Tag: Read online

  • سوءِ بار — میمونہ صدف

    ٹھنڈی وڈاں گاؤں کے رشک خان کی پوتی گاؤں کی اونچی نیچی پگڈنڈیوں پہ اچھلتی کودتی زمین کی دراڑوں کو دیکھتی جاتی ہے ۔ گہری اور بڑی دراڑیں جنھوں نے زمین کو اندر تک چیر ڈالا تھا۔ اماں بتاتی تھی کہ یہ دراڑیں برسوں پہلے تب پڑی تھیں جب اس علاقے میں شدید بھونچال آیا تھا ، آبادی کی آبادی تلپٹ ہوگئی تھی ۔
    ”اماں بھونچال کیسے آتا ہے؟” اس کی آٹھ جماعتیں پڑھی ماں بتاتی کہ جب زیرِ زمین پلٹیں سرکتی ہیں تو بھونچال آتا ہے ، زمین ہچکولے کھانے لگتی ہے اور دادا ایسے میں ٹھنڈی آہیں بھرتے کہا کرتے تھے کہ جب زمین پہ بوجھ بڑھ جاتا ہے، تو زمین اس بوجھ کو اتار پھینکنے کو انگڑائیاں لیتی ہے ۔ اس کا ننھا ذہن سوچتا کہ زمین پر آخر کس شے کا بوجھ ہے ؟ انسانوں اور ڈھورڈنگروں کایا شہرکی بڑی بڑی عمارتوں کا ؟
    دادا کہتے تھے ۔ ” جب حضرت انسان حد سے تجاوز کرنے لگتا ہے تو پہاڑ دھرتی بنانے والے کے حضور گزارش کرتے ہیں کہ ایک حکم دیں اور وہ سرک جائیں ، ہوا بھی سوال بن کر کھڑی ہو جاتی ہے کہ آیا وہ سب اڑا لے جائے ، پانی چاہتا ہے کہ وہ سب بہا لے جائے لیکن قدرت خاموش رہتی ہے ۔بنانے والا حکم نہیں دیتا ، مہلت دیتا ہے۔۔ تبھی آدم شیر ہوتا ہے ۔تباہ ہو کر بھی اصلاح نہیں کرتا ، پچھتاتا نہیں ہے۔ سوال کرتا ہے ، اکڑتا ہے اور پھر سے وہی دہراتا ہے ۔”
    رشک خان کی پوتی ناسمجھی سے بس اثبات میں سر ہلا دیتی ۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ دادا کیسی باتیں کرتے ہیں اور رشک خان ماضی میں کھو جاتا جہاں برسوں پہلے زمین کو سرکنے کا حکم جاری ہو ا تھا ۔
    ٭…٭…٭





    ٹھنڈی وڈاں گاؤں میں ایک ہی بات زبانِ زد عام تھی کہ زمان خان کے اِکو اِک پتر کا ضمیر بگڑ گیا ۔ شہر بھیجا تھا پڑھنے کو ، عقل مت سیکھنے کو، افسر بن کر لوٹنے کو ۔ مگر کچھ نہ بنا بس ناخلف بن گیا ، ناشدنی، نافرجام۔ اب اسے انہی القابات سے نوازا جاتا ۔ کبھی و ہ جو باپ کی نیک نامی کا باعث بنا، اب بدنامی کا باعث بن رہا تھا۔ پہلے گاؤں والے اسے سر آنکھوں پر بٹھاتے، اب سب اسے آنکھیں دکھاتے ۔ وہ جو قابل ِ مثال رہا تھا۔
    ”دیکھ شیر گل جیسا بن۔ کتنا لائق نکلا ۔ پورے گاؤں کیا آس پاس کے گاؤں میں بھی کوئی اس جیسا نہیں ۔” اب بھی قابلِ مثال ہی تھا ۔
    ”خبردار جو شیر گل سا وتیرہ اپنایا۔ ناعاقبت اندیش۔ ہماری سات پیڑھیوں میں اس سا کوئی نہیں نکلا۔”
    تو وہ جو شیر گل تھا اس کے باپ دادا اور تایا کا اس گاؤں میں دیگر لوگوں کی طرح ایک ہی کاروبار تھا ۔ مہاجن ، جو مجبوروں کو قرض دیا کرتے اور سود سمیت وصول کیا کرتے ۔ آس پاس کی دکانوں پر بھی یہ نہیں تو کم و بیش اسی قسم کاکاروبار عام تھا ۔ کوئی سرحد پار سے غیر قانونی اسلحہ منگوا کر دکانوں کی زینت بنا رہا ہے ، تو کوئی پوست کی کاشت سے کما رہا ہے ۔ سب حلال اور باعثِ برکت مانا جاتا ۔کالا دھن سفید سمجھ کر وصولا اور بیچا جاتا۔ اسی مال سے صدقہ کیا جاتا ، خیرات کی جاتی، زکوة دی جاتی۔ وہاں کوئی قاعدہ قانون نہ تھاکہ ان کے اپنے قاعدے اپنے قانو ن تھے اور صدیوں سے ایسا ہی چلا آرہا تھا ۔
    شیر گل جب شہر سے آتا نجانے کس کس کو ایسے کاروبار سے جڑا پاتا ، اندر کہیں سے برا مناتا لیکن ظاہر نہ کرتا ۔ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہی سہی پر کوئی درجہ تو تھا ۔جب رہا نہ گیا تو ایک روز بول پڑا ۔
    ”کاکا یہ کام چھوڑ دو ۔ یہ سارا سود ہے ۔ خدا اور اس کے رسولۖ کے خلاف اعلان جنگ، یہ آمدن حرام ہے۔ ” زمان خان سکتے میں آگیا ۔ یہ کون سی زبان تھی جو وہ بول رہا تھا ۔ کون سا فتویٰ وہ جاری کر رہا تھا۔
    ”کون کہتا ہے کہ آمدن حرام ہے ؟”
    ”وہ قرض جو نفع لے کر آئے حلا ل کیسے ہو سکتا ہے؟” زمان خان کا جوان بیٹے پر ہاتھ اٹھ گیا تھا۔
    ”اسی کمائی سے تیرے دادا نے ہمیں پالا اور اسی کمائی سے ہم اپنی نسل کو پال رہے ہیں ۔ اب یہ حرام ہوگئی۔ پاپ چڑھ گیا۔” وہ انیس سالہ شیر گل کو مارتا رہا اور وہ مار کھاتا رہا ۔ جب وہ مار مار کر ہانپنے لگا تو اس نے شیر گل کے منہ پر تھوک دیا۔
    ”باپ دادا کو حرام خور کہتا ہے۔ شہر اس لیے بھیجا تجھے؟” شیر گل نے اپنا منہ آستین سے پونچھ ڈالا پھر بھی مؤدب کھڑا رہا ۔
    ”شہر حق اور سچ کی تلاش میں بھیجا تھا نا۔ اب جب حق اور سچ کی بات کرتا ہوں، تو سب سے بڑا جھوٹا بھی میں ہوں اور باطل بھی میں۔”
    ”سائنس پڑھنے کو بھیجا تھا، تو ہمیں مذہب پڑھا رہا ہے۔”
    ”سائنس پڑھنا اور مذہب پڑھنا ایک برابر ہے ۔ سچ ہے ۔”
    ”کہاں سے آیا تیرا یہ سچ؟” زمان خان دہاڑا تھا۔ پہلے کبھی دہاڑا نہیں تھا مگر اب اس سے کم پر بات نہ بن رہی تھی ۔
    ”آسمانوں سے اترا ہے ۔” وہ نظریں جھکائے کھڑا رہا ۔مؤدب بنا رہا۔
    ”نافرمان ہے تو، خمیدہ آگیا تجھ میں ، میری تربیت میں۔ کیا تجھے دکھتا نہیں کہ سب اسی کاروبار سے کما رہے ہیں ، کتنی برکت ہے اس میں ؟”
    ”حرام میں کبھی برکت نہیں ہوتی۔ تبھی یہاں کی عوام کبھی خوشحال نہیں ہوتی ۔”
    ”سب غلط ہیں کیا؟” اس نے کف اڑایا۔
    ”جو یہ کرتے ہیں وہ غلط ہیں۔”
    ”ایک تو سچا ہے؟” نخوت سے دیکھا گیا۔
    ”جو یہ نہیں کرتے سب سچے ہیں۔” ادب سے جواب آیا۔
    ”مردود ہو گیا ہے تو۔” زمان خان اکلوتے بیٹے کا ماتم منانے کو سر پیٹنے لگا تھا۔
    بات پھیلتے پھیلتے ٹھنڈی وڈاں تو کیا آس پاس کے چھوٹے دیہات تک جا پہنچی تھی۔ سو اب پنجایت بٹھائی گئی۔
    ”تو ہمارے کاروبار کو حرام کہنے والا کون ہوتا ہے؟” سب گاؤں والے بیٹھے تھے ۔ وہاں ایک ہی عاصی کھڑا تھا ۔ انیس سالہ جوان شیر گل۔
    ”میری کیا مجال۔ یہ تو خدا اور اس کا رسول ۖ کہتے ہیں ۔”
    ”تجھے کیا خدا نے خود کہا یا فرشتے بھجوائے؟” بڑا زمیندار ٹھنکا تھا ۔
    ” کلام بھیجا گیا ہے وہاں لکھا ہے سب۔ وہاں درج ہے سب ۔” وہ سر جھکائے ، ہاتھ باندھے کھڑا تھا ۔
    سب کی تیوریاں چڑھیں۔
    ”ہم نے بھی پڑھ رکھا ہے سب ۔ جانتے ہیں سب ۔”
    ”مگر مانتے نہیں ہیں۔” اس نے سر اٹھا کر سب کی جانب دیکھا ۔
    ”تو ہوش میں ہے ؟” زمان خان نے سر پیٹ لیا ۔
    ”میں ہی تو ہوش میں ہوں۔”
    پھر اسے واپس بھیجنے کا فیصلہ سنا دیا گیا کہ وہ باغی ہوتا وہاں کی نسل کو برباد کر رہا تھا، لیکن ایسے نہیں سنگسار کر کے اور پہلا پتھر اسے زمان خان نے مارا تھا اس کا پہلا قدم اٹھانے میں مدد دینے والا ، اس کا باپ ۔ پھر تابڑ توڑ پتھر برسائے گئے اور شیر گل دیوانہ وار بھاگتا چلا گیا ۔کون سا پتھر کہاں لگا یہ یاد نہ رہا سوائے اس پہلے پتھر کے ۔
    ”شیر گل حق بات کہتا ہے۔” وہ تو سنگسار کر کے نکال دیا گیا تھا، لیکن یہ سوچ دوسرے ذہنوں میں پنپنے لگی تھی ۔
    ”آباء ہمیشہ درست ہوں گے یہ کہاں لکھا ہے ؟ کہاں ہوتا آیا ہے؟ تاریخ گواہ ہے ۔” وہ شیر گل کا تایا زاد رشک خان تھا ْ۔
    ” گزری قوموں جیسا کریں گے تو انہی کی طرح بندر خنزیر بنا دیے جائیں گے ۔” وہ ٹھنڈی وڈاں کے بڑے زمیندار کا پتر امیر حمزہ تھا ۔
    ”ہم کیا کر سکتے ہیں؟”
    ” ہم ہی تو کر سکتے ہیں ، ہم جمے رہیں یہ ہم پہ لازم ہے ۔ اصحاب ِ کہف بھول گئے ۔چند جوان لڑکے ، نو عمر لیکن ایمان پر ڈٹ جانے والے ۔ اتنا نہ سہی ، کچھ تو ایمان دکھائیں ۔”
    چودہ لڑکوں کا وہ ٹولا شیر گل کا ہم خیال تھا ۔ چودہ گاؤں کے لیے چودہ جوان کافی تھے ۔انہیں سمجھایا گیا ، ڈرایا گیا ، لالچ دی گئی ، وعیدیں سنائی گئیں مگر وہ ڈٹے رہے، جمے رہے ۔ انھیں سنگسار نہ کیا جا سکا کہ اس میں بڑے لوگوں کے پتر شامل تھے۔ پھر کس کس کو سمجھاتے بجھاتے اور کس کس کو سنگسار کرتے ۔ ایک چنگاری تھی جو لگا دی گئی تھی۔
    بہت ماہ بعد شیر گل کسی امید کے سنگ لوٹا تھا ۔ ایک آخری بار ۔ بڑے ٹیلے پر کھڑا ہوا چلا رہا تھا ۔
    ” مان جاؤ ۔ حد سے بڑھنے والوں کو مٹا دیا جاتا ہے ۔” آہستہ آہستہ پورا ٹھنڈی وڈاں ٹیلے کے گرد جمع ہونے لگا ۔ شیر گل یہی دہراتا جاتا ۔
    ” تو ولی ہے یا نبی جو وعیدیں سنا تا ہے ۔ ہم اب تک بچے ہیں ، آگے بھی بچے رہیں گے ۔” بڑا زعم تھا انھیں اپنی عبادات پہ ۔ غرور اور تکبر تھا جو ٹپک رہا تھا ۔
    ”بنی اسرائیل مت بنو۔”
    ”بن بھی گئے تو کیا؟ بڑا کرم تھا اس قوم پہ ۔” اور وہ سارا عذاب بھول گئے، صرف انعام یاد رکھا۔ آزمائشیں ، پابندیاں کچھ یاد نہ رہا ۔ شیر گل پھر رکا نہیں ۔ ہمیشہ کے لئے نکل گیااور جس روز سرحد پار سے ان کا متبرک مال آنا تھا اور وہ نجانے کون کون سے منصوبے بنا رہے تھے۔ دھرتی پہ بوجھ کو بڑھا رہے تھے تو زمین سرکنے ، خون اگلنے لگی ۔ گھر کے گھر اجڑ گئے۔ گاؤں کے گاؤں الٹ گئے اور چودہ لڑکوں کا وہی ٹولا بچ گیا جو شیر گل کا ہم خیال تھا ۔
    رشک خان نے آنکھوں کو پونچھتے ہوئے پوتی کی جانب دیکھا جواس کی انگلی تھامے زمین کے اونچے نیچے رستوں پر چلتی دراڑوں کو دیکھتی دہراتی جاتی تھی ۔ زمین پہ بوجھ بڑھنے سے بھونچال آتا ہے ۔ اگلی بارنجانے بوجھ کب بڑھے گا۔
    ٭…٭…٭




  • نیل گری — افتخار چوہدری

    گہرے سرمئی بادلوں سے گرتی سفید برف نے فضا میں سحر انگیز منظر تخلیق کیا ہوا تھا اور یہ منظر پچھلے کئی دنوں سے یکسانیت کا شکار تھا جس کی وجہ سے حد نگا ہ تک پھیلی برف کی سفید چادر کئی فٹ موٹی تہ کی صورت اختیار کر چکی تھی ، مگر ابھی تک گالوں کی شکل میں گرتی برف رکنے کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے تھے۔ درختوں کی شاخیں تک برف کے بوجھ سے دُہری ہو چکی تھیں ، جب کہ اطراف میں موجود ہر منظر دودھ میں نہایا ہوا لگ رہا تھا ،پہاڑوں پر موجود پگڈنڈیوں سے مشابہ رستے جو گرمیوں میں حقیقی وجود رکھتے تھے ، اس وقت کسی بے نشان منزل کی طرح گم ہوچکے تھے۔ ایسے میں صفدر اُنہی گمشدہ رستوں پر محض اندازے اور احتیاط سے قدم اٹھا رہا تھا۔ اس کا ہر اٹھنے والا قدم گھٹنوں تک برف میں دھنس رہا تھا جس کی وجہ سے چلنے کی رفتار نہ ہونے کے برابر تھی۔ سردی سے بچنے کے لیے اس کے جسم پر آدھے درجن سے زائد گرم ترین ملبوسات کی تہیں تھیں اور سر کو گرم ٹوپی سے ڈھانپنے کے بعد ایک اونی مفلر سے پورے چہرے کو چھپایا ہوا تھا۔ اس کی صرف آنکھیں نظر آرہی تھیں۔ اتنے حفاظتی اقدامات کے باوجود اسے سردی سے اپنی ہڈیوں میں گودا جمتا محسوس ہورہا تھا۔ گیارہ ہزار فٹ سے زائد بلندی پر ہونے کی وجہ سے آکسیجن کی مقدار انتہائی کم تھی جس کی وجہ سے وہ گہرے سانس لینے پر مجبور تھا۔ وہ اس وقت سائبیریا کے بعد دنیا کے دوسرے سر د ترین مقام دراس کی حدود میں موجود تھا۔ وہاں اس وقت درجہ حرارت منفی چالیس ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی نیچے تھا۔ وہاں سے کارگل کی مشہور پہاڑیاں اور خاص طور پر ٹائیگر ہل نامی پہاڑ بالکل متصل علاقہ تھا۔ اسی پہاڑ پر پاکستان اور اس کے ازلی دشمن انڈیا کے درمیان 1999ء میں گھمسان کا رن پڑا تھا۔ صفدر اس وقت پہاڑکے ٹاپ کی طرف جانے والے ایک تنگ سے راستے پر پھونک پھونک کر قدم اٹھا رہا تھا۔ اس تنگ راستے کے دوسری طرف ہولناک کھائیاں صدیوں سے منہ پھاڑے کسی شکار کے انتظار میں تھیں۔ پوری احتیاط سے چلنے کے باوجود اچانک اس کے پاؤں کے نیچے سے برف کسی شیشے کی طرح تڑخی اور پھر اس سے پہلے کہ وہ خود کو سنبھالتا اس کا توازن بگڑگیا اور وہ راستے کے دوسری طرف گہری کھائی میں گرتا چلا گیا۔ رستے کے کنارے پر شیڈ کی صورت آگے کو بڑھی ہوئی برف پر پاؤں رکھتے ہوئے اسے اندازہ ہی نہیں ہوا تھا کہ برف کے نیچے ٹھوس سطح کے بجائے خلا ہے۔ اندازے کی اس ایک غلطی نے اسے آزمائش میں مبتلا کر دیا تھا۔ برفیلی ڈھلانی سطح پر لڑھکنیاں کھاتا ہوا جب وہ رکا، تو اس کی آنکھوں کے سامنے نیلے پیلے ستارے گردش کر رہے تھے۔ اسے اپنے حواس مجتمع کرنے میں چند منٹ لگ گئے۔ حواس پوری طرح بحال ہونے پر اس نے اطراف کا جائزہ لیا، تو خود کو ایک پیالہ نما کھائی میں پایا جس کی گہرائی بیس فٹ سے زائد ہوگی۔ اس نے واپس اوپر چڑھنے کی کوشش کی، تو اسے جلد ہی اندازہ ہوگیا کہ برف گرنے سے ڈھلانی نظر آنے والی کھائی کی دیوار اصل میں عمودی ہے۔ اس خوفناک حقیقت کے آشکار ہونے پر اس کادل لرزنے لگا۔ وہ بار بار اوپر چڑھنے کی کوشش میں پھسل کر واپس گر رہا تھا۔ کچھ ہی دیر میں اس کا سانس دھونکنی کی طرح چلنے لگا، تو نڈھال سا ہو کر ایک طرف بیٹھ گیا جس جگہ وہ بیٹھا تھا اسے لگا جیسے اس کا پاؤں کسی نرم اور پلپلی چیز کے اوپر رکھا گیا ہو۔ اس نے کریدنے کے انداز میں وہاںسے برف ہٹائی تو اسے لگا جیسے وہاں کوئی انسانی جسم دباہوا ہے۔اس خیال سے ہی اس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے جب کہ برف ہٹانے کی رفتار دُگنی ہوگئی۔ کچھ ہی دیر میں اس نے ایک پندرہ ،سولہ سالہ لڑکی کی لاش دریافت کر لی۔ وہ پری چہرہ لڑکی سوئی ہوئی لگ رہی تھی۔ اس کے چہرے پر موت کی تلخی کا شائبہ تک نہیں تھا۔ لباس اور حلیے سے اس کا تعلق وہیں کے کسی قبیلے سے لگ رہا تھا ۔ نہ جانے کس بد نصیب کی بچی ہے۔ اس نے دکھی دل سے سوچا اور بے بسی سے اطراف کا جائزہ لینے لگا۔ اسے خود پر اس چوہے کا گمان ہو رہا تھا جسے پنجرے سے باہر نکلنے کی کوئی راہ سجھائی نہ دے رہی ہو۔ ابھی دن میں ہی بادلوں نے اندھیرا پھیلا رکھا ہے ،کچھ دیر بعد جب رات کے اندھیرے نے اپنے سیاہ پَر پھیلا کر ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لینا ہے تب، تو یہاں سے نکلنا نا ممکن ہو جائے گا اور پھر صبح تک تو اس بے رحم موسم نے میری قلفی جما کر مجھے بھی اس لڑکی کے ساتھ ہی میں دفن کر دینا ہے۔ صفدر کے ذہن میں اس بار منفی سوچ ابھری۔ نہیں یہ نہیں ہو سکتا۔ اس کے دل نے ذہن میں ابھرنے والی سوچ کی پُر زور تردید کی اور وہ ایک بار پھر ہمت کر کے نئے عزم کے ساتھ اٹھ کھڑ ا ہوا۔ اس بار اس نے رُخ بدل کر جنونی انداز میں ہاتھ چلائے تو اچانک برف میں دبی ہوئی جھاڑی کی لمبی شاخ اس کے ہاتھ آگئی جس کے سہارے وہ باہر نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔ تشکر بھرے جذبات کے ساتھ ساتھ یقینی موت کو پچھاڑنے کا جوش بھی اس کے چہرے سے عیاں ہورہا تھا۔اس نے مڑ کر کھائی میںجھانکا، تو حسرت ویاسیت کی تصویر بنی لڑکی کی لاش پر برف روئی کے گالوں کی طرح گر رہی تھی۔ اس نے ایک بار پھر سفر شروع کیا ، گو کے اس کا اٹھنے والا ہر قدم گھٹنوںتک برف میں دھنس رہا تھا، مگر اسے یقین تھا کے دن ڈھلنے سے پہلے وہ اپنی منزل مقصود پر پہنچ جائے گا۔
    ٭…٭…٭
    گہرے سرمئی رنگ کے چوہے نے ایک بار پھر آٹے والی ڈرمی کے پیچھے سے سر نکال کر اپنی گول مٹول آنکھوں سے اطراف کا جائزہ لیا۔ وہ کافی دیر سے وہاں چھپا ہوا تھا اور اب واپس اپنے بِل کی طرف جانے سے ہچکچا رہا تھا۔ وہ کئی بار ہمت کر کے باہر نکلا بھی تھا، مگر ہر بار چند قدم آگے بڑھنے کے بعد ہی اس کی ہمت جواب دے جاتی اوروہ کسی شکست خوردہ فوجی کی طرح پسپا ہوتا ہوا واپس ڈرمی کے پیچھے جا چُھپتا تھا۔ اب بھی وہ اسی کشمکش میں تھا کہ واپس اپنے بِل کی طرف چلا جائے یا مزید کچھ دیر یہیں چھپ کر اپنی جان کی حفاظت کرے، اس کی چھٹی حِس اسے قر ب وجوار میں موجود کسی بڑے خطرے سے آگاہ کررہی تھی۔ بالاخر اس بار اطراف کا جائزہ لینے کے بعد اس نے اپنی ہمت مجتمع کی اور ڈرمی کے پیچھے سے نکل آیا اور پوری رفتار سے دوسری دیوار کے ساتھ رکھی ہوئی پیٹی کی طرف دوڑا۔ پیٹی کے نیچے اس کا بِل تھا جس تک پہنچنے کے لیے وہ اتاولا ہوا جا رہا تھا۔ ابھی وہ اپنی منزل سے چند فٹ دورتھا جب دروازے کے پیچھے گھات لگا کر بیٹھی ہوئی مانو ایک ہی جست میں اس کے اوپر آن گری۔ گھر کی پلی ہوئی مانو کے ایک ہی جاندار پنجے نے اس کی روح کو اس فانی دنیا سے عالمِ پائیدار میں منتقل کر دیا۔ اب مانو کے منہ میں محض گوشت کا ایک لوتھڑا باقی رہ گیا تھا جسے لیے وہ پیٹی کے نیچے گھس گئی اور پھر اس کے مضبوط جبڑوں کے نیچے آکر چوہے کی ہڈیا ں ٹوٹنے کی کریہہ آوازیں ابھرنے لگیں۔
    ”بھائی! امی کہہ رہی ہیں کہ اٹھ جائیں ورنہ کالج سے دیر ہو جائے گی۔” نوشی نے صفدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تو وہ چونک کر اس کی طرف دیکھنے لگا۔ وہ کسلمندی سے چار پائی پر لیٹا ہوا بلی اور چوہے کے درمیان ہونے والی کشمکش میں حالات کو طاقتور کے حق میں پلٹا کھاتے ہوئے دیکھ کراس قدر گہری سوچ میں میں ڈوبا ہوا تھا کہ اسے نوشی کے کمرے میں داخل ہونے کا علم ہی نہیں ہوا تھا۔
    ”کیا امی کے نام کی دھمکی دینا ضروری ہے؟ یہ بات تم خود بھی تو مجھے کہہ سکتی ہو۔ میں تمہیں منہ میں نہیں ڈال لوں گا۔ صفدر نے بیزاری سے جواب دیا۔ تو ہمیشہ سے ڈری سہمی رہنے والی نوشی کے چہرے پر ایک رنگ آ کر گزر گیا، جیسے بھائی نے اس کا جھوٹ پکڑ لیا ہو۔ وہ جس طرح آئی تھی ویسے ہی بے آواز قدموں سے لوٹ گئی۔ صفدر ایک بھر پور انگڑائی لے کر اٹھ کھڑا ہو ا اور کچھ دیر آئینے میں خود کا تنقیدی جائزہ لینے کے بعد باتھ روم میں گھس گیا۔ جب وہ باتھ روم سے باہر نکلا، تب تک نوشی اس کے لیے ناشتا لا کر چارپائی پر رکھ چکی تھی۔ ”یہ کیا ابھی تو پراٹھے اور آملیٹ بننے کی خوشبو آرہی تھی، میرے لیے بھی وہی لاؤ۔” اس نے چنگیر میں موجود روکھی روٹی اور کٹوری میں رات کی بچی ہوئی دال دیکھ کر منہ بناتے ہوئے کہا۔ ”دیور جی! پراٹھے کھانے کا شوق ہے تو کسی کام دھندے سے لگو۔ پہلے ہی مفت کی توڑتے ہوئے نہ آنکھ شرماتی ہے اور نہ ہاتھ رکتا ہے اور رہی سہی کسر یہ فرمائشی پروگرام شروع کر کے نکالنا چاہتے ہو۔” اس سے پہلے کہ نوشی کوئی جواب دیتی، ان کی بھابی عظمیٰ نے دروازے میں نمودار ہو کر کینہ توز نظروں سے دونوں کو گھورتے ہو ئے کہا شاید وہ کہیں قریب ہی موجود تھی اور یقینا ان کی باتیں بھی سن رہی تھی۔
    ”بھابی! گھر چلانے کے لیے آپ کے والد ِمحترم خرچہ دے کر نہیں جاتے جو آپ ہمیں مفت کی توڑنے کا طعنہ دے رہی ہیں۔ بھائی اکرم اس گھر کا بڑا بیٹا ہے،ماں باپ کا بھی اس پر کوئی حق ہے کہ نہیں اور آپ کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ابو کی ریٹائرمنٹ اور گریجوایٹی کی تمام رقم بھائی کی نوکری حاصل کرنے کے لیے بطور رشوت دی گئی تھی۔ کیا آپ میںاتنا سا بھی ظرف نہیں ہے کہ میری گریجوایشن مکمل ہونے میں چند ماہ رہ گئے ہیں اوریہ چند ماہ صبر کرلیں۔ اس کے بعد میں خود امی ابو اور بہن کی ذمہ داری سنبھال لوں گا۔” صفدر بھی کہاں چپ رہنے والا تھا۔ اس نے بھی ترنت زہر خندہ لہجے میں جواب دیا۔ جھگڑے کی فضا دیکھ کر نوشی تھر تھر کانپنے لگی۔ اسے بھائی اور بھابی کے انداز سے لگ رہا تھا کہ بات لڑائی کی طرف جارہی ہے اور وہ ہمیشہ کی ڈرپوک ایسی صورت حال سے کوسوں دور بھاگتی تھی۔
    ”میرے والد کا اس بات سے کیا تعلق ہے؟ کیا یہی تعلیم حاصل کر رہے ہو کہ بزرگوں کی عزتیں اچھالو۔ اب اگر تم نے اپنے گندے منہ سے میرے ابو کا نام لیا تو میں تمہارا منہ نوچ لوں گی، گھٹیا۔” عظمیٰ نے آگے بڑھ کر صفدر کا گریبان پکڑ لیا اور ہذیانی انداز میں چیخنے لگی۔ اس کی آواز اتنی بلند ہو گئی کہ آس پاس کے پڑوسی بھی متوجہ ہوگئے۔ بشیراں بی بی بیٹے اور بہو کے درمیان آگئی تاکہ جھگڑے کو بڑھنے سے روک سکے۔ اس دوران ریٹائر کلرک رحمت علی کھانستا ہوا جب کہ اکرم بھی آنکھیں ملتا ہواوہاں پہنچ گئے۔
    ”صبح سویرے کیا تماشا لگا رکھا ہے؟” اکرم نے پھنکارتے ہوئے پوچھا۔ اس کا رخ صفدر کی طرف ہی تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتا ،رو رو کر آسمان سر پر اٹھاتی ہوئی عظمیٰ نے بات اچک لی۔
    ”اس بھوکے ننگے گھر میں، میں نے اپنی تمام خواہشات کا گلا گھونٹ دیا۔ تمہاری کم آمدن کے باوجود صبر و شکر سے اس گھر کی تمام ذمہ داریاں نبھا رہی ہوں۔ کئی دنوں سے میرا دل پراٹھا کھانے کو چاہ رہا تھا۔ آج ہمت کر کے ایک بنا ہی لیا تو وہ بھی ان لوگوں کو برداشت نہیں ہو رہا۔ یہ سرکاری سانڈ کہتا ہے کہ تمہارے ابا خرچہ دے کر نہیں جاتا جو پراٹھے کھاتی ہو۔” اس نے ہچکیوں کے درمیان بات کو اپنے انداز سے آگے بڑھایا۔
    ”بھائی! یہ جھوٹ بول رہی ہے میں نے تو…”
    ”بس اب تمہیں تاویلیں گھڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آج کے بعد اگر تم نے بلا وجہ میری بیگم سے الجھنے کی کوشش کی تو مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہو گا اور ویسے بھی چند دنوں کی بات ہے جیسے ہی مجھے سرکاری کوارٹر ملے گا ہم شفٹ ہو جائیں گے۔” اکرم نے عظمیٰ کے آنسوؤں کو اپنے ہاتھوں سے صاف کرتے ہوئے وارننگ دی، تو اس کی بات سن کر صفدر کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔ اس نے ایک بار پھر کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ اپنے پیچھے کسی کے گرنے کی آواز سن کر مڑا، تو نوشی فرش پر گری کسی مچھلی کی طرح تڑپ رہی تھی۔ یہ منظر دیکھ کر اس کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ وہ اس کی طرف دوڑا جب کہ عظمیٰ طنزیہ انداز میں سب پر نظر ڈالتے ہوئے اکرم کا ہاتھ پکڑ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔ پانی کے چھینٹوں اور آیت کریمہ کے ورد سے نوشی کی حالت میں کوئی سدھار نظر نہیں آرہا تھا۔ اس کی گلابی رنگت تیزی سے پیلاہٹ میں بدلتی چلی جا رہی تھی۔
    ”بیٹا خدا کے لیے جلدی کچھ کرو میری بیٹی ہاتھوں سے نکلتی جا رہی ہے اسے کسی اسپتال پہنچاؤ۔” بشیراں بیگم نے بے بسی سے صفدر کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا تو صفدر جو بہن کو ہوش میں لانے کے لیے جتن کر رہا تھا چونک کر ہاتھ جوڑتی ہوئی ماں کو دیکھنے لگا۔
    ”ہاں ماں اسے اسپتال لے چلتے ہیں۔” اس نے ماں کی تائید کی اور رکشا لینے گھر سے باہر کی طرف بھا گا۔
    بزرگی کی سرحد میں داخل ہوچکے سفید باریش ڈاکٹر کے چہرے پر سوچوں سے زیادہ تفکر نے ڈیرے ڈالے ہوئے تھے۔ اس کے سامنے موجود ٹیبل پر نوشی کی مختلف رپورٹیں پڑی ہوئی تھیں جب کہ صفدر اپنے امی ابو سمیت ٹیبل کے دوسری طرف موجود کرسیوں پر براجمان تھا۔ ان سب کی نظریں ڈاکٹر پر جمی ہوئی تھیں۔
    ”پلیز ڈاکٹر صاحب کچھ ہمیں بھی بتائیں کے نوشی کو ہوا کیا ہے جو اسے اچانک دورہ پڑ جاتا ہے۔” صفدر نے گلوگیر لہجے میں التجا کی۔
    ”دیکھو بیٹا! آپ کی بہن کو ان میڈیکل رپورٹوں کے مطابق کسی قسم کی کوئی بیماری نہیں ہے مگر اس کی حا لت بتا رہی ہے کہ وہ شدید تکلیف میں ہے۔” ڈاکٹر نے ایک گہرا سانس لے کر انکشاف کیا۔
    ”اگر کوئی بیماری نہیںہے تو یہ ہر تھوڑی دیر کے بعد دورہ کیوں پڑ رہا ہے؟” صفدر نے حیرت سے پوچھا۔
    ”اس سوال کا جواب میرے پاس نہیں ہے،البتہ میرے علم میں ایک ایسا درویش صفت انسان ہے جو شایدآپ کے اس سوال کا جواب دے سکے، میں کوشش کرتا ہوں کہ وہ ایک نظر مریضہ کو دیکھ لیں۔” ڈاکٹر نے ٹیبل پر موجود ٹیلی فون کا رسیور اٹھاتے ہوئے کہا اور پھر ایک نمبر ڈائل کر دیا۔
    دوسری طرف سے کال اٹنڈ ہونے پر وہ کسی چراغ شاہ سے بات کرنے میں مشغو ل ہوگیا۔
    ”شاہ صاحب آدھے گھنٹے تک آرہے ہیں۔” ڈاکٹر نے رسیور واپس کریڈل پر رکھتے ہوئے امید افزا خبر سنائی۔ پھر واقعی آدھے گھنٹے میں نورانی صورت والے چراغ شاہ صاحب آ گئے۔ کچھ دیر بعد وہ سب کی معیت میں مریضہ کے کمرے میں داخل ہوئے۔ جیسے ہی چراغ شاہ کی نظر بیڈ پر لیٹی مریضہ پر پڑی، تو ان کے قدم وہیں رک گئے۔ نوشی اس وقت بے ہوشی کے عالم میں تھی۔ اس کے چہرے کا رنگ نیلے کانچ کی طرح نظر آرہا تھا۔ شاہ صاحب چند ثانیے اسے غور سے دیکھتے رہے اور پھر پلٹ کر کمرے سے باہر آگئے۔
    ”شاہ جی کیا ہوا؟ آپ نے بچی کو نزدیک سے کیوں نہیں دیکھا؟” ڈاکٹر نے تجسس سے پوچھا۔
    ”کیا آپ لوگوں نے اس بچی کے لیے آنے والے کسی رشتے سے انکا رکیا ہے؟” شاہ صاحب نے ڈاکٹرکی بات کا جواب دینے کی بجائے رحمت علی سے مخاطب ہو کر پوچھا۔
    ”جی! ہماری بہو عظمیٰ اپنے بھائی کے لیے اس کا رشتہ مانگ رہی تھی مگر ہم نے انکار کر دیا۔” رحمت علی نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے جواب دیا۔
    ”میرے خیال میں اس بچی کو دواؤں کے بجائے دُعاوں کی زیادہ ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے لیے آسانی فرمائے، اب سوائے صبر کے کچھ نہیں ہو سکتا۔” شاہ صاحب نے دھیرے سے کہا۔
    ”پلیز سر! آپ کھل کر بتائیں تاکہ ہمارے پلے بھی کچھ پڑ سکے۔” صفدر نے بے چینی سے کہا۔
    ”بیٹا! اس بچی پر نیل گری کا عمل کیا گیا ہے۔ دراس کے پہاڑی سلسلے کے سب سے اونچے پہاڑ پر بسنے والے آریائی قبیلے کے لوگ نیل گری دیوی کی پوجا کرتے ہیں اوراس علم کا عامل صرف ان کا مذہبی پروہت ہی ہوتا ہے۔ ہاں! اگر وہ اپنے کسی خاص شاگر د کو اجازت دے تو پھر وہ بھی کچھ حد تک اس علم سے لوگوں کو پریشان کر سکتا ہے۔ البتہ شاگر د اگر کسی پر یہ عمل کر دے، تو پھر اس کا تو ڑ وہ خود بھی نہیں کر سکتا۔ میں ایک شخص کو جانتا، تو ہوں جو اس عمل کو سیکھنے کے لیے دراس جاتا رہا ہے، مگر مجھے علم نہیں تھا کہ وہ اس کو سیکھنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ اب یہ کیس سامنے آیا ہے تو مجھے اندازہ ہوا ہے کہ اس خبیث کے پاس خواتین کا جمگھٹا کیوں لگا رہتاہے۔” انہوں نے تفصیل سے بات کرتے ہوئے کہا۔
    ”شاہ صاحب! مجھ بدنصیب باپ پر رحم کریں اور کسی طرح میری بیٹی کو ٹھیک کر دیں۔” رحمت علی نے باقاعدہ ہاتھ جوڑتے ہوئے منت کی، تو شاہ صاحب نے تڑپ کر ان کے ہاتھ تھام لیے۔




  • میزانِ بریّہ — راؤ سمیرا ایاز

    زمین کی کوکھ میں سب جب دکھ پنپ جائیں تو ہر فصل کے بیچ میں سیاہی مائل رنگوں کا بسیرا ہوتا ہے جو پھر نسل در نسل زمین کی کوکھ سے فصلوں کی کوکھ تک میں جا اترتا ہے۔
    وہ بھی ایسے ہی اک فصل کا بیچ تھی…
    حاکمیت کے عنصر کی مٹی کے غو سے بیچ پاتا وہ سانس لیتا وجود یوں زندہ تھا کہ چلتے ہوئے زمین پہ رکھتے جوتوں کی آواز تو کیا سانس کی ”آہ” تک بھی ہوا میں جذب ہوجاتی تھی۔
    سرخ پٹوں والی اس کھڑکی کے سامنے بیٹھے وجود پر کسی مٹی کے پتلے کا ساگمان ہوتا ہے…
    جس میں ”اذن” کا تصور اک خیال ہی ثابت ہوتا اگر جو روشنی کی نگاہ حیرت کا منبع بن کر نہ تکتی اسے…جو جھکے سر کے ساتھ سفید کورے کاغذ پر اپنی پوری ہمت و طاقت کے ساتھ نبرد آزما تھا… ہمت و طاقت … جو اک خواب و خیال سے بھی کہیں بڑھ کر تھی … کوئی سیات…
    کورے کاغذ پر بکھرتے وہ الفاظ …اک انجانی دنیا کو بیان کرتے تھے… ایسی دنیا، جس کی زمین بھی سرخ تھی اور آسمان بھی احمریں… اور یہ احمری رنگ بھی بوجھ تھا جیسے … مگر ہر بوجھ کا سہار بھی ہوتا ہے دنیا میں… اس کا بھی تھا… ایک رازداں… ایک نگہباں…
    جہاں کسی کی نظر نہ جاسکی تھی۔
    ترچھی ہوئی روشنی نے رُک بدلا تو پتلے نے جنبش کی تھی۔
    وہ اٹھا اور کمرے کی دہلیز کو پار کر گیا ۔ مگر سیڑھیاں اترنے سے بھی پہلے اک آواز اس کے قدموں کو روکنے کا جواز بن گئی۔
    ”میں نے سنا ہے کہ کل تم باغ کے عقبی حصے کی طرف گئیں تھیں۔”
    خالی گھر کے اندر گونجتا وہ اک آسیب زدہ آواز تھی۔
    تھرتھرائی پلکوں نے اس بے حد لمبے بیک والے صوفے کی نشست پر بیٹھے وجود کو دیکھا۔
    ”میں نے وہاں مانو کو جاتے دیکھا تھا اسی لئے …” نرم آواز میں خشکی کی تہہ تھی براؤن لب بھینچے تھے۔
    ”مانو۔” لمحے بھر جھکی سرد آنکھیں دوبارہ اٹھیں۔
    ”وہ ایک جانور ہے… اور جانوروں کی پیروی انسانوں کے لائق نہیں ہے نادان لڑکی، دوبارہ ایسا عذر اور ایسا بے وقوف قدم میں برداشت نہیں کرسکتی۔”
    سرد آنکھیں …لکڑی کا سا سخت وجود… اور پتھرکے قدم…
    وہ وہیں کھڑی رہ گئی… اس نے وہاں بے انت پھیلی خاموشی اور کہر ماحول کی یاسیت کو دیکھا… جسے بیان کرنے کی سعی لاحاصل تھی۔
    مگر اس نے اس لاحاصل کا ایک ”معبد” دریافت کررکھا تھا۔
    ہاں… وہی … اک رازداں… ایک نگہباں…!
    ایک ایسا ”روزن” جسے دریافت کرنے کی ضرورت تب پیش آتی ہے جب ہم اپنوں کو ہی اپنا یقین دلانے میں بے حد دوجہ ناکام ہوجاتے ہیں۔
    قدم بہ قدم چلتے وہ اس بے انت پھیلے سخت دیواروں کے ہجوم سے باہر نکلی تو سر پہ ٹھہری ان نیلی گہری آنکھوں نے اسے دیکھ کر ایک دفعہ جھپکی لی اور پانی کا دھارا نکل گیا۔ وہ بے بسی سے ۔ رستی اُن آنکھوں کا قہر دیکھتی رہی جو پانی کی صورت زمین پہ بہہ رہا تھا۔
    اور وہ … اس کا ”روزن” … پانی اس کا رستہ روکے ہوئے تھا۔
    تبھی ایک نرم سی چمک میں ڈوبی ان گہری سرمئی آنکھوں نے اسے دیکھا تو بے ساختہ ہی اس کی مٹھی سے کاغذ پھسلا… اور اس نے وہ کاغذ اپنے اس روزون کی طرف بڑھتے دیکھا۔
    کسی کی ذات کا آخری سہارا … آخری پناہ گاہ…
    ٭…٭…٭





    اس کی سانس پھولی ہوئی تھی… دونوں ہاتھ سر پر رکھے۔
    ”زندیگ بھی عذات ہوگئی ہے میرے لئے۔” غم غم و غصہ زیادہ تھا چہرے پر یا غصہ و خفگی فیصلہ کرنا ذرا مشکل تھا۔
    ”میں چاہوں بھی تو خود کو ”ان” پر ثابت نہیں کرسکتا… کہ یہ ایک ناکام راہ ثابت ہوگی ہر لحاظ سے۔”
    ”ہوں بڑے آئے… بڑے بڑے فیصلے کرنے والے، ہوگیا ناں نقصان ، آگیا ناں سات دکانوں سے مال واپس…یہ مانگ بڑھے گی ہماری،یہ کوالٹی دنیا پر ثابت ہوگی…ہاں…”
    بڑے چچا کا آخری کا ہنکارا ذلت آمیز تھا۔
    اس کے ماتھے کی رگ پھڑکی۔
    ”میں گھاٹے کا سودا ہر گز برداشت نہیں کروں گا… کل ہی محترم جناب کے اکاؤنٹ سے رقم آجانی چاہیے… میرے نقصان کی بھرپائی مجھے ہر صورت چاہیے۔”
    اس نے زور سے آنکھیں میچیں تھیں۔
    اصل فساد کی جڑ… زمینوں سے آتا وہ پیسہ تھا جو بہت ایماندار سے اس کے اکاؤنٹ میں آتا… جسے وہ سوچ سوچ کر اور بہت مناسب طریقے سے خرچ کرتا تھا …مگر بڑ ے چچا…وہاب انصاری۔
    ”ایک اکلوتے وارث کی حیثیت ہم سے زیادہ نہیں ہوسکتی، خون و جگر سے سینچا زمینوں کو ہمارے باپ دادا نے اور باقی کسر پوری کی ہم نے… مگر نکال باہر کیا۔
    ہمیں ہر چیزسے کہ ہم دوستوں کو زیادہ عزیز رکھتے ہیں زندگی میں… مگر حق، حق ہوتا ہے کبھی سیاہ نہیں پڑتا…ہم پائی پائی کا حساب بھی رکھ سکتے ہیں اور منہ میں رکھے نوالے بھی گن سکتے تھے، نہیں چھوڑا ہم نے سب کچھ اس دو ٹکے لڑکے پر… زندہ ہیںہم چاہے کوئی کچھ بھی بولے۔”
    چھوٹے چچا کی طنزیہ دبنگ آواز نے اسے اٹھنے پر مجبور کردیا…کہ وہ بات کو کہاں سے کہاں لے جارہے تھے۔
    ”اس دو ٹکے کے لڑکے نے آپ کی اسپیئر پارٹس کی دکان کو دکانوں میں بدل ڈالا چچا جی…” سنجیدہ سی نرم مگر دو ٹوک آواز نے اس کو مضبوط کیا تھا…
    ہاں… زندگی میں اب بھی اس کے لئے جگہ تھی کوئی تھا جو اس کے لئے کھڑ اہوسکتا تھا۔
    ضبط کی بکھری طنا بیں سمٹی تھیں۔
    ”تم خامو ش رہو نیہا ، یہ بڑوں کی باتیں ہیں۔” بڑی چچی کی خفگی پر وہ آگے بڑھ آئی۔
    ”نہیں امی… بات اصول کی بھی ہے اور بہت صاف بھی… تایا ابا و تائی امی کے جانے کے بعد وہ اس گھر کا فرد نہیں ہے کیا…!” اس نے جمعہ حاضرین کو دیکھا۔
    ”آپ مانیں، نہ مانیں مگر داداجان نے اپنے لاڈلے اکلوتے پوتے کو سرپرست رکھا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ آگے کے حالات کیا ہوتے، وہ حق کا کام کرتا ہے۔ اگر اس کے اکاؤنٹ میں پیسہ آتا ہے تو وہ آ پ کو بھی ملتا ہے، اگر زمینوں پر سے پرانٹ آتا ہے تو وہ بھی آ پ کو ملتا ہے… اب اگر زمین پہ فصل کم ہونے لگی ہے تو نقصان بھی تو سب کو پورا کرنا ہے۔ اس میں کوئی دوغلی بات نہیں ہے۔”
    کندھے اچکاتے ، اس نے سب کو ٹھنڈا کیا تھا۔ اور برف کا کرنے کے لئے…
    ”اور ابو رہی بات مارکیٹ میں نام خراب ہونے کی تو یہ آپ کی اپنی وجہ سے ہوا ہے کہ آپ نے زیادہ پرافٹ کے لئے ناقص میٹریل استعمال کرنے کی خود ہدایت دی تھی اپنے اسسٹنٹ سلمان کو…”
    نیہا کا ایک ایک لفظ مضبو ط بھی تھا اور سچا بھی…
    اور جو اسے ہلکا کر گیا تھا۔
    بے شک زمین پر گری ریت کو ہوا بکھیر سکتی ہے۔
    مگر مٹھی میں بھری جانے والی ریت بھی وزن بھی رکھتی ہے۔
    بے انمو ل تو کچھ بھی نہیں…
    ٭…٭…٭
    چاند نکلتے وقت ہو یا سورج کے غروب ہونے کا… ان دونوں میں فطرت سے زیادہ قدرت کے حکم کا اثر ہے… لیکن انسان کے اعمال میں تو خداوند کریم کے حکم کی بدولت خود اس کا ہاتھ ہے… پھر اسے کیوں محروم رکھا جاتا ہے کہ وہ اپنی ”فطرت” کے برخلاف جملے…
    زمین کے لب خشک تھے کہیں اک قطرہ بے رنگ پانی کا نہ تھا ۔ لگتا نہیں تھا کہ ا س نے کبھی پانی پیابھی تھا… یاوہ سیراب بھی ہوئی تھی۔
    فقط ایک دن میں ہی وہ اپنی ظاہری حالت میں آگئی تھی جو قدرت کی طرف سے اس کی فطرت میں ودیعت کردی گئی تھی…یہ تھا اس کا رنگ …
    سوکھے کتھے جیسا…
    اور خود اس کی فطرت میں جو سرخ خون اس کے اندر دوڑتا تھا ابھرتا لاوہ تھا۔ شدت سے بھرا ہوا… چھلکنے کو بے تاب… اس سرخ خون سے بنا وہ چہرہ یوں تھا جیسے سفید گنبد کسی پر شکوہ عمارت کا ”خاموش، چپ چاپ… آنکھیں، ناک، کان، ہونٹ، زبان ، دل و دماغ ہر چیز بس اک ابروئے جنبش کی منظر۔
    لبوں سے نکلتے لفظوں کی محتاج…
    ”خود کو اس موسم میں کمرے تک ہی محدود رکھنا، خاص ٹھنڈبرھ جاتی ہے۔ سرما کی بارش میں، میں نہیں دیکھوں، سنوں تمہیں کہیں کھڑکی سے لٹکتے یا یا باہر برآمدے و لان میں گھومتے۔” سرجھک گیا۔
    حکم عدولی کی گنجائش ناپید تھی… اس میں کہ اس بڑے سے گھر میں فقط وہ دو ہی سانس لیتے وجود تھے… باقی جو تھے وہ شاید دیکھے، سنے، بولنے کی حس سے محروم تھے فقط کام کے پجاری… کام ختم … بات ختم۔
    سادہ پلین سے آسمانی رنگ میں ملبوس وہ دھیرے دھیرے خاموشی سے گردن ہلاتیرہی…ادب کا تقاضہ خاصا اہم تھا اس وقت ”باقی میں ذرا قاسم خان کے ساتھ جارہی ہوں… واپسی میں تمہاری لسٹ، جسے میں نے دوبارہ ترتیب دیا ہے… لیتی آؤں گی…”
    ”اب”… خاموشی کا تقاضہ ادب سے بھی زیادہ مقدم تھا۔ وہ گردن ہلانا بھی چھوڑدیا۔
    جاتے قدموں کی آواز پر دروازے کے مودب کھلنے کی آوازپر، پھر گاڑی کے باہر نکل جانے کی آواز پر…
    سراٹھا…نگاہ اٹھی۔
    اف … سنہری سکوں کا پانی… جو گالوں پر پھیلتا تھوڑی تک جاتا تھا… کچھ کہنا تھا شاید…
    ساکن درو دیوار نے سمجھنا چاہامگر وہ پلٹ گئی… وہی سیڑھیوں کو جاتا اوپر کا راستہ وہی کمرہ… وہی کھڑکی اور وہی کورا کاغذ۔
    مگر اب وہاں وہ روشنی کی لکیرنہیں جھانکتی تھی… نہ جانے آج اسے اتنی جلدی کیوں تھی جانے کی…!!
    ”تم جانتے ہو کہ مجھے کی کے بھی بارے میں سخٹ و غلط سننا پسند نہیں ہے۔” سرخ اسٹابری کو منہ میں رکھتی وہ اسے دیکھنے لگی جس کی نگاہ کی مسکراتی روشنی اس کے وجود کو تابناک کررہی تھی۔
    ”اور تم تمہیں تو میں نے ایک خاص جگہ دی ہے اپنی زندگی میں تو پھر کیسے سنتی تمہارے بارے میں کچھ۔” اک گہری سانس لیتے روید نے مسکراتی نگاہ کو لبوں تک لاتے سرجھٹکا۔
    ”جانتا ہوں سب کچھ نیہا مگر پھر بھی وہ ہمارے بڑے ہیں اور خاص کر تمہارے ماں ، باپ… چھوٹے چچا ، چچی کی خیر ہے مگر تمہیں بڑے چچا سے نہیں الجھنا چاہیے، چاہے وہ تمہیں اکلوتی ہونے کا بہت زیادہ مارجن کیوں نہ دیں۔”
    ”ہر رشتہ بعد میں رویہ،پہلے انسانیت ، سچائی اور سیدھی بات … پھر کچھ اور روید… یہ مت سمجھو کہ میں تم سے محبت کرتی ہوں تو ہی ایسا کررہی ہوں۔”
    ”اچھا میں سمجھا کہ شاید۔” اس کی سنجیدہ پر شوخ بات پر نیہا نے اسے گھورا ۔
    ”تم۔”
    ”مذاق تھا یار… کیا میں تمہیں جانتا نہیں۔” اس کی آنکھوں میں دیکھتا وہ اس شفاف لڑکی کو خود اپنا دل دکھانا چاہ رہا تھا اپنی آنکھوں کے ذریعے، جو اس کی محبت میں بھی ویسا ہی صاف و شفاف تھا۔
    ”اور محبت مسکرا دے تو مار ہی دیتی ہے۔” روید نے نیہا انصاری کی مسکراہٹ پر محسوس کیا تو کہا۔
    ”نیہا یونہی مسکراتی شفاف پانی کے باؤل سے اسٹابری نکال نکال کر کھاتی رہی ۔
    ”اور تمہارے بزنس کرنے کے خواب کی تکمیل نے تو روید انصاری کی نیندیں اڑا دی ہیں محترمہ… رکھ تو خیال کرلو، پہلے ہی تھرڈ پرسن سمجھا جاتا ہوں…”
    ”کیا ہوا۔” کوئی جواب، رد ِ عمل پاکر روید نے اسے دیکھا۔
    ”نہیں کچھ خاص نہیں۔”
    ”تو پھر خاموش کیوں ہوگئی ہو۔”
    ”تمہیں یونہی محسوس ہوا۔ میں اب چلتی ہوں ماما۔
    وہ اٹھی اور ساتھ ہی بچی ہوئی چند اسٹرابریز اس کے ہاتھ پر رکھتی خالی باؤ ل اٹھانے لگی تھی کہ روید نے اسے روک دیا…
    مضبوط ہاتھ کے دباؤ پر وہ نظر نہ چراسکی۔
    ”کیا بات ہے نیہا۔ مجھے نہیں بتاؤگی جو تمہارا سب سے ”قریبی” رشتہ ہے…” اسے بالکل ساتھ بٹھاتے ہوئے دوستانہ انداز میں کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ بے جان سی لگی اسے ۔
    ”مجھے میرا لون ”پاس” نہیں ہوا روید۔”
    ”اوہ لیکن کیوں… لون کے پاس ہونے کی ایک ریکوائرمنٹ پراپرٹی کسی جائیداد وغیرہ کامالک ہونا بھی ہوتا … یا پھر کیش وغیرہ… میرے پاس اس حد تک ریکوائرمنٹ نہیں ہے۔”
    ”تو اس میں کیا مسئلہ ہے۔” وہ خاموش ہوئی تو اس کے اعصاب بھی ڈھیلے پڑے اور وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔
    ”مسئلہ نہیں ہے یہ…”
    ”بالکل نہیں۔” مطمئن ہونے کے انداز میں کہتے اس کے منہ کی طرف اسٹرابری بڑھائی لیکن وہ یونہی اسے دیکھتی رہی… سب کچھ تو جانتا تھا وہ… ماما، پاپا کی مخالفت… چچا، چچی کا استہزائیہ انداز…تو پھر … وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتی رہی… جہاں ایک وہ تھی اور خود اس کی اپنی ذات کے ہونے کا غرور… ”اوہ…”
    اس کی آنکھوں میں خفگی اُتری۔
    ”ایسا نہیں ہوسکتا روید… جو تم چاہ رہے ہو۔” قطعی انداز میں کہتے وہ وہاں سے اٹھی… اور اس کا جالینے والا محبوب انداز…
    روید انصاری کو اجازت نہیں تھی کہ وہ فدا ہوتا مگر سرشارہونا بنتا تھا۔
    ”چاہنے کو تو سب ہوسکتا ہے کہ بات تو صرف ”چاہنے” کی ہے۔
    اس کے برابر سے اٹھتا وہ پرسکون تھا اور وہ بے چین…
    ”یہ ٹھیک نہیں ہوگا۔”
    ”یہ ٹھیک ہی ہوگا، اس سے کہیں زیادہ جب میں اور تم یوں ساتھ نہ ہوں گے۔”
    اس کی آنکھوں میں دیکھتا وہ اپنی بات کہہ کر اسے چپ کرا گیا تھا۔
    ٭…٭…٭




  • بل ہے کہ مانتا نہیں — سید محسن علی

    بل ہے کہ مانتا نہیں — سید محسن علی

    تپتی دھوپ میں شیخ حسام الدین گھر میں داخل ہوئے تو بُری طرح پسینے میں شرابور تھے ۔ ذرا دم لینے کے لیے پنکھے کے نیچے بیٹھے ہی تھے کے ان کی بیگم زبیدہ خالہ نے اُن کے آگے بجلی کا بل کردیا۔
    ”ہائیں اتنا بل۔” وہ بل دیکھ کر اچھل پڑے۔
    ”ارے میں کتنا کہتا ہوں کے احتیاط سے بجلی استعمال کیا کرو ، لیکن تم لوگ…”
    ”ارے موئی بجلی ہوتی ہی کب ہے جو احتیاط کریں، ہر دوگھنٹے بعد ایک گھڑی بھر کے لیے آتی ہے کیا احتیاط کریں اور کون سے تم نے گھر میں اے سی لگوا رکھے ہیں، اب کیا بچے پنکھے کے نیچے بھی نہ بیٹھیں۔” جواب میں خالہ نے بھی جب شیخ صاحب پر چڑھائی کردی تو وہ کچھ پیچھے ہٹے۔
    ”تم تو ہر بات کا اُلٹا ہی جواب دینا ، میرا یہ مطلب تھوڑی تھا، میں کہہ رہا تھا کے…”
    ”کیا مطلب نہیں تھا، دیکھ لو ہم اتنی احتیاط سے بجلی استعمال کرتے ہیں اور یہ بل آتا ہے اور دوسروں کو دیکھو سب کے گھروں میں اے سی چل رہے ہیں لیکن بس تمہیں ہی ایمانداری کا بھوت سوار ہے۔ ” خالہ نے شیخ صاحب کی بات کاٹ کر کہا۔
    ”تم پھر شروع ہوگئیں، ہزاربار کہہ چکا ہوں کے اگر دوسرے غلط کا م کررہے ہیں تو لازمی نہیں میں بھی اپنی آخرت خراب کروں ، ارے کیا ان ایئر کنڈیشنوں سے پہلے لوگ سکون سے نہیں سوتے تھے؟”
    ”لو موئی پھر چلی گئی لائٹ ، منحوس ابھی تو تین گھنٹے بعد آئی تھی۔ ارے کیڑے پڑیں ان بجلی والوں کو…”
    قبل اس کے ، کہ ان کی بحث ایک جنگ کا روپ اختیار کرتی اچانک لائٹ چلی گئی اور خالہ کی مغلظات کا رخ شیخ صاحب سے مڑکر بجلی والوں کی جانب ہوگیا۔
    وہ بل تو جسے تیسے شیخ صاحب نے جمع کروادیا گو کے اس کی بدولت اس ماہ ان کا ہاتھ خاصا تنگ رہا لیکن پھر انہوں نے حتی الامکان کوشش کی کے گھرمیں کہیں بھی کوئی فالتو بجلی استعمال نہ ہو جس پر ان کی کئی بار خالہ سے تو تومیں میں بھی ہوئی مگر معاملہ کچھ عجیب اور یہ سلسلہ دراز ہوتا گیا۔ ہر دو تین ماہ بعدتوقع سے کئی گنا زیادہ بل آنے لگاجسے دیکھ کر شیخ صاحب کی پریشانی میں اضافہ ہوجاتا۔ اس دن نماز سے واپس آتے ہوئے شیخ صاحب نے اپنے پڑوسی عرفان صاحب سے دریافت کیا کے ان کا بل کتنا آتا ہے تو وہ اطمینان سے بولے:
    ” بس ہزار بارہ سو ۔”
    ”ہائیں عرفان صاحب آپ کے گھر میں تو دو دو اے سی چلا رہے ہیں پھر بھی؟” شیخ صاحب نے آنکھیں پھاڑ کے سوال کیا۔
    ”ارے بھائی اب آپ سے کیا پردہ ۔ ایک لائن مین ہے اصغر اس سے سیٹنگ کی ہوئی ہے پھر ساری لائن کی سیٹنگ اس نے خود ہی کی ہے مگر ١یک ہزار روپے لیتا ہے مہینے کے پھر جتنا مرضی اے سی چلاؤ۔ پڑوسیوں کے حقوق تو ویسے بھی ہم پر فرض ہیں، میں ایسا کرتا ہوں کے آپ کی بھی بات کروادیتا ہوں۔”
    ”لاحول وللہ عرفان صاحب ، یہ تو آپ ہمیں حرام کام کا مشورہ دے رہے ہیں یاد رکھیے حرام کی بجلی میں کیا ہوا ہر کام بھی حرام ہوتا ہے ۔” شیخ صاحب نے غصے سے کہا۔
    ”ارئے آپ کس صدی میں جی رہے ہیں شیخ صاحب ، یہ تو آج کل ضروری ہوگیاہے، نہیں کروگے تو ویسے بھی زیادہ بل کی چٹنی لگادیں گے یہ لوگ اور جو ایک بار ان کے جال میں پھنس گیا سمجھو گیا۔”
    عرفان صاحب نے کسی جہاندیدہ کے مانند شیخ صاحب کو سمجھاتے ہوئے کہا۔
    ”بہت بہت شکریہ آپ کے مشورے کا، میں خودہی نمٹ لوں گااس مسئلے سے۔”
    شیخ صاحب نے ساری عمر اپنی سرکاری نوکری اتنی ایمانداری اور دیانتداری کے ساتھ کی تھی کے آج بھی سب لوگ سوائے خالہ کے، ان کی راست گوئی کی مثال دیا کرتے تھے وہ بھلا اپنے نئے پڑوسی عرفان صاحب کی بات کیوںکر برداشت کرتے اسی لیے بھڑک گئے۔
    ”کمال ہے میں تو آپ کی مدد کررہا تھا، خیر شوق سے خود ہی بھگتیے، نیکی کا تو زمانہ ہی نہیں رہا۔ ” عرفان صاحب نے ناگواری سے جواب دیا اور شیخ صاحب نے بڑبڑاتے ہوئے گھر کی راہ لی۔
    آئے روز کے زائد بلوں کے خلاف شیخ صاحب تلملاتے ہوئے اگلے روز ہی واپڈا کے مقامی دفتر جاپہنچے اور دفتر کے ایک کمرے میں گھس کر وہاں بیٹھے ملازمین سے احتجاجی لہجے میں اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا سبب دریافت کرنے لگے لیکن ان پر رتی برابر بھی اثر نہ ہوا بلکہ ساری روداد سننے کے بعدایک کلرک نے اپنی پرانی سی ٹیبل کے سائیڈ میں پڑے گندے سے ڈسٹ بن میں میم پوری تھوکی اور ہتھیلی سے منہ صاف کرکے شیخ صاحب کو بولا:
    ”ارے ا نکل یہاں نئے میٹر کی درخواستیں جمع ہوتی ہیں آپ برابروالے کمرے میں جائیں۔”
    دوسرے کمرے میں صرف شیخ صاحب ہی نہیں بلکہ ہردوسرا بندہ اپنے زائد بل کے جھوٹے سچے دکھڑے رو رہا تھااور وہاں موجود عملہ روزانہ کے اس عمل سے اکتا کر نہایت بے حسی سے ان کی دکھ بھری داستانیں ایک کان سے سن کردوسرے سے اڑا کر انہیں ہی مورود الزام ٹھہرا رہاتھا کہ حضرات بجلی بھی تو آپ نے ہی استعمال کی ہے ، نا کے ہم نے۔ اگر سننے والامخاطب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ثابت قدمی سے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی پر نوحہ کناں رہتا تو وہ اسے حکام بالا کے نام پر درخواست دائر کرنے کا مشورہ دیتا تاکہ کارروائی کی جاسکے۔





    شیخ صاحب نے بھی جب اپنا مؤقف پیش کیا تو ایک خداترس بندے نے ان کی درویش صورت دیکھتے ہوئے ان پر یہ حقیقت آشکار کی کے جناب آپ کے بل پر تو ڈیڈکشن لگی ہوئی ہیں۔
    ”لیکن بھائی کس بات کی ڈیڈکشن ؟”
    ”ممکن ہے عملے نے آپ کے میٹر میں کوئی گڑبڑ دیکھی ہو یا کوئی اور ناجائز چیز ، اب تو آپ کو یہ جرمانہ بھرنا پڑئے گا ۔”
    ”کیا بات کررہے ہو میاں، ہم نے ساری عمر ایمانداری سے بجلی کا بل ادا کیا ہے ہم یہ حرام کام کیوں کرنے لگے۔” شیخ صاحب سے غصے سے جواب دیا۔
    ” چاچا یا تو آپ یہ اماؤنٹ جمع کرادیں یا آپ صاحب کے نام درخواست جمع کرادیں تاکہ کارروائی ہو۔ ٹیم خود ہی آپ کے گھر آکر چیک کرلے گی کے کوئی بات تو نہیں ہے ۔ ” اس نے شیخ صاحب کو سمجھاتے ہوئے جواب دیا اور دوسرے صارفین بلکہ متاثرین کی جانب متوجہ ہوگیا۔
    حیران و پریشان شیخ صاحب وہاں سے سیدھے اپنے پرانے دوست عزیز صاحب کے پاس پہنچے اور ڈیڈکشن کی اصطلاح کے متعلق اپنی الجھن کا ماجرا بیان کیا۔
    ”کیا بتاؤں حسام بھائی برا حال ہے ہر طرف لوٹ مچی ہے۔ لوگ بھی ڈھڑلے کے ساتھ بجلی چوری کر رہے ہیں۔ بہت سی جگہوں پر یوں ہورہا ہے جو لوگ ہر ماہ لائن مینوں کو پیسے دیتے ہیں وہ بچ جاتے ہیں اور جو نہیں دیتے اُن کے بلوں میں اسی طرح ڈیڈکشن لگاکرخسارہ پورا کیا جاتا ہے۔”
    ان کے دوست نے ان کی معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے کہا۔
    ”توکیا یہ بات اعلیٰ افسران کو معلوم نہیں۔” شیخ صاحب نے تعجب سے پوچھا۔
    ” ارے بھائی تم تو ہمیشہ کے بدھو ہی رہوگے سب ملی بھگت ہوتی ہے بھائی میرے ، جب اوپر سے بہت سختی ہوتی ہے چھاپے پڑنے شروع ہوجاتے ہیں چوریاں بھی پکڑی جاتی ہیں ، لیکن چند دنوں بعدمعاملہ ٹھنڈا ہونے پر پھروہی دھندے شروع ہوجاتے ہیں۔ ”
    ان کے دوست شیخ صاحب کے بھولے پن پر مسکرا کر بولے۔
    ”ارے پھر بھی کوئی اس ظلم کے خلاف آواز تو اٹھانے والا ہونا چاہیے نا، تم تو مجھے جانتے ہی ہو۔ دیکھومیں کیسے ان لوگوں کے خلاف شکایات درج کرواتا ہوں۔” شیخ صاحب نے ایک عزم سے کہا اورعزیز صاحب دل میں ہمدردی کے جذبات لیے اپنے سادہ لوح دوست کی کامیابی کے لیے دعاگو ہوئے ۔
    اس کے بعد شیخ صاحب کے واپڈا آفس کے چکر لگنے شروع ہوگئے۔ چوں کہ نوکری سے حال ہی میں ریٹائر ہوئے تھے اس لیے اب گھرمیں فارغ بیٹھنے پر طبیعت بھی مائل نہیں تھی تو پوری توانائی سے اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف مستقل مزاجی سے ڈٹ گئے۔ کبھی کسی افسر کے انتظار میں بیٹھے ہوتے کبھی کسی کے سامنے اپنا کیس پیش کررہے ہوتے لیکن زیادہ تر افسروں کے پاس ٹائم نہیں ہوتااور جو ٹائم دیتا وہ کسی ماتحت کے حوالے کردیتا ۔ سب درخواست منگواتے اور رکھ لیتے ہاں چند لوگ اتنی مہربانی ضرور کرتے کے بل کی قسط کرواکر شیخ صاحب کو تھما دیتے کہ جناب پہلے اسے جمع کروادیجیے پھر کام ہوتا رہے گا۔ یہاں کوئی کسی کا پرسان حال نہیں تھا اور شیخ صاحب کا بل ان کے بس سے باہر ہوتا جارہا تھا۔ اکثر تو یوں بھی ہوا کے شیخ صاحب جب دفتر پہنچے تو عوام کی ایک بڑی تعداد کو وہاں لوڈ شیڈنگ کے باعث احتجاج کرتے پایا۔ ایک بار تو گھر واپسی پر بھی راستے میں، ان کے ساتھ والے محلے کے لوگوں کی جانب سے ٹرانسفارمر میں خرابی کے سبب دو دن سے لائٹ نہ ہونے کے باعث ہنگامہ آرائی کی جارہی تھی اور مشتعل مظاہرین نے حکام کی عدم دلچسپی اور مطلوبہ فنی سہولت نہ ہونے کے باعث سڑک پر جلاؤ گھیراؤ کرکے راستہ بند کیا ہوا تھا۔ شیخ صاحب کافی دیر بے بسی کے عالم میں ٹریفک میں پھنسے رہنے کے بعد ایک لمبے متبادل راستے کو طے کرکے گھر پہنچے۔
    کافی عرصہ محکمہ پانی وبجلی کے دفاتر کے چکر لگانے کے بعد شیخ صاحب کے علم میں کئی چیزوںکا گراں قدر اضافہ ہوا کے ایک تو متعلقہ عملہ اپنے مقررہ وقت پر کبھی نہیں پہنچتا سوائے چند ایک کے جو واقعی اپنے فرائض منصبی نہایت ایمانداری اور ذمہ داری سے ادا کررہے تھے ۔ دوسرا وہاں صرف وہ ہی نہیں ان جیسے نہ جانے کتنے زائد بلوں کے ستائے مو جود تھے لیکن ان میں اکثریت ایسے لوگوں کی تھی جو واقعی بجلی کی چوری میں ملوث بھی تھے جیسے ان کے گھر کام کرنے والا مستری اور پلمبر بھی، مستری کے گھر بھی دو دو اے سی چل رہے تھے لیکن وہ بضد تھا کے وہ تو ڈائریکٹ چل رہے ہیں میٹر کا بل تو غلط آیا ہے نہ، اور شیخ صاحب لاحول پڑھ کر خاموش ہوجاتے۔ کچھ ایسے ہوتے کے سارا مہینہ غیر ذمہ داری سے بجلی استعمال کرتے اور بل آنے پر اپنا دکھڑا رونے پہنچ جاتے۔ کسی کے گھر پر کرائے داروں کے چلے جانے کے بعد بھی ہر ماہ بل آرہا ہوتا ، کوئی بے چارہ خالی گھر میں بل آنے کا دکھڑا رو رہا ہوتا۔ کچھ کے میٹر ہی بند پڑے تھے اور انہوں نے ڈائریکٹ کھمبوں پر سے تار جوڑے ہوئے تھے۔ شیخ صاحب کو ایسے ایسے ، اپنے شعبوں میں طاق ہر فن مولا حضرات سے بھی سلام دعا کا شرف حاصل ہوا جو بجلی کے میٹر کی ریڈنگ پیچھے کرنے کے خفیہ گر جانتے تھے اور معقول معاوضہ پر اپنی خدمات پیش کرتے تھے۔
    چند ایک نے تو شیخ صاحب کو اشارہ بھی دیا کے صاحب کسی کو کچھ دے دلا کر معاملے کودرست کروادیجیے تاکے اس جھنجھٹ سے جان چھوٹے لیکن شیخ صاحب نے رشوت دینے کے خیال ہی سے انکار کردیا۔
    ایک من چلا تو ایسا بھی ملا جو شیخ صاحب کو اپنا تجربہ سنانے لگا۔ ” میرے گھر بھی جب دیکھو ڈیٹیک شن ( ڈیڈکشن ) ٹھوک جاتے تھے میں نے بل جمع کرانا ہی چھوڑ دیا، میں دہاڑی دار آدمی اپنا گھر چلاؤں یا ان ڈیٹیک شن کی پھٹیکوں کو بھروں، میں نے بل جمع کرانا ہی چھوڑ دیا۔ لے گئے میرا میٹر اتار کے میں نے کہالے جاؤ بیٹا، اگلے دن ہی ڈائریکٹ تار ڈلوالیااب کیا لے جائیں گے زیادہ سے زیادہ تار لے جائیں گے نہ، میں پھر لاکے لگالوں گا، کیسا؟”
    وہ اپنی بپتا سنانے کے بعد مسکراتے ہوئے شیخ صاحب کو تعریف طلب نگاہوں سے دیکھنے لگا اور شیخ صاحب اپنے دل کی بات کو دل ہی میں دبائے اک شان بے نیازی سے اسے نظرانداز کرتے ہوئے ایک بار پھر عزیز صاحب کے پاس دل کا بوجھ ہلکا کرنے چلے گئے۔ عزیز صاحب نے شیخ صاحب کی پریشانی دیکھتے ہوئے اپنے ایک جان پہچان والے سینئر کلرک سے شیخ صا حب کا رابطہ کروایا۔ شیخ صاحب ان کے سامنے بھی حاضر ہوئے اور اپنا مدعا بیان کیا۔ وہ صاحب خاصے صاف گو واقع ہوئے تھے ہنستے ہوئے بولے:
    ”جناب ٥٠ ، ٤٠ ہزار کی ڈیڈکشن لگنا اب معمول کی بات ہوگئی ہے ۔ آپ آہستہ آہستہ قسطیں جمع کرواکر بل تو ادا کرتے رہیے اور درخواست جمع کروادیجیے، آہستہ آہستہ خود ہی ختم ہوجائیں گی۔”
    لیکن درخواست جمع کرائے تو کافی عرصہ ہوگیا کچھ ہوتا ہی نہیں، سب ہمیں ہی شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔” شیخ صاحب نے بے چارگی سے جواب دیا۔
    ” بات یہ ہے شیخ صاحب کے آج کل سب ہی چوربن گئے ہیں کیا حکومت کیا عوام جس کو جہاں موقع مل رہا ہے لوٹ رہا ہے۔ اب کسی کے ماتھے پر تو نہیں لکھا ہوتا نہ’ آپ کو ایک بات بتاؤں خود میرے گھر کے میٹر پر بھی ڈیڈکشن لگی ہوئی ہے، ہاہاہاہا۔ ‘ ‘ انہوں نے بے تکلفی سے شیخ صاحب کی ران پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا۔
    ”لیکن جناب کوئی حل تو بتائیے نا، ایسا ہوتا رہا تو میں جلد ہی لاکھوں روپے کا مقروض ہوجاؤں گا کہیںنیب میں کیس نہ چلا جائے ۔”
    ”ارے گھبرائیے نہیں ، نیب والے کوئی بدمعاش تھوڑی ہیں۔ خیر آپ چاہیں تو دوچیزیں کرسکتے ہیں یا تو کسی سے سیٹنگ کروالیجیے، کچھ دے دیاکیجیے پھر بھلے اے سی بھی لگالیں گھرمیںاور اگر واقعی آپ نے کبھی بجلی چوری نہیں کی تو وفاقی محتسب کے نام درخواست دائر کرادیجیے ۔” انہوں نے معنی خیز مسکراہٹ سے شیخ صاحب کو دیکھتے ہوئے کہا۔
    اور شیخ صاحب بھی کہاں ہمت ہارنے والے تھے انہوں نے بھی وفاقی محتسب کے دفتر کیس داخل کروادیا۔ کارروائی شروع ہوئی اور کچھ عرصے میں ثابت ہوگیا کے شیخ صاحب کے گھر پر لگائی گئی تمام ڈیڈکشنز غلط ہیں۔ وفاقی محتسب کی طرف سے شیخ صاحب کے لیے واپڈا کے حکام کو احکامات جاری کردیے گئے کے صارف پر لگائے گئے تمام جرمانے فوری ختم کیے جائیں ۔
    اتنی خواری کے بعد فتح کے آثار دیکھ کر شیخ صاحب نے فخر سے اس لیٹر کی کاپی تمام جاننے والوں کو دکھائی خاص طور پر اپنے پڑوسی عرفان صاحب کو ، لیکن وہ یہ سب طنزیہ مسکراہٹ سے دیکھتا ہوا چلا گیا۔
    اپنی فتح کے نشے میں چور شیخ صاحب انتظار کرتے رہے کے اب کے مہینے اُن کے بل سے سارے جرمانے رفع ہوجائیں گے لیکن دلی دور است۔ ایک طرف لوڈ شیڈنگ تھی جو ختم ہونے کا نام ہی نہ لے رہی تھی۔
    اکثر ساری ساری رات بجلی غائب ہوتی تو کبھی کوئی گرڈ اسٹیشنوں میں خرابی ہوجاتی اوروولٹیج اتنے کم ہوتے کے شیخ صاحب سارے گھر کی اہم چیزوں کوبند کروادیتے۔ حالاں کہ حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ اس سال کے اختتام تک لوڈ شیڈنگ مکمل ختم ہوجائے گی لیکن سال ختم ہوگیا انتظار ختم نہ ہو ا یہاں تک کے بجلی کے بحران کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کے وعدوں پر عوام سے ووٹ بٹورنے والے خود مال بٹور کر اپنی مدت پوری کرکے چلے گئے لیکن لوڈ شیڈنگ ختم نہ ہوئی۔ گرمیوں میں منسٹر صاحب یہ توجیح پیش کرتے رہے کے خشک سالی کی وجہ سے دریاؤں میں پانی نہیں ہے اس لیے زائد لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے اور سردیوں میں گویا ہوتے کہ سردی کی وجہ سے دریاؤں کا پانی جم گیا ہے اس لیے پانی کی کمی بھی لوڈشیڈنگ کا سبب ہے ۔ اس پر سونے پر سہاگہ کبھی ابر رحمت برس جائے تو عوام کو اس زحمت سے دوچار کیا جاتا کے دو بوندوں کے برستے ہی عاشقانہ مزاج شاعری کرنے والے لوگ بھی بارش کے بعد توبہ کرتے نظر آتے، بادلوں کے گرجتے ہی لائٹ بند ہوجاتی حتیٰ کہ بادل برس کر بھی چلے جاتے اور آسمان پر تارے جگمگانے لگتے لیکن لائٹ عید کا چاند ہوجاتی اور پھر ان تاروں کی روشنی میں ہی رات کالی ہوتی۔ زندگی بنا بجلی کے جیسے تیسے گزر ہی جاتی ہے لیکن بنا پانی کے یہ زندگانی کتنی کٹھن ہوتی ہے اس کا اندازہ شیخ صاحب کو اس دن ہوا جب اچانک ہونے والی برسات کے سبب لائٹ غائب ہوئی سو ہوئی لیکن پانی کی موٹر نہ چلنے کے سبب ٹینکی میں پانی ختم ہوگیا۔ اس پر ستم یہ کے شیخ صاحب کا پیٹ سخت خراب اور گھر میں پانی کی ایک بوند موجود نہیں جس سے حوائج ضروریہ کا انتظام کیا جائے۔ وہ دبے لفظوں خالہ کی کفایت شعاری نہ کرنے کی عادت کو جواز بناکر تنقید کرنے لگے کے اگر باورچی خانے میں رکھے ڈرم میں آڑے وقت کے لیے کچھ پانی بچا کر رکھ لیا ہوتا تو ابھی یوں رسوا نہ ہونا پڑ رہا ہوتا۔ اس وقت شیخ صاحب کو اپنی ہی مثال سے اس بات کی اہمیت کا اور اندازہ ہوگیا کے ملک کے لیے ڈیم بننا کتنا ضروری ہے ۔ ادھر ان کے بیٹے کی پھرتی کام آئی جو محلے کے کسی سخی انسان کے گھر سے چند پانی کی بالٹیاں بھر لایا لیکن جب شیخ صاحب کے علم میں یہ بات آئی کے انہیں پانی کی بالٹیاں عطیہ کرنے والامحسن کوئی اور نہیں ان کا پڑوسی عرفان صاحب ہی ہے تو پہلے پہل ان کا اس پانی کے استعمال کے لیے دل ہی آمادہ نہیں ہوالیکن پھر یہ سوچ کر خود کو آمادہ کرلیا کے یہ پانی باوقت مجبوری بیت الخلا میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔
    اصل میں جب سے شیخ صاحب کے علم میں یہ بات آئی تھی کے ان کے پڑوسی عرفان صاحب بجلی کے اتنے بڑے چور ہیں تب سے وہ ان کے دل سے ہی اتر سے گئے تھے اسی لیے ١٢ ربیع الاوّل کے موقع پر جہاں سارا محلہ عرفان صاحب کے گھر کی شاندار لائٹنگ دیکھ کر سبحان اللہ کہہ رہا تھا وہیں شیخ صاحب بار بار عرفان صاحب کے گھر کی جانب نظر کرکے لاحول ولا کی تسبیح کا ورد کرتے رہے تھے۔
    اس سب کے باوجود شیخ صاحب اس گتھی کو سلجھانے سے قاصر تھے کے اگر بجلی کی پیداوار میں اتنی ہی کمی آگئی ہے تو یہ کمبخت بجلی کے بل کی افزائش میں کمی واقع کیوں نہیں ہورہی ۔ جائز بجلی کے استعمال کے نرخ بھی اس ناجائز حد تک بڑھا دیے گئے ہیں کے ایک غریب آدمی کے لیے ممکن نہ رہا ہے کے یا تو وہ بجلی کا بل ادا کردے یا اپنے بال بچوں کو پال پوس لے ۔ اسی دوران رمضان کا مقدس مہینہ بھی آگیا تو شیخ صاحب کے لیے ممکن نہ رہا کے اس عمر میں روزے کی حالت میں اپنے بل کے لیے خواری کرتے پھریں۔ انہوں نے بل کے معاملے کو ایک ماہ کے لیے مؤخر کر کے گویا احترام رمضان میں دشمن کے خلاف جنگ بندی کا اعلان کیا، لیکن ماہ رمضان میں بھی جب روزے دار بجلی والوں کے عتاب کا شکار ہوئے تو ہر قسم کے حالات میں صبر و شکر اور قناعت کا دامن نہ چھوڑنے والے شیخ صاحب بھی بلبلااٹھے اور صرف اسی وقت شکر ادا کرتے دکھائی دیتے جب لائٹ جاکر واپس آجاتی۔ جب کے خالہ لائٹ بند ہوتے ہی بجلی والوں کو بددعائیں دینا شروع کردیتیں تو شیخ صاحب اور جھلا جاتے۔
    ”ارے نیک بخت کیوں اپنی زبان خراب کرتی ہو ، اگر ایسے بددعائیں دینے سے بجلی والوں کا کچھ ہوتا تو آج کوئی بھی زندہ نہیں ہوتا۔”
    ”ارے میں تو دوں گی بد دعائیں ، موؤں نے زندگی جو اجیرن بنادی ہے اور ایک تم ہو ، زمانے بھر کے ایماندار۔ ” خالہ بھی شیخ صاحب کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیتیں۔
    ”پھر شروع ہوگئی تمہاری وہی بیکار کی رٹ کیا میں لوڈ شیڈنگ کروارہا ہوں ۔ ” شیخ صاحب غصے سے کہتے۔
    ”بس تم غصے میں ہی آجانا بات کو سمجھنا نہیں۔ میرا مطلب ہے دیکھ لو بجلی ہوتی نہیں ہے اور اللہ مارے کتنا بل بھیجے جاتے ہیں جیسے یہاں خزانے دفن ہوں۔ اب تو تم بھی ریٹائر ہوگئے ہو ، خیر سے دونوں بچے بھی ابھی کمانے جوگے نہیں ہوئے ، کہاں سے پورے کریں گے اخراجات؟ ”
    آنے والے وقت کی ذمہ داری کا سن کر ایک لمحے کے لیے شیخ صاحب خاموش ہوجاتے اور خالہ شیخ صاحب پراپنی باتوں کا اثر ہوتے دیکھ آخری وار کرتیں۔
    ”اب دیکھو گھر میں اے سی لگ جائے گا تو کچھ پل سکون سے گزر جائیں گے بغیر بجلی کے روزہ رکھنا کتنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ اکثر تو سحری بھی اندھیرے میں کرنی پڑتی ہے۔ ”
    ”ہاں یہ تو ہے لیکن نیک بخت اچھی نیت کا اجر اللہ ضرور دیتا ہے۔ آج ہی مولوی صاحب فرما رہے تھے کے لوڈ شیڈنگ میں رکھے ہوئے روزوں کا زیادہ ثواب ہوتا ہے۔ ”
    یہ سننے کے بعد خالہ چند لمحوں کے لیے بنا کچھ بولے شیخ صاحب کو گھورتی رہتیں اور پھر پہلے سے کہیں قوت کے ساتھ بجلی والوں کو کوسنے دینے شروع کردیتیں۔
    ہاں عید آئی تو عوام کو کم سے کم تینوں دنوں کے لیے بناکسی بندش کے بجلی کی عیاشی دے دی گئی ۔ سب سکون میں رہے لیکن عید ختم ہوتے ہی لوڈشیڈنگ کا چاند یوں نظر آیا کے پچھلے تینوں دنوں کی کسر برابر ہوگئی ۔ چند دن بعد ہی بجلی کے بل بھی آگئے اور یہ دیکھ کر شیخ صاحب سجدہ شکر بجالائے کے ان کے بل سے تما م ڈیڈکشن ختم کردی گئی تھیں گویا انہیں ان کی کڑی تپسیہ کا پھل مل گیا۔
    ایک دن خالہ نے دیکھا شیخ صاحب کچھ بے چین سے دکھائی پڑتے ہیں فوراً بھانپ گئیں کہ ہو نہ ہوکوئی پریشانی ہے۔ انہوں نے پاس آکر مزاج پرسی کرتے ہوئے سبب دریافت کیا۔
    ” ہاں بیگم جانے آج کیا ہوگیا ہے صبح سے لائٹ ہی نہیں گئی خدا خیر کرے۔ ”
    یہ سننا تھا کے خالہ غصے سے لال پیلی ہوگئیں اور ان کا عرصے سے شیخ صاحب کی دماغی حالت پرہونے والا شک یقین میں بدلنے لگا۔
    ” ارے کیا سٹھیا گئے ہو ، لائٹ نہیں گئی تو شکر ادا کرو خدا کا، کیوں منہ لٹکا کر منحوس باتیں کررہے ہو ؟”
    ” ارے کم عقل عورت کتنی بھاری قیمت بھی تو دینی پڑتی ہے اس عیاشی کی ، چند گھنٹے لائٹ نہیں جاتی توپھر بعد میں پورا پورا دن فنی خرابی کے نام پر لائٹ بند کرکے اپنا اگلا پچھلا سارا حساب سود سمیت وصول کرلیتے ہیں یہ لوگ۔ ”
    ” تم اگلی بار جاؤگے نہ واپڈا کے دفتر، تو بڑے افسر سے یہ بھی شکایت کردینا کے بھیا کسی کے گھر کی لائٹ جائے یا نہ جائے ، میرے گھر کی لائٹ سب سے پہلے بند کردیا کرو ، نوازش ہوگی۔”
    خالہ نے بھی تنک کے وہ جواب دیا کہ شیخ صاحب کو خاموش ہوتے ہی بن پڑی۔
    اس کے کوئی پانچ ماہ کے بعد کے بات ہے شیخ صاحب کا بیٹا چپ چاپ گھر میں داخل ہوا اور ان کے آگے بجلی کا بل کردیا ۔ انہوں نے جب بل دیکھا تو ایک بار پھر سر پکڑ کر بیٹھ گئے کیوں کہ اس ماہ ان کے بل میں نئی ڈیڈکشن لگی ہوئی تھی۔ بیٹے نے بل دکھانے کے بعد ان کے ہاتھ سے بل واپس لیا اورگھر سے باہر کی جانب جانے لگا۔
    ”ارے کہاں جارہے ہو ، اس وقت سب جاچکے ہوں گے واپڈا آفس سے ، میں کل پھر جاؤں گا۔”
    ” ابا میں واپڈا آفس نہیں جارہا ذرا پڑوس میں عرفا ن صاحب سے مل کر آرہا ہوں ۔ ” بیٹے نے جاتے ہوئے آواز لگائی۔
    ” اچھا۔” شیخ صاحب نے تھکے لہجے میں جواب دیا پھر اچانک انہیں کچھ یاد آگیا اور وہ بیٹے کے پیچھے ڈانٹتے ہوئے لپکے ۔
    ” ارے عرفان کے پاس کیوں جارہے ہو تم ، کوئی ضرورت نہیں اس کے پاس جانے کی میں خود دیکھ لوں گا ان سب کو ، وفاقی محتسب کی عدالت میں پھر سے گھسیٹ لوں گا ان کو، اب کے باقاعدہ اپنا وکیل کرکے کیس کردوں گا ان سب پر دیکھنا جج صاحب کیا کرتے ہیں ان کا… ”

    ٭…٭…٭




  • میرے آسماں سے ذرا پرے — مونا نقوی

    میرے آسماں سے ذرا پرے — مونا نقوی

    ”محبت کے دل میں اترنے کا کوئی خاص موسم نہیں ہوتا کہ وہ آئے اور اپنی روپہلی کرنوں سے کسی وجود کا احاطہ کر کے اسے دل کش زنجیر میں جکڑ لے ۔محبت تو کبھی بھی، کسی بھی لمحے صحیفہ ٔ نور کے مانند دلوں میں اترتی اور دل کو اس الوہی جذبے سے آشنا کرکے، راتوں کی نیندیں اُڑا کے اور جاگتی آنکھوں میں حسیں سپنے سجا دیتی ہے۔ یہ دل کا سکون لوٹ کر بھی ایک الگ ہی قرار اور احساس سے آشنا کرتی ہے۔ عظام تم کیا جانو محبت اور اِس کے خوب صورت فلسفے کو ۔” وہ محبت کی حسین وادیوں میں ٹہلتی کسی خوب صورت خیال میں کھوئی اپنا فلسفہ جھاڑ رہی تھی۔
    ”مت بھولو وریشہ، تم جس محبت کے جذبے کے زیرِ اثر خوب صورت الفاظ میں فلسفۂ محبت جھاڑ رہی ہو، اس جذبے سے تمہیں آشنا کروانے کاسہر اما بہ دولت عظام حیدر کو جاتا ہے۔” وہ اپنا کالر درست کرتے ہوئے گویا ہوا۔
    ”ورنہ تم بھی اِس دنیا کی وہی عام سی لڑکی رہتیں، جو چاہے جانے کے خواب دیکھتی تو ہے مگر کبھی انہیں حقیقت بنتے نہیں دیکھ پاتی۔” وہ وریشہ کی خوب صورت آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
    ”مانتی ہوں، مجھے ایک عام سی لڑکی سے خاص تمہاری محبت نے بنایا ہے اور میں ہمیشہ خاص رہنا چاہتی ہوں۔ تمہاری نظر میں بھی اور دنیا کی نظروں میں بھی۔” اس کی آنکھوں میں خوف اور لہجے میں التجا تھی۔ اسے کھونے کا خوف تو خود کو نہ کھونے کی التجا کرتی وہ نگاہیں آج بھی عظام کے ذہن پرنقش تھیں۔ وہ لہجہ آج بھی اس کی سماعتوں میں گونجتا تھا۔
    ”عظام اور وریشہ اک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں ۔ جدائی نام کی کوئی چیز کبھی بھی ہم دونوں کے درمیان نہیں آ سکتی۔”
    عظام کے پر اعتماد لہجے میں بلا کا یقین تھا اور اسی شب وریشہ کا دل اس یقین پر ایمان لے آیا تھا۔ نیچے عظام کی خالہ زاد کی مہندی کے فنکشن سے فراغت کے بعد سب رشتہ دار خوش گپیوں میں مصروف تھے اور چھت پر عظام اور وریشہ مستقبل کے سہانے خواب بُن رہے تھے۔ دور آسمان پر چمکتا چودھویں کا چاند دونوں کو محبت کے عہدو پیماں کرتا دیکھ ان کی بلائیں لے رہا تھا تو چمکتے ستارے مبارک باد اور سلامتی کی دُعائوں کے سندیسے بھیج رہے تھے۔
    ٭…٭…٭




    وہ آج بھی بے بسی کی تصویر بنی اپنے شوہر کو اپنی آنکھوں کے سامنے بے وفائی کرتے دیکھ رہی تھی لیکن ہمیشہ کی طرح مہر برلب تھی۔ وہ جانتی تھی کہ ارمغان کا روز روز اپنی نئی گرل فرینڈز کو گھر لے آنا اور رات گئے بے مقصد گفت گو کرتے رہنا اور پھر ان آزاد ماحول کی پروردہ لڑکیوں کو گھر تک چھوڑنے جانا محض اسے دکھ اور تکلیف پہنچانے کے سوا کچھ نہیں تھا ۔وہ اس کے چہرے پر چھانے والی اُداسی اور آنکھوں میں اترنے والی نمی سے محظوظ ہوتا تھا۔ وہ نا چاہتے ہوئے بھی اُداس ہو جاتی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو نکل کر اس کے رخساروں پر بہنے لگتے۔ بعض اوقات وہ تنگ آکر علیحدگی کا فیصلہ کرتی مگر ارمغان کے چبھتے نشتر جیسے الفاظ اس کی زبان بند کروا دیتے۔
    ”احسان مانو میرا جو تم جیسی بدنامی کی پوٹلی کو میں نے قبول کر لیا۔ یا د رکھو، میں نے چھوڑ دیا تو تم کہیں کی نہیں رہو گی۔ گھر والے تو ڈیڑھ سال سے ملنے تک نہیں آئے تمہیں، ان کے علاوہ بھی کوئی ٹھکانہ ہے جہاں رہ سکو تم؟ اگر بنا چکی ہو تو بتا دو، میں ابھی گھر بدر کرنے کو تیار ہوں تمہیں ۔” ا س کے پاس ارمغان کی کسی بات کا جواب نہیں ہوتا۔ وہ یہ سوچ کر چپ رہتی کہ اگر ارمغان نے اسے چھوڑ دیا تو وہ کہاں جائے گی۔ وہ خاموشی سے لب سیے پلٹ آتی۔
    ٭…٭…٭
    ”زندگی کا ہر لمحہ جو تمہارے بن گزرتا ہے، اس لمحے کی روداد نہ پوچھو وریشہ، ایسا لگتا ہے جیسے موت و حیات کے بیچ لٹک رہا ہوں۔” وریشہ آج کافی دنوں بعد عظام کے گھر آئی تھی اور وہ موقع ملتے ہی دلِ بے تاب کے قصے سنانے بیٹھ گیا تھا۔
    ”اُف عظام! تم بھی نا بات بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہو کہ جھوٹ زیادہ اور حقیقت کم ہی لگتی ہے۔” وریشہ اس کی بات سنتے ہی ہلکا سا ہنستے ہوئے بولی۔
    ”قسم سے اک لفظ جھوٹ نہیں کہتا وریشہ!” وہ جھٹ سے اس کے سامنے بیٹھ کر اس کا ہاتھ اپنے سینے پر رکھتے ہوئے بولا:
    ”محسوس کرو، اس دل کی دھڑکن کی ہر لے میں تمہارا نام لیتا ہے میرا دل ۔تم میری سانسوں کے چلنے کا سبب ہو ۔اگر تم دور ہوئیں تو دل کے بند ہونے سے پہلے ہی میری سانسیں رک جائیں گی۔” وریشہ نے اس کے ہونٹوں پر تڑپ کر ہاتھ رکھا۔
    ”حالت تو وریشہ کی بھی تم سے کم نہیں، تمہاری یہ باتیں خوف زدہ کر دیتی ہیں مجھے۔ یا تو تم خود پاگل ہو جائو گے یا مجھے کر دو گے۔”
    ”محبت کبھی انسان کو پاگل نہیں ہونے دیتی وریشہ مگر یہ سچ ہے کہ محبت پاگل پن کا دوسرا نام ہے۔ کسی کا دیوانہ ہو کر ہوش و خرد کہاں کچھ سمجھنے اور دیکھنے کے قابل رہتے ہیں؟”
    ”عظام! مجھے ڈر لگتا ہے تمہاری محبت سے ، تمہاری باتوں سے۔” وہ خوف زدہ نظروں سے اُسے دیکھ رہی تھی جو اس کاہاتھ تھامے عجیب و غریب باتیں کر رہا تھا۔ وریشہ، عظام کی پھوپھی زاد تھی۔ دونوں میں پسندیدگی تو لڑکپن میں قدم رکھتے ہی ہو گئی تھی، مگر اظہارِ محبت کرنے میں انہیں چھے سال لگ گئے۔
    ٭…٭…٭
    ”آپ کو یہ جاب کیوں چاہیے وریشہ؟”
    ”ذہنی سکون کے لیے سر۔”اولڈ ایج ہوم کے مالک نے وریشہ سے سوال کیا، تو اس نے فوراً جواب دیا۔
    ”آپ کو واقعی لگتا ہے اِس جاب سے آپ کو ذہنی سکون ملے گا؟” اس کے جواب پر بے ساختہ پوچھا گیا۔
    ”جی سر!بزرگوں کی خدمت سے، ان کا خیال رکھ کر اور ان کی دعائوں سے لگتا ہے مجھے واقعی ذہنی سکون ملے گا۔” وریشہ نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔
    ”جب کہ مجھے لگتا ہے اِن بزرگوں کے قریب رہ کر، ان کی زندگی کی کہانیاں سن کر آپ کو دکھ اور تکلیف کے سوا کچھ نہ ملے گا۔”
    ”آپ بس مجھے یہ جاب دے دیں سر، مجھے ذہنی سکون ہی ملے گا۔ میں اُن کے دُکھ بانٹ کر اپنے غم اور دکھ بھول جائوں گی۔ ” اس کے لہجے میں التجا در آئی۔ اپنے حالات سے فرار اسے یہاں جاب کرنے میں ہی نظر آرہا تھا۔
    ”اوکے وریشہ! آپ ابھی سے جوائن کر سکتی ہیں۔” ریحان احمر نے خوش دلی سے کہا، تو وریشہ کااُداس چہرہ اک دم کھل اٹھا۔ ریحان نے آج پہلی بار گہرے سیاہ بادلوں کے پیچھے سے چاند کو نمودار ہوتے دیکھا تھا۔
    ٭…٭…٭
    وہ ایک وفادار اور فرض شناس بیوی کی طرح اپنے تمام فرائض ادا کر رہی تھی۔ ارمغان کی ہر چھوٹی بڑی ضرورت تن دہی سے پورا کرتی۔ ارمغان کو کبھی بھی گھریلو کام میں اُس سے شکایت نہیں ہوئی تھی۔ صبح ارمغان کے اٹھنے سے پہلے ہی وہ اس کی ضرورت کی ہر چیز تیار رکھتی۔ اس کے تیار ہونے سے پہلے ہی وہ ناشتا ٹیبل پر لگا چکی ہوتی۔ وہ خاموشی سے ناشتا کرتا اور وہ ہر روز ہی اس کے منہ سے تعریف کے چند کلمات سننے کی منتظر رہتی لیکن وہ بنا کچھ کہے اُٹھ جاتا۔ وہ سرد آہ بھر کر اسے جاتا دیکھتی رہ جاتی۔وہ اپنی قسمت کے اِس فیصلے پر شکوہ کناں نہیں تھی بلکہ وہ صبر کے گھونٹ پیتے ہوئے شکر سے زندگی گزار رہی تھی۔
    ٭…٭…٭
    اولڈ ایج ہوم میں وریشہ کا دل لگ گیا تھا۔ اس کی بے قرار زندگی میں ایک ٹھہرائو آگیا تھا۔ بزرگوں کے سایۂ شفقت اور ان کی دعائوں نے اسے نیا حوصلہ بخشا تھا۔ وہ بہت محبت اور توجہ سے ہر ایک کی بات سنتی۔ ان کی کہانیاں اسے کبھی مغموم کر دیتیں تو کبھی جینے کے نئے گر سکھاتیں مگر پھر بھی اس کے اندر کا خالی پن گھر لوٹتے ہی اس کے دل میں براجمان ہو جاتا۔ اُداسیوں کے کُہر زدہ ماحول سے وہ جتنا نکلنے کی کوشش کرتی، اتنا ہی اسے اپنے چاروں طرف گہرا ہوتے پاتی۔ وہ کسی ایسے سرے کی تلاش میں تھی جسے پکڑ کر اِس ماحول سے باہر نکل سکے، مگر فی الحال ایسا کوئی سرا اسے دستیاب نہیں تھا۔
    ٭…٭…٭
    ”خود کو بہت بڑا تیس مار خان سمجھتے ہو؟ تمہارا کیا خیال ہے کہ تم ہمارے گھر اور ہمارے بزنس پر بھی قبضہ کر لو گے؟” عظام کو اس سے پہلے میں نے ایسے غصہ کی حالت میں نہیں دیکھا تھا۔ بس دست و گریباں ہونا باقی تھا، مگر اُس نے خود پر کنٹرول رکھا۔
    ”میری سمجھ میں نہیں آ رہا کہ تم کیا اول فول بک رہے ہو۔ کہنا کیا چاہ رہے ہو تم؟” ارمغان نے سمجھ نہ آنے والے انداز میں اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
    ”اتنے بھی ”چھنے کاکے” نہیں ہو تم جو سمجھ نہیں آ رہی۔ جب دیکھو اِس گھر میں موصوف کے گن گائے جارہے ہیں اور یہ بھولی صورت پوچھ رہی ہے کہ کیا کہنا چاہ رہے ہو تم۔” عظام کو فائنل ائیر میں سپلی آنے پر چھوٹے ماموں سے اچھی خاصی ڈانٹ پڑی تھی اور وہ اپنا سارا غصہ ارمغان پر اتار رہا تھا اور کیوں نہ اتارتا؟ ماموں نے ارمغان کی قابلیت اور ذہانت کی تعریف میں زمین وآسمان کے قلابے جو ملا دیے تھے ۔ یہ بات عظام کو ہمیشہ کی طرح ہضم نہیں ہو رہی تھی۔
    ”قسم سے میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا، تم بد گمانی سے کام مت لو ۔”ارمغان نے اپنے ازلی پُرسکون اندازمیں کہا۔
    ”خوب سمجھتا ہوں میں اِس معصوم صورت کے پیچھے ایک عیار انسان چھپا بیٹھا ہے۔” عظام کا غصہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ میرے روکنے کے باوجود وہ ارمغان کو بے نقط سنائے جا رہا تھا اور وہ میرے سامنے اس کے رویے کی وجہ سے شرمندگی محسوس کر رہا تھا۔
    ”عظام کیا کروں ایسا کہ تمہاری بد گمانی دور ہو جائے ۔ تمہارا دل صاف ہو جائیمیری طرف سے۔” وہ روہانسا ہو گیا ۔ نہ جانے کیوں اس کی آنکھوں میں نمی تیرتے دیکھ کر میرا دل دکھنے لگا تھا۔
    ”اِس گھر سے چلے جائو، اب مجھ سے مزید برداشت نہیں ہوتا تمہارا وجود ۔” عظام نفرت سے کہتا ہوا باہر نکل گیا۔ ارمغان کی نیلی آنکھوں میں نمی در آئی تھی۔
    ”بہت غلط کرتا ہے عظام آپ کے ساتھ۔” میرے پاس اسے ہم دردی میں کہنے کے لیے کچھ نہیں تھا۔
    ”عادت ہوگئی ہے مجھے یہ سب سننے کی۔ آپ دکھی نہ ہوں ۔آج کون سا پہلی بار ہوا ہے آپ کے سامنے۔”
    ”آپ بہت اچھیہیں ارمغان۔ کبھی حوصلہ نہ ہارئیے گا۔ کوئی بھی مشکل ہو، بس ثابت قدم رہیے گا۔”
    وہ اثبات میں سرہلا کر باہر نکل گیا اور میں اس مضبوط انسان کو جاتا دیکھتی رہ گئی جس کا حوصلہ چٹان جیسا تھا جسے وقت کی کوئی بھی تیز آندھی گرا نہیں سکی تھی۔
    ٭…٭…٭
    مریم آپی شادی کے بعد آج پہلی مرتبہ ایک ہفتہ رہنے کے لیے آئی تھیں۔ سب کزنز ان کے پاس جمع تھے۔
    ”بس میں نے سوچ لیا ، سب کی شادی جلد کروا کے ہی دم لوں گی۔”
    ”بھئی کیوں؟ آخر ہم معصوموں کی آزادی سے کیوں خوامخواہ کا بیر ہو نے لگا آپ کو؟” عظام کے بڑے بھائی اسجد جھٹ سے بولے۔
    ”کیوں کہ اس گھر کی اکلوتی بیٹی کے بیاہ کر چلے جانے سے اِس گھر میں بیٹی کی کمی جو ہو گئی ہے۔ چچی جان سے کہہ دیا ہے میں نے، تین بیٹیاں جلد آئیں گی اِس گھر میں اور انہوں نے رشتہ ڈھونڈنے کی ذمے داری بھی مجھے سونپی ہے۔” انہوں نے اپنی طرف اشارہ کر کے اتراتے ہوئے کہا۔
    ”مجھے تو منظور ہے۔آپ کی چوائس ویسے بھی بہت اچھی ہے مریم آپی۔” عظام جھٹ سے اٹھ کے مریم آپی کے پاس بیٹھ گیا۔
    ”پہلے تو اسجد بھائی کی باری ہے، مریم آپی اِن کے لیے کوئی لڑکی نظر میںرکھیے۔” میں نے عظام کی بات کے جواب میں فوراً کہا تو میری بات سن کے عظام بد مزہ ہوتے ہوئے بولا۔
    ”آپی! اسلام میں کہیں شرط نہیں کہ پہلے بڑے کی شادی ہو۔” عظام مجھے منہ چڑا کر بولا۔
    ”اسلام میں نہیں لکھا مگر زمانے کادستور یہی ہے کہ پہلے بڑے بھائی کی شادی ہو اور پھر چھوٹے کی۔”مریم آپی بھی اسے تنگ کرنے کے موڈمیں تھیں۔ مجھے دیکھ کر آنکھ دبا کے بولیں، تو عظام کھڑکی کے پاس جا کر کھڑاہوگیا۔
    ”آپی پہلے بتائیں اسجد بھائی کے ساتھ کیسی لڑکی جچے گی؟”میں نے شرارت سے اسجد بھائی کو دیکھ کر کہا جن کے کان کھڑے ہو چکے تھے۔
    ”اِس کے ساتھ کوئی فضول خرچ اور ماڈرن سی لڑکی سوٹ کرے گی ۔جیسا یہ خود ہے، ویسی ہی لڑکی ہونی چاہیے۔ بس گھومنے پھرنے اور شاپنگ کرنے کی شوقین۔”
    ”واہ واہ! آپی ایسا ہو جائے تو سونے پہ سہاگا ہے۔ مجھے بھی کوئی روک ٹوک اور خرچوں کے لیے رونے والی شریکِ حیات کی خواہش نہیں۔”اسجد بھائی جھٹ سے بولے۔
    ”السلام علیکم آپی۔” ارمغان آفس سے آنے کے بعد سیدھا مریم آپی سے ملنے چلا آیا۔ آج بھی وہ تھری پیس سکائی بلیو سوٹ میں ہمیشہ کی طرح غضب ڈھا رہا تھا۔ اسے دیکھتے ہی عظام کا منہ بن گیا۔
    ”وعلیکم السلام میرے شہزادے بھائی۔” مریم آپی نے محبت پاش نظروں سے ارمغان کو دیکھتے ہوئے نہایت خوش دلی سے جواب دیا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس ہی بیڈ پر بٹھا لیا۔
    ”اور میرے ساتھ کون جچے گی؟ کیسی بھابی لانا چاہیں گی آپ میری بیوی کی صورت میں؟” عظام میرے بگڑتے تیوروں سے محظو ظ ہوتے ہو ئے بولا۔
    ”اُف پھوٹ گئی اُس کی قسمت جو تمہاری بیوی بنے گی۔” آپی نے اپنا الٹا ہاتھ پیشانی پر مارتے ہوئے کہا، تو سب کی ہنسی چھوٹ گئی۔
    ”اب ایسی بھی بات نہیں، بہت کیئرنگ اور محبت کرنے والا شوہر ہوں گا میں۔”عظام نے مصنوعی خفگی سے کہا۔
    ”بالکل! مگر اس کے ساتھ ساتھ تمہارے نخرے…” مریم آپی نے نخرے کی”ے” کو لمبا کھینچا تو عظام میرے قریب بیٹھتے ہوئے آہستہ سے بولا:
    ”بہ خوشی اٹھا لے گی میرے نخرے ۔”میں نے مسکرا کے سر جھکا لیا۔




  • امربیل — قسط نمبر ۸

    امربیل — قسط نمبر ۸

    "تمہارا جہانگیر کے ساتھ کوئی جھگڑا ہے؟” اس شام لان میں چائے پیتے ہوئے باتوں کے دوران اچانک لئیق انکل نے اس سے پوچھا۔
    عمر چونکا ”نہیں۔” اس نے بڑے نارمل انداز میں کہا۔
    ”اچھا!” لئیق انکل نے حیرت کا اظہار کیا۔ ”جہانگیر تو کہہ رہا تھا کہ تم آج کل اس سے کچھ ناراض ہو۔ تم دونوں کے درمیان کوئی بات وات نہیں ہوتی؟”
    لئیق انکل نے چائے کے سپ لیتے ہوئے بڑے جتانے والے انداز میں کہا۔
    ”نہیں، بات تو ہوجاتی ہے مگر کوئی خوشگوار انداز میں نہیں ہوتی۔” عمر نے بڑی لاپروائی سے کہا۔
    ”اچھا! کیوں؟” لئیق انکل نے خاصی بے نیازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پوچھا۔
    عمر نے ایک گہری نظر ان پر ڈالی۔ ”پاپا خوشگوار انداز میں کسی خوبصورت عورت سے ہی بات کرتے ہیں۔ یا پھر کسی سیاست دان سے۔”
    لئیق انکل نے بے اختیار قہقہہ لگایا۔ عمر اسی طرح بے تاثر چہرے سے انہیں دیکھتا رہا۔ بمشکل اپنی ہنسی روکتے ہوئے انہوں نے کہا۔ ”you have a very good sense of humour” (تمہاری حس مزاح بہت اچھی ہے) مگر اس طرح کی بات جہانگیر کے سامنے مت کرنا۔”
    ”ورنہ وہ چوتھی شادی کرلیں گے۔ ہے نا۔۔۔” عمر نے لاپروائی سے کہہ کر ایک بار پھر چائے پینا شروع کردیا۔
    ”اسی قسم کی باتیں تم جہانگیر سے کرتے ہو، اسی لیے تو وہ اتنا پریشان رہتا ہے۔”
    ”ایکسکیوزمی! پاپا میری وجہ سے پریشان نہیں ہوتے۔ وہ اپنے علاوہ کسی دوسرے کے بارے میں پریشان ہوتے ہیں نہ ہی کسی دوسرے کی وجہ سے پریشان ہوتے ہیں۔”
    عمر نے چائے کا کپ سامنے پڑی ہوئی میز پر رکھ دیا۔
    ”عمر! جہانگیر کے بارے میں اتنا بدگمان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ تمہاری بہت پروا کرتا ہے۔ تم اس کے بیٹے ہو۔ وہ تمہارے رویے کی وجہ سے بہت فکر مند رہتا ہے۔” لئیق انکل یکدم سنجیدہ ہوگئے۔
    ”اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ میں ان کی اولاد ہوں یا ان کا بیٹا ہوں۔”




    ”کیوں فرق نہیں پڑتا… تم جہانگیر سے پوچھو، کتنی اہمیت ہے اس کے نزدیک تمہاری۔”
    ”میں ان کی اکلوتی اولاد نہیں ہوں۔ دوسری بیوی سے بھی ان کی اولاد ہے اور اب۔ اب تیسری سے بھی ہوجائے گی۔” اس کے لہجے میں تلخی تھی۔
    ”مگر تم اس کے سب سے بڑے بیٹے ہو۔ تمہاری اور اس کی بہت اچھی انڈراسٹینڈنگ ہونی چاہیے ورنہ آگے چل کر اور پرابلمز ہوں گی۔”
    عمر نے غور سے ان کا چہرہ دیکھا۔ ”کیا مطلب! آگے چل کر کیا پرابلمز ہوں گی؟” عمر نے کچھ الجھ کر کہا۔
    ”وہ تمہارے مستقبل کے بارے میں بہت کچھ پلان کرتا رہتا ہے۔ کل کو جب تمہاری شادی کے بارے میں اگر وہ کوئی فیصلہ کرنا چاہے گا تو اس طرح کے ٹکراؤ کی صورت میں پرابلم ہوگا۔”
    لئیق انکل نے اتنے نارمل انداز میں یہ بات کہی کہ وہ ان کا چہرہ دیکھ کر رہ گیا۔
    ”میں آپ کی بات نہیں سمجھا ہوں۔ آپ کس کی شادی کی بات کر رہے ہیں؟” اس نے سرد آواز میں کہا۔
    ”تمہاری شادی کے بارے میں؟”
    ”میری شادی کے بارے میں پاپا کچھ طے کیوں کریں گے؟”
    ”وہ تمہارا باپ ہے۔”
    ”تو۔۔۔”
    ”عمر! تمہیں شادی۔۔۔”
    اس نے یکدم لئیق انکل کی بات کاٹ دی۔ ”انکل! آپ مجھ سے جو کچھ بھی کہنا چاہتے ہیں، صاف صاف کہیں۔ کیا پاپا نے میری شادی کے بارے میں آپ سے کچھ کہا ہے؟” وہ جیسے بات کی تہہ تک پہنچ گیا تھا۔
    لئیق انکل کچھ دیر اس کا چہرہ دیکھتے رہے۔ ”شادی تو نہیں! ہاں البتہ وہ تمہاری انگیجمنٹ ضرور کرنا چاہتا ہے۔”
    ”کس سے؟”
    ”یہ میں نہیں جانتا۔”
    ”بہت خوب، بہر حال آپ پاپا کو بتا دیں کہ مجھے شادی نہیں کرنا نہ آج نہ ہی آئندہ کبھی اور جس سے وہ میری انگیجمنٹ کرنا چاہتے ہیں اس سے خود شادی کرلیں۔” اس کی آواز میں تلخی تھی۔
    ”یار! تم خواہ مخواہ ناراض ہو رہے ہو، میں نے تو ویسے ہی بات کی تھی ایک… اس نے کون سا کچھ طے کرلیا ہے۔”
    تم مجھے یہ بتاؤ کہ صفدر مقصود کے ساتھ کیسی ملاقات رہی تمہاری؟”
    لئیق انکل نے یکدم بات کا موضوع بدلتے ہوئے سائیکالوجسٹ کا نام لیا۔
    ”میں نے پاپا سے پہلے بھی کہا تھا، مجھے کسی سائیکالوجسٹ کے ساتھ سٹنگ کی ضرورت نہیں ہے۔ میرے لیے یہ سائیکالوجیکل ٹیسٹ ایک کیک واک ہے۔ مجھے صفدر مقصود جیسے لوگوں کی گائیڈنس کی ضرورت نہیں ہے۔”
    ”کسی بھی چیز کو اتنا سرسری نہیں لینا چاہیے۔ بعض دفعہ یہ نقصان دہ بھی ہوتا ہے۔ صفدر مقصود نے ہی بعد میں تمہارا انٹرویو کرنا ہے۔ اس لیے جو کچھ وہ بتاتا ہے، اسے غور سے سنا کرو۔” لئیق انکل نے اسے سنجیدگی سے سمجھایا۔




  • امربیل — قسط نمبر ۷

    امربیل — قسط نمبر ۷

    ”میں نے سوچا شاید تم زارا سے ملتے ہوگے۔”
    علیزہ اگلی شام اپنے کمرے سے نکل کر لاؤنج کی طرف آرہی تھی، جب اس نے لاؤنج میں نانو کو عمر سے کہتے سنا تھا۔ وہ ٹھٹھک گئی۔
    رات کو عمر کے کمرے میں جانے کے بعد وہ بھی کھانا کھا کر اپنے کمرے میں آگئی تھی… بہت دیر تک وہ عمر کے بارے میں سوچتی رہی پھر آہستہ آہستہ نیند نے اسے اپنی گرفت میں لے لیا۔
    آج صبح عمر ناشتے کی میز پر نہیں تھا۔ کالج سے واپس آنے پر اس نے لنچ پر بھی موجود نہیں پایا۔ ”سر میں کچھ درد ہے اس کے… آرام کر رہا ہے۔” اس کے پوچھنے پر نانو نے کہا تھا۔




    علیزہ کچھ بے چین ہوگئی۔ ”کیا زیادہ درد ہے؟”
    ”پتا نہیں… کچھ بتایا نہیں کہہ رہا تھا کہ سوؤں گا تو ٹھیک ہو جاؤں گا۔” نانو نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
    ”آپ کو پوچھنا چاہیے تھا!” اس نے بے ساختہ کہا۔ ”موسم تبدیل ہو رہا ہے اسی کی وجہ سے اس کی طبیعت خراب ہوگئی ہوگی۔” نانو نے اس کی بات پر زیادہ دھیان نہیں دیا تھا۔
    وہ کچھ دیر تک انہیں دیکھتے رہنے کے بعد اٹھ کر اپنے کمرے میں آگئی۔
    عمرکے لئے اس کے دل میں موجود ہمدردی میں یک دم اضافہ ہوا تھا۔ پڑھائی کے دوران بھی وہ بدستور عمر کے بارے میں سوچتی رہی۔
    اور اب جب وہ تین گھنٹے بعد شام کی چائے کیلئے نکلی تھی تو وہ لاؤنج میں موجود تھا۔
    ”نہیں، آپ نے غلط سوچا۔ میں ممی سے نہیں ملتا ہوں۔”
    وہ کافی کا مگ ہاتھ میں لیے مدھم آواز میں نانو سے کہہ رہا تھا۔
    ”کیوں؟” نانو کے سوال پر عمر نے چند لمحے خاموشی سے ان کے چہرے کو دیکھا تھا۔
    ”کبھی طلب محسوس نہیں ہوئی۔” اس کا لہجہ بہت عجیب تھا۔
    ”والدین اور اولاد ایک دوسرے کیلئے طلب نہیں ضرورت ہوتے ہیں۔” نانو نے اسے جھڑکتے ہوئے کہا تھا۔
    ”ہماری کلاس میں پیرنٹس اور اولاد ایک دوسرے کیلئے طلب ہوتے ہیں نہ ہی ضرورت ،بلکہ چیزوں کی طرح ہوتے ہیں… جب اولاد کو ضرورت پڑے تو وہ ماں باپ کو استعمال کرلے اور جب ماں باپ کو ضرورت پڑے تو وہ اولاد کو استعمال کرلیں۔” علیزہ نے اس کی مذاق اڑاتی ہوئی ہنسی سنی تھی۔ وہ کوریڈور میں جہاں کھڑی تھی، وہاں سے اس کی پشت نظر آرہی تھی۔ وہ اس کا چہرہ نہیں دیکھ سکتی تھی مگر اس کی آواز سے وہ اندازہ کرسکتی تھی کہ وہ طنز کر رہا تھا۔
    ”اس طرح مت کہو۔” نانو نے اسے جیسے روکنے کی کوشش کی تھی۔
    ”سچ کہہ رہا ہوں گرینی! جیسے میں یہ مگ استعمال کر رہا ہوں نا میرے اور اس مگ کے درمیان اتنا ہی گہرا رشتہ ہے جتنا میرا اپنے ماں باپ کے ساتھ اور میرے ماں باپ کے نزدیک بھی میری اہمیت کافی کے اس گرم مگ جتنی ہی ہوگی جو ضرورت کے وقت ان کے کام آجائے۔” اس کا لہجہ پہلے سے زیادہ تلخ تھا۔
    علیزہ کوشش کے باوجود اندر داخل نہیں ہوسکی۔
    ”پتا نہیں، میرا اندر جانا ٹھیک ہے یا نہیں؟” وہ وہیں کھڑی سوچنے لگی۔
    ”تم زارا سے مل لیا کرو۔” نانو کی آواز میں اس بار ہمدردی جھلکی تھی۔
    ”کیوں؟” عمر کا لہجہ بہت تیکھا تھا۔ ”ا ب ایسا کیا ہوگیا ہے کہ میں ان سے مل لیا کروں؟”
    ”وہ تمہاری ماں ہے۔”
    ”تو میں کیا کروں؟”
    ”تم بچپن میں بہت اٹیچ تھے اس کے ساتھ۔”
    ”ہوسکتا ہے۔”
    ”جھوٹ مت بولو عمر!”
    ”میں جھوٹ نہیں بول رہا ہوں۔ میں واقعی انہیں مس نہیں کرتا بلکہ میں کبھی بھی کسی کو بھی مس نہیں کرسکتا۔” اس کی آواز میں بے حد سنجیدگی تھی۔
    ”مگر زارا تم سے ملنا چاہتی ہے۔ بہت محبت کرتی ہے وہ تم سے بار بار تمہاری باتیں کر رہی تھی۔ مجھے بتا رہی تھی کہ تمہیں اس نے سوات میں دیکھا تھا۔ پھر تمہیں ٹریس آؤٹ کرنے کی کوشش کی مگر تم ہوٹل سے چیک آؤٹ کرگئے۔ پھر اس نے اندازہ لگایا کہ تم یہیں ہوگے میرے پاس اور وہ سیدھی تمہارے پیچھے لاہور آگئی۔” نانو اب تفصیل سے بتا رہی تھیں۔
    ”بڑا کارنامہ کیا مجھے ڈھونڈ کر۔” اس نے عمر کو بڑبڑاتے سنا تھا۔
    ”وہ اپنی فیملی کو وہیں سوات میں چھوڑ کر صرف تمہارے لیے یہاں آئی تھی۔” نانو نے جیسے اسے جتایا۔
    ”نہ آتیں… اپنی فیملی کے ساتھ ہی رہتیں… انجوائے کرتیں۔”
    ”وہ صرف تمہارے لیے یہاں آئی تھیں… مجھے بتا رہی تھی کہ تمہیں بہت مس کرتی ہے۔”
    ”مس کرتی ہیں تو یہ ان کی غلطی ہے نہ کیا کریں… بے اولاد تو نہیں ہیں۔ دوسرے بیٹے ہیں نا پاس… پھر میرے لیے یہ ڈرامہ کرنے کی کیا ضرورت ہے؟” اس کے لہجے میں بے زاری تھی۔




  • امربیل — قسط نمبر ۶

    امربیل — قسط نمبر ۶

    ”ان این جی اوز کے آفس کینٹ کے علاقہ میں ہیں اور ظاہر ہے یہ تو ناممکن ہے کہ آرمی کے علاقے میں ہونے والی ایسی سرگرمیاں آرمی کی ایجنسیز سے خفیہ ہوں مگر وہ بھی صرف رپورٹس دے دیتے ہیں… کچھ کر نہیں سکتے۔”
    وہاں اس عمارت کے بڑے کمرے میں سب لوگوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے اسے عمر کی بات بے اختیار یاد آئی۔ وہ لوگ لاہور سے سیدھا اس گاؤں میں جانے کے بجائے پہلے اس این جی او کے آفس میں گئے جو شہر کے اندر کینٹ کے علاقے میں ایک خاصی بڑی کوٹھی میں واقع تھا، عمر کی ایک بات سچ ثابت ہوگئی تھی۔ وہاں انہیں اس این جی او کی طرف سے اپنے کام اور آفس کی دوسری سرگرمیوں کے بارے میں بریفنگ دی جانی تھی۔ اس وقت وہ چائے اور اسنیکس سے لطف اندوز ہو رہے تھے اور علیزہ کو یہ دیکھ کر خاصی حیرت ہوئی کہ اس نسبتاً قدامت پسند علاقے میں بھی لڑکیوں کی ایک بڑی تعداداس این جی او کیلئے کام کر رہی تھی جو خاصی حیران کن بات تھی آفس کی عمارت کا ایک جائزہ لیتے ہوئے اسے قدم قدم پر حیرانی ہوئی تھی۔ عمارت میں موجود سہولتیں نہ صرف بے حد جدید تھیں۔ بلکہ خاصی وافر تھیں۔ اندر موجود کمپیوٹر اور فیکس مشینوں سے لے کر باہر موجود گاڑیوں کے ماڈلز تک یہ ظاہر کر رہے تھے کہ روپے کا خاصی فراوانی سے استعمال کیا جارہا ہے۔
    ”این جی او اگر واقعی دیہی علاقوں میں ریفارمز اور سوشل ڈیویلپمنٹ کیلئے کام کر رہی ہیں تو پھر ان کے آفسز بھی ان ہی گاؤں وغیرہ میں ہونے چاہئیں تاکہ وہ لوگوں کے ساتھ مسلسل اور بہتر رابطہ میں رہیں مگر کسی بھی این جی او کا آفس تم گاؤں کے اندر نہیں دیکھو گی۔ سارے آفسر شہر کے سب سے مہنگے اور محفوظ علاقے میں خاصے گم نام اور خفیہ رکھے گئے ہیں اگر ان کا کام لوگوں کی بہتری ہی ہے تو پھر انہیں تو لوگوں کے ساتھ رابطے زیادہ بڑھانے چاہئیں اپنے آفسزکو ایسی جگہوں پر رکھنا چاہیے جہاں زیادہ سے زیادہ لوگ ان کے نام سے واقف ہوں، ان کے پاس آسکیں مگر ایسا نہیں ہے شہر کے اردگرد گاؤں کے لوگ ان کے نام سے بہت آشنا ہیں مگر شہر میں اگر تم کینٹ کے علاقے میں بھی کھڑے ہو کر کسی سے کسی بھی این جی او کا نام بتا کر آفس کا پتا پوچھو تو وہ بے خبر ہوگا اگر انہیں کچھ لیک آؤٹ ہوجانے کا خطرہ نہیں ہے تو یہ لوگوں کو کھلے عام اپنے آفس میں کیوں آنے نہیں دیتیں۔ انٹرنیشنل میڈیا تو دھوم مچا رہا ہے ان کے کارناموں کی مگر مقامی اخبارات تک ان کے کام اور نام سے بے خبر ہیں۔” اسے عمر کے الزامات یاد آرہے تھے۔
    چائے اور دوسرے لوازمات سے فارغ ہونے کے بعد انہیں اس این جی او کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے بریفنگ دینی شروع کی۔ ”جب ہم نے اس علاقے میں کام شروع کیا تھا اس وقت یہ پورا علاقہ ہر طرح سے پسماندہ تھا… یہاں زندگی کی بنیادی سہولیات تک نہیں تھیں صرف تیس فیصد بچے اسکول جاتے تھے اور پرائمری میں ڈراپ آؤٹ ریٹ بہت زیادہ تھا، اور وہ بہت سے مہلک امراض کا شکار ہو تے تھے۔ عورتوں کی حالت تو اس سے بھی زیادہ خراب تھی۔ ڈرگز کا استعمال بھی اس علاقے میں بہت زیادہ تھا۔”
    وہ اب دوسرا ”Version” سن رہی تھی۔ ”اس علاقے میں موجود فیکٹریاں بانڈڈ لیبر کروا رہی تھیں۔ دیہاتی علاقے سے زمیندار زبردستی فیکٹریز کے مالکان کے مطالبے پر کام کیلئے لوگوں کو بھجواتے تھے۔ جو اجرت ان لوگوں کو دی جاتی تھی اسے سن کر آپ کو شاک لگے گا مگر لوگ کام کرنے پر اس لیے مجبور تھے کہ خواندگی کی شرح بہت کم تھی اور بے روزگاری بہت زیادہ تھی۔ بنیادی طور پر یہ زرعی علاقہ تھا مگر لوگوں نے اپنی زرخیز زمینیں فیکٹریز کی تعمیر کیلئے بیچنا شروع کردیں۔ اس سے یہ ہوا کہ اس علاقے میں کاشت کاری بہت کم ہوگئی۔ ایک بڑے علاقے میں ٹینریز بن گئیں اور ٹینریز سے نکلنے والے آلودہ پانی نے اس علاقے کی زرخیزی پر منفی اثرات مرتب کیے لوگوں کو نہ صرف مالی طور پر بہت سے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا بلکہ بہت سے جلدی امراض بھی ان علاقوں میں پھیل گئے دوسرے لفظوں میں یا مختصراً آپ یہ سمجھ لیں کہ اس علاقے میں زیادہ استحصال ہو رہا تھا۔”
    وہ بہت غور سے اس شخص کی باتیں سن رہی تھی۔
    ”پھر سب سے پہلے ہم نے اس علاقے میں کام شروع کیا۔ آپ اندازہ نہیں کرسکتے کہ یہ کتنا مشکل کام تھا بلکہ شاید یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ یہ ایک ہر کولین ٹاسک تھا، شروع شروع میں ہم جہاں جاتے تھے ہم سے تعاون نہیں کیا جاتا تھا بعض جگہوں پر تو ہمارے ممبرز پر حملے بھی کیے گئے۔ ہم پر دباؤ ڈالا گیا۔ مختلف فیکٹریز کی طرف سے کہ ہم یہ کام نہ کریں انہیں خوف تھا وہاں لوگوں میں شعور آئے گا تو ان کا بزنس ٹھپ ہوجائے گا اور یہ خوف بالکل درست تھا جن حالات اور شرائط پر وہ لوگ کام کررہے تھے شعور حاصل کرنے پر سب سے پہلے وہ ان فیکٹریز کیلئے کام کرنا ہی چھوڑتے، ہماری ثابت قدمی نے ایک طرف تو ان علاقوں کے لوگوں میں ہم پر اعتماد بڑھایا بلکہ دوسری طرف ہمیں دیکھ کر بہت سی دوسری این جی اوز بھی میدان میں آگئیں ایک پورا نیٹ ورک قائم ہوگیا۔”




    اگر اسے عمر کی باتوں میں سچائی نظر آئی تھی تو اس شخص کے لہجے میں بھی وہ کوئی فریب ڈھونڈنے میں ناکام رہی اس کی الجھن بڑھ گئی تھی ”اپنی sense of Judgement۔” اسے عمر کی بات یاد آئی، مگر اسے استعمال کیسے کرتے ہیں اس نے سوچا تھا۔
    ”ہم لوگ گروپس بنا بنا کر سارا دن ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں اور دوسرے تیسرے گاؤں پھرتے رہتے ہمیں ایک ایک گھر جانا پڑا۔ وہاں سارے کوائف اکٹھے کرنے پڑے۔ گھر میں افراد کی تعداد کتنی ہے۔، ان میں عورتیں کتنی ہیں اور ان کی عمریں کیا ہیں، مرد کتنے ہیں اور کس عمر کے ہیں، بچوں کی تعداد کیا ہے اور کس عمر کے ہیں، گھر میں کام کرنے والے افراد کی تعداد کیا ہے؟ اور وہ کس کام سے منسلک ہیں۔ ان کی آمدنی کتنی ہے گھر میں کون سی سہولتیں ہیں، کیا بچے اسکول جاتے ہیں۔ گھر میں خواندہ افراد کتنے ہیں؟ یہ سب کچھ جاننے کیلئے ہمیں بڑے پاپڑ بیلنے پڑے کیونکہ لوگ ہمیں شک کی نظر سے دیکھتے تھے اور معلومات چھپاتے تھے یا غلط معلومات دیتے تھے یا پھر بات ہی نہیں کرتے تھے ہمیں ان معلومات کی ضرورت اس لیے تھی تاکہ ہم ان لوگوں کے مسائل حل کرنے کیلئے کوئی پراپر پلاننگ کرسکتے۔”
    اس کے الجھے ہوئے ذہن میں اب کچھ اور گونج رہا تھا۔
    ”این جی اوزجب یہاں آئیں تو انہوں نے دیہی اصلاحات اور سوشل ڈویلپمنٹ کا نام لے کر حقائق اور اعداد و شمار اکٹھے کرنے شروع کردیئے۔ کس علاقے میں کس عمر تک کے بچے کام کر رہے ہیں؟ فٹ بال انڈسٹری سے منسلک عورتوں کی تعداد کیا ہے۔ بانڈڈ لیبر کی اجرتوں کا ریٹ کتنا ہے؟ ان لوگوں کو کس طرح کی سہولیات میسر ہیں؟ یہ سارا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا ہے ”اور اب دیکھئے گا علیزہ بی بی آئندہ چند سالوں میں چائلڈ لیبر اور بانڈڈ لیبر کے حوالے سے ان ہی علاقوں کے متعلق انٹرنیشنل میڈیا خاصا شور مچائے گا۔ کچھ پابندیاں بھی لگائی جائیں گی۔” اس نے اپنے ذہن سے عمر کی آواز جھٹکتے ہوئے دوبارہ اس شخص کی آواز پر توجہ دینی شروع کی۔
    ”ظاہر ہے یہ لوگ کسی آدمی کو تو گھر کے اندر آنے نہیں دیتے اس لیے ہمیں لڑکیوں کی ضرورت تھی جو یہ کام کرسکیں، اسی لیے آپ لوگ دیکھیں گے کہ اس علاقے میں کام کرنے والی ساری این جی اوز کے ساتھ لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد وابستہ ہے۔”
    ”ہم دو دو لوگوں کا ایک گروپ بناتے تھے جو ایک لڑکی اور لڑکے پر مشتمل ہوتا تھا، یہ لوگ اپنے مخصوص علاقے میں جاتے اور خود کو بہن بھائی ظاہر کرتے اس علاقے کے امام مسجد سے رابطہ کرتے پھر اس کے ذریعے سے باقی لوگوں سے واقفیت حاصل کرتے۔ لڑکیوں کا گھر کے اندر آنا جانا شروع ہوتا، وہ ان کی ضرورت کی چھوٹی موٹی چیزیں ساتھ لے جاتے دوائیاں، صابن، خشک دودھ، بسکٹ اور اسی قسم کی چھوٹی موٹی دوسری چیزیں آہستہ آہستہ وہ لوگوں کا اعتماد حاصل کرنے لگے اور پھر کوائف اکٹھے کرنا کافی آسان ہوگیا۔ معلومات حاصل کرنے کے بعد دوسرا مرحلہ تھا کہ ان لوگوں تک اپنی بات پہنچائی جائے اور انہیں ان باتوں کو ماننے کیلئے قابل کیا جائے۔ یہ کام زیادہ مشکل تھا مگر بہرحال کسی نہ کسی طرح ہم نے یہ کام بھی شروع کردیا۔
    ہمارے چار بنیادی مقاصد تھے، چائلڈ اور بانڈڈ لیبر کا خاتمہ، بچوں کیلئے تعلیم کی فراہمی، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ان علاقوں میں روزگار کے بہتر مواقع اور بہتر اجرت کی فراہمی اوراس کے علاوہ بھی کچھ اور چیزیں تھیں جو ہم کرنا چاہتے تھے مگر وہ اتنی اہمیت کے حامل نہیں تھے۔
    ہم اس علاقے اور وہاں کے رہنے والوں کی زندگیوں میں کیا تبدیلیاں لے کر آئے ہیں یہ آپ تب ہی جان پائیں گے جب آپ خود وہاں جائیں گے لوگوں سے باتیں کریں گے اور ان تبدیلیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے ہمیں یہ دعویٰ نہیں ہے کہ ہم نے سب کچھ تبدیل کردیا ہے ظاہر ہے ہم ابھی بھی کام کر رہے ہیں اور تبدیلی ایک مسلسل عمل کا نام ہے لیکن ہم نے ایک اہم کام کا آغاز ضرور کیا ہے اور شاید جتنی بہتری این جی اوز وہاں لائی ہیں اتنی کوئی حکومت بھی نہیں لاسکتی تھی۔”
    شہلا نے اسے کہنی مار کر متوجہ کیا ”کیا تمہیں اب بھی ان پر شک ہے؟”
    ”کیا تمہیں شک ہے؟” اس نے جواباً پوچھا۔
    ”پتا نہیں میں تو بہت ہی کنفیوزڈ ہوں۔ ایک طرف عمر کی باتیں۔ دوسری طرف یہ لوگ… ابھی تو میں کچھ نہیں کہہ سکتی۔” شہلا بھی اسی کی طرح الجھی ہوئی تھی۔
    ”ابھی تو یہ سب کچھ زبانی بتارہے ہیں جب ہم گاؤں میں جاکر رہیں گے تب ہی ہمیں اندازہ ہوسکے گا کہ کیا یہ واقعی سچ بول رہے ہیں یا پھر یہ واقعی کوئی جھوٹ ہے۔” اس نے شہلا سے کہا۔
    وہ آدمی ایک بار پھر بولنا شروع کرچکا تھا اب وہ اپنی این جی اوز کے بارے میں معلومات فراہم کر رہا تھا اور اس کی کارکردگی کے حوالے سے کچھ حقائق پیش کر رہا تھا۔ سب لوگ بے حد سنجیدگی سے اس کی باتیں سننے میں مصروف تھے۔
    پہلی بار علیزہ کو اندازہ ہوا کہ سچ اور جھوٹ کو پہچاننا کتنا مشکل کام ہے۔ Sense of Judgement ہر بندے کے پاس ہوتی ہے اور اگر ہو بھی تو ضروری نہیں کہ اس کو استعمال کرنے کی صلاحیت بھی سب ہی کے پاس ہو۔ کم از کم اس کیلئے تو یہ سب بہت مشکل تھا۔
    ”اگر عمر کے پاس ٹھوس اعتراضات تھے تو اس چیز کی ان کے پاس بھی کمی نہیں ہے اگر وہ لاجک کی بات کرتا ہے تو یہ شخص بھی ہر چیز کو منطقی بنا کر ہی پیش کر رہا ہے اگر عمر کی بات میں سچائی نظر آئی تھی تو جھوٹا تو یہ آدمی بھی نہیں لگ رہا تھا پھر میں یہ کیسے طے کروں کہ کون صحیح اور کون غلط ہے۔”
    وہ جتنا سوچ رہی تھی اتنا ہی الجھتی جارہی تھی۔
    ***




  • امربیل — قسط نمبر ۱

    امربیل — قسط نمبر ۱

    مجھے یہ کہنا ہے

    بعض کہانیاں لکھتے ہوئے آپ کو ایک مستقل خلش کا احساس ہوتا رہتا ہے کیونکہ آپ جانتے ہیں، یہ کہانی کہیں کوئی تبدیلی نہیں لائے گی۔ امربیل بھی ایک ایسی ہی کہانی ہے جسے لکھتے ہوئے میں اسی احساس سے دوچار ہوں پھر بھی میں اس کہانی کو اس لئے لکھ رہی ہوں تاکہ آپ لوگ زندگی کے ایک اور پہلو کو جان سکیں۔ ان لوگوں کے دلوں اور ذہنوں پرایک نظر ڈال سکیں۔ جو پاکستان کے قیام کے بعد سے اس ملک کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہیں۔ اچھے طریقے سے یا برے طریقے سے۔ بہرحال وہ اس ملک کو چلا رہے ہیں اور خود وہ اپنی زندگیوں میں کس ابنارمیلٹی کا شکار ہیں۔ امربیل میں آپ یہی دیکھ پائیں گے۔
    اس ناول کو پڑھتے ہوئے یہ بات ذہن میں رکھیں کہ یہ کوئی سیاسی ناول نہیں ہے، نہ ہی یہ کوئی تاریخی اور معاشرتی ناول ہے۔ یہ خواہش اور چاہ کا ناول ہے یا پھر سو دو زیاں کا۔ بعض دفعہ ساری زندگی گزارنے کے بعد بھی ہم یہ جان نہیں پاتے کہ ہمیں آخر زندگی میں کس چیز کی ضرورت تھی… کسی چیز کی ضرورت تھی بھی یا نہیں اور بعض دفعہ زندگی کے آخری لمحات میں ہمیں احساس ہوتا ہے کہ جس چیز کو ہم نے زندگی کا حاصل بنا رکھا تھا، اس چیز کے بغیر زندگی زیادہ اچھی گزر سکتی تھی۔ امربیل کے کردار بھی آپ کو آگہی کے اسی عذاب سے گزرتے نظر آئیں گے۔
    میں نے اس ناول میں کرداروں کی بھیڑ اکٹھی نہیں کی۔ صرف چند لوگ ہیں جو پہلے اپنے ارد گرد انسانی رشتوں کی تلاش میں سرگرداں ہیں اور بعد میں صرف انسانوں کی … جو کوشش انہوں نے کبھی نہیں کی، وہ اپنے آپ کو تلاش کرنے کی ہے۔
    بنیادی طور پر امربیل ان ناولوں میں سے ایک ہے جو صرف ایک کردار کے لئے لکھا گیا اور یہ ایک ہی کردار کا ناول ہے۔ اب وہ کردار کس کا ہے… یہ آپ کو خود معلوم کرنا ہو گا۔ ہاں میں یہ دعویٰ کر سکتی ہوں کہ آپ اس کردار سے چاہنے کے باوجود بھی نفرت نہیں کر پائیں گے۔ حقیقت میں بھی آپ ایسے کرداروں کے ساتھ ایسی ہی محبت میں گرفتار رہتے ہیں اور … اور… یہی آپ کی غلطی ہے۔
    آئیے غلطی دہرائیں۔




    کوئی چھاؤں ہو
    جسے چھاؤں کہنے میں
    دوپہر کا گمان نہ ہو
    کوئی شام ہو
    جسے شام کہنے میں شب کا کوئی نشان نہ ہو
    کوئی وصل ہو
    جسے وصل کہنے میں ہجر رت کا دھواں نہ ہو
    کوئی لفظ ہو
    جسے لکھنے پڑھنے کی چاہ میں
    کبھی اک لمحہ گراں نہ ہو
    یہ کہاں ہوا ہے کہ ہم تمہیں
    کبھی اپنے دل سے پکارنے کی سعی کریں
    وہیں آرزو بے اماں نہ ہو۔
    وہیں موسمِ غمِ جاں نہ ہو

    عمیرہ احمد




  • رنگ ریز — قرۃ العین خرم ہاشمی

    ”دنیا میں ایسا کوئی رنگ نہیں بنا ، جو شالارنگ والا کے ہاتھوں میں آکر کھلا نہ ہو ! بابو جمیل میں ایسا رنگ رنگتا ہوں کہ کپڑا خود بھی اپنی قسمت پہ نازاں ہوتا ہے ! اس شہر میں ، مجھ سے زیادہ رنگوں کی صحیح پہچان کسی کو بھی نہیں ہے !”




    شالا رنگ والے نے ہمیشہ کی طرح بہت مان اور فخر سے دعوی کیا ۔جمیل احمد نے مسکراتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا اور اسے کام سمجھانے لگا ۔ وہ پچھلے کئی سالوں سے اپنی ذاتی اور چھوٹی سی بوتیک کا کام لے کر اس کے پاس آ رہا تھا اور وہ جانتا تھا کہ شالا رنگ والے کی بات اتنی غلط بھی نہیں ہے ۔ اس پرانی گلی میں کوئی بھی ایسا رنگ ریز نہیں تھا جو اس کی طرح کا کپڑا رنگتا ہو ۔شالا رنگ والے کے رنگ بہت پکے اور منفرد ہوتے تھے ۔ جمیل احمد نے جب نیا نیا بوتیک کا کام شروع کیا تھا تو اس وقت اس کے پاس بہت محدود بجٹ تھا اور اسی محدود بجٹ میں اس نے گاہک کو بہتر سے بہتر کام مہیا کرنا تھا تاکہ وہ مارکیٹ میں اپنی اچھی ساکھ بنا سکے ۔ اسی لئے ،اس نے دریا کے پل کے پاس آباد ، شہر کے سب سے پرانے بازار کا انتخاب کیا اور بہت تلاش کے بعد بالاخر اسے شالا رنگ والا مل ہی گیا۔پرانی گلی کے سب سے آخر والے کونے میں ٹین کی چھت کے نیچے ،چائے والے کھوکھے کے سامنے وہ بیٹھتا تھا۔ آج سے چھ ، سات سال پہلے وہ تیس کے لگ بھگ تھا۔ سانولا رنگ ،دراز قد، متناسب جسم کے ساتھ وہ اچھی شخصیت کا مالک تھا ۔ نخرہ اس میں بہت تھا ، اپنے ہنر پہ نازاں ، اپنی مرضی کا دام لینے والا اور اپنی مرضی سے کام کرنے والا ۔۔۔۔!
    مگر یہ بھی ضرور تھا کہ اپنا کام بہت دل لگا کر اور ایمانداری سے کرتا تھا ۔خواتین کی عادت ہوتی ہے ، ہر بات میں اعتراض کرنے اور نقص نکالنے کی ، مگر شالا رنگ والا کسی کی نہیں سنتا تھا ۔اگر کوئی نئی آنے والی عورت اس کے زیادہ دام پہ اعتراض کرتے ہوئے کہتی کہ
    ” پورے بازار میں ایک ہی دام مقر ر ہے مگر تمہارے دام سب سے الگ اور زیادہ ہیں !”
    ” پھر آپ کہیں اور سے کام کروا لیں ۔۔! میں اپنے دام کم نہیں کرتا ہوں ۔۔۔!”
    وہ لاپروائی سے کہہ کر اپنے کام میں لگ جاتا ۔کچھ عورتیں تو یہ سن کر چلی جاتیں مگر زیادہ تر اس کی مستقل گاہک تھیں ۔ جو اسکے مزاج سے بہت اچھی طرح واقف تھیں ۔اس لئے سر کھپائی کرنے کے بجائے ، اپنے کام سے کام رکھتی تھیں ۔ شالا رنگ والا ایک بار جس بات پہ بگڑ جاتا ، پھر اسے سمجھانا یا منانا بہت مشکل ہوتا تھا ۔ اس کے رنگوں کی طرح ، اس کی ضد بھی بہت پکی تھی !اپنے بہت پرانے گاہکوں کے ساتھ اس کا مزاج زیادہ تر خوشگوار ہی رہتا تھا ۔ کیونکہ وہ اسے اور اس کے مزاج کو سمجھ کر بات کرتے تھے ۔ اگر شالا رنگ والا کسی سے بہت ہنس ہنس کر بات کر رہا ہو تا تھا تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ آج اس کا موڈ بہت خوشگوار ہے پھر وہ بات بہ بات قہقہ لگاتا تھا ، ہنستے ہوئے اس کے سفید دانت بہت واضح نظر آنے لگتے تھے ۔ مگر اس کے بہت سے ہم عصر اس بات کو غلط رنگ دے کر بیان کرتے کیونکہ وہ اس کے کام اور تھڑے کے سامنے لگے رش سے بہت جلتے تھے اور اسی حسد میں کہتے ؛




    ” اس کے پاس زیادہ خواتین اسی لئے جاتی ہیں کہ وہ انھیں اپنی باتوں میں لگا لینے کا ماہر ہے ! پہلے پہل نخرے دکھاتا ہے اور پھر اپنے مرضی کے دام طے کرتے ہی ، اس کا مزاج بدل جاتا ہے ۔ اب ظاہر سی بات ہے اس طرح ہنس ہنس کر باتیں کرے گا تو سب شہید کی مکھیوں کی طرح اس کے گر د جمع ہی ہوں گی نا!”
    یہ باتیں وہ حریف کرتے تھے جن کے پاس دکان تو بہت بڑی تھی مگر کام بہت کم تھا ۔ جبکہ شالا رنگ والا ایک چھوٹے سے تھڑے پہ ،اپنا کاروبار چمکائے بیٹھا تھا ۔جمیل احمد کو بھی اس کا نخرہ اور غرور نہیں بھایا تھا مگر جمیل احمد کا ، شالارنگ والے کے مزاج سے زیادہ اپنے کام سے مطلب تھا ۔ وہ جس طرح کا کام چاہتا تھا ، وہ شالا رنگ والے سے بہتر کوئی اور نہیں کر سکتا تھا ۔ شالا رنگ والے کے دام اس کی مرضی کے مطابق ہی طے ہوتے تھے مگر جتنا اچھا وہ کام کرتا تھا ، جمیل احمد کو اس کے بتائے دام زیادہ نہیں لگتے تھے ۔ اسی لئے جمیل احمد بہت کچھ دیکھ کر نظرانداز کر دیتا تھا ۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جمیل احمد او راس میں ایک انجانا سا تعلق بن گیا تھا۔ جمیل احمد کو یاد ہے کہ آج سے پانچ سال پہلے اس کی شادی ہوئی تھی تو وہ کس طرح تیار ہو کر کام پر آتا تھا ۔ تیل لگا کر اچھی طرح کنگھی کئے ہوئے بال ، صاف ستھرے کپڑے پہنے ، ہر وقت ہلکی سی گنگناہٹ اور ہونٹوں پہ مسکراہٹ رقصاں رہتی تھی جیسے ساون کے دنوں میں ہلکی سی کن من جاری رہتی ہے ۔ جمیل احمد اپنے کام کی وجہ سے زیادہ تر اس کے پاس آیا ہی رہتا تھا اور کافی وقت وہاں گزارتا تھا ۔ اس لئے اب وہ اکثر ادھر ، اُدھر کی باتیں بھی کر لیتے تھے ۔
    ” تم اتنا کماتے ہو ! کسی اچھی سے جگہ کیوں نہیں چلے جاتے ! ” جمیل احمد نے ایک بار عورتوں کے بے پناہ رش میں پڑنے والے دھکوں سے گھبرا کر کہا ۔
    ”بابو جمیل سوچا تو بہت بار مگر وہ کیا ہے کہ !” شالا رنگ والا اپنے کالے اور گھنے بالوں میںہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔
    ”مجھے یاد ہے آج بھی ۔۔۔!!!” اس نے بڑی سی کڑاہی میں گرم پانی میں گھلا رنگ نالی میں الٹایا اور برتن کوپانی سے کھنگال کر ، اس میں صاف پانی ڈالا اور اس کے گرم ہونے کا انتظار کرتے ہوئے کہنے لگا ۔
    ”جب میں نے پہلی بار اپنے ابا کے ساتھ ضد کر کے اس پرانی گلی آیا تھا ۔ تب بھی یہ اسی طرح ہی گنجان و آباد علاقہ تھا۔ میں شاید تب سات یا آٹھ سال کا تھا ۔ ابا نے مجھے اپنے پاس رکھے ٹین کے پرانے ڈبے پہ بیٹھا یا اور گاہکوں کے ساتھ مصروف ہوگئے ۔میں دن بھر اپنے باپ کو مختلف قسم کے لوگوں کے ساتھ رنگوں کے صحیح انتخاب اور امتزاج کے لئے الجھتے دیکھتا رہا ۔ ابا کو اپنے پیسوں سے زیادہ ، لوگوں کے کام کی فکر ہوتی تھی کہ سب کچھ بہترین اور گاہک کی مرضی کے مطابق ہو ۔ ابا نے بھی اپنا کام اسی جگہ سے شروع کیا تھا ۔ وہ اکیلے کام کرتے تھے۔ دن بھر رنگوں کی ڈبیوں کو کھولتے اور بند کرتے رہتے ۔ رات گئے تک یہ سلسلہ چلتا رہتا ۔ میں جو پہلے کچھ دن خاموشی سے سب دیکھتا رہا ۔ بعد میں چھوٹے چھوٹے کاموں میں ابا کی مدد کر وانے لگا ۔ اماں کہتی تھیں کہ ابھی میری عمر نہیں ہے ان رنگوں میں رنگنے کی ! مگر اباکا ماننا تھا کہ ” ہنر سیکھنے کی کوئی عمر نہیں ہوتی ! یہ ایک رنگ ساز کا بیٹا ہے ، اسے رنگوں کو برتنے کا سلیقہ آنا چائیے ۔”
    شالا رنگ والا ، بولنے پہ آتا تو رکتا ہی نہیں تھا ۔ وہ بہت باتونی تھا اس لئے کہ اس کی باتوں میں لفظ ” میں ” بار بار آتا تھا اور اسے اس لفظ سے بہت محبت تھی ، اس لئے کہ اسے اپنی ذات کے بت کو پوجنے کی عادت تھی ۔۔۔۔ ! اپنے ماضی کا ذکر تو خاموش ہونٹوں کو بھی خودکلامی کے رس میں بھگو دیتا ہے ، وہ تو پھر رنگوں میں سانس لینے والا ، زندہ دل آدمی تھا ۔
    ” بس بابو جمیل! اباکی یہ بات دماغ میں ایسی بیٹھی کہ پھر سکول جا کر بھی دل نہیں لگا ۔ بمشکل آٹھ جماعتیں پاس کی اور ابا کے ساتھ کام سنبھال لیا پھر ابا تو گزر گیا مگر اپنی سب ذمہ داریاں اور فکریں میرے کندھے پہ ڈال گیا۔ بس شکر ہے بہت سا کڑا وقت تو گزر گیا ہے ، جو رہ گیا ہے وہ بھی گزر جائے گا !”