Author: misbah116@hotmail.com

  • مور پنکھ کے دیس میں — حرا بتول (قسط نمبر ۴ آخری قسط)

    مور پنکھ کے دیس میں — حرا بتول (قسط نمبر ۴ آخری قسط)

    ”مان گئی وہ؟” ابھی وہ صوفے پر نیم دراز ہوا ہی تھا جب ٹیرس کا دروازہ بند کرتے پیٹر نے اس سے پوچھا۔
    ”ہاں بڑی مشکل سے مانی۔ دوستی کے واسطے دے کر منایا ہے اسے۔”
    ”ڈین ایک بار پھر سوچ لو کیا یہ سب صحیح ہے؟ اس طرح دونوں کی پرسنل لائف آن ائیر لانا؟ جیف کو بہت برا لگے گا۔”
    ”یہ تمہیں کس نے کہا کہ سب آن ائیر آئے گا؟ تم بے فکر رہو یہ سب صرف ڈراما ہے جیف کو سیدھے راستے پر لانے کے لیے۔ مجھے یقین ہے کہ جو کام ہم اتنے ماہ میں نہ کر سکے وہ کام میچ میکر مسٹر ویلی ڈیلی کر دے گا۔ میں ملا ہوں اس سے اور ان دونوں کے بارے میں سب بتا دیا ہے۔” اس کے لہجے میں بے پروائی تھی۔
    ”ڈین تم پاگل ہو۔ بالکل کھسکے ہوئے۔” وہ اس کی عقل پر افسوس کر رہا تھا۔
    ”دیکھو کوئی تو بات ہو گی اس میچ میکر اور اس کی فیملی میں۔ یوںہی بلاوجہ تو وہ ڈیڑھ سو سال سے لوگوں کے لیے ہم سفر تلاش نہیں کر رہے نا۔ اگر تم غور کرو تو یہ کافی انٹرسٹنگ سیچوئیشن بن رہی ہے۔ ”
    ”وہ کیسے؟”
    ”یار سوچو تو ذرا وہ مرم سے شادی سے انکار کر چکا ہے۔ ایسے میں اگر وہ دونوں ڈرامائی کرداروں کی حیثیت سے ایک میچ میکر کے پاس جا کر اپنے اپنے لیے مناسب ساتھی تلاش کرنے کا کہیں گے، تو کیا پتا کہ اس ڈرامے کا کردار نبھاتے ہوئے وہ میچ میکر جیف کو اصل میں قائل کر لے۔” پھر کچھ سوچ کر وہ دوبارہ گویا ہوا۔” میں مسٹر ڈیلی کو سمجھا چکا ہوں کہ جیف کو حقیقت میں راضی کرنا ہے۔ وہ بھی اس انداز میں کہ اسے محسوس تک نہ ہو کہ وہ میچ میکر سب جانتا ہے۔ بس اب مجھے کل صبح کا انتظار ہے۔ بڑا مزا آنے والا ہے۔ وہ دونوں سمجھ رہے ہوں گے کہ وہ ایک اسکرپٹڈ سیچوئیشن کے لیے اداکاری کر رہے ہیں اپنے ناظرین کے لیے جب کہ حقیقت میں ناظرین کے بجائے وہ خود الو بن رہے ہوں گے۔ ”
    ”اور جب اسے پتا چلے گا کہ ہم نے جان بوجھ کر اسے وہ سب کرنے کو کہا ہے، تو اسے دکھ ہو گا اس دھوکے پر۔” پیٹر کو جیف کے ردعمل کی فکر تھی۔ وہ اس سے اپنی دوستی خراب نہیں کرنا چاہتا تھا۔
    ”کون سا دھوکا ؟ تم تینوں نے بھی تو مل کر مجھے بلیک بیوٹی کے ہاتھوں دھوکا دیا تھا۔ میں نے تو کچھ نہیں کہا تمہیں۔ تم فکر نہ کرو میں سب سنبھال لوں گا۔” اسے تسلی دے کر وہ کمرے سے نکل گیا۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});
    ”اس وقت کون آ گیا؟” گھنٹی بجنے پر وہ کوفت سے بڑبڑائی۔ سونے کی تمام کوششیں بے کار ثابت ہوئی تھیں۔ دکھتی ہوئی کنپٹی کو دباتے ہوئے اس نے اپنے کمرے کا دروازہ کھولا۔ سامنے وہ کھڑا تھا چہرے پر تذبذب کے تاثرات لیے۔
    ”تم اس وقت؟ سب ٹھیک تو ہے؟ ” وہ اس شخص سے یہ توقع ہرگز نہیں کر سکتی تھی کہ رات کے گیارہ بجے اس کے کمرے کے دروازے کے باہر کھڑا ہو گا۔
    ”مجھے تم سے کچھ ضروری بات کرنی تھی۔” دھیمے لہجے میں وہ گویا ہوا۔
    ”بات؟ مجھ سے؟ وہ بھی ضروری؟”اس نے اپنی حیرت کو چھپانے کا تکلف کرنا غیر ضروری سمجھا۔
    ”ٹھیک ہے اندر آجاؤ۔” راستہ دیتے ہوئے اس نے اسے اندر آنے کو کہا۔
    اس نے جھجک کر انکار کیا۔”نہیں یہیں ٹھیک ہے۔”
    ”جبرائیل آ جاؤ اندر۔ یوں اس طرح دروازے پر بات کرتا دیکھ کر لوگ اور مشکوک ہوں گے۔ یقین مانو میں اتنی بھی بری لڑکی نہیں جتنا تم سمجھتے ہو۔” ترش لہجے میں کہہ کر وہ اندر کی جانب مڑ گئی۔ اس کی بات کا مفہوم سمجھ کر وہ بے ساختہ اپنے لب بھینچ گیا۔ پھر پر سوچ انداز میں قدم اندر کی جانب بڑھا دیے۔
    ”بیٹھو۔”اسے صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے وہ خود اس کے مقابل بیڈ پر بیٹھ گئی اور اسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی جو اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں چھپا، انجانا سا بھید تلاش کر رہا تھا۔
    ”تم شاید کوئی ضروری بات کرنے آئے تھے۔” جب بہت دیر تک وہ خاموش رہا تو بالآخر اس نے خود ہی اسے مخاطب کر لیا۔
    ”ہاں بس لفظوں کو جملوں میں پرونے کی کوشش کر رہا تھا۔” چونک کر شکستہ لہجے میں وہ متوجہ ہوا۔
    ”میرے لیے یہ بہت حیران کن بات ہے کہ لفظوں کا سحر پھونکنے والے انسان کو بھی اس کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔” ناجانے کیوں اسے اس کے سادگی بھرے لہجے میں طنز کی آمیزش محسوس ہوئی تھی۔
    ”میں جو بات کہنے جا رہا ہوں شاید وہ تمہارے لیے عجیب ہو اور ناگواری کا باعث بھی۔ تم اسے میری مجبوری یا ایک ریکویسٹ سمجھ لینا۔” وہ بہت ٹھہر ٹھہر کر اور سوچ کر بول رہا تھا اور مرم اس کا یہ تذبذب بھرا انداز دیکھ کر سوچ رہی تھی کہ ہمیشہ پر اعتماد انداز میں بات کرنے والا بندہ ناجانے کیا کہنا چاہتا ہے جو یوں جھجک رہا تھا؟
    ”میں چاہتا ہوں کہ کل جب تم کیمرے کے سامنے آؤ تو اپنا سر ڈھانپ کر آنا۔ میرا مطلب حجاب…حجاب لے کر۔ میں نہیں چاہتا کہ میرے ساتھ ٹی وی پر کوئی تمہیں جانچتی نظروں سے دیکھے۔” وہ اب بھی نظریں جھکا کر بات کر رہا تھا جب کہ مرم اسے دل چسپ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
    ”میں ہمیشہ سے تم سے یہ بات کہنا چاہتا تھا، مگر حق نہیں رکھتا تھا۔ حق تو شاید ابھی بھی نہیں رکھتا مگر پھر بھی میں خود کو روک نہیں پایا تمہارے پاس آ کر یہ بات کہنے سے۔ تم چاہو تو میری اس التجا پر عمل کر لینا اور اگر نہیں تو مجھے گلا کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔” بات کے اختتام پر اس نے پہلی مرتبہ براہ راست اس کی جانب ملتجی نظروں سے دیکھا تھا۔
    ”کوئی اور ریکویسٹ؟ ” چند لمحے خاموش رہنے کے بعد اس نے سنجیدگی سے پوچھا۔
    ”نہیں بس یہی کہنا تھا۔ اتنی رات گئے تمہیں ڈسٹرب کرنے پر معذرت چاہتا ہوں۔ اب جانا چاہیے مجھے۔ اللہ حافظ۔” اس کا بے لچک اور سپاٹ انداز دیکھ کر جیف کو اپنی ساری بات بے کار اور غیرضروری لگی۔ اگلی کوئی بھی بات کیے بغیر وہ اٹھ کر تیزی سے دروازے کی سمت بڑھا۔
    یہاں آنے سے پہلے بھی وہ جانتا تھا کہ وہ کبھی بھی اس کی بات نہیں مانے گی، مگر پھر بھی وہ اپنے دل اور غیرت کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہاں چلا آیا۔ چاہے اس نے اپنی زندگی کے تیرہ سال ایک آزاد معاشرے میں گزارے تھے، مگر اندر سے وہ ایک روایتی دیہاتی مرد ہی تھا جو ”اپنی” عورت کو پردے میں دیکھنا پسند کرتا ہے، مگر شاید وہ یہ بھول گیا تھا کہ اس عورت کو ”اپنی” بنانے سے اس نے خود انکار کیا تھا۔
    دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھتے ہوئے اس نے مڑ کر ایک نظر بیڈ کے پاس کھڑی مرم کو دیکھا جو دونوں بازو باہم لپیٹے اسے ہی دیکھ رہی تھی اور اس کے پرکشش چہرے پر ایک کیف آگیں رنگ ٹھہرا ہوا تھا۔ دونوں کی نظریں ایک دوسرے پر جمی ہوئی تھیں۔ ایک کی لو دیتی کندن نظریں اور دوسرے کی نظروں میں جدائی کا کوئی گہرا پیغام تھا۔
    ہاتھ کی لکیروں میں
    زندگی کے ساتھ ساتھ
    ہجر کی لکیریں بھی
    اس طرح سے پنہاں ہیں
    جس طرح سے ”تم” میری
    زندگی میں پنہاں ہو!
    نہ جانے کیوں اسے یہ برسوں پہلے کی پڑھی نظم اس لمحے یاد آئی تھی۔ چند لمحے وہ یوں ہی ساکت کھڑا اسے دیکھتا رہا پھر سر جھٹک کر باہر نکل گیا۔
    ”مرد جس عورت کو چاہتا ہے اسے چھپا کر رکھنا چاہتا ہے۔ دنیا کی نظروں سے اوجھل۔” بند ہوتے دروازے کو دیکھتے ہوئے اس کی سماعت میں موری کی آواز گونج رہی تھی۔ چند سال پہلے ناجانے کس سے وہ یہ سب کہہ رہی تھیں اور یہ الفاظ اس کے لاشعور میں نقش ہو گئے تھے۔
    ”اور جس عورت کو وہ دنیا سے چھپاتا نہیں وہ اس کے دل میں اتری نہیں ہوتی۔ ایسی عورت کو وہ بس ایک ”شو پیس” کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ دنیا کو یہ جتانے کے لیے کہ وہ ایک زبردست اور خوبصورت ”چیز” کا ”مالک” ہے۔” مرم کے چہرے کی مسکراہٹ گہری ہوتی جا رہی تھی۔
    ”میرے لیے یہ یقین بھی کافی ہو چلا ہے کہ تم بھی مجھے بے حد چاہتے ہو۔ مجبوری کا لفظ جو تم نے ابھی استعمال کیا، تو محبت سے بڑھ کر اور کیا مجبوری ہو گی؟ اور محبت میں ملن کبھی ناگزیر ہوتا ہے تو کبھی کبھی ناممکن۔ ”
    ٭…٭…٭
    ”میں اس وقت آئرلینڈ کے ایک چھوٹے سے گاؤں لسڈون وارنا میں واقع ایک چھوٹے مگر عالمی شہرت یافتہ ” میچ میکنگ کیفے” کے مالک کے ساتھ بیٹھا ہوں۔ان کا ماننا ہے کہ بے شک جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں مگر ان کی پہلی ملاقات ”میچ میکر” کیفے میں ہی ہوتی ہے اور آج کی یہ شام بہت دل چسپ ہو گی کیوں کہ میں نے مسٹر ڈیلی سے اپنے لیے پرفیکٹ میچ تلاش کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ تو آیئے اب میں براہ راست آپ کی بات ان سے کراتا ہوں۔” اس کی اس بات پر کیمرا گھوم کر میز کی دوسری جانب بیٹھے لگ بھگ ساٹھ سال کی عمر کے آدمی پر مرکوز ہو گیا جو مسکرا کر اپنا تفصیلی تعارف کروا رہا تھا۔ اس کے چہرے پر سے نظریں ہٹا کر جیف نے اپنے ہاتھ میں بندھی قیمتی گھڑی کی جانب دیکھا۔ وہ حسب عادت آج بھی لیٹ تھی۔
    ”پتا نہیں اب کون سا ضروری کام ہے محترمہ کو جو اب تک نہیں پہنچی ۔ یہ بندہ فالتو تو نہیں بیٹھا نا یہاں۔ ہمارے علاوہ دوسرے لوگوں کو بھی وقت دیا ہو گا اس نے، مگر وہ سر پھری لڑکی یہ باتیں کب سمجھتی ہے۔” وہ اب کوفت سے سوچ رہا تھا۔
    ”تو مسٹر جیف آپ مجھے بتائیں کہ آپ کو اپنے لیے کیسے ہم سفر کی تلاش ہے؟” اچانک مسٹر ڈیلی نے اسے مخاطب کیا۔ وہ ابھی جواب سوچ ہی رہا تھا جب وہ دبے قدموں چل کر اس کے برابر رکھی کرسی پر بیٹھی تھی۔ وہ بے یقینی سے مرم کے سراپے کو دیکھ رہا تھا جو اب بے نیازی سے بیٹھی سامنے دیکھ رہی تھی۔ اسے دیکھ کر بھی یقین نہیں آ رہا تھا کہ مرم اس کی گزارش پر عمل کر چکی ہے۔ اس نے ایپل گرین شرٹ کے نیچے رائل بلو لانگ اسکرٹ پہن رکھا تھا اور سر پر بڑے مناسب انداز میں میچنگ اسکارف بھی اوڑھا ہوا تھا۔ لائٹ میک اپ سمیت وہ بہت پرکشش، حسین اور باوقار لگ رہی تھی۔ جیف یہ بھول چکا تھا کہ اس کے چہرے پر جو کیمرا فوکس ہوا تھا وہ جیف کے ہر ایک تاثر کو اپنے اندر محفوظ کر رہا تھا۔ وہ یہ بھی بھول جانا چاہتا تھا کہ اس سے کوئی سوال پوچھا گیا تھا، مگر افسوس اس کی یادداشت ابھی ٹھیک ہی تھی۔ بڑی مشکل سے اپنے تاثرات نارمل کر کے اس نے اپنی نظریں مسٹر ڈیلی پر مرکوز کیں جو اسی کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔
    ”مجھے ایک ایسی ہم سفر کی خواہش ہے جو ایک سیاح کے طور پر میرے ساتھ زندگی کا سفر نہ کرے بلکہ ایک گائیڈ کے طور پر میرے ساتھ رہے۔ ایک ایسا گائیڈ جو ہزاروں سال میرے ساتھ سفر کرنے کے بعد بھی مجھ سے بور نہ ہو اور میری ذات میں پنہاں تمام خوبیوں اور خامیوں کو جاننے کے باوجود بھی مجھے چاہے۔ بالکل ویسی ہی پاکیزہ محبت جیسی ایک انسان اپنے دیس سے کرتا ہے کہ اپنے وطن کی لاکھوں خامیاں جاننے کے باوجود وہ وہیں بسنا چاہتا ہے۔ سو میں بھی کسی کا ” دیس” کسی کا ”گھر” بننا چاہتا ہوں۔” یہاں آنے سے پہلے اس سوال کا جو جواب اس نے سوچا تھا۔ وہ یہ ہرگز نہیں تھا۔ ناجانے کہاں سے اس کے ذہن نے یہ الفاظ ترتیب دیے تھے اور اس کی زبان نے رٹو طوطے کی طرح انہیں من و عن ادا بھی کر دیا تھا۔ اسے پیٹر، ڈینیل اور مرم تینوں کی حیران نظروں کا اندازہ اچھی طرح تھا تبھی اس نے کسی کی جانب دیکھنے سے احتراز برتا۔
    ”بہت خوب، عام لوگوں سے بہت مختلف انداز میں آپ نے اپنی ڈیمانڈز بتائیں۔ جو کچھ آپ کے منفرد انداز بیان کے بارے میں سنا تھا میں نے بالکل ویسا ہی پایا۔ بالکل ایک سچے اور پکے سیاح کا سا انداز ہے آپ کا۔ آئی مسٹ سے دیٹ آئی ایم امپریسڈ۔” مسٹر ڈیلی نے محظوظ مسکراہٹ سجا کر کہا۔ اس کے تاثرات بتا رہے تھے کہ جیف کے منفرد انداز کا خاصا مزہ لیا ہے اس نے۔
    ”بہت شکریہ سر مگر میرا نہیں خیال کہ میں نے کوئی انوکھی بات کی ہے۔ ہاں شاید انداز تھوڑا دل چسپ ہو، مگر کیا کیا جائے کہ میرے پروفیشن کی ڈیمانڈ ہی انفرادیت ہے۔” جیف نے سنجیدگی و متانت سے جواب دیا۔
    ”آپ کا انداز دیکھ کر میرا دل چاہ رہا ہے کہ آپ سے سیر و سیاحت کے متعلق کچھ منفرد سنا جائے۔ اگر آپ کو چند الفاظ میں ٹریولنگ کے بارے میں بولنے کو کہا جائے تو؟” مسٹر ڈیلی کی دل چسپی لمحہ بہ لمحہ بڑھتی جا رہی تھی۔
    ”میں چاہتا ہوں آپ سفر کریں۔ جہاں تک اور جتنا بھی دور ممکن ہو۔” کچھ دیر سوچ کر وہ گویا ہوا۔
    ” فون، لیپ ٹاپ، ٹیبلٹ اور اسی طرح کی دوسری ضروری اشیا کے بغیر سفر کریں۔ اپنے کمفرٹ زون سے کچھ عرصہ دور رہ کر دیکھیں۔ مشاہدہ کریں کہ دنیا میں دوسرے لوگ کیسے رہتے ہیں؟ اور محسوس کریں کہ آپ کے اس چھوٹے سے ٹان سے باہر کی دنیا کتنی وسیع اور منفرد ہے اور جب اس سفر کے بعد آپ گھر واپس لوٹیں گے تو آپ کا گھر شاید پہلے جیسا ہی ہو اور پھر سے آپ کی وہی پرانی روٹین اور جاب ہو گی، مگر کہیں نہ کہیں آپ کے اندر کچھ تبدیل ہو چکا ہو گا۔ یہ تبدیلی آپ کی سوچ اور فکر میں بھی ہو سکتی ہے اور آپ کے انداز و اطوار میں بھی اور یقین مانیے کہ سیاحت اسی تبدیلی کا نام ہے۔” مسکراتے لب و لہجے میں بولتا ہوا وہ بہت اچھا لگ رہا تھا۔
    ”آپ تو کامیاب ہو گئے مجھے متاثر کرنے میں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ میں کس حد تک آپ کو متاثر کرنے میں کامیاب ہوں گا۔ اتنا کہ آپ جھٹ پٹ اپنی زندگی کا اہم ترین فیصلہ کر لیں۔” توصیفی کلمات کہنے کے بجائے اس نے ایک غیر متوقع بات کی تھی۔
    ”کیسا فیصلہ؟”اس نے ناسمجھی سے پوچھا۔
    ”بھئی شادی کا فیصلہ جس کے لیے آپ آج آئے ہیں خاص طور پر میرے پاس۔”
    ”جی بالکل۔” گو کہ وہ پہلے ہی جانتا تھا کہ یہ سب ڈراما ہے، مگر پھر بھی اپنی شادی کی بات کرنا عجیب محسوس ہو رہا تھا۔
    ”ویسے کیا میں جان سکتا ہوں کہ آپ نے اب تک شادی کیوں نہیں کی؟”
    ”بس یوںہی کوئی خاص وجہ تو نہیں اس کی۔”
    ”اور کوئی عام وجہ؟” وہ مسلسل مسکرا رہا تھا۔
    ”انسان دو چیزوں کے لیے شادی کرتا ہے یا تو اسے زندگی میں سکون اور آسودگی کی طلب ہوتی ہے یا اپنی زندگی میں تبدیلی کی خواہش جہاں تک میری بات ہے، تو میری زندگی پہلے ہی بہت پرسکون اور آسودہ ہے اور تبدیلی کی مجھے کوئی آرزو نہیں سو اسی لیے مجھے کبھی شادی کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔” اس بار اس نے سامنے بیٹھے شخص کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مضبوط لہجے میں جواب دیا۔
    ”آپ کی بات سے میں سو فیصد متفق ہوں۔ انسان سکون، آسودگی، خوشی، تبدیلی وغیرہ کے لیے ہی شادی کرتا ہے، مگر آپ نے ایک بہت اہم نقطہ نظرانداز کر دیا۔ شادی کی ایک اور اہم وجہ ”محبت”بھی ہوتی ہے۔ محبت جو ایک لازوال جذبہ ہے۔ کیا آپ کو کبھی محبت کی بھی ضرورت محسوس نہیں ہوئی؟”
    ”میرے خیال میں محبت بس ایک افسانوی احساس ہے۔ اصل چیز صرف ”ضرورت” ہوتی ہے۔ اگر کوئی انسان کسی شخص کے ساتھ خوشی، سکون وغیرہ محسوس کرتا ہے، تو دراصل وہ شخص اس کی ”عادت” یا پھر ”ضرورت” ہوتا ہے اور اسی چیز کو دنیا محبت کا نام دے دیتی ہے۔” بڑے ٹھوس لہجے میں اس نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔ دل میں وہ حیران بھی تھا کہ ان سب باتوں کے بعد بھی اس کے ساتھ بیٹھا وجود خاموش کیوں تھا؟ اور اب تک اس نے کوئی چیز اٹھا کر جیف کا سر پھاڑنے کی کوشش کیوں نہیں کی تھی؟
    ”یہ تو آپ محبت کرنے والوں کی توہین کر رہے ہیں۔ میرے کیفے میں موجود لوگوں میں سے اگر کوئی یہ بات سن لے تو اچھا خاصا ہنگامہ ہو جائے یہاں۔” مسٹر ڈیلی کا لہجہ ہنوز پرسکون تھا۔
    ”میں نے صرف اپنی رائے ظاہر کی ہے۔”
    ”ہر انسان کو اختلاف رائے کا حق حاصل ہے، مگر اس انداز میں کہ کسی دوسرے کے جذبات مجروح نہ ہوں۔”
    ”میں معافی چاہتا ہوں اگر آپ کو میری بات بری لگی۔ شاید میں خود جذبات سے عاری انسان ہوں اس لیے کبھی کبھی مجھے دوسروں کے جذبات کی پروا نہیں رہتی۔” اس کی اس بات پر مرم نے بڑی گہری نگاہ سے اس کی جانب دیکھا۔ وہ اب پہلے کی طرح بے نیاز اور لاتعلق نہیں تھی بلکہ اس کی دل چسپی اس کے چہرے کے محظوظ تاثرات سے عیاں تھی۔
    ”میں اپنی بات نہیں کر رہا تھا۔ خیر بس یہی ایک وجہ تھی اب تک شادی نہ کرنے کی؟” اب کی بار جیف کو اس کا ضرورت سے زیادہ پرسنل ہونا ناگوار گزرا تھا، مگر وہ مجبور تھا سو اپنا غصہ دبا گیا۔
    ”نہیں ایک وجہ میرا پیشہ بھی ہے۔ سال کا زیادہ تر حصہ میں ملک سے باہر گزارتا ہوں ایسے میں اس طرح کے ریلیشن کو اچھے انداز میں نبھانا ناممکن ہوتا ہے۔”
    ”اور اگر میں یہ کہوں کہ میں آپ کو ایک ایسا ہم سفر تلاش کر کے دے سکتا ہوں جس کا پیشہ آپ کے پیشے سے ملتا جلتا ہو اور اسی وجہ سے اسے اعتراض بھی نہیں ہو گا آپ کے آدھا سال ملک سے باہر رہنے پر۔ بولیے منظور ہے تو میں آپ کے ناظرین سے ان کا تعارف کراؤں؟” وہ سوالیہ نظروں سے اس کی جانب دیکھ رہا تھا۔ جیف کو نہ جانے کیوں یہ محسوس ہوا کہ مسٹر ڈیلی کوئی ڈراما نہیں کر رہا بلکہ حقیقت میں اسے اپنا ایک کلائنٹ سمجھتے ہوئے اس سے اقرار لینا چاہ رہا ہے اور اس کے ”ہاں” کہنے کے بعد اس کے پاس پیچھے ہٹنے کا کوئی راستہ نہیں رہے گا۔ اسے محسوس ہو رہا تھا کہ وہاں بیٹھے تمام لوگ اسی کے جواب کے شدت سے منتظر تھے۔ جب کہ وہ خود ٹیبل پر رکھے کرسٹل کے مجسموں پر نظر جمائے بیٹھا تھا۔ نو عمر لڑکے کا مجسمہ گھٹنوں کے بل بیٹھا سامنے کھڑی مسکراتی لڑکی کو انگوٹھی پہنا رہا تھا۔
    ”اتنا نہیں سوچتے جیف صاحب! اکثر بہت زیادہ سوچ بچار بھی نقصان کا باعث بنتی ہے۔” جب وہ بہت دیر تک خاموش رہا، تو مسٹر ڈیلی نے سمجھانے والے انداز میں اسے مخاطب کیا۔
    ”سچی اور پرخلوص محبت کو یوں بار بار ٹھکرا کر رسوا نہیں کرنا چاہیے۔ محبت صرف خوش قسمت انسانوں کے در پر یوں بار بار دستک دیتی ہے۔ محبت ایک ایسا شعلہ ہے کہ جیسی بھی ہوا چلے، کبھی مدھم نہیں ہوتا، ایسی آگ ہے جس کی تپش میں بدن جلتے ہیں تو روحیں مسکراتی ہیں۔ محبت ایسا پودا ہے جو تب بھی سرسبز رہتا ہے کہ جب موسم نہیں ہوتا۔ محبت ایک دریا کے مانند ہے۔ اگر بارشیں روٹھ بھی جائیں تو پانی کم نہیں ہوتا کہ یہ وہ سیلاب ہے جس کو دلوں کی بستیاں آواز دے کر خود بلاتی ہیں۔ ذات، روایات کی کسی بھی زنجیر کو محبت توڑ سکتی ہے کیوںکہ محبت ذات کی تکمیل کا نام ہے۔”

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • مور پنکھ کے دیس میں — حرا بتول (قسط نمبر ۳)

    مور پنکھ کے دیس میں — حرا بتول (قسط نمبر ۳)

    قلعہ اور اس سے منسلک باغات اتنے وسیع وعریض تھے کہ ایک ہی دن میں سب شوٹ کر لینا ممکن ہی نہیں تھا۔ سو ان کا یہاں کا دورہ تین سے چار دن پر مشتمل تھا۔ پہلے دن قلعے اور پتھر کی ویڈیو شوٹ کرنے کے بعد انہوں نے باقی کا کام کل پر اٹھا رکھنے کا ارادہ کر کے باقی جگہوں کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا تاکہ صحیح طور پر اندازہ لگا سکیں کہ اسکرپٹ میں کیا کیا اور کس طرح سے لکھا جائے گا۔ پھر ان چاروں نے سب کام پس پشت ڈال کر اسی انداز سے اس جگہ کی سیر کی جیسے وہ کام کے سلسلے میں نہیں بلکہ اپنی دوستی کی جھولی میں چند یادگار سکے ڈالنے آئے تھے۔ ”پوائزن گارڈن” میں جا کر انہوں نے ہنسی مذاق کے دوران کئی خطرناک اور مہلک پودوں کا جائزہ لیا جنہیں چھونے یا سونگھنے سے موت واقع ہو سکتی تھی۔ پیٹر کا مکمل ارادہ تھا کہ وہ ان میں سے ایک پودا اپنے پڑوسی کے لیے بطور تحفہ لے جائے جس کے آدھی رات کو اونچی آواز میں گانے سننے سے وہ عاجز تھا، مگر پھر جیف اور ڈینیل کی دھمکیوں نے اسے باز رکھا کہ کہیں وہ ائیرپورٹ پر پکڑا ہی نہ جائے۔
    پھر ”راک کلوز” کے حصے سے گزرتے ہوئے ایک پتھر پر کئی سکے رکھے ہوئے تھے اور ڈینیل نے بڑی مہارت سے چند سکے اپنی جیب میں منتقل کر لیے تھے۔ اس کا خیال تھا کہ کسی نے اسے نہیں دیکھا مگر آئرلینڈ کی جاسوس حسینہ اسے یہ کرتے ہوئے دیکھ چکی تھی۔
    ”ڈینیل تمہیں پتا ہے یہ سکے یہاں کیوں رکھے ہیں؟” مرم نے اسے کڑے تیوروں سمیت گھورتے ہوئے استفسار کیا۔
    ”میرے لیے، انہیں پتا تھا میں کتنا کنگال ہوں اور…” مگر وہ اپنی بونگی مکمل نہ کر سکا۔
    ”یہ سکے بلارنی کی وچ کو خوش کرنے کے لیے قیمت کے طور پر دیے جاتے ہیں۔”
    ”وچ؟ کون سی وچ؟” ڈینیل نے آنکھیں سکیڑ کر دائیں بائیں دیکھتے ہوئے پوچھا۔
    ”وہ جو یہاں اس پتھر میں قید ہے۔ تم نے چوری کی ہے نا اب دیکھنا وہ راتوں کو خواب میں آ کر تمہیں ڈرائے گی۔” اس نے ڈرامائی انداز میں بات مکمل کی۔ اس کی بات سن کر ڈینیل نے ڈرنے کی کامیاب اداکاری کی اور پھر ڈرتے ڈرتے ہی سکے واپس رکھ دیے۔پھر وہاں دیر تک کھڑا جناتی قہقہے لگاتا ”وچ” کو ڈراتا رہا تھا۔
    ”وشنگ سٹیپس” کے نزدیک سے گزرتے ہوئے پیٹر اور ڈینیل نے روایت کے مطابق آنکھیں بند کر کے الٹی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اپنی اپنی آرزوؤں کا اظہار بلارنی وچ کے سامنے کیا تھا۔ مرم ہیلز کی وجہ سے پہلے ہی منع کر چکی تھی۔ پھر ڈینیل اور پیٹر نے بہ مشکل جیف کو یہ رسم ادا کرنے پر آمادہ کیا اور جب اس نے چہرہ ان تینوں کی جانب کر کے آنکھیں بند کیں اور آہستہ آہستہ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے بلند آواز میں ” پلیز وچ آنٹی ڈینیل کو یہیں رکھ لیں تاکہ میری، پیٹر اور نینسی کی زندگی آسان ہو۔” دہرانا شروع کیا، تو پھر وہ تھا اور ڈینیل کے ”نازک” اور ”معصوم” گھونسے اور مکے۔
    ”کتنا خوب صورت اور مکمل منظر ہے نا۔” مرم ان تینوں کو ایک دوسرے سے لڑتے، جھگڑتے، ہنستے، کھیلتے دیکھتے ہوئے سوچ رہی تھی۔ ” تین بہترین دوست۔ زندگی سے اپنی دوستی کا خراج وصول کرتے ہوئے۔ اللہ اس دوستی کو ہمیشہ سلامت رکھے۔آمین اور صدا کا خاموش اور سنجیدہ ابراہیم بھی کتنا مختلف لگ رہا ہے آج۔ زندگی سے بھرپور قہقہے لگاتا ہوا،خوش اور سرشار۔” وہ اب بہ غور ہنستے ہوئے جیف کو دیکھ رہی تھی جو پیٹر کے ساتھ مل کر ڈینیل کو قابو کرنے کی کوشش میں لگا ہوا تھا۔ ”اللہ ان روشن آنکھوں میں، میں کبھی دکھ اور محرومی کی پرچھائیں دوبارہ نہ دیکھوں۔”

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    ”فرن گارڈن” میں آنکھوں کو ٹھنڈک اور تازگی بخشتا سبزہ اور چھوٹی بڑی ڈھلوانوں کے بیچ سے گزرتا بل کھاتا راستہ تھا۔
    ”یہاں کچھ دیر ٹھہریں؟” ایک خوب صورت سے لکڑی کے پل پر سے گزرتے ہوئے مرم نے سب کو متوجہ کیا۔ چشمے کے مانند بہتی آبشار، ندی کی صورت میں بلارنی جھیل میں گررہی تھی۔ صدا بہار درختوں اور سر سبز و شاداب پودوں میں گھری یہ جگہ مرم کو بہت مسحور کن محسوس ہو رہی تھی۔ بہتی آبشار کی دل کش و دل نشیں جلترنگ سنتی، وہ پانی کے قطروں کو محو رقصاں دیکھ رہی تھی۔ پھر آنکھیں بند کر کے اس نے پانی،گیلی مٹی اور سبزے کی ملی جلی خوشبو کو اپنے اندر اتارا۔ نہ جانے کتنے لمحے یوں ہی گزر گئے جب کلک کی آواز پر اس نے آنکھیں کھول کر اپنے بائیں جانب دیکھا۔ جیف ہاتھ میں پکڑے کیمرے کی اسکرین پر نظریں جمائے چند سیکنڈ قبل لی گئی تصویر کو جانچ رہا تھا۔ سیاہ جینز، گرے شرٹ اور سیاہ ویسٹ کوٹ میں اپنے رف اینڈ ٹف حلیے میں اس کا دراز قد اور بھی نمایاں لگ رہا تھا۔ وہ اس کی طرف متوجہ نہیں تھا بلکہ بے نیاز بنا مزید تصاویر کھینچنے لگا تھا۔
    ”تمہیں فوٹو گرافی سے کچھ زیادہ ہی دل چسپی نہیں ہے؟ جب بھی دیکھو تم ہاتھ میں کیمرا لیے یہاں سے وہاں گھوم رہے ہوتے ہو۔”
    ”ہاں مجھے جنون کی حد تک شوق ہے اس کا اسی لیے تم کہہ سکتی ہو کہ یہ میری ہابی ہے۔ میرے نزدیک فوٹوگرافی بھی ایک آرٹ ہے جس کی بنیاد گہرا مشاہدہ ہے۔ اہم یہ نہیں کہ آپ کیا دیکھ رہے ہیں بلکہ اہم یہ ہے کہ آپ کس زاویے سے دیکھ رہے ہیں۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ایک اچھا فوٹوگرافر تصاویر ”لیتا” نہیں بلکہ ”بناتا” ہے۔” اس شعبے سے متعلق اس کی معلومات خاصی وسیع معلوم ہو رہیں تھیں۔
    ”یہ آرٹ تم نے سیکھار بھی ہے یا بس ایک مہنگا کیمرا لے کر اپنی زور آزمائی شروع کر دی؟” اس بار اس کے لہجے میں شرارت چھپی تھی۔
    ”باقاعدہ ڈگری تو نہیں ہے، مگر فوٹو گرافی سے متعلق بہت سے کورسز کر رکھے ہیں میں نے۔” اس نے سنجیدگی سے جواب دیا۔
    ”کیا تم صرف ٹریول اور لینڈ سکیپ فوٹو گرافی کا شوق رکھتے ہو یا پھر غلطی سے انسانوں کی تصاویر بھی ”بنانے” میں دل چسپی ہے؟” ٹھنڈا، میٹھا طنز۔
    ”کبھی کبھار یہ غلطی سرزد ہو ہی جاتی ہے مجھ سے۔” ٹھنڈے، میٹھے طنز کا جواب ٹھنڈے میٹھے انداز میں ہی دیا گیا تھا۔
    ”ویسے ایک راز کی بات بتاؤں ؟ مجھے وہ لوگ انتہائی بے وقوف اور کم عقل لگتے ہیں جولاکھوں کے ڈی ایس ایل آر کیمرے سے بھی اپنی تصاویر ہی کھینچتے ہیں جو کام ایک فون کے کیمرے سے ہو سکتا ہے بھلا اس کے لیے اتنے پیسے ضائع کرنا بے وقوفی نہیں تو اور کیا ہے؟ اب اس جوڑے کو ہی دیکھ لو۔” اس نے نزدیک کھڑے کپل کی طرف اشارہ کیا۔
    ”اپنے ارد گرد کی تصاویر لینے کے بہ جائے وہ ہر ہر زاویے سے اپنی تصاویر ہی کھینچ رہے ہیں۔ ان کم عقلوں کو کوئی سمجھائے بھائی کہ اگر اپنی ہی تصویر لینی تھی تو اتنے پیسے خرچ کر کے یہاں آنے کی تک ہی کیا تھی۔ یہ کام گھر بیٹھ کر کرتے، کیوں کہ جیسی شکل یہاں آرہی ہے ویسی ہی اس قیمتی کیمرے میں وہاں بھی آتی۔” اس کے انداز پر مرم بے ساختہ ہنسی۔
    ”مجھے نہیں معلوم تھا کہ تم لوگوں کو پوائنٹ آؤٹ کر کے ایسی باتیں بھی کر سکتے ہو۔” اپنی ہنسی پر قابو پا کر اس نے حیرت کا اظہار کیا۔ اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ مرم مسلسل اسے ہی دیکھتی رہی۔ بالآخر سوچ بچار کے بعد ایک نتیجے پر پہنچتے ہوئے اس نے جیف سے اپنے اور اس کے متعلق کھل کر گفتگو کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے خیال میں یہ حسین جادو نگری ہی وہ بہترین جگہ تھی جہاں ان کے حسین مستقبل کو ترتیب دیا جانا چاہیے تھا۔ اس نے ایک نظر مڑ کر پیٹر اور ڈینیل کو دیکھا جو اپنے اپنے موبائل کان سے لگائے محو گفتگو تھے۔
    ”ابراہیم پھر تم کب چل رہے ہو موری اور ددا سے ملنے؟” اپنے کام میں مگن جیف نے کچھ چونک کر کیمرا چہرے سے ہٹا کر اسے دیکھا پھر دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔ ایک اور کلک کی آواز۔
    ”دیکھو اگر موقع ملا ٹور کے بعد تو کوشش کروں گا۔” اس نے سرسری انداز میں مبہم سا جواب دیا۔
    ”کیا مطلب ہے کوشش کروں گا؟ ظاہر ہے تمہیں ملنا تو ہے ہی۔” مرم نے ناسمجھی سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
    ”کہیں تم اب پھر پہلے کی طرح زبردستی ان سے ملانے پر قائل تو نہیں کرنے والی؟ جس طرح تم نے آئر لینڈ گھومنے پر ہمیں آمادہ کیا تھا؟” جیف نے اس بار مسکراتے ہوئے مصنوعی حیرت سے پوچھا۔
    ”میں چاہتی ہوں مجھے تمہیں اس بار فورس نہ کرنا پڑے بلکہ تم خود اپنی مرضی سے وہاں جاؤ اور…” اس نے بات ادھوری چھوڑدی۔
    ”اور؟” وہ اب مکمل طور پر اس کی طرف متوجہ تھا۔
    ”اور…” وہ جھجکی۔
    ”اور ہمارے متعلق بات کرو۔” بات کے اختتام پر وہ کھل کر مسکرائی اور اس کی روشن آنکھیں بھی اس کے لبوں کا ساتھ دے رہیں تھیں۔
    ”بات؟ کون سی بات؟”’وہ اب تک ناسمجھی سے کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔
    ”جیف ایسا کیوں بول رہے ہو؟ تم جانتے ہو میں کیا بات کر رہی ہوں۔” وہ اب بھی پر اعتماد دکھائی دے رہی تھی۔
    ”نہیں میں نہیں جانتا۔ وضاحت کرو۔” اب اس کے لہجے میں معمولی سی تلخی شامل تھی۔
    ”جب تک تم ان سے ملو گے نہیں تب تک کیسے بات آگے بڑھے گی ہماری شادی کی۔” اس بار وہ بھی سنجیدہ ہو چکی تھی۔
    ”واٹ؟ شادی؟ ہماری؟ تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے؟” وہ حیرت کی زیادتی سے چلا اٹھا۔
    ”تم پاگل ہو کیا؟ کب میں نے تمہیں کہا کہ مجھے شادی کرنی ہے تم سے؟ میرے کون سے عمل، کون سی بات سے تمہیں یہ لگا کہ مجھے تم میں دل چسپی ہے؟ ذرا سی دوستی اور ہنسی مذاق کو نہ جانے تم نے کیا سمجھ لیا۔” وہ سر جھٹک کر تلخی سے بڑبڑایا۔ جیف کو یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ ایسا بھی کچھ سوچ سکتی ہے۔ وہ اسے خاصی سمجھ دار اور عقل مند لڑکی سمجھا تھا۔ باقیوں سے قدرے مختلف اس قسم کی جذباتی حرکت کا اسے بالکل اندازہ نہیں تھا۔
    مرم پھٹی پھٹی آنکھوںسے اسے دیکھ رہی تھی۔ اسے اپنی سماعتوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔ سامنے کھڑا شخص اسے دنیا کا جھوٹا اور بے حس ترین انسان لگ رہا تھا۔
    ”کون سا عمل؟ بتاؤں تمہیں کون سا عمل؟” وہ اونچی آواز میں چلائی۔ ذرا فاصلے پر کھڑے پیٹر اور ڈینیل اب حیرت سے ان دونوں کی طرف دیکھ رہے تھے۔
    ”اگر دل چسپی نہیں تھی مجھ میں تو یہ کیوں دی مجھے؟ بولو۔” وہ غصے اور ہتک کے احساس سے پاگل ہو رہی تھی۔ اس نے اپنا دایاں ہاتھ اٹھا کر اس کے چہرے کے بالکل نزدیک کیا۔
    ”کیوں دی یہ رنگ مجھے؟ جواب دو؟ صرف میرے جذبات سے کھیلنے کے لیے۔ تم…تم۔” اس کے دماغ میں چلتے جھکڑ اسے کچھ بھی سوچنے سمجھنے سے محروم کر چکے تھے۔
    انگوٹھی پر نظر پڑتے ہی اگلے لمحے جیف کی حیرانی ختم ہو گئی، انگوٹھی؟ اس کے نظروں کے سامنے دنیا گھومنے لگی۔ وہ کچھ بھی بولنے کے قابل نہیں رہا تھا۔ یہ کیا کر دیا اس نے؟ کتنی بڑی بے وقوفی کی جو یہ دیکھنے کی زحمت بھی نہیں کی کہ وہ دے کیا رہا ہے۔ وہ لڑکی اسے بتانا بھی چاہتی تھی، مگر اس نے ڈپٹ کر اسے خاموش کرا دیا۔ اوہ میرے اللہ یہ کیا ہو گیا مجھ سے؟ کیا کیا نہ سوچا ہو گا اس نے؟ کتنی آگے پہنچ چکی ہے یہ؟ اس انگوٹھی کا مطلب اس نے وہی لیا جو عموماً لیا جاتا ہے۔ آج اسے پیٹر اور ڈینیل کی محظوظ کن پراسرار مسکراہٹ کی وجہ سمجھ آئی تھی جب مرم نے انہیں اس کا دیا تحفہ دکھایا تھا۔ تب بھی وہ نہ دیکھ پایا کہ کیا ہے اس ڈبے میں۔ دیکھنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔ اس وقت تو بس اس لڑکی پر غصہ تھا اسے سو۔
    ”اب کیوں خاموش ہو بولو؟ جواب دو؟” اس کی سوچوں سے ناواقف وہ مسلسل چلا رہی تھی۔ ڈینیل آگے بڑھنا چاہتا تھا، مگر پیٹر نے اسے اشارے سے خاموش رہنے کا کہا تاکہ یہ معاملہ کسی انجام کو تو پہنچے، چاہے برا ہی صحیح۔
    ”یہی رنگ کیوں دی مجھے؟ جانتے ہو اس کا مطلب کیا ہے؟ ان ہاتھوں کا؟ اس دل کا؟ اس تاج کا؟” اس کے ایک مرتبہ پھر مخاطب کرنے پروہ چونک کر مرم کی طرف متوجہ ہوا۔ وہ اب تک ہاتھ اس کے چہرے کے قریب کیے ہوئے تھی۔ اس کی بات سمجھ آتے ہی جیف کی نظریں انگوٹھی پر جم سی گئیں۔ اس نے اب غور کیا کہ وہ کس طرح کی انگوٹھی تھی۔ اب وضاحت کرنا ضروری ہو گیا تھا۔
    ”دیکھو یہ صرف تمہاری سالگرہ کا تحفہ تھا۔ مجھے لگا تمہیں یہ پسند آئی ہے تو بس اسی لیے دے دی۔ باقی اور کوئی مطلب نہیں تھا۔ یہ صرف ایک انگوٹھی ہی تو ہے۔” اس کا انداز معذرت خواہانہ ضرور تھا، مگر اس میں بے پروائی اور بے حسی کا تاثر جھلک رہا تھا۔ جیسے کوئی سنگین غلطی کر کے بغیر شرمندگی کے سوری بول دیا جائے۔ یوں ہی سرسری سا سوری کہ اب یہی ہے کہنے کو میرے پاس تو اسے ہی قبول کرنا ہوگا تمہیں۔ اس انداز پر مرم کا چہرہ دھواں دھواں ہوگیا۔
    ”صرف انگوٹھی؟” وہ رو دینے کو تھی۔ اسے اس کی بے حسی پر غصے کے بجائے اب دکھ ہو رہا تھا۔
    ”یہ صرف انگوٹھی نہیں ہے جیف ابراہیم… یہاں کے کلچر میں یہ انگوٹھی کوئی لڑکا ایک لڑکی کو اسی وقت دیتا ہے جب وہ اس سے شادی کرنا چاہتا ہو۔” وہ اب بھی تیز اور ترش لہجے میں بول رہی تھی۔
    ”ان ہاتھوں کا مطلب یقین، دوستی اور ساتھ ہے، عمر بھر کا ساتھ اور اس تاج کا مطلب وفاداری ہے اور…اور اس دل کا مطلب۔آہ چھوڑو تم کیا سمجھو گے۔” طنزیہ لب و لہجے میں کہتی وہ اب ہاتھ نیچے کر چکی تھی۔ شدت ضبط کے باعث اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا اور ہونٹ بھینچے ہوئے تھے۔ بالآخر ضبط کا دامن چھوٹا اور ایک ننھا سا قطرہ گالوں پر سے پھسلتا چلا گیا۔ ان دونوں میں سے کسی کے پاس کہنے کو کچھ بھی نہیں بچا تھا۔
    مرم نے بے دردی سے اپنی آنکھیں رگڑیں۔
    ”مجھے تمہاری اس عنایت کی کوئی ضرورت نہیں۔ تم جیسا بے حس شخص میرے سچے جذبوں کے قابل ہی نہیں تھا۔” انگوٹھی اتار کر اس کی طرف اچھالی گئی اور پھر وہ تیزی سے وہاں سے نکل گئی۔ آبشار کی صورت گرتا پانی اب بین کرتا معلوم ہو رہا تھا۔
    ٭…٭…٭
    ”تم جیسا بے حس شخص میرے سچے جذبوں کے قابل ہی نہیں تھا۔” تلخی بھرا لہجہ ایک بار پھر اس کی سماعت میں گونجا۔ کی پیڈ پر تیزی سے چلتے اس کے ہاتھ ایک بار پھر ساکت ہوئے تھے۔ ایک بار پھر کرب اور اذیت سے اس نے آنکھیں میچ لیں۔
    ”گاڈ میں کیا کروں کے یہ جملہ میرا پیچھا چھوڑ دے۔ ”اِس نے اپنے بالوں کو جکڑتے ہوئے بے بسی سے سوچا۔
    ”وہ کیا جانے کہ میں نے اسے وہی لوٹایا جو مجھے ہمیشہ دوسروں سے ملتا رہا۔ وہ کیا جانے کہ جو چیز ساری زندگی سمیٹی ہے میں نے، وہی آگے منتقل کروں گا نا میں۔ اسے کیا معلوم یہ بے حسی مجھے ورثے میں ملی ہے۔ میری رگ رگ میں یہی ایک جذبہ تو پوری طرح سے سمایا ہوا ہے۔ پر وہ کیا جانے۔” تھکی تھکی سی سانس فضا کے سپرد کر کے وہ صوفے پر ہی نیم دراز ہو گیا۔
    ”کہتی ہے شادی کرنی ہے تم سے، میرے بزرگوں سے ملو۔ جیسے مجھے اِدراک ہی نہیں کہ مجھ جیسے کو پہلی نظر دیکھنے پر ان کا ردعمل کیا ہو گا؟ ایک بار پھر مسترد ہونے کی ذلت نہیں اٹھا سکتا میں۔ اب اپنا تماشا بنوانے کا حوصلہ نہیں مجھ میں۔اس کے سر پر جو محبت کا بھوت سوار ہے وہ اسی لمحے اتر جائے گا جس وقت لوگ پہلا طنز اور تمسخر بھرا نشتر اس کی جانب پھینکیں گے۔میں تو شاید اپنی اسی خوبی (بے حسی) کی وجہ سے برداشت کر جاؤں، مگر وہ نہیں سہ پائے گی۔ تب عمر بھر کا ساتھ، وفاداری اور وہ دل، اس کا مطلب… جو میں جانتا تو ہوں پر سمجھنا نہیں چاہتا۔ سب ایک پل میں ختم ہو جائے گا جس چیز کو وہ آج میرے پیروں کی بیڑیاں بنانا چاہتی ہے کل وہی پیروں کی دھول بن جائے گی۔ ہاں میں جانتا ہوں ایسا ہی ہو گا، تو پھر کیوں میں…” اس کی سوچوں کو اسی لمحے تھمنا پڑا۔ کوئی مستقل بیل پر ہاتھ رکھے کھڑا تھا ۔ وقفے وقفے سے دروازہ بھی بجایا جا رہا تھا۔ ناجانے کون ایسا بے صبرا تھا ۔ اس نے اٹھ کر دروازہ کھولا۔
    ”اوہ ڈین تم۔ مجھے لگا پتا نہیں کون ہے۔ اتنے جنگلی کیوں بن رہے ہو تم لوگ؟ ”
    ”بتاؤں کیوں؟ کیوں کہ آج میں تم سے تمہاری زبان میں بات کرنے آیا ہوں۔” ڈینیل کے ترش لہجے میں غصہ نمایاں تھا۔
    ”ڈینیل آرام سے۔” پیٹر نے اسے پرسکون رہنے کو کہا۔
    ”کیوں رہوں میں پرسکون؟ اس سب کے بعد بھی جو اس نے آج کیا ہے؟ کیا چاہتا ہے یہ ؟ کیوں اپنا ہی دشمن بنا ہوا ہے یہ ؟” بالآخر وہ پھٹ پڑا۔
    ”آج چاہے ہماری دوستی کا آخری دن ہو، مگر آج میں کھل کر بات کروں گا۔ پھر چاہے زندگی بھر یہ میری شکل نہ دیکھے۔پھر مجھے افسوس نہیں ہو گا کہ میں نے اپنے دوست کو کنویں میں گرنے سے روکا نہیں۔” پیٹر نے اس کی تائید میں سر ہلایا جب کہ وہ گم صم کھڑا ڈینیل کو تک رہا تھا۔
    ”مجھے بتاؤ تم اپنے ہی دشمن کیوں ہو ؟ کیوں تم سے برداشت نہیں ہو رہی اپنی زندگی کی واحد خوشی؟ کیوں کیا اس کے ساتھ ایسا؟ کیا تم ابنارمل ہو جیف جو اپنی جانب بڑھنے والی ہر خوشی، ہر سکھ کو روک دیتے ہو؟کیا سمایا ہوا ہے تمہارے دماغ میں بتاؤ مجھے؟ کیوں اپنے ماضی کی وجہ سے اپنا مستقبل تباہ کر رہے ہو تم؟ کیوں سینے سے لگا رکھا ہے تم نے اپنے ماضی کی تلخ یادوں کو؟”
    ”تم،تم…کیسے جانتے ہو سب؟ تمہاری یہ جرأت؟ کس نے تمہیں حق دیا کہ تم میرے ماضی کو کھوجو؟ اس کے حوالے سے کوئی بات کرو مجھ سے؟” وہ جو شروع میں سب کچھ خاموشی سے سن رہا تھا اچانک ماضی کا ذکر آنے پر چلا اٹھا۔
    ”ہاں مجھے حق ہے کیوں کہ میں خود کو تمہارا دوست کہتا نہیں بلکہ مانتا بھی ہوں۔ اسی لیے حق رکھتا ہوں تم سے اس حوالے سے بات کرنے کا۔” ڈینیل نے خود اعتمادی سے جواب دیا۔ اس کی اس بات پر جیف لب بھینچ گیا۔
    ”دیکھو جیف ہم صرف تمہارا بھلا چاہتے ہیں۔ وہ بہت اچھی لڑکی ہے۔اس کا ہاتھ تھام لو۔مجھے یقین ہے وہ تمہیں سنبھال لے گی۔” اس بار پیٹر نے اسے رسان سے سمجھانا چاہا تھا۔
    ”مجھے کسی کی ضرورت نہیں۔” اس نے تلخی سے جتایا۔
    ”وہ اچھی لڑکی ہے میں جانتا ہوں، مگر میں اچھا نہیں سو یہ بحث یہیں ختم کرو ورنہ…”
    ”ورنہ کیا ہاں؟ کیا کرو گے؟ ہم سے دوستی ختم کر لو گے؟ سب چھوڑ کر چلے جاؤ گے؟ یا پھر اس کے پاس جا کر اسے بے عزت کرو گے دوبارہ؟” ڈینیل نے تیز لہجے میں کہا۔
    ” نہیں میں خود کو ختم کر لوں گا۔” اس کے سپاٹ لہجے میں چٹانوں کی سی سختی تھی۔ جیسے وہ جو کہہ رہا تھا سو فیصد وہی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو۔ وہ دونوں پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس کے بے تاثر چہرے کو دیکھنے لگے
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • مور پنکھ کے دیس میں — حرا بتول (قسط نمبر ۲)

    مور پنکھ کے دیس میں — حرا بتول (قسط نمبر ۲)

    اگلے روز وہ چاروں تاریخی کیٹ کیارنی(kate kearney) کاٹیج کیفے کی کھلی فضا میں لنچ کے لیے بیٹھے تھے۔
    ”جلدی جلدی بتا کیا آرڈر کرنا ہے؟ ہمیں گھنٹے کے اندر اندر نکلنا ہے یہاں سے آگے کے لیے۔” پیٹر نے مینو دیکھتے ہوئے سب ہی کو مخاطب کیا۔ ویٹر مستعدی سے کھڑا آرڈر کا انتظار کر رہا تھا۔
    ”میں صرف مشروم سوپ لوں گی۔” مرم نے کارڈ پر نظر دوڑاتے ہوئے بتایا۔
    ”اوکے اور تم جیف ہمیشہ کی طرح بینز، مکئی اور سبزیوں کی سلاد ہی نوش فرماؤ گے۔” ڈینیل نے پوچھا تو جیف نے سنجیدگی سے سر ہلا کر اپنی مطلوبہ ڈش کا نام ویٹر کو بتایا۔ پھر کھانا آنے تک وہ یہاں کی جگہوں پر تبصرہ کرتے رہے۔
    ”ویسے مرم یہ جو کل کاٹجِز ہم نے دیکھے تھے تمہارے خیال میں کتنے کے ہوں گے؟ میں سوچ رہا ہوں کہ نینسی کو شادی کے گفٹ کے طور پر انہیں میں سے کوئی دے دوں۔ تمہاری طرح اسے بھی اس قسم کے بچگانہ رومانوی کاٹیج بہت پسند ہیں۔” ڈینیل نے شرارتی لہجے میں دریافت کیا، تو مرم نے اسے آنکھیں سکیڑ کر تیز نظروں سے گھورا۔ وہ اچھی طرح سمجھ گئی تھی کہ ڈینیل اس کی کہی بات کا مذاق اڑا رہا ہے۔
    ”ہاں پھر ہنی مون کے لیے تم دونوں یہیں آجانا۔ آئیڈیل جگہ ہے یہ اس طرح کے ٹرپ کے لیے۔” یہ پیٹر کا مشورہ تھا۔
    ”مجھ سے زیادہ نینسی کو اس جگہ میں دل چسپی ہو گی سو میں تو کبھی اسے یہاں نہ لاؤں۔” وہ تو ویسے بھی دیوانی ہے قدرتی نظارے دیکھنے کی۔ میں نے جب اسے یہاں کیلارنی آنے کا بتایا تو اسے افسوس ہوا کہ میری آفر کے باوجود وہ یہاں کیوں نہیں آئی میرے ساتھ۔ ”
    ”ہاں تو پھر یہاں گھر خریدنے کا فائدہ؟ ویسے بھی وہ سب بکنے کے لیے نہیں ہیں۔” مرم نے وثوق سے بتایا۔
    ”سب بک جاتا ہے اگر دام اچھا ملیں تو۔” ڈینیل نے بھی اسی کے انداز میں جتایا۔ ویٹر اب کھانا لگا رہا تھا اس لیے مرم قصداً خاموش رہی اس کے جانے تک۔
    ”یہاں کے لوگ لالچی نہیں ہیں بلکہ بہت قناعت پسند اور اپنے بازوؤں پر بھروسا کرنے والے ہیں۔ یہ کاٹیج یہاں کے لوگوں کے قدیم اثاثے ہیں جو ان کے آباء و اجداد کی طرف سے انہیں ملے ہیں۔ وہ کبھی انہیں نہیں بچیں گے۔” مرم نے ابرو اچکا کر ڈینیل کی طرف دیکھا۔ بڑی مشکلوں سے اس نے کوئی سخت لفظ استعمال کرنے سے خود کو روکا تھا۔ اپنے ملک اور قوم کے متعلق کوئی ایک بھی غلط لفظ وہ برداشت نہیں کرتی تھی بالخصوص کسی غیر ملکی کے منہ سے۔ ایک دو مرتبہ غلطی سے ڈینیل کے منہ سے کسی جگہ کے متعلق ”بس ایویں” اور ”فضول” جیسے الفاظ نکل گئے تھے۔ بس پھر مرم تھی اور اپنے ملک کے دفاع میں بولی جانے والی اس کی تاریخی تقریر تھی۔اپنے ملک کے لیے وہ لڑنے مرنے کو ہر وقت تیار رہتی تھی۔ وہ تینوں ہی اس کی اس عادت کو احترام کی نگاہ سے دیکھتے اور بہت متاثر بھی تھے، مگر ڈینیل کبھی کبھی شرارت میں اسے کوئی نا کوئی بات کر دیتا، تو اس کا غصہ دیکھنے والا ہوتا۔ ورنہ بہت ہی کم وہ غصے میں آتی تھی۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    ”یار پلیز تم لوگ زبانیں کم اور ہاتھ زیادہ چلاؤ۔ وہ بگھی کا مالک وہاں کھڑا ہمیں گھور رہا ہے۔ اس نے آدھے گھنٹے رکنے کا کہا تھا یہاں اور اب ڈیڑھ گھنٹا ہونے والا ہے۔ ہمیں آگے بھی جانا ہے سو ذرا جلدی کرو دس منٹ کے اندر اندر نکلو یہاں سے۔” لمبی بحث چھڑتی دیکھ کر پیٹر نے انہیں تنبیہ کی تو وہ سب اپنی اپنی پلیٹوں کی طرف متوجہ ہو گئے۔
    ”تم لوگ بیٹھو میں آتی ہوں ابھی۔” اپنا سوپ جلدی جلدی ختم کر کے مرم نے بنچ پر سے اٹھتے ہوئے کہا۔
    ”تم پھر کہیں غائب ہو رہی ہو؟ مجھے سمجھ نہیں آتی تم جاتی کہاں ہو؟ ہم جہاں بھی گئے اب تک وہاں بھی تم ایسے ہی کچھ دیر کے لیے گم ہو جاتی ہو، چکر کیا ہے آخر یہ؟” ڈینیل نے اسے اٹھتے دیکھا، تو کہے بنا نہ رہ سکا۔ وہ ٹھیک ہی کہہ رہا تھا، اس دن غار میں بھی وہ ”ابھی آئی” کہہ کر نہ جانے کہاں چلی گئی تھی اور آج بھی بنا کچھ وضاحت کے کہیں جا رہی تھی۔
    ”میری فطرت میں بھی رازداری ہے۔” ڈینیل کو اسی کی کہی بات لوٹا کر وہ چلی گئی۔
    ”اس لڑکی کی حرکتیں کبھی کبھی مجھے مشکوک لگتیں ہیں۔” ڈینیل نے جیف اور پیٹر کی توجہ اس گمبھیر مسئلے کی طرف دلانا چاہی۔
    ”چھوڑو یار ہمیں کیا گئی ہو گی کسی کام سے۔ ہو سکتا ہے واش روم میں جا کر اپنا میک اپ وغیرہ ٹھیک کرتی ہو۔” پیٹر جو کہ اپنے موبائل میں مگن تھا سرسری انداز میں بولا۔
    ”میک اپ ؟ کون سا میک اپ؟ آج تک لپ اسٹک تک تو لگی دیکھی نہیں میں نے۔ ہمیشہ سادہ ہی رہتی ہے۔ ٹام بوائے قسم کی لڑکی ہے یہ۔ میں شرطیہ کہہ سکتا ہوں کہ اس طرح کے کاموں میں اس کی دل چسپی صفر ہو گی۔”
    ”ڈینیل بس بھی کر دو یار۔ اتنا کیوں کرید رہے ہو ہمیں کیا؟” جیف نے اسے ٹوکا۔
    ”یار جیف ہو سکتا ہے کہ وہ کوئی جاسوسی ایجنٹ ہو اور اب رپورٹ دینے گئی ہو اپنے باس کو۔” ڈینیل دور کی کوڑی لایا۔
    ”ہاں یہ بتائے گی نا کہ مشہور ترین ہستی ڈینیل دی گریٹ کیمرا مین نے آج فلاں فلاں بونگیاں ماریں اور کھانے میں سالم مچھلی ہڑپ کی۔” جیف نے ہنستے ہوئے اس کی بات کا جواب دیا۔
    ”یار جا کر دیکھو تو سہی کہ کہاں گئی ہے اور جا کر بات بھی کر لو اس سے۔” ڈینیل نے آنکھوں کے اشارے سے اسے یاد دلانا چاہا کہ اس نے اب تک سوری نہیں بولا تھا مرم کو۔
    ”تم ایک انتہائی فضول شخصیت ہو۔” اس کے بار بار کے اشاروں پر جیف بڑبڑاتا ہوا اٹھ گیا۔”
    ”کیا ہوا وہ معاملہ اب تک سلجھا نہیں۔” جیف کے جانے کے بعد پیٹر نے استفسار کیا تو ڈینیل مسکرایا۔
    ”فکر نہ کرو سلجھ جائے گا۔ مجھے لگتا ہے یہ کہانی نیا موڑ لینے والی ہے۔” اس نے پر سوچ انداز میں کہا۔
    ٭…٭…٭
    جیف اسے ڈھونڈتا ہوا پہلے کیفے کے اندر گیا۔ وہاں ہال نما دو کمرے تھے۔ ایک میں ریستوران بنا تھا اور دوسرا بار کے لیے مخصوص تھا۔ سامنے ریستوران میں تو وہ اسے نظر نہیں آئی اور بار میں دیکھنے کا اس کا کوئی ارادہ نہیں تھا کیوں کہ اب تک اس نے مرم کے کردار میں کوئی جھول نہیں دیکھا تھا۔ اسے یقین تھا وہ ایسا کوئی شوق نہیں رکھتی ورنہ ایک دو مرتبہ جب پیٹر اور ڈینیل بار گئے تھے، تو وہ بھی کبھی چلی ہی جاتی ان کے ساتھ۔ پھر وہ کیفے کے پچھلے دروازے کی طرف بڑھ گیا جو ایک چھوٹے سے لان میں کھلتا تھا۔
    وہاں اس وقت مکمل خاموشی اور ویرانی تھی۔ ابھی وہ واپسی کے لیے پلٹ ہی رہا تھا کہ اسے اپنے پیچھے موجود گھنے سدا بہار درخت میں سرسراہٹ سی محسوس ہوئی۔ اسے لگا کہ وہاں کوئی کھڑا ہے۔ کچھ سوچ کر وہ درخت کی جانب بڑھنے لگا۔ یہ ایک قدیم سدا بہار درخت تھا جس کا تنا کافی چوڑا اور کئی فٹ لمبا تھا۔ اس درخت کی گھنی شاخوں نے آدھے لان کا احاطہ کیا ہوا تھا۔ وہ اب درخت کے نزدیک پہنچ گیا۔ اسے پھر سے اس درخت کے پیچھے سرسراہٹ محسوس ہوئی۔ یقینا وہاں کوئی موجود تھا۔
    پھر ایک قدم بڑھ کر اس نے درخت کے تنے پر ہاتھ رکھا اور پیچھے جھانکا۔ وہ یک دم چونک گیا اور بے یقینی اور حیرت سے سامنے دیکھتا رہا۔ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ وہاں یہ منظر دیکھنے والا ہے۔ وہ بلاشبہ مرم ہی تھی۔ اس کی لانگ اسکرٹ جو وہ بہت مرتبہ اسے پہنے نوٹ کر چکا تھا۔ شک کی کوئی گنجائش ہی نہیں تھی اور وہ جس انداز میں وہاں موجود تھی اور جو کر رہی تھی۔وہ بے یقینی سے اسے سجدے کے انداز میں جھکا دیکھ رہا تھا۔ پیشانی کو ایک سفید رومال پر سجدے کے انداز میں رکھے وہ دنیا سے بے خبر نہ جانے کیا کرنے میں مصروف تھی۔ وہ درخت کے متوازی، جنوب مشرق کے رخ میں تھی اور اس انداز میں بیٹھی تھی کہ چوڑے درخت نے اسے مکمل طور پر چھپا لیا تھا۔
    ”یہ کیا کر رہی ہے۔” پہلا خیال اس کے ذہن میں یہی آیا تھا۔
    ”پتا نہیں اس کے مذہب میں سجدے جیسی کوئی عبادت تھی بھی یا نہیں، مگر اس کا مذہب کون سا ہے؟”اور اپنے ہی اندر سے جو جواب ملا اس پر وہ ایک بار پھر چونک گیا۔
    ”مگر میں تو سمجھا تھا کہ اس ملک کے نوے فیصد لوگوں کی طرح یہ بھی تین خداؤں پر ایمان رکھتی ہے۔تو پھر یہ چرچ کے بہ جائے یہاں کیا کر رہی ہے؟ مگر اس وقت کون سی نماز کا وقت ہے؟ تو کیا اس درخت کو،مگر نہیں اس کا رخ تو…” وہ الجھا الجھا سا کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔ مرم اب سجدے سے اٹھ رہی تھی اس لیے وہ تیزی سے پیچھے ہٹا۔ پھر پیشانی مسلتے ہوئے کچھ سوچ کر واپس کیفے کے دروازے کی طرف چل پڑا۔
    ٭…٭…٭
    مئی کے وسط کی اس بھیگی دوپہر میں انہوں نے درہ ڈنلوہ(gap of dounloe) اور کیلارنی کی پرکشش جھیلوں کی طرف اپنا سفر شروع کیا تھا۔ یہ درہ دراصل آئر لینڈ کے دو مشہور پہاڑی سلسلوں کے درمیان گہرا ، خطرناک اور تنگ کئی سو سالہ قدیم راستہ تھا۔ سات میل لمبے،بل کھاتے اس راستے میں آنکھوں کو خیرہ کرتے کئی قدرتی مناظر تھے۔کہیں بلند و بالا پہاڑ اور گہری کھائیاں۔ کہیں بہتی ندیوں کا شفاف پانی، کہیں سرسبز وادیاں اور چراگاہیں، تو کہیں پہاڑوں کے بیچ و بیچ بنی خوبصورت جھیلیں۔
    ڈینیل نے ضروری بات کا بہانہ کر کے پیٹر کو اپنے ساتھ بیٹھا لیا، تو مجبوراً ان دونوں کو ایک ہی بگھی میں بیٹھنا پڑا۔ مرم غصے میں کھولتی ان حسین مناظر کو ٹھیک سے انجوائے بھی نہیں کر پا رہی تھی جب کہ جیف اپنے اندرونی خلفشار کا شکار، کھویا کھویا سا بیٹھا تھا۔ ارد گرد کے مناظر، ماضی کے جھروکوں سے بہت سے مناظر چرا کر اس کے ذہن کے کینوس پر ان کا عکس دکھا رہے تھے۔
    بہت دیر تک یوں ہی گم صم بیٹھنے کے بعد بالآخر اس نے سر جھٹک کر ماضی سے پیچھا چھڑایا اور گردن موڑ کر اپنے برابر خاموش بیٹھی مرم کو دیکھا جو چہرہ دوسری جانب موڑے ہوئے تھی۔
    ”مجھے معاف کر دو مرم اس دن کے لیے۔ میں نے بہت غلط باتیں کہیں تھیں تم سے۔ اس کے لیے میں واقعی شرمندہ ہوں۔” اس کی آواز پر چونک کر مرم نے اسے دیکھا پھر سر جھٹک کر دوبارہ منہ موڑ لیا۔
    ”مجھے ندامت کا احساس اسی وقت شروع ہو گیا تھا جب میں غار سے باہر آیا، مگر یہ احساس افسوس اور شرمندگی میں اس وقت تبدیل ہوا جب ڈینیل نے مجھے تمہارے جانے کے بارے میں بتایا۔ آئی ایم ایکسٹریملی سوری فار ایوری تھنگ۔” اس کے دھیمے، گمبھیر لہجے میں ندامت اور شرمندگی صا ف محسوس ہورہی تھی۔ اس کی بات سن کر مرم غصے سے پھٹ پڑی۔ اپنی توہین اور ہتک کا احساس ایک بار پھر حاوی ہوا۔
    ”تم مشہور ہو اور چند لوگ تمہارا شو دیکھتے ہیں اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ تم کوئی بہت ہی توپ چیز ہو۔ سلیبرٹی ہو گے تم اپنے ملک میں۔ یہاں کوئی تمہیں نہیں پہچانتا۔ سیڑھی…ہونہہ۔” وہ لب بھینچ کر چپ ہو گئی ورنہ دل تو کر رہا تھا اسے خوب ٹھیک ٹھاک سنائے۔
    ”مجھے اندازہ ہے میرے الفاظ بہت سخت تھے۔ مجھے معاف کر دو۔” وہ دل سے شرمندہ تھا تبھی اس نے مرم کے لہجے اور الفاظ کو درگزر کیا تھا۔
    ”اٹس اوکے۔” گہری سانس لے کر اس نے اپنے غصے پر قابو پایا اور سر جھٹک کر گویا ہوئی۔
    ”مگر ایک بات میں ضرور کہنا چاہوں گی کہ میں اپنی فطرت کے ہاتھوں مجبور ہو کر تم سے دوستی اور بات کرنے کی کوشش کیا کرتی تھی۔ ورنہ اور کوئی مقصد نہیں چھپا تھا اس بے تکلفی کے پیچھے۔ اس رات تم نے میری جان بچائی بس یہی سوچ کر میں نے دوستانہ رویہ اپنانا چاہا جسے تم نے نہ جانے کیا سمجھا۔ میری کوئی بات تمہیں بری لگی اس کے لیے میں بھی معذرت خواہ ہوں۔ ” مرم نے سنجیدگی سے سامنے دیکھتے ہوئے وضاحت کی۔ وہ فطرتاً صلح جو اور ملنسار لڑکی تھی۔ دل میں بغض اور عناد رکھنا اسے آتا ہی نہیں تھا۔غصے میں اپنی بھڑاس نکال کر وہ سب بھول بھال جاتی تھی۔ اس لیے ایک مرتبہ کی معافی پر اس نے بھی اپنا دل صاف کر لیا۔
    ”نہیں تمہیں معافی مانگنے کی ضرورت نہیں بس یہ بتا ؤکہ اب تم واپس تو نہیں جا رہی نا۔” جیف اس کا تبدیل شدہ فیصلہ اس کے منہ سے سننا چاہتا تھا۔
    ”نہیں واپس تو میں جا ہی رہی ہوں آج کے ٹرپ کے بعد۔” مرم نے گہری سانس لیتے ہوئے بتایا، تو جیف حیران ہوا۔
    ”مگر کیوں ؟ تم میری وجہ سے جا رہی تھی نا؟ تو ابھی میں نے معافی مانگی جو تم نے قبول بھی کر لی؟ پھر اب کیوں؟” اُس نے اچنبھے سے پوچھا۔
    ”بس مجھے ددا اور موری یاد آ رہے ہیں۔ مجھے ان سے ملنے جانا ہے اور پھر یہ تم تینوں دوستوں کا ٹرپ ہے۔ اس میں، میں نہ جانے کیا کر رہی ہوں۔”
    ”تم ہماری گائیڈ اور دوست کے فرائض بھی انجام دے رہی ہو۔” جیف نے اس بار مسکراتے ہوئے کہا۔
    ”گائیڈ تک تو ٹھیک ہے، مگر دوستی کا پتا نہیں۔” مرم نے پھیکی سی مسکراہٹ سے کہا، تو جیف سوچ میں پڑ گیا۔ کچھ لمحے خاموش رہنے کے بعد دوبارہ گویا ہوا۔
    ”کیا ہم اچھے دوست بن سکتے ہیں؟” لہجہ نارمل بناتے ہوئے اس نے مرم کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ مرم نا سمجھی سے کبھی اسے اور کبھی اس کے بڑھے ہوئے ہاتھ کو دیکھ رہی تھی۔
    ”دیکھو نا ابھی تم نے کہا کہ دوستی کا پتا نہیں تو پتا کرنے کے لیے ہی میں تمہیں آفر کر رہا ہوں۔” جیف نے سادگی سے کہا۔
    ”ہاں تاکہ چند دن بعد پھر تم یہ بولو کہ میں سیڑھی سمجھ رہی ہوں تمہیں۔” مرم نے سر جھٹک کر جلے کٹے انداز میں کہا۔
    ”کسی مشہور ہستی نے کہا ہے کہ جب سوال کے جواب میں ”طعنے” ملنے لگیں تو سمجھ لو کہ دوستی پکی ہو چکی ہے۔” ارد گرد نظر دوڑاتے ہوئے اس نے خوبصورتی سے بات گھمائی۔ مرم نے جواباً کچھ نہیں کہا جس کا مطلب تھا وہ اس کی بات سے اتفاق کرتی ہے۔ چند منٹ اِن کے بیچ خاموشی چھائی رہی۔ ایک مرتبہ پھر جیف اسے پر سوچ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔بالآخر اس نے فیصلہ کیا کہ اب وہ اپنے تجسس کا گلا مزید نہیں گھونٹ سکتا۔
    ”مرم ایک بات پوچھوں تم مائنڈ تو نہیں کرو گی؟ نہ بتانا چاہو تو مت بتانا۔”
    ”ابراہیم تم ہر ایک کو اپنے جیسا کیوں سمجھتے ہو؟” وہ اپنے ازلی پراعتماد اور دوستانہ انداز میں گویا ہوئی۔
    ”تم… تم وہاں اس درخت کے پیچھے کیا کر رہی تھی۔ میرا مطلب ہے کہ ابھی…” وہ جھجک کر رک گیا۔ پتا نہیں یہ سوال مناسب تھا یا نہیں۔ یورپ میںزندگی گزارنے کے بعد اس نے یہی سیکھا تھا کہ وہاں کسی کے مذہب کے بارے میں پوچھنا بدتہذیبی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
    ”تمہارے خیال میں، میں درخت کو سجدہ کر رہی تھی؟ ہے نا ابراہیم؟ مگر یقین جانو وہ کوئی مقدس، پاک اور نایاب درخت نہیں تھا جسے میں سجدہ کرتی اور اگر تم نے نوٹ کیا ہو تو میں اس درخت کے برابر بیٹھی ہوئی تھی نہ کہ سامنے۔” تو گویا وہ جانتی تھی کہ جیف اسے وہاں دیکھ چکا ہے اس لیے چونکنے کے بہ جائے اس نے تحمل سے جواب دیا۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • مور پنکھ کے دیس میں — حرا بتول (قسط نمبر ۱)

    مور پنکھ کے دیس میں — حرا بتول (قسط نمبر ۱)

    سیاہ چیتا ناجانے کیسے علاقہ غیر میں داخل ہو گیا تھا۔ رات کے اندھیرے میں وہ جان نہیں پایا تھا کہ وہ بھٹک کر اپنی راجدھانی سے بہت دور آچکا تھا یا پھر وہ جان بوجھ کر وہاں داخل ہوا تھا۔ شاید اسے اپنی چستی اورقوت پر بہت زیادہ ناز تھا جو وہاں چلا آیا جو بھی تھا، مگر اب وہ نہایت ہوشیاری اور احتیاط سے اپنی بھوک مٹانے کا کوئی سامان ڈھونڈ رہا تھا۔ رات کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں اس کی موجودگی کا احساس اس کی سنہری چمکتی آنکھوں سے ہو رہا تھا یا پھر اس کی سیاہ لمبی دم کی سرسراہٹ سے۔
    اپنی خوف ناک چمکتی آنکھوں کو وہ بہت پھرتی سے دائیں بائیں گھوما رہا تھا کہ کہیں کسی شکار کا سراغ مل جائے۔ چند لمحوں بعد وہ چونک کر رک گیا پھر اس نے ایک ان دیکھے دائرے کے گرد دو سے تین چکر لگائے۔ وہ اپنے ارد گرد کا جائزہ لینے میں مگن تھا کہ اچانک خاموش فضا میں کہیں سے ایک خوفناک غراہٹ گونجی اور اس کا جواب بہت سی ایسی ہی وحشت ناک غراہٹوں سے دیا گیا۔ شاید اس علاقے کا اصل بادشاہ اپنی ”فوج” سمیت وہاں پہنچ چکا تھا۔ سیاہ چیتا اب گھبرایا ہوا تھا۔
    اب اندھیری رات میں مزید چمکتی آنکھیں پودوں اور جھاڑیوں میں سے جھلکتی دکھائی دے رہی تھیں اور پھر بہت آہستہ آہستہ تمام آنکھیں جھاڑیوں میں سے نکل کر اس سیاہ چیتے کے رو برو آتی گئیں۔ لگ بھگ آٹھ سے دس بھورے چیتے اس کو خوں خوار نظروں سے دیکھ رہے تھے۔
    سیاہ چیتے کو اپنی سنگین غلطی کا احساس ہوا گیا کیوںکہ اب وہ غیر محسوس طریقے سے پیچھے ہٹ رہا تھا۔ شاید وہ جان چکا تھا کہ وہ واقعی ”غیر” کا علاقہ تھا۔ اس کے مقابل کھڑے تمام چیتوں کی نسل اِس کی نسل سے مختلف تھی۔ وہ سب اسے انجان نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ وہ وہاں تنہا تھا اور اس کے بھوکے وجود میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ ان سب کا مقابلہ کر پاتا۔ وہ تمام اب بھی غراتے ہوئے اس کی طرف بڑھ رہے تھے اور چند ہی لمحوں میں ان تمام چیتوں نے اسے گھیر لیا۔ سیاہ چیتا بھی اب غرانے لگا اور مسلسل چکر کاٹ رہا تھا۔ گھیرا لمحہ بہ لمحہ تنگ ہوتا جا رہا تھا۔ سیاہ چیتے کو اپنی موت چند قدموں کے فاصلے پر دکھائی دے رہی تھی۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    وہ دونوں فلم بناتے ہوئے شاید بہت دور نکل چکے تھے۔جب کہ وہ وہیں کھڑا عجیب وغریب اور اپنی نوعیت کا سب سے منفرد تہوار دیکھ رہا تھا۔ آج تک اس نے جتنے بھی تہوار فلم بند کیے تھے ان میں سب سے زیادہ عجیب اور انوکھاترین۔ وہ دیکھ رہا تھا کہ ایک کے بعد ایک آدمی آتا اور میٹرس پر سوئے ہوئے بچوں کے اوپر سے پھلانگ کر آگے بڑھ جاتا ہے۔ جب بھی کوئی نیا آدمی قریب آتا دکھائی دیتا تو سڑک کے دونوں جانب قطار کی صورت میں کھڑے لوگ پریشانی اور تشویش سے اسے دیکھتے کہ کیا وہ کامیابی کے ساتھ یہ مارکہ سر کر سکتا ہے یا نہیں؟ اور جب وہ میٹرس پھلانگتا ہوا آگے بڑھ جاتا تو تماشائیوں کی رکی ہوئی سانسیں بحال ہو جاتیں اور ساتھ ساتھ وہ خوشی سے تالیاں بجاتے ہوئے کودنے والے آدمی کی مہارت کو داد بھی دیتے۔ آدمی کے گزر جانے کے بعد ان بچوں کے ماں باپ نزدیک آتے اور ان پر گلاب کی پتیاں نچھاور کرنے کے بعد جوش اور محبت سے انہیں اپنی آغوش میں بھر لیتے۔
    وہ اپنی ٹیم کے ہمراہ اسپین کے ایک قدیم شہر برگس (Burgos) میں عالمی شہرت رکھتے، چار سو سال پرانے اس منفرد اور خطرناک تہوار کی فلم بندی کرنے آیا تھا۔ بے بی جمپنگ (baby jumping) کے نام سے مشہور اس تہوار میں اس سال پیدا ہوئے بچوں کو سڑک کے بیچ رکھے گدے پر لٹا دیا جاتا ہے۔ پھر قریبی گاؤں کے مرد پیلا اور سرخ لباس پہنے، شیطانی بہروپ میں آتے اور ان بچوں کے اوپر سے پھلانگتے چلے جاتے ہیں۔ وہاں کے لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ ایسا کرنے سے ان بچوں کے اندر موجود گناہ کرنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی اور ان کی بلائیں ٹل جاتیں ہیں۔ ہر قسم کی بیماری سے انہیں نجات مل جاتی ہے اور ان کی تقدیر بدل جاتی ہے۔ آخر میں ان ”معصوم” اور ”پاک” بچوں پر پھول نچھاور کیے جاتے ہیں خوشی کی علامت کے طور پر۔
    اس انوکھے منظر کو دیکھتے ہوئے وہ سوچ رہا تھا کہ کاش یہیں کھڑے کھڑے وقت تیس سال پیچھے چلا جائے اور پھر اس کے ماں باپ بھی اسے ان بچوں کے ساتھ اس بستر پر لٹا دیں اور کوئی ایسے ہی اس کے اوپر سے گزر کر اس کی تقدیر میں لکھی سیاہی کو مٹا دے اور پھر انہی ماؤں کی طرح اس کی ماں بھی ایسے ہی اسے اپنی آغوش میں سمو لے، مگر وقت کو پلٹانا اور تقدیر بدلنا تو ایک الٰہی امر ہے۔ اس جیسے عام سے آدمی کے لیے وقت کیسے پلٹ سکتا تھا؟
    ٭…٭…٭
    مجھے پتا ہے وہ بہت آگے جائے گا۔ شہرت کی بلندیوں کو چھونا اس کے مقدر میں لکھا جا چکا ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ جب وہ ایسا کوئی مقام حاصل کر لے تو میں لوگوں کو بتاؤں کہ دیکھو میں وہ ہوں جسے اس جیسا کامیاب بندہ چاہتا ہے۔ دروازے کے اس پار سے اسے اس لڑکی کی اٹھلاتی آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔
    ”اتنی محبت ہے تمہیں اس سے؟” کسی سہیلی نے دریافت کیا تھا۔
    ”محبت ؟”وہ دھیمے سے ہنسی۔
    ”محبت نہیں محبت کا جھانسا۔” ایک بار پھر اس کی ہنسی گونجی۔
    ”تمہیں تو پتا ہے کہ میں ماڈل بننا چاہتی ہوں۔ بہت زیادہ نام، پیسہ اور شہرت حاصل کرنا چاہتی ہوں۔ وہ بس ایک سیڑھی ہے میرے لیے یہ سب حاصل کرنے کی ۔ ورنہ اس جیسے الو سے کون محبت کر سکتا ہے ؟ اس ملک میں اس سے کہیں بہتر لڑکے موجود ہیں محبت کرنے کے لیے مگر وہ سب کنگال اور نکمے ہیں۔ بہت سوں کو پرکھ چکی ہوں میں۔ سب کے سب ہر وقت خالی خولی محبت کا راگ الاپتے رہتے تھے۔ یہ واحد بندہ ہے جو میری محبت میں ڈوب کر میرے لیے دنیا کو تسخیر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ سو مجھے اسی کا انتخاب کرنا تھا نا۔” آج باہر کھڑے اس ہارے ہوئے نوجوان شخص کو وجہ سمجھ آئی تھی کہ وہ کیوں اپنے آپ کو اکثر حسین ناگن کہا کرتی تھی۔
    وہ مذاق میں کبھی کبھی اسے چھیڑا کرتا تھا کہ اس نے حسن سے اس کا شکار کیا ہے اور آج اسے ادراک ہوا کہ یہی حقیقت تھی۔ وہ واقعی اس کا شکار ہی تھا۔ بند دروازے کے پیچھے سے بھی وہ اس حسین ناگن کا مکروہ چہرہ دیکھ سکتا تھا۔ وہ ناگن اسے گھیر کر اپنا پھن تو پھیلا ہی چکی تھی۔ بس اب ڈسنا باقی رہ گیا تھا۔ وہ لڑکی اور بھی بہت کچھ بول رہی تھی۔ اس کی تمسخر سے بھری آواز باہر کھڑے نوجوان کو صاف سنائی دے رہی تھی۔ وہ آواز اسے کہیں دور…بہت دور دھکیل رہی تھی۔
    ٭…٭…٭
    میں سامنے بہتے دریا میں چھوٹے چھوٹے پتھرپھینکتا غیرحاضر دماغی سے بیٹھا تھا۔ وادی نیلم کے روح افزا نظارے میں میری دل چسپی نہ ہونے کے برابر تھی اور اس کی وجہ وہ شکستگی اور تنہائی تھی جس نے اس وقت میرے پورے وجود کا احاطہ کیا ہوا تھا۔ اپنی پشت سے آتی آوازیں مجھے سخت بری لگ رہی تھیں۔ قہقہے، ہنگامے، خوشی کے نعرے، سب زہر لگ رہے تھے اور میرا دل چاہ رہا تھا کہ ان ہنستے کھیلتے بچوں کو کسی بھی طرح خاموش کرا دوں۔
    ابھی کچھ ہی دیر پہلے میں بھی بہت شوق سے آیا تھا۔ ان بچوں کے ساتھ کھیلنے مگر ان بچوں نے مجھے اپنے ساتھ کھلانے سے انکار کر دیا۔
    ” تم ہمارے ساتھ نہیں کھیل سکتے کیوںکہ تم ہم جیسے نہیں ہو۔ جا ؤ اپنے لیے کوئی اپنے جیسا ہی ساتھی ڈھونڈو۔” مجھ سے دو سال بڑے بھائی نے تمسخر سے مسکرا کر کہا تو سب ہنسی میں لوٹ پوٹ ہوگئے۔
    ”لیکن یہ اپنے جیسا کہاں ڈھونڈے گا؟ اس جیسا کوئی بھی تو نہیں اس پورے گاؤں میں۔” ایک کزن نے پر سوچ انداز میں کہا۔ میں بس سر جھکائے کھڑا ان کی باتیں سننے پر مجبور تھا۔
    ”لیکن ایک جگہ ہے ایسی جہاں اس جیسے بہت سے لوگ رہتے ہیں۔” میرے بھائی نے معنی خیز نظروں سے کہا۔
    ”کہاں؟” بہت سے بچوں نے کورس میں پوچھا۔
    ”افریقہ کے جنگلات۔” جواب ملنے پر وہ سب مجھ پر کافی دیر تک ہنستے رہے اور پھر سے کھیل میں مگن ہو گئے۔ جب کہ میں آنکھوں میں ڈھیر سارے آنسو لیے دریائے نیلم کنارے بنے ایک بڑے سے پتھر پر بیٹھ گیا۔ میرے ساتھ ہمیشہ سے ایسا ہی ہوتا آیا تھا۔ میرے بہن بھائی، کزنز اور گاؤں کے دوسرے لڑکے ہمیشہ مجھے ایسے ہی تضحیک کا نشانہ بنا کر ساتھ کھیلنے سے انکار کردیتے تھے کیوں کہ میں اپنے خاندان کا ”نظر بٹو” تھا۔
    ٭…٭…٭
    جیف (Jeff)ابراہیم اور پیٹر گرانٹ سیاحت و تفریح کی دنیا کے جانے مانے نام تھے۔ ان کی ٹیم یورپ کے مختلف ممالک میں منعقد ہونے والے علاقائی،مذہبی اور ثقافتی تہواروں کی دستاویزی فلمیںبنایا کرتی تھی جنہیںیو کے کا ایک ٹریول چینل ”کریزی فیسٹیولز آف یورپ” کے نام سے نشر کرتاتھا۔ ان کی ٹیم میں کل تین لوگ تھے۔ پیٹر ہدایت کار اور پروڈیوسر تھا۔ایک دورے (ٹور) کے لیے درکار سارا چندہ اور سرمایہ کاری وہی فراہم کرتا تھا۔ کون سا تہوار کب اور کہاں منعقد ہو رہا ہے یہ سب معلومات حاصل کرنا اسی کی ذمہ داری تھی اور وہی سفر کو ترتیب دیتا تھا۔ ڈینیل ایک پیشہ ورکیمرا مین تھا جب کہ جیف ابراہیم شو کا میزبان اور سفری راہنما (ٹریول گائیڈ) تھا۔ کیمرے کے سامنے وہی اپنے الفاظ مہارت سے استعمال کرتے ہوئے ناظرین کی دل چسپی کو برقرار رکھتا تھا۔ اس کی گمبھیر آواز میں تہوار سے متعلق سنائی جانے والی تاریخ اور کہانیاں اس کے ناظرین کو بور اور بیزار نہیں ہونے دیتے تھے۔ پچھلے دو سالوں میں وہ اٹلی اور اسپین میں منعقد ہونے والے بہت سے تہوار اور میلے فلم بند کر چکے تھے۔ وہ تینوںبھرپور محنت اور لگن سے اپنا اپنا کام کرتے تھے یہی وجہ تھی کہ بہت تھوڑے عرصے میں ان کا پروگرام شہرت کی بلندیوں کو پہنچ چکا تھا اوران کے مداحوں کی تعداد میں روز بہ روز اضافہ ہو رہا تھا۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد فیس بک اور ٹویٹر پر انہیں اور ان کے پروگرام کو ”فالو” کرتی تھی۔ ان کی یہی کوشش رہتی کہ منفرد اور دل چسپ دستاویزی فلموں سے اپنے ناظرین کی معلومات میں اضافہ کریں۔
    ساتھی ہونے کے ساتھ ساتھ وہ تینوں اچھے دوست بھی تھے۔ سال کا زیادہ تر حصہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ ہی گزارتے۔ اس لیے کافی بے تکلف تھے۔ بالخصوص پیٹر اورڈینیل کی دوستی مثالی تھی۔ دونوں ہی شوخ مزاج، زندہ دل، سیاحت اور پر ہمت مہمات کے شوقین تھے۔ ہاں جیف ابراہیم ان سے کچھ مختلف تھا۔ ایک تو وہ ابھی کچھ ہی عرصہ پہلے ان کی ٹیم میں شامل ہوا تھا دوسرا وہ فطرتاً خاموش اور سنجیدہ مزاج تھا۔ وہ اس دوستی کو اہمیت ضرور دیتا تھا مگر ہمیشہ ایک حد میں رہتے ہوئے اور وہ دونوں اس کی فطرت اور مزاج کا احترام کرتے تھے۔ پچھلے سات آٹھ ماہ سے وہ اسپین کے ٹور پر تھے۔ انوکھے اور حیرت انگیز تہواروں سے بھری اس سرزمین پر انہوں نے اپنی زندگی کے بہت سے یادگار دن گزارے تھے۔ اس سرزمین میں بسنے والوں کی طرح انہوں نے بھی ہر منفرد اور دلچسپ تہوار میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔ چاہے وہ سنسنی خیز بل رننگ ) running bull ( فیسٹیول ہو یا پھر منفرد ترین نیئر ڈیتھ (near death) فیسٹیول یا بے مثال لاس فیلاس fallas) las ( کا میلا۔ اپنے اس تفریحی سفر کو انہوں نے اسپنش لوگوں کی طرح ہی گزارا تھا۔ہر انوکھے تہوار سے انوکھی خوشی کشید کر، مگر اب ان کا یہ سفر اپنے اختتام کو پہنچا تھا۔ اگلے ہفتے وہ ایک نئی منزل کی طرف سفر شروع کرنے والے تھے اور ان کا اگلا پڑاؤ لوک داستانوں کی سرزمین پر تھا۔
    ٭…٭…٭
    ”تمہارا اس ہفتے کا شو دیکھا میں نے بہت زبردست تھا ہمیشہ کی طرح۔” ایملی نے مشروب کا گھونٹ لیتے ہوئے ایک بار پھر تعریفی جملہ کہا۔ پچھلے ایک گھنٹے میں اس طرح کے بہت سے جملے وہ متعدد بار بول چکی تھی۔ ایک دو بار تو اس نے مسکرا کر شکریہ ادا کر دیا، مگر اب اسے ان مصنوعی تعریفی کلمات سے الجھن ہو رہی تھی۔ اس لیے اس بار اس نے صرف سر ہلانے پر ہی اکتفا کیا۔
    ” یہ آسمانی بلو شرٹ بہت جچ رہی ہے تم پر۔”اف ایک بار پھر تعریفوں کا جال بنا جا رہا ہے۔ اس نے کوفت سے سوچا۔
    وہ اس وقت پیٹر کے گھر الوداعی ڈنر میں آیا ہوا تھا جو پیٹر کی بیوی کرسٹی نے ان تینوں کے نئے سفر کے سلسلے میں رکھا تھا۔ اس سمیت صرف ڈینیل اور اس کی منگیتر نینسی اور کرسٹی کی بہن ایملی ہی یہاں مدعو تھے۔ کھانے کے بعد سب لوگ باتوں میں مشغول تھے اور وہ ہمیشہ کی طرح الگ تھلگ سا بیٹھا نیوز سن رہا تھا جب ایملی اس کے برابر آ کر بیٹھ گئی۔
    ” اتنے سنجیدہ اور بے رنگ کیوں ہو تم؟” کوئی جواب نہ پا کر اب کہ اس نے جھنجھلا کر پوچھا اور اس کے مزید نزدیک ہو گئی یوں کہ اب اس کا نیم عریاں کندھا جیف کے چوڑے شانے سے مس ہو رہا تھا۔
    ” پلیز مجھے یہ سب پسند نہیں۔” اس نے دھیمی آواز میں اسے تنبیہ کی تو وہ مسکرا کر تھوڑی پرے ہٹ گئی۔
    ” بس تمہاری ایسی باتوں نے تو مجھے تمہارا دیوانہ بنا دیا ہے۔ ورنہ آج کل کون ایسا مضبوط کردار رکھتا ہو گا؟” اس نے معنی خیز مسکراہٹ سجا کر کہا، تو جیف بے بسی سے لب بھینچ گیا۔ دوست کی بیوی ہونے کی حیثیت سے وہ کرسٹی کی بہت عزت کرتا تھا اور اسی کی وجہ سے وہ ایملی کو کوئی سخت بات نہیں کہنا چاہتا تھا، مگر اب وہ اس لڑکی کی بے باک حرکتوں اور باتوں سے تنگ آ چکا تھا۔ نہ جانے کس طرح پہلی ملاقات ہی سے ایملی اس میں دل چسپی لینے لگی تھی۔ ایک دو مرتبہ تو وہ اس سے اظہار محبت بھی کر چکی تھی جسے وہ بے نیازی سے ان سنی کرگیا تھا۔ جیف کو ایملی سمیت کسی بھی لڑکی میں کوئی دل چسپی نہیں تھی کیوں کہ وہ بہت اچھی طرح جانتا تھا کہ یہ لڑکیاں کس طرح کی فطرت رکھتیں ہیں۔ اسے ادراک تھا کہ ان تمام کو جیف کی اپنی ذات سے زیادہ اس کی دولت اور شہرت میں دل چسپی ہے۔ اسے اپنے ساتھ پارٹیز میں لے جا کر اپنی دوستوں کو جلانے اور حسد میں مبتلا کرنے کا خبط ہے۔اپنے نام کو اس کے نام کے ساتھ جوڑ کر اپنی برتری دنیا پر ثابت کرنے کا جنون ہے اور یہ سب سوچنے میں وہ حق بہ جانب تھا کیوں کہ اس معاملے میں اس کے تجربات کافی تلخ رہے تھے۔
    ” جیف یار کہاں گم ہو؟” ماضی کی چبھتی یادوں سے چونک کر وہ ڈینیل کی طرف متوجہ ہوا جو اسی سے مخاطب تھا۔
    ” تم نے جواب نہیں دیا نینسی کے سوال کا؟”
    ” کیسا سوال؟”’وہ سنبھل کر گویا ہوا۔
    ” یہی کہ اس ٹیم میں بس تم ہی چھرے چھانٹ ہو۔ دنیا کی کسی ایک لڑکی کو تو مسز جیف ابراہیم ہونے کا شرف بخش دو۔” ڈینیل شرارتی لہجے میں بولا۔
    ” نہیں میرا کوئی ارادہ نہیں کسی کو بھی مسز ” جیف” بنانے کا۔” اس نے اپنے نام پر بالخصوص زور دیتے ہوئے بلا کی سنجیدگی سے اپنا ارادہ ظاہر کیا۔ اس کے جواب پر پیٹر اور ڈینیل کے مابین معنی خیز نظروں کا تبادلہ ہوا۔آج ایک بار پھر انہیں اس کے لہجے میں کچھ غیر معمولی پن محسوس ہوا تھا جو لاشعوری طور پر کبھی نہ کبھی اس کے انداز اور باتوں سے جھلک ہی جاتا تھا۔
    ” کیوں ؟” کرسٹی نے ایملی کو ایک نظر دیکھ کر پر سوچ انداز میں پوچھا ۔
    ” بس ابھی کوئی ایسا ارادہ نہیں۔ جب ہو گا تو آپ لوگوں کو ہی بتاؤں گا سب سے پہلے۔” ایک بار پھر بے نیازی کا خول چڑھا کر اس نے جان چھڑانا چاہی۔
    ” وہیں سے کوئی ڈھونڈ لینا اپنے لیے۔ وہاں کے میچ میکنگ فیسٹیول کی دھوم پوری دنیا میں ہے۔” نینسی کے مخلصانہ مشورے پر وہ مبہم سا مسکرایا۔
    ”ہاں ہاں بالکل ہم دونوں اس کی بھرپور مدد کریں گے ۔کیوں پیٹر ؟”ڈینیل نے پیٹر کی تائید چاہی تو اس نے فوراً حامی بھری۔
    ” اور ہاں جیف دھیان رکھنا کہیں تمہاری آڑ میں یہ دونوں وہاں اپنی میچ میکنگ نہ کرنے لگیں۔” نینسی نے اسے چوکس رہنے کو کہا، تو اس سمیت ڈینیل اور پیٹر بھی مسکرا دیے۔ کرسٹی اب مسلسل ایملی کو آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارے کر کے سمجھا رہی تھی کہ جیف ابراہیم پر وقت برباد کرنا چھوڑ دو۔
    اپنے منفی تجربات کی بنا پر جیف نے مصمم ارادہ کر رکھا تھا کہ وہ کبھی کسی لڑکی کو موقع نہیں دے گا اپنے قریب بھی پھٹکنے کا،مگر وہ نہیں جانتا تھا کہ مستقبل قریب میں اس کا واسطہ ایک ڈھیٹ اور منچلی لڑکی سے پڑنے والا تھا۔ایک ایسی لڑکی جو اس کے مضبوط ارادوں کو توڑ کر رب کی قدرت کاملہ اور اٹل فیصلوں کی پہچان کرانے اس کی زندگی میں قدم رکھنے والی تھی۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • چہرہ — اعتزاز سلیم وصلی

    چہرہ — اعتزاز سلیم وصلی

    ڈھولک بج رہی تھی۔ پورے گھر میں شور مچا ہوا تھا۔ کیوں نہ ہوتا؟ آج اس کی یعنی گھر کے اکلوتے بیٹے شہزاد کی مہندی سجائی جارہی تھی۔ شہزاد جس کے نام میں ماں اکثر ‘ہ ‘کااضافہ کرکے اسے”شہزادہ”کہتی تھی اور اس وقت ماں کے شہزادے کو اس کے دوستوں نے گھیر رکھا تھا۔ اس سب رونق میلے میں شہزاد کا دل بالکل نہیں لگ رہا تھا، مگر دنیا کی رسموں کو نبھانا تو تھا۔ سو چپ چاپ دوستوں کی باتوں کو سن کر لبوں سے مسکرانے کی کوشش کررہا تھا، لیکن آنکھوں میں ابھی بھی اداسی تھی۔
    ”شہزاد ویسے ایک بات ہے تیری شادی کا سن کر میں بڑا اُداس ہوں۔” اکبر نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
    ”کیوں شہزاد کون سا تیری منگیترسے شادی کررہا ہے؟” اکبر کے ساتھ کھڑے وسیم نے اس پر چوٹ کی۔ وہ غصے سے اسے گھورنے لگا۔
    ”یار میں اس لیے اُداس ہوں کہ ہمارا پیارا شہزاد اب جب بھی بازار میں ملے گا اور ہم اسے اسنوکر کھیلنے کی دعوت دیں گے، تو یہ کچھ اس طرح کے بہانے بنایا کرے گا، ارے آج تمہاری بھابی نے میکے جاناہے، آج منے کے پیمپر لے کر گھر جلدی جانا ہے۔ چھوٹی کا دودھ ختم ہو گیا ہے وہ لینا ہے۔” اس کی بات سن کر سب ہنس پڑے۔
    ”ویسے شہزادہ کچھ کچھ اُداس لگ رہا ہے۔ کہیں فیس بک والی تو یاد نہیں آرہی؟” وسیم نے اس کی بے زاری محسوس کرلی تھی شاید۔
    ”ارے نہیں، شہزادہ ایسی چیزیں ٹائم پاس کرنے کے لیے کرتا ہے۔ ویسے تھی بڑی پیاری۔ ایک دو تصاویر میں نے بھی دیکھی تھیں۔” اکبر نے آنکھ دبا کر اپنے مخصوص انداز میں جواب دیا۔ اس کے چہرے کی رنگت بدل چکی تھی۔
    ”کیا ہوا شہزادے؟”وسیم نے پوچھا۔ اس نے کوئی جواب نہ دیا اور چپ چاپ گھر کے اندر چلا گیا۔ زنانہ حصے میں امی مہمان عورتوں میں گھری اپنی ہونے والی بہو کے حسن کے قصیدے پڑھ رہی تھیں۔ اس کے اشارے پر اُٹھ کر باہر آئیں۔
    ”کیا بات ہے شہزادے؟”
    ”امی مجھے یہ شادی نہیں کرنی۔” اس کی بات سن کر انہوں نے حیران نظروں سے اسے دیکھا۔ چند لمحوں کے بعد ان کے منہ سے اس کی توقع کے عین مطابق الفاظ برآمد ہوئے۔
    ”کیا بکواس کررہا ہے شہزادے؟ہوش میں تو ہے؟”
    ”بس مجھے یہ شادی نہیں کرنی۔یہ مہندی وغیرہ کی رسم کرنی ہے تو کرلیں۔ کل میں سب کے سامنے اعلان کردوں گا ابھی میں کہیں جارہا ہوں۔”یہی کہتا ہوا وہ گیٹ کی طرف بڑھا۔
    ”شہزادے، میری بات سن شہزادے۔” امی نے پکارا۔ اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ گھر میں ہوئی لائٹنگ کی زرد روشنیوں میں امی کا چہرہ بھی زرد دکھائی دیا۔
    ”اگر تم نے کوئی ایسی ویسی حرکت کی تو میرا مرا ہوا منہ دیکھے گا یاد رکھنا۔ میں بھی تیری ماں ہوں۔” یہ کہہ کر وہ اندر چلی گئیں۔ ان کی دھمکی نے اس کے قدم جکڑ لیے تھے۔ کچھ دیر وہ وہیں کھڑا رہا پھر چپ چاپ گیٹ سے باہر آگیا۔ کچھ دیر بعد وہ سب دوستوں کو حیران چھوڑ کر وسیم سے بائیک مانگ کر گھر سے کوئی چالیس کلومیٹر دور شہر میں خواتین کے ایک ہوسٹل کی طرف بڑھ رہا تھا۔لوگ حیرانگی سے اسے دیکھ رہے تھے جس کی آج رات مہندی تھی، مگر وہ کہیں اور جارہا تھا۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});
    اچھے وقت کی امید میں برا وقت صبر سے گزارنا بھی بہادری کاکام ہے اور یہ کام زبیدہ خاتون اور اس کی بیٹی شاہین نے خوب کیا۔ تین بھائیوں کی اکلوتی بہن، زبیدہ بچپن سے جوانی تک ضرور لاڈ پیار میں پلی بڑھی تھی، مگر جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی یہ لاڈ پیار کہیں گم ہو گیا۔ جب صرف ایک ماہ کے وقفے سے اس کی ماں اور باپ چل بسے۔ بھائیوں اور بھابھیوں نے بوجھ سے نجات حاصل کرنے کا وہی پرانا طریقہ اپنایا جسے آج بھی لوگ ذمہ داری نبھانا کہتے ہیں یعنی صرف سترہ سال کی عمر میں زبیدہ کی شادی کردی۔ کم عمری کی شادی اور وہ بھی اپنے سے دوگنا عمر کے شوہر کے ساتھ۔ کب تک گزارا ہوتا؟اقبال ایک شکی مزاج شخص تھا جس کے خیال میں محلے کا ہر لڑکا زبیدہ پر عاشق ہے اور اس میں زبیدہ کی ناز و ادا کا قصور ہے۔ زبیدہ کا صبر اور ایک مشرقی بیوی ہونے کے ناتے گھر بنانے کی یہ جدوجہد آٹھ سال تک چلی۔ گود میں ایک بیٹی لیے اور ماتھے پر طلاق کا دھباسجائے آٹھ سال بعد جب وہ واپس اپنے اذیتوں بھرے سفر کے اختتام پر ملنے والی منزل پر پہنچی تو یہ وہی جگہ تھا جہاں سے اس کا سفر شروع ہوا تھا۔ ابا کی حویلی اب تین حصوں میں تقسیم ہو چکی تھی۔اس کے حصے میں نوکروں کے لیے بنایا گیا کمرا آیا۔طلاق کی کوئی خاص وجہ نہ تھی۔اقبال کے خیال میں زبیدہ کی بیٹی شاہین بھی بڑی ہو کر ماں پر جائے گی اس لیے اس ‘غیرت مند’ شخص نے ایسی ”بے شرم”بیوی کو طلاق دے دی جس نے بیٹی پیدا کی تھی۔بھائیوں سے کچھ امید تھی تو صرف روٹی ،کپڑااور مکان کی۔ جوبمشکل پوری ہوئی۔ وقت گزرا۔ شاہین پانچ سال کی ہوگئی۔ اسکول میں داخلے کا مسئلہ پیش آیا۔ زبیدہ نے گاؤں کی عورتوں کے کپڑے سینے شروع کر دیے۔ خدا نے اس کی محنت میں برکت ڈالی۔ کچھ پیسے ہاتھ آئے تو ننھی شاہین بھی اپنے کزنز کی طرح اسکول جانے لگی۔ پڑھنے میں تیز تھی وہ۔ کچھ اپنے حالات کا احساس بھی اس کے معصوم سے دماغ میں تھا۔ نو سال کی عمر میں پرائمری پاس کرنے کے بعد وہ شہر کے ہائی اسکول میں آگئی۔یہاں زبیدہ کو مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔اس کے بھائی اپنی بھانجی کو باقی خاندان کی لڑکیوں کی طرح گھر بٹھانا چاہتے تھے۔ لڑکیوں کو زیادہ تعلیم دلوانے کا رواج نہ تھا، لیکن زبیدہ ڈٹ گئی اور بھابھیوں سے”بے شرم”ہونے کا خطاب حاصل کرنے کے باوجود بیٹی کو پڑھنے شہر بھیج دیا۔ شہر لے جانے والی وین کا کرایہ اور باقی تعلیمی اخراجات وہ خود برداشت کررہی تھی۔ محنت کے ساتھ ساتھ اس کے ہاتھ میں صفائی آگئی اور وہ شاہین کے مشورے سے نت نئے ڈیزائن کے کپڑے بنانے لگی جس سے آمدنی میں اضافہ ہوا۔ لوگوں کے طعنے، باتیں اور بہت کچھ برداشت کرنے کے بعد اس نے صرف ایک بات سوچی تھی۔ ”شاہین کو کچھ بنانا ہے۔”شاہین نے میٹرک میں شاندار کامیابی حاصل کی اور پورے اسکول میں دوسرے نمبر پر رہی۔ اب اسے کالج جانا تھا۔ اس بار زبیدہ پر دباؤ زیادہ پڑا۔ بڑے ماموں کسی صورت بھی شاہین کو کالج داخلہ نہیں کرانا چاہتے تھے، مگر زبیدہ کے ساتھ شاہین بھی ڈٹ گئی اور کالج میں داخلہ لے لیا۔بڑوں کی مرضی کے خلاف کیا گیایہ فیصلہ درست رہایا غلط اس کا بات کا فیصلہ صرف دو ماہ بعد ہو گیا تھا۔ زبیدہ اور شاہین کا مقصد تو نیک تھا، مگر کچھ لوگوں کے ساتھ ان کی بدقسمتی سفر کرتی رہتی ہے اور یہ کبھی تھکتی نہیں۔
    ٭…٭…٭
    شہزاد کی موٹر سائیکل ہوا سے باتیں کررہی تھی۔وقت تیزی سے گزررہا تھا۔ٹھنڈی ہوا اس کے جسم سے ٹکرا رہی تھی، مگر وہ پچھلے چھے ماہ کی باتیں یاد کررہا تھا۔ گزرا وقت کسی فلم کی طرح اس کے دماغ میں چل رہا تھا۔
    ان دنوں وہ ایم اے کے ایگزامز کے بعد فری تھا۔شہزاد کے والد عباد احمد کی مین مارکیٹ میں تین دکانیں تھیں جن کو سنبھالنے کے لیے ملازمین تھے۔ اس لیے شہزاد کی زندگی بے فکری سے گزر رہی تھی۔ اکلوتا بیٹا ہونے کی وجہ سے اسے لاڈ پیار سے پالا گیا تھا، مگر وہ بگڑا نہ تھا بلکہ ایک سلجھے مزاج کا سنجیدہ جوان تھا جو زندگی کی پریشانیوں سے دور تھا۔انہی دنوں زندگی اسے مصنوعی دنیا میں لے گئی۔ فیس بک کا شوق اسے وسیم سے لگا تھا، مگر یہ شوق جنون اختیار کر گیا کیوں کہ فیس بک پر اس کے ہم مزاج لوگ مل گئے تھے۔ ایک دو جو اسی کے شہر کے تھے۔ ان سے وہ ملاقات بھی کرچکا تھا۔
    وہ ادب سے متعلق بنائے گئے ایک گروپ میں ایڈ تھاجس میں سب لوگ اپنی لکھی تحریریں،شاعری اور مضامین شیئر کرتے تھے۔ اس گروپ میں مختلف قسم کے مقابلے بھی ہوتے تھے جن میں وہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا۔ اسے شاعری کا شوق تھا۔خود بھی ٹوٹے پھوٹے الفاظ جوڑ کر انہیں شاعری کی شکل دیتا رہتا تھا۔ ایسے ہی ایک مقابلے میں، جس میں اپنے شعر کمنٹ کرنے تھے،اس کی پہلی پوزیشن آئی اور انعام میں ایک ناول ملا۔اس رات وہ کھانا کھانے کے بعد جیسے ہی آن لائن ہوا۔ اس کے میسنجر پر میسج ریکویسٹ آئی پڑی تھی۔یہ گروپ ہی کی ایک لڑکی تھی جس کا نام اس کی نظروں سامنے کئی بارگزرا تھا۔ اس نے کچھ سوچ کر میسج ریکویسٹ قبول کی ۔تھوڑی دیر بعد دوبارہ میسج ٹیون بجی۔
    ”السلام علیکم شہزاد صاحب،کیسے مزاج ہیں؟”
    ”وعلیکم السلام، میں ٹھیک ہوں۔ اللہ کا شکر ہے،آپ سنائیں؟”یہ پہلا موقع تھا کہ وہ فیس بک کی کسی لڑکی سے بات کررہا تھا ورنہ فیک آئی ڈی اور لڑکوں کے جنس تبدیل کرنے والی صلاحیت کے ڈر سے اس نے کبھی کسی لڑکی کی فرینڈ ریکویسٹ قبول کی تھی نہ میسج کا جواب دیا تھا۔ رسمی کلمات کے بعد شازیہ نام کی اس لڑکی نے اپنے میسج کرنے کا مقصد بیان کیا۔
    ”میں آپ سے شاعری سیکھنا چاہتی ہوں۔”
    ”مجھ سے؟”وہ ہنس پڑا۔
    ”جی آپ سے۔”
    ”ارے نہیں، مجھے شاعری نہیں آتی۔ یہ مقابلوں وغیرہ میں ٹوٹے پھوٹے الفاظ جوڑ لیتا ہوں ورنہ مجھے نہیں آتی شاعری۔” اس نے سچ بولا تھا مگر شازیہ ضد پر اڑ گئی۔
    ”پلیز نہ مت کریں۔مجھے شاعری کا شوق ہے۔اپنا درد لفظوں میں سمیٹنا ایک صلاحیت ہے جو بہرحال آپ میں ہے مجھے بھی سکھا دیں تھوڑا بہت۔”شہزاد جھنجلا گیا۔
    ”مگر جب مجھے کچھ آتا نہیں تو سکھاؤں گا کیسے؟”
    ”جیسے خود الفاظ جوڑ لیتے ہیں، مجھے بھی سکھا دیں ایسے ہی۔”وہ پکاارادہ کرکے آئی تھی شاید۔ شہزاد کو ہاں بولتے ہی بنی لیکن جلد اسے اندازہ ہو گیا شازیہ کا مقصد شاعری سیکھنا ہرگزنہ تھا۔وہ صرف اچھا وقت گزارنا چاہتی تھی۔ شاید تنہائی کا شکار تھی۔ میسج چیٹ کے بعد دونوں میں موبائل نمبرز کا تبادلہ ہو گیا۔یوں شہزاد کی زندگی میں پہلی بار کسی لڑکی نے قدم رکھا ورنہ وہ سنجیدہ مزاج کا تھا،اس کی ایک عدد منگیتر خاندان میں موجود تھی جس سے کبھی اس نے کال پر بات نہ کی تھی، لیکن شازیہ اس کی زندگی میں رنگ لے آئی تھی۔ مصنوعی دنیا کے ذریعے ایک حقیقی رشتہ بن چکا تھا۔ وہ اسے اپنی تصویریں دکھا چکی تھی۔ وہ واقعی خوبصورت لڑکی تھی۔ شہزاد نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے ساتھ جڑتا جا رہا تھا۔
    ٭…٭…٭
    دنیا جس دن بنائی گئی تھی اس دن ایک لفظ بھی زمین پر اترا تھا۔”غلط فہمی”معمولی سی غلط فہمی اور بڑی لڑائیاں۔معمولی سی غلط فہمی اور کئی زندگیاں تباہ۔ایسی ہی ایک غلط فہمی نے شاہین اور زبیدہ کی زندگی کے درست جاتے راستے کو غلط سمت پر ڈال دیا تھا۔
    اس دن شاہین کالج سے چھٹی کے بعد سڑک کنارے کھڑی وین کا انتظار کررہی تھی۔ اس کے چہرے پر حسب معمول نقاب تھاجس میں سے اس کی سیاہ آنکھیں جھانک رہی تھیں۔ اچانک اس کے پاس ایک بائیک آکر رکی۔ اس پر سوار دو لڑکوں میں سے پیچھے بیٹھے لڑکے کے ہاتھ میں بوتل تھی۔ اس نے بوتل کا ڈھکن کھولا اور ایک جھٹکے سے بوتل میں موجود سیال اس کے چہرے پر اچھال دیا۔ اس نے چہرہ بچانے کی غیرارادی کوشش کی اور رخ پھیر لیا، مگر ہونٹ سے نیچے ٹھوڑی اور گردن کا کچھ حصہ تیزاب کی زد میں آگیا۔ نقاب اس کے چہرے سے اتر چکا تھا۔ جل جانے کے خوف اور جلن سے اس کے حلق سے چیخیں نکلیں۔آخری الفاظ جو اس نے سنے تھے وہ بائیک چلانے والے لڑکے کے تھے جس نے کہا تھا۔
    ”ارے یہ کوئی اور ہے۔”خوف کی شدت تھی یا تکلیف کا احساس۔وہ گری اور بے ہوش ہوگئی۔
    اسے ہوش آیا تو وہ ہسپتال میں تھی۔ چہرے کا نچلا حصہ جل چکا تھا اور چہرے پر ایک انمٹ داغ بن چکا تھا۔ چہرے کا داغ تو شاید برداشت ہو جاتا، مگر گاؤں میں اس کے جلنے کی خبر، جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی اور یہ خبر اس کے کردار پر داغ بن چکی تھی۔ ہر شخص کی زبان پر ایک ہی قصہ تھا اور ایک ہی کہانی۔ شاہین کا کسی لڑکے کے ساتھ چکر تھا جسے دھوکا دیا اور نتیجے میں اس کے منہ پر تیزاب پھینک دیا گیا۔ہسپتال سے اسے زبیدہ گھر لے گئی۔ماں کا رویہ بھی عجیب تھا۔کبھی اس سے ضرورت کے وقت بات کرتی ورنہ چپ رہتی۔آخر شاہین نے ہمت کرکے پوچھ لیا۔
    ”امی آپ مجھ سے ناراض ہیں؟”۔زبیدہ نے خاموش نظروں سے اسے دیکھا۔چند لمحوں بعد جب اس نے سوال دہرایا تو وہ بولی۔
    ”تم نے کیوں میری عزت کی دھجیاں اڑا دیں شاہین؟”وہ ساکت رہ گئی۔
    ”مگر امی میں نے کیا کیا ہے؟”
    ”تیرے چہرے پر یہ تیزاب اس لڑکے نے اس لیے پھینکا ہے نا کہ تو نے اسے چھوڑ کر کسی اور سے چکر چلا لیا تھا؟”زبیدہ کے منہ سے نکلنے والے الفاظ کئی دنوں کے غصے کا نتیجہ تھے۔وہ چیخی۔
    ”امی! میں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔کس نے کہا آپ سے؟”
    ”سارا گاؤں کہہ رہا ہے شاہین۔تیرے ساتھ جانے والی لڑکیاں بھی کہہ رہی ہیں۔” اسے یقین نہیں آرہا تھا۔اس نے ماں کو تیزاب پھینکنے والے لڑکے کے آخری الفاظ بتائے۔
    ”اماںوہ کسی اور پہ پھینکنے آئے تھے۔”دونوں ماں بیٹی کی باتیں جاری تھیں کہ کسی نے کمرے کے دروازے پہ دستک دی۔زبیدہ نے دروازہ کھولا۔ سامنے اس کا بڑا بھائی صدیق کھڑاتھا۔
    ”تم دونوں ماں بیٹی یہاں سے دفع ہو جاؤ۔ ہمارے گھر میں بے شرموں کے لیے جگہ نہیں۔ ایک طلاق لے کر گھر بیٹھ گئی دوسری شہر میں لڑکوں سے چکر چلاتی ہے۔ میں نے کہا تھا نا اس کو نہ بھیج کالج۔اب دیکھ لے اس کے کارنامے۔” اس کی زہر اگلتی زبان نے زبیدہ کو گنگ کردیا۔وہ کچھ دیر خاموش کھڑی باتیں سنتی رہی اچانک اس کے سینے کے بائیں جانب درد اٹھااور نیچے گرگئی۔شاہین چیختی ہوئی ماں کی طرف بڑھی۔ صدیق باتیں سنا کر واپس چلا گیا اور بہن کی حالت نہ دیکھ سکا۔ کمرے میں شاہین کی چیخیں گونج رہی تھیں۔ وہ بھاگ کر باہر گئی۔ چھوٹے ماموں کا کمرہ نزدیک تھا۔ اس نے دروازہ کھٹکھٹایا۔
    ”چھوٹے ماموں،چھوٹے ماموں”۔اندر سے ممانی باہر آئی۔
    ”کیا بات ہے کیوں چیخ رہی ہے منحوس۔ ایک تیری وجہ سے سکون برباد ہوا ہے اب کیا سونے بھی نہیں دے گی؟”
    ”ممانی! امی کو دیکھیں انہیں کچھ ہو گیا ہے۔”وہ ان کی باتیں نظرانداز کر کے بولی۔ اس کے آنکھ سے آنسو روانی کے ساتھ بہ رہے تھے۔
    ”اب کیا نیا ڈراما کر دیا زبیدہ نے۔”وہ بڑبڑاتی ہوئی اس کے ساتھ ان کے کمرے میں گئی جہاں زبیدہ شاہین کو اس دنیا میں تنہا چھوڑ کر اپنے خالق کی جانب لوٹ گئی تھی۔شاہین چیختی رہی، مگر اس کے سرپر ہاتھ رکھنے کے لیے کوئی نہ آیا۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • محبت ہوگئی تم سے — تنزیلہ یوسف

    محبت ہوگئی تم سے — تنزیلہ یوسف

    رات کا جانے کون سا پہر تھا حلق میں کانٹے چبھتے محسوس ہوئے۔ نیند میں سائیڈ ٹیبل پر ہاتھ مارا تو کچھ ہاتھ نہ آیا۔”آج ہی پانی رکھنا بھول گئی اور آج ہی پیاس بھی لگ گئی۔” کمبل پیچھے ہٹایا اور شال لپیٹتی کمرے سے نکلی تو دل دھک سے رہ گیا۔ سامنے والے کمرے کا دروازہ کھلا تھا اور لائٹ بھی آن تھی۔ یوں جیسے کوئی ابھی ابھی اٹھ کر باہر نکلا ہو۔
    ”ارے یہ کیسے کھلا رہ گیا؟” خود سے سوال کیا اور اگلے پل سر جھٹکتی راہ داری کے کونے کی جانب بڑھ گئی۔
    ”یہ… خالہ آج کچن کی لائٹ بند کرنا بھول گئیں۔ میں آج جلدی سوگئی تو خالہ بھی بھول گئیں۔ یہ آج سب کچھ اتنا عجیب سا کیوں لگ رہا ہے؟ آس پاس جیسے کوئی مانوس سی خوش بو پھیلی ہو۔” خود سے باتیں کرتے کرتے راہ داری عبور کی مگر جیسے ہی اندر کی جانب مڑی تو بے اختیار اس کی چیخ نکل گئی۔
    ”میرو…”
    ٭…٭…٭
    ”امی ! گل ہمارے ساتھ ہی رہے گی؟” شہریار نے پھر سے وہی سوال دہرایا جو وہ اس سے پہلے بھی کئی بار پوچھ چکا تھا اور صفیہ نے بہتے آنسو پونچھے اور اسے ساتھ لگاتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔
    ”یہ امی اتنا کیوں رو رہی ہیں؟ خالہ خالو اللہ میاں کے پاس ہی تو گئے ہیں۔” شہریار نے خود سے سوال کیا لیکن اس سوال کا اس کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});
    رضیہ اور عمران کو اس دنیا سے گئے دوسرا دن تھا جب آٹھ سال کی گل کا ہاتھ یہ کہہ کر اس کی خالہ کے ہاتھ میں دے دیا گیا کہ خالہ بھی تو ماں جیسی ہوتی ہے۔ اب گل اپنی صفیہ خالہ کے ساتھ رہے گی اور صفیہ نے گل کو بہن ، بہنوئی کی نشانی سمجھ کر سینے سے لگا لیا۔
    ”بڑے ہی بدنصیب ہیں جنہوں نے یتیم کے سر پر ہاتھ رکھنے کی بجائے اسے بوجھ سمجھ کر اتار پھینکا۔ بیٹیاں بھی بھلا بوجھ ہوا کرتی ہیں؟”اظہار سخت متاسف تھے۔ بیوی کی طرح وہ بھی کھلے دل کے تھے۔ گل کے سر پر دستِ شفقت رکھتے بولے۔
    ”آوؑ کھیلیں۔” شہریار گل سے دو سال ہی بڑا تھا۔ جب سے گل یہاں آئی تھی۔ اسے اپنی یہ بڑی بڑی آنکھوں اور بھیگی پلکوں والی کزن خاصی دل چسپ لگی۔ پھر اکلوتا ہونے کے سبب کوئی ساتھ کھیلنے والا نہ ہوتا جس پر کبھی کبھی وہ اداس ہو جاتا تھا لیکن اب کھیلنے کے لیے اسے ساتھی مل گئی تھی جس پر وہ بہت خوش تھا۔ اب بھی اسے کھیلنے کا کہا۔
    ”نہیں! میں نہیں کھیلوں گی۔”گل کا لہجہ بھیگا ہوا تھا۔
    ”کیوں؟”شہریار کو اس کے انکار پر حیرت ہوئی۔
    ”مجھے امی! بابا یاد آرہے ہیں۔”
    ”اچھا نہ کھیلو، میرے ساتھ تو آوؑ تمہیں کچھ دکھانا ہے۔” گل کو خبر بھی نہیں ہوئی کہ کب وہ رونا بھولی، آنکھوں میں حیرت کا جہاں لیے اب ان جگنوؤں کو دیکھ رہی تھی جو شہریار نے بوتل میں قید کررکھے تھے۔
    ”تم نے انہیں بند کیوں کیا ہے؟ اس طرح تو یہ مرجائیں گے۔” ایک دم سے کچھ یاد آنے پر وہ خوف زدہ ہوتے ہوئے بولی۔
    ”یہ دیکھو میں نے بوتل کے ڈھکن پر چھوٹے چھوٹے کئی سوراخ کردیے ہیں تاکہ یہ دم گھٹنے سے مر نہ جائیں۔ میں انہیں رات میں موتیے کی باڑ پر آزاد کرکے انہیں چمکتا دیکھوں گا۔” شہریار کی آنکھیں اس منظر کا سوچ کر ہی چمکنے لگیں۔
    ”ہاں یہ ٹھیک ہے۔”گل نے اطمینان کا سانس لیتے ہوئے کہا۔
    ”اچھا یہ بتاؤ تمہارا نام شہریار ہے نا، کس نے رکھا تھا؟”اب دونوں صحن سے اوپر چھت کی طرف جاتی سیڑھیوں پر بیٹھے تھے کہ گل نے ہتھیلی پر ٹھوڑی ٹکاتے پوچھا۔
    ”امی نے۔ لیکن ابو نے ساتھ ”امیر”بھی لگادیا، ایسے میرا نام ہوا ”امیرِ شہریار!”
    ”یہ کیا عجیب سا نام ہوا امیرِ شہریار، گل کو اس کا نام سن کر اچنبھا ہوا۔
    ”ہاں ہے تو عجیب لیکن مجھے اچھا لگتا ہے اپنا نام۔ اسکول میں مس مجھے پورے نام سے بلاتی ہیں تو ایسا لگتا ہے میں بہت خاص ہوں، میرے دوست مجھے ”شیری”کہتے ہیں۔” شہریار کے لہجے میں تفاخر تھا۔
    ”میں بھی تمہیں شیری کہہ سکتی ہوں؟” گل نے جھجکتے ہوئے پوچھا ۔
    ”نہیں!” شہریار کے فوراً سے پیشتر جواب نے اسے حیران کردیا، لیکن اس کے بعد اس نے جو کہا اس نے گل کو بے حد سرشاری میں مبتلا کردیا تھا۔
    پھر ایسا ہر بار ہونے لگا۔ شہریار جب بھی گل کو اداس بیٹھا دیکھتا، کسی نہ کسی طرح اس کی توجہ کسی دوسری طرف مبذول کرادیتا۔ کب دونوں نے شعور کی وادی میں قدم رکھے کچھ پتا نہ چلا۔ اتنا ضرور ہوا تھا کہ اب شہریار گل کا سامنا کرتے کچھ ہچکچاہٹ کا شکار رہتا۔ بچپن کی انسیت کی پھوٹتی کونپل اب کسی تناور درخت کے مانند اس کے رگ و پے میں اپنی جڑیں پھیلا چکی تھی۔
    ”کیا وہ بھی میرے بارے میں ایسا ہی سوچتی ہے؟ اگر نہیں …تو ؟”اس سے آگے وہ کچھ سوچ نہ پاتا اور یہی سوچ اسے گل کے روبرو لانے سے روکتی تھی۔
    ٭…٭…٭
    اظہار اور صفیہ وقت آنے پر گل اور شہریار دونوں کو ایک بندھن میں باندھنے کا سوچے بیٹھے تھے۔ شہریار ابھی میٹرک میں ہی تھا کہ اظہار کا انتقال ہوگیا۔ وہ جو انجینئرنگ کالج میں جانے کا خواب دیکھا کرتا تھا، باپ کی وفات کے بعد بہت سوچ سمجھ کر ایک ٹیکنیکل کالج سے آٹو الیکٹریشن کے ڈیڑھ سالہ کورس میں داخلہ لے لیا۔ کالج کے بعد ایک ورک شاپ میں عملی طور پر کام سیکھنے لگا۔ اس کے ہاتھ اب مزدور کے ہاتھوں میں تبدیل ہوچکے تھے۔ صبح کا نکلا رات گئے گھر لوٹتا تو ماں کو دروازے پر اپنا منتظر پاتا۔ ماں کے ساتھ وہ جس چہرے کو پل بھر دیکھنے کے بعد اپنی تمام تر تھکن ہوا کرنے کی خواہش لیے گھر کی دہلیز پار کرتا، وہ چہرہ کہیں نہیں ہوتا تھا۔ کم از کم اس کے آس پاس تو نہیں۔ وہ گریس سے بھرے سیاہ پڑتے ہاتھوں سے اپنے گھر کا مستقبل سنوارنے میں لگا رہا اور گل اپنی آنکھوں میں من پسند خواب بسانے کی تگ و دو میں تھی۔ ایسے میں صفیہ بیٹے کے سر پر سہرا سجانے کی برسوں پرانی خواہش دل میں دبائے بیٹھی تھی کہ شہریار کو اس کی کمپنی کی جانب سے دبئی جانے کا موقع ملا۔ دبئی میں گاڑیوں کی اس کمپنی کی ورک شاپ تھی جہاں شہریار جیسے محنتی ہاتھوں کی ضرورت تھی۔
    ٭…٭…٭
    ”گل! ایک بات کرنی ہے۔” صفیہ نے بالآخر گل سے بات کرنے کی ٹھانی کہ اس سے بات کرنے کے بعد ہی وہ شہریار سے کوئی بات کرتیں۔
    ”جی خالہ!” گل جو بیڈ پر ٹانگیں پھیلائے ڈائجسٹ پڑھ رہی تھی، فوراً اپنی ٹانگیں سمیٹیں اور ہاتھ میں پکڑا ڈائجسٹ سائیڈ پر رکھ کر صفیہ کی طرف متوجہ ہوگئی۔ میٹرک کے امتحانات کے بعد یہ اس کی واحد مصروفیت تھی۔
    ”اگر آج رضیہ زندہ ہوتی تو مجھے اتنی مشکل نہ ہوتی۔” صفیہ نے بات کا آغاز کیا۔
    ”میں چاہتی ہوں کہ میری زندگی میں ہی تم اور شہریار گھر بار والے ہوجاوؑ۔”
    ”ارے واہ خالہ! آپ نے اکیلے ہی بہو ڈھونڈ لی اور مجھے بتایا تک نہیں، جائیں میں آپ سے نہیں بولتی۔” گل نے صفیہ کی بات پر دھیان دیے بنا ہی کہنا شروع کردیا اور صفیہ کو لگا کہ اگر آج اس نے گل سے بات نہ کی تو وہ اس سے یہ بات کبھی نہیں کرپائے گی۔ شہریار کی آنکھوں میں گل کے نام پر جل اٹھنے والے دیے وہ کبھی بجھنے نہیں دینا چاہتی تھی۔
    ”گل! میں تمہاری شادی شہریار سے کرنا چاہتی ہوں۔” یہ اولاد بھی کبھی کبھی بڑی آزمائشوں میں ڈال دیا کرتی ہے، اس کا اندازہ صفیہ کو اب ہورہا تھا، مگر زبان سے بات نکل چکی تھی کیوں کہ گل کے چہرے کے تاثرات عجیب سے ہوگئے تھے۔
    ”تمہاری مرضی کے بنا کچھ نہیں ہوگا۔” صفیہ کو کمرے میں گونجتی اپنی آواز جانے کیوں اجنبی محسوس ہوئی۔
    ”خالہ! میں ابھی پڑھنا چاہتی ہوں اور پھر جاب… کب تک آپ سب پر بوجھ بنی رہوں گی؟”گل نے نظریں چراتے ہوئے کہا۔
    ”بیٹیاں کبھی اپنے ماں باپ پر بوجھ نہیں ہوتیں۔ آج اگر اظہار ہوتے تو بہت خوشی سے اس ذمہ داری کو پورا کرتے۔ میں تمہارے ساتھ زبردستی نہیں کروں گی۔ جس بات پر تمہارا دل راضی ہو وہ کرنا۔ تمہاری صورت میں اللہ نے میری اور اظہار کی بیٹی کی خواہش کو پورا کیا، ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ تمہاری زندگی کے فیصلے تمہاری مرضی کے بغیر ہوں؟”صفیہ نے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا اور کمرے سے نکل آئیں۔
    ٭…٭…٭
    ”تم نے سوچا بھی کیسے یہ سب۔” شہریار ابھی آیا ہی تھا کہ گل اس پر آندھی طوفان کی طرح چڑھ دوڑی۔ وہ جو اس وقت کسی کام سے گھر آیا تھا، اسے معلوم نہ تھا کہ گل کتنے غصے میں بھری بیٹھی ہے۔ صد شکر صفیہ گھر میں نہیں تھی ورنہ انہیں شدید دکھ ہوتا۔
    ”تم چاہتے ہو کہ میں ساری زندگی تمہارے لباس کی سیاہی دور کرتے کرتے خود بھی کہیں اس سیاہی میں گم ہو جاوؑں۔”
    اب شہریار کو بھی دل چسپی محسوس ہوئی۔ چہرے پہ مسکراہٹ سجائے، سینے پہ بازو لپیٹے اس دشمنِ جاں کو بولتے دیکھے گیا آخر اتنے عرصے بعد نظر تو آئی۔
    ”کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے۔”
    ”تم سن رہے ہو نا میں کیا کہہ رہی ہوں؟ ” گل کے زور سے بولنے پر وہ ایک دم سے خیالات کی دنیا سے باہر آیا۔
    ”ہاں! سن رہا ہوں تم بولو ۔”
    ”خاک سن رہے ہو؟ جانے کون سے خیالوں میں کھوئے رہتے ہو؟”گل کا پارہ اور چڑھ گیا۔ جواب میں شہریار کے لبوں پر مسکراہٹ رینگ گئی۔ اب اسے کیا بتاتا کہ کس کے خیالوں میں کھویا رہتا ہے۔
    ”خالہ کو منع کردو کہ تم مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتے۔”اپنا فیصلہ صادر کرتی کمرے سے باہر آگئی۔ اندر شہریار جہاں تھا، وہیں ساکت رہ گیا۔
    ”یہ کیا کہہ کر گئی ہے؟” اسے اپنی سماعت پر شبہ ہوا۔
    ”ابھی کیا کہا تم نے…” شہریار اگلے ہی پل گل کے سر پر موجود تھا ۔
    ”یار میں تمہیں ایسا لگتا ہوں کہ…”ایک پل کو گل کا دل دھڑکنا بھول گیا۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • قید — ساجدہ غلام محمد

    قید — ساجدہ غلام محمد

    ”انسان کو کس طرح نیند آتی ہے؟” ابھی کچھ دیر پہلے ہی وہ سونے کے لیے لیٹا تھا اور اب اچانک یہ سوال اس کے ذہن میں ابھرا تھا۔ قریب ہی اس کی بیوی کی مدہم سانسیں بتا رہی تھیں کہ وہ گہری نیند سو رہی ہے۔
    ”آج نوٹ کرتا ہوں کہ نیند میں جاتے ہوئے انسان کی کیا کیفیت ہوتی ہے۔” اس نے کروٹ بدلتے ہوئے مسکرا کر سوچا اور آنکھیں بند کر لیں۔
    ”یہ بات کتنی منفرد ہے اور اگر مجھے پتا چل جائے تو شاید میں پہلا انسان ہوں گا جس نے اس بات کا مشاہدہ کیا ہو گا۔ شاید میری اس دریافت سے سائنس دان بھی اس طرف متوجہ ہو جائیں۔” اس کا شعور سوچ پر سوچ کو کھڑا کرتا ہوا آہستہ آہستہ اوپر اٹھنا شروع ہو گیا تھا کہ اچانک سوچوں کا مینار ٹوٹا اور شعور واپس اپنی دنیا میں پلٹ آیا۔ باہر کسی گاڑی نے زور سے ہارن بجایا تھا۔
    ”جاہل لوگ! دوسروں کے آرام کا ذرا بھی خیال نہیں ہے۔ ” اس نے آنکھیں کھول کر کھڑکی کی جانب دیکھا اور پھر بڑبڑاتے ہوئے کروٹ بدل لی۔
    ”اچھا بھلا سونے لگا تھا۔ ہاں تو میں سوچ رہا تھا کہ انسان نیند میں کس طرح جاتا ہے۔ اس ہارن نے سارا تسلسل توڑ دیا۔ سر ہی کھا جاتے ہیں یہ ہارن۔ مجھے تو لگتا ہے کہ میں اسی وجہ سے جلد بہرا ہی نہ ہو جاؤں۔ کل فیس بک پر ارسل نے پوسٹ لگائی ہوئی تھی سماعت کی آلودگی اور اس کے نقصانات پر۔ میں نے لائیک کی تھی وہ پوسٹ لیکن ارسل میری پوسٹس لائک نہیں کرتا۔ پتا نہیں مجھ سے کیا پرخاش ہے اسے۔” اس کا جسم دھیرے دھیرے ڈھیلا ہونا شروع ہو گیا تھا ۔
    ”واہ!یعنی کہ میں نیند کی کیفیت میں جا رہا ہوں۔” جسم کے ڈھیلے پن کو اس نے خوشدلی سے محسوس کیا تھا۔شعوراس کے اس احساس کو نظر انداز کر کے سوچ سے سوچ کی کڑی ملاتا ہوا، ہلکا پھلکا ہو کر دوبارہ اٹھنا شروع ہو گیا تھا۔کچھ ہی دیر گزری تھی کہ اچانک شعور کو لگا کہ وہ بلندی سے نیچے گر رہا ہے۔جسم کو ایک جھٹکا سا لگا اور اس نے ہڑبڑا کر آنکھیں کھول لیں۔
    ”ہیپنک جرک( jerk Hypnic)۔” اس کے ذہن میںلفظ گونجا ۔ ایک نظر گہری نیند سوئی ہوئی بیوی پر ڈال کر اس نے آنکھیں دوبارہ موند لیں۔
    ”یہ انسان کے اندر بھی کیا کمال کی مشینری بنائی ہے رب نے۔ سونے کے دوران اگر جسم کو کوئی مسئلہ ہو تو ہیپنک جرک کے ذریعے انسان کو سگنل دے دیتی ہے کہ پوزیشن ٹھیک کر لو۔ لیکن میں تو ٹھیک انداز میں ہی لیٹا ہوا ہوں۔ کچھ لوگ تو بالکل الٹے ہو کر سوتے ہیں۔ دم نہیں گھٹتا ہو گاان کا؟ پرسوں جو ڈرامہ آ رہا تھا ٹی وی پر، اس میں ہیرو کیسے اوندھے منہ سورہا تھا۔ یہ تو صحت اور سنت، دونوں کے خلاف ہے۔ میڈیا والے کہاں ان باتوں کا دھیان رکھتے ہیں۔” شعور نے ایک بار پھر سر اٹھا کر اوپر دیکھا۔ اندھیرے میں نہایت باریک سا پردہ اوپر تنا ہوا تھا۔ شعور نے سوچ سے سوچ نکالتے ہوئے اس پردے کی طرف اٹھنا شروع کیا اور اس دفعہ وہ وہاں تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔ جیسے ہی شعور اس تک پہنچا، اچانک پردے میں شگاف ہوا اور شعور اسے عبور کر کے لاشعور کی رنگوں بھری دنیا میں داخل ہو گیا۔
    وہ سو چکا تھا۔
    ٭…٭…٭
    ”اُٹھ جائیں! فجرکی جماعت کا وقت نکل جائے گا۔” بیوی نے کندھا پکڑ کر ہلایا تو وہ ہڑبڑا گیا۔ سیاہ پردہ چاک ہوا تھا اور شعور یک لخت لاشعور کی دنیا سے نکل کر واپس اپنی دنیا میں آ گیا تھا۔بیوی تہجد پڑھنے کی عادی تھی اور فجر کی نماز کے لیے وہی اسے جگاتی تھی۔
    ”اوہ!” اس نے یاد کرنے کی بہت کوشش کی کہ وہ کیسے نیند کی کیفیت میں گیا تھا اور اس کے ذہن میں آخری سوچ کیا تھی لیکن اسے کچھ بھی یاد نہیں آیا۔
    ”آج بہت غور کروں گا۔ بہت دلچسپ تجربہ ہے یہ۔” اس نے مسکراتے ہوئے سوچا اور غسل خانے کی جانب بڑھ گیا۔
    ٭…٭…٭
    ایک دفعہ پھر رات کی خاموشی اور تنہائی تھی۔ وہ سونے کے لیے لیٹ چکا تھا لیکن آنکھیں بند کرنے کے باوجود اس کا ذہن اپنے طور پر خوب چاک و چوبند تھا، یہ جاننے کے لئے کہ انسان کس طرح نیند کی وادی میں جاتا ہے۔
    ”آج تو میں جان کر ہی رہوں گا۔ حیرت ہے، کسی نے آج تک اس بارے میں نہیں سوچا۔ کمال ہے بھئی۔ خیر! کل بہت اہم میٹنگ ہے۔ سفید شرٹ کے ساتھ وہ نیلی ٹائی ٹھیک رہے گی جو عباد لندن سے میرے لئے لے کر آیا تھا۔ مزے میں ہے عباد بھی۔ لندن کی زندگی کا اپنا ہی حسن ہے۔ وہاں چلتی ہوئی ڈبل ڈیکر بسیں اور بکنگھم پیلس۔ وہاں کی ملکہ اتنی بوڑھی ہو گئی ہے، پتا نہیں کب مرے گی۔ میری دادی کی عمر کی تو ہو گئی ہے۔ دادی کو تو فوت ہوئے سات سال ہونے والے ہیں۔ ساگ کتنا لذیذ بناتی تھیں وہ، وہ ذائقہ ابھی تک مجھے دوبارہ کہیں نہیں ملا۔۔۔” شعور سوچوں کا جال بُنتا ہوا پردے کے بالکل پاس پہنچ چکا تھا۔ پردے میں شگاف ہوا اور شعور لاشعور کی دنیا میں داخل ہو گیا۔ اس کے داخل ہوتے ہی پردہ دوبارہ پہلے کی طرح بند ہو گیا۔
    لاشعور کی دنیا انوکھی تھی۔ شعور، لاشعور کا ہاتھ تھامے اڑتا پھر رہا تھا۔ کبھی سفید شرٹ پر نیلی ٹائی پہنے میٹنگ روم میں بیٹھا پزا کھاتا ہوا، کبھی شیروانی اور کلاہ پہن کر لندن کی ڈبل ڈیکر بس پر گھومتا ہوا۔
    ابھی شعور مزید اڑان بھرنے کی تیاریوں میں ہی تھا کہ اچانک پردہ چاک ہوا اور وہ واپس اپنی دنیا میں پلٹ آیا۔
    بیوی کو کھانسی آئی تھی۔ خشک تھی، پانی پیے بنا چارہ نہیں تھا۔ اس نے بمشکل آنکھیں کھول کر اپنے سرہانے رکھی پانی کی بوتل اس کی جانب بڑھائی۔
    ”طبیعت ٹھیک ہے؟ ”
    ”جی! بس خشک سردی کی وجہ سے نیند میں ہی اچانک کھانسی آ گئی ۔”بیوی پانی پی کر بوتل اپنے سرہانے رکھ کے لیٹ گئی تو اس نے دوبارہ آنکھیں بند کر لیں۔
    ”سردی بھی بڑھ گئی ہے۔ شام کو کمرے میں ہیٹر جلا کر کام تو کرتا رہا لیکن پانی کا برتن رکھنا بھول گیا۔ صبح نماز کے لیے اٹھوں گا تو رکھ دوں گا۔ اکرام صاحب بھی کہہ رہے تھے کہ کمرے میں ہیٹر جلے تو پانی ضرور رکھنا چاہیئے ورنہ کمرے کی ہوا خشک ہو جاتی ہے۔ ” تکیے پر اپنے سیدھے گال کے نیچے بایاں ہاتھ رکھ کر وہ دوبارہ سونے کی کوشش کر رہا تھا۔کچھ ہی لمحوں بعد ہپنک جرک کی وجہ سے اس کے گال کے نیچے کان کے پاس بائیں ہاتھ کی ایک انگلی زور سے ہلی تو اسے اپنے کان میں اس کی بہت اونچی سرسراہٹ سنائی دی۔
    ”ہمم! اس کا مطلب ہے کہ نیند میں جانے سے پہلے ایک فیز ایسا بھی آتا ہے جس میں انسان کی حسِ سماعت بہت زیادہ تیز ہو جاتی ہے۔ ” اس نے ہاتھ تکیے سے ہٹا کر ایک جانب رکھ دیا۔ مکمل خاموشی میں شعورکو کچھ ہی منٹ لگے تھے۔ وہ پردہ چاک کر کے لاشعور کی دنیا میں پہنچ چکا تھا۔ جہاں کبھی اس کے پیچھے چور ڈاکو لگ جاتے تو کبھی باس سے جھڑکیاں۔ نہ جانے کتنا ہی وقت گزر گیا۔ لاشعور، شعور کا ہاتھ تھامے اس کے ساتھ ساتھ تھا۔
    ”فضل! فضل!” اچانک کسی نے اس کا نام پکارا تھا۔ شعور نے پردہ چاک کر کے واپس اپنی دنیا میں جانا چاہا لیکن خلافِ توقع وہ چاک نہ ہوا۔شعور نے پورا زور لگایا، پردے پر ٹکریں ماریں لیکن وہ پردہ چاک نہ کر سکا۔
    ”بابا!” اس کا بیٹا اسے جھنجھوڑ رہا تھا۔ شعور کے اضطراب میں اضافہ ہو گیا۔ اندھا دھند بھاگتے ہوئے وہ پردے کا آخری سرا ڈھونڈ رہا تھا، کوئی سرا، کوئی سوراخ، کوئی درز، کچھ تو جہاں سے وہ واپس اپنی دنیا میں جا سکے لیکن کچھ نہ ملا۔ شعورتھک ہار کر لاشعور کی دنیا میں ہی بیٹھ گیا۔
    ”تم اب واپس نہیں جا سکتے! تم یہاں قید ہو گئے ہو۔” لاشعور کے لہجے میں شعور کے لیے ہمدردی تھی۔
    ”کمرے میں گیس بھر جانے کی وجہ سے دونوں کا انتقال ہو چکا ہے۔” ڈاکٹر نے بیٹے کو بتاتے ہوئے افسوس سے سر ہلایا۔شعور وہیں لاشعور کی دنیا میں سر پٹختا رہ گیا۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • جنّت — طارق عزیز

    جنّت — طارق عزیز

    ”میں اگر قصائی خاندان کا فرد ہوں، میرا باپ قصاب ہے، تو اس میں میرا کیا قصور؟ میں تو قصائی کا کام نہیں کرتا نا؟ پھر لوگ مجھے ”قصائی قصائی” کہہ کر کیوں چڑاتے ہیں؟” حنیف نے اپنی ماں سے گلہ کرتے ہوئے کہا۔
    ”بیٹا کیا ہوا اگر لوگ ہمیں قصائی کہتے ہیں؟ یہ تو ہمارا آبائی پیشہ ہے، ذات تھوڑی ہے۔ اسی کاروبار سے ہم کماتے اور اپنے اہل و عیال کو پالتے ہیں۔ اس میں شرم کی کیا بات ہے؟ ہم کسی سے بھیک تو نہیں مانگتے نا؟ اپنے ہاتھ کی، اپنی محنت کی کمائی کھاتے ہیں۔ تم لوگوں کی باتوں کو دل پر نہ لیا کرو۔” حنیف کی ماں نے اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔
    ”لیکن امّی لوگ اور محلّے کے لڑکے مجھے اس بات پر طنز کرتے اور چھیڑتے ہیں۔ اس طرح بات کرتے ہیں جیسے میں ان کا نوکر ہوں۔ یہ سب مجھ سے برداشت نہیں ہوتا۔ بس میں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے کسی اچھی جگہ ملازمت کروں گا تاکہ کوئی میرے بچوں کو قصائی کی اولاد ہونے کا طعنہ نہ دے۔” حنیف یہ کہتیہوئے آبدیدہ ہوگیا۔
    ”ٹھیک ہے بیٹا تُو فکر نہ کر۔ دل لگا کے پڑھ اور اپنی مرضی کی زندگی گزار۔ جتنا پڑھنا چاہتے ہو پڑھو۔ ہم تجھے ایک اچھا انسان بنتا دیکھنا چاہتے ہیں۔” ماں نے حنیف کو اپنی آغوش میں لیتے ہوئے اس کے آنسو پونچھے۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});
    حنیف اور شفیق دونوں سگے بھائی تھے۔ باپ آبائی پیشہ کی وجہ سے قصاب تھا۔ حنیف بڑا تھا اس سے چھوٹا شفیق اور سب سے چھوٹی فوزیہ بہن تھی۔ حنیف کو اپنے آبائی پیشے سے سخت نفرت تھی کیونکہ اسے محسوس ہوتا تھا کہ قصائی ہونے کی وجہ سے انہیں معاشرے میں کمتر سمجھا جاتا ہے۔ محلے کے لڑکے اسے قصائی کہہ کر چھیڑتے، تو وہ زچ ہوکر گھر سے باہر ہی نہیں نکلتا تھا۔ وہ شرم کے مارے اسکول یا کلاس میں بھی اپنے باپ کے پیشہ کے بارے میں کسی سے کچھ نہیں کہتا تھا۔ اس کا عزم تھا کہ وہ پڑھ لکھ کر اعلیٰ ملازمت کرلے گا، مگر یہ گھٹیا پیشہ نہیں اپنائے گا۔ اسی لیے وہ پڑھائی میں زیادہ دلچسپی لیتا تھا۔
    اس کے برعکس شفیق کو پڑھائی سے زیادہ رغبت نہ تھی۔ اس نے میٹرک کرنے کے بعد پڑھائی کو خیر باد کہا اور باپ کے ساتھ دکان پر بیٹھنا شروع کردیا۔ چند سالوں میں ہی اس کے باپ نے شفیقکی محنت اور شوق کو دیکھتے ہوئے اسے الگ دکان بنا دی۔ اس نے نہ صرف روایتی طریقہ سے دکان پر تازہ گوشت رکھا ہوا تھا بلکہ زمانے کے نئے اطوار کے مطابق فروزن میٹ اور گوشت کی مختلف پیک شدہ آئٹمز کے فریز رز لگوالیے تھے۔ اس کے پاس اب ہائی کلاس کی بیگمات بھی آتی تھیں۔ شفیق اب ایک کامیاب بزنس مین بن چکا تھا۔
    اسی عرصہ میں اس کا بڑا بھائی حنیف اپنی پڑھائی مکمل کرکے سرکاری محکمہ میں کلرک کی ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ اب وہ بابو بن کر اپنی بائیک پر فخر سے ڈیوٹی پر جایا کرتا۔
    ان دونوں کے باپ لطیف کو لوگ طیفا قصائی کہتے تھے۔ اس نے محسوس کیا کہ اب دونوں بیٹے جوان بھی ہیں اور بر سرروززگار بھی، لہٰذا مناسب وقت ہے کہ اِن کی شادیاں کردی جائیں۔ اس نے دونوں بیٹوں کی شادی کے فرض سے سبکدوش ہونے سے قبل چھوٹی بیٹی فوزیہ کی شادی اپنی بڑی بہن کے بیٹے سے دوسرے شہر میں کردی۔ پھر اپنی گرتی صحت اور بڑھتی عمر کے پیش نظر بیٹی کو جائیداد میں اس کا حصہ دے کر اپنا مکان دونوں بیٹوں میں برابر تقسیم کردیا تاکہ وہ شادی کے بعد سکون سے اپنے اپنے گھر زندگی گزاریں۔
    بچوں کی شادیوں سے فراغت پانے کے بعد وہ قدرے پرسکون ہوچکا اور اب آرام کرنا چاہتا تھا۔ وہ آخر دم تک اپنی بیوی کے ہمراہ چھوٹے بیٹے شفیق کے ساتھ ہی رہا، کیونکہ بڑے بیٹے کی بیوی کے تیور اپنی ساس اور سُسر کو دیکھ کر کچھ مناسب نہیں رہتے تھے۔ شفیق اور اس کی بیوی نے دونوں میاں بیوی کی جی جان سے خدمت کی۔ اپنے سارے فرائض سے فراغت پاکر اگلے دو سالوں ہی میں لطیف اور اس کی بیوی معمولی بیمار رہ کر یکے بعد دیگرے اگلے جہان سدھار گئے۔
    باپ نے جس طرح دونوں بھائیوں میں انصاف کے ساتھ جائیداد تقسیم کی تھی اسی طرح طرح دونوں بھائیوں کو ربّ نے بھی برابری کے ساتھ ایک ایک بیٹے اور ایک ایک بیٹی سے نوازا۔
    بڑے بھائی حنیف کی بیوی پڑھی لکھی ہونے کے باعث اونچے رکھ رکھاؤ کی مالک اور صفائی پسند تھی۔ اپنے ساتھ والے گھر میں رہنے والے اپنے دیور اور اس کے بیوی بچوں کو وہ خود سے اور اپنے بچوں سے دور ہی رکھتی تھی۔ کیونکہ ایک قصائی گھرانے کے افراد سے اسے چربی کی بو آتی تھی، مگر اسے اپنے خاوند کی آنکھوں پر چڑھی چربی بے حد مرغوب تھی جو اپنی اصل تنخواہ سے کہیں زیادہ اوپر کی کمائی کی وجہ سے چڑھی ہوئی تھی۔
    حنیف اب اپنے محکمے میں اونچی پوسٹ کا افسر تھا۔ اس نے اپنے دونوں بچوں کو ہائی پروفائل کیتھیڈرل اسکول سسٹم میں تعلیم دلائی تاکہ وہ سوسائٹی میں اعلیٰ مقام پر پہنچسکیں۔
    اس کا بیٹا حبیب اسکول کی تعلیم کے بعد اب گورنمنٹ کالج میں پڑھ رہا تھا۔ جبکہ شفیق کا بیٹا رفیق بھی اپنے باپ کی طرح دسویں جماعت سے آگے پڑھنے کا خواہشمند نہیں تھا۔ اس لیے باپ نے میٹرک کے بعد اسے اپنے ساتھ فریش میٹ سٹور پر بٹھانا شروع کردیا۔ اپنے باپ کی طرح رفیق نے بھی اپنے آبائی پیشے کی تمام جزئیات پر جلد ہی عبور حاصل کرلیا۔ جب سے اس نے دکان کی ذمہ داری میں باپ کا بوجھ بانٹنا شروع کیا تھا شفیق کے کاندھے اوربھی چوڑے ہوگئے تھے اور وہ اپنے ہاتھوں میں پہلے سے زیادہ مضبوطی محسوس کررہا تھا۔ کرتا بھی کیوں نہ آخر بیٹا بازو جو بن گیا تھا۔
    ٭…٭…٭
    ”میں نے کہا جی سنتے ہو، اپنی رضیہ بارہویں جماعت پاس کرچکی، خیر سے اب اٹھارہویں برس میں ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ اب جلدی سے کہیں اچھا بر دیکھ کر اس کی شادی کردیں۔” شفیق کی بیوی آسیہ نے رات کھانا کھانے کے دوران اس سے کہا۔
    ”ہاں بیگم کہتی تو تم ٹھیک ہو، بھلے ہی ابھی بیٹا تابعدار ہے، مگر آنے والے وقت کا کیا پتا اور ابھی اپنے بازوؤں میں ہمت ہے، جلد از جلد اپنے فرائض سے سبک دوش ہوجائیں تو اچھا ہے۔” شفیق نے تولیے سے ہاتھ پونچھتے ہوئے کہا۔
    ”میں تو کہتی ہوں کہ آپ اپنے خاندان میں ماموں، یا تایا چچا زاد کے ہاں کوئی اچھا سا لڑکا دیکھیے یا کہیں، تو میں اپنے بہن بھائیوں میں بات کروں؟” آسیہ نے برتن اُٹھاتے ہوئے پوچھا۔
    ”ٹھیک ہے میں کرتا ہوں بات اپنے رشتے داروں میں اور دوستوں کے کان میں بھی ڈال دیتا ہوں، ویسے تم بھی اپنی خاندان میں نظر رکھو، کہیں بھی مناسب لڑکا مل جائے تو بس سال دو سال میں اس کے ہاتھ پیلے کردیں۔” شفیق نے چارپائی پر لیٹتے ہوئے کہا۔ ”ہے تو حنیف بھائی کا بیٹا حبیب بھی لائق اور خوب صورت اب اچھا پڑھ لکھ بھی گیا ہے خواہش تو یہی تھی کہ اس سے بھائی بندی کا رشتہ مضبوط ہوتا، مگر وہ اور اس کی بیوی اونچے خیالات کے مالک ہیں۔ کاہے کو وہ غریب بھائی سے رشتہ لینا یا دینا گوارہ کریں گے۔ وہ تو غریب بھائی سے سال بھر میں صرف عید بقر عید پر ہی ملتا ہے بس، پھر سارا سال اس کی شکل دیکھنے کو ترس جاتا ہوں۔” شفیق نے ٹھنڈی آہ بھر کر کہا۔
    ”ہا آ آ آں ملتے ہیں آپ کے بھائی صاحب آپ کو عید بقر عید پر، ارے وہ تو ان کے بیل اور بکرے انہیں آپ کی چوکھٹ پارکرنے پرمجبور کرتے ہیں اس دن، ورنہ وہ تو دیکھیں بھی نہیں ادھر قصاب کے گھر کو۔” آسیہ نے سرمارتے ہوئے طنزیہ انداز میں جواب دیا۔
    ”اری یوں نہیں کہتے رفیق کی ماں، آخر وہ خون ہے میرا، اکلوتا بھائی، جیسا بھی ہے، ہے تو میرا بڑا بھائی نا؟ وہ جیسا بھی ہے میں تو اپنی فطرت کے مطابق اس کا احترام کرتا رہوں گا۔” شفیق نے آسیہ کو سمجھاتے ہوئے کہا۔
    ”تو ٹھیک ہے کیجیے میں نے کب منع کیا ہے۔” آسیہ نے بات ختم کرتے ہوئے کہا۔
    آسیہ کی بڑی بھاوج نے ان کی بیٹی رضیہ کو اپنے بڑے بیٹے کے لیے مانگ لیا۔ وہ اسی سال اپنے ماموں زاد سے بیاہ کر اسی شہر میں اپنے سسرال چلی گئی۔
    ٭…٭…٭
    حنیف پر ”لکشمی دیوی” کچھ زیادہ ہی مہربان تھی۔ اس نے ساتھ والے دونوں مکان خرید کر اپنے گھر کو کوٹھی بنا لیا۔ نئے خریدے جانے والے دونوں مکان گرا کر شاندار رہائش بنالی۔آخری کارنر والے مکان میں اس نے رہائش اختیار کرلی اور باپ کے دیے ہوئے مکان کو گرا دیا۔ اصل میں اس کی بیوی کو اب ساتھ والے گھر میں رہائش پزیر قصائی دیور کے گھر سے ادھر دیکھنے والوں پر اب زیادہ رعب پڑتا تھا۔
    شفیق کو بھائی کے ساتھ سانجھی دیوار اور سانجھے مکان کے اس طرح خاتمے کا بہت دکھ ہوا۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • رین کوٹ — ہاشم ندیم

    رین کوٹ — ہاشم ندیم

    تیز برستی بارش میں جب کسی کی نئی ماڈل کی گاڑی ہچکولے لیتی ہوئی ایک جھٹکے سے رُک جائے تو اس کوفت کا اندازہ صرف وہی لگا سکتا ہے جو اس گاڑی میں سوار ہو۔ نعمان کو بھی اس اچانک افتاد کا ذرا بھی اندازہ نہ تھا۔ آج صبح فیکٹری کے لیے نئی سائٹ دیکھنے گھر سے نکلا، تو ہلکی پھوار اسی وقت شروع ہوچکی تھی، مگر جلد ہی وہ بوندا باندی تیز برسات میں تبدیل ہوگئی اور شہر کے آخری بس اسٹاپ سے کچھ پرے گاڑی نے چند ہچکیاں لیں اور رک گئی۔
    ”کیا ہوا ؟”
    ڈرائیور نے پریشانی کے عالم میں بونٹ بند کیا۔
    ”صاحب جی کچھ سمجھ نہیں آرہا، یہ آٹو میٹک گاڑیاں اپنی سمجھ سے باہر ہیں۔ کسی مکینک کوبلوانا پڑے گا جناب۔”
    نعمان نے بے زاری سے سرہلایا۔
    ”ٹھیک ہے۔ تم کسی مکینک کو بلا لائو، میں سامنے والے بس اسٹاپ کے شیڈ کے نیچے تمہارا انتظار کرتا ہوں۔ بند گاڑی میں یوں سرِ راہ بیٹھنا مجھے بہت عجیب لگتا ہے۔”
    نعمان نے گاڑی سے نکلنے سے پہلے رین کوٹ پہن لیا تاکہ اس کا قیمتی سوٹ خراب ہونے سے بچ جائے اور پھر تیزی سے قدم اٹھاتا، خود کو بارش سے بچاتا، سامنے بس اسٹاپ کی جانب بڑھ گیا۔ سڑک کے دونوں اطراف ٹین کے چھپر نما اسٹاپ بنائے گئے تھے جس کی ٹین کی ہٹ نما چھت کے نیچے لکڑی کے بنچ پڑے ہوئے تھے۔ دونوں جانب کچھ مسافر بیٹھے اور کھڑے بس کا انتظار کررہے تھے۔ نعمان نے رین کوٹ کے بٹن بند کرتے ہوئے سرسری نظر سڑک کی دوسری جانب بنے دوسرے اسٹاپ پر ڈالی اور پھر اس کی نظریں جیسے جم کر رہ گئیں۔ اس نے دو تین بار پلکیں جھپک کر اپنے گماں کو یقین کی حد تک پہنچانے کی کوشش کی۔ مگر وہ سراب نہیں … حقیقت تھی… ہاں وہی تو تھی… کاجل… اس کے بالکل مخالف سمت والے اسٹاپ کے نیچے کھڑی بار ش سے بھیگی ہوئی، ہمیشہ کی طرح خود کو پہلے بے تحاشا بھگو کر پھر کانپتے رہنے والی کاجل۔
    نعمان بے اختیار اس کی جانب بڑھنے کے لیے سڑک پر دو قدم چلا تو کسی گاڑی کے تیز ہارن نے اسے چونک کر واپس پلٹنے پر مجبور کردیا۔ ہارن کی آواز سن کر کاجل نے بھی چونک کر اِدھر دیکھا اور اس کی نظریںبھی نعمان سے ٹکرائیں تو وہ ہکا بکا سی رہ گئی۔ اب جانے وہ بارش کی بوندیں تھیں یا پھر اس کے آنسو جو اس کی آنکھوں سے بہتے ہوئے اس کے گلابی عارض کے موتی بن گئے۔ دفعتاً نعمان کو احساس ہوا کہ کاجل کے ساتھ کوئی مرد بھی تھا۔ پرانی جینز پر ایک پتلی سی شرٹ میں ملبوس، بار بار ہاتھوں کو رگڑ کر گرمانے کی کوشش میں مصروف۔ اس نے ایک آدھ بار کاجل سے کوئی بات بھی کی اور کاجل نے سر جھکا کر اسے زیرِ لب جواب دیا۔ شاید وہ کاجل کا شوہر تھا۔
    نعمان اس شش و پنج میں گرفتار کھڑا رہا۔ نعمان کے جانب والی بس آگئی اور مسافر جلدی میں ایک دوسرے کو دھکیلتے ہوئے اُس میں سوار ہوکر اپنی منزل کو روانہ ہوگئے اور نعمان وہاں تنہا کھڑا رہ گیا۔ بارش تیز ہوتی جارہی تھی۔
    یہ بارشیں بھی کتنی عجیب ہوتی ہیں۔ کبھی کبھی باہر کچھ زیادہ بھگو نہ بھی پائیں پھر بھی ہمارے اندر جل تھل مچا دیتی ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ ہمارے اندر برستی وہ پھوار باہر کسی کو نظر نہیں آتی، لیکن کچھ بدنصیب ایسے بھی تو ہوتے ہیں جن کے اندر باہر برستے ساون کا ایک چھینٹا بھی نہیں پڑتا۔ ان کے اندر صحرا ہی رہتا ہے۔ آج صبح نعمان نے جب گھر سے نکلتے ہوئے کھونٹی سے اپنے مخصوص نیلے رنگ کا رین کوٹ اتارا، تو ایک لمحے کے لیے جیسے اس کا سارا ماضی اس کی آنکھوں کے سامنے برق کی طرح گزر گیا۔
    وہ بھی ایک ایسی ہی طوفانی بارش کا دن تھا جب پہلی مرتبہ اس کی ملاقات کاجل سے ہوئی تھی۔ وہ دونوں ایک ہی یونیورسٹی میں پڑھنے کے باوجود شعبے علیحدہ ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے سے انجان تھے، لیکن اس روز کی شدید بارش نے ان دونوں کو ملوا دیا۔ وہ دونوں ہی کالج بس نکل جانے کے بعد ڈیپارٹمنٹ کے برآمدے میں بارش رکنے کے انتظار میں کھڑے تھے، لیکن کچھ بارشیں کبھی نہیں تھمتیں۔ بادل برس کر چلے جاتے ہیں مگر من کی پھوار کبھی نہیں رکتی۔ اُن دونوں کے لیے بھی یہ بارش کچھ ایسا ہی پیغام لے کر آئی تھی۔ ساون میں شامیں بہت جلد ڈھل جاتی ہیں۔ کاجل بھی تیزی سے ہوتی شام اور مزید کالی گھٹائوں کی آمد سے پریشان کھڑی اپنی نازک کلائی پر بندھی گھڑی کو بار بار دیکھ رہی تھی۔ نعمان بھی ایک جانب کھڑا خود کو کوس رہا تھا کہ اس نے آج اپنی بائیک نکالنے میں سستی کیوں کی؟ آخر جب بارش نے تھمنے کا نام نہیں لیا اور اندھیرا بڑھنے لگا، تو گھبرائی ہوئی کاجل نے کچھ فاصلے پر کھڑے نعمان کوپکارا۔
    ”سنیں پلیز! آپ کیمپس کے باہر سے کوئی رکشا پکڑ لائیں گے میرے لیے؟ بہت دیر ہوگئی ہے۔ گھر میں امی پریشان ہورہی ہوں گی۔”
    نعمان خود بھی یہ سوچ رہا تھا کہ اب یہاں کھڑے رہنے کا کوئی فائدہ نہیں، لہٰذا مین گیٹ سے باہر جاکر کوئی سواری پکڑ لینی چاہیے۔ کچھ ہی دیر میں بھیگا بھاگا سا نعمان ایک رکشے کے ساتھ کیمپس میں داخل ہوا۔ کاجل کو ڈیفنس کی طرف جانا تھا اور نعمان کو صدر۔ دونوں کی سمت مخالف تھی لیکن موسم کے تیور بتارہے تھے کہ کچھ دیر بعد جب شام ڈھل جائے گی، تب شاید واپسی کے لیے سڑک پر کوئی سواری بھی نہ ملے۔ ویسے بھی یونیورسٹی شہر سے دور مضافات میں واقع تھی ۔ آخر کار طے یہ پایا کہ پہلے کاجل کو اس کے گھر اتارا جائے گا اور پھر یہی رکشا نعمان کو اس کی منزل تک پہنچائے گا۔ راستے میں کاجل رکشے کے اندر سکڑی سمٹی سی بیٹھی رہی مگر یہ رکشا بھی بڑی بدتمیز قسم کی سواری ہے، ایک ذرا سا کنکر بھی پہیے کے نیچے آجائے تو پورا ”کانپ” جاتا ہے۔ لہٰذا نعمان اور کاجل کو جمے رہنے کے لیے سامنے لگی لوہے کی راڈ کو نہایت مضبوطی سے تھام کر بیٹھنا پڑا، لیکن جھٹکے تھے کہ رکنے میں ہی نہیں آرہے تھے اور پھر جب بے خیالی میں ان دونوں کی ایک دوسرے پر نظر پڑی، تو اپنی اپنی حالت دیکھ کر وہ دونوں ہی بے ساختہ کھل کھلا کر ہنس پڑے۔ یہ ان کی دوستی کی ابتدا تھی۔
    اور پھر کوئی دن ایسا نہ گزرا جب ان دونوں کی ملاقات نہ ہوئی ہو۔ وہ گھنٹوں ایک دوسرے کے سامنے بیٹھ کر ایک دوسرے کو کھوجاکر تے اور بالآخر ان کی یہ کھوج محبت کے اس گم نام جزیرے پر جاکر ختم ہوئی جہاں داخل ہونے کے لیے تو ہزار راستے موجود ہوتے ہیں، مگر نکلنے کا ایک بھی دروازہ نہیں ہوتا۔ پھر ایک دن ایسی ہی ایک بھیگتی شام میں کاجل نے نعمان کو یہ رین کوٹ تحفے میں دیا تھا۔ ان کے شہر میں بارشیں بہت ہوتی تھیں، لیکن کا جل کا یہ تحفہ اس بھیگی شام کی یاد میں تھا جب ان دونوں کی پہلی ملاقات ہوئی تھی۔ ویسے بھی کاجل کو رین کوٹ پہنے مرد بہت سوبر لگتے تھے۔ اسے نعمان کو یہ نیلا رین کوٹ پہنے دیکھنے کا بہت شوق تھا، لیکن ان کے نصیب کا وہ آخری ساون ثابت ہوا۔
    اگلے برس ہی ان کی محبت کے چاند کو گرہن لگ گیا ۔ کاجل کے بھائی نے اسے کہیں باہر نعمان کے ساتھ یونیورسٹی اوقات میں گھومتے پھرتے دیکھ لیا اور کاجل کی تعلیم کا سلسلہ موقوف کردیا گیا۔ نعمان نے اپنے طور پر ہر کوشش کر دیکھی، مگر کاجل کی نظر بندی ختم نہ ہو سکی۔ گھر والوں نے کاجل کی سہیلیوں کو بھی زیرِ لب کاجل کے بارے میں دخل نہ دینے کا پیغام دے دیا تھا۔ ایسے میں کاجل کی ہم جماعت نائلہ جو اس کی ہمسائی بھی تھی، نعمان کا آخری سہارا ثابت ہوئی اور اس نے کسی طور کاجل تک نعمان کا یہ پیغام پہنچایا کہ اگر وہ دونوں نہ مل پائے تو نعمان مرجائے گا، مگر محبت کا زہر کسی کو پوری موت کب مرنے دیتا ہے؟ سو نعمان بھی زندہ رہا، مگر بہت سالوں تک دوسروں سے الگ زندگی گزارتا رہا۔ کاجل کے گھر والوں نے جلدی میں اس کی چٹ منگنی اور پٹ بیاہ کی رسم ادا کرکے اپنی جان چھڑائی۔ کاجل نے نائلہ کے ذریعے ہی نعمان کو یہ آخری پیغام بھجوایا کہ وہ اپنے گھر کی ہونے جارہی ہے، لہٰذا اب نعمان بھی اس کا خیال اپنے دل سے نکال کر اپنا گھر بسالے۔ نعمان یہ سن کر اند رسے ہزار بار کٹ کر رہ گیا۔ یہ لڑکیاں اپنا گھر بستے ہی کس آسانی سے دوسروں کو گھر بستی کے مشورے دینا شروع کردیتی ہیں۔ نائلہ کے بہ قول کاجل کا رشتہ بہت اچھے اور امیر کبیر خاندان میں ہوا تھا اور اس کا شوہر کاجل کا بہت خیال رکھتا تھا۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • بارِ گراں — افشاں علی

    بارِ گراں — افشاں علی

    آسمان کی نیلگوں وسعتوں میں شفق کی سرخی پھیلی ہوئی تھی۔ پرندے چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں اپنے آشیانوں کی جانب محوِ پرواز تھے۔ ہلکی ہلکی ٹھنڈی ہوا نے اس ڈھلتی شام کو اور بھی دل فریب بنا دیا تھا۔ غروب آفتاب کا منظر دیکھ کر یوں محسوس ہورہا تھا گویا انڈے کو کسی نیلے برتن میں توڑ کر ہولے ہولے پھینٹ دیا گیا ہو۔ ٹیوشن کے بعد شام کی چائے وہ اکثر اپنی چھت سے نظر آتے ڈوبتے سورج کے منظر میں ڈوب کر ہی پیتی تھی۔ کچھ عرصے سے یہ اس کا مشغلہ بن چکا تھا۔ اب بھی وہ چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے رخصت ہوتے سورج اور اس کی بکھری زرد کرنوں کو دیکھنے میں محو تھی، جب نیچے سے مسلسل آتی اپنے نام کی پکار نے اس سحر کو توڑ دیا اور وہ نیچے جاتی سیڑھیوں کی جانب بڑھی۔
    ”بیٹا! کتنی بار کہا ہے جب دو وقت آپس میں مل رہے ہوں تو یوں چھت پر نہیں جاتے، مگر تم ہو کہ سنتی ہی نہیں۔” لاؤنج میں رضیہ بیگم نے نماز سے فراغت کے بعد جا نماز تہ کرتے ہوئے سیڑھیاں اترتی اپنی اکلوتی نورِ نظر انفال کو ڈپٹا۔
    ”امی! آپ تو جانتی ہیں مجھے ٹیوشن کے بعد ایک یہ ہی وقت تو ملتا ہے۔” چائے کا خالی مگ ڈائننگ ٹیبل پر رکھتے ہوئے اس نے کہا۔
    ”تو بیٹا! کیا اس وقت چھت پر جانا ضروری ہے؟ اس وقت کھلے آسمان تلے جانے سے بزرگ منع کرتے ہیں۔” انہوں نے ہنوز خفگی دکھائی۔
    ”میری پیاری سی امی! نارنجی شفق پر ڈوبتے سورج کو دیکھنا’ اف! کتنا حسین منظر ہوتا ہے۔ اگر میں آرٹسٹ ہوتی تو ڈوبتے سورج کی اس دلکشی کو کینوس پر اتار کر اپنے کمرے میں ہی سجا دیتی۔” انفال نے آنکھیں میچ کر جذب کے عالم میں کہا۔
    ”اچھا چلو اپنے خوابوں اور خیالوں کی دنیا سے باہر آ کر نماز پڑھ لو، وقت نکلا جارہا ہے۔” رضیہ بیگم نے قدرے نرم لہجے میں کہا اور ڈائننگ ٹیبل پر موجود خالی مگ اٹھائے کچن کی جانب چل دیں، جب کہ انفال وضو کرنے چلی گئی۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});
    کھلے صحن سے ملحق کمرا، جو گیسٹ روم کے طور پر استعمال ہوتا تھا، اب گزشتہ کچھ ماہ سے ٹیوشن روم بن چکا تھا ۔
    ”بیٹا! صائمہ آئی ہیں’ تمہارا پوچھ رہی ہیں۔” انفال جو دل جمعی سے آٹھویں جماعت کی اسٹوڈنٹ کو maths سمجھانے میں مصروف تھی’ اچانک رضیہ بیگم کی آواز پر چونکی۔
    ”خیریت؟” بال پین رجسٹر پر رکھتے ہوئے اس نے گردن گھما کر امی کی جانب دیکھا۔
    ”ہاں! شاید اپنی بیٹی کے لیے ٹیوشن کی بات کرنی ہے۔” رضیہ بیگم نے اندازہ لگایا۔
    ”فلک! بیٹا آپ ذرا باقی بچوں کو دیکھ لیجیے، میں کچھ دیر میں آتی ہوں۔” انفال میٹرک کی ایک اسٹوڈنٹ کو اپنے پیچھے باقی بچوں کی ذمے داری سونپ کر امی کے ہم راہ کمرے سے باہر نکلی اور سٹنگ روم کی جانب بڑھی، جہاں صائمہ باجی اپنی بیٹی کے ہم راہ اس کی منتظر تھیں۔ وہ واقعی اپنی بیٹی کے ٹیوشن کے لیے ہی آئیں تھیں۔
    صائمہ باجی ان کے پڑوس میں نئی نئی آئی تھیں۔ اپنی اسٹڈیز اور پھر ٹیوشنز کی مصروفیات کی وجہ سے اسے کافی مشکلات کا سامنا تھا جس کے سبب اس نئی پڑوسن سے ملاقات نہ ہوپائی تھی۔ امی سے ہی اس نے وقتاً فوقتاً صائمہ باجی ذکر سُنا تھا۔ کچھ ماہ پہلے انفال کے گھر کے بالکل ساتھ تین منزلہ اپارٹمنٹ بنا تھا جس کے گراؤنڈ فلور پر صائمہ باجی رہنے آئی تھیں۔ اٹھائیس سالہ صائمہ باجی اپنی سات سالہ بیٹی اور والدہ نصرت خالہ کے ساتھ رہتی تھیں۔ صائمہ باجی جب چھوٹی تھیں، تب ہی ان کی امی نے اپنے شوہر سے طلاق لے لی اور پھر اپنے چار بھائیوں کے تعاون سے اپنی بیٹی کو ناصرف پالا پوسا بلکہ تعلیم بھی دلوائی اور اپنے بھتیجے کی پسند کو مدِنظر رکھتے ہوئے اس کے بے حد اصرار پر صائمہ کو اس سے بیاہ دیا۔ مگر افسوس، بیٹی نے بھی ماں جیسی قسمت پائی تھی ۔ وہ بھی شادی کے محض ڈھائی سال بعد طلاق کے کاغذ اور ایک سالہ بسمہ کو گود میں لیے پھر سے ماں کے پاس چلی آئی جسے اب دونوں ماں بیٹی مل کر پال رہے تھے۔ کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جہاں زخم لگا ہو’ نادانستہ طور پر چوٹ بھی بار بار اسی جگہ لگتی ہے۔
    ٭…٭…٭
    بسمہ بھی اس کے پاس ٹیوشن آنے لگی۔ وہ ذہین بچی تھی۔ سات سال کی عمر میں کلاس ون کی اسٹوڈنٹ تھی۔ کلاس ورک، ہوم ورک، ٹیوشن ورک یہاں تک کہ ٹیسٹ بھی اتنی صفائی و مہارت سے کرتی کہ کبھی کبھی انفال بھی حیران رہ جاتی۔ اسے ہمیشہ سے ایسے ہی بچے متاثر کرتے تھے اور بسمہ کی صورت اس کے اسٹوڈنٹس میں ایک اچھا اضافہ ہوا تھا۔
    ماہانہ ٹیسٹ ختم ہونے کے بعد اسکولوں میں تین روزہ چھٹی ہونے پر انفال نے بھی ٹیوشن سے چھٹیاں دے دیں تھیں تاکہ بچوں کے ساتھ ساتھ اسے بھی تھوڑا ذہنی سکون مل جائے۔اِس نے آج صبح ہی سے گھر کی مکمل صفائی کی مہم شروع کر رکھی تھی جب کہ رضیہ بیگم اپنی لاڈلی بیٹی کے لیے نہاری بنانے میں مصروف تھیں۔ پورے گھر میں اُڑتی مٹی کے ہم راہ نہاری کی خوشبو بھی پھیلی ہوئی تھی۔ دروازے پر بجتی مسلسل گھنٹی کی آواز پر وہ اپنا حلیہ درست کرتی گیٹ کی طرف بڑھی جہاں صائمہ باجی کھڑی تھیں۔
    ”ارے آپ؟ آئیے آئیے۔” اس نے خوش دلی سے انہیں اندر آنے کی دعوت دی۔
    ”لگتا ہے گھر کی صفائی میں مصروف تھی’ سوری انفال تمہیں ڈسڑب کیا۔ دراصل مجھے کچھ ضروری بات کرنی تھی’ اسی لیے اس وقت چلی آئی۔” صائمہ باجی نے اندر آتے ہوئے کہا۔
    ”نہیں نہیں! کوئی بات نہیں، آپ اندر آئیے۔” وہ صائمہ باجی کو اپنے ہم راہ اندر لے آئی اور صوفے پر بیٹھنے کو کہا۔ رضیہ بیگم بھی کچن سے آ گئیں ۔
    ”آؤ بیٹا! خیریت تو ہے؟”
    ”جی آنٹی! سب خیریت ہے۔ بس انفال سے تھوڑی بات کرنی تھی۔”
    ”سب ٹھیک تو ہے نا؟ کوئی مسئلہ ہورہا ہے میرے پڑھانے میں؟” انفال نے یک دم پریشانی سے پوچھا جب کہ یہ ہی سوال رضیہ بیگم کے چہرے پر بھی رقم تھا۔ حالاں کہ بسمہ کو ٹیوشن آتے ابھی محض پندرہ دن ہی ہوئے تھے۔
    ”ارے نہیں نہیں یار ماشا اللہ تمہاری ٹیوشن سے تو میں بہت مطمئن ہوں۔ وہ دراصل کل سے اسکول میں چھٹیاں ہیں اور تم نے بھی ٹیوشن سے چھٹیاں دے دی ہیں۔ اب بسمہ سارا دن گھر میں تنگ کرتی رہے گی تو میں سوچ رہی تھی کہ تم چاہے صبح کے وقت تھوڑا سا ٹائم نکال کر اسے پڑھا دیا کرو۔” صائمہ باجی کی آمد سے زیادہ ان کی بات خلافِ توقع تھی۔
    ”مگر اسکول بھی بند ہے’ کوئی ہوم ورک بھی نہیں ہوگا تو پھر یہ کیا کرے گی؟” انفال نے آہستگی سے کہا۔
    ”ہاں وہ تو ہے’ مگر جب اسکول کھلے گا تو نیا ٹرم شروع ہوجائے گا۔ تب تک تم پچھلے کام کی دہرائی کروا دو تاکہ اسے یہ پکا یاد ہوجائے۔”
    مگر بسمہ کو تو ماشاء اللہ سب کچھ فرفر یاد ہے اور ویسے بھی نئے ٹرم کے پیپرز میں پچھلا توکچھ بھی نہیں آتا۔ پھر بچی پر خوامخواہ بوجھ پڑے گا۔” انفال نے انہیں سمجھایا ۔
    ”ہاں بسمہ بہت ہوشیار ہے، یہ کور کرلے گی۔ تم بس کسی بھی ٹائم ایک گھنٹا ہی نکال کر پڑھا دو، باقی میں خود دیکھ لوں گی۔” وہ انفال کی طرف سے دی جانے والی ٹیوشن کی چھٹیوں کو بحال کرنے پر بہ ضد تھیں۔
    ”چلیں ٹھیک ہے۔ آپ ساڑھے تین بجے تک بھیج دیجیے گا۔”
    ”نہیں! تب تو بسمہ سوئی ہوئی ہوتی میں ایسا کروں گی ٹیوشن کے ٹائم پر ہی بھیج دیا کروں گی۔”
    ”جی ٹھیک ہے۔”
    بالآخر انفال نے ہتھیار ڈال دیے۔
    ”کیا ضرورت تھی ہامی بھرنے کی؟ جب سکول سے چھٹیاں ہوئیں ہیں تب انہیں مسئلہ نہیں ہوا اور تم نے جو دو تین دن کی چھٹیاں دے دی ہیں، وہ انہیں ہضم نہیں ہو رہیں۔” صائمہ باجی کے جانے کے بعد رضیہ بیگم کے چہرے پر خفگی نمایاں تھی۔
    ”کوئی بات نہیں امی! وہ ابھی نئی ہیں، ایسے منع کرنا اچھا نہیں لگتا اور پھر ہماری پڑوسن بھی ہیں۔” انفال نے پھر سے ڈسٹنگ شروع کرتے ہوئے جواب دیا۔
    ”لیکن سوچنے والی بات تو ہے کہ میں نے ٹیوشن کی چھٹی تو سب کو دی ہے اور ان کے سوا کسی کو بھی کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔” انفال نے بھی کب سے ذہن میں مچلتے ہوئے سوال کو زبان دی۔
    ”بس بیٹا! وہ تھوڑی سی بے صبری اور جذباتی ہے۔ تمہاری بات بھی اپنی جگہ صحیح ہے۔ ابھی نئی ہے اور پھر پڑوسن بھی، تم انکار کردیتیں تو بلاوجہ بدزن ہوجاتی۔” رضیہ بیگم نے بھی بالاخر انفال کی بات سے اتفاق کیا جب کہ انفال بھی پر سوچ انداز میں پھر سے صفائی میں مشغول ہوگئی۔
    ٭…٭…٭
    انفال نے جس بات کو معمولی سمجھ کر درگزر کیا تھا، وہ صرف آغاز تھا۔ اس دن کے بعد سے تو صائمہ باجی نے گویا ان کے گھر پر ڈیرے ہی ڈال لیے۔ کبھی اسکول سے فوراً ہی واپسی پر اسکول ڈائری لیے چلی آتیں، تو کبھی ٹیوشن یا اسکول میں ہوئے کسی ٹیسٹ کی کاپی تھامے کچھ پوچھنے کی غرض سے۔ اب ایسا بھی نہیں تھا کہ انفال صحیح سے ٹیوشن نہیں پڑھاتی بلکہ وہ تو بہت محنت اور توجہ کے ساتھ دل لگا کر پڑھاتی تھی مگر معلوم نہیں صائمہ باجی ازل سے بے صبری تھیں یا بیٹی کی پڑھائی کو لے کر اتنی پوزیسیو ہوجاتی تھیں۔ ہر وہ کام جو بسمہ اسکول میں کرکے آتی یا پھر ٹیوشن میں انفال کرواتی، وہ سب صائمہ باجی کو ناصرف تفصیلاً معلوم کرنا ہوتا بلکہ سمجھنا بھی لازمی ہوتا۔ گویا بیٹی کے ساتھ ساتھ ازسر نو وہ خود بھی پڑھائی کررہی تھیں۔ گزشتہ ایک ماہ میں تو صائمہ باجی کے معمولی و غیر معمولی باتوں پر کوئی بیس چکر لگ چکے تھے اور اُس دن تو حد ہی ہوگئی۔ انفال کا موڈ بہت خوش گوار تھا اور وہ اسی خوش گوار موڈ کے ساتھ ٹیوشن پڑھا رہی تھی۔
    ”انفال باجی! کل اسکول میں اردو قواعد کی ٹیچر ضرب الامثال اور محاورات کا ٹیسٹ لیں گی۔”
    ”ٹھیک ہے! آپ یاد کرلو اور ان کے مطلب سمجھ لو، پھر میں ٹیسٹ لوں گی۔” انفال نے ڈائری دیکھتے ہوئے جواب دیا۔
    ”انفال باجی! مجھے یاد ہے، آپ ٹیسٹ لے لیجیے۔” انیس الرحمان نے اپنی ٹیسٹ کاپی انفال کی سمت بڑھائی۔ انفال نے ٹیسٹ لکھ کر اس کے حوالے کیا اور بسمہ کو verb کی تعریف سمجھاکر یاد کروانے لگی۔ خلاف معمول، دس منٹ بعد ہی بسمہ کو verb نہ صرف سمجھ آچکا تھا بلکہ تعریف بھی یاد ہوچکی تھی۔ وہ اب باقی بچوں کو پڑھانے میں مشغول تھی جب انیس الرحمان بھی اپنی ٹیسٹ کاپی لے کر چلا آیا۔ انفال نے چیک کرنے کی غرض سے اس کے ہاتھ سے ٹیسٹ کاپی لی اور اگلے ہی لمحے نہ چاہتے ہوئے بھی ہنسی کے فوارے اس کے منہ سے پھوٹ پڑے۔
    ”انیس! یہ کیا لکھا ہے؟” ہنسی کو کنٹرول کرتے ہوئے اس نے کچھ لائنز کو ہائی لائیٹ کرتے ہوئے انیس سے پوچھا۔
    ”انفال باجی! محاورے اور ضرب الامثال۔” معصومیت سے جو جواب ملا، اس کا نظارہ ٹیسٹ کاپی پر بھی نظر آرہا تھا۔ انفال نے نظرِثانی کی۔ محاورہ تھا،”تارے توڑنا۔” جس کا جواب کچھ یوں تھا۔
    ”سُپرمین مون کے پاس جاکے تارے توڑ کر لاسکتا ہے۔”
    ”دھوبی کا کتا، نہ گھر کا نہ گھاٹ کا۔” اس کا مطلب ہے وہ کتا جو دھوبی کے گھر یا گھاٹ کے باہر ہوتا ہے۔”
    ”اُف! آج کل کے بچے بھی نا۔” انفال نے اپنی مسکراہٹ ضبط کرتے ہوئے پہلے انیس الرحمان کو ڈپٹا اور پھر جملے صحیح کرکے لکھوانے لگی۔ تب ہی صائمہ باجی کی آمد ہوئی۔ رضیہ بیگم شاید نمازِ مغرب پڑھنے میں مصروف تھیں، اس لیے انفال نے ٹیوشن کے بچے کو ہی گیٹ کھولنے کے لیے بھیجا جو اپنے ساتھ صائمہ باجی کو لیے ٹیوشن روم میں چلا آیا۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});