
رنگ ریز — قرۃ العین خرم ہاشمی
”دنیا میں ایسا کوئی رنگ نہیں بنا ، جو شالارنگ والا کے ہاتھوں میں آکر کھلا نہ ہو ! بابو جمیل میں ایسا رنگ رنگتا
”دنیا میں ایسا کوئی رنگ نہیں بنا ، جو شالارنگ والا کے ہاتھوں میں آکر کھلا نہ ہو ! بابو جمیل میں ایسا رنگ رنگتا
یہ ایک خواب زادی کی کہانی ہے۔ داستان گو نے لمبا سانس کھینچا اور پھر سامنے بیٹھی لڑکی کی بھیدوں بھری آنکھوں میں جھانکا ۔
”میں بہت جلد واپس آئوں گی۔” نہایت گرم جوشی سے الوداع کہتے ہوئے اس نے بیپ سے رخصت لی۔ اپنے ریستوران کے مالک گرومیل کو
دنیا میں سات ارب سے زیادہ انسان ہیں ،آپ ان سات ارب سے زیادہ انسانوں میں سے دو ایسے انسان بہ مشکل ہی ڈھونڈ پائیں
”مما جانی… آپ مجھ سے کتنا پیار کرتی ہیں؟” گول مٹول سے ریان نے سکول سے واپسی پہ اپنی پیاری ماں سے پوچھا۔ اس کے
آئینے میں ابھرنے والے عکس نے چڑیا کو روک لیا تھا۔ کسی پرانے ،مہربان واقف حال، غمگسار دوست کی طرح اس کے دل اور قدموں
خراب اور رکی ہوئی گھڑیوں سے اسے بہت وحشت ہوتی تھی. بھلا وقت بھی کبھی رکا ہے؟ رکی ہوئی گھڑی سے بڑا دھوکا کوئی اور
کئی دن بعد آج موسم کافی خوشگوار تھا… آسمان سرمئی بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا… میں گھر میں بیٹھے بیٹھے اکتا سا گیا تو سوچا
چچا غالب کو کون نہیں جانتا؟ ادب کا ذوق تو ہر ایک کو نہیں ہوتا، لیکن اردو لازمی پڑھنے والوں کے لئے بھی غالب وہ
اس نے آخری بار جب اس آئینے میں اپنا عکس دیکھا تھا تو اس کا لباس اور اس کا چہرہ… اس کا جسم… اور ان