Author: misbah116@hotmail.com

  • مستانی — منظر امام

    مستانی — منظر امام

    پینترا بدل کر گرو نے پھر وار کیا۔ اس بار یہ وار دائیں ہاتھ کوجھکاوا دے کر بائیںطر ف کیا گیا تھا۔ لیکن دس بارہ برس کی بچی صاف طُرح دے گئی تھی۔ گرو اپنے وار کی طاقت کے جھونک میں ایک طرف کو لچک گیا تھا۔ بچی نے اپنی تلوار کی نوک اس کے سینے پر رکھ دی:”بس مہا راج! آپ ہارگئے۔”
    ”دھنے باد مستانی ! دھنے باد”گرو نے کہا۔
    ”میں نے جو پینترا بدلا تھا ۔ اس سے بچنا آسان نہیں ہو تا۔
    لیکن تو تو ایسا لگتا ہے جیسے ماں کے پیٹ سے سیکھ کرآئی ہے”۔
    بچی نے تلوار ایک طرف ڈال دی اور آگے بڑھ کر گرو کا ہاتھ چوم لیا۔
    ”مہاراج!یہ سب تو آپ ہی نے سکھا یا ہے نا۔”
    گرو کی آنکھوں میں مشعل روشن ہو گئی۔
    بچی کی ماں روحانی بیگم ایک طرف کھڑی اس مقابلے کو دیکھ رہی تھی۔ اس کے چہرے کے تاثرات سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہ تھا کہ وہ اس وقت کتنی خوش تھی۔
    خدمت گزارملازمائیں پیچھے ادب سے سر جھکائے کھڑی تھیں۔
    گرو ”آگیا”لے کر چلا گیا۔ مستانی نے اپنی تلوار اٹھائی اور ماں کے پاس آگئی۔ اس کے خوب صورت چہرے پر پسینے کے قطرے موتیوں کی طرح جھلملا رہے تھے۔
    ”تم نے دیکھا ماں۔”مستانی کے لہجے میں موجود تفاخر روحانی بیگم سے چھپا نہیں تھا۔
    ”ہاں دیکھ لیا۔”روحانی بیگم نے بہ ظاہر بے نیازی سے کہا۔”لیکن ہمیں اس میں شک ہے۔”
    ”کس با ت کا شک ؟ ”مستانی نے تڑپ کر پوچھا۔
    ”ہو سکتا ہے کہ گرو جی نے مجھے دیکھ کر تمہارا لحاظ کر لیا ہو۔”روحانی نے کہا ۔
    ”نہیں ماں ۔”مستانی کی بھنویں تن گئیں۔
    ”گرو ایک راجپوت ہیں اور راجپوتوں کے ہاں مصلحت سے کام نہیں لیا جا تا ۔ ”
    ”شاباش”۔ تالیاں بجنے کی آواز آئی ۔
    مہاراجہ چھتر سال ان کے پیچھے کب آکر کھڑا ہوا،اس کا انہیں پتا بھی نہ چلا ۔
    دونوں ماں بیٹی نے اس کے احترام میں اپنی گردنیں جھکا دی تھیں۔
    ”پتا جی !مستانی نے شکوہ کیا:”آپ نے سن لیا نا ، ماں کیا کہہ رہی تھیں۔”
    ” ہاں بیٹا! وہ تم سے بے پناہ محبت کرتی ہیں اور محبت کرنے والے یہ چاہتے ہیں کہ کسی منزل پر مسافر رک نہ جائے بلکہ آگے بڑھتا رہے۔ تم اپنی ماں کے سینے سے لگ کرتو دیکھو۔ وہاں سے تمہیں مبارک باد کی آوازیں آتی سنائی دیں گی۔”
    روحانی بیگم نے اپنی بانہیں پھیلا دیں۔ مستانی ان بازوؤں میں سمٹ گئی ۔
    یہ محل مہاراجہ چھتر سال کا تھا۔ بندیل کھنڈ اور ارد گرد کے وسیع علاقے کا خود مختار حکم ران۔
    مستانی اسی کی بیٹی تھی۔ جس کی ماں روحانی بیگم ایک مسلمان عورت تھی۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    تاریخ ایسے جوڑوں سے بھری پڑی ہے ،جس میں ایک طرف ہندو شوہر تو دوسری طرف مسلمان بیویاں۔ ایک طرف مسلمان شوہر تو دوسری طرف ہندو بیویاں۔
    شائد صدیوں کے میل جول کے بعد ایک مفاہمتی کلچر وجود میں آجا تا ہے۔ لیکن چھتر سال اور روحانی بیگم کے درمیان معاملہ ایسے کلچر کا نہیں بلکہ نگاہوں کے تصادم اور ایک ایسی آگ کا معاملہ تھا جس کے لئے کہا گیا ہے کہ عشق پہ زور نہیں ۔
    چھتر سال نے اس لڑکی کو دیکھا جس کے بدن میں جوالا مکھی بھری تھی۔ جب وہ رقص کے دائرے بناتی تو جیسے پوری کائنات ان میں سمٹ آتی ۔ اس کے نازک پیروں سے بندھے گھنگرو ایسی کیفیت پیدا کرتے کہ در و دیوار بھی ہم آہنگ ہو کر بجنے لگتے تھے۔
    مدھ بھری آنکھوں میں ایسی بجلیاں کوندتی تھیں ،جو اپنی راہ میں آنے والی ہر شے کو خاکستر کئے جا تی تھیں۔ اس کی زلفوں کی گھٹائیں بارش برساتی محسوس ہو تی تھیں۔ چھتر سال اُسے دیکھ دیکھ کر پہلو بدل رہا تھا۔ اس وقت اس کی کیفیت کچھ ایسی تھی کہ اِن زلفوں سے دل بھر کر باتیں کی جائیں ۔
    اُس نے اُسی وقت اس حسن کو اپنے لئے مخصوص کرنے کا ارادہ کر لیاتھا۔ روحانی بیگم کی ماں اس کے سامنے ہی بیٹھی تھی۔ محفل ختم ہو نے کے بعد مہاراجہ چھتر سال نے اس کی ماں کو اپنے حضور طلب کر لیا ۔ وہ گردن جھکا ئے اس کے سامنے آکھڑی ہو ئی ۔
    مہاراجہ نے ہیروں کا ایک قیمتی ہار اپنے گلے سے اتار کر اس کی طرف اچھال دیا۔ جسے روحانی بیگم کی ماں نے فوراً اُچک لیا ۔
    ”ہم تمہاری بیٹی کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتے ہیں۔”چھتر سال نے فیصلہ سنا یا۔
    ”مہاراج!آپ اس علاقے میں بسنے والے ہر شخص کی قسمت کے مالک ہیں۔ ”روحانی بیگم کی ماں نے کہا ۔
    ”لیکن ہر معاملے کے دو پہلو ہوا کرتے ہیں۔ ایک زبر کا دوسرا زیر کا ۔ ”
    ”خوب ”مہاراجہ مسکرا دیا۔ ”اب تم مجھے زیر و زبر کا مفہوم بھی بتا دو۔”
    ”مہاراج!زبر، زبر دستی کا نام ہے اور زیر ، زیر دستی یعنی محبت کا ۔ ایک دوسرے سے پیار کا۔ ”
    ”نہیں ۔ زبر دستی نہیں ،زیر دستی کے ساتھ۔ میں تمہاری روحانی کو اپنے محل میں لے جانا چاہتا ہوں۔”
    ” مہاراج!ویسے تو روحانی آپ کی کنیز ہے ۔لیکن میں نے اس کی پرورش اس انداز سے کی ہے کہ یہ ایک دیوار ، ایک محراب یا ایک دروازہ بن کر نہیں رہ سکتی، اس کو سانس لینے کی عادت ہے،دیواریں تنگ ہو تی گئیں تو یہ بھی گھٹ کر رہ جائے گی ۔ ”
    ”تم نے یہ کیسے سمجھ لیا کہ میں اس کو در ودیوار بنا کر اپنے ساتھ لے جاؤں گا۔ میں تو اس کو قید رکھوں گااپنے دل کی دیواروں میں۔”
    ”مہاراج !یہ بہت بڑا دعویٰ کررہے ہیں آپ۔ ”روحانی بیگم بولی۔
    ”یہ ایک راجپوت کا وچن ہے۔”مہاراج نے پورے یقین سے کہا۔
    اس طرح روحانی مہاراجہ چھتر سال کے ساتھ اس کے محل میں آ گئی۔ مہاراجہ نے اپنا وچن نبھا دیا تھا۔ اس نے روحانی سے شادی کرلی۔ بیویاں اوربھی تھیںلیکن روحانی کی اپنی ایک الگ مسلم حیثیت تھی۔ اس کو مذہب تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کیا گیا ،وہ مسلمان ہی رہی ۔ مستانی اسی کی بیٹی تھی۔ بچپن ہی سے ذہین اور بہادر۔ شمشیر زنی اور گھڑ سواری کی تربیت نے اسے جفاکش اور بے خوف بنا دیا تھا۔وہ ایک راج کنیا تھی۔ کہا جاتا ہے اس کے مستانی نام رکھنے میں بھی یہ حکمت پوشیدہ تھی کہ لوگوں کو اُس کی صحیح شناخت نہ ہو سکے کہ وہ ہندو ہے یا مسلمان۔ مہاراجہ چھتر سال کو اس پر بے حد فخر تھا۔

    ٭

    اس کا زمانہ (١٦٤٩ ء سے ١٧٣١ء )تک کا ہے۔
    اس زمانے میں دہلی پر شہنشاہ شاہ جہاں کی حکومت تھی۔ لیکن اس کے ساتھ ہی بے شمار رجواڑے اور چھوٹی بڑی ریاستیں تھیں۔ شاہ جہاں کے بعد اورنگ زیب عالمگیر کے زمانے میں مرہٹوں نے طاقت پکڑنا شروع کر دی۔
    اورنگ زیب نے ١٦٦٦ ء میں مرہٹوں کے سردار شیوا جی پر قابو پا کر اسے گرفتار کر لیا تھا۔ لیکن وہ کسی طرح قید سے فرار ہو گیا ۔ ١٦٧٤ ء میں مرہٹوں نے شیوا جی کو اپنا حکمراں بنا کر اس کی تخت نشینی کی رسم ادا کی ۔ اس نے چھے سال حکومت کی۔ اس کی حکومت کلیان سے گوا،مشرق میں کرناٹک،اور جنوب میں میور تک پھیلی ہوئی تھی۔

    ٭

    محبت کی یہ داستان اسی جغرافیائی اور تاریخی پس منظر کی ہے۔ اب باجی راؤ کو راجپوتوں کا راج سنبھالنا ہے۔ یہ ایک کڑا چناؤ ہے۔ اس میں طاقت اور ہنر مندی کے ساتھ دانش مندی کا بھی جائزہ لیا جاتا ہے۔ مرہٹوں کا دربار سجا ہوا ہے۔ سروں پر پگڑیاں باندھے اور پگڑیاں بھی ایسی جن پر ہیرے ٹکے تھے ۔ان پگڑیوں کے چھجے آگے کی طرف بڑھے تھے جن کے نیچے دمکتی سرخ آنکھیں،تنے ابرو اور سرکش مونچھیںجو ان کی راجپوتی شان کی علامت تھیں۔ جھلمل جھلمل قیمتی کرتے ،پیش وازاور کمر کے گرد حائل تلواریں اور آوازوں میں گھن گرج۔
    اپنی اہمیت کا احساس دلاتی اونچی اونچی محرابیں، لہراتے ہوئے حریری پردے، ستونوں پر مرہٹوں کے قدیم مصوروں کی بنائی گئی نقاشی،درمیان میں دورویہ بیٹھے ہوئے راجپوت سردار۔ان میں ہر ایک اپنی آن پر جان دینے اور لینے کو تیار۔ دو رویہ قطاروں کے بعد ایک اونچا سنگھاسن ۔جس پر پوری آن اور شان سے بیٹھا ہوا پیش وا۔جس کے کرتے کا گھیرہی دس گز کا تھااور پگڑی سب سے اونچی ۔ اوپر کی جانب اُٹھی ہوئی بل کھائی مونچھیں۔
    راجہ کی نشست کے پیچھے غلام مورچھل لئے ہوا دے رہے تھے۔ اس کی آواز میں اتنی گھن گرج تھی کہ در و دیوار ہل کر رہ جاتے۔
    آج مرہٹوں کے پیش وا کے انتخاب کا دن تھا۔ مرہٹہ سلطنت بہت دور تک پھیل چکی تھی۔ اس کے ساتھ ہی سلطنت کو کئی ایک خطرات بھی لاحق تھے۔
    کامیابی کا راستہ ہمیشہ کانٹوں بھرا ہوا کرتا ہے ۔
    باجی راؤ کا اعلان کیا گیا۔ باجی راؤ کا باپ خود ایک بڑا سردار تھا۔ اس کی موت کے بعد باجی راؤ کو نہ صرف اپنے باپ کی گدی سنبھالنی تھی بلکہ سارے راجپوتوں کا سردار بھی بننا تھا۔
    اس اعلان کے ساتھ ہی پورے دربار میں سرگوشیاں گونجنے لگیں۔
    ایک سردار اپنی مونچھوں کو بل دیتا کھڑا ہوا۔
    ”مہاراج!اس نے پیش وا کو مخاطب کیا :”راج سنگھاسن بچوں کا کھیل نہیں ہے ۔ اس میں زندگی تلواروں کی چھاؤں تلے گزرتی ہے ۔ اس کے علاوہ بدھی مان (عقل مند ) بھی ہونا پڑتا ہے۔”
    پیش وانے پہلو بدلا۔”بالا جی تم یہ کیسے کہہ سکتے ہو کہ باجی راؤ اس ترازو پرپورا نہیں اترے گا،اس کو پریکشاتو دینے دو۔”
    سردار اپنی جگہ جا کر بیٹھ گیا۔
    باجی راؤ سامنے آکھڑا ہو گیا۔ تمکنت سے تنی مونچھیں، بالوں سے صاف سر پرایک لہراتی موٹی سی چٹیا ، گٹھا ہوا جسم اور للکارتی آنکھیں،جن میں سے جوالاپھوٹ رہاتھا۔
    کمر کے گرد کسی ہوئی تلوار اور دوسرے پہلو میں ایک کٹار ،جس کو وہ اپنی پتنی کہا کرتا۔
    ”باجی راؤ!کیا تمہیں یہ معلوم ہے کہ تم نے جس بات کی خواہش کی ہے اس کے لئے جان کی بازی ہارنی پڑتی ہے”۔
    ”مہاراج!”باجی راؤ نے اپنی گردن جھکا لی۔
    ”جان کی بازی ہارنے کی بات اس وقت ہو تی ہے جب حوصلہ ہار دیا جائے اور جب تک حوصلہ زندہ رہتا ہے ہم جیسے لوگ جیت کی بات کرتے ہیں ہارکی نہیں۔”
    واہ۔ واہ۔واہ۔واہ۔۔۔پورا دربار داد دینے لگا تھا۔
    ”تم اپنی عمر اور تجربے سے بڑھ کر بات کررہے ہو باجی راؤ ”۔
    ”ہاں مہاراج!بہت سے لوگ تجربوں کے محتاج نہیں ہوتے بلکہ تجربہ ان کا محتاج ہوتا ہے کہ وہ کوئی ایساکام کر دکھائیں جو ایک نئے تجربے کے طور پر اتہاس کے پرنوں میں لکھ دیا جائے ۔ ”
    ”ابھی اس کا امتحان ہو جا تا ہے”۔
    باجی راؤ شانے اچکا کر رہ گیا۔ پیش واکے کہنے پر تیر کمان لایا گیا۔ پہلا امتحان تیر اندازی تھا۔ جس میں باجی راؤکی مہارت نے سب کو حیران کر دیا تھا۔ دوسرا مقابلہ تلوار بازی کا تھا۔ تیسرا مقابلہ بدھی کا تھا۔ شطرنج کا تھا۔ اس نے ہر ہر میدان میں اپنے آپ کو سربراہی کے قابل ثابت کر دیا تھا۔
    چناؤ ختم ہوا۔ باجی راؤ کی پیش وائی کا اعلان کر دیا گیا تھا۔
    اس کے بعد جنگوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوا ۔ باجی راؤ ہرمعرکے میں کامیابی حاصل کرتا رہا۔ جیت اس کی غلام بن گئی ۔ جہاں جاتا فتوحات کے ڈھیر لگا دیتا۔
    مگرہر معرکے کے بعدجسم کے زخموں میں بھی اضافہ ہوتا چلا گیااور ہر زخم اس کے لئے ایک ایسے تمغے کی مانند تھاجس کو بہادر اپنے جسم پرسجا کر فخر محسوس کرتے ہیں۔
    اس کے جلو میں دوڑنے والے گھوڑوں کے سموں سے چنگاریاں نکلتیں۔ اس کی راتیں تلواروں کے پہلو میں اور اس کے دن تلواروں کے سائے میں گزرتے۔
    اس کی شادی کاشی سے ہو گئی ،جو ایک خوب صورت عورت اور ایک بڑے سردار کی بیٹی تھی۔ کاشی اس کے لئے سراپا محبت تھی۔ اس نے جی بھر کر باجی راؤ سے محبت کی ۔ باجی راؤ اس کی موجودگی میں کسی اور کا دھیان بھی نہیں کرتا تھا۔
    کاشی اس سے کہا کر تی:”ہم نے آپ کے پیمانہ عشق کو اپنے وجود سے اتنا بھر دیا ہے کہ اس میں کسی اور کے لئے کبھی گنجائش نہیں نکل سکتی ۔”
    ”میری جان!ہمارے لئے کسی اور کی ضرورت بھی کیا ہے۔”باجی راؤ اس کی آنکھوں میں جھانک کر کہتا۔” بس ایک محبت کافی ہے۔”
    ”لیکن ہمارے درمیان ایک سوتن بھی تو ہے۔”
    ”وہ کون ہے؟ ”تڑپ کو پوچھا۔
    ”آپ کے پہلو میں لٹکی تلوار۔”
    ”کاشی!ہمیشہ یاد رکھنا ،کسی بہادر شخص کا پہلا بیاہ اس کے ہتھیاروں سے ہوا کرتا ہے۔”
    کاشی ہنس کر خاموش ہو جاتی۔
    ٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • دانہ پانی — قسط نمبر ۷

    دانہ پانی — قسط نمبر ۷

    کپڑا پھٹے تے لگے تروپا
    دل پھٹے کیہہ سینا
    سجناں باج محمد بخشا
    کیہہ مرنا کیہہ جینا
    ”چل موتیا! بس دیکھ لی ہے تُو نے بارات ، اب نیچے اتر۔ یہ نہ ہو کسی کی نظر لگ جائے۔”
    اللہ وسائی نے ڈھول تاشوں کے شور میں اُسے بازو سے پکڑ کر منڈیر سے پیچھے ہٹایا تھا۔ موتیا نے ایک لمحہ کے لئے پلٹ کر مراد کو دیکھنا چاہا پر وہ دیکھ نہیں سکی۔ اللہ وسائی کے ہاتھ کی گرفت ایسی ہی سخت تھی۔ سکّوں کی برسات میں وہ کھلکھلاتی ہوئی اللہ وسائی کے ساتھ لکڑی کی سیڑھی سے نیچے اُترنے لگی تھی اور اُس نے اُترتے ہوئے اپنے صحن کو دیکھا تھا جس میں ہر طرف سکّے بکھرے ہوئے تھے۔ کچھ گھومتے، ناچتے گررہے تھے اور کچھ گرچکے تھے۔وہ واقعی بارش کی بوندوں کی طرح برس رہے تھے۔
    موتیا نے ایسا منظر پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا اور ایسا منظر تو اُس گاؤں نے بھی پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا کہ بوریوں کی بوریاں سکّوں کی یوں لُٹائی جارہی تھیں اور سکّے گلی کے ساتھ ساتھ دائیں بائیں لوگوں کے گھروں میں بھی اچھالے جارہے تھے۔ مگر ایک گھر میںوہ خاص طور پر اُچھالے جارہے تھے۔
    وہ گھر گامو کا تھا، اور گامو گلی میں بارا ت کا یہ طمطراق دیکھ رہا تھا۔ اُچھالے ہوئے سکّے پکڑنے کی چھینا جھپٹی نے بارات کو جیسے ایک ہی جگہ کھڑا کردیا تھا۔ بارات آگے جا ہی نہیں پارہی تھی۔ اور تب ہی گامو کو خیال آیا کہ اُسے خود چوہدری شجاع کو سلام کرنا چاہیے۔ اُسے بگّھی سے اُتارنا چاہیے۔ وہ آگے گیا تھا اور اُس نے کُھلی بگّھی میں بیٹھے چوہدری شجاع اور تاجور کو دیکھا پھر عاجزی کے ساتھ اُس نے چوہدری شجاع کی طرف کا دروازہ کھول کر اُنہیں سلام کیا۔چوہدری شجاع نے سلام کا جواب دیا۔
    ”ملنی یہیں کرلیں چوہدری جی یا بارات کو آگے جانے دیں؟” اُس نے اپنے کندھے پر پڑی چادر سیدھی کرتے ہوئے شور شرابے میں آواز بلند کرتے ہوئے چوہدری شجاع سے کہا۔ وہ اُلجھا۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    ”کیسی ملنی گامو؟”گامو نے اُس کا چہرہ دیکھا پھر نہ سمجھنے والے اندازمیں ہنستے ہوئے کہا:
    ”ہماری طرف بڑا میں ہی ہوں چوہدری جی! اور آپ کی طرف آپ۔”
    شجاع کو کرنٹ لگا تھا۔ اُس نے بے اختیار برابر میں بیٹھی تاجور کو دیکھا جس نے بڑے اطمینان سے گامو سے کہا:
    ”تمہارے گھر بھی دانوں کی بوری اور کپڑے آئیں گے گامو۔ گاؤں کے ہر گھر میں چوہدریوں کی طرف سے جائے گا یہ تحفہ۔ یہ میرے بیٹے کی جان کا صدقہ ہے۔ اُس کی شادی کا تحفہ۔ آگے سے رستہ صاف کرواؤ۔ بارات نے آگے گزر کر جانا ہے۔ ہمیں دیر ہورہی ہے ،اگلے گاؤں میں پہنچتے پہنچتے اور بھی دیر ہوجائے گی۔”
    تاجور نے بے حد تنفر سے بڑے تحکمانہ اندازمیں اُس سے کہا تھا اورگامو کو یوں لگا جیسے اُس کے کانوں میں کسی نے پگھلا ہوا سیسہ اُنڈیلا ہو۔
    ”چوہدرائن جی نے کیا کہا تھا بارات کس گاؤں جارہی تھی اور کیوں جارہی تھی؟ اُس کا گھر تو یہیں تھا۔”
    اُس نے عجیب سکتے کی سی کیفیت میں سوچا تھا۔ چوہدریوں کے ایک ملازم نے بگّھی کے لئے راستہ صاف کروالیا تھا اور اب بگّھی گامو کو پیچھے چھوڑ کر آگے سر ک گئی تھی۔ چوہدری شجاع نے بُت بنے کھڑے گامو کے پاس سے بگّھی پر بیٹھے گزرتے ہوئے تاجور سے پوچھا۔
    ”تم نے گامو کو بتایا نہیں تھا کہ بارات اُس کے گھر نہیں آرہی؟” اُنہوں نے جیسے اپنے کسی خدشے کی تصدیق کرنا چاہی تھی۔ تاجور نے عجیب سے اندازمیں مسکراتے ہوئے شوہر سے کہا۔
    ”نہیں! اُس نے سوچ کیسے لیا کہ چوہدر ی کی بارات کمّی کمینوں کے گھر آئے گی۔”
    چوہدری شجاع نے جواباً اُسے جن نظروں سے دیکھا تھا، تاجور اُن سے نظریں چراگئی۔ اُس نے اطمینان سے منہ موڑ لیا تھا۔
    ” تُو نے ظلم کیا تاجور!” اُس نے شوہر کو ملامت بھری آوازمیں بڑبڑاتے سُنا تھا مگر اُس نے پھر بھی شوہر کو دیکھا نہیں تھا۔ وہ صرف چوہدری تھا اور تاجور کو یقین تھا کہ وہ سیّد بھی تھی اِس لئے اُسے سب معاف تھا، سات خون بھی۔ یہ تو بس گامو کی عزت تھی اور موتیا کا دل، یہ بھلا کس کھاتے میں آتے تھے۔
    بگّھی گامو کے پاس سے گزرگئی تھی اور گامو کے ہاتھ سے ملنی کی وہ سفید چادر گرگئی تھی جو اُس نے قرض لئے ہوئے پیسوں کے ساتھ لی تھی۔ موتیا کی شادی کے لئے اُس نے بہت سارے لوگوں سے پیسے پکڑے تھے۔ جتنے بھی ہوسکتے تھے۔ وہ چوہدریوں کی حیثیت کے مطابق شادی نہیں کرسکتا تھا مگر وہ اپنی حیثیت سے بڑھ کر تو شادی کرسکتا تھا اور اب وہ سفید کھدّر کی چادر گاؤں کی دھول مٹّی میں اٹی پڑی تھی اور گامو کو لگ رہا تھا اُس کے اردگردسکّے پکڑتے گاؤں کے لوگ سکّے نہیں اُس کی عزت کی دھجیاں نوچ رہے تھے۔
    وہ ساری سرگوشیاں جنہیں وہ اتنی دیر سے کانوں سے دماغ تک جانے ہی نہیں دے رہا تھا، اب ایک بار پھر اُس کے کانوں میں سرسرانے لگیں۔
    ”چوہدری شجاع نے اپنے سالے کی بیٹی کے ساتھ کیا ہے رشتہ۔”
    ”بارات وہیں جارہی ہے اور چوہدری مراد کی مرضی سے ہوا ہے یہ سب کچھ”
    ”تجھے کسی نے بتایا نہیں گامو؟”
    وہ سرگوشیاں ڈھول تاشوں پر حاوی ہوگئی تھیں۔ وہ چوہدری مراد کی بارات نہیں تھی، وہ گامو کی عزت کا جنازہ تھا جو چوہدریوں نے نکالا تھا۔ گامو کو کبھی زندگی میں غصّہ نہیں آیا تھا۔ وہ حق باہو کا کلام پڑھ پڑھ کر ڈرنے اور رونے والا انسان تھا۔ پر اُس کی زندگی میں غصّہ کا پہلا لمحہ وہاں آیا تھااور غصّہ بھی نہیں، وہ طیش تھا ۔
    وہ جیسے اس وقت وہاں سب کو ماردینا چاہتاتھا۔اُس کے ہاتھ میں کوئی ہتھیار ہوتا تو وہ یہی کرتا۔
    خیر اُس کے ہاتھ تو کیا گھر تک میں کوئی ہتھیار نہیں تھا۔ کچھ بھی نہیں جس سے گامو اپنے غصّے کا اظہار کرتا۔ چوہدریوں کی تذلیل کرتا،حساب برابر کرنے کی کوشش کرتا۔ اللہ نے اُسے چیونٹی بنایا تھا اور چوہدریوں کو ہاتھی، اور یہ احساس گامو کو زندگی میں پہلی بار ہوا تھا۔
    اُس کی موتیا کا دل ٹوٹنے والا تھا اور گامو کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرگزرے۔
    بارات اُسی طرح آہستہ آہستہ چل رہی تھی۔ لوگ اُسی طرح اچھالے ہوئے سکّوں کو لوٹنے میں مگن تھے۔ وہاں کسی کو اس وقت گامو سے ہمدردی کرنے اور افسوس کرنے کے لئے بھی وقت نہیں مل رہا تھا۔ دانوں پر پلنے والے لوگ سکّے دیکھ کر آپے سے باہر ہورہے تھے۔ گامو بھاگتا ہوا اپنے گھر کا دروازہ کھول کر اندر آگیاتھا۔ صحن میں صرف اللہ وسائی تھی جو اُسے دیکھ کر ہنستے ہوئے زمین پر پڑے سکّے دکھاتے ہوئے کہنے لگی:
    ”دیکھ گامو! سکّوں کی بارش کردی ہے چوہدریوں نے۔ میں تو یہ سارے وار کے پھینکوں گی موتیا سے۔”
    ”چوہدری مراد کی بارات ہمار ے گھر نہیں آئی۔ وہ پیر صاحب کے گھر جارہی ہے دوسرے گاؤں۔” گامو نے اُس کی بات سُنے بغیر غضبناک اندازمیں کہا تھا۔
    ”دے میرا کلہاڑا اللہ وسائی! میں نے کسی کو نہیں چھوڑنا آج۔ میں چوہدری مراد کے ہی ٹوٹے کردوں گا آج پھر دیکھوں گا کس کی بارات لے کر جاتے ہیں پیر صاحب کے گھر۔” وہ صحن میں اپنا کلہاڑا ڈھونڈتے ہوئے چلّایا تھا اور اندر کمرے میں موتیا نے باپ کا ہر جملہ سُنا تھا اور ہر جملے نے اُس کے دل کو کاٹا تھا۔
    ‘ ‘تجھے غلط فہمی ہورہی ہے گامو! ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔ میں آپ جاکے پوچھتی ہوں باہر، بارات تو گلی میں ہے۔”حواس باختہ اللہ وسائی کی سمجھ میں نہیں آیا، وہ گامو کو روکے کہ بارات کو۔
    ” کوئی فائدہ نہیں اللہ وسائی انہوں نے مذاق اُڑایا ہے ہمارا۔ میری دھی کی عزت رول دی۔ میں بھی اُن کی نسل ختم کردوں گا آج۔”
    گامو کو کلہاڑی مل گئی تھی۔ وہ لکڑیوں کے اُس ڈھیر پر تھی جو گھر کا ایندھن تھا۔ کلہاڑی کو برق رفتاری سے ٹھوکتے ہوئے وہ پلٹا تھا جب موتیا کمرے سے نکل کر باپ کے رستے میں آگئی تھی۔ گامو نے بیٹی کو دلہن کے رو پ میں دیکھا اور اُس کے وجود کی آگ جیسے بھانبڑ بن گئی تھی۔
    ”نہ ابّا نہ! مراد کو نہ مارنا۔” وہ سامنے آئی تھی اور اُس نے باپ کے ہاتھ سے کلہاڑی پکڑ کر کھینچ لی تھی اور گامو مزاحمت ہی نہیں کرسکا تھا۔
    ” وہ بارات لے کر چوہدرائن کی بھتیجی بیاہنے جارہاہے موتیا۔” گامو نے جیسے موتیا کو خبر دی تھی۔
    ” جانے دے ابّا۔ ہم اُنہیں نہیں روک سکتے۔” گامو نے بیٹی کا چہرہ دیکھا۔
    وہ حُسن سات گاؤں میں نہیں تھا اور اُس حُسن پر وہ روپ گامو کو تو پوری دُنیا میں نظر نہیں آیا تھا۔ اُس نے بڑوں سے سُنا تھا روپ روتاہے، آج اُس نے دیکھ لیا تھا۔
    ”چل موتیا پھر اُس کو مارتے نہیں ، اُس پر تھوک کر آتے ہیں۔” گامو نے بیٹی کا ہاتھ پکڑا تھا۔
    ”اُن کو دکھاتے ہیں کہ تجھے کوئی فرق نہیں پڑا تیرے لئے مراد بڑے۔” کلہاڑی موتیا کے ہاتھ سے چھوٹ گئی تھی۔ گامو اُس کا ہاتھ کھینچتا ہوا اُسے لکڑی کی سیڑھی کی طرف لے گیااور وہ میکانکی اندازمیں سیڑھی چڑھتی گئی۔
    ”تُو نے رونا نہیں موتیا،ایک آنسو نہ آئے تیری آنکھ میں۔تُو نے بارات پر تھوکنا ہے۔”
    گامو اُس کا ہاتھ پکڑے اُسے منڈیر کی طرف لے جاتے کہتا گیا۔ وہ خالی آنکھوں کے ساتھ باپ کے حکم کی تعمیل میں منڈیر پر جاکر کھڑی دُلہن بنی اپنے محبوب کی بارات دیکھنے لگی تھی جو اُس کے بجائے کسی دوسرے کے گھر جارہی تھی۔
    سکّے ہوامیں اب بھی اُچھل رہے تھے اور اُن کے گھر کی چھت اور صحن میں گررہے تھے۔ ڈھول اور تاشوں کی آوازیں بھی اُس ہی طرح آرہی تھیں۔ نیچے صحن میں اللہ وسائی دھاڑیں مار مار کر روتے ہوئے چوہدریوں کو بددعائیں دے رہی تھی اوپر چھت پر گامو پاگلوں کی طرح بارات پر منہ بھر بھر کے تھوک رہا تھا اور اس سب کے بیچوں بیچ ایک موتیا تھی جو اب بغیر دوپٹے کے چھت پر کھڑی تھی۔ ماتھے پر ٹیکا لگائے، مراد کی پشت دیکھ رہی تھی جو گھوڑے پر بیٹھا تھا اور اُس کے دروازے کے سامنے سے گزرچکا تھا۔
    وہ اُسے دیکھتی ہی رہ گئی تھی۔ گامو کی آواز اس کے کانوں میں آرہی تھی جو اُسے اُس پر تھوکنے کا کہہ رہا تھا۔ وہ اُس پر کیسے تھوک سکتی تھی؟ وہ اُس کا مراد نہیں تھا، اُس کی مراد تھا۔
    تاجور نے گامو اور موتیا دونوں کو چھت پر کھڑے دیکھا تھا۔ اُس نے گامو کو بارات پر تھوکتے بھی دیکھا تھا ۔ اُس کی بگّھی اُس وقت اُس کے دروازے کے سامنے سے گزررہی تھی۔
    ”یہ کمّی کمین میرے بیٹے کی بارات پر تھوکے گا؟ اس کی اتنی جرأت۔”
    تاجور تڑپی تھی اور اُس نے چوہدری شجاع سے کہا تھا جس نے سر اُٹھا کر گامو کو دیکھا پھر اُس کے برابر کھڑی موتیا کو۔ ننگے سر والی اُس دلہن کو دیکھ کر چوہدری شجاع کا سر جھک گیا تھا۔
    ”ہم اسی قابل ہیں تاجور، تھوکنے دے۔ شاید اُس کا غصّہ ٹھنڈا ہوجائے اور وہ بددعا نہ دے۔” چوہدری شجاع نے بیوی سے کہا تھا اور تاجور کو مشتعل کردیا تھا۔
    ”ہم کوئی بیٹیوں والے ہیں کہ اُس کی بددعاؤں سے ڈریں گے، ہم بیٹے والے ہیں۔”
    اُس نے تن کے شوہر سے کہا تھا اور پھر موتیا کو دیکھا تھا جو اُسے نہیں دیکھ رہی تھی۔ وہ اب بھی اُس کے بیٹے کو دیکھ رہی تھی جو دور جارہا تھا۔ تاجور کو اُس کی نظر، اُس کے انداز سے خوف آیا۔ اُ س نے آج واپسی پربھی بیٹے کا صدقہ اُتارنا تھا۔ گیارہ بکرے ذبح کرنے تھے۔ اب بائیس کا طے کرلیا تھا اُس نے۔
    بارات موتیا کی گلی سے گزرگئی تھی۔ گلی کے سارے لوگ بارات کے ساتھ ہی آگے چلے گئے تھے۔ اُنہیں آج وہاں تک سکّے پکڑنے تھے جہاں تک بارات سکّے لٹاتی۔ ڈھول تاشوں کی آوازیں اب دور ہوگئی تھیں۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • تحفۂ محبت — لعل خان

    تحفۂ محبت — لعل خان

    رات اپنے تیسرے پہر میں داخل ہو چکی تھی ،میں شیشے سے سر ٹکائے تیزی سے باہر دوڑتے ہوئے مناظر دیکھ رہا تھا،کہیں کہیں لائٹس کی وجہ سے منظر صاف ہو جاتا اور پھر اگلے ہی لمحے مہیب تاریکی میں ڈوب کر مجھے تھوڑا سا اداس کر جاتا تھا،جاتی سردیاں تھیں ،شیشے کے بیرونی حصے پر پڑی ہوئی اوس کی چادر مجھے اندر سے ہی محسوس ہو رہی تھی ،گاڑی میں ہلکا ہلکا میوزک چل رہا تھا،گائیک گارہا تھا۔۔
    ”نی اک پھل ….موتیے دا مار کے جگا سوہنیے”
    میرے ساتھ والی سیٹ خالی تھی ،اچانک میری سماعتوں سے ایک مترنم آواز ٹکرائی ۔۔
    ”ایکس کیوزمی ”
    میں نے سر گھما کر آواز کاتعاقب کیا اور میری نظروں سے ایک خوب صورت گناہ سرزد ہو گیا،مجھے مولانا صاحب کی دوران تبلیغ ہزار بار کی گئی تاکید یاد آگئی …”نامحرم پر دوسری نظر حرام ہے” …پر میری آنکھیں تو پہلی بار ہی تھم گئی تھیں ،میرے جسم کی پوری قوت جیسے سمٹ کر آنکھوں میں آگئی تھی ،میں آنکھیں جھپکنا نہیں چاہتا تھا ،کہیں یہ جھپکیں اور منظر غائب ہو جائے ،جو قسمت نے رات کے آخری پہر میں سنسان سڑک پہ دوڑتی ہوئی بس میں بیٹھے ہوئے درجنوں لوگوں کے بیچوں بیچ میرے سامنے کشید کر ڈالا تھا،میں مبہوت تھا ،میری نظریں باغی ہو چکی تھیں ،کیوں نہ ہوتیں ….
    یہ بھی اپنے اندر بھوک رکھتی ہیں …طلسمی مناظر کی بھوک …..اور اس سے بڑا طلسمی منظر اور کیا ہو سکتا تھا ؟
    میں نے پانچ سیکنڈز میں لولی ووڈ ،بولی ووڈ اور ہولی ووڈ کے تمام حسین چہروں کو اس کے آگے پانی بھرتے پایا جنہیں میں اب تک دیکھ چکا تھا ،وہ تو جنت سے اتری ہوئی کوئی حور تھی،حسن کے بے مثال جلووں سے چور چور تھی ،وہ بے نور آنکھوں کے لئے وجہ نور تھی ،وہ جو بھی تھی …….پر مجسم حسن ضرور تھی ..
    میں یک ٹک اسے تکے جا رہا تھا ،اور وہ مسکراتے ہوئے اک ادائے بے نیازی سے کھڑی تھی۔اس نے تھوڑی دیر تک میری بے قابو ہوتی نظروں کو میرے تابع ہونے کا انتظار کیا مگر پھر اسے احساس ہوا ،اس کا انتظار بہت طویل بھی ہو سکتا ہے ،اس نے میری ساکت آنکھوں کے سامنے ہاتھ ہلا کر پھر سے میری سماعتوں میں سریلا رس گھولا۔
    ”ہیلو ۔۔۔۔کین یو ہیر می ؟”
    اور جیسے مجھے کسی نے کندھوں سے پکڑ کر جھنجھوڑ ہی ڈالا ہو ۔
    میں نے ہڑبڑا کر ہونقوں کی طرح آگے پیچھے بیٹھے ہوئے لوگوں کی طرف دیکھا۔
    بس میں اس وقت تقریباًسب ہی مسافر سو رہے تھے ۔
    ”کیا میں یہاں تھوڑی دیر بیٹھ سکتی ہوں ؟”
    وہ اپنے صبیح چہرے پہ دل فریب مسکراہٹ سجائے میری طرف سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔
    ”جج ۔۔جی ۔۔۔”
    میں نے حلق میں اٹکتے لفظ حلق میں ہی چھوڑ دیے ،اور جو مشکل سے نکلا ،اسے ہی غنیمت جان کر خاموش ہو گیا۔
    ”تھینکس ”۔اس نے ماتھے پہ آئی لٹ بائیں کان کے پیچھے اڑستے ہوئے کہا اور جھٹ سے میرے ساتھ والی سیٹ پہ بیٹھ گئی ۔
    میں تھوڑا سا سمٹ کر کھڑکی سے لگ گیا۔
    ”تو ….نام کیاہے آپ کا ؟”اس نے سرتھوڑاترچھا کر کے مجھ سے سوال کیا۔
    میں ابھی تک اس صورت ِ حال کو قبول نہیں کر پا رہا تھا،میرے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو رہے تھے،حلق میں کانٹے اُگ آئے تھے ،مجھ سے بولا بھی نہیں جا رہا تھا ۔
    اس نے میری جھجک محسوس کر لی تھی ….
    ”آپ کو میرا یہاں بیٹھنا اچھا نہیں لگا ”

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    اس نے صاف اور سادہ سے انداز میں مجھ سے پوچھا۔
    ”نن …نہیں …..مجھے تو کوئی اعتراض نہیں ”
    بے اختیار میرے منہ سے نکلا تھا۔مجھے یاد آچکا تھا میں لڑکا ہوں ..وہ لڑکی ہے ،جھجکنا اسے چاہیے ….مجھے نہیں۔
    ”تو پھر بتائیے نا؟….نام کیا ہے آپ کا؟”اس نے ہولے سے اپنا سوال دہرایا۔
    مجھے اس سوال سے بہت چڑ ہے ، اسکول ،مدرسہ ،کالج ،اکیڈمی اور آفس ،یہاں تک کے گھر میں آنے والے مہمان بھی اگر میرا نام پوچھ لیں تو ایک بار میری سٹی ضرور گم ہو جاتی ہے ،اب بھلا آپ خود سوچئے ،یہ بھی کوئی نام ہے؟ جو میرے دادا حضور نے اپنے ابو جان یعنی میرے پردادا جان کے نام پہ رکھ چھوڑا تھا،اور اس وقت تو حالات اور بھی مخدوش تھے ،مجھے ایک ایسی نڈر ،بے باک اور لبرل خاتون کو اپنا نام بتانا تھا،جو اپنی سیٹ سے اٹھ کر گپ شپ کرنے کے لئے میرے پاس آ بیٹھی تھی ۔اب اگر میرا نام ہی اسے امپریس نہ کرپائے گا ،تو بات چیت کیا خاک کرے گی وہ ۔؟
    میں سوچ و بچار میں مصروف تھا کہ اسے سچ سچ بتا دوں یا آج کل کے حساب سے کوئی ماڈرن نام بتا کر ایک عدد جھوٹ کا گناہ اپنے کھاتے میں لکھوا لوں…جب اس کی آواز نے مجھے چونکا دیا۔
    ”کیا ہوا ۔۔آپ کو اپنا نام یاد نہیں آ رہا؟”
    ”نام تو یاد ہے مجھے …سوچ رہا ہوں آپ کو بتاؤں یا نہیں؟” اس بار میں نے تھوڑے سے پر اعتماد لہجے میں جواب دیا۔
    ”کیوں بھئی ۔۔۔۔؟ایسا بھی کیا چھپا ہے آپ کے نام میں ؟”اس کی آنکھوں میں حیرت سمٹ آئی تھی ۔
    ”لعل خان ”میں نے ایسے بتایا جیسے کوئی بوجھ سر سے اتارا ہو۔
    ”کیا؟”اس نے ناسمجھی سے مجھے دیکھتے ہوئے کہا۔
    مجھے پہلے سے ہی پتا تھا….وہ اب یہ سوال ضرور کرے گی ،میں نے آج تک جسے بھی اپنا نام بتایا ہے ۔۔۔اسے تھوڑا سا پریشان اور خود کو پشیمان پایا ہے ۔۔حالاں کہ اس میں میرا کوئی قصور بھی نہیں ہے۔
    ”جی لعل خان ہے میرا نام ……آپ شائد سمجھ نہیں پائیں۔”میں نے گہرا سانس لے کر اعترافِ جرم کیا۔
    ”اوہ ۔۔۔”اس کے ہونٹ سیٹی بجانے والے انداز میں سکڑ گئے۔
    ”لال کا مطلب تو سرخ ہوتا ہے نا؟”پتا نہیں وہ مجھ سے پوچھ رہی تھی …یا مجھے بتا رہی تھی ۔
    ”جی نہیں ۔۔یہ وہ والا لال نہیں یہ لام عین لام والا ”لعل” ہے جو ایک قیمتی پتھرکا نام بھی ہے ۔”
    میں نے تیزی سے اپنے نام کی وہ وضاحت اس کے سامنے بھی پیش کر دی جومیں لاتعداد بار، لاتعداد لوگوں کے سامنے کر چکا تھا۔
    ”اچھا…….مطلب آپ ایک قیمتی پتھر ہیں ۔”میں نے سر گھما کر سیدھا اس کی طرف دیکھا۔وہ زیر لب مسکرا رہی تھی ۔
    ”میں انسان ہوں ”میں نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا۔مجھے لگا وہ میری دی گئی وضاحت کا مذاق اڑا رہی ہے ۔
    ”اور ویسے بھی لوگ نام سے نہیں کام سے پہچانے جاتے ہیں ۔”میری آواز میں روکھا پن کچھ زیادہ ہی ہو گیا تھا ،تبھی اس نے فوراً ہی کہا۔
    ”میں تو ویسے ہی پوچھ رہی تھی ،ورنہ نام میں کیا رکھا ہے ….نام تو نام ہی ہوتا ہے ۔”
    ”جی”۔میں نے صرف جی کہنے پہ اکتفا کیا۔
    میرے جی کہنے پہ وہ اک ذرا سی خاموش ہوئی تو مجھے لگا شائد وہ اب میری طرف سے کچھ پوچھے جانے کی متمنی ہے۔
    میں نے کھنکار کر گلا صاف کیا اور وہی سوال پوچھ لیا جو پہلے اس نے پوچھا تھا۔
    ”آپ کا اسم گرامی کیا ہے ۔؟”
    اس نے حیرت سے مجھے دیکھا۔
    ”اوہ پلیز ۔۔۔۔اتنی پر تکلف اردو مت بولئے ، میں یہاں تھوڑا سا وقت گزارنے آئی ہوں،آپ سے اردو کا مقابلہ کرنے نہیں”۔
    میں نے جھینپ کر کھڑکی سے باہر گھپ اندھیرے کو تاکنا شروع کر دیا ۔
    ”باہر اگر کچھ نظر آتا ….تو میں یہاں آپ کے پاس آ کر نہ بیٹھتی ۔”اس نے مجھے کھڑکی سے باہر گھورتے پا کر ہلکے سے طنزیہ لہجے میں کہا۔
    ”مجھے اندھیرے میں دیکھنا اچھا لگتا ہے ”۔ بڑا عجیب سا لہجہ تھا ،مجھے خود بھی سمجھ میں نہیں آیا۔
    ”روشنی میں بیٹھ کر اندھیرے میں دیکھنے والے لوگ ناشکرے کہلاتے ہیں ”۔
    اس نے ایک دم ہی فلسفیانہ لہجہ اختیار کر لیا تھا۔
    میں نے سر گھما کر اسے دیکھا ،وہ دونوں ہاتھ گود میں رکھے سیٹ کی پشت سے سر ٹکائے بس کی چھت کو تک رہی تھی۔
    ”آپ شائد ٹیوب لائٹ اور بلب کی روشنی کو ہی روشنی کہتی ہیں ۔”
    میرا لہجہ تھوڑا سا استہزائیہ تھا۔
    ”نہیں ۔”
    اس نے نفی میں سر ہلایا ۔
    ”پھر ”؟میں نے سوال کیا۔
    ”اللہ تعالیٰ ہمیں ایک خوبصورت دل کی شکل میں روشنی کا وہ ذریعہ عطا کرتا ہے ،جس کے صحیح استعمال سے ہم خود کو روشن کر سکتے ہیں ،اور یہی روشنی ہماری آنکھوں سے نکل کر ہمارے لئے اس دنیا کی ہر شے کوخوب صورت اورچمک دار بنا دیتی ہے ،یہ روشنی ہمیں اندھیروں سے بچاتی ہے اور روشن رستے دکھاتی ہے ،ایسے میں اگر کوئی یہ کہے کہ اسے اندھیرے میں دیکھنا پسند ہے …..تو میں تو اسے ناشکرا ہی کہوں گی ۔”
    بہت خوب صورت لہجے میں بولتی ہوئی وہ حور شمائل مجھے تھوڑی دیر کے لئے لاجواب کر گئی تھی۔
    ”نام کیا ہے آپ کا ۔”
    میں اپنے پہلے سوال پہ آ چکا تھا ۔
    ”ماہین۔۔” وہ بہت آہستہ سے بولی ۔ وہ ابھی تک چھت کو دیکھ رہی تھی۔
    ”اچھا نام ہے ۔”میرا لہجہ رسمی تھاجسے اس نے محسوس کیا اور فوراً بولی ۔
    ”شکریہ۔”وہ بھی رسم ہی ادا کر رہی تھی۔
    ہمارے درمیان ایک بار پھر خاموشی آ چکی تھی۔
    وہ میری منتظر تھی۔۔۔۔
    میں اس کا منتظر تھا۔۔۔
    گاڑی اپنی فل اسپیڈ کے ساتھ میری اور اس کی منزل کی جانب بڑھ رہی تھی ،ہم سندھ کراس کر کے پنجاب میں داخل ہو چکے تھے شائد،ابھی کچھ کہنا مشکل تھا ،اندھیرے کے راج کی وجہ سے۔
    ”آپ کیا کرتے ہو؟”
    اس نے چھت کو تکتے تکتے کافی بے تکلفی سے سوال کیا۔مجھے ایسا لگا وہ خاموشی کو زیادہ دیر تک برداشت نہیں کر سکتی تھی ….
    ”جاب کرتا ہوں کراچی میں۔”میں نے نظریں جھکائے جھکائے جواب دیا ۔
    ”کیا جاب کرتے ہو۔؟اس نے پھر پوچھا۔
    ”پرائیویٹ جاب کرتا ہوں،ایک فوڈ انڈسٹری میں،آپ کیا کرتی ہو؟۔
    میں نے جواب دے کر سوال بھی کر دیا تھا۔
    ”میں ایم بی اے کر رہی ہوں۔”
    ”ویری نائس”۔
    میں نے بے اختیار توصیفی لہجے میں کہا۔
    ”آگے کیا ارادہ ہے آپ کا ۔”
    میں نے جلدی سے اگلا سوال کیا۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • اجنبی — لبنیٰ طاہر

    اجنبی — لبنیٰ طاہر

    ساجد تھکا ہارا گھر لوٹا جمیلہ نے اسے دیکھتے ہی آڑے ہاتھوں لیا:”اتنی رات گئے تک باہر کیا جھک مارتے رہتے ہو ۔تنخواہ تو تم اتنی کم رکھتے ہو میرے ہاتھ میں!” اِس کے طرزِ تخاطب پر ساجد چڑ کر بولا” جمیلہ تو اچھی طرح جانتی ہے کہ میں کام کے علاوہ کہیں نہیں جاتا اوور ٹائم کرنے میں دیر ہو جاتی ہے”۔ جمیلہ پھر بھی باز نہ آئی ۔”ہاں ہاں جانتی ہوں سب،فالتو میں مٹر گشت کرتا رہتا ہے اوور ٹائم لگاتا تو آمدن نہ بڑھتی؟ میری بات سن لے توکان کھول کے ،منا اب چار سال کا ہو گیا ہے ،پانچ کا ہوتے ہی میں نے اسے سکول داخل کرانا ہے اس کے لیے مجھے ڈھیر سارے پیسے چاہئیں۔مجھے منے کو وہ بڑے والے سکول میں کرانا ہے جہاں صاحب لوگوں کے بچے پڑھتے ہیں ۔۔”
    ساجد چارپائی پر بیٹھتے ہوئے بولا: ”اری بھاگوان اتنے بڑے بڑے ،اپنی اوقات سے اونچے خواب نہ دیکھا کر ،اللہ نے کیا نہیں دیا ہمیں ۔دو وقت حلال روٹی کھاتے ہیں ۔چین کی نیند سوتے ہیں۔اولاد ہے، سکون ہے ،جب منے کے سکول جانے کا وقت آئے گا تو دیکھ لیں گے ابھی تو کچھ روٹی پانی دے۔۔”
    جمیلہ جو منے کے سکول کے خواب میں گم تھی خشک لہجے میں بولی :”اچھا دئیے دیتی ہوں۔”
    سالن روٹی سامنے رکھنے کے بعد ساجد کے پاس بیٹھتے ہوئے جمیلہ نے نیا نکتہ اٹھایا” ساجی تو باہر کیوں نہیں چلا جاتا ؟”ساجد کے ہاتھ سے لقمہ گر گیا۔” باہر ؟ ” اس نے ہڑبڑا کے دوبارہ پوچھا ”کیا مطلب باہر ؟؟ ”
    جمیلہ اسے سمجھاتے ہوئے بولی: ”دیکھ ساجی یہاں تم اتنی محنت کرتے ہو، جان مارتے ہو سارا سارا دن لیکن ملتا کیا ہے تمہیںوہی تین ہزار؟ اور اوور ٹائم لگا بھی لو تو ہزار اور مل جاتا ہے ۔لیکن چار ہزار میں جیسے میں مہینہ نکالتی ہوں مجھے ہی پتا ہے ۔20 تاریخ کے بعد ہم نمک مرچ سے روٹی کھانے پہ آ جاتے ہیں اور گوشت تو عید بقر عید پر ہی نصیب ہوتا ہے !تم ایسا کرودبئی چلے جا ؤ،پھر دیکھنا کیسے دن پھرتے ہیں ہمارے ۔ وافر پیسہ آئے گا تو منا اچھے سکول میں پڑھے گا ،میں اچھے کپڑے لے سکوں گی،دیکھو نا مجھے سال سے اوپر ہو گیا نیا جوڑا بنائے ہوئے ”۔ جمیلہ نے ساجد کو نئے خواب دکھائے ۔
    ساجد جیسے نیند سے جاگ اٹھا ” نہیں نہیں جمیلہ میں یہاں ہی اچھا ہوں ۔دیکھو بھلے ہی ہم نمک مرچ سے روٹی کھاتے ہیں لیکن سکون سے تو سوتے ہیں نا۔ہم دونوں ایک ساتھ ہیں ، منا پاس ہے اور میں توجب تک تم دونو ں کو نہ دیکھ لوں تو مجھے نیند نہیں آتی۔”
    جمیلہ نے کندھے پر ساجد کا رکھا ہاتھ غصے سے ہٹایا اور پیر پٹختے ہوئے بولی:”تم نہیں سمجھو گے ۔ تم وہی کنویں کے مینڈک رہنا ۔۔لوگ ترقی کرتے ہیں تم نمک مرچ پر اٹکے رہنا ۔دیکھوساجد! بس بہت ہو گئی مجھ سے اب ایسی زندگی نہیں گزرتی ۔تمہیں کوئی خیال نہیں میرا ”۔جمیلہ نے منہ پھیر کر ناراضی ظاہر کی۔
    ”اچھا مان لو اگر میں جانے کے لیے راضی ہو بھی جاؤں تو کیسے ہو گا یہ سب ۔مفت میں تو نہیں باہر جاتے لوگ ”۔ساجد بولا ۔۔
    جمیلہ خوشی سے اچھل پڑی” پیسوں کی تم فکر نہ کرو!” بھاگ کے صندوق سے پوٹلی نکال لائی اور پتلی تار جیسی دو چوڑیاں نکال کر کہنے لگی: ”یہ لو انہیں بیچ لو اور کچھ پیسے اپنے بھائی سے ادھار لے لو ،وہاں جا کے اتار دینا”۔منٹوں میں اُس نے مسئلہ حل کر دیا۔
    ساجد چارپائی پر لیٹتے ہوئے بولا: ”نیک بخت ابھی سو جا ؤصبح بات کریں گے ”۔
    جمیلہ بے صبری سے بولی: ”نہیں بات نہیں کریں گے بلکہ ایسا کرو تم کل فیکٹری سے چھٹی کرلواور میرے بھائی شوکت کو ساتھ لے کر کسی ایجنٹ کے پاس چلے جانا ۔۔”
    قرض اور چوڑیاں بیچنے کے بعد حاصل ہونے والی رقم کی مددسے آخر کار ساجد دبئی پہنچ گیا۔وہاں پہنچ کر اس نے دیگر پاکستانی لڑکوں کے ساتھ مل کر ایک کمرہ کرائے پر لیا اور ٹیکسی چلانے لگا ۔۔۔سارا دن ٹیکسی چلاتا،رات کو تھکا ہارا بستر پر گر جاتا ۔کام کے علاوہ اسے لڑکوں کے ساتھ مل کر کمرے کی صفائی، کپڑے دھونا اور اپنی باری پر کھانا بھی بنانا پڑتا۔
    اسے جمیلہ اور منا بہت یاد آتے ،جمیلہ کو فون کرتا،اپنی اُداسی کا بتاتاتو جمیلہ اسے تسلی دیتی کہ اُداس مت ہو،میں اور منا ٹھیک ہیں ۔بس تم ڈھیر سارے پیسے کما لو پھر واپس آجانا۔۔ساجد پھر سے اپنی ٹوٹی ہمت بندھانے لگتا ۔۔۔سب سے پہلے اس نے قرض کے لیے پیسہ جمع کیا اور جب قرض احسن طریقے سے اتر گیا تو ساجد اپنے پاس صرف ضرورت کے پیسے رکھتا ،باقی جمیلہ کو بھیج دیتا ۔۔۔اسی طرح گھن چکر بنے دن رات گزرتے رہے ۔ہر سال وہ وطن جانے کی سوچتا لیکن جمیلہ اسے سمجھا بجھا کے آنے سے منع کر دیتی کہ ابھی تھوڑا اور کما لو پھر آ جانااوروہ منے سے اداس ہونے کی بات کرتا تو جمیلہ کا جواب ہوتا کہ منا کہیں نہیں جا رہا ، ذرا زیادہ پیسے کما لو پھر آؤ گے تو ہم دونوں سے مل لینا۔۔۔چار سال بعد وہ پاکستان جا سکا۔
    اس نے جہاز میں بیٹھتے ہی فیصلہ کیا کہ اب واپس دبئی نہیں آئے گا۔۔ گھر پہنچا تو اپنی اس جائے اماں کو پہچان نہ سکا کیوں کہ اس گھر کی حالت بالکل بدل چکی تھی ۔ فرش پر قالین بچھے تھے ۔چارپائیوں کی بہ جائے صوفے اور بیڈ آ چکے تھے ۔نکھری نکھری جمیلہ نے مہنگے کپڑے اور زیور پہن رکھا تھا ۔۔ساجدکو دیکھا تو خوشی سے نہال جمیلہ نے ساجد کو سارا گھر دکھایا کپڑے دھونے کی مشین آچکی تھی ،فریج ٹی وی سب کچھ تھا ۔اگر نہیں تھا تو صرف ساجد۔
    اس کے تصور میں اس کا وہی سادہ سا گھر تھا ۔۔اسے ایسا لگ رہا تھا کہ اس کا کچھ گم ہو گیا ہے۔۔وہ نمک مرچ کے ساتھ روٹی اور جمیلہ کے ساتھ پیار بھری باتیں ڈھونڈ رہا تھا جب کہ یہاں تو ماحول ہی بدلا ہوا تھا۔جمیلہ اس کے سوٹ کیس میں بھرا سامان شوق سے دیکھ رہی تھی ۔
    سوٹ کیس کی تلاشی لیتے لیتے جمیلہ نے فکرمندی سے کہا:”ساجی اب یہ ایک مہینہ تمہاری ٹیکسی بند رہے گی۔پورے مہینے کے پیسے گئے۔۔۔اب دیکھو مہینے سے زیادہ نہ چھٹی کرنا ”۔۔۔ساجد کے دل کو زبردست ٹھیس پہنچی کہ جمیلہ کے لیے اس کی حیثیت پیار کرنے والے شوہر سے زیادہ پیسوں کی مشین کی سی ہو گئی تھی۔ اُسے شوہر کا وقت اور پیار نہیں ،چیزیں چاہیے تھیں ۔
    ”منا کہاں ہے ”؟ ساجد نے دلی افسردگی چھپائے ہوئے بہ ظاہر خوش دلی سے پوچھا۔
    ”وہ ابھی آتا ہے ، میں نے اُسے دُکان سے کچھ لانے بھیجا ہے” ۔
    سیٹی کی آواز پر ساجد نے مڑ کر دیکھا تو دروازے سے اس کا منا اندر داخل ہو رہا تھا ۔ عمدہ لباس ، کانوں میں ہیڈ فون اور ہاتھ میں موبائیل تھامے تھرکتا ہوا اندر آ رہا تھا ۔ ”بابا” ۔ وہ دوڑ کر بڑھا اور باپ سے لپٹ گیا لیکن اس کے انداز میں وہ گرم جوشی نہ تھی جس کی ساجد کوتوقع تھی۔ اک اجنبیت سی تھی ۔ گھر اور ماحول میں وہ اجنبی سا ہو گیا تھا ان سب کے لیے ۔
    اُسے اپنا پرانا گھر اور اپنائیت بھرا ماحول بری طرح سے یاد آ رہا تھالیکن ان تمام آسائشوں نے اُن سب چیزوں کو پس پشت ڈال دیا تھا ۔ اس اجنبی کا ٹھکانہ صرف پردیس تھا ، پردیس۔۔۔اپنوں سے دوری ۔۔۔۔جس سے ا س کے اپنے خوش تھے ۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • زندگی جبرِ مسلسل کی طرح — آفاق احمد آفاق

    زندگی جبرِ مسلسل کی طرح — آفاق احمد آفاق

    وہ بہت دنوں سے باتیں سن رہا تھا ۔۔ بابا کی ۔۔ اماں کی ۔۔ بہن بھائیوں کی! اٹھتے بیٹھتے آتے جاتے سب کے پاس اس کے لیے ایک ہی سوال تھا ”شادی کب کروگے؟” وہ واقعی اب تنگ آچکا تھا۔ہزار بار گھروالوں کو کہہ چکا تھا ۔۔بتا چکا تھا کہ وہ ابھی شادی نہیں کرسکتا۔جب مناسب وقت ہو گا تووہ خود ہی بتادے گا لیکن اس کی وہاں سنتا کون تھا؟دنیا کے باقی تمام موضوعات گھر کے تمام افراد کے لیے جیسے ثانوی حیثیت اختیار کرگئے تھے۔ اوّلین حیثیت بس ایک ہی موضوع کو حاصل تھی اور وہ تھا’اس کی شادی۔”
    شادی کے متعلق سب کی اپنی منطق تھی۔اس کے بابا کا خیال تھا کہ شادی مرد کی زندگی میں توازن لاتی ہے۔شادی شدہ غیر شادی شدہ مرد کی نسبت زیادہ ذمہ دار ہوتے ہیں۔ اماں کو اس کے ذمہ دار بننے کی فکر نہ تھی،انہیں ارمان تھا تو بس اتنا کہ وہ اپنے جوان بیٹے کے سر پر سہرا دیکھ لیں اور ایک پیاری سی بہو بیاہ لائیں جو بالکل چاند کا ٹکڑا ہو۔بہنیں ویسے تو دل ہی دل میں بھائیوں کی شادیوں کی مخالف ہوتی ہیں کیوں کہ وہ سمجھتی ہیں کہ سہرا سجا لینے کے بعد بھائیوں کے پاس ا ن کی فرمائشیں پوری کرنے اور ان کے بچوں سے لاڈ کرنے کے لیے وقت بچتا ہے اورنہ ہی وسائل۔ کیوں کہ بھائیوں کی جیبیں بہنوں سے پہلے ان کی بیویاں خالی کردیتی ہیں۔ یہاں قصہ کچھ اور تھا۔بڑے بھیا کی شادی کے بعد ایک مدت ہوگئی گھر میں کوئی ہنگامہ ہوا۔نہ ڈھولک کی تھاپ سننے میں آئی تھی۔۔۔اور ایک عرصے سے انہوں نے ایک ساتھ ڈھیر سارے نئے کپڑے بھی تو نہیں بنوائے تھے ۔۔ یہ سب ارمان بہت ستانے لگے تو خیال آیا کہ کیوں ناں چھوٹے بھائی کی شادی ہی کروا دی جائے۔اسی بہانے کچھ دن گھر میں رونق بھی رہے گی اور سب سہیلیوںسے مل بیٹھنے کا موقع بھی ہاتھ آئے گا۔بھائی کے پرائے ہوجانے کا اندیشہ بہ دستور دلوں میں موجود تھا لیکن یہ سوچ کر راضی تھیں کہ ایک نہ ایک دن تو یہ ہونا ہی ہے آخر کب تک بیل کو کھونٹے سے باندھ کر رکھیں گی۔سو نا چار ضد پر اڑگئیں کہ شادی ہو اور ابھی ہو۔بڑے بھائیوں کی اس کی شادی میں دل چسپی کا واحد سبب، شادی کی تقریبات میں آنے والی خوب صورت ملبوسات اور زیورات سے سجی بہنوں کی سہیلیاں اور رشتے دار لڑکیوں کی آمد تھا ۔بڑے دونوں بھائی شادی شدہ تھے لیکن بدنیتی کسی رشتے سے منسلک تھوڑی ہے۔مرد تو ہے ہی سدا کا رنگین مزاج۔گھر میں بے شک چاند سی بیوی ہو پھر بھی باہر تانک جھانک نہ کی تو سمجھو کچھ نہ کیا۔سو اس کے بھائیوں کا رستہ بھی دنیا کے اکثر مردوں سے الگ نہ تھا۔ سب کی خواہشات اپنی جگہ لیکن اس نے طے کررکھا تھا کہ دوسروں کے نظریات اور فضول خواہشات کی تکمیل کے لیے وہ اپنی زندگی عذاب نہیں بنائے گا۔یہی سبب تھا کہ اس سے جب بھی شادی کے متعلق پوچھا گیا اس نے ہمیشہ انکار ہی کیا۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    ابھی کل کی ہی بات ہے۔وہ جیسے ہی جم سے واپس آیا تو ٹی وی لاؤنج سے گزرتے ہوئے اس کی نظراپنی بڑی بہن آسیہ پر پڑی جس کا واحد مشغلہ اپنے شوہر کی سرکاری افسری کی تعریف کرنا تھا۔اس نے چاہا کہ لاؤنج سے چپ چاپ گزر جائے لیکن اس کی بہن جیسے اسی کے انتظار میں بیٹھی تھی۔دیکھتے ہی آواز دی بات سننا ”جی فرمائیں” وہ جانتا تھا کہ اس کی بہن کا بیان ا پنے شوہر کی تعریف سے ہوتا ہوا، اپنی بیٹی علیزہ کی حیرت انگیز حرکات بیان کرنے کے بعد اس کی شادی کے موضوع پر ہی ختم ہوگا لیکن پھر بھی اس نے بہن کی بات سننا ضروری سمجھا۔
    ”جانتے ہو ذیشان کو گورنمنٹ نے بونس دیا ہے۔کل اسلام آباد میں منعقدہ ایک تقریب میں پچاس ہزار کا چیک بھی ملے گا۔میں نے تو اسے کہہ دیا کہ یہ سب میری وجہ سے ہے۔مانتے ہیں کہ بندہ محنتی ہے ایمان دار ہے لیکن کیا پہلے نہیں تھا؟محنت تو پہلے بھی بہت کرتا تھا لیکن ایسی ترقیاں تو اسے پہلے کبھی نہ ملیں۔قسمت کھلی ہے تو مجھ سے شادی کے بعد۔” اسے بہن کے چہرے پر فخر سے زیادہ غرور کا رنگ نمایاں نظر آیا لیکن ”بہت بہتر”کے سوا کچھ نہ کہہ سکا۔
    ”دن میں پچاس بارفون کرکے میری اور علیزہ کی خیریت دریافت کرنا تو جیسے اس پر فرض ہو۔ابھی کچھ دیر پہلے اس کا فون آیاکہہ رہا تھا بونس کے پیسوں میں سیونگ کے پیسے ملاکرمجھے سونے کا سیٹ دلائے گا،وہی جو اس دن ڈرامے میں صنم بلوچ نے پہنا تھا۔اچھا تھا ناں؟”
    اسے یہ تو علم نہ تھا کہ سیٹ اچھا تھا کہ نہیں۔اسے بس اتنا معلوم تھا کہ مفاہمتی رویہ اس کے حق میں بہتر تھا لہٰذا اسے ”جی اچھا تھا”کہنے پر ہی اکتفا کرنا پڑا۔
    ”’ارے جانتے ہو آج علیزہ نے کیا کیا؟ذیشان کا فون آیا تو موبائل علیزہ کے ہاتھ میں ہی تھا۔جانے کیسے اٹینڈ کرلیا۔یقین جانو پورے دس منٹ اپنے بابا سے بات کی ہے اس نے۔میں تو واقعی دنگ رہ گئی۔ایکسٹرا ا رڈنری ہے میری بیٹی۔”
    ”لمبی چھوڑنے کی بھی ایک حد ہوتی ہے” ۔۔ اس نے سوچا۔اب یہ کیسے ممکن ہے کہ دس ماہ کی علیزہ کال اٹینڈ کرلے۔اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ غلطی اور اتفاق سے ہاتھ لگنے پر فون اٹینڈ ہو بھی گیا تو دس منٹ بات کرنے کی بات تو ایسی ہی ہے کہ جیسے کوئی کہے کہ دس سال کے بچے نے ماؤنٹ ایورسٹ سر کرلیا۔وہ جانتا تھا کہ اس کی بہن جھوٹ بول رہی ہے لیکن یہ بتاکربہن کو اس کی نظروں میں شرمندہ نہیں کرنا چاہتا تھا اسی لیے”ماشاء اللہ” کہہ کر جان چھڑانی چاہی لیکن اس کی بہن ابھی جان چھوڑنے کے موڈ میں نہ تھی۔
    ”اچھا تم بتاؤ شادی کا کیا سوچا؟جس طرح تم انکار پر انکارکیے جا رہے ہو لگتا نہیں کہ تم کسی کو پسند کرتے ہوگے۔وہ لڑکے اور طرح کے ہوتے ہیں تم تو ۔۔”وہ کچھ کہتے کہتے رک گئی”تم رہنے دو تم سے کچھ نہ ہوگا۔ٹھہرو میں تمہیں کچھ لڑکیوں کی تصویریں دکھاتی ہوں۔لائی ہوں اپنے ساتھ” ذیشان ایک ہفتے سے اسلام آباد گیا ہوا تھا سووہ ایک ہفتے سے علیزہ کے ساتھ یہیں تھی۔پورا ہفتہ وہ اس کی نظر سے بچ کر گزرتا رہا،آج ہاتھ آیا تھا ۔اتنی جلدی تو آزادی نہیں ملنی تھی۔وہ شکر کر رہا تھا کہ اس سے چھوٹی بہن اپنے سسرال کے ساتھ سکھرمیں تھی۔اگر وہ بھی ان دنوں گھر پر ہوتی تو دونوں بہنیں مل کر نہ جانے اس کا کیا حشر کرتیں۔ کچھ دور صوفے پر پڑی ایک فوٹو البم اٹھائے وہ اس کے قریب آئی اور تصویریں دکھانے لگی۔تصویریں دیکھنے سے پہلے اس نے پوچھا’کس کی تصویریں باجی؟’
    ”لڑکیوں کی اور کس کی؟لڑکوں کی تو دکھانے سے رہی بدھو۔”وہ ہلکے قہقہے کے ساتھ ہنس پڑی۔
    ”یہ ہے نمرا ہے” ذیشان کی چھوٹی بہن۔حال ہی میں کراچی یونی ورسٹی سے ایم بی اے کیا ہے۔یہ دیکھو سعدیہ۔فیشن ڈیزائننگ میں ڈپلومہ کر رکھا ہے۔کیا ڈیزائننگ کرتی ہے بھئی۔چھوٹے ماموں کی شادی میں، میں نے جو غرارہ پہنا تھا ناں،اسی نے ڈیزائننگ کیا تھا۔کیسی تعریف ہوئی تھی خاندان میں!اچھا یہ کیسی ہے؟”وہ ایک قبول صورت لڑکی کی تصویر تھی”یہ ندرت ہے۔پرائیویٹ ایم اے کیا ہے اس نے۔بے چاری سیدھی سادی سی لڑکی ہے۔نہ فیشن کی سدھ ہے نہ دنیاداری کی۔ خاموش سی کم گو۔اماں کو تو نمرا پسند ہے لیکن میں تو ندرت کو ترجیح دوں گی۔دیکھو ناں لڑکی ایسی ہو جو کم بولے مگر کام زیادہ کرے۔رنگ روپ کون سا عمر بھر ساتھ رہنا ہے۔یہ بہار تو آج ہے کل نہیں۔اصل بات ہوتی ہے گھرداری۔سچ پوچھو تو مجھے نمرا ایک آنکھ نہیں بھائی۔ذیشان نے تو بہت کہہ رکھا ہے لیکن میں نہیں چاہتی کہ وہ اس گھر میں آئے۔وہ یونی ورسٹی سے پڑھی ہے اور تم تو جانتے ہی ہو کہ یونی ورسٹی میں پڑھنے والی لڑکیوں کے کتنے افیئرز ہوتے ہیں۔ایسی لڑکیوں سے دور ہی بھلے۔تمہیں کیسی لگی ندرت؟”
    ”بس کریں باجی بہت ہوگیا۔”اس کے صبر کا پیمانہ لب ریز ہوچکا تھا۔”آپ سب کو ہزار بار کہہ چکا ہوں کہ مجھے ابھی شادی نہیں کرنی لیکن آپ کو میری بات سمجھ ہی نہیں آتی۔جب موقع ملتا ہے یہی راگ الاپنا جیسے اپنا فرض سمجھتی ہیں۔مجھے نہیں کرنی ان میں سے کسی کے ساتھ شادی۔آپ کے ساتھ آخر مسئلہ کیا ہے؟کیوں میرے سکون کے پیچھے پڑی ہیں؟”
    ”بہن ہے تمہاری۔تمہارے لیے نہیں سوچے گی تو کیا ہمسایوں کے لیے سوچے گی؟”اس کی بلند ہوتی آواز سن کر اماں کچن سے نکل کر لاؤنج میں آگئیں۔ ”شادی ہی کا تو کہہ رہی ہے تم سے،کون سے پیسے مانگ رہی ہے جو اس طرح چیخ رہے ہو؟”
    ”آپ لوگ مجھ سے پیسے لے لیں۔جتنے چاہیں لے لیں لیکن مجھے پھر شادی کے لیے نہ کہیں۔تنگ آگیا ہوں میں آپ کی یہ باتیں سن سن کر۔کل بھی کہا تھا،آج بھی کہتا ہوں میں شادی نہیں کروں گا۔”
    اس نے سوچ لیا تھا کہ چپ رہ کر اور اذیت برداشت نہیں کرے گا۔
    ”ساٹھ ہزار تنخواہ ہے تمہاری۔۔گاڑی ہے۔۔بینک بیلنس ہے۔خوب رُو ہو ،جوان ہو اور کیا چاہیے ہوتا ہے شادی کے لیے؟ ہر طرح سے مکمل ہو ۔۔ کیا کمی ہے تم میں؟”
    اس کی بہن نے بھی قسم کھا رکھی تھی کہ منوا کر ہی دم لے گی۔
    ”ہر طرح سے مکمل ہو ۔۔ کیا کمی ہے تم میں ۔۔ ہونہہ۔۔۔”وہ چاہتے ہوئے بھی کمی کا نہ بتا سکا۔بتا بھی کیسے سکتا تھا؟
    ”کوئی کمی نہیں،کچھ نامکمل نہیں۔بس دل نہیں چاہتا ۔۔زبردستی ہے کیا؟کان کھول کر سن لیں مجھے شادی نہیں کرنی۔آج پوچھیں گی تو بھی یہی جواب ہے،دو سال بعد پوچھیں گی پھر بھی جواب یہی رہے گا۔سمجھیں!”یہ کہہ کر وہ تیز قدم اٹھاتا لاؤنج سے نکل گیا۔
    وہ ناصر حسن،جو زندگی کے اکتیسویں زینے پر پیر رکھ چکا تھا،پرکشش شخصیت کا مالک تھا۔ایک کامیاب مرد میں جو اور جیسی خوبیاں ہونی چاہئیں،اس میں سب تھیں۔مردانہ وجاہت کا عملی نمونہ،بہترین ملازمت،کار بینک بیلنس ۔۔ کیا نہیں تھا اس کے پاس؟پہلے کالج،پھر یونی ورسٹی اور اب کمپنی میں ساتھ کام کرنے والی کتنی خوب صورت لڑکیوں نے اس کی جانب قدم بڑھائے تھے لیکن اس کے انتخاب کی نظر کسی پر نہ ٹھہری۔اپنی جانب اٹھتی محبت بھری نگاہوں کا جواب اس نے ہمیشہ سردمزاجی سے دیا تھا۔لوگ سمجھتے تھے کہ اس کی سرد مہری اور بے پروائی اس کی مغرور طبیعت کا نتیجہ ہے لیکن ایسا نہ تھا۔یہ درست ہے کہ اس میں وہ تمام اوصاف موجود تھے جو کسی کو بھی غرور کی انتہاؤں تک پہنچاسکتے ہیں لیکن کم از کم وہ مغرور نہ تھا اورجو تھا وہ کبھی کسی نے محسوس ہی نہ کیا۔کوئی محسوس کرتا بھی تو کس طرح؟اس نے کسی کو کبھی اپنے اتنے قریب آنے کا موقع ہی نہیں دیا تھا کہ وہ اس کے اندر کی دنیا میں جھانک سکے، اسے سمجھ سکے۔وہ اکیلا تھا اور اکیلا ہی رہا۔روشنیوں کے درمیان اندھیروں میں زندگی کیسے گزاری جاتی ہے اسے تجربہ تھا۔وہ جانتا تھا کہ جب زندگی کے تمام رنگ ماند پڑجائیں تو زندگی کیسی ہوتی ہے۔سب کچھ حاصل کرنے کے بعد بھی خالی ہاتھ تھا۔بالکل اسی طرح جیسے کوئی شخص طویل مسافت کے بعد سمندر تک پہنچ کر بھی پیاسا رہ جائے۔ایسا ہی تو تھا وہ۔
    اس بھری پڑی دنیا میں جہاں انسان ہی انسان تھے وہاں کوئی ایسا نہ تھا جو اس کے درد اور تکلیف کو جان سکتا،محسوس کرسکتا سوائے ایک عاصم کے۔عاصم اس کا دوست تھا۔ایسا دوست جس کے لیے لفظ دوست حقیقی معنوں میں استعمال کرکے اسے ہمیشہ خوشی ہوتی تھی۔وہ جب بھی پریشان ہوتا،دنیا کے سوالوں سے بے زار ہوتا،اسے عاصم ہی یاد آتا۔جس طرح تپتے صحرا میں مسافر کو اکیلے درخت کی صحبت عزیز ہوتی ہے ۔اسے بھی عاصم کی رفاقت عزیز تھی۔جیسے سارا دن دفتر میں کام کرکے تھکن سے چور گھر لوٹتے شخص کو چائے کے کپ،بیوی کی مسکراہٹ اور بچوں کی کھلکھلاہٹ کی ضرورت ہوتی ہے،اسے بھی عاصم کی ایسی ہی ضرورت تھی ۔عاصم بھی تو ایسا ہی تھا۔اس کے دکھوں کو سمیٹنے والا،اس کا ہم درد، اس کا دوست۔اس کی دنیا کے ہر راز سے واقف، ہر احساس سے آگاہ۔آج جب ایک بار پھر زمانے کی روش نے اس کے احساسات کو ٹھیس پہنچائی تو اسے عاصم یاد آیا۔اس نے اسے فون کیا اور اپنے آنے کا بتایا۔پندرہ منٹ کے بعد وہ عاصم کے گھرپر اس کے رو بہ رو بیٹھا چائے پی رہا تھا۔اسے ضرورت نہ تھی عاصم کوسب بتانے کی۔وہ پہلے سے جانتا تھا ۔۔ یہ پہلی بار نہ تھا۔
    ”تمہیں اماں بابا کو بتانا ہوگا”عاصم نے چائے کا سپ لیتے ہوئے اس کی طرف دیکھا اور آہستگی سے کہا۔یوں جیسے کہ وہ چاہتا ہو کہ اس کی کہی بات وہ نہ سنے۔
    ”تم جانتے ہو میں نہیں بتا سکتا۔میں کیسے بتا سکتا ہوں کہ۔۔۔نہیں یار”اس کے لیے بتانا واقعی آسان نہ تھا۔
    ”ایک دن تو تمہیں بتانا پڑے گا۔آخر کب تک ان سوالوں کو رد کرتے رہوگے؟کب تک بھاگتے رہو گے؟ گھر والوں کی پریشانی بھی تو اپنی جگہ درست ہے۔تمہاری عمر،تمہاری پوسٹ۔تمہاری ساریconditions شادی کے لیے مناسب ہیں۔”
    ”ساری conditions مناسب نہیں ہیں عاصم۔”اس نے دکھ سے کہا”conditions مناسب ہوتیں تو حالتیں اس قدر غیر مناسب نہ ہوتیں۔”

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • آخری لفظ — فارس مغل

    آخری لفظ — فارس مغل

    وہ موسمِ زرد کی ایک شام تھی!
    اس دن بھی وہ ریسٹورنٹ کی اسی نشست پراُداس بیٹھا تھا، جہاں وہ اپنی مرحومہ بیوی روزینہ کے ساتھ اکثر شام کافی پیتے ہوئے ڈھیروں باتیں کیا کرتا تھا ۔روزینہ کی وفات کو پانچ برس بیت چکے تھے۔۔۔ ان پانچ برسوں میں ان گنت لوگ لقمۂ اجل بنے اور ان گنت نے جنم لیا،لیکن اس کی زندگی شام کے اداس سورج کی مانند ہر لمحہ ڈوبنے کے لیے بے قرار رہی۔۔۔بیالیس برسوں کی رفاقت کوئی معمولی بات تو نہیں ہوتی اور رفاقت بھی ایسی کہ درمیان میں کبھی کوئی تیسرا نہ آسکا، حتٰی کہ کسی ننھے مہمان نے بھی آنے کی جرأت نہ کی۔
    ساری عمر خوابوں کے پیچھے بھاگتے رہنا اور پھر خوابوں کو سینے سے لگا کر ہانپتے رہنا، کیا اس بھاگنے اور ہانپنے کے درمیانی وقفے کو زندگی کہتے ہیں؟
    اس نے یہ سوچتے ہوئے ریسٹورنٹ کی کھڑکی سے باہردیکھا جہاں ساکن ہوا میں ابر چھایاہوا تھا ۔شام کا سورج دور پہاڑی کے اوپر بادلوں کی اوٹ میں کہیں گم تھا ۔
    گزشتہ شب ہونے والی بارش سے درختوں کے تنے ابھی تک نم تھے ۔ٹھٹھرتی ہوئی سیاہ سڑک پر چنار کے طلائی پتے بکھرے ہوئے تھے ۔سارے منظر پر عجیب ہی مغمومیت طاری تھی ۔اس کی نظر صنوبر کے اس درخت پرٹھہر گئی ،جس کے بارے میں روزینہ کا خیال تھا کہ اس قدیم سدا بہار صنوبر کی جاذبیت روزبہ روز بڑھتی جارہی ہے ،جیسے ابھی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا ہو،پتا نہیں یہ بوڑھاکب ہوگا؟
    آہ روزینہ!اس نے گہرا سانس لیا اور سر کے سفید بالوں میں ایک ہاتھ کی انگلیوں کو پھنسا کردوسرے سے کافی کی پیالی لبوں سے لگا لی ۔اس کے چشمے کے شیشوں سے شام کی دھندلی روشنی ،کافی کی پیالی پر منعکس ہو رہی تھی ۔اسے لگا جیسے یہ اس کے آنسوؤں کی چمک ہے۔ اس نے پیالی میز پر رکھتے ہوئے جیب سے رومال نکالا اور عینک ماتھے پر چڑھا کرچند لمحوں کے لئے رومال اپنی آنکھوں پر رکھ لیا۔بند آنکھیں اسے ماضی میں لے گئیں جہاں ایک یادنے اس کا ہاتھ تھام کر بیس برس کی روزینہ کے سامنے لا کھڑا کیا ،جوپھولوں کی سیج پراس کے روبہ رو سرخ جوڑے میں حیا سے دُہری ہوئی جا رہی تھی اور وہ چُپ چاپ اسے تکتا جا رہا تھا۔گویا آواز کے پتھر سے طلسم ٹوٹ جانے کا خطرہ لاحق ہو!
    سدا بہار صنوبر سے پرے چنار کا پیڑ اپنی برہنہ ٹہنیوں کے ساتھ خالی اور اداس کھڑا تھا ۔آہ!دنیا میں لاحاصل ہی انسان کا حاصل ہے ،اس کے ذہن میں خیال آیا ۔جسم تھکنے کے لیے جنم لیتے ہیں ۔ایسی تھکاوٹ ،جس کے بعد پلٹ کر دیکھنے کو بھی جی نہیں چاہتا ۔موت بھی ،جس کی آمد کا دھڑکا کبھی نیندیں اڑا دیا کرتابالآخرتھکن سے چور آنکھیں اسے ڈھونڈنے لگتی ہیں۔ یہ مہ و سال کی تھکن بھی کیا ظالم شے ہے ۔ اس نے اپنے ہاتھ کی جھریوں کو دیکھ کر سرد آہ بھری۔۔۔
    شام مدہوش ہو کر اندھیرے کی بانہوں میں جھولنے لگی تھی ،لہٰذا اس نے گھر جانے کاقصد کیا۔اس کا شان دار مکان ریسٹورنٹ سے زیادہ دور نہ تھا ، ابھی اس نے بل کی ادائی کے لیے کوٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالا ہی تھا ، کہ ایک نسوانی آواز نے اسے چونکا دیا:”اگر ناگوار نہ گزرے تو میں یہاں بیٹھ سکتی ہوں؟”اس کا ہاتھ کوٹ کی جیب میں ٹھہر گیا۔
    سر اٹھا کر آواز کی سمت دیکھا ،تو وہاں دیدہ زیب کالی ساڑھی میں ملبوس خوب صورت خاتون کو کھڑا پایا ،جس کی چمکتی آنکھوں میں بے انتہا کشش اور دل کش مسکراہٹ میں ہزار معنی پنہاں تھے۔
    ”جی ضرور”۔اس نے خاتون کے سراپے کا بہ غور جائزہ لیتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا ۔
    خاتون اس کے روبرو میز کی دوسری جانب بیٹھ گئی ”معاف کیجئے گا میں کچھ دنوں سے یہاں آپ کو بے حد اُداس دیکھ رہی ہوں آج آپ سے بات کرنے کو جی چاہا سو اس لیے۔۔۔”

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    ”میں تو یہاں کئی برسوں سے آرہاہوں لیکن ہاں۔۔اب کم کم آتا ہوں ۔۔”اُس پر خاتون کی موجودگی کا ایسا سحر طاری ہوا کہ اس نے گھر جانے کا ارادہ ترک کر دیا ۔
    خاتون چالیس کے قریب تھیں ۔چہرہ جاڑے کے پورے چاند کی مانندپرسکون تھا۔
    ”جی میں جانتی ہوں ۔۔میں نے تو ان دنوں بھی آپ کو دیکھا تھا جب آپ یہاں اسی میز پر اپنی مرحومہ بیوی کے ساتھ اک دل چسپ کھیل کھیلا کرتے تھے۔”
    اس نے خاتون کی جانب یک لحظہ نظر اٹھائی اور پھر چہرہ کھڑکی کی جانب موڑ لیا ۔
    ”میں معذرت چاہتی ہوں اگر آپ کو میری بات سے تکلیف پہنچی ہے۔”
    ”نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔”وہ خاتون پر ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا کہ وہ اندر سے کتنا دُکھی ہے ۔زندگی کا کوئی ایک بھی پل ایسا نہیں ،جس میں اس نے روزینہ کو یاد نہ کیا ہو۔اس کے ساتھ گزرا ہوا ایک ایک لمحہ ذہن و دل پر پتھر کی لکیر ایسا نقش تھا۔۔۔روزینہ جو کبھی اس کی شریکِ حیات رہی تھی ، اب شریکِ ذات بن چکی تھی۔
    ”دیکھئے ،آپ پھر اداس ہوگئے ، اگر میرا یہاں بیٹھنا آپ کو پسند نہیں تو میں چلی جاتی ہوں ۔۔”خاتون نے بناوٹ سے اپنی بات مکمل کر کے اس کے چہرے پر نگاہیں جما دیں۔
    ”آپ نے اپنا تعارف نہیں کروایامحترمہ ۔”اس نے عینک کو لرزیدہ ہاتھوں سے درست کیا۔۔
    ”اتفاق سے میرا نام بھی روزینہ ہے اور میں یہیں پاس ہی رہتی ہوں ۔”خاتون کی سحر انگیز آنکھوں میں دیکھ کر اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔
    ”آپ مجھے روزی بلا سکتے ہیں۔”وہ بڑے قاتلانہ انداز میں بولی ۔
    وہ اس حسین اتفاق کے بارے میں سوچنا چاہتا تھا کہ زندگی اتفاقات کا نام ہے یا سب کچھ پہلے سے طے شدہ پلان کے مطابق ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ دنیا ایک ا سٹیج ہے ہم سب کردار ہیں لیکن اسکرپٹ تو کسی نے دیکھا ہی نہیں، یہ کیسا کھیل ہے !لیکن کھیل دل چسپ ہے!
    ”اگر آپ کی اجازت ہو تو۔۔”اچانک روزی نے خیالات میں مداخلت کر دی۔
    ”کیسی اجازت ؟کہیے۔”
    ”اگر آپ برا نہ مانیں تو کیا ہم وہ کھیل، کھیل سکتے ہیں جو آپ اپنی مرحومہ بیوی کے ساتھ مل کر اسی جگہ کھیلا کرتے تھے ؟”روزی نے ایک ہی سانس میں سب کچھ کہہ دیا۔
    اس نے آنکھیں موند لیں۔ چہرے پر تکلیف کے آثار نمایاں تھے ،کسی دیرینہ زخم کاکھرنڈ کھرچنے کی تکلیف کا شدید احساس !
    ”دیکھئے، آپ پھر اُداس ہوگئے شاید مجھے یہاں سے چلے جانا چاہیے۔”
    وہ حیران تھا کہ اس اجنبی خاتون کو یہاں سے اُٹھ جانے کا کہنے کے لیے ،کیوں اس کے ہونٹوں کی جرأت جواب دے چکی تھی ؟وہ کیوں چاہتا تھا کہ وہ یہیں اس کے روبرو بیٹھی اس سے باتیں کرتی رہے ، اس کے زخموں کو کریدتی رہے ۔
    وہ کچھ دیر سر جھکائے بیٹھا رہا اور پھر لب وا کیے:” آئیے کھیلیں۔۔”
    اس کے لبوں پر خفیف سی مسکراہٹ ابھرکر غائب ہوگئی ۔
    ”بہت شکریہ۔۔نکالئے کھیل کا سامان۔”روزی نے ستائشی نگاہوں سے اسے دیکھا۔
    زندگی روزانہ ایک نئے کھیل کے ساتھ میدان میں اترتی ہے۔ اس نے یہ سوچتے ہوئے کسی فرماں برداربچے کی مانند کوٹ کے اندرونی جیب سے ایک چھوٹی سی ڈائری اور قلم نکال کر میز پر رکھ دیا۔ روزی کے ہونٹوں پر دل فریب مسکراہٹ پھیل گئی ۔ اس نے ڈائری پر قلم سے کچھ تحریرکیا اور ڈائری اُس کے سامنے کھسکا دی ۔ اس کھیل کا آغاز اس کی مرحومہ بیوی نے کیاتھا ،جس میں بے ترتیب حروف کو جوڑ کر لفظ کو پہچاننا تھا، شرط یہ تھی کہ بوجھنے والی شے حدِ نگاہ ہو ، کھیل کے آخر میں ہارنے والا کافی کے پیسے ادا کیاکرتاتھا۔
    ” و۔ا۔س۔ف۔ن ”روزی نے ایک نظر ڈائری کو دیکھا اور پھر اپنی نظریں ریسٹورنٹ میں گھماتے ہوئے مسکرا کر چھت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے آہستہ سے ”فانوس ”کہا ۔اس نے تعریفی نظروں سے روزی کودیکھااور سر کواثبات میں جنبش دی:”گویا آپ کھیل سے واقف ہیں۔”
    ریسٹورنٹ شہر سے دور ایک پہاڑی پر تھا،جہاں گرمیوں کی بہ نسبت سرما میں بھیڑ کم ہوتی تھی ۔
    ”ب۔ص۔ر۔و۔ن ”یہ لفظ روزی کی جانب سے آیا تھا اس نے لفظ دیکھ کرکھڑکی سے باہر صنوبر کے پیڑکی طرف اشارہ کیا
    ”ھ۔ڑ۔ا۔س۔ی ”روزی نے چند لمحے غور سے لفظ کودیکھا اور پھر دھیماسا مسکراکر ساڑھی کا فال درست کیا ۔
    ”م۔ی۔ن ”لکھ کر روزی نے فوراًڈائری اس کے سامنے رکھ دی۔
    اس نے عینک ماتھے پر ٹکا کر رومال میں آنکھوں کی نمی جذب کی اور عینک واپس آنکھوں پر گرا کرڈائری میں لکھے لفظ کو دیکھ کر چند لمحوں تک افسردہ سا مسکراتا رہا
    ”آپ بالکل روزینہ کی طرح کھیل رہی ہیں ، وہ بھی اسی طرح میری کیفیات کو بھانپ کر لفظ بناتی تھی۔”روزی ہتھیلی پر ٹھوڑی جما کر اس کے افسردہ چہرے کا جائزہ لینے لگی،شادی کے بعدکچھ عرصہ تک میں اپنی کوئی بھی پریشانی روزینہ کو بتانے سے گریز کرتارہا ۔ اسے اپنے ساتھ پریشان دیکھنا مجھے گوارا نہ تھا لیکن پھر ایک روز میں اپنی ترقی کے سلسلے میں کچھ زیادہ فکر مندہو رہا تھا۔اس نے استفسار کیا اور میں نے پریشانی کا سبب بتا دیا۔۔۔اس نے اپنے دونوں ہاتھوں میں میرا چہرہ تھام کر پیار سے آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور بولی سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔ کتنا عام سا فقرہ تھا لیکن اس کے ہونٹوں سے ادا ہو کر انمول اور میرے مایوس لمحات کی ڈھارس بن گیا ۔اس دن کے بعد تمام غم، مصیبتیں اور الجھنیں اس فقرے کے آگے ہیچ دکھائی دیں، وہ دل ہی دل میں اپنی بیوی کو یاد کرنے لگا۔
    شام کے ساتھ زینہ زینہ اترتے وقت کو پیچھے دھکیل کرکھیل آگے بڑھتا چلا جا رہا تھا۔
    ”ر۔م۔ز۔د۔ ”اس نے ڈائری آگے کھسکا دی ۔
    روزی نے ایک نظر ڈائری پر دیکھا اور انگوٹھی میں جڑے زمرد پر انگلی سے دستک کی ،گویا پوچھ رہی ہو کہ آپ کو پتھروں سے بھی رغبت ہے؟
    اس کی نظریں ابھی تک انگوٹھی پر مرکوز تھیں”ہاں،بس یونہی آپ کی انگوٹھی میں زمرد جڑا دیکھا تو یاد آیا کہ ایک دفعہ روزینہ نے فرمائش کی کہ اسے گہرے سبز رنگ کا زمردچاہیے ۔اس نے کسی رسالے میں پڑھا تھا کہ یہ اس کا خوش بختی کا پتھر ہے ،جب کہ میرا ایسی باتوں پر بالکل یقین نہیں تھا ۔میں نے اسے ان فریبی نجومیوں کے بارے بتانا چاہا لیکن وہ اپنی ضد پر قائم رہی ۔بادلِ نہ خواستہ ایک روز میں نے اسے خوبصورت سا زمرد تحفہ میں دے ہی دیا ۔۔وہ شام کا وقت تھا زمرد کو اپنی ہتھیلی پر دیکھ کر اس کاچہرہ گلاب کی مانند کھل اٹھا،سرخی اس کے کنجِ لب سے کانوں کی لوتلک دوڑ گئی ۔ اس کی آنکھوں میں شادمانی کی لہر دیکھ کر مجھ پر یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ دنیا میں کوئی بھی شے، چاہے وہ آپ کو پسند ہو یا نہ ہو،آپ کے جیون ساتھی کی ایک مسکان سے زیادہ نہ قیمتی ہو سکتی ہے اور نہ ہی اہم۔۔” یہ کہتے ہوئے اُس نے یوں آنکھیں موند لیں جیسے وہ بے حد تھک گیا ہو۔
    ”آپ ٹھیک تو ہیں؟”روزی کے لہجے میں اطمینان تھا ”اچھا بس کھیل ختم کرتے ہیں”۔
    شام ڈھلنے کے باعث تاریکی کھڑکی سے اندر جھانکنے لگی تھی ۔ریسٹورنٹ کی تمام بتیاں روشن ہوچکی تھیں،اس روشنی میں اس کے ستر سالہ قدیم سر کی چاندی چمک رہی تھی۔۔۔ خاموشی کا وقفہ طویل ہونے لگا ۔
    ”میں نے آج سے پہلے خود کو کبھی اتنا تھکا ہوا محسوس نہیں کیا۔”اس کی آنکھوں میں تھکاوٹ کے گہرے سائے تھے۔
    انسان بھی کتنے بہروپ بدلتا ہے ۔بچپن، لڑکپن ، جوانی، ادھیڑ عمری اور آخر میں بڑھاپا ،سب سے خوف ناک بہروپ ،جسے دیکھ کر لوگ عبرت پکڑتے ہیں ۔سلوٹ زدہ چہرہ ،جسے آئینہ کے سوا کوئی جی بھر کے دیکھنا گوارا نہیں کرتا ۔عالمِ پیری میں انسان راستے کے پتھر سے زیادہ بے وقعت ہو جاتا ہے۔خزاں رسیدہ خشک و زرد برگِ آوارہ کی مانند بھٹکتا ہے ۔ضعیفی کی ہوا نے اس کے لئے کون سا ٹھکانہ مختص کیا ہوتا ہے، وہ نہیں جانتا ۔اسے تو بس ہوا کے رحم وکرم پر رہنا ہوتا ہے اور پھر ایک تنہا کہن سال آدمی جس کا جیون ساتھی بچھڑ گیاہو ،گویا آدھے وجود کے ساتھ زندہ ہوتا ہے ،آدھی دھڑکنیں، آدھی سانسیں اور ادھوری نظر، ادھوری باتیں سب کچھ نصف ہوتا ہے ۔ اگر کچھ مکمل ہوتا ہے تو صرف یادیں، قدم قدم پربچھی ہوئی یادیں۔ ہزار یادوں کی ایک یادیارِ خوش خصال ۔۔۔ روزینہ کی یاد!
    یادوں کا بوجھ بھی انسان کو تھکا دیتا ہے ۔ روزی نے اس کا چہرہ پڑھا۔ہاں۔۔شاید۔۔
    ”تم نے لفظ نہیں دیا”اس نے لرزاں ہاتھ سے بہ مشکل پانی کا گھونٹ حلق میں اتارا۔۔روزی نے ایک لفظ ڈائری پر لکھ کراُس کے آگے کھسکا دی ۔”س۔۔ا۔د۔ا۔ی ”۔
    اس نے سر ہلاتے ہوئے آہستہ سے کہا: ”ہاں بہت گہری ”اداسی” وہ سچ مچ اداس تھا ۔ایسی یخ اداسی میں وہ اپنی بیوی کے پہلو میں کسی نونہال کی مانند سمٹ جایا کرتا تھا ۔
    ”سر آپ کہیں توکافی اور لے آؤں؟”نوجوان ویٹر نے مؤدبانہ انداز میں مسکرا کردوبارہ آرڈر طلب کیا۔ تو جیسے اسے دھیان آیا کہ وہ تو اپنے مہمان کی مہمان نوازی کرنا بھول ہی گیا تھا ۔اس نے روزی کی جانب دیکھا اور پھر اسے اچانک ویٹر کی مداخلت کھلنے لگی :”جاؤ،کچھ نہیں چاہیے جاؤ”ویٹراسی مسکراہٹ کے ساتھ واپس چلا گیا۔
    اس نے روزی پر نگاہیں جما دیں ۔اس کا سانس، دل کی دھڑکن سے کوسوں دور ہونے لگا۔روزی نے ایک ادا سے اپنی زلفوں کو چہرے سے ہٹاتے ہوئے ہلکا سا نقرئی قہقہ لگایا تو جیسے وہ واپس اپنے آپ میں آیا:”ایسے کیا دیکھ رہے ہیں پروفیسر صاحب؟”
    ”و۔چ۔ل” اس سے قلم تھامنامحال ہوا جا رہا تھااس نے عجلت میں لفظ لکھا۔
    ”چلو؟کہاں چلیں”؟ روزی کی کجراری آنکھیں مسکرائیں ۔”ے۔ب۔ا۔ت۔ب ”۔اس کی معصوم آنکھوں میں بے بسی کے آثار تھے ”ہاں بہت بے تاب ہوں۔۔”اس کا حلق سوکھنے لگا۔
    ”سب ٹھیک ہو جائے گا”روزی کے لبوں پر معنی خیز مسکان ناچنے لگی۔
    ”خدا کے لیے اسی وقت چلو”۔اس پر اضطراب حاوی ہو رہا تھا ۔اس نے پلکیں بھینچ کر جب دوبارہ کھولیں تو سامنے روزی کی جگہ اسے اپنی بیوی دکھائی دی۔”روزینہ” اس کے ہونٹوں پر نام کپکپایا۔
    جب طویل تنہائی کے لق و دق صحرا میں کسی پیارے کی کمی پیاس کی مانند محسوس ہوتی ہے تو احساسِ تنہائی قوتِ مدافعت پر حملہ آور ہوتا ہے۔ انسان ذہنی دبا ؤ کا شکار ہوکر پریشانی، مایوسی اور افسردگی میں گھرتا چلا جاتا ہے۔ نفسیاتی عوارض میں بہ تدریج اضافہ ہونے لگتا ہے ۔وہ خود کو سماج سے کاٹ کر اپنی علیحدہ دنیا بسا لیتا ہے ۔اسے زندگی سے دلچسپی نہیں رہتی ،خود کو دنیا میں بے گانہ محسوس کرتا ہے اور راہِ فرار چاہتا ہے ۔اخیر وقت میں یہی تو ہوتا ہے کہ پہلے انسان اپنی اہمیت کھوتا ہے اور پھر خود کھو جاتا ہے۔
    ”تو آخر آپ نے بوجھ ہی لیا ۔۔اچھا بتائیے میں کون ہوں؟”روزینہ دوبارہ روزی میں بدل گئی اور اپنے ہاتھوں کو اس کے قریب کر لیاگویا کھیل کا آخری منظر ختم ہونے کو تھا ۔۔اس کی دھندلی آنکھوں کی کسی کنج گلی میں وصالِ یار کا دیا ٹمٹما نے لگا۔اس نے قلم اٹھا کر شکستہ حروف میں لفظ لکھ کر ڈائری آگے کھسکا دی اور روزی کے ہاتھ تھام کر آہستہ سے ان پر اپنا سر رکھ دیا۔
    کھڑکی کے کانچ پر بارش کی بوندیں تالیوں کی طرح بجنے لگیں گویا پردہ گرا دیا گیا۔
    کچھ دیر بعد وہی ویٹر دوبارہ آیا اور” سر، سر ”پکارتا رہالیکن وہ ابدی نیند سو چکا تھا۔
    جب ایمبولینس اس کا بے جان وجودلے کر روانہ ہوگئی تو ویٹر نے منیجر کو وہ چھوٹی سی ڈائری لا کر دی جس میں بے تحاشابے ترتیب الفاظ درج تھے۔
    ڈائری کاآخری لفظ ”م-و-ت ” تھا۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • دانہ پانی — قسط نمبر ۶

    دانہ پانی — قسط نمبر ۶

    سجناں ولوں خط آیا کیویں کھولاں دس
    کدھرے ایہہ نہ لکھیا ہووے تیری میری بس
    مراد نے بندوق چلانے کے لئے گھوڑا دبانے کی کوشش کی تھی۔ وہ نہیں دبا۔ اُس کی نظر موتیا کی گردن پر رُک گئی تھیجہاں اُس کی بندوق کی نالی تھی۔ اُس کی دودھیا حسین صراحی دارگردن کے اس گڑھے میں وہ چند دن پہلے تک پانی بھی حلق سے گزرتے دیکھ لیتا تھا۔ اب اُسے گولی ماردیتا تو اُس کا اُسی حلق سے ابلتا خون کیسے دیکھتا اور خون دیکھنے کی ہمت کر بھی لیتا تو اُسے تڑپتا کیسے دیکھتا۔ اور تڑپتا دیکھنے کے لئے دل پتھر کر بھی لیتا تو موتیا کو مرتا کیسے دیکھ لیتا۔
    اُس کا دل چاہا کہ وہ بھی بھاگ جاتی، بالکل سعید بزدل کی طرح۔ پر وہ تو بھاگی بھی نہیں تھی، وہیں کھڑی تھی، اُس کے سامنے۔ وہ بے وفا تھی اور ڈھیٹ بھی تھی یا پھر اُس کو یہ گھمنڈ تھا کہ وہ اُسے مار نہیں سکتا۔ اگر وہ گھمنڈ تھا تو ٹھیک تھا۔
    اُس نے گولی نہیں چلائی تھی،بندوق کی نالی نیچے کرلی تھی۔ وہ نہ بھی کرتا تو بھی موتیا کو پتا تھا وہ اُسے مار نہیں سکتا تھا۔ پر اُس نے شک بھی کیسے کرلیااُس پر۔ موتیا کو موت سے کہاں خوف آیا تھا،اُس ”شک” نے لرزہ طاری کیا تھا اُس پر جو پیار کرنے والوں کے درمیان تو کبھی آتا ہی نہیں تھا۔
    ” جا موتیا! تجھے دل سے اُتار دیا میں نے۔”
    مراد نے بندوق کی نال ہٹاتے ہوئے اُس سے کہا تھا اور کسی نے جیسے موتیا کے دل میں گولی ماری تھی۔
    ” ایک بار تو نے جان بچائی تھی میری، آج اسی کے طفیل جان بخش دی میں نے تیری۔ بس اب تو میری نہیں رہی۔ جا جس کے ساتھ چاہے جا۔ زندہ رہ کے مر جا میرے لئے۔” مراد رُکا نہیں تھا، نہ اُس کا چہرہ دیکھنے کے لئے نہ اُس کا رونا اور بلکنا دیکھنے کے لئے۔ وہ بس پلٹا تھا اور تیز قدموں سے درختوں کے اُس جھنڈ سے نکل گیا تھا اور اپنے گھوڑے پر بیٹھ کر وہ رُکے بغیر سرپٹ گھوڑا بھگاتے حویلی کی طرف چلا گیا تھا اور موتیا وہیں گڑی رہ گئی تھی۔
    ” جا موتیا! تجھے دل سے اُتار دیا میں نے۔”
    اُس کا جملہ کسی گولی کی طرح بار بار اُس کے وجود کو آکر لگ رہا تھا اور اُن لفظوں نے اُ س کے پورے وجود کو چھلنی کردیا تھا۔ جو پیار اُس نے مراد سے کیا تھا، ویسا تو کسی کے ساتھ نہیں کیا تھا۔ دنوں اور ہفتوں میں اندھا پیار۔ ایسا پیار تو رب کے لئے ہوتا ہے۔ ہر کوئی بندہ رب کی تسبیح کرتے کرتے پیار کا کلمہ پڑھنے لگتاہے اور جب بندے کا کلمہ پڑھا جانے لگے تو پھر ٹھوکر تو لگتی ہے۔موتیا کو بھی لگی تھی پر وہ سمجھ نہیں پائی تھی کہ کیوں لگی تھی۔
    ”جو مجھے مار نہیں سکتا وہ مجھے چھوڑ کیسے سکتاہے؟”
    پتا نہیں کتنی دیر وہاں بُت بنے کھڑے رہنے کے بعد موتیا نے سانس لینے کی جیسے پہلی کوشش کی تھی اور سانس لینے کی اُس کوشش میں اُس کا پورا وجود بے حال ہوا تھا۔ پتا نہیں وہ سانپ کہا ں تھا جس نے خواب میں اُس کو کاٹنا تھااور اُس نے مرجانا تھا۔ وہاں کھڑے کھڑے اُسے اپنا خواب یادآیا اور وہ سانپ بھی۔ وہاں درختوں کے جھنڈ میں نیم تاریکی میں اُس نے زمین پر کسی چیز کو ڈھونڈنے کی کوشش کی تھی۔ وہ آجاتا اُسے ڈس لیتا وہ مرجاتی اور بس اُس کی تکلیف تو ختم ہوجاتی جو مراد کے ایک جملے نے اُسے دی تھی۔
    چاند کی چاندنی بھی وہیں تھی، مہکتی، سرسراتی، ہوا میں بسی آم کے بور کی خوشبو بھی پر اب موتیا کو وہاں کچھ بھی نظر نہیں آرہا تھا۔ وہ جھنڈ سے اندھوں کی طرح چلتے ہوئے باہر آئی تھی۔ نہ اُس نے پگڈنڈی پر بکھری اُن چوڑیوں کو دیکھا تھا، نہ ہوا کی وجہ سے زمین پر ادھر سے اُدھر جاتے اپنے دوپٹے کو جس کو اگلا کوئی جھونکا کھیتوں میں اُڑ ا کر پتا نہیں کہاں سے کہاں پہنچادینے والا تھا۔
    اُس نے سعید کو تلاش نہیں کیا تھا، اُس نے بتول کو بھی نہیں ڈھونڈا تھا۔ مراد کے علاوہ اس وقت اُسے کچھ بھی نہیں سوجھ رہا تھا اور مراد وہاں نہیں تھا۔
    …٭…

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    وہ جس وقت حویلی واپس پہنچا تھا اُس وقت تاجور برآمدے میں جلے پاؤں کی بلّی کی طرح ٹہل رہی تھی۔ مراد کو آتا دیکھ کرجیسے اُ س کی جان میں جان آئی تھی۔ وہ گھوڑے کو باہر چھوڑ کر نہیں آیا تھا، اندر صحن میں لے آیا تھا۔ بندوق ہاتھ میں لئے وہ گھوڑے سے اُترا تھا۔ ماں سے نظریں ملائے بغیر وہ برآمدے میں کھڑی ماں کی طرف گیا تھا اور بندوق سمیت گھٹنوں کے بل اُس کے قدموں میں گرگیا تھا۔ تاجور کا دل ایک لمحہ کے لئے پتّے کی طرح لرزا تھا۔ وہ کسی کو واقعی قتل نہ کر آیا ہو۔اُس کو اندیشہ ہوا۔
    ”آپ جیت گئیں، میں ہارگیا امّی۔ موتیا بے وفا نکلی۔ آپ ماہ نور کے ساتھ شادی کرنا چاہتی ہیں میری، جب چاہیں کردیں۔ موتیا مرگئی میرے لئے۔”
    اُس نے تاجور کے پیر پکڑ کر کہا تھا اور تاجور کے جلتے وجود پر اتنے ہفتوں بعد جیسے ٹھنڈا پھاہا رکھا تھا۔ ارے یہ تو وہی مراد تھا۔ اُس کا پیارا، جان قربان کرنے والا نورِ نظر۔ بھٹک گیا تھا اور اب سیدھے راستے پر بھی آگیا ہے۔ تاجور نے اُسے اُٹھا کر سینے سے لگایا تھا۔ اُس کا منہ اور ماتھا چوما تھا۔ چند گھنٹے پہلے جانے والے اور واپس آنے والے مراد کا چہرہ ایک جیسا نہیں تھا۔ اُس کی آنکھوں اور چہرے سے چمک اور خوشی غائب ہوئی تھی۔ پر کیا ہوا؟ وقت گزرے گا دل بہلے گا سب ٹھیک ہوجائے گا۔ چار دن کے پیار کا خمار گہرا ہوتاہے پر ابدی نہیں۔
    بندہ بھولنے پر آئے تو رب کو بھول جاتا ہے، یہ تو بس موتیا تھی۔ تاجور اُسے سینے سے لگائے اُسے تھپکتے اور خود کو تسلیاں دیتی رہی۔
    اُس نے مراد سے اُس لمحے کچھ بھی نہیں پوچھا تھا۔ وہ کچھ بتانے کے قابل نہیں تھا اور وہ اُسے یہ تکلیف دینا بھی نہیں چاہتی تھی۔وہ اُس سے الگ ہوا، کچھ بھی کہے بغیر اندر چلا گیا۔ وہ بندوق تاجور کے پیروں میں پڑی ہوئی تھی جسے وہ چند گھنٹے پہلے غیض و غضب میں لے کر گیا تھا۔ وہ صرف پیار نہیں ہار کر آیا تھا، اپنی عزت، غیرت سب ہار آیا تھا۔ تاجور نے اُسے اُٹھا لیا۔
    اُس نے اپنا بیٹا،اپنا غرور، گھر، فخر سب بچالیا تھا پر پتا نہیں کیا بات تھی، موتیاکے لئے اُس کے دل میں بھڑکنے والی آگ اب بھی ٹھنڈی نہیں ہوئی تھی وہ اب بھی کچھ مانگ رہی تھی۔ کچھ اور زہر، کچھ اور حسد، نفرت،انتقام، کچھ تو!
    …٭…
    ”بتول! کیا تو باہر ہے؟”
    صحن میں پڑی چارپائی پر بیٹھی بتول ماں کی آواز پر ہڑبڑا کر چونکی تھی۔ وہ کنویں سے واپس آکر اندر کمرے میں نہیں گئی تھی، وہیں صحن میں چارپائی بچھا کر بیٹھ گئی تھی۔ اور اب شاید شکوراں نیند میں جاگی تھی۔ اس سے پہلے کہ بتول وہیں سے اُسے آواز دیتی، شکوراں باہر نکل آئی تھی۔
    ”تجھے آوازیں دے دے کے پاگل ہوگئی ہوں میں۔ کہاں تھی تو؟” شکوراں نے جمائی لیتے ہوئے اپنی بیٹی کو دیکھا جو صحن کے بیچوں بیچ چارپائی پر آلتی پالتی مارے بیٹھی تھی اور اُس کے گلے میں اُس کا دوپٹہ تک نہیں تھا۔
    ” کچھ نہیں امّاں، یہاں باہر سونے کے لئے لیٹ گئی تھی۔ اندر دم گھٹ رہا تھا میرا۔”
    بتول نے ماں سے کہا تھا اور چارپائی سے اُترنے لگی تھی۔
    ” یہ باہر کا دروازہ کیوں کھلا ہے؟”
    شکوراں نے پتا نہیں کیا وہم ہونے پر صحن کا دروازہ دیکھا تھا جو بھڑا ہوا تھا پر اُس کی زنجیر اُتری ہوئی تھی جو بتول لگانا بھول گئی تھی۔ اندر جاتی بتول ٹھٹکی تھی،پھر اُس نے وہیں کھڑے کھڑے ماں سے کہا۔
    ” تو چڑھانا بھول گئی ہوگی امّاں، دروازہ تو تو ہی بند کرتی ہے۔”
    اُس نے سفید جھوٹ بولا تھا۔
    ”کوئی آیا تو نہیں تھا۔۔۔سعید؟” شکوراں نے ایک لمحہ کے توقف کے بغیر اُس سے پوچھا۔
    ”وہ دن کو آنے سے پہلے دس بار سوچتاہے، تو رات کا کہہ رہی ہے۔” بتول نے اُس ہی لہجہ میں ماں سے کہا۔
    ”تُو تو کہیں نہیں گئی؟”
    شکوراں کو اب بھی تسلّی نہیں ہوئی تھی۔ پتا نہیں اس بار ماں کے سوال پر بتول کو کیا ہوا تھا ۔ ایک لمحہ کے لئے اُس نے سوچا وہ ماں کو سب بتادے اور پھر اُس ہی لمحہ میں اس نے یہ ارادہ بھی چھوڑدیا۔
    ”امّاں توکیوں شک کرنے بیٹھ گئی ہے مجھ پر رات کے اس پہر۔ کہیں گئی ہوتی تو تجھے گھر ملتی؟ کہیں سے آئی ہوتی تو بھی آکے صحن میں بیٹھی ہوتی؟ عجیب ہے تو بھی۔”
    اُس نے جھلّا کر شکوراں سے کہا تھا اور پھر جیسے اُس کی نظروں سے بچنے کے لئے وہاں سے چلی گئی تھی۔ شکوراں عجیب سی کیفیت میں وہاں کھڑی رہی تھی۔ چاند کی چاندنی اُس کے صحن میں دروازے سے چارپائی اور چارپائی سے اندر کمرے تک جاتے بتول کی چپل کے نشان دکھارہی تھی۔
    اُس کی چپل کنویں کے آس پاس کی نم زمین سے گزرنے کے بعد گاؤں کی گلیوں سے ہوتے ہوئے بھی خشک نہیں ہوئی تھی۔ لیپے ہوئے صاف ستھرے صحن میں وہ ہلکے نشان جیسے چاند کو چشمِ دید گواہ بنا بیٹھے تھے اور اب وہ گواہ سارے بھید کھول رہا تھا۔
    شکوراں پلکیں جھپکائے بغیر اُن نشانوں کو دیکھتی رہی، اُس نے سینے پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔ اُس کی جوان بیٹی بغیر دوپٹے کے رات کے پچھلے پہر کس سے مل کر آئی تھی کہ ماں سے جھوٹ بولنا پڑگیا تھا اُسے۔ شکوراں کی نیند اُڑگئی تھی۔ جوان بیٹیوں کی ماؤں کی نیندیں بڑی کچّی ہوتی ہیں۔ پتا نہیں وہ آج کیسے گہر ی نیندسوگئی تھی۔ اُس نے اپنے آپ کو کوسا پھر وہ چلتی ہوئی اندر کمرے میں آگئی تھی۔
    اندر لالٹین کی روشنی میں اُس نے بتول کو اپنی چارپائی پر دوسری طرف منہ کئے لیٹا دیکھا تھا۔ وہ جیسے ماں کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی۔ شکوراں اپنی چارپائی پر بیٹھ کر اُسے دیکھتی رہی۔
    ”امّاں! لالٹین بجھادے، مجھے روشنی میں نیند نہیں آرہی۔”
    اُس نے شکوراں سے اُس ہی طرح منہ پھیرے ہوئے کہا تھا۔
    ”تیرا دوپٹہ کہاں ہے بتول؟”
    بتول نے جواب میں شکوراں کو کہتے سنا اوروہ لیٹے لیٹے ساکت ہوئی تھی۔
    ”پتا نہیں ہوگا ادھر ہی کہیں ، اب رات کے اس وقت دوپٹے ڈھونڈنے بیٹھوں میں؟”
    بتول نے چند لمحوں کے بعد جھنجھلا کر سیدھا ہوتے ہوئے اُس سے کہا اور پھر اُٹھ کر لالٹین بجھا کر دوبار ہ آکر لیٹ گئی تھی۔
    شکوراں اسی طرح چارپائی پر بیٹھی رہی تھی۔ اُس کا دل ریل گاڑی بن گیا تھا، پتہ نہیں کیا کیا ہونے لگا تھا اُسے۔
    …٭…

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • دانہ پانی — قسط نمبر ۵

    دانہ پانی — قسط نمبر ۵

    اساں خالی کھوکھے ذات دے
    سانوں چنجاں مارن کاں
    اسی کچّے کوٹھے عشق دے
    ساڈی دُھپ بنے نہ چھاں
    (ہماری ذات خالی کھوکھے جیسی ہے
    اور ہمیں کوّے چونچ مارتے رہتے ہیں
    ہمارا پیار بھی کچے کوٹھے جیسا ہے
    جہاں نہ دھوپ آتی ہے نہ چھاؤں)
    تاجور نے زندگی میں ویسی رات کبھی نہیں گزاری تھی۔ رات بھاری ہونا اُس نے صرف سُنا تھا پر وہ ہوتی کیا تھی، وہ اُس نے اب جانا تھا۔ ایک ہی دن میں وہ لکھ سے ککھ ہوگئی تھی۔ بغاوت پہلے بیٹا کررہا تھا، اب شوہر بھی کرنے لگا تھا۔تاجور کے سر کا تاج، اُس کی اکلوتی اولاد کی زندگی کا فیصلہ، اُس کی مرضی کے بغیر کرنے جارہا تھا اور کیا بے حیثیتی سی بے حیثیتی تھی کہ تاجور سے اُس نے پوچھا تک نہ تھا۔ چوہدری شجاع اُس رات تاجور کے دل سے اُتر گیا تھا۔ و ہ اب بس اُس کا شوہر تھا جس کے ساتھ اُس نے مقابلہ کر کے جینا تھا۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    موتیا اُس کے لئے پہلے چڑیل تھی، اب بھوت بن گئی تھی۔ اُس کا اپنا باپ، شوہر، بیٹا تینوں اُس بھوت کی انگلیوں پر ناچ رہے تھے یا کم از کم اُس کو اُس رات یہی لگ رہا تھا۔ وہ اُس پر جادو ٹونے کرواسکتی تو جی بھر کے جادو ٹونے کرواتی! پر اُس کے پاس جادو ٹونوں کابھی وقت نہیں رہا تھا۔ وہ چند دنوں میں اُس کی حویلی میں، اُس کے تخت و تاج کو جیسے چھین لینے کے لئے آنا چاہتی تھی۔ کوئی تاجور کو اُس ذہنی کیفیت کے ساتھ کچھ بھی نہیں سمجھا سکتا تھا اور شاید سارا مسئلہ ہی یہیں سے پیدا ہورہا تھا۔
    حویلی میں اُس رات ہر ایک سورہا تھا اور جاگ رہی تھی تو صرف تاجور، جو ننگے پاؤں ایک برآمدے سے دوسرے برآمدے، ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں پھر رہی تھی، یوں جیسے جلے پاؤں کی بلّی ہو یا کوئی غضب ناک شیر،جو بھوکا ہو اور آخری لمحے میں کوئی اُس کے منہ سے شکار چھین کر غائب ہوگیا ہو۔
    باہر گاؤں کی گلیوں میں کُتّے بھونک رہے تھے اور بھونکتے ہی جارہے تھے۔ اُن کا بھونکنا تاجور کو اُس وقت اور مشتعل کررہا تھا۔ اُسے یوں لگ رہا تھا جیسے وہ اُس پر ہنس رہے ہوں ، جیسے پورے گاؤں کی عورتیںہنستیں جب حویلی میں موتیا اُس کی بہو بن کر آتی۔ اُسے کچھ کرنا تھا۔ کوئی توڑ، کوئی اُپائے، اور جو بھی کرنا تھا، فوری طور پر کرنا تھا۔
    تاجور چلتے چلتے مراد کے کمرے میں پہنچ گئی تھی جس کا دروازہ کُھلا تھا اور بستر پر اُس کابیٹا گہری نیند سورہا تھا۔ وہ کمرے کے دروازے میں کھڑے کھڑے مراد کو دیکھ رہی تھی جس کے چہرے پر کُھلی کھڑکی سے چاندنی جیسے اپنا فسانہ لکھ رہی تھی۔ تاجور کی نظر اُس کے چہرے سے ہٹ ہی نہیں رہی تھی۔ جو غصّہ اُسے چوہدری شجاع پر آیا تھا، وہ مراد پر آتا ہی نہیں تھا۔ مراد کا سارا غصّہ موتیا لے جاتی تھی۔ اُس کا بیٹا بھولا تھا جسے ایک کمّی کمین نے پھنسا لیا تھا۔ ہر ماں کی طرح اُس نے بھی خود کو یہی تسلّی دی تھی۔ وہ اُس کا نافرمان ہوگیا تھا۔ یہ ماننے کے لئے تاجور میں جگرا نہیں تھا۔ اولاد کا بھٹک جانا تو گوارا ہوتا ہے، نافرمان ہوجانا برداشت نہیں ہوتا۔ وہاں کھڑے کھڑے تاجور نے اُس پر قُل پڑھ کر پھونکے تھے، آیت الکرسی پڑھ کر پھونکی تھی ۔جو جو وہ پڑھ کر پھونک سکتی تھی اُس نے پھونکا تھا۔
    اُسے یقین تھا وہ ہر چیز کے شر سے محفوظ رہے گاسوائے موتیا کے اور اُس کے لئے تاجور کو کچھ اور کرنا تھا۔
    …٭…
    نیند اُس رات موتیا کو بھی نہیں آئی تھی۔ خوشی کیا خوشی تھی۔ اُس نے جو خواب دیکھا تھا، وہ معجزوں کی طرح سچّا ثابت ہونے لگا تھا۔
    اُس نے تو مراد کو صرف چاہا تھا، مانگنے کی جرأت تو وہ کبھی کر ہی نہیں سکی۔ وہ لکیر جو اُس کے اور مراد کے خاندان کے درمیان کھنچی ہوئی تھی،اُسے پھلانگنے کا سوچنا بھی جیسے کُفر تھا موتیا کے لئے۔
    ماں باپ نے چیزوں کی چاہ کرنا تو سکھایا تھا اُسے پر کسی چیز کو چھیننا اور چوری کرنا نہیں۔ باقی رہ گیا پیار تو وہ کوئی ویزہ اور لائسنس نہیں ہوتا، نہ اُس کے لئے پاسپورٹ بنتاہے، نہ شناختی کارڈ، نہ انگوٹھا لگتا ہے، نہ دستخط ہوتے ہیں۔ وہ بس ہوجاتاہے اور موتیا کو بھی مراد سے ہوگیا تھا اور اُس پیارمیں نہ کوئی حرص تھی نہ ہوس۔ وہ موتیا کے پھول جیسا سُچا پیار تھا ویساہی دودھیا، ویسا ہی پاک ۔ مزاروں پر لوگ گلاب ڈالتے ہیں، موتیا ہمیشہ ہاتھوں اور گلے میں ہی ڈالا جاتاہے۔ گلاب حُسن کے لئے ہوتا ہے اور موتیا خوشبو میں اُس پر بازی لے جاتاہے۔
    پر گامو اور اللہ وسائی کی موتیا حُسن میں گلاب پر بھی سبقت لے گئی تھی۔ وہ نام کی موتیا تھی اور حُسن میں گلاب اور اُس رات بھی گلاب کے حُسن والی موتیا، زمین پر گھٹنے ٹیکے ہی بیٹھی ہوئی تھی۔ اُسے اپنی خوشی سے ڈر لگ رہا تھا اور اپنی قسمت پر یقین نہیں آرہا تھا۔
    نعمتوں پر ساری عمر اُس نے اپنے ماں باپ کی طرح شکر ہی کیا تھا پر جو نعمت اب اُسے ملنے والی تھی، وہ تو اُس کی اوقات، حیثیت، اُس کی جھولی، اُس کے دعا کے لئے اُٹھے ہاتھوں سے بہت اوپر اور آگے کی شے تھی۔ یہ اُسے کیسے مل سکتی تھی اور کیوں مل سکتی تھی؟ اُس نے ایسا کیا ہی کیا تھا کہ وہ ”مراد” پاتی۔ موتیا کو رتی برابر بھی شائبہ نہیں تھا کہ وہ اُس کے ماں باپ کی نیکیوں کا اجر تھا پر وہ اپنے آپ کو اس اجر کے قابل بھی نہیں سمجھتی تھی۔
    وہ اُس کے کوٹھے کی کچی چھت تھی جس پر وہ دو زانو بیٹھی اُس چاند کو دیکھ رہی تھی جو اُس کے اور چوہدری مراد کے چہرے کو ایک ہی چاندنی سے دیکھ رہا تھا اور وہ نور جیسی چاندنی، موتیا کے چہرے پر ویسا ہی فسانہ لکھ رہی تھی جیسا اُس وقت سوئے ہوئے مراد کے چہرے پر لکھ رہی تھی۔ بالکل اسی وقت اللہ وسائی لکڑی کی سیڑھی پر چڑھتی، موتیا کو ڈھونڈتی کوٹھے پر آئی تھی اورآخری سیڑھی پر کھڑی، وہ سیڑھی کا سرا پکڑے بس اپنی اُس نور والی بیٹی کے چہرے کو دیکھتی ہی رہ گئی۔
    وہ اُس وقت سے اپنی اس اولاد کا چہرہ دیکھ کر سحر زدہ ہوتی آئی تھی جب اُس نے پہلی بار اُسے پیدا ہونے کے بعد دیکھا تھا اور اُس نے پہلی نظر اُس پر ڈالتے ہی اُسے اللہ کی امان میں دیا تھا۔
    ”میری دھی کا کبھی بال بھی بیکا نہ ہو۔ کبھی کوئی دُکھ درد اُس کے دروازے کیا اُس کی گلی سے بھی نہ گزرے۔ اُس کا دل مومن کادل ہو، اُس کی زبان مرہم کی تاثیر رکھتی ہو۔ اُس کا دل دکُھانے والا غارت، اُس کو رُلانے والا مٹّی ہوجائے۔”
    اللہ وسائی نے تتلاتے ہوئے اُس کا ماتھا چوم کر اُسے دعا نہیں دی تھی،جیسے اُس کے گرد اپنی کالی زبان سے حصار کھینچ دیا تھا۔ چاند کی چاندنی میں اپنی بیٹی موتیا کا چہرہ دیکھتے ہوئے اللہ وسائی نے ایک بارپھر وہی دہرانا شروع کیا تھا جو وہ ہر بار اُس کا چہرہ دیکھنے پر دُہراتی تھی۔ وہی دعائیں، وہی اللہ کی امان اور وہی حصار۔
    وہ کمّی کمین اللہ وسائی اپنی نسل بچانے کے لئے جو کرسکتی تھی، کررہی تھی۔ کاش تاجور اُس کے لفظ سُن لیتی تو جھوک جیون کی تاریخ اور مستقبل دونوں اور ہوتے۔
    …٭…

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • اگر صنم خدا ہوتا — فہیم اسلم

    اگر صنم خدا ہوتا — فہیم اسلم

    اندھیروں کے سفر میںدور سے نظر آنے والی روشنی ۔۔۔۔اور گہرا ئیوں میں گرتے ہوئے دل کی بلند دھڑکنیں ، اُداسیوں میں کہیں دور سے آنے والی گونج ۔۔۔۔ اور تنہائی کی وحشت میں آنکھوں میں دبے ہوئے آنسو۔ کس لمحے میں اتنی سکت ہے کہ وہ بے سکت ہو جائے، کس خواہش کو سرِزندگی مرنے کی آرزو ہے۔ کس بند آنکھ میں زہر اگلتے سپنے سہنے کی ہمت ہے اور کھلی آنکھ میں کوئی زہر بھی کیسے بھر دے۔ دل کا سچ افسانہ ہے اور زبان کا سچ آج قتل۔۔۔۔ کچھ باتیں سوچ سے باہر ہو جاتی ہیں اور کچھ سوچیں باتوں کے بس میں نہیں رہتیں بالکل اسی طرح جیسے بارش سے برسنے والی بوند اور سگار کا دھواں یا پھر پھول کی مہکتی خوشبو۔
    میری زندگی کے کچھ دن میری زندگی کا حیرت کدہ ہیں اور میری زندگی کے کئی سال کچھ بھی نہیں۔ بہت سی راتیں مجھے یاد نہیں مگر کچھ دن ایسے ہیں کہ اب شاید ان کی شام نہ ہو ۔۔۔۔ میں اپنے انصاف کے ترازو کو کئی سال تک متوازن نہ کر سکا۔۔۔۔ اونچ نیچ تو پلڑوں کی تھی مگر بھٹکنا تو مجھے ہی پڑا۔۔۔۔ یہ صبح شام تو رسمِ کائنات تھی مگر منزل کی تشنگی تو میری بڑھ گئی۔۔۔۔ میں ایک ہی نکتہ کے گرد اتنا گھوما کہ زمانہ مچل گیا۔۔۔۔ کئی سال صدیوں کے اعتبار سے میں نے بہار کی آرزو میں گزارے۔۔۔۔ کئی خوشیاں چاہت کے اعتبار سے میں نے گم کر دیں۔۔۔۔ کئی فیصلے قسمت کے اعتبار سے میں نے منظور کئے۔ صبح ہونے سے پہلے رات کی کڑی آزمائش صبر آزما تھی۔۔۔۔ اب زندگی میرے ساتھ ہے، اب پھولوں کی پتیاں میرے ہاتھوں قتل نہیں ہوتیں۔
    میں نے بچپن سے ہی خدا سے اچھے دوستوں کو مانگا، میں صبح ہی سے چاندنی کی تلاش میں تھا، وقت تو تھا مگر زندگی نہیں تھی میرے پاس۔۔۔۔ جیسے خوشیاں تو تھیں مگر مقدر نہیں تھا میرے پاس۔۔یہی تو میری ناکامی تھی۔ میری زندگی نے کئی رخ تبدیل کئے۔مقدر کو میں بالکل اسی طرح الزام دیا کرتا تھا جیسے جلتے پاؤں تپتی دوپہر کو۔ کولہو کے بیل نے اپنے دائرے میں اتنے چکر کاٹے مگر رہا وہ ایک ہی جگہ۔۔۔۔ ساری زندگی ایک ہی مرکز کے گر دگھومنا کیسا ہو گا۔۔۔۔ مگر میں تو اس سے بھی بے بس تھا، وہ تو گھومتا رہا اور میں ایک ہی جگہ کھڑا قسمت کو کوستا رہا۔۔۔۔ کیسا مقدر تھا میرا بھی یا میں نے خود کر لیا تھا؟اس وقت زندگی کی ابتدا میں کس طرح مقدر نے میری پیروی کی۔۔۔ میں نے بہت سوچا بہت کوشش کی مگر کچھ سمجھ نہ پایا اور نتیجہ تھا مقدر کو الزام دیتے ہوئے میرے اشعار۔ دل کا لاوا جب بہ نکلا اور خود کو کھوکھلا محسوس کیا تو پھر جان گیا کہ جلتے پاؤں کا تپتی دوپہر کو کوسنا کتنا غلط ہے۔
    تقدیر ہمارے ساتھ اکثر اس طرح نہیں کھیلتی جس طرح ہم سمجھتے ہیں ۔ ہم اپنی ناکامیوں اور مایوس دھڑکنوں کو تقدیر کے سپرد کر کے خود کو ضمیر کی شرمندگی سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔۔اور آخر کار قسمت کا فلسفہ میں نے کچھ اس طرح سے بدل دیا کہ جو خدا کی مدد سے بوئے گا وہ خدا کی مدد سے کاٹے گا۔۔۔۔ بات تو سیدھی تھی مگر تجربہ نیا۔
    میں نے غالب کی طرح ہر تیز رو کو اپنا راہبر سمجھا کیوںکہ مجھے منزل تو نظر آتی تھی مگر میں راستہ نہیں جانتا تھا یا پھر میں راہبر کو جانتا نہ تھا۔ہر شمع مجھے طورِسینا میں جلتی دکھائی دی۔۔۔۔ ہر چراغ کی میں نے سورج سے برابری کی۔۔۔ ہر کنواں مجھے سمندر سے گہرا لگا۔۔۔۔ ہر دل مجھے کعبہ لگا۔۔۔۔ اور پھر ہر شمع بجھ گئی،سمندروں سے میرا ناتا ٹوٹ گیا اور کعبہ کا طواف میرے بس میں نہ رہا۔مندر اور کلیسا میں بھگدڑ مچ گئی۔ گماں پر بنائے مضبوط سہارے خود میرے کندھوں کا بوجھ بن گئے۔ اوپربادلوں کی نظر آنے والی مضبوطی دھواں نکلی۔ معلم طالب نکلے اور ستارے وہم۔۔۔ ۔۔۔۔
    آ دھا راستہ میری منزل نہ تھا اور منزل کا راستہ نظر نہ آتا تھا۔ زندگی ارادوں کی اوٹ میں چھپتی جا رہی تھی۔ جب رات صبح کے اعتبار سے طویل ہو گئی۔۔۔ تو میں نے جان لیا کہ جب کسی کے گھر کی چھت اس کے قد سے نیچی رہ جائے تو پھر اسے چاہیے کہ پوری دنیا کو اپنا مسکن بنا لے۔۔۔۔ اب راستہ بدل لینا ہی مجھے سود مند نظر آیا۔ اس راستے کی تلاش شروع کی جس میں منزل دھندلی نہ ہو۔ کئی سال میں نے بھٹکنے کے اعتبار سے تلاش جاری رکھی، گو ایک ہی منزل کو نئے راستے میں تلاش کر نا ایسا لگا جیسے صحرا میں گم مسافر کو صدیوں کے بعد پانی مل گیا ہو۔
    میں نے ایک سہارا لیا منزل تک پہنچنے کا۔۔۔ مجاز کا سہارا۔۔۔ محبت کا سہارا۔ اس کی اور اپنی خیالی دنیا میں میں نے کعبہ کے گرد اتنے طواف کئے کہ شاید میں کبھی نہ کر سکتا۔۔۔ اس دنیا میں میں نے آسمان کے رستے کو جان لیا۔۔۔میں یہ نہیں کہتا کہ اس دنیا کا سحر ہی ایسا تھا ہاں مگر حقیقت کو جھٹلانا بھی میرے بس میں نہیں۔۔۔اس دنیا کا ہر لمحہ میرا رہبر بنا اور بالآخر میں نے وہ تمام اصول اس سے ملے توازن کے توسط سے سیکھے، میں بہت مطمئن ہوں ۔۔۔۔ میرا شمار اب ”ہما” کی فہرست میں ہونے لگا ہے۔ میں اس کے نظر کرم کو کیسے بھول جاؤں۔ اس کے احساسات اس کی چاہتیں جو صرف میرے لئے ہیں میں نہیں بھلا پاؤں گا۔۔۔
    میں اس تک پہنچنے کے لئے ہر راہ سے گزروں گا۔۔۔۔ چاہے مجھے راہ کی تعریف ہی کیوں نہ بدلنا پڑے۔۔۔۔ اور اس سے پہلے کے میں کوئی نیا دین اکبری پیش کرتا خدائے بلندوبالا کی پاک ذات نے مجھے دین الٰہی کا پابند کر دیا مگر ہجر اور وصل کی کمان نے مجھے تیر بنا رکھا ہے ۔۔۔۔ میرے دل کی گھٹن ۔۔۔۔ میرے سانسوں کی رکتی آہٹ۔۔۔۔ مجھ کو بے بس کر رہی ہے۔
    دل و دماغ کی خالی سر زمیںکس با دِ نسیم سے مسرور ہے۔ یہ کس کی عبادت کا موسم آن پڑا ہے کہ اب دشت میں بھٹک جانا آسان ہے کہ اب بحر کی گہرائی میرے آنسو سے کم ہے۔
    اور اگر صنم خداہوتا تو آج ساری دنیا خدا سے محروم ہو چکی ہوتی۔ میری آنکھوں کے سوا ہر طرف اندھیرا ہوتا۔۔۔۔ میری محفل کے سوا ہر سو مزار ہوتے۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • تبدیلی — ثناء شبیر سندھو

    تبدیلی — ثناء شبیر سندھو

    بس نے مجھے گاؤں کے اسٹاپ پر اُتارا ۔میں نے اپنا سفری بیگ اُٹھایا اور اپنے گاؤں کی فضا کو محسوس کرتے ہوئے ایک لمبا اور گہراسانس لیا۔ ایک اپنائیت تھی اُس فضا میں۔۔ مانوسیت تھی۔۔ محبت تھی۔۔۔ایک منٹ۔۔ کچھ الگ سا بھی محسوس ہو ا تھا مجھے۔۔کچھ غیر معمولی سے محسوسات ۔۔۔میں سر جھٹک کربے اختیار مسکرا دیا۔ آج پانچ سال بعد میں کویت سے واپس اپنے گاؤں لوٹا تھااور میں نے اپنی آمد کے بارے میں کسی کو کچھ بتایا بھی نہ تھا۔ سڑک پار کرکے گاؤں کی طرف جانے والے راستے پہ قدم رکھ دیے لیکن میں اپنے احساسات کو سمجھ نہیں پارہا تھا۔ مجھے لگا میں بہت پرجوش ہوں جب کہ دوسری جانب میرے جوش اور ہیجان پر گھبراہٹ غالب تھی۔ ملی جلی کیفیت میں گھرا یونہی اپنی سوچوں میں گم قبرستان کے نزدیک پہنچ گیا جہاں میرے پاؤں سست پڑ گئے۔
    قبرستان کے چھوٹے سے لوہے کے دروازے کے سامنے یونہی کچھ دیر کو رک گیا۔ اندر کچھ لوگ اپنے عزیزوں کی قبروں پر فاتحہ پڑھ رہے تھے۔ کچھ بچے بھی ادھر ادھر گھوم رہے تھے۔ ہمارے گاؤں کا قبرستان آبادی کے ساتھ ہی تھا اس لئے بچے بلا خوف وجھجک وہاں گھومتے پھرتے تھے۔ کچھ عرصہ پہلے تک جب قبرستان کا زیادہ حصہ خالی تھا تو بچے وہاں کرکٹ بھی کھیل لیا کرتے تھے۔لیکن اب اُس جگہ بھی قبریں بن چکی تھیں۔
    گہراسانس لیتے ہوئے میں نے اپناسفر دوبارہ شروع کیا اور چلتے چلتے اپنے گاؤں میں موجود سب سے بڑے بوہڑ کے درخت کے پاس پہنچ گیا۔ارے یہ کیا؟ بوہڑ کا آدھا درخت کٹ چکا تھا۔ جہاں پہلے وسیع و عریض میدان ہوا کرتا تھا وہاں اب مختلف قسم کے چھوٹے بڑے پکے گھر بن چکے تھے۔ ۔یہ منظر میری آنکھوں کو بالکل نہ بھایا۔ میرے بچپن کے دن جس قطعہ زمین پر کنچے ، کرکٹ اور فٹ بال کھیلتے گزرے تھے ،آج وہ کسی کی ملکیت بن چکا تھا۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    وہاں ایک عالیشان مکان کھڑا تھا۔ میں سست قدموں سے آگے بڑھا جہاں بوہڑ کے باقی بچے کھچے آدھے درخت کے نیچے ایک چارپائی بچھی تھی اور اُ س پر بیٹھا ایک بوڑھا وجود سوچوں میں گم حقے کے کش لگا رہا تھا۔میں یونہی چلتا ہوا اُس چارپائی کے پاس پہنچا ۔باباجی نے حقہ منہ میں لئے نگاہیں اُٹھا کر میری طرف دیکھا۔ اُن کی آنکھوں میں واضح الجھن تھی۔اُنہوں نے حقہ چھوڑ کر ہاتھوں سے چھجہ بناتے ہوئے دوبارہ مجھے دیکھ کر پہچاننے کی کوشش کی۔ میں ہلکا سا مسکرایا اور پاس ہی چارپائی پر بیٹھ گیا۔
    ”باباجی یہ بوہڑ کا درخت کیسے کٹ گیا۔۔اور یہ سب گھر۔” میری آواز میں دُکھ نمایاں تھا۔
    باباجی بھی ہلکا سا مسکرادیئے۔ ان کے چہرے کی جھریوں پر اُداسی سی پھیل گئی ۔
    ”پتر لگتا ہے تو کہیں باہر سے آیا ہے۔۔۔ تجھے نہیں آنا چاہئے تھا۔۔” انہوں نے مجھے پہچاننے کا ارادہ ترک کر کے حقے کا کش لگایا۔
    ” بابا جی یہ میرا پنڈ ہے۔۔ میرا گاؤں ہے۔۔ میرا بچپن گزرا ہے اس بوہڑ کے نیچے کھیلتے اور وہاں۔۔ جہاں آج یہ گھر بسے ہیں ۔۔ وہاں ہم گرمیوں کی تپتی دوپہروں میں بھی بھاگ بھاگ کر نہیں تھکتے تھے۔۔۔۔” میں نے دُکھی لہجے میں کہا ۔
    ”جانتا ہوں۔۔ میں تجھے پہچان نہیں پایا لیکن تیرا دکھ پہچان لیا میں نے بچہ۔۔اسی لئے تو کہا کہ تجھے نہیں آنا چاہئے تھا۔۔” حقے کی گڑگڑاہٹ میں اِضافہ ہوا۔
    ”یہ گاؤں میری پہچان ہے۔۔ اس مٹی سے میری شناخت ہے۔۔ یہاں میرے اپنے بستے ہیں۔۔ ایسے کیسے نہیں آتا۔۔ اپنا گھر تو نہیں چھوڑا جاتا نا بابا جی۔۔ ” میں نے جوتے کی نوک سے مٹی کریدتے ہوئے جواب دیا۔
    ”یہ بھی عجیب بات ہے۔۔ جو یہاں رہتے ہیں انہیں تو کوئی لحاظ نہیں رہا ان سب باتوں کا۔۔ اور تو۔۔ ” بابا جی طنزیہ مسکرائے۔
    ”میرا بچپن بھی انہی گلیوں میں بیتا ہے پتر۔۔ کتنا زور لگایا ہم سب یاروں نے کہ یہاں گھر نہ بنیں۔۔ یہ بوہڑ کا درخت جو میرے بچپن کا سنگی ہے۔۔ نہ کٹے ۔۔ میری چھایا مجھ سے نہ چھنے۔۔۔ لیکن وقت کا تقاضا ہے پتر کیا کر سکتے ہیں۔۔تبدیلی۔۔تبدیلی کا رولا ہے آج کل۔۔ یہاں بھی لوگ تبدیل ہورہے ہیں۔۔۔ ”انہوں نے اپنے تہ بند پربیٹھی مکھیوں کو ہاتھ سے اُڑایا۔
    ”تبدیلی۔۔۔” میں بڑبڑایا۔
    ”جا گھر جا پتر ۔۔ تیری ماں تیری راہ دیکھ رہی ہوگی۔۔” بابا جی نے شفقت بھری نظروں سے مجھے دیکھ کر کہا۔
    ”ہاں۔۔ اماں۔۔۔ابا۔۔۔ میری گڑیا سی بہن صفیہ۔۔۔ اور۔۔ اور وہ۔۔۔” میں پرجوش ہوتاایک دم کھڑا ہوا ۔
    ”اچھا بابا جی اللہ حافظ۔۔ ” میں نے بیگ پھر سے اُٹھا لیا۔
    ”چنگا پترجیتا رہ۔۔” بابا جی نے ہاتھ اُٹھا کر کہا۔
    میں ایک اُداس اور آزردہ نظر بوہڑکے بوڑھے اور نامکمل وجود پر ڈالتا ہوا آگے بڑھ گیا۔
    ” وہ کیسی ہوگی۔۔۔ کیا اُسے میرا انتظار ہوگا۔۔ مجھے اچانک دیکھے گی تو کیا کرے گی ۔۔ ”میں اپنے آپ میں گم مسکرایا۔
    ”اپنا دوپٹہ منہ میں دے کر شرما شرما کر دیکھے گی اور پھر بھاگ جائے گی اور کیا۔۔۔” میں نے سر جھٹکا۔
    وہ میرے چاچا کی بیٹی تھی اور میری بچپن کی منگ ۔۔۔ہمارے گھرآس پاس ہی تھے۔ وہ بہت شرمیلی تھی۔ مجھے یاد ہے جب چھے سال پہلے ہماری بات پکی ہوئی تھی ،اُس دن اُس کی سرمہ بھری آنکھیں شرم کے بوجھ سے کیسے جھکی ہوئی تھیں ۔میرے دیکھنے پر وہ کیسے گھبرا کر فوراََ غائب ہوجایا کرتی تھی۔ہماری منگنی کے بعد ایک سال جو میں نے گاؤں میں گزارا وہ اسی لکا چھپی کے کھیل میں گزرا تھا۔ میں چاچا کے گھر دن میں دس دس چکر لگا تا تھا کہ کب اُسے ایک نظر دیکھ پاؤں، اُس سے بات کر پاؤں لیکن وہ تو گویا میری قدموں کی آہٹ بھانپ کر ہی کمرے میں گھس جاتی ۔کئی دفعہ مجھے صفیہ کو کہہ کر اُسے دھوکے سے بلوانا پڑتا اور اُس دوران بھی وہ بس رسی تڑا کر بھاگنے کے چکروں میں رہتی تھی۔
    ”حسین پتر!!!” میں اُسی کے خیالوں میں گم گھر کے قریب پہنچ چکا تھا اور گھر کے سامنے والی دُکان پر اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھے ابا نے مجھے بے یقینی سے دیکھا اور خوشی سے اپناآپ سنبھالتے آگے بڑھے۔میں تیزی سے آگے بڑھا اور اُن کے گلے لگ گیا۔
    ”پتر۔۔تو نے بتایا ہی نہیں۔۔ ہم تجھے لینے آجاتے شہر۔۔ ایسے کیسے آگیا۔۔” وہ میرا ماتھا چومتے ہوئے بولے۔
    ”بس ابا۔۔ میں نے سوچا بغیر بتائے ہی جاتا ہوں سب خوش ہوجائیں گے۔۔” میں نے مسکرا کر جواب دیا۔
    ”حسین بھرا۔۔۔” یہ کاشی تھا میرے چچا زاد اور”اُس ‘ ‘کا بھائی۔۔۔
    ”کاشی تو؟یار تو کتنا بڑا ہوگیا ہے۔۔” میں اُس کے اپنے کندھے تک پہنچتے قدکو دیکھ کر حیران ہوا۔جب میں کویت گیا تھا تو وہ پانچویں کا طالب ِ علم اور ایک کمزور مریل سا لڑکاتھا۔
    ”بس بھائی۔۔۔” کاشی جھینپ کر بولا۔
    ”چلو ۔۔چلو گھر۔۔ تیری ماں تجھے دیکھے گی توخوشی سے پاگل ہوجائے گی۔۔ روز کہتی تھی حسین کو دیکھے اتنے سال ہوگئے۔۔” ابا خوشی سے بولے۔۔۔کاشی نے فوراََ آگے بڑھ کر میرا بیگ اُٹھا لیا۔ ہم تینوں گھر کی جانب بڑھے۔
    گھر میں داخل ہوتے ہی میری نظر برآمدے میں ایک طرف بنے چھوٹے سے باورچی خانے اور اُس کے آگے رکھے مٹی کے چولہے پر پڑھی۔۔چولہے پر کوئی ہانڈی پک رہی تھی اور اماں چو لہے میں جلنے والی لکڑیوں کو اوپر نیچے کر رہی تھیں اور ساتھ ہی پھونکیں مار تی جاتیں۔ میری طرف اماں کی پشت تھی۔
    ”تائی اماں۔۔ دیکھوتو۔۔” کاشی خوشی سے چلایا۔ اماں نے مڑ کر دیکھا اور اپنی آنکھیں مل مل کر میری طرف دیکھنے لگی۔
    ”نہ مل اتنی آنکھیں ،تیرا پتر ہی آیا ہے۔۔” ابا نے خوشی سے نہال ہوتے ہوئے کہا۔
    ”حسین۔۔میرا پتر حسین آیا ہے۔۔ماں صدقے جائے۔۔ ” اماں میری طرف اور میں اماں کی طرف تیزی سے بڑھا۔
    اماں نے مجھے دبوچ کر سینے سے بھینچ لیا۔ میں اُن کے وجود کی خوشبو کو اپنی سانسوں میں محسوس کرنے لگا ۔۔میری آنکھیں بھیگ گئیں۔۔
    ”تو نے بتایا کیوں نہیں کہ تو آرہا ہے ۔۔ ” اماں نے مجھے گھورا۔
    ”بس اماں ،پھر تیری یہ خوشی کیسے دیکھتا۔” میں ہنس دیا۔
    ”چل کاشی جا بھائی کے لئے مالٹے رنگ کی بوتل لے آ۔۔” اماں نے پاس کھڑے دانت نکالتے کاشی کو بھگایا۔
    ”ارے اماں بوتل کی کیا ضرورت ہے۔۔ میں کوئی مہمان ہوں۔۔” ہم لوگ آگے بڑھ کر آنگن میں بچھی چارپائیوں پر بیٹھ گئے۔
    ”چل رہنے دے۔۔ مجھے جیسے پتانہیں کہ تجھے وہ والی بوتل کتنی پسند ہے۔۔”اماں نے میرے کندھے پر پیار سے تھپکی لگائی۔
    ”صفیہ کہاں ہے اماں۔۔” میں نے اِدھراُدھر دیکھتے ہوئے کہا۔
    ”صفیہ کو میں نے تیرے چاچا کے گھر جاتے دیکھا تھا کہہ رہی تھی کوثر سے کوئی کام ہے۔۔”ابا نے خوش دلی سے جواب دیا۔”اُس’ ‘کے نام پر اماں نے معنی خیز نظروں سے مجھے دیکھا۔ میں جھینپ گیا۔
    ”اچھا پھر میں بھی چا چاجی سے مل آؤں اماں۔۔” میں نے بے تابی سے کہا ۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});