Tag: سلسلہ وار ناول

  • سیاہ اور سفید کے درمیان

    سیاہ اور سفید کے درمیان

    ناول

    ”سیاہ اور سفید کے درمیان ”

    تحریر: نائلہ عرفان

    Surah Al-Baqarah
    (Ayat 286)
    ”خدا کسی شخص کو اُس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔اُس کوثواب بھی اُسی کا ملے گاجو ارادہ سے کرے اور اُس پر عذاب بھی اُسی کا ہو گا جوارادہ سے کرے۔ اے رب ہمارے نہ پکڑ ہم کو اگر ہم بھولیں یا چُوکیں۔ اے رب ہمارے اور نہ رکھ ہم پر بوجھ بھاری جیسا رکھا تھا ہم سے اگلے لوگوں پر ۔ اے رب ہمارے اور نہ اُٹھوا ہم سے وہ بوجھ کہ جس کی ہم کو طاقت نہیں اور درگزر کر ہم سے اور بخش ہم کو اور رحم کر ہم پر تو ہی ہمارا رب ہے ۔ مدد کر ہماری کافروں پر” ۔
    (سورہ البقرہ آیت 286)

    ”A journey of a thousand miles begins with a single step”
    میلوں کی مسافت پہلا قدم اُٹھانے سے ہی طے ہوتی ہے۔

    سید مظہر حسین مرحوم کے انتقال کو آج سوا مہینے پورا ہوا قُل دسواں اور چہلم سب ہی پورے اہتمام سے منائے گئے ۔رشتے دار عموماََدن رات کا کھانا بھیجوایا کر تے جب کہ پرُ لطف ناشتے کا اہتمام محلے داروں نے سنبھالا ہوا تھا۔ایک روز تو مختلف شہروں سے آئے مظہر صاحب کے بہن بھائیوں نے رات کو ہی سو چ لیا کہ صبح اُٹھ کر تندوری نان بمعہ لیاقت سفید مکھن منگوالی جائیں جو کہ کو ئٹہ کی خاص سوغات سمجھی جا تی ہے ۔ساتھ میں دودھ والے سے تازہ دودھ لے کر دودھ پتی چائے بھی چڑھ گئی ۔ابھی ناشتے کا پہلا دور اختتام پذیر نہیں ہوا تھا کہ ڈاکٹر شاہ زمان کے گھر سے گرماگرم ناشتے کی ایک اور بڑی ٹرے آگئی ۔دو مختلف طرح کے آملیٹ،گھر کے بنے دس پندرہ پراٹھے ،تازہ ڈبل روٹی ،چھوٹی بلیوبینڈ مکھن کی ٹکیہ ،جیم اور شہد کی دو شیشیا ں اور چائے کے دو فل سائز تھرماس ۔ سب کی آنکھیں ناشتے کی اس ٹرے کو دیکھ کر کُھلی کی کُھلی رہ گئیں پھر تقریباََ سبھی نے پچھلے ناشتے کو کو صاف کر کے اگلے نا شتے کا باقاعدہ آغاز کیا۔ غم زدہ حلیمہ بھابھی اگرچہ عدّت میں تھیں مگرگھر والی ہونے کے ناطے ہر آئے گئے کا خیال رکھنا اُن کا فرض ٹھہرا پہلے انہوں نے شکرئیے کے ساتھ ناشتے کی ٹرے وصول کی ۔بعد میں بچے کُچے نا شتے کو سمیٹ کر دُرناز )برتن دھونے والی ادھیڑ عمر خاتون( کے حوالے کیا ۔پھر اپنا تیرھواں سپارہ کھول کر مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے پڑھنے بیٹھ گئیں ۔رات کو بھی بڑی ذمہ داری سے انہوں نے ڈاکٹر صاحب کے تمام برتنوں میں دیگ کا کھانا بھرا پھر گرم جوش شکریہ ادا کر نے کی خصوصی تاکید کے ساتھ ٹرے واپس بھیجوادی۔
    سوئم کی قر آن خوانی کا انتظام عورتوں کا گھر پر اور مردو ںکے لیے سامنے خالی پلاٹ پر کیا گیا تھا۔مظہر صاحب کے گھر کے بالکل سامنے سحر این جی او (NGO)کا دفتر ہے ۔دفتر کے ساتھ والے پلاٹ پرمالک پلاٹ سے پوچھ کر چار دیواری کھڑی کر دی ۔سکیورٹی (security)کیمرہ ‘ رات بھر آدھی گلی کو روشن رکھنے والی پاور فل اسٹریٹ لائٹ بھی لگوادی گئی اور گیٹ پر چوکیدار بیٹھا دیا ۔اس طرح نہ صرف دفتر والوں کو ایک بہترین پارکنگ لاٹ مل گیا ۔بلکہ گلی کی سکیورٹی کا بھی خاطر خواہ انتظام ہو گیا ۔این جی او (NGO)میں ہر وقت لوگوں کے آنے جانے سے ایک رونق سی لگی رہتی ۔بہر حال جب حلیمہ اور شیراز نے سوئم کا دن مُقررکرلیا تو محلے میں اطلا ع بھیجوا دی گئی ۔کوئٹہ کے لوگوں میں خلوص کا تناسب بڑے شہروں کی نسبت کچھ زیادہ ہی ہے۔بس تو پھر کیا تھا محلے کا ایک لڑکا دوڑ کر این جی او (NGO)کے چوکیدار کے پاس گیا اور اُس سے پارکنگ لاٹ رسمِ قُل کے لیے مانگ لیا۔واضح رہے کہ یہ وہی چوکیدار ہے ۔جس سے مظہر صاحب کی اپنی پوری زندگی ٹھنی رہی ۔جب بھی گھر سے نکلتے اِسے کسی نہ کسی بات پر ضرور ہی رگڑتے جیسے کبھی کہتے کہ ”تمہارا لوگ جب بھی لاٹ سے گاڑی نکالتا ہے ‘ہمارے تھڑے پر ضرور چڑھاتا ہے ‘کبھی ٹوٹ گیا ۔تو میں نے مالک کے پاس لڑنے پہنچ جانا ہے "یا پھر کہتے” تمہارے دفتر میں ہر وقت لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے ۔ پوری گلی میں شور وغُل ڈال رکھا ہے” شیراز نے دبّی زبان میں کئی مرتبہ سمجھانے کی کوشش کی کہ ”ابّا !اوّل تو ہمارا تھڑا خا صا مضبوط سیمنٹ کا بنا ہوا ہے ۔شیشے کا نہیں کہ ذرا سا گاڑی چڑ ھنے پر ٹوٹ جائے ۔دوسرا یہ کہ یہاں سے نکلنے کا اور راستہ بھی نہے ۔تیسرا یہ کہ اِن لوگوں سے ہماری ہمسائے داری ہے اور چوکیدار ایک غریب شریف آدمی ہے ۔آپ ہر وقت اُس کا پیچھا نہ پکڑا کرئیں "مگر مرحوم کچھ پیدائشی برہمی کا شکا ر تھے ،سوچھوٹی چھوٹی باتوں پر فساد کھڑا کر ناطبیعت میں رچ بس گیا تھا۔ کف افسوس کیا خبر تھی کہ ایک روز اِسی لاٹ پر اُن کی رسمِ قُل ہوگی اوریہی این جی او (NGO)والے انتظام کریںگے۔
    خیر شیراز اکثر آتے جاتے چوکیدار کے ہاتھ پر کبھی ہزار ‘پانچ سو رکھ دیتا ۔اس غریب چوکیدار نے حق ہمسایہ گیری ادا کرتے ہوئے ”لشتم چشتم این جی او (NGO)کے مالک کو فون کر کے اجازت طلب کی اور پھر انتظامات میں بھی خوب آگے آگے رہا ۔حتی کہ ہرے پھول دار ٹینٹ کو روشن رکھنے کے لیے جو دو بڑے بڑے بلب لگوئے گئے تھے اُن کا کنکشن بھی سامنے مظہر صاحب کے گھر سے لینے کے بجائے ساتھ موجود این جی اوکے دفتر سے دے ڈالا ۔سوئم کے لیے چکن کڑاہی ،مٹن پلائو اور میٹھے چاولوں کی جو تین دیگیں آئیں وہ بھی اُسی نے دیگ والے کے ساتھ مل کر گدھے گاڑی سے اُتروائیں اور پلاٹ کے سامنے خالی سڑک پر رکھ وادیں۔اسی لئے حاضرینِ محفل اس چھوٹی سی زندگی میں آپ سب کے ساتھ بھلے رہئے کوئی پتہ نہیںکہ کوئی کب کہاں اور کس طرح آپ کا بھلا کر جاتا ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جب سب نے مل کر کئی کلام پاک اور سینکڑوں مرتبہ سورةیسٰین پڑھ ڈالی تو حلیمہ نے حافظ سلیمہ مندوخیل سے مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے پرُسوز دُعا کی التماس کی ۔۔۔۔کافی دیر تک اللہ سبحان وتعالی کے آگے عاجزی سے گڑگڑ انے اور توبہ استغفار کرنے کے بعد انھوں نے کٹے ہوئے موسمی پھلوں ودیگر پکوانوں کی سوخ پھول دار خوان سے دھکی پلیٹوں پر فاتحہ دے ڈالی۔اس طویل روح پُرور رتقریب کے اختتام تک حلیمہ بھابھی اس قدر تھک چکی تھیں کہ صوفے پر کچھ دیر کے لیے یہ کہہ کر بیٹھ گئیں کہ خدارا اب مجھے نہ اُٹھانا کیونکہ اب اگر اُٹھی تو ڈر ہے کہ چکرا کر کہیں گر ہی نہ پڑوں ۔
    دراصل اللہ نے مظہر حسین اور حلیمہ مظہر کو صرف دو ہی اولادیں دی ہیں ۔عائلہ مظہر اور شیراز مظہر۔ عائلہ توشادی کر کے امریکہ چلی گئی تو اُس کا آنا جانا ہوا مشکل ۔بچا شیراز تو وہ بیچارہ باہر کا انتظام سنبھا لے کہ اندر کا؟ لہٰذا اندرونِ خانہ کی تمام تر ذمہ داری آئی حلیمہ بھابھی کے کندھوں پر۔ اب انھیں کبھی سفید چادروں کے لیے آواز پڑتی تو کبھی کسی کو جائے نماز یںدرکار ہوتیںعین سوئم کی قران خوانی کے درمیان ڈرائنگ روم کے بیرونی دروازے کے پاس والے کونے سے آواز آئی بھابی !اگر بتیاں کہاں ہیں ؟اِن کے بغیر قرآن خوانی کا بھلا کیا مزہ ”
    لو بھلا بتائو یہ قرآن خوانی مرحوم کی روح کو بخشوانے کے لیے رکھوائی ہے یا تمہارے مزے کے لیے۔ یہ آواز عطرت پھوپھو کی تھی ۔مسز عطر ت عثمان مظہر صاحب کے دس بہن بھائیوں میں سے ساتویں نمبر پر ہیں۔خاتون جس محفل میں جاتیں کچھ الگ ہی نظر آتیں وجہ چہرے پر تنا شکنوں کا منفرد جال شکنوں کی ترتیب کچھ اس پرکارہے ماتھے پر لمبائی کے رُخ چار اور چوڑائی کے رُخ چھ ، دونوں آنکھوں کے گرد بے تحاشہ چھوٹی چھوٹی لکیریں اور سب سے واضح ناک کے سرے سے لیکر ہونٹوں کے کناروں تک آتی اسمائل لائنز،(حالانکہ کے مسکرانے سے اُن کا دور کا بھی واستہ نہیں تھا )جب بھی وہ منہ ٹیڑھا کر کے بو لتیںتو وہ کچھ اور بھی واضح ہو جاتیں ۔پچھلے سال جب وہ ا پنی ڈاکٹر بیٹی کو امتحان دِلوانے لندن لیکر گئیں تو اپنی کاسموٹولوجسٹ بھابھی سے زبر دستی مفت میں بوٹوکس کے انجکشنز لگوالئے اور فلرز بھی ڈلوالئے ۔

    جس سے چہرہ تو سچی بات ہے جیسے پہلے تھا ویسا ہی رہا ۔بھابھی نے کون سا دل سے یہ کام کیا تھا۔بس جان ہی چھڑوائی تھی اپنی مگر وہ خود کو پچپن کے بجائے پینتیس 35))کا سمجھنے لگیں ۔دماغ کے فطور اور لہجے کے غرور میں گراقدرِ اضافہ ہوا کہ ناخن کچھ مزید لمبے ہوگئے لپ اسٹک ،نیل پالش شیڈ کچھ دوہرا گہرا اور انگوٹھیا ںدوسے چار ہوگئیں ۔یہ عطرت پھوپھو ہی تھیں جنھوں نے بھرے مجمع میں جب عورتیںمنہ کھول کھول کر حلیمہ بھابھی کی خدمت گزاری کے گُن گارہی تھیں ۔تو جل کر کہہ دیا کہ "بھئی ! ہمیں کیا پتہ کہ خدمت کی بھی ہے یا نہیں ہم تو سب دوربیٹھے تھے اپنے اپنے گھروں میں۔ میں تو آخیرتک فون کرتی رہی کہ ذراکی ذرا بھائی کی آواز ہی سنُ لو ں مگر کبھی جواب ملتا کہ اّبا ابھی سو رہے ہیں ۔کبھی یہ کہ اُن کی کنڈیشن ایسی نہیں ہے کہ ابھی بات کر سکیں ”
    اپنے سے فقط ڈیڑ ھ دو سال چھوٹی بہن کے بے تُکے پن پربڑی سعدیہ پھوپھو نے خوب ہی بُرا محسوس کیا۔ساتواں سپارہ جو ابھی صرف نصف ہی پڑھا تھا انگلی رکھ کر بند کیا ۔عینک ناک کی ٹپ پر ٹکائی اور پہلے اُسے خوب غور سے دیکھا پھر ٹھوک کر بولئیں ۔”تم نے بالکل صحیح کہا بھلا دوربیٹھے ہوئوں کو یہاں کے باسیوںکی کُلفتوں کا کیا اندازہ ؟ہم توبھئی دو قدم کے فاصلے پر رہتے ہیں ۔لہذا پَل پَل کی خبر ہے کہ پچھلے دو سال سے حلیمہ بھابھی اور شیراز نے کس طرح مظہر بھائی کی خدمت کے لیے اپنا دن اور رات ایک کیا ہوا تھا۔مظہر بھائی پچھلے تیس سالوں سے زیا بیطس کے مریض تھے ۔دوسال پہلے گُردوںنے جواب دے دیا اور بہنا !ڈالیسیز Dialysis))کے مریض کی دیکھ بھال کرنا کو ئی بچو ں کا کھیل نہیں ہے۔آخر کے چند مہینوں میں ہیپاٹائٹس (hepatitis)ہوگیا ۔چہرے کا رنگ کالا سیاہ، جسم پر سیاہ دھّبے مرحوم پیشاب اور پوٹی بھی ڈائیپر(Diaper)میں کر رہے تھے اتنے لہیم شہیم آدمی کے پیمپر(pamper) بدلنا بھی ہر بار ایک مرحلہ ہوتا ۔اوپر سے بھائی کا چِڑچِڑاپن اور کنجوسی اپنے عروج پر تھی اپنے علاج پر بھی جیب سے ایک ٹکا خرچ کرنے کو تیار نہ تھے ۔ایک منٹ کیسی باہر والے اٹینڈئنٹ Attendent))نے ٹِک کر نہ دیا ۔خود ہی ماں بیٹا کبھی اُن کی اُلٹیا ں صاف کرتے تو کبھی مالش کر رہے ہیں ،جسم داب رہے ہیں ۔سچ پوچھوتو اِن دونوں نے اپنی جنت اسی دنیا میں کمالی میں خود اِس بات کی سب سے بڑی گواہ ہوں ۔مگر تم کیا جانو!تم تو خیر سے دور بیٹھی تھیںاپنے گھرمیں "سعدیہ پھوپھو نے اپنی بات ختم کر کے ٹیولپ ٹشو Tulip tissue ))کا پاکٹ سائز پیک اپنے پرس سے نکالا ۔اس میں سے دوخوشبودار سفید ٹشو باہر کھینچے اور بھیگی بھیگی آنکھوں کو خوب رگڑ کر صاف کرنے لگئیں ۔بڑی بہن کے اِس تفصیلی بیان کے بعد عطرت پھوپھو اپنا سا مُنہ لے کر رہ گئیں ہاتھ میں کب سے پکڑی سورةیسٰین کچھ غصے میں اور کچھ وجّدمیں آکر جھوم جھوم کر پڑھنی شروع کر دی ۔سعدیہ پھوپھو اگر چے قرآن خوانی کے درمیا ن باتیں کرنا معیوب خیا ل کر تی تھیں ۔مگر اِس وقت یہ وضاحت دینا بے حد ضروری تھا ۔
    پہلے ہی عائلہ کی عدم موجودگی پہ گھر کے ملازمین سے لے کر ہر آئے گئے نے خوب ہی سوال اُٹھائے ہیں کہ عائلہ اب تک کیوں نہیںآئی؟؟ پہلے باپ کی دو سالہ بیماری میں نہیں آئی اب تدفین پہ بھی غائب ہے !!حلیمہ بھابھی سمجھا سمجھا تھک گئیں کہ امریکہ کوئی پاکستان میں نہیں رکھا ہوا۔پی آئی اے(PIA)کی براہِ راست پرواز بھی امریکہ سے آنا اب بند ہو چکی ہے ۔اگر باپ کی اطلاع ملتے ہی اِسے ٹیکٹس کسی طرح مل بھی جاتے توکنیکٹنگ Connecting))فلائٹ لے کر یہاں کوئٹہ آتے کم از کم دو دن تو لگ ہی جانے تھے اور مظہر صاحب کی تدفین اتنی دیر روکی نہیں جاسکتی تھی۔باڈی اِس حال میں ہی نہیں تھی پھر باہر والوں کی اپنی زندگی کے ہزار ہاں جھمیلے ہیں ۔ہمیں اُس سے کوئی شِکایت نہیں ہے۔آجائے گی وہ اپنی سہولت سے لیکن اللہ کی اِس زمیں پہ جتنے اُبھار اور گھاٹیاں ہیں ۔اِس سے کہیں زیادہ اُبھار اور گھاٹیا ں انسان دماغ پہ موجود ہیں ۔جہاں پراَن گنت سوچیں اُبھر تی پھسلتی رہتی ہیں ،سومولا کی زمین پر ربسنے والے اپنی قیاس آرئیوں سے باز نہیں آتے ۔
    دراصل عائلہ مظہر نے شادی اپنی مرضی سے کی تھی شروع شروع میں تو باپ بیٹی میں خاصی ٹھنی رہی۔مگر امریکہ جانے کے بعد بھی وہ ہرسال ماں باپ سے ملنے آیا کرتی تھی ۔بلکہ ایک مرتبہ ایان کا کوئی طویل پرجیکٹ جاپان میں چل رہا تھا تو عائلہ کوئی سال بھر کے لیے دونوں بچوں کے ساتھ ماں باپ کے پاس پاکستان آگئی تھی۔اِس موقع پر بھی خاندان بھر میں خوب چہ میگوئیاں ہوئیں کہ یقینا میاں بیوی کی علیحدگی ہو گئی ہے۔ آگیا ہو گا کسی گوری کے چکر میں تو بھیج دیاعائلہ کو واپس خیر عائلہ کچھ عرصہ رہ کر چار سالہ سلیمان اور دو سالہ مُحمد کے ساتھ ور جینا (virginia)واپس چلی گئی اور ایسی گئی کہ اب دو ڈھائی سال ہونے کو آئے اُس کا کوئی نام ونشان نہیں ہے۔
    "سعدیہ باجی !یہ اپنی عائلہ نظر نہیں آرہی اِس روز میں تد فین میں آئی تھی تو بھی ملاقات نہیں ہوئی مانا کہ باپ کا غم ہے مگر ایسا بھی کیا کہ بندہ آنے جانے والے مہمانوں سے پُرسہ بھی نہ لے سکے "عائلہ کی بابت خالصتاً ٹھوہ لینے والے انداز میں پوچھنے والی یہ مظہر حسین کے ماموں زاد بھائی کی بیوہ بیگم طاہرہ نسیم تھیں صاف پتہ چل رہا تھا کہ وہ بن رہی ہیں اندر سے خوب ہی جانئے ہیں کہ عا ئلہ یہاں موجود نہیں ہے ۔
    بہر کیف اُن کے اِس سوال پرسعدیہ پھوپھو کا پانی کے جگ کی طرف بڑھتا ہاتھ تھم سا گیا ۔”طاہرہ بھابھی !عائلہ تو نہیں آئی شاید کچھ ٹھہر کر آنے کا ارادہ ہے ”
    ” اچھی بہن !سچ کہو یعنی کہ اب بھی نہیں آئی اللہ جانے کیا معاملہ رہا ہو گا ۔ویسے بھی اپنی عائلہ کی یہ love marriage)) ہے ۔ مظہر بھائی اِس رشتے کے شروع سے ہی خلاف تھے کیا پتہ سسر اور داماد میں کب سے سرد جنگ چل رہی ہو جس کا بدلہ اُس نے عائلہ کو مظہر بھائی کی بیماری نہ میں بھیج کر لیا ہو”انہوں نے مانوقیاس کے سمندر میں ساری کشتیاں ڈبو دئیں ۔اگر آپ نے کبھی پمپکن پیچ(pumpkin patch)کی پھولے پھولے گالوں والی خوب گول مٹول اور گوری چٹّی گڑیاں دیکھی ہوں تو اِس لائن کی وہ گڑیا جو بارہ تیرہ سال کی بچیوں کے لیے ہوتی ہے وہ لے آئیں ۔اُسے پاکستان کے کیسی بہترین برانڈ کے کپڑے پہنا کر سر پر دوپٹہ اُوڑھا دیں اور شکل کی ساری معصومیت سرے سے غائب کر دئیں تو ہوبہو نسیم بھابھی بن جاتی ہیں ۔پہنا اُوڑھنا اِن کا شروع سے ہی بہت اچھا رہا ہے اور کیوں نہ ہو ؟دونوں بیٹے خوب اچھا کمارہے ہیں ۔ایک تو کینڈا میں ہے اور دوسرا کوئٹہ میں کوئی لیب شیب چلا رہا ہے جس طرح کی وہ ٹیڑھی ماں تھیں اولاد خود بخود ہی سیدھی رہتی شرافت سے دونوں بیٹے انھیں خوب اچھا پاکٹ منی دیتے ہیںجو بہو پاس تھی شریف خاندان کی قبول صورت مگر کم پڑ ھی لکھی لڑکی تھی جیسے وہ اہتمام سے اپنے ایم ایس سی پاس بیٹے کے لیے بیاہ کر لئیں تھی ۔اب پائوں کے انگوٹھے تلے ایسا دبارکھا ہے کہ اپنے میکے جانا تو درکنار گھر کے دروازے تک اُن کی اجازت کے بغیر نہیں جاسکتی تھی ۔بھلے گھر میں بے چاری کا دم گھٹا جا رہا ہو ۔
    "اچھی بہن!بس اب کیا بتائوں کہ آخری دونوں میں بھیا مرحوم کی شریانوں کی حالت اِس قدر نازک ہوگئی تھی کہ مزید ڈائی لیسیسزDialysis))ممکن نہیںرہا تھا ۔”انہوں نے سعدیہ پھوپھو کے قریب کھسک کر قدرے راز داری سے کہا انداز ایسا تھا کہ جیسے وہ مرحوم کی تیمار داری کے لیے روزانہ آتی رہی ہوں اور سعدیہ پھوپھو کبھی کبھار حالانکہ حقیقت اِس کے بالکل برعکس تھی ۔وہ خود مرحوم کی طویل بیماری میں صرف ایک آدھ بار ہی خبر گیری کے لیے آسکیں تھیں۔
    ”ڈاکٹر نے صاف جواب دے دیا تھا ،دماغ پر اثر ہونے لگا تو سارا سارا دن عجیب وغریب آوازیں نکالتے رہتے۔کیسی پل چین نہیں تھا یوں لگتا کہ موت کا فرشتہ نظر وں کے سامنے ہر وقت موجود ہو مگر تف ہے بھئی آج کل کی اولاد پر کہ ایسے کڑے وقت میں بھی ماں باپ کی دل جوئی کو نہ آسکے۔
    نہ تو عائلہ اُمید سے ہے نہ اس کے بچے شیرخوار ہیں کہ اتنا لمبا سفر ممکن نہ ہو .عائلہ تو گوروں کے دیس میں جا کر بالکل انہی کی طرح سوچنے لگی ہے کہ اپنے شیڈول کے مطابق آنا جانا ہے ماں باپ بھلے اِس کے بچوں کی صورتوں کو ترستے رہیں "وہ کچھ اور آگے کھسک کر مزید گویا ہوئیں۔
    ”ویسے میں اس کے بچوںسے مل چکی ہوں پہلے دونوں ہی عجیب چڑچڑے سے تھے ۔ہر وقت ماں کا پلو پکڑے ہر آئے گئے کو نوچتے کھسوٹتے رہتے ،بولتے ولتے اُس وقت تو کچھ خاص نہ تھے لگتا ہے کہ عائلہ نے کوئی خاص تمیز نہیں سیکھائی ۔امریکہ کے بجائے کسی چک کی پیداوار لگ رہے تھے ۔اب اپنے خرم (اُن کا چھوٹا بیٹا )کے بچوں کو ہی دیکھ لو ‘میں نے پالنے میں ہی آداب سلام کی تمیز سیکھادی تھی ورنہ آتا جاتا تو اُن کی ماں کو بھی کچھ خاص نہیں ہے۔آپ کی بھابی صاحبہ کیا بتا رہی ہیںکہ صاحبزادی کب تک آئیں گی ؟ کوئی اور موقع ہوتا تو شاید سعدیہ پھوپھو عائلہ کی صفائی ضرور پیش کرتیں مگر اُن کا دل اِس بارعائلہ سے خوب ہی کھٹا ہو ا تھا ۔اگر چے اپنے ہاتھوں کی پالی بچی تھی دلِ ودماغ یہ مانے کو تیار نہیں تھا مگر حالات کچھ یہی خبر دے رہے تھے کہ عائلہ بدل گئی ہے بہت دُکھی دل سے گویا ہوئیں کہ "اُن سے تو ہم نے پوچھنا چھوڑ دیا ہے ہر ایک کو یہی کہتی پھر تی ہیں کہ باہر والوں کے اپنے سومسلے مسائل ہوتے ہیں جن کا اندازہ ہم پاکستان میں بیٹھ کر نہیں لگا سکتے ۔میرا بھائی تو آخیر تک سب سے پوچھتا رہا کہ عائلہ آگئی کیا ؟میرے سیلمان اور محمد کہا ں ہیں ؟پھر اُن کے معصوم چہرے دیکھنے کی حسرت لیئے لحد میں اُتر گیا بد قسمتی اُس کی بھی کہ باپ کا آخری دیدار نہ کر سکی البتہ حلیمہ بھابھی نے میت کو قبرستان لے جانے سے پہلے پانچ منٹ کے لیے فیس ٹائم پر دیکھایاضرور تھا ۔اُس کے رونے کی ہلکی سی آواز تو میں نے بھی سُنی تھی ۔یہ رونا تو اب عمر بھر کا ہے ۔کچھ بھی کر لو ماں باپ کہاں واپس آتے ہیں ”
    سعدیہ پھوپھوکی بات سنُ کر نسیم بھابھی نے اثبات میں خوب زور سے سر ہلایا پھر اپنے سوجے ہوئے پیر سمیٹ کر اُٹھنے لگ گئیں ۔
    "اچھا اب میں چلوں گی پیر نیچے بیٹھنے سے اور سوج گئے ہیں گھر جا کر اِن کا ذرا مساج کروں تو کچھ سکون آئے ”نسیم بھابھی خود بھی زیابیطس کی مریضہ تھیں مگر پرہیز بالکل بھی نہ کر تیں لہذاکبھی پیر سوجتے تو کبھی چہرہ لیکن اِس کے باوجود بھی خاصی سوشل خاتون تھیں ۔جہاں بھی جاتیں دس پندرہ منٹوں میں مقررہ ہدف پورا کر لیتیں ۔دوسروں کے دل آپس میں کھٹے کر کے خود مطمئن سی جیے جا رہی تھیں ۔
    ”ارے نسیم بھابھی !ذرا روکئیے تو دُعا میں شریک ہو کر ‘دو لقمے کھا کر چلی جائیے گا ۔”سعدیہ پھوپھو نے اُن کا ہاتھ پکڑ کر روکا۔ ”اچھی بہن !کھانا تو میں باہرکا کھاتی نہیں ہو ں مگر دُعا میں شرکت لازمی کرو نگی بس میں ذرا لطیف )ڈرائیور)کو فون کر دوں کہ وہ پندرہ منٹ باہر میرانتظار کرے ”نسیم بھابھی نے اپنے کوچ (coach)کے شولڈر بیگ سے آئی فون نکالا اور ڈرائیورکو نمبر ملا کر ہدایت دینے لگ گئیں تو سعدیہ پھوپھو بھی کچن میں ایک نظر ڈالنے کے خیال سے اُٹھ کھڑی ہوئیں ۔

  • گئے موسم میں جو کھلتے تھے گلابوں کی طرح ۔ پروین شاکر ۔ شاعری

    گئے موسم میں جو کھلتے تھے گلابوں کی طرح ۔ پروین شاکر



    گئے موسم میں جو کھلتے تھے گلابوں کی طرح
    دل پہ اتریں گے وہی خواب عذابوں کی طرح

    راکھ کے ڈھیر پہ اب رات بسر کرنی ہے
    جل چکے ہیں مرے خیمے مرے خوابوں کی طرح

    ساعت دید کہ عارض ہیں گلابی اب تک
    اولیں لمحوں کے گلنار حجابوں کی طرح

    وہ سمندر ہے تو پھر روح کو شاداب کرے
    تشنگی کیوں مجھے دیتا ہے سرابوں کی طرح

    غیر ممکن ہے ترے گھر کے گلابوں کا شمار
    میرے رستے ہوئے زخموں کے حسابوں کی طرح

    یاد تو ہوں گی وہ باتیں تجھے اب بھی لیکن
    شیلف میں رکھی ہوئی بند کتابوں کی طرح

    کون جانے کہ نئے سال میں تو کس کو پڑھے
    تیرا معیار بدلتا ہے نصابوں کی طرح

    شوخ ہو جاتی ہے اب بھی تری آنکھوں کی چمک
    گاہے گاہے ترے دلچسپ جوابوں کی طرح

    ہجر کی شب مری تنہائی پہ دستک دے گی
    تیری خوش بو مرے کھوئے ہوئے خوابوں کی طرح



  • حسینہ معین – گفتگو

    حسینہ معین – گفتگو



    حسینہ معین جدید پاکستانی ٹی وی ڈرامے کے موجدوں میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے پی ٹی وی اس وقت جوائن کیا جب ڈرامہ بہت گہرے اور سنجیدہ سروں میں تھا ۔ پھر حسینہ معین آئیںاور نہوں نے پی ٹی وی کی سرمئی سکرین پر جیسے رنگ بکھیر دیے۔۔۔

    ایک بہائو سے چلتی ہوئی تیز رفتا ر کہانی۔۔ایسے زندہ ، سانس لیتے کردار کہ جیسے ابھی سکرین سے نکل کر آپ کے سامنے چلنے پھرنے لگیں گے۔ ۔۔بے ساختہ، تیکھے مکالمے کہ ذہن عش عش کر اُٹھے۔۔۔اور کہانی کا مرکزی کردارنبھاتی، ایک مضبوط، ہنس مکھ، بہادر لڑکی۔ 

    یہ سب عناصر نہ صرف حسینہ آپا کی پہچان بنے، بلکہ انہوں نے عورت کو ٹی وی پر لکھے جانے کا ، دکھائے جانے کا ایک نیا انداز بھی بخشا۔ آپ کہانی پڑھنے یا لکھنے کے شوق کے بارے میں سنجیدہ ہوں اور آپ نے حسینہ آپا کے ڈرامے نہ دیکھ رکھے ہوں، یہ دو متضاد باتیں محسوس ہوتی ہیں۔تو آئیے، ملواتے ہیں آپ کو حسینہ آپا سے۔۔۔اور جانتے ہیں ان سے کہانی کی بنت کے راز۔

    الف کتاب : آپا، کچھ اپنے سفر کی شروعات کے بارے میں بتائیے۔کیسے لکھنا شروع کیا آپ نے؟

    حسینہ معین: (مسکراتے ہوئے)میری شروعات؟ اصل میں میں نے لکھناشروع کیا تھا جب میں کلاس 7th میں تھی۔ یہاں سے بچوں کا ایک میگزین نکلتا تھا  ‘بھائی جان’  اورجنگ کا بچوں کا اخبار تھا،جس میں میں نے کچھ چھوٹی چھوٹی کہانیاں لکھی تھیں۔پھر کالج کے زمانے کی بات ہے کہ وہاں سرکولر آیا ریڈیو پاکستان سے ،کہ جشنِ تمثیل ہو رہا ہے طلبا ء و طالبات کاتو آپ کے کالج سے بھی ہمیں ٢٥ منٹ کا ایک ڈرامہ چاہیے۔اس وقت میں صرف سیکنڈ ائیر میں تھی۔ہماری اُردو کی پروفیسر تھیں، مسز سلمیٰ حقی، انہوں نے مجھے کہا کہ تم لکھو۔کیونکہ وہ دیکھتی تھیں کہ میں وال پیپر میگزین کے لیے کچھ نہ کچھ لکھتی رہتی تھی، حالانکہ وہ بس یونہی شرارت کی چیزیں تھیں کہ کبھی کسی ٹیچر کے بارے میں کچھ لکھ دیا کبھی کسی لڑکی کے بارے میں، تو انہوں نے کہا کہ تم لکھو۔ میں نے کہا کہ بھئی مجھے تو نہیں آتا۔یہ ڈرامہ ورامہ تو الگ چیز ہے۔تو انہوں نے کہا کہ نہیں نہیں تم ہی لکھو۔ بس پھر میں نے دو ڈھائی دن میں ڈرامہ لکھ کر انہیں دے دیا۔ کچھ دن بعد اطلاع آئی کہ اسے فرسٹ پرائز ملا ہے۔ہماری پرنسپل نے اسمبلی میں اعلان کیا۔ اس سے بڑی خوشی ہوئی کہ واہ بھئی۔ بس وہ ہماری بریک تھی، سٹارٹنگ پوائنٹ۔اس کے بعد ریڈیو پاکستان والوں نے کہا کہ آپ Studio no. 9 کے لیے لکھیں۔آ پ کی رائٹنگ میچور ہے۔تو میں نے خوشی میں اس پروگرام کے لیے آٹھ دس ڈرامے لکھے۔اس کے بعد میں بی اے کر کے ایم اے میں چلی گئی تو ایم اے چونکہ کچھ مشکل ہوتا ہے تو پھر ڈرامے لکھنا چھوڑ دیے۔پھر ایم اے کیا، پھر بی ایڈ کیا۔ پھر (سوچتے ہوئے)  جب کراچی میں ٹی وی آیا تو انہوں نے ریڈیوکا ایک ڈرامہ لے کر مجھے کہا کہ اسے آپ ٹی وی کے لیےdramatize کر دیں۔ اب ریڈیو کے لیے لکھنا آسان ہے۔ بس آپ کی imagination کام کرتی ہے اور آپ لکھتے چلے  جاتے ہیں۔لیکن ٹی وی کے لیے آپ کو دھیان رکھنا پڑتا ہے کہ کیا ایسا اصل میں ہو سکتا ہے یا نہیں، ٹی وی کی سکرین پہ اسے کسی physical حالت میں دکھایا جا سکتا ہے یا نہیں۔تو خیر پھر میں نے اسی ڈرامے کو ٹی وی کے لیے لکھ دیا۔ ”نیا راستہ” کے نام سے وہ ڈرامہ چلا۔وہ بھی بہت کامیاب ہوا۔ خیر ہو سکتا ہے اس میں میرا کوئی کمال نہ ہو، کامیڈی کی وجہ سے وہ ڈرامہ مشہور ہو گیا ہو۔ بہر حال پھر مجھے پی ٹی وی والوں نے باقاعدہ بلایا اور کہا کہ آپ عید کے لیے ایک پلے لکھیں۔ پھر میں نے عید کے لیے Happy Eid Mubarak لکھا۔ اس میں مرکزی کردار نیلوفر(عباسی) اور شکیل نے کیے۔وہ بھی بہت پاپولر ہوا۔ اصل میں اس زمانے میں کامیڈی بہت کم کی جا رہی تھی۔ خیر وہ اتنا مشہور ہوا کہ اس کے فوری بعدپی ٹی وی والوں نے کہا کہ اب آپ ایک سیریل لکھیں۔ عظیم بیگ چغتائی کی ایک کتاب تھی، اس میں سے ایک کہانی تھی ”عورت تیرا نام کمزوری”۔۔۔انہوں نے کہا کہ اس پر سیریل لکھ دیں۔ جب میں نے وہ کہانی پڑھی تو وہ بس ایک دس ، بارہ صفحے کا افسانہ تھا، اب اُسے سات قسطوں میں بنانا، میں نے کہا یہ تو بڑا مشکل ہے۔اور وہ تھا بھی 1920ء سے 1930ء کے دوران کا۔اس زمانے کے مزاق بھی الگ تھے، کرداروں کی بنائی بھی، سب الگ تھا۔انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے، آپ اسے چھوڑیں، بس مرکزی خیال لے کر اپنی کہانی لکھ دیں۔Free adaptation۔تو وہ پھر ہم نے شہزوری کے نام سے کیا اور luckily شہزوری بہت زیادہ کامیاب رہا۔

    الف کتاب: شہزوری تو بہت زبردست پلے تھا۔ کمال۔ اتنے برجستہ مکالمے، اور ایسی دلیر لڑکی۔

    حسینہ معین:دیکھو، ٹی وی ڈرامے کی کامیابی، تین لوگوں کی وجہ سے ہوتی ہے۔رائٹر، ڈائیریکٹر، اور آرٹسٹ۔اگر تینوں میں میل نہ ہو تو ڈرامہ وہیں ختم ہو جاتا ہے۔اور شہزوری میں یہ سب موجود تھا۔ اب جب شہزوری کامیاب ہوا تو بس ایک سلسلہ سا چل پڑا۔



    ٢۔آپ نے پی ٹی وی کے لیے پہلا اوریجنل سکرپٹ لکھا، کرن کہانی۔ اس سے پہلے ناولز کو ڈرامائی تشکیل دی جاتی تھی۔ اس تجربے کے بارے میں بتائیے۔

    حسینہ معین:یہ شہزوری کے بعد ہوا۔ جب شہزوری کامیاب ہوا تو مجھے پی ٹی وی والوں نے کہا کہ اب آپ ایک اور لکھیے، وہ بھی عظیم بیگ چغتائی کی ایک کتاب تھی۔ ۔تب میں نے انہیں کہا کہ دیکھیے ایسا کرتے ہیں کہ میں ایک آئیڈیا دیتی ہوں اور اس پر ہی لکھ لیتے ہیں۔ کیونکہ اس طرح کسی کہانی پہ لکھنے میں بھی اتنی ہی محنت پڑتی ہے کیونکہ کہانی بالکل نئے سرے سے لکھنی ہوتی ہے، صرف مرکزی خیال لیا جاتا ہے۔ توانہوں نے کہا کہ اچھا آپ آئیڈیا دیں۔ تو پھر میں نے کرن کہانی کا آئیڈیا دیا۔شروع میں وہ لوگ بڑے پریشان تھے کہ بھئی پہلے تو ہمارے ہاں ایسا کبھی ہوا نہیں، کیونکہ ہم تو ہفتے کے ہفتے کے حساب سے چلتے ہیں۔ ایک ہفتے کا لکھا اگلے ہفتے میں شوٹ ہوتا ہے اور ریکارڈ ہو کر آن ائیر چلا جاتا ہے۔اب اگر کہانی لکھتے ہوئے آپ کہیں رُک گئیں اور آپ کی سمجھ میں نہیں آیا کہ کہانی آگے کیسے جائے تو ہم تو مارے جائیں گے۔ میں نے انہیں مطمئن کرنے کی بہت کوشش کی کہ ایسا نہیں ہو گا۔ اور تب اس وقت بہت لوگوں نے میرا ساتھ دیا۔افتخار عارف صاحب تھے وہاں، انہوں نے کہا کہ آپ لوگ فکر نہ کریں، یہ کر لیں گی۔محسن علی صاحب نے بھی کہا کہ یہ کر لیں گی۔کنور آفتاب صاحب اس وقت وہاں کے جی ایم تھے۔تو ان سب لوگوں نے اتنا encourage کیا کہ کرن کہانی بن گئی، اور لکھی گئی اور آخر تک ڈائریکٹرز میں ہمارے ساتھ شیرین خان بھی شامل ہو گئیں۔اور وہ بھی بہت اچھی ڈائیریکٹر تھیں۔کرن کہانی کی کامیابی کے بعد پی ٹی وی والوں نے کہا کہ بس اب آپ خود ہی لکھیے، اپنے آئیڈیاز پر۔بس پھر میں نے زیر زبر پیش لکھا، انکل عُرفی لکھا ۔

    الف کتاب: آپ کے یہ تمام ڈرامے بے حد کامیاب رہے، بہت مشہور ہوئے۔ ایک اچھے سکرپٹ کے علاوہ اور کیا وجوہات تھیں ان کامیابیوں کی؟

    حسینہ معین:دیکھیں میری ہمیشہ سے پریکٹس تھی کہ میں دو ڈائریکٹرز کے ساتھ کام کرتی تھی۔دو اس لیے کہ ایک ڈائریکٹر میرے ساتھ ڈسکس کر رہا ہوتا تھا ، سن رہا ہوتا تھا کہ میں نے کیا لکھا ہے،اور اگر اس کو ٹھیک کیا جائے تو کیسے کیا جائے اور دوسرا ڈرامہ ریکارڈ کروا رہا ہوتا تھا۔لیکن آپ یہ دیکھیں کہ آپ میری جتنی بھی سیریلز دیکھیںگے آپ کو کہیں بھی ڈائریکشن کا فرق نظر نہیں آئے گا۔یہ میری خوش قسمتی تھی کہ مجھے بہت اچھے ڈائریکٹرز ملے۔ شروع ہی سے یہ میرے ساتھ یہ دو ڈائریکٹرز، شیرین خان اور محسن علی چلتے رہے۔ So much so  کہ جب میں نے ہیڈ کوارٹر میں آئیڈیا دیا کہ میں ہنری جیمز کے ناول ”The Portrait of a Lady” پہ لکھنا چاہتی ہوںتو وہاں سے جواب آیا کہ اگر یہ حسینہ کر رہی ہیں تو کرنے دیں لیکن اگر کوئی اور کر رہا ہے تو نہیں ہو گا!



  • منّزہ سہام مرزا – گفتگو

    منّزہ سہام مرزا – گفتگو

    گفتگو

    منّزہ سہام مرزا

    (منّزہ سہام مرزا کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں، یہ کہنا ہرگز غلط نہ ہوگا کہ منّزہ اپنے بچپن سے ہی اس شعبہ سے وابستہ ہیں۔ ان کے والد سہام مرزا صاحب دوشیزہ ڈائجسٹ اور سچی کہانیاں کے مدیرِ اعلیٰ اور بانی تھے۔ اب منّزہ سہام ماہ نامہ دوشیزہ ڈائجسٹ اور سچی کہانیاں کی ادارت کے فرائض سر انجام دے رہی ہیں۔)

    ٭ کچھ اپنے حوالے سے بتائیں، آپ کب سے اس فیلڈ میں ہیں؟

    منّزہ: میں یہ کہہ سکتی ہوں کہ میں اپنے والد کے ساتھ واقعی میں بچپن سے ہی اس فیلڈ میں ہوں۔ جب وہ آفس جاتے تو میں بھی ان کے ساتھ جایا کرتی تھی۔ میرا شروع سے ہی اس کام کے ساتھ ایک خاص لگاؤ رہاہے، وہ مجھ سے کہانیوں کو ڈسکس کیا کرتے تھے، اچھا بتاؤ یہ افسانے، یہ کہانیاں کیسی ہیں؟ ہمارے ادارے سے بچوں کا رسالہ بھی نکلتا تھا جس کا نام ہی ”بچوں کا رسالہ تھا،” میں اس میں ”کوّا کہانی” کے نام سے کہانی لکھتی تھی، اس کا مرکزی خیال ابّو نے ہی دیا تھا کہ ایک کوّا ایک گھر میں بیٹھا ہے اور وہ اس گھر یا اس جگہ پر جو کچھ دیکھ رہا ہے، وہ سب بیان کررہا ہے۔ تو بہت چھوٹی سی عمر سے ہی بچوں کی کہانیوں میں معاشرے مسائل کو ڈسکس کیا۔ مجھے بلیاں بہت پسند تھیں، پہلی کہانی میں نے پانچویں جماعت میں لکھی تھی جس کا نام بلّی کانفرنس تھا، اور اس کے بعد کوّا کہانی۔ جانوروں کی کہانیاں زیادہ لکھیں۔ ابّو کے انتقال کے بعد جب میں نے آفس سنبھالا تو بہت سی چیزوں کا مجھے نہیں پتا تھا، لیکن ابّو کے ساتھ آفس آتے جاتے بہت سی چیزیں غیر ارادی طور پر میں سیکھتی گئی اور مجھے زیادہ مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ میں نے ویسے انٹرنیشنل ریلیشنز میں ماسٹرز کیا ہوا ہے۔ گریجوایشن میں نے سینٹ جوزف کالج اور ماسٹرز کراچی یونی ورسٹی سے کیا تھا۔

    ٭ آپ جب ایڈیٹنگ کی فیلڈ میں باقاعدہ طور پر آئیں تو اس کے بعد سے آپ نے لکھناترک کردیا یا ابھی بھی جاری ہے؟

    منّزہ: ترک نہیں کیا، میں کالمز لکھتی رہی۔ میرا مزاج تھوڑا سا تبدیل ہوا۔میں پہلے کہانیاں اور افسانے لکھتی تھی، پھر مجھے کالم لکھنے میں مزہ آنے لگا۔ وہ ایک چیز جو میرے اندر شروع سے تھی سوشل ایشوز کو ڈسکس کرنا، وہ افسانے میں بھی کی جاسکتی ہے لیکن ذاتی طور پر مجھے کم الفاظ میں چیز کہنا یا لکھنا اچھا لگتا ہے تو ظاہر ہے وہ چیز آپ کالم میں کرسکتے ہیں، پھر میں کالمز لکھتی رہی۔ کالمز لکھ کر بھی تھک گئی کہ کچھ فائدہ نہیں ہوتا کتنا آپ لوگوں کوسمجھائیں (مسکراتی ہیں)، کالم لکھنا بھی چھوڑ دیا۔ اس کے بعد میں نے ایک چھوٹی سی ڈائری کے طور پر ‘شہید کی ڈائری’ لکھنا شروع کی جو دو صفحات پر مشتمل ہوتی تھی، وہ 1965ء کی جنگ کا ایک گمنام شہید ہے، وہ جنّت سے بیٹھ کر ہمارے ملک کو کیسے دیکھ رہا ہے، اس کو کیا نظر آرہا ہے۔ وہ سلسلہ چلتا رہا، لیکن اب واقعی میں لکھنے کی فرصت نہیں ہے، جب آپ ایک ادارہ چلارہے ہوتے ہیں تو مشکل ہوجاتا ہے۔ اب دل میرا چاہتا ہے لیکن وقت نہیں مل پاتا۔

  • شکیل عادل زادہ – گفتگو

    گفتگو

    شکیل عادل زادہ

    شکیل عادل زادہ صحافت اورڈائجسٹ کی دنیا کا بے حد معتبر نام ہیں۔ مقبول زمانہ ڈائجسٹ ”سب رنگ” ان کی پہچان بنا۔ 1938ء میں مراد آباد میں پیدا ہونے والے شکیل عادل زادہ کا تعلق ایک غریب گھرانے سے ہے۔ چھے سال کے تھے جب والد دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔ نامساعد مالی حالات کے باعث خود تگ و دو کرتے ہوئے تعلیمی منازل طے کیں۔ تقسیم ہند کے بعد پاکستان آئے اور بطورِ صحافی اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔ اپنی محنت اور لگن سے ترقی کی سیڑھیاں چڑھتے اس درجے تک پہنچے کہ اپنی ذات میں ایک ادارہ بنے۔ انہوںنے سب رنگ کے پلیٹ فارم سے اُردو زبان کی ترویج و اشاعت کے لیے بہترین کارہائے نمایاں انجام دیئے۔

    الف کتاب کے کونٹینٹ مینیجر حسن عمر سے ہوئی شکیل عادل زادہ کی گفتگو کا احوال پڑھیے۔

    حسن عمر: ویسے تو ہم سب جانتے ہیں کہ آپ کی عمر گزری ہے اس دشت کی سیاحی میں مگر پھر بھی ہمارے قارئین کے لیے مختصراً تعارف کہ آپ کب سے اس فیلڈ میں ہیں، شروعات کیسے ہوئیں؟

    شکیل: میں عملی زندگی میں اخبار کے راستے داخل ہوا تھا۔یہ سفر  رئیس امروہوی صاحب کے روزنامہ ”شیراز” سے شروع ہوا۔ یہ اُس زمانے میں شائع ہونے والا  ایک ناکام پرچہ تھا۔ لیکن جب میں اس سے وابستہ ہوا  تو تب وہ ڈمی (dummy) پر چھپتا تھا۔جب پرچے میں جان نہ رہتی تو پھر ڈیکلریشن زندہ رکھنے کے لیے وہ ڈمی پر چھپا کرتے تھے۔ تو میں نے اسے مزید ڈمی کردیا۔ یہ بات ہے سن ستاون(1957) کی۔چوں کہ کچھ اشتہارات تھے، تقریباً آٹھ نو سو روپے کے، اس زمانے میں آٹھ نو سو روپے بھی بہت ہوتے تھے ، تو ہم یہ کرتے کہ اشتہارات چھاپنے کے لیے چار صفحے کا سنڈے ایڈیشن چھاپتے جب کہ  باقی سولہ صفحے چھاپنے کے لیے ہمیں ڈمی کی مدد لینا پڑتی تھی۔ قانون یہ ہے کہ سولہ پرچوں کی ماہانہ ڈمی اگر داخل کی جائے توڈیکلریشن زندہ رہتا ہے۔ تو چار تو ہم سنڈے ایڈیشن چھاپ دیتے تھے مہینے میں، باقی سپلیمنٹ کے طور پر ایک صفحہ پر مشتمل اخبار روزانہ چھاپ دیتے تھے،جو تقریباً سو کے قریب چھپتا تھا۔ اس میں ہمیں کافی بچت ہونے لگی جس میں سے رئیس صاحب کا ذاتی خرچہ نکل آتا تھا۔ رئیس صاحب سے میرا تعلق یوں ہوا کہ میرے والد اور رئیس صاحب ہندوستان کے شہر مرادآباد سے ایک رسالہ نکالتے تھے جس کا نام تھا ”مسافر”۔ رئیس صاحب تقسیم کے فوراً بعد پاکستان آگئے اور میں کوئی دس سال بعد یہاں آیا۔ یہاں آیا تو کچھ عرصہ اپنے عزیزوں کے ہاں گزارا لیکن بعد میں رئیس صاحب کے گھر ہی رہا۔تو گویا میری لکھنے کی تربیت اسی خاندان میں ہوئی۔ رئیس امروہوی ،سیّد محمد تقی اور ان کے چھوٹے بھائی جون ایلیا کی ہمراہی میں سارا وقت گزرا اور یہی میرا عملی زندگی کا آغاز تھا۔ ہم پڑھتے بھی رہے، اردو کالج میں داخلہ لیا، وہاں سے بی کام کیا، پھر external student کی حیثیت سے کراچی یونیورسٹی سے سوشیالوجی میں اور بعد میں پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرزکیا۔ یہ میری مختصراً روداد ہے (مسکراتے ہیں)

    حسن عمر: سب رنگ کا آئیڈیا کسی نے دیا تھا یا یہ خالصتاً آپ کا اپنا آئیڈیا تھا؟

    شکیل: جی ہاں بالکل! یہ میرا اپنا آئیڈ یا تھا۔ہوا کچھ یوں کہ ”شیراز” تقریباً ایک سال تک چلا۔ جون ایلیا بھی اسی زمانے میں ہندوستان سے آئے تھے اور بہت بیمار تھے۔ انہیں TB تھی ایک طویل علاج کے بعد وہ ٹھیک تو ہو گئے مگر ان کی دوبارہ صحت مند زندگی کی طرف بحالی کے لیے ایک رسالہ نکالا گیا جس کا نام تھا ”انشائ” ۔ یہ ایک علمی اور ادبی پرچہ تھا۔ ادبی کم اور علمی زیادہ تھا کیوں کہ یہ گھرانہ  اپنی  علمی حیثیت سے زیادہ پہچانا جاتا تھا۔ ایک سال کے بعد میں بھی انشاء سے وابستہ ہوگیا۔ انشاء میں مارکیٹنگ یعنی اشتہارات کا حصول اور طباعت کی ذمے داری میری تھی۔ سرکولیشن کا کام ان کے تیسرے بھائی سید محمد عباس کرتے تھے اور پرچے کی ایڈیٹنگ جون ایلیا کرتے۔  رفتہ رفتہ میں بھی ایڈیٹنگ میں دل چسپی لینے لگا۔ انشاء ایک ادبی پرچے کی طرح چلتا رہا اور ہماری سر توڑ کوشش کے باوجود اس کی اشاعت ساڑھے بارہ سو سے آگے نہ بڑھ پائی۔ اس کے کئی تیور اور  روپ بدلے۔۔خواتین کے ٹائٹل بھی لگائے( مسکراتے ہیں) لیکن اس کی سرکولیشن ساڑھے بارہ سو سے زیادہ نہ ہوسکی۔ اس زمانے میں اردو ڈائجسٹ کی بڑی شہرت تھی اور اس کی اشاعتی تعداد نوے ہزار تک جا پہنچی تھی۔ ہم تین لوگوں کا روز گار انشاء سے ہی وابستہ تھا، جون ایلیا، ان کے بڑے بھائی سید محمد عباس اور میں۔۔۔تاثر یہ تھا کہ یہ ہم تینوں کا پرچہ ہے۔ پھر ہم نے الطاف حسن قریشی کے اُردو ڈائجسٹ کی مقبولیت سے متاثر ہوکر انشاء کو ”عالمی ڈائجسٹ” کردیا۔۔ عالمی ڈائجسٹ میں دو ایک سال تک جون صاحب زیادہ مستعدرہے، لیکن ڈائجسٹوں کے بارے یہ تاثر غالب تھا کہ یہ دوسرے درجے کی چیزیں ہیں، جو ابھی تک قائم ہے۔ اس تاثر کے پیشِ نظر وہ اس سے بتدریج علیحدہ ہوتے گئے، اور میں اس میں اسی طرح شامل ہوتا گیا۔ باقاعدہ ادارت میں میرا نام آنے لگا، کہانیوں کے انتخاب وغیرہ میں عباس صاحب میرا ساتھ دیتے۔۔۔اس سے فرق یہ پڑا کہ ڈائجسٹکی اشاعت ساڑھے بارہ سو سے ساڑھے چار ہزار تک پہنچی لیکن پھر وہیں ٹھہر گئی۔ بے حد کوششوں کے باوجود اس میں اضافہ نہ کر پائے۔ پھر مزید چارے کے طور پر  ہم نے کالی مائی ٹائپ کی پراسرار کہانیاں قسط وار شائع کرنا شروع کیں اور اسے فکشن کی طرف لے آئییہ طریقہ کار آمد ثابت ہوا اور اشاعت بیس ہزار تک جا پہنچی۔ لیکن جب اس کی اشاعت بیس ہزار تک ہوئی، تو مجھے یہ تاثر ملنے لگا کہ یہاں میری حیثیت  ملازم کی سی ہے، جب کہ حقیقت  میں ،میں پارٹنر تھا۔ ایک مشہور ناقد ہیں سید محمد علی صدیقی جو ڈان میں Aerial کے نام سے کالم لکھتے ہیں اور اُردو تنقید میں ان کا بڑا نام ہے۔ انہوں نے میری طرف سے رئیس امروہوی اور سید محمد تقی سے بات کی کہ شکیل کا رسالے  میں کیا حصہ ہے؟ انہوں نے جواب دیا  کہ شکیل تو مالک ہیں، جیسے جون ویسے شکیل۔ (مسکراتے ہیں) صدیقی صاحب نے مجھے بتایا تو میں نے کہا کہ اس قسم کی باتیں تو وہ کرتے رہتے  ہیں ان کی کوئی قانونی حیثیت بھی تو ہو۔ انہوں نے رئیس صاحب سے دوبارہ بات کی تو انہوں نے کہا کہ دستاویزی ثبوت کیسا، یہ پرچہ تو رئیس صاحب سمیت سب کا ہے، تقی صاحب اور، ان کی اولادوں کا بھی ہے۔ میں نے ان کے رویئے سے بد دل ہوتے ہوئے ‘سب رنگ’ کے نام سے اپنا ایک ڈیکلریشن چپکے سے فائل کردیا تھا ۔ یہ ایوب خان کا زمانہ تھا اور اس زمانے میں ڈیکلریشن کا ملنا جوئے شیر لانے سے کم نہ تھا،وہ امپورٹ لائسنس کی طرح ملتا تھا۔ مجھے ڈیکلریشن داخل کیے ہوئے زمانہ ہوگیا۔ بہت کوششوں کے بعد بالآخر نومبر 1979 میں مجھے اس کا ڈیکلریشن مل ہی گیا۔ پیسے ویسے تو میرے پاس اس وقت تھے نہیں، جمع پونجی بھی پانچ ہزار سے زیادہ نہیں تھی۔ تو میں نے رئیس امروہوی کو  خط لکھا کہ اگر میرا کچھ بقایا بنتا ہے تو مجھے دے دیا جائے، میں یہ رسالہ چھوڑ رہا ہوں۔ انہوں نے مجھے ایک پیسہ نہ دیا، البتہ یہ چاہا کہ میں دوبارہ آجاؤں۔۔میں نے انہیں یہ نہیں بتایا کہ میں اپنا ایک پرچہ نکال رہا ہوں۔ آخر کار اپنے ان پانچ ہزار سے سب رنگ کی ابتدا کی، کچھ دوستوں نے مدد کی۔عالمی ڈائجسٹ کے زمانے میں جو تعلقات پریس اور بائنڈر سے بن چکے تھے ،انہوںنے بڑی معاونت کی۔پریس والوں نے کہا کہ ہم چھاپیں گے اور جب پرچہ چل نکلے  تو ہمیں پیسے دے دیجیے گا۔ پھرلکھاریوں اور ادیبوں نے بھی بڑا ساتھ دیا۔ پہلا پرچہ ہم نے جنوری 70 میں پانچ ہزار کی تعداد میں چھاپا۔ اس زمانے میں ریڈرز ڈائجسٹ بھی اُردو ڈائجسٹ کی طرح اپنا ایک نام اور مقام رکھتا تھا۔ میں نے سب رنگ کو ریڈرز ڈائجسٹ کی طرز پہ تیار کیا تاکہ لوگوں کو عام ڈائجسٹ سے ہٹ کر کچھ پڑھنے کو ملے۔ پہلا شمارہ ساڑھے تین ہزار بکا، ڈیڑھ ہزار واپس آگیا۔ ہم نے دوسرا پرچہ بھی پانچ ہزار ہی چھاپا، اس میں سے بھی ساڑھے تین ہزار ہی بک سکا۔ یہ صورت حال  خاصی  تشویش ناک تھی۔ چناں چہ ہم نے اپنا رخ فکشن کی طرف موڑا۔ جس طرح ہم فکشن پر مبنی پرچہ عالمی ڈائجسٹ نکالتے تھے، اس ہی طرح ہم سب رنگ میں بھی فکشن پر زیادہ توجہ دینے لگے۔ تیسرا شمارہ بھی پانچ ہزارچھپا لیکن وہ پورا بک گیا۔ چوتھا پرچہ غالباً چھے ہزار چھپا تھا اور جو سب کا سب بک گیا تھا، یہاں تک کہ ہمارے پاس ایک بھی کاپی نہ بچی۔ اسے قارئین کی طرف سے پذیرائی ملنے لگی اور بتدریج بڑھنے لگی اس کی اشاعت بتدریج بڑھنے لگی، پہلے سال اس کی بیس ہزار، دوسرے سال بیالیس ہزار، تیسرے سال باسٹھ ہزار ، چوتھے سال اسّی ہزار، پانچویں سال ایک لاکھ اور پھر یہ ڈیڑھ لاکھ سے اوپر تک بھی چھپا۔ یہ کیوں کر ہوا؟ اس لیے کہ ہم نے بہت صدقِ نیت سے کام کیا، بہت خلوص سے، بہت محنت اور جانفشانی سے اور لوگوں کو وہ معیاری تحریریں پڑھنے کو دیں جو وہ ڈھونڈ رہے تھے۔ میرے بعد عالمی ڈائجسٹ ، جون صاحب کی بیگم زاہدہ حنا نے سنبھالا، انہوں نے بھی اسے بہت بہتر بنایا اور اس کی اشاعت بیس ہزار تک جا پہنچی مگرہم بہت آگے بڑھ چکے تھے۔تو یوں یہ سفر شروع ہوا۔

  • چشمہ – انعم سجیل – افسانچہ

    چشمہ – انعم سجیل – افسانچہ

    چشمہ

    انعم سجیل



    ”امیّ! مجھے فہد سے شادی نہیں کرنی، آپ پلیز تائی جان کو منع کر دیں ۔“

    ”لیکن آخر کیا بُرائی ہے اُس میں؟ پڑھا لکھا ہے، اچھی نوکری ہے اور سب سے بڑھ کر اپنی نظروں کے سامنے پلا بڑھا ہے۔ کوئی وجہ بھی تو ہو انکار کی؟“ زلیخا بیگم نے کڑے لہجے میں اپنی بیٹی صالحہ سے استفسار کیا۔

    ”امّی! آپ کو تو پتا ہے فہد نظر کا چشمہ لگا تاہے اور مجھے کسی ایسے شخص سے شادی نہیں کرنی جس کو میں عینک کے بغیر نظر ہی نا آﺅں۔ آپ بس دوسرے رشتے کو فائنل کر دیں۔“ صالحہ نے جیسے ضد ہی پکڑ لی اور زلیخا بیگم کو اپنی لاڈلی بیٹی کی ضد کے آگے ہار ماننا ہی پڑی۔ یوں صالحہ فیض کی دلہن بن کر اس کے بڑے سے گھر میں آ گئی۔

    فیض ایک کام ےاب اور معروف بزنس مین تھا جس کے لیے سب سے ضروری اس کا کاروبار تھا۔ خوب صورت بیوی کی حیثیت اس کے لیے ایک شو پیس سے زیادہ نہ تھی جس کو گھر میںلا کر سجا وٹ کے لیے رکھ دیا گیا ہو۔یوں تو صالحہ کو آسائشوں کی کمی نہ تھی، کمی تھی تو صرف احساس کی۔ بات صرف ایک نظر کی تھی۔وہ ہر روز تیار ہو کر فیض کا انتظار کرتی اور چاہتی تھی کہ وہ اس کو نظر بھر کر دیکھے ، اس کے حسن کی تعریف کرے، اس کو اپنا وقت دے لیکن فیض کے خیال میں یہ سب فارغ لوگوں کے چونچلے تھے۔اور پھر ہر گزرتے دن نے صالحہ کو باور کرایا کہ بصارت کم زور ہونے پر تو چشمہ لگا کر سب کچھ ٹھیک سے دیکھا جا سکتا ہے لیکن اگر آنکھوں پر بے حسی کا ان دیکھاچشمہ لگا ہو تو بھرپور بصارت کے باوجود بھی کچھ دکھائی نہیں دیتا۔

    ٭….٭….٭



  • ترجیح – صبا سید– افسانچہ

    ترجیح – صبا سید– افسانچہ

    ترجیح

    صبا سید



    ”باجی! تھوڑی مدد کر دےں۔ بچے کو بکھار (بخار) ہے دوائی کے پیسے نہیں۔“

    ”جاﺅ بھئی معاف۔۔۔۔۔“ میرے جملے کے اختتام سے پہلے ہی سمیعہ نے جھٹ پچاس کا نوٹ اسے پکڑا دیا۔

    ”خواہ مخواہ پیسے دیے، ڈرامے ہیں ان کے صرف۔ میں یہاں ہر ہفتے آتی ہوں، اس کے بچے کو ہمیشہ بخار ہوتا ہے؟“ میں نے اسے بتایا۔

    ”اور تم تو سوشل ورک کرتی ہو، تم تو ان لوگوں کو بہتر جانتی ہوگی۔تم کیسے بے وقوف بن سکتی ہو ایسے لوگوں کے ہاتھوں؟“ مجھے حقیقتاً اس کی بے وقوفی پر حیرانی ہوئی تھی۔

    ”ہاں جانتی ہوں، مجھے معلوم ہے یہ سب ڈرامہ ہے۔۔۔“اس نے آہستہ سے کہا۔

    ”مگر میں بے حس ہونے سے زیادہ بے وقوف ہونے کو ترجیح دیتی ہوں۔“



  • تنہا چاند – حریم الیاس – افسانچہ

    تنہا چاند – حریم الیاس – افسانچہ

    تنہا چاند

    حریم الیاس



    >

    وہ "بہو مٹیریل” تھی ہی نہیں شاید….. نہ ہی کوئی ایسی حسین کہ کسی ماں کو اپنے جگرگوشے کے لیے پہلی نظرمیں پسند آتی اوربہنوں کی ہر دل عزیز بھابھی بن جاتی۔

    وہ واجبی سی شکل کی درمیانے قد کی والی فربہی مائل سفید پوش خاندان کی لڑکی تھی۔ رنگت بھی گندمی تھی لیکن اس جیسی سلیقہ شعار، ہونہار، سمجھ دار، ملنسار اور خوش اخلاق لڑکی خاندان بھر میں کوئی نہ تھی۔ اس نے ایم ایس سی کر رکھا تھا اور نگاہیں پی ایچ ڈی پر تھیں، لیکن گھر والے شادی پر بہ ضد تھے۔

    شادی ہو تو کیسے؟ اس کی ساری خوبیاں اس کی واجبی سی شکل اور صحت مند جسم کے پیچھے کہیں چھپ جاتی تھیں اور جو چیزیں ڈرائنگ روم میں بیٹھے مہمانوں کو درکار ہوتیں، وہ چائے کی ٹرے لاتی لڑکی میں مفقود ہوتیں….

    لمبا قد، سمارٹ جسم اور سفید رنگت مہمانوں کو درکار کوئی ایک چیز بھی نہ ہوتی وہاں….

    اس کی جو خوبیاں اس کے ساتھ رہ کر جانچی جا سکتی تھیں وہ ڈرائنگ روم میں چائے ناشتے کے ساتھ چند منٹوں کی ملاقات میں جانچنا مشکل تھا۔ اس لیے ہربار نتیجہ انکار ہی ہوتا…..

    "اوہو یار! تم دل پہ کیوں لیتی ہو؟” اس کا چچا زاد اکثر سمجھاتا جواس کا بہترین دوست بھی تھا۔

    "بس اب دکھ ہوتا ہے۔” وہ مایوسی سے کہتی۔

    "یقین مانو سارہ! میں نے جتنی بھی لڑکیاں آج تک دیکھی ہیں، تم ان میں سب سے بہترین ہو۔” وہ ہمیشہ اسے تسلی دیتا۔

    "اس اچھے ہونے کا فائدہ؟”

    "واقعی یار! میرے نزدیک تم پرفیکٹ لڑکی ہو، تمہارا شوہر بہت خوش نصیب ہوگا۔” وہ ہمیشہ اس کا حوصلہ بڑھاتا۔

    "تم بننا پسند کروگے وہ خوش نصیب؟؟” ایک دن انہی باتوں کے دوران اس نے اچانک سوال کردیا۔

    "میں…. میں کہاں اس قابل، تم مجھ سے کہیں زیادہ اچھا بندہ ڈیزرو کرتی ہو۔” اس اچانک سوال پر وہ گھبرا کر بولا۔

    ٭….٭….٭



  • سونے کی ڈَلی ۔ الف نگر

    سونے کی ڈَلی ۔ الف نگر

    سونے کی ڈَلی

    سیما صدیقی

    چور اُسے گھسیٹتے ہوئے جھاڑیوں میں لے گئے تھے۔

    بخشو ایک محنتی کسان تھا۔ اس کا ایک چھوٹا سا کھیت تھا، جس میں وہ کبھی سبزی اُگاتا تو کبھی اَناج۔ فصل تیار ہوجاتی تو شہر جا کر فروخت کر آتا۔ جو پیسے ملتے اِس سے مہینے کا راشن اور نئی فصل کے لیے بیج اور کھاد خرید لیتا۔ کبھی کبھی اس کی فصل بہت اچھی ہوتی تو اِسے زیادہ پیسے مِل جاتے۔ ان پیسوں سے وہ اپنے اور اپنی بیوی کے کپڑے یا جوتے خرید لیتا۔

    اس کا مکان کچا تھا، جس کی چھت میں بہت سارے سُوراخ ہوگئے تھے۔ نئی چھت بنوانے کے لیے ڈھیر سارے پیسوں کی ضرورت تھی۔ بخشو کی بیوی ”گلابو” بڑی عقل مند تھی۔ اس نے بخشو سے کہا: ”کیوں نہ ہم ایک بڑی سی گُلّک خرید لیں اور ہر ماہ اس میں تھوڑے تھوڑے پیسے ڈالتے رہیں، جب گلّک بھر جائے تو اِن پیسوں سے نئی چھت بنوا لیں۔”

    بیوی کے مشورے سے بخشو گُلّک خرید لایا اور دونوں نے اس میں پیسے جمع کرنے شروع کردیے، کافی دِن گزر گئے مگر ابھی تک گُلّک آدھی ہی تھی۔

    ایک دِن کسان بیج بونے کے لیے زمین کھود رہا تھا کہ اچانک اسے ایک چمک دار چیز نظر آئی۔ بخشو نے اِس پر سے مٹی صاف کی اور دیکھا تو وہ ”سونے کی ایک ڈَلی” تھی۔ خوشی کے مارے بخشو کا برُا حال ہوگیا۔ وہ بھاگا بھاگا گھر آیا اور بیوی کو سونے کی چَم چَم کرتی ڈلی دکھائی۔ گلابو بھی بہت خوش ہوئی۔ ”تمہیں اس سے سونے کی بالیاں بنوا کر دوں گا۔” بخشو نے کہا۔

    ”نہیں! اس سے ہم مکان کی چھت بنوائیں گے۔” گلابو نے کہا۔

    ”چھت بنوانے کے بعد بہت سارے پیسے بچ جائیں گے۔” بخشو نے وضاحت کی۔ اس رات خوشی کے مارے دونوں کو نیند نہ آئی۔

    شہر جانے کے لیے مہینے میں صرف ایک بس گاؤں سے چلتی تھی۔ اب بخشو کو انتظار تھا کہ کب بس روانہ ہو اور کب وہ شہر پہنچے۔ وہ سوچ رہا تھا کہ کاش اس کے پرَ لگ جاتے اور وہ اُڑ کر شہر پہنچ جاتا۔ اس دوران کسان نے نہ کھیتوں میں ہَل چلایا نہ بیج بویا۔ اس نے سوچا کہ اب تو میں اَمیر آدمی بن گیا ہوں۔ اتنی مصیبت اُٹھانے کی کیا ضرورت؟

    آخر کار بس روانہ ہونے کا دن آپہنچا۔ بخشو سفر کے لیے تیار ہوا۔ سونے کی ڈلی اس نے اپنی پگڑی میں چُھپائی اور بس میں سوار ہوگیا۔ جب وہ شہر پہنچا تو بارش شروع ہوگئی۔ بارش سے بچنے کے لیے وہ ایک درخت کے نیچے بیٹھ گیا۔ بارش کی وجہ سے سردی بڑھ گئی تھی۔ بخشو کی پگڑی بھی پانی سے بھیگ گئی۔ اس نے پگڑی اُتار کر نچوڑی پھر سونے کی ڈلی کو دیکھنے لگا۔ ڈلی خوب چمک دمک رہی تھی۔ اتفاق سے وہیں جھاڑیوں میں دو چور چُھپے تھے۔ اُنہوں نے بخشو کے ہاتھ سونے کی ڈلی دیکھی تو فوراً اس کی طرف لپکے۔ چوروں نے پیچھے سے جَھپٹ کر اسے پکڑ لیا اور گھسیٹتے ہوئے جھاڑیوں کے اندر لے گئے۔ کانٹوں سے اُلجھ کر بخشو کے کپڑے پھٹ گئے، اُس کے جسم سے خون بھی نکلنے لگا۔ چوروں نے بخشو کے ہاتھ پاؤں باندھے اور سونے کی ڈلی لے کر بھاگ گئے۔ بخشو بے چارا چیختا ہی رہ گیا۔

    اتفاق سے وہاں ایک نیک دِل آدمی کا گزر ہوا تو اس نے بخشو کورسی سے آزاد کیا۔ ہسپتال لے جا کر مرہم پٹی کرائی اور اپنی گاڑی میں بٹھا کر گاؤں پہنچا دیا۔ بخشو کی بیوی نے اس کی یہ حالت دیکھی تو رونے لگی، پھر اس نے خود کو سنبھالا اور صبر سے اس کی دیکھ بھال کرنے لگی۔

    بخشو کے زخم ٹھیک ہونے میں ایک ماہ لگ گئے۔ جب وہ ٹھیک ہوا تو گلابو نے بتایا کہ گھر میں کھانے پینے کا تمام سامان ختم ہوگیا ہے۔ 

    ”آہ! مجھ سے کتنی بڑی بھول ہوئی، میں نے اِس بار کوئی فصل نہیں اُگائی، اب کیا ہوگا؟ ہم کیا کھائیں گے؟” بخشو بے چارا افسردہ ہوگیا۔

    اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ دونوں میاں بیوی سَر پکڑ کر بیٹھے تھے کہ اچانک گلابو خوشی سے چلاّئی۔

    ”ارے! ہم اپنی گُلّک کو تو بھول ہی گئے۔ جس میں ہم نے تھوڑے تھوڑے کرکے بہت سے پیسے جمع کیے تھے۔” یہ کہہ کر وہ بھاگی اور گُلّک اُٹھا لائی اور اِسے توڑ دیا۔ بہت سارے تُڑے مُڑے نوٹ اور چمک دار سکّے فرش پر بکھر گئے۔

    گلابو نے کہا: ”ہم ان پیسوں سے مہینے کا خرچ چلا لیتے ہیں اور پھر جب تم فصل اُگاؤ گے تو ایک نئی گُلّک خرید کر چَھت کے لیے دوبارہ رقم جمع کریں گے۔” یہ سُن کر بخشو کی جان میں جان آئی۔ اس نے اللہ کا شکر اَدا کیا کہ گُلّک جیسی کام کی چیز ان کے پاس موجود تھی۔ جس میں جمع کی ہوئی رقم برُے وقت میں ان کے کام آرہی تھی۔ بخشو نے اپنی بیوی کو دیکھا اور ہنس کو بولا: ”بھئی واہ! یہ مَٹی کی گُلّک تو سونے کی ڈَلی سے زیادہ کام کی ہے۔”

    ”ہاں بالکل! آئندہ بھی ہم لالچ کے بجائے محنت ہی سے کمائیں گے۔” گلابو یہ کہہ کر پیسے گننے لگی۔

    ٭…٭…٭

  • سوچ کا رخ ۔ الف نگر

    سوچ کا رخ ۔ الف نگر

    سوچ کا رخ

    بینا رانی

    وہ گھٹنوں میں سر دیے مسلسل رو رہی تھی۔ آخر ایسا کیا ہوا تھا؟

    ”ارے میرا پرس… رکو! کون ہو تم؟ اس میں میرے ضروری کاغذات ہیں، ارے کوئی ہے؟” بوکھلائی، ہوئی عاتکہ اس اچکّے کے پیچھے بھاگ رہی تھی۔ اس کے لیے یہ پرس بہت قیمتی تھا۔ اس کی بی ایس سی کی سند اور باقی ضروری کاغذات سب اسی میں تھے۔ آگے داخلے کے سلسلے میں ہی وہ آج اپنی سہیلیوں کے ساتھ یونیورسٹی گئی تھی، مگر آج کام نہیں ہوسکا تھا ، سو وہ سب مل کر واپس آرہی تھیں۔ ابھی آدھے راستے میں ہی تھیں کہ ایک موٹر سائیکل سوار نقاب پوش نے اُس کے کاندھے سے پرس کھینچا اور موٹر سائیکل کی رفتار بڑھا دی۔

    عاتکہ اور اس کی سہیلیاں اس اچانک افتاد سے گھبرا گئیں۔ اس پرس میں عاتکہ کے پیسے بھی تھے جو اس نے بڑی محنت سے کتنی خواہشات کا گلا گھونٹ کر آگے پڑھنے کے لیے جمع کیے تھے، مگر اس وقت اس کے نزدیک اپنی سندوں سے زیادہ اہم کوئی چیز نہ تھی۔ وہ پاگلوں کی طرح اس موٹر سائیکل سوار کے پیچھے بھاگ رہی تھی۔

    ”بھائی! تمہیں اللہ کا واسطہ… بھلے سب کچھ لے لو مگر میرے ضروری کاغذات دے جاؤ۔” وہ بھاگتے بھاگتے چلّا رہی تھی۔ اسے دیکھ کر کچھ اور لوگوں نے بھی اس موٹر سائیکل کا پیچھا کرنا چاہا، مگر وہ تو لمحوں میں نظروں سے اوجھل ہوگیا تھا۔ کوئی کچھ نہ کرسکا اور عاتکہ سڑک پر ہی گھٹنوں میں سردے کر بیٹھ گئی، آنسو تھے کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ اس کی سہیلیوں نے اسے حوصلہ دے کر گھر بھجوا دیا۔

    ایک محفوظ مقام پر پہنچ کر موٹر سائیکل سوار نقاب پوش نے پرس میں سے پیسے نکال کر گننا شروع کردیے۔ اب وہ بڑے کمرے میں داخل ہوا جہاں زکو ان ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا۔

    ”باس! یہ لے، آج تو بڑا ہاتھ مارا ہے۔”

    ”ارے واہ! تُو واقعی چیتا ہے اپنا! یہ لے کچھ پیسے تو بھی رکھ لے۔” زکوان نے کچھ پیسے نکال کر راشی کو دیے۔

    ”باس! ان ڈگریوں کا کیا کروں؟” راشی نے پوچھا

    ”ڈگریاں؟ ہاہاہا… پھینک دے کہیں… ہمارے کس کام کی ہیں۔” زکوان نے بے پروائی سے کہا تو راشی نے واقعی ڈگریاں قریبی نہر میں پھینک دیں پھر وہ دونوں اپنے اپنے گھر کو چل دیے۔

    زکوان کا تعلق متوسط طبقے سے تھا، گھر میں کافی حد تک دینی ماحول تھا مگر برُے دوستوں کی صحبت سے اسے غلط کاموں کی لت پڑ چکی تھی۔ ماں باپ سمجھا سمجھا کر تھک گئے مگر اس کے کان پر جوں تک نہ رینگتی۔ البتہ اپنی لاڈلی بہن اسے جان سے زیادہ عزیز تھی۔ بس کوئی بات مانتا تو اسی کی مانتا اور کوئی اس سے کچھ نہیں منوا سکتا تھا۔

    سارا دن دوستوں کے ساتھ موج مستی کے بعد وہ شام کو گھر میں داخل ہوا تو گھر میں اک کہرام مچا ہوا تھا۔ اس کی بہن کا رو رو کر برُا حال ہوچکا تھا۔ یہ دیکھ کر وہ حیران رہ گیا۔

    ”ارے! کیا ہوا میری بہن کو؟” بہن کی لال سرخ آنکھیں دیکھ کر زکوان کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔ وہ ایک دم پریشان ہوگیا تھا۔

    ”بھیا… بھیا… وہ… وہ…” یہ کہتے ہوئے اس کی بہن اپنے بھائی کے کندھے پرسر رکھ کر رونے لگی۔

    ”ہاں ہاں بتا کیا ہوا؟ کیا چاہیے میری بہنا کو؟” زکوان کی پریشانی بڑھنے لگی۔ ”بھیا! آج یونیورسٹی سے واپسی پر کوئی اچکا میرا پرس چھین کر لے گیا، میرے سارے پیسے اسی میں تھے، میری سندیں اور باقی ضروری کاغذات بھی…” عاتکہ ہچکیاں لے کر بتارہی تھی۔ زکوان کے پیروں تلے سے جیسے زمین نکل گئی ہو۔ اس کا جسم لرزنے لگا۔ اس کے دل میں جیسے تیر لگا تھا۔

    ”بھیا! ایسے لوگوں کو شرم کیوں نہیں آتی؟ وہ کیوں نہیں سوچتے کہ اگر ان کے اپنوں کے ساتھ یا خود ان کے ساتھ کوئی ایسا کرے تو انہیں کیسا لگے گا؟” زکوان ایک دم صوفے پر گرگیا۔ اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھام لیا۔ اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ عاتکہ کو آگے پڑھنے کا کتنا شوق ہے، اور یہ بھی جانتا تھا کہ اس نے یہ پیسے کتنی مشکل سے جمع کیے تھے، جو آج وہ جوئے میں ہار آیا تھا، اور… اور بہن کی قیمتی سندیں… ”اف… یہ میں نے کیا کردیا؟” اس کا سر پھٹنے لگا۔ بہن کی سسکیاں اس کو سانپ کی طرح ڈس رہی تھیں۔ اس سے پہلے اس نے کبھی ایسا نہیں سوچا تھا۔ ضمیر جاگا تو سوچ کا رخ تبدیل ہونے لگا۔ اس کے دماغ میں اپنے سارے گناہوں کی فلم چلنے لگی۔ کتنے لوگوں کو میرے ہاتھ سے تکلیفیں پہنچی ہوں گی؟ وہ سوچنے لگا تھا۔ بس ایک لمحہ ہوتا ہے آگہی کا۔ آج کی رات اس نے رب کے حضور گڑگڑا کے معافی مانگی ،آئندہ کے لیے توبہ کی اور اپنی غلطیوں کے ازالے کا عزم بھی۔

    ٭…٭…٭