آئیں مل کر سارے بچے
کام کریں اب اچھے اچھے
مل جل کر تم رہنا سیکھو
بن جاؤ تم سچے بچے
لڑنا اچھی بات نہیں ہے
لڑتے نہیں ہیں اچھے بچے
کہنا بڑوں کا ہر دم مانو
بن جاؤ گے اچھے بچے

تحریر:مدیحہ شاہد
”استنبول سے انقرہ تک ” (سفرنامہ)
کپاڈوکیہ کی پراسرار وادی
باب6
صبح سویرے ناشتا کرنے کے بعد ہم قونیہ سے کپاڈوکیہ کے لئے روانہ ہوئے۔ راستہ طویل تھا۔ راستے میں ہم کچھ دیر کے لئے ایک جگہ رکے، وہاں کچھ دکانیں تھیں جہاں مختلف چیزوں کے ساتھ ہوا میں اڑنے والے غبارے کے ماڈلز اور کھلونے رکھے تھے ۔ hot air Balloon کپاڈوکیہ کا souvenir سمجھا جاتا تھا۔ میں نے اپنے بچوں اور بھانجے بھانجیوں کے لئے ہوا میں اڑنے والے رنگین غبارے خریدے اور کچھ دوستوں اور رشتہ داروں کے لئے تحائف ہے۔ کائونٹر پر بِل پے کرنے آئے تو دکاندار نے ہمیں پرنسس (شہزادی) کہہ کر مخاطب کیا۔ہم اس طرزِ تخاطب پر حیران ہوکر چونکے۔
شاید یہاں لوگ میڈیم ، مادام کہنے کے بجائے خواتین کو پرنسس کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔ فیری ٹیل جیسی وادی میں فیری ٹیلز جیسے انداز تھے۔
ہم نے خشک پھلوں کی چائے اور چائے کا خوبصورت مگ بھی خریدا جس پر ترکی کا جھنڈا بنا ہوا تھا۔
وہاں اک دکان پر افغانی لڑکا بھی تھا جو اردو بولنا جانتا تھا وہ پاکستانیوں کو دیکھ کر بہت خوش ہوا اور اس خوشی میں اس نے اردو میں ہی بات کی۔ اسے فخریہ انداز میں پاکستانیوں کے ساتھ اردو میں بات کرتے ہوئے دیکھ کر ہم نے سوچا کہ غیر ملکیوں کے لئے اردو بولنا باعث فخر ہوتا ہے۔ نہ جانے وہ کون سی جگہ تھی جو قونیہ اور کپاڈوکیہ کے راستے میں آتی تھی، وہ ایک خوبصورت مقام تھا۔ پُرسکون پر فضا اور دلکش ، کپاڈوکیہ چائے والے سیاح کچھ دیر کے لئے اس خوبصورت مقام پر رکتے تھے ۔ ہم نے وہاں سے شاپنگ کرنے کے ساتھ ساتھ کھانے پینے کی چیزیں بھی لیں۔
کچھ دیر بعد ہم وہاں سے روانہ ہوئے، راستہ طویل تھا۔ ہم نے راستے میں چپس اور چاکلیٹ کھاتے ہوئے سفر طے کیا۔
کپاڈوکیہ کی وادی میں ڈرائیونگ کرنا مہارت کا کام تھا، ڈھلوانی سڑکیں اور پر پیچ راستے تھے دشوار گزار موڑ تھے۔ کپاڈوکیہ ترکی کے بے نیو شہر میں واقع ہے۔ کپاڈوکیہ کی تاریخ صدیوں پرانی ہے۔ گیارہویں صدی میں اس شہر پر ترکوں نے قبضہ کیا تھا۔ کپاڈوکیہ عجیب و غریب ہیت والے پراسرار پہاڑوں کی انوکھی وادی ہے جسے دیکھنے لوگ دور دور سے آتے ہیں۔ کیا جاتا ہے کہ یہاں صدیوں پہلے ایک آتش فشاں پھٹا تھا، جس کے نتیجے میں یہاں سے نکلنے والے لاوے اور راکھ نے جگہ جگہ مختلف چٹانوں کی شکل اختیار کرلی، پھر اس میں ملنے والے بارش کے پانی اور گارلے سے ان چٹانوں نے منفرد شکل اپنالی۔ کچھ چٹانوں کو دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے انہوں نے ٹوپی پہنی ہوتی ہو، کچھ تکونی چٹانیں ہیں اور کچھ کسی اور انداز کی۔ یہ جگہ عام نظروں سے بے حد دور واقع تھی۔ اس لئے لوگ دشمنوں سے چھپنے کے لئے اس وادی میں روپوش ہوجایا کرتے تھے۔ ان چٹانوں کو تراش کر ایک شہر بھی تعمیر کیا گیا تھا۔ ان پہاڑوں میں غار بھی بنے ہیں۔ ان پراسرار پہاڑوں اور انوکھی وادی کو دیکھنے والے لوگ کچھ دیر کے لئے حیرت زدہ رہ جاتے ہیں۔ 1985ء میں کپاڈوکیہ کو UNESCO کی عالمی ثقافت ورثے کی فہرست میں بھی شامل کرلیا گیا۔
یہاں چٹانوں کو fairy chimneys بھی کہا جاتاہے۔
کہا جاتا ہے کہ عیسائیت کے ابتدائی دور میں لوگ یہاں آئے تھے۔
کپاڈوکیہ میں وسیع وادیاں ہیں اس لئے یہاں لوگوں کو بہت چلنا پڑتا ہے۔
کپاڈوکیہ میں بھی لوگ ہوا میں اڑنے والے غبارے کی سیر کرتے ہیں۔ اور اس انوکھی اور پراسرار وادی کی دلکشی میں عجیب طرح کی کشش ہے۔
ہم دوپہر کو کپاڈوکیہ پہنچے۔
بس انوکھی وادی میں رُکی۔ ہم بس سے اترے، وہ عجیب و غریب ہیت کے حامل پہاڑوں کی پراسرار وادی تھی۔ دور تلک پراسرار پہاڑوں کا سلسلہ نظر آرہا تھا۔ قدرت کے ایسے انوکھے نظارے تھے کہ عقل دنگ رہ جاتی۔ آسمان بادلوں سے بھرا ہوا تھا۔ پراسرار پہاڑوںکی وادی میں جابجا سبزہ اور درخت بھی نظر آرہے تھے۔ ہم کچھ دیر سڑک کے کنارے کھڑے حیرت کے عالم میں اس وادی کے انوکھے نظارے دیکھتے رہے۔ پہاڑوں پر دھوپ کی سنہری کرنیں چمک رہی تھیں۔
”یہ ہے کپاڈوکیہ………عجیب و غریب پہاڑوں کی پراسرار بستی، بس کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ صدیوں پہلے یہاں اک آتش فشاں پھٹا تھا۔ جس کے بعد یہاں اس وادی کی formation ہوئی۔ ”
سرخان نے اپنے مخصوص انداز میں بتایا۔
یہاں آکر انسان کو یوں لگتا ہے جیسے وہ کسی انوکھے دیس میں چلا آیا ہو۔ یہ الف لیلیٰ کی کہانیوں جیسی پراسرار بستی معلوم ہوتی تھی۔
ہم حیرت سے اردگر د کے نظارے دیکھتے ہوئے وہاں سے پیدل چلتے ہوئے آگے آئے۔ ایک جگہ مختلف رنگوں کے جھنڈے لگے تھے۔ یہ جگہ شایدکوئی Mounment تھی۔ ہم کچھ دیر وہاں بیٹھ گئے اور یادگار گروپ فوٹو بنوایا۔ یہاں موسم خنک تھا۔ ہم نے موٹے کپڑے پہنے تھے اور سوئیٹر بھی ساتھ رکھا تھا۔ ترکی کے مختلف شہروں کا موسم بھی مختلف ہے۔ یہاں بہت سے سیاح آئے ہوئے تھے اور اس وادی کو دیکھتے ہوئے حیرت زدہ تھے۔
آپ جب بھی کپاڈوکیہ آئیں تو بہت اچھا سا ناشتہ کرکے آئیں کیونکہ اس وادی میں لوگوں کو بہت پیدل چلنا پڑتا ہے۔ پہاڑ، چٹانیں، سیڑھیاں ، میدان، یہاں لوگوں کو بہت واک کرنی پڑتی ہے۔
اکثر لوگ راستے میں ہی کسی جگہ بیٹھ جاتے ہیں۔ یہاں جگہ جگہ ہوٹل، ریسٹورنٹ ، دکانیں اور کیفے بھی موجود ہیں۔
ہم وادی میں چلتے ہوئے نظارے دیکھتے رہے، پھر ہم دوپہر کے کھانے کے لئے ایک ریسٹورنٹ میں چلے آئے جو ڈھلوان کی طرف واقع تھا۔ ہم گلی نما ڈھلوانی سڑک پر چلتے ہوئے جارہے تھے کہ راستے میں کیمرہ تھامے اک نوجوان نظر آیا۔ اس نے ہم سے کہا کہ ہم اس سے تصویریں بنوالیں۔ کچھ دیر بعد وہ تصویریں ہمیں نئے اور منفرد انداز میں ایک پلیٹ پر پرنٹ کرکے دے گا اور یہ کپاڈوکیہ کی اک یادگار ہوگی۔ ہمیں یہ انوکھا انداز اچھا لگا اور ہم نے خوشی خوشی تصویریں بنوالیں پھر اک غار نما عمارت میں چلے آئے جس کا نام بندالی ریسٹورنٹ تھا۔
کپاڈوکیہ کے غار ہوٹل دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ جنہیں cave hotel بھی کہا جاتا ہے۔ وہاں کا منفرد آرکیٹیکچراور انٹریئر سیاحوں کی کشش کا باعث ہے۔ لوگوں کو انفرادیت میں کشش محسوس ہوتی ہے۔ اور وہ منفرد چیزوں کی طرف اٹریکٹ ہوتے ہیں۔ خوبصورتی کو سب ہی لوگ پسند کرتے ہیں۔ مگر انفرادیت میں اک خاص طرح کی دلکشی ہوتی ہے۔
ہم ریسٹورنٹ میں داخل ہوئے تو وہاں اک وسیع ہال تھا۔ جہاں میز کرسیاں ترتیب سے لگی تھیں اور ویٹر متحرک تھے۔ اندرونی دیواریں بھی غار جیسی تھیں۔ کونے میں موجود میزوں پر انواع و اقسام کے کھانوں کا بوفے لگا ہو اتھا۔ رش کی وجہ سے ہم لوگ قطار میں کھڑے رہے اور باری باری پلیٹ میں کھانا ڈال کر اپنی سیٹ پر آکر بیٹھ گئے۔ نئے ذائقے اور نئے پکوان تھے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ ہم کسی غار میں بیٹھ کر کھانا کھارہے ہیں اور اس کا اپنا ہی لطف تھا۔
کھانے کے بعد ہم ریسٹورنٹ سے باہر آئے تو سامنے چائے والا نظر آیا جو پھرتی سے شیشے کے چھوٹے گلاسوں میں چائے ڈال رہا تھا۔ یہاں چائے مگ کے بجائے چھوٹے گلاس میں پینے کا رواج تھا۔
موسم خنک تھا ، ہم نے سوچا کہ چائے پی لی جائے۔ ہم چائے والے کے قریب چلے آئے۔
”دوکپ چائے بنادیں۔ یہ چائے ہے یا قہوہ ہے؟”
ہم نے خوشدلی سے انگریزی زبان میں کہا۔
”چائے ہے میں جانتا ہوں کہ پاکستانی چائے سے بہت محبت کرتے ہیں۔ آپ لوگ پاکستان جاکر کپاڈوکیہ کی چائے کو بہت یاد کریں گے۔”
وہ اپنے کام میں مصروف مسکراتے ہوئے بولا۔
”لگتا ہے کہ آپ نے یہ دکان پاکستانیوں کے لئے ہی کھولی ہے؟”
ہم نے بے ساختہ کہا۔
وہ اس بات پر ہنسا۔
”یہاں دنیا بھر سے سیاح آتے ہیں مگر پاکستانیوں کی بات اور ہے۔ وہ زندہ دل ہوتے ہیں کھانے پینے اور شاپنگ کرنے کے شوقین ہوتے ہیں۔ بہت پیسے خرچ کرتے ہیں اور بے حد خوش اخلاق ہوتے ہیں ان کے ساتھ بات کرتے ہوئے ہمیں بھی تھوڑی بہت اردو آگئی ہے ۔ ان کے رویے میں محبت اپنائیت اور گرم جوشی ہوتی ہے۔ ان کی حِس مزاح کمال کی ہوتی ہے۔ ہنستے اور ہنساتے رہتے ہیں۔ کسی بات کا برا نہیں مانتے۔”
وہ مسکراتے ہوئے بولا۔
دور تک پہاڑوں کا سلسلہ نظر آرہا تھا۔ انوکھی وادی کی سیر میں اک انوکھا پن تھا۔ ہمیں اس کی بات سن کر خوشی ہوئی۔
”پاکستانی لوگون کی عادتوں سے آپ بخوبی واقف ہیں۔ آپ کے پاس تو مختلف ملکوں اور قوموں کے لوگ آتے ہیں۔ ایسے میں پاکستانی لوگوں کو پہچاننا، پرکھنا اور ان کی خوبیوں کو دریافت کرنا حیرت انگیز ہے۔”
یسریٰ نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
”آپ مجھے یہ بتائیں آخر پاکستانی چائے پینے کے اتنے شوقین کیوں ہوتے ہیں۔ یہ سوال میں اکثر لوگوں سے پوچھتا ہوں۔میں چونکہ چائے بنانے کے بزنس سے منسلک ہوں اس لئے اس حوالے سے اکثر و بیشتر ریسرچ اور سروے کرتا رہتا ہوں۔” اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔
”چائے کے حوالے سے ہر شخص کی ایک کہانی ہے ۔ مجھے کبھی چائے پینے کی عادت نہیں تھی۔ ہمارے گھر میں ایک ہی بندہ چائے پیتا تھا اور وہ میری امی تھیں۔ کبھی کبھار ہم اس وقت چائے پیتے جب ہمیں امتحان کی تیاری کے لئے رات کو جاگناپڑتا۔ جب میری شادی ہوئی تو میں بالکل چائے نہیں پیتی تھی مگر پھر گھر میں اکثر مہمان آتے تھے۔ چائے بنتی تھی۔ میں کسی کے گھر جاتی توچائے سے سجی ٹرالی کو نظر انداز کرنا مشکل ہوتا اور میزبانوں کو انکار کرنا اچھا نا لگتا۔ پھر میرے میاں ہر چار گھنٹے بعد گرما گرم چائے پینے کے عادی تھے اور ہر وقت ہاتھ میں دھواں اڑاتا بڑا سامگ تھامے رکھتے۔ چائے سے محبت کرنے والوں کے درمیان رہتے ہوئے وقت کے ساتھ مجھے بھی چائے پینے کی عادت ہوگئی۔ جس چیز میں محبت شامل ہوجائے تو اسے چھوڑنا مشکل ہوتاہے۔ ”
میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔ مجھے چائے والے کا سوال دلچسپ لگا تھا۔
”واقعی ، ہر شخص کی زندگی میں اک چائے کہانی ضرور ہوتی ہے۔ میں بھی چائے نہیں پیتی تھی مگر گھر میں ہر وقت چائے بنتی تھی۔ تو یونیورسٹی میں میری سہیلیوں کو چائے پینے کی عادت تھی۔ دوستوں کی محبت کااثر ہوتا ہے اور انسان دوستوں کے رنگ میں رنگ جاتا ہے۔
رفتہ رفتہ مجھے بھی چائے سے محبت ہوگئی اور محبت عادت میں بدل گئی۔ اب اس ٹرکش چائے کو بھی ہم بہت یاد کریں گے۔ یہاں خشک پھلوں کی چائے کا رواج عام ہے ۔ جو صحت کے لئے بھی مفید ہوتی ہے۔ سیب اور انار کی چائے عالم استعمال ہوتی ہے۔”
یسریٰ نے بے ساختہ کہا۔
چائے والا چائے تیار کرچکا تھا۔
”یہ لیجئے مادام، ترکی کی روایتی چائے، کپاڈوکیہ، غار اور چائے……. انوکھی وادی کا انوکھا لطف۔”
اس نے چائے سے بھرے شیشے کے گلاس ہماری طرف بڑھاتے ہوئے خوشدلی سے کہا۔
”شکریہ۔”
ہم نے رقم ادا کرکے چائے کے گلاس تھامے اور باہر آگئے۔ سنہری دھوپ نے پوری وادی کو جگمگارکھا تھا۔ سنہری دھوپ اور چائے، خانہ بدوشوں کو بھلا اور کیا چاہیے۔
”چائے کہاں سے لی؟”
طاہرہ مظہر نے فوراً پوچھا۔
”وہاں سے۔”
ہم نے اشارہ کرکے بتایا۔
یہ سنتے ہی پاکستانی چائے کے دیوانے ہوگئے۔ کچھ موسم کا تقاضا تھا کچھ پاکستانیوں کی چائے سے محبت تھی کہ لوگ جوق در جوق چائے بنوانے لگے۔ چائے والا اتنی رونق دیکھ کر اور اپنی چائے کی اتنی اہمیت دیکھ کر خوش ہوگیا۔
چائے پینے کے بعد ہم واپس جانے لگے تو فوٹوگرافر نوجوان نے ہمیں ہماری تصویریں ایک شیلڈ نما پلیٹ پر چسپاں کرکے دیں۔ یہ بے حد منفرد انداز تھا۔ یہ تصویریں کسی sovenierکی طرح تھیں اور کپاڈوکیہ کی خصوصیت تھیں۔
ہم حیرت اور خوشی سے وہ خوبصورت پلیٹ ہاتھ میں لئے دیکھتے رہے جس پر ہماری تصویر کے ساتھ کپاڈوکیہ کا نام لکھا ہوا تھا۔ اس کے ساتھ ایک اسٹینڈ بھی تھا۔ چاہیں تو اس تصویر کو کسی ایک میز یا شیلف پر سجاد یں، چاہیں تو دیوار پر لگادیں۔
کچھ عرصہ قبل ہم مری گئے تھے وہاں چیئر لفٹ پر بیٹھے تھے تو سینچے دیکھا اک شخص جنگل میں کھڑا پھرتی سے لوگوں کی تصویریں بنارہا تھا اور اشارے کرکے کہہ رہا تھا کہ ان تصویروں کا پرنٹ کچھ دیر بعد ملے گا۔ ہم رائونڈ پورا کرکے چیئر لفٹ سے اُترے تو اس نے ہمیں تصویریں دیں مگر وہ عام اور سادہ تصاویر تھیں۔ ہمارے ہاں بھی سیاحتی مقامات پر کپاڈوکیہ جیسی تصاویر بنائی جاسکتی ہیں۔ یہاں آرٹ میں جدت اور انفرادیت تھی۔ فن اور ہنر کی انفرادیت کے کمال میں تخیل اور شعور کا عمل دخل ہوتا ہے۔ آرٹ کی دنیا وسیع ہے۔ ترکوں کے پاس بے مثال آرٹ ہے اور آرٹ کو کاروبار میں ضم کرنے کی سمجھ بوجھ بھی ہے۔ یہاں کے لوگ کاروبار کے اسرار و رموز سے بخوبی واقف تھے۔ اگر ہمارے ہاں بھی سیاحتی مقامات پر فوٹوگرافی کے ایسے کاروبار ہوں تو Small Industries کو فروغ ملے گا۔
ہم تصویر والی خوبصورت پلیٹ

تحریر:مدیحہ شاہد
”استنبول سے انقرہ تک ” (سفرنامہ)
قونیہ ، تصوف کا شہر
باب5
صبح سویرے ناشتا کرنے کے بعد ہم پاموکلے سے قونیہ کی طرف روانہ ہوئے ۔ راستے میں سب لوگوں نے عائشہ کو سالگرہ کی مبارکباد دی اور اس خوشی میں یاسمین مشتاق نے بس میں ہی عائشہ کو چھوٹا سا پیسٹری نما کیک بھی کھلایا۔ ہم بس میں یہ خوشیاں مناتے ہوئے قونیہ کی جانب سفر کرتے رہے۔
قونیہ ایک تاریخی شہر ہے۔ 1420ء میں قونیہ کو عثمانیوں نے فتح کیا تھا اور بعد میں اسے صوبہ قرہ سان کا دارالحکومت بنادیا گیا تھا۔ قونیہ اناطولیہ کے وسط میں واقع ہے۔ یہ صوبہ قونیہ کا دارالحکومت ہے۔ جو رقبے کے لحاظ سے ترکی کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ یہ بے حد خوبصورت شہر ہے۔
مولانا رومی اس شہر کو iconium کہا کرتے تھے۔ انہوں نے فرمایا تھا کہ قونیہ شہر میں ولی پیدا ہوتے رہیں گے اور اس شہر کو مدینة الاولیاء کا لقب دے دیا تھا۔
بس راستے میں ایک جگہ رکی اور ہم لوگ بس سے اترے دور پہاڑ نظر آرہے تھے، ذرا فاصلے پر سرسبز درخت بھی تھے۔ وہاں چند دکانیں تھیں اور باہر گاڑیاں بھی کھڑی تھیں، وہاں لوگوں کی آمدورفت تھی۔ یہاں بھی چینی سیاح نظر آئے۔ لگتا ہے کہ چینی لوگوں کو سیاحت کا بے حد شوق ہے۔ ہمارے پاکستان میں بھی اکثر و بیشتر چینی نظر آتے رہتے ہیں۔
ہم لوگوں نے دکانوں سے کچھ چیزیں خریدیں۔ وہاں ایک چھوٹی سی دکان تھی۔ شیشے کی کھڑکیوں کے ساتھ مختلف رنگوں کے اسکارف لٹکے ہوئے تھے۔ دکان کے باہر ایک اسٹینڈ پر باریک اور نازک جیولری سجی ہوئی تھی۔
ایک دکان میں پرانے زمانے کی روایتی ٹوپیاں رکھی تھیں جن کے دونوں اطراف دوپٹے کی طرح کپڑا کندھوں پر گرتا تھا۔ پرانے زمانے میں ترک خواتین ایسی ٹوپیاں پہنتی تھیں۔
سب لوگوں نے دکان سے وہ ٹوپیاں اٹھا کر پہنیں اور تصاویر بنوائیں۔
ترک دکاندار بھی پاکستانی خواتین کی زندہ دلی پر حیران ہوئے۔
ہم نے کچھ کھانے پینے کی چیزیں اور آئس کریم خریدی۔
قونیہ پاموکلے سے قونیہ کافی فاصلے پر تھا۔ ہم نے باتیں کرتے ہوتے خوبصورت نظارے دیکھتے ہوئے اور آئس کریم کھاتے ہوئے یہ سفر طے کیا۔
ہم دوپہر کو قونیہ پہنچے ۔ بس سے اتر کر ہم لنچ کرنے کے لئے ایک ریسٹورنٹ میں آگئے۔ کھانے میں پیزا نما نان تھے۔ یہ بھی ترکی کی مشہور ڈش تھی۔ ساتھ سلاد اور لسی تھی۔ ایک طشتری سے کھانا کھایا ۔ کھانا بچا تو ہم نے ویٹر سے کہہ کر کھانا پیک کروالیا۔
حسنہ عباسی نے تجویز دی۔
”یہاں بہت سے شامی مہاجر بچے ہوتے ہیں۔ یہ کھانا ہم ان کو دے دیں گے۔ وہ خوش ہوجائیں گے اور یوں ان کی مدد بھی ہوجائے گی۔”
اس تجویز سے سب نے اتفاق کیا۔
کھانے کے بعد ہم باہر آئے تو وہاں قریب ہی ایک وسیع مگر خوبصورت احاطہ تھا۔ پکے فرش پر مختلف جگہوں پر چھوٹے چھوٹے سبزہ زار بنے ہوئے تھے اور لوگوں کے بیٹھنے کے لئے بنچ بھی موجود تھے۔ وہ ایک پرسکون جگہ تھی مگر وہاں رونق بھی تھی۔ کچھ لوگ بنچ پر بیٹھے تھے اور کچھ لوگ چل پھر رہے تھے۔ وہاں ہمیں کچھ شامی مہاجر بچے بھی مل گئے۔ ہم نے پیک کیا ہوا کھانا انہیں دے دیا تو وہ بہت خوش ہوئے۔
ایک بھورے بالوں اور سیاہ لباس والی بچی ہمارے قریب چلی آئی۔ اس نے اپنا تعارف Syrian(شامی) کہہ کر کروایا۔ اس کی آنکھوں میں اداسی اور چہرے پر حزن اور تھکن تھی۔ پہلے تو ہمیں سمجھ نہ آیا کہ وہ کیا کہہ رہی ہے پھر غور سے سننے پر سمجھ آئی کہ وہ لفظ Syrian (شام سے تعلق رکھنے والے) بول رہی ہے۔ اس کے بولنے کا تلفظ اور انداز مختلف تھا۔ اس ایک لفظ Syrian میں اک داستان پنہاں تھی۔ یہ لفظ اک اداس تعارف تھا، اس بچی کا سنبھال کررکھا ہوا فخر تھا۔ اس کی پہچان اور شناخت تھا۔ اس کا اثاثہ تھا۔ وہ ترکی میں تھی مگر آج بھی Syrian تھی۔ غریب الوطنی کا دکھ اس کے چہرے پر لکھا تھا اور اس کی آواز سے عیاں تھا۔ وہاں ایک اور بچہ بھی تھا۔ پرانی سی جینز اور جامنی شرٹ پہنے ہوئے سیاحوں کو دیکھ رہا تھا۔ ان بچوں نے بچپن ہی میں غریب الوطنی کے دکھ دیکھ لئے تھے۔ یہ ترکوں کی اعلیٰ ظرفی تھی کہ انہوں نے شامی مہاجرین کو پناہ دی۔ یہ مہاجر بچے مہاجر کیمپ میں رہتے تھے اور ان کو سیاحوں کی رونق دیکھنے اس احاطے میں آجایا کرتے تھے۔ بہت سے لوگ خوشی خوشی ان مہاجرین کی مدد کردیا کرتے ہیں۔
احاطے میں ایک جگہ Konya لکھا ہوا تھا۔ اس کے نیچے یہ عبارت تحریر تھی (City of hearts) (دلوں کا شہر) وہ بے حد خوبصورت جگہ تھی۔ ہم نے وہاں گروپ فوٹو بنوایا اور وہاں سے آگے کی طرف چلے۔
پھر ہم مولانا رومی کے مزار کی طرف چلے آئے۔ مولانا رومی بہت بڑے عالم ، بزرگ، صوفی ، شاعر، مفکر ، استاد اور بے حد اہم شخصیت کے حامل تھے۔
مولانا جلال الدین رومی کا نام محمد، لقب جلال الدین اور عرنیت مولانا رومی ہے۔ ان کے اسلاف کا تعلق بلخ سے تھا جو اب افغانستان میں واقع ہے۔ مولانا رومی 1207 ء میں بلخ میں پیدا ہوئے۔ ان کے دادا حسین بن احمد خطیبی عالم فاضل شخص تھے، ان کے والد مولانا بہائو الدین بھی عالم تھے۔
یہ وہ دور تھا جب اسلام کی سرحدیں شمالی افریقہ تک تھیں اور مسلمان یورپ کے دروازے پر دستک دے رہے تھے۔برصغیرپاک و ہند میں شہاب الدین غوری کی اسلامی حکومت تھی۔ اسلام کے ثقافتی اثرات دنیا میں پھیل رہے تھے مگر اس دور میں اسلام دشمن لوگوں نے فتنے فساد فوجیں یلغار کررہی تھیں اور مشرق کی طرف سے تاتاری سیلاب امڈ رہا تھا مگر امت مسلمہ پر یہ اللہ تعالیٰ کا خاص کرم تھا کہ اللہ نے مسلمانوں کو مولانا جلال الدین رومی جیسے صاحب علم اور صاحب کشف شخص عطاء کئے جنہوں نے اصلاح و تربیت کا کٹھن کام اس خوبی سے سرانجام دیا کہ اللہ کے فضل و کرم سے اس صدی کے آخری حصے میں اسلام کے دشمن اسلام کے نام ہوا بن گئے۔
تاتاری حکمران برکا خان نے اسلام قبول کرلیا اور انہی منگولوں نے اسلام کی گراں قدر خدمات سرانجام دی جو کبھی اسلام کے دشمن ہوا کرتے تھے۔
مولانا جلال الدین رومی کے والد مولانا بہائو الدین محمد امام غزالی سے بہت متاثر تھے۔ مولانا رومی نے جب ہوش سنبھالا تو ان کے گھر میں امام غزالی کی تعلیمات کا بہت چرچا تھا۔ یہ ایک علم دوست گھرانہ تھا جس پر صوفیانہ رنگ کے اثرات تھے۔ یہ وہ دور تھا جب بچوں کو قرآن کریم اور حدیث کا مطالعہ کروایا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ حساب ، منطق، سیاسیات اور فلسفے کی تعلیم بھی دی جاتی تھی۔ مولانا رومی کے والد نے ان کی تعلیم و تربیت پر بھرپور توجہ دی اور اسی لئے انہوں نے سید برہان الدین کومولانا رومی کا اطالیق مقرر کیا جو کہ بے حد قابل استاد تھے۔
کچھ عرصہ بعد مولانا بہائو الدین اپنے اہل خانہ کے ساتھ بلخ سے روانہ ہوگئے اور راستے میں آئے جس بھی شہر سے گزرتے تو ان لوگوں کا پرجوش خیر مقدم ہوتا نیشا پور پہنچے تو ان کی ملاقات مشہور بزرگ شاعر خواجہ فرید الدین عطار سے ہوئی۔
خواجہ صاحب نے ننھے جلال الدین کو دیکھا تو ان کے والد سے کہا کہ اس جوہر قابل سے غافل نہ ہونا، یہ کہہ کر انہوں نے اپنی کتاب اسرار نامہ ننھے رومی کو دی جسے مولانا رومی نے ساری عمر عزیز رکھا۔
پھر مولانا رومی کے والد اپنے اہل خانہ کو لے کر بغداد پہنچے اور وہاں سے مکہ مکرمہ حج کرنے کے لئے چلے آئے۔ اس کے بعد یہ خاندان دمشق اور پھر زنجان چلا آیا، پھر انہوں نے ملاکیہ کا رخ کیا۔ کچھ عرصہ بعد وہ لارندہ چلے گئے اور کچھ سال وہیں رہے۔مولانا رومی کی شادی شرف الدین کی بیٹی گوہر خاتون سے کردی گئی۔ اس وقت مولانا کی عمر سترہ یا اٹھارہ برس تھی۔ مولانا کے دو بیٹے رشید سلطان اور علائوالدین لارندہ ہی پیدا ہوئے ۔ اس دور میں چنگیز خان نے ثرقند غارا نیشاپور بلخ اور دیگر علاقوں میں تباہی مچادی تھی۔ اس لئے لوگ ان متاثرہ علاقوں سے ہجرت کرکے قونیہ کا رخ کررہے تھے۔
مولانا بہا ئو الدین بھی اپنے اہل خانہ کے ساتھ قونیہ چلے آئے مگر کچھ عرصے بعد مولانا بہائو الدین کا انتقال ہوگیا، یہ خبر سن کر سید برہان الدین ترمز سے توشیہ چلے آئے۔ انہوں نے اپنے شاگرد مولانا رومی کو گلے لگایا اور انہیں یہ جان کر بے حد خوشی ہوئی کہ ان کے شاگرد نے تمام علوم میں کمال مہارت حاصل کرلی ہے مگر مولانا رومی اب بھی علم کے حصول کے متلاشی تھے اسی مقصد کے تحت وہ شام چلے آئے، اس زمانے میں دمشق بہت اہم تعلیمی مرکز تھا، مزید علم حاصل کرنے کے بعد آپ واپس قونیہ چلے آئے اور پھر وہیں رہے۔
امیر بدر الدین نے قونیہ میں ایک بڑا مدرسہ قائم کیا تھا، مولانا رومی نے وہیں قیام کیا۔ مولانا رومی نے قونیہ میں درس و تدریس کی ذمہ داری سنبھال لی اور ان کے اکثر ساتھی بھی قونیہ آگئے تھے اس طرح قونیہ علمائے کرام کا اہم مرکز بن گیا۔مولانا رومی کے مدرسے میں چار سو سے زائد طلبا ء تھے۔ مولانا رومی اپنے مدرسے کے علاوہ دیگر مدارس میں بھی درس دیا کرتے تھے۔ پھر مولانا کی ملاقات ایک ایسی اہم شخصیت سے ہوئی۔ جس نے مولانا کے افکار پر بہت گہرے اثرات مرتب کئے بلکہ اس شخصیت کے روحانی تاثر نے مولانا رومی کے دل کی کیفیت یکسر بدل دی۔ یہ شخصیت ایک بہت بڑے بزرگ اور صوفی حضرت شاہ شمس تبریز کی تھی۔ مولانا رومی حضرت شاہ شمس تبریز کے مرید ہوگئے۔ اس حوالے سے ایک واقعہ بے حد مشہور ہے کہ ایک دن مولانا رومی حوص کے کنارے اپنے شاگردوں کو درس دے رہے تھے اور قریب ہی کچھ کتابیں پڑی تھیں، حضرت شاہ شمس تبریز وہاں تشریف لائے اور انہوں نے مولانا رومی سے پوچھا کہ (ای چی است؟) (یہ کیا ہے؟)مولانا رومی نے جواب دیا تو نامی دانم (تم نہیں جانتے کہ یہ کیا ہے) مولانا رومی کو اس وقت معلوم نہ تھا کہ سامنے کھڑا شخص کوئی جید بزرگ اور علم ہیں۔ حضرت شاہ شمس تبریز نے وہ ساری کتابیں حوض میں ڈال دیں، اس پر مولانا رومی لبرہم ہوگئے اور کہا کہ یہ تم نے کیا کردیا ہے۔ حضرت شمس تبریز نے حوص سے وہ کتابیں نکال کر مولانا رومی کو دیں تو وہ کتابیں خشک تھیں۔ مولانا رومی حیران رہ گئے، انہوں نے بے ساختہ پوچھا ای چی است؟ (یہ کیا ہے؟) تو حضرت شاہ شمس تبریز نے جواب دیا تو نامی دانم (یہ وہ ہے جو تم نہیں جانتے) اس کے بعد مولانا رومی حضرت شاہ شمس تبریز کے مرید ہوگئے اور انہوں نے حضرت شاہ شمس تبریز کو اپنا شیخ مان لیا۔
ایک بے حد خوبصورت شعرہے:
مولانا ہرگز نہ شد مولائے روم
تا غلامِ شمس تبریز ناشہ

تحریر:مدیحہ شاہد
”استنبول سے انقرہ تک ” (سفرنامہ)
پاموکلے کی حیرت انگیز خوبصورتی
باب4
صبح سویرے ہم ناشتہ کرنے کے بعد برصا سے پاموکلے کے لئے روانہ ہوئے۔
پاموکلے ایک بے حد خوبصورت قصبہ نما گائوں ہے۔ جو ترکی کے صوبہ Denizilliمیں واقع ہے۔ یہاں cotton castleیعنی روئی کا قلعہ بھی موجود ہے جو دنیا بھر میں اپنی حیرت انگیز خوبصورتی کی وجہ سے مشہور ہے یہاں گرم پانی کے چشمے بہتے ہیں اور کیلشیم کاربونیٹ کے معدنی ذخائر کی وجہ سے یہاں کے فرش سفید رنگ کے ہیں۔ یہ ترکی کا مشہور سیاحتی مقام ہے سفید پہاڑوں کی یہ وادی سیاحوں کے لئے بے حد کشش رکھتی ہے۔ ہم بس کی کھڑکی کے پار نظر آتے نظارے دیکھ رہے تھے سڑک کے اطراف سرسبز کھیت تھے۔ ترکی کے گائوں اور دیہات بھی بے حد خوبصورت ہیں ہماری اگلی سیٹ پر خالدہ آنٹی اور یاسمین مشتاق براجمان تھیں، ساتھ والی سیٹ پر رضیہ آنٹی اور طاہرہ مظہر بیٹھی تھیں۔ ہماری پچھلی سیٹ پر نیئر اور شاہینہ بیٹھی تھیں اور ان کے ساتھ والی سیٹ پر فضہ اور طلعت تھیں۔ سفر کے دوران ہم باتیں کرتے رہے۔
یسریٰ نے اپنی پھپھو رضیہ صدیق کے بارے میں بتایا۔
”یہ میری پھپھو رضیہ صدیق ہیں اور یہ بڑی ہنر مند اور سلیقہ مند خاتون ہیں۔ انہیں بہت کچھ آتا ہے۔ ہمارے خاندان میں جتنی بھی تقریبات اور شادیاں ہوتی ہیں، ان سب کے لئے پھپھو ہی سب کے کپڑے ڈیزائن کرتی ہیں اور سب لوگ شاپنگ کے لئے انہیں ساتھ لے کر جاتے ہیں۔
یہ بہت باکمال ڈیزائنر ہیں اور ہر معاملے میں پھپھو سے مشورہ لیا جاتا ہے اور ان کی رائے کو اہمیت دی جاتی ہے۔ اس سے پہلے میں رضیہ پھپھو کے ساتھ اسکردو اور ہنزہ گئی تھی۔ جب مجھے ترکی جانے کے بارے میں پتا چلا تو میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہا اور میں نے بھی فوراً اس ٹرپ کو جوائن کرلیا۔ اس حوالے سے اکثر عائشہ سے بات ہوتی رہتی تھی مجھے اپنے ویزے کی بہت فکر تھی۔ پھپھو کے ساتھ بیٹھی طاہرہ آنٹی میری روم میٹ ہیں اور پھپھو کی عزیز سہیلی بھی ہیں۔ پھپھو کی عادت ہے کہ وہ سب کا بے حد خیال رکھتی ہیں۔ بہت محبت کرنے والی اور شفیق خاتون ہیں۔ میں نے اس کی بات سنتے ہوئے ایک نظر اس کی پھپھو کو دیکھا۔
”کاش ہماری بھی کوئی پھپھو ہوتی۔”
میں نے بے ساختہ کہا۔ یہ ہماری دلی خواہش تھی کہ ہماری بھی کوئی پھپھو ہوتی۔ نہ ہماری کوئی پھپھو تھی اور نہ ہی میرے بچوں کی کوئی پھپھو تھی۔ یہ حیرت انگیز اتفاق تھا۔
اچانک رضیہ پھپھو نے ہماری طرف دیکھا جیسے انہیں پتا چل گیا ہو کہ ہم ان کے بارے میں ہی بات کررہے ہیں۔ ہنر مندی کے علاوہ ان کی حسیات بھی تیز تھیں اور قوتِ مشاہدہ بھی کمال کی تھی۔
”پھپھو میں انہیں آپ کے بارے میں بتارہی ہوں۔ یہ حیران ہورہی ہیں کہ تمہاری پھپھو کو اتنا کچھ آتا ہے اور وہ اتنی قابل خاتون ہیں۔”
یسریٰ نے اپنی پھپھو کو دیکھتے ہوئے جواباً کہا۔
یسریٰ کی پھپھو سنجیدہ اور سوبر خاتون تھیں، سفید دوپٹہ سر پر اوڑھا ہوا تھا۔ کبھی کبھی دھیمے انداز میں مسکراتیں۔ پھپھو کا یہ روپ انوکھا اور شفیق تھا۔ ان کے ساتھ بیٹھی طاہرہ مظہر سیا ہ دوپٹہ اوڑھے ہوئے تھیں اور آنکھوں پر سیا ہ رنگ کی سن گلاسز لگائے ہوئے تھے۔ پھپھو کی نسبت وہ بارعب خاتون نظر آرہی تھیں۔ پھپھو میری طرف متوجہ ہوئیں۔
”میںنے آپ کو ترکی آنے سے پہلے کبھی نہیں دیکھا مگر میں نے آپ کے ڈرامے دیکھے ہیں آپ نے لکھنے کا آغاز کیسے کیا؟”
رضیہ پھپھو نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ مجھ سے پوچھا۔
”مجھے بچپن سے ہی لکھنے کاشوق ہے۔”
میں نے مسکرا کر کہا۔ یہ کئی بار کا دہرایا ہوا جواب تھا۔
جب بھی کوئی یہ سوال پوچھتا، میرا یہی جواب ہوتا۔
دراصل ایسے سوالات کے جوابات دینا مجھے مشکل لگتا تھا۔ لکھنے کا آغاز کیسے کیا، ڈرامے کیسے لکھنا شروع کئے، ٹی وی تک کیسے چلی گئیں، یہ کیسے کیا، وہ کیسے کیا، بندہ اب ان باتوں کا کیا جواب دے۔ اکثر لوگ میسج پر مجھ سے پوچھتے کیا آپ ڈائجسٹ رائٹر والی مدیحہ شاہد ہیں، میں جواب دیتی جی ہاں، لوگ حیران ہوتے اچھا، یقین نہیں آتا، یہ حیرانی مجھے بھی حیران کردیتی ۔ میں سوچتی کہ رائٹرز بھی تو عام لوگ ہی ہوتے ہیں۔ بس یہ ہے کہ ان کا پروفیشن باقی لوگوں سے مختلف ہوتا ہے۔
ذرا توقف کے بعد یسریٰ نے پھپھو کی داستان کا سلسلہ وہیں سے جوڑا۔
”رضیہ پھپھو اپنے عہد کی ایک نامور شخصیت ہیں ۔ یوں سمجھ لیں کہ یہ ہمارے خاندان کی لیڈر ہیں۔ انہوں نے بہت سے ممالک کے سفر کئے ہیں اور رفاہِ عامہ اور سوشل ورک کے حوالے سے بے شمار کارنامے سرانجام دیئے ہیں۔ ان کے دو بیٹے ہیں دونوں شادی شدہ ہیں اور ان کے پوتے پوتیاں بھی اب جوان ہوگئے ہیں مگر یہ ابھی تک ایکٹو ہیں، ہر ایونٹ اور تقریب میں شرکت کرتی ہیں، پھپھا صدیق نے بھی ہر معاملے میں پھپھو کا ساتھ دیا ہے اور لوگ انہیں آئیڈیل کپل سمجھتے ہیں پھپھو جہاں بھی جاتی ہیں پھپھا جان کے ساتھ ہی جاتی ہیں۔ ہم نے اُن سے بہت کچھ سیکھا ہے اور سیکھ رہے ہیں۔”
اس نے مزید بتایا۔
اس سفر میں ہم رضیہ پھپھو کے متعلق باتیں کرتے رہے۔ ایسے بزرگ قابل ِ رشک ہوتے ہیں جن کی نئی نسل انہیں آئیڈیلائز کرتی ہے۔ ورنہ میں نے ایسے بہت سے معمر لوگ دیکھے ہیں جنہوں نے اپنی ساری زندگی دوسروں کو دکھ دیئے اور خاندانی سیاستوں اور سازشوں میں مصروف رہے۔ خیر پاموکلے پہنچ کر ہم نے ایک ریسٹورنٹ میں دوپہر کا کھانا کھایا جہاں ترکی کی روایتی ڈشز تھیں۔ ہم کچھ دیر وہیں بیٹھے رہے، پاموکلے کا موسم خوشگوار تھا اور سنہری دھوپ بے حد بھلی لگ رہی تھی۔ یہاں کی فضا میں تازگی تھی۔ ہر طرف رونق تھی۔
وہاں سے ہم گائیڈ کے ہمراہ اک جھیل نما تالاب کے پاس آئے جہاں لوگ تیراکی کا شوق بھی پورا کررہے تھے۔ وہاں اردگرد سبز درخت تھے اور لوگوں کے بیٹھنے کے لئے بنچ بھی موجود تھے۔ تالاب دیکھنے کے بعد ہم لوگ باہر آئے اور ہم وہاں سے پیدل ہی cotton castle کی جانب چلے۔ روئی کا وہ قلعہ جسے دیکھنے کے لئے لوگ بے تاب تھے۔ یہاں آکر لوگوں کو بہت پیدل چلنا پڑتا ہے۔ اچھی بھلی واک ہوجاتی ہے۔ یہاں کے نظارے اتنے خوبصورت تھے کہ ہمیں پیدل چلنے میں لطف آرہا تھا۔
Cotton Castleآکر ہم سب بے حد ایکسائیٹڈ تھے۔ سفید فرش پر نیلے پانی کے چشمے بہہ رہے تھے۔ کیا خوبصورت نظارے تھے، کیا رعنائی اور دلکشی تھی، سبحا ن اللہ، اللہ کی قدرت کے ایسے خوبصورت نظارے، ایسے دلکش منظر تھے۔
دیکھنے والے خوش اور حیران رہ جاتے۔
کہاجاتا ہے کہ اس پانی میں کچھ ایسی قدرتی معدنیات ہیں کہ جن میں healing properties پائی جاتی ہیں۔ یہ قدرتی پانی کے چشمے ہیں۔ انہیں دیکھنے کے لئے لوگ دور دراز سے کے علاقوں سے آتے ہیں۔ دن کے وقت یہاں بہت رش ہوتا ہے اور یہاں کا موسم بھی خوشگوار ہوتا ہے۔ دور نیلے پانی کی اک جھیل بھی نظر آرہی تھی اور اس سے آگے لوگوں کے مکانات بھی تھے، وہاں آبادی بھی تھی۔ سنہری کرنوں کا عکس پانی پر جھلملا رہا تھا۔
یہ چشمے دور تک بہتے نظر آرہے تھے۔ ان کی روانی میں ایک ردھم تھا۔ ذرا آگے لوہے کی زنجیریں بھی لگی تھیں۔ فرش پر پھسلن کی وجہ سے بہت احتیاط سے چلنا پڑتا ہے۔
لوگ پانی میں چلتے ہوئے دور تلک چلے گئے تھے۔ ہم بھی کچھ دیر پانی میں چلتے رہے پھر کنارے پر بیٹھ گئے۔ بہت تازگی محسوس ہورہی تھی۔ مجھے محسوس ہوا کہ اس پانی کو چھوتے ہی انسان کو تازگی کا احساس ہوتا ہے اور لوگ تازہ دم ہوجاتے ہیں۔
دور سے یہ سفید رنگ نے پہاڑ لگتے ہے قریب جاکر پتا چلتا ہے کہ یہ برف نہیں بلکہ سخت پتھریلی چٹانیں ہیں۔ ان پہاڑوں میں جگہ جگہ پانی کے تالاب بھی بنے ہوئے تھے۔ وہاں اک شخص رنگ برنگا طوطالئے ہوئے آیا۔ لبنیٰ نے اس طوطے کے ساتھ تصویر بنوائی۔ رضوانہ ہیٹ پہنے اپنی سیلفی اسٹک کے ساتھ نظرآئیں۔وہ چینی سیاحوں کے ساتھ ہنی خوشی تصویریں بنارہی تھیں۔
دور ایک واٹر چینل کے پاس ڈاکٹر شمیم، عالیہ ، کرن، نیئر، طاہرہ، یاسمین، شاد، شاہین بیٹھی تھیں۔ نگہت بھی پانی میں چلتے ہوئے نظر آئیں۔ مہوش بھی اپنے شوہر دانیال کے ساتھ تھی۔ عمران صاحب بھی چشمے کے پاس کھڑے نظر آئے۔
پہاڑ میں ایک جگہ تیزی سے چشمہ بہتا جارہا تھا لوگ اس کے نیچے کھڑے ہوکر پانی کا لطف اٹھا رہے تھے۔ یہاں بے فکری کے ساتھ اک آزادی بھی تھی۔ اک آزاد ماحول تھا۔ کسی کو کسی کی پرواہ نہیں تھی اور لوگ انجوائے کررہے تھے۔ پانی میں کھیل رہے تھے۔
میں کنارے پر بیٹھ کر یہ خوبصورت نظارے دیکھ رہی تھی۔ یہ چشمے قدرت کا تحفہ ہیں۔
وہاں آنے والے سیاح خوش تھے اور بے فکری سے انجوائے کررہے تھے۔ رش تھا مگر کسی طرح کی افراتفری نہیں تھی اور یہی لطف اٹھانے کا طریقہ ہوتا ہے کہ کسی کو تنگ نہ کیا جائے۔
ہم کافی دیر وہاں بیٹھے رہے۔ کچھ دیر بعد ہم وہاں سے چلے ۔ وہاں ہم نے ایک خوبصورت شام دیکھی۔
وہاں اک شادی شدہ نوبیاہتا جوڑا دولہا دلہن بھی آئے ہوئے تھے اور بے حد خوش و خرم نظر آرہے تھے۔ ترکی میں دلہنیں اپنی شادی پر سفید رنگ کا لباس پہنتی ہیں، ہلکا میک اپ کرتی ہیں اور ہلکے پھلکے زیور پہنتی ہیں۔
وہاں آئی دلہن بے حد خوبصورت تھی اور اس نے حجاب پہنا ہوا تھا۔ مغربی انداز کے طرزِ زندگی کے باوجود یہاں بھی خواتین حجاب پہنتی تھیں یہ بے حد خوش آئند بات تھی۔ اس نے ہاتھوں میں رنگ برنگے خوش رنگ پھولوں کا گلدستہ تھاما ہوا تھا۔ چہرے پر ہلکا میک اپ تھا۔ یہاں پر لوگ برائیڈیل فوٹو شوٹ کے لئے بھی آتے ہیں۔
ایک اور کپل تھا۔ لڑکی نے سفید رنگ کا خوبصورت لباس پہنا ہوا تھا۔ گلے میں ایک سنہری رنگ کا لاکٹ تھا اور بالوں میں کلپ لگے تھے ہاتھ میں سنہری کڑا تھا۔ لڑکے نے سفید رنگ اور سیاہ اور مہرون رنگ کا سوٹ پہنا ہوا تھا۔ ترکوں کے چہروں پر جو خوشی ہوتی ہے اس میں خود اعتمادی کی جھلک واضع نظر آتی ہے۔ پاکستانیوں نے اِ ن دولہا دلہن کو جالیا اور ذوق و شوق سے ان کے ساتھ تصاویر بنوائیں۔
میرے پاس ایک چھتری تھی۔ جو میری بیٹی کی تھی جلدی میں میں نے وہی چھتری اپنے ساتھ رکھ لی تھی۔ اس چھتری کے ساتھ ایک بیٹی تھی عائشہ نے وہ سیٹی لے لی اور وہ سیٹی بجاتے ہوئے گروپ کے لوگوں کو اکٹھا کرنے میں آسانی ہوتی کچھ دیر بعد ہم وہاں سے روانہ ہوئے۔ پیدل کا راستہ لمبا تھا۔ ہم نے بھاگتے دوڑتے وہ راستہ طے کیا۔ بہت عرصے بعد ہم یوں بچوں کی بھاگے تھے۔ راستہ سڑک نما ٹریک تھا۔ یہ پہاڑی علاقہ تھا۔ ایک جگہ ہم سب نے گروپ فوٹوبنوایا۔
عقب میں سفید رنگ کے پہاڑ نظر آرہے تھے۔ پانی پر سنہری کرنوں کا عکس جھلملا رہا تھا۔ دور سرسبز درخت بھی نظر آرہے تھے۔ وہ بے حد خوبصورت جگہ تھی۔ اچانک سڑک کے کنارے چلتے ہوئے آرٹیکا کا پائوں پھسلا اور وہ نیچے گرگئی۔ آس پاس کے لوگ بھاگتے ہوئے اس کی طرف لپکے اسے سہارا دے کر اٹھایا مگر اسے کافی چوٹیں آئی تھیں۔ہم فوراً بس میں بیٹھے اور ہم ہوٹل Anemon چلے آئے جو کہ ایک شاندار ہوٹل تھا۔ ا س میں کسی فلورز تھے۔ ہم اپنا سامان اٹھائے اپنے اپنے کمروں میں چلے آئے۔ میرے پاس دو سوٹ کیس تھے۔ ان کے ساتھ لفٹ میں سوار ہونا پھر انہیں گھسیٹ کر کمرے تک لانا بھی دشوار تھا۔
یہاں لوگوں کو اپنا سامان خود اٹھانا اور سنبھالنا پڑتا ہے۔ اپنے جھوٹے موٹے کام بھی خود کرنے پڑتے ہیں۔ انسان کو حد سے زیادہ ذمہ دار ہونا پڑتا ہے۔
میں سامان لئے کمرے میں داخل ہوئی تو وہاں زاہدہ فاروق کے ساتھ ایک لڑکا بھی تھا۔ معلوم ہوا کہ یہ ان کا بیٹا ہے اور پاکستان سے آگیا ہے۔ زاہدہ اپنے بیٹے کی آمد پر بے حد خوش اور نہال تھیں۔ مامتاکی خوشی میں محبت کا عکس واضع نظر آتا ہے۔
”یہ میرا بیٹا حیدر ہے۔پاکستان سے آیا ہے، شکر ہے کہ خیریت سے یہاں پہنچ گیا ہے۔ مجھے اس کی بڑی فکر تھی۔”
وہ خوشی سے معمور آواز میں بولیں۔
”مبارک ہو، آپ کا بیٹا آگیا ہے۔”
میں نے مسکرا کر کہا۔
مجھے معلوم تھا کہ وہ کس شدت سے اپنے بیٹے کا انتظار کررہی تھیں۔ پاکستان فون کرتی رہتی تھیں۔ ہم لوگ ہوٹل میں چیک اِن کرتے ہی انٹرنیٹ connect کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہوجاتے، انٹر کام پر منیجر کو فون کرتے رہتے اور ٹوٹی پھوٹی انگلش سن کر اپنی بات سمجھانے کی کوشش کرتے ہوئے مغز ماری کرتے رہتے۔ انٹرنیٹ connect ہوتے ہی سب سے پہلے پاکستان فون کرتے۔ اب میں زاہدہ کا بیٹا آگیا تھا تو مجھے کمرہ تبدیل کرنا تھا، میں نے پتا کروایا تو معلوم ہوا کہ اب مجھے ہوٹل کے دوسرے کمرے میں جانا تھا جو اس کمرے سے دور تھا۔
حیدر کے ساتھ پاکستان سے ساجدہ بھی آئی تھیں وہ بھی کسی وجہ سے لیٹ ہوگئی تھیں۔ عائشہ کے شوہر عمران صاحب بھی آگئے تھے۔ آج خوشی کا دن تھا۔ ساجدہ اب میری روم میٹ تھیں۔
”آپ ذرا میرا سامان اٹھالیں گے؟”
میں نے اس لڑکے سے کہا۔ زاہدہ کے ساتھ اپنائیت کی وجہ سے میں نے چنداں تکلف سے کام نہ لیا اور جھٹ سے یہ فرمائش نما مطالبہ کردیا۔
”جی میں؟”

تحریر:مدیحہ شاہد
استنبول سے انقرہ تک (سفرنامہ)
بُرصا کے رنگ
باب3
صبح سویرے ہم نے ناشتہ کرکے سامان بس میں رکھوایا اور برصا کے لئے روانہ ہوئے۔ راستے میں ہم ایک لیدر فیکٹری وزٹ کے لئے رکے جہاں لیدر سے بنی اشیاء بنائی جاتی تھیں۔ اس فیکٹری کا نام Levinson fur and leatherتھا۔ ہم فیکٹری کے اندر آئے تو وہاں پورا stitching unit تھا، بہت ساری مشینیں رکھی ہوئی تھیں اور لوگ کام میں مصروف تھے۔
ہم سیڑھیاں چڑھ کر اوپری منزل پر آئے تو وہاں لیدر سے بنی اشیاء کوٹ، جیکٹ، پرس وغیرہ رکھے تھے اور بے حد مہنگے تھے جن کی قیمت ڈالرز میں تھی۔ کرن تحسین نے ایک جیکٹ خریدی ہم مختلف چیزیں دیکھتے رہے۔
ترکی صنعتی لحاظ سے بھی خود کفیل ملک ہے۔ ملک کی معیشت کے لئے صنعتی ترقی بہت ضروری ہے۔ ترکی میں بے شمار صنعتیں ہیں۔ کچھ دیر بعد ہم باہر آئے اور تھوڑی دیر سڑک کے کنارے بیٹھے رہے۔
موسم خوشگوار تھا اور ہلکی دھوپ تھی سڑک پر ٹریفک رواں دواں تھی۔ میں اور یسریٰ سڑک کے کنارے بیٹھے کافی دیر آپس میں باتیں کرتے رہے۔ سڑک کے پار عمارتیں بھی نظر آرہی تھیں۔
ہم سے ذرا فاصلے پر فرح توقیر ، نورین مان، نیہا، صباحت اور نگہت موجود تھیں۔
کچھ لوگوں نے لیدر فیکٹری سے باہر آنے میں بہت دیر کردی۔ ہم لوگوں نے چونکہ فیکٹری اور وہاں موجود اشیاء دیکھ لی تھیں اس لئے جلد وہاں سے باہر آگئے تھے۔
لیدر کی مصنوعات بے حد مہنگی ہوتی ہیں۔ ہمارا تو اتنا بجٹ نہیں تھا۔ لیدر کی اتنی مہنگی کوئی چیز خریدتے اور پھر ہمیں لیدر کی چیزوں میں اتنی زیادہ دلچسپی نہیں تھی۔ اس لئے ہم فیکٹری وزٹ کرنے کے بعد جلد ہی باہر آگئے تھے۔
بس ذرا فاصلے پر کھڑی تھی۔
گروپ کے لوگ پیدل چلتے ہوئے بس تک آئے پھر وہاں سے ہم روانہ ہوئے اور بس میں بیٹھ کر ساحل پر آئے جہاں سے ہم بحری جہاز یعنی فیری (ferry) میں سوار ہوئے۔
اس بحری جہاز کے نچلے حصے میں گاڑیاں اور بس وغیرہ بھی پارک کی گئی تھیں۔ ہم فیری کے اوپر والے حصے میں آگئے۔
فیری نیلے پانی کے سمندر میں لکیریں بناتے ہوئے تیرتی جارہی تھی۔ یہ بے حد خوشگوار تجربہ تھا۔ مجھے یاد آیا بچپن میں جب ابا کی پوسٹنگ کراچی ہوئی تھی تو ہم نے پورٹ قاسم میں بحری جہاز دیکھے تھے۔ یہاں مختلف بحری جہاز تھے۔ جنہیں فیری (ferry) کہا جاتا ہے اور یہ مرمرا کے سمندر میں چلتے ہیں۔
ہم جہاز کے جنگلے کے پاس کھڑے ہوئے دھوپ کی سنہری کرنوں میں چمکتے نیلے سمندر کو دیکھتے رہے۔ کیسا خوبصورت اور دلکش منظر تھا۔ آسمان کی نیلاہٹیں خوبصورت تھیں۔ سفید سمندری پرندے فضا میں اڑتے ہوئے اِدھر سے اُدھر جارہے تھے۔ ہم کتنی ہی دیر ان خوبصورت نظاروں سے نظریں نہیں ہٹا پائے۔
خوبصورتی کو دیکھنا بھی ایک نعمت ہے۔
اگر ہم اپنے اردگرد دیکھیں اور غور و فکر کریں تو ہمیں اندازہ ہوگا یہ اللہ رب العزت نے ہمیں بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے اور نعمتوں کی قدر کرنی چاہیے۔ بے شک تمام تعریفیں اللہ رب العزت کے لئے ہی ہیں۔
استنبول سے برصا سمندر کے راستے بھی جایا جاسکتا ہے اور بذریعہ سڑک بھی لوگ جاسکتے ہیں۔
برصا ترکی کا ایک اہم شہر ہے۔ جو ٹیکسٹائل سے وابستہ ہے۔ یہ سرسبز شہر ہے اور یہاں بے حد خوبصورت عمارتیں اور مساجد موجود ہیں۔
برصا شہر صوبہ ٔ برصا کا دارالخلافہ ہے۔
یہاں حضرت خضر سے منسوب مسجد اور ترکوں کا قدیم قلعہ بھی ہے۔
اور چنار کا چھ سو سال پرانا درخت بھی ہے ، کہاجاتا ہے کہ اسی درخت کے سائے میں بیٹھ کر خلافت ِ عثمانیہ کی داغ بیل رکھی گئی تھی۔ عثمان (اوّل) نے 1326 ء میں برصا شہر کو فتح کرلیا تھا۔
سب لوگ فیری کے سفر کو انجوائے کررہے تھے۔
دھوپ کے باوجود وہاں تیز ہوا تھی۔ لوگوں نے کوٹ ، جیکٹ اور سوئیٹر پہنے ہوئے تھے۔
ایک کونے میں یاسمین اور رفعت فیری کے جنگلے کے پاس کھڑی ٹائٹینک والا پوز بنائے کھڑے تھیں۔
رضوانہ اپنی سیلفی اسٹک کے ساتھ مصروف نظر آئیں۔
لوگ تصاویر اور ویڈیوز بنارہے تھے۔
نیلے پانی کا سمندر اتنا خوبصورت تھا کہ لوگ دیکھتے تو دیکھتے ہی رہ جاتے۔ ہم نے اوپر سے جھانکا تو فیری کی نچلی منزل پر گاڑیاں پارک ہوئی نظر آئیں۔ دور دور تک نیلا سمندر نظر آرہا تھا۔ نیلا سمندر ، لہریں، سمندر پرندے، نیلا آسمان، بادل ، قدرت کے نظارے بے حد دلکش تھے۔
میں فیری کے کوریڈور میں واک کرتی رہی اور خوبصورت نظارے دیکھتی رہی پھر میں فیری کے اندر آگئی۔ وہاں لوگوں کے بیٹھنے کے لئے بنچ موجود تھے۔ کونے میں کافی شاپ بھی تھی جہاں سے لوگ کھانے پینے کی چیزیں اور کافی لے رہے تھے۔ فیری میں بہت لوگ سوار تھے۔ نیلا سمندر، خوبصورت نظارے اور ٹرکش کافی، میں بھی وہیں چلی آئی کہ چلو ہم بھی کافی پیتے ہیں۔
کافی شاپ پر رش تھا۔ میں رش کم ہونے کا انتظار کرتی رہی۔ کچھ دیر بعد جب رش کم ہوا تو میں کائونٹر کے پاس چلی آئی جہاں کافی بنانے والا کھڑا تھا۔
”ایک کپ کافی۔”
میں نے اسے اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
وہ شخص کافی بنانے لگا۔
وہاں چینی چوکور ڈلیوں کی شکل میں ایک پیالے میں پڑی تھی۔
”تھوڑا دودھ اور ڈال دیں۔ ہم پاکستانی ہیں دودھ والی چائے اور کافی پیتے ہیں۔”
میں نے اسے انگلش میں بتایا۔
تین چار چینی کی چوکور ڈلیاں ڈالنے کے باوجود کافی کڑوی تھی۔
ہر علاقے اور ہر ملک کے لوگوں کی اپنی پسند و ناپسند ہوتی ہے۔ خیر اپنی تسلی کرکے، کافی میں میٹھا چیک کرکے میں پلٹی تو مجھے وہاں اپنے گروپ کا کوئی بندہ نظر نہ آیا میں پریشان ہوگئی۔
”گروپ کے سب لوگ کہاں چلے گئے!”
میں نے فیری کے ہال میں اِدھر اُدھر دیکھا، پھر باہر آئی تو کوریڈور سنسان سا محسوس ہوا میرے تو اوسان خطا ہوگئے۔
فیری ، سمندر ، پردیس… میں ہاتھ میں کافی لئے وہیں کھڑی رہ گئی ۔ سمجھ نہ آئی کہ اب کیا کروں ۔ ایسا کیسے ہوسکتا تھا کہ پورے بحری جہاز میں اپنے گروپ کا کوئی بندہ نا ملتا۔ کافی کی مصروفیت میں ایسی محو ہوگئی تھی کہ پتا ہی نہ چلا گروپ کے لوگ کہاں چلے گئے۔ پھر بھی میں نے تلاش جاری رکھی۔ میں دوبارہ باہر آئی اِدھر اُدھر دیکھا کہ اچانک سامنے سے عائشہ آتی نظر آئی۔ اُسے دیکھ کر دل کو اطمینان ہوا۔
”میں آپ کو کب سے ڈھونڈ رہی ہوں۔ سب لوگ بس میں بیٹھ چکے ہیں، آپ کہاں گھوم رہی ہیں… چلیں جلدی کریں میرے ساتھ آئیں۔”
اس نے فکر مندی سے کہا۔
میں لپک کر اس کے پاس آئی۔
”ہاں وہ دراصل میں کافی لینے چلی گئی تھی، پتا ہی نہ چلا سب اچانک کہاں چلے گئے۔” میں اپنی اس لاپرواہی پر کچھ شرمندہ سی ہوگئی۔
”سفر کرتے ہوئے لوگوں کو بہت الرٹ اور چوکس رہنا پڑتا ہے۔اِدھر اُدھر نظر رکھنی پڑتی ہے برصا آگیا ہے، سب لوگ جاکر بس میں بھی بیٹھ گئے اور آپ کو خبر ہی نہ ہوئی ایسی کون سی اسپیشل کافی ہے۔” عائشہ نے کہا۔ ہم تیزی سے چلتے ہوئے بس کے پاس آئے اور بس میں سوار ہوئے تو سب لوگ ہمارا انتظار کررہے تھے۔
”ایک خاتون گم ہوگئی تھیں شکر ہے کہ مل گئی ہیں۔”
کسی نے کہا۔
میں فوراً اپنی سیٹ پر آکر بیٹھ گئی۔ کبھی سوچا نہ تھا کہ اس سفر میں میں بھی کسی جگہ گم ہوسکتی ہوں۔
”دیکھیں آپ لوگ محتاط رہیں، گروپ کے ساتھ رہا کریں۔ کوئی شخص گم ہوجاتا ہے تو ہمیں بے حد پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ پردیس ہے… یہاں ان باتوں کا خیال رکھنا ہوتا ہے۔ میں باربار آپ لوگوں کو بتارہی ہوں۔ اس طرح ہمارا وقت بھی ضائع ہوتا ہے۔”
یاسین نے خفا اور ناراض انداز میں دوبارہ اعلان کیا۔
میں کان لپیٹے سنتی رہی اور کافی پیتی رہی۔
میرے ساتھ بیٹھی یسریٰ نے تلوں والا رول دیا۔ جس کا نام simit ring ہے۔ یہ ترکی کا مشہور smack ہے اور جگہ جگہ عام ملتا ہے اور ذوق و شوق سے کھایا جاتا ہے۔
ہم برصا پہنچ چکے تھے۔ بس ایک جگہ رکی اور ہم لنچ کرنے کے لئے ایک ریسٹورنٹ میں آئے جس کا نام ”بنکار” تھا۔
برصا بے حد خوبصورت اور تاریخی شہر ہے۔ یہاں کی عمارت اور گھر کلاسیکل اور روایتی انداز میں بنے ہوئے ہیں۔
ترکی کے ہر شہر کا اپنا ایک مزاج ہے۔ اپنا ایک الگ کلچر ہے۔
برصا میں سبزہ ہے۔ پھول پودے، گھاس اور درختوں کی بہتات ہے۔ اس لئے اسے ”گرین برصا” (سرسبز برصا) بھی کہا جاتا ہے۔
برصا سلجھے ہوئے لوگوں کا شہر لگتا ہے ۔ یہاں صاف ستھری کشادہ سڑکیں اور باغیچوں والے کلاسیکل انداز میں بنے خوبصورت گھر نظر آتے ہیں۔ یہاں عمارات کا فن ِ تعمیر بے حد خوبصورت ہے۔
بنکار بے حد خوبصورت ریسٹورنٹ تھا۔ ہوٹل کی عمارت کے باہر ٹوکریوں میں پھول کھلے تھے۔ ہوٹل کے باہر خوبصورت سرسبز درخت تھے۔
وہاں ایک بے حد مزاحیہ سا ویٹر بھی تھا جس نے خوب شغل لگایا ۔ کھانے میں ڈونر کباب تھے۔ کسی کو بیف کے کباب ملے تو کسی کو چکن کے کباب ملے۔ گوشت کے تلے ہوئے ٹکڑوں کے ساتھ ٹماٹر اور ہر ی مرچیں تھیں، ساتھ دہی بھی تھا، کہاجارہا تھا کہ یہی کباب تھے۔
”یہ کیسے کباب ہیں، ہمارے ہاں تو ایسے کباب نہیں ہوتے!”
لوگ یہ کباب دیکھ کر حیران تھے۔
بیف کھانے والے کم تھے، چکن کی ڈیمانڈ زیادہ تھی۔ لوگوں نے اپنی فرمائشیں بھی کیں۔
”جو کچھ بھی ملے شکر کرکے کھالینا چاہیے۔”
یاسمین نے نخرے کرتے لوگوں کو دیکھ کر بارعب انداز میں نصیحت کی۔
پردیس آکر انسان صبر شکر بھی سیکھ لیتا ہے۔جب بھی پردیس جائیں ناز نخرے اپنے وطن میں چھوڑ کر آئیں اور اپنا سامان خود اٹھانے کی عادت ڈال بھی لیں۔ پردیس آکر ہم بہت کچھ سیکھ چکے تھے۔ سب لوگ کھانے میں مصروف ہوگئے۔
وہ مزاحیہ ویٹر آنکھ مار کر بات کررہا تھا۔ ہم حیران رہ گئے کہ یہ ویٹر آنکھ کیوں مار رہا ہے۔ پھر کسی نے وضاحت کی کہ یہ یہاں کے لوگوں کا انداز ہے۔ winkکرتے ہوئے بات کرتے ہیں۔ ہم نے اس انداز کو بھی سمجھ لیا اور جب بھی کوئی آنکھ مارتا اس سے نارمل انداز میں بات کرتے پردیس جاکر انسان کو وہاں کے ماحول اور کلچر کو سمجھنا پڑتا ہے۔
کھانے کے بعد ہم سِلک مارکیٹ چلے آئے جو برصا کا قدیم بازار تھا۔ بس سے اتر کر ہم سڑک پر پیدل چلتے رہے ایک جگہ سیڑھیاں نظر آئیں جن کے دونوں اطراف سرسبز لان تھے۔ ہم نے وہاں یادگار گروپ فوٹو بنوایا۔
برصا میں بھی پیدل چلنے کارواج تھا۔ گروپ کے لوگ پیدل چلتے ہوئے تھک گئے تو رفعت سڑک کے کنارے فٹ پاتھ پربیٹھگئی۔
”ارے آپ فٹ پاتھ پر کیوں بیٹھ گئی ہیں؟ دیکھنے والے لوگ نہ جانے کیا سمجھ لیں گے۔”
کسی نے رفعت کو ٹوکتے ہوئے کہا۔
”کچھ بھی سمجھ لیں۔ میں تھک گئی ہوں۔ کچھ دیر یہیں بیٹھ کر سُستا لیں گے۔”
رفعت کے اطمینان میں فرق نہ آیا ۔ نیہا نے شرارت سے پرس میں سے پیسے نکالے اور رفعت کو پکڑا دیئے۔
”اپنی مرضی سے دے رہی ہو، واپس نہ مانگنا اب یہ میرے ہوگئے ہیں۔”
رفعت نے شرارت سے کہتے ہوئے مٹھی بند کردی۔
”یہ تو بس مذاق تھا۔ پیسے اب واپس کردیں۔”
نیہا نے ہنستے ہوئے کہا اور پھر پیسے واپس لے بھی لئے۔ ہاں بھئی روپے پیسے کی اہمیت کا احساس توپردیس میں ہوتا ہے۔ جہاں ایک ایک روپیہ سوچ سمجھ کر خرچ کرنا پڑتا ہے کہ جتنا بجٹ ہے اسی میں گزارہ کریں اور کسی سے ادھار مانگنے کی نوبت نہ آئے۔
ہم پھر پیدل چلتے رہے۔ گائیڈ نے بازار میں شاپنگ کے لئے دو گھنٹوں کا ٹائم دیا۔
ہم نے سوچا اب دو گھنٹے بازار میں کون گھومتا پھرتا رہے۔ استنبول سے ہم نے کافی شاپنگ کرلی تھی۔ اسی لئے میں بس کی طرف آگئی سوچا بس میں کچھ دیر آرام سے بیٹھیں گے۔
لبنیٰ اور رضوانہ ایک مسجد دیکھنے چلی گئیں۔ میں سعادت منیر بھی بس میں بیٹھی تھیں۔ باقی لوگ بازار چلے گئے۔ میں پارکنگ ایریا میں آگئی۔
پارکنگ کے پاس بے حد خوبصورت گھر بنے ہوئے تھے۔ جہاں جنگل نماباغ تھے۔ گھروں کے باہر گاڑیاں بھی کھڑی تھیں۔ میں چلتے ہوئے پارکنگ کے کنارے تک آئی۔ سامنے گرے رنگ کا تکونی چھت والا اور سفید کھڑکیوں والا خوبصورت گھر تھا۔ جس پر ترکی کا پرچم لگا تھا۔ گھر کے ساتھ چھوٹا سا باغ بھی تھا۔ گھر کے باہر گملے بھی رکھے ہوئے تھے۔
میں وہاں کھڑی اس خوبصورت گھر کو دیکھتی رہی۔
یہاں لوگ گھروں میں خود کام کرتے ، باغ کا خیال رکھتے، پودوں کو پانی دیتے اور مصروف رہتے۔
کچھ دیر بعد میں بس میں آگئی ، جہاں سعادت منیر بھی بیٹھی تھیں۔
”تم بازارنہیں گئی۔”
انہوںنے پوچھا۔
”تھک گئی تھی۔ کافی دیر پیدل چلتے رہے تھے، سوچا کون بازارمیں دو تین گھنٹے چلتا رہے۔ اسی لئے بس میں آگئی۔”
میں نے جواباً کہا۔ مرسڈیز بس بے حد آرام دہ تھی۔
یکدم ڈرائیور اوہان بس میں آیا اور اس نے بس اسٹارٹ کردی ۔ہم حواس باختہ رہ گئے۔ ڈرائیور انگریزی زبان سے نابلد تھا نا وہ ہماری زبان سمجھتا تھا اور نا ہم اس کی زبان سمجھ سکتے تھے۔
”بات سنیں ، ہم کہاں جارہے ہیں؟”
ہم نے اشارے کرکر کے اس سے پوچھنے کی کوشش کی۔
نجانے وہ ترک زبان میں کیا بول رہا تھا۔ ہماری سمجھ میں نہ آیا۔ ترکی آنے سے پہلے ہمیں ترک زبان کے عام بول چال کے کچھ الفاظ سیکھ لینے چاہیے تھے، ہمیں یہ غلط فہمی تھی کہ ترکی میں انگریزی بولی جاتی ہے۔
مس سعادت بھی گھبرا گئیں۔
”بھائی کہاں لے کر جارہے ہو ہمیں؟ ہمارے گروپ کے لوگ تو اُدھر بازار میں ہی ہیں۔ ارے اس سے پوچھو تو سہی اسے کس نے کہا ہے کہ بس چلادے، ہمیں کہاں لے جارہا ہے؟ میرا تو دل گھبرا رہا ہے۔”
سعادت منیر نے گھبرا کر کہا۔
بس ، دو پردیسی خواتین اور ایک اجنبی ڈرائیور… میں نے فوراً بلند آواز میں اسے ٹوکا۔
”ہمارے گائیڈ سرخان کو فون کردیں۔ سرخان … فون…”
مزید وضاحت کے لئے ہم نے اشارے بھی کئے۔
اس نے موبائل سے سرخان کو کال ملائی اس سے ترک زبان میں کچھ بات کی اور مجھے موبائل پکڑا دیا۔
اس کے انداز سے لگ رہا تھا کہ وہ سرخان کو کہہ رہا ہے یہ دو وہمی خواتین ہے، خوفزدہ ہو گئی ہیں ان سے بات کرکے انہیں تفصیل بتادو۔
میں نے موبائل تھام کر سرخان سے بات کی۔
”ہیلو مسٹر سرخان! یہ ڈرائیور ہمیں کہیں لے جارہا ہے۔ گروپ کے لوگ وہیں بازار میں ہیں، ہمیں اس کی بات بھی سمجھ نہیں آرہی کہ یہ کہہ کیا

تحریر:مدیحہ شاہد
”استنبول سے انقرہ تک ” (سفرنامہ)
توپ کاپی محل اور قیمتی خزانے
2باب
صبح سویرے ہم تیار ہوکر ناشتہ کرنے ہوٹل کے ڈائننگ ہال میں پہنچے جہاں بڑی رونق تھی اور خوبصورت برتنوں میں ناشتے کے لوازمات سجے تھے۔ شہد، دلیہ، ابلے ، انڈے، بریڈ، مکھن، آملیٹ، پنیر، زینون، کارن فلیکس، بغیر دودھ والی چائے، کافی، جوس اور دیگر ڈشز پورے اہتمام کے ساتھ سرو کی گئی تھیں۔ لوگوں کی باتوں کی آواز کے ساتھ برتنوں کی کھنک بھی گونج رہی تھی۔
ناشتہ کرنے کے بعد ہم بس میں سوار ہوکر توپ کاپی محل کی طرف روانہ ہوئے۔ ٹاکسم اسکوائر سے توپ کاپی محل کافی فاصلے پر تھا۔ صبح صبح موسم بے حد خوشگوار تھا۔ میں بس کی سیٹ پر بیٹھی کھڑکی کے پار نظر آتے نظارے دیکھنے میں محو تھی۔ ترکی آکر جو چیز واضع نظر آتی ہے۔ وہ وہاں کی صفائی ہے۔ سڑکیں، مکانات، گلیاں سب صاف ستھری تھیں۔ دکانیں سجی ہوئی تھی۔ ہر چیز میں اک خاص قسم کا نظم و ضبط نظر آتا ہے۔ جسے دیکھنے والے بے اختیار سراہتے ہیں۔
حیرت کی بات تھی کہ بس جس راستے سے بھی گزرتی، دور سے اک مسجد نظر آتی رہتی جو شاید بلندی پر واقع تھی۔
کچھ دیر بعد بس محل سے ذرا فاصلے پر سڑک کے کنارے رُکی اور ہم پرجوش انداز میں بس سے اُترے۔ صبح کے اجالوں میں ہلکی دھوپ چمک رہی تھی۔ محل بلندی کی طرف تھا۔ وہاں سے ہم پیدل ہی محل کی جانب چلے۔ محل دیکھنے کی ایکسائٹمنٹ اتنی تھی کہ جذبات پر قابو پانا مشکل تھا۔ ہم لوگ آپس میں باتیں کرتے ہوئے محل کی جانب چلتے جارہے تھے۔ صبح کی تازگی میں اک پرلطف سی رونق ہوتی ہے۔
کچھ دور چلنے کے بعد سامنے مضبوط، عالی شان اور شاندار محل نظر آیا جس کے صدر دروازے والی دیوار پر سنہری حروف سے پہلا کلمہ لکھا ہوا تھا۔
لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ ۔
اسلام کا پہلا کلمہ اسلام کا پہلا بنیادی رکن ہے۔ اسلام کی بنیاد ہے۔ مسلمانوں کا دل ہے۔ صرف زبان ہی نہیں، مسلمان کا دل بھی کلمہ گو ہوتا ہے۔ یہ کلمہ بہشت کی کنجی ہے، عالم اسلام کی اساس ہے۔ مسلمان کا قیمتی اثاثہ ہے۔ اللہ رب العزت کے سوا اور کوئی عبادت کے لائق نہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، یہ دنیا، کائنات، زمین، آسمان، ہر چیز اللہ کی ہے۔اللہ اور رسول اللہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع ہی ہدایت کا راستہ ہے۔ پہلا کلمہ طیبہ دنیا اور کائنات کا قیمتی خزانہ ہے۔ بادشاہت اور حکمرانی صرف اللہ رب العزت کے لئے ہے۔ وہی معبود ہے، وہی بادشاہ ہے، وہی حکمران ہے، اللہ ہر شے پر قادر ہے، تخت اُسی کا ہے، بادشاہی اُسی کی ہے۔ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے اسی کا ہے۔ وہ ہی ہر شے پر قادر ہے۔ یہ دنیا، کائنات اور جو کچھ بھی ہے اُسی کی ملکیت ہے۔ باقی سب خالی ہے۔
محل کے اونچے میناروں پر دھوپ دمک رہی تھی اور بلندی پر ترکی کا پرچم لہرا رہا تھا۔
توپ کاپی محل فن تعمیر کا باکمال شاہکار ہے۔
میں توپ کاپی محل کے سامنے کھڑی تھی۔
خوش، حیران اور ایکسائیٹڈ۔۔۔ یوں جیسے انسان کی کوئی قیمتی خواہش اچانک پوری ہوجائے۔
ترکی کے ڈراموں نے پاکستان میں مقبولیت حاصل کی تو میں بھی سارے کام نپٹا کر ٹرکش ڈرامے ذوق و شوق سے دیکھتی تھی، اور پھر یہ شوق جنون بن گیا۔
اکثر میرا بیٹا علی اپنے پاپا کو شکایت لگاتا کہ مما ٹی وی پر ڈرامے دیکھ رہی ہیں اور مجھے کارٹون نہیں دیکھنے دے رہیں، علی کے پاپا اس شکایت پر بالائی منزل سے سیڑھیاں پھلانگتے بھاگے آتے کہ یہ کیا گھر میں ہر وقت ٹرکش ڈرامے لگے رہتے ہیں اور اب تو بچے بھی شکایتیں کرنے لگے ہیں۔ یہ بات نہیں تھی کہ مجھے ترکی ڈراموں کے اداکار، سیٹ ، ملبوسات یا ڈراموں کی کہانی پسند تھی۔ بات تو یہ تھی کہ دل چپکے چپکے استنبول اور توپ کاپی محل کے عشق میں گرفتار ہوگیا تھا۔
اس وقت میں نے سوچا نہ تھا کہ ایک دن میں بھی ٹی وی ڈرامے لکھوں گی اور میرے تحریر کردہ ڈرامے بھی اسی طرح ٹی وی پر ٹیلی کاسٹ ہوں گے جنہیں لوگ دیکھیں گے، سراہیں گے اور ایک دن میں بھی کوئی مشہور شخصیت بن جائوں گی، لوگوں کو انٹرویوز دوں گی۔ بھلا یہ کب سوچا تھا میں نے ۔ مگر ہم نے کب کیا کام کرنے ہوتے ہیں یہ اللہ طے کرتا ہے۔ یہ اللہ کے فیصلے ہوتے ہیں۔ انسان کے دل میں کچھ ایسی خواہشات ہوتی ہیں۔ جن سے صرف رب واقف ہوتا ہے۔
مجھے استنبول آنے اور توپ کاپی محل دیکھنے کی خواہش تھی۔ آج میں استنبول کی سڑک پر توپ کاپی محل کے سامنے کھڑی تھی۔
انسانوں کو اپنی خواہشات بتانے کا کوئی فائدہ نہیں، اپنی خواہشات کی تکمیل کی دعائیں رب سے مانگنی چاہیے کہ وہی بادشاہ ہے، معبود ہے، حکمران ہے اور عطا کرنے والا ہے۔
محل کے صدر دروازے کے اوپر دیوار پر لکھا گیا کلمہ اک پیغام تھا۔
محل کے سامنے بہت سے لوگ قطاروں میں کھڑے تھے۔ وہاں سیاحوں کا رش تھا مگر اک خاص ڈسپلن بھی نظر آرہا تھا۔ مختلف ملکوں اور قوموں کے لوگ اس محل کو دیکھنے کے لئے آئے ہوئے تھے۔
میں پرجوش انداز میں خوشی سے معمور دل کے ساتھ اس محل کو دیکھتی رہی پھر مجھے زارش نظر آیا۔
”زارش ! اس محل کے سامنے میری تصویر بنادینا۔”
میں نے زارش سے کہا اور محل کے سامنے کھڑی ہوگئی۔ ٹرپ پر اچھی تصویریں بنانے والا بندہ مل جائے تو ٹرپ کا مزہ دوبالا ہوجاتا ہے۔ زارش نے کئی تصاویر بنائیں اور وہ ایک ماہر فوٹو گرافر تھا۔ پھر ہم سب محل میں داخل ہونے کے لئے قطار میں کھڑے ہوگئے۔ میرے ساتھ فرح توقیر، نورین مان، نگہت، عذرا فہیم، صباحت ، زارش، نوشین ، ان کے میاں، لئیق انکل اور ان کی بیگم صوفیہ اور دیگر لوگ تھے۔ وہاں سکول کے بچوں کا ٹرپ بھی آیا ہوا تھا۔ استاد بچوں کی قطار کے ساتھ کھڑے تھے۔ نا وہ بچوں کو ڈانٹ ڈپٹ کررہے تھے اور نا چیخ چلا رہے تھے۔ ان کا رعب ان کے انداز اور ان کی آنکھوں میں تھا۔
بچوں میں بے حد اعتماد تھا۔ وہ ہنستے مسکراتے ہوئے آپس میں باتیں کررہے تھے۔ ترکی کے لوگ خوش رہنے کے فارمولے سے واقف تھے۔ وہ خود بھی خوش رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی خوش رہنے دیتے ہیں۔ اس (Personality trait) نے ہمیں حیران کیا۔ خوشی کا فارمولا یہی ہے کہ آپ دوسروں کی خوشی کا خیال رکھیں۔
میں نے اسکارف والی سلجھی ہوئی اک لڑکی کو سیلفی اسٹک سے تصویریں بناتے دیکھا جو اپنے والدین کے ساتھ کھڑی تھی اور فوٹو گرافری میں منہمک تھی۔ میں دھیرے سے اس کے قریب آگئی ۔ ایک جیسی دلچسپیاں اور شوق لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لے آتے ہیں۔
اس لڑکی نے مسکراتے ہوئے اپنے بارے میں بتایا۔
میرا نام فضہ ہے اور میں اپنے والدین کے ساتھ اسلام آباد سے آئی ہوں۔ یہ میری والدہ طلعت اور یہ میرے والد امتیاز ہیں۔ مجھے سیاحت کا شو ق ہے اور ہم مختلف ممالک میں اکثر سیاحت کی غرض سے آتے جاتے رہتے ہیں۔”
اس نے سُریلی آواز میں کہا۔ اس کے ساتھ اس کے والدین بھی کھڑے تھے۔
”میری بھی تصویر کھینچ دیں۔ میں اکثر سیاحتی مقامات پر گئی ہوں۔ مگر مجھے اچھی تصویریں کھینچنے والے لوگ نہیں ملتے۔ کبھی تصویریں اچھی نہیں آتیں تو کبھی فوکس صحیح نہیں ہوتا۔”
میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔
”آپ میرے ساتھ آجائیں۔”

تحریر:مدیحہ شاہد
”استنبول سے انقرہ تک ” (سفرنامہ)
آغازِ سفر
باب1
سوشل ورک کا شوق اور خدمت ِ خلق کا جذبہ مجھے بین الاقوامی این جی او انر ویل کلب کے قریب لے آیا۔ مجھے یہ کلب جوائن کئے ہوئے چند دن ہی ہوئے تھے کہ ڈسٹرکٹ چیئرمین 341 کے سالانہ وزٹ کی خبریں ملنے لگیں۔
یاسمین مشتاق جن کا تعلق جھنگ سے تھا انرویل کلب 2018-2019 کی چیئرمین تھیں۔ ان کے شوہر چوہدری مشتاق روٹری کلب کے گورنر تھے اور خود وہ کئی سالوں سے اس این جی او سے وابستہ تھیں۔
میں چونکہ کلب کی نئی ممبر تھی تو مجھے کلب کی سرگرمیوں اورچارٹر کے متعلق زیادہ علم نہیں تھا۔
کسی نئی جگہ پر جاکر ایڈجسٹ ہوناا ور نئے دوست بنانا میرے لئے ہمیشہ سے ہی مشکل رہا ہے۔ میں نے اپنے تیئں کوشش کی کہ کلب کی سرگرمیوں میں خاطر خواہ حصہ لے سکوں اور وہ دوست بناسکوں جو دوسروں کے فیس بک پروفائل میں نظر آتے ہیں۔ میری زندگی میں دوست بنانے کی جستجو اک طویل جستجو تھی۔ میں نے خوشی خوشی اس کلب کو جوائن کیا۔
سب ممبران سے تھوڑا بہت تعارف ہوا۔ کئی لوگوں نے میرے ٹی وی ڈرامے دیکھ رکھے تھے اور مجھے میرے کام کے حوالے سے جانتے تھے۔ مجھے اس کلب میں سب نے خوش آمدید کیا۔ دیگر سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ سال میں ایک بار ہر کلب میں چیئرمین کے وزٹ کا انعقاد کیا جاتا ہے اور اس وزٹ میں دیگر امور کے ساتھ ساتھ نئے ممبران کو کلب کی پِن بھی لگائی جاتی ہے۔
ہمارے کلب نے اوائل مارچ کے دنوں میں سروز کلب لاہور میں ایک دعوت کا اہتمام کیا۔ چیئرمین یاسمین مشتاق جھنگ سے تشریف لائیں۔ نیلے لباس میں ملبوس پھولوں کے گلدستے تھامے وہ سب سے خوشدلی سے ملیں۔ مجھے وہاں علم ہوا کہ وہ اپریل میں کلب کا سالانہ انٹرنیشنل ٹرپ لے کر ترکی جارہی ہیں۔ اس مقصد کے تحت لوگ اپنے اپنے نام لکھوا رہے تھے۔ میں فوراً اُس طرف متوجہ ہوگئی۔
”ترکی!”
میری آنکھیں چمکنے لگیں۔
دل میں چھپی برسوں پرانی خواہش نے آنکھ کھولی۔ استنبول ، توپ کاپی محل، بُرصا، قونیہ، انقرہ، خلافت ِ عثمانیہ کے تاریخی مقامات ، مساجد، نیلے پانی کا سمندر اور بے شمار جگہیں یاد آئیں۔ میں ترکی کے تاریخی ڈرامے ذوق و شوق سے دیکھتی تھی۔ مجھے وہاں کی ثقافت ، کلچر ، روایات اور آرکیٹیکچر بہت پسند تھا۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ مجھے ترکی سے بے حد محبت تھی۔ ترکی کے بارے میں پڑھ پڑھ کر مجھے وہاں کی سیر کا بے حد شوق تھا مگر گھر داری میں کئی سال ایسے مصروف رہی کہ اس خواہش کوپورا کرنے کی فرصت نہ ملی۔ گھر، بچے، ذمہ داریاں، بچوں کے سکول، ان کی پڑھائی اور کہانیاں، ڈرامے لکھنے میں ایسی مصروف رہی کہ کبھی کسی باہر کے ملک جانے کے بارے میں سوچا بھی نہیں تھا۔
اب جو اس ٹرپ کے بارے میں سنا تو دل کو سمجھانا مشکل ہوگیا۔ وہ ایک انقلابی لمحہ تھا۔
”میں بھی ترکی جانا چاہتی ہوں۔”
میں نے ایک لمحے میں یہ فیصلہ کرلیا۔
جن لوگوں کو ہمسائے کے گھر جانے کی فرصت نہ ہو ان کے لئے کسی فارن ٹرپ پر جانا انہونی ہی تو تھی۔ مگر میں نے مصروفیات کی گٹھری کو ایک طرف رکھ دیا۔ دل میں کسی چیز کی لگن ہو تو فیصلے لمحوں میں ہوجایا کرتے ہیں۔
”گھر والوں سے مشورہ کرلیں، آپ کے بچے بھی چھوٹے ہیں۔ اس ٹرپ کا پیکیج ایک لاکھ پینسٹھ ہزار ہے، اپنا بجٹ بھی دیکھ لیں۔ یہ فیصلے سوچ سمجھ کر کرنے پڑتے ہیں۔ ہر پہلو کو دیکھنا پڑتاہے۔”کسی نے آہستہ آواز میں سنجیدگی سے کہا۔
”میں سب Manage کرلوں گی۔ آپ میرا نام بھی لکھ لیں۔ میں بھی ترکی جانا چاہتی ہوں۔”
میں نے حتمی انداز میں اعتماد سے کہا۔ سوچ بچار، نظرثانی جیسی فلسفیانہ باتیں کہیں پیچھے رہ گئیں۔
اس لمحے مجھے فیصلہ کرنے کی قوت کا ادراک ہوا۔ انسان کے دل و دماغ میں بہت سی قوتیں ہوتی ہیں جس کا اسے خود بھی اندازہ نہیں ہوتا۔
”ہاں ضرور چلیں۔ میں آپ کو ترکی گروپ میں شامل کرلیتی ہوں۔ آپ ٹریول ایجنٹ سے بات بھی کرلیجئے گا وہ آپ کو ٹریول پلان بھی بھیج دیں گے۔”
یاسمین مشتاق نے خوشدلی سے کہا۔
وہ خوش اخلاق اور خوش مزاج شخصیت کی مالک تھیں۔ ترکی جانے کی خوشی اور ایکسائیٹمنٹ اتنی زیادہ تھی کہ میں نے جوش وولولے کے ساتھ اپنا نام لکھوا دیا اور ترکی گروپ میں شامل ہوگئی۔
میں خوشی خوشی گھر آئی اور گھر والوں کو یہ اہم اطلاع دی جسے سن کر ہر کوئی حیرت زدہ رہ گیا۔ گھر والوں کو کس طرح راضی کیا یہ ایک الگ کہانی ہے۔ میں نے ٹریول ایجنٹ سے بات چیت کر لی اور ایڈوانس بھی جمع کروا دیا۔ پاسپورٹ میرے پرس میں ہی پڑا تھا۔ اس پاسپورٹ کی کہانی بھی حیرت انگیز تھی۔ کچھ عرصہ قبل میں نے زی انڈیا کے لئے ایک ڈرامہ لکھا تھا جس کی میٹنگ کے سلسلے میں مجھے اور مصباح شفیق کو دبئی جانا تھا مگر میرا پاسپورٹ نہیں بنا ہوا تھا کہ کبھی پاسپورٹ بنانے کا خیال ہی نہیں آیا تھا۔ پھر مجھے ارجنٹ پاسپورٹ بنوانا پڑا مگر میٹنگ دو دن بعد ہی تھی تو مصباح اکیلی ہی دبئی چلی گئی۔ میں باربار پاسپورٹ دیکھ کر آہ بھرتی۔ پاسپورٹ تو بن گیا مگر دبئی کا ٹؤر نکل گیا۔ اس بات کا غم مہینوں دل میں رہا مگر اب غم کے خوشی میں بدلنے کا وقت تھا۔
جب انسان پہلی بار کسی فارن ٹرپ پر جارہا ہوتا ہے تو بچوں کی طرح ایکسائیٹڈ ہوتا ہے۔ میں نے ٹرپ کا پلان پڑھا۔ استنبول، انقرہ، قونیہ اور کپاڈوکیہ کے اہم مقامات کی تصاویر بار بار انٹرنیٹ پر دیکھتی رہتی۔ نئے کپڑے سلوائے، بہترین سوٹ کیس خریدا، جیولری ، جوتے، پرس نیز خوب شاپنگ کی۔ ہاں بھئی عمر کتنی بھی منزلیں طے کرلے، خواتین کا دل ہمیشہ ٹین ایجر ہی رہتاہے۔
خیر 24 اگست کو ہم سعودی ایئرلائنز کے ذریعے ترکی کے لئے روانہ ہوئے۔ جہاز میں بیٹھ کر دل ذرا خوفزدہ ہوگیا۔ میں پہلی بار جہاز میں تب بیٹھی تھی جب میں بارہ سال کی تھی۔ ابا جان سعودی عرب سے واپس آئے تھے اور ان کی پوسٹنگ ملیر کینٹ کراچی ہوئی تھی۔ ہم لاہور سے کراچی جہاز میں گئے تھے۔ پھر شادی کے بعد میاں کی پوسٹنگ بہاولپور رہی تو میں اپنے بیٹے علی کے ساتھ بہاولپور سے پنڈی اور پنڈی سے بہاولپور جہاز میںآیا جایا کرتی اور سارے کینٹ میں جہازوں میں سفر کرنے والی خاتون مشہور ہوگئی تھی مگر پھر بھی اب جہاز میں بیٹھ کر دل خوفزدہ ہوگیا۔ خوف کا تعلق عمر سے نہیں وِل پاور سے ہوتا ہے۔ خیر میں نے اپنی ہمت بندھائی اور خود کو حوصلہ دیا۔ میرے دائیں جانب خالدہ سعید اور بائیں جانب یاسمین مشتاق بیٹھی تھیں۔ سائیڈ والی سیٹ پر رفعت اور عبدالستار صاحب بیٹھے تھے۔
ایئر پورٹ پر اچانک کچھ ایسے واقعات رونما ہوگئے تھے کہ جن کی وجہ سے بہت سے مسافر اپ سیٹ تھے۔ مسز شہناز سردار کے دو پاسپورٹ تھے وہ ایک پاسپورٹ لائیں دوسرا نہ لاسکیں اور بورڈنگ کلوز ہوگئی۔ وہ اور ان کے میاں جہاز میں سوار نہ ہوسکے۔ عائشہ عمران کے میاں بھی کسی وجہ سے جہاز میں سوار نہ ہوسکے۔ وہ اپنی بہن مہوش کے ساتھ بیٹھی تھیں اور مسلسل رو رہی تھیں۔
”حوصلے سے کام لیں، نہ روئیں۔”
ارد گرد بیٹھے لوگوں نے ہمدردی سے سمجھایا مگر ان کا غم کم نہ ہوا۔
”گھر سے نکلتے وقت ہم دونوں کتنے خوش تھے کہ ترکی جارہے ہیں۔ کئی دنوں سے خوشی خوشی تیاریاں کررہے تھے۔ مگر میں جہاز میں سوار ہوگئی اور وہ وہیں ایئرپورٹ پر رہ گئے ۔
” میرا دل رو رہا تھا۔”
وہ آنسو بہاتے ہوئے رقت آمیز انداز میں بولیں۔
”آپ پریشان نہ ہوں۔ وہ بھی جلد آجائیں گے۔”
لوگوں نے تسلی دی سب مسافر ان کے غم میں برابر کے شریک تھے۔
سب مسافر خوشی خوشی جہاز میں سوار ہوگئے، میرے میاں کے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوا!”
وہ پھر رونے لگیں۔ آہیں اور سسکیاں گونجنے لگیں۔
”آپ کی شادی کو کتنا عرصہ گزرا ہے؟”
کسی نے پوچھا۔
”اٹھارہ سال۔”
انہوں نے جواب دیا۔
”آپ کے بچے ہیں؟”
کسی نے سوال کیا۔
”میرے چھ بچے ہیں۔”
وہ اسی انداز میں بولیں۔
”پھر بھی محبت کا یہ عالم ہے!”
کسی نے بے ساختہ کہا۔
”محبت عمر، وقت ، سال، مہینے نہیں دیکھتی۔ اس کا تعلق دل سے ہوتا ہے۔ وقت سے نہیں۔”
کسی نے فلسفیانہ انداز میں کہا۔
مہوش اور ان کے شوہر فیصل عائشہ عمران کو تسلیاں اور دلاسے دیتے رہے۔ مشتاق صاحب بھی سمجھاتے رہے کہ فکر نہ کریں۔ عمران صاحب اگلی فلائٹ سے ترکی پہنچ جائیں گے مگران کے دل کو تسلی نہ ملی اور وہ آنسو بہاتی رہیں۔”
”سفر کے دوران اکثر ایسے واقعات ہوجایا کرتے ہیں، فکر نہ کریں سب ٹھیک ہوجائے گا۔”
سب نے ہمدردی کا اظہار کیا۔
یاسمین مشتاق نے بھی اپنے آنسو صاف کئے۔
”آپ کیوں رو رہی ہیں؟”
میں نے حیرت سے پوچھا۔
”میرے میاں نے ایئرپورٹ سٹاف کی بہت منت سماجت کی کہ تھوڑا انتظار کرلیں۔ عمران صاحب کا پاسپورٹ غلطی سے ٹریول ایجنسی کے دفتر میں رہ گیا تھا۔ وہاں سے ایئرپورٹ پہنچنے میں آدھا گھنٹہ مزید لگنا تھا مگر ایئرپورٹ سٹاف نے بورڈنگ کلوز کردی۔ اپنے علاقے میں میرے میاں کا بہت رعب ہے۔ انہوں نے کبھی کسی شخص کی اتنی منت سماجت نہیں کی مگر آج میری وجہ سے انہیں لوگوں سے اتنی ریکوئیسٹ کرنی پڑی۔ اس با ت کا مجھے بہت افسوس ہے۔ وہ اپنے کئی اہم کام چھوڑ کر میرے ساتھ اس ٹرپ پر آئے ہیں اور میری وجہ سے انہیں لوگوں سے ریکویسٹ کرنی پڑی جس کا مجھے بہت دکھ ہے۔ ”
انہوں نے آنکھ کے کنارے صاف کرتے ہوئے مدھم آواز میں کہا۔

جنت سے ایک خط
شہید برہان وانی بنامِ پاکستان
نفیسہ عبدالرزاق
میرے پاکستانی بھائیوں!
السلام علیکم!
آج میں آپ سے پہلی بار مخاطب ہوں۔ پاکستان کا نام ہم کشمیریوں کے لئے کوئی نیا نہیں ہے، ہم جہاں پیدا ہوتے ہی آزادی کے نعرے سنتے ہیں وہیں پاکستان کا نام بھی سنتے ہیں۔ میں آج آپ کو اپنی داستان سنانا چاہتا ہو تھوڑی بہت تو آپ جان ہی چکے ہوںگے میرے شہید ہونے کے بعد۔ میں پھر سے اسے دُہراتا ہوں جب پندرہ برس کی عمر میں اپنے بھائی کے ساتھ جاتے ہوئے قابض بھارتی فوج نے ہمیں بلاوجہ تذلیل کا نشانہ بنایا تب شاید پہلی بار غلامی کا مجھے بے پناہ احساس ہوا اس تذلیل نے ایک پل چین نہ لینے دیا اور میں برہان جو اپنی جماعت میں ہمیشہ اول رہتا تھا میرے آگے ایک روشن مستقبل تھا مگر مجھے غلامی سے نفرت ہے سو اسی غلامی کو آزادی میں بدلنے کے لئے میں گھر سے نکل کھڑا ہوا۔ بہت سے مشکل پڑائو آئے میں رکا نہیں چلتا ہی گیا، بہت سے مقامی مجاہدین کی طرح میں نے بھی پاکستان کی طرف دیکھنے سے گریز کیا، اپنے زور بازو اور اللہ کی مدد کے سہارے میں کم وقت میں کشمیر کے ہر گھر کا ہر دل عزیز بن گیا۔ دشمن کو ناکوں چنے چبوائے مگر آزادی کی روشن صبح ابھی دور تھی ۔ بائیس سال کی عمر میں شہادت کا پروانہ آپہنچا یہ وہ عمر ہوتی ہے، جس میں ہر نوجوان اپنا کیریئر پلان کرتا ہے مگر مجھے کوئی افسوس نہیں، میں نہیں تو کیا ہوا ہماری آنے والی نسلیں ضرور آزاد فضائوں میں سانس لیں گی ( اِن شاء اللہ)۔ خیر،میری آج خاص طور پر آپ سب سے مخاطب ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ میرے جنازے کو سبز ہلالی پرچم میں لپیٹا گیا مجھے اس پرچم سے بے حد اُنسیت محسوس ہوئی مجھے لگا میرے بعد میرا کشمیر تنہا نہیں ہوگا پاکستانی ہر بار کی طرح آگے آئیںگے مگر یہ کیا میرے جانے کے بعد جنت نظیر وادی میں ہنگامے پھوٹ پڑے ”ہر گھر سے برہان نکلے گا”کے نعرے گونجے اور ساتھ میں وردی والے دہشت گرد بغیر کسی تخصیص کے گولیاں برسانے لگے اور ان چاردنوں میں بہت سے برہان سبز پرچم میں لپٹے مجھ سے آ ملے۔
میں اُن کی طرف آس و امید سے دیکھتا رہا کہ وہ مجھے بتائیں گے پاکستانیوں نے بھارتی ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کی ہے ان کو منہ توڑ جواب دیا ہے کیوںکہ غلام تو ہم ہیں آپ تو آزاد قوم ہیں اور آزاد قومیں خود مختار ہوتی ہیں وہ مل کر جابر کو للکار سکتی ہیں مگر میرے یہ شہید بھائی تو کوئی اور داستان سُنا رہے تھے آپ لوگ تو بہت مصروف ہیں آپ کے پاس وقت نہیں کہ ہمارے بارے میں جانیں، آواز بلند کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔ جب آپ کی مصروفیات کی بابت دریافت کیا تو معلوم ہوا عید کے دن ہیں اس لیے سینما میں بھارتی فلمیں لگی ہیں اور یہی آپ کی مصروفیات ہیں۔ یقین کیجیے یہ سُن کر دل لہو لہو ہوگیا۔ آپ کو ہمارا کتنا خیال ہے نا کہ سینما میں جا کر بھارت کو کروڑوں کا بزنس دیتے ہیں، جس سے وہ ہتھیار بنا کر ہمارے سینوں پر وار کر کے ہمیں شہید کرتے ہیں اور ہمیں ڈائریکٹ جنت کا ٹکٹ تھماتے ہیں۔
جنت تو ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے تو آپ کی بدولت ہمارے لیے جنت کا رستہ بہت آسان ہوجاتا ہے۔ صرف میڈیا نہیں آپ تو پور پوردشمنکے جال میں قید ہوتے جا رہے ہیں، جس کی قید سے ہم آزاد ہونا چاہتے ہیں۔ فلمیں اور ڈرامے آپ اُن کے دیکھتے ہیں سارا سارا دن گانے آپ ان کے سنتے ہیں پھر مارکیٹ جا کر ان ہی کی پراڈکٹس خریدتے ہیں پھر کہتے ہیں کیا کریں میڈیا یہی دکھاتا ہے آپ ایک بار بائیکاٹ کر کے تو دیکھیں پھر میڈیا وہی دیکھائے گا جو آپ دیکھنا چاہتے ہیں اپ ان کی چیزیں چھوڑ کر ایک بار اپنی چیزیں طلب تو کریں پھر کیسے وہ زبردستی آپ کو دشمنوں کی چیزیں تھمادیں گے۔
ارے ہاں! یہاں پہنچ کر میری ملاقات قائد اعظم محمد علی جناح سے بھی ہوئی میرے اور دوسرے آنے والے ساتھیوں کے ذریعے انہیں آپ کے حالات معلوم ہوئے بہت اُداس ہوئے کہنے لگے: ”میری قوم کو کیا ہوگیا؟ انہیں جس کی غلامی سے آزاد کروایا تھا آج ذہنی طور پر اسی کے غلام بنے بیٹھے ہیں۔ کتنی قربانیاں! کتنی قربانیاں! آہ…کیوں بھول گئے کہ شہیدوں کے لہو سے سینچا تھا اس گلزار کو۔ اگر انہیں کے رسم و رواج پر چلنا تھا تو وہ سب لہو رائیگاں گیا نا برہان! پھر کیوں ان کشمیریوں کے لئے اپنی جوانی، اپنا مستقبل سب چھوڑ کر اس راہ کا انتخاب کرلیا یہ بھی کچھ مختلف نہیں ہیں۔ نہیں رہتی میری قوم کو یاد قربانیاں۔”

مدیر سے پوچھیں
پرویز بلگرامی
٭ اپنی کہانی کے بارے میں بتائیں، آپ اس فیلڈ میں کب سے ہیں؟ کیسے آنا ہوا اس فیلڈ میں؟
پرویز بلگرامی: جہاں تک لکھنے کا سوال ہے تو کم عمری سے لکھنا شروع کر دیا تھا لیکن چھپنے کی ابتدا روزنامہ جنگ کے نونہال لیگ یعنی بچوں کے صفحہ سے ہوئی پھرماہنامہ چاند میں لکھا.لیکن جب پروفشنلی لکھنے کا آغاز کیا تو ڈائجسٹوں کے دفاتر میں آنا جانا بڑھ گیا۔اسی دوران میں شمیم نوید صاحب سے قربت بڑھی اور ان کے مشورے پر سچی کہانیاں جوائن کر لیا۔اس وقت وہ اس پرچے کے مدیر تھے ۔لیکن کچھ ہی عرصہ بعد میں نے سچی کہانیاں چھوڑ دیااور پھر سے فری لانسنگ کرنے لگا۔شمیم نوید کے بعد سلیم فاروقی صاحب سچی کہانیاں کے مدیر بنے تو میں دوبارہ سے سچی کہانیاں میں آگیا۔اس وقت سچی کہانیاں ۔دوشیزہ کی ٹیم میں تمام لوگ کو آپریٹیو تھے۔سیما غزل تھیں۔مصطفیٰ ہاشمی تھے۔دانش دیروی تھے ۔سلیم آزر تھے۔ثمینہ یاسمین تھیں۔خوب وقت گزرا۔1994میں سلیم فاروقی سچی کہانیاں چھوڑ گئے تو میں نے ادارت سنبھال لی۔تب سے 2008 تک سچی کہانیاں کو سجاتا سنوارتا رہا پھر جاسوسی ڈائجسٹ پبلیکشن کے ماہ نامہ سرگزشت میں آگیا۔تب سے یہیں ہوں۔
٭ ایک مہینے میں آپ کو اوسطاً کتنے مسودے موصول ہوتے ہیں؟ اور آپ کا تحریروں کی چناؤ کا کیا معیار ہوتاہے؟
پرویز بلگرامی : سچی کہانیاں میں نئے مصنفین کو اولیت دی جاتی تھی۔وہاں کام کا مزہ ہی کچھ اور تھا۔نئے مصنفین کا آئیڈیا لے کر ہم لوگ کہانیاں لکھ دیتے تھے اور اسے شائع کیا جاتا اسی مصنف کے نام سے جس کی وجہ سے پرچے کی خریداری بھی بڑھتی اور نئے لکھنے والے کو حوصلہ بھی ملتا۔وہاں جو لوگ لکھتے تھے ان سے باضابطہ خط و کتابت کیا کرتا تھا۔انہیں ان کی کہانیوں کی خامیاں بتاتا۔لکھنے کا انداز سمجھاتا یہی وجہ ہے کہ سچی کہانیاں سے شروعات کرنے والوں میں سے کچھ اب نامور بن چکے ہیں۔اپنی شناخت بنا چکے ہیں۔لیکن سرگزشت ذرا تیڑھا پرچہ ہے۔اس میں لکھنے کے لیے مصنف کا مطالعہ وسیع ہونا ضروری ہے کیونکہ سرگزشت انفورمیٹیو میگزین ہے۔لیکن اس کا ایک حصہ ایسا ہے جس میں نئے مصنف لکھ سکتے ہیں۔جن کی کہانیاں آتی ہیں اور اس میں کوئی ہلکی پھلکی خامی نظر آتی ہے تو مصنف کو اطلاع دے دیتا ہوں کہ اپنی کہانی کو اپنے مسودے سے ملا کر دیکھیں کہ کون کون سی تبدیلی ہوئی ہے پھر بلا جھجک پوچھ لیں کہ وہ تبدیلی کیوں کی ہے۔جو لوگ فون کرتے ہیں ان کو جواب دیتا بھی ہوں اور کہانیوں کے سلسلے میں مشورے بھی دیتا ہوں۔در اصل یہ طریقہ شمیم نوید کا تھا اور پھر سلیم فاروقی نے اختیار کیا ۔ اپنے دو سینئر کو جس راہ پر چلتے دیکھا اسی راستے پر میں بھی چلنے لگا۔یہی وجہ ہے کہ نئے مصنفین مجھ سے بہت زیادہ قریب ہیں۔میں پابندی سے ہر نئے لکھنے والے کو تاکید کرتا رہتا ہوں کہ وہ جملوں کی بندش پر خصوصی توجہ دیں۔جس طرح دریا کی لہریں اٹھتی ہیں اسی طرح جملوں میں روانی رہنا چاہیے تا کہ پڑھنے والے کو لطف آئے۔پھر کہانی کو آگے بڑھانے کا صحیح انداز اپنائیں ۔معروف مصنفین کی تحریر کو بہ نظر غور دیکھیں کہ وہ کہانی کو کس طرح آگے بڑھا رہے ہیں۔وہی انداز اپنائیں ۔خاص کر تجسس پیدا کرنے کی ضرور کوشش کریں تا کہ قاری اگلا صفحہ ضرور پڑھے۔جملوں کی ساخت آسان رکھیں تا کہ ایک کم پڑھا لکھا بھی بہ آسانی سمجھ لے کہ آپ کہنا کیا چاہتے ہیں۔کہانی آہستہ آہستہ اٹھائیں اور پرت پرت کھولیں۔نہ زیادہ سست رکھیں اور نہ بہت تیز بھگائیں۔کہانی کو آگے بڑھانے کی رفتار پر مکمل کنٹرول رکھیں۔اختتام ایسا ہو کہ قاری چونک جائے لیکن غیر فطرتی نہ لگے۔
٭ہ کون سی چند چیزیں ہیں جن کا خیال ایک نئے لکھنے والے کو اپنا کام آپ کو بھیجتے ہوئے رکھنا چاہیے؟
پرویز بلگرامی :مصنفین کو کہانی بھیجنے کے پہلے کم سے کم تین بار ضرور پڑھنا چاہیے۔اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ کہانی لکھ کر ایک طرف رکھ دیں پھر دوسری کہانی شروع کر دیں۔اسے مکمل کر کے الگ رکھ دیں اور تیسری کہانی شروع کر دیں۔اسے مکمل کر کے پہلی کہانی کو پڑھیں۔اس طرح اس کہانی کی خامیاں سامنے آتی جائیں گی۔اسے ایڈیٹ کر کے الگ رکھ دیں اور دوسری کو پڑھیں۔اس کی خامی درست کر کے تیسری کو نکال لیں۔اسے درست کرنے کے بعد پھر پہلی کہانی کو پڑھیں۔اگر ایک کہانی کو آپ نے تین بار پڑھ کر درست کر لیا تو یقینا وہ کہانی خامیوں سے بہت حد تک مبرا ہو جائے گی۔ہر نئے مصنف کو ابتدا میں اس طریقہ کو ضرور اپنا نا چاہیے۔لیکن لکھنے والے کو زیادہ سے زیادہ پڑھنا چاہیے۔اگر وہ دن بھر میں اس کام کو دس گھنٹے دیتا ہے تو اسے لکھنے کے لیے صرف دوگھنٹے صرف کرنا چاہیے۔اس سے اسے لکھنے کے لیے مواد بھی ملے گا اور جملوں کو برتنے کا صحیح انداز بھی علم میں آتا جائے گا۔
٭بطور مدیر کیا آپ ایسے موضوعات پر کام کرتے ہیں جو risky ہوں؟
پرویز بلگرامی : ادارتی کام ہوتا ہی رسکی ہے۔ذرا سی نظر چوکی اور غلط مواد چھپ گیا۔خود میرے ساتھ ایک بار ہو چکا ہے۔لکھنے والا خاصہ تجربے کار۔منجھا ہوا لکھاری۔ایک ایسا مضمون لکھ گیا جس پر محکمے حرکت میں آگئے۔بعد میں اس مضمون کو پڑھا تو سر پیٹ لیا اس لیے کہ اس میں کئی ایسی باتیں تھیں جو پرنٹ نہیں ہونا چاہیے تھا۔مصنف سے سوال کیا تو اس نے جواب دیا کہ یہ معلومات نیٹ سے لیا ہے۔نیٹ پر سچ کے علاوہ جھوٹ بھی بھرا پڑا ہے۔سچ اور جھوٹ کی اگر مدیر کو پرکھ نہ ہو تو ایسی باتیںہوجانا تعجب خیز نہیں۔ویسے نئے تجربے کے لیے رسک لینا ضروری ہے۔جس مدیر کے اندر نیا کچھ کرنے کی امنگ نہ ہو اس کا پرچہ لکیر کا فقیر ہوتا ہے۔
٭ نئے موضوعات پر کام کرنے کے لیے زیادہ موزوں کون ہوتا ہے؟ نئے رائٹرز یا پرانے رائٹرز؟
پرویز بلگرامی: پرانے لکھاری نسبتاً بہتر انداز میں نئے موضوع کو برت سکتے ہیں۔نئے لکھاری کے جملوں بے ساختگی نہیں ہوتی۔بے ساختگی تجربے سے آتی ہے۔پرانے لکھاری الفاظ کا صحیح استعمال کرتے ہیں۔مثلاً نیا لکھاری لکھے گا” چچا جان کی شیو بڑھ آئی تھی۔”جب کے پرانا لکھاری لکھے گا”شیو نہ کرنے کی وجہ سے ایسا لگ رہا تھا کہ چچا جان کے گالوں پر چیونٹیوں کے انڈے سینکڑوں کی تعداد میں بکھرے ہوئے ہیں۔” اس سے سطر بھی بڑھی اور پڑھنے والے کو جملے کے بڑے ہونے کا اندازہ بھی نہیں ہوا۔
٭نئے لکھنے والوں میں آپ کی رائے میں کون ہے جو اچھا کام کررہا ہے؟
پرویز بلگرامی: ڈائجسٹوں میں جن کی تحریریں چھپ رہی ہیں ان نئے مصنفیں میں ناصر ملک ۔ندیم اقبال۔محمد فاروق انجم۔ڈاکٹرعبدالرب بھٹی کے علاوہ بھی چار پانچ مصنف بہت اچھا لکھ رہے ہیں۔
٭ دنیا بھر کے لکھنے والوں میں آپ کا پسندیدہ رائٹر کون ہے؟
پرویز بلگرامی :دنیا بھر کے رائٹرز میں کسی ایک یا دو کا نام لینا میرے خیال سے صحیح نہیں ہے۔اس لیے کہ ہر رائٹر کا ایک دو کام ہی ایسا ہوتا ہے جو اس کی پہچان بن جاتا ہے۔اگر پسندیدگی کی نظر سے دیکھوں تو مجھے جاپانی مصنف جیرو اکاگاوا کے جتنے ترجمے پڑھے ہیں سب پسند آئے ہیں۔زبردست مسٹری ۔اسی طرح بنگلہ کے نہار رنجن گپت۔امریکا کے اسٹیفن کنگ پسند آئے ہیں۔لیکن جب ہم اردو کی طرف آتے ہیں تو ابن صفی پر سوئی رک جاتی ہے۔لیکن یہ نہ سمجھا جائے کہ مجھے آگ کا دریا یا علی پور کا ایلی پسند نہیں آیا۔در اصل ہر ایک کی پسند ایک خاص نکتے کے گرد گردش کرتی ہے۔ورنہ تو اردو میں جتنے اچھے ناول لکھے گئے ہیں اس کی مثال مشکل ہے کیونکہ عالمی زبانوں میں سب سے نئی زبان اردو ہی ہے۔چائنیز جاپانی فرنچ جرمن انگلش کے مقابلے میں اردو کی عمر بہت کم ہے لیکن فیکشن رائٹنگ میں اردو کسی بھی طرح پیچھے نہیں ہے ۔
٭ آپ کی پسندیدہ صنف کون سی ہے؟
پرویز بلگرامی: کہانیوں کی ہر صنف پڑھنے میں اچھی لگتی ہے جہاں تک لکھنے کا تعلق ہے تو میں نے ہر قسم کی کہانیاں لکھی ہیں۔رومانی۔خوفناک۔تھرل سسپنس لیکن جہاں تک ڈوب کر لکھنے کا تعلق ہے مجھے ہارر لکھنے میں زیادہ مزہ آتا ہے مزے کی بات یہ ہے کہ تھریل زیادہ لکھا ہے۔لیکن جب چھاپنے کی بات آتی ہے تو میں معاشرتی مسائل کی کہانیاں پرچے میں شامل کرنے پر زور دیتا ہوں۔کیونکہ عام قاری اپنے مسائل کو پڑھنا پسند کرتا ہے۔بشرطیکہ لکھنے والا پیش کرنے کا فن جانتا ہو۔
٭ کہانی کی کون سی ایسی صنف ہے جو آپ کو غیر دلچسپ لگتی ہے؟
پرویز بلگرامی : مجھے ایسی کہانیاں بالکل پسند نہیں جن میں انسانی نفسیات کے نام پر جنس زبردستی ڈالی جائے یا اوچھے جملے لکھ کر قاری کو بھٹکانے کی کوشش کی جائے۔منٹو کے پاس الفاظ کا ذخیرہ تھا۔وہ کہانی کو الفاظ سے ملفوف کر کے پیش کرتے تھے لیکن تسکینی انداز میں نہیں بلکہ نشتر بنا کریہی وجہ ہے کہ میں جنس زدہ کہانیوں کو فوراً رد کر دیتا ہوں۔
٭ آپ نے اب تک ماشااللہ بہت کام کیا ہے، کوئی ایسا پراجیکٹ جو آپ کے دل کے بہت قریب ہو؟
پرویز بلگرامی : مجھے اپنے دو ناول کا پلاٹ بہت پسند ہے ”جرمِ مسلماں” اور ” دوسرا جنم”لیکن یہ بھی خود سے شکواہ ہے کہ میں جس انداز میں وہ دونوں ناول لکھنا چاہتا تھالکھ نہیں پایا کیونکہ جس ڈائجسٹ میں وہ کہانی قسط وار چھپ رہی تھی اس کے ریڈر میں جیسا چاہتا تھا اس انداز میں اسے پسند نہیں کرتے۔مجبورا پرچے کے قارئین کو ذہن میں رکھ کر لکھنا پڑا۔اپنے دل کی اس چبھن کو مٹانے کے لیے میں ان دونوں ناول کو دوبارہ لکھوں گا۔ایک اور طویل کہانی” میری منزل میرا رستہ”اور سرگزشت کے ١٩٩١ کے کسی شمارے میں بعنوان ”ایک کہانی”کا پلاٹ مجھے

مدیر سے پوچھیں
علی عمران سے ملاقات
علی عمران کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں مشہور سٹِ کام سیریلز ‘نادانیاں’، ‘بلبلے’ کے مصنف کے طور پر تو سب انہیں جانتے ہی ہیں لیکن اس کے علاوہ وہ اے آر وائی ڈیجیٹل میں بہ طور کونٹینٹ ہیڈ اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ اس ماہ مدیر سے پوچھیں کے سلسلے میں ہمارا انتخاب ہیں علی عمران۔
٭ کچھ اپنے بارے میں بتائیں؟ ہمارے قارئین جاننا چاہتے ہیں کہ آپ نے لکھنا کب شروع کیا؟
علی عمران: میں نے اپنا کام ریڈیو پاکستان سے زمانۂ طالب علمی میں شروع کیا تھا ، وہاں ایک پروگرام ہوا کرتا تھا ‘بزمِ طلبہ’، اس میں لکھنے اور پڑھنے والے آیا کرتے تھے، میری شروعات وہاں سے ہوئی تھیں، چوں کہ آرٹس کونسل پڑوس میں ہی تھا تو پیدل چل کروہاں جایا کرتا تھا، اس زمانے میں وہاں سٹریٹ تھیٹر ہوا کرتا تھا میں اپنے ریڈیو کے کچھ دوستوں کے ساتھ وہاں گیا۔ بزمِ طلبہ کے تھیٹر کی ایک ٹیم تھی جس نے وہاں پر تھیٹر کیا اور ہم وہ دیکھنے گئے ۔مجھے بڑا متاثر کیا اس پلے نے اور ان ساری چیزوں نے اس کے ساتھ ہی اس چیز نے مجھے اعتماد بھی دیا کہ میں لکھ بھی سکتا ہوں، یہ کوئی اتنی مشکل چیز بھی نہیں ہے۔ پھر میں نے ایک تھیٹر پلے لکھا، جس گروپ کے لئے لکھا تھا انہوں نے اس کو اچھا ڈائریکٹ نہیں کیا، میں نے سوچا کہ یہ خود ڈائریکٹ کرنا چاہیے تو پھر ہم نے ایک چھوٹا سا تھیٹر گروپ بنایا میزان کے نام سے، اس زمانے میں لڑکیاں تھیٹرمیں بہت کم آتی تھیں خاص طور پر سنجیدہ تھیٹر میں، تو ہمارے ایک دوست کہتے تھے یار شادیاں کرو اور اپنی بیویوں سے کام کرواؤ( قہقہہ) بہرحال اس گروپ سے ہم نے ایک پلے کیا، خود لکھا، خود ڈائریکٹ کیا خود ہی ایکٹ بھی کیااور مزے کی بات ہے دیکھا بھی خود ہے (مسکراتے ہوئے)۔ لیکن اس کا اپنا نشہ تھا، کہتے ہیں کہ تھیٹر کا نشہ کوکین کے نشے سے زیادہ خطرناک ہے۔ کوکین کا نشہ ہم نے کبھی کیا نہیں ، تو پھر وہ ایک نشہ لگ گیا اور بڑی برُی لت لگ گئی ( مسکراتے ہوئے) ہم گھنٹوں آرٹس کونسل کے چبوترے پر بیٹھا کرتے تھے۔ ٹیلی ویژن میں بہت بعد میں آیا ہمارے ایک بہت اچھے رائٹر ہیں فصیح باری خان، ان سے میری واقفیت تھی ، ان سے میں نے درخواست کی کہ اگر ٹیلی ویژن کے لئے کوئی کام مل سکے، اس زمانے میں ایک پروڈکشن ہاؤس تھا BMN پروڈکشن میمونہ صدیقی کا ان کے پاس انہوں نے بھیجا، میںنے ان کے لئے ایک ٹیلی فلم لکھی، وہ آج تک بنی نہیں لیکن مجھے اس کے پیسے مل گئے تھے (مسکراتے ہوئے) اور اس کے جب پیسے ملیں تو مجھے لگا کہ یار یہ تو اچھا کام ہے تو میں باقی سب جو کام کررہا تھا اپنی زندگی میں وہ چھوڑ کر اس ہی طرف آگیا۔میں نے سوشیالوجی میں ماسٹرز کیا تھا ، نفسیات کا علم تھا، ادب سے تو خیر شروع سے ہی لگاؤ تھا ، لکھتا بھی تھا، ریڈیو نے وہ خوف دور کیا، اس کے بعدتھیٹر نے بہت سکھایا، اور پھر ٹیلی ویژن ایک بالکل الگ میڈیم تھا۔
٭ ایک مہینے میں اوسطاً کتنے مسودے اور آئیڈیاز آپ کے پاس آجاتے ہیں اور آپ کا سلیکشن کا طریقہ کار کیا ہے؟
علی عمران: جس چینل میں میں بیٹھا ہوں اس کی اپنی requirement ہے اور اس کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہم چیزوں کو سلیکٹ کرتے ہیں ، ایسا نہیں ہے کہ ہم ہر کہانی اس وجہ سے نہیں کرپاتے کہ وہ سکرپٹ اچھا نہیں ہے یا کہانی اچھی نہیں ہے، کئی بار ہم وہ اس وجہ سے نہیں کرپاتے کہ وہ ہمارے چینل کی requirement سے match نہیں کررہی ہوتی۔ بہت اچھے اور خوبصورت سکرپٹس ہوتے ہیں جو ہم کرنا چاہتے ہیں لیکن نہیں کرپاتے ہیں کیوں کہ ہمیں تھوڑا محتاط ہونا پڑتا ہے اور آپ نے مہینے کی بات کی ہے تو وہ تو میں نہیں بتا پاؤں گا لیکن ہمیں روزانہ کی بنیاد پر تقریباً چالیس، پچاس نئے مسودے مل رہے ہوتے ہیں ، اچھی خاصی تعداد ہوتی ہے۔
٭ کیا آپ riskier themes پر کام کرتے ہیں؟یا پھر جو آپ کا چینل پروفائل ہے اس ہی کو مدِنظر رکھتے ہوئے کام کرتے ہیں؟
علی عمران: دونوں چیزیں ہوتی ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ ٹیلی ویژن لوگوں کا مزاج بناتا ہے ۔میں جب سے یہاں ہوں میری کوشش ہوتی ہے کہ چینل کی جو requirement ہے اس کو feed کیا جائے اس کے علاوہ میری کوشش یہ ہوتی ہے کہ ساتھ ساتھ ہم ایسا کونٹینٹ بھی بناتے جائیں جو لوگوں کو دوسرے طریقے سے کہانی سننے اور دیکھنے کا بھی عادی بنائے ۔ ہم نے ایشوز پر کہانیاں بہت کی ہیں، ہم نے controvercial taboos پر بھی کام کیا ہے، صرف روتی دھوتی عورتوں پر کام نہیں کیا ۔
٭ آپ کے خیال میں نئے آئیڈیاز پر کام کرنے کے لیے کون سے رائٹرز زیادہ موزوں ہیں؟ نئے رائٹرز یا سینئر اور منجھے ہوئے؟
علی عمران: دیکھیں دونوں کے اپنے pros and cons ہیں، دونوں کی اپنی اچھائی اور کمی ہوتی ہیں۔ نئے لکھنے والوں کے پاس انرجی بہت زیادہ ہوتی ہے، passion بہت ہوتا ہے ان میں، ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ کچھ ہٹ کر کام کیا جائے۔ جہاں تک پرانے رائٹرز کا تجربہ بہت count کرتا ہے ان کو سکرپٹ کی تکنیک کا پتا ہوتا ہے، ان کے ساتھ کام کرنے میں وہ دقّت نہیں ہوتی جو نئے رائٹرزکے ساتھ کام کرنے پر ہوتی ہے ،اگر آپ ہمارا پورا اردو ادب اٹھا کر پڑھ لیجیے، تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ کہانیاں کم و پیش ایک ہی جیسی ہوتی ہیں، ان کا اسلوب انہیں مختلف بناتا ہے، مجھے مغربی ادب کی کہانیاں بہت اپیل کرتی ہیں وہاں پر انسانی نفسیات پر اور آج کے انسان پر کہانیاں ہوتی ہیں جس پر بدقسمتی سے ہمارے ملک میں کام نہیں ہوپایا ہے ۔ نئے رائٹرز بھی اچھا لکھ رہے ہیں، پرانے رائٹرز بھی اچھا لکھ رہے ہیں، کچھ پرانے رائٹرز ہیں، جو اچھا نہیں لکھ رہے، کچھ نئے رائٹرز ہیں جو اچھا نہیں لکھ رہے۔ یہ کرتے کی وِدّیا ہے جو کرنے سے آتی ہے۔
٭ ابھی جو آپ نے بات کی پاپولرفکشن کی، ہمارے ملک میں دو طبقے بنے ہیں، ایک ادب اور ایک فکشن۔ ادب والے فکشن رائٹر کو کچھ سمجھتے نہیں ہیں، آپ کے خیال میں یہ درست ہے؟
علی عمران: ہر آدمی کا اپنا ایک نظریہ ہے، اپنی ایک سوچ ہے ، لیکن مجھے یہ لگتا ہے کہ ہر قسم کی سوچ کو اظہارکا موقع دینا چاہیے۔ اگر ایک آدمی اپنے ڈھب سے کہانی سنانا چاہتا ہے تو اس کو سنانے کا موقع ضرور دیں،یہ فرق ہمیشہ سے رہا ہے، میں اس چیز کا حامی ہوں کہ ہر طرح کا کام سامنے آنا چاہیے۔
٭ نئے لکھنے والوں میں کچھ ایسے نام جن کا کام آپ کو زیادہ بہتر لگا ہو؟
علی عمران: بہت سارے ہیں، نئے رائٹرز میں مجھے لگتا ہے کہ بہت پوٹینشل ہے، اور ہمارے پاس زیادہ تر نئے رائٹرز کام کررہے ہیں ۔ ہر رائٹر میں کچھ نہ کچھ خصوصیت ہوتی ہے ، کچھ کا سکرین پلے بہت اچھا ہوتا ہے، کچھ کے مکالمے اچھے ہوتے ہیں، کچھ کو کہانی کہنا بہت اچھی آتی ہے ۔ہر رائٹر میں کوئی نہ کوئی خاص بات ہوتی ہے، میں تو بڑا پراُمید ہوں، مجھے بڑی خوش آئند بات لگتی ہے، میری بس ایک درخواست ہوتی ہے کہ جو لکھ رہے ہیں اس کو ایمان داری سے لکھیں، جو لکھا ہے اس کو پڑھیں ضرور اور اس کو بار بار چھلنی سے گزاریں۔
٭ آپ نے ابھی کہا کہ زمانۂ طالب علمی سے آپ کا لکھنے پڑھنے کا شوق رہا ہے، تو کون سا ایسا ادیب ہے جس کی تحریریں آپ کو بہت اچھی لگتی ہیں؟
علی عمران: لکھنے کا تو بہت بعد میں ہی شوق ہوا، پہلے پڑھنے کا شوق تھا اور بہت شوق تھا۔ ہماری یونیورسٹی کے زمانے میں یہ ہوتا تھا کہ آپ خواتین کو متاثر کرنے کے لئے اشعار سنایا کرتے تھے ، ہمارے زمانے کی لڑکیاں بھی اشعار سے بڑا متاثر ہوتی تھیں، ہم نے مختلف شعراء کے اشعار سنانا شروع کردیے ، بعد میں ہم پکڑے گئے کہ یہ کسی اور کے شعر تھے، اس احساسِ شرمندگی نے مجبور کیا کہ اب کچھ لکھا بھی جائے(قہقہہ) جہاں تک ایک ادیب کی بات ہے تو ایک کا نام لینا مشکل ہے۔بہت سارے ہیں ، اگر برِصغیر کی بات کی جائے تو سعادت حسن منٹو، احمد ندیم قاسمی صاحب، گلزار صاحب، ممتاز مفتی صاحب ، عبداللہ حسین اور اگر آپ بین الاقوامی ادب کی بات کریں تو چیخوف ہیں۔
٭ کون سا writing genre کا آپ کو بہت پسند ہے؟
علی عمران: مجھے نفسیاتی کہانیاں ہمیشہ سے پسند آئی ہیں اور ٹیلی ویژن کے اعتبار سے اگر پوچھا جائے تو مجھے رومانی کہانیاں پسند آتی ہیں۔
٭ کون سا writing genre جو آپ کو انتہائی غیر دلچسپ لگتا ہو؟
علی عمران: آپ اگر یقین کریں گے تو میں بتادیتا ہوں مزاح (قہقہہ) میں سچی بات بتاؤں تو مجھے کامیڈی لکھنے میں بھی زیادہ مزہ نہیں آتا۔ میں بہت بے دلی سے لکھ کر اپنے ڈائریکٹر کو دے دیتا ہوں کہ بھائی جو سمجھ آئے اس کو شوٹ کردینا، اور وہ بہت اچھا نکل آتا ہے ، تو وہ مجھے کہتے ہیں کہ آپ بے دلی سے ہی لکھا کریں، دل سے لکھیں گے تو رزلٹ اچھا نہیں آئے گا (قہقہہ)
٭ آپ کو نہیں لگتا کہ بلبلے بہت زیادہ طویل ہوگیا ہے اس کو اب بند ہوجانا چاہیے؟
علی عمران: دیکھیں اگر آپ میری پسند ناپسند پر جائیں گے تو اس وقت ٹیلی ویژن پر چلنے والے آدھے سے زیادہ ڈرامے بند ہوجائیں گے ( مسکراتے ہوئے) میں نے کہا نا کہ چینل کی بھی کچھ مجبوریاں ہوتی ہیں اور ایسا ہرگز نہیں ہے کہ چینل ڈھیٹ بن کر بیٹھا ہوا ہے ، مجھے آج بھی بہت لوگ ملتے ہیں جو بلبلے دیکھتے ہیں اور باقاعدگی سے دیکھتے ہیں۔ میرا ماننا یہ ضرور ہے کہ اس کی مقبولیت کم ہوئی ہے۔ یقینی طور پر ایک چیز اگر اتنی طویل ہوگی تو ایک وقت آئے گا کہ لوگ اس کو گھر کا سامان سمجھنے لگتے ہیں۔
٭ آپ نے کامیڈی کے علاوہ سنجیدہ بھی لکھا ہے؟
علی عمران: میں نے شروعات سنجیدہ کام سے ہی کی۔ اب بدقسمتی ہے کہ لوگوں کو اس کے حوالے سے زیادہ پتا نہیں (قہقہہ) میں تو مزاح لکھتا ہی نہیں تھا ، نہ ہی لکھنا چاہتا تھا۔ میں نے کامیڈی کبھی نہیں لکھی، تھیٹر میں ڈارک کامیڈی تھوڑی بہت لکھی اور شاید وہی چیز میرے کام آگئی۔ ایک سیریل آتا تھا میں اور تم جو اظفرکرتے تھے،اس کے رائٹر کے ساتھ کچھ مسئلہ ہوگیا تو اظفر میرے پاس آگئے اور کہنے لگے کہ علی بھائی آپ نے یہ لکھنا ہے ، میں نے کہا یار مجھے تو کامیڈی نہیں لکھنا آتا، تو انہوں نے کہا یار اتنا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا، میرے ساتھ بیٹھ جاؤ یوں کرو، یہ کرو، اور ایسے کرلیتے ہیں، اور واقعی اظفر نے بڑا آسان کردیا۔
٭ آپ کے اب تک کے کیے گئے پراجیکٹ میں کون سا پراجیکٹ ہے جو آپ کو بہت پسند ہے؟
علی عمران: میں نے شروع میں ایک شارٹ پلے کیا تھا، خاموشی کے نام سے جس میں فیصل قریشی اور ثانیہ سعید تھے اور عمران پٹیل اس کے ڈائریکٹر تھے، وہ پلے مجھے بہت پسند تھا۔ دوسرا میرا ایک سیریل تھا خراشیں، سیفی حسن نے ڈائریکٹ کیا تھا وہ بھی مجھے بہت پسند ہے۔ پھر فہد مصطفیٰ نے ایک سیریز شروع کی تھی ‘اور پھر’ کے نام سے اس کے میں نے پلے لکھے تھے۔ کامیڈی میں مجھے جو پسند ہے وہ نادانیاں ہیں، اور بلبلے۔۔اب تو نہیں لیکن شروع میں بہت پسند تھا(مسکراتے ہوئے)
٭ مقابلے کے باقی ایڈیٹرز میں کون سے ایسے ہیں جن کا کام آپ کو بہتر لگتا ہے؟