Author: misbah116@hotmail.com

  • سرعیاں — افسانہ نگار: چیتین القان (مترجم: مسعود اختر شیخ)

    سرعیاں — افسانہ نگار: چیتین القان (مترجم: مسعود اختر شیخ)

    ایک تھا فلسفی۔ پڑھتاکم، لکھتا زیادہ تھا بلکہ لکھنے پڑھنے سے بھی بڑھ کر وہ سوچنے کا زیادہ شوقین تھا۔ ایک دفعہ اس شخص کے جی میں آئی کہ کائنات کے راز سے پردہ اٹھایا جائے۔ اس فکر میں اس نے اپنے دن رات ایک کر دیے۔ لمبے پریشان بال، بکھری ڈاڑھی، آنکھوں میں ایسی گہرائی جو صرف ان لوگوں کی آنکھوں میں پیدا ہوتی ہے جو دوسروں کو دکھائی نہ دینے والی دنیا دیکھنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔
    وہ دوسرے انسانوں کے درمیان کچھ ایسے روحانی دبدبے سے چلتا جیسے ہرکولیس چلا کرتا تھا۔ اسے دیکھ کر لوگ حیرت سے کہتے:
    ”اس شخص کے پاس ضرور کوئی جادو ہے۔ اسے ہمارے بارے میں ہم سے بھی بڑھ کر علم ہے۔”
    فلسفی لوگوں سے پوچھتا:
    ”تم لوگ اس قدر بے چین کیوں رہتے ہو؟”
    ہزاروں لوگ یک زبان ہو کر جواب دیتے:
    ”ہمارا پیٹ خالی ہے، ہماری روح اندھیروں میں بھٹک رہی ہے، ہمیں محبت کی تلاش ہے۔”
    فلسفی بولتا چلا جاتا۔ یہاں تک کہ اس کی آنکھوں میں شعلے بھڑکنے لگتے:
    ”لوگو! اپنی نظریں اپنے دلوں کی طرف پھیر کر تاریک دل روشن کرو۔ اپنے خیالات سے اپنی روحیں گرمائو۔ وہ قوت جو تمہاری انگلیوں میں حرکت پیدا کرتی ہے، اسی میں محبت تلاش کرو۔”
    لوگ فلسفی کی باتوں پر عمل کرنا چاہتے، مگر انہیں کسی طرح خوشی نہ ملتی۔ وہ یہی گلہ کرتے کہ:
    ”ہمارے پیٹ خالی ہیں، ہم بھوکے ہیں، ہماری روح محبت کے بغیر اندھیروں میں بھٹک رہی ہے۔”
    آخر لوگ اس کی لمبی لمبی لٹوں، کھوئی کھوئی نگاہوں اور غیر معجزانہ آنکھوں سے تنگ آگئے۔ انہوں نے اس کی بات پر توجہ دینا چھوڑ دی، یہاں تک کہ ان کی عدم دل چسپی ان کے دلوں میں نفرت کے جذبات پیدا کرنے لگی اور وہ برملا کہنے لگے:
    ”آخر یہ شخص ہے کیا چیز؟ ہمارے سامنے بس لمبی لمبی تقریریں جھاڑتا رہتا ہے، لیکن ہمارا مسئلہ تو خالی پیٹ کا ہے۔ اس سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔”
    لوگوں کی نفرت اتنی بڑھی کہ انہوں نے فلسفی کو شہر چھوڑ کر جنگل میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا۔
    فلسفی نے جنگل میںپہنچ کر کائنات کے راز سے پردہ ہٹانے کی کوشش ترک نہیں کی۔ وہ اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے یہی سوچتا رہتا۔ اس کے ذہن میں جو کچھ آتا، وہی دھیمی آواز میں منہ سے بھی بڑبڑاتا رہتا۔ اس کی بڑبڑاہٹ سن کر جنگل کے کتے اس کے ارد گرد جمع ہو جاتے۔ فلسفی کے اندر دبی ہوئی تقریر کرنے کی حسرت اس کی آنکھوں میں جگمگا اٹھتی۔ چناںچہ ایک روز اس نے بے بس ہو کر کتوں سے خطاب شروع کر دیا:
    ”اے کتو! میری باتیں غور سے سنو۔ میری آواز تمہاری خوابیدہ روحوں میں روشنی پھونک دے گی۔ تم دنیا ایک نئے پہلو سے دیکھنے لگو گے، بلندیوں کی جانب پرواز کرنے لگو گے، ہدایت پالو گے۔ تمہارا کتا پن ختم ہو جائے گا اور تم اس سے نجات پالو گے۔”
    کتوں نے وجد میں آکر کان کھڑے کر لیے، دُمیں ہلانا شروع کر دیں۔ فلسفی نے تقریر جاری رکھی۔ بولتا گیا، بولتا گیا اور جوش میں آتا گیا۔ کتے اس کی آواز کے جادو سے کھڑے ہو گئے۔ ان کے چہروں کے تاثرات سے پتا چلتا تھا کہ وہ فلسفی کی تقریر کا ہر لفظ سمجھ رہے ہیں۔ فلسفی کہہ رہا تھا:
    ”اے کتو! اپنے جسم کی قید سے اپنے آپ کو آزاد کر لو۔ کائنات کا راز سمجھنے کی کوشش کرو۔ تم اسی راز کا ایک حصہ ہو۔”
    معلوم ہوتا تھا کہ ابھی کوئی معجزہ ظہور پزیر ہوگا اور کتے فلسفی کی باتوں کا جواب دیں گے، لیکن قادر مطلق کو فلسفی کی یہ مافوق الفطرت طاقت ایک آنکھ نہ بھائی۔ کتے فلسفی کی باتوں سے متاثر ہو کر قوت ناطقہ حاصل کرنے ہی کو تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ جنگل میں اتارا، اس نے آتے ہی ایک ہڈی کتوں کے سامنے پھینک دی۔ ہڈی پھینکنا تھا کہ فلسفی کے تمام سامعین کی جبلت عود کر آئی اور وہ سب ہڈی پر پل پڑے۔ فلسفی اکیلا تقریر کرتا رہ گیا۔
    ہڈی پر لپکتے، غراتے اور آپس میں الجھتے کتوں کو دیکھ کر آخر فلسفی مسکرایا اور بے ساختہ اس نے یہ نعرہ مارا:
    ”پا لیا، پالیا، میں نے کائنات کا راز پالیا۔ وہ راز کیا ہے؟ کتوں کے لیے بس ایک ہڈی۔”

    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • آئینہ —- افسانہ نگار:زیروفسکی (مترجم: اعجاز احمد فاروقی)

    آئینہ —- افسانہ نگار:زیروفسکی (مترجم: اعجاز احمد فاروقی)

    جان ڈریک نے اپنی گھڑی دیکھتے ہوئے مردم بیزار اور دل آزار لہجے میں کہا:
    ”دیکھو آنٹی! جو کچھ بھی کہنا ہے، جلدی سے کہہ دو، میرے پاس وقت بہت کم ہے۔”
    اس کی معمر آنٹی نے ایک ان چاہا عجز محسوس کیا۔ اسے اس امر کا گمان تک نہیں تھا کہ اس کے حقیقی بھائی کا کروڑ پتی بیٹا، اس کا سگا بھتیجا اس سے ایسا روکھا پھیکا اور جی بجھا دینے والا سلوک کرے گا۔ یہ بے رخی، بیزاری اور سرد مہری معمر خاتون کے لیے غیر متوقع تھی۔ بھتیجے سے ملنے کے لیے بھی اسے آدھے گھنٹے انتظار کی کوفت برداشت کرنی پڑی تھی جو اس کے لیے بہت زیادہ تھی۔ اس کے نک چڑھے پی، اے کی واہی تباہی سننی پڑی تھی تاہم وہ ہمت کر کے کچھ کہنے کے لیے اپنے آپ کو آمادہ کر رہی تھی کہ جان ڈریک نے ایک اور کچوکا لگایا:
    ”آنٹی! اگر تم کچھ پیسے مانگنے آئی ہو تو یہ بات مت کرنا۔”
    ”نہیں جان! نہیں۔ میں پیسے مانگنے نہیں آئی بلکہ ایک گزارش کے لیے آئی ہوں۔”
    خاتون نے خائف لہجے میں کہا۔
    ”جان! دیکھو سام تمہارا پھوپھی زاد بھائی ہے۔ اسے اپنے ہاںملازم رکھ لو۔ وہ بی کام اور ایل ایل بی کے امتحانوں میں اوّل آیا ہے۔ شریف ہے، دیانتدار ہے، قابل اعتبار ہے، شراب نہیں پیتا، جوا نہیں کھیلتا، اپنی ہم عمر لڑکیوں کے ساتھی بھی نہیں گھومتا اور تو اور وہ کلب تک نہیں جاتا۔ جان اسے اپنے بینک میں رکھ لو، وہ تمہارے بینک کے لیے ایک موزوں امیدوار ہے۔”
    ”لیکن بینک میں تو کوئی اسامی خالی نہیں ہے۔”
    ”ہے، خالی اسامیوں کے لیے اشتہار تواخبار میں بھی چھپا ہے، میں اس کا تراشا ساتھ لائی ہوں۔”
    ”اوہ! ہاں، یاد آیا کہ ایک اسامی تو پر کرنے کا اختیار مجھے بھی ہے۔ اچھا آنٹی! تم درخواست بھجوا دینا۔”
    ”جان! میں تو سام سے درخواست لکھوا کر ساتھ لائی ہوں۔”
    معمر پھوپھی نے سام کی درخواست، جان ڈریک کے آگے رکھ دی اور معذرتیں کرتے ہوئے واپس جانے کے لیے کھڑی ہو گئی۔
    اس کے جاتے ہی جان ڈریک نے درخواست پھاڑ کر پھینک دی۔
    اس کے بعد وہ بڑبڑانے لگا:
    ”ان رشتے داروں نے تو جینا حرام کر دیا ہے۔ جب دیکھو، ملنے کے لیے بے تاب ہوتے ہیں، وقت بے وقت چلے آتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ میں نے کوئی خیرات خانہ کھولا ہوا ہے۔”
    پھر اسے اپنے مختلف رشتے دار یاد آئے اور اپنے بچپن کا زمانہ یاد آیا۔ ان ایام رفتہ کا خیال آیا۔ جب وہ بہت چھوٹا تھا، تو اس کی یہی پھوپھی ایک تنومند، خوش دل اور بھرپور جوان عورت تھی اور اسے اپنی آنکھوں کا تارا اور دل کا سرور کہتی تھی۔ وہی اس کی دنیا کا بہترین کردار تھی۔ اس کی پھوپھی پہروں اسے اپنے پاس رکھتی، اسے ہاٹ چاکلیٹ بنا بنا کر کھلاتی۔ اس نے اپنے آپ سے کہا:
    ”میں نے اپنی پھوپھی کے ساتھ بہت ناروا سلوک کیا ہے۔ درخواست پھاڑ دینا، تو ہر گز درست نہیں ہے۔ اگر سیموئیل کو ملازمت مل جاتی ہے، تو آخر میرا کیا بگڑتا ہے۔”
    وہ ایسی باتیں سوچتے سوچتے مضطرب ہو گیا۔ پھر اس نے اپنے پی اے کو بلا کر ہدایت کی:
    ”مجھے آدھے گھنٹے تک ملنے کے لیے کوئی نہ آئے، سمجھے، کوئی بھی نہیں۔”
    اس کے بعد اس نے دروازہ اندر سے بند کیا۔ پھاڑی ہوئی درخواست کے تمام پرزے جمع کیے، انہیں صحیح ترتیب دے کر جوڑا، اس نے سام کی لکھی ہوئی درخواست اپنے ہاتھ سے لکھی اور دوبارہ اپنے سکرٹری کو بلا کر وہ درخواست اسے دیتے ہوئے کہا:
    ”دیکھو، بینک میں خالی اسامی کے لیے جو درخواستیں آئی ہیں، یہ درخواست بھی ان کے ساتھ رکھ لو۔ یہ درخواست دہندہ میرا کزن ہے، اگر یہ انٹرویو وغیرہ میں کامیاب ہو جائے تو ٹھیک ہے ورنہ کچھ نہیں، میں صرف اس کی درخواست دے رہا ہوں، کوئی سفارش قطعاً نہیں کر رہا، سمجھے۔”
    کچھ دنوں بعد اس کی پھوپھی پھر آئی اور اس نے بڑے غمگین اور افسردہ لہجے میں کہا:
    ”جان! تم نے سیموئیل کو کیوں نہیں لیا؟ وہ تو انٹرویو میں اوّل آیا تھا۔ اس کے بہ جائے ایک بگڑے ہوئے رئیس زادے کو لے لیا جو پورے شہر میں بدنام ہے اور کئی تھانوںمیں اس کے خلاف سنگین جرائم کی رپورٹیں ہیں۔”
    جان ڈریک نے پھر ایک بے لحاظ انداز میں کہا:
    ”آنٹی! اس وقت تو میں گورنر سے ملنے کے لیے جا رہا ہوں، واپس آکر خود تحقیق کروں گا۔”
    پھوپھی کے جانے کے اس نے اپنے سیکرٹری کو بلایا اور پوچھا:
    ”کیا سام موزوں امیدوار نہیں تھا جو اسے نہیں لیا گیا؟”
    ”نہیں جناب! بات کچھ اور ہے، سام تو انٹرویو میں بھی اول آیا تھا لیکن!”
    ”یہ لیکن ویکن کیا ہے؟”
    ”جناب! آپ کے حکم اور بینک کے قواعد کے مطابق ہم نے اس کے ہاتھ کی لکھی ہوئی تحریر اپنے ماہر تحریر کو دی تھی۔ اس کی رپورٹ یہ تھی کہ ایسے خط اور تحریر والا، شرابی، کبابی، عیاش، بدکار، خائن، بددیانت، احسان فراموش اور بے ایمان ہوتا ہے۔ اس رپورٹ کے بعد ہم اسے کیسے لے سکتے تھے۔”
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • آخری آدمی — انتظار حسین

    آخری آدمی — انتظار حسین

    الیاس اس قریے میں آخری آدمی تھا۔ اس نے عہد کیا تھا کہ معبود کی سوگند میں آدمی کی جون میں پیدا ہوا ہوں اور میں آدمی ہی کی جون میں مروں گا۔ اور اس نے آدمی کی جون میں رہنے کی آخر دم تک کوشش کی۔
    اور اس قریے سے تین دن پہلے بندر غائب ہو گئے تھے۔ لوگ پہلے حیران ہوئے اور پھر خوشی منائی کہ بندر جو فصلیں برباد اور باغ خراب کرتے تھے نابود ہو گئے۔ پر اس شخص نے جو انہیں سبت کے دن مچھلیوں کے شکار سے منع کیا کرتا تھا یہ کہا کہ بندر تو تمہارے درمیان موجود ہیں مگر یہ کہ تم دیکھتے نہیں۔ لوگوں نے اس کا برا مانا اور کہا کہ کیا تو ہم سے ٹھٹھا کرتا ہے اور اس نے کہا کہ بے شک ٹھٹھا تم نے خدا سے کیا کہ اس نے سبت کے دن مچھلیوں کے شکار سے منع کیا اور تم نے سبت کے دن مچھلیوں کا شکار کیا اور جان لو کہ وہ تم سے بڑا ٹھٹھا کرنے والا ہے۔
    اس کے تیسرے دن یوں ہوا کہ الیعذر کی لونڈی گجر وم الیعذر کی خواب گاہ میں داخل ہوئی اور سہمی ہوئی الیعذر کی جورو کے پاس الٹے پاں آئی۔ پھر الیعذر کی جورو خواب گاہ تک گئی اور حیران و پریشان واپس آئی۔ پھر یہ خبر دور دور تک پھیل گئی اور دور دور سے لوگ الیعذر کے گھر آئے اور اس کی خواب گاہ تک جا کر ٹھٹھک ٹھٹھک گئے کہ الیعذر کی خواب گاہ میں الیعذر کی بجائے ایک بڑا بندر آرام کرتا تھا اور الیعذر نے پچھلے سبت کے دن سب سے زیادہ مچھلیاں پکڑی تھیں۔
    پھر یوں ہوا کہ ایک نے دوسرے کو خبر دی کہ اے عزیز الیعذر بندر بن گیا ہے۔ اس پر دوسرا زور سے ہنسا۔ "تو نے مجھ سے ٹھٹھا کیا۔” اور وہ ہنستا چلا گیا، حتی کہ منہ اس کا سرخ پڑ گیا اور دانت نکل آئے اور چہرے کے خد و خال کھینچتے چلے گئے اور وہ بندر بن گیا۔ تب پہلا کمال حیران ہوا۔ منہ اس کا کھلا کا کھلا رہ گیا اور آنکھیں حیرت سے پھیلتی چلی گئیں اور پھر وہ بھی بندر بن گیا۔
    اور الیاب ابن زبلون کو دیکھ کر ڈرا اور یوں بولا کہ اے زبلون کے بیٹے تجھے کیا ہوا ہے کہ تیرا چہرا بگڑ گیا ہے۔ ابن زبلون نے اس بات کا برا مانا اور غصے سے دانت کچکچانے لگا۔ تب الیاب مزید ڈرا اور چلا کر بولا کہ اے زبلون کے بیٹے! تیری ماں تیرے سوگ میں بیٹھے، ضرور تجھے کچھ ہو گیا ہے۔ اس پر ابن زبلون کا منہ غصے سے لال ہو گیا اور دانت کھینچ کر الیاب پر جھپٹا۔ تب الیاب پر خوف سے لرزہ طاری ہوا اور ابن زبلون کا چہرہ غصے سے اور الیاب کا چہرہ خوف سے بگڑتا چلا گیا۔ ابن زبلون غصے سے آپے سے باہر ہوا اور الیاب خوف سے اپنے آپ میں سکڑتا چلا گیا اور وہ دونوں کہ ایک مجسم غصہ اور ایک خوف کی پوت تھے آپس میں گتھ گئے۔ ان کے چہرے بگڑتے چلے گئے۔ پھر ان کے اعضا بگڑے۔ پھر ان کی آوازیں بگڑیں کہ الفاظ آپس میں مدغم ہوتے چلے گئے اور غیر ملفوظ آوازیں بن گئے۔ پھر وہ غیر ملفوظ آوازیں وحشیانہ چیخ بن گئیں اور پھر وہ بندر بن گئے۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    الیاسف نے کہ ان سب میں عقل مند تھا اور سب سے آخر تک آدمی بنا رہا۔ تشویش سے کہا کہ اے لوگو! ضرور ہمیں کچھ ہو گیا ہے۔ آ ہم اس شخص سے رجوع کریں جو ہمیں سبت کے دن مچھلیاں پکڑنے سے منع کرتا ہے۔ پھر الیاس لوگوں کو ہمراہ لے کر اس شخص کے گھر گیا۔ اور حلقہ زن ہو کے دیر تک پکارا کیا۔ تب وہ وہاں سے مایوس پھرا اور بڑی آواز سے بولا کہ اے لوگو! وہ شخص جو ہمیں سبت کے دن مچھلیاں پکڑنے سے منع کیا کرتا تھا آج ہمیں چھوڑ کر چلا گیا ہے۔ اور اگر سوچو تو اس میں ہمارے لئے خرابی ہے۔ لوگوں نے یہ سنا اور دہل گئے۔ ایک بڑے خوف نے انہیں آ لیا۔
    دہشت سے صورتیں ان کی چپٹی ہونے لگیں۔ اور خد و خال مسخ ہو تے چلے گئے۔ اور الیاسف نے گھوم کر دیکھا اور بندروں کے سوا کسی کونہ پایا۔ جاننا چاہئے کہ وہ بستی ایک بستی تھی۔ سمندر کے کنارے۔اونچے برجوں اور بڑے دروازوں والی حویلیوں کی بستی، بازاروں میں کھوے سے کھوا چھلتا تھا۔ کٹورا بجتا تھا۔ پر دم کے دم میں بازار ویران اور اونچی ڈیوڑھیاں سونی ہو گئیں۔ اور اونچے برجوں میں عالی شان چھتوں پر بندر ہی بندر نظر آنے لگے اور الیاسف نے ہر اس سے چاروں سمت نظر دوڑائی اور سوچا کہ میں اکیلا آدمی ہوں اور اس خیال سے وہ ایسا ڈرا کہ اس کا خون جمنے لگا۔ مگر اسے الیاب یاد آیا کہ خوف سے کس طرح اس کی صورت بگڑتی چلی گئی اور وہ بندر بن گیا۔ تب الیاسف نے اپنے خوف پر غلبہ پا یا اور عزم باندھا کہ معبود کی سوگند میں آدمی کی جون میں پیدا ہوا ہوں اور آدمی ہی کی جون میں مروں گا اور اس نے ایک احساسِ برتری کے ساتھ اپنے مسخ صورت ہم جنسوں کو دیکھا اور کہا۔ تحقیق میں ان میں سے نہیں ہوں کہ وہ بندر ہیں اور میں آدمی کی جون میں پیدا ہوا۔ اور الیاسف نے اپنے ہم جنسوں سے نفرت کی۔ اس نے ان کی لال بھبوکا صورتوں اور بالوں سے ڈھکے ہوئے جسموں کو دیکھا اور نفرت سے چہرہ اس کا بگڑنے لگا مگر اسے اچانک زبان کا خیال آیا کہ نفرت کی شدت سے صورت اس کی مسخ ہو گئی تھی۔ اس نے کہا کہ الیاسف نفرت مت کر کہ نفرت سے آدمی کی کایا بدل جاتی ہے اور الیاسف نے نفرت سے کنارہ کیا۔
    الیاسف نے نفرت سے کنارہ کیا اور کہا کہ بے شک میں انہی میں سے تھا اور اس نے وہ دن یاد کئے جب وہ ان میں سے تھا اور دل اس کا محبت کے جوش سے منڈنے لگا۔ اسے بنت الاخضر کی یاد آئی کہ فرعون کے رتھ کی دودھیا گھوڑیوں میں سے ایک گھوڑی کی مانند تھی۔ اور اس کے بڑے گھر کے در سرو کے اور کڑیاں صنوبر کی تھیں۔ اس یاد کے ساتھ الیاسف کو بیتے دن یاد آ گئے کہ وہ سرو کے دروں اور صنوبر کی کڑیوں والے مکان میں عقب سے گیا تھا اور چھپر کھٹ کے لئے اسے ٹٹولا جس کے لئے اس کا جی چاہتا تھا اور اس نے دیکھا لمبے بال اس کی رات کی بوندوں سے بھیگے ہوئے ہیں اور چھاتیاں ہرن کے بچوں کے موافق تڑپتی ہیں۔ اور پیٹ اس کا گندم کی ڈیوڑھی کی مانند ہے اور پاس اس کے صندل کا گول پیالہ ہے اور الیاسف نے بنت الاخضر کو یاد کیا اور ہرن کے بچوں اور گندم کی ڈھیر اور صندل کے گول پیالے کے تصور میں سرو کے دروں اور صنوبر کی کڑیوں والے گھر تک گیا۔ ساس نے خالی مکان کو دیکھا اور چھپر کھٹ پر اسے ٹٹولا۔ جس کے لئے اس کا جی چاہتا تھا اور پکارا کہ اے بنت الاخضر! تو کہاں ہے اور اے وہ کہ جس کے لئے میرا جی چاہتا ہے۔ دیکھ موسم کا بھاری مہینہ گزر گیا اور پھولوں کی کیاریاں ہری بھری ہو گئیں اور قمریاں اونچی شاخوں پر پھڑپھڑاتی ہیں۔ تو کہاں ہے؟ اے اخضر کی بیٹی! اے اونچی چھت پر بچھے ہوئے چھپر کھٹ پر آرام کرنے والی تجھے دشت میں دوڑتی ہوئی ہرنیوں اور چٹانوں کی دراڑوں میں چھپے ہوئے کبوتروں کی قسم تو نیچے اتر آ۔ اور مجھ سے آن مل کہ تیرے لئے میرا جی چاہتا ہے۔ الیاسف بار بار پکارتا کہ اس کا جی بھر آیا اور بنت الاخضر کو یاد کر کے رویا۔
    الیاسف بنت الاخضر کو یاد کر کے رویا مگر اچانک الیعذر کی جورو یاد آئی جو الیعذر کو بندر کی جون میں دیکھ کر روئی تھی۔ حالانکہ اس کی ہڑکی بند ھ گئی اور بہتے آنسوں میں اس کے جمیل نقوش بگڑتے چلے گئے۔ اور ہڑکی کی آواز وحشی ہوتی چلی گئییہاں تک کہ اس کی جون بدل گئی۔ تب الیاسف نے خیال کیا۔ بنت الاخضر جن میں سے تھی ان میں مل گئی۔ اور بے شک جو جن میں سے ہے وہ ان کے ساتھ اٹھایا جائے گا اور الیاسف نے اپنے تئیں کہا کہ اے الیاسف ان سے محبت مت کر مبادا تو ان میں سے ہو جائے اور الیاسف نے محبت سے کنارہ کیا اور ہم جنسوں کو نا جنس جان کر ان سے بے تعلق ہو گیا اور الیاسف نے ہرن کے بچوں اور گندم کی ڈھیری اور صندل کے گول پیالے کو فراموش کر دیا۔
    الیاسف نے محبت سے کنارہ کیا اور اپنے ہم جنسوں کی لال بھبوکا صورتوں اور کھڑ ی دم دیکھ کر ہنسا اور الیاسف کو الیعذر کی جورو یاد آئی کہ وہ اس قریے کی حسین عورتوں میں سے تھی۔ وہ تاڑ کے درخت کی مثال تھی اور چھاتیاں اس کی انگور کے خوشوں کی مانند تھیں۔ اور الیعذر نے اس سے کہا تھا کہ جان لے کہ میں انگور کے خوشے توڑوں گا اور انگور کے خوشوں والی تڑپ کر ساحل کی طرف نکل گئی۔
    الیعذر اس کے پیچھے پیچھے گیا اور پھل توڑا اور تاڑ کے درخت کو اپنے گھر لے آیا اور اب وہ ایک اونچے کنگرے پر الیعذر کی جوئیں بن بن کر کھاتی تھی۔ الیعذر جھری جھری لے کر کھڑا ہو جاتا اور وہ دم کھڑی کر کے اپنے لجلجے پنجوں پر اٹھ بیٹھی۔ اس کے ہنسنے کی آواز اتنی اونچی ہوتی کہ اسے ساری بستی گونجتی معلوم ہوئی اور وہ اپنے اتنی زور سے ہنسنے پر حیران ہوا مگر اچانک اسے اس شخص کا خیال آیا جو ہنستے ہنستے بندر بن گیا تھا اور الیاسف نے اپنے تئیں کہا۔ اے الیاسف تو ان پر مت ہنس مبادا تو ہنسی کی ایسا بن جائے اور الیاسف نے ہنسی سے کنارہ کیا۔
    الیاسف نے ہنسی سے کنارہ کیا۔ الیاسف محبت اور نفرت سے غصہ اور ہمدردی سے رونے اور ہنسنے سے ہر کیفیت سے گزر گیا اور ہم جنسوں کو نا جنس جان کر ان سے بے تعلق ہو گیا۔ ان کا درختوں پر اچکنا، دانت پیس پیس کر کلکاریاں کرنا، کچے کچے پھلوں پر لڑنا اور ایک دوسرے کو لہو لہان کر دینا۔ یہ سب کچھ اسے آگے کبھی ہم جنسوں پر رلاتا تھا، کبھی ہنساتا تھا۔ کبھی غصہ دلاتا کہ وہ ان پر دانت پیسنے لگا اور انہیں حقارت سے دیکھتا اور یوں ہوا کہ انہیں لڑتے دیکھ کر اس نے غصہ کیا اور بڑی آواز سے جھڑکا۔ پھر خود اپنی آواز پر حیران ہوا۔ اور کسی کسی بندر نے اسے بے تعلقی سے دیکھا اور پھر لڑائی میں جٹ گیا۔ اور الیاسف کے تئیں لفظوں کی قدر کی جاتی رہی۔ کہ وہ اس کے اور اس کے ہم جنسوں کے درمیان رشتہ نہیں رہے تھے اور اس کا اس نے افسوس کیا۔ الیاسف نے افسوس کیا اپنے ہم جنسوں پر، اپنے آپ پر اور لفظ پر۔ افسوس ہے ان پر بوجہ اس کے وہ اس لفظ سے محروم ہو گئے۔ افسوس ہے مجھ پر بوجہ اس کے لفظ میرے ہاتھوں میں خالی برتن کی مثال بن کر رہ گیا۔ اور سوچو تو آج بڑے افسوس کا دن ہے۔ آج لفظ مر گیا۔ اور الیاسف نے لفظ کی موت کا نوحہ کیا اور خاموش ہو گیا۔
    الیاسف خاموش ہو گیا اور محبت اور نفرت سے، غصے اور ہمدردی سے، ہنسنے اور رونے سے در گزرا۔ اور الیاسف نے اپنے ہم جنسوں کو نا جنس جان کر ان سے کنارہ کیا اور اپنی ذات کے اندر پناہ لی۔ الیاسف اپنی ذات کے اندر پناہ گیر جزیرے کے مانند بن گیا۔ سب سے بے تعلق، گہرے پانیوں کے درمیان خشکی کا ننھا سا نشان اور جزیرے نے کہا میں گہرے پانیوں کے درمیان زمین کا نشان بلند رکھو ں گا۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • اُف یہ گرمی — فہمیدہ غوری

    اُف یہ گرمی — فہمیدہ غوری

    یہ اک گمبھیر موضوع ہے یعنی موسم گرما، تو لکھنے کے لیے بھی کافی سنجیدہ ہونا پڑے گا۔ موسم گرما جو اپنے ساتھ بہت سارے مسائل، بیماریاں اور ٹینشن بھی ساتھ لاتا ہے، ویسے آج کل موسم گرما صرف غریبوں کے لیے ہے۔ گھر میں آئے تو لائٹ نہیں، باہر گئے تو لو کے تھپیڑے پڑتے ہیںاور رات کو مچھر نغمے الگ سناتے ہیں ۔ہائے بے چارہ غریب اور موسمِ گرما۔ اک دوجے کے لیے ہی بنے ہیں۔
    امیر کے لیے تو موسم گرما بھی موسم سرما جیسا ہی ہے۔ ہر طرف ٹھنڈی ہوائیں۔ گاڑی، گھر، آفس، فیکٹری اور بینک میں ہر طرف سے نسیمِ سحر کے پُر لطف جھونکے ہی آتے ہیں۔ تو مطلب یہ کہ موسم گرما پر بس غریبوں کا حق ہے کہ اُنہیں ہی تو جھیلنا ہے یہ موسم۔ اس موسمِ گرما سے ہمیں موسمی پھل بھی یاد آتے ہیں جن میں سرِفہرست ہے گرما، میٹھا میٹھا رسیلا پھل۔ ایک خریدو پورا خاندان رج کے کھائے اور تو اور اس پھل پر تو مہنگائی کا بھی کوئی اثر نہیں ہوتا۔
    آم کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں مگر گرما کی قیمتیں اتنی گرم نہیں۔ اس پھل کا ایک بھائی بند بھی ہے۔ ذائقے میں تو یہ بھی گرما جیسا ہی ہے پر یہ سردا کیوں کہلاتا ہے اس پر ابھی تحقیق باقی ہے۔ تو کہنے کا مطلب ہے کہ گرمی بھی ایک نعمت ہے جس میں ہمیں طرح طرح کے پھل کھانے کو ملتے ہیں جس میں صبر کا پھل بھی شامل ہے جو پاکستانی عوام ”فرسٹ جون” کو کھاتی ہے۔ سمجھے؟ نہیں سمجھے؟ جی بجٹ آنے کہ بعد ہم صبر کا پھل ہی تو کھاتے ہیں۔ اس سال گاڑیاں سستی ہوئی ہیں۔ اب کیا آپ ٹنڈے کی جگہ نسان یا ہونڈا ڈالیں گے ہانڈی میں؟ یا کریلے کے بجائے کرولا قیمہ بنائیں گے؟ خیر قیمے کا تو سوچیے بھی مت۔ ہاں چھٹانک بھر لے کر اس کا چھڑکاؤ کر سکتے ہیں آپ سالن اور گوشت کے بھرپور مزے لے سکتے ہیں۔ ہمارے ذہن میں ایک اور بھی مشورہ ہے کہ گوشت کا عرق اگرمارکیٹ میں لایا جائے تو غریبوں کا کتنا بھلا ہو جائے گا۔ ہے نا زبردست آئیڈیا؟

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    ہاں یاد آیا، موبائل بھی تو سستے ہوئے ہیں نا۔ بڑی مہربانی وزیرِ خزانہ صاحب، خدا آپ کا خزانہ بھرا رکھے۔ آپ نے موبائل سستے کر کے بگڑی قوم کو مزید بگڑنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ ساری ساری رات موبائل پر لگے رہنے والی قوم اب آپ کو دعائیں ہی دے گی۔ نا انہیں پانامہ کا ہنگامہ یاد ہوگا نہ لنڈن کے فلیٹ، نہ فرانس کے محل نہ دہشت گردی میں ڈوبا ملک، نہ مہنگائی اور نہ ہی لوڈشیڈنگ کا عذاب۔ یاد ہوں گے تو انڈین سونگ، مووی اور ڈرامے۔ بہت اچھا کیا آپ نے (شالا و سدا روے تیرا ویڑا وزیر جی)
    آج ہماری ماسی بہت خوش تھی اور خوشی میں کچھ گنگنارہی تھی۔ ہم نے وجہ پوچھی تو فرمانے لگی ہاں باجی آج میں بہت خوش ہوں۔ آپ کو تو پتا ہے نہ میرا کاکا بہت چھوٹا ہے اور میں اسے اکیلا چھوڑ کر آتی ہوں۔ میری ساس بہت غصہ کرتی ہے اسے سنبھالنے میں۔ پر اب وہ غصہ نہیں کرے گی۔
    ” وہ کیوں؟” ہم نے تجسس سے پوچھا۔
    ”ارے باجی آپ کو نہیں پتا بجٹ آگیا ہے۔”
    ”ہاں وہ تو آگیا ہے مگر اس میں تم کیوں اتنی خوش ہورہی ہو؟”
    ”باجی جی! اس بار بجٹ میں ڈائپر بھی سستے ہوئے ہیں نا، تو میں اس لیے خوش ہوں کہ میری ساس کو کاکا سنبھالنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔”وہ چہکتی ہوئی بولتی رہی اور ہم اس کی خوشی میں خوش ہوتے رہے۔
    موسمِ گرما میں حکومت نے ایک اور قدم اُٹھایا ہے اور وہ ہے میک اپ پر ٹیکس لگانے کا۔ ہمیں تو خیر اتنا فرق نہیں پڑے گا۔ ہم تو اپنی اماں کی تبت کریم اور ہاشمی کاجل میں ہی خوش ہیں لیکن جو عورتیں صبح سے شام اور شام سے رات میک اپ کرتی ہیں سجنے سنورنے میں ان کا کیا ہوگا وہ بے چاریاں تو رل گئیں نا۔ اب شام کو سیّاں جی آئیں گے تو گھر میں کرینہ کی جگہ ثمینہ اور کترینہ کی بجائے کوئی زرینہ نظر آئے گی تو کیا حال ہوگا ان کا ذرا سوچیے۔
    آج کل سیاسی موسم بھی اچھا خاصا گرم ہے۔ ہر جگہ ہی گرما گرمی ہے۔ ٹی وی کھولو تو لگتا ہے کل ہی دھڑن تختہ ہونے والا ہے۔ بے چارے خان صاحب بھی ایسی کڑکتی دوپہر میں جلسے اور جلسیاں کر کر کے ہلکان ہورہے ہیں۔
    وزیرِاعظم صاحب بھی میدان عمل میں ہیں۔ گرمی کی پروا کیے بغیر کبھی چوں چوں کی ملیاں تو کبھی تربیلا پہنچے ہوئے ہیں۔ گورے گورے مکھ پر بہتے پسینے کی پروا کیے بغیر جوش و جنوں سے ہر آفت کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ آفرین ہے ویسے آپ کی ہمت کو، اتنے بڑے آپریشن کے بعد بھی اتنا اسٹیمنا آپ کا ہے۔ ہو سکتا ہے ماشااللہ۔
    اب تو رمضان بھی موسم گرما میں آرہا ہے۔ اللہ سب کے روزے عبادتیں قبول فرمائے، جو تپتی گرمی میں گرین لائن پر پتھر کوٹ رہے ہیں، ان کے بھی اورجو اے سی والے کمروں میں بیٹھ کر دعائیں مانگ رہے ہیںان کے بھی آمین۔
    ویسے دیکھنے میں آیا ہے کہ رمضان میں ہر چیز کی قیمت بڑھ جاتی ہے خاص کر بیسن اور تیل کی، اسی لیے ہمارے تاجر حضرات نے ہماری آسانی کے لیے انتڑیوں سے تیل نکالنے کا آسان طریقہ دریافت کیا ہے۔ ارے ارے! آپ غلط سمجھے، یہ ہماری آپ کی انتڑیوں سے نہیں بلکہ گائے بھینسوں کی انتڑ یوں سے تیل نکالنے کا نیا فارمولا ہے۔ ویسے ہم نے تو سنا ہے لوگ گٹر کی چکنائی سے بھی تیل بنارہے ہیں۔ بس جی کیا کہیں اب ان کو بھی تو بیوی بچوں کا پیٹ پالنا ہے چاہے اس میں کوئی ہاسپٹل پہنچے یا پھر… آگے آپ خود سمجھ جائیے۔
    گرمی میں بیماریاں بھی بہت تیزی سے پھیلتی ہیں اور بہت سے وبائی امراض بھی پھوٹ پڑتے ہیں جیسے کہ ملیریا ۔ ویسے ہم یہاں آپ کی معلومات میں اضافہ کرتے چلیں کہ ملیریا کی بھی کئی قسمیں وجود میں آچکی ہیں۔ جیسا کہ ڈینگی، چکن گونیا وغیرہ وغیرہ۔ کچھ وبائی امراض جسمانی اور کچھ ذہنی بھی ہوتے ہیں اور گرمی میں پھوٹ پھوٹ کر نکلتے ہیں۔ حاجی صاحب روزے سے نماز ادا کر کے دکان جاتے ہیں۔ زرِقلیل کو زرِکثیر میں بدل کر سب فرائض ادا کر کے سکونِ قلب و نظر سے سرفراز ہوتے ہیں کہ اس ماہِ مقدس میں یہی تو غریبوں کا بھلا ہے نا۔ منافع خوری آج کل کوئی برائی نہیں بلکہ کاروبار کا حصہ سمجھی جاتی ہے۔ مرچوں میں اینٹیں پیس کر ملانا تو کاروباری ٹوٹکا ہے۔ بھائی قیامت میں ان کے ٹوٹے ہوچکے ہوں گے، ابھی تو شیخ صاحب عیش کر لیں۔
    آٹے میں بھوسی اور چاول میں کنکر ملانے والے حاجی صاحب ہر جمعہ سعودی حکومت کے مہمانِ خاص ہوتے ہیں۔ واہ واہ کیا قسمت پائی ہے حاجی صاحب نے قربان جائیں۔ یہ غریب ننگ دھڑنگ سوکھی ماری قوم تو ہے ہی اس قابل اسے کیا خالص چیزیں ہضم ہوں گی۔ اس کا ہاضمہ تو عادی ہے سکرین کے انجکشن لگے پھل کھانے کا، فضلہ ملے پانی سے اگی سبزیوں اور سڑے ہوئے اناج کی روٹی کھانے کا۔ یہ سب کھا کر بھی زندہ ہے تو اسے ایسے ہی جینے دو۔ خالص غذا کھا کر ہاسپٹل پہنچ گئی تو بے چاری غریب قوم یہ بار کیسے اٹھائے گی؟
    اب آتے ہیں گرمی سے بچائو کے طریقوں کی طرف۔ یہ طریقے تو ہماری حکومت کے پاس بھی ہیں۔ اب دیکھیں نا بجلی ہوگی تو پنکھے چلیں گے، پانی ہوگا تو برف جمے گی، کچرا اٹھے گا تو صفائی ہوگی، کارخانے فیکٹریاں چلیں گی تو روزگار ملے گا، تو حکومت نے اس جھنجھٹ ہی سے اس قوم کو آزاد کر دیا ہے۔ نہ نو من تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی۔ پاکستانی قوم بھی لگتا ہے اب بے حس ہوگئی ہے۔ لوڈشیڈنگ کے خلاف جو ایک ٹائر جلا کر چند سوکھے تن احتجاج کرتے نظر آتے تھے، اب تو وہ بھی نہیں ہیں۔
    آج کل تو ٹی وی پر بھی بہت گرما گرمی دیکھنے میں آرہی ہے۔ ایک صاحب نے تو پوری قوم کو اپنی باتوں سے نہال نہال کردیا ہے۔ اب شایدیہ قوم جاگ جائے۔ ٹاک شوز میں گرمی اور روزے سے بے حال حضرات فصاحت و بلاغت کے ایسے ایسے دریا بہارہے ہیں کہ کبھی کبھی تو لگتا ہے کے کسی کچی آبادی کے پس ماندہ محلے کی دو پھپے کٹنیاں لڑ رہی ہیں۔ وہ، وہ سنہری الفاظ سننے کو ملتے ہیں جو لکھنے کیا سوچنے کے بھی قابل نہیں ہیں۔
    اب آپ کو گرمی سے بچنے کا ایک نادر ٹوٹکا بتاتی ہوں جو بہت آزمودہ ہے اسے آزما کر آپ گرمی کیا سردی میں بھی دماغی اور ذہنی وبا اور ہر طرح کے امراض سے محفوظ رہیں گے۔ وہ یہ ہے کہ آپ کے گھر میں ٹی وی یا ایل سی ڈی ہے نا تو اس میں ایک بٹن ہوتا ہے آف کا اسے دبائیں اور ہر طرح کی ٹینشن اور بیماریوں سے نجات پائیں۔ یقین کریں اس ٹوٹکے پر عمل کر کے معمولی بیماریاں تو آپ کے پاس پھٹکیں گی بھی نہیںبلکہ ذیابیطس اور بلند فشارِخون سے بھی جان چھوٹ جائے گی ان شااللہ۔

    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • گلانے — صوفیہ بٹ (قسط نمبر ۴ — آخری قسط)

    گلانے — صوفیہ بٹ (قسط نمبر ۴ — آخری قسط)

    نورالحسن دو دن کے لیے لاہور گیا تھا ۔ ولی اپنے آپ کو آزاد محسوس کر رہاتھا ۔ آج وہ دیر رات تک دوستوں میں بیٹھ سکتا تھا ۔ وہ آدھی رات تک مغیث ، فیضان اور دانش کے ساتھ بیٹھا رہا ۔ فیضان تو نو بجے ہی اٹھ کر چلا گیا تھا ۔ اس کے جانے کے بعد دانش نے اپنے لیپ ٹاپ پر جو فلم لگائی تھی۔ اس کے بعد ولی گھر جانا بھول گیا تھا۔ حالانکہ امی کا فون دو با ر آچکا تھا ۔
    ”گُلانے ! امی کو سلا دو پلیز، مجھے دیر لگے گی ۔ ضروری اسائن منٹ بنانی ہے ۔”ولی نے جھوٹ بولتے ہوئے گُلانے سے کہا۔
    نور الحسن گھر نہیں تھا اور پھر ولی بھی گھر سے باہر امی کو نیند بھلا کب آنا تھی ؟گُلانے نے امی کو بڑی مشکل سے مطمئن کر کے سلایا اور خود کتابیں لے کر بیٹھ گئی ۔ وہ آج کل انٹری ٹیسٹ کی تیاری کرر ہی تھی ۔ گیارہ بجے نورالحسن کی کال آئی تھی ۔وہ بہت خوش تھا ،اس کا انٹر ویو بہت اچھا ہوا تھا ۔
    ”میں امی ، ولی اور تمہیں بہت خوشیاں دینا چاہتا ہوں ۔” نور الحسن کے خواب لفظ بن رہے تھے، اس کی خوشی اور طمانیت اس کے لہجے سے عیاں تھی اور گُلانے کے لیے نہال ہونے کو یہ ہی کافی تھا۔
    ”ان شا اللہ ”
    ”گُلانے ! ” کال بند کرتے کرتے اس نے دھیمے سے لہجے میں پکا ر ا ۔
    ”جی۔ ” وہ ہمہ تن گوش تھی۔
    ”لو یو یار۔” اس نے پہلی بار یوں اظہارِ محبت کیا تھا۔ گُلانے کے چہرے پر رنگ ہزار بکھرے ۔ وہ بہت کم اظہار کرتا تھا اور جب کرتا تھا تو جان لیوا کرتا تھا ۔
    اب پڑھنا کیا خاک تھا ۔ ہینڈ آؤٹ پر لکھا ہوا تھا ” Coulomb’s Law” اور اسے نظر آرہا تھا ۔” لویو یار۔”
    وہ موتیے کی کلیوں کو دیکھ دیکھ مسکاتی رہی ۔
    ڈیڑھ بجے ولی کا میسج آیا ۔
    ”دروازہ کھولو مگر آہستہ سے امی نہ جاگ جائیں ۔”
    ” امی جاگیں نہ جاگیں ، نو ر ا لحسن کو ضر و ر بتا ؤ ں گی۔ ‘ ‘ اس نے دروازہ کھولتے ہی دھمکی دی۔
    ”تمہارا اور کام ہی کیا ہے ؟ ” وہ آہستہ سے قدم بڑھانے لگا ۔
    ”کہاں تھے ؟” وہ کمر پر ہاتھ رکھ کر تفتیش کرنے لگی تھی۔
    ”کمبائن اسٹڈی کر رہے تھے۔ ” وہ آہستہ سے بتا کرڈھیلے قدموں سے اپنے کمرے کی طرف بڑھا ۔
    ”تمہیں ذرا احساس ہے ، تم امی اور نور الحسن کو کتنا پریشان کرتے ہو ۔”گُلانے نے اسے احساس دلانے کی کوشش کی۔
    ”جان مت کھاؤ اور سو جاؤ ۔”وہ الہڑ پن سے بولا۔
    و ہ اپنے کمرے میں چلا گیا ۔ گُلانے کو پتا تھا کہ کھانا تو وہ کھا کر ہی آیا ہو گا ۔ اس لیے اس کے لیے رکھے آم پلیٹ میں رکھ کر اس کے کمرے میں چلی آئی ۔ آم ولی کو اتنے پسند تھے کہ اسے کھانے کے لیے وقت دیکھناضروری نہیں تھا۔
    ”آم کھا لو ، ٹھنڈے ہیں ۔” ولی اپنے موبائل میں گم تھا جب وہ کمرے میں داخل ہوئی اور پلیٹ اس کے قریب رکھ کر مڑی اور کمرے سے باہر نکلنے لگی تھی کہ ولی نے اس کا ہاتھ تھام لیا ۔
    ٭٭٭٭٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    اس کے سامنے بریانی کی پلیٹ پڑی تھی۔
    وہ کل صبح سے بھوکا تھا ۔ اس وقت کھانا اس کے سامنے پڑ ا تھامگر وہ نوالہ لینا بھولا ہواتھا ۔اس کی نگاہ کے سامنے ایک منظر بار بار آتا ۔
    ثریا مقصود اس کی طرف بڑھ رہی تھی، اس کی آنکھوں میں ہوس تھی۔ ولید کو لگ رہا تھا کہ قیامت سر پر ہے ۔ایسے ہی ڈری ہو گی وہ بھی۔ ایسی ہی قیامت محسوس ہوئی ہو گی اُسے بھی۔
    ایسے ہی اپنے آپ کو چھڑوا کر بھاگی تھی وہ بھی۔
    وہ مرد تھا ، اپنی عزت بچانے کے لیے بھاگا تھا ، وہ تو عورت تھی ،اس پر کیا بیتی ہو گی۔
    وہ رو دیا ۔ وہ میز پہ رکھے بازو پر سر ٹکا کر بچوں کی طرح رو دیا ۔ نورالحسن اور ماں کا لاڈلا ولی رو رہا تھا اورچپ کرانے والا کوئی نہ تھا ۔
    ویٹر نے ترس بھری نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا تھا ۔
    ” آئی ایم سوری گُلانے … مجھے معاف کر دو… پلیز مجھے معاف کر دو۔ ” وہ روتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔
    ”بھائی …بھائی مجھے آپ سے بہت محبت ہے … میں آپ کو دیکھنا چاہتا ہوں … آپ کے گلے لگنا چاہتا ہو ں … آئی لو یوبھائی ۔ یو ہیٹ می ؟ آپ کا ولی بہت بُرا ہے … بہت بُرا۔ اب آپ اس کو سینے سے لگا کر اس کا سر کیسے چوم سکتے ہیں ؟پھر بھی پھر بھی میں روز خواب دیکھتا ہوں کہ آپ میرا ماتھا چوم رہے ہیں … ہا ہا ہا …” وہ ہنس دیا ۔ دوسری ٹیبل پر آرڈر لیتے ہوئے ویٹر کا دھیان پھر اس پر مبذول ہوا ۔
    ”پاگل ہوں نا میں … خواب بھی کیا دیکھتا ہوں … بھائی خواب بھی نہ دیکھوں تو کیا کروں؟ آپ نظر تو آتے ہیں خواب میں سہی۔ ” وہ وہیں سر رکھے بولتے بولتے سو گیا تھا ۔
    ہوٹل کے عملے میں سے کسی نے اسے جگایا نہیں تھا ۔انسانیت ابھی بھی دنیا میں سانس لیتی تھی۔
    ٭…٭…٭
    یہ جو ابلیس ہے نا اس نے ایک لڑکے کا پیچھا لے لیا تھا جس کو اس دنیا میں سب سے زیادہ عزیز اس کا بڑا بھائی تھا ۔ ابلیس سے بھائی بھائی کی محبت برداشت نہ ہوئی تھی ۔
    اس نے بڑی پرانی چال چلی تھی۔
    اس چال کا نام تھا … عورت
    عورت … جس کے پیچھے قابیل نے ہابیل کا خون کر ڈالا ۔
    شیطان کے حربے بدلتے ہیں’ مگر مہرے اکثر وہی رہتے ہیں ۔ا س نے جال بنا اور ولید الحسن پر پھینک دیا ۔
    وہ لڑکی جو اس کے بھائی کی ہونے والی بیوی تھی، جس کے لیے وہ بھائیوں جیسی غیرت رکھتا تھا، اگر کوئی دوست مذاق میں بھی گُلانے کا نام لے دیتا یا اس کے حسن کا قصیدہ پڑھتا’ تو اس کا چہرہ لال ہو جاتا۔ جس نے پہلے مذاق پر ہی اپنے دوستوں کو سختی سے کہہ دیا تھا کہ آئندہ وہ گُلانے کا نام بھی اپنی زبان پر نہ لائیں ، وہ اسے اپنی بہن جیسی عزیز ہے ۔ گھر آ کر اس نے تپے ہوئے چہرے کے ساتھ گُلانے سے کئی بار کہا تھا کہ وہ پردہ کیا کرے ۔ اس کے کہنے کو وہ مذاق میں ٹال جاتی تھی مگر نور الحسن نے جانے کیا کہا تھا کہ وہ پردہ کرنے لگی تھی۔ اسے اچھا محسوس ہوا تھا ، اب اس کے دوستوں کی فضول نظریں اس لڑکی پر نہیں پڑیں گی جو اسے بہن جیسی عزیز تھی۔ جس کے لیے اس نے اپنے کزن فدا کو اتنا مارا تھا کہ وہ دس دن بستر سے نہ اٹھ سکا تھا ۔ اس کی غلطی یہ تھی کہ وہ انجان نمبروں سے کال کر کے گُلانے کو تنگ کرتا تھا ۔ اسے لگتا تھا کہ وہ پکڑا نہیں جائے گا مگر ولی اس تک پہنچ گیا تھا ۔اسے مارتے ہوئے ولی بھول گیا تھا کہ وہ اس کی خالہ کا بیٹا ہے ، اس سے چار سال بڑا ہے ۔ حرکت جو اس نے چھوٹی کی تھی۔
    مگر اس نے ، ولید الحسن نے خود کیا حرکت کی تھی؟وہ بہن جیسی تھی ، بہن نہ تھی ۔تبھی تو وہ بہک گیا تھا ۔
    کالج تک وہ شرارتی مگر صاف ستھرے خیالات کا مالک تھا۔ یونیورسٹی آتے ہی دانش اور مغیث کی معیت میں جو بیٹھنے لگا تو بہک گیا ۔ فیضان اسے سمجھاتا تھا ، نور الحسن اسے سمجھاتا تھا اور ڈانٹتا بھی تھا مگر اسے بھائی کی نصیحتیں اب بری لگنے لگی تھیں، فیضان کے سمجھانے پر وہ چڑنے لگا تھا ۔د ا نش کے پا س لیپ ٹاپ تھا ا و ر لیپ ٹا پ میں ا ک دنیا تھی ۔ وہ دنیا جو سمجھاتی کم اور بہکاتی زیادہ ہے۔
    اس دن نو را لحسن گھر پر نہیں تھا ۔ اس لیے ولی کو بھی عیاشی کا موقع ملا تھا۔پڑھائی کا تو بہانہ تھا۔ رات گئے وہ لیپ ٹاپ پر شیطانی تماشے دیکھتے رہے ۔ جب وہ رات کو اُٹھ کر گھر کی طرف جا رہا تھا تو دماغ بہکا بہکا سا تھا ۔ پراگندہ سوچوں نے اس کے دماغ کو جکڑا ہوا تھا ۔ گُلانے نے دروازہ کھولا تھا اور اس سے سوال جواب کرنے لگی۔ اس کے کندھے سے دوپٹا سرکا تھا جسے اس نے درست کر لیا تھا’ مگر اس کی شفاف گردن پر سیاہ تل اس کی نگاہ میں آ گیا تھا ۔
    وہ اس کے بھائی کی ہونے والی بیوی تھی، اس کے لیے بہن جیسی تھی۔
    خود کو ڈپٹتے ہوئے وہ جلد ی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔ اس نے اپنی پراگندہ سوچوں سے چھٹکارہ پانے کی کوشش کی ۔ ایسی وڈیوز دیکھنے کے بعد وہ بعد میں شرمندہ ہوتا تھا ، توبہ کرتا تھا ۔ مگر جب سے موبائل ہاتھ آیا ،وہ شرمندگی بھی بھول گیا اور توبہ بھی۔
    گُلانے اس کے کمرے میں آم لے کر آئی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اسے آم بہت پسند ہیں ، وہ یہ نہ جانتی تھی کہ اس وقت وہ کس قدر بہکا ہوا ہے ۔ اس کی ذہنی پراگندگی سے بے خبر وہ آم کی پلیٹ اس کے پاس رکھ کر پلٹنے لگی۔
    پتا نہیں کیا ہوا کہ ولی کو اس پل بھول گیا کہ وہ اس کی بہن جیسی ہے وہ اس کے بھائی کی ہونے والی بیوی ہے ۔گُلانے اس کو گھورتے ہوئے مڑی تھی اور پھر اس کی آنکھوں میں وحشت دیکھ کر دہشت زدہ ہو گئی ۔
    اس وقت وہ ولی نہ تھا ، اس وقت وہ شیطان کی کوئی صورت تھا ۔
    وہ لرز اُٹھی تھی۔
    ولی نے اسے کھینچ کر اپنے قریب کیا تھا ۔
    ”ولی ……”
    اس نے پھٹی آنکھوں بے یقینی کے عالم میں اس کانام لیا تھا اورولی نے اس کے منہ پہ ہاتھ رکھ کر مزید بولنے سے روک دیا تھا ۔
    اس کی آنکھوں میں شیطانیت تھی، اس کی چہرے پر مکروہ پن تھا ۔
    اس نے کبھی ولی کا یہ چہرہ نہ دیکھا تھا ۔ وہ دہل گئی تھی۔ اس نے اپنے بچاؤ کی کوشش کی ‘مگر اس کی گرفت مضبوط تھی۔
    ”اللہ … اللہ۔” ا س نے اپنے رب کو پکارا تھا ۔ کوئی نہ تھا جو اس کی مدد کو آتا۔
    اپنے آپ کو بچانے کی کوشش میں ایک انگلی ولی کی آنکھ میں بہت زور سے لگی تھی۔ وہ اسے چھوڑ کر پیچھے ہوا اور ایک ہاتھ سے اپنی آنکھ مسلنے لگا۔ اس کے دوسرے ہاتھ کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی’تو گُلانے خود کو چھڑا کر بھاگ گئی۔
    ولی ایک دم جیسے ہوش میں آیا تھا ۔اس کے اندر کے شیطان نے اس کے ا ند ر کے انسان کو مار دیا تھا ۔
    وہ اپنے ہاتھوں میں سر تھام کر بیٹھ گیا ۔ کیا ، کیا تھا اس نے … کیا کرنے جا رہا تھا وہ۔وہ آدھا گھنٹا یوں ہی بیٹھا رہا تھا ۔
    صبحہونے والی تھی۔ گُلانے امی کو بتائے گی ، بھائی کو بتائے گی اور پھر … پھر ۔
    اس سے آگے وہ سوچ نہ سکاتھا ۔ وہ تیزی سے اُٹھا اور یوں ہی اسی حال میں گھر سے نکل گیا ۔
    ٭…٭…٭
    ولی اس گھر سے نکل آیا تھا۔ اب کبھی وہ وہاں قدم نہیں رکھ سکتا تھا ۔ جو خطا اس سے ہوئی تھی وہ قابلِ معافی نہ تھی ۔ وہ خائن تھا، اس نے اپنے بھائی کی امانت میں خیانت کی تھی۔ وہ بھائی جس نے ایک باپ سے زیادہ اس کا خیال رکھا ۔ جس نے بن کہے اس کی ہر ذمے داری اُٹھائی ، جس کے فرائض اتنے نہ تھے جتنے اس نے نبھا ڈالے ۔ اس کی زندگی میں امی اور بھائی ہی تھے، ابو کی صورت تک اسے یاد نہ تھی۔وہ بہت چھوٹا تھا جب اُن کا انتقال ہو گیا ۔بھائی نے ہی باپ کا کردار ادا کیا ، اچھا برا سمجھایا، ضرورتیں پوری کیں ، فرمائشیں پوری کرنے کی کوشش کی ۔وہ امی اور بھائی سے بہت پیار کرتا تھا ۔
    وہ خطا وار تھا ۔ ابلیس کے کھاتے اپنا گناہ ڈال کر مطمئن نہیں ہو سکتا تھا ۔
    وہ دوبارہ گھر واپس نہ گیا ۔ وہ اس شہر ہی سے چلا گیا تھا، جیب میں چند ہزار تھے ۔ وہ اپنے ایک پرانے کلاس میٹ کے گھر گیا تھا ، کچھ عرصہ اس کے پاس رہا ۔ پھر احساس ہوا کہ یوں کسی پر بوجھ بن کر زندگی نہیں گزرنے والی ۔اس نے کئی چھوٹی موٹی ملازمتیں کیں اور ایک ایسے فلیٹ میں رہنے لگا تھا جہاں دوسرے شہروں سے روزی روٹی کی تلاش میں آئے لڑکے رہتے تھے ۔ ایک کمرے کا کرایہ چار لڑکے شیئر کرتے تھے۔ زمین پر سوتے ہوئے اسے اپنے گھر کے نرم گرم گدے یاد آتے ۔ بسوں پر دھکے کھاتے ہوئے وہ بائیک یاد آتی جو بھائی نے میٹرک کا اچھا رزلٹ آنے پر اسے گفٹ کی تھی۔ خود کھانا بناتے ہوئے امی کے ہاتھ کا ذائقہ یاد آتا ، گُلانے یاد آتی جو اس کی فرمائشیں پوری کرتی تھی۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • گلانے — صوفیہ بٹ (قسط نمبر ۳)

    گلانے — صوفیہ بٹ (قسط نمبر ۳)

    آخر ایک ماہ کی محنت کے بعدگُلانے کا مشن پایہ تکمیل کو پہنچا ۔ وہ بہت خوش تھی۔ نور الحسن کی سالگرہ کے دن وہ اسے اچھا تحفہ دے سکتی تھی۔ نور الحسن کو ن سا سالگرہ مناتا تھا ۔ جو بھی اسے وش کر تا ، وہ شکریہ ادا کر کے یہ دن بھول جاتا ۔در اصل ان کے گھرانے میں سالگرہ منانے کا رواج ہی نہ تھا ۔ اب چند سال سے ولی کیک لے آتا اور بارہ بجتے ہی ان کے کمرے میں پہنچ جاتا ۔ اس دن امی بھی جاگتی رہتیں، وہ تو شرما ہی جاتا ، اب اس عمر میں سالگرہ کیا منانا ۔ کیک بھی ولی کاٹتا ، امی اور اسے کھلاتا بھی وہی۔ ولی امی کی سالگرہ کا دن بھی یا د رکھتا اور خاص طور پر ان کے لیے پاکٹ منی سے تحفہ لے کر آتا ۔ نو ر الحسن کو لگتا تھا کہ ولی امی کا خیال رکھنے میں اس سے سبقت لے جاتا ہے ۔ اس کی ولی سے محبت اور بڑھنے لگتی۔
    اس سال جو نور الحسن کی سالگرہ کا دن آیا تو گُلانے اس کے لیے تحفہ لے کر آئی تھی۔ وہ صبح آفس جانے کے لیے تیار ہو رہا تھا جب وہ شرماتی جھجکتی ہاتھ میں ایک چاندی کے ورق میں لپٹا ہوا ڈبا لیے کمرے میں د ا خل ہو ئی ۔ اسے دیکھ کر نور الحسن کے چہرے پر مسکراہٹ در آئی ۔
    اب اسے دیکھنا اور بار بار دیکھنا اسے اچھا لگتا تھا ۔
    ”یہ آپ کے لیے ۔ ” نورالحسن سے بے جھجک ہر بات کہہ دینے والی اب شرمانے لگی تھی۔
    نور الحسن نے ڈبا تھا م لیا ۔ اسے یاد آیا کہ رات جب بارہ بجے کے بعد ولی ، امی اور وہ کیک لیے اسے وش کرنے آئے تھے تب بھی ولی کسی تحفے کا ذکر کر رہا تھا ۔
    ”لوگوں نے آپ کے لیے بڑے دل سے تحفہ بنایا تھا مگر دیا نہیں … شاید ہم سے چھپ کر دینے کا ارادہ ہے ۔ ”وہ شرماتی اور ولی کو گھورتی رہی تھی۔
    رات والا منظر یاد کر کے نور الحسن مسکراتے ہوئے پیکنگ کھولنے لگا۔
    ” تو یہ ہے وہ تحفہ جس کا ذکر ہو رہا تھا رات ۔”گُلانے نے مسکرا کر سر ہلایا۔
    نورالحسن ڈبا کھول چکا تھا ۔ اس میں ایک سفید سوئیٹر تھا ۔ اسے گُلانے کے ہاتھ میں اون سلائیاں یاد آئیں ۔ تو اس کے لیے کر رہی تھی وہ اتنی محنت ۔ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ گہری ہوگئی اور اس نے سوئیٹر کھول کر اپنے سامنے کیا ۔
    ”یہ کیا ؟”اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں ۔
    سفید سوئیٹر پر سر خ رنگ کا دل۔
    ”اچھا نہیں لگا آپ کو ؟” اسے چپ سا دیکھ کر گُلانے نے پوچھا ۔
    ”نن نہیں … اچھا ہے … شکریہ ۔” اس نے سوئیٹر کو تہ لگاتے ہوئے ہلکا سا مسکرا کر جواب دیا۔گُلانے کو محسوس ہوا کہ وہ اس کا دل رکھ رہا ہے لیکن وہم جان کر اس نے یہ خیال جھٹک دیا۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    دونوں چھوٹے بھائی آپس میں جھگڑ رہے تھے۔ امی کچن ہی سے ڈانٹ رہی تھیں ۔ نئی نویلی بھابی چائے کے کپ ٹرے میں سجاتے ہوئے مسکرا رہی تھی۔ اس سارے منظر سے بے نیاز خز یمہ داؤد وہاں بیٹھ کر بھی کہیں اور پہنچا ہوا تھا ۔وہ اس دور سے گزر رہا تھا جہاں ہر سوچ ہر خیال ایک بندے پر آ کر ٹھہر جاتا ۔
    نور نے اسے اس مقام پر لا کھڑا کیا تھا جہاں سے قدم واپس پلٹتے تھے نہ ہی آگے کی راہ ملتی تھی۔ اس نے جو کھیل چیلنج سمجھ کر شروع کیا تھا، وہ اسے روگی کر دینے والا تھا، یہ اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔اس نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایک لڑکی کا خیال اس کے حواسوں پر اتنا طاری ہو گا کہ اس کے علاوہ کچھ اور سوچنا اچھا ہی نہیں لگے گا ۔ اور وہ لڑکی تھی کہ اسے گھاس نہیں ڈالتی تھی ۔ اس کے لیے خزیمہ کی حیثیت وہی تھی جو کلاس کے باقی لڑکوں کی تھی۔ پھر وہ ہی کیوں اس کے لیے پاگل ہوا جا رہا ہے؟ کبھی کبھی جھنجھلا جاتا مگر خود کو پابندِ سلاسل پاتا تھا ۔
    ”چائے ۔” شرماتی ہوئی بھابی نے اس کے سامنے ٹرے کی تو وہ چونکا۔اور شکریہ کہہ کر مگ تھام لیا ۔ چھوٹے بھائی بھی بھابی کے سامنے شرافت کا پیکر بن کر بیٹھ گئے ۔حتیٰ کہ پکوڑا بھی ایک ایک ہی اٹھایا۔
    ”اب خزیمہ کے لیے اچھی سی لڑکی تم نے ڈھونڈنی ہے ۔” امی نے بڑی بہو پر ذمے داری ڈالی تو حنظلہ رہ نہ سکا ۔
    ”ہمارے لیے بھی۔” شرما کر نظریں جھکا کر جو اٹھائیں تو بس اٹھی رہ گئیں ۔سامنے ابو کھڑے تھے ۔
    ”خزیمہ کے لیے لڑکی میں ڈھونڈ چکا ہوں ۔”وہ اطمینان سے اعلان کرتے ہوئے صوفے پر بیٹھے جب کہ خزیمہ کا سارا اطمینان غارت ہوگیا۔
    ایک اور جنگ کا سامنا۔
    پہلے ہی جس محاذ پر لڑ رہا تھا وہ کم اعصاب شکن تو نہ تھا ۔نور تو اسے اپنی سرحد کی طرف بڑھنے نہیں دیتی تھی۔ ہانیہ بھی تو آج کل لفٹ نہیں کرو ارہی تھی۔ پہلے جب ڈھکے چھپے لفظوں میں اس نے نور کے لیے اپنے جذبات کا اظہار اس کے سامنے کیا تھا ، وہ مسکرا دی تھی اور آج کل وہ اس کے سامنے نور کا ذکر بھی کرتا تو وہ یوں ظاہر کرتی جیسے اس کی بات سنی ہی نہیں ، اگر سنی ہے تو سمجھی نہیں ۔
    اب اسے لگتا تھا کہ کھل کر اپنے جذبات کا اظہار کر نا پڑے گا اور و ہ بھی نور کے سامنے۔ اس نے سوچ لیا تھا کہ اسے کیا کرنا ہے ۔ اسے ممنوعہ علاقے کی جانب قدم بڑھانے تھے، چاہے پھر سز ا وار ہی ٹھہرتا۔
    ٭٭٭٭٭
    سردی آئی ، پھر شدید سردی ۔ نور الحسن نے کوٹ پہنا ، جیکٹ پہنی اور اپنا بونینزا کا سوئیٹر بھی ۔ مگر وہ سفید سوئیٹر ابھی تک نہ پہنا تھاجس کا ایک ایک خانہ گُلانے نے دل کے ساتھ اٹھایا ،جس کی ایک ایک سلائی میں اپنے جذبات پروئے ۔
    سردیاں یہاں ویسے بھی پردیس میں رہنے والے ماہی کی طرح آتی تھیں ۔ چند د ن منہ دکھایا پھر سال بھر کے لیے غائب۔ گُلانے منتظر ہی رہی کہ اس کے ہاتھ سے بنا سوئیٹر پہن کر باہر نکلے مگر وہ دن آ ہی نہیں رہا تھا ۔اس دن نورالحسن کے کسی دوست کا ولیمہ تھا ۔ گُلانے نے الماری سے خود ہی وہ سوئیٹر نکال کر اسے پیش کیا ۔
    ” آپ یہ پہن کر جائیں ۔”
    ”اس ڈریس کے ساتھ یہ سوٹ نہیں کرتا گُلانے ۔ ” اس نے سوئیٹر پر نظر ڈال کر نرمی سے کہا ۔
    ”پہن لیں ناں ۔ وائٹ اور بلیک تو سب کے ساتھ چل جاتا ہے ۔” وہ بضد تھی۔
    ” یہ تو پرس اور جوتی کے معاملے میں عورتوں کی کفایت شعاری ہے ۔” اس نے ہنس کر جواب دیا۔
    اس نے ہمیشہ دیکھا تھا کہ امی جوتا اور پرس بلیک، براؤن یا وائٹ لیتیں تھیں کہ یہ کلرز ہر رنگ کے جوڑے کے ساتھ چل جاتے ہیں ۔ میچنگ کی عیاشی پہلے وہ افورڈ نہیں کر سکتی تھیں اور اب عادت نہیں رہی تھی۔
    ”آپ پہن کر تو دیکھیں ، اچھا لگے گا ۔” اس نے کمزور سا اصرار کیا۔
    ”گُلانے ! یہ میں پھر کسی دن پہن لوں گا ۔” اس نے ٹالنا چاہا۔
    ”نہیں آج پہنیں ۔”اس نے ایک بار پھر ضد کی۔
    ”کیا بچوں والی باتیں کرتی ہو گُلانے ۔ یہ سوئیٹر جس پر سرخ رنگ کا دل بنا رکھا ہے تم نے ، یہ میں پہنوں گا ؟اپنا مذاق بنوانا ہے میں نے ؟حلقہ ٔاحباب میں سب کا ماننا ہے کہ نور الحسن جیسا ویل ڈریسڈ کوئی نہیں ۔ اور تم چاہتی ہو کہ یہ … یہ پہنوں میں ۔ ” اس نے سوئیٹر گُلانے کی آنکھوں کے سامنے لہرایا ۔
    ” اتنی چیپ اور چھچھوری ڈریسنگ تو میں نے کبھی ٹین ایج میں نہیں کی، آج اس عمر میں اس مقام پر کروں گا ۔”
    اس کا لہجہ اونچا نہیں تھا مگر الفاظ بھاری تھے ۔خاص کر گُلانے کے نازک دل کے لیے بہت بھاری تھے۔اس کی آنکھوں میں آنسو آنے لگے تھے ۔ وہ تیزی کے ساتھ کمرے سے نکل آئی ۔حالانکہ کمرے میں آکر بہت روئی پھر بھی آنسو تھے کہ دن بھر بار بار امڈ تے رہے ۔ اسی شام نورالحسن نے معذرت بھی کی تھی کہ وہ اسے ہرٹ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا مگر اس کے اصرار پر اس کے منہ سے ایسے کلمات نکل گئے ۔ اس نے یہ بھی کہا کہ وہ اس کے جذبات کی قدر کرتا ہے ۔
    وہ ہلکا سا مسکرائی تھی۔ اسے نورالحسن کی مار بھی قبول تھی یہ تو پھر چند جملے ہی تھے ۔
    اس دن اس نے محسوس کیا تھا کہ اندرسے وہ ابھی تک دیہاتیہے ۔ ماں نے تو اپنے چاہ بیٹی پر پورے بھی نہ کیے تھے کہ قبر میں جا سوئی ۔ باپ پڑھا لکھا مگر سادہ سا بندہ، اپنی جیب کے مطابق بیٹی کو اچھا پہنانے کی کوشش کرتا مگرفیشن کے مطابق چلنے کا اسے بھی ڈھنگ نہ تھا ۔ پھر پوجی کے ساتھ رہ کر اور گاؤں رہ کر تو اسے بھول ہی گیا کہ پسند ، انتخاب اور معیار کیا ہے ۔ جو گل زمان سال میں دو سوٹ لا دیتا،پوجی اس پر کڑھائیاں کر کے ، دیہاتی انداز میں سی کر اسے پہنا دیتیں۔ یہاں آئی تو امی بھی سادہ خاتون تھیں۔ پہلے تو سلائی کرتی تھیں پھر بھی فیشن کا کچھ پتا چلتا تھا ۔ اب وہ بھی نو ر الحسن نے سختی سے منع کر دیا ۔ گُلانے کو کبھی بھی ایسا ماحول ملا ہی نہیں جہاں وہ بھی فیشن ، ٹرینڈ ، ان آؤٹ جیسی باتیں کر سکے۔ نورالحسن اور ولی کے پہناوے اسے بھاتے تھے مگر کبھی خیال ہی نہیں آیا کہ اسے بھی اپنی پسند نا پسند ، اپنی چوائس میں بہتری لانی چاہیے ۔ اس نے تو بہت محبت کے ساتھ سفید سوئیٹر بنا کر اس کے بائیں کندھے سے نیچے دل کے مقام پر سرخ رنگ کا دل کاڑھا تھا ۔وہاں پوجی کے گاؤں میں اس نے گل خانم کو دیکھ تھا جس نے اپنے منگیتر کے لیے رومال پر دل کاڑھا تھا ۔ اس کا منگیتر بہت خوش ہوا تھا اور ہر وقت وہ رومال اپنے ساتھ رکھتا تھا ۔ اسے لگا تھا کہ نو ر الحسن بھی بہت خوش ہو گا مگر…
    اس کا دل بہت دکھا تھا مگر ساتھ ساتھ یہ احساس بھی ہوگیا تھا کہ نور الحسن جیسے پڑھے لکھے ، کامیاب مرد کے ساتھ چلنے کے لیے اسے اپنے آپ کو تبدیل کرنا پڑے گا ۔اپنے آپ کونو ر ا لحسن کے معیا ر تک لانا ہو گا ۔ ایک ایسی گُلانے بننا ہوگا جسے نو ر ا لحسن اپنے ساتھ لے کر چلے تو جوڑی خراب نہ لگے ۔ اس نے نورالحسن سے محبت کی ہے تو اس کے رنگ میں تو رنگنا ہو گا ۔
    ٭…٭…٭
    نورالحسن نے اپنا شلوار قمیص نکالنے کے لیے الماری کھولی تو سامنے پڑے تہ شدہ سفید سوئیٹر پہ نظر پڑی۔ اس نے آہستہ سے اس پر ہاتھ پھیرا ۔ اسے گُلانے کا روتا ہوا چہرہ یا د آیا تواپنے کل کے رویے پر پشیمان ہوا ۔
    اس نے سوئیٹر کھول کر اپنی نگاہوں کے سامنے کیا ۔
    سفید سوئیٹر کے بائیں کندھے پہ سرخ رنگ کا دل … کتنے دل سے بنایا ہو گا اس نے ۔لیکن جب کل اس نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا تو بنا کچھ کہے کمرے سے چلی گئی۔ اور پھر جانے کتنے آنسو بہائے ہوں گے کہ جب وہ گھر آیا تو اس کی روتی ہوئی سی صورت پر نظر پڑی ۔ وہ نادم ہوا تھا ۔ شادی میں بھی اس کا دھیان اس کی طرف ہی رہا تھا ۔ اس نے پہلی بار گُلانے کے ساتھ اس لہجے میں بات کی تھی۔ شام میںجب اس کی سوجی ہوئی آنکھیں دیکھیں تو پشیمان ہوتا ہوا اس کے پاس چلا آیا ۔اور اس سے معذرت کی ۔ وہ اس کی معذرت پر شرمندہ سی ہو گئی ۔
    ” میں خفا نہیں ہوں۔ ” اس نے اپنی بھیگی آنکھیں صاف کرتے ہوئے کہا تھا ۔
    ”تو پھر رو کیوں رہی ہو ؟”نور الحسن خود اپنے کیے پر شرمندہ تھا۔
    ”نہیں … رو تو نہیں رہی ۔” اس کے صاف مکرنے پہ وہ مسکرا دیا ۔
    ”میں نے تمہیں اتنا کچھ کہا ،تمہمیں بر ا نہیں لگا ۔”اس نے نفی میں سر ہلایا ۔
    ”میں آپ سے خفا ہو ہی نہیں سکتی۔”اس کے لہجے میں بیک وقت محبت، خلوص اور تعظیم چھلک رہی تھی۔
    ”کیوں ؟”اس کے چہرے کی سرخی میں اضافہ ہوا ۔اور وہ نظریں جھکائے کھڑی رہی ۔
    ”کیوں ؟” نور الحسن نے ذرا سا جھک کر دھیرے سے پھر پوچھا ۔
    ”کیوں کہ …” جملہ ادھورا چھوڑ کر وہ اپنے دوپٹے کے پلو سے کھیلنے لگی تھی۔
    ”اب یہ مت کہنا … کیوں کہ آپ میرے مالک ہیں ۔” اس نے سیدھا ہوتے ہوئے انگلی اٹھا کر وارننگ دی۔وہ ہنس دی تھی ۔ بھیگی آنکھوں کے ساتھ ہنستا ہوا چہرہ۔ نو ر الحسن بے خود سا ہو کر اسے دیکھتا چلا گیا ۔گُلانے نے اس کا مبہوت ہونا محسوس کیا تو شرما کر وہاں سے جانے لگی ۔
    ”تم نے بتایا نہیں کہ تم مجھ سے خفا کیوں نہیں ہو سکتیں ؟” اس نے اسے گزرنے کا رستہ نہ دیا اور سوال دہرایا۔
    ”کیوں کہ … کیوں کہ آپ مجھے ۔ ۔ ۔ اچھے لگتے ہیں ۔” نظریں جھکا کر ہچکچا تے ہوئے روح افزا اقرار کیا گیاتھا ۔
    سفید سوئیٹر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے نور الحسن مسکرا دیا ۔
    وہ لکھاری نہ تھا ۔
    لکھاری ہوتا تو گُلانے پہ لکھتا۔
    گُلانے جو وفا تھی، حیا تھی، محبت تھی۔
    ٭…٭…٭
    صحن میں اِدھر سے اُدھر چکر لگاتے نور الحسن نے ایک بار پھر گھڑی دیکھی اورتشویش محسوس کی ۔
    ولی ابھی تک گھر نہیں آیا تھا ۔ اور یہ کوئی آج کی بات نہیں تھی۔ رات دیر سے گھر آنا اس کا معمول بنتا جا رہا تھا ۔امی نے ایک دو دفعہ شکایت بھی کی تھی اور وہ ولی کو ہلکی سی سر زنش کر کے بھول گیا تھا مگر جب ایک کو لیگ نے دبے دبے لفظوں میں ولی کی صحبت کا ذکر کیا تو وہ متفکر ہوا۔اور آج جلد گھر آگیا تھا ۔
    کرسی پر بیٹھی گُلانے اپنی توجہ کتاب کی طرف مبذول کرنے کی پوری کوشش کرتی مگر نگاہیں تھیں کہ بار بار نورالحسن کی طرف اٹھتیں ۔
    اس شخص کے ہوتے ہوئے بھلا توجہ کہیں اور مرکوز کرنا ممکن کب تھا ۔
    جب ولی گھر آیا تو دروازہ نور الحسن نے کھولا۔ ولی اسے دیکھ کر کچھ چوکنا سا ہوا۔نظریں جھکا کر سلام کیا اور آگے بڑھنے لگا۔
    ”کہاں سے آرہے ہو ؟” سلام کا جواب دیتے ہوئے نورالحسن نے استفسا ر کیا ۔ ولی نے دانتوں تلے زبان دبائی ۔
    ”مار ا گیا !دوستوں کے ساتھ تھا بھائی ۔”بڑبڑا کر وہ نو ر ا لحسن کی طر ف مڑ ا۔
    ”کون سے دوست ؟” نو ر ا لحسن سنجیدگی کے ساتھ سوال کر رہا تھا ۔
    ” وہی جو میرے ساتھ ہوتے ہیں ۔”اس نے ٹال مٹول سے کام لیا۔
    ”کون تمہارے ساتھ ہوتا ہے ؟”یہ بھائی آج فوجداری پر کیوں اتر آئے ؟ اس نے سوچا اور بھائی کو نام بتا ئے ۔
    ” فیضان، دانش اور مغیث ۔”
    ”فیضان تو چلو تمہارا بچپن کا دوست ہے ، مجھے پسند بھی ہے ۔ مگر یہ دانش اور مغیث مجھے پسند نہیں ولی ۔”نور الحسن نے برملا اپنی ناپسندیدیگی کا اظہار کیا۔
    ”بھائی … وہ میرے یونی فرینڈز ہیں ۔”
    ”جانتا ہوں ،مگر میں ان کے ساتھ تمہارا اٹھنا بیٹھنا پسند نہیں کرتا ۔”
    ”بھائی دوست ہیں ۔” اس نے احتجاج کیا ۔
    ”انسان کی کمپنی بہت معنی رکھتی ہے ولی۔ اسکول، کالج میں مجھے تمہاری طرف سے کبھی فکر ہوئی تھی نہ ہی کبھی شکایت ملی تھی کیوں کہ تمہارے ساتھ اچھے دوست تھے۔”
    ”اب شکایت ملی ہے کیا ؟” وہ چونکا تھا ۔
    ”مجھے تمہاری فکر ہے ولی ۔” اس کے سوال کا جواب دیے بغیر نورالحسن نے فکرمند انداز میں کہا ۔
    ” بھائی بھی ناں! ایک امی کم ہیں کیا فکر کرنے کے لیے ۔ ” وہ سر ہلاتا ہوااندر آیا ۔ گُلانے کتاب کھولے کرسی پر بیٹھی تھی۔ اس وقت امی کی نیند ڈسٹرب ہونے کے خیال سے وہ باہر ہی بیٹھ کر پڑھا کرتی تھی۔
    ”تم نے شکا یت لگائی میری بھائی سے ؟” وہ اونچی آواز میں بولتے بولتے دھیما پڑا کیوں کہ نور الحسن بھی دروازہ بند کر کے پیچھے آ رہا تھا ۔ وہ اپنے کمرے میں چلا گیا تواس نے پھر سوال دہرایا ۔
    ”میں کیوں لگاؤں گی تمہاری شکایت ۔ وہ تو بس تمہارے آنے جانے کی روٹین کچھ دنوں سے پوچھ رہے تھے ، وہ بتا دی میں نے ۔” اس نے سادگی کے ساتھ جواب دیا ۔
    ”یہ ناں … بھائی کے سامنے اپنے نمبر بنانے کے لیے میری رپورٹیں ذرا کم دیا کرو ۔ ” کرسی پر بیٹھ کر جوگرز کے تسمے کھولتے ہوئے اس نے گھور کر گُلانے سے کہا۔
    ”ان کے سامنے مجھے نمبر بنانے کی ضرورت کیا ، وہ تو ویسے ہی میرے گرویدہ ہیں ۔ ” وہ اسے چڑانے کے لیے مسکراتے ہوئے بولی ۔
    ”ہوں ! گرویدہ ہیں ۔ میں نے بتا دیا ناں بھائی کو کہ دن بھر ، رات بھر جو فون بجتا رہتا ہے ، وہ کس کے لیے آتا ہے تو پھر دیکھنا ۔ ”
    گُلانے اپنی جگہ ساکت ہوگئی ۔ولی نے پہلی بار اس لہجے اس سے بات کی تھی۔ ایک دوسرے کو چڑانے کا کام دونوں طرف سے جاری رہتا تھا مگر آج اس وقت وہ چڑا نہیں رہا تھا بلکہ اسے لگا کہ دھمکا رہا ہے ۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • نیلی جھیل — شفیق الرحمٰن

    نیلی جھیل — شفیق الرحمٰن

    یہ ان دنوں کا ذکر ہے جب رُوفی کے دانت پر بجلی گری۔ رُوفی (جن کو بعد میں شیطان کا نام ملا)بجلی سے بہت ڈرتے تھے۔ جب بادل آتے تو وہ بستروں میں چھپتے پھرتے۔ سب کہتے کہ اگر بجلی کو گرنا ہے تو ضرور گرے گی۔ رُوفی جواب دیتے بے شک گرے، لیکن اس طرح کم از کم اسے مجھ کو ڈھونڈنا تو پڑے گا۔ ہوا یوں کہ بارش ابھی ابھی تھمی تھی۔ رُوفی صوفے کے پیچھے سے نکل کر دبے پاؤں برآمدے تک گئے۔ یہ دیکھنے کہ بادل چھنٹ گئے یا نہیں۔ اتنے میں زور سے بجلی کوندی اور ایک عظیم الشان دھماکا ہوا۔ جب وہ ہوش میں آئے تو ان کا ایک دانت ہل رہا تھا۔ انہوں نے آئینہ دیکھا تو دانت پر بجلی گری۔ وہ دو دن تک بستر پر پڑے رہے۔ لیکن اس طرح ہم اپنے آنے والے سہ ماہی امتحان سے بچ سکے۔ اس کم بخت امتحان نے ہماری نیند اُڑا رکھی تھی۔ ماسٹر صاحب نے ہمارے ساتھ خاص رعایت کی اور ازراہِ کرم امتحان چند دنوں کے لیے ملتوی کر دیا۔
    ہمارے ماسٹر صاحب بڑے خون خوار قسم کے آدمی تھے۔ یوں تو وہ بیچلر آف آرٹس تھے، لیکن ہمیں بعد میں پتا چلا کہ شادی شدہ ہیں اور کئی بچوں کے باپ ہیں۔ وہ اُن حضرات میں سے تھے، جو آپ سے سوال پوچھیں گے، آپ کی طرف سے خود جواب دیں گے اور پھر آپ کو ڈانٹیں گے بھی کہ جواب غلط تھا۔ ان کے نوکر کی زبانی معلوم ہوا کہ انہیں نیند میں بولنے اور چلنے پھرنے کی بیماری تھی اور وہ سوتے ہوئے پیدل چلا کرتے تھے، حالاںکہ ان کے پاس ایک تانگہ تھا اور ایک سائیکل۔ انہیں کھیل کود کا شوق بھی تھا، لیکن فقط اتنا کہ ریفری بن کر خوش ہو لیا کرتے۔ ایک مرتبہ وہ فٹ بال کے میچ میں ریفری تھے کہ یک لخت جوش میں آگئے اور گیند لے کر خود گول کر دیا۔ رُوفی کے ابا ہمیشہ ان سے کہا کرتے تھے کہ ماسٹر صاحب آپ اس علاقے میں فٹ بال کے نمبر دو کھلاڑی ہیں۔ ایک روز ماسٹر صاحب نے ان سے پوچھا کہ نمبر ایک کھلاڑی کون ہے؟ وہ بولے، پتہ نہیں۔
    ساری کلاس کا امتحان ہو چکا تھا۔ صرف میں اور رُوفی رہتے تھے۔ نچلی جماعتوں میں رُوفی کے چھوٹے بھائی ننھے میاں باقی تھے، کیوںکہ اس بجلی کے گرنے کے سلسلے میں وہ بھی بطور تیمار دار شریک تھے۔
    میں اور روفی مجرموں کی طرح کمرے میں داخل ہوئے۔ ماسٹر صاحب نے ہمیں بتایا کہ وہ ہمارا فقط زبانی امتحان لیں گے اور بالکل آسان سے سوال پوچھیں گے۔ گھبرانے یا ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔
    انہوں نے رُوفی سے پوچھا۔ ”تمہیں کس نے بنایا؟”
    روفی ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے بولے: ”جناب اتناتو مجھے خدا نے بنایا تھا۔ اس کے بعد میں خود بڑھا ہوں۔”
    ”اس وقت تم ایک چھوٹے سے لڑکے ہو، جب بڑے ہو گے تو کیا بنو گے؟”
    ”میں انسان بنوں گا۔”
    ”تم نے ایسی عجیب آنکھیں کہاں سے پائیں؟”
    ”جی… یہ چہرے کے ساتھ ہی آئی تھیں۔”
    اب ماسٹر صاحب مجھ سے مخاطب ہوئے… ”بتاؤ ہاتھی کہاں پائے جاتے ہیں؟”
    ”جناب ہاتھی اتنے بڑے ہوتے ہیں کہ ان کے کھوئے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔”
    ”میرا مطلب ہے ہاتھی ملتے کہاں ہیں؟”
    ”جہاں اور ہاتھی ہوں… وہاں۔”
    ”کیا یہ سچ ہے کہ ہاتھیوں کا حافظہ بے حد تیز ہوتا ہے اور کبھی نہیں بھولتے۔”
    ”جی ہاتھیوں کے پاس رکھنے کے لیے باتیں ہی کون سی ہوتی ہوں گی۔”
    ”اچھا!… لومڑی کی کھال کا کیا فائدہ ہے؟”
    ”لومڑی کو گرم رکھتی ہے۔”

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    ماسٹر صاحب کا چہرہ رُوفی کی طرف پھر گیا۔ ”اگر ایک شخص نے ایک اُلو پندرہ روپے تین آنے ایک پائی میں خریدا اور سات روپے دس آنے ساڑھے گیارہ پائی میں بیچ دیا تو اسے کتنا نقصان ہوا؟”
    ”جناب میں نے آج تک اُلو اتنا مہنگا بکتا نہیں دیکھا۔ ” میں نے ڈرتے ڈرتے کہا۔
    ”اور تم نے؟”
    ”میں نے کبھی اُلو دیکھا ہی نہیں۔” رُوفی بولے۔
    ”غضب خدا کا۔ تو آج تک تم نے اُلو نہیں دیکھا۔ (چلا کر) میری طرف دیکھو۔ نیچے کیا دیکھ رہے ہو۔ اچھا میں سوال پھر دوہراتا ہوں۔”
    ماسٹر صاحب نے سوال دوہرایا۔ ”بتاؤ کتنا نقصان ہوا؟”
    ”جی روپوں میں نقصان ہوا اور آنے پائیوں میں نفع۔” رُوفی بولے۔
    ”اچھا، آج تم نے جو سب سے عجیب واقعہ دیکھا ہو بیان کرو۔”
    ”جناب، آج میں نے چند آدمیوں کو ایک گھوڑا بناتے دیکھا۔”
    ”لکڑی کا گھوڑا؟”
    ”جی نہیں اصلی گھوڑا، جیتا جاگتا گھوڑا۔ لیکن جب میں نے دیکھا تو وہ تقریباً اسے مکمل کر چکے تھے اور اس کے کھروں میں میخیں ٹھونک رہے تھے۔”
    ”ثابت کرو کہ قلم تلوار سے اہم ہے۔”
    ”جناب۔ تلوار سے چیک پر دستخط نہیں کیے جا سکتے۔”
    ماسٹر صاحب کچھ کچھ خفا ہو چلے تھے۔ انہوں نے میری طرف دیکھا اور بولے: ”آسٹریلیا کہاں ہے؟”
    ”جی جغرافیے کے پچاسویں صفحے پر۔”
    ”جغرافیے میں نہیں، ویسے کہاں ہے؟”
    ”جناب آسٹریلیا کرئہ ارض پر ہے۔”
    ”تربوز کے فوائد بیان کرو۔”
    ”تربوز ایک ایسا پھل ہے جسے کھا بھی سکتے ہیں… پی بھی سکتے ہیں اور اس سے ہاتھ منہ بھی دھو سکتا ہیں۔”
    ”اور ناریل؟”
    ”جی۔ ناریل پر ٹکٹ لگا کر اور پتا لکھ کر بطور پارسل کے بھیج سکتے ہیں۔”
    ”اچھا حروفِ اضافت کیا ہوتے ہیں؟”
    ”جناب حروفِ اضافت وہ ہوتے ہیں جو اضافہ کرتے ہیں اور جنہیں پڑھ کر کچھ اور حروف یاد آجاتے ہیں۔”
    ”مثلا۔”
    ”مثلاً گھڑی سازیوں معلوم ہوتا ہے جیسے زمانہ ساز ہو۔ پالتو، فالتو معلوم ہوتا ہے، مجرد، مجرب اور طبلہ نواز، بندہ نواز معلوم ہوتا ہے اور۔”
    ”بس بس۔” ماسٹر صاحب بالکل خفا ہو گئے۔
    اب ننھے میاں کو بلایا گیا۔
    ”ننھے گنتی گن کر دکھاؤ۔” ماسٹر صاحب بولے۔
    ”ایک، دو، تین، چار، پانچ، چھ، سات، آٹھ، نو، دس، غلام، بیگم اور بادشاہ۔” ننھے نے فاتحانہ انداز سے کہا۔
    اس میں غریب ننھے کا بھی قصور نہیں تھا۔ اُن دنوں گھر میں تاش خوب ہوتی تھی۔
    شام کو ماسٹر صاحب ہمارے ہاں آئے۔ رُوفی کے ابا سے دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ سوتے وقت ہمیں سنایا گیا کہ ہماری تعلیمی حالت بہت کمزور ہے۔ چنانچہ ماسٹر صاحب ہمیں گھر پر پڑھانے آیا کریں گے۔ اس خبر نے ہمیں اُداس کر دیا۔
    اگلے روز اتوار تھا۔ علی الصبح ہم نے مچھلیاں پکڑنے کا سامان لیا اور جھیل کا رُخ کیا۔ اس ٹیوشن کی نئی مصیبت نے ہمیں غمگین کر دیا۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ جو رہی سہی آزادی میسر تھی وہ بھی چھن گئی۔
    جھیل کے شفاف اور نیلے پانی پر ہلکی ہلکی دُھند چھائی ہوئی تھی۔ دُور بادلوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہوا میں تیر رہے تھے۔ کناروں پر پھول دار بیلیں اور پودے جھکے ہوئے تھے اور بے شمار تتلیاں اُڑ رہی تھیں۔ جھیل کے کنارے دُور دُور تک چلے گئے تھے۔ دوسرا کنارہ بہت دُور تھا اور کبھی کبھار ہی دکھائی دیتا۔ جب بارش تھمی ہو یا دن بالکل صاف ہو تو ہر بار کسی نئی شکل میں دکھائی دیتا۔ کبھی دُور دُور تک محل اور قلعے دکھائی دیتے۔ کبھی گھنے اور سرسبز باغ، اور کبھی ریت کے ٹیلے اور نخلستان نظر آتے۔
    ہم ہر اتوار جھیل کے کنارے گزارتے۔ بڑے اہتمام سے مچھلیاں پکڑنے کا پروگرام بنتا۔ مچھلیاں بھوننے کا سامان بھی ساتھ ہوتا۔ ہمارے مچھلیاں پکڑنے کے طریقے بھی صحیح تھے، لیکن ہم نے کبھی وہاں ایک بھی مچھلی نہیں پکڑی۔ انجینئر صاحب اور ڈاکٹر صاحب کا خیال تھا کہ اس جھیل میں مچھلیاں بالکل نہیں ہیں۔ جھیل کے پانی میں کوئی خرابی تھی۔ معدنیات کے کچھ ایسے اجزاء شامل تھے جن میں مچھلیاں زندہ نہیں رہ سکتی تھیں، لیکن ہمیں اس پر بالکل یقین نہ آیا۔ ایسی خوش نما جھیل میں تو مچھلیاں دُور دُور سے آکر رہیں گی۔
    ہم اُداس ہوتے یا ہمیں دھمکایا جاتا تو ہم سیدھے جھیل کا رخ کرتے۔ بنسیاں پانی میں ڈال کر گھاس اور پھولوں میں بیٹھ جاتے۔ بادشاہوں، پریوں اور بحری ڈاکوؤں کی کہانیاں پڑھتے۔ ذرا سی دیر میں ہم بھول جاتے کہ اس خوب صورت گوشے کے علاوہ دنیا کے اور حصے بھی ہیں جہاں سکول بھی ہے، سکول کا کام ہے، ماسٹر صاحب کی ڈانٹ ہے، گھر والوں کی گھرکیاں ہیں۔
    ہم دوسرے کنارے کی باتیں کرتے جسے دیکھنے کا ہمیں بے حد شوق تھا۔ ہم قیاس آرائیاں کرتے کہ وہاں کیا کچھ ہو گا۔ شاید وہاں کسی اور قسم کی دنیا ہو گی۔ کس طرح کے لوگ ہوں گے۔ ہم نے کئی مرتبہ ارادہ کیا کہ کہیں سے ایک کشتی لے کر چپکے سے نکل جائیں اور جھیل کو عبور کر کے دوسری طرف جا پہنچیں، لیکن ہمیں کشتی نہ مل سکی۔ ہمیں تیرنا نہیں آتا تھا۔ کنارے کنارے چل کر دوسری طرف جانا ناممکن تھا، کیوںکہ راستے میں کئی رکاوٹیں تھیں۔
    جب ہم چاندنی رات میں جھیل کے کنارے بیٹھ کر ایک دوسرے کو پریوں کی کہانیاں سناتے تو جیسے سارے کردار ہماری آنکھوں کے سامنے چلنے پھرنے لگتے۔ چاندنی کچھ یوں بدل جاتی اور دوسرا کنارا ایسا پُر سحر خطہ معلوم ہونے لگتا کہ ہم سچ مچ پریوں کے ملک میں پہنچ جاتے۔
    دن میں جب سمندری لٹیروں کی کہانیاں پڑھی جاتیں تو ہمارا لباس بھی لٹیروں جیسا ہوتا۔ سر پر سیاہ رومال باندھے جاتے۔ چھوٹی چھوٹی کشتیاں بنا کر جھیل میں چھوڑی جاتیں۔ ہوائی بندوقوں اور پٹاخوں سے جھوٹ موٹ کی جنگ ہوتی۔ ایک فرضی جزیرے پر قبضہ کیا جاتا۔ وہاں سے خزانہ برآمد ہوتا۔ جب تیز دھوپ نکلتی، بھنورے گانے لگتے، ہوا رک جاتی اور طرح طرح کی خوشبوئیں فضا میں رچ جاتیں تو ہم آنکھیں بند کیے غنودگی میں رنگ برنگے خواب دیکھتے رہتے۔
    اگر وہ جھیل وہاں نہ ہوتی تو نہ جانے ہمارے دن کیوںکر گزرتے۔ کیوں کہ گھر میں ہر ایک ہم دونوں کا دشمن تھا اور ڈانٹنے پر تُلا ہوا تھا۔ان کا رویہ یہ تھا کہ اگر کچھ کیا ہے تو کیوں کیا ہے اور اگر نہیں کیا تو کیوں نہیں کیا۔ ان دنوں سب کے دل میں یہ خیال بیٹھ گیاتھا کہ ہم دونوں نہایت نالائق ہیں اور بالکل نہیں پڑھتے۔ ابا کا تبادلہ حسب معمول آبادی سے دُور کسی ویرانے میں ہوا اور مجھے رُوفی کے ہاں بھیج دیا گیا۔ گھر سے ہر خط میں تاکید آتی کہ لڑکے کی پڑھائی کا خاص خیال رکھا جائے۔ چنانچہ خاص سے بھی زیادہ خیال رکھا جاتا۔ گیہوں کے ساتھ گھن باقاعدہ پستا اور ننھے میاں کی بھی خوب تواضع ہوتی۔ ننھے میاں سونے سے پہلے بڑے خشوع و خضوع سے دُعا مانگتے کہ یا رب العالمین ہمارے کنبے والوں کو نیک ہدایت دے اور انہیں بتا کہ چھوٹے بچوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا جاتا ہے، کیوںکہ اب تک یہ لوگ اس سے بے بہرہ ہیں۔
    گھر میں کئی نوکر تھے جن میں سب سے سینئر رستم تھا اور ادھیڑ عمر کا تھا۔ اس کا تکیہ کلام ”رکھی ہے” تھا۔ کوئی پوچھتا۔ ”میاں رستم میری عینک کہاں گئی؟” جواب ملتا ”جی فرش پر رکھی ہے۔” میرے کاغذات یہاں تھے کہاں گئے؟” جی ردی کی ٹوکری میں رکھے ہیں۔”… ”میرا بٹوہ کہاں گیا؟” ”جی حوض کی تہہ میں رکھا ہے، ننھے میاں پھینک آئے ہیں۔”
    اسے ریڈیو کا بے حد شوق تھا۔ جب دیکھو ریڈیو سے کان لگائے سن رہا ہے۔ ایک مرتبہ کھانا کھاتے وقت کسی نے رکابی کی طرف اشارہ کر کے پوچھا۔ ”یہ کیا چیز ہے؟” رستم فوراً بولا۔” بہاگ کا خیال ہے، بلمپت لے میں۔” ویسے اس وقت ریڈیو پر پکا گانا بھی ہو رہا تھا۔
    ہمیں باورچی نے بتایا کہ صبح اُٹھ کر رستم دعا مانگتا ہے… کہ اے خدا اس وقت دن کے سوا چھے بجا چاہتے ہیں۔ اب آپ اُردو میں دعا سنیے۔ یہ دعا دوپہر کو ایک بجے اور رات کو نو بجے پھر مانگی جائے گی۔ اس دعا کی خاص خاص سرخیاں یہ ہیں… (پھر دعا مانگ چکنے کے بعد) کل پھر میں اسی وقت دعا مانگوں گا… اچھا، اب اجازت دیجیے… آداب عرض۔
    اور بعض اوقات تو رستم دعا کے بعد خدا کو موسم کا حال بھی بتایا کرتا۔
    باورچی بے حد موٹا تھا۔ اتنا کہ تصویر کھینچتے وقت اس کی کئی تصویریں لینی پڑی تھیں تاکہ وہ مکمل آجائے۔ وہ ہر وقت ہنستا رہتا تھا۔ اکثر اس سے پوچھا جاتا کہ ہنستے کیوں ہو؟ جواب ملتا۔ ”جناب شکل ہی ایسی ہے۔”
    اس کی گفت گو سن کر یوں معلوم ہوتا تھا جیسے ریڈیو پر دیہاتی پروگرام ہو رہا ہو۔
    بعض اوقات وہ جان بوجھ کر بہرہ بن جاتا۔ ہم آوازیں دیتے رہتے اور وہ بالکل نہیں سنتا۔ایک مرتبہ روفی چلاتے رہے اور وہ ساتھ کے کمرے میں چپ چاپ سنتا رہا۔ ہم کھڑکی سے اسے دیکھ رہے تھے۔ اس سے جب پوچھا گیا کہ اتنی آوازیں اسے کیوں سنائی نہیں دیں؟ تو بولا۔ میں نے آپ کی پہلی آوازیں نہیں سنیں، صرف چوتھی آواز سنی تھی۔
    ایک مرتبہ ہمارا گھوڑا کھو گیا۔ سب نے باری باری ڈھونڈا، کسی کو نہ ملا۔ باورچی گیا اور گھوڑے کو پکڑ لایا۔ پوچھا کہ یہ تمہیں کس طرح مل گیا؟ بولا۔ میں نے سب سے پہلے یہ سوچا کہ اگر میں گھوڑا ہوتا اور کھوئے جانے کی نیت ہوتی تو کہاں جاتا… بس میں سیدھا اسی جگہ گیا اور گھوڑا وہیں کھڑا تھا۔
    گھر میں بہت سے پالتو جانور اور پرندے تھے۔ ایک طوطا تھا جو رُوفی کے ابا کے دفتر میں رہتا تھا۔ اسے چند فقرے یاد تھے۔ جب کوئی آتا تو ‘ہلو” کہتا۔ پھر کہتا۔ ”دروازہ بند کر دیجئے۔” وہ اندر آجاتا تو اسے رُوفی کے ابا کے متعلق بتاتا کہ باہر گئے ہوئے ہیں یا گھر میں ہیں۔ جاتے وقت پھر کہتا ”دروازہ بند کر دیجئے۔”

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • وقت کی ریت پہ — فوزیہ یاسمین

    وقت کی ریت پہ — فوزیہ یاسمین

    اگر کوئی دیکھ سکے تو گھٹا ٹوپ اندھیری رات کے بھی کئی روپ ہوتے ہیں جیسے اس وقت رات کے ساڑھے گیارہ بج رہے ہیں۔ ابھی کچھ دیر پہلے امی گھر کے سارے دروازے چیک کرکے سورہ الملک میرے اوپر پھونک کر اور جلدی سوجانے کی ہدایت کرکے اپنے کمرے میں گئی ہیں حالاں کہ وہ جانتی ہیں کہ مجھے ابھی کم از کم ڈیڑھ گھنٹا اور جاگنا ہے لیکن وہ ماں ہیں۔ میں چاہے ساری رات بیٹھ کر گزار دوں۔ انہیں تب تک نیند نہیں آئے گی جب تک وہ مجھے جلد سو جانے کی ہدایت نہیں کردیں گی۔
    چوکی دار کی سیٹی کی دور سے آتی اور دور تک جاتی تیز آواز ہمارے گھر کے سامنے سے گزرتی ہوئی نہ جانے کیوں مدہم پڑجاتی ہے۔ شاید اس لیے کہ میرے کمرے کی جلتی ہوئی روشنی باہر سڑک پر بھی نظر آتی ہے۔
    ابھی اس کا پہلا چکر ہے، اس کا مطلب ہے ابھی ساڑھے گیارہ بجے ہیں۔ دوسرا چکر ٹھیک بارہ بجے لگے گا۔ اب سے کچھ دیر بعد دیوار پار کے پڑوسیوں کا الارم پوری قوت سے بجے گا اور پانچ منٹ بعد، پندرہ منٹ بعد اور کبھی کبھی بیس منٹ بعد تھک کر خود ہی چپ ہوجائے گا۔ یہ سب ہر رات کو ہوتا ہے اور اس قدر باقاعدگی سے ہوتا ہے کہ مجھے کبھی گھڑی پاس رکھنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی۔
    آج تو چاند کی چودھویں ہے۔ پورے چاند کی روشن کرنیں میرے کمرے کی کھڑکی سے لپٹ لپٹ جاتی ہیں اور پوچھتی ہیں کہ بتا وہ کون سا بندھن ہے جو اتنی رات گئے تجھے پلک بھی نہیں جھپکنے دیتا۔
    اور اب ٹھیک ایک بجے یا اس سے کچھ آگے پیچھے میرے کمرے کے ساتھ لائونج کے دروازے پر دستک ہوگی، میں اٹھ کر دروازہ کھولوں گی۔
    ”تم سے کہا نہیں تھا میرا انتظار مت کرنا۔” وہ کہے گا۔
    ”اور میں نے تم سے کہا تھا رات کو جلدی آجانا۔” میں جواب دوں گی۔
    ”میری مرضی میں جب آئوں یا جائوں، اور آئندہ تم اتنی رات گئے میرے انتظار میں نہیں جاگوگی۔”
    ”تو میری بھی مرضی، میں جب جاگوں جب سوئوں۔”
    یہ وہ ڈائیلاگ تھے جو پچھلے کئی سالوں سے روزانہ میرے اور اس کے درمیان چل رہے تھے، بلا کے ڈھیٹ جو تھے ہم دونوں۔ روز وہ باہر جاتے ہوئے دھونس جماتا۔
    ”میرے انتظار میں مت جاگنا، میں باہر گیٹ کی بیل بجالوں گا۔”
    لیکن مزے کی بات تھی نا کہ ہر روز وہ باہر کی بیل بجانے کی بجائے گیٹ پھلانگ کر اندر آتا اور لائونج کے دروازے پر آہستہ سے دستک دیتا، اس لیے کہ اسے یقین ہوتا تھا اس کی دھمکی کے باوجود اس کی بہن، اس کی ماں جائی اس کے انتظار میں اب تک جاگ رہی ہوگی۔
    سیاہ چمکیلے بالوں اور ہنستی ہوئی آنکھوں والا میرا یہ بھائی مجھ سے صرف ڈھائی برس بڑا تھا اس لیے ہم نے کبھی آپ جناب کے تکلفات نہیں پالے۔ ہم دونوں اپنے اپنے والدین کے اکلوتے اکلوتے تھے۔ وہ اکلوتا بیٹا اور میں اکلوتی بیٹی۔
    ہمارے والدین خالص والدین تھے جن کے سامنے ہم شیطان تھے اور غیر موجودگی میں فرشتے۔ ہمارے والد روایت پسند تھے۔ سونے کا نوالہ کھلا کر شیر کی آنکھ سے دیکھنے والے بہت عام قسم کے ماں باپ تھے جن کی بے حد خاص قسم کی اولاد تھی۔
    وہ بہت ذہین ہے، لوگ کہتے ہیں۔ ”وہ بہت اسمارٹ ہے، یہ بھی لوگ کہتے ہیں۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    لو گ تو یہ بھی بتاتے ہیں کہ وہ بچپن ہی سے بے حد پرُکشش اور دلوں کو موہ لینے والا تھا۔ بھئی ہوتا ہوگا، اب میں نے تو اس کا بچپن دیکھا نہیں اور کانوں سنی باتوں کا تو ہم یقین ہی نہیں کرتے۔
    وہ بے حد ضدی، اکھڑ مزاج اور لڑاکا ہے۔ یہ میں کہتی ہوں کہ دن میں پانچ وقت لڑائی جس طرح ہم پر فرض تھی۔ بہت پرانے دن نہیں تھے جب میں اور وہ ریت کے گھروندے بناکر کھیلتے اور خوب صورت رنگ برنگی تتلیوں کے پیچھے بھاگتے تھے۔ بچپن کے دن بھی تتلیوں کے رنگ کی طرح ہوتے ہیں۔ دن پر لگا کر اڑ جاتے ہیں اور ہاتھوں پر نشان رہ جاتے ہیں۔
    جب میں اسکول میں داخل ہوئی تو وہ مجھ سے صرف دو سال آگے تھا اور جب میں اسکول سے فارغ ہوئی تو تعلیمی میدان میں وہ مجھ سے چار سال آگے نکل چکا تھا۔ اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ میں بہت زیادہ نالائق ہوں۔ اس کا صرف یہ مطلب ہے کہ وہ بہت زیادہ لائق تھا۔ نہ جانے کیا کرتا تھا کہ سال اس کے آگے مہینے بن جاتے اور وہ چند مہینوں میں کئی سال پھلانگ کر آگے نکل جاتا۔
    اس نے جب میٹرک میں پوزیشن لی تو ابو نے اس کی خوب پیٹھ ٹھونکی اور میں جل بھن گئی لیکن جب کالج میں داخلے کی باری آئی تو وہ روتی صورت بناکر میرے پاس آیا۔ ابو اسے ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے جب کہ اس کا رجحان انجینئر نگ کی طرف تھا۔
    ”مینا میری سفارش کردو نا۔”
    ”مینا ابو سے ذرا بائیک کی چابی تو لے لینا۔”
    وہ جو ساری دنیا کو دلائل کے آگے جھکاتا پھرتا ابو کے سامنے نہ جانے کیوں گو نگا بن جاتا۔ بہرحال اس نے پری انجینئرنگ میں داخلہ لے لیا اور بے حد مصروف ہوگیا۔
    پروین شاکر نے ایک جگہ لکھا تھا۔
    ”میں ماں ہوں اور ہجر میرا مقدر ہے۔”
    شاید اسے معلوم نہیں تھا کہ ہجر مائوں ہی کا نہیں بہنوں کا بھی مقدر ہوا کرتا ہے۔ سردیوں کے دنوں میں رضائی میں گھس کر ایک دوسرے کو کہانیاں سنانے والے بہن بھائی جب عمر کی سیڑھیاں چڑھتے ہیں تو بھائی کو باہر اسٹریٹ لائٹس کی روشنی میں سڑکوں پر مٹرگشت کرتے دوست اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں اور اب اسے لوڈشیڈنگ کے زمانے میں بہن کے ساتھ بیٹھ کر موم بتی سے ستارے بنانا بور لگتا ہے۔ سو اسے تو شاید محسوس ہوا ہو یا نہیں لیکن ہمارے درمیان گزر جانے والا وقت اب کم سے کم تر ہوتا جا رہا تھا۔ ویسے بھی جب سے اسے کالج کی ہوا لگی تھی وہ کافی انتہا پسند سا ہونے لگا تھا۔ ہنسنے پر آتا تو ہنسے ہی جاتا اور غصے میں ہوتا تو بغیر سوچے سمجھے ہاتھ میں پکڑی چیز دھم سے دے مارتا۔ اس لیے اب اس سے لڑتے وقت اس کے چہرے سے زیادہ اس کے ہاتھوں پر دھیان رکھنا پڑتا۔ امی سے بلاوجہ پیسے اڑانا، بغیر سائلنسر کے موٹر سائیکل چلانا اور رات کو دیر سے گھر آنا جیسے کسی آٹو میٹک نظام کے تحت خودبہ خود شروع ہوگیا۔
    میں اس زمانے میں کافی بے وقوف ہوا کرتی تھی۔
    ”وہ ایسا کیوں ہوگیا؟” میں سوچتی تھی مگر سمجھ نہیں پاتی تھی۔ میں تو یہ بھی نہیں سمجھ پاتی تھی کہ کبھی کبھی جب وہ موڈ میں آکر میرے ساتھ لان میں ٹینس یا بیڈ منٹن کھیلتا ہے، تو اس اچھے خاصے کھلاڑی کی بال ہمیشہ ساتھ والے انکل رضوی کے گھر ہی کیوں جاکر گرتی ہے اور اس وقت ہی کیوں گرتی ہے جب نیلی آنکھوں والی کیوٹ سی ٹینا لان میں بیٹھی رٹا لگا رہی ہوتی اور جب وہ بال اٹھا کر دیوار کے اوپر سے مجھے پکڑاتی تو اس کے ہونٹوں پر دبی دبی مسکراہٹ کیوں ہوتی۔
    ”راشد رات کو کتنے بجے گھر آتا ہے؟”
    میں ابو کو چائے دینے اسٹڈی روم میں گئی تو انہوں نے پوچھا اور میں جو سارا دن اس کی کم زوریوں کی تلاش میں رہتی تھی اور اس کی جھوٹی سچی شکایتیں امی سے لگاتے نہیں تھکتی تھی، ایک سچی شکایت پر گڑبڑاگئی۔
    ”جلدی آجاتا ہے ابو۔” میں نے جھوٹ بول کر مارے شرمندگی کے نظر نہیں اٹھائی۔ راشد اس وقت گھر پر نہیں تھا، اگر ہوتا تو شاید میں کبھی جھوٹ نہ بولتی۔
    ”بھائی بہت عجیب شے بنائی ہے اللہ میاں نے۔ نزدیک ہوتے ہیں تو تنگ کرتے ہیں اور دور ہوتے ہیں تو زیادہ تنگ کرتے ہیں۔” میں اسٹڈی روم سے نکلتے ہوئے بہت چڑ کر سوچ رہی تھی۔
    ”تم رات کو اتنی دیر تک کہاں ہوتے ہو؟” صبح ناشتے کی ٹیبل پر ابو نے اس سے پوچھ ہی لیا لیکن میں چوں کہ رات کو ہی اسے خبردار کرچکی تھی اس لیے اب وہ مکمل طور پر تیار بیٹھا تھا۔
    ”جلدی آجاتا ہوں ابو! وہ وسیم ہے نا میرا دوست، اس کے گھر پر اسٹڈی کرتے ہیں اس لیے دیر ہوجاتی ہے۔” سکرپٹ خاصا جان دار تھا۔
    ”رات کو دیر تک پڑھتے ہو؟ ہوں…” ابو نے عینک کے پیچھے سے گھورا۔
    ”تب ہی تمہارے پروموشن ایگزامز میں صرف چالیس فیصد مارکس آئے ہیں۔”
    اور وہ جیسے اپنے سارے دلائل سمیت اوندھے منہ گر پڑا۔ ابو بہ ظاہر خبر نامے اور اخبار کی سرخیوں میں گم خاموش ضرور رہتے تھے لیکن بے خبر نہیں۔ اس بات کا اندازہ ہمیں پہلی دفعہ ہوا۔ ابو مزید ایک بھی لفظ کہے بغیر ٹیبل سے اٹھ گئے لیکن ان کی تنبیہ کو راشد اپنی تمام تر حسیات کے ساتھ ریسیو کرچکا تھا۔
    اسے اکثر ہی یہ شکوہ رہتا کہ اس کے رزلٹ پر اتنی سختی سے نظر رکھنے والے پاپا میرے گزارے لائق نمبروں کو بھی اس قدر Appreciateکیوں کرتے تھے؟ حالاں کہ وجہ صرف یہ تھی کہ بیٹی اور بیٹے کی تعلیم اور تربیت میں اتنا ہی فرق ہوتا ہے جتنا ضرورت اور لگژری میں۔ بیٹا گھر کے آنگن کے بیچوں بیچ اگنے والا درخت ہوتا ہے جس نے اگلے موسم میں پھل بھی دینا ہے اور چھائوں بھی اس لیے اس کے پھلنے پھولنے کی فکر بھی زیادہ ہوتی ہے جب کہ بیٹی تو گھر کی کیاریوں میں لگی پنیری کے مانند ہوتی ہے، لگی تو ٹھیک، نہیں لگی تو نہیں لگی اس لیے میرے پچاس فیصد نمبروں پر بھی میری پیٹھ ٹھونکنے والے میرے ماں باپ اس کے ستر فیصد نمبروں پر بھی مطمئن نہ ہوتے۔
    بہر حال اس دن تو ناشتے سے رات کے کھانے تک راشد صاحب کتابوں کے ڈھیر میں غرق کمرے سے برآمد ہی نہیں ہوئے۔ میں مارے محبت کے اس کے لیے دودھ کا بڑا گلاس لے کر گئی۔
    ”ابو ٹھیک کہتے ہیں مینا۔” میرے مذاق اڑانے پر اس نے سنجیدگی سے کہا۔
    ”میں نے واقعی اپنا بہت سا وقت ضائع کردیا ہے لیکن اب انہیں مجھ سے کوئی شکایت نہیں ہوگی اور بہ راہ مہربانی یہ کلو دودھ تم اپنے خالی دماغ میں انڈیلو، میں نے دودھ پی کر سونا نہیں کافی پی کر جاگنا ہے۔”
    ”تم اس قابل ہی نہیں کہ تمہارا خیال کیا جائے۔” میں مارے غصے کے وہاں سے چلی آئی اور یہ آدھی رات تک جاگ کر کافی پینے کا ہی کرشمہ تھا کہ اسے انجینئرنگ کالج میں آرام سے داخلہ مل گیا

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • مس ظرافت کا باورچی خانہ — حرا قریشی

    مس ظرافت کا باورچی خانہ — حرا قریشی

    ”باادب! باملاحظہ! ہوشیار…مس ظرافت کچن کے ہموار پختہ فرش پر قدم دکھ چکی ہیں۔ لہٰذا کوئی بڑا یابچہ آس پاس پھٹکنے نہ پائے ورنہ جنابِ من کپ نہیں تو پلیٹ،پلیٹ نہیں تو ٹرے،ٹرے نہیں تو گلاس پر اپنا غصہ نکال دیں گی۔ سو اپنی اور کچن میں موجود اشیا کی سلامتی کے لیے، دیکھیں مگر دور سے۔ قریب آنے پر نتائج کے ذمہ دار آپ خود ہوں گے۔”
    دراصل جب مس ظرافت کچن کی عدالت میں تمام تراکیب کے شواہد کے ساتھ ایک دفعہ حاضر ہو جائیں تو اکیلے ہی مقدمہ لڑنا، یعنی”کھانا پکانا”پسند کرتی ہیں۔ اس عدالت میں جج کا خاص الخاص کردار ان کے ابا حضور ادا کرتے ہیں۔ اس لیے اولین ترجیح پسند یا ناپسند کے حوالے سے ان کی رائے کو دی جاتی ہے۔ جہاں تک غذائیت کی بات ہے تو ہم آپ سے پوچھتے ہیں …ارے بھائی!یہ ہوتی کیا ہے؟ کس چڑیا کا نام ہے؟ کبھی غذائیت سے بھرپور کچھ بنایا ہو تو پتا ہو نا۔ ازل سے نکمے اور بے کار لوگ۔ مس ظرافت جو صحت کے معاملے میں اچھی خاصی کنجوس ہیں، بھلا انہوں نے کیا کسی کی صحت کا خیال رکھنا ہے؟ نہ کھائیں گے نہ صحت بنے گی۔ لہٰذا پیسوں کی بھی بچت اور وقت کی بھی۔ پکا ولایتی ٹوٹکا ہے، بے شک زبیدہ آپا سے پوچھ لیں۔ بہرحال آزمانے سے گریز کیجیے۔
    مہمان رحمتِ خداوند یا وبال جان؟ تو جناب مہمانانِ خاص کو دیکھتے ہی کیا خوب سے خوب تر زاویے آپ کو دیکھنے کو ملیں گے۔ جناب من مس ظرافت کے رخ روشن پر۔ جناب کو ہوتی ہے اپنی اسائنمنٹ کی فکر، کھانا بے شک اچھا نہ بنے اسائنمنٹ عمدہ ہوگی۔”Lesson Plan” کی فکر جس میں سبق کے ہر نقطے پر نظر، خواہ دیگچی میں مسالے کی مقدار پوری ہو یا نہ ہو، شی ڈونٹ کئیر خواہ دم پر لگی ہنڈیا اپنے انجام تک پہنچ جائے۔ اس پر ستم بالائے ستم مہمانان خانہ بھی محترمہ کے ہاتھ کا ذائقہ چکھے بغیر نہیں جاتے۔ محترمہ کے ابا حضور جو ہیں بہت ہی مہمان نواز، ان کی جانے بلا سے۔ سو کر نہ کر تیرا درد سر۔ پھر وہ مہمانانِ خانہ خوش نصیب ہی ہوں گے نا جو مس ظرافت کی امورِ خانہ داری کے فن،ذوق اور سلیقے کی داد دیے بغیر نہیں جائیں گے۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    ترکیب ملاحظہ کیجئے:
    اجزا آپ کے سامنے ہیں، کوفتہ ہرا مسالہ، وہ ڈش جو جلد از جلد پک جائے،وقت بچائے اپنے لیے، قوم کے لیے۔
    قیمہ: حسب ذائقہ،حسب مقدار اتنا اور اس طرح پکائیں کہ مہمانانِ خانہ کے علاوہ کوئی اور کھانے کی ہمت نہ کر سکے۔
    ہری مرچ: کم از کم اتنی مقدار میں تو ہو کہ فارغ بیٹھ کر کھانے والے ایک پلیٹ کے بعد دوسری کی فرمائش نہ کر سکیں۔
    پیاز: جتنی کم ہو اتنا اچھا کہ یہ آنکھوں میں پانی لانے کا سبب بنتی ہے۔
    لونگ: اتنی ضرور رکھیں کہ ہر پلیٹ میں پانچ سے چھے اپنی موجودگی کا احساس دلاتی رہیں کہ کھانے والے کے دل میں ان کی بہ دولت صبر کا مادہ پیدا ہوگا اور وہ کم سے کم کھائے گا۔
    کالی مرچ: اس کے ساتھ بھی ہوبہ ہو لونگ والا برتاوؑ کریں۔
    دہی: کیا کرنا ڈال کر،چھڈو جی ۔
    ادرک: پیسنے کی زحمت بالکل نہ کریں۔موٹی موٹی بڑے سائز میں کاٹ لیں تاکہ نظر تو آئے اور پتا بھی چلے کہ ادرک ڈالی گئی ہے۔ وہ شے ہی کیا جو اپنے وجود کا احساس نہ دلائے۔
    ہرا دھنیا: ہرے دھنیے کی پتیاں ہر پلیٹ کے سائڈ پر رکھیں تاکہ ڈش سمیت پلیٹ کی قدروقیمت بھی بڑھ جائے۔
    پودینہ: کیا ضرورت ہے ڈالنے کی؟ ہاں مہک کی خاطرسالن سے بھرے ڈونگے پر رکھ دیں۔
    لہسن: اتنا ڈالیں کہ جگہ جگہ اپنی باس چھوڑ جائے۔
    آدھا لیموں: ارے رے رے ! لیموں کاٹیں مت، پورا ہی رکھ دیں۔ کاٹ دیا تو ختم ہو جائے گا نا۔ سمجھا کریں بھئی۔
    ترکیب:
    کبھی بھی پہلے سے گوشت کا قیمہ نکال کر، یکساں حجم کے کوفتے بنا کر نہ رکھیں بلکہ مہمانوں کی آمد پر ہی سب کام کریں تاکہ صبروبرداشت اور حوصلے کا امتحان لیا جا سکے کہ جناب کتنی دیر تک رک سکتے ہیں۔ کتنا برداشت کرنے کی صلاحیت ہے۔ ارے بھئی! کوئی تو بہانہ ہو مہمانوں کو بھگانے کاکہ کوفتے بن ہی نہیں رہے۔ ناچاہتے ہوئے بھی تیل گرم ہو جائے تو پوری ایک عدد پیاز کے چار حصے اور لہسن ڈال دیں تاکہ تیل کی سطح پربہ خوبی تیرتی دکھائی دیں۔ مزید پالک کو موٹا موٹا کاٹ کر اجزا میں دی گئی ہدایات کے مطابق ہرا دھنیا،پودینہ،ادرک اور لہسن کے ساتھ پین میں ڈالیں۔ ساتھ ہی ہری مرچ بھی شامل کر لیں۔ پیسنے یا گرائنڈ کرنے کی زحمت نہ کریں۔ ارے بھئی تھک جائیں گے نا !ڈیپ فرائنگ پین میں تیل،زیرا،لونگ اور کالی مرچ ڈالیں پھر بنے بنائے بڑے، چھوٹے، آڑھے ترچھے کوفتے شامل کرکے ڈیڑھ پیالی پانی اور نمک ڈال کر ڈھک دیں۔ اگر نظر بچا سکیں تو مقدار بڑھا دیں تاکہ یہ کوفتے کھانے والا اگلی بار دوبارہ کوفتے کھانے کا خیال کبھی دل میں نہ لا سکے۔ کچھ دیر، بس کچھ ہی دیر بعد اس میں ہرے مسالے کا آمیزہ شامل کریں۔ اس کے بعد دہی ڈالنے کی ضرورت نہیں۔ آخر میں لیموں دور دور سے دکھا کر ڈش پیش کریں۔
    لیجیے!مزے دار گرما گرم لذیذ کوفتے نوش کیجیے جو شاید ہی کبھی آپ نے زندگی میں کھائے ہوں، اور داد دیجیے۔
    داد دو اس کی کہ ہم نے کوفتہ ہرا مسالا بنایا کیسا!
    نوٹ:
    یہ ڈش کھانے کے بعد مہمان جو تواضع کریں گے آپ کی، وہ بتانے کی ضرورت تو ہے ہی نہیں۔ سلیقہ تو سمجھ لیں کہ ختم ہے مس ظرافت پر۔ برتن دھوئیں سنک میں، تو برتن تو نہیں ہاں پیاز کے چھلکے پانی سے لبالب بھرے سنک میں مچھلی کی مانند تیرتے دکھائی دیں گے۔ ادرک کے کئی ننھے منے چھلکے سنک کی دیواروں کی سطح سے پرجوش گلے ملتے دکھائی دیں گے، گویا ایلفی لگا دی گئی ہو۔ لہسن کا بھی ایک آدھ چھلکا نظر آ ہی جائے گا۔ چاولوں کے چند ایک دانے سنک کی کسی نہ کسی کونے میں جائے پناہ تلاش کرنے پر مجبور ہوں گے۔ جو چیز استعمال کے بعد جہاں رکھی ہے وہیں، آپ کو دکھائی دے گی۔ مجال ہے جو اپنی درست جگہ پر چلی جائے۔ کوڑے کا ڈھیر کچن کے ایک پوشیدہ کونے میں لازماً جمع رہے گا کہ کہیں ڈسٹ بن جلد نہ بھر جائے۔ پھر اس سے بڑھ کر سلیقہ مندی کا ثبوت کیا ہو گا بھلا؟
    مس ظرافت ہفتے میں ایک دن کچن کی اچھی طرح صفائی کرتی ہیں کہ مہینے کے باقی دن پریشانی نہ اٹھانی پڑے اور امن و امان کی فضا قائم رہے۔ سرف کا استعمال انتہائی اشد ضرورت کے تحت کریں۔ بھئی ابا حضور کی جیب کا خیال رکھنا بھی تو ضروری ہے نا۔
    ناشتہ اور وہ بھی سویرے سویرے؟ نا جی! جناب سکون سے مس ظرافت اٹھتی ہیں۔ نماز پڑھنے کے بعد پھر سو جاتی ہیں۔ ڈیوٹی سے لیٹ ہی ہو جائیں گے نا تھوڑاتو کیا ہو گیا؟نیند بھی تو پوری کرنی ہے نا…برکت کی برکت…ثواب کا ثواب!
    جب اٹھ جاتے ہیں ہم شہنشاہوں کی طرح تو رمضان بابا کے دکان کا دہی، چنے زندہ باد اور ریاض کلچہ شاپ کے تو کلچوں کی بات ہی کیا ہے۔ تو جناب من دہی، چنا اور نان منگوائیں اور خوب مزے لے لے کر کھائیں نہ پکانے کا جھنجھٹ’نہ تھکاوٹ کا اندیشہ۔ اطمینان ہی اطمینان،سکون ہی سکون۔
    نوٹ:
    جو افراد پہلے سے رزق میں تنگ دستی کا شکار ہیں وہ ان تجاویز پر سال میں ایک دفعہ عمل کریں ورنہ۔آپ ڈر کیوں گئے؟ کچھ بھی نہیں ہو گا! روز پکنک ہو،کسی کزن کی شادی ہو،سالگرہ کی تقریب ہو، کھانا ہمیشہ باہر ہی کھائیں۔ چاہے چھپ کر جانا پڑے، کیا فرق پڑتا ہے کبھی کبھی عیش بھی کر لینی چاہیے۔
    حاصل ہونے والے نتائج کی صورت میں ابا حضور کا مولا بخش ڈنڈا اور بھاری بھرکم جوتیاں چھپانا ہر گز ہر گز نہ بھولیے۔
    گر ہو آپ کچن میں، موسم ہو بارش کا تو گھی یا تیل کی بچت کیجیے۔ پکوڑے اورسموسے گھی کی بہ جائے بارش کے صاف شفاف پانی میں شڑاپ شڑاپ تلیں۔ پکوڑیخستہ اورکرکرے کرارے بنیں گے۔ بنانے کے بعد پھر اکیلے ہی کھائیں۔ محنت تو جنابِ من مس ظرافت میں کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ آپ کچن میں ہوں اور آپ کو جگہ جگہ مسالے کے ڈبے، آٹا اور گھی بکھرا نہ دکھائی دے تو مان لیجیے گا کہ مس ظرافت آج کچن میں آئیں ہی نہیں۔ کنواری دوشیزائیں شادی سے پہلے ان سوالات کے جوابات ساسو ماں کو ضرور پڑھوائیں تاکہ وہ آپ کی قابلیت کے جوہر سے بروقت آگاہ ہو سکیں۔
    جاتے جاتے مس ظرافت کے آزمودہ مشوروں پر بھی نظرِثانی کرتے چلیں۔
    نمبر1:
    گھی اور آٹے کا بربادہ کریں مگر سب سے چھپا کر۔
    نمبر:2
    چھوٹے بچوں کو چینی کا لالچ دیں تاکہ وہ آپ کی شکایات پر دھیان نہ دے سکیں۔
    نمبر3 :
    نمک کی جگہ چینی اور چینی کی جگہ سرخ پسی ہوئی مرچ کا بہ کثرت استعمال کریں تاکہ چائے بنانے سے ہمیشہ کے لئے چھٹکارا نصیب ہو۔
    نمبر4 :
    ہنڈیا میں نمک ہمیشہ تیز یا پھر ڈالنا ہی بھول جائیں، ہنڈیا کبھی کبھی پکانا پڑے گی اور کھانا جو باہر سے آ جائے تو مزے ہی مزے۔
    اتنا کافی ہے یا؟
    نوٹ: مس ظرافت کے باورچی خانے کو سلیقہ مند خواتین بالکل نہ پڑھیں۔
    زندہ باشی،کامراں باشی!

    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • گلانے — صوفیہ بٹ (قسط نمبر ۲)

    گلانے — صوفیہ بٹ (قسط نمبر ۲)

    ولی کو کھانا وقت پر ملے نہ ملے ، کرکٹ وقت پر ضرور کھیلنی ہے ۔ پڑھنے کو وقت ملے نہ ملے ، کرکٹ کے لیے وقت ضرور نکل آتا تھا ۔ ا می کو بہت چڑ تھی اس کے اس عشق سے ۔ دھوپ اور گرمی میں کھیل کھیل کر رنگ کالا ہو گیا تھا مگر وہ کون سا لڑکی تھا جو پرواہ کرتا ۔ ان دنوں جو ضلع کی تمام تحصیلو ں کے بیچ مقا بلہ ہو رہا تھا تو و ہ کر کٹ کے علا و ہ باقی سب کچھ بھو لا ہو ا تھا ۔
    ”کرکٹ تیری ماں نے امتحان نہیں دینے تیرے۔ ” ا می کا بس نہ چلتا تھا اس کے میچوں کو آگ لگا دیں۔
    ”ماں تو میری آپ ہی ہیں یور میجسٹی ۔ ” وہ جھک کر امی کے قدموں کو چھوتا۔
    ”کرکٹ تو میرا پیشن ہے پیشن ۔ ”
    ”آنے دو نورالحسن کو … بتاتی ہوں صبح سے کتاب کھول کر نہیں دیکھا۔ ”امی نے اسے دھمکاتے ہوئے کہا۔
    ”مقدس چیزوں کو میں ہاتھ سے چھو کر ہی شکتی حاصل کر لیتا ہوں ۔ ” اس نے ایک بار پھر بات مذاق میں اڑائی۔
    وہ نو ر الحسن تھوڑی تھا جو سر جھکا کر ماں کی بات سنتا اور سر جھکا کر جواب دیتا ۔ ا می سوچتی رہتیں کہ یہ نمونہ جانے کس پر چلاگیا ہے۔ یہ تو ایک ماں کی سوچ تھی جو پل بھر میں بدل جاتی ۔ کچھ بھی تھا ، بیٹیوں جیسا سکھ بھی اسی بیٹے نے دیا تھا ۔ کتنا خیال رکھتا تھا وہ ان کا ۔ گھر کے کام کاج میں ان کا ہاتھ بٹاتا ، باہر کے سب کام نپٹاتا ،رات ان کے پیر دبا کر سوتا ۔
    ”بس یہ کرکٹ میں وقت ضائع نہ کیا کرے ۔”وہ نو ر ا لحسن سے شکایت لگاتیں اور وہ مسکراتا رہتا ۔
    وہ بھی چھٹی کا دن تھا ۔ پہلے تو دیر سے جاگا پھر ناشتا کیے بغیر ہی بیٹ ہاتھ میں لیے گھر سے نکل گیا ۔ شدت کی گرمی میں وہ کرکٹ کھیل کر جو واپس لوٹا تو افریقی مردانہ حسن کا شاہ کار لگ رہا تھا ۔ امی نے اسے دیکھتے ہی حکم صادر کیا۔
    ”میرے پاس مت بیٹھنا ۔ پہلے نہا کر آؤ ۔”
    ”امی ! ماں کو تو ہر روپ میں اپنا بچہ پیارا لگتا ہے ۔”وہ فلسفیانہ انداز میں بولا۔
    ”لگتا ہو گا ۔مگر میرے قریب نہا کر آنا ۔” امی نے ہاتھ سے اسے پرے کیا ۔
    ”امی … آپ منہ سے کہیں یا نہ کہیں ، ہیں آپ میری سوتیلی ماں ۔” گلو گیر انداز ڈائیلاگ ادا کر کے باہر نکلا ۔اپنے کمرے میں جاتے ہوئے اس کو گُلانے آئرن اسٹینڈ کے سامنے کیا نظر آئی ، اس نے موقع غنیمت جانا اور اپنی شرٹ اس کے سامنے لا پھینکی ۔
    ”یہ بھی آئرن کر دو۔”
    ” ام آپ کو آپ کا نوکر نظر آتا ؟” گُلانے نے اس کی شرٹ پاس پڑی کرسی پر پھینکی ۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    ”گُلانے تم مجھے ” تم ”ہی کہہ لیا کرو ۔ یہ آپ کچھ مس فٹ ہی لگتا ہے تمہارے جملوں میں ۔” وہ اس کا مذاق اڑانے کا کوئی موقع ضائع نہ کرتا تھا۔
    ”ام تو آپ کی عزت کرتا ، اب آپ کو عزت راس نئیں …” جان بوجھ کر مسکراتے ہوئے اس نے جملہ ادھورا چھو ڑا ۔
    ”زیادہ باتیں نہ بناؤ … یہ شرٹ استری کر کے دو ۔”وہ یک دم سنجیدگی سے رعب جھاڑتے ہوئے بولا۔
    ”ام نے کوئی تمارا ٹیکہ توڑی اٹایا اے ۔”اس نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا۔
    ”یہ بھی تو استری کر رہی ہو ناں ۔” ولی نے آئرن اسٹینڈ پر بچھے امی کے دوپٹے کی طرف اشارہ کیا ۔
    ”یہ تو امارا پوجی کا سوٹ اے۔” گُلانے نے عقیدت سے دوپٹے کو دیکھا ۔
    ولی کو سخت مایوسی ہوئی ۔ گھر میں چھوٹا ہونے کی وجہ سے اس نے آج تک جو خدمات دی تھیں ، وہ اسے گُلانے کی صورت وصول ہوتی نظر آئیں ۔وہ اس سے چھوٹی تھی۔ اب کوئی تو تھا جس پر وہ رعب ڈال سکتا تھا ، کوئی تو تھا جس سے وہ کام کروا سکتا تھا مگر گُلانے نے اسے مایوس ہی کیا تھا ۔ وہ اس کے رعب میں آتی تھی نہ ہی اس کا کوئی کام کرتی تھی۔ اس کو لگتا تھا کہ یہ سارا امی کا قصور ہے جنہوں نے پہلے دن اسے ماسی بنا کر اس لڑکی کے سامنے پیش کر دیا ، اسی حساب سے اب وہ اسے اہمیت دیتی تھی۔
    ایسا کیا کیا جائے جو یہ لڑکی اسے باس ماننے پر مجبور ہو جائے ۔ابھی وہ لائحہ عمل تیار کر ہی رہاتھا جب اس کی نظر آئرن اسٹینڈ پر پڑی ۔
    ”یہ …یہ کیا …میری شرٹ تم سے استری ہوتی نہیں ۔ بھائی کا کلف لگا سوٹ استری ہو رہا ہے ۔ خوب…”اس نے طنزیہ انداز میں اسے کہا۔
    ”ہاں تو ان کے کپڑے میں استری نہیں کروں گی تو اور کون کرے گا ۔” گُلانے نے نہایت سکون کے ساتھ جواب دیا ۔
    ”کیوں … ان پر اتنی مہربانی کیوں؟” ولی نے مشکوک نظروں سے اسے گھورا۔ ”پرسوں میں نے چائے بنانے کا کہا تو محترمہ کو پڑھائی یاد آ گئی۔ اور بھائی نے ابھی گھر میں قدم رکھا ہی تھا کہ چائے کا کپ لے کر ان کی خدمت میں حاضر ہو گئیں ۔ کیا یہ کھلا تضاد نہیں ۔” اس کے اندر سہیل وڑائچ نے انگڑائی لی۔
    ” نورا لحسن تو امارا مالک اے۔ اس کے سارے کام کرنا تو گُلانے کا پر ض ( فرض ) اے۔” اس نے اسی اطمینان اور سکون سے کہا۔
    ”واہ جی …کیابات ہے۔ نورا لحسن تو مالک ہے ۔ اور مالک کا بھائی؟”اس نے کمر پر ہاتھ ٹکاتے ہوئے کہا۔
    ”مالک کے بھائی نے امارا پیسہ توڑی دی۔” وہ حساب کتاب پکے رکھتی تھی۔
    ”پیسا؟ ” وہ حیران ہوا تھا ۔
    ”ہاں … پوری تیس ہزار دی نورالحسن نے گل زما ن کو ۔”
    وہ اب متجسس ہوا تھا ۔ بھائی نے کیا کہانی سنائی تھی اور اصل کہانی کیا تھی ۔یہ تو و ہ ا ب جا ن پا یا تھا ۔
    ٭٪٭٪٭٪٭٪٭
    ہانیہ کی طبیعت رات سے کچھ بہتر نہ تھی جس کی وجہ سے آج وہ ڈیپارٹمنٹ نہیں آئی تھی۔ اس کی غیر موجودگی میں نور کو احساس ہوتا تھا کہ وہ اس کے لیے اچھی دوست توہے ہی ، بہترین باڈی گارڈ بھی ہے۔ابھی بھی اس کی کمی کو محسوس کر تے ہو ئے و ہ کلا س ا ٹینڈ کر کے گرلز کامن رو م کی طرف آرہی تھی جب خزیمہ داؤد اس کے سامنے آیا تھا ۔
    ”ہائے نور !”
    اس کی تیوری پر بل پڑے ۔ اس کے حجاب کی وجہ سے خزیمہ کو یہ بل نظر نہ آئے مگر آنکھوں میں یہ تحریر آج بھی نظر آئی تھی ۔
    ”Prohibited”
    اس کو ایک دفعہ پھربچپن کے شوق چڑھے ۔ جستجو اور تجسس کی تو جیسے اسے گڑتی ملی تھی۔
    ”مجھے یہ نوٹس آپ کے ساتھ شیئر کرنے تھے۔ اس میں نیوٹن کی Philosophiae Naturalis Principia Mathematica.سے کچھ پوائنٹس لیے گئے ہیں ۔ آپ تو جانتی ہیں کہ اس بک کی انگلش کاپی بھی ابھی تک دست یاب نہیں ۔ ” اس نے سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق بات شروع کی۔
    ”آپ نے یہ نوٹس باقی کلاس کے ساتھ شیئر کیے ہیں ؟ ” نور نے نوٹس تھامنے کے لیے ہاتھ آگے نہیں بڑھایا تھا ۔
    ”نہیں ۔ ”
    ”پھر مجھ سے بھی شیئر نہ کریں ۔ ”اس نے گرلز کامن روم کی طرف قدم بڑھائے ۔
    ”ایک منٹ نور ۔ ” وہ اس کے ساتھ ساتھ چلا ۔
    ”جی کہیں ۔” اسے رکنا پڑا تھا ۔
    ”میرے بھائی کی شادی ہے ۔ آپ اور ہانیہ آئیں گی تو مجھے خوشی ہو گی۔ میں آپ لوگوں کا کارڈ بھی لے کر آیا ہوں ۔ ”
    ”آپ نے باقی کلاس کو انوائٹ کیا ہے ؟” اس نے روایتی سرد مہری سے پوچھا۔
    ”صرف فرینڈز کو ۔ ”اس نے صاف گوئی سے جواب دیا۔
    ”سوری … آپ اپنا کارڈ ضائع مت کریں ۔ میں آپ کی فرینڈ نہیں ہوں ۔” وہ یہ کہہ کر رکی نہیں تھی ، کامن روم میں چلی گئی ۔خزیمہ بھی ہمت ہارنے والوں میں سے نہ تھا۔ اگلے دن ہانیہ ڈیپارٹمنٹ آئی تو اس نے کارڈ اسے تھما دیا ۔
    ”کون کون سی ڈشز ہوں گی؟” ہانیہ نے شادی کا ذکر سنتے ہی پوچھا ۔اس کی طرف سے ایسا سوال غیر متوقع نہیں تھا ۔ خزیمہ نے ان ڈشز کے نام بھی گنوا دیے جو مینیو میں نہیں تھیں ۔
    ”اچھا لگتا تو نہیں ہے ۔ ” وہ بھی کم استاد نہ تھی۔
    ”کیوں ؟”
    ”تمہاری صحت دیکھ کر تو نہیں لگتا کہ تمہارا تعلق کھاتے پیتے گھرانے سے ہے۔
    ”اور تمہاری صحت دیکھ کر …” باقی جملہ ادھورا چھوڑ دیا گیا ۔ اس وقت دشمنی مول نہیں لی جا سکتی تھی۔ یہی تو وہ کریکٹر تھی جس کا رومانوی داستانوں میں بڑا رول ہوتا ہے ۔ہیروئن کی سہیلی …
    مانا کہ خزیمہ داؤد کو لو اسٹوریز پڑھنے اور دیکھنے کا کوئی شو ق نہ تھا مگر یہ تو قصہ ما ضی تھا ناں ۔
    ٭٪٭٪٭٪٭٪٭
    ”بھائی مجھے تیس ہزار چاہئیں۔”
    نورالحسن نے کتاب سے نظر ہٹا کر انوکھے لاڈلے کی طرف دیکھا۔ چھوٹی موٹی فرمائشیں تو اس کی چلتی رہتی تھیں مگر ایک ساتھ تیس ہزار ۔
    ”کیوں بھئی … ایسی کیا ضرورت پڑ گئی ۔” اس نے مسکرا کر پوچھا ۔
    ”میں نے اپنے لیے کنیز خریدنی ہے ۔”
    ” کنیز ۔ ” وہ حیران ہوا۔
    ”ہاں کنیز… جو میرے اشاروں پر چلے ۔ میرے حکم پر پلک جھپکتے میں چائے بنا لائے ، میرے کپڑے استری کر دے ۔”وہ ٹیپ ریکارڈر کی طرح بولا۔
    ”ایسے کام کنیز نہیں بیوی کرتی ہے ۔” وہ مسکرا کر بولے ۔
    ”نہیں اب وہ دور نہیں رہا، اب تو ایسے کام بیوی کرواتی ہے ۔” اس نے سر نفی میں ہلاتے ہوئے کہا ۔
    ”اب کنیزوں اور باندیوں کو خریدنے کا دور بھی نہیں رہا ۔” نور الحسن نے اس کی بات کو انجوائے کرتے ہوئے کہا۔
    ”مگر آپ نے تو خریدی۔ ” وہ فوراً بولا تھا ۔
    ”کیا مطلب؟” نو ر الحسن چونکا ۔
    ”ہوں … تو نکلا چھپا رستم … تو نکلا چھپا رستم ۔ ” و لی شرارت سے گنگنانے لگا تھا ۔ نورا لحسن اسے گھورنے لگا۔
    ”بھائی وہ میجر صاحب یاد ہیں جو کچھ عرصہ ہمارے پڑوس میں رہے تھے ۔ وہی… جن کی تین بیویوں سے اولاد نہیں تھی تو پھر وہ پشاور کی طرف کسی گاؤں سے چوتھی بیوی خرید کر لائے تھے پچیس ہزار میں جس کے تین بیٹے ہوئے تھے ۔”
    ”ہاں … یاد ہے ۔ ”نور الحسن پلکیں چھپکے بغیر بولا۔
    ”اس وقت یہ میجر صاحب کا قصہ سن کر مجھے لگتا تھا کہ سیف الملوک والا قصہ سچا ہی ہے ، سرحد میں واقعی پریاں رہتی ہیں جو پچیس ہزار میں مل جاتی ہیں ۔ اب پتا چلا کہ پریوں کے ہاں بھی مہنگائی کا دور ہے ۔ پری پچیس کے بجائے تیس ہزار کی ہو گئی ۔”وہ بنا رکے بولے جارہا تھا۔
    ”کیا مطلب ؟” نور الحسن اب سیدھا ہوکر بیٹھ گیا۔
    ”گُلانے ۔ ” ولی انگلیوں کو نچاتے ہوئے مسکرایا ۔
    ”میں بھی کہوں ، کیوں بھاگ بھاگ آپ کی خدمتیں کرتی ہے وہ ، کیوں ا تنی عقیدت سے کہتی ہے ”امارا مالک اے نور الحسن۔ ” یہاں تو آقا و کنیز کا قصہ ہے ۔ ” اس نے اسے چھیڑتے ہوئے کہا۔
    ” ولی تم سے یہ سب کس نے کہا ؟” نور الحسن نے سنجیدگی کے ساتھ دریافت کیا ۔
    ”خود گُلانے نے ۔ ” اس کی نظروں میں ابھی بھی شرارت تھی جس سے نور ا لحسن کو الجھن ہو رہی تھی۔
    ”بھائی ! سچی بتائیں یہ پٹھان اپنی بیٹیاں بیچتے ہیں کیا ؟ ”وہ یک دم سنجیدہ ہوگیا تھا۔
    ”میں اس بارے میں شیور نہیں ہوں ۔ افغانستان ، بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے کچھ قبائل میں ” والوار ” نامی ایک رسم ہے جس کا مطلب ہے ”دلہن کی قیمت” ، جس میں دلہا، دلہن کے ماں باپ کو شادی پر آنے والے اخراجا ت ادا کرتا ہے ۔ ایسا عموماً غریب گھرانوں میں ہوتا ہے ۔ ایسی رسومات ملک کے دوسرے صوبوں میں بھی پریکٹس میں ہیں ۔” نور الحسن اسے بتانے لگا۔
    ”پھر میجر صاحب کی چوتھی بیوی ؟ ”ولی یک دم بولا۔
    ”کچھ ایسے کیسز سامنے آئے ہیں جس میں بیٹیوں کو حقیقتاً بیچا گیا ، مگر اس عمل کو صرف پٹھانوں کے ساتھ یا تمام پٹھانوں سے منسوب کرنا ٹھیک نہیں ۔ بلوچستان میں تو یہاں تک سنا کہ کچھ قبائل میں بیٹی کو تول کر اس کا مول لگایا جاتا ہے ۔ ہے تو افسوس ناک امر مگر حقیقت ہے کہ پورے ملک میں ہی کئی لالچی یا غربت کا شکار مجبور ماں باپ بیٹیوں کا سودا کرتے ہیں ۔” نور الحسن کا لہجہ افسردہ سا ہوا۔
    ”گُلانے کو لالچ میں بیچا گیا یا مجبوری میں ؟”نور الحسن نے اسے حقیقت بتا دی۔
    ”گُلانے کو اس کے بابا نے نہیں بیچا بلکہ گل زمان نے اس کا سودا کیا جو کہ اس کی پھوپھو کا شوہر اور گُلانے کا نگران تھا ۔اور اس نے لالچ میں اسے بیچا ۔”نور الحسن نے اسے حقیقت بتا دی۔
    ”اچھا ۔ مگر آپ نے کیوں خریدا ؟”اس کا تجسس عروج پر تھا۔
    نورالحسن نے تاسف سے سرہلایا ۔ اسے آج گُلانے پر غصہ آ رہا تھا ۔ ولی سارے جواب لے کر ہی ٹلاتھا ۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});