Tag: afsana

  • میری ڈائریاں میرے خواب —- محسن علی شامی

    میری ڈائریاں میرے خواب —- محسن علی شامی

    سنہری دھوپ میں نہائے گورنمنٹ ڈگری کالج بھکر کے طلائی رنگ و روپ سمیٹے درودیوار آنکھوں کو لبھا رہے تھے… کیفے ٹیریا کے سامنے بنے واکنگ ٹریک پر کچھ منچلے طلبا خراماں خراماں چلتے ہوئے بیگ سینے سے لگائے گفت گو میں مصروف نظر آتے تھے…
    ہوامیں قدیم زمانے کی صندلیں خوشبو کی مانند باس سی پھیلی ہوئی تھی… ”میں” ایم۔ اے بلاک کے مشرقی جانب رکھے دو سنگی بنچوں میں سے ایک پر بیٹھا تھا… میرے ساتھ والا بنچ فی الحال ویران پڑا تھا… لان میں کچھ سنجیدہ طبیعت طلبا کسی بحث میں اُلجھے نظر آتے تھے… جیسے ہی اُن کی آواز ذرا بلند ہونے لگتی تھی تو میں ایک اُچٹتی سی نظر اُن پر ڈال کر اپنی اسائنمنٹ کی طرف متوجہ ہو جاتا جو آج ہی فزکس کے پروفیسر راؤ راحت صاحب کو جمع کروانی تھی…
    اچانک میں نے B.Sc. کے عمار زیدی کی بلند آواز سنی… وہ شاید پاکستان سے متعلق کوئی بات کر رہا تھا… آواز کی لہریں کسی ٹوٹے ستار کی مانند، بھدا پن لئے ہوئے تھیں… کئی خراشیں ڈالتے ہوئے وہ آوازیں میری سماعت میں اترنے لگی تھیں۔عمار زیدی کہہ رہا تھا…
    ”یار… پاکستان ہے کیا آخر… کرپشن، لوٹ مار، ٹارگٹ کلنگ، ساری معاشرتی برائیاں اِس میں موجود ہیں… سفارش شاید یہاں کی دل کش ترین چیز ہے جو بازار میں سجی دھڑا دھڑ بِک رہی ہے… ایم۔ اے پاس دھکے کھا رہے ہیں… اِس سے تو اچھا ہے کہ بندہ بیرونِ ملک چلا جائے… کم از کم بھوکے تو نہیں مریں گے… لعنت ہے ہم پر جو اس ملک میں گزارا کر ہے ہیں…”

    اُس کی بات سن کر مجھے لگا ڈگری کالج کے درو دیوار نمی سی چھوڑنے لگے ہوں… وہ نمی جو کھارا پانی کہلاتی ہے… جسے عرفِ عام میں ”آنسو” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے… انسان کا رزق تو خدا کے ذمے ہے بھلا اسے بیرون ملک سے کیوں مشروط کیا جاتا ہے…
    رافع اِکرام بھی اُسی کا کلاس فیلو تھا… پیپل کے گھنے پتوں میں چھپی بیٹھی بلبل اب سر نکالے غم زدہ سی نیچے جھانک رہی تھی… اُس کی خاکستری آنکھوں میں ایک رنگ بہت واضح اور مکمل تھا… اور وہ رنگ ”حب الوطنی” کا تھا… کسی ویران مرقد کے طاقچے میں جلتی موم بتی کی نارنجی رُوشنی کا سا… جو آنکھوں کو جھپکنے پر مجبور کرتی ہے…
    رافع اِکرام کسی بغاوتی ٹولے کا سرغنہ، بُری طرح بھڑک رہا تھا…” بالکل ٹھیک کہا عمار نے… بھئی ہم نے تو پکا سوچ لیا ہے… M.Sc. کرنے کے بعد بیرونِ ملک ہی فلائی کر جانا ہے… بیوی، بچے سب وہیں ہوں گے… پھر عیش ہی عیش … اِس ٹوٹی سڑکوں، گرتی بلڈنگوں والے ملک کے ہر دروازے کی اُوٹ سے غربت جھانک رہی ہے… لندن میں تو صاف ستھری سڑکیں، حسین نظارے، اور عیش و آرام ہو گا… یہاں تو ترقی کے امکانات بھی نہیں ہیں…”
    عابد جلیل نے سر دُھنتے ہوئے کہا تھا… ”ہاں… یار… یہاں بھائی، بھائی کا دُشمن ہے… مذہب کے نام پر آئے دِن ہونے والے ہنگامے ناک میں دم کیے ہوئے ہیں… حادثات یہاں معمول کا حصہ بن چکے ہیں… جس طرح زندہ رہنے کے لیے آکسیجن ضروری ہے اِسی طرح نت نئے حادثات پاکستان کی شناخت بن چکے ہیں…”
    میں نے اس ساری گفت گو کے تناظر میں سفیدے کے درخت کے سرسراتے پتوں کو دیکھتے ہوئے سوچا کیا میری سوچ بھی اُن جیسی ہے…؟؟
    کچھ سوالات مختصر ہوتے ہوئے بھی اتنے مشکل کیوں ہوتے ہیں… میں ”محسن علی” جو اِس ملک کا باسی ہوں اور اپنے قلم کے تیکھے انداز سے ہم وطنوں کی سوچ بدلنے کے لئے اِس میدان میں اُترا ہوں،میں کہاں تک ثابت قدم رہ سکوں گا…؟ ہر کسی کی سوچ میں وطن سے بدگمانی اور بددیانتی کا قصہ واضح ہے… میں کیا اِس بات کا یقین خود کو دِلا سکتا تھا کہ میں سب کی سوچ بدل ڈالوں گا… شاید کبھی نہیں… مگر پھر جانے دُور پار کے پربتوں کی چوٹیوں سے ایک صدا، میرے وجود میں اودھم مچانے کی سعی کرتی ہے…
    ”قطرے قطرے سے دریا بنا کرتے ہیں… ذرّے ، ذرّے سے پہاڑ تخلیق ہوا کرتے ہیں… دیئے سے دِیا جلانا ضروری ہے…”
    میں نے غوروخوض کے سکّوں کو اپنی سوچ کی گُلک میں ڈالتے ہوئے سوچا تھا کہ ایک بار تو سوچ بدل دینے کی روایت قائم کی جائے… صرف ایک بار… کیا خبر میری روایت پر کسی اور قدم کی چاپ بھی آن موجود ہو… میں نے اپنے گھر کے درو دیوار کی شکستگی پر کبھی ملال نہیں کیا… یہ شکستگی تو کچھ ہے ہی نہیں اصل قصہ تو شاید سوچوں کی پختگی کا ہے…
    سرسراتی ہوا کے لمس کو محسوس کرتے ہوئے بے طرح ایک باز گشت مجھے مسکرانے پر مجبور کر دیتی ہے…”علم والے مال و زر کے ذائقے سے ناشناس ہوتے ہیں…”
    کہا جاتا ہے پاکستان میں آسودگی عنقا ہے… مگر اُس بوڑھے مصور کی مسکراہٹ میں مکمل مٹھاس اور سکون کیوں ہے، جو اکثر فٹ پاتھ پر کان پر پنسل ٹکائے بیٹھا ہوتا ہے… شاید اُس نے وہ عبارت پڑھی ہو گی جو میری گولڈن ڈائری کے پہلے ورق پر درج ہے…
    ”عقل والوں کے لیے ”علم” ہے… اور جاہلوں کے لیے ”مال ” ہے…”
    بعض اوقات زندگی کی رونقوں سے ہٹ کر کسی سنسان راستے پر چہل قدمی کرنے کی خواہش بہت دھیمے سے دِل کے کسی گوشے میں سر اُٹھاتی ہے… اور پھر دِلوں کی باتیں کہاں رد کی جا سکتی ہیں…
    سنسان سڑک کے گرد لگے قطار در قطار درختوں کے ساتھ ساتھ چلتے مجھے کبھی بھی پاکستان کی اِن سڑکوں کو برا بھلا نہیں کہنا پڑا… لوگ جانے اتنے کم ظرف کیوں ہوتے ہیں کہ زندگی کی سلیٹ پر ایک ”خامی” درج ہوتے ہی ساری خوبیوں پر ”خاک” پھیر دیتے ہیں… جس کی دُھول میں خامیوں کا عکس واضح نظر آنے لگتا ہے…
    میں نے اکثر لوگوں کو پاکستان کے خلاف تقریریں کر کے ڈائس توڑتے دیکھا ہے… ڈائس کا ٹوٹنا قابلِ برداشت سہی … مگر لوگوں کے دِلوں کو تو پاکستان کی محبت سے خالی نہ کرو… مدتوں سے تعمیر ہونے والی محبت کو اِک پل میں مسمار کر دینا انصاف نہیں… میں تھک ہار کر قلم کو کورے ور ق پر رکھتے ہوئے سوچتا ہوں…
    ”خدا نے قلم جیسی عظیم نعمت سے تو نواز دیا ہے مگر اس کا استعمال کیسے کروں… سوچوں کو بدل ڈالنے کی آرزو جلد پوری ہونے والی نہیں… مگر پھر وہی ایک صدا یاد آتی ہے…”
    پیوستہ رہ شجر سے اُمیدِ بہار رکھ…
    ٭٭٭٭
    میرا آئیڈیل تو کارل فلومی ہے… ہئیر سٹائل، قد ہر چیز زبردست ہے…” پہلی آواز نے کہا تھا… جانے یہ کارل کون تھا…؟… فاطمہ جناح پارک میں پھولوں کی سحر انگیز خوشبو بہت بھلی لگ رہی تھی… میں نے ایک قرمزی رنگ پرندے کو فلک بوس سفیدے کی چوٹی پر بیٹھتے دیکھا تھا… جسموں سے ٹکراتی مدھر سی ہوا ڈانوا ڈول پھر رہی تھی…
    دوسری آواز نے کہا تھا… ”ہاں یار… وہ بہت پُرکشش اور چارمنگ ہے… ہزاروں لڑکیاں مرتی ہیں اُس پر … مسکراکر دل نکال لیتا ہے…” دوسری آواز نے سرد آہ بھر کر کسی خواہش ناتمام کا ماتم کیا تھا…
    میں نے پلٹ کر دیکھا… وہ دو لڑکے مجھ سے کافی بڑے تھے… جھولے پر بیٹھے تھے مگر اُن کی کتابیں گھاس پر پڑی تھیں… ایک بیگ کی زِپ کھلی تھی آدھی چیزیں اندر آدھی باہر… وہ دونوں ”آئیڈیل، آئیڈیل…” کھیل رہے تھے… میں نے اپنی گولڈن ڈائری میں گوند سے چپکائی ہوئی تصویروں کا البم دیکھا … صفحے کے شروع میں کالے مارکر سے ”میرے آئیڈیلز…” کی فہرست چسپاں تھی…
    ”قائداعظم محمد علی جناح، علامہ محمد اقبال، اشفاق احمد…” میں نے گھبرا کر ڈائری بند کر دی… دیواروں کے کان ہوتے ہیں… تو ہواؤں کی آنکھیں کیوں نہیں ہو سکتیں…؟ ہواؤں نے میرے آئیڈیلز کی فہرست دیکھ کر چہ مہ گوئیاں کرنا تھیں… کیا پتا ہوائیں دُور چٹانوں اور پہاڑیوں پر میری ذات کو موضوع گفت گو بنائیں… مجھے موضوع گفت گو بننا کبھی بھی تو پسند نہ رہا تھا…
    ڈائری جلد بند کرنے کی کوشش میں ایک آوارہ ورق اُن لڑکوں کے پاس جا ٹھہرا… بلی کی آنکھوں والے لڑکے نے تو بس جھولا روکنے کی زحمت کی تھی… جب کہ دوسرا جس کے بال عورتوں کی طرح لمبے تھے اور اُس نے چوٹی بنا رکھی تھی، وہ میری ڈائری کا ورق پڑھنے لگا… وہ لہک لہک کر پڑھ رہا تھا… پاکستان میرا ملک ہے اور مجھے اس سے بے حد محبت ہے۔ قائداعظم، شاعرِ مشرق اور ان جیسے دیگر رہنما اور دانش ور میرے ہیرو ہیں۔ میں بھی ان کے نقشِ قدم پر چلنا پسند کروں گا۔ ہوا میں اجنبی احساسات کی گرد اُڑ اُڑ کر جمود طاری کرنے لگی تھی… میرا ایک بغاوتی نمکین آنسو ڈائری کے اُوپری ورق پر گرا تھا… ایک پل کو لگا میں کسی پرائمری سکول کا نکما طالب علم ہوں جو پورے سکول کے سامنے پڑھ رہا تھا…

  • دانہ پانی — قسط نمبر ۲

    دانہ پانی — قسط نمبر ۲

    عشق فقیری جد لگ جائے
    پاک کرے ناپاکاں نوں
    عشق دی آتش لے جاندی اے
    عرشاں تیکر خاکاں نوں
    وہ ایک سانپ تھا، تاریک رات کی طرح سیاہ ، تارکول جیسی چمک لئے شاید چھ فٹ یا سات فٹ لمبا یا شاید اس سے بھی زیادہ، اس کی سیاہ رنگت میں بھی اس کی جلد کے نقش و نگار یوں نمایاں تھے جیسے کسی انسان کے تیکھے نقوش۔ اس کی گول چمک دار سیاہ آنکھوں میں وحشت کے علاوہ کوئی تاثر نہیں تھا اور اس کا کسی تاج کی طرح تنا ہو اپھن اس کے کنڈلی مارے ہوئے وجود پر کسی چھتری کی طرح جھک جھک کر تن رہا تھا۔
    وہ اس جنگل میں کب سے اس کا پیچھا کررہا تھا لیکن کیوں، یہ اندازہ اسے نہیں ہوا تھا پر اس کے وجود کی سرسراہٹ اس کے کانوں سے کسی سیٹی کی گونج کی طرح چپکی ہوئی تھی۔
    اس نے اسے بل کھاتے، لہراتے، برق رفتاری سے اپنے پیچھے آتے بھی دیکھا تھا اور اب جب وہ ان درختوں کے بیچوں بیچ اپنے عقب میں آنے والے اس دشمن کا سامنا کرنے کے لئے رُک گئی تھی تو وہ اپنا پھن اٹھائے کنڈلی مار کر اُس کے سامنے بیٹھ گیاتھا۔
    وہ دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ساکت تھے۔ اس سانپ کو اگر اس کی آنکھوں میں خوف دیکھنے کی خواہش تھی تو اس کی خواہش پوری نہیں ہوئی تھی۔ وہ خوف زدہ نہیں تھی اور پھر اس نے سانپ کے عقب میں کسی کے قدموں کی چاپ سنی تھی، سانپ برق رفتاری سے پلٹا اور اپنے عقب میں کھڑے اس مرد کو دیکھ کر پھنکارا۔
    اس مرد کی نظر موتیا پر تھی۔ وہ جیسے اس کے حسن سے مبہوت تھا۔ موتیا نے اس سانپ کو اس مرد کے پیروں کی جانب جاتے دیکھا اور تب اس نے پہلی بار خوف محسوس کیا تھا اور تب ہی اسے یہ احساس بھی ہوا تھا کہ وہ ناگن تھی۔ ”کوبرا” اس نے چلانا چاہا لیکن وہ چلانہیں پائی۔ وہ ناگن اس مرد کے پیروں کے پاس پہنچ چکی تھی۔ اُس نے اپنا پھن اُٹھایا اور کاٹنے کے لئے جُھکی۔
    موتیا ایک جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھی تھی۔ وہ لرز رہی تھی اور اس کا جسم پسینے سے شرابور تھا۔ وہ آنکھیں کھول کر بھی جیسے خواب ہی دیکھ رہی تھی اور اس کا حلق خشک ہورہا تھا۔ صحن میں گامو اور اللہ وسائی اس کے دائیں بائیں اپنی اپنی چارپائیوں پر رات کے اس پچھلے پہر گہری نیند سو رہے تھے۔ دور کہیں کسی کتے کے بھونکنے کی آواز آئی تھی۔ پتا نہیں وہ کتا تھا یا گیدڑ، موتیا نے جیسے عجیب سی کیفیت میں آواز سنی تھی۔
    ٹھنڈی ہوا کے جھونکے جو گامو کے گھر میں لگے ہوئے موتیا کے پھولوں سے مہکے ہوئے تھے، انہوں نے اندھیرے میں چارپائی پر بیٹھی موتیا کو جیسے سہلایا تھا۔
    موتیا ٹانگوں پر پڑے کھیس کو ہٹاتے ہوئے زمین پر کھڑی ہوگئی تھی۔ اپنی چپل کو پاؤں سے ٹٹولتے ہوئے اس نے ایک دم چپل پہننے کا ارادہ ترک کردیا، اس کی چپلوں کی آواز سے گامو اور اللہ وسائی جاگ جاتے۔

    ننگے پاؤں وہ صحن میں پڑے لکڑی کے اس اسٹینڈ کی طرف گئی تھی جس پر پانی کا ایک کچا مٹکا رکھا تھا اور مٹکے کے منہ کے گرد موتیا کے پھولوں کا ایک ہار لپٹا ہوا تھا جو اللہ وسائی صبح سویرے ہی پرو کر چڑھا دیتی۔ موتیانے گلاس اٹھا کر مٹکے پر پڑا ڈھکن ہٹایا اور مٹکا جھکاتے ہوئے گلاس میں پانی بھرا اور پھر غٹاغٹ پی گئی۔ پانی نے جیسے اس کی اکھڑی ہوئی سانس بحال کی تھی پر اس کی نیند اڑ گئی تھی۔
    گلاس واپس رکھ کے موتیا نے سر اٹھا کر چودھویں کے چمکتے ہوئے چاند کو دیکھا جس کی روشنی نے اس کے گھر کے صحن کو عجیب سحر انگیز چاندنی سے روشن کررکھا تھا۔ اسی طرح دبے پاؤں وہ اپنی چارپائی کی طرف آکر لیٹ گئی تھی۔
    پورا آسمان ستاروں سے بھرا ہوا تھا اور چاند ان کے جھرمٹ میں کسی بادشاہ کی طرح لگ رہا تھا۔ بالکل گول، روشن، حسین وہ چاند پر نظریں جمائے اسے دیکھتی رہی۔ مگر اس کا ذہن وہیں اٹکا ہوا تھا۔ اس خواب میں نظر آنے والے مرد پر اور اس سانپ پر جوناگن تھی۔
    ”پاگل ہے تو موتیا! خوامخواہ فکر کرنے بیٹھ جاتی ہے۔ خواب ہے خواب، نہ دنیا میں یہ مرد ہے نہ وہ سانپ۔ سوجا۔”
    اس نے ہمیشہ کی طرح زیرِ لب اس خواب کو بڑبڑاتے ہوئے جھٹلایا۔ پر آسمان پر نظر آنے والے اس خوب صورت چاند پر یک دم جیسے اسی مرد کا چہرہ ابھرنے لگا تھا۔ اُس کی آنکھیں، ناک، مسکراتے ہوئے لب، اٹھی ہوئی ٹھوڑی، لمبی گردن۔
    وہ عجیب حیرت سے چاند میں ابھرنے والی شبیہہ دیکھنے لگی۔ پھر اس نے ہاتھ اٹھا کر چاند میں ابھرنے والے اس چہرے کو جیسے چھونے کی کوشش کی تھی۔ اور وہ چھوپائی تھی، موتیا کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی تھی۔
    اس نے آنکھیں بند کرکے دوبارہ کھولیں، چاند اب بھی وہی چہرہ بنا آسمان پر براجمان تھا اور تارے اسے اپنے جھرمٹ میں لئے ہوئے تھے۔ وہ آنکھیں کھولے آسمان پر چاند کو دیکھتی رہی، اس چکور کی طرح جسے وہ اکثر رات کو اڑتے دیکھتی تھی۔
    موتیا نے آسمان پر اس چاند کو دیکھتے ہوئے کلمہ پڑھنا شروع کردیا۔ زیرِ لب ایک، پھر دوسرا، پھر تیسرا، چوتھا،پانچواں،چھٹااور پھر وہ ساری سورتیں جو اس کو بچپن سے حفظ تھیں اور وہ آیات جو مسجد کے مولوی صاحب نے اسے رٹوائی تھیں۔ پھر وہ سارے اسمِ الٰہی جنہیں اس نے اسمِ اعظم ڈھونڈنے کے لئے یاد کیا تھا۔ پھر وہ سارے اسمِ محمدۖجو اس نے اس لئے رٹے تھے کیونکہ اللہ کے نام کے ساتھ نبی ۖ کا نام نہ آئے یہ کیسے ممکن تھا۔
    اور یہ سب پڑھتے پڑھتے وہ نیند کی وادی میں اترنے لگی تھی مگر وہ چہرہ اب بھی وہیں تھا، اس کے دل کے آسمان پر چاند بن کے بیٹھا ہوا، پر وہ ناگن؟ وہ ناگن کیوں آگئی تھی اس کے اور اس کے چاند کے بیچ۔
    …٭…
    کھل کے بہتے پانی میں ڈوبے موتیا کے خوب صورت پاؤں کسی جوہری کی دکان کے شیشے میں سجے ہیرے جواہرات جیسے لگ رہے تھے۔
    بتول نے بڑی حسرت سے ان نازک دو دھیا پیروں کو دیکھا جن پر اس کی نظر ہمیشہ ہی اٹک جاتی تھی اور پھر اٹکی ہی رہتی تھی۔
    ”پھر کیا ہوا بتول؟”
    موتیا نے اب ہاتھ سے کھل کا پانی مٹھی میں لے کر بتول پر پھینکا تھا اور جیسے اس کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔ وہ دونوں کنویں پر اس جگہ آکر بیٹھی ہوئی تھیں جہاں گاؤں کی عورتیں کپڑے دھونے آتی تھیں۔ چلتے ہوئے رہٹ کو کھینچتے بیل دو وقت باری باری کنویں سے کھیتوں کے لئے پانی نکالتے تھے اور جب تک وہ رہٹ چلتا رہتا، عورتیں وقفے وقفے سے وہاں آکر کپڑے دھوتی رہتیں۔
    ”کیا ہونا تھا؟” بتول نے بھی جیسے بدلہ لیتے ہوئے پانی دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں میں لے کر اس پر اچھالا تھا۔
    ”سنا تو دیا تجھے سب کچھ۔”
    وہ اب اپنی چیزیں سمیٹ رہی تھی۔ بالٹی میں گیلے کپڑے او رپھر وہ ڈنڈا جو کپڑوں پر مار مار کے اس نے کھیس دھوئے تھے۔
    ”بڑا کمینہ ہوا پھر تو سعید۔” موتیا نے جیسے برا مناتے ہوئے بتول سے کہا تھا جس نے کچھ دیر پہلے اسے اپنی اور سعید کے درمیان ہونے والی ملاقات کی کہانی سنائی تھی۔ سعید بتول کے چاچے کا بیٹا تھا۔ وہ کویت میں کام کرتا تھا اور بتول اس پر مرتی تھی پر وہ ڈرپوک تھا اور ڈرپوک مرد سے پیار گلے میںپھانسی کے پھندے کی طرح ہوتا ہے۔
    ”نہیں! وہ کمینہ نہیں ہے، چاچا زیادہ کمینہ ہے۔ وہ بس ڈرپوک ہے۔ ” بتول نے جیسے موتیا کو سعید کا مسئلہ سمجھانے کی کوشش کی تھی۔
    ”لو تو پھر پیار کرنے کی کیا ضرورت تھی؟”موتیا قائل نہیں ہوئی تھی۔
    ”اس نے تھوڑی پیار کیا تھا۔ وہ تو میرا دماغ خراب ہوا تھا۔ ”
    بتول نے بڑے اطمینان سے اسے بتایا۔ موتیا اس کا چہرہ دیکھتی رہ گئی۔
    ”یعنی بس تو پیار کرتی ہے اتنے سالوں سے وہ نہیں کرتا؟”
    اس نے جیسے مذاق اڑانے والے انداز میں بتول سے کہا تھا۔ اس نے گہرا سانس لے کر موتیا کو دیکھا۔
    ”جب پہل عورت کی طرف سے ہوئی ہو نا تو پھر ساری عمر یہی سنتی رہتی ہے عورت کہ تجھے ہوا تھا نا پیار میں تو سمجھاتا تھا تجھے، تو بس سعید پیار کرکے بھی اپنا پیار چھپاتا رہتا ہے۔”
    موتیا کے سر کے اوپر سے اس کی باتیں گزری تھیں۔
    ”تو پھر دفع کر سعید کو۔” موتیا نے جیسے کچھ خفا ہوکر کہا، بتول قہقہہ مار کر ہنسی۔
    ”پیار میں دفع کرنا ہی تو مشکل ہوتا ہے۔” وہ اب اپنی قمیص کا گیلا دامن نچوڑ رہی تھی۔
    ”میں کرتی ہوں سعید سے بات اور اسے کہتی ہوں کہ یوں لارے نہ لگائے تجھے۔ آر کر ے یا پار۔ ماں باپ کو نہیں مناسکتا تو۔۔۔”
    بتول نے موتیا کی بات بیچ میں کاٹی۔
    ”تو مجھے چھوڑدے۔ یہ حل مجھے قابلِ قبول نہیں ہے موتیا اور تو یہ باتیں نہیں سمجھ سکتی۔ تو نے پیار نہیں کیا نا اس لئے۔”
    بتول اب اپنی بالٹی اٹھا کر اٹھ کھڑی ہوئی تھی جس میں کپڑے تھے۔

  • کتنی صدیاں بند ہیں —- فائزہ افتخار

    کتنی صدیاں بند ہیں —- فائزہ افتخار

    ”کاشی…او کاشی…!” ابھی اسے کھیلنے میں مزہ ہی آنے لگا تھا کہ کوثر کی آواز سنائی دی۔
    ”کیا ہے امی؟” اس نے وہیں بیٹھے بیٹھے منہ اوپر کر کے جواب دیا۔
    ”تیرے ابے کے آنے کا ٹیم ہوگیا ہے۔چل واپس آ۔” اس نے چھت کی ٹوٹی منڈیر سے جھانک کر تاکید کی۔وہ گھر سے چند قدم آگے کچی گلی کے بیچوں بیچ اپنے ہم عمر دوستوں کے ساتھ بیٹھا کنچے کھیل رہا تھا۔
    ”سنا نہیں! کانوں میں روئی دی ہوئی ہے کیا؟جلدی آ… منہ ہاتھ دھو کے صاف کپڑے پہن لے،ابھی تک اسکولے(سکول) والی وردی میں پھر رہا ہے۔”
    کوثر نے بھی صرف ایک بار آواز دینے پر اکتفا نہ کیا۔ آخر اس کے مسلسل واویلا پہ کاشف جھنجھلا کے اٹھا۔غصے کے اظہار کے طور پر اس نے چپل سے بے نیاز پیروں کو زور سے کیچڑ میں مار کر اور بھی غلیظ کیا۔میلے کف سے بہتی ہوئی ناک کو رگڑ کے صاف کرنے کی اپنی سی کوشش کی اور لکڑی کے رنگ اُڑے کواڑ کو دھکیل کے اپنے گھر کی تاریک متعفن ڈیوڑھی میں داخل ہوا۔ روشنی سے ایک دم اندھیرے میں آجانے سے کتنی ہی دیر وہ آنکھیں چندھی کیے کھڑا رہا۔
    ”وے کاشی…!”اوپر سے کوثر اب تک اسے آوازیں دے رہی تھی۔
    ”آگیا ہوں۔” وہ ایسے چِلّایا جیسے آکر کوئی بہت بڑا احسان کیاہو۔ اب آنکھیں گھر کی نیم تاریکی سے ذرا مانوس ہورہی تھیں۔صرف چار فٹ لمبی اور ڈیڑھ فٹ چوڑی۔اس لال اینٹوں والے فرش کی ڈیوڑھی میں سے گزر کے جانا کسی عام آدمی کے بس کی بات نہیں۔صرف وہی باآسانی گزرسکتے تھے جو اس سے آنے جانے کے عادی ہوں۔ورنہ اور کوئی ہو تو اس کا تو حشر ہی خراب ہوجائے۔اس قدر بدبو سے… دروازے کے بالکل ساتھ جس اونچے سے ڈربے پہ بدرنگ پردہ لٹک رہا تھا،وہ اس گھر کا واحد ”باتھ روم” تھا جہاں باتھ… یعنی غسل کرنے والا صاف تو کیا ہوتا، الٹا ناپاک ہوکر ہی نکلتا۔ذرا سی جگہ میں نلکا،نلکے کے نیچے ٹوٹی ہوئی غلیظ پلاسٹک کی بالٹی اور اس میں تیرتا تانبے کا ٹیڑھا میڑھا ڈبہ… چھت پہ ٹین کی چادر، دیواروں میں جا بہ جا اینٹیں اکھڑی ہوئیں اور ان کو بھرنے کے لیے یا بے پردگی سے بچنے کے لیے پرانے کپڑے گول مول کر کے ٹھونسے گئے تھے جو بدبو چھوڑ رہے تھے۔ ہر طرح کے کیڑے مکوڑے نالی کے راستے یہاں با آسانی پائے جاتے تھے۔ یہاں سے نکلنے والی نالی ڈیوڑھی سے ہوتی ہوئی گلی میں جاتی تھی اور یہی اس جگہ کی بدبو کا راز تھا اور جو رہی سہی کسر تھی وہ یہاں کوڑے کے ڈھیر سے پوری ہوجاتی تھی۔ کوثر گھر گھر صفائی کا کام کرتی تھی، واپسی پہ بچا کھچا کھانالے آتی، گرمیوں کے موسم میں اکثر راستے میں ہی یہ کھانا خراب ہوجاتا جو کھانے کے قابل نکلتا کھالیا جاتا، باقی اسی ڈھیر کی زینت بنتا۔پہلے سے گلے سڑے پھلوں کے مزید گلے ہوئے چھلکے، بوٹیاں، بچی ہوئی ہڈیاں…وغیرہ، وغیرہ…

    اپنے ماں باپ اور بہنوں کی طرح کاشف بھی اس بدبودار ماحول کا عادی تھا، مگر ہمیشہ کی طرح باہر سے آنے پہ آج بھی اسے بدبو کا احساس ہوا جو تھوڑی دیر تک تو رہنا ہی تھا رفتہ رفتہ اس کا احساس کم ہوتا جاتا۔ وہ اپنے کچے صحن میں بچھی بان کی چارپائی پہ آبیٹھا۔ اس صحن میں دو ہی چارپائیوں کی گنجائش تھی۔اس صحن میں رکھی بانس کی سیڑھی اوپر جاتی تھی۔ گھر کے واحد کمرے کے اوپر کی جگہ چھت کا کام دیتی جہاں کوثر فارغ وقت میں پائی جاتی، اس وقت بھی وہ سبزی کی ٹوکری اٹھائے نیچے اتررہی تھی۔
    ”کیا پک رہا ہے۔” اس نے چھلکوں کا ڈھیر دیکھ کر پوچھا۔
    ”ٹینڈے… یہ پھلیاں تو ملکانی جی کی ہیں، چھیلنے کے واسطے لائی تھی۔نی کڑیو! تم بھی ذرا ہاتھ ہلا لیا کرو۔ میں باہر کے بھی سیاپے کروں،گھر کے بھی نمٹاؤں۔ یہ ذرا سی رہ گئی ہیں، دونوں مل کے منٹوں میں بنا لو۔”
    ”فیدہ…؟” سب سے بڑی پندرہ سالہ تنک مزاج اور تیکھے نقش والی مروفاں نے اپنے کوکے والی ناک چڑھا کر کہا۔
    ”ایک کلو پھلیاں بنانے میں بیس پچیس منٹ لگتے ہیں اور ایک کلو کی بنوائی یہ مالکن بس دوروپے دیتی ہے۔ کیا فیدہ! دو گھنٹے لگا کے دس روپے بھی نہ ہاتھ لگیں۔ پتا نہیں تو کیا کیا کام پکڑ لاتی ہے، کبھی گھٹڑ ساگ کا، کبھ بھرے چنے نکالنے واسطے۔کبھی لہسن چھیلنے واسطے تو کبھی پھلیاں۔ اتنا شوق ہے ان لوگوں کو مشکل مشکل سبزیاں کھانے کا تو آپ بنا لیا کریں۔بڑا احسان کرتی ہیں کلو کے پیچھے دو روپے دے کے۔”
    ”تیرے لیے دس روپے کوئی چیز نہیں ہوں گے۔گھر بیٹھی ہے نا اوروہ بھی ماں پیو کے گھر۔ میرے سے پوچھ، دس روپے میں آدھا کلو دودھ آجاتا ہے سارے دن کی چائے کے لیے، دس روپے میں پاؤ بھر دال آجاتی ہے۔ایک وقت پکانے کے لئے اور دس روپے میں…”
    ”ہاں ہاں ،بڑا کچھ آجاتا ہے دس روپے میں۔” مروفاں نے ہاتھ ہلا کر کہا اور صحن میں رکھے چولہے کو جلانے لگی۔
    ”دس روپے میں تین کیلے آجاتے ہیں جو آدھے آدھے کاٹ کے ہمارا سارا ٹبر کھاتا ہے۔دس روپے میں ابا کے سگریٹ کی آدھی ڈبی آجاتی ہے جو اس نے سارے دن میں لازمی پھونکنی ہوتی ہے۔ٹھیک ہے بھئی اماں! کما دس روپے۔” وہ زور زور سے سلور کی پرات میں حساب سے نکالا آٹا گوندھنے لگی۔ٹینڈے کا شوربے والا سالن وہ پہلے ہی چڑھا چکی تھی۔بہن کے دل جلے تبصروں پہ ہمیشہ کی طرح کاشف دانت نکال رہا تھا۔
    ”وے بیڑہ غرق… کیسا مٹّی میں رُل کے آرہا ہے۔دفع ہو’ جا کے منہ ہاتھ دھو۔ پیو آنے والا ہے۔” کوثر کا دھیان پھر اس کی جانب گیا۔
    ”ہاں ہاں، ہاتھ منہ دھو۔ ابا آنے والا ہے۔ اس نے آتے ہی تیرا منہ چومنا چاٹنا ہے۔”
    مروفاں نے پھر سے زہر اگلا۔ کاشف کے لب عادتاً پھیلے مگر ساتھ ہی سکڑ بھی گئے۔اس کا چہرہ اترسا گیا اور وہ ڈھیلے قدموں کے ساتھ منہ دھونے چل پڑا۔ اور یہ سچ بھی تھا کہ بالے نے تین بیٹیوں کے بعد منّتوں مرادوں سے پیدا ہونے والے اکلوتے بیٹے کو کبھی بانہوں میں بھر کر پیار نہ کیا تھا کبھی اس کا ماتھا چوم کے لاڈ نہ کیا تھا۔ جب وہ بہت چھوٹا ہوگا تب شاید کبھی گود میں اٹھا کے پھرا ہو۔ کاشف کو تو ایسا کوئی واقعہ یاد نہ تھا۔ ایسا نہ تھا کہ وہ بیٹے کی جانب سے لاپروا تھا یا کبھی اس کی جانب نظر نہ اٹھا کے دیکھتا تھا۔دیکھتا تھا، گھر آتے ہی دیکھتا تھا مگر کھاجانے والی نظروں سے۔
    پوچھتا تھا مگر مارنے کے بہانے کسی کام کی خاطر۔
    اسی لیے اس کے آنے سے پہلے کوثر اسے نہلا دھلا، صاف کپڑے پہنا کر، گڈا سا بنا کے چارپائی پہ کتابیں دے کر بٹھا دیتی مگر اقبال دین عرف بالے کو کوئی نہ کوئی بہنا مل جاتا اس کی کھنچائی کرنے کا۔
    لال صابن سے رگڑ کے منہ دھونے کے بعد وہ تختی لے کر لکھنے بیٹھ گیا۔
    ”مانو نے آج فیر تیری گاچی کھائی تھی۔” اس کی تختی دیکھ کے منجھلی والی رانی کو سب سے چھوٹی کی حرکت یاد آئی تو اس نے شکایت لگانے کا موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا۔مانو کو مٹی کھانے کی عادت تھی۔کبھی کبھی وہ کاشف کی تختی پہ پھیرنے والی ”گاچی” بھی ہضم کرجاتی۔
    ”ماں… مانو نے میری گاچی کھائی ہے۔ ابھی پرسوں ہی ڈھیلا لیا تھا۔” وہ چلّایا اور کوثر نے نزدیک رکھی جھاڑو اٹھائی اور دھڑا دھڑ مانو پہ برسانی شروع کردی۔اس نے سن رکھا تھا کہ جسے جھاڑو سے مار پڑے وہ تنکے کی طرح سوکھنا شروع ہوجاتا ہے،اس لیے ہر بار ہی مانو کی پٹائی کرنے کے لیے وہ بڑے اہتمام سے جھاڑو اٹھاتی تھی تاکہ اسی بہانے مٹی، ریت اور گارا کھا کھا کے پلنے والی موٹی کپّا اس کی گیارہ سالہ تیسرے نمبر کی لڑکی کچھ دبلی ہی ہوجائے مگر جس طرح مٹی اور گاچی اسے وٹامن اور کیلشیم کی طرح لگتے تھے،اسی طرح جھاڑو بھی شاید کسی ٹانک کا کام دیتا تھا۔ وہ اور بھی پھولتی جارہی تھی۔البتہ تیرہ سالہ کالی کلوٹی بھینگی آنکھوں والی رانی کے چہرے پہ اطمینان بھری مسکراہٹ کھیلنے لگتی تھی۔اپنی شکایت کے اس بھرپور اور تسلی بخش رد عمل پہ۔
    ”اماں! بتّی جلا دے، اندھیرا ہوگیا ہے۔” کاشف نے اس مار کٹائی کے عمل میں دخل دیا۔گرمیوں میں سات بجے تک اس گھر میں بتی نہیں جلتی تھی۔حالانکہ وہ کمرہ جو اچھی بھلی کوٹھری تھا، وہاں دن کو بھی بغیر بتی جلائے کچھ نظر نہ آتا تھا، اسی لیے یہ واحد کوٹھری کم ہی استعمال میں آتی۔سارا دن اس مختصر سے صحن میں گزرجاتا، جہاں قدرتی روشنی سے تب تک کام چلانے کی کوشش کی جاتی، جب تک رات کے اندھیرے گہرے نہ ہوجائے۔
    ”ابھی مغرب نہیں ہوئی، تیرا پیو آگیا تو میری ماں بہن ایک کردے گا کہ بجلی ضائع کررہی ہوں۔”
    ”تُو ادھر آکے تختی لکھ لے کاشی! ادھر چولہے کے بالن کی بڑی روشنی ہے۔” مروفاں نے اسے اپنے نزدیک بلایا۔
    ”ناں… میں نئیں آتا، ہانڈی پکنے کی بو بڑی زہر لگتی ہے مجھے۔” اس نے ناک پہ ہاتھ رکھا۔
    ”لے… تُو تو دوجے جی سے ہونے والی زنانیوں کی طرح نخرے دکھا رہا ہے۔”
    کوثر نے ٹھٹھا مار کے ایک بے جھجھک مذاق کیا، جس میں اس کے قہقہے کا ساتھ اس کی کم عمر کنواری بیٹیاں بڑی بے باکی سے دے رہی تھیں۔
    منہ پھلا کے بیٹھے کاشف کی نظر یونہی دروازے کی جانب چلی گئی۔ لکڑی کے کواڑ میں بے شمار درزیں اور سوراخ تھے۔جن سے باہر کی روشنی اور دھوپ چھن چھن کے راستہ بناتی باریک لکیروں کی صورت نیم تاریک ڈیوڑھی میں نظر آتی رہتی تھی۔مغرب کا وقت بس ہوا ہی چاہتا تھا، لیکن روشنی کی یہ لکیریں اب تک واضح تھیں۔جیسے ہی کاشف کی نظر دروازے پہ گئی، اچانک اسی وقت یہ لکیریں غائب ہوگئیں۔ جیسے کسی نے ان سوراخوں کا منہ بند کردیا ہو، ساری درزیں بھردی ہوں۔
    ”ابا…!” اس نے پھنکارتی ہوئی سرگوشی کی۔کوثر کے قہقہے، مروفاں کی کھی کھی، رانی کی شوخی اور مانو کی ریں ریں… سب کچھ تھم گیا۔ جیسے کسی نے جادوکی چھڑی گھما کے اس ڈیڑھ مرلے کے نیم کچے مکان کو سوئے ہوئے محل میں تبدیل کردیا ہو۔ اگلے ہی لمحے بالے کے کھنکھارنے کی آواز نے گویا پھر کسی منتر کا کام دیا، سب بُتوں میں جان پڑگئی۔کوثر نے سبزی کی ٹوکری اس چارپائی کے نیچے سرکائی جہاں کاشف اب ہل ہل کر زیرِ لب اپنا سبق دوہرا رہا تھا۔خود وہ اٹھ کے کنڈے کھولنے چلی گئی۔ مروفاں نے پیڑھی پہ پڑا دوپٹہ اٹھا کے سر پہ رکھا اور انگلیوں میں پہنے رنگ برنگے چھلے سرعت سے اتار کے چولہے کے پیچھے چھپائے اور بڑے انہماک کے ساتھ سلور کی پچکی ہوئی دیگچی میں ڈوئی ہلانے لگی۔ مانو اپنا آنسوؤں سے تر اور مٹّی سے لتھڑا چہرہ لے کر اندر چُھپ چکی تھی اور رانی ستّو کا شربت بنانے کے لیے شکر گھولنے لگی تھی۔
    ”یہ ہنسی ٹھٹھول کس خوشی میں ہورہا تھا؟” اس نے آتے ہی اپنی کھوجی آنکھیں ایک ایک کے چہرے پہ گاڑتے ہوئے تفتیش شروع کردی۔

  • عام سی عورت — مریم جہانگیر

    عام سی عورت — مریم جہانگیر

    شام کا پرندہ روشنی کو قطرہ قطرہ اپنے اندر جذب کر کے دن بھر کی تھکن اتارنا چاہتاتھا۔ اُسے خوابوں کی سر زمین پہ قدم رکھنے کی جلدی تھی۔فلک پہ ہلکی ہلکی سی شفق اپنی بے بسی کا نوحہ پیش کر رہی تھی۔
    مجھے بھی زندگی سے کوئی امید نہ رہی تھی بالکل بھی نہیں۔۔۔۔ بڑی عام سی لڑکی تھی، میں نے کبھی خواب نہیں پالے۔ نہ کسی کے ملن کی دعائیں مانگیں نہ کسی کے ہجر میں آہیں بھریں۔ مجھ جیسی سینکڑوں لڑکیاں عام سی زندگی جیتی ہیں اور کبھی جیتے جیتے زندگی ہار جاتی ہیں۔ انہیں ڈپریشن جیسے امیرانہ مرض سے کبھی واسطہ نہیں پڑتا۔کبھی وہ راتوں کو چھت پہ بیٹھ کر اپنی کم مائیگی کا رونا نہیں روتیں۔ وہ زندگی کو عام سا سمجھتیں ہیں اور زندگی انہیں عام سا جان کر گزر جاتی ہے۔ جب ان کی موت کا سندیسہ آتا ہے تو اَن گنت بے چین رشتے بال کھول کر بین کرنے لگتے ہیں۔ بہت سے تعلقات اور دوستیاں تکیوں کو گیلا کر دیتی ہیں۔
    زندگی میں پتا نہیں کہ عورت کا ہونا معنی بھی رکھتا ہے یا نہیں لیکن موت بتاتی ہے کہ نجانے کتنی زند گیا ں، کتنے وجود یہ عورتیں اپنے سر پہ لئے پھر تی ہیں ۔ایک ان کے نہ ہونے سے نظامِ زندگی شکایت کرتا ہے اور باقاعدگی ماتم کرنے لگ جاتی ہے۔ مجھے ایسا ہی بننے کا شوق تھا ایک عام سی لڑکی۔۔ ایک عام سی عورت۔۔۔۔ میں نے کسی بجتی سیٹی کو سن کر نہیں سوچا کہ یہ میرے لہراتے آنچل کا نتیجہ ہے۔میں نے کبھی کسی قطار میں لگ کر بے چینی کا مظاہرہ نہیں کیا کہ کسی بھی غلط درست راستے کو اپنا کر پہلے اپنا کام نکلوا لوں۔ مجھ میں قدرتی طور پہ بہت سرد مزاجی تھی، بہت چین بہت سکون۔۔۔۔۔۔ نہ نمازوں میںلمبے لمبے سجدے کرتی اور نہ ہی منڈیر پہ بولتے کوئے کی کائیں کائیں سے کسی کے آنے کو منسوب کرتی۔۔۔ لیکن ایک لڑکی ہوں ناں ؟ کب تک اکیلی رہتی میری زندگی میں کسی کو آنا ہی تھا اور وہ آیا۔۔۔ اس کا نام فواد مرزا تھا اور میرا نام سمیعہ ناز۔۔۔۔۔ میں نے اس کو دیکھا نہ جاننے کی خواہش ظاہر کی ۔سچ تو یہ ہے کہ میرے اندر اُسے دیکھنے کی خواہش بھی نہ پیدا ہوئی تھی۔
    مجھے تلاطم سے خوف آتا ہے، مجھے ہیجان انگیز رویے پریشان کرتے ہیں۔ میں شدتوں سے بھاگنے والی بڑی عام سی ڈگر کو چننے والی اور اس پہ نپے تلے سے قدم رکھنے والی لڑکی ہوں۔ میرے اندر کبھی ایسا طوفان اٹھا ہی نہیں کہ مجھے اپنی طاقت کا اندازہ ہوتا۔فواد میری زندگی میں آئے تو کچھ دنوں کے لئے مجھے لگا کہ میری ذات اور ساری راز کی باتیں بودی ثابت ہوں گی جس طرح وہ میرے ہر رمز پہ ہاتھ رکھ کر مجھ سے انوکھے رویوں اور طریقوں کی فرمائش کرتے ہیں۔ ضرور میرے اندر کوئی جوار بھاٹا اٹھا ہی دیں گے لیکن یہ سارا خیال، یہ سب قیاس وقتی ثابت ہوا۔وہ مجھے روح پرور لگتے، میرے جنم جنم کے ساتھی ۔۔۔۔ میرے اندھیروں کے دوست ۔۔۔میرے لئے روشنی کا منبع ۔۔۔اس سب کے باوجود میں ان کے لئے دیوانی نہیں ہوئی۔ بہ ظاہر سب کچھ وار دیتی لیکن کہیں اندر ہی اندر یہ احساس کروٹیں لیتا کہ یہ جو ظاہر کر رہی ہوں یہ کچھ بھی نہیں اس سے کہیں زیادہ جولانی میرے اندر ہے۔ لیکن میں بس اتنا ہی اپنا آپ ظاہر کرتی جتنی مجھے ضرورت ہوتی، جتنا اشد ضروری ہوتا اس سے آگے لفظ ہونٹوں کا ساتھ چھوڑ دیتے اور آنکھیں مفہوم سمجھنے سے انکاری ہو جاتی۔پھر یوں ہوا کہ مجھے امید مل گئی۔

    میرے دل کو پر لگ گئے اور وہ ہر وقت سات آسمانوں کے چکر کاٹتا۔ میں اتنی خوش تھی کہ ہر کوئی حیرت سے مجھے دیکھتا۔ فواد بھی کہتے کہ تمہیں دلہناپے میں اتنا روپ نہیں آیا تھا جتنا حسن تمہیں ماں بننے کی خوشی نے بنا دیا ہے۔میں خود تسلیم کرتی کہ میرے قدم تو زمین پر لگتے ہی نہ تھے، میں اڑی اڑی پھرتی، ہوا کی دوش پہ خود کو آزاد چھوڑ دیتی۔ مجھے لگتا ہر لمحہ مجھے جھومنے پر مجبور کر رہا ہے اور میں روئے ارض پہ سب سے خوش نصیب عورت ہو جس نے اعتدال میں رہ کر اللہ کی نعمتوں کو خود پہ مہربان کر لیا ہے۔
    جھولتی مہکتی رہی اور مجھے پتا ہی نہیں چلا کب میرا پاؤں سیڑھی سے پھسلا اور کب میرے پیروں تلے سے زمین کھسکنے لگی۔ میری مدہوشی ہوش میں بدلی تو اپنا آپ اتنا گناہ گار محسوس ہوا کہ آئینہ دیکھنے سے بھی شرمندگی محسوس ہوتی۔رائی کے دانے برابر تکبر بھی جہنم میں لے جائے گا۔ کہیں یہ اعتدال میں رہنے کا غرور مجھے اس جہان میں تہی دامن نہ کر دے۔میرا دل شکنجے میں آگیا۔ میں جب ہسپتال میں داخل ہوئی تو ڈاکٹر نے زندگی کی نوید سنائی۔۔۔۔
    میری جان کا حصہ، میری جان مجھ میں زندہ تھا۔ باقی تھا میں پھر سے جی اٹھی۔مجھ پہ یہ عقدہ کھلا کہ توبہ سے کہیں پہلے احساسِ ندامت کی کیفیت بھی رب کی رحمتوں کی نشانی میں سے ایک ہے۔
    مجھے احتیاط کی ضرورت تھی۔ فواد نے مجھ پہ زندگی اور موت کو آتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔ ان کی سرکاری اعلیٰ عہدے کی نوکری کی مہربانی سے مجھے سرکاری ہسپتال میں تمام آسائشات کے ساتھ داخل کر لیا گیا کہ جب تک میں زندگی کو موت کے منہ سے کھینچ نہیں لاتی یہیں میری دیکھ بھال ہوگی۔
    میں خوش ہوگئی کہ گھر میں کوئی اور تھا نہیں جو مجھے صحیح غلط یا احتیاط اور پرہیز سمجھاتا۔ مجھے ہسپتال کا ہر کارندہ نجاتِ دہندہ لگتا، ہر ذی روح پہ مسیحا کا گمان ہوتا۔سب اچھے لوگوں سے واسطہ پڑا۔بڑے دروازے پہ کھڑا وہ بوڑھا سا بابا، جب فواد پھول لے کر آتے تو مسکرا کر انہیں دیکھتا پھر نظر اوپر کی کھڑکی پہ ڈالتا اور ایک پیاری سی مسکراہٹ سے مجھے بھی نوازتا۔
    شاید وہ بھی کبھی ۔۔۔۔کسی کو ایسے ہی گلاب دیتا رہا ہوگا، جس کی یاد اسے مسکرانے پہ مجبور کردیتی۔ کوڑے دان کو خالی کرنے کے لئے آتی بزرگ خاتون جو بہت پیار سے مجھے دلاسہ دیتی، اپنے ہونے کا احساس دلاتی جواباً میں بھی اس کی مٹھی گرم کردیتی۔ مجھے بھی تو اپنے ہونے کا احساس دلانا تھا۔
    نرس آتی، انجکشن لگاتی، میرا معائنہ کرتی، میری آنکھوں میں سو ڈر اور ہزار وسوسے جاگ جاتے۔ میرے لرزاں لب اپنی پریشان حالی کا رونا رونے کو مچلنے لگتے۔وہ سفید کوٹ والی، زندگی آسان کرنے والی میرے دائیں ہاتھ کو اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر سہلاتی اور تھپکتی کیوںکہ بائیں ہاتھ میں لگا کینولا اسے اس شفقت کی اجازت نہ دیتا۔ایک کرخت آواز والی مائی بھی کمرے اور راہ داری کی صفائی کرتی اور بڑبڑاتی رہتی ”غلاظتیں پھیلانے والے غلاظتیں سمیٹنے والوں کو جوتی کی نوک پہ کیوں رکھتے ہیں؟ اتنے ہی ستھرے ہیں تو اپنا گند خود کیوں نہیں اٹھاتے۔ اُجلے لباس پہن کر اپنے اندر کی کالک چھپانے والے ہماری محنت کو نظر بھر کر نہیں دیکھتے۔” سب اس کی باتیں خاموشی سے سنتے وہ بولنے والوں کو موقع دینے والوں میں سے نہیں تھی۔ نرم خو قدرے پکی عمر کی ڈاکٹر بھی میرے کمرے میں آتی۔انتہائی پیشہ ورانہ مسکراہٹ نچھاور کرتی فٹا فٹ روزمرہ کا معائنہ کرتی آدھا جملہ اردو میں بولتی اور بقایا آدھے میں اپنی انگریزی کے ٹوٹے جوڑتی جیسے رلّی (سندھی چادر) بناتے ہیں جس میں ہزار ٹکڑے جڑتے ہیں لیکن پھر بھی نظر کو برے نہیں لگتے۔
    ایسے ہی اس کی آواز بھی کانوں کو مانوس سی لگتی۔شائستہ سی، نپی تلی،ٹھہری ٹھہری۔۔۔۔۔ پھر وہ ہوا کی دوش سے قدم ملاتی اگلے کمرے کی جانب بڑھ جاتی جہاں بسترِ مرض پہ پڑی کوئی عورت شدت سے منتظر ہوتی۔
    دن قریب آگئے مجھے متلی کی شکایت رہنے لگی حالاںکہ شروع میں کبھی نہیں ہوئی تھی۔ ہر عورت کا ماں بننے کا تجربہ دوسری عورت سے مختلف ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ کچھ نہ کچھ ایسا ضرور ہوتا ہے جو اسے یقین دلاتا ہے کہ وہ دنیا سے نرالا کام کرنے جا رہی ہے۔
    اس انتظار میں کتنا لطف ہے؟ مجھے ہر لمحہ محسوس ہوتا کہ اب بس میرا لمس، میرے ہی لمس سے آشنا ہوجائے گا۔ فواد آتے تو مجھے کمرے سے باہر راہ داری میں ہاتھ پکڑ کر واک کرواتے۔ گردوپیش کی عورتیں حسرت سے دیکھتیں اور میں ناز سے بوجھ ان کے مضبوط ہاتھوں پہ ڈال دیتی ۔ وہ فخر سے مجھے سنبھال رہے ہوتے۔ ایک دن جونہی کمرے سے باہر نکلے، صفائی والی مائی ہاتھ روک کر میرے چہرے کی طرف دیکھنے لگی: ”نی کڑئیے تجھے آرام نہیں؟ اتھوں میں صفائی کیتی نال ہی تیرا دل کھٹا ہوگیا۔ ہون گندے پیر ایتھے اُوتھے مارے گی تے میرا کام ودائے گی۔”اس کی آواز میں عجب کرختگی تھی اس نے اپنی بات مجھ تک پہنچانے کے لئے گلابی پنجابی کا سہارا لیا۔
    یہی بات وہ پیار سے کہتی تو میں کچھ دیر بعد چہل قدمی کر لیتی۔چوںکہ اس نے بات غلط طریقے سے کی تھی اس لئے ردِ عمل بھی مجھ پہ واجب تھا۔ فواد کسی دوسری عورت کی طرف کم ہی متوجہ ہوتے چاہے وہ کیسی بھی ہو۔ان کے رویے سے متعلق شکایت ان کے ساتھ کام کرنے والی لڑکیاں بھی ذومعنی انداز میں مجھ سے کرتیں۔ لیکن میں کان نہ دھرتی۔ کوئی دوسرے معنی نہ ڈھونڈتی بس ہنس کر ٹال دیتی۔مجھے واک کرانے اور باقی سارے کام کرنے کے بعد رات میں فواد کو گھر جانا تھا اور مجھے وہ لذت آمیز خواب دیکھنا تھا۔
    میں نے خواب دیکھا کہ میں جھیل کے کنارے بیٹھی ہوں، جس کے ہلکورے لیتے پانی کی ٹھنڈک دور سے ہی محسوس ہو رہی ہے۔ اس کے صاف پانی پر ہتھیلی برابر بڑے بڑے سرخ گلاب تیررہے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ میری نظر میری ہی گود پہ واپس آتی ہے تو ایک انتہائی پیارا بچہ میری گود میں ہے جس کی پیشانی کے بائیں جانب میری انگلی کے پپوٹے کے برابر سیاہ رنگ کا داغ ہے۔ میرا دل مامتا کے جذبات سے لبریز ہو کر اس کی پیشانی پہ بوسہ دینے کی خواہش کرتا ہے۔ میں جب اسے چومتی ہوں تو اس کے وجود سے مجھے میری اپنی خوشبو آتی ہے۔میں اُسے خود میں بھینچ لیتی ہوں مجھے احساس ہوتا ہے کہ یہ میرا ہی بیٹا ہے۔ اتنے میں فواد آتے ہیں اور مجھے شال اوڑھاتے ہیں۔ اسی اثنا میں میری آنکھ کھل گئی۔ دیکھا تو صبح کا وقت تھا اور فواد واقعی مجھے کمبل اوڑھا رہے تھے میں مسکرائی۔ انہیں خواب میں شریک کیا وہ بھی مسکرانے لگے۔ نماز پڑھی مجھے ناشتہ دے کر وہ دفتر کے لئے نکل گئے۔ دس بجے نرس آئی اور مجھے تھپک کر ایک انجکشن لگا کر چلی گئی۔
    کوئی گیارہ بجے کا وقت تھا درد کی ایک شدید لہر اٹھی۔۔۔ ہائے میں مر گئی۔۔۔اللہ جی۔۔۔۔ مجھے واقعی اللہ یاد آگیا تھا۔آہ! اُف۔۔۔۔ میرا پورا جسم پسینے میں نہا گیا۔ بہ مشکل کال بیل پہ ہاتھ رکھا اور دہری ہوگئی۔۔۔۔ اللہ۔۔۔۔۔ وہ اللہ کتنا عظیم خالق ہے، اتنی مخلوق کی تخلیق کرتا ہے اور صرف کن کہتا ہے بس وہ ہو جاتی ہے۔۔۔ ہم عورتیں صرف اپنی اولاد کوجنم دیتی اور اتنا درد سہتی ہیں۔مجھے کوئی بھی تکلیف ہوتی تو میں سوچتی تھی کہ اس سے زیادہ درد بھی تو ہوسکتا ہے لیکن آج درد کی جو ٹیسیں اٹھ رہیں تھیں اس سے زیادہ تو اُٹھ ہی نہیں سکتیں۔ مجھے لگا میری ساری ہڈیاں ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہوگئی ہیں۔پھرمیں نے ایک آخری سانس بھری۔ یہ دراصل سانس نہیں تھی بلکہ ایسی چٹکی تھی جو انسان جاگتے ہوئے یقین دہانی کے لئے لیتا ہے کہ آیا میں خواب تو نہیں دیکھ رہا؟
    اس آخری سانس کے ساتھ ہی کمرے میں نومولود کے رونے کی آواز گونجی میرا بچہ۔۔۔میرا بیٹا ۔۔۔میں نے پسینے سے تر بتر چہرہ اٹھا کر ایک نظر بچے پہ ڈالی اور بے سدھ ہو گئی۔ ہوش میں آنے سے پہلے مجھے امید تھی کہ جب میں آنکھیں کھولوں گی تو فواد مجھ پرجھکے ہوں گے اور میرا بیٹا میرے پہلو میں لیٹا ہو گا۔ لاشعور سے شعور میں قدم رکھتے ہوئے میں نے اطمینان سے آنکھیں کھولی اور جو امید میں نے زندگی سے لگائی تھی وہ پہلی بار ہی ٹوٹ گئی۔ فواد سامنے دیوار سے لگے کھڑے تھے ان کے چہرے پہ ازحد پریشانی رقم تھی۔ میں چونکی۔۔۔ اگر بیٹی ہوتی تب بھی فواد ایسا چہرہ بنانے والوں میں سے نہیں یہ توپھر بیٹے کی پیدائش کا موقع ہے۔ پھر ان کی حالت ایسی کیوں ؟ ابھی میں ان کا چہرہ پڑھنے کی کوشش کر رہی تھی کہ میری ڈاکٹر آگے بڑھی ”آپ کا بچہ اب اس دنیا میں نہیں ہے” فواد اسے روکنا چاہتے تھے لیکن اس کے بتانے پر وہیں فرش پر بیٹھ گئے اور رونے لگے۔ میری آنکھوں کے سامنے ایک دفعہ پھر اندھیرا چھا گیا ۔میں ہوش میں آئی تو چلا رہی تھی اور فواد مجھے سنبھالتے سنبھالتے بے حال ہورہے تھے ”میرا بیٹا نہیں مرسکتا۔ میں نے خواب دیکھا ہے میرے خواب سچے ہوتے ہیں میرا بیٹا نہیں مر سکتا میرا بیٹا زندہ ہے۔ اسے بھوک لگی ہے اسے میرے پاس لاؤ۔ میں کہہ رہی ہوں میرا بیٹا زندہ ہے۔”میں چیخ رہی تھی میرا حلق خشک ہو گیا تھا فواد میرے سر پہ ہاتھ رکھے مجھے سینے سے لگائے سن سے کھڑے تھے۔میرے اندر کی سیدھی سادی عورت مر گئی تھی اور ایسی وحشی عورت جاگ گئی تھی جو ایک پل میں سارا جہان خاکستر کر سکتی تھی۔”میرا بیٹا زندہ ہے مجھے دکھاؤ کہاں ہے میرا بیٹا؟” فواد نے میرے اصرار پہ نرس کو اشارہ کیا۔۔۔ وہ کمبل میں لپٹا چھوٹا سا وجود لے آئی میرے قریب آئی تو میں نے بائیں ہاتھ سے فواد کا بازو سختی سے تھاما اور دائیں ہاتھ سے بچے کے منہ سے کمبل ہٹایا۔”شکر الحمدللہ یہ میرا بیٹا نہیں ہے” میں نے اطمینان سے کہا۔سامنے کھڑی نرس کے چہرے کا رنگ فق ہو گیا۔فواد نے میری طرف ایسے دیکھا جیسے انہیں میری ذہنی حالت پہ شبہ ہو لیکن میں مطمئن تھی بالکل مطمئن۔ کسی میدانی علاقے کی ہوا کی طرح۔۔۔۔۔
    ”میرا بیٹا زندہ ہے۔” میں پھر بولی۔فواد نے میرا سر تھپکتے ہوئے مجھے دلاسہ دینے کی کوشش کی۔ بستر سے اُتر کر میں سیدھی سادی نہیں رہی تھی بالکل بھی نہیں۔ کسی عام سی عورت کی طرح میں اپنا بیٹا اتنی آسانی سے ہاتھ سے جانے نہیں دے سکتی تھی۔ فواد ہکا بکا کھڑے میری شکل دیکھ رہے تھے۔ڈاکٹر کے کمرے میں جا کر اس کا گلا دبوچ لیا ”بول کہاں ہے میرا بیٹا؟ بتا کہاں ہے میرا بیٹا ؟ میں نے اپنے بیٹے کو دیکھا تھا اس کی پیشانی کے بائیں جانب سیاہ نشان تھا اس بچے کا نہیں ہے یہ میرا بیٹا نہیں ہے۔بتا۔میرا بیٹا کدھر گیا؟ ”میرے ہاتھ کا گھیرا اس کی گردن کے گرد تنگ ہورہا تھا۔ میں چلانے لگی۔ فواد مجھے اس سے الگ کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور میری بات سُن کر پریشان تھے۔ میں نے انہیں بھی اپنا خواب سُنایا تھا۔ اتنے میں نرس آگے آئی، وہ تو میری ساتھی تھی مجھے تھپکتی تھی، مجھے لگا میرا ساتھ دے گی۔لیکن اس نے کمال جھٹکے سے مجھے ڈاکٹر سے الگ کیا اور بستر پر دھکا دیا۔ڈاکٹر اپنی گردن مسلتی باہر چلی گئی۔ ”ماں۔۔۔۔۔” میں رو رہی تھی، واقعی ماں بننے کے بعد سب سے زیادہ یاد ماں کی ہی آتی ہے۔فواد نے مجھ سے تسلی سے ساری بات پوچھی اور غضب ناک ہو کر تین چار جگہ فون کئے۔ ہسپتال میں صحیح معنوں میں افراتفری مچ گئی۔انہوں نے ہمیں عام سا سمجھ لیا تھا! میرا بیٹا چھیننے چلے تھے!!
    میں اور فواد کمرے سے باہر نکلے اور ہسپتال کا ہر کمرہ چھان مارا۔ لیبر روم سے لے کر واش روم تک اور کینٹین سے لے کر دل کے مریضوں کی وارڈ تک۔ میں زخمی شیرنی کی طرح دھاڑتی پھر رہی تھی۔ ہر کمبل کے پاس جا کر بڑی امید سے کمبل ہٹاتی اور پھر رونے لگ جاتی لیکن اگلے کمرے تک جاتے جاتے تازہ دم ہوجاتی۔ پورے ہسپتال میں میرے متعلق چہ مہ گوئیاں ہورہی تھی۔اولاد انسان سے وہ کچھ کرواتی ہے جس کا وہ کبھی تصور بھی نہیں کرسکتا۔ کسی نے مجھے نہیں روکا۔میرا بیٹا کہیں نہیں تھا، کسی بھی جگہ پر موجود نہیں تھا۔ہم واپس کمرے میں آگئے اب پولیس کا انتظار تھا جسے اپنے وقت پر ہی آنا تھا۔دروازہ دھڑاک سے کھلا میں نے دیکھا تو صفائی والی مائی تھی ”،نی کڑئیے۔۔۔ ” آج اگر یہ مجھے کچھ کہتی تو میں اسے چیر پھاڑ کر کھا جاتی۔ وہ میرے پاس آئی اور بند مٹھی پھیلا دی اس میں ایک چُرمرایا ہوا کاغذ تھا۔ ہاتھوں سے وہ کاغذ کانپتے کھولا تو ایک گاڑی کا نمبر لکھا تھا۔ آئی ۔ایس۔بی۔ سات ہزار پانچ سو اسی۔۔۔

    ٭٭٭٭

  • دانہ پانی — قسط نمبر ۱

    دانہ پانی — قسط نمبر ۱

    انتساب

    دانہ پانی کے نام
    جس کی تلاش کچھ کو پارس کرتی ہے کچھ کو پتھر

    =====================================

    پیش لفظ

    کبھی کبھی کہانی کاغذ پر شہد کی طرح بہتی ہے۔ ایک تار بناتے ہوئے، پھیل کر سمٹتے ہوئے، سمٹ کر پھیلتے ہوئے۔اپنی مٹھاس سے دل کو شکر کردیتی ہے۔
    دانہ پانی بھی کچھ ایسے ہی لمحوں میں لکھی ہوئی کہانی ہے، جب حرف کاغذ پر اُتر کر پہلے لفظ،پھر کہانی بُننے لگتے ہیں۔ کچھ کہانیاں دماغ کو کھپادیتی ہیں، کچھ دل کو چرخہ بنادیتی ہیں۔ تار تار کاتتے کاتتے ایک ایسا جہاں ایسے کرداروں کے ساتھ آکر آباد ہوجاتا ہے جوکبھی وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ دانہ پانی بھی ایسے ہی جہاں کے ایسے ہی کرداروں کی کہانی ہے۔
    تکبّر سے دیا گیا دانہ اور عاجزی سے پلائے ہوئے پانی کے بیچ کوئی رشتہ کیسے جُڑ سکتاہے؟ جُڑ بھی جائے تو توڑ نہیں چڑھتا، توڑ چڑ ھ بھی جائے تو ہوک اور آہ میں ختم ہوجاتا ہے۔ قصّہ کہانی بن جاتا ہے… دانہ پانی بھی قصّہ کہانی بن گئے اور میں داستان گو۔
    تو چلیں آج سناتی ہوں کہانی دانے کی، جس کو تکبّر تھا کہ وہ لوگوں کی بھوک مٹاتا ہے، وہ نہ ملتا تو دُنیا مرجاتی… اور پانی کی جو کہتا ہے وہ نہ ہوتا تو دانہ سوکھا ہی بنجر مرجاتا، نہ اُگتا، نہ لہلہاتا، نہ کسی کے گھر کا گیہوںبنتا۔
    دانہ جھگڑالو تھا، خوب باتیں سُناتا، خوب لڑتا، طنز، طعنے، تہمت سب کہہ دیتا۔ ہر دوسرے کی بات پر پھٹ پڑتا۔
    پانی صلح جُو تھا۔ سب سُن لیتا۔ گہرا تھا، سب پی جاتا۔
    پر ایک دن پانی کو غصّہ آگیا تھا دانے کے تکبّر پر… بس ایک دن ہی غصّہ آیا تھا اور ایسا غصّہ کہ سب قصّہ کہانی بن گئے… دانہ بھی اور پانی بھی…موتیا بھی اور مراد بھی۔
    عمیرہ احمد

  • باغی ۔۔۔۔۔ قسط نمبر ۹ (آخری قسط) ۔۔۔۔ شاذیہ خان

    باغی ۔۔۔۔۔ قسط نمبر ۹ (آخری قسط) ۔۔۔۔ شاذیہ خان

    رات کو کنول اپنے کمرے میں بیٹھی ایک چینل پر اپنے سابقہ شوہر کا انٹرویو دیکھ رہی تھی۔۔عابد منہ بناتے ہوئے رپورٹر کو انٹرویو دے رہا تھا۔
    ” جی بہت بُری عورت تھی وہ۔میں نے بڑی کوشش کی کہ گھر بسا رہے،بیٹے کے واسطے دیے جی،مگر وہ تو جیسے بس شہر جا کر ٹی وی پر کام کرنے کی ٹھان چکی تھی۔”
    وہ تاسف بھرے انداز میں سر ہلاتے ہوئے جھوٹ بول رہا تھا۔”بچے کا بھی نہ سوچا اس نے،میں نے اس کی گود میں بچہ ڈال دیا کہ دیکھ اس بچے کا واسطہ تجھے، نہ جا، لیکن اس کے سر پر تو بھوت سوار تھا۔بچے کو بھی میری ماں کی گود میں پھینک کر چلی گئی۔”
    ”آپ کے پاس لوٹ کر نہیں آئی کبھی بچے کے لیے؟”رپورٹر نے پوچھا۔
    ”نہ جی، آتی تو میں بچے کی خاطر ہی اسے معاف کردیتا،لیکن وہ تو بس ٹھان چکی تھی عزت سے نہیں رہنا۔”عابد صاف جھوٹ بولتے ہوئے کیمرے کی طرف دیکھ رہا تھا۔
    ”بیٹے تم بتاؤ تمہیں اپنی ماں یاد آتی ہے؟”رپورٹر نے بچے سے پوچھا۔
    ”نہیں، میری ماں میرے پاس ہے۔”بچے نے جواب دیا اور عابد کے پیچھے چُھپ گیا۔ عابد کیمرے کی طرف دیکھ کر بولا۔”جی میری بہن نے اس کو ماں بن کر پالا ہے۔یہ اسے ہی اپنی ماں سمجھتا ہے۔وہ بہت محبت کرتی ہے اس سے،جان دیتی ہے اس پر۔ایک وہ تھی،چھوڑ کر چلی گئی میرے بیٹے کو۔”عابد یہ کہہ کرجھوٹ موٹ کے آنسو بہانے لگا۔
    ”اب اگر وہ آنا چاہے تو آپ اُسے قبول کرلیں گے؟”رپورٹر نے پوچھا۔
    ”نہ جی،ایسی بے غیرت عورت کو کون رکھے،میرا بچہ بھی نہیں چاہے گا اُسے ماں کہنا۔”عابد نے نفرت سے جواب دیا ۔یہ سب سن کر کنول پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔
    ٭…٭…٭
    کنول کا باپ بیساکھیوں کے ساتھ گلی میں نکلا ہی تھا کہ اتنے میں پہلے سے موجودایک ٹی وی چینل کی ٹیم اس کو باہر نکلتے دیکھ کر پاس آگئی اور ساتھ ہی کیمرہ مین نے اپنا کیمرہ کھول لیا۔
    ”السلام علیکم جی آپ کنول بلوچ کے باپ ہیں؟”رپورٹر نے مائیک امام بخش کے مُنہ میں گھسیڑتے ہوئے پوچھا۔
    ”جی جی جی… مگر… ”امام بخش اس نئی افتاد سے بے خبر تھا،اس سے بات بھی نہیں ہو رہی تھی۔
    ”ہم نگار نیوز سے ہیں اور آپ سے کنول بلوچ کے بارے میں چند سوالات کرنا چاہتے ہیں۔” رپورٹر نے کہا۔
    ”لیکن جی میں کچھ نہیں کہنا چاہتا،مینوں معافی دیو۔”امام بخش نے ہاتھ جوڑتے ہوئے جواب دیا۔
    ”بابا جی ! بزرگو، بس دو چار سوال ہیں۔”رپورٹر نے اصرا ر کیا۔
    ”مجھے ایک بھی جواب نہیں دینا، بھائی جاؤ اپنا کام کرو۔”امام بخش نے یہ کہا اور لڑکھڑاتا ہوا واپس مُڑا اور گھر میں گھس کر دروازہ بند کرلیا۔
    ٭…٭…٭

    سب گھر والے ایک ہی جگہ بیٹھے ہوئے تھے اور کسی نہ کسی بات پر فوزیہ کا ذکر نکل ہی آتا۔اس میں سب سے بڑھ چڑھ کراسما تھی جو حسب معمول فوزیہ کے متعلق ڈھکے چھپے انداز میں اُلٹی سیدھی باتیں کر رہی تھی۔
    ”ایسے کاموں کا نتیجہ ایسا ہی ہوتا ہے،اب بھگتو سب۔”اسما نے برا سا منہ بناتے ہوئے کہا۔
    ”تو تو چپ کر۔ ویسے ہی اتنی پریشانی ہے، تیری ٹرٹر ہی بند نہیںہوتی۔”ماں نے اسے ڈانٹا۔
    ”دنیا کی ٹر ٹر کیسے بند کروائے گی تو؟باہر تو نکل دنیا نے باتیں کرکرکے زندگی حرام کردینی ہے۔” اسما نے بہت روکھے انداز میں کہا۔
    ”کروا لوں گی بند،پہلے اپنے گھر والے تو چُپ ہوں۔جب گھر والے لحاظ نہ کریں تو باہر والوں کو کیا کہوں ۔”ماں نے اس کے آگے ہاتھ جوڑے۔
    ”دیکھ اماں یہ سب تیری وجہ سے ہوا ہے،تو نے ہمیشہ اپنی بیٹیوں کو شہ دی ہے۔” اسما نے انگلی اُٹھا کر الزام لگایا۔
    ماں اس الزام پر بدک سی گئی اورسینہ تان کراسما کے آگے کھڑی ہوگئی”او کیا شہ دی ہے بتا ذرا؟”
    ”جب کسی نے کچھ کہنے کی کوشش کی تو دیوار کی طرح آگے آکر کھڑی ہوگئی، رحیم کو تجھ سے یہی شکایت ہے۔وہ تو بھرا بیٹھا ہے جانے پر،میں نے روکا ہے اُسے۔”اسما ساس سے لڑنے لگی۔
    ”مت کر یہ مہربانی،دفع ہو جا یہاں سے ہمیں ضرورت نہیں ہے تیری اور تیرے میاں کی۔”ماں نے بھی ہاتھ ہلاتے ہوئے جواب دیا۔
    ”یہ تو وقت بتائے گا کہ جن بیٹیوں پر تو اتنا مان کرتی ہے وہ آگے کیا کیا گل کھلاتی ہیں۔”اسما نے بھی تنک کر کہا۔
    امام بخش ان دونوں کی بحث سے تنگ آچکا تھا۔اس نے ہاتھ جوڑتے ہوئے ان دونوں کو منع کیا۔”او بدبختو!مت لڑو ،چپ ہو جاؤ۔باہر کھڑے ہیںٹی وی والے، بو سونگھتے پھر رہے ہیں۔تمہاری یہ باتیں ان کے کانوں میں بھی پڑیں گی ،بس کرو۔”اسما نے یہ سناتوناک چڑھاتی ہوئی اندر کمرے میں چلی گئی۔
    ٭…٭…٭
    کیمرہ مین کنول کے گھر کی بیرونی فوٹیج بنا رہا تھا اور ساتھ ہی رپورٹر رپورٹنگ کررہا تھا۔
    ”یہ دیکھئے ناظرین شہر میں اتنے زبردست محل جیسے گھر میں رہنے والی کنول بلوچ کے والدین کیسے گھر میں رہ رہے ہیں۔یہ ہے فوزیہ بتول یا کنول بلوچ کا گھر،لیکن اُن کے والد نے کوئی بھی بات کرنے سے انکار کردیا ہے۔ وہ اس بات پر کوئی رائے نہیں دینا چاہتے کہ فوزیہ بتول نے جو کچھ کیا وہ صحیح تھا یا غلط لیکن سچ چھپ نہیں سکتا۔وہ ایک نہ ایک دن سامنے آکر رہتا ہے۔آئیے یہاں آس پاس رہنے والوں سے کنول کے بارے میں پوچھتے ہیں۔”
    ”بھائی ذرا رُکیں اور بتائیں کنول بلوچ بلکہ فوزیہ بتول کے بارے میں۔کیا آپ جانتے ہیں اُسے؟”رپورٹر نے ایک راہ گیر کو روک کر کہا۔
    راہ گیر کیمرہ میں آنے پر ہی بہت خوش تھا ۔وہ شدید جذباتی ہو کر بولا۔”جی بالکل جانتا ہوں اس کے بارے میں،پوچھیں کیا پوچھنا چاہتے ہیں آپ۔”وہ سب کچھ بتانے کو بے تاب تھااور اس نے بتا بھی دیا۔فوزیہ کے بارے میں،اس کے گھر والوں اور ماں باپ کے بارے میں۔
    ٭…٭…٭
    کنول ٹی وی پریہ لائیو فوٹیج دیکھ رہی تھی۔اس نے پریشان ہوکر باپ کو فون کیا،باپ نے فون اٹھایا۔ کنول نے چھوٹتے ہی پوچھا۔
    ”اباکیاچینل والے اس وقت گھر کے باہر ہیں؟”
    ”تجھے کیا بے غیرت؟تو نے جو ہمارا جنازہ نکالنا تھا نکال دیا۔اب تو خوش ہو جا۔”باپ نے غصے سے کہا۔
    ”ابا میں نے یہ سب…”کنول روہانسی ہو گئی ۔امام بخش نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔
    ”مت کہہ کچھ بھی،نہیں سننا اب تیرا کوئی اور جھوٹ۔تو نے تو ہمیں منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا ۔”
    ”ابامجھے معاف کردے!میں مجبور تھی۔”کنول نے روتے ہوئے کہا۔
    ”یہ کیسی مجبوری تھی فوزیہ کہ تو نے میرا اور اپنے بھائی کا نام ڈبو دیا۔ساری عمر تجھے حلال کمائی کھلائی اور تو نے یہ کیا کیا؟کہیں منہ دکھانے کے قابل نہ چھوڑا۔”امام بخش نے بہت دکھی لہجے میں کہا۔
    ”نہ ابا ایسا نہ کہہ۔ میں آتی ہوں ساری بات بتاتی ہوں تجھے۔”کنول نے اپنے دفاع میں کچھ کہنے کی کوشش کی۔
    امام بخش اس کی بات کاٹتے ہوئے فوراً چِلایا۔”تو واپس مت آ۔ مر جا کہیں،ڈوب مر چلو بھر پانی میں۔”
    ”نہ ابا ایسا مت کہہ،بد دعا نہ دے۔”کنول سسکنے لگی۔
    ”تو دعا کے قابل نہیں فوزیہ اور اب تو فون نہ کرنا مر گیا تیرا ابا۔”یہ کہہ کر امام بخش نے فون رکھ فیا۔کنول فون کی طرف دیکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
    ٭…٭…٭
    شہریار اپنی ماں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔حلیمہ نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے کنول کے بارے میں پوچھا۔
    ” شہریار کیوں اُداس ہو؟”
    ”نہیں ماما اُداس تو نہیں۔”شہریار اداسی سے مسکرایا۔
    ”ماں ہوں تمہاری،میں یہ بتا سکتی ہوں کہ اس وقت تم کیا سوچ رہے ہو۔”حلیمہ نے بہت پیار سے کہا۔
    ”اچھا بتائیں میں کیا سوچ رہا ہوں؟”شہریار نے ماں کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
    ”تم کنول کے بارے میں سوچ رہے ہو۔”حلیمہ نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے بڑے مان سے کہا۔
    ”جب سب معلوم ہے تو پوچھ کیوں رہی ہیں۔”شہریار نے حیرانی سے ماں کو دیکھا۔
    ”میں تمہارے منہ سے اُس کا نام سننا چاہتی ہوں۔”حلیمہ نے محبت آمیز لہجے میں کہا۔
    ”میں اپنی زبان پر قابو کرسکتا ہوں ماما،لیکن اُسے اپنی سوچوں سے کیسے نکالوں۔”شہریار زچ ہوگیا تھا۔
    ”ضرورت بھی کیا ہے؟”حلیمہ نے بے پروائی سے کہا۔
    ”ضرورت ہے ماما، اس نے میرا اعتماد توڑا،مجھ سے اتنا بڑا جھوٹ کیوں بولا؟”شہریار نے بہت دکھی لہجے میں کہا۔
    ”پتا نہیں کیا مجبوری تھی؟”حلیمہ نے شہریار کے دُکھ کو کم کرتے ہوئے کہا۔
    ” کوئی مجبوری نہیں ماما،میں نے اس پر اعتبار کرکے غلط کیا شاید۔”شہریار نے اداسی سے کہا۔
    ”محبت کرتے ہو اس سے؟”حلیمہ شہریار کے پاس آگئی اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پیار سے پوچھا۔
    ”ماما یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے؟”شہریار نے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا۔
    ”یاد رکھو سچی محبت کبھی بدگمان نہیں ہوتی۔”حلیمہ نے کہا۔
    ”جانتا ہوں،محبت کی ایک روح ہے اور جب دل میں بدگمانی جگہ لے لے تو وہ روح جسم سے نکل جاتی ہے۔”شہریار نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
    ”تم اُس سے پوچھو تو سہی ایسی کیا بات تھی جو اُسے یہ جھوٹ بولنا پڑا۔”حلیمہ نے اصرار کیا۔
    ”اُسے مجھے خود فون کرنا چاہیے تھا،میں کیوں کروں؟”شہریار نے سر جھٹکا۔
    ”اگر وہ بھی یہی سوچ رہی ہو تو؟”حلیمہ نے اسے ایک اور رخ دکھایا۔
    ”دیکھیں ماما غلطی اس سے ہوئی ہے،اب وہ فون کرے گی۔”شہریار نے قطعیت سے کہا۔
    ”جسے تم غلطی کہہ رہے ہو ہوسکتا ہے وہ کوئی مجبوری ہو۔”حلیمہ بھی اپنی بات سے پیچھے نہیں ہٹ رہی تھی۔
    ”ماما آپ بندے کو قائل کرنے کا ہنر جاتی ہیں۔”شہریار نے ہار مانتے ہوئے کہا۔
    ”یہ سب تمہارے باپ سے سیکھا ہے ۔سچی محبت قائل کرنے کا ہنر جانتی ہے شہریار ۔ پوچھو اس سے کہ کیا بات تھی جو اس نے اتنی بڑی بات تم سے چھپائی۔”حلیمہ نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بڑے پیار سے کہا۔
    ”جی ماما!”شہریار نے سر ہلاتے ہوئے کہااورساتھ ہی ماں کو دیکھتے ہوئے مُسکرایا۔
    ٭…٭…٭
    مُناگھر جا رہا تھا کہ گلی کی نکڑ پرامام مسجد نے اسے روک لیا اورفوزیہ کے متعلق پوچھنے لگے۔
    ”سنو لڑکے!رکو۔”امام صاحب نے کڑک لہجے میں کہا۔
    ”السلام علیکم مولانا صاحب ۔”مُنا نہایت ادب سے بولا۔
    ”وعلیکم السلام!تم اس لڑکی کنول بلوچ کے بھائی ہو؟”امام صاحب نے سخت لہجے میں پوچھا۔
    ”جی۔” مُنے نے تھوک نگلتے ہوئے جواب دیا۔
    ”تمہیں معلوم تھا کہ تمہاری بہن شہر میں یہ سب کررہی ہے؟”امام صاحب نے تحکمانہ لہجے میں کہا۔
    ”وہ مولانا صاحب میں…”مُنا گڑبڑا گیا، اس سے کوئی جواب نہیں بن پڑا۔
    ” حرام کا پیسا زیادہ عرصے جیب میں نہیں رہتا،سمجھا دینا بہن کو۔بڑی بدنامی ہورہی ہے ہمارے علاقے کی۔ٹی وی پر نام چل رہا ہے،بلکہ ہمارے علاقے کا نام دنیا بھر میں اچھل رہا ہے۔کل مسجد میں سب نے فیصلہ کیا ہے کہ تم لوگوں کو زیادہ عرصے یہاں نہیں رکھا جاسکتا،دوسروں کی بہو بیٹیاں بھی بدنام ہوں گی۔”امام صاحب وعظ کرنے لگے،اردگرد لوگوں کی بھیڑ لگ گئی۔
    ”لیکن ہماری بہن کی سزا ہمیں…”مُنا نے اپنے دفاع میں کچھ کہنے کی کوشش کی ،لیکن امام صاحب نے بات مکمل نہ ہونے دی۔
    ”دیکھو یہ پورے علاقے کا فیصلہ ہے،تو تم جتنی جلدی ہو اپنا سامان اٹھاؤ اور نکلویہاں سے۔” امام صاحب گرجے۔
    ”مگر مولانا صاحب… ”مُناپھر ہکلایا۔
    ”اگر مگر کچھ نہیں،یہ نہ ہو کہ چند بدمعاشوں کو کہہ کر تمہارا سامان باہر پھنکوانا پڑے۔”امام صاحب نے پھر غصے سے کہا۔
    ”جی مولانا صاحب جو حکم تہاڈا۔”یہ کہہ کر وہ سر جھکا کر وہاں سے چلا آیا۔
    ٭…٭…٭
    مُناغصے سے بھرا گھر میں داخل ہوااور غصے سے راستے میں پڑی جھاڑو کو پاؤں سے ٹھوکر مارتے ہوئے چلایا۔
    ”اماں !اماں کہاں ہے تو؟”
    ”کیا ہوا کیوں شور مچایا ہوا ہے؟”ماں اندر سے ہاتھ پونچھتی ہوئی آئی۔
    ” شور تو باہر مچا ہوا ہے باجی کے کارناموں کاتو نکل تو پتا چلے۔باجی کی وجہ سے باہر نکلنا مشکل ہوگیا ہے۔” مُنا شدید نفرت سے فوزیہ کا ذکرکرتے بولا۔
    ”کس نے کیا کہہ دیا؟”ماں نے حیرانی سے پوچھا۔
    ”مسجد والے امام صاحب ملے تھے کہہ رہے تھے نکلو یہاں سے یہ شریفوں کا محلہ ہے۔ہم جیسوں کا یہاں رہنا ٹھیک نہیں،دوسری بہو بیٹیاں بھی بگڑ جائیں گی۔”مُنے نے ناراضی سے کہا۔
    ”یہ کہا انہوں نے؟”ماں بیٹی کی حرکتوں سے سخت شرمندہ تھی۔
    ”اور کیا اماں،اتنا شرمندہ ہوا میں کہ بس۔تیری بات ہوئی باجی سے؟”مُنے نے ماں سے پوچھا۔
    ”ہاں تیرے باپ کے پاس آیا تھافون لیکن تیرے باپ نے بہت غصہ کیا اس پر اور ابھی بھی غصے میں ہے۔”ماں نے دکھی لہجے میں جواب دیا۔
    ” غصہ تو ہونا چاہیے اماں۔بات ہی ایسی ہے۔”مُنا نفرت سے بولا۔
    ”ہاں تو ٹھیک کہہ رہا ہے لیکن سوچ وہ پورے گھر کا خرچہ چلا رہی ہے،اب کیسے پورا ہوگا۔تو بھی کسی قابل نہیں۔”ماں نے کچھ سوچتے ہوئے کہا تو مُنا خلا میں گھورنے لگا۔
    ٭…٭…٭
    ”آپ یہ بتائیں کہ اتنا شور صرف کنول بلوچ کے خلاف کیوں ہورہا ہے؟ آپ کا ہی فیس بک پیج کیوں بند ہوا؟”کنول ایک ٹی وی شو میں بیٹھی تھی جب اینکرنے اس سے یہ سوال پوچھا۔
    ”سچی بات تو یہ ہے کہ لوگ مجھ سے جیلس ہیں، مگر مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔”کنو ل نے کندھے اچکا کر بے پروائی سے جواب دیا۔
    ”پبلک ڈومین میں آکر غلط قسم کی بات کریں گی تو وہاں تو لوگ جواب بھی دیں گے۔”اینکر نے کہا۔
    ” تو پھرمیں بھی اسی طرح جواب دوں گی۔”کنول کی بے پروائی ابھی بھی قائم تھی۔
    ”اچھا یہ بتائیں کبھی آپ کو اپنا بیٹا یا فیملی یاد نہیں آتی؟”اینکر نے بات کا رُخ بدل دیا۔
    ”کیوں نہیں آتی، بہت یاد آتی ہے،لیکن… ”کنول نے کچھ سوچنے کے بعد جواب دیا۔
    ”لیکن کیا؟”اینکر نے فوراً سوال کیا۔
    ”میں بہت پیچھے چھوڑ آئی ہوں یہ سب۔”کنول کے لہجے میں اداسی تھی۔
    کیا ملا یہ سب کر کے؟”اینکر نے پوچھا۔
    ”شہرت،پیسا،دولت۔”کنول نے تھکے تھکے انداز میں جواب دیا۔
    ”اور اس سب میں کیا کھویا؟”اینکر نے سوال کیا۔
    ”فیملی، بچہ،بہت کچھ۔”کنول نے اداسی سے جواب دیا۔
    ”آپ سمجھتی ہیں آپ نے یہ سب کھو دیا؟”اینکر نے اس کے چہرے پر نظریں جماتے ہوئے پوچھا۔
    ”ہاں!دیکھیں کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا پڑتا ہے۔اس وقت لاکھوں لوگ میرے پیج کو لائیک کرتے ہیں۔”کنول نے کچھ سوچ کر جواب دیا۔
    ”لیکن ایک عورت کے لیے اس کی فیملی یا بچہ زیادہ اہم نہیں ہونا چاہیے تھا؟”اینکر نے طنز کا وار کیا۔
    ”بالکل ہونا چاہیے تھا لیکن جیسے مرد میری زندگی میں تھے اس کے بعد تو میں یہی سب کرتی۔میرا شوہر جو آج آکر میڈیا پر اپنی وفاکی داستانیں سنا رہا ہے۔مارتا تھا مجھے،جھوٹ بولتا تھا،بے وفائی کررہا تھا۔ میرے بھائی جنہیں میں پال رہی تھی،کبھی کسی نے مجھے نہیں کہا کہ میں کام نہ کروں،بلکہ پوچھا بھی نہیں کہ میں پیسا کہاں سے لا رہی ہوں۔”کنول نے ناراضی سے جواب دیا۔
    ”اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ بندہ بگڑ جائے اور غلط کام کرنے لگے۔ لوگ کہتے ہیں کہ آپ نے عوام کی توجہ حاصل کرنے کے لیے یہ سب کیا۔” اینکر نے پھر طنز کیا۔
    ”او مائی گاڈ!” کنول نے مصنوعی حیرانی کا مظاہر ہ کیا،پھر اینکر سے ہی سوال کر ڈالا۔” چلیں میں آپ سے ایک سوال کرتی ہوں کہ اگر میری جگہ آپ کی بیٹی یہ کام کرتی تو آپ کیا کرتے؟”
    ”ویری سمپل، سب سے پہلے میں اپنی بیٹی کی کرافٹنگ کروں گا۔اسے بتاؤں گا کہ کیا صحیح ہے کیا غلط اگر اس کے بعد بھی وہ غلط راستے پر چلے گی تو یہ اس کی اپنی چوائس ہے۔” اینکر نے مزے سے کندھے اچکا کر جواب دیا پھر اگلا سوال کیا۔
    ”چلیں چھوڑیں یہ بتائیں آپ کا فیس بک پیج بند کردیا ہے،اب آپ کیا کریں گی۔”
    ”میں گھر میں بیٹھنے والی نہیں ہوں،میں کسی اور طرح سے سامنے آؤں گی۔اتنی آسانی سے ہار نہیں مانوں گی۔” کنول نے دلیری سے جواب دیا۔
    ”آپ آخری پیغام کیا دیں گی عوام کے لیے؟”اینکر نے پوچھا۔
    ”سب لوگ سمجھتے ہیں کہ میں عوام سے لڑائی لڑ رہی ہوں،ایسا نہیں ہے۔بس ریکویسٹ ہے کہ ایک بار تو میرے لیے اچھا بولو۔دیکھو میں کیا کرتی ہوں، میرے خلاف کیوں ہو؟اک معصوم لڑکی کو کیوں ٹارگٹ کیا جارہا ہے؟میں نے کیا کیا ہے؟ اللہ کے واسطے مجھے معاف کردیں؟”کنول ہاتھ جوڑتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔
    ٭…٭…٭

  • باغی ۔۔۔۔۔ قسط نمبر ۸ ۔۔۔۔ شاذیہ خان

    باغی ۔۔۔۔۔ قسط نمبر ۸ ۔۔۔۔ شاذیہ خان

    پانچ سال بعد
    ٭…٭…٭
    آج شہر کی ایک بڑی پارٹی میں جانا تھا اس لیے کنول دل لگا کر تیار ہوئی۔لپ اسٹک کے آخری ٹچ پر اس نے اوپر والے ہونٹ سے نیچے والے ہونٹ کو ٹچ کیا اور شیشے میں دیکھا۔”اف کنول بلوچ! آج تو بہت سے قتل ہوں گے تمہاری نظروںسے اور اگر نہ کر سکیں تو لعنت ہو تمہاری نظروں پر۔” یہ کہہ کر وہ ہولے سے ہنسی اور بڑبڑائی۔”ویسے کنول بلوچ تم بہت بے حیا ہو،تمہاری وجہ سے شریف گھرانوں کے بچے خراب ہورہے ہیں، بلکہ تم دین دار لوگوں کو بھی خراب کر رہی ہو، بے حیا۔”
    یہ کہہ کر وہ بہت زور سے ہنسی اور شیشے میں خود کو دیکھتے ہوئے بولی۔”بس کر دو بے حیا! اور کتنی بے حیائی پھیلاؤ گی۔”اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی اور ملازمہ نے بتایا کہ ایم این اے (MNA) تارڑ صاحب کا ڈرائیور اُسے لینے آچکا ہے۔
    ”دو منٹ میں آرہی ہوں۔”یہ کہہ کر اس نے آخری بار خود پر اسپرے کیا اور باہر نکل آئی۔
    وہ پارٹی میں پہنچی تو پارٹی اپنے عروج پر تھی۔ایم این اے نے اس کا تعارف بہت سے بڑے بڑے نام ور لوگوں سے کروایا۔وہ اُس کے لیے ایک اچھی رات کہی جا سکتی تھی کیوں کہ شہر کے بڑے نیک نام لوگوں کی آنکھوں میں اس نے اپنے لیے پسندیدگی کی جھلک دیکھی۔اکثر نے اسے اپنا کارڈ دیا جو بڑی نزاکت سے کنول نے اپنے کلچ میں رکھ لیا۔پارٹی کے اختتام پر تارڑ صاحب نے اسے گھر ڈراپ کیا۔ان کے ارادے تو کچھ اور ہی تھے جن پر کنول نے سر درد کا بہانہ بنا کر لگامیں ڈالیں۔
    ٭…٭…٭

    کنول ویلنٹائن ڈے پر فیس بک ویڈیو اپ لوڈ کر رہی تھی ۔اس کے کمرے میں غبارے، پھول ،ٹیڈی بئیراورچاکلیٹس بکھری ہوئی تھیں۔وہ موبائل ہاتھ میں لیے اپنے کمرے کی ویڈیو دکھا رہی تھی۔ساتھ ساتھ وہ فیس بک پر موجود اپنے چاہنے والوں سے بات بھی کر رہی تھی۔
    ”ہر کسی کی زندگی میں کوئی نہ کوئی ویلنٹائن ضرورہوتا ہے، میری زندگی میں بھی ہے۔دیکھیں آج کتنی ساری چیزیں بھیجی ہیں اس نے ۔”
    کنول نے دوبارہ موبائل کے ذریعے ایک ایک چیز کو فوکس کیا۔”یہ چاکلیٹس … یہ پرفیوم… غبارے… یہ ریڈ روزز، میں آج دنیا کی خوش قسمت ترین لڑکی ہوں۔دوستو بہت بے رنگ ہوتی ہے وہ زندگی جس زندگی میں کوئی محبت نہ ہو۔ آپ کتنے تنہا ہوتے ہیں۔”
    ایک دم لیٹے سے اُٹھ کر بیٹھ گئی اور بڑے جذباتی انداز میں کہنے لگی۔
    ”اگر چاہتے ہیں آپ کی زندگی میں رنگ بھر جائیں تو اپنا soulmate ڈھونڈیں وہ کہیں نہ کہیں ضرورہوگا ۔جائیں ڈھونڈیں ،مجھے تو میرا مل چکا ہے اور آج کا پورا دن میں نے اس کے ساتھ گزارا،بہت مزہ آیا۔ اب بہت تھک چکی ہوں،سب سے اجازت چاہتی ہوں،گڈ نائیٹ۔”
    یہ کہہ کر اس نے موبائل آف کر دیا ۔چہرے پر سو چ کے رنگ تھے،پھر آہستہ آہستہ اس کی آنکھوں میں آنسو بھر گئے اور وہ سسکنے لگی۔کتنا مشکل ہوتا ہے چہرے پر مسکراہٹ کا ماسک لگائے ”سب اچھا ہے” کا ڈرامہ کرنا،بہت مشکل اور وہ کتنی بڑی ڈرامہ باز تھی وہ جانتی تھی۔ ۔کبھی کبھی جھوٹ بولنا کتنا مشکل ہوتا ہے،سچ بولنے سے زیادہ تکلیف دہ مگر بولنا پڑتا ہے اور وہ بول رہی تھی۔
    اب وہ اپنے کمرے میں لیٹی ایک ایک کرکے غبارے پھاڑ رہی تھی۔ساتھ ساتھ آنکھوں میں آئے آنسوؤں کوایک ہاتھ سے صاف کررہی تھی۔
    ”لوگوں کو تو انٹرٹینمنٹ مل گئی،انہیں انجوائے کرنے کے لیے ڈرامہ دے دیا مگر مجھے کیا ملا؟لوگ مجھے کتناخوش قسمت سمجھ رہے ہوں گے کہ میرا ویلنٹائن مجھے کتنا خوش رکھتا ہے۔میری ویڈیوپر اتنی لائیکس آتی ہیں،کتنے مرد مرتے ہیں مجھ پرلیکن میں کسی پر نہیں مرتی،کسی کو نہیں چاہتی۔مرد اعتبار کے لائق ہی نہیں،اگر ہو بھی تو میرے پاس ایسی فضولیات کے لیے ٹائم ہی نہیں۔ہاہاہاکنول بلوچ…نہیں فوزیہ عظیم تو صرف ایک جوکر ہے جس کا کام لوگوں کو اینٹرٹین کرنا ہے۔”
    اب وہ بولتے بولتے کبھی ہنس رہی تھی کبھی رو رہی تھی ۔
    ”ہا ہا ہا!اپنا تماشا خود بنا کر دکھانا دنیا کا سب سے تکلیف دہ کام ہے اور میں یہ سب کررہی ہوں۔” اسی وقت اس کے فون کی بیل بج اٹھی وہ چونکی اور آنسو پونچھے ہوئے اس نے فون کال ریسیو کی۔ فون کال مُنے کی تھی۔
    ”کیسا ہے مُنا خیریت ہے سب؟”کنول نے پوچھا۔
    ”باجی تو کیسی ہے؟”مُنا نے قدرے روکھے انداز میں پوچھا۔
    ”میں تو ٹھیک ہوں تو بتا گھر پر تو سب خیریت ہے؟ابا اماں بھائی؟”کنول نے پریشانی اوربے تابی سے پوچھا۔
    ”ہاں باجی! سب ٹھیک ہے،بس بہت دنوں سے تجھ سے بات کرنا چاہ رہا تھا۔”
    ”ہاں بول۔”کنول نے بے پروائی سے کہا۔
    ”تو نے پیسے نہیں بھیجے۔”مناتھوڑا ناراضی سے بولا۔
    ”کیسے پیسے؟پچھلے مہینے تو تو نے لیے تھے پچاس ہزار۔”کنول نے حیرانی سے کہا۔
    ”تو نے پچاس ہزار اور دینے تھے۔دیکھ دکان میں اور مال ڈلوانا ہے،دکان خالی ہے اورابھی منافع نہیں مل رہا۔”منا کے لہجے میں درشتی تھی۔
    ”کیا مطلب تجھے ہر مہینے پیسے چاہئیں ؟”کنول کے لہجے میں استعجاب تھا۔
    ”دیکھ باجی دینے ہیں تو دے،ورنہ باتیں مت بنا۔”منا نے بہت روکھے انداز میں جواب دیا۔
    کنول اس کے روئیے پر جیسے ٹھٹک سی گئی۔”اچھا تو ناراض تو مت ہو۔”
    ”ناراض ہونے کی تو بات ہے ،دے کر جتاتی ہے۔سبزی کی دکان تو نہیں ڈالی، موبائل کی دکان ڈالی ہے۔پیسہ تو لگے گا،جتنا گڑ ڈالو اتنا میٹھا ہوگا۔”منا اب غصے سے بول رہا تھا۔
    ”اچھاتو فکر مت کر،بھیجتی ہوں کل ہی۔”کنول نے کچھ سوچتے ہوئے کہا ۔
    منا نے یہ سنا تو اوکے کہہ کر فون بند کردیا۔کنول جو مزید بات کرنا چاہ رہی تھی رک گئی۔”مُنے سُن… مُنے!” وہ خالی فون کان سے لگا کر رہ گئی۔وہ بہت دکھی تھی اور سوچ رہی تھی ۔
    ”اب تیرا میرا رشتہ صرف پیسے کا ہے۔ہمارے درمیان اب صرف پیسے کی بات ہوگی۔” ہولے سے تھکی تھکی سانس لیتے ہوئے بولی۔”اس میں تیرا قصور نہیں، میرا اب سب سے رشتہ ہی پیسے کا رہ گیا ہے۔”
    ٭…٭…٭
    منا اپنے دوستوں سے لیے ادھار کی وجہ سے بہت پریشان تھا اسی لیے جوا کھیل کر ادھار چکانے کی کوشش میں مصروف تھا۔دوست اسے چھیڑ رہے تھے کہ وہ ان سے جیت نہیں سکتا اس لیے فضول کوششیں چھوڑ دے۔منا نے ان کی نہیں بات نہیں مانی اور اپنے پاس موجود بچی کھچی رقم داؤ پر لگا دی اور ہار گیا۔اس کے ایک دوست نے طنزیہ انداز میں اس کی طرف دیکھا اور ساری رقم سمیٹ لی۔منا پریشانی کے عالم میں اُٹھ کر گھر کی طرف چل دیا۔
    ٭…٭…٭
    رات کووہ اپنے لیپ ٹاپ پر بیٹھی تھی اور ویلنٹائن ڈ ے کی ویڈیو پر آنے والے میسج چیک کررہی تھی۔اسی کے ساتھ اس کے موبائل پر بھی ٹکا ٹک میسج کی بپ بجنے لگی جسے اس نے نظر انداز کر دیا۔ تھوڑی دیر کے بعد فون ہی بج اُٹھا۔اُس نے فون اُٹھا کر دیکھا جہاں ایم این اے تارڑکا نام جگمگا رہا تھا۔ وہ عجیب سے طنزیہ انداز میں مُسکرائی اور فون اٹھالیا۔
    ”ہائے تارڑ صاحب کیسے ہیں؟”
    ”السلام علیکم !اللہ کا شکر ہے،آپ سنائیں۔”تارڑصاحب کا انداز خوش آمدانہ تھا۔
    ”وعلیکم السلام۔”کنول نے پرسکون انداز میں جواب دیا۔
    ”ہم تو منتظر رہے آپ کے فون کے،اب تو آپ مشکل سے ہی ملتی ہیں۔”تارڑ صاحب نے کہا۔
    ”بس مصروفیت ہی اتنی تھی۔”کنول نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔
    ”ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمیں بھی اپنی کسی نہ کسی مصروفیت کا حصہ بنالیں۔”تارڑ صاحب نے ایک دفعہ پھر خوشامد کی۔
    ”توبہ کریں کیوں شرمندہ کرتے ہیں،ہمارا سارا وقت آپ کا ہے۔”کنول نے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا۔
    ”پھر ملاقات کا شرف تو بخشیں۔”تارڑ صاحب نے کہا۔
    ”جی ضرور تارڑ صاحب!اپنے گناہ بخشوانے تو آپ کے پاس آنا ہی پڑے گا،لیکن ابھی میں ذرا تھک گئی ہوں۔رات کا ڈیڑھ بج رہا ہے۔”کنول نے گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
    ”اوہ اچھا!چلیں آپ آرام کریں۔انشاء اللہ جلد ملاقات ہوگی۔”تارڑ صاحب کو بھی جیسے اچانک ہی وقت کا خیال آگیا تھا۔
    ”جی ضرور۔”کنول نے بے زاری سے کہا اورموبائل آف کیا اور مسکراتے ہوئے بیڈ کی ایک جانب اچھال دیا۔
    پھروہ لیپ ٹاپ پردوبارہ اپنی ویڈیو پر لائیکس چیک کرنے لگی۔ اس نے شہریار کا پروفائل چیک کیاجس پر شہریار کی تصویر لگی ہوئی تھی۔کنول نے اس کی ساری نئی پوسٹس پڑھیں اور پروفائل بند کردی۔لیپ ٹاپ بند کرنے سے پہلے اس نے ڈیسک ٹاپ پر لگی اپنے بیٹے کی تصویر کو بہت غور سے دیکھا جو اب تقریباً 8سال کا ہوچکا تھا۔
    ”تم میرے پاس ہومگر صرف تصویر میں۔تم سے کوئی بات نہیں کرسکتی، مل نہیں سکتی،تمہیں چھو نہیں سکتی۔چھوٹے سے تھے تو نہلاتی تھی ،کپڑے بدلتی تھی،کھانا کھلاتی تھی،خوب سارا پیار بھی کرتی تھی مگر اب تم بہت دور ہو۔تمہیں تو میں یاد بھی نہیں ہوں گی۔”
    اس نے لیپ ٹاپ بند کردیااور بستر پر لیٹ گئی۔اس کی آنکھ سے نکل کرایک آنسو کان کے کٹورے میں گیا۔ایک کے بعد دوسرا اور پھر جیسے ایک دھار سی بندھ گئی اوروہ کب بیٹے کو سوچتے سوچتے نیند کی مہربان وادیوں میں اتری ،اسے نہیں معلوم ہوا۔
    ٭…٭…٭
    امام بخش نے رحیم کو بجلی کا بل پکڑایا۔رحیم بل پر نظر ڈال کر بولا۔”اتنا زیادہ!یہ تو مجھے کیوں دے رہا ہے ابا؟”
    ”اور کسے دوں؟”امام بخش نے کہا۔”تواور تیرے بچے استعمال نہیں کرتے بجلی؟”
    ”لے صرف میں اور میرے بچے استعمال کرتے ہیں۔باقی تو سب بجلی بند کرکے بیٹھتے ہو۔”رحیم نے اسی انداز میں ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے جواب دیا۔
    ”لیکن میں کہاں سے دوں؟”امام بخش نے بے چارگی سے کہا۔
    ”مُنا بھی تو دکان چلا رہا ہے اس سے کہہ۔”رحیم نے روکھے انداز میں کہا۔
    ”تجھے پتا ہے کہ اس کی دکان ابھی چل نہیں رہی۔”امام بخش نے منے کی حمایت کی۔
    ”ہاں جب پتے کھیلے گا تو دکان کیسے چلے گی۔”رحیم طنزیہ انداز میں بڑبڑایا۔
    ”کیا کہہ رہا ہے تو زور سے کہہ۔”امام بخش کو اس کی بڑبڑاہٹ سمجھ میں نہیں آئی تھی۔
    ”او کچھ نہیں ابا جانے دے،تو چھوڑ سب۔یہ بتا اس مسئلے کا حل کیا ہوسکتا ہے؟”رحیم بے پروائی سے بہت روکھے انداز میں بولا۔
    ”کیا ہوسکتا ہے؟”باپ نے الٹا اسی سے سوال کیا۔
    ” فوزیہ آئے اسے دے یہ وہی بھرے۔”رحیم نے بل باپ کے آگے پھینکتے ہوئے کہا۔
    ”کیوں فوزیہ کیوں دے گی؟تو سنبھال اخراجات گھر کے۔ اس نے بہت کرلیا۔”امام بخش غصے سے بلبلایا۔
    ”اس کے پاس پیساہے اور وہ کرسکتی ہے تو کرنے دے اُسے،تجھے کیا تکلیف ہے۔”رحیم نے بدتمیزی سے کہا۔
    ”بے غیرت تو اپنے آپ کو مرد کہتا ہے۔اس گھر کا خرچہ سنبھال ،تو بھی تو کماتا ہے۔”امام بخش کو بیٹے کی باتوں پر غصہ آرہا تھا۔
    ”دیکھ ابا کہہ دیا میں نے میں کچھ نہیں کرسکتا اس بل کا،اور تو یہ بے غیرت کہنا چھوڑ دے میرے بیوی بچوں کے سامنے۔مجھے گالی مت دیا کر۔”رحیم نے امام بخش کو انگلی دکھا کر وارننگ دی۔
    ” تو غلط بات کرے گا تو دوں گا گالی۔”امام بخش نے ترکی بہ ترکی جواب دیا تو رحیم آگے بڑھ کر باپ کے سامنے تن کر کھڑا ہوگیا۔
    ”سن لے اب دے گا تو میں نہیں سنوں گا۔”
    ” کیا کرے گا تو بول؟مارے گا اپنے باپ کو؟”امام بخش نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا۔
    رحیم باپ کا غصہ دیکھ کرتھوڑا ٹھنڈا ہوگیا۔”ابا مجھے غصہ مت دلا۔”
    ”او بے غیرت دفع ہو جا یہاں سے۔”امام بخش نے پھر غصے سے کہا۔
    ” لیکن تو بھی سمجھ کر بولا کر اب میرے بچے بڑے ہورہے ہیں۔تو ان کے سامنے بھی بے غیرت کا طعنہ دیتا ہے۔”رحیم نے ناراضی سے کہا۔
    ”تجھے اتنا ہی خیال ہے اپنی عزت کا تو نکل جا یہاں سے۔”امام بخش زور سے چیخا۔
    ”ہاں ہاں چلا جاؤں گا۔”رحیم نے تیزی سے جواب دیا۔
    اتنے میں مُنی بھی وہاں آگئی ۔اس نے آگے بڑھ کر بھائی سے کہا۔”بھائی تو ابا سے ایسے بات نہ کر۔میں باجی کو بتاؤں گی۔”
    ”اب تو بھی بولے گی کمینی۔”رحیم نے یہ کہا اور اسے ایک زور دار تھپڑ مارا۔وہ دو جاکر گری اور رونے لگی۔
    امام بخش دونوں بہن بھائیوں کی لڑائی میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔مُنی نے اسی وقت فوزیہ کو فون کیا اور سب کچھ بتا دیا۔
    ٭…٭…٭
    اگلی صبح فوزیہ مُنی کی ایک کال پراپنے گھر میں موجود بھائی کو ڈانٹ رہی تھی۔
    ” تیری ہمت کیسے ہوئی ابا سے لڑنے کی اور مُنی کو تھپڑ بھی مارا تو نے۔”وہ اونچی آواز میں بھائی پر چلائی۔
    رحیم نے گھوم کر مُنی کی طرف دیکھا اور غصے سے بولا۔
    ”اچھا تو تجھے ساری خبریں دے دیں اس چڑیل نے۔”
    ”دیکھ بھائی سدھر جا، اب میں اور تماشا میں برداشت نہیں کروں گی۔ہر وقت کی چخ چخ ہر وقت کی لڑائی، اگر رہنا ہے تو ڈھنگ سے رہ ورنہ کر لے اپنا کوئی اور انتظام۔ دکان اس لیے نہیں کروائی تھی کہ تو لڑائی جھگڑا کرتا رہے۔اگر اماں ابا کو کوئی سکھ نہیں دے سکتا تو تکلیف بھی نہ دے۔”فوزیہ نے رحیم کے خوب ہی لتے لیے۔
    ”ہاں ہاں کرلوں گا۔ تو بھی ہر بات میں احسان جتاتی رہتی ہے۔”رحیم کو بھی فوزیہ کی باتیں سن کر غصہ آ گیا تھا۔
    ”احسان کی کیا بات ہے۔کتنے سال ہوگئے تجھے دکان چلاتے ایک دھیلا تو ماں کو نہیں دیتا، اگر ابا نے تجھے بجلی کا بل جمع کروانے کا کہا تو کروا دے لڑ کیوں رہا ہے؟”فوزیہ نے تنک کر پوچھا۔
    ”میں کیوں کرواؤں یہاں سب استعمال کرتے ہیں بجلی۔”رحیم نے غصے سے کہا۔
    ”ٹھیک ہے تو پھر تو اپنا الگ انتظام کر۔”فوزیہ نے انتہائی روکھے انداز میں کہا۔
    رحیم یہ بات سن کر بیٹھے سے ایک دم کھڑا ہو گیا۔”ہاں ہاں کر لوں گا ورنہ تو ہمیشہ مجھے یہی طعنہ دیتی رہے گی کہ میں نے تیرے ساتھ اتنا کیا۔”
    ”مجھے طعنے دینے کا کوئی شوق نہیں،مگر ابا سے بدتمیزی برداشت نہیں کروں گی۔”فوزیہ نے پرسکون لہجے میں کہا۔
    ”تو تو ابا کو بھی سمجھا نا کہ وہ بھی ذرا ذرا سی بات پر گالی دیتا ہے۔”رحیم نے ہاتھ اُٹھا کراما م بخش کی طرف اشارہ کیا۔
    ”میں نے ایسا کیا کہہ دیا، بجلی کا بل دیا تھا بس۔”امام بخش نے بے پروائی سے کندھے اچکائے۔
    ”تجھے پتا تھا کہ بجلی کا بل فوزیہ نے دینا ہے تو تو نے ضرور مجھے دے کر آگ لگانی تھی، اور یہ چڑیل بھی تیری حمایت میں بولی اس لیے میں نے اس کو پیٹا۔”رحیم نے غصے سے کہا۔
    ”دیکھ بھائی اگر اس گھر میں رہنا ہے تواب تو نہ ابا سے بدتمیزی کرے گا اور نہ ہی… ”
    رحیم نے فوزیہ کی بات بیچ میں ہی کاٹ دی ۔”او تو رہنے دے اپنے مشورے اپنے پاس۔ چھوڑ دوں گا یہ گھر روز کی ذلالت مجھ سے بھی برداشت نہیں ہوتی۔ رکھ تو ابا کو، اماں کو اپنے پاس، میں نے ٹھیکا نہیں لے رکھا۔”یہ کہہ کر وہ باہر نکل گیا۔ سب ہکا بکا اس کی پشت دیکھتے رہے۔کتنا بے دید ہوگیا تھا وہ۔ اسے ذرا پروا نہ تھی کہ باپ اور ماں دونوں کو اس کی کتنی ضرورت ہے اس وقت،لیکن شاید وہ اپنی اسی ضرورت سے خائف تھا اور سب کوچھوڑ کر جانا چاہتا تھا۔اس بات کا سب سے زیادہ دکھ باپ کو ہوا۔ وہ فوزیہ کی طرف دکھی نظروں سے دیکھ کر بولا۔
    ”فوزیہ سب دیکھ کربہت دُکھ ہوتا ہے،یہ دونوں بے غیرت ہیں۔ہم سب تیری ذمہ داری بن گئے ہیں۔” امام بخش نے تاسف سے کہا۔
    ”ابا تو پریشان مت ہو،سب ٹھیک ہو جائے گا۔”فوزیہ نے امام بخش کا ہاتھ تھام لیا۔
    ”پریشانی نہیں صدمہ ہوتا ہے،تو اتنی محنت کررہی ہے، ان کو ذرا احساس نہیں۔”امام بخش دکھی لہجے میں بولا۔
    ”ابا تو بالکل پریشان نہ ہو میں کما رہی ہوں نا تو کیوں فکر کرتا ہے۔”فوزیہ ے مسکرا کر باپ کی ہمت بندھائی۔
    ”میری ٹانگ کا مسئلہ نہ ہوتا تو میں بھی کچھ نہ کچھ کرلیتا۔” امام بخش نے اپنی ٹانگ کی طرف اشارہ کیا اور پھر بولا۔”ایسی اولاد سے تو کوئی توقع رکھنا ہی فضول ہے۔ سمجھ نہیں آتا کیا کروں؟”
    ”ارے ابا تو چھوڑ ساری فکریں،بھائی جاتا ہے تو جائے۔مُنا ہے نا اس کو الگ دکان اسی لیے کروا کر دی ہے کہ وہ گھر کو سنبھال لے۔”فوزیہ نے بے پروائی سے کہا۔
    ”اس نے کیا سنبھالنا ہے،وہ تو خود سنبھل جائے بڑی بات ہے۔اس نے نشہ شروع کردیا ہے،پتے وتے بھی کھیلتا ہے۔”امام بخش کو منے کے ذکر پر غصہ آگیا تھا۔
    فوزیہ کی حیرانی سے آنکھیں پھٹ گئیں۔”ابا تو نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا۔”
    ”میں نے اور تیری ماں نے تجھے اس لیے نہیں بتایا کہ تو پریشان ہوگی۔”امام بخش شرمندگی سے بولا۔
    ” نہ ابا تو نے بہت غلط کیا،وہ بھٹک رہا تھا تو ہم کو ہی سنبھالنا تھا اسے۔”فوزیہ نے بہت تاسف سے سر ہلایا۔
    ”تو نے ان دونوں کو پیسے کی لت لگا کر غلط کیا۔میں نے اور تیری ماں نے بہت سمجھایا لیکن وہ کسی کی بات نہیں سنتا۔”امام بخش نے بے بسی سے کہا۔
    ” ابا تو ٹھہر میں خود اس سے بات کرتی ہوں۔”فوزیہ نے اٹھتے ہوئے کہا تو امام بخش نے گھبرا کر اس کا ہاتھ پکڑکر روک لیا۔
    ”ارے نہیں تو کہے گی تو وہ کہے گا کہ ابا نے شکایت کی ہے میری،پھروہ بھی مجھ سے لڑے گا۔”
    ” تو نہ ڈر میں کرتی ہوں اس سے بات۔”فوزیہ نے امام بخش کو سمجھایا اور منے کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
    ٭…٭…٭

  • باغی ۔۔۔۔۔ قسط نمبر ۷ ۔۔۔۔ شاذیہ خان

    باغی ۔۔۔۔۔ قسط نمبر ۷ ۔۔۔۔ شاذیہ خان

    کنول کوریڈور میں کھڑی ڈاکٹر سے بات کررہی تھی۔اس کے باپ کا آپریشن ہوچکا تھا۔ ڈاکٹرز اس کے ہاتھ میں آپریشن کابل تھماتے ہوئے بہت سپاٹ سے انداز میں بولا۔
    ”ہم نہیں چاہتے تھے لیکن ٹانگ کاٹنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔”
    ”ڈاکٹر صاحب میں ابا کو کسی پرائیویٹ ہاسپٹل میں شفٹ کرنا چاہتی ہوں۔”کنول نے کہا۔
    ”دیکھ لیں ان کا آپریشن تو ٹھیک ہوگیا ہے لیکن اگر آپ مطمئن نہیں تو بے شک لے جائیں۔”ڈاکٹر نے کندھے اچکاتے ہوئے جواب دیا پھر بولا۔”لیکن یہ کچھ بل ہیں پہلے انہیں پے کردیں۔”
    ”وہ تو میں کردوں گی آپ بالکل فکر مت کریں۔بس یہ بتائیں آج مزید کسی ٹریٹمنٹ کی ضرورت تو نہیں؟”کنول نے پوچھا۔
    ” نہیں ویسے تو سب ٹھیک ہے۔بس یہ احتیاط ضرور کیجئے گا کہ مریض زیادہ ہلے جلے نہیں۔”ڈاکٹر نے ہدایت دیتے ہوئے کہا۔
    ” اس کی آپ فکر نہ کریں۔”کنول نے رسان سے کہا۔
    ”بس تو یہ بل پے کریں اور اپنا مریض لے جائیں۔”ڈاکٹر نے بے پروائی سے کہا۔ کنول نے ڈاکٹر کا شکریہ ادا کیا اوروارڈ میں چلی گئی۔
    ٭…٭…٭
    ”کل صبح مجھے کچھ پیسے چاہئیں،پلیز بھجوا دو۔”کنول نے کمرے میں جا کر ریحان کو فون کیا۔
    ”کتنے پیسے؟”ریحان نے سوالیہ انداز میں پوچھا۔
    ”یہی کوئی دو لاکھ۔”کنول نے کچھ سوچ کر جواب دیا۔
    ”اوکے نو پرابلم۔ مل جائیں گے۔” ریحان نے بے پروائی سے کہا پھر بولا۔”ابا کیسے ہیں؟”
    ” ٹھیک ہیں مگرڈاکٹرز نے ان کی ایک ٹانگ کاٹ دی ہے۔نقلیٹانگ لگنے تک انہیں بے ساکھیوں سے چلنا پڑے گا۔”کنول نے تھوڑا تھکے تھکے انداز میں جواب دیا۔
    ”اوہ ویری سیڈ،تم ان کا خیال رکھنا۔میں صبح ہوتے ہی پیسوں کا انتظام کردوں گا،فکر مت کرو۔”ریحان نے اسے تسلی دی۔
    ”تمہارے جیسے دوست کے ہوتے مجھے کیا فکر،چلو میں فون رکھتی ہوں،پھر ملیں گے۔”
    ابھی وہ اس سے بات ہی کرنے کے بعد فون رکھ ہی رہی تھی کہ اس کی ماں آکرپاس آکھڑی ہوئی،اس نے سوالیہ انداز میں ماں کو دیکھا۔
    ” فوزیہ !منی کہہ رہی تھی تو اس ہسپتال سے اپنے ابا کو کسی دوسرے ہسپتال لے جانا چاہتی ہے؟”
    ”ہاں اماں دیکھ تو ذرا کتنی گندگی ہے یہاں اور پھر وہ ایک بڑا اور اچھا ہسپتال ہے۔ابا کا علاج اچھا ہو جائے گا۔”فوزیہ نے ماں کو سمجھایا۔
    ”لیکن اتنے پیسے کہاں سے آئیں گے۔”ماں نے پریشانی سے پوچھا۔
    فوزیہ نے ماں کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر دباؤ ڈالا اور سمجھانے لگی۔” تو فکر مت کر،اس کا میں نے انتظام کرلیا ہے۔ بس تو سب سامان سمیٹ،ہم صبح ہوتے ہی دوسرے ہسپتال میں شفٹ ہو جائیں گے۔”
    ”چل تو جو کررہی ہے،بہتر ہی کررہی ہوگی۔”ماں نے کندھے اُچکاتے ہو ئے کہا۔
    ٭…٭…٭

    شہریار ویک اینڈ پراسی پرانے ریسٹورنٹ میں بیٹھا کافی پی رہا تھا۔ساتھ ہی موبائل پرفوزیہ کاایک پرانامیسج پڑھتے ہوئے مسکرایا جس میں اس نے لکھا تھا کہ میں ویک اینڈ پراسی ریسٹورنٹ میں ملوں گی۔وہ وہاں شام پانچ بجے سے اس کے انتظار میں بیٹھا تھا۔اس نے ادھر ادھر دیکھا،سب مصروف تھے۔شاید بہت خوش بھی ہوں لیکن اس وقت شہریار کی خوشی کوئی اس سے پو چھتا کہ وہ کتنا خوش تھا ! کتنا خوش کُن احساس تھا کہ کچھ لمحوں ،کچھ منٹوں یا پھر کچھ گھنٹوں کے بعد وہ فوزیہ سے ملنے والا تھا۔
    تھوڑی دیر بعد اس نے گھڑی کی طرف دیکھا جہاں پہلے چھے،پھر سات اور آٹھ بجے لیکن فوزیہ کا کہیں کوئی اتا پتا نہ تھا۔ اس نے فوزیہ کو کئی بارفون ملایا مگراس کا فون مسلسل بند جارہا تھا۔وہ پریشان ہوگیا اور دوبارہ گھڑی کی طرف دیکھاجہاں اب دس بج رہے تھے۔اس کا خیال تھا کہ شاید وہ کسی کام میں مصروف ہو گئی ہو اس لیے کوئی رابطہ نہیں کیا۔بہت دیرانتظار کرنے کے بعد وہ بل کافی کپ کی ٹرے کے نیچے رکھ کر ہوٹل سے باہر نکل آیا۔
    ٭…٭…٭
    فوزیہ ہاسپٹل کے کوریڈور میں ایک بنچ پر مُنی اور اماں کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی،پھر اس نے مُنی کو باپ کے پاس جانے کا اشارہ کیا اور اسے وہاں سے اُٹھاتے ہوئے بولی۔
    ”جا مُنی!ابا اکیلا ہے۔تو جاکر اس کے پاس بیٹھ جا۔”منی نے بہت آرام سے اس کی بات مان لی۔
    ”اور سُن بھائی کو بھی فون کرکے بتا دینا کہ ہم اس ہسپتال میں آگئے ہیں۔”فوزیہ نے پیچھے سے آواز لگائی۔
    ”آج بھائی نہیں آیا تیرا؟”ماں نے دکھی لہجے میں پوچھا۔
    ”اس نے آج نہیں آنا تھا اماں!اور تو جانتی ہے کیوں۔”منی نے طنزیہ انداز میں کہا اور اند ر کی طرف بڑھ گئی۔
    ”ہاں لوگ اس لیے بیٹوں کی دعا کرتے ہیں۔”ماں فوزیہ کو دیکھتے ہوئے شرمندگی سے بولی۔
    ”اس نے تو فون کرکے ابا کی طبیعت تک نہیں پوچھی اور تو آنے کی بات کرتی ہے۔”فوزیہ نے منہ بناتے ہوئے کہا۔
    ”ہاں مجبوریاں ہیں سب کی،اب مجبوریوں کا کیا کیا جائے؟”ماں نے ایک بار پھر بیٹے کی دبی دبی سی طر ف داری کرتے ہوئے جواب دیا۔
    ”ہاں اماں واقعی مجبوریوں کا کیا کیا جائے؟”فوزیہ نے ماں پر طنز کرتے ہوئے کہا۔
    ”اچھاسن یہ بتا تو شہر میں کیا کررہی ہے۔”ماں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا۔
    ”اماں بیٹا بن گئی ہوں تیرا۔اتنا کما لیتی ہوں کہ تجھے کوئی پریشانی نہ ہو۔”فوزیہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اُس پر بہت محبت سے پیار کیا اور جواب دیا۔
    ”پھر بھی،کچھ تو بتا۔”ماں نے اصرار کیا۔
    ”ایک بوتیک میں اچھی نوکری مل گئی ہے، ابا کے لیے پیسے بھی میں نے ان سے لیے ہیں۔ بہت اچھے لوگ ہیں۔”فوزیہ نے پہلے سے تیار کیا ہوا جواب ماں کو دیا۔
    ”ہاں اللہ بھلا کرے اتنے اچھے لوگوں کا۔”ماں نے دعا دی۔
    ”اماں جب کبھی کبھی اپنے کام نہیں آتے اللہ ایسے لوگوں کو ہماری طرف بھیج دیتا ہے۔”اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
    ”ہاں فوزیہ تو ٹھیک ہی کہہ رہی ہے۔”ماں نے ٹھنڈی سانس بھرکر کہا۔
    ٭…٭…٭
    شہریاربہت دیر انتظار کرنے کے بعد گھر لوٹ آیا ،پھر گھر آکر اپنے لیپ ٹاپ پر بیٹھا فوزیہ کا پیج دیکھنے لگا۔فیس بک پیج پر بھی کوئی اسٹیٹس اپ ڈیٹ نہیں تھی۔
    ”پتا نہیں کیا مسئلہ ہے، نہ ریسٹورنٹ آئی اور نہ فیس بک پر کوئی سٹیٹس اپ ڈیٹ ہے۔کہیں کوئی مسئلہ نہ ہوگیا ہو۔کیا کروں، فون بھی بند جارہا ہے۔”وہ بڑبڑایا۔ اس کے چہرے پر پریشانی تھی۔شہریار کے پاس اس کا کوئی اتا پتا بھی نہ تھا جو خود جا کر معلوم کر لیتا۔
    ٭…٭…٭
    فوزیہ کو دو دن کے بعد ہاسپٹل سے ڈسچارج کروا کر گھر لے جانا تھا۔ڈاکٹر اسے ہدایات دے رہا تھا۔
    ”دیکھیں زخم ابھی کچا ہے، آپ کو بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔”
    فوزیہ نے اسی انداز میں ان کو جواب دیا اور تسلی دی۔”ڈاکٹر صاحب آپ بالکل فکر نہ کریں۔میں ساری احتیاط کروں گی۔”
    ”گاوؑں سے یہ ہر ہفتے چیک اپ کے لیے کیسے آسکتے ہیں ؟”ڈاکٹر نے پریشانی سے پوچھا پھر مشورہ دیتے ہوئے بولا۔”ہوسکے تو ان کا یہیں اس شہر میں کم از کم کچھ عرصے کے لیے تو انتظام کریں۔”
    ”جی میں کچھ انتظام کرتی ہوں۔آ پ کی بات بھی بالکل ٹھیک ہے۔”
    ”یہاں پر ہی کوئی گھر وغیرہ لے لیں کچھ عرصہ ریگولر چیک اپ ہو تو ہی زخم جلدی اچھا ہوگا۔”ڈاکٹر نے اسے سمجھایا۔
    ”جی بہتر ہے ڈاکٹر صاحب میں کوئی انتظام کرتی ہوں۔”فوزیہ نے کچھ سوچتے ہوئے جواب دیا۔وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ شہر میں گھر کے لیے کس کو کہے لیکن اسی وقت اسے گوہر کا خیال آیا اور اس نے فون ملا دیا۔
    ”گوہر تم سے تھوڑا کام تھا۔مجھے شہر میں کوئی ایسی جگہ چاہیے جہاں میں کچھ دن کے لیے اپنی فیملی کو رکھ سکوں۔”کنول نے جھجکتے ہوئے کہا۔
    ” ابھی تو ایسی کوئی جگہ نہیں ہے لیکن دیکھا جاسکتا ہے۔”گوہر نے کچھ سوچ کر اس کی بات کا جواب دیا۔
    ”دیکھو ابھی میرے پاس اتنے پیسے نہیں کہ میں فوری مکان خرید سکوں۔”کنول کے لہجے میں شرمندگی تھی۔
    ”تو پیسے کماؤ بی بی!میں تو تمہیں صرف کام دے سکتا ہوں،باقی تم خود کرو۔”گوہرنے اس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا۔
    ”تمہارے پاس ہے کوئی کام؟”کنول نے فوراً پوچھا۔
    ”ہاں ہے تو، لیکن اب میں تمہارے اخلاقیات کے درس سے بہت بے زار ہوں یار۔” گوہر نے منہ بنا کر جواب دیا۔
    ”نہیں نہیں۔میں ایسا کچھ نہیں کہوں گی،اگر کوئی کام ہے تو پلیز بتاؤ،میں تیار ہوں۔”کنول گڑگڑا کر بولی۔
    ”سنو!ایک سونگ کی ماڈلنگ کرنی ہے،کر لو گی؟”گوہر نے پوچھا۔
    ”اچھا کس کا ہے؟”کنول نے اشتیاق سے پوچھا۔
    ”ایک نیا لڑکا ہے ،علی۔”
    نئے لڑکے کا نام سن کر کنول تھوڑا بجھ سی گئی۔
    گوہر نے اُسے سوچتا دیکھ کر ایک وار کیا۔” سوچ میں پڑ گئیں تو کسی اور کو دے دوں؟”
    ” نہیں نہیں یہ سونگ مجھے ہی کرنا ہے۔مجھے توہر قیمت پرپیسے چاہئیں۔”کنول جلدی سے بولی۔
    ”سوچ لو۔”گوہر نے قطعیت سے کہا۔
    ”سوچ لیا!”کنول نے حتمی انداز میں جواب دیا۔
    گوہرخوش ہوتے ہوئے بولا۔”پھر کل آجاوؑ ایگریمنٹ وغیرہ کرلیتے ہیں۔”
    ”اوکے میں ضرور آجاوؑں گی، مگر یہ سونگ کسی اور کو نہ دینا اور پلیز کسی گھر کا انتظام بھی کر دو۔”کنول نے یہ کہہ کر فون بند کر دیا۔
    ٭…٭…٭
    فوزیہ ہاسپٹل کے کمرے میں باپ کے پاس بیٹھی اسے سیب کاٹ کر دے رہی تھی۔امام بخش نے اپنے بیٹے کے بارے میں پوچھا۔
    ”رحیم نہیں آیا؟”
    ”مصروف ہوگا۔”ماں نے بے پروائی سے جواب دیا۔
    ”ایسی بھی کیا مصروفیت بیمار باپ کے لیے ٹائم نہیں اس کے پاس۔”امام بخش نے غصے سے کہا۔
    ”وہ تھوڑا پریشان تھا،تیرے بلوں کے پیسوں کا انتظام کرنے میں لگا تھا۔”ماں نے بیٹے کی طرف داری کرتے ہوئے کہا۔
    ”اماں پیسے تو باجی نے جمع کروادیے ہیں۔”ماں کی بات سنتے ہی مُنی فوراً فوزیہ کی حمایت میں بولی۔
    ”ہاں لیکن وہ بھی کوششوں میں لگا تھا۔”ماں نے کہا۔
    ”لیکن اتنے پیسے فوزیہ کے پاس کہاں سے آئے؟”امام بخش نے تشویش سے پوچھا۔
    ”شہر میں کماتی ہے۔”ماں نے رسان سے جواب دیا۔
    ” اتنے اچھے ہسپتال کا بل بھی بہت ہوگا،ایسا کیا کماتی ہے؟”باپ نے تفتیشی انداز میں پوچھا۔ اتنے میں فوزیہ اندر داخل ہوئی،اس کے ہاتھ میں پھلوں کا لفافہ تھا جو اس نے لا کر ٹیبل پر رکھ دیااور امام بخش کے پاس جا کر پوچھا۔
    ”ابا اب تو ٹھیک ہے نا؟”
    باپ نے اسے عجیب سی نظروں سے دیکھا۔وہ خاموشی سے ماں کے ہاتھ سے چھری لے کر خود سیب کاٹنے لگی اور باپ کی طرف بڑھایا جو اس نے عجیب سی نظروں سے فوزیہ کو دیکھتے ہوئے پکڑ لیا۔
    ”ابا آج میں نے شہر میں تیرے لیے ایک مکان دیکھنے جانا ہے۔”فوزیہ نے سیب کاٹتے ہوئے گویا دھماکا کیا۔
    ”کیوں؟”امام بخش نے حیرانی سے پوچھا۔
    ”تم سب کو کچھ دنوں کے لیے یہاں شفٹ ہونا پڑے گا۔ڈاکٹرز کے خیال میں تمہارا ہرہفتے ایک چیک اپ ضروری ہے، گاوؑں سے ہر ہفتے آنا بہت مشکل ہوگا۔”فوزیہ نے باپ کو سمجھاتے ہوئے جواب دیا۔
    ”کیا مطلب؟اتنا سب کرلیا کافی ہے۔لوگ کیا کہیں گے کہ بیٹی کی کمائی کھا رہا ہے، بالکل نہیں۔”امام بخش کے لہجے میں ناراضی تھی۔
    ”ابا ضد نہ کر تیری ٹانگ صحیح ہونے میں ٹائم لگے گا،یہاں رہ کر ڈاکٹرز جلد ٹھیک کرسکتے ہیں۔”فوزیہ نے کہا۔
    اتنے میں فون کی گھنٹی بجنے لگی اس نے نمبر دیکھا تو شہریار کا نمبر تھا۔اس نے غصے سے فون کاٹ دیا۔
    ”اماں تو سمجھا ابا کو،بے شک ٹھیک ہو جائے تو واپس چلا جائے، میں نہیں روکوں گی۔”
    ”مان جا فوزیہ کے ابا!اتنے پیار سے کہہ رہی ہے۔”ماں نے کہا۔
    اتنے میں پھر فون بجنے لگا ،اس نے فون کی طرف دیکھا جہاں شہریار کا نام چمک رہا تھا۔وہ غصے میں کمرے سے باہر نکلی اور کوریڈور میں آکرشہریار کو فون کیا۔
    ”آپ کو کوئی اور کام نہیں؟ کیوں میرے پیچھے پڑے ہیں؟نوکر ہوں آپ کی؟ آپ کے ہر فون پر بات کرلوں گی۔ میرے اپنے بھی تو مسائل ہیں۔ہر وقت تو آپ کے فون کے جواب نہیں دے سکتی۔بندے کو خود بھی شرم ہونی چاہیے۔”کنول غصے سے بول رہی تھی۔
    شہریار شرمندہ سا ہوگیا اور تھوڑا رُک رُک کر بولا۔” آئی ایم سوری اگر آپ کو بُرا لگا۔دراصل ویک اینڈ پر آپ کا میسج ملا تھا کہ شام کو اُسی کافی شاپ پہنچ جائیں۔میں نے اس شام وہاں کافی انتظار کیا آپ کا،پھر گھر آکر فین پیج بھی دیکھا وہاں بھی کوئی اپ ڈیٹ نہ تھی تو میں پریشان ہوگیا تھا۔”
    کنول کو ایک دم شرمندگی نے آ گھیرا کیوں کہ غلطی اس کی تھی، اسی سوچ میں اس نے فون کاٹ دیا۔اُسے قطعاً یقین نہیں آرہا تھا۔کیا کوئی کسی سے اس انداز اور اتنی محبت سے بھی بات کرسکتا ہے؟ اتنی فکر بھی کر سکتا ہے؟اس نے خود سے پوچھا اور پھر خود ہی جواب دیا۔” نہیں سارے مرد پہلے ایسے ہی دانہ پھینکتے ہیں اور پھر آہستہ آہستہ کھلتے جاتے ہیں۔”یہ سوچتے ہوئے اس نے اپنے خیال پر لعنت بھیجی اورکمرے کی طرف بڑھ گئی۔
    ٭…٭…٭

  • میری ٹیڑھی زلفیں — غزالہ پرویز

    میری ٹیڑھی زلفیں — غزالہ پرویز

    ’’سیدھی مانگ نکالو ، سیدھا میاں ملے گا۔‘‘
    میرے گھنگھریالے بالوں میں چنبیلی کے تیل کی چمپی کرتے ہوئے میری معصوم سی ماں کی معصومانہ التجا ہوتی ۔ پلنگ پر بیٹھی میری ماں مجھے اپنے دونوں پاؤں سے جکڑ کر فرش میں بٹھا لیتیں۔ نہ چوں کرنے کی اجازت ہوتی اور نہ چاں اور سیدھی سادھی، بھولی بھالی ، نادان نادیہ سی میں سر جھکائے ’’آہ، اوہ اور آؤچ‘‘ کو حلق سے باہر نکلنے نہ دیتی۔ چنبیلی کے تیل کی چبھتی ہوئی تیز خوشبو جسے میں بدبو گردانتی تھی اس پر ناک سکیڑنے پر بھی ایک چپت پڑتی اور’’چھچھوندر‘‘سننے کو ملتا اور وہ میری ناک کے اوپر کنگھے کا آخری دندانہ رکھتیں اور پیشانی کے بیچوں بیچ کنگھا گھسیٹتی پیچ در پیچ، خم در خم زلفوں میں سے کنگھے کو کھینچتے کھانچتے ، کھوپڑی پر رگڑ ڈالتی بلکہ کھرچتی ہوئی گردن کی گدی تک پہنچ کہ دم لیتیں اور ایسے حساب کتاب سے آدھی زلفوں کو دائیں اور آدھی کو بائیں جانب کر لیتیں کہ مجال ہوتا کہ ایک بھی لٹ آوارہ گردی کی مرتکب ہو۔
    ’’جانے کِس پر گئے ہیں تمہارے بال؟ ایسے جیسے الجھا اون کا گولا۔‘‘
    وہ تیل سے چپڑے بالوں کو مزید کھینچ تان کے سیدھا کر لیتیں اور نیلے، لال ربن کو چٹیا میں لپیٹتی چھپکلی کی دم کے مانند بالوں کی نوک تک کس دیتیں اور پھر اسے بل دے کر دونوں کانوں کے اوپر ایک پھول سا بنا دیتیں اور ساتھ ہی ایک پیار بھری چپت رسید کرتے ہوئے کہتیں:
    ’’اللہ سیدھا سا شہزادہ دُلہا دے۔‘‘
    اور لفظ ’’دُلہا‘‘ پر میں دوپٹے کا کونا دانتوں تلے دبا لیتی اور آنکھیں بند کیے تصورات میں خود کوطلسماتی دنیا میں پاتی اور ریپنزل سی ٹاور کی کھڑکی میں خود کو کھڑا پاتی اور شہزادہ میرے تیل سے چپڑی چٹیا تھامے نیچے کھڑا نظر آتا اور پھر اچانک میرے اسپرنگ نما گھنگھریالے بال اوپر کے جانب آجاتے اور شہزادہ اس پر مزے سے گول جھولتا اوپر میرے پاس۔ ’’ہائے‘‘ میں ہنس پڑتی، لیکن امی کو توجیسے ستھرے ،کھینچ کے سیدھے ہوئے بالوں کی چٹیا کو دیکھ کر سکوں ہوتا کیوں کہ ستھرے بال جیسے کہ ستھرے مستقبل کے ضامن ہوں۔ اگرچہ کہ آرام سے کبھی نہ چٹیا بنی میری مگر غلطی سے ایک لٹ بھی رہ جاتی اور اسپرنگ کے مانند جھولنے لگتی، تو امی مستقبل کے اندیشوں میں غوطے کھانے لگتیں۔ ان کا خیال تھا کہ:
    اس زلف کے پھندے سے نکلنا نہیں ممکن
    ہاں مانگ کوئی راہ نکالے تو نکالے
    اور ہائے رے ہائے ایسی راہ نکالی کہ بس

    میری امی کی زندگی کے مقاصد میں سے ایک مقصد تھا میرے زلفوں کو سیدھا کرنا۔ کنگھا ہاتھ کیا لگتا کہ میں پکڑ میں آجاتی میرے بالوں سے جنگ شروع ہوجاتی۔
    ’’ہائے امی میں ایسی ہی بھلی۔‘‘اب وہ کیا سمجھتیں کہ ۔۔۔ یاں پلیتھن نکل گیا واں غیر ٭ اپنی مکی لگائے جاتا ہے ۔
    بچپن گزرا اور وقت کے ساتھ میں چلی چھٹک کے دامن ان کے دستِ ناتواں سے۔
    اور میرے گیسو امی کے ہاتھوں سے پھسلے تو بالکل ہی آوارہ ہوئے۔
    ’’اری بیٹی کیا کورا سر اور کورے بال لیے گھوم رہی ہو۔ تیل ڈالو بالوں میں، بنا تیل کے صورت سے ہی ابلا سبلا لگتی ہو۔‘‘ میں اِٹھلاتی اور انہیں کا جملہ انہیں پر ٹکا دیتی۔
    ’’چھچھوندر کے سر میں چنبیلی کا تیل، سبحان تیری قدرت، سبحان تیرے کھیل‘‘ اور وہ معصومیت سے کہتیں:
    ’’کیا بادام کے تیل کی مالش کردوں؟‘‘ اور میں کھلکھلاتی پھر اِدھر پھر ادھر اڑنچھو ہو جاتی۔ اب اماں بے چاری کیا جانیں روکھے ، پھولے، بکھرے بال فیشن ہیں۔
    ہماری اماں سدا کی سیدھی اور معصوم۔ شاید پرانے وقتوں کی عورتیں ایسی ہی ہوتی ہوں گی لکیر کی فقیر سی لیکن نہیں! پھر کٹنی کسے کہتے تھے؟ ارے بھئی میری بلا سے۔ ہاں تو میری امی کے لیے بال بنانا انتہائی اہم کام تھا جسے وہ بڑی فرصت اور فراغت اور محبت سے سر انجام دیتی تھیں۔ سکون و اطمینان سے تیل، کنگھی، سرمہ اور آئینہ لے کے بیٹھتیں اور ساتھ گنگناہٹ جاری رہتی اور وہ بھی رخصتی کے گیت گیتوں کی اور لازماً آنسو آنکھوں کے کونے بھگو دیتے۔ کنگھی چوٹی ہی ان کے لیے بال بنانا تھا اور یہی ان کا سنگار تھا۔ سیدھی مانگ، سیدھے سمٹے بال اور سیدھی چٹیا اور آخر میں اس پر گھر کے موتیے کے پھولوں کو دھاگے میں پرو کر لڑیاں بناتیں اور چوٹی میں لپیٹ لیتیں اور ساتھ گنگناتی ’’جومیں ہوتی راجا بیلا چنبیلیا ، مہک رہتی راجا تورے بنگلے پر۔‘‘اور میں مبہوت سی بیٹھی انہیں دیکھتی رہتی اورکبھی چھیڑ بھی دیتی:
    ’’کس کے بنگلے پر نظر ہے؟‘‘ اور وہ مسکرادیتیں۔ میں اکثر سوچتی اور ایک دن پوچھ ہی بیٹھی آخر منہ پھٹ جو ٹھہری یعنی گز بھر لمبی زبان جو تھی۔
    ’’امی آپ کی تو ہمیشہ سے مانگ ستھری سیدھی رہی، سجے سنورے بال تو پھر سیدھا میاں کیوں نہ ملا؟‘‘
    بس جناب چپت تو چپت تین حرف بھی سن لیے۔
    ’’زبان چلتی ہے قینچی سی تمہاری تالو سے زبان کو لگا۔ اپنے باپ کے لیے ایسا بول؟‘‘
    پھر خود ہی ذرا روہانسی سی ہوکر بولیں:
    ’’کیا پتاکس کج رو سے بچ گئی۔‘‘
    فوراً موضوع پلٹ کر کہنے لگیں:
    ’’اپنی خیر منا یوں سر جھاڑ منہ پھاڑ نہ بنی رہا کرو۔‘‘
    لیکن میں ٹھہری چکنا گھڑا سوچا سیدھی مانگ پر ایسے غصے والے جلالی شوہر سے تو میری ٹیڑھی مانگ ہی بھلی اور زلفِ پرخم کو دل کھول کہ خوب آوارہ کیا۔ چوٹی سے ربن نکال پھینکا، دو چوٹیاں بنیں ایک، پھر چٹیا کھلی تو پونی بنی، پونی کھلی تو شانوں تک چڑھ آئی اور پھر لیڈی ڈیانا کٹ اور زندگی ہوئی ڈن ڈنا ڈن ڈن اور امی بے چاری کئی وسوسوں کے فشار میں میری لٹوریوں سے الجھتی ہی رہ گئیں۔
    ’’کیا جٹا دھاری فقیرنی بنی گھومتی ہو، تیل ڈالو، سیدھی مانگ نکالو سیدھا میاں ملے گا۔‘‘
    اور میں آڑے ٹیڑھے مانگ کے ساتھ لچھے دار گیسوں کو دائیں بائیں جھلاتی گنگناتی ’’لوگ کہیں موہے باوری، میرے الجھے لمبے بال۔‘‘ امی کی نظروں سے اِدھر ادھر ہوجاتی اور وہ بے چاری بڑبڑاتی رہ جاتیں۔
    ’’مل گیا نہ لچھے دار تو نہ کہنا۔ ہنہ۔ تری مرضی ہے اگر یونہی تو لے یونہی سہی بنا لو دل کھول کر مجھے نکو۔‘‘
    جانے کیوں ایسا لگنے لگا مجھے دیکھتے ہی امی کو ڈھولک کی تھاپ، گیندے کے پھول،سہرا، ابٹن، رت جگے اور گلگلے کی کڑاہی نظر آنے لگتی ہے اور مکھ پر رمال دھرے۔ ’’امی جان سلام‘‘ کہتے دُلہا میاں نظر آنے لگتے ہیں۔
    اور پھر امی نے میری ضد بازیوں کے آگے یہ بولنا بھی چھوڑ دیا اور یوں یہ خیال بھی عین غین ہوا۔
    وقت کے ساتھ ساتھ درمیان کی سیدھی مانگ کبھی دائیں جانب جھکی تو کبھی بائیں جانب کھسکی، کبھی ننھی سی مانگ ہوئی تو کبھی سرے سے ہی غائب ہوئی اور پھر ’’زگ زیگ مانگ‘‘ فیشن میں آگئی۔ میں اور فیشن سے ایک قدم بھی پیچھے نہ نہ اللہ نہ کرے۔
    اسکول تھا یا کالج یا پھر یونیورسٹی میری زلفوں کے بل مذاق کے نشانے پر رہتے، خوب لطیفے بنتے، ٹھٹھے لگتے۔
    ’’بالوں کا گچھا‘‘، بھیڑ کی دم، برتن دھونے کا جونا، ’’جھاڑ جھنکار‘‘ الغرض جتنے منہ اتنے نام۔ کسی نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ میرے ایسے آڑے ٹیڑھے بال ہوتے تو خودکشی ہی کرلیتی۔
    اور میں نے جل کر ترکی بہ ترکی جواب دیا:
    ’’شکر ہے تمہاری بچت ہوئی۔‘‘
    میں لڑکیوں کے سانپوں سے چمک دار، چکنے سیدھے بالوں کو دیکھتی رہ جاتی، نظر پھسل پھسل جاتی اور بہ ظاہر میں خوب اترا اترا کے اپنے اسپرنگ نما بالوں سے کھیلتی اب اپنی چھاچھ کو کون کھٹی کہتا ہے بھئی لیکن بال زلفوں کے میرے سب سے کجی رکھنے لگے۔ وقت گزرتا رہا اور اچانک یہ پیچ دار زلف فیشن میں آگئے۔
    ’’ہائے اللہ تم کتنی خوش قسمت ہو کہ تمہیں ’’کرل‘‘ نہیں کروانے پڑتے!‘‘
    اور میں اچانک سے اڑی اڑی طاق پر جا بیٹھی۔ اب تھوڑا سا اترانا تو بنتا تھا نا اور پھر میری سہیلیاں کالج ختم ہونے پر یادگار کے طور پر میرے بالوں کی لٹ مانگنے لگیں۔ خیر وقت آگے بڑھتا گیا۔ زلف کبھی الجھی، کبھی سلجھی، کبھی چٹیا، کبھی پونی، کبھی شانے پر لہرائی تو کبھی کمر کو چھو آئی۔ پر رہی وہی سرکش، وہی برہم وہی پیچ کہ اوپر پیچ چڑھا۔ خیال ہی رہا کہ
    مرے ہاتھ سلجھا ہی لیں گے کسی دن
    ابھی زلف ہستی میں خم ہے تو کیا غم
    ٭…٭…٭
    اور وہ وقت بھی آگیا جس کا انتظار میری ماں کو میری پیدائش کے دن سے تھا ’’ایک شہزادہ آئے گا سفید گھوڑے پہ میری شہزادی کو لینے۔‘‘
    مجھے آج تک وہ جملہ نہیں بھولتا اپنے بھائی کا جب وہ ایک تصویر لیے میرے پاس آیا۔
    ’’سچ کہوں آپی بہت سیدھے ہیں دُلہا بھائی آگے وہ کیا کہہ رہا تھا مجھے سنائی نہیں دیا بس اپنی کھوپڑی کے بیچوں بیچ کھجلی سی ہونے لگی۔ یعنی باقی زندگی اللہ میاں کی گائے کے ساتھ یعنی ’’گائے؟‘‘
    ڈھولک کی تھاپ تھی، سہاگ کے گیت تھے، سہرا تھا اور جدائی تھی اور میرا خوف۔
    ’’کہیں ایسا نہ مل جائے، کہیں ویسا نہ مل جائے۔‘‘
    میرے سیدھے میاں، میری امی کو خدا کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے کے چہیتے داماد ٹھہرے۔
    درویشِ خدا مست نہ شرقی ہے نہ غربی اور دو پاٹوں میں الگ ہوئے گیسو نہ اب شرقی رہے نہ غربی۔ ایک جوڑے میں سمٹ گیا زلف کا بل۔ اب کس کو فکر کاکلِ پرخم کی کہ اب کاکلِ گیتی سنوارنا تھا۔ وہ زلف کے بل میں یوں الجھے کہ کبھی نہ سلجھے۔
    ’’ھ‘‘ میں ملا۔ ’’الف‘‘اور زیست ہوئی ھا ھا ھا۔
    پچیس سال پرخم راستوں پر ایک دوسرے کے ساتھ گزار دیے
    یہاں تک آ گئے آگے خدا کا نام ہے ساقی

    ٭…٭…٭

  • بوڑھے آدمی کا خواب — محمد جمیل اختر

    بوڑھے آدمی کا خواب — محمد جمیل اختر

    بوڑھے صادق حسین کی زندگی میں خوش گوار تبدیلی آئی تھی۔ اِس سے پہلے کہ میں آپ کو اِس تبدیلی کے بارے میں کچھ بتائوں، اِس سے پہلے صادق حسین کی سابقہ زندگی کے بارے میں بتانا ہوگا، ورنہ یہ افسانہ جھول کا شکار ہوجائے گا اور میں ایسا ہرگزنہیں چاہتا۔
    یہبتاتا چلوں کہ صادق حسین کو ریٹائر ہوئے دوسال ہوگئے ہیں۔ بیوی پانچ سال پہلے فوت ہوگئی اور دونوں بچے اپنی گوری بیویوں کے ساتھ کینیڈا مقیم ہیں اوروہ آخری بارپانچ سال پہلے آئے تھے۔ اب کبھی کبھاراُن کا فون آجاتا ہے اور صادق حسین کی زندگی دوٹیلی فونز کے درمیانی وقفے میں معلق رہتی ہے۔
    صادق حسین ریٹائر ہوئے تو پھر بھی ایک آدھ دن چھوڑ کر دفتر چلے جاتے۔ پرانے دوستوں سے ملاقات ہوجاتی اور ان کا دل بہل جاتا۔ پھر رفتہ رفتہ انہیں محسوس ہوا کہ دفترکے لوگ اب ان سے تنگ آتے جارہے ہیں، جیسے وہ دفتر جاکراُن کے کام میں مخل ہوتے ہیں تو انہوں نے دفترجانا چھوڑدیا۔ گھر کا زیادہ تر کام پرانی ملازمہ نسرین کردیتی تھی۔ صادق صاحب صبح اُٹھتے ، ناشتا کرتے، اخبار پڑھتے اور یوں ہی ٹی وی پر چینل بدلتے رہتے ایک آدھ چکر گلی کا لگا کر آجاتے اور پھر سہ پہر تک بستر پر کروٹیں بدلتے رہتے ۔ سہ پہر کو وہ گھر سے تھوڑی دور واقع پارک میں جاتے۔ وہ واک بہت کم کرتے تھے، بس ایک بنچ پر بیٹھ کر بچوںکو کھیلتے ہوئے اور باغ میں اُڑتے پرندوں کو دیکھتے ۔

    وہ اکثر سوچتے کہ کا ش وہ بھی بچے ہوتے اور بچوں کے ساتھ کھیلتے یا پھر پرندہ ہوتے اور ایک قطار میں اُڑا کرتے، لیکن وہ تو ایک تنہا اُداس بوڑھے تھے کہ جس سے سارا دن کوئی بات نہیں کرتا تھا۔ انہوں نے اپنی تنہائی کم کرنے کا یہ حل نکالا کہ اب وہ ہرشے سے باتیں کرنے لگے۔ مثلاً گھر کی دیواروں سے، برتنوں سے، کتابوں سے ،ٹی وی سے۔ غرض یہ کہ گھر کی ہر چیز سے باتیں کرنے لگے۔
    اُن کے ڈرائنگ روم کی دیوار میں دراڑ پڑتی جارہی تھی۔ وہ روز اس دیوار سے باتیں کرتے، اور اسے حوصلہ دیتے ہوئے کہتے:
    ’’پریشان نہیں ہونا! ٹوٹناہرگز نہیں۔ اِس دفعہ پنشن ملتے ہی میں مستری کو لائوں گا۔ تم بس خود کو مضبوطی سے تھامے رکھو۔‘‘
    اگر کبھی چائے کا کپ گندا پڑا رہ جاتا تو خود ہی بڑبڑاتے:
    ’’افوہ! آج نسرین نے تمہیں دھویا نہیں۔ کتنے میلے ہوگئے ہو، آئو میں تمہیں کچن میں چھوڑ آئوں،کل نسرین کو آتے ساتھ ہی کہوں گا کہ سب سے پہلے وہ تمہیں دھوئے۔‘‘ زندگی یونہی گزر رہی تھی کہ ایک دن بوڑھے صادق حسین کی زندگی میں خوش گوار تبدیلی آئی۔
    وہ ایسی ہی ایک اُداس شام کو اُسی پرانے بنچ پر بیٹھے تھے، جب ان کے ساتھ والے بنچ پر ایک تیس پینتیس سالہ ایک اُداس سی خاتون آکر بیٹھ گئی۔ صادق حسین کو اُن آنکھوں کو دیکھ کریوں لگا جیسے وہ اُداس آنکھیں اِن کی اپنی ہوں۔جیسے وہ خود کو دیکھ رہے ہوں کیوں کہ روز انہیں ایسی آنکھیں شیشے میں دکھائی دیتی تھیں۔
    ’’معلوم نہیں یہ خاتون کون ہیں اور یہ اتنی اداس کیوں ہیں۔ مجھے ضرور اِن سے پوچھنا چاہیے، لیکن نہیں۔‘‘ اور انہوں نے کچھ نہیں پوچھا۔ اُس ساری رات خواب میں وہ آنکھیں اُن کے سامنے آنسو بہاتی رہیں۔ وہ بار بار پریشان ہوکرجاگ جاتے کہ آخر یہ خواب کیا ہے اور وہ خاتون کون ہیں؟ اگلے دن وہ سہ پہر سے پہلے ہی پارک پہنچ گئے اور بے چینی سے اس خاتون کا انتظار کرنے لگے۔ وہ خاتون شام سے ذرا پہلے آئیں اور ان کے ساتھ ہی بنچ پر بیٹھ گئیں۔ صادق صاحب اس دن بھی یہی سوچتے رہے کہ آخر وہ کس طرح ان سے پوچھیں کہ وہ اتنی اُداس کیوں ہیں؟ لیکن اس دن بھی وہ ہمت نہ کرپائے۔
    ایک ہفتہ یونہی گزر گیا۔ اس دوران صادق صاحب نے درودیوار سے کوئی بات نہ کی۔ وہ انہیں حیرت سے تکتے کہ بوڑھے کو معلوم نہیں کیا ہوگیا ہے جواب ان سے بات تک نہیں کرتا۔ اس خاتون سے بات کرنے کی غرض سے کئی دنوں بعد انہوں نے تازہ شیو بنائی لیکن وہ اُس خاتون سے کچھ بھی نہ پوچھ سکے، مگر ہر رات خواب میں وہ اُسے دیکھتے۔ اُسے حوصلہ دیتے اور وہ خاتون صادق صاحب کو حوصلہ دیتیں۔
    صادق صاحب شعوری لحاظ سے عُمر کے بہت پختہ حصے میں تھے کہ جب زندگی انسان سے سب کچھ لے جاتی ہے اور انسان کے پاس سوائے تجربے کے کچھ نہیں رہتا۔ اُن کے پاس تجربہ تھا، شعور تھا۔ وہ جب اپنے اندر اِس تبدیلی کو دیکھتے تو اِس نتیجے پر پہنچتے کہ اُن کی اُس خاتون کے لیے انسیت ویسی ہی ہے جیسے شیشم کے اس درخت کی جو اسکول سے گھر جاتے ہوئے ان کے راستے میں آتا تھا۔تپتی دوپہر میں شیشم کے اس درخت کے نیچے انہیں عجیب سی انسیت محسوس ہوتی۔ اگرچہ اس درخت کے نیچے ان کا قیام بہت مختصر لیکن فرحت بخش ہوتا۔وہ اُس پیڑ کو گائوں تک ساتھ تو نہیں لے جاسکتے تھے ، مگر اُس تپتی دوپہر میں جو سایہ اُس پیڑ سے ملتا، وہ انہیں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتا تھا۔
    صادق حسین صاحب بھی اُس اداس آنکھوں والی خاتون کو گھر لے کر نہیں جانا چاہتے تھے۔ وہ اُسے حاصل نہیں کرنا چاہتے تھے۔ وہ تو صرف اس کا دکھ بانٹنا چاہتے تھے، اپنی تنہائی کا ساتھی چاہتے تھے۔ لیکن پھر یہ ہوا کہ ایک ہفتے بعد اُس خاتون نے پارک میں آنا چھوڑ دیا۔
    اِدھر صادق صاحب کا یہ حال کہ بے چارے دوپہر کو ہی بنچ پر آکر بیٹھ جاتے ، یہ سوچتے ہوئے کہ آج تو ضرور بات کروں گا، لیکن جب وہ خاتون لگاتار کئی دن تک وہاں نہ آئیں تو صادق صاحب بے حد پریشان ہوئے۔ شاید وہ خاتون پارک کا راستہ بھول گئیں تھیں۔ اب وہ خود کو دن رات کوستے کہ آخر انہوںنے اس خاتون سے اس کی پریشانی کی وجہ کیوں نہ پوچھی، شاید وہ ان کے کچھ کام آسکتے۔ وہ اپنی اِس کم ہمتی پر خود کو بہت برا بھلا کہتے۔ ایک ہفتے میں ہی ان کی شیو دوبارہ بڑھ گئی۔ درودیوار سے باتیں پھر سے معمول پر آنے لگیں۔ اب بھی وہ خاتون ان کے خواب میں آتیں اور رو رو کر کہتیں:
    ’’صادق صاحب! خدارا مجھے بچایئے، خدارا میری مدد کیجیے۔‘‘ اور صادق صاحب ہڑبڑا کر اُٹھ بیٹھتے اور سوچتے کاش کہ وہ اُس خاتون سے اُس کے بارے پوچھ ہی لیتے۔
    یہ خاتون کو غائب ہونے کے دس دن بعد کا واقعہ ہے۔ ایک شام صادق صاحب اپنے اُسی بنچ پر بیٹھے تھے کہ انہیں دور سے وہی خاتون آتی دکھائی دی۔ صادق صاحب کو پہلے تولگا کہ شاید اب وہ دن میں بھی خواب دیکھنے لگے ہیں، لیکن وہ خاتون اِدھر ہی چلتی آرہی تھیں۔ صادق صاحب نے چشمہ اتار کر صاف کیا، پھر لگایا اور تقریباً دوڑتے ہوئے اُس کی جانب بڑھے، لیکن قریب جاکر معلوم ہوا کہ یہ کوئی اور خاتون ہیں۔ اُس موقع پر انہیں اور تو کوئی بات نہ سوجھی کہا:
    ’’میں معذرت چاہتا ہوں، میری ایک عزیزہ گُم گئی ہیں۔ کیا آپ نے انہیں دیکھا ہے؟ یہی کوئی پینتیس سال عمر ہوگی۔ سیاہ دوپٹا اوڑھ رکھا تھا، رنگ گندمی اور آنکھیں بالکل میری آنکھوں جیسی تھیں۔‘‘خاتون قدرے گھبرائے ہوئے لہجے میں بولی:’’ نہیں انکل میں نے نہیں دیکھا۔‘‘
    ’’اوہ! اچھا شکریہ، میں تلاش کرتا ہوں، یہیں کہیں ہوں گی۔‘‘
    یہ پہلی بار تھا کہ انہوں نے اُس اُداس آنکھوں والی خاتون کے بارے میں کسی سے پوچھا تھا۔ اُس کے بعد یہ اُن کا معمول بن گیا۔ وہ روزانہ گیٹ نمبر ۲ سے پارک میں داخل ہوتے، لوگوں سے اُس خاتون کی نشانیاں بتا کر پوچھتے کہ شاید کسی نے انہیں کہیں دیکھا ہو۔ آہستہ آہستہ لوگوں کو معلوم ہوگیا کہ یہ بوڑھااُن سے کیا سوال کرے گا، تو وہ نظریں چرا کرتیزی سے گزر جاتے ۔ کئی لوگ بوڑھے صادق حسین کی آواز سنی ان سنی کردیتے۔ پارک میں آنے والے کچھ نوجوانوں کے ہاتھ یہ شغل آ گیا۔ وہ صادق حسین صاحب کے پاس آتے اورکہتے:
    ’’انکل! کیا آپ اُس خاتون کو ڈھونڈ رہے ہیں جنہوں نے سیاہ دوپٹا اوڑھ رکھا ہے۔ عمر پینتیس سال ہے اور اُن کی آنکھیں بالکل آپ کی آنکھوں جیسی ہیں؟ ‘‘اور وہ امید کے دیے آنکھوں میں جلائے جھٹ سے کہتے:
    ’’ہاں ہاں! بالکل، وہ میری عزیزہ ہیں۔ کیا تم نے کہیں دیکھی ہیں؟‘‘
    ’’جی بالکل! وہ گیٹ نمبر ایک پر آپ ہی کے بارے میں پوچھ رہی تھیں۔‘‘اور صادق حسین تیزی سے گیٹ نمبر ایک کی طرف جاتے اور پیچھے لڑکے تالیاں بجاتے اور قہقہے لگاتے۔ اگلے دن کوئی اور لڑکا یہی کہہ رہا ہوتا تھا اور صادق حسین صاحب ہر بار یقین کرلیتے۔
    صادق صاحب کی شیو اب بہت بڑھ چکی ہے۔ ڈرائنگ روم کی دیوار کی دراڑ بھی مزید پھیل گئی ہے۔ وہ دیوار حیرت سے بوڑھے کو دیکھتی ہے جو اب اُس سے بات نہیں کرتا۔ وہ اب ایک ایسی خاتون کو ڈھونڈتا ہے جو شاید کبھی تھی ہی نہیں۔

    ٭…٭…٭