Author: misbah116@hotmail.com

  • بانجھ — علی حسن سونو

    بانجھ — علی حسن سونو

    مختار شیرازی دراز قد وجیہہ انسان اور سندھ کے ایک وڈیرے خاندان کا وارث تھا۔اس کے جاہ و جلال کی وجہ سے پورا گاوؑں اس کے دائرہ اختیار میں تھا۔ اپنے خاندان کا سب سے بڑا بیٹا ہونے کی حیثیت سے لوگوں اور خاص طور پر خاندان والوں کو اس سے بہت سی توقعات تھیں۔
    شیرازی خاندان اپنی سرداری کے تسلسل کے حوالے سے بہت حساس تھا ۔ بنیادی طور پر ایک نرم طبیعت انسان ہونے کے باوجود قبیلے کے رسم و رواج اور جاگیردارانہ پرورش نے اس کی شخصیت کے گرد اناپرستی اور تندخوئی کا ایک خول چڑھا رکھا تھا۔
    دوسرے قبیلوں کے سردار بھی اپنی بیٹیوں کی نسبت مختار شیرازی سے جوڑنا چاہتے تھے مگر مختار کی چچا زاد ماروی شیرازی سے اس کا رشتہ طے پایا۔ ماروی اور مختار ایک دوسرے کے ساتھ یوں ہم آہنگ تھے جیسے صبح کا آنا اور رات کا جانا ۔تھوڑے ہی وقت میں لوگوں نے مشاہدہ کیا کہ وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ بہت خوش ہیں اور مختار شیرازی ماروی کو اپنی زندگی کا حسین اضافہ سمجھتا ہے۔
    ٭…٭…٭
    شادی کے دو سال بعد جب قبیلے میں چہ میگوئیاں شروع ہوئیں کہ کیا مختار شیرازی اپنی نسل کو آگے نہیں بڑھانا چاہتا؟ دو سال گزر گئے مگر شیرازی خاندان کی اگلی نسل کے بارے میں کوئی خیر خبر نہیں آئی۔ مختار ان باتوںپر چپ سادھے سب کی سنتا رہا کہ اچانک ایک دن قبیلے میں اعلان ہوا کہ مبارک ہو! شیرازی خاندان کا اگلا وارث آگیا ہے۔ سائیں مختار کو اللہ نے چاند سا بیٹا عطا کیا ہے۔ قبیلے میں یک لخت خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ مبارک باد دینے والوں کی ایک قطار ہر روز مختار شیرازی کی حویلی کے باہر لگی رہتی۔ بہت سے لوگ تو ان میں ایسے بھی تھے جو شیرازی قبیلے کی سترہویں پشت کی پیدائش ہی سے اٹھارہویں پشت کی باتیں کرنے لگے۔ مختار شیرازی بہت خوش تھا اور وہ خوشی کی اس ناقابلِ بیان کیفیت میں انتہائی پرخلوص نظروں سے ماروی کی طرف دیکھتا جیسے اس کا شکریہ ادا کر رہا ہو کہ اس نے اسے اس خوب صورت رشتے سے متعارف کروایا۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    مختار شیرازی نے اپنے پہلے بیٹے اور شیرازی خاندان کے اگلے وارث کا نام اعزاز رکھا۔ اعزاز بچپن ہی سے اپنے حُسن کا ثانی نہیں رکھتا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ کب اپنے باپ سے سیانی باتیں کرنے لگا پتا ہی نہ چلا۔ مختار اور ماروی اپنی شفیق نگاہوں میں اعزاز کے لیے ہر روز ایک نیا خواب سجاتے اور اگلے دن اس سے بہتر خواب کے مقابلے میں پچھلے خواب کو رد کر دیتے۔
    میٹرک کا امتحان اعزاز نے امتیازی نمبروں میں پاس کیا تو انٹرمیڈیٹ میں اس نے پورے صوبے میں اوّل پوزیشن حاصل کی۔ شیرازی خاندان میں لکھنے پڑھنے کا زیادہ رجحان نہیں تھا مگر مختار چوں کہ خود اتنا نہپڑھ سکا تو اس کی خواہش تھی کہ اپنی اولاد کو خوب پڑھائے۔ جب اعزاز کا یونیورسٹی میں داخلے کا وقت آیا تو اس نے اپنے باپ سے کہا:
    ”ابا! بات یہ ہے کہ میں اپنے گاؤں کا اور خاص طور پر اپنے خاندان کا واحد لڑکا ہوں جو یونیورسٹی میں جا کرڈاکٹری پڑھے گا۔ مجھے دعا دیجیے کہ میں آپ کا اور اپنے خاندان کا نام روشن کر سکوں۔” اس کی حصولِ علم کی تڑپ اور اپنے خاندان سے وابستگی دیکھ کر مختار شیرازی اپنے آنسوؤں کو نہ روک سکا اور اعزاز کا ماتھا چوم کر کہا:
    ”بیٹا! تو میری واحد اولاد ہے ۔ خدا ایسی اولاد ہر ایک کو دے۔ میں کون ہوتا ہوں تیری منزل میں حائل ہونے والا۔ جا میرا بیٹا! اپنے خواب پورے کر۔ تیرا باپ ہر وقت تیرے ساتھ کھڑا ہے۔” اعزاز جو کہ نازوں کی آغوش میں پلا تھا، خاندانی رکھ رکھاؤ سے بہ خوبی واقف تھا اور ماں باپ کا فرماں بردار بھی، اپنے باپ کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر بولا: ” ابا! آپ میرا فخر ہیں اور میں اس فخر میں کبھیکمینہیں آنے دوں گا۔ مختار شیرازی نے بے اختیار اپنے بیٹے کا ماتھا چوم لیا۔ آنسو کب اس کی آنکھوں سے رواں ہوئے، اسے پتا نہ چلا۔
    ٭…٭…٭
    شہر کی سب سے بڑی میڈیکل میں یونی ورسٹی جب اس کا داخلہ ہوا تو اپنے دراز قد، چہرے پر خاندانی کشش اور اپنے میٹھے لب و لہجے سے اعزاز اپنی کلاس میں پہلے دن ہی کئی لڑکیوں کے لیے مرکزِ نگاہ بن گیا۔ اسی دن سے یونیورسٹی کیمپس میں نئی نئی شناسائیوں کے گروہ بیٹھ کر اعزاز کے بارے میں باتیں کرنے لگے۔ اعزاز مگر کہیں اور گم تھا۔ آیا تو وہ ڈاکٹر بننے تھا مگر پہلے ہی دن اس کی تمام تر ترجیہات کہیں اور تھیں۔ درمیانے قد کی ایک حیاداردوشیزہ جو اپنے ہم جماعتوں سے بھی بہت لجاجت اور مدھم لہجے میں بات کر رہی تھی۔جھکی ہوئی نظریں، اُجلا رنگ اور جامہ زیب شخصیت اعزاز کو کہیں اڑا کر لے گئی تھی۔بروقت اس چہرے کا دیدار کرنا گویا اعزاز شیرازی کا فرض بن چکا تھا۔
    ٭…٭…٭
    اعزاز جیسے لڑکے کے دل میں کوئی بات آتی اور وہ اس کے بارے میں دریافت نہ کرتا، یہ کہاں ممکن تھا۔ کافی جدوجہد کے بعد اسے پتا چلا کہ موصوفہ انہی کی ہم جماعت ہیں اور پنجاب کے کسی معتبر گھرانے کی اکلوتی بیٹی ہیں۔ اعزاز کے دل میں اور کشش پیدا ہوئی کہ وہ بھی اکلوتی ہے اور اعزاز بھی۔
    وہ روز بہانے بنا کر اس سے بات کرنے کی کوشش کرتا مگر شرم و حیا کا وہ پیکر اسے نظرانداز کیے آگے بڑھ جاتا۔ اب وہ چھچھورا تو تھا نہیں کہ مسلسل نظرانداز ہونے پر اس کا تعاقب کرتا رہتا، مگر بات تو دل میں اتر چکی تھی ۔
    ٭…٭…٭
    ایک دن کلاس میں مڈ ٹرم کی پریذنٹیشن تھی۔ ہر طالب علم اپنے اپنے منتخب کردہ موضوعات پر پریذنٹیشن بنا کر لایا۔ استاد کی طرف سے طے یہ پایا کہ جو ٹاپ کرے گا اس کی پریذنٹیشن سے متعلق سوالات امتحان میں بھی آئیں گے۔
    پریذنٹیشن کا آغاز ہوا۔کئی طلبا تو بے تُکی اور بے ربط تیاری کی وجہ سے تمسخر کا نشانہ بنے مگر جب باری آئی اعزاز کی تو اس نے آتے ہی روسٹرم پر ہاتھ رکھا اور یوں شروع ہوا کہ جیسے کبھی نہیں رکے گا ہم جماعت تو ایک طرف اس کی کلاس ٹیچر بھی اس سے مرعوب ہوئے بنا نہ رہی ۔کلاس میں پیچھے کی جانب بیٹھی اعزاز کی مرکزِ نگاہ آنکھیں پھاڑے ورطۂ حیرت میں گم تھی۔ جیسے ہی اس کی پریذنٹیشن ختم ہوئی تو گویا تالیوں اور داد کا ایک سیلاب اُمڈ آیا۔ کلاس ٹیچر نے وہیں آکر اعزاز کو تھپکی دی اور ستائشی لہجے میں کہا:
    ” It’s the best presentation so far’سب اسٹوڈنٹس اعزاز کی پریذنٹیشن کی کاپی لیں اور اس پر ریسرچ کریں، اس میں سے امتحان میں سوالات آئیں گے۔”
    وہ تو جیسے ہیرو بن گیا۔ کلاس ختم ہوتے ہی اعزاز طلبا کے ہجوم میں گھر گیا۔ کوئی اسے سراہ رہا تھا اور کوئی پوچھ رہا تھا کہ کیسے کر لیتے ہو یار؟ کمال! اعزاز گروہ میں گھرا ہوا تھا مگر وہ نہیں تھی جس کو ہونا چاہیے تھا۔ اعزاز نے دوسرے طلبا سے بات کرتے ہوئے اِدھر اُدھر نظر دوڑائی کہ اس کا نظارہ کہیں نظر نہیں آرہا تھا۔ اچانک اس کی نظر پڑی کہ موصوفہ ایک دیوار سے ٹیک لگائے شاید گروہ سے آزاد ہونے کا انتظار کر رہی تھیں اور کیوں نہ کرتیں ؟ امتحان میں سوالات جو آنے ہیں۔
    ٭…٭…٭
    ہم جماعتوں سے فراغت کے بعد اعزاز دبے پاؤں اس کے پاس گیا اور مدھم لہجے میں کہا: ”کہنے لگا کہ اگر آپ امتحان میں پاس ہونا چاہتی ہیں تو یہ نوٹس تو ضروری ہیں اور اگر آپ فیل ہونا چاہتی ہیں تو…”اس نے اتراتے ہوئے بات ادھوری چھوڑی۔
    غیر متوقع طو رپر موصوفہ کی دہن گلِ مثال سے کچھ لفظ نکلے۔ ہائے! کیا لہجہ تھا، کیا آواز اور کیا تاثیر۔ اعزاز نے نوٹس کی فائل بازوؤں میں سمیٹی اور ٹھنڈا سانس لیتے ہوئے سوچا۔
    لفظ نکلنے کی دیر تھی کہ اعزاز تو جیسے سکتے میں چلا گیا وہ یہ پوچھ کر چپ ہو گئی کہ مجھے یہ نوٹس مل سکتے ہیں؟ اس کے لہجے میں وضع داری اور شخصیت میں ٹھوس پن نمایاں تھا۔ اعزاز دم بہ خود کھڑا اسے تکتا رہا۔ اعزاز کی اس حالت پر وہ ذرا گڑبڑا سی گئی اور ذرا درشت لہجے میں کہا۔
    ”یہ نوٹس نہیں مل سکتے کیا؟”
    اعزاز جواب تک اسے یک ٹک دیکھے جارہا تھا، ہڑبڑا کر بولا:
    ”وہ وہ وہ … جیسے آپ چاہیں، تو ابھی لے جائیں مگر ایک مسئلہ ہے، ہم ایک ہی کلاس میں پڑھتے ہیں اور چار سال اکٹھے رہنا ہے وہ نام تو پتا ہونا چاہیے ایک دوسرے کا۔” وہ لڑکیوں کی طرح شرماتے ہوئے بول رہا تھا۔
    ”مجھے تو آپ جان ہی گئی ہوںگی۔ میں چاہتا ہوں کہ میں بھی آپ کو جان لوں۔”
    ”آمنہ۔ آمنہ نام ہے میرا… ” وہ قدرے درشت لہجے میں بولی۔
    ” آمنہ ؟کون آمنہ؟
    ” میرا نام آمنہ ہے۔ اب کی بار وہ نظریں چُراتے ہوئے بولی۔ اعزاز کے دل میں تو جیسے جشن کا سماں تھا، اسے یک دم ہر چیز رنگین نظر آنے لگی۔ وہ دہراتے ہوئے بولا:
    ”آمنہ؟”
    ”جی…” اس بار وہ قدرے ہچکچاتے ہوئے بولی۔
    ”تو آمنہ یہ نوٹس آپ کو نہیں مل سکتے۔”اعزاز کے انداز میں شوخی جھلک رہی تھی۔
    ”یہ کیا بات ہوئی۔ ایسا کیسے کرسکتے ہیں آپ؟”
    ”ہائے آپ…” اعزاز نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہا:
    ” آپ کو آپ کہنے میں کوئی مسئلہ ہے تو…”
    ” ارے نہیں نہیں! اعزاز اس کی بات کاٹتے ہوئے بولا۔
    ” آپ مجھے آپ ہی کہیے اچھا لگتا ہے۔ میں مذاق کر رہا تھا، یہ نوٹس آپ کے ہیں۔ یہ لیجیے۔” اعزاز نے نوٹس اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔
    ” شکریہ…” آمنہ نے نوٹس پکڑے اور وہاں سے چل پڑی۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • پہچان — ماہ وش طالب

    پہچان — ماہ وش طالب

    گرمی کی تپش سے تارکول کی سڑک جلتا انگارہ بنی ہوئی تھی۔ گاڑی کا اے سی بند کیا ذرا دیر کو، تو یوں لگا جیسے سورج بابا نے مجھے ہی فوکس کیا ہوا ہے۔ آج پھپھو کی ساہیوال سے واپسی تھی۔ لہٰذا میں آفس سے جلد اٹھ گئی۔ ضروری رپورٹ تیار کرکے میں نے کمپوزنگ کا کام شائستہ کو سونپ دیا۔ گھر پہنچ کر پھپھو کا کمرا صاف کروانا تھا اور کھانا بھی بنانا تھا۔ وہ ہفتہ پہلے اپنی خالہ زاد کے یہاں گئی تھیں، شام تک انہیں پہنچ جانا تھا اور ان کے آنے سے پہلے مجھے گھر کو نک سک سے تیا ر میرا مطلب ہے صاف ستھرا کرنا تھا۔ ویسے تو پھپھو کی موجودگی میں مجیدہ آکر کام کرتی تھی لیکن ان کی غیر موجودگی میں، میں نے اسے چھٹی دی ہوئی تھی اور آج کے دن ہی وقت پر آنے کا کہا تھا۔ گاڑی پوش علاقے میں داخل ہوئی۔ یہاں سب ہی بنگلوں کا طرز تعمیر تقریباً ایک جیسا تھا،مگر رقبے کے اعتبار سے ہمارا گھر نسبتاً چھوٹاتھا لیکن دو افراد کے لیے تو یہ بھی بڑا لگتا۔ تپتی دوپہر میں سب ہی اپنے گھروں میں پڑے اونگھ رہے تھے۔ میں نے جونہی مطلوبہ بلاک کی طرف گاڑی موڑی، کوئی تیزی اور بے دھیانی سے بھاگتا میری گاڑی سے ٹکرا کر نیچے گر گیا۔ اگر میں بروقت بریک نہ لگاتی تو اس کا کام تمام ہوجاتا۔ گاڑی سے باہر نکل کر میں نے گرنے والی لڑکی کو اور اس کے پاؤں پر آئی خراشوں کو دیکھ کر سوچا،وہ درد سے کراہ رہی تھی۔ جانے کیوں مجھے لگا کہ لڑکی کے ٹکرانے سے پہلے کوئی اور بھی کالونی میں داخل ہوا تھا اور پل بھر میں ہی نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ خیر میں سر جھٹک کر دوبارہ لڑکی کی طرف متوجہ ہوئی جس کے ٹخنے سے اب خون بہ رہا تھا کیوں کہ خراشیں گہری تھیں۔ میں نے سہارا دے کر اسے کھڑا کیا اور گاڑی میں بٹھایا، لڑکی کو فوری طور پر ابتدائی طبی امداد کی ضرورت تھی۔ میں اسے اپنے ساتھ گھر لے آئی۔ وہ سولہ سترہ برس کی لڑکی نہ جانے کیوں مجھے اتنی معصوم اور پیاری لگی۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    مرہم پٹی او ر کچھ دیر آرام کرنے کے بعد میں نے اس سے کچھ رسمی اور ضروری سوالات کیے اور میں جو یہ سوچ رہی تھی کہ اس لڑکی جس کا نام ثمن تھا اور اِس نے ایک بار بھی مجھے اپنے گھر جانے کا نہیں کہا، تو مجھے اپنے سوال کا جواب اس کے انٹرویو کے دوران مل گیا۔ اس میں اور مجھ میں پہلی اور سب سے اہم چیز مشترک نکلی، بس فرق اتنا تھا کہ ثمن کے ماں باپ دنیا چھوڑ جانے کے بعد ایک دوسرے سے علیحدہ ہوئے اور میرے والدین نے ہجر کی فصل کاٹنے کے بعد جہان فانی سے کوچ کیا۔ یعنی میں ایک بروکن فیملی کا بکھرا ہوا ٹکڑا تھی۔ تب ہی ثمن مجھے پہلی نظر میں اپنی اپنی سی لگی۔ اس نے اپنی نم ناک آنکھوں کو پونچھتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنے جن رشتہ داروں کے ہاں عرصے سے رہ رہی تھی ان کے بیٹے نے اس کے ساتھ بدتمیزی کرنے کی کوشش کی۔ اب کیا ہوگا اس کا؟ میں نے سوچا، شام کے پانچ بج رہے تھے، پھپھو بھی بس آنے ہی والی تھیں۔ میں نے ایک نظر اس کے حلیے پر ڈالی ،گندمی رنگت اور غزالی چہرہ ،صاف ستھرے کپڑے پہنے وہ نظریں جھکائے،دودھ کے خالی گلاس کی جانب دیکھ رہی تھی۔ میں نے فیصلہ کرلیا تھا، بس پھپھو کی ناراضی کا خوف تھا، مگر انہیں بھی کسی نہ کسی طرح میں نے منا ہی لینا تھا۔ میں نے اس لڑکی کو اپنے ساتھ رکھنے کا فیصلہ کرلیا۔
    ”لڑکی تم ہوش میں ہو،میں چار دن گھر سے کیا گئی تم نے تو اسے سرائے ہی بنا ڈالا۔ ”
    جس غیظ و غضب کا مجھے امکان تھا، پھپھو کے منہ سے وہی امڈ رہا تھا۔ ”پلیز پھپھو! آہستہ وہ ساتھ والے کمرے میں ہے سُن لے گی۔” میں نے ملتجی نہ انداز میں کہا۔ ”مجھے پروا نہیں۔” حد ہے،تم تو بالکل ہی ننھی بچی ہو ابھی تک، میں نہ ہوں، تمہیں سمجھانے کے لیے تو یہ دنیا چاردنوں میں پیروں میں مسل کر رکھ دے۔ دو دن رکھنا اور بات ہے، ساری زندگی کے لیے رکھنا اور بات۔ نہ بچی کا آگا پیچھا،کیا سچ ، کیا جھوٹ، کچھ بھی تو نہیں معلوم۔” غصے میں ان کی بڑی آنکھیں اور بھی کُھل جاتیں۔ رات کے کھانے کے بعد وہ کچھ دیر واک کرنے کی عادی تھیں،مگر اس ہنگامے میں انہوں نے اپنی روٹین کو بھی پس پشت ڈال دیا اور ویٹنگ روم میں میری شامت آئی ہوئی تھی۔
    ”پیار ی پھپھو ! پلیز سوچیں آپ کا بھی تو فائدہ ہے، سارا دن آپ گھر میں تنہا رہتی ہیں۔اچھا ہے کمپنی ہوجائے گی۔” میں نے مکھن لگانا چاہا ،لیکن وہ نہ مانیں، جانے انہیں کس چیز پرزیادہ اعتراض تھا،ثمن کو گھر لانے پر،میری بیوقوفیوں پر یا ثمن کے ہاتھوں بدھوبننے پر؟ غرض کے انہوں نے سینکڑوں اعتراض کیے اور میں نے ہزاروں دلائل دیے اور آخر میں فیصلہ میرے ہی حق میں ہوا پھر آنے والے دنوں نے بتایا کہ میرا یہ فیصلہ کچھ زیادہ غلط بھی نہ تھا۔ پھپھو نے زبانی تو نہیں، لیکن اپنے انداز سے اس کا اظہار ضرور کیا تھا۔ اب میں گھر جاتی تو گھر کا گیٹ لاکڈ ملتا،کال کرتی تو معلوم ہوتا کہ محترمائیں بازار کی دھول چاٹنے گئی ہیں۔ چار ماہ تو گزر گئے تھے، ثمن کی پہلی والی ہچکچاہٹ بھی جاتی رہی۔ یوں بھی اس گھر میں کوئی مرد تو تھا نہیں جس سے زیادہ مسئلہ ہوتا۔
    بے اولادی کے غم نے پھپھو کو مجرم ٹھہرادیا تھا۔شادی کے محض چار سال بعد وہ طلاق لے کر اپنے بھائی کے گھر آگئیں۔ وہ بھائی جو اپنے ہی چکروں میں پڑے تھے بہن کی کیا پروا کرتے، بس یہ احسان کیا کہ گھر امی اور پھپھو کے نام لگا کر اپنی امیر ترین بیوی کے ہمراہ رخصت ہوگئے اور امی بیچاری اس جھٹکے کو سہار نہ پائیں۔ بس پھر اس کے بعد سے میں اور جاناں پھپھو ہی ایک دوسرے کا سہارا تھے۔
    ”مدحت باجی! ایک بات پوچھوں؟” میں اپنے پلنگ پر نیم دراز کتاب پڑ ھ رہی تھی ،جب دوسرے پلنگ پر بیٹھتے ہوئے اس نے پوچھا۔ ”جی! ضرور۔” میں نے کتاب میں غرق جواب دیا۔
    ”خلیل صاحب کون ہیں؟” اس کے انتہائی غیر متوقع سوال پر میں نے چونک کر سر اُٹھایا ”آئی ایم سوری۔” میں نے اس دن آپ کی اور پھپھو کی باتیں سن لی تھیں۔ مجھے لگا آپ مجھے بھی اس بارے میں ضرور بتائیں گی، مگر وہ شرمندہ شرمندہ سی تھی۔”
    ”سوری تو تمہیں کرنا چاہیے، لیکن اب آیندہ ایسی حرکت مت کرنا۔ میں تمہیں بتادیتی۔ اگر خلیل کے آنے کا کنفرم ہوتا۔ خیر۔ وہ اگلے جمعہ کی فلائٹ سے آرہے ہیں اور میں موصوف کی منکوحہ ہوں۔ یعنی وہ میرے شوہر ہیں ۔ میںنے تحمل سے اسے جواب دیا۔ ”کیا سچ! تو پھر آپ یہاں۔”
    ”ابھی صرف نکاح ہوا ہے،وہ اپنی پڑھائی مکمل کرلیں اگلے سال پھر ہماری شادی ہوجائے گی۔” خلیل میرے خالہ زاد تھے اور میں میٹرک میں تھی جب ان سے میرا نکاح ہوا، بڑوں کی پسند میں آہستہ آہستہ فریقین کی پسند بھی ڈھل گئی ۔ خلیل کیمسٹری میں پی ایچ ڈی کررہے تھے۔ امید تھی کہ رواں سال انہیں ڈگری مل جائے گی۔ میرے تفصیلات بتانے پر وہ پہلے شرمائی پھر مطمئن ہوئی اور بعد میں مجھے گلے لگا کر ڈھیروں مبارک باد دی۔
    ہم دونوں ٹیرس پر بیٹھے شام کی چائے اور سہانے موسم کا لطف لے رہے تھے۔ خلیل کو مہینا ہوچلا تھا پاکستان آئے مگر چار دن قبل ہی لاہور آئے تھے اور ہمیں آج موقع ملا تھا بیٹھ کر بات کرنے کا۔ ہجر، وصل، پڑھائی، سیاست، فنکشن، جرمنی کا احوال،شوبز پر بات کرنے کے بعد جب سارے موضوع ختم ہوگئے تو انہوں نے ایک غیر معمولی بات کہہ دی ”اس لڑکی کو بھیج دو یہاں سے۔” کپ میرے ہاتھ سے پرچ میں لڑھک سا گیا۔
    ”کیا ہوا کیا تم کچھ ہونے کا انتظار کر رہی ہو۔ وہ میری آنکھوں میں دیکھ رہے تھے اور میں کچھ نہ کہہ سکی۔ ”تم کیسے کسی کی ذمہ داری لے سکتی ہو۔”
    آپ بھی پھپھو کی طرح بات کررہے ہیں، ٹھیک ہے لیکن دیکھیے گا بعد میں آپ ہی میرے فیصلے کو سراہیں گے۔” میں نے تیز لہجے میں دفاع کیا۔ ”پھپھو تمہاری طرح بے وقوف ہوسکتی ہیں، مگر میں نہیں۔”
    ” خلیل!” مجھے پھپھو کے لیے ان کا اس طرح بات کرنا اچھا نہ لگا۔
    ”دیکھو مدحت… تم مجھے انسانیت کے لیکچرز مت دینا شروع کردینا۔ اب تم یہی سوچ رہی ہو نا کہ میں بہت خود غرض ہوں اور تمہیں مجھ سے یہ امید نہ تھی۔” میرے سپاٹ انداز کو دیکھ کر وہ پھر سے گویا ہوئے اور صحیح اندازے لگارہے تھے۔ سفید نظر کا چشمہ لگائے، تراشے ہوئے کالے بال، خاکی جینز اور نیلی ٹی شرٹ پہنے وہ پروفیسر لگ رہے تھے۔ان کا بات کرنے کا انداز بھی افسرانہ ہوتا تھا، وقفے وقفے سے ہاتھوں کو ضرورت کے مطابق دائیں بائیں حرکت دیتے۔
    ”وہ پیاری سی بچی ہے،تم لوگوں کا کیا بگاڑا ہے اس نے میں نے چڑ کر پوچھا ”بچی؟ مانا کہ تمہاری اور اس کی عمر میں کافی فرق ہے اور حالات نے تمہاری سوچ کو بہت پختہ کردیا ہے، مگر اسے کم از کم بچی نہ کہو۔”
    ”آپ کہنا کیا چاہتے ہیں کہ کیا ہوسکتی ہے وہ۔ کوئی چور، کوئی غلط حرکت کی ہوگی اس نے؟ اگر فرض کریں اس نے ایسا کیا بھی ہو تو۔ اب تو وہ بدل گئی ہے نا۔ نارمل لڑکی بن گئی ہے۔ ہم نے اسے جو پیار دیا ہے ،تحفظ فراہم کیا ہے۔ وہ اس کا regard کرتے ہوئے کم از کم دوبارہ تو کوئی بری حرکت نہیں کرے گی نا میں نے اس گفت گو سے جان چھڑانی چاہی یعنی تم مانتی ہو کہ وہ غلط بھی ہوسکتی ہے۔ وہ جیسے مجھے چیلنج کررہے تھے اُف؟

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • جو غائب بھی ہے حاضر بھی — سحرش مصطفیٰ

    جو غائب بھی ہے حاضر بھی — سحرش مصطفیٰ

    ”سر پر ڈوپٹا لے لے۔” اماں نے اسے زور کی جھڑکی دی۔ نہ چاہتے ہوئے بھی منہ بسور کر اس نے اماں کے حکم کی تعمیل کی۔ دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ جما کر اماں اندر داخل ہوگئی۔ یہ اس کا پسندیدہ بنگلہ تھا۔ نایاب باجی اخلاق کی بہت اچھی تھیں۔ انہوں نے قرآن کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی تھی۔ ملانی تھیں پوری ملانی۔ دین کے بارے میں ایسی ایسی باتیں بتاتیں کہ انسان بس اسی میں کھو جائے۔ اندر داخل ہو کر لاؤنج سے گزر کر دونوں ماں بیٹی کچن میں داخل ہوگئیں۔ وہاں نایاب باجی سر پر اچھی طرح دوپٹا جمائے چائے بنارہی تھیں۔ ان کے چہرے پر جھنجلاہٹ کے تاثرات نمایاں تھے۔ نورین ڈر گئی ۔ وہ ایسی ہی تھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر ڈرجانے والی۔
    ”سلام بیگم صاحبہ!” اماں نے بڑی دھیمی آواز میں چہرے پر مظلومیت سجائے سلام کیا۔ ان کی آواز سے تھوڑی دیر پہلے والی کرختگی غائب تھی۔ نورین دل ہی دل میں اماں سے متاثر ہوئی۔
    ”کمال ہے کنیز کتنی دیر سے اُٹھی ہوئی ہوں۔ تمہارا انتظار کرتے کرتے آنکھیں سوکھ گئیں اور تم اب آئی ہو؟ صفدر بھی ناراض ہورہے تھے مجھ سے آج وہ گھر پر ہی ہیں۔ نہ آنا ہو تو بندہ بتاہی دیتا ہے۔” وہ خاصی خفا لگ رہی تھیں۔”
    ”بس جی مجبوری ہو گئی تھی، اس کے باپ کے رشتے دار میرا پیچھا ہی نہیں چھوڑتے۔ ہاتھ دھوکر پیچھے پڑ گئے ہیں، اماں نے کم زور سے لہجے میں ساری تفصیل بتائی۔ جو کچھ پلے تھا سارا کچھ چھین لیا۔ پھر بھی کلیجے نہیں ٹھنڈے پڑتے ان کے بس اسی بلا کو ٹالنے گئی تھی جی۔”
    ”دیکھو اگر تمہیں زیادہ پریشانی ہے تو کچھ دن گھر بیٹھ جاؤ، میں مالی کی بیوی سے کام کروالوں گی۔” نایاب نے اسے دھمکایا۔
    ”نا نا میری میٹھی بیگم صاحبہ! لو کیسی بات کردی جی، میں آپ کے گھر نہیں آؤں گی تو دن کیسے گزرے گا میرا بیگم صاحبہ جی۔ آپ کے گھر میں تو اللہ رسولۖ کا نام چلتا ہے۔ کانوں میں مٹھاس گھلتی ہے چھاتی ٹھنڈی پڑ جاتی ہے۔ بس جی یہ روٹی پانی کی گٹھ نہ ہو نا بیگم صاحبہ تو سارا دن یہیں گزار دوں۔ آپ کا اخلاق اور اسلامی طریقے دیکھ کر تو جی مجھے خوشی ملتی ہے۔ ہر ایک آپ کی طرح نیک تو نہیں ہوتا نا۔” اس کے لہجے میں نمی اترآئی تھی۔ اس کی تعریف نے عجیب انداز میں نایاب کا غصہ ٹھنڈا کردیا۔ نورین نے حیرت سے اماں کو دیکھا جو گھر پر نایاب کو بڑے طنزیہ انداز میں ملانی کہہ کر یاد کرتی تھی۔
    ”ملانی کے گھر میں کیبل ہی نہیں ٹی وی بھی سمجھو خالی ڈبا ہی ہے۔ کیبل کے بغیر نہ گانے نہ ڈرامے، میرا تو دل گھبراتا ہے ایسی خاموشی میں۔ بڑی عجیب باتیں کرتی ہے۔”
    ”یہ بتا کیا کہہ رہے ہیں اب وہ لوگ ؟”اپنا غصہ اترنے کے بعد اسے کنیز کی پریشانی کا خیال آیا۔ نورین نے نہایت حیرت سے باجی کو دیکھا اور پھر اماں کو۔ تھوڑی دیر بعد جب وہ کام ختم کرکے بنگلے سے باہر آئیں تو کنیز کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا۔ نایاب نے اسے ایک ہزار کا نوٹ دیا تھا، صدقے کے پیسوں میں سے۔
    ”اماں ایک بات تو بتا۔” نورین نے اپنے دماغ میں پڑنے والی گرہ کھولنی چاہی۔
    ”ہاں پوچھ!” کنیز نے چنگ چی رکشے کا انتظار کرتے ہوئے اسے اجازت دی۔
    ”اماں جب تو نایاب باجی کے ہاں جاتی ہے تو سر ڈھانپتی ہے۔ مجھے بھی پردہ کرواتی ہے لیکن فرح باجی کے گھر جاتی ہے تو اتار دیتی ہے ایسا کیوں؟”اماں نے ملگجے مگر صاف ستھرے دوپٹے سے پسینا صاف کرتے ہوئے بیٹی کو دیکھا۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    ”نی نورین پانچ جماعتیں پڑھنے کا کیا فائدہ ؟ تو ابھی بھی جھلی ہے۔ دیکھ میں تجھے بتاتی ہوں یہ جو اپنی ملانی ہے نہ یہ بڑی اسلامی ہے۔ اسے اسلامی طریقے اچھے لگتے ہیں اور وہ جو اپنی فرح میڈم ہے نا۔” فرح کا نام لیتے ہوئے اماں کا لہجہ ہمیشہ پرجوش ہوجاتا تھا۔
    ”ارے وہ بہت ماڈرن ہے، تو اسے ماڈرن طریقے اچھے لگتے ہیں۔ دیکھ تجھے پتا ہے نا فرح باجی کے کتنے دوست آتے ہیں۔ سارے مرد ہوتے ہیں، اب پردے والی بی بی کو تو نہیں رکھے گی وہ کام پر تو اُسے ماڈرن ماسی چاہیے۔ کیا کہتی ہیں باجی وہ لیب… لیب۔” وہ اٹکی تھی۔
    ”لبرل!” نورین نے جھٹ سے اسے درست لفظ بتایا۔ یہ لفظ وہ کئی مرتبہ فرح باجی کے منہ سے سن چکی تھی۔
    ”ہاں میرا پتر وہی۔” چنگ چی رکشا آچکا تھا۔ وہ دونوں اس میں بیٹھ کر روانہ ہوگئیں۔ گھر پہنچ کر بھی اس کا ذہن اسی گتھی کو سلجھاتا رہا۔
    ”لیکن اماں ہم اصل میں کون ہیں؟” نورین کے سوال پر صندوق سے رضائیاں نکالتی کنیز نے کچھ خفگی سے اسے دیکھا”کیا مطلب ہم کون ہیں؟ انسان ہیں ہم۔” وہ اپنے کام میں لگ گئی۔
    ”لیکن اماں ہم ماڈرن ہیں یا اسلامی؟” وہ اپنے مطلب کے سوال پر آگئی تھی۔ رضائی نکال کر اسے جھاڑتے ہوئے کنیز نے اپنی بڑی بیٹی کو دیکھا۔
    جو اس گھر کی واحد بچی تھی جو قابل تھی اور اس نے پانچ جماعتیں پڑھی ہوئی تھیں ۔ اس کے بعد کنیز نے اسے اسکول سے اٹھادیا۔ ایک تو جس بیگم صاحبہ نے اس کا داخلہ کروایا تھا وہ شہر چھوڑ گئی تھی۔ حالاں کہ وہ سرکاری اسکول تھا اور خرچہ کوئی پہاڑ نہیں تھا لیکن کنیز کے خیال میں اب نورین کو پریکٹیکل ہوجانا چاہیے تھا۔ آگے بھی تو یہی کرنا تھا۔ وہ اسے اپنے ساتھ رکھ کر اپنے پروفیشن کے اسرا ر و رموز سکھانا چاہتی تھی اور اس وقت بھی اسے ایک اہم گُر سے آگاہی دینے کا وقت آگیا تھا۔
    وہ اپنا کام چھوڑ کر اس کی طرف آگئی۔
    ”دیکھ میرا پتر! یہ جو سارے شوشے ہوتے ہیں نا یہ امیروں کے ہوتے ہیں۔ ہم غریب جو ہیں ہمارا ایک ہی مسئلہ ہے اور وہ ہے ضرورت۔ ضرورت پڑے تو ماڈرن بن جاؤ، ضرورت پڑے تو اسلامی بن جاؤ۔ دیکھ میرا بچہ یہ جو باجیاں ہوتی ہیں نا ان کو اپنے جیسے لوگ اچھے لگتے ہیں۔ دیکھ فرح باجی کے گھر کبھی سر نہ ڈھانپنا اور نایاب باجی کے گھر کبھی سر ڈھانپے بنا نہ جانا۔ اپنی ضرورت دیکھ کہ وہ کس جگہ کیسے پوری ہوتی ہے، ویسا بھیس بنالے۔”تیرہ سالہ نورین حیرت سے ماں کی باتیں سنتی رہ گئی۔
    ”لیکن اماں میں نے تو کتابوں میں کبھی یہ نہیں پڑھا۔” وہ الجھی تھی، کنیز بے ساختہ ہنس پڑی۔
    ”پگلی ہوگئی ہے تو، یہ کتابیں امیر لوگ لکھتے ہیں۔ یہ تو ہم غریبوں کی باتیں ان کے پلے نہیں پڑتیں۔”
    اماں کی باتیں اس کے ننھے ذہن کو الجھا دیتی تھیں ۔ الجھن بھی ایسی کہ سلجھنے میں نہ آتی ۔ اماں کا فلسفہ عجیب تھا، کچھ کھٹا کچھ میٹھا۔ کبھی اپنے اندر چاشنی لیے ہوئے اور کبھی کڑواہٹ سے بھرا۔ نورین کو ایسا لگتا جیسے غریب کوئی الگ دنیا کی مخلوق ہوتے ہیں۔ اس نے ایک کتاب میں allien کے بارے میں پڑھا تھا۔ اسکول کی تعلیم سے تو اس کا ناتا ٹوٹ چکا تھا لیکن خوش قسمتی سے کتابوں سے ابھی اس کا رشتہ برقرار تھا۔ اماں کے لاکھ منع کرنے کے باوجود وہ پہلی مرتبہ نافرمانی کی مرتکب ہوئی تھی۔
    اسے ہر قسم کی کتابیں پسند تھیں لیکن کتابوں سے یہ دوستی اس کے ذہن میں مزید سوالات کو جنم دیتی تھی ۔ فرح باجی کے گھر میں ایک بہت بڑا کتابوں والا کمرا تھا اور نورین کبھی کبھار اس کمرے کی صفائی کرتے ہوئے کوئی کتاب پڑھ لیتی تھی۔ کبھی آدھی کبھی پوری اور وہیں ایک کتاب کو اپنے اندر جذب کرتے ہوئے اس کی تلاش جیسے مکمل ہوچکی تھی۔
    وہ خوشی خوشی واپس آئی۔ اس دن اس نے کہیں نظریۂ ضرورت کے بارے میں پڑھا تھا اور اِسے پڑھتے ہوئے مسلسل اپنی ماں یاد آئی تھی۔ ہاں یہی تو ہے اماں کا طریقہ ۔ زندگی گزارنے کا سہل طریقہ، نظریۂ ضرورت ۔ مطلب اپنے آپ کو اپنی ضرورت کے لبادے میں ناپنا۔ گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے رہنا۔ اپنی ضرورت دیکھ ۔ یہ جملہ اس نے ہزار بار سنا تھا بلکہ شاید ہوش سنبھالنے کے بعد روزانہ۔
    زندگی میں کچھ بھی غلط صحیح نہیں ہوتا، صرف ضرورت کا تابع ہوتا ہے۔ نورین کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے تھے ضرورت کے نام پر۔
    ضرورت کے وقت سب کرنا جائز تھا۔ زبان سے جھوٹ کے دریا بہانا جائز تھا۔اپنے چہرے پرمنافقت کی چادر اوڑھنابھی جائز تھا۔
    ضرورت ، ضرورت… آخر کیا تھی ضرورت ؟عفریت یا مصیبت؟
    آخر یہ ضرورت تھی کیا؟ کون تھی جو صرف غریبوں کے حصے میں آتی ہے۔ امیروں کو اس کی پروا کیوں نہیں ہوتی؟ اس کا ذہن اس فرق کو ناپنے اور سمجھنے سے قاصر تھا کہ جدید ماڈل کی گاڑیوں اور جہازی سائز کے گھروں میں رہنے والوں کی ضرورتیں کچھ اور ہوتی ہیں اور وہ بھی ایسا ہی کرتے ہیں، اپنی ضرورت کے رعب میں آکر صحیح اور غلط کی پہچان کھودیتے ہیں۔
    وہ گیارہ سال کی تھی جب اس نے ماں کے منہ سے پہلی بار یہ لفظ سنا اور اگلے کئی سال تک وہ اس لفظ کو باقاعدگی سے سنتی رہی۔ کم عمر نورین اپنی ماں کے منہ سے نکلنے والے ہر حرف کو کتابوں میں ڈھونڈتی اور مایوس ہوجاتی تھی ۔ کتابوں میں پڑھی ہوئی باتیں اپنی ماں میں ڈھونڈتی اور یہ مایوسی کی خلیج اور بڑھ جاتی۔
    اس کی زندگی میں ایسا کچھ نہیں تھا جو کتابوں میں تھا۔ کتابوں والی زندگی تو فرح باجی اور نایاب باجی کے گھروں میں تھی۔
    دو کمروں کا مکان جہاں سب سے بڑا اثاثہ ایک زنگ آلودلوہے کی فولڈنگ چارپائی تھی اور جس میں قابلِ فخر چیز اندرونی کمرے میں لگا ہوا وہ پنکھا تھا جو پچھلے رمضان فرح باجی کے ایک جاننے والے نے دیا تھا اور سب سے بڑا کمال یہ تھا کہ ان کا گھر پکا تھا۔ دیواریں رنگ و روغن سے عاری لیکن سیمنٹ کی تھیں۔ یہ ایک بہت بڑی کامیابی تھی جو اس تنگ گلی والے محلے میں بہت کم لوگوں کو حاصل تھی۔ اماں جھوٹ بول کر بہانے کرکے اور جھوٹی سچی تعریفیں لگا کر اپنی جھولی کو صدقے اور خیرات کے مال سے بھرتی رہتی تھیں۔ ان کا گھر اس گلی کا واحد گھر تھا جس میں بڑی عید کے علاوہ بھی گوشت بنتا تھا اور اماں کو لگتا تھا کہ یہ سب اس کی عقل مندانہ اور بروقت پالیسیوں کا کمال ہے۔
    وقت کے ساتھ ساتھ نورین نے کتابوں میں جھانکنا چھوڑ دیا تھا۔ کام بھی بڑھ گیا۔
    لیکن کچھ تھا جس کی چبھن تھی کوئی روگ تھا یا پھر کچھ اور، وہ اپنی اس زندگی سے خوش نہیں تھی۔
    وہ کچھ سمجھی اور کچھ ناسمجھی کے عالم میں زندگی گزارتی رہی ۔ سترہواں سال لگتے لگتے وہ کام میں ماہر ہوگئی تھی لیکن زبان و بیاں میں اماں جیسی چابک دستی اور چاپلوسی نہیں آسکی تھی ۔ جہاں ماشااللہ کہنا ہوتا وہاں الحمدللہ کہہ جاتی جہاں آمین کہنا ہوتا وہاں ان شا اللہ کہہ جاتی اور پھر اماں کو اپنے لفظوں کا جادو جگانا پڑتا۔ ابھی وہ اسے اکیلے کام پر نہیں بھیجتی تھی۔
    کنیز کا خیال تھا کہ نوری کو ابھی مزید ٹریننگ کی ضرورت ہے۔ نوری کو کتابوں سے عشق تھا۔ اس کا ذہن اکثر اماں کی پالیسی برائے ضرورت کو برے طریقے سے مسترد کرتا تھا ۔ وہ اکثر بے اختیار کوئی جملہ کہہ جاتی تھی۔
    ”دیکھ نوری تو اپنی یہ جو کتابی باتیں ہیں نا ان کو اپنے آپ میں ہی رکھا کر، اِدھر اُدھر پھیلانے کی ضرورت نہیں ہے۔ تیرے چھوٹے بہن بھائیوں کو لت لگ گئی نا تو میں کیسے چھڑؤاں گی۔ ویسے ہی تونے مجھے تنگ کرکے رکھا ہے۔”ایک دن اماں نے تنگ آکر کہا۔
    ”دیکھ پتر تونہیں جانتی یہ ضرورت کیا ہوتی ہے۔ یہ جو نایاب باجی ہے نا اپنی ملانی، یہ جودوپٹے پہنتی ہے نا ان کی قیمت ہزاروں میں ہوتی ہے اور ہر سوٹ کی میچنگ چیزیں لیتی ہے، کپڑوں لتوں کا خرچہ الگ اور ہمیں دو ہزار دیتے ہوئے اس کی جان جاتی ہے اور بنی پھرتی ہے اسلامی۔ اگر ایک دو جملوں کی نوٹنکی کرکے ہمیں اچھا کھانے کو مل جائے تو کیا برائی ہے؟” اب کی بار اماں نے اسے قدرے نرمی سے سمجھایا۔
    ”اماں رزق دینے والی اللہ کی ذات ہے اس کے لیے تجھے یہ ڈرامے کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔” نورین کی بات سن کر کنیز حیران رہ گئی۔ اسے یہ بات ٹھیک سے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اس کی بیٹی کے پاس علم آگیا تھا اور وہ صحیح اور غلط کی تمیز کرنا سیکھ گئی تھی۔
    ”ہم غریب ہیں، ضرورت مند ہیں ہم پر کوئی گناہ نہیں آتا تجھے آہستہ آہستہ پتا لگ جائے گا۔” وہ اسے اس منافقت کی توجیہہ پیش کرتی تھی۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • اللہ میاں جی — ضیاء اللہ محسن

    اللہ میاں جی — ضیاء اللہ محسن

    دروازہ پوری شدت کے ساتھ کھٹکھٹایا گیا۔ ایسی دل دہلا دینے والی دستک سن کر وہ بری طرح سہم گئی۔یہ لمحات اُس کے لیے قیامت ِ صغری ٰ سے کم نہ تھے۔ رنج و الم سے معمور اس کا معصوم دل یک دم اچھل کا حلق میں آگیا۔ اسے اپنے قدم مَن مَن بھاری محسوس ہونے لگے ۔ ایک مایوس کن نگاہ اس نے مسلسل دھڑدھڑاتے بیرونی دروازے پر ڈالی۔ اگلے ہی لمحے اس کی نگاہیں قریبی چارپائی پر پڑے آٹھ سالہ مامون کا طواف کرنے لگیں جو ہمیشہ ایسی صورت ِ حال سے خوف زدہ ہوجاتا تھا ۔دروازہ ابھی تک زور دار انداز میں مسلسل کھٹکھٹایا جا رہا تھا۔ اس بار تو ساتھ ایک کرخت مردانہ آواز بھی گھر والوں کے دل و دماغ پر ہتھوڑے برسانے لگی تھی ۔
    ”ابے کھولو دروازہ …کھولتے کیوں نہیں ہو میں تمھارے باپ کا نوکر ہوں کیا؟ نکلو یہاں سے… دفع ہوجائو… چھوڑ دو ہماری جان ،کہاں سے آگئے یہ بھوکے ننگے،بے غیرت لوگ ۔”
    شور کی آواز سن کرمامون آنکھیں مَلتے ہوئے اُٹھ بیٹھا۔ وہ واقعی خوف زدہ تھا۔ اسے نیند سے بے دا رہوتا دیکھ کرڈری سہمی ماں نے ایک جھر جھری لی ،پھر کچھ توقف کے بعد ایک بڑی چادر چہرے پر ڈال کر منہ ڈھانپ لیا۔ اب وہ خوف کے سائے میں بیرونی دروازے کی طرف قدم بڑھانے لگی۔
    ”اماں! نہیں، اماں… آپ نہیں جائیں گی،میں دیکھتا ہوں ۔” حسب ِ معمول آج پھر آٹھ سالہ مامون اپنی ماں کو باہر جانے سے روک رہا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ اب کیا ہونے والا ہے مگر ماں بھلا کیسے رکتی وہ اپنے بیٹے کو خطرے میں نہیں ڈال سکتی تھی سو خود ہی دروازے کی طرف چل دی۔ ویسے بھی آج اسرار صاحب کچھ زیادہ ہی غصے میں تھے۔ مسلسل غلیظ گالیاں اور طعنے دینے کے ساتھ ساتھ وہ دروازے پر لاتوں اور مکوں کے وار بھی کیے جارہے تھے۔
    ماں کو باہرجا تا دیکھ کرننھے مامون نے چارپائی سے چھلانگ لگائی اور تیزی سے دروازے کی طرف لپکا۔ وہ گھر کے صحن میں ہی چارپائی پر بیٹھا ہوم ورک کرنے میں مصرو ف تھا کہ نیند نے اسے اپنی آغوش میں لے لیا تھا۔ اس سے چھوٹی تین سالہ مائرہ آس پاس کے ماحول سے بے نیاز قریب کھڑی انگوٹھا چوسنے میں مصروف تھی۔ اب وہ دروازے کی طرف بڑھ رہاتھا۔
    ”اماں! آپ چلیے واپس…” سیانے مامون نے اپنی ماں کو حکم جاری کیا۔ دروازے پرجارحانہ دستک جاری تھی، وہ دوڑتا ہوا گھر کی دہلیز پار کرکے باہر نکل گیا۔ حسبِ سابق اسرار انکل کو غضب ناک حالت میں دیکھ کرمامون ذرا سہم گیا۔ اُسے علم تھاکہ آج بھی اسرار انکل اس کے ساتھ کوئی اچھا سلوک نہیں کرنے والے …اسے یقین تھا کہ انکل آج بھی اُسے اور اُس کی ماں کو جلی کٹی سُنائیںگے اور پھروہی ہوا…جس کا پہلے سے یقین تھا۔ اسرار صاحب برسے اور خوب ہی برسے… مامون بے چارا سر جُھکائے سب برداشت کرتا رہا۔
    ”انکل! وہ …ایک دو دن تک نا…” اس کی بات درمیان سے اُچک لی گئی ۔
    ”کیا مطلب ایک دو دن …؟ بے وقوف سمجھ رکھا ہے ہمیں؟ اپنی ماں کو باہر نکالو،تم لوگوں کے پاس کرائے کے پیسے نہیں تو یہ گھر جلدی سے خالی کردو ۔اب اس سے زیادہ میں برداشت نہیں کر سکتا۔ بہت ہوگئی، تین تین ماہ کا کرایہ سر چڑھا رکھا ہے۔” اسرار صاحب کے منہ سے کف اُڑ رہی تھی۔ دروازے کے دائیں پٹ کی اوٹ لیے فرخندہ پریشانی کے عالم میں تھوک نگل رہی تھی۔ وہ باپردہ خاتون تھی۔ اپنی بے بسی پر کڑوے گھونٹ پی کر دروازے کے پیچھے سے بول ہی پڑی:
    ”بھائی صاحب! بس جلد ہی آپ تک کرائے کے پیسے پہنچ جائیں گے ۔”
    ”خاک پہنچ جائیں گے۔ یہ تم لوگوں کا ہر مہینے کا معمول ہے۔ تمہاری وجہ سے مجھے اچھا خاصا ذلیل ہونا پڑتا ہے۔ کمینگی کی کوئی حد ہوتی ہے۔ نہ جانے بھوکے ننگے سارے لوگ ہمارے پلے ہی کیوں پڑتے ہیں۔” اسرارصاحب گالیوں کی بوچھاڑ کے ذریعے اپنے دل کی بھڑاس نکال رہے تھے۔ دروازے کی اوٹ میں اب خاموشی تھی پھر رفتہ رفتہ وہاں سے سسکیوں کی آواز آنے لگی ۔جاتے جاتے اسرار صاحب نے وہ غلیظ زبان استعمال کی کہ شریف آدمی سنتے ہی زمین میں گڑ جائے ۔
    آٹھ سالہ مامون آنکھوں میں، غصہ اور بے بسی لیے اسرار احمد کو جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ قدرے توقف کے بعد سہما ہوا مامون ماں کے پاس چلا آیا۔ اس نے اپنے آپ کو بے بس محسوس کیا کہ اپنی اور اپنی ماں کی سرعام بے عزتی پر صرف مٹھیاں بھینچ کررہ گیا تھا۔ ننھی آنکھوں کے گوشے پُرنم تھے۔
    ”اماں! اسرار انکل ہم سے روزانہ پیسے کیوں مانگنے آتے ہیں کیا ہمارے پاس ان کو دینے کے لیے پیسے نہیں ہیں؟” آخر مامون نے معصومیت بھرے لہجے میں اپنی ماں سے پوچھ ہی لیا۔ ماں نے ایک سرد آہ بھرکر سات ماہ کی گڑیا رانی کو چار پائی سے اٹھایا اورجواب دیے بغیر آنکھوں میں آنسو لیے کمرے میںچلی گئی۔
    ننھا مامون یہ منظردیکھ کر ایک بار پھر افسردہ ہوگیا۔
    ”اماں مجھے دودھ پینا ہے۔” تین سالہ مائرہ اپنی توتلی زبان میں بار بار رٹ لگائے جارہی تھی، چٹاخ کی آواز سے ایک تھپڑ مائرہ کا گال سرخ کرگیا۔
    ”مائرہ! اپنی زبان بند رکھ… دیکھ نہیں رہی کہ اماں پریشان ہیں، ہمارے پاس دودھ کے پیسے نہیں۔ اماں نے تمہیں کتنی باربولا ہے کہ ابا دودھ لینے گئے ہیں ۔”مامون نے روتی چیختی مائرہ کو غصیلی نظروں سے دیکھااور پھر خودبھی رودیا۔
    ”مگر ابا کو گئے ہوئے تو بہت دیر ہوچکی ہے وہ واپس کیوں نہیںآرہے؟” ننھی مائرہ قمیص کے دامن سے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے منہ میں بڑبڑارہی تھی۔ تب مامون نے ہچکیاں لیتی مائرہ کو آگے بڑھ کر گلے لگا لیا اور اس کے آنسو صاف کرنے لگا۔
    ٭…٭…٭
    اعظم صاحب کو فوت ہوئے ابھی چند ماہ ہوئے تھے۔ مامون، مائرہ اور چھے ماہ کی گڑیا رانی اپنی اماں کے ساتھ کرائے کے مکان میں رہ رہے تھے۔ تیس سالہ فرخندہ نے کبھی تصور میں بھی نہیں سوچا تھا کہ زندگی اس قدر کٹھن ہوجائے گی۔ وہ چار بہنو ں اور دو بھائیوں میں سب سے چھوٹی تھی ۔ شادی کے بعد باقی بہن بھائیوں سے قدرے خوش حال بھی لیکن قدرت کے کھیل بھی نرالے ہیں ۔ فرخندہ سے پیار کرنے والا باوفاشوہر ایک دن دفتر سے آتے ہوئے ٹریفک حادثے کا شکار ہوگیا ۔مکان بھی کرائے کا تھا اور دوسرے اخراجات بھی منہ کھولے کھڑے تھے۔ تب ہی حالات نے بہت تیزی سے ایسا پلٹا کھایا کہ گھر کا خرچ چلانا بھی فرخندہ کے لیے مشکل ہوگیا۔
    ادھر بچے جب باپ کی شفقت سے محروم ہوئے تو روز انہیں زندگی ایک نیا روپ دکھا رہی تھی۔ مامون تو بہت جلد سمجھ دار ہو گیا۔ ادھرمائرہ اپنے ننھے دماغ میں سوچتی رہتی کہ ان کے پاس جونی، عبیرہ اور نائلہ کی طرح نئی نئی چیزیں، آئس کریم اور کھلونے کیوں نہیں ہیں، لیکن مامون اب ان باتوں کو بھو لتا جا رہاتھا۔ حالا ت نے چھوٹی عمر ہی میں اس کی سو چوں کادھا را بدل ڈالا تھا۔ اب وہ، بجلی کا بل، مکان کا کرایہ، گھر کا راشن اور اسی طرح کے دوسرے الفاظ سے آشنا ہوچکا تھا، لیکن ایک بات اس کے ننھے دماغ میںگردش کرتی رہتی۔ ابا کے بعد اماں تو اکثر روتی رہتی ہیں مجھے ایسا کیا کرنا چاہیے کہ میں اماں کو چپ کرا سکوں۔ یہی سوال اسے تنگ کرتا رہتا تھا۔وہ اکثر اسی طرح کی باتوں میں اُلجھا رہتا۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • ٹوٹی ہوئی چپل — علینہ ملک

    ٹوٹی ہوئی چپل — علینہ ملک

    سورج کی سنہری کرنوں نے چارسو اپنا رنگ بکھیرا تویہ ساتھ ہی ایک نئے دن کا آغاز تھا، زندگی کا پہیہ ایک بار پھر اپنے مخصوص ڈگر پر رواں ہو چلا تھا بس فرق صرف امارت اور غربت کا تھا۔ پیسہ ہو تو زندگی کے رنگ ہی بدل جاتے ہیں، ورنہ جینے کے لیے سانسوں کا رشتہ تو سب کا یکساں ہی ہوتا ہے۔
    کچی اینٹوں سے بنے اس غریب بستی کے مکان میں بھی سورج کی پہلی کرن کے ساتھ ہی دن کا آغاز ہوا تھا۔ مُنی نے چائے کی آخری چسکی اور باسی روٹی کا آخری لقمہ لیتے ہوئے اپنی ماں کی طرف دیکھا تھا۔
    ”اماں میں آج اسکول نہیں جائوں گی۔” کوثر نے چوٹی کو بل دیتے ہوئے کہا اس کے لہجے میں افسردگی تھی۔
    کیوں کیا ہوا ہے ،تیری طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟ عجلت میں چادر کو سر پر ٹھیک کرتے ہوئے اس کی ماں نے پوچھا۔
    ہاں اماںطبیعت تو ٹھیک ہے مگر… میری چپل آج پھر ٹوٹ گئی ہے۔ اب کیا ننگے پاؤں اسکول جائوں؟ منی نے منہ بسور کر ماں کو دیکھا۔ وہ بے چاری الگ پریشان تھی۔
    ”اچھا میں کوشش کروں گی تیری نئی چپل لے آئوں۔ بیگم صاحبہ آج کل مصروف ہیں اس لیے ابھی تک تنخواہ بھی نہیں ملی۔ میں بات کروں گی آج۔ تیرے ابا کی دوائیوں میں آدھے پیسے نکل جاتے ہیں اور پھر راشن ،گھر کا کرایہ اور اسکول کی فیس،قرضہ کی قسطیں… کیا کروں ہر مہینے مجال ہے کہ ہاتھ میں ایک پیسہ بھی باقی بچے۔” کوثر نے ایک ساتھ کئی خرچے گن ڈالے تھے۔ ”ایسا کر! یہ پیسے پکڑ اور جاتے ہوئے موچی سے مرمت کروالے” کوثر نے دس کا نوٹ منی کی طرف بڑھاتے ہو ئے کہا۔
    ”اماں کوئی پچاس بار مرمت کروا چکی ہوں اب تو یہ بے جان چپل بھی پناہ مانگ رہی ہے ہاتھ جوڑ کر کہ خدا کے لیے میری جان بخش دو اور ساتھ ہی وہ موچی بھی یہی کہتا ہے بی بی اب اس کا پیچھا چھوڑ دو۔ منی نے خفگی سے ماں کو جتلایا۔
    ”اچھا اچھا… بس کر زیادہ باتیں نہ بنا، کہا تو ہے کہ نئی لے دوں گی۔ دعا کر بیگم صاحبہ تنخواہ ہاتھ پر رکھ دے اور ہاں آج اسکول مت جانا، خیر ہے تُو نے پڑھ کے کون سا استانی لگ جاناہے۔ کام کرنا تو یہی ہے جو ہماری قسمت میں لکھا گیا ہے۔” کوثر نے ساتھ ہی جلی کٹی بھی سنا ڈالی تھیں۔
    ”اچھامیں چلتی ہوں بنگلے بھی پہنچنا ہے دیر ہوگئی تو بیگم صاحبہ کلاس لے گی۔ ابا کو دوائی یاد سے کھلا دینا اور گھر کا کام ختم کرکے چپل مرمت کروا لینا دروازے سے نکلتے ہوئے بھی اس نے دس باتیں ایک سانس میں کہہ ڈالی تھیں۔
    ”اچھا اماں اللہ حافظ۔” منی نے ساری باتوں کے جواب میں صرف اتنا ہی کہا تھا اور پھر دروازہ بند کر کے جلدی جلدی سارا سامان سمیٹنے اور جھاڑو دینے لگی۔ وہ بچپن سے اپنی ماں کی باتوں اور ان حالات کی عادی ہو چکی تھی۔
    ٭…٭…٭
    ”اف کوثر! آج پھر تم نے دیر کر دی، دیکھو بچے ناشتے کیے بغیر ہی اسکول جارہے ہیں کتنی بار کہا ہے کہ صبح وقت پر پہنچ جایا کرو۔” بیگم صاحبہ جو غصہ سے بھری بیٹھی تھیں ایک دم برس پڑیں۔
    ”باجی! میں تو پورے (ٹیم )ٹائم پر ہی گھر سے نکلی ہوں۔” اس نے منمناتے ہوئے۔
    ”کوثر یا تو تمہاری گھڑی خراب ہے یا پھر تم بہانے بنانے میں ماہر ہو۔ آج پھر بچے بغیرناشتے کے اسکول چلے گئے۔ تمہیں کام پر کس لیے رکھا ہے ہم نے… اگر روزانہ میرے بچوں کو بھوکے پیٹ ہی اسکول جانا پڑے تو پھر تمہاری کیا ضرورت…” ریحانہ بیگم کا پارہ صبح صبح بلند ہو رہا تھا۔
    ”معذرت باجی! کل صبح سویرے پہنچ جائوں گی آپ فکر نہ کریں۔” اس نے شرمندگی سے کہا پھر کچھ دیر خاموشی کے بعد وہ دوبارہ گویا ہوئی۔
    ”باجی جی آپ نے ابھی تک تنخواہ نہیں دی مجھے پیسوں کی اشد ضرورت ہے۔” ساتھ ہی اس نے اپنا مدعا بھی بیان کیا کہ بیگم صاحبہ نے ابھی کچھ دیر میں تیار ہوکر چلے جانا ہے اور پھر اسے تنخواہ نہیں ملنی۔
    ”کوثر تمہیں کل بھی بتایا تھا کہ میں آج کل بہت مصروف ہوں ،سوشل ویلفیئر سوسائٹی کی جانب سے پانچ روزہ ورک شاپ چل رہی ہے جس میں شرکت کے لیے، دوسرے شہروں سے اور باہر سے بھی مہمان آئے ہوئے ہیں ،میں کچھ دن میں فارغ ہوجائوں تو تمہارا حساب کر دوں گی۔” ریحانہ بیگم نے وہی کل والی بات دُہرائی تھی۔
    ”ماما مجھے یہ والے شوز نہیں پہننے۔ آپ کو کہا بھی تھا وہ بلیک والے شوز نکال دیں جو بابا شارجہ سے لائے تھے۔” لائبہ جو کالج جانے کے لیے جلدی جلدی تیار ہورہی تھی آف موڈ کے ساتھ بولی،وہ جو مزید کچھ کہنا چاہتی تھی پھر وہیں چپکی رہ گئی ۔
    ”اچھا رکو! میں کوثرسے کہہ دیتی ہوں وہ نکال دے گی بیٹا میں نے تو بہت ڈھونڈے مجھے نہیں ملے۔” کوثر جائو ذرا لائبہ کی الماری میں جہاں شوز رکھے ہوئے ہیں وہاں سے بلیک کلر کے شوز ڈھونڈ دو ورنہ اس لڑکی نے کالج نہیں جانا۔”
    ”اچھا بی بی! میں دیکھتی ہوں۔کوثر نے لائبہ کے کمرے میں آکر الماری کھولی اور پھر پندرہ منٹ اسے لائبہ کا مطلوبہ جوتا ڈھونڈنے میں لگ گئے، یوں لگتا تھا جیسے جوتوں کا کوئی بازار ہو، کچھ کھلے پڑے تھے۔ کچھ ڈبوں میں بند اور کچھ جو پرانے ہو چکے تھے وہ یوں ہی بکھرے پڑے تھے۔ لگ بھگ دس پندرہ نئے پرانے جوتوں کے جوڑے تھے۔ کوثرنے پہلے بھی یہ سب کچھ دیکھا ہوا تھا مگر آج نہ جانے کیوں اس نے پہلی بار غور سے دیکھا بھی اور گنا بھی اور پھر ایک سرد آہ اس کے منہ سے نکلی۔
    ٭…٭…٭
    ”ابا دوا کھالو۔” جھاڑو اور برتنوں سے فارغ ہو کر اس نے پانی کا گلاس اور دوائی باپ کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔ وقت اور حالات نے اس معصوم بچی سے اس کا بچپن چھین لیا تھا وہ وقت سے پہلے بڑی ہوچکی تھی جو عمر اس کے کھیلنے کی تھی وہ اسے گھر کے کام اور حالات کو جھیلنے میں گزر رہی تھی۔
    ”اچھا ابا! میں ذرا باہر جارہی ہوں ،موچی سے چپل مرمت کروا لاؤں جلد ہی آجائوں گی۔ اگر زیادہ کھانسی آئے تو تم یہ دوا ضرور پی لینا۔” مُنی نے باپ کے سامنے دوا رکھتے ہوئے کہا۔
    ”ایک پائوں میں چپل پہنے اور دوسری میں ٹوٹی ہوئی چپل تھامے وہ گھر کی دہلیز سے باہر نکلی تھی۔ دروازے کے دونوںپٹ برابر کر کے اس نے باہر سے کنڈی چڑھائی اور پھر تنگ سی گندی گلی سے گزری جہاں کوڑے کے ڈھیر لگے ہوئے تھے۔ اونچے نیچے راستوں پر اس نے قدم بڑھانے شروع کردیے۔
    دھوپ کی شدت اور جلتی ریت نے جلد ہی اسے اس بات کا احساس دلا دیا کہ اس کے ایک پائوں میں چپل نہیں ہے مگر پھر بھی چہرے پر بے فکری اور مسکراہٹ سجائے وہ اپنی ہی دھن میں چل رہی تھی۔ تعفن زدہ گلی کی آخری نکڑ پر پہنچ کر اس نے ہاتھ میں پکڑی ٹوٹی چپل پائوں میں اُڑس لی اور پھر چوڑی کشادہ سڑک کے ساتھ بنے فٹ پاتھ پر جس کے ساتھ بڑی بڑی دکانیں اور اسٹور بنے ہوئے تھے وہ خود کو قدرے گھسیٹ کر چلنے لگی ۔سڑک پر ٹریفک کا اژدحام تھا ،چارطرف سے آنے والی گاڑیاں، رکشے، موٹر سائیکلیں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش میں تھے۔
    خود کو تقریباً گھسیٹتے ہوئے وہ دو رویہ سڑک کے کنارے پر آئی کیوں کہ اسے سڑک پار کر کے دوسری طرف جانا تھا۔ بیچ سڑک پر تیزی سے گزرتی موٹر سائیکلوں ،رکشوںاور گاڑیوں کا بے ہنگم شور سماعتوں پر خاصا گراں گزر رہا تھا ۔فٹ پاتھ سے روڈ پر قدم رکھتے ہی اس نے تیزی سے آتی جاتی گاڑیوں کی طرف دیکھا اور جیسے ہی تھوڑا فاصلہ محسوس کیا تو چپل گھسیٹتے ہوئے روڈ پر آگئی۔ اچانک اسی لمحے ایک تیز آتی ہو ئی موٹر سائیکل نے اسے زور سے ہٹ کیا اور وہ دور فٹ پاتھ سے ٹکراتی ہوئی منہ کے بل جاگری۔ دوسری سمت سے آتی ہوئی گاڑی نے اس کی ٹانگوں کو کچل ڈالا ۔ ٹوٹی ہو ئی چپل پائوں سے نکل کر کہیں دور جاپڑی اس نے بہ غور دیکھا۔ درد کی انتہاؤں میں اسے محسوس ہوا کہ شاید ٹوٹے ہوئے چپل اس کے ٹوٹے پھوٹے پاؤں کی طرف دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔
    افلاس کی بستی میں ذرا جا کر تو دیکھو
    وہاں بچے تو ہوتے ہیں مگر بچپن نہیں ہوتا

    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • یہ راہ مشکل نہیں — عائشہ احمد

    یہ راہ مشکل نہیں — عائشہ احمد

    اﷲ پاک نے دنیا کو ایسے ہی نہیں بنایابابا، آدم کو بنانے کے بعد اماں حوا کو پسلی سے پیدا کرنا کوئی معمولی بات نہیں اور پھر ابلیس کا سجدے سے انکار کرنے میں بھی اس ربِ کائنات کی کوئی مصلحت چھپی تھی۔ آدم اور حو ا کو زمین پر بھیجنا بھی بے وجہ نہیں تھا۔ آدم اور حوا کو نیکی اور برائی کا راستہ بتا کر انہیں دنیا میںجینے کا طریقہ اور ساتھ ہی حلال اور حرام کا فرق بھی سمجھا دیا گیا تھا۔
    ٭…٭…٭
    کومل کی طبیعت سنبھلنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ تنویر ہر جگہ اس کو لے کر گیا لیکن ڈاکٹر ز کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ بیماری کیا ہے۔ کومل مشہور بزنس مین تنویر کی اکلوتی بیٹی ہے۔ اس لیے تنویر کی جان اس میں تھی۔ ایک دن اس نے گردے میں درد کی شکایت کی۔ ڈاکٹرز نے وہ عام سا درد بتایا لیکن اس کے بعد کومل کی طبیعت ٹھیک نہیں ہوئی۔
    وہ ملک کے ہر بڑے ڈاکٹر کے پاس گیا لیکن کوئی بھی اس کی بیٹی کا علاج نہیں کر پایا۔ اس وقت بھی وہ ایمرجنسی وارڈ میں تھی۔ اسے سانس لینے میں دشواری ہورہی تھی۔ ڈاکٹر نے اسے مصنوعی سانس کی نالی لگائی ہوئی تھی۔ شیشے کے پار وہ اپنی بیٹی کو زندگی اور موت کی کشمکش میں دیکھ رہا تھا لیکن بے بس تھا۔ بیٹی کے لیے چاہ کر بھی کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ جب اس کی بیوی فوت ہوئی تب کومل دس سال کی تھی لیکن بیٹی کی خاطر اس نے دوسری شادی نہیں کی۔ حالاں کہ کئی خوب صورت لڑکیاں اس سے شادی کی خواہش مند تھیں مگر اس نے سب پر کو مل کو ترجیح دی۔ اب کومل کی بیماری نے اسے پریشان کر کے رکھ دیا تھا۔ کوئی ایسا اسپتال نہیں تھا جہاں وہ اسے نہ لے کر گیا ہو لیکن ڈاکٹرز اس کی بیماری سمجھ نہیں پارہے تھے۔ وہ پیسہ پانی کی طرح بہا رہا تھا لیکن کوئی افاقہ نہیں ہوا۔ اس کے دوست نے اسے امریکا جانے کا مشورہ دیا۔ وہ کومل کو لے کر امریکا بھی گیا لیکن اُس کی حالت جوں کی توں تھی۔
    ”پاپا جانی کیا میں مر جائوں گی؟” کومل کے اس سوال پر وہ تڑپ کر رہ جاتا۔
    ”نہیں پاپا کی جان…! ایسا کچھ نہیں ہوگا۔” وہ اسے تسلی دیتا لیکن حقیقت میں یہ ایک فریب تھا جو نہ صرف وہ کومل بلکہ خود کو بھی دے رہا تھا۔
    ٭…٭…٭
    تنویر کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو مٹی کو بھی ہاتھ لگائیں تو سونا بن جائے۔ اس نے اپنے کام کا آغاز ایک چھوٹی سی کیمیکل فیکٹری سے کیا تھا اور آج اس کا کاروبار نہ صرف پورے ملک میں پھیلا تھابلکہ غیر ملکی سطح پر بھی اس کا نام تھا اور حکومتی سطح پر ملنے والے ٹھیکے بھی تنویر کیمیکلز گروپ آف کمپنیز کو ملتے جس کے لیے تنویر ہر جائز اور ناجائز ہتھکنڈے استعمال کرتا۔ رشوت بھی دیتا اوریوں وہ ہر کنٹریکٹ حاصل کر لیتا۔ اس بات پر اس کی اپنی بیوی سے لڑائی رہتی۔ وہ ہمیشہ اسے کہتی کہ اتنی دولت کیا کرنی ہے، ایک ہی تو بیٹی ہے ہماری لیکن تنویر پر ایک ہی دھن سوار تھی۔ اس کی بیوی کینسر میں مبتلا ہوکر اس دنیا سے چلی گئی لیکن تنویر نے پھر بھی ہوش کے ناخن نہ لیے۔
    ٭…٭…٭
    کومل کی بیماری روز بہ روز بڑھتی جا رہی تھی اور تنویر کو کوئی راہ سجھائی نہیں دے رہی تھی اس کے ایک دوست نے اسے ایک بزرگ کا پتا بتایا اور کہا کہ اس کے پاس چلے جائو، اس کی دعا میں شفا ہے۔تنویر کومل کو ساتھ لیے اس بزرگ کے پاس پہنچ گیا۔ انہوں نے کومل کو دیکھا جو سوکھ کر کانٹا ہوگئی تھی۔بزرگ کافی دیر کومل کو دیکھتے رہے تنویر کے چہرے پر بے چینی نمایاں تھی۔ اسے یقین تھا کہ اس بزرگ کی دعا سے کومل ٹھیک ہو جائے گی۔
    ”بابا جی میری بیٹی ٹھیک ہو جائے گی نا؟ سنا ہے آپ کی دعائوں میں بڑا اثر ہے۔” تنویر بے تابی سے بولا۔بزرگ نے اسے غور سے دیکھا، ان کے چہرے پر دھیمی سی مسکراہٹ رینگ گئی۔
    ”بابا جی! آپ میری بات کا جواب دینے کے بجائے مسکرا رہے ہیں۔” تنویر مایوسی سے بولا تو بزرگ اسے چند لمحے دیکھتے رہے پھر بولے:
    ”میں اس لیے مسکرایا ہوں کہ انسان دوسرے انسانوں پر کتنا یقین رکھتا ہے، لیکن جو ذات اسے دنیا میں لانے کا وسیلہ بنتی ہے،اسے دنیا کی ہر آسائش مہیا کرتی ہے اس پر کبھی اعتبار نہیں کرتا، اس سے مدد نہیں مانگتا۔ اس سے دعا اور شفا کی امید نہیں رکھتا۔” بابا جی کومل کی طرف دیکھتے ہوئے بولے۔
    ”ماں، باپ کے کیے کی سزا ہمیشہ اولاد کو ملتی ہے لیکن ماںباپ کو اس بات کااحساس نہیں ہوتا۔” وہ تو بس دنیا کی دوڑ میں لگے ہوتے ہیں۔بابا جی بغیر رکے بولے۔
    ”لیکن بابا جی میں نے کبھی کچھ ایسا غلط نہیں کیا۔ کبھی کسی کو دکھ نہیں دیا۔ہمیشہ دوسروں کا خیال رکھتا ہوں۔ صدقہ خیرات تو بہت زیادہ کرتا ہوں۔” پھر میرے اوپر ایسی مصیبت کیوں آئی؟ پہلے بیوی چھوڑ کر چلی گئی اور اب بیٹی کو لمحہ لمحہ موت کی طرف بڑھتا دیکھ رہا ہوں۔” تنویر رو دیا تھا۔
    ”حرام کھانا چھوڑ دے ،تیرے سارے مسئلے حل ہوجائیں گے۔” بزرگ نے کہا تو تنویر کے ساتھ کومل بھی چونک گئی۔ تنویر پھٹی پھٹی نظروں سے بزرگ کی طرف دیکھ رہا تھا جیسے انہوں نے کوئی بم پھوڑ دیا ہو۔
    ”بابا جی…”تنویر تھوک نگلتے ہوئے بولا۔
    ”جس بدن میں حرام مال کی آمیزش ہو جائے اس کی دعا قبول نہیں ہوتی بیٹا، پھر چاہے جتنا مرضی صدقہ خیرات کر لے،جتنا مرضی اﷲ کی راہ میں خرچ کرلے لیکن وہ قبول نہیں ہوتا میرے بچے۔” بزرگ نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا۔ تنویر نظریں نیچی کیے یہ سب سُن رہا تھا۔ وہ بزرگ سے نظریں نہیں ملا پا رہا تھا۔ کومل بھی دبی دبی آواز میں رو رہی تھی۔
    ”یہ دنیا انسان کے لیے ایک امتحان گاہ ہے جسے عبو کرنے کے لیے آگ کا دریا پار کرنا پڑتا ہے اور کام یابی اسے ہی ملتی جو اﷲ کے بتائے ہوئے راستے پر چلتا ہے اور اﷲ کے بتائے ہوئے راستوں میں سے ایک راستہ حلا ل ہے۔ یہ راہ مشکل نہیں ہے بیٹا! بس اپنا نفس مارنا پڑتا ہے۔” تنویر نے سر اوپر کیا تو اُس کا چہرہ آنسوئوں سے تر تھا۔

    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • متحیر — لبنیٰ احمد

    متحیر — لبنیٰ احمد

    ”میرا بیٹا ماشاء اللہ بہت خوبصورت ہے۔”
    ”جی جی ماشا اللہ۔”
    اُن کے پانچویں بار دہرانے پرمیرا جواب بھی مختلف نہ تھا۔ ”وہ بڑا ہوکر آرمی آفیسر بنے گا۔ کہتا ہے ملک سے تمام دہشت گردوں کا خاتمہ کردوں گا اور اماں تمہیں سلیوٹ کیا کروں گا ہر صبح یہی بس خواہش ہے۔”
    ”اچھی بات ہے اماں جی۔” میں نے پھیکی مسکراہٹ سے جواب دے کر اپنی بیٹی زروا کو ایک بازو سے دوسرے پر منتقل کیا۔
    ”میرا چاند” اب اماں خود کلامی کررہی تھیں۔
    میں اس وقت شہر کے مشہور چائلڈ اسپیشلسٹ کے کلینک میں موجود تھی اور اپنی بیٹی کے چیک اپ کاانتظار کررہی تھی۔ پچھتر نمبر ٹوکن ملا تھا جب کہ چونتیسواں نمبر چیک اپ کروانے میں مصروف تھا۔ خاصے معروف ڈاکٹر تھے۔ ویٹنگ روم میں خوبصورت کرسیوں کی قطاریں اور لوگوں کا ہجوم شدید سردی میں ہر بچہ ہی متاثر تھا۔ سامنے اسکرین پر بچوں کے پسندیدہ کارٹون ٹام اینڈ جیری چل رہے تھے اور میرے ساتھ بیٹھی خاتون بے حد باتونی تھیں اُن کا نمبر چھہتر تھا۔ اپنے بیٹے کے چیک اپ کے لیے آئی تھیں جو ایک طرف بنے پلے ایریا میں کھیلنے میں مصروف تھا۔ زروا مجھے شدید پریشان کررہی تھی۔ بخار اور سردی کی وجہ سے بے تحاشا چڑچڑی ہوگئی تھی۔ مجھے دو منٹ کھڑے اور دو منٹ اُس کی فرمائش پر بیٹھنا پڑ رہا تھا جس سے بے انتہا کوفت محسوس ہورہی تھی لیکن گیارہ ماہ کی بیمار بچی سے میں ایسی توقع ہی رکھ سکتی ہوں۔
    ”سات سال کا ہوجائے گا اگلے ماہ میرا ایشان۔” جیسے ہی میں بیٹھی اماں جی کا ایشان نامہ پھر سے شروع ہوگیا۔ ”یہ دیکھو پچھلے سال ٹرافی جیتی ہے اس نے اپنے اسکول میں سب سے بہترین مقرر کی۔” آئی فون پر اگلی تصویر میری نظر کے سامنے کرتے انہوں نے کہا۔
    اب کے میں نے قدرے غور سے دیکھا سات سال کا گول مٹول سا بچہ جو کہ بے حد چمک دار آنکھوں کے ساتھ اپنے اساتذہ کے ہمراہ ٹرافی لیے کھڑا ہے۔
    ”بہت شان دار اللہ اُسے اور کامیابیاں دے۔” میں نے اماں جی کا جوش اور ولولہ دیکھ کر دل سے دعا کی۔
    ”تمہیں پتا ہے ایک بار بچپن میں۔” میری دلچسپی دیکھتے ہوئے وہ ایشان کا کوئی بچپن کا غیر اہم واقعہ لے کر بیٹھی گئیں صد شکر مجھے اپنے خاوند آتے دیکھائی دیے میں زروا کو انہیں دے کر ریلیکس ہوکر زنانہ انتظار گاہ میں پھر سے جا بیٹھی۔
    اماں جی نے مجھے دوبارہ آتے دیکھا، تو خوشی سے اُن کی باچھیں کھل گئیں۔ سائیڈ اسکرین پر باسٹھ نمبر روشن تھا۔ بس کچھ دیر اور…
    ”میرے ایشان کو دال چاول بہت پسند ہیں۔ اُس کے فیورٹ کھیل فٹ بال اور والی بال ہیں۔” ایشان کا ہیئر اسٹائل اُس کا لباس اور وہ کتنا صفائی پسند ہے۔ اس کے آئیڈیل راحیل شریف ہیں، ایوب خان کے دور کی فوجی موویز دیکھتا ہے۔ اُس کی اصول پسند طبیعت۔ اُس کا نرم مزاج۔” یہ ماں تو اپنے بیٹے کی دیوانی لگتی تھی۔
    ”میرے ایشان نے اُس روز مجھے کہا تھا اماں دعا کرنا میرا ٹیسٹ ٹھیک ہوجائے۔ اگر ٹیسٹ میں مارکس کم آئے تو میرا فلو اور زکام جس کی وجہ سے میں اچھی تیاری نہیں کرسکا شاید کبھی ختم نہ ہو۔” اسکرین پر چوہتر نمبر کی بپ ہوئی۔
    ”اوہ اچھا اماں جی آپ کے بیٹے کو فلو اور زکام ہے۔ اللہ بہتر کرے نظر نہیں آرہا ہے کہاں ہے وہ؟”
    میں نے سوالیہ نظروں سے اُن کی طرف دیکھا مجھے حیرت بھی ہوئی کہ اتنا پیار جتا رہی ہیں اور بیٹے کو کھیلنے کے لیے پلے ایریا میں بھیجا ہوا ہے بہ جائے اپنے پاس بٹھانے کے۔ میں نے ایک نظر دور کھیلتے بچوں کو دیکھا۔ اماں جی کے کچھ کہنے سے پہلے میڈیکل اٹینڈنٹ نے زروا کے نام اور نمبر کی بپ بجا دی۔ میں جلدی سے شیشے کے دوسرے پار کمرے میں چلی آئی جہاں ڈاکٹر صاحب نے ہر مریض کی طرح مجھے بھی تسلی دیتے ہوئے دواؤں کا پلندہ تھما دیا۔
    امید کا دامن پکڑے اپنی بیمار بیٹی کو لیے جب میں باہر آئی تو اماں جی اور میڈیکل اٹینڈنٹ کے درمیان بحث چل رہی تھی۔ میرے خاوند میڈیکل کارنر سے دوائیں لے رہے تھے۔ میں زروا کو اُٹھائے چپکے سے وہاں چلی آئی۔
    ”اماں جی کیوں اپنا اور ہمارا ٹائم ضائع کررہی ہیں۔ بُلائیں آپ کا بیٹا ہے کہاں؟ بیٹا اُس نے فون پر کہا تھا اُسے فلو ہے۔ ٹیسٹ تھا اُس کا مگر لوگ کہتے ہیں سولہ دسمبر کو تمہارا بیٹا شہید ہوگیا تھا۔”
    میرے دل پر ایک دھچکا سا لگا اور میں پچھلی کہانی پر ہکا بکا سی رہ گئی۔ اُسی لمحے میرے شوہر نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اپنی طرف متوجہ کیا اور میں اُن سے مزید کچھ کہے سنے بغیر بوجھل قدموں سے باہر کی جانب چل دی۔

    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • دیکھ تیرا کیا رنگ کردیا ہے —- فہمیدہ غوری

    دیکھ تیرا کیا رنگ کردیا ہے —- فہمیدہ غوری

    آج کل کراچی کے شہری سڑکوں ،راستوں سے گزریںتو ارد گردکی بے چاری فضائیں پکار پکار کر کہہ رہی ہوتی ہیں ۔
    دیکھ! تیرا کیا رنگ کر دیا ہے
    ”خوشبو” کا جھونکا تیرے سنگ کر دیا ہے
    عالمگیر کا یہ آفاقی گیت تو آپ نے بھی سنا ہوگا ۔کراچی کی گلیوں کے تعفن زدہ ماحول دیکھتے اور سونگھتے ہی یہ گیت خود بہ خود زبان پر آجاتا ہے ۔امر واقعہ یہ کہ کراچی میں کچرے کے ڈھیر لگ چکے ہیں کوئی صاحب ِخوش گمان چاہے تو بڑی آسانی سے گینز بک آف ورلڈ میں یہ” کارنامہ ‘ ‘ درج کرواسکتا ہے۔ میڈیا بار بار گندے نالے دکھا کر حکومت کی توجہ اس طرف مبذول کروا تا رہتا ہے، مگر مجال ہے جو صاحبان ِ اقتدار کے کان پرجوںتک رینگتی ہو ۔
    کچرے کے ڈھیر ،ابلتے ہوئے گٹر ، پھٹی ہوئی پائپ لائنز زبان ِ حال سے اپنا دُکھڑا سنا رہی ہوتی ہیں۔سر کار تو سرکار ،عوام کی بھی کوئی کل سیدھی نہیںلگتی ۔گلیوں میں کچرا پھینکنا تو یوں عام ہے کہ گویا لوگ اسے اپنا پیدائشی حق تصور کرتے ہیں ۔حالاں کہ اس کے مُضر اثرات سے سبھی واقف ہیں ،لیکن پھر بھی گھروں کی صفائی کرکے دوسروں پراپنا گند پھینکنے جیسی کمینی حرکت سے لوگ بازنہیں آتے ۔
    ابھی پچھلے جمعے کی بات ہے ۔بڑے بھائی جان نیا نکور کورے لٹھے کا سفید براق کرتا پاجامہ پہن کر نماز ادا کرنے چلے۔ ابھی کچھ دور ہی گئے ہوں گے کہ راہ چلتے کسی نے اوپر سے ڈائپر والا بھرا شاپر پھینک دیا ،پکا فوجی نشانہ تھا۔ سیدھا بڑے بھائی جان کے سر پر آکر پھٹا۔ بے چارے بھائی کسی کو منہ دکھانے کے قابل بھی نہ رہے۔
    سرکار اور عوام دونوں نے مل کر اس روشنیوں کے شہر کو اندھیرے میں دھکیل دیا ہے۔کوئی ایسا مرد جرّی ،کوئی ایسا صلاحیت والا انسان اللہ اس شہر کو دے کہ دنیا دوبارہ کراچی کو عروس البلا د کہہ سکے۔
    صفائی کے بعد کراچی کا دوسرابڑا مسئلہ پانی ہے …جی ہاں!پینے کا صاف پانی۔
    سنا ہے زمانہ قدیم میں کراچی میں سڑکیں دُھلا کرتی تھیں۔ہمیں تو یہ سوچ کر ہی اتنی خوشی ہو رہی ہے گویا تب یہاں پانی وافر مقدار میں میسر تھا۔لیکن اب سڑکیںبے چاری خاک دھلیںگی؟کہ اب توشاید واٹر بورڈ والوں کے پاس چُلو بھر پانی بھی نہ ہو۔چلو اور کچھ نہیں تو بندہ ڈوب ہی مرے ۔
    ابھی چند دن پہلے کی بات ہے ۔چچا میاں کے منجھلے بیٹے کا ”بر دکھوا ”تھا ۔بر دکھوا منہ دکھانے کو کہا جاتاہے۔یعنی رشتہ طے کرنے سے قبل لڑکی والے دیکھنے اور فیصلہ کرنے آتے ہیں کہ یہ منہ ان کی بیٹی کے قابل ہے بھی یا نہیں۔چچا میاں کے منجھلے بیٹے کا بر دکھوا تھا۔مہمانوں کی آمد آمد تھی ۔ ابا میاں کے شور کرنے پر منجھلے بھیا نہانے چلے گئے ۔اتنے میں سسرالیوں کی آمد بھی ہوگئی۔
    پُرجوش استقبال کیا گیا۔چائے پانی اور دیگر لوازمات ان کے سامنے سجا دیئے گئے ۔ایسے میں اچانک ،شور اُٹھاکہ ”دولہا میاں” کو بلایا جائے۔زور زور سے غسل خانے کا دروازہ پیٹا گیا۔اندر سے بھائی میاں کی مریل سی فریاد سنائی دی۔
    ”پانی…پپ…پانی ۔” گویاعین وقت پر پانی دغا دے گیا اور بھائی میاں کے سرپر لگے خضاب نے ان کی آنکھیں اندھی اور منہ کالا کر دیا تھا۔بے چارے اب منہ دکھاتے بھی توکیسے…؟ کراچی کی تاریخ اس قسم کے” عظیم واقعات” سے بھری پڑی ہے ۔
    کراچی کا تیسرا بڑا مسئلہ لوڈشیڈنگ ہے ۔ گزشتہ بقراعید کا یہ ”درد ناک” قصہ ہے۔ ہم لوگ قربانی سے فارغ ہوئے تو کلیجی ،گردوں کی دعوت ِشیراز اڑانے کے بعد اماں اور آپا نے بڑی ہی ایمان داری اور وضع داری سے سارے محلے میں گوشت، ہڈیاں اور چھیچھڑے برابر تقسیم کیے، پھرپانچ کلو چانپیں، پانچ کلو تکے کی بوٹیاں ،ڈھائی کلو قیمہ اور بھیا کے سسرال سے آئے بکرے کے پائے ڈیپ فریزر میںرکھ دیئے۔لیکن یہ کیا ؟لمبے عرصے کے لیے بجلی چلی گئی ۔
    اماں جی کے تو گویااوسان ہی خطا ہوگئے۔انہوںنے ادھر اُدھر کافی فون کھڑکائے کہ کوئی محلے دار ،کوئی رشتہ دار ہمارا گوشت اپنے ہاں چند دن کے لیے رکھ لے،مگر کہاں جی …شرافت کا تو زمانہ ہی نہیں رہا ۔سب نے صاف انکار کردیا ۔اگلے دن اماں بے چاری غریبوں میں سری پائے تقسیم کرکے ثواب دارین حاصل کرتی رہیں ۔ ساتھ ساتھ لوڈشیڈنگ کے ذمہ داروں کو کھری کھری سناتی رہیں۔اس قدر ظالم ہیں یہ حکمران ذرابھی انہیں اپنے دیس اور عوام کے مسائل کا ادراک نہیں ہے ،پھر کراچی بے چارہ تو ویسے بھی ان سب کے لیے تختہ مشق بنا ہوا ہے ۔
    مسائل تو کراچی کے اور بھی بہت ہیں ،دل کرتا کہ ساری گانٹھیں آج ہی کھول دوں ، لیکن ہمارے مضمون سے کون سا کسی کے سر پر جوں رینگنی ہے ۔سو اپنا خون جلانا یہیں بند کرتے ہیںاور کراچی بے چارے کو صرف یہی کہتے ہوئے رخصت چاہتے ہیں کہ :” دیکھ! تیرا کیا رنگ کردیا ہے ”
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • تم میرا نصیب نہ تھے — سلمیٰ خٹک

    تم میرا نصیب نہ تھے — سلمیٰ خٹک

    وہ دونوں انگلینڈ کے ایک دور دراز ساحل سمندر پر چٹائی پر بیٹھے ہوئے تھے۔سامنے اُن کے بچے پانی میں کھیل رہے تھے۔ سیاحوں کے لیے وہ دونوں بھی توجہ کا مرکز تھے۔ جوزف گورا چٹا، نیلی آنکھوں اور لمبے قد والا کسرتی بدن کا مالک، آدھی آستینوں والی سفید شرٹ اور جینز میں پاؤں پھیلائے اپنی کہنیوں پر ٹکا ہوا نیم دراز تھا۔ اس کے ساتھ نور تھی۔ پوری آستینوں کی ڈھیلی ڈھالی شرٹ، ساتھ میں لمبا سکرٹ اور اپنا پورا سر سکارف میں چھپائے ہوئے تھی۔ اس نے بڑی سن گلاسز لگائی ہوئی تھیں اور جوزف کے سامنے سمٹ کر ایک طرف چٹائی پر بیٹھی ہوئی تھی۔
    ”نائس کپل!” (اچھی جوڑی ہے) ایک معمر جوڑے نے نزدیک سے گزرتے ہوئے انہیں دیکھ کر کہا اور مُسکرا کر آہستہ آہستہ آگے چل دیئے۔
    ”تھینک یو!” جوزف نے مسکرا کر کہا۔
    ”وہ ہمارے بچے ہیں۔” اُس نے معمر جوڑے کو بچوں کی طرف اشارہ کرکے بتایا۔ وہ دونوں بڑی حیرت سے اُن چار بچوں کو دیکھنے لگے۔ دو لڑکے اور دو لڑکیاں، لیکن ایک لڑکا اور لڑکی بالکل گورے جب کہ دوسرے دو گندمی رنگت کے مگر بے حد خوب صورت بھوری آنکھوں والے بچے تھے اور گورے تو کالی اور بھوری آنکھوں پر مر مٹتے ہیں۔
    ”خوش رہو!” عورت نے انہیں دعا دی اور اپنے بوڑھے شوہر کا ہاتھ پکڑ کر آہستہ آہستہ ریت پر ان سے دور چل دی۔
    ”اب بھی کہتا ہوں، شادی کر لو مجھ سے، ہم دونوں ہی خوش رہیں گے اور ہمارے بچے بھی۔” جوزف نے نور کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
    ”جوزف! تم باز نہیں آؤ گے۔”
    نور نے قدرے خفگی سے کہا۔
    اس نے بچوں کو آواز دی اور قریب پڑے باسکٹ سے سینڈوچز اور جوس کے ڈبے نکالنے لگی۔ بچے چیختے ہوئے اکٹھے جوزف کے اوپر دور سے دوڑتے ہوئے چڑھ دوڑے اور وہ ”ہائے میں مر گیا” اور ”بچاؤ بچاؤ اِن چھوٹے شیطانوں سے مجھے بچاؤ” چلاتے ہوئے ایک ایک کو پکڑنے لگا۔
    نور مسکراتے ہوئے یہ سب دیکھ رہی تھی۔ سب کچھ کتنا مکمل اور اچھا لگ رہا تھا مگر اس کے دل میں ایک ہوک سی اُٹھی کہ یہ تو بالکل اُلٹ تھا۔ کچھ بھی تو مکمل نہیں تھا اُس کی زندگی میں۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    دور سمندر پار سورج ایک بہت بڑے سونے کے تھال کی مانند دکھائی دے رہا تھا جو آہستہ آہستہ پانی میں اُترنے کی تیاری کررہا تھا۔ نور نے سامان سمیٹا، چٹائی لپیٹی اور جوزف نے بچوں کو اپنے آپ کو خشک کرنے کے لیے الگ الگ تولیے دیئے اور انہیں جوتے پہنانے میں مدد کرنے لگا۔
    وہ لوگ ساحل سمندر سے پندرہ بیس منٹ کے فاصلے پر رہتے تھے۔ یہ انگلینڈ کا ایک خوب صورت اور پُرسکون قصبہ تھا۔ یہ علاقہ زیادہ تر ریٹائرڈ اور عمر رسیدہ لوگوں کا مسکن تھا جو ساری عمر بڑے شہروں کے شور و غل میں مشینی زندگی گزارنے کے بعد اپنے آخری ایام آرام و سکون سے گزارنے کی خواہش میں یہاں رہتے تھے۔ بچے ان کے گھونسلوں سے اُڑ چکے تھے اور اُسی مشینی زندگی کے سائیکل میں جتے ہوئے تھے، جس میں اُن کے والدین عمر گزار چکے تھے۔ وہ کبھی کبھار اپنے بوڑھے والدین کو سال گرہ، کرسمس پر شکل دکھا جاتے تھے ورنہ تو کونسل کی طرف سے صفائی والا، دوائی دینے والی نرس اور یہاں تک کہ تین وقت کا کھانا بھی انہیں کوئی آکر دے جاتا تھا۔ ایسے قصبے میں رہنے کا فیصلہ اُس نے اِسی لیے کیا تھا کہ اپنے ہم وطنوں سے دور رہ سکے اور اُس کے خاندان والے اُس تک پہنچ نہ پائیں۔ وہ سب سے ناطہ توڑ کر، پاکستان سے بڑی رازداری سے اور چھپ کر بچوں کے ساتھ انگلینڈ آئی تھی اور یہاں اس نے پناہ کے لیے درخواست دی جو منظور ہوگئی تھی۔ اس کی ڈگریاں اُس کے بہت کام آئی تھیں۔ اس نے جس سکول میں بچوں کو داخل کروایا تھا، اُس کی پرنسپل نے از راہِ ہم دردی اُسے ”ٹیچنگ اسسٹنٹ” کے طور پر رکھ لیا تھا۔ وہ کلاس ٹیچر کا ہاتھ بٹاتی تھی۔ کبھی بچوں سے سبق سنتی تو کبھی ڈرائنگ کی کلاس کے لیے بچوں کو پنسل کاغذ پکڑاتی، کلاس روم کے چھوٹے چھوٹے کام اس کے ذمہ تھے۔ تنخواہ کم تھی مگر گزارہ ہو رہا تھا۔ گھر اُسے کونسل نے دیا تھا۔بچوں کی تعلیم مفت تھی تو صرف کھانے پینے کا خرچہ ہی تھا۔ جوزف سے ملاقات بھی بڑی یادگار تھی۔
    ٭…٭…٭
    جیسے ہی ٹیکسی اُس کے بتائے ہوئے پتے پر پہنچی، وہ اور بچے اُتر کر سامنے چھوٹے سے گھر کو دیکھنے لگے۔ سرخ اینٹوں سے بنا ہوا گھر بالکل چھوٹا سا ”گڑیا کا گھر” معلوم ہو رہا تھا۔ اس کے سامنے چھوٹا سا سبزے کا پلاٹ تھا جس کی گھاس کافی بڑھ چکی تھی۔ سامنے سرخ دروازہ تھا۔ ٹیکسی والے نے اُس کے دو بڑے سوٹ کیس نکالے اور نور نے اُسے کرائے کے پیسے پکڑائے۔ اس نے ٹیکسی والے سے نزدیکی بازار کا پوچھا تو اُس نے بتایا کہ یہ چھوٹا سا قصبہ ہے۔ تقریباً دس بارہ منٹ کی مسافت پر چھوٹا سا بازار ہے جب کہ ساتھ والی گلی کے نکڑ پر ایک چھوٹا سا سٹور ہے جس میں ضرورت کی ہر چیز مل جاتی ہے۔ وہ اس کا شکریہ ادا کرکے سوٹ کیس دروازے کے پاس لانے لگی۔ بچوں کو بھوک لگی ہوئی تھی۔ وہ جتنے پیسے پاکستان سے لائی تھی وہ اُس نے ایئرپورٹ سے پاؤنڈ میں تبدیل کروا لیے تھے جو بڑی تیزی سے ختم ہورہے تھے۔ برمنگھم ایئرپورٹ سے نکل کر وہ اپنی ایک سکول کی سہیلی کے گھر گئی تھی جہاں دس بارہ دن گزارنے کے دوران اُس نے خاندانی دشمنی اور اپنی اور بچوں کی جان کو خطرہ بتا کر انگلینڈ میں پناہ کے لیے درخواست دی تھی۔ جب اُسے اس دور دراز علاقے میں گھر کی آفر کی گئی تو اُس کی درخواست پر کام آسانی سے ہوگیا اور اب برمنگھم سے پانچ گھنٹے ٹرین کی مسافت کے بعد اور ٹرین سٹیشن سے ٹیکسی میں گھر آنے کے بعد بچوں کو زوروں کی بھوک لگی ہوئی تھی۔ وہ دروازے پر ہی چیخ رہے تھے۔ پرس میں سے گھر کی چابیاں نکالتے ہوئے اُس نے غصے سے بچوں کو پشتو میں ڈانٹا۔ وہ غصے میں انہیں گھر کے اندر داخل ہونے کو کہہ رہی تھی اور ساتھ ہی اپنی بھی تھکاوٹ اور بھوک سے اُن کو آگاہ کررہی تھی۔
    ”میرا دماغ خراب نہ کرو تم دونوں، کچھ کرتی ہوں میں، پہلے گھر میں تو داخل ہونے دو۔ تنگ کرکے رکھ دیا ہے تم دونوں نے مجھے تم لوگوں کے لیے ہی تو یہ سب کچھ کررہی ہوں۔” وہ رو دینے کو تھی جب اچانک خوف سے اُس کے اوسان خطا ہوگئے۔ کوئی بے حد قریب سے پشتو ہی میں اُس کو مخاطب کررہا تھا۔ اُس نے تیزی سے مُڑ کر دیکھا تو اور بھی حیران و پریشان ہوگئی۔ سامنے لمبے قد کا، نیلی آنکھوں والا ایک گورا کھڑا تھا جس کی ایک ٹانگ پر پلاسٹر چڑھا تھا اور وہ چھڑی کے سہارے کھڑا تھا۔
    ”ہیلو! ذَما نُوم جوزف دے۔ ماشو مانو نہ غصہ مہ کوہ” (ہیلو! میرا نام جوزف ہے، بچوں پر غصہ مت ہو۔)
    نور کچھ بول ہی نہ سکی۔ آدھے گھنٹے بعد وہ گھر کے اندر تھی اور بچے خوشی خوشی پنیر اور ٹماٹر کے سینڈوچز کھا رہے تھے جو جوزف اپنے گھر سے بناکر لایا تھا۔ سیب کے جوس کا بڑا ڈبہ اور ساتھ میں چاکلیٹ کیک کے چار چھوٹے ٹکڑے ایک پلیٹ میں رکھے ہوئے تھے۔ اُس کے دو بچے جو نور کے بچوں کے ہم عمر لگ رہے تھے، ان دونوں بچوں کو حیرت سے دیکھ رہے تھے جو سینڈوچز اور جوس پر ٹوٹ پڑے تھے۔ جوزف خاموشی سے اُس کو تکے جارہا تھا۔ اُسے بے چینی سی ہونے لگی۔ وہ صوفے پر پہلو بدل کر بچوں سے پانی کا پوچھ رہی تھی۔ مگر وہ کہاں اُس کی سن رہے تھے، سینڈوچز کے بعد وہ لوگ اب چاکلیٹ پر ہاتھ صاف کررہے تھے۔
    ”میں ابھی آیا۔” یہ کہتے ہوئے جوزف اُٹھا اور اپنے دونوں بچوں کو بھی اُٹھنے کا شارہ کیا۔ اپنی چھڑی سنبھالتے ہوئے وہ باہر کے دروازے کی طرف بڑھا۔
    نور کو حیرت ہوئی کہ وہ اچانک اُٹھ کر کیوں چلا گیا۔ اُس نے جلدی سے دروازہ لاک کیا اور پہلی دفعہ اُس چھوٹے سے گھر کا جائزہ لینے لگی۔ نیچے چھوٹا سا لاؤنج تھا جس میں دو سیٹوں والے دو صوفے پڑے ہوئے تھے۔ ایک کونے میں چھوٹا سا چوکور میز اور چار کرسیوں والی ڈائیننگ ٹیبل تھی۔ دو کافی ٹیبل بھی پڑی ہوئی تھیں۔
    اس نے ساتھ والا دروازہ کھولا تو اسے چھوٹا سا کچن نظر آیا۔ اُسے حیرت ہوئی کہ وہاں واشنگ مشین اور فریج بھی پڑے ہوئے تھے۔ ایک طرف دیوار کے ساتھ کوکنگ رینج بھی موجود تھا۔ اوپر دیوار میں چھوٹی چھوٹی الماریاں نصب تھیں۔ اُس نے الماریاں جلدی جلدی کھول کر سرسری سی نگاہ ڈالی تو اسے کچھ برتن نظر آئے۔ اوپر کے پورشن میں دو بیڈ روم اور ایک باتھ روم تھا۔ بڑے بیڈ روم میں ایک ڈبل بیڈ اور کپڑوں کی الماری جب کہ چھوٹے کمرے میں دو سنگل بیڈز پڑے ہوئے تھے۔ بچے بھی گھر میں اوپر نیچے پھر رہے تھے مگر اب انہیں نیند آنے لگی تھی انہیں۔
    اُس نے اپنے سوٹ کیس میں سے اپنی دو گرم چادریں نکالیں اور ڈبل بیڈ کے گدے پر ڈال دیں۔ بچوں کو سویٹر اور جرابیں پہنا کر بیڈ پر لیٹنے کی تاکید کی کیوں کہ اُس کے پاس تو کمبل وغیرہ کچھ بھی نہیں تھا۔ یہ دن بھی اُس کے بچوں نے دیکھنے تھے۔ اُس کی آنکھوں میں آنسو آگئے لیکن وہ بچوں کے سامنے کم زور نہیں پڑنا چاہتی تھی، سو جلدی سے کمرے سے نکل آئی۔
    اُسے اپنا گرم کوٹ یاد آیا جو نیچے صوفے پر پڑا ہوا تھا۔
    ”چلو یہی اوڑھا دیتی ہوں۔ کل جا کر ضروری چیزیں لے آؤں گی۔”
    وہ نیچے پورشن میں آئی تو دفعتاً دروازے پر دستک ہوئی۔ اُسے یاد آیا جوزف نے آنے کا کہا تھا۔ اُس نے تھوڑا سا دروازہ کھول کر دیکھا تو وہ سامنے کھڑا تھا۔ اس کے ایک ہاتھ میں کمبل اور دوسرے ہاتھ میں چھڑی تھی جب کہ اُس کی بیٹی ساتھ میں کارن فلیکس کا ڈبہ اور ایک لیٹر دودھ کے ٹیٹرا پیک ہاتھ میں لیے کھڑی تھی۔
    ”سوری! تھوڑی دیر ہوگئی۔ یہاں قریب ہی چھوٹی سی دکان ہے ہم وہاں سے یہ چیزیں لینے گئے تھے۔” نور دروازے پر ہی کھڑی رہی۔
    ”اندر آنے دو بھئی ایک دو اور بھی کام ہیں۔” جوزف نے کہا تو نور جلدی سے پیچھے ہوئی اور انہیں اندر آنے کا راستہ دیا۔
    جوزف کی آواز سُن کر دونوں بچے بھی نیچے آگئے۔ جوزف کی بیٹی اُن سے ان کے بارے میں پوچھنے لگی جب کہ جوزف کچن کی طرف بڑھ گیا۔ کمبل اُس نے وہیں صوفے پر رکھ دیا تھا۔اُس نے فریج کا سوئچ آن کیا اور کچن کے ایک کونے میں لگے ہوئے شیلف کی طرف بڑھا۔
    ”اِدھر آؤ! یہ بٹن دیکھ رہی ہو۔ اِس کو آن کرنے سے تمہارے گھر میں سنٹرل ہیٹنگ آن ہوجائے گی۔ تمہارے سارے کمروں میں جو دیواروں کے ساتھ لوہے کی بنی ہوئی بڑی بڑی گرل سی لگی ہوئی ہیں، اِن میں سے گرم پانی گزرنے لگے گا اور کمروں کو گرم کرنے کا کام شروع ہو جائے گا۔” وہ انگریزی میں بڑی روانی کے ساتھ اُسے سمجھا رہا تھا۔
    ”اور ہاں نلکوں میں بھی گرم پانی آنے لگے گا۔” وہ اب بھی باتیں کرتے کرتے کچھ بٹنوں کو دبا رہا تھا۔
    ”بس ہوگیا! میں نے اِس میں ٹائم بھی سیٹ کر دیا ہے۔ اب رات کودس بجے کے قریب یہ ہیٹر بند ہو جایا کریں گے اور صبح پانچ بجے دوبارہ خود ہی آن ہو جایا کریں گے۔ تم لوگ جب تک اٹھو گے تو گھرگرم ہوگیا ہوگا۔ اچھا میں چلتا ہوں تم لوگ تھکے ہوگے۔ وہ سامنے پینتیس نمبر گھر ہے میرا، صبح بات ہوگی۔”
    نور ممنونیت سے اسے دیکھنے لگی۔ غیب سے کوئی فرشتہ ہی اُتر آیا تھا اُس کی مدد کرنے کو۔ وہ دروازے پر پہنچا تو نور کو یاد آیا کہ اُس نے پہلی بات پشتو میں کی تھی۔ اُس کے بعد تو وہ دونوں انگریزی میں ہی بات کرتے رہے تھے۔
    ”سنو! پشتو کیسے سیکھی ہے تم نے؟” نور نے پوچھا۔
    ”میں سوچ رہا تھا کہ تم کب پوچھو گی مجھ سے؟” وہ مسکراتے ہوئے بولا۔
    ”میں برٹش آرمی میں تھا اور دو سال افغانستان میں سروس کرتا رہا ہوں۔ چھ مہینے پہلے یہ سوغات لے کر آیا ہوں وہاں سے۔” اس نے اپنی پلاسٹر لگی ٹانگ کی طرف اشارہ کرکے کہا۔
    ”اور وہاں کے مقامی لوگوں سے کچھ نہ کچھ پشتو سیکھی ہے، مگر تم افغانی نہیں ہو۔ تمہارا لہجہ بارڈر کے اُس طرف کا ہے، یعنی پاکستان کا۔” نور حیرت سے اُس کو دیکھتی رہی اور اثبات میں سر ہلا دیا۔
    ”کسی بھی قسم کی مدد چاہیے ہو تو سامنے ہی میرا گھر ہے۔ دروازے وغیرہ اچھی طرح سے بند کرلینا۔ شب بہ خیر۔” یہ کہہ کر وہ اپنی بیٹی کا ہاتھ پکڑ کر آہستہ آہستہ سڑک کے پار بنے ہوئے اسی طرح کے چھوٹے سے ایک سرخ اینٹوں والے گھر کی طرف بڑھ گیا۔
    ٭…٭…٭
    شروع کے دن بہت کٹھن تھے۔ اپنی سہیلی کے گھر رہتے ہوئے وہ صرف برطانوی دفتر کے چکر ہی لگاتی تھی جہاں اُس کا انٹرویو ہوا تھا۔ اُسے اپنا آپ پناہ گزین بننے کا اہل ثابت کرنے کے لیے کچھ سچ، کچھ جھوٹ کا سہارا لے کر افسران کو قائل کرنا تھا۔ بچے گھر پر اس کی سہیلی کے پاس ہوتے تھے۔ جیسے ہی اُسے کونسل نے یہ چھوٹا سا گھر الاٹ کیا، اُس نے دوسرے ہی دن اپنے بیگ پیک کیے اور یہاں آگئی۔ اُس نے اپنی سہیلی کو بھی غلط پتا بتایا تھا۔ وہ کسی بھی جاننے والوں سے بہت دور چلے جانا چاہتی تھی۔
    اور اب یہاں بچوں کے ساتھ اس گھر میں، جب کہ آدھی سے زیادہ رات گزر چُکی تھی اور ڈبل بیڈ پر دونوں بچوں کے درمیان لیٹے ہوئے اور جوزف کے دیئے ہوئے کمبل اوڑھے ہوئے اسے مستقبل کی فکروں نے آگھیرا تھا۔ وہ کیا کرے گی؟ پاکستان سے نکلنے کا فیصلہ کرنے سے لے کر آج اِس وقت تک اُسے کوئی چیز یاد نہیں تھی۔ بس وہ خود کو اور بچوں کو پشاور سے، اپنے شوہر سے، اپنے والدین سے، اپنی فیملی سے سب سے دور، بہت دور لے جا کر چھپ جانا چاہتی تھی۔ مگر اب اُسے نئے نئے اندیشوں نے آ گھیرا تھا۔ کیا وہ اکیلے اپنے بچوں کی پرورش اور تربیت کر پائے گی؟ کیا انگلینڈ آنے کا فیصلہ اُس نے صحیح کیا یا نہیں؟ کیا وہ ہمیشہ اپنے وطن، اپنے شہر اور خاندان کے لوگوں سے چھپ کر رہ سکے گی؟ اور انہیں سوچوں میں غلطاں نور کی آنکھ پتا نہیں کس وقت لگی۔
    اگلے کئی دن کافی مصروف رہے تھے۔ دوسرے ہی دن جوزف نے اسے بازار سے جاکر ضروری سامان خریدنے میں مدد کی۔ وہ ایسے نور کے سارے کاموں میں مدد کررہا تھا جسے وہ برسوں سے اُسے جانتا ہو۔ کچھ ہی دنوں میں وہ سرخ اینٹوں والا مکان گھر کی شکل اختیار کرگیا تھا۔ پردے لگ گئے، تکیے، بیڈ شیٹ وغیرہ آگئے۔ جوزف کے مشورے پر نور نے چھوٹا کمرہ بچوں کے لیے سیٹ کیا۔ ڈرائنگ روم کے لیے کُشن اور ایک دو پینٹنگز وغیرہ لیں۔ کافی سامان تو جوزف یہ کہہ کر خود ہی لے آیا تھا کہ اُس کے گھر میں ویسے ہی یہ چیزیں پڑی ہوئی تھیں۔
    ”میری بیوی جب مجھے چھوڑ کر گئی تو سب کچھ یہیں چھوڑ گئی تھی، یہ کہہ کر وہ مجھ سے جُڑی ہوئی کوئی چیز ساتھ نہیں رکھناچاہتی۔” ایک دن نور کے پوچھنے پر جوزف نے اسے بتایا۔
    ”مگر وہ کیوں چھوڑ کر گئی تمہیں؟” نور نے تجسس سے پوچھا۔
    ”جب تک میں پیسے بنانے کی مشین بنا رہاوہ خوش تھی، مگر جب زخمی ہوکر واپس آیا تو اُس نے کوئی اور ڈھونڈ لیا۔” اُس نے تلخ لہجے میں بتایا۔
    ”اور بچے؟” نور نے سراسیمگی کے عالم میں اگلا سوال کیا۔
    ”شکر ہے بچے بھی خود چھوڑ کر گئی ہے ورنہ میں تو اِن کے بغیر جینے کا تصورہی نہیں کرسکتا۔ میری زندگی اِن دونوں کے دم سے ہے۔” یہ کہتے ہوئے جوزف کی آنکھوں میں نمی کی سی آگئی۔ نور کی آنکھیں بھی بھر آئی تھیں۔ اُسے جوزف بالکل اپنے جیسے ہی تو لگا تھا۔ دونوں اپنے بچوں پر دل و جان سے فدا تھے اور اُن کی زندگی کا محور اُن کے بچے ہی تھے۔
    ”چلو بھئی! بہت جذباتی سین ہوگئے۔” جوزف اپنی ہتھیلیوں سے آنسو پونچھتے ہوئے بولا۔
    ”میں نے بچوں کو سکول سے لینے جانا ہے، یہاں نزدیک ہی ہے۔ پیدل ہی اُن کو لاچھوڑ آتا ہوں اور لے آتا ہوں۔ تم بھی بچوں کو سکول میں ڈال لو۔ اگر چاہو تو کل سکول اکٹھے جاکر پرنسپل سے بات کرلیتے ہیں۔” وہ اٹھتے ہوئے اور چھڑی سیدھی کرتے ہوئے بولا۔
    ”ہاں! ضرور چلوں گی۔” نور نے جلدی سے کہا۔
    ”ٹھیک ہے! کل تیار رہنا۔ بچوں کو بھی لے جائیں گے۔”
    ”جوزف!” نور نے اچانک اسے آواز دی۔
    ”ہاں”۔ جوزف جواب اٹھ کر کھڑا ہوچکا تھا، اس کی آواز پر بولا۔
    ”تھینک یو۔”
    ”کس لیے؟”
    ”اُس سب کے لیے جو تم نے میرے لیے کیا۔”
    ”ارے! میں نے اتنا کچھ کیا اور تم صرف تھینک یو کہہ کر جان چھڑا رہی ہو۔”جوزف نے مایوس ہونے کی اداکاری کرتے ہوئے کہا۔
    نور کو ہنسی آگئی۔ اب اتنے دنوں جوزف کے ساتھ ہوتے ہوئے اتنا تو اُسے معلوم ہوچکا تھا کہ وہ بے لاگ اور لگی لپٹی بغیر بات کرنے والا بندہ تھا اور اُسے پہلے ہی اندازہ تھا کہ وہ ”کوئی بات نہیں” یا اس قسم کا کوئی رسمی جملہ تو بولے گا ہی نہیں۔
    ”اچھا بتاؤ! اب تمہارے احسانات کیسے چکاؤں؟” نور نے ہنسی روکتے ہوئے پوچھا، ”بھئی کبھی کبھی اچھا سا کھانا بنا کر کھلا دیا کرو۔”

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • زندگی تو باقی ہے — مائرہ قیصر

    زندگی تو باقی ہے — مائرہ قیصر

    ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک نوجوان ہینڈسم لڑکا جسے ایک حسینہ سے محبت ہو گئی۔ دونوں نے ایک ساتھ زندگی گزارنے کا فیصلہ کرلیا۔ ماں باپ کو راضی کیا اور پھر خوشی خوشی زندگی گزارنے لگے۔ یہ تھی ایک خوش باش جوڑے کی کہانی۔ ایسا ضرور ہوتا ہو گا مگر محض فلموں میں۔ مناہل اور صائم کی کہانی میں ایسا کچھ نہیں ہوا۔ حیران ہیں کہ یہ محبت کی کہانی کیسے ہے؟ تو پھر سُنیئے کہانی۔
    کہانی وہیں سے شروع ہوئی جہاں سے ہر رومیو جولیٹ کی ہوتی ہے۔ صائم اور مناہل نیویارک کی ایک ہی یونیورسٹی کے دو انتہائی مختلف بلکہ مخالف ڈیپارٹمنٹ کے طالب علم تھے۔ صائم نیوروکیمسٹری میں گریجویشن کے آخری سال میں تھا اور وہ فائن آرٹس میں تھی۔
    شکل و صورت، محنت اور ذہانت کے اعتبار سے دونوں ہی اپنی اپنی جگہ بہت اچھے تھے۔ اِن دونوں کی ملاقات خاصی ڈرامائی تھی۔
    آرٹسٹک ذہانت کے موضوع پر ریسرچ کی خاطر صائم اور اس کے گروپ فیلوز کو فائن آرٹس ڈپارٹمنٹ کے طلبا کے ساتھ کچھ وقت گزارنا اور انٹرویوز بھی لینا تھے۔ بس یہیں دونوں کی ملاقات ہوئی اور پھر دوستی جو رفتہ رفتہ محبت کے رنگوں میں ڈھلتی چلی گئی پھر؟ پھر وہی ہوا جو ہوتا ہے۔ اپنی اپنی تعلیم مکمل کرتے ہی دونوں پاکستان آگئے اور ماں باپ کو رضامند کرنے کے بعد شادی کر لی۔ اس وقت مناہل کی عمر اکیس اور صائم کیبائیس سال تھی۔ ہیپی اینڈنگ؟ جی نہیں۔
    تین سال بعد۔۔۔
    باہرگھنٹی کا بج بج کر گلا بیٹھ سا گیا تھا، مگر کوریڈور میں آمنے سامنے موجود ان دو کمروں کے دروازوں میں سے ایک بھی نہیں کھلا۔
    ”صائم دروازہ کھولو جا کر۔” ایک دروازے کے اندر سے بالآخر ایک زنانہ آواز ابھری۔
    ”خود چلی جاوؑ۔” اب ایک مردانہ آواز دوسرے کمرے سے آئی۔
    ”میں ملازمہ نہیں ہوں تمہاری۔۔۔ جا کر دیکھو کون دروازہ توڑ رہا ہے۔”
    مگر اب کی بار کوئی جواب نہیں آیا۔ چند لمحے مزید گزرے تو ایک کمرے کا دروازہ کھلا۔ ہوڈی اور ٹراؤزر میں ملبوس چڑیا کے گھونسلا نما بالوں والی ایک لڑکی آنکھیں ملتی اور بڑبڑاتی ہوئی باہر نکلی۔ فرش پر بکھرے جرابوں اور کپڑوں کے ڈھیر میں سے سلیپرز ٹٹول کر پیروں میں گھسیٹتی باہر چلی گئی۔ اندر آ کر دودھ کا لفافہ لونگ ایریا کے ساتھ موجود کچن کاوؑنٹر پر اچھالا اور صائم کے کمرے میں داخل ہو گئی۔
    باہر نکلی تو ایک ہاتھ میں مردانہ نیلی شرٹ اور دوسرے میں قینچی تھی۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    ”اب میں تمہیں مزہ چکھاتی ہوں۔” لبوں پر شیطانی مسکراہٹ سجائے مناہل نے صائم کی شرٹ کے چاروں طرف ایسے نفیس کٹس لگائے کہ وہ ایک خوبصورت فرِل بن گئی پھر شرٹ کے وسط میں دل کی شکل کا ٹکڑا کاٹا اور پھینک دیا گویا شرٹ کے سینے میں دل کی شکل کا سوراخ ہو۔ اس کے بعد اس نے اس شرٹ کو ہینگر پر لٹکا کر رکھ دیا اور اپنی تیاری میں مصروف ہو گئی۔
    کچھ دیر گزری تو صائم جمائی لیتا باہر نکلا تو سامنے لٹکے ماسٹر پیس کو دیکھ کر اس کا کھلا منہ کھلا ہی رہ گیا اور چودہ کے چودہ طبق روشن ہو گئے۔
    ”مناہل!”وہ زور سے چلایا، تو وہ جو مست سی اپنے کپڑے استری کر رہی تھی منظر میں آئی۔
    ”یہ۔۔۔یہ کیا تم نے؟ یہ۔۔۔یہ شرٹ مجھے میری کولیگ نے تحفے میں دی تھی۔۔۔ یہ کیا کیا تم نے؟”
    ”اوہو ڈارلنگ میں جانتی ہوں یہ تمہیں تمہاری فیورٹ کولیگ نے تحفے میں دی تھی مگر دیکھو تو یہ اب زیادہ اچھی لگ رہی ہے۔۔۔ ہے نا؟”مناہل نے شرٹ کے ”دل”میں سے جھانکتے ہوئے بلا کی معصومیت سے کہا۔
    ”آئی ہوپ اب تم صبح صبح مجھے ڈسٹرب کرنے سے پہلے لاکھ بار تو ضرور سوچو گے۔”
    صائم نے دانت پیستے ہوئے چنگھاڑتی نظروں سے اسے گھورا اور زور زور سے پیر زمین پر مارتا باتھ روم میں گھس گیا۔
    اس کے نکلنے کے بعد مناہل اندر چلی گئی۔ ابھی ٹوتھ برش منہ میں رکھا ہی تھا تو صائم نے دروازے سے اندر جھانکا۔ وہ آفس کے لیے بالکل تیار تھا۔
    ”اپنا خیال رکھنا سوئٹ ہارٹ۔”
    مناہل نے منہ میں برش رکھے ایک ابرو اُٹھا کر آئینے میں اس کے عکس کو دیکھا جو بہت زور لگا کر مُسکرا رہا تھا۔
    ”وہ کیا ہے کہ آج مجھے تمہارے برش پہ بہت پیار آیا، تو میں نے باتھ روم کی تھوڑی سی صفائی کرلی، لہٰذا اپنا خیال رکھنا اوکے بائے۔”
    فاتحانہ مسکراہٹ لبوں پر سجائے وہ گاڑی میں بیٹھا اور آفس کے لیے نکل گیا جب کہ گھر کے اندر مناہل کی چیخیں گونج رہی تھیں۔
    ان دونوں کے درمیان ہمیشہ ہی اتنا پیار محبت اور سلوک رہتا تھا۔ دونوں ایک دوسرے کو اتنا چاہتے تھے کہ ناشتا بھی الگ کرتے اور اجنبیوں کی طرح رہتے تھے۔ لڑائی جھگڑے تو عام سی بات تھی اور ان لڑائیوں کے نتیجے بڑے دلچسپ ہوتے تھے۔
    کبھی صائم کی پرفیوم میں پرفیوم کے بجائے پانی پایا جاتا تو کبھی مناہل کی بنائی ہوئی پینٹنگز پر اسی کی لپ سٹکس سے مختلف نقش و نگار بنے ہوئے نظر آتے۔ بس ایسی ہی قابلِ رشک محبت تھی ان دونوں کی۔
    اب آپ سوچتے ہوں گے اگر اتنا ہی حسنِ سلوک تھا دونوں میں، تو طلاق ہی کیوں نہ لے لی، تو اس کا قصّہ بھی سُن لیجیے۔
    طلاق کی کہانی کچھ یوں ہے کہ اس کے کاغذات تقریباً تین بار بن کر ان دونوں کی ایسی ہی ننھی منی لڑائیوں کی نذر ہو چکے تھے۔ کبھی وہ ان کی کسی کش مکش کے دوران کچن سنک میں بہ کر ضائع ہو جاتے، تو کبھی مناہل کے انتقام کے دوران صائم کی فائلز آگ کا ایندھن بن جاتیں یا پھر مناہل کے پیپر ورک سمیت صائم کے ہاتھوں ردی کے ڈھیر میں سوار ہو کر خیرباد کہہ جاتے۔
    وہ دونوں ایک ہی یونیورسٹی کے سائنس اور فائن آرٹس کے شعبوں میں جاب کر رہے تھے۔ مناہل کی نئی گیلری کا افتتاح ہوئیکچھ عرصہ ہی گزرا تھا جس میں وہ اپنے اور اپنے طلباء کے آرٹ ورک کی نمائش کیا کرتی تھی۔ اس گیلری کی تعمیر سے لے کر افتتاح تک کے سفر میں مسٹر فیاض نے اس کا بہت ساتھ دیا تھا۔
    مسٹر فیاض اس کے ڈپارٹمنٹ کے بتیس تینتیس سالہ ایچ او ڈی تھے اور اپنے نام کی طرح سخی ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت نرم دل انسان تھے۔
    دوسری طرف صائم ٹیچنگ کے ساتھ ساتھ اسی انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے نیروکیمسٹری کے شعبے میں ریسرچ بھی کر رہا تھا اور اس کام میں مس انیتا بھی اس کے ساتھ تھیں۔ اس کے علاوہ وہ دونوں انٹرنیٹ بلاگز بھی لکھتے تھے۔ مس انیتا ایک کم گو مگر سلجھی ہوئی شخصیت رکھتی تھیں، لیکن چند دنوں سے وہ کافی بیمار اور خاموش نظر آنے لگی تھیں جسے صائم نے بھی نوٹ کیا تھا۔
    ”میں ٹھیک ہوں مسٹر صائم مجھے کیا ہونا ہے۔”صائم کے پوچھنے پر وہ اکثر ہنس کر یہی جواب دیتی تھیں۔
    صائم اور مناہل کی زندگی دنیا کے اکثر شادی شدہ جوڑوں سے خاصی مختلف تھی۔ کہنے کو تو دونوں ہی دوپہر دو سے تین بجے کے درمیان گھر آجایا کرتے تھے، مگر اپنی اپنی گاڑی پر اور گھر آ کر بھی نوک جھوک میں ہی بسر ہوئی تھی۔ ان کی اس نوک جھوک میں ان کی ایک اور ساتھی بھی تھیں۔
    مسز عابد ان کی پڑوسی جو پورے محلے کی کیمرے کی آنکھ تھیں اور اکثر ہی ان کے اونچی آواز میں لڑنے جھگڑنے سے ایک حد تک مستفید ہونے کے بعد شکایت کرنے ان کے گھر کی گھنٹی بجاتی رہتیں، مگر ان دونوں پر اس چیز کا اثر آخر کیوں ہونا تھا۔
    ایک اتوار روز مرّہ کی لڑائیوں کی طرح عام جنگ چل رہی تھی جس میں ہتھیار کشنز اور مظلوم ایک مرتبہ پھر طلاق کے کاغذات تھے جن پر مناہل سائن کرنے لگتی تو کبھی صائم کا فون بجنے لگتا کبھی اس کا اپنا، چوتھی کاوش میں اس نے بالآخر سائن کرنے کا پختہ ارادہ کرتے ہوئے ایک بار پھر پین اٹھایا اور سائن کرنے ہی والی تھی کہ باہر دروازے کی گھنٹی بجی۔
    اب دونوں ہی کڑھتے ہوئے باہر نکلے کہ مسز عابد کی شکایتوں کو آج بریک لگا ہی دیں، مگر دروازہ کھولا تو سامنے کوئی بھی نہ تھا ۔ تذبذب کا شکار ہوتے دونوں نے دروازہ بند کرنے کا سوچا ہی تھا کہ نظریں اور قدم وہیں جم گئے اور پھر یوں لگا جیسے اب وہ یہاں سے ہل نہیں پائیں گے۔
    ان کی دہلیز پر ایک بے بی کوٹ میں ایک شیرخوار بچہ بڑی بڑی آنکھیں کھولے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔ دونوں چند لمحے کے لیے ہل نہ سکے۔ پھر ایک دوسرے سے خالی خالی نظروں کا تبادلہ کرنے کے بعد اِدھر اُدھر دیکھنے لگے۔
    صائم دروازے سے نکل کر سڑک پر آیا اور ارد گرد نظر دوڑانے لگا، مگر آس پاس کوئی نہ تھا۔
    ”اب کیا کریں؟”صائم ایک بار پھر دروازے میں کھڑے ہو کر اس بچے کو دیکھنے لگا۔
    مناہل نے جواب نہیں دیا، وہ بھی بچے کو ہی دیکھ رہی تھی۔
    ”ہم اسے یہاں نہیں چھوڑ سکتے۔”
    ”یہیں چھوڑ دو۔”مناہل ہلکی سی آواز میں کہہ کر اندر جانے کے لیے مڑی تو صائم نے اسے روکا۔
    ”پاگل ہو گئے ہو۔ اگر کسی نے اسے یوں ہمارے دروازے پر دیکھ لیا، یا کوئی اور اٹھا کر لے گیا تو؟”

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});