Tag: سلسلہ وار ناول

  • موہن داس ۔ الف نگر

    موہن داس

    خالد محی الدین 

    جھاڑیوں سے ہاتھ آنے والی گول چیز دیکھتے ہی اُس کی چیخ نکل گئی۔ وہ کون تھا؟ اور وہ چیز کیا تھی؟ پڑھیے اس خوب صورت کہانی میں!

    جب اُسے ہوش آیا تو ہر طرف اندھیرے کا راج تھا۔ تھوڑی ہی دیر میں آنکھیں اندھیرے سے مانوس ہوئیں تو اُسے اپنے ساتھیوںکی یاد آئی اور وہ دائیں بائیں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے لگا۔ وہاں کوئی ہوتا تو دکھائی دیتا۔ پانی کی بوتل اور فوجیوں کا مخصوص راشن جو جنگ کے دنوں میں ہر فوجی کے پاس ہوتا ہے یہ نعمتیں وہ کھو چکا تھا، اس کے بائیں کندھے پر خون اور دھول جمی ہوئی تھی اور زخم ٹھنڈا ہونے سے ٹیسیں اُٹھ رہی تھیں۔ اندھیرے کی وجہ سے اِس علاقے کی پہچان کرنا ممکن نہیں تھا۔ 

    یہ 9 ستمبر 1965ء کی سہ پہر تھی۔ ہر طرف دھول ہی دھول جیسے خاک کا طوفان اُمڈ آیا ہو۔ خاکی وردیوں میں ملبوس کوئی فوجی دکھائی نہیں دے رہا تھا کیوں کہ خاک اور وردیوں کا رنگ ایک جیسا تھا۔ ایسے میں توپ کا گولا قریبی پہاڑی پر گرا، کئی فوجی اس کی زد میں آگئے۔ خوف کا یہ عالم تھا کہ شدید زخمی ہونے کے باوجود سبھی نے لب سی لیے تھے تاکہ آواز نکلنے کی صورت میں وہ پکڑے نہ جائیں۔ رفتہ رفتہ اندھیرا چھانے لگا۔ وہ مٹی پر پڑا کراہ رہا تھا۔ پھر کچھ ہی دیر بعد وہ ہوش و حواس سے بیگانہ ہوگیا۔

    جب اس کی آنکھ کھلی تو ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔ اس کے زخموں سے ابھی بھی خون رس رہا تھا۔ گرتے پڑتے وہ اندھیرے میں ٹٹولتا ہوا بھگوان کا نام لے کر ایک جانب چل پڑا۔ چھوٹی چھوٹی جھاڑیوں سے ٹکراتا’ گرتا پڑتا وہ بہت دیر چلتا رہا۔ بھوک زوروں پر تھی اور وہ جلد از جلد کسی آبادی والے علاقے میں پہنچنا چاہتا تھا تاکہ کھانے کو بھوجن مل سکے۔ وہ جھاڑیوں کو ٹٹولتا جارہا تھا کہ اُس کے ہاتھ ایک نرم اور گول چیز پر جا پڑے۔ اُس نے جیسے ہی اُسے اُٹھایا تو وہ ایک موٹا تازہ سانپ تھا۔ ایک خوف ناک چیخ مار کر اس نے سانپ کو وہیں پٹخا اور لنگڑاتے ہوئے ایک طرف دوڑ لگا دی۔ خوش قسمتی سے وہ آبادی والے علاقے میں پہنچ گیا۔ قریب ہی ایک مکان کے کواڑ کھلے تھے۔ وہ اندر چلا گیا۔

    صحن میں جانوروں کی کھرلی پڑی تھی’ لیکن بالکل ویران۔ نہ گائے نہ بکری۔ ساتھ والے کمرے میں گیا تو کہیں سے آواز نہ آئی۔ نہ کسی نے ہاتھ جوڑ کر پرنام کیا۔ ٹوٹی ہوئی چارپائی، بکھرے ہوئے کپڑے، لڑھکی ہوئی ہنڈیا اور پھوٹے ہوئے گھڑوں نے اُس کا استقبال کیا۔ دیواروں پر اندھا دھند فائرنگ کے نشان تھے۔ یہ دیکھ کر اُسے مایوسی ہوئی اور وہ اس کھنڈر سے نکل آیا۔ ہر سو ویرانی دل پر ہول طاری کر رہی تھی۔ 

    اچانک اُس کی آنکھوں میں چمک پیدا ہوئی۔ سامنے ہی ایک مکان میں لالٹین روشن تھی۔ یہ دیکھ کر اُس میں توانائی لوٹ آئی اور وہ تیز تیز قدم اُٹھاتا دروازے تک پہنچا اور بے دھڑک کھٹکھٹانے لگا۔

    دن بھر کا تھکا ہارا مومن خان چھت پر خوابِ خرگوش کے مزے لے رہا تھا اور اُس کی ماں ماسی برکتے جو اپنے پوتے کو سلا کر خود بھی سونے لگی تھی یہ سوچتے ہوئے دروازے کی طرف آئی کہ اس وقت کون ہو سکتا ہے؟

    جیسے ہی اُس نے دروازہ کھولا، سامنے ایک زخمی فوجی کو کھڑے دیکھ کر ٹھٹک گئی۔ حیران ہوتے ہوئے ماسی نے جلدی سے دروازے کے دونوں پٹ کھول دیے اور وہ لڑکھڑاتا ہوا اندر آتے ہی گرپڑا۔ امّاں برکتے نے جلدی سے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ درد سے کراہ اُٹھا۔

    ”ہائے میں صدقے…” اُس نے زخمی فوجی کی بلائیں لیں اور اُسے فوراً اندر لے جاکر بستر پر لٹا دیا۔ پھر لالٹین لے کر جلدی سے باورچی خانے میں چلی گئی۔ اتنے میں ماسی کا بیٹا مومن خان بھی اُٹھ گیا۔

    ”اماں! کون ہے؟ تُو کس سے باتیں کررہی ہے؟” چھت سے اترتے ہی مومن خان نے پوچھا۔

    ”پتر! کوئی شیر جوان ہے اپنی فوج کا۔” ماسی برکتے ایک ہاتھ میں ہلدی والے دودھ کا پیالہ لیے باورچی خانے سے نکلی۔ مدھم روشنی میں اُسے فوجی کے روپ میں اپنا بیٹا دکھائی دے رہا تھا۔ وہ اپنے بیٹے کا تصور کرکے اس کی تیمار داری کرنے لگی۔ وہ چپ سادھے ماسی سے اپنی خدمت کروا رہا تھااور دل ہی دل میں اس کے سلوک سے متاثر ہورہا تھا۔ پھر اسی حالت میں سوچوں کے سمندر میں کھو گیا۔ وہ اس وقت چونکا جب ماسی برکتے کی آواز اُس کی سماعت سے ٹکرائی: ”میرا شوہر بھی فوج میں تھا۔” یہ کہتے ہوئے ماسی اُسے اپنے ہاتھوں سے دودھ پلانے لگی۔

    اُس نے پیالہ پکڑ لیا اور ماسی برکتے شوہر کے ساتھ بیتے لمحے یاد کر کے افسردہ ہو گئی۔ آواز رندھ گئی اور نحیف آواز میں کپکپاہٹ بڑھ گئی۔ ماسی برکتے بتانے لگی: ”شہادت کی تمنا اُس کے دل میں رچی بسی تھی۔ وہ اکثر اس بات کا  اظہار کرتا تھا۔ اب تم یہی دیکھ لو بزدل دشمن نے چپکے سے پاکستان پر حملہ کردیا۔ نہتے اورمعصوم لوگوں پر گولہ باری کردی۔ ہم مسلمان تو دشمن کو للکار کر وار کرتے ہیں اور شہادت کی تمنا کرتے ہیں۔” ماسی برکتے کی بات سنتے ہی وہ چونک اٹھا:

    ”اوہ! میں… میں کہاں ہوں؟” حیرانی و پریشانی کی ایک لہر اس کے چہرے کو زرد کر گئی۔ ماسی برکتے کا بیٹا مومن خان اب پاس کھڑا ہمدردی سے اُسے دیکھ رہا تھا۔

    ”کک… کیا… میں پاکستانی علاقے میں… غلطی سے…” یہ بات سوچتے ہوئے زخمی فوجی موہن داس کو جھرجھری آگئی۔ دل ہی دل میں وہ خوف زدہ ہوگیا پھر سونے کی ناکام کوشش کرنے لگا۔

    رات خاصی بیت چکی تھی۔ ماسی لالٹین اُس کے چہرے کے قریب لائی جیسے یہ دیکھنا چاہتی ہو کہ اب وہ کس حال میں ہے۔ یہ دیکھ کر ماسی کو اطمینان ہوا کہ وہ سوچکا تھا۔ مومن خان چھت پر چلا گیا اور ماسی برکتے اپنے کمرے میں لالٹین کی لو دھیمی کرکے سونے لگی۔ گہری خاموشی میں جھینگروں کی آواز لوری کا کام دے رہی تھی۔ وہ کب نیند کی آغوش میں گئی، اسے پتا ہی نہ چلا۔

    اچانک کھڑاک کی آواز سن کر ماسی ہڑ بڑا کر اُٹھ بیٹھی اور ڈنڈا تھامے لالٹین لیے صحن میں آئی تو ایک سایہ باہر کے دروازے کی جانب بڑھ رہا تھا۔ ماسی نے چور اُچکا سمجھ کر للکارتے ہوئے ڈنڈا ہوا میں لہرایا تو وہ سایہ دیوار کے ساتھ دبک کر بیٹھ گیا۔ ماسی نے لالٹین کی روشنی اس کے چہرے پر ڈالی تو حیران رہ گئیں۔

    ”تم…؟ تم یہاں کیسے؟”انہوں نے حیرانی سے پوچھا۔

    ”وہ… وہ میرے زخموں کی وجہ سے بہت درد ہورہا تھا۔ میں پانی پینے اُٹھا تھا۔” موہن داس نے گھبراتے ہوئے جھوٹ بولا۔

    دراصل وہ بھارتی فوج میں حوالدار تھا۔ جنگ کے دوران سرحد کے قریب پاک فوج کی بمباری سے زخمی ہوا۔ پھر جنگل سے گرتا پڑتا اندھیرے میں غلطی سے پاکستانی سرحد میں گھس آیا تھا۔ لیکن رات کو باتوں ہی باتوں میں مومن خان اور اس کی ماں سے مل کر اسے حقیقت پتا چلی تھی کہ وہ پاکستانی علاقے میں ہے۔ اب وہ جلد یہاں سے نکل جانا چاہتا تھا تاکہ حقیقت پتا چلنے پر یہ لوگ اُسے مارنہ دیں۔

    لیکن چوری چھپے فرار ہوتے ہوئے امّاں نے اسے دیکھ لیا تھا۔ کچھ لمحوں بعد چھت سے مومن خان بھی اتر آیا۔ ماسی برکتے کے دل میں نہ جانے کیا آئی کہ اُس سے نام پوچھ لیا۔

    موہن داس کی ٹال مٹول اور گھبرائے لہجے کو دیکھ کر ماسی کے بیٹے مومن خان کو کچھ شک گزرا۔ اس نے آگے بڑھ کر موہن داس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو ایک دم حیران رہ گیا کیوں کہ موہن داس کی فوجی وردی پر بھارت کا جھنڈا بنا ہوا تھا۔

    ”اوہ! یہ کیسے ہوسکتا ہے۔” مومن خان کے منہ سے نکلا مگر جلد ہی اس نے خود پر قابو پایا اور موہن داس کو شک نہ ہونے دیا کہ اسے حقیقت پتا چل چکی ہے۔

    ابھی وہ اندھیرے میں کھڑے ایک دوسرے کو دیکھ ہی رہے تھے کہ اچانک موہن داس نے ماسی کے ہاتھ میں پکڑا ڈنڈا چھین کر مومن خان پر حملہ کردیا۔ اس سے پہلے کہ ڈنڈا مومن خان کے سر میں لگتا۔ وہ جلدی سے ایک طرف ہوگیا اور پُھرتی سے اس نے موہن داس کو قابو کرلیا۔

    ”نام بتاؤ اپنا…” مومن خان نے غضب ناک ہوتے ہوئے پوچھا۔

    ”مم… موہن داس…” اس نے مرے ہوئے لہجے میں جواب دیا ساتھ ہی زخم سے اٹھنے والے درد سے کراہنے لگا۔ یہ دیکھ کر مومن خان نے اپنی گرفت ڈھیلی کردی۔

    ”چھوڑ دے اسے پُتر… زخمی ہے۔” اماں برکتے نے کہا تو مومن خان سے اسے چھوڑ دیا۔ موہن داس کا سر جھک گیا تھا۔

    ”آپ مجھے جان سے مار کر اپنا بدلہ لے سکتے ہیں۔” وہ بے بسی کے ساتھ بجھے ہوئے لہجے میں بولا۔

    ”نہیں، ہم نہتے پر وار نہیں کرتے۔” مومن خان نے سرد لہجے میں کہا۔

    موہن داس پر کپکپی اب بھی طاری تھی۔ وہ دل ہی دل میں سوچ رہا تھا یہ کیسے لوگ ہیں جو گھر آئے دشمن کو ناصرف زندہ سلامت چھوڑ رہے ہیں بلکہ اس کی خدمت بھی کررہے ہیں۔

    سوچوں میں گم موہن داس شرمندگی سے زمین میں گڑھا جارہا تھا۔ ایسے میں مومن خان کی آواز گونجی۔

    ”موہن داس! جاؤ اب تم آزاد ہو۔” اس سے پہلے کہ موہن داس قدم اُٹھاتا، پیچھے سے ماسی برکتے نے آواز دی۔

    ”رُکو! صبح ہونے والی ہے۔ میں ابھی آتی ہوں۔” یہ کہہ کر ماسی برکتے باورچی خانے میں گئی پھر جلد ہی لوٹ آئی۔ اس کے ہاتھ میں ایک ٹفن تھا جس میں سالن اور کچھ روٹیاں تھیں۔

    ”لو! یہ ساتھ رکھ لو، بھوک لگے تو کھا لینا۔” ماسی نے ٹفن اس کی طرف بڑھایا۔ تشکر آمیز نگاہوں سے اس نے ماسی کے ہاتھ سے وہ ٹفن لیا اور سرجھکاتے ہوئے ایک طرف چل پڑا۔ لنگڑاتے ہوئے اس نے ماسی برکتے کی دہلیز پار کی پھر رک کر پیچھے دیکھا جہاں ماسی برکتے اور مومن خان اسے واپس جاتا دیکھ رہے تھے۔ نمناک آنکھوں سے موہن داس نے ہاتھ اُٹھا کر انہیں سلیوٹ کیا پھر ایک زرد دار نعرہ بلند کیا: پاکستان زندہ۔

    ٭…٭…٭

  • پاکستان ہمارا ہے ۔ الف نگر

    پاکستان ہمارا ہے

    عثمان طفیل

    رات کے اندھیرے میں اس کا گھر سے نکلنا خطرے سے خالی نہ تھا۔

    ”بتول…! اٹھو بتول…! آدھی رات بیت چکی ہے۔ سب تمہارا انتظار کر رہے ہوں گے۔” جاوید نے بستر پر سوئی بتول کو جھنجھوڑا۔ وہ جلدی سے اپنا دوپٹا ٹھیک کرتے ہوئے اُٹھ بیٹھی۔ پھر وہ دونوں دبے پائوں دروازے کی طرف بڑھے۔

    انہیںیہ تو فکر تھی کہ بچے نہ جاگ جائیں مگر اس سے زیادہ ڈر اس بات کا تھا کہ کوئی پہرے دار انہیں گھر سے نکلتے نہ دیکھ لے۔ جاوید نے آہستہ سے دروازہ کھولا تو ہوا کا ایک سرد جھونکا ان سے ٹکرایا۔ بتول نے چپکے سے سرباہر نکالا اور خالی گلی دیکھ کر دوڑتی ہوئی کونے والے گھر کے سامنے پہنچ گئی۔ پہرے دار کسی بھی وقت آسکتے تھے۔ 

    اس نے دروازہ دھکیلا تو وہ کھلتا چلا گیا۔ جاوید نے بتول کو اندر جاتے دیکھا تو واپس اپنے کمرے میں آگیا۔ دوسری طرف بتول کو لینے کے لیے دو لڑکیاں دروازے کے پاس ہی موجود تھیں۔ انہوں نے دروازہ بند کر کے اندر سے تالا لگا دیا۔ پھر وہ بتول کو لیے گھر کے اندرونی حصے کی طرف بڑھ گئی۔ پورے گھر میں خاموشی کا راج تھا۔

    ایک کمرے میں پہنچ کر ان کے قدم رک گئے۔ فرش پر قالین بچھاہوا تھا۔ ایک لڑکی نے آگے بڑھ کر قالین ہٹایا تو وہاں ایک دروازے کے آثار نظر آئے۔

    دیکھنے میںبالکل بھی اندازہ نہیںہوتا تھا کہ یہاںکوئی دروازہ ہے مگر قالین ہٹانے سے تہ خانے کا راستہ نظر آنے لگا۔ کچھ ہی دیر بعد وہ سب تہ خانے میںموجود تھیں۔ اوپر والے حصے میں گھر کے دو مرد ہی تھے جنہوں نے تمام کمروں کے دروازے اور کھڑکیاں بند کر رکھی تھیں جب کہ دروازوں کے آگے بھاری پردے لگا دیے تھے۔ پوری کوشش کی گئی تھی کہ اس گھر سے کسی بھی قسم کی آواز باہر نہ جا سکے۔ تہ خانے میں محلے بھر سے کوئی درجن بھر خواتین جمع تھیں۔

    بتول کے پہنچتے ہی سب نے خوشی کا اظہار کیا اور پھر اپنے اپنے کام میں جُت گئیں۔

    ان کے سامنے کپڑے کے کئی تھان تھے جو چند نوجوانوں نے اپنی جان پر کھیل کر یہاں پہنچائے تھے گو کہ کچھ روز قبل ہی فوج نے یہ سارا علاقہ چھان مارا تھا۔ ہر گھر کی تلاشی لی گئی بلکہ تلاشی کیا ہر چیز ادھیڑ کر رکھ دی تھی مگر ان کے ہاتھ یہ تھان نہ لگ سکے۔ اگر انہیں ذرا سی بھنک پڑ جاتی کہ یہ تھان اس گھر کے خفیہ تہ خانے میں ہیں تو وہ سارا فرش اکھیڑ دیتے۔

    دو رنگی کپڑے کے یہ تھان انہیں زہر لگتے تھے۔ بہر حال کپڑے کے یہ تھان فوج کو ملنے تھے نہ ملے۔ اس وقت کئی خواتین بتول کی دی گئی پیمائش کے مطابق کپڑا کاٹ رہی تھیں۔ ان کے پاس صرف دوسلائی مشینیں تھیں۔

    فوجیوں کا بس چلتا تو اگست کے آنے سے ایک ماہ قبل ہی ہر گھر سے سلائی مشین اٹھا لیتے لیکن وہ ایسا نہ کر سکے۔ وقت گزرتا گیا۔ بتول اور اس کی ایک سہیلی مسلسل سلائی مشین چلاتی رہیں۔ فجر کی اذان ہوتے ہی ساری خواتین ایک ایک کرکے چپکے سے واپس گھروں کو جانے لگیں۔ جس طرح ان کا آنا بہت بڑا خطرہ تھا اس طرح واپس جانا بھی خطرے سے خالی نہ تھا۔

     اگر کوئی ایک لڑکی اور اس کے پاس موجود دورنگی کپڑا پکڑا جاتا تو پورا علاقہ فوجیوں کے عتاب کا شکار ہوجاتا۔ بہرحال اللہ نے ہر سال کی طرح اِس بار بھی ان کی حفاظت کی اور سب سے آخر میں بتول بھی اپنے گھر پہنچ گئی۔ 11 اگست کا سورج طلوع ہونے میں کچھ وقت باقی تھا اور ابھی مزید دو راتیں بتول نے اسی طرح گزارنی تھیں۔

    کشمیر کی بیٹی بتول کو علم تھا کہ اگر وہ پکڑی گئی تو فوجی اس کے ساتھ کیا سلوک کریں گے مگر اپنے وطن کے لیے اسے اپنا آپ بہت چھوٹا محسوس ہوا ہوتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ اگلی دو راتیں بھی چھپتے چھپاتے گلی کے کونے والے گھر گئی اور فجر سے پہلے واپس آگئی۔ اب اگلی رات مردوں کے لیے آزمائش لیے ہوئے تھی۔ بتول اور باقی کئی خواتین اپنا فرض ادا کر چکی تھیں۔

    13 اور 14 اگست کی درمیانی شب مردوں کی مختلف ٹولیاں بن گئیں۔ یہ سب پہلے سے طے شدہ تھا۔ انہوں نے انتہائی خاموشی سے اپنا کام کیا اور واپس گھروں کو آگئے۔ کئی جگہ فوجیوں سے ٹکرائو ہوتے ہوتے بچا۔

    14اگست کا سورج طلوع ہوا تو قابض فوج سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔ ان کی ہزار کوششوں کے باوجود سارے کشمیر میںسبز ہلالی پرچم لہرا رہے تھے۔ کچھ بہادر جیالوں نے تو سرکاری عمارتوں پر بھی یہ پرچم لہرا دیا تھا۔ مختلف علاقوں سے کشمیری باشندے گروہوں کی شکل میںمرکزی چوراہوں کی طرف بڑھنے لگے۔ ان کے ہاتھوں میں پاکستانی پرچم تھے جو بتول جیسی کشمیری بیٹیوں نے اپنا سب کچھ دائو پر لگا کر تیار کیے تھے۔

    اس پرچم کی شان اور کشمیریوں کے عزم و استقلال کے آگے ساڑھے آٹھ لاکھ قابض فوج اپنے تمام تر اسلحے اور رعونت سمیت بے بس تھی۔ پھر ایک نورانی چہرہ نمودار ہوا۔ آزادی کے سبھی متوالے اس کی طرف بڑھنے لگے۔ فضا میں مظلوم کشمیری مسلمانوں کی آواز گونج رہی تھی۔

    ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے

    ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے

    ٭…٭…٭

  • روشن چہرہ ۔ الف نگر

    روشن چہرہ ۔ الف نگر

    روشن چہرہ

    تنزیلہ یوسف

    دانیال بیٹا! تمہاری دوسری خواہش بھی پوری ہوئی۔

    بابا جی مسکرائے۔

    ”ہے کوئی سخی! جو مجھ اندھے کو سڑک کے اُس پار لے جائے اور بدلے میں اپنی دو خواہشیں پوری کروائے؟” سڑک کنارے کھڑے باباجی صدا لگارہے تھے مگر کوئی بھی ان کی صدا پر کان دھرنا گوارا نہیں کررہا تھا۔ دانیال اسکول جارہا تھا۔ وہ سڑک پار کرنے لگا تو اس کے کانوں سے یہ صدا ٹکرائی۔

    ”ہے کوئی سخی! جو مجھ اندھے کو سڑک کے اُس پار لے جائے اور بدلے میں اپنی دو خواہشیں پوری کروائے؟”

    دانیال نے حیرت سے باباجی کو دیکھا۔ اسی دوران باباجی نے پھر صدا لگائی۔ دانیال نے آگے بڑھ کر ان کا ہاتھ تھاما اور بولا: ”آئیے باباجی! میں آپ کو سڑک کے اس پار لے جاؤں۔”

    ”جیتے رہو میرا بچہ!” باباجی نے بے اختیار دعا دی۔

    دانیال نے اپنے دائیں طرف دیکھا پھر اشارہ بند پاکر سڑک پار کرلی۔

    ”لیجیے باباجی! آپ سڑک کے اس پار آگئے۔ مجھے اجازت دیں میں اسکول جاؤں۔” دانیال نے باباجی سے اجازت چاہی۔

    ”ارے ایسے کیسے میرا بچہ! ابھی تو مجھے تمہاری دو خواہشیں پوری کرنی ہیں۔” باباجی نے یاد دلایا۔

    ”اوہ میں تو بھول ہی گیا۔” دانیال کو یک دم یاد آیا۔ ”لیکن باباجی! مجھے اسکول کے لیے دیر ہورہی ہے۔” اس نے کلائی پر بندھی گھڑی پر وقت دیکھتے ہوئے کہا۔

    ”یہ پاس ہی تو ہے اسکول، پھر کیوں دیر ہورہی ہے؟” باباجی نے اپنی لاٹھی سے بائیں جانب اشارہ کیا۔

    ”ارے! آپ کو کیسے معلوم ہے بابا جی؟ میرا مطلب کہ آپ تو دیکھ ہی نہیں سکتے۔” دانیال نے کچھ جھجکتے ہوئے پوچھا۔

    ”جو دیکھ نہیں سکتے ان کے کان کُھلے ہوتے ہیں۔ بچوں کے شور کی آواز ادھر سے ہی تو آرہی ہے۔” باباجی دانیال کو سمجھاتے ہوئے بولے۔

    ”آئیں ادھر بنچ پر بیٹھیں۔ میں آپ کو اپنی دو خواہشیں بتاتا ہوں۔” دانیال نے ہاتھ پکڑ کر انہیں بٹھایا: ”ہاں بھئی جلدی بولو! ایسا نہ ہو کہ اسکول کا وقت شروع ہوجائے۔”

    ”باباجی! میری پہلی خواہش یہ ہے کہ آپ مجھے روشن پاکستان کی خیالی تصویر دکھائیں۔ میرا ہم جماعت وسیم پاکستانی قوم کو ہر وقت طعنے دیتا ہے۔” دانیال نے کہا۔

    ”بھئی میں تمہیں روشن پاکستان کی خیالی نہیں بلکہ عملی تصویر دکھاتا ہوں۔” بابا جی نے مسکراتے ہوئے کہا۔

    ”یہ دیکھو!” باباجی نے کہا تو دانیال کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا آیا پھر سامنے ایک سکرین روشن ہوئی اور اس پر کچھ چلنے لگا۔

    ”یہ کیا ہے باباجی؟” دانیال کو کچھ سمجھ نہیں آیا۔

    ”خود ہی دیکھو مثالی پاکستان کا روشن چہرہ!”

    سکرین پر ٹریفک جام کا منظر تھا۔ مغرب کی اذان ہوئی تو کچھ لوگ ٹریفک میں پھنسے لوگوں میں پانی کی بوتلیں تقسیم کررہے تھے۔ اگلا منظر اس سے بھی بڑھ کر تھا۔ سڑک کنارے ایک بڑی سی گاڑی کھڑی تھی۔ اس میں کھانے کی اشیا تھیں۔ گاڑی کے پاس کھڑے کچھ لوگ راہ گیروں میں ڈبے تقسیم کرتے جارہے تھے۔ منظر بدلا اور ایک ویران سڑک کے کنارے ٹھنڈے پانی کے بڑے بڑے کولر تھوڑے تھوڑے سے فاصلے پر نصب دکھائی دیے۔

    اگلا منظر ایک بڑے ہسپتال کا تھا۔ پاس ہی سڑک پر ایک حادثہ ہوا تھا۔ زخمیوں کے لیے خون کا عطیہ دینے والوں کی بڑی تعداد اپنی باری کی منتظر تھی۔

    ”یہ تو صرف پاکستان کے ایک شہر کی ہلکی سی جھلک ہے۔ میرے پاکستان کا چہرہ اس سے کئی گنا زیادہ روشن ہے۔ یہاں اگر ایدھی جیسے بوڑھے، لاوارث بچوں کو گود لیتے ہیں، لاوارث لاشیں دفناتے ہیں، یتیموں کے سر پر دستِ شفقت رکھتے ہیں، وہیں حماد صافی، ایّان قریشی، بابر اقبال اور ارفع کریم جیسے بچے اس ملک کا مستقبل روشن کیے ہوئے ہیں۔ جنگ ہو یا امن، مشکل پڑنے پر پاکستانی قوم یک جان نظر آتی ہے۔” باباجی کی آواز میں جوش نمایاں تھا۔

    ”زبردست بابا جی! اور میری دوسری خواہش؟” دانیال پُر جوش انداز میں بولا۔

    ”ہاں بھئی جلدی بولو اپنی دوسری خواہش۔” باباجی نے دوسری خواہش پوچھی۔

    ”میری دوسری خواہش ہے کہ پاکستان دنیا کا ترقی یافتہ ملک بن جائے۔” دانیال نے جلدی سے کہا۔

    ”یہ خواہش بھی پوری ہوئی۔” باباجی دھیمے انداز میں مسکرائے۔

    ”وہ کیسے؟” دانیال حیرانی سے بولا۔

    ”وہ ایسے کہ جب تک پاکستان کا نصیب تم جیسے ہونہار بچے ہیں، پاکستان کو ترقی سے کوئی نہیں روک سکتا۔ دیکھنا! تم جیسے بچوں کی وجہ سے آئندہ چند سال میں پاکستان صفِ اول کے ترقی یافتہ ممالک میں کھڑا ہوگا۔ ان شاء اللہ۔” بابا جی نے کہا۔ 

    ”آہا! میرے روشن پاکستان کا مثالی چہرہ! یہ چہرہ ہم پوری دنیا کو دکھا کر دم لیں گے۔” دانیال نے پُر جوش انداز میں کہا۔

    ”ان شاء اللہ…” بابا جی نے مسکرا کر کہا تو دانیال اسکول کی طرف روانہ ہوگیا۔

    ٭…٭…٭

  • چھین لیا ہے پاکستان ۔ الف نگر

    چھین لیا ہے پاکستان ۔ الف نگر

    چھین لیا ہے پاکستان

    محمد ضیاء اللہ محسن

    وہ ہاتھوں میں درانتی پکڑے تیز قدموں سے کھیتوں کی جانب رواں دواں تھا۔ اس کا نحیف اور کمزور بدن تھکن سے چُور تھا لیکن اس بڑھاپے میں بھی اس کا جذبہ جوان تھا۔ اسے منزل پر پہنچنے کی جلدی تھی۔ ابھی رات ہی کو یہ فیصلہ ہوا تھا کہ گاؤں کے تمام مسلمان گھرانے صبح سحری کے بعد پاکستان کی طرف ہجرت کر جائیں گے۔

    یہ گاؤں آس پاس کے باقی دیہات سے قدرے خوش حال تھا۔ ہندوؤں کی آبادی یہاں زیادہ تھی جبکہ مسلمانوں کے جند ایک گھرانے تھے البتہ مسلمان معاشی طور پر زیادہ خوش حال تھے۔ لمبی چوڑی زمینیں، پالتو جانور اور معاش کے دیگر ذرائع پر مسلمان حاوی تھے مگر کبھی بھی انہوں نے ہندو مسلم تفریق پیدا نہ کرنے کی کوشش نہ کی تھی۔ گاؤں میں سبھی مل جل کر رہتے تھے۔

    ملکی سطح پر سیاسی شورش کے باعث چند جذباتی ہندو نوجوانوں نے مسلمانوں کو تنگ کرنا شروع کردیا تھا۔ جیسے ہی قیام پاکستان کا اعلان ہوا اسی رات نمازِ تراویح سے فارغ ہوکر قطب دین نے گاؤں کے تمام مسلمانوں کو ایک جگہ اکٹھا کیا اور پاکستان کی طرف ہجرت کرنے کے بارے میں رائے طلب کی۔

    متفقہ رائے میں یہ بات سامنے آئی کہ عید کے فوری بعد سبھی مسلمان پاکستان کی طرف ہجرت کرجائیں گے۔ ابھی تمام لوگ اپنے گھروں کو روانہ ہونے والے تھے کہ اچانک ہندو نوجوانوں کا ایک گروہ وہاں آگیا۔ ڈرانے دھمکانے کے بعد قریب تھا کہ وہ مسلمانوں پر حملہ کردیتے مگر بابا قطب دین نے آگے بڑھ کر بچ بچاؤ کرا دیا۔ اس صلح صفائی میں کچھ ہندو بزرگ بھی شامل تھے۔ امن اور شانتی کے ساتھ سب لوگ اپنے گھروں کو روانہ ہوگئے مگر پھر بھی مسلمانوں کے لیے خطرہ بہرحال موجود تھا۔

    چناں چہ بابا قطب دین نے رات کے اندھیرے میں بابا رحمت علی، بابا تاج دین اور دوسرے مسلمان بزرگوں کے گھر چکر لگا کر انہیں صبح سحری کے بعد ہی ہجرت پر راضی کرلیا۔

    ”دوستو! میرے خیال میں اس جگہ ہمارا دانہ پانی اتنا ہی تھا۔ اب مزید یہاں رہنا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ کیوں نا ہم صبح سویرے ہی یہاں سے ہجرت کرجائیں۔” بابا قطب دین نے تشویش ناک صورتِ حال پر باقی بزرگ دوستوں کو الگ الگ جاکر قائل کرنے کی کوشش کی۔

    آخر سبھی نے اس فیصلے کی تائید کی۔ اب رات کو سونے کے بجائے تمام مسلمان گھرانے اپنا ضروری اور قیمتی سازو سامان سمیٹ رہے تھے۔ سبھی کی آنکھیں نمناک تھیں۔ آخر برس ہا برس سے یہاں قیام پذیر مسلمان کیسے اپنے گھروں کو چھوڑ سکتے تھے مگر یہ کرنا پڑا۔

    صبح سحری کے بعد مسلمانوں کا قافلہ تیار ہوچکا تھا۔ وہ منہ اندھیرے گاؤں سے نکلنا چاہتے تھے۔ اچانک بابا قطب دین کو کچھ یاد آیا۔

    ”اوہ! میں اپنے بیلوں کی جوڑی کو تو بھول ہی گیا۔ کل سے بے چارے کھیتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔” انہوں نے تشویش بھرے لہجے میں کہا۔

    ”قطب میاں! چھوڑئیے بیلوں کو… کہاں اتنی دور جائیں گے۔ بیل تو کہیں سے بھی مل جائیں گے۔ ہم چلتے ہیں اللہ کا نام لے کر۔” بابا رحمت علی نے قطب دین کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔

    ”ارے نہیں رحمت بھائی! مجھے بیلوں کا لالچ نہیں، بس ایک چبھن سی ہے کہ بے چارے کل شام کے بندھے ہوئے ہیں۔ اگر ایک دو دن مزید کسی کی نظر نہ پڑی تو بے زبان بھوکے مر جائیں گے اور سارا گناہ میرے سر پر ہوگا۔” قطب دین نے وضاحت کی۔

    ”ارے چھوڑیں قطب میاں! وہ بیل کوئی ہندو یا سکھ لے جائے گا۔ آپ کیوں فکر کررہے ہیں۔” بابا تاج دین نے کہا۔

    ”دیکھو بھائی! اچھا ہی ہے اگر کوئی ہندو یا سکھ انہیں کھول کرلے جائے مگر کیا کروں؟ میرا دل نہیں مانتا۔ بڑے چاؤ سے پالے تھے۔ اب مجبوری ہے تو ہم انہیں چھوڑ کر جارہے ہیں مگر… مگر مجھے خدشہ ہے کہ کسی کی نظر نہ پڑی تو وہ ان کا کیا حال ہوگا؟ ہم خود تو آزاد ہوکر جارہے ہیں مگر بے زبان جانوروں کو کیوں قید کر رکھا ہے؟ آپ سب لوگ ایسا کریں کہ اللہ کا نام لے کر قافلہ روانہ کریں میں درانتی لے کر کھیتوں میں جارہا ہوں۔ ابھی ان بیلوں کی رسیاں کاٹ کر انہیں آزاد کر دوں گا۔ پھر جلد آپ لوگوں کے ساتھ قافلے میں شامل ہوجاؤں گا۔” بابا قطب دین نے تفصیل بتائی۔

    ”اور اگر راستے میں کسی بلوائی یا شدت پسند گروہ سے ٹاکرا ہوگیا تو؟” اللہ بخش نے پوچھا۔

    ”تو کیا…؟ اللہ کرم کرے گا۔ بچ گئے تو غازی، اگر موت وہیں پر لکھی ہوئی تو شہادت!… ویسے بھی اس بڑھاپے میں اور کتنا جینا ہے؟ مجھے جانے دیں، کوشش کروں گا کہ جلد قافلے کے ساتھ مل جاؤں۔” بابا قطب نے کہا اور ہاتھ میں درانتی لے کر کھیتوں کی طرف چل پڑا۔ ادھر قافلے نے تیاری کی اور اللہ کا نام لے کر پاکستان کی راہ لی۔

    ٭…٭…٭

    ”چل بھئی اللہ کے حوالے… اب تُو آزاد ہے۔” بابا قطب نے کھیتوں میں پہنچ کر ایک بیل کی رسی درانتی سے کاٹتے ہوئے اسے تھپکی دیتے ہوئے کہا۔ اس کے بعد اس نے دوسرے بیل کی رسی بھی کاٹی اور انہیں نمناک آنکھوں آزاد کردیا۔ بھوکے پیاسے بیل قریبی دریا کے کنارے کی طرف بھاگ نکلے۔ پیاس کسی شدت سے ان کی زبانیں باہر نکلی ہوئی تھیں۔

    ہاتھ میں درانتی لیے بابا قطب بھی دریا کی طرف ہولیا۔ اُسے تقریباً تین کلو میٹر دور لکڑی سے بنے پل کے ذریعے دریا کے پار جانا تھا۔ تاکہ جالندھر کی اس سرزمین کو خیر باد کہہ کر اپنے پیارے وطن پاکستان میں قدم رکھ سکے۔

    ابھی قطب بابا چار قدم ہی چلا ہوگا کہ عقب سے نعروں اور شور کی آواز سے وہ چونک اٹھا۔

    ”اوہ! بلوائی…؟ شدت پسند…؟” بابا قطب نے ایک لمحے کے لیے سوچا پھر یہ خیال جھٹک کر آگے روانہ ہوگیا۔ اسے پورا یقین تھا کہ وہ اس گاؤں کا اہم فرد ہونے کی وجہ سے گاؤں کے شر پسند نوجوانوں سے محفوظ رہے گا لیکن یہ اس کی خام خیالی تھی۔

    بلوائیاں کے ایک جتھے نے اُسے گھیرے میں لے لیا تھا۔ سبھی کے ہاتھ میں تلواریں، کریانیں اور نیزے تھے۔ ان میں بہت سے چہرے بابا قطب کے جانے پہچانے تھے۔

    شدت پسندوں کو امن کا پیغام دینے کے لیے بابا نے ہاتھ میں پکڑ درانتی پھینک دی۔

    ”میرے بچو! بات سنو ذرا…”

    لیکن جواب میں کئی قہقہے بلند ہوئے۔

    ”پکڑ لو اُسے… جائے نہ پائے یہ بڈھا کھوسٹ مسلا… ہاہاہا…”

    ایک زہریلی آواز بابا قطب کے کانوں سے ٹکرائی اس کے ساتھ ہی خون کے پیاسے کئی بھیڑیے نما انسان اس بوڑھے مسلمان پر پل پڑے۔

    بابا قطب نے حملہ آوروں کے تیور دیکھ کر دوبارہ ہاتھ میں درانتی پکڑلی۔ اپنے اوپر کیا گیا وہ ہر وار درانتی پر لینے کی کوشش کرتا، اتنے میں کرپان کا ایک وار اس کے بائیں کندھے پر لگا۔ خون کا ایک فوارہ ابل پڑا۔ درد کی شدت سے بابا قطب دوہرا ہوا جارہا تھا۔

    اسی اتنا سب نے ایک عجیب منظر دیکھا۔ دونوں بیل جو دریا سے پانی پینے گئے تھے اپنے مالک کو مشکل میں دیکھ کر انہوں نے بلوائیوں پر حملہ کردیا۔ دو چار بلوائیوں کو اپنی ٹکر مار کر پاؤں سے کچل کر انہیں خوب سبق سکھایا۔ مگر ظالم دشمنوں نے بابا قطب دین سے پہلے تلواروں کے وار سے ان دونوں بیلوں کا کام تمام کردیا۔

    آہ! وہ کیا ہی منظر تھا جب دو بے زبان جانور اپنے مالک کی محبت میں پاکستان کے نام پر قربان ہوئے۔

    ادھر بابا قطب کو حملہ آوروں سے چنگل سے نکلنے کا موقع مل گیا۔ بھاگتے ہوئے اس نے دریا میں چھلانگ لگادی۔ اس کا بدن جگہ جگہ زخموں سے چُور تھا۔ درد کی شدت سے اس کی آنکھیں بند ہورہی تھیں۔ دریا کی گہرائی بہت زیادہ تھی۔ یہاں بھی بچ نکلنے کا کوئی امکان نہ تھا۔ پانی بابا قطب کے زخموں کے اندر داخل ہورہا تھا۔

    ایک نظر بھر کر بابا قطب نے دریا کے کنارے کھڑے پلوائیوں کو دیکھا جو قہقہے لگا رہے تھے۔ اسی دوران گاؤں کے ہندو لوہار کا بیٹا نردش تیواڑی بابا قطب کی طرف دیکھ کر چلّایا۔

    ”اے قطبے… اے بڈھے… تیری زمینیں گئیں۔ گھر بار گیا… مال ڈنگر لٹ گیا… چنچل باڑی اور باقی سامان بھی نہ رہا… ایک جان تھی… وہ بھی تو نے گنوا دی: ارے یہ بتاؤ کہ تم لوگوں کو کیا ملا اس کھیل میں… ہا ہا ہا…

    بابا قطب تکلیف کی شدت سے بے حال پانی کی موجوں سے لڑ رہا تھا۔ اس نے تیواڑی کی طرف دیکھ کر ایک دھیمی مسکراہٹ اچھالی اور پوری قوت جمع کرکے ایک جملہ بولا:

    ”چھین لیا نا پاکستان؟… ہا ہا… چھین لیا ہے پاکستان” مسکراتے ہوئے بابا قطب نے یہ جملہ ادا کیا اور اعصاب ڈھیلے چھوڑ دیئے۔ اس کے ساتھ ہی پانی کی ایک بڑی لہر نے قطب بابا کو اپنی لپیٹ میں لیا پھر کچھ دیر بعد پانی کی سطح پر ایک خونی … ہی باقی بچی۔ بابا قطب اپنے رب کے حضور پہنچ چکا تھا۔

    بات ختم کرتے ہی ہماری دادی جان پھوٹ پھوٹ کر رو دیں۔

    ”جانتے ہو بچو! وہ 85 سالہ بابا قطب دین میرے ابا جان تھے۔ ان کی شہادت کے وقت میں مہاجرین کی دیکھ بھال کے لیے پہلے سے منٹگمری میں اپنے شوہر یعنی تمہارے دادا کے ساتھ موجود تھی۔ ہم سبھی رشتہ داروں اور باقی مسلمانوں کی آمد کے ساتھ ساتھ اپنے ابا جان کا انتظار ہی کرتے رہے مگر وہ نہیں آئے۔

    ٭…٭…٭

  • پرستان کی کہانی  ۔ الف نگر

    پرستان کی کہانی  ۔ الف نگر

    الف لیلہٰ کہانی مقابلے کی تیسری بہترین کہانی

    پرستان کی کہانی 

    سعدیہ جاوید گِل

    جبل دیو نے طلسمی گھوڑا کہاں چھپا رکھا تھا؟ پڑھیے اس کہانی میں۔

    ملک اصفہان میں ایک مشہور اور رحم دل جادوگر ہامان رہتا تھا۔ ایک دن وہ اپنے جادُوئی قالین پر سفر کررہا تھا کہ اس کی نظر بادلوں کے پار ایک شفاف گولے پر پڑی۔ گولے سے عجیب قسم کی روشنی پھوٹ رہی تھی۔ کچھ دیر بعد اچانک گولاپھٹ گیا۔ اُس کے پھٹنے پر بھونچال سا آگیا۔ جس سے جادوگر بے ہوش ہوکر نیچے گر پڑا۔ وہ تو شکر ہے اُس کی پرواز نیچی تھی جو اُسے کوئی چوٹ نہ آئی۔

    جب اُس کی آنکھ کھلی تو خود کو ایک خوب صورت وادی میں پایا۔ جس کی زمین روئی کے گالوں سے بھی زیادہ نرم تھی۔ جلد ہی اُسے اندازہ ہوگیا کہ وہ کوہ قاف میں ہے۔ ہامان جادوگر نے چمکیلی ریت سے بنے دو مناروں تک جانے والے راستے پر چلنا شروع کردیا۔ راستے میںاُسے انڈے کی شکل کے چمکیلے مکان نظر آئے۔ اردگرد سناٹا چھایا ہوا تھا۔

    وہ سنہرے میناروں کے قریب ایک نہایت شان دار محل کے قریب رُک گیا۔ محل کے دروازوں پر دربان پتھر کے مجسموں کی طرح بے حس و حرکت کھڑے تھے۔ جب کہ محل کے اندر رنگ برنگی پریاں پتھر کے مجسموں کی صورت میں موجود تھیں۔ ہامان جلد ہی جان گیا کہ یہ طلسماتی اثر ہے۔ پورا محل گھومنے کے بعد وہ دوبارہ مناروں کے قریب واپس آگیا۔

    ابھی وہ مایوسی کے عالم میں جھیل کنارے پاؤں لٹکا کر بیٹھا تھا کہ ایک دھیمی سرگوشی نے اُسے چونکا دیا۔ غور سے دیکھنے پر معلوم ہوا کہ جھیل کے پانی میں بننے والے بلبلوں سے ایک ننھی جل پری اُسے پکار رہی تھی۔ وہ کہنے لگی: ”پیارے جادوگر! گھبراؤ نہیں، میرا نام ارسلا پری ہے اور میں پریوں کی شہزادی ہوں۔ ہمیں تمہاری مدد چاہیے۔”

    ہامان نے ہمت کرکے پوچھا: ”ننھی پری! یہ بتائو کہ پرستان پر کیا مصیبت آن پڑی ہے اور تمہیں میری کیا مدد چاہیے؟”جل پری نے ایک ٹھنڈی آہ بھر کر بتایا: ”کچھ عرصہ قبل جبل نامی ایک دیو نے اس پُرسکون علاقے میں اپنی طاقت کے زور سے سب پریوں کو نقصان پہنچانا شروع کردیا تھا۔ ہم نے ڈٹ کر مقابلہ کیا لیکن اُس نے سنہری پری کی جادوئی چھڑی کو اپنے قبضے میں کرلیا اور پرستان کے مقدس سفید طلسمی گھوڑے کو اپنے ساتھ کالے پہاڑوں پر لے گیا۔ یوں پرستان کا طلسمی نظام گھوڑوں کی عدم موجودگی میں درہم برہم ہوگیا۔ سب پریاں پتھر کی مُورت بن گئیں اور سب جل پریاں پانی کے بلبلوں میں قید ہوکر رہ گئیں۔ یہ سب کچھ تبھی ممکن ہے جب طلسمی گھوڑا واپس آئے گا۔” ہامان نے ساری کہانی سنی اور جل پری سے پوچھا: ”طلسمی گھوڑا جبل دیو نے کہاں چھپا رکھا ہے اور میں اُسے کیسے شکست دے سکتا ہوں؟”

    جل پری بولی: ”اُس نیلی جھیل کے پار ایک گہرا کنواں ہے۔ اُس کے اندر ایک راستہ ہے۔ یہ راستہ سیدھا کالی گھاٹی کی طرف جاتا ہے۔ جبل دیو کے پاس ایک خنجر ہے۔ اِس پر اُس کا نام لکھا ہے۔ اگر تم وہ خنجر حاصل کرلو تو اُس کا خاتمہ کرسکتے ہو۔”

    ”طلسمی گھوڑا بھلا کہاں ہوسکتا ہے؟” ہامان نے ذہن پر زور دیتے ہوئے خود کلامی کی۔ جل پری مسکراتے ہوئے بولی: ”اے بہادر جادوگر! مجھے تمہاری جادوئی طاقت پر پورا بھروسا ہے۔” یہ کہتے ہی جل پری کا عکس نظر آنا بند ہوگیا اور بلبلے بھی غائب ہوگئے۔

    جادوگر کچھ ہی دیر میں جل پری کی بتائی ہوئی جگہ پر پہنچ گیا جہاں اسے طلسمی کنواں نظر آگیا۔ اُس نے جھک کر دیکھا تو کنواں بالکل خالی تھا۔ چند لمحے سوچنے کے بعد اُس نے آنکھیں بند کیں اور کنویں میں چھلانگ لگا دی۔ جیسے ہی اس کے پاؤں زمین پر لگے تو اس نے آنکھیں کھول دیں۔ یہ ایک بہت وسیع میدان تھا۔ وہ آگے قدم بڑھانے لگا۔ آگے چل کر اُسے کالے رنگ کا ایک ریچھ نما جانورنظر آیا۔ ہامان نے آنکھیں بند کیں اور اپنی جادوئی طاقت استعمال کی تو اُسے ریچھ کی جگہ ایک خوف ناک شکل والے دیو کا عکس نظر آیا۔

    ”کون ہو تم… اورتم نے یہاں آنے کی جرأت کیسے کی؟” جبل دیو کی آنکھوں سے شرارے نکل رہے تھے۔ اُس کے آسمان کو چھوتے قد کے سامنے ہامان جادوگر ایک بونے کی طرح لگ رہا تھا۔

    ”میرا نام ہامان ہے اور میں طلسمی گھوڑا لینے آیا ہوں۔” یہ سنتے ہی جبل دیو نے غصّے میں ہامان جادوگر کو اوپر اٹھا لیا۔ وہ اُسے مارنے ہی والا تھا کہ ہامان نے منتر پڑھنا شروع کردیا۔ اُس کی آنکھوں سے نکلنے والی شعاعیں جبل دیو کی کمر سے بندھے خنجر پر پڑیں اور پلک جھپکتے ہی وہ خنجر اُس کے ہاتھ میں آگیا۔ اب ہامان نے ایک ہی وار میں خنجر جبل دیو کے سینے میں اُتار دیا۔

    خنجر کا سینے میں اترنا تھا کہ اچانک زمین ہلنے لگی اور ہر طرف کالا دھواں چھا گیا۔ کچھ دیر میں وہاں نہ کالے پہاڑ تھے اور نہ دیو… بلکہ ایک چٹیل میدان تھا جس میں ہامان جادوگر کے ساتھ طلسمی گھوڑا بھی کھڑا تھا۔

    گھوڑے کے سر پر موجود سینگ سے سفید روشنی نکل رہی تھی۔ہامان جادوگر نے اِس سے پہلے اِس قدر خوب صورت چیز نہیں دیکھی تھی۔ طلسمی گھوڑے نے قریب آکر اپنے پَر پھڑ پھڑائے تو ہامان گھوڑے پر سوار ہوگیا۔ پلک جھپکتے ہی وہ سنہری محل کے سامنے موجود تھے۔ طلسمی گھوڑے کے سینگ سے ایک بار پھر روشنی نکلی اور چاروں طرف پھیل گئی۔

    آن ہی آن میں سب پریاں اپنی اصلی حالت میں واپس لوٹ آئیں۔ ہامان جادوگر حیرت سے یہ سب دیکھ ہی رہا تھا کہ اچانک اُس پر مدہوشی چھانے لگی۔جب اس کی آنکھ کھلی تو اُس نے خود کو جادوئی قالین پر پایا جو واپس اصفہان کی سمت اُڑا جارہا تھا۔

    ٭…٭…٭

  • میاں کی جوتی ۔ کہاوت کہانی ۔ الف نگر

    میاں کی جوتی

    کہاوت کہانی

    پرانے زمانے کی بات ہے ہندوستان کے دور دراز علاقے میں رئیس نام کا ایک بہروپیا رہتا تھا۔ وہ عجیب سی حرکتیں کرکے لوگوں کو ہنسناتا اور اپنے مختلف روپ بدلتا رہتا لیکن اس کام میں اسے زیادہ آمدن نہ ہوتی۔

    ایک دن اُس کے دل میں امیر بننے کاخیال آیا۔ چناں چہ وہ اس پر عمل کرنے کے لیے دوسرے شہر روانہ ہوگیا۔ وہاں جاکر اس نے اپنا تعارف ”رئیس میاں” کے نام سے کروایا اور لوگوں سے کہا: ”مجھے سرکار نے آپ لوگوں کے پاس بھیجا ہے۔”

    لوگ اس کی بات توجہ سے سننے لگے۔ اس نے لوگوں کو بادشاہ کا حکم نامہ سنایا کہ آج کے بعد آپ لوگ کھیتی باڑی کرکیجو بھی غلہ اُگاؤ گے، اس میں شاہی حکومت کا حصہ بھی شامل ہوا کرے گا۔ جو کسان شاہی حکومت کو حصہ نہیں دے گا، اس کے سر پر جوتے مارے جائیں گے۔

    چناں چہ لوگ شاہی فرمان سمجھ کر اپنے اناج میں سے کچھ حصہ رئیس میاں کو بھی دینے لگے۔ رئیس میاں دل ہی دل میں خوش ہورہے تھے کہ چلو بیٹھے بٹھائے اچھا خاصا اناج جمع ہوجائے گا۔ پھر یونہی ہونے لگا۔ جو لوگ اپنے غلے سے رئیس میاں کو حصہ نہ دیتے ان کے سر میں جوتے مارے جاتے۔ دن یونہی گزرتے گئے۔

    آخر تنگ آکر ایک دن کچھ لوگوں نے فیصلہ کیا کہ ہم بادشاہ سلامت کی خدمت میں حاضر ہوکر اس لگان کو معاف کروانے کی کوشش کرتے ہیں۔ چناں چہ شہر کے کچھ سیانے لوگ مِیلوں کا سفر کرکے بادشاہ کے دربار میں پہنچے اور گڑگڑاتے ہوئے بادشاہ کو اپنا دکھڑا سنانے لگے۔ بادشاہ ان کی بات سن کر بہت حیران ہوا کیوں کہ اسے کسی بھی بات کا علم ہی نہ تھا۔ بادشاہ کے سامنے اب رئیس میاں کا بھانڈا پھوٹ چکا تھا۔

    پھر ہوا یوں کہ بادشاہ نے اپنے کارندے بھیج کر رئیس میاں کو گرفتار کروایا اور اسے دربار میں طلب کرلیا۔ رئیس میاں تو اب گردن جھکائے یوں کھڑے تھے جیسے کچھ کِیا ہی نہ ہو۔ بادشاہ نے اچھی طرح تصدیق کرلینے کے بعد متاثرہ کسانوں کو دعوت دی کہ وہ آگے آئیں۔

    اس کے بعد بادشاہ نے رئیس میاں کا جوتا اتروا کر لوگوں کے ہاتھ میں دیا اور کہا: ”ہر کسان دو دو جوتے رئیس میاں کے سر پر مارے۔”

    چناں چہ سب نے ایسا ہی کیا۔ لوگ باری باری آتے اور دو دو جوتے لگاتے ہوئے گزر جاتے اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہتے جاتے: ”میاں کی جوتی میاں کے سر پر” یعنی جو آدمی جیسا کرے گا ویسا ہی پھل پائے گا۔ اس دن کے بعد یہ کہاوت مشہور ہوگئی۔ میاں کی جوتی، میاں کے سر پر۔

    ٭…٭…٭

  • گیہوں ۔ الف نگر

    گیہوں

    دلشاد نسیم

    دُور سے آتا بحری جہاز دیکھ کر ساحل پر کھڑے لوگ جوش میں آگئے۔ ایک بہت خوب صورت کہانی!

    پرانے زمانے کی بات ہے افریقہ میں سمندر کنارے ایک بہت خوب صورت شہر آباد تھا۔ سمندری لہروں کے تھپیڑوں کو روکنے کے لیے یہاں ایک بہت بڑا، اونچا اور مضبوط پُشتہ بنایا گیا تھا۔

    پیارے بچو! پُشتہ اُس بند کو کہتے ہیں جو ساحل پر سمندر کے پانی کو روکنے کے لیے مٹی اور پتھروں سے بنایا جاتا ہے۔ اسی کی وجہ سے بڑے بڑے تجارتی جہاز ساحل پر آکر رکتے ہیں۔ ان جہازوں پر مختلف ملکوں کا تجارتی سامان لدا ہوتا ہے۔ اسی تجارت کی وجہ سے وہ شہر بہت ترقی کرگیا۔

    شہر کے لوگ زیادہ مال و دولت کی وجہ سے غرور کرنے لگے اور خاص طور پر ایک عورت اس کام میں بہت آگے تھی کیوں کہ اس کے بہت سے تجارتی جہاز دنیا کے ہر گوشے میں پہنچتے۔ یہ مغرور عورت رفتہ رفتہ ترقی کرکے اس علاقے کی ملکہ بن گئی۔ جب وہ گھوڑا گاڑی میں بیٹھ کر شہر کی گلیوں سے گزرتی تو لوگ گھروں کی چھتوں پر آجاتے، عورتیں حسرت بھری نگاہ سے اُسے دیکھتیں۔

    ایک روز ملکہ نے اپنے سب سے بڑے جہاز کے کپتان کو بلایا اور کہا: ”فوراً بادبان چڑھائو، لنگر اٹھائو اور جہاز لے کر روانہ ہوجاؤ۔ جو چیز تمہیں سب سے اچھی، عجیب اور قیمتی نظر آئے وہ جہاز میں بھر کر لے آؤ۔ میں اپنے شہر کے لوگوں کو ایسی چیز دکھانا چاہتی ہوں جو واقعی لاجواب اور سب سے زیادہ قیمتی ہو۔”

    کپتان فوراً ساحل پر پہنچا۔ اُس نے اپنے سب ملاحوں کو جمع کیا پھر جہاز کے بادبان کھول کر اُس کا لنگر اٹھایا اور روانہ ہوگیا۔ جہاز کچھ دیر بعد سمندر کے درمیان میں پہنچا تو کپتان نے بحری جہاز میں تمام کارکنوں کو اپنے پاس بلا لیا۔

    ”ہمیں کیا چیز لانی چاہیے اور کہاں چلنا چاہیے؟” کپتان نے ایک نظر سب پر ڈال کر پوچھا۔ جواب میں کسی نے کہا کہ عمدہ ریشم سے بہتر کوئی چیز نہیں ہو سکتی۔ کسی نے کہا کہ ایسے زیورات خریدے جائیں جن کی بناوٹ اور ساخت بالکل نئی ہو۔ کسی نے اعلیٰ قسم کے نیلم، زمرد، لعل ویاقوت خریدنے کا مشورہ دیا لیکن اِس دوران ایک بوڑھا ملّاح چپ بیٹھا رہا۔ اپنی باری آنے پر وہ کہنے لگا: ”معلوم ہوتا ہے کہ تم لوگوں پر کبھی برا وقت نہیں آیا، اس لیے تمہیں کسی چیز کی قدر و قیمت کا درست اندازہ نہیں ہے۔ جب تم لوگ بہت زیادہ بھوکے یا پیاسے ہوتے ہو تو کون سا ہیرا یا موتی کھا کر زندہ رہتے ہو؟ اگر غور کیا جائے تو ہماری زندگی میں گیہوں یعنی گندم سب سے اہم چیز ہے۔”

    سب لوگ حیران رہ گئے کہ گیہوں سب سے زیادہ قیمتی چیز بھلا کیسے ہو سکتی ہے؟ لیکن کپتان نے سوچا کہ بوڑھا ملّاح ٹھیک کہہ رہا ہے۔ چناں چہ جہاز کا رخ سرزمین مصر کی جانب کر دیا گیاجہاں گیہوں سب سے اچھا اور صحت بخش تھا۔ مصر پہنچ کر کپتان نے گیہوں کے مالکان سے ملاقات کی اور گندم کے بڑے بڑے ذخیرے خرید کر جہاز پر لاد لیے۔

    دوسری طرف جہاز روانہ ہو جانے کے بعد اُس ترقی یافتہ افریقی شہر کو سمندری طوفان نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ تمام کھیت، فصلیں اور بڑی تعداد میں گھر زیرِ آب آگئے۔ حالت یہاں تک آپہنچی کہ لوگ فاقوں پر مجبور ہوگئے۔ خود مغرور عورت کے گودام بھی غلے اور دیگر کھانے پینے کی اشیاسے خالی ہونے لگے۔ پڑوسی ملکوں سے امداد کی درخواست بھی رد ہو چکی تھی۔ ایسے میں اِس مغرور حکمران عورت کے ہوش ٹھکانے آگئے۔ پورے ملک میں سخت مایوسی پھیل چکی تھی۔ یہاں تک کہ ایک روز بہت دُور سمندر کے سینے پر لوگوں کو ایک جہاز آتا دکھائی دیا۔ لوگ سمجھ گئے کہ یہ ملکہ کا بھیجا ہوا جہاز ہی ہے۔ بچے، بوڑھے، سبھی اس سوچ میں تھے کہ نہ جانے جہاز پر کون سی قیمتی چیز ہو گی۔ اس قیمتی چیز کو دیکھنے کے لیے سب لوگ بے تاب اور منتظر تھے۔

    جب جہاز لنگر انداز ہوا تو کپتان اپنی ملکہ کے پاس پہنچا جو جہاز کی خبر سن کر ساحل تک چلی آئی تھی۔ کپتان نے ملکہ سے کہا: ”مادام! میں ایک بہت ہی عمدہ اور قیمتی چیز لایا ہوں جو حقیقت میں زندگی کا سہارا ہے۔” یہ سن کر ملکہ بہت حیران ہوئی۔

    ”قیمتی چیز… وہ کیا بھلا؟” اُس نے جلدی سے پوچھا۔

    ”آپ اِس چیز سے  واقف تو ہوں گی، اِسے کہتے ہیں گیہوں!” کپتان نے اپنی مٹھی کھول کر دکھائی جس میں گندم کے کچھ دانے تھے۔

    ”کک… کیا کہا، گیہوں؟” ملکہ پر حیرانیوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ ارد گرد کھڑے لوگوں نے جب یہ خبر سنی تو وہ خوشی سے چلّا اٹھے اور نعرے لگانے لگے۔ ملکہ نے لوگوں کے یہ تاثرات دیکھے تو اُس کے چہرے پر بھی مسکراہٹ پھیل گئی اور وہ بھی خوشی سے چِلّا اٹھی: ”گیہوں؟ واہ کمال کر دیا۔ واقعی اس وقت یہ سب سے قیمتی چیز ہے۔”

    ملکہ نے کپتان کو شاباش دی پھر گیہوں کا ایک حصہ اپنے گودام میں رکھوایا۔ باقی گیہوں عوام میں تقسیم کروادی۔ یوں اُس بوڑھے ملاح کی دُور اندیشی سے نہ صرف ملکہ خوش ہوئی بلکہ شہر کے لوگ بھی اِس خزانے سے فائدہ اٹھانے لگے۔

    ٭…٭…٭

  • تم اچھی ہو! ۔ الف نگر

    تم اچھی ہو! ۔ الف نگر

    تم اچھی ہو!

    ترجمہ: گلِ رعنا صدیقی

    کیا تم اپنے گھر میں بھی ایسی حرکتیں کرتی ہو؟ آنٹی غصے میں تھیں۔

    ”مینی! میں اور تمہارے ابو ضروری کام کے سلسلے میں شہر سے باہر جارہے ہیں۔ ہم تمہیں آنٹی سوسن کے گھر چھوڑ جائیں گے۔” مینی کی امی نے اُسے بتایا۔

    ”نہیں! نہیں! میں بھی آپ لوگوں کے ساتھ جاؤں گی۔ مجھے آنٹی سوسن اچھی نہیں لگتیں۔” مینی نے پاؤں پٹخے۔ وہ اپنے ماں، باپ کی اکلوتی اولاد ہونے کے ناتے خاصی بدتمیز اور بگڑی ہوئی بچی تھی۔

    ”نہیں بیٹا! آنٹی سوسن تو بہت اچھی ہیں۔” امی نے سمجھایا۔ آخر مینی کے امی ابو اسے آنٹی سوسن کے پاس چھوڑ گئے۔

    ”مجھے اُمید ہے کہ تم گھر کے کاموں میں میری مدد کرو گی اور میرے بنائے ہوئے کھانے پسند کرو گی۔” آنٹی سوسن نے مینی سے کہا لیکن مینی نے تو ٹھان لی تھی کہ وہ آنٹی کے کسی کام میں اُن کی مدد نہیں کرے گی۔ وہ بات بات پر پاؤں پٹختی رہتی۔ اصل میں تو اُسے پٹائی کی ضرورت تھی۔

    ”مینی! کیا تم اپنے گھر میں بھی ایسی ہی حرکتیں کرتی ہو؟” آنٹی سوسن نے پوچھا۔

    ”بالکل، جب میرا دل چاہے گا، میں سونے جاؤں گی، جب دل چاہے گا، میں سوکر اُٹھوں گی، جو دل چاہے وہ پہنوں گی اور بس وہی کروں گی جو میرے دل میں آئے گا۔” مینی نے غصیلی لہجے میں کہا۔ آنٹی یہ سُن کر ہنس پڑیں اور بولیں: ”بہت خوب! اگر تم ایسے رہنا چاہتی ہو تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ جو دل میں آئے، کرتی رہو۔” مینی یہ سُن کر خوش ہوگئی۔

    اُس رات مینی رات دیر تک ٹی وی دیکھتی رہی آنٹی سوسن نے کوئی نوٹس نہیں لیا بلکہ وہ چپکے سے مینی کو شب بہ خیر کہہ کر اُوپر اپنے کمرے میں چلی گئیں۔ رات دیر سے سونے کی وجہ سے صبح ساڑھے نو بجے اُس کی آنکھ کھلی۔ وہ ہاتھ دھوکر جب ناشتا کرنے آئی تو میز پر ناشتا موجود نہیں تھا۔

    ”میں نے ناشتا کرلیا ہے۔” آنٹی سوسن نے اطلاع دی۔ ”میں روز جلدی ناشتا کرلیتی ہوں۔” مینی کو ناشتا نہیں ملا۔ اُسے بہت غصّہ آیا۔ آنٹی بازار چلی گئیں۔ مینی نے فریج کھولنا چاہا مگر وہ لاک تھا چناں چہ سارا دن اُسے بُھوکا رہنا پڑا۔

    دوپہر کو کھانا کھاتے وقت اُس نے سالن اپنے کپڑوں پر گِرا لیا۔ ”مینی! تمہیں اپیرن پہن کر کھانا چاہیے تھا۔” آنٹی سوسن نے کہا۔

    ”کوئی بات نہیں! میں کپڑے بدل لوں گی۔ آپ میرے یہ والے کپڑے دھو دیجیے گا۔” مینی نے بے فکری سے کہا۔

    ”سوری! میرے پاس کپڑے دھونے کا وقت نہیں ہے۔” مینی نے اپنا نیا سُوٹ نکال کر پہن لیا اور پھر پینٹ برش سے کھیلنے لگی۔

    ”تمہیں معلوم ہے نا کہ اس طرح کے کھیل ایپرن باندھ کر کھیلنے چاہئیں؟” آنٹی نے پوچھا۔

    ”ہاں! مُجھے معلوم ہے لیکن میں ایسے ہی کھیلنا چاہتی ہوں۔” مینی نے فوری جواب دی۔ شام تک اُس کا پورا لباس داغ دھبّوں سے بھرچکا تھا۔ آنٹی نے اُسے چائے پینے کے لیے آواز دی۔ مینی نے چیخ کر کہا: ”میں اپنی پینٹنگ مکمل کرکے آؤں گی۔” جب وہ چائے پینے گئی تو برتن بھی سمیٹے جاچکے تھے۔ مینی نے پاؤں پٹخے اور چیخی، چلّائی لیکن آنٹی نے کوئی نوٹس نہیں لیا۔ ”تم وہی کرتی ہو جو تمہارا دل چاہے، لہٰذا میں بھی وہی کروںگی جو میرا چاہتا ہے۔” آنٹی نے سوئیٹر بُنتے ہوئے کہا۔

    شام سات بجے آنٹی نے گھڑی کی طرف دیکھا اور بولیں: ”مینی! کیا تم کچن میں جاکر پتیلی کے نیچے چُولہا جلا دوگی؟”

    ”نہیں!” مینی نے غصے سے جواب دیا۔ آنٹی سوسن اُٹھ کر خود کچن میں گئیں۔ ”مجھے بھوک لگ رہی ہے، میں نے شام کی چائے بھی نہیں پی تھی۔ مجھے کچھ کھانے کو دیں۔” مینی نے کچھ دیر بعد آنٹی سے کہا۔

    ”میں تمہارے لیے جارہی تھی، اسی لیے تم سے چولہا جلانے کہا تھا لیکن کیوں کہ تمہیں کوئی پروا نہیں لہٰذا مجھے بھی نہیں ہے۔” آنٹی نے کندھے اُچکائے۔

    ”مجھے پروا ہے۔” مینی بھُوک سے چلّائی پھر اُس نے اپنے لیے خود آملیٹ بنایا اور ڈبل روٹی کے ساتھ کھالیا۔ رات کو وہ سونے کے لیے اپنے کمرے میں گئی لیکن اُس کا کمرا ویسے ہی تھا جیسا وہ صبح چھوڑ کر گئی تھی۔ وہ بھاگ کر نیچے گئی: ”آنٹی! آپ میرا کمرا صاف کرنا بھُول گئیں، بہت گندا ہوا پڑا ہے۔”

    ”تو تم خود صاف کرلو!” آنٹی مسکرائیں۔

    یہ سنتے ہی مینی غُصّے سے چلّانے لگی مگر آنٹی پر اُس کے چیخنے چلّانے کا کوئی اثر نہیں ہوا۔

    اگلی صُبح وہ آٹھ بجے ناشتے کی میز پر پہنچ گئی۔ اُس نے اپنا آخری صاف لباس پہنا ہوا تھا کیوں کہ وہ صرف تین جوڑے لے کر یہاں آئی تھی۔

    ”کیا یہ بہتر نہیں کہ تم ایپرن پہن کر ناشتا کرو؟”

    ”میں کوئی چھوٹی بچّی نہیں ہوں۔” مینی نے سخت جواب دیا لیکن دس منٹ بعد ہی اُس نے چائے اپنے کپڑوں پر گِرالی۔ اب دل ہی دل میں وہ افسوس کرنے گی۔

    کچھ دیر بعد پڑوس کی لڑکی مینی کو شام چائے کی دعوت پر بُلانے آئی۔ ”اوہ ضرور! مجھے دعوت میں جانا بہت پسند ہے۔” مینی کِھل اُٹھی۔ جب پڑوسی لڑکی چلی گئی تو مینی نے نسبتاً دھیمی آواز میں اپنی آنٹی سے کہا: ”آنٹی! میرے سارے کپڑے میلے ہوگئے ہیں۔ میں آج شام دعوت میں کیا پہن کر جاؤں؟ کیا آپ میرا ایک جوڑا دھودیں گی؟”

    ”بھئی! میری طرف سے معذرت! میں آج خود بہت مصروف ہوں۔” آنٹی نے بے ساختہ جواب دیا۔

    ”لیکن آنٹی! میں میلے کپڑے پہن کر دعوت میں نہیں جاسکتی۔” مینی نے تقریباً روتے ہوئے کہا۔

    ”ہاں! یہ تو ہے!” آنٹی نے اتفاق کیا۔ ”ایسا کرو تم میلے کپڑوں کے اوپر ایپرن پہن کر چلی جاؤ۔” آنٹی نے مسکراتے ہوئے کہا۔

    ”لیکن میں ایپرن پہن کر دعوت میں نہیں جاسکتی، سب میرا مذاق اُڑائیں گے۔” مینی چلّائی۔

    اُس روز مینی دعوت میں نہیں گئی اور پڑوس سے آنے والے قہقہوں اور بچّوں کے کھیل کُود کی آوازیں سُن کر روتی رہی اور سوچتی رہی کہ اپنی مَن مانی کرنے میں کوئی فائدہ نہیں ہے۔” مینی نے اکتاہٹ سے بھرپور انگڑائی لی اور اپنا کمرہ صاف کرنا شروع کردیا۔

    پھر اُس نے باغ سے کچھ پھُول توڑ کر اپنے کمرے کے گُل دان میں سجائے۔ اپنی آنٹی کے کمرے کے لیے بھی ایک گُل دستہ بنایا۔ شاید وہ چاہتی تھی کہ آنٹی کبھی تو اس کی تعریف کریں۔

    ”شکریہ مینی! یہ بہت خوب صورت گُل دستہ ہے۔ پرسوں شہر میں ایک سرکس آرہا ہے۔ میں اس کے ٹکٹ خریدوں گی پھر ہم دونوں مل کر سرکس دیکھنے چلیں گے۔”

    اگلے دن مینی باہر گھومنے نکلی لیکن نہ تو اُس نے سوئیٹر پہنا اور نہ ہی ٹوپی۔ آنٹی نے اُسے پیچھے سے آواز دی: ”بارش ہونے والی ہے۔ مینی! تم اپنا سوئیٹر، ٹوپی تو پہن لو۔”

    ”آنٹی! آپ پریشان مت ہوں۔ میں ایسے ہی ٹھیک ہوں۔” مینی نے کہا کچھ دیر بعد تیز بارش شروع ہوگئی۔ مینی بارش میں بھیگتی ہوئی وہ گھر کی جانب دوڑی۔

    ”مینی! جلدی سے کپڑے بدل کر بستر میں لیٹ جاؤ، ورنہ بیمار پڑ جاؤ گی۔” اُس کی آنٹی نے کہا لیکن مینی نے ان کی بات نہ مانی۔ اگلے دن صُبح تک اُسے تیز بُخار ہوگیا۔ اب وہ بستر سے اُٹھنے کے بھی قابل نہیں تھی۔ وہ سوچنے لگی، ایسا نہ ہو کہ آنٹی اُسے سوتا ہوا سمجھ کر خود ناشتہ کرلیں۔ اب تو وہ سرکس میں بھی نہیں جاسکے گی۔” مینی تکیے میں مُنہ چُھپا کر رونے لگی۔

    اتنے میں آنٹی سوسُن ناشتے کی ٹرے لے کر کمرے میں داخل ہوئیں۔ اُنہوں نے مینی کا ہاتھ مُنہ دُھلوایا، بال برش کیے، بستر دُرست کرکے اُس کے سامنے ناشتے کی ٹرے رکھ دی۔

    ”آنٹی! میں بیمار پڑگئی ہوں۔ اب ہم سرکس میں تو نہیں جاسکتے نا؟ کیا سرکس کے ٹکٹ ضائع ہوجائیں گے؟” مینی نے دھیمی آواز میں کہا۔

    ”میری پیاری بچّی! جب کل تم سوئیٹر اور ٹوپی کے بغیر گھر سے باہر جارہی تھی تو مجھے معلوم تھا کہ تم بارش میں بھیگ کر ضرور بیمار ہوجاؤ گی۔ اس لیے میں نے ٹکٹ خریدے ہی نہیں تھے۔ میں تمہاری طرح نادان نہیں ہوں۔ اگر تم وعدہ کرو کہ میری بات مانو گی تو میں تمہارا خیال رکھوں گی۔” آنٹی سوسن نے کہا۔

    ”جی آنٹی! میں وعدہ کرتی ہوں کہ اب وہی کروں گی جو آپ کہیں گی۔” مینی نے آنٹی کا ہاتھ پکڑ کر شرمندگی سے کہا۔

    ”بہت خوب! مُجھے یقین تھا کہ تم اچھی بچی بن سکتی ہو۔”

    شکریہ آنٹی! اب میں وہ نہیں کرنا چاہتی جو میرے دل میں آئے بلکہ وہ کرنا چاہتی ہوں جو آپ کو پسند ہو۔” مینی نے کہا تو آنٹی مسکرا دیں۔

    ٭…٭…٭

  • ٹیپو کا روزہ ۔ الف نگر

    ٹیپو کا روزہ ۔ الف نگر

    رمضان کہانی

    ٹیپو کا روزہ

    دلشاد نسیم

    ٹیپو کا پہلا روزہ تھا۔ اس نے اپنے امی ابو سے یہی سنا تھا کہ رمضان المبارک صبر کا مہینہ ہوتا ہے لیکن اس کی سمجھ میں کبھی نہیں آیا کہ صبر کیا ہے؟ اتنے مزے کی سحری ہوتی ہے۔ پراٹھے انڈے، دہی، پھیونیاں اور افطاری میں بھی فروٹ چاٹ، پکوڑے، سموسے، شربت وغیرہ۔

    اُس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ بھی روزہ رکھے لیکن ابھی اس کی عمر کم تھی جب کہ روزہ رکھنے کی خواہش بہت زیادہ! امی بھی راضی نہ تھیں۔

    ”ٹیپو بیٹا! گرمی بہت ہے۔” امی نے ٹیپو کو پیار کرتے ہوئے کہا۔

    ”کوئی بات نہیں، تم روزہ رکھو، اللہ صبر دے گا۔” ابو نے ہمت بندھائی۔

    چناں چہ طے یہ پایا جمعہ کو ٹیپو روزہ رکھے گا۔ اسکول میں اس نے ایک ایک بچے کو بتایا کہ جمعہ کو اس کی روزہ کشائی ہے۔ وہ بہت خوش تھا اس لیے رات کو جلدی سو گیا بلکہ اس روز تو اس نے ٹی وی بھی نہیں دیکھا اور نہ ہی امی سے کہانی سنی کیوں کہ اسے سحری کے لیے جاگنا تھا۔

    سحری میں ٹیپو سے کچھ بھی کھایا نہیں جا رہا تھا۔ پراٹھے کے دو چار نوالے لیے تو اس کا دل بھر گیا۔ امی پریشانی سے بولیں: ”بیٹا! سارا دن کیسے گزارو گے؟”

    ”صبر سے۔” ٹیپو نے مسکرا کے کہا: 

    سب ہنس دیئے کیوں کہ ٹیپو کو تو شاید صبر کے معنی بھی نہیں آتے تھے۔ سحری کا وقت ختم ہوا تو امی نے ٹیپو سے کہا: ”بیٹا! روزے کی نیت کرلو!” پھر ساتھ ہی عربی میں اُسے دعا یاد کروانے لگیں۔

    وَ بِصَوْمِ غَدٍ نَّوَیْتُ مِنْ شَھْرِ رَمَضَانَ۔

    ٹیپو نے اس کو دُہرایا اور ابو کے ساتھ نماز کے لیے مسجد چلا گیا۔ راستے میں ابو نے بتایا کہ نیت کا مطلب ہے ارادہ یعنی ہم جو کام کرنے لگے ہیں، اس کے لیے ہم بالکل تیار ہیں جیسے ابھی ہم نماز کا ارادہ کرکے مسجد کی جانب جارہے ہیں۔” ٹیپو کے لیے ساری باتیں نئی تھیں۔ وہ نماز پڑھ کر آیا تو ٹی وی پر کارٹون لگا کر بیٹھ گیا۔ امی نے قرآن مجید پڑھتے ہوئے اُسے آواز دی:

    ”بیٹا! اتنی صبح ٹی وی نہیں دیکھتے۔” یہ سن کرٹیپو نے ٹی وی بند کیا اور سیپارہ پڑھ کر کچھ دیر کے لیے آرام کرنے لگا۔ جب وہ سو کے اٹھا تو دن کا اُجالا تھا۔ دوپہر تک تو اس کو بالکل بھوک نہیں لگی البتہ پانی پینے کو دل کر رہا تھا۔ تین بجے کے بعد تو وقت گزر ہی نہیں رہا تھا۔ یوں لگتا کہ جیسے گھڑی کی سوئیوں نے بھی روزہ رکھ لیا ہو۔ ٹیپو نے اپنی پیاس امی پر ظاہر نہیں ہونے دی کیوں کہ وہ ٹیپو کی ذرا سی بھی پریشانی سے بہت زیادہ فکر مند ہو جاتی تھیں۔

    شام ہوئی تو ٹیپو کرکٹ کھیلنے باہر چلا گیا۔ گھر کے قریب ہی ایک جگہ مزدوروں کو کام کرتا دیکھ کر وہ حیران رہ گیا۔ سب اتنی گرمی میں کام کر رہے تھے۔ ٹیپو نے ایک مزدور سے پوچھا: ”انکل! بہت گرمی ہو رہی ہے، آپ کو پیاس لگی ہے تو میں پانی لے آئوں؟”

    مزدور نے بہت پیار سے ٹیپو کے سر پر ہاتھ پھیرا اور دعا دیتے ہوئے کہا: ”بیٹا جی! میرا روزہ ہے۔”

    ٹیپو حیران رہ گیا کہ مزدوروں نے اتنی سخت گرمی میں روزہ رکھا ہوا ہے؟ وہ گھر واپس آتے ہوئے سوچنے لگا کہ میں ان مزدوروں کے لیے کیا کر سکتا ہوں؟ اتنے میں امی آگئیں، انہوں نے ٹیپو کو چپ دیکھ کر پوچھا: ”بیٹا! بھوک تو نہیں لگ رہی؟” ٹیپو نے انکار میں سرہلایا تو امی نے دوبارہ پوچھا: ”پیاس لگ رہی ہے؟”

    ٹیپو ان کی بات سُن کر خاموش ہو گیا۔ جب امی نے بہت اصرار کیا تو وہ دھیرے سے بولا: ”جی امی! آج آپ بہت سارا شربت بنائیے گا۔”

    امی نے پیار سے ٹیپو کو گلے لگا لیا۔ افطاری کے وقت انہوں نے بہت سارا شربت، پکوڑے، سموسے، چاٹ اور دیگر بہت سی چیزیں بنائیں۔ ابھی روزہ کھلنے میں کچھ ہی دیر تھی۔ ٹیپو نے ابو سے پوچھا:

    ”ابو جی! کیا ہم اپنی افطاری سے کچھ چیزیں نکال سکتے ہیں؟”

    ”ہاں بیٹا! کیوں نہیں! مگر تم نے کیوں پوچھا؟” ابو نے مسکرا کے بولے۔

    ”ابو جی! وہ جو سامنے گھر بن رہا ہے، مجھے یہ سامان وہاں مزدوروں کو دینا ہے۔” یہ سن کر ابو بہت خوش ہوئے اور ٹیپو کے ساتھ جا کر شربت اور افطار کا دوسرا سامان مزدوروں کو دے آئے۔ ٹیپو اب کافی خوش نظر آرہا تھا۔ اس نے امی کو بتایا کہ مزدور بے چارے گرمی میں روزہ رکھ کر اتنی محنت سے کام کر رہے ہیں۔ امی کہنے لگیں:”بیٹا! مزدوروں کے پاس یہ ہمت، طاقت اور یہ حوصلہ روزہ دار کے لیے اللہ کا انعام ہیں۔” ٹیپو سوچ میں پڑ گیا: ”امی! مجھے اللہ میاں سے کیا انعام ملے گا؟”

    ”بیٹا! ہماری زندگی کے سارے اچھے کام اللہ کا انعام ہیں۔ تمہارا روزہ بھی اور روزے میں صبر کے ساتھ افطاری کا انتظار بھی!” امی نے مسکرا کر کہا، اتنے میں ٹیپو کے ابو کہانیوں کی کتابیں اور IPod لے آئے اور ٹیپو کو گلے سے لگا کر کہنے لگے: ”بیٹا! جو انعام آپ کو اللہ تعالیٰ دیں گے وہ تو بہت ہی اچھا ہو گا لیکن کچھ تحفے میں بھی تمہارے لیے لایا ہوں۔”

    ”آہا! یہ بہت پیارے ہیں لیکن بابا جان! مجھے تو اللہ پاک سے انعام چاہیے۔” ٹیپو چہک کر بولا۔

    ”واہ بیٹا! تم نے واقعی صبر کرنا سیکھ لیا ہے۔” ابو بولے۔انہوں نے بے ساختہ ٹیپو کو گلے لگا کر بہت پیار کیا۔

    ”ٹیپو بیٹا! بھوک پیاس کے باوجود تم نے مزدوروں کا احساس کیا۔ اس پر بھی ہم سب بہت خوش ہیں اور یقینا اللہ بھی، اسی لیے تم ڈبل انعام کے حق دار ہو۔” امی نے کہا تو ٹیپو خوش ہوگیا۔

  • ننھی مچھلی ۔ الف نگر

    ننھی مچھلی ۔ الف نگر

    ننھی مچھلی

    عنیقہ محمد بیگ

    مچھیرے کی قید سے بچنے کے لیے چھوٹی مچھلیوں نے کیا منصوبہ بنایا؟ پڑھیے ایک دلچسپ کہانی!

    سمندر کے نیل گوں پانی میں تیرتے ہوئے اُسے بہت مزا آرہا تھا۔ ننھی مچھلی کو گہرے پانی میں تیرنے اور خود سے خوراک تلاش کرکے کھانے کا بہت شوق تھا لیکن وہ ابھی زیادہ بڑی نہیں تھی۔ اُس کی ماں نے اسے زیادہ دور جانے سے منع کررکھا تھا۔ آج وہ اپنی ماں یعنی سنہری مچھلی سے اجازت لے کر اپنی تینوں سہیلیوں کی طرف جانے لگی۔ ننھی مچھلی کی سہیلیاں یعنی کالی مچھلی، جامنی، پیلی اور گلابی مچھلیاں پانی کے اندر ایک قریبی پارک میںرہتی تھیں۔ وہاں جاکر اُسے معلوم ہوا کہ وہ سب سبز پارک میں جانے کی تیاری کررہی ہیں۔ ننھی مچھلی حیران ہوکر کہنے لگی:

    ”پیاری سہیلیو! مجھے ڈر ہے کہ تم کسی مصیبت میں نہ پھنس جائو کیوں کہ وہاں انسانوں نے جال بچھا رکھے ہیں۔”

    ”مگر ہمیں تو پیلی مچھلی کی سال گرہ کے لیے وہاں سے پھل، کیک اورمٹھائیاں لانی ہیں۔” گلابی مچھلی نے کہا توننھی مچھلی سوچ میں پڑگئی۔ ابھی صبح ہی اُس کی ماں یعنی سنہری مچھلی نے اُس سے وعدہ لیا تھاکہ وہ سبز پارک میں نہیں جائے گی۔

    ”اگر تم نہیں جانا چاہتی تونہ جاؤ مگر ہم ضرور جائیں گے۔” کالی مچھلی نے کہا تو ننھی مچھلی نے اپنی تمام سہیلیوں کی طرف دیکھا پھر ان سب کے ساتھ جانے کے لیے تیار ہوگئی۔ اب یہ تمام سہیلیاں سبز پارک کی طرف تیرنے لگیں۔

    سبز پارک میں بہت سی کھانے پینے کی چیزیں پڑی ہوئی تھیں۔ ساتھ ہی کچھ جال بھی بچھے ہوئے تھے۔

    ”پیاری سہیلیو! ذرا احتیاط سے …میری امی بتاتی ہیں کہ نانی اماں اسی طرح کے ایک جال میں پھنس گئی تھیں اور پھر واپس نہیں آئیں۔” ننھی مچھلی نے بات مکمل کی مگر کسی نے بھی اس کی بات پر توجہ نہیں دی۔ وہ سبھی میٹھی چیزوں کو دیکھ کر خوش ہورہی تھیں۔ اب سب نے مل کر فیصلہ کیا کہ باری باری ہر مچھلی کُنڈیوں اور جال سے بچ کر مٹھائیاں اور کیک لائے گی۔

    سب سے پہلے ننھی مچھلی اور جامنی مچھلی نے ایک دوسرے کاہاتھ پکڑا اور آگے بڑھنے لگیں۔ میٹھے پھل، کیک اور سینڈوچ پاکر وہ بے حدخوش تھیں۔ تیرتے ہوئے اچانک جامنی مچھلی کو ایک جھٹکا لگا۔کوئی سخت چیز اس کے جسم سے ٹکرائی تھی۔جلد ہی اسے احساس ہوگیا کہ وہ ایک جال میں پھنس چکی ہے۔ وہ زور زور سے چیخنے لگی:

    ”بچاؤ! بچاؤ!” جامنی مچھلی کی چیخ و پکار سن کر ننھی مچھلی نے سب چیزیں پھینک دیں۔ اب وہ جامنی مچھلی کو بچانے کے لیے جال توڑنے کی کوشش کرنے لگی مگر ناکام رہی۔ جامنی مچھلی کو مصیبت میں دیکھ کر دور کھڑی باقی مچھلیوں نے بھی رونا شروع کردیا مگرننھی مچھلی نے ہمت نہ ہاری۔ اُس نے چیخ کر جامنی مچھلی کو مخاطب کیا:

    ”جامنی مچھلی! جامنی مچھلی ! جیسے ہی مچھیرا یہ جال کھولے ، تم اُچھل کر سمندر میںکود جانا۔”

    جامنی مچھلی روتے ہوئے بولی: ”نہیں ننھی مچھلی! مجھے لگتا ہے میں مرجاؤں گی۔”

    جال تیزی سے کنارے کی طرف جارہا تھا۔ باہر سے ننھی مچھلی نے جال کے اندر موجود جامنی مچھلی کا ہاتھ پکڑ لیا۔ اس طرح جامنی مچھلی کے ساتھ ننھی مچھلی بھی اوپر جانے لگی۔ جب جال پانی کی اوپر والی سطح پہنچا تو ننھی مچھلی التجا بھری نظروں سے مچھیرے کی طرف دیکھتے ہوئے مِنت کرنے لگی: ”اے نیک دل انسان! میری سہیلی جامنی مچھلی کو چھوڑ دو۔” ادھر مچھیرے نے جال پانی سے باہر نکالا تووہ ننھی مچھلی کے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔ جامنی مچھلی اب مچھیرے کی قید میں تھی۔ ننھی مچھلی پانی کی سطح پر آکر بار بار مچھیرے کو پکا ررہی تھی : ”اے انسان! میری سہیلی کو چھوڑ دو۔” مچھیرا ننھی مچھلی سے بے خبر تھا۔ اُس نے ایک کے بعد دوسری مچھلی اپنے بیگ میں ڈالنا شروع کی۔ یہ دیکھ کر ننھی مچھلی کا دل گھبرانے لگا۔ ایسے میں اُسے جامنی مچھلی کی کانپتی ہوئی آواز سنائی دی: ”خدا حافظ ننھی مچھلی! یہ انسان اب مجھے نہیں چھوڑے گا۔” یہ کہتے ہوئے وہ رونے لگی۔

    مچھیرے نے باقی مچھلیوں کو تھیلے میں ڈالا۔ اب وہ جامنی مچھلی کو ہاتھ میں اُٹھا چکا تھا۔ وہ مچھیرے کے ہاتھ پر تڑپنے لگی ۔یہ منظر دیکھ ننھی مچھلی روتے ہوئے مچھیرے کو پکارنے لگی: ”اے نیک انسان! میری سہیلی کو چھوڑ دو۔ بھلے اُس کے بدلے میں تم مجھے پکڑ لو۔ تمہارا بڑا احسان ہوگا۔”

    مچھیرا ننھی مچھلی کی آواز سے بے خبر جامنی مچھلی کوغور سے دیکھ رہا تھا پھر اُسے جامنی مچھلی کی چھوٹی سی جسامت پر ترس آگیا۔ چناں چہ اُس نے پیار سے اُسے واپس سمندر میں پھینک دیا۔ پانی میں پہنچتے ہی جامنی مچھلی کی جان میں جان آگئی۔ ننھی مچھلی خوشی سے مچھیرے کا شکریہ ادا کرنے لگی۔ پانی میں جاتے ہی جامنی مچھلی نے ننھی مچھلی کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا اور اب وہ واپس اپنے سہیلیوں کے پاس جانے لگیں۔ اچانک مچھیرے کا پاؤں پھِسلا اوراُس کا بٹوہ سمندر میں گرگیا۔ وہ پریشانی سے پانی میں ہاتھ مارنے لگا مگر اُس کا بٹوہ گہرے پانی میں جاچکا تھا۔

    اِدھر کالی، گلابی اور پیلی مچھلی تیزی سے جامنی کے پاس آگئیں جب کہ ننھی مچھلی اُس مچھیرے کا افسردہ چہرہ دیکھ رہی تھی۔ وہ بے چارا اپنا بٹوہ حاصل کرنے کے لیے بار بارپانی میں جال پھینک رہا تھا۔

    ”بھاگو ننھی مچھلی بھاگو! یہاں سے چلو ورنہ ہم سب پکڑی جائیں گی۔” کالی نے چیخ کر کہا مگر ننھی مچھیرے کے بٹوے کی طرف بڑھنے لگی۔ گلابی مچھلی بولی: ”ننھی دوست! واپس آؤ، یہاںبہت خطرہ ہے۔”

    ”نہیں دوست! میں یہ بٹوہ مچھیرے کو لوٹانا چاہتی ہوں کیوں کہ اُس نے جامنی مچھلی کو آزاد کیا ہے۔” ننھی مچھلی نے جواب دیا۔ جامنی مچھلی نے ننھی مچھلی کا ہاتھ تھام لیا اور پیار سے بولی: ”ٹھیک ہے ننھی دوست! میں اِس کام میں تمہاری مدد کروں گی۔”

    ان دونوں کی ہمت دیکھ کر باقی سہیلیاں بھی اُن کی مدد کے لیے آگے بڑھیں۔ آخر فیصلہ یہ ہواکہ بٹوہ مل جُل کر سمندر سے باہر پھینکا جائے۔اس کام میں ساری سہیلیوں نے ننھی مچھلی کا ساتھ دیا۔ ہمت کرکے تمام سہیلیاں مچھیرے کا بٹوہ سمندر سے باہر لے آئیں۔ سب کی سانس پھول رہی تھی۔ مچھیرا اپنا بٹوہ پانی پر تیرتا دیکھ کر حیران رہ گیا۔ اُس نے وہاں موجود انسانوں کو چیخ چیخ کر اپنی طرف متوجہ کیا:

    ”دیکھو! وہ دیکھو! کس طرح چھوٹی مچھلیاں میرا بٹوہ سمندر سے نکال لائی ہیں۔” یہ کہہ کر مچھیرے نے اپنا بٹوہ پکڑ لیا۔ آس پاس کھڑے لوگ یہ منظر دیکھ کر بہت حیران ہوئے۔ انہوں نے دل کھول کر مچھلیوں کو داد دی۔ مچھیرے نے پیاری پیاری مچھلیوں کا شکریہ ادا کیا پھر تمام سہیلیاں ہنسی خوشی اپنے گھر کی طرف تیرنے لگیں۔

    ٭…٭…٭