Tag: Read online

  • آئینہ اور فضّہ — کومل ذیشان

    آئینہ اور فضّہ — کومل ذیشان

    اسائنمنٹ مکمل کرتے ہوئے اس نے پانچویں، چھٹی بار اضطراب میں سر اٹھا کر سامنے دیکھا، کھڑکی کے شیشے پر رنگ برنگی جلتی بجھتی روشنیوں کا عکس تھا۔ جلتی بجھتی روشنیاں جو اسے لمحہ بہ لمحہ اندھیرے میں دھکیل رہی تھیں، دل ڈوبتا تھا پھر ڈوبتا تھا پھر ابھرتا تھا۔ باہر شدید سردی تھی اندر چلتے ہیٹر کی حدت کے باعث شیشے پر پانی کے قطرے پھسلتے تھے وہ بے ارادہ ہی کتنی دیر ان قطروں کو اوپر سے نیچے پھسلتا دیکھتی رہی ساتھ والے گھر میں شادی تھی ہفتہ پہلے سے ہی ڈھولک شروع ہوگئی تھی اس کے گھر والے بھی مدعو تھے۔ اس وقت سب وہیں گئے ہوئے تھے امی، ابا، آئینہ مگر وہ نہیں گئی تھی، کیسے جاسکتی تھی کل بائیو کیمسٹری کی اتنی اہم اسائنمنٹ جمع کروانی تھی سو گہری سانس لے کر سر دوبارہ جھکایا مگر دھیان کہیں اور تھا اور دل بھی۔ وہاں سے آتی ڈھولک اور گانوں کی آوازیں، قہقہے اور باتیں اس نے سر سامنے پھیلے کاغذوں پر رکھ دیا جن پر لکھے نیلے حروف اس کے آنسوؤں سے پھیلتے چلے گئے۔





    دفعتاً اسے احساس ہوا کمرے میں کسی نے جھانکا ہے وہ تیزی سے چہرہ صاف کرکے واپس مصروف نظر آنے کی کوشش کرنے لگی۔ اسائنمنٹ بنی نہیں ابھی تک اگلے پل آئینہ اس کے سر پر کھڑی پوچھ رہی تھی، نہیں ابھی تو کک… کافی کام رہتا ہے وہ قلم تیزی سے کاغذ پر چلاتے ہوئے بولی تھی۔ آئینہ نے غور سے اس کے جھکے سر اور کاغذ پر پھیلے گیلے حروف کو دیکھا۔ فنکشن ختم نہیں ہوا ابھی اب کی بار اس نے سر اُٹھا کر پوچھا تھا۔ ”نہیں ابھی تو ان کا کافی دیر جاگنے کا پروگرام ہے” آئینہ نے اس کی سوجی ہوئی آنکھوں سے بے اختیار نظریں چرائیں۔ ”تم کہتی ہو تو میں آجاتی ہوں امی، ابا تو آگئے ہیں واپس تمہاری مدد کروا دیتی ہوں۔ نہیں تم وہاں رہو خالہ کو برا لگے گا۔” آئینہ نے بے اختیار گہری سانس لی وہ جانتی تھی کہ وہ اس وقت اکیلے رہنا چاہتی ہے۔ ”چلو تم اسائنمنٹ مکمل کرلو میں تھوڑی دیر تک آتی ہوں” وہ اس کے سر کو نرمی سے سہلاتے ہوئے بولی تھی۔ کمرے سے باہر جاتے ہوئے اس نے مُڑ کر دوبارہ فضہ کو دیکھا جو واپس اسائنمنٹ پر جُھک گئی تھی اور باہر نکل گئی کسی کے ہاتھوں رد ہونا یقینا ایک تکلیف دہ چیز ہے مگر اس کے ہاتھوں رد ہونا جس سے دل وابستہ ہو اس تکلیف کو ناپنے کا شاید کوئی پیمانہ نہیں بن سکتا، اس توہین کو برداشت کرنا مشکل ہوتا ہے بے حد مشکل۔
    آئینہ نے کپڑے تہ کرتے ہوئے پانچویں چھٹی بار اس کی طرف دیکھا تھا، جو پچھلے آدھے گھنٹے سے بے حس و حرکت ٹیرس میں کھڑی تھی نگاہیں بھی تب سے مسلسل ایک ہی جگہ پر ٹکی تھیں۔ ٹیرس سے خالا کے گھر کا برآمدہ اور لان نظر آتا تھا۔ سرمد کی شادی کو ایک ہفتہ گزر بھی گیا تھا آج کل ان کے گھر خوب رونق لگی ہوئی تھی۔ بیٹیوں نے ابھی تک میکے میں ہی ڈیرہ ڈال رکھا تھا نئی نویلی بھابھی کے خوب چاؤ چونچلے کیے جارہے تھے۔ دو دن بعد دلہا، دلہن ہنی مون پر جانے والے تھے سو ان کے جانے کے بعد ہی دونوں بیٹیوں نے بھی سسرال سدھارنا تھا۔ ”فضّہ ذرا میری مدد کروا دو صبح سے میں اکیلے ہی لگی ہوئی ہوں” آئینہ نے ہمت کرکے بلآخر اسے پکارا وہ اس کی آواز پر یکدم چونک کر پلٹی۔ مجھے دھیان نہیں رہا پریشانی میں اس کی لکنت بڑھ جایا کرتی تھی۔ آئینہ نے اس کے خوبصورت چہرے پر بکھرے آزردگی کے رنگ کو دیکھا کچھ کہنے کے لیے لب کھولے مگر پھر خاموش ہوگئی۔
    وہ جہاں کھڑی ہوجاتی تھی کسی بیش قیمت ہیرے کی طرح سب میں الگ سے چمکتی ہوئی نظر آتی تھی، یہ خوبصورتی اور انفرادیت صرف اس کی صورت تک محدود نہیں تھی اخلاق، کردار، تعلیم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے تھی۔ بس جس ایک چیز نے اس چمکتے چاند پر گرہن لگایا تھا وہ اس کی پیدائشی کمزوری تھی اس کی زبان کی لکنت سرمد کی شادی طے ہونے سے پہلے تک آئینہ کو اس کے دل میں موجزن اس جذبے کی شدت کا احساس نہیں تھا۔ وہ اندر کہیں اس کی پسندیدگی کو جانتی اور سمجھتی تھی۔ وہ سب اکٹھے پلے بڑھے تھے اور جس طرح ان دونوں کی آپس میں دوستوں والی بے تکلفی تھی، جس طرح سے خواہ وہ پڑھائی کا معاملہ ہو یا کچھ اور وہ اس کی مدد کیا کرتا تھا ہر جھگڑے، ہر گیم میں اس کی طرف داری کیا کرتا تھا وہ بھی یہی اندازہ لگا پائی تھی کہ وہ فضہ کو پسند کرتا ہے۔ امی کو بھی سرمد کے جھکاؤ کے بارے میں اندازہ تھا وہ تو بلکہ خالہ کی طرف سے رشتہ مانگنے کے انتظار میں تھیں۔ ”ہاتھ چلانا بند کیوں کردیئے ہیں۔” فضہ نے اس کو ہلایا تو وہ سوچتے سوچتے ہوش میں آئی تھی۔ اس نے نرمی سے اس کے ہاتھ تھام لیے: ”زندگی میں نافضہ دل ٹوٹتے، جڑتے رہتے ہیں یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے ہر ایک کی زندگی میں کبھی نا کبھی ایسا مرحلہ آتا ہے مگر جو اس چھوٹے سے فیز میں اپنی پوری زندگی کو قید کردیتا ہے وہ ایک دن ضرور پچھتاتا ہے۔” اس نے سمجھانے والے انداز میں کہا فضہ جو اس سے اس بات کی توقع نہیں کررہی تھی اس نے شرمندگی سے سر جُھکا لیا وہ یہ کیسے بھول گئی وہ آئینہ تھی اس کی سگی بہن اس کے کہے اور بن کہے لفظوں کو اس سے بہتر اور کون سمجھ سکتا تھا۔ بچپن سے اب تک اس کو سنبھالنے، اس کو سمجھنے کی ذمہ داری وہی تو اٹھاتی آئی تھی۔ اتنے سال اس نے مجھے غلط فہمی میں مبتلا رکھا اس نے سر اٹھایا تو اب کی بار آنکھوں میں آزردگی اور تکلیف نہیں غصہ تھا۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے اسے اندازہ نہ ہو آئینہ کو اس پل اس کی جلتی آنکھوں سے خوف آیا تھا جن کے شعلے بار بار ان میں ابھرنے والے آنسو بُجھا دیتے تھے پھر تھوڑی دیر بعد وہ دوبارہ بھڑکنے لگتیں مجھے یقین نہیں آتا کہ اس نے خالا کے سامنے میرے بارے میں ایسے الفاظ استعمال کیے۔ آئینہ اس کی بات پر چونکی تھی یکدم اسے اس کے اتنے شدید ردعمل کا سبب سمجھ میں آیا تھا اس کا دل ٹوٹا تھا اس لیے نہیں کہ سرمد نے اسے رد کیا تھا بلکہ اس کے دل ٹوٹنے کی وجہ وہ سبب تھا جس کی وجہ سے وہ ردکی گئی تھی۔ وہ آئینہ کو بتاتی چلی گئی تھی سارا کچھ امی کی طرح خالہ کو بھی یہی خیال گزرا تھا کہ اس کا انتخاب فضہ ہی ہوگی اسی سلسلے میں انہوں نے اس سے بات کی تھی۔ وہ جو اپنے دھیان میںمگن امی کا پیغام لیے کمرے میں داخل ہونے لگی تھی ان کی بات سن کر اس کے قدم دروازے پر تھمے تھے۔ خالہ کی بات پر اس کی سانس رک گئی تھی وہ دم سادھے سرمد کے جواب کی منتظر تھی وہ جواب میں ہنس پڑا تھا اس کے ہنسنے سے اسے توہین محسوس ہوئی تھی، شدید توہین، ٹانگیں لرزی تھیں۔ ”امی میں اس کو اپنی زندگی میں شامل کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا کیسی باتیں کرتی ہیں آپ ترس کھا کر میں اس کی مدد کردیتا ہوں یا اس کا دل رکھنے کے لیے بات چیت کرلیتا ہوں انسان ہونے کے ناتے اس سے ہمدردی رکھتا ہوں اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ میں اس کو ساری زندگی کے لیے اپنے سر منڈھ لوں۔ مجھے ایسی بیوی چاہئے جس کے ساتھ چلتے جسے لوگوں سے ملواتے میں فخر محسوس کروں جو میرے لیے سکون کا باعث ہو نہ کہ مصیبت بن جائے۔” ماں کو اس کے جواب پر یقین نہیں آیا تھا وہ تو اتنا عرصہ اسی غلط فہمی میں مبتلا رہی تھیں کہ فضہ کی طرف اس کا جھکاؤ ہے اسی لیے وہ اپنی بہن کو اشاروں کنایوں میں رشتے کا عندیہ بھی دے چکی تھیں۔ ”اس کی ایک بات سننے میں پتا ہے کتنا وقت درکار ہوتا ہے۔” انہوں نے سرمد کی بات پر تاسف سے اس کی طرف دیکھا پھر ان کی نظر سامنے اٹھی تھی جہاں سفید پڑتے چہرے کے ساتھ فضہ کھڑی تھی وہ دروازے میں کسی مجسمے کی طرح ایستادہ تھی۔





    ”بعض اوقات ہمیں ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جن کا سامنا ہم نہیں کرنا چاہتے، ایسے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے جو ہماری ذات میں دراڑیں ڈال دیتے ہیں مگر ایک بات بتاؤں میں تمہیں۔” آئینہ نے اسے دھیرے سے تھام کر بیڈ پر بٹھا دیا اور خود بھی تکیے اور کپڑوں کو آگے دھکیل کر بیٹھ گئی ”لوگ، حالات، دنیا بعض اوقات قابل مذمت ضرور ہوتے ہیں قابل نفرت نہیں، سو دلیلیں ہوتی ہیں ان کے پاس کہ وہ حق پر ہیں سو ان کو ان کے برے رویوں سمیت ان کے حال پر چھوڑ دینا چاہیے۔ تم بھول جاؤ اس کو اور اس منظر کو۔” آئینہ نے اسے سمجھانے کی کوشش کی تھی۔ آئینہ کے مطابق مذمت کا بہترین طریقہ یہی تھا معاف کرو دو اور آگے بڑھ جاؤ۔ پتا نہیں فضہ نے اس کی بات کو کتنا سنا اور کتنا مانا تھا مگر اس کے بعد اس نے کبھی ٹیرس میں کھڑے ہوکر ان کے گھر کی طرف نہیں دیکھا تھا وہ دن بہ بدن مصروف ہوتی چلی گئی اور بدلتی چلی گئی۔ آج کل وہ ایک بڑی نامور فرماسوٹیکل کمپنی کے ساتھ کام کررہی تھی۔ وہاں اس کے کولیگز اس کی ذہانت اور قابلیت کی تعریف کرتے نہیں تھکتے تھے اور یہاں گھر میں رشتے کے لیے آنے والوں کے ہاتھوں جانے کتنی بار اس نے ذلت کی گہرائیاں دیکھی تھیں، اندھی اندھیری گہرائیاں وہ جیسے سم سم کے بال کی طرح ہوگئی تھی جس کا دل چاہتا آسمان کی طرف اچھال دیتا اور جس کا دل چاہتا زمین پر مار کر لطف اندوز ہوتا۔ سم سم کی بال جو زمین پر جتنی زور سے ٹکراتی ہے آسمان کی طرف بھی اسی زور اور شدت سے اٹھتی ہے۔ اسی مدوجذر میں ڈوبتے ابھرتے اس کی زندگی بھی گزر رہی تھی۔ اب اس سے جو بھی پہلی بار ملتا وہ اس کے بارے میں بہت سنجیدہ، لیے دیئے رہنے والی، کم گو اور اردگرد کی ہر چیز سے بے نیاز کڑوی سی لڑکی کا تاثر لے کر اٹھتا رفتہ رفتہ یہ شکایت اس کے رشتے داروں اور دوستوں کو بھی ہونے لگی اور دوسری طرف آئینہ کے سبھی دیوانے تھے فضہ کے پس منظر میں چلے جانے کے بعد وہ اور نمایاں ہوگئی تھی۔ اب تو یہ صورت حال تھی فضہ جلتا ہوا مشرق تھی تو آئینہ ٹھنڈا ٹھار مغرب کا حساس، مٹھاس سے بھری، زندہ دل فضہ کہیں کھو گئی تھی اور آئینہ اس کھوئی ہوئی فضہ کو واپس لانا چاہتی تھی، جو سورج کی دھوپ اور بارشوں کو پہلے کی طرح محسوس کرے، جسے پھولوں پر منڈلاتی تتلیاں اچھی لگیں، جو ہمسایوں کی بہو پر ظلم ہونے پر تلملائے، بجلی جانے پر حکومت کو کوسے، اپنے جذبوں کا اظہار کرتے ہوئے خوفزدہ نہ ہو، گھبرائے نہیں تلخی سے ایک لفظ پر بات ختم نہ کردے، اپنے حق کے لیے آواز بلند کرنے والی فضہ، اپنے خوابوں کے پیچھے دوڑنے والی فضہ، اور نچی آواز میں قہقہہ لگانے والی فضہ آئینہ کو وہی فضہ چاہیے تھی یہ والی نہیں جو لوگ اب اسے جانے کن کن القابات سے نوازتے تھے انہی لوگوں کے رویوں نے چھوٹی سی جسمانی کمزوری کے باعث اسے ایسا کردیا تھا بار بار ٹھکرائے جانے کے احساس اور اپنے خوابوں کے مسمار ہوجانے نے اس کی شخصیت کو بدل ڈالا تھا۔
    ”تمہیں پتا ہے خالہ کل امی کے پاس کافی دیر بیٹھ کر گئی ہیں بہت رو رہی تھی۔ ”آئینہ ابھی کمرے میں داخل ہوئی تھی فضہ جو تکیہ گود میں دھرے بیٹھی تھی اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی کچھ تھا اس کی بات کرنے کے انداز میں جسے آئینہ نے محسوس کیا تھا ”اچھا کیوں رو رہی تھیں خالہ” آئینہ نے سامنے اپنے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے پوچھا تھا اس کے باوجود کہ امی اسے سب کچھ بتا چکی تھیں۔ سرمد نے بغیر کسی کو بتائے نیشنیلٹی حاصل کرنے کے لیے انگلینڈ میں پیپر میرج کی تھی وہ لڑکی نیشنیلٹی ملنے سے عین پہلے اس سے طلاق لے کر چلی گئی۔ زرقا کے گھر والوں کو پتا نہیں کیسے معلوم ہوا کہ وہ وہاں کیا گل کھلا رہا ہے انہوں نے خالا سے بہت جھگڑا کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں یا تو وہ زرقا کو فوراً اپنے پاس بلائے نہیں تو طلاق دے۔ جب کہ اس نے خالہ کو کہا ہے کہ وہ نیشنلٹی حاصل کیے بغیر اس کو ہر گز نہیں بلائے گا میرا تو خیال ہے وہ پھر سے پیپر میرج کے لیے پرتول رہا ہے۔ آئینہ چپ چاپ اسے دیکھتی رہی کتنے عرصے بعد وہ یوں بغیر رکے لگاتار بول رہی تھی۔ تمہیں خوشی ہوئی ہے اس بات سے فضہ کو بولتے بولتے بریک لگا تھا وہ اس جملے کی توقع نہیں کرسکتی تھی وہ بھی آئینہ کے منہ سے وہ ہکّا بکّا اسے دیکھ کررہ گئی۔ ”تمہیں میں ایسی لگتی ہوں۔” ”نہیں تم ایسی نہیں ہو۔” وہ تکیے سے ٹیک لگاتے اپنا جوڑا کھولتے ہوئے نرم لہجے میں بولی تھی اصل میں اتنے سالوں میں مجھے عادت نہیں رہی تمہارے منہ سے کسی کے بھی بارے میں کوئی بات، کوئی رائے، کوئی تبصرہ سنوں اس لیے سوچا اس میں کچھ تو غیر معمولی ہے۔ فضہ نے شرمندگی سے سرجُھکا لیا چہرہ سرخ ہوا تھا کیا پتا میرے نفس کو اس سے کچھ اطمینان ملا ہو اب کی بار لکنت زدہ جملے میں لرزش شامل تھی وہ شرمسار لگ رہی تھی اسے آئینہ نے جیسے اس کے نفس کا چہرہ دکھایا تھا اسے گھن آئی تھی۔ تو تم پھر ایسا کرو کہ اپنے اس نفس کو سزا دو فضہ نے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا، آج واقعی اس کے لیے دل میں موجود ہر جذبے کو نکال باہر کرو محبت، نفرت اور مذمت سب کچھ اس گندے پانی کو بہ جانے دو جو تمہارے اندر تعفن پھیلا رہا ہے فضہ یک ٹک اسے دیکھے گئی تھی۔
    ان دنوں آئینہ کے لیے ڈھڑا ڈھڑ رشتے آرہے تھے ساتھ امی ابا اس کے لیے بھی کوششوں میں لگے ہوئے تھے۔ کچھ عرصے بعد آئینہ کی شادی طے ہوگئی تھی وہ اس کے لیے بے حد خوش تھی مگر اس کے بچھڑنے کے احساس سے شدید اداس مہندی کے فنکشن پر سب مگن تھے ڈھولک، گانے، مذاق، رنگ برنگے قمقوں میں مُسکراتے کھلکھلاتے چہرے وہ کونے میں موجود ہاتھ کے آخری ٹیبل پر آبیٹھی سب کھانا کھانے میں مصروف تھے وہ آئینہ کو سٹیج پر کھانا کھلا کر ابھی یہاں آکر بیٹھی تھی۔ کھانے کے بعد ساری کزنوں نے آئینہ کا محاصرہ کرلیا تھا وہاں بجتی ڈھولک کی آواز پورے کمرے میں گونج رہی تھی اس نے زرقا کو دیکھا جو سُرخ لباس زیب تن کیے، ڈھیر سارا سونے کا زیور پہنے، گہرے سرخ رنگ کی لپ اسٹک لگائے مگر چہرے پر گزرے تین سالوں کی خزاں کا عکس اور گرد لیے گود میں منا سا گل گوتھنا ارقم تھا۔




  • چپ — عزہ خالد

    برتنوں کا ڈھیر دھو کر فارغ ہونے کے بعد وہ اپنے کمرے میں آگئی تھی۔
    کمرے اور کچن کے بیچ اتنا فاصلہ تو نہ تھا مگر پھر بھی اس کی سانس پھول گئی تھی۔
    سامنے دیوار پر لگے کیلنڈر پر نظر پڑتے ہی اسے کچھ یاد آیا تھا۔ ”بارہ جون…”
    یہ جون کی بارہ تاریخ توکچھ جانی پہچانی لگتی ہے۔ کوئی نہ کوئی خوش گوار یاد تو وابستہ ہو گی اس دن سے…
    کچھ نہ کچھ تو ہے اس دن… مگر کیا…؟؟
    دماغ کے کسی کونے کھدرے سے ایک یاد برآمد ہوئی تھی۔ ایک چھوٹی سی گڑیا… خوب صورت فراک پہنے… بالوں میں رنگ برنگی پنیں لگائے… سامنے میز پر رکھا کیک کاٹ رہی تھی…





    ”ہیپی برتھ ڈے…” کا شور… ہنستے مسکراتے چہرے… (جو جانے کہاں کھو گئے تھے…)
    اوہ… آج تو مرحومہ ہادیہ عبدالباسط کی سالگرہ ہے… جو کبھی بڑے اہتمام سے منائی جاتی تھی۔ دونوں بھائی پورے گھر میں غبارے لگاتے تھے۔
    اب معلوم نہیں وقت بدل گیا تھا یا بھائی…
    کمرے میں داخل ہونے سے بستر پر بیٹھنے تک اس کی نظریں کیلنڈر سے نہ ہٹی تھیں۔
    اس کی عمر کتنی ہے…؟؟
    بہت سوچنے اور دماغ پر زور دینے کے بعد وہ حساب لگا پائی تھی۔
    آج وہ بتیس سال کی ہو گئی ہے۔
    بتیس سال…
    آج اس کے اس دنیا میں بتیس سال پورے ہو گئے ہیں۔
    عمر بتیس سال
    ہاتھ… خالی
    دل… خالی
    دامن … خالی
    جانے اس دنیا میں آنے والوں کو عمر، خوشی غم کس حساب سے تقسیم کیے جاتے …
    کسے کتنے سال جینا ہے…؟
    کس کے حصے میں کتنی خوشیاں ہیں…
    کتنے غم ہیں…
    کتنے گھنٹے مسکرانا ہے…
    کتنے گھنٹے آنسو بہانا ہے…
    کس کے لیے زندگی ”گلزار” ہے اور کس کے لیے زندگی ”بوجھ” ہے۔ کچھ زندگی کے اس سفر پر ہنستے مسکراتے بے فکری سے چلے جا رہے ہیں اور کچھ اسے بوجھ کی طرح گھسیٹے جا رہے ہیں۔
    اور اس وقت کا انتظار کر رہے ہیں جب وہ اس بوجھ سے آزاد ہو جائیں۔
    وہ ”ہادیہ عبدالباسط” خود کو زندوں میں شمار نہیں کرتی تھی۔
    وہ مر چکی ہے…
    زندہ لوگ ہنستے ہیں مسکراتے ہیں… خوش ہوتے ہیں…
    اسے ہنسے مسکرائے اتنا عرصہ ہو گیا کہ اسے خود بھی یاد نہیں وہ آخری مرتبہ کب ہنسی تھی؟
    زندہ انسانوں کو جب کوئی برا بھلا کہے تو وہ پلٹ کر جواب دیتے ہیں۔ پلٹ کر جواب دینے کا حوصلہ نہ رکھتے ہوں تو بھی انہیں تکلیف محسوس ہوتی ہے… پر اسے صبح سے شام کوئی کچھ بھی کہے … جتنا چاہے ذلیل کرے … اسے ذرا فرق نہیں پڑتا…
    زندہ انسان خواب دیکھتے ہیں…
    اس کا خوابوں سے کوئی لینا دینا نہیں…
    (ماضی میں رہا ہو تو یاد نہیں…)





    وہ گونگی نہیں پر دو چار دن میں ایک آدھ جملہ ہی بولتی ہے…
    چند گنے چنے جملوں کے علاوہ کوئی دوسری بات نہیں کرتی …
    خواہشیں… وہ کیا بلا ہیں…؟ اسے نہیں معلوم …
    خوشی، غم، خواب، خواہش، دکھ، تکلیف… یہ سب اس کے لیے ایسی زبان کے لفظ ہیں جن کی وہ حروف تہجی سے بھی واقف نہیں… تو وہ کیسے خود کو زندہ لوگوں میں شمار کرے۔
    ماضی میں شاید اس زبان سے شناسائی رہی ہو… تھوڑی بہت جان پہچان رہی ہو… مگر اب… اب تو جیسے یادداشت پر گرد کی موٹی تہ جم گئی ہو…
    آج سے پہلے اسے کبھی اتنا وقت ہی نہ ملا تھا کہ فرصت سے بیٹھ کر ماضی کو یاد کر سکے… اس گرد کی موٹی تہ کو صاف کرے… زندگی کی جمع تفریق کرے… کیا کھویا… کیا پایا… ”پایا” والا خانہ خالی تھا۔
    ”کھوئے” والے خانے میں ایک لمبی فہرست تھی…
    بھائی بھابھی بچوں کے ساتھ کسی عزیز کے ہاں شادی پر گئے تھے۔
    وہ طویل سانس لیتے ہوئے بستر پر لیٹ گئی تھی۔
    ایک گڑیا تھی گھر بھر کی لاڈلی… بابا کی جان…
    بابا اس کی فرمائشیں پوری کیے جاتے… بھائی لاڈ اٹھاتے نہ تھکتے تھے… اور امی بس اس کی باتوں پر مسکرائے جائیں۔
    پھر وقت بدلا، منظر بدلا، گھر کے باہر ایمبولینس آکر رکی…
    آفس جاتے ہوئے ان کا ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا اور وہ ہسپتال جاتے ہوئے دم توڑ گئے…
    ان کی زندگی کا دیا بجھ گیا وہ بس یاد کی صورت میں رہ گئے…
    معاشی حالات بگڑے … وقاص بھائی نے تعلیم کے ساتھ ساتھ جاب بھی شروع کی… وقار بھائی شام کے وقت اکیڈمی میں پڑھانے لگے…
    حالات بہت اچھے تو نہ ہوئے پر گزارا اچھا ہونے لگا۔
    وہ کالج جانے لگی… راستے میں کھڑا آوارہ چھچھورے لڑکوں کا گروپ … اسے دیکھ کر گانے گاتا… جملے کستا…
    گھر آکر امی سے کہا… تو انہوں نے اسے ”چپ” رہنے کو کہا…
    ارادہ تھا کہ بھائیوں کو بتا کر ان کی طبیعت صاف کروائے گی۔ مگر امی نے سختی سے منع کر دیا۔
    ”کوئی ضرورت نہیں ہے… وہ جھگڑ پڑیں گے… بات بڑھ جائے گی… تم بس خاموش رہا کرو… گھر سے کالج اور کالج سے گھر… کسی کی باتوں پر کان دھرنے کی ضرورت نہیں…” امی نصیحتیں سن کر وہ بس انہیں دیکھتی رہ جاتی۔
    اس آوارہ گروپ کی ہمت اس کی خاموشی سے مزید بڑھی اور وہ اسے کالج تک چھوڑ کر آنا انہوں نے اپنی ڈیوٹی سمجھ لیا تھا۔
    ادھر اس کا گریجویشن ہوا ادھر ساتھ والے محلے کی خاتون مٹھائی کا ڈبہ لیے رشتہ لے کر پہنچ گئی…
    ”میں اپنے بیٹے اکمل کا رشتہ لے کر آئی ہوں… مین روڈ پر جو ورکشاپ ہے اس میں کام کرتا ہے…”
    فضیلہ بیگم حیرت سے انہیں دیکھ رہی تھیں جو اپنے نکمے بیٹے کا رشتہ لے کر آئیں اور انہیں پورا یقین تھا کہ ”ہاں” ہو گی تبھی مٹھائی کا ڈبہ ساتھ لے کر آئی تھیں۔
    ”مجھے اکمل نے ہی بھیجا ہے آپ کو آپ کی بیٹی نے بتایا ہو گا…” انہوں نے فضیلہ بیگم کی حیرت دور کرنا چاہی تھی۔
    فضیلہ بیگم نے کچن کی کھڑکی میں کھڑی ہادیہ کودیکھا تھا جسے یہ بھی معلوم نہ تھا کہ ان چھچھوروں میں سے اکمل تھا کون سا …
    ”بہن میں معافی چاہتی ہوں… آپ کے بیٹے اور میری بیٹی کا کوئی جوڑ نہیں ہے… میری طرف سے انکار…” ابھی فضیلہ بیگم کی بات مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ وہ خاتون بول پڑیں۔
    ”یہ بات تو اپنی بیٹی کو سمجھانی تھی نا… کیوں سج دھج کر باہر نکلتی تھی… میرے بیٹے کو اپنے جال میں پھنسایا… میں تو آنا بھی نہیں چاہ رہی تھی… اکمل کی ضد کی وجہ سے آگئی…” وہ خاتون سو باتیں سنانے کے بعد مٹھائی کا ڈبہ اٹھا ئے واپس چلی گئی۔
    امی کو اپنی جانب عجیب نظروں سے دیکھتا پا کر اس نے انہیں بتایا کہ یہ اس کی خاموشی کا نتیجہ ہے۔ اس نے ان کی ہدایت کے مطابق کسی کو ایک لفظ نہیں کہا تھا۔
    ”چھوڑو… دفع کرو…”
    ”بھائیوں کو نہ بتانا…” امی کی ہدایت پر وہ صرف حیران ہوئی تھی وہ بھلا انہیں بتاتی بھی کیا…
    امی کے نزدیک ہر مسئلے کا حل ”چپ” تھا۔
    پھر منظر بدلا۔
    دونوں بھائیوں کی شادی ہو گئی… کچھ دن اچھے گزرے پھر بھابھی کے رویے میں تبدیلی آنا شروع ہو گئی۔




  • ایک رات کی بات — محمد جمیل اختر

    ایک رات کی بات — محمد جمیل اختر

    انہیں ضرور خاموش ہوجاناچائیے کہ میرے سر میں درد ہے اور میں سونا چاہتاہوں ۔
    آخر یہ خاموش کیوں نہیں ہوتے۔۔۔
    ” میں تو اُس دن سے ہی پریشان ہوں جس دن سے میری تم سے شادی ہوئی ہے ”
    ” ہاں ہاں سارے مسائل کی جڑ تو میں ہی ہوں ، مجھے کون سی خوشی دی تم نے بتاو”
    آخر ان میاں بیوی کا مسئلہ کیا ہے ، کیا انہیں معلوم نہیں کہ رات کے بارہ بج چکے ہیں اور کوئی سونا چاہتاہے ، اگر لڑنا بھی ہے تو باہر سڑک پر جاکر لڑیں اس طرح پڑوسیوں کی نیندیں کیوں حرام کرتے ہیں ۔
    ”مجھے پہلے معلوم ہوتا کہ تم جیسا شوہر ملے گا تو میں کبھی بھی شادی نہ کرتی ”
    ” کاش یہ بات مجھے بھی معلوم ہوتی”





    میں ایک نیا نیا وکیل ہوں اور ایک پرانے وکیل کے چیمبر میں کام کرتا ہوں ، یہ پرانا وکیل انتہاکا کھڑوس آدمی ہے اُس کے ساتھ سارا دن کام کرنے کے بعد آپ کو نیندکی اشد ضرورت ہوتی ہے کہ تمام دن کی فضول بکواس بھول کراگلے دن نئی بکواس سنی جائے ، لیکن یہ میاں بیوی مجھے کچھ نہیں بھولنے دیں گے۔۔
    ”میرا بھائی صُبح کام پر جاتا ہے تو میری بھابی کے ہاتھ پر پورے دو سو روپے رکھ کر جاتا ہے کہ دن میں کچھ ضرورت بھی پڑ سکتی ہے اورایک تم ہوکہ بھول کر بھی پیسے نہیں دیتے سارا دن بچے مجھ سے پیسے مانگتے ہیں بتائو کیا جواب دوں میں اِن کوکہ تمہارا باپ ایک روپیہ دے کر نہیں جاتا مجھے۔ شادی سے پہلے تم نے کتنے وعدے کیے تھے کہ میں یہ کروں گا میں وہ کروں گا یاد کرو جب تم لاہور سے ملتان صرف مجھ سے ملنے آئے تھے اُس وقت تم کہتے تھے اخبار میں کام بھی کرتا ہوں اور بزنس بھی شروع کرنے لگا ہوں مجھے کیا پتا تھا کہ یہ اخبار میں ٹکے ٹکے کے کالم لکھنے والے کو کون پیسے دے گا؟”
    ”بس بس اب ایسی بھی بات نہیں کل کو میرا بھی نام بن جائے گا پھر دیکھنا کیسے دن پھرتے ہیں”
    افف یہ کیسے لوگ ہیں اتنا اونچا بولتے ہیں حالاں کہ اس جاڑے کی سرد راتوں میں تو سانس کی آواز بھی سنائی دیتی ہے ، پھر صبح اُس بوڑھے وکیل کی فضول باتیں سُننا پڑیں گی، آج صُبح ہی کی بات سنیں مجھے اُس نے کہا فلاں کیس کی فائل لے آو میں آدھا گھنٹہ سٹور میں وہ فائل تلاش کرتا رہا اور جب میں ڈھونڈھ کے لایا تو صاحب کہتے ہیں کہ میں نے تمہیں یہ فائل لانے کا کہاہی نہیں تھا، یہ کیس تو کب کا بند ہوچکا ہے میں نے بہت کہا کہ سر آپ نے ابھی آدھا گھنٹہ قبل مجھے سرفراز ملک کے کیس کی فائل لانے کا کہاتھا، تو وہ کہنے لگے کہ اچھا اب میں اتنا بچہ ہوں کہ بندکیسوں کی فائلیں منگواوں ، میں نے تم سے بشیرصاحب کی فائل لانے کا کہا تھا، اور آپ یقین کریں بشیر صاحب کی فائل ان کی میز پرہی پڑی تھی ، میں نے کہاسر وہ تو یہ پڑی ہے آپ کی میز پر ، تو وہ ایک نظر فائل کو دیکھنے کے بعد کہتے ہیں کہ ہاں مجھے معلوم ہے وہ یہاں پڑی ہے اور یہ میں خود ڈھونڈھ کر لایا ہوں ، مجھے پہلے سے معلوم تھا کہ تم یہ نہیں ڈھونڈھ سکتے ،اب آپ بتائیں ایسے شخص کے ساتھ بھلا کہاں تک بحث کی جاسکتی ہے ، میں تو ایک دن نہ ٹھہروں پر میرے ماموں ان کے دوست ہیں وہ مجھے ان کے پاس چھوڑ گئے ہیں کہتے ہیں کہ یہ اِس شہر کے سب سے مشہور اور قابل وکیل ہیں سوچتا ہوں اگر یہی قابلیت ہے تو اِس شہر میں کوئی قابل وکیل نہیں ہے ۔





    ” تم نے بچوں کے لیے کیا کیاہے، کل کو میری بچی جوان ہوگی تو کیا دو گے جہیز”
    ”خدا کا خوف کرو ابھی وہ تین سال کی ہے اور تمہیں جہیز کی فکر پڑگئی ”
    آخریہ میاں بیوی کب خاموش ہوں گے، مجھے جاکر انہیں سمجھانا چاہیے لیکن وہ کہیں گے میں کون ہوتا ہوں جو ابھی چار دن پہلے یہاں آیا ہے اور ان کی ذاتی زندگی میں دخل دیتا ہے ،
    ” یہ سامان کیوں توڑنے لگے ہو”
    ”بس میری کمائی سے آیا ہے سو میں توڑ رہا ہوں۔۔۔۔”
    چٹاخ، چٹاخ۔۔۔۔برتن ٹوٹنے لگے۔
    ”یہ تو میرے جہیزکی پلیٹیں تھیں، یہ میں تمہیں نہیں توڑنے دوں گی”
    مجھے جانا چاہیئے، ہاں مجھے ضرور جانا چاہیے ۔
    میں نے ہمت کرکے گھنٹی بجائی ۔
    ”اور شور کرو تم اب دیکھو محلے والے بھی آگئے ہیں، میں تو نہیں جاتی خود ہی جاؤ دیکھو کون ہے باہر۔”
    ”جی آپ کون؟”
    ”جی میں آپ کا نیا پڑوسی ہوں ملتان سے آیا ہوں وکیل ہوں آپ کے گھر شور تھا میں نے سوچا خیریت پوچھ لوں”
    ”لو وکیل صاحب بھی آگئے عمارہ بیگم ، آئیے آئیے صاب آپ ہی فیصلہ کیجئے کہ ہم میں کون حق پر ہے”۔
    ”جی میں وکیل ہوں جج نہیں”
    ”کوئی نہیں یار عدالتوں میں چکر لگا لگا کروکیل بھی جج ہی بن جاتے ہیں اور ویسے بھی ہمارا کیس کوئی زیادہ پیچیدہ نہیں میں ایک اخبار میں کام کرتا ہوں آمدن بہت معمولی ہے سو اِسی وجہ سے آئے روز ہمارا جھگڑاہوتا ہے کل بچوں کی فیس دینی ہے اور پیسے نہیں ہیں ۔
    معاف کیجئے کیا آپ ہمیں کچھ قرض دے سکتے ہیں ویسے پڑوسی ہونے کے ناطے آپ ضرور ہماری مدد کریں گے ”
    ”جی وہ میں تو۔۔۔۔۔”
    ”عمارہ بیگم وکیل صاحب کے لیے چائے بناو”
    ”لیکن وہ میں تو۔”
    ”بیٹھیے بیٹھیے اپنا ہی گھر سمجھیے آپ جیسے اچھے لوگ اب کہاں ملتے ہیں آپ اگر ہماری مدد نہ کرتے توکل سکول والے ہمارے بچوں کانام سکول سے خارج کردیتے سمجھ نہیں آرہا آپ کا شکریہ کیسے ادا کروں۔”
    ”وہ میں کہہ رہا تھا کہ…”
    ”آپ ضرور کہیں گے کہ پڑوسی ہونے کے ناطے یہ تو آپ کا فرض تھا لیکن آج کل کے دور میں بھلاایساممکن ہے کہ ایک ساتھ پانچ ہزار کا قرض دے دیا جائے”
    ”پانچ ہزار؟؟؟”
    ”جی صرف پانچ ہزار۔”
    ”سچ پوچھیں تو آپ کے ایک ہی کیس کی مار ہیں پانچ ہزار”
    ”مگر میں تو۔”
    ا”چھا تو آپ سمجھ رہے تھے کہ میں بہت زیادہ رقم کا مطالبہ کروں گا نہیں نہیں بھائی ہمیں بھی آپ کی مجبوریوں کا اندازہ ہے آپ بھی ہماری طرح یہاں کرائے کے مکان میں ہی رہتے ہیں۔”




  • اچھے بچے

    اچھے بچے

    آئیں مل کر سارے بچے
    کام کریں اب اچھے اچھے

    مل جل کر تم رہنا سیکھو
    بن جاؤ تم سچے بچے

    لڑنا اچھی بات نہیں ہے
    لڑتے نہیں ہیں اچھے بچے

    کہنا بڑوں کا ہر دم مانو
    بن جاؤ گے اچھے بچے

  • آؤ کتابیں کھولیں

    آؤ کتابیں کھولیں

    آؤ کتابیں کھولیں
    آؤ کتابیں کھولیں

    ہم اسکول سے ہولیں
    بات ادب کی بولیں

    کرلی ہم نے بہت ہے مستی
    ملے گی اس سے شہرت سستی

    ہوگی ورنہ پھر رسوائی
    جو کام نہ کسی کے آئی

    چلو اب ہی محنت کرلیں
    اور قسمت کو بدل لیں

    جو وقت بچا ہم پائیں
    تو مُلک کو خوب چلائیں

    سب کو پیچھے چھوڑیں ہم
    آگے آگے دوڑیں ہم

    آؤ کتابیں کھولیں
    آؤ کتابیں کھولیں

  • تھکن — سمیرا غزل

    تھکن — سمیرا غزل

    انسان کتنا نادان ہے….کیسے کیسے رواج ،ظالم سماج، بصیرت سے محروم، حقیقت سے انجان حقیقت، جو نہیں ہے سے ہونے تک کی گواہ ہے، جس تک پہنچنے میں انسان کی آنکھوں کے آگے ڈھٹائی کی تنی ہوئی چربی رکاوٹ بنی رہتی ہے” وہ کہہ رہی تھی اور میں سن رہی تھی۔
    ”کیا تمہیں ریت کی پیاس کا اندازہ ہے سبین؟” اس نے خلا میں گھورتے ہوئے کہا۔
    ”ہاں ہے! کبھی نہیں بجھتی۔” میں نے کہا۔
    ”تم نے کبھی کسی صحرا سے گزرتے ہوئے اس کی پیاس بجھانے کی کوشش کی؟”
    ”نہیں!”میں نے نفی میں سر ہلایا۔
    "مگر میں نے کی ہے اور تم جانو یہ دنیا کا سب سے زیادہ تھکا دینے والا اور مشکل ترین کام ہے” وہ اسی طرح خلا میں تکتے ہوئے بات کرتے جارہی تھی۔
    ”تم نے یہ کوشش کیوں کی؟” میں نے عام سے لہجے میں پوچھا۔
    "تاکہ خود کو سیراب کر سکوں”
    ”ناکام کیوں ہوگئیں؟”





    "کیو ںکہ صحرا کی پیاس کبھی نہیں بُجھتی، اپنا آپ جھلس جاتا ہے، مگر ہوس باقی رہتی ہے، یہ سب سے تھکادینے والا کام ہے۔” اس کی آنکھوں میں ننھے ننھے تارے چمکنے لگے۔
    نیا واقعہ کیا ہے؟ میں نے افسردہ ہوکے سر جھکا لیا اور پوچھا۔
    "رواج، وہ رواج جس کی بھوک مٹاتے مٹاتے ہم ادھ موئے ہوجاتے ہیں” اس کی زبان میں لرزش تھی۔
    ”کون سا رواج” میں نے تعجب سے پوچھا؟
    ”وہ رواج جس کی ادائی پہ نہیں ہونے پہ دکھ ہوتا ہے۔ ”کچھ بتا تو……” میں نے زور دیتے ہوئے کہا۔
    ”کال ریکارڈنگ ملی ہے۔” وہ کچھ سوچتے ہوئے بولی۔ ارے بابا کس کی؟ میں نے تقریباً چیختے ہوئے پوچھا۔
    ”ان کی جو رواجوں کے پابند ہیں…”
    ”کون؟” میں نے جھنجھلاتے ہوئے کہا۔
    وہی جنہوں نے کہا کہ ہم نے آج تک کوئی حق ادا نہیں کیا۔” وہ مجھے اپنی مبہم باتوں میں الجھا رہی تھی اور میں گتھی کو سلجھانے کی ناکام کوشش کررہی تھی۔
    "وہی جن کا موبائل میری بیٹی نے گیم کھیلنے کے لیے مانگا تھا اور پھر معلوم نہیں کیسے وہ ریکارڈنگ چل گئی” وہ بڑبڑائی..
    کون ن ن ن سسی ریکارڈنگ؟؟” میں حیرانی سے چلائی۔
    "وہ جو شاید ان کے پاس غلطی سے ریکارڈ ہوگئی تھی۔”
    ”کچھ بتاؤ گی بھی فائزہ؟ یا یونہی پہیلیاںبُجھاتی رہو گی؟” میں چیخ پڑی۔
    "جس میں میری نند نے دوسری نند سے میری شکایت کی اور بتایا کہ میں اتنی بری اس لیے ہوں کہ میرا میکا بھی ایسا ہے۔” وہ پھر لمبے وقفے پر چلی گئی۔
    ”افففففف تو وجہ کیا تھی یہ سب کہنے کی؟”
    "انہیں عید کی دعوت کے فوراً بعد ان کی امی یعنی میری ساس کی عدت پوری ہونے کی خوشی میں دعوت چاہیے تھی اور ان کا یہ قدیم رواج مجھے قطعاً یاد نہیں رہا”
    ”اف توبہ کیا جہالت ہے فائزہ؟” غصہ سے میری رگیں تن گئیں۔
    ”میں نے تمہیں کہا تھا نہ سبین کہ صحرا کی پیاس کبھی نہیں بُجھتی اور جس کا پیٹ ہی صحرا بن جائے تو ان کے غم بھی پیٹ کی ہی سوچتے ہیں۔” یہ کہتے ہوئے اس کی پلکوں پہ صدیوں کا بوجھ اور لہجے میں گہری تھکن تھی۔

    ٭…٭…٭




  • لیپ ٹاپ — ثناء سعید

    لیپ ٹاپ — ثناء سعید

    اس کے ہاتھ کی بورڈ پر تیزی سے چل رہے تھے، کی بورڈ کی keys کی ٹِک ٹِک اور صفحے پلٹنے کی آوازوں کے علاوہ وہاں اگر کوئی اور آواز تھی تو اس کے زور زور سے دھڑکتے دل کی تھی، جو شاید وہ خود ہی سن سکتی تھی… اسے اپنے دل کے دھڑکنے کی رفتار مسلسل بڑھتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی… دراصل بجلی پچھلے ایک گھنٹے سے غائب تھی۔ اس کا آٹھ سالہ پرانا لیپ ٹاپ اب اپنی آخری سانس لے رہا تھا… نوٹیفکیشن پینل میں بار بار ایک پیغام آرہا تھا۔
    "20% available. Please replace your battery or plug in charger”
    مائیکرو سافٹ آفس پر کام کرتے ہوئے وہ بہ یک وقت تین ایپلی کیشنز پر کام کر رہی تھی… اسے اپنی پریزنٹیشن تیار کرنا تھی اور ایم ایس ورڈ میں ایک ڈاکومنٹ بھی جمع کروانا تھا… کچھ ضروری اعداد و شمار کو ایکسل میں مینو پلیٹ بھی کرنا تھا۔
    ابھی چند سیکنڈ پہلے اس کے لیپ ٹاپ سے اُٹھنے والی بیپ کی آواز کے ساتھ ہی سکرین خالی ہوئی اور ساری بتیاں بجھ گئیں سوائے ایک بتی کے، جو نکھرے نکھرے رنگوں کے بعد اب انتہائی سڑے ہوئے زرد شیڈ میں بدل کے جلنے بجھنے لگی تھی، وہ بھی انتہائی سست انداز میں… یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے اسے سانس کا مرض ہو… وہ بے اختیار اپنی مٹھیاں بھینچ کر رہ گئی تھی۔
    ”اُف! اب یہ آن ہونے میں بھی وقت لگائے گا… ایک تو یہ بڈھا لیپ ٹاپ بھی چیونٹی کی رفتار سے چلتاہے۔”
    انتہائی کوفت بھرے انداز میں اس نے دوبارہ پاور کا بٹن دبایا… وہ آنکھوں میں بے زاری اور بے چینی کا امتزاج لیے سکرین پر نظریں جمائے بیٹھی تھی۔ Continue with window resume کا پیغام سکرین پر نمودار ہوتے ہی اس نے پوری قوت سے Enter کا بٹن دبایا ۔ یہاں ”اولڈ از گولڈ” والا محاورہ اس کے کام آیا تھا ورنہ تو اس کا کی بورڈ کب کا خراب ہو چکا تھا…
    اب سیاہ پس منظر میں "resuming window” کے الفاظ کے سانس کا اتار چڑھائو واضح تھا، جو اس کی کوفت میں اضافے کا باعث بنا۔
    آخر کار اس کا سسٹم آن ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ اس نے فوراً ایگزل، پاور پوائنٹ اور ورڈ کی فائلز کھولیں اور Ctrl+S دبایا… اور اب وہ دوبارہ ورڈ کی فائل میں کام کر رہی تھی۔ اس کی انگلیاں بڑے ماہرانہ انداز میں تیزی سے حرکت کر رہی تھیں، مگر وہ کچھ زیادہ ہی پریشان تھی، اسی لئے وہ بار بار غلط بٹن دبا رہی تھی… یہ سلسلہ اس کی کوفت میں مسلسل اضافے کا باعث بن رہا تھا۔





    اس نے بہ مشکل اپنی کوفت پر قابو پایا، تبھی وہ پوری توجہ کام پر مرکوز کرنے کی کوشش میں کامیاب ہو پائی۔ آخر کار مزید بیس منٹ چلنے کے بعد اس کا لیپ ٹاپ ایک ہلکی سی آواز کے ساتھ بند ہو گیا ۔
    اداس چہرے پر بے پناہ بے بسی، غصہ اور معصومیت لئے اس کا دل چاہا کہ وہ لیپ ٹاپ اٹھائے اور دیوار پر پٹخ دے۔ یہ نہیں تو وہ کم سے کم لیپ ٹاپ پر ایک زور دار مکا ہی دے مارے… ”نہیں” اس کے اندر سے ایک آواز اُبھری… اگر وہ ایسا کرے گی تو نقصان اس کا اپنا ہی ہو گا۔ لیپ ٹاپ ٹوٹنے سے اس کا مالی نقصان ہی نہیں بلکہ خاصا دماغی نقصان بھی ہو گا… اس کا سارا ڈیٹا اسی لیپ ٹاپ میں ہی تھا… اس کے ٹوٹ جانے کی صورت میں وہ ڈیٹا توری کور کر سکتی تھی، لیکن اگر ہارڈ ڈسک ہی جل جاتی تو… نہیں وہ کوئی ایسا کام کرنے کی پوزیشن میں ہرگز نہ تھی۔ شام کے پانچ بج رہے تھے اور کل نو بجے اسے پریزینٹیشن دینا تھی۔
    ہنوز اسی موڈ میں کسی بھٹکی ہوئی روح کی مانند کمرے کے اندر باہر کئی چکر لگانے کے بعد اس نے ایک کُشن اُٹھایا اور اپنی پوری قوت سے سامنے دیوار پر دے مارا، جو دیوار کے ساتھ رکھی ڈریسنگ ٹیبل پر رکھے پرفیوم کی بوتل کو جا لگا… اب پرفیوم اور کشن دونوں زمین پر بے ترتیب انداز میں پڑے تھے… یہ دیکھ وہ پیچ و تاب کھا کے رہ گئی… ناچار اپنی جگہ سے اٹھی اور کشن اور پرفیوم دوبارہ اپنی جگہ پر رکھے۔ اپنے کمرے میں وہ مکمل طور پر آزاد تھی۔ جو چیز چاہتی اُٹھا کے پٹخ سکتی تھی، اس طرح کم از کم اس کے دل کا بوجھ تو ہلکا ہو جاتا، مگر وہ ایسا بھی نہیں کر سکتی تھی… اس طرح اس کا کمرہ درہم برہم ہو جاتا، پھر اسے واپس اپنی حالت میں بھی خود ہی لانا تھا۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ بکھرے کمرے سے بذاتِ خود اُسے بھی سخت اُلجھن ہوتی تھی، وجہ نمبر دو اگر وہ کمرے کو اسی حالت میں چھوڑ دیتی تو ماما… اگر وہ کمرے میں آگئیں تو اس کی کیا دُرگت بنے گی؟ یہ سوچ کر ہی وہ کانپ اٹھی۔
    ٭٭٭٭
    لائٹ کا انتظار کرتے کرتے دو گھنٹے گزر چکے تھے، باہر اندھیرا چھا رہا تھا۔ اسے اپنے اندر بھی سب کچھ اندھیرے میں ڈوبتا ہوا محسوس ہونے لگا۔ آخرکار وہ بے چارگی کے عالم میں تھک کر بیٹھ گئی۔ اس کا دل بے اختیار رونے کو چاہا، مگر اگلے لمحے ایک خیال آتے ہی اس نے خود کو پوری قوت سے روکا…
    آپ کے خیال میں اسے کیا خیال آسکتا ہے؟… شاید اس کے دماغ میں کوئی متبادل حل نکل آیا مثلاً آس پڑوس سے یا کسی کزن وغیرہ سے لیپ ٹاپ کچھ وقت کے لئے ادھار مانگ لے، تو آپ غلط سوچ رہے ہیں وہ ایسا بالکل بھی نہیں کر سکتی تھی کیوںکہ جس ڈیٹا کی بنیاد پر اسے ادھوری پریزنٹیشن تیار کرنا تھی، وہ ڈیٹا اور ادھوری پریزنٹیشن دونوں ہی اس مرے ہوئے لیپ ٹاپ میں تھے
    … دوسرا آپشن کیا ہو سکتا ہے؟… وہ یو۔پی۔ ایس والے کسی خوش نصیب گھر میں جا کر گزارش کرے… ایسا بھی بالکل نہیں تھا… وہ ضرورتاً کسی کے گھر میں قدم رکھنا بھی شدید گناہ سمجھتی تھی… تو کیا ہو سکتا ہے؟… درحقیقت اس نے امید کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا … وہ جانتی تھی بجلی آئے گی ضرور چاہے رات کے کسی پہر چور کی طرح آئے اور چپکے سے چلی جائے… اس قدر سمجھ داری اور اُمید کے پیچھے ایک خاص وجہ کار فرما تھی… رونے سے سر میں درد ہوتا ہے اور پھر کوئی بھی کام ٹھیک سے سرانجام نہیں دیا جا سکتا … اسے تو صبح پریزنٹیشن ہر حال میں دینی تھی… اف اس کے سر کا درد… ایک دفعہ شروع ہو جائے تو آسانی سے جاتا نہیں… بس یہ ہی بات تھی۔ وہ اچھی طرح سے جانتی تھی اپنے سر درد کو … دوا کھانے سے تو اسے چڑ تھی … رہی بات بجلی کے چوروں کی طرح آنے کی، تو اس مسئلے کا حل اس کے پاس موجود تھا۔ وہ یہ کہ نومبر کے مہینے میں وہ پنکھا پوری رفتار سے چلا کے سوئے گی، وہ بھی کمبل اوڑھے بغیر، جس سے بجلی آنے پر اس کی آنکھ خود بہ خود ہی کھل جائے گی… لیکن اس کی نوبت نہ آئی۔ عصر، مغرب اور عشا کی نماز کے بعد انتہائی خشوع وخضوع سے مانگی گئی دعا قبول ہو گئی تھی… عین سات بج کے پندرہ منٹ پر بجلی آگئی… وہ مارے خوشی کے زمین سے کوئی دو فٹ اوپر اچھلی اور فوراً بھاگتی ہوئی اپنے کمرے میں پہنچی اورپھر اس نے بجلی دوبارہ نہ جانے کی دعائیں کرتے ہوئے لیپ ٹاپ آن کیا۔ حسبِ سابق لیپ ٹاپ انتہائی سست روی سے آن ہوا۔ اس دوران اس کے ہونٹ مسلسل حرکت کر رہے تھے… شاید وہ کوئی ورد کررہی تھی۔ لیپ ٹاپ آن ہوتے ہی اس نے ایک بار پھر اپنا کام شروع کیا، ورڈ کی فائل میں موجود آخری پیراگراف غائب تھا… مگر وہ پرواہ کئے بغیر ایک بار پھر تیزی سے اپنا کام کر رہی تھی…
    ٭٭٭٭




  • حصار —- نورالصباء

    وہ اس کا اپنے گھر میں آخری دن تھا۔ ماں باپ نے اسے اچھی طرح باور کرا دیا تھا کہ رخصتی کے بعد اسے سسرال کو ہی اپنا گھر سمجھنا ہو گا۔ وہ ان لڑکیوں میں سے تھی جو جاتی ڈولی پر اور واپس ڈولے پر ہی سسرال کی دہلیز پار کرتی ہیں۔
    ”عمارہ بیٹی، کیا سوچ رہی ہو؟ دستخط کرو۔۔۔۔ مولوی صاحب انتظار کر رہے ہیں۔” ماں کی آواز پر وہ جیسے ہوش میں آئی تھی اور مستقبل کے اندیشوں میں گھری اس لڑکی نے کانپتے، لرزتے ہاتھوں سے نکاح نامے پر دستخط کر دیئے تھے۔





    اس نے سسرال میں قدم رکھا تو طرح طرح کے امتحان راہ میں حائل ہوئے۔ کبھی اسے سانولے رنگ پر طعنے سننے پڑے تو کبھی معمول سے چھوٹے قد کی وجہ سے دیورانیوں اور جیٹھانیوں نے پھبتیاں کسیں۔ کبھی ساس نندوں نے اس کا جہیز پسند نہ آنے پر اس کی تذلیل کی تو کبھی شوہر نام دار کو اس کے ہاتھ کا پکا کھانا پسند نہ آیا۔
    ایک دن یوں ہی کسی کاروباری مسئلہ میں الجھا، چڑچڑے مزاج والا اس کا شوہر گھر آیا تو کھانے میں ذرا سے نمک کی کسر رہ جانے پر بے جا الجھ پڑا۔
    ”یہ کیسا کھانا بنایا ہے؟ نہ نمک ہے نہ مرچ۔ کتے بھی نہیں کھاتے ایسا کھانا۔ دفع ہو جا میرے سامنے سے۔”
    شوہر نے پہلا نوالہ منہ میں رکھتے ہی برتن فرش پر دے مارے تھے۔ اس کے بعد اس نے اپنے شوہر کی جھڑکیاں اور طعنے سُنے تھے اور لرزتے ہاتھوں سے فرش پر بکھری کانچ کی پلیٹوں کو سمیٹا تھا۔
    اور پھر وہ اس بد سلوکی کی عادی بنتی گئی۔ ہر تھوڑے دن کے بعد اس کا شوہر اسے مارتا پیٹتا اور وہ خاموش بت بنی سب سہتی جاتی۔ بہت تھوڑے عرصے میں اس کی صحت تباہ ہو گئی تھی۔ آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے نمودار ہو گئے تھے اور ہاتھوں میں غیر معمولی لرزش پیدا ہو گئی تھی، جسے وہ سب سے چھپانے کی ہر ممکن کوشش کیا کرتی تھی۔ اسے ڈر تھا کہ اگر اس نے خود کو نہ سنبھالا تو شوہر اس کے سر پر سوتن لا بٹھائے گا۔ اسی لئے ہر روز وہ اپنے زخم خود ٹکورتی اور اپنی گہری اداسی کو بنائو سنگھار کے پیچھے چُھپا لیا کرتی۔
    اس کا استحصال یونہی جاری رہا۔ سب اسے کمزور سمجھ کر زیر عتاب لاتے رہے، اس کی عزتِ نفس کو روندتے رہے۔ دن رات اس کے لرزتے ہاتھ گھر کے سینکڑوں کاموں میں مصروف رہتے۔ راتوں کو وہ جاگتی اور خدا سے اپنی بے وقعتی کے شکوے کیا کرتی۔
    سسرال والوں کے مظالم کچھ اس لیے بھی بڑھ گئے تھے کیوں کہ اب تک اس کی گود خالی تھی۔ وہ مایوس نہیں تھی، اسے امید تھی کہ بیٹے کی پیدائش اس کے سسرال میں اس کی حیثیت بحال کردے گی۔ اس کے ناتواں ہاتھ سراپا دعا بن گئے پھر اس کی مراد بر آئی اور موت جیسی سختی جھیلنے کے بعد اس کے ہاتھوں نے ایک ننھے وجود کو تھاما۔
    بیٹے کی خوشی اس کے لئے ویسی ہی تھی جیسے صحرا نورد کو کہیں طویل سفر میں نخلستان مل جاتا ہے۔ اس بیٹے کا نام گھر والوں نے ساجد رکھا تھا۔ اس کے بعد عمارہ کے آنگن میں کوئی دوسرا پھول نہ کھلا۔





    وہ ہاتھ اس ننھے وجود کے لئے فرشتوں کے پروں جیسا حصار بنے رہتے۔ وہ ننھا وجود ان ہاتھوں کا چھالا تھا۔ سالہا سال ان ہاتھوں نے اس وجود کی پرورش کی اور اس پودے کو تناور درخت بنا دیا تھا۔ ان ہاتھوں نے دن رات ساجد کی نشو و نما کرتے کرتے اپنی رعنائیاں کھو دی تھیں۔
    کئی سال تک ساجد کی خوشیوں پر اپنی خوشیاں قربان کرتے ان ہاتھوں نے ساجد کی دل و جان سے خدمت کی۔ پھر ساجد کی خواہش پر اس کے سر پر سہرا سجایا۔ وہ ہاتھ ہر روز ساجد کی دعا کے لئے اٹھتے تھے اور بہو کے گھر میں آ جانے کے بعد بھی ساجد کے سارے کام نپٹاتے نہ تھکتے تھے۔
    کچھ ہی عرصے کے بعد عمارہ بی بی کے ہاتھوں سے اس کا شوہر اپنا ہاتھ چھڑا کر ابدی سفر پر چل پڑا۔ وہ نا تواں ہاتھ مزید ضعف کا شکار ہو گئے۔ اب ساجد پر ماں اور بیوی کی مکمل ذمہ داری آن پڑی تھی۔ وہ خرچوں کے طوفان سے بوکھلا گیا۔ جب تک ابا دکان پر بیٹھا کرتے تھے اماں کا خرچہ خود اٹھاتے تھے۔ مگر اب ساجد کو سارا خرچہ خود اٹھانا پڑ رہا تھا۔
    اس وجہ سے اس کی بیوی بھی اس سے روز روز لڑنے لگی۔ صائمہ کو لگتا تھا کہ ساجد ساری تنخواہ اماں پر خرچ کر دیتا ہے۔
    دن رات صائمہ اپنی ساس کو بے کار بیٹھنے کے طعنے دیتی اور جلی کٹی باتیں سناتی۔ عمارہ بی بی لرزتے ہاتھوں سے گھر کے سارے کام کرتی رہتیں تا کہ بہو کے شکوے دور کر سکیں مگر شاید بہو کو ان کی دو وقت کی روٹی بھی کھلتی تھی۔ اسی لئے اکثر صائمہ ساجد سے شکایت کرتی کہ دو وقت کا سالن اماں ایک ہی وقت میں کھا جاتی ہیں۔ پندرہ دن کا راشن ایک ہفتے میں ختم ہو جاتا ہے۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔
    وہ لرزتے ہاتھ چپ چاپ تماشا دیکھتے اور حیران ہو کر سوچتے کہ کیا وہ وقت ان پر نہیں گزرا جب وہ ہاتھ ننھے ساجد کے چھوٹے بڑے کام کرتے کرتے گھس جایا کرتے تھے؟ کیا وہ وقت بہت پرانا ہو گیا جب وہ ہاتھ ساجد کی فرمائش پر کھانا بنا کر نوالے اس کے منہ میں ڈالتے تھے؟ کیا ساجد سب کچھ بھول گیا تھا؟ یا صائمہ کی ناراضی سے ڈر کر نا حق اسی کا ساتھ دیتا تھا؟
    محبت سوال و جواب کی حاجت ختم کر دیتی ہے۔ ماں جب اپنی اولاد سے محبت کرتی ہے تو اس سے یہ سوال نہیں کرتی کہ بچہ بڑا ہو کر وہی محبت اسے لوٹائے گا یا نہیں بلکہ ماں تو اپنی اولاد سے بے لوث محبت کرتی ہے۔ دنیا چاہے جو بھی کہے مگر قدرت کی لغت میں ماں کا محبت کے سوا کوئی دوسرا مطلب نہیں۔
    عمارہ بی بی نے بھی خاموشی کو اپنا وطیرہ بنا لیا۔ بیٹے اور بہو کی ہر گستاخی کو خندہ پیشانی سے نظر انداز کرتی وہ عورت صرف اس ڈر سے خاموش رہنے لگی کہ کہیں اس کا بیٹا جھگڑوں سے بے زار ہو کر اسے چھوڑ ہی نہ دے۔
    وقت یوں ہی گزرتا رہا۔ صائمہ کو ساس کی خاموشی بھی زہر لگنے لگی۔ وہ چاہتی تھی کہ ایک دن اس کی ساس اتنا جھگڑا کرے کہ ساجد ساس کو گھر سے نکال دے۔ ہر بار صائمہ کچھ ایسا کرتی کہ ساجد ماں سے بے زار ہوجائے اور ہر بار ساس صبر اور تحمل سے جھگڑا رفع دفع کر دیتی۔
    ایک روز صائمہ کو فساد ڈالنے کا ایک سنہری موقع مل ہی گیا۔
    ”اماں! ذرا یہ ساجد کی شرٹ استری کر دیں۔ میں کچن میں دودھ ابال رہی ہوں۔” صائمہ ساس کے ہاتھ میں جان بوجھ کر خراب استری اور ساجد کی نئی شرٹ پکڑا کر چلی گئی۔ عمارہ بی بی نے گرم استری شرٹ پر رکھی۔ خراب ہونے کی وجہ سے استری نے نئی شرٹ جلا ڈالی۔ تھوڑی دیر بعد ساجد نے اپنی اماں کے ہاتھوں میں استری اور جلی ہوئی شرٹ دیکھی تو سیخ پا ہو گیا۔
    ”اماں! یہ کیا کیا آپ نے؟ میری نئی شرٹ استری کے نیچے رکھ کر بھول گئیں؟ کچھ خیال نہیں ہے آپ کو میرا؟ کتنی محنت سے ایک ایک پائی کما کر لاتا ہوں، اور آپ میرا نقصان ہی کرتی رہتی ہیں۔ اگر استری کرنے کا جی نہیں چاہ رہا تھا تو کہہ دیا ہوتا پہلے ہی، صائمہ کر دیتی یہ کام بھی۔”
    وہ عورت اپنے بیٹے کے منہ سے یہ جملے سن کر حیران تھی۔ اس ماں کے ہاتھ انجانے خوف سے لرز رہے تھے۔ اب ان ہاتھوں میں اس عورت کے آنسو پونچھنے کی طاقت نہ رہی تھی۔ کیوں کہ اب حد ہوگئی تھی اور پھر عمارہ بی بی کے لرزتے ہاتھ معافی کے انداز میں ساجد کے سامنے جڑ گئے۔
    ”صائمہ۔۔۔۔صائمہ! میری دوسری شرٹ استری کرو فورا۔” وہ اماں کے جڑے ہاتھوں کو نظرانداز کرتا ہوا چنگھاڑا تھا۔




  • گردشِ طالع —- اسماء حسن

    تنگ دستی انسان کو ننگے پاؤں سفر کرواتی ہے، جب تک کہ آبلوں میں سوراخ ہو کروہ پھٹ نہ جائیں۔ زخم بھر جانے کے بعد ایک نیا سفرکسی نئے آبلے کا منتظر ہوتا ہے اور پھر چل سو چل جب تک سانسوں کی ڈور چلتی ہے، قسمت کا پھیر ختم ہی نہیں ہوتا۔ اس نے گھڑی کی جانب دیکھا تودوپہر کے بارہ بج چکے تھے۔ دہکتا سورج سوا نیزے پر کھڑا اپنے ہونے کا پتا دے رہا تھا۔ گھر سے نکلے ہوئے اسے آدھا گھنٹہ ہو چکا تھا۔ اب تک اسے سڑک پر ہونا چاہیے تھا، مگربدنصیبی کسی بھیانک پرچھائی کی طرح اس کا تعاقب کر رہی تھی۔ گردشِ طالع تھی کہ دو پل بھی کہیں سکون سے جینے نہیں دیتی تھی۔ گھسی پٹی پلاسٹک کی چپل اسے موچی کے تھڑے تک لے گئی۔ اس کا جی چاہا کہ موچی پیسے لینا بھول جائے، مگر وہ بھی توقسمت کا دھنی نہیں تھا۔۔ ضروریات کا اکھاڑاتو اس کے آنگن میں بھی لگتا ہو گا جس میں اکثر جذبات ہار جاتے ہوں گے۔ کیوں کہ خواہشات کو نکیل پہنائی جا سکتی ہے، مگر بھوکے شکم کوپابندِ سلاسل نہیں کیا جا سکتا۔ وہاں تو صرف صبر کی سولی پر لٹکا جاسکتا ہے۔
    "دس روپے”





    موچی کا یہ جملہ سنتے ہی اس نے چادر کے کونے کی گرہ کچھ یوں کھولی جیسے دس روپے نہیں، زندگی کا گراں بہا خزانہ دینے لگی ہو۔ سو روپے کے نوٹ کی تہیں بتا رہی تھیں کہ اسے کتنا سنبھال کر رکھا گیا ہو گا۔ اس نے نوے روپے بقایا لیے اورچادر کے کونے سے باندھ کر آگے چل پڑی۔ جولائی کی تپتی دوپہر بدن کو جھلسا رہی تھی، مگر وہ اس کی پروا کئے بغیر ہی چلتی رہی۔ دو بجے سے پہلے پہلے اسے وہاں پہنچنا تھا۔ یہ ہی سوچ اس کی رفتار کو تھمنے نہیں دے رہی تھی۔ چادر کے پلو سے پسینہ پونچھتے ہوئے وہ باربار نظر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھتی ہوئی کسی سائبان کی منتظر تھی، مگر سورج کی بھون دینے والی تپش پر کسی گہری سیاہ بدلی نے اپنا مسکن نہیں ڈالا تھا۔
    ہجوم کو چیرتی ہوئی وہ دنیا مافیہا سے بیگانہ آگے بڑھتی رہی۔ ہر طرف چہل پہل تھی۔ لوگ جگہ جگہ ٹولیاں بنا کر ایک دوسرے کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھے اورایک وہ تھی جس کے لبوں پر مارے بھوک و پیاس کے چاندی چمک رہی تھی۔ لمبے لمبے ڈگ بھرتے ہوئے وہ سڑک کی طرف بھاگتی چلی جا رہی تھی۔
    گھڑی پر نظرپڑتے ہی مخمصے کے عالم میں سڑک پردوقدم آگے رکھتے ہوئے، اس نے رکشہ روکنے کی کوشش کی۔ رکشے والے نے ایک جھٹکے سے رکشہ روکا اوراسے کھری کھری سنانے لگا۔
    "کیا کررہی ہواماں؟ مرنے کا ارادہ ہے کیا؟ "وہ اماں تو ہرگز نہ تھی، مگر زندگی کے قرض اتارتے اتارتے وہ اپنی عمر سے دوگنی دکھائی دینے لگی تھی۔۔!!
    پھر اس نے ایک نظراس کے حلیے پرڈالی اور سرسے پیر تک دیکھتے ہوئے بڑبڑانے لگا:
    "ہاں! آج کل تم لوگوں نے کمائی کے نئے طریقے جو ڈھونڈ لیے ہیں۔ کسی موٹرگاڑی یا سائیکل، رکشے کے نیچے آؤ اور زخمی ہونے کابہانہ بنا کرکچھ پیسے بٹورلو۔”
    "نہیں نہیں بھائی صاحب ۔ مجھے تو اس ایڈریس پرجانا ہے۔”
    اس کے بولنے کا انداز اس کے حلیے سے بالکل میل نہ کھاتا تھا۔ اس لیے رکشے والے نے عورت کو سرتا پا دوبارہ کچھ یوں دیکھا کہ وہ لجاتی ہوئی خود کو اپنی میلی کچیلی چادرسے ڈھانپنے کی ناکام کوشش کرنے لگی، جو جگہ جگہ سے تار تار تھی۔
    دوسو روپے کرایہ ہوگا، بیٹھو”
    رکشے والے نے اسے اندر بیٹھنے کے لیے کہا تو اس کے چہرے پر گرمی کے پسینے کے ساتھ ساتھ فکرمندی بھی جھلکنے لگی۔ اسے پہلے ہی بہت دیر ہو چکی تھی، اس لیئے انجام سوچے بغیر ہی وہ رکشے میں بیٹھ گئی۔ راستے میں ایک بڑا قبرستان پڑتا تھا۔ وہ جب بھی وہاں سے گزرتی تو اپنی ماں پر فاتحہ پڑھ کر دور ہی سے پھونک دیا کرتی تھی۔ آج ماں کی قبر کے پاس سے گزرتے ہوئے اسے وہ ساری عیدیں یاد آنے لگیں، جب ابا اس کے کپڑوں کے ساتھ ساتھ اس کی سہیلیوں کے لیے بھی جوڑے لایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ وہ اس کی سب سے اچھی سہیلی ناہید کا جوڑا لانا بھول گئے تو اس نے کتنی لڑائی کی اور دھمکیاں دیتی پھری کہ اگر ناہید کا اسی طرح کا جوڑا نہ لایا گیا تو وہ بھی نیا جوڑا نہیں پہنے گی۔
    چاند رات کی دمکتی روشنیوں میں ابا ہجوم سے بھرے بازار میں مارے مارے پھرتے رہے اوراس کی سہیلی کا جوڑا لا کر ہی جان بخشی ہوئی تھی۔ یہ خیال آتے ہی وہ ہنس دی۔ عید سے بہت دن پہلے ہی ابا برآمدے میں پڑے ایک بڑے سے تخت پر جوڑے، چوڑیاں اور مہندی کا سامان لاکررکھ دیا کرتے تھے۔ وہ بھاگ کرمحلے کی سبھی عورتوں کو بلا کرلاتی اور بڑے شوق سے کُرسی رکھ کر تخت کے پاس بیٹھ جاتی اورسب کو مشورے دیا کرتی۔ جب محلے بھر کی عورتیں واپسی پر جاتے ہوئے آنسوؤں سے لبریز آنکھیں لیے ابا کو دعائیں دیتیں تووہ بڑے معصومانہ انداز میں پوچھا کرتی:
    "اماں یہ ساری عورتیں رو رو کر ابا کو دعائیں کیوں دیتی ہیں؟” تو اماں اس کے معصوم سوالوں پر مسکرا دیتی تھیں۔ گھر کا دروازہ اس وقت تک بند نہیں ہوتا تھا، جب تک آخری سائل کھڑا ہو۔
    آہ! کیسے میٹھے زمانے تھے کہ دیوارو درسب ہی کے لیے کھلے رہتے تھے۔
    ایک مرتبہ ابا مغرب کی نماز کے لیے گھر سے نکل رہے تھے توچاچا شریف ان سے ٹکرا گئے۔ ابا نے پوچھا کہ کیا بات ہے شریف دین، تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے کہاں جا رہا ہے؟ اور یہ تیری بغل میں کیا ہے؟ تو چاچا شریف کی آنکھوں کے آنسو ساری داستان سنانے لگے۔ اس نے بغل سے ایک پوٹلی نکال کر دکھاتے ہوئے کہا تھا:
    "بھائی جی! یہ آپ کی بھابھی کا زیور بیچنے جا رہا ہوں۔” تو ابا نے اس کے ہاتھ سے وہ چھین لیا اورلاکراماں کو دیتے ہوئے کہا:
    جا یہ زیور (پرجائی بھابھی) کوواپس کردے۔
    پھرسیف الماری کی طرف بڑھے اور پیسے اُٹھا کر چاچا شریف کو یہ کہتے ہوئے دیئے تھے کہ آئندہ کبھی بھابھی کا زیور نہ بیچنا یہ تو عورت کا گہنا ہوتا ہے اور یہ پیسے تب تک نہ لوٹانا جب تک تیرے پاس نہ ہوں۔” یہ خیال آتے ہی اس کی آنکھوں سے آنسو کسی بہتے دریا کی طرح رواں ہوکر اس کے دامن کو تر کرنے لگے۔
    رکشہ اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھا۔ گرمی قہر برسا رہی تھی۔ ہوا کے گرم تھپیڑے اس کے سانولے چہرے سے ٹکراتے تو وہ منہ کو باریک ململ کی چادر سے ڈھانپنے کی کوشش کرنے لگتی۔ اسے اماں کی یاد ستانے لگی۔ ماں اس کے سانولے رنگ سے جتنا پریشان رہتی تھی وہ اتنی ہی بے پروائی دکھاتی۔ وہ جب بھی باہر نکلتی، تو ماں اسے چہرے کو ڈھانپنے کے گر سکھاتی تاکہ گرد مٹی نہ جمے اور دھوپ سے رنگ مزید کالا نہ ہو جائے۔





    وہ بڑی معصومیت سے ماں سے پوچھتی:
    "اماں آپ چھوٹی کو کیوں نہیں کہتیں کہ سر پر اوڑھنی ڈال کرنکلا کرے۔” تو ماں اس کے گالوں کو تھپک کر کہتی:
    "پوری جھلی ہے تو۔” اس پر وہ ہنس دیتی تھی۔
    قبرستان کب کا گزر چکا تھا۔ آج وہ فاتحہ پڑھنا بھی بھول گئی تھی۔
    آنسو سانولے گالوں پرموتیوں کی طرح ٹھہرسے گئے۔ رکشہ کوایک دم جھٹکا لگا۔ وہ پادِ ما ضی سے نکل کر حال کی سنسان سڑک پر بے سرو سامان ننگے سر آن کھڑی ہوئی۔
    "ایک غریب دوسرے غریب کو کیسے ٹھگ سکتا ہے؟ کیسے دھوکا دے سکتا ہے؟ اگر میرے پاس پورا کرایہ نہیں تو اسے بتا دینا چاہیئے، وہ بھی غریب بندہ ہے میرے دکھ کو سمجھے گا۔”
    ناجانے اس نے اپنے ذہن کے منتشر خیالات کوکیسے یک جا کیا اور کپکپاتی زبان سے رکشے والے کو مخاطب کرکے یہ کہہ دیا کہ اس کے پاس کرایہ صرف نوے روپے ہے۔ یہ سنتے ہی رکشے والے نے ایک جھٹکے سے رکشہ روکا۔
    "کیا؟ تمہارے پاس کرایہ نہیں؟ تم کتنی چال باز عورت ہو۔ میں تو پہلے ہی سمجھ گیا تھا کہ تم جیسی بھیک منگی عورتیں ڈرامے بازیاں کرکے اپنے مقصد پورے کرتی ہیں۔ چلو اترو میرے رکشے سے فٹافٹ! ورنہ میں بازو کھینچ کر نیچے اتار دوں گا۔”
    وہ اپنے دائیں ہاتھ سے کچھ یوں چٹکی بجا رہا تھا کہ اگر وہ واقعی دو منٹ میں نہ اتری، تو وہ اس کے سر کی چادر تک کھینچ ڈالے گا۔
    "نہیں بھائی صاحب ایسا نہ کہیں میں دھوکے باز نہیں، مجھے ہر صورت دو بجے اس ایڈریس پر پہنچنا ہے۔ میرا وعدہ ہے کہ وہاں پہنچتے ہی تمہیں پیسے دے دوں گی۔ دیکھو! دو بجنے میں صرف پندرہ منٹ رہ گئے ہیں۔”
    "تمہاری سمجھ میں نہیں آرہا؟ جلدی اترو، ورنہ تمہیں دھکے مار کر رکشے سے اتار دوں گا اور نوے روپیہ نکالو۔ یہاں تک کا اتنا ہی کرایہ بنتا ہے۔ تمہارے پیسے پورے ہوئے، چلو اترو۔”
    رکشے والے کا ایسا اہانت بھرا لہجہ دیکھ کرمزید کچھ کہنے کی اس میں ہمت نہ تھی۔ نم پلکیں لیے وہ رکشے سے نیچے اتر گئی اور چادر کے کونے سے نوّے روپیہ نکال کر رکشے والے کے حوالے کر دیئے۔ ننگے آسمان تلے اور برہنہ زمین کے سینے پر گھسی پٹی چپل پہنے وہ دوڑنے لگی۔ چپل کے نیچے سے محسوس ہوتی لو اس کے پاؤں کے تلووں تک کو جھلسا رہی تھی۔ بوکھلاہٹ کے انداز میں لوگوں سے راستہ پوچھتی تو لوگ اسے عجیب نظروں سے گھورنے لگتے کہ جیسے وہ کوئی پاگل ہو جو راستہ بھٹک گئی ہو۔
    "دو بجے سے پہلے وہاں پہنچنا ہے، ضرور پہنچنا ہے۔ اگر نہ پہنچی تو کیا ہو گا۔ سب کچھ ادھورا رہ جائے گا۔ سب کے منہ لٹک جائیں گے۔ پورا گھر میری واپسی کا منتظر بیٹھا ہے۔”
    یہی سوچیں اس کے قدموں کو مزید تیز کیے جا رہی تھیں۔ ٹوٹی پھوٹی سڑک سے ہوتی ہوئی اس کی رہتی سہتی چپل بھی ٹوٹ چلی تھی۔ اس نے چپل اتار کر ہاتھ میں پکڑی اورمنزل کی جانب چلنے لگی۔ اس کے پاؤں کے آبلے بتا رہے تھے کہ اس نے کتنا سفر طے کر لیا ہے۔ تپتی تارکول کی سڑک کسی ریگستان کی گرم ریت کا سا جھلساؤ پیدا کر رہی تھی۔
    آخر کار ہانپتی ہوئی وہ اس گیٹ کے سامنے کھڑی تھی، جس کی تلاش میں اس نے ننگے پاؤں سفر کیا تھا۔
    اندر جانے لگی تو گارڈ کے ہاتھ نے اسے اندر جانے سے روک دیا۔
    "کیا بات ہے بی بی کہاں بھاگی چلی جا رہی ہو؟”
    "وہ مجھے صالح صاحب سے ملنا تھا، انہوں نے آج کے دن ملاقات کا کہا تھا”!
    وہ پھولی سانس لیے صرف اتنا ہی کہہ سکی۔
    "اوہ! اچھا تو تم اس مقصد کے لیے آئی ہو، مگر وقت تو دو بجے تک کا تھا۔ اب تو گیٹ بند ہو چکا ہے۔ صاحب لوگ جا چکے ہیں۔”
    "مگر میں تو بہت دور سے بہت آس لے کرآئی ہوں ۔ تم ایک مرتبہ اندر جا کرصاحب سے پوچھ لو۔ وہ تو بہت نیک انسان ہیں ۔ وہ میری مدد ضرورکریں گے۔”
    "جا یہاں سے۔ گیٹ صاحب لوگوں نے ہی بند کروایا ہے۔ اگلے سال آنا اورہاں وقت کاخیال رکھنا۔ اس بابرکت مہینے میں تو وقت کا خیال رکھ لیا کرو۔ صاحب لوگوں کو نماز روزہ بھی کرنا ہوتا ہے۔ آج جمعتہ الوداع ہے۔ اس میں کمی بیشی نہیں ہونی چاہیئے۔”
    "وقت” پر زور دیتے ہوئے چوکیدارنے گیٹ بند کرلیا۔ اس میں تو یہ تک کہنے کی ہمت نہیں تھی کہ وہ تو واپسی کا کرایہ بھی یہاں سے ملنے والی اعانت سے ادا کرنے والی تھی۔ اس نے سر آسمان کی طرف اٹھایا اور استعجابیہ نگاہیں لیے اس کی تقسیم پرشکوہ کناں ہونے لگی۔ پھراس کے ذہن میں ابا کے گھر کا تخت گردش کرنے لگا جہاں وقت کی کوئی قید نہیں تھی اور کوئی عورت بھی آخری عورت نہیں ہوتی تھی۔ اس کی زبان سے محض اتنا ہی نکل سکا "اگلا سال؟ "اور وہ وہیں پرگرپڑی۔




  • میری پری میری جان — اقراء عابد

    کبھی پھولوں کو روتے دیکھا ہے تم نے؟
    پھول نہیں روتے ۔۔ روتے بھی ہوں تو اپنا درد اپنے اندر پنہاں کسی کونے میں چھپا کر رکھتے ہیں۔ وہ ہمیشہ دوسروں کے چہروں پر مسکان بکھیرتے ہیں، اپنے درد کی جھلک بھی دوسروں پر عیاں نہیں ہونے دیتے میری جان!
    پھول تو پھول ہوتے ہیں۔۔ خوشیاں دیتے ہیں۔۔۔ خوشبویں بکھیرتے ہیں۔ سپنے سجاتے ہیں۔۔۔ بناتے ہیں۔۔۔ درد مٹاتے ہیں۔۔
    پھول تو پھول ہوتے ہیں نا پری! تم بھی تو پھول ہو، ننھا سا پیارا سا پھول۔۔ جس نے کبھی مُرجھانا نہیں ہے، ہمیشہ کِھلے ہی رہنا ہے تاکہ تم سے منسلک لوگ بھی اپنے پھول کو دیکھ کر اپنے لبوں کی مسکان برقرار رکھ سکیں۔ وہ کب سے اپنی پری کا سیال صاف کر رہا تھا۔ وہ اب وہ تھک چکا تھا، لیکن پری کا سیال مسلسل رواں تھا۔
    اُس نے پانی کی تلاش میں ارد گرد کا بہ غور جائزہ لیا تو پتا چلا اِس ڈربے نما کمرے میں ایک ذی روح کا رہنا ایسے ہی ہے جیسے کسی کو گہرے کنویں میں پھینک دیا جاے اور اُس کنویں کو اوپر سے اچھی طرح ڈھانپ دیا جائے۔۔۔ کنواں نما عجیب و غریب یہ کمرہ چوڑائی میں کم اور گولائی میں زیادہ تھا یوں جیسے سچ میں کنواں کھودا گیا ہو۔ دیواریں بھی لمبی لمبی مگر گولائی میں تھیں اوپر چھت کی طرف دیکھا تو ایک بہت اوپر گارڈر کے ساتھ ایک پرانی طرز کا پنکھا جھول رہا تھا، جو صرف خود کو ہوا دے رہا تھا۔ روشنی کے نام پر صرف ایک بلب سنہری سی روشنی پھینک رہا تھا جو اس کھنڈر نما کمرے کے لیے کافی نہیں تھی۔ ایک خستہ حال سی چارپائی پر میلی سی سفید چادر بچھی تھی، جس پر تکیہ ندارد تھا۔ اُسی تکیے کی جگہ بیٹھی وہ نیر بہا رہی تھی جب کہ سُبحان احمد اُس کے سامنے گھٹنوں کے بل فرش پر بیٹھا اُسے دیوانہ وار چُپ کروا رہا تھا۔ چارپائی کے سائیڈ پر ایک چھوٹا سا میز پڑا تھا جس پر پانی کا جگ تھا اور ساتھ ہی گلاس بھی موجود تھا، مگر دیکھنے سے پتا چلتا تھا کہ برتن کافی عرصے سے دھلنے سے محروم پڑے ہیں۔ وہ پانی ڈالنے کے لیے آگے بڑھا تو یہ دیکھ کر جل اُٹھا کہ جگ میں پانی ہی موجود نہ تھا۔ یوں جیسے بہت دنوں سے یہاں کسی نے مڑ کر بھی نہ دیکھا ہو۔
    ”اُٹھو پری! چلو یہاں سے، میں اب مزید تمہیں ان لوگوں کے سپرد نہیں کر سکتا۔” سبحان نے پری کوبازئووں کا سہارا دیا اور اُسے باہر لے آیا۔ پری کی اُمید بندھی کہ اب اس قید سے جان چھوٹ جائے گی۔





    ”ارے ارے! کہاں لے کر جا رہے ہیں آپ پیشنٹ کو؟ ان کے انجکشن کا ٹائم ہو گیا ہے۔” جیسے ہی وہ پری کو لے کر باہر نکلا، نرس نے اُسے روک لیا۔
    ”ہٹ جائو رستے سے، میں سب جانتا ہوں کون سے انجکشن کی تم بات کر رہی ہو۔ ارے ذرا سی بھی انسانیت نہیں ہے تم لوگوں میں۔” وہ ڈسٹ بن میں پڑی انجکشن کی خالی شیشی دیکھ چکا تھا اور جانتا تھا یہ نشے کا انجکشن سونا کو کیسے اندر ہی اندر ختم کر رہا ہے۔ وہ اب کسی کی سننے والا نہیں تھا۔ اُس نے پری کو گاڑی میں بیٹھایا اور اُسے انتظار کرنے کیلئے کہا۔
    اس نے کسی کی بات نہیں سنی، کسی نرس کو مڑ کر جواب نہیں دیا۔ گاڑی لاک کر کے وہ سیدھا پری کے ڈاکٹر سلیم جیلانی کے پاس آگیا۔ ڈاکٹر نے حیرانی سے اُس کی طرف دیکھا، پھر پیچھے کھڑی ریسپشنسٹ کی طرف۔۔
    ”ای ایم رئیلی سوری سر! میں نے ان صاحب کو بہت روکا مگر یہ زبردستی روم نمبر سات کے پیشنٹ کو لے گئے اور اب زبردستی آپ کے روم میں گھس گئے۔ سوری سر!” ریسپشنسٹ شرمندہ کھڑی تھی۔ ڈاکٹر سلیم نے اُسے جانے کا اشارہ کیا۔
    ”جی تشریف رکھیے سبحان صاحب! کیسے ہیں آپ؟” ڈاکٹر نے سامنے پڑی کرسی کی طرف اشارہ کیا۔
    ”میں یہاں تشریف رکھنے نہیں بلکہ آپ کو اس بات سے آگاہ کرنے آیا ہوں کہ میں اپنی پری کو یہاں سے لے جا رہا ہوں۔ میں مزید اسے یہاں، اس قید خانے میں نہیں دیکھ سکتا۔ ارے قید خانے بھی اس سے اچھے ہوتے ہیں، وہاں بھی دو وقت کا کھانا اور پانی تو نصیب ہو جاتا ہے۔ میں ایک ماہ کے لیے ایمرجنسی میں فارن کیا چلا گیا، آپ کو اور آپ کے عملے کو لگا پری کا باپ مر گیا۔ نہیں ہر گز نہیں! وہ میری پری ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ میں نہیں جانتا اُس کو جنم دینے والے ماں باپ کون تھے اور کون بد نصیب اپنی اتنی پیاری بچی کو آپ جیسے قصائیوں کے ہاتھ دے گئے۔ ارے آپ ڈاکٹر نہیں ہیں، آپ پیسا بٹورنے والی مشینیں ہیں، جن کے منہ میں پیسا ٹھونستے رہو تو وہ ٹھیک سے کام کریں گی، ورنہ آپ کا وہ حشر کریں گی کہ آپ اپنا آپ بھول جائو گے۔” سبحان صاحب بے نقط اسے سنا رہے تھے۔
    ”ارے وہ تو معصوم ہے، ٹھیک سے کچھ بتا بھی نہیں سکتی کہ اسے کیا چاہیے؟ اُسے کچھ کھانا ہے یا پینا ہے۔ اور آپ انسانیت کے درجے سے اس قدر گر چکے ہیں کہ اُس کو کھانا تو کیا پانی تک نصیب نہیں ہوتا۔ بلکہ الٹا اُس کو نشہ آور ادویات دی جاتی ہیں تاکہ وہ نہ اٹھے اور نہ ہی آپ کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑے۔ اپنی آسانی کیلئے کسی معصوم کی جان کو خطرے میں کیسے ڈال سکتے ہیں آپ؟” یہ کہتے ہی اس نے میز پر بھاری ہاتھ مارا تو اس پر پڑی تمام چیزیں ایک بار چیخ اٹھیں۔ آج اُس نے اپنی ساری کی بھڑاس بنا کسی لگی لپٹی کے نکال دی۔ ڈاکٹر بڑے مطمئن انداز سے اپنی چئیر پر جھول رہا تھا۔ سُبحان کو لگا وہ بھینس کے آگے بین بجا رہا ہے، اس لئے وہ جانے کے لیے مڑگیا۔۔
    ”دیکھیے سُبحان صاحب! آپ انجلا کو نہیں لے کر جا سکتے۔ اس کا آپ سے کوئی خونی رشتہ نہیں ہے۔” گلا کھنکارتے ہوئے جو الفاظ ڈاکٹر نے اُس کے کانوں میں منتقل کیے تھے انہوں نے اس کے تن بدن میں آگ لگا دی۔ اُس کا دل چاہا ایک بار اس ڈاکٹر کا گریبان چاک کر دے اور اُسے اُس کی اوقات دکھا دے مگر وہ کوئی عام انسان نہیں تھا، سبحان احمد لغاری تھا جو چاہتا تو کھڑے کھڑے پورا ہسپتال اور اس جیسے کئی ڈاکٹرز خرید سکتا تھا مگر وہ ایسا نہیں تھا۔ وہ تو پیار بانٹنا جانتا تھا، نفرت نہیں۔۔
    ”خون کے رشتے اگر ایسے ہوتے ہیں جو اپنے معصوم جگر کے ٹکڑوں کو یوں آپ جیسے لوگوں کے ہاتھوں میں تھما جاتے ہیں تاکہ آپ جو چاہے اُن کے ساتھ سلوک کریں اور مڑ کر دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے تو میں لعنت بھیجتا ہوں ایسے خونی رشتوں پر۔ میں بس اتنا جانتا ہوں کہ وہ میری بیٹی ہے، میری پری ہے اور میں اُسے مزید تکلیف میں تڑپتا ہوا نہیں دیکھ سکتا۔۔ سمجھے آپ ؟ میں لے جا رہا ہوں اُسے اپنے ساتھ۔ خدا حافظ!” وہ پھرتی سے ہسپتال سے باہر نکلا اور گاڑی زن سے بھگا لے گیا۔۔
    ”پری بیٹا! آپ کا کمرہ دوتین دن میں تیار ہو جائے گا تب تک میرا بچہ میرے ساتھ اسی کمرے میں رہے گا۔ ٹھیک ہے نا؟” وہ اپنی پری کے تمام اشاروں کو سمجھتا تھا اس لئے مطمئن ہو گیا۔ وہ پری کے کمرے کے لیے بہترین ڈیکوریٹر کو ہائر کرنا چاہتا تھا اور اس نے اس کام میں دیر نہیں کی۔





    چار دن کی مسلسل محنت اور کوشش کے بعد سُبحان آج کافی مطمئن تھا۔ اُس نے آفس کا سارا کام اپنے مینیجر کو سونپ دیا تھا اور اپنی پری کا کمرہ اپنی زیرِ نگرانی تیار کروایا تھا۔۔ لیکن ابھی پری اُسی کے کمرے میں رہ رہی تھی کیوں کہ اُس کی صحت کافی خراب تھی۔ وہ بہت کم زور ہو گئی تھی۔ صرف ایک ماہ میں وہ سوکھ کر ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گئی تھی ۔ کمرے سے فارغ ہوتے ہی سبحان نے شہر کے سب سے بہترین سائیکالوجسٹ سے رابطہ کرکے ٹائم لے لیا تھا۔
    وہ بہت خوش تھا۔ اُس کی پری اُس کے ساتھ تھی اور پری بھی پہلے کی نسبت اب قدرے مطمئن ہو گئی تھی۔ اب وہ توڑ پھوڑ اور چیختی چلاتی کم تھی اور صحیح اور بہتر دوا ملنے سے اب سُبحان کی پری اس سے کچھ کچھ ٹوٹی پھوٹی باتیں بھی کرنے لگی تھی جس کی سمجھ صرف اُسی کو آتی تھی۔ وہ سب بھول گیا تھا، آفس بھی اب کم کم ہی جاتا تھا۔ کوئی بہت ایمرجنسی ہوتی تو وہ پری کو آپا عفت کے حوالے کر کے جاتا جو اُس نے پری کے چھوٹے موٹے کاموں کے لیے رکھی تھی۔ کھانا بنانے کیلئے باورچی تھا، مگر ڈاکٹر کی ہدایات کے مطابق پری کا کھانا آپا عفت بناتیں۔ پری کو نہلانا اور اُس کے دیگر معاملات آپا عفت دیکھتیں تھیں۔۔ دوائیں وغیرہ بہت احتیاط اور دھیان سے سُبحان خود پری کو دیتا تھا۔۔ صرف چھے ماہ کے عرصے میں پری پہلے کی نسبت بہت سنبھل گئی تھی۔ سبحان بہت خوش تھا۔ اب وہ کچھ کچھ بنا سہارے کے چلنے لگی تھی۔ لیکن کبھی کبھی پری پر وہی دورہ پڑنے لگتا، وہ چیختی چلاتی، چیزیں اٹھا اٹھا کر پٹختی اور کھانا تک نہ کھاتی۔ حتیٰ کہ کبھی کبھار وہ سُبحان کو بھی پیٹنے لگتی، جب وہ اُسے باز رکھنے کیلئے اپنے بازوئوں میں بھرتا اور وہ اپنا آپ چھوڑوانے کی کوشش کرتی تو ایسے میں بھی سُبحان سخت پریشان ہونے کے باوجود کبھی اُس سے سختی سے پیش نہیں آتا تھا بلکہ ڈاکٹر کے مشورے پر عمل کرتا، بے تحاشا لاڈ پیار دیکھ کر پری بھی شانت ہو جاتی۔۔ پری کی صحت کی وجہ سے وہ اُس کو اپنے ہی کمرے میں رکھتا تھا اپنے ہی ساتھ سلاتا، اپنے ہی ساتھ کھلاتا مگر وہ نہیں جانتا تھا کہ اُس کی خوشیوں کی مدت اتنی کم ہے۔۔
    ”گرفتار کر لیجیے انہیں انسپکٹر صاحب! انہی کے قبضے میں ہے میری بہن ۔۔ یہ کمینہ ہسپتال کے پورے عملے کے ساتھ بدتمیزی کر کے اور دھمکیاں دے کہ ورغلا کر میری بہن کو اپنے ساتھ لے آیا۔ وہ تو بہت چھوٹی ہے صرف۔۔آمم آ۔۔” سات یا ساڑھے سات سال کی ہو گی وہ۔۔ اسے کیا پتا یہ کون ہے۔ میری انجلا اسی کے پاس ہے انسپکٹر صاحب۔
    پولیس کے ساتھ ڈاکٹر سلیم جیلانی اور ایک ماڈرن سی لڑکی آج اُس کے گھر میں موجود تھی وہ ابھی ابھی پری کو ناشتہ کروا کر باہر نکلا ہی تھا کہ لائونج میں تمام لوگوں کو کھڑا دیکھ کر پہلے تو کچھ سمجھ ہی نہیں پایا مگر اُس عورت کے الفاظ سن کر اُسے سب سمجھ میں آ گیا۔۔۔
    ”محترمہ سب سے پہلی بات تو میں آپ کو جانتا نہیں ہوں اور اگر آپ پری کی بہن ہونے کا دعوی کر رہی ہیں تو آپ کو اتنا بتاتا چلوں کہ پری کی عمر سات یا ساڑھے سات سال نہیں بلکہ دس سال اور چار ماہ ہے اور دوسری بات میں ہسپتال کے عملے سے بدتمیزی کر کے ضرور آیا ہوں گا مگر دھمکیاں دینا میرا شیوہ نہیں۔۔۔” سبحان احمد قدرے تحمل سے بولے۔
    ”باقی رہ گئی اریسٹ کرنے کی بات تو کوئی ٹھوس وارنٹ لے کر آئیے، پھر آپ مجھے اریسٹ کیجیے گا۔ اب آپ جا سکتے ہیں میرا وقت بہت قیمتی ہے۔ شکریہ۔۔” وہ اپنی بات کہہ کر رکا نہیں بلکہ واپس اپنے کمرے میں آگیا۔ وہ پری کو کھو دینے کے ڈر سے پریشان ضرور تھا اور کسی بات کی اسے پرواہ نہیں تھی۔
    اُس نے اپنے فون پر نمبر ملایا اور آہستگی سے سب کہتا گیا۔
    ”اور ہاں سنو! مجھے آج ہی اپ ڈیٹ کرنا ہے تم نے۔۔ اوکے اللہ حافظ۔۔”
    پھر پورا دن وہ سکون سے نہیں بیٹھا۔ کبھی ایک کال ملاتا تو کبھی دوسری۔۔۔۔ ایسے ہی شام ڈھل گئی اور اب رات بھی ۔۔ کتنی ہی بار کرم دین کھانے کا پوچھنے آیا مگر ہر بار اُس کا جواب یہی ہوتا بھوک نہیں ہے مجھے، آپا سے کہیں پری کو کھلا دیں اور دوا بھی دے دیں۔
    نماز تو پہلے بھی وہ کوئی نہیں چھوڑتا تھا مگر آج پری کو سلانے کے بعدسے وہ جائے نماز پر بیٹھا تھا اور اب وال کلاک اُسے تین بجنے کا اعلان سنا رہا تھا۔ وہ سجدے سے اٹھا تو اُس کا چہرہ آنسوئوں سے تر تھا۔۔ مدھم سی روشنی میں ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ ان چند گھنٹوں میں صدیوں کا سفر طے کرکے لوٹا ہو۔۔ ایک نظر مطمئن سی سوئی ہوئی پری کے چہرے پر ڈالی اور جائے نماز کو تہہ کرمیز پر رکھااور کمرے سے باہر نکل آیا۔