Tag: alif kahani

  • سعی

    سعی

    سحر ساجد

    وہ عجیب کیفیت میں تھی….. ناک کے نتھنوں سے، سانس کے نام پر خارج ہونے والی ہوا تپش لیے ہوئے تھی۔ وہ کہاں تھی، آسمان پر یا زمین پر؟ وہ اپنے وجود کو کسی سطح پر محسوس نہیں کرپارہی تھی۔ سر جس قدر بھاری تھا، وجود اسی قدر ہلکا۔ ذہن کسی ایک سوچ پر مرتکز نہیں ہوپارہا تھا۔ اس کے وجود پر ایک نظر ڈالو تو سانس کا اتار چڑھاؤ واضح طور پر محسوس کیا جاسکتا تھا۔ لمبے ادھ کھلے بال، کچھ شانوں پر، کچھ سینے پر اُلجھے، پریشان اور بے ترتیب بکھرے ہوئے تھے۔ خلافِ معمول دوپٹہ گلے میں، کہ ان کے ہاں گھر میں بھی دوپٹہ سر پر لیا جاتا تھا۔ دونوں بازو سیدھے پہلو میں گرے …… ہاتھ کی مٹھیاں سختی سے بند کیں۔ لاؤنج کے کنارے پر کھڑی اک اک چیز کو دیکھے جارہی تھی لیکن نہیں جانتی تھی کہ کیوں دیکھے جارہی تھی۔
    فیصلہ سخت تھا جو اس نے کرلیا تھا اور اس فیصلے کی یاد آتے ہی اس نے دائیں ہاتھ کی مٹھی کچھ اور سختی سے بھینچی تھی۔ ہونٹ لرزے اور آنکھ کے کنارے پر اک قطرہ آکر جم سا گیا تھا۔ دل پر جیسے کسی نے خنجر کا وار کیا تھا۔ لرزتے ہونٹوں کے ساتھ اس نے حلق سے نیچے کچھ اتارا تھا اور اس کی نظر ان چیزوں پر کسی آوارہ بد روح کی طرح بھٹکتی تھی ”آپی!….“
    اچانک لاؤنج کے کسی گوشے سے آواز ابھری تھی۔ وہ بُری طرح سے ڈری اور سہم کر آواز کی سمت دیکھا تھا لیکن اس کاارادہ دائیں ہاتھ کی مٹھی کو کمر کے پیچھے چھپانے کا تھا۔”آپی۔ دیکھیں میرا بے بلیڈ۔“

    اسے بھائی کی آواز کسی باز گشت کی طرح محسوس ہوئی تھی۔ اس نے دھندلی آنکھوں سے بھائی کو دیکھا جو لٹو سے کھیل رہا تھا۔ وہ کسی بے جان وجود کی مانند بھائی کی طرف بڑھی تھی۔ وہ نیچے قالین پر بیٹھا میز پر اپنا لٹو گھمارہا تھا اور وہ اس کے پیچھے موجود صوفے پر جاکر بیٹھی تھی۔ دونوں ہاتھوں کی بند مٹھیاں اب اس کے دائیں بائیں سختی سے صوفے پر جمی تھیں اور وہ اپنے بھائی کو دیکھے ہی چلی جا رہی تھی۔ اس کے بھائی نے بٹن دبایا، لٹو میز کی سطح سے ٹکرایا۔ وہ چونک کر آواز کی سمت متوجہ ہوئی۔ لٹو اب گھوم رہا تھا گول، گول اور تیزی سے…. اس کے بھائی نے مڑ کر اس کا گھٹنا ہلاکر اس سے کچھ کہا تھا۔ کیا؟ وہ محض آواز کااِک احساس ہی محسوس کرپائی تھی۔ لٹو گھوم رہا تھا گول گول اور پھر گھومتے گھومتے وہ یک دم بڑا ہوتا گیا۔ ہوتا گیا، ہوتا ہی چلاگیا۔ لٹو اتنا بڑا ہوگیا کہ وہاں موجود ہر چیز پر حاوی ہوچکا تھا۔ وہ ڈر کے مارے صوفے کی پشت سے ٹکرانے کے سے انداز میں جالگی تھی۔ لٹو ا س کے عین سامنے گھومے چلاجارہا تھا۔ وہ نظریں لٹو کیگھومتی دھاریو ں سے ہٹانا چاہتی تھی لیکن سر کو حرکت نہیں دے پارہی تھی۔ نظر گھوم رہی تھی، سر چکرارہا تھا اور اب اسے متلی محسوس ہورہی تھی، اتنی کہ پیٹ میں شدید بل پڑا۔ وہ بے اختیار آگے کو جھکی۔ اسے زور کی ابکائی آئی تھی۔ وہ سانس لینے کو سیدھی ہوئی اور پیروں تلے سے جیسے زمینیک دم نکلی ہو۔ لٹو عین اس کی آنکھوں کے سامنے ہوا میں معلق گھومے جارہا تھا۔ گھبراہٹ کا احساس شدید تھا۔ وہ ہانپتے ہوئے، کف بہتے منہ کے ساتھ، بری طرح سے خوف زدہ ہوکر اس لٹو کو دیکھتی جارہی تھی۔
    ’آپی۔ آپی!“ اس کا بھائی شانہ ہلارہا تھا لیکن وہ متوجہ نہ تھی۔ وہ متوجہ ہو بھی کیسے سکتی تھی۔
    تنفس کی بگڑی رفتار کے ساتھ وہ خوفزدہ سی لٹو کو دیکھے جارہی تھی۔
    ”مور، مور“ اس کا بھائی ماں کو بلانے بھاگا تھا اور ماں کے آنے تک وہ بے حد گھبراچکی تھی۔ اتنی خوف زدہ ہوچکی تھی کہ اس نے دائیں ہاتھ کی مٹھی کھولی اور اس میں موجود زہریلی گولیاں پھانک لیں۔ اچانک وہاں سناٹا چھاگیا تھا، اتنا کہ جیسے کائنات کی ہر متحرک چیز حالت قرار میں آچکی ہو…. وہاں اب کوئی لٹو نہ تھا۔ وہ بے یقینی سے کھڑی ہوئی لڑکھڑائی اور پھر اوندھے منہ گرگئی اور گرتے ہی تکلیف کی اک لہر، دھماکے کی صورت اس کے وجود سے آن ٹکرائی تھی۔ شدید دباؤ، اندھیرا،گھٹن، پیاس، حلق سوکھ رہا تھا اور وہ تڑپ رہی تھی لیکن کمال کی بات یہ کہ وہ خود ہی اپنے تڑپتے وجود کو ذرا فاصلے پر کھڑی دیکھ رہی تھی۔ وہ محسوس کرسکتی تھی کہ اسے کتنی تکلیف ہورہی تھی۔ وہاں زمین پر اس کا تڑپتا جسم تھا اور وہ دور بس، بہتی آنکھوں کے ساتھ کھڑی خود کو بے بسی سے تڑپتا دیکھ رہی تھی اور میز پر لٹو آہستہ ہوتے ہوتے بالکل ساکت ہوگیا تھا۔
    ٭٭٭٭
    یہ انگور کے باغوں کی سرزمین تھی۔ اس کے خاندان والے پتھریلے پہاڑوں کے درمیان بستے اور اک سخت زندگی گزارتے تھے۔ یہ قلعہ سیف اللہ تھا اور وہ اس کی ہونہار بیٹی جاناں کاکڑ۔ اونچی نیچی گھاٹیوں پر جب چلتی تو یوں محسوس ہوتا تھا گویا جنگل میں کسی ہرنی نے کلانچ بھری ہو۔ تعلیم حاصل کرنے کا اتنا شوق تھا کہ اس کی اماں کہتی تھیں۔ ”جاناں پاگل تو نیند میں بھی اسکول کا سبق دہراتی رہتی ہے۔“

    اور ہاں وہ اتنی ہی پاگل تھی۔ جنونی تھی۔ اسے پڑھنا تھا بہت سارا۔ ڈھیر سارا۔ اپنے نام کے ساتھ ڈاکٹر لکھا دیکھنا تھا۔ ڈاکٹر جاناں کاکڑ۔ ڈاکٹر۔ ڈاکٹر جاناں کاکڑ۔ قلعہ سیف اللہ، قبائل کی آماج گاہ تھا۔ جہاں روایات کی سختی سے پابندی کی جاتی تھی۔ وہ ساتویں جماعت میں تھی تب سے برقعہ پہن کر اسکول جاتی تھی۔ برقعے کے اوپر کالی چادر کے نقاب سے محض اس کی ایک آنکھ ہی نظر آیا کرتی تھی۔ وہ قلعہ سیف اللہ کی ان چندخوش نصیب لڑکیوں میں سے تھی جو پرائمری سے اوپر تعلیم حاصل کررہی تھیں۔ جاناں وہ طالبہ تھی جس نے اپنا ہر امتحان نمایاں درجے میں پاس کیا تھا۔ وہ برف زاروں میں پل کر بڑی ہوئی تھی لیکن خواہش، اک چنگاری کی صورت، طلب بن کر سینے میں بھڑکتی تھی۔ وہ خوش تھی، مگن تھی اور سمجھتی تھی کہ زندگی کا سفر اسی طرح کامیابی و کامرانی سے طے ہوتا چلا جائے گا۔ وہ امتحان پر امتحان پاس کرتی چلی جائے گی اور پھر…… پھر وہ دن ضرور آئے گا کہ جب وہ اسکالرز گاؤن پہنے اپنی Ph.D کی ڈگری وصول کرے گی۔ خوشی سے چیختے ہوئے اسکالرز کیپ کو ہوا میں اچھالے گی اور کوئی نامعلوم فوٹوگرافر اس کی آنکھ کی خوشی، اس کی ہنسی، اس کے چہرے کا جوش، طمانیت سب اک لمحے میں قید کرکے اسے زندہ جاوید بناڈالے گا۔ ہاں …… وہ ایسا ہی سوچتی تھی…… ایسا ہی سمجھتی تھی۔
    جب اس نے میٹرک میں پوزیشن حاصل کی تو خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ وہ اتنی خوش تھی اتنی کہ لگتا تھا کہ بس اب خوشی سے مر ہی جائے گی۔ وہ۔ وہ جاناں کاکڑ۔ اک پسماندہ علاقے کی گورنمنٹ اسکول کی طالبہ، اُسی جاناں کاکڑ نے میٹرک میں ٹاپ کیا تھا۔ ٹاپ۔ یہ پہلی بڑی کامیابی تھی۔ پہلی بڑی کامیابی اور اتنی بڑی خوشی جو اُسے مار بھی ڈالتی تو غم نہ تھا۔ لیکن اسے تو جینا تھا۔ بہت سارا ایک لمبی زندگی گزارنی تھی کیوں کہ اسے تو پڑھنا تھا۔ ڈھیر سارا۔ اتنا زیادہ کہ اس کے نام کے ساتھ لکھا جاتا… ڈاکٹر جاناں کاکڑ……
    ٭٭٭٭

  • خوبصورت آنکھیں

    خوبصورت آنکھیں

    منیر احمد فردوس

     

    ”سر جی…!“ اچانک میرے کانوں سے مانوس سی آواز ٹکرائی۔
    میں جو کافی دیر سے اپنے سامنے رکھی فائل میں سر دیئے کمپیوٹر پر ماہانہ اعداد و شمار بنانے میں بُری طرح سے اُلجھا ہواتھا، چونک اُٹھا۔ سراُٹھا کے دیکھا تو سامنے دفتر کانوجوان چپڑاسی شاکر تھا،جس کے ساتھ نقاب اوڑھے ایک خاتون کھڑی تھی اور اس کی نگاہوں نے میرے چہرے کا محاصرہ کر رکھا تھا۔ یک دم میرے ذہن سے تمام اعداد و شمار جھڑ سے گئے۔میں نے کی بورڈ پر جلدی جلدی انگلیاں چلائیں اور بجلی جانے کے ڈر سے اب تک کا کیا ہوا کام محفوظ کیا۔پھر اس خاتون پر ایک سرسری سی نگاہ ڈالتے ہوئے سوالیہ نظروں سے میں شاکر کی طرف دیکھنے لگا۔اس نے بھی شاید حیرت سے پھیلتی میری آنکھوں میں تیرتا سوال پڑھ لیا تھا۔
    ”سر جی!ہیڈ کلرک صاحب نے میڈم کو آپ کے پاس بھیجا ہے اور کہا ہے کہ ان کو کوئی سٹیٹمنٹ چاہئے۔“
    شاکر نے میڈم کی طرف ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
    ”اچھا…ٹھیک ہے،میں دیکھتا ہوں۔“ میں نے آنکھوں سے حیرت جھاڑتے ہوئے خوش دلی سے کہا۔ میری بات سن کرشاکرچلا گیا۔
    میں نے طائرانہ نظروں سے خاتون کا لمحے بھر کے لئے جائزہ لیا، جس نے سفید چادراوڑھ رکھی تھی اور دائیں ہاتھ کی انگلیوں سے ڈھیلے ڈھالے نقاب کو اپنے گالوں سے چپکا رکھا تھا۔کالے رنگ کا ایک بڑا سا پرس بھی ا س کے دائیں کاندھے پر لٹک رہا تھا۔
    ”میڈم! آپ بیٹھئے نا… کھڑی کیوں ہیں؟“
    میں نے اپنے دائیں جانب کونے میں رکھی ایک اکلوتی کرسی کی طرف ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے پُرتکلف انداز میں کہا-
    ”جی بہت شکریہ۔“ اس نے ملائمت سے کہا اور کسی تابع دار شاگرد کی طرح کرسی پربیٹھ گئی۔

    وہ درمیانے قد کی ایک نفیس خاتون تھی،جسے جوانی خیر باد کہنے کے لیے پر تول رہی تھی۔اس کا سڈول اور بھرا بھرا جسم چادر سے باہر بھی اپنے خطوط واضح کر رہا تھا۔ ہلکے پیلے سوٹ میں وہ بہت نکھری ہوئی لگ رہی تھی۔اس کے گھٹنوں سے لٹکتی قمیص کے گھیرے پر کسی ماہر کشیدہ کار کا فن بول رہا تھا۔اس کے بیٹھتے ہی میرے نتھنوں میں بھینی بھینی خوشبو کے قافلے سے اترنے لگے۔ اس نے بہت ہی عمدہ خوشبو لگا رکھی تھی۔ میں دل ہی دل میں اس کے اعلیٰ ذوق اور خوش لباسی کی داد دیئے بغیر نہ رہ سکا۔
    ”جی میڈم…! فرمائیے کون سی سٹیٹمنٹ چاہئے آپ کو؟“
    میں نے اپنے سامنے رکھی فائل میں فلیگ لگا کر اسے بند کیا اور ویل چیئر پر گھوم کر اس کی طرف دل جمعی سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
    ”جی اصل میں‘ میں ایک این جی او سے منسلک ہوں اور مجھے ایک ہفتہ وار سٹیٹمنٹ اپنے دفتر میں جمع کروانی ہے اور یہ سٹیٹمنٹ اس پر فارمے پر بنا کر دینی ہے۔“ اس نے ایک تہ کیا ہوا پرفارما اپنی گود میں رکھے پرس سے نکال کر مجھے تھماتے ہوئے کہا۔
    اچانک دائیں طرف سے اس کا نقاب ڈھلک کر اس کے سرخ گالوں کی مکمل کہانی سنا گیا، جسے اس نے فوراً ہی دُرست کیا اور اس پر دوبارہ انگلیاں جما کرجھینپتی ہوئی مجھے یوں دیکھنے لگی جیسے اس کی کوئی چوری پکڑی گئی ہو۔
    میں نے پرفارما لیتے ہوئے نقاب سے باہر جھانکتی اس کی آنکھوں کو نظر بھر کے دیکھا۔ سرمے سے دھلی ہوئی اس کی روشن آنکھیں میری آنکھوں میں جیسے ٹھہر سی گئیں۔مجھے ان میں ایک عجیب سی کشش محسوس ہوئی اور اس کی آنکھیں مجھے خوب صورت لگنے لگیں۔ اس کے دیئے ہوئے پرفارمے پر نظریں گاڑے میں اس پر لگے کالمز کو غور سے دیکھنے لگا مگر پتا نہیں کہاں سے میرے دل میں اس کی آنکھوں کو پھر سے دیکھنے کی خواہش مچل اٹھی، جو پل بھر میں شدت اختیار کر گئی۔میں انہیں دوبارہ دیکھنے کے لئے دل ہی دل میں بات کرنے کا کوئی بہانہ تراشنے لگا۔ شاید میں اپنی آنکھوں کی تصدیق چاہتا تھا کہ واقعی وہ آنکھیں خوب صورت ہیں یا مجھے دھوکا ہوا ہے۔
    ”میڈم! آپ یہ بتائیں کہ یہ ڈیٹا آپ کو کب تک چاہئے؟“
    میں نے پرفارما میز پر رکھتے ہوئے اس سے پوچھا اور اس کی آنکھوں کوبڑے اہتمام سے دیکھنے لگا۔
    بہ ظاہر وہ آنکھیں زیادہ خوب صورت نہیں کہی جا سکتی تھیں مگرانہیں عام سی آنکھیں کہنا بھی ناانصافی تھی۔ان میں کوئی بات ایسی ضرور تھی کہ کھلم کھلا باتیں کرتی اس کی چمک دار آنکھیں مجھے بار بار اپنی طرف بلا رہی تھیں۔ کوئی کچھ بھی کہتا مگر میری نظر میں وہ آنکھیں خوب صورت قرار پا چکی تھیں۔ عجیب اتفاق تھا کہ کچھ دن پہلے پڑھا ہوا سعادت حسن منٹو کا افسانہ”آنکھیں“میرے دماغ میں گھوم گیا۔ جس میں منٹو نے ایک معمولی لڑکی کی عام سی آنکھوں کا ذکرکچھ ایسے خاص اندازمیں کیا تھا کہ مجھے بھی اس لڑکی کی آنکھیں خوبصورت لگنے لگی تھیں۔ مجھے یوں لگا جیسے یہ وہ آنکھیں تھیں جو منٹو کے افسانے سے نکل کر میرے روبرو تھیں۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اِن آنکھوں میں روشنیوں کے میلے تھے اور منٹو کے افسانے کی لڑکی نابینا تھی۔

    اس سے پہلے کہ میڈم میری بات کا جواب دیتیں، اچانک میرا اکاؤنٹنٹ ارشد دندناتا ہوا میرے کمرے میں گھس آیا، جس کے ساتھ میری کافی بے تکلفی تھی۔ اس نے آتے ہی بھر پور انداز میں میڈم کاجائزہ لیا جو میری بات کا جواب دیتے دیتے رُک گئی تھی اورمتجسس نظروں سے ارشد کو دیکھنے لگی۔مگر مجھے یہ سمجھنے میں ذرا بھی دیر نہیں لگی کہ وہ کمرے میں کیوں آیا ہے۔وہ داخل ہوتے ہی مجھ سے گویا ہوا:
    ”سوری شاہد صاحب! آپ کو ڈسٹرب کیا۔ میں صرف یہ بتانے کے لئے حاضرہوا تھا کہ آپ نے کرسیوں کے لئے جو ڈیمانڈ بھیجی تھی۔ آپ کے حکم کی تعمیل میں نئی کرسیاں آ گئی ہیں۔ اگر کہیں تو آپ کے کمرے میں بھجوا دوں…؟“
    ارشد نے مجھے دیکھتے ہوئے بڑے ہی سنجیدہ انداز میں کہا۔مگر اس کی سنجیدگی کے پیچھے چھپی شرارت کو میں اس کی آنکھوں میں چمکتا ہوا واضح طور پر محسوس کر رہا تھا۔ کیوں کہ نہ تو میں نے کرسیوں کی کوئی ڈیمانڈ کی تھی اور نہ ہی نئی کرسیاں آئی تھیں۔ بلکہ حقیقت تو یہ تھی کہ گذشتہ ہفتے میں نے اپنے کمرے میں اکلوتے بلب کی جگہ ایک ٹیوب لائٹ لگانے کو کہا تو اس نے معذرت کرتے ہوئے کہا تھا ”یار! بجٹ ہی نہیں ہے، کہاں سے لگوا کر دوں؟“
    خیر ابھی مجھے اس سے جان چھڑا نا تھی۔ میں نے ایک نظر میڈم کو دیکھا جو اس ساری صورتِ حال میں خالی خالی نظروں سے میری طرف دیکھ رہی تھی۔ اس کا یوں معصومیت سے دیکھنا مجھے بہت اچھا لگااور میرے اندر انجانی مسرت کی ایک لہر سی دوڑ گئی۔میں ارشد کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولا:
    ”بہت شکریہ جناب! آپ کی مستعدی کی داد دیتا ہوں۔ بس گذارش ہے کہ آپ فی الحال کرسیوں کو اپنے پاس رکھیں، میں فارغ ہو کر ابھی آپ سے رابطہ کرتا ہوں۔“
    میری بات سُن کر ایک شریر سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر یوں ناچنے لگی، جیسے وہ کہہ رہا ہو کہ کیوں بچہ جمورا! پکڑ لیا نا؟ اکیلے اکیلے گپیں لگاتے ہو؟
    ”ٹھیک ہے سر! ہم تو حکم کے غلام ہیں۔ آپ نے حکم کیا اور فوراً اس کی تعمیل ہوئی۔بس آپ بھی ہمارا خیال رکھا کریں۔“
    ارشد نے دایاں ہاتھ اپنے سینے پر رکھ کر تابع دارانہ انداز میں مُسکراتے ہوئے کہااورکن انکھیوں سے میڈم کی طرف دیکھا، جو اصل حقیقت سے انجان خاموشی سے ہماری فرضی گفت گو سن رہی تھی۔جب کہ میں دل ہی دل میں ارشد کی حرکتوں پر ہنس رہا تھا۔
    ”جی جی جناب!آپ کا احسان ہے، بس میں ابھی آپ سے رابطہ کرتا ہوں“

  • سبز اور سفید

    سبز اور سفید

    فضہ خان

    تیسری انعام یافتہ داستان محبت

     

     

    سبزو سفید

    پیش لفظ

    سبز و سفید دراصل وطن سے محبت کی کہانی ہے۔

    سبز اور سفید کہانی ہے ارمش اور ارمینہ کی۔ ارمش جس کو گھر کی تلاش تھی، ارمینہ جو گھر والوں کو ڈھونڈ رہی تھی۔ سبز اور سفید کہانی ہے دو دوستوں کی۔ سرفراز اور احمد۔ دونوں زندگی کے نشیب و فراز سے گزرتے رہے لیکن ایک وقت ایسا اۤیا کہ دونوں کا ساتھ چھوٹ گیا۔۔۔۔۔۔ یہ کہانی انابیہ کی ہے جو زندگی ہار دیتی ہے۔ یہ کہانی عمر کی ہے جو اپنی زندگی بناتا ہے اور یہ کہانی ہیری کی ہے جس نے جان دے کر یہ بتایا کہ جینا کس کو کہتے ہیں۔ زندگی کیا ہے؟

    ہیری زخمی حالت میں ارمش اور ارمینہ کو ملتا ہے اور یہ کردار کہانی سے بہت جلدی نکل جاتا ہے لیکن اس نے زندگی کا روشن رُخ سب کے سامنے رکھا۔ ہیری کی موت کے بعد ارمش ہیری کے نام سے ایک این جی او بناتا ہے۔ ”ہیری ہوم۔”

    ارمش کے والد احمد اور ارمینہ کے والد سرفراز دوست ہیں اور یہ دونوں دوست فوجی ہیں۔ سرفراز کی شادی انابیہ سے ہو”ی جو احمد کی اکلوتی بہن ہے۔ میاں بیوی میں اختلافات کے باعث دونوں دوستوں کی دوستی میں دراڑ اۤجاتی ہے۔ اور جب انابیہ کا انتقال ہو جاتا ہے تو دونوں دوست ایک دوسرے کی شکل دیکھنے کے بھی روادار نہیں رہے۔ اِدھر ارمش اور ارمینہ اس بات سے بے خبر ہیں کہ ان دونوں کا اۤپس میں کیا رشتہ ہے۔ ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہیں۔ یہ راز بہت عرصے بعد ان دونوں پر کھلتا ہے کہ انابیہ ارمش کی سگی پھپھو تھیں۔ یعنی ارمینہ کی ماں احمد اپنی بہن کی موت کا ذمہ دار ارمینہ کو سمجھتا ہے۔جب کہ سرفراز اپنے بچوں کی محبت کی قدر کرتے ہیں اور اس جذبے سے بھی کہ ارمینہ اور ارمش دونوں خاندان کو جوڑنے کے کام میں لگے ہو”ے ہیں دوسری طرف اپنی این جی او ہیری ہوم کے لیے بے پناہ کوششیں کرتے ہیں اور ان بچوں کی ذہنی نشوونما کیلئے مثبت رہتے ہیں۔ انہی میں سے ایک لڑکا عمر ہے جن کو ارمش اور ارمینہ کی خاص توجہ حاصل ہوتی ہے اور وہ پاک فضاأیہ کا حصہ بنتا ہے۔ ارمش کی محنت اور کامیابیوں کا سفر چلتا رہتا ہے اور ارمینہ ساری مخالفتوں کے باوجود ارمش کے قدم کے ساتھ قدم ملا کر چلتی رہتی ہے۔

    فضّہ خان

     

  • باجی ارشاد

    باجی ارشاد

    باجی ارشاد
    سارہ قیوم

     

    باجی ارشاد سویرے سویرے سارے کام سے فارغ ہو کر نیا جوڑا خرید لائی اور دوپہر کو ٹرک کے نیچے آکر مر گئی۔
    ویسے تو بڑی جی دار تھی جی! باجی ارشاد۔ پچھلے سال اس کی ابو جی سے لڑائی ہوئی تو اس نے دودھ والا بڑا دیگچہ اٹھا کر ابوجی کو دے مارا۔ ابو جی گر پڑا اور امی جی ہائے ہائے کرتی ویسے ہی اس کے اوپر گر گئی۔ ہم ساری دیورانیاں، جیٹھانیاں دل ہی دل میں بڑی خوش ہوئیں۔ بھائی اکرم گھر آیا تو باجی ارشاد سے بڑا لڑا۔ مار مار کر نیل ڈال دیئے پر وہ صلح کو نہ مانی۔ کہتی تھی صلح کروں گی تو خود کروں گی تیری مار سے نہیں کروں گی اور جب صلح کی تو ایسے ہی نہیں کی۔ پوری ایک کلو مٹھائی منگا کر بانٹی پھر صلح کی۔ ایسی عقل مند اور بہادر تھی باجی ارشاد، لیکن جب مری تو منٹوں سیکنڈوں میں ہی مر گئی۔ ذرا حوصلہ نہ کیا۔ ہائے باجی ارشاد تو نے ذرا نہ سوچا کہ کس پہ غصے نکالے گا بھائی اکرم تیرے پیچھے اور کیا کریں گے تیرے بغیر تیرے چھوٹے چھوٹے وکرم، ولیم اور سونیا۔ آپ کو تو پتا ہی ہے جی! یہ آج کل کے بچے بھلا رہتے ہیں ماؤں کے بغیر؟
    چار گھروں کا کام کرتی تھی۔ جب میری نئی نئی شادی ہوئی تو مجھے بھی ساتھ لے جاتی تھی۔ میں اس کے ساتھ صفائی کرا دیتی یا کپڑے دھلوا دیتی۔ لیکن جب میری طبیعت خراب ہو گئی تو میں نے جانا چھوڑ دیا۔ ساری جیٹھانیوں میں سے باجی ارشاد ہی میرا سب سے زیادہ خیال رکھتی تھی جی۔ باجی حمیدہ تو اتنی سست تھی کہ پورے دن میں صرف ایک گھر کا کام کرتی۔ بولتی تو کوئی اس کی بات ہی نہ سنتا۔ دو منٹ کی بات گھنٹے میں کرتی۔ کسی کے پاس اتنا ٹائم ہی نہیں تھا اور باجی بلقیس تو پرلے درجے کی بدتمیز تھی۔ ہر وقت گندے گندے مذاق کر کے ہنستی رہتی اور نت نئے فیشن کرتی رہتی۔ ہم سب میں کالی تھی پر مہرون لپ اسٹک سے کم تو لگاتی ہی نہیں تھی۔ باجی ارشاد سب سے اچھی تھی۔ تھی تو چھوٹی سی، یہ اس کرسی سے ذرا ہی اونچی ہو گی اور کانے جیسی پتلی پر تھی بڑی پھرتیلی۔ چار گھروں میں جھاڑو پوچا کرتی۔ اپنے گھر کا کام کرتی اور جب مجھے اُلٹیاں آتی تھیں تو وہی سنبھالتی تھی۔ میری تو بچی بھی اس نے پیدا کرائی جی۔ جب میرا ٹائم آیا تو میرا میاں گیا دائی کو بلانے۔ دائی مرن جوگی اپنی بیٹی کے گھر گئی ہوئی تھی۔ ادھر میری حالت خراب۔ جب اینڈ ہونے والا ہوا تو باجی ارشاد سامنے بیٹھ گئی اور لو جی باجی ارشاد نے کڑی جمالی۔ نام بھی اسی نے رکھا۔ روزی۔
    باجی ارشاد بڑی خدا پرست تھی۔ اتوار کے اتوار چرچ جا کر نماز پڑھتی اور گیت گاتی۔ ہائے ہائے گاتی بڑا اچھا تھی۔ اصغر لفنگے کے ویاہ پہ اس نے بڑی ڈھولکی بجائی اور ٹپے گائے۔ درزی والا ٹپہ تو سب نے فرمائش کر کے بار بار سنا: اک چولا درزی دا، نہ سانوں گھر ملیا نہ ماہیا مرضی دا۔

    بھائی اکرم نے سنا تو اسے بڑا مارا۔ کہنے لگا اب میں نے نہیں رکھنی، کا گت ہی دینا ہے۔ خیر بھائی اکرم کی تو عادت ہے۔ جس روز باجی ارشاد فوت ہوئی ہے اس سے ایک دن پہلے بھی تو اس نے یہی کیا تھا۔ باجی ارشاد کے بھائی کی منگنی تھی۔ اس نے نیا سوٹ خریدنے کے لیے پیسے مانگے تھے۔ بس جی مارکُٹ کے گھر سے چلا گیا اور کہہ گیا کہ اب نہیں رکھنی۔ کاگت ہی دنیا ہے۔ پہلے تو باجی ارشاد منہ لپیٹ کر پڑی روتی رہی پھر اٹھ کر کام پہ چلی گئی۔ واپسی پر بڑی خوش خوش آئی۔ باجیوں سے پیسے مانگ کر لائی تھی۔ اگلے دن سویرے سویرے سارے کام سے فارغ ہو کر نیا جوڑا خرید لائی۔ دوپہر کو بھائی اکرم کے ساتھ سائیکل پہ بیٹھ کر ماں کے گھر کو نکلی۔ لال بتی پر گاڑیاں رکیں، پیچھے سے ٹرک نے آکر کھڑی سائیکل کو ٹکر مار دی۔ باجی ارشاد سڑک پر گر پڑی اور ٹرک اس کے سر پر چڑھ گیا۔ دوسرا سانس نہ لیا بے چاری نے۔ خونم خون گھر آئی تو ہمیں یقین ہی نہ آیا۔ جنازے پہ اتنا ملک تھا کہ گلی تنگ پڑ گئی۔ جنازہ لے کے ہم پہلے باجی روحی کے گھر گئے۔ وہ بے چاری رو پڑی اور ہزار روپیہ نکال کے باجی ارشاد کی ہتھیلی پر رکھا۔ دو گھر چھوڑ کر بریگیڈئر صاحب کا گھر تھا پر وہ بڑا ڈاہڈا آدمی تھا اس لئے ہم نے اس کے گھر کی گھنٹی نہ بجائی۔ بعد میں پتا چلا لفنگا اصغر دوپہر کو ہی اسے اطلاع دے کر دو ہزار روپے لے آیا تھا۔ آپے ہی کھا پی گیا۔

  • بیگم شرف النساء

    بیگم شرف النساء
      خالد محی الدین

     

    شرف النسا بیگم ناظم لاہور خواب عبدالصمد خاں کی دوسری بیوی اور اِس کے دوسرے فرزند نواب عبداللہ خاں کی والدہ تھی۔ نواب صاحب کی پہلی بیوی بیگم جان ہی نے محلہ بیگم پورہ کی بنیاد رکھی۔ بیگم شرف النسا متقی پرہیزگار اور عبادت گزار خاتون تھی۔ خداداد صلاحیتیں اُس کے وقار میں مزید اضافہ کرچکی تھیں۔ تلوار زنی میں وہ مردوں کو پیچھے چھوڑتی تھیں۔ اُن کا مقبرہ اور تزئین کاری اُن کی شاندار انجینئرنگ اور فنکارانہ صلاحیتوں کا غماز ہے جو انہوں نے اپنی زندگی میں تعمیر کرایا اگر انہیں مغلوں کی آخری انجینئر خاتون کہا جائے تو غلط نہ ہوگا دونوں بیگمات الگ الگ محلوں میں مقیم تھیں۔ اپنے محل کے ایک گوشے میں شرف النسا بیگم نے خواتین کی درس و تدریس کا سلسلہ جاری کررکھا تھا۔ وہ موت کو یاد رکھنے کے لیے خاص ترغیب دیتیں اور مرنے سے قبل اپنا مقبرہ تیار کرنا اِسی بات کی تصدیق کرتا ہے۔ نواب زکریا خاں بیگم جان کا چہیتا اور عبدالصمد خاں کا لاڈلا بیٹا تھا۔ زکریا خاں کو بھی لاہور کا ناظم بننے کا شرف حاصل ہوا۔
    عبدالصمد خاں اور نواب کا زکریا خاں کے تانے بانے بیگم شرف النسا سے کچھ اس طرح ملے ہوئے ہیں کہ اِن کا احوال بیان کیے بنا معاملہ ادھورا رہ جاتا ہے۔ بندہ بیراگی ایک سکھ سردار جو ظلم و بربریت میں ہلاکو خاں اور چنگیز خاں کو بھی پیچھے چھوڑ جاتا ہے۔ اُس کا ذکر بھی آپ کو انہی کی داستان میں ملے گا۔ شرف النسا بیگم سلطنت کے معاملات میں عبدالصمد خاں کی معاون رہیں۔ ان کے مشوروں سے نواب عبدالصمد خاں نے شان دار فتوحات اپنے نام کیں۔
    جی ٹی روڈ انجینئرنگ یونیورسٹی سے ملحق علاقہ بیگم پورہ مغلیہ دور کی عمارتوں اور نامی گرامی ہستیوں کی آما جگاہ میرے بچپن کی بہت سی یادیں اس علاقے سے وابستہ ہیں کیوں کہ میرے تایا جان کا گھر بیگم پورہ میں تھا اور میں اکثر اُن کے ہاں جاتا رہتا۔ کھیل کُود کے دوران ہم بچے اکثر مغلیہ دور کی عمارتوں، باغات، محلات اور مقابر میں چھپن چھپائی کھیلتے۔ اُن دنوں آبادی برائے نام تھی اور یہ عمارتیں گردش دوراں کے باوجود اُسی طمطراق سے استادہ تھیں۔ مجھے یاد ہے میں جس عجیب دہشت کی عمارت کو دیکھ کر حیران ہوا تھا وہ بلند وبالا ایک مقبرہ تھا جس پر سرو کے بوٹے بنے ہوئے تھے۔ لحد تک جانے کے لیے سیڑھی استعمال کی جاتی تھی اور جس باغ میں یہ مقبرہ واقع تھا اُس کی شادابی اور خوبصورتی دیکھنے کے لائق تھی۔ ایک تالاب بھی اس باغ کا حصہ تھا۔

    میں جب بھی کوئی مغلیہ کی دور کی عمارت یا کسی ہستی کی کھوج میں نکلتا ہوں تو مطلوبہ جگہ پہنچ کر گردوپیش کے مناظر مجھے دل گرفتہ کردیتے ہیں۔ اِس نشست میں میرا ہدف شرف النساء بیگم کا مقبرہ تھا۔ جی ٹی روڈ پر لب سڑک واقع گلابی باغ کے درودیوار اُسی شان و شوکت سے استادہ ہیں جس کے عقب میں دائی رنگا کا شاندار مقبرہ الٰہی کسمپرسی کی منہ بولتی تصویر ہے۔ اس سے ملحق علاقہ بیگم پورہ کے نام سے منسوب ہے۔ میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب میں نے وہاں سب کچھ بدلا بدلا محسوس کیا۔
    حضرت ایشاں کا بلند اور دیوہیکل مقبرہ اُن کے عقیدت مندوں کے باعث اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہے۔ باقی اکثر یادگاریں محکمہ آثار قدیمہ کی غفلت یا ملی بھگت کے باعث اپنا وجود کھوچکی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ سکھوں کو مسلمانوں سے خدا واسطے کا بیر تھا، لیکن درحقیقت انہوں نے یہ اُکھیڑ پچھاڑ محض اینٹیں حاصل کرنے کے لیے گیں یہ سمجھ لیں بیگم پورہ میںانہیں اینٹوں کی کان مل گئی تھی۔ شرف النسا بیگم کا مقبرہ بھی اُن سے محفوظ نہ رہا۔
    سکھوں کو یہی گمان گزرا کہ اس بلند مقبرے میں ضرور کوئی خزانہ دفن ہے۔ اسی لالچ میں انہوں نے کُھدائی شروع کی تو ایک تلوار، قرآن مجید کا نسخہ اور مکین کے سوا اُن کے ہاتھ کچھ نہ لگا۔ تلوار اپنے ساتھ لے گئے اور قرآن کے ساتھ نہ جانے انہوں نے کیا سلوک کیا۔ یہ وہی تلوار تھی جو شرف النسا بیگم ہر وقت اپنے پاس رکھتی تھیں اور اُن کے وصیت کے مطابق اُن کی میت کے ساتھ ہی دفن کی گئی۔ بعد میں انگریزوں نے مقبرے کی تعمیر و مرمت کروائی۔
    شرف النسا بیگم کا مقبرہ بھی اپنی بلندی اور جسامت کے باعث باقی شہزادیوں کے مقابر سے منفرد ہے۔ یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ لاہور میں مغل دور کی یہ آخری عمارت تھی جسے شرف النسا بیگم نے اپنی زندگی ہی میں تعمیر کرایا تھا۔