Tag: Remove term: ahad raza mir

  • پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۴

    پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۴

    گاڑی اس بڑی سڑک پر دوڑ رہی تھی جو تقریباً سنسان تھی۔ ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھا۔
    اسٹیئرنگ پر دایاں ہاتھ رکھے اس نے بائیں ہاتھ کو منہ کے سامنے رکھ کر جماہی روکی اور نیند کے غلبے کو بھگانے کی کوشش کی۔ اس کے برابر کی سیٹ پر بیٹھی ہوئی امامہ بے آواز رو رہی تھی اور سالار اس بات سے باخبر تھا۔ وہ وقتاً فوقتاً اپنے ہاتھ میں پکڑے رومال سے اپنی آنکھیں پونچھتی اور ناک رگڑ لیتی… اور پھر سامنے ونڈ اسکرین سے باہر سڑک پر نظریں جما کر رونا شروع کردیتی۔
    سالار وقفے وقفے سے اس پر اچٹتی نظر ڈالتا رہا۔ اس نے امامہ کو کوئی تسلی دینے یا چپ کروانے کی کوشش نہیں کی تھی۔ اس کا خیال تھا کہ وہ خود ہی کچھ دیر آنسو بہا کر خاموش ہوجائے گی، مگر جب آدھا گھنٹہ گزر جانے کے بعد بھی وہ اسی رفتار سے روتی رہی تو وہ کچھ اکتانے لگا۔
    ”اگر تمہیں گھر سے اس طرح بھاگ آنے پر اتنا پچھتاوا ہونا تھا تو پھر تمہیں گھر سے بھاگنا ہی نہیں چاہئے تھا۔”
    سالار نے خاموشی کو توڑتے ہوئے کہا۔ امامہ نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔
    ”ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا، ابھی تو شاید تمہارے گھر میں کسی کو تمہاری غیر موجودگی کا پتا بھی نہیں چلا ہوگا۔” اس نے کچھ دیر اس کے جواب کا انتظار کرنے کے بعد اسے مشورہ دیا۔
    ”مجھے کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔” اس بار اس نے چند لمحے خاموش رہنے کے بعد قدرے بھرائی ہوئی مگر مستحکم آواز میں کہا۔
    ”تو پھر تم رو کیوں رہی ہو؟” سالار نے فوراً پوچھا۔
    ”تمہیں بتانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔” وہ ایک بار پھر آنکھیں پونچھتے ہوئے بولی۔ سالار نے گردن موڑ کر اسے غور سے دیکھا اور پھر گردن سیدھی کرلی۔
    ”لاہور میں کس کے پاس جاؤگی؟”
    ”پتا نہیں۔” امامہ کے جواب پر سالار نے قدرے حیرانی سے اسے دیکھا۔
    ”کیا مطلب… تمہیں پتا نہیں ہے کہ تم کہاں جا رہی ہو؟”
    ”فی الحال تو نہیں۔”
    ”تو پھر تم آخر لاہور جا کیوں رہی ہو؟”
    ”تو پھر اور کہاں جاؤں؟”
    ”تم اسلام آباد میں ہی رہ سکتی تھیں۔”
    ”کس کے پاس؟”
    ”لاہور میں بھی تو کوئی نہیں ہے جس کے پاس تم رہ سکو… اور وہ بھی مستقل… جلال کے علاوہ۔” سالار نے آخری تین لفظوں پر زور دیتے ہوئے گردن موڑ کر اسے دیکھا۔
    ”اس کے پاس جا رہی ہو تم۔” کچھ دیر بعد اس نے قدرے چبھتے ہوئے انداز میں کہا۔
    ”نہیں، جلال میری زندگی سے نکل چکا ہے۔” سالار اندازہ نہیں کرسکا کہ اس کی آواز میں مایوسی زیادہ تھی یا افسردگی۔ ”اس کے پاس کیسے جاسکتی ہوں میں۔”
    ”تو پھر اور کہاں جاؤگی؟” سالار نے ایک بار پھر تجسس کے عالم میں پوچھا۔
    ”یہ تو میں لاہور جانے پر ہی طے کروں گی کہ مجھے کہاں جانا ہے، کس کے پاس جانا ہے۔” امامہ نے کہا۔
    سالار نے کچھ بے یقینی کے عالم میں اسے دیکھا۔ کیا واقعی وہ نہیں جانتی تھی کہ اسے کہاں جانا تھا یا پھر وہ اسے بتانا نہیں چاہتی تھی۔ گاڑی میں ایک بار پھر خاموشی چھا گئی۔




    ”تمہارا فیانسی… کیا نام ہے اس کا… ہاں اسجد… کافی اچھا، ہینڈسم آدمی ہے۔” ایک بار پھر سالار نے ہی اس خاموشی کو توڑا۔ ”اور یہ جو دوسرا آدمی تھا… جلال… اس کے مقابلے میں تو کچھ بھی نہیں ہے… کچھ زیادتی نہیں کردی تم نے اسجد کے ساتھ؟”
    اِمامہ نے اس کے سوال کے جواب میں کچھ نہیں کہا۔ وہ صرف سامنے سڑک کو دیکھتی رہی۔ سالار کچھ دیر گردن موڑ کر اس کے جواب کے انتظار میں اس کا چہرہ دیکھتا رہا مگر پھر اسے احساس ہوگیا کہ وہ جواب دینا نہیں چاہتی۔
    ”میں تمہیں سمجھ نہیں پایا… جو کچھ تم کر رہی ہو، اسے بھی نہیں… تمہاری حرکتیں بہت … بہت عجیب ہیں… اور تم اپنی حرکتوں سے زیادہ عجیب ہو۔” سالار نے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد کہا۔
    اس بار امامہ نے گردن موڑ کر اسے دیکھا۔
    ”کیا تمہاری حرکتوں سے زیادہ عجیب ہیں میری حرکتیں… اور کیا میں تم سے زیادہ عجیب ہوں…” بڑے دھیمے مگر مستحکم لہجے میں پوچھے گئے اس سوال نے چند لمحوں کے لیے سالار کو لاجواب کر دیا تھا۔
    ”میری کون سی حرکتیں عجیب ہیں… اور میں کس طرح عجیب ہوں؟” چند لمحے خاموش رہنے کے بعد سالار نے کہا۔
    ”تم جانتے ہو، تمہاری کون سی حرکتیں عجیب ہیں۔” امامہ نے واپس ونڈاسکرین کی طرف گردن موڑتے ہوئے کہا۔
    ”یقینا میری خود کشی کی ہی بات کر رہی ہو تم۔” سالار نے خود ہی اپنے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا۔ ”حالاں کہ میں خود کشی نہیں کرنا چاہتا، نہ ہی میں خود کشی کی کوشش کر رہا ہوں۔ میں تو صرف ایک تجربہ کرنا چاہتا تھا۔”
    ”کیسا تجربہ؟”
    ”میں ہمیشہ لوگوں سے ایک سوال پوچھتا ہوں، مگر کوئی بھی مجھے اس کا تسلی بخش جواب نہیں دے سکا، اس لیے میں اس سوال کا جواب خود ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا ہوں۔” وہ بولتا رہا۔
    ”کیا پوچھتے ہو تم لوگوں سے؟”
    ”بہت آسان سا سوال ہے مگر ہر ایک کو مشکل لگتا ہے۔” What is next to ecstasy? اس نے گردن موڑ کر امامہ سے پوچھا۔
    وہ کچھ دیر اسے دیکھتی رہی پھر اس نے مدھم آواز میں کہا۔ ”Pain”
    ”And what is next to pain?” سالار نے بلا توقف ایک اور سوال کیا۔
    "Nothingness”۔
    "What is next to nothingness?” سالار نے اسی انداز میں ایک اور سوال کیا۔
    ”Hell” امامہ نے کہا۔
    ”And what is next to hell?”اس بار امامہ خاموشی سے اس کا چہرہ دیکھتی رہی۔
    ”What is next to hell?” سالار نے پھر اپنا سوال دہرایا۔
    ”تمہیں خوف نہیں آتا۔” سالار نے امامہ کو قدرے عجیب سے انداز میں پوچھتے سنا۔
    ”کس چیز سے۔” سالار حیران ہوا۔
    ”Hellسے… اس جگہ سے جس کے آگے اور کچھ بھی نہیں ہوتا… سب کچھ اس کے پیچھے ہی رہ جاتا ہے… معتوب اور مغضوب ہوجانے کے بعد باقی بچتا کیا ہے جسے جاننے کا تمہیں تجسس ہے۔” امامہ نے قدرے افسوس سے کہا۔
    ”میں تمہاری بات سمجھ نہیں سکا… سب کچھ میرے سر کے اوپر سے گزرا ہے۔” سالار نے جیسے اعلان کرنے والے انداز میں کہا۔
    ”فکر مت کرو… آجائے گی… ایک وقت آئے گا… جب تمہیں ہر چیز کی سمجھ آجائے گی پھر تمہاری ہنسی ختم ہوجائے گی… تب تمہیں خوف آنے لگے گا… موت سے بھی اور دوزخ سے بھی… اللہ تمہیں سب کچھ دکھا اور بتادے گا… پھر تم کسی سے یہ کبھی نہیں پوچھا کروگے۔ "What is next to ecstasy?” امامہ نے بہت رسانیت سے کہا۔
    ”یہ تمہاری پیش گوئی ہے؟” سالار نے اس کی بات کے جواب میں کچھ چبھتے ہوئے لہجے میں کہا۔
    ”نہیں۔؛؛ امامہ نے اسی انداز میں کہا۔
    ”تجربہ؟” سالار نے گردن سیدھی کرلی۔
    ”ہاں، یہ تمہارا تجربہ ہی ہوسکتا ہے… کی تو تم نے بھی خود کشی ہی ہے… میرا مطلب ہے کرنے کی کوشش کی ہے… میں نے اپنے طریقے سے یہ کوشش کی تھی… تم نے اپنے طریقے سے کی ہے۔” سالار نے سرد مہری سے کہا۔
    ”امامہ کی آنکھوں میں ایک بار پھر آنسو آگئے۔ گردن موڑ کر اس نے سالار کو دیکھا۔
    ”میں نے کوئی خود کشی نہیں کی ہے۔”
    “کسی لڑکے کے لیے گھر سے بھاگنا ایک لڑکی کے لیے خود کشی ہی ہوتی ہے… وہ بھی اس صورت میں جب وہ لڑکا شادی پر تیار ہی نہ ہو… دیکھو، میں خود ایک لڑکا ہوں… بہت بڑاڈ مائنڈڈ اور لبرل ہوں اور میں بالکل برا نہیں سمجھتا اگر ایک لڑکی گھر سے بھاگ کر کسی لڑکے کے ساتھ کورٹ میرج یا شادی کرلے… مگر وہ لڑکا اس کا ساتھ تو دے، ایک ایسے لڑکے کے لیے گھر سے بھاگ جانا جو شادی کر چکا ہو … چچ چچ… میری سمجھ میں نہیں آتا اور پھر تمہاری عمر میں بھاگنا… بالکل حماقت ہے۔”
    ”میں کسی لڑکے کے لیے نہیں بھاگی ہوں۔”
    ”جلال انصر!” سالار نے اس کی بات کاٹ کر اسے یاد دلایا۔
    ”میں اس کے لیے نہیں بھاگی ہوں۔” وہ بے اختیار آواز میں چلائی۔ سالار کا پاؤں بے اختیار بریک پر جا پڑا۔ اس نے حیرانی سے امامہ کو دیکھا۔
    ”تو مجھ پر کیوں چلا رہی ہو، مجھ پر چلانے کی ضرورت نہیں ہے۔” سالار نے ناراضی سے کہا۔ وہ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔
    ”یہ جو تمہاری مذہب والی تھیوری یا فلاسفی یا پوائنٹ یا جو بھی ہے I don’t get it کیا فرق پڑتا ہے۔ اگر کوئی کسی اور پیغمبر کو ماننا شروع ہوگیا ہے… زندگی ان فضول بحثوں کے علاوہ بھی کچھ ہے… مذہب، عقیدے یا فرقے پر لڑنا … What rubbish”
    امامہ نے گردن موڑ کر ناراضی کے عالم میں اسے دیکھا۔ ”جو چیزیں تمہارے لیے فضول ہیں، ضروری نہیں وہ ہر ایک کے لیے فضول ہوں۔ میں اپنے مذہب پر قائم رہنا نہیں چاہتی اور نہ ہی اس مذہب کے کسی شخص سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔ تو یہ میرا حق ہے کہ میں ایسا کروں، میں تم سے ایسی چیزوں کے بارے میں بحث نہیں کرنا چاہتی جسے تم نہیں سمجھتے… اس لیے تم ان معاملات کے بارے میں اس طرح کے تبصرے مت کرو۔”
    ”مجھے حق ہے کہ میں جو چاہے کہوں Freedom of expression (اظہار کی آزادی)” سالار نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔ امامہ نے جواب دینے کے بجائے خاموشی اختیار کی۔ وہ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔ سالار بھی خاموشی سے گاڑی ڈرائیو کرنے لگا۔
    یہ جلال انصر … میں اس کی بات کر رہا تھا۔” وہ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد ایک بار پھر اپنے اسی موضوع کی طرف آگیا۔
    ”اس میں کیا خاص بات ہے؟”اس نے گردن موڑ کر امامہ کو دیکھا۔ وہ اب ونڈاسکرین سے باہر سڑک کو دیکھ رہی تھی۔
    ”جلال انصر اور تمہارا کوئی جوڑ نہیں ہے… وہ بالکل بھی ہینڈسم نہیں ہے۔ تم ایک خوب صورت لڑکی ہو، میں حیران ہوں، تم اس میں کیسے دلچسپی لینے لگیں… کیا وہ بہت زیادہ intelligent ہے؟” اس نے امامہ سے پوچھا۔
    امامہ نے حیرانی سے اسے دیکھا۔ intelligent…” کیا مطلب؟”
    ”دیکھو یا تو کسی کی شکل اچھی لگتی ہے… میں نہیں سمجھتا تمہیں جلال کی شکل اچھی لگی ہوگی یا پھر کسی کا فیملی بیک گراؤنڈ… پیسہ وغیرہ کسی میں دلچسپی کا باعث بنتا ہے… اب جلال کا فیملی بیک گراؤنڈ یا مالی حالت کے بارے میں، میں نہیں جانتا مگر خود تمہارا فیملی بیک گراؤنڈ جتنا ساؤنڈ ہے، یہ بھی تمہارے لیے اس میں دلچسپی کا باعث نہیں بن سکتا… واحد بچ جانے والی وجہ کسی کی ذہانت، قابلیت وغیرہ ہے… اس لیے پوچھ رہا ہوں کہ کیا وہ بہت intelligentہے… کیا بہت آؤٹ اسٹینڈنگ اور brilliant ہے؟”
    ”نہیں۔” امامہ نے مدھم آواز میں کہا۔
    سالار کو مایوسی ہوئی۔ ”تو پھر… تم اس کی طرف متوجہ کیسے ہوئی امامہ ونڈاسکرین سے باہر ہیڈ لائٹس کی روشنی میں نظر آنے والی سڑک دیکھتی رہی۔ سالار نے اپنا سوال دوبارہ نہیں دہرایا۔ صرف کندھے اچکاتے ہوئے وہ دوبارہ ڈرائیونگ پر توجہ دینے لگا۔ گاڑی میں ایک بار پھر خاموشی چھا گئی۔
    ”وہ نعت بہت اچھی پڑھتا ہے۔” تقریبا پانچ منٹ بعد خاموشی ٹوٹی تھی۔ ونڈاسکرین سے باہر دیکھتے ہوئے مدھم آواز میں امامہ یوں بڑبڑائی تھی جیسے خود کلامی کر رہی ہو۔ سالار نے اس کا جملہ سن لیا تھا مگر اسے وہ ناقابل یقین لگا۔
    ”کیا؟” اس نے جیسے تصدیق چاہی۔
    ”جلال نعت بہت اچھی پڑھتا ہے۔” اسی طرح ونڈاسکرین سے باہر جھانکتے ہوئے کہا مگر اس بار اس کی آواز کچھ بلند تھی۔
    ”بس آواز کی وجہ سے… سنگر ہے؟” سالار نے تبصرہ کیا۔




  • پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۳

    پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۳

    ”یہ احمقانہ تجویز اسجد کے علاوہ کسی دوسرے کی ہو ہی نہیں سکتی۔ اسے احساس نہیں ہے کہ ابھی میں پڑھ رہی ہوں۔” امامہ نے اپنی بھابھی سے کہا۔
    ”نہیں اسجد نے یا اس کے گھر والوں نے ایسا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔ بابا خود تمہاری شادی کرنا چاہ رہے ہیں۔” اِمامہ کی بھابھی نے رسانیت سے جواب دیا۔
    ”بابا نے کہا ہے؟ مجھے یقین نہیں آرہا۔ جب میں نے میڈیکل میں ایڈمیشن لیا تھا تب ان کا دور دور تک ایسا کوئی خیال نہیں تھا۔ وہ تو انکل اعظم سے بھی یہی کہتے تھے کہ وہ میرے ہاؤس جاب کے بعد ہی میری شادی کریں گے۔ پھر اب اچانک کیا ہوا؟” اِمامہ نے بے یقینی سے کہا۔
    ”کوئی دباؤ ہوگا مگر مجھے تو امی نے یہی بتایا تھا کہ یہ خود بابا کی خواہش ہے۔” بھابھی نے کہا۔
    ”آپ انہیں بتا دیں کہ مجھے ہاؤس جاب سے پہلے شادی نہیں کرنی۔”
    ”ٹھیک ہے میں تمہاری بات ان تک پہنچادوں گی مگر بہتر ہے تم اس سلسلے میں خود بابا سے بات کرو۔” بھابھی نے اسے مشورہ دیا۔
    بھابھی کے کمرے سے جانے کے بعد بھی وہ کچھ پریشان سی وہیں بیٹھی رہی۔ یہ اطلاع اتنی اچانک اور غیر متوقع تھی کہ اس کے پیروں کے نیچے سے محاورتاً نہیں حقیقتاً زمین نکل گئی تھی۔ وہ مطمئن تھی کہ اس کی ہاؤس جاب تک اس کی شادی کا مسئلہ زیر بحث نہیں آئے گا اور ہاؤس جاب کرنے کے بعد وہ اس قابل ہوجائے گی کہ خود کو سپورٹ کرسکے یا اپنی جلال سے شادی کے بارے میں فیصلہ کرسکے۔ تب تک جلال بھی اپنی ہاؤس جاب مکمل کر کے سیٹ ہو جاتا اور ان دونوں کے لیے کسی قسم کا کوئی مسئلہ کھڑا نہیں ہوتا مگر اب اچانک اس کے گھر والے اس کی شادی کی بات کر رہے تھے۔ آخر کیوں؟
    ”نہیں اسجد اور اس کے گھر والوں نے مجھ سے اس طرح کا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔ میں نے خود ان سے بات کی ہے۔”
    اس رات وہ ہاشم مبین کے کمرے میں موجود تھی۔ اس کے استفسار پر ہاشم مبین نے بڑے اطمینان کے ساتھ کہا۔
    ”بات بھی کرلی ہے؟ بابا! آپ مجھ سے پوچھے بغیر کس طرح میری شادی ارینج کرسکتے ہیں۔” امامہ نے بے یقینی سے کہا۔
    ہاشم مبین نے کچھ سنجیدگی سے اسے دیکھا۔ ”یہ نسبت تمہاری مرضی سے ہی طے ہوئی تھی۔ تم سے پوچھا گیا تھا۔” انہوں نے جیسے اسے یاد دہانی کروائی۔
    ”منگنی کی بات اور تھی… شادی کی بات اور ہے… آپ نے مجھ سے کہا تھا کہ ہاؤس جاب سے پہلے آپ میری شادی نہیں کریں گے۔” امامہ نے انہیں ان کا وعدہ یاد دلایا۔
    ”تمہیں اس شادی پر اعتراض کیوں ہے۔ کیا تم اسجد کو پسند نہیں کرتیں؟”
    ”بات پسند یا ناپسند کی نہیں ہے۔ اپنی تعلیم کے دوران میں شادی نہیں کرنا چاہتی۔ آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ میں آئی اسپیشلسٹ بننا چاہتی ہوں۔ اس طرح آپ میری شادی کردیں گے تو میرے تو سارے خواب ادھورے رہ جائیں گے۔”





    ”بہت سی لڑکیاں شادی کے بعد تعلیم مکمل کرتی ہیں۔ تم اپنی فیملی میں دیکھو… کتنی…” ہاشم مبین نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔”
    امامہ نے ان کی بات کاٹ دی۔ ”وہ لڑکیاں بہت ذہین اور قابل ہوتی ہوں گی۔ میں نہیں ہوں۔ میں ایک وقت میں ایک ہی کام کرسکتی ہوں۔”
    ”میں اعظم بھائی سے بات کرچکا ہوں، وہ تو تاریخ طے کرنے کے لیے آنے والے ہیں۔” ہاشم مبین نے اس سے کہا۔
    ”آپ میری ساری محنت کو ضائع کر رہے ہیں۔ اگر آپ کو میرے ساتھ یہی کرنا تھا تو آپ کو چاہئے تھا کہ آپ اس طرح کا کوئی وعدہ ہی نہ کرتے۔” امامہ نے ان کی بات پر ناراضی سے کہا۔
    ”جب میں نے تم سے وعدہ کیا تھا تب کی بات اور تھی… تب حالات اور تھے اب۔۔۔۔”
    امامہ نے ان کی بات کاٹی۔ ”اب کیا بدل گیا ہے… حالات میں کون سی تبدیلی آئی ہے جو آپ میرے ساتھ یہ سلوک کر رہے ہیں؟”
    ”میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ اسجد تمہاری تعلیم میں تمہارے ساتھ پورا تعاون کرے گا اور تمہیں کسی چیز سے منع نہیں کرے گا۔” ہاشم مبین نے اس کی بات کا جواب دیتے ہوئے کہا۔
    ”بابا مجھے اسجد کے تعاون کی ضرورت نہیں ہے مجھے آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔ آپ مجھے میری تعلیم مکمل کرنے دیں۔” امامہ نے اس بار قدرے ملتجیانہ انداز میں کہا۔
    ”اِمامہ تم فضول ضد مت کرو… میں وہی کرں گا جو میںطے کر چکا ہوں۔” ہاشم مبین نے دو ٹوک انداز میں کہا۔ ”میں ضد نہیں کر رہی درخواست کر رہی ہوں۔ پلیز بابا میں ابھی اسجد سے شادی کرنا نہیں چاہتی۔” اس نے ایک بار پھر اسی ملتجیانہ انداز میں کہا۔
    ”تمہارے نسبت کو چار سال ہونے والے ہیں اور یہ ایک بہت لمبا عرصہ ہوتا ہے۔ اگر انہوں نے خود کچھ عرصے کے بعد کسی نہ کسی وجہ سے منگنی توڑ دی تو۔”
    ”تو کوئی بات نہیں کوئی قیامت نہیں آئے گی وہ منگنی توڑنا چاہیں تو توڑ دیں بلکہ ابھی توڑ دیں۔”
    ”تمہیں اس شرمندگی اور بے عزتی کا احساس نہیں ہے، جس کا سامنا تمہیں کرنا پڑے گا۔”
    ”کیسی شرمندگی بابا! یہ ان لوگوں کا اپنا فیصلہ ہوگا۔ اس میں ہماری تو کوئی غلطی نہیں ہوگی۔” اس نے انہیں قائل کرنے کی کوشش کی۔
    ”تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے یا پھر تم عقل سے پیدل ہو۔” ہاشم مبین نے اسے جھڑکتے ہوئے کہا۔
    ”بابا! کچھ نہیں ہوگا لوگ دو چار دن باتیں کریں گے پھر سب کچھ بھول جائیں گے۔ آپ اس بارے میں خوامخواہ پریشان ہو رہے ہیں۔” اِمامہ نے قدرے بے فکری اور لاپروائی سے کہا۔
    ”تم اس وقت بہت فضول باتیں کر رہی ہو۔ فی الحال تم یہاں سے جاؤ، ہاشم مبین نے ناگواری سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
    امامہ بادل نخواستہ وہاں سے چلی آئی مگر اس رات وہ خاصی پریشان رہی۔
    اگلے دن وہ واپس لاہور چلی آئی ہاشم مبین نے اس سلسلے میں دوبارہ بات نہیں کی لاہور آکر وہ قدرے مطمئن ہوگئی اور ہر خیال کو ذہن سے جھٹکتے ہوئے اپنے امتحان کی تیاری میں مصروف ہوگئی۔
    ہاشم مبین نے اس واقعہ کو ذہن سے نہیں نکالا تھا، وہ ایک انتہائی محتاط طبیعت کے انسان تھے۔
    وہ اِمامہ کے بارے میں پہلی بار اس وقت تشویش میں مبتلا ہوئے تھے، جب اسکول میں تحریم کے ساتھ جھگڑے والا واقعہ پیش آیا تھا۔ اگرچہ وہ کوئی ایسا غیر معمولی واقعہ نہیں تھا مگر اس واقعے کے بعد انہوں نے احتیاطی تدابیر کے طور پر امامہ کی نسبت اسجد کے ساتھ طے کردی تھی۔ ان کا خیال تھا اس طرح اس کا ذہن ایک نئے رشتے کی جانب مبذول ہوجائے گا اور اگر اس کے ذہن میں کوئی شبہ یا سوال پیدا ہوا بھی تو اس نئے تعلق کے بعد وہ اس بارے میں زیادہ تردد نہیں کرے گی۔ ان کا یہ خیال اور اندازہ صحیح ثابت ہوا تھا۔
    اِمامہ کا ذہن واقعی تحریم کی طرف سے ہٹ گیا تھا۔ اسجد میں وہ پہلے بھی کچھ دلچسپی لیتی تھی مگر اس تعلق کے قائم ہونے کے بعد اس دلچسپی میں اضافہ ہوگیا تھا۔ ہاشم نے اسے بہت مطمئن اور مگن دیکھا تھا۔ وہ پہلے ہی کی طرح تمام مذہبی سرگرمیوں میں دلچسپی لیتی تھی۔
    مگر اس بار جو کچھ وسیم نے انہیں بتایا تھا اس نے ان کے پیروں کے نیچے سے زمین نکال دی تھی۔ وہ فوری طور پر یہ نہیں جان سکے مگر انہیں یہ ضرور علم ہوگیا کہ امامہ کے عقائد اور نظریات میں خاصی تبدیلی آچکی تھی اور یہ نہ صرف ان کے لیے بلکہ ان کے پورے خاندان کے لیے بڑی تشویش کا باعث تھا۔
    وہ اپنی بڑی بیٹیوں کی طرح اسے بھی اعلیٰ تعلیم دلوانا چاہتے تھے اور یہ اس لیے بھی اہم تھا کہ اسے شادی کے بعد خاندان ہی میں جانا تھا۔ وہ خاندان بہت تعلیم یافتہ تھا۔ خود ان کا ہونے والا داماد اسجد بھی امامہ کو اعلی تعلیم یافتہ دیکھنا چاہتا تھا۔ ہاشم مبین کے لیے اس کی تعلیم کا سلسلہ منقطع کر کے اسے گھر بٹھا لینا آسان نہ تھا، کیوں کہ اس صورت میں اسے اعظم مبین کو اس کی وجہ بتانی پڑتی اور امامہ سے سخت ناراض ہونے کے باوجود وہ نہیں چاہتے تھے کہ اعظم مبین اور ان کا خاندان امامہ کے ان بدلے ہوئے عقائد کے بارے میں جان کر برگشتہ اور بدظن ہوں اور پھر شادی کے بعد وہ اسجد کے ساتھ بری زندگی گزارے۔ انہوں نے ایک طرف اپنے گھر والوں کو اس بات کو راز رکھنے کی تاکید کی تو دوسری طرف امامہ کی منت سماجت پر اسے اپنی تعلیم جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔
    امامہ صبیحہ کے لیکچر اٹینڈ کرنے اور اس کے ہاں جانے یا جلال سے ملنے کے معاملے میں اس قدر محتاط تھی کہ اس کا یہ میل جول ان لوگوں کی نظروں میں نہیں آسکا۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ جویریہ اور رابعہ کو بھی ہر چیز کے بارے میں اندھیرے میں رکھے ہوئے تھی۔ ورنہ اس کے بارے میں ضرور کوئی نہ کوئی خبر ادھر ادھر گردش کرتی اور ہاشم مبین تک بھی پہنچ جاتی مگر ایسا نہیں ہوا ہاشم مبین اس کی طرف سے مطمئن ہوگئے تھے، مگر امامہ کے اندر آنے والی ان تبدیلیوں نے انہیں تشویش میں مبتلا کر دیا تھا۔
    ان کے دماغ میں جو واحد حل آیا تھا وہ اس کی شادی تھی۔ ان کا خیال تھا کہ اس کی شادی کردینے سے کم از کم وہ خود امامہ کی ذمہ داری سے مکمل طور پر آزاد ہوجائیں گے۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے اس طرح اچانک اس کی شادی کا فیصلہ کرلیا تھا۔
    ”جلال! میرے پیرنٹس اسجد سے میری شادی کر دینا چاہتے ہیں۔” لاہور آنے کے بعد امامہ نے سب سے پہلے جلال سے ملاقات کی تھی۔
    ”مگر تم تو کہہ رہی تھیں کہ وہ تمہاری ہاؤس جاب تک تمہاری شادی نہیں کریں گے۔” جلال نے کہا۔
    ”وہ ایسا ہی کہتے تھے، مگر اب وہ کہتے ہیں کہ میں اپنی تعلیم شادی کے بعد بھی جاری رکھ سکتی ہوں۔ اسجد لاہور میں گھر لے لے گا تو میں زیادہ آسانی سے اپنی تعلیم مکمل کرسکوں گی۔”
    جلال اس کے چہرے سے اس کی پریشانی کا اندازہ کرسکتا تھا۔ جلال بھی ایک دم فکر مند ہوگیا۔ ”جلال! میں اسجد سے شادی نہیں کرسکتی۔ میں کسی صورت اسجد سے شادی نہیں کرسکتی۔” وہ بڑبڑائی۔
    ”پھر تم اپنے پیرنٹس کو صاف صاف بتادو۔” جلال نے ایک دم کسی فیصلے پر پہنچتے ہوئے کہا۔
    ”کیا بتادوں؟”
    ”یہی کہ تم مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہو۔”
    ”آپ کو اندازہ نہیں ہے کہ وہ کس طرح ری ایکٹ کریں گے… مجھے انہیں پھر سب کچھ ہی بتانا پڑے گا۔” وہ بات کرتے کرتے کچھ سوچنے لگی۔
    ”جلال! آپ اپنے پیرنٹس سے میرے سلسلے میں بات کریں۔ آپ انہیں میرے بارے میں بتائیں۔ اگر میرے پیرنٹس نے مجھ پر اور دباؤ ڈالا تو پھر مجھے اپنا گھر چھوڑنا پڑے گا، پھر مجھے آپ کی مدد کی ضرورت ہوگی۔”
    ”امامہ! میں اپنے پیرنٹس سے بات کروں گا۔ وہ رضا مند ہوجائیں گے۔ میں جانتا ہوں میں انہیں منا سکتا ہوں۔” جلال نے اسے یقین دلایا پوری گفتگو کے دوران پہلی بار امامہ کے چہرے پر مسکراہٹ ابھری۔
    ”اگلے چند ہفتے وہ اپنے پیپرز کے سلسلے میں مصروف رہی، جلال سے بات نہ ہوسکی۔ آخری پیپر والے دن وسیم اسے لینے کے لیے لاہور آگیا تھا۔ وہ اسے وہاں یوں دیکھ کر حیران رہ گئی۔
    ”وسیم! میں ابھی تو نہیں جاسکتی۔ آج تو میں پیپرز سے فارغ ہوئی ہوں مجھے ابھی یہاں کچھ کام ہیں۔”
    ”میں کل تک یہیں ہوں۔ اپنے دوست کے ہاں ٹھہر جاتا ہوں جب تک تم اپنے کام نمٹا لو پھر اکٹھے چلیں گے۔” وسیم نے اس کے لیے مدافعت کا آخری راستہ بھی بند کر دیا۔
    ”میں چلتی ہوں تمہارے ساتھ۔” امامہ نے کچھ بے دلی سے فیصلہ کرتے ہوئے کہا۔ اسے اندازہ تھا کہ وسیم اسے ساتھ لے کر ہی جائے گا۔
    ”تم اپنی چیزیں پیک کرلو۔ اب تم ساری چھٹیاں وہاں گزار کر ہی آنا۔” اسے واپس مڑتے دیکھ کر وسیم نے کہا۔
    ”اس نے سر ہلا دیا مگر اس کا اپنی تمام چیزیں پیک کرنے یا اسلام آباد میں ساری چھٹیاں گزارنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ اس نے طے کیا تھا کہ وہ چند دن وہاں گزار کر کسی نہ کسی بہانے سے واپس لاہور آجائے گی اور یہ ہی اس کی غلط فہمی تھی۔
    رات کے کھانے پر وہ سب گھر والوں کے ساتھ کھانا کھا رہی تھی اور سب خوش گپیوں میں مصروف تھے۔
    ”پیپر کیسے ہوئے تمہارے؟” ہاشم مبین نے کھانا کھاتے ہوئے اس سے پوچھا۔
    ”بہت اچھے ہوئے۔ ہمیشہ کی طرح۔” اس نے چاول کا چمچ منہ میں ڈالتے ہوئے کہا۔
    ”ویری گڈ۔ چلو کم از کم پیپرز کی ٹینشن تو ختم ہوئی۔ اب تم کل سے اپنی شاپنگ شروع کردو۔”
    امامہ نے حیرانی سے انہیں دیکھا۔ ”شاپنگ؟ کیسی شاپنگ؟”
    ”فرنیچر کی اور جیولرز کے پاس پہلے چلے جانا تم لوگ۔ باقی چیزیں تو آہستہ آہستہ ہوتی رہیں گی۔” ہاشم مبین نے اس کے سوال کا جواب دینے کے بجائے اس بار اپنی بیوی سے کہا۔
    ”بابا! مگر کس لیے؟” امامہ نے ایک بار پھر پوچھا۔ ”تمہاری امی نے بتایا نہیں تمہیں کہ ہم نے تمہاری شادی کی تاریخ طے کردی ہے۔”
    امامہ کے ہاتھ سے چمچ چھوٹ کر پلیٹ میں جاگرا۔ ایک لمحہ میں اس کا رنگ فق ہوگیا تھا۔
    ”میری شادی کی تاریخ؟” اس نے بے یقینی سے باری باری سلمیٰ اور ہاشم کو دیکھا جو اس کے تاثرات پر حیران نظر آرہے تھے۔
    ”ہاں تمہاری شادی کی تاریخ…” ہاشم مبین نے کہا۔
    ”یہ آپ کیسے کرسکتے ہیں؟ مجھ سے پوچھے بغیر۔ مجھے بتائے بغیر۔” وہ ہونق چہرے کے ساتھ انہیں دیکھ رہی تھی۔
    ”تم سے پچھلی دفعہ بات ہوئی تھی، اس سلسلے میں۔” ہاشم مبین یک دم سنجیدہ ہوگئے۔
    ”اور میں نے انکار کر دیا تھا۔ میں۔”
    ہاشم مبین نے اسے بات مکمل نہیں کرنے دی۔ ”میں نے تمہیں بتا دیا تھا کہ مجھے تمہارے انکار کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ میں اسجد کے گھر والوں سے بات کرچکا ہوں۔” ہاشم مبین نے تیز آواز میں کہا۔
    ”ڈائننگ ٹیبل پر یک دم گہری خاموشی چھا گئی تھی کوئی بھی کھانا نہیں کھا رہا تھا۔
    امامہ یک دم اپنی کرسی سے کھڑی ہوگئی۔ ”آئی ایم سوری بابا، مگر میں اسجد سے ابھی شادی نہیں کر سکتی۔ آپ نے یہ شادی طے کی ہے۔ آپ ان سے بات کر کے اسے ملتوی کردیں۔ ورنہ میں خود ان سے بات کرلوں گی۔” ہاشم مبین کا چہرہ سرخ ہوگیا۔
    ”تم اسجد سے شادی کروگی اور اسی تاریخ کو جو میں نے طے کی ہے۔ تم نے سنا؟” وہ بے اختیار چلائے۔
    ”It’s not fair” امامہ نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا۔
    ”تم اب مجھے یہ بتاؤگی کیا فیئر ہے اور کیا نہیں۔ تم بتاؤگی مجھے؟” ہاشم مبین کو اس کی بات پر اور غصہ آیا۔
    ”بابا! جب میں نے آپ سے کہا تھا کہ مجھے ابھی شادی نہیں کرنی تو آپ زبردستی کیوں کر رہے ہیں میرے ساتھ۔” امامہ بے اختیار رونے لگی۔
    ”کر رہا ہوں زبردستی پھر میں حق رکھتا ہوں۔” وہ چلائے۔ امامہ اس بار کچھ کہنے کے بجائے اپنے ہونٹ بھینچتے ہوئے سرخ چہرے کے ساتھ تیزی سے ڈائننگ روم سے نکل گئی۔
    ”میں اس سے بات کرتی ہوں، آپ پلیز کھانا کھائیں۔ اتنا غصہ نہ کریں۔ وہ جذباتی ہے اور کچھ نہیں۔” سلمیٰ نے ہاشم مبین سے کہا اور خود وہ اپنی کرسی سے اٹھ کھڑی ہوئیں۔
    ان کے کمرے سے نکلتے ہی وسیم کو دیکھ کر امامہ بے اختیار اٹھ کھڑی ہوئی۔
    ”تم دفع ہوجاؤ یہاں سے۔ نکل جاؤ۔” اس نے تیزی سے وسیم کے پاس جاکر اسے دھکا دینے کی کوشش کی۔ وہ پیچھے ہٹ گیا۔
    ”کیوں؟ میں نے کیا کیا ہے؟”
    ”جھوٹ بول کر اور دھوکا دے کر تم مجھے یہاں لے کر آئے ہو۔ مجھے اگر لاہور میں پتہ چل جاتا کہ تم اس لیے مجھے اسلام آباد لا رہے ہو تو میں کبھی یہاں نہ آتی۔” وہ دھاڑی۔
    ”میں نے وہی کیا جو مجھ سے بابا نے کہا۔ بابا نے کہا تھا میں تمہیں نہ بتاؤں۔” وسیم نے وضاحت پیش کرنے کی کوشش کی۔
    ”پھر تم یہاں میرے پاس کیوں آئے ہو۔ بابا کے پا س جاؤ۔ ان کے پاس بیٹھو۔ بس یہاں سے دفع ہوجاؤ۔” وسیم ہونٹ بھینچے اسے دیکھتا رہا پھر کچھ کہے بنا کمرے سے نکل گیا۔
    امامہ اپنے کمرے میں جاکر بیڈ پر بیٹھ گئی۔ اس وقت اس کے پیروں کے نیچے سے صحیح معنوں میں زمین نکل چکی تھی۔ یہ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس کے گھر والے اس کے ساتھ اس طرح کرسکتے ہیں۔ وہ اتنے قدامت پرست یا کٹر نہیں تھے جتنے وہ اس وقت ہوگئے تھے۔ اسے ابھی بھی یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ سب اس کے ساتھ ہو رہا تھا۔ اس کا دل ڈوبنے لگا۔ "مجھے اس صورت حال کا سامنا کرنا ہے۔ مجھے ہمت نہیں ہارنی۔ مجھے کسی نہ کسی طرح فوری طور پر جلال سے کانٹیکٹ کرنا ہے۔ وہ یقینا اب تک اپنے پیرنٹس سے بات کرچکا ہوگا۔ اس سے بات کر کے کوئی نہ کوئی راستہ نکل آئے گا۔”
    وہ بے چینی سے کمرے میں ٹہلتے ہوئے سوچتی رہی۔ اس کے کمرے میں دوبارہ کوئی نہیں آیا۔
    رات بارہ بجے کے بعد وہ اپنے کمرے سے نکلی۔ وہ جانتی تھی۔ اس وقت تک سب سونے کے لیے جاچکے ہوں گے۔ اس نے جلال کے گھر کا نمبر ڈائل کرنا شروع کر دیا۔ فون کسی نے نہیں اٹھایا۔ اس نے یکے بعد دیگرے کئی بار نمبر ملایا۔ آدھ گھنٹہ تک اسی طرح کالز کرتے رہنے کے بعد اس نے مایوسی کے ساتھ فون رکھ دیا۔ وہ جویریہ یا رابعہ کو فون نہیں کرسکتی تھی۔ وہ دونوں اس وقت ہاسٹل میں تھیں۔ کچھ دیر سوچتے رہنے کے بعد اس نے صبیحہ کا نمبر ڈائل کرنا شروع کر دیا۔ اس کے والد نے فون اٹھایا تھا۔




  • پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۲

    پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۲

    یہ سب کچھ اسکول میں ہونے والے ایک واقعے سے شروع ہوا تھا۔ اِمامہ اس وقت میٹرک کی اسٹوڈنٹ تھی اور تحریم اس کی اچھی دوستوں میں سے ایک تھی۔ وہ لوگ کئی سال سے اکٹھے تھے اور نہ صرف ایک ہی اسکول میں پڑھتے تھے بلکہ ان کی فیملیز بھی ایک دوسرے کو بہت اچھی طرح جانتی تھیں۔ اپنی فرینڈز میں سے امامہ کی سب سے زیادہ دوستی تحریم اور جویریہ سے تھی مگر اسے حیرت ہوتی تھی کہ اتنی گہری دوستی ہونے کے باوجود بھی جویریہ اور تحریم اس کے گھر آنے سے کتراتی تھیں۔ امامہ ہر سال اپنی سال گرہ پر انہیں انوائٹ کرتی اور اکثر وہ اپنے گھر پر ہونے والی دوسری تقریبات میں بھی انہیں مدعو کرتی، وہ گھر سے اجازت نہ ملنے کا بہانہ بنا دیتیں۔ چند بار امامہ نے خود ان دونوں کے والدین سے اجازت لینے کے لیے بات کی، لیکن اس کے بے تحاشا اصرار کے باوجود ان دونوں کے والدین انہیں اس کے گھر آنے کی اجازت نہ دیتے۔ ان کے اس رویے پر کچھ شاکی ہوکر اس نے اپنے والدین سے شکایت کی۔
    ”تمہاری یہ دونوں فرینڈز سید ہیں۔ یہ لوگ عام طور پر ہمارے فرقہ کو پسند نہیں کرتے۔ اسی لیے ان دونوں کے والدین انہیں ہمارے گھر آنے نہیں دیتے۔”
    ایک بار اس کی امی نے اس کی شکایت پر کہا۔
    ”یہ کیا بات ہوئی… ہمارے فرقے کو کیوں پسند نہیں کرتے…” امامہ کو ان کی بات پر تعجب ہوا۔
    ”اب یہ تو وہی لوگ بتا سکتے ہیں کہ وہ ہمارے فرقے کو کیوں پسند نہیں کرتے… یہ تو ہمیں غیر مسلم بھی کہتے ہیں۔” اس کی امی نے کہا۔
    ”کیوں غیر مسلم کہتے ہیں۔ ہم تو غیر مسلم نہیں ہیں۔” امامہ نے کچھ الجھ کر کہا۔
    ”ہاں بالکل۔ ہم مسلمان ہیں… مگر یہ لوگ ہمارے نبی پر یقین نہیں رکھتے۔” اس کی امی نے کہا۔
    ”کیوں…؟”
    ”اب اس کیوں کا میں کیا جواب دے سکتی ہوں۔ بس یہ لوگ یقین نہیں رکھتے۔ کٹر ہیں بڑے، یہ تو انہیں قیامت کے دن ہی پتہ چلے گا کہ کون سیدھے رستے پر تھا۔ ہم یا یہ۔۔۔۔”
    ”مگر امی! مجھ سے تو انہوں نے کبھی مذہب پر بات نہیں کی۔ پھر مذہب مسئلہ کیسے بن گیا… اس سے کیا فرق پڑتا ہے، پھر دوسرے کے گھر آنے جانے سے کیا ہوتا ہے۔” امامہ ابھی بھی الجھی ہوئی تھی۔
    ”یہ بات انہیں کون سمجھائے… یہ لوگ ہمیں جھوٹا کہتے ہیں، حالاں کہ خود انہیں ہمارے بارے میں کچھ پتا نہیں… بس مولویوں کے کہنے میں آکر ہم پر چڑھ دوڑتے ہیں۔ انہیں ہمارے بارے میں اورہمارے نبی کی تعلیمات کے بارے میں کچھ پتا ہو تو یہ لوگ اس طرح نہ کہیں۔ شاید پھر انہیں کچھ شعور آجائے… اوریہ لوگ بھی ہماری طرح راہِ ہدایت پر آجائیں۔ تمہاری فرینڈز اگر تمہارے گھر نہیں آتیں تو تمہیں پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ تم بھی ان کے گھر مت جایا کرو۔”
    ”مگر امی! ان کی غلط فہمیاں تو دور ہونی چاہئیں میرے بارے میں۔” اِمامہ نے ایک با رپھر کہا۔
    ”یہ کام تم نہیں کرسکتیں۔ ان لوگوں کے ماں باپ مسلسل اپنے بچوں کی ہمارے خلاف برین واشنگ کرتے رہتے ہیں۔ ان کے دلوں میں ہمارے خلاف زہر بھرتے رہتے ہیں۔”
    ”نہیں امی! وہ میری بیسٹ فرینڈز ہیں۔ ان کو میرے بارے میں اس طرح نہیں سوچنا چاہیے۔ میں ان لوگوں کو اپنی کتابیں پڑھنے کے لیے دوں گی، تاکہ ان کے دل سے میرے بارے میں یہ غلط فہمیاں دور ہوسکیں، پھر ہوسکتا ہے یہ ہمارے نبی کو بھی مان جائیں۔” امامہ نے کہا۔اس کی امی کچھ سوچ میں پڑ گئیں۔
    ”آپ کو میری تجویز پسند نہیں آئی؟”
    ”ایسا نہیں ہے… تم ضرور انہیں اپنی کتابیں دو… مگر اس طریقے سے نہیں کہ انہیں یہ لگے کہ تم اپنے فرقہ کی ترویج کے لیے انہیں یہ کتابیں دے رہی ہو۔ تم انہیں یہ کہہ کر کتابیں دینا کہ تم چاہتی ہو وہ ہمارے بارے میں جانیں۔ ہم کو زیادہ بہتر طریقے سے سمجھ سکیں اوران سے یہ بھی کہنا کہ ان کتابوں کا ذکر وہ اپنے گھر والوں سے نہ کریں… ورنہ وہ لوگ زیادہ ناراض ہوجائیں گے۔” امامہ نے ان کی بات پر سر ہلا دیا۔
    ٭…٭…٭





    اس کے چند دنوں بعد اِمامہ اسکول میں کچھ کتابیں لے گئی تھی۔ بریک کے دوران وہ جب گراؤنڈ میں آکر بیٹھیں توامامہ اپنے ساتھ وہ کتابیں بھی لے آئی۔
    ”میں تمہارے اور جویریہ کے لیے کچھ لے کر آئی ہوں۔”
    ”کیا لائی ہو دکھاؤ؟” اِمامہ نے شا پر سے دو کتابیں نکال لیں اور انہیں دو حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے ان دونوں کی طرف بڑھا دیا۔ وہ دونوں ان کتابوں پر ایک نظر ڈالتے ہی کچھ چپ سی ہوگئیں۔ جویریہ نے امامہ سے کچھ نہیں کہا مگر تحریم یک دم کچھ اکھڑ گئی۔
    ”یہ کیا ہے؟” اس نے سر دمہری سے پوچھا۔
    ”یہ کتابیں ہیں تمہارے لیے لائی ہوں۔” امامہ نے کہا۔
    ”کیوں…؟”
    ”تاکہ تم لوگوں کی غلط فہمیاں دورہوسکیں۔”
    ”کس طرح کی غلط فہمیاں؟”
    ”وہی غلط فہمیاں جو تمہارے دل میں، ہمارے فرقے کے بارے میں ہیں۔” اِمامہ نے کہا۔
    ”تم سے کس نے کہا کہ ہمیں تمھارے ”مذہب” یا تمہارے نبی کے بارے میں کچھ غلط فہمیاں ہیں؟ تحریم نے بڑی سنجیدگی سے پوچھا۔
    ”میں خود اندازہ کرسکتی ہوں۔ صرف اسی وجہ سے تو تم لوگ ہمارے گھر نہیں آتے۔ تم لوگ شاید سمجھتے ہو کہ ہم لوگ مسلمان نہیں ہیں یا ہم لوگ قرآن نہیں پڑھتے یا ہم لوگ محمدﷺکو پیغمبر نہیں مانتے حالاں کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے… ہم لوگ ان سب چیزوں پر یقین رکھتے ہیں۔ہم تو صرف یہ کہتے ہیں کہ محمدﷺکے بعد ہمارا ایک امتی نبی ہے اور وہ بھی اسی طرح قابل احترام ہے جس طرح محمدۖ۔” اِمامہ نے بڑی سنجیدگی کے ساتھ وضاحت کرتے ہوئے کہا۔
    تحریم نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی کتابیں اسے واپس تھما دیں۔ ”ہمیں تمہارے اور تمہارے مذہب کے بارے میں کوئی غلط فہمی نہیں ہے… ہم تمہارے مذہب کے بارے میں ضرورت سے زیادہ جانتے ہیں۔ اس لیے تم کو کوئی وضاحت پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔” اس نے بڑے روکھے لہجے میں اِمامہ سے کہا۔ ”اورجہاں تک ان کتابوں کا تعلق ہے تو میرے اورجویریہ کے پاس اتنا بے کار وقت نہیں ہے کہ ان احمقانہ دعووں، خوش فہمیوں اور گمراہی کے اس پلندے پر ضائع کریں جسے تم اپنی کتابیں کہہ رہی ہو۔” تحریم نے ایک جھٹکے کے ساتھ رابعہ کے ہاتھ میں پکڑی ہوئی کتابیں کھینچ کر انہیں بھی اِمامہ کے ہاتھ میں تھما دیا۔ اِمامہ کا چہرہ خفت اورشرمندگی سے سرخ پڑ گیا۔ اسے تحریم سے اس طرح کے تبصرے کی توقع نہیں تھی اگر ہوتی تو وہ کبھی اسے وہ کتابیں دینے کی حماقت ہی نہ کرتی۔
    ”اور جہاں تک اس احترام کا تعلق ہے تو اس نبی میں جس پر نبوت کا نزول ہوتا ہے اوراس نبی میں جو خود بخود نبی ہونے کی خوش فہمی میں مبتلا ہو جاتا ہے زمین اورآسمان کا فرق ہوتا ہے۔ تم لوگوں کو اگر قرآن پر واقعی یقین ہوتا تو تمہیں اس کے ایک ایک حرف پر یقین ہوتا۔ نبی ہونے میں اورنبی بننے میں بڑا فرق ہوتا ہے۔”
    ”تحریم! تم میری اورمیرے فرقہ کی بے عزتی کر رہی ہو۔” امامہ نے آنکھوں میں امڈتے ہوئے آنسوؤں کے ساتھ کہا۔
    ”میں کسی کی بے عزتی نہیں کر رہی۔ میں صرف حقیقت بیان کر رہی ہوں، وہ اگر تمہیں بے عزتی لگتی ہے تو اس کے بارے میں کچھ نہیں کرسکتی…” تحریم نے دو ٹوک انداز میں کہا۔
    ”روزہ رکھنے میں اوربھوکے رہنے میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ قرآن پڑھنے اور اس پر ایمان لانے میں بھی بڑا فرق ہوتا ہے۔ بہت سارے عیسائی اور ہندو بھی اسلام کے بارے میں جاننے کے لیے قرآن پاک پڑھتے ہیں تو کیا انہیں مسلمان مان لیا جاتا ہے اوربہت سے مسلمان بھی دوسرے مذہب کے بارے میں جاننے کے لیے دوسری الہامی کتابیں پڑھتے ہیں تو کیا وہ غیر مسلم ہوجاتے ہیں اورتم لوگ اگر حضورﷺکوپیغمبر مانتے ہو تو کوئی احسان نہیں کرتے۔ تم ان کی نبوت کو جھٹلاؤگے تو اور کیا کیا جھٹلاؤگے، پھر تو انجیل کو بھی جھٹلانا پڑے گا، جس میں حضورﷺکی نبوت کی خوش خبری دی گئی ہے، پھر تو توریت کو بھی جھٹلانا پڑے گا، جس میں ان کی نبوت کی بات کی گئی ہے، پھر قرآن پاک کو بھی جھٹلانا پڑے گا جو محمدﷺکو آخری نبی قرار دیتا ہے اورسب سے بڑی بات یہ ہے کہ اگر تمہارا نبی محمدﷺکی نبوت کو جھٹلاتا تو وہ ان مناظروں کی کیا توجیہہ پیش کرتا جو وہ نبوت کا دعویٰ کرنے سے پہلے کئی سال عیسائی پادریوں سے محمدﷺ کی نبوت اور اسلام کے آخری دین ہونے پر کرتا رہا تھا۔ اس لیے امامہ ہاشم! تم ان چیزوں کے بارے میں بحث کرنے کی کوشش مت کرو، جن کے بارے میں تمہیں سرے سے کچھ پتا ہی نہیں ہے۔ تمہیں نہ اس مذہب کے بارے میں پتا ہے، جس پر تم چل رہی ہو اورنہ اس کے بارے میں جس پر تم بات کر رہی ہو۔”
    تحریم نے دو ٹوک انداز میں کہا۔
    ”اورمیں ایک چیز بتادوں تمہیں… دین میں کوئی جبر نہیں ہوتا… تم لوگ محمد ﷺ کی نبوت کے حتمی ہونے کا انکار کرتے ہو تو ہمارے پیغمبر محمد ﷺ کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔”
    ”مگر ہم محمدﷺکی نبو ت پر یقین رکھتے ہیں۔” اِمامہ نے اس با ت پر زور دیتے ہوئے کہا۔
    ”تو پھرہم بھی انجیل پر یقین رکھتے ہیں، اسے الہامی کتاب مانتے ہیں، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت پر یقین رکھتے ہیں تو کیا ہم کرسچن ہیں…؟ اور ہم تو حضرت موسیٰ علیہ السلام اورحضرت داؤد علیہ السلام کی نبوت پر بھی یقین رکھتے ہیں تو کیا پھر ہم یہودی ہیں؟ "تحریم نے کچھ تمسخر سے کہا ”لیکن ہمارا دین اسلام ہے، کیوں کہ ہم محمد ﷺ کے پیروکا رہیں، اورہم ان پیغمبروں پر یقین رکھنے کے باوجود نہ عیسائیت کا حصہ ہیں نہ یہودیت کا، بالکل اسی طرح تم لوگوں کا نبی ہے کیوں کہ تم اس کے پیروکار ہو۔ ویسے تم لوگ تو ہمیں بھی مسلمان نہیں سمجھتے۔ ابھی تم اصرار کر رہی ہو کہ تم اسلام کا ایک فرقہ ہو… جب کہ تمہارے نبی اوراس کے بعد آنے والے تمہاری جماعت کے تمام لیڈرز کا دعویٰ ہے کہ جو مرزا کی نبوت پریقین نہیں رکھتا وہ مسلمان نہیں ہے… تو اسلام سے تو تم لوگ تمام مسلمانوں کو پہلے ہی خارج کر چکے ہو۔۔۔”
    ”ایسا کچھ بھی نہیں ہے… میں نے ایسا کب کہا ہے؟” امامہ نے قدرے لڑکھڑائے ہوئے لہجے میں کہا۔
    ”تو پھر تم اپنے والد صاحب سے ذرا اس معاملے کو ڈسکس کرنا… وہ تمہیں خاص اپ ٹو ڈیٹ انفارمیشن دیں گے، اس بارے میں … تمہارے مذہب کے خاصے سرکردہ رہ نما ہیں وہ …” تحریم نے کہا ”اور یہ جو کتابیں تم ہمیں پیش کر رہی ہو… انہیں خود پڑھا ہے تم نے … نہیں پڑھا ہوگا۔ ورنہ تمہیں پتا ہوتا ان سرکردہ رہ نماؤں کے بارے میں۔”
    جویریہ تحریم کی اس ساری گفتگو کے دوران خاموش رہی تھی، وہ صرف کن اکھیوں سے امامہ کو دیکھتی رہی تھی۔” اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ محمدﷺا س کے آخری نبی ہیں اورمیرے پیغمبرﷺاس پر گواہی دیتے ہیں کہ وہ اللہ کے آخری نبی ہیں اورمیری کتاب مجھ تک یہ دونوں باتیں بہت صاف واضح اور دو ٹوک انداز میں پہنچا دیتی ہے تو پھر مجھے کسی اورشخص کے ثبوت اور اعلان کی ضرورت نہیں ہے… سمجھیں۔”
    تحریم نے اپنے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔
    ”بہتر ہے تم اپنے مذہب کو یا میرے مذہب کو زیر بحث لانے کی کوشش نہ کرو۔ اتنے سالوں سے دو ستی چل رہی ہے، چلنے دو۔۔۔”
    ”جہاں تک تمہارے گھر نہ آنے کا تعلق ہے تو ہاں یہ بالکل ٹھیک ہے کہ میرے والدین کو تمہارے گھر آنا پسند نہیں ہے۔ یہاں اسکول میں تم سے دوستی اور بات ہے۔ بہت سے لوگوں سے دوستی ہوتی ہے ہماری اور دوستی میں عام طورپر مذہب آڑے نہیں آتا لیکن گھر میں آنا جانا … کچھ مختلف چیز ہے… انہیں شاید میری کسی عیسائی یا یہودی یا ہندو دوست کے گھر جانے پر اعتراض نہ ہو لیکن تمہارے گھر جانے پر ہے… کیوں کہ وہ لوگ اپنے مذہب کو مانتے ہیں وہ اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہتے، جس مذہب سے تعلق ہوتا ہے وہی بتاتے ہیں، اوریہ بھی حقیقت ہے کہ جتنا تم لوگوں کو ناپسند کیا جاتاہے اتنا ان لوگوں کو نہیں کیا جاتا کیوں کہ تم لوگ صرف پیسے کے حصول اوراچھے مستقبل کے لیے یہ نیا مذہب اختیار کر کے ہمارے دین میں گھسنے کی کوشش کر رہے ہو، مگر کرسچن، ہندو یا یہودی ایسا نہیں کرتے۔”
    امامہ نے بے اختیا رٹوکا ”کس پیسے کی بات کر رہی ہو تم…؟ تم ہماری فیملی کو جانتی ہو… ہم لوگ شروع سے ہی بہت امیر ہیں۔ ہمیں کون سا روپیہ مل رہا ہے اس مذہب پر رہنے کے لیے۔”
    ”ہاں تم لوگ اب بڑے خوش حال ہو، مگر شروع سے تو ایسے نہیں تھے تمہارے دادا مسلمان مگر غریب آدمی تھے۔ وہ کاشت کاری کیا کرتے تھے اورایک چھوٹے سے کاشت کار تھے۔ ربوہ سے کچھ فاصلے پر ان کی تھوڑی بہت زمین تھی پھر تمہارے تایا نے اپنے کسی دوست کے توسط سے وہاں جانا شروع کردیا اور یہ مذہب اختیار کرلیا اور بے تحاشا امیر ہوگئے کیوں کہ انہیں وہاں سے بہت زیادہ پیسہ ملا پھر آہستہ آہستہ تمہارے والد اورتمہارے چچا نے بھی اپنا مذہب بدل لیا پھر تم لوگوں کا خاندان اس ملک کے متمول ترین خاندانوں میں شما رہونے لگا اوریہ کام کرنے والے تم لوگ واحد نہیں ہو زیادہ تر اسی طریقے سے لوگوں کو اس مذہب کا پیرو کار بنایا جا رہا ہے۔”
    امامہ نے کچھ بھڑکتے ہوئے اس کی بات کو کاٹا ”تم جھوٹ بول رہی ہو۔”
    ”تمہیں یقین نہیں آرہا تو تم اپنے گھر والوں سے پوچھ لینا کہ اس قدر دولت کس طرح آئی ان کے پاس… اورابھی بھی کس طرح آرہی ہے۔ تمہارے والد اس مذہب کی تبلیغ کرتے ہیں۔ ہر سال لاکھوں ڈالرز آتے ہیں، انہیں غیر ملکی مشنریز اوراین جی اوز سے …” تحریم نے کچھ تحقیر آمیز انداز میں کہا۔
    ”یہ جھوٹ ہے، سفید جھوٹ۔” امامہ نے بے اختیار کہا۔ ”میرے بابا کسی سے کوئی پیسہ نہیں لیتے۔ وہ اگر اس فرقہ کے لیے کام کرتے ہیں، تو غلط کیا ہے۔ کیا دوسرے فرقوں کے لیے کام نہیں کیا جاتا۔ دوسرے فرقوں کے بھی تو علماء ہوتے ہیں یا ایسے لوگ جو انہیں سپورٹ کرتے ہیں۔”
    ”دوسرے فرقوں کو یورپی مشنریز سے روپیہ نہیں ملتا۔”
    ”میرے بابا کو کہیں سے کچھ نہیں ملتا۔” امامہ نے ایک با رپھر کہا۔ تحریم نے اس کی بات کے جواب میں کچھ نہیں کہا۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
    اِمامہ نے اسے جاتے ہوئے دیکھا پھر گردن موڑ کر اپنے پاس بیٹھی جویریہ کی طرف دیکھا۔
    ”کیا تم بھی میرے بارے میں ایسا ہی سوچتی ہو؟”
    ”تحریم نے غصہ میں آکر تم سے یہ سب کچھ کہا ہے۔ تم اس کی باتوں کا برا مت مانو۔” جویریہ نے اسے تسلی دینے کی کوشش کی۔
    ”تم ان سب باتوں کو چھوڑو… آؤ کلاس میں چلتے ہیں، بریک ختم ہونے والی ہے۔” جویریہ نے کہا تو وہ اٹھ کھڑی ہوگئی۔
    ٭…٭…٭




  • پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۱

    پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۱

    پیش لفظ

    پیر کاملﷺکو میں نے آپ کے لیے لکھا ہے۔ آپ سب کی زندگی میں آنے والے اس موڑ کے لیے، جب روشنی یا تاریکی کے انتخاب کا فیصلہ ہم پر چھوڑ دیا جاتا ہے، ہم چاہیں تو اس راستے پر قدم بڑھادیں جو روشن ہے اور چاہیں تو تاریکی میں داخل ہو جائیں۔
    روشنی میں ہوتے ہوئے بھی انسان کو آنکھیں کھلی رکھنی پڑتی ہیں۔ اگر وہ ٹھوکر کھائے بغیر زندگی کا سفر طے کرنا چاہتا ہے تو تاریکی میں داخل ہونے کے بعد آنکھیں کھلی رکھیں یا بند کوئی فرق نہیں پڑتا، تاریکی ٹھوکروں کو ہماری زندگی کا مقدر بنا دیتی ہے۔
    مگر بعض دفعہ تاریکی میں قدم دھرنے کے بعد ٹھوکر لگنے سے پہلے ہی انسان کو پچھتاوا ہونے لگتا ہے۔ وہ واپس اس موڑ پر آنا چاہتا ہے جہاں سے اس نے اپنا سفر شروع کیا تھا۔ تب صرف ایک چیز اس کی مدد کرسکتی ہے، کوئی آواز جو رہ نمائی کا کام کرے اور انسان اطاعت کے علاوہ کچھ نہ کرے۔
    پیر کاملﷺوہی آواز ہے، جو انسان کو تاریکی سے روشنی تک لاسکتی ہے اور لاتی ہے۔ اگر انسان روشنی چاہے تو اور ”یقینا ہدایت انہیں کو دی جاتی ہے جو ہدایت چاہتے ہیں۔”
    آئیے ایک بار پھر پیر کاملﷺکو سنیں!
    عمیرہ احمد




  • فیس بکی شہزادہ — کوثر ناز

    یوں تو کوئی بھی فیس بکی محبت کو پسند کی نگاہ سے نہیں دیکھتا اور اگر اس کی مخالفت کرنے کی بات کی جائے تو ہم بھی ارسطو اور خلیل جبران کو کہیںپیچھے چھوڑنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔
    جب آپ کی کوئی سکھی انباکس میں آکر محبت کا رونا روئے، اپنے دنوں کو حسین اور راتوں کو سہانی کہے، توعورتوں والی مخصوص رگ ہر لڑکی و عورت کے اندر پھڑپھڑانے لگتی ہے۔ تجسس پیٹ میں مروڑ ڈال دیتا ہے اور یہی نہیں بلکہ ایک آدھ عشقیہ چاہے بے وزن شاعری سے مزین پوسٹ آپ کسی دوست کی دیکھ لیں،تو من میں کھلبلی شروع ہوجاتی ہے کہ بھئی ضرور کہیں کوئی چاند چڑھایاجارہا ہے اور اگر اسٹیٹس ہو اداس و غمگین فروری مارچ میں بھی دسمبرو جنوری کی سی شاعری کا، تو اندازہ از خود لگالیا جاتا ہے کہ بھئی یہاں چاند گرہن لگا ہوا ہے۔
    خیر سو باتوں کی چند باتیں یہ کہ فیس بکی محبت کے ہم چاہے لاکھ مخالف ہوں، لیکن سہیلی کا دل جو شہزادے میں اٹکا، توان کے غم میں شریک ہونے سے ہم بھی خود کو نہ بچا سکے۔ سہیلی کیا ”لنگوٹی یارنی” ہی کہہ لیں کہ بچپن سے ایک ساتھ کھیلے، اسکول ، کالج ساتھ پڑھے۔ ہاں البتہ اپنی اپنی ذاتیات کو چھپائے دوستی کا تعلق برقرار رکھا لیکن پھر ہماری سکھی کے سر پر حب محبت آن پڑی، تو ہم سے رجوع کرتے ہی بنی اور ہم ٹھہرے سدا کے ہم درد۔ فوراً سے پیشتر والدہ ماجدہ والے جذبات جاگے اور ان کے دل کے حال و احوال پر کبھی افسوس کرتے، تو کبھی حیران ہوتے اور آخر میں ان کی روداد سن کر ہم نے بھی فیصلہ کرہی لیا کہ اب جو بھی ہو سہیلی کو یوں تڑپنے کے لیے تنہا نہیں چھوڑ سکتے۔ اس سلسلے میں چاہے باہر کی تھوڑی سی ہوا ہمیں ہی کیوں نہ کھانی پڑے۔
    ارے… کیا کہا؟ پوری کہانی تو سنیے میاں و بیوی معذرت کہنے کا مطلب ہے کہ خاتون یا جو بھی آپ ہیں کہ بات کچھ یوں ہے کہ فیس بک پر اُنہیں بھی سچی محبت مل جایا کرتی ہے جنہیں بازار میں کوئی خراب خربوزہ تک نہ دے، لیکن بندہ جب ‘ پیج’ کا ایڈمن ہو، تو اسے خصوصی توجہ اپنے آپ مل جایا کرتی ہے۔ فیس بک کی دنیا میں پیج ایڈمن یا گروپ ایڈمن کی محبوبہ کی وہی اہمیت ہوتی ہے جو حقیقی زندگی میںفوجی کی بیوی کی یعنی کہ خاص الخاص شخصیت۔
    تو بس بھئی یہاں پیج ایڈمن عرف شہزادہ نے دوست کے کومنٹ پر مسلسل ‘لو ‘ ری ایکٹ کرنا شروع کیا، تو یہاں دوست کے دل کی گھنٹی بج گئی۔ بجتے بجتے آواز مین گیٹ تک پہنچی اور شہر دل کا دروازہ ازخود کھل گیا۔ پھر وہ مکان محبت ڈھونڈ کر محترمہ کے کمرا دل میں گدی نشین ہو بیٹھے۔ کہنے کا مطلب ہے کہ فیس بکی شہزادے سے سیدھی بادشاہِ دل تک کی ترقی مل گئی۔
    محبت شروع ہوئی تو پیج ایڈمن پر دل ہارے بیٹھی کئی سو حسیناؤں کی حس بیدار ہوئی تو کسی نے اسے فوراً سے پیشتر جذبہ ہم دردی کے تحت بھابی تسلیم کرلیا، تو کچھ جذباتی ہوکر پیج چھوڑ گئیں جب کہ درمیان والی کبھی بھابی کے کومنٹ کو لائک کرکے بھائی کی توجہ سمیٹتی کہ وقت پڑنے پر شہزادے کے دل کی مرہم پٹی کرسکیں اور پھر خاتون اوّل یعنی کہ بھئی پیج ایڈمن کی محبوبہ ہونے کا درجہ پاسکیں۔ کیا کہا ایسا نہیں ہوتا؟
    آپ ذرا ادبی قسم کے میاں و بیوی مطلب خواتین و حضرات ہیں۔ ورنہ تو میری بات سے مکمل اتفاق کرتے، لیکن ایک مثال تو یہاں یہ بھی دی جاسکتی ہے کہ کسی ایسے حضرت کو لیجیے جسے ہم دردی بٹورنے کا شوق ہو اور پھر مرنے مرانے کی باتیں بھی کرتا ہو، تو پھر وہاں خواتین کی ہم دردیاں دیکھیں۔ ہر خاتون و دوشیزہ انہیں غمِ بیکراں کے سمندر سے نکالنے کو بے تاب نظر آئے گی ( اس بات سے بے خبر کہ حضرات سمندر عشق میں غوطے لگانے کا کئی سالہ تجربہ رکھتے ہیں۔)
    خیر اس سب سے الگ ہم فیس بکی محبت کے پروان چڑھنے پر بھی کسی دوراہے کا شکار نہیں!
    محبت سہیلی کے دل میں جڑ پکڑنے لگی، تو غیر مردوں کو ایڈ کرنا تو دور سہیلی کے لیے ان کا کومنٹ لائک کرنا بھی ممنوع ٹھہرا۔ دوسرے معنوں میںآئی ایس آئی کا ایسا ایجنٹ ان کے پیچھے لگ گیا جو چوبیس گھنٹے ان کی چوکیداری کرتا رہتا۔ ساتھ ہی فیس بکی خدا کے طور پر اس کی آئی ڈی کا کرتا دھرتا بھی بن گیا۔ ہمیں علم ہوا، تو شکر کا کلمہ پڑھا کہ اپنی کوئی تصویر محترمہ کو فیس بک کے ذریعے ارسال نہیں کی تھی۔خیر ان کی محبت کی شدتیں بڑھیں، تو بات میسجز، واٹس اپ اور فون کالز سے آگے بڑھ کر ملاقات تک آپہنچی ۔ ملاقات کی سبیل ہمارے ذریعے نکل سکتی تھی سو انہیں ہمیں یاد کرتے ہی بنی۔ ہم مرتے کیا نہ کرتے کہ مصداق اگلے ہفتے کا پلان ترتیب دے بیٹھے اور وہ اپنے بلیچ، فیشل وغیرہ پر دن رات صرف کرنے لگیں۔ ایک روز عورتوں کے حمام خانے ( پارلر) میں بھی ہو آئیں۔
    متوقع ملاقات کے روز ہم بس میں بیٹھے شہر کے مشہور ترین پارک میں جا پہنچے اور شہزادے صاحب کے انتظار میں نگاہیں داخلی دروازے پر جما دیں۔ دل کی دھڑکنیں آسمان سے باتیں کررہی تھیں، چہرے پر قوس قزاح کے رنگ بکھرے ہوئے تھے، مسکراہٹ تھی کہ ایک پل کے لیے ہونٹوں سے جدا ہی نہ ہورہی تھی اور ہم نقاب لگائے ان کی چوکیداری پر معمور ہوگئے کہ تب ہی ایک طرف سے ایک ہینگر ہوا کے دوش پر ہلتا ہلتا ہماری طرف آتا دکھائی دیا، تو دوست کی تمام تر حسیں بیدار ہوتے دیکھ کر ہم بھی چوکنا ہو بیٹھے۔ اتنا تو علم تھا کہ شہزادے صاحب انتہائی نازک طبیعت کے انسان ہیں، لیکن کس قسم کے ہوں گے کیا علم تھا؟ ہمیں لگا کہ یہ جو خاصا اسمارٹ سا بندہ کلف زدہ اکڑی شرٹ اور نئی نویلی پینٹ کے سہارے چلا آرہا ہے وہ آگے گزر جائے گا، لیکن جب دوست کے نزدیک آکر رکا، تو ہم نے صدمے سے سہیلی کے چہرے کا طواف کیا اور جس کے بعد اندازہ ہوگیا کہ وہ ‘ سویٹ سیلفی’ کے خالقوں سمیت ان کے پرکھوں تک کو گالیوں سے نواز رہی ہوگی کیوں کہ ان کا ردعمل بھی ہم سے کچھ مختلف نہیں تھا۔ وہ حیران سی اس کلف زدہ شخص کو دیکھتی رہی جو سویٹ سیلفی کے استعمال سے دھوکے دے کر حسن کے قصیدے سن سن کے ہوا میں اڑ رہا تھا اور آج زمین پر آنے کے بعد وہ آدھا جسم ہوا میںہی چھوڑ آیا تھا۔ بہ قول شہزادے صاحب کے کہ وہ پچھلے دنوں اس قدر بیمار ہوئے کہ اب آدھے رہ گئے ہیں۔ ساتھ ہی دوائیوں نے ان کا رنگ کچھ سیاہی مائل کردیا ہے۔
    اتنے میں بھی گزارا ہوجاتا، اگر وہ گفتگو کرنے کے فن سے آشنا ہوتے۔ سہیلی کو سمجھنے میں ذرا دیر نہ لگی کہ جن پوسٹس کو پڑھ پڑھ کر وہ پھولی نہ سماتی تھیں اوردوسرے پیجز پڑھ پڑھ کر ہنستی تھی کہ ان کے محبت نامے دنیا اپنے اپنے بگڑے کام سنوارنے کے لیے استعمال کیا کرتی ہے۔ ان کے خالق ابھی تک گمنام ہی ہیں! وہ نہ جانے کیا کیا باتیں کررہا تھا، لیکن ہماری سہیلی تھی کہ اپنی ازلی شرمیلی فطرت کے باعث ان کی جانب نگاہ اٹھا کر نہ دیکھ پارہی تھی، لیکن ان کے چہرے کے زاویوں سے اندازہ لگایا جاسکتا تھا کہ وہ گھڑی کی ٹک ٹک سے کچھ زیادہ مطمئن نہیں ہے۔ وہ بھی ہماری طرح چھے فٹ کے قد سمیت مکمل ہیرو کے خواب دیکھا کرتی تھی اور شہزادہ گلفام کو دیکھ کر تمام تر خوابوں کے شرمندہ تعبیر کرنے کی تدبیر ناکام نظر آئی تو آنکھوں سے خواب از خود اڑ گئے۔
    ملنے کی جس قدر جلدی تھی۔ واپسی بھی اتنی ہی افراتفری میں ہوئی۔ محترم شہزادے نے بہت اصرار کیا کہ کسی ٹو اور تھری اسٹار کیفے سے ایک کپ کافی یاپھر کسی اچھی جگہ سے آئس کریم ہی کھا لی جائے لیکن سہیلی کی مسکراہٹ بتا رہی تھی کہ دل کے ساتھ پیٹ بھی بھرچکا ہے۔
    خواتین و حضرات واپسی کے سفر پر ہم دونوں نے ہی رنجیدہ و سنجیدہ ہوتے ہوئے ایک ایک فیصلہ کرلیا… سہیلی نے نئی سم مع نیا اکاونٹ بنانے کا فیصلہ کیا جب کہ ہم نے پھوپھی کے بیٹے کے آئے ہوئے رشتے کو قبول کرنے کا جاں گسل کام سر انجام دیا۔
    ویسے آپ کا کیا خیال ہے؟ تجربہ کیا کہتا ہے آپ کا؟
    ٭…٭…٭




  • محبتیں ہمارے عہد کی — ثناء شبیر سندھو

    ”یہ جو کہتے ہیں اورنگزیب ٹوپیاں بیچ کر گزارہ کرتا تھا، یہ سب کہانیاں گھڑی ہوتی ہیں۔” قمر صاحب کی آواز کانوں پر ہتھوڑے کی طرح برس رہی تھی۔ شزا نے اپنی جماہی کو بہ مشکل روکتے ہوئے پہلے سر کی طرف اور پھر زویا کو دیکھا۔ اس کا دھیان نوٹ بک پر کم اور ہاتھ میں پکڑے موبائل پر زیادہ تھا۔
    ”یار یہ سر کب جائیں گے؟” اُس نے اکتاہٹ سے نوٹ بک کے کونے پر لکھ کر زویا کو کہنی ماری۔
    ”کک… کیا…” زویا ہڑبڑا گئی۔
    ”کیا ہورہا ہے؟” سر نے اسی دوران اُسے پکڑ لیا تھا۔
    ”کچھ نہیں سر…” زویا نے فوراً موبائل بیگ میں پھینکا۔
    ”تو کیا بتا رہا تھا میں۔” انہوں نے اسے گھور کر پوچھا۔ شزا نے ہنسی دبائی۔
    ”سر وہ… جہانزیب کی بات ہورہی تھی…” وہ گڑ بڑائی۔ کلاس میں زبردست قہقہہ لگا تھا۔
    ”اور یہ جہانزیب کون ہے؟” قمر صاحب کے غیظ و غضب میں اضافہ ہوا۔ شزا نے شرمندگی سے سر کو دیکھا اور انگلیاں مروڑنے لگی۔
    ”بیٹا… اپنے اندر کا شور کم کریں۔” انہوں نے اسے غصے سے دیکھتے ہوئے تحمل سے کہا۔
    ”جی سر…” وہ منمنائی۔
    ”اندر کا شور کم ہوگا، تو باہر کی چیزیں سنائی دیں گی بچہ۔” انہوں نے مزید طنز کیا۔
    ”یس سر۔”زویا نے سر ہلایا۔
    بیٹھو … اور ہاں یہ اورنگزیب تھا۔” انہوں نے بالآخر اس کی جان بخشی کی۔ وہ فوراً بیٹھ گئی اور شزا کو مسکراتے دیکھ کر غصے سے گھورا۔
    ”تم مجھے بتا نہیں سکتی تھی۔” شزا کو کہنی مارتے ہوئے اس نے دانت پیسے۔
    ”کیا…؟ مثلاً کیا کہ سر تمہیں اُٹھانے والے ہیں؟ یا تمہیں نوٹس کررہے ہیں؟” شزا نے دبی آواز میں جواب دیا۔
    ”مرو تم…” وہ سر کو وائٹ بورڈ کی جانب جاتا دیکھ کر انہیں یوں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے لگی جیسے آنکھوں سے ہی سنے گی۔
    ٭…٭…٭





    ”توبہ ہے یونیورسٹی ہے کہ کوئی اسکول… یہ سر باجوہ تو نہ انہیں کسی اسکول میں ہیڈ ماسٹر ہونا چاہیے تھا۔” زویا نے کلاس ختم ہونے کے بعد کاریڈور میں آکر کتابیں اور بیگ پھینکتے ہوئے غصے سے کہا۔
    ”سیریسلی یار! پوچھنے ہی بیٹھ جاتے ہیں کہ کیا پڑھایا۔” شزا نے اکتاہٹ سے کہا۔
    ”رکو ذرا statusہی اپ ڈیٹ کردیتی ہوں۔” زویا نے اپنے اسمارٹ فون پر انگلیاں چلائیں اور فیس بک کھولی۔
    ”کیا لکھو گی…؟” شزا نے اسے گھورا۔
    ”سوچنے دو… ہاں…” وہ کچھ دیر سوچ کر سیدھی ہوئی۔
    "uff…this history feeling bored with shiza Javed.”
    اس نے شزا کو ٹیگ کیا۔
    ”کہیں سر قمر ہی نہ پڑھ لیں۔” شزا کو فکر ستائی۔
    ”چل ہٹ… میری فرینڈ لسٹ میں تھوڑی ہیں وہ۔” زویا نے ناک سے مکھی اُڑائی۔
    ”لیکن…” شزا نے اسے ڈرتے ڈرتے دیکھا۔
    ”لیکن کیا…” زویا بیگ میں کچھ ڈھونڈنے لگی۔
    ”میں نے کل ہی انہیں ایڈ کیا ہے۔” شزا نے بے چارگی سے بتایا۔
    ”واٹ…” زویا چیخی۔ دماغ ٹھیک ہے تیرا، بے وقوف لڑکی پہلے نہیں پھوٹ سکتی تھی؟ ستر دفعہ بولا ہے کہ پرائیویسی سیٹنگ چیک کرو اور ٹیگ اپروو کرنے کے بعد الاؤ کیا کرو، لیکن نہیں محترمہ کو لوگوں کو بتانا ہے کہ وہ کتنی مشہور ہیں اور کتنے لوگ انہیں ٹیگ کرتے ہیں۔” زویا دانت پیستے ہوئے تیزی سے موبائل پر انگلیاں چلانے لگی۔
    ”جلدی ڈیلیٹ کرو ورنہ کل کلاس میں چھترول کریں گے۔” شزا نے اُس پر جھکتے ہوئے منمنا کر کہا۔
    ”پیچھے دفع ہو۔ وہی کررہی ہوں۔” زویا نے فیس بک کھولی۔
    ”ہائے کھل گیا شکر ہے۔ کسی نے ابھی دیکھا تو نہیں؟” شزا نے ناخن چباتے ہوئے زویا کو دیکھا۔
    ”گاڈ…” زویا کی نظریں اسکرین پر جم کر رہ گئیں۔
    ”کیا ہوا…” شزا نے گھبرا کر پوچھا۔
    ”تو دیکھ مرلے۔” زویا نے موبائل اس کے سامنے کیا جہاں باجوہ صاحب کی طرف سے لائیک کا نوٹیفکیشن جگمگا رہا تھا۔ شزا نے آنکھیں پٹپٹا کر دوبارہ دیکھا کہ شاید سکرین پر لکھا بدل جائے پھر ڈرتے ڈرتے زویا کو دیکھا جو کٹ گھنی بلی بنی تھی۔
    ”ہیلو Peeps” نور نے poutبنا کر دونوں کو گزیٹ کیا جو سر جوڑے موبائل پر نہ جانے کیا دیکھ رہی تھیں۔ اس نے بیگ سائیڈ پر رکھا اور اِن کے ساتھ جڑ کر بیٹھ گئی۔
    ”کیا تکلیف ہے نور؟” شزا نے اس پر چڑھائی کی۔
    ”کیا دیکھ رہی ہو تم لوگ؟” اس نے تجسس سے پوچھا۔
    ”تمہارا دولہا۔” زویا نے دانت کچکچائے۔
    ”ہائے۔” نور نے انگلیاں مروڑ کر شرمانے کی ایکٹنگ کی۔
    ”مجھے بھی تو دکھا دو۔” اُس نے شرما کر کہا۔
    ”بکواس بند کرو اور یہ بتاؤ اتنی لیٹ کیوں آئی ہو۔ یہ صبح صبح مغلوں کا جغرافیہ پھانکنے کو ہم ہی ملتے ہیں باجوہ صاحب کو۔” زویا کا غصہ کسی طور کم نہ ہوا تھا۔
    ”یار بھائی کی کھٹکارا بائیک پھر سے خراب ہوگئی تھی۔” نور نے آنکھیں مٹکا کر بتایا۔
    ”چلو… تیرے پاس اور کوئی بہانہ نہیں ہے کیا۔”شزا نے دھپ لگائی۔
    ”لو مجھے کیا ضرورت ہے جھوٹ بولنے کی۔” نور نے برا مانتے ہوئے کہا۔
    ”اب یہ سرکس بند کرو اور اٹھو ابھی اسائنمنٹ کے پرنٹس لینے ہیں اور بائنڈنگ بھی کروانی ہے۔” زویا نے کتابیں اٹھائیں اور کپڑے جھاڑتے ہوئے کھڑی ہوگئی۔
    ”ارے ہاں مجھے تو بھول ہی گیا تھا۔” شزا نے سر پر ہاتھ مارا۔ تینوں نے اپنی چیزیں اٹھائیں اور کیفے کی اور چل دیں۔
    ٭…٭…٭
    شزا، نور اور زویا تینوں یونیورسٹی سے سوشیالوجی میں ماسٹرز کررہی تھیں۔ تینوں بی اے سے ساتھ تھیں اور ایک دوسرے کی بہترین دوست بھی۔ بی اے کے بعد انہوں نے سوشیالوجی میں اکٹھے ہی ایڈمیشن لے لیا۔ تینوں سوشل میڈیا کی دلدادہ تھیں۔ خاص طور پر زویا کو تو ہر چیز فیس بک پر اپ ڈیٹ کیے بغیر چین ہی نہیں آتا تھا۔ اپنی ہر آؤٹنگ اور hangout کو پوسٹ کرنا اس کا شوق تھا۔
    ٭…٭…٭
    ”امی دیکھا آپ نے۔” زویا نے چیخ ماری۔
    ”کیا ہوا اب۔” نجمہ نے استری والے کپڑوں کو پانی لگاتے ہوئے بے زاری سے اسے گھورا۔
    ”دیکھ لیں آپ اپنے بھتیجے کی حرکتیں۔” زویا نے موبائل دوسرے ہاتھ میں پکڑا۔
    ”تمہاری حرکتیں نہ دیکھوں پہلے؟ کام تم سے کچھ ہوتا نہیں ہر وقت موبائل کی ماں بنی رہتی ہو۔ کہا ہے کپڑوں کو پانی لگا دو وہ بھی محترمہ سے نہیں لگا۔” نجمہ نے اُلٹا اس کی کلاس لے لی۔
    ”افوہ امی… میرے پیچھے پڑی رہیں بس مجھے نہیں پسند یہ کام۔” اس نے اُٹھ کر بیٹھتے ہوئے شاہانہ پن سے کہا۔
    ”تمہیں پسند کیا ہے آخر؟” نجمہ نے دانت پیسے۔
    ”میری بات تو سن لیں آپ… ذیشان بھائی آئے ہوئے ہیں دبئی سے ایک ہفتہ ہوگیا، لیکن آپ کو ملنے نہیں آئے۔” زویا نے آنکھیں مٹکا مٹکا کر بتایا اور کن انکھیوں سے ماں کا ری ایکشن دیکھنے کی کوشش کی۔
    ”تمہیں کیسے پتا؟” نجمہ کے ہاتھ پکڑا پر ڈھیلے ہوگئے۔
    ”یہ دیکھیں چیک ان کیا ہوا ہے لاہور کا۔ اپنی بہن کے ساتھ کھانے پر گئے تھے۔ اتنا نہ ہوا ہم سے بھی پوچھ لیتے۔” زویا نے ماں کو متوجہ پاکر چھلانگ ماری۔ نجمہ کے پاس آکر اسے تصویریں دکھانے لگی۔
    ”بڑا ہی بے دید ہے۔ باپ کی طرح سامنے کیسے پھپھو پھپھو کرتا ہے اور ایک شہر میں ہوتے ہوئے بھی ملنے کی توفیق نہ ہوئی۔” نجمہ خفگی سے بولیں۔
    ”اور کیا… ان کو لگتا ہے ہمیں پتا ہی نہیں چلے گا۔” زویا نے بال جھٹکے۔
    ”یہ فیس بک پر کیا سب پتا چل جاتا ہے۔” نجمہ نے معصومیت سے پوچھا۔
    ”ہاں امی آج کل تو لوگ کام بعد میں کرتے ہیں اور فیس بک پر لگاتے ہیں۔” زویا نے مزید روشنی ڈالی۔
    ”چلو بند کرو اس کو بلکہ یہ کپڑے اٹھاؤ اور آئرن اسٹینڈ پر رکھو۔” نجمہ کا دل کام سے اچاٹ ہوگیاتھا۔
    ”کیا ہوا اب آپ کو…” زویا نے آنکھیں گھمائیں۔
    ”دکھ ہورہا ہے مجھے۔ میں کون سا اس سے رقمیں مانگ لیتی ہوں یا پیسے… صرف مل کر جانے میں بھی اس کو تکلیف ہے۔ پال پوس کر میں نے بڑا کیا ہے اسے۔ ماں کو تو کبھی ٹی وی سے ہی نہ فرصت ملی۔” نجمہ کا لہجہ غمگین تھا۔
    چلیں چھوڑیں امی، ہمیں کیا۔ ہم کون سا مرے جارہے ہیں۔زور زبردستی بھی تو نہیں کرسکتے۔” زویا نے نجمہ کا کندھا تھپکتے ہوئے تسلی دی، تو نجمہ نے بھی سر ہلا دیا۔
    ٭…٭…٭
    گرلز، گڈ نیوز…” نور بھاگتی ہوئی شزا اور زویا کے پاس آئی۔
    ”واٹ…؟” زویا نے بے زاری سے مڑ کر پوچھا۔
    ”باجوہ صاحب نہیں آئے آج۔” نور تالی بجا کر اُچھلی۔
    ”واہ… شکر ہے۔” شزا نے شکر ادا کیا۔
    ”چلو کیفے چل کر چائے پیتے ہیں۔” زویا نے بیگ اٹھایا۔
    ”توبہ میں تو سوچ سوچ کر ہی بے ہوش ہوئی جارہی تھی کہ کہیں…” شزا خوشی سے بولتی ہوئی مڑی تو سامنے ہی ہاتھ میں ڈائری اور دوسرے ہاتھ میں گلاسز پکڑے باجوہ صاحب کھڑے تھے۔
    ”س…س…سر…” شزا نے ہکلا کر کہا۔ نور اور زویا نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ زویا نے نور کو قتل کرنے کا اشارہ کیا۔
    ”سر میں ایک ہی ”س” آتا ہے۔ باجوہ صاحب نے سنجیدگی سے کہا۔
    ”سر ہم آپ ہی کا انتظار کررہے تھے ایک اسائنمنٹ…”
    ”میرا انتظار؟ کس لیے؟ اوہ بور ہونے کے لیے؟” انہوں اپنے سوالوں کے خود ہی جواب دیے۔ تینوں پر گھڑوں پانی پڑ گیا۔
    ”سر وہ… ایکچوئلی ایسے ہی ہم بیٹھے تھے تو…” زویا نے بات بنانے کی کوشش کی۔
    ”سر وہ تو آپ کے پیریڈ کے بعد پوسٹ کیا تھا۔” شزا نے فوراً لب کشائی کی۔
    ”اچھا…” سر نے لمبا سا اچھا کہا۔
    ”اور وہ جو ہسٹری کی بات ہورہی تھی؟” سر نے معصومیت سے پوچھا۔
    شزا نے زویا کو دانت کچکچا کر دیکھا۔
    ”سوری سر… ہمارا مقصد آپ کو ہرٹ کرنا نہیں تھا۔” بالآخر نور نے معافی مانگنے کا سوچا۔
    ”ارے آپ کیوں سوری کررہی ہیں آپ تو اس پوسٹ پر taggedبھی نہیں تھیں۔” سر نے گویا سارے بدلے آج ہی پورے کرلیے تھے۔
    ”سوری سر…” زویا نے تھوک نگلتے ہوئے کہا۔
    ”کلاس میں چلیں۔” وہ تینوں کو گھورتے ہوئے لیکچر ہال کی طرف بڑھ گئے۔
    ”زویا کمینی، مروا دیا تم نے۔” شزا نے زویا کے بازو میں ناخن چبھوئے۔
    ”پیچھے مرو… میں نے کہا تھا سر کو ایڈ کرکے بیٹھ جاؤ۔ پھر تم نے taggedپوسٹس بھی کھلی چھوڑی ہوئی ہیں۔” زویا نے الٹا اسے قصور وار ٹھہرایا۔
    ”اوکے lets more peeps” نور نے گہری سانس بھری۔
    ”تم…” زویا خونخوار نگاہوں سے اسے دیکھتی اس کی طرف بڑھی۔
    ”میں نے کیا کیا اب…” نور آگے بھاگی۔
    ”تم نے کہا سر آج نہیں آنے والے۔” زویا پھنکاری۔
    ”مجھے تو آلو، مم…میرا مطلب ہے شعیب نے بتایا تھا۔” نور نے سی آر کا نام لیا۔
    ”تم اور تمہارا Information saurced” شزا نے ناک سے مکھی اڑائی۔
    ”چلو اب… سر ہماری راہ دیکھ رہے ہوں گے۔” زویا نے چبا چبا کر غصیلے انداز میں کہا۔ اس کے انداز پر شزا اور نور کی ہنسی چھوٹ گئی۔ تینوں ہنستے ہوئے آگے بڑھ گئیں۔
    ٭…٭…٭
    تم ابھی تک جاگ رہی ہو۔” اس اچانک چنگھاڑ پر شزا کے ہاتھ سے موبائل گرتے گرتے بچا۔
    ”افوہ بجو ڈرا ہی دیا آپ نے۔” شزا نے سینے پر ہاتھ رکھا۔
    ”شزا شرم کرو صبح کے تین بج رہے ہیں۔ ہر وقت منہ اٹھا کر اس موبائل میں گھسی رہتی ہو اور کوئی کام نہیں تمہیں۔”
    شرمین نے اپنا تکیہ سیدھا کرتے ہوئے آڑھے ہاتھوں لیا۔ وہ واش روم جانے کے لیے اُٹھی تھی۔ جب اس نے شزا کو موبائل کے ساتھ مصروف دیکھا۔
    ”اچھا… سونے لگی ہوں۔” شزا نے کروٹ بدلی اور موبائل کی برائٹ نس کم کردی۔ مبادا شرمین پھر سے شروع ہو جائے۔
    ”شہزاد بھائی…” شزا نے فون لاک کرتے کرتے کہیں نام پڑھا اور اس کے نام پر کلک کرکے پروفائل کھول لیا۔
    ٭…٭…٭




  • نبھانا — نعمان اسحاق

    دور افق پر سورج ڈھل رہا تھا۔ ڈھلتے سورج کی کرنیں بادلوں پر اپنا ہر عکس بکھیررہی تھیں اور یہی مدھم کرنیں جب ڈالیوں پر کھلے گلابوں پر پڑتیں تو ان کی تازگی پر مہر لگاتیں۔ یہ مہر تو مریم کے بالوں میں اٹکے گلاب پر بھی لگتی۔ چہرے پر شگفتگی لیے مریم دو رویہ پودوں کے درمیان کھڑی دور راستے پر کچھ اس طرح سے دیکھتی جیسے کسی کی راہ تک رہی ہو اور پھر اسے وہ نظر آگیا۔
    بانکا اور سجیلا۔
    مریم کا دل کچھ ایسی لے پر دھڑکا کہ اسے سنبھالنا مشکل ہوگیا۔ دل کو سنبھالے وہ اس کی طرف چلنے لگی۔ قدموں کی رفتار کچھ تیز ہوئی اور پھر ایسے جیسے وہ بھاگ رہی ہو۔ بھاگتے بھاگتے اس کا سفید ململ کا غرارہ ہوا کے دوش پر لہراتا۔ وہ اس کے قریب پہنچی مگر اس کے قریب پہنچ کررکنے کی بجائے وہ آگے بڑھ گئی۔
    ”مریم!” اس نے پکارا تو مریم کے پاؤں رکے، مگر مڑ کے پھر بھی نہ دیکھا۔ وہ خود چل کراس کے پاس آیا۔
    ”رکی کیوں نہیں کہاں جارہی تھی۔” وہ پوچھ رہا تھا۔ مریم مسکرادی۔ اس کا مسکراناہی جواب تھا۔
    ”یہ گلاب …” اب کی بار اس نے مریم کے بالوں میں اٹکے گلاب کو چھوا تھا۔
    ”میں فیصلہ نہیں کرپاتا کہ یہ گلاب تمہاری خوبصورتی کو مکمل کررہا ہے یا تم اس کی خوبصورتی کو بڑھارہی ہو۔” مریم کے لبوں پر تبسم کچھ یوںآن ٹھہرا جیسے ہمیشہ یہیں ڈیرہ ڈالے رہے گا۔
    تبھی مریم کی آنکھ کھلی اور اس نے خود کو نیم تاریک کمرے میں اپنی چارپائی پر لیٹا پایا۔ دل کی دھڑکن کانوں میں سنائی دے رہی تھی۔ وہ بے قابو دل کو سنبھالتے اٹھی۔ پیروں میں چپل پھنسائی اور دبے قدموں سے باہر آئی۔
    گرمیوں کو رخصت ہوئے مہینہ بھر ہوچکا تھا، مگر سردیوں کی آمد ابھی تک دور تھی۔ بہرحال رات کے آخری پہر سردی کا لطیف سا احساس ہوتا۔ باہر برآمدے میں آکر مریم نے چند گہرے سانس لیے جیسے تازہ ہوا کو اپنے اندر اتارا ہو۔ پھر قدم قدم چلتی برآمدے کے ایک کونے میں لگے نل کی طرف آئی ۔ نل کھولا اور منہ پر پانی کے چند چھینٹے ڈالے۔
    نل کے نیچے ٹوٹے پیندے والی بالٹی دھری تھی تاکہ بالٹی میں پانی جمع نہ ہو۔
    گھریلو حالات سنک اور واش بیسن کی اجازت نہ دیتے تھے اور جن چیزوں کی حالات اجازت نہ دیں تو خودبخود اُن کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی اور یہی حال اس گھر کے مکینوں کا تھا۔
    ”بھلا کیا ضرورت ہے سنک کی؟” منہ پر چھینٹے مارنے کے بعد وہ پانی کی دھار کو بہتا دیکھتی رہی۔ اور ایک نام اس کے لبوں سے نکلا۔
    ”بلال!”





    دور کسی مسجد میں مؤذن نے فجر کی اذان دینا شروع کی۔
    ”اللہ اکبر اللہ اکبر ۔” اذان کے کلمات وہ ساتھ ساتھ دہرارہی تھی اور پھر وضو کرنے لگی۔ جب وہ پاؤں دھو رہی تھی تب آنکھیں ملتی حمیرا بھی باہر آگئی۔
    ”آج تم پھر مجھ سے پہلے اٹھ گئیں۔ حالاں کہ میں جلدی سوئی تھی کہ تم سے پہلے اٹھ جاؤں مگر مجھے نہیں لگتا تم سے پہلے اٹھنے کی خواہش کبھی پوری ہوپائے گی۔” حمیرا اس سے اڑھائی سال بڑی تھی اور وہ بہنیں عمر کے ایسے دور میں ہرگز نہیں تھیں جب ایسے مقابلے کیے جائیں مگر ان دونوں میں ایسے مقابلے چلتے رہتے تھے اور جب تک مریم نے دو سنتیں پڑھیں تب تک حمیرا بھی وضو کرکے اس کے ساتھ آن کھڑی ہوئی۔
    دعا کے لیے اس نے ہاتھ اٹھائے تو خشوع و خضوع خود ہی دامن گیر ہوا اور یوں بھی آج صبح کی دعا میں عجز کا عنصر زیادہ تھا کہ آج نتیجہ جو متوقع تھا اور وہ اپنے اللہ سے پورے انکسار سے اچھے نمبروں کی دعا مانگ رہی تھی۔ دعا مانگ کر کمرے میں گئی اور ماں کو جگایا۔
    بلقیس اتنی بوڑھی ہرگز نہ تھی مگر بے قابو ہوتی ذیابیطس نے وقت سے پہلے بڑھاپے کی دہلیز پر آبٹھایا تھا۔ رات کے پہر کے پہر بے خیالی میں گزرتے اور پچھلے پہر کہیں جاکر آنکھ لگتی نتیجتاً صبح اٹھنا مشکل ہوجاتا۔ بیٹیاں اس سے پہلے اٹھتیں اور نماز سے فارغ ہوکر اسے اٹھاتیں۔
    یہ بیٹیاں بھی کیسی نعمت ہیں۔ یوں تو بیٹیوں کے لیے رحمت کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے، مگر بلقیس کو نعمت بھی لگتیں۔ کیسے اس کا دھیان رکھتیں۔ ان کے بغیر وہ کہاں جی پاتیں۔ نعمت سی نعمت تھی۔ نماز کے بعد بلقیس نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے ہی تھے کہ مریم اس کے پاس آئی اور دوزانو ہوکر ساتھ بیٹھی۔
    ”امی میرے لیے بھی دعا کیجیے گا ۔ میرا نتیجہ ہے آج ۔ اچھے نمبر آنے چاہئیں۔ ”
    ”میری پیاری بیٹی۔ ” بلقیس نے آگے بڑ ھ کے بیٹی کا ماتھا چوما۔
    ”تم تو کہتی ہو تمہاری ہر دعا قبول ہوتی ہے، تو پھر امی سے دعاکا کس لیے کہتی ہو۔ ” پیچھے سے حمیرا کی آواز آئی۔
    ”دعا تو میری ہر قبول ہوتی ہی ہے پر کیا ہے نا کہ اپنے حق میں دوسروں سے بھی دعائیں کروانی چاہئیں۔ وہ دعائیں بھی مقبولیت کا درجہ رکھتی ہیں۔” مریم نے حمیرا کے قریب آکر جواب دیا تھا۔
    ”ہونہہ! ” حمیرا سر جھٹک کر رہ گئی ۔ یوں تو حمیرا بڑی تھی مگر باتوں سے مریم ہی سمجھ دار لگتی۔
    قرآن مجید کی تلاوت کے بعد حمیرا نے تو کڑھائی والا فریم اٹھالیا اور سوئی دھاگے کی الجھنوں میں الجھتی گئی۔ جبکہ مریم چہل قدمی کے لیے چھت پر آگئی۔
    صبح حسب معمول سہانی تھی۔ تازہ ہوا کے جھونکے اسے مزید خوبصورت بنا رہے تھے۔ دور کسی درخت پر بیٹھے پرندے اپنی بولیوں میں قدرت کی حمد و ثنا کر رہے تھے۔ یونہی ایک دیوار سے ٹیک لگائے مریم تازہ ہوا کو اپنے اند اتارتی پرندوں کی چہچہاہٹ سنتی سوچوں میں گم ہوگئی۔
    رزلٹ کا دن بھی کیسا اسراربھرا ہوتا ہے۔ دھڑکن چاہے تیز نہ بھی ہو مگرمعمول سے ہٹ کر ہوتی ہے اور ہاتھ پاؤں میں بھی ایک سنسناہٹ دوڑتی ہے ۔ اچھے پڑھے لکھے طلبہ گوکہ مطمئن ہوتے ہیں، مگر عجیب دورانیے سے وہ بھی گزرتے ہیں۔
    رزلٹ کا سوچتے سوچتے صبح کاذب کے وقت دیکھا خواب اس کی آنکھوں میں آن سمایااور ہونٹ ایک دلفریب مسکراہٹ سے چمکنے لگے۔
    ”بلال بھی نا۔ اب کیا خوابوں میں بھی آؤگے؟” چشم زدن میں وہ بلال سے مخاطب تھی اور شاید یہ مکالمہ آگے بڑھتا اگر کسی کے سیڑھیاں چڑھنے کی آواز دخل نہ دیتی اور وہ تخیل برقرار رکھ پاتی۔
    سیڑھیاں چڑھ کر آنے والا حمیرا کے سوا کون ہوسکتا ہے۔
    ”کیا تمہیں یاد نہیں کہ آج ناشتا بنانے کی باری تمہاری ہے۔اب امی روٹیاں پکانے بیٹھ چکی ہیں۔” حمیرا کے ماتھے پر شکن تھے۔
    ”تو آپا میرا رزلٹ ہے آج ۔ اپنے بنائے گئے شیڈول سے خاص دن تو مجھے رعایت دے دیا کرو۔ آپا آپ ناشتا بنانے بیٹھ جاتیں تو کم ازکم امی کو تو تکلیف نہ ہوتی۔” لفظ آپا پر وہ زوردے دے کر بولی اور حمیرا جل بھن کر رہ گئی۔ اصل جھگڑا پیچھے رہ گیا اور پرانا جھگڑا (اتنا پرانا کہ مریم صدیوں پرانا کہتی) دونوں کے درمیان پھر سے آن کھڑا ہوا۔
    ”کتنی بار کہا ہے مجھے آپا مت کہا کرو۔ تم سے اتنی بڑی بھی نہیں ہوں۔ اڑھائی سال کا تو فرق ہے، مگر تمہیں تو چھوٹی بچی بننے کا شوق ہے۔” حمیرا ابھی مزید کچھ کہتی مگر مریم نے اسے ٹوک دیا۔
    ”اڑھائی سال نہیں آپا ۔ دوسال اور سات ماہ۔”
    حمیرااسے گھور کررہ گئی۔
    ”پھر سے آپا۔” وہ دانت پیستی مریم کے پاس آئی اور مریم ہنستے ہوئے پرے سرکی۔ حمیرا مزید آگے بڑھی اور مریم نے دوڑ لگادی اور یوں بھاگتے ہوئے مریم ایسے قہقہے لگاتی کہ اس میں تو شبہ ہی نہ تھا کہ آواز گلی میں نہ جارہی ہو۔
    ”مریم آج تو میں تمہاری جان لے ہی لوں گی۔”
    ”نہ آپا نہ۔” اب تو باقاعدہ پکڑن پکڑائی شروع ہوگئی تھی۔ مریم کے گلے میں جھولتا دوپٹابھی زمین پر گرگیااور اس نے دھیان ہی نہ دیا اور جانے کتنی دیر وہ یوں آگے پیچھے دوڑتیں کہ سیڑھیوں سے آواز ابھری۔
    ”مریم!” دونوں بہنوں نے سیڑھیوں کی طرف دیکھا۔ بلقیس دیوار کا سہارا لیے پہلی سیڑھی پر کھڑی تھیں۔
    ”کتنی بار تمہیں سمجھایا ہے یوں قہقہے مت لگایا کرو۔ گلی سے گزرنے والے کیا سوچتے ہوں گے۔ یوں ہنسنے کی آواز باہر جائے لڑکیوں کو زیب نہیں دیتا اور یہ لو دوپٹا بھی گلے میں نہیں۔ تمہارا کیا ہوگا مریم۔” بیٹی کو ڈپٹتے ہوئے بلقیس کے دل میں یہی آرزو جمی بیٹھی تھی کہ اللہ اس کی بیٹیوں کو ہمیشہ ایسی ہی بے فکری دکھائے کہ جب وہ چاہے دل کھول کر ہنس سکیں، مسکراسکیں، قہقہے لگاسکیں۔
    ”اور حمیرا تم تو بڑی ہو۔ تم ہی سمجھ داری کا مظاہرہ کیا کرو۔ کیا پاگلوں کی طرح پیچھے پیچھے دوڑ رہی ہو۔” حمیرا کو تو یہ بات بندوق سے نکلی گولی کی طرح لگی، مگر بجائے جسم پر لگے نشتر سے خون نکلتا اس کے منہ سے کڑوے الفاظ ہی نکلے۔
    ”بڑی’ بڑی بڑی یہ کیا ہر وقت آپ مجھے بڑی ہونے کا طعنہ دیتی ہیں۔ کیا میں اپنی مرضی سے اس کلموہی سے بڑی ہوں۔ میرے بس میں ہوتا تو…تو یہ مجھ سے اڑھائی سال چھوٹی ہے ۔ میں اس سے پورے پانچ سال چھوٹی ہوتی۔”
    ”اڑھائی سال نہیں پورے دوسال اور سات ماہ۔” مریم نے تصحیح کرنا ضروری سمجھا۔
    ”دیکھ لیں آپ اپنی دلاری کو۔” حمیرا سے وہاں رکنا محال ہوگیا۔ پاؤں پٹختے وہ سیڑھیاں اترنے لگی اور ہنسی کے فوارے ایک بار پھر مریم کے حلق سے پھوٹنے لگے۔
    ”مریم!”بلقیس نے آنکھیں دکھائیں مگر وہ مریم ہی کیاجو خاطر میں لاتی۔ ہنستے مسکراتے اس نے زمین پر پڑا اپنا دوپٹااٹھایا ، جھاڑ کر گلے میں لٹکایااور ماں کا ہاتھ پکڑ کر سیڑھیاں اترنے لگی۔ قہقہوں سے دل بھرگیااس لیے اب بلقیس سے کہہ رہی تھی۔
    ”آج نتیجہ ہے۔ آپ کو ناراض نہیں کرنا چاہتی۔ دیکھیں اس لیے اب قہقہے نہیں لگارہی ہنسنے پر اکتفا کررہی ہوں۔” یہ کہتے ہوئے بھی ایک قہقہہ پھوٹا تھا اور بلقیس چاہ کر بھی آنکھیںنہ دکھا سکی ابمسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر آن ٹھہری۔
    ٭…٭…٭
    جلال پور پیر والا۔ شہر تھا ہی کتنا بڑا۔ یہاں سے شروع اور یہیں پر ختم۔ اسیّ کی دہائی میں جب بڑے شہر بھی اتنے گنجلک اور بڑے بڑے نہ تھے۔ یہ شہر تو جیسے گاؤں کی ترقیاتی شکل تھا۔ ہا ں گورنمنٹ آف پنجاب نے ٹاؤن کمیٹی مہیا کی ہوئی تھی اور جلال پور کو ملتان تحصیل کا درجہ دینے پر غوروخوض کیا جارہا تھا، البتہ اڑوس پڑوس کے بکھرے ہوئے بے تحاشا اور ان گنت دیہات کے لیے جلال پور شہر کا درجہ رکھتا تھا۔ شناختی کارڈ دفتر، ہیلتھ سنٹر ، لڑکوں اور لڑکیوں کے ہائر سیکنڈری سکول ، بازار غرض وہ شہری ضروریات کے لیے جلال پور کا ہی رخ کرتے اور ہماری مریم اسی شہر کی باسی تھی۔
    بوہڑ سے نیچے اترو تو بائیں جانب ایک تنگ گلی۔ اس تنگ گلی کے دائیں کنارے ایک بند گلی تھی۔ یہ بند گلی نسبتاً کھلی کشادہ تھی اور اسی گلی کے دائیں طرف آخری گھر سے دو گھر پہلے مرسیم کا گھر تھا اور اس بند گلی میں تمام گھر رشتہ داروں کے ہی تھے۔
    چچا ‘ ماموں’ پھوپھو اور خالائیں۔ کوئی پھو پھو ممانی بھی تھیں تو کوئی خالوچچا بھی تھا اور یوں ساری گلی رشتوں سے جڑی تھی اور مریم کو یہ رشتوں سے بھری گلی اس قدر اچھی لگتی تھی کہ اس کی پسندیدگی اور محبت کے لیے الفاظ نہ ملتے تھے۔
    اور یہ بارہ بجے کا وقت تھا۔ دس بجے اگر رزلٹ کا اعلان کیا گیا ہو تو (اخبار میں یہی بتایا تھا کہ بی اے کے امتحان کا اعلان یونیورسٹی دس بجے کرے گی) تو دو گھنٹے تک رزلٹ جلال پور تک بھی پہنچ جانا چاہیے۔ کب سے بلال رزلٹ معلوم کرنے کا کہہ کر نکلا اور لو یہ سوئی ایک پر آن ٹھہری اور بلال نہیں آیا۔ وہ مین گیٹ سے برآمدے تک آتی۔ برآمدے میں بچھی چارپائی پر بیٹھ کر کچھ دیر انگلیاں مروڑتی اور پھر سے اٹھ کر مین گیٹ تک جاتی۔ یوں برآمدے سے مین گیٹ اور مین گیٹ سے برآمدے تک اس نے کوئی بیسیوں چکر لگائے۔
    ”میری ہی غلطی تھی جو بلال سے کہا۔ پتا بھی ہے وہ ہر کام میں دیر کرنا فرض سمجھتا ہے۔” اب وہ بڑبڑارہی تھی۔
    ”تمہیں فیل ہونے کی اتنی جلدی کیوں ہے۔” سوئی دھاگے میں الجھی حمیرا کہہ رہی تھی۔ یوں بھی اس کی طرف کافی ادھار باقی تھے اور وہ ہی حمیراہوگی جو حساب نہ چکائے۔
    ”شکل اچھی نہ ہو تو پھر بھی بات اچھی کرلینی چاہیے…آپا۔” سیر کو سوا سیر کرنے کے لیے اس نے لفظ آپا پر زور دیا اور حمیرا کادل چاہا کہ پاس کوئی چیز پڑی ہوتی تو مریم کو دے مارتی۔
    تبھی دروازے پر کھٹکا ہوا۔ مریم کے چلتے قدم رک گئے اور وہ دم سادھ کر اپنی جگہ ساکن ہوگئی اور پلکیں جھپکے بغیر دروازے کی طرف تکنے لگی۔ دروازہ بھیڑ کر آنے والا بلال ہی تھا۔ چہرے پر مسکراہٹ اور ہاتھ میں مٹھائی کا پیلا ڈبا لیے۔ دوسرے ہاتھ میں ایک پرچی بھی دبی تھی جس پر یقینا اس کے نمبر درج ہوں گے۔
    ”پاس ہوگئی میں ۔ دکھاؤ میرے نمبر ۔” ساکن وجود میں حرکت آئی اور وہ نمبر دیکھنے کے لیے بے تاب ہوئی۔
    ”نہیں مریم! مٹھائی کے ڈبے سے غلط مطلب مت نکالو یہ تو امی نے منگوائی ہے ۔ باجی کو دیکھنے کے لیے لڑکے والے آرہے ہیں۔”
    ”غلط مطلب نہ نکالوں سے تمہارا کیا مطلب ہے۔” وہ ٹھٹکی تھی۔
    ”مجھے افسوس سے کہنا پڑرہا ہے کہ میں تمہارا دل نہیں دکھانا چاہتا، مگر بتانا بھی ضروری ہے۔ تم انگلش کے مضمون میں پاس نہیں ہوسکی، مگر دل چھوٹا مت کروسپلی میں کلیئر کرلینا۔” مریم ایک بار پھر ساکت ہوگئی۔
    ”لو میں نہ کہتی تھی ۔ تمہیں فیل ہونے کی جلدی ہے، لو آگیا نتیجہ۔”اور کچھ ہوا نہ ہوا مگر رزلٹ سن کر حمیرا کے دل کو چین آگیا۔ اس کی بھی بی اے میں سپلی تھی تو اب مریم کی بھی آنی چاہیے۔
    ”آگیا بلال ۔ لو بتاؤ میری بیٹی کا رزلٹ۔ پاس ہوگئی نا؟ بڑی ہوشیار ہے سکول کے زمانے سے ہی۔”بلقیس بھی کمرے سے باہر آگئیں۔
    ساکت ہوئی مریم کی آنکھوں میں سب سے پہلے آنسو چمکے اور پھر وہاںٹھہرنا دوبھر ہوا۔ وہ کمرے کی طرف دوڑی۔ لو جی سپلی اب تو خودکشی ہی کرلینی چاہیے۔ اس نے دہاڑیں مار مار روناشروع کردیا۔
    باقی تینوں نفوس بھی اس کے پیچھے کمرے میں چلے آئے۔ دھندلی ہوتی آنکھوں سے مریم نے ان پیاروں کو دیکھا۔ اس کی خودکشی کے بعد وہ کس قدر اکیلے رہ جائیں گیااور رو رو کر اپنی بینائی ختم کرلیں گے۔
    ہائے اللہ ، تیری آزمائشیں۔ اپنے کمزور بندوں پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ لاد۔ خیالات کے گھوڑے سرپٹ دوڑتے گئے۔
    بلقیس کچھ کہہ رہی تھیں، مگر مریم کے پلے نہ پڑرہا تھا۔ بھلا کیا کہہ رہی تھیں۔ پھر انہوں نے مٹھائی کا ڈبا آگے کیا۔ پیلے ڈبے سے سیاہ جامن اٹھایا اور مریم کے منہ کی طرف بڑھایا۔
    ”بس کر میری دلاری۔ یہ بلال تو ہے ہی سدا کا جھوٹا۔ تو نے اسے کہا ہی کیوںیہ رزلٹ معلوم کرآئے۔ تم پاس ہو۔ وہ بھی اے گریڈ سے۔” مریم نے تحیر سے بلال کو دیکھا جو ہنسی سے لوٹ پوٹ ہورہا تھا۔ مریم نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا ہی تھاکہ بلقیس نے پورا جامن اس کے منہ میں ٹھونس دیا۔
    ”مبارک ہو مریم۔” حمیرا نے آگے بڑھ کر خود ہی برفی کا ٹکڑا اٹھایا اور کھانے لگی۔ چاہے وہ غمگین سہی مگر اب مٹھائی سے تو منہ نہیں موڑ سکتی تھی۔ ویسے مریم کی سپلی آنی چاہیے تھی، لیکن خیر جہاں اتنے دکھ سہے یہ بھی سہی۔
    بلقیس اب مریم کا ماتھا چوم رہی تھیں۔ اس کی آنکھوں میں نمی اترنے لگی تھی۔ بلال ہنسے جاتا تھا اور مریم اس کا دل چاہ رہا تھا کہ بلال کو قتل ہی کردے۔ اس شخص کو ویسے بھی زندہ نہیں رہنا چاہیے بلکہ یہ شخص شادی کے لیے ہرگز موزوں نہیں۔ خوامخواہ اس سے دل لگایا۔
    اس سمے کون جانتا تھا کہ وقت نے آگے کیسی کروٹ لینی ہے ۔ باوجود اس کے کہ ہر کوئی یہ جانتا تھا کہ وقت ایک جیسا نہیں رہتا۔
    ٭…٭…٭




  • سنی کا خوف — نورالسعد

    سنی کا خوف — نورالسعد

    ”اوئے کہاں پھینک دی؟” وکٹ کیپر حیرت اورکچھ غصے سے چلایا تھا۔
    گیند کو چھکا مار ا گیا تھا اور اب وہ ہوا میں جارہی تھی۔ بس مشکل یہ تھی کہ اس جگہ سے بہت دور گر رہی تھی جہاں وہ کرکٹ کھیل رہے تھے۔ شاید وہ پارک کا آخری کوناتھا جہاں گیند ایک درخت پر گرتی دکھائی دی۔ ایک دوسرے کو دھکا دیتے فیلڈنگ ٹیم کے دو لڑکے گیند لینے پہنچے۔وہ واقعی اس وسیع و عریض سفاری پارک کا آخری کونا تھا۔ کچھ تلاش و بسیار کے بعد انہیں ایک برگد کے نیچے گیند پڑی مل گئی۔
    ”چل اب میں باؤلنگ کراؤں گا۔ دیکھ میری اسپن کیسی ہے۔” گیند اٹھانے والے لڑکے نے اپنے ساتھی کو ایک سیمپل بال کر وائی۔ اس کی پشت درخت کی طرف تھی۔
    ”یہ اسپن ہے؟” ساتھی لڑکے نے ایک قہقہہ مارا اور پیٹ پکڑ کر ہنسنے لگا۔
    ”اس سے اچھی اسپن تو شعیب اختر کی بال کر…” اس کا جملہ ادھورہ ہی رہ گیا کیوں کہ اس کے دوست کے عقب ایک چیز بلند ہو رہی تھی۔ باؤلر نے بے اختیار مڑ کر دیکھا۔ درخت سے اوپر ایک بڑا سا سیاہ سایہ بلند ہو اتھا۔ دونوں لڑکوں کی گھگی بندھ گئی ۔ ایک لمحہ وہ سایہ ساکت رہا ۔چمکتے سورج کے سامنے آتی ایک دیو قامت چمگادڑ کی طرح ۔پھر اس نے ایک بھیانک چبھتی ہوئی آواز کے ساتھ ان کی طرف غوطہ لگایا۔
    دونوں لڑکے بے اختیار پلٹے اور سر پر پیر رکھ کر بھاگے۔ بھاگنے سے پہلے جو آخری منظر انہوں نے دیکھا وہ ایک چڑیل نما عورت کا چہرہ تھا۔ بس چہرہ …جس کا لمبوترا منہ کھلا ہوا اور آنکھوں کی جگہ سرخ شعلے سے دہک رہے تھے۔سر سے نیچے صرف ایک پھڑپھڑاتی چادر سی تھی جس کے اندر کوئی وجود نہیں تھا۔
    ٭…٭…٭





    سات سال…پورے سات سال لگے تھے سنی کو اس شاک سے نکلنے میں۔ وہ جلد بحال ہو بھی جاتا اگر اس کی امی اسے گھر میں قید نہ کر لیتیں۔ ماں باپ کی سب سے چھوٹی اور لاڈلی اولاد ہونے کے کچھ نقصانات بھی تو ہوتے ہیں نا؟ بہرحال، آج کا دن مختلف تھا۔ آج وہ چھپ چھپا کر گھر سے نکلنے میں کامیاب ہو ہی گیا تھا۔آخر کب تک وہ بھائی کے مذاق کا نشانہ بنتا رہتا؟امی اجازت نہیں دیتی تو اس لیے کہ وہ اسے ابھی تک ڈرپوک اور شرمیلا سمجھتی تھی۔ جب کہ وہ اب ایک ٹین ایجر تھا۔
    ”آج میں پارک میں اکیلا گھوموں گا اور واپس جا کر امی کو بتاؤں گا۔ پھر انہیں یقین آجا ئے گا کہ سنی اب خوف زدہ نہیں ہوتا۔”
    کئی ہفتوں کی پلاننگ کے بعد آج اس نے عمل کرنے کے لیے صبح صادق کا وقت چنا تھا۔فجر کی اذان سے کچھ پہلے کا وقت۔ اس وقت اندھیرے میں ڈوبا پارک سنسان پڑا تھا۔ کہیں کہیں لیمپ جل رہے تھے۔ یہ شہر کا سب سے بڑا پارک تھا۔ اندھیرا، تازہ تازہ ہوا، سارا پارک اسی کا تھا۔ سنی جیسے آج ہی زندہ ہوا تھا۔وہ دھیمے دھیمے گنگناتا جاگنگ ٹریک پر چلنے لگا۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد ہوا کا ایک جھونکا آتا اورپیڑ پودے سائیں سائیں کرنے لگتے۔ وہ خوش تھا اتنا خوش کہ ہر دوسرا قدم اچھل کر لیتا اور جانے کون کون سے آدھے ادھورے گانے جوڑ جوڑ کر گاتا جاتا۔
    اسی سرمستی کے عالم میں فجر بھی ہو گئی۔ وہیں پارک کے ایک کونے میں اس نے نماز ادا کی۔ پچھلے ایک سال سے اس کی امی اسے ہر نماز میں سورئہ جن کا کچھ حصہ تلاوت کرنے کو کہتی تھیں۔ آج بھی اس نے یہی سورہ پڑھی۔جب نیلا نیلا سا سویرا ہونے لگا تو وہ پارک کی بنچ پر بیٹھ کر اردگرد کے مناظر اپنے اندر اتار نے لگا۔یکا یک دائیں طرف ایک منظرپراس کی نظرپڑی۔ ایک دبلا، لمبا سا وجود، تاڑ سا لمبا، اس کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس کی چال میں عجیب سی مستی تھی۔ جیسے کسی دھن پر سر دھنتا چلا آرہا ہو۔ نیم اندھیرے میں درختوں سے گھری روش پر وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا اسی طرف چلا آرہا تھا۔ نہیں…وہ چلی آرہی تھی۔
    وہ آرہا تھا یا آرہی تھی، اس سے قطعِ نظر، سنی کے رونگٹے کھڑے ہو گئے تھے۔ بیٹھا رہوں؟ بھاگ جاؤں؟ قوتِ فیصلہ اس سے چھینی جا چکی تھی۔ اور وہ پھر نہ بیٹھا،نہ بھاگا اور وہ اپنی جگہ سے ہلا بھی نہیں۔ اس نے وہی کیا جو اس کی فطرت میں تھا۔ وہ غائب ہو گیا۔
    ٭…٭…٭
    مرجان جو سامنے سے چلتی آرہی تھی، وہیں کی وہیں کھڑی رہ گئی۔ یہ کیا ہوا تھا؟ ایک لمحہ پہلے ایک موٹا سا لڑکا بنچ پر بیٹھا ادھر اھر دیکھ رہا تھا۔ جیسے ہی مرجان پر اس کی نظر پڑی ، اس کا رنگ سفید پڑ گیا ۔ وہ شدید خوف زدہ نظر آنے لگا ۔مرجان کانوں میں ہیڈ فون لگائے واک کرتی آرہی تھی اور غیر ارادی طور سے اسے دیکھ رہی تھی۔ وہ اسے نوٹس بھی نہ کرتی اگر وہ وہاں بیٹھے بیٹھے غائب نہ ہو جاتا۔ ایسے ہی ، ٹھک کر کے۔ ابھی تھا، ابھی غائب۔
    ٹھیک ہے اس کا دھیان کہیں اور تھا مگر وہ چھوٹے سے قد کا موٹا سا لڑکا واقعی وہاں تھا۔ کچھ تو گڑبڑ تھی اور یہ مرجان کے لیے بڑی بے عزتی کی بات تھی کہ اس کے آس پاس ہوئی کسی گڑبڑ میں اس کا حصہ نہ ہو۔ سو وہ کچھ سوچ کر پارک کے چوکیداروں کے پاس چلی آئی جو اپنے کیبن میں گھسے چائے پی رہے تھے۔ جینز اور جیکٹ پہنے ایک لڑکی کو آتا دیکھ کر وہ دونوں چونک کر کھڑے ہو گئے۔
    ”جی باجی؟” ان میں سے ایک نے اٹھتے ہوئے پوچھا۔
    ”مجھے آپ سے کچھ پوچھنا ہے۔ آپ لوگ کب سے اس پارک میں چوکیدار ہیں؟” وہ سیدھا مدعا پر آیا کرتی تھی۔
    ”میں آٹھ سال سے ہوں اور یہ دس سال سے۔” چوکیدار نے اپنے ساتھی کی طرف اشارہ کیا۔ ”مگر ہوا کیا ہے باجی؟”
    ”ہمم!” مرجان نے اوپر سے نیچے تک سینئر چوکیدار کو گھورا پھر بولی۔
    ”آپ بتا سکتے ہیں کہ کیا اس پارک میں کچھ انہونے واقعات ہوئے ہیں؟” بڑے عام سے مگر باوثوق انداز میں اس نے پوچھا۔
    ”آپ کو کیسے؟ امارامطلب نئیں تو…” چوکیدار گڑبڑا گیا۔
    ”مجھے کیسے پتا چلا؟ یہی پوچھنا چاہتے تھے نا آپ؟” مرجان نے ایک شاطر مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
    ”مجھے صرف چند باتیں پتا ہیں، سب نہیں، اس لیے مجھے تفصیل سے بتائیں۔”
    ”میڈم پارک کا انتظامیہ نے ام کو منع کیاہے۔ اگر اسی طرح لوگ باتیں سنتارہاتو یہاں کون آئے گا؟” چوکیدار منمنایا۔ مرجان نے ایک گہری سانس لی۔
    ”دیکھیں! میں ایک صحافی ہوں۔ یہ سب میں ذاتی مقاصد کے لیے پوچھ رہی ہوں۔ اگر آپ نے نہیں بتایا تو میں اس پارک پر فیچر چھپوا دوں گی ،آپ دونوں کے شکریے کے ساتھ۔” اس نے جیب سے ایک ببل نکال کر منہ میں ڈالی اور معصومیت سے بولی۔
    ”پھرآپ مشکل میں پڑ جائیں گے۔”
    دونوں چوکیدار گھبرا گئے۔ جونیئرنے سینئر کو اشارہ کیا اور سینئر تھوک نگلتے ہوئے بول پڑا:
    ”سات سال پہلے…مگر تم وعدہ کرو باجی کہ تم کسی کو امارانہیں بتائے گا۔” اس نے تصدیق ضروری سمجھی۔
    ”ہر گز نہیں! یہ میرا وعدہ ہے۔” مرجان نے مسکراتے ہوئے کہا۔
    ”چھوٹا موٹا تو یہاں چلتا رہتا ہے، مگرسات سال پہلے ایک بڑا واقعہ ہوا تھا۔ اس دن کچھ بچے کرکٹ کھیل رہے تھے۔ بیٹنگ کرنے والے نے ایک زور دار شاٹ ماری کہ گیند دور جا کر گرا۔ وہ جو باجی بالکل کونے والا جھنڈ ہے نا درختوں کا؟ اس پر۔خیر چوڑو، تم کو یاں سے نظر کیسے آئے گا۔ پھر دو بچہ لوگ گیند واپس لینے گیا اور پھر ان کو دکھی….” چوکیدار کو بھی اب اس سنسنی خیز قصہ گوئی میں مزہ آرہا تھا۔
    ”ایک جن…!”
    ”جن؟” مرجان چونک گئی۔
    ”ان کو کیسے پتا کہ وہ جن ہے؟” اس کا لہجہ شک سے لبریز تھا۔
    ”او باجی تھی نا جن! بلکہ شاید جننی تھا کوئی!”
    ”جن تھی یا جننی تھا؟” مرجان خوف کے بجائے مذکر مؤنث میں الجھ گئی۔
    ”وہ بچہ بعد میں بولا تھا کہ کوئی لیڈیز ٹائپ تھا۔” جونئیر چوکیدار مدد کو آیا۔
    ”ام اس وقت پرینچ پرائز (فرینچ فرائز)والے کے پاس کام کرتا تھا۔ اس کا چہرہ کالا سیاہ تھا اور آنکھیں لال لال انگارہ! بلکہ صرف شکل ہی تھا، جسم کوئی نہیں تھا اس کا۔”
    مرجان کے چہرے پر یقینا بے یقینی آئی ہو گی تبھی دوسرے چوکیدارنے جلدی سے گردن ہلائی۔
    ”ہاں ہاں ایسا ہی تھا وہ باجی!”
    ”تم دونوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا؟”
    ”آہ! نہیں آنکھوں سے تو نہیں دیکھا۔” وہ گڑبڑایا۔
    ”مگر دونوں لڑکوں نے ایسا بتایا تھا۔ وہ دونوں بہت خوفزدہ تھی۔ پھر وہ بے ہوش ہو گئی۔ ”
    اتنے میں ایک سولہ سترہ سالہ لڑکا اپنی ٹوپی سیدھی کرتا ہوا ان کے پاس گھس آیا۔
    ”اوئے محمد خانا! تم کو بولا تھا دوسری طرف جانے کو تم پھر آگیا۔” سینئر چوکیدارنے لڑکے کو گُھرکا۔ پھر مرجان سے مخاطب ہوا۔
    ”یہ امارا بھانجی ہے۔ امارے سر پڑ گئی ہے۔ کتابیں متابیں پڑھتا رہتا ہے۔ کام مام نئیںہوتا اس سے۔”
    وہ پٹھان لڑکا خفا سا ہوتا ہوا دوسری طرف چلا گیا۔
    ”ماڑاوہ تو بتاؤ جو اس نے حملہ بھی کیا تھا اور تم نے اس کا آواز بھی سنا تھا۔” سینئر نے جونیئر کو ٹہوکا دیا۔
    ”اوہ ہاں! ام بھول گیا تھا۔” اس نے دانت نکالے۔
    ”جب یہ سارا کچھ ہو رہا تھا ناتوام وئیں قریب تھا۔ ام کو ایسی آواز آئی۔ ایسی منحوس آواز آئی جیسے لگا امارا دل بند ہو جائے گا۔ وہ آواز اسی چیز کا تھا۔”
    ”ہمم!” مرجان نے پر سوچ انداز میں ببل پھلائی۔ پھر ان دونوں کی طرف دیکھ کر بولی۔ ”بس؟” دونوں کے اثبات میں سر ہلانے پر اس نے ببل کا بلبلہ پھوڑا۔
    ”چھٹیاں کینسل مرجان۔” وہ زیرِ لب بڑبڑائی۔
    ٭…٭…٭




  • کنکر — عمیرہ احمد

    جنید دم سادھے گال پر ہاتھ رکھے اپنے باپ کو دیکھ رہا تھا، جو ہوا تھا اس کی اسے توقع نہیں تھی، پر جواب ہورہا تھا وہ ا س کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا، اس کا باپ بچوں کی طرح دھاڑیں مار مار کر روتے ہوئے بس ایک ہی جملہ دوہرائے جارہا تھا۔
    ”فرح کو کبھی مت مارنا، کبھی مت مارنا۔”
    پھر اس کا باپ اچانک اٹھ کر کمرے سے نکل گیا۔
    ”اب تک وہی بلا سر پر سوار ہے، اب بھی صرف اسی کا خیال آتا ہے۔”
    اس نے اچانک اپنی ماں کی بڑبڑاہٹ سنی، ایک عجیب پنڈورا باکس تھا جو اس کے سامنے آگیا تھا، نہ وہ ماں کی بڑبڑاہٹ سمجھ پایا تھا نہ باپ کی کیفیت۔
    دونوں ردِ عمل اس کیلئے حیران کن تھے اور شاید صرف اس کیلئے ہی نہیں وہاں موجود ہر شخص اپنی اپنی جگہ پر اسی کیفیت میں تھا، بیشتر اس کے کہ وہ اپنی ماں سے کچھ پوچھتا وہ کمرے سے نکل گئیں اب ڈرائنگ روم میں وہ ، فرح اور اس کی دونوں بہنیں رہ گئی تھیں، چاروں ایک دوسرے سے نظریں چراتے ہوئے ڈائننگ ٹیبل کے گرد بیٹھ گئے اور پھر بڑی بے دلی سے انہوں نے ناشتہ شروع کیا تھا مگر کوئی بھی ناشتہ کرنا نہیں چاہتا تھا۔
    فرح مسلسل کچھ دنوں سے ضد کررہی تھی کہ جنید اس کے ساتھ بھور بن چلے، اس کی کچھ کزنز سیرو تفریح کیلئے اپنے اپنے شوہروں کے ساتھ وہاں جارہی تھیں اور وہ بھی چاہتی تھی کہ جنید بھی اس کے ساتھ چلے لیکن جنید نہ تو خود بھور بن جانا چاہتا تھا اور نہ ہی اُسے بھیجنا چاہ رہا تھا اور روز روز کی اس بحث و تکرار نے اس وقت ایک سنگین شکل اختیار کر گئی جب آج ناشتے کی میز پر فرح نے اچانک ہی پھر وہی بحث شروع کردی۔
    ”پھر تم نے کیا طے کیا ہے؟”
    فرح کے سوال نے جہاں جنید کو حیران کیا تھا، وہاں باقی لوگوں کی توجہ بھی ان پر مرکوز ہوگئی تھی، جنید نے ناگواری سے اُسے دیکھا تھا، اُسے توقع نہیں تھی کہ فرح ایک ذاتی معاملے کو اس طرح سب کے سامنے لانے کی کوشش کرے گی۔
    ”جو طے کیا تھا وہ تمہیں ایک بار نہیں بار بار بتا چکا ہوں اور اب پھر وہ دوہرانے کی ضرورت نہیں سمجھتا۔”
    حیدر نے بیٹے کے اس اکھڑے ہوئے جواب پر فرح اور جنید دونوں کو غور سے دیکھا تھا۔
    ”میں تمہیں صاف صاف بتارہی ہوں کہ میں بھور بن ضرور جاؤں گی اور تمہیں بھی ساتھ لے کر جاؤں گی۔”
    ”میرے جانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور جہاں تک تمہارا تعلق ہے تو میں دیکھوں گا تم کیسے جاتی ہو۔”
    ”تم مجھے روکنے والے کون ہوتے ہو، کیا میرے باپ ہو؟”
    زریں، فرح کے جملے پر تلملاگئی تھیں۔
    ”فرح شوہر سے کیا ایسے بات کرتے ہیں؟”





    ”میں نے آپ سے مشورہ نہیں مانگا کہ مجھے کس سے کس طرح بات کرنی چاہیے اور کیسے نہیں، یہ میرا اور جنید کا معاملہ ہے اس لیے آپ بیچ میں نہ بولیں۔”
    بہت روکھے انداز میں اس نے ساس کو جواب دیا تھا، حیدر خاموشی سے سب کچھ دیکھ رہا تھا۔
    ”فرح تم اپنا منہ بند کرلو تو بہتر ہوگا کیونکہ اس سے زیادہ میں برداشت نہیں کروں گا، میں تم پر ہاتھ اٹھانا نہیں چاہتا اور تم مجھے اس پر مجبور کررہی ہو۔” جنید کی آواز بہت بلند تھی، حیدر بے اختیار اس کا نام پکار اٹھا۔
    ”جنید۔” ان کے لہجے میں تنبیہ تھی مگر جنید اس باپ کی طرف بالکل متوجہ نہیں تھا۔
    ”میں کیوں اپنا منہ بند کروں، جو سچ ہے وہ صاف صاف کہوں گی میں تم سے ڈرتی نہیں ہوں۔”
    سرخ چہر ے کے ساتھ جنید اپنی جگہ سے کھڑا ہوگیا تھا۔
    ”تمہیں بات کرنے کی تمیز نہیں ہے۔”
    ”تمہیں تمیز ہے؟” فرح بھی اسی کے انداز میں کھڑی ہوکر بولی تھی، بے اختیار جنید کا ہاتھ اٹھا تھا مگر حیدر کے زور دار تھپڑ نے اس کے ہاتھ کو گرا دیا تھا۔
    اتنی دیر سے غیر جانبدار رہنے والے باپ نے اچانک اسے اپنی زندگی کا سب سے بڑا سرپرائز دیا تھا۔
    ”تمہاری ہمت کیسے ہوئی کہ تم اپنی بیوی پر ہاتھ اٹھانے کی کوشش کرو۔ تمہیں یہ خیال بھی کیسے آیا۔”
    وہ سکتے کے عالم میں باپ کو چلاتے ہوئے دیکھ رہا تھا، پھر اچانک حیدر نے ڈائننگ ٹیبل پر سر رکھ کر رونا شروع کردیا تھا اور اچانک وہ اسی انداز میں تقریباً بھاگتے ہوئے کمرے سے نکل گیا تھا۔
    ٭…٭…٭
    ”آج میں جو کررہی ہوں وہ سب کو برا لگ رہا ہے، تمہیں، لوگوں کو، ہر ایک کو، لیکن یاد رکھنا ایک وقت ایسا آئے گا جب تم خود اس سب کو روکو گے، جو تم نے کیا، تم دیکھ لینا۔”
    ”ہاں آج تمہاری آخری پیش گوئی بھی پوری ہوگئی۔” کمرہ لاک کئے سر ہاتھوں میں تھامے وہ پھوٹ کر رو رہا تھا۔
    ”تم کیا سوچتی ہو میں تمہارے بغیر مرجاؤں گا، تمہاری جدائی کا ماتم کرتا پھروں گا یا روؤں گا۔”
    اٹھائیس سال پہلے اس نے کسی سے کہا تھا۔
    ”اب نہیں روؤگے، کبھی نہ کبھی تو روؤگے۔” ایک آواز اس کے کانوں میں گونجی تھی۔
    ”سارہ… اب تو، اب تو مجھے۔۔” وہ کیا کہنا چاہ رہا تھا وہ خود بھی نہیں جانتا تھا۔
    ٭…٭…٭
    ”سارہ تم ایسا کرو ذرا گھوم پھر کر گھردیکھو ہم بس تھوڑی دیر میں آجائیں گے۔ آج عالیہ وغیرہ بھی گھر میں نہیں ورنہ وہی تمہیں کمپنی دیتیں۔” چچی ندیمہ کی بہن نگہت نے اس سے کہا تھا۔
    اس دن وہ چچی ندیمہ کی طرف آئی تھی، اس وقت وہ اپنی بڑی بہن کے گھر جانے کیلئے تیار ہورہی تھیں اور انہوں نے اصرار کرکے سارہ کو بھی ساتھ لے لیا لیکن نگہت کے گھر پہنچتے ہی ندیمہ کا ارادہ نگہت کے ہمسایوں کے گھر جانے کا ہوگیا تھا، جنہوں نے اپنے لان میں نئی آبشار بنوائی تھی اور چچی ندیمہ کو اس قسم کی چیزوں میں پہلے ہی بہت دلچسپی تھی۔
    ”اب میں آپ کے ساتھ مزید کسی اگلے گھر نہیں جاؤں گی، آپ خود ہی ہو آئیں۔” سارہ نے ندیمہ چچی کے کہنے سے پہلے ہی انکار کردیا تھا، پھر ندیمہ کی بہن نگہت نے اسے گھر دیکھنے کیلئے کہا تھا اور خود وہ دونوں نگہت کے ہمسایوں کے گھر چلی گئی تھیں، نگہت چند ماہ پہلے ہی یہاں شفٹ ہوئی تھیں اور یہاں آنے کے بعد وہ پہلی بار ان کے یہاں آئی تھی لیکن اس سے پہلے بھی وہ صرف چند بار ہی ان کے گھر آئی تھی اور وہ بھی صرف دو ایک گھنٹے کیلئے۔
    کچھ دیر تک کولڈ ڈرنک کے سپ لیتے ہوئے وہ غیر دلچسپی سے ڈرائنگ روم کا جائزہ لیتی رہی اور پھر گلاس رکھ کر وہ ڈرائنگ روم سے باہر آگئی، لاؤنج میں ملازمہ ویکیوم کلینر سے کارپٹ صاف کررہی تھی، اسے باہر آتے دیکھ کر مسکرائی تھی۔
    ”میں ذرا گھر دیکھ رہی ہوں۔” اس نے جیسے اپنے باہر آنے کی وضاحت کی تھی۔
    ”ہاں جی ضرور دیکھیں۔ یہ ادھر والا دروازہ راہداری کا ہے، سارے بیڈ روم اُدھر ہی ہیں اور راہداری کے آخر میں دروازہ لان میں کھلتا ہے۔”
    اس نے ہاتھ کے اشارے سے اس کی رہنمائی کرتے ہوئے کہا تھا، وہ سرہلاتے ہوئے راہداری کا دروازہ کھول کر اس میں داخل ہوگئی تھی، باری باری کمروں کے دروازے کھول کر اس نے ایک طائرانہ نظر ڈالی تھی اور اندازہ لگالیا تھا کہ کمرہ کس کا ہوسکتا ہے پھر وہ واپس لاؤنج میں آگئی۔
    ”یہ سامنے کچن ہے اور وہ اسٹڈی روم ہے۔”
    اسے آتے دیکھ کر ملازمہ نے ایک بار پھر رہنمائی کی تھی، اس نے ان ہی سرسری نظروں کے ساتھ کچن اور اسٹڈ ی روم کو کھول کر دیکھا تھا۔
    ”اوپر بھی کمرے ہیں؟” اس نے ملازمہ سے پوچھا تھا۔
    ”ہاں جی اوپر بھی کمرے ہیں، آپ ہو آئیں وہاں سے۔” وہ اس کی بات پر سرہلاتے ہوئے سیڑھیاں چڑھنے لگی۔ سیڑھیوں کے خاتمے پر وہ پھر ایک راہداری کے سامنے کھڑی تھی، پہلے کی طرح اس نے پھر دروازے کھول کر کمروں میں جھانکنا شروع کردیا، کچھ کمرے لاکڈ تھے۔ ایک کمرے کا دروازہ کھولتے ہی وہ ٹھٹھک گئی، دروازے کے بالکل سامنے والی دیوار کے ساتھ قد آدم سائز کے اسٹیریو رکھے تھے، وہ بڑی دلچسپی کے ساتھ اس نیم تاریک کمرے میں آئی تھی، کھڑکی کے پردے کھینچ کر اس نے اسٹیریو کو آن کرنے کی کوشش کی تھی اور وہ اپنی اس کوشش میں چند لمحوں میں ہی کامیاب ہوگئی تھی۔ کمرہ اچانک ایلوس پر سلے کی آواز سے گونج اٹھا تھا، اس نے فورا والیم کم کیا تھا۔
    کمرے میں بلند ہونے والے میوزک نے اوندھے لیٹے حیدر کو بیدار کردیا تھا، آنکھیں کھول کر سیدھا ہوتے ہوئے اس نے کچھ دیر تک اس شور کو سمجھنے کی کوشش کی اور پھر وہ اٹھ کر بیڈ پر بیٹھ گیا، اس نے اسٹیریو پر جھکی ہوئی لڑکی کو سائیڈ سے دیکھا، ایک نظر ڈالتے ہی اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ اس کی بہنوں میں سے نہیں تھی، یقینا بہنوں کی فرینڈز میں سے ہوگی لیکن اس طرح منہ اٹھا کر کمرے میں جو داخل ہوگئی تھی، وہ کس قسم کی دوست ہوسکتی ہے، ناگواری کا ایک احساس اس کے اندر پیدا ہوا تھا۔
    ”آپ کون ہیں اور یہاں کررہی ہیں؟” اس نے بیڈ سے اٹھتے ہوئے بلند آواز میں پوچھاتھا، سارہ اس کی آواز پر چونک گئی تھی۔ اس نے پہلی بار کمرے کا جائزہ لیا تھا اور دائیں طرف دیکھتے ہی ایک لمحے کے لئے اس کا سانس رک گیا تھا۔ بلیک جینز میں ملبوس ایک لڑکا سفید شرٹ پہنتے ہوئے اسے بڑی برہمی سے دیکھ رہا تھا، اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا جواب دے یا کیا کرے، جو کمرہ اس کی توقع کے مطابق خالی ہونا چاہیے تھا اب یکدم وہاں پر ایک شخص برآمد ہوگیا تھا اور وہ بھی ایک مرد، وہ ہونقوں کی طرح حیدر کو دیکھتی رہی، شرٹ پہن کر بٹن بند کرتے ہوئے وہ اس کے قریب آگیا تھا، اس جھٹکے سے اس نے اسٹیریو کو بند کیا اور پھر اسی اکھڑے ہوئے انداز میں کہا ۔
    ”میں نے آپ سے کچھ پوچھا تھا؟”
    ”مجھے نہیں پتہ تھا کہ یہاں کوئی ہے۔” سارہ نے اپنی گھبراہٹ پر قابو پاکر بالآخر کہا۔
    ”اوہ ویری ویل، اس کا مطلب ہے کہ یہاں کوئی نہیں ہے تو آپ کو منہ اٹھا کر یہاں آنا چاہیے اور پھر بغیر اجازت چیزوں کو استعمال کرنا شروع کردینا چاہیے، آپ Guest ہو تو آپ کو آرام سے وہیں بیٹھنا چاہیے جہاں آپ کو بٹھایا جائے یہ نہیں کہ منہ اٹھا کر کمروں میں پھرنا شروع کردیں۔” کسی لحاظ اور مروت کے بغیر بڑے کڑوے لہجے میں اس نے سارہ سے کہا تھا۔
    ”سوری۔” کسی وضاحت کے بغیر ایک لفظ کہہ کر وہ دروازے کی جانب بڑھ گئی اور وہ جو کسی لمبی چوڑی وضاحت کا منتظر تھا کچھ حیران ہوا تھا۔
    ”ویسے آپ ہیں کون؟” دروازے کے قریب پہنچ کر وہ اس کی آواز پر واپس مڑی تھی۔
    ”ایک Guestہوں۔” بڑے پرسکون انداز میں یہ جملہ ادا کرکے وہ دروازہ کھول کر باہر آگئی۔ پھر تیزی سے سیڑھیاں اتر کر وہ نیچے آگئی اور واپس ڈرائنگ روم میں جانے کے بجائے باہر پورچ میں نکل آئی، وہ اس کے پیچھے ہی لاؤنج میں آیا تھا، اب آپس کا غصہ بڑی حد تک ختم ہوگیا تھا۔
    ”یہ جو ابھی نیچے آئی تھیں یہ کون ہیں؟” اس نے لاؤنج میں آتے ہی ملازمہ سے پوچھا تھاجو ابھی تک کارپیٹ کو صاف کرنے میں مصروف تھی۔
    ”پتا نہیں جی، یہ باجی ندیمہ کے ساتھ آئی ہیں، شاید ان کی بھتیجی ہیں۔”
    ”خالہ ندیمہ آئی ہیں؟”
    ”ہاں جی۔”
    ”تو کہاں ہیں وہ؟”
    ”وہ تو جی بیگم صاحبہ کے ساتھ اصغر صاحب کے گھر گئی ہیں، ابھی تھوڑی دیر میں آجائیں گی۔
    ”اور تم نے انہیں گھر میں گھومنے پر لگادیا۔” اس نے ملازمہ کو جھڑکتے ہوئے کہا تھا۔
    ”نہیں جی، میں نے تو انہیں پھرنے کیلئے نہیں کہا۔ وہ تو بیگم صاحبہ کہہ کر گئی ہیں، انہوں نے تو مجھے بھی کہا تھا کہ میں ان کو گھر دکھادوں مگر میں کام میں مصروف تھی اس لئے وہ خود ہی گھر دیکھنے لگیں۔” وہ ملازمہ کی بات پر کچھ شرمندہ ہوا تھا۔
    ”اب کہاں ہیں وہ ، ڈرائنگ روم میں۔”
    ”نہیں وہ تو باہر نکل گئی ہیں۔” ملازمہ کے جواب پر وہ ہونٹ بھینچے لاؤنج کا دروازہ کھول کر باہر نکل آیا، سارہ پورچ میں ٹہل رہی تھی اسے دیکھ کر رک گئی۔
    ”میں نے یہ تو نہیں کہا تھا کہ آپ گھر سے ہی باہر نکل جائیں۔” اس نے چھوٹتے ہی کہا۔
    ”نہیںمیں اپنی مرضی سے یہاں آئی ہوں، ویسے بھی چچی آنے ہی والی ہیں۔”
    ”آپ اندر آجائیں۔”
    ”نہیں تھینک یو، میں یہاں ٹھیک ہوں۔” ا س نے حیدر کی آفر بڑے اطمینان سے رد کردی۔ وہ کچھ دیر اُسے دیکھتا رہا پھر واپس چلا گیا اور وہ دوبارہ وہاں ٹہلنے لگی۔ شرمندگی اُسے کافی اٹھانی پڑی تھی، اور یہ شرمندگی کا احساس ہی تھا جو اسے باہر لے آیا تھا، کچھ دیر میں چچی آگئیں اور پھر وہ ان کے ساتھ گھر آگئی۔
    حیدر نے سارہ کو پہلے صرف ایک بار دیکھا تھا اور تب وہ کافی چھوٹی تھی سو اُس کے لئے اس کا چہرہ نیا ہی تھا، یہی حال سارہ کا تھا وہ حیدر کی بہنوں کو تو اچھی طرح جانتی تھی لیکن حیدر سے اس کی ملاقات کبھی نہیں ہوئی تھی، البتہ ندیمہ چچی سے وہ حیدر کے بارے میں بہت کچھ سنتی رہتی تھی چونکہ تین بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا اس لئے لاڈ لہ تو ہونا ہی تھا اور وہ نا صرف لاڈلہ تھا بلکہ خوبصورت اور شوخ بھی تھا، گریجویشن کرنے کے بعد اس نے باپ کے بزنس کو سنبھال لیا تھا لیکن اس کے باوجود اس میں سنجیدگی نام کی کوئی شے نہیں تھی، وہ ہر ایک سے چھیڑ چھاڑ کرتا ، ہر ایک پر جملے کستا لیکن چونکہ اس کا مذاق کبھی شائستگی کی حد سے باہر نہیں ہوتا تھا اس لیے کسی کو وہ کبھی برا نہیں لگا لیکن ایسا بھی نہیں تھا کہ اس کو کبھی غصہ ہی نہ آیا ہو، وہ غصہ کا بھی اتنا ہی تیز تھا۔ جب غصہ آنا ہوتا تو پھر بس چند لمحے لگتے تھے اوراس کا غصہ تھا بھی طوفانی قسم کا جو چیز اس کے سامنے آتی وہ اٹھا کر پٹخ دیتا، مگر یہ کیفیت بہت دیر تک نہیں رہتی تھی جب غصہ ختم ہوتا تو وہ پھر پہلے کی طرح ہوجاتا۔




  • ابھی تو مات باقی ہے — عمیرہ احمد

    رابیل نے چلتے چلتے اچانک عثمان کو بڑ بڑاتے سنا۔ اس نے کچھ حیرانی سے گردن موڑ کر اسے دیکھا۔ وہ ہونٹ بھینچے ہوئے زیر لب کچھ کہہ رہا تھا۔ اس کے ماتھے پر پڑی ہوئی شکنوں نے اسے کچھ اور حیران کیا۔
    ”کیا بات ہے؟ کیا ہو گیا ہے؟” اس نے ساتھ چلتے ہوئے پوچھا۔
    ”جن مردوں کو اپنی نظروں پر قابو نہیں ہوتا انہیں اندھا کر دینا چاہیے۔” وہ اس کے ساتھ چلتے ہوئے غرایا تھا۔
    رابیل نے کندھے اچکاتے ہوئے ایک گہرا سانس لیا۔ عثمان کے ایسے ریماکس اس کے لیے نئے نہیں تھے۔ اس کی شادی کو آٹھ سال ہونے والے تھے اور ان آٹھ سالوں میں عثمان کئی دفعہ اسی طرح بھڑکتا رہا تھا۔
    ایک ہلکی سی مسکراہٹ رابیل کے چہرے پر نمودار ہوئی۔
    ”بھئی ، یہاں ایسا کون ہے جسے تم اندھا کر دینا چاہتے ہو؟” اس نے ایک نظر سامنے دوڑاتے ہوئے پوچھا۔
    ”یار ! یہ کارڈیا لوجی ڈیپارٹمنٹ کے داخلی دروازے پر جو آدمی کھڑا ہے یہ تب سے تمہیں گھور رہا ہے، جب ہم وہاں کھڑے میجر شفقت سے باتیں کر رہے تھے۔ مجال ہے ایک لمحہ کے لیے بھی اس نے نظر ہٹائی ہو۔ اسے پتا بھی چل گیا ہے کہ میں اس کی اس سرگرمی سے واقف ہو چکا ہوں مگر تم اس کی ڈھٹائی دیکھو کہ یہ پھر بھی کوئی پروا کئے بغیر اسی طرح تم پر نظریں جمائے ہوئے ہے۔ اپنی عمر دیکھنی چاہیے اس کمینے کو۔ تم اس کی بیٹی کے برابر ہوگی اور یہ پھر بھی۔”
    وہ کسی پر نظریں جمائے بولتے ہوئے چلتا جا رہا تھا۔ رابیل نے متلاشی نظروں سے کارڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی طرف دیکھا تھا۔ وہ دونوں اب اس شخص کے کافی قریب آ گئے تھے۔ ایک لمحہ کے لیے وہ جیسے منجمد ہو گئی تھی۔ اس شخص نے رابیل کو اپنی طرف دیکھتے پا کر فوراً ہی نظریں ہٹا لی تھیں۔ رابیل کے چہرے پر پھیلی مسکراہٹ غائب ہو گئی تھی۔ اس آدمی کے چہرے سے نظریں ہٹا کر وہ تیز قدموں کے ساتھ عثمان کے ساتھ چلتے ہوئے سی ایم ایچ کے گیٹ سے باہر آ گئی تھی۔ وہ جانتی تھی، وہ شخص اب بھی اسے گھور رہا ہو گا۔ اب بھی اس کی نظریں اس کے وجود پر مرکوز ہوں گی اور شاید تب تک رہیں گی جب تک کہ وہ اس کی نظروں سے اوجھل نہیں ہو جاتی۔
    بعض چہروں کو پہچاننے میں ذرا بھی دیر نہیں لگتی چاہے ان سے ہمارا کوئی رشتہ ہو یا نہ ہو۔ چاہے انہیں ہم آٹھ منٹ بعد دیکھیں یا آٹھ سال بعد۔ چاہے انہیں ہم نے محبت سے دیکھا ہو یا نفرت سے مگر ایک بار دیکھنے کے بعد وہ چہرے دماغ میں فیڈ ہو جاتے ہیں۔ پھر دوبارہ کبھی ذہن سے اوجھل نہیں ہوتے۔ آٹھ سال پہلے اس نے بھی اس شخص کو تین بار دیکھا تھا۔ صرف تین بار اور آج پہلی ہی نظر میں تین سیکنڈ سے بھی کم وقت میں وہ اسے پہچان گئی تھی اور پھر آٹھ سال پہلے اسے وہ چھ ماہ یاد آنے لگے تھے جو اسے آسمان سے زمین پر لے آئے تھے۔ جب اس نے اپنی ہستی کو برزخ میں محسوس کیا تھا جب اپنے وجود کو پاتال میں دیکھا تھا اور پھر اس برزخ کی آگ کو بجھانے اور اس پاتال سے نکلنے میں اسے بہت وقت لگا تھا۔
    ”تمہیں کیا ہوا ہے؟” اس کے چہرے پر کوئی ایسی کیفیت ضرور ابھری تھی۔ جس نے عثمان کو چونکا دیا تھا جو گیٹ سے باہر نکلتے ہی نارمل ہو گیا تھا شاید یہ سوچ کر کہ وہ اب اس آدمی کی نظروں سے اوجھل ہو چکی ہے۔
    ”کچھ نہیں۔ مجھے کیا ہونا ہے۔ بس اس بچے کے کیس کے بارے میں سوچ رہی ہوں۔”
    اس نے فوراً ہی خود کو سنبھال لیا۔ عثمان خاموش رہا۔ وہ دونوں جیپ کے پاس پہنچ گئے تھے۔ ڈرائیور نے اس کے لیے جیپ کا دروازہ کھول دیا۔ وہ اندر بیٹھ گئی۔ عثمان فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گیا تھا۔ اسامہ لپکتا ہوا اس کے پاس آیا تھا۔
    ”ما ما ! اب پہلے آئش کریم کھانے جائیں گے۔”
    اس نے اس کی گود میں آتے ہی فرمائش کی تھی۔ ”ہاں آئس کریم کھانے چلیں گے، مگر پہلے آئزہ کو سکول سے لے لیں پھر۔ ٹھیک ہے نا؟” اس نے اسامہ کا گال چومتے ہوئے کہا تھا۔
    ”ٹھیک ہے مگر پھر میں دو کون کھاؤں گا۔” اس نے اپنی ایک اور شرط پیش کر دی تھی۔
    ”بس دو؟” رابیل دماغ سے اس چہرے کو جھٹکنے میں مصروف تھی۔
    ”ہاں بس دو مگر اگر آئزہ دو کھائے گی تو پھر میں تھری کھاؤںگا۔” ایک اور دو کے بعد اس کی اردو کی گنتی ختم ہو جاتی تھی۔ اب وہ رابیل کو انگلیاں دکھا کر تھری کہہ رہا تھا۔
    ”اور اگر میں آئزہ کوایک فیملی پیک لے دوں تو؟” عثمان اپنے چار سالہ بیٹے کو چھیڑ رہا تھا۔
    ”اور اگر میں۔” عثمان اور اسامہ کے درمیان اب باقاعدہ بحث شروع ہو گئی تھی۔ اس نے خاموشی سے سیٹ کی پشت سے سر ٹکا کر آنکھیں بند کر لیں۔ ایک بار پھر وہی چہرہ اس کے سامنے آ گیا تھا۔
    …***…





    ”میں سیریس ہوں؟ کم آن یا ر! میں تو سیریس نہیں ہوں۔ یہ بیماری اسی طرف سے ہے۔ اوئے تو سمجھتا کیوں نہیں ہے۔ میرے جیسے بندے کے پاس اتنی ہمت کہاں۔” وہ یونیفارم تبدیل کئے بغیر اوندھے منہ بیڈ پر لیٹے تکیے پر بازو ٹکائے فون پر گفتگو میں مصروف تھا۔
    ”اچھا اچھا۔ تجھے بھی جانتا ہوں میں بڑا سورما ہے ناتو۔ تیس مار خاں سامنے آنا پھر ایسی باتیں کرنا، تیرا منہ نہ توڑ دیا تو پھر کہنا۔” وہ اب کچھ جھنجھلا رہا تھا۔ دروازے پر ہونے والی دستک نے اس کے انہماک کو توڑا تھا۔
    ”جسٹ اے منٹ خبیث۔” اس نے فون پر اظفر سے کہا تھا اور پھر ماؤتھ پیس پر ہاتھ رکھ کر اٹھ کر بیٹھ گیا۔
    ”یس کم ان۔” اس نے بلند آواز سے کہا تھا۔
    ”سر ! آپ کے کپڑے پریس کر لایا ہوں اور چائے یہیں پئیں گے یا باہر لان میں؟” روم سروس والا دروازہ کھول کر اندر آیا تھا۔ ہینگر میں لٹکے ہوئے کپڑوں کو کرسی کی پشت پر لٹکاتے ہوئے اس نے پوچھا تھا۔ حسن نے ایک نظر رسٹ واچ پر ڈالی اورپھر اسی طرح ماؤتھ پیس پر ہاتھ رکھے ہوئے کہا۔
    ”نہیں اسے اب رہنے ہی دو۔ مجھے باہر جانا ہے۔”
    ”میجر یاور علی آپ کا پوچھ رہے تھے۔” وہ ماؤتھ پیس سے ہاتھ اٹھاتے ہوئے چونکا تھا۔
    ”وہ کب آئے تھے؟”
    ”دوپہر کو آئے تھے ، یہیں میس میں ہی ٹھہرے ہیں۔”
    ”اس وقت کمرے میں ہی ہیں؟”
    ”نہیں ، وہ تو اسی وقت باہر چلے گئے تھے لیکن کہہ رہے تھے کہ آپ آئیں تو آپ کو بتا دوں۔”
    ”اچھا وہ آئیں تو ان سے کہہ دینا کہ مجھے کسی ضروری کام سے جانا تھا۔ میں رات کو ان سے ملوں گا۔ اب تم جاؤ۔” اس نے اسے ہدایات دیں اور پھر ماؤتھ پیس سے ہاتھ اٹھا کر باتوں میں مصروف ہو گیا۔
    ”اچھا میں تو بس تھوڑی دیر میں نکلنے والا ہوں، بس چھ بجنے ہی والے ہیں۔ مجھے زرقا کو بھی پک کرنا ہے۔ تم کب کلب پہنچو گے؟” وہ ا ظفر سے اس کا شیڈول پوچھ رہا تھا۔
    ”نہیں کلب سے ہوتے ہوئے گیریژن سینما چلے جائیں گے۔”
    ”نہیں یار ! وہاں تو ضرور جانا ہے۔”
    ”بس سمجھا کرو یار۔”
    ”زیادہ دیر نہیں رکیں گے۔”
    ”ہاں ، زرقا بھی فلم دیکھنے چلے گی۔ یار! اس سے پہلے ہی پروگرام طے کیا ہوا تھا۔ تمہارا مسئلہ بھی حل کر دوں گا۔ تم کلب تو چلو۔ ایک کے بجائے دس لڑکیاں ساتھ چلیں گی۔ تم بات کر کے تو دیکھنا۔ اچھا تم نہ کرنا۔ میں کروں گا۔ تم بس یہ مسئلہ مجھ پر چھوڑ دو۔ میں آٹھ بجے تک کلب انتظار کروں گا تمہارا۔ وہاں نہ آئے تو دوبارہ شکل مت دکھانا مجھے۔” اس نے اظفر کو دھمکاتے ہوئے فون بند کر دیا تھا۔
    سیٹی پر ایک انگلش نمبر کی دھن بجاتے ہوئے وہ کپڑے اٹھا کر باتھ روم میں گھس گیا۔
    لاہور میں پوسٹڈ ہوئے اسے ابھی ایک ہفتہ ہی ہوا تھا اور یہاں آتے ہی اس کی سرگرمیاں پھر سے شروع ہو گئی تھیں۔ وہ جنرل بابر کریم کا سب سے چھوٹا بیٹا تھا۔ اس سے بڑے ایک بھائی اور ایک بہن تھے دونوں شادی شدہ تھے۔ اس کا بڑا بھائی اور بہنوئی دونوں فوج میں تھے اور یہ سلسلہ یہیں پر ختم نہیں ہوتا تھا۔ اس کے چچا اور تایا کے علاوہ ان کی اولادیں بھی کسی نہ کسی حوالے سے آرمی سے وابستہ تھیں اور یہ سلسلہ اسی طرح چلتا آ رہا تھا۔
    حسن دانیال کا خاندان ان خاندانوں میں سے نہیں تھا جو آرمی کا کھاتے ہیں۔ وہ ان خاندانوں میں سے تھے جو آرمی کو کھاتے ہیں۔ اس کے خاندان کے لوگ فوج اور بیوروکریسی میں بڑے بڑے عہدوں پر فائز تھے اور پھرباہمی گٹھ جوڑ سے وہ اپنے عہدوں سے بھر پور فائدہ اٹھا رہے تھے۔ حسن کا دادا انگریزوں کی فوج میں کرنل کے عہدے تک پہنچا تھا تو اس کی بنیادی وجہ کوئی پروفیشنل مہارت نہیں تھی۔ بلکہ اس کے دادا کی انگریز بیوی تھی جو لیسٹر کے کسی ارسٹو کریٹ کی بگڑی ہوئی بیٹی تھی۔ اسے حسن کے دادا سے طوفانی قسم کا عشق ہوا تھا اور اس عشق کا نتیجہ شادی کی صورت میں نکلا تھا۔ اس شادی نے حسن کے دادا کو زمین سے آسمان پر پہنچا دیا تھا۔ از ابیلا اس قدر خوبصورت تھی کہ اس پر پہلی نظر ہمیشہ دیکھنے والے کے لیے کافی سنگین ہوتی تھی اور ازابیلا نے اپنے شوہر کو آگے بڑھانے کے لیے اپنی خوبصورتی کا بڑے اچھے طریقے سے استعمال کیا تھا اور اس استعمال پر حسن کے دادا کو کبھی اعتراض نہیں ہوا تھا۔ ان کے نزدیک زیادہ اہم بات یہ تھی کہ ان کی آئندہ آنے والی نسلیں ایک کرنل کی نسل کہلائیں گی۔ انگریزوں نے انہیں صرف عہدہ ہی نہیں دیا تھا بلکہ جاگیر سے بھی نوازا تھا اور اس جاگیر نے ان پر دو آتشہ کا کام کیا تھا۔ ان کے یہی تعلقات بعد میں ان کے بیٹوں کے کام آئے تھے۔ ان کے دو بیٹوں نے آرمی جوائن کی تھی اور دونوں جنرل کے عہدے پر پہنچے تھے۔ باقی دونوں بیٹوں میں سے ایک میڈیکل کور میں گیا تھا اور پھر وہاں سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے کر لندن چلا گیا اور سب سے چھوٹا والا بیٹا بھی لاء کرنے کے بعد باہر ہی سیٹل ہو گیا تھا۔ بابر کریم تیسرے نمبر پر تھے اور انہوں نے ماں باپ سے تمام گر سیکھے تھے جو ان کے خاندان کے شجرہ نسب کو اور مضبوط کرتے۔ ان کے باپ نے ان کی شادی بھی ایک جنرل کی بیٹی سے کی تھی اور اس رشتے نے ان کے سوشل اسٹیٹس کو اور بڑھا دیا تھا اور یہ سلسلہ صرف یہیں ختم نہیں ہوا تھا بابر کریم نے اپنے بڑے بیٹے کی شادی بھی ایک ایسے ہی خاندان میں کی تھی جو ان ہی کی طرح کئی نسلوں سے آرمی سے وابستہ تھا اور اپنی بیٹی کی شادی بھی انہوں نے اپنے سب سے بڑے بھائی کے بیٹے سے کی تھی۔
    حسن دانیال ان کا سب سے چھوٹا بیٹا تھا اور سب سے لاڈلی اولاد بھی اور اس بات کا اس نے بچپن سے ہی فائدہ اٹھایا تھا۔ اس میں بھی اپنے خاندان کی تمام خوبیوں اور خامیوں کا عکس نظر آتا تھا۔ باپ اور بڑے بھائی کی طرح وہ شوقیہ ڈرنک بھی کرتا تھا اور ان باقی تمام مشاغل سے بھی لطف اندوز ہوتا تھا۔ جن سے اس کے خاندان کے تمام لوگ لطف اندوز ہوے تھے۔ سادہ لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے خاندان کے مردوں کی طرح رنگین مزاج تھا۔ جانتا تھا کہ اس کی رگوں میں دوڑنے والا خون حلال کی کمائی کے اجزاء نہیں رکھتا کیونکہ وہ رزق حلال کی پیداوار نہیں تھا۔
    بابر کریم جس جس عہدے اور پوسٹنگ پر بھی رہے تھے۔ انہوں نے اس سے پورا فائدہ اٹھایا۔ فوج کے زیر استعمال پیٹرول پمپوں میں پیٹرول کی سپلائی میں ہیرا پھیری سے لے کر کینٹ کے علاقے میں زمینوں اور پلاٹوں کی خاص لوگوں کو الاٹمنٹ کرنے تک وہ ہر قسم کے اسکینڈل میں ملوث رہے تھے۔ مگر ان کے خلاف ہونے والی ہر انکوائری کے بعد نہ صرف انہیں ایک عدد اچھی پوسٹنگ سے نوازا جاتا رہا تھا۔ بلکہ انہیں پروموشن بھی دی جاتی رہی تھی۔ ان تمام حربوں سے حسن دانیال بھی واقف تھا اور جانتا تھا کہ آگے بڑھنے کے لیے اور اپنے باپ دادا کی طرح ساکھ بنانے کے لیے یہ سب بے حد ضروری ہوتا ہے۔
    ساڑھے چھ بجے زرقا کو اس کے گھر سے پک کرنے کے بعد وہ سروسز کلب پہنچ گیا تھا۔ زرقا سے اس کی پرانی واقفیت تھی۔ اس کے والد فارن آفس میں ہوتے تھے اور حسن کے والد سے ان کی اچھی خاصی سلام دعا تھی۔ وہ اپنے والدین کے ہمراہ کئی بار راولپنڈی اس کے گھر بھی آچکی تھی۔ لاہور میں پوسٹنگ ہوتے ہی اسی نے سب سے پہلے اس سے رابطہ قائم کیا تھا۔ خوبصورت لڑکیاں اس کی کمزوری تھیں۔ خوبصورت ، تعلیم یافتہ، بہت ماڈ۔ حسن کی طرح وہ بھی بہت سوشل تھی۔ اس کی طرح سموکنگ اور ڈرنک بھی کرتی تھی اور حسن کی طرح وہ بھی اپنے بوائے فرینڈز بدلتی رہتی تھی۔
    ”تو بہر حال تم آ ہی گئے ہو۔” وہ اور زرقا ڈرنکس لے کر اپنی ٹیبل پر واپس آئے ہی تھے جب اظفر بھی کرسی کھینچ کر آن موجود ہوا تھا۔
    ”تم جس طرح دھمکاتے ہو، کیا اس کے بعد یہ ممکن ہے کہ بندہ گھر بیٹھا رہے۔ ہیلو مائے نیم از اظفر۔ کیا میں آپ کا نام معلوم کر سکتا ہوں؟”
    حسن نے کچھ تیکھی نظروں سے اسے دیکھا تھا اور پھر دونوں کا تعارف کروایا۔
    ”آپ سے مل کرخوشی ہوئی۔” زرقا نے بڑے سٹائلش انداز میں اس سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا۔same here(مجھے بھی) حسن سے اکثر آپ کا ذکر سنا ہے۔ دیکھ کر زیادہ خوشی ہوئی۔” اظفر نے شوخ انداز میں کہا۔
    زرقا کی مسکراہٹ گہری ہو گئی۔ واضح طور پر اس نے اظفر کے جملے کو انجوائے کیا تھا۔
    ” Should I take it as a compliment?” (میں اسے اپنی تعریف سمجھوں) اس نے جواباً اظفر سے کہا تھا ”آف کورس” ایک ہلکے سے قہقہے کے ساتھ اظفر نے کہا تھا۔
    ”تم کیا لو گے؟” حسن نے فوراً مداخلت کی تھی۔
    ”وہی جو تم لے رہے ہو شیمپئن۔” اس نے ایک ہلکی سی سیٹی بجا کر کہا تھا۔
    ”تم جم خانہ میں نہیں بیٹھے ہو۔ جانتے ہو، یہاں کیا مل سکتا ہے۔ بیئر، برانڈی یا وہسکی مگر تم برانڈی مت لینا۔تم سوڈا استعمال کرو گے نہیں اور ہمیں ابھی سینما بھی جانا ہے۔ میں نہیں چاہتا مجھے تمہیں اٹھا کر گھر لے جانا پڑے۔” زرقا نے حسن کی بات پرایک ہلکا سا قہقہہ لگایا تھا۔
    ”ایسا بھی ہوتا ہے؟” اس نے اظفر کو دیکھتے ہوئے پوچھا تھا۔
    ”اس کے ساتھ ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے۔” اظفر نے حسن کی بات پر اس کے بازو پر ایک ہلکا سا گھونسہ مارا تھا اور پھر بار کی طرف چلا گیا تھا۔ حسن زرقا سے باتوں میں مصروف ہو گیا۔ اظفر چند منٹوں بعد گلاس ہاتھ میں تھامے واپس لوٹ آیا تھا۔
    ”حسن ! باہر کیوں نہ چلیں۔ یہاں بیٹھنے سے بوریت ہو رہی ہے۔” اس نے آتے ہی اظفر سے کہا تھا۔
    ”کیا خیال ہے ، باہر چلا جائے؟” حسن نے زرقا سے پوچھا۔ اس نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔
    "As you wish.”
    ”ٹھیک ہے چلو لان میں بیٹھتے ہیں۔”
    حسن نے اپنا گلاس خالی کرتے ہوئے کہا تھا۔ ”تم دونوں چلو میں ایک پیگ اور لے کر آتا ہوں۔”