Tag: Khaadi

  • عکس — قسط نمبر ۶

    عکس نے گاڑی سے اتر تے ہوئے سر اٹھا کر اس آئینے کو دیکھا جو اس گھر کے برآمدے میں دروازے کے پاس رکھا تھا اور جس میں اس وقت شیر دل اور شہر بانو کی پشت نظر آرہی تھی۔ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے وہ کمشنر اور اس کی بیوی کا استقبال کررہے تھے جن کی گاڑی اس وقت پورچ میں داخلی برآمدے کے بالکل سامنے کھڑی تھی، خود اس کی گاڑی پورچ کی چھت سے باہر تھی۔ نظریں آئینے سے ہٹا کر اس نے ایک لمحے کے لیے سر اٹھا کر آسمان کو دیکھا جہاں سے ہلکی بوندا باندی ہورہی تھی ۔پانی کی ہلکی پھوار نے اس کے چہرے، بالوں اور لباس کو ذرا سا نم کیا اور برآمدے میں کمشنر اور اس کی بیوی سے ملتے ہوئے شیر دل نے بالکل اس لمحے گردن موڑ کر اسے دیکھا تھا۔ وہ سیاہ موتیوں سے ایمبرائڈرڈ ایک فٹنگ والا سیاہ شیفون کا لباس پہنے ہوئے تھی جو اس کے متناسب جسم کو کچھ اور بھی متناسب کررہا تھا۔ عام طور پر کھلے رہنے والے گھنے سیاہ بال اس وقت ایک سیاہ نیٹ میں ڈھیلے جوڑے کی شکل میں اس کی گردن کے پیچھے سمٹے اس کی پتلی اور لمبی گردن کو نمایاں کیے ہوئے تھے۔ دائیں کندھے پر اسٹول کی شکل میں تہ شدہ دوپٹا ڈالے وہ بائیں ہاتھ میں ایک بہت چھوٹا اور خوب صورت سیاہ پرس پکڑے ہوئے تھی۔ شیر دل نے اس سے نظریں ہٹائیں مشکل کام تھا یہ اور اس نے مشکل سے ہی کیا۔ وہ کمشنر اور ان کی فیملی کے ساتھ آئی تھی اس لیے کمشنر اور ان کی بیوی گاڑی سے اتر کر سیدھا اندر جانے کے بجائے چند لمحوں کے لیے وہیں برآمدے میں رک گئے تھے۔ کمشنر کا استقبال کرنے کے بعد شیر دل برآمدے سے نکل کر اس کی گاڑی کی طرف بڑھا۔ اس کی طرف جاتے ہوئے غیر محسوس انداز میں اس نے اپنی جیب میں پڑا ٹشو پیپرٹٹولا تھا۔




    ڈرائیور سے کچھ کہتے ہوئے عکس جب تک پلٹی وہ اس کے سامنے تھا۔ دونوں بے اختیار ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرائے۔ بلیک ڈنر سوٹ کے ساتھ ایک سرخ Striped ٹائی لگائے، سلور کف لنکس اور ٹائی پر ایک کرسٹل کی ٹائی پن لگائے وہ اپنے اس حلیے میں اس کے سامنے کھڑا تھا جو اس کی ایک وجہ شہرت تھا۔ اکیڈمی میں کوئی اور کامنر اپنی ڈریسنگ سینس میں شیر دل کے سامنے نہیں ٹھہر سکتا تھا۔ عکس مراد علی نے اپنے اتنے سال کی سروس میں بھی شیر دل سے زیادہ خوش لباس مرد نہیں دیکھا تھا۔
    عکس نے گہری مسکراہٹ کے ساتھ ستائشی نظروں سے شیر دل کو دیکھا۔ ہوا کے ایک جھونکے نے شیر دل کی ٹائی کو اڑایا۔ عکس کی نظر بھٹکی۔ اس کی ٹائی کو بے اختیار اڑنے سے روک دینے کی خواہش کو اس نے اتنی ہی بے اختیاری کے ساتھ دبایا جس طرح وہ ابھری تھی۔
    دونوں کے درمیان اب خیر مقدمی کلمات کا تبادلہ ہورہا تھا۔ وہی رسمی جملے… اور وہی ان کہے مفہوم… وہ ہمیشہ کی طرح اس کے چہرے پر نظریں جمائے ہوئے بات کررہا تھا۔ اور اس کے چہرے پر نظریں جمائے شیر دل کے لیے یہ اندازہ لگانا مشکل ہورہا تھا کہ اس کے چہرے پر موجود کون سی شے کس کو ماند کررہی تھی۔ اس کے کانوں کی لوؤں میں دمکتے سفید موتیوں کےstuds اس کی شفاف چمکدار سیاہ آئی لائنز سے سجی آنکھوں کو یا اس کی آنکھیں سرخ لپ اسٹک سے رنگے ہونٹوں سے چھلکتی دودھیا دانتوں کی قطار کو جو اس کی مسکراہٹ کو اور بھی دلکش کررہی تھی۔ بارش کی پھوار کے ننھے ننھے قطرے اوس کے قطروں کی طرح اس کے بالوں اور چہرے پر چمک رہے تھے۔ ایک لمحے کے لیے شیر دل کا دل چاہا وہ ہاتھ بڑھا کر اس کے چہرے کو اپنی انگلیوں کی پوروں سے صاف کردے… صرف ایک لمحے کے لیے پھر اس نے نظر چرائی تھی…جیب سے ایک ٹشو نکال کر غیر محسوس انداز میں عکس کی طرف بڑھاتے ہوئے شیر دل نے کہا۔
    ”تم نے بڑا رسک لیا۔” عکس نے کسی سوال کے بغیر وہ ٹشو تھام کر اسی غیر محسوس انداز میں چہرہ اور سر تھپتھپاتے ہوئے کچھ حیرانی سے اس سے پوچھا۔
    ”کیا؟ ”وہ دونوں اب ساتھ چل رہے تھے۔
    ”بارش میں گاڑی سے نکل آئیں۔” قدم بڑھاتے ہوئے شیر دل نے کچھ سنجیدگی سے کہا۔
    ”تو؟” وہ الجھی۔
    ”اگر میک اپ بہہ جاتا تو؟”اس بار شیر دل کے ہونٹوں اور آنکھوں میں شرارت لہرائی تھی یہ جاننے کے باوجود کہ وہ ایک سیاہ آئی لائنز اور لپ اسٹک کے سوا شاید ہی کچھ لگائے ہوئے تھی۔
    ”ہاں رسک تو تھا، میک اپ صاف ہوجاتا تو تم اس سے زیادہ گھورتے مجھے… جتنا ابھی گھوررہے تھے۔” عکس نے ہاتھ میں پکڑے ٹشو کوبڑی نفاست سے لپیٹ کر پرس میں بے نیازی سے رکھتے ہوئے کہا۔جواب ویسا ہی آیا تھا جیسا سوال کیا تھا۔ اسے دیکھے بغیر شیر دل نے بے اختیار سر جھکا کر اپنی مسکراہٹ چھپائی۔ وہ باقی لوگوں کے قریب پہنچ چکے تھے اور وہ اسے جواباً کچھ نہیں کہہ سکتا تھا۔
    کمشنر کی بیوی کے ساتھ بات کرتی شہر بانو عکس کے استقبال کے لیے چند قدم آگے بڑھ آئی تھی۔




    ”شہر بانو… ”عکس مراد علی…” ایک لفظ میں شیر دل نے باری باری دونوں کو ایک دوسرے سے متعارف کروایا۔ دونوں ناموں کے ساتھ کوئی سیاق و سباق نہیں تھا پھر بھی دونوں ایک دوسرے کو اس سے کہیں زیادہ جانتی تھیں جتنا شیر دل نے ان کاتعارف کروایا تھا۔
    سفید شیفون کے کلیوں والے کرتے اور چوڑی دار پاجامے میں شہر بانو ایک باربی ڈول لگ رہی تھی۔دودھیا رنگت، سیاہ لمبی خمدار پلکیں، ننھی سی نوک والی تیکھی ناک اور بے حد باریک مسکراتے ہونٹ۔ عکس کے ہونٹوں پر موجود مسکراہٹ کچھ اور گہری ہوئی تھی اس کو دیکھ کر۔ شیر دل کو اس سے زیادہ پرفیکٹ لڑکی نہیں مل سکتی تھی۔ وہ واقعی صرف شیر دل کے ساتھ سجتی تھی۔ اس کی طرف بڑھتے ہوئے عکس نے سوچا تھا۔
    شہر بانو نے اس سے پہلے عکس مراد علی کا نام سنا تھا یا اس کو شیر دل کی گروپ فوٹو گرافس میں دیکھا تھا۔ جہاں وہ لاکھ غور کرنے کے باجود بھی اس کی شکل وصورت اور حلیے میں وہ خاص چیز کھوجنے میں ناکام رہی تھی جو اس کے ذہن میں کسی خدشے یا اندیشے کو جنم دیتی لیکن آج اس پر پہلی نظر ڈالتے ہی وہ عکس مراد علی سے بری طرح خائف ہوئی کیوں ہوئی؟ یہ اسے کئی دن سمجھ نہیں آیا۔ نہ اسے شیر دل سے کوئی خدشہ تھا نہ عکس مراد علی اس حسن وجمال کی مالک تھی جس سے اسے کوئی احساس کمتری ہونے لگتا لیکن اس کے باوجود اسے یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ عکس مراد علی کو نظر انداز کرنا بے حد مشکل تھا اور اس کو پسند نہ کرنا اس سے بھی زیادہ دشوار۔
    بر آمدے کی انٹرنس پر ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے وہ دونوں شہر بانو کو کسی فوٹو فریم کا حصہ لگے تھے۔ ایک پرفیکٹ پکچر، دراز قد، اٹریکٹو، پراعتماد، اسمارٹ… سیاہ لباس میں ملبوس وہ ایک ایسا کپل لگے تھے جو گھر سے نکلتے ہوئے پرفیکٹ میچنگ کر کے آئے تھے۔کوئی بھی ایک نظر میں دیکھ لیتا کہ عکس کے ہونٹوں کی لپ اسٹک کا رنگ شیر دل کی ٹائی کے رنگ کا ایک حصہ لگ رہا تھا… شہر بانو نے بھی نوٹس کیا تھا۔ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے کسی رشتے اور تعلق کے بغیر بھی ان دونوں کی باڈی لینگویج میں ایک عجیب کیمسٹری تھی۔ ایک عجیب سا ربط اور تعلق جس کو نہ چھپانے کی کوشش تھی نہ دکھانے کی…لیکن پھر بھی وہ چھپ چھپ کر دِکھ رہا تھا۔ شہر بانو الجھی ٹھٹکی… اور پھر چاہنے کے باوجود وہ عکس سے ویسی گرم جوشی کا مظاہرہ نہیں کرسکی جو وہ دوسرے مہمانوں کے ساتھ کررہی تھی۔ وہ نپے تلے انداز میں عکس کی طرف بڑھی تھی اور عکس نے بھی مصافحے کے لیے اس کا ہاتھ گرم جوشی پر اسی احتیاط سے پکڑا تھا جس کے ساتھ وہ بڑھایا گیا تھا۔ شہر بانو نے اس کے ہاتھ کے لمس کی حدت اور نرمی کو بیک وقت محسوس کیا۔دونوں کی نظریں ملیں۔
    ”آپ کیسی ہیں؟” اس نے عکس کو کہتے سنا۔ اس کی آواز کی ملائمت نے شہر بانو کے وجود کی سرد مہری کو عجیب انداز میں پگھلایا۔
    ‘‘I am fine. How are you ”اس نے جواباً اپنی مسکراہٹ کو کچھ گرم جوش کرنے کی کوشش کی۔
    ‘‘I am good too ”عکس نے جواباً ایک دھیمی مسکراہٹ کے
    ساتھ کہا۔ شیر دل اب کمشنر کے ساتھ اندر جارہا تھا۔ شہر بانو نے ایک عجیب سا اطمینان محسوس کیا اس فوٹو فریم کے ایک حصے کو ہٹتے دیکھ کر۔
    ”شیر دل سے بہت سنا ہے میں نے آپ کے بارے میں ۔” عکس نے شہر بانو سے کہا۔




  • صلیب — ثمینہ طاہر بٹ

    بعض اوقات انسان جو سوچتا ہے، جو کرنا چاہتا ہے وہ کر نہیں پاتا۔ کبھی زمانے کی زبانیں راہ کی رکاوٹ بن جاتی ہیں، تو کبھی ذات برادری کے خود ساختہ، بے بنیاد اور کھوکھلے اصول، کہیں انا کی دیوار بیچ میں آ جاتی ہے، تو کہیں ضد اور غصہ اپنا کام دکھا جاتے ہیں۔ پھر یوں ہوتا ہے کہ انسان کو اپنی صلیب خود اپنے شانوں پر اٹھا نی پڑتی ہے۔ اس وقت اسے اپنے ارد گرد نہ تو کوئی اپنا ہم درد دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی رہ نما نظر آتا ہے۔ بس وہ انسان ہوتا ہے اور اس کے ناکردہ گناہوں کا بوجھ، جسے وہ اپنے ناتواں کاندھوں پر اٹھائے چلتا چلا جاتا ہے۔




    شہر کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال کے برن یونٹ کے اندر پڑی ادھ جلی لڑکی کی کرب ناک چیخیں اب آہستہ آہستہ دم توڑ رہی تھیں۔ وہ شاید غنودگی میں جا رہی تھی یا پھر بے ہوشی میں، دور سے دیکھنے پر کچھ خاص اندازہ نہیں ہو رہا تھا۔ اس برن یونٹ میں اس حالت میں لائی جانی والی وہ پہلی لڑکی نہیں تھی۔ یہاں تو روزانہ ہی اس طرح کے کئی مریض آتے جاتے رہتے تھے۔ برن یونٹ کی سرد اور خاموش دیواریں دن میں کئی بار ایسے ہی اندوہ ناک اور دل دوز مناظر دیکھتی تھیں۔ تیزاب پھینک کر جلائی جانے والی دوشیزائیں، پٹرول اور تیل چھڑک کر زندہ جلائے جانے والی بہوویں اور ان کے درد سے تڑپتے اپنے مُنہ سے موت مانگتے وجود دیکھ دیکھ کر ان دیواروں کی آنکھیں بھی پتھرا چکی تھیں۔ ان مریضوں کے خلق سے نکلنے والی کرب ناک چیخیں ، آہیں اور کراہیں برداشت کرنا ان دیواروں ہی کا کام تھا یا پھر اس وارڈ میں مشینی انداز میں اپنے اپنے کام میں منہمک نرسوں اور ڈاکٹرز کا حوصلہ ، جو شاید اب ان دیواروں کی طرح ہی سرد اور بے حس ہو چکے تھے۔ وارڈ کے اندر وہ جان کنی کے عالم میں مبتلا تھی۔ کمرے کے باہر سفید بالوں اور جھکے شانوں والا اس کا پریشان حال باپ سنگی مجسمے کی صورت سر جھکائے حزن و ملال کی تصویر بنا بیٹھا تھا۔ اس کی گود میں قطرہ قطرہ گرنے والے بے بسی کے آنسوؤں کو دیکھ کر احساس ہو رہا تھا کہ اس کے پتھرائے وجود میں ابھی بھی زندگی کے کچھ آثار باقی ہیں۔
    ”ڈاکٹر!! اب کیسی حالت ہے اس burn victum کی؟ کیا ہم اس کا بیان لے سکتے ہیں؟” سنگی مجسمے کے کانوں میں ایک جانی پہچانی آواز پڑی تو جیسے اس کے بے جان ہوتے وجود میں زندگی کی لہر دوڑ گئی۔ بعض اوقات ایسے بھی تو ہوتا ہے ناں کہ جب ہم مایوسی اور دکھ کی اتھاہ گہرائیوں میں خود کو دھنستا ہوا محسوس کرتے ہیں، تو اسی وقت ہمارے آس پاس ہی ہمارے قریب، بہت قریب امید کے جگنو ٹمٹمانے لگتے ہیں۔ جب خوف اور اکیلا پن اپنے نوکیلے پنجے ہماری روح میں گاڑنے لگتے ہیں، تو ہماراکوئی اپنا، کوئی بہت ہم درد ایک دم ہاتھ بڑھا کر ہمیں اس خوف، اس اکیلے پن کے پنجے سے چھڑوا کر دور، بہت دور لے جاتا ہے۔ اس وقت بھی یہی ہوا تھا۔
    ”بلال۔” ان کے مضطرب ہونٹوں نے بے آواز جنبش کی تھی، مگر یہ آواز شاید دل سے نکلی تھی اس لیے سیدھی دل تک ہی پہنچی تھی۔
    ”پروفیسر صاحب آپ؟ آپ یہاں… کیسے… کیوں…؟” بلال نے یک لخت پلٹ کر دھیمی لرزتی آواز کی سمت دیکھا اور پھر کچھ اور دیکھنے کے قابل ہی نہ رہا۔ اسے لگ رہا تھا کہ اس کا وجود پتھر میں ڈھل چکا ہے۔ خوف کی بھاری صلیب نے اس کی روح، اس کے دل کو اپنے بوجھ تلے دبا لیا تھا۔ وہ اندھوں کی طرح گرتا پڑتا پروفیسر صاحب تک پہنچا اور اب ان کے قدموں میں بیٹھا ان کے بے بسی سے بہتے آنسو چن رہا تھا۔
    S.P بلال احمد اور جان بہ لب مریضہ کا مجبور باپ… یہ کیسا کنکشن تھا۔ پولیس کی بھاری نفری سمیت وہاں موجود ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کے کان بھی کھڑے ہو چکے تھے۔ وہ سب تجسس بھرے انداز سے SP بلال صاحب کو اس ادھ جلی مریضہ کے باپ کے آنسو پونچھتے، انہیں گلے لگاتے، ان کے ہاتھ چومتے دیکھ رہے تھے۔
    ”سر! یہ اُسی مریضہ کے والد ہیں، جن کے بارے میں آپ investigation کرنے آئے ہیں۔” ڈاکٹر فاریہ نے ان کے پاس آتے ہوئے دھیمے لہجے میں کہا تو بلال احمد کا سارا وجود پتھر سے بھربھری ریت میں تبدیل ہو گیا۔ اسے لگا وہ وہیں، اسی کاریڈور میں ننھے ننھے ذرات بن کر بکھرتا جا رہا ہو۔ اس کے اپنے وجود کی ریت اُڑ اُڑ کر اس کی حیران آنکھوں میں چبھ رہی تھی۔




    ”قندیل!!” حیرت اور خوف کے غلبے کے زِیر اثر اس کی آواز بھی کہیں دم توڑتی جا رہی تھی۔
    ”بلال! قندیل جل گئی۔ میری قندیل جل گئی۔ بلال… میری قندیل بجھ گئی۔” پروفیسر صاحب اس کے شانے پر سر رکھ کر نوحہ کناں ہوئے تو وہ بھی جیسے ہوش میں آگیا۔
    ”نہیں بابا! قندیل نہیں بجھے گی۔ قندیل کبھی نہیں بجھ سکتی بابا، کبھی بھی نہیں!” پروفیسر صاحب نے ایک دم چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ ان کی ساکت نگاہیں بلال احمد کے پر عزم روشن چہرے کا طواف کر رہی تھیں۔ وہ روشن چہرہ جسے انہوں نے اپنے ہاتھوں خود سے دور کر دیا تھا۔
    پروفیسر عالم صاحب کا شمار ان اساتذہ میں ہوتا تھا جوعِلم کا عَلم اٹھائے نسل ِ انسانی کے لیے مشعلِ راہ بنے ہر طرف روشنی کی کرنیں بکھیرتے رہتے ہیں۔ ان کے بے شمار شاگرد تھے اور ان کے گھر اور دل کے دروازے علم کی پیاس رکھنے والوں کے لیے ہر وقت کھلے رہتے تھے۔ جس طرح پہاڑوں کے درمیان بہنے والا چشمہ ، بل کھاتا اپنی دھن میں مگن لوگوں کی پیاس بجھاتا چلتا چلا جاتا ہے، اسی طرح پروفیسر عالم صاحب بھی اپنے شاگردوں میں بلا امتیاز و تفریق علم کی دولت لٹا رہے تھے اور لوٹنے والے دونوں ہاتھوں سے جھولیاں بھر بھر کر لوٹ رہے تھے۔
    بلال بھی ان کا ایسا ہی ایک شاگرد تھا۔ بلا کا ذہین اور سیلف میڈ انسان۔ بلال جیسے لوگوں کے لیے زندگی کبھی بھی مہربان دوست ثابت نہیں ہوتی۔ انہیں اپنی راہ میں پڑے پتھروں پر قدم جما جما کر چلنا پڑتا ہے۔ کبھی گرتے، کبھی سنبھلتے کسی نہ کسی طرح وہ لوگ بھی منزل پر پہنچ ہی جاتے ہیں، مگر یہ خوش نصیبی بھی صرف چند لوگوں کے حصے میں ہی آتی ہے اور بلال بھی بلا شبہ ان ہی خوش نصیبوں میں سے ایک تھا۔
    اس کا اس بھری دنیا میں بوڑھی دادی کے سوا اور کوئی بھی نہیں تھا۔ وہ اپنے والدین اور دادی کے ساتھ گاؤں میں رہتا تھا۔ شاید وہ ہمیشہ ہی وہیں رہ کر پلتا بڑھتا اور جوان ہو کر اپنے باپ دادا کی طرح اپنی آبائی زینیں سنبھالتا، مگر ایسا نہیں ہوا تھا۔ ایسا ہو بھی نہیں سکتا تھا کیوں کہ اگر ایسا ہو جاتا تو وہ نہ ہوتا جو تقدیر میں لکھا جا چکا تھا۔ بلال اگر ان پڑھ دیہاتی ہی رہتا، تو وہ ”بیت العلم ” کا مکین کیسے بنتا؟
    پروفیسر عالم نے اپنی رہایش گاہ کو ”بیت العلم” کا نام دے رکھا تھا۔ وہ اپنی بیگم اور اکلوتی بیٹی کے ساتھ بڑی مطمئن زندگی گزار رہے تھے۔ اگر ان کا اوڑھنا بچھونا درس تدریس تھا تو مہک عالم کی زندگی کا محور عالم صاحب اور چھے سالہ قندیل کی خوشیوں کا خیال رکھنا تھا۔ سب ٹھیک چل رہا تھا، مگر اچانک چلتے چلتے ان کی زندگی جیسے رک سی گئی۔ مہک کو موسمی بخار نے جکڑ لیا۔ وہ اپنی گھریلو ذمہ داریوں میں مصروف خود پر کوئی خاص توجہ نہیں دیتی تھیں اور یہی بے توجہی ان کے ساتھ ساتھ ان کے شوہر اور بیٹی پر بہت بھاری پڑی۔ مسلسل رہنے والا بخار کسی بڑی بیماری کا پیشِ خیمہ ثابت ہوتا ہے۔ ان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا اور جب سارے ٹیسٹ کروائے گئے، تو وقت ہاتھ سے ریت کی طرح نکل چکا تھا۔ مہک کو کینسر جیسے موذی مرض نے اپنا نشانہ بنا لیا تھا۔ پروفیسر صاحب نے بڑی ہمت سے حالات کا مقابلہ کرنے کی ٹھانی اور اپنے فرائضِ منصبی کے ساتھ ساتھ مہک کے علاج پر بھی پوری توجہ مرکوز کر دی، مگر اب واقعی دیر ہو چکی تھی۔ مہک کے پاس وقت بہت کم بچا تھا اور اسے اپنے سے زیادہ قندیل اور عالم صاحب کی فکر ستاتی تھی۔
    ادھر بلال کے ساتھ بھی قسمت نے عجیب کھیل کھیلا تھا۔ وہ اپنی دادی کے ساتھ ان کی دور پرے کی عزیزہ ” مہک عالم” کی عیادت کے لیے شہر آیا تھا کہ پیچھے سے اس کی دنیا ہمیشہ کے لیے اجاڑ دی گئی۔ وہی گاؤں کی دشمنیاں اور زمین جائیداد کے بکھیڑے۔ اس کے داد کے شریکوں نے پیچھے اس کے ماں باپ اور بہن کو مار ڈالا اور ان کے گھر اور زمینوں پر قبضہ کر لیا۔ دادی جو مہک کی دور پرے کی پھپھو تھیں یہ خبر سن کر ہوش وحواس کھو بیٹھیں۔ وہ تو اپنی مرتی بھتیجی کی آخری بار عیادت کو گئی تھیں اور اب خود اسی ہسپتال میں بستر علالت پر آن پڑی تھیں۔ عالم صاحب کا نرم دل بھی ان پر گزرنے والی قیامت سے لرز سا گیا۔ اس پر جب بلال کے باپ کے شریکوں نے اس کی حوالگی کا مطالبہ کیا، تو وہ اور زیادہ پریشان ہو گئے۔ دس سالہ معصوم بلال کی موہنی اور معصوم صورت ان کے دل میں ایسی بسی کہ انہوں نے اس کے رشتے داروں کو صاف انکار کر دیا۔
    عالم صاحب کے اس انکار نے دوسری طرف آگ سی بھڑکا دی تھی۔ وہ لوگ تو دشمنیاں پالنے کے عادی تھے، انہوں نے عالم صاحب کو بھی اپنا دشمن مان لیا، مگر یہاں بلال کی دادی نے عقل مندی کا ثبوت دیا اور عالم صاحب اور بلال کے سر سے اس دشمنی کا بوجھ اتارنے کے لیے اپنی ساری زمینیں، گھر، مال مویشی سب کچھ شریکوں کے نام لگا دیا۔ سب معامالات کورٹ کچہری میں ہوئے۔ پکے کاغذات پر انگوٹھے لگے اور بوا رحمت نے اپنی کل دنیا، اپنے پوتے کی جان اس دشمنی کے گرداب سے بچالی۔
    بلال کی جان تو بچ گئی، مگر مہک کو مزید مہلت نہ ملی اور وہ ایک دن باتیں کرتے کرتے اس سکون سے سوئی کہ پھر آنکھ ہی نہ کھول پائی۔ قندیل کے سر سے ممتا کی چھاؤں چھن گئی، مگر بوا جی نے اسے اپنی محبت بھری آغوش میں بھر لیا۔ اب بوا جی کی زندگی کا مقصد بلال کے ساتھ ساتھ قندیل بھی بن چکی تھی۔ پروفیسر عالم، مہک کی ابدی جدائی کو بڑی جی داری سے جھیل گئے تھے۔ انہوں نے خود کو پہلے سے زیادہ مصروف کر لیا۔ اپنے گھر کو اکیڈمی میں تبدیل کر دیا اور خود درس وتدریس میں کھو گئے۔
    ”بابا! بلال کا رزلٹ آگیا، دیکھیں اس نے پورے صوبے میں ٹاپ کیا ہے! ” قندیل بے حد خوش تھی۔ اس کے مسکراتے چہرے پر ایک انوکھی سی خوشی پھیلی تھی جیسے بلال کا نہیں اس کا اپنا رزلٹ آگیا ہو۔ پروفیسر صاحب نے کتاب سے نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا اور پھر اس کی خوشی کو محسوس کرتے ہوئے خود بھی خوش ہو گئے۔ بلال ان کے لیے سگی اولاد سے کم نہیں تھا اور پھر اس کی ذہانت، شرافت اور تابع داری اسے اور زیادہ ان کے دل کے قریب کرتی تھی۔




  • عکس — قسط نمبر ۴

    اس نے اسٹینڈنگ مرر میں اپنے آپ کو دیکھا، اپنے خوبصورت بالوں کو دیکھا، اپنے بے حد نازک گولائی میں پھولے ہوئے پنک فراک کو ذرا گھوم کر دیکھا پھر اس نے بے حد فخریہ انداز میں چند قدم پیچھے کھڑی چڑیا کو دیکھا جو بے حد ستائشی نظروں سے اس ساڑھے تین سالہ باربی ڈول کو دیکھ رہی تھی۔یہ وہ نام تھا جس سے وہ اس کو پکارتی تھی اور یہی وہ نام تھا جو اس نے پہلی بار اسے دیکھتے ہی دے دیا تھا۔ اس کے تمام ساتھی بونوں کو بھی باربی ڈول سے اتنا ہی عشق تھا جتنا چڑیا کو اور وہ بھی اس کو پہلی بار دیکھتے ہی اس پر اسی طرح فریفتہ ہوئے تھے جس طرح چڑیا کو دیکھ کر ہوئی تھی۔
    ”میں اچھی لگ رہی ہوں؟” اب باربی ڈول چڑیا سے پوچھ رہی تھی۔




    ”بہت، بہت، بہت، بہت اچھی اور پیاری۔” چڑیا نے دونوں ہاتھ پھیلا کر اس کی خوبصور تی اور ستائش کی جیسے پیمائش پیش کی۔ باربی ڈول کا رنگ سرخ ہوا، اس نے ناک کو ہلکا سا دائیں طرف سکیڑ کر اپنے ہونٹوں کو بھینچ کر جیسے اپنی خوشی اور مسکراہٹ کو ایک ساتھ چھپانے کی کوشش کی۔
    ”میں تمہاری پونی کر دوں؟” چڑیا نے باربی ڈول کے بکھرے ہوئے سیاہ ریشمی بالوں کو نرمی سے چھوتے ہوئے پوچھا۔ باربی ڈول سر ہلاتی فوراً پونی بنوانے پر تیار ہو گئی تھی۔ چڑیا نے اپنے بالوں سے ربڑ بینڈ اتارا اور آئینے کے سامنے باربی ڈول کے عقب میں جا کر بڑے انہماک سے اس کی پونی بنانے لگی۔ ان دونوں کے اس تعلق کا آغاز باربی ڈول کے اس کے اسکول میں ایڈمیشن کے ساتھ ہوا تھا۔
    چڑیا کلاس مانیٹر تھی اور وہ اس دن اپنی کلاس سے کسی کام سے باہر نکلی تھی جب اس نے مانیٹسوری کے لنچ بریک کے دوران پلے ایریا کے سامنے سے گزرتے ہوئے باربی ڈول کو وہاں لنچ باکس ہاتھ میں پکڑے see saw پر جھولتے دو بچوں کے پاس کھڑے دیکھا۔ چند لمحوں کے لیے چڑیا کو جیسے اپنی آنکھوں پر یقین ہی نہیں آیا تھا۔ وہ باربی ڈول جس کے بالوں کو چھونے اور جس کے ساتھ بات کرنے اور کھیلنے کی خواہش میں وہ کئی بار ڈی سی ہاؤس میں لان کے اس حصے میں منع کرنے کے باوجود جاتی رہتی تھی جہاں وہ اپنی ماں اور کبھی کبھار باپ کے ساتھ بھی شام کو کھیلنے کے لیے نکلتی تھی۔ باربی ڈول کے قریب جا کر اس سے کچھ کہنے کی ہمت اسے کبھی نہیں ہوئی تھی لیکن دور سے بہت باران دونوں کے درمیان خاموش نظروں اور مسکراہٹوں کا تبادلہ ہوا تھا۔ وہ اس گھر کے مستقل رہائشی دو واحد بچے تھے۔ یہ ممکن نہیں تھا کہ دونوں ایک دوسرے کے بارے میں تجسس کا شکار نہ ہوتے اور ایک دوسرے کو مستقل طور پر اگنور کر پاتے۔ چڑیا فرینڈلی تھی، باربی ڈول نہیں تھی۔ وہ اپنے ماں باپ کی طرح بہت مہذب اور سلجھی ہوئی ہونے کے باوجود بے حد ریزورڈ تھی۔ پتا نہیں یہ طبعاً تھا یا اس کے ماں باپ نے اسے بھی کچھ ہدایات دی تھیں۔ چڑیا سوچتی رہتی تھی لیکن کچھ اندازہ نہیں کر سکی تھی اور اب وہی باربی ڈول اس سے چند گز کے فاصلے پر کھڑی تھی۔ چڑیا کے لیے کیسے یہ ممکن تھا کہ وہ اسے اگنور کر کے گزر جاتی۔ اگر اس کا بس چلتا تو وہ شاید باربی ڈول کو بھی اپنے ہی اسکول میں دیکھ کر خوشی سے چھلانگیں لگاتی۔
    ”ہیلو۔” وہ ایکسائٹمنٹ کے باوجود کچھ ڈرتی جھجکتی باربی ڈول کے پاس پہنچ گئی تھی اور ہیلو کا چھوٹا سا لفظ کہنے کے لیے اسے پتا نہیں کتنی ہمت کرنی پڑی تھی۔ باربی ڈول نے چونک کر گردن گھما کر اسے دیکھا اور پھر اس نے بھی اسی برق رفتاری سے چڑیا کا چہرہ پہچانا تھا جس طرح چڑیا نے اس کا… وہ چڑیا کو فراموش کر بھی کیسے سکتی تھی۔ وہ گھر میں اس کے لیے دلچسپ چیزوں میں سے ایک تھی۔ لان میں کھیلتے اچانک کسی پھولدار جھاڑی یا پودے کی شاخ کے درمیان سے جھانکتا ہوا پرتجسس آنکھوں والا ایک معصوم چہرہ، کبھی راہداری کی کھڑکیوں میں یک دم نمودار ہونے والی وہ روشن شرارتی آنکھیں جو باربی ڈول کے ساتھ اس کی ماں یا باپ کو دیکھ کر اسی طرح جھپاکے سے غائب ہو جاتی تھیں۔ بہت دفعہ پودوں سے جھانکتی چڑیا کو دیکھ کر وہ ٹھٹکی تھی… اپنے کھلونوں کے ساتھ لان میں کھیلتے یا سائیکل چلاتے ہوئے اور شروع شروع میں وہ اپنی ممی کو چڑیا کی طرف متوجہ کرنے کی کوشش بھی کرتی تھی لیکن وہ اس کوشش میں ہمیشہ ناکام رہی۔ وہ جب تک اپنی ممی کو اس پودے یا جھاڑی کی طرف متوجہ کر پاتی جہاں اس نے چڑیا کو دیکھا تھا چڑیا وہاں سے غائب ہو چکی ہوتی۔
    ”ممی وہاں ایک Girl ہے۔” اس نے پہلی بار چڑیا کو دیکھنے پر فٹ بال کو کک لگاتے لگاتے رک کر اپنی ماں کو اشارے سے بتایا تھا لیکن جب تک وہ اس پودے کی ان شاخوں کو دوبارہ فوکس کر پاتی جن میں سے اسے چڑیا کا چہرہ نظر آیا تھا، چڑیا غائب ہو چکی تھی۔ اس کی ماں نے چند لمحوں کے لیے چونک کر اس پودے کو دیکھا پھر پوچھا۔
    ”کہاں؟”




    ”وہاں… پر وہ اب نہیں ہے۔” وہ اب فٹ بال کھیلنا بھول گئی تھی۔
    ”ہاں وہی بچی ہو گی جو اس دن ملنے آئی تھی… وہی بچی تھی کیا؟” اس کی ممی نے کسی خاص حیرت اور تعجب کے اظہار کے بغیر کہا۔ ”وہ جو ہمارے کک کے ساتھ آئی تھی۔” باربی ڈول نے ماں کے سوال پر اتنا غور نہیں کیا تھا نہ ہی اس نے اس بچی کے خدوخال کو ذہن میں لانے کی کوشش کی جسے اس نے کک کے ساتھ ملاقات میں دیکھا تھا۔ اسے زیادہ تجسس اس بات پر تھا کہ وہ اس پودے کے پیچھے سے اچانک کیسے غائب ہو گئی تھی اور کہاں غائب ہو گئی تھی۔ یہ چڑیا سے اس کے تعارف کا آغاز تھا اور پھر جیسے یہ ایک معمول ہو گیا تھا۔ اس نے کئی بار چڑیا کو پودوں کے پیچھے چھپے ہوئے دیکھا تھا۔ شروع شروع میں وہ ایکسائٹڈ ہو کر اپنی ممی کو بتانے کی کوشش کرتی تھی لیکن آہستہ آہستہ اسے اندازہ ہو گیا کہ اس کی ایسی ہر کوشش کے دوران چڑیا غائب ہو جاتی تھی اور اس کی ممی کو بھی لان کی جھاڑیوں اور پودوں میں چھپی ہوئی کسی بچی میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ پھر اس نے اپنا یہ معمول بہت جلد بدل لیا تھا اب وہ لان میں کھیلنے کے لیے داخل ہوتے ہی دور تک پھیلے ہوئے پودوں اور جھاڑیوں میں چڑیا کی تلاش شروع کر دیتی تھی اور اکثر بڑی آسانی سے اسے ڈھونڈ لیتی تھی پھر وہ اپنی ماں کو کچھ بھی کہے بغیر اس طرح کھیل میں مصروف رہتی اور وقتاً فوقتاً کھیل سے دھیان ہٹا کر چڑیا کو بھی دیکھتی رہتی۔
    چڑیا نے اب پہلے کی طرح غائب ہونا بند کر دیا تھا۔ خاموش نظروں کا تبادلہ آہستہ آہستہ مسکراہٹوں کے تبادلے میں بدلنے لگا تھا۔ اگر کچھ نہیں ٹوٹا تھا تو ان دونوں کے بیچ خاموشی نہیں ٹوٹی تھی۔ ڈی سی کی بیوی لان میں کرسی پر بیٹھی یا تو کوئی کتاب پڑھتی رہتی یا پھر پینٹنگ کرتی رہتی اوروہ لان میں سائیکل چلاتے یا فٹ بال کھیلتے ہوئے دور پودوں میں چھپی چڑیا کو دیکھ کر مسکراتی رہتی۔ کبھی کبھار وہ سائیکل چلاتے چلاتے جان بوجھ کر چڑیا کے بہت قریب سے ہو کر گزرتی اور کبھی وہ کھیلتے ہوئے جان بوجھ کر پودے کے قریب بال پھینک دیتی جہاں چڑیا چھپی ہوتی، یہ جیسے چڑیا کو کھیل کی دعوت دینے کی ایک غیر ارادی کوشش تھی جسے چڑیا نے کبھی قبول نہیں کیا تھا، وہ یہ جرأت کر ہی نہیں سکتی تھی کہ لان میں صاحب یا ان کی بیوی کی موجودگی میں وہ باہر نکل آتی۔ خیر دین نے اسے سختی سے منع کیا تھا، وہ ایک بچگانہ تجسس کی وجہ سے وہاں آ تو جاتی تھی لیکن وہ یہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کی وجہ سے کبھی اس کے نانا کو ڈانٹ پڑے۔ اس نے بہت بار مختلف آفیسرز کے ہاتھوں اپنے نانا کو ڈانٹ کھاتے دیکھا تھا اور یہ اسے کبھی بھی اچھا نہیں لگا تھا اگرچہ خیر دین ہر بار ایسے کسی موقع پر ا سکی موجودگی پر بعد میں اسے بٹھا کر اپنے صاحب کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کرتا تھا۔
    ”دیکھو چڑیا جب غلطی ہوتی ہے تو ڈانٹ پڑتی ہے اور نہ ہر ڈانٹنے والا برا ہوتا ہے نہ ہی ہر ڈانٹ۔”
    ”پر نانا… آپ کی زیادہ غلطی تو نہیں تھی۔” وہ اپنا نانا کا دفاع کرتی۔
    ”تھوڑی تھی پر تھی تو سہی نا… اب اگر صاحب غلطی پر کسی کو بھی نہ ڈانٹا کرے تو ہر ایک کام خراب کرنا شروع کر دے گا۔” چڑیا خیر دین کی بات پر سر ہلا دیتی لیکن اس کے باوجود خیر دین جانتا تھا کہ وہ خیر دین کو پڑنے والی کسی ڈانٹ پر بہت ناخوش ہوتی تھی۔
    ”ہیلو۔” باربی ڈول نے جواباً مسکرا کر کہا تھا۔ اسکول میں پہلے دن وہ پہلا شناسا چہرہ تھا جو اسے نظر آیا تھا۔ اس کا بس چلتا تو وہ چڑیا سے لپٹ ہی جاتی۔
    ”تم یہاں اسٹڈی کے لیے آئی ہو؟” چڑیا اس کے ہیلو پر مسکرائی تھی، باربی ڈول نے سر ہلایا۔
    ”ممی پاپا کے ساتھ آئی ہو؟” باربی ڈول کا سر ایک بار پھر ہلا لیکن ساتھ ہی اس کی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو آئے تھے۔ اسے یک دم یاد آ گیا تھا کہ اس کے ممی پاپا اسے صبح وہاں چھوڑ گئے تھے اور وہ وہاں اکیلی تھی۔ چڑیا اس کے آنسو دیکھ کر جیسے تڑپ اٹھی تھی۔
    ”رونا نہیں باربی ڈول۔ اچھے بچے تو نہیں روتے نا۔” اس نے آگے بڑھ کر باربی ڈول کے گالوں پر لڑھکتے آنسو پہلے اپنے ہاتھوں سے پونچھے پھر اپنے فراک کی جیب سے رومال نکال کر اس سے باربی ڈول کا چہرہ صاف کیا۔




  • عکس — قسط نمبر ۲

    وہ اس اسٹینڈنگ مرر کے سامنے کھڑی چند لمحوں کے لیے جیسے فریز ہو گئی تھی۔ خیر دین ہمیشہ اسے نصیحت کیا کرتا تھا۔
    ”بیٹا۔ شام کے بعد کبھی گھر میں لگے آئینوں کے سامنے مت جانا اور خاص طور پر برآمدے میں پڑے اس بڑے آئینے کے سامنے۔” چڑیا، خیر دین کی نصیحت پر کچھ حیران ہو گئی تھی۔
    ”پر کیوں نانا؟”
    ”کہتے ہیں شام کے بعد وہ آئینے دیکھنے آتے ہیں۔” خیر دین نے کچھ اٹک کر اسے بتایا۔ چڑیا نے وہ کا حدوداربہ نہیں پوچھا تھا۔ وہ جانتی تھی، وہ کون تھے؟ اس کا چہرہ خوشی اور جوش سے سرخ پڑ گیا تھا۔ خیر دین کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ اپنی احتیاطوں میں اس نے چڑیا کو جیسے خزانے کی کنجی دے دی تھی۔ تو بالآخر اب سارے گھر میں ماری، ماری پھرنے کے بجائے اسے صرف شام کے بعد گھر میں لگے ہوئے آئینوں کے آس پاس رہنا تھا۔ چڑیا نے دل ہی دل میں اپنی نئی حکمت عملی طے کی۔
    نانا آپ نے کبھی ان آئینوں میں ان کو دیکھا؟” چڑیا نے جیسے بڑی احتیاط کے عالم میں سرگوشی کی۔ خیر دین نے اسے سمجھا دیا تھا کہ بار بار ان کا نام نہیں لینا چاہیے ورنہ وہ ناراض ہو سکتے ہیں تو چڑیا اب اکیلے میں بھی ان کو بونا نہیں کہتی تھی البتہ ان بونوں کے نام لینے میں اسے تامل نہیں ہوتا تھا۔




    ”نہیں، میں نے تو نہیں دیکھا لیکن گھر میں رہنے والے دوسرے نوکروں نے دیکھا ہے… خاص طور پر وہ باہر والے بڑے آئینے میں۔” خیر دین روانی میں بتاتا گیا۔ چڑیا کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اسی وقت چڑیا کی طرح اڑتے ہوئے ان آئینوں کے اردگرد منڈلانے لگے۔
    اگلے دن ڈی سی ہاؤس میں آتے ہی چڑیا نے سب سے پہلے گھر کے آئینے گننے شروع کر دئیے تھے۔ بیرونی آئینے کے علاوہ گھر کے مرکزی ہال، اندرونی برآمدے اور چند دوسرے کمروں میں ملا کر پانچ چھوٹے بڑے آئینے تھے۔ کچھ کمرے جو بند تھے وہ وہاں کے آئینے نہیں گن سکتی تھی اور ان میں سے صرف ایک آئینہ تھا جو چڑیا شام کے بعد آسانی سے دیکھ سکتی تھی اور وہ مرکزی دروازے کے باہر برآمدے میں لگا… شیول اسٹینڈنگ مرر تھا۔ اس آئینے نے سات آٹھ سال کی اس بچی کو پہلے کبھی اس طرح فیسینیٹ نہیں کیا تھا جس طرح اب کرنے لگا تھا۔ وہ دن میں بھی کئی بار اب اس آئینے کے پاس جانے لگی تھی۔ کئی بار آئینے کے سامنے کھڑی وہ اس کے اکھڑے ہوئے پینٹ بیکنگ میں کنٹا، منٹا، شنٹو، ڈیڈو، ٹوفو، ٹوکو، کیٹو کو ڈھونڈنے کی کوشش کرتی رہتی… بعض دفعہ گلیکسی کے ستاروں کی شکل کی طرح وہ بھی اس پینٹ میں ان سات بونوں کو کسی نہ کسی حد تک ڈھونڈ ہی لیتی… اور بعض دفعہ وہ اسے حرکت کرتے بھی نظر آتے صرف اسٹیٹک نہیں… لیکن پھر بھی اس کا لاشعور کہیں نہ کہیں اس سے کہہ رہا تھا کہ جو وہ آئینے میں پہچان رہی ہے وہ غیر مرئی نہیں ہے… وہ ویسا پراسرار اور مافوق الفطرت نہیں تھا جتنا گھر میں خودبخود حرکت کرنے والی چیزیں جو اب اس کے لیے para normal چیز نہیں رہی تھی۔ وہ ان حرکت کرنے والی چیزوں کے تعاقب میں جاتی تھی، تجسس اور اشتیاق کے عالم میں… خیر دین کی طرح آیات نہیں پھونکتی تھی… بلکہ کئی دفعہ اس حرکت کرنے والی چیز کو بعد میں بھی الٹ پلٹ کر دیکھتی رہتی یوں جیسے وہ اس نظر نہ آنے والے بونے کی کوئی نشانی اس چیز پر دیکھنا چاہتی تھی جو اسے حرکت دیتا رہا تھا۔ اسے کبھی کچھ نظر نہیں آیا تھا… کیونکہ وہ یہ طے نہیں کر پائی تھی کہ آخر وہ ان گلاسوں، پلیٹوں اور دوسری چیزوں پر دیکھنا چاہتی تھی… کوئی بڑا شاید ان چیزوں پر فنگر پرنٹس تلاش کرتا کوئی دوسرا نشان یا پھر کوئی بالوں کا ٹکڑا… چڑیا ان بونوں کے کپڑوں، جوتوں اور پہنی ہوئی دوسری چیزوں کا کوئی حصہ دیکھنا چاہتی تھی… ان کی رنگین پُھندنے والی ٹوپی کے کوئی دھاگے، ان کے رنگین رومال ، کوئی سونے یا چاندی کا سکہ… کوئی بٹن… یا کوئی ایسی چیز جسے وہ اپنے پاس فخریہ طور پر رکھ سکے اور پھر سب کو دکھا سکے۔
    لیکن دن گزرتے گئے اور اسے وہاں کوئی بونا نظر نہیں آیا اور جب وہ انتظار اور امید ختم کر بیٹھی تب یک دم اس شام اسے باہر برآمدے میں لگے آئینے میں پہلی بار کچھ نظر آیا تھا۔ وہ اس شام خیر دین اور گھر کے دوسرے ملازمین کے ساتھ نئے ڈپٹی کمشنر کے انتظار میں گھر کے باہر کھڑی تھی۔ نیا ڈپٹی کمشنر اس گھر میں منتقل ہونے سے پہلے اس گھر کا جائزہ لینے کے لیے اس شام وہاں آنے والا تھا اور خیر دین اس کے اصرار پر اسے بھی وہاں ساتھ لے آیا تھا۔ وہ خود دوسرے ملازمین کے ساتھ گپ شپ لگانے لگا اور چڑیا ہمیشہ کی طرح سامنے والے لان میں بیٹھی ہوئی بلیوں کے ساتھ کھیلنے لگی۔ ان بلیوں کے ساتھ دوڑتے بھاگتے وہ پسینے سے شرابور ہو گئی تھی اور کسی بلی کے پیچھے بھاگتے بھاگتے ہی وہ لان سے ڈرائیو وے اور وہاں سے برآمدے میں آئی تھی اور برآمدے میں آتے ہی بلی کو بھول کر وہ اس آئینے کی طرف آئی تھی۔ شام ہو رہی تھی، پھولی ہوئی سانس اور پسینے سے شرابور وہ آ کر آئینے کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ وہ اس وقت آئینے میں اپنے بال اور چہرہ صاف کرنا چاہتی تھی لیکن اس نے آئنے میں کچھ دیکھا تھا۔ ایک نظر میں وہ اسے اپنا وہم لگا تھا لیکن وہاں آئینے میں کچھ تھا… کوئی کھڑا تھا… وہاں کسی کا عکس تھا… بہت چھوٹے سے قد کا کوئی…
    اس سے پہلے کہ وہ غور کر پاتی خیر دین نے اسے آواز دی تھی۔ ڈپٹی کمشنر کی گاڑی گھر کے اندر داخل ہو رہی تھی۔ تمام ملازمین مستعد ہو گئے تھے۔ چڑیا نے خیر دین کی آواز پر لاشعوری طور پر ایک لمحے کے لیے پلٹ کر دیکھا پھر وہ دوبارہ گردن موڑ کر اس آئینے کو دیکھا… وہاں اب وہ نہیں تھا… جو اسے نظر آیا تھا… سیاہ رنگت والا ایک بے حد چھوٹے قد اور بڑی بڑی موٹی آنکھوں اور سرخ موٹے ہونٹوں والا ایک آدمی… جو اسے دیکھ رہا تھا… نظریں جمائے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے… وہ بے حد بدصورت تھا… اور ایک لمحے کے لیے چڑیا کا جسم پتے کی طرح کانپا تھا۔ اس نے زندگی میں اس جسامت کا کوئی انسان پہلی بار دیکھا تھا… لیکن اس کا تجسس غائب نہیں ہوا تھا… خوف اور تجسس… لیکن اس کے نظر ہٹاتے ہی وہ آئینے سے غائب ہو گیا تھا… اور اب جب وہ دوبارہ آئینے کو دیکھ رہی تھی تو وہ وہاں نہیں تھا… آئینے پر برآمدے میں جلنے والی روشنیوں کا عکس پڑ رہا تھا۔ چڑیا چند قدم اور آگے بڑھ آئی یوں جیسے وہ آئینہ کوئی دیوار تھا جس کے پار و ہ دیکھنا چاہتی تھی… وہاں اس آئینے میں اب اس کا اپنا عکس تھا… اپنے چہرے اور آنکھوں کی حیرانی کے ساتھ… اس کے ذہن نے اس آدمی کو بونا نہیں سمجھا تھا… بونے ایسے نہیں ہو سکتے تھے… وہ کیوٹ، شرارتی ، رنگین کپڑوں اور معصوم چہروں والی مخلوق تھی چڑیا کے ذہن میں… اور آئینے میں نظر آنے والے آدمی کا سیاہ جسم کسی ریچھ کے جسم کی طرح بالوں سے ڈھکا ہوا تھا صرف اس کا چہرہ تھا جو نسبتاً صاف تھا۔
    ایک لمحے کے لیے اس نے آنکھیں بند کیں پھر آہستہ آہستہ آنکھیں کھولتے ہوئے اس نے دوبارہ آئینے کو دیکھا اور اس بار اس کی آنکھیں ایک بار پھر حیرانی کے عالم میں کھلی تھیں۔
    آئینے میں اب ایک بے حد خوبرو، دراز قد آدمی کا عکس تھا جو برآمدے میں داخل ہو رہا تھا۔ چڑیا نے حیرانی سے آئینے کو دیکھا۔ وہ ٹھگنا، بدصورت آدمی اتنا خوبصورت اور لمبا کیسے ہو گیا تھا…؟ وہ ایک لمحے کے لیے حیران ہوئی… پھر اس نے اس آدمی کے پیچھے خیر دین اور دوسرے لوگوں کا عکس دیکھا اور وہ جیسے کرنٹ کھا کر حال میں واپس آئی تھی۔ وہ نیا ڈپٹی کمشنر تھا۔
    ”سر یہ میری نواسی ہے۔” چڑیا نے پلٹ کر دیکھا۔ نیا ڈپٹی کمشنر اور باقی تمام لوگ اب اس کے سامنے تھے اور خیر دین بڑے عاجزانہ انداز میں ڈپٹی کمشنر سے اس کا تعارف کروا رہا تھا جو پہلے ہی اسے دیکھ رہا تھا۔ چڑیا نے خیر دین کے تعارف پر سلام کرتے ہوئے پُراعتماد انداز میں آپنا ہاتھ اس ڈپٹی کمشنر کی طرف بڑھایا تھا جس نے کچھ دلچسپی سے اسے دیکھا۔ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اس سے ہاتھ ملایا پھر خیر دین سے کہا۔
    ”ہاں۔ عابد نے بتایا تھا مجھے۔” وہ کہتے ہوئے اندرونی دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ چڑیا نے ایک لمحے کے لیے ان تمام لوگوں کو اندر جاتے ہوئے دیکھا پھر وہ دوبارہ پلٹ کر اس آئینے کو دیکھنے لگی جس میں اس نے آج ایک بونا دیکھا تھا لیکن وہ اسے پہچان نہیں پائی تھی۔
    …٭٭…




  • مصطفیٰ — اُمِّ زینب

    مصطفیٰ — اُمِّ زینب

    مجھے اپنی ایک بات جو سب سے زیادہ اچھی لگتی ہے و ہ یہ کہ میں اپنی لاکھ مصروفیات کے باوجود اپنا تعلق اللہ تعالیٰ سے ضرور جوڑے رکھتی ہوں بلکہ یہاں یہ کہنا مناسب ہو گا کہ اچھے تعلقات بنانے کی کوشش کرتی رہتی ہوں۔ اس کی دو خاص وجوہات ہیں، ایک مصطفی اور دوسری کہ یا اللہ! میرے پاس بہت سارا پیسا آجائے۔ اب آپ ہی بتائیں یہ دونوں چیزیں تو مجھے اکٹھی اللہ تعالیٰ ہی دے سکتا ہے۔
    جب سے مصطفی میری زندگی میں آیا ہے نجانے کیوں آنکھ کھلتے ہی میرے ذہن میں آدھمکتا ہے اور جب تک میں سو نہیں جاتی کوئی لمحہ ایسا نہیں ہو تاکہ اس کی یاد میرے ساتھ نہ ہو، مگر پھر بھی صبح صبح میں ایک اچھی مسلمان بننے کی کوشش کرتی ہوں۔ کلمہ پڑھ کر اٹھتی ہوں کہ کہیں اللہ تعالیٰ مجھ سے ناراض نہ ہو جائے اور آج میری اور مصطفی کی کوئی لڑائی نہ ہو جائے یا ہمیں کوئی اور پریشانی نہ آجائے۔




    مصطفی… مصطفی… مصطفی! آخر یہ مصطفی میری زندگی میں اتنا اہم کیوں ہے؟ کون ہے یہمصطفی؟
    جی ہاں ٹھیک سمجھے آپ میری زندگی مصطفی سے شروع ہو کر مصطفی پر ہی ختم ہوتیہے۔
    دو سال پہلے میری ملاقات مصطفی سے اس کے گھر پر ہوئی۔ میری سہیلی انیتا جس بلڈنگ میں رہتی تھی، مصطفی کا فلیٹ بھی اسی بلڈنگ میں تھا۔ میں اور انیتا اس کے گھر گئیں کہ انیتا کو اپنا لیپ ٹاپ ٹھیک کروانا تھا۔ مصطفی کمپیوٹر سے متعلق ہر طرح کا کام جانتا تھا مجھے وہ بہت ہی سلجھا ہوا انسان لگا پھر میری دوسری ملاقات اس سے تب ہوئی جب اس کے ابو کا انتقال ہوا۔ اس وقت مجھے وہ اپنے جیسا لگا، بہت ہی بے بس اور اکیلا۔ میں آٹھ سال کی تھی اور میری چھوٹی بہن ایک سال کی جب میرے ابو فوت ہو ئے تھے۔ مجھے آج بھی وہ تکلیف یاد آتی ہے، جو مجھے اپنے ابو کے فوت ہونے پر ہوئی تھی تو میرا دم گُھٹنے لگتا ہے۔
    میں اپنی بہن کے ساتھ مصطفی کے گھر کھانا لے کر گئی۔ آج تیسرا دن تھا۔ میں اس کے گھر روز کھانا لے کر جاتی تھی۔ اس کے سب رشتے دار جا چکے تھے۔ ویسے تو اس کی امی روز کھانا لیتی تھیںلیکن آج اس کی امی سو چکی تھیں۔
    ”آپ تکلیف نہ کیا کریں ہم کل سے خود ہی پکا لیا کریں گے، دو لوگ ہی تو ہیں ہم۔” مصطفی نے شکر گزار سا ہوکر کہا۔
    ” کوئی بات نہیں! کچھ دن ہم کام آجائیں گے تو کیا فرق پڑے گا۔ بعد میں ساری زندگی آپ نے خود ہی کرنا ہے اور ہمسائے کس لیے ہوتے ہیں۔” میں نے اسے ٹرے پکڑاتے ہوئے کہا۔
    اس نے مجھے بیٹھنے کو کہا۔ میں بیٹھ تو گئی لیکن بات کرنے کے لیے میرے پاس کوئی اور موضوع نہ تھا۔ پھر میں نے اسے اپنے ابو کے فوت ہونے کی تھوڑی بہت تفصیل بتائی اور اس کا دل ہلکا کرنے کے لیے اس کے ابو کے بارے میں بہت ساری باتیں پوچھیں۔ میں اس کے درد کو اپنے دل سے محسوس کر سکتی تھی اور جانتی تھی کہ اس کڑے وقت میں اسے ایک دل کی بات سُننے والے کی اشدضرورت ہے۔
    اس رات گھرآکر میں بہت دیر تک اس کے بارے میں سوچتی رہی ۔وہ مجھے بہت اپنا اپنا سا لگا۔ یہ بڑھتی عمر کا تقاضا تھا یا شاید اس لیے کہ اس کا اور میرا دکھ ایک جیسا تھا بلکہ شاید نہیں یقینا ایسا ہی تھا۔ وہ مجھے اچھا بھی لگنے لگا۔ مجھے لگا بغیر اجازت ہی وہ میرے دل میں گھر کرتا چلا جا رہا تھا جب کہ میں نے ہمیشہ یہی سوچا تھا کہ میں کسی امیر کبیر آدمی سے محبت کروں گی۔ اکثر جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی لڑکیاں سوچتی ایسا ہی ہیں۔ مگر یہ بات آج حقیقت بن کر میرے سامنے آگئی کہ محبت کی نہیں جاتی بلکہ محبت ہو جاتی ہے۔ آہستہ آہستہ ہم دونوں ہی ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہو گئے۔ میں جس ڈیپارٹمنٹل اسٹور میں کام کرتی تھی وہاں اکائونٹس میں مصطفی کو بھی میرے کہنے پر جاب مل گئی۔ ہم روز بس پر اکٹھے ہی جاتے اور شام کو اکٹھے واپس آتے۔
    یہ اسٹور کراچی ڈیفنس میں واقع تھا۔ اس سپر سٹور میں ہماری ڈیوٹی صبح آٹھ بجے سے رات آٹھ بجے تک تھی۔ ہر پندرہ دن بعد ہمیں ایک چھٹی ملتی تھی۔ روز شام کو میں اور مصطفی کچھ دیر ایک کیفے میں بیٹھ کر کافی پیتے۔ کبھی کبھی میں سوچتی تھی کہ ہم ہر روز ساتھ ہوتے، ساتھ آتے جاتے اور رات کو دیر تک فون پر بات بھی کرتے ہیں، مگر پھر بھی ہماری باتیں ختم کیوں نہیں ہوتیں؟لیکن شاید اسی کو انڈرسٹینڈنگ کہتے ہیں۔




    میرے ابو کی وفات سے پہلے ہمارے حالات بہت اچھے تھے پھر اچانک پتا چلا کہ انہیں کینسر ہو گیا ہے۔ شروع میں انہوں نے میری امی سے یہ بات چھپائی، مگر جب تکلیف حد سے بڑھنے لگی تو انہوں نے امی کو بتا دیا۔ انہی دنوں میری چھوٹی بہن پیدا ہوئی تھی۔ اسی ایک ڈیڑھ سال کے اندر ابو کی جاب تو گئی ساتھ ہی ان کے علاج پر بہت سا پیسا بھی لگ گیا۔ میرے ابو ہمیشہ امی کی ہر ضرورت کا خیال رکھتے تھے مگر ان حالات میں وہ اپنے آپ کو بے بس محسوس کرنے لگے۔ کچھ پیسے انہوں نے بینک میں جمع کروا دیے کہ اس کا منافع آئے گا، تو گھر کا کچن چلتا رہے گا۔ مجھے یاد ہے ابو سو بھی جاتے تو امی ان کے پاس بیٹھ کر قرآنی آیات پڑھتی رہتیں خیر اللہ کو جو منظور تھا ہونا تو وہی تھا۔ ابو ہمیں اکیلا چھوڑ کر چلے گئے اور ایک سال کے اندر ہی ہمارا شمار مڈل کلاس سے سفید پوش افراد میں ہونے لگا۔ وہی رشتہ دار جو ہمارے ساتھ خوشی سے ملتے اب ہمارے رابطہ کرنے پر بھی بات کرنا پسند نہیں کرتے تھے گو کہ میں تب صرف آٹھ سال کی تھی مگر اس سال نے مجھے یہ بات بہت اچھی طرح سمجھا دی کہ ہماری زندگی میں پیسے کی بہت اہمیت ہے۔
    امی کو اپنے دکھ شیئر کرنے کے لیے کوئی نہیں ملتا تھا۔ ابو نے تو انہیں شہزادیوں کی طرح رکھا ہوا تھا۔ ایک دن میں اسکول سے واپس آئی تو امی کمرے میں فرش پر گری ہوئی تھیں۔ میں پڑوسیوں کے ساتھ مل کر انہیں ہاسپٹل لے کر گئی۔ وہاں جا کر پتا چلا کہ ان پر فالج کا شدید اٹیک ہوا ہے۔ امی گھر تو آگئیں، مگر اب وہ صرف بیڈ پر ہی تھیں۔ شروع شروع میں مجھے اپنی ہی ماں کی ماں بن کر تیمار داری کرنابہت مشکل لگا ۔ وہ بس زندہ تھیں اور اس وقت کی صورت حال میں میرے لیے یہ بھی غنیمت تھا۔
    میں وقت کی اس خوبی کو سراہے بغیر نہ رہ سکی کہ مشکلضرور تھا، مگر گزرتا جا رہا تھا۔ امی کا خیال رکھ کر اور گھر کے اخراجات کا حساب رکھتے میں اپنی عمر کے لوگوں سے زیادہ سمجھدار ہو چکی تھی۔
    اتنی مشکلا ت سے گزر کر جب مصطفی میری زندگی میں آیا تو مجھے ہر وقت ایک خوش گوار سا احساس گھیرے رکھتا۔ اپنے اور اس کے روشن مستقبل کی امید نے مجھے نئی زندگی دی۔ مصطفی نے مجھ سے کئی بار شادی کا کہا، مگر میں نے ہر بار اسے یہی کہا کہ جب ہم دونوں کے پاس بہت ساری بچت ہو گی تب ہم شادی کریں گے تاکہ ہمیں کسی قسم کی کوئی بھی پریشانی نہ ہو۔ مصطفی ہر بار مُسکرا کر خاموش ہو جاتا۔
    اس کا نظریہ ہمیشہ سے یہ تھا کہ زندگی کو ہر لمحے بھرپور طریقے سے جینا چاہیے، آنے والی بڑی بڑی خوشیوں کے انتظار میں اپنی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے جب کہ میرا نظریہ اس کے برعکس تھا۔ وہ ہر لمحے کو جینا چاہتا تھا اور میں ہر لمحے اچھے لمحات کے آنے کا انتظار کر رہی تھی۔ ان سب باتوں کے باوجود جس طرح دولت میرا مقصد اور جنون تھی اسی طرح مصطفی بھی میرا مقصد اور جنون تھا۔
    پھر اچانک ہماری زندگی میں ایک ایسا موڑ آیا کہ میں نے اپنے جنون اور مقصد کو پانے کے لیے اپنا سب کچھ دائو پر لگا دیا۔ جی ہاں! میں نے مصطفی کو ہی کھو دیا اپنے ہاتھوں، کسی اور کے حوالے کر دیا، مگر یہ کیا اس کے بعد… کوئی چیز اور کوئی بات بھی مجھے خوش نہ کر سکی۔ مجھے سمجھ نہ آتا کہ مصطفی غلط تھا یا میں غلط تھی؟ نہیں! میں غلط نہ تھی، مصطفی ہی بے وفا تھا۔ کیا یہ سب مصطفی کے لیے اتنا ہی آسان تھا؟ وہ تو کہتا تھا کہ مجھے دولت کی ہوس نہیں۔ وہ تو کہتا تھا میرے لیے تم ہی سب کچھ ہو۔ پھر یہ سب کیسے ہو گیا؟




  • موسمِ گُل — عاصمہ عزیز

    خوب صورت شاہ ولا جس کی پیشانی پر ماشا اﷲ کی تختی سجی تھی، میں اس وقت گہرا سکوت چھایا ہوا تھا۔
    شان دار فرنیچر سے مزّین شاہ ولا کے ڈائننگ روم میں اس وقت دو لوگ دوپہر کے کھانے کے لیے غیر آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ ان میں سے ایک کے چہرے پر سوچ اور تفکر کا گہرا جال بچھا تھا جب کہ دوسرے کے دلکش نقوش سے غصہ اور جھنجھلاہٹ واضح تھی۔
    ”با باپلیز ٹرائی ٹو انڈرسٹینڈ ….میں نہیں کرسکتی ابھی شادی وادی۔” عنایہ شاہ نے پچھلے دوتین دنوں سے بار بار دہرایا جانے والا جملہ ایک دفعہ پھر دہرایا۔ بیٹی کی بات سن کر حیدر شاہ کا نوالہ پکڑے منہ کی طرف جاتا ہاتھ لمحہ بھر کے لیے ہوا میں معلق ہوا، لیکن اگلے ہی لمحے انہوں نے پلیٹ پر جھکی اپنی نظریں اٹھائیں اور سپاٹ چہرے کے ساتھ بیٹی کو گھورتے ہوئے کہا۔
    ”میں نے آپ سے آپ کی رائے نہیں پوچھی… اور نہ ہی آئندہ اس بارے میں میرا ایسا کوئی ارادہ ہے۔”




    ”لیکن بابا”….. عنایہ نے کچھ کہنے کے لئے منہ کھولا، لیکن حیرت اور دکھ کی شدت سے اس کی آواز حلق کے اندر ہی گھٹ کررہ گئی۔
    ”مم… میں پڑھنا چاہتی ہوں ابھی۔” کچھ دیر خود پرقابو پانے کے بعد اس نے بہ مشکل یہ الفاظ ادا کیے تھے۔ آج سے پہلے اسے اپنے باباسے بات کرنے کے لئے کبھی الفاظ نہیں سوچنا پڑے تھے۔تین سال کی عمر میں ماں کی وفات کے بعد سے انہوں نے اس کی ہر خواہش کو الفاظ میں ڈھلنے سے پہلے پورا کیا تھا۔ عنایہ شاہ کا شمار ان لوگوں میں ہوتاتھا جو منہ میں سونے کا چمچہ لے کر اس دنیا میں قدم رکھتے ہیں اور جنہیں ”انکار” اور ”نہیں” جیسے لفظوں سے بہت کم واسطہ پڑتا ہے۔
    ”جسٹ سٹاپ اٹ! کوئی لیکن ویکن نہیں چلے گا۔” انہوں نے سخت لہجے میں اسے ٹوکتے ہوئے اپنے بٹوے سے چند بڑے نوٹ نکال کر ٹیبل کی سطح پراس کے سامنے رکھتے ہوئے کہا:
    ”یہ کچھ رقم رکھیں اور اپنی پسند سے شاپنگ کیجیے۔ اس جمعہ کو آپ کا نکاح ہے۔” انہوں نے یہ کہتے ہوئے اس کے حیرت سے گنگ چہرے سے نظریں چرالیں۔ عنایہ باپ کے اس رویے کی وجہ سمجھنے سے قاصر تھی۔ اس نے سامنے پڑے لوگوں کو نظرانداز کرتے ہوئے ایک جھٹکے سے کرسی کھسکائی اور منہ بنائے اپنے کمرے کی طرف چل دی۔
    ”تم؟ تمہاری ہمت کیسے ہوئی؟” کمرے میں ملازمہ کی موجودگی نے اس کے غصے کی شدت سے بڑھتے پارے کو آسمان سے مزید باتیں کرنے پر مجبور کردیاتھا۔عنایہ شاہ باپ کے برعکس اپنے ملازموں کو عام انسان کے بجائے احساسات وجذبات سے عاری غلاموں کا درجہ دینا زیادہ پسند کرتی تھی۔
    ”وہ… وہ بی بی جی!” ملگجے سے کپڑے زیب تن کیے پکی عمر کی ملازمہ کے ہاتھ میں کانچ کا نفیس گل دان لرز رہا تھا۔
    ”شٹ اپ نان سنس! نکل جائو میرے کمرے سے اپنا گندہ وجود لے کر۔” وہ غراتے ہوئے جو منہ میں آیا بولتی چلی گئی تھی۔ پرُ غرور لہجے میں اپنے سے کم حیثیت ملازمہ کو برا بھلا کہتے ہوئے شاید وہ یہ بھول گئی تھی کہ انسان کو اس دنیا میںمحض اپنے برے اعمال کا ہی نہیں بلکہ اپنی زبان سے ادا کیے سخت الفاظ کابھی خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا ہے۔
    ٭…٭…٭




    حیدر شاہ اور شاہ نواز شاہ دو ہی بھائی تھے۔حیدر شاہ فطرتاًملنسار اور نرم مزاج کے حامل تھے جب کہ شاہ نواز شاہ کی طبیعت میں غروروتکبر اور دولت کی لالچ وہوس کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ اسی لئے شاہ نواز شاہ نے ماں باپ کی وفات کے بعد جائیداد اور کاروبار میں سے اپنا حصہ بانٹتے ہوئے شاہ ولا سے نکل کر الگ گھر میں رہنا پسند کیا تھا۔
    گھر اور کاروبار کی علیحدگی کے بعد شاہ نواز شاہ کو اگر کوئی چیز اپنے بھائی سے جوڑے ہوئے تھی تو وہ بھائی نہیں بلکہ پیسے کی محبت تھی جس کی انہیں اپنے نئے کاروبار کو جمانے کے لئے اکثروبیشتر ضرورت پڑتی رہتی تھی۔
    حیدر شاہ ان کے لالچی پن سے آگاہ ہونے کے باوجود اپنی فطرت اور بھائی کی محبت سے مجبور ہو کر ہمیشہ ان کی مدد کے لئے تیار کھڑے رہتے تھے۔
    وقت اسی طرح سرکتا رہا۔ کئی سال کسی سمندر کی منہ زور موجوں کی طرح تندی وتیزی سے بیت گئے۔
    انسان کی فطرت کا بدلائو کبھی بھی وقت کا محتاج نہیں رہتا۔ہزار وں قیمتی لمحے اور گھڑیاں بیت جانے کے باوجود انسان اپنی فطرت کو نہیں بدل سکتا۔ اسی طرح کئی سال بیت جانے کے باوجود شاہ نواز شاہ کی فطرت میں دولت کے لیے چُھپی حرص و ہوس میں کوئی فرق نہیں آیا۔
    ورثے میں ملی جائیداد کو عیش وعشرت میں اڑانے کے بعد اب شاہ نواز شاہ کی نظر اپنے بھائی کی جائیداد پر تھی، جسے وہ ہر قیمت پر حاصل کرنا چاہتے تھے اور اس کے لیے واحد ہتھیار عنایہ شاہ تھی، جسے بہو بنا کر وہ بآسانی اپنا مقصد حاصل کرسکتے تھے۔
    لیکن حیدرشاہ کے واضح اور دوٹوک انکار کے بعد وہ دل مسوس کررہ گئے تھے۔ پھر بھی وہ ہار ماننے والوں میں سے نہ تھے کیوں کہ اپنی منزل تک پہنچنے کے لئے انہوں نے پہلی سیڑھی پر قدم رکھتے ہوئے عنایہ شاہ کے سامنے محبت کا جال بچھا دیا تھا۔
    ٭…٭…٭
    کمرا نیم تاریک تھا۔ وہ اس وقت بیڈ سے ٹیک لگائے اپنے بستر پر نیم دراز تھے۔اپنی بیٹی عنایہ شاہ کے مستقبل کا خوف انہیں کسی زہریلے ناگ کی طرح ڈس رہا تھا۔جس دولت اور جائیداد کو انسان اپنی خوشیوں کی ضمانت سمجھتا ہے، اس وقت وہی دولت انہیں اپنی دشمن دکھائی دے رہی تھی۔
    کاش! وہ اس دولت اور جائیداد کے عوض اپنی بیٹی کے خوش گوار مستقبل کویقینی بناسکتے ۔انہوں نے اپنی شہادت کی انگلی سے کنپٹیاں سہلاتے ہوئے سوچاتھا۔ آج سے ایک سال پہلے ہی وہ برین ٹیومر جیسی موذی بیماری کا شکار ہونے کا اور اس بات کا علم ان کے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے مرحوم دوست کے بیٹے عرشما ن کے علاوہ کسی کو نہیں تھا۔ جسے انہوں نے حال ہی میں اس کی ذہانت اور قابلیت کی بنا پر اپنے آفس میں اعلیٰ عہدے پر فائز کیا تھا۔ وہ حیدرشاہ کی بیماری کا راز اپنے سینے میں دبائے سگے بیٹوں کی طرح ڈاکٹر سے ان کا چیک اپ کرواتا اور ان کا خیال رکھتاتھا۔ حیدر شاہ کے لیے بھی وہ محض ایک تنخوار دار ملازم نہیں تھا بلکہ وہ اسے سگے بیٹے کا درجہ دیتے تھے۔ رشتے صرف خون کے نہیں ہوتے بلکہ احساس کے بھی ہوتے ہیں۔بعض دفعہ جب خونی رشتے ہمیں راستے میں پڑے بے جان پتھر کی طرح ٹھوکر مار کرچلے جاتے ہیں، تو احساس کے رشتے ہی ہماری اندھیری دنیا میں روشنی لاتے ہیں۔”
    پچھلے کئی ماہ سے ڈاکٹر انہیں سرجری کرانے کی پُر زور تاکید کر رہا تھا جسے وہ ہر بار ٹالتے رہے، لیکن اب آپریشن ان کے لئے ضروری ہوگیاتھاکیوںکہ بیماری ان کی بے پرواہی کی بنا پر اپنے پنجے گاڑ چکی تھی۔ اس لئے وہ کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے اپنی بیٹی کو لالچی و خودعرض رشتے داروں سے بچاتے ہوئے اس کے مستقبل کو محفوظ بنانا چاہتے تھے۔
    وہ سوچوں کی وادی میں ڈوبے ہوئے تھے کہ دروازے پر ہونے والی دستک اور اس کے بعد عنایہ کے نمودار ہونے نے انہیں چونکادیا تھا۔
    ”آئو بیٹا بیٹھو!” رسمی علیک سلیک کرتے ہوئے بیڈ سے کچھ فاصلے پر پڑے صوفے پر وہ ٹک گئی۔
    ”اور بیٹا شاپنگ کرلی آپ نے؟” حیدر شاہ نے بیٹی کے متذبذب چہرے پر نگاہیں ٹکائے بات کا آغاز کرتے ہوئے اسے بولنے کا موقع دیا۔
    ”جب مجھے شادی ہی نہیں کرنی تو شاپنگ کیسی؟” عنایہ شاہ نے منہ بنا کے اپنی ازلی ہٹ دھرمی کو برقرار رکھتے ہوئے کہا۔ کوئی اور موقع ہوتا، تو وہ شاپنگ کرنے سے کیسے منع کرسکتی تھی۔
    ”عرشمان میری پسند ہے اور آپ کو اپنے….” حیدر شاہ نے کچھ بولنا چاہا، لیکن عنایہ ان کی بات کاٹتے ہوئے بولی:
    ”بابا جان آپ اپنے اس تنخواہ دار ملازم کو میرے لئے کیسے پسند کرسکتے ہیں؟ میں نے زندگی میں ہمیشہ بہترین اورقیمتی چیزوں کا انتخاب کیا جب کہ اب آپ…”
    ”اسٹاپ اٹ!” انہوں نے اس کی پٹرپٹر چلتی زبان کو روکنے کے لیے درشتی سے ٹوکتے ہوئے کہا۔
    ”چیزوں کو تو دولت کے ترازو میں تولا جا سکتا ہے، لیکن انسانوں کو نہیں، انسان کو اخلاق وکردار کی بنیاد پر پرکھا جاتا ہے۔”
    ”اوکے! آپ قائم رہیں اپنے فیصلے پر، تب تک میں جا رہی ہوں، چچا جان کے پاس۔ چچا جان ٹھیک کہتے ہیں آپ ہم دردی میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے۔” وہ اٹھی اور دھپ دھپ کرتی کمرے سے نکل گئی۔
    حیدر شاہ اس کے باغیانہ لہجے کو محسوس کرتے اپنی خوش فہمی پر سوچتے رہ گئے کہ عرشمان کی ہم درد اور پُرخلوص شخصیت کی ضرورت ان سے زیادہ عنایہ کو ہے۔
    ٭…٭…٭




  • میں، محرم، مجرم — افراز جبین

    میں، محرم، مجرم — افراز جبین

    اس نے لرزتے ہاتھوں سے ICU کا دروازہ کھولا۔ اس کا اکلوتا بیٹا، اس کے بڑھاپے کا سہارا آکسیجن ماسک، نالیوں اور ڈرپس میں لپٹا ہوا تھا۔ اس کے لبوں پر شکوہ نہیں بلکہ آنکھوں میں شرمندگی اور چہرے پر پچھتاوے کے سائے منڈلا رہے تھے۔
    مدثر کو ہسپتال میں داخل ہوئے آج تیسرا دن تھا۔ اسے ہوش آگیا تھا۔ نیند کی گولیاں زیادہ مقدار میں کھانے کی وجہ سے اس کے معدے کو مکمل طور پر واش کیا گیا۔ اس کی طبیعت ذرا سنبھلی تو انعم کے بے قرار دل کو ذرا سا سکون ملا، مگر مدثر نے ہوش میں آتے ہی اپنے سیدھے ہاتھ کی رگ کاٹ لی۔ رات کا ناجانے کون سا پہر تھا۔ انعم کی آنکھ لگی اور مدثر… اس کا مدثر ایک بار پھر زندگی سے کھیل گیا تھا۔
    خون بہت زیادہ بہ گیا تھا مگر خدا نے پھر بھی اس کی جان بچالی۔ دل میں بہت سے سوال اور آنکھوں میں آنسوؤں کے ساتھ انعم اسے دن رات صرف سگریٹ کے کش لگاتے دیکھتی۔ وہ کسی سے کیا کہتی؟ مدد کے لیے کس کو کیا پکارتی؟ اس کا اکلوتا بیٹا… وہ تو اپنے آپ کو آج تک معاف نہیں کر پائی تھی اور اب ایک نیا روگ۔
    ٭…٭…٭




    احمد علی سرکاری ملازم تھے، نہایت ایمان دار اور شریف النفس انسان۔ ان کی زندگی کا ایک اصول تھا کہ جو مرضی کرو بس حرام لو اور نہ ہی دو۔ اس قیمتی اصول کی سزا انہیں یہ ملتی کہ ان کی ماہانہ آمدنی مہینے کے درمیان میں ختم ہوجاتی اور باقی دن اگلے مہینے تنخواہ کی آس میں گزر جاتے۔ ان کی اہلیہبیگم فرخندہ بھی اپنے شوہر کی ہم مزاج تھیں اس لیے دونوں میاں بیوی کی خوب اچھی گزرتی، مگر پہ درپہ ہونے والی تین بیٹیوں اور تین بیٹوں نے گھر کا نقشہ ہی بدل دیا تھا۔ چھے بچے اور دو میاں بیوی۔ آٹھ لوگوں کا گزر، بسر بچوں کی تعلیم، کپڑا لتّا، زمانے کے ساتھ چلتے چلتے بیگم فرخندہ تو جیسے تھک سی گئی تھیں۔ اکثر سوچتیں اور نم آواز سے کہتیں:
    ”احمد علی! اپنی تو گزر گئی! بچوں کا کیا ہوگا؟ ان کی تعلیم، بچیوں کی شادیاں!”
    ”بیگم گھبراتی کیوں ہو؟ اللہ مالک ہے۔” وہ ہر بار ٹھنڈی سانس بھر کر یہی جواب دیتے۔
    احمد علی کے چھے بچے تھے، جو بالکل ماں باپ کی فطرت کے عکاس تھے۔ کوئی باپ کی طرح ایمان دار تو کوئی ماں کی طرح صابر۔ سب سے بڑے بیٹے عثمان نے میٹرک کرتے ہی پرائیویٹ ٹیوشنز پڑھانی شروع کردیں۔ فاخرہ، سلمیٰ اور علیشبہ بھی چھوٹی عمروں سے ہی گھر میں ٹیوشن پڑھانے لگیں۔ منجھلا بیٹا اکبر ایک کال سینٹر میں پارٹ ٹائم جاب کرتا، یوں گھر کا ہر فرد اپنے طور پر گھریلو اخراجات میں ایک اہم کردار ادا کرتا ماسوائے بلال کے۔ وہ گھر میں سب سے چھوٹا تھا۔ احمد علی نے کسی بچے کو خاص لاڈ پیار نہیں دیا تھا، لیکن بلال علی کی تو چال ہی نرالی تھی۔ وہ ہر وہ کام کرتا جس کی کسی کو توقع تک نہ ہوتی۔
    ”فرخندہ بیگم! یہ آخر کس مرض کی دوا ہے۔” احمد علی اکثر جھنجھلا کر پوچھتے۔
    ”بچہ ہے ابھی، رونق ہے گھر کی۔” وہ لاڈ سے کہتیں۔
    ”میں بتائے دیتا ہوں، تمہارا یہ بچہ کوئی گل ضرور کھلائے گا۔ دیکھ لینا۔” وہ ہر بار ٹھنڈی آہ بھر کر کہتے۔
    ٭…٭…٭
    ”احمد علی! احمد علی اٹھو۔” فرخندہ بیگم کی آواز نے احمد علی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
    ”کیا ہوگیا بھئی؟ کیوں چلا رہی ہو۔” نیند سے بھری آنکھیں مسلتے ہوئے احمد علی بڑُ بُڑائے۔
    ”وہ… وہ نا! وہ” فرخندہ بیگم کی آنکھوں میں آنسو تھے اور آواز اتنی بری طرح کپکپا رہی تھی کہ الفاظ بھی صحیح طرح منہ سے نہیں نکل رہے تھے۔
    ”وہ میرے امریکا والے کزن شجاع بھائی۔”
    ”شجاع! مرگئے کیا؟ بس جی موت ہے کسی کو کہیں بھی آجائے ولایت ہو یا دیس۔ یہ ظالم کہاں دیکھتی ہے کسی کو۔” احمد علی نے انتہائی سوگ وار لہجے میں کہا۔
    ”چُپ بھی کرو احمد علی! جو منہ میں آرہا ہے بولتے جارہے ہو۔ شجاع بھائی کا فون آیا تھا امریکا سے، وہ اگلے مہینے پاکستان آرہے ہیں۔”
    ”ہر سال ہی آتے ہیں تمہارے میکے والے…” احمد علی ابھی کچھ اور بھی بولتے مگر فرخندہ بیگم کی گھورتی نگاہوں نے انہیں یک دم خاموش کروا دیا۔
    ”شجاع بھائی اپنے دونوں بڑے بیٹوں کے لیے فاخرہ اور سلمیٰ کا رشتہ مانگ رہے تھے۔”
    وہ رات زیادہ خاموش تھی یا احمد علی، فرخندہ بیگم اسی کشمکش میں فجرکے لیے اٹھیں تو احمد علی کو مصلے پر سر رکھ کر گڑگڑاتے ہوئے بس اتنا سُنا:
    ”الٰہی! تیرا شکر ہے۔ الٰہی تیرا فضل ہے۔”
    ٭…٭…٭
    کرتا کوئی اور بھرتا کوئی ہے اور کتابوں میں پڑھا ہوا یہ محاورہ ہر کسی کو رٹا ہوا تھا۔ انعم سے اگر کوئی پوچھتا تو وہ بتاتی کہ اس کی زندہ مثال تو وہ خود تھی۔ آج سے اٹھارہ سال پہلے افضل کے نکاح میں آکر اس نے زندگی کا ہر میدان مار لیا تھا۔ افضل علی انتہائی خوب رُو، خوش مزاج اور ایک بڑی کمپنی کا مالک تھا۔ اس کی افضل علی سے پہلی ملاقات ایک بینک میں ہوئی تھی۔ وہ ٹیوشن فیس جو بچوں کے والدین بینک میں جمع کروا دیتے وہ ہر ماہ کی طرح اس مہینے بھی وہی لینے آئی تھی۔
    دروازہ کھولتے ہی سامنے منیجر کے کمرے سے نکلتے ہوئے افضل پر اس کی نظر پڑی تو وہ ایک لمحے کو رک سی گئی۔ براؤن لائنوں والی ٹی شرٹ، نیلی جینز، ہاتھ میں بہترین موبائل اور چہرے پر ہلکی سی ڈاڑھی، وہ تو جیسے نظر اٹھانا ہی بھول گئی تھی۔
    ”ایکسکیوزمی پلیز! ذرا راستہ دیجیے۔” پیچھے سے کسی بزرگ نے اسے دروازے کے بیچوں بیچ کھڑا دیکھ کر راستہ مانگا۔
    ”اوہ سوری!” وہ راستے سے ہٹی۔
    کیا خوب صورت چیز ہے، اس نے سوچ کر دل مسوس کیا۔ پھر اپنے خیالوں کو جھٹک کر آگے بڑھ گئی۔ پیسے نکلوا کر باہر نکلی تو گلفام موبائل پر کسی سے انگریزی میں بات کررہا تھا۔ اس کی کالی چمکتی ہنڈا سوک ساتھ ہی کھڑی تھی۔ انعم ابھی اسے اور دیکھتی کہ دو نقاب پوش بائیک پر تیزی سے آئے اور اس کے ہاتھ میں موجود بیگ جھٹکے سے کھینچا۔ وہ زور سے چیخی۔ اس سے قبل کہ وہ کچھ کرتی نقاب پوش اس کا بیگ لے کر ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے تیزی سے فرار ہوگئے۔
    ٭…٭…٭




    ”شجاع بھائی! میں ایک سرکاری ملازم ہوں۔ میں نہ تو آپ کے معیار کی شادی کرسکتا ہوں اور نہ ہی اتنا زیادہ جہیز دے سکتا ہوں۔” احمد علی نے انتہائی دھیمے لہجے میں کہا۔
    ”مجھے دولت اور حسن کی ہوس ہوتی تو بیٹوں کو امریکا میں بیاہ دیتا۔ مجھے اپنی نسل خاندانی خون سے بڑھانی ہے۔ اب اگر آپ نے ایسی کوئی ٹال مٹول کی تو میں انکار سمجھ کر چلا جاؤں گا۔” شجاع کی بات پر بیگم فرخندہ کا دل دہل گیا۔ ہر ماں کی طرح وہ بھی اپنے بچوں کی خوشی کے لیے لالچی ہوگئی تھیں۔ ان کا خیال تھا کہ فاخرہ اور سلمیٰ جاکر بھائیوں کو بھی امریکا بلوا لیں گی اور زندگی کے باقی دن آرام سے گزر جائیں گے، مگر احمد علی کی ایک ہی رٹ تھی کہ وہ اونچے لوگ ہیں۔
    ”نہیں شجاع بھائی، احمد علی کا یہ مطلب نہیں تھا۔ آپ بھی نہ بس۔” فرخندہ بیگم نے احمد علی کو ڈپٹا۔ تمام معاملات خوش اسلوبی سے طے پاگئے۔
    ٭…٭…٭
    ”Are you ok?” افضل کی آواز نے اسے سکتے سے باہر نکالا۔
    ”جی ہاں… وہ میرا بیگ، ٹیوشن کے پیسے، وہ ہوسٹل کی فیس۔” اس وقت وہ اپنے حواس میں نہیں تھی۔ اس کی آواز رندھ گئی تھی۔ کوئی اور موقع ہوتا تو وہ بھنگڑا ڈالتی۔ بالکل فلموں کی طرح ایک خوب صورت لڑکا اس کی مدد کر رہا تھا اور وہ کسی ہیروئن کی طرح مظلوم بن کر بیٹھی ہوئی تھی۔ مگر اس وقت اسے صرف یہ یاد تھا کہ اس کے پورے مہینے کی محنت، وہ پیسے چلے گئے اور ابو نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ اس مہینے بڑی مشکل سے بھیجے ہیں۔ اب کیا ہوگا؟
    ”Can I help you?” افضل نے پھر اسے پکارا تو اس نے زور زور سے رونا شروع کردیا۔
    ”Oh God! پلیز آپ روئیے مت۔ آپ گاڑی میں بیٹھیے۔” اس نے آگے بڑھ کر گاڑی کا دروازہ کھولا اور بھاگ کر سامنے چھوٹے سے جنرل اسٹور سے اس کے لیے پانی کی بوتل لے آیا۔ کچھ دیر بعد اس نے اسے ہوسٹل کے باہر اتار دیا۔
    ”بہت شکریہ!” انعم نے اداس لہجے میں کہا۔
    It’s ok! آپ میرا یہ کارڈ رکھ لیجیے، کبھی بھی ضرورت ہو توdo contact me”
    اس کی چمکتی ہوئی گاڑی تیزی سے آگے بڑھ گئی اور وہ بوجھل دل اور خالی ہاتھ ہوسٹل میں داخل ہوگئی۔
    ٭…٭…٭
    ”میں اپنے سب دوستوں کو بلاؤں گا۔” بلال نے گھر میں شورمچا رکھا تھا۔ ہر طرف گہما گہمی تھی۔ کبھی بازار کا چکر، کبھی کوئی مہمان آجاتا اور کبھی خود جانا پڑتا۔ گھر کی پہلی خوشی میں ہر کوئی بوکھلا یا ہوا پھر رہا تھا۔ احمد علی تو بس پورا دن حساب کتاب ہی کرتے رہتے۔
    ”ذرا دھیان سے کرو سارے کام! ابھی باقی بچے بھی ہیں۔”
    ”میں نے کبھی آپ کو پریشان کیا ہے؟ پھر کیوں آپ پریشان ہوجاتے ہیں۔” فرخندہ بیگم احمد علی کی اس بات پر کبھی الجھتی، کبھی ڈپٹتی اور کبھی شکوہ کناں انداز میں کہتیں۔
    ”وہ تو میں بس یوں ہی کہہ رہا تھا۔”احمد علی ذرا کھسیانے ہوکر کہتے۔
    ذیشان اشرف اور رقیہ بانو کی ازدواجی زندگی مڈل کلاس لوگوں کی طرح سرد، گرم اور نرم ہر مرحلے سے گزرتی مگر بندھن ہر موسم کے بعد مضبوط ہوجاتا۔
    انعم ان کی پہلی اولاد تھی۔ اس کے معصوم چہرے پر اس کی آنکھوں میں ایک مقناطیسی کشش اور بے باکی تھی۔ اس معصوم چہرے کی بولتی آنکھیں رقیہ بیگم کو بے پناہ بھاتیں۔ انعم کے بعد دوبیٹیوں اور ایک بیٹے نے ان کے آنگن کو مکمل کردیا۔
    بچوں کی پرورش، گھر گرہستی، شوہر سے محبت اور اس کی اطاعت رقیہ بانو کی کل کائنات تھی اور رقیہ بانو نے اپنی کائنات کو جنت بنانے کی ہر ممکن کوشش کی تھی۔ یہ جنت اس دن ہمیشہ کے لیے ویران ہوگئی جب رقیہ بانو نے دنیا سے منہ موڑ لیا۔ نہ کوئی بیماری، نہ کوئی تکلیف۔ بس اک شام ذرا سا دل گھبرایا، ذیشان اشرف جب تک آفس سے گھر پہنچے رقیہ بانو جا چکی تھیں۔ نہ کسی سے کچھ کہا نہ سُنا۔ اپنے آنگن کو بلکتی سسکیوں میں چھوڑ کر وہ اپنے ہی ہاتھوں سے بنایا ہوا گلشن ویران کرگئیں۔
    ٭…٭…٭
    ”مدثر کیا تم دوبارہ پڑھائی شروع نہیں کرسکتے؟” انعم نے ایک روز اپنی ساری ہمت جمع کرکے اس سے دو ٹوک انداز میں پوچھا۔ مدثر نے اسے پلٹ کر یوں دیکھا کہ وہ خود ہی سے نظریں چرا گئی۔
    ”بیٹا زندگی میں بہت سے اتار چڑھاؤ آتے ہیں۔ ہر شکست پر انسان کو ایسا لگتا ہے کہ زندگی اب رک گئی ہے، یہی آخر ہے۔ اس سے آگے کچھ نہیں، مگر پھر کچھ تگ و دو کے بعد زندگی دوبارہ شروع ہوجاتی ہے۔ سگریٹ کے دھوئیں میں غم کو جلانے سے دکھ کم نہیں ہوتا۔ دکھ پر وقت اپنا مرہم رکھ جاتا ہے۔ تمہیں بھی کچھ وقت لگے گا، مگر اس طرح سے بند کمرے میں تنہائی اور لاحاصل کی تمنا سے تو وقت بھی نہیں گزرے گا۔”
    اس نے آگے بڑھ کر مدثر کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھرا۔ دونوں ماں بیٹے کی آنکھوں سے چھلکتی برسات نے دونوں کے دلوں کواور بوجھل کردیا۔
    غم نے تو جیسے انعم کے گھر کی راہ ہی دیکھ لی تھی۔ اداسی اس کے آنگن میں گرمیوں کی دھوپ کی طرح اس کے وجود کو جھلسا رہی تھی۔ مدثر کو بہت زیادہ سمجھاتے، قسمیں اور وعدے دینے کے بعد اس نے آفس جوائن کرلیا مگر یونیورسٹی وہ نہیں جاتا تھا۔ سارا کاروبار خسارے میں جارہا تھا۔ جب مالک سر پر نہ ہو تو ملازمین مالک بن جاتے ہیں اور اس کے حق دار بھی بدل جاتے ہیں۔
    ٭…٭…٭




  • جب زمین تنگ ہوجائے — حنا نرجس

    تقریباً تین ماہ گزر چکے تھے لیکن ابھی تک لاشعوری طور پر میری نگاہیں دائیں جانب ہل ہل کر قرآن پڑھتے بچوں میں سے قطار کے اختتام پر اس خوف زدہ چہرے کو تلاش کرنے لگتیں، جو ایک عرصہ تک میری نگاہوں کا مرکز رہا تھا۔ اب تک تو یقینا اس کے ماں باپ کو بھی صبر آ چکا ہو گا لیکن میرے اندر جلتا پچھتاوے کا بھانبڑ بجھنے میں نہیں آتا تھا۔ وہ خوب صورت چہرے، نرم طبیعت اور مہذب لب و لہجے کا مالک بچہ تھا جسے اس کے باپ نے اچانک ہی ساتویں جماعت سے انگریزی میڈیم سکول سے اٹھا کر قرآن مجید حفظ کروانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ وہ خود بھی ان دنوں تازہ تازہ تبلیغی جماعت سے متاثر ہوئے تھے اور اکثر ان کے ساتھ اندرون و بیرونِ ملک جانے لگے تھے۔




    وہ بچہ شاید اس اچانک تبدیلی کو قبول نہیں کر پایا تھا کیوں کہ وہ مدرسے میں کسی سے بھی گھلتا ملتا نہیں تھا۔ اس کے طور طریقے سب سے الگ تھے۔ پتا نہیں کیوں میرے دل میں یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ میں اسے بہ طور استاد پسند نہیں آیا۔ ہو سکتا ہے یہ میرا وہم ہو لیکن یہ بات تو طے تھی کہ وہ دوسرے بچوں کی طرح مجھ سے ڈرتا نہیں تھا۔ بات کرتے وقت اس کا لہجہ مؤدب لیکن آواز مضبوط ہوتی اور یہی بات مجھ سے برداشت نہیں ہوتی تھی۔ پھر تو مجھے جیسے ضد ہو گئی کہ اس کو ہر صورت اپنے رعب و دبدبے میں لا کر ہی رہنا ہے۔ ہر گزرتے دن اس پر میری سختی بڑھتی چلی گئی۔ کھڑا کر کے سبق یاد کروانا، مرغا بنانا، دھوپ میں بٹھانا، دیر سے چھٹی دینا، ڈنڈے سے پیٹنا غرض یہ کہ کون سی سزا تھی جو میں نے اسے نہ دی ہو۔ وہ سبق پر محنت کر کے سزا سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرتا لیکن میں بھی اپنے نام کا ایک تھا، تلفظ کی کوئی معمولی غلطی پکڑ کر پھینٹی لگا دیتا۔
    دروازے پر دستک سن کر سحرش بیگم نے سنک کا نل بند کیا اور گیلے ہاتھ دوپٹے سے پونچھنے لگیں جب ہی وحید بولے:
    "رہنے دیں بھابھی میں نکل ہی رہا ہوں، دیکھ لیتا ہوں۔”
    وہ ابھی ابھی دودھ لے کر آئے تھے اور ٹی وی پر کوئی دینی پروگرام چلتا دیکھ کر ذرا دیر لاؤئج میں رک گئے تھے۔ وہ جلد ہی پلٹے، ان کی آواز میں قدرے تشویش تھی۔
    "بھابھی! مغیث کہاں ہے؟ مسجد سے لڑکا اس کا پوچھنے آیا ہے۔ گیا نہیں آج مدرسہ؟”
    سحرش بیگم چند ثانیے تو خالی نظروں سے ولید کو دیکھتی رہیں جیسے بات سمجھنے کی کوشش کر رہی ہوں پھر دھیمے لہجے میں بولیں:
    "وہ تو وقت پر چلا گیا تھا، مسجد میں نہیں ہے کیا؟” ان کے لہجے میں فکر مندی کے آثار جھلک رہے تھے۔
    "آپ پریشان نہ ہوں میں پتا کرتا ہوں۔” ان کو تسلی دیتے ہوئے وحید باہر نکلے تو ان کے اپنے ذہن میں منفی خیالات گردش کر رہے تھے۔” لگتا ہے مدرسے میں دل نہیں لگتا صاحب زادے کا، پر پرزے نکالنے لگے ہیں۔” مغیث سب پوتے پوتیوں میں بڑا ہونے کی وجہ سے دادا ابا کا بہت لاڈلا رہا تھا، یہی وجہ تھی کہ وحید کو اس سے قدرے پرخاش تھی جس کے اظہار کا موقع کم کم ہی میسر آتا تھا۔
    اس دن سے تو مجھے مزید شہ مل گئی جب وقت پر مدرسے نہ پہنچنے پر ایک لڑکے کو اس کے گھر بھیجا۔ کچھ ہی دیر بعد گھر، محلے اور مسجد میں مغیث کی ڈھنڈیا پڑ گئی جو بالآخر مسجد کے پچھواڑے پرانے سٹور میں پڑے کاٹھ کباڑ کے پیچھے دبکا ہوا ملا۔ اس کے چچا، جو استاد اور گھر والوں کی نگاہوں میں دھول جھونکنے کے اس مظاہرے پر سیخ پا ہو رہے تھے، اس کے کان کھینچتے، تھپڑ لگاتے میرے سامنے پیش کرتے ہوئے بولے:
    "قاری صاحب! میرا فون نمبر نوٹ کر لیں، آئندہ یہ دو منٹ کی بھی تاخیر کرے تو فوراً مجھے اطلاع کریں۔ بڑے بھائی صاحب تو بیمار والد صاحب اور دونوں گھروں کی ذمہ داری مجھ پر ڈال کر روانہ ہو جاتے ہیں، کل کلاں لڑکا ہاتھ سے نکل گیا تو اسے میری ہی لاپروائی تصور کیا جائے گانا۔”




    اس دو طرفہ سختی سے اس کا سارا اعتماد ہوا ہو گیا۔ میری من چاہی تبدیلی آرہی تھی۔ اب تو مجھے دیکھتے ہی اس کے جسم پر لرزہ طاری ہو جاتا۔ گھگھیا کر معافی مانگتا تو میرے من میں ٹھنڈ پڑ جاتی۔
    اگلی بار جب اس کے والد دورے سے لوٹے اور پڑھائی کے متعلق جاننے کے لیے میرے پاس تشریف لائے تو میں نے خود سے گھڑ کر اس کی خوب شکایتیں لگائیں۔ وہ سر جھکا کر دبی دبی آواز میں اکثر الزامات سے انکار کرتا رہا لیکن باپ کو تو استاد پر مکمل اعتماد تھا۔ خشمیگن نگاہوں سے اسے گھورتے وہ اٹھ کر چلے گئے اور میں مستقبل قریب میں اس کی درگت بننے کے خیال سے ہی محظوظ ہونے لگا۔ اس روز اس کی نگاہوں میں بے یقینی، شکوہ، رحم کی اپیل اور نہ جانے کیا کیا یک جا ہو گیا تھا لیکن میں انجان بنا رہا۔
    "قاری صاحب، قاری صاحب!”
    میری آنکھ ایک نسوانی آواز کے پکارنے پر کُھلی۔ رات کے دس بج رہے تھے۔ نیند سے ایک دم جاگنے پر پہلے تو میں کچھ سمجھ نہ پایا لیکن جب یادداشت بحال ہوئی تو یاد آیا کہ آج میں نے مغیث کی چھٹی بند کی ہوئی تھی اور تاخیر کچھ زیادہ ہی ہو گئی تھی۔ معلوم نہیں کب میری آنکھ لگ گئی اور وہ مجھے جگانے کی جرات نہیں کر پایا۔
    وہ برقع پوش ڈری ہوئی سی خاتون انتظار کا طویل دورانیہ گزار کر بالآخر ایک چھوٹے لڑکے کی انگلی تھامے اپنے لختِ جگر کی معافی کی درخواست لیے خود آن پہنچی تھی۔ ایک لمحے کو میرا دل کانپا لیکن جلد ہی میں نے خود کو پھر سے پتھر کر لیا۔ شکایات کی لمبی فہرست کے ساتھ احسان دھرتے ہوئے میں نے اسے چھٹی کا پروانہ عطا کیا۔
    میری سختیاں بڑھتی جا رہی تھیں۔ بچہ ہار تو کب کا چکا تھا، اب تو ذہنی طور پر بھی غائب محسوس ہوتا۔ سبق سناتے ہوئے بار بار اٹکتا، لگتا تھا وہ اب بہتری کی کوششیں تک ترک کر چکا تھا۔ شاید اسے مجھ سے کسی خیر کی امید نہیں رہی تھی۔ رت جگوں سے اس کی آنکھیں لال رہنے لگیں لیکن میں شیطان کے شکنجے میں کسا ہوا اپنا دل اس کے لیے نرم نہ کر پایا۔
    پھر یہ آئے روز ہونے لگا۔ جب مدرسے پہنچنے میں تاخیر ہوتی تو کسی لڑکے کو گھر بھیجا جاتا یا چچا کو فون کیا جاتا اور جب مدرسے سے گھر پہنچنے میں تاخیر ہوتی تو وہ برقع پوش خاتون ڈری سہمی، خوف زدہ اور پریشانی کے عالم میں اسے لینے آتی اور مجھے اس کی آنکھوں میں التجا نظر آتی جیسے کہہ رہی ہو:
    "قاری صاحب، آپ ہی رحم کیجیے، میں ہر طرف سے دباؤ میں گھری کم زور مخلوق اپنے بیٹے کی حالت سے آگاہ ہونے کے باوجود بھی اس کے لیے کچھ نہیں کر سکتی۔”
    لیکن میری رسی شاید کچھ زیادہ ہی دراز کر دی گئی تھی۔ سارا دن قرآن کے ساتھ رہ کر بھی قرآن میرے حلق سے نیچے نہیں اترا تھا۔ مجھے دل کی نرمی سے محروم کر دیا گیا تھا۔ میں ظلم کر کے لطف اندوز ہونے لگا تھا۔
    میری روش نہ بدلی حتیٰ کہ وہ دن بھی آگیا جب اس کے گھر پتا کرنے جانے والے لڑکے کو صفِ ماتم بچھی ہوئی ملی اور کچھ ہی دیر بعد اس کے چچا جھکے کندھوں اور گیلی آنکھوں کے ساتھ اعلان کرانے کی غرض سے مسجد آن پہنچے۔
    اس کے والد جنازے میں شریک نہ ہوسکے کیوں کہ وہ ملک سے باہر گئے ہوئے تھے اور زیادہ انتظار نہیں کیا جا سکتا تھا۔ نیلے پڑتے بدن اور پھولتے پیٹ کی وجہ سے مغیث کے جسدِ خاکی کو زیادہ دیر رکھنا ممکن نہ تھا۔
    یہ خود کشی تھی یا قتل، لوگوں کی آراء مختلف تھیں۔ پوسٹ مارٹم کروانے پر گھر والے رضامند نہ تھے۔ اگر قتل بھی تھا تو کیا قاتل کوئی ایک شخص تھا یا زیادہ افراد کچھ معلوم نہ ہو سکا۔ کوئی آلۂ قتل بھی تو برآمد نہ ہوا۔ لیکن اس روز سے میں راتوں کو بار بار پسینے میں شرابور دہشت زدہ سا اُٹھ کر بیٹھ جاتا ہوں اور دن میں میری نگاہیں مسجد میں دائیں جانب ہل ہل کر قرآن پڑھتے بچوں سے ہوتی ہوئی قطار کے اختتام پر اس خوف زدہ چہرے کو تلاش کرنے لگتی ہیں۔

    ٭…٭…٭




  • حوّا کی بیٹی — سارہ عمر

    ”بس یہیں روک دیں۔” وہ ڈرائیور کے پیچھے سے بولی تھی۔ پرس سنبھالتی وہ اپنے اسٹاپ پر اتر گئی۔
    ایک لمحے کے لیے نظر سڑک کے پار اُٹھی اور پلٹ کر واپس آنا بھول گئی۔
    ”یہ تو…” وہ زیر لب بَڑبَڑائی۔
    ”یہ یہاں کیسے؟یہ تو گوجرانوالہ ہے …” اس نے اپنی چادر کا پلو کھینچ کر منہ کے آگے کیا۔ سوائے ایک آنکھ کے اس کا سارا چہرا چادر میں چھپ گیا تھا۔
    ”یااللہ! بس گھر کا راستہ نظر آجائے جلدی سے۔” اس نے گھر کی طرف دوڑ لگا دی تھی جیسے کوئی بھوت نظر آگیا ہو۔
    گھر پہنچتے پہنچتے سارا جسم پسینے میں بھیگ چکا تھااور سانس بری طرح اُکھڑ رہی تھی۔
    ”آ گئی نگہت؟ جلدی سے روٹی ڈال دے۔ بچے بھی بھوکے ہیں۔” اسے ہاتھ دھوتا دیکھ کر ساس نے کہا تو وہ کچن میں چلی آئی۔
    اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے اور ہونٹ خشک تھے،اس سے روٹیاں ٹیڑھی پک رہی تھیں۔ کچھ کچی اور کچھ جل رہی تھیں۔ چولہے کے آگے پسینہ تو آتا ہی ہے مگر اس کو ٹھنڈے پسینے آرہے تھے۔
    ”اگر وہ واقعی ولید ہوا اور اس نے مجھے پہچان لیا تو کیا ہوگا؟ میں تو کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہوں گی۔”
    ٭…٭…٭




    سمندر کی لہریں بار بار اس کے پاؤں کو چھو کر جارہی تھیں۔ جب ریت پاؤں کے نیچے سے نکلتی تو ندا کھلکھلا کر ہنس پڑتی اور فرقان اسے دیکھ کر ہنس پڑتا۔
    ”ایسے پاگل ہورہی ہو جیسے پہلی بار پانی دیکھا ہے۔” اس نے ندا کا ہاتھ تھاما اور ساحل پر چلنے لگا۔
    ”ایسی بات نہیں! ہر مہینے آتے تھے ہم سمندر پہ، بس شادی کے بعد پہلی بار آئی ہوں۔”
    وہ مُسکرا کر روٹھے انداز سے بال سلجھانے لگی جو ہوا سے اڑے جارہے تھے۔
    ”تبھی اتنا مزہ آرہا ہے؟” اس نے شوخی سے کہا تو وہ پھر ہنس دی۔
    ”سچی اسی لیے اتنا مزہ آرہا ہے۔” اس نے ہاں میں ہاں ملائی تو وہ اس کا ہاتھ گرم جوشی سے دباتا مُسکرا دیا۔
    ندا نے فرقان کے کندھے پر سر رکھا اور آنکھیں بند کردیں۔
    ”کاش یہ پل اسی طرح رہیں اور فرقان ایسے ہی مجھے پیار کرتے رہیں۔” وہ دل ہی دل میں مُسکرا دی۔
    ٭…٭…٭
    ”راجو ایک اور پلیٹ لا۔” شبیر نے راجو کو آرڈر کیا اور آج کا اخبار نکال کر صفحے پلٹنے لگا۔
    ”لو یہ دیکھو۔” اسلم نے پانی کا گلاس رکھ کر اسے دیکھا۔
    ”ڈیرہ غازی خان: چار بچوں کی ماں نے زہر کھا کر خودکشی کرلی۔ وجۂ تنازع معلوم نہ ہوسکی۔” وہ خبر پڑھ کر سنا رہا تھا۔
    ”یہ اتنے چھوٹے چھوٹے شہر کی عورتیں اتنا بڑا کام کیسے کرلیتی ہیں۔ چار بچوں کا بھی خیال نہ آیا حد ہوگئی۔” اسلم بری طرح نالاں ہوا۔
    ”بھلا چار بچوں کے ساتھ ایسا کیا مسئلہ کھڑا ہوگیا جو خودکشی جیسا حرام کام کر بیٹھی؟” شبیر نے بھی لقمہ دیا۔
    ”صاحب یہ تیسری پلیٹ ہے۔” راجو نے چھولوں کی پلیٹ رکھی تھی۔
    ”ہاں ہاں آئے ہیں تو صحیح سے کھا کر جائیں گے۔ برنس روڈ کے چھولے۔ ایویں تو مشہور نہیں کیا ذائقہ ہے بھئی۔”
    شبیر پھر سے کھانے میں جت گیا تھا۔ اسلم بھی ساتھ دینے کو موجود تھا۔
    ”کیا بنا تیری والی کا؟” شبیر نے پاس آکر آنکھ مار کے سرگوشی کی۔
    ”کہتی ہے مل نہیں سکتی۔ بس فون پہ بات کرو۔ بھائی ناراض ہو جائے گا۔” اسلم نے فکر مندی سے کہا۔
    ”چل تو لگا رہ کبھی تو آئے گا اونٹ پہاڑ کے نیچے۔” وہ پانی کا گھونٹ بھر کر بولا۔
    ”سیما کو دوبارہ اس ایزی لوڈ والے نے تنگ تو نہیں کیا۔” شبیر کی بات پہ اسلم کی تیوریاں غصے سے چڑھ گئی تھیں۔
    ”آنکھ تو اٹھا کر دیکھے میری بہن کی طرف ہاتھ پاؤں توڑ کے چیل کوؤں کو ڈال دوں گا۔” وہ بھنا کر بولا۔
    ”ہاں ٹھیک ہے کھانا کھا کچھ بھی مدد چاہیے ہو یار کی تو بتانا۔”شبیر نے ٹھنڈا کیا تھا۔
    ٭…٭…٭
    ”اُف اسے بھی ابھی خراب ہونا تھا۔” گاڑی چلتے چلتے گرم ہوگئی تھی اور اب رک گئی۔ نئی نئی گاڑی چلانی سیکھی تھی نیلم نے۔کتنا منع کیا تھا ماما بابا نے اکیلے مت نکلنا مگر نیلم بھی ضد کی پکی تھی۔
    ”اب کیا کروں؟” وہ پریشان ہوئی۔ بونٹ کھول کر ساتھ خود کھڑی ہوگئی۔
    پہلا بائیک والا ہی اسے دیکھ کر رک گیا۔
    پینٹ شرٹ پہ گلاسز لگائے۔ وہ فوراً اس کی طرف آیا۔
    ”کیا ہوگیا آپ کی گاڑی کو؟”
    ”پتا نہیں مجھے سمجھ نہیں آرہی۔”
    ”جی میں دیکھتا ہوں۔”
    سمجھ تو اسے بھی نہیں آنی تھی مگر تھوڑا ہاتھ مار کر ایکٹنگ کرنے میں کیا حرج تھا۔
    نیا شکار پھنسنے والا تھا۔
    نیلم بار بار کئی بار پریشانی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
    ”بابا کو فون کرے گی تو ڈانٹ ہی پڑے گی۔” وہ خود سے سوچنے لگی۔
    ”موبائل ہے آپ کے پاس میں گھر بھول آیا ہوں یہاں میرے دوست کی ورک شاپ ہے وہ بندہ بھیج دے گا۔”
    اندھا کیا چاہے دو آنکھیں اور انہی دو آنکھوں نے اسے دوبارہ اندھا کردینا تھا۔
    اس نے فوراً غائب دماغی سے موبائل پکڑایا۔
    ”بس ابھی آجاتا ہے۔”
    دس منٹ بعد ہی بندہ آگیا تھا۔ تھوڑی دیر بعد گاڑی سٹارٹ ہوگئی۔ قصہ ختم، مگر نہیں ابھی تو قصہ شروع ہوا تھا۔
    اگلے کئی دنوں میں نیلم کے موبائل پہ نامعلوم نمبر سے میسج آئے اور پھر اس محسن کا پتا لگا تو شناسائی دوستی اور دوستی محبت میں بدل گئی تھی اور یہ محبت جو دل لگی تھی دل کی لگی بننے والی تھی۔
    ٭…٭…٭




    ”نگہت یہ پہن کر دکھاؤ۔” اس نے کانچ کی نازک سی چوڑیاں اس کے ہاتھ پر رکھ دیں۔ نگہت کی آنکھیں چمکنے لگیں۔ جگمگ جگمگ کرتی چوڑیاں اس نے اپنے نازک ہاتھوں میں پہن لیں۔
    کانچ سے دل والی لڑکیوں کو کانچ کی چوڑیاں پہنتے تو کچھ نہیں ہوتا۔ مگر جب وہ ٹوٹتی ہیں تو اس کے زخم ایک عرصے درد کرتے ہیں۔
    ”ولید بہت خوب صورت ہیں۔”
    ”تم سے زیادہ نہیں۔” وہ مُسکرایا۔
    ”کب بھیجو گے میرے گھر رشتہ؟” پھر وہی سوال لبوں پر مچل گیا۔
    ”پہلے کچھ بن تو جاؤں، کنگلے کو رشتہ کون دے گا۔” وہ اُداسی سے بولا۔
    ”تم بھیجو تو۔”
    ”گھر بھی تو گوجرانوالہ میں ہے تمہارا۔ پڑھائی ختم کرکے گھر جاؤ۔ امی کی بھی طبیعت بہتر ہوگی تو سفر کریں گی ناں۔” وہ پیروں میں پانی نہیں پڑنے دیتا تھا۔
    وہ چوڑیوں سے کھیلنے لگی۔
    ”گھر والوں کو کیا کہو گی؟ چوڑیاں کس نے دیں؟”
    ”کہہ دوں گی دوست نے۔” وہ جواب دیتے ہنس پڑی تو وہ بھی ہنس پڑا۔
    ان لڑکیوں کو بہلانا کتنا آسان ہے ناں۔” سو پچاس کا گفٹ دے کر سو سال ان کو بے وقوف بنایا جاسکتا ہے۔ وہ سوچ کر رہ گیا۔
    ٭…٭…٭
    ندا کیا کررہی ہو؟” فرقان کی آواز پہ وہ ڈر کر پیچھے ہٹی۔ ہاتھ میں پکڑا موبائل فرقان نے جھپٹ لیا تھا۔
    ”کیا دیکھ رہی تھی۔ موبائل چیک کررہی ہو؟”
    ”کال لوگ کیوں کھلی ہوئی ہے؟” وہ بری طرح دھاڑا تھا۔
    ”میں تو…” اس کی دھاڑ نے اس کے ہواس معطل کردیئے تھے۔
    ”مجھ پر شک کررہی ہو، اپنے شوہر پر ؟”وہ سخت ناراض تھا۔
    ”فرقان یقین کریں کال آرہی تھی میں نے۔”
    ”ضرورت کیا ہے تمہیں کال دیکھنے یا اٹھانے کی۔ میں تمہارا موبائل چیک کرتا ہوں۔ آئندہ اس کو ہاتھ مت لگانا سنا تم نے۔” وہ ڈر گئی تھی۔
    ٭…٭…٭
    ”ثوبیہ بہت بہت مبارک ہو۔” تانیہ نے بھی مبارک باد دی تھی۔
    وہ بھی سب کو اترا اترا کر اپنی منگنی کی انگوٹھی دکھا رہی تھی۔
    ”کون ہے کیا کرتا ہے وہ؟” سب فرداً فرداً پوچھ رہی تھیں۔
    ”اور تمہارے پرانے عاشق کا کیا ہوا ثوبیہ جو جینے مرنے کی قسمیں کھا رہا تھا۔”
    سمعینہ نے سب کے سامنے اس سے پوچھا تو اسے لگا بیچ چوراہے میں اس کا راز کھل گیا۔ حالاں کہ یہ راز تھا ہی کب۔ ہر روز کا قصہ تھا ڈیپارٹمنٹ والوں کے لیے۔
    سینئر کے ذوالفقار کے ساتھ ثوبیہ کا افیئر زد عام تھا مگر دونوں کے گھر والوں کو کچھ معلوم نہ تھا کہ یونیورسٹی میں کیا ہورہا ہے۔
    ذوالفقار گیا تو بات بھی دب گئی۔ سب کے سامنے یہ بھانڈا پھوٹے گا۔ اسے امید نہ تھی۔
    ”بھلا اس کنگلے ذوالفقار کے پاس سوائے ڈگری کے تھا ہی کیا؟ اچھے وقت پہ جان چھوٹ گئی تھی۔ ”ابو نے اپنے کزن کے بیٹے سے منگنی کیا کی کہ اب ثوبیہ ہواؤں میں تھی۔
    ”یار چھوڑ۔” تانیہ نے ثوبیہ کا منہ دیکھ کر کہا جہاں ایک رنگ آرہا تھا ایک جارہا تھا۔
    چھوڑ تو ثوبیہ نے اسے دیا تھا مگر اب ذوالفقار نے اسے نہیں چھوڑنا تھا یہ اسے نہیں پتا تھا۔
    ٭…٭…٭
    ”نگہت تم اتنی ڈری ڈری کیوں رہتی ہو؟” تیمور سے اب نہ رہا گیا۔ نگہت کا یہ حال دیکھ کر انہیں کچھ عجیب لگا۔
    شادی کے بعد اتنے سالوں میں کبھی وہ اتنی بدحواس نہ ہوئی۔ اب تو وہ باہر جانے سے ڈرتی، فون کی گھنٹی سے ڈرتی، دروازہ بجنے سے ڈرتی۔
    اس کی دماغی حالت کافی سنجیدہ ہوگئی تھی۔
    ”مجھے کسی ڈاکٹر سے ہی بات کرنی پڑے گی۔”
    وہ اسے سائیکاٹرسٹ کو دکھانا چاہ رہا تھا۔
    ٭…٭…٭




  • بارش کب ہوگی — مریم جہانگیر

    بارش کب ہوگی — مریم جہانگیر

    بارش کب ہو گی؟ ” عمیر نے زبیر کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا۔
    "اگر میں ہوا کی رتھ پہ سوار ہو سکتا تو اس پہ بیٹھ کر دور آسمانوں میں چلا جاتا اور آسمان پہ بکھرے ہوئے بادلوں سے پوچھتا کیوں اے میرے بادلو! تم ہم سے کیوں روٹھ گئے ہو؟ اب ہمارے گاؤں پہ آکر کیوں نہیں برستے ؟ کڑکتی ہوئی بجلی ساتھ لاتے ہو لیکن شور مچا کر کہیں دور غائب ہو جاتے ہو۔ ہمارے نصیب میں تو شور ہی رہ گیا ہے۔بارشیں تو تم جانے کس کو دان کر چکے ہو۔ لیکن تم جانتے ہو مجھے ہوا کی رتھ پہ سوار ہونا بھی نہیں آتا "زبیر نے حسرت سے آسمان پہ نظر ٹکا کر جوا ب دیا۔
    "بھیا آپ سے بات پوچھنا ایسا ہے جیسے کسی بے سرے قوال کو چھیڑ دیا جائے۔ویسے بھی یہاں ہوا ہے ہی کہاں جس کی رتھ پہ آپ سوار ہو سکیں۔ "عمیر نے جواباً اپنے سے پانچ سال بڑے بھائی کو اس کی لن ترانیوں پہ ٹوکا۔
    "تو نہ پوچھا کرو مجھ سے۔ میں تو نہیں کہتا کہ مجھ سے پوچھو۔” زبیر نے صاف دامن بچایا۔




    "مجھے لگتا ہے ماں کی آنکھیں بھی بنجر ہوگئی ہیں۔ ان سے بھی بارش نہیں ہوتی۔ بھیا تمہیں پتا ہے ماں سے کون سا بادل روٹھا ہے؟ "عمیر اپنے فطری تجسّس پہ قابو نہ پا سکا۔
    "ہزار سوال کرو لاکھ جواب دوں گا۔ مجھ سے کچھ اور پوچھ لو یہ نہ پوچھو۔” زبیر کو اب کی بار واقعی دامن بچانا تھا۔
    وہ دونوں گھر کی کچی دیوار پہ بیٹھے تھے۔شام کے سائے آہستہ آہستہ گہرے ہونے لگے ۔دور آسمان کے آخری کونے پہ سورج اپنی الوداعی روشنی کو بہ مشکل سمیٹے دوسرے دیس کوچ کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ان کم عمر سے لڑکوں کا روپ یوں کملایا ہوا تھا، جیسے ان کے جسم پہ درختوں کی چھال جیسی کوئی چیز چپک گئی ہو اور کلہاڑی جیسی کسی سختی کی منتظر ہو کہ آئے اور چیر دے۔ ان کی آنکھوں سے ویرانی یوں ٹپک رہی تھی جیسے شکست خوردہ قدیم کھنڈر کی دیواریں چیخ چیخ کر اپنے ہونے کا ثبوت اپنی دراڑوں سے دیتی ہیں۔ان کی گھنی پلکوں پہ گرد کی اتنی دبیز تہ تھی کہ اس ڈر سے پلک جھپکانے سے گریز کرنے کو جی چاہتا کہ کہیں یہ واحد متاع بھی ہوا کی پرواز کے ساتھ بکھر نہ جائے۔ ان کی آواز پیاس سے لڑکھڑائی ہوئی اور ہونٹ پپڑی زدہ تھے۔ ان کی آوازیں سن کر یوں لگتا کہ کہیں ٹین کے کنستر بج رہے ہیں لیکن اس سب کے باوجود ان کی نو خیز زندگیاں اس بنجر پن سے شکست کھانے کے حق میں نہیں تھیں۔
    وہ دیوار پہ ٹکے ہوئے اپنی باتوں کی پٹاری سے کچھ نہ کچھ بانٹ رہے تھے۔زندہ رہنے کو بانٹنا کتنا ضروری ہے….. ان سے بہتر کوئی نہیں سمجھ سکتا۔
    لبوں پہ پیاس پھڑپھڑا رہی تھی لیکن لفظ پر جَھٹک کر ہوا میں پرواز کرتے رہے اور پیاس وہیں پھڑپھڑاتی رہی۔
    روشنی نے اپنی چادر سمیٹی تو دور سے ایک ہیولا ڈگمگاتا ہوا چلتا آیا۔
    زبیر فورا آگے بڑھا: "ماں کتنا پانی لائی ہو؟”




    "بس یہ اتنا سا ملا۔” ماں نے کٹورا دکھایا جس کا صرف پیندا بھرا تھا۔ زبیر کا چہرہ مایوسی سے لٹک گیا۔ پیاس نے اسے بے حال کر رکھا تھا۔
    "تم لوگ یہاں بیٹھے کیا باتیں بگھار رہے ہو؟” ماں کو جیسے کسی نا خوش گوار بات کا احساس ہوا۔
    زبیر سٹپٹا کر نگاہیں جُھکا گیا۔ اس کی آنکھوں میں ماں کو دیکھ کر روشنی کی جوت جاگی تھی جیسے کھنڈرات کے اندر کوئی ہیرا جگمگا اٹھے لیکن پھر وہ یوں ماند پڑی کہ جیسے ابھی ساری دیواریں چٹخ جائیں گی۔
    اور اب یہ ماں کا سوال…. اس سوال کا سامنا کرنے کی ہمت زبیر میں نہ تھی۔ عمیر تھوڑا بے باک اور انجان تھا۔اپنی گرد آلود آنکھیں جما کر بولا: "بارش کب ہو گی؟”
    ماں نے حیرت سے اسے دیکھا۔آنکھوں میں اتنی حیرت تھی کہ ماتھے تک آئی اوڑھنی پیچھے کہیں لڑھک گئی اور بے چاری کو خبر بھی نہ ہوئی۔
    اس لمحے زبیر نے آنکھ اُٹھا کر دیکھا ماں کی آنکھوں میں بلا شبہ زیادہ گرد نظر آئی۔
    اس نے چھوٹے کو ٹہوکا دیا کہ چُپ رہ لیکن وہ بے خبر رہا اور اس نے اسی طرح اپنا سوال دہرایا۔
    "بارش کب ہوگی؟”
    "اللہ غارت کرے تجھے۔ منہ بند کر کے بیٹھ۔ بارش کی دعائیں نہ مانگ۔وہ آتی ہے تو سب بہا لے جاتی ہے۔ پیچھے ککھ نہیں چھوڑتی۔ ککھ سمجھتا ہے؟ ککھ؟ یہ تیلا؟ یہ بھی نہیں چھوڑتی۔” ماں نے زمین سے تنکا اٹھا کر دکھایا۔
    روٹھے روٹھے قدم اٹھائے وہ اپنی کچی کٹیا میں چلی گئی۔ابھی اس کے بلونگڑوں نے اس کے پیچھے ہی آجانا تھا۔
    عمیر نے گھر کے سامنے کا سپاٹ میدان دیکھا۔ اجڑے ہوئے درخت اور لُو زدہ ہوا، کچھ بھی ماں کے بیان سے میل کھاتا دکھائی نہ دیا۔یہاں تو اَبر کی ضرورت تھی۔ یہاں تو بارش کو برسنا چاہیے تھا۔ یہ مٹی پانی پانی چلاتی بھٹک رہی تھی۔ماں نے کیوں ایسی بہکی بات کی۔ماں تو سمجھ دار ہے۔اس کا ناتواں ذہن یہ بوجھ اٹھانے سے قاصر تھا۔ اس نے سوچوں کی گٹھڑی کندھے پہ ہی رکھی اور بڑے بھائی کی پیروی کرتا ہوا گھر میں داخل ہوگیا۔
    ماں نے اتنے میں پیاز توڑ کر دو حصّوں میں بانٹ دی آدھی بڑے کو تھمائی اور آدھی چھوٹے کو۔ ”اللہ غارت کرے” والی بات شاید کٹیا کے دروازے کے باہر ہی کہیں رہ گئی تھی۔وہ پیاز چبا چکے تو پچکا ہوا ایک ایک ٹماٹر بھی ملا۔ زبیر سمجھ گیا ضرور ساتھ والے گاؤں سے خیرات آئی ہوگی۔بھائیوں نے وہ بھی لے کر پیٹ کے ایندھن میں ڈالا۔