Author: misbah116@hotmail.com

  • مٹی کے پتلے — قرۃ العین خرم ہاشمی

    مٹی کے پتلے — قرۃ العین خرم ہاشمی

    خشک پتوں کے ڈھیرکے پاس بیٹھی وہ ہمیشہ کی طرح گم صم تھی ۔ جگہ جگہ سے ادھڑے دھاگوں کے پھیکے پڑتے رنگوں سے سجی بوسیدہ چادر،اس کے وجود کے گرد ایک حفاظتی دیوار کی طرح تنی رہتی۔ عشنا نے اسے اپنے بہت سے کپڑے اور جوتے دیے مگر نجانے کیوں وہ اپنی آرائش وزیبائش کی سب چیزوں سے ایسے دور بھاگتی جیسے وہ اس کی موت کا سامان ہوں۔ عشنا نے گاڑی سے اتر کر ایک سرسری سی نظر اس پر ڈالی اور گہری سانس لے کر اندر کی طرف چل پڑی۔
    اندر کا ماحول حسبِ معمول تھا۔ کہیں شور تھا ، کہیں دھیمی دھیمی آوازیں تھیں، کہیں بہت سی آوازوں میں بین کرتی خاموشی اور کہیں کسی کی گہری چپ کے پیچھے زندگی کی تلخیاں موجود تھیں۔ عشنا پچھلے کئی سالوں سے یہ سب دیکھتی اور خاموشی سے آگے بڑھ جاتی۔ اس نے بہت عرصہ پہلے یہ سوچ لیا تھا کہ اسے بھی اپنی ذات کی خاموشی کے ساتھ سمجھوتہ کر کے دوسروں کے حق میں بولنا تھا، آواز اٹھانی تھی اور اس نے ایسا ہی کیا۔ وہ اپنی ٹیم کے لوگوں کے ساتھ مل کر جو کام سر انجام دے رہی تھی، وہ ایک مثال بن کر دنیا کے سامنے آرہا تھا۔
    کئی سال پہلے اس کے کچھ دوستوں نے مل کر ایک این جی او بنائی تھی جو خواتین اور بچوں کی داد رسی کرتی تھی ۔ اس این جی او کے تحت چلنے والا ”ذہنی بحالی” کا یہ ادارہ عشنا کی زیرِ نگرانی تھا جہاں معاشرے کی ٹھکرائی بہت سی خواتین کو مختلف ہنر ان کی ذہنی استعداد کے مطابق سکھائے جاتے تھے۔
    پروین کئی سالوں سے یہاں کام کررہی تھی۔ عشنا کی پروین کے ساتھ اچھی سلام دعا تھی۔ پروین پڑھی لکھی تو نہیں تھی، مگر بہت محنتی اور ایمان دار تھی۔ کچھ عرصہ پہلے وہ علاج کی غرض سے اپنی چوبیس، پچیس سال کی بیٹی کو ساتھ لیے ڈاکٹر صائمہ کے پاس آئی تھی کہ اسے لگتا تھا کہ اس کی بیٹی ذہنی توازن کھو بیٹھی ہے اور اسے علاج کی ضرورت ہے۔ پروین نے ڈاکٹر کے پوچھنے پر اس کی حالت کے بارے میں روتے ہوئے بتایا کہ ا س کی بیٹی زیادہ تر خاموش رہتی ہے اور کبھی کبھی خود سے باتیں کرتی ہے۔ کوئی بات کرو تو عجیب عجیب سے جواب دیتی ہے۔ اکثر ڈر جاتی ہے، چیختی ہے، روتی ہے اور کہتی ہے کہ اماں آس پاس بنے چھوٹے بڑے بے شمار مٹی کے پتلے ہی پتلے ہیں۔ گاؤں میں سب کہتے ہیں کہ میری بیٹی پر جن بھوت کا سایہ ہے، مگر میں بہت سے پیروں فقیروں کے در پر بھی گئی ہوں، اس کی حالت سنبھلنے کے بجائے بگڑی ہی ہے۔ یہاں جب سے کام کر رہی ہوں، بہت سی ایسی عورتیں دیکھی ہیں جو میری بیٹی کی طرح ہی خود سے باتیں کرتیں ہیں۔ اس لیے مجھے لگتا ہے کہ میری بیٹی پر کسی چیز کا سایہ نہیں ہے بلکہ وہ پاگل ہوگئی ہے۔ آپ کے علاج سے وہ ضرور ٹھیک ہوجائے گی۔ پروین نے عشنا اور ڈاکٹر صائمہ کی بہت منتیں کی تھیں کہ کسی طرح میری بیٹی کو ٹھیک کر دو۔ ان دونوں نے اسے تسلی دی کہ پریشان مت ہو۔ وہ اپنی طرف سے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ اگلے دن وہ بڑی سی ایک چادر میںسر تا پیر لپٹی ہوئی اپنی بیٹی کو ساتھ لے آئی اور ان دونوں کے پاس چھوڑ کر اپنے روز مرہ کے کاموں میں مشغول ہوگئی۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});
    عشنا کو سانولی سلونی سی بختاور پہلی نظر میں ہی بہت اچھی لگی تھی ۔ اس سے ابتدائی بات چیت کے دوران اسے ایسا بالکل نہیں لگا کہ وہ پاگل ہے، مگر ڈاکٹر صائمہ ہی اس بات کی تصدیق کر سکتی تھی۔ عشنا نے ڈاکٹر صائمہ سے اس بارے میں بات کی ۔ کچھ دنوں بعد ڈاکٹر صائمہ نے بتایا کہ بختاور شدید ذہنی دباؤ کا شکا رہے۔ اگر یہی صورتِ حال رہی تو ممکن ہے کہ وہ اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھے۔ ڈاکٹر صائمہ نے پروین سے کہا کہ اسے واپس گاوں مت بھیجو بلکہ یہیں رہنے دو۔ کیوں کہ ماحول کی تبدیلی اور نئی مصروفیت سے وہ بہت جلد بہتر ہو جائے گی ۔ پروین پہلے ہی اسے اپنے پاس رکھنا چاہ رہی تھی ۔ اس کے لیے بھی اتنے بڑے شہر میں ایک آسرا اپنی بیٹی کا مل رہا تھا۔ بیٹا تو اپنی بیو ی اور بچوں کے ساتھ مگن ، ماں کو شہر بلا کر بھول چکا تھا اسی لیے تو پروین نے یہاں کام شروع کیا تھا جہاں اسے رہنے کے لیے کوارٹر ملا ہوا تھا اور تنخواہ بھی مناسب تھی۔ پروین کا کام آیا گیری کا تھا۔ وہ دوسرے عملے کے ساتھ ان خواتین کی دیکھ بھال میں مدد کرواتی تھی۔ بختاور کو اپنے پاس لا کر وہ بہت خوش تھی۔ دو مہینے کے بعد بختاور قدرے بہتر ہوگئی تھی۔ وہ ماں کے ساتھ کام میں ہاتھ بٹانے لگی، تو عشنا کو اچھا نہیں لگا کہ وہ کام بھی کرے اور اسے معاوضہ نہ ملے۔ اسی لیے عشنا نے اسے بھی کام پر رکھ لیا۔ اسے بھی بیٹھے بیٹھائے روزگار مل گیا۔ پروین بہت خوش تھی کہ بختاور کی حالت بہتر ہوگئی ہے اور وہ کمانے بھی لگی ہے ۔ اب کم از کم کسی کی محتاج تو نہیں رہے گی نا! ایک دن باتوں ہی باتوں میں پروین نے بتا یا۔
    ”بچپن ہی سے اسے گڈے گڑیوں سے کھیلنے کا بہت شوق تھا ! مگر ہماری اتنی حیثیت نہیں تھی کہ اس کی یہ خوا ہش پوری کر سکتے ۔اس کا ذہن بہت تیز تھا ۔یہ چھوٹی سی تھی جب سے اپنے شوق کی خاطر مٹی کے پتلے بناتی تھی ۔ سار ا سارا دن مٹی سے کھیلتی ، مٹی ہی لگتی تھی ! ”پروین نے ماضی کی یاد کا رنگ ، حال کے پانی میں گھولا تھا ۔ عشنا نے دلچسپی سے سامنے ہری گھاس پر سر جھکائے بیٹھی بختاور کی طرف دیکھا۔ اپنے ذکر پر وہ ایسے لاتعلق رہتی تھی جیسے کسی اور کی بات ہو رہی ہو ۔پروین نے ” میڈم صاحبہ” کے چہرے پر دلچسپی کے رنگ دیکھے، تو پرجوش ہو کر مزید بتانے لگی۔
    ”اللہ بخشے میری ماں کہتی تھی کہ پروین تیری دھی پر کسی چیز کا سایہ ہے ! کافروں والے کام کرتی ہے۔ مٹی سے بت بناتی ہے ،روک اسے ، کوئی دم دُرود کروا نہیں تو پچھتائے گی تُو…!”
    ”میڈم صاحبہ ٹھیک ہی تو کہتی تھی میری ماں! چنگی بھلی نظر آنے والی میری بختاور، عجیب عجیب باتیں کر نے لگی ہے ! کہتی ہے کہ اماں ہر طرف بت نظر آتے ہیں !اثر ہو گیا ہے اس کے ذہن پر ! سب کہتے ہیں کہ میری دھی پاگل ہو گئی ہے۔ اس کا گھر والا بھی تنگ آگیا ہے ! کہتا ہے کہ یہ بنجر زمین ہے ، کوئی سکھ نہیں دے سکتی ! نہ اولاد کی خوشی دے سکی ہے اور نہ بیویوں والا سکھ…! بس بوجھ کی طرح ہے اور اس نے بوجھ اتار پھینکا !مگر میڈم صاحبہ !ماں باپ تو اپنی والاد کا بوجھ تما م عمر ہی اٹھاتے ہیں ناں! وہ کیسے اپنا دامن بچا کر منہ پھیر لیں ۔ ان کے تو دل پر ہاتھ پڑتا ہے۔” عشنا کو ایسا لگا کہ جیسے ایک لمحے کے لیے بختاور کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ پھیلی تھی، مگر فوراً ہی اس نے اپنا چہرہ سپاٹ بنا لیا ۔ عشنا نے سر جھٹک کر دوبارہ پروین کی طرف دیکھا تھا ۔پروین کے پکے سانولے چہرے پر بھی دکھ کی کالی لکیریں بہت واضح تھیں۔ اس کی بے رنگ آنکھوں میں آنسو بھی پھیکے اور بے رنگ سے تھے ۔ نجا نے کیوں غریب کی زندگی میں کوئی رنگ گہرا اور پکا نہیں ہوتا ، سوائے غربت اور ذلت کے…!
    ”میری بات ہوئی ہے ڈاکٹر صائمہ سے ۔ وہ بختاور کی ذہنی حالت سے مطمئن ہیں، مگر لگتا ہے کہ وہ کسی ذہنی مسئلے یا دباؤ کا شکا رہے۔ اس لیے سب سے کٹ کر رہنے لگی ہے ۔تم امید رکھو ، وقت کے ساتھ ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا۔”
    عشنا نے ہمیشہ کی طرح اسے تسلی دی تھی، مگر غریب کی جھولی میں اتنے چھید ہوتے ہیں کہ تسلی بھی وہاں ٹھہر نہیں پاتی۔ اس لیے کچھ دنوں کے بعد پروین پھر کسی نہ کسی بات سے پریشان ہو کر عشنا کے پاس دوڑی چلی آتی تھی۔ اگلے ہفتے کا اہتمام کیا گیا تھا عشنا کے پانچ سالہ بیٹے ارسلان کی سالگرہ تھی۔ گھر میں بڑے پیمانے پر تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا۔ عشنا نے پروین اور بختاور کو بھی کام کی غرض سے بلا لیا۔ وہ دونوں صبح سویرے ہی اس کے بڑے اور عالیشان گھر میں پہنچ گئیں تھیں اور آتے ہی سارا کام سنبھال لیا۔ اس دن عشنا کا شوہر خاور رضا بھی گھر پر تھا۔ اس عشنا معمول سے زیادہ چاق چوبند اور متحرک تھی کیوں کہ خاور رضا کا مزاج پل میں شعلہ بن جاتا تھا ۔ اسے چھوٹی سے چھوٹی بات بھی غُصّہ دلا دیتی تھی۔ پھر آج تو دن بھی بہت خاص تھا۔ خاور کو اپنی بڑی دونوں بیٹیوں سے بہت محبت تھی، مگر ارسلان میں سب کی جان تھی۔ وہ بہنوں کا لاڈلا تھا اور والدین کا بھی۔ آٹھ سالہ نور اور سات سالہ فاطمہ بھی بہت پرجوش ہو کر تیاریوں میں لگی ہوئیں تھیں۔
    ”عشنا!” خاور نے تند خو لہجے میں اسے پکارا تھا ۔ بختاور کو کام سمجھاتی وہ ”جی” کہتے ہوئے پلٹی تھی۔
    ”جاہل عورت! میں نے کہا بھی تھا کہ یہ کتابیں ردی میں پھینک دو! پرانی کتابیں ہوں یا پرانی چیزیں، مجھے دونوں سے سخت نفرت ہے۔ یہ بوسیدہ اوراق، نحوست کی علامت ہوتے ہیں۔ زندگی میں ہر دم نئی اوربغیر کسی سلوٹ یا شکن کے چیزیں ہونی چاہئیں! اٹھا و یہ سب کچھ!”
    خاور جو عشنا کو جاہل کہہ رہا تھا۔ خود گلا پھاڑ کر چلاتا ہوا، سب سے بڑا جاہل لگ رہا تھا۔ عشنا نے جلدی سے پاس موجود بختاور کو آواز دی جو خاموشی سے آگے بڑھی اور زمین پر گری کتابیں اٹھانے لگی۔ خاور منہ ہی منہ میں بڑبڑاتا ہوا، سگار سلگانے لگا۔ اس کا رخ دوسری طرف تھا۔ جب بختاور نے کتابیں اٹھا لیں، تو دروازے کی طرف جاتے ہوئے، ایک لمحے کے لیے خجالت بھرا چہرہ لیے کھڑی عشنا کے پاس رک کر بولی:
    ”میڈم صاحبہ! کیا پرانی چیزوں اور بوسیدہ ہوتی کتابوں کی طرح، بوسیدہ اور بساند دیتے رشتوں کو بھی زندگی سے نکال دینا چاہیے؟ اگر ایسا ہے، تو پھر آپ نے دیر کیوں کی ہے؟”
    خاور رضا نے حیرت سے پلٹ کر بد رنگ اوڑھنی میں لپٹے وجود کو دیکھا۔ وہ صرف اس کی پشت ہی دیکھ سکا، مگر اس کا متوازن لہجہ اور لفظ اسے چابک طرح لگے تھے۔ عشنا خود اس کی جرأت پر دنگ رہ گئی تھی۔ وہ تیزی سے خاور کی طرف بڑھی اور معذرت خواہ لہجے میں بولی:
    ”اسے کچھ مت کہنا ۔ یہ ذہنی مریضہ ہے۔ وہ تو میں اسے…!” عشنا کی بات ختم ہونے سے پہلے بختاور وہاں سے جا چکی تھی اور خاور کسی گہری سوچ میں گم خلاؤں میں گھورتا رہ گیا تھا۔ اتنی جرأت تو کبھی اس کی پڑھی لکھی، اپ ٹوڈیٹ بیوی نے نہیں کی تھی ، جسے ایک زمانہ سراہتا تھا۔ عورت کی ایسی جرأت، مرد کی انا پر کڑی ضرب کی طرح ہوتی ہے اور یہ ضرب ہی اسے بلبلانے اور تسخیر کرنے پر اکساتی ہے۔ وہ بھی یہ سوچ کر تسخیرکرنے نکلا تھا کہ سامنے ایک کمزور اور زمانے کی ستائی عورت ہے جو بہت جلد اس کی جال میں پھنس جائے گی، مگر سامنے کمزور اور زمانے کی ستائی عورت نہیں، بلکہ زمانے کی سکھائی اور برتی ہوئی ایک عورت کھڑی تھی ۔ اس دن عشنا کو پہلی بار پتا چلا کہ خود میں گم رہنے والی بختاور پڑھنا ،لکھنا بھی جانتی ہے کیوں کہ وہ اس کی اجازت سے سب پرانی کتابیں اپنے ساتھ لے گئی تھی۔ اب عشنا اکثر اسے فلاحی سنٹر میں کسی نہ کسی کونے میں بیٹھی کتاب کے ساتھ مگن دیکھتی تھی۔ کتاب پڑھتے ہوئے وہ بہت پرسکون اور خوش نظر آتی تھی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس دوران خاور رضا نے بھی کئی بار یہاں کا دورہ کیا تھا۔ کبھی کوئی فنڈدینے کے بہانے اور کبھی کوئی نئے پروجیکٹ کا آئیڈیا لے کر اور کچھ نہیں تو عشنا کے پاس ہی کسی نہ کسی کام کے بہانے آجاتا تھا ۔ عشنا کے لیے یہ تبدیلی بہت خوشگوار تھی ۔ ان کے تعلق پر جمی سرد برف پگھلنے لگی تھی ۔ ان دنوں وہ خوش تھی اور ہواؤں میں اُڑ رہی تھی۔ جب بہار کی ایک گلابی شام، کیاری سے پھول چنتی بختاور سے اس نے سوال کیا:
    ”لگتا ہے کہ تم یہاں آکر بہت خوش ہو!” یہ سن کر اپنی جھولی میں پھول رکھتی وہ مسکر ا دی۔
    ” خوش…! ہاں شاید…! کئی بار ایسا بھی ہوتا ہے ناں کہ اپنی زندگی کی بند گلی کا ایک سرا ، کسی دوسرے کی زندگی سے ہو کر گزرتا ہے۔
    کچھ عرصہ پہلے تک مجھے لگتا تھا کہ میرا وجود جیتا جاگتا، سانس لیتا جسم نہیں ہے، بلکہ یہ بھی میرے ہاتھوں سے بنائے مٹی کے پتلوں کی طرح ہے۔ بے ترتیب، بے ڈھنگا۔۔۔! پھر مجھے لگنے لگا کہ صرف میرا وجود ہی نہیں، میرے آس پاس بے شمار، پتلے ہی پتلے ہیں۔ اتنے پتلے کہ اُنہیں گنتے ہوئے میری آنکھیں دکھنے لگیں۔ میری سانسیں رکنے لگیں تھیں اتنی حبس اور گھٹن تھی ان کے خاک اڑاتے جسموں کی…! مجھے لگتا تھا کہ یہ صرف میرے ساتھ ہی ہو رہا ہے۔ میں ہی مٹی کے پتلوں کی قید میں سانس لیتا ایک وجود ہوں۔
    مگر میڈم صاحبہ! ہر گزرتے دن کے ساتھ میں اب جان گئی ہوں کہ چاہے کسی غریب کی جھونپڑی ہو یا کسی امیر کا محل ! مٹی کے بنے چھوٹے بڑے پتلے ہر جگہ ہی موجود ہوتے ہیں۔”
    ”کیا مطلب ہے تمہارا؟” عشنا نے الجھ کر پوچھا۔ وہ مسکرا کر کچھ دیر سوچتی رہی اور پھر اس کی طرف متوجہ ہوکر بولی ۔
    ” ایک کہانی سنیں گی آپ…!” بختاور کا انداز جھجھک لیے ہوئے تھا ۔
    ” ہاں ضرور ! اگر وہ کہانی تم خود ہو تو…!” عشنا کا انداز حوصلہ افزاتھا ۔وہ چاہتی تھی کہ بختاور اپنے اندر کی گھٹن کو اظہار کاراستہ دے ۔
    ”اچھا حیرت ہے آپ کہانی سننا چاہتی ہیں اور وہ بھی میرے جیسی عام اور معمولی عورت کی…!” بختاور نے تعجب کا اظہار کیا۔ عشنا نے پرُ سکون انداز میں کرسی سے ٹیک لگاتے ہوئے دونوں ہاتھ سینے پر باندھ کر متوجہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • سرپرست — فوزیہ احسان رانا

    سرپرست — فوزیہ احسان رانا

    وشمہ چت لیٹی خالی الذہنی کی سی کیفیت میں کمرے کی چھت کو گھور رہی تھی۔ وہ سوچوں کی اندھیر نگری میں بھٹک رہی تھی لیکن اسے کوئی راہ سجھائی نہیں دے رہی تھی۔ وہ ہانیہ کو وہ خوشی دینا چاہتی تھی جو اس کے من کی مراد تھی۔ اسم شاپنگ کرکے ابھی تک نہیں آیا تھا۔ دو دن بعد اُس کی فلائٹ تھی اور جہاں اکیلی زہریلی سوچوں کے ساتھ لڑتے لڑتے نڈھال ہورہی تھی۔ جب وہ چھت کی کڑیاں ملاتے ملاتے تھک گئی تو اس نے پژ مردہ لمبی سی سانس خارج کی۔
    ابھی دو دن پہلے کی ہی تو بات ہے جب ہانیہ کچن میں اس کے پاس آئی تھی۔
    ”بھابی! مجھے آپ سے ایک بات کرنی ہے۔” وہ گھبرائی ہوئی سی تھی۔
    ”ہاں بولو ہانیہ۔ ” وشمہ نے اس کا ہاتھ تھام کر کہا۔
    ” میں …وہ …بھابی…”اس کی پیشانی پر پانی کی بوندیں پھوٹیں تو وشمہ چونکی۔ اب ایسی بھی کیا بات ہے جو ہانیہ کہتے ہوئے یوں ہچکچا رہی ہے۔وشمہ نے ہانیہ کو کندھوں سے پکڑا اور اُسے اپنے کمرے میں لے آئی۔ جگ سے گلاس میں پانی انڈیلا اور ہانیہ کو تھما دیا۔ وشمہ نے اے سی کی کولنگ بڑھا دی اور ہانیہ کے عین سامنے بیٹھ گئی۔
    ”اب بتائو ایسی بھی کیا بات ہے جو تم اتنی بوکھلائی ہوئی ہو۔”
    ”بھابی میں اور زین ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں۔” آخر کار ہانیہ نے اپنے دل کی بات کہہ ہی ڈالی۔ وشمہ کا دماغ بھک سے اڑا ۔ وہ خالی بے تاثر نگاہوں سے ہانیہ کو دیکھے گئی۔
    ” یہ تم کیا کہہ رہی ہو ہانی جب کہ تم اچھی طرح جانتی ہو۔”وشمہ نے اپنی بات ادھوری چھوڑی۔
    ” جی میں جانتی ہوں کہ ہمارے خاندان میں برادری سے باہر شادیاں نہیں کی جاتیں۔ ” ہانیہ کی آواز کسی گہرے کنویں سے نکلتی محسوس ہو رہی تھی۔اس کے لہجے میں کچھ ایسا تھا جووشمہ کو چبھتا ہوا سا محسوس ہوا تھا۔
    ” سب جاننے کے باو جود تم نے اتنی احمقانہ بات کیسے کی ہانی؟تمہاری نسبت بچپن سے طے ہے۔” وشمہ نے جیسے اسے یاد دلایا۔
    ”جی مجھے اس بات کا اچھی طرح علم ہے مگر میں کسی ایسے رشتے کو نہیں مانتی جو زبر دستی طے کیے جاتے ہیں۔ ” وہ بھڑکی۔
    ”ہانی تمہارے ماننے یا نہ ماننے سے حقیقت بدل تو نہیں جائے گی نا، اور برادری والے کیا کہیں گے۔ ہم چاچا نواز کو رشتے سے انکار کیسے کر سکتے ہیں اور تمہارے بھائی بھی نہیں مانیں گے۔” وشمہ پتا نہیں اسے کیا سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی اور ہانیہ دل میں جو ٹھانے بیٹھی تھی۔ وشمہ اسے اس غلطی سے باز رکھنا چاہتی تھی مگر ہانیہ پر کسی بات کا اثر نہیں ہورہا تھا۔ ہانیہ وشمہ کو عجیب جتاتی سی نظروں سے دیکھتی سر نفی میں جھٹکتی رہی۔ ہانیہ کی آنکھوں سے سلگتے انگارے برس رہے تھے جس کی تپش کی آنچ میں وشمہ کا دل لپٹتا جا رہا تھا۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    ”مجھے برادری سے کچھ نہیں لینا دینا بھابی اوکے؟ مجھے صرف ا سم بھیا کی پروا ہے اور اُنہیں بات کرنا اور ان کو منانا آپ کا کام ہے۔ ورنہ میں سمجھوں گی کہ آپ نے میرا مقدمہ لڑا ہی نہیں۔ بنا لڑے ہی ہار گئیں۔ ” ہانیہ نے ایک ایک لفظ پر زور دے کر کہا تو وشمہ روہانسی ہو گئی۔
    ”ٹھیک ہے، میں اسم سے بات کرتی ہوں شاید کوئی راہ نکل آئے۔” وشمہ نے ہولے سے کہا تو ہانیہ کے چہرے کے تنے ہوئے اعضا کچھ ڈھیلے پڑے، مگر ابھی بھی وہ وشمہ کو عجیب سی نگاہوں سے تکے جارہی تھی۔
    ”مجھے پوری امید ہے کہ آپ بھیا سے ہر بات منوا سکتی ہیں۔آپ بھی تو ہمارے خاندان کی نہیں ہیں۔ آپ اور بھیا بھی تو محبت کرتے تھے اور بھیا نے امی جی کو جان دینے کی دھمکی دے کر بالآخر منا ہی لیا تھا۔ کیا تب ہماری خالہ ہم سے خفا نہیں ہوئی تھیں؟ آپ نے تب ہماری خیر خواہی کا کیوں نہیں سوچا تھا کہ آپ کے آنے سے ہمارے سارے ننھیالیوں نے ہمیں چھوڑ دیا اور آج تک کبھی دوبارہ کوئی ہمارے گھر نہیں آیا۔ تب آپ کو ہمارے خاندان کی عزت کا احساس کیوں نہیں تھا؟ میری زین سے شادی کی صورت میں ہمارے ددھیالی ہم سے روٹھ جائیں گے اور آپ کو بہت فکر ہو رہی ہے۔ واہ بھابی واہ، کیا کہنے آپ کے۔اپنے لیے کچھ اور سوچا اور میری باری آپ کو نصیحتیں کرنا یاد آ گیا۔ میں شادی زین سے ہی کروں گی سنا آپ نے ۔” وہ دو ٹوک اور اٹل لہجے میں کہتی پا ئوں پٹختی اپنے کمرے میں چلی گئی اور وشمہ کا سانس وہیں اٹکا رہ گیا۔ وہ اسے بغیر لگی لپٹی کیسے کھری کھری سنا گئی تھی اور وشمہ کی تو بولتی ہی بند ہو گئی تھی۔ وہ جو بڑی معتبر بن کر ہانیہ کو مشورے دے رہی تھی ہانیہ الٹا اسے ہی آئینہ دکھا کر گویا اسے اس کی اوقات یاد دلا گئی تھی۔ ہانیہ نے کچھ غلط تو کہا بھی نہیں تھا۔ وشمہ چند ثانیے گم صم سی ہاتھ رخسار پر ٹکائے لمبے لمبے سانس لیتی رہی۔
    ٭…٭…٭
    ”اسم میری بات تو سنیں پلیز۔ ” وشمہ رو دینے والی ہو رہی تھی۔
    ”مجھے نہیں سننی یہ فضول بات۔ ” وہ غصے سے بولا۔
    ”وہ مجھ سے بد گمان ہو جائے گی اسم اور میں ایسا نہیں چاہتی۔ میں اس کی نظر میں اپنے لیے شک نہیں دیکھ سکتی۔”وشمہ رونے لگی۔
    ”میں اس ٹا پک پر بات ہی نہیں کرنا چاہتا اور ہاں، ہانی کو اپنی زبان میں سمجھا دینا کہ دوبارہ اس لڑکے سے نہ ملے ورنہ…”
    ”ورنہ کیا۔ ” وشمہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
    ”ورنہ میں اسے دوبارہ یونیورسٹی نہیں جانے دوں گا۔ ” وہ قطعیت سے کہتا ڈسٹ بن کو ٹھوکر مارتا کمرے سے نکل گیا اور تب سے وشمہ ایسے ہی بے حس لیٹی تھی۔ ہانیہ کے زہر میں بجھے جملے اس کی سماعتوں میں دہکتے انگاروں کے مانند برس رہے تھے۔ آنسو وشمہ کا تکیہ بھگو رہے تھے وہ ڈر رہی تھی کہ وہ ہانیہ کو کیا جواب دے گی۔ کوئی امید کوئی آس کچھ بھی تو نہیں۔ وہ پہلے ہی شاکی نگاہوں سے تکنے لگی تھی ۔ اب اور زیادہ متنفر ہو جائے گی۔ وہ دکھتے سر کے ساتھ روئے جا رہی تھی۔ پتا نہیں آنے والا وقت کیسے شک و شبہات ہانی کے دل میں ڈال دے گا۔ وشمہ نے کبھی ہانیہ سے روایتی بھابیوں والا سلوک نہیں رواں رکھا تھا۔ وہ اسے ایک ماں کی طرح محبت کرتی تھی۔ ہانیہ بھی اچھی لڑکی تھی، مگر اب زین والا معاملہ بہت گمبھیر تھا۔ کیا کرے کیسے سلجھائے۔ اسم کوئی بات ماننا تو درکنار سننے تک کا روادار نہیں تھا۔ اس نے تھک کر سر تکیے پر گرادیا۔ اس کے آنسو بے دریغ بہے جا رہے تھے۔ اسم غصے میں اکیلا ہی شاپنگ کرنے چلا گیا تھا۔ وہ رات کب واپس آیا وشمہ کو کچھ پتا نہیں چلا۔ وہ کر وٹیں بدلتے بدلتے نہ جانے کب سو گئی۔ اسم جب گھر آیا تو اس کا دل دکھ سے بھر گیا۔ و شمہ کے گالوں پر ابھی بھی اشکوں کے نشان تھے۔ وہ وشمہ کو اتنا چاہتا تھا کہ رونا تو درکنار وہ وشمہ کی پلکوں پر نمی تک بر داشت نہیں کرتا تھا۔اسم بیڈ پر لیٹا تا دیر محویت سے اُسے دیکھتا رہا۔
    ٭…٭…٭
    اسم کے آفس جانے کے بعد وشمہ اس کا بیگ تیار کر رہی تھی جب ہانیہ آندھی اور طوفان کی طرح کمرے میں داخل ہوئی۔اُسے دیکھتے ہی وشمہ کا خون خشک ہو گیا وہ جس لمحے سے کترا رہی تھی وہ اپنے پورے جاہ و جلال کے ساتھ اس کے سامنے آن کھڑا ہوا تھا۔
    ”بات کی آپ نے بھیا سے؟” ہانیہ نے کھردرے لہجے میں پوچھا۔
    ”ہاں کی تھی۔” اس نے کسی مجرم کے مانند سر جھکائے رکھا تھا۔ اس میں ذرا بھی ہمت نہیں تھی کہ وہ ہانیہ کی طرف دیکھ سکے۔
    ” پھر؟” ہانیہ نے غضب ناک نظروں سے اسے گھورا۔
    ” وہ نہیں مان رہے ہانی۔” وشمہ کانپتے لبوں کے ساتھ قدرے مضطرب تھی۔
    ”ہاں! میری ماں نہیں ہے نا جس سے میں ضد کر کے اپنی بات منوا سکوں۔ ” ہانیہ ہچکیاں لے کر رونے لگی۔ وشمہ کا دل اتنی زور سے دھڑکا گویا آخری بار دھڑک رہا ہو۔ وہ عجلت میں اٹھی اور ہانیہ کو گلے لگانے کے لیے آگے بڑھی مگر ہانیہ نے اس کا ہاتھ بے دردی سے جھٹک دیا۔ اتنا انسلٹنگ انداز، ایسی سبکی وشمہ چور سی اپنی نگاہیں چرانے لگی۔ اس نے بھی وہی کام کیا تھا جو ہانیہ کرنا چاہ رہی تھی۔ اب وشمہ کس برتے پر اسے سمجھاتی اور وہ سمجھنا چاہتی بھی کب تھی۔ محبت کرنے والے کب کسی کی سنتے ہیں ۔
    ”جب بھیا نے خود محبت کی، آپ کو پانا چاہا پا لیا اور میری باری آئی تو خاندان والے یاد آ گئے۔ اس لیے نا کہ میرے ماں باپ نہیں ہیں۔ اس لیے نا کہ میں آپ لوگوں کے ساتھ ایک بوجھ بن کے رہ رہی ہوں ۔” وہ بے تکان بولے جا رہی تھی۔ اس بات سے بے خبر کہ اسم نے اس کی ساری باتیں سن لی تھیں۔ وہ کسی کام سے گھر آیا تھا اور اس نے ہانیہ کو یہ سب کہتے سنا تو ایک لمحے کے لیے اس کا دل پگھلنے لگا مگر دوسرا پل زیادہ خوف زدہ کر دینے والا تھا، بدنامی کا خوف ۔لوگ کیا کہیں گے، برادری خاندان اور روایات وغیرہ۔
    ”ایسے مت کہو ہانی، اسم تم سے بہت محبت کرتے ہیں اور میں بھی۔”
    ”بس کر دیں یہ ڈھکوسلے ۔بہت ہو گیا، اسم بھائی کی منافقت دیکھ لی میں نے۔اتنا تضاد، یہ رویوں کا تضاد بہت ہی تکلیف دے ہوتا ہے۔ میں مانتی ہوں کہ وہ سر پر ست ہیں میرے، مگرمیری تر جیح کیا ہے، میں کیا سوچتی ہوں، یہ انہوں نے کبھی نہیں دیکھا۔ انہوں نے کبھی میری خوشی کا خیال نہیں رکھا۔ بس حکم صادر کیا اور میں ان کی ہر بات بنا چوں چرا کیے مانتی چلی گئی۔ کبھی سر نہیں اٹھایا۔ میں کیا پڑھوں گی کہاں پڑھوں گی سب فیصلے انہوں نے ہی کیے اور میں نے کوئی اعتراض کیے بنا مانے، مگر یہ میری زندگی کا سب سے خاص اور اہم فیصلہ ہے جس پر میری آنے والی پوری زندگی کا دارو مدار ہے۔میں اپنے اس فیصلے سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹوں گی۔ اب میں کسی کی نہیں سنوں گی۔ اسم بھیا کی بھی نہیں۔ ” وہ چیخ چیخ کر بھڑاس نکال رہی تھی، مگر ایک زناٹے دار تھپڑ نے اسے چپ کرنے پر مجبور کر دیا۔ وہ گال پر ہاتھ رکھے دم سادھے دکھ کی نہ جانے کون سی سیڑھی پر کھڑی تھی۔ اس کی آنکھوں میں حیرت جم کر رہ گئی تھی۔ وہ یک ٹک ششدر سی اسم کو تکے جا رہی تھی۔ کیا کچھ نہیں ٹوٹا تھا اس کے اندر۔وہ سسکی اور شکوہ کناں نگاہوں سے اسم کو دیکھتی ہوئی بے طرح رو دی۔ اس کے رونے میں اتنی تڑپ تھی کہ ایک لمحے کے لیے اسم کا دل بھی رک سا گیا مگر وہ کمزور پڑنا نہیں چاہتا تھا۔ اسی لیے اسم نے چنداں پروا نہیں کی۔
    ”اتنی زبان درازی؟ مجھے یقین نہیں آ رہا ہانیہ کہ یہ تم ہو؟ دفع ہو جائو میری نظروں سے اور سنو کل سے تم یونیورسٹی نہیں جائو گئی۔ ” وہ کہہ کر لمبے لمبے ڈگ بھرتا اپنے کمرے میں چلا گیا۔ وشمہ ابھی بھی زمین پر نظریں گاڑے ساکت کھڑی تھی اور وہ جو پٹر پٹر بول رہی تھی اس قدر شاک میں تھی گویا اسے سکتہ ہو گیا ہو۔وہ اندر تک چھیدتی کاٹتی نظروں سے وشمہ اور آسم کو دیکھتی زارو قطار روتی اپنے کمرے میں بھاگ گئی۔ وشمہ اپنی جگہ چور سی بنی زمین میں گڑی جا رہی تھی۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • پہیہ —- نوید اکبر

    پہیہ —- نوید اکبر

    سنہ ٢٠٠٧ء…
    جی ٹی روڈ قصبوں اور شہروں کو چیرتی ہوئی لاہور کی طرف بڑھ رہی تھی۔ جوں جوں لاہور کا فاصلہ کم ہوتا جاتا تھا، لاہور اُتنا ہی دور ہوتا جا رہا تھا… اور دور ہوتے ہوتے اتنا دور ہو گیا کہ ایک جھوٹے خواب کی طرح دھند لانے لگا۔
    لارنس گارڈن کی پہاڑیوں میں چھپے بینچ (bench) جہاں وہ اُسے چھونے کے بہانے تراشا کرتا تھا، اب خیالوں میں موم کی طرح پگھل رہے تھے۔ راحت بیکرز کی کون آئس کریم جو پگھل پگھل کر اُن کی انگلیوں کو میٹھا کر دیتی تھی، اب خشک زبان کی کڑواہٹ کو یاد بھی نہ تھی۔ یہ کڑواہٹ بھی عجب تھی۔ زبان کڑوی تھی یا ہونٹ، سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ ایسے آہستہ آہستہ پھیل رہی تھی جیسے مغرب کے بعد دریا کا پانی خشک ساحل ریت پر پھیلنے لگتا ہے۔ اُف! … اب آنکھ بھی کڑوی ہو گئی۔ سڑک کچھ ٹھیک سے دکھائی نہیں دیتی تھی۔ عجیب ناگن کی طرح پینترے بدل رہی تھی۔ اُس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ گاڑی میں گھس کر اُس لڑکی کے ہاتھ پر ڈنگ مار دے۔ پھر آہستہ آہستہ وہ با اختیار ہونے لگی۔ پہلا ڈنگ … دوسرا ڈنگ… تیسرا… ہاتھ بے قابو ہونے لگے۔ گرفت ڈھیلی پڑنے لگی۔
    ہاں زندگی پر اُس کی گرفت ڈھیلی پڑ رہی تھی۔ پھر حمیرا کے کان میں کسی آخری حس نے سرگوشی کی اب وقت آگیا تھا کہ بریک پر پیر رکھ دیا جائے۔ بریک پر پیر … پر کیسے؟
    ٭٭٭٭
    ڈیفنس کے اس دو کنال کے سنسان مکان میں ٹونی کی دل چسپی کا مرکز صرف دو چیزیں تھی۔ ایک حمیرا اور دوسری وہ چند مچھلیاں جو ٹی وی کے اوپر شیشے کے vase میں دن رات تیرتی پھرتی تھیں۔ جب اُن میں سے کوئی مچھلی تیرنا بند کر دیتی تو حمیرا کو لگتا ٹونی چپ ہو گیا ہے۔ ٹونی کی آنکھیں بند رہنے لگتیں۔ وہ ٹونی کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لے کر اُسے واپس دنیا میں آنے کا پیغام دیتی۔ بند آنکھوں والا چہرہ… کھلی آنکھوں والا چہرہ… شہاب کا چہرہ۔
    ٹونی واپس لوٹ آتا اور دم ہلا ہلا کر پورے گھر میں دوڑتا۔ خوب مذاق اُڑاتا حمیرا کا۔
    ٹونی کا شہاب حمیرا تھی۔ وہ کبھی سمجھ ہی نہیں پایا کہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے ٹراؤزر اور ٹی شرٹ میں لپ سٹک لگاتی حمیرا آئینے کے اُس پار شہاب کی خوابیدہ نگاہوں سے داد سمیٹ رہی ہے۔ حمیرا کی اس حرکت پر پاس پڑی میڈیکل فرسٹ ائیر کی کتاب کے ادھ کھلے صفحے ہوا سے اُلٹ پلٹ کر شور مچاتے۔ وہ آئینے کے اس پار شہاب سے حمیرا کی شکایت کرتی۔ کبھی وہ بھی محور تھے ان آنکھوں کا۔ کبھی یہ دو آنکھیں صرف ان لفظوں کے لئے ہی جا گتی تھیں۔ میڈیکل کی مشکل اصطلاحات (Terminologies) جب آنکھوں کے ذریعے ذہن میں اُترتیں تو رات بھر جاگتیں، کتابیں کے کھلے ہارے صفحے آنکھوں کو داد دیتے عقل کی۔ کیا ہو گیا تھا اس عقل کو جو کبھی اس لڑکی کا غرور تھی۔ کتنی پریکٹیکل باتیں کرتی تھی وہ۔ کیا وہ واقعی بھول گئی تھی کہ دل محض ایک جسمانی عضو ہے، جس کا واحد کام جسم میں خون کی گردش رواں رکھنا ہے… اور بس۔ یہی تو لکھا تھا Greys Anatomy میں۔ کیا وہ سب بھول گئی تھی؟ سہیلیاں، کالج، بازار، شہر، دنیا سب؟ اگر وہ ٹی وی ہی لگا لیتی تو اُسے پتا چل جاتا کہ اُس کے اپنے ملک میں سب اوپر نیچے ہو رہا تھا۔ جج کرسیوں سے اُتر گئے تھے، صدر کرسی سے چپکاہواتھا، سیاست دان اُسے اُتارنے اور خود کرسیوں پر چڑھنے کے لئے مر رہے تھے، اور دہشت گرد … وہ ان سب کو اُڑا رہے تھے۔ بجلی کے بعد آٹا بھی غائب ہو گیا تھا لیکن لوگ پریشان کم اور خوف زدہ زیادہ تھے کہ اُن کے پیارے جو صبح گھر سے نکلے تھے کیا وہ شام کو لوٹ پائیں گے یا نہیں؟

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    دنیا تباہ ہو رہی تھی اور وہ بے خبر تھی۔ اُس کے پاپا اکثر CNN دیکھتے ہوئے اُس کے لئے پریشان ہوجاتے۔ وہ سال میں صرف ایک بار پاکستان آتے تھے اور وہ بھی اپنی گوری بیوی کے ہمراہ۔ اس سال تو یہ معمول بھی ٹوٹ گیا تھا۔ شائد کیتھرین اس سالانہ معمول سے بور ہو گئی تھی۔ حمیرا کی ممی کی قبر پر پھول چڑھانا کم از اُس کی ideal vacation کے تصور سے میل نہ کھاتا تھا۔ بھائی کا فون اکثر آجاتا۔ پڑھائی کیسے چل رہی ہے؟ پیسے ہیں کہ نہیں؟ امتحان کب ختم ہوں گے؟ تم اکیلے سارا دن کیا کرتی رہتی ہو؟ اب وہ کیا بتاتی کہ وہ آج کل سارا دن کرتی رہتی ہے۔ کبھی سوچنے بیٹھتی تو پریشان ہو جاتی۔ صبح کمرے کی کھڑکی بند کرنے کا خیال آیا تھا۔ باہر کچھ چڑیاں گھاس پہ بیٹھی چہچہا رہی تھیں۔ نل سے قطرہ قطرہ پانی ٹپک رہا تھا۔ پلک جھپکی تو چڑیاں غائب تھیں۔ نل سے ایک قطرہ ابھی بھی ٹپک رہا تھا لیکن چڑیوں کی صبح دنیا کے کسی اور کونے چلی گئی تھی۔ اُس کا گھر، اُس کی گلی، اُس کا شہر سب اندھیر ہو چکا تھا۔ شائد یہ اندھیرا اُس کے اندر اُتر جاتا، اگر اندر جگہ ہوتی۔ اندر تو شہاب کا سورج تھا،اور وہ اس سورج کی زمین … مسلسل گردش میں۔
    شہاب کون تھا؟
    سال پہلے جب نادیہ نے کالج کے فن فیئر میں اُس کا تعارف کرایا اُس وقت وہ کسی دس سالہ بچے کے چہرے پر کارٹون پینٹ کر رہی تھی۔ ایک نظر اُٹھا کر دیکھا پر دھیان دوبارہ کارٹون کی طرف چلا گیا تھا۔ نادیہ کے پہلو میں کھڑا شخص تو واضح طور پر نظر نہ آیا البتہ کھلے سینے پر موٹا سونے کا چمچماتا لاکٹ نظر کو خیرہ کرنے کے لئے کافی تھا۔ دس سالہ بچے کے چہرے پر نامکمل کارٹون اس جینز شرٹ پہنے چھے فٹ قامت کے گھنگریالے بالوں والے شخص سے ہزار درجے دل چسپ معلوم ہوا۔
    پھر اُس کی کال آنے لگے۔ وہ ریسیور اٹھانے پر مجبور تھی۔ کچھ فون اٹھائے بنا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ اُس کی پہلی گھنٹی ہی دماغ کے اُس خلیے کو متاثر کر دیتی ہے جس کا تعلق کال منقطع کرنے والے بٹن سے ہوتا ہے۔
    وہ اُسے بات کرنے کے لئے قائل کرتا تھا۔ قائل کرنے کے لئے کبھی اُس کے سامنے اپنے ماموں کے سیاسی کارناموں کا ذکر کرتا تو کبھی ابا کی فیکٹری کے اس فٹ بال کا تذکرہ شروع کر دیتا جسے گورے ورلڈ کپ میں ٹھڈے مارنے کا اعزاز بخش چکے تھے۔ اِدھر اُدھر کی باتوں میں اُس کے نجی کالج کا ذکر ہوتا جہاں سے وہ سات لاکھ روپے ادا کر کے ایم بی اے کر رہا تھا۔ مرغوب کرنے کے لئے اور بھی کئی چیزیں تھیں۔ مثلاً اُس کے پاس ایک لش پش کرتی نئے ماڈل کی ہونڈا سوک… اعلیٰ ترین اٹالین (Italian) اور کونٹی نینٹل (Continental) ریستورانوں میں اُس کی پسندیدہ دیسی خوراکیں وغیرہ وغیرہ۔لباس پر وہ بہت دھیان دیا کرتا۔ مہنگی ترین شرٹس، اس سے بھی مہنگی پینٹس اور پھر اس سے بھی مہنگے جوتے۔ کل ملا کر جو نقشہ بنتا وہ اس سرکاری ملازم سے تشبیہ کھاتا جس کی اوپر کی آمدن زیادہ ہو جائے تو ہاتھ پر رولیکس (Rolex) کی چم چم کرتی گھڑی بھی بندھ جاتی ہے اور جیب میں پڑا امپورٹڈ موبائل فون نجی محفلوں میں فلمیں بھی بنانے لگتا ہے۔
    حمیرا ہنستی تھی… وہ ان سب باتوں پر ہنستی تھی اور ہنستے ہنستے اچانک چپ ہو جاتی تھی۔ واقعی فون کی گھنٹی نے ”اُس” خلیے کو متاثر کر دیا تھا۔ وہ شہاب سے بندھ گئی تھی بالکل ویسے ہی جیسے بچپن میں اُس نے آیا بو اسے ضد کر کے اپنے جوتوں کے تسمے خود باندھے اور سارا دن وہ لیسز اسکول میں نہ کھلے کتنی خوش تھی وہ اور کتنی پریشان تھیں آیا بوا جب گھر آکر بھی وہ تسمے اُن سے نہ کھل سکے۔آیا بوا تو ان دنوں بھی بہت پریشان تھیں۔ اُنہوں نے زندگی کی بارش دیکھی تھی۔ بارش کے بعد آسمان پر روشنی کے جو سات رنگ بنتے ہیں وہ اُن سب سے واقف تھیں۔ حمیرا کے ہر رنگ سے آشنا تھیں وہ۔ وہ دیکھ سکتی تھیں کہ حمیرا بندھ گئی ہے۔ پریشانی یہ تھی کہ اگر گرہ نہ سلجھی تو؟
    ان دنوں بوا کی زبان بند اور ہونٹ ہلنا شروع ہو گئے تھے۔ آخر یہ دعائیں ہونٹوں کو لرزتا چھوڑ کر کہاں چلی جاتی ہیں؟ بوا کا اپنا ایک یقین تھا۔ وہ اپنے یقین پر قائم رہناچاہتی تھیں۔ دن بدن ایسا کرنا مشکل ہوتا جا رہا تھا۔ حمیرا کے رنگ گہرے ہوتے چلے جا رہے تھے۔
    شہاب کا خیال ہی اُس کے لئے آکسیجن کی مانند تھا۔ یہ آکسیجن اُس کے رنگوں کو گاڑھا کر رہا تھا۔ شہاب کی ہونڈا سوک کو عرصے سے اُس کے کالج کے گیٹ کے پاس پارک ہونے کی عادت تھی۔ اُس کی فرنٹ سیٹ کے لئے زنانہ پرفیوم اپنے اندر جذب کرنا کوئی نیا تجربہ نہ تھا۔ اُس کی گاڑی کے اندر کا موسم باہر کے موسم سے ہمیشہ متضاد رہتا۔ گاڑی کے شیشے ہر موسم میں بند رہتے۔ گاڑی کے دروازے ایک ہی جنس کے مسافروں کے لئے کھلتے بند ہوتے۔ گاری کے اندر ٹیپ تو تھی پر کیسٹ خریدنا عرصہ ہوا اس نے چھوڑ دیا تھا۔ ہر سواری اپنی موسیقی ساتھ لاتی اور جاتے ہوئے ساتھ لے جاتی پر اُن کی کیسٹیں اکثر گاڑی میں ہی رہ جاتیں۔ حمیرا اُس کی یہ رنگ برنگی کولیکشن دیکھ کر بہت محظوظ ہوتی۔ اُس کے لئے شہاب کی گاڑی ایک ٹائم کیپسول (Time Capsule) تھی۔ جب گئیر بدلتے ہوئے پہلی بار اُس نے حمیرا کا ہاتھ پکڑا تھا اُس کے بعد وقت جیسے ٹھہر گیا تھا۔ گاڑی پہیوں سے بندھ گئی تھی اور پہئے اُسے گھما گھما کر دنیا گھما رہے تھے یا گاڑی پہیوں کو؟ اُس کا دماغ آہستہ آہستہ مدہوش ہونے لگا اور وہ سونے اور جاگنے لگی۔ گاڑی کسی مہنگے ہوٹل کے پاس رُکی پر پہیے نہ رُکے۔ پہیے ریسیپشن تک لڑھکے، پھر ایک کیپسول لفٹ نے پہیوں کا تعلق زمین سے کاٹ دیا۔ لفٹ آسمان کی طرف جا رہی تھی اور آسمان آنکھوں کے قریب آنے لگا۔ چاروں طرف بادل چھا گئے۔ دھند ہی دھند۔ ایسی دھند کہ چاروں طرف ایک ہی منظر۔ چاروں طرف ایک ہی شہاب۔
    ہوٹل کے اُس کمرے میں نہ پنکھا تھا نہ قالین، نہ بستر نہ چادر، نہ چھت نہ دیوار۔ چاروں طرف صرف پہیے ہی پہیے۔ اُس کو یوں لگا جیسے شہاب کی بارش ہو رہی ہو۔ دیواروں میں شہاب بہنے لگا۔ کمرے کے فرش میں شہاب اُبل پڑا۔ بجلی کی تاروں میں شہاب دوڑنے لگا۔ اُس کی حسیات عروج پر تھیں۔ وہ روپ بدل بدل کر کبھی دیوار، کبھی فرش اور کبھی بجلی کی تار بن جاتی… اور پھر بنتے بنتے سب کچھ سفید ہو گیا۔
    کہتے ہیں سفید رنگ سب رنگوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ واقعی سب کچھ آپس میں گھل گیا تھا۔ پھر آہستہ آہستہ سفیدی زائل ہونے لگی۔ ایک ایک کر کے ہر رنگ چھٹنے لگا۔ آنکھوں کا اندھیر ا واپس لوٹ آیا۔ آہستہ سے آنکھیں کھولیں تو سر پر ہوٹل کی چھت چاروں دیواروں کا سہارا لئے اوندھے منہ ٹکی ہوئی تھی۔ اس چھت کے اوپر کئی سو فٹ کی بلندی پر کوئی جہاز اُن کے اوپر سے گزر رہا تھا۔ اُس جہاز کی آواز حمیرا کے وجود سے گزری اور وہ جاگ گئی۔ پھر اچانک حمیرا کو یاد آنے لگا… اُس کے بائیو کیمسٹری کے نوٹس جوتیاری کی آخری رات گم ہو گئے تھے دراصل ٹی وی لاؤنج میں پڑی الماری کی سب سے نچلی دراز میں تھے۔ اُس کے بھائی کا وہ سوئیٹر جو پچھلی گرمیوں میں مری چھوڑ آئی تھی اب اُس لاؤنج کے ایک بیرے کا بیٹا کالج پہن کر جاتا تھا۔ اُس کے کان کا ایک بندا جو نادیہ کی کزن کی مہندی کی تقریب میں کہیں گر گیا تھا وہ آج بھی اُس کے ایک تایا زاد کی جیب میں تھا۔ شہاب نے جیب سے سگریٹ کی ڈبیہ نکالی تو اچانک حمیرا کی کان میں اک سرگوشی ہوئی… پینتیس سال بعد شہاب کو دل کا دورہ پڑے گا۔
    شہاب نے گاڑی سٹارٹ کی اور پہیے دوبارہ گھومنے لگے۔ شہر سردیوں کی پہلی بارش سے گیلا تھا۔ اُن دنوں اُسے پہلی بار پتا چلا کہ دوپہر کو تین بجے جب سورج اک خاص نیزے پر ہوتا ہے تو اُس کی روشنی گندے نالے سے جڑی ظفر علی روڈ سے ٹکرا کر ہر طرف نور ہی نور کر دیتی ہے۔ گندے نالے کی ڈھلان پر لگی لال پھولوں کی جھاڑیاں، ہرے بھرے پتے، سبز گھاس اور گورا قبرستان کے جنگلے کی بیلیں سب روشنی میں نہا جاتے ہیں۔ اس نہائی ہوئی روشنی کے بیچ کی یہ سڑک نہ جانے کس چاند کی طرف جاتی تھی۔ اُن دنوں اُسے پتا چلا کہ شالامار باغ میں بہت بھیڑ ہوتی ہے۔ وہاں بھی جہاں سیر کرنے لوگوں کا مجمع لگا رہتا ہے اور وہاں بھی جہاں صدیوں سے کسی کا گزر نہیں ہوا۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • درد کا درد —- عشوہ رانا

    درد کا درد —- عشوہ رانا

    وہ درد جو میں نے کل محسوس کیا…وہ پاکستان میں روز کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی خاندان محسوس کرتا ہے۔
    وہ ننھی سی چڑیا…ہمارے صحن کے اک کونے میں بیٹھی تھی… سہمی سی… مجھے لگا کہ شاید وہ ویسے ہی بیٹھی ہے…میں پاس جائوں گی تو اُڑ جائے گی… میرے پاس جانے پر وہ کونے میں سمٹ گئی… ڈر تو مجھے بھی لگتا تھا۔ پر مجھے اس کی مدد کرنا تھی۔ میں نے ڈرتے ڈرتے پانی کا پیالا اُٹھایا اور اس کے آگے رکھ دیا۔ پانی اس کی چونچ سے لگایا تو وہ پینے لگی۔شاید اسے بھی امید ہو گئی ہو گی۔ اس کے پروں کے نیچے مجھے زخم نظر آیا میں ٹیوب اٹھا لائی…تبھی پاپا آئے اور مجھے ڈانٹ دیااور پھر اُسے دیوار پہ بٹھا دیا، انار کے درخت کے نیچے۔میں مطمئن ہو گئی تھی کہ اس کے ساتھی اسے دیکھ کر لے جائیں گے پھر بھی اک کپڑا رکھ دیا تھا میں نے تا کہ مکھیاں نہ لگیں اس کے زخم پہ…میں اندر کسی کام سے گئی اور باہر نکل کر دیوار کی طرف دیکھا تو وہاں چڑیا نہیں تھی…وہ دیوار سے نیچے گری پڑی تھی…اور شاید مر چکی تھی۔میں نے پہلی بار کسی کو ایسے مرتے دیکھا تھا کسی جان دار کو ….میں اسے اُٹھا کر باہر بھی نہیں پھینک سکی…پاپا اسے اُٹھا کر باہر رکھ آئے تھے…اتنا آسان ہوتا ہے کیا مرنا؟…اس جیسی اور چڑیاں ابھی بھی انار کے درخت پہ بیٹھی ہیں …پر وہ نہیں ہے۔
    وہ چھوٹا سا اک بچہ…ہا سپٹل کے بیڈ پہ لیٹا ہوا…ایسا لگ رہا تھا جیسے سویا ہوا ہو…پر وہ تکلیف میں تھا… اسے اور اس جیسے اور بچوں کو کوئی نامعلوم گولی لگی تھی۔ آرمی والے پہنچ گئے تھے…اسے ایمبولینس میں ڈال کر ہسپتال لے جایا گیا …
    اسے زندگی ملی تھی..پر موت کا ڈر باقی تھا…ماں تڑپ رہی تھی اُمید اور خوف کی کیفیت میں … ہاسپٹل میں اپنے بچے کو دیکھ کر…اسے تسلی ہوئی …وہ باہر آئی اور شکر ادا کرنے لگی… اچانک اس کے بچے کی حالت دوبارہ خراب ہونے لگی…وہ اندر گئی… بچہ مر چکا تھا…اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ جنازہ جاتے دیکھتی…وہ سکتے کی کیفیت میں بیٹھی رہی…باپ اپنے ہاتھوں سے بچے کو قبر میں اتار آیا تھا…اس جیسے اور بچے اب بھی گلیوں میں کھیلتے ہیں …پر وہ نہیں ہے۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • احساس — ثمینہ طاہر بٹ

    احساس — ثمینہ طاہر بٹ

    کہتے ہیں، رشتے احساس کے ہی ہوتے ہیں۔ اگر احساس ہے تو غیر بھی اپنے، اور احساس نہیں تو اپنے بھی پرائے لیکن کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جنہیں نبھانے کے لیے احساس سے پرے بھی کسی چیز کی ضرورت ہوتی ہے۔۔ ایسا ماورائی جذبہ جو کسی کسی کے حصے میں ہی آتا ہے، اور بلا شبہ جنہیں یہ حاصل ہو جائے وہ خوش نصیب ہی کہلاتے ہیں۔
    رابیل نے جیسے ہی ڈائننگ روم میں قدم رکھا، ایک محسوس کی جانے والی خاموشی ہر سمت چھا گئی۔ وہ ٹھٹھک کر وہیں رک گئی۔ اس نے بہ غور سب کے تاثرات کا جائزہ لیا تو اس کی ریڑھ کی ہڈی میں ایک عجیب سی سنسناہٹ دوڑ گئی تھی۔ ماتھے پر نامحسوس سا پسینا پھوٹ پڑا۔ سربراہی کرسی پر اس کی دادی حسینہ قمر بیٹھی اسے سرد اور خاموش نگاہوں سے گھور رہی تھی۔ دادی کے دائیں بائیں بیٹھے فہد اور شہلا کے چہروں پر بھی ایسی ہی سرد مہری کی برف جمی تھی۔ ایک معصوم اوراستقبالیہ مُسکراہٹ اگر کسی کے چہرے پر تھی تو وہ بالاج کا چہرہ تھا۔ بالاج، اس کا چھوٹا بھائی صرف وہ ہی تو تھا جو اسے بے غرض چاہتا تھا ۔ورنہ مریم بھی تو تھی،اس سے چھوٹی اور بالاج سے بڑی مگرانتہا درجے کی موڈی۔ جب موڈ ہوتا ہنس کر بلا لیتی اور جب موڈ نہ ہوتا "نولفٹ” کا یہ بڑا سا بورڈ ماتھے پر سجا لیتی۔
    "اُف۔!! لگتا ہے آج کا دن ہی بُرا آیا ہے میرے لیے۔ اب سارا دن مجھے ان سب کے پھولے مُنہ اور عجیب وغریب سی نگاہیں برداشت کرنی پڑیں گی۔!!” خود کوبہ مشکل کمپوز کرتے ہوئے وہ سست قدموں سے آگے بڑھی اور بالاج کے ساتھ والی کرسی کھینچ کر اس پر ٹک گئی۔ وہ دانستہ طور پر کسی سے بھی نظر نہیں ملانا چاہتی تھی، اسی لیے اس نے اپنی نگاہوں کے ساتھ ساتھ سر بھی جُھکا لیا تھا۔ مگر اس کے باوجود اسے محسوس ہو رہا تھا کہ سب کی سرد، اندر تک اُترتی نگاہوں کا مرکز صرف وہی تھی۔
    "ماما۔!! بیلا آپی کو بھی پلیٹ میں کھانا ڈال کر دیں ناں۔ آپی کو تو بریانی پسند بھی بہت ہے۔۔ہے ناں آپی۔؟ !!۔” بالاج نے مسکراتے ہوئے اپنے ساتھ بیٹھی ماں کا بازو ہلایا تو وہ چونک گئی۔ خاموشی کے اس بہتے دریا میں بالاج کی معصوم چہکتی آواز نے جیسے ارتعاش سا پیدا کر دیا تھا۔ سب جیسے سوتے سے جاگے تھے۔ حسینہ قمر نے اپنی سرد نگاہیں رابیل پر سے ہٹا کر دوسری جانب مرکوز کرلی تھیں۔ فہد نے بلاوجہ اپنی پلیٹ میں چمچ چلانا شروع کر دیا اور مریم نے گلاس اُٹھا کر ہونٹوں سے لگا لیا۔ شہلا نے خاموشی اورسنجیدہ تاثرات کے ساتھ ڈش اٹھائی اور رابیل کے سامنے رکھ دی۔ بالاج نے حیرت سے پہلے ماں کو دیکھا اور پھر رابیل کو ، جس کے چہرے پر بلاوجہ ہی خجالت اور شرمندگی کی سرخی دوڑ گئی تھی۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    "ماما۔!! آپ خود ڈال کر دیں ناں آپی کو ۔۔جیسے مجھے اور مریم باجی کو دیتی ہیں۔!!۔” بالاج نے جانے کیوں اس کے حق میں صدائے احتجاج بلند کی تھی، رابیل خود بھی سمجھ نہیں پائی تھی، مگر اسے بالاج کا اپنے لیے مسلسل بولنا بہت اچھا لگ رہا تھا۔
    "بالاج۔!! چپ چاپ کھانا کھاؤ۔ تمہاری آپی اب اتنی بھی بچی نہیں رہی کہ اس کے مُنہ میں نوالے دیئے جائیں۔ ڈال لے خود ہی کسی نے ہاتھ تو نہیں پکڑا ناں اس کا۔ تم اپنا کھانا ختم کرو خاموشی سے۔!!۔” حسینہ نے سرد انداز سے رابیل کو گھورتے ہوئے بالاج کو سرزنش کی تو شہلا کا ڈش کی طرف بڑھتا ہاتھ وہیں رُک گیا۔ اس نے ساس کو ایک نظر دیکھ اور پھر سر جھٹک کر اپنی پلیٹ پر جھک گئی۔ فہد اور مریم ہاتھ روکے ساری کارروائی دیکھ رہے تھے۔ بیلا کا بس نہیں چل رہا تھا کہ کسی طرح خود کو اس منظر سے غائب کر دے۔ نہ تو اس کے پاس سلیمانی ٹوپی تھی اور نہ ہی کوئی جادو کہ جسے چلا کر وہ خود کو اس نفرت اور سردمہری بھرے ماحول سے الگ کر پاتی۔ سو خاموشی سے سر جھکائے، آنسو پینے کی کوشش میں نڈھال سی بیٹھی تھی۔ شہلاسے اس کی حالت دیکھی نہیں گئی، اس نے ہاتھ بڑھا کر ڈش اٹھائی اور بیلا کے سامنے پڑی پلیٹ میں چاول ڈال دئے۔ بیلا نے ایک دم سر اُٹھا کر اسے دیکھا، مگر اس کے تاثرات میں بہ ظاہر کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔ ویسے ہی سنجیدہ اور ناقابل فہم تاثرات۔ اس نے کراہ کر پھر سر جُھکا دیا تھا۔ باقی کے تمام نفوس بھی اپنی اپنی جگہ دوبارہ اپنی اپنی سرگرمیوں میں مشغول ہو چکے تھے۔
    شہلا عام سے نقوش رکھنے والی ایک عام سی لڑکی تھی۔ اس کی بڑھتی عمر اور ہاتھ سے جاتے رشتوں نے اس کے اماں بابا کی راتوں کی نیندیں حرام کر رکھی تھی جو بھی آتا، اسے ایک نظر دیکھ کر واپس پلٹنا ہی بھول جاتا۔ اس کا سانولا سلونا رنگ اور قدرے فربہی مائل وجود تو سب کو دکھائی دے جاتا، مگر اس وجود کے اندر پنپتا نرم و نازک اور حساس دل کسی کو بھی دکھائی نہیں دیتا تھا۔ اس کی اماں اب اس کی طرف سے تقریباً مایوس ہی ہو چکی تھی کیوں کہ اس کو دیکھنے کے لیے جو آخری بار لڑکے والے آئے تھے، انہیں بھی واپس گئے چھے ماہ سے زیادہ ہو چکے تھے اور اب تو صاف بات تھی کہ رشتہ کروانے والی ماسی نے بھی ہاتھ کھڑے کر دئے تھے۔ اماں کے ساتھ ساتھ اب تو شہلا کو بھی یہی لگنے لگا تھا کہ اس کی قسمت میں اپنے گھر کا سکھ ہے ہی نہیں، اسی لیے تو اس نے جہاں اپنا خیال رکھنا چھوڑ دیا تھا، وہیں اماں بھی اس کی طرف سے لا پروا ہو گئی تھیں لیکن کہتے ہیں ناں کہ ہر کا م کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے اور نصیب سے زیادہ اور وقت سے پہلے کبھی کچھ نہیں ملتا ، تو ٹھیک ہی کہتے ہیں۔
    اماں کے مایوس اور شہلا کے ناامید ہو جانے کے بعد اچانک قدرت کو جیسے جوش آیا اور شہلا کے لیے فہد کا رشتہ آگیا۔ حسینہ قمر نے شہلا کو خاندان کی کسی محفلِ میلاد میں دیکھا تھا۔ وہ اسے ایک نظر میں ہی بھا گئی تھی، اس لیے اس نے فوری طور پر اسے اپنی بہو بنانے کا فیصلہ کر لیا۔ ہر چند کہ انہیں کئی خیر خواہوں نے بہکانے کی کوشش بھی کی، مگر وہ فیصلہ کر چکی تھیں اور اس فیصلے پر قدرت کی مہر بھی لگ چکی تھی اس لیے یہ شادی بہ خیر وخوبی انجام پا گئی۔ شہلا اور اس کے گھر والوں کے لیے یہ رشتہ نعمتِ خداوندی ثابت ہوا تھا۔ فہد دبئی میں جاب کرتا تھا۔ اس کا ایک چھوٹا بھائی اور ایک ہی بہن تھی۔ دونوں شادی شدہ اور دبئی میں ہی رہائش پذیر تھے۔ یہاں صرف حسینہ قمر رہتی تھی اپنے اپاہج شوہر قمر جمیل کے ساتھ اور ان کے ساتھ رہتی تھی چارسالہ ننھی، معصوم سی رابیل۔
    "مجھے خوب صورتی سے شدید نفرت ہے۔ عورت کا حسن صرف دھوکا ہوتا ہے ، صرف دھوکا۔اس لیے میں نے امی کو بتا دیا تھا کہ اگر انہیں میری شادی کرنی ہے تو کوئی بدصورت اور غریب سی لڑکی دیکھیں۔۔ اور مجھے خوشی ہے کہ امی نے میری پسند کا خاص خیال رکھا۔!!۔ ” دلہن بنی شہلا کے کانوں میں فہد کی نشے میں ڈوبی لڑکھڑاتی ہوئی آواز آئی تو وہ پوری جان سے ہل کر رہ گئی۔
    کہاں کی دلہن۔۔کیسا دلہناپا۔۔کیسی شرم۔۔کیسی حیا۔۔ وہ تو ایک دم ایسی بوکھلائی کہ مُنہ کھولے آنکھیں پھاڑے اپنے مجازی خدا کو دیکھنے لگی۔۔جو اُس وقت واقعی خدا بنا بیٹھا مزے سے اس کے ذات کے بخیئے اُدھیڑ رہا تھا۔ ۔نہ صرف اس کی ذات، بلکہ پوری عورت ذات کے۔۔ یہ سوچے بغیر کہ یہی عورت اس کی ماں بھی ہے، یہی عورت بہن بھی اور بیٹی بھی۔۔ اسے جانے عورتوں کے وجود سے کیا پرخاش تھی ۔۔بلکہ” حسین عورتوں "کے وجود سے کہ وہ اپنی نفرتوں کے اظہار میں ہر حد ہی پار کرتا جا رہا تھا۔۔ حالاں کہ اس کی ماں اور بہن بھی خوبصورت عورتوں میں شمار ہوتی تھیں۔ خود وہ بھی کوئی معمولی مرد نہیں تھا۔ لمبا، ہینڈسم اور اسمارٹ مگر صرف جسمانی طور پر۔ ورنہ اس کی ذہنی پستی کا عالم تو اس کی گفت گو سے ہی ظاہر ہورہا تھا۔ شہلا تو پہلے ہی حیرت کے سمندر میں غوطہ زن تھی کہ ظاہری طور پر اس کا اور اس خاندان کا کوئی جوڑ بنتا نہیں تھا، مگر کہنے والے کہہ رہے تھے کہ یہ سب قسمت کے فیصلے ہیں۔ اس کے نصیب یہیں لکھے تھے، سو وہ یہاں آگئی۔ لیکن یہ بھی سچ ہی ہے کہ جس قدر اسے اپنے نصیبوں سے اس وقت گلہ ہو رہا تھا، اتنا تو اس وقت بھی نہیں ہوتا تھا جب اسے ہر طرف سے دھتکار، پھٹکار ملتی تھی۔
    "سنو۔!! کیا نام ہے تمہارا۔۔شہہ۔۔شہلا۔۔ہاں، شہلا۔۔میری ایک بات یاد رکھنا۔ مجھے زیادہ بولنے والی اور چڑ چڑ کرنے والی عورتوں سے سخت نفرت ہے۔ تم میرے کسی معاملے میں ٹانگ اُڑانے کی کبھی بھی کوشش مت کرنا، نہ تو مجھ پر رعب جمانے کی جسارت کرنا اور نہ ہی الٹے سیدھے سوال کر کے میرا دماغ اور ٹائم خراب کرنے کی حماقت کرنا۔۔ورنہ اپنے انجام کی ذمہ دار تم خود ہوگی۔ سمجھیں۔۔کہ نہیں۔؟۔!!۔ ” شہلا سانس روکے اپنے مجازی خدا کے فرمودات سُن رہی تھی کہ اس نے ایک دم اس کا زرتار دوپٹہ اس کے سر سے کھینچ کر اتارتے ہوئے نیا حکم نامہ جاری کیا تھا۔ دوپٹہ اس کے سر پر پنوں کی مدد سے سیٹ کیا گیاتھا، یہ زوردار جھٹکا برداشت نہ کر سکا اور چرر کی آواز کے ساتھ پھٹتا چلا گیا۔ شہلا اس افتاد کے لیے بالکل بھی تیار نہیں تھی وہ خود بھی جھٹکا کھا کر فہد کے پاؤں پر گرپڑی۔
    ” ہاں۔۔ ایسے ہی ہمیشہ میرے سامنے بچھتی رہنا۔ میرے کسی حکم کی کبھی خلاف ورزی مت کرنا، پھر دیکھنا میں تمہیں کیسے مہارانی بنا کر رکھتا ہوں۔۔اگر تم میرے دل کی رانی بننا چاہتی ہو تو بس، میرا اور میری امی کا ہر حکم مانو، ورنہ ہمیں مہارانی کو نوکرانی بنانا بھی آتا ہے۔!!۔نشے میں دھت بے ہنگم انداز سے ہنستے ہوئے فہد نے اسے اس کے مستقبل کا فیصلہ سنایا اس کے مُنہ سے اٹھنے والے بدبو کے بھبھکوں نے شہلا کا دل بُری طرح متلا کر رکھ دیا مگر وہ بے بس تھی۔ فہد کی خوبصورت پرسنالٹی میں چھپا یہ بدصورت روپ دیکھ کر اس کے حواس معطل ہوئے جا رہے تھے۔
    شہلا کے لیے اس گھر میں دوسرا دھچکا رابیل ثابت ہوئی تھی۔ بے حد خوبصورت اور نرم و نازک بچی جسے دیکھ کر خود بہ خود ہی دل اس کی طرف کھنچنے لگے۔ اس کی شادی کو چند ہفتے گذر چکے تھے، وہ ابھی تک خاموشی سے اس گھر اور گھر والوں کا جائزہ ہی لے رہی تھی۔ دلہناپے کی شرم و حیا اپنی جگہ، مگر اسے تو فہد کی باتوں اور حرکتوں نے ایک عجیب سی چُپ لگا رکھی تھی۔رابعہ بھی شادی کے ہنگامے سرد ہوتے ہی واپس دبئی جا چکی تھی اور اگلے چند روز میں علی(اس کا دیور) بھی واپس جانے کے لیے پر تول رہا تھا۔ ایسے میں اس کی ساس نے اس سے میٹھا پکوا کر دنیاداری کی رسم ادا کرتے ہوئے، گھر کا سارا انتظام عملی طور پر اس کے سپرد کر دیا تھا۔شہلا کو نہ تو کوئی خوشی محسوس ہو رہی تھی اور نہ ہی ان کے کسی عمل پر کوئی اعتراض ہو رہا تھا۔ ایک عجیب قسم کی خاموشی اور سناٹا اس کے رگ و پے آہستہ آہستہ اترتا جا رہا تھا۔ وہ اس مختصر عرصے میں ان لوگوں کو جتنا جان پائی تھی، اس کی رگوں میں بہتے گرم خون کو ٹھنڈی سرد برف میں ڈھالنے کے لیے کافی تھا۔ نہ تو اس کا مزاج ان لوگوں جیسا تھا، اور نہ ہی لائف اسٹائل ۔ وہ سیدھی سادی زندگی گذارنے والی سیدھی سادی سی لڑکی تھی، مگر یہاں تو لگتا تھا سب جلیبی کی طرح ٹیڑھے میڑھے تھے۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • رول ماڈل — ماہم علی

    رول ماڈل — ماہم علی

    پرانی کتابیں گود میں رکھے نادیہ کسی گہری سوچ میں گم بیٹھی تھی ۔ ڈھلتے سورج کی مدھم شعاعیں اس کے چہرے پر پڑ رہی تھیں ۔
    ”تو میرا پڑھنے کا سفر یہیں تک تھا… انتہائی شوق کے با وجود بھی میں آگے نہیں پڑھ پا رہی ۔ ” اس نے دکھ سے سوچا۔
    نادیہ کو پڑھنے کا بے حد شوق تھا لیکن ان کے گاؤں میں لڑکیوں کی تعلیم کا اتنا رواج نہیں تھا … گاؤں کی دو لڑکیوں کے گھر سے بھاگنے کے بعد سے سب والدین نے اپنی بچیوں کو گھر بٹھا لیا تھا ۔ بہ قول ان کے ۔ ”تعلیم بچیوں کو باغی بنا رہی ہے۔”
    نادیہ نے جیسے تیسے میٹرک کر لیا، لیکن آگے پڑھنے کے لیے شہر جا کر پڑھنا تھا جو کہ ناممکن تھا ۔
    یوں ہی گھٹنوں پر سر رکھ کر بیٹھے بیٹھے ناجانے کتنے پل بیت گئے، جب نیچے سے اسے بابا کی آواز سنائی دی۔
    ”نادیہ او نادیہ!… کدھر ہو بیٹا تم۔”
    ”آرہی ہوں بابا!”
    تیزی سے سیڑھیاں پھلانگتے اس نے بابا کو جواب دیا۔
    ”میرا پتر کہاں رہ گیا تھا… کب سے میں آوازیں دے رہا ہوں۔” بابا نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔
    ”بابا! اوپر بیٹھی ہوئی تھی … کپڑے اتارنے گئی تو وہیں بیٹھ گئی ۔ ”
    ”اچھا تو ذرا بتاؤ تو میں تمھارے لیے کیا لایا ہوں ۔ ” بابا نے مسکرا کر نادیہ سے پوچھا ۔
    ”اوہ ہو کیا ہو سکتا ہے ۔ ” نادیہ تھوڑی پر ہاتھ رکھ کر سوچنے لگی ۔
    ”نا بیٹا اپنے ننھے سے دماغ پر زور نہ ڈالو… یہ لو خود ہی دیکھ لو تم۔”
    انھوں نے ایک لفافہ نادیہ کی طرف بڑھایا۔ نادیہ الجھن سے ابو کو دیکھتے ہوئے وہ لفافہ کھولنے لگی ۔ یک دم اس کی آنکھوں کی چمک بڑھ گئی۔
    ”ارے یہ تو ایڈمیشن فارم ہے … میرے پیارے ابو ۔ ”
    فرط ِ مسرت سے وہ ابو کے گلے لگ گئی ۔
    ”میں اپنی مینا کو یوں اداس نہیں دیکھ سکتا تھا … مجھے پتا ہے کہ تمھیں پڑھنے کا کتنا شوق ہے… میری بھی کوشش ہے کہ تم بہت سا پڑھو ۔ پھر استانی بن کر گاؤں کے بچوں کو پڑھاؤ ۔ ” ابو اس کو خوش دیکھ کر مُسکراتے ہوئے کہنے لگے۔
    ”پر ابو خاندان والے کیا کہیں گے اور گاؤں کے لوگ…”
    نادیہ کے لہجے میں فکر مندی تھی۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    ”تو میری بیٹی ہے… تجھے میں پڑھا رہا ہوں ، خاندان والے جو کہیں ، ہمیں ان سے کیا لوگوں کی باتوں کی پروا نہیں کرتے … تم بس اب پہلے کی طرح خوب دل لگا کر پڑھنا … اور گاؤں کے لوگوں کے لیے مثال بن جانا جو خواہ مخواہ اپنی بچیوں کو پڑھنے نہیں دے رہے … یہ تو تم لوگوں کا حق ہے … ”
    ابو کے کہنے پر نادیہ ہلکی پھلکی ہو کر مسکرانے لگی …
    ” نا میں پوچھتی ہوں ضرورت کیا ہے اسے آگے پڑھنے کی … جتنا پڑھ لیا اتنا کافی نہیں کیا ؟ ”
    اماں جانے کب آ گئی تھیں ۔
    ”کیوں ضرورت نہیں ہے پڑھنے کی … ہماری نادیہ کو شوق جو اتنا ہے … میں خود تو نہیں پڑھ سکا پر اپنی بیٹی کو ضرور پڑھاؤں گا ۔ ”
    ” نا تمھاری تو منطق ہی اُلٹی ہے … دس جماعتیں کیا کم ہیں … پورے خاندان میں اتنا کوئی نہیں پڑھا جتنا نادیہ نے پڑھ لیا … جوان جہان لڑکی کو اتنا دور پڑھنے کے لیے بھیجنے کی ضرورت ہی کیا ہے … ”
    اماں شروع سے ہی اس کی پڑھائی کے خلاف تھیں ۔ وہ سیدھی سادی ان پڑھ عورت تھیں، جو لوگوں کی سنی سنائی باتوں کی وجہ سے لڑکیوں کی پڑھائی کو برُا سمجھتی تھیں۔
    ”چھوڑ ان باتوں کو … جاؤ نادیہ بیٹا ! تم زبردست سی چائے بنا لاؤ پھر ہم سب مل کر پیتے ہیں۔”
    نادیہ کے ابو نے اسے بہانے سے وہاں سے بھیجنا چاہا ۔
    ”جی ابو ! میں لاتی ہوں۔”
    نادیہ کے جانے کے بعد وہ بیوی کی طرف پلٹے ۔
    ”کیا ضرورت تھی… بچی کے سامنے یہ باتیں کرنے کی… اسے شوق ہے تو پڑھنے دو … گھر بیٹھ کے فضول کی سوچیں سوچنے سے تو بہتر ہے وہ پڑھ لکھ کر اپنی پڑھائی کے ذریعے سے اس گاؤں کے لوگوں کی سوچ بدل ڈالے ۔ ”
    ”تمھیں سمجھ نہیں آتی … حشمت ! خاندان والے کیا کہیں گے … اور زمانہ دیکھا ہے تم نے آج کل کتنا خراب ہو گیا ہے … گاؤں کی بات الگ تھی اب یوں اتنا دور جانا یہ تو صحیح بات نہیں ہے ناں ۔ ” اماں نے متفکر ہو کر کہا ۔
    ” ارے اللہ کی بندی ! نادیہ کو خاندان والے نہیں پڑھا رہے جو وہ باتیں کریں گے … ابھی اس کا باپ زندہ ہے … میں ذمہ داری اٹھا سکتا ہوں اس کی … اور زمانے کی تم نے اچھی کہی بندہ خود ٹھیک ہو ناں تو زمانہ کچھ نہیں کر سکتا … اور مجھے اپنی بیٹی پر پورا بھروسا ہے … وہ میری بیٹی ہے سب کچھ ہوتے ہوئے بھی میں محض لوگوں کی باتوں کے ڈر سے اپنی بیٹی کو گھر بٹھا دوں اتنا گیا گزرا نہیں ہوں … اور تم بھی آئندہ اس کے سامنے ایسا ویسا کچھ مت کہنا … بچی کا دل برا ہو جائے گا ۔ ”
    حشمت میاں کے سامنے اماں کی کب چلی تھی جو آج وہ ان کی بات مان لیتے … اماں من ہی من میں بڑ بڑانے لگیں ۔ جب کہ باورچی خانے میں چائے بناتی نادیہ ابا کی باتیں سن کر مسکرا رہی تھی ۔
    ٭٭ ٭
    نادیہ بے تحاشا خوش تھی آخر اس کے پڑھنے کا خواب پورا ہو رہا تھا ۔ اگلے دن ابو کے ساتھ شہر جا کر وہ داخلہ فارم جمع کرا آئی ۔ ابو نے اسے کالج جانے کے لیے تانگا لگوا دیا ۔ یوں نادیہ اپنے خاندان کی پہلی لڑکی بن گئی جس نے کالج میں قدم رکھا ۔
    کالج کے پہلے دن وہ بہت گھبرائی ہوئی تھی ۔ پہلے دن اس کے ابو خود اسے چھوڑنے گئے ۔ خاندان والوں کی باتوں کو نظر انداز کر کے وہ بہت محنت اور لگن سے پڑھنے لگی ۔
    ایک دن وہ کالج سے آکر اسائنمنٹ بنا رہی تھی جب اس کا موبائل بجا ۔ نوکیا کا یہ سیکنڈ ہینڈ موبائل ابو نے اسے دلایا تھا تاکہ پڑھائی کے سلسلے میں مدد لینی ہو تو وہ اپنی سہیلیوں سے رابطہ کر سکے ۔
    ”السلام علیکم!”
    ”کدھر بزی ہو تم … صبح سے کال کر کر کے تھک گیا ہوں … کچھ اندازہ بھی ہے میں کتنا پریشان ہو گیا تھا … کہاں تھی تم اور فون بند کیوں تھا؟”
    دوسری طرف اس کی پھوپھو کا بیٹا اور اس کا منگیتر شاہد تھا ۔
    ”میں کالج گئی ہوئی تھی … تبھی نمبر بند تھا ابھی تھوڑی دیر پہلے آئی تو آن کیا … کیسے ہو ۔ ”
    ”ایک تم اور تمہارا کالج … آخر یہ سلسلہ کب ختم ہوگا ۔ ”
    شاہد بھی اس کے پڑھنے کے خلاف تھا ۔
    ”خیر چھوڑو ان باتوں کو ، میں نے ضروری بات کرنے کے لیے فون کیا تھا ۔ ”
    ”کون سی ضروری بات ؟ ” نادیہ نے چونک کر پوچھا ۔
    ”تمھیں پتا ہے ناں کہ کل ویلنٹائن ڈے اور کل ہی میری سال گرہ بھی ہے… اور اس خاص دن کو میں تمھارے ساتھ منانا چاہتا ہوں پچھلی بار بھی تم نہیں آئی تھیں … اب مجھے انکار نہیں سننا ۔ ” شاہد دھونس جما کر بولا ۔
    ”کیسی باتیں کر رہے ہو شاہد ! میں تمھارے ساتھ کیسے جا سکتی ہو ۔ ” اس نے پریشانی سے کہا ۔
    ”کیوں تم نہیں جا سکتی کیا … سب لڑکیاں جاتی ہیں اپنے منگیتروں کے ساتھ … تم کچھ انوکھی تو نہیں ہوتی جا رہی ۔ ”
    ”بات انوکھی کی نہیں ہے شاہد … میرے لیے بہت مشکل ہے یوں تم سے کہیں باہر ملنا … ” اس نے صاف انکار کر دیا …
    ”تمھیں تو میری پرواہ ہی نہیں ہے … پڑھنے کے لیے روز شہر جا سکتی ہو اور مجھ سے ملنے کے لیے ایک دن باہر نہیں جا سکتی ہو … بات کیا ہے آخر ۔ ” شاہد غصے سے پھنکارا ۔
    ”کوئی بات نہیں ہے شاہد … تم سمجھنے کی کوشش کرو شاہد … میں شہر پڑھنے کے لیے جاتی ہوں … وہ الگ بات ہے مگر میں تم سے ملنے کے لیے نہیں آسکتی۔”
    ”مجھے تم سے یہی امید تھی… پہلے کب تم نے میری کوئی بات مانی ہے جو اب مانو گی … تم سدا کی بدھو ہو اور بدھو ہی رہنا … میرے دوستوں کی فرینڈز روز روز ان کے ساتھ گھومتی پھرتی ہیں … ایک میری ہی قسمت خراب ہے جو تم صرف ایک دن کے لیے بھی باہر نہیں مل سکتیں۔”
    ”میں ملنے سے انکار نہیں کر رہی ہوں… گھر سے باہر کسی جگہ ملنے سے انکار ہے بس ۔ ” نادیہ آہستگی سے بولی۔
    ”واہ! زمانہ کہاں سے کہاں پہنچ گیا اور تم ویلنٹائن والے دن بھی گھر پر ملنے کا کہہ رہی ہو… اس دن لوگ محبت کا اظہار کرتے ہیں… اتنا اچھا مناتے ہیں … مجھے نہیں پتا بس تم کسی بھی طرح کل مجھ سے باہر کہیں بھی ملو گی… میں نے دوستوں سے شرط لگائی ہے کہ اس بار تمھیں باہر ضرور لے کر جاؤں گا… اتنا مذاق اُڑاتے ہیں سب میرا… اب کی بار میں نے یہ شرط جیتنا ہے مجھے نہیں پتا ، کل تم ضرور آؤ گی۔” فیصلہ کن انداز میں کہہ کر شاہد نے فون بند کر دیا۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • لالچ — سونیا چوہدری

    لالچ — سونیا چوہدری

    ”دیکھو بہن آپ کا بیٹا چودہ پاس ہو یا سولہ ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں۔ ہمیں تو بس اس کی کمائی سے مطلب ہے جس کو دیکھ کر ہم اپنی بیٹی کا رشتہ طے کریں گے۔ ہمیں بھلا ان ڈگریوں سے کیا لینا دینا۔” رشیدہ نے ہاتھ اٹھا کر سامنے بیٹھے عمر رسیدہ جوڑے کو صاف لہجے میں کہا تو انہوں نے گہری نگاہوں سے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر رشیدہ سے مخاطب ہوئے۔
    ”دیکھئے بہن جی پڑھا لکھا انسان ہو تو نوکری بھی اچھی ملتی ہے اور جب نوکری اچھی ہو تو تنخواہ تو خواہ مخواہ اچھی ہوگی اور ہمارا بیٹا مہینے کہ پچیس ہزار آسانی سے کما لیتا ہے اور ویسے بھی ہمارا اکلوتا بیٹا ہے ہمارا جو کچھ بھی ہے سب اسی کا تو ہے۔” انہوں نے تحمل سے کہا۔
    ”پچیس ہزار؟ ارے بہن آج کی مہنگائی میں پچیس ہزار کی قیمت پچیس روپے سے زیادہ نہیں رہی۔” رانی کی ماں نے منہ بسورتے ہوئے کہا۔ ”پھر جیسے آپ کی مرضی۔” وہ پرسکون لہجے میں کہتی اپنے شوہر کو اشارہ کرتی اُٹھ کھڑی ہوئیں اور دونوں باہر کی جانب بڑھ گئے۔ رشیدہ نے ان کو دروازے تک چھوڑ کر آنا بھی مناسب نہ سمجھا اور بیٹھ کر سامنے میز پر رکھی بسکٹ والی پلیٹ میں سے بسکٹ اٹھا کر چائے میں ڈبو کر کھانے لگی۔
    ”امی یہ خالہ صغرا بھی کیسے کیسے نکمے رشتے لے آتی ہے۔” کمرے سے نکلتی ہوئی رانی نے رشیدہ کو دیکھتے ہوئے ناگواری سے کہا۔
    ”اس بار آلینے دے صغرا کو اس کی ایسی خبرلوں گی کہ دوبارہ ایسے رشتے نہیں لائے گی۔” رشیدہ نے غصے سے کہا تو رانی میز پر پڑے برتن اٹھانے لگی۔
    ”امی رات کے کھانے میں کیا بناؤں؟” رانی نے برتن سمیٹتے ہوئے پوچھا۔
    ”دال گوشت بنالے اور ساتھ میں سلاد او ررائتہ بھی بنا لینا۔ تیری ممانی آنے والی ہے شام کو۔ اس نے بھی ایک رشتہ بتایا تھا تیرے لئے۔ اب آئے گی تو تفصیل معلوم ہوگی۔” رشیدہ نے چائے کا آخری گھونٹ حلق سے اتارتے ہوئے کہا۔
    ”کیا ممانی نے بھی کوئی رشتہ بتایا ہے؟ ممانی کا بتایا رشتہ تو پھر اچھا ہی ہوگا انہوں نے اپنی بیٹیوں کے رشتہ بھی تو کتنے امیر گھرانوں میں کئے ہیں۔” رانی نے خوشی سے چہکتے ہوئے کہا تو رشیدہ بھی مسکرا دی۔
    ”ہاں کہتی تو ٹھیک ہی ہے۔ فرزانہ کوئی ایسا ویسا رشتہ تو نہیں بتانے والی۔” رشیدہ نے رانی کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا۔
    ”اچھا اب یہیں کھڑی باتیں کرتی رہے گی یا جاکر ہانڈی کا بھی بندوبست کرے گی۔” رشیدہ نے اپنی ٹون بدلی تو رانی جلدی سے کچن کی جانب بڑھ گئی۔
    ”ارے رانی بیٹا ادھر آ ادھر میرے پاس آکر بیٹھ۔” ممانی نے اسے محبت سے پاس بلاتے ہوئے کہا تو وہ مسکراتی ان کے پاس جاکر چار پائی پر بیٹھ گئی۔
    ”دیکھ تو رشیدہ تیری بیٹی پہلے سے بھی کتنی سوہنی ہوگئی ہے۔” فرزانہ نے رانی کو دیکھتے ہوئے کہا تو اس نے جھینپ کرنگاہیں جھکالیں۔
    ”بس تو دیکھنا کل رشتے والے جو آئیں گے ان کو ہماری رانی ضرور پسند آئے گی۔”
    لڑکا دبئی ہوتا میں ہوتا ہے ابھی ایک ہفتہ پہلے ہی پاکستان آیا ہے۔ دیکھنے میں بھی بھلا چنگا ہے اور شادی کے بعد لڑکی کو بھی اپنے ساتھ دبئی لے جائے گا۔ بس میں نے تو اسے دیکھتے ہی اپنی رانی کی بات چلا دی تھی۔ اب کل وہ لوگ آئیں گے تو تُو خود بھی دیکھ کر تسلی کرلینا۔” فرزانہ نے رشیدہ کو دیکھتے ہوئے کہا۔
    ”جارانی کھانا لگا جاکر فرزانہ کو بھوک لگی ہوگی۔” رشیدہ کی آواز پر پر رانی چونکی جو ابھی سے پردیسی بابو کے خیالوں میں کھوچکی تھی۔
    وہ جلدی سے اُٹھ کر کھانا لگانے لگی۔ سب نے مل کر کھانا کھایا اور کچھ دیر بعد سو گئے۔ اُس کی نیند تو پردیسی بابو کے خیالوں نے چُرالی تھی۔ آج کی رات رانی کے لئے سوکر گزارنے کی نہیں بلکہ خواب دیکھ کر گزارنے کی تھی۔ وہی خواب جو ہر لڑکی دیکھتی ہے۔ خواب دیکھتے دیکھتے کب اس کو نیند نے اپنی آغوش میں لے لیا اس کو خود بھی خبر نہ ہوسکی۔
    ٭…٭…٭
    آج اس نے خوب دل لگا کر مہمانوں کی آمد کی تیاری کی تھی۔ ورنہ آج سے پہلے جتنے بھی رشتے آئے تھے ماں کو پسند آتے نہ بیٹی کو۔ یہ پہلا رشتہ تھا، جو دونوں ماں بیٹی کے دل کو لگا تھا۔ مہمانوں کی آمد ہوچکی تھی۔ رانی ہاتھ میں چائے کی ٹرے تھامے سب کے لئے چائے لے گئی۔ اس کی نظر سامنے بیٹھے نوجوان پر پڑی۔ وہ رانی کو دیکھ کر ہی مُسکرا رہا تھا رانی نے شرما کر نظریں جھکالیں اور سب کے لئے کپ میں چائے ڈالنے لگی۔ چند ثانیے بیٹھے رہنے کہ بعد وہ اٹھ کر کمرے میں چلی آئی۔ اس کا دل معمول سے ہٹ کر دھڑک رہا تھا۔ رانی سنگھار میز کے پاس کھڑی تھی، جب رشیدہ ہنستی مسکراتی کمرے میں داخل ہوئی۔
    ”مبارک ہو تو ان کو پسند آگئی ہے۔” رشیدہ کی بات پر رانی ماں سے لپٹ گئی۔
    لڑکے والے جاچکے تھے نکاح کی تاریخ ایک ہفتے کہ بعد رکھی گئی تھی۔ سب کچھ اتنی جلدی ہورہا تھا کہ رانی کو خود بھی اپنی قسمت پر یقین نہیں آرہا تھا۔
    شادی میں بس قریبی رشتے داروں کو ہی مدعو کیا گیا تھا۔ ویسے بھی رشیدہ کا داماد دبئی کا تھا وہ اپنے دیہاتی رشتے داروں کو بلا کر اپنا امپریشن خراب نہیں کرنا چاہتی تھی۔!!!
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • میٹھی یاد — لعل خان

    میٹھی یاد — لعل خان

    میں پل کے نیچے لگے ہوئے سبزی کے ٹھیلوں کے پاس کھڑا ٹریفک دیکھ رہا تھا،جب میں نے سڑک کے کنارے چودہ یا پندرہ سال کی لڑکی کو دیکھا۔ اس نے میلا کچیلا بدرنگ سا گھاگھرا پہنا ہوا تھا،سر کے بال بھورے اور کھچڑی تھے ،الجھے اور بے ہنگم سے،اس کے پائوں میں جوتے بھی پھٹے پرانے تھے۔اس نے دونوں ہاتھوں میں چوڑیوں کا ٹوکرا اٹھایا ہوا تھا کہ ٹوکرا بتاتا تھا، لڑکی بھکاری نہیں محنت کش ہے۔ اس کے ساتھ ایک چار سال کا بچہ بھی تھا جس نے اس کی ایک ٹانگ کو مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا۔ وہ سڑک پار کرنا چاہ رہی تھی مگر ہاتھوں میں پکڑے ہوئے چوڑیوں کے ٹوکرے اور ٹانگ سے لپٹے ہوئے بچے کی وجہ سے اُسے مشکل پیش آ رہی تھی۔میں پل کے نیچے سائے میں کھڑے ہو کر دھوپ میں کھڑی اس لڑکی کے تذبذب کو دیکھ رہا تھا۔یہاں ہر طرف انسان تھے مگر سب اپنی اپنی دھن میں مگن تھے،کسی کے پاس چوڑیوں والی کی طرف دیکھنے کا وقت نہیں تھا۔ میں پل کے نیچے سے نکل کر دھوپ میں کھڑا ہو گیا ،میں چاہ رہا تھا وہ مجھ سے مدد طلب کرے۔ اس نے کن اکھیوں سے مجھے دیکھا مگر پھر خود ہی بچے کو اٹھانے کی کوشش کی، میں جانتا تھا کہ یہ دھان پان سی لڑکی ایک ساتھ ٹوکرا اور بچہ نہیں اٹھا پائے گی اور دونوں میں سے ایک کو ضرور گرائے گی۔ میں آہستہ سے چلتے ہوئے اس کے پاس آ گیا،اب میرے اور اس کے درمیان چھے فٹ کا فاصلہ باقی تھا، اس نے ایک ہاتھ سے ٹوکرے کو سر پہ جمایا اور دوسرے ہاتھ سے جھک کر بچے کو اٹھانا چاہا ،مگر وہ بچے کو اٹھا نہیں پا رہی تھی اور ٹوکرا بھی اب کہ تب گرنے والا تھا،میں اب اس کے بالکل پاس کھڑا تھا۔میں نے اُردو میں کہا: ”ٹوکرا مجھے دو تم بچے کو اٹھا لو۔”اس نے بچے کو چھوڑا اور مڑ کے مجھے دیکھا،اس کا قد لگ بھگ پانچ فُٹ ہو گا یا اس سے ایک آدھ انچ کم۔اس کا چہرہ سفید مگر دیمک زدہ لکڑی کی طرح خشک تھا۔اس کی آنکھیں گہری نیلی اور بالکل بے تاثر تھیں … مجسمے کی طرح، اس میں کوئی ایک چیز بھی ایسی نہیں تھی جسے دیکھتے ہوئے کوئی اسے مُڑ کر دیکھے،وہ ٹریفک میں چلتی ہوئی ایک گاڑی تھی یا سڑک پہ بہتا ہوا تارکول… سڑک کے آس پاس لگے ہوئے ٹھیلوں میں سے ایک تھی ،یا گاڑیوں کے انجن سے نکلتا ہوا شور، یا پھر گاڑیوں کے سائیلنسر سے نکلتا ہوا دھواں تھی ،وہ جو بھی تھی پر قابل توجہ نہیں تھی۔ وہ اپسرا نہیں تھی جو منظر میں کھڑے ہو کر منظر کو اپنی مُٹھی میں کر لے ،وہ تو منظر کا وہ رنگ تھی جس کے ہونے یا نہ ہونے سے منظر کو کوئی فرق نہیں پڑتا…
    میں نے اس کی گہری نیلی آنکھوں میں جمی ہوئی برف کو نظر انداز کر کے ایک بار پھر اردو میں اسے مدد کی پیشکش کی۔وہ اب بھی بے تاثر چہرے کے ساتھ مجھے تک رہی تھی ،اسے شاید اردو نہیں آتی تھی،میں نے اس کے سر پہ رکھے ہوئے ٹوکرے کی جانب اشارہ کیا اور پھر بچے کی طرف ،اس نے ٹوکرا اُٹھا کر مجھے تھما دیا اور خود بچے کو اٹھا کر سڑک پار کرنے لگی۔ہم سڑک کی دوسری طرف گئے ،وہ آگے آگے تھی اور میں اس کے پیچھے ،میں سڑک پار کر کے آہستہ ہوا ،میرا خیال تھا میرا کام ختم ہو گیا مگر وہ پیچھے مڑ کر دیکھے بغیر آگے آگے جا رہی تھی۔ تھوڑی دور جا کر میں نے اسے پیچھے سے مخاطب کیا مگر وہ بغیر کچھ بولے سُنے چلی جا رہی تھی ،مجھے اب غصہ آنے لگا تھا ،مگر پانچ سے سات منٹ کی واک کے بعد اب ہم چار منزلہ بلڈنگ کے تہ خانے میں موجود تھے ۔ یہاں اچھی خاصی چہل پہل تھی ،مختلف چیزوں کے اسٹال لگے ہوئے تھے۔ لڑکی ایک کونے میں گئی ،بچے کو اتارا اور میرے ہاتھ سے ٹوکرا لے کر زمین پہ رکھا۔ ٹوکرے کے اندر چوڑیوں کے اوپر ایک ٹاٹ کا ٹکڑا پڑا تھا ،یہ ٹاٹ اٹھا کر اس نے زمین پہ بچھایا اور خود اس کے اوپر بیٹھ کر ایک طرف سمٹتے ہوئے میرے لئے جگہ بنائی۔ میں نے اشارے سے منع کیا اور مُڑنا چاہا مگر اس نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے بیٹھنے کے لئے اشارہ کیا،میں نے اپنا ہاتھ چھڑایا اور اس کے ساتھ ٹاٹ پر بیٹھنے کی بہ جائے اس کے سامنے پائوں کے بل بیٹھ گیا۔ اب ہم دونوں کے درمیان چوڑیوں کا ٹوکرا تھا ،اس نے چوڑیوں کا ایک چھوٹا سیٹ اُٹھا کر میری طرف بڑھایا،میں نے انکار میں سر ہلایا۔اس نے پھر زبردستی سیٹ میرے ہاتھ میں دینا چاہا،میں نے سیٹ اس کے ہاتھ سے لے کر واپس ٹوکرے میں رکھ دیا اور مُسکرا کر کھڑا ہوکر واپسی کے لئے مڑا،تب میں نے پہلی بار اس کی آواز سنی ،اس نے کہا:
    ”نام؟”
    میں نے مڑ کر اسے دیکھا،مجھے پہلی بار اس کی نیلی آنکھوں میں حرکت محسوس ہوئی،جیسے اچانک مجسمے میں جان پڑ جاتی ہو،جیسے خاموش جھیل میں اچانک کسی نے کنکر پھینک دیا ہو۔ اس کی آنکھوں میں جان پڑتے ہی جیسے اس کا پورا چہرہ بدل گیا۔ میں نے اپنی زندگی میں بہت سے چہروں کو بدلتے دیکھا ہے مگر وہ بدلتے چہرے اذیت دیتے تھے ۔یہ پہلا چہرہ تھا جس نے اچانک بدل کر مجھے چند لمحوں کے لئے ہر طرف سے غافل کر کے اسے دیکھنے پر مجبور کر دیا تھا۔ میں اسے تکے جا رہا تھا ،اس نے اپنا سوال دہرایا: ”نام؟”
    میں نے اس کے خشک اور پیپڑی زدہ ہونٹوں کو ہلتے ہوئے دیکھا،اور جیسے اچانک خواب سے جاگ گیا ”لعل خان۔” میں نے نیم خوابیدہ لہجے میں جواب دیا اور ایک بار پھر اس کی گہری نیلی آنکھوں میں گم ہو گیا۔
    ایک ہلکی سی مسکان پہلے اس کی آنکھوں میں اُتری،پھر دھیرے سے سرکتے ہوئے اس کے ہونٹوں پہ آ کے رک گئی۔ ”لعل خان” اس نے میرا نام دُہرایا۔ خدا کی قسم ،مجھے اس سے پہلے اپنا نام اتنا خوب صورت کبھی نہیں لگا تھا ،میں مبہوت ہو کر اس کے چہرے کے بدلتے رنگوں کو دیکھ رہا تھا اور وہ ہولے سے مسکرا رہی تھی۔ اس کی مسکراہٹ میں ایک عجیب طرح کا تفاخر تھا۔ وہ یقینا اپنی آنکھوں اور اپنے چہرے کے گرگٹ کی طرح بدلتے رنگوں کی طلسماتی کشش سے واقف تھی، تبھی تو آنکھوں میں برف اور چہرے کو دیمک میں چُھپا کر منظر کے بے وقعت رنگ میں رنگی رہتی تھی ،جانتی تھی وقعت ملے گی تو بہت کچھ چھن بھی جائے گا۔
    اس نے اب کی بار بہت پرُاعتماد انداز میں مجھے اپنے ساتھ ٹاٹ پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور میں ہار مانتے ہوئے اس کے پاس جا کر بیٹھ گیا یہ ہماری پہلی اور آخری ملاقات اور ایک میٹھی یاد تھی۔

    ٭٭٭٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • نارسا — فاطمہ رضوی

    نارسا — فاطمہ رضوی

    مہمان آنے والے تھے میں ڈرائنگ روم کی صفائی اور جھاڑ پونچھ میں مصروف تھی کہ مجھے کھڑکی کے بالکل قریب ایک عورت کی سسکیوں کی آواز سنائی دی۔ پہلے تو واہمہ سمجھ کر نظر انداز کیا مگر جب سسکیاں اور آہیں میرے دل کے سکون کو تباہ کرنے لگیں تو میں نے جھانک کر دیکھا… لان کے بالکل قریب سبزہ پر ایک عورت مسلسل روئے جا رہی تھی اور دوسری اسے مسلسل تسلی دے رہی تھی۔ مگر میں اس عورت کی صورت نہ دیکھ سکی کیوںکہ اُس نے اپنے سر گھٹنوں میں دبا رکھا تھا میں سمجھنے سے قاصر تھی کہ اصل ماجرا کیا ہے؟ کھڑکی کا شیشہ بجا کر انہیں اپنی جانب متوجہ کرنا چاہا… دونوں خواتین نے چونک کر کھڑکی کی طرف دیکھا مگر میرے بلانے پر اندر آنے کی بہ جائے تیزی سے آگے بڑھ گئیں جتنی دیر میں باہر نکل کر اُنہیں پکارتی وہ نظر سے اوجھل ہو چکی تھیں… وہ تو چلی گئیں مگر عجیب سی کسک… تڑپ اور اضطراب کا موسم میرے دل میں بسا گئیں… نہ جانے کیا بات تھی؟ جو اُس عورت کے آنسو نہیں تھم رہے تھے… کیا اُس کا کوئی پُرسانِ حال نہیں کیا وہ بھی ہر دوسری عورت کی طرح اس میل ڈومینٹنگ سوسائٹی (Male Dominating Society) میں ظلم کا شکار ہیں… یا کوئی اور غم رنج و الم کی انتہا بن کر اشکوں کی صورت بہ رہا ہے… میری طبیعت خاصی بوجھل ہو گئی… مگر بہت سے کام تھے میری اکلوتی بیٹی شامین کے رشتے کے لیے کینیڈا سے آئی میری عزیز از جان انجواپیا اور فیملی آنے والے تھے۔
    کچن کے انتظامات کو آخری نظر ڈال کر لباس تبدیل کرنے ڈریسنگ روم میں گھس گئی… اُسی شام میری اکلوتی بیٹی شامین کا رشتہ طے پایا۔ بہت اچھا نصیب پایا تھا میری بچی شامین نے… اور وہ تھی بھی اس قابل… من موہنی صورت دل کش نین نقش والی شامین نے بہت کم عمری میں ماہر نفسیات بننے کا شرف بھی حاصل کیا تھا۔ مجھے اُس پر فخر تھا۔ ایک ہفتہ اُس کے نکاح کی تیاریوں میں گزر گیا۔ اس کا منگیتر میرا سگا بھانجا ارسل تھا… اگلے ہفتے تمام تر کام خوش اسلوبی سے نبٹانے کے بعد جب میں آفس پہنچی تو بہت سی اسائسنمنٹس میری منتظر تھیں۔ گزشتہ اٹھارہ سال سے میں ”طلحہ فائونڈیشن” کے نام سے ایک این جی او چلا رہی تھی جو بہت کامیابی سے مستحق افراد کی حتیٰ الامکان کوشش، امداد اور دُکھیاروں کے نہ صرف جسمانی بلکہ روحانی زخموں کی مسیحائی کا کام سرانجام دے رہی تھی۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    ”طلحہ فائونڈیشن” کی بہت سی شاخیں پشاور، ملتان، اسلام آباد، لاہور، ملتان اور فیصل آباد میں بھی سرگرمِ عمل تھیں۔
    1999ء میں کارگل کی جنگ میں میرے محبوب شوہر طلحہ عباس نے دلیری اور شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش فرمایا… تب میری شامین پانچ برس کی اور حمزہ سات برس کا تھا… میں نے اپنے مخلص دوستوں کی مشاورت سے اپنی زندگی کا لائحہ عمل مرتب کیا الحمد للہ بچوں کی تعلیم… تربیت … گھریلو اخراجات این جی او کا انعقاد سب میں مجھے حوصلہ افزائی اور پذیرائی سے خوش آمدید کہا…
    وقت کی گزرتی ساعتیں… مجھے گردو پیش کے حالات سے آگاہ رکھتیں ”طلحہ فائونڈیشن” میری زندگی کا نصب العین اور مشن بن چکی تھی۔
    میں نے طویل و عریض اراضی خرید کر اپنا آفس اس سے ملحقہ ایک سکول … اور ہاسٹل بنایا تھا… اس روز میں اپنی ساتھی کارکنوں کی ہمراہی میں ایک خاتون کی مزاج پُرسی کے لیے گئی، جس کے بارے میں چند لمحوں پہلے مجھے بتایا گیا تھا کہ وہ شوہر کے تشدد کے بعد بُری طرح زخمی ہوئی اور اپنی ایک پڑوسن کی مدد سے یہاں تک پہنچی۔ مجھے یہ دیکھ کر جھٹکا لگا کہ یہ وہی عورت تھی جو چند ماہ قبل میرے گھر کے باہر زارو قطار رو رہی تھی۔ میں نے اُس کے ساتھ آئی دوسری خاتون شاہدہ کو پہچان لیا تھا… رونے والی عورت کا نام شاہدہ اور ساتھ آئی پڑوسن کا نام فریحہ تھا… شاہدہ برُی طرح گھائل تھی… اُس کے چہرے ہاتھوں اور بازئوں پر ضربوں کے نشانات تھے۔ عمر غالباً چالیس سے اُوپر تھی مگر بال کھچڑی ہو چکے تھے۔
    اُس نے دل کھول کر میرے سامنے رکھ دیا… اس کی مرہم پٹی کے دوران وہ مسلسل روتی رہی… بولتی رہی…
    اس کی تین جوان بیٹیاں تھی… اس نے بتایا نو عمری سے ہی اُس کے والدین نے اُس کا رشتہ اس کے چچا کے بیٹے سے طے کر دیا تھا… جو ان ہوئی تو شادی کی تاریخ طے ہوتے ہی چچا کے بیٹے راشد نے مسلسل رابطہ کر کے کہا تم خود تایا جی کو منع کر دو میں تم سے نہیں اپنے ایک دوست کی بہن سے شادی کرنا چاہتا ہوں…
    مگر تایا جی اور چچا میرے ابو اور کوئی بھی خاندان کا فرد یہ رشتہ توڑنے پہ راضی نہ تھا… آخر کار میری شادی راشد سے ہو گئی… شادی کیا ہوئی؟ میرے لیے آہوں کا در کھل گیا… اس نے مجھے جیتے جی مار دیا… مجھے لے کر ایک اور شہر چلا گیا گھر والوں سے کوئی رابطہ نہیں تھا۔ہر وقت طنز، جھگڑے اور مارپیٹ برداشت کرنی پڑتی… میرے لیے زندگی گزارنا اور بھی عذاب ہو گئی جب چار سالوں میں تین بیٹیوں نے جنم لیا… جو ہو بہو میری ہم شکل تھیں… راشد نے انہیں اس قابل بھی نہ سمجھا تھا کہ اُن کی صورت دیکھے انہیں پیار سے گود میں اُٹھائے… بچیوں نے نو عمری میں قدم رکھا تو رنگ روپ نکھرنے لگا… تینوں ایک سے بڑھ کر ایک تھیں… پھر ملازمت سے جواب مل گیا تو گھر بیٹھ کر میری زندگی اور اجیرن بنا دی مگر میں بچیوں کی خاطر سہتی رہی…
    ایک روز دبئی سے اُس کا دوست آیا… میری بڑی بیٹی نے چائے کی ٹرے تیار کی تو راشد بولا اندر لے آئو… میری بیٹی شہر بانو چائے لے کر اندر گئی تو راشد بولا… آئو آئو تمہارے چچا تایا کی طرح ہیں میرے دوست ہیں یہ… اتنی حسین لڑکی کو دیکھ کر اس شخص کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ جاتے ہوئے پانچ ہزار میری بیٹی کو تھما گیا کہ میں تم لوگوں کے لیے کچھ لا نہیں سکا… اب تو راشد کو آمدنی کا ذریعہ مل گیا۔ ہر وقت گھر میں بیٹھا رہتا اور اس کے نئے نئے نمونے دوست گھر آنے لگے۔ کچھ قرض لینے آتے اور کھا پی بھی جاتے… کچھ اُدھار دے جاتے اور خوش گپیوں میں مصروف رہتے۔ بچیوں کو بلا کر ان سے بے ہودہ مذاق کرتے… مگر راشد کی غیرت کی حس تو گویا ختم ہو گئی تھی۔ میں احتجاج کرتی تو راشد دوستوں کے سامنے ڈانٹ پھٹکار شروع کر دیتا اور اُن کے جانے کے بعد مجھے روئی کی طرح دُھنک کر رکھ دیتا… اب تو بیٹیاں بھی اُس کی طرف دار ہو گئی تھیں وہ دوستوں کی طرح اسے اُنہیں اچھا لباس، زیور… ضرورت کی ہر چیز مہیا کرتا۔ شہر بانو نے ہر حد پار کرنے کی گویا قسم کھائی تھی وہ کئی بار دبئی والے چاچا کے ساتھ گھومنے گئی واپسی پر ہزاروں کی شاپنگ… کیش … برانڈڈ شوز… وہ تو مجھے صاف صاف سُنا دیتی امی آپ نے اپنا کیا حلیہ بنایا ہے چالیس کی عمر میں ساٹھ کی لگتی ہیں خود کو چینج کریں… جب ابو کو اعتراض نہیں تو آپ بھی گھوما پھرا کریں لائف انجوائے کریں… میں جانتی ہوں ان مقدس رشتوں کی آڑ میں کیا کھیل کھیلا جاتا ہے آج کل سگے رشتوں پر اعتبار نہیں یہ تو پھر باپ کے دوست تھے۔ وہ بھی عیاش اور نو دولتیے… میری سب سے چھوٹی بیٹی نور بانو ان باتوں کو پسند نہیں کرتی کئی بار باپ سے ڈانٹ اور تھپڑ کھانے کے باوجود وہ ان محفلوں میں شرکت کرنے سے انکاری ہوئی۔ تو راشد نے میری پھول سی اٹھارہ سالہ بچی کو اپنے ایک عیاش دوست سے بیاہ دیا جو اُس سے دُگنی عمر کا تھا… نہ جہیز دیا نہ پیار کے دو بول… بلکہ اُس کے شوہر سے بھی پانچ لاکھ روپیہ لیا… اور وہ میری بچی کو لے کر امریکا چلا گیا جہاں سے اُس کے دو خط اور صرف ایک بار فون آیا ہے کہ وہ نہایت دُکھی اور غمگین زندگی گزار رہی ہے… کیوںکہ اُس کا شوہر بھی وہی گھنائونا اور قبیح کاروبار کرتا ہے، جو راشد کرتا ہے… مگر میں کس سے فریاد کرتی کسی بات پر اعتراض کروں تو بیٹیاں کاٹ کھانے کو آتی ہیں۔ اب تو ستم کی انتہا ہو گئی کہ وہ جس عورت سے شادی کرنا چاہتا تھا وہ بیوہ ہو گئی ہے۔ اُس کی بیٹی کے ساتھ اُس کو بھی گھر لے آیا ہے۔ وہ عورت اور اُس کی بیٹی بھی بدکردار اور بے حیا ہیں۔ مردوں کی محفل میں بے ہودہ لباس پہن کر جانا… اپنی چودہ سالہ بیٹی کو وہ مردوں میں ایسے پیش کرتی ہے گویا شوپیس ہو۔ مگر راشدہ کو وہ عورت اور اُس کی بیٹی بہت پسند ہیں۔ میں نے بڑی بیٹی شہربانو اور مہربانو کو بہت سمجھایا کہ میں تمہارے باپ سے اس لیے جھگڑتی ہوں کہ مجھے تمہاری عزت پیاری ہے اور تم لوگ میرا ساتھ نہیں دیتیں۔ مگر اُن کا کہنا ہے یہ ماڈرن دور ہے ۔ مرد عورت اگر آپس میں ہنسی خوشی رہنا چاہیں تو آپ کو کیا اعتراض ہے…
    اور آج کس بات پر اُس نے تمہیں اتنا مارا… آج کوئی خاص بات ہوئی… میری این جی او میں کام کرنے والی سماجی خاتون ندرت نے پوچھا…
    جی باجی آج جب شہر بانو دبئی والے دوست کے ساتھ باہر گئی ہوئی تھی مہر بانو سوئی ہوئی تھی۔ میری سوتن اپنے کسی پرانے دوست کے ساتھ فون پر خوش گپیوں میں مصروف تھی کہ میں چائے لے کر راشد کے کمرے میں گئی تو یہ دیکھ کر میرے پیروں تلے زمین نکل گئی کہ راشد اور میری سوتن کی چودہ سالہ بیٹی … اُف کسی کو رشتوں کے تقدس اور خدا کا خوف نہیں تھا… سب گناہ کی دلدل میں پھنس چکے تھے… راشد نے مجھ پر تھپڑوں کی بھرمار کر دی… ذلیل عورت تمیز نہیں کسی کے کمرے میں بتائے بغیر نہیں آتے… اور شور کی آواز سن کر میری سوتن بھاگتی ہوئی آئی اور راشد کو کچھ کہنے کی بہ جائے مجھ پر برس پڑی… ان دونوں نے مجھے مل کر مارا اور گھر سے نکال دیا… میں اپنی پڑوسن فریحہ کے ساتھ آپ کے پاس آئی ہوں…
    اور اُسی شام میں نے لیڈی پولیس کی امداد طلب کیا ور راشد کے گھر چھاپہ مارا اُس کی چھوٹی بیٹی سوتیلی بیٹی اور دوسری بیوی تین مرد اور راشد رنگے ہاتھوں پکڑے گئے…
    ”طلحہ فائونڈیشن” میں شاہدہ محفوظ اور مطمئن ہے میں نے اُس کی بیٹی نور بانو سے بھی رابطہ کیا ہے۔ اُس کا نام نہاد شوہر وہاں کسی کالے امریکا کے ہاتھوں قتل ہو چکا ہے… نور بانو ماں سے ملنے کے لیے بے تاب ہے… اور میں چائے کا کپ تھامے کھڑکی سے باہر گرتی بارش کی بوندوں کو ٹپ ٹپ گرتا دیکھ کر سوچ رہی ہوں… اس دیس میں ناجانے کتنی عورتوں کی کہانی نالۂ نارسا ہے جسے کوئی سننا پسند نہیں کرتا…
    ٭٭٭٭٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • میں لکھاری ہوں — اعتزاز سلیم وصلی

    میں لکھاری ہوں — اعتزاز سلیم وصلی

    ”سنو سنوسب لوگ سن لو۔میں لکھاری ہوں،لکھاری ہوں میں۔میرے قلم کی کاٹ نے دنیا کو ادھیڑ دیا تھا۔میرے الفاظ کے جادو نے کئی لوگوں کو اپنے سحر میں جکڑلیا تھا۔ہاں میں ہی وہ لکھاری ہوں جس کی لکھی گئی تحریروں کو تم لوگ پڑھتے ہو ۔سنو لوگوں! میں لکھاری ہوں۔ میں جب چاہوں اپنے الفاظ سے کسی کو رلا سکتا ہوں کسی کے لبوں کی ہنسی بن سکتا ہوں۔کیوں کہ میں لکھاری ہوں۔”
    ٭…٭…٭
    صدیق احمد قریشی نے کتابوں کی دکان یہ سوچ کربنائی تھی کہ شوق بھی پورا ہو جائے گا اور بچوں کی روزی روٹی بھی چلتی رہے گی مگر رفتہ رفتہ جب ٹیکنالوجی نے عروج پایا تو انہیں محسوس ہوا ،ان کا یہ فیصلہ نہ صرف غلط تھا بلکہ شوق کو پورا کرنے کی خواہش نے ان کے بچوں کا مستقبل بھی خطرے میں ڈال دیا تھا۔ویسے بھی اب کہاں ملتے تھے پرانے شاعر لوگ،افسانہ نگاراور انہیں پڑھنے والے قاری جو ایک عام سے چائے خانے میں بیٹھ کر چائے کا کپ لبوں سے لگاتے اور لکھاریوں پر گفتگو کرتے۔ کوئی منٹو کے قلم کا عاشق ہوتا تو کوئی مشتاق احمد یوسفی کی کسی کتاب کا اقتباس اٹھا کر لوگوں کو ہنسا رہا ہوتا تھا۔کوئی سنجیدگی سے کسی نئے لکھاری کی تحریر میں سے غلطیاں نکال رہا ہوتا تھا تو کوئی اپنی تحریر کی تعریف۔اب تو ہے سوشل میڈیا کا دور جہاں ہر قسم کی گفتگو کی آزادی ہے۔پرانے زمانے میں عاشق لوگ بھی اردو کی شاعری استعمال کرکے محبوبہ کو خط لکھتے تھے اور اب نئے زمانے کے عاشق ہیں جو فیس بک اور واٹس ایپ پر ”اینجل سارہ ،سویٹی ڈول”سے عشق فرماکر خود کو ماڈرن دور کا رانجھا سمجھتے ہیں۔ان کے عشق کی سچائی میں تب خلل پڑتا ہے جب اینجل سارہ میں سے چاچا بشیر نکلتا ہے۔قصہ مختصر بدلتے حالات نے صدیق احمد قریشی کے مالی حالات بھی بدل دیے۔تین دن میں ایک ناول بکتا وہ بھی اتنی سی قیمت پر کہ دکان دار دو وقت کی چائے کے ساتھ بسکٹ کھاسکے۔صدیق صاحب بھی عقل مند تھے اور اس تبدیلی کو بھانپ گئے اس لیے گھر میں ایک دن تینوں بچوں کو کھیلنے بھیج دیا اور خود بیگم صاحبہ کے گوڈے پکڑ کر بیٹھ گئے۔
    ”صدیق یہ کوئی وقت ہے؟”نسرین نے شرما کر اردگرد دیکھا۔
    ”میں تم سے ضروری بات کرنا چاہتا ہوں۔”ان کا جملہ سن کر نسرین سمجھ گئی کہ شرمانا بیکار گیا ہے۔ اس لیے دوپٹے کا پلو جو کچھ دیر پہلے انہوں نے صائمہ کی طرح پکڑ رکھا تھا،اچانک چھوڑ دیا اور صدیق صاحب کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔
    ”مجھے پیسوں کی ضرورت ہے۔” انہوں نے چہرے کے تاثرات مسکینوں جیسے کر لیے۔
    ”وہ تو آپ جانتے ہیں میرے پاس بھی نہیں ،کوئی نئی بات کریں۔” نسرین آئی ایم ایف تھی نہ صدیق صاحب پاکستان۔اس لیے صدیق صاحب نے جواب کا برا منائے بغیر اپنی بات مکمل کی۔
    ”دکان کے حالات ہمارے ملک جیسے ہی ہیں کسی وقت بھی قرضہ مانگنا پڑ سکتا ہے۔ میں چاہتاہوں میں کوئی ایک لاکھ روپیہ مزید خرچ کر کے اسے اسکول ،کالجز کی کتابوں کا بک ڈپو بنا دوں ۔یہ ناولز وغیرہ آج کل کوئی نہیں پڑھتا۔نہ کوئی ڈائجسٹ خریدتا ہے۔”
    ”مگر اتنے پیسے کہاں سے آئیں گے؟”

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    ”تمہارا زیور…”ان کے الفاظ نے بچھو کی طرح کاٹ لیا تھا نسرین بیگم کو۔اس نے ایک ٹانگ پر کھڑے ہو کر ناچنا شروع کردیا۔
    ”نہ نہ نہ،ہرگز نہیں،قطرہ وی نہیں ،سوچی وی نہ۔” صدیق صاحب نے دونوں کندھے تھام کر اسے روکا اور دنیا جہان کی مسکینیت اپنے لہجے میں سمو کر بولے:
    ”آٹھ سال کا ارباز،چھے سال کا شہباز اور صرف پانچ سال کی گلناز۔ ان بچوں کا کیا ہو گا۔کیا یہ بھوکے مر جائیں گے؟ ہرگز نہیں نسرین، ہرگز نہیں۔” اچانک ان کی آواز بدلی اور وہ بالکل شاہ رخ خان کے انداز میں بولے۔
    ”ابھی ان کا باپ زندہ ہے، ابھی صدیق احمد قریشی زندہ ہے۔میں اپنا گردہ بیچ دوں گا ۔اس سے کام نہ چلا تو دل اور معدہ بھی نکلوا دوں گا مگر اپنے بچوں کو بھوکا نہیں مرنے دوں گا۔”
    ”میری طرف سے اجازت ہے یہ سب کرنے کی۔”اس کے اطمینان میں کوئی فرق نہ پڑا۔
    ”سوچ لو نسرین، سوچ لو۔ زیور بہت مل جائیں گے پر شوہر ایک ہی ہوں۔”
    ”سب کے ایک ہی ہوتے ہیں میں کوئی انگلش فلموں کی ہیروئین ہوں جو تین چار رکھوں گی۔” نسرین جذباتی بلیک میلنگ میں آتی دکھائی نہیں دی۔
    ”ٹھیک ہے نہ مانو تم،میرے جاننے والے ہیں ان کی لڑکی کو کچھ دن پہلے طلاق ہوئی ہے۔ میں اس سے دوسری شادی کر لوں گا۔ گھر دے رہے ہیں اور گاڑی بھی۔” اس آخری حملے سے سومنات کا مندر فتح ہو گیا۔نسرین کی آنکھ میں آنسو آگئے۔
    ”آپ میرے ساتھ ایسا کریں گے شہباز کے ابا؟”
    ”میں ضرور ایسا کروں گا گلناز کی ماں۔” صدیق صاحب کے جاننے والوں میں جو سب سے امیر ترین تھے ان کے پاس نیا ہونڈا موٹرسائیکل تھا۔ گاڑی دینا وہ بھی جہیز میں ،کسی کے بس کی بات نہ تھی پر بچوں کے مستقبل کے لیے اتنے جھوٹ پر انہوں نے خدا سے دل ہی دل میں معافی مانگی۔کچھ دیر پرانے محلے کی شمیم آرا بننے کے بعد آخر نسرین نے زیور دے دیا۔اگلے مرحلے میں اس زیور کی کامیاب فروخت کے بعد صدیق صاحب نے پرانی دکان بیچی اور ہائی اسکول کے سامنے نئی دکان پر نیا بورڈ لگوا لیا”قریشی بک ڈپو۔”
    پرانی دکان سے منٹو صاحب،تارڑ صاحب ،شفیق الرحمن صاحب ،نسیم حجازی اور کئی نئے پرانے لکھاری اٹھ کر گھر میں آگئے۔ ان طرح طرح کی کتابوں کا مطالعہ صدیق صاحب خود کرتے اور جب بچے بڑے ہوئے تو ان کو بھی پڑھنے کو دے دیں۔ارباز کو تو خیر نئے موبائل اور نئی فیشن کی شرٹس کے علاوہ کسی خاص چیز میں دل چسپی نہ تھی، البتہ شہباز نے یہ کتابیں پڑھنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ نتیجہ وہی نکلا جو صحبت کے اثر کا نکلتا ہے۔ کتابوں کی صحبت نے اسے اپنا بنا لیا۔ شہباز میٹرک میں پہنچا مگر اس کا مطالعہ کسی بھی طرح ایم اے کے طالب علم سے کم نہ تھا۔اردو زبان پراس کو عبورحاصل ہو گیا۔انہی دنوں اس نے اپنی پہلی تحریر صدیق صاحب کو لکھ کر دکھائی۔ یہ ایک معاشرتی موضوع پر لکھی گئی کہانی تھی جو چند کرداروں کے گرد گھومتی تھی۔پختہ انداز اور الفاظ دیکھ کر صدیق صاحب نے جوتی اتاری جس کا پہلا ڈرون حملہ شہباز نے جھک کر بچایا اور دوسراحملہ کرنے کے بجائے صدیق صاحب نے فرمایا۔
    ”نالائق کسی بڑے لکھاری کی تحریر کو اپنی کاپی پر لکھ کر مجھے ایسے دکھا رہا ہے جیسے خود لکھی ہو”
    ”یہ میں نے ہی لکھی ہے ابا۔”وہ رونے کے قریب تھا۔
    ”پکی بات ہے؟”
    ”آپ کے سر کی قسم۔” شہباز نے قسم کی شکل میں ثبوت حاضر کیا۔صدیق صاحب چند منٹ اسے دیکھتے رہے اورپھر گلے لگا کر بولے:
    ”میرا شہزادہ بیٹا تو لکھاریوں سے بھی بڑھ کر لکھتا ہے۔”شہباز کو جیسے محنت کا پھل مل گیا ہو، مگر ابھی کامیابی کے میدان اور بھی تھے۔صدیق صاحب نے وہ کہانی ایک سنڈے میگزین میں بھیج دی۔ان کے ایڈیٹر نے پڑھی اور ڈھیر ساری تعریفوں کا معاوضہ دے کر پہلی فرصت میں شائع کردی۔اب یہ سلسلہ چل نکلا۔شہباز کا قلم ایف اے کے بعد عروج پر پہنچااور اس عروج کا زوال نہ آتا اگر وہ حادثہ نہ ہوتا۔
    ٭…٭…٭
    کہتے ہیں حادثے کی پرورش وقت برسوں کرتا ہے، مگر وہ حادثہ سمندری طوفان کی طرح ان کے ساحلوں سے ٹکرایا تھا۔ارباز نے میٹرک میں تین بار فیل ہونے کے بعد آوارہ گردی کو اپنایا اورمحلے کے مختلف گھروں سے اکثر شکایتیں آنے لگیں۔ باپ نے پکڑ کر اپنے ساتھ دکان پر بٹھایا مگر اربازکی حرکتوں سے تنگ آ کر خود بھگا دیا۔گلناز آٹھویں اور شہباز ایف اے کے بعد بی اے میں داخلے کا سوچ رہاتھا۔انہی دنوں صدیق صاحب کی دکان پر ایک عجیب شکل کا شخص آنے لگا۔پہلے دود ن تو انہوں نے اس فرنچ کٹ ڈاڑھی اور کھڑے بالوں والے انسان نما شخص پر کوئی توجہ نہیں دی مگر جب وہ باقاعدگی سے آنے لگا تو ان کے ماتھے نے ٹھنکنا ضروری سمجھا۔وہ کچھ خریدتا نہ فروخت کرتا بس دکان کے سامنے پڑی کرسی پر ایسے جم کر بیٹھتا جیسے وہ سادہ اکثریت سے کامیاب ہوکر اس علاقے کا وزیر اعظم بنا ہو۔اس دن بھی سردیوں کی آمد کی نوید سناتی ٹھنڈی ہوا اور نرم دھوپ میں وہ شخص آرام سے بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا جب صدیق صاحب اس کے قریب آئے اور پوچھا۔
    ”جناب آپ روز یہاں آتے ہیں سب خیریت؟”اس نے سر اٹھا کر صدیق صاحب کو گھورا۔
    ”میرے یہاں بیٹھنے سے آپ کو بل آتا ہے؟”
    ”نہیں ،پرجس کرسی پر آپ تشریف فرما ہیں یہ میری دکان کی ہے اورجس دکان کے سامنے آپ جم کر بیٹھے ہیں دراصل یہی میری دکان ہے۔”انہوں نے اس نامعقول شکل کے شخص کی بدتمیزی بڑی مشکل سے برداشت کی تھی۔
    ”یہ دکان میرے باپ کی ہے بابے اور تو نے چالاکی سے ہتھیا لی تھی۔”صدیق صاحب دنگ رہ گئے۔ یہ دکان انہوں نے ایک جاننے والے کے توسط سے خریدی تھی اور قیمت ادا کی تھی۔
    ”یہ رہے کاغذات۔”اس نے جیب سے نکال کر کاغذات لہرائے۔
    ”جا بھائی جا، کام کرو اپنا۔ میں نے پیسوں سے یہ دکان خریدی ہے۔ یہ جعلی کاغذات کسی اور کو دکھانا۔”صدیق صاحب واپس اپنی دکان میں آگئے۔ وہ شخص چپ چاپ وہاں سے چلا گیا۔ کچھ دن بعد یہ ہنگامہ دوبارہ شروع ہوا جب اسی شخص جس کا نام جہانگیر معلوم ہواتھا،نے اپنی دکان کی واپسی کی درخواست دائرکردی۔حالات خطرناک صورت اختیار کر جاتے مگر صدیق صاحب حق پر تھے۔پہلی پیشی میں ہی کیس کا فیصلہ ہو گیا۔جہانگیر صاف جھوٹا تھا وہ صرف ڈرا دھمکا کر ان سے پیسے بٹورنے چاہتا تھا، مگر ناکام رہا ۔کیس کے فیصلے کے ٹھیک ایک ہفتے بعد جب آسمان پر کالی گھٹا چھائی ہوئی تھی۔ صدیق صاحب کی دکان میں اک شخص کی آمد ہوئی۔ چہرے پر نقاب چڑھائے اس شخص کو دیکھ کر صدیق صاحب کی چھٹی حس نے خطرے کا الارم بجا دیا۔انہوں نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ سامنے والے نے کپڑوں میں سے پستول نکالا اور ان کے دل میں گولی اتار دی۔یہ پہلی گولی ہی ان کے دل کے ٹکڑے کرنے کے لیے کافی ثابت ہوئی۔ وہ شخص فرار ہو گیا۔گولی کی آواز نے اردگرد کے دکانداروں کو متوجہ کیا۔صدیق صاحب کی کہانی ان کے پہنچنے سے پہلے ختم ہو چکی تھی۔
    ٭…٭…٭
    ”صدیق قریشی کو کسی نے گولی ماردی۔”
    ”اوہ! افسوس ہوا۔ نیک شخص تھے پتا نہیں کس ظالم نے یہ ظلم کا پہاڑ توڑا ہے غریبوں پر۔”کہنے والے نے کہہ دیا۔سننے والے نے سن لیا مگر ظلم کو محسوس وہی کر سکتے ہیں جن پر ظلم کیا گیا ہو۔ نسرین اور بچوں پر جیسے قیامت ٹوٹ پڑی ہو۔ روزی روٹی کمانے والا گھرانے کا واحد فرد قتل ہو گیا تھا۔نسرین کی آنکھیں رو رو کر سوج گئیں۔ شہباز باپ کے غم میں نڈھال تھا۔ارباز پولیس اسٹیشن کے چکر کاٹ رہا تھا۔پولیس کو یقین تھا کہ یہ جہانگیر کاکارنامہ ہے مگر ان کے پہنچنے سے پہلے جہانگیرفرار ہو گیا۔اس کی تلاش میں جگہ جگہ چھاپے پڑ رہے تھے مگر وہ کہیں نہ ملا۔
    قصہ مختصر۔ وقت نے حادثے پر مٹی ڈالنا شروع کردی۔صدیق صاحب کی قبر کے پھول خشک ہونے لگے اور ارباز،شہباز تعلیم چھوڑ کرغم روزگار کی فکر میں لگ گئے۔ ارباز نے دکان سنبھال لی۔شہباز چار پانچ ماہ سنبھل نہ سکا۔ دکان پر اسے باپ کی یاد آتی تھی۔ حساس دل نوجوان تھا۔ چپ چاپ گھر میں رہتا۔ ماں نے اسے اور گلناز کو بہ مشکل سنبھالا۔ شہباز کو قلم کاغذ پکڑائے اور اسے پرانے شوق کی طرف لوٹنے کا کہا۔ ڈیڑھ سال بعد گھر کی روٹین واپس لوٹ آئی۔ ارباز دکان پر بیٹھتا، کمائی کرتا۔ شہباز کہانیاں لکھتا اور مختلف رسائل اور میگزین میں بھیجتا رہتا۔ اکثر شائع بھی ہو جاتیں۔ اسے اتنا معاوضہ مل جاتا کہ وہ گلناز کی فرمائش پر کبھی اسے کپڑے یا جوتے لے دیتا۔ رفتہ رفتہ اس کا نام بنتا جارہا تھا۔ اسی دوران ماں نے گھر کی رونق واپس لانے کے لیے ارباز کی شادی کاشور ڈالا اور دو ماہ بعد مہوش گھر کی بہو بن کر ایک کمرے میں شفٹ ہو گئی۔ نسرین اور گلناز الگ کمرے میں سوتی تھیں جبکہ شہباز کا کمرا الگ تھا۔ گھر میں ایک فرد کا اضافہ ہوا تو کمانے والے بیٹے کی کمائی بھی تقسیم ہونے لگی۔ ایسے میں شہباز کو اپنی ذمہ داری کا احساس بڑھ گیا۔ ماں اور بہن کے لیے وہ کچھ کرنا چاہتا تھا۔ اس نے اپنے قلم کی رفتار میں اضافہ کیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ پیسے کی دھن نے اس کی کہانیوں کو متاثر کرنا شروع کر دیا۔ جاب کی تلاش میں نکلتا۔ سارا دن گھوم پھرکر کوئی ایسی نوکری تلاش کرنے کی کوشش کرتا جس میں نوکری کے ساتھ اپنی تحریروں کے لیے بھی وقت نکال سکتا۔ جب کوئی نوکری نہ ملی تو اس نے اپنا ایک ناول جو طویل تھا اور کافی دنوں سے نامکمل تھا، مکمل کیا اور ایک ڈائجسٹ میں بھیج دیا۔ دو ماہ بعد انہوں نے قسط وار یہ ناول شائع کرنا شروع کردیا۔معاوضہ بہتر ملا تو اسے اطمینان حاصل ہوا۔اس دن بھی وہ اپنے کمرے میں ایک ناول پڑھنے میں مصروف تھا جب گلناز آئی اور بولی۔
    ”بھائی، امی بلارہی ہیں۔” وہ اس کے ساتھ ماں کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔نسرین کے کمرے میں ارباز اورمہوش دونوں موجود تھے۔اسے دیکھ کر ماں کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
    ”دیکھ لو شہباز، یہ ارباز کیا کہہ رہا ہے؟”وہ تڑپ کر ماں کی طرف بڑھا۔
    ”کیا ہوا امی؟” اربازاور مہوش خاموش اوربیزار بیٹھے تھے۔ وہ ماں کو چپ کروانے لگ گیا۔ اسی دوران ارباز بولا۔
    ”شہباز میں نے کوئی غلط بات نہیں کی۔ میں الگ ہونا چاہتا ہوں۔ میں شادی شدہ ہوں اور یہ میرا حق ہے۔ ”وہ اس کی بات سن کر ساکت رہ گیا۔ اس نے زخمی نظروں سے ارباز کی طرف دیکھا۔ وہ نظریں چرا گیا۔
    ”پر ابھی گلناز کی شادی نہیں ہوئی۔ شہباز کنوارہ ہے اور تم واحد کمانے والے ہو اس گھر میں۔” نسرین نے اونچی آواز میں کہا۔
    ”آپ سب میری ذمہ داری نہیں۔ میں اپنی بیوی کو مشکل سے پال سکتا ہوں۔ کل کو ہمارے بچے ہوں گے تو کیاکروں گا میں؟شہباز کا کام ہے محنت کرنا اور کر کے کھائے۔” نسرین پوچھنا چاہتی تھی کہ جس دکان میں وہ بیٹھا ہے وہ کس کی محنت اور پیسے سے بنا ہے، مگر پوچھ نہ سکی۔شہباز کچھ دیر خاموش رہا اور آخر تھکے ہوئے لہجے میں بولا:
    ”ٹھیک ہے دکان میں سے ہمارا حصہ الگ کر دیں اور آپ الگ ہو جائیں۔” ارباز نے اسے گھورا۔
    ”دکان میں سے حصہ کوئی نہیں تم لوگوں کا۔میں نے اپنی محنت سے بنائی ہے۔ ابا نے تو سارا کاروبار ڈبو دیا تھا۔ اب کچھ بہتر ہوا ہے گھر میں الگ لے رہا ہوں یہ گھر تم لوگوں کا ہوا۔ مجھے میرے حصے کی قیمت دے دیں یا میں کسی کرائے دار کو اپنا کمرا دے دیتا ہوں۔” اس نے تو جیسے بات ہی ختم کردی۔ مہوش کے چہرے کی مسکراہٹ ارباز کے منہ میں بولتی زبان کی ساری کہانی بتا رہی تھی۔دونوں اٹھ کر چلے گئے۔شہباز سر پکڑکر بیٹھ گیا۔ارباز کا خون اتنی جلد سفید ہو جائے گا یہ کسی نے سوچا نہیں تھا۔
    ارباز نے کوئی وقت نہ لیا۔ صرف ایک ہفتے بعد وہ اور مہوش الگ گھر میں شفٹ ہو گئے۔ دو کمروں کا یہ مکان مہنگا تھا مگر صدیق صاحب کا کاروبار اتنا نفع دے رہا تھا کہ ارباز یہ خرید سکتا تھا۔مسئلہ نسرین اور شہباز کو بنا جو سگے بیٹے اور بھائی کے خلاف عدالت نہیں جانا چاہتے تھے۔ پیسے کہیں سے نہ ملے تو گلناز کے لیے بنایا گیا زیور اور سامان بیچ کر انہوں نے ارباز کا حصہ پورا کیا۔ اب یہ گھر ان کا تھا مگر اس کا خرچ کیسے چلانا ہے یہ شہباز کو معلوم نہ تھا۔ ساری رات وہ بیٹھ کر لکھتا رہتا اور مہینے کے آخر میں اتنا معاوضہ ملتا کہ تینوں پیٹ بھر کر کھانا کھا لیتے۔ دو سال گزر گئے۔ عید چھوٹی ہوتی یا بڑی گلناز کے علاوہ کسی کا سوٹ نہ سلتا۔شہباز کی قمیص جگہ جگہ سے پھٹی ہوتی۔ نسرین کی بوڑھی ہڈیوں میں بھی دم ختم ہونے لگا۔ اس نے یکدم ایک فیصلہ کیا۔شہباز کو اپنے کمرے میں بلایا اور کہا۔
    ”یہ مکان تین کمروں کا ہے۔ ہماری ضرورت سے زیادہ ہے، تم اسے بیچ دو اور گلناز کی شادی کردیتے ہیں۔” مشورہ معقول اور قابل قبول تھا۔ قسط وار چلنے والا ناول کتابی شکل میں مارکیٹ میں آیا تو شہباز کے ہاتھ کچھ پیسے آگئے۔ اِدھر اُدھر بھاگ دوڑ کرکے اس نے گاہک تلاش کیا۔ مکان بیچا اورایک فلیٹ خرید لیا۔ یہ شہر کے نزدیک ایک بلڈنگ میں تھا۔ بچ جانے والے پیسوں سے گلناز کے لیے مناسب جہیز بنایا اور صدیق صاحب کے ایک پرانے دوست کے بیٹے سے اس کی شادی کردی۔ رشتہ کافی دن پہلے طے ہوا تھا۔ اچھی مڈل کلاس فیملی تھی۔ لڑکا سرکاری ملازم تھا۔ گلناز کا فرض ادا ہو گیا۔ ماں بیٹا سکون سے رہنے لگے۔ شہباز کے قلم میں روانی بحال ہوئی۔ انہی دنوں اسے ایک لڑکی کے خطوط ملنے شروع ہوگئے۔ تعریفی خط۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});