Author: misbah116@hotmail.com

  • سمے کا بندھن — ممتاز مفتی

    سمے کا بندھن — ممتاز مفتی

    آپی کہا کرتی تھی،” سنہرے سمے سمے کی بات ہوتی ہے۔ ہر سمے کا اپنا رنگ، اپنا اثر ہوتا ہے۔ اپنا سمے پہچان، سنہرے۔ اپنے سمے سے باہر نہ نکل۔ جو نکلی تو بھٹک جائے گی۔”
    اب سمجھ میں آئی آپی کی بات۔ جب سمجھ لیتی تو رستے سے نہ بھٹکتی، آلنے سے نہ گرتی۔ سمجھ تو گئی۔ پر کتنی دیر پڑی سمجھن کی۔ آپی مجھے سنہرے کہہ کر بلایا کرتی تھیں ۔ کہتی تھیں ”تیرے پنڈے کی جھال سنہری ہے۔ جب رس آئے گا تو سونا بن جائے گی، کٹھالی میں پڑے بنا۔ پھر یہ جھال کپڑوں سی نکل نکل کر جھانکے گی۔”
    پتا نہیں میرا نام کیا تھا۔ پتا نہیں میں کس کی تھی، کہاں سے آئی تھی۔ کوئی لایا تھا ۔ بالپن ہی میں آپی کے ہاتھ بیچ گیا تھا۔ اِسی کی گود میں پلی، اِسی کی سرتال بھری بیٹھک کے جھولنے میں جھول جھول کر جوان ہوئی۔ پھر سنہرا امڈ امڈ آیا۔ چھپائے نہ چھپتا تھا۔ آپی بولی نہ دھیے، چھپا نہ۔ جو چھپائے نہ چھپے اِسے کیا چھپانا۔”
    کبھی کھڑکی سے جھانکتی تو آپی ٹوکتی ”یہ کیا کر رہی ہے بیٹی ؟ سیانے کہتے ہیں جس کا کام اسی کو ساجھے۔ تیرا کام نہیں۔ دکھنا ہے تو نظر نہ بن، منظر بن۔ اور جو دیکھے بھی تو تو دکھنے کا گھونگھٹ نکال ۔اِس کی اوٹ سے دیکھ، پھر سمے دیکھ سنہرے۔ ابھی تو شام ہے۔ یہ سمے تو اداسی کا سمے ہے۔ دکھ کا سمے ہے۔ شام بھئی گھن نہ آئے۔” آپی گنگنانے لگی ”یاد ہے نا یہ بول؟ شام تو نہ آنے کا سمے ہے۔ تیرا آنے کا سمے ہے۔ پگلی ذرا رک جا۔ اندھیرا گاڑھا ہونے دے۔ پھر تیرا ہی سمے ہوگا، پچھلے پہر تک۔”
    ایک دن آپی کا جی اچھا نہ تھا۔ مجھے بلایا، گئی۔ لیٹی ہوئی تھی۔ سرہانے تپائی پر سوڈے کی بوتل دھری تھی۔ ساتھ نمک دانی تھی۔ یہ ان دِنوں کی بات ہے جب سوڈے کی بوتل کے گلے میں شیشے کا گولا پھنسا ہوتا تھا، ٹھا کر کے کھلتا تھا۔
    بولی ”سنہرے، بوتل کھول گلاس میں ڈال۔ چٹکی بھر نمک گھول اور مجھے پلا دے۔”میں نے نمک ڈالا تو جھاگ اٹھا، بلبلے ہی بلبلے۔ آپی نے میرا ہاتھ پکڑ لیا ۔ بولی ”دیکھ لڑکی، یہ ہمارا سمے ہے۔ ہمارا سمے وہ ہے جب جھاگ اٹھے۔ ہم میں نہیں، دوجے میں اٹھے۔ دوجے میں جھاگ اٹھانا یہی ہمارا کام ہے۔ خود شانت، دو جا بلبلے ہی بلبلے۔ جب تک جھاگ اٹھتا رہے گا، ہمارے سمے۔ جب دوجا شانت ہو جائے، سمجھ لے ہمارے سمے بیت گیا اور جب سمے بیت جائے دھیرج پاں دھرنا۔ ٹھمک نہ کرنا ۔ ٹھمک کا سمے گیا۔ چمک نہ مارنا، چمک کا سمے گیا۔ پائل نہ جھنکارنا، پائل کی جھنکاربیرن بھئی۔”
    پھر وہ لیٹ گئی اور بولی ”سنہرے،میری باتیں پھینک نہ دینا، دل میں رکھنا۔ یہ بھیتر کی باتیں ہیں، اوپر کی نہیں، سنی سنائی نہیں، پڑھی پڑھائی نہیں۔ وہ سب چھلکے ہوتی ہیں، بادام نہیں ہوتیں۔ جان لے بیٹی بات وہ جو بھیتر کی ہو۔ گری ہو، چھلکا نہ ہوا۔ جو بیتی ہو، جگ بیتی نہیں۔ آپ بیتی ہو، ہڈ بیتی۔ باقی سب جھوٹ، دِکھلاوا بہلاوا۔”
    آج مجھے باتیں یاد آ رہی ہیں۔ بیتی باتیں۔ بسری باتیں۔ سانپ گزر گئے، لکیریں رہ گئیں، لکیریں ہی لکیریں۔ سانپ تو صرف ڈراتے ہیں، پھنکارتے ہیں۔ لکیریں کاٹتی ہیں، ڈستی ہیں۔ پتا نہیں ایسا کیوں ہوتا ہے۔ لکیروں نے مجھے چھلنی کر رکھا ہے۔ چلتی ہیں، چلے جاتی ہیں جیسے دھار چلتی ہے۔ ایک ختم ہوتی ہے دوجی شروع ہو جاتی ہے ۔
    آپی کی بیٹھک میں ہم تین تھیں۔ پیلی،روپا اور میں۔ پیلی بڑی، روپا منجھلی اور میں چھوٹی۔ پیلی میں بڑی آن تھی، پر مان نہ تھا۔ اس آن میں چھب تھی۔ سندرتا بھرا ٹھہرا تھا۔ یوں رعب سے بھری رہتی جیسے مٹیار رس سے بھری رہتی ہے۔ گردن اٹھتی رہتی، مورتی سمان۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});
    روپا سر ہی سر تھی۔ شدھ سر۔ تاروں سے بنی تھی۔ اس کے بند بند میں تار لگے تھے۔ سرتیاں سمرتیاں اور وہ گونجنے مدھم میں گونجتے اور پھر سننے والوں کے دلوں کو جھلا دیتے تیجی میں تھی۔ آپی کہتی تھی ”سنہرے، تجھ میں دکھ کی بھیگ ہے ۔ تو بھگو دیتی ہے۔ خود بھی ڈوب جاتی ہے ، دوجے کو بھی ڈبو دیتی ہے پگلی دوجے کو ڈبویا کر، خود نہ ڈوبا کر۔ مجھے تجھ سے ڈر آتا ہے سنہرے۔ کسی دن تو ہم سب کو نہ لے ڈوبے۔”
    آپی کی بیٹھک کوئی عام بیٹھک نہ تھی کہ جس کا جی چاہا منہ اٹھایا اور چلا آیا۔ بیٹھک پر دھن دولت کا زور تو چلتا ہی ہے ۔ وہ تو چلے گا ہی ہر بیٹھک پر۔ پر آپی نے برتا کا ایسا رنگ چلا رکھا تھا کہ خالی دھن دولت کا زور نہ چلتا تھا۔ نو دولیتے آتے تھے پر ایسے بدمزہ ہو کر جاتے کہ پھر رخ نہ کرتے۔ آپی کی بیٹھک میں نگاہیں نہیں چلتی تھیں۔اس نے ہمیں سمجھا رکھا تھا کہ لوگ نگاہوں پر اچھالیں گے تو پڑے اچھالیں۔ لڑکیو تم نہ اچھلنا۔ جو نگاہوں پر اچھل جاتی ہیں وہ منہ کے بل گرتی ہیں اور جو گر گئی وہ سمجھ لو، نظروں سے گر گئی ۔ پھر نہ اپنے جوگی رہی نہ دوسروں جوگی۔
    آپی کی بیٹھک میں نظریں نہیں چلتی تھیں۔ کان لگے رہتے تھے۔ دل دھڑکتے تھے۔ وہاں ملاپ کا رنگ نہ ہوتا تھا۔ برہا کا ہوتا۔ رنگ رلیاں نہیں ہوتی تھیں، نہ وہاں تماشا ہوتا نہ تماش بین ۔ مجھے وہ دِن یاد آتے ہیں جب ہمارے ہاں ٹھاکر کی بیٹھک لگتی تھی۔ دومہینے میں ایک بار ضرور لگتی تھی۔ ٹھاکر کی بیٹھک لگتی تو کوئی دوجا نہیں آ سکتا تھا۔ صرف ٹھا کر کے سنگی ساتھی۔
    ٹھاکر بھی تو عجب تھا۔ اوپر سے دیکھو تو ریچھ۔ طاقت سے بھرا ہوا۔ اندر جھانکو تو بچہ۔ نرم نرم، گرم گرم، ویسے تھا آن بھرا مان بھرا۔ سنگیت کا رسیا۔ یوں لگتا جیسے بھیتر کوئی لگن لگی ہو۔ دھونی رمی ہو،آرتی سجی ہو۔
    ٹھاکر کی ہمارے ہاں بڑی قدر تھی۔ آپی عزت کرتی تھی، بھروسا کرتی تھی۔ ٹھاکر نے بھی کبھی نظر اچھالی نہ تھی۔ جھکائے رکھتا۔ پیتا ضرور تھا، پر ایسی کہ جوں جوں پیتا جاتا الٹا مدھم پڑتا جاتا۔ آنکھ کی چمک گل ہو جاتی۔ آواز کی کڑک بھیگ جاتی۔ اس کا نشہ ہی انوکھا تھا۔ جیسے بوتل کا نہ ہو۔ بھیتر کا ہو۔ بوتل اِک بہانہ ۔ بوتل چابی ہو بھیتر کے پٹ کھولنے کی۔
    ڈرو سیکھو ڈرو بھیتر کے نشے سے ڈرو۔ بھیتر کے نشے کے سامنے بوتل کا نشہ یوں ہاتھ جوڑے کھڑا ہے جیسے راجہ کے روبرو نیچ کھڑا ہو۔ بوتل کا تو خالی سر چکراتا ہے۔ بھیتر کا من کا جھولنا جھلا دیتا ہے ۔ ڈرو سکھیو ڈرو بھیتر کے نشے سے ڈرو، بوتل کا تو کام کاج جوگا نہیں چھوڑتا۔ بھیتر کا کسی جوگا نہیں چھوڑتا۔ خود جوگا بھی نہیں۔ مجھے کیا پتا تھا کہ ٹھاکر کے نشے کا ریلا مجھے بھی لے ڈوبے گا۔
    ہاں تو اس روز ٹھاکر کی بیٹھک ہو رہی تھی۔ بول تھے ”گانٹھری میں کون جتن کر کھولوں۔ مورے پیا کے جیا میں پڑی رہی۔” گیت نے کچھ ایسا سماں باندھ رکھا تھا کہ ٹھاکر جھوم جھوم جا رہا تھا۔ پھر کہو، پھر بولو کا جاپ کیے جا رہا تھا۔ نہ جانے کس گرہ کو کھولن کی آرزو جاگی تھی۔ اپنے من یا محبوب کی من کی۔ سمے بیتا جا رہا تھا ۔ سمے کی سدھ بدھ نہ رہی تھی۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے ۔ سمے جیون سے نکل جاتا ہے کہ کون ہیں، کیا کر رہے ہیں۔ کسی بات کی سدھ بدھ نہیں رہتی۔ اِس روز وہ سمے ایسا ہی سمے تھا۔
    دفعتاً گھڑی نے تین بجائے ۔ آپی ہاتھ جوڑے اٹھ بیٹھی۔ بولی ”شماکرو ٹھاکر جی۔ معافی مانگتی ہوں۔ ہمارا سمے بیت گیا۔ اب بیٹھک ختم کرو۔”
    ٹھاکر پہلے تو چونکا پھر مسکایا ”نہ آپی، ابھی تو رات بھیگی ہے۔” آپی بولی ”ٹھاکر ہم سوکھے پروں والے پنچھی ہیں۔ جب رات بھیگ جاتی ہے تو ہمارا سمے بیت جاتا ہے۔ جو ہمارے پر بھیگ گئے تو اڈاری نہ رہے گی۔ فنکار میں اڈاری نہ رہے تو باقی رہا کیا؟” ٹھاکر نے بڑی منتیں کیں، آپی نہ مانی۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • مشام — میمونہ صدف

    مشام — میمونہ صدف

    وہ شہر کے صدر بازار میں لوہے کی منڈی تھی جو ہر وضع اور ہر قماش کے لوگوں سے بھری پڑی تھی۔ وہ صومعہ نشین بھی اسی منڈی کا منتشر سا صیغہ معلوم ہو تا تھا ۔ ایک منظوم عبارت سا علیا بشر ، جو ساکن ہو کر بھی متحرک دکھتا ۔
    وہ پورے دن میں واحد کام موحد بن کر کرتا ۔ صبح سویرے جب اِکا دُکا سائیکل سوار اخبار بیچنے شہر کی سڑکیں چھاپتے ، ہر پرند اپنا گھونسلا رزق کے لیے چھوڑ کر پرواز بھرتا، تب وہ بھی ایک قوی الجثہ مقناطیس ، جسے اٹھانا صرف اسی مجاور کے بس کا کام تھا ، کو موٹی رسی سے باندھ کر تمام بند دکانوں کے باہر زمین سے انچ بھر اٹھا ئے اٹھائے پھرتا ۔ لوہے کے نادیدہ ، بیکار ٹکڑے اس مقناطیس کی طرف کھنچے آتے تھے ۔ یہ وہ پہلو تھا جو ہر صاحب ِ بصر دیکھتا تھا اور جو پہلو ہر صاحب ِ بصیرت دیکھ سکتا تھا’ وہ یہ تھا کہ دراصل وہ اس کی جانب کھنچے چلے آتے ہیں ۔پھر انہی جمع شدہ ٹکڑوں کو ایک طرف ڈھیر کرتا جاتا اور یوں اس کا کام تمام ہو جاتا ۔پھر باقی ماندہ دن وہ کسی نہ کسی دکان کے باہر پڑا جیب سے چند بوسیدہ کاغذ نکال کر ان پر لکھی آیات پڑھتا رہتا۔ کبھی وہ یوں روانی سے انہیں دہراتا جیسے سب اسے ازبر ہو اور کبھی اس د قت سے پڑھتا گویا ابھی ابھی ہجے کرنا سیکھے ہوں ۔
    اس کے بائیں ہاتھ میں ہمیشہ کستوری کی شیشی دبی ہوتی جسے وہ ہر تین چار منٹ بعد نتھنوں سے لگا کر گہرے سانس بھر کر اپنے اندر اتار لیتا اور پھر سے مٹھی میں دبا لیتا۔ وہ ہر تین چار منٹ بعد یہ عمل دہراتا، اسی لیے وہ سب کے لیے مشام تھا ۔
    حاکم کے بڑے ابا بتاتے تھے کہ وہ ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا، مگر وہ کبھی پوچھنے کی جرأت نہ کر سکا کہ وہ کیسا تھا؟ حاکم نے جب جب اسے گزرتے ہوئے دور سے سلام کیا، تو سلام کے جواب سے قبل وہ لازماً اک خاطی کے مانند سارے جسم کو ٹٹول ٹٹول کر سونگھا کرتا ، پھر چشمِ زدن میں شیشی نکال کر سانس اندر کو کھینچتا، شیشی سے خود پر چھڑکاؤ کرتا اور تب کہیں جا کر سلام کا جواب دیتا ۔ اکثر سلام کرنے والا جا چکا ہوتا، تو وہ اگلی بار اس کے سامنے آنے پر اُدھار رکھا جواب لوٹا دیتا ۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    ”اس کا اصل نام عالم ہے۔ یہ سامنے کی بڑی منزل اس کی ملکیت رہی ہے ۔ پھر اس نے اسے شہر کے اندر مشہو ر ‘ پاگل کدے ‘ کے نام منتقل کر دیا اور خود ایک عرصہ غائب رہا۔جب لوٹا تو اس حال میں لوٹا۔” اکمل نے ساری کہانی ایک آنکھوں دیکھی کہانی کی مانند دہرا دی جو دراصل اس کے ابا نے اسے سنا رکھی تھی ۔
    ”کوئی حادثہ ہوا یا واقعہ ؟” حاکم نے دور نظر آتے ، جھوم جھوم جاتے ‘مشام ‘ کو دیکھتے سوال کیا ۔
    ”نہ حادثہ ، نہ واقعہ۔ عصیان تھا ۔”
    ”اسی لیے ملکیت صدقے میں دے ڈالی؟”
    ”نہیں! کفارے میں ۔”
    اور حاکم کے اندر کھوج کاٹنے لگی کہ وہ ایسا کیسے ہوا ؟”
    ”آپ کو یہ مشک پسند ہے ؟”
    اس روز وہ جسارت کر ہی بیٹھا اور تبھی اس کے پاس جا کر بیٹھ گیا ۔ آدھے بازار نے اسے ایسا کرتے دیکھا ، باقیوں میں سے کسی نے اس کی شجاعت کی داد دی، تو کسی نے اسے نصیحت کی۔ کسی نے اسے ڈرایا، تو کسی نے تاسف سے سر ہلایا، مگر اسے یہ سب کرنا ہی تھا ۔
    ” میں اس سڑاند کو ناپسند کرتا ہوں ۔” وہ کس سڑاند کی بات کر رہا تھا ۔ حاکم یہ سمجھنے سے قاصر رہا۔
    ” یہاں تو ایک مشک فام کے سوا کچھ نہیں۔ ” حاکم نے گہری سانس لیتے اس خوش بو کو ہمیشہ کے لیے قید کر لینا چاہا۔
    ”یہاں لحم اور لہو کی بساند ہے، جو ہر اس وجو د سے اٹھتی ہے جو مردہ ہو ۔ کیا تم سونگھنے کی حس سے بے حس ہو ؟ ”
    اور حاکم نے غائب دماغی سے اس حاضر جواب کو دیکھا ۔ اس بھید بھرے سودائی کے ہر اس راز کو جو وہ اک عرصے سے اٹھا ئے پھر رہا تھا ۔
    ٭…٭…٭
    بڑا مُؤقرّ اور زاہدوں میں گردانا جاتا تھا وہ عالم۔” جس کا صدر بازار میں بڑا کاروبار اور بیوپاری مال تھا ۔ چالیس کے پیٹے میں بھی گھر نہ بسایا تھا ۔زندگی بس ایک ہی مدار میں گھومتی تھی ۔ ”خدمت ِ خلق۔” نہ ظلم کرو ، نہ ظلم کیے جاؤ۔ ظلم پھر ہوا بھی اور خود پر کیا بھی گیا۔
    اندرونِ شہر جس طویل گلی میں اس کی پیلی حویلی ساری عمارتوں کو ہیچ کرتی سر اٹھائے کھڑی تھی، وہیں اسی گلی کا اختتام چھوٹے سے ایک کمرے کے مکان پر ہوتا تھا جو’ ‘پاگل کدہ’ ‘ کے نام سے مشہور تھا۔ ”پاگل کدہ’ ‘ دو خواتین کی ملکیت تھا جس کے باہر دیواروں پر جا بہ جا کسی راہ چلتے منچلے نے کوئلے سے ”پاگل کدہ’ ‘ جلی حروف میں کندہ کیا اور مانو مکان کی نہیں، مکین کے دل کی دیواروں پہ کندہ ہوا کہ دل کو لگا گویا دل سے لگا۔
    دو خواتین ، دونوں بہنیں ، دونوں مطلقہ ، دونوں بے اولاد ، دونوں ہی مخبوط الحواس۔ چھوٹی اور بڑی بی بی ۔وہ بشر سے بھاگتیں تو بشر ان سے چھپتے اور اس چھپنے میں درپردہ بڑی تہمتیں تھیں جو وقت نے محذوف کر ڈالیں ۔
    اس گھر کی آبادی میں ان کی بالوں کی سیاہی اور ہاتھوں کی قوت گواہ رہی تھی۔ پھر وہی سیاہی، سفیدی میں ڈھلی اور طاقت، ضعف میں۔ یسر، عسرت میں بدلی اور صحت بیماری میں ۔
    نہ کوئی آگے نہ پیچھے۔ تو ہر کوئی ان کے آگے اور پیچھے لگ گیا۔
    ”یہ حسن کے بازار سے مفرور ہیں۔” وہ انسانوں کے بازار سے مفرور ہوتی ، محدود ہو گئیں۔
    ” ضرور ان پر سماوی سزا کا نزول ہے ۔” وہ اسی سزا کے واسطے دیتیں ، ارض و سماں والے سے جزا مانگنے لگیں۔ انہیں دیکھتے چلتے پھرتے کانوں کو ہاتھ لگاتے۔
    ”استغفار کا مقام ہے۔” تو دونوں استغفار کے مقام تک ہی جا پہنچیں ۔ وہ دونوں اپنی قسمت میں لکھے ایک مرد سے مطلقہ ہوئیں تو ہزاروں سے مقہور کردی گئیں۔ وہ انسانیت، جہاں تہمتوں کو مثلِ فن، زن کے دامن پر زینت بنا کر مُحرر کیا جائے ، ایسی انسانیت کو قابلِ مُحرق سمجھتے، دونوں نے اپنے گھر کو گور کی طرح اوڑھ لیا۔
    دوسروں کی ذات پر انگلی اٹھانا انسان خود کے لیے تفویض سمجھتا ہے۔ ایسا حق، جو وہ عہدِ الست کے بدلے خدا سے لکھوا کر لایا تھا اور اسی حق سے اس حق کو استعمال بھی کرنا جانتا ہے ۔ سو ان بیبیوں کے اس فرار ِ فرد کو اپنے قرار ِ قلب کے لیے زیر بحث لاتے ہوئے انہیں پاگل قرار دیا گیا ۔
    عالم ہر ماہ کی پہلی کو راشن کا سامان کمرے کی ڈیوڑھی میں رکھوا دیتا تھا۔سارا دن پڑے رہنے والا سامان، اندھیرا پھیلنے پر کسی آسیب کی طرح غائب ہو جاتا تھا ۔نہ کبھی جھوٹے منہ شکریہ کہا گیا، نہ کبھی ادھر سے حقِ مہربانی وصول کیا گیا۔
    ایسی ہی ایک تاریک رات کو تاریخی دن میں ڈھلنا تھا۔ تبھی جب عالم گندم کی بالیوں میں سے دانے الگ کروا رہا تھا، تو ملازمین میں سے ایک دوڑا ہوا آیا کہ ‘ ‘پاگل کدہ’ ‘ کی بڑی بی بی آئی ہیں ۔وہ سارا کام وہیں چھوڑ کر بھاگا تھا ۔ دروازے کے پٹ تھامے وہ کالی چادر میں انگارہ آنکھیں لیے یوں کھڑی تھی کہ نادانستہ اس نے جھرجھری لی۔
    ” چھوٹی کو کچھ ہو گیا ہے۔” اس نے ایک ہاتھ سے اپنے کمرے کی طرف اشارہ کیا ۔
    ” کیا ہو گیا ہے ؟” وہ سمجھ نہ سکا ۔
    ”یہی تو دیکھنا ہے کہ کیا ہو گیا ہے۔ ” اور وہ اس کے ہم راہ ہو لیا ۔” چھوٹی بی بی بیمار ہیں کیا؟”
    ”شاید! ”
    اس نے تعجب سے ساتھ چلتی کالی رات کا حصہ بنی اس بی بی کو دیکھا ۔برابر میں ایک ہیولا چلتا دکھتا تھا اور بس ۔
    ” حکیم یا طبیب کو دکھایا ہوتا۔”
    ”جسے میں نہیں جانتی ، اس تک میں نہیں جاتی۔”
    ”نہ جانے میں کچھ کر بھی پاؤں گا یا نہیں؟” وہ سوچ سوچ کر بے یقین ہو رہا تھا ۔
    ” کیا خبر اب سب تم ہی کر پاؤ۔” وہ سوچے بنا بھی پر یقین تھی

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});
    ۔

  • موسمِ گرما —- حرا قریشی

    موسمِ گرما —- حرا قریشی

    میں وہ ”موسمِ گرما” ہوں جسے بچے ‘بوڑھے’ جوان کئی مختلف صورتوں میں یاد کرتے ہیں۔ ان مختلف صورتوں میں سے ایک آئے دن ہونے والی ”لوڈ شیڈنگ” ہے جو میرے لیے ایک سرگرم تنظیم ہے۔ موسم گرما کی تاریخ کا جب بھی مطالعہ کرو۔ لوڈشیڈنگ جیسی عفریت کا ذکر زبان زد عام آتا ہے جس پر گرمی کے مارے لوگوں کے عظیم الشان فرمودات کا تذکرہ نہ کرنا انصاف کے زمرے سے باہر ہو گا.ایک صاحب کہتے ہیں:
    ”بھائی پورے تین بجے لائٹ آئے گی کہ آج کل ایک ایک گھنٹے کے وقفے سے جارہی ہے۔ حسن اتفاق لائٹ ڈھائی بجے آجاتی ہے تو ایک صاحب فرماتے ہیں۔”
    ” حیرت ہے! آج لائٹ آدھا گھنٹہ پہلے ہی آگئی۔ اسے کہتے ہیں نہ مرے چین نہ مرائے چین!۔”
    یہ تنظیم سر گرم دن ہو، رات ہو یا سہ پہر اپنے فرائض سے غفلت برتنا گناہ کبیرہ سمجھتی ہے۔ یہ وہ صورت ہے جس کی وجہ سے میری بے چاری ننھی سی ناتواں جان پر کتنے ہی ستم ٹوٹتے ہیں پھر ستم بالائے ستم جو مجھے اکیلے برداشت بھی کرنے پڑتے ہیں۔ اب چاہے کسی کا سولر پینل اڑے، جنریٹر جواب دے جائے، پنکھاجل جائے، ائیرکولر یک دم رُک جائے، آندھی آئے یا طوفان۔لائٹ نے تو جانا ہی جانا ہے اور تنظیم نے بھی اپنا کام کرنا سو کرنا ہے۔ ایک اور صورت ملاحظہ ہو۔میری آمد پر ”چائے بی بی” کی شکل و صورت رونی ہو جاتی ہے.جب ”چائے”کے ہوٹلوں کا دھندا ماند پڑ جاتا ہے، تو اس کی سرد مہری عروج پر ہوتی ہے۔اس کا اترا چہرہ”غم زدہ آنکھیں” افسردہ ناک نقشہ دیکھ کر مجھے بہت ترس آتا ہے (دل سدا کا رحم دل جو ٹھہرا) پرکیا کروں میں بھی گرم، چائے بھی گرم ایسا تو ہو گا نا پھر!
    کوکا کولا، پیپسی یا لیموں پانی جیسے ٹھنڈے ٹھار مشروبات مجھے دعائیں دیتے نہیں تھکتے۔
    تو بھئی اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں
    کیوں اداس رہتے ہو میاں گرمیوں کی شاموں میں
    انواع و اقسام کے ”حشرات الارض” بھی میری آمد پر پھولے نہیں سماتے۔گھر ہو دفتر یا دکان یہ ہر کونے کھدرے سے نکل، بنی نوع انسان کو سلامی دینے آتے ہیں۔حق ہا!اس سلامی کا صلہ جو مجھے ملتا ہے۔یقین جانیے! اس ناتواں جان پر بڑاگراں گزرتا ہے۔ صبروتحمل اور قناعت جیسے اوصاف چوں کہ ازل سے میری گٹھی میں شامل ہیں، سو جناب کوئی صلواتیں سنائے یا کسی ناپسندیدہ مہمان کی صورت میرے جانے کے لیے دن گن گن کر گزارے۔میرے مزاج پر ذرّہ بھر اثر نہیں ہوتا۔ بہ قول شاعر ”مومن خان مومن” رنج راحت فزا نہیں ہوتا۔اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا۔
    بینگن، ٹینڈے، بھنڈی یا توری سبزیوں کے قبیلے سے تعلق رکھنے والی یہ نازک اندام حسینائیں مجھ سے اُکتائی سی رہتی ہیں جب لوگوں کی گز گز بھر کی زبانیں انہیں بُرا بھلا کہتی ہیں۔ نتیجے میں ان کا سارا نزلہ مجھ جیسے بہادر ہیرو پر آ گرتا ہے۔ اب چوں کہ ہیرو بہادر ہے تو کب کہاں وہ کسی سے ڈرتا ہے!
    ضخیم قسم کی کتابوں کو بھی مجھ سے کئی گلے شکوے رہتے ہیں جب بہ صورت پسینا ان کے سرورق پھٹتے ہیں۔تو میاں صاحب!میں تو سو کی بس ایک بات کہتا ہوں جو کروڑ روپے مالیت سے کم نہیں ہے۔ہمہ تن گوش ہو جائیے، ذرا کان قریب لائیے۔آپ کا جب بھی جی چاہے مطالعے کا تو جناب عالی! ائیر کنڈشنز’اے سی’ ائیرکولرز کی صحبت سے استفادہ کیجیے۔ نہ مل سکے یہ تو سکھ چین یا پیپل کی چھاؤں میں کتابوں کا اعادہ کیجیے۔ ویسے آپس کی بات ہے میں (موسمِ گرما) کتنے ہی گراں قدر مفت مشورے دے ڈالوں، کسی لڑاکا ساس کی طرح سارے جہاں کی برائی میرے ہی حصے میں آتی ہے۔ ایک میں ہی برا ہوں باقی سب لوگ اچھے ہیں!عالی قدر شاعر”ظہیر کاشمیری”نے بھی کیا خوب میری حالت زار پر نظرثانی کی ہے۔اپنے گلے میں اپنی ہی بانہوں کو ڈالیے۔جینے کا اب تو ایک یہی ڈھنگ رہ گیا!
    اپنے گلے میں اپنی ہی بانہوں کو ڈالیے
    جینے کا اب تو ایک یہی ڈھنگ رہ گیا
    کسی رو پہلی محبت کی مانند ”آم” جیسی نعمت بھی تو لے کر آتا ہوں اورکیا یہ شرف کم ہے کہ مشہور زمانہ شاعر ”غالب” بھی کہتا تھا کہ ”آم ہوں اور بہت ہوں!”تو میاں ایسی عزت افزائی شاید ہی کسی موسم کے حصے میں آئی ہو۔یہ میں ہی ہوں جس کی وجہ سے لوگوں کو بہ وقت شب مچھروں سے مقابلہ کرنا آجاتا ہے۔ یہ میں ہی ہوں جس کے سبب انسان بعد از برسات ڈھیر سارے پروانوں سے نمٹنا سیکھ لیتا ہے۔یہ میں ہی ہوں جس کے دم سے موم بتی، لالٹین اور چراغوں کی اہمیت باقی ہے۔یہ میں ہی ہوں جو ہر گرد آلود آندھی کے بعد بشر کو صفائی نصف ایمان جیسے فریضے کے لیے مستعد کرتا ہوں۔یہ میں ہی ہوں جس کے باعث تمازت سے کملائے اور پڑھائی سے بوکھلائے بچوں کو پورے تین ماہ کی چھٹیوں کا مزا دیتا ہوں۔ پھر بھی کسی سے کوئی جزا نہیں لیتا۔ اُلٹا استقامت، بردباری اور صبروتحمل سے اوصاف ہر بچے، بوڑھے اور جوان میں پیدا کر دیتا ہوں اور بالآخر اک سرد آہ بھر کر کہتا ہوں۔
    ہم نہ کہتے تھے کہ ”اے موسم گرما” چپ رہو
    راست گوئی میں ہے رسوائی بہت!
    (حالی سے معذرت کے ساتھ)
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • گلانے — صوفیہ بٹ (قسط نمبر ۱)

    گلانے — صوفیہ بٹ (قسط نمبر ۱)

    رات نے ہاتھ میں سیاہ دوات لے کر ہر سو اندھیرا چھڑک رکھا تھا ۔
    کچھ ایسی ہی تاریک اس شخص کی زندگی بھی تھی جس کے ہاتھ میں سگریٹ اور نگاہ آسمان پر تھی۔ وہاں کچھ ٹمٹماتے تارے تھے ۔ اس کی نظریں دور کہیں ایک ستارے کو ڈھونڈ رہی تھیں مگر وہ ملتا نہ تھا۔ سگر یٹ اس کا ہاتھ جلا گئی ۔ اس نے جھٹک کر اسے پھینکا اور دوسری نکال کر سلگا لی۔
    یوں تو عرصہ ہو ا زندگی دشوار ہوئی مگر کبھی کبھی تو ایسا گھائل کرتی کہ اس جیسا مضبوط اعصاب والا بندہ بھی خودکشی کے بارے میں سوچنے لگتا۔ وہ اپنا شہر چھوڑ آیا ، جان پہچان کے لوگوں سے دور ہو گیا پھر بھی ماضی دامن نہ چھوڑتا تھا ۔ زلیخا کی طرح رسوا کرنے پہ تلا تھا۔
    وہ جہاں بھی چلا جاتا یہ خبر پانی کی طرح رستہ بناتے ہوئے وہاں پہنچ جاتی اور لوگ ترحم بھری یا پھر طنزبھری نظروں سے اسے دیکھنے لگتے تھے۔ وہ جو ایک وجیہہ و شکیل مرد تھا ، جس کا اپنی فیلڈ میں نام اور ایک مقام تھا جسے لوگ رشک یا حسد کی نگاہ سے دیکھتے ، ایک دم انہیں بے چارا سا لگنے لگتا۔
    ”کافی ٹھنڈ ہے یہاں …ہے ناں ؟ ” قرة العین اس کے پیچھے کب آ کھڑی ہوئی ، اسے پتا ہی نہ چلا تھا۔ قرة العین نے ایک طرف دیوار میں لگے سوئچ بورڈ پر دو تین بٹن دبائے تو بالکونی روشن ہوگئی۔ اس نے مڑ کر اس کی طرف دیکھا، وہ وہیں اسی پوزیشن میں کھڑا تھا۔ اس کے آنے اور بالکونی روشن ہونے سے اسے جیسے کوئی فرق نہیں پڑاتھا۔ کورٹ میں ، چیمبر میں ایک ایک لمحہ حرکت میں رہنے والا یہ شخص جب کبھی اپنی ذات میں گم ہوتا تو یوں لگتا جیسے اب اس کیفیت سے عمر بھرباہر نہیں نکلے گا ،کبھی اس جگہ سے نہیں ہلے گا ،کبھی دنیا کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھے گا۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    ”ڈنر میں سب آپ کا پوچھ رہے تھے۔ جسٹس صفدر نعیم کی باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس دفعہ ان کا بیٹاسیالکوٹ بار کونسل کے صدر کا انتخاب لڑے گا۔ ”
    اگر وہ کچھ سمجھ دار ہوتی تواس کے چہرے کے تاثرات سے بخوبی اندازہ لگا لیتی کہ اسے اس وقت جسٹس صفدر نعیم یا ان کے بیٹے کی باتوں میں کوئی دلچسپی نہیں۔
    ”میں نے سنا ہے کہ ججز کے لیے کمیشن اناؤنس ہونے والا ہے ، کیا مجھے اپلائی کرنا چاہیے؟” وہ ایک اور خبر دیتے ہوئے اس سے رائے مانگ رہی تھی۔ اس کے چہرے اور آنکھوں سے صاف ظاہر تھا کہ وہ جواب اثبات میں چاہتی ہے۔ مگر اس شخص کی طرف سے اثبات میں اور نہ ہی نفی میں کوئی جواب ملا تھا۔ اس کی انگلیوں میں دبی سگریٹ سلگتے سلگتے آخری سانسیں لے رہی تھی۔
    ”جسٹس سلیمان نواب کہہ رہے تھے کہ صرف اپنے آپ پر نہ اتراتے پھرنا، سفارش ضروری ہے، بلکہ ضروری ہی سفارش ہے۔ کیسی نا انصافی ہے ناں؟ جب بڑے لوگ اتنی چھوٹی بات کرتے ہیں تو دکھ ہوتا ہے۔” ٹھنڈی ہوا کے جھونکے نے طبیعت پر خوب اثر ڈالا۔ قرةالعین گہرا سانس لیتے ہوئے یاسیت کی کیفیت سے باہر نکلی۔
    ”ایک ہی ملک میں مختلف موسم… مجھے گرم کپڑے رکھ لینے چاہئیں تھے …آپ نے رکھے؟”
    ”آپ اس وقت میرے کمرے میں کیا لینے آئی ہیں مس غنی ؟” وہ اچانک اس کی طرف مڑا اور درشت لہجے میں پوچھا۔
    ”میں یہاں …وہ …” وہ جوبڑے آرام سے اسے ڈنر کے موقع پر حاصل ہونے والی خبریں سنا رہی تھی،اس سے اب بولنا دشوار ہو گیا۔
    ”جاؤ یہاں سے ۔اسکینڈل بنوانے کا زیادہ شوق ہے تو کسی اور کے کمرے میں جاؤ۔”
    اس کے لفظ زہریلے تھے اور لہجہ اس سے بھی زیادہ تلخ۔
    قرةالعین کچھ دیر گنگ سی کھڑی انہیں دیکھتی رہی۔جب تیزی سے پانیوں سے بھرتی آنکھیں برسنے کو ہوئیں تو وہ عجلت سے مڑی، کمرے میں آ کر سائیڈ ٹیبل پر پڑی ایک فائل اٹھائی اور کمرے سے نکل گئی۔
    ٭…٭…٭
    رات کا جانے کون سا پہر تھا ۔چاند اس کی کھڑکی کے سامنے آ کر ٹھہر گیا تھا ۔ اس کے سامنے دو کتابیں کھلی پڑی تھیں، ساتھ ہی کچھ صفحات تھے ۔ اوپر والے صفحے پر "And” اور "Or”گیٹس ڈرا کیے ہوئے تھے ۔اس کے اوپر اسکیل اور ربر پڑے تھے ۔پنسل اس کی انگلیوں میں دبی ہوئی تھی اور وہ کرسی پر بیٹھے بیٹھے ہی سو گئی تھی۔ ہانیہ کی آنکھ کھلی تو تاسف سے سر ہلاتے ہوئے بیڈ سے اٹھی۔اس کے پاس آکر کتابیں بند کیں اورآہستگی کے ساتھ اس کا کندھا ہلاتے ہوئے اسے پکارا۔وہ ڈر کر جاگی تھی۔ اس کے منہ سے ہلکی سی چیخ بھی نکلی۔پھر وہ خوف زدہ نظروں سے ہانیہ کی طرف دیکھنے لگی۔
    ”اٹھو…بستر پر سو جاؤ۔” وہ جیسے کچھ نہ سمجھی تھی۔ یونہی تیز سانس لیتی اسے دیکھتی رہی۔
    ”بستر پر جاؤنور …بہت رات ہو گئی ہے۔” ہانیہ نے پھر نرمی سے کہا ۔
    ”نہیں …مجھے ابھی الیکٹرونکس کی اسائنمنٹ مکمل کرنی ہے ۔” اس نے اسکیل اور ربر اٹھا کر ایک طرف رکھے اور کاغذ پر بنے gatesکو دیکھنے لگی۔
    ”صبح بنا لینا… رات آرام کے لیے ہوتی ہے ۔” ہانیہ نے دونوں کتابیں بند کر دیں ۔
    ”صبح مڈ ٹرم کی تیاری کرنی ہے ۔” وہ اٹھنے کو تیار نہ تھی۔
    ”تو یار یہ کون سا میجر ہے جس کے لیے اتنا مغز مار رہی ہو۔ مائنر ہی تو ہے، چھوڑو۔”
    ”علم تو علم ہوتا ہے ۔ مائنر یا میجر سے فرق نہیں پڑتا ۔ انسان زندگی میں بہت سی چیزوں کو مائنر (معمولی) سمجھ کر اہمیت نہیں دیتا۔ یہی مائنر کبھی کبھی بڑی بلا بن کر حملہ کرتے ہیں تو خوشی، سکون ، اعتبار ، اعتماد سب نگل جاتے ہیں۔” ایک اندھیری رات کی دہشت سے آج بھی اس کا رنگ پیلا پڑا ہوا تھا۔
    ”یار تیری باتیں تو مجھے دن میں سمجھ نہیں آتیں ، رات کے اس پہر خاک پلے پڑنی ہیں۔” ہانیہ نے جمائی لیتے ہوئے ہار مانی۔ وہ جانتی تھی کہ اب وہ اس کے پاس گھنٹا کھڑی ہو کر اس کی منتیں بھی کر لے پھر بھی وہ دوبارہ سونے والی نہیں ۔اس نے اسائنمنٹ مکمل کر کے ہی اس کرسی سے اٹھنا تھا ۔وہ بڑبڑاتی ہوئی اپنے بیڈ پر واپس گئی۔
    ”صدر مملکت نے ایوارڈ دینا ہے ناں تمہیں۔” ہانیہ بُرا سامنہ بناتے ہوئے بستر پر لیٹتے ہوئے بولی۔
    وہ منہ پر چھینٹے مار کر دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہو گئی۔ ہانیہ کی بڑبڑاہٹ اس کے کانوں تک پہنچتی رہی۔یہاں تک کہ وہ دوبارہ نیندکی وادی میں پہنچ گئی مگر اسے اب رات بھر نیند نہیں آنی تھی۔
    اس کا دل ابھی بھی تیزی سے دھڑک رہاتھا۔ اور ماتھے پر پسینا چمک رہا تھا ۔
    ٭…٭…٭
    وہ ایک بدترین ایکسیڈنٹ تھا۔
    کار،موٹر سائیکل اور ٹرالرکے بیچ ہونے والے تصادم میں چار جانیں چلی گئیں۔ سیاہ مرسڈیز میں سوار دونوں لڑکے جان کی بازی ہار چکے تھے ۔ موٹر سائیکل والا لڑکا بھی مر چکا تھا۔صرف اس کے پیچھے بیٹھے لڑکے کی سانسیں چل رہی تھیں مگر حالت ایسی تھی کہ کوئی معجزہ ہی اسے بچا سکتا تھا۔ اور حواس کھو دینے سے قبل اس نے معجزہ ہو جانے کی شدت سے دعا مانگی تھی۔
    مرنے سے پہلے وہ ایک چہرہ دیکھنا چاہتا تھا ۔
    مرنے سے پہلے وہ ایک لفظ کہنا چاہتا تھا ، ایک جملہ سننا چاہتا تھا ۔
    اس نے معجزہ ہو جانے کی شدت سے دعا مانگی تھی۔ رب نے اس کی سن لی وہ بچ گیاتھا۔
    ٭…٭…٭
    دو روزہ انٹرنیشنل جوڈیشل کانفرنس آج اپنے اختتام کو پہنچی تھی۔ ان کے ضلع کے ججز اور وکلا نے ایک دن اسلام آباد کے خوب صورت مقاما ت کی سیرکے لیے مختص کیا تھا ۔لوک و ر ثہ ،شکر پڑ یا ں اور پاک مونومنٹ گھومنے کے بعد وہ 1969 ریسٹورنٹ لنچ کے لیے پہنچے تھے۔ ریسٹورنٹ میں چلتا ساٹھ اور ستر کی دہائی کا میوزک ، میز کے شیشے کے نیچے ر کھی اس دو ر کی خبر و ں کے تراشے بو ڑ ھوں کو ا یام جوانی کی یاد دلاتے اور جوانوں پر پچھلی صدی کا سحر سا طاری کر دیتے ۔ سب اس ماحول میں لذیذ کھانے سے لطف اندوز ہوتے ہوئے مختلف موضوعات پر مبنی گفتگو میں مگن تھے مگر قرةالعین خلافِ معمول آج چپ چپ سی تھی۔ساتھیوں کے استفسار پر بھی اس نے انہیں ”طبیعت کچھ صحیح نہیں ” کہہ کر ٹال دیا تھا۔وہ جانتا تھا قرةالعین کی خا موشی اور آزُردگی، کی و جہ، مگر ا س نے معذر ت کی ضر و ر ت نہ سمجھی تھی۔
    غلطی اس کی تھی۔ بغیردستک دیے کسی کے کمرے میں آنا اس کے نزدیک سب سے بڑی بدتہذیبی تھی۔ اوپر سے یہ دیکھے بغیر کہ سامنے والا سننے کے موڈ میں ہے بھی یا نہیں ، بولتے چلے جانا،یہ بھی تہذیب کے دائرے میں ہر گز نہ آتا تھا۔مزید غصہ اسے یہ آیا تھا کہ آج کل کے جوانوں میں عقل سمجھ تو ہے نہیں، ملک بھر کی عدلیہ اور دنیا کے مختلف ممالک سے آئے قانون دان اس ہوٹل میں جمع تھے ۔صحافیوں نے ان کے پہنچنے سے پہلے وہاں ڈیرے ڈالے ہوئے تھے ۔ اور وہ چلی آئی تھی رات کے اس پہر ا س کے کمرے میں ۔ کوئی بھی اسے وہاں ،رات کے اس پہر اس کے کمرے میں آتا جاتا دیکھ لیتا توکہانی اپنی مرضی کی گھڑتا۔ دوسرے شعبوں کی طرح اس فیلڈ میں بھی حسد و بغض کی کمی نہیں تھی۔ وہ ایک کم عمر بے وقوف لڑکی کی وجہ سے اپنا نام اور مقام خراب نہیں کرسکتا تھا۔
    ”آپ کو کیا لگتا ہے چیف جسٹس جواد خواجہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے اردو کو آفیشل لینگویج کے طو ر پر اڈاپٹ کرنے کا جو حکم صادر کیا ہے وہ امپلی منٹ ہو گا یا صرف دیوانے کا خواب بن کر رہ جائے گا ؟” سیشن جج اعتبار احمد نے کانٹا چمچ چلاتے ہوئے تبصرہ کیا تو اس کا دھیان بھی اُدھر ہوا۔
    ”آپ نے اپنے سوال میں جتنے انگریزی کے الفاظ استعمال کر ڈالے ،اس سے تو نہیں لگتا ۔ ” جوڈیشل مجسٹریٹ خورشید عطا نے مچھلی کا ٹکڑا پلیٹ میں رکھتے ہوئے ہنس کر کہا ۔
    ”اردو بھی تو بہتر ہوئی ہے میرے ہم دم… یہ بھی تو ملاحظہ فرمائیں۔” اعتبار احمد بھی ان کی اِس بات پر ہنسے تھے۔
    ”مجھے نہیں لگتا۔ کیوں کہ ہمارے یہاں بہت سے ایسے انگریزی الفاظ رائج ہو چکے ہیں جنہیں اردو کے کسی لفظ سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔” جوڈیشل مجسٹریٹ نے نوالہ منہ میں ڈالتے ہوئے کہا۔
    ”اس سے فرق نہیں پڑتا۔ تبدیل کرنے کی ضرورت بھی نہیں۔ ہر زبان میں ایسے الفاظ پائے جاتے ہیں جن کا اوریجن کوئی اور زبان ہے مثلاً انگریزی ہی لے لیجیے جس میں ہزاروں ایسے الفاظ ہیں جو دوسری زبانوں سے لیے گئے ہیں۔ فرنچ یا لیٹین (لاطینی) ہیں، مگر اب انگریزی کا حصہ بن چکے ہیں۔ لفظ ایڈووکیٹ کو ہی لے لیں۔ اگر اس کی etymology دیکھیں تو اس کا اوریجن فرنچ اور لیٹین ہیں۔ اسی طرح اگر انگریزی کے کچھ لفظ عربی ،فارسی اور سنسکرت کی طرح اردو زبان کا حصہ بن چکے ہیں توکوئی مضائقہ نہیں ۔اس بات کو بنیاد بنا کر ہم اپنی قومی زبان کو پیچھے نہیں دھکیل سکتے۔ میری ذاتی رائے یہ ہے کہ اس فیصلے کو رائج ہونا چاہیے ۔” وہ اپنی رائے د ے ر ہا تھا اور قرةالعین دل میں اس سے خفا ہونے کے باوجود اسے دیکھے بنا نہ رہ سکی تھی۔اس کی شخصیت میں بلا کی کشش تھی۔
    ”میں اس حق میں نہیں ہوں۔ ہم پہلے ہی پیچھے ہیں ،انگلش کو چھوڑ کر مزید پیچھے چلے جائیں گے۔” لرنڈ کاؤنسل منیب طاہرنے نفی میں سر ہلاتے ہوئے گفتگو میں حصہ لیا۔
    ”چائنا پیچھے چلا گیا؟” اس نے منیب کی آنکھوں میں جھانک کر سوال کیا۔
    ”آپ نے نہیں سنا، ماؤ زے تنگ نے کہا تھا کہ میں دنیا کو بتانا چاہتا ہوں چین گونگا نہیں ہے ۔ اس کی اپنی ایک زبان ہے اور اگر دنیا ہمارے قریب آنا چاہتی ہے یا ہمیں سمجھنا چاہتی ہے تو اسے ہماری زبان سمجھنا اور جاننا ہو گی۔” اس کی آنکھوں میں بلا کی سنجیدگی تھی۔
    خوداری… میرے ہم دم خوداری۔ اپنی زبان کو فروغ دینے کے لیے، عزت دینے کے لیے خوداری لازم ہے اور فقیر خوددار ہو گیا تو کاسہ کیسے بھرے گا ؟” اعتبار احمد پھر ہنسے تھے ۔ وہ کڑوی مگر سچی بات کر گئے تھے ۔
    ”ہم فقیر نہیں ہیں۔” قرة العین نے صدائے احتجاج بلند کی۔
    اس نے بہت غور سے قرةالعین کا سرخ پڑتا چہرہ دیکھا۔ جوانی میں فرطِ جذبات سے چہرہ ایسا ہی ہو جاتا ہے کیوں کہ بات دل سے کی جاتی ہے ۔پھر دھیرے دھیرے وقت، دماغ کو سردار بنا دیتا ہے، اسی کے فیصلے چلنے لگتے ہیں، مصلحتوں سے بھرے لہجے جذبات سے عاری ہونے لگتے ہیں۔ چہرے سپاٹ ہونے لگتے ہیں ۔
    ”خود فریبی سی خود فریبی ہے ۔” اعتبار احمد گنگناتے ہوئے طنزیہ انداز میں ہنس دیے تھے ۔
    قرةالعین کاچہرہ ایک بار پھر لال ہوا ۔اس نے پلیٹ پر جھکنے سے پہلے اس بے درد کو دیکھا جو اپنی رائے دینے کے بعد کھانے میں مصروف ہو چکا تھا۔ یہ اس کی عادت تھی۔ ا پنی ر ا ئے د ینے کے بعد چپ ہو جا تا تھا، بحث میں نہیں پڑتا تھا۔ ہاں دوسروں کا مؤقف ضرور غور سے سنتا تھا۔ مگراس کے معاملے میں یہ نام ور جج اچھا منصف نہیں تھا۔ اس سے جانے کیا خار رکھتا تھا کہ اس کا مؤقف سننے کی کبھی ضرورت ہی نہ سمجھی۔ زیادہ تکلیف دہ بات تو یہ تھی کہ زیادتی کرنے کے بعد اسے احساس تک نہ ہوتا تھا۔ اب بھی اس کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں تھی، انداز میں کوئی ندامت نہ تھی جیسے وہ بھول چکا تھا کہ رات کتنے سخت الفاظ اسے کہہ چکا ہے۔ و ہ تو ڈنر کے بعد جب علینہ اور فرواکے ساتھ وہ روم میں آئی تو اس وقت اسے ایک دم یاد آیا کہ اس نے انہیں شام میں اس پیپر کو ریویو کرنے کو کہا تھا جو ا س نے کل کانفرنس کے پہلے سیشن میں پڑھنا تھا ۔وہ اس کے کمرے سے اپنا پیپر لینے گئی تھی۔یہ اور بات ہے کہ اسے یوں تنہا ،اداس دیکھ کر وہ رہ نہ سکی تھی اور اس کے قریب چلی آئی تھی۔
    یہ سچ تھا کہ اسے اس شخص کی تنہائی تکلیف دیتی تھی۔ اسے اس شخص کا کرب بھی رنج دیتا تھا۔ وہ اس شخص کا ہاتھ تھام لینا چاہتی تھی، اس کو تنہائی کے عذاب سے نکالنا چاہتی تھی، اس کے سب غم سمیٹ لینا چاہتی تھی۔
    ہاں! اس سے انکاری کب تھی وہ۔ ایسا تو وہ چاہتی تھی مگر وہ نہ چاہتی تھی جو یہ بے درد شخص سمجھا تھا اس کی عزت اسے بہت عزیز تھی۔ اس کی بدنامی اسے کب قبول تھی؟ اس کا تو ابھی تک ہیومن رائٹس کی اس علم بردار کا منہ نوچ لینے کو جی چاہ رہا تھا جس نے کل دوپہر اسے ماضی کا طعنہ دیا تھاجس کے بعد سے ہی اس نے اپنے آپ کو کمرے میں بند کر لیا تھا ۔
    اسے سمجھ نہیں آتی تھی کہ کسی کے زخم پر نمک چھڑک کر بھلا لوگوں کو کیا مزہ آتا ہے؟
    وہ اس شخص کے لیے اپنا دل جلا رہی تھی جو اسے اپنے لفظوں اور اپنے رویے سے گھائل کرتا تھا۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • لالی — شاذیہ خان

    لالی — شاذیہ خان

    رجونے چولہے میں مزید لکڑیاں جھونکیں اور جلدی جلدی پیڑے بنانے لگی ۔ چونکی اُس وقت جب بارش کی کن من اس کے کانوں سے ٹکرائی ۔ وہ سب کچھ وہیں چھوڑ کر صحن کی طرف بھاگی ۔ بھائی بھابھی ابھی سو رہے تھے ۔ کاشی (چھوٹا بھائی ) دوسرے گاؤں گیا ہوا تھا ۔ سواُسے اکیلے ہی صحن میں سے بکھرا سارا سامان اور بھاری بھاری چارپائیاں سمیٹنی پڑیں۔ اس دوران بارش نے اُسے بھگو ڈالا تھا ۔ سب نپٹا کر اُس نے کپڑے بدلے اور دوبارہ چولہے کی طرف آ گئی ۔ سب کے اُٹھنے سے پہلے اُسے ناشتہ تیار کرنا تھا۔ چاٹی میں نمک اور تھوڑا ٹھنڈا پانی ڈال کر وہ جلدی جلدی لسّی بلونے لگی۔ مکھن اوپر آ جانے کے پر اُس نے ہاتھ ڈال کر پیڑا نکالا اور پیالے میں ڈھک دیا۔ بھائی ناشتے میں مکھن اور پراٹھا پسند کرتا تھا ، بھابھی روٹی اور لسّی۔
    چھوٹا رات تک آنے والا تھا ۔ویسے بھی وہ ناشتے میں زیادہ تر گُڑ والی چائے اور روٹی مکھن کے ساتھ کھاتا تھا۔ اُس نے چنگیری میں موجود رات کی بچی ہوئی روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کئے اور مرغیوں کے ڈربے کی طرف آ گئی ۔مُرغیاں کُٹ کُٹ کرتی ایک دوسرے پر چڑھتی روٹی کے ٹکڑوں پر لپکیں ۔ وہ وہیں کھڑی اُن کو ایک دوسرے سے لڑتا دیکھ رہی تھی کہ اچانک دروازے پر دستک ہو ئی ۔ کپڑوں کو بچاتی رجو دروازے پر آئی ۔ کاشی تھا جو کہ بُری طرح بھیگا ہوا تھا ۔ ”کاشی تو اتنی صبح؟ تو نے تو شام تک آنا تھا ”۔ ”ہاں آپا جس کا م کے لئے گیا تھا وہ تو رات کو ہی ہو گیا تھا۔ تو میں نے سوچا کہ اب نکل لوں، بارش سے پہلے ہی گھر پہنچ جاؤں گا مگر بارش نے راستے میں ہی آ لیا۔ وہ تو بھلاہو چھوٹے چودھری صاحب کا وہ بھی گاؤں ہی آرہے تھے ۔ انھوں نے اپنی گاڑی میں بٹھا لیا ۔ تو بتا، ناشتہ بنایا ہے؟” اس نے لمبی کہانی سناتے ہوئے پیٹ پر ہاتھ پھیرا ۔
    ”ارے تو کپڑے بدل میں ابھی تیرے لئے ناشتہ لاتی ہوں”۔ رجو نے تیزی سے ہاتھ چلاتے ہوئے ناشتہ بنا کر ٹرے میں رکھا اور کمرے میں آگئی ۔ کاشی کپڑے بدل چکا تھا ۔ ”آپا پیسوں کا انتظام ہو گیا ”۔ اس نے نوٹوں کی ایک موٹی سی گڈی اُس کے ہاتھ میں تھمائی ۔ وہ رجو کی اور اپنی شادی کے انتظامات کے لئے دوسرے گاؤں میں موجود ابّا کی زمین بیچنے گیا تھا ۔ اچھی قیمت مل گئی تھی ۔
    سب آہستہ آہستہ اُٹھ چکے تھے رجو نے بھائی اور بھابھی کے آگے ناشتہ رکھا۔ بھائی چھوٹے بھائی سے زمین کے سودے کے بارے میں بھی پوچھ رہے تھے وہ بتا رہا تھا کہ بہت تھوڑے سی زمین بچی ہے بوائی واسطے لیکن شکر ہے سودا ہو گیا۔ اب شادی کی تیاری شروع کر دی جائے۔ اس کی اور رجو کی منگنی کو دو سال ہو چکے تھے اور اب دونوں کی سسرال والے شادی کے لیے زور دے رہے تھے۔ اُن کی باتوں کو سن کر رجو اپنے کمرے کی طرف آگئی نہ جانے دل کیوں بھر آیا تھا ابا اور اماں اس وقت بہت یاد آرہے تھے۔ اس وقت اُسے رونے کے لیے کاندھے کی ضرورت تھی اور کوئی کاندھا نہ تھا۔ بھابھی ذرا لئے دیئے میں رہتیں رجو سے ضرورت کے وقت ہی باتیں کرتیں وہ اپنے دل کی ساری بھڑاس اپنی جاں سے پیاری لالی سے کر لیتی لالی اور وہ سہیلیاں تھیں لیکن اس وقت بارش اتنی تیز تھی کہ وہ لالی تک نہیں جا سکتی تھی۔ وہ لالی کو کیسے بتاتی کہ شادی کی بات سُن کر اس کا دل بھر آیا ہے۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});
    رجوکی ساس شادی کی بہت جلدی مچا رہی تھیں ۔ انہوں نے دوسال انتظار بھی تو کیا تھا ۔ دو سال پہلے انہوں نے اُسے پھرکی کی طرح پورے گھر میں بھاگ بھاگ کر کام کرتے دیکھا ۔ ہر طرف رجو رجو کی صدائیں گونج رہی تھیں۔ کہیں وہ مہمانوں کے لئے چارپائیاں بچھا رہی ہے ۔ کہیں صبح صبح اٹھ کر ناشتہ کروا رہی ہے ۔ کہیں چولہا سنبھالے مہمانوں کے دوپہر کے کھانے کی فکر میں ہلکان تھی۔ غرض ہر دوسرے شخص کی زبان پر اسی کا نام تھا۔
    رجو کی ہونے والی ساس اس کی دور پرے کی پھوپھی بھی تھیں جو شادی میں شرکت کے لئے اپنے گاؤں سے آئیں تو انہیں محسوس ہوا کہ اس ہیرے کو تو میرے گھر ہونا چاہئے ۔ شکل صورت بھی لاکھوں نہیں تو ہزاروں میں ایک تھی ۔ رجو کے باپ کا انتقال کچھ مہینے پہلے ہی ہوا تھا ۔ دو بھائی تھے ۔ ماں بچپن میں ہی فوت ہو گئی تھی ۔ باپ اور بھائیوں نے بڑا کیا تھا ۔ چھوٹا عظیم جسے سب پیار سے کاشی کہتے تھے رجوسے ایک سال چھوٹا تھا ۔ اس کا رشتہ بھی بھابھی کی بہن سے طے تھا۔ صرف رجو کا رشتہ طے ہونا باقی تھا۔ یہ مسئلہ پھوپھی نے حل کر دیا اور دونوں بھائیوں سے افضل کے لئے ہاں کروا کر ہی اٹھیں ۔ یہ بھی نہ سوچا کہ اس رشتے میں افضل کی خوشی بھی شامل ہے یا نہیں؟
    وہ اپنی چچا زاد زینب سے شادی کرنا چاہتا تھا لیکن ابّا کے آگے مجبور ہو گیا ۔ چند سال پہلے زمین اور جائیداد کے معاملے پر ابّا اور چاچا کا ایسا جھگڑا ہوا کہ اب دونوں بھائی ایک دوسرے کی شکل دیکھنے کے بھی روا دار نہ تھے اوراسی جھگڑے نے افضل کی محبت کو بھی دم توڑنے پر مجبور کر دیا تھا۔ پچھلے سال جب افضل کا باپ دنیا سے رخصت ہوا تب بھی چاچا اور اُن کا گھرانا بھائی کا منہ تک دیکھنے نہ آیا۔ اماں نے بین ڈالتے ہوئے قسم کھائی کہ آج کے بعد اُس گھر سے کوئی ناطہ نہیں رکھا جائے گا۔ بھلے کوئی مرے یا جئے اور جس نے رکھنے کی کوشش کی تو اُس کے لئے میں بھی مر جاؤں گی ۔ یہ قسم دیتے ہوئے اُن کا مخاطب صرف افضل تھا اور افضل ہاتھ مسلتے ہوئے ابّا کا آخری دیدار کر رہا تھا۔
    کیا خون کے رشتے اتنے سنگ دل اور تنگ دل بھی ہو سکتے ہیں کہ آخری دیدار بھی نہ کریں۔ اس نے ابا کی میّت کو دفن کرتے وقت اپنی محبت کو بھی دکھی دل سے دفن کر دیا۔
    حالاں کہ وہ اور زینب بچپن کے ساتھی تھے ۔ اُن کے بڑے ہمیشہ یہ احساس دلاتے تھے کہ وہ دونوں ایک دوسرے کے لئے ہی ہیں۔ اس بیج نے تن آور درخت کی صورت اس وقت اختیار کی جب لڑکپن میں اُسے کبوتر بازی کا شوق ہوا۔ دن بھر آوارہ گردی کرتے کبوتروں کو بند کرنے شام کو جب چھت پر جاتا وہ نہ صرف اس سے پہلے موجود ہو تی بلکہ اس کے انتظار میں کئی چکر بھی لگا چکی ہوتی ۔ کبھی کبھی سب کی نگاہ سے بچ کر وہ دونوں کسی بڑے پنجرے کی اوٹ میں کچھ دیر دل کی باتیں بھی کر لیتے۔ وہ کبوتروں کے لئے میوے اور دانہ لینے جاتا تو سب کی نظر بچا کر اُس کے لئے بھی کاچھو حلوائی سے جلیبیاں ، قتلمے ، سموسے یا اندرسے ضرور لاتا ۔ دونوں ایک دوسرے کو اپنے ہاتھوں سے کھلا کر بہت خوش ہوتے۔ افضل کو محسوس ہوتا کہ زینب بھی غٹرغوں غٹرغوں کرتی ایک کبوتری ہی ہے ۔ کبوتروں کی کابک تلے ان کی محبت پروان چڑھتی گئی۔ وہ زینب کے گھر جائے یا زینب اس کے گھر دونوں کے ماں باپ اُن پر صدقے واری ہوتے ۔ اُن کے گمان میں بھی نہ تھا کہ وہ الگ ہو جائیں گے۔
    تعلقات منقطع ہو جانے کے بعد رحیم چاچانے افضل سے جان چھڑانے کے لئے زینب کی شادی اپنی بیوی کے یتیم بھانجے ماجد سے کر دی۔ ماجد کے ماں باپ بچپن میں ہی فوت ہو گئے تھے ۔ پھوپھی نے اسے اپنی اولاد سمجھ کر پالا تھا۔ تھوڑی سی زمین تھی جس پر پھوپھا کی معاونت سے بوائی کرتا اور مشورے لیتا۔ شادی کے بعد زینب نے اُسے ایک پل سکون نہ دیا ۔ ہر دوسرے دن جھگڑا کر کے میکے آ بیٹھتی اور کسی طور جانے کے لئے راضی نہ ہوتی ۔جھگڑے کی وجوہات اتنی معمولی ہوتیں کہ اُن سے ماجد تو کیا اُس کے اپنے ماں باپ بھی نالاں تھے۔ روز روز کے جھگڑوں سے تنگ آکر پھوپھا نے ماجد کوسسرال ہی رہنے کو کہا تو وہ بڑی خوب صورتی سے ٹال گیا ۔ غیرت مند تھا ، گھر جوائی کا طعنہ کبھی نہ سہہ سکتا تھا ۔
    بڑوں کے درمیان نفرتیں ان کی محبتوں پر حاوی ہو گئیں ۔اس کی شادی کے روز افضل پاؤں جلی بلّی کی طرح اِدھر سے اُدھر چکر لگاتا رہا۔ اس حالت کو صرف اُس کی ماں سمجھ رہی تھی ۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • دانہ پانی — قسط نمبر ۹ (آخری قسط)

    دانہ پانی — قسط نمبر ۹ (آخری قسط)

    عشق تے آتش سیک برابر
    سانوں عشق دا سیک چنگیرا
    اگ تے ساڑھے ککھ تے کانے
    عشق ساڑے تن میرا
    اگ دا دارو مینہ تے پانی
    دس عشق دا دارو کیہڑا
    (آگ اور عشق دونوں ایک طرح سے جلاتے ہیں
    لیکن ہمیں عشق سے جلنا پسند ہے
    آگ تو صرف گھاس پھوس جلاتی ہے
    مگرعشق میرا تن جلاتی ہے
    آگ تو پانی سے بجھ جاتی ہے
    مگر مجھے بتاؤ عشق کس دوا سے ختم ہوتاہے)
    اُس بُت نے دعا کی تھی کہ وہ واقعی بُت ہوتا۔ جو اُس نے سُنا، نہ سُن سکتا، جو اُس نے دیکھا، نہ دیکھ پاتا اور اگر پہلے نہیں تھا تو اب بُت بن جاتا، رہ ہی کیا گیا تھا اب دُنیا میں؟
    وہ وہاں آنے سے پہلے بھی مجرم بن کر آیا تھا مگر یہ نہیں جانتا تھا کہ بتول سیدھا اُسے پھانسی کے تختے پر لٹکادے گی۔ وہ تو اتنے لمبے عرصے کے بعد گاؤں آنے پر حویلی جانے سے بھی پہلے گامو کے گھر آیا تھا تعزیت کرنے اور موتیا کا حال جاننے۔ اُس کے ملازم نے اُسے بتایا تھا گامو کے بارے میں جب وہ اُسے سٹیشن سے لینے آیا تھا اور مراد اُسے یہ نہیں کہہ سکا کہ وہ اتنے عرصہ بعد واپس ہی اس لئے آیا تھا کہ وہ اُس کے گھر جاسکے۔
    ”اسلم! حویلی کے بجائے گامو کے گھر چلو۔”
    اُس نے گاڑی چلانے والے ملازم سے کہا تھا۔ گامو کے گھر سے بہت دور گاڑی روک کر وہ پیدل اُس کی گلی میں آیاتھا اور اُس گلی میں آتے ہوئے اُسے چند سال پہلے ایک چھت پر کھڑی وہ دلہن یاد آئی تھی۔ اُس نے بے اختیارآج بھی سر اُٹھا کر جیسے اُس گلی میں گامو کے گھر کی چھت پر اُس وجود کو ڈھونڈنا چاہا تھا، وہاں کچھ بھی نہیں تھا۔
    گامو کے گھر کا دروازہ کھلا تھا اور مراد نے دہلیز پر قدم رکھ کر اُس دروازے کو بجانا چاہا تھا، جب اُس نے اندر سے آتی بتول کی آواز سُنی تھی اور پھر وہ انسان سے بُت میں بدل گیا تھا۔ پتہ نہیں وہ کون سی ریل کی پٹڑی تھی جس پر وہ لیٹا ہوا تھا اور بتول کی آواز ریل بن کر اُس کے وجود کے پرخچے اُڑاتے ہوئے اُس پر سے گزر رہی تھی۔
    ”سازش؟ اُس کی ماں یہ سازش کیسے کرسکتی تھی؟”
    اُس نے تو صرف ”پیار ” کیا تھا۔ پیار کی یہ سزا تو کوئی اُسے نہیں دے سکتا تھا اور وہ بھی وہ جو اُس کی اپنی ماں تھی۔
    کبھی کبھی انسان روشنی میں آنا نہیں چاہتا، کبھی کبھی دُنیا اتنی بدصورت لگتی ہے کہ انسان اُسے دیکھنے کے بجائے اندھا ہوکر جینا چاہتا تھا۔ مراد کے ساتھ بھی اس وقت یہی ہورہا تھا۔ وہ کس کو بُرا کہے؟ کس سے لڑے؟ کس سے بدلہ لے؟سامنے کھڑے مہرے سے یا اُس مہرے کو چلانے والے اُس ہاتھ سے جس نے مراد کو جنم دیا تھا۔
    ” چوہدری صاحب میں۔۔۔”

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    بتول نے بڑی دیر بعد کچھ کہنے کی ہمت کی تھی اور مراد نے ہاتھ اُٹھا کر جیسے اُسے خاموش ہوجانے کے لئے کہا تھا۔ وہ اب اُس سے کچھ اور بھی سننا نہیں چاہتا تھا۔ کوئی وضاحت، کوئی معافی، کچھ بھی نہیں۔ بتول نے اُس کا چہرہ دیکھا اور پھر پلٹ کر سکے چنتی موتیا کو دیکھا اور پھر وہ چپ چاپ اُس دہلیز کی طرف بڑھ گئی تھی جہاں سے مراد ہٹا تھا۔ وہ بتول کو نہیں دیکھ رہا تھا، وہ چارپائی پر بیٹھے اُس وجود کو دیکھ رہا تھا جسے اُس نے پہلی نظر میں پہچانا ہی نہیں تھا۔ وہ سر جھکائے بیٹھی سکّوں کے ساتھ کھیل رہی تھی اور اُس کے قدموں کی آواز پر اُس نے سر اُٹھا کر اُسے دیکھا تھا بالکل اُسی طرح جیسے کچھ دیر پہلے وہ بتو ل کی طرف متوجہ ہوئی تھی۔
    وہ کتنے سال بعد ایک دوسرے کے سامنے آئے تھے۔ کتنے سال بعد ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔
    اُس کے نین غزالی دلبر
    اُس کے گال گلابی
    اُس کے روپ پہ ساون برسے
    بہہ جائے مر مرکے
    اُس کا حسن کہانی جیسا
    کاغذ کتنے بھردے
    اُس کی مشک بہاروں جیسی
    اُس کی چپ میں چھاؤں
    وہ حسن پری
    وہ روپ متی
    وہ میرے جل کی ناؤ
    پہلی بار جب مراد نے اُسے دیکھا تھا تو وہ حسن کا مجسمہ تھا اور وہ اُس پر یوں مرمٹا تھا کہ پہلی نظر بھی ہٹا نہیں سکا تھا۔ موتیا نے اُسے باندھ کر رکھ دیا تھا۔ وہ آج اُس سے ملا تھا تو وہ حسن کا مجسمہ بھربھرا ہوکر اپنی ساری آب وتاب کھوچکا تھا۔ وہ پھر بھی اُس سے نظر نہیں ہٹاپایا وہ آج بھی اُس پر شعر پڑھ سکتا تھا، اُسے آج بھی ٹرین میں سُنا ہوا وہی گیت یاد آیا تھا اور اُس نے عجیب سے اندازمیں وہ سب اُس کے سامنے کہنا شروع کردیاتھا۔ اُس کی آواز امرت کی طرح موتیا کی سماعتوں میں اُتررہی تھی جیسے کسی طلسم کو توڑتے ہوئے اُسے پھر سے زندہ کررہی تھی۔ وہ سب کچھ جو بھول گیا تھا، دوبارہ یاد آنے لگا تھا۔پھر وہ سب کچھ جو یاد آرہا تھا وہ جہاں آکر ختم ہورہا تھا، وہاں وہ کھڑا تھا۔ غائب نہیں ہوا تھا۔
    مراد چند قدم چل کر آگے آیا تھا پھر اُس کے بالمقابل چارپائی پر بیٹھ گیا تھا۔ اُس کے ہاتھ سے سکّے لے کر اُس نے چارپائی پر رکھے تھے۔ اُس کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لے لیا تھا۔ اُس کا ہاتھ بے حد ٹھنڈا تھا۔ بہت کمزور، اُس کی ہاتھ کی رگیں اُبھری ہوئی تھیں۔گوشت نہ ہونے کے برابر تھا۔ اُس کا سرخ و سفید گلابی رنگ اب زرد تھا۔ اُس کے اتنے قریب بیٹھ کر مراد اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نہیں دیکھ سکا۔ وہ سر جُھکائے اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لئے کسی مجرم کی طرح بیٹھا ہوا تھا اور موتیا پلکیں جھپکائے بغیر اُسے دیکھتی ہی جارہی تھی۔
    ”مجھے اتنا برا بھلا کہو موتیا کہ میں مرجاؤں یہاں بیٹھے بیٹھے۔”
    وہ عجیب مطالبہ تھا جو مراد نے بالآخر سر اُٹھا کر اُس سے کیا تھا۔
    ” میں اب تم سے اپنے لئے کوئی اچھے الفاظ نہیں چاہتا۔ کوئی اظہارِ محبت نہیں، بس تم مجھے بددعائیں دو، بُرا بھلا کہو، گالیاں دو۔ میں سب کچھ سننے آیا ہوں جو اتنے سالوں میں میری بے وفائی پر مجھے کہا ہوگا۔”
    مراد نے اُس کو دیکھتے ہوئے کہا تھا اور جواب اللہ وسائی نے دیا تھا جو ابھی ابھی گھر میں داخل ہوئی تھی اور دروازے کی طرف مراد کی پشت ہوتے ہوئے بھی وہ پہچان گئی تھی کہ وہ کون تھا جو موتیا کے سامنے بیٹھا تھا تو موتیا کی آنکھوں میں جیسے چمک لوٹ آئی تھی۔
    ” جس دن تمہاری بارات ہمارے گھر آنے کے بجائے دروازے کے سامنے سے گزر کر گئی تھی، اس دن کے بعد موتیا نہیں بولی۔ گامو کے مرنے پر بھی نہیں ۔ چھوٹے چوہدری کمّی کمین تو ہم تھے پر تم لوگوں نے کیوں بدلہ لینے کے لئے کمیّوں سے بھی بدتر کام کیا۔”
    اللہ وسائی کی آواز پر وہ کرنٹ کھا کر پلٹا تھا اور پھر بے اختیار چارپائی سے کھڑا ہوگیا۔
    ” کس کی بارات؟ میری بارات نے تو یہاں آنا نہیں تھا۔”
    ” جاکر اپنی ماں سے پوچھ، اپنے باپ سے پوچھ کہ تیری بارات نے اُس دن کہاں جانا تھا اور کہاں گئی؟ تو نے میری بیٹی کو رسوا کرنا تھا تو چھوڑدیتا، پورے گاؤں کے سامنے یوں بارات لاکر تماشا نہ بناتا۔دیکھ اب اس کا حال یہ نہ ہنستی ہے نہ روتی ہے اور نہ بولتی ہے۔ تین سال سے اسی طرح لئے بیٹھی ہوں۔ اسے دیکھتے دیکھتے گامو مرگیا۔ اکلوتی جوان بیٹی کا یہ حال ہوجائے تو کون زندہ رہے گا؟ میں بھی زندہ لاش ہوں چھوٹے چوہدری۔ صرف اس لئے چل پھررہی ہوں کیونکہ یہ زندہ ہے، اس کی سانسیں چل رہی ہیں۔ اس نے بددعا نہیں دی کبھی تجھے اور تیرے ماں باپ کو، پر میں ہر روز دیتی ہوں۔ بھٹی پر دانے بھونتے ہوئے میں سارا وقت تجھے بددعائیں دیتی ہوں کہ تیرا خاندان اس طرح اُجڑے کہ لوگ کانوں کو انگلیاں لگا لگا کر توبہ کریں۔”
    اللہ وسائی بے حد غم و غصّہ میں اُس سے کہتی جارہی تھی اور مراد دم سادھے سُن رہا تھا۔
    اولاد کے گناہ ماں باپ کے پیروں کے نیچے سے زمین نکال دیتے ہیں لیکن ماں باپ کے گناہ بھی اولاد کی جان نکال دیتے ہیں۔
    مراد نے ایک لفظ کہے بغیر وہ سب کچھ سن لیا تھا۔ اُس نے اللہ وسائی کو بولنے دیا تھا۔ رونے دیا تھا۔ وہ سارے جہاں کا کوڑا لاکر اُس پر پھینک دیتی ، تب بھی وہ وہاں سے نہ ہلتا۔ لیکن اُس کا ذہن ماؤف ہورہا تھا۔ اُس کی ماں اتنی بے رحم تو کبھی بھی نہیں تھی یا تھی اور اسے ہی اندازہ نہیں ہوا تھاکیونکہ وہ اُس کی اکلوتی اولاد تھا ۔ اُس کے لئے اُس کی ماں کے پاس مٹھاس کے علاوہ کچھ تھا ہی نہیں اور اُس مٹھاس نے اُسے بے یقین کردیا تھا کہ وہ جو کچھ سُن اور دیکھ رہا تھا، وہ تاجور کا کیا دھرا تھا۔ اتنی نفرت، اتنا زہر، اتنی بے رحمی اور اتنی بے حسی۔۔۔ کس طرح؟ وہ سمجھنے سے قاصر تھا اور وہ جیسے تڑپ رہا تھا۔
    ” تو دیکھ یہ میری بیٹی کس طرح گزارے گی ساری زندگی؟ باپ چلا گیا ، میرے بعد کون خیال رکھے گا اِس کا؟ لوگ کہتے ہیں یہ پاگل ہوگئی ہے، پر مجھے پتہ ہے یہ پاگل نہیں ہے، بس سہہ نہیں سکتی کچھ بھی۔ تو نے ٹور نہیں نبھانی تھی تو کیوں میری بیٹی کو محبت کا فریب دیا تھا؟”
    اللہ وسائی روتے ہوئے اُس سے پوچھ رہی تھی اور مراد کے پاس کوئی جواب نہیں تھا، نہ کوئی وضاحت۔ وہ اللہ وسائی سے یہ کہہ نہیں پارہا تھا کہ وہ بھی لہولہان تھا۔ اُس کی پشت میں غیروں نے نہیں اُس کی اپنی ماں نے خنجر گھونپا تھا۔
    ” سنیں چاچی! میں اس جمعے کو بارات لے کر آؤں گا اور موتیا کو بیاہ کر لے جاؤں گا۔ جو کچھ ہوا، اُس پر اپنا پچھتاوا اور رنج دکھانے کے لئے میرے پاس لفظ نہیں ہیں مگر میں موتیا کو اب لے جاؤں گا، اسی دھوم دھام سے جس دھوم دھام سے وہ پہلی بارات آپ کی گلی سے گزر کر گئی تھی۔”
    وہ فیصلہ لمحوں میں ہوا تھا اور اُس سے بھی کم وقت میں مراد نے اللہ وسائی کو سُنا دیا تھا۔ وہ گنگ رہ گئی تھی۔ وہ اُس موتیا کو بیاہنے آئے گا، سب کچھ دیکھنے اور جاننے کے بعد بھی۔ اللہ وسائی کو یقین نہیں آیا تھا۔ لیکن کہنے والا اب ایک بار پھر جُھک کر موتیا کا ہاتھ پکڑ رہا تھا اور پھر اُس نے اس ہاتھ کو اپنے ہونٹوں سے چھو کر ماتھے پر لگایا تھا۔ پھر وہ اُٹھ کر کھڑا ہوا اور کچھ بھی کہے بغیر اُن کے گھر سے نکل گیا تھا۔
    ”مراد!”
    اللہ وسائی کو لگا اُسے وہم ہوا تھا۔ اُس نے بے یقینی سے موتیا کو دیکھا۔ وہ چارپائی سے اُتر کر کھڑی تھی اور اُس دروازے کی طرف دیکھ رہی تھی جہاں سے وہ نکل کر گیا تھا۔
    ” امّاں مراد۔۔۔”
    اللہ وسائی نے اُسے ایک بار پھر کہتے سُنا تھا اور اس پر جیسے شادیٔ مرگ طاری ہوگیا تھا۔ آج اتنے سالوں بعد اُس نے موتیا کی آواز سنی تھی۔ دوپٹہ منہ پر رکھے روتے ہوئے اللہ وسائی نے موتیا کو اپنے ساتھ لپٹاتے ہوئے اُس سے کہا تھا:
    ”ماں صدقے! ماں واری! ہاں مراد ہی تھا میری دھی۔تیرے لئے آیا تھا، اب بارات لے کر آئے گا۔”
    اُس نے جیسے موتیا کو ساری خوشخبریاں اکٹھی دینا چاہیں۔
    ” تو بول بات کر موتیا! تُو کچھ کہہ۔”
    اللہ وسائی اُسے کہہ رہی تھی، وہ اللہ وسائی کا چہرہ دیکھتی رہی پھر اُس نے مدھم آواز میں کہا۔
    ”ابّا!”
    اللہ وسائی کے کلیجے پر ہاتھ پڑا۔روتے ہوئے اُس نے سوچا وہ موتیا کے لئے اب گامو کہاں سے لائے گی۔
    ”ابّا!’
    موتیا جیسے ایک بار پھر پکاررہی تھی ۔ اللہ وسائی ہنستی اور روتی جارہی تھی۔ خوشی اور غم دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر اکٹھے آگئے تھے اُس کے گھر۔
    ”تو اتنی جلدی کیوں چلاگیا گامو؟ دیکھ اچھے دن لوٹ کر آئے ہیں ہمارے گھر۔”
    اُس نے روتے اور ہنستے ہوئے گامو کو پکارا تھا اور پھر موتیا کو ایک بار پھر اپنے سینے سے لگالیا تھا۔
    …٭…

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • پاتال — حیا بخاری

    پاتال — حیا بخاری

    اس کے چاروں طرف خوبصورت سبزہ تھا۔ شیشم اور چیڑ کے درخت، نرم ملائم سر سبز گھاس…. اوپر آسمان پہ کالے بادل چھانے لگے تھے۔ اس نے ایک نظر نیچیکھڑے اس شخص کی طرف دیکھا جو اس کے لیے پوری کائنات تھا۔ لیکن اُس شخص کی آنکھوں میں اس کے لیے بے یقینی، بے اعتباری اور نفرت تھی۔ اس نے خود کو ذرا سا اوپر کھینچ کر دونوں ہاتھوں سے پہاڑی سطح سے جھانکتی اس شاخ کو اور مضبوطی سے جکڑا۔ وہ مرنا نہیں چاہتی تھی۔ اس نے ڈرتے ڈرتے ایک بار پھر مدد طلب نگاہوں سے سامنے کھڑے شخص کو دیکھا۔ وہ بے حس تھا۔
    اس نے ایک نظر نیچے دوڑائی تھی۔ کتنے ہی فٹ نیچے سنگلاخ چٹانوں کے نوکیلے پتھر، درختوں اور پودوں کی شاخیں اور جڑیں اور پوری روانی سے بہتا دریا کا پانی…. وہ کانپ گئی تھی۔
    ”لالا…..” خوف سے نیلے پڑتے لب ذرا سا وا ہوئے تھے۔
    ٭٭٭٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    ”پلوشے۔ اُدھر دیکھو۔” چلتے چلتے اچانک زرغونہ رکی تھی۔ پلوشہ بھی اس کے ہاتھ کے اشارے کی سمت دیکھنے لگی۔ سامنے ہی مالٹوں کا باغ تھا۔ سبز پتوں میں چھپے اور کچھ جھانکتے نارنجی مالٹے دل للچائے دے رہے تھے۔
    ”لالا سے کہیں گے وہ لادے گا۔” زرغونہ نے ہمیشہ کی طرح سمجھ داری کا مظاہرہ کیا، ”تم اپنے لالا کی سنو۔ میں تو چلی” پلوشہ نے سڑک سے نیچے باغ کی طرف جاتے ہوئے کہا۔ زرغونہ اسے روکتی رہ گئی۔
    ”کیا ہو رہا ہے؟” اچانک ایک بھاری آواز نے اسے بُری طرح چونکادیا تھا۔ چادر میں لپٹے مالٹے اس کے ہاتھ سے چھوٹتے بچے۔
    ”تم کون ہو اور کیا کررہی ہو؟” آنے والے نے سوال دہرایا۔
    ”عظمت اللہ کی بیٹی ہوں۔ مالٹے دیکھے تو رہا نہیں گیا۔” وہ حسب معمول پُراعتماد لہجے میں بولی۔ اُس کے اچانک آنے پر اسے سنبھلنے میں چند پل لگے تھے۔
    ”ٹھیک ہے ٹھیک ہے۔ مگر اب نکلو یہاں سے۔” وہ تپ کر بولا تھا۔ اور تب ہی اس کی نظر ذرا اوپر سڑک پر پڑی تھی۔ دوہرا ساں سبز، جھیل جیسی آنکھیں ان ہی کی طرف دیکھ رہی تھیں اور رفیق جان کو لگا اس ایک نظر نے اسے بے جان کردیا تھا تو یا روح تک اندر سے کھینچ لی۔ وہ لڑکیاں کب گئیں؟ کیا بولیں؟ کسی طرف گئیں؟ اسے کچھ خبر نہیں ہوئی تھی۔ اسے ہوش ہی کہاں رہا تھا۔
    ٭٭٭٭
    چھوٹی سی وادی تھی۔ چند دنوں کی تلاش کے بعد ہی وہ جان گیا تھا کہ وہ ساحر آنکھوں والی لڑکی کون تھی…. فرہاد آفریدی کی بہن …. زرغونہ…. اماں نے تو اتنا بھی بتادیا کہ پوری دادی میں اس سے زیادہ حسین کوئی نہیں۔ ” اس کے دل نے یہی توگواہی دی تھی۔” رفیق مسکرایا۔
    ”فیروز خاناں۔ میں اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔” اگلے چند ہی گھنٹوں میں وہ چوک میں بیٹھا جگری دوست سے راز و نیاز کررہا تھا۔ اس کی بات پہ فیروز خان کی آنکھوں میں عجیب سا تاثر اُبھرا ۔
    ”کیا ہوا؟” نہ وہ چونکا۔ فیروز نے نہ جانے کیوں محسوس کیا کہ اس کے دوست کے ساتھ کچھ گھمبیر ہونے والا تھا۔ یا پھر….
    ”’فیروز خاناں…. ”رفیق نے اس کا کندھا ہلایا۔
    ”وہ تو بچپن سے اپنے چچا زاد کی منگیتر ہے” اسے یہی مناسب لگا کہ رفیق جتنی جلدی اپنے سفر سے واپس لوٹ جائے اس کے لیے بہتر ہے۔ رفیق ایک جھٹکے سے اُٹھا اور تیزی سے چوک سے باہر نکل گیا۔ فیروز پکارتا رہ گیا تھا۔
    ٭٭٭٭
    ساری وادی گواہ تھی رفیق جان ایسا بالکل بھی نہ تھا۔ دراز قامت، سرخ و سپید گلابیوں میں کھلتی رنگت، لبوں پہ ہر دم دھیمی مسکراہٹ رکھنے والا رفیق جان اس رفیق جان سے بالکل الگ تھا۔ اسے دیکھ کر تو لگتا تھا کسی صحرا کا بھٹکا ہوا مسافر ہے۔ مجنوں ہے کہیں سے پتھر کھاکر آرہا ہے۔ شانوں پر بکھرے لمبے ریشمی بال اب گرد سے اَٹے رہتے تھے۔ گلابی ہونٹوں پہ پپڑیاں جمنے لگیں تھیں۔ کئی دنوں سے پہنا جوڑا میل سے اٹا تھا اور سب سے وحشت ناک اس کی مسکراتی، جھلمل، دوستی کا رنگ دیتی گہری نیلی آنکھیں…. نہ جانے اب وہاں کیسے وحشت زدہ رنگ لودینے لگے تھے۔
    ”میرے بچے کو نظر لگ گئی۔ ساری وادی میں اس جیسا جوان نہیں بس کسی بدخواہ کی نظر لگ گئی۔” اماں نے روتے ہوئے دہائی دی۔
    ”مجھے تو کالا جادو لگتا ہے۔ کسی حاسد نے جادو کروادیا ہے۔ تم مانو یا نہ مانو۔”
    کسی دوسری عورت نے اندازہ لگایا۔ اماں کو یقین آنے لگا۔ لیکن فیروز…. وہ سب جانتا تھا۔ رفیق کے بچپن کا دوست تھا۔ اس کے پل پل کا ساتھی، اس کی رگ رگ سے واقف، اس کے ہر رنگ کی پہچان تھی اسے اور وہ جان گیا تھا۔ خوب صورت سوچ کا مالک رفیق جان اب کچھ غلط سوچ رہا تھا۔ کچھ بے حد غلط۔
    ٭٭٭٭
    خاکی رجسٹر تھامے صبح سے نہ جانے وہ کون سے حساب کتاب میں مصروف تھا۔ زرغونہ نے سارے گھر کے کام نبٹالیے تھے اور اب آدھے گھنٹے سے اسے کھانے کا کہہ رہی تھی مگر فرہاد تھا کہ رجسٹر میں سردیے بس ہوں ہاں کردیتا۔ آخر اس کے صبر کا پیمانہ چھلک پڑا۔
    ”لالا… مجھے بھوک لگی ہے۔”
    ”تو تم کھالو نا پگلی۔ بس تھوڑا سا کام رہ گیا۔ ”فرہاد نے رجسٹر پر ہی نظریں جمائے اسے جواب دیا۔
    ”آپ جانتے ہیں۔ مجھے آپ کے ساتھ کھانا کھانے کی عادت ہے۔” وہ منہ بناکر بولی۔
    ”تو میں بھی کئی دنوں سے تمہیں سمجھا رہا ہوں کہ اب میرے بغیر کھانا کھانے کی عادت ڈالو۔” اب کی بار وہ مسکراتے ہوئے اس کی طرف متوجہ ہوا۔
    ”کیوں ڈالوں عادت۔ مجھے آپ کو چھوڑ کے کہیں نہیں جانا۔” وہ خفا ہوئی۔
    ”ہر بیٹی، ہر بہن یہی کہتی ہے۔ مگر اگلے گھر جا کر میکے کی یاد تک نہیں آتی۔”
    ”ایسا تو نا ممکن ہے لالا۔” وہ حیران ہوئی۔
    ”چلو دیکھ لیں گے۔” فرہاد مسکرایا۔
    ”دیکھیں گے تو تب نا جب میں یہاں سے جاوؑں گی۔”
    ”اچھا۔ میں ذرا جہیز کی ایک دو چیزیں اور یاد کرکے لکھ لوں تو پھر کھاتے ہیں کھانا۔ یہ بحث بعد میں کرلیں گے۔” فرہاد نے بحث سمیٹنی ضروری سمجھا۔
    ”ایسے ہی اتنا خرچہ بڑھارہے ہیں آپ۔ میں نے کہا نا کہ مجھے کہیں نہیں جانا۔” وہ بضد تھی، فرہاد ہنس دیا۔
    ٭٭٭٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • سعی — سحر ساجد

    سعی — سحر ساجد

    وہ عجیب کیفیت میں تھی ….. ناک کے نتھنوں سے، سانس کے نام پر خارج ہونے والی ہوا تپش لیے ہوئے تھی۔ وہ کہاں تھی، آسمان پر یا زمین پر؟ وہ اپنے وجود کو کسی سطح پر محسوس نہیں کرپارہی تھی۔ سر جس قدر بھاری تھا، وجود اسی قدر ہلکا۔ ذہن کسی ایک سوچ پر مرتکز نہیں ہوپارہا تھا۔ اس کے وجود پر ایک نظر ڈالو تو سانس کا اتار چڑھاوؑ واضح طور پر محسوس کیا جاسکتا تھا۔ لمبے ادھ کھلے بال ، کچھ شانوں پر، کچھ سینے پر اُلجھے، پریشان اور بے ترتیب بکھرے ہوئے تھے۔ خلافِ معمول دوپٹہ گلے میں، کہ ان کے ہاں گھر میں بھی دوپٹہ سر پر لیا جاتا تھا۔ دونوں بازو سیدھے پہلو میں گرے … ہاتھ کی مٹھیاں سختی سے بند کیں۔ لاوؑنج کے کنارے پر کھڑی اک اک چیز کو دیکھے جارہی تھی لیکن نہیں جانتی تھی کہ کیوں دیکھے جارہی تھی۔
    فیصلہ سخت تھا جو اس نے کرلیا تھا اور اس فیصلے کی یاد آتے ہی اس نے دائیں ہاتھ کی مٹھی کچھ اور سختی سے بھینچی تھی۔ ہونٹ لرزے اور آنکھ کے کنارے پر اک قطرہ آکر جم سا گیا تھا۔ دل پر جیسے کسی نے خنجر کا وار کیا تھا۔ لرزتے ہونٹوں کے ساتھ اس نے حلق سے نیچے کچھ اتارا تھا اور اس کی نظر ان چیزوں پر کسی آوارہ بد روح کی طرح بھٹکتی تھی ”آپی!….”
    اچانک لاوؑنج کے کسی گوشے سے آواز ابھری تھی۔ وہ بُری طرح سے ڈری اور سہم کر آواز کی سمت دیکھا تھا لیکن اس کاارادہ دائیں ہاتھ کی مٹھی کو کمر کے پیچھے چھپانے کا تھا۔”آپی۔ دیکھیں میرا بے بلیڈ۔”

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    اسے بھائی کی آواز کسی باز گشت کی طرح محسوس ہوئی تھی۔ اس نے دھندلی آنکھوں سے بھائی کو دیکھا جو لٹو سے کھیل رہا تھا۔ وہ کسی بے جان وجود کی مانند بھائی کی طرف بڑھی تھی۔ وہ نیچے قالین پر بیٹھا میز پر اپنا لٹو گھمارہا تھا اور وہ اس کے پیچھے موجود صوفے پر جاکر بیٹھی تھی۔ دونوں ہاتھوں کی بند مٹھیاں اب اس کے دائیں بائیں سختی سے صوفے پر جمی تھیں اور وہ اپنے بھائی کو دیکھے ہی چلی جا رہی تھی۔ اس کے بھائی نے بٹن دبایا، لٹو میز کی سطح سے ٹکرایا۔ وہ چونک کر آواز کی سمت متوجہ ہوئی۔ لٹو اب گھوم رہا تھا گول، گول اور تیزی سے…. اس کے بھائی نے مڑ کر اس کا گھٹنا ہلاکر اس سے کچھ کہا تھا۔ کیا؟ وہ محض آواز کااِک احساس ہی محسوس کرپائی تھی۔ لٹو گھوم رہا تھا گول گول اور پھر گھومتے گھومتے وہ یک دم بڑا ہوتا گیا۔ ہوتا گیا، ہوتا ہی چلاگیا۔ لٹو اتنا بڑا ہوگیا کہ وہاں موجود ہر چیز پر حاوی ہوچکا تھا۔ وہ ڈر کے مارے صوفے کی پشت سے ٹکرانے کے سے انداز میں جالگی تھی۔ لٹو ا س کے عین سامنے گھومے چلاجارہا تھا۔ وہ نظریں لٹو کی گھومتی دھاریوں سے ہٹانا چاہتی تھی لیکن سر کو حرکت نہیں دے پارہی تھی۔ نظر گھوم رہی تھی، سر چکرارہا تھا اور اب اسے متلی محسوس ہورہی تھی، اتنی کہ پیٹ میں شدید بل پڑا۔ وہ بے اختیار آگے کو جھکی۔ اسے زور کی ابکائی آئی تھی۔ وہ سانس لینے کو سیدھی ہوئی اور پیروں تلے سے جیسے زمینیک دم نکلی ہو۔ لٹو عین اس کی آنکھوں کے سامنے ہوا میں معلق گھومے جارہا تھا۔ گھبراہٹ کا احساس شدید تھا۔ وہ ہانپتے ہوئے، کف بہتے منہ کے ساتھ، بری طرح سے خوف زدہ ہوکر اس لٹو کو دیکھتی جارہی تھی۔
    ‘آپی۔ آپی! ” اس کا بھائی شانہ ہلارہا تھا لیکن وہ متوجہ نہ تھی۔ وہ متوجہ ہو بھی کیسے سکتی تھی۔
    تنفس کی بگڑی رفتار کے ساتھ وہ خوفزدہ سی لٹو کو دیکھے جارہی تھی۔
    ”مور، مور” اس کا بھائی ماں کو بلانے بھاگا تھا اور ماں کے آنے تک وہ بے حد گھبراچکی تھی۔ اتنی خوف زدہ ہوچکی تھی کہ اس نے دائیں ہاتھ کی مٹھی کھولی اور اس میں موجود زہریلی گولیاں پھانک لیں۔ اچانک وہاں سناٹا چھاگیا تھا، اتنا کہ جیسے کائنات کی ہر متحرک چیز حالت قرار میں آچکی ہو…. وہاں اب کوئی لٹو نہ تھا۔ وہ بے یقینی سے کھڑی ہوئی لڑکھڑائی اور پھر اوندھے منہ گرگئی اور گرتے ہی تکلیف کی اک لہر، دھماکے کی صورت اس کے وجود سے آن ٹکرائی تھی۔ شدید دباوؑ، اندھیرا ،گھٹن، پیاس، حلق سوکھ رہا تھا اور وہ تڑپ رہی تھی لیکن کمال کی بات یہ کہ وہ خود ہی اپنے تڑپتے وجود کو ذرا فاصلے پر کھڑی دیکھ رہی تھی۔ وہ محسوس کرسکتی تھی کہ اسے کتنی تکلیف ہورہی تھی۔ وہاں زمین پر اس کا تڑپتا جسم تھا اور وہ دور بس، بہتی آنکھوں کے ساتھ کھڑی خود کو بے بسی سے تڑپتا دیکھ رہی تھی اور میز پر لٹو آہستہ ہوتے ہوتے بالکل ساکت ہوگیا تھا۔
    ٭٭٭٭
    یہ انگور کے باغوں کی سرزمین تھی۔ اس کے خاندان والے پتھریلے پہاڑوں کے درمیان بستے اور اک سخت زندگی گزارتے تھے۔ یہ قلعہ سیف اللہ تھا اور وہ اس کی ہونہار بیٹی جاناں کاکڑ۔ اونچی نیچی گھاٹیوں پر جب چلتی تو یوں محسوس ہوتا تھا گویا جنگل میں کسی ہرنی نے کلانچ بھری ہو۔ تعلیم حاصل کرنے کا اتنا شوق تھا کہ اس کی اماں کہتی تھیں۔ ”جاناں پاگل تو نیند میں بھی اسکول کا سبق دہراتی رہتی ہے۔”
    اور ہاں وہ اتنی ہی پاگل تھی۔ جنونی تھی۔ اسے پڑھنا تھا بہت سارا۔ ڈھیر سارا۔ اپنے نام کے ساتھ ڈاکٹر لکھا دیکھنا تھا۔ ڈاکٹر جاناں کاکڑ۔ ڈاکٹر۔ ڈاکٹر جاناں کاکڑ۔ قلعہ سیف اللہ، قبائل کی آماج گاہ تھا۔ جہاں روایات کی سختی سے پابندی کی جاتی تھی۔ وہ ساتویں جماعت میں تھی تب سے برقعہ پہن کر اسکول جاتی تھی۔ برقعے کے اوپر کالی چادر کے نقاب سے محض اس کی ایک آنکھ ہی نظر آیا کرتی تھی۔ وہ قلعہ سیف اللہ کی ان چندخوش نصیب لڑکیوں میں سے تھی جو پرائمری سے اوپر تعلیم حاصل کررہی تھیں۔ جاناں وہ طالبہ تھی جس نے اپنا ہر امتحان نمایاں درجے میں پاس کیا تھا۔ وہ برف زاروں میں پل کر بڑی ہوئی تھی لیکن خواہش، اک چنگاری کی صورت، طلب بن کر سینے میں بھڑکتی تھی۔ وہ خوش تھی، مگن تھی اور سمجھتی تھی کہ زندگی کا سفر اسی طرح کامیابی و کامرانی سے طے ہوتا چلا جائے گا۔ وہ امتحان پر امتحان پاس کرتی چلی جائے گی اور پھر… پھر وہ دن ضرور آئے گا کہ جب وہ اسکالرز گاؤن پہنے اپنی Ph.D کی ڈگری وصول کرے گی۔ خوشی سے چیختے ہوئے اسکالرز کیپ کو ہوا میں اچھالے گی اور کوئی نامعلوم فوٹوگرافر اس کی آنکھ کی خوشی، اس کی ہنسی، اس کے چہرے کا جوش، طمانیت سب اک لمحے میں قید کرکے اسے زندہ جاوید بناڈالے گا۔ ہاں… وہ ایسا ہی سوچتی تھی… ایسا ہی سمجھتی تھی۔
    جب اس نے میٹرک میں پوزیشن حاصل کی تو خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ وہ اتنی خوش تھی اتنی کہ لگتا تھا کہ بس اب خوشی سے مر ہی جائے گی۔ وہ۔ وہ جاناں کاکڑ۔ اک پسماندہ علاقے کی گورنمنٹ اسکول کی طالبہ، اُسی جاناں کاکڑ نے میٹرک میں ٹاپ کیا تھا۔ ٹاپ۔ یہ پہلی بڑی کامیابی تھی۔ پہلی بڑی کامیابی اور اتنی بڑی خوشی جو اُسے مار بھی ڈالتی تو غم نہ تھا۔ لیکن اسے تو جینا تھا۔ بہت سارا ایک لمبی زندگی گزارنی تھی کیوںکہ اسے تو پڑھنا تھا۔ ڈھیر سارا۔ اتنا زیادہ کہ اس کے نام کے ساتھ لکھا جاتا… ڈاکٹر جاناں کاکڑ…
    ٭٭٭٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • دانہ پانی — قسط نمبر ۸

    دانہ پانی — قسط نمبر ۸

    مٹّی دا توں مٹّی ہونا کاہدی بلّے بلّے
    اج مٹّی دے اُتے بندیا کل مٹّی دے تھلّے
    اللہ وسائی بے یقینی کے عالم میں گامو کا چہرہ دیکھتی رہی پھر اُس نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے گامو سے کہا:
    ” نہ گامو! یہ نہیں کرسکتی میں۔ جس اولاد کو منتوں مرادوں سے لیا ہے،اُسے اپنے ہاتھوں سے مارنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔”اُس نے دوپٹے سے اپنی آنکھیں رگڑتے ہوئے کہا تھا۔
    ”اور تو بھی کیوں سوچ رہا ہے مرنے کا؟ گامو مت سوچ ایسا کچھ بھی۔ یہ شیطان ہے جو تجھے بھٹکا رہاہے۔”
    اللہ وسائی نے اپنے شوہر کا ہاتھ پکڑ کر جیسے اُسے سنبھالا دینا چاہا تھا اور وہ گیلی آنکھوں کے ساتھ قہقہہ لگانے لگا۔
    ” شیطان کو کیا پڑی ہے اللہ وسائی کہ وہ جھوک جیون میں آئے۔ یہاں اس کا کیا کام۔ یہاں تو انسان کافی ہیں اُس کا کام کرنے کے لئے۔”
    وہ ہنس رہاتھا اور بڑبڑا رہا تھا۔ اللہ وسائی کا بھی دل بھرآنے لگا تھا۔
    ”نہ روگامونہ رو! موتیا ٹھیک ہوجائے گی۔ تجھے یاد ہے جب اولاد نہیں تھی تو کتنے سال اولاد کے انتظار میں گزارے تھے ہم نے۔ کبھی زبان پر شکوہ نہیں لائے۔ پھر رب سوہنے نے اپنی رحمت کردی تھی۔ اب پھر کردے گا۔ ٹھیک ہوجاناہے موتیا نے۔ دیکھنا تُو۔”
    اللہ وسائی شوہر کو تسلیاں دینے لگی۔ گامواُس کا چہرہ پلکیں جھپکائے بغیر دیکھتا رہا۔ پھر اُس نے سر ہلاتے ہوئے کہا:
    ”پتہ نہیں اس بار دل کو تسلی کیوں نہیں ہوتی کہ سب ٹھیک ہوجائے گا۔”
    وہ اُٹھ کر صحن کے چکر کاٹنے لگا۔ اللہ وسائی بیٹھی بے بسی سے شوہر کو دیکھتی رہی۔ اُس کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں تھا۔ نہ وہ شوہر کے لئے کچھ کرسکتی تھی، نہ بیٹی کے لئے۔ بے بسی سی بے بسی تھی جو وہ محسوس کررہی تھی اور اس کیفیت میں وہ بس رب سوہنے کو ہی پکار سکتی تھی اور پکار رہی تھی۔ غم تھا کہ سینہ چیر رہا تھا اور آنسو تھے کہ سیلاب بن کر سب کچھ بہا لے جانے کے لئے کھڑے تھے اور دل کا بوجھ تھا کہ بھاری سے بھاری ہی ہوتا جارہا تھا۔ نہ رونے سے گھٹ رہا تھا، نہ رب کو پکارنے سے۔ وہ بس گامو کودیکھ رہی تھی جو ننگے پاؤں اُس صحن میں پھررہا تھا جس کے فرش کو اب اللہ وسائی نے لیپنا بند کردیا تھا۔
    جھوک جیون میں اُس سال بارش نہیں ہوئی۔اُس گھر میں دو انسانوں کی آنکھوں سے ہونے والی برسات نے جھوک جیون میں بارش لانے والے بادلوں کا سارا پانی پی لیا تھا۔
    گاؤں میں پریشانی کی لہر دوڑی تھی۔ بڑے سالوں کے بعد یہ پہلا سال تھا جب جھوک جیون کے آسمان پر بدلیاں اُمڈ کر برسے بغیر گزری تھیں۔ گاؤں کے لوگوں کی طرح چوہدریوں کو بھی فکر ہوئی تھی۔ چوہدری مراد کا بیٹا پیداہو اور گاؤں میں سوکھا پڑجائے۔ یہ کم از کم تاجور کو تو برداشت نہیں ہورہا تھا۔ لیکن پھر اُس نے خود کو یہ کہہ کر تسلی دے دی تھی کہ یہ اتفاقاً ہوا ہوگا ، اِس بار نہیں تو اگلے سال تو ضرور ہی بارشیں ہوں گی۔
    مراد بیٹے کو دیکھنے تین مہینے کے بعد گاؤں آیا تھا اور اُسے گود میں لئے وہ بہت دیر اُس کا چہرہ دیکھتا رہا۔
    ”ہے نا خوبصورت تیرا بیٹا؟”

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    تاجور نے اُسے یوں بیٹے کو دیکھتے دیکھ کر جیسے فخریہ اندازمیں کہا تھا۔مراد نے جواب دینے کے بجائے بیٹے کا ماتھا چوما تھا اور اُسے ماہ نور کی گود میں دے دیا تھا۔ وہ شادی کے بعد پہلی بار پاکستان آیا تھا اور بالکل بدلا ہوا تھا۔ مختصر بات کرتا اور مسکرانا بھول گیا تھا۔ تاجور کو اُس کے رویے نے پریشان کیا تھااور ماہ نو ر کو دل شکستہ۔ سارا سال تاجور اُسے یہی کہہ کہہ کر بہلاتی رہی تھی کہ اولاد ہوتے ہی سب ٹھیک ہوجائے گا اور بیٹا ہونے دے تو مراد نے واقعی سب کچھ بھول جانا تھا، پر مراد کچھ بھی نہیں بھولا تھا نہ بدلا تھا۔ اُس کے لہجے کی ٹھنڈک میں کوئی شبنم نہیں اُتری تھی۔
    وہ دس دن کے لئے آیا تھا اور چلاگیا تھا اور ان دس دنوں میں گاؤں کی ایک ایک گلی میں اُسے موتیا کی یاد آئی تھی اور اُس کا دل چاہا تھا وہ لوگوں سے اُس کا پوچھے پر اُس نے جیسے اپنے زبان اور دل پر قفل ڈال لئے تھے۔ اب کیا نام لینا موتیا کا، کیا یاد کرنا اُس کو، وہ یہ سمجھے بیٹھا تھا کہ وہ شہر میں ڈاکٹر بن رہی ہوگی۔ یہ بھی ہوسکتا تھا کہ وہ کسی اور سے شادی کرچکی ہوتی۔ یہ بھی ممکن تھا کہ وہ کسی اور کی محبت میں گرفتار ہوکر اُس پر ہنستی ہو۔ پتہ نہیں مراد کو کیا کیا خیال آئے تھے اور سارے ہی خیال پل بھر میں غائب ہوجاتے تھے۔
    دل موتیا موتیا کرتا تھا اور وہ اُس دل کو کوڑے مارتا تھا پھر بھی وہ مرتا نہیں تھا، ڈھیٹ تھا۔ موتیا کے پیار میں اُس سے بھی ڈھیٹ تھا۔ دماغ اچھا تھا اس معاملے میں اُس کی سنتا تھا۔ اُسے جب کہتا وہ موتیا کے بارے میں سوچنا بند کردیتا۔
    وہ دل اور دماغ کی یہ جنگ لے کر پاکستان آیا تھا اور پاکستان سے جاتے ہوئے ماہ نور کو ساتھ لے گیا تھا۔ یہ بھی تاجور کی ضد تھی، اُسے لگا تھا بیٹا وہاں اکیلا رہتا تھا اس لئے بدل گیا تھا۔ ماہ نور اور اُس کا بچہ ساتھ رہیں گے تو مراد پھر وہی پہلے والا مراد ہوجائے گا۔ وہی ماں باپ پر قربان جانے والا، خوش مزاج، خوش گفتار جس کی چھیڑ خانی تاجور کو اچھی لگتی تھی اور جس کے بلند و بانگ قہقہوں پر وہ قربان جایا کرتی تھی۔
    مراد نے کوئی ضد نہیں کی تھی۔ تاجور نے جیسے کہا تھا، اُس نے ویسے ہی کیا تھا۔ وہ ماہ نور کو لے کر لندن آگیا تھا۔ ماہ نور بڑی خوشی اور ولولے کے ساتھ آئی تھی۔ تاجور نے اُسے یہی کہا تھاکہ اکیلا رہ رہ کر ایسا ہوگیا ہے مراد، اب تم او ربچہ پاس رہوگے تو دیکھنا کیسے نثار ہوتاہے وہ تم پر۔
    تاجور غلط تھی اور ماہ نور بے وقوف۔ مراد کے پاس لندن میں رہ کر بھی ماہ نور اُس کا دل جیت پائی نہ اُس کی چپ توڑ پائی تھی، پر اُسے لگتا تھا وہ کالے پانی کی سزا کاٹنے وہاں اُس کے ساتھ آگئی تھی جہاں وہ سارا سارا دن دو کمروں کے اُس چھوٹے سے فلیٹ کی دیواروں کو دیکھتی رہتی تھی یا پھر کھڑکیوں سے باہر نظر آنے والے لوگ اور گاڑیاں جو اُسے چلتے پھرتے نظر آتے تھے۔
    اُس فلیٹ کے اندر اُس کی اور مراد کی خاموشی کو اگر کوئی توڑتا تھا تو وہ اُس کا بیٹا تھا، مگر اُس کا رونا دھونا، ہنسنا کھیلنا بھی کئی بار ماہ نور کو غصّہ دلاتا۔ اُسے لگنے لگا تھا وہ وہاں پاگل ہورہی تھی اور پاگل ہوجانے سے بچنے کے لئے اُس نے مراد سے واپس جانے کا اصرار کیا تھا اور مراد مان گیا تھا۔
    ماہ نور ایک بار پھر امید سے تھی جب وہ پانچویں مہینے واپس گاؤں آگئی تھی۔ تاجور بہو اور پوتے کو واپس دیکھ کر جہاں نہال ہوئی تھی،وہاں وہ یہ جان کر پریشان بھی ہوئی تھی کہ وہ اب مراد کے پاس دوبارہ لندن نہیں جانا چاہتی تھی۔
    ”تیرا خیال نہیں رکھا اُ س نے؟” اُس نے پریشان ہوکر ماہ نور سے پوچھا تھا جس کے چہرے پر رونق تھی نہ آنکھوں میں چمک۔
    ” رکھتا تھا پھوپھو! جو چیز مانگتی تھی بغیر کہے لاکر دیتے تھے، پیار کے سوا۔ بس اُن کے پا س میرے لئے پیار کا ایک لفظ بھی نہیں ہے۔” ماہ نور غم زدہ تھی اور اُس نے اپنا غم اسی طرح تاجور کو سنایا تھا۔
    ”مرد ایسے ہی ہوتے ہیں ، بیویوں سے کہاں پیار محبت کی باتیں کرتے ہیں؟ کہاں اُن کے قصیدے پڑھنے بیٹھتے ہیں۔ تو نے تو پریشان ہی کردیا مجھے ماہ نور۔ میں سمجھی پتہ نہیں کتنا ستایا ہے مراد نے۔”
    تاجور نے ہنس کر ماہ نور کو بہلایا تھا جو چپ چاپ تاجور کو دیکھتی رہی ، پھر جب وہ خاموش ہوکر اُس کا بیٹا گود میں لے کر اُس کے ساتھ کھیلنے لگی تو ماہ نور نے کہا:
    ”پر مراد میرے لئے گونگابنا ہے، اُس کے لئے تو نہیں۔”
    تاجور نے اُس کا چہرہ چونک کر دیکھا تھا۔ ماہ نور کی آنکھوں میں عجیب سی آگ تھی، آنسو نہیں تھے۔
    ”وہ نیند میں اُس کا نام لے لے کر باتیں کرتے ہیں اُس کی۔ اُس کے حسن کے قصیدے پڑھتے ہیں۔”
    وہ اب وہ نظم سُنا رہی تھی تاجور کو جو اُس نے نیند میں مراد کو کئی بار پڑھتے سنی تھی۔ وہ اُس کے پہلو میں نیند کی وادیوں میں بھی موتیا کے ساتھ پھرتا، اُسے پکارتا اور اُس کے حسن پر مرمٹنے کی باتیں کرتا اور ماہ نور بستر پر بیٹھی اُس کا چہرہ دیکھتی، اُس رقیب کے قصیدے سنتی جو اُن دونوں کے بیچ سے کبھی ہٹی ہی نہیں تھی۔
    اُس کے نین غزالی دلبر
    اُس کے گال گلابی
    تاجور نے ساکت بیٹھے ماہ نور کی زبان سے داستانِ امیر حمزہ کی طرح داستانِ موتیا و مراد سنی تھی اور وہ بھی ماہ نور کے سامنے گونگی ہوگئی تھی۔ اُسے اب کیا تاویل اور توجیہہ دیتی اُس کی سمجھ میں نہیں آیا تھا۔ اب تو دو سال گزرنے کو تھے۔ اب تو اُن دونوں کے درمیان کوئی رابطہ بھی نہیں تھا۔ اب تو وہ ایک بیٹے کا باپ بن چکا تھا۔ دوسرا اُس کے گھر آنے والا تھا۔اُس کے پاس بہت سارے ”اب تو” تھے اور کوئی بھی مراد کے لئے رسّی نہیں بنا تھا۔اُس نے موتیا کو کھُرچ کھُرچ کر اُس کے دل سے اُتارا تھا۔ اُس کی کوئی پرچھائیں تک نہیں رہنے د ی تھی پھر مراد پر اس کا سایہ کیسے ہوگیا تھا؟
    ”لوگ جادو ٹونے کردیتے ہیں۔بڑا کاری وار کرتے ہیں۔ تجھے یاد ہے نا آدم کی دفعہ تجھے خوشبو آیا کرتی تھی ہر طرف موتیا کی۔ اُن لوگوں نے ہی ٹونے کئے ہیں مراد پر۔ دل باندھ دیا ہے اُس کا۔”
    تاجور نے لمبی چپ کے بعد وہی سب کچھ کہنا شروع کیا جواُس کی سمجھ میں آیا تھا۔ پیار محبت کی طاقت اُسے سمجھ میں نہیں آتی تھی، جادو ٹونے کا اثر اُسے سمجھ میں آتاتھا۔ اُس نے ماہ نور کے سامنے وہی راگ الاپا تھا جو اُس نے ہمیشہ سنا تھا۔
    ”پھوپھو! اُس کا کوئی توڑ نہیں؟” ماہ نور نے عجیب بے بسی کے ساتھ اُس سے پوچھا تھا۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • پنج فرمان — سحر ساجد

    پنج فرمان — سحر ساجد

    پیش لفظ
    ماضی (سال١٩٩١ء)
    Aung san suu kye.. (Nobel peace prize winner…….)
    (٣ جون، ٢٠١٥)
    محض %4 اقلیتی آبادی
    گیارہ اقلیتی انسانوں کو بس سے اتار کربے رحمی سے قتل کر دیا گیا۔ اور…
    یہ محض آغاز تھا… صرف ابتدا تھی اس کے بعد …
    20 ہزار معصوم انسان مار دیئے گئے، 500 بستیاں جلا دی گئیں، 20 گاؤں صفحۂ ہستی سے مٹا دیئے گئے…میرے سامنے اخباری تراشے ہیں، تصاویر ہیں، کالمز بکھرے پڑے ہیں، خون میں نہلائی لاشوں کے ڈھیر ہیں، انسانی اعضاء سے اٹھتا کالا سیاہ دھواں ہے، ننگ دھڑنگ، انسانیت کو شرماتے مردہ وجود ہیں کہ جن کی آنکھوں سے وحشت ابھی بھی برستی ہے۔ آنسو ہیں سسکیاں ہیں، چیخیں اور آہیں… منتظر، آس سے لتھڑی نگاہیں… انسانیت کا بچا کھچا رہ جانے والا پنجر نظر میں ہے۔ لاغر اتنا کہ ہڈیاں بھربھری مٹی کی مانند بکھرتی ہیں، اور … اور ان سب سے پرے بربریت کی اٹھان قابل دید ہے۔ کل کھوپڑیوں کے مینار کی صورت اور آج … ان %4 اقلیتی انسانوں پہ ظلم کی صورت۔
    Aung san suu kyi اس سب پہ خاموش ہے۔ بالکل چپ…
    حال (25 مارچ، 2016)
    Aung san suu kyi’s words during an interview ………..
    "No one told me that I am going to be interviewed by a …….’Muslim’…… ”
    کیا یہ الفاظ کسی ایسی خاتون کے ہیں جو کہ نوبل پیس پرائز جیت چکی ہو؟…
    کیا ان لفظوں سے نسلی منافرت کی سڑاند نہیں آتی؟…
    ماضی اور حال… مابین ان کے حقیقت کیا؟…
    حقیقت … پنچ فرمان…
    میرا احتجاج…
    جو پڑھنے کے بعد یقینا آپ کو درست محسوس ہو گا۔
    سحر ساجد

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});