تحاشا روپیہ تھا جو وہ کھلے دل سے اپنے بھانجے بھانجیوں پر لٹاتی تھیں۔ لاڈ پیار نے معیز کو اسی طرح بگاڑا تھا جس طرح اکلوتے بچے اکثر بگڑتے ہیں۔ وہ تعلیم میں اچھا تھا لیکن آؤٹ اسٹینڈنگ نہیں تھا اور ضد میں تو کوئی اس کا ثانی نہیں تھا جو بات ایک بار اس کے منہ سے نکل جاتی وہ جیسے پتھر پر لکیر ہو جاتی۔ دنیا ادھر کی ادھر ہو سکتی تھی مگر وہ نہیں لیکن اس وقت کسی کو اس کے غصے اور ضد پر پریشانی نہیں ہوتی تھی۔ وہ لاکھوں کی جائیداد کا اکلوتا وارث تھا پھر کون تھا جو اس میں نقص نکالنے کی حماقت کرتا۔ ان ہی دنوں رابعہ نے اپنے چھوٹے بھائی کی بیٹی سعدیہ سے معیز کی نسبت طے کر دی تھی۔ دونوں خاندان اس رشتہ پر بہت خوش تھے۔





    معیز اس وقت آٹھ سال کا تھا جب یہ ہولناک انکشاف ہوا تھا کہ ناصر کو پھیپھڑوں کا کینسر ہے۔ یہ تشخیص ہو جانے کے بعد انھیںملازمت سے ریٹائر کر دیا گیا۔ رابعہ پر جیسے ایک قیامت ٹوٹ پڑی تھی۔ انھیں ملازمت ختم ہونے کا افسوس نہیں تھا۔ انھیں تو صرف ناصر کی صحت یابی کی فکر تھی۔ ناصر کو ساتھ لیے وہ باہر کے ممالک میں علاج کے لیے پھرتی رہیں لیکن مختلف آپریشنز کے بعد بھی کینسر ختم نہیں ہوا بلکہ پھیلتا ہی چلا گیا۔ پھر ان ہی دنوں ایک ٹریفک حادثے میں ان کے سسر کا انتقال ہو گیا۔ رابعہ جیسے پھر دوراہے پر آن کھڑی ہوئی تھیں۔ وہ اپنی ساس کے ساتھ مسقط سے پاکستان شفٹ ہو گئیں پھر معیز کو اپنی ساس کے پاس چھوڑ کر وہ ایک بار پھر ناصر کو علاج کی خاطر انگلینڈ لے گئی تھیں۔ روپیہ پانی کی طرح بہانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسقط کی طرح پاکستان میں موجود ان کی جائیداد بھی بک گئی۔ جو روپیہ اکٹھا کرنے میں ناصر اور ان کے باپ کو چالیس سال لگے تھے وہ صرف دو سال میں ختم ہو گیا تھا اور جب وہ دو سال ختم ہوئے تو ناصر بھی ختم ہو گئے تھے۔ رابعہ کے لیے مصیبتوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ان کی ساس کو بھی اپنے بھائیوں کے پاس جانا پڑا اور ان کے بھائی معیز اور رابعہ کی ذمہ داری اٹھانے پر تیار نہیں تھے۔ رابعہ کی ساس بلکتے ہوئے انھیں چھوڑ کر چلی گئی تھیں۔
    سب کچھ بدل گیا ہے، کچھ بھی پہلے جیسا نہیں رہا۔ بھائیوں کے پاس آ کر رابعہ کو پہلا احساس یہی ہوا تھا۔ وقت اور حالات کے بدلنے کے ساتھ ہی لوگ بھی بدل گئے تھے۔ وہی بھائی، بھابھیاں جو انھیں بلانے کے لیے بار بار مسقط فون کیا کرتے تھے۔ اب انھیں گھر لانے کے بعد یہ طے کرنے میں مصروف تھے کہ وہ کس کے پاس رہیں گی اور انھیں خرچ کون دیا کرے گا۔ کچھ وقت گزرنے کے بعد انھوں نے رابعہ پر دوسری شادی کے لیے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔ لیکن صرف یہ ایک ایسی چیز تھی جس پر رابعہ کوئی دباؤ برداشت کرنے پر تیار نہیں ہوئی تھیں۔ ناصر ان کے لیے کیا تھے اور ان کے ساتھ گزارے ہوئے سترہ سال وہ کبھی فراموش نہیں کر سکتی تھیں۔ ان کے بھائی یہ سمجھنے سے قاصر تھے رابعہ کی ضد کے سامنے وہ جھک تو گئے تھے مگر ان کے رویے روز بروز بد سے بدتر ہوتے گئے تھے۔ وہ کئی کئی دن انھیں مخاطب نہ کرتے۔
    بھابھیاں جو بات بلاواسطہ نہیں کہتی تھیں، وہ بالواسطہ طور پر کہہ دیتی تھیں۔ ان کی ماں خود بھی بیٹوں اور بہوؤں کے رحم و کرم پر تھیں۔ وہ ہمیشہ انھیں صرف صبر کی تلقین کرتی تھیں۔
    بہنیں وہ تھیں جو بھائیوں کے گھر آتیں تو کوشش کرتیں کہ رابعہ سے ملے بغیر ہی چلی جائیں کیونکہ رابعہ کے ساتھ زیادہ گرم جوشی برتنے کا مطلب یہ ہوتا کہ انھیں پہلے بھابھیوں اور پھر بھائیوں کی بے رخی کا سامنا کرنا پڑتا، ویسے بھی وہ جس سوشل اسٹیٹس کی حامل تھیں، وہ متقاضی تھا کہ وہ صرف بھائیوں سے ہی میل جول رکھیں۔ رابعہ تو اب وہ اسٹیٹس کھو چکی تھیں اور دوبارہ اسے حاصل کرنے کا دور دور تک امکان نہیں تھا۔ لیکن جو بھی تھا۔
    رابعہ کا حوصلہ اور صبر کمال کا تھا۔ انھوں نے کبھی کسی سے شکوہ نہیں کیا۔ ایک چپ کی مہر تھی جو انھوں نے اپنے ہونٹوں پر لگا لی تھی۔ انھوں نے گھر کی پوری ذمہ داری اپنے کندھوں پر اٹھا لی تھی۔ ان کے بڑے بھائی کے گھر دو تین ملازم تھے اور وہی سارا کام لیا کرتی تھیں جیسے وہ اپنے بھائی کی ہاؤس کیپر ہوں۔ ان کی خدمت کے عوض انھیں رہائش اور تین وقت کا کھانا میسر تھا۔ ہر ماہ ان کو ایک بھائی ہزار روپے دے جاتا اور وہ انھیں ہزار روپوں میں اپنے اخراجات پورے کرنے کی کوشش کرتیں ان کے ذاتی اخراجات کچھ نہیں تھے۔ ہاں معیز کا خیال انھیں رکھنا پڑتا تھا۔ وہ اسی اسکول میں داخل تھا۔ جہاں ان کے بھائیوں کے بچے داخل تھے۔ اس میں ان کے بھائیوں کا کوئی کمال نہیں تھا۔ اپنی ساس کے ساتھ پاکستان شفٹ ہونے کے بعد انھوں نے خود ہی اسے اس اسکول میں داخل کروایا تھا کیونکہ تب ان کے پاس روپے کی کمی نہیں تھی۔ لیکن اب انھیں اس کی فیس اور دوسرے اخراجات پورے کرنے کے لیے جو جتن کرنے پڑتے تھے وہ ان کا دل ہی جانتا تھا۔ اتنی تعلیم یافتہ تو وہ تھیں نہیں کہ کوئی اچھی جاب کر سکتیں اور اگر تعلیم یافتہ ہوتیں بھی تب بھی ان کے بھائیوں کی غیرت کو یہ کہاں گوارا ہو تاکہ وہ کوئی جاب کریں۔ ایک سے بڑھ کر ایک امتحان انھیں درپیش تھا۔
    اور ان ہی امتحانوں سے نبرد آزما ہوتے ہوئے پتا نہیں کب ان کی توجہ معیز سے ہٹ گئی تھی۔ وہ ہر وقت کسی نہ کسی بھابھی کا کوئی نہ کوئی کام کر رہی ہوتیں اور اس ساری جدوجہد کا یہ فائدہ ہوتا تھا کہ کوئی نہ کوئی ان کے اخراجات پورے کر ہی دیتا تھا۔ اسی بھاگ دوڑ میں انھیں پتا نہیں چلا کب معیز ذہنی طور پر بالغ ہو گیا۔ اس نے بلاشبہ باپ کی بیماری اور موت کو بے حد محسوس کیا تھا اور وہ بہت خاموش رہنے لگا تھا۔ شروع میں اسے ماموؤں کے گھر آ کر رہنا بہت اچھا لگا تھا کیونکہ اسے ہمیشہ سے یہاں آنا پسند تھا۔ کیونکہ یہاں اس کے ساتھ کھیلنے کے لیے بہت بچے ہوتے تھے اور پھر اس کے بہت ناز نخرے بھی اٹھائے جاتے تھے۔
    لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسے پتا چل گیا تھا کہ پہلے اور اب کے رہنے میں بہت فرق تھا، اب اسے ڈانٹا جاتا تھا۔ اس کے کاموں میں روک ٹوک ہوتی تھی۔ شروع میں اس کے کزنز اس کے ساتھ بہت فرینک تھے لیکن اپنے ماں باپ کے بدلتے ہوئے رویوں کا اثر ان پر بھی ہوا تھا اور انھوں نے اسے نظر انداز کرنا شروع کر دیا۔ پہلے پہل اسے یہ سب کچھ سمجھ میں نہیں آیا مگر پھر جب اس نے اس سب پر سوچنا شروع کیا تو آگہی کے نئے در اس پر کھلتے چلے گئے۔ سارے فرق اس کی سمجھ میں آنے لگے تھے اور وہ جیسے شاک میں آتا چلا گیا تھا۔ بہت نامحسوس طور پر اس میں تبدیلی آنے لگی تھی۔ اس نے آہستہ آہستہ اپنے کزنز کے ساتھ کھیلنا چھوڑ دیا کیونکہ اب وہ خود کو ان کے برابر کا نہیں سمجھتا تھا۔ وہ پہلے والی ضد یکسر ختم ہو گئی تھی۔ اسے ماں کی بے توجہی کی شکایت بھی نہیں رہی تھی۔
    وہ اسکول سے آ کر کسی کونے میں اپنا بیگ لے کر بیٹھ جاتا اور ہوم ورک کرتا رہتا، جب ہوم ورک ختم ہو جاتا تو پھر ڈرائنگ کرنے لگتا اور جب اس میں دلچسپی ختم ہو جاتی تو کوئی کتاب نکال کر پڑھنے لگتا، اسٹڈیز میں اب اس کے گریڈز بہت اچھے آنے لگے تھے۔ ہر بار اس کا رزلٹ کارڈ دیکھ کر رابعہ کا سیروں خون بڑھ جاتا۔ انھیں لگتا تھا کہ اس کو ڈاکٹر بنانے کا ان کا خواب پورا ہونے والا ہے۔
    …***…
    معیز کے مزاج میں ہونے والی تبدیلیوں کا احساس انھیں پہلی مرتبہ تب ہوا تھا۔ جب وہ ایک صبح اسے اتفاقاً ہی گاڑی تک چھوڑنے چلی گئی تھیں۔ وہ انھیں خدا حافظ کہہ کر گاڑی میں بیٹھ گیا۔ ان کے بھائی کے بچے ابھی تک نہیں پہنچے تھے۔ وہ بلا مقصد ہی کھڑی رہیں۔ پھر کچھ دیر بعد ان کے بھتیجے اور بھتیجیاں آ گئی تھیں۔
    ”تم آگے ہو کر بیٹھو، کھڑکی کے پاس میں بیٹھوں گا۔ میں تمھیں روز کہتا ہوں پھر تم پر اثر کیوں نہیں ہوتا؟”
    ان کے سب سے چھوٹے بھتیجے نے آتے ہی بڑی بدتمیزی سے دروازہ کھول کر معیز کو جھڑکتے ہوئے کہا تھا۔ رابعہ ڈر گئی تھیں کہ معیز ابھی لڑنا شروع کر دے گا اور اسی خدشے کے پیش نظر وہ گاڑی کے پاس آ گئی تھیں مگر معیز بے حد خاموشی سے آگے سرک گیا تھا۔ ان کے سارے بھتیجے اور بھتیجیاں گاڑی میں سوار ہو گئی تھیں اور وہ ان کے درمیان سکڑا ہوا سر جھکائے بیٹھا تھا۔
    گاڑی چل پڑی تھی اور رابعہ کے گال آنسوؤں سے بھیگنے لگے تھے۔ انھیں یاد تھا وہ ہمیشہ کھڑکی کے پاس ہی بیٹھتا تھا اور کسی میں اتنی ہمت نہیں ہوتی تھی کہ وہ اسے وہاں سے ہٹا دیتا اور اب معیز کی اطاعت گزاری نے انھیں خوش کرنے کے بجائے ان کا دل چھید دیا تھا۔ جب ناصر زندہ تھے تو بعض دفعہ وہ معیز کی ضد اور غصے سے تنگ آ کر ہر ایک سے پوچھتی رہتیں کہ وہ اسے کیسے ٹھیک کریں اور اب جب ان کی مشکل حل ہو گئی تھی تو وہ رو رہی تھیں۔ اسی دن اسکول سے واپس آنے کے بعد وہ بہانے بہانے سے معیز کو پیار کرتی رہیں۔
    معیز واقعی بدل گیا تھا۔ اس بات کا یقین انھیں تب ہوا تھا جب چند روز بعد ایک روز صبح اسکول جاتے ہوئے انھوں نے اسے پاکٹ منی دینے کی کوشش کی۔
    ”نہیں امی! اب میرا روپے خرچ کرنے کو دل نہیں چاہتا۔”
    بڑی سنجیدگی سے اس نے ماں کا ہاتھ پیچھے کر دیا تھا۔ اس کے الفاظ پر جیسے رابعہ کا سانس ہی رک گیا تھا۔
    ”کیوں بیٹا؟”
    ”بس ویسے ہی ٹک شاپ آتے جاتے بہت وقت لگ جاتا ہے پھر وہاں پر رش بھی بہت ہوتا ہے ساری بریک تو انتظار میں ہی گزر جاتی ہے پھر پاکٹ منی کا کیا فائدہ۔”
    وہ اپنا اسکول بیگ بند کرتے ہوئے کہہ رہا تھا۔ رابعہ بے یقینی سے اس کا چہرہ دیکھ رہی تھیں، وہ روپے خرچ کرنے کا کتنا شوقین تھا وہ اچھی طرح جانتی تھیں۔ وہ جب سے اس اسکول میں آیا تھا تب سے روز پانچ دس روپے لے کر جاتا رہا تھا تب کبھی اس نے کینٹین کے دور ہونے کا رونا نہیں رویا تھا پھر اب کیا بات ہو گئی تھی۔ رابعہ کو اپنی بے چارگی کا شدت سے احساس ہوا تھا۔
    آٹھویں کلاس تک آتے آتے وہ بالکل ہی بدل چکا تھا۔ اس میں پہلے والی کوئی بات نہیں رہی تھی۔ اس کا غصہ بالکل ختم ہو چکا تھا۔ ماموؤں کی ڈانٹ ڈپٹ کو وہ بڑی خاموشی سے سنتا تھا۔ اس نے کبھی ممانیوں کی کسی بات کا برا مانا نہ ہی کبھی وضاحتیں پیش کرنے کی کوشش کی۔
    اس کے چہرے کے نقوش بہت عام سے تھے اور رنگت بھی سانولی تھی۔ اوپر سے وہ تھا بھی دبلا پتلا اور کسی نہ کسی بات پر وہ اپنے کزنز کے مذاق کا نشانہ بنتا ہی رہتا تھا مگر اس نے کبھی پلٹ کر کسی کو جواب نہیں دیا۔ وہ بڑی خاموشی سے سب کی باتیں برداشت کر لیتا تھا۔ ماموں کے گھر کی دوسری منزل پر موجود اسٹور کو اس نے اپنے کمرے کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا تھا اور سارا دن اپنے کمرے میں ہی گھسا رہتا۔ پھر اچانک اس نے زیادہ وقت گھر سے باہر رہنا شروع کر دیا۔
    ماں کے استفسار پر اس نے کہہ دیا کہ وہ اپنے دوست کے ساتھ پڑھتا رہتا ہے۔ پھر گھر سے باہر رہنا جیسے اس کا معمول ہی بن گیا تھا۔ رابعہ کو ہمیشہ اس کی بات پر یقین آ جاتا کہ وہ دوست کے ساتھ پڑھتا ہے۔ کیونکہ گھر آنے کے بعد بھی وہ زیادہ وقت کتابیں لے کر ہی بیٹھا رہتا تھا۔ پھر جب وہ میٹرک میں آیا تو اس کے باہر رہنے کے اوقات بھی بڑھ گئے۔ لیکن رابعہ پھر بھی مطمئن تھیں۔ پتا نہیں انھیں کبھی یہ کیوں نہیں لگا کہ وہ کہیں کوئی غلط کام نہ کر رہا ہو، گھر پر وہ جب بھی ہوتا کسی نہ کسی کو کوئی نہ کوئی کام یاد آتا رہتا اور وہ بار بار اندر باہر کے چکر لگاتا رہتا۔ اب رابعہ کی بھی یہی خواہش ہوتی تھی کہ وہ باہر ہی رہے۔ کم از کم باہر وہ اطمینان سے پڑھتا تو ہوگا۔
    …***…
    میٹرک کے امتحانات میں وہ شاندار نمبروں سے کامیاب ہوا تھا اسکول میں پہلی پانچ پوزیشنز لینے والوں میں سے ایک وہ بھی تھا۔ رابعہ کو ان کی منزل اور قریب لگنے لگی تھی۔ رابعہ کے بھائیوں اور بھابھیوں نے انھیں مبارکباد دی تھی لیکن بجھے دل سے کیونکہ ان کے اپنے بچوں میں سے جتنوں نے بھی میٹرک کا امتحان دیا تھا وہ بمشکل پاس ہی ہوئے تھے۔ پھر اسی شام ان کے بڑے بھائی نے ان سے پوچھا۔
    ”اب معیز نے آگے کیا کرنا ہے؟”
    ”آگے کالج میں ایڈمیشن لے گا۔” رابعہ نے بے حد خوشی سے کہا تھا کیونکہ پہلی بار بھائی نے اتنی دلچسپی سے معیز کے بارے میں پوچھا تھا۔
    ”کالج میں ایڈمیشن لے کر وہ کیا کرے گا اب وہ اتنا بڑا ہو چکا ہے کہ اپنے پیروں پر کھڑا ہو جائے اس سے کہو کہ اب میرے پاس فیکٹری آ جایا کرے۔ مہینے کے اتنے روپے تو میں اسے دے ہی دوں گا کہ وہ اپنا اور تمہارا خرچ اٹھا سکے۔”
    رابعہ نے گم صم ہو کر بھائی کو دیکھا تھا۔ ان کے لہجے میں ایک عجیب سی بیزاری تھی۔ یہ وہی بھائی تھا جو کسی زمانے میں کہتا تھا کہ معیز کو ڈاکٹر بننا چاہیے کیونکہ خاندان میں کوئی ڈاکٹر نہیں ہے۔ رابعہ کی آنکھیں بھر آئیں۔
    ”نہیں بھائی جان! ابھی اس نے پڑھا ہی کیا ہے۔ آج کل خالی میٹرک کو کون پوچھتا ہے۔ ابھی تو اس نے آگے پڑھنا ہے۔ پھر اسے شوق بھی ہے۔” ان کے لہجے میں لجاجت تھی۔ ان کا بھائی خاموش رہا تھا مگر اس نے جن نظروں سے رابعہ کو دیکھا تھا وہ رابعہ کے وجود کو بھکاری بنا گئی تھیں۔ بیٹے کی کامیابی کی ساری خوشی یک دم ختم ہو گئی تھی۔ لیکن صحیح معنوں میں قیامت تو ان پر تب ٹوٹی تھی جب معیز نے بھی کالج میں داخلہ لینے سے انکار کر دیا تھا۔
    ”مجھے پڑھ کر آخر کرنا کیا ہے۔ میں کوئی کام کرنا چاہتا ہوں۔”
    رابعہ کو اس کی بات سن کر اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا تھا۔
    ”معیز! تم کیا کہہ رہے ہو؟” ان کے لہجے میں بلا کی بے یقینی تھی۔
    ”ہاں امی! میں اب پڑھنا نہیں چاہتا۔ میں کوئی کام کرنا چاہتا ہوں آخر کب تک ہم دوسروں کا کھاتے رہیں گے؟” اس نے پھر پہلے کی طرح اپنی بات دہرائی تھی۔
    ”کیا کام کرو گے؟ میٹرک پاس کو کون ملازمت دیتا ہے اگر تمھیں دوسروں کے ٹکڑوں پر پلنے کا اتنا ہی احساس ہے تو کچھ بن کر دکھاؤ۔ اسی لیے کہتی ہوں اپنی تعلیم جاری رکھو۔ ڈاکٹر بنو۔ تم نہیں جانتے تمھارے باپ کو کتنی خواہش تھی تمھیں ڈاکٹر بنانے کی۔ کتنے خواب دیکھے تھے انھوں نے تمھارے لیے۔”
    وہ ان کی بات پر بڑے عجیب سے انداز میں ہنسا تھا۔
    ”امی! سارے خواب پورے نہیں ہوتے اور جب یہ پتا چل جائے کہ کوئی خواب پورا نہیں ہو سکتا تو پھر اس کا پیچھا چھوڑ دینا چاہیے یہ زندگی میں سکون کے لیے بہت ضروری ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے۔ کیا میں ڈاکٹر بننا نہیں چاہتا تھا۔ چاہتا تھا بالکل چاہتا تھا لیکن جب میں نے آپ کو فیس اور دوسرے اخراجات کے لیے دوسروں کی منت سماجت کرتے دیکھا تو میں نے اپنے دماغ سے ایسے سارے خواب نکال دیے۔”
    ”تم ایسی باتیں کیوں کر رہے ہو۔ یہ سب کیوں سوچتے ہو، تم صرف اپنی تعلیم کے بارے میں سوچو، اخراجات کی فکر مت کرو۔”




  • کوئی لمحہ خواب نہیں ہوتا — عمیرہ احمد

    ”میں وہاں دوبارہ کبھی نہیں جاؤں گی کبھی نہیں۔” اسے یاد آیا تھا۔ ڈیڑھ سال پہلے اس گھر سے جانے کے بعد اس نے خود سے وعدہ کیا تھا اور اب اس نے ایک گہرا سانس لیا تھا۔ گاڑی گیٹ کے اندر داخل ہو گئی تھی۔
    ”تو تمہیں آخر کار یاد آہی گئی ہے ہماری۔ دو فون کیے تھے اور تم پھر بھی تب آئی جب پاپا لینے گئے ہیں۔”
    فری نے اسے دیکھتے ہی گلے لگا لیا تھا اور پھر شکوے شروع کر دیے تھے۔ وہ بالکل ویسی ہی تھی۔ کندھے پر جھولتے ہوئے سیاہ سلکی بال اب قدرے لمبے ہو گئے تھے۔
    مومی دھیرے سے مسکرائی تھی۔ فری اب اس کی بہنوں اور امی سے ملنے لگی تھی مایوں کے کپڑوں میں وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔ اسے ساتھ لے کر وہ اوپر اپنے کمرے میں آگئی تھی۔ کمرہ اس کی دوستوں سے بھرا ہوا تھا۔ اس نے مومی کا تعارف کروایا تھا۔ تھوڑی دیر بعد ثمین بھی آگئی تھی وہ بھی اس سے گلے ملی تھی۔ فری کی دوستیں ڈھولک بجانے کی تیاری کر رہی تھیں۔ وہ بھی ان کے ساتھ ہی بیٹھ گئی۔ گھر میں مہمانوں کی چہل پہل بڑھتی جارہی تھی۔ شام سات بجے نیچے ہال میں آگئے تھے۔ ڈھولک بجنی شروع ہو گئی تھی۔ وہ کافی دیر تک تالیاں بجاتی رہی پھر وہ تھک گئی تھی تو اُٹھ کر باہر لان میں آگئی۔ لان میں موجود لائٹس آن تھیں کچھ لوگ وہاں بھی موجود تھے مگر وہاں اندر جیسا شور نہیں تھا۔ اسے سکون محسوس ہوا تھا۔
    ڈیڑھ سال پہلے جب اس نے یہاں ایک سال گزارا تھا تب بھی وہ اس طرح اکثر لان میں آکر بیٹھا کرتی تھی خاموشی میں تنہائی میں، ہر چیز پہلے ہی کی طرح تھی۔ وہاں کچھ بھی نہیں بدلا تھا۔ لان میں موجود پھولوں اور پودوں کی تعداد میں کچھ اضافہ ہو گیا تھا اور درخت پہلے سے کچھ بڑے ہو گئے تھے۔ ہاں اور بیلیں بھی تو زیادہ پھیل گئی ہیں اس نے عمارت کے اوپر چڑھتی ہوئی بیلوں کو دیکھتے ہوئے سوچا تھا۔ پھر اس نے داہنی جانب والی عمارت پر نظر دوڑائی اور بہت دیر تک وہ اسے دیکھتی رہی تھی۔ ہاں یہ بھی ویسی ہی ہے جیسی ہمیشہ نظر آتی تھی۔ اس عمارت میں بھی لائٹس آن تھیں اور چہل پہل نظر آرہی تھی۔
    ”واقعی سب کچھ ویسا ہی تو ہے، بدلا کیا ہے اور میں کس چیز کو بدلا ہوا دیکھنا چاہتی تھی۔”
    وہ ایک نسبتاً تاریک کونے میں آکر بیٹھ گئی۔ یہاں سے جانے کے بعد پچھلے ڈیڑھ سال میں اس نے دن میں کئی بار اس جگہ کو یاد کیا تھا۔ اس جگہ کا ایک نقش بھی اس کے ذہن سے محو نہیں ہوا تھا۔ وہ ابھی بھی آنکھیں بند کرکے بتا سکتی تھی کہ کس جگہ پر کون سی چیز موجود ہے۔





    فری نے تین ہفتے پہلے فون کرکے اسے اپنی شادی کی تاریخ طے ہونے کی اطلاع دینے کے ساتھ آنے کی دعوت دی تھی۔ اس کے چند دنوں بعد اس نے ایک بار پھر فون کیا تھا۔ مگر وہ پھر بہانہ بنا کر ٹال گئی تھی مگر صبح تایا کے جانے کے بعد اس کے پاس کوئی بہانا نہیں رہا تھا۔ وہ آنا نہیں چاہتی تھی مگر امی او رباقی بہنیں آنے کے لیے تیار ہو گئی تھیں اور پھر وہ کسی صورت گھر پر نہیں رہ سکتی تھی۔ وہ لوگ تایا کے ساتھ ہی آگئے تھے اور اب وہ یہاں بیٹھی ہوئی تھی اپنے اس عہد کے باوجود۔
    رات دیر تک سب لوگ ڈھولک بجاتے رہے تھے۔ پھر آہستہ آہستہ سارے مہمان رخصت ہو گئے وہ بھی اوپر آکر سو گئی تھی۔ صبح اس کی آنکھ دیر سے کھلی تھی۔ وہ منہ ہاتھ دھو کر نیچے آگئی تھی۔ لاؤنج میں نبیلہ آنٹی بیٹھی ہوئی تھیں۔ وہ انہیں دیکھ کر ٹھٹک گئی تھی۔ وہ امی اور تائی کے ساتھ باتوں میں مصروف تھیں۔ وہ واپس اوپر بھاگ جانا چاہتی تھی۔ مگر انہوں نے اسے دیکھ لیا تھا۔
    ”آؤ مومی! کیسی ہو؟ میں ابھی تمہاری امی سے تمہارا ہی پوچھ رہی تھی۔” ان کے لہجے میں وہی نرمی تھی۔
    وہ ان کے پاس چلی آئی۔ انہوں نے اسے گلے لگا کر اس کا ماتھا چوما تھا۔ وہ ان کے پاس بیٹھی ہوئی تھی جب فراز اندر آیا تھا۔
    ”ولید کا کیا بنا، اسے سیٹ مل گئی؟” اس نے آتے ہی نبیلہ آنٹی سے پوچھا تھا۔
    مومی کا دل یک دم جیسے ٹھہر گیا۔ ”نہیں سیٹ کہاں ملی ہے کہہ رہا ہے اب پرسوں آؤں گا۔ صبح فون آیا تھا اچھی بھلی اس نے بکنگ کروائی ہوئی تھی ایک ہفتے پہلے کی فلائٹ میں، مگر تمہارے ماموں نے کسی کلائنٹ سے ملنے کے لیے کینیڈا بھجوا دیا ورنہ وہ کئی دن پہلے آجاتا۔ اب میں تو دعا کر رہی ہوں کہ کم از کم پرسوں والی فلائٹ کو کچھ نہ ہو۔” انہوں نے فراز سے کہا تھا۔
    ”تو وہ یہاں نہیں ہے، اچھا ہے وہ نہ ہی آئے، اس کی فلائٹ مس ہو جائے یا اس کی سیٹ کینسل ہو جائے۔ کاش میرا دوبارہ اس سے سامنا نہ ہو۔” اس کے دل میں شدت سے خواہش ابھری تھی، وہ وہاں سے اٹھ گئی۔
    وہ دو دن اس نے بڑے سکون سے گزارے۔ اس کا سامنا کرنے کا خوف اس کے دل سے ختم ہو گیا تھا۔ تیسرے دن صبح نو بجے وہ ناشتہ کرنے کے بعد کچن سے چائے کا کپ لے کر نکل رہی تھی۔ جب لاؤنج میں سے آنے والی ایک آواز نے اس کے قدموں کو روک دیا تھا۔ وہ کچن کے دروازے سے واپس کچن میں آگئی تھی۔
    ”فلائٹ کچھ لیٹ ہو گئی تھی۔ اس لیے سات بجے یہاں پہنچا۔ ناشتہ کرنے کے بعد سویا نہیں، سیدھا یہیں آیا ہوں۔”
    پورے ڈیڑھ سال بعد اس نے وہ آواز سنی تھی اور اس نے پہچاننے میں کوئی غلطی نہیں کی تھی۔ وہ اب قدرے آہستہ آواز میں ٹھہر ٹھہر کر بات کر رہا تھا۔ پہلے کی طرح بلند اور تیز تیز نہیں بول رہا تھا۔ اس نے چائے کا مگ ٹیبل پر رکھ دیا مگ سے اٹھتی ہوئی بھاپ کو اس نے ہاتھ سے محسوس کرنے کی کوشش کی تھی۔ لاؤنج میں سے آنے والی آوازیں اب کم ہو گئی تھیں شاید وہ اوپر گیا تھا۔ فری اور ثمین سے ملنے وہ کرسی کھینچ کر خاموشی سے بیٹھ گئی مہندی والی شام فری اور ثمین کی دوستوں اور کزنز کے ساتھ وہ بھی مہندی کی پلیٹ ہاتھ میں لیے نبیلہ آنٹی کے گھر داخل ہو رہی تھی۔ جب پورچ میں عثمان اور کچھ دوسرے لڑکوں کے ساتھ سفید شلوار قمیص میں ملبوس ولید کو اس نے دیکھا تھا۔ وہ مسکراتے ہوئے عثمان سے باتیں کر رہا تھا اور ساتھ ساتھ ان لوگوں پر نظر دوڑا رہا تھا۔ اس نے ابھی اسے نہیں دیکھا تھا، وہ باقی لڑکیوں سے پیچھے تھی حواس باختگی کے عالم میں اس نے ادھر ادھر دیکھا۔
    ”تم کچھ دیر کے لیے میری پلیٹ پکڑو، میں ابھی آتی ہوں۔”
    اس نے اپنے ساتھ چلتی ہوئی ایک لڑکی سے کہا اور پھر واپس چلی گئی۔ واپس فری کے گھر آکر وہ لان میں گئی اور دونوں گھروں کے درمیان باؤنڈری وال میں موجود چھوٹے سے لکڑی کے دروازے کا ہک اتار کر وہ نبیلہ آنٹی کے لان میں داخل ہو گئی۔ سامنے جانے کے بجائے وہ گھر کی عقبی سمت گئی اور پھر کچن کا عقبی دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گئی تھی۔ کچن میں چند ملازم موجود تھے انہوں نے حیرانی سے اسے دیکھا تھا۔ مگر کچھ کہا نہیں تھا۔ وہ وہاں سے نکل کر ہال کی طرف آگئی تھی۔ ہال سے ڈھولک اور گانے کی آوازیں آرہی تھیں۔ اس نے ہال میں داخل ہونے سے پہلے دروازے میں رک کر ایک نظر اندر ڈالی تھی۔ ہال میں موجود لڑکوں میں وہ نہیں تھا۔ وہ اطمینان کی سانس لے کر اندر داخل ہو گئی۔ ثمین نے اسے دیکھتے ہی اشارہ کیا تھا۔ وہ اس کے پاس چلی گئی۔ ”تم کہاں چلی گئی تھی۔ میں تمہیں ہی تلاش کر رہی تھی۔”
    ”مجھے ایک کام یاد آگیا تھا میں گھر گئی تھی۔” ثمین نے کام کی نوعیت نہیں پوچھی تھی وہ بھی سب لڑکیوں کے ساتھ تالیاں بجانے لگی۔
    ”لڑکے کے بھائیوں کو بلاؤ۔ وہ کہاں فرار ہو گئے ہیں۔” فری کی ایک دوست نے ایک گانا شروع کرنے سے پہلے کہا تھا۔ وہ تالیاں بجاتے بجاتے رُک گئی۔ وہ ایک بار پھر حواس باختہ ہو گئی تھی۔ پھر کوئی عثمان اور ولید کو اندر بلا لایا۔ ان کے اندر آتے ہی سیٹیوں اور نعروں سے ان کا استقبال ہوا تھا۔ اس نے سرجھکا لیا۔ لڑکیوں نے ایک بار پھر گیت گانے شروع کر دیے تھے۔ وہ باری باری لڑکے کے پورے خاندان کی مٹی پلید کر رہی تھیں۔ وہ سر جھکائے خاموشی سے تالیاں بجاتی رہی تھی۔ اس نے دیکھنے کی کوشش نہیں کی کہ وہ کہاں کھڑا تھا اور اس نے اسے دیکھا تھا یا نہیں آدھ گھنٹہ تک گانے گانے کے بعد کھانا کھانے کا اعلان ہوا۔ آہستہ آہستہ سب ہال سے نکلنے لگے تھے۔ پچھلے لان میں باربی کیو کا انتظام تھا اور اب باہر سے اسٹیریو پر گانوں کی آوازیں آنے لگیں۔
    ”مومی! واصف بھائی کا کمرہ دیکھنے چلتے ہیں۔” عثمان کہہ رہا تھا۔ کچھ فلورل ارینجمنٹس کروائی ہیں۔ دیکھتے ہیں کیسا ہے کمرہ۔” ثمین نے اچانک اس کے کان میں کہا تھا اس نے سرہلادیا۔
    ”سائرہ! تم بھی چلو گی؟” اس نے اپنی خالہ کی بیٹی سے پوچھا تھا۔
    ”ہاں کیوں نہیں”
    ”تو بس ٹھیک ہے، چلو خاموشی سے چلتے ہیں۔ پتا چل گیا تو سب پہنچ جائیں گے وہاں۔” ثمین نے اٹھتے ہوئے سرگوشی میں کہا۔ وہ ان کے ساتھ چل پڑی، سیڑھیاں چڑھتے ہوئے ثمین کو یاد آیا۔
    ”کمرہ تو لاکڈ ہوگا۔ مومی تم ٹھہرو، میں اور سائرہ واصف بھائی سے چابی لے کر آتے ہیں۔”
    ثمین سارہ کو لے کر واپس اتر گئی۔ وہ اوپر چڑھنے لگی۔ واصف کے کمرے کے دروازے تک پہنچنے کے بعد اس نے غیر محسوس طور پر ناب گھمائی۔ دروازہ لاکڈ نہیں تھا۔
    ”ثمین فضول میں ہی نیچے گئی۔” اس نے سوچا۔ پھر وہ کمرے میں داخل ہو گئی اسے حیرانی کا جھٹکا لگا تھا۔ کمرہ ویل ڈیکوریٹڈ تھا۔ مگر وہاں کوئی فلورل ارینجمنٹ نہیں تھی۔ اس نے کندھے جھٹکے تھے۔ وہ کسی طور پر بھی شادی والا کمرہ نہیں لگ رہا تھا۔ وہ ثمین کا انتظار کرنے لگی۔ پھر وہ اسٹڈی کے دروازے تک آئی تھی اور اس نے اسٹڈی کا دروازہ کھول دیا۔ سب کچھ بالکل پہلے ہی کی طرح تھا۔ کتابیں اسٹڈی ٹیبل اور اس پر موجود کمپیوٹر مگر اب وہاں پڑی ہوئی چیزوں میں پہلے جیسی بے ترتیبی نہیں تھی۔ اس نے ایک گہرا سانس لے کر دروازہ بند کر دیا۔ ثمین ابھی تک نہیں آئی تھی اسے کچھ بے چینی ہونے لگی تھی۔
    تب ہی اچانک کوئی دروازہ کھول کر اندر آگیا۔ وہ ساکت ہو گئی۔ وہ ولید تھا اس کے پیچھے اس کا کوئی دوست تھا۔ اس نے اپنے پورے وجود میں ایک سنسنی سی محسوس کی تھی۔ وہ کچھ کہے بغیر اس پر نظریں جمائے دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھے ہوا تھا۔
    ”یہ واصف کا کمرہ نہیں ہے۔” بہت سرد آواز میں اس سے کہا گیا تھا وہ سن ہو گئی تھی۔
    ”یہ واصف بھائی کا کمرہ ہے۔” اس نے اپنی بات پہ زور دینے کی کوشش کی تھی۔
    ”نہیں یہ واصف کا نہیں میرا کمرہ ہے۔” اس بار اسے اپنے پیروں تلے سے زمین سرکتی محسوس ہوئی تھی۔
    ”مگر یہ اسٹڈی تو۔” اس نے بے یقینی سے ہاتھ سے اسٹڈی کی طرف اشارہ کیا تھا۔
    ”یہ میری اسٹڈی ہے۔ واصف کا کمرہ اگلے کمرے کے ساتھ ہے۔” اس نے ایک نظر اسٹڈی کے دروازے پر ڈالی اور پھر سرجھکا کر غیر متوازن قدموں سے کمرے سے نکل گئی تھی۔ ولید نے کمرے کا دروازہ بند کر دیا۔ وہ چند لمحے باہر دروازے کو دیکھتی رہی۔ پھر وہ آہستہ آہستہ آگے بڑھ گئی تھی۔ ایک کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا ثمین اور سائرہ اندر کھڑی تھیں۔
    ”تم کہاں تھیں؟ کب سے انتظار کر رہے ہیں تمہارا۔ ذرا دیکھو اچھا ڈیکوریٹ کیا گیا ہے۔”
    اس نے مومی پر نظر پڑتے ہی کہا تھا۔ وہ کہیں اور پہنچی ہوئی تھی اسے یاد تھا، وہ ہمیشہ اسی اسٹڈی میں جایا کرتی تھی جہاں وہ کچھ دیر پہلے گئی۔ مگر واصف کا کمرہ اور اسٹڈی یہ تھے وہ کمرے میں کچھ بھی نہیں دیکھ پارہی تھی۔ اس کا ذہن الجھا ہوا تھا۔ ثمین اور سائرہ کمرے میں چل پھر رہی تھیں۔
    ”چلو اب نیچے چلتے ہیں۔” ثمین نے کچھ دیر بعد کہا۔
    ”ابھی کھانا بھی کھانا ہے اور تم ایک بات یاد رکھو خبردار تم لوگوں نے اب کوئی گانا ولید کے خلاف گایا یا کسی میں اس کا ذکر کیا۔ میں نے پہلے برداشت کر لیا اب نہیں کروں گی۔ عثمان کو بے شک گھسیٹو مگر ولید کو کچھ مت کہنا۔”
    دروزے سے نکلتے ہوئے ثمین نے سائرہ سے کہا تھا۔ اس نے جواباً قہقہہ لگایا۔ ”بڑی پرواہ ہے اپنے منگیتر کی۔ تم یوں بات کر رہی ہو جیسے ہمارا تو کوئی رشتہ ہی نہیں رہ گیا۔ اس سے تمہاری نسبت طے ہونے کے بعد۔” وہ ان دونوں کے پیچھے چل رہی تھی، ایک لمحہ کے لیے وہ ٹھٹک گئی تھی آج انکشافات کا دن تھا۔
    ”ثمین اور ولید۔” اس نے زیر لب کہا تھا۔
    ”مگر یہ کیسے ہو سکتاہے، وہ تو؟” ثمین اور سائرہ سیڑھیاں اترتی گئیں تھیں۔ وہ ان سے پیچھے رہ گئی۔ اس کی کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ تھکے تھکے قدموں سے وہ سیڑھیاں اترتی گئی۔
    …***…
    ”یار! تمہیں پتا نہیں ممی کتنی پابندیاں لگاتی ہیں اور کیسی کیسی پابندیاں لگاتی ہیں۔ بعض دفعہ مجھے لگتا ہے، میں لڑکا نہیں لڑکی ہوں۔ سوتیلا ہونا بھی بڑا عذاب ہے۔ سوتیلے ہونے سے بہتر مرجانا ہے۔” اندر سے آنیوالی آواز نے اس کے قدم روک دئیے۔
    ”ہر وقت ہدایات دیتی رہتی ہیں۔ یہ کرو یہ نہ کرو یہاں جاؤ وہاں مت جاؤ، ہر بات میں نکتہ چینی کرتی رہتی ہیں۔ باقی دو میں انہیں کوئی خامی نظر نہیں آتی اور مجھ میں بھولے سے بھی کوئی خوبی نظر نہیں آتی۔ میں تو تنگ آگیا ہوں اس زندگی سے۔”
    اس نے ایک گہری سانس لی۔ وہ جو کوئی بھی تھا۔ مسلسل بول رہا تھا اس نے پیر سے دروازے پر ہلکی سی ٹھوکر لگائی پھر اس عمل کو دو تین بار دہرایا۔ اندر یک دم خاموشی چھا گئی۔
    ”یہ تمہارے گھر میں دستک دے کر اندر آنے والا کون پیدا ہو گیا ہے؟” ٹرے کو دونوں ہاتھوں میں تھامے دائیں ہاتھ کی دو انگلیوں سے ہینڈل گھما کر اندر داخل ہوتے اس نے پھر وہی حیرت بھری آواز سنی تھی۔ سر اٹھا کر اس نے پہلی بار بولنے والے کو دیکھا۔ بلیک جینز اور شرٹ میں ملبوس وہ جوگرز سمیت صوفے پر لیٹا ہوا تھا۔ اسے دیکھ کر تیزی سے اٹھ کر بیٹھ گیا تھا فراز گلے میں تولیہ لٹکائے واش روم سے نکلا۔
    ”آؤ یہ چائے ٹیبل پر رکھ دو ولید! یہ مومنہ ہے۔ بلال چچا کی بڑی بیٹی یہاں رہنے کے لیے آئی ہوئی ہے اور مومی! یہ ولید ہے ارمغان ماموں کا بیٹا ہے۔ یہ ساتھ والا گھر ان ہی کا ہے یہاں آتا جاتا رہتا ہے۔ یہ جب بھی یہاں آئے چائے لے آیا کرو پوچھے بغیر کیونکہ یہ چائے پیئے بغیر نہیں جاتا اور بہت مائنڈ کرتا ہے اگر اس سے چائے پانی کا نہ پوچھا جائے کیونکہ اس کا خیال ہے۔ مسلمان وہ ہے جو دوسرے مسلمان کو دیکھتے ہی جو کچھ اس کے گھر میں ہے، لا کر رکھ دے اور مجھے تو یہ مسلمان بھی نہیں مومن سمجھتا ہے اور اس کے بقول مومن کی ذمہ داریاں اور بھی بڑھ جاتی ہیں۔” فراز تیزی سے اس کا تعارف کروا کر چہرے پر آفٹرشیو لوشن لگاتا ہوا دوبارہ واش روم میں گھس گیا۔ وہ کچھ ہونق سی بنی وہیں کھڑی رہی اسے اس قسم کے تعارف کی امید نہیں تھی۔
    ”پلیز یہ ٹرے تو رکھ دیں۔ مجھے صبح سے کسی نے کھانے کے لیے کچھ نہیں دیا۔ بہت بھوک لگی ہوئی ہے مجھے۔”
    وہ اس کے جملے پر چونکی تھی اور اس نے ٹرے ٹیبل پر اس کے سامنے رکھ دی۔ کمرے میں آنے سے پہلے وہ اس کو جس بے چارگی کی حالت میں دیکھنے کی متوقع تھی وہ ویسا نہیں تھا۔ اس کے چہرے پر کہیں اس بے چارگی کا اظہار نہیں ہو رہا تھا۔ جیسا اس کی آواز سے ہو رہا تھا۔ اس کی شرٹ پر سلوٹیں پڑی ہوئی تھیں اور اس کے جاگرز بھی خاصی بوسیدہ حالت میں تھے اس نے چند لمحوں میں اس کا جائزہ لے لیا تھا۔ وہ اب ناشتہ کرنے میں مصروف تھا۔ مومی دبے قدموں کمرے سے باہر آگئی۔ اس کا ذہن مسلسل ولید میں الجھا ہوا تھا۔ گھر میں مکمل خاموشی تھی۔ چھٹی کے دن کوئی بھی اتنی جلدی نہیں اٹھتا تھا۔ عام دنوں میں بھی وہاں آٹھ ساڑھے آٹھ سے پہلے کوئی بیدار نہیں ہوتا تھا۔ صرف وہ تھی جو یہاں آنے کے بعد صبح فجر کی نماز پڑھنے کے بعد بلا مقصد گھر میں پھرتی رہتی۔ آج بھی وہ اسی طرح لاؤنج میں آکر بیٹھی ہوئی تھی جب فراز وہاں آیا تھا۔
    ”مومی! ذرا دو آدمیوں کے لیے ناشتہ تو بنا دو، مجھے میچ کھیلنے جانا ہے۔ پلیز جلدی کرنا اور میرے کمرے میں دے جانا۔” وہ اسے ہدایات دیتا ہوا تیزی سے غائب ہو گیا تھا۔
    وہ پہلے تو اسے اتنی صبح دیکھ کر حیران ہوئی تھی۔ وہ عام طور پر آفس جانے سے صرف پندرہ منٹ پہلے اٹھتا تھا اور آج وہ صبح سویرے ہی باہر لان کا ایک چکر لگا آیا تھا۔ تب اسے اندازہ نہیں ہوا تھا کہ اس کے کمرے میں کوئی اور بھی ہے لیکن شاید وہ صبح اسے لینے کے لیے باہر نکلا تھا۔ اسے یاد آیا تھا۔ گھر کے ارد گرد پھیلا ہوا وسیع لان تائی کے بھائی کے لان سے متصل تھا۔ درمیان میں ایک چھوٹی سی دیوار تھی اور اس دیوار میں لکڑی کا ایک چھوٹا سا دروازہ تھا دونوں گھروں میں زیادہ آنا جانا اسی دروازے سے ہوتا تھا کیونکہ بیرونی گیٹ سے جانے میں زیادہ وقت لگتا تھا۔ تایا کو اس گھر میں شفٹ ہوئے ایک سال ہی ہوا تھا اور جب سے وہ یہاں منتقل ہوئے تھے اس نے پہلی بار دیکھا تھا۔ مگر فراز کا انداز بتا رہا تھا کہ اس کا وہاں کافی آنا جانا تھا۔ وہ قدرے حیران ہو کر ناشتہ بناتی رہی۔
    ”دو آدمیوں کے لیے ناشتہ؟ کیا فراز بھائی دو آدمیوں کا ناشتہ کرکے میچ کھیلنے جائیں گے؟”
    ناشتہ بناتے ہوئے اس کا ذہن اسی سوال میں اٹکا رہا۔ مگر کمرے سے آتی ہوئی آواز سن کر اس کی یہ حیرانی دور ہو گئی تھی۔
    ”تو فراز بھائی کے کوئی دوست آئے ہیں۔” اس نے سوچا۔ ”پتا نہیں مجھے اندر ان کے سامنے جانا چاہیے یا نہیں مگر فراز بھائی نے کہا تھا کہ میں کمرے میں آجاؤں۔” اسے یاد آیا۔
    اسے یہاں آئے دو دن ہوئے تھے اور وہ تایا کے گھر کا ماحول دیکھ کر حیران رہ گئی تھی۔ ان کے مقابلے میں تایا کا گھرانا بہت آزاد خیال تھا۔ دو دن سے وہ کئی لوگوں کو یہاں آتے جاتے دیکھ رہی تھی اور ہر ایک اسی طرح یہاں آتا تھا جیسے وہ بہت عرصے سے وہاں آرہا ہو۔ اسے کچھ الجھن ہو رہی تھی مگر وہ جانتی تھی اسے اب وہیں رہنا تھا اور الجھن… وہ سب کچھ ذہن سے جھٹک دینا چاہتی تھی۔ وہ کمرے سے باہر آنے کے بعد دوبارہ لاؤنج میں آگئی۔
    ”مجھے صبح سے کسی نے کھانے کے لیے کچھ نہیں دیا۔ مجھے بہت بھوک لگی ہے۔” ایک آواز اس کے کانوں میں دوبارہ لہرائی اس کا دل یک دم جیسے کسی نے مٹھی میں لے لیا تھا۔
    ”سوتیلے ہونے سے مرجانا زیادہ بہتر ہے۔” کسی نے پھر کہا تھا اسے یاد آیا جب وہ اپنے ننھیال سے پہلی بار اپنے گھر آئی تھی تو کئی دنوں تک وہ بھی اپنے اندر اتنی ہمت پیدا نہیں کر پائی تھی کہ اپنی امی سے کھانے کے لیے کچھ مانگ لے۔ وہ کھانے کے وقت بھی خاموشی سے ایک کونے میں بیٹھی امی کے بلانے کا انتظار کرتی رہتی اور بعض دفعہ وہ انتظار ہی کرتی رہ جاتی۔ امی کو اسے بلانا یاد ہی نہیں رہتا تھا یا پھر شاید اور جب اسے کھانے کی ٹیبل پر بلایا بھی جاتا تھا تو وہ وہاں بہت سہمی ہوئی بہت محتاط رہتی جو امی اس کی پلیٹ میں ڈال دیتیں، وہ اسی سے پیٹ بھر لیتی۔ دوبارہ کوئی چیز مانگنے کا حوصلہ اس میں نہیں ہوتا تھا۔ پھر آہستہ آہستہ اس کی جھجک ختم ہونے لگی تھی۔ وہ بھوک لگنے پر امی سے کھانے کے لیے کچھ نہ کچھ مانگ لیا کرتی تھی۔ امی کچھ کہے بغیر ایک خاموش نظر کے ساتھ اس کی ضرورت پوری کر دیا کرتی تھیں مومی کو وہ خاموش نظر کبھی اچھی نہیں لگی تھی۔ پھر جب بڑی ہوتی گئی تو کھانا پکانے اور سرو کرنے کی ذمہ داری خودبخود ہی اس کے کندھوں پر آگئی۔ تب بھی وہ منتظر ہی رہتی تھی کہ کبھی امی اسے اپنے دوسرے بچوں کی طرح اصرار کرکے کھانا کھلائیں اس سے کہیں کہ وہ فلاں چیز بھی کھائے کیونکہ یہ اس کے لیے اچھا ہو گا مگر ایسا موقع کبھی نہیں آیا تھا۔ امی کے پاس اس کے لیے اتنی فرصت ہی نہیں ہوتی تھی یا پھر شاید۔ وہ آہستہ آہستہ اپنے کھانے کے بارے میں لاپرواہ ہوتی گئی تھی۔ کیا کھانا، ہے، کس وقت کھانا ہے؟ اس کے بارے میں اس نے کبھی نہیں سوچا تھا۔ یہ سوچنے کی ضرورت ہی کبھی نہیں پڑی اور آج جب ولید نے یہ سب کہا تھا تو اسے بہت کچھ یاد آگیا تھا۔ اسے اس سے بے پناہ ہمدردی محسوس ہورہی تھی۔
    ”فراز بھائی نے کہا تھا کہ وہ ارمغان ماموں کا بیٹا ہے تو کیا اس کی امی کی بھی ڈیتھ ہو چکی ہے اوراگر امی کی ڈیتھ نہیں ہوئی تو پھر وہ یہاں کیوں ہے اپنی امی کے پاس کیوں نہیں چلا جاتا۔ اس کی باتوں سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ خوش نہیں ہے یہاں اپنی سوتیلی امی کے پاس رہ کر، وہ تو مرد ہے۔ وہ تو مجبور نہیں ہے پھر وہ گھر چھوڑ کر کہیں چلا کیوں نہیں جاتا۔ ایسے لوگوں کے ساتھ کیوں رہ رہا ہے؟”
    اس کے ذہن میں بار بار سوال آرہے تھے اور ان سوالوں کے ساتھ ولید کے ابو اور امی کی ہولناک شکلیں بھی نظر آرہی تھیں۔ کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے اچانک اس کی نظر وال کلاک پر پڑی اس وقت چھ بج رہے تھے۔
    ”مجھے صبح سے کسی نے کچھ کھانے کے لیے نہیں دیا بہت بھوک لگی ہے مجھے۔” اسے ایک بار پھر اس کی بات یاد آئی تھی۔
    ”صبح سے مگر وہ تو شاید یہاں ساڑھے پانچ بجے آگیا تھا پھر صبح سے کسی نے۔” وہ کچھ سمجھ نہیں پائی تھی۔ بہت دیر تک وہ وہیں لاؤنج میں بیٹھی کچھ سوچتی رہی۔
    …***…
    شام کو وہ فری کے ساتھ لان میں بیٹھی ہوئی تھی جب وہ فراز بھائی کے ساتھ آیا تھا۔ فری کو لان میں دیکھ کر وہ سیدھا وہیں آئے تھے۔ ”یہاں تو عیش ہو رہے ہیں بھئی۔ چائے چل رہی ہے۔” فراز نے پاس آتے ہی کہا تھا۔
    ”آپ بھی عیش کر لیں۔ میں دو کپ اورمنگوا لیتی ہوں۔” فری نے پودوں کو پانی دیتے ہوئے ملازم کو بلایا تھا۔
    ”کیا بنا آپ کے میچ کا؟ آج تو صبح ہی چلے گئے تھے۔” ملازم کے جانے کے بعد فری نے پوچھا تھا۔
    ”کیا بننا تھا۔ بھئی پچھلی دفعہ وہ جیت گئے تھے، اس دفعہ ہم ہار گئے۔” ولید نے پلیٹ سے بسکٹ اٹھاتے ہوئے کہا۔
    ”اور پھر بھی تم لوگ ہر ہفتہ میچ کھیلنے جاتے ہو۔” فری نے طنزیہ لہجے میں کہا تھا۔
    ”ویسے بھی ہم جیتنے تھوڑی جاتے ہیں۔ ہم تو کھیلنے کے لیے جاتے ہیں۔ انجوائے منٹ کے لیے۔” اس بار فراز نے کہا تھا۔




  • گھر اور گھاٹا — عمیرہ احمد

    ”پھر گھاٹا ہوا ہے … پورے پچاس روپے کا۔” رضیہ نے اپنی کرخت آواز میں تقریباً چلاّتے ہوئے کہا تھا۔ اماں بختے نے اپنی موٹے شیشوں والی نظر کی عینک سے اپنی بہو کے دھندلے وجود کو بے حد بے بسی سے دیکھا اور بڑبڑائی ”گھاٹا؟… گھاٹا کیسے ہو گیا؟” اس کے جملے نے جیسے جلتی پر تیل کا کام کیا تھا۔ رضیہ بُری طرح بپھری تھی۔ ”یہ میں بتاؤں گی یا تو بتائے گی؟” اماں بختے اس کی بات پر غور کئے بغیر صحن کے وسط میں رضیہ کی سلائی مشین کے قریب بچھی چادر پر پڑے اُ ن بسکٹ اور ٹافیوں کے ڈبوں کو دیکھ کر بڑبڑاتی رہی۔ ”گھاٹا تو نہیں ہونا چاہیے … یہ گھاٹا کیسے ہو جاتا ہے …؟” رضیہ نے ڈبے سے سارے کرنسی نوٹ نکال کر انہیں ترتیب سے کرتے ہوئے کچھ جھڑکنے والے انداز میں اماں سے کہا۔”جیسے روز ہوتا ہے … ویسے ہی آج ہوا ہے … ویسے ہی کل ہو گا … تیرا گھاٹا کہیں ختم ہو تا ہے اماں؟” اماں بختے نے چونک کر اُسے دیکھا۔ ”میرا گھاٹا ؟” وہ پھر بڑبڑائی۔ رضیہ اب ڈبے میں پڑے سکے گن رہی تھی اور سکوں کی تعداد نے اسے کچھ اور نا خوش کیا تھا۔ ”سارا دن تو باتیں کرتی رہتی ہے اماں … اگر منہ کو بند اور آنکھوں کو کھلا رکھے تو یہ گھاٹا بند ہو جائے گا۔” رضیہ نے بلند آواز میں بڑی بد تمیزی کے ساتھ کہا اورکرنسی نوٹوں کو سلائی مشین کا اوپر والا حصہ اٹھا کر اس میں پھینک دیا۔ سکوں کو اس نے ڈبے میں ہی رہنے دیا تھا۔ اماں نے اس بار کچھ نہیں کہا۔ رضیہ بڑبڑاتی ہوئی اُٹھ کھڑی ہوئی۔
    ”سویرے سویرے کیا شور مچایا ہے … کیا ہو گیا؟” عبدل تولیہ گلے میں ڈالے مسواک چباتا ہوا اور چپل گھسیٹتا اندر کمرے سے نکل آیا تھا۔ ”یہ تم اپنی اماں سے پوچھو … کہ کیوں سویرے سویرے تماشا ہوتا ہے اس گھر میں … آج پھر 50 کا گھاٹا ہوا ہے۔” رضیہ نے اسی تیز و تند لہجے میں عبدل سے کہا۔ ”میری سمجھ میں نہیں آتا اماں کہ تو کرتی کیا ہے … لوگوں کو چیزیں دیتے ہوئے دھیان سے پیسے کیوں نہیں لیتی … کوئی دو تین سو چیزوں کا کاروبار نہیں کر رہی … دس چیزیں بیچ رہی ہے تو … اور تجھ سے اُن دس کا حساب نہیں رکھا جاتا۔” عبدل منہ سے مسواک نکال کر ماں پر چڑھ دوڑا تھا۔ اماں بختے نے اپنی موٹے شیشوں کی عینک ٹھیک کی۔ ”ٹھیک ہی کہتا ہے عبدل … کوئی سو دو سو چیزیں تھوڑی ہیں … دس چیزیں ہیں … دس چیزوں میں تو گھاٹا نہیں ہونا چاہیے مجھے۔” وہ ایک بار پھر پاؤں میں پہنی ٹوٹی چپل کو دیکھ کر بڑبڑائی تھی۔ عبدل اور رضیہ دونوں میں سے کسی نے اس کی بڑبڑاہٹ پر دھیان نہیں دیا۔ ”مجھے لگتا ہے یہ خود کھاتی رہتی ہے ٹافیاں بسکٹ … ” رضیہ نے تند و تیز آواز میں الزام لگایا۔”خود کہاں کھائے گی چار دانت ہیں اماں کے … ” عبدل نے پتہ نہیں کیا خیال آنے پر اماں کا دفاع کیا۔ ”روٹی کھا سکتی ہے ان چار دانتوں کے ساتھ تو ٹافیاں اور بسکٹ بھی کھا سکتی ہے۔” رضیہ نے ترکی بہ ترکی کہا۔ اماں بختے نے چارپائی پر اپنے برابر بیٹھے چار سالہ سونو کو دیکھا۔ عینک سے بس اس کا چہرہ صاف دکھتا تھا … شاید اور کوئی اتنے قریب نہیں آتا تھا اماں کے … اس لئے … وہ چُپ چاپ چارپائی پر اماں کے برابر بیٹھا رنجیدگی سے اس سارے جھگڑے کو دیکھ رہا تھا … وہ خاموش تماشائی تھا۔
    ”میں نے تجھے پہلے ہی کہا تھا… یہ دکانداری اماں کے بس کی بات نہیں۔” عبدل نے اس بار اپنی بیوی کو جھڑکا تھا۔”ارے میں نے کب کہا کہ منافع کما کر لائے … گھر چلانے کی ذمہ داری تھوڑی سونپ دی ہے اماں کو … کوئی فائدہ نہ ہو … پر نقصان بھی تو نہ ہو۔” رضیہ نے اسی انداز میں کہا۔ عبدل نے اُس کی بات نہیں سنی تھی۔ ”روز 50,25,20 ہاتھ سے جاتے ہیں … اندر بیٹھی رہتی تو اتنے پیسے تو نہ لگتے اس پر۔” وہ اب بیوی سے جھگڑا کر رہا تھا۔ ”اندر بیٹھ کر کون سے تیر مار لینے تھے تمہاری اماں نے … سارا دن چارپائی پر پڑی رہتی تھی … ہر آنے جانے والے کے ساتھ باتیں کرنے بیٹھ جاتی تھی … یا یہ فرمائش ہوتی تھی کہ TV لگا دو … ایسے جیسے TVمفت میں چلتا ہے … یہ کوئی تاج محل تو ہے نہیں کہ جہاں مرضی اُٹھتی بیٹھتی … سلائی سکول چلا رہی ہوں میں اس گھر اور تمہاری اولاد کے لیے … کہاں بٹھاتی لڑکیوں کو … اگر اماں کو اندر بٹھائے رکھتی تو … اب کم از کم یہ گلی میں بیٹھتی رہتی ہے تو گھر میں جگہ تو ہوتی ہے۔” رضیہ نان سٹاپ بول رہی تھی۔ ”تو پھر بھگتو تم ہی … میں تو اس روز کی بک بک اور جھک جھک سے تنگ آ گیا ہوں … مجھ سے روز روز پورا نہیں ہوتا یہ گھاٹا۔” عبدل بولتاہوا صحن میں بنے غسل خانے میں چلا گیا۔
    ”آج خود آ کر دیکھو ں گی کہ کس طرح چیزیں بیچتی ہے تو … دو دفعہ پیسے گن کر ڈبے میں ڈالا کر … سارے عذاب میری جان کے لیے ہیں۔ بیٹے اپنی بیویوں اور اولادوں کے ساتھ کویت میں عیش کر رہے ہیں مگر مجال ہے انہیں کبھی ما ں کا خیال آ جائے … یہ گھاٹا ہمارے لئے رکھا ہے۔ ” رضیہ بولتی ہوئی اندر کمرے میں چلی گئی۔





    ماں کے اندر جاتے ہی سونو پھرتی سے چارپائی سے اُتر گیا۔ ”اب دکان سجاؤں؟” اُس نے اماں بختے سے کہا۔ اماں بختے نے سر ہلا دیا۔ یہ روز کا معمول تھا۔ رضیہ اسی طرح بکتی چھکتی منظر سے غائب ہو تی اور سونو اپنا رول ادا کرنے لگتا۔ خاموش تماشائی یک دم تماشے کا حصہ بن جاتا تھا۔
    وہ اب صحن کے ایک کونے میں پڑی لکڑی کی بینچ نما میز اور اُس میز کے اوپر پڑی بوری اٹھائے خوشی خوشی صحن کی دہلیز پار کر کے دروازے کے بائیں طرف نالی کے اوپر میز رکھ رہا تھا۔ میز اپنی مخصوص جگہ پر رکھنے کے بعد وہ اب دہلیز کے تھڑے کے ایک کونے میں اُس تہہ شدہ بوری کو رکھنے کے بعد اسی طرح بھاگتا اندر آیا۔ اماں بختے تب تک بمشکل ایک ہاتھ سے چارپائی کا سہارا لے کر دوسرا ہاتھ اپنے گھٹنے پر رکھ کرہانپتی کانپتی کھڑی ہوئی تھی۔ سونو تب تک اندر آ گیا تھا۔ ہمیشہ کی طرح اس نے اماں کا ہاتھ پکڑا اور اسے سہارا دیتے ہوئے دروازے کی طرف چل پڑا۔ اماں بختے اب بھی بڑبڑا رہی تھی۔ ”پتہ نہیں روز گھاٹا کیوں ہوتا ہے … یہ زندگی میں ہر روز ہی کیوں گھاٹا پڑتا ہے … کچھ سمجھ میں نہیں آتی کہ۔۔۔” وہ بڑبڑاتے بڑبڑاتے دہلیز کو پار کرنے سے پہلے سانس لینے کے لئے رُکی تھی۔ کھانسی کا ایک دورہ اُسے پڑا تھا … چند منٹ وہ وہیں کھڑی جھکی کمر کے ساتھ کھانستی رہی۔ اُس نے اب دروازے کے ایک پٹ پر ہاتھ رکھے سہارا لیا ہوا تھا۔ سونو کسی میکانکی انداز میں اماں کے پاس کھڑا اس دورے کے خاتمے کا انتظار کر رہا تھا … یہ روز کا معمول تھا صحن میں اپنی چارپائی سے یہاں دروازے تک آتے آتے اماں یہیں کھڑے ہو کر کھانستی تھی۔
    کھانسی حسب معمول ختم ہو گئی۔ سونو نے دوبارہ اماں کا ہاتھ پکڑا۔ اماں نے دہلیز عبور کی اور سونو کی مدد سے وہ دہلیز کے سامنے بنے تھڑے پر بیٹھ گئی۔ سونو ایک بار پھر اندر چلا گیا تھا۔ اس نے کسی مشینی انداز میں اماں کی چارپائی پر پڑا بستر لپیٹا اور اندر برآمدے میں ایک کونے میں پڑے صندوق کے اوپر رکھ آیا۔ پھر اس نے صحن میں آ کر اماں کی چارپائی سیدھی کر کے دیوار کے ساتھ لگا دی۔ اس کے بعد وہ باری باری رضیہ کی زمین پر بچھی دری پر پڑے بسکٹ اور ٹافیوں کے ڈبے اٹھا کر باہر اماں کے میز پر جا کر رکھنے لگا۔ یہ اُس کا سب سے پسندیدہ کام تھا … دادی کی دکان سجانا۔
    اماں بختے کا نام بختاور تھا … ماں کچھ اور نام رکھنا چاہتی تھی لیکن باپ نے بختاور رکھا … کیونکہ بختاور کی پیدائش پر اُسے دو ماہ کی بے کاری کے بعد کام ملا تھا … بختاور کے بعد اُس کے ماں باپ کے ہاں کوئی اولاد نہیں ہوئی لیکن اُس کے ماں باپ کے گھر کبھی فاقہ بھی نہیں ہوا … جب تک بختاور باپ کے گھر رہی … باپ کو کبھی بے روزگاری کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ 19 سال کی عمر میں محلے کے سب سے کماؤ لڑکے کے ساتھ اُس کی شادی ہو گئی تھی۔ شریف درزی تھا اور قریبی بازار میں اُس کی ایک چھوٹی لیکن اپنی دکان تھی۔ بختاور باپ کی طرح شوہر کے لئے بھی بختاور ثابت ہوئی تھی۔ اُس سے شادی کے بعد شریف کا کام بڑھنے لگا تھا، اور شریف جہاں بختاور پر فدا تھا وہاں وہ اس بات کا اعتراف بھی برملا کرتا تھا۔ اوپر نیچے تین بیٹوں کی پیدائش نے جیسے بختاور کے واقعی بختاور ہونے پر مہر لگا دی تھی اور ایسے ماضی کے ساتھ اگر گھاٹے کا لفظ بختاور کو سمجھ نہیں آ رہا تھا تو سمجھ میں آتا بھی کیوں … وہ ہر روز گھاٹا کھاتی تھی اور ہر روز گھاٹا ڈھونڈنے بیٹھتی تھی … سارا دن وہ گلی میں بیٹھی بڑبڑاتی رہتی … ”یہ گھاٹا کیوں ہوتا ہے ؟… یہ گھاٹا کب ہوتا ہے ؟… یہ گھاٹا کون دیتا ہے …؟… یہ گھاٹا کیوں نہیں رکتا …؟” اس کے سوال گلی سے گزرتے کسی شخص کے پیر نہیں روکتے تھے … روکتے بھی کیسے … اماں بختے کا گھاٹا ان کا گھاٹا تھوڑی تھا …… ان کا گھاٹا تو ان کے اپنے گھر تھا۔
    ٭
    ”بسکٹ لے لوں اماں؟” سونو نے دادی کی دکان سیٹ کرنے کے بعد بڑے لاڈ سے اس کی گود میں سر رکھتے ہوئے کہا۔ یہ”اُجرت” وہ روز لیا کرتا تھا … دادی کی دکان سجانے کا معاوضہ۔
    ”ٹھہر میں خود دیتی ہوں تجھے۔” اماں بختے نے کانپتے ہاتھ کے ساتھ بسکٹ کے ڈبے کو ٹٹولنا شروع کیا۔ ”آج ساری چیزیں اپنے ہاتھ سے دوں گی میں تجھے … تیری ماں ناراض ہوتی ہے پھر۔” سونو نے دادی کی بات پر بڑی فرماںبرداری سے سر ہلا لیا۔ ”ٹھیک ہے۔ ”اماں بختے نے ڈبے سے بسکٹ کاایک پیکٹ نکال کر اسے دے دیا۔ ”دیکھ پانی لا دے مجھے۔” اماں نے ساتھ ہی اُسے کہا۔ سونو سر ہلاتا بسکٹ کا ریپر کھولتے ہوئے دہلیز سے اندر چلا گیا۔
    گلی میں صبح صبح لوگوں کی آمد و رفت جاری تھی … مرد کام پر جا رہے تھے … بچے سکول کو … اور عورتوں نے باہر جھانکنا شروع کر دیا تھا۔ وہاں سے گزرتے لوگ نالی پر دس ڈبوں کے ساتھ اپنی دکان سجائے اماں بختے کے وجود کے عادی تھے … اس کے وجود سے زیادہ اس کی بڑبڑاہٹ کے … وہ دہلیز پر بیٹھی سارا دن آتے جاتے لوگوں کودیکھتے بڑبڑاتی رہتی تھی … کئی لوگ اسے پاگل سمجھتے تھے … اور کئی خبطی … اس کے پاس سے گزرنے والوں کو کبھی اس کی باتوں کی سمجھ نہیں آتی تھی … سمجھ تب آتی اگر کوئی اس کے پاس رکتا … اس لوئر مڈل کلاس محلے کے لوگوں کے پاس اپنے لیے وقت نہیں تھا … زندگی دو وقت کی روٹی کے لئے انہیں چکّی کے دو پاٹوں میں پیس رہی تھی … اس 70 سالہ بوڑھی عورت کے لئے کوئی وقت کیسے نکالتا۔
    لیکن پاس سے گزرنے والا ہر شناسا محلے دار اماں بختے کو سلام ضرور کر جاتا تھا۔ جواب چاہے ملتا نہ ملتا …
    اماں بختے کو اب اپنے پہلے گاہک کاانتظار تھا۔ اپنے سامنے سجے ڈبوں کووہ بے مقصد ٹھیک کر رہی تھی۔ پھر اس نے اس ڈبے کو اٹھا کر گود میں رکھ لیا جس میں وہ پیسے ڈالتی تھی۔ ڈبے میں ہاتھ ڈال کر اس نے اندر موجود دس بارہ سکّوں کو باہر نکال کر اپنی ہتھیلی پر رکھ لیا۔ وہ شاید رضیہ نے اس لیے رکھ چھوڑے تھے تا کہ وہ بقایا دے سکے۔ چمکتے ہوئے ان سکّوںکو ہتھیلی پر پھیلائے دیکھتے ہوئے وہ بڑبڑانے لگی تھی۔ ”گھاٹے کی سمجھ نہیں آتی … گھاٹا کب ہونا شروع ہو تا ہے … یہ بھی پتہ نہیں چلتا …” وہ اب جیسے سکّوں سے پوچھ رہی تھی۔ ”پہلی بار گھاٹا کب ہوتا ہے انسان کو؟… جب وہ خود پیدا ہوتا ہے … ؟ یا جب وہ اولاد پیدا کرتا ہے …؟”
    ٭
    ”کتنا خوبصورت ہے میرا بیٹا ؟” شریف اپنی پہلی اولاد کو گود میں لیے کہہ رہا تھا۔ ”خوبصورت … ؟… پورے خاندان میں کسی کاایسا گورا رنگ نہیں ہے شریف … ” تکیے سے ٹیک لگائے بختاور نے مدھم لیکن فخریہ انداز میں کہا۔”خاندان کیا … پورے محلے میں کوئی میرے بیٹے جیسا خوبصورت نہیں ہے۔” شریف اپنے نوزائیدہ اولاد کو دیکھ کر جذباتی ہو رہا تھا۔ ”دے دے اس کو مجھے شریف … تو نظر لگائے گا میرے بیٹے کو۔” بختاور نے اس کی گود سے اپنے بیٹے کو اٹھا لیا۔ ”ارے بھلی مانس … بھلا ماں باپ کی نظر تھوڑی لگتی ہے اولاد کو … ” شریف نے ہنس کر کہا۔”کیا پتہ …؟” بختاور اب اپنی آنکھ سے انگلی کے ساتھ کاجل لگا کر بیٹے کے ماتھے پر نظر کا ٹکا لگارہی تھی۔ ”جو آتا ہے اس کی نظر ہی نہیں ہٹتی میرے بیٹے سے … میرا تو دل گھبرانے لگا ہے۔ ” بختاور نے اپنے بیٹے کو گود میں لیے ہوئے اپنے دوپٹے کے ساتھ اس کا چہرہ ڈھانپ دیا۔ ”مجھ سے میری ہی اولاد کو چھپا رہی ہے۔” شریف نے برا مانا … ”پھر تو اس طرح میرے بیٹے کو مت دیکھ جس طرح تو دیکھ رہا ہے۔”بختاور نے اعتراض کرتے ہوئے کہا۔ شریف بے اختیار ہنسا۔ ”اچھا تو آنکھیں بند کر۔” وہ حیران ہوئی شریف نے یک دم بات بدل دی تھی۔ ”کیوں؟” بس تو آنکھیں بند کر …” شریف نے اصرار کیا۔ ”اب یہ اٹھکیلیاں مت کر شریف۔” وہ مسکرائی ”ارے کچھ دینا ہے میں نے تجھے۔” شریف سنجیدہ ہوا۔ ”کیا؟… مذاق کر رہا ہے …؟” وہ ہنسی۔ ”مذاق کیوں کروں گا … تو آنکھیں بند کر۔ ” بختاور متّامل ہوئی۔ ”شریف … ” شریف نے اس کی بات کاٹی ”بس آنکھیں بند کر اور ہاتھ آگے کر۔” بختاور نے کچھ ہچکچاتے ہوئے اپنی آنکھیں بند کر کے ایک ہاتھ اس کے آگے کھول دیا۔
    ٭
    ”اماں ایک بسکٹ کا پیکٹ دے دے۔ ” اماں بختے نے بری طرح ہڑبڑا کر آنکھیں کھول دیں۔ ہتھیلی پر پڑے سکّے ڈبے میں جا گرے تھے۔ اس کا پہلا گاہک آن پہنچا تھا۔ 30, 35 سالہ وہ آدمی اپنے دو سالہ بچے کو گود میں اٹھائے اس کا منہ چومتے ہوئے اماں سے کہہ رہا تھا۔ اماں نے بے حد حیرانی سے اس آدمی کا منہ دیکھا۔ یوں جیسے اسے سمجھ ہی نہ آ رہی ہو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔
    ”سونا کیوں شروع کر دیا اماں صبح صبح ہی … ارے گلی میں سونا ہے تو پھر گھر سے ہی دیر سے آیا کر … بسکٹ کا پیکٹ دے دے ایک۔” اس آدمی نے جیب میں ہاتھ ڈالتے ہوئے ایک پانچ روپے کا نوٹ نکالا۔”نہ مجھے گھاٹا نہیں چاہیے۔ ” اماں بختے اس کا چہرہ دیکھ کر بڑبڑائی آدمی نے حیرانی سے اسے دیکھا۔ ”کیسا گھاٹا … ؟ پانچ روپے کا پیکٹ ہے … پانچ روپے تو دے رہا ہوں ”۔ اس میں گھاٹا نہیں ہے ؟ اماں نے پانچ کے نوٹ کو دیکھ کر کہا۔ ”پوری قیمت ہے اماں … گھاٹا کہا ں ہے … اب پانچ کا پیکٹ کیا چھ میں دے گی۔ ” اس آدمی نے کچھ تیز آواز میں کہا۔ اماں جیسے ہوش میں آ گئی تھی۔ اس نے آدمی کے ہاتھ سے نوٹ پکڑ کر ڈبے میں ڈالتے ہوئے بسم اللہ پڑھی۔ یہ اس کی پہلی کمائی تھی۔ بسکٹ کے ایک ڈبے سے ایک پیکٹ نکال کر اس نے آدمی کی طرف بڑھایا۔ آدمی کے ہاتھ بڑھانے سے پہلے ہی گود میں اٹھائے اس بچے نے پیکٹ جھپٹ لیا۔ آدمی جیسے بچے کی اس حرکت پر باغ باغ ہو گیا تھا۔ بے اختیار بچے کے گال چومتے ہوئے اس نے اماں سے کہا۔ ”دیکھا اماں کیسا تیز ہو گیا ہے میرا بیٹا … ” اماں نے کچھ نہیں کہا۔ بچہ بسکٹ کا پیکٹ کھولتے ہوئے اب باپ سے باتیں کرنے لگا تھا اور باپ بھی اس کو اٹھائے اس کی باتوں کا جواب دیتے ہوئے چلا گیا۔
    اماں اسے جاتا دیکھتی رہی۔ سونو دونوں ہاتھوں میں پانی کا گلاس پکڑے احتیاط سے باہر آیا۔ ”اماّں پانی” اس نے آتے ہی اعلان کیا۔ ”اتنی دیر لگا دی پانی لاتے لاتے … میری تو پیاس بھی مر گئی۔” اماّں نے اس کے ہاتھ سے پانی کا گلاس پکڑنے سے پہلے اپنی عینک سنبھالی۔ سونو نے ایک نظر اماّں کے سامان پر ڈالی … اماّں اب پانی پی رہی تھی۔ دو گھونٹ کے بعد اس نے گلاس رکھ دیا … اور دوپٹے کے پلو سے اپنے گیلے ہونٹ پونچھے۔ ”اماّں یہ والی ببل لے لوں؟” سونو تب تک ایک چیونگم پسند کر چکا تھا۔ ”میں خود دیتی ہوں تجھے۔” اماّں نے چیونگم کے ڈبے کو اپنے قریب کرتے ہوئے ٹٹول کر اُس میں سے ایک چیونگم نکال کر سونو کی طرف بڑھائی۔ سونو نے بے حد خوش ہو کر وہ چیونگم پکڑ لی۔ سیدھا کھڑا ہو کر اس نے ایک سیکنڈ بھی نہیں لگایا تھا چیونگم کا ریپر اتار کر ریپر کو نالی اور چیونگم کو اپنے منہ میں ڈالنے میں۔
    ”سونو … سونو …” اندر سے رضیہ نے اسے پکارا تھا۔ ”یہ لے … یہ گلاس بھی لے جا۔ ” اماں بختے نے اسے جاتے ہوئے ٹوکا۔ سونو نے بڑی فرماں برداری سے گلاس اٹھایا۔ اندر موجود پانی خود چڑھایا اور پھراندر چلا گیا۔
    صحن میں آتی رضیہ نے گلاس اس کے ہاتھ میں دیکھتے ہی اسے ڈانٹا۔ ”بس صبح صبح ہی نوکر بن گیا تو۔ ”
    ”اماں کو پیاس لگ رہی تھی۔ ” سونو نے بتایا۔ ”اور تو ماشکی ہے …؟ ” رضیہ نے اسے جھڑکا۔ ”چل گلاس رکھ کر آ نہلاتی ہوں تجھے”
    دہلیز پر بیٹھی اماں بختے نے کھلے دروازے سے بیٹھے بیٹھے پلٹ کر اندر دیکھا۔ رضیہ سونو کا بازو پکڑے اب اسے غسل خانے کی طرف لے جا رہی تھی۔اماں نے دوبارہ گردن موڑ لی۔ سر جھکا کر اس نے گود میں پڑے ڈبے میں جھانکا … سکوں کے درمیان پانچ کا وہ نوٹ پڑاتھا۔ آج کے دن کی پہلی کمائی اماّں نے نوٹ کو سیدھا کیا پھر اس کی ایک تہہ لگا کر اسے دوبارہ ڈبے میں رکھ دیا۔
    ”انسان کو پہلا گھاٹا کب ہوتا ہے …؟جب وہ خود پیدا ہوتا ہے …؟ یا جب وہ اولاد پیدا کرتا ہے ؟ یا جب وہ پہلا گھر بناتا ہے…؟” اماّں پھر بڑبڑا رہی تھی۔
    ٭
    ”اب آنکھیں کھول۔ ” شریف نے اس کے ہاتھ پر کچھ رکھتے ہوئے کہا۔ بختاور نے بے اختیار آنکھ کھول کر اپنی ہتھیلی دیکھی۔ اس کی ہتھیلی پر ایک چابی رکھی تھی۔ ”یہ کیا ہے ؟” اس نے بے حد حیرانی سے شریف سے پوچھا۔ ”یہ ہمارے گھر کی چابی ہے۔ ” شریف نے بے حد فخریہ انداز میں کہا۔ بختاور جیسے کرنٹ کھا کر سیدھی ہو گئی۔ ”ہمارے گھر کی چابی ؟ تو نے بیعانہ دے دیا …؟ سودا کر لیا ؟ ” اس کی آواز شدتِ جذبات سے لرز رہی تھی۔ اس نے چابی مٹھی میں بھینچ لی تھی۔ ”ہاں میں نے سوچا تجھے اولاد پیدا ہونے پر خوش خبری دوں گا۔ ” شریف نے بڑے پیار سے کہا۔
    ”میرے اللہ تو … تو کتنا مہربان ہے … تو نے کیسے میرے دل کی سنی ہے … دیکھ لے شریف میری اولاد کتنی خوش قسمتی لے کر آئی ہے ہم دونوں کے لیے … ” بختاور نے بے اختیار اپنے بیٹے کو چومتے ہوئے کہا۔”تو بختاور ہے تو تیری اولاد بھی تو بختاور ہی ہو گی۔ ْ” شریف نے جیسے اس کی تائید کی۔”پر بیعانے کے پیسے کہاں سے آئے تیرے پاس؟” بیٹے کو چومتے چومتے بختاور کو خیال آیا۔”وہ سائیکل بیچ دی ہے میں نے اپنی۔ ” شریف نے اطمینان سے کہا۔”ہائے … سائیکل کیوں بیچ دی؟” بختاور نے بے ساختہ پریشان ہو کر کہا۔”گھر … سائیکل سے زیادہ ضروری تھا … کرائے کے گھر میں رکھتا تجھے ساری عمر … ” شریف بڑا مطمئن تھا۔ ”کتنے کی بیچی؟ … گھاٹا ہوا ہو گا … ابھی تو نئی تھی۔ ” بختاور نے کچھ تشویش سے کہا۔ ”ہاں تھوڑا گھاٹا تو ہوا ہے۔ پورے پیسے تو نہیں ملے پر گھاٹے کی فکر نہیں مجھے۔ ” شریف پر سکون تھا۔”اب کام پر کیسے جایا کرے گا تو اتنی دور … ” بختاور کو اب اس کی فکر ستانے لگی تھی۔ ”پیدل جاؤں گا … صحت کے لئے اچھا ہوتا ہے پیدل چلنا …” شریف نے ہنس کر کہا ”روز پانچ میل چل کر آیا جایا کرے گا۔ ”بختارو کو اب بھی جیسے یہ بات ہضم نہیں ہو رہی تھی۔ ”تو ہی تو کہہ رہی تھی کہ میں موٹا ہو رہا ہوں… اچھا ہے اب روز پانچ میل چلوں گا تووزن کم ہو جائے گا۔ ”
    ”پر شریف … ” شریف نے اسے بات مکمل کرنے نہیں دی۔ ”اچھا چھوڑ اب یہ بات … لے لوں گا سائیکل دو چار مہینے میں … تو فکر نہ کر۔ ” بختاور چند لمحے اس کا چہرہ دیکھتی رہی پھر اس نے مٹھی کو کچھ اور بھینچ لیا۔
    ٭
    ”سلام اماں … کیاحال ہے تیرا؟” وہ دو گھر چھوڑ کر اس کی ہمسائی رشیدہ تھی جو چار پانچ سال کے ایک بچے کو ساتھ لیے اس کے پاس کھڑی اس کا حال پوچھ رہی تھی، اور اماں کے جواب دینے سے پہلے ہی اس نے دو روپے کا ایک سکّہ اماّں کی طرف بڑھا تے ہوئے کہا۔ ”یہ چنو کوچار ٹافیاں دینا۔ ” اماں نے سکے اس کے ہاتھ سے لیتے ہوئے کہا۔ ”گھر بھی نِرا گھاٹا ہے۔” عورت نے جواباً کچھ نہیں کہا۔ وہ اپنے بچے کے بالوں میں سے ایک تنکا ہٹا رہی تھی۔ اماں نے سکے ڈبے میں ڈال کر ٹافیوں کے ایک ڈبے سے چار ٹافیاں نکال کر بچے کے ہاتھ میں تھما دیں۔ بچے نے فوری طور پر ایک ٹافی کا ریپر کھول کر اسے منہ میں ڈال لیا۔ ”باپ سبزی کے پیسے دے گیا تھا اور اس نے ٹافی کے لئے ضد لگائی تھی۔ اب تھوڑی سبزی خریدوں گی تو رات کو روٹی کے ساتھ سالن کہاں بچے گا … پر مجال ہے چنو کو چین آ جائے … ” وہ عورت اماں سے چنو کی شکایت کر رہی تھی ساتھ پیار سے ا س کے بالوں پر ہاتھ بھی پھیر رہی تھی۔”لا ایک ٹافی ماں کو بھی دے۔ ” عورت نے بڑے لاڈ سے چنو سے کہا۔ چنو نے بے اختیار ٹافیوں والی مٹھی کمر کے پیچھے کی۔ ”میں نہیں دیتا … پھر دو رہ جائیں گی میرے پاس۔ ” چنو نے دو ٹوک انکار کیا۔ عورت فخریہ انداز میں کھلکھلا کر ہنسی۔ ”دیکھا اماں حساب میں کتنا تیز ہے … کیسے جھٹ پٹ جمع تفریق کر لیتا ہے۔” رشیدہ نے اماں سے کہتے ہوئے چنو کا ہاتھ پکڑا اور اپنے گھر کی طرف چل دی۔
    ”سلام اماں …” وہ رضیہ کے پاس سلائی سیکھنے کے لئے آنے والی دو لڑکیاں تھیں۔ وہ بھی اماں کے جواب کا انتظار کئے بغیر دہلیز پار کر کے اندر چلی گئی تھیں۔




  • تیری یاد خارِ گلاب ہے — عمیرہ احمد

    ”سنیں!” وہ گاڑی لاک کر رہا تھا جب ایک آواز نے اچانک اسے اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔ اس نے مڑ کر پیچھے دیکھا۔ سفید چادر میں ملبوس ایک حواس باختہ سی لڑکی اس کے پاس کھڑی تھی۔
    ”مجھے ایک فارم لادیں۔” اس کے مڑتے ہی اس نے التجائیہ انداز میں کہا تھا۔
    کوئی شناسا چہرہ ہوتا تو اوّل تو وہ کبھی بھی اس سے مدد مانگنے کی حماقت نہ کرتا اور اگر کرتا بھی تو وہ بڑی رکھائی سے اسے اپنی مدد آپ کی تلقین کرتا۔ وہ مزاجاً کچھ ایسا ہی بے مروت اور بے لحاظ واقع ہوا تھا۔ ایک تیکھی سی نظر اس نے اس لڑکی کے چہرے پر ڈالی تھی۔
    ”آپ کے ساتھ کوئی نہیں ہے؟” بڑے بے تاثر انداز میں اس نے پوچھا تھا۔
    ”نہیں میں اکیلی آئی ہوں۔” وہ ہاتھ میں پکڑے رومال سے اپنے ماتھے پر آیا ہوا پسینہ خشک کرتے ہوئے بولی تھی۔
    ”ایڈمشن فارم چاہئے آپ کو؟”
    ”ہاں وہی چاہیے۔” وہ چند لمحے اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے کچھ اندازہ لگانے کی کوشش کرتا رہا۔ پھر بادل نخواستہ اس نے قدم بڑھا دئیے۔
    ”آئیں میرے ساتھ۔” اس لڑکی نے فوراً اس کی پیروی کی تھی مگر اس کے پیچھے پیچھے چلنے کے بجائے وہ اس کے برابر چلنے کی کوشش کرنے لگی۔ مگر چند منٹوں تک اس کوشش میں مصروف رہنے کے بعد بھی جب وہ اس کے تیز قدموں کا مقابلہ نہیں کر پائی تو وہ یک دم رک گئی۔
    ”پلیز ٹھہر جائیں ناں۔ آپ تو بہت تیز چلتے ہیں۔”
    اس کی آواز پر اس کے قدم بے اختیار رک گئے تھے۔ بڑی حیرانی سے اس نے اپنے مخاطب کو دیکھا تھا جو اب اس کے پاس آگیا تھا۔ ناگواری کی ایک لہر سی اس کے اندر اتھی تھی مگر اس کے قدموں کی رفتار اب کافی آہستہ ہو گئی تھی۔ وہ لڑکی اب بغیر کسی مشکل کے اس کے برابر چل رہی تھی۔
    ”یہ فارم کتنے کا آتا ہے؟” یہ پوچھا جانے والا پہلے سوال تھا۔
    ”پتا نہیں۔” اس نے اسے بغیر دیکھے جواب دیا۔
    ”یہ فارم ملتا کہاں سے ہے؟” ایک اور سوال پوچھا گیا تھا۔
    جواب اب بھی اسی بے نیازی سے دیا گیا تھا۔ ”آفس سے”





    تیسرا سوال بھی بڑے فراٹے سے کیا گیا تھا۔ ”آفس کہاں ہے؟”
    ”ہم وہیں جارہے ہیں۔” اس نے اب بھی اس کی طرف متوجہ ہوئے بغیر جواب دیا تھا۔ پھر سوالوں کی ایک بوچھاڑ شروع ہو گئی تھی۔
    ”آفس کیا زیادہ دور ہے؟”
    ”پتا نہیں، میں نے کبھی فاصلہ ناپا نہیں۔”
    ”کہیں اور سے فارم نہیں ملتا؟”
    ”ملتا ہو گا۔”
    ”تو وہاں سے کیوں نہ لے لیں؟”
    ”اگر آپ کو ایسی جگہ کا علم ہے تو ضرور لے لیں۔” اس بار اس کے لہجے میں خفگی نمایاں تھی مگر سوال پوچھنے والی ذرا متاثر نہیں ہوئی۔ سوالوں کا یہ سلسلہ پھر وہیں سے جوڑ دیا گیا تھا۔
    ”آفس سے فارم مل جائے گا ناں؟”
    ”اگر ہو گا تو ضرور مل جائے گا۔”
    ”اور اگر نہ ملا تو؟”
    ”تو میں کیا کرسکتا ہوں۔”
    ”اگر فارم نہ ملا تو میں ایڈمیشن کے لئے کیسے اپلائی کروں گی؟” اب لہجے میں تشویش شامل ہو چکی تھی۔
    ”مجھے نہیں پتا۔” وہ اس کے سوالوں سے عاجز آچکا تھا۔
    ”جن لوگوں کو فارم نہیں ملتے، وہ کیا کرتے ہیں؟”
    ”صبر۔” اس مختصر جواب نے کچھ لمحوں کے لئے اس پر خاموشی طاری کر دی تھی۔
    ”آپ یہاں پڑھتے ہیں؟” کچھ دیر کے بعد سوالات دوبارہ شروع ہوگئے تھے۔
    ”ہاں۔”
    اگلا سوال حماقت سے بھرپور تھا۔ ”آپ کو ایڈمیشن مل گیا تھا؟”
    ”اگر میں یہاں پڑھتا ہوں تو اس کا سیدھا سیدھا مطلب یہی ہے کہ مجھے ایڈمیشن مل گیا تھا۔”
    ”نہیں۔ میرا مطلب ہے آپ کو ایڈمیشن فارم کے ذریعے ایڈمیشن ملا تھا؟”
    ”ہاں۔”
    اگلا سوال پھر احمقانہ تھا۔ ”آپ کو ایڈمیشن فارم مل گیا تھا؟”
    اس نے صبر و ضبط کے ریکارڈ توڑتے ہوئے کہا۔
    ”ہاں۔”
    ”کہاں سے ملا تھا؟”
    ”آفس سے۔”
    ”جہاں ہم جارہے ہیں وہاں سے؟”
    ”جی وہیں سے۔”
    ”مجھے بھی مل جائے گا ناں؟” اس بار سوال التجائیہ تھا۔
    ”دعا کریں۔”
    اس نے کہا تھا۔ بہت اچانک اسے احساس ہونا شروع ہو گیا تھا کہ وہ لڑکی احمق نہیں نروس ہے اور جو وہ پوچھنا چاہ رہی ہے، وہ مناسب طریقے سے پوچھ نہیں پارہی۔ اب وہ شاید دعا میں مصروف ہو چکی تھی کیونکہ باقی راستہ وہ خاموش رہی تھی۔
    ”وہ آفس ہے اور وہ ونڈو ہے۔ اس لائن میں کھڑی ہو جائیں جن میں پہلے کچھ لڑکیاں کھڑی ہیں۔ وہاں سے آپ کو فارم مل جائے گا۔”
    آفس نظر آتے ہی اس نے رکتے ہوئے اس لڑکی کو ہاتھ کے اشارے سے سمجھایا تھا مگر وہ یک دم بدک گئی تھی۔
    ”میں کیسے لے آؤں۔ اتنے لوگ ہیں وہاں۔ آپ لاکر دیں۔”
    وہ اس کی فرمائش نما مطالبے پر حیران رہ گیا تھا۔ ایک نظر اس نے اپنی رسٹ واچ پر دوڑائی کلا س شروع ہونے میں ابھی کچھ وقت تھا۔
    ”ٹھیک ہے، آپ یہاں رکیں، میں آپ کو فارم لا کر دیتا ہوں۔”
    وہ اسے وہیں رکنے کا کہہ کر آفس کی طرف بڑھ گیا اب وہ جلد از جلد اس مفت کی خدمت سے نجات حاصل کر لینا چاہتا تھا۔ کھڑکی پر لگی ہوئی قطاروں میں کھڑا ہونے کی بجائے وہ آفس کے اندر گیا تھا اور اپنے ایک شناسا کلرک سے فارم لے کر چند منٹوں میں باہر آگیا تھا۔ وہ اس کے ہاتھ میں پکڑا ہوا فارم دیکھ کر بے تحاشا خوش ہو گئی تھی۔
    ”یہ لیں فارم۔” اس نے بڑی عقیدت سے فارم لیا تھا۔
    ”یہ کتنے روپے کا ہے؟” اس لڑکی نے پرس کھولتے ہوئے اس سے پوچھا۔
    ”نیور مائنڈ۔” وہ یہ کہہ کر آگے بڑھ گیا۔ وہ اس کے پیچھے آئی تھی۔
    ”پلیز بتائیں ناں۔ کتنے کا ہے؟”
    ”یہ فارم فری ملتا ہے۔” اس نے جھوٹ بولا تھا۔
    وہ چند روپے اس سے نہیں لینا چاہتا تھا۔ اس نے حیرانی سے اسے دیکھا تھا۔ پھر فارم کو فائل میں رکھنے لگی۔ اس نے دوبارہ چلنا شروع کر دیا وہ لڑکی پھر اس کے پیچھے آئی تھی۔ اس بار وہ جھنجھلا کر رکا تھا۔
    ”بس اب میں جارہی ہوں۔” وہ اس بار پہلی دفعہ اس کے تیوروں سے گڑبڑائی تھی۔
    ”یہ فارم فل کرکے آفس میں جمع کروائیں۔” اسے اس کی حماقت پر اب افسوس ہونے لگا تھا۔
    ”ابھی جمع کروا دوں؟” وہ بے تحاشا حیران ہوئی تھی۔
    ”جی ابھی جمع کروائیں۔ کل آخری تاریخ ہے اور بہت رش ہو گا۔ ڈاکومنٹس ہیں ناں آپ کے پاس۔”
    اس نے پہلی بار بڑے تحمل سے اس سے پوچھا تھا اور یہ پوچھنا اسے مہنگا پڑا۔ اس لڑکی نے اپنے ہاتھ میں پکڑی فائل سے کچھ پیپرز نکال کر اسے تھما دئیے۔
    ”ہاں ڈاکومنٹس تو میرے پاس ہیں۔”
    ”لیکن میں انہیں کیا کروں؟”
    اس نے ہکا بکا ہو کر اس سے پوچھا تھا۔ اس دفعہ فارم بھی اسے تھما دیا گیا تھا۔
    ”آپ اسے فل کردیں میں نے کبھی فارم فل نہیں کیا۔ بابا کرتے ہیں ہمیشہ۔ مجھ سے بہت غلطیاں ہوتی ہیں۔
    پہلی بار اس نے اپنے بنائے ہوئے اصول توڑتے ہوئے کسی کی مدد کرنے کی کوشش کی تھی اور پہلی دفعہ ہی یہ مدد اس کے گلے میں کانٹے کی طرح اٹک گئی تھی۔ وہ لڑکی بلا کی کام چور لگ رہی تھی اس وقت اسے ہونٹ بھینچ کر وہ ڈاکومنٹس اور فارم لے کر برآمدے میں بیٹھ گیا اور بے حد سنجیدگی کے ساتھ اسے فل کرنے لگا۔ یہ پہلی دفعہ تھا کہ وہ کسی دوسرے کا فارم اس طرح فل کر رہا تھا اور وہ بھی ایک لڑکی کا۔ باری باری ڈاکومنٹس سے کوائف اتارے ہوئے وہ ایک ایک ڈاکومنٹ اس کی طرف بڑھاتا گیا بے حد مختصر وقت میں اس نے فارم فل کیا تھا۔ پھر فارم اسے دینے کے بجائے وہ آفس کی طرف خود چلا گیا تھا۔ جو کام اسے بعد میں بھی خود ہی کرنا تھا۔ وہ پہلے ہی کیوں نہ خود کر دیتا۔ آفس سے باہر آتے ہی اس نے اس لڑکی کو منتظر پایا تھا۔
    ”اب آپ جائیں، بیس کو آکر لسٹ میں اپنا نام دیکھ لیجئے گا۔”
    اس بار وہ رکا نہیں۔ بے حد تیز قدموں کے ساتھ وہ اپنے ڈپارٹمنٹ کی طرف آگیا تھا۔
    اس واقعہ کو ایک ہفتہ گزرا تھا جب اس روز وہ موہد کے ساتھ کسی کام کے لئے آفس کی طرف گیا تھا۔ وہ آفس سے ابھی کافی دور تھا جب اس نے اسی لڑکی کو آفس سے کچھ فاصلے پر ایک ستون کے پاس کھڑی دیکھا تھا۔ ایک ہی نظر میں وہ اسے پہچان گیا تھا اور اس پہچان کے ساتھ ہی اسے اس دن کی روداد یاد آگئی تھی۔ وقتاً فوقتاً اس پر نظر دوڑاتے وہ اپنے دوست کے ساتھ باتیں کرتا آفس کی طرف بڑھتا گیا۔ آفس کے ارد گرد اس وقت کافی رش تھا ایڈمیشن پانے والے فیس جمع کروانے کے لئے قطاروں میں کھڑے تھے۔ اسی وقت اس لڑکی کی نظر اس پر پڑی تھی اور وہ بہت تیزی سے اس کی طرف آئی تھی۔ اس نے اسے اپنی جانب آتے دیکھ لیا تھا۔
    ”Oh not again” (وہ اب پھر نہیں) وہ بے اختیار بڑبڑایا تھا۔
    ”یہ لیں۔ میری فیس، جمع کروا دیں۔”
    کمال بے تکلفی سے اس نے پاس آتے ہی اس کی طرف فارم اور روپے بڑھا دئیے تھے۔ موہد اور اس کے درمیان بڑی سنجیدگی سے نظروں کا تبادلہ ہوا تھا۔ اس سے پہلے کہ موہد انکار کرتا اسے حیرت کا ایک شدید جھٹکا لگا تھا جب اس نے کومیل کو بڑی خاموشی سے اس لڑکی سے روپے پکڑتے دیکھا تھا۔ وہ خاموشی کے ساتھ کومیل کے ساتھ آگے بڑھ آیا تھا۔
    ”تم اس لڑکی کو جانتے ہو؟” چند قدم چلنے کے بعد موہد نے اس سے پوچھا تھا۔
    ”No” (نہیں) جواب بالکل مختصر تھا۔
    ”محترمہ خاصی احمق ہیں۔” موہد نے تبصرہ کیا تھا۔
    ”اس میں کیا شبہ ہے۔” اس نے خاصی لاپروائی سے کہا تھا۔
    ”بغیر واقفیت کے ہمیں فیس جمع کروانے کا فریضہ سونپ دیا ہے اور اگر ہم ان روپوں کے ساتھ فرار ہو جائیں یا فیس جمع کروائیں ہیں ناں تو؟” موہد نے ایک لمحہ کے لئے پیچھے مڑ کر گہری نظروں سے اس لڑکی کو دیکھتے ہوئے کہا تھا۔




  • بند کواڑوں کے آگے — عمیرہ احمد

    ”بند کواڑوں کے آگے” کسی بھی ڈائجسٹ میں شائع ہونے والی میری پہلی کہانی ہے۔ جسے میں نے ایک سچے واقعے سے متاثر ہو کر لکھا۔ اس کہانی کی اشاعت نے ڈائجسٹس کی دنیا کے دروازے مجھ پر کھول دیئے۔ اگرچہ میں اسے بعد میں آنے والی تحریروں کے مقابلے میں کمزور ترین تحریر سمجھتی ہوں۔ مگر میں نے اسے تب لکھا تھا جب مجھے کہانی لکھنا نہیں آتا تھا اور جب میں سمجھتی تھی کہ میں زندگی میں کبھی کوئی اچھی کہانی نہیں لکھ سکوں گی۔
    عمیرہ احمد

    ********************************





    بند کواڑوں کے آگے

    میں نے پہلی بار اسے گورنمنٹ کالج کے ایک فنکشن میں دیکھا تھا۔ وہ اسٹیج سیکرٹری تھی اور ہر شخص، ہر چیز پر حاوی سی لگ رہی تھی۔ گفتگو کے فن سے آشنا تھی اور آواز کی خوبصورتی اپنی جگہ تھی۔
    میں نے اسے بہت قریب سے نہیں دیکھا تھا اور نہ ہی ایسی کوئی خواہش میرے دل میں پیدا ہوئی تھی۔ میں نے اس وقت انٹر میں نیا نیا داخلہ لیا تھا اور وہ وہاں گریجویشن کی طالبہ تھی۔ یہ ضرور تھا کہ پہلی بار کو ایجوکیشن میں آنے کے بعد میں لڑکیوں سے کچھ خائف تھا لیکن اس وقت جس عمر میں تھا قدرتی طور پر مجھے صنف مخالف میں کافی دلچسپی محسوس ہوتی تھی۔
    لیکن بہرحال مجھے اس سے متاثر ہونے کے باوجود اس کے پاس جانے یا ملنے کا شوق نہیں ہوا۔ وجہ بالکل واضح تھی، مجھے اس وقت لڑکیوں میں جو چیزیں اٹریکٹ کرتی تھیں ان میں سے کچھ بھی اس کے پاس نہیں تھا۔ نہ اس کے نین نقش تیکھے تھے، نہ بال لمبے تھے، نہ رنگت چاند کی طرح تھی، نہ دانت موتیوں جیسے تھے، نہ چال ہرنی جیسی تھی، نہ ہی وہ فیشن ایبل تھی۔ ہاں مگر اس کا قد بہت دراز تھا۔ اس فنکشن میں، میں بس دور سے اتنا ہی دیکھ سکا تھا۔
    میں کوئی علامہ قسم کا اسٹوڈنٹ بھی نہیں تھا جو اس کے انداز گفتگو میں خوبصورت الفاظ کے انتخاب سے متاثر ہو جاتا سو بس چند گھنٹے وہاں گزارنے اور اس کے بعد اپنے دوستوں کے ساتھ اس فنکشن پر تبصرہ کرتا ہوا میں واپس گھر آ گیا تھا۔ رابیل علی سے یہ میرا پہلا تعارف تھا۔
    کالج میں داخلہ لینے کے چند ماہ بعد ہی جونیئر ورلڈ کپ میں حصہ لینے والی پاکستانی ٹیم میں میرا انتخاب ہو گیا تھا۔ اور تعلیم سے میری توجہ بالکل ہی ہٹ گئی تھی۔ اس زمانہ میں کرکٹ ہی میرے لیے سب کچھ تھی۔ تین بھائیوں میں سب سے چھوٹا ہونے کی وجہ سے مجھ پر کوئی ذمہ داری نہیں تھی۔ میری فیملی بہت امیر نہیں تھی لیکن بہرحال ہم کھاتے پیتے لوگوں میں شمار ہوتے تھے، خاص طور سے جب سے میرے بڑے دونوں بھائی بھی کمانے لگے تھے تب سے ہماری مالی پوزیشن کافی اچھی ہو گئی تھی۔
    شروع میں گھر والوں نے مجھے کرکٹ کھیلنے سے منع کرنے کی کافی کوشش کی تھی لیکن بہرحال میں ان کی چالوں اور باتوں میں نہیں آیا۔ کرکٹ میرا شوق نہیں، جنون تھا اور اس جنون نے گھر والوں کو بھی اپنے حصار میں لے ہی لیا تھا۔ کلب کرکٹ کھیلتے کھیلتے جب اچانک میری سلیکشن انڈر 19 ٹیم کے لیے ہو گئی تو میرے ساتھ ساتھ میرے گھر والے بھی بہت خوش تھے۔
    پھر میں جونیئر ورلڈ کپ کے لیے انگلینڈ چلا گیا۔ پاکستان کی مجموعی پرفارمنس وہاں پر زیادہ بہتر نہیں رہی لیکن جن چند کھلاڑیوں نے بین الاقوامی میڈیا کی توجہ اپنی طرف مبذول کروالی تھی ان میں، میں بھی تھا۔ پتا نہیں کون کون سے خطاب تھے جو مجھے دے دیے گئے تھے۔ مجھے پاکستان کی باؤلنگ کا مستقبل قرار دے دیا گیا تھا اور میں جیسے ان پچیس دنوں میں مستقل ہواؤں میں رہا تھا۔ گمنامی سے ایک دم دنیا کے سامنے آنا ایسا ہی ہوتا ہے جیسے کوئی چمگادڑ یک دم سورج کے سامنے آ جائے۔
    میں خوبصورت اور کم عمر تھا۔ ٹیلنٹڈ تھا اور مجھے ان سب چیزوں کا احساس تھا۔ جونیئر ورلڈ کپ کے اختتام کے ساتھ ہی انگلینڈ میں لیگ کرکٹ میں حصہ لینے والے ایک کلب کے ساتھ میرا معاہدہ ہو گیا تھا۔ اور پھر چند ہی ماہ میں مجھے بہت سے ملکوں کی جونیئر ٹیموں کے ساتھ کھیلنے کا موقع ملا تھا۔ میں پاکستان کی جونیئر ٹیم کا ایک مستقل رکن بن گیا تھا۔
    مجھے یاد ہے جب میں دوبارہ کالج آیا تھا تو تقریباً آٹھ ماہ گزر گئے تھے۔ کالج سے میرا نام خارج نہیں کیا گیا تھا، وجہ صرف کرکٹ ہی تھی اور میں جانتا تھا کہ اب میں ایک دوسرا احسن منصور ہوں۔ کالجمیں میری بہت زیادہ شناخت نہیں ہوئی تھی کیونکہ ظاہر ہے ایک جونیئر ٹیم کا کھلاڑی لائم لائٹ میں اس طرح نہیں رہتا جس طرح سینئر کھلاڑی رہتے ہیں مگر جتنی شہرت اور شناخت مجھے حاصل تھی میں اس پر بھی خوش تھا۔ اب میرا چہرہ ایک عام چہرہ نہیں رہا تھا۔ میں خود کو دوسروں سے منفرد اور ممتاز سمجھنے لگا تھا خاص طور پر لڑکیوں میں میری مقبولیت بڑھ گئی تھی۔ یا کم از کم مجھے تو ایسا ہی لگتا تھا۔
    مجھے یاد ہے چند ماہ بعد میں نے ایک صبح اخبار میں رابیل علی کی تصویر دیکھی تھی۔ اس نے BA میں ٹاپ کیا تھا اور اس کا چہرہ دیکھتے ہی مجھے وہ فنکشن یاد آ گیا تھا جس میں، میں نے اسے پہلی بار دیکھا تھا۔ میں کچھ مرعوب سا ہوا تھا آخر BA میں ٹاپ کرنا کوئی معمولی بات تو نہیں تھی لیکن یہ احساسات صرف کچھ دیر کے لیے ہی تھے۔ میں جلد ہی اسے ایک بار پھر بھول گیا تھا۔ ان ہی دنوں آسٹریلیا کا ٹور کرنے والی پاکستانی ٹیم کے لیے میرا انتخاب کیا گیا تھا اور میں جیسے خوشی سے پاگل ہو گیا تھا۔
    میں صرف سترہ سال کا تھا اور اس عمر میں یک دم پاکستانی کرکٹ ٹیم میں بغیر کسی سفارش کے آ جانا کسی معجزے سے کم نہ تھا۔ مبارکبادوں کا ایک طویل سلسلہ تھا جو شروع ہو گیا تھا۔ اگلے دن کالج میں بھی میں سب کی توجہ کا مرکز بنا رہا یہاں تک کہ کچھ اساتذہ نے بھی مجھے کلاس میں ہی مبارکباد دی تھی۔
    پھر میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کاٹور کرنے والی ٹیم کے ساتھ چلا گیا اور میرے کیریئر کا باقاعدہ آغاز ہو گیا تھا۔ میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کون سی طاقت تھی لیکن بہرحال میرا ہر پانسہ سیدھا ہی پڑتا رہا۔ میں صرف ایک باؤلر تھا لیکن دلچسپ بات یہ تھی کہ بیٹنگ میں دلچسپی نہ ہونے کے باوجود میری پرفارمنس اس میں بھی شاندار رہی تھی۔ جہاں سپر اسٹارز فلاپ ہونا شروع ہوتے وہاں کبھی میری بیٹنگ رنگ جمانے لگتی اور کبھی میری باؤلنگ اپنی دھاک بٹھانے لگتی۔
    جب ان دونوں سیریز میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد میں پاکستان واپس لوٹا تھا تو میری گردن کے کلف میں اور اضافہ ہو چکا تھا۔ میری باتوں کا انداز بدل چکا تھا کیونکہ میں بدل چکا تھا۔ ہر ماہ گھر والوں سے پانچ چھ سو جیب خرچ لینے والے کے پاس اب اتنے پیسے تھے کہ وہ گھر والوں پر ڈھیروں روپے خرچ کر سکے۔ اخبارات میں میری پرفارمنس پر خصوصی کالم لکھے جا رہے تھے۔ اسپورٹس میگزین مجھ پر خصوصی ضمیمے نکال رہے تھے۔ مختلف ڈیپارٹمنٹس کی طرف سے مجھے اپنے لیے کھیلنے پر مجبور کیا جا رہا تھا۔ میں اب اسٹار آل راؤنڈرز کی صف میں شامل ہو گیا تھا اور اس سب کے لیے مجھے نہ سالوں کی محنت کرنی پڑی تھی نہ کوئی طویل جدوجہد۔
    پاکستان واپس آنے کے بعد جب میں دوبارہ کالج گیا تھا تو مجھے دیکھتے ہی جیسے ہر ایک حیران ہو جاتا تھا۔ آٹو گرافس لینے والوں کا ایک بڑا ہجوم تھا جس نے مجھے پہلے دن اپنے گھیراؤ میں رکھا اور ظاہر ہے اس میں لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد شامل تھی۔ اور میں یقینا زندگی میں یہی سب کچھ چاہتا تھا۔ میں اب لڑکیوں سے پہلے کی طرح خائف نہیں تھا۔ بیرونی دوروں نے صنف نازک کے سامنے میری گھبراہٹ کو ختم کر دیا تھا۔ اب میں ان کے تبصروں کے جواب اتنے ہی شوخ انداز میں دیتا تھا۔ لیکن اب کالج میرا آنا جانا کافی کم ہو گیا تھا میں صرف خانہ پری کے لیے ہی کبھی کبھار وہاں جاتا تھا ورنہ مجھے نہ تو تعلیم میں پہلے کوئی دلچسپی تھی نہ ہی اب تھی بس میرے والدین کا اصرار تھا کہ میں گریجویشن ضرور کر لوں چاہے تھرڈ ڈویژن میں ہی سہی اور میں نے ان کے اصرار پر سر جھکا دیا تھا۔
    رابیل علی سے میری پہلی باقاعدہ ملاقات تب ہوئی تھی جب کالج نے اپنے ایک سالانہ فنکشن میں کچھ نامور لوگوں کے ساتھ مجھے بھی مدعو کیا۔ وہ اب انگلش ڈیپارٹمنٹ میں ایم اے انگلش کی طالبہ تھی اور اس فنکشن میں ایک بار پھر اسٹیج سیکرٹری کے طور پر سامنے آئی تھی لیکن پہلی بار مجھے اندازہ ہوا کہ وہ لوگوں میں بہت پاپولر ہے۔
    میرے کچھ دوستوں نے مجھے اس فنکشن کا آغاز ہونے سے پہلے ہی اس کے بارے میں خبردار کیا تھا کہ وہ بہت تیکھے سوال کرتی ہے اور زیادہ تر مد مقابل کو لاجواب کر چھوڑتی ہے لیکن جو عجیب بات مجھے اپنے دوستوں کے رویے میں محسوس ہوئی تھی وہ رابیل کے لیے احترام تھا۔ میرے دوستوں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں تھا جو لڑکیوں کے بارے میں تبصرے کرتے ہوئے محتاط رہتا مگر رابیل کے بارے میں وہ بڑے محتاط انداز میں بات کر رہے تھے۔ ایسے لگتا تھا جیسے وہ لاشعوری طور پر اس سے مرعوب تھے۔
    مجھے ان کے رویے پر کافی حیرانگی ہوئی تھی۔ مجھے یاد ہے میں نے بڑی لاپرواہی کا اظہار کیا تھا۔ لیکن میرے دوست عمر نے کہا تھا:
    ”دیکھیں گے تم بھی کتنے پانی میں ہو۔ اس کے سامنے ساری چوکڑیاں نہ بھول جاؤ تو میرا نام بدل دینا۔”
    رابیل کے بارے میں اس جملے نے میرے تجسّس اور تشویش دونوں کو بڑھا دیا تھا۔ میں نے سوچا کہ پروگرام کے آغاز سے پہلے میں اس سے ملوں اور پوچھوں کہ وہ مجھ سے کس قسم کے سوالات کرے گی اور جب میں نے اپنے دوستوں سے اس بات کا اظہار کیا تو عجیب سار سپانس انھوں نے دیا تھا۔ عمر نے کندھے اچکائے تھے۔ حسن نے سیٹی بجانے کے انداز میں ہونٹ سکوڑے تھے۔ عادل جھینپی سی ہنسی ہنسنے لگا تھا۔
    یک دم مجھے احساس ہوا کہ وہ سب اس کے پاس جانے سے گھبرا رہے تھے۔ ایسے جیسے وہ بے حد کنفیوز ہو گئے تھے۔ لیکن بہرحال وہ میرے ساتھ اس کے پاس جانے پر آمادہ ہو گئے۔ پھر کچھ دیر کے بعد میں رابیل علی کو ڈھونڈنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ وہ اس فنکشن کے انچارج سرعمانوئیل اور چند دوسرے اسٹوڈنٹس کے ساتھ کھڑی کچھ پیپرز دیکھ رہی تھی اور شاید کسی موضوع پر کچھ بحث بھی ہو رہی تھی۔
    سرعمانوئیل نے مجھے دور سے دیکھ لیا تھا اور وہ تیزی سے میرے پاس آئے تھے۔ بڑی گرم جوشی سے انھوں نے میرا حال احوال پوچھا تھا اور فنکشن میں آنے کے لیے شکریہ ادا کیا تھا پھر وہ مجھے میری نشست پر لے جانا چاہتے تھے لیکن میں نے ان سے کہا کہ میں رابیل علی سے کچھ بات کرنا چاہتا ہوں اگر وہ اسے میرا پیغام دے دیں تو میں ان کا بہت مشکور ہوں گا۔ وہ مسکراتے ہوئے رابیل کے پاس چلے گئے تھے۔ اور چند لمحے بعد میں نے رابیل اور اس کے ساتھ کھڑے دوسرے لڑکوں کو اچانک اپنی طرف متوجہ ہوتے دیکھا۔ وہ ان پیپرز کو رول کرتی ہوئی میری طرف آ گئی تھی اور پتا نہیں کیوں لیکن مجھے لگا تھا کہ میں اتنا ہی کنفیوز ہوں جتنے میرے دوست ہیں۔ میرے پاس آ کر اس نے مسکراتے ہوئے مجھے وش کیا تھا:
    ”سرعمانوئیل کہہ رہے تھے کہ آپ مجھ سے کچھ کہنا چاہ رہے ہیں۔”
    اس نے بغیر کسی توقف کے مجھ سے پوچھا اور یک دم مجھے لگا کہ میرا سارا اعتماد رخصت ہو گیا ہے لیکن بہرحال اپنی ساری ہمت کو اکٹھا کرتے ہوئے میں نے اس سے کہا:
    ”وہ اصل میں میرے دوست کہہ رہے تھے کہ آپ اسٹیج پر اپنے سوالوں اور باتوں سے بہت پریشان کرتی ہیں۔”
    اس کے چہرے پر میری بات سن کر حیرانگی کے تاثرات نمودار ہوئے تھے لیکن پھر اس نے ایک گہری مسکراہٹ کے ساتھ میرے دوستوں کو دیکھتے ہوئے مجھ سے پوچھا۔
    ”آپ کے کون سے دوست کہہ رہے ہیں کہ میں اسٹیج پر اپنے سوالوں سے پریشان کرتی ہوں؟”
    میں نے عمر کی طرف اشارہ کیا تھا اور مجھے لگا تھا جیسے عمر وہاں سے دوڑ لگا دے گا کم از کم اس کے چہرے سے مجھے ایسا ہی لگا تھا۔
    ”آپ کا نام کیا ہے؟” اس نے مسکراتے ہوئے براہ راست عمر سے ہی پوچھا تھا۔ عمر کا نام جاننے کے بعد اس نے کہا تھا:
    ”دیکھیں عمر! میں پریشان کرنے والے سوال نہیں کرتی، میں اچھے سوال کرتی ہوں تاکہ ان کے جواب بھی اچھے اور منفرد ملیں اور جو لوگ پروگرام دیکھ رہے ہوتے ہیں وہ اسے انجوائے کریں۔ اگر وہی اسٹیریو ٹائپ سوال پوچھے جاتے رہیں تو مجھے نہیں لگتا کہ کسی کو اس بات میں دلچسپی ہو گی کہ وہ مہمانوں کے ساتھ میری باتیں سنے لیکن بہرحال میں کبھی بھی اپنے پروگرامز میں حصہ لینے والوں کو پریشان کرنا نہیں چاہوں گی اور آج کا پروگرام دیکھنے کے بعد آپ ضرور مجھے بتائیے کہ میں نے کون سا سوال ایسا کیا تھا جو پریشان کرنے والا تھا یا جو مجھے نہیں کرنا چاہیے تھا۔”
    وہ بڑی نرمی سے مجھے نظر انداز کیے ہوئے عمر سے مخاطب تھی جو زمین پر نظریں گاڑے کھڑا تھا۔
    میں نے آج تک اسے کبھی کسی لڑکی کے سامنے نظریں جھکائے نہیں دیکھا تھا لیکن آج میں نے دیکھ ہی لیا تھا۔ وہ عمر سے بات کرنے کے بعد مجھ سے مخاطب ہوئی۔
    ”جہاں تک آپ کا تعلق ہے تو ہم سب کو آپ پر بہت فخر ہے۔ ہمارے کالج کو آپ پر ناز ہے کیونکہ آپ بہترین پلیئر ہیں اور میں نہیں سمجھتی کہ آپ کو کوئی خدشہ ہونا چاہیے۔ آپ گراؤنڈ میں اتنے کانفیڈنٹ نظر آتے ہیں تو یقینا اسٹیج پر بھی ہوں گے اور میں کوشش کروں گی کہ بقول عمر کے کوئی پریشان کرنے والا سوال نہ کروں۔ میرے خیال میں اتنی یقین دہانی کافی ہے ناؤ ایکسکیوزمی مجھے کچھ کام ہے۔”
    وہ معذرت کرتی ہوئی واپس چلی گئی تھی۔ میں ان چند لمحوں میں مکمل طور پر اس کا جائزہ لے چکا تھا۔ وہ بلیک اور وائٹ چیک کی شرٹ میں ملبوس تھی۔بلیک شلوار کے ساتھ اس نے بلیک دوپٹہ لیا ہوا تھا اور جینز کی بلیک جیکٹ کی آستینیں اس نے کہنیوں تک الٹ رکھی تھیں اس کی بائیں کلائی میں ایک رسٹ واچ تھی اور دوسری کلائی بالکل خالی تھی۔ کانوں میں چھوٹی چھوٹی بالیاں تھیں اور اسٹیپس میں کٹے ہوئے کھلے بالوں میں اس نے ایک ہیئر بینڈ لگا رکھا تھا۔
    وہ بہت خوبصورت تو نہیں تھی مگر اس کی آنکھیں اور مسکراہٹ دونوں یقینا خوبصورت تھیں۔ اس کی آنکھیں بہت چمکدار اور بچوں کی طرح شفاف تھیں یقینا اس کی شخصیت میں کوئی ایسی بات تھی جو دوسروں کو مرعوب کر دیتی تھی شاید اس کا اعتماد، شاید اس کا انداز گفتگو، شاید اس کی آواز یا شاید یہ سب کچھ… میں بہرحال کافی متاثر ہوا تھا۔
    اور اس دن اسٹیج پر جا کر میں واقعی اپنی ساری چوکڑی بھول گیا تھا۔ اس کے سوال بہت تیکھے تھے اور ان کے پوچھنے کا انداز اس سے بھی سوا تھا۔ جو کمی رہ گئی تھی وہ ہال میں سے آنے والے ریمارکس تھے اور تالیوں اور قہقہوں کا ایک شور تھا جو اس کے ہر سوال پر ہال میں بلند ہوتا تھا۔ مجھے اسٹیج پر بلانے سے پہلے وہ چند دوسرے مہمانوں سے باتیں کرتی رہی تھی اور اس نے ان سے بھی کافی مشکل اور دلچسپ سوال پوچھے تھے لیکن ان میں سے کوئی بھی میری طرح نروس نہیں ہوا تھا کیونکہ وہ کافی میچور عمر کے تھے لیکن بہرحال میں اپنی اس خود اعتمادی کا کوئی مظاہرہ نہیں کر سکا جس کے لیے میں مشہور تھا۔ میں ایک ہی رات میں جیسے سپر اسٹار سے laughing stock بن گیا تھا۔




  • بات عمر بھر کی ہے — عمیرہ احمد

    میرا سانس ابھی تک رکا ہوا ہے میں ایک سکتے کے عالم میں اسے دیکھ رہی ہوں۔ ابھی ابھی جو کچھ ہوا ہے، اس کے بعد ہاں اس کے بعد بھی وہ بے حد نارمل ہے۔ بہت پرُسکون ہے۔ یوں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں اس نے اپنا دوپٹہ اتار کر کرسی پر پھینک دیا ہے۔ اب وہ اپنے سفید کھلے کرتے کی آستینیں فولڈ کر رہی ہے اور پھر اس نے اسٹیپس میں کٹے ہوئے شانوں پر بکھرے ہوئے ریشمی بالوں کو ہیئر بینڈ میں باندھا ہے۔ ٹیبل پر رکھے ہوئے گلاس سے پانی پینے کے بعد اب وہ فریزر سے آئسکریم نکال کر کھانے لگی ہے۔ اس کا چہرہ بالکل بے تاثر اور مطمئن ہے۔ اس کی سانولی رنگت یک دم مجھے اجلی لگنے لگی ہے۔ اس کا عام سا چہرہ میرے لیے بہت خاص بن گیا ہے۔
    مجھے وہ بیٹی نہیں ایک مرد لگ رہی ہے۔ اونچا، لمبا، چوڑا، پرُاعتماد، بے خوف مرد جسے کسی چیز کی پروا نہیں ہوتی جو دوسروں کو تحفظ دے سکتا ہے۔ وہ میری طرف متوجہ نہیں ہے مگر جانتی ہے میں یہیں کھڑی ہوں میں چاہتی بھی نہیں۔ وہ مجھے دیکھے، میرا جی چاہ رہا ہے، میں جا کر اس کے پیروں سے لپٹ جاؤں اس کی گود میں چھپ جاؤں۔ اس کے سینے میں منہ چھپا لوں پھر روؤں دھاڑیں مار مار کر، مگر میں اب بھی پتھر کے بت کی طرح ساکت ہوں۔ مجھے لگ رہا ہے، وہ میری بیٹی نہیں ہے۔ وہ کوئی اور ہے میں نے تو اپنی بیٹی کو یہ سب کچھ کبھی بھی نہیں سکھایا پھر میرے سکھائے بغیر اسے یہ سب کیسے آ گیا۔
    میرا وجود خوف، شکست خوردگی، بے اعتمادی اور مایوسی کا منبع تھا۔ پھر اس منبع نے سنبل جیسا موتی کیسے تراش لیا تھا۔ اسے وہ کون ساگر، کون سا ہنر آتا تھا جس نے اسے مکمل کیا تھا۔
    دھیرے دھیرے میں پلکیں جھپکنے لگی ہوں، میں نے دیوان سے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کر لی ہیں۔ پانی میرے گال بھگونے لگا ہے۔ یہ کسی دکھ، کسی تکلیف کا اظہار نہیں ہیں۔ آپ جانتے ہیں، بعض دفعہ بے تحاشا خوشی بھی تو رلاتی ہے۔ یہ ایسے ہی آنسو ہیں، بند آنکھوں نے سنبل کو میری نظروں سے اوجھل کر دیا ہے۔ مگر ذہن سے نہیں۔
    میرا دل چاہ رہا ہے، تئیس سال بعد آج میں بالآخر ہنسوں، قہقہے لگاؤں رقص کروں، چیخوں چلاؤں۔ بھاگوں ہر ایک کو بتاؤں۔ اس خزانے کے بارے میں جو پچھلے بائیس سال سے میرے پاس تھا اور مجھے پتا ہی نہیں تھا۔ لوگوں کو بتاؤں کہ میرے پاس کیا ہے جو کسی اور کے پاس نہیں ہے ان سے کہوں کہ سنبل، ہاں سنبل میری بیٹی ہے۔ وہ میری ہے، صرف میری۔”





    ”آپ مجھے نہیں جانتے۔ پچھلے بہت سے سالوں سے کوئی بھی نہیں جانتا۔ میں نے کبھی آپ کو اپنے بارے میں بتانے کی کوشش ہی نہیں کی میرا خیال ہے، مجھے اپنے بارے میں کچھ بھی بتانے کی ہمت ہی نہیں تھی اور اب میرا دل چاہ رہا ہے۔ میں آپ میں سے ایک ایک کو پکڑ کر اپنے بارے میں بتاؤں۔ مومنہ عادل کے بارے میں ہاں میرا نام مومنہ عادل ہی ہے۔ نہیں مومنہ عادل تو تئیس سال پہلے تھا اب مومنہ فاروق ہے۔ میں کون ہوں یہ مجھے بیالیس سال بعد پتا چلا ہے آپ ٹھیک سمجھتے ہیں میری عمر بیالیس سال ہی ہے۔
    بیالیس سال پہلے میرے باپ کے گھر میں ایک ننھے سے سانولے وجود نے جنم لیا۔ سب کو بے تحاشا حیرت ہوئی تھی۔
    ”سانولی رنگت تو ہماری پچھلی سات پشتوں میں نہیں ہے پھر یہ۔”
    میری دادی نے مجھے اٹھاتے ہوئے کچھ حیرت زدہ ہو کر کہا۔
    میری پھوپھو نے بات ہنسی میں اڑائی تھی۔ مگر بات ہنسی میں ختم نہیں ہوئی۔ میں دو بہنوں اور دو بھائیوں میں سب سے چھوٹی تھی۔ ماں باپ کی آخری اولاد تھی۔ فطری طور پر انھیں مجھ سے سب سے زیادہ محبت ہونی چاہیے تھی مگر ایسا ہوا نہیں۔ میرے چہرے نے شاید ان کے اور میرے درمیان بہت فاصلہ کھڑا کر دیا تھا۔
    بچپن میں میں Ugly Duckling کی کہانی بہت شوق سے پڑھتی تھی اور بار بار پڑھتی تھی مجھے اپنا وجود بھی ایک Ugly Duckling ہی لگتا تھا۔ معمولی، عام اور بدصورت ایسا نہیں تھا کہ میرے ماں باپ اور گھر والوں کو مجھ سے محبت ہی نہیں تھی۔ انھیں محبت تو تھی مگر یہ طے نہیں کر پاتے تھے کہ کتنی محبت کرنی چاہیے نہ ہی یہ فیصلہ کر پاتے تھے کہ کس قسم کی ہونی چاہیے۔ ہمدردی والی محبت، بھیک والی محبت، مجبوری والی محبت یا فطری محبت۔
    اور وہ ساری عمر ہی یہ طے نہیں کر پائے۔ مگر میں نے بہت کچھ طے کر لیا تھا۔ مجھے کیسی زندگی گزارنی ہے اور کس طرح گزارنی ہے یہ میں نے تب طے کر لیا تھا جب شاید مجھے زندگی کے مفہوم سے بھی آگاہی نہیں تھی۔ جب آپ کے وجود میں کوئی کمی ہو، کوئی بہت بڑی کمی تو پھر آپ کو ہمیشہ دوسرے لوگوں کا سایہ بن کر زندگی گزارنی چاہیے۔ کبھی آگے آنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ اتنا معمولی بن جانا چاہیے کہ کوئی آپ پر سرسری سی نظر ڈالنا بھی گوارا نہ کرے۔ اس طرح آپ اپنے وجود کی اس خامی اس کمی کو چھپالیں گے۔ کسی کو پتا ہی نہیں چلے گا کہ آپ میں کوئی کمی ہے۔ یہ سب میں اس وقت سوچتی تھی۔
    سانولی رنگت اور معمولی شکل مجھے اس وقت اتنی ہی بڑی خامی لگتی تھی اور میں نے وہی سب کچھ کیا جو سوچا۔ میں نے اپنے وجود کو کمپلیکسز کا ایک مجموعہ بنا دیا۔ میں خود کو دوسروں کے سائے میں چھپانے لگی اور کسی نے مجھے یہ سب کرنے سے روکا نہیں، میرے جیسے عام اور معمولی لوگوں کے بارے میں شاید ان کے اپنے ماں باپ بھی ہمدردی سے نہیں سوچتے۔ معمولی لوگوں پر غصہ تو آ سکتا ہے مگر ان سے ہمدردی نہیں ہو سکتی۔
    میں نے خاموشی کو اپنے وجود کا ایک حصہ بنا لیا۔ ماں باپ نے سوچ لیا کہ مجھ میں بات کرنے کی ہمت نہیں ہے۔
    میں نے لوگوں سے میل جول ختم کر دیا۔ ماں باپ نے سمجھا میں تنہائی پسند ہوں۔ آدم بیزار ہوں۔
    میرا دل پڑھائی سے اچاٹ ہونے لگا۔ ماں باپ سب سے کہنے لگے کہ مجھ میں ان کے دوسرے بچوں کی طرح اعلیٰ ذہنی صلاحیتیں نہیں ہیں۔
    کچھ خامیاں مجھے اللہ نے دی تھیں۔ باقی سب گھر والوں نے، زندگی میں اللہ کی دی گئی خامیوں نے مجھے زیادہ نقصان پہنچایا یا گھر والوں کی عطا کردہ خامیوں نے؟ اس کا فیصلہ آپ کو کرنا ہے۔
    اپنی رنگت کے بارے میں، میں نے اتنی بار لوگوں سے اتنا کچھ سنا تھا کہ اب اگر کوئی ہمارے گھر آتا اور میری رنگت کے بارے میں کچھ نہ کہتا تو مجھے پریشانی ہونے لگتی۔ مجھے وہ شخص انسان ہی نہیں لگتا تھا۔
    عجیب بات ہے کہ اپنی ساری بدصورتی کے باوجود مجھے اپنے بہن بھائیوں سے بہت محبت تھی۔ ان کی دودھیا رنگت اور تیکھے نین نقش مجھے کسی قسم کے حسد میں مبتلا نہیں کرتے تھے۔ بلکہ مجھے ان پر رشک آتا تھا۔ میرے لیے وہ دیوی دیوتاؤں جیسے ہوتے گئے۔ میں ہر وقت ان کے آگے پیچھے پھرتی رہتی ان کے کام کرتی۔ ان کے ناز نخرے دیکھتی اور سوچتی خوبصورت لوگوں کو سب کچھ سجتا ہے۔ ادا بھی، غرور بھی، ان کا حق ہوتا ہے کہ ان کی بات مانی جائے۔ ان کے ناز اٹھائے جائیں۔ ان کے حکم سے سرگردانی نہ کی جائے۔ مجھے لگتا تھا جیسے اللہ نے ماں باپ کی اطاعت ہر حال میں لازم کر دی ہے۔ اسی طرح بدصورت لوگوں پر خوبصورت لوگوں کی اطاعت واجب ہے۔ یہ فلسفہ مجھے کس نے پڑھایا۔ کس نے سکھایا۔ مجھے خود بھی نہیں پتا بس میرا ذہن زندگی کے لیے جو قواعد و ضوابط بناتا رہتا تھا، ان میں سے کچھ اصول اور ضابطے یہ بھی تھے۔
    کسی سے میری اتنی دوستی تھی ہی نہیں کہ میں اپنا ذہن اس کے سامنے کھول کر رکھ دیتی اور میری دوست مجھے کچھ سمجھاتی، زندگی کے کچھ گر سکھاتی۔ مجھے زمین پر قدم جمانا سکھاتی۔ جن سے کچھ دوستی تھی۔ وہ بھی میرے گھر والوں سے مختلف نہیں تھیں۔ باتوں باتوں میں میری رنگت کا تذکرہ کر دیتیں پھر ان کا ہر قہقہہ مجھے آگ پر تیزاب کے چھڑکاؤ جیسا لگتا، مجھے یوں محسوس ہوتا، جیسے میرا رنگ کچھ اور سیاہ ہو گیا ہے جیسے میرے چہرے کی بدصورتی کچھ اور بڑھ گئی ہے، میں جانتی ہوں میں اتنی بدصورت نہیں تھی جتنی خود کو سمجھنے لگی تھی۔ صرف ایک سانولی رنگت نے مجھے زندگی بھر کے لیے ایک برزخ میں ڈال دیا تھا اور اس برزخ سے میں پھر بیالیس سال بعد ہی نکل پائی ہوں۔
    آپ نے کبھی کمہار کو مٹی کے برتن بناتے دیکھا ہے۔ وہ مٹی کے گندھے ہوئے ڈھیلے کو چاک پر رکھ کر گھماتا جاتا ہے۔ اتنا گھماتا ہے کہ پھر وہ ڈھیلا واضح طور پر نظر آنا بھی بند ہو جاتا ہے۔ مگر اس کی آنکھیں نہیں ہاتھ اس کی رہنمائی کرتے ہیں۔ ہاتھ مٹی کے ڈھیلے کو برتن بنا دیتے ہیں۔ کوئی پیالہ، کوئی صراحی، کوئی مٹکا، مجھے بھی گندھی ہوئی مٹی کی طرح سب نے مل کر دنیا کے چاک پر گھمایا تھا۔ اور کچھ بنا دیا تھا، مگر جو بنایا تھا اس شئے کی دنیا میں ایک ٹکے کے برابر بھی وقعت نہیں تھی ایک بے مصرف اور ناکارہ وجود، میں نہ پیالہ تھی نہ صراحی نہ مٹکا، میں تو صرف ایک کالی عورت تھی اور کالی عورت بھلا کالی عورت دنیا میں کیسے جیتی ہے؟
    وقت گزرتا گیا تھا میں بڑی ہوتی گئی اور اک اور آگہی کے زہر سے آشنا ہو گئی۔ دیکھنے اور نہ دیکھنے، سراہنے اور دھتکارنے، چاہنے اور نہ چاہنے کے درمیان موجود فرق کو جاننے لگی تھی۔ پتا نہیں لوگ آگہی پانے کی دعا کیوں کرتے ہیں۔ آگہی نے میرے وجود کے اندر تو ببول کا درخت کھڑا کر دیا تھا۔ جس کا ہر کانٹا مجھے اندر سے لہولہان کرتا رہتا اور میں اللہ سے کہتی رہتی، اللہ تو نے مجھے کالی عورت کیوں بنایا کیا تو نہیں جانتا تھا، کالی عورت ہونا کتنا بڑا عذاب ہے۔ میں نے ساری زندگی اس ایک شکوے کے علاوہ خدا سے کوئی اور شکوہ نہیں کیا۔
    میرے تینوں بہن بھائیوں کی شادیاں بہت کم عمری میں ہو گئی تھیں۔ وجہ پھر وہی تھی۔ خوبصورتی، قابلیت۔ خاندان میں سے ہر ایک اپنے بچوں کے لیے ان تینوں پر نظریں گاڑے بیٹھا تھا۔ میری بڑی بہن عارفہ کی شادی میری خالہ کے بیٹے سے ہوئی۔ وہ خود جتنی خوبصورت تھیں۔ ان کے شوہر اس سے بھی زیادہ خوبصورت تھے۔ مبین بھائی کی شادی میرے تایا کی بیٹی سے ہوئی۔ سب سے چھوٹے حسیب بھائی کی شادی ماموں کی بیٹی سے ہوئی۔ ان شادیوں نے میری خاموشی کو اور بڑھا دیا تھا۔ مذاق اڑانے والوں کی تعداد میں اور اضافہ ہو گیا تھا اگر میرے بہن بھائیوں کی شادیاں خاندان سے باہر ہوتیں تو شاید میرے بہنوئی اور بھابھیاں میرا مذاق اس طرح نہ اڑاتے جس طرح میری کزنز اڑاتی تھیں ان کے لیے میں نند یا سالی نہیں تھی صرف ایک کالی کزن تھی۔
    *****
    پتا نہیں کیوں اور کیسے مگر میں نے بھی دل میں ایک خواہش پال لی تھی۔ یوں سمجھئے چاند کو پانے کا خواب دیکھ لیا۔ میں اس عمر میں تھی جب لڑکیاں بہت سے خواب دیکھتی ہیں۔ بہت سی آرزوئیں پالتی ہیں اور میری خواہش، میری آرزو تھی کہ میں خوبصورت نہ سہی میرا شوہر بہت خوبصورت ہو۔ میں سفید رنگت نہیں رکھتی نہ سہی، مگر اسے دودھ کی طرح گورا ہونا چاہیے۔ چاہے غریب ہو، چاہے بیمار ہو چاہے معذور ہو، چاہے آوارہ ہو، مگر خوبصورت ہو، مگر سفید ہو پھر میں بھی سب کے سامنے سر اٹھا کر چلوں گی۔ پھر میرے پاس بھی کوئی ایسی چیز ہوگی جسے میں فخریہ طور پر سب کو دکھا سکوں گی۔ میں ہر وقت سوچتی رہتی۔ اپنے فرضی شوہر کا ناک نقشہ ترتیب دیتی رہتی۔
    یا اپنی خواہشوں کو مقدس نہ جانیئے
    یا خواہشوں کے ساتھ ہی مر جانا چاہیے
    شاعر نے یہ شعر شاید میرے جیسے لوگوں کے لیے کہا ہے۔ لیکن خواہش کرنا انسان کے اختیار میں تو نہیں ہوتا ناں جس طرح خواہش نہ کرنا آپ کے ہاتھ میں نہیں ہوتا۔ ساری بات تو دل کی ہوتی ہے۔
    کیا آپ کو یقین آئے گا اگر میں کہوں کہ خدا نے میری یہ دعا قبول کر لی تھی۔ میری یہ خواہش پوری کر دی تھی۔ میں جانتی ہوں آپ لوگ حیران ہو رہے ہیں۔ آپ کو یقین نہیں آ رہا مگر یہ سچ تھا۔ میری آرزو واقعی ہی قبول ہو گئی تھی۔ اب آپ جاننا چاہتے ہوں گے کیسے۔ میں نے آپ کو بتایا تھا ناں کہ ہمارے خاندان میں بچوں کی شادیاں یا کم از کم ان کے رشتے بہت کم عمری میں ہی طے کر دیے جاتے ہیں۔ لیکن بی اے کرنے تک بھی میرا کوئی رشتہ نہیں آیا۔ نہ خاندان سے، نہ باہر سے عجیب بات تھی۔ ہمارے خاندان کے لیے کہ بیس سال کی ہونے تک میرے لیے کوئی رشتہ ہی نہیں آیا تھا۔ کسی کو میری چاہ، میری آرزو ہی نہیں تھی۔ کسی کو میری ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی۔ وجہ کیا تھی؟ کیا آپ کو دوبارہ یہ بات بتانے کی ضرورت ہے کہ وجہ کیا تھی؟ نہیں نا! سب کے لیے اگر یہ بات حیرانی اور افسوس کی تھی تو میرے لیے تو یہ حقیقت زہر میں بجھا ہوا خنجر تھی جو کسی نے بہت زور سے میرے سینے کے بیچوں بیچ گاڑ دیا تھا اور حیرت کی بات تو یہ تھی کہ اس خنجر کے گاڑے جانے کے بعد بھی میں زندہ تھی کیا آپ کو حیرت نہیں ہوئی کہ میں زندہ تھی؟ یہ ادراک کہ کسی کو آپ کے وجود کی ضرورت ہی نہیں ہے کیا خنجر جیسا نہیں ہوتا؟ آپ بتائیں ہوتا ہے نا؟”
    میں جانتی تھی میں ماں باپ کے لیے بوجھ بنتی جا رہی ہوں۔ میں ان کی ناخوشی کا سبب تھی مگر میں ان کا مسئلہ تو حل نہیں کر سکتی تھی۔ میرے اختیار میں ہوتا تو میں کب کی شادی کر کے یہ گھر چھوڑ چکی ہوتی مگر یہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آئی تھی اور مجھ میں دوسروں کو سمجھانے کی اہلیت نہیں تھی۔
    جوواحد چیز میں کر سکتی تھی۔ وہ اپنے وجود کو بے ضرر بنانا تھا۔ اپنے وجود کو قابل قبول بنانا تھا اور وہ میں نے کیا، خاموشی پہلے ہی میرے وجود کا حصہ تھی۔ خدمت کو میں نے وجود کا دوسرا حصہ بنا لیا۔ میں ہر وقت ہر کسی کی خدمت کرنے، ہر کسی کو خوش کرنے میں جتی رہتی آپ کو بتاؤں کیوں؟ ویسے کیا آپ خود سے اندازہ لگا سکتے ہیں؟