Tag: Remove term: ahad raza mir

  • مات ہونے تک — عمیرہ احمد

    بعض باتیں آپ کو بے اختیار ہنسنے پر مجبور کر دیتی ہیں، جیسے ابھی تھوڑی دیر پہلے فاطمہ کی کہی ہوئی ایک بات نے مجھے ہنسنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ویسے یہ صرف آج کی بات نہیں ہے، وہ جب بھی یہ جملے بولتی ہے، مجھے بے اختیار ہنسی آ جاتی ہے مگر میں بے حد کوشش کر کے اپنی ہنسی پر قابو پا لیتا ہوں اور جب وہ میرے پاس سے چلی جاتی ہے تو پھر میں بے ساختہ ہنس پڑتا ہوں۔ جیسے ابھی ہنس رہا ہوں۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ فاطمہ کون ہے اور وہ ایسا کیا کہہ دیتی ہے جو مجھے ہنسنے پر مجبور کر دیتا ہے اور اگر اس کی کوئی بات مجھے ہنسنے پر مجبور کر دیتی ہے تو پھر میں اس کے سامنے کیوں نہیں ہنستا، بعد میں کیوں ہنستا ہوں۔
    فاطمہ میری بیوی ہے۔ ہماری شادی کو پندرہ سال گزر چکے ہیں۔ ہماری دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔ آج کے زمانے کے تمام تقاضوں کے اعتبار سے ہم ایک آئیڈیل زندگی گزار رہے ہیں۔ ہم دونوں ایک دوسرے سے بے پناہ محبت کرتے ہیں… نہیں، میرا خیال ہے، اس جملے میں کچھ تصحیح کی ضرورت ہے۔ یہ کہنا زیادہ بہتر ہوگا کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں اور وہ مجھ سے محبت کرنے کے ساتھ ساتھ میری احسان مند بھی ہے۔ اس حد تک احسان مند ہے کہ اگر میں آج اس سے کہوں کہ وہ میرے لیے ایک بلند عمارت کی دسویں منزل پر سے کود جائے تو وہ کوئی سوال کیے بغیر کود جائے گی۔
    اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ کیا وہ واقعی مجھ سے اتنی محبت کرتی ہے؟ تھوڑی دیر پہلے ہی میں نے آپ کو بتایا ہے کہ وہ مجھ سے محبت کرنے کے ساتھ ساتھ میری احسان مند بھی ہے اور اگر وہ اس طرح میرے کہنے پر جان دے دے گی تو اس کی بنیادی وجہ وہ احسان ہوگا۔ آپ سوچ رہے ہوں گے، آخر میں نے اس پر ایسا کون سا احسان کیا ہے؟ لیکن اس سے پہلے آپ کو کچھ اور سوالوں کے جواب بھی تو چاہئیں۔ یاد نہیں، آپ کو وہی بات جو مجھے ہنسنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ اب میری سمجھ میں نہیں آ رہا، میں کیا کروں۔ پہلے آپ کو ہنسنے والی بات بتاؤں یا پھر یہ احسان والی… خیر چلئے، بات وہیں سے شروع کرتے ہیں۔
    تقریباً آدھا گھنٹہ پہلے فاطمہ چائے کا کپ لے کر میرے کمرے میں آئی۔ میں اس وقت اخبار دیکھ رہا تھا۔ اس نے چائے کا کپ مجھے تھما دیا پھر خود بھی میرے قریب ہی صوفے پر بیٹھ گئی۔ میں اخبار کی اہم خبروں کے بارے میں اس سے بات کرنے لگا۔ وہ اپنے ریمارکس دینے لگی پھر باتوں باتوں میں ہی ایک خبر پر اس نے اپنا پسندیدہ جملہ دہرایا۔
    ”خیر اس میں تو کوئی شک نہیں کہ عورت مرد سے زیادہ عقل مند ہوتی ہے۔”
    ہمیشہ کی طرح اس کی بات پر میرا دل بے اختیار ہنسنے کو چاہا مگر میں نے ہمیشہ ہی کی طرح اپنی ہنسی پر قابو پایا اور اسے بہت غور سے دیکھا، وہ آج بھی اتنی ہی خوبصورت ہے جتنی آج سے پندرہ سال پہلے تھی۔ بعض چیزوں اور چہروں کا وقت کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ وہ بھی ایسا ہی ایک چہرہ ہے۔ میں بہت دیر تک اخبار بھول کر اسے دیکھتا رہا تھا۔ وہ اپنے ناخنوں کو File سے رگڑ رہی تھی۔ اکثر ایسا ہی ہوتا تھا، وہ کسی نہ کسی بات میں یہ جملہ دہراتی اور میں اس کا چہرہ دیکھنا شروع ہو جاتا پھر مجھے پندرہ سال پہلے ہونے والے سارے واقعات یاد آنے لگتے اور مجھے اپنے آپ پر فخر ہونے لگتا مگر ساتھ ہی مجھے اپنی ہنسی پر قابو پانا بھی بہت مشکل ہو جاتا۔ ایسے لمحات میں وہ اٹھ کر میرے پاس سے چلی جاتی اور پھر میں بے اختیار ہنستا چلا جاتا۔ آخر اس بات پر کیوں نہ ہنسا جائے کہ عورت جیسی مخلوق اپنے آپ کو مرد سے… ہاں… ”مرد” سے زیادہ عقل مند سمجھتی ہے۔ میں جانتا ہوں اگر آپ مرد ہیں تو آپ خود بھی اس وقت میری بات پر سر ہلاتے ہوئے ہنس نہیں تو مسکرا ضرور رہے ہوں گے اور اگر آپ عورت ہیں تو یقینا اس وقت آپ کی ساری ہمدردیاں فاطمہ کے ساتھ ہوں گی اور شاید نہیں بلکہ… یقینا آپ مجھے ملامت کر رہی ہوں گی اور سوچ رہی ہوں گی کہ میں بھی وہی روایتی سا مرد ہوں، وہی میل شاؤنزم کا شکار ایک بندہ۔ خیر اب ایسا بھی نہیں ہے۔ میں قطعاً بھی کسی قسم کے شاؤنزم کا شکار نہیں ہوں مگر اس میں تو کسی شک و شبے کی گنجائش نہیں ہے کہ عورت کسی بھی طرح مرد سے عقل مند نہیں ہو سکتی، چاہے، وہ کچھ بھی کر لے اور پھر فاطمہ… وہ تو کبھی بھی عقل مندی کا دعویٰ نہیں کر سکتی مگر مزے کی بات یہ ہے کہ وہ اکثر یہ بات دہراتی رہتی ہے اور وہ بھی بڑے فخریہ انداز میں۔
    اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ چونکہ میں فاطمہ کا شوہر ہوں اس لیے کبھی بھی اپنی بیوی کو خود سے بہتر نہیں سمجھ سکتا۔ ایک مشرقی شوہر کی یہ سب سے بڑی خاصیت سمجھی جاتی ہے۔ آپ اب بھی غلط سمجھ رہے ہیں، میں قطعاً بھی اپنی بیوی کو خود سے کم تر سمجھنے کا قائل نہیں ہوں مگر جب بیوی اس قسم کے احمقانہ بیانات دیتی پھرے، وہ بھی اس صورت میں جب پچھلے پندرہ سال سے میرا اور اس کا ساتھ ہی مرد کی روایتی ذہانت کا ایک واضح ثبوت ہے مگر وہ حقیقت نہیں جانتی ورنہ شاید پچھلے پندرہ سال میں ایک بار بھی یہ اعلان نہ کرتی کہ عورت مرد سے زیادہ عقل مند ہے۔ بالکل اسی طرح آپ لوگ حقیقت سے لاعلم ہیں۔ ورنہ شاید آپ اس وقت میری ہاں میں ہاں ملا رہے ہوتے۔ چلیں، ایسا کرتے ہیں کہ میں اپنا کیس آپ کے سامنے رکھ دیتا ہوں، سارے Facts and figures کے ساتھ اور پھر آپ لوگ ہی فیصلہ کیجئے گا کہ کیا میں یہ سمجھنے میں حق بجانب ہوں کہ مرد عورت سے زیادہ عقل مند ہے اور عورت کبھی بھی اس کے حربوں اور ہتھکنڈوں کو سمجھ سکتی ہے، نہ اس کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ دیکھیں جو بھی فیصلہ دیجئے گا بہت دیانت داری سے دیجئے گا۔ خاص طور پر اگر آپ ایک عورت ہیں تو عورتوں کے اس روایتی تعصب سے بالاتر ہو کر اپنی رائے کا اظہار کیجئے گا۔
    *****





    فاطمہ میرے سب سے چھوٹے چچا کی بیٹی تھی۔ چار بہنوں اور ایک بھائی میں سب سے بڑی۔ ہم سب لوگ جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہتے تھے۔ میرے والد سب سے بڑے تھے، ان کا سرامکس کا بزنس تھا۔ آہستہ آہستہ یہ بزنس اتنا اچھا ہو گیا کہ میرے والدین کو اب باقی لوگوں کے ساتھ رہنا مشکل لگنے لگا، چنانچہ جلد ہی ہم لوگ الگ گھر میں شفٹ ہو گئے۔ صرف گھر تبدیل نہیں ہوا بلکہ ہمارا معیار زندگی بھی بدل گیا۔ گھر میں گاڑی آ گئی۔ ہم لوگوں کو شہر کے سب سے اچھے سکولوں میں سے ایک میں داخل کروا دیا گیا اور ہاں، صرف یہ سب کچھ ہی نہیں بدلا، ہم لوگوں کے رویے میں بھی تبدیلی آ گئی۔ بھئی، آپ تو جانتے ہی ہیں، دولت آنے کے بعد یہ تبدیلی تو ناگزیر ہو جاتی ہے۔ آفٹر آل آپ کے رویے سے بھی تو پتا چلنا چاہیے کہ آپ کے پاس ”کیا” ہے اور ”کتنا” ہے۔ شروع میں ہمارے والدین نے ہمیں اس ”تبدیلی” کے بارے میں ”بنیادی” باتوں سے آگاہ کیا۔ بعد میں ہم نے ان باتوں کو اپنے کمال پر پہنچا دیا۔ اس زمانے میں کوئی ہم سے ملتا تو اسے لگتا، جیسے شہر میں صرف ہم ہی ”امیر” ہیں۔
    ہاں، میں آپ کو یہ بتانا بھول ہی گیا کہ ہم لوگ اپنے چچاؤں وغیرہ سے کافی کم ہی ملا کرتے تھے۔ اصل میں غریب رشتے داروں سے ملنے میں ایک بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ہمیشہ کچھ نہ کچھ مانگتے ہی رہتے ہیں۔ ہمیشہ ان کی زبان پر کوئی نہ کوئی فرمائش ہوتی ہے بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ وہ امیر رشتے داروں کے گھر آتے ہوئے خاص طور پر اپنی جھولیاں پھیلائے ہی رکھتے ہیں تاکہ کچھ نہ کچھ تو مل ہی جائے۔ یہ آخری والا جملہ اگر آپ کو نامناسب لگ رہا ہے تو میں آپ پر واضح کر دوں کہ یہ میرا نہیں، میری امی کا فرمایا ہوا جملہ ہے جو وہ اکثر کہتی رہتی تھیں۔ آپ تو جانتے ہیں کہ ماں کی دعا جنت کی ہوا ہوتی ہے اور میرے لیے تو ماں کا فرمانا بھی جنت کی ہوا سے کم نہیں تھا۔
    میرا خیال ہے، ابھی میں نے آپ کو یہ نہیں بتایا کہ میں اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا۔ میرے علاوہ ان کی تین بیٹیاں تھیں اور وہ تینوں مجھ سے بڑی تھیں۔ اکلوتا بیٹا آپ جانتے ہی ہیں، کیا چیز ہوتا ہے، خاص طور پر جبکہ والدین امیر بھی ہوں۔ میری پرورش ان تمام آزمودہ طریقوں سے کی گئی تھی جو پچھلے کئی سالوں سے اکلوتے بیٹوں کو بگاڑنے کے لیے کارگر تھے۔ اب کیا یہ بتانا ضروری ہے کہ میں دن کو اگر رات کہتا تو میرے والدین کے لیے وہ رات ہی ہوتی مگر خود میں دن کو کبھی رات نہیں سمجھتا تھا۔ خیر تو میں آپ کو بتا رہا تھا کہ میں والدین کا اکلوتا بیٹا تھا۔ میری تیوری کے بلوں سے بچنے کے لیے وہ خاصی کوشش کیا کرتے تھے اور میں یہ کوشش اکثر ناکام کر دیا کرتا تھا۔ اس خاص قسم کے لاڈ پیار کا نتیجہ وہی ہوا جو اکثر ہوتا ہے۔ میرا دل پڑھائی سے اچاٹ ہو گیا۔ میں نے بمشکل گریجویشن کیا حالانکہ میرے والد صاحب مجھے باہر اعلیٰ تعلیم کے لیے بھجوانے پر تلے ہوئے تھے۔ اگرچہ میں نے شروع سے ہی ان پر واضح کر دیا تھا کہ میں گریجویشن سے زیادہ کی اہلیت نہیں رکھتا مگر انھیں کبھی میری باتوں پر یقین نہیں آیا۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ میں بالآخر ہر امتحان میں پاس ہو ہی جایا کرتا تھا چاہے وہ مڈل ہو یا میٹرک یا پھر ایف اے میں کسی نہ کسی طرح پاس ہو ہی جایا کرتا تھا۔ اب آپ یہ تو جانتے ہی ہوں گے کہ کسی نہ کسی طرح سے میری کیا مراد ہے۔ ہاں تو میں آپ کو بتا رہا تھا کہ ایف اے تک انھیں میری باتوں پر بالکل یقین نہیں آیا مگر بی اے میں پہلی بار جب میں نے سپلی لی تو انھیں پہلی بار اس بات پر اعتبار آیا کہ ان کا بیٹا کافی خود شناس ہے۔ لیکن پھر بھی پتا نہیں کیوں، انھوں نے ایک بار بھی اپنی چھٹی حس پر اعتبار کرنا گوارا نہیں سمجھا۔ آپ تو جانتے ہیں، پرانی نسل نئی نسل پر اتنی جلدی اعتبار نہیں کرتی۔ خیر تو میں آپ کو بتا رہا تھا کہ میری سپلی کے بارے میں جاننے کے بعد انھوں نے مجھے بہت حوصلہ دیا، میری بہت ہمت بندھائی۔ اب یہ اور بات ہے کہ مجھے ان دونوں ہی چیزوں کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ اپنی ناکامی سے مجھے کوئی مایوسی نہیں ہوئی تھی۔
    انھوں نے کہا تھا۔ ”تم فکر نہ کرو بی، اے میں تو پہلی بار بڑے بڑے فیل ہو جاتے ہیں۔ تم دوبارہ تیاری کرو، انشاء اللہ تعالیٰ اس بار تم ضرور کامیاب ہو جاؤ گے۔”
    آپ یقین کیجئے مجھے بی اے میں ناکامی نے اتنا ڈپریس نہیں کیا تھا، جتنا ان کے ان الفاظ نے کیا تھا۔ مجھے بی، اے کے کورس کی کتابیں سانپ بن کر اپنے آگے پیچھے لہراتی نظر آنے لگیں۔ آپ تو جانتے ہی ہیں، میرے جیسا بندہ جس کے لیے کوئی کتاب پہلی بار پڑھنا بہت تکلیف دہ عمل ہوتا ہے دوسری بار تو یقینا یہ موت ہوتا ہے۔ آپ خود بتائیں آپ میں سے کتنے ہیں جو پورے دو سال کورس کی کتابیں پڑھیں پھر اس میں فیل ہو جائیں اور آپ سے دوبارہ انہی کتابوں کو پڑھنے کے لیے کہا جائے تو پھر کیا آپ کی Feelings مجھ سے مختلف ہوں گی۔
    خیر میں آپ سے کہہ رہا تھا کہ میں نے اپنے والد کو سمجھانے کی پوری کوشش کی کہ دوسری بار بھی مجھ میں اپنے پہلے ”عمل” کو دہرانے کی پوری پوری صلاحیت موجود ہے اور نمبر کم تو ہو سکتے ہیں مگر کسی طور پر بھی ان کے بڑھنے کی کوئی امید نہیں ہے لیکن میرے والد اور والدہ کو میری علمی صلاحیتوں سے زیادہ اپنے وظائف اور تعویذ گنڈوں پر اعتماد تھا۔ انھیں یقین تھا کہ اگلی بار کوئی نہ کوئی غیبی طاقت نتیجہ بدل کر رکھ دے گی آپ یقین کریں یا نہ کریں، اگلی بار واقعی اس غیبی طاقت نے نتیجہ بدل کر رکھ دیا۔ میں ایک کے بجائے دو مضامین میں فیل ہوا۔ مجھے کوئی شاک نہیں لگا کیونکہ میری غیبی طاقت نے مجھے پہلے ہی اس رزلٹ سے آگاہ کر دیا تھا مگر میرے والدین کافی پریشان ہوئے۔ انھیں دکھ تھا کہ میری راتوں کی محنت کوئی رنگ نہیں لائی۔ مجھے بھی اس بات کا افسوس ضرور تھا کہ ان کی راتوں کی محنت بھی کوئی رنگ نہیں لائی کیونکہ میں رات کو دل لگا کر پڑھتا تھا یا نہیں مگر وہ دل لگا کر میرے لیے راتوں کو وظیفے ضرور کرتے تھے۔
    اصل قیامت مجھ پر تب ٹوٹی، جب مجھے ایک بار پھر کوشش کرنے کے لیے کہا گیا۔ دیکھیں اگرچہ بی اے میں دوبارہ فیل ہونا اور وہ بھی بغیر کسی محنت کے ایک انتہائی دلچسپ اور سکون بخش کام ہے ،اتنا ہی پرُمسرت اور سکون بخش جتنا انضمام الحق کے لیے صفر پر آؤٹ ہونا مگر آخر دو بار صفر پر آؤٹ ہونے کے بعد تیسری بار تو وہ بے چارہ بھی صفر پر آؤٹ نہ ہونے کی کوشش ضرور کرتا ہے۔ کچھ اسی طرح کی کوشش میں نے بھی کی تھی۔ تیسری بار میں نے بالآخر بی اے کا ماؤنٹ ایورسٹ تسخیر کر ہی لیا تھا اور یقین کیجئے، یہ جان کر مجھے دلی مسرت ہوئی تھی کہ بی اے میں میری تھرڈ ڈویژن نے میرے والدین کی ساری امیدوں کا بیڑا غرق کر کے رکھ دیا تھا۔ ظاہر ہے، ایک تھرڈ ڈویژنر کو کوئی بھی باہر کی یونیورسٹی قبول نہیں کرتی تھی کم از کم اس زمانے میں خیر تو میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ میری دلی مراد پوری ہو گئی۔ مزید تعلیم سے مجھے چھٹکارا مل گیا۔ میرے والدین کو کچھ ہفتے تو اس بات کا خاصا صدمہ رہا مگر بالآخر انھیں بھی صبر آ گیا۔ میرے والد نے مجھے باقاعدہ طور پر اپنی فیکٹری جوائن کرنے کے لیے کہا اور میں نے ان کی یہ خواہش فوراً پوری کر دی۔
    میں نے ان کے کہنے کے اگلے ہی دن فیکٹری جانا شروع کر دیا۔ آپ یقین کریں یا نہ کریں، اگرچہ میں ایک بگڑی ہوئی اولاد تھا مگر مجھے اپنے باپ کے کاروبار میں بہت دلچسپی تھی اور میں شروع سے ہی یہ چاہتا تھا کہ وہ مجھے پڑھنے لکھنے کی طرف زیادہ راغب کرنے کے بجائے بزنس میں حصہ لینے دیں۔
    فیکٹری جوائن کرنے کے ابتدائی چند مہینوں میں ہی میرے والد کو اندازہ ہو گیا تھا کہ میں اتنا نکما بھی نہیں تھا، جتنا ان کا اندازہ تھا۔ کم از کم بزنس کے معاملے میں اچھا خاصا تھا۔ اصل میں بات یہ ہے کہ بزنس کرنے کے لیے اگرچہ آپ کو اس بزنس سے متعلقہ تمام بنیادی باتوں کا علم ہونا چاہیے لیکن اس کے علاوہ ایک اور چیز کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور وہ وسیع قسم کے تعلقات ہیں۔ شاید میں نے ابھی آپ کو یہ نہیں بتایا کہ میرے تعلقات خاصے وسیع تھے۔ جب آپ کے پاس دولت ہو اور خاصی ہو تو پھر آپ کے لیے اپنی ہی طرح کے دولت مند لوگوں سے میل جول بڑھانا خاصا آسان ہو جاتا ہے اپنی ہی طرح کے لوگوں سے میری مراد نو دولتیا کلاس ہے مگر اس معاملے میں میرا ٹیسٹ بہت اچھا تھا۔ میں نے چن چن کر ایسے لوگوں سے میل جول بڑھایا جو خاندانی تھے اب آپ یہ تو جانتے ہی ہوں گے کہ خاندانی سے ہمارے معاشرے میں کیا مراد لی جاتی ہے یعنی جو امیر ہیں لیکن میرے دوست صرف امیر ہی نہیں تھے، وہ بارسوخ خاندان سے بھی تعلق رکھتے تھے نتیجہ صاف ظاہر ہے، مجھے جب بھی اپنے بزنس کے سلسلے میں کسی مشکل یا دشواری کا سامنا کرنا پڑتا میں اپنے دوستوں کے اثر و رسوخ کا سہارا لیتا اور وہ مشکل منٹوں میں حل ہو جاتی اور اس کے بدلے میں میں اپنے دوستوں پر روپیہ خرچ کرتا رہتا۔ اب ظاہر ہے، یہ تو ضروری تھا۔ اس کے بغیر تو کوئی کسی کی مدد نہیں کرتا۔ آخر یہ Give and take کی دنیا ہے اگرچہ میں تو Take and give پر یقین رکھتا ہوں ہاں تو میں آپ کو بتا رہا تھا کہ میں نے بڑی کامیابی سے اپنے والد کی فیکٹری کا انتظام سنبھال لیا تھا۔ وہ اس معاملے میں مجھ سے بہت خوش تھے۔
    اگلے دو سالوں میں، میں نے اپنی فیکٹری کی کایا ہی پلٹ کر رکھ دی تھی۔ میرے انتظام سنبھالنے سے پہلے میرے والد سرامکس کی چیزیں صرف ملک کے اندر ہی سپلائی کرتے تھے، میں نے ان چیزوں کو ایکسپورٹ بھی کرنا شروع کر دیا۔ فیکٹری میں کام کرنے والی لیبر اگرچہ Skilled تھی لیکن میں نے باقاعدہ طور پر ان کی تربیت کے لیے مناسب انتظامات کیے چیزوں کی کوالٹی کو بہتر بنایا فیکٹری میں استعمال ہونے والی تقریباً ساری مشینری کو بدل ڈالا امپورٹڈ مشینری کی قیمت اور دوسرے اخراجات نے اگرچہ میرے والد کو کافی پریشان اور ناراض کیا مگر آخر میں جب انھوں نے ہر سال کے Net پروفٹ کو دیکھنا شروع کیا تو ان کی پریشانی بالکل غائب ہو گئی۔ میں نے فیکٹری سنبھالنے کے پہلے ہی سال اپنی فیکٹری کے پروفٹ کو دگنا کر دیا تھا اور ظاہر ہے، لمبے چوڑے اخراجات کے باوجود بھی اگر منافع دگنا ہو گیا تھا تو میرے والد اس بات پر مجھ سے زیادہ دیر تک تو ناراض نہیں رہ سکتے تھے۔
    میں جانتا ہوں، اب آپ میرے ان کارناموں کی تفصیل سن سن کر تنگ آ گئے ہوں گے یقینا میرا مقصد آپ کو اپنی صلاحیتوں سے متاثر کرنا نہیں تھا، میں نے آپ کو صرف یہ بتایا تھا کہ میں کچھ ایسا بھی ناکارہ بندہ نہیں تھا، تعلیم میں نہ سہی لیکن بزنس میں ضرور Exceptional تھا اور اس میدان میں میری ان خاص قسم کی کامیابیوں نے خاندان میں میرا ایک خاص مقام بنا دیا تھا۔ ہاں ایک بات واضح کر دوں کہ خاندان سے میری مراد اپنے ماں باپ اور بہنیں وغیرہ نہیں ہیں کیونکہ ان کی نظروں میں تو ایسے کارنامے کے بغیر ہی میرا مقام خاصا بلند تھا اور ہمیشہ رہتا۔ خاندان سے میری مراد اپنے چچاؤں اور ان کے گھر والوں سے ہے۔ ان دنوں خاندان میں ہر ایک کی نظریں مجھ پر گڑی ہوئی تھیں۔ اب یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ غریب لوگ اپنے امیر رشتے داروں کی اولاد پر کس طرح گھات لگائے بیٹھے ہوتے ہیں اگر آپ کو ایک بار پھر یہ جملہ نامناسب یا قابل اعتراض لگا ہے تو میں ایک بار پھر آپ پر یہ واضح کر دینا چاہوں گا کہ یہ جملہ میری امی کا فرمایا ہوا ہے اور آئندہ بھی جو جملہ آپ کو بہت قابل اعتراض یا نامناسب لگے تو آپ یہ جان لیجئے کہ وہ میری امی ہی کا ہوگا۔ آپ تو جانتے ہی ہیں کہ ماؤں کی ذمے داریاں دہری تہری ہوتی ہیں انھیں نہ صرف اولاد کی پرورش کرنا ہوتا ہے۔ بلکہ انھیں غریب رشتہ داروں کی کمینگی کے بارے میں بتانا ہوتا ہے۔ میرا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ میری امی نے بڑی صفائی مہارت اور کامیابی سے بچپن میں ہی ہم بھائی بہنوں کو یہ بات سمجھا دی تھی کہ ہم بہن بھائی اپنے دوسرے کزنز سے بہت مختلف ہیں کیونکہ ہمارے پاس روپیہ ہے اور ہمارے کزنز کسی بھی طرح ہمارے مقابل نہیں آ سکتے اس لیے ہمیں ان کے ساتھ ایک خاص قسم کا برتاؤ کرنا چاہیے تاکہ انھیں یہ بات یاد رہے کہ ان کے اور ہمارے درمیان بہت کچھ مختلف ہے۔ اب آپ جانتے ہی ہیں، جب آپ کی پرورش اس طرح کے سنہری اصولوں کے مطابق ہوئی ہو تو واقعی آپ دوسرے لوگوں سے میرا مطلب ہے، عام لوگوں سے خاصے مختلف ہوتے ہیں۔ اب براہ مہربانی مجھ سے یہ مت پوچھئے گا کہ عام لوگوں سے میری کیا مراد ہے۔ ظاہر ہے، میں ان لوگوں کی بات کر رہا ہوں جن کے پاس پیسہ نہیں ہوتا اور ایسے لوگوں میں میرے ددھیال کا بھی شمار ہوتا تھا۔ اچھا ویسے یہ بھی نہیں تھا کہ وہ سب لوگ بہت ہی غریب تھے۔ وہ سب ایک بڑی حویلی میں رہتے تھے، اچھا کھاتے اچھا پہنتے تھے۔ میرے تینوں چچا مختلف سرکاری محکموں میں ملازم تھے اور بدقسمتی سے انھیں ایمان داری کی بیماری بھی تھی پھر ظاہر ہے، ایسے حالات میں ترقی کے مواقع کیسے مل سکتے ہیں، خوش قسمتی سے میرے والد نے سرکاری ملازمت نہیں کی، ان کا رجحان شروع سے ہی بزنس کی طرف تھا۔ شروع میں انھیں کافی محنت کرنی پڑی لیکن پھر جب انھوں نے دو دو= گیارہ بنانے کا فارمولا سیکھ لیا تو ان کے تمام مسائل حل ہو گئے۔ نہ صرف کاروبار اچھا ہو گیا بلکہ ان کی مالی حیثیت بھی اپنے بھائیوں سے بہت بہتر ہو گئی۔ خیر تو میں آپ کو بتا رہا تھا کہ میرے چچا کچھ ایسے بھی غریب نہ تھے مگر بہرحال وہ ہمارے مقابلے میں کبھی نہیں آ سکتے تھے۔ حویلی سے ایک الگ گھر میں شفٹ ہونے کے بعد شروع شروع میں ہمارا حویلی میں آنا جانا رہا لیکن پھر جوں جوں ہمارا کاروبار ترقی کرتا گیا، یہ میل جول آہستہ آہستہ تقریباً ختم ہوتا گیا اور پھر نوبت یہاں تک آ گئی کہ ہم لوگ باقی خاندان والوں سے کسی شادی یا کسی دوسری تقریب میں ہی ملتے تھے۔
    ہمارے خاندان میں عام طور پر ساری شادیاں خاندان کے اندر ہی کرتے ہیں لیکن میرے والدین نے اس رسم کو بھی توڑ ڈالا۔ خاندان کے مختلف لوگوں کے اصرار کے باوجود انھوں نے میری تینوں بہنوں کی شادی خاندان کے باہر کیں اور آپ جانتے ہی ہوں گے، اس کی وجوہات کیا ہو سکتی ہیں۔ جی بالکل، آپ کا خیال ٹھیک ہے۔ روپیہ، شاید میرے والد تو کبھی بھی خاندان سے باہر شادی کرنے پر تیار نہ ہوتے لیکن میری امی نے خاندان کے اندر میری بہنوں کی ممکنہ شادی کے بعد ان کے ہولناک مستقبل کی اتنی دلدوز تصویریں کھینچیں کہ بالآخر میرے والد صاحب میری تینوں بہنوں کی شادی خاندان سے باہر کرنے پر تیار ہو گئے۔ اب خاندان والوں کی بدقسمتی کہہ لیجئے یا میری بہنوں کی خوش قسمتی کہ ان تینوں کے رشتے بہت ہی اچھے خاندانوں میں ہو گئے اور نہ صرف وہ ہم سے بھی اعلیٰ خاندانوں میں گئیں بلکہ وہ وہاں بہت خوش بھی ہیں۔ آپ تو جانتے ہی ہیں اگر روپیہ روپے کو کھینچتا ہے تو اچھا خاندان اچھے خاندان کو۔ خیر تو میں آپ کو بتا رہا تھا کہ اپنے خاندان سے جن بہت سی وجوہات کی بناء پر ہم تقریباً کٹ کر رہ گئے تھے، اس میں میری بہنوں کی شادی بھی تھی۔
    میرے چچاؤں نے اور کسی معاملے میں میرے والد سے برتری حاصل کی یا نہیں، بہرحال ایک معاملے میں ان کی سبقت مصدق تھی ان تینوں کی اولادیں تعلیم کے معاملے میں ہم لوگوں سے بہت آگے تھیں۔ آپ تو جانتے ہی ہیں، غریب لڑکے اکثر پڑھائی میں تیز ہوتے ہیں اور آپ کو یہ بھی علم ہوگا کہ یہ پڑھائی وغیرہ کا کام بھی بے کار لوگوں کو ہی سجتا ہے اور غریبوں سے زیادہ بیکار اور کون ہو سکتا ہے۔ امیروں کو تو اور بہتیرے کام ہوتے ہیں۔ دیکھیں ناراض نہ ہوں، میں جانتا ہوں، یہ کچھ زیادہ اچھے ریمارکس نہیں ہیں مگر میں نے آپ کو بتایا تھا نا کہ آپ کو میرا کوئی تبصرہ برا لگے تو یاد رکھیے، وہ میرے نہیں میری امی کے الفاظ ہوں گے۔ یہ الفاظ بھی میری امی کے ہی ہیں جو انھوں نے میرے چچا کے سب سے بڑے بیٹے احتشام کے ایم، اے اکنامکس میں ٹاپ کرنے پر کہے تھے۔ ہو سکتا ہے، اس وقت آپ میری امی کو بہت ناپسند کر رہے ہوں لیکن میری امی کچھ ایسی بری خاتون بھی نہیں ہیں۔ بس بات یہ ہے کہ ان دنوں میری امی کے زخم ہرے تھے، اس کی وجہ میری گریجویشن میں تھرڈ ڈویژن تھی۔ ظاہر ہے، کوئی بھی محبت کرنے والی ماں اس موقع پر اپنی اولاد کی ہزیمت کیسے برداشت کر سکتی ہے، یقینا وہ اسی قسم کے تبصرے کریں گی۔
    امی نے اس موقع پر اور بھی بہت کچھ کہا تھا مگر بہرحال اب یہ موقع زیادہ تفصیلات میں جانے کا نہیں ہے۔ خیر تو میں آپ کو بتا رہا تھا کہ احتشام صاحب کے اس گولڈ میڈل کی وجہ سے کئی دنوں تک میرے والدین کی راتوں کی نیندیں اڑی رہیں۔ لیکن مجھے کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔ دو ماہ بعد جب وہ یہ صدمہ بھلانے کے قابل ہوئے تو انھیں اور شاک یہ جان کر لگا کہ اسے ایک بنک میں بہت اچھی نوکری مل گئی ہے۔ میری امی نے اس موقع پر بھی بہت کچھ کہا تھا مگر مجھے کوئی پریشانی نہیں ہوئی تھی۔ ظاہر ہے، میں اتنی معمولی باتوں پر کس طرح اس سے جیلس ہوتا یا دکھی ہوتا۔ دکھ اور جیلسی تو مجھے تب بھی نہیں ہوئی تھی، جب اس کی منگنی فاطمہ سے ہو گئی تھی۔ تین ماہ کے دوران میں اس کے گھر سے مٹھائی کا تیسرا ڈبہ آیا تھا۔ اس بار امی کا صدمہ سب سے زیادہ تھا اور میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ آخر انھیں اس بات پر غصہ کیوں آ رہا ہے کہ منجھلے چچا نے اپنے بیٹے کی منگنی چھوٹے چچا کی بیٹی سے کر دی تھی۔ امی کئی دنوں تک اس بات پر بھڑکتی رہی تھیں۔ وہ اٹھتے بیٹھتے منجھلے اور چھوٹے چچا اور ان کی اولادوں اور بیویوں کو کچھ نہ کچھ سناتی رہیں۔ اس غصے کی وجہ مجھے چند ماہ بعد اتفاقاً انہی کی زبانی پتا چلی تھی۔




  • کس جہاں کا زر لیا — عمیرہ احمد

    آپ نے کبھی سوچا ہے دنیا میں کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں، جنھیں ہم روپے سے خرید نہیں سکتے۔ جنھیں دعائیں بھی ہمارے پاس نہیں لا سکتیں اور آپ نے کبھی یہ سوچا ہے کہ بعض دفعہ وہ چیزیں ہی ہماری پوری دنیا ہوتی ہیں۔ دل کی دنیا تو کیا زمین پر انسان دل کی دنیا کے بغیر رہ سکتا ہے۔ آپ کو پتہ ہے میں پچھلے تیس سال سے اس دنیا میں رہ کر دل کی دنیا کے بغیر اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ آپ مجھے نہیں جانتے۔ بعض دفعہ تعارف کی ضرورت بھی تو نہیں ہوتی۔ بعض دفعہ شاید کسی چیز کی بھی ضرورت نہیں ہوتی، بس دل چاہتا ہے دنیا میں ”غارحرا” جیسی خاموشی ہو اور ہم اپنے ”اندر” کو باہر لے آئیں۔
    میں جانتا ہوں آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ میری زندگی میں کوئی کمی ہے، کوئی چیز ہے جو میرے پاس نہیں ہے۔ میری کوئی تمنا ہے جو پوری نہیں ہوئی۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ سوچ رہے ہوں کہ میں محبت میں ناکامی کا شکار ہوا ہوں۔ کیا آپ یقین کریں گے کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ میرے پاس سب کچھ ہے، ہر وہ چیز جس کی آپ تمنا کر سکتے ہیں۔ جسمانی خوبصورتی، ایک عدد ڈگری، آٹھ دس بڑی بڑی فیکٹریز، ہر ملکی اور غیر ملکی بنک میں لمبا چوڑا بنک بیلنس، تین جوان، خوبصورت، تعلیم یافتہ اور فرمانبردار بیٹے اور چار پانچ شاندار گھر، محبت میں بھی کسی ناکامی سے دوچار نہیں ہوا۔
    میں نے جس سے محبت کی اسی سے شادی کی۔شادی کے تیس سال بعد بھی میری بیوی مجھ سے اسی طرح محبت کرتی ہے جس طرح پہلے کرتی تھی۔ آج بھی میری ہر بات اس کے لیے فرمان کا درجہ رکھتی ہے۔ آج بھی اسے میرے علاوہ کوئی اور نظر نہیں آتا پھر بھی پتا نہیں میں خوش کیوں نہیں ہوں۔ عجیب بات ہے نا مگر میرے ساتھ ایسا ہی ہے۔ اب شاید آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ میں کسی بیماری کا شکار ہوں یا پھر یہ سب کسی ڈپریشن کے زیر اثر لکھ رہا ہوں۔





    آپ اب بھی غلطی پر ہیں، میں جسمانی اور ذہنی دونوں طرح سے تندرست ہوں۔ کم از کم ہر ماہ ملک کے سب سے بہترین ہاسپٹل میں ہونے والا میرا چیک اپ تو یہی بتاتا ہے۔ میں ہفتے میں تین بار گالف کھیلتا ہوں۔ دو بار سوئمنگ کے لیے جاتا ہوں۔ شام کو گھر کے قریبی پارک میں ایک گھنٹہ کی واک بھی ضرور کرتا ہوں۔ کسی بھی شخص کو ذہنی اور جسمانی طور پر تندرست رکھنے کے لیے کیا اتنا کافی نہیں ہے۔ مجھے معلوم ہے اب آپ مجھے قنوطی یا تاریک الدنیا قسم کا شخص سمجھ رہے ہوں گے۔ کوئی Introvert ٹائپ۔ ایسا بھی نہیں۔ میری ہر شام کسی نہ کسی فنکشن میں ہی گزرتی ہے۔ کبھی وہ گھر پر ہوتا ہے، کبھی کلب میں اور کبھی اپنی کمیونٹی کے کسی دوسرے شخص کے ہاں۔ میں اس لحاظ سے بھی بہت سوشل ہوں۔ ایک اچھی اور پرُسکون زندگی گزارنے کے لیے جتنے لوازمات کی ضرورت ہوتی ہے وہ میرے پاس ہیں پھر بھی پتا نہیں میں خوش کیوں نہیں ہوں۔ ایک منٹ اب میں آپ سے کچھ غلط بیانی کر رہا ہوں۔ مجھے پتا ہے میں خوش کیوں نہیں ہوں مگر تیس سال بعد کسی کو اپنی ناخوشی کی وجہ بتانا کچھ عجیب نہیں ہے کم از کم مجھے تو بہت عجیب لگ رہا ہے۔ کیا آپ کو یقین آئے گا کہ پچھلے تیس سال میں ہر روز چند گھنٹے ایسے ہوتے ہیں جب مجھے اپنا وجود کسی ٹھنڈی قبر میں اترا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ جیتے جی قبر میں اترنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا اور پھر ہر روز۔ مگر بہت سی چیزیں آپ کے اختیار میں نہیں ہوتیں، آپ چاہیں بھی تو۔
    خیر چھوڑیں اس تذکرے کو۔ میں دوبارہ قبر میں اترنا نہیں چاہتا۔
    میں جانتا ہوں اس وقت آپ میں کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو مجھے ناشکرا سمجھ رہے ہوں گے۔ہو سکتا ہے آپ کی تشخیص ٹھیک ہو شاید مجھے یہی بیماری لاحق ہے اور یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ آپ میں سے کچھ لوگ یہ سمجھ رہے ہیں تو ٹھیک سمجھ رہے ہیں، مگر میں ابھی تک یہ طے نہیں کر پایا کہ کیا میں واقعی کسی پچھتاوے کا شکار ہوں۔ نہیں، نہیں آپ غلطی پر ہیں اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ میں کوئی متقی آدمی ہوں جس کی زندگی میں کوئی غلط کام ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی پچھتاوا۔ میرے شش و پنج کی وجہ یہ نہیں ہے۔ میں تو صرف یہ سوچ رہا ہوں کہ پچھتاوا تو باضمیر لوگوں کو ہوتا ہے۔ کیا میں اتنا باضمیر ہوں کہ مجھے پچھتاوا ہونے لگا ہے۔ اور کیا پچھتاوا کسی چیز کی تلافی کر سکتا ہے۔ آپ تلافی کے لفظ کو ایک بار پھر پڑھیے میں ”تلافی” کی بات کر رہا ہوں۔ ”تلافی” کی۔
    میرا دل چاہتا ہے میں ایک بار ملیحہ سے یہ سوال پوچھوں۔ کیا کوئی چیز اس کے نقصان کی تلافی کر سکتی ہے؟
    کیا کوئی چیز اس کے زیاں کا مداوا کر سکتی ہے؟
    کیا کوئی چیز اس کے زخموں کے لیے مرہم بن سکتی ہے؟
    کیا میرا کوئی عمل ببول کے ان کانٹوں سے اس کے وجود کو نجات دلا سکتا ہے جو میری وجہ سے اسے گرفت میں لیے ہوئے ہیں؟
    میں جانتا ہوں آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں اگر ملیحہ سے یہ سوال کرنا چاہتا ہوں تو کرتا کیوں نہیں۔ مجھے کس چیز نے روک رکھا ہے؟
    سوال کرنے کے لیے اس شخص کا سامنے ہونا ضروری ہوتا ہے۔ میں جانتا ہوں آپ کے دل میں خیال آیا ہوگا کہ سامنے ہوئے بغیر بھی کسی دوسرے شخص کے ذریعے یہ سوال پوچھا جا سکتا ہے، مگر پھر یہ ضروری ہوتا ہے کہ اس دوسرے شخص کو اس بندے کا پتا ہو جس سے آپ سوال کر رہے ہیں۔ اب آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ رابطے کی ایک صورت تحریری بھی تو ہوتی ہے۔ میں خط کے ذریعے بھی تو سوال کر سکتا ہوں۔ آپ ٹھیک سوچ رہے ہیں مگر خط لکھنے کے لیے بھی تو اس شخص کا پتا چاہیے ہوتا ہے اور میرے پاس ملیحہ سے رابطے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ میں نہیں جانتا وہ کہاں ہے، کس حال میں ہے، زندہ بھی ہے یا… میں ہمیشہ اس لفظ کی جگہ خالی رکھتا ہوں۔ اس طرح مجھے چند لمحے سانس لینے میں آسانی رہتی ہے۔
    میں جانتا ہوں اب آپ یہ جاننے کے لیے بے تاب ہو رہے ہیں کہ ملیحہ کون ہے؟ میرا اس کے ساتھ کیا رشتہ ہے؟ مجھ سے کون سی غلطی ہوئی ہے؟ مجھے کس بات کا پچھتاوا ہے؟ میں اس کے اتے پتے سے لاعلم کیوں ہوں؟
    میرے پاس ان میں سے کسی سوال کا بھی جواب نہیں ہے۔ وہ کون تھی؟ میرا اس کے ساتھ کیا رشتہ تھا؟ مجھ سے کیا غلطی ہوئی تھی؟ مجھے کس بات کا پچھتاوا ہے؟ میں پچھلے تیس سال سے ان ہی سوالوں کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہوں اور تیس سال گزرنے کے باوجود میرے پاس ایک بھی سوال کا جواب نہیں ہے۔
    *****
    بعض لوگ دوسروں کی زندگی میں غلط مواقع پر آتے ہیں۔ جیسے ملیحہ میری زندگی میں غلط موقع پر آئی تھی۔ بعض لوگ ساری عمر صحیح چیزیں چنتے چنتے بس ایک بار غلط چیز کا انتخاب کرتے ہیں اور یہ غلطی ان کی باقی ساری زندگی کا روگ بن جاتی ہے جیسے ملیحہ نے کبھی میرا انتخاب کیا تھا۔ لوگ اکثر کہتے ہیں خود غرض لوگوں کی خود غرضی ان کے چہرے پر عیاں رہتی ہے۔ مجھے حیرت ہوتی ہے۔ ملیحہ کو تیس سال پہلے میرے چہرے پر یہ خود غرضی نظر کیوں نہیں آئی۔ میرا انتخاب کرنے سے پہلے اسے میرا چہرہ پڑھنا چاہیے تھا۔ غور کرنا چاہیے تھا کہ وہ اپنی زندگی کے لیے کس چیز کا انتخاب کر رہی ہے۔ پتا نہیں اس نے ایسا کیوں نہیں کیا اور مجھے تیس سال سے یہی چیز پریشان کر رہی ہے کہ آخر اس نے ایسا کیوں کیا۔
    میں جانتا ہوں اب تک آپ کے ذہنوں کے اندر سوالوں کا جوار بھاٹا اٹھ رہا ہوگا۔ آپ پریشان نہ ہوں میں آپ کو سب کچھ بتا دوں گا، کم از کم وہ سب کچھ جس کا تعلق میری ذات سے ہے۔
    *****
    میں نے اپنا بچپن بہت غربت میں گزارا تھا۔ دو بہنوں اور دو بھائیوں میں سب سے بڑا تھا۔ میرے والد ایک فیکٹری میں سپروائزر تھے۔ انھوں نے ہمیشہ حلال کی کھانے اور کھلانے کی کوشش کی۔ نتیجہ وہی ہوا جو ایسی صورت میں ہوتا ہے۔ ہم سب بہن بھائیوں کی فرسٹریشن میں بہت اضافہ ہو گیا۔ ہمارے گھر کی اندرونی اور بیرونی حالت ہر ایک سے چلا چلا کر کہتی تھی کہ وہ رزق حلال کا نتیجہ ہے اور یہ حالت بہت سے لوگوں کو بہت کچھ کہنے پر مجبور کر دیتی۔ گھر میں سب سے بڑا میں تھا اس لیے مجھ پر ذمہ داریاں بھی سب سے زیادہ تھیں۔
    بچپن سے ہی مجھے بہت سے ایسے چھوٹے موٹے کام کرنے پڑے جس سے گھر کے اخراجات پورے کرنے میں مدد ملتی۔ چوڑیوں اور مہندی کے سٹالز لگانے سے لے کر ٹیوشنز پڑھانے تک، یونیورسٹی پہنچنے تک میں نے ہر کام کیا۔ محنت کی عظمت کا توخیر کیا اندازہ ہوتا، مجھے دولت کی عظمت کا اندازہ بخوبی ہو گیا۔ میں اکنامکس کا سٹوڈنٹ تھا۔ مجھ سے زیادہ اچھی طرح سے معاشیات کے اصولوں سے کون واقف ہو سکتا تھا۔
    میں ان دنوں ہر Calculation اپنے لیے کیا کرتا تھا۔ کون سی چیز میرے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے، کون سی نقصان دہ۔ کون سی چیز اچھی ہوگی، کون سی بری۔ کون سی چیز ضروری ہے، کون سی ثانوی۔ میں ان دنوں زندگی کے لیے اپنے فارمولے نکالنے میں مصروف تھا۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ میں مکمل طور پر مادہ پرست ہو چکا تھا۔ نہیں، میرا خیال ہے مکمل طور پر نہیں لیکن بڑی حد تک۔ اصل میں یونیورسٹی پہنچتے پہنچتے میں اگر اپنے لیے زندگی کا لائحہ عمل طے کر چکا تھا تو دوسری طرف شہلا کی محبت میں بھی بری طرح گرفتار ہو چکا تھا اور جو لوگ اس مادہ پرست دنیا میں بھی محبت کرتے ہیں۔ وہ مکمل طور پر تو کبھی بھی میٹریلزم کا شکار نہیںہو سکتے۔میں جانتا ہوں آپ کو میرے لفظوں پر اعتبار نہیں آ رہا ہوگا لیکن یہ سچ ہے۔ میں نے زندگی میں شہلا سے بڑھ کر کسی کو نہیں چاہا حتیٰ کہ دولت کو بھی نہیں۔ عجیب بات ہے نا پہلے لوگ محبت میں تقابل کرنے کے لیے کہا کرتے تھے کہ میں نے اپنی ماں سے بڑھ کر کسی کو نہیں چاہا یا گھر والوں سے بڑھ کر یا اولاد سے بڑھ کر اور میں کہہ رہا ہوں کہ میں نے شہلا کو دولت سے بھی بڑھ کر چاہا ہے، کیونکہ اس وقت میرے پاس دولت نہیں تھی اور نہ ہی دور دور تک اس کے حاصل ہونے کا امکان تھا پھر یک دم ہی دولت بھی نظر آنے لگی اور اسے حاصل ہونے کا امکان بھی۔
    عجیب بات ہے میں نے آپ کو شہلا کے بارے میں تو بتا دیا لیکن یہ نہیں بتایا کہ وہ کون ہے؟ محبت کے علاوہ میرا اس سے کیا رشتہ ہے؟ اور ہم دونوں کو آپس میں محبت ہوئی کیسے؟
    شہلا میری خالہ کی بیٹی تھی۔ اس کا گھر ہمارے گھر سے چند قدموں کے فاصلے پر تھا بچپن سے ہی ہم دونوں گھروں کا آپس میں بہت میل ملاپ تھا بلکہ شاید حد سے زیادہ۔ وجہ رشتہ داری سے زیادہ غربت تھی۔ ظاہر ہے جب گھر میں چیزیں کم ہوں تو ان کے حصول کے لیے کہیں نہ کہیں تو جانا ہی پڑتا ہے۔ میری طرح وہ بھی تین بہنوں اور دو بھائیوں میں سب سے بڑی تھی۔ بچپن میں ہی اس کے ساتھ میری نسبت ٹھہرا دی گئی تھی۔ مجھے بچپن سے جوانی تک اس پر کوئی اعتراض اس لیے نہ ہوا کیونکہ وہ بے حد خوبصورت تھی کم از کم یہ وہ چیز تھی جس کے معاملے میں ہم دونوں گھرانوں کو کوئی غریب نہیں کہہ سکتا تھا۔ شکل و صورت کے اعتبار سے ہم سارے بہن بھائی بھی شہلا اور اس کے بہن بھائیوں کی طرح لاکھوں میں نہیں تو ہزاروں میں ایک تھے۔ مگر بہرحال شہلا کی بات کچھ اور ہی تھی۔ اسے جیسے خدا نے خاص طور پر اپنے ہاتھوں سے بنایا تھا۔
    اب میری سمجھ میں نہیں آ رہا کہ میں اس کی خوبصورتی کو کیسے تحریر کروں کیونکہ لفظ کبھی بھی اس حسن کو بیان نہیں کر پائیں گے۔ جو کبھی شہلا کی ملکیت تھا بس آپ سمجھ لیں کہ میں ہمیشہ آگے بڑھنے کے تمام منصوبے اسے ساتھ رکھتے ہوئے بناتا تھا۔ میرا میٹریلزم کبھی بھی اس کے اور میرے درمیان دیوار نہیں بنا تھا۔ عجیب بات ہے نا مگر بہرحال یہ سچ ہے ہم دونوں اکثر اپنے منصوبے ڈسکس کیا کرتے تھے۔ شادی کے بعد کے خیالی پلاؤ پکایا کرتے تھے، وہ اپنی خواہشات بتایا کرتی تھی۔ میں اپنے خواب سنایا کرتا تھا، دونوں کی منزل ایک جیسے راستوں سے گزر کر آیا کرتی تھی۔ کہیں پر کوئی Clash نہیں تھا دونوں کے خواب دولت سے گندھے، مہکے اور بنے ہوئے تھے۔ اس لیے ہمیں ایک دوسرے کی باتوں سے کبھی کوفت اور بیزاری نہیں ہوتی تھی۔
    شہلا کہتی تھی اور اب بھی یہی کہتی ہے کہ اسے مجھ سے عشق تھا اور ہے۔ میرے بغیر وہ ایک دیمک زدہ لکڑی سے زیادہ کچھ نہیں تھی۔ جسے پانی کسی کا سہارا بننے دیتا ہے نہ اپنا، میرے لیے وہ میری زندگی تھی جس کے بغیر میں خواب دیکھ سکتا تھا نہ خواہش کرنے کے قابل تھا۔ ہم دونوں جب اکٹھے ہوتے تو کبھی بھی ”ہم” کے علاوہ ایک دوسرے کے لیے کوئی دوسرا صیغہ استعمال نہیں کرتے تھے۔ بعض دفعہ ایسا شعوری طور پر ہوتا لیکن زیادہ تر غیر شعوری طور پر۔
    میں جانتا ہوں اب آپ میری ان سب باتوں سے اکتا گئے ہوں گے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے یہ کیا الف لیلیٰ سنانی شروع کر دی ہے محبت کے بارے میں۔ اصل میں بات یہ ہے کہ ہم صرف اپنی محبت کے بارے میں بات کرنا، پڑھنا اور سننا چاہتے ہیں کسی دوسرے کی محبت کے بارے میں نہیں۔ ہو سکتا ہے اس وقت آپ بھی اسی کیفیت کا شکار ہو رہے ہوں، بہرحال ٹھیک ہے میں شہلا کا ذکر چھوڑ دیتا ہوں، میں آپ کو بتا رہا تھا کہ اچانک مجھے دولت نظر آنی شروع ہو گئی تھی اور اس کے ملنے کے امکان بھی اور یہ سب کیسے ہوا تھا۔ ملیحہ علی کی وجہ سے۔
    یونیورسٹی میں میرے ساتھ پڑھنے والی بہت سی لڑکیوں میں سے ایک وہ بھی تھی۔ ایک بہت ہی امیر کبیر گھرانے کی واحد چشم و چراغ اس کی ماں کسی زمانے میں مشہور ماڈل رہی تھی۔ مگر علی احمد سے شادی کے بعد اس نے ماڈلنگ چھوڑ دی۔ شادی کے پانچ سال بعد ایک حادثے میں ان کا انتقال ہو گیا تھا۔ ملیحہ اس وقت صرف دو سال کی تھی۔ علی احمد نے اس کی خاطر دوسری شادی نہیں کی۔ انھوں نے اسے اکیلے ہی پالا تھا۔ وہ گریجویشن کر رہی تھی جب ان کا بھی اچانک انتقال ہو گیا تھا، اس کے کوئی قریبی عزیز نہیں تھے جو بھی عزیز تھے وہ دور کے تھے۔ علی احمد یہ عقلمندی کر گئے تھے کہ اپنی زندگی میں ہی اپنے لیگل ایڈوائزر کو اس کا گارجین بنا گئے تھے۔ وہ علی احمد کے انتقال کے بعد ان ہی کے گھر چلی گئی تھی۔ جب تک اس کی شادی نہ ہو جاتی اسے ان ہی کے ساتھ رہنا تھا۔
    وہ ان لڑکیوں میں سے تھی جنھیں ہر لحاظ سے پسند کیا جاتا ہے، جن کے بارے میں ہر ایک کی رائے بہت اچھی ہوتی ہے۔ اس میں اگر کچھ ہاتھ اس کی دولت اور خوبصورتی کا تھا تو باقی ہاتھ اس کی ذہانت اور مینرز کا بھی تھا۔ وہ ہر لحاظ سے بہت نمایاں تھی اسے بات کرنا بھی آتا تھا اور بات منوانا بھی۔ اس کے ہر انداز سے اظہار ہوتا تھا کہ اسے بہت چاہا گیا ہے، اس کا بہت خیال رکھا گیا ہے۔ وہ ہمیشہ اپنے الگ گروپ میں رہتی تھی۔ اس کے خاص دوست تھے جن کی تعداد ہمیشہ محدود ہی رہتی تھی۔ کلاس کے دوسرے لوگوںکی طرح مجھے بھی اس کی بہت سی باتوں نے متاثر کیا تھا۔ مگر بس صرف متاثر ہی کیا تھا میں اس کا گرویدہ ہوا تھا نہ اس پر شیدا ہوا تھا، ان دنوں میری آنکھوںمیں شہلا نام کا بت نصب تھا۔ اس کے ہوتے ہوئے مجھے دوسرا کوئی نظر کہاں آ سکتا تھا۔ ہاں اگر شہلا سے محبت نہ ہو چکی ہوتی تو پھر یقینا میں بھی کلاس کے بہت سے دوسرے لڑکوں کی طرح ملیحہ کی محبت میں گرفتار ہو جاتا یک طرفہ محبت، کیونکہ وہ کبھی کسی کو گھاس نہیں ڈالتی تھی۔




  • سحر ایک استعارہ ہے — عمیرہ احمد

    اس نے آج پھر مجھے فون کیا تھا۔
    ”مریم اسے کہو مجھے معاف کر دے ایک بار صرف ایک بار مجھ سے مل لے، مجھے اپنی شکل دکھا دے۔”
    اس نے التجا کی تھی۔
    ”ایمن یہ میرے بس میں نہیں۔”
    ”کیسے تمھارے بس میں نہیں۔” وہ بے اختیار چلائی تھی۔
    ”تم اسے کچھ کہو اور نہ مانے یہ کیسے ہو سکتا ہے، وہ تمھارے اشاروں پر چلتا ہے اور تم کہتی ہو یہ بات میرے بس میں نہیں یہ کیوں نہیں کہتیں کہ تم ایسا چاہتی ہی نہیں۔”
    اس کی آواز آنسوؤں سے بھیگ رہی تھی۔ میں نے آہستگی سے فون بند کر دیا۔
    اس نے ٹھیک کہا تھا میں واقعی ایسا نہیں چاہتی تھی اور اگر میں چاہتی بھی تو جو دیواریں ان دونوں کے بیچ حائل تھیں انھیں پار کرنا کسی کے بس کی بات نہیں تھی اور پھر اسے کس چیز کی کمی ہے جو وہ میری واحد خوشی کو بھی چھین لینا چاہتی ہے مگر اب میں ایسا نہیں ہونے دوں گی، وہ مریم مر چکی ہے جو اپنے گلے سے پھولوں کے ہار اتار کر اس کے گلے کے کانٹوں کے ہار پہن لیا کرتی تھی اور اس مریم کا مر جانا ہی بہتر ہے۔
    آنکھیں بند کیے کرسی پر جھولتے ہوئے میں مسلسل ایمن کے بارے میں سوچ رہی تھی اس کے فون نے، اس کی آواز اس کی التجا نے اس کے آنسوؤں نے یادوں کی ساری کھڑکیاں کھول دی تھیں اور میں انھیں بند کرتے کرتے تھک گئی تھی۔
    کبھی کبھی اچھا لگتا ہے۔
    رات کے اس پہریوں ماضی میں جھانکنا، جب آپ کو یقین ہو کہ آپ کے پیروں کے نیچے کی زمین اب اپنی جگہ نہیں چھوڑے گی اور یہ جانتے ہوں کہ سر پر موجود آسمان آپ پر نہیں آن گرے گا۔ اب میں ماضی کو آنسوؤں کے ساتھ یاد نہیں کرتی، اتنا سکون اتنا قرار ہے میرے اندر کہ کوئی خلش مجھے بے قرار نہیں کرتی، کھلی کھڑکی سے آنے والی ہوا بہت بھلی لگ رہی ہے۔ کاش یہ یوں ہی ساری عمر مجھے سہلاتی رہے۔
    ”آپ نے پوری کہانی نہیں سنائی اور مجھے سلا دیا۔”




    میرے کمرے میں اچانک ایک آواز ابھری تھی اسامہ نیم اندھیرے میں اپنی موٹی موٹی آنکھیں کھولے مجھے دیکھ رہا تھا پتا نہیں کس وقت اس کی آنکھ کھل گئی تھی مجھے بے اختیار اس پر پیار آیا۔ میں اٹھ کر اس کے قریب بیڈ پر آ گئی اور ٹیبل لیمپ جلا دیا۔
    ”تم سو گئے تھے پھر کہانی کسے سناتی۔”
    اس کے بالوں کو سہلاتے ہوئے میں نے کہا۔
    ”پھر اب سنائیں۔” اس نے میرے گلے میں بانہیں ڈال دیں میں نے اس کا ماتھا چوم لیا گیٹ پر اچانک ہارن کی آواز سنائی دی تھی وہ واپس آ گیا تھا میں نے وال کلاک پر نظر ڈالی رات کے دو بج رہے تھے۔
    ”کہانی سنائیں نا؟” اسامہ نے مجھے خاموش دیکھ کر اصرار کیا۔
    ”سناتی ہوں بھئی سناتی ہوں۔”
    ”تمھیں یاد ہے کہاں تک سنائی تھی؟” اس نے کہانی دہرانی شروع کی میں اس کی طرف متوجہ نہیں تھی۔ اس وقت وہ داخلی دروازہ کھول کر اندر آ گیا ہوگا، میں نے اندازہ لگانے کی کوشش کی تھی میں روز یہی کیا کرتی تھی۔
    ”اب وہ لاؤنج میں آ گیا ہوگا، ملازم نے اس سے چیزیں پکڑی ہوں گی۔” سیڑھیوں پر اس کے قدموں کی آواز آ رہی تھی وہ میرے اندازے کے عین مطابق سیڑھیاں چڑھ رہا تھا۔
    میں جانتی تھی اب تھوڑی دیر میں وہ میرے کمرے میں آنے والا تھا۔ میں نے پیار سے اسامہ کے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔
    ”شہزادی Palace کی کھڑی میں بیٹھ کر روز رویا کرتی تھی مگر کوئی اس کی مدد کو نہیں آتا تھا پھر ایک دن وہاں سے ایک شہزادہ گزرا، اب آگے سنائیں۔” اسامہ نے اپنی سنی ہوئی کہانی کا اعادہ کر دیا تھا اب وہ آگے سے کہانی سننے کا منتظر تھا۔
    ”پھر شہزادے نے شہزادی کو دیکھا…” میں نے کہانی شروع کی قدموں کی چاپ میرے دروازے پر رک گئی تھی اس نے ہینڈل گھمایا اور دروازہ کھول دیا۔
    *****
    وہ خوبصورت تھی بے حد خوبصورت تھی بلکہ بعض دفعہ میں سوچتی تھی کہ کیا دنیا میں کوئی اس سے زیادہ خوبصورت بھی ہو سکتا ہے اور میرا میجک مرر مجھے ہمیشہ یہی بتاتا تھا کہ دنیا میں اس سے زیادہ خوبصورت کوئی نہیں ہے، ہر ایک کی آنکھوں میں اس کے لیے ستائش ہوتی تھی اور مجھے اس پر رشک آتا تھا وہ خوبصورت تھی اور اسے اپنی خوبصورتی کا استعمال آتا تھا، میرے جیسے لوگ اس کے مداح تھے، اس کے معمول تھے وہ جو چاہتی کروا لیتی، مجھ سے چھوٹی تھی اس لیے لاڈلی تھی میری اکلوتی بہن تھی اس لیے بھی مجھے پیاری تھی اور صرف مجھے ہی نہیں سب کو ہی میں امی، ابا سب اس کو آسائش دینے میں لگے رہتے۔
    ”ایمن کو یہ چاہیے ایمن کو وہ چاہیے، ایمن کو یہ پسند نہیں ایمن کو وہ پسند نہیں۔” یہ وہ جملے تھے جو ہر وقت گھر کے کسی نہ کسی فرد کی زبان پر رہتے اور ہم میں سے کوئی بھی اس کی مرضی کے خلاف کوئی بھی کام نہ کرتا، آہستہ آہستہ پورا گھر اس کی مرضی سے چلنے لگا، گھر میں ہر کام اس کی پسند کے مطابق ہوتا، ہر چیز اس کی پسند سے آتی اس کی مرضی کے مطابق رکھی جاتی۔ اور یہ صرف گھر پر ہی بس نہیں تھا وہ مجھے بھی اپنی مرضی اور ضرورت کے مطابق استعمال کرتی تھی گھر میں جو چیز آتی پہلے انتخاب کا حق ایمن کو دیا جاتا پھر میری باری آتی اور پھر پتہ بھی نہیں چلا اور میں ہمیشہ جو چیز بھی لاتی اس میں سے بہترین چیز ایمن کے لیے علیحدہ کرنے کی عادی ہو گئی، کبھی ایسا بھی ہوتا کہ اگر ایک جیسے جوتے یا کپڑے آتے تو ایمن اپنا سلوا کر خاص مواقع کے لیے محفوظ کر دیتی اور کسی عام سی جگہ پر جانے کے لیے بھی میرا والا سوٹ یا جوتا استعمال کرتی، مجھے کبھی اس پر اعتراض نہیں ہوا ہاں امی کو کبھی ہوتا تو وہ بڑے دھڑلے سے کہتی۔
    ”ہاں ایسے عام سے موقع پر اپنا سوٹ پہن کر خراب کر لوں۔”
    ”تو کیا مریم کا خراب نہیں ہوگا۔” امی کہتیں۔
    ”اس کی خیر ہے اسے کون سا اتنا باہر آنا جانا ہوتا ہے۔”
    میں ہمیشہ امی کو بات بڑھانے سے روک دیتی۔
    ”کوئی بات نہیں امی کچھ نہیں ہوتا۔” مجھے اس سے کبھی بھی کوئی شکوہ نہیں ہوا تھا یہ تو عام سی چیزیں تھیں میں تو ضرورت پڑنے پر اس کے لیے جان بھی دینے سے گریز نہیں کرتی مگر ایسا موقع کبھی آیا ہی نہیں۔
    مجھے پتا ہی نہیں چلا کہ میری اس عادت نے کب اسے خود غرض بنا دیا کب اس نے میری ہر چیز ہر حق چھیننا عادت بنا لیا چونکہ مجھے اس سے کوئی حسد نہیں ہوتا تھا اس لیے تب بھی اعتراض نہیں ہوا جب میرے بچپن کے منگیتر سعد نے میری بجائے اس سے شادی پر اصرار کیا تھا۔
    وہ میری خالہ کا بیٹا تھا باقاعدہ منگنی تو ہماری نہیں ہوئی تھی لیکن بچپن سے ہی ہر کوئی جانتا تھا کہ میری شادی سعد سے ہی ہوگی ہم دونوں میں آپس میں بہت ہی کم بات چیت ہوتی تھی بلکہ شادی ہی کبھی ہوئی ہو، وہ بہت کم گو تھا اور سنجیدہ بھی ہمارے گھر اس کا زیادہ آنا جانا نہیں تھا۔ شروع میں وہ پڑھائی میں مصروف رہا اور پھر بعد میں اس نے کاروبار شروع کر دیا تھا آہستہ آہستہ ان کے مالی حالات بہت اچھے ہو گئے تھے وہ ہماری طرح لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھتے تھے خالو واپڈا میں سپرنٹنڈنٹ تھے وہ دو بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا۔ اور MBA کرنے کے بعد اس نے کچھ دوستوں کے ساتھ مل کر امپورٹ ایکسپورٹ کا کام شروع کیا تھا وہ لیدر جیکٹس بنوایا کرتا تھا اور بہت کم عرصے میں وہ لوئر مڈل کلاس سے نکل کر اپر مڈل کلاس میں آ گئے تھے۔
    جب امی نے مجھ سے سعد کی ضد کا ذکر کیا تھا تو چند لمحوں کے لیے تو میں بے یقینی کے عالم میں انھیں دیکھتی رہی پھر میں نے وہی کہا تھا جو میں ہمیشہ کہتی تھی۔
    ”کوئی بات نہیں امی اس میں حرج ہی کیا ہے۔”
    اس بار امی نے مجھے بے یقینی سے دیکھا تھا۔
    ”وہ تمہارا بچپن کا منگیتر ہے۔” انھوں نے کہا تھا۔
    ”ہاں مگر اب وہ مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتا تو اسے مجبور تو نہیں کیا جا سکتا۔”
    ”ہاں مجبور نہیں کیا جا سکتا تو پھر وہ کہیں اور شادی کرے تم سے نہیں تو ایمن سے بھی نہیں۔” امی نے دو ٹوک انداز میں کہا تھا اور میں چپ ہو گئی تھی، شاک مجھے ضرور لگا تھا مگر میں نے ہمیشہ کی طرح خود پر قابو پا لیا میں مضبوط تھی اس لیے یہ صدمہ بھی برداشت کر گئی۔
    پھر ایمن میں حیرت انگیز تبدیلی آئی تھی۔ وہ بات بات پر جھگڑتی، لڑتی اور پھر رونے بیٹھ جاتی، پھر مجھے پتا چلا کہ وہ امی سے اس بات پر اصرار کر رہی ہے کہ وہ سعد کا رشتہ قبول کریں امی اس بات پر تیار نہیں تھیں اور وہ اتنی ہی بضد تھی پتا نہیں یہ سب مجھے اچھا لگا یا نہیں ہاں مگر مجھے یاد ہے کہ میں نے زندگی میں پہلی بار امی سے ضد کی تھی۔ اور اپنی بات منوا لی تھی۔
    ایمن کی شادی سعد سے ہو گئی تھی۔ مجھے یاد ہے میری دوست عالیہ اس بات پر بہت دیر تک مجھ سے لڑتی رہی تھی۔
    ”تم پاگل ہو چکی ہو مریم، تم واقعی پاگل ہو چکی ہو۔” اس نے جاتے جاتے مجھ سے کہا تھا اور میں نے جواباً کہا تھا۔
    ”فاطمہ اس سے کیا ہو جائے گا، میں پہلے بھی اسے اپنی چیزیں دیتی رہی ہوں اور اب بھی سہی۔”
    ”سعد کوئی چیز نہیں ہے سمجھیں تم، دیکھنا تم بہت پچھتاؤ گی جب لوگ یہ پوچھیں گے کہ اتنے سال منگنی رہنے کے بعد تمھارے منگیتر نے تمھیں کیوں چھوڑ دیا تو پھر کیا کہو گی، ایمن جیسے لوگوں کو خود غرض بنانے میں سب سے بڑا ہاتھ تم جیسوں کا ہوتا ہے سمجھیں تم۔”
    ”فاطمہ ویسے سعد کے ساتھ ایمن ہی سجے گی، ان دونوں کی جوڑی بہت خوبصورت لگے گی۔” میں نے بات بدلنے کی کوشش کی تھی۔
    ”بھاڑ میں جائے ان کی جوڑی اور تم بھی۔” وہ دروازہ پٹخ کر باہر چلی گئی تھی مگر مجھے تب بھی کوئی ملال نہیں ہوا۔
    ایمن شادی پر بہت خوبصورت لگ رہی تھی یوں لگتا تھا جیسے وہ کسی اور دنیا سے آئی ہو میں نے خالہ کو اس طرف متوجہ کرتے ہوئے کہا۔
    ”دیکھیں خالہ وہ کتنی خوبصورت لگ رہی ہے۔” انھوں نے ایک نظر اسے دیکھا پھر مجھے دیکھا اور کہا۔
    ”ہاں وہ صرف خوبصورت لگتی ہے۔”
    میں ان کی بات نہیں سمجھی تھی اور سمجھنا بھی نہیں چاہتی تھی سعد اس شادی سے بہت خوش تھا میں نے زندگی میں پہلی بار شادی کے موقع پر اسے قہقہے لگاتے دیکھا تھا اور اسے اتنا خوش دیکھ کر مجھے عجیب سی ندامت کا احساس ہوا تھا اگر مجھے یہ پتا ہوتا کہ مجھ سے پیچھا چھوٹ جانے پر وہ اتنا خوش ہوگا تو میں بہت پہلے یہ کام کر گزرتی۔
    وہ دونوں بہت خوش تھے اور میں ان کی خوشی پر خوش تھی۔
    سعدشادی کے بعد میرا سامنا کرنے سے کترایا کرتا تھا اور یہی حال میرا تھا، میں ان دونوں کو کسی مشکل لمحے سے دوچار نہیں کرنا چاہتی تھی۔ سو کوشش کرتی کہ ان سے زیادہ سامنا نہ ہو۔
    پھر زندگی اپنے معمول پر آ گئی تھی۔ میں نے بی اے کرنے کے بعد ایک اسکول جوائن کر لیا تھا امی نے میرے کئی اچھے رشتے بھی معمولی سی خامی پر ٹھکرا دیے، حالانکہ میں ان سے کہنا چاہتی تھی کہ اب اتنی چھان بین کا کوئی فائدہ نہیں جب سعد نہیں تو پھر کوئی بھی سہی اچھا ہو یا برا اس سے کیا فرق پڑتا ہے، گزارنی تو زندگی ہی تھی اور وہ بہرحال گزر جاتی مگر میں امی سے یہ نہیں کہہ پائی۔
    میں 24 سال کی ہو گئی تھی۔ زندگی آہستہ آہستہ گزرتی جا رہی تھی میری عمر بڑھانے والا ہر سال امی کی پریشانی میں اضافہ کر دیتا مگر میں کیا کر سکتی تھی نہ میں وقت کے پہیے کو روک سکتی تھی نہ امی کی پریشانی ختم کر سکتی تھی ہاں اگر میں کچھ کر سکتی تھی تو وہ صبر تھا اور یہ کام میں برسوں سے کر رہی تھی۔
    دن ایسے ہی گزر رہے تھے جب اچانک ہماری زندگی میں بھونچال آ گیا تھا وجہ اس بار بھی ایمن ہی تھی، وہ سعد سے طلاق چاہتی تھی اور اس کی کوئی معقول وجہ اس کے پاس نہیں تھی اس کی شادی کو چار سال گزر گئے تھے ایک بہت خوبصورت بیٹا بھی تھا اس کا، سعد کا کاروبار ترقی کر رہا تھا گھر میں اس پر کوئی روک ٹوک نہیں تھی، سعد اس پرجان چھڑکتا تھا، پھر بھی وہ طلاق چاہتی تھی اور طلاق حاصل کرنے کے لیے وہ ہمارے پاس نہیں آئی بلکہ اپنی ایک دوست کے گھر اس نے رہائش اختیار کر لی وہ حدید کو بھی چھوڑ گئی تھی۔
    سعد اور خالہ بے حد پریشان تھے اور ہم لوگ صرف پریشان نہیں تھے ہم پر تو جیسے گھڑوں پانی پڑ گیا تھا۔
    ہزار دقتوں کے بعد سعد نے اس کی رہائش گاہ کا پتہ چلایا تھا مگر اس نے سعد سے بات کرنے سے قطعی طور پر انکار کر دیا اور اسی سلوک کا سامنا ہمیں کرنا پڑا جب سعد نے ہمیں اسے سمجھانے کے لیے بھجوایا تھا، پھر ہم ایک بار نہیں بیسیوں بار اسے سمجھانے کے لیے گئے تھے مگر اس نے ہمیشہ ہم سے ملنے سے انکار کر دیا اور آخری دنوں میں تو اس کا چوکیدار ہمیں دیکھ کر گیٹ بھی نہیں کھولتا تھا۔
    پھر جب سعد نے اسے طلاق دینے سے انکار کر دیا تو اس نے خلع کا کیس کر دیا۔ سعد کی حالت ان دنوں پاگلوں جیسی تھی اس کا بسا بسایا گھر اجڑ رہا تھا اور وہ اس کی تباہی دیکھنے پر مجبور تھا، وہ دن میں تین تین بار ایمن کے گھر جاتا کہ شاید وہ اس سے بات کر لے شاید وہ اپنی خفگی کی وجہ بتا دے مگر وہ اس کے سامنے نہیں آئی وہ اس کے وکیل کے سامنے گڑگڑاتا منت کرتا کہ وہ اس سے پوچھیں کہ اس سے کیا غلطی ہوئی ہے اسے کیا چیز بری لگی ہے مگر اس کا وکیل ہمیشہ کہتا۔
    ”وہ کہتی ہے کہ وہ آپ کے ساتھ رہنا نہیں چاہتیں وہ آپ سے طلاق چاہتی ہیں۔”
    اور پھر وہی ہوا تھا جو ایمن نے چاہا تھا سعد نے بہت کوشش کی تھی کہ کیس کو لٹکا دیا جائے مگر ایسا نہیں ہوا ایمن کے وکیل بہت نامی گرامی تھے۔ اور وہ پیسہ پانی کی طرح بہا رہی تھی۔
    کیس کورٹ گیا اور سعد کے کردار کے بارے میں ایمن کے وکیل نے بے شمار باتیں کہیں، انھوں نے جھوٹے گواہوں کے ساتھ کورٹ میں ثابت کر دیا کہ سعد ایک بدکردار شخص ہے جو بیوی کو مارتا پیٹتا ہے، اور اس کی کوئی ذمہ داری پوری نہیں کرتا اور اپنی بیوی کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنے میکے سے روپے لائے اور وہ ایمن کے کردار پر شک بھی کرتا ہے ایسے شخص کے ساتھ کوئی عورت نہیں رہ سکتی۔
    میں جانتی تھی سعد ایسا نہیں ہے وہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا میرے گھر والے جانتے تھے کہ یہ سب غلط ہے مگر عدالت میں اس کے خلاف گواہ موجود تھے، ثبوت تھے اور ایمن بس ایک بار کوٹ میں آئی تھی اور اپنی لاجواب اداکاری سے اس نے سب کو ہرا دیا تھا، آنکھوں میں ہلکی ہلکی نمی لیے آنکھیں جھکائے بکھرے بالوں اور لرزتی آواز کے ساتھ اس نے اپنے بیان سے کیس جیت لیا تھا۔
    کورٹ نے اس کے حق میں فیصلہ دے دیا تھا اور اب ہمارے کرنے کو کچھ نہیں رہا تھا، سعد فیصلہ سن کر وہیں عدالت میں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا تھا مگر ایمن کسی کو دیکھے بغیر ان ہی لوگوں کے ساتھ واپس چلی گئی تھی جن کے ساتھ وہ آئی تھی تب کسی کی سمجھ میں نہیں آیا تھا کہ اس نے ایسا کیوں کیا؟
    ”پچھلے ایک سال سے وہ بہت عجیب ہو گئی تھی، معمولی باتوں پر سعد سے جھگڑتی اس نے سعد سے بے تحاشا فرمائشیں شروع کر دی تھیں، سعد ان سب باتوں سے پریشان تھا، مگر پھر بھی وہ اس کی ہر بات مان لیتا تھا۔ کچھ عرصہ پہلے اس کے پارٹنر نے اپنا بزنس الگ کر لیا تھا سو اسے مالی طور پر کچھ نقصان برداشت کرنا پڑا تھا، پھر ایمن جو فرمائش کرتی اس نے بھی مالی طور پر اسے کافی نقصان پہنچایا تھا، پہلے وہ جتنا جیب خرچ اسے دیتا وہ اس پر ہی بہت خوش تھی کیونکہ وہ اس کی ضرورت سے زیادہ ہوتا تھا مگر اب وہ جتنا بھی دیتا وہ خوش نہ ہوتی بلکہ ہر دو چار دن کے بعد کسی نہ کسی بہانے وہ مزید روپوں کا مطالبہ کر دیتی۔
    وہ ہر وقت گھر سے باہر رہتی تھی اور حدید پر بھی اس کی توجہ کم ہو گئی تھی مگر ہم نے یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ اس طرح کرے گی۔”
    خالہ نے خلع کے بعد ہمیں بتایا تھا حدید بہت چھوٹا تھا اور خالہ اسے سنبھال نہیں پاتی تھیں سو وہ اسے ہمارے گھر چھوڑ گئیں ہم لوگ خالہ اور سعد سے نظر ملانے کے قابل نہیں رہے تھے بلکہ ہم تو کسی کا بھی سامنا نہیں کر سکتے تھے۔ ہر آنے والا یہی تذکرہ چھیڑ کر بیٹھ جاتا اور ہماری ندامت میں اضافہ کرتا جاتا۔
    ایمن نے خلع کے بدلے سب کچھ چھوڑ دیا تھا۔ جہیز کا سامان حق مہر حتیٰ کہ حدید کو بھی، وہ دو سال کا تھا اور ہر وقت روتا رہتا تھا مجھے اس پہ بے تحاشا ترس آتا اور میں سارا دن اسے اٹھائے پھرتی اس کی وجہ سے میں نے اسکول بھی چھوڑ دیا۔ آہستہ آہستہ وہ مجھ سے مانوس ہو گیا مجھے اس سے اس لیے محبت تھی کہ وہ ایمن اور سعد کا بیٹا تھا اور اس لیے بھی کہ اس نے ماں کے ہوتے ہوئے بھی اسے کھو دیا تھا۔
    میں جب بھی اس کا چہرہ دیکھتی، مجھے ایمن یاد آ جاتی، وہ بالکل اس کی کاربن کاپی تھا صرف رنگت کا فرق تھا ایمن سرخ و سفید تھی تو حدید سعد کی طرح گندمی رنگت کا تھا۔
    ”ہم نے سعد سے تمھارے نکاح کا فیصلہ کیا ہے۔”
    خلع کے ایک ماہ بعد ایک رات امی نے مجھ پر قیامت توڑی تھی۔
    ”جتنی ذلت اور رسوائی سعد کو ایمن کی صورت میں برداشت کرنی پڑی ہے اس کا واحد حل یہ ہے کہ میں تم سے اس کی شادی کروا کر ان داغوں کو ختم کر دوں جو ایمن نے اس کے کردار پر لگائے ہیں، لوگ سعد کے بارے میں جو شبہات رکھنے لگے ہیں وہ ختم ہو جائیں گے تمھارے علاوہ حدید کی زندگی تباہ ہو جائے گی آخر شادی تو اسے کرنی ہی ہے تو پھر تم سے کیوں نہیں، پھر تمہاری خالہ اور سعد بھی یہی چاہتے ہیں۔”
    ”سعد بھی یہی چاہتا ہے۔” میں نے سوچا تھا اور ہاں کر دی تھی۔
    ”ہاں واقعی حدید کو میرے علاوہ اور کون چاہ سکتا ہے؟” میرے ذہن سے ابھرنے والی دوسری سوچ حدید کے لیے تھی۔
    میں نے زندگی میں کبھی کوئی مشکل کام نہیں کیا تھا (یہ میرا خیال تھا) اور میں نے سوچا تھا کہ اب مجھے ایک مشکل کام کرنا پڑے گا۔ سعد کو یہ یقین دلانا تھا کہ میں ایمن کی طرح نہیں کروں گی میں ایمن سے بہتر ہوں مجھے اس کے دل میں اور اس کے گھر میں اپنی جگہ بنانی تھی مگر مجھے یہ مشکل کام کرنا ہی نہیں پڑا جس سعد سے میری شادی ہوئی تھی عورت پر سے اس کا اعتبار اٹھ چکا تھا اور میں بھی عورت تھی پھر ایمن کی بہن تھی یہ میری ذات کو اور بھی ناقابل یقین بناتا تھا اور سب سے بڑی بات یہ تھی کہ میں اس کی وہ سابقہ منگیتر تھی جسے وہ ٹھکرا چکا تھا۔
    خالہ کو ہمیشہ مجھ پر یقین تھا اور بعد میں بھی رہا سو مجھے ان کا اعتماد جیتنے کے لیے کچھ بھی نہیں کرنا پڑا، سعد کو نہ پہلے مجھ پر یقین تھا نہ بعد میں ہی کبھی ہونا تھا سو اس کا اعتماد جیتنے کی میری ہر کوشش بری طرح ناکام رہی وہ مجھ سے صرف کام بات کرتا تھا اور جب کرتا بھی تو جھڑکنے یا ڈانٹنے والے انداز میں وہ مجھ سے باقاعدہ لڑتا نہیں تھا شاید میں نے کبھی اس کا موقع ہی نہیں دیا تھا۔
    وہ میری ذات سے ہمیشہ بے نیاز رہتا تھا جیسے میرے ہونے یا نہ ہونے سے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا اور میں جانتی تھی کہ اسے واقعی کوئی فرق نہیں پڑتا تھا، اسے میری کسی ضرورت سے کوئی غرض نہیں تھی وہ ہر ماہ مجھے ایک محدود سی رقم تھما دیتا اور پھر پورا ماہ مجھے اسی رقم میں گزارا کرنا پڑتا تھا، میں اس سے کسی بات کا شکوہ اس لیے نہیں کر سکتی تھی کیونکہ یہ سب میری اپنی بہن کا کھودا ہوا گڑھا تھا جس میں مجھے گرنا پڑا تھا۔ میں سعد کو اس رویے پر حق بجانب سمجھتی تھی سو مجھے کبھی اس سے شکایت نہیں ہوئی تھی بلکہ اس کی ہر زیادتی پر مجھے ایک عجیب سی تسلی ہوتی کہ میں ایمن کی زیادتیوں کی تلافی کر رہی ہوں۔




  • محبت صبح کا ستارہ ہے — عمیرہ احمد

    آج اس کی زندگی کا پہلا انٹرویو تھا اور اپنی باری آنے سے پہلے ہی وہ یہ جاب مل جانے کی امید چھوڑ چکی تھی۔ وزیٹرز روم میں اس کے ساتھ جو دوسری لڑکیاں بیٹھی ہوئی تھیں، وہ ہر لحاظ سے اس سے بہتر تھیں اور وہ خود بھی ذہنی طور پر ان کے حق میں دستبردار ہو چکی تھی۔ مگر پھر بھی وہ انٹرویو دے دینا چاہتی تھی کیونکہ وہاں تک آنے میں وہ کافی کرایہ خرچ کر چکی تھی۔ وزیٹرز روم کے ایک کونے میں بیٹھ کر وہ خاموشی سے اپنے اردگرد بیٹھی ہوئی لڑکیوں کی باتیں اور قہقہے سنتی رہی۔ جس لڑکی کے چہرے پر وہ نظر ڈالتی، اسے لگتا کہ یہ جاب اسے ہی مل جائے گی اور وہ جاب بے شک سیکرٹری کی تھی مگر وہ جس فرم میں تھی اور اس کے ساتھ جو مراعات دی گئی تھیں وہ کافی کوالیفائڈ لڑکیوں کو وہاں کھینچ لائی تھی۔ وہ خود بھی صرف قسمت آزمائی کے لیے آئی تھی ورنہ اسے قطعاً کوئی امید نہیں تھی کہ جو دو لڑکیاں اس فرم کو سیکرٹری کے طور پر چاہئیں ان میں اس کا نام بھی ہو سکتا ہے اور یہاں آ کر تو وہ بالکل مایوس ہو چکی تھی اس وقت وزیٹرز روم میں ایک کونے میں بیٹھی وہ Odd one out کی بہترین مثال لگ رہی تھی۔ کسی قسم کے میک اپ سے بے نیاز چہرے اور گھٹنوں تک لمبی چادر میں خود کو لپیٹے وہ رنگین و سنگین ملبوسات اور لہراتے آنچلوں کی اس بھیڑ میں کافی احمق لگ رہی تھی۔
    اب اسے یاد آ رہا تھا کہ صبح آتے ہوئے خالہ کی بات نہ مان کر اس نے کتنی بڑی غلطی کی تھی جو بار بار اس سے کہہ رہی تھیں کہ وہ اس قسم کی جاب کے لیے جانے سے پہلے اپنا ظاہری حلیہ تو ٹھیک کرے۔ انھوں نے بہت زور لگایا تھا کہ وہ چادر کے بجائے دوپٹہ اوڑھ لے اور کچھ میک اپ اور جیولری بھی پہن لے مگر وہ قطعاً نہیں مانی تھی۔ وہ خوفزدہ تھی کہ اسے اتنی دور جانا ہے اور وہ بھی اکیلے اور اگر وہ کچھ سج سنور کر جائے گی تو کیا ہوگا پھر اس کے ذہن میں یہ بھی تھا کہ وہ ایک فرم میں جا رہی ہے جہاں مردوں کی اکثریت ہوگی اور اگر وہ کچھ بناؤ سنگھار کر کے گئی تو پتا نہیں ان کا رویہ اس کے ساتھ کیسا ہو اور سب سے بڑی بات یہ تھی کہ اسے یہ امید ہی نہیں تھی کہ وہ اسے ملازمت دیں گے، کیونکہ وہ اشتہار میں موجود کوائف پر بھی پورا نہیں اترتی تھی وہ تو صرف اپنی جھجک ختم کرنے کے لیے آئی تھی۔ سو خود پر توجہ دینا اس نے ضروری نہیں سمجھا مگر اب اسے یہ سب باتیں احمقانہ لگ رہی تھیں۔
    ”اگر یہ سب لڑکیاں اس طرح یہاں آ سکتی ہیں تو میں بھی آ سکتی تھی۔ خالہ ٹھیک سمجھا رہی تھیں۔”
    بار بار اس کے ذہن میں یہی خیال آ رہا تھا۔ اس کی باری آ ہی گئی تھی۔ فائل کو سینے سے لگائے چادر سنبھالتی دھڑکتے دل اور لرزتے قدموں کے ساتھ وہ اندر داخل ہوئی۔ اندر کا ماحول اسے ٹھنڈے پسینے دلانے کے لیے کافی تھا۔ وزیٹرز روم کی ڈیکور نے ہی اسے بہت مرعوب کیا ہوا تھا۔ لیکن یہ کمرہ اس سے بھی زبردست تھا۔ دروازہ کھولتے ہی اس کی نظر گلاس ٹاپ ٹیبل کے پیچھے ریوالونگ چیئر میں بیٹھے ہوئے ایک ادھیڑ آدمی پر پڑی تھی۔ دوسرا آدمی قدرے کم عمر تھا اور وہ ٹیبل کی دائیں طرف رکھی ہوئی دو کرسیوں میں سے ایک پر بیٹھا ہوا تھا۔
    ”پلیز تشریف رکھیے۔” ٹیبل کے پاس پہنچنے پر ادھیڑ عمر آدمی نے اسے سامنے رکھی ہوئی کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا۔
    ”پلیز اپنی فائل دکھائیں۔” دائیں طرف بیٹھے ہوئے آدمی نے اس سے کہا تھا کانپتے ہاتھوں سے اس نے فائل اس کی طرف بڑھا دی۔





    ”آپ کا نام؟” ادھیڑ عمر آدمی نے اس سے پہلا سوال کیا تھا۔
    ”رومیصہ عمر۔” اس کے حلق سے بمشکل آواز نکلی تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ دوسرا سوال کرتا۔ کمرے کے بائیں کونے میں موجود ادھ کھلا دروازہ کھول کر کوئی کمرے میں داخل ہوا تھا اور دیوار کے ساتھ شیلف پر رکھے ہوئے کمپیوٹر کو کھڑے کھڑے آپریٹ کرنے لگا تھا۔ وہ صرف اس کی پشت دیکھ سکتی تھی۔ دونوں آدمیوں کی نظر صرف ایک لمحہ کے لیے ادھر گئی تھی اور پھر دوبارہ ان کی توجہ اس پر مبذول ہو گئی تھی۔
    ”آپ کا نام رومیصہ ہے اور آپ کی کوالیفیکیشن؟”
    ادھیڑ عمر آدمی نے دوبارہ سلسلہ وہی سے جوڑا تھا۔ اس نے ٹشو سے ناک پر آیا پسینہ خشک کیا۔ حالانکہ کمرہ میں اے سی چل رہا تھا۔
    ”ایف اے” اسے لگا تھا۔ اس کے جواب پر کمپیوٹر پر کام کرتا ہوا آدمی مڑا تھا۔ مگر وہ اس وقت اپنی توجہ ادھیڑ عمر آدمی پر مبذول کیے ہوئے تھی۔ جس نے اس کے جواب پر اپنی بائیں ابروا چکائی تھی۔
    ”آپ ایف اے پاس ہیں۔ آپ کو علم ہے کہ ہم نے گریجویٹ کے لیے اشتہار دیا تھا۔”
    ”یس۔” اس نے تھوک نگلتے ہوئے جواب دیا تھا۔ کمپیوٹر پر کام کرتا ہوا بندہ اب باقاعدہ رخ موڑ کر اس کی طرف متوجہ ہو چکا تھا۔ ادھیڑ عمر آدمی کچھ دیر تک خاموشی سے اس کا چہرہ دیکھتا رہا پھر اس نے پوچھا۔
    ”آپ کو کوئی تجربہ ہے؟” اس بار اس نے ماتھے پر آیا ہوا پسینہ خشک کیا تھا "No”
    "Can you operate computer?” (آپ کمپیوٹر آپریٹ کر سکتی ہیں) اس نے ایک اور سوال داغا تھا۔
    جواب اب بھی وہی تھا "No”
    "Do you know how to type?” (آپ ٹائپ جانتی ہیں؟)
    اس نے نظر ٹیبل کی چمکتی ہوئی سطح پر جمادی "No”
    ”شارٹ ہینڈ۔” "No”
    "Do you know how to handle telephone exchange?”
    (آپ ٹیلیفون ایکسچینج ہینڈل کر سکتی ہیں) "No” سوالوں کی ایک لمبی قطار کا جواب اس نے ایک ہی لفظ سے دیا تھا۔ ہر بار وہ نظر اٹھاتی اور پھر ٹیبل پر نظر جما لیتی۔
    ”تو بی بی! پھر آپ نے ہمارا وقت ضائع کیوں کیا؟” پہلا جملہ اردو میں اسی ادھیڑ عمر نے بولا تھا مگر اس بار اس کا لہجہ کافی ترش تھا۔ رومیصہ کو اپنی گردن ایک دم دو من کی لگنے لگی تھی۔
    "Who is your favourite actor?” (آپ کا پسندیدہ ایکٹر کون ہے) کمرے کی خاموشی کو اس بار ایک اجنبی آواز نے توڑا تھا۔ رومیصہ نے گردن اٹھا کر ادھیڑ عمر آدمی کو دیکھا تھا، جس کے چہرے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ ابھری تھی۔ پھر اس نے آواز کی سمت میں دیکھا تھا۔ کمپیوٹر پر کام کرنے والا بندہ اب دونوں بازو سینے پر لپیٹے شیلف سے ٹیک لگائے کھڑا تھا۔ چند لمحوں کے لیے تو وہ اسے دیکھتی ہی رہ گئی تھی۔ بلیو جینز اور بلیک شرٹ میں وہ بے حد خوبصورت لگ رہا تھا۔ اس کے چہرے کی سنجیدگی سے یوں لگ رہا تھا جیسے اس نے کوئی بہت اہم سوال پوچھا تھا۔ وہ چند لمحے کچھ کہے بغیر اسے دیکھتی رہی اور پھر اس نے اپنے سامنے بیٹھے ہوئے آدمی کی طرف گردن موڑ لی۔ وہ اس قسم کے سوال کا جواب دینا نہیں چاہتی تھی۔ مگر ادھیڑ عمر آدمی نے کہا۔
    ”آپ اس سوال کا جواب دیں۔”
    ”کوئی بھی نہیں۔” دھیمی آواز میں اس نے کہا تھا۔
    "Why?” (کیوں؟) اس نے پھر اس بندے کو دیکھا تھا جو اب بھی اسی انداز میں کھڑا تھا۔
    ”میں فلمیں نہیں دیکھتی۔” اس نے کہا تھا۔
    "Why?” (کیوں؟) اس بار اس نے بے چارگی سے اسے دیکھا۔ لیکن اس بندے کو شاید اس پر ترس نہیں آیا تھا۔
    "Your favourite T.V actor?” (آپ کا پسندیدہ ٹی وی فنکار؟)
    ”میں ٹی وی نہیں دیکھتی۔”
    "Why?” اس بار پھر وہی سوال دہرایا گیا تھا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کہے۔ اس نے سوال کا جواب دیے بغیر اس بندے کی طرف سے نظر ہٹا کر سامنے دیکھنا شروع کر دیا۔ مگر وہ بھی اپنی جگہ چھوڑ کر ادھیڑ عمر آدمی کی کرسی کی طرف آ گیا تھا۔ جس نے اپنی کرسی اس کے آنے پر خالی کر دی تھی اور خود دوسرے آدمی کے ساتھ والی کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔
    "Who is you favourite author?” (آپ کا پسندیدہ مصنف کون ہے؟)
    اپنا پچھلا سوال دہرانے کے بجائے ریوالونگ چیئر پر بیٹھتے ہی اس نے اگلا سوال کیا تھا۔
    ”میں کتابیں نہیں پڑھتی۔” اسے اپنے بالکل سامنے موجود پا کر وہ کچھ سراسیمہ ہو گئی تھی۔
    "What are your passtimes then?” (پھر آپ وقت کیسے گزارتی ہیں؟) ریوالونگ چیئر پر آگے پیچھے جھولتے ہوئے اس نے اگلا سوال پوچھا تھا۔ اس بار وہ چپ رہی۔
    ”فادر کیا کرتے ہیں آپ کے؟” اس بار اس نے اردو میں پوچھا تھا۔
    ”وہ مر چکے ہیں۔”
    ”اور آپ کی مدر؟”
    ”وہ بہت سال پہلے وفات پا چکی ہیں۔”
    تاسف کا کوئی تاثر اس شخص کے چہرے پر نہیں ابھرا تھا۔ نہ ہی لہجے میں کوئی نرمی آئی تھی۔
    ”بہن بھائی ہیں؟”
    ”نہیں۔”
    ”کس کے پاس رہتی ہیں؟”
    ”خالہ کے پاس۔”
    ”آپ کو پتا ہے سیکرٹری کی جاب کتنی مشکل ہوتی ہے؟” وہ اس کے سوال پر اس کا چہرہ دیکھ کر رہ گئی۔
    ”ہم لوگ بہت سہولیات دیتے ہیں مگر کام میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کرتے۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ورکنگ آورز کے بعد بھی آفس میں ٹھہرنا پڑ جاتا ہے، خاص طور پر جب کوئی ڈیلنگ ہو رہی ہو کسی غیر ملکی پارٹی سے اور ایسا اکثر ہوتا رہتا ہے۔ بعض دفعہ رات تک ٹھہرنا پڑ سکتا ہے۔ آپ یہ شیڈول فالو کر سکتی ہیں؟”
    اس بار اس نے کسی مشکل کے بغیر جواب دیا تھا۔ ”نہیں۔”
    اس شخص نے اس جواب پر چند لمحوں کے لیے دوسرے دو آدمیوں کو دیکھا پھر چیئر کو آگے پیچھے جھلاتے ہوئے وہ کچھ دیر تک اسے دیکھتا رہا جو اب دوبارہ ٹیبل پر نظریں جمائے بیٹھی تھی۔
    ”اگر آپ کو ملازمت دے دیں تو کیا آپ اتنی ہی بڑی چادر اوڑھ کر آتی رہیں گی؟”
    رومیصہ نے کچھ حیرانی سے اپنے مدمقابل کو دیکھا تھا۔
    ”میں دوپٹہ لے لیا کروں گی۔”
    اس شخص کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری تھی اور فوراً ہی غائب ہو گئی تھی۔ مزید کچھ کہے بغیر وہ یک دم کرسی چھوڑ کر کھڑا ہو گیا۔
    ”ٹھیک ہے۔ انھیں اپائنٹ کر لیں اور اپائنٹمنٹ لیٹر ابھی دے دیں۔”
    وہ دوبارہ اس پر نظر ڈالے بغیر ادھیڑ عمر آدمی کو یہ ہدایت دینے کے بعد کمپیوٹر کی طرف چلا گیا تھا اور پرنٹر سے کچھ کاغذات نکالنے کے بعد اسی تیز رفتاری سے اس ادھ کھلے دروازے کے پیچھے غائب ہو گیا۔ وہ ہکا بکا ہو کر اسے جاتے دیکھتی رہی۔
    ”ٹھیک ہے۔ آپ وزیٹرز روم میں بیٹھیں۔ کچھ دیر بعد آپ کو اپائنٹمنٹ لیٹر مل جائے گا۔”
    ادھیڑ عمر آدمی نے اب یکسر بدلے ہوئے لہجے میں اس سے کہا تھا۔ وہ کچھ پوچھے بغیر حیرت کی اسی کیفیت میں باہر آ گئی تھی۔ اس سہ پہر واپس گھر آتے ہوئے بھی وہ حیرانگی کی اس کیفیت سے باہر نہیں آئی تھی۔
    ”کیا انٹرویو ایسا ہوتا ہے؟” بار بار اس کے دماغ میں یہی سوال آ رہا تھا۔
    …***…
    اگر دنیا میں پہلی نظر میں محبت نام کی کوئی چیز تھی تو اس دن نبیل سکندر بری طرح اس کا شکار ہوا تھا۔ یہ صرف اتفاق ہی تھا کہ اس روز اس کے کمرے میں موجود کمپیوٹر خراب ہو گیا تھا اور وہ مینیجر کے کمپیوٹر پر کام کرنے کے لیے ان کے آفس میں گیا جب وہ انٹرویوز ہو رہے تھے۔ ایک سیکرٹری کا انتخاب اسی کے آفس کے لیے ہو رہا تھا مگر وہ ان کے معاملات میں دلچسپی نہیں لیتا تھا۔ ہمیشہ مینیجر ہی انٹرویوز کر کے فرم کے مختلف حصوں کے لیے سیکرٹریز اپائنٹ کیا کرتے تھے اور اسے ان کے انتخاب پر کبھی شکایت نہیں ہوتی تھی۔ سو اس روز بھی کمپیوٹر پر کام کرتے ہوئے وہ آتے جاتے ہوئے امیدوار لڑکیوں پر نظر ڈالتا رہا۔ اچانک اسے کچھ کاغذات کی ضرورت پڑی تھی۔ انھیں لینے کے لیے وہ اپنے آفس گیا تھا اور واپس آ کر وہ پرنٹر سے کچھ ڈاکومنٹس نکال رہا تھا۔ جب غفور صاحب کے سوالوں پر اس نے گھبرائی ہوئی مدھم آواز میں کسی لڑکی کے جواب سنے تھے۔ کچھ دلچسپی سے اس نے مڑ کر دیکھا اور اس لڑکی نے اسے چونکا دیا تھا۔ وہ دوبارہ کمپیوٹر کی طرف متوجہ نہیں ہو سکا۔ غفور صاحب کے سوالوں پر وہ شرمندگی سے سر جھکائے اپنی نااہلیت کا اقرار کرتی رہی۔ وہ زیادہ دیر تک چپ نہیں رہ پایا اور اس نے جان بوجھ کر ایک بہت احمقانہ سا سوال پوچھا تھا۔ اس لڑکی نے چونک کر اسے دیکھا تھا۔ اس کی آنکھوں میں بے پناہ حیرت تھی اور اس کے چہرے پر ابھرنے والے تاثرات نے نبیل سکندر کو کچھ لمحوں کے لیے منجمد کر دیا تھا۔ وہ بے حد خوبصورت تھی اور شاید کچھ اور بھی تھا اس میں کوئی ایسی کشش کوئی ایسی چیز جسے وہ سمجھ نہیں پایا۔ وہ خود کو انٹرویو میں انوالو کرنے سے باز نہیں رکھ سکا۔ وہ جانتا تھا وہ اس کے سوالوں پر بہت پریشان تھی بلکہ روہانسی ہو رہی تھی۔ مگر وہ بس اس سے بات کرنا چاہتا تھا۔ اسے دیکھتے رہنا چاہتا تھا۔ اس کی آواز سننا چاہتا تھا۔ اس نے اسے اپائنٹ کر لیا تھا۔
    انٹرویوز ختم ہونے کے بعد غفور صاحب نے اس کے پاس آ کر اسے فیصلہ کے کچھ مضمرات سے آگاہ کرنے کی کوشش کی تھی مگر اس نے بہت پرُسکون انداز میں کہا تھا۔
    ”وہ سب کچھ سیکھ جائے گی۔ اس میں اتنی صلاحیت ہے اور ویسے بھی وہ میرے آفس میں کام کرے گی، وہاں پر ورک لوڈ اتنا زیادہ ہے بھی نہیں کہ میرے لیے کوئی پرابلم ہو۔ آپ پریشان نہ ہوں۔”
    غفور صاحب نے دوبارہ کچھ کہنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ سمجھدار آدمی تھے۔ جان گئے تھے کہ اس لڑکی کو اس کی خوبصورتی کی وجہ سے جاب دی گئی ہے اور یہ واحد قابلیت تھی جو نبیل سکندر کو متاثر کرتی تھی۔ وہ خود خوبصورت تھا اور خوبصورت چیزوں کے عشق میں گرفتار ہونے کا کافی شوق تھا اسے۔ چاہے وہ کوئی لڑکی ہو یا پھر کسی دکان میں پڑا ہوا ڈیکوریشن پیس۔ وہ دونوں کو ایک ہی طریقے سے سراہتا تھا۔ جب تک دل نہیں بھرتا۔ وہ اس کی نظروں کے سامنے رہتے پھر ان کی جگہ کوئی اور لے لیتا۔ کچھ اس سے بہتر چیز کوئی اس سے اچھی لڑکی۔
    سکندر علی کے چھ بیٹے تھے۔ نبیل سکندر تیسرے نمبر پر تھا۔ اس سے بڑے اشعر اور احمر تھے اور ذیشان، فراز اور ولید اس سے چھوٹے تھے۔ سکندر علی ملک کے چند نامور ایکسپورٹرز میں سے تھے۔ اور نبیل بھی اپنے بڑے بھائیوں کی طرح باپ کے ساتھ سرجیکل اور لیدر گڈز کے بزنس میں شریک تھا۔ اس نے امریکا سے بی بی اے کیا تھا اور پھر اسٹڈیز میں اس کی دلچسپی ختم ہو گئی تھی۔ سکندر علی چاہتے تھے کہ وہ امریکا میں ہی رہے تاکہ وہاں ان کے آفس کو اسٹیبلش کیا جا سکے۔ وہ خود بھی اس پروجیکٹ میں انٹرسٹڈ تھا۔ اس لیے وہ امریکا میں ہی رہنے لگا تھا۔ پانچ چھ سال تک وہ مستقل امریکا میں ہی رہا اور جب وہاں ان کا آفس اچھی طرح اسٹیبلش ہو گیا تو اس نے سال کا کچھ حصہ پاکستان میں گزارنا شروع کر دیا تھا۔
    وہ سال میں تین چار بار پاکستان آتا۔ شادی سے اسے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ وہ اسے ایک فضول ذمہ داری سمجھتا تھا اور سوچتا تھا کہ اگر شادی کبھی کی بھی تو صرف اس وقت کروں گا جب کسی لڑکی سے اتنی انڈر اسٹینڈنگ ہو جائے گی کہ وہ مجھ پر فضول پابندیاں لگانے کی کوشش نہ کرے اور مجھے اپنی زندگی اپنے طریقے سے گزارنے دے۔ یہی وجہ تھی کہ بتیس سال کا ہونے کے باوجود ابھی تک وہ خود کو شادی کے لیے آمادہ نہیں کر پایا تھا۔
    اس کے بڑے دونوں بھائیوں کی شادی ہو چکی تھی اور وہ دونوں بہت پرُسکون زندگی گزار رہے تھے مگر یہ سکون بھی اسے شادی کی طرف اٹریکٹ نہیں کرتا تھا۔ سکندر علی کا وہ لاڈلا تھا اس لیے ان کی طرف سے اس پر کوئی پریشر نہیں تھا اور حیرت کی بات یہی تھی کہ ساری اولاد میں سے سکندر علی اگر واقعی کسی کو چاہتے تھے تو وہ نبیل ہی تھا۔ نہ انھیں اپنے سب سے بڑے بیٹے اشعر سے اتنا لگاؤ تھا نہ سب سے چھوٹے بیٹے ولید سے اتنی محبت تھی۔ جتنی وہ نبیل سے کرتے تھے۔ وجہ شاید یہ تھی کہ نبیل ان سے بہت مشابہت رکھتا تھا۔ یا پھر شاید یہ بات تھی کہ بہت عرصے تک بیرون ملک ان سے الگ رہا تھا، اس لیے وہ اسے زیادہ چاہنے لگے تھے اور شاید ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی تھی کہ نبیل کسی دوسرے کے لیے اچھا ہو یا نہ ہو، وہ کم از کم ایک فرمانبردار بیٹا ضرور تھا۔ وہ نہ صرف فرمانبردار بلکہ بہت محنتی بھی تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اس نے مختصر عرصے میں امریکا میں ان کے لیے ایک اچھی خاصی مارکیٹ بنا دی تھی۔ اس وقت ان کی پچاس فیصد ایکسپورٹس امریکا کو ہی ہو رہی تھیں اور اس میں بڑا ہاتھ نبیل کا تھا۔
    یہی وجہ تھی کہ انھوں نے اس پر کبھی کوئی روک ٹوک کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ نہ ہی کوئی پابندی لگائی تھی۔ ایسا بھی نہیں تھا کہ وہ اس کی حرکتوں کے بارے میں مکمل طور پر بے خبر تھے، مگر پھر بھی وہ اس سب کو نظر انداز کر دیا کرتے تھے۔ سو نبیل سکندر کو ہر معاملے میں خاصی چھوٹ تھی۔ روپے کی اس کے پاس کوئی کمی نہیں تھی اور جس معاشرے میں وہ رہتا تھا وہاں یہ چیز ہو تو پھر کچھ بھی حاصل کیا جا سکتا تھا۔ پھر وہ جسمانی طور پر بھی اتنا خوبصورت تھا کہ صنف مخالف کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کوئی خاص محنت نہیں کرنی پڑتی تھی۔
    امریکا میں اس کی کافی گرل فرینڈز تھیں اور ان میں سے اکثر بہت اچھی فیملیز سے تعلق رکھتی تھیں۔ سکندر علی کو قطعاً اعتراض نہ ہوتا، اگر وہ ان میں سے کسی سے شادی کرنا چاہتا۔ مگر نبیل سکندر کو صرف وقتی تعلق بنانے کی عادت تھی۔ وہ انھیں مستقل کرنے کی کوشش کبھی نہیں کرتا تھا۔ یہ عادت اچھی تھی یا بری، وہ کبھی نہیں جان سکا، کیونکہ اسے اس عادت سے کبھی نقصان اٹھانا نہیں پڑا۔ ایسا بھی نہیں تھا کہ اسے پہلے کبھی کسی سے عشق ہوا ہی نہ ہو، کئی بار ایسا ہوا تھا کہ وہ خود کو محبت کی بیماری میں مکمل طور پر گرفتار سمجھنے لگا تھا۔ مگر یہ کیفیت بہت عارضی ثابت ہوئی تھی۔ مگر اس بار اس نے قدرے مختلف قسم کے جذبات محسوس کیے تھے۔
    …***…




  • میری ذات ذرّہ بے نِشاں — عمیرہ احمد

    میری ذات ذرّہ بے نِشاں — عمیرہ احمد

    ”کیا میں عارفین عباس سے مل سکتی ہوں؟”
    بیل بجانے پر ایک لمبا تڑنگا چوکیدار نمودار ہوا تھا اور اس نے کچھ جھجکتے ہوئے اس سے پوچھا تھا۔
    ”آپ کون ہیں اور کیوں ملنا چاہتی ہیں ان سے؟”
    چوکیدار نے عقابی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے جوابی سوال کیا۔ وہ چند لمحوں کے لیے کچھ بول نہ پائی۔ اس کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔ کچھ بوکھلا کر اس نے چوکیدار کو دیکھا تھا اور پھر پتا نہیں کیا خیال آنے پر پرس میں سے وہ خط نکال لیا جو اس کی ما نے اسے دیا تھا۔
    ”یہ آپ ان کو دے دیں پھر وہ شاید مجھ سے ملنا چاہیں گے۔”
    اس نے خط چوکیدار کی طرف بڑھا دیا۔ وہ کچھ دیر خط ہاتھ میں لیے اس کا چہرہ دیکھتا رہا پھر شاید اسے اس پر ترس آ گیا تھا۔ گیٹ بند کر کے وہ اندر چلا گیا تھا وہ وہیں دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑی ہو گئی تھی۔ پانچ دن پہلے وہ خود بھی عارفین عباس نامی کسی شخص کو نہیں جانتی تھی۔ وہ اب بھی صرف اس کے نام ہی سے آشنا تھی۔
    عارفین عباس کون ہے؟ امی سے اس کا کیا رشتہ ہے؟ وہ اس کی کیا مدد کرے گا؟ ان سوالوں کے جواب ابھی اس کے پاس نہیں تھے اور نہ ہی اس نے ان سوالوں کے جواب پانچ دن پہلے امی سے لینے کی کوشش کی تھی جب انھوں نے اپنی زندگی کی آخری رات کو فرنچ میں لکھا ہوا وہ مختصر خط اور ایک پتا اس کے حوالے کیا تھا۔
    ”اگر میں مر گئی تو اس کے پاس چلی جانا، یہاں اکیلے مت رہنا۔”
    کئی دنوں کے بعد یہ پہلا اور آخری جملہ تھا جو ان کے منہ سے ادا ہوا تھا۔ انھوں نے پھر آنکھیں بند کر کے چہرہ ڈھانپ لیا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ وہ اب زیادہ دن زندہ نہیں رہیں گی لیکن یہ نہیں جانتی تھی کہ اس رات کے بعد وہ دوبارہ انھیں زندہ نہیں دیکھ سکے گی۔ وہ کچھ دیر حلق میں اٹکے ہوئے سانس کے ساتھ انھیں دیکھتی رہی تھی۔ پھر پتا نہیں اسے کیا ہوا، وہ کنگھی اٹھا کر ماں کے پاس آ گئی۔
    ”امی! میں آپ کے بال بنا دوں؟” اس نے گھٹنوں کے بل چارپائی کے پاس بیٹھ کر بڑی بے قراری سے پوچھا تھا۔ آنکھیں کھل گئی تھیں۔ کچھ دیر تک اس پر نظر مرکوز رکھنے کے بعد اس کمزور وجود میں حرکت ہوئی تھی۔ وہ اٹھ کر بیٹھ گئی تھیں۔ یہ اثباتی جواب تھا۔ وہ چارپائی پر ان کے پیچھے بیٹھ گئی اور ڈبڈبائی آنکھوں سے ان کے بکھرے بالوں کو سمیٹنے لگی۔ پتا نہیں کیوں لیکن اس کا دل بار بار بھر آ رہا تھا۔ بال سنوارنے کے بعد وہ پیچھے سے اٹھ کر ماں کے سامنے آ گئی تھی۔
    "دودھ گرم کر دوں؟” اس نے پھر سے پوچھا تھا۔ جی چاہتا تھا۔ آج تو وہ باتیں کریں۔ اپنے وجود پر چھائی ہوئی خاموشی کا وہ حصار توڑ دیں جس نے کبھی اسے ان کے قریب نہیں ہونے دیا۔
    ”نہیں۔ اس کی ضرورت نہیں۔”
    وہ اس پر نظریں جمائے دھیرے سے بولی تھیں پھر بڑی آہستگی سے انھوں نے اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے حصار میں لیا اور اس کا ماتھا چوم لیا۔ وہ ہکّا بکّا رہ گئی تھی اسے نہیں یاد تھا کہ کبھی انھوں نے اس کا ماتھا چوما ہو۔ آج کیا خاص بات تھی۔ ان کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی اور ان کے چہرے کی زردی بھی اس چمک کو ماند کرنے میں ناکام رہ رہی تھی۔ چند لمحوں کے ایک لمس نے اس کے دل میں سے پچھلے کئی برسوں کے گلے شکوے، کدورتیں، ناراضگیاں ختم کر دی تھیں۔
    ”آپ لیٹ جائیں۔” اچانک اسے خیال آیا تھا کہ وہ بیمار ہیں۔ وہ اسی خاموشی سے لیٹ گئی تھیں۔ رات کو سونے سے پہلے اس نے بہت دیر تک اپنا ہاتھ ماتھے پر رکھے رکھا تھا۔ دوسری صبح اس نے ناشتے کے لیے انھیں اٹھانا چاہا تب اسے احساس ہوا کہ وہ زندہ نہیں ہیں۔
    ——————————————————————————————————————————-





    اس نے ایک گہری سانس لے کر گیٹ پر نظریں جما دیں۔ گیٹ کے دوسری طرف سے یک دم قدموں کی آوازیں ابھری تھیں۔ کوئی دروازے کی طرف آ رہا تھا۔ وہ دیوار سے ہٹ کر کھڑی ہو گئی۔ گیٹ میں موجود چھوٹے دروازے کو کھولنے کے بجائے کسی نے بڑی تیزی سے پورے گیٹ کو کھول دیا تھا۔ پچاس پچپن سال کا ایک دراز قد آدمی تھری پیس سوٹ میں اس کے سامنے موجود تھا۔
    ”سارہ؟” وہ اس شخص کے منہ سے اپنا نام سن کر حیران رہ گئی تھی۔ کچھ نروس ہو کر اس نے اپنا سر ہلایا تھا۔
    ”اندر آ جاؤ۔” وہ اس شخص کے لہجے کی نرمی پر حیران ہوتے ہوئے گیٹ سے اندر آ گئی تھی۔
    ”تمہارا سامان کہاں ہے؟” اس شخص نے اس کے اندر آتے ہی پوچھا تھا۔
    ”سامان تو گھر پر ہی ہے۔” اس نے دھیمی آواز میں کہا تھا گھر کو باہر سے دیکھنے پر وہ شش و پنج میں تھی۔ اندر آ کر اضطراب میں مبتلا ہو گئی تھی۔
    ”میں یہاں کیسے رہوں گی؟” بار بار ایک ہی سوال اس کے ذہن میں ابھر رہا تھا۔
    ”ٹھیک ہے۔ آؤ پھر سامان لے آتے ہیں۔” وہ اس کا جواب سن کر بغیر کسی تاّمل کے پورچ میں کھڑی گاڑی کی طرف بڑھ گئے تھے۔ وہ کچھ جھجکتی ہوئی ان کے پیچھے آئی۔
    ”پتا نہیں ان کو وہاں لے جانا ٹھیک ہوگا یا نہیں۔” اس نے سوچا تھا مگر کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے ہی وہ گاڑی کا دروازہ کھول چکے تھے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنے کے بعد انھوں نے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول دیا۔ وہ کچھ تذبذب کے عالم میں اندر بیٹھ گئی۔
    ”آپ عارفین عباس ہیں؟” اس نے اندر بیٹھتے ہی پوچھا تھا۔ ایک ہلکی سی مسکراہٹ ان کے چہرے پر ابھری تھی۔
    ”ہاں، میں عارفین عباس ہوں۔” گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے انھوں نے جواب دیا۔
    ”صبا کیسی ہے؟” انھوں نے گاڑی ریورس کرتے ہوئے پوچھا تھا۔
    ”صبا!” کچھ غائب دماغی کے عالم میں اس نے نام دہرایا تھا۔ پھر ایک جھماکے کے ساتھ اس کے دماغ کی اسکرین پر ماں کا چہرہ ابھرا تھا۔
    ”امی؟” بے اختیار اس کی زبان سے نکلا۔
    ”ہاں کیسی ہے وہ؟” عارفین عباس گاڑی گیٹ سے باہر نکال چکے تھے۔ وہ چند لمحوں تک چپ رہی۔ گاڑی سڑک پر بڑھاتے ہوئے انھوں نے ایک بار پھر اس سے وہی سوال کیا تھا۔
    ”امی مر چکی ہیں۔” بے حد دھیمی آواز میں آنسوؤں پر قابو پاتے ہوئے اس نے جواب دیا تھا۔ گاڑی ایک جھٹکے سے رک گئی تھی۔
    ”صبا مر چکی ہے؟” عارفین کے لہجے میں بے یقینی تھی۔
    ”ہاں!” اس نے سر جھکاتے ہوئے جواب دیا۔ وہ ان کے چہرے کو دیکھنا نہیں چاہتی تھی۔ گاڑی میں کچھ دیر تک خاموشی رہی۔
    ”کب؟” آواز اب پہلے کی طرح مستحکم نہیں تھی۔
    ”پانچ دن پہلے۔” عارفین عباس نے اسٹیرنگ پر ماتھا ٹکا لیا تھا۔ اس نے سر اٹھا کر انھیں دیکھا۔ وہ رو نہیں رہے تھے۔ بس ان کی آنکھیں بند تھیں اور ہونٹ بھنچے ہوئے تھے۔ وہ خاموشی سے انھیں دیکھتی رہی۔ فرنچ میں لکھی ہوئی وہ تحریر اس کی نظروں کے سامنے آ گئی تھی۔
    عارفین!
    سارہ کو اپنے پاس رکھ لینا، اسے میرے خاندان کے پاس مت بھیجنا۔ ماضی دہرانے کی ضرورت نہیں ہے بس اس کا خیال رکھنا۔
    صبا
    ”امی کا ماضی کیا ہو سکتا ہے جسے وہ مجھ سے چھپانا چاہتی ہیں۔ اپنی مرضی کی شادی، خاندان کا شادی قبول کرنے سے انکار، ان کا گھر سے چلے جانا، ابو کی موت، امی کا واپس جانا نہ خاندان سے کوئی رابطہ رکھنا۔” اس نے ہمیشہ کی طرح کڑی سے کڑی ملالی تھی۔ وہ پہیلیاں بوجھنے میں ہمیشہ سے ہی اچھی تھی۔
    ”لیکن امی کو جان لینا چاہیے تھا کہ میں کبھی بھی بے وقوف نہیں رہی۔” اس نے سوچا۔ ”اور یہ شخص جو اس خبر پر اس قدر نڈھال ہے۔ یہ کون ہو سکتا ہے۔ یقینا امی کو پسند کرتا ہوگا اور امی نے اس سے شادی نہیں کی ہوگی۔ میرے ابو کی وجہ سے اسے ٹھکرا دیا ہو گا۔” اس نے عارفین عباس کی گتھی بھی سلجھا لی تھی۔ ”اور اگر امی اس سے شادی کر لیتیں تو ہم کتنی اچھی زندگی گزار سکتے تھے۔ لیکن پتا نہیں یہ محبت نام کا عذاب کیوں چمٹ جاتا ہے جو کچھ سوچنے ہی نہیں دیتا۔”
    اس نے رنجیدگی سے سوچا تھا۔ عارفین عباس نے اب اسٹیرنگ سے سر اٹھا لیا تھا۔ انھوں نے دوبارہ اس پر نظر نہیں ڈالی، سارہ کو ان پر بے تحاشا ترس آیا۔ عارفین عباس نے اس سے پتا پوچھا تھا۔ ان کا چہرہ دیکھتے ہوئے اس نے پتا بتا دیا۔
    ”آپ امی کے کیا لگتے ہیں؟” اس نے پتا بتاتے ہی ان کے چہرے پر نظر جمائے سوال کیا تھا۔
    ”وہ میری چچازاد تھی۔” آواز میں شکستگی تھی۔
    ”امی کے والدین زندہ ہیں؟” اس نے اگلا سوال کیا تھا۔
    ”امی فوت ہو چکی ہیں، ابو امریکہ میں ہیں۔”
    ”امی کے کوئی بہن بھائی ہیں؟” اس کی بے تابی میں اضافہ ہو گیا تھا۔
    ”تمہاری ایک خالہ اور ایک ماموں ہیں۔ وہ دونوں بھی امریکہ میں ہی ہوتے ہیں۔” وہ سڑک پر نظریں جمائے اس کے سوالوں کا جواب دے رہے تھے۔
    ”میرے ابو کے بارے میں کچھ جانتے ہیں؟” اس نے جی کڑا کے ان سے پوچھ لیا تھا۔
    ”تمہاری امی نے تمھیں ان کے بارے میں کچھ نہیں بتایا؟” عارفین عباس نے اس بار بھی اسے دیکھے بغیر کہا تھا۔
    ”بس اتنا کہ ان کی ڈیتھ ہو چکی ہے۔”
    اس بار عارفین عباس نے اس کا چہرہ دیکھا تھا۔ ”ہاں ان کی ڈیتھ ہو چکی ہے۔” بے حد عجیب لہجے میں انھوں نے کہا تھا اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور پوچھتی، انھوں نے پوچھا تھا۔
    ”تم پڑھتی ہو؟”
    ”نہیں۔ گریجویشن کرنے کے بعد پڑھنا چھوڑ دیا، اب ایک فیکٹری میں کام کرتی ہوں۔”
    ”کیا کام کرتی ہو؟”
    ”سپروائزر ہوں۔” گاڑی میں خاموشی چھا گئی تھی۔ اس کے فلیٹ تک پہنچنے تک یہ خاموشی قائم رہی۔ گاڑی سے اتر کر اس پرانی تنگ و تاریک عمارت کی سیڑھیاں طے کرتے وہ خاموشی سے اس کی پیروی کرتے ہوئے تیسری منزل پر پہنچ گئے تھے۔ سارہ نے اپنے بیگ سے چابی نکالی تھی اور دروازے پر لگا ہوا تالا کھول کر اندر داخل ہو گئی عارفین عباس بھی اندر چلے گئے تھے۔ سیلن زدہ ایک کمرے کا فلیٹ اپنے مکینوں کی مالی حالت چیخ چیخ کر بتا رہا تھا۔
    ”آپ بیٹھ جائیں۔” سارہ نے ایک کرسی کھینچ کر ان کے سامنے رکھ دی تھی۔ عارفین خاموشی سے کرسی پر بیٹھ گئے۔
    ”کیا آپ مجھے اپنے پاس رکھ سکیں گے؟” وہ سوال جو پورا راستہ وہ ان سے کرنا چاہ رہی تھی مگر کر نہیں پائی تھی، اس کی زبان پر آ گیا۔ عارفین عباس اس کی بات پر چونک اٹھے تھے۔
    ”یہ سوال کیوں کیا تم نے؟”
    ”میرا مطلب ہے، آپ کی فیملی کو تو کوئی اعتراض نہیں ہوگا؟” اس نے اپنی بات واضح کی تھی۔
    ”میری کوئی فیملی نہیں ہے۔ صرف ایک بیٹا ہے اور اسے کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔”
    وہ کھڑے ہو گئے تھے۔ وہ کچھ دیر بیگز میں کپڑے اور چیزیں بھرنے میں مصروف رہی۔ سامان پیک کرنے کے بعد اس نے کمرے پر ایک نظر دوڑائی تھی۔ اس کا بس چلتا تو وہ ہر چیز اٹھا کر ساتھ لے جاتی لیکن وہ جانتی تھی کہ اس کمرے کی ہر چیز اس گھر میں کاٹھ کباڑ سے زیادہ اہمیت نہیں پا سکے گی۔ اس لیے اس نے صرف اپنے کپڑے اور امی کی کچھ چیزیں ساتھ لی تھیں۔ عارفین عباس اب کھڑکی میں کھڑے باہر جھانک رہے تھے۔
    ”کب سے رہ رہے ہو تم لوگ یہاں؟” باہر دیکھتے ہوئے انھوں نے اس سے پوچھا تھا۔
    ”ہمیشہ سے۔” انھوں نے اس کے جواب پر مڑ کر اندر دیکھا تھا۔ وہ بیگز اٹھانے لگے تو اس نے انھیں روکنے کی کوشش کی تھی۔
    ”آپ رہنے دیں۔ میں خود اٹھا لوں گی۔”
    ”تم نہیں اٹھا سکتیں۔” انھوں نے بیگز اس کے ہاتھ سے لے لیے تھے۔
    ”میں آپ کو کیا کہہ کر پکاروں؟” اس نے انھیں دروازے کی طرف جاتے ہوئے روکا تھا۔ عارفین عباس خاموشی سے اس کا چہرہ دیکھتے رہے۔
    ”جو کہنے میں آسانی ہو کہہ سکتی ہو۔ چاہو تو… پاپا کہہ سکتی ہو۔” وہ ان کی بات پر گم صم ہو گئی۔ عارفین عباس کمرے سے چلے گئے تھے۔
    ——————————————————————————————————————————-

  • عورت، مرد اور میں — عمیرہ احمد

    ”عورت، مرد اور میں” میری پہلی غیر مطبوعہ تحریر ہے جو کسی ڈائجسٹ میں شائع ہونے کی بجائے پہلی بار ایک کتاب میں شائع ہو رہی ہے۔ اپنی اس تحریر میں میں نے عورت، مرد اور شیطان کی مثلّت اور ان کے باہمی تعلق کو روائتی انداز کی بجائے ایک نئے انداز سے پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

    عمیرہ احمد
    *******************
    عورت

    میں ایک عورت ہوں… یہ میری وہ شناخت ہے جس پر سب متفق ہیں… مگر بعض دفعہ مجھے بہت سے رشتوں کے حوالے سے بھی پکارا جاتا ہے جیسے ماں، بہن، بیٹی، بیوی، بہو، ساس وغیرہ وغیرہ… میرے لیے استعمال ہونے والے لفظوں کا ذخیرہ یہیں ختم نہیں ہو جاتا… طوائف، کال گرل اور گرل فرینڈ جیسے لفظ بھی میرے لیے ہی مخصوص ہیں… اور ہاں بعض دوسرے لفظ بھی ہیں جن سے مجھے پکارا جاتا ہے۔ مثلاً فساد کی جڑ، مصیبت، نحوست، فتنہ، پاؤں کی جوتی، اللہ میاں کی گائے، لعنت وغیرہ وغیرہ… بعض ایسے لفظوں سے بھی مجھے پکارا جاتا ہے جن کا اظہار کرنا اور انھیں یہاں تحریر کرنا مناسب نہیں ہوگا… تحریر کرنے کی ضرورت بھی کیا ہے اگر آپ مرد ہیں تو یقینا آپ ان القابات سے واقف ہی ہوں گے جن سے آپ گھر سے باہر والی عورت کو پکارتے ہیں… اس عورت کو جس سے آپ کا دور یا نزدیک کا کوئی رشتہ نہیں ہوتا… بس آپ اسے کہیں دیکھ لیتے ہیں… ہوٹل میں، پارک میں، سڑک پر، یونیورسٹی میں، آفس میں… کہیں بھی… اور اگر آپ ایک عورت ہیں تو بھی آپ ان تمام الفاظ سے واقف ہی ہو ںگی کیونکہ زندگی میں کبھی نہ کبھی آپ گھر سے باہر ضرور گئی ہوں گی اور پھر آپ نے اپنے لیے ایسا کوئی لفظ سنا ہی ہو گا۔
    اب تک آپ یقینا میرا ایک امیج بنا چکے ہوں گے (ان سب الفاظ، القاب اور ناموں کی روشنی میں)… بہرحال ایک لفظ جو میرے لیے کبھی صحیح معنوں میں استعمال نہیں کیا گیا اور جس لفظ کے حوالے سے میری شناخت کبھی نہیں ہوئی وہ ”انسان” کا لفظ ہے… مجھے ہمیشہ یہ حسرت رہی ہے کہ کاش کبھی مجھے کوئی ”تم عورت ہو” کہنے کی بجائے ”تم انسان ہو” کہے… کبھی ایک بار… بھول چوک سے۔
    حیران ہو رہے ہیں نا آپ… کہ آخر انسان لفظ میں ایسی کیا بات ہے کہ میں اپنے لیے یہ لفظ استعمال کروانا چاہتی ہوں… انسان لفظ اشرف المخلوقات کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اگر کبھی کسی نے میرے لیے یہ لفظ استعمال کیا ہوتا تو میں بھی خود کو دوسری مخلوقات سے برتر اور افضل سمجھتی… چند لمحوں کی خوشی ملتی… کچھ دیر سکون رہتا… دوسری مخلوقات سے میری مراد جانوروں اور کیڑوں سے ہے… اور ہاں درختوں اور پودوں کو بھی ان میں شامل کر لیں… تو میں بس خود کو ان چیزوں سے بہتر سمجھتی… مگر… مگر آپ کبھی بھی یہ مت سوچیں کہ میں ان مخلوقات میں مرد کو بھی شامل کر رہی ہوں… میں نے بتایا ناکہ میں خود کو صرف جانوروں، کیڑوں اور پودوں سے ہی برتر سمجھتی… جانوروں میں خاص طور پر کتے سے… کیڑوں میں خاص طور پر چیونٹی سے… اور پودوں میں خاص طور پر گھاس سے… مگر میں آپ کو ایک بار پھر یاد دہانی کروا رہی ہوں کہ میں مرد کو ان مخلوقات میں شامل نہیں کر رہی… میں ایسا کرنے کی جرأت ہی نہیں کر سکتی۔
    عورت اللہ کی ایک ایسی تخلیق ہے۔ جس سے اس کی پوری زندگی میں کوئی بھی خوش نہیں ہوتا… خوش رہنا تو درکنار کوئی اسے پسند تک نہیں کرتا… مگر اس کے باوجود اسے برداشت کرنا پڑتا ہے کیونکہ اس کی ضرورت پڑتی رہتی ہے… بالکل ویسے ہی جیسے زمین کتنی ہی بنجر، گرم اور کھردری کیوں نہ ہو کوئی بھی یہ خواہش نہیں کرتا کہ پیروں تلے سے زمین غائب ہو جائے کیونکہ قدم جمانے کے لیے پیروں کے نیچے کسی نہ کسی چیز کی ضرورت تو ہوتی ہے، چاہے وہ بنجر، گرم اور کھردری زمین ہی کیوں نہ ہو… اس بنجر، گرم اور کھردری زمین پر کوئی خوشی سے پاؤں رکھے یا ناراضگی سے… بہرحال پاؤں تو رکھنا ہی پڑتا ہے… اور میں بھی پیروں کے نیچے آنے والی ایسی ہی چیز ہوں۔





    آج سے بہت سال پہلے اللہ نے انسان کو بنایا یعنی مرد کو… اس وقت اللہ نے مجھے اس کے ساتھ نہیں بنایا… صرف مرد ہی کو بنایا… پھر مرد کو علم عطا کیا اور سارے فرشتوں کو اسے سجدہ کرنے کو کہا… میں اس وقت بھی نہیں تھی… مجھے اللہ نے اس کے کافی دیر بعد بنایا اور عجیب بات یہ ہے کہ مرد کو اللہ نے مٹی سے بنایا۔ بے جان مٹی سے، بے رونق مٹی سے، ایسی مٹی جس میں خوشبو تک نہیں تھی لیکن مجھے اللہ نے مرد کی پسلی سے پیدا کیا۔ عجیب بات ہے ناکہ مجھے اس نے ایک ایسی چیز سے بنایا جسے اللہ نے علم کی طاقت دی جسے اللہ نے فرشتوں سے سجدہ کروایا۔ جس کو سجدہ کرنے سے انکار پر ابلیس ہمیشہ کے لیے معتوب قرار دے دیا اور جسے اللہ نے زمین پر اپنی خلافت کے لیے منتخب کیا۔ کیسی عجیب بات ہے نا کہ مرد کے لیے استعمال ہونے والا میٹریل بالکل عام اور معمولی تھا مگر مجھے بنانے کے لیے لیا جانے والا میٹریل اتنا اعلیٰ تھا۔ پھر بھی زمین پر مجھے کبھی وہ عزت، قدر اور اہمیت حاصل نہیں ہوئی جو مرد کو حاصل ہوئی۔
    بہرحال جنت میں اپنی تخلیق کے بعد میں تو اس بات پر ہی بہت نازاں تھی کہ مجھے اللہ نے ایسے اعلیٰ میٹریل سے بنایا ہے اور مجھے اس مخلوق کا ساتھی بنایا ہے جسے اللہ نے زمین پر خلافت کے لیے منتخب کیا ہے۔ مجھے بنانے کا مقصد آرام اور سکون تھا عجیب بات ہے نا کہ میرے جیسی مخلوق کی تخلیق کا مقصد ہی آرام اور سکون تھا یعنی اللہ تعالیٰ نے تکلیف کا عنصر ہی میرے وجود میں نہیں رکھا تھا۔ میرے لیے یہ بہت فخر کی بات تھی۔
    میں جنت میں اس مرد کی ہمراہی میں بہت خوش اور مسرور تھی جس کے لیے مجھے تخلیق کیا گیا تھا اور جسے زمین پر اپنی خلافت کے لیے اللہ نے منتخب کیا تھا۔ میں آپ کو بتا چکی ہوں کہ میری تخلیق کا مقصد ہی آرام اور سکون پہنچانا تھااور جنت میں اپنے قیام کے دوران میں نے پوری کوشش کی کہ اپنے ساتھی کو آرام اور سکون پہنچاؤں۔ اس کے لیے ایک اچھا ہم راز ثابت ہو سکوں۔ ایک اچھا ساتھی بن پاؤں۔ میرا خیال ہے میں اپنی اس کوشش میں بڑی حد تک کامیاب تھی کیونکہ میرے ساتھی کو کبھی مجھ سے شکایت نہیں ہوئی اور اس نے ہمیشہ مجھ سے پیار اور محبت کا سلوک کیا وہاں پہلی بار مجھے محسوس ہوا کہ وہ میری عزت بھی کرتا ہے اور اسے میری ضرورت بھی تھی اور اس احساس نے میرے اعتماد کو اور بڑھا دیا۔ کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور بات قابل فخر ہو سکتی ہے کہ کوئی آپ سے محبت اور عزت کا سلوک کرتا ہے اور کسی کو آپ کی ضرورت بھی ہے۔ ان دنوں میں واقعی بہت خوش ہوا کرتی تھی بلکہ یہ کہنا زیادہ بہتر ہے کہ ہم دونوں ہی بہت خوش ہوا کرتے تھے نہیں شاید یہ کہنا صحیح نہیں ہے کیونکہ مرد تو آج بھی بہت خوش ہے… ہاں اگر کسی کی خوشی میں کمی آئی ہے تو وہ میں ہوں…
    نہیں میرا خیال ہے آپ اس جملے کو اس طرح پڑھیں تو زیادہ بہتر ہوگا کہ اگر کسی کی خوشی ختم ہو گئی ہے تو وہ میں ہوں۔
    بہرحال میں آپ کو بتا رہی تھی کہ ان دونوں میں بہت خوش تھی۔ ہم دونوں جنت کے باغوں میں پھرا کرتے۔ وہاں کی خوبصورتی کو سراہتے اور وہاں کی آسائشوں سے لطف اندوز ہوتے اور پھر اپنے پروردگار کا شکر ادا کرتے جس نے ہم پر اپنا اتنا رحم و کرم نازل کیا تھا۔ ہم دونوں کا خیال تھا کہ ہماری ساری زندگی اسی طرح پرُسکون گزرے گی۔ کہیں کوئی مشکل نہیں آئے گی مگر یہ ہماری خوش فہمی تھی۔ ہم اپنی خوشیوں میں مگن ہو کر ابلیس کو بھول ہی گئے تھے۔
    ابلیس کو تو آپ جانتے ہی ہیں یہ وہی تھا جس نے اللہ کے کہنے کے باوجود میرے ساتھی کو سجدہ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ جب میری تخلیق کی گئی تو مجھے اس قصہ کا بھی پتہ چلا اور آپ یقین کریں کہ مجھے ابلیس کو دیکھے بغیر ہی اس سے شدید نفرت ہو گئی۔
    اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ بھلا میری نفرت کی وجہ کیا تھی۔ آخر ابلیس نے مجھے سجدہ کرنے سے تو انکار نہیں کیا تھا۔ آپ صحیح سوچ رہے ہیں لیکن کیا نفرت کی یہ وجہ مناسب نہیں ہے کہ اس نے میرے ساتھی کو سجدہ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس ساتھی کو جسے اللہ نے علم سے نوازا تھا اور جسے زمین پر اپنی خلافت سونپی تھی اور… اور جس سے میں شدید محبت کرتی تھی۔ ابلیس نے اسے سجدہ کرنے سے انکار کر کے اسے تکلیف پہنچائی جس کے آرام اور سکون کے لیے مجھے تخلیق کیا گیا تھا اور ان سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ابلیس نے اللہ کی نافرمانی کی۔ مجھے حیرانی ہوئی تھی کہ کوئی اپنے خالق کی نافرمانی کیسے کر سکتا ہے۔
    ہزاروں سال ابلیس اپنے خالق کے پاس رہا اس کی مہربانیوں اور عنایات سے مستفید ہوتا رہا اس کی حمد و ثناء بھی کرتا رہا اور پھر اللہ نے اسے ایک معمولی سا کام کرنے کے لیے کہا اور اس نے نہ صرف انکار کر دیا بلکہ یہ قسم کھائی کہ وہ ازل تک انسان کو بھٹکائے گا، گمراہ کرے گا اور اللہ کی نافرمانی پر اکسائے گا۔ ایسی نافرمانی پر جیسی نافرمانی پر وہ خود مغضوب ہوا تھا۔ کسی چیز سے نفرت کے لیے کوئی اس سے زیادہ وجوہات تو پیش نہیں کر سکتا۔ بس انہی سب باتوں کی وجہ سے مجھے ابلیس سے بے حد نفرت ہو گئی اور میں نے یہ بھی طے کیا تھا کہ میں اس کے جھانسے میں نہیں آؤں گی۔ میں کبھی اللہ کی نافرمانی نہیں کروں گی اور آپ یقین کریں کہ جہاں تک مجھ سے ممکن ہوا۔ میں نے اس کے فریب میں نہ آنے کے لیے اپنی پوری کوشش کی مگر ابلیس اتنا کمزور نہیں تھا جتنا میں نے اسے سمجھ لیا تھا۔ وہ جو اس نے خدا سے کہا تھا کہ میں ان پر بار بار وار کروں گا تو اس نے ایسا ہی کیا اور مجھے پتا ہی نہیں چلا۔ کب میں اس کے فریب میں آ کر گمراہ ہو گئی۔
    اس میں میرا بھی اتنا قصور تو نہیں تھا اگر میرے ساتھی جیسا باعلم انسان اس کے فریب میں آ سکتا ہے تو پھر میں کہاں بچ سکتی تھی پھر آپ خود سوچیں کہ یہ کام میرے ساتھی کا تھا کہ وہ مجھے شیطان کے فریب میں آنے سے بچاتا آخر یہ وہی تو تھا جسے خدا نے علم کی نعمت سے نوازا تھا اور اپنا نائب بنایا تھا پھر میری نگہبانی کا ذمہ بھی تو اسی کے سپرد کیا گیا تھا مگر ایسا نہیں ہوا۔ مجھے شیطان کے چنگل سے چھڑانے کے بجائے وہ خود بھی شیطان کے فریب میں آ گیا۔
    پھر ہم دونوں نے مل کر اللہ کی صریح نافرمانی کی جس درخت کے پاس جانے سے اللہ نے ہمیں منع فرمایا تھا ہم دونوں نہ صرف اس کے پاس گئے بلکہ اس کا پھل بھی کھایا پھر اللہ ہم سے ناراض ہو گیا اور سزا کے طور پر اللہ نے ہم دونوں کو زمین پر بھجوا دیا۔
    یہ ہم دونوں کی وہ غلطی تھی جس کی ساری ذمہ داری مرد نے مجھ پر عائد کر دی اور یہ ایسی غلطی تھی جس کے لیے خدا نے مجھے معاف کر دیا مگر مرد نے آج تک معاف نہیں کیا۔ کتنی صدیاں گزر چکی ہیں مگر آج بھی مرد مجھے مورد الزام ٹھہراتا ہے کہ میرے بہکاوے میں آ کر اس نے اللہ کی نافرمانی کی… آپ خود سوچیں میرے جیسی بے علم کیا اتنی طاقتور ہو سکتی تھی کہ وہ مرد جیسے باعلم کو فریب دے سکتی؟ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ مرد ابلیس کے بجائے اس غلطی کے لیے مجھے الزام کیوں دیتا ہے میں نے تو کبھی اسے الزام نہیں دیا کہ مجھے شیطان کے بہکاوے میں آنے سے بچانے کے لیے اس نے اپنے علم کی طاقت کو استعمال کیوں نہیں کیا۔ مگر وہ کسی طرح بھی مجھے بخشنے پر تیار نہیں ہے اس کا خیال ہے کہ اگر میں اسے نہ بہکاتی تو اسے کبھی زمین پر نہ آنا پڑتا وہ ہمیشہ جنت میں ہی رہتا۔
    کیا آپ اس کی اس بات پر یقین کر سکتے ہیں؟ ہو سکتا ہے آپ کو اس کی اس بات پر یقین آ جائے مگر کیا آپ نے یہ سوچا ہے کہ خدا نے اسے زمین پر اپنا نائب کیسے بنا دیا جب مرد کے بقول اگر میرے بہکاوے میں نہ آنے پر وہ ہمیشہ جنت میں ہی رہتا تو؟ ہاں سوچیں کہ خدا نے اسے جنت میں اپنا نائب کیوں نہیں بنایا۔ آخر زمین پر ہی اسے اپنا خلیفہ اور نائب کیوں کہا؟ شاید آپ اس سوال کا جواب نہ پا سکیں تو چلیں۔ میں آپ کو بتا دیتی ہوں جواب بہت آسان ہے اللہ نے فرشتوں سے اس کا تعارف یہ کہہ کر کروایا تھا کہ میں نے اسے زمین پر اپنا خلیفہ اور نائب بنایا ہے۔
    اس کا مطلب تھا کہ وہ شیطان کے بہکاوے میں آتا یا نہ آتا اس درخت کا پھل کھاتا یا نہ کھاتا۔ بہرحال ایک دن ایسا ضرور آنا تھا جب خدا نے اسے زمین پر بھیج دینا تھا۔ اسے بنایا ہی زمین کے لیے گیا تھا جنت کے لیے نہیں تو آخر پھر وہ مجھ پر الزام کیسے عائد کر دیتا ہے؟
    زمین پر آنے کے ایک عرصہ بعد تک ہم دونوں ایک دوسرے سے بہت دور رہے مجھے نہیں پتا تھا کہ وہ زمین پر کہاں ہے نہ ہی اسے یہ پتا تھا کہ میں کہاں ہوں۔ میں بہت عرصے تک اسے تلاش کرتی رہی اور پھر بالآخر وہ مجھے مل ہی گیا ایک بار پھر سے ہم دونوں اکٹھے زندگی گزارنے لگے۔
    زمین پر جنت جیسی آسائشیں نہیں تھیں مگر مجھے اس کی پرواہ نہیں تھی میرے لیے یہ کافی تھا کہ میں اس کے ساتھ ہوں اور اس کا دکھ اور سکھ شیئر کر سکتی ہوں اسے آرام اور سکون پہنچا سکتی ہوں۔ آخر مجھے اللہ نے اسی لیے تو بنایا تھا اور مجھے اس کے علاوہ اور کسی چیز میں دلچسپی تھی بھی نہیں۔ وہ خدا کی پسندیدہ مخلوق اور میں خدا کی پسندیدہ مخلوق کے لیے منتخب ساتھی۔
    مگر پتا نہیں کیوں زمین پر اس کے ساتھ رہنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ اس کے دل میں میرے لیے پہلی جیسی قدر اور محبت نہیں ہے۔ کوئی چیز تھی جو ہم دونوں کے درمیان دیوار بن گئی تھی۔ اس نے مجھے معاف نہیں کیا تھا۔ میں نے بہت بار یہ جاننے کے باوجود کہ غلطی صرف میری نہیں تھی۔ وہ بھی اس میں برابر کا شریک تھا۔ یہ جاننے کے باوجود میں نے اس سے بہت بار معافی مانگی۔ اتنی التجا تو میں نے شاید اللہ سے بھی نہیں کی ہوگی جتنی مجھے اس سے کرنی پڑی، ہر بار وہ یہی کہتا کہ اس نے مجھے معاف کر دیا تھا مگر میں کبھی مطمئن نہیں ہوئی۔ اس نے دل سے مجھے کبھی معاف نہیں کیا۔ آج تک نہیں۔ عجیب بات ہے نا اللہ آپ کو معاف کر دیتا ہے مگر انسان نہیں۔
    اس وقت پہلی بار میں بہت دل گرفتہ ہوئی مجھے یوں لگنے لگا کہ میں اسے آرام پہنچانے کے بجائے تکلیف پہنچانے لگی ہوں۔ مگر میں کچھ نہیں کر سکتی تھی۔ زمین پر بھیجنے کا فیصلہ اللہ کا تھا۔ میں اللہ کے فیصلوں میں دخل اندازی نہیں کر سکتی تھی۔
    وقت گزرتا رہا میں اپنی ناکردہ غلطی کی تلافی کے لیے دل و جان سے اس کی خدمت کرتی رہی مگر میری دل گرفتگی اور رنجیدگی میں کمی نہیں آئی۔ میری خدمت اس کا دل جیتنے میں ناکام کیوں تھی۔ تب پہلی بار میں نے خدا سے شکوہ بھی کیا میں نے خدا کو وہ سب کچھ بتایا جو میں محسوس کرتی تھی۔ اللہ کی سب سے بہترین صفت یہ ہے کہ وہ ہماری ہر بات سنتا ہے۔ خاموشی کے ساتھ، سکون کے ساتھ، پیار کے ساتھ، اس وقت بھی جب ہم مشتعل ہوتے ہیں اور ایسی باتیں کہہ رہے ہوتے ہیں جو ہمیں کہنا زیب نہیں دیتا تب بھی اللہ ہماری باتیں سن رہا ہوتا ہے۔ اللہ کی دوسری بہترین صفت یہ ہے کہ وہ ہمارے زخموں پر مرہم رکھتا ہے میرے ساتھ بھی اللہ نے ایسا ہی کیا۔ اللہ نے صرف ایک مرد بنایا پھر تخلیق کا یہ کام مجھے سونپ دیا کس قدر بڑی بات ہے یہ کہ اللہ زمین پر نسل انسانی کو آگے بڑھانے کا عمل میرے سپرد کر دیا۔
    میری خوشی کا کوئی ٹھکانا نہیں تھا میرے لیے یہ اعزاز کی بات تھی کہ خدا نے مجھے اتنی بڑی ذمہ داری سونپ دی ہے۔ میرا خیال تھا اب مرد یقینا میری عزت اور قدر کرے گا کیونکہ اب میں بہت اہم ذمہ داری انجام دے رہی ہوں مگر ایسا نہیں ہوا دن بدن میں اس کی نظروں سے اور گرتی گئی۔ خدا کی جانب سے سونپی جانے والی اس بڑی ذمہ داری کے باوجود وہ میرے لیے اپنے دل میں کوئی خاص جذبات پیدا نہیں کر سکا پہلے کی طرح مجھے حقیر اور بے کار ہی سمجھتا رہا۔ میری خوشی آہستہ آہستہ ختم ہوتی گئی۔ مجھے یوں لگنے لگا کہ میں جو چاہے کر لوں۔ وہ مجھ سے کبھی خوش نہیں ہوگا۔
    میں صبر شکر سے اپنی زندگی گزار رہی تھی۔ اس کے علاوہ میں اور کچھ نہیں کر سکتی تھی اور تبھی اچانک ایک اور حادثہ ہو گیا۔ آپ ہابیل اور قابیل کو تو جانتے ہی ہوں گے۔ میری وجہ سے دونوں میں جھگڑا ہو گیا۔ میں بہت حیران تھی اگر مرد مجھے ناپسند کرتا تھا۔ اسے مجھ سے محبت نہیں تھی۔ اسے میری ضرورت نہیں تھی تو پھر میری ملکیت کے معاملے پر اسے اس طرح لڑنے کی بھی کیا ضرورت تھی۔ جس چیز کو آپ ناپسند کرتے ہیں۔ اس سے تو آپ جان چھڑا لینا چاہتے ہیں۔ اسے اپنے پاس رکھنے کے لیے لڑتے تو نہیں۔
    مگر وہ میرے لیے نہ صرف لڑتا رہا بلکہ اسی لڑائی میں اس نے ایک دوسرے مرد کو قتل بھی کر دیا میرے لیے یہ ایک بہت بڑا شاک تھا۔ زمین پر ہونے والا پہلا قتل… اور وہ بھی میری وجہ سے… اور اگر میں پھر آپ سے یہ کہوں کہ اس میں بھی میرا کوئی قصور نہیں تھا تو کیا آپ مان لیں گے۔ آپ مانیں یا نہ مانیں۔ بہرحال میرا واقعی اس میں کوئی قصور نہیں تھا لیکن مجھے پچھتاوا اور خوف ضرور تھا کہ میری وجہ سے ایک بار پھر مرد نے ایک گناہ کیا ہے۔
    قتل کرنے کے بعد مرد ایک بار پھر پچھتانے لگا۔ مجھے کوسنے لگا۔ میرے لیے اس سے تکلیف دہ بات کیا ہو سکتی تھی کہ وہ پہلے کی طرح اب بھی مجھے یہی اس گناہ کا مؤجب قرار دے رہا ہے۔ اب بھی وہ شیطان کی بجائے مجھے اس کا ذمہ دار قرار دے رہا ہے۔ ابلیس کا ایک اور وار کامیاب ہو گیا تھا۔
    اس بار بھی غلطی میری نہیں تھی مگر اس بار بھی میں نے اللہ سے بہت توبہ کی۔ صرف اللہ سے توبہ ہی نہیں کی بلکہ مرد سے بھی معافی مانگی۔ نتیجہ کیا ہوا ہمیشہ کی طرح اللہ نے مجھے معاف کر دیا اور مرد کے دل میں پڑنے والی گرہوں میں ایک اور کا اضافہ ہو گیا۔
    اس کے بعد زندگی میرے لیے کبھی بھی آسان نہیں رہی۔ مرد نے میرے لیے حتی المقدور مشکلات کھڑی کیں۔ جی بھر کر ذلیل اور رسوا کیا۔ اپنی ہر غلطی کو میرے ذمہ لگاتا رہا اور میں ہر بار یہ سوچ کر حیران ہوتی رہی کہ وہ اپنے علم کی طاقت کو استعمال کیوں نہیں کرتا۔ ہر بات کو میرے سر کیوں منڈھ دیتا ہے۔
    خدا نے اس کو زمین پر حکومت کرنے کے لیے بھیجا تھا اس نے زمین پر حکومت کرنے کے بجائے صرف مجھ پر حکومت کرنا اپنا فرض سمجھا اور یہ حکومت اس نے اپنے ہر روپ میں کی ہے چاہے وہ باپ کا روپ ہو یا بیٹے کا بھائی کا روپ ہو یا شوہر کا ہر روپ میں اس نے میرے لیے زندگی کو تکلیف دہ بنا دیا ہے۔
    میری وہ ساری خوبیاں جو کبھی اسے پسند تھیں اب وہ ان کا مذاق اڑاتا ہے۔ میرے ہر روپ میں اسے خود غرضی اور بے وفائی نظر آتی ہے۔ اس کا خیال ہے مجھے اگر کسی چیز میں دلچسپی ہے تو وہ روپیہ ہے اور یہ روپیہ اس کے پاس ہے اس لیے وہ اس سے مجھ سمیت میرا ہر جذبہ خرید سکتا ہے۔
    میں حیران ہوتی ہوں کہ وہ کیسا خلیفہ اور خدا کا نائب ہے جو ایسے کام کر رہا ہے جنھیں خدا ناپسند کرتا ہے۔
    کسی دور میں مجھے یہ فخر تھا کہ مجھے ایک ایسی مخلوق کے لیے چنا گیا ہے جو خدا کی پسندیدہ ترین ہے مگر اب اسی مخلوق کو دیکھ کر میں سوچتی ہوں کہ کیا اب بھی یہ مخلوق خدا کی پسندیدہ ترین ہے۔ فخر اور غرور کا وہ جذبہ بھی ختم ہو گیا ہے۔
    دنیا پر اور کوئی مخلوق نہیں ہے جس نے مرد کی میرے جتنی خدمت اور اطاعت کی ہو اور دنیا پر اور کوئی مخلوق ایسی نہیں ہے جس سے مرد نے میرے جتنی نفرت کی ہو۔ میں نے اس کی اطاعت اور خدمت میں اپنے وجود کو مٹی بنا ڈالا ہے مگر اس کے باوجود وہ مجھ سے خوش نہیں ہے۔ اسی خدمت اور اطاعت کے جوش میں میں نے اس کی ذمہ داریاں بھی اپنے کندھوں پر لینی شروع کر دی ہیں اور آج میں نے مرد کے حصے کی آدھی سے زیادہ ذمہ داریاں بھی اپنے سر لے لی ہیں۔ صرف اس لیے کہ وہ آرام اور سکون سے رہے مگر اس کے باوجود وہ خوش نہیں ہے۔ مجھ سے آرام اور سکون حاصل کرنے کے باوجود وہ مجھے بے کار اور حقیر سمجھتا ہے اور صرف یہی نہیں میری تحقیر کے لیے وہ نت نئے القابات مجھے دیتا رہتا ہے۔ اس کا خیال ہے کہ زمین پر ہونے والے ہر جھگڑے میں میں کسی نہ کسی طرح شامل ہوں وہ یہ بھی سوچتا ہے کہ اگر میں زمین پر نہ آتی تو زیادہ بہتر تھا پھر زمین پر ہونے والے فساد میں بہت کم آ جاتی۔
    میرا خیال تھا کہ وہ کم از کم ایک ماں کے روپ میں تو میری عزت کرے گا کیونکہ تب اس کی تخلیق میں میرا کردار بھی شامل ہوتا ہے مگر ایسا نہیں ہوا، ماں کے روپ میں بھی اس نے میری کسی خدمت اور اطاعت کو نہیں سراہا بلکہ تب بھی ان چیزوں کو اپنا حق ہی سمجھا۔ بیٹا بن کر بھی وہ مجھے ایک ناقص العقل چیز ہی سمجھتا رہا۔ میری محبت اور شفقت کو میری کمزوری ہی سمجھتا رہا بیٹا بن کر بھی اس کے خیال میں میں کبھی بھی بے وفائی کی مرتکب ہو سکتی ہوں اور تب یہ اس کا فرض بن جاتا ہے کہ وہ اس خطا پر مجھے قتل کر دے۔ آپ نے ایسی کتنی خبریں پڑھی ہوں گی جن میں بیٹے معمولی سی خطا پر ماں کو مار دیتے ہیں ماں بن کر بھی مجھے اس کی زندگی کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے کا حق نہیں ہے کیونکہ اس کا خیال ہے کہ میں فیصلہ کرنے کے قابل نہیں ہوں اور آپ میری محبت کا عالم دیکھیں کہ میں ماں ہوتے ہوئے بھی بیٹی کا حق چھین کر اسے دیتی رہتی ہوں۔ بچپن سے جوانی تک میں ہر چیز میں اسے بیٹی پر ترجیح دیتی ہوں اچھی خوراک سے اچھے لباس تک ہر چیز اسی کا حق بنتی ہے اور میں تو اس وقت بھی اسے روکنے کی کوشش نہیں کرتی جب وہ اپنی بہن پر ہاتھ اٹھاتا ہے یا اسے جھڑکتا ہے۔ بیٹی کے ساتھ ہر چیز میں بے انصافی کرتی ہوں اور یہ سب ایک مرد کے لیے کرتی ہوں۔ اس کے باوجود میں اس کے لیے کبھی اہمیت اختیار نہیں کرتی۔ وہ ساری عمر مجھے اموشنلی بلیک میل کرتا رہتا ہے۔
    اور بہن کے روپ میں بھی وہ میرے ساتھ یہی کرتا ہے۔ بہن کے روپ میں بھی وہ مجھ پر اپنی حاکمیت جتانے کے جتن کرتا رہتا ہے۔ اس روپ میں بھی وہ ہر معاملے میں مجھ سے قربانی چاہتا ہے اور اس سب کے باوجود بھی ایک معمولی شک کی بناء پر وہ مجھے قتل کرنے سے نہیں چوکتا، تب بھی اسے میرا کوئی ایثار، کوئی خدمت کوئی اطاعت یاد نہیں رہتی۔
    اور پھر اگر وہ باپ ہو تو تب بھی میرے لیے اس کے اصولوں اور قوانین میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کسی زمانے میں وہ مجھے پیدا ہوتے ہی زمین میں زندہ گاڑ دیا کرتا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ مجھ سے نجات پانے کا یہ بہترین طریقہ ہے پھر اس نے یہ طریقہ چھوڑ دیا اور کچھ نئے طریقے اپنا لیے۔ اس کی ہمیشہ یہی خواہش ہوتی ہے کہ میں اس کے گھر میں بیٹی کے روپ میں کبھی نہ آؤں اور اگر بدقسمتی سے ایسا ہو ہی جائے تو پھر وہ بچپن سے بار بار مجھے مختلف طریقوں سے یہ جتاتا رہتا ہے کہ اس نے اپنے گھر میں رکھ کر مجھ پر کتنا بڑا احسان کیا ہے۔ تب بھی وہ اسی پر اکتفا نہیں کرتا بیٹے کو مجھ پر ترجیح دیتا ہے۔ اسے ہر چیز میں مجھ پر فوقیت دیتا ہے۔
    میں بچپن سے باپ پر جان نثار کرتی رہی ہوں۔ اس کے گھر میں آنے سے لے کر جانے تک میں بھاگ بھاگ کر اس کا ہر کام کرتی رہتی ہوں صرف محبت کی ایک نظر اور شفقت سے بولے گئے چند لفظوں کے لیے مگر اسے کبھی اس کا خیال ہی نہیں آیا۔ وہ میری پوری زندگی کو اپنے طریقے سے گائیڈ کرنا چاہتا ہے اور میں صرف اس کی خوشی کے لیے ہر بار اپنا دل مار لیتی ہوں۔ مگر پھر بھی خاندان کی غیرت پر آنے والی زد کے شبہ پر وہ کبھی بھی کہیں بھی مجھے قتل کر سکتا ہے اور اس کام پر کوئی اس کا ہاتھ نہیں روکتا بلکہ ہر کوئی اس کی پیٹھ ٹھونکتا ہے۔
    اور اگر میں بیوی ہوں تو پھر تو شاید مرد کو مجھ پر ظلم کرنے کا لائسنس مل جاتا ہے۔ ایک عورت جسے اس کے تصرف میں دیا گیا ہے۔ وہ آخر اس پر ظلم کیوں نہ کرے۔ صبح سے لے کر رات تک کی جانے والی مشقت کا نتیجہ اکثر وہ الفاظ ہوتے ہیں جو مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔
    مرد ہمیشہ یہ سمجھتا ہے کہ میں گھر میں رہ کر اس کے کمائے جانے والے روپے پر عیش کرتی ہوں۔ آپ سوچیں کیا گھر کے اندر رہ کر عیش ہو سکتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ دنیا کا سب سے مشکل کام روپیہ کمانا ہے اور یہ مشکل کام وہ کرتا ہے عورت نہیں۔ وہ تو صرف اس روپیہ کو بے دردی سے خرچ کرنا جانتی ہے۔ مگر جو چیز وہ کبھی نہیں سوچتا وہ یہ ہے کہ میں وہ روپیہ کس پر خرچ کرتی ہوں اس گھر پر جس میں وہ رہتا ہے۔ ان بچوں پر جو اس کی اولاد ہیں اس خوراک پر جو وہ استعمال کرتا ہے۔ بیوی بن کر بھی میں ہر طرح اسے خوش کرنے کی کوشش کرتی رہتی ہوں مگر وہ خوش نہیں ہوتا۔ ناراض ہو تو ایک دوسری عورت کو میری جگہ دے دیتا ہے۔ دوسری شادی کر کے بہت خوش ہو تو بھی میرے سامنے ایک باہر والی عورت ضرور شریک رکھتا ہے۔ عجیب بات ہے نا وہ عورت سے ناخوش ہے اسے عورت بے کار اور حقیر لگتی ہے۔ اسے عورت بے وفا لگتی ہے۔ اسے عورت روپیہ کی بھوکی لگتی ہے۔ اسے عورت فساد کی جڑ لگتی ہے مگر پھر بھی وہ اپنی زندگی میں عورتوں کو تبدیل کرتے رہنے کا عادی ہے اور جتنی زیادہ عورتیں ہوں اتنا ہی خوش رہتا ہے۔ وہ میری بے وفائی پر مجھے قتل کرنے میں ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کرے گا مگر طوائف کے پاس یہ جاننے کے باوجود جائے گا کہ وہ بے وفا ہے۔ اس پر یہ جاننے کے باوجود روپیہ خرچ کرے گا کہ وہ روپیہ کی بھوکی ہے۔ عجیب بات ہے نامگر یہی سچ ہے۔
    کیا اتنی ناقدری دنیا میں کسی اور چیز کی ہو سکتی ہے۔ میں اگر اس کی نہیں تو اس کے بچوں کی وفادار بن جاتی ہوں۔ آدھی زندگی مرد کی اطاعت میں برباد کرتی ہوں باقی کی زندگی اولاد کی خدمت میں اولاد کو بھوک سے بچانے کے لیے مجھے گھر سے باہر نکل کر سڑکوں پر آنا پڑتا ہے۔ مرد تب بھی میرا مذاق اڑاتا ہے مجھ پر آواز کستا ہے۔ اس کا خیال ہے یہ بھی میرا ایک ڈھونگ ہے آپ خود سوچیں کبھی بھوک بھی ڈھونگ ہو سکتی ہے اور بھوک بھی اگر بچوں کی ہو تو پھر؟ رزق کمانے کا کام مجھے اللہ نے کبھی نہیں سونپا۔ مرد نے اسے بھی میرے ذمے لگا دیا پھر رزق کمانے کے لیے اس نے مجھے طوائف اور کال گرل بھی بنایا۔ بیٹی بن کر میں نے بھائیوں اور باپ کے لیے اپنی پوری زندگی بھی ضائع کی اور ماں بن کر بچوں کے لیے پوری عمر کا جوگ بھی لیا مگر کہیں بھی میری کوئی قربانی ایسی نہیں جسے مرد نے سراہا ہو۔ اس نے میرے ہر روپ کو اس امیج کے سامنے کھڑا کر دیا جو اس کے ذہن میں فیڈ ہے۔
    دنیا میں کسی دوسری مخلوق کو اتنا بے قدر نہیں کیا گیا جتنا مجھے کیا گیا ہے اور دنیا کی کسی دوسری مخلوق نے اپنے کندھے پر اتنی ذمہ داریاں نہیں اٹھائیں جتنی میں نے اٹھائی ہیں۔ میں نے تو چیونٹی سے بھی بڑھ کر بوجھ اٹھایا ہے۔ اولاد کی پیدائش سے پرورش مرد کی خدمت و اطاعت اور گھر سے باہر تک کا ہر کام مجھے کرنا پڑا ہے اور میں نے کیا ہے۔ اس کے باوجود مجھے سراہا نہیں جاتا۔ اس کے باوجود کہ مرد کو خوش رکھنے کے لیے میں نے اپنے آپ کو اپنے مقام سے گرا دیا ہے۔ پھر بھی کوئی مجھ سے خوش نہیں ہے۔
    پیغمبروں کی ماں ہونے کے باوجود مجھے ناقابل اعتبار سمجھا جاتا ہے۔
    دنیا میں کوئی ایسا نہیں ہے جو مجھ سے خوش ہو۔ حتیٰ کہ اللہ بھی! مگر میں کسی کے سامنے اپنی کیا صفائی پیش کروں۔ میرے پاس تو کوئی وضاحت کوئی صفائی ہے ہی نہیں۔
    میں اکثر سوچتی ہوں کہ آخر میری زندگی کا مقصد کیا ہے کیا صرف دوسروں کو آرام و سکون دینا اور دوسرے بدلے میں میرے لیے کیا کرتے ہیں؟ اور تب مجھے اللہ سے شکوہ ہوتا ہے کہ اس نے شاید واقعی مجھے اتنا حقیر بنا دیا ہے کہ زمین پر موجود انسان کو میری قدر ہی نہیں ہے۔ مگر شکوہ کرنے سے آخر ہوتا کیا ہے۔ شکوہ کرنے سے اللہ کی ناراضگی میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔
    آپ ہی سوچیں کیا کوئی مخلوق میرے جیسی ہے جو نہ چاہتے ہوئے بھی ہر ایک کو ناراض کرتی پھرے۔ مگر آخر آپ بھی کیوں سوچیں عورت کے بارے میں کوئی سوچتا تھوڑی ہے۔
    *…*…*




  • زندگی گلزار ہے — عمیرہ احمد

    زندگی گلزار ہے — عمیرہ احمد

    ” زندگی گلزار ہے ” میری پہلی تحریر تھی جسے میں نے اپنی ہینڈ رائٹنگ بہتر کرنے کے لیے لکھنا شروع کیا تھا۔ اس وقت مجھے نہ تو یہ اندازہ تھا کہ مجھ میں لکھنے کی صلاحیت ہے نہ ہی یہ ارادہ تھا کہ میں اسے شائع کروائوں گی۔ ایک دوست کے کہنے پر میں نے اسے خواتین ڈائجسٹ میں شائع ہونے کے لیے بھجوا دیا۔ خلاف توقع یہ نہ صرف شائع ہو گئی بلکہ اس نے مجھے ایک شناخت بھی دے دی۔ حالانکہ میں اسے اپنی کمزور ترین تحریروں میں سے ایک سمجھتی ہوں مگر قارئین کی رائے اکثر رائٹر کی پسند اور رائے سے بہت مختلف ہوتی ہے یہی اس کہانی کے ساتھ ہوا۔
    عمیرہ احمد
    ********
    9 ستمبر
    آج گورنمنٹ کالج میں میرا پہلا دن تھا۔ میری روم میٹ فرزانہ میرے ہی ڈیپارٹمنٹ میں ہے۔ا س لیے صبح مجھے ٹینشن نہیں تھی کہ اکیلے کلاسز کیسے ڈھونڈوں گی۔ وہ خاصی بولڈ لڑکی ہے، بڑے شہروں میں رہنے والے شاید سب ہی ایسے ہوتے ہیں۔ صبح جب ہم لوگ کالج پہنچے تو بارش ہو رہی تھی اور ایسے موسم تعلیم کے لیے کافی نقصان دہ ہوتے ہیں لیکن خلاف توقع کالج میں کافی لوگ تھے۔ آج صرف سر ابرار نے تعارفی کلاس لی تھی اور دوسرے کسی پروفیسر نے کلاس میں آنے کی زحمت نہیں کی تھی۔ ان کے بارے میں پہلے ہی بہت سے لوگوں سے سن چکی ہوں کہ وہ بہت وقت کے پابند ہیں۔ مجھے توقع تھی کہ وہ بہت سخت ہوں گے مگر پہلی ملاقات میں ان کا امپریشن بہت نرم دل آدمی کا تھا۔
    آج کلاس میں اسٹوڈنٹس کم ہی تھے اور ان میں بھی لڑکیوں کی تعداد کافی کم تھی۔ آج میرے اور فرزانہ کے علاوہ صرف دو اور لڑکیاں آئی تھیں اسمارہ اور آئزہ دونوں بہت اونچے گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ میں تو شاید ان سے اپنا تعارف نہ ہی کرواتی لیکن فرزانہ ان کے پاس چلی گئی تھی۔ وہ ان لوگوں کے ساتھ ہی ”کوئین میری ” سے گریجویشن کر کے آئی تھی اس لیے انہیں اچھی طرح جانتی تھی۔ فرزانہ کی وجہ سے مجبوراً مجھے بھی ان سے سلام دعا کرنی پڑی۔ باتوں کے دوران ان لوگوں نے مجھے نظر انداز کیا لیکن اس چیز نے مجھے زیادہ ہرٹ نہیں کیا، میری معمولی شکل اور لباس دیکھ کر وہ مجھے وی آئی پی ٹریٹمنٹ دینے سے تو رہیں ویسے بھی یہ چیز میرے لیے اب اتنی نئی نہیں رہی۔
    سر ابرار نے کلاس میں سب سے پہلے اسمارہ سے ہی اپنا تعارف کروانے کے لیے کہا تھا۔
    ”میرا نام اسمارہ ابراہیم ہے۔ میں کوئین میری کالج سے فرسٹ ڈویژن میں گریجویشن کر کے آئی ہوں، ہر قسم کی سرگرمیوں میں حصہ لیتی ہوں۔ آپ کی کلاس میں ایک اچھا اضافہ ثابت ہوں گی۔”
    بڑی رواں انگلش میں اس نے کہا تھا۔ اس کا لہجہ بے حد پر اعتماد تھا اور میں صرف یہ سوچ کر رہ گئی تھی کہ کیا دولت اور خوبصورتی کے بغیر اتنے اعتماد سے بات کی جا سکتی ہے؟





    فرزانہ، اسمارہ اور آئزہ سے متعارف ہونے کے بعد سر ابرار میری طرف متوجہ ہوئے تھے۔ مجھے فوراً تعارف کروانے کے لیے کہنے کے بجائے وہ کچھ دیر تک بغور مجھے دیکھتے رہے پھر انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا۔
    ”آپ بھی ہماری ہی کلاس کی ہیں؟”
    ”یس سر۔” میں ان کے سوال پر حیران ہوئی تھی۔
    ”میں نے اس لیے پوچھا ہے کیونکہ آپ بہت چھوٹی سی لگ رہی ہیں۔”
    ”نو سر ! میں چھوٹی سی تو نہیں ہوں۔ میری ہائیٹ پانچ فیٹ چار انچ ہے۔” میں نے ان کی بات سمجھے بغیر فوراً کہہ دیا۔ میرے جملے پر سر ابرار ہنس پڑے اور اگلی رو میں بیٹھے ہوئے دو لڑکوں نے یک دم پیچھے مڑ کر دیکھا تھا ان کے چہرے پر مجھے مسکراہٹ نظر آئی پھر ان میں سے ایک نے سر ابرار سے کہا۔
    Sir! that is just the right height for a girl neither too tall nor too short.
    ”سر ! یہ لڑکی کے لیے بالکل مناسب قد ہے، نہ بہت لمبا ہے، نہ بہت چھوٹا ہے۔”
    ساری کلاس ایک دم قہقہوں سے گونج اٹھی تھی۔ سر ابرار نے کھنکار کر اپنی ہنسی کو کنٹرول کیا اور لڑکے سے کہا۔
    No Zaroon! don’t try to embarras her
    (نہیں زارون ! اسے پریشان نہ کرو۔)
    پھر انہوں نے مجھ سے میرا نام پوچھا۔
    ”میرا نام کشف مرتضیٰ ہے۔ میں گجرات سے آئی ہوں۔”
    میں نے مختصراً اپنا تعارف کرایا، میرے تعارف کے بعد سر ابرار نے لڑکوں کا تعارف لیا اور جب اس لڑکے جس کا نام زارون تھا، نے خود کو متعارف کروایا تو میں نے بھی اسی طرح مداخلت کی جیسے اس نے کی تھی، شاید میں ایسا نہ کرتی لیکن اس کا انداز ہی مجھے اتنا برا لگا کہ میں نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کر بیٹھی اس وقت تو مجھے اپنی مداخلت ٹھیک نہیں لگی تھی لیکن اب میں سوچ رہی ہوں کہ شاید میں نے غلط کیا تھا۔ میں یہاں اس قسم کی فضول جھڑپوں کے لیے تو نہیں آئی میں اب دوبارہ ایسا کبھی نہیں کروں گی۔ ایک دن گزر گیا کاش باقی دن بھی عزت سے گزر جائیں۔
    …**…
    9 ستمبر
    آج کا دن خراب ترین دنوں میں سے ایک تھا۔ کالج میں ایم اے کلاسز کا پہلا دن اور پہلے دن ہی۔
    صبح میں بہت اچھے موڈ میں کالج گیا تھا کیونکہ موسم بہت اچھا تھا پہلی اور آج ہونے والی واحد تعارفی کلاس سر ابرار کی تھی اور ان کی کلاس میں بی اے میں مس نہیں کر سکا تو اب کیسے کرتا اب ان سے تعلقات اچھے کرنا اور رکھنا میری مجبوری ہے۔ ظاہر ہے وہ پاپا کے اچھے بلکہ مجھے تو لگتا ہے کہ بہترین دوست ہیں ورنہ پاپا کتھارسس کے موڈ میں ہمیشہ ان کے گھر نہ پائے جائیں۔ پاپا پر ان کا بہت اثر ہے۔ بعض دفعہ میری جو بات پاپا ویسے نہیں مانتے وہ صرف ان کے کہنے پر مان لیتے ہیں۔ویسے کبھی کبھی تو مجھے سر ابرار بہت سپر نیچرل قسم کی چیز لگتے ہیں انہیں میری ہر ایکیٹویٹی کا پتا ہوتا ہے۔ بی اے میں میں جب ان کی کلاس میں دیر سے آتا تھا تو وہ میرے نہ آنے کی اصل وجہ خود ہی تیار کرتے تھے انہیں بہت اچھی طرح پتا ہوتا تھا کہ میں نے کس دن کتنی کلاسز چھوڑیں، آج کل کن لڑکیوں کے ساتھ پھر رہا ہوں کون سے پروفیسر میرے بار ے میں اچھے خیالات رکھتے ہیں اور کون سے مجھ سے تنگ ہیں، پھر بھی یہ ان کا احسان ہی تھا کہ وہ پاپا کو کسی بات سے مطلع نہیں کرتے تھے۔ کافی مہربان ہیں وہ مجھ پر۔
    جب میں کلاس میں گیا تھا تو وہاں زیادہ لوگ نہیں تھے۔ اسامہ اور فاروق مجھے کلاس سے باہر ہی مل گئے تھے۔ ان کے ساتھ جب میں اگلی رو کی طرف گیا تو میں نے دیکھا کہ دوسری رو میں چار لڑکیاں بیٹھی ہوئی ہیں۔ ان میں سے دو کوتو میں فوراً پہچان گیا ایک اسمارہ ابراہیم تھی اور دوسری آئزہ مسعود دونوں کزنز ہیں اور سوشل گیدرنگز میں اکثر ان سے ملاقات ہوتی رہتی ہے اسمارہ کو میں خاصا پسند کرتا ہوں کیونکہ وہ خوبصور ت ہے۔ فرینک ہے اور ایسی ہی لڑکیاں مجھے اپیل کرتی ہیں وہ دونوں مجھے دیکھتے ہی اپنی رو سے باہر آ گئیں۔ جب میں ان سے رسمی ہیلو ہائے میں مصروف تھا تو دوسری رو میں بیٹھی ہوئی دو لڑکیوں میں سے ایک کی خوبصورت آنکھیں دیکھی تھیں اور اس کے ساتھ وہ بیٹھی تھی جس نے واقعی مجھے کلاس میں ناکوں چنے چبوا دیئے تھے۔
    کلاس شروع ہونے سے پہلے جب میں نے اس پر ایک سرسری نظر ڈالی تھی تو مجھے اس میں ایسی کوئی خوبی نظر نہیں آئی جو مجھے دوبارہ اسے دیکھنے پر مجبور کرتی۔ لائٹ پنک کلر کے لباس میں ملبوس وہ خود کو ایک بڑی سی چادر میں چھپائے ہوئے تھی اور وہ اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے بال پوائنٹ سے اپنی فائل کو مسلسل سکریچ کر رہی تھی، میں چونکہ اسمارہ اور آئزہ کے ساتھ باتوں کے دوران وقتاً فوقتاً فرزانہ کو بھی دیکھ رہا تھا اور وہ چونکہ فرزانہ کے ساتھ بیٹھی تھی اس لیے اس کی یہ حرکت میری نظر میں آ گئی۔
    سر ابرار کلاس میں آنے کے بعد مجھے دیکھ کر مسکرائے تھے۔ دو دن پہلے انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ اب لیٹ آنے پر کچھ اچھے اور موزوں بہانے بنا کر پیش کروں کیونکہ وہ پرانے گھسے پٹے بہانے سن سن کر تنگ آ گئے ہیں اور میں نے انہیں تسلی دی تھی کہ اب میں پرانے بہانوں سے انہیں بور نہیں کروں گا۔ آخر میں ایک تخلیقی بندہ ہوں، لیکن پہلے ہی دن صحیح وقت پر کلاس میں موجود پا کر وہ شاید یہ سمجھے تھے کہ میں نے دیر سے آنے کی پرانی حرکتیں چھوڑ دی ہیں۔ اسی لیے وہ مجھے دیکھ کر بڑی خوش دلی سے مسکرائے تھے۔
    میں جانتا تھا کہ سر ابرار سب سے پہلے لڑکیوں سے ہی تعارف لیں گے اور میں فرزانہ کے بارے میں جاننے کے لیے کافی مشتاق ہو رہا تھا کیونکہ اس کی آنکھوں نے مجھے بہت متاثر کیا تھا اس لیے بڑے صبر کے ساتھ میں اس کے تعارف کا انتظار کر رہا تھا اور اس کے تعارف کے بعد مجھے اور کسی کے تعارف میں دلچسپی نہیں رہی تھی سوائے اپنے لیکن جب سر ابرار نے اس لڑکی سے کہا کہ وہ بہت چھوٹی سی لگ رہی ہے تو اس کے جواب نے مجھے مسکرانے اور پیچھے مڑنے پر مجبور کر دیا وہ واقعی کافی کم عمر لگتی تھی میں نے اس کی بوکھلاہٹ دیکھ کر اس پر بے اختیار ریمارکس پاس کئے یہ کر کے مجھے کافی خوشی ہوئی تھی ہمیشہ کی طرح۔
    پھر جب سر ابرار نے مجھے اپنا تعارف کروانے کے لیے کہا تو میں اپنی جگہ سے اٹھ کر ڈائس کے پاس چلا گیا۔ سر ابرار مسکراتے ہوئے خاموشی سے مجھے دیکھتے رہے شاید وہ جاننا چاہتے تھے کہ میں کیا چاہتا ہوں۔
    ”میرا نام زارون جنید ہے۔ میری اسکولنگ ایچی سن میں ہوئی ہے اور وہاں تھرو آؤٹ میں فرسٹ پوزیشن لیتا رہا ہوں پچھلے سال میں نے اسپورٹس میں کالج کلر حاصل کیا اور بی اے میں ٹاپ کیا گریجویشن کے دوران میں کالج کی تقریباً تمام سرگرمیوں میں حصہ لیتا رہا ہوں۔ آپ میں سے بہت سے ایسے ہوں گے جو اس کالج میں تو کیا شاید اس شہر میں بھی نئے ہوں گے اور میں یہاں کا پرانا سٹوڈنٹ ہوں ، سو آپ میں سے کسی کواگر میری مدد کی ضرورت پڑے تو مجھے مدد کر کے بہت خوشی ہوگی شکریہ بہت بہت۔”
    میں نے اپنا بڑا تفصیلی تعارف کرایا تھا اور پھر اپنی چیئر پر آ کر بیٹھ گیا۔ سر ابرار کی مسکراہٹ ظاہر کر رہی تھی کہ وہ جان چکے ہیں کہ میں آج بہت موڈ میں تھا۔ اسی لیے جب میں اپنی سیٹ پر آ کر بیٹھا تو انہوں نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
    ”اس ساری تقریر کو آپ کیا سمجھتے ہیں؟”
    ”سر ! آئندہ یونین الیکشنز میں کھڑا ہونے کے لیے کنویسنگ کی ایک کوشش۔”
    جواب وہاں سے آیا تھا جہاں سے ایسے کسی جملے کی میں توقع بھی نہیں کرسکتا تھا۔ وہ کشف مرتضیٰ تھی صرف ایک لمحہ کے لیے میں ساکت ہوا تھا پھر بڑے اطمینان سے پیچھے مڑتے ہوئے سیدھا اس کی آنکھوں میں جھانک کر میں نے پوچھا۔
    ”تو کیا میں یہ امید رکھوں کہ آپ مجھے ووٹ دیں گی؟”
    ”ہرگز نہیں آپ مجھ سے ووٹ کی امید نہ رکھیں۔”
    اس کے فوری جواب نے مجھے حیران کر دیا۔
    ”تو کیا میں یہ توقع رکھوں کہ اگر میں الیکشن میں ایک ووٹ سے ہاروں گا تو وہ ووٹ آپ کا ہی ہو گا۔”
    ”آپ کو یہ خوش فہمی کیوں ہے کہ آپ صرف ایک ہی ووٹ سے ہاریں گے۔ میں آپ کو گارنٹی دے سکتی ہوں کہ آپ لمبی لیڈ سے ہاریں گے۔”
    ”کیوں ؟ آپ یہ گارنٹی کیسے دے سکتی ہیں کہ میں لمبی لیڈ سے ہاروں گا آپ کیا جعلی ووٹ کاسٹ کرنے کی ماہر ہیں؟”
    ”نہیں جی ، یہ کام آپ کو ہی مبارک ہو۔ مہارت حاصل کرنے کے لیے اور بہت سے شعبے ہیں۔ جو لوگ زیادہ خوش فہم ہوتے ہیں وہ ہارتے ہمیشہ ہی بری طرح ہیں۔”
    ”ہو سکتا ہے۔ اس بار آپ کا اندازہ غلط ثابت ہو۔”
    ”چلیں دیکھ لیں گے، ویسے دنیا بھی تو امید پر قائم ہے۔”
    اس کا لہجہ بہت دو ٹوک تھا۔ میں نہ چاہتے ہوئے بھی سیدھا ہو گیا۔ سر ابرار مجھے ہی دیکھ رہے تھے اور ان کی مسکراہٹ بہت گہری تھی۔ وہ لڑکی پہلی نظر میں مجھے بے وقوف لگی تھی لیکن اب میں اس کے بارے میں اپنا خیال بدل چکا ہوں وہ اتنی بے وقوف نہیں ہے جتنی مجھے لگی تھی آئندہ اس سے بات کرتے ہوئے میں کافی محتاط رہوں گا تاکہ آج کی طرح دوبارہ مجھے شرمندگی نہ اٹھانی پڑے۔
    …**…
    17 ستمبر
    آج کالج میں جاتے ہوئے مجھے پورا ایک ہفتہ ہو گیا ہے۔ اس ایک ہفتہ کے دوران اتنی باقاعدگی سے کلاسز نہیں ہوئیں اور میں فکر مند ہوں کہ اگر اسی رفتار سے کلاسز ہوں گی تو کورس کیسے پورا ہو گا۔ خیر ابھی تو ایک ہفتہ ہی ہوا ہے۔
    پہلے دن زارون جنید کے ساتھ میری بحث ہوئی تھی اور اس کے بعد اس کا رویہ کافی عجیب سا ہے۔ اس کا گروپ ڈیپارٹمنٹ کے سب سے ذہین ترین لڑکوں پر مشتمل ہے اور پورے کالج میں ان کی دھاک جمی ہوئی ہے ویسے بھی جب کسی کے پاس ذہانت خوبصورتی اور دولت کی فراوانی ہو تو کسی جگہ بھی دھاک جمانا بہت آسان ہو جاتا ہے۔ ایسے ہی لوگوں کو دیکھ کر مجھے وہ بات شدت سے یاد آتی ہے کہ خدا کسی بھی آدمی کو سب کچھ نہیں دیتا، کوئی نہ کوئی کمی ضرور رکھتا ہے مگر آخر اس گروپ کے لوگوں میں کیا کمی ہے؟ کیا وہ خوبصورت نہیں ہیں؟ کیا ان کے پاس روپیہ نہیں ہے؟ کیا ان کے پاس ذہانت نہیں ہے یا اچھا فیملی بیک گراؤنڈ نہیں ہے۔ آخر ایسی کون سی چیز ہے جو ان کے پاس نہیں ہے۔ مجھے بالکل بھی اس بات پر یقین نہیں ہے کہ خدا کسی بھی شخص کو سب کچھ نہیں دیتا۔ بعض لوگوں کو تو اللہ نے سب کچھ دے دیا ہے اور بعض کو کچھ بھی نہیں۔ جیسے میرے جیسے لوگ جنہیں نہ اچھا کھانے کو ملتا ہے نہ پہننے کو جو بیمار ہو جائیں تو گورنمنٹ ہاسپٹل ڈھونڈتے پھرتے ہیں، عزت کی بنیاد تقویٰ پر کہاں ہوتی ہے کون عزت کرتا ہے آپ کے تقویٰ کی؟ عزت تو روپے سے ہوتی ہے اور تقویٰ تو ویسے بھی غریبوں کی میراث بن کر رہ گیا ہے غریب کی عبادت تو کسی کھاتے میں نہیں آئی۔ ہاں امیر عبادت کرے تو پورے زمانہ میں اس کی دھوم مچ جاتی ہے اور دعائیں بھی تو امیروں کی ہی قبول ہوتی ہیں جو خدا کی راہ میں ہزاروں بلکہ لاکھوں خرچ کرتے ہیں بھلا مجھ جیسے لوگ جو روپیہ دو روپیہ خیرات کرتے ہیں ان کی دعائیں کیسے قبول ہو سکتی ہیں۔ پھر میرے جیسے لوگ یہ کہہ کر خود کو تسلی دے لیتے ہیں کہ ضرور ہم میں ہی کوئی خرابی ہوگی جو دعا قبول نہیں ہوتی۔
    جب تک چھوٹی تھی۔ خود کو بہلا لیا کرتی تھی لیکن جب سے یہاں آئی ہوں اور لوگوں کے پاس اتنا روپیہ اور آسائشیں دیکھیں کہ اپنی ذات اور بھی حقیر لگنے لگی ہے۔ کچھ تو ایسا میرے پاس بھی ہوتا جو دوسروں سے موازنہ کرتی اور خود کو بہتر پاتی۔ یہاں آ کر میرے کمپلیکسز اور بھی زیادہ ہو گئے ہیں لیکن میں اپنی تعلیم چھوڑ کر یہاں سے جا بھی تو نہیں سکتی۔
    میری روم میٹ فرزانہ سو چکی ہے اور میں اس وقت کسی سے باتیں کرنا چاہتی ہوں لیکن اس سے نہیں کر سکتی کیونکہ وہ میری صرف روم میٹ ہے دوست نہیں۔ وہ جس کلاس سے تعلق رکھتی ہے وہ کلاس صرف اسٹیٹس دیکھ کر دوست بناتی ہے اور وہ تو ویسے بھی زارون جنید کے گروپ میں ہوتی ہے۔ اس کے رویے نے مجھے تکلیف نہیں پہنچائی ہر شخص کو حق ہوتا ہے کہ وہ اپنی مرضی کے دوست بنائے۔ لیکن کیا واقعی مجھے تکلیف نہیں ہوتی؟ ہاں مجھے تکلیف پہنچتی ہے کیا اس بات سے آپ کو تکلیف نہیں ہوتی کہ کوئی صرف اس لیے آپ کو نظر انداز کرتا ہے کیونکہ آپ کے پاس روپیہ نہیں ہے آپ کا لباس مہنگا نہیں ہے آپ کسی اونچی فیملی سے تعلق نہیں رکھتے۔
    ہر گزرتا دن اس بات پر میرا اعتقاد پختہ کرتا جا رہا ہے کہ دنیا میں سب سے بڑی طاقت روپیہ ہے اور یہی روپیہ مجھے حاصل کرنا ہے کیونکہ صرف یہی وہ چیز ہے جو اس معاشرہ میں میرے خاندان کو عزت دلوا سکتی ہے۔ کیا کبھی میرے پاس اتنا روپیہ ہو گا کہ میں اپنی ساری خواہشات کو پورا کر سکوں۔ خواب صرف خواب وہ کسی نے کہا ہے نا۔
    خواب تو خواب ہے فقط خواب ہی سے کیا ہو گا ہمارے بیچ جو حائل ہے وہ حقیقت ہے۔
    …**…
    25 ستمبر
    آج پہلا دن تھا جب ساری کلاسز ہوئیں اب اسٹڈیز کا سلسلہ باقاعدہ ہو جائے گا، کالج میں اب مجھے صرف دو سال گزارنے ہیں اور پھر عملی زندگی کا آغاز ہو جائے گا اور میں ان دو سالوں کو پوری طرح سے انجوائے کرنا چاہتا ہوں۔
    اس وقت رات کے گیارہ بجے ہیں اور میں اس قدر تھکا ہوا ہوں کہ سونے کے علاوہ کچھ اور کرنے کا موڈ نہیں ہے لیکن بہر حال میری ڈائری اس کچھ میں شامل نہیں ہے۔ ڈائری لکھے بغیر تو میں سو ہی نہیں سکتا۔
    آج میں نے کالج میں کافی مصروف دن گزارا لیکن کسی بھی کلاس میں کسی قسم کی بحث کے بغیر حتیٰ کہ کشف نے بھی آج مجھ سے بحث کرنے کی کوشش نہیں کی۔ خاص طور پر سر ابرار کی کلاس میں ایک پوائنٹ پر میں امید کر رہا تھا کہ وہ ضرور کچھ نہ کہے گی مگر غیر متوقع طور پر وہ خاموش رہی۔ لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ وہ سر ابرار کی کلاس میں اپنی پوزیشن بہت مستحکم کرتی جا رہی ہے اور پتہ نہیں سر ابرار کو بھی کیا ہو گیا ہے کہ وہ اس کی بات کو بہت اہمیت دینے لگے ہیں۔ خیر کوئی بات نہیں۔ چند دن کی ہی تو بات ہے ، ابھی وہ یہاں نئی ہے اس لیے ریزرو ہے، کچھ دن بعد جب اسے کالج کی ہوا لگے گی تو پھر ایسی لڑکیاں کلاسز اٹینڈ کرنے کے بجائے لان اور کیفے ٹیریا میں زیادہ پائی جاتی ہیں کیونکہ یہ مڈل کلاس کی لڑکیاں کالج جیسی جگہ پر پڑھنے نہیں لڑکے پھانسنے آتی ہیں تاکہ اپنی کلاس سے نکل کر وہ اس کلاس میں آ سکیں اور وہ بھی مڈل کلاس کی ہی ایک لڑکی ہے۔وہ کیا مختلف ہوگی فرزانہ نے بتایا تھا کہ وہ اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے کچھ ٹیوشنز بھی کرتی ہے تو ایسی لڑکیوں کے لیے دولت میں ویسے ہی بہت چارم ہوتا ہے۔ میں بھی دیکھوں گا وہ کب تک اس امیج کو برقرار رکھتی ہے۔
    آج اسمارہ نے مجھے اپنی برتھ ڈے پر انوائیٹ کیا تھا سو میری آج کی شام بہت اچھی گزری ہے۔ اس جیسی لڑکی کے ساتھ انسان شام توکیا زندگی بھی گزار سکتا ہے۔ میں تو آج کل اس سے کافی امپریس ہوں اور اس کا حال مجھ سے بھی برا ہے۔ میرے ایک ڈائیلاگ کے جواب میں وہ ایسے دس ڈائیلاگ بولتی ہے۔ شاید وہ یہ سمجھ رہی ہے کہ میں اس کے بارے میں بہت سیریس ہو چکا ہوں اور میں اس کی اس خوش فہمی کو ختم نہیں کر نا چاہتا کم از کم اس وقت تک توبالکل نہیں جب تک مجھے کالج میں کوئی اور اچھا پیس نہیں مل جاتا کیونکہ اس وقت تک گھومنے پھرنے کے لیے کالج میں اسمارہ سے زیادہ آئیڈیل کوئی لڑکی نہیں ہے۔ آج پارٹی میں اسامہ نے مجھ سے کہا تھا۔
    ”یار زندگی تو تم گزار رہے ہو۔ ایک سے ایک لڑکی کو پھانسا ہوا ہے۔”
    مجھے اس کی بات بہت بری لگی ، اس لیے میں نے اسے کہا تھا ”مائنڈیور لینگوئج اسامہ! میں نے کسی کو نہیں پھانسا، میں صرف لڑکیوں کی کمپنی کو انجوائے کرتا ہوں جسے تم فلرٹ کرنا بھی کہہ سکتے ہو اور بس ہم کوئی ٹین ایجر تو نہیں ہیں جو بے وقوف بن جائیں، یہ بہت میچور لڑکیاں ہیں اور یہ تو خود انجوائے منٹ کے لیے بوائے فرینڈز بناتی ہیں، انہیں اچھی طرح پتا ہوتا ہے کہ کون کس حد تک سیریس ہے اور جہاں تک میرا تعلق ہے تو میں ان افیئر ز کو دل کا روگ نہیں بناتا ویسے تم خود جتنے شریف ہو وہ بھی میں جانتا ہوں۔”
    میں نے کافی سنجیدگی سے اس کی کھنچائی کی تھی وہ جھینپ کر ہنسنے لگا تھا۔
    میرے خیال میں آج کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔ مجھے آج کچھ زیادہ ہی نیند آ رہی ہے۔ سو مائی سویٹ ڈائری اب تم بھی سو جاؤ۔
    …**…




  • دوسرا دوزخ

    میرے پیارے اللہ!
    ”آپ کے نام یہ میرا پہلا اور آخری خط ہے، بچپن میں ایک بار ایک کہانی پڑھی تھی… ایک یتیم بچے کی کہانی، جسے اپنی کوئی ضرورت پوری کرنے کے لیے کچھ رقم کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ اللہ کے نام ایک چٹھی لکھتا ہے، وہ چٹھی ڈاک خانے والے کھول لیتے ہیں اور پھر اس بچے پر ترس کھاتے ہوئے کچھ رقم اکٹھی کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے بھیج دیتے ہیں۔
    تب وہ کہانی پڑھتے ہوئے مجھے ترس سے زیادہ اس بچے پر رشک آیا تھا، جس پر دنیا نے ترس کھا لیا…
    مگر میں نے یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ زندگی میں ایک وقت ایسا آئے گا ،جب مجھے بھی اللہ کے نام ایسا ہی ایک خط لکھنا پڑے گا۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ دنیا اس خط کو کھول کر پڑھنے کے بعد بھی کبھی مجھ پر ترس نہیں کھائے گی… یا شاید لوگ کبھی اس خط کو پڑھ ہی نہیں پائیں گے…”
    ”نہیں کیا یہ کہوں کہ پڑھنا نہیں چاہیں گے۔”
    ”نہیں… کیا… کہوں کہ یہ خط ان تک پہنچ ہی نہیں پائے گا…”
    کاغذ پر سیاہی سے لکھی ہوئی تحریر دیکھی جا سکتی ہے۔ پڑھی جا سکتی ہے… سوچ کی لہروں پر بھیجی جانے والی تحریر کتنے لوگ پڑھ سکتے ہیں… لکھنے والے اور اللہ کے سوا…؟ میری خواہش تھی، میں بھی اس بچے کی طرح ایک کاغذ پر یہ تحریر لکھتی اور پھر اسی طرح لفافے پر اللہ کے نام لکھ کر ڈاک کے سپرد کر دیتی، مگر میں ایسا کرنے کے قابل نہیں ہوں۔
    لکھنے کے لیے ہاتھ میں قلم اور کاغذ ہونا چاہیے، میں دونوں چیزیں تھامنے کے قابل نہیں ہوں۔ میں اپنا ہاتھ بستر سے اٹھا نہیں سکتی۔ ہاتھ ہلانے کی کوشش کروں گی تو میرے جسم پر موجود زخموں سے خون رسنا شروع ہو جائے گا۔ قلم ہاتھ میں تھاموں گی تو ہتھیلی کا ماس قلم کے ساتھ چپک جائے گا۔ انگلیاں موڑوں گی تو میرے Knuckles (انگلیوں کے جوڑ) پر پڑنے والی دراڑیں ہاتھوں کے باقی ماندہ گوشت کو برہنہ کر دیں گی۔ آنکھیں مسلسل کھلی رکھنا بھی میرے لیے ممکن نہیں ہے۔ درد کم کرنے کی دوائیں، مجھے ہوش میں رہنے نہیں دے رہیں۔ درد مجھے ہوش کھونے نہیں دے رہا۔
    میں بول کر کسی دوسرے کو بھی خط نہیں لکھوا سکتی، میں الفاظ اکٹھے کرنے کے قابل نہیں رہی میرا ذہن درد اور اذیت سے مائوف ہو رہا ہے، میرے منہ سے کرا ہوں کے علاوہ اور کچھ نہیں نکل پا رہا۔ اور تکلیف اتنی ہے کہ میں… میں کراہ بھی نہیں پا رہی۔ منہ کھولنے کی کوشش میں میرے چہرے کی جلی ہوئی جلد اور گوشت چٹخنے لگتا ہے۔ خون اور پیپ رسنے لگتی ہے۔ لفظ کراہ بن جاتا ہے۔





    میوہاسپٹل کے برن یونٹ میں ایک بستر پر میں اپنی زندگی کے آخری گھنٹے گزار رہی ہوں، میرا ستر فیصد جسم جل چکا ہے۔ پچھلے چوبیس گھنٹے سے میں زندگی اور موت کی کشمکش سے دوچار ہوں۔ کیونکہ ڈاکٹر نے مجھے لاعلاج قرار دے دیا ہے۔
    ”یہ اگلے ایک دو گھنٹوں میں مر جائیں گی۔” میں نے اپنے بستر سے کچھ فاصلے پر ڈاکٹر کو کچھ دیر پہلے کہتے سنا تھا۔ وہ پتا نہیں کس سے مخاطب تھا۔
    ”امی سے… ابو سے… مہوش سے… سجاد سے… لئیق سے پتہ نہیں کس سے…؟”
    مگر اس نے یہ کہا ضرور تھا، میں نے اپنے کانوں سے سنا تھا… کان…؟ پتہ نہیں انھیں کان کہنا اب ٹھیک ہوگا یا نہیں… جلنے کے بعد چیزوں کو کوئلہ کہتے ہیں یا راکھ… جلی ہوئی عورت کو کیا کہتے ہیں؟ پچھلے چوبیس گھنٹوں سے میں جن سوالوں کے جواب تلاش کر رہی ہوں ان میں سے ایک یہ بھی ہے۔
    میری ناک میں لگی ہوئی آکسیجن کی نالی دنیا میں میری آخری سانسوں کو ممکن بنا رہی ہے۔ میرے دائیں ہاتھ کی آبلہ بنی ہوئی پشت میں پیوست ایک ڈرپ قطرہ قطرہ کر کے میرے اندر وہ نمی پہنچا رہی ہے جو میرے وجود کو اس ہولناک اذیت سے چھٹکارا پانے بھی نہیں دے رہی۔ میں گردن سے پیروں تک ایک سلاخ دار پنجرے میں ہوں جس کو سفید رنگ کی ایک چادر سے ڈھانپا گیا ہے۔ ایسا اس لیے کیا گیا ہے تاکہ کپڑا میرے جسم سے نہ چھوئے۔ میرے جسم پر موجود گوشت، چربی، کھال سب کچھ جل کر صرف خون آلودہ اور پیپ زدہ ایک ڈھیر رہ گیا ہے۔ اور ڈاکٹر اس ڈھیر کو مزید کسی تکلیف سے بچانے کے لیے اس پر کپڑا چھونے نہیں دے رہے۔
    میں اپنا ہاتھ اٹھا کر چہرہ چھو نہیں سکتی۔ مگر میں پھر بھی جانتی ہوں وہاں اب کچھ بھی نہیں ہوگا۔ میرے چہرے کے سارے نقوش مسخ ہو چکے ہوں گے…
    ”ہاں… ہاں مگر آنکھیں… آنکھیں اب بھی باقی ہیں۔ آنکھیں اب بھی دیکھ سکتی ہیں… اور… اور دکھا بھی سکتی ہیں… میں پچھلے چوبیس گھنٹوں سے خود پر نظریں ڈالنے والے ہر شخص کی آنکھ کی پتلی میں اپنی شبیہہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہوں۔ ہر شخص نظریں چرا جاتا ہے۔ مجھے اپنی شبیہہ نظر نہیں آتی…
    چوبیس گھنٹے…
    چوبیس گھنٹے…
    چوبیس گھنٹے…
    صرف چوبیس گھنٹے ہی تو گزرے ہیں، مجھے گوشت پوست کے ایک نارمل انسان سے جھلسے ہوئے اس بے شناخت ڈھیر میں تبدیل ہوئے۔ چوبیس گھنٹے پہلے میں اپنی انگلیوں کے پوروں سے اپنے چہرے کے ہر نقش کو محسوس کر سکتی تھی۔ ناک کی باریک اٹھی ہوئی نوک، ہونٹوں کی مخصوص ساخت، گالوں کی ملائم جلد، بھنوئوں کے بال، دراز خمدار پلکیں، تھوڑی کا گڑھا، مسکرانے پر گالوں میں پڑنے والے ڈمپل، کانوں کی نرم لو اور اس میں لٹکتی ہوئی بالیاں، کمر تک لمبے سیاہ گھنے اور ملائم بال جو بہت اچھی طرح باندھے جانے کے باوجود میرے ماتھے اور گالوں پر بکھرے رہتے تھے اور جنھیں میں ہر وقت کانوں کے پیچھے اڑستی رہتی… اور… دراز خمدار پلکوں والی سیاہ ہنستی ہوئی آنکھیں۔
    اب وہاں کیا ہے؟ میں جانتی ہوں… میں نہیں جانتی۔
    مجھے آپ کو تو یہ سب بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ تو سب کچھ جانتے ہیں۔ میں آپ کو یہ سب کچھ بتانے کے لیے تو خط نہیں لکھ رہی، میں تو آپ سے کچھ پوچھنا چاہ رہی تھی۔
    ”کیا پوچھنا چاہ رہی تھی؟ کیا پوچھنا چاہ رہی تھی؟ کیا پوچھنا چاہ رہی تھی…؟ آہ… مجھے یاد نہیں آ رہا۔
    درد ہے کہ بڑھتا جا رہا ہے۔ نرس میری ناک میں لگی ہوئی نالی کو ٹھیک کر رہی ہے۔ اس نے آکسیجن کے پریشر میں کچھ تبدیلی کی ہے۔ میں محسوس کر سکتی ہوں۔ میرے چہرے کو دیکھتے ہوئے اس کی آنکھوں میں رحم ہے، ترس ہے؟ خوف ہے؟ کیا ہے؟ میری آنکھیں ایک بار پھر بند ہو رہی ہیں۔
    میرے بستر کے پاس کھڑے لوگ میری سانسیں گن رہے ہیں۔ ان کی خواہش ہے میں مر جائوں… میں جانتی ہوں، وہ چاہتے ہیں میں اس اذیت سے چھٹکارا پا جائوں، مجھے علم ہے… میری بھی یہی خواہش ہے، میں بھی یہی چاہتی ہوں… مگر… مگر… وہ سوال جو میں آپ سے پوچھنا چاہتی ہوں… وہ یاد نہیں آ رہا… پتہ نہیں کیوں… کیوں یاد نہیں آ رہا… میں وہ سوال پوچھے بغیر… پوچھے بغیر مرنا بھی نہیں چاہتی۔ کیسے مر جائوں؟ مگر سوال… مگر سوال…
    میں یاد کر رہی ہوں، مجھے یاد آ جائے گا۔ کوئی میرے بستر کے پاس رو رہا ہے۔ میں آنکھیں کھولے بغیر بھی آواز پہچان سکتی ہوں… آخری سانسیں لیتے ہوئے بھی ان سسکیوں کو شناخت کر سکتی ہوں…
    وہ میری ماں ہے… پچھلے چوبیس گھنٹوں سے میں اسے اسی طرح اپنے سرہانے دیکھ رہی ہوں۔ جلے پیر کی بلی کی طرح وہ… میرے بستر کے گرد پھر رہی ہے… میرے دائیں جانب… پھر میرے بائیں جانب… دائیں جانب… بائیں جانب… وہ روتی ہے… چپ ہو جاتی ہے… ہاتھ میں پکڑے ہوئے پنج سورة سے آیات اور دعائیں پڑھتی ہے۔ مجھ پر پھونکتی ہے… مجھے دیکھتی ہے۔ پھر رونے لگتی ہے۔ وہ پھر کچھ پڑھتی ہے… پھر پھونکتی ہے… وہ مجھے ہاتھ نہیں لگا سکتی۔ تسلی دینے کے لیے نا محبت جتانے کے لیے…
    وہ میرا ماتھا چھوئے گی تو میرے ماتھے کی جھلسی ہوئی جلد اپنی جگہ چھوڑنے لگے گی… میں اور کراہوں گی…