Tag: Khaadi

  • آخری شام — سدرۃ المنتہیٰٖ جیلانی

    آخری شام — سدرۃ المنتہیٰٖ جیلانی

    ”محبت کی کہانی دنیا میں سب جگہ ایک جیسی ہوتی ہے۔”
    یہ پہلا جملہ جو میں نے اُس سے سُن کر اپنے آپ کو دنیا کی خوش قسمت ترین مخلوق سمجھا تھا۔
    کچی بستی کے باسی کو کلاس میں یوں لمبی لمبی تقریریں کرتے ہوئے کئی مرتبہ سنا تھا۔ ہر بار وہ ایک لمبی تقریر کے بعد جب سیٹ پر آکر بیٹھتا تھا تو یہی کہتا کہ تاریخ ہمیشہ ایک جیسی ہے اور یہ لوگ سمجھنے کو تیار نہیں ہوتے۔
    ”دیکھو زمانہ حال، مستقبل اور ماضی کچھ نہیں ہے۔”
    ”سب کچھ وقت ہوتا ہے۔”
    ”جو ہمیشہ ایک جیسا ہوتا ہے۔”
    اس نے اپنے گروپ کے چند لڑکے لڑکیوں کو قائل کرنا چاہا تھا۔
    ”دنیا کے سارے مسائل ایک جیسے ہوتے ہیں۔تم تاریخ کی کتاب کھول کر دیکھ لو۔حالات، مزاج اور مسائل سب اپنے آپ کو دُہراتے ہیں..یہاں تک کہ انسان بھی…”
    وہ آرٹ کا شاگرد تھا مگر تاریخ، فلسفہ اور سائنس سب میں برابر دلچسپی رکھتا تھا۔
    میری دلچسپی اس میں بڑھتی جارہی تھی ۔
    وہ ہر مرتبہ کوئی گھمبیرسا موضوع اُٹھالیتا تھا۔
    ”ایک بے چارہ انسان دنیا کے سارے مسائل کا بوجھ اپنے ناتواں کندھوں پر نہیں اٹھاسکتا۔”
    میرا اس سے ملاقات کے بعد یہ پہلا جملہ تھا جو میں نے ہمدردی میں آکر بولا تھا۔
    وہ مسکرایا۔مجھے پتا تھا وہ چپ نہیں رہے گا۔ ایک لمبی تقریر مجھے سمجھانے کے لیے شروع کردے گا اور پھر ناختم ہونے والا سلسلہ۔ مگر ہوا یوں کہ وہ چپ رہا اور مسکراکر گزرگیا۔
    مجھے اندازہ تھا وہ کسی اچھے علمی گھرانے سے تعلق رکھتا ہوگا۔مگر اگلے ہفتے اپنے گروپ کے ساتھ دریائے سندھ کی سیر کو نکلے تو وہ ہمیں ایک قریبی کچی آبادی میں لے گیا جہاں مین روڈ کے نزدیک جھگیوں کا ایک لمبا اور بے ترتیب سلسلہ تھا۔
    معلوم ہوا کہ یہ اس کا گاؤں ہے۔
    ایک آدمی جھگیوں کے پیچھے کچے مکان کے صحن میں کھٹارا سا ریڈیو سن رہا تھا۔
    ہمیں آتا دیکھ کر وہ چارپائی سے اٹھ کھڑا ہوا۔
    وہ فریاد حسین کا باپ میرل تھا۔
    اس کی ماں میلے ڈوپٹے سے ہاتھ پونچھتی ہوئی آگے بڑھی پھر ہمیں خوش آمدید کہنے لگی۔
    تازہ روٹی اور مکھن اور دریا کی مچھلی سے ظہرانہ خاص ہوگیا۔
    مجھے اس کچی بستی میں رہنے والے غریب لوگوں کے اخلاق، میزبانی اور محبت نے بہت زیادہ متاثر کیا تھا۔
    اس کا وہی ایک جملہ یاد آگیاکہ دنیا میں سب جگہ محبت کی کہانی ایک جیسی ہوتی ہے۔
    دو لوگ آپس میں ملتے ہیں اور ایک دوسرے کو اپنے احساس کی کمزوریاں دے بیٹھتے ہیں۔
    اور پھر ایک ساتھ چلنے کے کئی خواب ایک ساتھ دیکھتے آگے بڑھتے رہتے ہیں۔
    اور پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب فیصلہ بدلنا ہوتا ہے۔ جب سمت متعین ہوتی ہے،تب ایک جگہ سماج اپنی آہنی دیوار بنائے کھڑا ہوجاتا ہے اور دوسری سمت سے بس دھواں نکلتا ہے۔





    ”میں نے تو ہمیشہ تمہاری محبت میں جلنا چاہا ہے فریاد…سماج کی بندشیں میرے ارادے کی سمت کو بدلنے کی طاقت نہیں رکھتیں۔”
    ”میں تمہاری محبت میں سب کرگزرنے کو تیار ہوں۔” پہلی بار دریا کے کنارے میں نے اس سے وعدہ کیا تھا۔
    پھر بیاہ سے لے کر وفا تک نبھایا۔ زندگی بہت حسین تھی۔ سارے دکھ اور مسائل ایک طرف رکھ کر جب ہم دریا کے کنارے آ بیٹھتے تو لگتا کہ پانی سارے دُکھ پی گیا ہے۔ سب کچھ صاف اُجلا ،دو انسانوں کی محبت کی طرح…!!
    وقت دھیمی رفتار سے گزرا جارہا تھا۔ حالات پھر سے اپنا چلن چلنے کو تیار کھڑے تھے، جب ایک دن دریا کنارے وہی شام تھی وہی پانی جو سوکھتا جارہا تھا۔ اس کے مزاج کی طرح دور دور رہنے لگا تھا۔
    جیسے وہ کسی سوچ میں کھو جاتا تو گھنٹوں اس کی دریافت کی کوشش میں ہارنے لگتی تو پوچھ بیٹھتی کہ ”آخر تم کیا چاہتے ہو؟”
    اسے بات شروع کرنے کا موقع مل گیا تھا۔
    ”سپی۔”وہ نام ایسے لیتا جیسے اس نام کے احساس کا پورا ذائقہ اس نے چکھ رکھا ہو۔
    ”میں تم سے دور رہوں گا مگر تم سے محبت برقرار رہے گی۔ یہ احساس مجھے اندر تک زندہ رکھے گا۔”
    ”تم ہمیشہ بات کو تگنی کا ناچ نچاتے ہو۔ تمہیں یہ نہیں احساس کہ ایک عورت کو گھر چاہیے، اسے آسرا چاہیے، خالی باتوں اور لفظی محبت سے وہ اپنا دل تو بھرسکتی ہے مگر پیٹ تو خوراک سے ہی بھراجاتا ہے۔
    ”پگلی! یہاں بیٹھ کر میں تمہیں کیا دے سکوں گا…؟ دو وقت کی روٹی..گھر کا کرایہ..بجلی کا بل اور صاف پانی۔”
    اس کی سوئی پھر پانی پر آکر اٹک گئی تھی۔
    ”پانی…ہاں پانی…تمہیں پتا ہے نا سپی! پانی انسانی زندگی کے لیے کتنا ضروری ہوتا ہے
    وہ بھی صاف نکھرا اُجلا، صاف ستھرا زندگی سے بھرپور…
    ”تمہیں کیا پتا کہ پانی کیا ہوتا ہے، پانی نہ ہوتو انسان کہیں کا نہیں رہتا۔”
    ”اور اگر پانی زیادہ ہو تو؟” میں نے تیکھے لہجے میں اس سے پوچھا۔
    ”زیادہ ہو تو ڈبودیتا ہے۔”
    ”دیکھو! محبت بھی پانی کی طرح ہوتی ہے۔ جب ہوتی ہے تو سیراب رکھتی ہے نہیں ہوتی تو دل کی دھرتی سوکھ کر بنجر ہوجاتی ہے۔”
    محبت پانی ہے…ہاں…پانی…اب محبت کو پانی سے تشبیہہ دی جائے گی۔
    مجھے یاد تھا شادی سے پہلے جب ہم فیصلہ لینے کے لیے ملے تھے تب بھی وہ محبت سے آگے بڑھ کر پانی میں کھوگیا تھا۔
    غلطی میری ہی تھی کہ میں نے ہمیشہ اسے دریا کے کنارے ملنے کی فرمائش کی تھی۔
    مگر ہوا یوں کہ محبت کو اب پانی نگلتا جارہا تھا۔
    محبت اس کے سامنے تھی مگر وہ پانی کی گہرائیوں کو کھوجتے ہوئے سوچتا ہی رہا۔
    وہ ایک لمحے سوچتا اور دوسرے لمحے بول اٹھتا تھا۔
    میں نے سمجھا تھا آج وہ مجھے دیکھ کر میری تعریف کرے گا، کہے گا کہ بہت اچھی لگ رہی ہو۔ شادی کے بعد پانی کے پاس ہماری یہ پہلی ملاقات نہ تھی، کسی قسم کا کوئی خوف نہ تھا۔
    خوشیاں ہمارا مقدر بننے لگتیں تو وہ منہ میں بڑبڑانے لگتا تھا۔
    ”تمہیں پتا ہے نا، سندھ کو ہمیشہ پانی کا مسئلہ رہا ہے۔”
    ”پانی نہ ملنے کی وجہ سے لوگ مرجاتے ہیں۔”
    ”تمہیں معلوم ہے نا کہ پھر سے ہمارا پانی بند کیا جارہا ہے۔”
    اس کا اشارہ دریائے سندھ کی آدھی سوکھی ریت اڑاتی ہوئی زمین کی طرف تھا۔
    ”تمہیں کیسا لگے گا فریاد! اگر میں اس بہتے پانی میں چھلانگ لگادوں ؟”
    وہ مجھے ایک لمحے کے لیے ایسے دیکھنے لگا جیسے میں نے کوئی لطیفہ سنایا ہو۔
    پھرکہنے لگا:” وہ پانی جو لوگوں کے پیٹ کی پیاس بجھاتا ہے تم موت کی گھاٹ اتر کر اس کا ذائقہ کیوں بدلنا چاہتی ہو؟”
    ”تمہیں پتا بھی ہے موت کڑوی ہوتی ہے۔ سمندروں کا پانی جیسے کھارا ہوتا ہے۔ اب دریاؤں کے اندر موت کا ذائقہ آگیا تو کڑوا نہ ہونے لگ جائے۔” وہ کہے جارہا تھا۔
    ”تمہیں میرے مرنے کا دکھ نہیں ہوگا کیا؟”
    مجھے اس کی بات سن کر صدمہ ہوا تھا۔
    ”میں نے یہ کب کہا…؟” وہ حیران ہوا۔
    ”چلو چلتے ہیں۔”
    میں یادوں کے بھنور میں الجھی ہوئی تھی پھر سر جھٹک کر خیالات کو چلتا کیا اور اسے خط لکھنے بیٹھ گئی۔
    ”فریاد!میں تمہیں بتاؤں دریا پورا بھرگیا ہے۔پانی تر آیا ہے۔سیلاب کے خوف نے لوگوں کی نیندیں اُڑادی ہیں۔لوگ جو کچے میں بیٹھے تھے ان کی جُھگیاں ڈوب گئی ہیں۔ بانس کے لکڑ اور کانے تیررہے ہیں دریا کی سطح پر میل ہی میل ہے۔یہاں کے سارے چھوٹے موٹے سکھ تمہارا دریا بہاکر لے جارہا ہے۔” میں لکھتی رہی۔
    ”کل میں نے مہرو کی پازیب بھی کنارے سے اندر لڑھکتے دیکھی تھی۔
    تمہیں یاد ہے ایک دن تم نے میری پاؤں کی پازیب اتار کر دریا میں پھینک دی تھی۔
    اور پھر میں ہنسی تھی۔





    تب مجھے تمہاری یہ حرکتیں بے ضرر سی لگتی تھیں۔ اب تم باہر ہو … گھر سے دور ہو… نہ جانے کب لوٹو گے۔ میرے دن لمبے ہوگئے تھے جس دن سے تم یہاں سے گئے تھے فریاد سب کچھ ویسا ہے۔ جھگیوں میں رہنے والوں کی حسرتیں…کچے مکان کی چھت بہ جانے کا ڈر…صندوق میں سینت سینت کر بنائے گئے بیٹیوں کے جہیز کے چار جوڑوں کو ماؤں نے دھوپ سنکوانے کے لیے نکالا ہے۔
    لڑکیوں کے چہروں پر وہی حسرت ہے جو کبھی میرے چہرے پر آجاتی تھی۔
    وہ ان جوڑوں کو اسی انتظار کی نظر سے دیکھتے ہوئے انتظار کرتی ہیں اور اب اس انتظار کے ساتھ جوڑے خراب ہوجانے کا ڈر بھی ان کے ساتھ چپکے سے بیٹھ گیا ہے۔ میرا قلم چل رہا تھا۔
    ”فریاد!سب ویسا ہے…گلی میں کھیلتے ہوئے بچے اور ان کی شرارتیں۔
    کل بھی میں نے دیکھا سکینہ کے چار سالہ بیٹے نے گھٹنوں تک آتی قمیص کا دامن اٹھاکر ناک پوچھنا چاہی تو اس کی نیکر پھٹی ہوئی تھی۔ میں نے آنکھیں بند کرلی تھیں۔
    بچیوں کی اوڑھنیاں اور لڑکوں کی دھوتیاں کم پڑنے لگی ہیں۔
    سندھ میں غربت کے مسائل بڑھتے ہی جارہے ہیں۔
    غربت کبھی کسی عزت دار کو بھی عزت والا رہنے نہیں دیتی۔ مگر تمہارا پانی…؟
    بس اسی کا مسئلہ سر فہرست ہے جس کے خوف نے لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ لوگ بستی میں مرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ گھر بدری کا ساز و سامان کہاں سے لائیں گے جن کو نکلنا تھا نکل لیے۔ اب گوٹھ کے وڈیرے نے اپنے بچے شہر بھیج دیئے۔ خود بیٹھا ہے آج نہیں تو کل نکلا۔ دن دیکھ رہا ہے اس کے پاس نکلنے کے لیے بڑی سی موٹرکار ہے۔
    مگر فریاد تمہاری تو دریا کے ساتھ بہت بنتی تھی تم اسے ایک خط لکھو!
    ایک خط لکھو کہ انسانوں کو اپنے اندر مار کر تمہارے اندر جو موت کا زہر بھرجائے گا وہ صدیوں تک رہے گا۔لوگ تم سے خوف کھایا کریں گے۔
    کوئی تمہارے لیے قوت سے بہنے کی دعا نہیں کرے گا تم سوکہوگے تو پھر سے تمہارے پیٹ میں ونجاروں کی جھگیاں آباد ہوں گی۔
    مچھروں کی جالیاں تمہارے چھوٹے سے پیٹ کو چیرتے ہوئے مچھلی کا شکار کریں گی۔
    تم درد سے کرلاؤگے…تو بھی کچھ نہ ہوگا…
    جیسے جیسے انسانیت جھگیوں کچے مکانوں اور بہتی ٹین کی چھتوں تلے تڑپ رہی ہے۔
    اس لیے تم ان پہ رحم کرو اور لپٹنے کا ارادہ چھوڑکر پلٹ جاؤ۔ موج مارکہ ڈراؤ نا۔
    تمہیں تمہارے جیالوں کی قسم جنہوں نے تمہاری خاطر قسمیں کھائیں۔ تم.پر بھروسے کیے۔ تمہاری گہرائی کو چاہا۔اور محبت کو تیرے نام سے تشبیہہ دی ان کی خاطر…بس ایک خط دریا کو لکھو…تم فریاد بس ایک خط…
    ٭…٭…٭
    تمہارا خط ملا جس میں فقط اتنا لکھا ہوا ہے کہ ”پڑوسی ملک اپنا پانی ہم پر چھوڑ رہا ہے۔ یہ سب اسی کا قصور ہے سپی وہ جب چاہیں پانی بند کردیں اور جب چاہیں چڑھادیں یہ کاہے کا انصاف ہوا فریاد…یہ کس قسم کی آزادی ہوئی کہ وہ جب چاہیں ہمیں پانی کی ماردیں۔”
    ”کبھی پانی کبھی جنگ… کبھی ہتھیاروں کی جنگ میں وہ ہم سے نہیں جیت سکتے پانی کی جنگ میں تو جیت جاتے…”
    ”خیر میں دریا میں ایک خط تمہارے نام کا ڈال آئی ہوں اور اسے کہہ آئی ہوں تمہیں فریاد کی محبت کا واسطہ یہیں سے مڑجاؤ۔”
    ”میں نے تمہارے لیے بہت کیا گھروالوں سے لڑی جھگڑی ابا کی نظر سے گری… ماں کی نظر میں بری بنی۔
    بیاہ کرآئی تو مشکل وقت میں دو وقت کو ایک روٹی میں بانٹا…نوالوں کی تعداد گھٹادی…کچی بستی میں رہنے کی عادی بنی..سب پڑوسیوں سے ہنس ہنس کر باتیں کیں..بنائے رکھی۔
    تمہاری چاکری کی۔تم نے کہا باہر جاؤں گا اپنی جان انتظار کی سولی پہ چڑھاکر تمہیں بھیج دیا۔
    ”اب کیا…اب دیکھتی ہوں تمہارا دریا تمہارے لیے کیا کرتا ہے۔”
    پگلی دریا سے امید لگاکر بیٹھی سوچتی رہی، انتظار کرتی رہی۔
    ادھر فریاد کسی اور سے پیار اور محبت کے پیچ لڑاتے ہوئے سرحد پار کرگیا۔
    جہاں لوگوں کی باتوں کا خوف تھا نہ ہی پانی کا۔
    بس تنہائی کو سجانے کی چاہ تھی۔
    سپی کا خط مہرو کی پازیب کی طرح لڑھکتا ہوا کنارے پر تیرتا ہوا کسی لہر میں گھل گیا۔
    کسی نے کھولا، نہ پڑھا۔
    پھر وہ پانی میں ڈوبنے لگا گویا وفا ڈوب رہی تھی۔
    ٭…٭…٭




  • باغی ۔۔۔۔۔ قسط نمبر ۶ ۔۔۔۔ شاذیہ خان

    اگلے دن ماں اور مُنی ناشتہ کر رہی تھیں کہ منی نے ڈرتے ڈرتے بات شروع کی۔
    ”اماں ایک بات کہوں؟ناراض تو نہیں ہوگی؟”
    ”ہاں بول۔”ماں نے پراٹھے کا نوالہ منہ میں رکھتے ہوئے کہا۔
    ”اماں رات کو فوزیہ باجی کا فون آیا تھا۔” منی نے ہکلاہٹ سے کہا۔
    ” کیا فوزیہ کا فون… ” ماں نے حیرت سے آنکھیں پھاڑ کر سوال کیا۔ منی اس کے پاس آگئی اور اس کا ہاتھ پکڑ کر بولی۔
    ” تو سو رہی تھی۔ باجی بات کرنا چاہ رہی تھی۔”
    ”اب کیوں بات کرنا چاہ رہی تھی وہ؟جب ہم سب مر جاتے تب بات کرتی۔تو نے بتایا نہیں اس کے جانے کے بعد ہم کتنی مصیبتوں میں ہیں۔”ماں نے دکھی لہجے میں کہا۔
    ”ہاں اماں باجی کہہ رہی تھی کہ میں مُنے اور گھر کے لیے پیسے بھیجوں گی۔” منی نے اسے دلاسا دیا۔
    ”وہ کہاں سے پیسے بھیجے گی؟”ماں نے تعجب سے سوال کیا۔
    ”باجی شہر میں ایک بڑی دکان پر کپڑے سیتی ہے۔”منی نے اشتیاق سے جواب دیا۔
    ”ہائے فوزیہ کے ہونے سے کتنا کچھ اچھا تھا اس کے جاتے ہی جیسے گھر کو نظر لگ گئی،بھائی الگ ہوگیا،تیرے باپ کا کام رُک گیا،گھر کو جیسے نظر لگ گئی۔” ماں فوزیہ کو یاد کرکے دکھی ہو رہی تھی۔
    ٭…٭…٭





    عابد نے دکان پر جاتے ہوئے گھر کے خرچ کے لیے اپنی ماں کے ہاتھ پر پیسے رکھے۔ ماں نے اتنے کم پیسے دیکھ کر اسے جھاڑنا شروع کر دیا۔
    ”اماں کیا کروں دکان ہی نہیں چل رہی۔تو چھوٹے سے کہہ کر کچھ پیسے دبئی سے منگوا۔”عابد نے نظریں چراتے ہوئے کہا۔
    ” ارے! دکان کیسے نہیں چل رہی،اتنا سامان توڈلوایا تھا تیرے بھائی نے اور تو بار بار شہر جا کر خرید کر بھی لا رہا ہے۔ پھر دکان کیسے نہیں چل رہی؟”ماں نے حیرانی سے اونچی آواز میںپوچھا۔ماں بیٹے کی باتیں سن کر روبی بھی کمرے سے نکل آئی۔
    ”اماں جب تیرا بیٹا پورے گاؤں کی عورتوں کومفت میں سامان بانٹے گا تو منافع کیسے ہوگا۔”روبی نے آتے ہی طنز کیا۔
    ” تو چپ کر جا،زیادہ بولے گی تو مار کھائے گی۔”عابد روبی کی مداخلت پر غصے میں آگیا۔
    ” کیوں میں کیوں مار کھاؤں ،اماں تو اس سے پوچھ اس کی دکان پر عورتوں کا اتنا رش کیوں ہوتا ہے؟”روبی نے ترکی بہ ترکی جواب دیا۔
    ”اماں دکان میں عورتوں کی چیزیں ہیں، عورتوں کا رش تو ہوگا۔”عابد نے ماں کی طر ف منہ کرتے ہوئے کہا۔
    ”تو منیاری کی دکان اسی لیے نہیں کھولتاکہ پھرپورے گاؤں کی آوارہ عورتیں پھر تیری دکان پر نہیں آئیں گی۔”روبی نے ایک اور طنز کیا تو عابد نے ایک چپل اس کی طرف پھینکی اور وہ اندر بھا گ گئی۔
    ”دیکھ اماں دیکھ! اس کی زبان کیسی قینچی کی طرح چل رہی ہے۔میں تیرا منہ توڑ دوں گا اگر آئندہ ایسی بدتمیزی کی تو۔”عابد نے غصے سے کہا۔
    ”او! بس کردے لڑنا،میری بات کا جواب دے۔ پیسے کیوں کم ہیں؟”ماں نے اپنا سوال دہرایا۔
    ”کیا جواب دوں اور منگوا اس سے پیسے ،اب سامان ختم ہورہا ہے دکان میں۔”عابد نے رکھائی سے کہا۔
    ”وہ اتنی محنت تیری عیاشیوں کے لیے نہیں کررہا وہاں کہ تو جب پیسے مانگے وہ تجھے بھیج دے۔”ماں نے غصے سے چیختے ہوئے عابد کو لتاڑا۔
    ”تو دیکھ لے کہ گھر کیسے چلے گا،میں تو اتنا ہی کرسکتا ہوں۔دکان کو تو جیسے نظر لگ گئی ہے۔”عابد نے فکرمندی سے کہا اور گھر سے باہر نکل گیا۔
    ٭…٭…٭
    کنول سوچوں میں گم اپنے کمرے میں بیٹھی تھی۔ریحان بھی اس کے پاس آگیا۔
    ”بے بی کیا کررہی ہو؟”ریحان نے سوچوں میں گم کنول سے پوچھا۔
    ”میری بات ہوئی تھی گھر پر ریحان، وہاں بہت مسائل کھڑے ہو گئے ہیں۔ ابا پریشان ہے،بھائی گھر چھوڑ گیا اور مُنے نے پڑھائی چھوڑ دی۔میں سوچ رہی ہوں کہ تھوڑے سے پیسے منی آرڈر کروا دوں۔”کنول نے متفکرانہ انداز میں جواب دیا۔
    ”دیکھو کنول ابھی تو تم خود ایسی سٹیج پر ہو جہاں پہلے خود کو مضبوط کیا جاتا ہے،اپنے اخراجات تو پورے کرو پہلے۔”ریحان نے اسے سمجھایا۔
    ”لیکن وہ میرے گھر والے ہیں میں انہیں پریشانی میں نہیں دیکھ سکتی۔”کنول نے دکھی لہجے میں کہا۔
    ”تم خود ابھی کتنا کما رہی ہو؟تمہارا اپنا خرچہ تومشکل سے چل رہا ہے اور گھر والوں کی مدد کرنے چلی ہو۔”ریحان نے طنز کیا۔
    ” نہیں ریحان!مجھے ان کے لیے بھی کچھ نہ کچھ کرناہے،یہ بہت ضروری ہے۔”کنول نے اٹل اندازمیں کہا۔
    ”تمہارا کچھ نہیں ہوسکتا لڑکی۔ تم نہیں بدل سکتیں،جو چاہو کرو۔مجھ سے مت پوچھو۔”ریحان نے اس کے آگے ہاتھ جوڑ دیے۔
    ”ہاں کل جاؤں گی پیسے منی آرڈر کرنے،تم بتاؤ کتنے بھیجوں؟”کنول نے پوچھا۔
    ”مجھے نہیں پتا،جودل کرتا ہے وہی کرو۔”ریحان اس سے خفا ہو گیا تھا۔
    ٭…٭…٭





    کنول نے اپنی فٹنس کا خیال رکھنے کے لیے ایک جم جوائن کر لیا۔یہ شہر کے پوش علاقے میں واقع اچھا خاصا مہنگا جم تھا۔ایکسرسائز کرنے کے بعد وہ پسینہ پونچھتے ہوئے ریحان کے پاس آگئی ۔
    ” یہ بہت اچھا جم ہے ریحان،یوں دنوں میں سمارٹ ہو جاؤں گی۔”کنول نے چٹکی بجاتے ہوئے کہا۔
    ”ہاں اور بہت مہنگا بھی،بہت مشکل ہو جائے گا تمہارے لیے،کیسے مینج کرو گی؟”ریحان نے جم کے چاروں طرف نظر دوڑائی اور سوال کیا۔
    ”کر لوں گی مینج ،دنیا کو بھی تو مینج کر ہی رہی ہوں۔”کنول نے طنزیہ انداز میں جواب دیا۔
    ”وہی تو پوچھ رہا ہوں کیسے کرو گی؟ اب تم نے گاؤں بھی پیسے بھجوانے ہیں۔”ریحان نے حیرانی سے پوچھا۔
    ”ہاں وہ توبھجوانے ہی ہیں،بلکہ یہاں سے فارغ ہو جاؤں تو مجھے کسی پوسٹ آفس تک ڈراپ کردینا۔”کنول نے جواب دیا۔
    ”پھر سوچ لو۔ابھی کام نہیں ہے تمہارے پاس اور ابھی گھر والوں کو پیسوں کی عادت مت ڈالو۔”ریحان نے اسے ایک دفعہ اور سمجھانے کی کوشش کی۔
    ”ہاں پہلے بھی اپنا ہی سوچا تھا،مگر اب کچھ ہے ہی نہیں سوچنے والا ۔”کنول نے اداسی سے جواب دیا۔
    ”اچھا چلو اداس مت ہو،جو ہوگا دیکھا جائے گا۔فی الحال اپنا کام کرو۔”ریحان نے اسے اداس دیکھ کر بات بدل دی۔
    ٭…٭…٭
    ریحان نے اسے پوسٹ آفس کے باہر ڈراپ کیا۔ اندر داخل ہونے سے پہلے اس نے اپنا پرس کھولا تو بے دھیانی میں اس میں موجود پیسے نیچے گر گئے جس کا اسے پتا ہی نہ چلا۔ وہ پوسٹ آفس کے اندر چلی گئی اور منی آرڈر بھیجنے کا طریقہ معلوم کیا۔جب اس نے پیسے نکالنے کے لیے بیگ کھولا تو خالی پرس اس کا منہ چڑا رہا تھا۔ وہ بدحواسی کے عالم میں ادھر ادھر پیسے ڈھونڈنے لگی ۔پیسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے وہ پوسٹ آفس سے باہر نکل کر اس جگہ پر آگئی جہاں ریحان نے اسے ڈراپ کیا تھا۔
    وہ پریشانی سے یہاں وہاں بھاگ دوڑ کر رہی تھی کہ ایک گاڑی کا دروازہ کھلا اور اس میں سے ایک نوجوان باہر نکلا۔کنول اس کی طرف بڑھی۔
    ”سُنیں! آپ نے میرے پیسے تو نہیں دیکھے؟”
    ”نہیں! مگر کیا بہت بڑی رقم تھی؟”شہریار نے حیرانی سے اسے دیکھا۔
    ”میرے لیے تو تھی کیوں کہ مجھے اپنے ماں باپ کو گاؤں بھیجنا تھے۔”کنول نے پریشانی سے کہا۔
    ”Oh I seeکتنی رقم بھیجنی تھی آپ نے؟” شہریار نے اس پر ایک نظر ڈالی پھر بولا۔”میں آپ کو پیسے دے دیتا ہوں۔”
    ”کیوں؟ آپ کیوں دیں گے جب آپ مجھے جانتے ہی نہیں۔”کنول نے غصے سے پوچھا۔
    ”یہ لیں یہ رکھ لیں۔”شہریار نے اپنے والٹ سے پیسے نکالے اور اس کی طرف بڑھادیے۔
    ”سنیں!آپ مجھے کیا سمجھ رہے ہیں، میں کیسی عورت ہوں؟”کنول نے اس کے ہاتھ میں پکڑے پیسوں کو اگنور کرتے ہوئے غصے سے پوچھا۔
    ”اس وقت میں میں آپ کو عورت نہیں صرف ضرورت مند سمجھ رہا ہوں۔ رکھ لیں،شاباش۔”شہریار نے اطمینان سے جواب دیا۔
    ”اچھا ٹھیک ہے،مگر آپ اپنا کارڈ بھی دے دیں مجھے۔”کنول نے کچھ سوچ کر پیسے پکڑ لیے۔
    ”کارڈ کیوں؟”شہریار نے حیرانی سے پوچھا۔
    ”آپ پہلے آدمی ہیں جس نے اپنا کارڈ دیے بغیر ایک عورت کو پیسے دیے۔”کنول نے طنزیہ انداز میں جواب دیا۔
    ”سنیں!دنیا میں سب آدمی ایک جیسے نہیں ہوتے۔”شہریار نے رسان سے کہا۔
    ”اچھا آپ کہتے ہیں تو مان لیتے ہیں۔ٹھیک ہے میں لے لیتی ہوں مگر ایک شرط پر،پہلے آپ کارڈ دیں میں آپ کے پیسے جلد ہی لوٹا دوں گی۔”کنول نے اصرار کرتے ہوئے کہا۔
    ”رہنے دیں اس کی ضرورت نہیں۔”شہریار نے ٹالنے والے انداز میں کہا۔
    ”اس کی ضرورت مجھے ہے،شایدآپ کو نہ ہو۔”کنول نے قطعیت سے کہا۔
    ”اوکے آپ ضد کررہی ہیں تو یہ رکھیں۔”شہریار نے اپنے والٹ سے وزیٹنگ کارڈ نکال کر اس کی طرف بڑھا دیا۔
    ٭…٭…٭
    امام بخش اپنے کام پر جانے کے لیے گھر سے نکلنے ہی لگا کہ دروازے پر ڈاکیا آگیا اور امام بخش کو آوازیں دینے لگا۔
    ”امام بخش! او امام بخش!”
    ”ہاں بھائی کیا ہو گیا؟کیوں آوازیں دے رہا ہے؟”امام بخش نے دروازہ کھول کر پوچھا۔
    ”امام بخش یہ شہر سے تیرے لیے منی آرڈر آیا ہے۔”ڈاکیے نے ایک کاغذ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔
    ”شہر سے ؟مگر کس نے بھیجا ہے؟”امام بخش نے حیرانی سے کاغذ کو الٹ پلٹ کر دیکھا۔
    ”ریحان نام کا بندہ ہے کوئی۔”ڈاکیے نے بے پروائی سے جواب دیا۔
    ”لیکن میں تو کسی ریحان کو نہیں جانتا۔”امام بخش نے کہا اور کاغذ پر لکھا پتا دیکھنے لگا۔
    ”دیکھ لو اس پر پتا تو تمہارے گھر کا ہی ہے۔”ڈاکیے نے کہا۔
    ”ہاں اس پر لکھا پتا تو میرے گھر کا ہی ہے،لیکن مجھے کون بھیج سکتا ہے۔ بھائی دیکھ لے کسی اور کا نہ ہو۔”امام بخش نے پارسل دوبارہ ڈاکیے کی طرف بڑھا دیا۔
    ”لو پھر پکڑو جلدی مجھے آگے بھی ڈاک پہنچانی ہے۔”” لیکن!”امام بخش تذبذب کا شکار تھا۔اس نے انگوٹھا لگانے کو کاغذ آگے بڑھایا۔
    ” لیکن ویکن کچھ نہیں یہاں انگوٹھا لگاؤ اور پیسے پکڑو۔”ڈاکیے نے کہا اور امام بخش نے انگوٹھا لگا کر پیسے پکڑ لیے۔ڈاکیے کو رخصت کرنے کے بعد امام بخش اندر آیا اور اپنی بیوی کو آواز دی۔
    ”رحیم کی ماں سن!ادھر ، کہاں ہے تو؟”
    ”ہاں بول کیا ہے؟”ماں دوپٹے سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے اس کے پاس آگئی۔
    ”یہ دیکھ گھر کے پتے پر شہر سے پیسے آئے ہیں۔”امام بخش نے پیسے اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔
    ”پیسے؟”ماں نے حیرانی سے پوچھا۔
    ”ہاں پورے دس ہزار ہیں،کون بھیج سکتا ہے؟”امام بخش نے بھی اسی حیرانی سے کہا۔
    ”ابا باجی نے بھیجے ہوں گے۔فون آیا تھا اس کا، اس نے کہا تھا بھیجے گی گھر کے خرچے کے لیے۔”منی نے جھجکتے ہوئے کہا۔
    ”فوزیہ کا؟ اس کا فون اب کیوں آیا تھا؟ وہ کیا سمجھتی ہے میں اب بیٹی کی کمائی کھاؤں گا؟”باپ نے غصے سے کہا۔
    ”ابا اس کی محنت کی کمائی ہے،ایسا نہ بول۔”منی نے باپ کو سمجھایا۔
    ”نہ وہاں کیا محنت کررہی ہے جو اتنے پیسے بھیج دیے؟”باپ نے طنز سے پوچھا۔
    ”باجی وہاں ایک بڑی دکان پرکپڑے سلائی کرتی ہے۔”منی نے اشتیاق سے جواب دیا۔
    ”کپڑے سینے میں اتنے پیسے ملتے ہیں کہ اس نے ہمیں بھی بھیج دیے؟”باپ کے لہجے میں طنز برقرار تھا۔
    ”ابا رکھ لے! اب کیوں جھگڑ رہا ہے۔”منی نے ایک دفعہ پھر باپ کو سمجھانے کی کوشش کی۔
    ”نہیں چاہئیں مجھے اس کے پیسے۔”یہ کہہ کر باپ نے پیسے دور پھینک دیے توماں نے لپک کر اُٹھا لیے اور بولی۔
    ”ارے ارے کیا کررہا ہے؟ کوڑا کرکٹ نہیں ،پیسہ ہے یہ، رزق ہے، قدر کرو اس کی۔آخر ہمارے اپنے ہی نے تو بھیجے ہیں کسی غیر نے تو نہیں۔”
    ”تیری اپنی ہوگی ،تو رکھ لے۔میرے سامنے نام بھی مت لینا اس کا۔”امام بخش نے درشتی سے بیوی کو ڈانٹا۔
    ”ہاں تو نہ رکھ اس سے ہماری بہت سی ضرورتیں پوری ہوں گی۔میں تو نہیں پھینکنے والی۔”ماں نے کہا اور پیسے لے کر اندر چلی گئی۔
    ٭…٭…٭





    کنول ٹی وی پر وہی میوزک شو دیکھ رہی تھی جس میں اس نے حصہ لیا تھا اور ججز کی بدتمیزی سہی تھی۔وہی قسط نشر ہو رہی تھی جس میں اس نے بھی آڈیشن دیا تھا۔آڈیشن کے برعکس اسے ٹی وی پر نشر ہونے والی قسط میں ایک بے وقوف اور مزاحیہ کردار کے طور پر پیش کیا گیا تھا جو وہاں موجود لوگوں، ججزاور اب دیکھنے والوں کے لیے تفریح طبع کا سامان تھا۔
    ” ریحان دیکھو!یہ سین بالکل ایسا نہیں تھا جیسا اب نظر آرہا ہے۔ان لوگوں نے کتنی بے ایمانی کی ہے، کتنا مذاق بنایا ہے میرا۔”کنول غصے سے ٹی وی کی طرف اشارہ کرتے ہوئی بولی۔
    ”میں تو پہلے ہی منع کررہا تھا۔تمہیں اس پروگرام میں جانا ہی نہیں چاہیے تھا، وہ جگہ تمہارے لیے نہیں تھی۔”ریحان نے قدرے ناراضی سے کہا۔
    ”کیوں نہیں جانا چاہیے تھا؟مجھے اس لیے وہاں سے نکال دیاکیوں کہ میں سفارشی نہیں تھی؟اورکسی بڑے برانڈ نے مجھے سپانسر نہیں کیا تھا؟”کنول تپ گئی تھی۔
    ”سب کچھ تو تمہیں معلوم ہے،ایسے پروگرامز میں یہی سب کچھ چلتا ہے۔اگر تگڑی سفارش ہے تو سب اپنا ہے،کوئی بے سُرا بھی چل جائے گا۔کیا سمجھیں؟”ریحان نے انڈسٹری کی حقیقت اس پر آشکار کرتے ہوئے کہا۔کنول اس کی بات پر دھیان دینے کے بہ جائے کسی گہری سوچ میں گم تھی۔
    ”کنول میں تم سے بات کررہا ہوں،کیا سوچ رہی ہو۔”ریحان نے اسے گم صم دیکھ کر پوچھا۔
    ”نہیں کچھ نہیں۔”کنول نے چونک کر جواب دیا۔
    ”نہیں کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔”ریحان نے اصرار کیا۔
    ”میں سوچ رہی ہوں کہ یہ پروگرام گھر والوں نے بھی دیکھا ہوگا،پہچان نہ گئے ہوں۔” کنول کے لہجے میں پریشانی جھلک رہی تھی۔
    ”یقینادیکھا ہوگا،اتنا ڈر تھا گھر والوں کا تو نہ کرتیں یہ پروگرام۔”ریحان نے بے پروائی سے کہا۔
    ”نہیں میں ڈر تو نہیں رہی مگر گھر پر یہی بتا کر پیسے بھیجے ہیں کہ بوتیک کا کام کررہی ہوں۔ اگر انہیں معلوم ہوا کہ میں…”اس نے فکرمندی سے کہا۔
    ”چھوڑو پریشان ہونا،اب اس فیلڈ میں قدم رکھا ہے تو ہمت کرو،کچھ نہیں ہوتا۔”ریحان نے اسے تسلی دی۔
    وہ لیپ ٹاپ پراپنی ویڈیوپر آئے ہوئے مختلف لوگوں کے تبصرے پڑھنے لگی ۔
    ” تم ذرا ان لوگوں کو دیکھو ریحان،کس طرح کے کمنٹس کررہے ہیں۔”
    ”برداشت کرو یار،دنوں میں سٹار بن جاؤ گی۔ تب یہی لوگ تمہاری تعریفوں کے کمنٹس کریں گے، لائیکس سے تمہارا پیج بھر جائے گا۔”ریحان نے اسے سمجھایا اور اس نے منہ بنا کر ریحان کی طرف دیکھا۔
    ٭…٭…٭
    گوہر اپنے آفس میں بیٹھا ٹی وی پر آنے والا میوزک شو دیکھ رہا تھا جس میں کنول نے حصہ لیا تھا کہ اس کافون بج اُٹھا۔اُس نے فون ریسیو کیا اورہشاش بشاش ہوکر کہا۔
    ”ہیلوعظیم صاحب کیسے ہیں؟”
    ”بھائی ابھی ٹی وی پر ایک پروگرام چل رہا تھا۔اس میں جو ماڈل تھیں کنول بلوچ،کیاوہ اب آپ کی ماڈل ہیں؟”عظیم نے سلام دعا کے بعد پوچھا۔
    ”ہاں! جی ہاں وہ ہماری ہی ماڈل ہیں۔”گوہر نے بتیسی نکالتے ہوئے جواب دیا۔
    ”بھئی واہ آپ تو اپنی ماڈلز کو بڑا پروموٹ کرتے ہیں۔ سب سے زیادہ فوٹیج آج کے پروگرام میں اسی کو ملی ہے،یہ تو راتوں رات سٹار بن جائے گی۔”عظیم نے کہا ۔
    ”ہاں یہ تو ہے۔”گوہر سر ہلانے لگا۔
    ”آپ نے اس کے ساتھ کوئی ایگریمنٹ کیا ہے؟”عظیم نے پوچھا۔
    ”جی بالکل،ہمارا ایگریمنٹ ہے۔”گوہر نے فوراً جواب دیا۔




  • باغی — قسط نمبر ۳ — شاذیہ خان

    فوزیہ ہاتھ میں گوہر کی ایڈورٹائزنگ ایجنسی کا پتا لیے بس سے نیچے اتری اور ایک راہ گیر کو پرچی دکھاتے ہوئے ایڈریس دریافت کیا۔ راہ گیر نے اسے ناصرف پتا سمجھایا بلکہ اسے یہ بھی بتا دیا کہ اس طرف کون سی بس جائے گی۔فوزیہ نے بس کے بجائے رکشہ پہ جانا زیادہ مناسب سمجھا۔تھوڑی ہی دیر بعد رکشے والے نے بآسانی اسے گوہر کی ایڈورٹائزنگ ایجنسی تک پہنچا دیا۔ فوزیہ کرایہ ادا کرکے رکشے سے اتری اوربلڈنگ کے اندر چلی گئی جہاں ایک چوکیدار نے اس سے پوچھا کہ میڈم آپ نے کہاں جانا ہے؟جب فوزیہ نے اسے میڈیا ٹیک ایڈ ایجنسی کا بتایا تو اس نے فوزیہ کو بتایا کہ یہ دفتر پانچویں فلور پر ہے۔فوزیہ نے اس کی بات سن کر سر ہلایا اور لفٹ کی طرف بڑھ گئی۔
    پانچویں فلور پر لفٹ سے باہر نکل کر وہ ایک دفتر کے سامنے پہنچی جہاں میڈیا ٹیک ایڈورٹائزنگ کمپنی کا نام لکھا ہوا تھا۔ فوزیہ نے رُک کر پرچی پر لکھا نام دوبارہ پڑھا۔ اسی وقت بند دروازہ کھلااور ایک آدمی باہر نکلاتو وہ اندرگھس گئی۔ سامنے ریسپشنسٹ کسی سے فون پر بات کررہی تھی۔ اُس نے فوزیہ کو دیکھ کر فون رکھا اور مسکرا کر پوچھا۔
    ” جی میم!کیا میں آپ کی کوئی مدد کر سکتی ہوں؟” فوزیہ نے پرچی اس کے ہاتھ میں تھما دی۔ ریسپشنسٹ نے پرچی پر نظر ڈ الی اور پوچھا۔
    ” آپ کو گوہر صاحب سے ملنا ہے؟”
    ”جی ہاں۔”فوزیہ نے اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے جواب دیا۔
    ریسپشنسٹ نے فون ملایااور فوزیہ سے اس کا نام پوچھا۔
    ” فوزیہ بتول،انہوں نے مجھے آج کا ٹائم دیا تھا۔”فوزیہ نے قدرے رک رک کر جواب دیا۔





    ” سر آپ سے کوئی مس فوزیہ بتول ملنے آئی ہیں۔ ”ریسپشنسٹ نے کہا اور پھر اوکے سر کہہ کر فون بند کر دیا۔
    فون رکھنے کے بعد اس نے فوزیہ سے کمرے میں جانے کا کہا، فوزیہ ”شکریہ” کہہ کر کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
    فوزیہ کمرے میں داخل ہوئی تو سامنے ایک پینتیس سالہ درمیانی عمر کا عیار سا شخص لیپ ٹاپ پربیٹھا تھا جو اسے اندر داخل ہوتے دیکھ کر کرسی سے کھڑا ہوگیا۔ فوزیہ خاموشی سے آگے بڑھی، ہاتھ میں پکڑا پرس میز پر رکھا اورگوہر کو سلام جھاڑ دیا۔
    ”السلام علیکم جی میں فوزیہ بتول۔”
    ”جی جی ! ویلکم۔” گوہرنے خوش اخلاقی سے کہااور ایک کرسی کی طرف بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ ”میں آپ ہی کا انتظار کررہا تھا،آیئے بیٹھیے۔”
    ”کیا آپ گوہر صاحب ہیں اور آپ ہی نے مجھے فون کیا تھا؟”فوزیہ کے لہجے میں شبہ تھا۔
    ”جی جی میں نے ہی آپ کو فون کیا تھا۔ باقی باتیں بعد میں،پہلے یہ بتائیں کیا لیں گی چائے، کافی یا…؟” گوہر نے مسکرا کر انٹرکام کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے جواب دیا۔
    ”جی رہنے دیں۔” فوزیہ نے تھوڑا جھجکتے ہوئے جواب دیا۔
    ”ارے نہیں،ایسے اچھا نہیں لگتا۔”گوہر نے اس کی جھجک محسوس کی اور کہاپھراصرار کرتے ہوئے انٹرکام کان سے لگا لیا۔”آپ پہلی بار آئی ہیں ایسے کیسے جانے دیں،آپ کو کچھ نہ کچھ تو لینا پڑے گا۔”
    ” جی پھر کافی منگوا لیں۔” فوزیہ نے کچھ سوچ کر جواب دیا۔
    ”بلیک یا وِد ملک؟”گوہر نے پوچھا۔
    ”جی؟” فوزیہ اس کی بات پر تھوڑا بوکھلا گئی اس نے تو کبھی کافی نہیں پی تھی اب بلیک یا ملک والی کا کیا جواب دیتی۔
    ” میرا مطلب ہے بلیک کافی پیتی ہیں یا ملک والی۔”گوہر نے سمجھاتے ہوئے پوچھا۔
    ” جیسی آپ پئیں۔” فوزیہ کے لہجے میں اب بھی ہچکچاہٹ تھی۔
    ”میں تو بلیک کافی پسند کرتا ہوں۔”گوہرنے ہنستے ہوئے کہا۔
    ” میں بھی وہی پی لوں گی۔” فوزیہ نے فوراً کہا۔
    ” کافی تابع دار قسم کی خاتون ہیں آپ۔” گوہر کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کھل رہی تھی۔
    انٹرکام پر کافی کا آرڈر دینے کے بعد گوہر نے دوبارہ بات شروع کی۔
    ” ویسے اچھا ہوا آپ آگئیں ورنہ آج ہی یہ ایڈ کسی اور کے نصیب میں چلا جاتا۔ کافی دن تو آپ نے رابطہ ہی نہ کیا۔ ”
    ” جی میرے گھر کے کچھ مسائل تھے۔” فوزیہ نے سر جھکاتے ہوئے ہوئے جواب دیا۔
    ” مسائل؟کیسے مسائل؟”گوہر نے پوچھا۔
    ” جی میرے میاں اجازت نہیں دے رہے تھے۔”فوزیہ نے تھوڑا جھجکتے ہوئے بتایا۔
    ” آپ شادی شدہ ہیں؟”گوہر نے آنکھیں پھاڑتے ہوئے حیرانی سے پوچھا۔





    ”جی میرا ایک بیٹا بھی ہے۔”وہ شرمندگی سے بولی۔
    ”لیکن جب آپ نے اپنی تصاویر کے ساتھ انفارمیشن لکھی تھی اس میں تو سنگل شو کیا تھا۔”
    ”جی اس وقت تک میری شادی نہیں ہوئی تھی۔”فوزیہ نے گڑبڑا کرجواب دیا۔
    ” دیکھیں مس فوزیہ بتول!یہ فیلڈ ینگ لڑکیوں کے لیے ہے۔یہاں نوجوان اور غیرشادی شدہ لڑکیاں ہی کام یاب ہیں، آپ کیسے چلیں گی یہاں؟” گوہر کرسی کی پشت سے کمر لگاتے ہوئے بولا۔
    ”وہی تو آپ کو بتانا چاہ رہی ہوں کہ میری میاں سے علیحدگی ہوچکی ہے۔ وہ اجازت نہیں دے رہے تھے اور مجھے ہر حال میں اس فیلڈ میں آنا تھا۔” فوزیہ نے فوراً بات بنائی۔
    ” اوہ اچھا اچھا! ایسے میں کہنا تو نہیں چاہیے مگر اگر آپ واقعی اس فیلڈ میں نام کمانا چاہتی ہیں تو یہ آپ کے حق میں بہت اچھا ہوا۔” گوہر نے قدرے سکون کا سانس لیا۔
    اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی اورچپڑاسی کافی لے کر آگیا اور دونوں کے آگے کافی کپ رکھ دیے۔ گوہر نے ہاتھ کے اشارے سے اصرار کرتے ہوئے اسے کپ اُٹھانے کا کہا۔
    ”فوزیہ! کافی لیجیے ،ہمارے آفس کی کافی بہت پسند کی جاتی ہے ۔”
    فوزیہ نے کپ اٹھایا اور پہلے ہی سپ پر اس نے منہ بنا کر کافی چھوڑ دی۔ گوہر نے فوراً پوچھا۔
    ”کیا ہوا؟”
    ناسمجھی کے انداز میں فوزیہ نے منہ بنایااور بولی۔”اتنی کڑوی۔”
    ”لیکن کافی تو کڑوی ہی ہوتی ہے۔” گوہر نے حیرانی سے جواب دیا۔
    ” ہاں لیکن یہ تو بہت ہی کڑوی ہے۔”فوزیہ نے بھی جیسے بات بنائی۔
    ” چلیں یہ آپ رہنے دیں ،میں چائے منگواتا ہوں آپ کے لیے۔” گوہر نے اس کے آگے سے کپ اٹھاتے ہوئے کہا۔
    ” نہیں نہیں رہنے دیں، مجھے ابھی کچھ نہیں پینا۔ آپ پلیز مجھے بتائیں کہ کرنا کیا ہے؟کس اشتہار کے لیے آپ نے مجھے بلایاہے؟” فوزیہ نے ہاتھ کے اشارے سے روکتے ہوئے کہا۔
    ” جی وہ بھی بات ہو جائے گی، پہلے تو مجھے لگ رہا ہے کہ آپ کا پورٹ فولیو دوبارہ بنوانا پڑے گا اور آپ کو تھوڑا مین ٹین بھی کرنا پڑے گا۔ اپنے اوپر توجہ دیں۔ اس ایک سال میں آپ کا وزن کافی بڑھ گیا ہے۔”گوہر نے اس کے خدوخال پرنظریں جماتے ہوئے جواب دیا۔
    ”جی وہ بس بچے کے بعد …لیکن میں جلد کم کرلوں گی،آپ فکر نہ کریں۔” فوزیہ کے لہجے میں شرمندگی چھپی ہوئی تھی۔
    ” خیر ہم آپ کو ساری سہولیات دیں گے، پہلے تو یہ بتائیں آپ ٹھہری کہاں ہیں؟ ”گوہر نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
    ”وہ بس میں ابھی…”فوزیہ سے کوئی جواب نہ بن پایا۔
    ” اچھا خیر اس کا انتظام بھی ہو جاتا ہے۔ ہمارا ایک گیسٹ ہاؤس ہے،میں ڈرائیور سے کہتا ہوں کہ آپ کو وہاں چھوڑ آئے،اب آپ ہماری ذمہ داری ہیں۔ بہت جلد آپ ہمارے ادارے سے ایک روشن ستارے کی طرح چمکیں گی مس فوزیہ۔”گوہر نے اسے تسلی دی۔
    ” جی بہت شکریہ آپ میراخواب پورا کررہے ہیں۔ ” فوزیہ تشکر آمیز لہجے میں بولی۔
    ”مس فوزیہ بس آپ ہمارے خواب پورے کریں ہم آپ کے پورے کریں گے۔ زندگی دراصل کچھ لو،کچھ دو ہی کا نام ہے۔”
    فوزیہ گوہر کی یہ بات سمجھ تو نہ سکی لیکن محض جی کہہ کر مسکرا دی۔
    ٭…٭…٭





    گوہر سے رخصت ہونے کے بعد ڈرائیور اسے گیسٹ ہاؤس لے آیا۔ وہ کمرے میں داخل ہوئی جہاں ضرورت کی ہر چیز موجود تھی۔اس نے کمرے کی ایک ایک چیز کا غور سے جائزہ لیا۔ LCDکے پاس جاکر اس پر ہاتھ پھیرا اوراس کے بٹن دبانے کی کوشش کی لیکن کام یاب نہیں ہوئی تو ساتھ آئے ملازم سے پوچھا۔
    ”یہ چلتا کیوں نہیں، کیا خراب ہے؟ ”
    ”جی نہیں میم یہ ریموٹ سے چلے گا۔”ملازم نے طنز آمیز مسکراہٹ سے جواب دیا اورپاس پڑا ریموٹ اٹھا کر اُسے تھمادیا۔
    ” ہاں ہاں مجھے پتا ہے۔” فوزیہ نے شرمندہ ہوتے ہوئے کہا اورریموٹ پر لگے بٹن دبائے لیکن اسکرین روشن نہ ہوئی تو اس نے دوبارہ ملازم کی طرف دیکھا تو ملازم نے آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ سے ریموٹ تھام لیا اور ٹی وی چلادیا۔
    ”میم اس بٹن کو دبانے سے آپ چینل چینج کرسکتی ہیں۔” ملازم ایک بٹن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا،ساتھ ہی وہ بڑی عجیب سی نظروں سے فوزیہ کو دیکھ رہا تھا۔
    ”ہاں ہاں مجھے پتا ہے۔” فوزیہ نے منہ بناتے ہوئے کہا اورپھر غور سے اپنی جانب دیکھتے ہوئے ملازم کو ڈانٹا۔”کیا گھور کر دیکھ رہے ہو؟کبھی کوئی لڑکی دیکھی نہیں؟ ”
    ”کچھ نہیں جی معاف کردیں،کسی اور چیز کی ضرورت ہے تو بتا دیں۔” ملازم یوں پکڑے جانے پر گھبرا گیا اور ہکلا کر جواب دیا۔
    ” نہیں، اب تم جاؤ۔”فوزیہ نے اسے ڈانٹتے ہوئے کہا۔
    ملازم ڈانٹ کھانے کے بعدسر جھکائے باہر نکل گیا۔ فوزیہ نے چپل ایک طرف اتاری اور صوفے پر پھیل کر بیٹھ گئی۔ ریموٹ ہاتھ میں لے لیا اور چینل بدل بدل کر دیکھنے لگی۔ ایک چینل پر ایک بچے کی فلم آرہی تھی۔اس کا چینل بدلتا ہاتھ اپنی جگہ ٹھہر سا گیا۔ وہ دل جمعی سے دیکھنے لگی۔ اس کے بیٹے کی عمر کا ایک ہنستا ہوا بچہ تھا جسے دیکھ کر اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں اور اسے اپنا بیٹایاد آنے لگا۔نہ جانے اس وقت منا کس کے پاس ہوگا،اسے کون سنبھال رہا ہوگا۔
    ٭…٭…٭
    ماجدشدید رو رہا تھا اور عابد اسے سنبھالتے سنبھالتے خود پریشان ہوگیا تھا،لیکن وہ کسی صورت چپ ہی نہیں ہو رہاتھا۔ اتنے میں اس کی ماں فیڈر بنا کر لائی تو عابد نے بچہ ماں کی گود میں ڈال دیا۔
    دادی نے منہ بناتے ہوئے بچے کے منہ میں فیڈر ٹھونسی اور بولی۔
    ”تو نے کیوں روک لیا اِسے، لے جارہی تھی تو لے جانے دیتا۔”
    ”اماں یہ میرا بیٹا ہے، میرے پاس ہی رہے گا۔”عابد غصے سے بولا۔
    ”تو سنبھالے گا کون اسے؟ میری بوڑھی ہڈیوں میں اتنا دم نہیں۔ تو نے بھی بس کچھ سوچے سمجھے بغیر تین بول سنا دیے۔” ماں نے بھی غصے سے جواب دیا۔
    ” تو نے دیکھا نہیں کتنی بدتمیزی کررہی تھی،اور تو فکر نہ کر آ جائے گی۔”عابد نے ماں کو تسلی دی۔
    ” عابد پتا تو کر ابھی تک اس کے گھر سے کسی نے رابطہ ہی نہیں کیا۔”عابد کی ماں کے لہجے میں تجسس تھا۔
    ” کرلیں گے رابطہ بھی، جلدی کیا ہے۔ ابھی تو ایک دن ہی ہوا ہے۔ پلٹ کر واپس گھر ہی آئے گی، اس نے جانا کہاں ہے؟اس کے گھر والے بھی اُسے نہیں رکھیں گے۔”عابد نے اپنی ماں کو قائل کرتے ہوئے کہا۔
    ”لیکن دیکھ اب ذرا لگامیں کھینچ کر رکھنا ۔تواُسے بہت ڈھیل دے دیتا ہے جب ہی تیرے سر پر ناچتی ہے۔”ماں نے اسے نصیحت کی۔
    ”تو فکر ہی نہ کر ،ایسی چٹیا پکڑ کر رکھوں گا کہ یاد رکھے گی۔ زیادہ ہی دماغ خراب ہوگیا ہے اُس کا۔”عابد نے ماں کی بات سن کر غصے سے جواب دیا۔
    ” چل تو آج راجدہ کو بتا جا کر ،اُسے کہہ کہ اماں نے بلایا ہے۔اس سے مشورہ کرتی ہوں کہ جب تک وہ واپس نہیں آتی اس کا کیا کریں۔ میری بوڑھی ہڈیوں میں اتنادم نہیں۔آکر راجدہ ہی اسے سنبھال لے۔” ماں نے پریشانی سے کہا۔
    ”ٹھیک ہے اماں میں جاکر راجدہ سے بات کرتاہوں تب تک تو سنبھال اسے۔”یہ کہہ کر وہ کمرے سے نکل گیا۔
    ٭…٭…٭





    فوزیہ کی نند اور اس کی ساس بیٹھی آپس میں باتیں کررہی تھیں۔راجدہ کی گود میں عابد کا بیٹا تھا اور وہ اُسے پیار سے گلے لگائے ہوئے تھی۔ فوزیہ کی نند بچے کو پیار کرتے ہوئے بولی۔
    ” فوزیہ کتنی سنگ دل ہے ،اتنا پیارا بیٹا چھوڑ کر چلی گئی۔ ویسے اماں جھگڑا ہوا کس بات پر تھا؟”
    ” ویسے تو کم بخت کا جھگڑا روز ہی کسی نہ کسی بات پر ہوتا تھا، لیکن کل تو ضد کررہی تھی کہ مجھے اشتہاروں میں کام کرنا ہے، لیکن تیرے بھائی نے انکار کردیا۔” فوزیہ کی ساس نے نفرت سے جواب دیا۔
    فوزیہ کی نند یہ بات سن کر گال پیٹنے لگی۔
    ”توبہ توبہ !ویسے کتنی آوارہ ہے، شریفوں والی زندگی چھوڑ کر گندی عورتوں والے کام کرنا چاہتی ہے۔”
    ”بس بدنصیب ہوتی ہیں کچھ عورتیں۔ وہ توبہت ہی آوارہ تھی۔ نہ جانے تیرے بھائی کو کیا پسند آیا اس میں۔زبان دیکھو گز بھر کی،ذرا ذرا سی بات پر لڑنے کو تیار۔ بھئی اب اگر منہ چلائے گی تو پٹے گی بھی۔” فوزیہ کی ساس سر پر ہاتھ مارتے ہوئے تاسف سے بولیں۔
    ” او چھوڑ اماں، گھر بسانے والی عورتیں ایسی نہیں ہوتیں۔ اس نے گھر بسانا ہی نہیں۔” فوزیہ کی نند نے نفرت سے فوزیہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا۔
    ” لیکن اپنابچہ تو کوئی نہیں چھوڑتااس طرح ؟اس بچے کی خاطر وہ واپس آئے گی۔پہلے بھی آگئی تھی،لیکن اب تو بہت دھڑلے سے گئی ہے۔”فوزیہ کی ساس نے فکر سے سر ہلایا۔
    ”تو نے کہا بھائی سے کہ پتا لے کر آئے؟”فوزیہ کی نند تشویش سے بولی۔
    ” ہاں آج جائے گاوہ پتا کرنے، دیکھ کیا کہتے ہیں وہ لوگ۔” فوزیہ کی ساس نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے جواب دیا۔
    ”کہنا کیا ہے اماں،پہلے کی طرح بھیج دیں گے بیٹی کو، انہوں نے کون سا بٹھانا ہے اسے۔” فوزیہ کی نند نے بے پروائی سے کہا۔
    ان دونوں کی باتوں کے دوران ماجدنے پھر رونا شروع کردیاجسے راجدہ تھپک تھپک کر سلانے کی کوشش کررہی تھی لیکن وہ کسی صورت قابو نہیں آرہا تھا۔
    ”کتنی بدنصیب ماں ہے، اللہ نے اتنا خوب صورت بیٹا دیا، گھر دیا اور وہ آوارہ پھر رہی ہے۔ اس لڑکی کے چلن تو پہلے ہی ٹھیک نہ تھے، شادی کے بعد تو اور بھی پر نکل آئے۔”فوزیہ کی نند کے لہجے میں فوزیہ کے لیے نفرت ہی نفرت تھی۔
    ”چل تو اس کو دیکھ میں کچھ اور کام کرلوں۔”فوزیہ کی ساس جیسے اس بات سے اکتا گئی تھی، وہ اُٹھی اور دوسرے کمرے کی طرف چلی گئی۔
    ٭…٭…٭
    فوزیہ کی ماں بہت ہی بھیانک اور عجیب سا خواب دیکھ کر گھبرا کر اُٹھ بیٹھی اور امام بخش کو جھنجھوڑا۔ وہ بھی آنکھیں ملتا ہوا اُٹھ بیٹھا۔
    ”خیر ہے بھاگ بھری تو کیوں اُٹھ کر بیٹھ گئی؟”
    ”فوزیہ کے ابا!میں نے فوزیہ کے بارے میں ایک بڑا بُرا خواب دیکھا ہے ۔”ماں نے پریشانی سے دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
    ” کیسا خواب؟ ” امام بخش حیرانی سے بولا۔
    ”وہ بہت پریشان ہے، رو رہی ہے، کہہ رہی ہے اماں مجھے معاف کردے۔” ماں نے پریشان لہجے میں کہا۔
    ”او! رہن دے وہ مر جائے گی لیکن تجھ سے یا مجھ سے کبھی معافی نہیں مانگے گی۔” امام بخش نے ہاتھ جھٹک کر جواب دیا۔
    ” نہیں میں ٹھیک کہہ رہی ہوں، وہ رو رہی تھی۔”فوزیہ کی ماں نے اپنی بات پر اصرار کیا۔
    ”چل رہن دے، سو جا ابھی صبح دیکھیں گے۔” امام بخش نے دوبارہ بے پروائی سے چارپائی پر کروٹ لی۔
    ” فوزیہ کے ابا بات سُن ۔” ماں نے پاس آکر بڑے مان سے کہا۔
    ”ہاں بول کیا بات ہے؟”اُس نے کروٹ بدل کر پوچھا۔
    ” کل تو فوزیہ کی طرف جا خبر لے کر آ اُس کی وہ ٹھیک تو ہے؟”ماں نے بہت اصرار سے کہا۔
    ” دیکھ میں ہاتھ جوڑ رہا ہوں، اس کے بارے میں مجھ سے کوئی بات مت کر میں بالکل نہیں جاؤں گااور تو بھی خاموشی سے بیٹھی رہ اپنی جگہ۔”وہ اُٹھ کر بیٹھ گیا اور غصے سے بولا۔
    ” تو کتنا بے درد ہے؟ تجھے ذرا اپنی بیٹی کا خیال نہیں آتا؟” فوزیہ کی ماں کی آنکھوں میں آنسو آگئے جسے اس نے اپنے دوپٹے سے پونچھا۔
    ” دیکھ اس نے بھی تو کبھی ہمارا خیال نہیں کیا اور تو اس وقت اس کی ساری باتیں چھوڑ اور سو جا۔ نہ جانے رات کو بیٹی کی کیسی محبت جاگ گئی کہ تو نے میری نیند بھی خراب کردی۔ ”امام بخش نے یہ کہہ کر کروٹ لی،ماں نے بھی دوسری طرف منہ کر لیا ۔اس کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے۔
    ٭…٭…٭





    فوزیہ ایک میگزین کے لیے فوٹو شوٹ کروا کر کرسی پر بیٹھی تھی اور دوسرے شوٹ کا انتظار کر رہی تھی کہ اس کی ماں کا فون آ گیا۔
    فوزیہ نے فون نمبر دیکھ کر پہلے کچھ سوچا اور پھرکال ریسیو کر لی۔دوسری طرف ماں کی آواز سن کر بولی۔
    ”ہاں اماں بول کیا بات ہے؟ ”
    ”فوزیہ میں نے بہت بُرا خواب دیکھا ہے تو ٹھیک تو ہے اور تو ہے کہاں؟”ماں نے پریشان ہوکر کہا۔
    ”ہاں اماں میں بالکل ٹھیک ہوں اور اس وقت شہر میں ہوں۔” فوزیہ نے بے پروائی سے جواب دیا۔
    ”کیوں شہر میں کیوں تو اپنے گھر میں نہیں ہے؟” ماں اس کی بات سن کر حیران رہ گئی۔
    ” اماں اس نے پھر مجھے طلاق دے دی تھی۔” فوزیہ نے قدرے توقف کے بعد جواب دیا۔
    ماں کو اپنی سماعتوں پر یقین نہیں آیا، وہ اپنے گال پیٹنے لگی۔
    ” ہائے وے میرے ربا تو کیا کہہ رہی ہے فوزیہ؟”
    ”ہاں اماں دیکھ میرااب ایسے اس کے ساتھ رہنا حرام تھا۔ میں چھوڑ آئی اُسے۔” فوزیہ نے کندھے اچکائے۔
    ”تو کیسی باتیں کررہی ہے فوزیہ؟ اپنے سر کے سائیں کو چھوڑ دیا؟”ماں نے تشویش سے کہا۔
    ” اماں اس نے مجھے مارا تھا، طلاق دینا تو جیسے کھیل بنالیا تھا۔ اسے میں چھوڑ آئی ہوں۔” فوزیہ نے اپنی بات میں وزن پیدا کرتے ہوئے کہا۔
    ”ہائے فوزیہ تو نے اپنے بچے کا بھی نہیں سوچا،کیسے پلے گی وہ ننھی سی جان۔” فوزیہ کی ماں نے تاسف سے پوچھا۔
    بچے کے نام پر فوزیہ کے لہجے میں تھوڑی اُداسی اتر آئی۔”بچہ بھی تو اُسی کا ہے اور پھر ہے بھی لڑکا، لڑکے تو پل ہی جاتے ہیں اماں۔”
    ”تو کتنی سنگ دل ہوگئی ہے فوزیہ۔ تجھے اپنے بچے پر ذرا ترس نہیں آرہا۔”ماں نے دکھ بھرے لہجے میں کہا۔
    ”بالکل ترس آرہا ہے اماں، مگر تو سوچ اس کا باپ کیا چاہتا ہے؟ بات بات پر طلاق دے دیتا ہے۔دوسری شادی کا خیال ہے اس کا، کتنا عرصہ چلتا یہ سلسلہ۔پھر اس نے مجھ سے جھوٹ بولا تھا کہ وہ مجھے کام کرنے دے گا اب مکر گیا ہے اور اماں سچ بولوں اس نے اپنی ماں کی جھوٹی قسم کھائی تھی جو شخص اپنی ماں کے نام کی جھوٹی قسم کھا لے اس کا کیا اعتبار۔”فوزیہ نے کرسی پر پہلو بدلتے ہوئے ماں کو جواب دیا۔
    ” تو چھوڑ سب باتوں کو ،یہ بتا تو اس وقت کہاں ہے؟ تیرا باپ تجھے لینے آرہا ہے۔”فوزیہ کی ماں نے غصے سے پوچھا۔
    ” اماں بتا دوں گی وقت آنے پر، مگرابھی مت پوچھ۔ ” فوزیہ نے بے پروائی سے کہا۔
    ”کیوں نہ پوچھوں، تو واپس آ بس اسی وقت۔”فوزیہ کی ماں نے اصرار کیا۔
    ” میں نے ابھی واپس بالکل نہیں آنا،تو زبردستی مت کر۔” فوزیہ نے غصے سے جواب دیا۔
    اسی دوران سپاٹ بوائے نے اُسے پکارا۔”مس فوزیہ آپ کا شوٹ ریڈی ہے۔ touching وغیرہ کروالیں۔”
    ”اچھا اماں میں فون بند کررہی ہوں۔ ضروری کام ہے،خدا حافظ۔” فوزیہ نے ماں سے جان چھڑائی۔
    ٭…٭…٭
    شوٹ کروانے کے بعد فوزیہ گوہر کے کمرے میں آگئی۔ اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی پوٹلی تھیجس میں کچھ زیوراتتھے جو وہ اسے بیچنا چاہتی تھی۔
    ”یہ رکھ لیں۔”فوزیہ نے زیورات گوہر کے آگے رکھتے ہوئے کہا۔
    ” یہ کیا ہے؟”گوہر نے پوٹلی کو کھولتے ہوئے دیکھا۔
    ” مجھے تھوڑے پیسوں کی ضرورت تھی میں نے سوچا انہیں بیچ دوں۔”فوزیہ نے ہچکچاہٹ سے کہا۔
    گوہر نے پوٹلی میں سے زیورات نکال کر دیکھے،پھر انہیں دوبارہ پوٹلی میں بند کر کے اس کی طرف بڑھا دیے۔
    ”تمہیں کتنے پیسوں کی ضرورت ہے؟”اس نے فوزیہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جیسے اُسے جانچا۔
    ”یہی تھوڑے بہت مل جاتے بس، ضرورت پڑ جاتی ہے۔”فوزیہ نے جھجکتے ہوئے کہا۔
    گوہر نے دراز سے پانچ پانچ ہزار کے چند نوٹ نکال کر اس کی جانب بڑھا دیے۔




  • باغی – قسط نمبر ۲ – شاذیہ خان

    آج کافی دن کے بعد فوزیہ عابد کی دکان میں کھڑی چیزیں دیکھ رہی تھی۔اب گاہ بہ گاہ وہ اس کی دکان میں آتی رہتی اور عابد کبھی تحفتاً اسے کوئی نہ کوئی شے دے دیتا۔وہ اپنے ہاتھوں میں کیوٹکس لگا کر چیک کررہی تھی۔ کاؤنٹر کے دوسری جانب عابد بھی کن انکھیوں سے اُسے میگزین کے صفحات پلٹتے دیکھ رہا تھاجس میں ریمپ پر ماڈلز کیٹ واک کرتی نظر آرہی تھیں۔ وہ میگزین کا ایک ایک صفحہ پلٹتی رہی اورپھر اچانک ایک صفحے پر میڈم نور جہاں کی ایک تصویر دیکھ کر رُک گئی۔ اس کی آنکھوں میں بہت سی ننھی ننھی خواہشیں چمکنے لگیں۔عابد اس کی آنکھوں میں چمکتے جگنو دیکھ کر حیران رہ گیا جب فوزیہ نے اس سے کہا۔
    ”ہائے اللہ! میری کتنی بڑی حسرت ہے کہ میں بھی میڈم کی طرح ایک مشہور سنگر بنوں اور ان ماڈلز کی طرح نظر آؤں۔”
    ”تو یہ کیا مشکل ہے ،تو بھی ایساکرسکتی ہے۔” عابد کندھے اُچکاتے ہوئے بولا۔
    ”پر یہاں رہ کر کیسے کرسکتی ہوں؟” فوزیہ نے منہ بناتے ہوئے پوچھا۔
    ”میں کروا سکتا ہوں بلکہ تیری ہر خواہش پوری کرسکتا ہوں۔”عابد نے اسے ایک خواب دکھایا تو اس نے بے ساختہ پوچھا۔
    ”تو قسم کھا کہ تو سچ کہہ رہا ہے؟”اپنی اتنی بڑی خواہش پورا ہونے کا خواب کتنا دلکش تھا۔ بے ساختہ اس نے عابد سے قسم کھانے کا کہا ساتھ ہی ہاتھ بھی پکڑ لیا،وہ جذباتی ہوگئی تھی۔
    ”تیری قسم یہ کون سی مشکل بات ہے۔” عابد نے پیار بھرے لہجے میں کہا۔
    فوزیہ نے ایک دم اُس کا ہاتھ پکڑ تولیا تھا لیکن احساس ہوتے ہی فوراً چھوڑ بھی دیا۔
    ”تو مجھے یہ سارے کپڑے لے کر دے گا؟ سچ کہہ رہا ہے نا، مجھے گانا بھی سکھائے گا اور میں ٹی وی پر بھی آؤں گی۔”کچھ توقف کے بعد اس نے آنکھوں میں جگنو بھر کے پوچھا۔
    ”بالکل سچ، میں تیرے دل کی ہر خواہش پوری کروں گا۔ بس تو ایک بار میرے گھر آجا۔” عابد نے مسکراتے ہوئے اسے یقین دلایا۔
    ”تو پھر بھیج نہ اپنی ماں کو میرے گھر۔”تھوڑا رک کر شرماتے ہوئے بولی۔
    ”اماں سے بات تو کی ہے میں نے،وہ جلد ہی تیرے گھر آتی ہیں مگر دیکھ تو نے مکرنا نہیں۔” عابد نے تھوڑا سوچ کر کہا۔
    ”نہیں مکرتی تیری قسم۔” فوزیہ نے آنکھوں میں خوشی کے ڈھیر سارے دیے بھر کر کہا اور پھر سامنے رکھے میگزین کے صفحات محویت سے دیکھنے لگی۔
    ”دوچار دوسرے میگزین بھی ہیں،لے جا تجھے پسند ہیں نا، بلکہ یہ بھی لے جا۔” عابد نے کاؤنٹر کے نیچے سے میگزین اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔
    ”واقعی لے جاؤں؟”فوزیہ نے خوش ہو کر پوچھا۔
    ”لے جا،تجھ سے اچھے ہیں کیا؟” یہ کہتے ہوئے سارے میگزین ایک شاپر میں ڈال کر اسے پکڑا دیے، فوزیہ جلدی سے میگزین دوپٹے کے پلو میں چھپاتی دکان سے نکل گئی۔
    ٭…٭…٭





    فوزیہ نے سب کے سونے کے بعدچپ چاپ اپنی چارپائی کی چادر کے نیچے چھپائے میگزین نکالے اور نیم درازہو کرفیشن میگزین کے صفحے اُلٹنے لگی۔اچانک ایک خوب صورت کم عمر ماڈل گرل کی تصویر دیکھ کر وہ رک گئی جو بغیر آستینوں کی ایک چھوٹی سی شرٹ پہنے مُسکرا رہی تھی۔ فوزیہ اس تصویر پر انگلیاں پھیرنے لگی اور خود کو اس ماڈل کی جگہ محسوس کررہی تھی کہ اچانک عقب سے اُس کی بہن نازیہ اُس کے سر پر آکھڑی ہوئی۔اس نے آدھے کپڑوں میں ملبوس ماڈل کی تصویر دیکھ کر زور سے چیخ ماری اورمنہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے پھٹی پھٹی آنکھوں سے میگزین کو دیکھنے لگی۔
    ”شرم کر فوزیہ!یہ تو کہاں سے لائی ہے؟” فوزیہ نے اُٹھ کر دروازہ بند کیااور منہ پر انگلی رکھ کر نازیہ کو چپ رہنے کا اشارہ کیا۔
    ”آہستہ بول، ایسا کیا ہے اس میں جو تیری آنکھیں پھیل رہی ہیں؟”فوزیہ نے سرگوشی میں بہن کو ڈانٹا۔
    ”ہائے اللہ!ذرا شرم ہے تجھ کو؟ کیسی کیسی تصویریں دیکھ رہی ہے۔” نازیہ نے آنکھیں پھاڑ کر میگزین کی تصویر کی طرف اشارہ کیا۔
    فوزیہ نے میگزین کے صفحات پلٹتے ہوئے بہن کو دکھائے اور پوچھا۔
    ”اس میں شرم کی کیا بات ہے بھلا؟ دیکھ تو کتنے خوب صورت کپڑے پہنے ہوئے ہیں، تو ان کی کمر دیکھ کیسی پتلی ہے چیتے کی طرح۔”
    ”انہیں شرم نہیں آتی پوری دنیا میں اپنی کمر اور جسم کی نمائش کرتے۔” نازیہ منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی۔
    ”تو یہ سب باتیں چھوڑ باجی،ان کے جسم دیکھ۔کتنی ورزش کرتی ہیں خوب صورت نظر آنے کے لیے۔ خود کو اور مجھے دیکھ، اتنا خوب صورت ہوتے ہوئے بھی کچھ نہیں ہے ہمارے پاس۔ وقت کے ساتھ ساتھ ہم خود ڈھل جاتے ہیں، تو اپنی طرف دیکھ کتنی خوب صورت تھی۔ تیرے میاں اور بچوں نے چند سالوں میں خون چوس کے رکھ دیا تیرا۔اپنی عمر سے کئی گنا بڑی نظر آرہی ہے تو۔”
    ”ہاں فوزیہ تو ٹھیک کہہ رہی ہے۔ شادی کے بعد کیا ملا مجھے، گالیاں، ٹھوکریں اور دھتکار۔” یہ کہتے ہوئے نازیہ کی آنکھوں میں نمی بھر آئی۔
    ” تو اپنے لیے سوچ باجی۔ صرف اپنے لیے، اگر تو آج اپنے لیے نہیں سوچے گی تو کوئی تیرے بارے میں نہیں سوچے گا۔”فوزیہ نے اسے حوصلہ دیا۔
    ”مگر یہ کیسے ہو سکتا ہے فوزیہ؟سب لوگ کتنا برا بھلا کہتے ہیں ایسی ماڈلز کو…”نازیہ نے میگزین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
    ”کہنے دے، ان سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ تجھ پر بھی نہیں پڑے گا۔” فوزیہ کسی زمانہ شناس کی طرح بولتی گئی۔ ”اپنی زندگی جی باجی، اپنی زندگی۔ کوئی کسی کو خوش نہیں دیکھ سکتا، ہمیں خود کو خوش رکھنا چاہیے۔ اس کمینے پر تیرے رونے یا غم زدہ رہنے سے کوئی فرق نہیں پڑ رہا، لیکن اگر تو خوش رہے گی، تو وہ جل جل کر مر جائے گا۔”
    ”کہہ تو تو صحیح رہی ہے فوزیہ۔”نازیہ اُس کے فلسفے سے کچھ کچھ قائل ہورہی تھی۔
    فوزیہ پھر اُسے کسی دانش مند کی طرح سمجھانے لگی۔
    ”باجی تو مجھ سے وعدہ کر اپنے آپ پر محنت کرے گی، خود کو سجا سنوار کر رکھے گی،تیرا میاں نہ تیرے قدموں میں آکر گرے، تو میرا نام بدل دینا۔”
    ”توبہ توبہ کیسی باتیں کررہی ہے تو۔” نازیہ نے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا۔
    ”لو اس میں توبہ کی کیا بات ہے۔ میرا میاں ایسا ہوتا تو کب کی چھوڑ کر آجاتی میں۔تو تو خود مار کھاتی ہے شوق ہے تجھے بہت۔جب تک وہ تجھے پھینٹی نہ لگائے، دھکے دے کر گھر سے نہ نکالے تیری روٹی ہضم نہیں ہوتی۔” فوزیہ نے منہ بناتے ہوئے اسے جھاڑا۔
    ”کیا کروں مجبوری ہے فوزیہ۔” نازیہ منہ لٹکا کر بولی۔
    ”ایسی مجبوری پر لعنت بھیج، چھوڑ دے اُسے۔” فوزیہ نے حقارت سے کہا۔
    ”تو میرے بچوں کا کیا ہوگا؟”نازیہ نے بے بسی سے پوچھا۔
    ”پل جائیں گے بچے بھی، تو بس ایک بار سوچ اپنے لیے۔” فوزیہ نے اس کا حوصلہ بڑھایا۔
    نازیہ اس کی باتیں سن کر خلامیں گھورنے لگی۔اسے فوزیہ کی باتوں کے بعد خود سے ہمدردی ہونے لگی تھی۔وہ اپنے بارے میں سوچ رہی تھی لیکن یہ صرف سوچ تھی وہ ہمت کہاں سے لاتی جو فوزیہ کے پاس تھی۔
    ٭…٭…٭





    فوزیہ کی ماں صحن میں بیٹھی برتن دھو رہی تھی کہ اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔ اس نے اُٹھ کر دروازہ کھولاتو سامنے عابد کی ماں کھڑی تھی۔سلام دُعاکے بعد وہ اندر آگئی۔فوزیہ کی ماں نے چارپائی بچھائی تو اس نے تنقیدی نظروں سے گھر کا جائزہ لیا۔ فوزیہ کی ماں نے اسے چارپائی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔عابد کی ماں نے اِدھر اُدھر حقارت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے بُرا سا منہ بنا کرکہا۔
    ”وہ سامنے والی کاسمیٹکس کی دکان میرے بیٹے عابد کی ہے۔ کچھ مہینے ہوئے دبئی سے آیا ہے، میرا بڑا بیٹا بھی دبئی میں ہی ہوتا ہے۔”
    ”ہاں جی میں جانتی ہوں لیکن…” فوزیہ کی ماں اس کی بات سن کر تذبذب کا شکار ہوگئی۔
    ”یہ میں اس لیے بتا رہی ہوں کہ میرے بیٹے نے مجھے تمہارے گھرتیری بیٹی کے رشتے کے لیے بھیجا ہے۔” فوزیہ کی ماں نے پاس کھڑی منی کا ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس بٹھایا اور اس کے سر پر ہاتھ رکھاپھر حیرت سے پوچھا۔
    ”میری بیٹی کے رشتے کے لیے؟ مگر یہ تو ابھی بہت چھوٹی ہے ۔”
    عابد کی ماں نے حیرانی سے مُنی کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔ ”اس کا نام فوزیہ ہے؟”
    ”فوزیہ کی تو بات پکی ہوگئی ہے، پورے محلے میں مٹھائی بانٹی تھی۔” فوزیہ کی ماں نے حیرت سے کہا۔
    ”لیکن میرا بیٹا چاہتا ہے کہ…” عابد کی ماں نے مزید کچھ کہنے کی کوشش کی مگر فوزیہ کی ماں نے اسے وہیں روک دیا۔
    ”بس بہن تم جانتی ہو زبان دینا کیا ہوتا ہے، زبان دی ہے ہم نے۔ پہلے بات کرتی تو میں خوش نصیبی سمجھتی لیکن اب تو ہم شادی کی تیاریاں کررہے ہیں۔”
    ”تو بہن اس شادی کے لیے پہلے بیٹی کو تو راضی کر لے، وہ میرے بیٹے کو کہہ رہی ہے کہ رشتہ بھیجو۔ اسی کے کہنے پر تو میں اپنے بیٹے کا رشتہ لے کر آئی ہوں۔”عابد کی ماں نے تپے ہوئے لہجے میں کہا۔
    ”کیا کہہ رہی ہو تم، تمہیں شرم نہیں آرہی میری بیٹی کا نام لیتے ہوئے؟” یہ کہتے ہوئے وہ غصے سے کھڑی ہو گئی۔
    ”شرم تو اپنی بیٹی کو دلاؤ جو غیرمردوں پرڈورے ڈالتی پھرتی ہے۔” عابد کی ماں نے الٹا اسے شرم دلائی اور کھڑی ہو گئی،پھر دروازے کی جانب جاتے ہوئے کہا۔ ”کس کس کا منہ توڑو گی، پورا محلہ باتیں بنائے گا ابھی تو…”
    فوزیہ کی ماں نے ہاتھ اُٹھا کرلڑتے ہوئے کہا۔ ”جاجا،دیکھا ہے میں نے۔”
    عابد کی ماں بڑ بڑاتی، بکتی جھکتی دروازے سے باہر نکل گئی۔
    ٭…٭…٭
    فوزیہ کی ماں رحیم کے کمرے میں رحیم سے بات کر رہی تھی کہ فوزیہ کے کان میں اپنا نام پڑا تو وہ دروازے پر ہی رک کر دونوں کی باتیں سننے لگی۔
    ”دیکھ رحیم جتنی جلدی ہوسکے بہن کو گھر سے رخصت کردے، اس سے پہلے کہ کوئی بڑا فتنہ کھڑا ہوجائے۔”فوزیہ کی ماں بیٹے سے بہت پریشانی سے کہہ رہی تھی۔
    ”میں بھی یہی کہہ رہا ہوں اماں، آ تو رہے ہیں وہ رسم کرنے، ہم تاریخ طے کردیتے ہیں۔” رحیم نے کہا۔
    فوزیہ کی ماں کے چہرے پر پریشانی عیاں تھی۔وہ اس سے بھی زیادہ تیزی سے بولی۔
    ”بس تو کہہ دے ان سے کہ جلد از جلد ڈولی اٹھوا کر لے جائیں، پتا نہیں کہاں کہاں سے رشتے آرہے ہیں اس کے لیے۔” ماں نے کہا۔
    ”میں نے اسما سے بات کی ہے،وہ کہے گی اپنی ماں سے تو فکر نہ کر۔میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ وہ جلد از جلد اپنے گھر رخصت ہو جائے۔” رحیم نے ماں کو تسلی دیتے ہوئے جواب دیا اورکمرے سے نکل گیا۔فوزیہ دروازے کے پیچھے ہوگئی اور بھائی کے جاتے ہی کمرے میں گھس گئی۔
    ”اماں یہ جوتو کررہی ہے،یہ ٹھیک نہیں ہے۔”فوزیہ نے غصے سے لال پیلاہوتے ہوئے ماں سے کہا۔
    ”اور تو جو کررہی ہے وہ ٹھیک ہے؟ کس لفنگے سے تیری دوستی ہے جو اس نے اپنا رشتہ بھیجا ہے۔ تجھے معلوم نہیں کہ تیری بات طے ہوگئی ہے بے شرم۔ جان سے مار دوں گی۔”ماں نے اس کی بات سن کر چوٹی پکڑ کر جھٹکا دیا۔
    فوزیہ نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھام لیا اور بے خوفی سے جواب دیا۔
    ”تو کر لے جو کرنا ہے اماں، میں بھی وہ کروں گی جو چاہوں گی۔ میں اُس لفنگے سے شادی نہیں کروں گی، بتا دیا میں نے۔”
    ”یہ تو اپنے باپ کو بتا جا کر۔”ماں نے جھٹکا دے کر اس کی چوٹی چھوڑتے ہوئے کہا۔
    ”ہاں ہاں بتا دوں گی، کر لوں گی ابا سے بھی بات، لیکن یہ جو تو بھائی اور بھابی کے ساتھ مل کر سازشیں کررہی ہے ان سے باز آجا۔”فوزیہ نے کہا۔
    ” اری مردود! تجھے یہ سازشیں لگ رہی ہیں۔ تیرا بیڑا غرق ہو۔” ماں غصے سے بولی۔
    ”دیتی رہو بددعائیں۔ اماں مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا، میں نے جو کرنا ہے کرکے رہوں گی،روتی رہنا۔ ” فوزیہ منہ بنا کر ماں کو باتیں سنا کرکمرے سے نکل گئی۔
    ٭…٭…٭





    فوزیہ مُنی کا ہاتھ تھامے ایک پگ ڈنڈی سے تیز تیز گزر رہی تھی کہ اچانک ساجد نے اپنا نیا رکشہ اس کے پاس لا کرروکا۔وہ گڑبڑا کرایک دم پیچھے ہٹی ۔ نہ ہٹتی تو رکشے سے ٹکر ضرور ہوجاتی۔ اسے بہت غصہ آیا۔ اس نے ساجد کو دیکھا جو اپنی خبیثانہ مسکراہٹ کے ساتھ فوزیہ کو دیکھ کر سوچ رہا تھا۔ ساجد نے دل ہی دل میں کہاآج دل کی بات کرکے رہوں گا، گھر جاتا ہوں تو لفٹ ہی نہیں کراتی سالی، کمرے میں گھس جاتی ہے۔
    ”نظر نہیں آتا تجھے؟”فوزیہ اُسے دیکھ کرغصے سے بولی ۔
    ”تیرے سوا اب کچھ نظر نہیں آتا فوزیہ۔کبھی ہم سے بھی بات کرلیا کر، گھر میں تو موقع ہی نہیں ملتا۔ تیرا ہونے والا شوہر ہوں، چل کہیں باہر چلتے ہیں۔”
    فوزیہ نے انگلی اُٹھا کر غصے سے گھورتے ہوئے کہا ۔
    ”تیرا دماغ تو ٹھیک ہے، اپنی اوقات میں رہ۔”
    ”کیوں، کیا ہوا میری اوقات تو وہی ہے، لگتا ہے تو اپنی اوقات بھول گئی ہے۔” ساجد نے طنزیہ انداز میں جواب دیا۔
    فوزیہ پہلے تو اس کی بات سن کر کھڑی رہی کہ کیا جواب دے پھر ہاتھ ہلاتی ہوئی آگے بڑھ گئی۔
    ”میں راستے میں بھونکنے والے کتوں کو پتھر نہیں مارتی بولتا رہ۔مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ”
    ساجد نے یہ سن کررکشے سے چھلانگ لگائی اور اس کا ہاتھ تھام لیا۔وہ تیزی سے پلٹی،ایک نظر اپنے ہاتھ پر اور دوسری اس کے چہرے پر ڈالی اور بپھری ہوئی شیرنی کی طرح زور دار تھپڑ ساجد کے منہ پر دے مارا۔
    ”میں نے صحیح کہا تھا نا تو اپنی اوقات بھول گیا ہے۔ فوزیہ بتول نام ہے میرا، ایسی ویسی نہ سمجھنا۔ گاؤں میں مٹھائی بانٹ دینے سے یہ نہ سمجھنا کہ میں تیری بیوی بن گئی ہوں اور تو زبردستی کرسکتا ہے۔” یہ کہہ کر وہ آگے بڑھ گئی اور ساجد ہکا بکا اس کی شکل دیکھتا رہ گیا۔
    اس کا ایک ہاتھ ابھی تک اپنے گال پر تھا۔
    ”دیکھ لوں گا فوزیہ بتول تجھے بھی، ایک بار تو گھر تو آ، ساری اڑیاں نکال دوں گا تیری، بہت ناز ہے نہ تجھے اپنے حسن پر۔تو نے تھپڑ میرے منہ پر نہیں اپنے مستقبل پر مارا ہے یاد رکھنا۔” ساجد بُڑبُڑایا۔
    ٭…٭…٭
    مُنی بھاگی بھاگی کمرے میں آئی اور سوئی ہوئی فوزیہ کو جھنجھوڑنے لگی، پھر گھبرائی ہوئی آواز میں چیخ کربولی۔
    ”باجی اُٹھ جا، باجی اُٹھ جا۔” فوزیہ ہڑ بڑا کر آنکھیں ملتی ہوئی اُٹھ بیٹھی۔
    ”اللہ خیر مُنی کیا ہوگیا؟”
    ”ابھی اماں اور ابا کی باتیں سن کر آئی ہوں۔”منی نے گھبرائی ہوئی آواز میں کہا۔” باجی! اماں کہہ رہی تھیں کہ اس جمعے کو تیری رسم نہیں بلکہ نکاح ہوگا۔” فوزیہ مُنی کے منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کھڑی ہوگئی۔اس کے چہرے پر منی کی بات سن کر شدید کرب ابھر آیا اوروہ سوچنے لگی ماں تو بہت پچھتائے گی ،سچی بہت پچھتائے گی۔فوزیہ سے جھگڑا مول لیا ہے تو نے،اپنی بیٹی سے! اب بھگتتی رہنا۔
    ٭…٭…٭
    امام بخش گھر داخل ہوااورہینڈپمپ چلا کر پانی نکالنے لگا،پھرمنہ ہاتھ دھو کر چارپائی پر بیٹھ گیا۔فوزیہ نے کھانے کی ٹرے چار پائی پر رکھی اور خودبھی ایک کونے پر ٹک گئی۔
    ”تیری ماں کہاں ہے؟”امام بخش نے اپنے سر پر بندھے رومال سے منہ پونچھا اور فوزیہ سے پوچھا۔
    ”وہ چودھری صاحب کی حویلی گئی ہے۔ انہوں نے بلایا تھا، کوئی کام تھا اُن کو۔” فوزیہ نے پانی کاگلاس ٹرے میں رکھتے ہوئے جواب دیا۔
    امام بخش نے بسم اللہ پڑھ کر نوالہ منہ میں رکھا ۔ فوزیہ نے حوصلہ جمع کرکے باپ سے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔
    ”ابا تجھ سے ایک بات کرنی تھی۔”
    امام بخش جلدی جلدی نوالے منہ میں رکھتے ہوئے بولا۔”ہاں بول؟ آج بڑی بھوک لگی ہے۔صُبح سے اب روٹی نصیب ہوئی ہے۔”
    ”ابا میں نے اس لفنگے سے شادی نہیں کرنی،تو بس مجھے پڑھنے دے۔ میں اپنا خرچہ خود اٹھا لوں گی، تو فکر نہ کر۔”فوزیہ نے ہمت کر کے کہا۔
    امام بخش نے کھانا چھوڑ کر اُس کی بات سنی ،پھر غصے سے جواب دیا۔
    ”او بس کر دے،تیرے بعد ایک بوجھ اور باقی ہے مجھ پر،یہ ختم ہوگا تو وہ اتاروں گا۔”
    ”ابا میں تجھ پر بوجھ نہیں، میں پراندے وغیرہ بنا کر اپنا خرچہ خود اُٹھا لیتی ہوں، میں وعدہ کرتی ہوں تجھے کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔” فوزیہ نے گڑگڑا کر کہا۔
    امام بخش نے ہاتھ میں پکڑا نوالہ دوبارہ پلیٹ میں رکھا اورغصے سے بولا۔
    ”اب توہمیں اپنی کمائی کا طعنہ بھی دینے لگی ہے۔ ویسے ہی سب مجھے نازیہ کی وجہ سے طعنے دیتے ہیں، وہ بھی تیری بے وقوفیوں کی وجہ سے بھاگ بھاگ کر گھر بیٹھ جاتی ہے۔”
    ”ابا اس کے شوہر نے اسے نکالا ہے، وہ خود بھاگ کر نہیں آئی۔”فوزیہ تن کربولی۔





    ” تو بھڑکاتی ہے اسے اس کے میاں کے خلاف، تو وہ بولتی ہے نا۔آخر مرد کب تک برداشت کرے۔” امام بخش چارپائی سے کھڑا ہوگیا اور منہ میں پانی ڈال کر کلی کی۔
    فوزیہ باپ کے سامنے تن کر کھڑی ہوگئی۔ ”ابا تو بات کہاں سے کہاں لے جارہا ہے۔ میں تجھ سے اپنی بات کررہی ہوں اور تو نازیہ…”
    امام بخش نے نہایت غصے سے اسے جھڑک دیا۔
    ” نازیہ کو تو نے خراب کیا ہے۔ تیری باتوں سے پورے خاندان بلکہ گاؤں میں میرا سر شرم سے جھک گیا ہے۔ توجتنی جلد اپنے گھر کی ہو جائے بہتر ہے۔”
    فوزیہ حیرت سے نگاہیں پھاڑ کر جیسے اُسے دھچکا لگا ہو۔
    ”میں نے ایسا کیا کردیا کہ تیرا سر شرم سے جھک گیا ابا؟”
    ”بس چھوڑ دے ساری باتیں، میں اب زیادہ دیر تجھے گھر نہیں بٹھا سکتا۔”
    ”ابا تو جانتا ہے وہ کیسا ہے؟” فوزیہ نے دکھی انداز میں کہا۔
    ”ہاں ہاں سب ٹھیک ہو جاتے ہیں شادی کے بعد، چل جا اندر مجھ سے کوئی بات نہ کر۔” امام بخش نے غصے سے کہا۔
    ”ابا تو ایک بار…”فوزیہ نے زچ ہو کر کہا اور پاؤں پٹختی ہوئی اپنے کمرے کی طرف چلی گئی۔
    ٭…٭…٭
    فوزیہ عابد کی دکان پر گئی جہاں وہ اپنے کام میں مصروف تھا۔ اُسے دیکھ کر بھی عابد کام میں مصروف رہا۔اسے ایک نظر اُٹھا کر بھی نہیں دیکھا جیسے جتا رہا ہو کہ وہ اُس سے ناراض ہے۔ فوزیہ نے اس کی آنکھوں کے آگے ہاتھ ہلایاجیسے اسے منانا چاہ رہی ہو۔
    ”ناراض ہے مجھ سے؟”
    ”ناراض تو نہیں بس تیری وجہ سے روز اماں سے باتیں سنتا ہوں۔” عابدنے منہ بناتے ہوئے جواب دیا۔
    ”اچھا چھوڑ سب باتیں، تو حل بتا اب کرنا کیا ہے؟ وقت بہت کم ہے ہمارے پاس۔” فوزیہ صلح کے انداز میں بولی۔
    ”تو اپنے ماں باپ کو راضی کر، اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔”عابدنے اُسے سمجھایا۔
    ”اور اگر وہ راضی نہ ہوئے تو کیا میرے ساتھ بھاگ کر شادی کرے گا؟”
    عابد نے حیرانی سے اس کی بات سنی۔ اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ کیا جواب دے۔
    ایک لمحے کے لیے عابد فوزیہ کی دیدہ دلیری پر حیران رہ گیا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیا جواب دے۔ وہ تذبذب کا شکار تھا۔ آخر اس کے منہ سے یہی نکلا۔
    ”بھاگ کر؟”
    ” کیا سوچ رہا ہے؟ بس اتنی سی بات پر تیرا دم نکل گیا؟ویسے تو بڑی محبت جتاتا تھا۔” فوزیہ نے اسے شرم دلائی۔
    ”میں تیار ہوں، بالکل تیار ہوں پر ایک بار تو کوشش تو کر انہیں منانے کی،شاید وہ مان جائیں۔”عابد ایک دم جوش میں آگیا۔
    ”میں نے ساری کوششیں کر لی ہیں پاگلا، وہ نہیں مانتے۔اسی لیے تجھے کہہ رہی ہوں۔تو راضی ہے تو بھاگ چلتے ہیں۔”فوزیہ نے اس کی بات پر مایوسی سے کہا۔
    ”دیکھ شادی تو میں نے تجھ سے ہی کرنی ہے،لیکن تو کوشش کر گھر والے مان جائیں۔”عابد نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔وہ دراصل تھوڑا سیدھا راستہ نکالنا چاہتا تھا تا کہ بات خراب نہ ہو۔
    فوزیہ نے بڑے غور سے اس کا چہرہ دیکھا جیسے کچھ ٹٹول رہی ہو۔
    ”اچھا چل میں تیرے کہنے پر آخری کوشش کر لیتی ہوں۔اماں کو بتا دیتی ہوں کہ میں نے عابد سے شادی کرنی ہے۔اگر وہ مان گئی تو ٹھیک ورنہ…”
    ”ہاں انہیں سیدھا سیدھا بتا تیری خواہش پر میری ماں تیرے گھر آئی تھی،اب وہ بھی ہاں کر دیں۔”عابد نے اسے رستہ دکھایا۔وہ جانتا تھا کہ فوزیہ کی ماں کبھی راضی نہیں ہوگی لیکن ایک کوشش کر کے دیکھنے میں کوئی حرج نہیں تھا۔
    ”چل دیکھتی ہوں، تیری خاطر یہ بھی کر لیتی ہوں،مگر مجھے امید نہیں ہے کہ وہ مانے گی۔” فوزیہ قدرے مایوسی سے بولی اور پھیکی سی مسکراہٹ سے عابد کی طرف دیکھاجو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
    ٭…٭…٭





    گھر میں اس کی شادی کی تیاریاں شروع ہوگئی تھیں۔سب ہی خوش تھے صحن میں منی ڈھولکی بجاتے ہوئے نور جہاں کا گانا بھی گا رہی تھی۔جب فوزیہ گھر میں داخل ہوئی تو منی گلا پھاڑ کر بے سُری آواز میں”ماہی آوے گا میں پُھلاں نال دھرتی سجانواں گی”گانے کی کوشش کر رہی تھی۔
    ”او بس کردے منی، گلا مت پھاڑ۔پہلے ہی سر میں بہت درد ہے۔”فوزیہ نے اسے ڈانٹ کر کہا۔
    ”باجی تیری شادی کی خوشی میں ساتھ والی سے ڈھولکی مانگ کر لائی ہوں،آ جا مل کر بجاتے ہیں۔” منی نے ڈانٹ کا برا مانے بغیر فوزیہ کو بھی دعوت دی۔
    ”بکواس بند کر میرے سر میں درد ہورہا ہے۔ ”فوزیہ نے غصے سے اسے دیکھا اور بولی۔
    ابھی فوزیہ کی بات ختم ہی ہوئی تھی کہ اماں کمرے میں داخل ہو گئی اور آتے ہی اس پر چڑھ دوڑی۔
    ”تو یہ بتا کہ کہاں گئی تھی؟ آدھے گھنٹے کا کہہ کر دو گھنٹے لگا کر آئی ہے۔تیری بھابی بھی پوچھ رہی تھی۔”
    ”وہ کون ہوتی ہے پوچھنے والی؟” فوزیہ تلملاتے ہوئے بولی۔
    ”بس کر دے اپنی بکواس،اب تو اس کے بھائی کے گھر جانے والی ہے۔”ماں نے اسے زور سے ڈانٹا۔
    ”ابھی گئی تو نہیں نا، جب جاؤں گی تب رعب ڈال مجھ پر۔رعب میں تو میں اپنے باپ کے بھی نہیں آتی۔”فوزیہ نے منہ بسورتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا۔
    ”سدھر جا فوزیہ ورنہ سر پکڑ کر روئے گی۔” ماں نے اسے سمجھایا۔
    ”فوزیہ کمرے میں جاتے ہوئے رکی اور طنزیہ انداز میں ماں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
    ”بس تو بددعائیں دیتی رہنا،سر پکڑ کر روئیں میرے دشمن۔”
    ” ہاںہاں بددعادے مجھے فوزیہ،منہ بھرکے بددعا دے۔توکب سے اپنادشمن سمجھ رہی ہے مجھے؟”ماں روہانسی ہو کر بولی۔
    ”جب سے تو نے دشمنوں والے ہتھیار استعمال کیے ہیں۔”فوزیہ نے چلاتے ہوئے جواب دیا۔
    ” اچھا بابا معاف کر دے مجھے،مت لڑ اب،چل جا اندر۔”ماں نے اس کے سامنے ہاتھ جوڑ دیے۔
    ”تو ہمیشہ مجھے ہی چپ کروایا کر اماں۔میں چپ ہو گئی نا تو اسی طرح منہ سے کچھ بلوانے کے لیے ہاتھ جوڑے گی۔”فوزیہ نے کہا۔
    ”تو چپ تو کر کے دکھا تب مانوں گی،توتو ابھی بھی مسلسل منہ چلا رہی ہے۔”ماں نے بھی اسی کے لہجے میں جواب دیا۔
    ”ٹھیک ہے پھر،آج سے فوزیہ بتول چپ ہے،کچھ نہیں بولے گی،حتیٰ کہ تو نکاح کے لیے بھی بلوا کر دیکھ۔مولوی کے سامنے انکار کروں گی۔” فوزیہ نے نہایت غصے سے دھمکی دیتے ہوئے کہا۔
    ”اللہ تیرا بیڑا غرق کرے فوزیہ، تجھے کسی کی آئی آ جائے،تو مر جائے۔ماں باپ کی عزت کا جنازہ نکالنے والی کا جنازہ اٹھے۔”ماں نے منہ پر دوپٹا ڈال کر اسے کوسنے دینے شروع کردیئے۔
    ”ہاں ہاں دو بددعائیں، دل بھر کر دو۔میرے مرنے پر ترسو گی میری شکل کو۔”فوزیہ نے منہ بناتے ہوئے ماں کو دیکھا اور دھمکی دیتے ہوئے اپنے کمرے میں چلی گئی۔
    ٭…٭…٭





    آج ساجد بہت خوش تھا کیوں کہ اس کے دل کی مراد پوری ہورہی تھی پورے گاؤں کے لڑکوں میں اس کی دھاک بیٹھ گئی تھی کہ گاؤں کی سب سے خوب صورت لڑکی سے اس کی شادی ہورہی تھی۔وہ دلہا بن کر بارات لے کر فوزیہ کے گھر آیا تھا۔صحن میں خوب چہل پہل تھی۔فوزیہ کے گھر والے اسے سادگی سے رخصت کرنا چاہتے تھے۔ رحیم نے ادھار لے کر کھانے کا انتظام کیا تھا کیوں کہ اُسے اپنی سسرال میں اپنی دھاک بھی بٹھانی تھی،خالی خولی بہن تو نہیں بھیج سکتا تھا۔ عورتوں والے حصے میں ساجد کی ماں بڑے طمطراق سے بیٹھی تھی۔اس کے انداز میں بھی بڑا غرور تھا جسے فوزیہ کے گھر والے بھی محسوس کررہے تھے۔ اسما بھی خوش خوش اِدھر اُدھر انتظامات میں مصروف تھی کہ کچھ بھی ہو بھائی کی دلی خواہش تو پوری ہوگئی۔
    ”مولوی صاحب آ گئے۔”اتنے میں کسی نے آواز لگائی تو باراتیوں اور گھر والوں میں بھگدڑ مچ گئی۔
    ایک مولوی صاحب ہاتھ میں نکاح رجسٹر تھامے اند رداخل ہوئے۔انہیں خاص اہتمام سے بٹھادیا گیا۔
    ”مولوی صاحب بسم اللہ، نکاح شروع کرو۔” رحیم نے کہا۔
    نکاح شروع کیا گیا لیکن کسی کو نہیں معلوم تھا کہ جس سے نکاح پڑھایا جانا تھا وہ دلہن تو گھر میں موجود ہی نہیں،اور جب پتا چلا تو رحیم کے ساتھ ساتھ ساجد اور دوسرے لوگ باہر کی طرف بھاگے۔گھر میں موجود سب ہی لوگ جانتے تھے کہ وہ سیدھی کہاں گئی ہوگی۔
    ٭…٭…٭
    رحیم،ساجد اور چند دوسرے لوگ عابد کی دکان پر پہنچ گئے۔وہ پہلے ہی اداس اور دُکھی سا بیٹھا کچھ سوچ رہا تھا۔ ان سب کو اندر داخل ہوتے دیکھ کر گڑبڑا گیا۔
    ”او بتا اوئے کہاں ہے میری بہن؟تو نے رشتہ بھیجا تھا نا ہمارے گھر؟” رحیم نے غصّے سے کاؤنٹر پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا۔
    ”مجھے کیا پتا تیری بہن کا۔میں نے تو نہیں بھگایا اسے۔” عابد نے گھبراتے ہوئے جواب دیا۔رحیم نے اس کا گریبان پکڑ لیا اور ساجد نے ایک زوردار تھپڑا مارا۔
    ”اوئے سچ سچ بتا دے ،اس سے پہلے کہ تجھے پولیس کے حوالے کر دیں۔وہ میری منگ ہے،میں تجھے چھوڑوں گا نہیں۔”ساجد نے چلاتے ہوئے اس کا گلا پکڑ لیا۔
    ”اسے پولیس کے حوالے نہ کرو،میں تو کہتا ہوں چودھری صاحب کے پاس لے چلو وہ خود ہی اس سے قبول کر وا لیں گے۔”ایک آدمی نے مشورہ دیتے ہوئے کہا،سب لوگوں نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی اور عابد کو گھسیٹنے لگے۔
    ”اوئے مجھے دکان تو بند کر لینے دو،چلتا ہوں تمہارے ساتھ۔ چودھری صاحب خود فیصلہ کر لیں گے۔”عابد نے گریبان چھڑاتے ہوئے چیخ کر کہا۔
    ساجد نے اُسے ایک اور زوردار تھپڑ مارا اور گھسیٹتے ہوئے بولا۔
    ”بھاڑ میں گئی تیری دکان،ہماری زندگی داؤ پر لگی ہے اور تجھے دکان کی پڑی ہے۔”
    ”اسے چودھری صاحب کے پاس لے چلو فوراً ، وہاں دو تھپڑ پڑیں گے تو یہ خود ہی بول پڑے گا۔”
    رحیم نے عابد کو حقارت سے دیکھتے ہوئے کہا اورمشتعل ہجوم اسے گاؤں کی گلیوں میں گھسیٹتا ہوا چودھری صاحب کی حویلی کی طرف روانہ ہو گیا۔
    چودھری صاحب کی حویلی میں لوگوں کا جم غفیر جمع تھا۔بھانت بھانت کی خلقت میںرنگ برنگی آوازیں آرہی تھیں۔ فوزیہ کا پورا خاندان اور گاؤں کے سارے مرد وہاں موجود تھے۔انہی مردوں میں فوزیہ کا باپ امام بخش بھی شامل تھا۔اس نے چودھری صاحب کے سامنے آکر ہاتھ جوڑے اور گڑگڑاتے ہوئے بولا۔
    ”چودھری صاحب! اس آدمی نے میری بیٹی بھگائی ہے،ہم آپ کے پاس فیصلہ لینے آئے ہیں۔”
    چودھری صاحب نے تحمل سے اس کی بات سنی اور ایک انکشاف کرتے ہوئے کہا۔
    ”اوئے اس نے تیری بیٹی نہیں بھگائی،وہ میرے پاس ہے۔تم اس بچی کے ساتھ زبردستی کیوں کر رہے ہو؟”چودھری نے امام بخش کو ڈانٹا۔اسی دوران فوزیہ بھی چودھری صاحب کے پاس آ کر کھڑی ہو گئی۔
    ”سُن!تو بچی کی شادی زبردستی نہیں کر سکتا،اگر وہ نہیں چاہتی تو کیوں زبردستی کر رہا ہے؟”
    امام بخش ہاتھ جوڑتے ہوئے بہت نرمی سے بولا۔





    ”چودھری صاحب! میں غریب آدمی ہوں،اس کے علاوہ ایک اور بیٹی بھی ہے بیاہنے والی، برادری سے رشتہ اچھا تھا تو سوچا رخصت کر دوں،مگر یہ …”اس نے منہ میں آئی گالی کو زبان کے نیچے روکا۔
    ”تجھے پتا ہے ہمارے مذہب میں لڑکی کی مرضی کے بغیر شادی کرنا جرم ہے؟”چودھری اس کا انداز دیکھ کر غصے سے بولا۔
    امام بخش نے فوزیہ کی طرف دیکھ کر کہا۔
    ”چودھری صاحب معافی چاہتا ہوں،اگر اس کی مرضی کا انتظار کروں تو شاید کبھی شادی نہ ہو اور مجھے اس کے بعد ایک اور بیٹی بیاہنی ہے۔”
    فوزیہ نے کچھ کہنا چاہا مگر چودھری صاحب نے اسے ہاتھ کے اشارے سے منع کر دیا اورخودفوزیہ کی جگہ جواب دیا۔
    ”دیکھ امام بخش!بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں اور ان کے دکھ درد بھی سانجھے۔تواپنی اس بیٹی کو تو اب بھول جا،اب یہ ہمارے پاس ہے اور ہماری ذمہ داری ہے۔ اس کے ساتھ کوئی زبردستی نہیں کر سکتا۔”
    چودھری صاحب کی یہ بات سن کر،رحیم نے ساجد کے آنکھ کے اشارے پر آگے بڑھ کر دلیری سے کہا۔
    ”لیکن چودھری صاحب جس کے ساتھ اس کی شادی ہو رہی ہے سارے گاؤں میں اس کی بڑی بدنامی ہوگی۔”
    ”اوئے تو چپ کرزن مرید! تجھے اپنی بہن کی نہیں اپنے سالے کی فکر ہے جس کی بدنامی پورے گاؤں میں مشہورہے ۔”چودھری صاحب نے گرجتے ہوئے اسے ڈانٹا۔
    ”لیکن چودھری صاحب…”امام بخش نے کچھ کہنے کی کوشش کی،چودھری نے ہاتھ اُٹھا کر اس کی بات کاٹ دی۔
    ”لیکن ویکن کچھ نہیں، میں نے کہہ دیا لڑکی نے ہماری حویلی میں پناہ لی ہے۔اس لیے جب تک وہ خود نہیں چاہے گی ہم نہیں بھیج سکتے بلکہ لڑکی بھی موجود ہے تم خود پوچھ لو۔بتا فوزیہ تو کیا چاہتی ہے؟”
    فوزیہ نے منہ سے کچھ بولے بِنا محض نفی میں سر ہلا دیا۔
    امام بخش نے بیٹی کا ردعمل دیکھااور وہ کچھ دیر سوچتا رہا،پھر چودھری صاحب کے آگے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہنے لگا۔
    ”چودھری صاحب تسی ساڈے مائی باپ او،تہاڈا فیصلہ ساڈا فیصلہ ہے۔”
    ”لیکن ابا سارا گاؤں کیا کہے گا؟”رحیم اس فیصلے سے راضی نہیں تھا،آگے بڑھ کر باپ سے خفگی سے بولا۔
    امام بخش نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اورجھڑک کر بولا۔
    ”کوئی نہیں ہوتی بدنامی،چودھری صاحب کا فیصلہ ہے یہ اور چودھری صاحب کے آگے گاؤں والے کچھ نہیں کہیں گے،تو گھرچل اب۔”
    فوزیہ نے فاتحانہ انداز میں مسکراتے ہوئے بھائی کو دیکھا اور وہ اسے غصے سے گھورتا ہوا باہر نکل گیا۔اس کے باہر نکلنے کے بعد فوزیہ نے اسی انداز میں ساجد پر نظر ڈالی جس کے چہرے پر بھی ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ اُسے معلوم تھا پورے گاؤں نے اُسے نکو بنادینا ہے۔ وہ اُسے گھورتا ہوا باہر نکل گیا۔
    ٭…٭…٭





    اپنے گھر پہنچ کر اسما ماں سے لپٹ کر زور زور سے رو پڑی،سب گھر والوں کے چہروں پر اداسی اور بے عزتی کے آثار تھے۔ساجد نے ایک غصیلی نظر رحیم پر ڈالی۔اسما روتے روتے بولی۔
    ”اماں! پورے گاؤں میں بدنامی ہوئی ہے ہماری،میرے ویر کی برات لوٹ گئی بغیر دلہن کے۔”
    ”تو بھی واپس نہیں جائے گی اب،تب انہیں پتا چلے گا کہ بے عزتی کیا ہوتی ہے۔”اسما کی ماں غصے سے کھڑی ہوئی اورجواب دیا۔
    اسما رحیم کی طر ف دیکھ کر بلبلائی اور ماں سے کہا۔”لیکن اماں اس میں میرا کیا قصور،میرے بچوں کا کیا قصور،بدلہ لینا ہے تو اس کمینی سے لو جس کی وجہ سے بدنامی ہوئی ہے۔”
    رحیم نے بیوی کی طرف دیکھ کر ہاں میں ہاں ملائی اور ساس سے پوچھا۔
    ”اس میں میرا اور اسما کا کیا قصور؟ تم لوگ رشتہ لائے ہم نے قبول کیا،پھر ماں باپ کو منا لیا،اب وہ کمینی بھاگ گئی تو ہم کیوں بھگتیں؟”
    ساجد نے خاموشی سے ساری بات سنی اور غصے سے اپنے بہنوئی کو ڈانٹا۔
    ”تو چپ رہ،تجھ سے ایک بہن قابو نہ ہوسکی۔تو جانتا تھا کہ وہ کیسی ہے،اس نے بتا بھی دیا تھا کہ وہ گھر سے بھاگ جائے گی،تو نے اس پر پابندی کیوں نہ لگائی؟نظر کیوں نہ رکھی؟ ”





    ”تو تو اس بات کا بدلہ اپنی بہن سے لے گا؟حالاں کہ ہم دونوں کا اس میں کوئی قصور نہیں۔” رحیم نے پریشانی سے اس کا ہاتھ پکڑا اور اپنی بات کی وضاحت کی۔ساجد نے غصّے سے اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔
    اسما نے بھائی کے غصے کو دیکھا تو ساجد کے پاس جا کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو اس نے اسما کا ہاتھ بھی جھٹک دیا۔وہ انتہائی غصے میں تھا لیکن اسما نے بھی ہمت نہ ہاری اور کہنے لگی۔
    ”تجھے اپنی بے عزتی کا بدلہ لینا ہے تو فوزیہ سے لے،بس یہ سوچ کہ وہ واپس آئے گی تو کیا کرے گا؟”
    ساجد چارپائی پر بیٹھ گیا اور بولا۔
    ”او رہن دے تو اپنے مشورے،دیکھ لیا میں نے تجھے۔بھائی کی خاطر اپنا گھر نہیں چھوڑ سکتی؟”
    ”غصہ نہ کر،میں تیری خاطر جان بھی دے سکتی ہوں،مگر تو ذرا عقل استعمال کر۔جس کی وجہ سے ہم سب اذیت میں ہیں اسے کوئی سزا دے۔میرے گھر بیٹھنے سے اس کی خوشی ہوگی پاگل کہ اس کی راہ کا روڑا ہٹ گیا۔”اسما اسے سمجھاتے ہوئے بولی۔
    اسما کی بات سن کر اس کی ماں نے بھی ہاں میں ہاں ملائی۔”کہہ تو ٹھیک رہی ہے،اس طرح تو اس کے دل کو ٹھنڈ پر جائے گی۔”
    ”وہ گھر آجائے تو پھر دیکھنا میں اس کا کیا حال کرتا ہوں،سب دیکھیں گے۔بے غیرت، بے شرم نے ہم سب کے سر جھکا دیے۔” رحیم فوزیہ کا ذکر کرتے ہوئے آگ بگولا ہوا، اس کی آنکھوں میں نفرت کی چنگاریاں چمک رہی تھیں۔
    ”ہاں میں جانتا ہوں کہ تو کتنا مرد ہے،پہلے تو سنبھالی نہیں گئی اور اب باتیں بنا رہا ہے۔خیر توکچھ نہ کر،میں خود ہی دیکھ لوں گا۔”ساجد نے رحیم کی مردانگی پر چوٹ پر کرتے ہوئے کہا اور کندھے پر پڑا رومال جھاڑ کر باہر نکل گیا۔
    ٭…٭…٭
    فوزیہ چودھری صاحب کے گھر بہت خوش تھی۔دن بھر چودھرانی اور ان کی بہو کے کام کرتی اور چودھری صاحب کے آنے کے بعد ان کے لیے چائے وغیرہ کی ذمہ داری بھی اس نے اٹھالی تھی۔ وہ دل سے دونوں کی قدر کرتی تھی اور جانتی تھی کہ اگر ان دونوں نے اس کا ساتھ نہ دیا ہوتا تو وہ اس وقت ساجد کی بیوی بن کر اس کی باتیں سن رہی ہوتی۔ کبھی کبھی اسے اماں اور ابا خاص طور پر منا یاد آتا لیکن اس نے دل سخت کرلیا تھا کہ اگر انہیں فکر نہیں میری تو میں کیوں کروں۔
    ایک دن فوزیہ حویلی کے صحن میں بیٹھی تھی کہ چودھرانی وہاں آئی اور اپنے چند پرانے جوڑے اس کے آگے رکھتے ہوئے کہا۔
    ”یہ لے،انہیں صحیح کر کے پہن لینا۔پتا نہیں تجھے کب تک یہاں رہنا ہے۔”




  • آرٹیکل بی-۱۲ – عظمیٰ سہیل

    آرٹیکل بی-۱۲ – عظمیٰ سہیل

    ” شکر ہے بھئی نکل آئے دکان سے۔ آج تو لگ رہا تھا کہ دم ہی گھٹ جائے گا۔ توبہ کتنا رش تھا۔”فائزہ نے اپنے ڈھیروں شاپنگ بیگ سنبھالتے ہوئے شازیہ سے کہا۔ ”ویسے تو ہر لان کی لانچنگ پہ یہی حال ہوتا ہے۔ لوگوں کے پاس پیسہ بھی بہت ہی آگیا ہے۔” شازیہ نے ہنس کر کہا: ” ہمیں بھی تو چین نہیں کہ تھوڑا صبرہی کر لیں۔ جس دن لان کی لانچنگ ہو بس اسی دن لینا ہے نیا سٹاک۔۔کہیں ختم ہی نہ ہو جائے” فائزہ نے ناک سکوڑتے ہوئے شازیہ کی بات کاٹی، ” ہاں بھئی بعد میں لینے کا کیا مزا جب ہر نتھو خیرے کے پاس پہنچ جائے وہ ڈیزائن ۔ تب تک تو میں ایک بار پہن کے پھینک بھی چکی ہوتی ہوں۔” دونوں اسی طرح باتیں کرتی گاڑی کے قریب پہنچ گئیں۔





    گاڑی میں بیٹھ کے فائزہ نے افسردہ ہوتے ہوئے کہا: ” سب کچھ بہت اچھا مل گیا لیکن میرا سب سے فیورٹ آرٹیکل نہیں ملا ۔”
    شازیہ نے پوچھا: ”کون سا؟ ١٢۔ بی؟وہ تو سنا ہے کہ آیا ہی نہیں مارکیٹ میں گولی مارو اس کو۔ باقی شاپنگ انجوائے کرو۔”
    فائزہ کے شوہر عاصم کا شمار شہر کے معروف کاروباری افراد میں ہوتا تھا۔ گھر میں دولت کی ریل پیل تھی اور فائزہ اس دولت کا بے دریغ استعمال کرتی۔ ڈیزائنر لان ہو یا برانڈڈ جوتے،ہر نیا ڈیزائن اس کی وارڈروب میں ہوتا۔ شہر کی ہر بڑی kitty پارٹی کی وہ ممبر تھی جہاں وہ اپنی دولت اور فیشن کی خوب نمائش کرتی۔ تمام بیگمات اس سے متاثر رہتیں اور اس کا بڑا زعم تھا فائزہ کو۔ اگر نہیں دبتی تھی کوئی تو وہ تھی بیگم شائستہ صدیقی۔ سیٹھ منور صدیقی کی تیسری اور چہیتی بیوی۔ فائزہ اور شائستہ کی بہت لگتی تھی اور دونوں ہر پارٹی میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوششوں میں رہتیں۔
    شام کی چائے پہ فائزہ عاصم کو اپنی شاپنگ کا احوال سنا رہی تھی کہ فون کی گھنٹی بجی۔ دوسری جانب کی بات سُن کر فائزہ کا منہ غصے سے سُرخ ہو گیا اور پھر اس نے فون رکھ دیا۔ شوہر کے استفسار پہ بتایا کہ دکان دار نے جو آرٹیکل اُسے یہ کہہ کر نہیں دیا تھا کہ وہ لانچ ہی نہیں ہوا ، وہی آرٹیکل شائستہ سلنے بھی دی آئی ہے۔ یہ بات شازیہ اور شائستہ کے مشترکہ ٹیلر سے اُسے پتا چلی۔ فائزہ کا موڈ سخت آف ہو گیا۔ ” بڑا ہی گھٹیا آدمی ہے یہ کریم فیبرکس کا منیجر۔ کمیشن مجھ سے لیتا ہے اور نئے ڈیزائن اس شائستہ کو دیتا ہے۔ اب وہ پارٹی میں پہن کے خوب اِترائے گی۔ ”
    عاصم جھلا کے بولا:” ارے بھئی تو تم بھی لے آؤ وہی سوٹ اور تم بھی پہن لو۔۔”
    فائزہ فورا بات کاٹ کے بولی: ” لو خواہ مخواہ ۔۔ میں کیوں پہنوں اس جیسا سوٹ؟” ۔عاصم بے زار ہو کے اٹھ گیا اور بولا:”تم عورتوں کے مسائل میری تو سمجھ سے باہر ہیں خیر میں نکل رہا ہوں۔ رات کو دیر سے آؤں گا۔ ” یہ کہہ کر عاصم نکل گیا۔
    اگلے دن فائزہ کا شازیہ کے ساتھ لنچ پہ جانے کا پلان تھا۔ کھانا کھاتے ہوئے اس مہینہ کی kitty پارٹی کا ذکر نکل آیا۔ شازیہ بولی:”ارے بھئی اس بار کی kitty پارٹی تو شائستہ کی ہے نا۔مسز آفندی بتا رہی تھیں کہ اسی کے گھر ہے پارٹی۔”
    شائستہ کا نام سنتے ہی فائزہ کا حلق تک کڑوا ہو گیا۔ وہ جل کر بولی:” ہاں اسی پہ پہنے گی وہ جوڑا۔ کل وہ منیجرلے کے آیا تھا ، وہی آرٹیکل١٢۔ بی۔بڑی صفا ئیاں دے رہا تھا کہ اس نے نہیں دیا شائستہ کو وہ جوڑا اور یہ بھی کہ بڑی مشکل سے وہ ارینج کر کے لایا ہے خاص میرے لئے۔ ورنہ سارا سٹاک ڈیزائنر نے ایکسپورٹ کر دیا ہے۔ میں نے تو خوب سنائیں اور واپس کر دیا سوٹ۔ ”





    فائزہ بڑی نخوت سے ناک منہ چڑھا کے بولی:”خواہ مخوا ہ کی کارروائی ہنہ !! ”شازیہ کھانا کھاتے کھاتے رک گئی اور بولی :” ارے بیوقوف نہ بنو اور واپس منگوا ؤو ہ سوٹ۔ یہی تو شان دار موقع ملا ہے تمہیں ، شائستہ کو نیچا دکھانے کا!” فائزہ نے تذبذب سے پوچھا: ”کیا مطلب کیسا موقع؟ اس کے جیسا سوٹ پہننے میں تو میری انسلٹ ہے، اس کی نہیں۔ ”
    شازیہ نے مسکراتے ہوئے کہا :” یہی تو تم سمجھی نہیں۔ ارے یار وہ منیجر ٹھیک کہہ رہا تھا۔ یہ والے آرٹیکل کا سارا سٹاک واقعی ایکسپورٹ ہو گیا ہے۔میں نے خود پتا کیا ہے مارکیٹ سے۔۔ یا تو تم خوش قسمت ہو، جس کے لئے منیجر نے ارینج کروادیا یا پھر شائستہ نے کوئی رابطہ استعمال کرتے ہوئے ڈائریکٹ ڈیزائنر سے لیا ہے یا ہو سکتا ہے کچھ دکان دار بلیک کر کے بیچ رہے ہوں لیکن مارکیٹ میں بہرحال یہ دستیاب نہیں ، یہ بات توپکی ہے۔ اب تم وہی سوٹ لے کے سلوا ؤ اور میں یہ بات اپنے ٹیلر کے ذریعہ شائستہ کو پہنچا دوں گی اورپھر دیکھنا وہ کبھی بھی اس پارٹی میں وہ سوٹ نہیں پہنے گی بلکہ تمہارے پہننے کے بعد تو کسی اور پارٹی میں بھی نہیں پہن سکے گی اور اس کی ساری پھرتیاں بے کار جائیں گی۔ ”
    فائزہ سوچ میں پڑ گئی۔ بات کچھ کچھ اس کی سمجھ میں آرہی تھی۔وہ سوچتے ہوئے بولی:” لیکن اگر شائستہ نے پھر بھی وہ سوٹ پہن لیا تو ہم دونوں ہی۔۔۔” یہ سوچ آتے ہی اس کا منہ بن گیا،”نہیں بھئی میں نہیں پہننے والی وہ۔۔” شازیہ اس کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کے اس کی بات کاٹ کے بولی:” ارے پاگل پھر تو اور مزہ آئے گا۔ یاد نہیں چائنا ٹاؤن والے لنچ میں جب وہ تمہارے جیسا برانڈڈ بیگ لے آئی تھی اور پھر بھری محفل میں طنز کر رہی تھی کہ میں تو دوبئی شاپنگ فیسٹول سے لائی ہوں یہ بیگ۔ لوگ تو آن لائن کاپی منگوا کے یہی شو کرتے ہیں جیسے اوریجنل ہو۔۔”
    وہ بات یاد آتے ہی فائزہ کا منہ پھر سُرخ ہو گیا۔”تو بس پھر یہی موقع ہے اس کو نیچا دکھانے کا” ۔ شازیہ کی بات مکمل ہوتے ہی فائزہ کریم فیبرکس کے منیجر کو فون ملانے لگی۔
    شائستہ نے پارٹی کا انتظام شہر کی سب سے مشہور ایونٹ مینجمنٹ ٹیم سے کروایا تھا۔ اعلیٰ پائے کی کیٹرنگ کروائی تھی ۔ فائزہ اپنا پسندیدہ جوڑا پہنے گاڑی سے اُتری۔ دوسری گاڑی سے شازیہ کو اُترتا دیکھ کر بجائے سیدھا اندر جانے کے اُس کی طرف بڑھی۔ شازیہ نے فائزہ پہ ایک توصیفی نگاہ ڈالی اور پھر وہ دونوں اکٹھی گھر کے لان کی طرف بڑھیں جہاں پارٹی کا انتظام تھا۔ دوسری مہمان خواتین سے ملتے ملاتے فائزہ کی نظر بیگم شائستہ صدیقی پر پڑی تو فخر اور سرور کی ایک لہر اس کے اندر دوڑ گئی۔۔ جب اس نے بیگم شائستہ کو اپنے جیسے لباس کی بجائے کوئی اور لباس پہنے دیکھا۔ یہ گویا شکست کا ایک خاموش اعلان تھا۔ فائزہ نے ایک فاتحانہ نظر سے شازیہ کی طرف دیکھا جس نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اُسے اس فتح پہ گویا مبارکباد دی۔ اتنی دیر میں شائستہ دونوں کے قریب آ گئی۔ فتح کے نشے میں چور فائزہ اس سے معمول سے کہیں زیادہ تپاک سے ملی۔ دل ہی دل میں وہ سوچنے لگی کہ کیسے آج اپنے ڈریس کا بار بار ذکر چھیڑے۔ شائستہ نے دونوں کو بٹھایا اور کہا : ” بہت دیر سے آئی ہیں آپ دونوں۔ اتنی دیر لگا دی تیاری میں؟” فائزہ نے فخر سے اپنے لباس کی مصنوعی شکنیں دور کرتے ہوئے کہا:” بس مسز صدیقی آپ کو توپتا ہے مجھے ہر کام پرفیکشن سے کرنے کی عادت ہے ، پھر وہ چاہے کسی پارٹی کی تیاری ہو یا اپنی، میں کوالٹی پہ کمپرومائز نہیں کرتی۔ ”
    ”جی جی بالکل، اچھا باتیں تو ہوتی رہیں گی میں آپ کے لئے جوس منگواتی ہوں۔” شائستہ نے پاس کھڑے ویٹر کو کچھ اشارہ کیا اور معنی خیز مسکراہٹ لئے فائزہ کی طرف متوجہ ہوگئی۔ اچانک کہیں سے شائستہ کے گھر کی ملازمہ ہاتھ میں جوس کی ٹرے لئے برآمد ہوئی اور فائزہ کا منہ کُھلا کا کُھلا رہ گیا۔ شائستہ نے شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ فائزہ سے کہا:” کیا ہوا مسز عاصم۔ جوس لیجئے نا” اور فائزہ کے چہرے پہ ایک رنگ آ رہا تھا اور ایک جا رہا تھا کیوںکہ سامنے کھڑی ملازمہ نے وہی سوٹ پہن رکھا تھا جو فائزہ نے پہنا ہوا تھا۔ اس کا پسندیدہ ترین آرٹیکل۔ ١٢ بی۔




  • پراڈکٹ – نظیر فاطمہ

    سبزی منڈی کے ایک جانب گلی سڑی سبزیوں کے ڈھیر تھے، جن پر مکھیاں اور مچھر بھنبھنا رہے تھے ۔ ارد گرد ناقابلِ برداشت بد بو پھیلی ہوئی تھی ۔ ہلکی سی ہوا چلتی تو بدبو کے یہ بھبھکے اس کے ساتھ لپٹ کر دور دور تک چلے جاتے اور لوگوں کو ناک پر ہاتھ رکھنے پر مجبور کر دیتے ۔ گندے مندے حلیے والے پانچ سات بچّے ان ڈھیر وں میں سے قدرے کم گلی سڑی سبزیاں اکٹھی کر کے اپنی بوریوں میں ڈال رہے تھے۔یہ گلی سڑی سبزیاں ان کا پیٹ بھرنے کا وسیلہ تھیں ۔ بھوک شاید سب سے بڑی بیماری ہے یا پھر غریب سب سے ڈھیٹ مخلوق ۔۔۔تبھی تو یہ گلی سڑی سبزیاں، گندا پانی اور باسی کھانا ان لوگوں کا کچھ نہیں بگاڑ پاتے۔ جب کہ لوگ گلی سڑی سبزیوں کے ان ڈھیروں کے پاس سے گزرنے سے بھی پرہیز کرتے تھے۔





    ایک سیاہ چمچمائی لینڈ کروزران ڈھیروں کے قریب آ کر رکی ۔ گاڑی اتنی چمک دار تھی کہ سیاہ رنگ ہونے کے باوجود اس میں آئینے کی طرح ہر چیز کا عکس دیکھا جاسکتا تھا۔ گاڑی سے ایک شخص اُترا۔اُس کے چہرے پر صحت مندی اور آسودگی کی چمک تھی۔گلے میں نئے ماڈل کا مہنگا ترین کیمرہ لٹک رہا تھا۔ ایک ہاتھ میں بڑا سا شاپر تھا۔ پیروں میں امپورٹڈ جاگرز جو اپنی قیمت کا چیخ چیخ کر اعلان کر رہے تھے ۔مہنگی جینز اور ٹی شرٹ میں ملبوس اس شخص نے گویا آسمان سے سیدھا زمین پر پائوں رکھا تھاجس پر زمین کی کسی مشکل یا گندگی کا ذرا برابر اثر نہیں ہوا تھا۔بدبو کا تیز بھبھکا اس کے نتھنوں سے ٹکرایا۔ اس بدبو کو بڑی مشکلوں سے برداشت کر کے وہ آگے بڑھا۔وہ کوڑے کے ڈھیروں کے قریب پہنچا تو وہاں گلی سڑی سبزیاں چنتے بچّے اپنی بوریاںچھوڑ کر اُٹھ کھڑے ہوئے اور حیرت سے اُسے دیکھنے لگے۔قریب تھا کہ وہ بچّے اپنی بوریاں اُٹھا کر بھاگ جاتے، اُس شخص نے پیش بندی کی۔
    ”ارے، ارے، بچّو! کہاں جا رہے ہو؟ ٹھہرو شاباش! یہ دیکھو میں تمہارے لیے کیا لایا ہوں؟” اُس نے ایک پھولا سا شاپر اُن کے سامنے لہرایا جسے دیکھ کر بچّے وہیں ٹھہر گئے ۔
    ” اوئے کچھ کھانے والا ہو گا۔ رک جاتے ہیں۔” وہ بچّے جن کے چہروں سے بھوک لپٹی ہوئی تھی ، آپس میں کھسر پھسر کرنے لگے۔
    ” اس میں تم لوگوں کے لیے کھانے پینے کی بہت سی چیزیں ہیں، کھائو گے؟” اُن کے ٹھہرنے پر اُس شخص نے اُنھیں جیسے لالچ دیا۔بچّے شرم اور جھجھک کے مارے ایک دوسرے سے لپٹ گئے اور اپنے پیلے دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے ہاں میں سر ہلانے لگے۔
    ” پہلے تم لوگوں کو میرا ایک کام کرنا ہو گا۔بولو کرو گے؟”کھانے کی چیزوں کے لالچ میں بچّے سب کچھ کرنے کو راضی تھے۔
    ”شاباش! ٹھیک ہے۔ پہلے میں تم لوگوں کی کچھ تصویریں اُتاروں گا ۔ پھر یہ ساری چیزیں میں تم لوگوں میں بانٹ دوں گا۔ چلو اب میں جیسے تمہیں کہتا ہوں ویسے کرتے جائو شاباش۔” اُس نے اپنا کیمرہ ہاتھوں میں پکڑ کر سیٹ کرنا شروع کیا۔
    ” چلو تم سب اپنی اپنی بوریاں پکڑ کر اس ڈھیر سے سبزیاں تلاش کرو۔”
    بچّے جھٹ پٹ اپنا کام کرنے لگے، یہ ان کا روز کا کام تھا۔ وہ شخص ہر ہر زاویے سے انہیں فوکس کرنے لگا ۔کوئی دس بارہ تصویریں اُس نے گروپ میں اُتاریں۔ ہر تصویر اُتارتے وقت اُس نے بچّوں کو مختلف ہدایات دی تھیں۔
    ”اب تم یہ گلا ہوا ٹماٹر اس طرح منہ میں ڈالو۔” اُس نے ایک لڑکے کو ہدایت دی۔
    وہ بچّے تو گلی سڑی سبزیاں کچی کھا جانے میں ماہر تھے۔ اُس نے بالکل اُسی طرح وہ ٹماٹر منہ میں ڈالا جس طرح اُسے ہدایت کی گئی تھی۔
    ”گڈ۔” اُس شخص نے حسبِ منشا نتائج ملنے پر خوش ہو کر بچّے کو سراہا۔
    پھر اُس نے ہر بچّے کو انفرادی طور پر ہدایات دے کر فوکس کیا ۔ہر تصویر کو دیکھنے کے بعد وہ شخص جیسے خوشی سے جھوم رہا تھا۔ اُس کا جوش اُس کے چہرے سے چھلک رہا تھا۔ تقریبا ً ایک گھنٹے کی محنت کے بعد اُس شخص نے اپنا کام مکمل کیا، کیمرہ بند کیا اور بڑا شاپر کھول کر اس میں سے چھوٹے چھوٹے شاپر نکالے ۔ ہر شاپر میں دو دو چکن پیٹیزاورجوس کا ایک ایک چھوٹا ڈبہ تھا۔
    ” آئو ، یہ لو ” اُس نے ایک ایک شاپر ہربچّے کو دیا۔
    اس کے بعد اس نے اپنی جیب سے والٹ نکالا اور ہر بچّے کو سو سو روپے کا نوٹ دیا۔ وہ ایک گھنٹے سے یہاں تصویریں اُتار رہا تھا ۔ اُس کو دیکھ کر کئی لوگ وہاں جمع ہو گئے تھے۔ وہ سب دم سادھے اُس شخص کی فیاضی ملاحظہ کر رہے تھے، جو کوڑا کرکٹ چن کر اپنا رزق تلاش کرنے والے بچّوں پر اتنا مہربان ہو رہا تھا۔
    ” اچھا بچّو! اللہ حافظ” وہ پلٹ کر اپنی گاڑی کی طرف جانے لگا تو ایک ادھیر عمر شخص نے اُسے پکارا:
    ”صاب! یہ سب تو غریب بچّے ہیں، ان سے اتنی محبت کیوں؟”اُس نے پلٹ کر سوال کرنے والے کو دیکھا۔
    ”یہ بچّے میرے لیے بہت قیمتی ہیں۔” اُس نے مسکرا کر سامنے دیکھا جہاں وہ بچّے کھانے کے ساتھ نبرد آزما تھے ۔ پھر اُس نے اطمینان بھری گہری سانس کھینچی اور گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔ تھوڑی دیر بعد اس نے گاڑی بھگائی اور گاڑی کے پہیوں سے سے اُڑنے والی دھول نے چند لمحوں کے لیے سارے منظر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
    ٭…٭…٭





    پیرس میں فوٹو گرافی کے عالمی مقابلے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اس مقابلے میں پوری دنیا کے مشہور فوٹو گرافرزنے حصّہ لیا تھا ۔پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے فوٹو گرافر کو لاکھوں ڈالر انعام دیا جاناتھا ۔ ہال لوگوں سے بھرا ہوا تھا اور تھوڑی دیر میں مقابلے کے نتائج کا اعلان ہونے والا تھا۔ نمائش میں حصہ لینے والے تمام فوٹو گرافرز یہاں موجود تھے۔سب کی کھینچی گئی تصاویر ہال کی دیواروں پر آویزاں تھیں۔ مقابلے کا عنوان تھا ”ٹاکنگ فوٹو گرافس”۔ مقابلے کے نتائج کا اعلان شروع ہوا ۔ تیسری اور دوسری پوزیشن کا اعلان ہونے لگا۔ان پوزیشن ہولڈر زکی بڑی اسکرین پر دکھائی جانے والی تصویریں واقعی بولتی ہوئی تھیں۔ تالیوں کا شور تھما تو سب دل تھام کر پہلی پوزیشن کے اعلان کا انتظار کرنے لگے۔
    ”پہلی پوزیشن جاتی ہے عالم گیر جیلانی کو۔”
    انگریزی زبان میں اعلان ہو رہا تھا اور ساتھ ہی بڑی اسکرین پر عالم گیر جیلانی کی کھینچی گئی تصاویر ایک ایک کر کے دکھائی جا رہی تھیں۔کوڑے سے کھانے پینے کی چیزیں چنتے ہوئے بچّے،وہ گلی سڑی سبزیاں کھاتے ہوئے ننگ دھڑنگ بچّے جو جانور بھی سونگھنے کے بعد چھوڑ کر چلے جاتے تھے ۔ عالمگیر جیلانی کی تصاویر”ٹاکنگ فوٹو گرافس’ ‘نہیں بلکہ ”شائوٹنگ فوٹو گرافس” تھیں جوغربت، بھوک، محرومی اور حسرت کا چیخ چیخ اعلان کر رہی تھیں۔
    عالم گیر جیلانی نے تالیوں کی گونج میں دو لاکھ ڈالر کا چیک فخر سے مسکراتے ہوئے وصول کیا۔ دو ہزار کی سرمایہ کاری کر کے اُس نے دو لاکھ ڈالر کمائے تھے۔ آرٹسٹ ہونے کے ساتھ ساتھ وہ بڑا کاروباری ذہن رکھتا تھا اور ایک کاروباری شخص کے لیے اس کی پراڈکٹ سب سے قیمتی ہوتی ہے۔ کیونکہ اس کی کامیابی کا انحصار اُس کی پراڈکٹ پر ہوتا ہے۔ غربت اور کسمپرسی کا چلتا پھرتا اشتہار یہ بچّے عالم گیر کے لیے بہت قیمتی تھے، کیوں کہ وہ اس کی پراڈکٹ تھے۔




  • پچیس ہزار – حمیرا نوشین

    ڈھولک کی تھاپ اس کے دِل کی دھڑکنوں کی رفتار میں اضافے کا باعث بن رہی تھی، مسکراہٹ پورے استحقاق سے اس کے لبوں کی مکین بن گئی۔ خوش آئند خیالوں نے اسے اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ فرینڈز اور کزنز ”حسنین” کا نام لیکر اسے گدگدا رہی تھیں، آج مہندی کی رسم تھی اور کل بارات آنی تھی۔ آج اس گھر میں وہ ناکتخدا اپنی آخری رات بسر کر رہی تھی۔صبح وہ ملیحہ افتخار سے ملیحہ حسنین کے نام سے پہچانی جائے گی۔ حسنین کا نام اس کے دل میں ہلچل مچانے لگا۔ غیرخاندان میں شادی کا خوف بھی آنکھوں میں ہلکورے لے رہا تھا مگر دوسرے ہی پل اسے جھٹک کر سہانے خواب اس کی پلکوں پر بسیرا کرنے لگے اور وہ ان خوبصورت وادیوں کی سیر کرنے لگی۔
    ٭…٭…٭





    ”پچیس ہزار سے ایک روپیہ کم نہیں ہوگا۔”
    ”یہ لو پچیس اور یہ ہزار روپیہ تھامو آپکے پچیس ہزارکا مطالبہ مان لیا گیا ہے۔” دولہا کے بھائی نے نوٹ آگے بڑھائے۔
    ”ارے واہ! ہمیں کیا بے وقوف سمجھا ہوا ہے؟ ہزار ہزار کے پچیس نوٹ ہمارے خوبصورت ہاتھوں میں تھمائیے۔” دلہن کی کزن اترائی۔
    ”میڈم رہتی پاکستان میں ہیں اور دودھ کی قیمت ڈالرز میں وصول کررہی ہیں۔” دوست دودھ کا گھونٹ بھرتے ہوئے بولا۔
    ”دلہن بھی تو اتنی قیمتی لے جارہے ہیں۔ تو ذرا دودھ پلائی بھی شایانِ شان ہونی چاہئے۔”
    ”یہ لیں پانچ ہزار پکڑیں اور عیش کریں” دولہا کے بہنوئی نے ہرے ہرے پانچ نوٹ لہرائے۔
    ”پانچ ہزار واپس اپنی جیب میں ڈالیں، پندرہ سالیوں میں یہ نوٹ اونٹ کے منہ میں زیرہ والی بات ہوگی۔”
    ”اونٹ نہیں خوبصورت اونٹنی کے منہ میں زیرہ۔” منچلے دوست نے فقرہ کسا۔ ”باتیں نہ بنائیے، نوٹ نکالیے” خوبصورت حنائی ہتھیلی سامنے ہوئی۔
    ”یہ لو ایک اور نوٹ کا اضافہ کردیا آپ کے حسین اور نازک ہاتھ دیکھ کر” وہ رومانٹک ہوا۔
    ”ان خوبصورت ہاتھوں کی قیمت آپ دے ہی نہیں سکتے۔”
    ”ارے آپ ہمارے ہاتھوں میں تھمائیں تو سہی ہم بدلے میں دل و جان آپ پر فدا کردیں گے۔” بے باک دوست نے ہاتھ ہی پکڑ لیا۔
    ”فی الحال تو ہمارا مطالبہ پورا کر دیجئے، دل و جان لینے کا فیصلہ بعد میں کریں گے۔” وہ ہاتھ کھینچ کر دل ربائی سے مسکرائی۔
    لوگوں کا اشتیاق بڑھنے لگا۔ اس نوک جھونک کا مزہ لینے اسٹیج پر سب ہی چڑھ آئے۔ مووی والا لڑکیوں کے تھوڑا اور قریب ہوکر مووی بنانے لگا۔ لڑکے لڑکیوں کا باہم اختلاط کوئی اور ہی رنگ بکھیرنے لگا۔ لڑکیوں کے چہرے پرُ شوق نگاہوں کی تپش سے دہکے جارہے تھے اور لڑکوں کے دل قابو میں ہی نہیں رہے تھے۔ اچھے خاصے شریف گھرانوں کی لڑکیاں بن سنور کر دوپٹوں سے بے نیاز دولہا کے دوستوں اور رشتہ داروں کے سامنے کھڑی ان کے ایمان متزلزل کررہی تھیں۔ نوجوان تو ایک طرف جوان بچوں کے باپ بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے لگے۔
    ”بھئی جلدی کرو دیر ہورہی ہے۔” دولہا کی ماں کی کہیں سے آواز ابھری۔
    ”آنٹی جان آپ کے کنجوس بیٹے جیب ہی ڈھیلی نہیں کررہے، ہم تو کب کا چھوڑ دیتے انہیں۔”
    ”ارے بھئی فارغ کرو ان کو دے دلا کر” لہجے میں ناگواری جھلکنے لگی۔
    ”ہاں تو ہم نے کون سا ان کو پلو سے باندھ رکھا ہے؟ پیسے دے کر گھر کو سدھاریں۔” دوسری طرف سے جوابی حملہ ہوا۔
    ”لو بھئی نہ تمہاری نہ ہماری، یہ دس ہزار پکڑو۔” بہنوئی دولہا کا ہاتھ پکڑ کر اٹھانے لگا۔
    ”نہ… نہ… نہ اتنا سستا نہیں چھوڑیں گے۔ دولہا بھائی، کماؤ بیوی دے رہے ہیں۔ پچیس ہزار مہنگا سودا نہیں ہے۔ ایک تنخواہ میں ہی حساب پورا ہو جائے گا۔” سالی نخرے سے بولی۔
    ”کمائے گی تو کیا ہمیں کھلائے گی؟ اپنے ہی اوپر خرچ کرے گی ۔”دولہا کی بہنوں کے لہجے اکھڑنے لگے۔
    ”تیور نہ دکھائیں پچیس ہزار کے نوٹ دکھائیں۔”





    ”کیا زندگی میں کبھی پیسے ہی نہیں دیکھے؟”
    ”ہم نے تو بہت دیکھے ہیں لگتا ہے آپ کنگلے خالی جیبیں لے کر آگئے۔ دلہن لینے آئے تھے تو کچھ نوٹوں کو بھی ساتھ لے آتے۔” سیر کو سوا سیر مل رہا تھا۔
    ”کیوں؟ کیا بیٹی بیچنی ہے تم لوگوں نے؟” اچانک دولہا کی ماں کے تیور بدل گئے۔
    ”ارے ہمیں کیا پتا تھا کہ یہ بیٹی کی بولی لگائیں گے۔ اتنی سستی بیٹی بیچیں گے۔ صفدر نکال پچاس ہزار روپے، ہم ڈبل میں خرید لیں گے۔”
    بات کہاں سے کہاں جا پہنچی۔
    دولہا دلہن کے بھائی اور والدین کے درمیان اسی بات پر تلخ کلامی بڑھنے لگی۔ لڑکیاں سٹیج سے نیچے اتر آئیں۔
    ”ایک رسم پر ہی تو بچیوں نے کچھ پیسے کیا مانگ لئے آپ تو ہتھے سے ہی اکھڑ گئے۔” والد جوش میں آگئے۔
    ”ہاں تو رسم کو رسم ہی رہنے دیں کمائی کا ذریعہ تو نہ بنائیں۔” دولہا کے والد کا بھی تابڑ توڑ جواب آیا۔ لڑکی کے باپ کا چہرہ سرخ ہوگیا۔
    ”اپنی کماؤ بچی کو اپنے پاس ہی رکھیں۔ ارے ابھی سے ان لوگوں کا یہ حال ہے کل کو میرے بچے کو لوٹ کے کھا جائیں گے یہ تو۔” ماں کو مستقبل کی فکر ستانے لگی۔
    ”ہمیں بھی اپنی بہن بھاری نہیں ہے، آپ جیسے کنگلوں کے حوالے کرنے سے تو بہتر ہے کہ اس کو ساری عمر گھر پر بٹھائے رکھیں۔” بھائی غصے سے بپھرنے لگے۔
    ”ہاں تو بٹھاؤ شوق سے اپنے گھر، چل حسنین دے طلاق۔” خوشیوں کی فضا مکدر ہوگئی۔
    اس صورتِ حال پر دولہا دم سادھے کھڑا تھا۔
    ”تو پھر دیر کس بات کی ہے؟ فارغ کرو ہماری بچی کو، رشتوں کی کوئی کمی نہیں ہے اس کے لیے’۔’ پھوپھا نے بھی حصہ ڈالا، پرانی رنجش کا بدلہ لینے کا یہ صحیح موقع تھا۔
    ”ہاں… ہاں ایسے فقٹوں میں رشتہ داری ہمیں قبول نہیں۔” دو تین اور بیچ میں کود پڑے۔
    ”میں کہتا ہوں اس قصے کو ابھی نمٹا دے۔” باپ بیٹے کی خاموشی سے جھنجھلایا۔
    مگر… ابا!
    ”میں کہہ رہا ہوں جلدی سے تین الفاظ کہہ دے۔ نہیں تو ساری عمر معاف نہیں کروں گا۔”
    اب… با… وہ…
    ”دے طلاق” باپ دھاڑا۔
    ”اماں میں کیسے…؟” وہ مخمصے میں پڑ گیا۔
    ”جیسے قبول ہے کے لفظ ادا کئے تھے، اسی طرح بھرے مجمع میں ان کی بیٹی کو تین الفاظ کہہ کر فارغ کر ورنہ دودھ نہیں بخشوں گی تجھے۔”
    سب کو سانپ سونگھ گیا۔
    اور دولہا نے تین قبیح الفاظ کہہ کر فرماں برداری کا ثبوت دے دیا۔
    بارات خالی واپس چلی گئی۔ بیٹی کی ماں غش کھا کر گر پڑی۔ باپ کے کندھے جھک گئے۔
    بھائی منہ چھپا کر کمروں میں جادبکے۔
    لوگ بھانت بھانت کی بولیاں بولنے لگے اور اندر کمرے میں سجی سنوری دلہن چند گھنٹوں میں ہی باپ کی دہلیز پر بیاہتا سے مطلقہ ہوگئی۔ محض ایک رسم کے ہاتھوں، خوابوں کا محل چکنا چور ہوگیا۔ لبوں پر مسکراہٹ کی جگہ اداسی نے قبضہ جمالیا۔
    سرخ ہتھیلی خون بن کر رلانے لگی، اس کی خوشیوں کو معاشرے کی ایک رسم نے نگل لیا تھا۔

    ٭…٭…٭




  • دیارِ خلیل – فرحین خالد

    عالیشان محل جیسے گھر میں رہنا کس کی آرزو نہیں ہوتی ؟بڑی لاگت اور مشقت کے بعد یہ مکان تعمیر تو کر لیے جاتے ہیں مگر ان کو ”گھر ” بنانے کے لیے مزید قربانیاں درکار ہوتی ہیں۔گھر کے مکینوں کی اطراف میں کھنچی ان کی محافظ کہیے یا رکاوٹ، ایک دیوار بھی حائل رہتی ہے جس کو مزّین اور آراستہ تو خوب کیا جاتا ہے مگر اس کی نفسیات کو نہیں سمجھا جاتا ۔آیئے آج ایک ایسی ہی دیوار سے اس کی بپتا سنتے ہیں۔





    مجھ سے ملئے …میں، دیارِ خلیل میں کھڑی ایک ساکت دیوار ہوں جو خود کو اس گھر کا اہم جز سمجھتی ہے ۔میں ہوں تو پتھر جیسی مگر دل میرا ، آپ ہی کی طرح نرم ہے۔ یہ بات سن کے آپ کو حیرت ہوئی ؟ کیوں..؟ جب آپ یہ مانتے ہیں کہ دیواروں کے کان ہوتے ہیں، جب آپ یہ مانتے ہیں کہ روز جزا ہر ہر پتھر گواہی دے گا تو یہ ماننے میں بھی حرج نہیں ہونا چاہیے کہ میرا ایک دل بھی ہے جو اپنے مکینوں کے لیے دھڑکتا ہے۔ ہاں ، مجھے ان سے سچی محبت ہے ۔ جب یہاں حزن بسیرا کرتا ہے تو میرا گریہ نہیں رکتا اور جب یہاں شادیانے بجتے ہیں تو میں ان کے قہقہوں کی گونج ہوتی ہوں۔میں جب تک اپنے مکینوں کو نہیں اپناتی ان کی اجنبیت دور نہیں ہوتی ۔
    پچھلے دنوں جب مجھ پہ روغن ہوا تو یہ اندازہ ہوا کہ میرا پھر سے سودا ہوگیا ہے… سوچتی ہوں کہ یہ کیسے سپنوں کے بیوپاری ہیں کہ جب اتنے چاؤ سے میری ایک ایک اینٹ میں خلوص و وفا کا گارا لگا کر مجھے بلندکرتے ہیں تو آخر مجھے بیچ کیوں جاتے ہیں ؟ میں، اپنے خمیر میں گندھی خصلتوں سے مجبور… اپنے ہر ایک باسی سے پیماں نبھاتی ہوں۔بہرحال آج میں خوش ہوں کہ میری ویرانی دور ہو رہی ہے ۔





    صبح سے چہل پہل تھی۔میں اپنی مقابل دیوار پہ بنتے ہیولے دیکھ رہی تھی۔ کچھ اندیشے تھے ، جو بڑھ رہے تھے کچھ آرزوئیں تھیںجو زور پکڑ رہیں تھیںکیوںکہ مزدور قطار در قطار سامان اٹھائے اندر چلے آ رہے تھے۔مجھے بھی اپنے مکینوں کو دیکھنے کا بہت اشتیاق تھا کہ کون ہوں گے؟ کیسے ہوں گے ؟ اللہ کرے کہ بچوں والے ہوں، مجھے ننھے بچوں کی گونجتی کلکاریاں بہت اچھی لگتی ہیں ۔ میں نے دیکھا کہ پہیے جیسی گول گول چیز بھی ہوا میں لہرائی ہے۔ضرور گھر کے کسی بزرگ کی سائیکل ہوگی جو صبح ہی صبح پارک لے کر جائیں گے اور واپسی میں سودا لیتے ہوئے گھر آئیں گے ۔آوازیں تو آ رہی ہیں مگر سمجھ نہیں آ رہا کس زبان میں بول رہے ہیں۔مجھے ایک لمحے کے لیے فکر ہوئی کہ میں اکیلی رہ جاؤں گی مگر دوسرے ہی لمحے میںنے تہیہ کر لیا کہ کوئی بات نہیں میں سیکھ لوں گی اسی ٹی وی لاؤنج میں تو بیٹھیں گے سارا دن یہ لوگ۔
    اب سائے ڈھل گئے تھے اور آوازیں بھی مدھم ہو گئیں تھیں۔ مجھے ابھی تک کسی کی جھلک نہیں دکھائی دی تھی۔ اچانک گھٹنوں گھٹنوں رینگتا ہوا ایک بچہ دکھائی دیا۔میری خوشی کی انتہا نہ تھی کہ خدا نے میری سن لی ہے ۔میری ممتا اس بچے کو اپنی نگاہ میں بھرنے کی مشتاق تھی۔ اچانک ایک سایہ اس کے پیچھے پیچھے کمرے میں نمودار ہوا اور اس نے آواز لگائی ….
    ” بیبو ..بیبو..ارے وہاں کہاں چلی گئیں ؟”
    میںنے سوچا، بڑے فلمی لوگ ہیں!کیسا نام رکھا ہے منے بچے کا؟ مگر جیسے ہی روشنی کا جھماکا ہوا میری آنکھیں خیرہ ہو گئیں۔ اتنے دن ہو گئے تھے اندھیرے میں رہتے ہوئے۔ غور کیا تو نگاہوں پہ یقین نہیں آیا۔ زمین پہ ایک بزرگ خاتون بیٹھی سفید ریشمی بالوں والے بچے کو سہلا رہی تھیں۔ مجھے پانچ دن لگ گئے یہ یقین کرنے میں کہ یہ کوئی بچہ نہیں ایک پالتو بلی ہے، جو بڑی بی کی بے حد لاڈلی ہے۔ اگر وہ میاؤں میاؤں کی آواز نہ نکالتی تو میری ساتھی دیواریں مجھے اندھا کہہ کے ٹال دیتیں ۔
    یہ تین لوگوں کی ایک چھوٹی سی فیملی ہے۔ سونیا گھر کی بہو ہے ،سمیر اس گھر کا واحد مرد اور تابع دار بیٹا ہے ، ایک بیوہ بوڑھی ماں اور ان کی ایرانی نسل کی خوبصورت بلی… بیبو۔ ممی جی اور سمیر کی تو اس میں جان اٹکی رہتی ہے۔ اس کی ایک ایک ادا کو محبت سے دیکھتے ہیں اور ناز نخرے اٹھاتے نہیں تھکتے۔ اسے جب بھی موقع ملتا، سونیا اور سمیر کے بیچ میں آ کے پسر جاتی ۔سونیا کی تو جان ہی جل جاتی تھی ۔ جتنا وہ بیبو سے الرجک تھی اتنا ہی بیبو اس کی التفات کی منتظر رہتی۔ در اصل سونیا گھر میں جانور رکھنے کی قائل نہیں تھی اور دوسرے اس کو سمیر کی توجہ حاصل کرنے کے لیے یہ مقابلہ منظور نہیں تھا، گویا ایک میان میں دو تلواریں نہیں رہ سکتیں۔ روز کا ایک ہی ٹنٹا تھا ، بیبو چیزیں لڑھکاتی ، گند مچاتی ، صبح صبح شور کر کے ان کو جگاتی ، فرنیچر خراب کرتی، ہر چیز میں مخل ہوتی مگر سمیر کو سب ”کیوٹ ”لگتا اور ممی جی ، وہ تو ا س کی ہر ہر ادا کو دس دس بار دہراتے نہ تھکتیں۔ سونیا پیج و تاب کھا کے رہ جاتی۔ میں یہ سلسلہ بہ غور دیکھ رہی تھی اور ان ماں بیٹے کے اس لگاؤ کی وجہ سمجھ رہی تھی۔ صاف ظاہر تھا کہ گھر میں کوئی بچہ نہیں تھا جو ان کا دل لبھاتا یا دھیان بٹاتا … مگر سونیا کو کون سمجھاتا اس کے اندر ایک لاوا پک رہا تھا اور مجھے ڈر تھا کہ یہ گھر آباد ہونے سے پہلے نہ ٹوٹ جائے ۔





    سونیا نے بارہا اور برملا سمیر سے اپنی نا پسندیدگی کا اظہار بھی کیا تھا مگر وہ ماں کی طرف دیکھتا تو مجبور ہو جاتا کیوںکہ ان کو اپنی بلی سے ایک لمحے کی دوری گوارا نہ تھی ۔دراصل وہ ان کی بارہ سالہ پرانی رفیقہ تھی، جس نے ان کی زندگی میں موجود خلا کو پُر کیا تھا اور اب وہ اس کی اتنی عادی تھیں کہ اس کو اپنا جزو لاینفک سمجھتی تھیں۔سمیر مخمصے کا شکار ہوگیا تھا۔ماں کو خوش کرتا تو بیوی ناراض ، بیوی کو خوش کرنے کا مطلب تھا کہ ماں کی دل آزاری ۔ بادی النظر میں رب کی رضا بھی مطلوب تھی۔کرتا تو کیا کرتا ۔میں دیکھ رہی تھی کہ وہ خاموش طبیعت تھا سگریٹ کے ساتھ ساتھ خود بھی سلگ رہا ہوتا تھا ۔
    سونیا بری نہیں تھی۔مشیتِ ایزدی کے آگے مجبور تھی۔ ساس سے شکایت نہیں تھی ، بس ان کے شوق سے تھی ۔بیبو بھی تو نت نئے بہانے ڈھونڈتی تھی اس کو زچ کرنے کے ۔ایک روز جب سونیا نے اپنے کرسٹل کا سامان الماری میں لگانا شرو ع کیا تو میں نے خود دیکھا کہ بیبو صاحبہ آ کے اسی ڈبے میں براجمان ہو گئیں…سونیا کو صفائی اور سجاوٹ کا خبط تھا۔ ایک ہاتھ میں کپڑا اور دوسرے ہاتھ میں کرسٹل اٹھائے وہ جیسے ہی کچھ اور نکالنے جھکی تو بیبونے اندر سے باہر کی جانب چھلانگ لگا دی، اس اچانک حرکت سے سونیا کا توازن بگڑ گیا اور وہ دھڑام سے گر گئی … میرے منہ سے بھی چیخ نکل گئی ۔ آواز سن کے سمیر آیا تو سونیا کا پارہ اور چڑھ گیا اس نے کہا: ”تم کب اس عذاب سے میری جان چھڑاؤ گے! دیکھو ، کتنا نقصان کردیا اس نے میرا”سمیر نے کرسٹل کے ٹکڑوں کو دیکھ کر کہا ”کوئی بات نہیں اور آ جائے گا۔” سونیا کو اس کا اطمینان کو دیکھ کر آگ لگ گئی اس نے تو آؤ دیکھا نہ تاؤ اگلے پچھلے سارے حساب برابر کر دیئے۔ اس کا کہنا تھا کہ اسے چار سال ہو گئے ہیں اس بلی کو برداشت کرتے ہوئے اور اب اُسے کسی قیمت پہ بیبو کی حکمرانی منظور نہیں۔ اس بلی کی وجہ سے سونیا کو الرجی رہنے لگی تھی جو سخت تکلیف کا باعث تھی۔ جواب میں سمیر نے بس اتنا ہی کہا: ”ممی کے کمرے میں چھوڑ آتا ہوں۔” اس نے پیار سے بیبو کو گود میں بھرا اور باہر لے گیا۔سونیا نے اپنے گرد بکھرے کرسٹل کو دیکھا اور پھوٹ پھوٹ کے رو دی ۔ میرا دل کٹ کر رہ گیا ۔مجھے پتا تھا ان ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں میں وہ اپنا دل اور مان دیکھ رہی تھی، جو سمیر نے نہیں رکھا تھا ۔میں سوچ رہ رہی تھی کہ کیا جانور کو انسان پر فوقیت دینا درست ہے ؟ میں تو بس وہی جانتی تھی جس کا مجھے ادراک تھا ۔ باہر کی دنیا جانے کس طرح ایسی گتھی سلجھاتی ہوگی ..؟





    بانو آپا کئی دن سے بیٹے کی گہری خاموشی اور سونیا کا اس سے الگ تھلگ رہنا دیکھ رہیں تھیں ۔ سونیا سے بات کرنے کی کوشش کی تو اس نے رکھائی سے جواب دیا جس سے ان کا قلق بڑھ گیا۔ بیبو نے جب انہیں اُداس بیٹھا دیکھا تو پاس پڑی بال سے خوب کھیل کھیل کر دکھایا اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا مگر وہ گہری سوچ میں ڈوبی رہیں۔ ان کی آنکھوں سے جو مو تی جھڑ رہے تھے وہ اپنے دوپٹے میں سمیٹتی رہیں۔ بیبو بھی آزردہ سی ہو کے پیروں میں بیٹھ گئی ۔
    شام جب سمیر گھر آیا تو نہ بانو آپا تھیں نہ بیبو۔اس نے سونیا سے پوچھا تو اس نے بھی لا علمی کا اظہار کیا۔ وہ دونوں بیٹھے ٹی وی دیکھ رہے تھے اور مجھے اچھا لگ رہا تھا، جب وہ کبھی کبھی ایک ساتھ کسی بات پہ ہنس دیتے ۔جونہی گھنٹی بجی مجھے لگا آ گئے کوئی مہمان کباب میں ہڈی بننے ، کم ہی ہوتا تھا جب وہ دونوں اتنے پرسکون دکھائی دیتے تھے مگر اندر آنے والی کوئی اور نہیں بانو آپا تھیں اور ان کے ہاتھ میں ایک پنجرہ تھا جس میں دو خوبصورت طائرِ محبت کی جوڑی تھی ۔ پوچھنے پہ چہک چہک کے بتانے لگیں کہ وہ اسلم بھائی کو بیبو دے آئیں ہیں، جو ان دنوں بالکل اکیلے تھے اور بدلے میں دو پنچھی لائی ہوں دیکھو تو… سمیر اور سونیا دونوں پنجرے پہ جھکے ہوئے ان کا چہچہانا اور پُھدکنا دیکھ رہے تھے ۔سونیا نے ان سے پوچھا کہ کیا نام رکھیں گی ان کے تو سوچ کے بولیں مشیل اور اوباما ۔ تینوں نے ایک ساتھ فلک شگاف قہقہہ لگایا اور میں بھی یہ منظر دیکھ کر ہنس پڑی … ہنستے ہنستے بانو آپا کی آنکھیں چھلک پڑیں تو بہ مشکل میرے رُکے آنسو بھی رواں ہوگئے مگر آج میں نے ایک نئی بات سیکھی تھی کہ بڑا پن کیا ہوتا ہے۔بانو آپا نے گھر کی خوشیوں کی خاطر اپنی چاہت قربان کی تھی۔ گھر والوں کو جوڑے رکھنے کے لیے ایسی ہی ان گنت قربانیاں دینی پڑتی ہیں تب کہیں جا کر وہ خوشیوں کا گہوارہ بنتا ہے ۔ خدا کرے کہ یہ گھر اور خوشیاں ان کو راس آ جائیں۔





  • استنبول سے انقرہ تک (سفرنامہ) | باب 8

    استنبول سے انقرہ تک (سفرنامہ) | باب 8

    تحریر:مدیحہ شاہد

    ”استنبول سے انقرہ تک ”  (سفرنامہ)

    ”لاہور لاہور ہے”
    باب8

    ہم مقررہ وقت پر استنبول سے جدہ جانے والے جہاز میں سوار ہوئے۔ میری سیٹ ایک محرب خاتون کے ساتھ تھی جس کا نام نادیہ تھا۔ وہ سعودی عرب سے اپنے گروپ کے ساتھ سیرو تفریح کی غرض سے ترکی آئی تھی مگر کسی وجہ سے اسے جلد ہی ترکی سے سعودی عرب جانا پڑا تھا۔ وہ درمیانی عمر کی سوبر، خوش اخلاق اور بہادر خاتون تھی۔ اسے زیادہ انگلش نہیں آتی تھی۔ ہم دونوں کو آپس میں گفتگو کرتے ہوئے اشاروں کی زبان میں بھی بات کرنی پڑی۔ میری پچھلی سیٹ پر عقیلہ آنٹی اور انکل سعید شمسی بیٹھے تھے۔ وہ اردو انگریزی ، عربی اور اشاروں کی زبان میں ہونے والی اس مکس گفتگو کو سنتے ہوئے حیران ہو رہے تھے کئی گھنٹوں کا سفر تھا، ہمسفر خاتون سے بات کرنا بھی ضروری تھا ورنہ سفر بھلا کیسے کٹتا۔ جہاز نے ٹیک آف کیا تو میں ذرا خوفزدہ ہوگئی۔ نادیہ نے مجھے تسلی دی اور کچھ جملے بولے جن کامطلب تھا کہ مسلمان کو صرف اللہ سے ڈرنا چاہیے، اور کسی چیز سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔





    مجھے کچھ تسلی ملی۔ سفر کے دوران ہم باتیں کرتے رہے۔ نادیہ نے مجھے اپنے خاندان والوں کی تصاویر موبائل میں دکھائیں۔ وہ ترکی میں جن سیاحتی مقامات پر گئی تھی۔ ان کی تصاویر بھی دکھاتی رہی۔
    اس نے ہمیں ایک تسبیح تحفے میں دی ۔ ہمیں اندازہ ہوا کہ عرب بے حد دریا دل اور سخی ہوتے ہیں۔
    ائیر ہوسٹس کھانے کی ٹرالی چلاتے ہوئے سب کو کھانا سرو کررہی تھی۔
    ہم نے رغبت سے کھانا کھایا۔
    کہ ہم کافی دیر سے سفر میں تھے۔
    اس تھوڑے سے عرصے میں نادیہ سے میری بہت اچھی دوستی ہوگئی تھی۔ ہم دونوں نے ایک دوسرے کے موبائل نمبرز بھی لئے اور وعدہ کیا کہ اپنے گھر جاکر فون پر رابطہ کریں گے۔ دوستی عجب رشتہ ہے، بعض دفعہ آپ سالوں ایک دوسرے کے قریب رہتے ہیں مگر دوست نہیں بن پاتے اور بعض دفعہ کسی سے دوستی ہونے میں چند لمحے ہی لگتے ہیں۔
    دوستی کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ آپ ایک دوسرے کے ساتھ مخلص ہوں۔
    نادیہ پاکستان کو بہت پسند کرتی تھی اور پاکستانیوں سے مل کر خوش ہوتی تھی۔ بالآخر جہاز جدہ ائیرپورٹ پر لینڈ ہوا۔ ہم جہاز سے اترے۔ رن وے بہت وسیع تھا۔ ہم بس میں سوار ہوکر ائیرپورٹ کی عمارت تک پہنچے۔ ائیرپورٹ کا سعودی سٹاف بے حد بارعب تھا۔ وہ لوگ بلند آواز میں بارعب انداز میں انگریزی بولتے اور مسافر ذرا گھبرا جاتے اور مؤدب ہوجاتے۔ ہم ائیرپورٹ کی وسیع عمارت میں چلتے رہے، کہیں کوریڈور ، کہیں سیڑھیاں ، کہیں لفٹ ، ہم سے ہینڈ کیری سنبھالا نا جارہا تھا۔ مختلف جگہوں پر چیکنگ کرواتے رہے۔ سامان اٹھانے کے معاملے میں یوں بھی ہم اناڑی تھے۔
    اسمارا ہماری مدد کو آئی اور کئی بار ہمارا ہینڈ کیری اٹھا کر چیکنگ والی مشین میں رکھا۔ ہمیں ائیرپورٹ پر کوئی ناکوئی رحمدل اور ہمدرد انسان مل ہی جاتا تھا۔ جو خوشی خوشی سامان اٹھانے میں ہماری مدد کرتا۔ کئی بار سوچا کیا ضرورت تھی اس سوٹ کیس کو ساتھ رکھنے کی اچھا ہوتا دوسرے سامان کے ساتھ بھیج دیتے مگر خیر اب کیا ہوسکتا تھا۔ ہم نے اس تعاون کے لئے اسمارا کا شکریہ ادا کیا۔
    ”اسمارا! تمہارا بہت شکریہ،ورنہ ائیرپورٹ پر کوئی کسی کے لئے رکتا نہیں ہے اور کسی کا سامان اٹھانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
    ہینڈ کیری اتنا بھاری ہے کہ ہم سے اٹھایا نہیں جاتا۔ اب اسے ساتھ لانابھی ضروری تھا۔”
    ہم نے ممنونیت سے کہا۔
    کو”ئی بات نہیں ۔اتنا تو ہم ایک دوسرے کے لئے کر ہی سکتے ہیں”وہ مسکراتے ہوئے بولی۔
    ”ترکی کے سفر میں ہم ساتھ رہے مگر ہمیں آج تمہاری خوبیوں اور اچھائیوں کا اندازہ ہوا ہے نیک اور رحمدل لڑکی خو ش رہو۔”
    ہم نے دلی جذبات کا اظہار کیا۔
    وہ ہنس دی۔
    جن لوگوں نے عمر ے کے لئے جانا تھا ۔ وہ عمرہ کرنے چلے گئے۔ ہم وسیع و عریض ہال میں آگئے۔ جہاں بہت رش تھا۔ مسافر کرسیوں پر بیٹھے تھے اور اپنی فلائٹ کا انتظار کررہے تھے صد شکر کہ ہمیں بیٹھنے کے لئے کرسیاں مل گئیں۔ رات کا وقت تھا۔ میں نے ساتھ والی کرسی پر ہینڈ کیری رکھ دیا اور اسے تکیہ بنالیا اور دو کرسیوں پر لیٹ گئی۔ سوچا کچھ دیر آرام کرلیا جائے۔
    اسمارا سے کہا کہ وہ بھی سوجائے۔
    ”نیند آئے گی تو سوجائوں گی۔”
    وہ اطمینان سے بولی۔
    جدہ سے لاہو رکی ہماری فلائٹ صبح تھی۔ رات ہم نے ائیرپورٹ پر ہی گزارنی تھی۔ ساری رات کرسی پر بیٹھ کر بھلا کیا کرتے، سوچاکچھ دیر آرام کرلیتے ہیں۔ ہم صبح کے انقرہ سے نکلے ہوئے تھے۔ کئی گھنٹوں کی مسافت کے بعد شام کوہم استنبول پہنچے تھے۔ پھر ائیرپورٹ پر بورڈنگ اور چیکنگ میں مصروف ہوگئے۔
    وسیع و عریض ائیرپورٹ پر چلتے رہے۔ پھر کئی گھنٹوں کے سفر کے بعد استنبول سے جدہ آئے۔ تھکاوٹ ہوگئی تھی۔ صبح سے سفر میں تھے، اب رات ہوگئی تھی۔ ایک نظر اِدھر اُدھر دیکھا۔ مختلف سمتوں میں ہمارے گروپ ممبرز کرسیوں پر بیٹھے نظر آئے۔





    اسمارا ہماری ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئی۔
    ”تمہاری دوست رمشہ اپنی والدہ یاسمین مشتاق اور بھائی طلحہ کے ساتھ عمرہ کرنے چلی گئی ہے۔ تم اب میرے ساتھ ہی رہنا۔ پردیس میں ہم وطن بہت اچھے دوست بن جاتے ہیں۔”
    میں نے اسمارا سے کہا۔
    ”جی ہاں۔ ہمارا سفر بہت اچھا گزرا۔ ہمسفر اچھے دوست بن جایا کرتے ہیں۔ اس سفر سے پہلے ہم لوگ ایک دوسرے کے لئے اجنبی تھے مگر اس سفر نے ہمیں محبت اپنائیت اور دوستی کے رشتے میں باندھ دیا۔ یوں تو میں BDSکی پڑھائی میں بہت مصروف رہتی ہوں۔ چھٹیوں میں ہی سیرو تفریح کے پروگرام بنتے ہیں۔ ہماری پڑھائی کی روٹین اتنی ٹف ہے کہ ہم لوگ چھٹیوں کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ رمشہ ترکی جارہی تھی تومیں بھی اس کے ساتھ آگئی۔”
    اسمارا نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
    ہم کچھ دیر باتیں کرتے رہے۔
    رات کے اس پہر بھی ائیرپورٹ کے ہال میں گہما گہمی تھی۔ دکانیں کھلی تھیں اور اسٹاف کے لوگ چاک و چوبند تھے۔ پھر میں کچھ دیر کے لئے سوگئی۔
    نیند آئی ہو اور انسان تھکا ہوا ہو تو وہ ائیرپورٹ کی کرسیوں پر بھی سوسکتا ہے۔
    صبح سویرے میری آنکھ کھلی۔ اسمارا کرسی پر سو رہی تھی۔
    میں گروپ کے باقی لوگوں کو دیکھنے کے لئے Prayer Room میں چلی آئی وہاں میری ملاقات زینب اور شہلا سے ہوئی۔ ان کے ساتھ میں نے ناشتا کیا۔ہماری فلائٹ میں ابھی کافی وقت تھا۔ کچھ ڈالرز پرس میں پڑے ہوئے تھے۔ سوچا کہ اب واپس جا ہی رہے ہیں تو بچے ہوئے پیسے خرچ کرلیتے ہیں ہم نے چائے اور بن خریدے اور Prayer Room میں بیٹھ کر اطمینان سے ناشتہ کیا۔ بہت سے لوگ ابھی سو رہے تھے۔ پھر میں رنگ برنگی چیزوں سے سجی ڈیوٹی فری شاپ میں چلی آئی جو صرف نام کی ہی ڈیوٹی فری شاپ تھی، قیمتیں اتنی زیادہ اور بے حد مہنگی چیزیں تھیں۔
    میں نے وہاں سے کچھ شاپنگ کی اور بچوں کے لئے چاکلیٹس خریدیں اور کچھ دیر یونہی مختلف چیزیں دیکھتی رہی سوچا اس طرح وقت گزر جائے گا۔
    میں واپس آئی تو دیکھا کہ اسمارا اٹھ چکی تھی اور کرسی پر بیٹھی کافی پی رہی تھی۔
    ”اٹھ گئی ہوا ناشتا کرلو۔ وہاں سامنے سے ناشتے کے آئٹمز مل رہے ہیں۔”
    میں نے کہا۔
    ”بس میں نے کافی لے لی ہے۔ جہاز میں ناشتا کرلوں گی۔ فلائٹ میں تھوڑا ہی وقت رہ گیا ہے۔”
    رات میں کس ٹائم سوگئی تھی پتا ہی نہیں چلا۔ نیند آئی ہو تو انسان کرسی پر بیٹھے بیٹھے بھی سوسکتا ہے۔”
    اس نے کافی پیتے ہوئے کہا۔
    سوئے ہوئے لوگ اٹھ گئے تھے۔ کچھ ناشتے والے کائونٹر پر کھڑے تھے، کچھ ڈیوٹی فری شاپ کی طرف جارہے تھے۔ ماحول میں ہلچل سی مچ گئی۔
    ہم ائیرپورٹ پر دیگر مسافروں سے بھی بات چیت کرتے رہے۔ بہت سے لوگ عمرہ کرنے انڈیا سے آتے تھے۔ انڈیا سے آئے لوگ ہمیں بہت سادہ سے لگے۔ سادہ لباس، سادہ انداز اور سادہ سامان، ان کے اردو بولنے کا انداز اور لہجہ مختلف تھا۔ کچھ لوگ Morrocco سے بھی آئے ہوئے تھے۔
    کچھ دیر بعد ہماری فلائٹ کی انائونسمنٹ ہوئی تو ہم لوگ قطار میں کھڑے ہوگئے۔
    اور قطار کی صورت میں ہی ہم باہر نکلے اور جدہ سے لاہور جانے والے جہاز پر سوار ہوگئے۔
    میرے ساتھ ایک خاتون اپنی چھوٹی بچی کے ساتھ بیٹھی تھیں۔
    ان کے شوہر سعودی عرب میں ملازمت کرتے تھے، وہ ان سے ملنے کے لئے آئی تھیں اور اب اپنی بچی کے ساتھ واپس پاکستان جارہی تھیں۔ روزگار کی خاطر پردیس میں رہنے والے پاکستانیوں کی بھی اک الگ داستان تھی۔ سفر میں اس خاتون کے ساتھ ہم گفتگو کرتے رہے۔
    جہاز میں زیادہ تر عمرہ زائرین تھے جو عمرہ کرنے کے بعد پاکستان جارہے تھے اور بے حد خوش تھے۔ ہم بھی بے چینی سے لاہور آنے کا انتظار کررہے تھے۔ جہاز کے ائیرہوسٹس تھوڑی بہت اردو بھی سیکھ گئے تھے ، بلکہ انہیں تو پنجابی بھی آتی تھی۔ انگریزی نا سمجھنے والے لوگوں سے پنجابی میں پوچھ لیتے کہ مرغی چاہیے یا مچھلی چاہیے۔
    ہم نے جہاز میں کھانا کھایا۔ جوس پیے، اور سعودی ائیر لائنز کی سروس سے خوب متاثر ہوئے۔ تھکن کے باوجود ہم خوش تھے کہ اپنے شہر لاہور جارہے ہیں۔ ذہن میں ترکی کی خوبصورت یادیں تھیں اور دل میں اطمینان تھا۔ لاہور سے ہماری محبت مثالی تھی۔
    بلکہ مجھے لاہور شہر سے عشق تھا اور یہ محبت مجھے اپنی والدہ سے ورثے میں ملی تھی۔
    جب ابو فوج سے ریٹائر ہوئے تو انہیں ایک سال کے لئے ٹیکسلا کینٹ میں گھر ملا تھا مگر ابو نے سامان سمیٹ لیا اور لاہور آنے کی تیاری کرنے لگے۔ لوگوں نے روکا بھی کہ آپ ایک سال کے لئے اس گھر میں رہ سکتے ہیں۔ اتنی جلدی لاہور جانے کی کیا ضرورت ہے، ابو بولے کہ کیا کرنا ہے یہاں رہ کر، برسوں نوکری کی وجہ سے ہم مختلف شہروں میں رہے ہیں۔ اب لاہور سیٹل ہونا چاہتے ہیں۔ پھر ابو وہاں رُکے نہیں، سامان پیک کروا لیا اور ایم ای ایس کا سامان انہیں ہینڈ اوور کردیا، جس کی رسید آج بھی ابو کے بریف کیس میں پڑی ہے۔ وہ چیزیں سنبھالنے والے آدمی تھے۔ ان کے بریف کیس میں برسوں پرانے کاغذات ، رسیدیں ، خطوط ۔ حتیٰ کہ دو روپے اور پانچ روپے کے پرانے نوٹ بھی سنبھال کررکھے ہوتے تھے۔ پھر ہم لاہور آگئے۔ امی ابو خوش تھے۔ میں شادی کے بعد راولپنڈی آگئی۔ میاںکے تبادلے کی وجہ سے میں مختلف شہروں میں رہی مگر ہر شہر میں لاہور کی رونقیں ڈھونڈتی رہی۔ ہر شہر مجھے پرایا لگتا۔ میاں کو پنڈی سے انس تھا وہ وہیں خوش رہتے۔ میں پنڈی اور اسلام آباد کے سنجیدہ لوگوں میں لاہوریوں کی خوش مزاجی تلاش کرتی۔ اس جستجو نے مجھے تھکادیا۔ کسی نئے شہر میں نئے دوست اور نیا حلقہ ٔ احباباب بنانا مشکل ہوتا ہے جب آپ کو لوگوں کے رویوں اور عادات کے متعلق بھی زیادہ علم نہ ہو۔





  • استنبول سے انقرہ تک (سفرنامہ)  |  باب 7

    استنبول سے انقرہ تک (سفرنامہ) | باب 7

    تحریر:مدیحہ شاہد

    استنبول سے انقرہ تک ”  (سفرنامہ)”

    انقرہ کی روشنیاں
    باب7

    صبح سویرے ہم ناشتہ کرنے کے بعد کپاڈوکیہ سے انقرہ کے لئے روانہ ہوئے۔ راستے میں ہم ایک جھیل پررکے جس کا نام salt lake Tuz Golu تھا۔ کہاجاتا ہے کہ وہ نمک کی جھیل تھی جس کے کنارے نمک سے بھرے ہوتے تھے۔ یہ جھیل قدرت کا شاہکار ہے۔ ہم بس سے اتر کر جھیل کنارے چلے آئے۔ جھیل کے پانی پر سنہری کرنیں چمک رہی تھیں۔ ہم نے کچھ وقت گزارا۔ یہ ترکی کی دوسری بڑی جھیل ہے۔ جھیل کا نظارہ بہت خوبصورت تھا۔ دور تلک پانی ہی پانی نظر آتا۔
    جھیل کے کنارے پر ذرا فاصلے پر اس جھیل کا نام Tuz Golu جعلی حروف میں لکھا ہوا تھا جس کے پاس بیٹھ کر لوگ تصویریں بنوا رہے تھے۔ جھیل کے کنارے پر چلنا دشوار تھا مگر لوگ جوش وخروش کے عالم میں دشواری کے باوجود چلتے جارہے تھے۔
    کچھ دیر جھیل پر رکنے کے بعد ہم نے دوبارہ سفر شروع کیا اور انقرہ کے لئے روانہ ہوئے۔
    انقرہ ترکی کا دارالحکومت ہے اور ایک ترقی یافتہ شہر ہے۔ یہ اناطولیہ کے وسط میں واقع ہے۔ اس شہر کا پرانا نام انگورہ تھا مگر 1923ء میں اسے ترکی کا دارالحکومت بناکر انقرہ کا نام دیا گیا۔ یہ استنبول کے بعد ترکی کا دوسرا بڑا شہر ہے۔
    انقرہ انگوار کی کاشت اور دیسی شہد کی وجہ سے بھی مشہور ہے۔ انقرہ ترک دفاع اور ایروسپیس کمپنیوں کامرکز بھی ہے۔ ترکی کے دیگر علاقوں سے یہاں طلبہ و طالبات کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے بھی آتے ہیں۔ انقرہ کی سب سے بڑی مسجد کا نام کوکاٹیپی مسجد ہے۔ جسے عثمانی طرز تعمیر کے مطابق بنایا گیا ہے۔ اس شہر میں احمد حمدی ایسقی مسجد بھی موجود ہے۔ جو عثمانی حکومت میں تعمیر کی گئی تھی۔
    ینی مسجد بھی یہاں واقع ہے جسے سولہویں صدی میں معمار سنان نے تعمیر کیا تھا۔
    ابقدس انقرہ کی سب سے قدیم مسجد ہے اس میں اخروٹ کا ایک نقشہ موجود ہے جس میں لکھا ہے کہ یہ مسجد 574ء عیسویں میں تعمیر کی گئی تھی۔ ایک پہاڑی پر انقرہ قلعہ بھی واقع ہے۔ انقرہ میں بہت سی تاریخی عمارات موجود ہیں۔
    انقرہ سرسبز شہر ہے اس لئے اسے گرین سٹی بھی کہاجاتا ہے۔ انقرہ میں بہت سے بازار موجود ہیں اور بہت سارے میوزیم بھی ہیں۔
    ترکی کی نیشنل پولیس اکیڈمی بھی اسی شہر میں واقع ہے۔
    ہم راستے میں ایک جگہ لنچ کے لئے رکے پھر انقرہ پہنچتے پہنچتے ہمیں سہ پہر ہوگئی۔ ہم میوزیم اور بازار میں سے کسی ایک جگہ پر ہی جاسکتے تھے۔
    سرخان نے سب سے مشورہ لینا چاہا۔
    ”آپ لوگ بازار جانا پسند کریں گے یا میوزیم؟”
    اس نے اعلانیہ انداز میں پوچھا۔
    ”بازار، بازار……..”
    سب نے یک زبان ہوکر جوش و خروش کے عالم میں باآواز جواب دیا۔
    ”پھر بازار۔۔۔”
    سرخان عاجز آگیا۔
    ”اور کتنی شاپنگ کریں گے آپ لوگ؟ سامان کا بھی خیال رکھیں، سامان زیادہ ہوگیا تو لے جانے میں مشکل ہوگی، ایئرپورٹ پر لوگ اعتراض کریں گے۔”
    سرخان نے نامحانہ انداز میں کہا۔
    ”ہم پھر بھی بازار ہی جائیں گے۔ بازار صرف شاپنگ کرنے کے لئے ہی نہیں بلکہ رونقیں، دکانیں اور ریسٹورنٹ دیکھنے کے لئے بھی جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں بازاروں میں رش رہتا ہے، لوگ بازار جاتے ہیں اور کچھ نہیں تو یونہی بازار کی گلیوں میں شغل لگاتے ہوئے پھرتے رہتے ہیں۔ اکثر نوجوان تویونہی بازار کے قریب تھڑوں پر بیٹھے دکھائی دیں گے۔ ہمارے ہاں بازار جانا ایک ہابی اور ایکٹیویٹی ہے۔”
    لوگوں نے اپنی اپنی رائے دی۔
    سرخان کو سب کی بات مانتے ہی بنی۔
    ہم ہوٹل پہنچے جس کا نام Best Wester’n hotel Zoooتھا۔ انٹرنس پر شیشے کا بڑا سا دروازہ نصب تھا۔ ہمارا کمرہ تیسری منزل پر واقع تھا۔ ہم نے کمرے میں سامان رکھا ۔ کمرہ خوبصورت اور آرام دہ تھا۔ ہم نے کھڑکی سے باہر جھانکا تو نیچے سڑکیں اور گلیاں نظر آئیں۔ سامنے دکانیں بھی تھیں۔ حسب ِ عادت ہم نے تھوڑی سی کھڑکی کھول دی کہ تازہ ہوا آتی رہے۔ ابھی تک ہم Ceterally heatedماحول کے عادی نہ ہوئے تھے۔
    کمرے میں سامان رکھ کر ہم بازار جانے کے لئے ہوٹل کی لابی میں چلے آئے ، پھر سوچا کہ وائی فائی بھی connectکروا لیں ہم منیجر کے پاس چلے آئے جو باری باری لوگوں کے موبائل پر وائی فائی connectکررہا تھا۔
    ”پانچ منٹ انتظار کرلیں، سیکورٹی کی وجہ سے ہر فلور کا پاس ورڈ مختلف ہے اور یہاں انٹرنیٹ connectکرنے کا طریقہ بھی مختلف ہے۔ تسلی رکھیے میں آپ سب لوگوں کے موبائل پر وائی فائی connectکردوں گا۔ بس تھوڑا سا انتظار کرلیں۔”
    کائونٹر پر کھڑے سوٹڈ بوٹڈ منیجر نے پروفیشنل انداز میں ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ وہ انگلش سمجھتا اور بولتا تھا۔
    وہ سفید رنگت اور بھورے بالوں والا دبلا پتلا خوش اخلاق نوجوان تھا۔ جو اردو ناسمجھتے ہوئے بھی اشتیاق بھرے انداز میں پاکستانیوں کو اردومیں بات کرتے ہوئے بغور دیکھ رہا تھا اور ان کے تاثرات دیکھ کر ان کی بات سمجھنے کی کوشش بھی کررہا تھا۔
    وہ ایک ذہین شخص تھا۔ اسے معلوم ہوگا کیا ہم لوگوں کو انٹرنیٹ connect کرنے کی اور پھر بازار جانے کی جلدی ہے۔
    ”ہم چلتے ہیں یہ لوگ بعد میں آجائیں گے۔”
    ساجدہ نے میرا بازو تھام کر کہا۔
    انہیں انقرہ دیکھنے کی جلدی تھی اور اب وہ ہوٹل میں رکھنے کو تیار نہ تھیں۔”
    ”چلیں آپ لوگ جائیں، ہم بھی پیچھے سے آرہے ہیں۔”یسریٰ نے بے ساختہ کہا۔
    ”منیجر نے یہ گفتگو سنتے ہوئے ہمیں انگریزی میں بازار کا راستہ اور محل و قوع سمجھانے کی کوشش کی اور کاغذ کی چِٹ پر احتیاطاً بازار کا نام بھی لکھ دیا۔
    اس نے وہ کاغذ کا چھوٹا سا ٹکڑا ہماری طرف بڑھایا جس پر Hilmi street لکھا ہوا تھا، ہم نے اس کی ذہانت پر عش عش کرتے ہوئے وہ چٹ لی اور ہوٹل کے دروازے سے باہر نکل آئے۔
    راستے میں ہم وہ کاغذ کا ٹکڑا راہ گیروں کو دکھاتے ہوئے کہ اس بازار کا راستہ بتادیں اور یوں ہم مختلف سڑکوں پر چلتے ہوئے بالآخر ہلمی اسٹریٹ کے بازار پہنچ گئے۔
    انقرہ ایک ماڈرن شہر ہے، یہاں سڑک کے کنارے سٹی منزلوں والے اپارٹمنٹس تھے جن کے سامنے پھولوں کے گملے رکھے تھے۔ دارالحکومت ہونے کی وجہ سے یہ ترکی کا اہما ور ترقی یافتہ شہر ہے۔ یہاں جدید طرز تعمیر والی عمارتیں اور اپارٹمنٹس واقع ہیں۔ یہاں کی رونقیں میں گہما گہمی ہے۔ یہاں کا طرزِ زندگی ترکی کے باقی شہروں سے مختلف ہے۔
    سڑک پر ٹریفک رواں دواں تھا۔ جابجا اونچی عمارتیں نظر آتیں۔ سڑکیں کشادہ اور پررونق تھیں۔ ٹریفک کا شور ماحول پر حاوی تھا۔
    ہلمی اسٹریٹ کا بازار پررونق اور وہاں کا مشہور بازار تھا۔ سڑک کے اطراف جدید طرز کی دکانیں تھیں۔ زیادہ تر دکانیں ترکی کے روایتی عروسی ملبوسات کی تھیں۔ موتی ستاروں والے کامدانی سفید رنگ کے لمبے گھیر دار فراک دکانوں میں سجے ہوئے تھے۔
    ہم نے ایک منی ایکسچینج سے کرنسی تبدیل کروائی اور کچھ دیر کے لئے سڑک کے کنارے رکھی میز کرسیوں کے قریب چلے آئے۔
    وہاں زمین پر
    لکھا ہوا تھا جس کا مطلب ہے۔
    ہم لوگ کافی دیر سے پیدل چل رہے تھے اس لئے کچھ دیر کے لئے کرسی پر بیٹھ گئے۔ قریب ہی ایک درخت بھی تھا۔ عقب میں ترکی کے روایتی عروسی ملبوسات کی دکانیں تھیں۔ شادی پر دلہنوں کے پہننے والے سفید رنگ کے خوبصورت سے فراک سجے ہوئے تھے۔ کچھ فاصلے پر کپڑوں کی دکان بھی تھی۔
    یہ انقرہ تھا۔ ترکی کا دارالحکومت جس کے بارے میں ہم بچپن سے سکول کی درسی کتابوں میں پڑھتے آئے تھے، انقرہ اسلام آباد سے ملتا جلتا تھا۔ انقرہ کی اس پررونق سڑک کے کنارے بیٹھ کر گاڑیوں کو دوڑتے اور لوگوں کو اپنی دھن میں مگن چلتے پھرتے دیکھ کر ہم سوچ رہے تھے کہ بھلا ہم نے کب سوچا تھا کہ ایک دن انقرہ میں سڑک کنارے بیٹھے ہوں گے۔ ہم حیران اور خوش تھے۔ مقدر انسان کوکب کہاں لے آتا ہے، اس کی خبر بھی نہیں ہوتی۔
    کچھ دیر بعد ہم وہاں سے اٹھے اور بازار کی گلیوں میں چلے آئے۔
    راستے میں ہمیں مختلف جگہوں پر ہمارے گروپ کے لوگ ملتے رہے، کوئی کسی دکان سے نکلتا ہوا دکھائی دیا تو کوئی سامنے سے آتا نظر آیا، کسی کونے سے اردو بولنے کی آواز آتی تو کہیں سے پنجابی کے جملے سنائی دیتے۔
    ان دن انقرہ کے مصروف بازار میں ہر جگہ پاکستانی دکھائی دے رہے تھے۔ اردو اور پنجابی میں بولے گئے جملوں کی آوازیں ہر سمت گونج رہی تھیں۔ اس دن وہاں پاکستانیوں کا ہی راج تھا۔
    ہم نے وہاں سے شاپنگ کی اور بچوں کے کپڑے خریدے۔ بازار میں مختلف گلیاں تھیں جہاں مختلف اشیاء کی دکانیں تھیں۔
    ساجدہ ایک کونے میں کچھ سوچتے ہوئے کھڑی تھیں۔ جیسے کوئی فیصلہ نا کر پارہی ہوں۔ ہم نے اس کا سبب دریافت کیا۔
    ”کیا ہوا؟ لوگ شاپنگ میں مصروف ہیں اور آپ یہاں کھڑی کیا سوچ رہی ہیں؟”
    انہوں نے سنجیدگی سے ہماری طرف دیکھا۔
    ”سوچ رہی ہوں کیا خریدوں! میرے بچے جوان ہیں، صرف مخصوص برانڈز کے کپڑے پہنتے ہیں، اور ہر چیز اپنی پسند سے چنتے ہیں ، سمجھ نہیں آرہی ان کے لئے کیا لوں؟”
    وہ سوچتے ہوئے بولیں اور پھر دھیرے سے چلتے ہوئے مردانہ کپڑوں کی اک دکان پر چلی گئیں۔ میں بھی میک اپ سے سجی اک دکان پر چلی آئی جہاں سیل لگی تھی۔ ریک پر میک اپ کا سامان سجا تھا۔ہم نے وہاں سے میک اپ کا سامان خریدااور ہم مختلف رنگوں کی نیل پالش دیکھ رہے تھے کہ وہاں یسریٰ چلی آئی۔
    ”آپ یہاں ہیں؟ واہ بڑی شاپنگ ہورہی ہے؟”
    وہ خوشدلی سے بولی۔
    ”سیل لگی ہے، شاپنگ کر لو میک اپ کی بہت اچھی ورائٹی ہے۔”
    میں نے مسکرا کر کہا۔
    ”کتنی شاپنگ کرنی ہے۔ واقعی یہ دکان تو بہت اچھی ہے۔ بڑی ورائٹی ہے یہاں تو۔”
    اس نے ستائشی انداز میں کہا۔
    دکاندار خاتون یہ گفتگو سنتے ہوئے مختلف چیزیں دکھانے لگی۔ یہاں دکانیں خواتین بھی چلاتی تھیں۔ اور کسی خاتون کا دکان پر بیٹھنا اک نارمل سی بات تھی۔ یہاں بہت سی خواتین اس پروفیشن سے منسلک تھیں۔
    ”یسریٰ تم یہاں ہو۔”
    اچانک رضیہ پھپھو کی آواز آئی۔
    ”تم کہاں چلی گئی تھی، میں نے ہر جگہ دیکھ لیا، مجھے بتا کر تو آتی، میں پریشان ہوگئی تھی، اجنبی دیس ہے۔”
    رضیہ آنٹی نے پریشانی سے کہا۔
    ”میں کچھ دیر کے لئے یہاں چلی آئی، سوچا قریب ہی دکان ہے، میک اپ دیکھ رہی تھی۔”
    اس نے تاویل پیش کی۔
    ”یہ کون ہیں؟”

    دکاندار خاتون نے پوچھا۔
    ”یہ میری پھپھو ہیں۔”
    یسریٰ نے جواباً کہا۔
    دکاندار خاتون حیرت سے دیکھتے ہوئے صورت حال کو سمجھنے کی کوشش کررہی تھی۔
    یسریٰ اور پھپھو دکان سے چلی گئیں۔
    میں شاپنگ کرنے کے بعد باہر آئی۔
    اور کچھ دور چلنے کے بعد مجھے سڑک کے کنارے ایک جیولری شاپ نظر آئی، میں شاپ میں چلی آئی جہاں رفعت آنٹی بھی موجود تھیں۔
    کائونٹر پر سفید بالوں والا بوڑھا شخص بیٹھا تھا، وہ ایک بارعب دکاندار تھا۔
    ”آپ کے پاس سلطان نائٹ کی انگوٹھی ہے؟ اس پتھر کا رنگ بدلتا رہتاہے۔”
    ہم نے مدعا بیان کیا۔
    ”جی ہاں، یہ دیکھیں ، سلطان نائٹ انگوٹھیوں کے بہت سے ڈیزائن ہیں، کون سی انگوٹھی آپ پسند کریں گے؟”
    دکاندار نے ہمیں بہت سی انگوٹھیاں دکھائیں۔ ہم دلچسپی سے مختلف انگوٹھیاں دیکھنے لگے۔
    میں نے اور رفعت نے انگوٹھی خریدی۔
    ”شکرہے کہ ہمیں یہ انگوٹھی مل گئی ہمیں اس کی ہی تلاش تھی۔”
    ہم نے خوشی خوشی وہ انگوٹھی انگلی میں پہن لی اور دکان میں جلتی لائٹوں کی روشنی میں پتھر کا بدلتا ہوا رنگ دیکھ کر خوش ہوتے رہے۔
    سلطان نائٹ ایک قیمتی پتھر کا نام ہے۔ جو ترکی کے پہاڑوں سے نکلتا ہے۔ اس پتھر کا رنگ روشنی کے ساتھ بدلتا ہے۔ یہ ترکی کا مشہور پتھر ہے اور ترکی آنے والے لوگ اس پتھر کی انگوٹھی ذوق و شوق سے خریدتے ہیں۔
    ہم یہ شاپنگ کرکے اس دکان سے باہر نکلے۔
    ایک دکان سے یسریٰ نے خوبصورت سا بیگ خریدا۔ اسی دکان میں زاہدہ فاروق اور ان کا بیٹا حیدر بھی چلے آئے۔ زاہدہ نے بھی بیگ خریدنا تھا۔ بہت سے لوگوں کا سامان خریداری کے باعث بڑھ گیا تھا۔ اس لئے انہیں مزید ایک بیگ کی ضرورت تھی۔
    ”کیا آپ بتائیں گی کہ یہ بیگ کتنے کا ہے؟”
    حیدر نے یسریٰ کا بیگ دیکھتے ہوئے پوچھا۔
    یسریٰ نے بیگ کی قیمت بتادی۔
    پھر وہ اپنی والدہ کی جانب مڑا۔
    ”امی، ایسا بیگ لے لیں، اچھا بھی ہے اور قیمت بھی مناسب ہے۔”