Author: misbah116@hotmail.com

  • کچن میں ایک دن — نایاب علی

    کچن میں ایک دن — نایاب علی

    ہر انسان فارغ وقت میں کچھ نا کچھ کرنا چاہتا ہے۔ جب اسے فارغ وقت میں اس کا من پسند کام مل جائے تو وہ خوشی سے جھومنے بلکہ ہوا میں اُڑنے لگتا ہے۔
    ہماری طبیعت بھی کچھ ایسی ہی ہے کہ جیسے ہی کوئی باہر جانے کو کہے، ہمارا دل بے اختیار بھنگڑا ڈالنے کو کرتا ہے۔ ایک دن گھر پر فارغ بیٹھے ایسے ہی ہم مکھیاں مار رہے تھے جب ابو کی آواز سنائی دی :
    ”چلیں باہر گھومنے چلتے ہیں۔” بس یہ سننے کی دیر تھی کہ ہم بھنگڑا ڈالنا شروع ہوگئے۔جس کے بعدہم تیار ہونے کو چل دئییاور آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر خود کو سنوارنے کے لیے جی جان سے محنت کرنے لگے۔ اتنی محنت تو ہم نے کبھی اپنے سکول کے امتحانات کے لیے نہیں کی تھی، اگر کی ہوتی تو آج ہم باعزت طریقے سے سب کے سامنے سر اٹھا کر چلتے۔جو چیز ڈریسنگ میز پر پڑی نظر آئی اسے لگاناایسے ضروری سمجھاجیسے اگر کسی چیز کو چھوڑ دیا تو وہ ہم سے ناراض ہو جائے گی۔ بیس منٹ کی مشقت کے بعد ہم تیار ہو گئے اورجب ہم نے خود کو آئینے میں دیکھا تو بلااختیار منہ سے ”واہ” نکلا۔ ہم دل ہی دل میں اپنی بلائیں لینے لگے۔ کوئی اور تو ایسا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا کیوں کہ گھر میں کسی سے ہماری بنتی ہی نہیں تھی۔لہٰذا ہم نزاکت سے شاہانہ چال چلتے ہوئے کمرے سے باہر نکلے،مگر گھر والوں کو ہماری خوشی راس نا آئی۔
    باہر نکلتے ہی ہمیں مہمانوں کے آنے کی اطلاع دی اور ساتھ ہی ایک دل خراش خبر بھی سنا دی کہ ان مہمانوں کے لیے کچن میں جاکر کھانا بھی بنانا ہے۔ ہمارے منہ پر مثلث بن رہی تھی تو کبھی تکون، مختلف زاویوں کی شکل بنانے پر بھی گھر والوں کو ہم پر رحم نا آیا تو ہمیں کچن کارخ کرنا ہی پڑا۔ ہم نے کام جلدی نمٹانے کا سوچا اور جلدی سے پیاز کاٹ کر ہانڈی چولہے پر چڑھا دی اور خود آٹا گوندھنے کی تیاری کرنے لگے۔ آج اپنا سگھڑاپا دکھانے کا وقت آچکا تھا جب ہمیں اپنی قابلیت کا لوہا منوانا تھا۔ اس لیے ہمارے ہاتھ جلدی جلدی حرکت کر رہے تھے۔ کچھ دیر بعد ہمیں کچھ جلنے کی بو آئی جس میں سانس لینا بھی دشوار ہو رہا تھا۔ جیسے ہی ہماری نظر ہانڈی پر گئی تو ہماری آنکھیں اُبل کر باہر کو نکل آئیں۔ ہم ہانڈی میں گھی ڈالنا بھول گئے تھے۔ اور اب سر پکڑے اور منہ کھولے ہانڈی کو دیکھ رہے تھے۔ ہم نے بھاگ کر جلدی سے گھی ہانڈی میں انڈیلنا چاہا مگر وہ اُچھل کر زمین پر جا گرا اور ہم پھر سے ناکام ٹھہرے۔ اس ناقابلِ برداشت بدبو سے چھٹکارہ پانے کے لیے ہم اس میں پانی ڈالنے کی نیت سے آگے بڑھے مگر زمین پر پڑے گھی کی وجہ سے اپنا توازن کھو کر دھڑام سے زمین پر آگئے۔ اسی پر اکتفا نہیں ہوا بلکہ ہمارا ہاتھ خشک آٹے کے برتن پرجا لگا اور وہ بھی زمین پرہمارے ساتھ تشریف لے آیا۔ سلیقے سے سلجھے ہوئے ہمارے ہیئر اسٹائل میں چاندنی اُتر آئی۔ اس کے ساتھ ہی منہ پر بھی آٹے کی ایک موٹی تہہ جم گئی۔
    ہم نے باربار اُٹھنے کی کوشش کی مگر ہر بار پائوں پھسل جاتا اور ہم واپس زمیں بوس ہوجاتے ۔ آخرکارکافی تگ و دو کے بعد جب ہم کھڑے ہوئے تو کچن سے کمرے کا رُخ کیا۔ وہاں جاکر جیسے ہی آئینے کے سامنے کھڑے ہو کرہم نے اپنی شکل دیکھی تو ”واہ”سننے والی شکل کا ”تراہ”نکل گیا اور ہمارے پیچھے کان پھاڑنے والے قہقہے بلند ہوئے۔ ان قہقہوں نے ہمارے حوصلے پست نہیں کیے اور پھر وہ ہم ہی کیا جو ہار مان جائیں۔ ہم نے تو تعلیمی امتحانات میں بھی پانچ پانچ بار ایک ہی کلاس میں پانچ کتابوں میں شان دار طریقے سے فیل ہونے کا ریکارڈ بنا رکھا تھا مگر پھر بھی ہمت نہیں ہاری پھر ہم نے باتھ روم کا رخ کیا اور ہاتھ منہ دھوکر کچن میں واپس تشریف لے آئے کیوں کہ مہمانوں کے لیے کھانا بھی تو تیار کرنا تھا۔ بس یہی سوچ کر ہم جلدی آگے بڑھے اور کام میں جت گئے۔
    آخرکار ہماری دو گھنٹے کی محنت کا نتیجہ یہ نکلا کہ سالن نما کوئی آمیزہ تیار ہوا مگر یہ معلوم نہیں ہوا کہ وہ بنا کیا تھا؟ اس آمیزے میں ٹماٹر، لہسن، ادرک اور ہری مرچ جیسی چیزیں سمندری مخلوق کی طرح جابہ جااِدھر سے اُدھرآزادی سے
    گھوم رہی تھیں۔ ہماری لغت میں تو یہ آمیزہ ”قورمہ” نامی کسی ڈش سے مشابہت رکھتا تھاجس میں گوشت کا یہ عالم تھا کہ ڈبکی لگا کر بھی بوٹی ڈھونڈنے نکلو تو دوپہر سے شام ہو جائے مگر اس آمیزے میں تیرتی ہوئی یہ سمندری مخلوق اس کوشش کو ناکام بنا دیتیں اور آپ کو بغیر بوٹی کے ہی مایوس لوٹنا پڑتا۔ اب مرحلہ روٹیاں بنانے کا تھا مگر یہاں روٹیوں کی جگہ اعلیٰ قسم کے نقشے بن رہے تھے۔ ہمیں خدشہ ہوا کہ اگر لوگوں کو پہلے معلوم ہو جاتا تو یقینا ہمیں دنیا کا نقشے بنانے کی پیش کش ضرور موصول ہوجاتی اور ہمارا نام تاریخ میں سب سے اعلیٰ نقشہ نویسوں میں سرفہرست ہوتا۔ اس عظیم مشقت کے بعد ہم کھانا بنانے میں کام یاب ہوگئے اور ہمارے چہرے پر ایسی خوشی نمودار ہوئی جیسے سکندرِ اعظم کی طرح دنیا فتح کرلی ہو۔
    آخر کار مہمانوں کی آمد ہوئی اور انہیں کھانا پیش کیا گیا۔ وہ ماں ہی کیا جو سب کے سامنے اپنی اولاد کی تعریف نا کرے۔ اس دن بھی ماما نے ان کے سامنے ہمارے کھانے کی تعریف میں زمین آسمان ایک کر دیا۔ ابھی آدھا گھنٹہ ہی گزرا تھا کہ ہمیں مہمانوں کے پاس طلب کرلیا گیا۔ ہم دھڑکتے دل کے ساتھ وہاں پہنچے تو وہاں موجود مہمان آنٹی نے مُسکرا کر ہمیں دیکھا۔ ہمیں سمجھ نہیں آئی کہ اس مسکراہٹ کا مطلب کیا ہے؟ خیر ہمیں مطلب سمجھ کر کرنا بھی کیا تھا۔ کچھ دیر بعد ہمیں وہ مطلب سمجھ میں آنا شروع ہوگیا جب وہ اپنے پرس سے پیسے نکال رہی تھیں جسے دیکھ کر ہماری باچھیں کھل گئی اور بے اختیار دل چاہا کہ اپنے پیارے سے ہاتھوں کوچوم لوں جنہوں نے اتنے مزے کا کھانا بنایا مگر یہ خوشی اگلے ہی لمحے غارت ہوگئی جب ان آنٹی نے کہا:
    ”بیٹا یہ لو پیسے اور کسی کوکنگ کلاس میں داخلہ لے لو۔”
    یہ سن کر ہم کمرے سے ایسے غائب ہوئے جیسے گدھے کے سرسے سینگ۔ اور آج تک کچن میں جانے کی جرأت نہ کر سکے۔

    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • خونی سایہ — عمارہ خان (پہلا حصہ)

    خونی سایہ — عمارہ خان (پہلا حصہ)

    رات کے وقت قبرستان کی ہولناکی دل دہلا دینے والی ہوتی ہے۔ ہر سو اندھیرا، تو ڈراؤنا سناٹا، دھندلکے میں نظر آتی ٹوٹی پھوٹی قبروں کی ویرانی۔ اسی ویرانی اور سناٹے میں کہیں دور سے کتوں کے بھونکنے اور غرانے کی آوازیں بھی جب شامل ہوجائیں تو مزید دہشت ناک منظر بن جاتا ہے۔
    ایسا ہی ایک منظر شہر کے اس پرانے قبرستان میں بھی نمایا ں تھا جہاں دھنسی ہوئی قبروں کے ساتھ جھاڑ جھنکار اور ٹوٹی ہوئی دیوار بتا رہی تھی کہ شاید یہ جگہ قبرستان کا اختتام ہے۔ ممکن ہے سالوں سے کسی انسان نے ادھر پاؤں نہیں دھرا ہو، اسی لیے خستہ حال قبروں کی تعداد کہیں زیادہ تھی۔ قبرستان کی ٹوٹی ہوئی دیوار سے اگر جھانکا جائے تو سامنے ہی فٹ پاتھ تھا اور اس کے ساتھ پکی سڑک گزر رہی تھی، جہاں اسٹریٹ لائٹ کی مدھم روشنی میں نظر آتا تھا۔ قبرستان کے اندر انتہائی کونے میں تین گھنے درختوں کے عین نیچے کسی نے جھگی بنا رکھی تھی۔
    اس جھگی میں ایک مضبوط جسامت کا انسان دھوتی باندھے آنکھیں موندے سامنے پڑے تھال میں کچھ پڑھ کے پھونک رہا تھا۔ تھال میں جہاں سیندور، کچھ مخصوص ساخت کی ہڈیاں کالا دھاگا اور ایک پتلا رکھا ہوا تھا وہیں اس کے برابر ایک کالا بلا بیٹھا اپنی دم چاٹ رہا تھا۔
    اچانک عامل نے دھیرے سے آنکھ کھولی اور بلے کو دیکھ کے مسکرایا۔
    ”آگیا، تو… ہوں۔”
    بلے نے عامل کو دیکھا اور میاؤں کے ساتھ ہی چھلانگ لگا کے اس کی گود میں آبیٹھا۔ عامل نے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے لمحہ بھر کے لیے اسے تھپتھپایا اور حکمیہ انداز میں گویا ہوا۔
    ”جاجا کے دیکھ کام پورا ہوا یانہیں ۔” بلے نے یہ سن کے عامل کی گود سے چھلانگ ماری اور جھگی سے باہر نکل گیا۔ دوسری طرف عامل ایک بار پھر سکون سے آنکھیں موندے اپنے تھال کی سمت متوجہ ہوگیا۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    بلے نے جھگی سے باہر نکل کے آسمان کی طرف دیکھاا ور پھر قبرستان کے دوسرے کونے کی طرف قدم بڑھا دیے۔ اسے علم تھا کہاں جانا ہے اور کیا کرناہے۔ جیسے جیسے بلا آگے بڑھ رہا تھا ویسے ویسے پورے چاند کی تیز روشنی میں نمایا ں ہورہاتھا ۔ اس کے عین سر کے اوپر ایک انجانا سا دھوئیں کا ہالہ بلے کے ساتھ گردش کررہا ہے۔ یکایک ایک جانب سے ہلکی سی آہٹ سنائی دی جسے سن کے بلے کے بڑھتے قدم تھم گئے۔ کوئی تھا جو دبے قدموں چل رہا تھا۔ غراتے ہوئے بلے نے چاند کی جانب دیکھاا ور ساتھ ہی اپنی سمت بدل لی۔ شاید وہ آہٹ اسی مقصد کے لیے ابھری تھی۔
    قبرستان کے ایک طرف جہاں یہ جھگی تھی اسی کے انتہائی دائیں جانب عامل کا کالا بلا کسی کی نگرانی پر معمور تھا۔ وہ جس کی نگرانی کررہا تھا وہ ہیولہ اس نیم اندھیرے اور وحشت ناک ویرانی کو محسوس کرتا ہوا، دھیرے دھیرے جھجکتا ہوا چلا جارہا تھا۔ وہ ہیولہ ہر ایک منٹ بعد رک کے دائیں بائیں اس انداز میں سر گھمارہا تھا جیسے اندازہ کرنا چاہ رہا ہو، کوئی اسے دیکھ تو نہیں رہا، لیکن اس وقت آدھی رات کو کون بدبخت قبرستان کے اندر آئے گا۔ سوائے سفلی علم کرنے والوں کے جو اپنی دنیا اور آخرت دونوں تباہ کرنے پر تل جاتے ہیں۔
    ہیولے کے رکتے ہی کالے بلے نے بھی اس کے پیچھے رک کے اسے گھورنا شروع کردیا۔ جھجکتا ہوا ڈرتا سہما ہیولہ درختوں کے جھنڈ سے جیسے ہی چاند کی روشنی میں آیا، تونمایاں ہوا وہ کوئی عورت تھی۔ اس نے کالی سیاہ چادر اپنے اردگرد کچھ اس انداز میں لپیٹی ہوئی تھی کہ صرف ایک آنکھ ہی واضح نظر آرہی تھی۔ ایک ہاتھ پوری طرح چادر کے اندر تھا، تو دوسرے ہاتھ میں کوئی چیز دبی ہوئی تھی۔
    وہ عورت بلے کی معمولی سی آہٹ پا کے بدک گئی۔ ڈرتے ڈرتے اپنے آس پاس غور سے دیکھنے کے باوجود جب کوئی نظر نہیں آیا، تو سکون کا سانس لیتے ہوئے اس نے ہر ممکن تیزی کے ساتھ قدم بڑھائے اور اپنے مطلب کی جگہ پا کے وہ جھک گئی اور ساتھ ہی ہاتھ میں پکڑی ہوئی چیز اپنی نظروں کے سامنے کی، جو ایک بے ہنگم پتلا تھا جس کے چاروں طرف سوئیاں پیوست تھیں۔ اس عورت نے پتلے کو دیکھ کے جھرجھری سی لی اور ساتھ ہی چادر سے دوسرا ہاتھ نکالا جس میں ایک تھالی تھا۔ تھالی نیچے رکھ کے وہ دونوں ہاتھوں سے پُھرتی کے ساتھ زمین کھودنے لگی۔
    یکایک ساکن فضا میں ہوا کی سراسرہٹ ہونے لگی، جیسے طوفان کی آمد آمد ہو۔ اس عورت نے چونک کے قبرستان کے بدلتے ماحول کو دیکھااور جتنا گڑھا کھود چکی تھی اس نے پتلا اس میں دفن کیا اور اس کے بالکل برابر دوسرا گڑھا کھودنے کی تیاری کرنے لگی، لیکن اب اس کے ہاتھوں میں وہ تیزی اور پُھرتی نہیں تھی جو پہلے تھی۔ شاید بدلتے ماحول نے اس پر اثر کیا تھا، اس کے ہاتھ لرز رہے تھے۔ کانپتے ہاتھوں کے ساتھ تھالی زمین پہ رکھ کے اوپر سے مٹی ڈالی اور تیزی کے ساتھ قبرستان سے باہر کی راہ پکڑی۔
    عورت کو دور ہوتے دیکھ کے اس کالے بلے نے اپنی جگہ چھوڑی اور عین اسی مقام پر بیٹھ کے روتے ہوئے چہرہ آسمان کی جانب کرلیا۔ اسے اس طرح روتے دیکھ کے لگ رہا تھا، شاید وہ آنے والے وقت کا ماتم کررہا ہو۔
    ٭…٭…٭
    صبح کا سورج نکلتے ہی اس متوسط طبقے کے علاقے میں روزمرہ کی چہل پہل ہونے لگی تھی۔ اسکول جانے والے بچے اُچھلتے کودتے اور کچھ منہ بسورتے بسوں میں سفر کررہے تھے، تو نوکری پیشہ افراد بھی نک سک سے تیار ہوکے کھڑے اپنی اپنی ویگن اور بسوں کے انتظار میں تھے۔ سبزی والے آوازیں لگاتے گلیوں میں گھوم رہے تھے۔ غرض ہر جگہ دن نکلنے کی مخصوص افراتفری مچی ہوئی تھی۔
    ایک سفید پوش گھر کے چھوٹے سے صحن میں ادھیڑ عمر جوڑا بیٹھا تھا۔ عورت صحن میں بچھی چارپائی پر سامنے دھرے تسلے میں سے ساگ کے پتے الگ کررہی تھی۔ مرد کے سامنے رکھی ہوئی چھوٹی سی میز پر ناشتے کے جھوٹے برتن پڑے تھے۔
    ”آپ نے شکیل بھائی سے بات کی اپنے فلک کی نوکری کے لیے۔” ساگ کے پتے کاٹتے ہوئے ادھیڑ عمر عورت نے اپنے مجازی خدا کو مخاطب کیا جو اخبار پڑھنے میں منہمکتھے۔
    ”ہوں…کی تو تھی قدسیہ بیگم ، لیکن…” گہری سانس لیتے ہوئے انہوں نے اخبار پلٹا۔
    ”ایک تو میں آپ کے ان وقفوں سے بڑی تنگ ہوں۔ عمر گزر گئی کہتے ہوئے ، ایک ہی باری میں اپنی بات پوری کرلیا کریں۔” قدسیہ بیگم نے چڑتے ہوئے کہا۔
    ”ارے بھئی انہوں نے کہا ہے سادہ پڑھائی کون پوچھتا ہے آج کل …ادھوری تعلیم کے ساتھ کوئی سیلزمین کی ہی نوکری ملے گی کوئی افسر تو لگنے سے رہا۔” راشد علی نے پُھرتی کے ساتھ بات مکمل کی۔
    قدسیہ بیگم نے چھری ہوا میں لہراتے ہوئے اپنے اکلوتے بیٹے کے بارے میں ایسی بات کرنے والے کا غالباً غائبانہ ہی قتل کردیا تھا۔
    ”اے لو، کیا خوب کہی آپ نے بھی… تیرہ چودہ جماعتیں کیا کم ہوتی ہیں اور کالج جاتا تھا میرا بچہ۔ وہ تو ہمارے حالات اچانک ایسے ہوگئے جو بے چارہ امتحان دینے سے رہ گیا۔ ایسے کیسے سیلز مین کی نوکری کرے گا میرا بیٹا۔ لوگوں کو تو بس باتیں بنانے سے فرصت نہیں ہے۔ انہیں کیا معلوم، آپ کا وہ ایکسیڈنٹ نہ ہوا ہوتا، تو…”قدسیہ بیگم نے ایک دم اپنی بات ادھوری چھو ڑ د ی۔ شرمندگی سے سامنے بیٹھے شوہر کو دیکھا جو افسردگی سے سر ہلارہے تھے۔
    ”بالکل ٹھیک بول رہی ہو نیک بخت ، اگر وہ حادثہ پیش نہیں آتا، تو ہمارا فلک اس پیسوں سے اپنی فیس بھر لیتا جو مجھ پہ اٹھ گئے۔ ”
    ”لیکن آپ کا علاج بھی تو ضروری تھا نا۔” اب ایک بیوی نے اپنے شوہر کی دل جوئی کی۔
    ”پڑھائی کا کیا ہے کبھی بھی مکمل ہوسکتی ہے ۔ اگر خدا نخواستہ آپ کو کچھ ہوجاتا،تو ہم کیا کرتے۔”
    ”ہاں ہم غریبوں کے ساتھ یہ ہی مسائل لگے ہوتے ہیں ، علاج کرالیں یا پڑھ لیں۔”
    ”کوئی بات نہیں فلک کے ابا۔ قسمت میں ہوگی کوئی نوکری تو مل ہی جائے گی۔ ”قدسیہ بیگم نے سر جھٹک کے دوبارہ ساگ کی کٹائی کی طرف دھیان لگایا۔
    ”لیکن اب تو سولہ سولہ جماعت پاس لڑکے بھی طرح طرح کے کورس کرکے نوکریاں تلاش کرتے پھر رہے ہوتے ہیں۔” راشد علی نے حقیقت بیان کرنے میں کوئی تامل نہیں برتا۔
    ”ان حالات میں فلک کو اچھی نوکری کی امید چھوڑنی ہی پڑے گی۔ جو مل رہا ہے وہ قبول کرلے تو اچھا ہے۔”
    ”پھر بھی کوئی ڈھنگ کی نوکری ہوتو کرے نا۔” قدسیہ بیگم بہرحال ماں تھیں جس کے لیے دنیا کا بہترین بچہ ان کا بیٹا ہی تھا۔
    ”کس چیزکی کمی ہے فلک میں جو چھوٹی موٹی نوکری کرے۔”
    ”اس کے پاس کسی بھی قسم کا تجربہ نہیں ہے قدسیہ۔” راشد علی نے ٹھنڈی سانس لیتے ہوئے اخبار میں پناہ لینے کی کوشش کی۔
    ”اے لو میاں یہ اچھی کہی۔ جب کوئی نوکری ہی نہیں ملے گی، تو تجربہ خاک آئے گا۔” قدسیہ بیگم نے چھری ہوا میں لہراتے ہوئے راشد علی کو گویا عقل دینے کی کوشش کی۔
    ”ایسی باتیں کون سوچتاہے اب۔” راشد علی نے اخبار پڑھتے پڑھتے ایک دم چونک کے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
    ”ارے ہاںوہ ماجد بھائی ایک گارمنٹ فیکٹری کا بتا تو رہے تھے۔ جہاں وہ خود عرصے سے کام کررہے ہیں۔ بول رہے تھے، میری بہت عزت کرتے ہیں سیٹھ صاحب۔ ان سے بات کرکے دیکھتا ہوں۔ اچھا ہوا یاد آگیا۔ آج ہی ان سے پوچھتا ہوں۔ اللہ کرے فلک کہیں کھپ جائے ادھرہی تاکہ…”
    ”اب میرا پڑھا لکھا بیٹا، کسی گارمنٹ فیکٹری میں کپڑے سیئے گا۔ ایسا بھی کیا برا وقت آنا میاں۔” قدسیہ بیگم نے راشد علی کی بات کاٹتے ہوئے فوراً ہی اُنہیں ٹوک دیا۔
    راشد علی نے بے ساختہ ہنستے ہوئے اپنی بیوی کا غصہ ملاحظہ کیا اور تسلی دی ۔
    ”ارے نیک بخت! فیکٹریوں میں صرف کپڑے ہی نہیں سلتے اور بہت کام بھی ہوتے ہیں۔ شاید اکاؤنٹنٹ کی جاب مل جائے۔”
    ”اُنہہ جیسے آپ ویسے ہی آپ کے دوست۔” قدسیہ بیگم نے مزید بحث کرنے کے بجائے اپنے کام میں مصروف ہونا زیادہ مناسب جانا۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • بلا عنوان — ثناء شبیر سندھو

    بلا عنوان — ثناء شبیر سندھو

    ”زینب تم پلیز امی سے بات کرو۔” ثمرہ نے منت بھرے انداز میں میرے ہاتھ پکڑے۔
    ”تم فکر مت کرو ثمرہ، میں اُن سے بات کروں گی۔ مجھے اُمید ہے وہ مان جائیں گی۔” میں نے اس کے ہاتھ تھپتھپاتے ہوئے تسلی دی۔
    ” میں بہت پریشان ہوں، مجھے لگتا ہے امی شاید نہ مانیں۔” ثمرہ نے پریشانی سے کہا۔
    ”کیو ں نہیں مانیں گی یار؟ آنٹی اتنی کنزرویٹو تو نہیں ہیں ۔ میں نے انہیں یہی کہتے سنا ہے کہ اگر تم اپنی پسند سے بھی شادی کرنا چاہو تو بھی ان کو اعتراض نہیں ہو گا اور اب جب تمہیں کوئی پسند آہی گیا ہے تو پھر وائے ناٹ… ” میں نے اپنا موبائل اُٹھاتے ہوئے تفصیلی جواب دیا۔
    ”ہاں میرے حساب سے تو سب ٹھیک ہے حتی کہ سہیل کی کاسٹ بھی سیم ہے تو مسئلہ ہونا تو نہیں چاہئے ” ثمرہ نے ناخن چباتے ہوئے کہا۔
    ”افوہ! تم کیا موبائل کو چمٹ گئی ہو؟ اُٹھو چائے بنا کر لاؤ۔ ” اُس نے مجھے موبائل کے ساتھ مصروف دیکھ کر چڑ کر کہا۔
    ”یا ر پلیز! آج تم خود بنا لو گھر پر کوئی بھی نہیں ہے اور میرا موڈ نہیں ہے۔” میں نے سستی سے کہا۔
    ”اوہ واؤ! بات تم ایسے کر رہی ہو جیسے ہمیشہ تم ہی بنا تی ہو۔ آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ پہلے بھی چائے ہمیشہ میں یا ردا ہی بناتے ہیں۔ تم نے کس دن بنا کر پلائی؟” اُ س نے میری بہن کا نام لیتے ہوئے مجھے گھورکر کہا۔
    ”تو جاؤ پھر آج بھی خود بناؤ مجھے کہا ہی کیوں؟” میں نے بیپروائی سے کہا۔
    ”تو بہ! سستی اور کاہلی کی بھی حد ہوتی ہے۔” وہ بڑبڑاتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔
    میں نے اُس کی بڑبڑاہٹ پر اُسے منہ چڑایا اور اس کے جانے کے بعد سوچنے لگی کہ مجھے آنٹی سے کیا بات کرنی ہے۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    ”یہ ثمرہ کہاں رہ گئی؟” میں نے داخلی دروازے کی جانب دیکھا اور پھر اپنی کلائی پر بندھی گھڑی پر وقت دیکھا جو کہ نو بجا رہی تھی جب کہ ساڑھے سات فنکشن کا ٹائم تھا۔
    ”حد ہے، اگر نہیں آنا تھا تو بتا یا کیوں نہیں اس نے ۔ ” مجھے اُس پر تپ چڑھنے لگی۔
    ”زینب…زینی…” میں ابھی اندرونی حصے کی طرف جانے کا سوچ ہی رہی تھی کہ مجھے اپنے پیچھے اُس کی آواز سنائی دی۔ میں ٹھٹک کر رک گئی اور دانت پیستے ہوئے اُسے پلٹ کر دیکھا۔
    ”آئی ایم سوری یار! گھر میں اتنی پسوڑی پڑگئی کہ اتنا لیٹ ہے فنکشن، نہیں جانا اینڈ آل دیٹ۔ تمہیں پتا ہے جو ہمیشہ ہوتا ہے ہمارے گھر۔”اُس نے میرے پاس پہنچ کر میرا بازو پکڑتے ہوئے منت بھرے انداز میں صفائیاں دینی شروع کیں۔
    ”تو پھر تم گھر ہی کیوں نہیں رہ گئیں ثمرہ۔” میں نے دانت کچکچائے۔
    ”لو! پھر امی نے فہد کو ساتھ بھیج دیا، وہ باہر گاڑی میں ہے۔” اُس نے دانت دکھاتے ہوئے کہا۔
    ”تو پہلے ہی فہد کو بھیج دیتیں ساتھ۔” میں نے گہری سانس بھری اور قدم بڑھائے۔
    ”بارات آگئی کیا؟” ثمرہ نے میرے ہم قدم ہوتے ہوئے کہا۔
    ”نہیں، بارات انتظار کر رہی تھی کہ ہر ہائی نیس ثمرہ جب وینیو پر پہنچیں گی تو ہی وہ بھی تشریف لائے گی۔” میں نے اُسے گھورا۔
    ”ہا ہا … فنی ۔ ” ثمرہ منہ پھاڑ کر ہنسی۔
    ”لوگ کھانا کھا کر واپس جارہے ہیں۔” میں نے اُسے اطلاع دی۔
    ”ہائے کیا کہہ رہی ہو ؟ میں نے بھی کھانا کھانا ہے۔” اُس نے دہائی دے کر کہا۔
    ”موٹی پہلے تانیہ سے تو مل لو۔” میں نے اُسے گھورا۔
    ”ہائے یار تانیہ کتنی لکی ہے ، اُس کی شادی اس کی پسند سے ہورہی ہے حالاں کہ اُس کے گھر والے اس کی باتوں سے کتنے کنزرویٹو سے لگتے تھے۔” ثمرہ نے آہ بھر کر کہا۔ تانیہ ہماری اچھی دوست اور کلاس میٹ تھی اور آج اس کی بارات تھی۔ اُس کا شوہر ہمارا سینئر تھا اور ہم دونوں طرف سے ہی انوائیٹڈ تھے لیکن اس ثمرہ نے لیٹ آکر سارا مزہ خراب کر دیا تھا۔
    ”جس کی جہاں شادی ہونی لکھی ہوتی ہے ہو ہی جاتی ہے ثمرہ بے بی ۔ ڈونٹ وری انشاء اللہ تمہارے من کی مراد بھی ضرور پوری ہو گی۔جا بچہ بابا جی نے دعا دے دی۔” میں نے اُس کو آگے کی طرف دھکیلتے ہوئے کہا۔
    ”دعا دے رہی ہو کہ دھکا۔ ” ثمرہ نے مُڑ کر غصے سے مجھے دیکھا ۔ میں ہنستے ہوئے آگے بڑھ گئی جہاں ہمارے کلاس میٹس ہماری طرف دیکھ کر ہاتھ ہلا رہے تھے۔
    ٭…٭…٭
    اُ ف کتنا رش ہو گیا ہے ہر جگہ …” میں نے بس میںبہ مشکل داخل ہوتے ہوئے لوگوں کے ہجوم کو دیکھ کوفت سے سوچا۔مجھے بس تک پہنچتے شام کے چھ بج چکے تھے۔
    ”اوہ شٹ! ثمرہ کی طرف جانا تھا آج تو۔”میں نے موبائل نکالا تو اُس پر ثمرہ کی مسڈ کالز دیکھ کر مجھے یاد آیا۔
    ”بیٹھی کوس رہی ہو گی مجھے ۔” میں نے سڑک پر بھاگتی دوڑتی گاڑیوں کو دیکھ کر سوچا۔ وہ چاہتی تھی کہ میں اُس کی امی کو اُسے پسند کی شادی کرنے کے لیے قائل کروں۔ میں نہیں جانتی تھی کہ وہ میری بات مانیں گی یا نہیں۔لیکن میں اُن سے ایک دفعہ بات ضرور کرنا چاہتی تھی۔ مجھے لگتا تھا ثمرہ سمیت ہر لڑکی کو حق ہے کہ وہ اپنی مرضی سے شادی کر سکے۔ ہاں البتہ رشتہ اور لڑکا اُس معیار کا بھی ہونا ضروری تھا جو کہ ثمرہ کے مطابق بالکل مناسب تھا۔ میں اپنی سوچوں میں گم اسٹاپ پر اُتری اور اپنی گلی سے آنے والی پہلی گلی میں مُڑ گئی جہاں ثمرہ کا گھر تھا۔
    ثمرہ اور میں بچپن کی سہیلیاں ہیں۔ ہمارے گھر بھی آس پاس تھے۔ اسکول، کالج اور یونیورسٹی میں ہمارا بہت اچھا ساتھ رہا۔ البتہ اب میں ایک آفس میں جاب کر رہی ہوں جب کہ ثمرہ ایک اسکول میں ٹیچنگ کرتی ہے۔ وہ تین بھائیوں کی اکلوتی بہن ہے اور اُس کی گھر میں ضرورت بھی رہتی ہے اس لئے اُس نے قریبی اسکول شوقیہ جوائن کر لیا تھا۔پچھلے کچھ عرصے سے ثمرہ کی ایک لڑکے جس کا نام سہیل تھا اُس سے بات چیت ہونے لگی تھی جو کہ اُس کے اسکول میں پڑھنے والی کسی بچے کا ماموں تھا۔ ثمرہ کی اُس میں دل چسپی کافی بڑھ گئی تھی اور وہ اُسی سے شادی کرنا چاہتی تھا۔ وہ لڑکا بھی راضی تھا اور اپنا رشتہ بھیجنا چاہتا تھا لیکن انہی دنوں ثمرہ کے ایک دو اور بھی پروپوزل زیر ِ غور تھے جن میں ایک اُس کی امی کا دور پار کا رشتہ دار تھا اور جسے وہ ایک بہت اچھا رشتہ مان رہی تھیں۔ ثمرہ اپنی امی کو ڈھکے چھپے لفظوں میں اپنی پسند کا بتا چکی تھی لیکن اُس کی امی نے اُس کو سنجیدگی سے لیے بغیر دوسرے آنے والے رشتوں کی چھان بین جاری رکھی۔ یہ بات ثمرہ کو خاصی پریشان کر رہی تھی اور وہ چاہتی تھی کہ میں اُ ن سے بات کروں۔ایسا نہیں تھا کہ آنٹی میری بات فوراً مان لیتیں لیکن بہرحال سن کر ایک دفعہ غور ضرور کرتی تھیں۔
    میں اپنی رو میں چلتی اُس کے گھر سے آگے نکل گئی اور پھر ٹھٹک کر رکی۔ پلٹ کر دیکھا تو اُس کے ابو گاڑی نکال رہے تھے۔ شاید وہ کہیں جارہے تھے۔ میں آہستگی سے چلتی ہوئی واپس آئی، اس دوران وہ گاڑی لے جا چکے تھے۔ میں نے اندر داخل ہو کر گیٹ بند کیا اور سیڑھیاں چڑھ گئی۔
    ”واہ آج تو زینب ہمارے گھر کا راستہ بھول آئی ہے۔” آنٹی جو ٹی وی لاؤنج میں ہی بیٹھی سبزی بنا رہی تھیں، مجھے دیکھتے ہی انہوں نے گرم جوشی سے کہا۔ یہ اُن کا ہمیشہ کا استقبالیہ جملہ تھا۔ میں روز بھی جاؤں تو بھی وہ یہی کہتی تھیں۔
    ”السلام علیکم آنٹی! آپ بھی نا۔ بس ہمیشہ یہی کہتی ہیں۔” میں نے جھینپ کر انہیں سلام کیا۔
    ”لو غلط کہتی ہوں کیا؟ مہینے بعد ہی شکل دکھاتی ہو۔”وہ اپنی بات پر قائم رہتے ہوئے بولیں۔
    ”ابھی تو میں پچھلے ہفتے آئی تھی آنٹی۔” میں نے بیگ سنٹرل ٹیبل پر رکھا اور چیخ کر کہا۔
    ”بس بس رہنے دو۔ اچھا بتاؤ کیا لو گی، چائے بنواؤں؟ ابھی چائے پیو میں کھانا بنا رہی ہوں۔ کھانا کھا کر جانا اب۔” انہوں نے محبت سے کہا تو میں نے سر ہلا دیا۔
    ”طیبہ جلدی سے باجی کے لئے چائے بنا کر لاؤ۔” آنٹی نے کچن کی طرف جا کر آواز لگائی۔ طیبہ نے ان کی آواز سنتے ہی باہر آ کر میری طرف دیکھتے ہوئے دانتوں کی نمائش کی اور پھر سر ہلا دیا۔ طیبہ اُن کی کل وقتی ملازمہ تھی۔
    ”اور بتاؤ بیٹا، کیا ہو رہا ہے؟” آنٹی نے واپس آکر چھری تھامی اور مزید بات شروع کی۔
    ”بس آنٹی آفس اور گھر اور کچھ خاص نہیں۔ یہ ثمرہ کہاں ہے؟” میں ان کو جواب دے کر ادھر ادھر جھانکتے ہوئے کہا۔
    ”میری بھتیجی آئی ہوئی ہے گاؤں سے۔اُسے بازار جانا تھا بس اُسی کو لے کر گئی ہے۔” انہوں نے مصروفیت بھرے انداز میں جواب دیا۔
    ”اوہ!” میرے منہ سے بے اختیار نکلا۔میں نے سوچا اُن سے بات کرنے کا یہی اچھا مو قع ہے۔ میں نے ادھر ادھر دیکھا اور گلا کھنکھارنے لگی۔
    ”آنٹی وہ،مجھے کچھ بات کرنی تھی۔” میں نے آہستگی سے کہا۔
    ”ہاں کہو نا، کیا بات ہے؟” انہوں نے سر اُٹھا کر مجھے دیکھا۔
    ” ثمرہ نے آپ کو سہیل کے بارے میں تو بتایا ہی ہوگا۔” میں نے غور سے ان کا چہرہ دیکھا جو رنگ بدل چکا تھا۔
    ”ہاں۔ ” انہوں نے سپاٹ سے لہجے میں کہا۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • انوکھی محبت (انٹرنیٹ والا لو) — مہک شاہ

    انوکھی محبت (انٹرنیٹ والا لو) — مہک شاہ

    ہر طرف گہری خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ سب لوگ نہ جانے کب کے سو چکے تھے۔ روہاب نے لیپ ٹاپ کی اسکرین سے نظریں ہٹا کے دیواری گھڑی کی طرف دیکھا جو صبح کے چار بجا رہی تھی۔ معمول کے مطابق اس کے سونے کا وقت ہوا چلا تھا۔ اِس کے ساتھ ہی اس نے ثانیہ ، وشمہ اور تمام آن لائن دوستوں کو گڈ نائٹ کہا اور سونے کے لیے آنکھیں موند کر لیٹ گیا۔
    ابھی اسے سوئے چند گھنٹے ہی ہوئے تھے کہ فون کی گھنٹی کی آواز پورے کمرے میں گونجنے لگی۔
    آنکھوں میں سرخ ڈورے اس کی شب بیداری کے گواہ تھے۔ اس نے غصے سی بنا دیکھے ہی کال کاٹ دی۔ چند سیکنڈ بھی نہ گزرے تھے کہ دوبارہ بیل بجنے لگی۔
    زوہیب کا نام اسکرین پر جگمگا رہا تھا۔ کسی اور کی کال ہوتی تو وہ فون بند کرکے سو جاتا، مگر یہ اس کے قریبی دوست کی کال تھی اِس لیے بلاتاخیر اٹینڈ کر لی تھی۔نہ جانے فون پر کیا کہا گیا تھا کہ روہاب جھٹ سے بیڈ سے اٹھ کر واش روم میں گھس گیا۔ جب وہ باہر آیا تو چہرے سے پانی کی بوندیں ٹپک رہی تھیں۔ اس نے سائیڈ ٹیبل سے کار کی چابی اٹھائی اور باہِر چل دیا۔
    اسپتال کے اندر گہری خاموشی کا راج تھا۔ یہ پہلی بار نہیں تھا آج وہ یہاں تیسری بار لایا گیا تھا.. اس کی سوشل میڈیا پر بنی تیسری گرل فرینڈ بھی اسے چھوڑ کر جا چکی تھی۔
    ہر بار کی طرح اس بار بھی وہ یہ صدمہ برداشت نہ کر پایا تھا۔ روہاب اور اس کے باقی دوستوں نے کئی بار اسے سمجھایا تھا کہ سوشل میڈیا کے تعلقات زیادہ دیر نہیں ٹکتے۔ پھر بھی وقار ہر بار سنجیدہ ہو جاتا تھا۔
    زوہیب کو اسپتال کے کاریڈور میں چکر لگاتا دیکھ روہاب بھی بھاگتا ہوا اس کے قریب آگیا۔
    ”کیا ہوا وقار کو؟”
    ”وہی جو ہر بارہوتا ہے۔” زوہیب نے ماتھے پر تیوری چڑھا کر جواب دیا۔
    ”بریک اپ! پھر سے؟” روہاب نے اس کے تاثرات کو سمجھتے ہوئے خود ہی اندازہ لگایا۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    ”یار کیا کریں اس کا؟ ہرچار پانچ مہینے بعد اس کا یہی رولا ہوتا ہے۔”
    ”اس بار کون سا طریقہ آزمایا ہے جان دینے کا؟”روہاب نے استفسار کیا۔
    ”خود ہی چل کر دیکھ لے ۔” زوہیب نے اس کے شانوں پر ہاتھ رکھا اور دونوں وارڈ کی جانب چل پڑے۔
    وقار کے قریب ایک نرس کھڑی چیک اپ کے ساتھ اس سے سوال جواب کر رہی تھی۔
    وقار چہرے پر بے زاری سجائے اس کے سوالوں کے جواب دے رہا تھا۔
    ”اوکے! بٹ یو ہیو ٹو بی کئیرفل نیکسٹ ٹائم ۔ اس بار ڈوز کم تھی توجان بچ گئی۔ اگر ڈوز زیادہ ہوتی تو جان جا بھی سکتی تھی۔” یہ کہہ کر نرس باہر چلی گئی۔
    ”جینا بھی کون چاہتا ہے۔”وقار نے نرس کے جاتے ہی دیوداسی انداز میں کہا۔
    ”یار ایک لڑکی کی خاطر تو ہمیں بھول گیا۔ ایک بار بھی نہ سوچا تیرے گھر والوں اور تیسرے معصوم دوستوں کا کیا ہو گا؟ ”روہاب نے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے معصومیت سے کہا۔
    ”چل بھول جا کوئی یمنیٰ بھی تھی تیری لائف میں ۔ دیکھنا اس سے اچھی لڑکی مل جائے گی اب۔” فیس بک تو بھری پڑی ہے خوب صورت لڑکیوں سے۔” زوہیب نے اسے تسلی دینے کو ایک نیا شوشہ چھوڑا۔
    ”شٹ اپ یار! اس بار میں سیریس ہوں۔ مجھے سچ میں یمنیٰ سے پیار ہو گیا ہے۔” وقار نے سنجیدگی سے جواب دیا۔ وہ ہر بار یہی کہتا تھا۔
    روہاب کا سیب منہ تک لے جاتا ہاتھ وہیں تھم گیا۔
    ”اچھا ٹھیک ہے ابھی تم آرام کرو بعد میں اس موضوع پر بات کرتے دیکھتے ہیں۔”
    ”ویسے اس موقع پر سیلفی تو بنتی ہے نا؟ ”
    کہتے ساتھ ہی روہاب نے موبائل کا فرنٹ کیمرا کھولا اور تینوں نے سیلفیاں بنوائیں۔ وقار نے اس لیے سیلفی بنوائی تھی کہ یمنیٰ ان کے ”Matual” میں تھی اور وقار کی تصویر دیکھ کر اس سے رابطہ ضرور کرتی۔
    روہاب نے فوراً سیلفی کے ساتھ سٹیٹس اپڈیٹ کر دیا تھا۔
    ”می اینڈ زوہیب ود وقار ایٹ ہاسپٹل۔ ”
    ”with zohaib and waqar at hospital”
    ٭…٭…٭
    اُف اللہ! میں کیا کروں، میں کس سے کہوں؟ماما جانی کدھر ہیں آپ؟ اتنی زوروں کی بھوک لگی ہے۔”
    ”آآآ میرا بچہ! بس آ گیا کھانا۔” نازش نے خود نوالہ بنا کر اپنی نازوں پلی بیٹی پلوشہ کے منہ میں ڈالا۔
    ”ماما جانی بہت مزے کا بنا ہے۔” نازش نے پیار سے اپنی بیٹی کو ساتھ لگایا۔
    ”ماما! میں نے آج یونی میں بھی کچھ نہیں کھایا۔ آپ کی بھتیجی نے کچھ کھانے نہیں دیا۔” پلوشہ نے یمنیٰ کی طرف برا سا منہ بنا کر اسے گھورا۔ نازش نے ایک نظر یمنیٰ کو دیکھا جو گھر جانے کے بجائے سیدھا یہاں چلی آئی تھی اور مسلسل پلوشہ کی ڈراما بازی دیکھ کر کڑھ رہی تھی۔ پلوشہ نے مزے سے کھاتے ہوئے اسے آنکھ ماری۔ یمنیٰ نے برا سا منہ بنا کر سر جھکا لیا۔
    پلوشہ اٹھ کر واش بیسن پر ہاتھ دھونے چلی گئی۔
    ”توکب آ رہے ہیں ہادی لوگ؟” پلوشہ کے جانے کے بعد نازش نے یمنیٰ سے پوچھا۔
    ”جی پھپھو کل آنا ہے۔”
    پلوشہ نے سیڑھیاں چڑھتے یمنیٰ کو اشارہ کیا۔ یمنیٰ بیگ اور موبائل اٹھائے اس کے پیچھے چلی آئی۔
    ”ہاں جی اب بتائیں کیوں صبح سے سڑے ہوئے بینگن جیسی شکل بنا رکھی ہے محترمہ نے؟”
    ”مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے۔” یمنیٰ بے چارگی سے بولی۔
    ”کیسی مدد؟”
    ”میں ہادی سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔”
    ”وہاااااااٹ؟” پلوشہ جھٹکے سے اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔
    ”لیکن کیوں؟ ہادی میں کیا خرابی ہے؟ تمہارا فرسٹ کزن ہے۔ اسمارٹ ہے، ہینڈسم ہے، اچھا بزنس ہے اس کا دبئی میں اور کیا چاہیے؟ تم بس جلدی سے شادی کروائو تو میرا نمبر آئے گا نا۔ میں نے تو سوچ بھی لیا ہے میرا پرنس چارمنگ کیسا ہوگا۔”
    ”بکواس نہیں کرو۔ میں مذاق کے موڈ میں بالکل نہیں ہوں۔” پلوشہ اب خاموشی سے اس کے چہرے کے بگڑے تاثرات کو دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش میں لگی تھی۔
    ”اچھا ٹھیک ہے بتا کیا مسئلہ ہے؟” یمنیٰ نے اپنا موبائل اٹھا کر وقار کی اسپتال والی تصویر دکھائی۔
    ”ارے! یہ تو وہی چمپو ہے نا جو روز کینٹین میں ہمارے ساتھ والی ٹیبل پر بیٹھ کر گھورتا رہتا تھا۔”
    ”ہاں! وہی ہے اور ہم ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں۔ اب جب میں نے اسے کہا کہ میری شادی ہو رہی ہے اور اب بات نہیں کروں گی تو اس نے سوسائیڈ اٹیمپٹ کرنے کی کوشش کی اور اب اسپتال میں ہے۔” اس نے افسردہ سا منہ بنا کر بتایا۔
    پلوشہ تو شاک کے مارے گنگ رہ گئی۔
    ”بولو بھی کچھ۔” یمنیٰ نے اسے جھنجھوڑا۔
    ”اب کیا کر سکتے ہیں۔” پلوشہ کو اپنی آواز دور سے آتی سنائی دی۔
    ”تم اس سے پیار کرتی ہو؟” پلوشہ نے رازداری سے اس کے قریب آکر پوچھا۔
    ”پیار کا تو پتا نہیں لیکن اس کے لیے برا لگ رہا ہے۔ پانچ ماہ سے ہم دوست ہیں۔”
    ”ہیں؟ ابھی تو کہہ رہی تھی پیار کرتی ہو۔ یہ کیسا پیار ہے؟اور ایک بات بتائو، 5ماہ تو یونی جاتے بھی نہیں ہوئے ابھی، تو یہ سب؟” پلوشہ نے بھنویں چڑھاتے ہوئے کہا۔
    ”ہماری دوستی فیس بکپر ہوئی تھی، یونی تو بعد میں جوائن کی تھی۔”
    ”افففف! تم لوگ بھی کن چکروں میں پڑے ہوئے ہو۔ مجھے دیکھو فیس بک بس DP کور بدلنے کو آن لائن جاتی ہوں۔
    ”اچھا اب اپنی تعریفوں کے پل بعد میں باندھ لینا، ابھی بتائو کیا کرنا ہے؟
    ”ہممم! تم ٹینشن نہ لو اِس کو میں سمجھا دوں گی۔ آرام سے ہادی بھائی کے ساتھ شادی کی تیاری کرو ۔” پلوِشہ نے اسے تسلی دی، یمنیٰ کو بھی کچھ حوصلہ ہو گیا تھا۔ اسے بس یہ ڈر تھا کہ وقار کی وجہ سے وہ کسی مصیبت میں نہ پڑ جائے۔
    اب مسئلہ پلوِشہ کا تھا اور اسے پلوِشہ پر پورا یقین تھا۔
    ٹی وی کے سامنے بیٹھے میچ دیکھتے ہوئے وقفے وقفے سے فیس بک پر سکورز کی کمنٹری چل رہی تھی اور میچ دیکھنے سے زیادہ اس کا دھیان ان پوسٹس پر آنے والے کمنٹس پر تھا۔
    روہاب اسپتال سے آتے ہی ٹی وی آن کر کے بیٹھ گیا تھا۔ فین فالوئنگ کے چکر میں زیادہ پوسٹس ڈالنا اس کی عادت کے ساتھ مجبوری بھی تھی۔
    وقار کی ٹینشن اسے بالکل بھی نہیں تھی کیوں کہ وہ جانتا تھا اس کا یہ پیار کا بھوت دو دن میں ہوا ہو جائے گا۔
    ”آگئے جناب! کہاں غائب تھے صبح سے؟”
    ”جی بس فرینڈز کے ساتھ تھا۔”
    ”کس فرینڈ کے ساتھ اور وقار کی طبیعت اب کیسی ہے؟”تیمور صاحب اس کی پوسٹ پہلے ہی دیکھ چکے تھے۔
    ”جی ڈیڈ بس ایسے ہی طبیعت ذرا خراب تھی، اب بہتر ہے۔”
    روہاب اگر انہیں بتا دیتا کہ وقار نے پھر سوسائیڈ کرنے کی کوشش کی ہے تو تیمور صاحب کا لمبا چوڑا لیکچر سننا پڑنا تھا جسے سننے کے لیے وہ بالکل تیار نہ تھا۔
    صبح بھی جلدی جاگ گیا تھا۔ اِس لیے فوراً اٹھ کے کمرے میں چلا گیا اور خلافِ معمول جلدی سو گیا ۔
    ٭…٭…٭
    ”وقار کا روم کون سا ہے؟” پلوِشہ نے ریسیپشن پر موجود لڑکی سے پوچھا۔
    ”میم انہیں آئی سی یو سے پرائیویٹ روم میں شفٹ کر دیا گیا ہے، آپ سیکنڈ فلور پر روم نمبر5 میں چلی جائیں۔”
    ”اوکے تھینک یو۔”
    پلوِشہ جیسے ہی وقار کے کمرے میں پہنچی، وہ اسے دیکھ کر حیران رہ گیا۔
    ”آپ؟”
    ”جی میں؟ کیسے ہیں اب آپ؟”
    ”جی میں ٹھیک ہوں اب۔” وقار نے اچنبھے سے اسے دیکھ کر جواب دیا۔
    ”کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں آپ؟ ہاں؟ بہت شوق ہے آپ کو جان دینے کا، تو بارڈر پر چلے جائیں۔ آپ کیا سمجھتے ہیں آپ کی اِس چیپ حرکت سے میری کزن اِمپریس ہو جائے گی؟ بہت ہی فضول سوچ ہے آپ کی۔” پلوشہ نے تمہید باندھے بغیر اسے سنانا شروع کردیا۔ وقار اس کے بدلتے رویے پر حیران سا ہو کر اسے دیکھنے لگا۔
    ”لڑکیاں کبھی بھی آپ جیسے کم ہمت اور بزدِل لڑکوں سے محبت نہیں کرتیں اور نہ اِمپریس ہوتی ہیں، سمجھے آپ ؟” پلوشہ اب اسے آئینہ دکھا رہی تھی۔
    ”میں بس آپ کو یہی بتانے آئی ہوں کہ یمنیٰ آپ کو صرف دوست مانتی تھی، اِس سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں۔ مہربانی فرما کہ ایسی فضول پوسٹس میں آئندہ اسے ٹیگ مت کیجیے گا۔”
    ”She`s gonna engaged tomorrow.”
    روہاب گنگ کھڑا پلوشہ کی اِک اِک بات سن رہا تھا۔ وقار بھی اسے چپ چاپ خاموشی سے کھڑے دیکھ کہ حیران ہو رہا تھا اور پلوِشہ کی باتوں سے اس کا دماغ بھی صاف ہو رہا تھا۔ اس کی ساری دیوداسی جیسے اڑن چھو ہو گئی تھی۔
    ”اِیکسکیوز می پلیز۔” پلوشہ جانے کے لیے مڑی تو روہاب کو دروازے پر کھڑا پا کر اِس سے کہا، لیکن وہ بت بنا اسے دیکھتا رہا۔
    ”کیا آپ یہاں سے ہٹنے کی زحمت کریں گے؟” روہاب دروازے کے بیچ و بیچ ہوش و حواس سے بے گانہ کھڑا تھا۔
    ”بہرے ہو؟ ہٹو سامنے سے۔” پلوِشہ نے ذرا چیخ کر کہا تو روہاب نے کسی روبوٹ کی طرح فوراًدروازہ چھوڑ دیا اور اسے جاتے ہوئے دیکھنے لگا ۔ اس کے نظروںسے اوجھل ہوتے ہی فوراً وقار کے سر پر آن پہنچا۔
    ”کون تھی یہ لڑکی؟” وقار نے بہت مان سے اسے دیکھا۔
    ”یہ یمنیٰ کی کزن ہے میرے ساتھ یونی میں پڑھتی ہے ۔”
    ”آج تک مجھے تو نہیں ملوایا؟” وہ پتا نہیں کیا معلوم کرنا چاہ رہا تھا۔
    ابھی چند سیکنڈ پہلے جو امید اس کے دل میں جاگی تھی کہ اس کا دوست اس کو حوصلہ دے گا وہ لمحہ بھر میں چکنا چور ہو گئی تھی، مگر وہ جواب دینے پر مجبور تھا۔
    ”عجیب انسان ہو، چلو خیر اِس کی آئی ڈی بتا مجھے۔ آج ہی ریکویسٹ سینڈ کرتا ہوں۔” روہاب نے جیب سے موبائل نکالتے ہوئے کہا۔
    ”کیوں! کیا ضرورت ہے اس لڑکی کو ریکویسٹ سینڈ کرنے کی؟”وقار نے گھور کر پوچھا۔
    ”کیوں؟ اسے ریکویسٹ سینڈ کرنے میں حرج ہی کیا ہے؟ایسی حوصلے والی لڑکی آج تک نہیں دیکھی یار۔” روحاب نے ستائشی انداز میں کہا۔
    ”پلوِشہ شاہ ! یمنیٰ کی میوچل میں ایڈ ہے۔” وقار نے بیڈ سے اُٹھتے ہوئے غضب ناک نگاہوں سے گھور کر کہا جسے روہاب نے جان بوجھ کر ان دیکھا کر دیا۔
    ”تھینک یو!”
    ”بہت ہی کمینے ہو، وہ میری اِتنی انسلٹ کر کے گئی ہے اور تمہیں ریکویسٹ سینڈ کرنے کی سوجھ رہی ہے۔” وقار نے آخر خود ہی خفگی کا اظہار کیا۔
    اِسی وقت زوہیب کمرے میں داخل ہوا ۔
    ”ایک گڈنیوز ہے۔”
    ”کون سی گڈنیوز؟”دونوں نے ایک ساتھ پوچھا ۔
    ”ڈاکٹر نے کہہ دیا ہے کہ اب تم بالکل ٹھیک ہو اور گھر جا سکتے ہو۔” وقار اور روہاب دونوں نے خاموش نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھا۔
    ”کیا ہوا تم دونوں کو خوشی نہیں ہوئی؟”زوہیب نے حیرت سے پوچھا۔
    روہاب نے اسے ساری داستان مزے لے کر سنائی۔
    ”اوہ! یہ تو بہت برا ہوا۔” زوہیب نے وقار کے تاثرات پر غور کرتے ہوئے روہاب کی امید کے بر عکس جواب دیا۔
    ”ٹھیک ہوا جو بھی ہوا۔”
    ”تم لوگوں سے زیادہ مجھے اس لڑکی کی باتوں سے سمجھ آئی ہے۔ میں ہی غلط سمجھ رہا تھا۔ جب میری اپنی دوست ہی بے وفا ہے تو اِس سے کیا گِلہ۔”
    یہ کہنے کے ساتھ ہی وقار نے موبائل فون نکال کر ایف بی آن کی اور فرینڈلسٹ سے یمنیٰ کو ڈیلیٹ کر دیا۔
    ”آج سے یہ ٹاپِک بند۔” روہاب اور زوہیب نے خوشی سے اسے گلے لگا لیا۔
    ”شکر ہے پیار کا بھوت تو سر سے اُترا۔” روہاب نے ذرا اونچی آواز میں کہا۔
    دونوں کو اپنا دوست واپس ہنستا مسکراتا مل گیا تھا۔
    ”یہ سب پلوِشہ کا کمال تھا۔” روہاب دل میں صرف اسی کے بارے میں سوچ رہا تھا۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • انوکھی محبت (انٹرنیٹ والا لو) — مہک شاہ

    انوکھی محبت (انٹرنیٹ والا لو) — مہک شاہ

    ہر طرف گہری خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ سب لوگ نہ جانے کب کے سو چکے تھے۔ روہاب نے لیپ ٹاپ کی اسکرین سے نظریں ہٹا کے دیواری گھڑی کی طرف دیکھا جو صبح کے چار بجا رہی تھی۔ معمول کے مطابق اس کے سونے کا وقت ہوا چلا تھا۔ اِس کے ساتھ ہی اس نے ثانیہ ، وشمہ اور تمام آن لائن دوستوں کو گڈ نائٹ کہا اور سونے کے لیے آنکھیں موند کر لیٹ گیا۔
    ابھی اسے سوئے چند گھنٹے ہی ہوئے تھے کہ فون کی گھنٹی کی آواز پورے کمرے میں گونجنے لگی۔
    آنکھوں میں سرخ ڈورے اس کی شب بیداری کے گواہ تھے۔ اس نے غصے سی بنا دیکھے ہی کال کاٹ دی۔ چند سیکنڈ بھی نہ گزرے تھے کہ دوبارہ بیل بجنے لگی۔
    زوہیب کا نام اسکرین پر جگمگا رہا تھا۔ کسی اور کی کال ہوتی تو وہ فون بند کرکے سو جاتا، مگر یہ اس کے قریبی دوست کی کال تھی اِس لیے بلاتاخیر اٹینڈ کر لی تھی۔نہ جانے فون پر کیا کہا گیا تھا کہ روہاب جھٹ سے بیڈ سے اٹھ کر واش روم میں گھس گیا۔ جب وہ باہر آیا تو چہرے سے پانی کی بوندیں ٹپک رہی تھیں۔ اس نے سائیڈ ٹیبل سے کار کی چابی اٹھائی اور باہِر چل دیا۔
    اسپتال کے اندر گہری خاموشی کا راج تھا۔ یہ پہلی بار نہیں تھا آج وہ یہاں تیسری بار لایا گیا تھا.. اس کی سوشل میڈیا پر بنی تیسری گرل فرینڈ بھی اسے چھوڑ کر جا چکی تھی۔
    ہر بار کی طرح اس بار بھی وہ یہ صدمہ برداشت نہ کر پایا تھا۔ روہاب اور اس کے باقی دوستوں نے کئی بار اسے سمجھایا تھا کہ سوشل میڈیا کے تعلقات زیادہ دیر نہیں ٹکتے۔ پھر بھی وقار ہر بار سنجیدہ ہو جاتا تھا۔
    زوہیب کو اسپتال کے کاریڈور میں چکر لگاتا دیکھ روہاب بھی بھاگتا ہوا اس کے قریب آگیا۔
    ”کیا ہوا وقار کو؟”
    ”وہی جو ہر بارہوتا ہے۔” زوہیب نے ماتھے پر تیوری چڑھا کر جواب دیا۔
    ”بریک اپ! پھر سے؟” روہاب نے اس کے تاثرات کو سمجھتے ہوئے خود ہی اندازہ لگایا۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    ”یار کیا کریں اس کا؟ ہرچار پانچ مہینے بعد اس کا یہی رولا ہوتا ہے۔”
    ”اس بار کون سا طریقہ آزمایا ہے جان دینے کا؟”روہاب نے استفسار کیا۔
    ”خود ہی چل کر دیکھ لے ۔” زوہیب نے اس کے شانوں پر ہاتھ رکھا اور دونوں وارڈ کی جانب چل پڑے۔
    وقار کے قریب ایک نرس کھڑی چیک اپ کے ساتھ اس سے سوال جواب کر رہی تھی۔
    وقار چہرے پر بے زاری سجائے اس کے سوالوں کے جواب دے رہا تھا۔
    ”اوکے! بٹ یو ہیو ٹو بی کئیرفل نیکسٹ ٹائم ۔ اس بار ڈوز کم تھی توجان بچ گئی۔ اگر ڈوز زیادہ ہوتی تو جان جا بھی سکتی تھی۔” یہ کہہ کر نرس باہر چلی گئی۔
    ”جینا بھی کون چاہتا ہے۔”وقار نے نرس کے جاتے ہی دیوداسی انداز میں کہا۔
    ”یار ایک لڑکی کی خاطر تو ہمیں بھول گیا۔ ایک بار بھی نہ سوچا تیرے گھر والوں اور تیسرے معصوم دوستوں کا کیا ہو گا؟ ”روہاب نے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے معصومیت سے کہا۔
    ”چل بھول جا کوئی یمنیٰ بھی تھی تیری لائف میں ۔ دیکھنا اس سے اچھی لڑکی مل جائے گی اب۔” فیس بک تو بھری پڑی ہے خوب صورت لڑکیوں سے۔” زوہیب نے اسے تسلی دینے کو ایک نیا شوشہ چھوڑا۔
    ”شٹ اپ یار! اس بار میں سیریس ہوں۔ مجھے سچ میں یمنیٰ سے پیار ہو گیا ہے۔” وقار نے سنجیدگی سے جواب دیا۔ وہ ہر بار یہی کہتا تھا۔
    روہاب کا سیب منہ تک لے جاتا ہاتھ وہیں تھم گیا۔
    ”اچھا ٹھیک ہے ابھی تم آرام کرو بعد میں اس موضوع پر بات کرتے دیکھتے ہیں۔”
    ”ویسے اس موقع پر سیلفی تو بنتی ہے نا؟ ”
    کہتے ساتھ ہی روہاب نے موبائل کا فرنٹ کیمرا کھولا اور تینوں نے سیلفیاں بنوائیں۔ وقار نے اس لیے سیلفی بنوائی تھی کہ یمنیٰ ان کے ”Matual” میں تھی اور وقار کی تصویر دیکھ کر اس سے رابطہ ضرور کرتی۔
    روہاب نے فوراً سیلفی کے ساتھ سٹیٹس اپڈیٹ کر دیا تھا۔
    ”می اینڈ زوہیب ود وقار ایٹ ہاسپٹل۔ ”
    ”with zohaib and waqar at hospital”
    ٭…٭…٭
    اُف اللہ! میں کیا کروں، میں کس سے کہوں؟ماما جانی کدھر ہیں آپ؟ اتنی زوروں کی بھوک لگی ہے۔”
    ”آآآ میرا بچہ! بس آ گیا کھانا۔” نازش نے خود نوالہ بنا کر اپنی نازوں پلی بیٹی پلوشہ کے منہ میں ڈالا۔
    ”ماما جانی بہت مزے کا بنا ہے۔” نازش نے پیار سے اپنی بیٹی کو ساتھ لگایا۔
    ”ماما! میں نے آج یونی میں بھی کچھ نہیں کھایا۔ آپ کی بھتیجی نے کچھ کھانے نہیں دیا۔” پلوشہ نے یمنیٰ کی طرف برا سا منہ بنا کر اسے گھورا۔ نازش نے ایک نظر یمنیٰ کو دیکھا جو گھر جانے کے بجائے سیدھا یہاں چلی آئی تھی اور مسلسل پلوشہ کی ڈراما بازی دیکھ کر کڑھ رہی تھی۔ پلوشہ نے مزے سے کھاتے ہوئے اسے آنکھ ماری۔ یمنیٰ نے برا سا منہ بنا کر سر جھکا لیا۔
    پلوشہ اٹھ کر واش بیسن پر ہاتھ دھونے چلی گئی۔
    ”توکب آ رہے ہیں ہادی لوگ؟” پلوشہ کے جانے کے بعد نازش نے یمنیٰ سے پوچھا۔
    ”جی پھپھو کل آنا ہے۔”
    پلوشہ نے سیڑھیاں چڑھتے یمنیٰ کو اشارہ کیا۔ یمنیٰ بیگ اور موبائل اٹھائے اس کے پیچھے چلی آئی۔
    ”ہاں جی اب بتائیں کیوں صبح سے سڑے ہوئے بینگن جیسی شکل بنا رکھی ہے محترمہ نے؟”
    ”مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے۔” یمنیٰ بے چارگی سے بولی۔
    ”کیسی مدد؟”
    ”میں ہادی سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔”
    ”وہاااااااٹ؟” پلوشہ جھٹکے سے اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔
    ”لیکن کیوں؟ ہادی میں کیا خرابی ہے؟ تمہارا فرسٹ کزن ہے۔ اسمارٹ ہے، ہینڈسم ہے، اچھا بزنس ہے اس کا دبئی میں اور کیا چاہیے؟ تم بس جلدی سے شادی کروائو تو میرا نمبر آئے گا نا۔ میں نے تو سوچ بھی لیا ہے میرا پرنس چارمنگ کیسا ہوگا۔”
    ”بکواس نہیں کرو۔ میں مذاق کے موڈ میں بالکل نہیں ہوں۔” پلوشہ اب خاموشی سے اس کے چہرے کے بگڑے تاثرات کو دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش میں لگی تھی۔
    ”اچھا ٹھیک ہے بتا کیا مسئلہ ہے؟” یمنیٰ نے اپنا موبائل اٹھا کر وقار کی اسپتال والی تصویر دکھائی۔
    ”ارے! یہ تو وہی چمپو ہے نا جو روز کینٹین میں ہمارے ساتھ والی ٹیبل پر بیٹھ کر گھورتا رہتا تھا۔”
    ”ہاں! وہی ہے اور ہم ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں۔ اب جب میں نے اسے کہا کہ میری شادی ہو رہی ہے اور اب بات نہیں کروں گی تو اس نے سوسائیڈ اٹیمپٹ کرنے کی کوشش کی اور اب اسپتال میں ہے۔” اس نے افسردہ سا منہ بنا کر بتایا۔
    پلوشہ تو شاک کے مارے گنگ رہ گئی۔
    ”بولو بھی کچھ۔” یمنیٰ نے اسے جھنجھوڑا۔
    ”اب کیا کر سکتے ہیں۔” پلوشہ کو اپنی آواز دور سے آتی سنائی دی۔
    ”تم اس سے پیار کرتی ہو؟” پلوشہ نے رازداری سے اس کے قریب آکر پوچھا۔
    ”پیار کا تو پتا نہیں لیکن اس کے لیے برا لگ رہا ہے۔ پانچ ماہ سے ہم دوست ہیں۔”
    ”ہیں؟ ابھی تو کہہ رہی تھی پیار کرتی ہو۔ یہ کیسا پیار ہے؟اور ایک بات بتائو، 5ماہ تو یونی جاتے بھی نہیں ہوئے ابھی، تو یہ سب؟” پلوشہ نے بھنویں چڑھاتے ہوئے کہا۔
    ”ہماری دوستی فیس بکپر ہوئی تھی، یونی تو بعد میں جوائن کی تھی۔”
    ”افففف! تم لوگ بھی کن چکروں میں پڑے ہوئے ہو۔ مجھے دیکھو فیس بک بس DP کور بدلنے کو آن لائن جاتی ہوں۔
    ”اچھا اب اپنی تعریفوں کے پل بعد میں باندھ لینا، ابھی بتائو کیا کرنا ہے؟
    ”ہممم! تم ٹینشن نہ لو اِس کو میں سمجھا دوں گی۔ آرام سے ہادی بھائی کے ساتھ شادی کی تیاری کرو ۔” پلوِشہ نے اسے تسلی دی، یمنیٰ کو بھی کچھ حوصلہ ہو گیا تھا۔ اسے بس یہ ڈر تھا کہ وقار کی وجہ سے وہ کسی مصیبت میں نہ پڑ جائے۔
    اب مسئلہ پلوِشہ کا تھا اور اسے پلوِشہ پر پورا یقین تھا۔
    ٹی وی کے سامنے بیٹھے میچ دیکھتے ہوئے وقفے وقفے سے فیس بک پر سکورز کی کمنٹری چل رہی تھی اور میچ دیکھنے سے زیادہ اس کا دھیان ان پوسٹس پر آنے والے کمنٹس پر تھا۔
    روہاب اسپتال سے آتے ہی ٹی وی آن کر کے بیٹھ گیا تھا۔ فین فالوئنگ کے چکر میں زیادہ پوسٹس ڈالنا اس کی عادت کے ساتھ مجبوری بھی تھی۔
    وقار کی ٹینشن اسے بالکل بھی نہیں تھی کیوں کہ وہ جانتا تھا اس کا یہ پیار کا بھوت دو دن میں ہوا ہو جائے گا۔
    ”آگئے جناب! کہاں غائب تھے صبح سے؟”
    ”جی بس فرینڈز کے ساتھ تھا۔”
    ”کس فرینڈ کے ساتھ اور وقار کی طبیعت اب کیسی ہے؟”تیمور صاحب اس کی پوسٹ پہلے ہی دیکھ چکے تھے۔
    ”جی ڈیڈ بس ایسے ہی طبیعت ذرا خراب تھی، اب بہتر ہے۔”
    روہاب اگر انہیں بتا دیتا کہ وقار نے پھر سوسائیڈ کرنے کی کوشش کی ہے تو تیمور صاحب کا لمبا چوڑا لیکچر سننا پڑنا تھا جسے سننے کے لیے وہ بالکل تیار نہ تھا۔
    صبح بھی جلدی جاگ گیا تھا۔ اِس لیے فوراً اٹھ کے کمرے میں چلا گیا اور خلافِ معمول جلدی سو گیا ۔
    ٭…٭…٭
    ”وقار کا روم کون سا ہے؟” پلوِشہ نے ریسیپشن پر موجود لڑکی سے پوچھا۔
    ”میم انہیں آئی سی یو سے پرائیویٹ روم میں شفٹ کر دیا گیا ہے، آپ سیکنڈ فلور پر روم نمبر5 میں چلی جائیں۔”
    ”اوکے تھینک یو۔”
    پلوِشہ جیسے ہی وقار کے کمرے میں پہنچی، وہ اسے دیکھ کر حیران رہ گیا۔
    ”آپ؟”
    ”جی میں؟ کیسے ہیں اب آپ؟”
    ”جی میں ٹھیک ہوں اب۔” وقار نے اچنبھے سے اسے دیکھ کر جواب دیا۔
    ”کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں آپ؟ ہاں؟ بہت شوق ہے آپ کو جان دینے کا، تو بارڈر پر چلے جائیں۔ آپ کیا سمجھتے ہیں آپ کی اِس چیپ حرکت سے میری کزن اِمپریس ہو جائے گی؟ بہت ہی فضول سوچ ہے آپ کی۔” پلوشہ نے تمہید باندھے بغیر اسے سنانا شروع کردیا۔ وقار اس کے بدلتے رویے پر حیران سا ہو کر اسے دیکھنے لگا۔
    ”لڑکیاں کبھی بھی آپ جیسے کم ہمت اور بزدِل لڑکوں سے محبت نہیں کرتیں اور نہ اِمپریس ہوتی ہیں، سمجھے آپ ؟” پلوشہ اب اسے آئینہ دکھا رہی تھی۔
    ”میں بس آپ کو یہی بتانے آئی ہوں کہ یمنیٰ آپ کو صرف دوست مانتی تھی، اِس سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں۔ مہربانی فرما کہ ایسی فضول پوسٹس میں آئندہ اسے ٹیگ مت کیجیے گا۔”
    ”She`s gonna engaged tomorrow.”
    روہاب گنگ کھڑا پلوشہ کی اِک اِک بات سن رہا تھا۔ وقار بھی اسے چپ چاپ خاموشی سے کھڑے دیکھ کہ حیران ہو رہا تھا اور پلوِشہ کی باتوں سے اس کا دماغ بھی صاف ہو رہا تھا۔ اس کی ساری دیوداسی جیسے اڑن چھو ہو گئی تھی۔
    ”اِیکسکیوز می پلیز۔” پلوشہ جانے کے لیے مڑی تو روہاب کو دروازے پر کھڑا پا کر اِس سے کہا، لیکن وہ بت بنا اسے دیکھتا رہا۔
    ”کیا آپ یہاں سے ہٹنے کی زحمت کریں گے؟” روہاب دروازے کے بیچ و بیچ ہوش و حواس سے بے گانہ کھڑا تھا۔
    ”بہرے ہو؟ ہٹو سامنے سے۔” پلوِشہ نے ذرا چیخ کر کہا تو روہاب نے کسی روبوٹ کی طرح فوراًدروازہ چھوڑ دیا اور اسے جاتے ہوئے دیکھنے لگا ۔ اس کے نظروںسے اوجھل ہوتے ہی فوراً وقار کے سر پر آن پہنچا۔
    ”کون تھی یہ لڑکی؟” وقار نے بہت مان سے اسے دیکھا۔
    ”یہ یمنیٰ کی کزن ہے میرے ساتھ یونی میں پڑھتی ہے ۔”
    ”آج تک مجھے تو نہیں ملوایا؟” وہ پتا نہیں کیا معلوم کرنا چاہ رہا تھا۔
    ابھی چند سیکنڈ پہلے جو امید اس کے دل میں جاگی تھی کہ اس کا دوست اس کو حوصلہ دے گا وہ لمحہ بھر میں چکنا چور ہو گئی تھی، مگر وہ جواب دینے پر مجبور تھا۔
    ”عجیب انسان ہو، چلو خیر اِس کی آئی ڈی بتا مجھے۔ آج ہی ریکویسٹ سینڈ کرتا ہوں۔” روہاب نے جیب سے موبائل نکالتے ہوئے کہا۔
    ”کیوں! کیا ضرورت ہے اس لڑکی کو ریکویسٹ سینڈ کرنے کی؟”وقار نے گھور کر پوچھا۔
    ”کیوں؟ اسے ریکویسٹ سینڈ کرنے میں حرج ہی کیا ہے؟ایسی حوصلے والی لڑکی آج تک نہیں دیکھی یار۔” روحاب نے ستائشی انداز میں کہا۔
    ”پلوِشہ شاہ ! یمنیٰ کی میوچل میں ایڈ ہے۔” وقار نے بیڈ سے اُٹھتے ہوئے غضب ناک نگاہوں سے گھور کر کہا جسے روہاب نے جان بوجھ کر ان دیکھا کر دیا۔
    ”تھینک یو!”
    ”بہت ہی کمینے ہو، وہ میری اِتنی انسلٹ کر کے گئی ہے اور تمہیں ریکویسٹ سینڈ کرنے کی سوجھ رہی ہے۔” وقار نے آخر خود ہی خفگی کا اظہار کیا۔
    اِسی وقت زوہیب کمرے میں داخل ہوا ۔
    ”ایک گڈنیوز ہے۔”
    ”کون سی گڈنیوز؟”دونوں نے ایک ساتھ پوچھا ۔
    ”ڈاکٹر نے کہہ دیا ہے کہ اب تم بالکل ٹھیک ہو اور گھر جا سکتے ہو۔” وقار اور روہاب دونوں نے خاموش نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھا۔
    ”کیا ہوا تم دونوں کو خوشی نہیں ہوئی؟”زوہیب نے حیرت سے پوچھا۔
    روہاب نے اسے ساری داستان مزے لے کر سنائی۔
    ”اوہ! یہ تو بہت برا ہوا۔” زوہیب نے وقار کے تاثرات پر غور کرتے ہوئے روہاب کی امید کے بر عکس جواب دیا۔
    ”ٹھیک ہوا جو بھی ہوا۔”
    ”تم لوگوں سے زیادہ مجھے اس لڑکی کی باتوں سے سمجھ آئی ہے۔ میں ہی غلط سمجھ رہا تھا۔ جب میری اپنی دوست ہی بے وفا ہے تو اِس سے کیا گِلہ۔”
    یہ کہنے کے ساتھ ہی وقار نے موبائل فون نکال کر ایف بی آن کی اور فرینڈلسٹ سے یمنیٰ کو ڈیلیٹ کر دیا۔
    ”آج سے یہ ٹاپِک بند۔” روہاب اور زوہیب نے خوشی سے اسے گلے لگا لیا۔
    ”شکر ہے پیار کا بھوت تو سر سے اُترا۔” روہاب نے ذرا اونچی آواز میں کہا۔
    دونوں کو اپنا دوست واپس ہنستا مسکراتا مل گیا تھا۔
    ”یہ سب پلوِشہ کا کمال تھا۔” روہاب دل میں صرف اسی کے بارے میں سوچ رہا تھا۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • ادھوری کہانیاں — کوثر ناز

    ادھوری کہانیاں — کوثر ناز

    دل فگار الفاظ لکھتے ہوئے میری انگلیاں کبھی نہیں تھکیں۔ میری نگاہ و دل کی گہرائی و گیرائی اپنے مکمل عروج پر تھی۔ درد لکھنے والی میںبے ساختہ قہقہے لگاتی، اپنے ارد گرد مسکراہٹ بکھیرنے کے فن میں ماہر تھی۔
    لوگ کبھی سمجھ ہی نہیں سکے کہ حقیقت کیا ہے، وہ جو درد لکھتی ہے یا وہ جو قہقہے بکھیرتی ہے اور یہی الجھی ہوئی ذات تو کہانی کار کی ہوتی ہے۔ وہ بے نام الجھنوں کو ایک اچھی تحریر لکھ کر بھول جانا چاہتا ہے۔
    میں ہمیشہ کی طرح ایک عام ڈگر پر چل رہی تھی۔ کئی کہانیوں میں گھری میں ان دنوں کسی اور زاویے پر سوچتی ہی نہ تھی۔ نہ شوشل میڈیا پر دھیان تھا نہ ہی دوسری سرگرمیوں میں شامل ہوتی تھی۔ اسی دوران مجھے فیس بک پر کسی اجنبی لڑکی کا پیغام موصول ہوا۔ لازمی جواب دینے کی گزارش تھی۔ اس پیغام میں ایسا کچھ ضرور تھا کہ میں اسے نظر انداز نہیں کرسکی۔ جواب ملتے ہی اس نے اپنی درخواست میرے گوش گزار کی اور میں سوچ میں ڈوب گئی۔ اتنی ساری ادھوری کہانیاں تو میری فائلز اور لیپ ٹاپ میں موجود ہیں، میں ایک اور تحریر کا بار نہیں اٹھانا چاہتی تھی لیکن وہ بضد تھی کہ میں بس اس کی کہانی لکھوں، اس کے اصرار پر میںنے اس کی کہانی سننے کے لیے رضا مندی ظاہر کر دی اور اس نے مجھے وہی کہانی سنائی جو فیس بک پر یقینا ہر تیسری نوعمر لڑکی کی کہا نی ہے۔
    کہتی رہی کہ ایسا لکھیے گا کہ پڑھنے والا دردمحسوس کرے، لفظوں میں وہ قیامت خیزی لائیے گا کہ دل فگار ہوجائیں۔ وہ چاہتی تھی کہ میں وہ درد لکھوں جو وہ محسوس کرتی ہے۔ وہ سمجھتی تھی کہ جو اس پر بیتا ہے وہ اس دنیا سے ہٹ کر ہے اور شاید وہ ٹھیک ہی سمجھتی تھی کیوں کہ ہر کردار اپنی کہانی کا مرکزی کردار ہی ہوتا ہے۔ پھر چاہے اس کی کتاب زندگی میں اس سے بہتر درجے کے کتنے ہی لوگ کیوں نہ موجود ہوں۔
    اس نے مجھے بتایا کہ سالِ نو کے پہلے مہینے کا ذکر ہے جب وہ زمین زاد مجھے فلک زاد بن کر ملا اور ملتے ہی میری آنکھوں کو اپنے خواب دان کرگیا۔کہتی تھی کہ وہ سب سے جدا تھا، نہ بولتا تھا ، نہ ہنستا تھا اور نہ ہی بات کرتا تھا ۔ میرے فیس بک گروپ میں موجود تھا اور سب سے بالکل مختلف تھا۔ میں نے اس کی جانب کبھی توجہ دی ہی نہ تھی، وہ کافی عرصے سے میرے دوستوں میں بھی شامل تھا۔ پھر ایک روز میری بیماری کے اسٹیٹس پر اس نے سوالیہ نشان بھیجا تو جواباً ”کچھ نہیں” کہہ کر میں آگے بڑھ گئی اور وہ ہمیشہ کی طرح خاموش ہوگیا لیکن اس بار اس کا خاموش ہونا مجھے محسوس ہوا تو میں سلام دعا کرنے انباکس میں پہنچ گئی۔
    پہلی بار کے بعد پھر کئی بار اس سے بات کی۔ اس سے بات کرکے ہمیشہ لگتا کہ وہ تن ِ تنہا تمام عالم کا غم اٹھا رہا ہے۔ وہ اکیلا ہے جو غموں کے جھرمٹ میں سر گھٹنوں میں دیے بیٹھا کسی مسیحا کا منتظر ہے۔ خاموش شخص اپنے اندر لاتعداد اسرار رکھتا ہے، وہ بھی ایسا ہی تھا لیکن وہ جب مجھ سے بات کرتا تو ہنس دیتا تھا اور مجھے اس کی ہنسی بھلی لگتی تھی ۔ اس ایک بار کی گفتگو کے بعد ہماری بات چیت کے درمیان کوئی لمبے دنوں کا وقفہ نہیں آیا ۔ ہم مسلسل رابطے میں رہتے تھے۔ عام سی ساری باتیں ہوتیں لیکن ہم انہی عام سی باتوں پر اپنا سارا وقت صرف کرنے لگے۔ دنیا جہاں کا کوئی موضوع نہ چھوڑتے۔ ہم مزید مانوس ہوئے تو مجھے علم ہوا کہ وہ اس بھری دنیا میں بالکل تنہا ہے۔ اس کے والدین اس کے بچپن میں ہی چل بسے تھے۔ وہ کہتا تھا کہ
    ”مایا میں نے کبھی بچپن نہیں دیکھا۔” اور صحیح کہتا تھا جس کے پاس لاڈ اٹھانے والے ہی نہ ہوں تو وہ زندگی کا حسین چہرہ کیسے دیکھ سکتا ہے۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    وہ عجیب و غریب باتیں کیا کرتا۔ کہتا کہ ” آپ کو پتا ہے یہ لوگ جو زندگی سے ہار مان جاتے ہیں نا دراصل یہ ان کی لفظی ہار ہوتی ہے ورنہ تو زندگی کے لیے آخری سانس تک لڑتے رہتے ہیں، ہاں خود کو دھوکہ دیتے ہیں کہ ہار مان لی ہے تاکہ زندگی اپنے امتحان آسان کردے ۔” اس کے دکھ سن کر مجھ پر عجیب سی کیفیت طاری ہوجاتی، مجھے خواہش ہوتی کہ اس کے غم چن لیے جائیں لیکن میں چپ چاپ اس کی باتیں سنے جاتی۔ پھر عجیب واقعہ ہوا جب میں ایک روز یونیورسٹی سے لوٹی تو اس کے کئی پیغامات میرے منتظر تھے۔
    ”کیا ہم بات کرسکتے ہیں پلیز؟” اس کا پیغام دیکھ کر میں نے فوراً سے پیشتر جواب دیا تھا۔
    ”کیا ہوا؟”’ اور وہ میرا ہی منتظر تھا کہنے لگا ۔
    ”بہت گھبراہٹ ہورہی ہے، کسی طور سکون نہیں ہے، کیا ہم کچھ دیر بات کرسکتے ہیں؟ بہت سے لوگوں کو میسج کیا لیکن کسی نے جواب نہیں دیا۔” میں اس کی مسیحائی کے لیے تیار بیٹھی فوراً اس کی سننے لگی۔ چند دن بعد پھر اسی وقت پر اس کا وہی میسج تھا اور میں اسے پھر مختلف حیلے بہانوں سے بہلانے لگی۔ وہ کہتا تھا کہ ”مایا تم سے بات کرکے میں سکون کی کس منزل پر پہنچ جاتا ہوں میں کبھی بیان نہیں کرسکتا ۔” ہم بن کہے ایک دوسرے کے ہوگئے تھے۔ ہمارا دل ایک ساتھ دھڑکنے لگا تھا، کوئی معنی خیز سی بات ہماری سانسوں میں گرمی بھر دیا کرتی تھی۔ زندگی کب کیا رخ اختیار کرلیتی ہے، کسی کو بھنک تک نہیں پڑتی۔ ہم اب صبح سے شام اور رات سے صبح صادق تک بات کرتے کرتے نہ جانے کس راہ پر نکل آئے تھے کہ اب ایک دوسرے کے بغیر جینا تو دور سانس تک لینا محال لگنے لگا تھا۔ لیکن بات اب تک صرف اپنی ذات کے درمیان تھی ، ہم نے ابھی ایک دوسرے کو حال دل نہیں بتایا تھا، ہم منتظر تھے کہ اقرار کا کوئی لمحہ ہمارے ہاتھ لگے اور پھر ایک دن فیضان نے پوچھ ہی لیا۔
    ”اگر آپ کسی کو پسند کرتے ہوں تو کیا اسے بتا دینا چاہیے؟” اور میں نے دھڑکتے دل کے ساتھ کہا کہ ضرور بتانا چاہیے اور وہ میرے سر ہوگیا۔ گزرتے وقت کے ساتھ میں اس کے غمو ں کا مداوا کرتے کرتے اس کی مسیحا بن گئی اور وہ عشق کے مدار میں چکر کاٹنے لگا تھا۔ مجھے نا خدا ماننے لگا تھا۔
    کہتا کہ اگر مجھے کسی انسان کو سجدے کی اجازت ہوتی تو وہ میں آپ کو کرتا۔ آپ میرا ایمان بن گئی ہیں۔ کوئی ایک لمحہ آپ کے دھیان سے خالی نہیں ہوتا۔ کوئی پل آپ کی ذات کے خیال سے باہر کا نہیں ہوتا۔ آپ میرا کعبہ میرا قبلہ بن گئی ہیں۔ میں ڈر جاتی ، اس کی شدتیں عروج پر ہوتیں۔ مجھ پر گناہ گار ہونے کا خوف مسلط ہوجاتا، لیکن اس کے لیے میرے عشق کی گہرائی نہ ختم ہوتی۔ یہ سچ تھا کہ میں خود سے چار سال چھوٹے شخص کے عشق میں خود کو بھولی ہوئی تھی اور وہ… وہ تو پاگل بن بیٹھا تھا، میرے علاوہ اسے کچھ سوجھتا ہی نہ تھا، ہمیشہ ایک ہی نام اس کی زبان پر ہوتا اور وہ نام میرا ہوتا۔ کہتا کہ
    ”یقین کرو۔ میرا سارا سکون تم سے وابستہ ہے۔ تمہارا ہاتھ تھامے رکھوں، تمہارے ساتھ ہونے کے احساس کو محسوس کرتا رہوں تو اس کے آگے ساری دنیا ہیچ ہے۔” وہ اظہارِمحبت میں کنجوسی کرتا لیکن باقی جذبات وہ بہت دھڑلے سے بتایا کرتا۔ ایک دن کسی بات پر کہنے لگا۔
    ”مجھے اپنے شناختی کارڈ کی تصویر لے کر بھیجیں لیکن اپنے چہرے کو کسی چیز سے ڈھانپ دینا، مجھے وہ نہیں دیکھنا کیوں کہ مجھے آپ ہر صورت پسند ہیں۔” لیکن ایسا بھی کبھی ہوا ہے کہ جہاں محبت اپنی تمام تر شدتوں کے ساتھ پنپ رہی ہو وہاں کوئی پردہ، کوئی جھجک درمیان آجائے۔ میں نے اس کی بات کو معتبر جان کر اسے کہا کہ تصویر تو میں تمھیں ویسے ہی دکھا دوں گی، وہ بہت حیران ہوا۔
    ”کیا آپ مجھے واقعی تصویر بھیجیںگی؟”
    ”ہاں !کیوں نہیں۔”
    ”لیکن میں نا محرم ہوں۔”
    ”’تو کیا نہیں بھیجنی چاہیے؟” میں نے سوال کیا۔
    جواباً وہ خاموش رہا تو میں نے اسکارف پہن کر ایک عدد تصویر لی اور اسے بھیج دی۔ وہ تادیر مبہوت سا اسے دیکھتا رہا، اس کی محبت عروج کی جانب بڑھتی رہی اور میں اس کی محبت کی شدت پر آسودہ سی مسکراتی رہی۔
    وہ میرے ساتھ پر نازاں تھا۔ میرے ہونے کا مطلب پورا ہوگیا تھا۔
    ہم خوش تھے کہ ہمیں ایک دوسرے کا ساتھ میسر ہے۔ راتوں کو دیر تک فون پر بات کرتے۔ خدا کا شکر ادا کرتے۔ ایک دوسرے کے بغیر کھانا نہ کھاتے، میں اسے جب تک اطلاع نہ دیتی وہ بھوکا رہتا۔ اکثر مذاقاً کہتا کہ ، آپ مجھے بھوکا مار دیں گی۔ میری محبت چاہے لاکھ شدت رکھتی ہو لیکن اُس کی محبت مکمل دین، ایمان والی تھی۔ میں اسے بات کے دوران کہتی ‘ ‘رکو” اور وہ صبح سے شام تک میسنجر کھولے میرا منتظر رہتا۔ میں خدا حافظ کیے بغیر سو جاتی تو وہ صبح صادق تک میرے پیغام کا انتظار کرتا رہتا اور پھر لکھتا کہ:
    ”بہت نیند آئی ہے ، اب سوتا ہوں۔”
    دن اپنی برق رفتاری کے ساتھ گزرتے رہے کہ ایک روز کسی نے میرے گروپ میں پوسٹ لگائی کہ ” میں اور مایا دوست ہیں۔” اور اس کا چہرہ آنسوؤں سے تر ہوگیا۔ وہ مجھے لے کر اسی قدر جذباتی تھا۔ کہتا کہ:
    ”آپ کو خدا کا واسطہ ہے ، آپ کو میرے علاوہ کوئی اور نہ دیکھے، کوئی نہ بات کرے، آپ میرا تمام تر ایمان ہیں، میں آپ کے گرد حصار رکھنا چاہتا ہوں، پلیز میری مقدس محبت کو عام نہ کیجیے۔ ایسے میرا ایمان مجروح ہوتا ہے، میری محبت کی توہین ہوتی ہے۔” وہ روتا، گڑگڑاتا اور میں اس کی محبت میں ہر اس شخص کو گروپ سے بلاک کردیتی جس جس کی طرف وہ اشارہ کرتا۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • آپا — فاطمہ عبدالخالق

    آپا — فاطمہ عبدالخالق

    بچپن سے پچپن تک میں اسی شش و پنج کا شکار رہا کہ وہ میری آپا ہیں یا میں ان کا بھیا ہوں؟ کیوں کہ یوں تو آپا مجھ سے عمر میں چھوٹی تھیں، لیکن ا ن کی جسامت دیکھنے والوں کو حیرت میں مبتلا ضرور کر دیتی تھی۔ آپا صرف جسامت کے لحاظ سے ہی نہیں بلکہ عقل کے لحاظ سے بھی کافی موٹی تھیں۔ یہ بھی الگ قصہ ہے کہ ان کی ساری کوتاہیوں کا نزلہ مجھی پر گرتا تھا۔پہلے پہل تو میں آپا کی باتوں کو سنجیدگی سے نہیں لیتا تھا، لیکن جب میری ناؤ کنارے پر پہنچنے کے بجائے بیچ منجدھار میں غوطہ کھانے لگی، تو مجھے شدت سے اپنی بزدلی پر غصہ آیا اور اماں مرحومہ کی یاد نے شدت سے حملہ کیا کیوں کہ ایک اماں ہی تھیں جو آپا کو کسی نادیدہ ریموٹ سے کنٹرول کرنا جانتی تھیں۔ اماں کے علاوہ آپا اپنی زبان درازی کے باعث پورے خاندان والوں پر بھاری تھیں۔
    آپا اگر چھے بچوں کی اماں تھیں، تو میں بھی چار بچوں کا باپ تھا۔ یہ الگ داستان ہے کہ اتنا بڑا ہونے کے باوجود ان کے سامنے میری گھگی بندھ جاتی جس کا میری بیگم صائمہ منیر کو از حد قلق ہے کیوں کہ وہ اکثرہی آپا کی زیادتیوں کا شکار بنتی آئی ہے۔سیانے کہتے ہیں کہ جوان اولاد کا باپ طاقت ور ہوتا ہے، مگر میں محمد خضر ولد حیات علی ایسا مرد ہوں جو اپنی بیوی کے سامنے شیر اور آپا کے سامنا گیدڑ کا رول بہ خوبی نبھاتا ہے۔ میری کہانی پڑھتے ہوئے یقیناآپ کو مجھ پر بے تحاشا غصہ آ رہا ہو گا اور میری بیوی کے لیے آپ کے دل میں رحم کے لڈو پھوٹ رہے ہوں گے، حالاں کہ اگر انصاف کی عینک سے دیکھا جائے تو آپ کو واضح طور پر نظر آئے گا کہ بیگم سے زیادہ میری حالت قابلِ رحم ہے کیوں کہ میں بچپن سے لے کر اب تک آپا کے زیر عتاب ہی رہا ہوں۔ ایک سوچ یقینا آپ کو مسلسل بے چین کر رہی ہو گی کہ آپا تو اب بال بچوں والی ہیں اور اپنے گھر جا چکی ہوں گی، توپھر میں کیوں دکھڑے رو رہا ہوں تو پیارے قارئین! آپ کی اطلاع کے لیے عرض کرتا چلوں کہ ہماری آپا بیاہ کر کبھی رخصت ہی نہیں ہوئیں بلکہ وہ تو ہمارے دلہا بھیا کو رخصت کروا لائی تھیں۔ یہاں تک تو زندگی کی گاڑی ٹھیک ٹھاک دوڑ رہی تھی، مگر جونہی کچھ سالوں بعد اماں محترمہ کو ہمارے سر پر سہرا سجانے کا شوق طاری ہوا، تو زندگی کی چلتی ہوئی اس گاڑی کو ایک زوردار بریک لگا اور اس بریک کے لگتے ہی ہماری آپا کے بھی کان کھڑے ہو گئے۔ ہمارے رشتے کی مہم شروع کیا ہوئی کہ آپا کی تو پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں آگیا۔ رنگ برنگے کھانوں کی شوقین آپا گھر گھر جا کر کھانے کھاتیں اور جب پیٹ اچھی طرح بھر جاتا، تو ایک لمبا سا ڈکار مارتے ہوئے کھانے میں نادیدہ قسم کے نقص نکال کر واپس آ جاتیں۔ لڑکی والے جو آپا کو رغبت سے کھانا کھاتا دیکھتے دل میں آس امید جگا لیتے، لیکن آپا کے نقص نکالنے پر ان کی ساری امیدوں پر پانی پھر جاتا اور دل الگ کھٹا ہوتا اور یقینا دل ہی دل میں آپا کے خوب لتے لیے جاتے ہوں گے۔ اماں مرحومہ نے جب آپا کا یہ حال دیکھا، تو چپکے سے اپنے چھوٹے بھائی کے گھر میرا رشتہ پکا کر آئیں۔ اس بات کی خبر جونہی آپا کو ہوئی، انہوں نے سارا گھر سر پر اٹھا لیا کیوں کہ انہیں بہ خوبی علم تھا کہ میں صائمہ کو پسند کرتا ہوں اور ان کا نظریہ تھا کہ صائمہ آتے ہی میرے کان بھرنا شروع کر دے گی اور یوں میں اماں سے جدائی کا مطالبہ کروں گا۔ یہی وجہ تھی کہ اس دن محلے والے بھی آپا کی زبان کے جواہر سے خوب لطف اندوز ہوئے۔ بالآخر اماں مرحومہ نے بھی آپا کو کسی نہ کسی طرح قابو کر ہی لیا۔ اب واللہ علم اماں نے آپا کو کیا کہا تھا کہ ایک دم سے پرسکون ہوگئیں۔ ابھی بات پکی کیے چھے ماہ بھی نہیں ہوئے تھے کہ اماں کو میرے بیاہ کی رٹ لگ گئی۔ آپا بھی نہ جانے کیسے اماں کی ہاں میں ہاں ملانے لگیں۔ خیر جو بھی تھا، میرے سر پر سہرا سج گیا اور صائمہ منیر میری دلہن بن کر روشنی بکھیرنے آ گئی۔ چوں کہ وہ آپا کی مخالفت کے باوجود بیاہ کے اس گھر میں آئی تھیں اس لیے آپا کو صائمہ منیر کی خوشی ایک آنکھ نہ بھاتی اور جب کبھی بھی وہ صائمہ منیر کے لبوں پر مسکراہٹ دیکھتیں، تو کوئی نہ کوئی زہریلا جملہ اس کے کانوں میں انڈیلنا اپنا اوّلین فرض سمجھتیں اور کڑوی گولی پلانے کے بعد ٹی وی پر چلنے والے پسندیدہ ڈرامے کی جانب متوجہ ہو جاتیں۔ یہ بھی ایک مزے دار بات ہے کہ صبح نو سے رات بارہ بجے تک مسلسل اسٹار پلس پر چلنے والے تمام ڈرامے ان کے پسندیدہ تھے۔ ادھر کبھی غلطی سے کیبل بند ہوئی نہیں کہ ادھر آپا کیبل والے کی شان میں ”شان دار قصیدہ” گوئی شروع کردیتیں۔ دُلہا بھائی کی پچاس ہزار ماہوار تنخواہ ہونے کے باوجود مہینے کی چوبیس یا پچیس تاریخ کو آپا کے پاس پیسے ختم ہو جاتے تھے۔ حالاں کہ گھر کے سارے خرچے اماں میری تنخواہ اور زمینوں سے آنے والی آمدن سے پورے کرتی تھیں۔ دراصل آپا کو کھانے پینے، دوسروں کو کھلانے پلانے اور بلاوجہ کی دعوتوں کا بہت شوق تھا جس کی بنا پر ان کے لیے پچاس ہزار بھی کم تھے۔ اماں بھی آپا کی اس عادت سے چشم پوشی اختیار کیے رکھتی تھیں کہ اُنہیںکچھ کہنا گویا بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے کے مترادف تھا۔اماں کی اسی چشم پوشی کی بدولت آپا کی یہ عادت خاصی پختہ ہو گئی کہ انہوں نے اماں کے دار فانی سے رخصت ہو نے کے بعد آہستہ آہستہ میری تنخواہ پر نظریں جمانا شروع کر دیں۔حالاں کہ میں خود بال بچوں والا ہوں، لیکن آپا کو اب یاد آیا کہ میں تو ان کا بڑا بھائی ہوں۔ ہمارا گھر صحیح معنوں میں جنگ کا میدان تب بنا جب میں نے اماں کے انتقال کے بعد پہلی تنخواہ اپنی بیگم صائمہ منیر کو پکڑائی۔آپا کا کہنا تھا کہ میری تنخواہ پر ان کا حق ہے اور میری بیگم صائمہ منیر کا نقطۂ نظر تھا کہ اب اماں کے گزر جانے کے بعد یہ اس کا حق بنتا ہے۔ آپ اسے میری شرافت کہہ لیں یا بزدلی کا نام دے لیں، لیکن سچ تو یہ تھا کہ میں دو خواتین کے درمیان چکی کے دو پاٹوں کی طرح پس رہا تھا۔ جب دونوں خواتین میں کوئی ہار ماننے کو تیار نہ ہوا، تو آپا نے سارے خاندان کو فون گھما کر اکٹھا کر لیا۔ سارے خاندان والوں کو بھی آپا پر ہی ترس آیا کہ ماں کے بعد اب اکلوتا بھائی بھی اس سے منہ موڑ رہا ہے، لیکن اگر انصاف کی بات کی جائے تو سب غلط تھا۔ چار و ناچار سب کے سامنے مجھے گھٹنے ٹیکنے پڑے اور یوں خاصی منت سماجت کے بعد آپا اس بات پر بہ مشکل راضی ہوئیں کہ انہیں ماہوار بیس ہزار خرچ دیا جائے جب کہ اس وقت میری تنخواہ چالیس ہزار تھی۔ باقی کا بیس ہزار اور چار بچوں کا ساتھ میرے لیے انتہائی مشکل تھا۔ میری بیگم بھی مجھ سے ناراض تھیں کہ نہ جانے وہ وقت کب آئے گا جب میں اپنی بزدلی ختم کر پائوں گا اور اپنے فیصلے آپا کے بہ جائے خود کروں گا جب کہ میں اس بات پہ شکر منا رہا تھا کہ چاہے آدھی تنخواہ ہاتھوں سے چلی گئی، لیکن کم از کم گھر میں سکون تو ہوا کرے گا۔ یوں بھی پوری تنخواہ ان کے ہاتھوں میں تھمانے سے بہتر تھا کہ آدھی تھما دی جائے۔ کاش میری آپا جیسی عورتیں جو مرد کی کمائی کو بلاوجہ فضول کاموں میں خرچ کرتی ہیں، ایک بار مرد کی جگہ کھڑے ہو کر تو دیکھیں کہ وہ کیسے محنت و مشقت سے پیسے کما کر لاتا اور آپ کو تھماتا ہے، لیکن جب آپ اس محنت کی کمائی کو ضروریاتِ زندگی کی بہ جائے آسائشاتِ زندگی کی دوڑ میں شامل ہونے کے لیے بلاوجہ خرچ کرنے لگتی ہیں، تو آہستہ آہستہ نئی نکور چمکتی دمکتی زندگی کی گاڑی کی باڈی کو زنگ لگنے لگتا ہے اور ہاتھ میں کباڑ کے سوا کچھ نہیں آتا۔ سیانے سچ کہتے ہیں کہ ہمیں اپنی چادردیکھتے ہوئے ہی پائوں پھیلانے چاہئیں، کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے سے بہتر ہے تھوڑے پر گزارہ کرنا سیکھ لیا جائے ۔
    خیر، وقت کا کام بیتنا ہے، تو یہ دبے پاؤں گزرتا چلا جاتا ہے۔ ہم نے بھی جیسے تیسے بیس ہزار میں گزارہ کرنا سیکھ لیا تھا اور اب جہاں میرے بچے جوان ہوئے، وہیں آپا کی بیٹیاں بھی جوان ہوگئیں۔ آپا کی بیٹیاں، آپا سے قدرے مختلف ہیں کیوں کہ ان کی پرورش میں میری بیگم صائمہ کا بہت بڑا ہاتھ ہے، لیکن آپا کا اکلوتا بیٹا اُنہی کا پرتو نکلا تھا۔ بچوں کے بڑے ہونے پر گھر میں کافی سکون رہنے لگا۔آپا بھی شاید میری بیگم کے ساتھ تھوڑا بہت سمجھوتا کر چکی تھیں، لیکن سیانے سچ ہی کہتے ہیں، طویل خاموشی کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہوتی ہے کیوں کہ اصل بھونچال تو ہمارے گھر تب آیا جب آپا اپنے اکلوتے بیٹے کے لیے میری لاڈلی بیٹی شائستہ کا رشتہ لے کر آئی۔ اُن کا بیٹا میری آنکھوں کے سامنے پلا بڑھا تھا اور بالکل آپا کی کاربن کاپی تھا، اس لیے میں بہ خوبی جانتا تھا کہ یہ میری لاڈلی بیٹی کے لیے درست فیصلہ نہیں ہے، لیکن آپا کو انکار کرنے کی ہمت مجھ میں کب تھی؟
    مجھے وہ دن بہ خوبی یاد ہے جب سارے گھر والے بڑے ہال میں جمع تھے۔ محفل پر سکتہ طاری تھا۔ آپا بھی بڑے رعب سے رشتہ مانگ رہی تھیں کیوں کہ وہ جانتی تھیں کہ میں انہیں کبھی بھی انکار نہیں کر پائوں گا۔ آپا کی بڑی بیٹی مریم نے کچھ کہنا چاہا کہ آپا نے اسے بھی جھڑک کر خاموش کروا دیا۔ میرے دائیں جانب بیٹھی میری بیگم صائمہ منیر بھی بڑی بے چینی سے پہلو بدل رہی تھی۔ اس کا سارا وجود اضطراب کی آماجگاہ بنا ہوا تھا۔ کیوں کہ وہ بہ خوبی جانتی تھی کہ مجھ میں اتنی سکت نہیں کہ میں اس رشتے سے انکار کر سکوں اور یہ سچ ہی تھا۔ میں کبھی انکار کر نہیں پاتا اگر میری بیٹی میرے سامنے سوالیہ نشان بن کر کھڑی نہ ہوتی۔ جی ہاں اس دن میں آپا کو رشتے کے لیے ہاں کہنے ہی والا تھا کہ میری نظر اپنی لاڈلی بیٹی شائستہ کے چہرے پر پڑی جو ہال کے دروازے پر کھڑی آنسو ضبط کرنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔کیا نہیں تھا اس وقت اس کی آنکھوں میں؟ لاچاری، بے بسی، سوالات کا انبار، کانچ کی کرچیوں کی صدا، سمندری طوفان جو امڈنے کو بے تاب تھا، ٹوٹے خوابوں کی مسمار عمارت اور بھی بہت کچھ جس سے میں چاہتا، تو بھی نظریں نہیں چرا سکتا تھا۔
    میں، خضر حیات، جو کبھی آپا کے سامنے نہ بول پایا تھا، اپنی بیٹی کی آنکھوں کے سمندر میں تیرتے سوالوں میں ڈوب گیا۔
    آپا کی حیرت بھری نگاہیں مجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہیں کیوں کہ وہ دن اور منظر مجھے کبھی نہیں بھول سکتا۔ پچپن سال تک جس لاوے کو انہوں نے دبائے رکھا تھا، وہ اس دن شعلہ بن کر جب دہکا، تو اس کی لپیٹ میں آپا کا وجود ہی جھلسا تھا۔
    اس دن سے آپا نے خاموشی کی چادر اوڑھ کر ہماری زندگی پر حکومت کرنا چھوڑ دی۔”آپا” نامی خوف ہمارے سروں سے اتر چکا تھا۔ اس دن میں نے پہلی بار اپنی اور آپا کی بیٹیوں کو خوش اور آزاد دیکھا تھا۔
    میں نے دیر سے ہی سہی، لیکن یہ ضرور جان لیا تھا کہ ظالم کا ظلم سہنا بھی گناہ ہے۔ اگر آپ ظلم کو روکنے کی ہمت نہیں رکھتے، تو ظلم سہنے سے آپ کے علاوہ کسی کا کوئی نقصان نہیں ہوتا، آپ کی ہی زندگی بدتر ہوتی چلی جاتی ہے اور دوسری اور سب سے اہم بات یہ کہ بیٹیوں کے باپ کو ہمیشہ مضبوط ہونا چاہیے ورنہ یہ کلیاں مرجھا جاتی ہیں اور اگر یہ کلیاں مرجھا جائیں، تو در و دیوار سے وحشت ٹپکنے لگتی ہے۔ اُداسی اپنے پر کھولے منڈیر پر ڈیرہ جما لیتی ہے، خوشیاں ان کلیوں کے ٹوٹے ہوئے خوابوں کی مسمار عمارتوں کے ملبے تلے دب کر سانسوں سے ناتا توڑ لیتی ہیں اور پھر آپ کے ہاتھ میں فقط پچھتاوے کی پوٹلی آتی ہے۔
    آپ قارئین میں سے بھی اگر کوئی ایسی صورت حال سے دوچار ہے، تو خدار اسے روکیے تاکہ کوئی کلی مرجھا نہ پائے۔

    ختم شد
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • نوشتہ تقدیر — حاجرہ عمران خان

    نوشتہ تقدیر — حاجرہ عمران خان

    چھوٹے چھوٹے کنکر پاؤں میں چبھ کر جب انہیں زخمی کرتے تو اس کی روح کلبلا اٹھتی۔ آسمان پر چمکتا سورج قہر برساتا تو اسے یاد آتا کہ کبھی کوئی مہربان سائباں اس کے لیے بھی چھاؤں تھا۔ اردگرد جو نہیں رہے وہ محبت اور چاہتوں کی بنیاد پر کھڑی دیواروں کے حصار یاد آتے۔ وہ یاد نہ بھی کرتی مگر گزرا ہوا کل بار بار اس کے سامنے آ کھڑا ہوتا۔ جب جسم بھوک سے نڈھال ہوتا ، جب دھوپ اس کے نازک سے بدن کو جھلسانے لگتی، اڑتی ہوئی خاک جب اس کی روح تک کو گرد آلود کر دیتی جسے دیکھ کر اسے اپنے وجود کی کم مائیگی یاد آتی تو وہ سوچنے لگتی کہ میری ذات تو اس خاک سے بھی ارزاں ٹھہری۔
    ”کیا کلمہ گو ہونا ہی اس صدی کا سب سے بڑا جرم ہے؟”
    آندھی کی شدت سے سرخ پڑتے آسمان کو فریاد کناں نگاہوں سے دیکھتے ہوئے زینب نے سوچا۔
    اپنے دو ننھے بچوں کی انگلی تھامے وہ گلی گلی خوار اور محلوں کی خاک چھان رہی تھی۔ وہ بھکارن نہیں تھی۔ ابھی کچھ روز پہلے وہ ایک آرام دہ ، پرسکون اورخوش حال زندگی گزار رہی تھی جہاں فکر و غم گھر کی دہلیز پھلانگنے کی جرات بھی نہیں کرسکتے تھے۔ خوشیوں اور آسائشوں سے سجا گھر جہاں زینب ، اس کا شوہر اور بچے جنت جیسی زندگی گزار رہے تھے۔ ایک دین دار اور مسلم گھرانا جو اپنی روایات اور مرئوجہ اصولوں پر زندگی کی بنیاد رکھے ہو ئے تھا کہ یکایک بغاوت کی ایک لہر پورے ملک میں جاگی۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    بغاوتیں ایسے ہی نہیں جاگا کرتیں ، ان کے پیچھے کوئی نہ کوئی نظریہ اور سوچ ہوا کرتی ہے۔ ایسی ہی بغاوت ہندوستان میں اس وقت پھیلی جب ہندو چاہتا تھا کہ انگریز عنان حکومت اس کے سپرد کر کے ہندوستان سے چلا جائے۔ اس وقت دو قومی نظریہ پروان چڑھا۔ وہ ہندوستان میں مسلمانو ں کی نسلوں کی بقا کی جنگ تھی جسے بے حساب جان و مال اور عصمتوں کی قربانی کے بعد زندہ رکھا گیا۔ شام کی سر زمین سے بھی ایسی ہی ایک تحریک نے اس وقت جنم لیا جب وہاں کے جابر حکمران نے سورئہ اخلاص میں انحراف کیا ، جب اس نے خدائی کا دعویٰ کر دیا اور لوگوں سے خود کو سجدہ کرنے کی کافرانہ خواہش ظاہر کی۔ اس نے عہدِ فرعون و نمرود کی یاد تازہ کر دی۔ اس کے ملعون سپاہیوں نے گلیوں، سڑکوں اور چوراہوں پر لوگوں کو زدو کوب کرنا شروع کر دیا کہ وہ اس کے نام کا کلمہ پڑھنے لگیں۔ بشارالاسد کے سوا کوئی خدا نہیں۔ اس کے پوسٹرز پر آویزاں تصویروں کو سجدہ کرنے کے لیے کہا جانے لگا۔
    زینب کے ہنستے بستے گھر کو نہ جانے کس کی نظر کھا گئی۔ وہ ایک سرد صبح تھی جب اس کا جواں سال دیور گھر سے سودا سلف لینے نکلا۔ وہ اپنے حال میں مست سائیکل پر سوار جا رہا تھا کہ دو فوجیوں سے ٹکراتا ٹکراتا بچا اور خود ہی سائیکل سمیت زمین پر آرہا۔ بجائے اس کے کہ وہ لوگ اس کا شکریہ ادا کرتے، ایک فوجی نے اسے کالر سے پکڑ کر سیدھا کھڑا کیا اور زدو کوب کرنے لگا۔
    ”چھوڑ دو مجھے، میں نے کیا کیا ہے؟” وہ چلّانے لگا۔ دوسرے نے آگے بڑھ کر پہلے فوجی کو روکا۔
    ”اچھا تم کہتے ہو تو چھوڑ دیتے ہیں، مگر تمہیں اس کے لیے بس ایک جملہ کہنا ہو گا۔” وہ خباثت سے مسکرایا۔
    ”کیا؟” مار کھا کر ہانپتا ہوا بلال بولا: ”تمہیں کہنا ہو گا کہ بشارالاسد میرا خدا ہے۔” مکّاری سے کہہ کر وہ انتظار کرنے کی اداکاری کرنے لگا۔ بلال نے زمین پر تھوک دیا اور نفرت سے بولا۔
    ”تمہیں وہ غلام یاد نہیں ؟” ”کون سا غلام؟” ان دونوں نے حیرت سے اسے دیکھا:
    ”وہی بلال جس نے ہر ستم سہ لیا مگر دامن حق نہیں چھوڑا۔ وہی بلال جن کی اذان کی آواز مکّے میں گونجتی تھی تو دلوں پر رِقت طاری ہو جاتی تھی۔” بلال نے طنز سے مسکرا کر انہیں دیکھا اور اپنے دونوں ہاتھ کانو ں تک لے جا کر اذان دینا شروع کر دی ”اللہ اکبر ، اللہ اکبر” اردگرد سے لوگ اذان کی آواز سُن کر وہاں جمع ہونے لگے ، سب جاننا چاہتے تھے کہ آخر یہ معا ملہ کیا ہے ؟ لوگو ں کوجمع ہوتے دیکھ کر بھی فوجیوں کے رویوں میں کوئی فرق نہیں آیا۔ انہوں نے اس بار مل کر بلال کو مارنا شروع کر دیا تھا۔
    ٭…٭…٭
    بلال بن داد کو مار مار کے ادھ موا کر دیا گیا۔ اس کی ایک ٹانگ میں فریکچر ہوا جب کہ پیشانی پھٹ گئی اور پورا جسم زخموں سے چور ہوگیا۔ لوگوں نے اسے ہسپتال پہنچایا۔ خاور بن داد کا غم کے مارے برا حال تھا۔ اسے اپنے بھائی سے بہت پیار تھا، اسے اس حالت میں دیکھنا اس کے لیے بہت تکلیف دہ تھا مگر وہ بے بس تھا اپنا ہی سر دیوار میں مار کر زخمی تو کر سکتا تھا مگر طاقت کے ایوانو ں میں کوئی ہلچل نہیں مچا سکتا تھا نہ ہی کسی کا کچھ بگاڑ سکتا تھا۔
    ٭…٭…٭
    فوج کے خلاف عوامی نفرت میں اضافہ ہو رہا تھا۔ لوگ ایسے ظالم اور جابر حکم ران کو اٹھا کر پھینک دینا چاہتے تھے۔ حکمران اگر ان سے روٹی چھین لیتا تو وہ صبر کر لیتے۔ انہیں ضروریات زندگی سے محروم کر دیا جاتا، تو بھی وہ برداشت کر جاتے، مگر اس جابر نے تو ان کے ایمان پر حملہ کیا تھا۔ طاقت کے نشے میں اندھا ہو کر وہ خود کو خدا سمجھنے لگا تھا۔ خاور بن داد نے بھی ظلم کے بادشا ہ کے خلاف تحریک کا حصہ بننے کا فیصلہ کر لیا تھا۔
    ”ہم ظلم کے خلاف سر نگو ں نہیں ہوں گے ، وقت کے یزید کو حساب دینا ہو گا، ہم اسے حکومت کے ایوانوں سے کھینچ کر باہر لا پھینکیں گے۔” خاور غصّے میں دھاڑا۔ زینب نے اپنے شوہر کی غضب ناک حالت دیکھی تو دل میں د عا کرنے لگی۔
    ”یا اللہ، سب ٹھیک رکھنا۔” زینب کی دعائیں بھٹک گئیں کہ پھر کبھی انہیں عرش تک جانے کا راستہ نہ مل سکا۔
    ٭…٭…٭
    صورتِ حال گمبھیر سے گمبھیر تر ہوتی جا رہی تھی۔ شام کی عوام سڑکوں پر نکلنے کے لیے مجبور تھی۔ شام کھنڈر بننے جا رہا تھا اور اِس بات کا کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ محض ایک معمولی سا مظاہرہ خونی دنگل میں تبدیل ہونے والا ہے۔ پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ دنیا کی چھوٹی بڑی طاقتوں نے ان پر دھاوا بول دیا۔ اس کام میں انہوں نے ایک دوسرے کو اس طرح دعوت دی جیسے کوئی کسی کو دعوتِ شیرازدیتا ہے۔
    ٭…٭…٭
    شام کے عوام کو اندازہ بھی نہیں تھا کہ ان کے گھر کی چھتیں ان پر ہی مسمار کی جانے والی ہیں۔ خاور کہتے تھے۔
    ”ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا جہاد ہے۔”
    وہ کتنے خوش فہم تھے۔ انہیں جمع ہو نا تھا اور ایک آمر کے خلاف احتجاج ہی تو ریکارڈ کرانا تھا۔ مگر اس کا نتیجہ کیا ہونے جا رہا تھا وہ نہیں جانتے تھے۔
    اُن کے لیے کربلا جیسا میدان سجنے والا تھا۔
    ٭…٭…٭
    گلی میں آندھی سی دھول اٹھ رہی تھی۔ پانچ سالہ صالحہ نے زینب کے کندھے سے سر ٹِکا کر آنکھیں بند کر لیں جب کہ صالحہ سے دو سال بڑے عبداللہ نے گرد سے گھبرا کر چھوٹے چھوٹے ہاتھ آنکھوں پر رکھ لیے۔ اس لمحے زینب کے دل میں عجب خیال نے سر اُٹھایا۔
    ”میں بھی تو گلی کی دھول ہی بن بیٹھی ہوں اتنی بے اماں تو کبھی نہ تھی میں۔ جانے زندگی کیا سے کیا ہو گئی۔”
    ایک سینہ دہکاتی سانس اس کے بوجھل سینے سے نکلی اور آہ کی سواری کرتی ہوئی آسماں کی طرف محوِ پرواز ہوگئی۔
    ٭…٭…٭
    کیاکربلا ابھی تھما نہیں؟ کاروان کربلا درماندہ و آفت کنندہ اسی سر زمین طیب پر ہی تو آ کر رُکا تھا؟ کیا کربلا نے اپنے سفر کا آغاز وہیں سے شروع کیا جہاں سانس لینے ذرا تھما تھا ، کیا کربلا یونہی اہلِ اسلام پر صدی در صدی وارد ہوا کرے گا؟ یہ مقام کربلا ہی تو تھا ، بھوک ، پیاس ، در ماندگی ، موسمی شدت اور دشمن کی یلغار۔ اہلِ شام سے ان کا تمام اثاثہ چھینا جا چکا تھا۔ گھر ، امان،پناہ ،تحفظ ،زندگی اور بدلے میں موت بانٹی گئی تھی جو مفت اور بے حساب تقسیم ہو رہی تھی۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • تماشائے روزگار — آدم شیر

    تماشائے روزگار — آدم شیر

    نسرین نے کلائی پر بندھی چھوٹے ڈائل والی گھڑی میں گھومتی سوئیوں کو دیکھا اور نائیلون کی چارپائی پر سوئے ناصر کو کندھے سے پکڑ کر ہلانے لگی۔ کچھ دیر ہلانے پر بھی حرکت نہ ہوئی تو ناصر کے کان کے قریب منہ لے جا کر اعلان کیا۔
    ”اٹھو! جلدی سے دودھ لے کر آئو۔”
    ”اچھا۔ اٹھتا ہوں۔” ناصر نے دائیں سے بائیں کروٹ لیتے ہوئے بوجھل آواز میں جواب دیالیکن نسرین نے اسے بازو سے پکڑ کر ہلانا جاری رکھا۔
    ”کہا نا جلدی اٹھو! بچوں نے اسکول جانا ہے۔ روز دیر کر دیتے ہو۔”
    ناصر مزید جھٹکے نہ سہ سکا اور جھنجھلا کر اٹھ بیٹھا۔ ادھ کھلی غصیلی آنکھوں سے نسرین کو دیکھا۔ پھر اس کے ایک ہاتھ سے برتن اور دوسرے سے پیسے لیے اور بڑبڑاتے ہوئے گھر سے نکل گیا۔
    نسرین کو کئی اور کام تھے لہٰذا وہ ناصر کی بڑبڑاہٹ سنی اَن سنی کرتے ہوئے بچوں کی طرف متوجہ ہوگئی جو ابھی تیار نہیں ہوئے تھے۔ رمیز پتلون تھامے صحن میں چکر لگا رہا تھا اور فریحہ فراک پر لگے سیاہی کے داغ کو تکے جا رہی تھی۔ نسرین نے پہلے فریحہ کی فراک کا پلو پکڑ کر سیاہی دھوئی لیکن نشان رہ گیا، پھر وہ رمیز کو پتلون پہنانے لگی۔ اسی دوران اسے یاد آیا ابھی چائے کے لیے پانی رکھنا ہے۔ کیتلی میں پانی بھرتے ہوئے سالن کی سڑانڈ نتھنوں تک پہنچی تو نسرین نے چہرے سے پسینہ پونچھتے ہوئے ہنڈیا چولھے سے اتار دی۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    نسرین کو گیس کی بندش کا خوف تھا اس لیے ہاتھ تیز تیز چلانے لگی۔ توا رکھا اور اوپر سے گول نیچے سے چپٹے پیڑے بنائے۔ چپاتی توے پر ڈالنے لگی تو فریحہ بہتی ناک کے ساتھ حاضر ہوگئی۔ نسرین نے چپاتی جلدی سے توے پر پھینکی، فریحہ کی ناک صاف کی اور چپاتی کو پلٹ دیا۔پھر اس نے گھڑی پر نظر ڈالی جس کی تیزی سے گھومتی سوئیوں نے اس کے ماتھے پر ایک شکن اور بڑھا دی۔نسرین نے بیرونی دروازے کی طرف دیکھا اور پھر بے دھیانی سے روٹیاں پکانے لگی۔روٹیاں پکا چکی توتوا اور کیتلی بھی چولھے سے اتار دی اور ناصر کا انتظار کرنے لگی۔ جب وہ آیا تو خالی ہاتھ ڈول ہلاتا ہوا باورچی خانے میں آدھمکا۔
    ہر دوسرے تیسرے دن ناصر دودھ لینے میں ناکام ہو کر گھر لوٹتا تو نسرین کی برداشت جواب دے جاتی۔ ان کے بچے تھے تو چھوٹے لیکن بڑے سمجھ دار، موقع کی نزاکت بھانپتے ہوئے چپکے سے کھسک جاتے تھے۔ نسرین ان کے غائب ہونے سے پہلے کھانے کے لیے کچھ نہ کچھ ڈبے میں بھر دیتی تھی۔ اس کے بعد نسرین اور ناصر ایک دوسرے پر دھونس جمانے کی کوشش کرتے۔
    ”آج پھر دودھ نہیں لائے؟” نسرین نے ہاتھ قمیص سے پونچھتے اور سر کو قدرے اوپر جھٹکا دیتے ہوئے پوچھا۔
    ”ختم ہو گیا تھا۔” ناصر آرام سے چارپائی پر بیٹھتے ہوئے بولا جس پر نسرین کی ناک مزید پھول گئی۔
    ”تو کسی اور سے لے آتے۔”
    ”تین گوالوں کو منہ دکھاآیا ہوں۔ اب کیا پورا شہر پھروں؟” ناصر تیکھے لہجے میں جواب دیتے ہوئے لیٹ گیا۔
    ”سارا شہر کیا پھرو گے؟ ایک کام تم سے ہوتا نہیں۔ یونہی چارپائی توڑتے رہو۔” بچے اسکول جاچکے تھے۔ نسرین کو بچوں کے سامنے خفت کا خوف نہیں تھا۔ اس نے حلق کی کمان سے ایک تیر کھینچ کر زبان کے ذریعے ناصر پر چھوڑا جو ٹھیک نشانے پر لگا اور وہ درد سے کراہ اٹھا۔
    ”یہ کیا ہر وقت طعنے دیتی رہتی ہو؟ تمہاری نوکری کیا لگ گئی میرے پیچھے ہی پڑ گئی ہو۔”
    ”ہاں میری نوکری لگ گئی اور تمہاری قسمت جاگ اٹھی۔ گھر بیٹھے روٹیاں توڑتے رہو۔” نسرین اتنا کہہ کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔ ناصر تلملاتے ہوئے اٹھ بیٹھا اور پیچھے سے پانڈیوں کی طرح آواز لگائی۔
    ”آٹھ مہینے نہیں ہوئے نوکری پر لگے اور طعنے دیا کرو آٹھ سو مرتبہ روزانہ… مفت میں روٹیاں… بک بک کرتی رہتی ہے۔” ناصر کی اس بات کا نسرین کی طرف سے جواب نہ آیا ۔ کچھ دیر بعد وہ تیار ہو کر کمرے سے نکلی۔ ناصر کو اَن دیکھا کرتے ہوئے دروازے تک پہنچی۔ دروازہ کھولنے سے پہلے کچھ دیر رکی لیکن پیچھے مڑ کر نہ دیکھا ۔ پھر زور سے دروازہ کھولا اور اس سے زیادہ زور سے بند کر دیا۔ ناصر کو دروازہ بند ہونے کی آواز بالکل زناٹے دار تھپڑ جیسی لگی۔ اس نے تھوڑا سا سر اٹھایا اور جھٹک کر سو گیا۔
    سورج سر پر آیا تو پسینے میں شرابور ناصر اٹھ بیٹھا۔ نہا دھوکر باورچی خانے میں گیا،جو ملا کھا لیا۔ دروازوں کو تالے لگائے اور نوکری کی تلاش میں نکل پڑا۔ اس کی منزل نائیلون کے دانے بنانے والا کارخانہ تھا۔ پہلے وہ کپڑا بنانے والے کارخانے میں کام کرتا تھا۔ اچھی بھلی نوکری تھی۔ اسی سے یہ مکان بنایا تھا۔ کرسی پر بیٹھ کر کام کرتا تھا۔ اچھی گزر بسر ہوتی تھی اورگھر والی بھی عزت کرتی تھی۔
    پھر ملک میں توانائی کی قلت اور بڑھ گئی ۔ اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے چلنے والی مشینیں آٹھ گھنٹے بھی نہ چل پاتیں اور چھے گھنٹے چلنے پر بھی بل اٹھارہ گھنٹے کا ہی آتا۔ مصنوعات پر لاگت بڑھ گئی اور پیداوار گھٹ گئی تھی۔ سرمایہ دار کو جس کارخانے سے نقصان ہوتا، اسے بند کر دیتا ۔ ہنر مند چھابڑی لگاتے یا کہیں ٹھیلا سجا لیتے۔ مزدور سڑکوں پر جوتیاں گھساتے۔ ریڑھی بان الگ پریشان رہتے۔ پڑھے لکھوں کو پہلے ہی کام مشکل سے ملتا تھا اب مرحلے اور بھی دشوار ہو گئے۔ ناصر کوئی دکان چمکا لیتا لیکن وہ حساب کتاب کرنے والا بندہ تھا۔ ایک مرتبہ نوکری کیا چھوٹی، پھر کہیں ٹک کر کام نہ کر سکا لیکن آج اسے نوکری ملنے کی بڑی امید تھی۔
    ناصر راستے کی دھول اور بسوں کا دھواں کھاتے ہوئے کارخانے پہنچا تو پتا چلا کہ اِدھر بھی حالات زیادہ ساز گار نہیں۔ مالک پہلے ہی بات بات پر ملازم نکال رہا ہے اور کارخانہ بند کرکے دوسرے ملک جانے کے چکر میں ہے جہاں بجلی، گیس اور پانی سمیت مزدورسستے ملتے ہیں اور ٹیکس بھی کم دینا پڑتا ہے ۔ کارخانے سے چہرے پر ناکامی کا ٹھپا لگوائے وہ باہر نکلا تو اس نے سوچا کہ اب وقت کیسے کاٹے؟ اسی دھیان میں وہ پہلے ایک دوست کے پاس گیا، اس کے بعد دوسرے اور پھر تیسرے کے ساتھ رونے روتا رہا ۔ جب سورج کسی اور جہان کو منور کرنے گیا تو وہ بھی اپنے گھر کو ہو لیا۔
    نسرین باورچی خانے میں بیٹھی ترکاری بنا رہی تھی۔ اس کے چہرے کا کھچاؤ، مزاج کی خشکی کا پتا دے رہا تھا۔ ناصر نظر بچا کر بچوں کے کمرے میں چلا گیا۔ کمرے تھے ہی کتنے اس کے گھر میں… صرف دو۔ ایک میں بچے اور دوسرے میں ناصر اور نسرین رہتے۔ پیچھے ایک باورچی خانہ اور غسل خانہ بچتا۔ باورچی خانے میں نسرین بیٹھی تھی۔ غسل خانے میں زیادہ سے زیادہ وہ ایک سگریٹ پی سکتا تھا۔ اپنے کمرے میں جانا نہیں چاہتا تھا کہ وہاں نسرین سے بار بار ٹاکرا ہوتا۔ بچوں کا کمرا ہی بہتر تھا جو مہمان خانے کا کام بھی دے دیتا۔ بچوں کے کمرے میں چیزیں بکھری پڑی تھیں۔ فریحہ اور رمیض ایک ہی چارپائی پر بیٹھے اپنی کتابوں اور کاپیوں سے کھیل رہے تھے۔ دوسری چارپائی پر ناصر نے قبضہ کرلیا۔
    ناصر کو بچے بڑے اچھے لگتے تھے۔ جب سے وہ بے کار ہوا تھا، بچوں نے پیسے مانگنے چھوڑ دیے تھے۔ اسے لگتا یہ نسرین کا کمال ہے۔ وہ کچھ دیر بچوں کو دیکھتا رہا پھر دوسری طرف کروٹ لے کر بچوں کے متعلق سوچنے لگا۔ سوچتے سوچتے اسے بھوک محسوس ہوئی۔ وہ بھوک دبانے کی کوشش کرتا رہا لیکن نوکری کی تلاش کی طرح یہاں بھی ناکامی ہو رہی تھی۔ پیٹ بھرا ہو تو دماغ میں اوٹ پٹانگ خیالات آتے ہیں ، اگر خالی ہو تو کچھ بھی نہیں رہتا۔ سوچ کے گھوڑے ایک مرکز کے گرد طواف کرتے رہتے ہیں۔ اس کی سوچ کا مرکز بھی بھوک تھی لیکن وہ نسرین کی باتوں کے خوف سے روٹی مانگنا نہیں چاہتا تھا۔
    ناصر نے کافی دیر سہانی یادوں سے پیٹ بھرنے کی ناکام کوشش کی مگر زیادہ دیر بھوکا رہنے سے تیزابیت ہونے لگی۔ وہ تیزاب کو تھوک کے راستے نکال بھی نہیں پایا تھا کہ اس کا سر دکھنے لگا ۔ جب پنڈلیوں میں چبھن ہونے لگی تو وہ چارپائی سے اٹھا اور جا کر نسرین سے پوچھا۔
    ”کب تک کھانا تیار ہو جائے گا؟”
    ”ابھی بنا رہی ہوں۔” نسرین نے اندر اٹھتے ابال پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہوئے جواب دیا۔
    ”اچھا! ذرا جلدی کردو۔” ناصر اس کے چہرے کے اتار چڑھائو کو نظر انداز کر کے غسل خانے کی طرف جانے لگا مگر نسرین کے جواب نے اس کے پیروں میں زنجیر ڈال دی اور اس کے قدم غسل خانے کے قریب رک گئے۔
    ”اتنی ہی بھوک لگی تھی تو خود بنا لیتے۔ تم کون سا کام پر گئے تھے۔”
    ”سارا دن کام ڈھونڈتا رہا ہوں۔” ناصر نے پتلون کی پیٹی کھولتے ہوئے ترنت جواب دیا۔اس کا ایک پائوں غسل خانے کے باہر اور دوسرا اندر تھا۔
    ”یہ بہانے کسی اور کو سنائو۔ کام ڈھونڈ رہے تھے تو ملا کیوں نہیں؟” نسرین کا سر جھکا اور آنکھیں اٹھی ہوئی تھیں۔ وہ دن بھر کی تکان ناصر پر نکالنے کی پوری تیاری میں لگ رہی تھی۔
    ”کام ہے ہی نہیں، ملے گا کہاں سے، تمہارے باپ کی دکان پر؟”’ ناصر نے معدے میں موجود مروڑ اٹھاتی تیزابیت کوزبان کے راستے خارج کیا تو نسرین نے سر بھی اٹھا لیا۔
    ”اپنے باپ کی زمین پر گھاس کاٹو۔ میرے باپ کی دکان میں تمہیں کون گھسنے دے گا؟”
    ناصر نے غسل خانے والا کام بیچ میں چھوڑا اور نسرین کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ گھاس کاٹنے والی بات ہی ایسی تھی۔ گائوں چھوڑنے کی وجہ یہی بنی تھی۔ وہ کچھ دیر نسرین کو دیکھتا رہا۔ وہ چھری سے سبز مرچیں ایسے کاٹ رہی تھی جیسے کچھ اور ہو۔ ناصر اسے یوں مرچیں کاٹتے دیکھ کر ایسے بے چین ہوا جیسے پالتو کتے کی دم پر مالک کا پیر آ گیا ہو۔ اس نے دو تین بار اپنے سر میں انگلیاں پھیریں۔ دماغ کو بڑا ٹٹولا، پھر ہتھیار ڈال دیے۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • محرومی — کوثر ناز

    محرومی — کوثر ناز

    میرا دل ہوا کی سرسراہٹ کے ساتھ بڑی تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ ایسا زندگی کے پچیس سالوں میں پہلی بار ہوا تھا کہ میںیوں کسی مرد سے خوف زدہ تھی۔ میری لرزتی ٹانگیں کمزور پڑتی ہمت کا ساتھ دینے کی ناکام کوشش کررہی تھیں مگر مجھے بادِ مخالف کی جانب چلنے کی عادت نے رکنے نہیں دیا۔ میں دلی جذبات پر قابو پاتی اس کی طرف بڑھنے لگی اور وہ دور ایک بڑے پتھر پربیٹھا ٹانگ پر ٹانگ جمائے آنکھوں کو بے دردی سے مسلتے ہوئے شبِ گزشتہ والے حلیے میںبھی مجھ پر اپنی دھاک بٹھا رہا تھا۔ میں قریب جاکر وہیں ایک بڑے سے پتھر پر ٹک گئی۔ میرے ساتھ موجود باقی کئی ساتھیوں نے ایک نظر مجھے دیکھاضرور تھا مگر مجھ تک پہنچنے کی کوشش کسی نے نہیں کی ۔
    ٭…٭…٭
    پاکستان کا وہ محنت کش طبقہ جو سارا دن محنت مزدوری کے بعد بھی تین وقت کا کھانامکمل اہتمام و آسودگی سے نہیں کھا سکتا، مجھے وہ ہمیشہ ہی سے متاثر کرتا آیا ہے جس کی وجہ سے وہ میری خاص توجہ کا مرکزبھی رہا ہے ۔ اپنی گاڑی میں اپنے شہر کی سڑکوں پر اسکول ،کالج اور یونیورسٹی کی منازل طے کرتے، آتے جاتے میری نظروں کا مرکز سدا وہی لوگ رہے ہیں جن کے چہرے پر پسینا اور ماتھے پر دھوپ سے لڑتی شکنوں میں ان کی خودداری کا عکس جھلملاتا ہے۔ اسکول جاتے ہوئے میں ہمیشہ ان بچوں کو دیکھا کرتی تھی جو صبح صبح گندگی کے ڈھیروں سے گتے و سگریٹ کے خالی پیکٹس اُٹھا اُٹھا کر پیٹھ پر لٹکائی بوری میں بھرتے اپنا کام کرنے میں مگن ہوتے تھے۔ تب میرے ذہن میں بس ایک ہی سوچ ہوتی کہ ان میں اکثریت خوب صورت، گول مٹول سے بچوں کی ہوتی ہے لیکن گندے میلے کپڑوں میں ملبوس… انہیں نہلاکر اچھا کیا جاسکتا ہے۔ پتا نہیں ان کی مائیں انہیں گندا کیوںرکھتی ہیں۔ یہ سوچ من میں بیٹھی رہتی اور میں گاڑی کے شیشے سے چہرہ لگائے دور تک انہیں دیکھے جاتی۔ وہ پیچھے رہے جاتے اور میں آگے بڑھ جاتی پھر وہ سوال وہیں رہ گئے اور عمر کی منازل طے کرتے میں نہم جماعت میں پہنچی تو نئی سوچیں ذہن و دل میں ارتعاش سا بپا کرنے لگیں۔ یہاں دوست نئے تھے جن کے ساتھ دل بہل گیا تھا لیکن آتے جاتے مزدور طبقے پر نظر پڑتی ہی رہتی پھر جب اسکول تبدیل کیا تو اسکول کے سامنے سڑک بن رہی تھی اور میں کلاس میں کھڑکی کے قریب بیٹھی اکثر مزدوروں کو کام کرتے دیکھا کرتی۔ اُن کے کپڑے بھی ایسے ہی ہوا کرتے تھے جیسے پہلے سب کے دیکھتی آئی تھی لیکن ماتھے پر دھوپ کی وجہ سے پسینے کے قطرے زیادہ نمایاں ہوتے۔ وہ اس قدر محنت کرتے تھے کہ بڑے بڑے پتھروں اور سیمنٹ بجری سے بہت اچھی سڑک بنتی رہتی۔ مجھے ان کی محنت کا عکس اس خوب صورت سی سڑک میں نظر آنے لگتا تو بے پناہ خوشی ہوتی۔ ہاں وہ کچھ وقت آرام کے لیے بھی نکالا کرتے تھے۔ سانس لینے بیٹھنا تو ان کا بھی حق تھا۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    پھر ایک دن جب میں چھٹی کے بعد اپنے بابا کی منتظر تھی تو کوئی سفید کاٹن کے جوڑے میں ملبوس شخص ان مزدوروں پر برُی طرح برس رہا تھا۔ میرا دل اس شخص سے برا ہوگیا جو خود تویہاں کام نہیں کرتا تھا البتہ مزدوروں کو شاید مشین سمجھ بیٹھا تھا۔ میں چاہتی تھی کہ جاکر اُسے کہوں، لڑوں ان کے لیے لیکن درمیان میں بولنا کبھی سیکھا ہی نہیں تھا۔ پھر کچھ دیر بعدمیرے بابا آئے تو میںگھر چلی گئی لیکن ان کی محنت اور پھر اس شخص کا ان پر چلانا میری سوچ سے محو نہیں ہوسکا۔
    یونہی کالج کا سفر شروع کیا تو گھروں اور گلی کوچوں میں مختلف اشیا بیچنے آنے والوں پر میری نگاہیں ٹھہر جاتیں۔ وہ ہر شے کی دگنی قیمت بتایا کرتے تھے اور سب ان سے آدھے سے بھی کم میں وہ اشیا خریدتے۔ ان کی سیاہ و سفید شکلیں دیکھ کر مجھے شدید ترس آتا چوں کہ میں سندھ میں رہتی تھی تو وہاں پٹھانوں کو دیکھنے کا تجربہ ان دنوں انوکھا لگاکرتا تھا۔ یہ سوچ ہی دل لرزا دیتی کہ یہ گھروں سے دور برتن یا قالین بیچنے آتے ہیں۔ مجھے ہمیشہ ہی سے ان کے دکھ اذیت دیتے آئے ہیں جو گھروں سے دور، اپنے علاقوں سے دور رزق کے حصول کے لیے ہاتھ پاؤں مارتے ہیں کیوں کہ اپنا گھر اور اپنے گھر والے کیا ہوتے ہیں، یہ میں بہت اچھی طرح جانتی ہوں لیکن میں ابھی اتنی بڑی نہیں تھی کہ ان کے غم غلط کرسکتی۔ امی یا محلے کی کوئی بھی خاتون جب کبھی گلی میں آواز دیتے کسی پٹھان یافیصل آباد سے آئے کسی پنجابی جس کے سر پرکپڑوں کی گٹھڑی ہوتی تھی، آواز لگاتا ہوا گزرتا یا سندھ ہی کا کوئی مقامی پلاسٹک کے برتنوں کا ٹب سر پر اُٹھائے، پرانے کپڑوں کے عوض پلاسٹک اور کانچ کے نئے برتن بیچنے آیا کرتا یا کئی طرح کے تیل بیچنے والا آواز لگاتے ایک بوڑھا گھر کے سامنے سے گزرتا، بُھنے چنے بیچنے والے، کانوں کی بالیوں والے یا کان چھیدنے والا آواز لگا کر بلاتے یا مچھلیوں سے بھرا خوانچہ لیے گلی گلی گھومنے والوں کو روک کر ذرا بھاؤ تاؤ کرتی تو میں شوق سے دیکھا کرتی اور دل چاہتا کہ کاش امی انہیں وہ دے دیں جو وہ مانگتے ہیں۔ اکثر امی زیادہ ہی دیتیں اور جب بابا کہتے کہ یہ مہنگا ہے اور چیز بھی پائیدار نہیں تو بھی مجھے کوئی برائی محسوس نہ ہوتی۔ میرا یہ رویہ پٹھانوں اور سندھ کے دیہی علاقوں میں بسنے والوں کے لیے زیادہ فکر مندانہ ہوتا کہ وہ لوگ پڑھ نہیں سکے تو اس قدر محنت کرتے ہیں۔ مجھے لگتاکہ وہی سب سے اونچے ہیں کیوں کہ وہ لوگ جو کا م کرتے ہیں وہ کوئی اورنہیں کرتا اور ہماری چھوٹی بڑی ضرورتیں اکثر انہی کی وجہ سے پوری ہوتی ہیں۔ پھر کچھ اور وقت گزرا تو میرے ذہن سے وہ سب محو ہونے لگا۔ میں نے کثرت سے ان کے بارے میں سوچنا ترک کردیا یاپھریوں کہہ لیں کہ میرے خواب، میری تعلیم، مجھ سے منسوب امی بابا کے خواب ہی سب کچھ ہوگئے۔ لیکن جب میں یونیورسٹی لیول پر پہنچی تو پھر سے وہی خیالات من میں سر اٹھانے لگے۔ میںفائن آرٹس و میڈیا گروپ میں بیچلرز کررہی تھی۔ چاہتی تھی کہ ان لوگوں سے بات کروں جو ہمیں اکثر اسکول، کالج اور یونیورسٹی جاتے ہوئے سڑک کے اطراف شامیانوں یا شہر سے پرے کچی جگہوں پر اپنے آشیانے آباد کیے، دنیا کی رونقوں سے دور زندگی بسر کرتے اپنی ہی دنیا میں منہمک نظر آتے ہیں۔ چاہتی تھی ان کے غم سنوں، وہ لوگ زندگی کیسے بسر کرتے ہیں؟ وہ کیسے خواب بنتے ہیں؟ ان کی کھانے میں پسند کیسی ہوتی ہے؟ وہ میوزک کس قسم کا پسند کرتے ہیں؟ انہیں جوتوں میں کون سا برانڈ پسند ہے حالاں کہ میں جانتی تھی جو جوتیوں کی جگہ مٹی کو پاؤں کی آرام گاہ بنایا کرتے ہیں ان کی پسندیدہ برانڈ کون سی ہوگی۔ ان خانہ بدوشوں کو توعلاقوں کی مٹی بھی یاد نہ رہتی ہوگی کہ ٹوٹی ہوئی جوتیوں سے باہر نکلتی ہوئی انگلیاں کس کس زمین کی مٹی چھوتی ہیں۔ انہیں کیا خبر جو کھانے کے لیے کسی کے بچے ہوئے ٹکڑوں کے محتاج ہوتے ہیں۔ وہ کیا جانتے ہوں گے کھانے کا ذائقہ کیا ہوتا ہے، وہ تو اسی غم میں آدھے ہوجاتے ہوں گے کہ وہ مانگا ہوا کھا رہے ہیں یا پھر شاید انہیں مانگتے مانگتے یہ خیال بھی نہ رہتا ہو کہ مانگنا بری بات ہے۔ اسے ہی وہ سب حلال کمائی گردانتے ہوں اور جو دن بھر سڑک پر چلنے والی ٹریفک کا شور کانوں پر محسوس کرتے ہوں، انہیں کیا خبر کہ ایک شور ایسا بھی ہے، جو اونچے مکانوں میں رہنے والوں کے سینوں میں سکون بھرتا ہے اور خواب؟ وہ کیا دیکھتے ہوں گے جن کے سروں پر چھت نہیں ہوتی۔ خواب تو ہم جیسے دیکھتے ہیں اور ان کی تعبیر پانے میںلگ جاتے ہیں کہ کرنے کو کچھ اور جو باقی نہیں ہوتا۔
    یہ سب جاننے کے باوجود ایک چاہ تھی ان سے راہ و رسم بڑھانے کی۔ مجھے وہ اپنے اپنے سے لگتے تھے جو میرے کچھ تھے ہی نہیں۔ بس جن کے دکھ اپنے تھے وہ بھی صرف تب تک جب تک میں انہیں سوچتی ۔ہاں یہ شرمندگی کی بات ہے مگر یہ حقیقت بھی ہے کہ اس کے بعد اپنے کام میں اس قدر مگن ہوئی کہ کئی دفعہ کھانا بھی بھولنا پڑتا اور گھر والے بارہا آکر کھانا لگنے کی اطلاع دیا کرتے۔ یونیورسٹی جاتی تو ٹھیلے لگائے عینک بیچنے والوں پر نظر پڑتی جو دھوپ میں کھڑے سڑک کی جانب تکتے ہوئے گاہکوں کے منتظرہوتے تھے۔ میں ان سے پوچھنا چاہتی کہ دن بھر میں ایک وقت کی سبزی کے پیسے بھی کما لیتے ہو یا نہیں؟ لیکن میں نہیں پوچھ سکتی تھی۔ گاڑی کے دروازے ہی ایسی مضبوط دیوار ہوا کرتے تھے کہ وہاں سے اُتر کر کسی سے بات کرنا مجھے بہت بھاری لگا کرتا۔
    دن گزرتے جاتے ہیں لیکن وہ لوگ وہیں اسی حالت میں رہتے ہیں۔ عینک کے ٹھیلے اب بھی لگتے ہیں۔ خانہ بدوش اب بھی وہیں بسیرا کیے رکھتے ہیں۔ پٹھان اب بھی قالین لیے سڑکوں تو کبھی محلوں میں نظر آتے ہیں۔ کچھ عورتیں بیڈ شیٹس لیے اب بھی گھروں کے دروازے کھٹکھٹاتی ہیں۔ ٹی وی کے ریموٹ بیچنے والے اب بھی آواز لگاتے ہوئے جاتے ہیں اورمیں اپنا ماسٹرز کرنے کے بعداب ایک نجی نیوز چینل سے وابستہ بہ حیثیت نیوزاینکر اپنی انٹرن شپ پوری کرنے کے بعد جاب کررہی ہوں۔ ایسے میں مجھے ہر طرح کی خبرلوگوں تک پہنچانی پڑتی ہے اور وہ خبر ہمیں ہمارے رپوٹرز دیتے ہیں۔ اب پھر مجھ میں یہ خیال سر اٹھانے لگا تھا کہ مجھے ہمت کرکے اپنے من میں بچپن سے اٹھتے ہوئے سوالات کا جواب جان لینا چاہیے۔ اب میں قدرے خود مختار ہوںاور اپنے فیصلے خود کرنے لگی ہوںتو من کا سکون ڈھونڈ لینے میں حرج ہی کیا ہے؟ تب میں، مشہور نجی چینل کی نیوز اینکر،ایک ایسی جگہ اپنی ٹیم کے چند ممبرز کے ہمراہ پہنچی جہاں سے میں بچپن سے گزرتی آرہی تھی۔ آج جب میں اس جگہ پہنچی تو وہ ایک کچی بستی کا روپ دھار چکی تھی۔ میری ٹیم نے پہلے ہی وہاں اطلاع پہنچا دی تھی کہ یہاں کچھ رپوٹرز آنے والے ہیں تاکہ آپ کا طرزِزندگی عوام کو دکھا سکیں اور حکومت سے آپ لوگوں کے لیے گھروں کی مانگ کر سکیں۔ میری ٹیم کا جو بھی مقصد تھا میں اس سے دور پرے اپنی ہی سوچوں میں گم تھی۔ وہ سار ے سوال سوچ رہی تھی جو من میں اُٹھتے تھے۔ میرے احساسات بالکل ایسے تھے، جیسے امتحان گاہ میں جانے سے پہلے ایک ایسے شاگرد کے ہوتے ہیں جسے پیپر سے متعلق کسی شے کا علم نہ ہو اور اسے خبر ملی ہو کہ اندر بہت سختی ہے یا پھر گاؤں کی کسی الہڑ دوشیزہ کے مانند کہ جسے لڑکے والے ابھی دیکھنے آہی رہے ہیں۔ ان سب ڈرو خوف کے باوجود میں پرُاعتماد اور پرُسکون نظر آرہی تھی کہ میں مسائل کو حل کرنا جانتی ہوں اور زمانۂ جدید کی لڑکی ہوں جواپنا کماتی بھی ہے۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});